Guru Granth Sahib Translation Project

guru-granth-sahib-urdu-page-50

Page 50

ਸਤਿਗੁਰੁ ਗਹਿਰ ਗਭੀਰੁ ਹੈ ਸੁਖ ਸਾਗਰੁ ਅਘਖੰਡੁ ॥ نام کے ذریعے انسان عبادت کے لائق رب کو پہچان لیتا ہے اور گرو کے کلام کے ذریعے وہ سچائی کے رنگ رنگ جاتا ہے۔
ਜਿਨਿ ਗੁਰੁ ਸੇਵਿਆ ਆਪਣਾ ਜਮਦੂਤ ਨ ਲਾਗੈ ਡੰਡੁ ॥ اس مخلوق کے جسم کو ذرا سی بھی نجاست نہیں لگتی، جس نے سچے گھر میں سکونت اختیار کرلی ہے۔
ਗੁਰ ਨਾਲਿ ਤੁਲਿ ਨ ਲਗਈ ਖੋਜਿ ਡਿਠਾ ਬ੍ਰਹਮੰਡੁ ॥ اگر رب اپنی نظر کرم کرے تو حق نام حاصل ہوجاتا ہے۔ واہےگرو کے نام کے علاوہ مخلوق کا دوسرا رشتہ دار کون ہے؟ ۔۔ 5۔۔
ਨਾਮੁ ਨਿਧਾਨੁ ਸਤਿਗੁਰਿ ਦੀਆ ਸੁਖੁ ਨਾਨਕ ਮਨ ਮਹਿ ਮੰਡੁ ॥੪॥੨੦॥੯੦॥ جنھوں نے حق کو پہچان لیا ہے وہ چاروں زمانوں میں خوش رہتے ہیں۔
ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ੫ ॥ گھمنڈ اور لالچ کا خاتمہ کر کے وہ حق نام کو اپنے دل میں بسا کرکے رکھتے ہیں۔
ਮਿਠਾ ਕਰਿ ਕੈ ਖਾਇਆ ਕਉੜਾ ਉਪਜਿਆ ਸਾਦੁ ॥ اس دنیا میں صرف نام (رب کی عقیدت) کا ہی فائدہ مناسب ہے۔ اس کا حصول صرف گرو کی مہربانی سے غور و فکر کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔۔6۔۔
ਭਾਈ ਮੀਤ ਸੁਰਿਦ ਕੀਏ ਬਿਖਿਆ ਰਚਿਆ ਬਾਦੁ ॥ اگر حق کے سرمایہ سے حق نام کا سودا تجارتی طور پر کیا جائے تو ہمیشہ ہی نفع ہوتا ہے۔
ਜਾਂਦੇ ਬਿਲਮ ਨ ਹੋਵਈ ਵਿਣੁ ਨਾਵੈ ਬਿਸਮਾਦੁ ॥੧॥ محبت بھری یاد اور سچے جذبے سے دعا کے ذریعے آدمی واہےگرو کی بارگاہ کے اندر بیٹھ جاتا ہے۔
ਮੇਰੇ ਮਨ ਸਤਗੁਰ ਕੀ ਸੇਵਾ ਲਾਗੁ ॥ رب کائنات کے نام کے اجالے میں آدمی کا حساب قابل احترام اور واضح ہو جاتا ہے۔۔ 7۔۔
ਜੋ ਦੀਸੈ ਸੋ ਵਿਣਸਣਾ ਮਨ ਕੀ ਮਤਿ ਤਿਆਗੁ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ بلندوں میں سب سے بلند مالک کہا جاتا ہے، پر وہ کسی ذریعے سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔
ਜਿਉ ਕੂਕਰੁ ਹਰਕਾਇਆ ਧਾਵੈ ਦਹ ਦਿਸ ਜਾਇ ॥ جہاں کہیں بھی میں دیکھتا ہوں، ہر جگہ میں صرف تجھے ہی پاتا ہوں۔ مجھے ست گرو نے آپ کے دیدار و درشن کروادیے ہیں۔
ਲੋਭੀ ਜੰਤੁ ਨ ਜਾਣਈ ਭਖੁ ਅਭਖੁ ਸਭ ਖਾਇ ॥ اے نانک! محبت کے ذریعے اطمینان کی حالت حاصل ہونے پر دل میں موجود رب کی روشنی سمجھ میں آتی ہے۔۔8۔۔3۔۔
ਕਾਮ ਕ੍ਰੋਧ ਮਦਿ ਬਿਆਪਿਆ ਫਿਰਿ ਫਿਰਿ ਜੋਨੀ ਪਾਇ ॥੨॥ شری راگو محلہ 1۔۔
ਮਾਇਆ ਜਾਲੁ ਪਸਾਰਿਆ ਭੀਤਰਿ ਚੋਗ ਬਣਾਇ ॥ جب مچھلی کی موت آئی تو اس نے مچھیرے کے جال کی پہچان‌ نہیں کی۔ وہ گہرے کھارے سمندر میں رہتی ہے۔
ਤ੍ਰਿਸਨਾ ਪੰਖੀ ਫਾਸਿਆ ਨਿਕਸੁ ਨ ਪਾਏ ਮਾਇ ॥ وہ بہت چالاک اور خوبصورت ہے۔ اس نے مچھیرے پر یقین کیوں کیا؟
ਜਿਨਿ ਕੀਤਾ ਤਿਸਹਿ ਨ ਜਾਣਈ ਫਿਰਿ ਫਿਰਿ ਆਵੈ ਜਾਇ ॥੩॥ وہ یقین کرنے کی وجہ سے ہی جال میں پکڑی گئی۔ اس کے سر پر موت کو ٹالا نہیں جا سکتا، جو اٹل ہے ۔۔ 1۔۔
ਅਨਿਕ ਪ੍ਰਕਾਰੀ ਮੋਹਿਆ ਬਹੁ ਬਿਧਿ ਇਹੁ ਸੰਸਾਰੁ ॥ اے بھائی! اس طرح تو موت کو اپنے سر پر منڈلاتا ہوا سمجھ، کیونکہ وقت بہت مضبوط ہے۔
ਜਿਸ ਨੋ ਰਖੈ ਸੋ ਰਹੈ ਸੰਮ੍ਰਿਥੁ ਪੁਰਖੁ ਅਪਾਰੁ ॥ جس طرح مچھلی ہے، اسی طرح ہی آدمی ہے۔ موت کا جال اچانک ہی اس پر آ گرتا ہے۔۔ 1۔۔ وقفہ۔۔
ਹਰਿ ਜਨ ਹਰਿ ਲਿਵ ਉਧਰੇ ਨਾਨਕ ਸਦ ਬਲਿਹਾਰੁ ॥੪॥੨੧॥੯੧॥ سارے جہان کو کال (موت) نے دبوچا ہوا ہے ۔ گرو کے فضل کے بغیر موت یقینی ہے۔
ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ੫ ਘਰੁ ੨ ॥ جو حق میں ضم ہو گئے ہیں اور نفاق اور گناہوں کو چھوڑ دیتے ہیں، وہ بچ جاتے ہیں۔
ਗੋਇਲਿ ਆਇਆ ਗੋਇਲੀ ਕਿਆ ਤਿਸੁ ਡੰਫੁ ਪਸਾਰੁ ॥ میں ان پر قربان جاتا ہوں، جو حق کے دربار میں سچے مانے جاتے ہیں۔ ۔۔2۔۔
ਮੁਹਲਤਿ ਪੁੰਨੀ ਚਲਣਾ ਤੂੰ ਸੰਮਲੁ ਘਰ ਬਾਰੁ ॥੧॥ جیسے باز پرندوں کو ماردیتے ہیں اور شکاری کے ہاتھ میں پکڑا ہوا جال انہیں پھنسا لیتا ہے، ویسے ہی دولت کے لالچ کے سبب سبھی آدمی یم کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
ਹਰਿ ਗੁਣ ਗਾਉ ਮਨਾ ਸਤਿਗੁਰੁ ਸੇਵਿ ਪਿਆਰਿ ॥ جن کی گرودیو حفاظت کرتے ہیں، وہ یم کے جال سے بچ جاتے ہیں، باقی دانے (موت) کے ساتھ پھنس جاتے ہیں۔
ਕਿਆ ਥੋੜੜੀ ਬਾਤ ਗੁਮਾਨੁ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ ہری نام کے بنا وہ موت کی گرفت میں دانے کی طرح چن لیے جائیں گے، پھر ان کا کوئی بھی ساتھی یا مددگار نہیں ہوگا۔ ۔۔3۔۔
ਜੈਸੇ ਰੈਣਿ ਪਰਾਹੁਣੇ ਉਠਿ ਚਲਸਹਿ ਪਰਭਾਤਿ ॥ سچے رب کو سبھی سچا کہتے ہیں۔ سچے رب کا مسکن بھی سچا ہے۔
ਕਿਆ ਤੂੰ ਰਤਾ ਗਿਰਸਤ ਸਿਉ ਸਭ ਫੁਲਾ ਕੀ ਬਾਗਾਤਿ ॥੨॥ سچا رب ان کے دل میں رہتا ہے جو اس کا ذکر کرتے دھیان کرتے ہیں۔
ਮੇਰੀ ਮੇਰੀ ਕਿਆ ਕਰਹਿ ਜਿਨਿ ਦੀਆ ਸੋ ਪ੍ਰਭੁ ਲੋੜਿ ॥ گرو سے علم حاصل کرنے والوں کے دل اور منہ مقدس سمجھے جاتے ہیں۔۔ 4۔۔
ਸਰਪਰ ਉਠੀ ਚਲਣਾ ਛਡਿ ਜਾਸੀ ਲਖ ਕਰੋੜਿ ॥੩॥ اے انسان! ست گرو کے سامنے التجا کرو کہ وہ تجھے تیرے دوست (رب) سے ملوا دے۔
ਲਖ ਚਉਰਾਸੀਹ ਭ੍ਰਮਤਿਆ ਦੁਲਭ ਜਨਮੁ ਪਾਇਓਇ ॥ دوست (واہے گرو) کی ملاقات سے خوشی اور خوشحالی حاصل ہوتی ہے اور یم دوت زہر کھا کرکے فنا ہو جاتے ہیں۔
ਨਾਨਕ ਨਾਮੁ ਸਮਾਲਿ ਤੂੰ ਸੋ ਦਿਨੁ ਨੇੜਾ ਆਇਓਇ ॥੪॥੨੨॥੯੨॥ میں واہے گرو کے نام (بھگتی) میں رہتا ہوں اور نام نے میری روح میں سکونت اختیار کر لی ہے۔۔ 5۔۔
ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ੫ ॥ گرو کے بنا آدمی کے دل میں جہالت کا اندھیرا چھایا رہتا ہے اور واہے گرو کے نام کے بنا اسے علم و دانش حاصل نہیں ہوتا۔
ਤਿਚਰੁ ਵਸਹਿ ਸੁਹੇਲੜੀ ਜਿਚਰੁ ਸਾਥੀ ਨਾਲਿ ॥ جب گرو کی حکمت سے اس کے اندر روشنی کا اجالا ہوتا ہے پھر وہ سچے رب میں دھیان لگاکر رکھتا ہے۔
ਜਾ ਸਾਥੀ ਉਠੀ ਚਲਿਆ ਤਾ ਧਨ ਖਾਕੂ ਰਾਲਿ ॥੧॥ اس حالت میں وہاں موت داخل نہیں ہوتی اور آدمی کی روشنی (روح) اعلیٰ روشنی (واہے گرو) کے ساتھ ضم ہو جاتی ہے۔۔ 6۔۔
ਮਨਿ ਬੈਰਾਗੁ ਭਇਆ ਦਰਸਨੁ ਦੇਖਣੈ ਕਾ ਚਾਉ ॥ اے رب ! تم عقل مند ہو، تم میرے دوست ہو اور تم ہی آدمی کو اپنے ساتھ ملانے والے ہو۔
ਧੰਨੁ ਸੁ ਤੇਰਾ ਥਾਨੁ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ میں گرو کے کلام کے ذریعے تیری تسبیح کرتا ہوں۔ تیری انتہا نہیں پائی جا سکتی اور سمت و کنارہ بھی نہیں پایا جا سکتا۔ گرو لامحدود ہے۔
ਜਿਚਰੁ ਵਸਿਆ ਕੰਤੁ ਘਰਿ ਜੀਉ ਜੀਉ ਸਭਿ ਕਹਾਤਿ ॥ جہاں گرو کا لامحدود کلام موجود ہے، موت وہاں پر کبھی داخل نہیں ہوتی۔۔7۔۔
ਜਾ ਉਠੀ ਚਲਸੀ ਕੰਤੜਾ ਤਾ ਕੋਇ ਨ ਪੁਛੈ ਤੇਰੀ ਬਾਤ ॥੨॥ رب کی مرضی سے تمام جاندار پیدا ہوتے ہیں اور اس کی مرضی سے ہی وہ کام کرتے ہیں۔
ਪੇਈਅੜੈ ਸਹੁ ਸੇਵਿ ਤੂੰ ਸਾਹੁਰੜੈ ਸੁਖਿ ਵਸੁ ॥ رب کی مرضی سے ہی وہ وقت کے تابع ہیں اور اس کی مرضی سے ہی وہ حقیقی صادق رب میں ضم ہو جاتے ہیں۔
ਗੁਰ ਮਿਲਿ ਚਜੁ ਅਚਾਰੁ ਸਿਖੁ ਤੁਧੁ ਕਦੇ ਨ ਲਗੈ ਦੁਖੁ ॥੩॥ اے نانک! جو کچھ بھی رب کو لبھاتا ہے، وہی ہوتا ہے۔ دنیاوی مخلوق کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔۔8۔۔4۔۔
ਸਭਨਾ ਸਾਹੁਰੈ ਵੰਞਣਾ ਸਭਿ ਮੁਕਲਾਵਣਹਾਰ ॥ شری راگو محلہ 1۔۔
Scroll to Top
http://bpbd.sinjaikab.go.id/data/ https://halomasbup.kedirikab.go.id/laporan_desa/ http://magistraandalusia.fib.unand.ac.id/help/menang-gacor/ https://pbindo.fkip.unri.ac.id/stats/manja-gacor/
http://bpbd.sinjaikab.go.id/data/ https://halomasbup.kedirikab.go.id/laporan_desa/ http://magistraandalusia.fib.unand.ac.id/help/menang-gacor/ https://pbindo.fkip.unri.ac.id/stats/manja-gacor/