Urdu-Page-419

SGGS Page 419
ਜੋਗੀ ਭੋਗੀ ਕਾਪੜੀ ਕਿਆ ਭਵਹਿ ਦਿਸੰਤਰ 
jogee bhogee kaaprhee ki-aa bhaveh disantar.
Why do the Yogis, the revellers and the beggars wander in foreign lands?
ਜੋਗੀ ਤੇ ਲੀਰਾਂ ਪਹਿਨਣ ਵਾਲੇ ਫ਼ਕੀਰ ਵਿਅਰਥ ਹੀ ਦੇਸ ਦੇਸ ਦਾ ਰਟਨ ਕਰਦੇ ਹਨ
 جوگیِ بھوگیِ کاپڑیِ کِیا بھۄہِ دِسنّتر 
بھوگی ۔ کھانے میں ۔ محو ہونے والے ۔ کاپڑی ۔ پھٹے کپڑے پہننے والے فقیر۔ وسنتر۔ دوسرے ملکوں ۔ بھویہہ۔ پھرتے ہیں۔
یوگی ، عقیدت مند اور بھکاری بھرمیں کیوں گھومتے ہیں؟ 


ਗੁਰ ਕਾ ਸਬਦੁ  ਚੀਨ੍ਹ੍ਹਹੀ ਤਤੁ ਸਾਰੁ ਨਿਰੰਤਰ 
gur kaa sabad na cheenhee tat saar nirantar. ||3||
They do not reflect on the Guru’s word, in which lies the essence of truth. ||3|| 
ਉਹ ਸਤਿਗੁਰ ਦੇ ਸ਼ਬਦ ਨੂੰ ਖੋਜਦੇ ਨਹੀਂਉਹ ਇਕਰਸ ਸ੍ਰੇਸ਼ਟ ਅਸਲੀਅਤ ਨੂੰ ਨਹੀਂ ਖੋਜਦੇ 
 گُر کا سبدُ ن چیِن٘ہ٘ہہیِ تتُ سارُ نِرنّتر 
نہ چینی ۔ پڑتا ل نہیں کرے ۔ غور نہیں کرتے ۔ تت ۔ اصلیت۔ نرنتر۔ لگاتار ۔ (
3)
وہ گرو کے کلام پر غور نہیں کرتے ، جس میں سچائی کا جوہر ہے۔


ਪੰਡਿਤ ਪਾਧੇ ਜੋਇਸੀ ਨਿਤ ਪੜ੍ਹਹਿ ਪੁਰਾਣਾ 
pandit paaDhay jo-isee nit parheh puraanaa.
Pundits, teachers, and astrologers daily read Puranas (Hindu scriptures).
ਪੰਡਿਤ ਪਾਂਧੇ ਤੇ ਜੋਤਸ਼ੀ ਨਿੱਤ ਪੁਰਾਣ ਆਦਿਕ ਪੁਸਤਕਾਂ ਹੀ ਪੜ੍ਹਦੇ ਰਹਿੰਦੇ ਹਨ
 پنّڈِت پادھے جوئِسیِ نِت پڑ٘ہہِ پُرانھا 
پادھے۔ اُستاد ۔ جوئیسی ۔ جوتشی ۔ نجومیئے ۔
پنڈت ، اساتذہ اور نجومی ہر روز پورن (ہندو صحیفے) پڑھتے ہیں ۔ 


ਅੰਤਰਿ ਵਸਤੁ  ਜਾਣਨ੍ਹ੍ਹੀ ਘਟਿ ਬ੍ਰਹਮੁ ਲੁਕਾਣਾ 
antar vasat na jaananHee ghat barahm lukaanaa. ||4||
But they do not recognize the valuable commodity of Naam and do not realize that the all pervading God is hiding within them. ||4||
ਪਰਮਾਤਮਾ ਹਿਰਦੇ ਵਿਚ ਲੁਕਿਆ ਪਿਆ ਹੈਇਹ ਲੋਕ ਅੰਦਰਵੱਸਦੀ ਨਾਮਵਸਤੂ ਨੂੰ ਨਹੀਂ ਪਛਾਣਦੇ 
 انّترِ ۄستُ ن جانھن٘ہ٘ہیِ گھٹِ ب٘رہمُ لُکانھا 
انتر وست۔ اندرونی اشیا۔ گھٹ۔ دل میں ۔ برہم خدا۔ (
4)
لیکن وہ نام کی قیمتی شے کو نہیں پہچانتے ہیں اور انہیں یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ تمام غیبی خدا ان کے اندر چھپا ہوا ہے۔ 


ਇਕਿ ਤਪਸੀ ਬਨ ਮਹਿ ਤਪੁ ਕਰਹਿ ਨਿਤ ਤੀਰਥ ਵਾਸਾ 
ik tapsee ban meh tap karahi nit tirath vaasaa.
Some penitents perform penance in the forests and always reside at holy places. 
ਅਨੇਕਾਂ ਬੰਦੇ ਤਪੀ ਬਣੇ ਹੋਏ ਹਨਜੰਗਲਾਂ ਵਿਚ (ਜਾ ਕੇਤਪ ਸਾਧਦੇ ਹਨਤੇ ਸਦਾ ਤੀਰਥਾਂ ਉਤੇ ਨਿਵਾਸ ਰੱਖਦੇ ਹਨ
 اِکِ تپسیِ بن مہِ تپُ کرہِ نِت تیِرتھ ۄاسا 
تپسی۔ تپسوی عابد۔ تیرتھ۔ زیارت گاہ ۔
کچھ توحید جنگلات میں توبہ کرتے ہیں اور ہمیشہ مقدس مقامات پر رہتے ہیں۔


ਆਪੁ  ਚੀਨਹਿ ਤਾਮਸੀ ਕਾਹੇ ਭਏ ਉਦਾਸਾ 
aap na cheeneh taamsee kaahay bha-ay udaasaa. ||5||
These men filled with anger do not understand even themselves; why have they become renunciates? ||5||
ਉਹ ਕ੍ਰੋਧ ਨਾਲ ਭਰੇ ਪੁਰਸ਼ ਆਪਣੇ ਆਪ ਨੂੰ ਨਹੀਂ ਖੋਜਦੇ ਉਹ ਕਾਹਦੇ ਲਈ ਤਿਆਗੀ ਹੋਏ ਹਨ? 
 آپُ ن چیِنہِ تامسیِ کاہے بھۓ اُداسا 
آپ نہ چینیہہ۔ اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ میں کیا اور کیسا ہوں۔ تامسی ۔ غصیلا۔ کرودھی ۔ کا ہے بھیا۔ اُداسا کیوں۔ طارق الدنیا بنا ہوا۔ ہے (
5)
غصے سے بھرے یہ لوگ خود کو بھی نہیں سمجھتے۔ وہ کیوں مستعار بن گئے ہیں ؟ 


ਇਕਿ ਬਿੰਦੁ ਜਤਨ ਕਰਿ ਰਾਖਦੇ ਸੇ ਜਤੀ ਕਹਾਵਹਿ 
ik bind jatan kar raakhday say jatee kahaaveh.
Many make great efforts to control their lust and call themselves celibates.
ਅਨੇਕਾਂ ਬੰਦੇ ਜਤਨ ਕਰ ਕੇ ਵੀਰਜ ਨੂੰ ਰੋਕ ਰੱਖਦੇ ਹਨਤੇ ਆਪਣੇ ਆਪ ਨੂੰ ਜਤੀ ਸਦਾਂਦੇ ਹਨ
 اِکِ بِنّدُ جتن کرِ راکھدے سے جتیِ کہاۄہِ 
بندتخم جتی ۔ جت والے ۔ پاک۔
بہت سے لوگ اپنی ہوس کو قابو کرنے کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں اور خود کو برہم کہتے ہیں۔ 


ਬਿਨੁ ਗੁਰ ਸਬਦ  ਛੂਟਹੀ ਭ੍ਰਮਿ ਆਵਹਿ ਜਾਵਹਿ 
 bin gur sabad na chhoothee bharam aavahi jaaveh. ||6||
 But without following the Guru’s word, they are not able to escape from lust and lost in the illusion of celibacy remain in the cycles of birth and death. ||6||
ਪਰ ਗੁਰੂ ਦੇ ਸ਼ਬਦ ਤੋਂ ਬਿਨਾ ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੀ ਖ਼ਲਾਸੀ ਨਹੀਂ ਹੁੰਦੀ ਤੇ ਜਤੀ ਹੋਣ ਦੀ ਭਟਕਣਾ ਵਿਚ ਜਨਮ ਮਰਨ ਦੇ ਗੇੜ ਵਿਚ ਪਏ ਰਹਿੰਦੇ ਹਨ 
 بِنُ گُر سبد ن چھوُٹہیِ بھ٘رمِ آۄہِ جاۄہِ 
بن گر سبد۔ کلام مرشد کے بغیر۔ چھٹی نجات۔ بھرم۔ وہم و گمان۔ شک و شبہات (
6)
لیکن گرو کے کلام پر عمل کیے بغیر ، وہ ہوس سے بچ نہیں پائے اور برہم کے فریب میں کھوئے ہوئے پیدائش اور موت کے چکروں میں پڑے رہتے ہیں۔ 


ਇਕਿ ਗਿਰਹੀ ਸੇਵਕ ਸਾਧਿਕਾ ਗੁਰਮਤੀ ਲਾਗੇ 
ik girhee sayvak saaDhikaa gurmatee laagay.
There are many householders who strive to serve others and follow the Guru’s teachings .
ਅਨੇਕਾਂ ਗ੍ਰਿਹਸਤੀ ਐਸੇ ਹਨ ਜੋ ਸੇਵਾ ਦੇ ਸਾਧਨ ਕਰਦੇ ਹਨਤੇ ਗੁਰੂ ਦੀ ਦਿੱਤੀ ਮਤਿ ਉਤੇ ਤੁਰਦੇ ਹਨ
 
 اِکِ گِرہیِ سیۄک سادھِکا گُرمتیِ لاگے 
گرہی ۔ خآنہ داری گھریلوں زندگی ۔ سیوک ۔ خادم ۔ خدمت کرنے والا ۔ سادھکا۔ اپنے اخلاق کی درستی کرنے والا۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے (
7)
بہت سے گھریلو لوگ ہیں جو دوسروں کی خدمت کرنے اور گرو کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔


ਨਾਮੁ ਦਾਨੁ ਇਸਨਾਨੁ ਦ੍ਰਿੜੁ ਹਰਿ ਭਗਤਿ ਸੁ ਜਾਗੇ 
naam daan isnaan darirh har bhagat so jaagay. ||7||
They meditate on Naam, give charity and do the ablution of living a honest life. By resolutely worshipping God, they remain alert to worldly allurements. ||7||
ਉਹ ਨਾਮ ਜਪਦੇ ਹਨਪੁੰਨ ਦਾਨ ਕਰਦੇ ਹਨ ਆਪਣਾ ਆਚਰਨ ਪਵਿਤ੍ਰ ਰੱਖਦੇ ਹਨ ਤੇ ਉਹ ਪਰਮਾਤਮਾ ਦੀ ਭਗਤੀ ਵਿਚ ਆਪਣੇ ਆਪ ਨੂੰ ਦ੍ਰਿੜ੍ਹ ਕਰ ਕੇ (ਵਿਕਾਰਾਂ ਦੇ ਹੱਲਿਆਂ ਵਲੋਂਸੁਚੇਤ ਰਹਿੰਦੇ ਹਨ ¹
 نامُ دانُ اِسنانُ د٘رِڑُ ہرِ بھگتِ سُ جاگے 
نام۔ سچ حقیقت ۔ دان سخاوت خدمت ۔ اشنان ۔ اخلاقی و جسمانی پاکیزگی ۔
وہ الہی نام کا مراقبہ کرتے ہیں ،صدقہ دیتے ہین وضو کرتے ہیں اور ایک ایماندار کی زندگی گزارتے ہیں . خدا کی ثابت قدمی سے عبادت کرکے ، وہ دنیاوی رغبتوں سے محتاط رہیں۔


ਗੁਰ ਤੇ ਦਰੁ ਘਰੁ ਜਾਣੀਐ ਸੋ ਜਾਇ ਸਿਞਾਣੈ 
 gur tay dar ghar jaanee-ai so jaa-ay sinjaanai.
 Understanding about the self and God is attained from the Guru; he who follows the Guru’s teachings, recognizes himself and God both here and hereafter.
ਆਪਣਾ ਅਸਲੀ ਘਰ ਗੁਰੂ ਤੋਂ ਪਤਾ ਲੱਗ ਜਾਂਦਾ ਹੈਜੋ ਅਗੇ ਜਾ ਕੇ ਮਨੁੱਖ ਲੱਭ ਲੈਂਦਾ ਹੈ
 گُر تے درُ گھرُ جانھیِئےَ سو جاءِ سِجنْانھےَ 
گرتے۔ درگھر جانیئے ۔ زندگی گذارنے کا صحیح طریقہ اور بادگاہ الہٰی۔ سو جائے سنجھانے ۔ وہی پہچانتا ہے ۔ سمجھتا ہے ۔
اپنے آپ کو اور خدا کے بارے میں سمجھنا گرو سے حاصل کیا گیا ہے۔ وہ جو گورو کی تعلیمات مندرجہ ذیل دونوں یہاں اور آخرت اپنے اور خدا کو تسلیم کرتی ہے


ਨਾਨਕ ਨਾਮੁ  ਵੀਸਰੈ ਸਾਚੇ ਮਨੁ ਮਾਨੈ ੧੪
naanak naam na veesrai saachay man maanai. ||8||14||
O’ Nanak, such a person does not forsake God’s Name because that person’s mind now truly believes in the eternal God. ||8||14||
ਹੇ ਨਾਨਕਐਸਾ ਮਨੁਖ ਨਾਮ ਨਹੀਂ ਵਿਸਰਦਾ ਤੇ ਉਸ ਦਾ ਮਨ ਸਦਾਥਿਰ ਰਹਿਣ ਵਾਲੇ ਪਰਮਾਤਮਾ ਵਿਚ ਗਿੱਝ ਜਾਂਦਾ ਹੈ ੧੪
 نانک نامُ ن ۄیِسرےَ ساچے منُ مانےَ ੧੪
ساچے من ۔ سچے دل سے مانے مانتا ہے ۔
اے نانک ، ایسا شخص خدا کے نام کو ترک نہیں کرتا ہے کیونکہ اس شخص کا دماغ ابدی خدا پر واقعتا یقین رکھتا ہے۔
 


ਆਸਾ ਮਹਲਾ  
aasaa mehlaa 1.
Raag Aasaa, First Guru:
 آسا مہلا 
راگ آسا ، پہلا گرو:


ਮਨਸਾ ਮਨਹਿ ਸਮਾਇਲੇ ਭਉਜਲੁ ਸਚਿ ਤਰਣਾ 
mansaa maneh samaa-ilay bha-ojal sach tarnaa.
It is only by subduing the worldly desire in the mind and by meditating on the eternal God that one can swim across the dreadful worldly ocean of vices. 
ਖਾਹਿਸ਼ਾਂ ਨੂੰ ਚਿੱਤ ਅੰਦਰ ਹੀ ਮਾਰ ਕੇਸਦਾਥਿਰ ਰਹਿਣ ਵਾਲੇ ਪਰਮਾਤਮਾ ਵਿਚ ਜੁੜਿਆਂ ਹੀ ਸੰਸਾਰਸਮੁੰਦਰ ਤੋਂ ਪਾਰ ਲੰਘ ਸਕੀਦਾ ਹੈ
 منسا منہِ سمائِلے بھئُجلُ سچِ ترنھا 
منسا۔ ارادے ۔ سمالیئے ۔ دل جذب بھٹا کرکے ۔ بھؤجل۔ خوفناک پانی ( سمندر ) سچ ۔ حقیقت ۔ اصلیت۔ ترنا۔ کامیاب ۔ 

دنیاوی خواہشات کو ذہن میں دبانے اور ابدی خدا کا دھیان کرنے سے ہی انسان دنیا کے خطرناک دنیا میں تیر سکتا ہے۔


ਆਦਿ ਜੁਗਾਦਿ ਦਇਆਲੁ ਤੂ ਠਾਕੁਰ ਤੇਰੀ ਸਰਣਾ 
aad jugaad da-i-aal too thaakur tayree sarnaa. ||1||
O’ the merciful God, You have existed since the beginning of the ages and even before that; I have come to Your refuge. ||1||
ਹੇ ਸ੍ਰਿਸ਼ਟੀ ਦੇ ਮੁੱਢ ਪ੍ਰਭੂ!, ਹੇ ਜੁਗਾਂ ਤੋਂ ਭੀ ਪਹਿਲਾਂ ਦੇ ਪ੍ਰਭੂਤੂੰ ਸਭ ਜੀਵਾਂ ਉਤੇ ਦਇਆ ਕਰਨ ਵਾਲਾ ਹੈਂ ਮੈਂ ਤੇਰੀ ਸਰਨ ਆਇਆ ਹਾਂ
 آدِ جُگادِ دئِیالُ توُ ٹھاکُر تیریِ سرنھا 
آو آغاز۔ شروع۔ جگاد۔ درمیانی عرصے میں۔ دیال ۔ مہربان ۔ ٹھاک۔ مالک ۔ خدا ۔ تیری سرنا۔ تیری پناہ ۔

اے رحیم خدا ، آپ زمانے کے آغاز سے ہی موجود ہیں اور اس سے پہلے بھی۔ میں آپ کی پناہ میں آیا ہوں ۔ 


ਤੂ ਦਾਤੌ ਹਮ ਜਾਚਿਕਾ ਹਰਿ ਦਰਸਨੁ ਦੀਜੈ 
too daatou ham jaachikaa har darsan deejai.
O’ God, You are the Giver and we are Your beggars, please grant us your vision.
ਹੇ ਹਰੀਤੂੰ ਸਭ ਜੀਵਾਂ ਨੂੰ ਦਾਤਾਂ ਦੇਣ ਵਾਲਾ ਹੈਂਅਸੀਂ ਜੀਵ (ਤੇਰੇ ਦਰ ਦੇਮੰਗਤੇ ਹਾਂ, (ਸਾਨੂੰਦਰਸਨ ਦੇਹ
 توُ داتوَ ہم جاچِکا ہرِ درسنُ دیِجےَ 
واتے ۔ سخی ۔ جاچکا۔ منگتے ۔

اے خدا ، تو دینے والا ہے اور ہم آپ کے بھکاری ہیں ، براہ کرم ہمیں اپنا بین عطا فرما۔ 


ਗੁਰਮੁਖਿ ਨਾਮੁ ਧਿਆਈਐ ਮਨ ਮੰਦਰੁ ਭੀਜੈ  ਰਹਾਉ 
gurmukh naam Dhi-aa-ee-ai man mandar bheejai. ||1|| rahaa-o.
When we follow the Guru’s teachings and meditate on Naam, our heart gets imbued with God’s love. ||1||Pause||
ਗੁਰਾਂ ਦੇ ਰਾਹੀਂ ਨਾਮ ਦਾ ਅਰਾਧਨ ਕਰਨ ਦੁਆਰਾ ਮਨ ਦਾ ਮੰਦਰ (ਹਰਿਨਾਮ ਨਾਲਭਿੱਜ ਜਾਂਦਾ ਹੈ  ਰਹਾਉ 
 گُرمُکھِ نامُ دھِیائیِئےَ من منّدرُ بھیِجےَ  رہاءُ 
من مندر بجھے ۔ دل کا مندر متاثر ہوا ہے (
1)رہاؤ۔
جب ہم گرو کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور نام پر غور کرتے ہیں تو ہمارا دل خدا کی محبت میں رنگ جاتا ہے۔


ਕੂੜਾ ਲਾਲਚੁ ਛੋਡੀਐ ਤਉ ਸਾਚੁ ਪਛਾਣੈ 
koorhaa laalach chhodee-ai ta-o saach pachhaanai.
We realize the eternal God only when we abandon false greed.
ਭੈੜਾ ਲਾਲਚ ਛੱਡਣ ਨਾਲ ਹੀ ਸਦਾਥਿਰ ਪ੍ਰਭੂ ਨਾਲ ਸਾਂਝ ਪੈਂਦੀ ਹੈ
 کوُڑا لالچُ چھوڈیِئےَ تءُ ساچُ پچھانھےَ 
کوڑ ا لالچ چھوڑیئے تو جھوٹا لالچ چھوڑ کر۔ ساچ ۔ حقیقت ۔مراد خدا کی پہچان ہوتی ہے ۔

ہمیں ابدی خدا کا احساس تب ہی ہوتا ہے جب ہم جھوٹے لالچ کو ترک کردیں۔ 


ਗੁਰ ਕੈ ਸਬਦਿ ਸਮਾਈਐ ਪਰਮਾਰਥੁ ਜਾਣੈ 
gur kai sabad samaa-ee-ai parmaarath jaanai. ||2||
We understand the true spiritual path only when we merge in Naam by following the Guru’s teaching. ||2||
ਗੁਰੂ ਦੇ ਸ਼ਬਦ ਦੀ ਰਾਹੀਂ ਪਰਮਾਤਮਾ ਦੇ ਨਾਮ ਵਿਚ ਲੀਨ ਹੋ ਕੇ ਉਹ ਜੀਵਨ ਦੇ ਸਭ ਤੋਂ ਉੱਚੇ ਮਨੋਰਥ ਨੂੰ ਸਮਝ ਲਈਦਾ ਹੈ 
 گُر کےَ سبدِ سمائیِئےَ پرمارتھُ جانھےَ 
پر مارتھ ۔ سب سے بڑی دؤلت (
2)
ہم حقیقی روحانی راہ کو اسی وقت سمجھتے ہیں جب ہم گرو کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے نام میں ضم ہوجاتے ہیں ۔ 


ਇਹੁ ਮਨੁ ਰਾਜਾ ਲੋਭੀਆ ਲੁਭਤਉ ਲੋਭਾਈ 
ih man raajaa lobhee-aa lubhta-o lobhaa-ee.
This greedy mind acts as if it were the king of the entire human body and always remains engrossed in greed for Maya.
ਇਹ ਲੋਭੀ ਮਨ ਸਰੀਰਨਗਰ ਦਾ ਰਾਜਾ ਬਣ ਬੈਠਦਾ ਹੈ ਲੋਭ ਵਿਚ ਫਸਿਆ ਹੋਇਆ ਸਦਾ ਮਾਇਆ ਦਾ ਲੋਭ ਕਰਦਾ ਰਹਿੰਦਾ ਹੈ
 اِہُ منُ راجا لوبھیِیا لُبھتءُ لوبھائیِ 
من راجہ لوبھیا۔ انسانی دل لالچ کا بادشاہ ہے بھتؤ۔ لالچ میں محسور۔ بوبھائی۔ لالچ کرتا ہے ۔

کے طور پر اگر یہ اس لالچی ذہن کام کرتا تھے پورے انسانی جسم کا بادشاہ ہے اور ہمیشہ مایا کے لالچ میں مصروف رہتا ہے


ਗੁਰਮੁਖਿ ਲੋਭੁ ਨਿਵਾਰੀਐ ਹਰਿ ਸਿਉ ਬਣਿ ਆਈ 
gurmukh lobh nivaaree-ai har si-o ban aa-ee. ||3||
This greed can be eradicated only by following the Guru’s teachings; one who does that gets imbued with God’s love. ||3||
ਗੁਰੂ ਦੀ ਸਰਨ ਪੈ ਕੇ ਹੀ ਇਹ ਲੋਭ ਦੂਰ ਕੀਤਾ ਜਾ ਸਕਦਾ ਹੈ ਜੇਹੜਾ ਮਨੁੱਖ ਲੋਭ ਦੂਰ ਕਰ ਲੈਂਦਾ ਹੈਉਸ ਦੀ ਪ੍ਰਭੂ ਨਾਲ ਪ੍ਰੀਤ ਬਣ ਜਾਂਦੀ ਹੈ 
 گُرمُکھِ لوبھُ نِۄاریِئےَ ہرِ سِءُ بنھِ آئیِ 
نورایئے ۔ دور کیئے ۔ مٹائیں۔ ہر سیؤ۔ خدا سے ۔ بن آئی ۔ پریم ہو جاتا ہے ۔ (
3)
صرف گرو کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی اس لالچ کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ جو ایسا کرتا ہے وہ خدا کی محبت میں رنگ جاتا ہے۔ 


ਕਲਰਿ ਖੇਤੀ ਬੀਜੀਐ ਕਿਉ ਲਾਹਾ ਪਾਵੈ 
 kalar khaytee beejee-ai ki-o laahaa paavai.
 Just as one cannot reap any profit by sowing crops in a barren land,
ਕੱਲਰ ਵਿਚ ਖੇਤੀ ਬੀਜ ਕੇਆਦਮੀ ਕਿਸ ਤਰ੍ਹਾਂ ਲਾਭ ਉਠਾ ਸਕਦਾ ਹੈ? 
 کلرِ کھیتیِ بیِجیِئےَ کِءُ لاہا پاۄےَ 
کالر۔ بیکار زمین کلر اٹھی ۔ کھیتی ۔ کاشتکاری ۔ لاہا۔ منافع ۔

جس طرح کوئی بھی بنجر زمین میں فصلیں بو کر کوئی نفع نہیں اٹھا سکتا ، 


ਮਨਮੁਖੁ ਸਚਿ  ਭੀਜਈ ਕੂੜੁ ਕੂੜਿ ਗਡਾਵੈ 
manmukh sach na bheej-ee koorh koorh gadaavai. ||4||
similarly a self-willed person cannot reap any benefit of devotional worship because he remains merged into falsehood. ||4||
ਆਪਣੇ ਮਨ ਦੇ ਪਿਛੇ ਤੁਰਨ ਵਾਲਾ ਮਨੁੱਖ ਸਦਾਥਿਰ ਪ੍ਰਭੂ ਵਿਚ ਰਚਮਿਚ ਨਹੀਂ ਸਕਦਾ ਤੇ ਝੂਠ ਝੂਠ ਵਿਚ ਹੀ ਰਲਦਾ ਹੈ 
 منمُکھُ سچِ ن بھیِجئیِ کوُڑُ کوُڑِ گڈاۄےَ 
کوڑالالچ۔ جھوٹا لالچ۔ توؤ۔ تب ساچ پچھانے ۔ حقیقت اور خدا کی پہچان ہوتی ہے ۔کوڑ کوڑ کڈا وے ۔ جھوٹ میں جھوٹ مل جاتا ہے ۔ (
4)
اسی طرح ایک خودمختار شخص بھی عقیدت مند عبادت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ وہ باطل میں ضم ہوجاتا ہے۔ 


ਲਾਲਚੁ ਛੋਡਹੁ ਅੰਧਿਹੋ ਲਾਲਚਿ ਦੁਖੁ ਭਾਰੀ 
laalach chhodahu anDhiho laalach dukh bhaaree.
O’ people, blinded by greed, abandon greed because greed brings immense pain.
ਹੇ ਮਾਇਆਮੋਹ ਵਿਚ ਅੰਨ੍ਹੇ ਹੋਏ ਜੀਵੋਮਾਇਆ ਦਾ ਲਾਲਚ ਛੱਡ ਦੇਵਹੁਲਾਲਚ ਵਿਚ (ਫਸਿਆਂਭਾਰੀ ਦੁੱਖ ਸਹਿਣਾ ਪੈਂਦਾ ਹੈ
 لالچُ چھوڈہُ انّدھِہو لالچِ دُکھُ بھاریِ 
اے لوگو ، لالچ سے اندھے ہوکر لالچ ترک کردیں کیونکہ لالچ میں بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ 


ਸਾਚੌ ਸਾਹਿਬੁ ਮਨਿ ਵਸੈ ਹਉਮੈ ਬਿਖੁ ਮਾਰੀ 
saachou saahib man vasai ha-umai bikh maaree. ||5||
One who eradicates his love for Maya (worldly riches nd power) and ego, realizes the eternal God’s presence in his heart. ||5||
ਜਿਸ ਮਨੁੱਖ ਦੇ ਮਨ ਵਿਚ ਸਦਾਥਿਰ ਮਾਲਕ ਵੱਸ ਪੈਂਦਾ ਹੈਉਹ ਹਉਮੈ ਦੀ ਜ਼ਹਰ ਨੂੰ ਮਾਰ ਲੈਂਦਾ ਹੈ 
 ساچوَ ساہِبُ منِ ۄسےَ ہئُمےَ بِکھُ ماریِ 
ہومنے دکھ خودی مل جاتا ہے ۔ ہونمے دکھ خودی کی زرے (
5)
ایک مایا (دنیاوی دولت کے لئے ان کی محبت کا خاتمہ ہے جو طاقت) اور انا، اس کے دل میں ہمیشہ خدا کی موجودگی کا احساس


ਦੁਬਿਧਾ ਛੋਡਿ ਕੁਵਾਟੜੀ ਮੂਸਹੁਗੇ ਭਾਈ 
dubiDhaa chhod kuvaatarhee mooshugay bhaa-ee.
O’ brothers, renounce the wrong path of duality, otherwise you would be robbed of your virtues.
ਹੇ ਭਾਈਦੁਬਿਧਾ ਛੱਡ ਦੇਵਹੁ, ਇਸ ਗ਼ਲਤ ਰਸਤੇ ਤੇ ਪੈ ਕੇ ਲੁੱਟੇ ਜਾਵੋਗੇ!
 دُبِدھا چھوڈِ کُۄاٹڑیِ موُسہُگے بھائیِ 
وبدھا۔ دوغلہ پن۔ دوہری سوچ۔ کواٹر ڑی ۔ غلط اور ناپاک راستہ۔ موسہوگے ۔ لٹ جاؤ گے ۔

اے بھائیو ، دقلیت کے غلط راستے کو چھوڑ دو ، ورنہ تمہیں اپنی خوبیوں سے لوٹ لیا جائے گا۔


ਅਹਿਨਿਸਿ ਨਾਮੁ ਸਲਾਹੀਐ ਸਤਿਗੁਰ ਸਰਣਾਈ 
ahinis naam salaahee-ai satgur sarnaa-ee. ||6||
By following the true Guru’s teachings, day and night we should sing the praises of God’s Name. ||6||
ਸਤਿਗੁਰੂ ਦੀ ਸਰਨ ਪੈ ਕੇ ਦਿਨ ਰਾਤ ਪਰਮਾਤਮਾ ਦੇ ਨਾਮ ਦੀ ਸਿਫ਼ਤਸਾਲਾਹ ਕਰਨੀ ਚਾਹੀਦੀ ਹੈ 
 اہِنِسِ نامُ سلاہیِئےَ ستِگُر سرنھائیِ 
اہنس ۔ روز وشب و دن رات۔ (
6)
دن رات ہمیں گورو کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خدا کے نام کی ستائش کرنا چاہئے۔


ਮਨਮੁਖ ਪਥਰੁ ਸੈਲੁ ਹੈ ਧ੍ਰਿਗੁ ਜੀਵਣੁ ਫੀਕਾ 
manmukh pathar sail hai Dharig jeevan feekaa.
The heart of a self-willed is like a stone; accursed and unpleasant is his life.
ਮਨ ਦਾ ਮੁਰੀਦ ਮਨੁੱਖ ਚਟਾਨ ਪੱਥਰ ਵਾਂਗ ਕੁਰਖ਼ਤ ਹੈਜਿਸ ਦਾ ਜੀਵਨ ਬੇਸੁਆਦ ਰਹਿੰਦਾ ਹੈ ਤੇ ਫਿਟਕਾਰਜੋਗ ਹੈ
 منمُکھ پتھرُ سیَلُ ہےَ دھ٘رِگُ جیِۄنھُ پھیِکا 
سیل ۔ چٹان۔ پتھر۔ دھرگ۔ برا کہنے کے لائق۔ لونت ۔ پھیکا ۔ بدمزہ ۔

خود غرض کا دل پتھر کی مانند ہے۔ ملعون اور ناخوشگوار اس کی زندگی ہے۔ 


ਜਲ ਮਹਿ ਕੇਤਾ ਰਾਖੀਐ ਅਭ ਅੰਤਰਿ ਸੂਕਾ 
 jal meh kaytaa raakhee-ai abh antar sookaa. ||7||
 The core of a stone remains dry even when kept in water for long time; similarly a self-conceited person remains unaffected by any amount of good advice. ||7|| ਪੱਥਰ ਨੂੰ ਕਿਤਨਾ ਹੀ ਸਮਾ ਪਾਣੀ ਵਿਚ ਰੱਖਿਆ ਜਾਏਤਾਂ ਵੀ ਉਹ ਅੰਦਰੋਂ ਸੁੱਕਾ ਹੀ ਰਹਿੰਦਾ ਹੈ 
 جل مہِ کیتا راکھیِئےَ ابھ انّترِ سوُکا 
ابھ انتر۔ پانی میں (
7)
جب پانی میں زیادہ دیر تک رکھا جاتا ہو تب بھی پتھر کا بنیادی خشک رہتا ہے۔ اسی طرح ایک خود غرض انسان کسی بھی اچھی صلاح سے متاثر نہیں رہتا ہے۔


ਹਰਿ ਕਾ ਨਾਮੁ ਨਿਧਾਨੁ ਹੈ ਪੂਰੈ ਗੁਰਿ ਦੀਆ 
har kaa naam niDhaan hai poorai gur dee-aa.
God’s Name is a treasure of all virtues; to whom the perfect Guru has given it, ਪਰਮਾਤਮਾ ਦਾ ਨਾਮ (ਸਾਰੇ ਆਤਮਕ ਗੁਣਾਂ ਦਾਖ਼ਜ਼ਾਨਾ ਹੈਜਿਸ ਮਨੁੱਖ ਨੂੰ ਪੂਰੇ ਗੁਰੂ ਨੇ ਨਾਮ ਦੇ ਦਿੱਤਾ,
 ہرِ کا نامُ نِدھانُ ہےَ پوُرےَ گُرِ دیِیا 
ندھان۔ خزانہ ۔ پورے گر۔ کامل مرشد۔

خدا کا نام تمام خوبیوں کا خزانہ ہے۔ کو جنہیں کامل گرو یہ دیا گیا ہے، 


ਨਾਨਕ ਨਾਮੁ  ਵੀਸਰੈ ਮਥਿ ਅੰਮ੍ਰਿਤੁ ਪੀਆ ੧੫
naanak naam na veesrai math amrit pee-aa. ||8||15||
 O’ Nanak, he never forsakes God’s Name because by always meditating on Naam he has partaken the ambrosial nectar of Naam. ||8||15||
ਹੇ ਨਾਨਕਉਸ ਨੂੰ ਪ੍ਰਭੂ ਦਾ ਨਾਮ ਕਦੇ ਭੁੱਲਦਾ ਨਹੀਂਉਹ ਸਦਾ ਜਪ ਜਪ ਕੇ ਆਤਮਕ ਜੀਵਨ ਦੇਣ ਵਾਲਾ ਨਾਮਰਸ ਪੀਂਦਾ ਹੈ ੧੫
 نانک نامُ ن ۄیِسرےَ متھِ انّم٘رِتُ پیِیا ੧੫
متھ۔ ہلا کے ۔ انمرت۔ آب حیات۔ (
8)
اےنانک، وہ کبھی نہیں ہمیشہ پر غور و فکر کر کیونکہ خدا کے نام چھوڑ کی وہ کیا ہے کے امرت کی 


ਆਸਾ ਮਹਲਾ  
aasaa mehlaa 1.
Raag Aasaa, First Guru:
 آسا مہلا 
راگ آسا ، پہلا گرو:
ਚਲੇ ਚਲਣਹਾਰ ਵਾਟ ਵਟਾਇਆ 
chalay chalanhaar vaat vataa-i-aa.
Like travellers, people depart from the world after remaining astray from the righteous path of life,
ਪਰਦੇਸੀ ਜੀਊੜੇ ਜੀਵਨ ਦਾ ਸਹੀ ਰਸਤਾ ਖੁੰਝ ਕੇ ਤੁਰੇ ਜਾ ਰਹੇ ਹਨ,
 چلے چلنھہار ۄاٹ ۄٹائِیا 
چلنہار۔ چلتے والے ۔ مسافر۔ واٹ و ٹایئیا۔ راستہ بدلا ہے ۔
مسافروں کی طرح ، لوگ بھی راہ راست سے ہٹ کر دنیا سے رخصت ہوگئے


ਧੰਧੁ ਪਿਟੇ ਸੰਸਾਰੁ ਸਚੁ  ਭਾਇਆ 
DhanDh pitay sansaar sach na bhaa-i-aa. ||1||
 Because they do not love the eternal God’s Name, they unnecessarily keep doind those deeds which keep them entangled in Maya. ||1||
ਜਗਤ ਉਹੀ ਕੰਮ ਔਖਾ ਹੋ ਹੋ ਕੇ ਕਰਦਾ ਹੈ ਜੋ ਗਲ ਵਿਚ ਮਾਇਆ ਦੇ ਜੰਜਾਲ ਪਾਈ ਜਾਂਦਾ ਹੈਜਗਤ ਨੂੰ ਸਦਾਥਿਰ ਪ੍ਰਭੂ ਦਾ ਨਾਮ ਪਿਆਰਾ ਨਹੀਂ ਲੱਗਦਾ  
 دھنّدھُ پِٹے سنّسارُ سچُ ن بھائِیا 
دھند۔بیکار کام۔ پٹے مشکل سے ۔ کرتا ہے ۔ سچ نہ بھایئیا۔ حقیقت ۔ اصلیت نہ بھایئیا۔ اچھی نہیں لگتی (
1)
کیونکہ وہ ابدی خدا کے نام سے پیار نہیں کرتے ہیں ، لہذا وہ غیر ضروری طور پر ان اعمال کو ضائع کرتے ہیں جو انہیں مایا میں الجھے ہوئے ہیں۔ 


ਕਿਆ ਭਵੀਐ ਕਿਆ ਢੂਢੀਐ ਗੁਰ ਸਬਦਿ ਦਿਖਾਇਆ 
ki-aa bhavee-ai ki-aa dhoodhee-ai gur sabad dikhaa-i-aa.
Why should we wander and search Him in different places, when the Guru’s word has revealed God to us within our own heart?
ਕਿਉਂ ਭਟਕੀਏ ਤੇ ਕਿਉਂ ਖੋਜਭਾਲ ਕਰੀਏਜਦ ਗੁਰਬਾਣੀ ਸਾਨੂੰ ਸਾਹਿਬ ਦੇ ਦਰਸ਼ਨ ਕਰਾਉਂਦੀ ਹੈ?

 کِیا بھۄیِئےَ کِیا ڈھوُڈھیِئےَ گُر سبدِ دِکھائِیا 
کیابھویئے ۔ کہاں جانئیں ۔ کای ڈہوڈیئے ۔ کہا تلاش کریں۔ گر سبد وکھایئیا ۔ کلام مرشد کے ذریعے دیدار کرادیا۔
جب ہم نے اپنے ہی دل میں خدا کا انکشاف کیا ہے تو ہمیں کیوں اسے مختلف جگہوں پر بھٹکنا اور تلاش کرنا چاہئے؟


ਮਮਤਾ ਮੋਹੁ ਵਿਸਰਜਿਆ ਅਪਨੈ ਘਰਿ ਆਇਆ  ਰਹਾਉ 
 mamtaa moh visarji-aa apnai ghar aa-i-aa. ||1|| rahaa-o.
 Leaving behind egotism and worldly attachment, my mind has come back to its own house, the abode of God in the body itself. ||1||Pause||
ਅਪਣੱਤ ਅਤੇ ਸੰਸਾਰੀ ਲਗਣ ਨੂੰ ਤਿਆਗ ਕੇ ਮੈਂ ਆਪਣੇ ਨਿਜ ਦੇ ਧਾਮ ਤੇ ਪੁੱਜ ਗਿਆ ਹਾਂ ਰਹਾਉ 
 ممتا موہُ ۄِسرجِیا اپنےَ گھرِ آئِیا  رہاءُ 
ممتا۔ ملکیت۔ موہ۔ محبت ۔ وسرجیا۔ دور کیا۔ مٹایئیا۔ اپنے گھر آیئیا ۔ حقیقت اپنائی (
1)رہاؤ
غرور اور دنیاوی لگاؤ کے پیچھے رہ کر ، میرا دماغ اپنے ہی گھر میں آگیا ، جسم ہی میں خدا کا مسکن۔


ਸਚਿ ਮਿਲੈ ਸਚਿਆਰੁ ਕੂੜਿ  ਪਾਈਐ 
sach milai sachiaar koorh na paa-ee-ai.
God is realized only by following the path of truth and not through falsehood.
ਸੱਚ ਦੇ ਰਾਹੀਂ ਸਤਿਪੁਰਖ ਮਿਲਦਾ ਹੈ ਝੂਠ ਦੁਆਰਾ ਉਹ ਪਾਇਆ ਨਹੀਂ ਜਾਂਦਾ 
 سچِ مِلےَ سچِیارُ کوُڑِ ن پائیِئےَ 
سچ حقیقت خدا۔ سچے سچیار۔ سچے پاک۔ اخلاق سے ملتا ہے ۔ گوڑ ۔جھوٹ۔
خدا کا حصول صرف حق کی راہ پر چلنے سے ہوتا ہے نہ کہ باطل کے ذریعے۔ 


ਸਚੇ ਸਿਉ ਚਿਤੁ ਲਾਇ ਬਹੁੜਿ  ਆਈਐ 
sachay si-o chit laa-ay bahurh na aa-ee-ai. ||2||
 By remaining attuned to God, one does not take birth again and again. ||2||
ਸਦਾਥਿਰ ਪਰਮਾਤਮਾ ਵਿਚ ਚਿੱਤ ਜੋੜਿਆਂ ਮੁੜ ਮੁੜ ਜਨਮ ਵਿਚ ਨਹੀਂ ਆਵੀਦਾ 
 سچے سِءُ چِتُ لاءِ بہُڑِ ن آئیِئےَ 
چت لائے ۔ دلی پایر سے بہوڑ۔ دوبارہ ۔ (
2)
خدا سے مشغول رہ کر ، بار بار جنم نہیں لیتا۔ 


ਮੋਇਆ ਕਉ ਕਿਆ ਰੋਵਹੁ ਰੋਇ  ਜਾਣਹੂ 
mo-i-aa ka-o ki-aa rovhu ro-ay na jaanhoo.
Why do you mourn for the deceased? You do not even know the real reason to to grieve (separation from God).
ਤੁਸੀਂ ਮਰੇ ਸੰਬੰਧੀਆਂ ਨੂੰ ਰੋਂਦੇ ਹੋ ਅਸਲ ਵੈਰਾਗ ਵਿਚ ਆਉਣ ਦੀ ਤੁਹਾਨੂੰ ਜਾਚ ਨਹੀਂ
 موئِیا کءُ کِیا روۄہُ روءِ ن جانھہوُ 
روئے نہ جانہو۔ رونا نہیں جانتے ۔ رو وہو
تم میت پر سوگ کیوں کرتے ہو؟ یہاں تک کہ آپ کی اصل وجہ معلوم نہیں ہے کرنے کو غمگین (خدا کی طرف سے علیحدگی


ਰੋਵਹੁ ਸਚੁ ਸਲਾਹਿ ਹੁਕਮੁ ਪਛਾਣਹੂ 
rovhu sach salaahi hukam pachhaanhoo. ||3||
Mourn over the reasons for your separation from God by lovingly singing His praises and recognize His command (that birth and death is by His will). ||3||
ਪਰਮਾਤਮਾ ਦੀ ਸਿਫ਼ਤਸਾਲਾਹ ਕਰਨ ਦੀ ਵੈਰਾਗ ਵਿੱਚ ਆਵੋ ਤੇ ਸਮਝੋ ਕਿ ਇਹ (ਕਿ ਜੰਮਣਾ ਮਰਨਾਪਰਮਾਤਮਾ ਦਾ ਹੁਕਮ ਹੈ ¹

 روۄہُ سچُ سلاہِ ہُکمُ پچھانھہوُ 
سچ صلاح۔ سچے خدا کی صفت صلاح کرکے اس کی جدائی کے لئے روؤ۔ حکم پچھانہو۔ الہٰی رضا و فرمان کی پہچان کیجئے ۔ (
3)
خدا کی طرف سے آپ کی علیحدگی کی وجوہات پر پیار سے اس کی حمد گاتے ہوئے اور اس کے حکم کو پہچان لو (کہ پیدائش اور موت اسی کی مرضی سے ہے)۔


ਹੁਕਮੀ ਵਜਹੁ ਲਿਖਾਇ ਆਇਆ ਜਾਣੀਐ 
hukmee vajahu likhaa-ay aa-i-aa jaanee-ai.
We should understand that everyone comes into this world with preordained sustenance.
ਇਹ ਗੱਲ ਸਮਝਣੀ ਚਾਹੀਦੀ ਹੈ ਕਿ ਹਰੇਕ ਜੀਵ ਪਰਮਾਤਮਾ ਦੀ ਰਜ਼ਾ ਵਿਚ ਹੀ ਰੋਜ਼ੀ ਲਿਖਾ ਕੇ ਜਗਤ ਵਿਚ ਆਉਂਦਾ ਹੈ
 ہُکمیِ ۄجہُ لِکھاءِ آئِیا جانھیِئےَ 
وجہو ۔ روزینہ۔ تنخواہ ۔ آیئیا جانیئے ۔ اس کا جنم لینا کامیاب ہے ۔
ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہر کوئی اس دنیا میں پہلے سے روزی کے ساتھ آتا ہے۔


ਲਾਹਾ ਪਲੈ ਪਾਇ ਹੁਕਮੁ ਸਿਞਾਣੀਐ 
laahaa palai paa-ay hukam sinjaanee-ai. ||4||
If we realize the will of God, only then we earn the profit of human life. ||4||
ਉਸ ਦੀ ਰਜ਼ਾ ਨੂੰ ਪਛਾਨਣਾ ਚਾਹੀਦਾ ਹੈਇਸ ਤਰ੍ਹਾਂ ਹੀ ਜੀਵਨ ਲਾਭ ਮਿਲਦਾ ਹੈ 
 لاہا پلےَ پاءِ ہُکمُ سِجنْانھیِئےَ 
حکم سبھاتیئے ۔ الہٰی رضا و فرمان کو سمجھ ۔ لاہا پلے پائے ۔ نفع کماتا ہےے ۔ (
4)
اگر ہمیں خدا کی مرضی کا احساس ہوتا ہے ، تب ہی ہم انسانی زندگی کا نفع کماتے ہیں۔