Guru Granth Sahib Translation Project

Guru Granth Sahib Urdu Page 346

Page 346

ਹਉ ਬਨਜਾਰੋ ਰਾਮ ਕੋ ਸਹਜ ਕਰਉ ਬੵਾਪਾਰੁ॥ میں رام کا سوداگر ہوں اور بآسانی ہی علم کا کاروبار کرتا ہوں۔
ਮੈ ਰਾਮ ਨਾਮ ਧਨੁ ਲਾਦਿਆ ਬਿਖੁ ਲਾਦੀ ਸੰਸਾਰਿ ॥੨॥ میں نے رام کے نام کا عنصر سوار کیا ہے؛ مگر دنیا نے دولت نما زہر کا سودا کیا ہے۔ 2۔
ਉਰਵਾਰ ਪਾਰ ਕੇ ਦਾਨੀਆ ਲਿਖਿ ਲੇਹੁ ਆਲ ਪਤਾਲੁ ॥ چترگپت! انسانوں کے دنیا و آخرت کے تمام اعمالوں کو جاننے والے ہیں، میرے بارے میں جو بھی دل کرے لکھ لینا یعنی میرے کاموں میں یمراج کے پاس پیش کرنے کے لیے تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔
ਮੋਹਿ ਜਮ ਡੰਡੁ ਨ ਲਾਗਈ ਤਜੀਲੇ ਸਰਬ ਜੰਜਾਲ ॥੩॥ کیونکہ رب کے کرم سے میں نے تمام جھجنٹ چھوڑ دیا ہے؛ اس لیے مجھے یم کی سزا نہیں ملے گی۔ 3۔
ਜੈਸਾ ਰੰਗੁ ਕਸੁੰਭ ਕਾ ਤੈਸਾ ਇਹੁ ਸੰਸਾਰੁ ॥ اے چمار روی داس! کہو میں جیسے جیسے رب کے نام کا کاروبار کررہا ہوں، مجھے یقین ہورہا ہے کہ یہ دنیا ایسی ہے، جیسے کسنبھڑے کا رنگ
ਮੇਰੇ ਰਮਈਏ ਰੰਗੁ ਮਜੀਠ ਕਾ ਕਹੁ ਰਵਿਦਾਸ ਚਮਾਰ ॥੪॥੧॥ اور میرے محبوب رب کا نام رنگ ایسا ہے، جیسے مجیٹھ کا رنگ۔ 4۔ 1۔
ਗਉੜੀ ਪੂਰਬੀ ਰਵਿਦਾਸ ਜੀਉ گؤڑی پوربی رویداس جیو
ੴ ਸਤਿਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥ رب ایک ہے، جس کا حصول ستگرو کے فضل سے ممکن ہے۔
ਕੂਪੁ ਭਰਿਓ ਜੈਸੇ ਦਾਦਿਰਾ ਕਛੁ ਦੇਸੁ ਬਿਦੇਸੁ ਨ ਬੂਝ ॥ جس طرح پانی سے بھرے کنویں میں مینڈک کو اپنے ملک اور بیرونِ ملک کا کچھ بھی علم نہیں ہوتا۔
ਐਸੇ ਮੇਰਾ ਮਨੁ ਬਿਖਿਆ ਬਿਮੋਹਿਆ ਕਛੁ ਆਰਾ ਪਾਰੁ ਨ ਸੂਝ ॥੧॥ اسی طرح میرا دل دولت (کے کنویں) میں اس بری طرح الجھا ہوا ہے کہ اس دنیا و آخرت کی کچھ بھی خبر نہیں۔ 1۔
ਸਗਲ ਭਵਨ ਕੇ ਨਾਇਕਾ ਇਕੁ ਛਿਨੁ ਦਰਸੁ ਦਿਖਾਇ ਜੀ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ اے تمام جہانوں کے مالک! مجھے ایک لمحے کے لیے ہی دیدار کراد یجیے ۔ 1۔ وقفہ۔
ਮਲਿਨ ਭਈ ਮਤਿ ਮਾਧਵਾ ਤੇਰੀ ਗਤਿ ਲਖੀ ਨ ਜਾਇ ॥ اے مادھو! میری عقل (برائیوں سے) گندی ہوگئی ہے اور مجھے تمہارے رفتار کی سمجھ نہیں آتی!
ਕਰਹੁ ਕ੍ਰਿਪਾ ਭ੍ਰਮੁ ਚੂਕਈ ਮੈ ਸੁਮਤਿ ਦੇਹੁ ਸਮਝਾਇ ॥੨॥ مجھ پر رحم فرما؛ تاکہ میری پریشانی ختم ہوجائے اور مجھے دانائی عطا کیجیے۔ 2۔
ਜੋਗੀਸਰ ਪਾਵਹਿ ਨਹੀ ਤੁਅ ਗੁਣ ਕਥਨੁ ਅਪਾਰ ॥ اے رب ! عظیم مراقب بھی آپ کی ابدی خصوصیات کا راز نہیں پاسکتے (پر)
ਪ੍ਰੇਮ ਭਗਤਿ ਕੈ ਕਾਰਣੈ ਕਹੁ ਰਵਿਦਾਸ ਚਮਾਰ ॥੩॥੧॥ اے روی داس چمار! تو واہے گرو کی حمد و ثنا کر؛ تاکہ تجھے محبت و عقیدت کا تحفہ مل جائے۔ 3۔ 1۔
ਗਉੜੀ ਬੈਰਾਗਣਿ گؤڑی بیراگنی
ੴ ਸਤਿਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥ رب ایک ہے، جسے ستگرو کی مہربانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
ਸਤਜੁਗਿ ਸਤੁ ਤੇਤਾ ਜਗੀ ਦੁਆਪਰਿ ਪੂਜਾਚਾਰ ॥ ستیہ یوگ میں سچائی (صدقہ و خیرات وغیرہ) غالب تھی، تریتا یوگ نیک اعمال میں مگن رہا، دواپر میں معبودوں کی پرستش اعلیٰ عمل تھا،
ਤੀਨੌ ਜੁਗ ਤੀਨੌ ਦਿੜੇ ਕਲਿ ਕੇਵਲ ਨਾਮ ਅਧਾਰ ॥੧॥ تینوں ادوار ان تینوں مذہبی عملوں پر زور دیتی ہے اور کلی یوگ میں صرف نام کا ہی سہارا ہے۔ 1۔
ਪਾਰੁ ਕੈਸੇ ਪਾਇਬੋ ਰੇ ॥ میں کس طرح (دنیوی سمندر سے) پار ہوجاؤں گا؟
ਮੋ ਸਉ ਕੋਊ ਨ ਕਹੈ ਸਮਝਾਇ ॥ کوئی مجھے اس طرح کہتا اور بالیقین نہیں کرواتا،
ਜਾ ਤੇ ਆਵਾ ਗਵਨੁ ਬਿਲਾਇ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ جس سے میری پیدائش اور موت کا چکر مٹ جائے۔ 1۔ وقفہ ۔
ਬਹੁ ਬਿਧਿ ਧਰਮ ਨਿਰੂਪੀਐ ਕਰਤਾ ਦੀਸੈ ਸਭ ਲੋਇ ॥ مذہب کی بہت سی شکلیں بیان کی جاتی ہیں اور پوری کائنات ان کی پیروکار نظر آتی ہے۔
ਕਵਨ ਕਰਮ ਤੇ ਛੂਟੀਐ ਜਿਹ ਸਾਧੇ ਸਭ ਸਿਧਿ ਹੋਇ ॥੨॥ وہ کون سے عمل ہے، جن سے مجھے نجات حاصل ہوجائے اور جن کے مراقبے سے مجھے کامیابی مل جائے؟ 2۔
ਕਰਮ ਅਕਰਮ ਬੀਚਾਰੀਐ ਸੰਕਾ ਸੁਨਿ ਬੇਦ ਪੁਰਾਨ ॥ اگر نیکی اور گناہ کا فیصلہ ویدوں اور پرانوں کو سن کر کیا جائے، تو شبہ پیدا ہوجاتا ہے۔
ਸੰਸਾ ਸਦ ਹਿਰਦੈ ਬਸੈ ਕਉਨੁ ਹਿਰੈ ਅਭਿਮਾਨੁ ॥੩॥ شک ہمیشہ دل میں رہتا ہے۔ میرے فخر کو کون دور کرسکتا ہے؟ 3۔
ਬਾਹਰੁ ਉਦਕਿ ਪਖਾਰੀਐ ਘਟ ਭੀਤਰਿ ਬਿਬਿਧਿ ਬਿਕਾਰ ॥ انسان اپنے جسم کا بیرونی حصہ ( مقامات مقدسہ کے) پانی سے دھوتا ہے؛ لیکن اس کے دل میں بہت سی برائیاں موجود ہیں۔
ਸੁਧ ਕਵਨ ਪਰ ਹੋਇਬੋ ਸੁਚ ਕੁੰਚਰ ਬਿਧਿ ਬਿਉਹਾਰ ॥੪॥ وہ کس طرح پاک ہوگا؟ اس طہارت کو حاصل کرنے کا طریقہ ہاتھی کے غسل کرانے کی طرح ہے۔ 4۔
ਰਵਿ ਪ੍ਰਗਾਸ ਰਜਨੀ ਜਥਾ ਗਤਿ ਜਾਨਤ ਸਭ ਸੰਸਾਰ ॥ جیسے ساری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ طلوع آفتاب کے ساتھ ہی رات کی تاریکی ختم ہوجاتی ہے۔
ਪਾਰਸ ਮਾਨੋ ਤਾਬੋ ਛੁਏ ਕਨਕ ਹੋਤ ਨਹੀ ਬਾਰ ॥੫॥ یہ بات بھی یاد رہے کہ تانبے کو پارس کے ذریعے مس کیے جانے پر اسے سونے میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ 5۔
ਪਰਮ ਪਰਸ ਗੁਰੁ ਭੇਟੀਐ ਪੂਰਬ ਲਿਖਤ ਲਿਲਾਟ ॥ اسی طرح اگر سابقہ ​​قسمت بیدار ہوجائے، تو گرو مل جاتا ہے، جو تمام پارسوں میں سب سے بڑا پارسہے۔
ਉਨਮਨ ਮਨ ਮਨ ਹੀ ਮਿਲੇ ਛੁਟਕਤ ਬਜਰ ਕਪਾਟ ॥੬॥ گرو کے فضل سے دل میں رب سے ملنے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے، وہ باطن میں ہی رب کو مل جاتا ہے اور دل کے وجر (بند) دروازے کھل جاتے ہیں۔ 6۔
ਭਗਤਿ ਜੁਗਤਿ ਮਤਿ ਸਤਿ ਕਰੀ ਭ੍ਰਮ ਬੰਧਨ ਕਾਟਿ ਬਿਕਾਰ ॥ جو شخص اپنے دل میں رب کی بندگی کے طریقے کو مضبوط کرتا ہے، اس کے تمام بندھن اور عوارض مٹ جاتے ہیں۔
ਸੋਈ ਬਸਿ ਰਸਿ ਮਨ ਮਿਲੇ ਗੁਨ ਨਿਰਗੁਨ ਏਕ ਬਿਚਾਰ ॥੭॥ وہ اپنے دل کو روکتا ہے، خوشی پاتا ہے اور صرف اس رب کا دھیان کرتا ہے، جو مایا کے تینوں خوبیوں سے بالاتر ہے۔ 7۔
ਅਨਿਕ ਜਤਨ ਨਿਗ੍ਰਹ ਕੀਏ ਟਾਰੀ ਨ ਟਰੈ ਭ੍ਰਮ ਫਾਸ ॥ میں نے بہت کوشش کرکے دیکھ لیا ہے؛ لیکن شک کا پھندا دور کرنے سے دور نہیں کیا جاسکتا۔
ਪ੍ਰੇਮ ਭਗਤਿ ਨਹੀ ਊਪਜੈ ਤਾ ਤੇ ਰਵਿਦਾਸ ਉਦਾਸ ॥੮॥੧॥ رسومات کی ان کوششوں سے مجھ میں رب سے محبت پیدا نہیں ہوئی؛ اسی لیے روی داس غمگین ہے؟8۔ 1۔
Scroll to Top
jp1131 https://login-bobabet.net/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://e-learning.akperakbid-bhaktihusada.ac.id/storages/gacor/
https://siakba.kpu-mamuju.go.id/summer/gcr/
jp1131 https://login-bobabet.net/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://e-learning.akperakbid-bhaktihusada.ac.id/storages/gacor/
https://siakba.kpu-mamuju.go.id/summer/gcr/