Guru Granth Sahib Translation Project

Guru Granth Sahib Urdu Page 314

Page 314

ਪਉੜੀ ॥ پؤڑی۔
ਤੂ ਕਰਤਾ ਸਭੁ ਕਿਛੁ ਜਾਣਦਾ ਜੋ ਜੀਆ ਅੰਦਰਿ ਵਰਤੈ ॥ اے دنیا کے خالق رب ! آپ سب کچھ جانتے ہیں، جو کچھ مخلوق کے دل میں ہوتا ہے۔
ਤੂ ਕਰਤਾ ਆਪਿ ਅਗਣਤੁ ਹੈ ਸਭੁ ਜਗੁ ਵਿਚਿ ਗਣਤੈ ॥ ساری دنیا اسی فکر میں ہے، اے مالک ! ایک آپ اس سے الگ ہیں
ਸਭੁ ਕੀਤਾ ਤੇਰਾ ਵਰਤਦਾ ਸਭ ਤੇਰੀ ਬਣਤੈ ॥ "(کیونکہ) جو کچھ ہو رہا ہے، سب آپ کا کیا ہوا ہورہا ہے،ساری (دنیا کی) تخلیق آپ ہی نے کی ہے۔
ਤੂ ਘਟਿ ਘਟਿ ਇਕੁ ਵਰਤਦਾ ਸਚੁ ਸਾਹਿਬ ਚਲਤੈ ॥ اے سچے مالک! آپ ذرے ذرے میں موجود ہیں، آپ کے کھیل حیرت انگیز ہیں۔
ਸਤਿਗੁਰ ਨੋ ਮਿਲੇ ਸੁ ਹਰਿ ਮਿਲੇ ਨਾਹੀ ਕਿਸੈ ਪਰਤੈ ॥੨੪॥ جو شخص ست گرو سے ملا ہے، اسے ہی رب کا وصال حاصل ہوا ہے اور کسی نے انھیں رب کیطرف سے نہیں ہٹایا۔ 24۔
ਸਲੋਕੁ ਮਃ ੪ ॥ شلوک محلہ 4۔
ਇਹੁ ਮਨੂਆ ਦ੍ਰਿੜੁ ਕਰਿ ਰਖੀਐ ਗੁਰਮੁਖਿ ਲਾਈਐ ਚਿਤੁ ॥ اس بے قرار دل کو مستحکم کر کے قابو میں رکھنا چاہیے اور گرو کے ذریعے اپنا دھیان رب میں لگانا چاہیے۔
ਕਿਉ ਸਾਸਿ ਗਿਰਾਸਿ ਵਿਸਾਰੀਐ ਬਹਦਿਆ ਉਠਦਿਆ ਨਿਤ ॥ اٹھتے بیٹھتے کسی بھی وقت ہم اپنی کسی بھی سانس یا دھڑکن میں اس رب کو کیوں بھلائیں؟
ਮਰਣ ਜੀਵਣ ਕੀ ਚਿੰਤਾ ਗਈ ਇਹੁ ਜੀਅੜਾ ਹਰਿ ਪ੍ਰਭ ਵਸਿ ॥ اب جب کہ یہ روح خالق و مالک کے قبضے میں کردی ہے، اس لیے میری ولادت اور موت کی فکر ختم ہو گئی ہے۔
ਜਿਉ ਭਾਵੈ ਤਿਉ ਰਖੁ ਤੂ ਜਨ ਨਾਨਕ ਨਾਮੁ ਬਖਸਿ ॥੧॥ (اے رب!) جیسے آپ کو پسند ہو ویسے (مجھے) نانک کو نام کا عطیہ عطاکریے ، کیوں کہ نام ہی دل کی فکر ختم کر سکتا ہے۔ 1۔
ਮਃ ੩ ॥ محلہ 3۔
ਮਨਮੁਖੁ ਅਹੰਕਾਰੀ ਮਹਲੁ ਨ ਜਾਣੈ ਖਿਨੁ ਆਗੈ ਖਿਨੁ ਪੀਛੈ ॥ گھمنڈ میں چور من مکھ، انسان ست گرو کے محل (یعنی نیک صحبت) کو نہیں پہچانتا اور ہر وقت پس و پیش میں رہتا ہے۔
ਸਦਾ ਬੁਲਾਈਐ ਮਹਲਿ ਨ ਆਵੈ ਕਿਉ ਕਰਿ ਦਰਗਹ ਸੀਝੈ ॥ بلائے جانے کے باوجود بھی وہ ہمیشہ ست گرو کے محل (نیک صحبت) میں حاضر نہیں ہوتا۔ رب کے دربار میں وہ کیسے مقبول ہو گا؟
ਸਤਿਗੁਰ ਕਾ ਮਹਲੁ ਵਿਰਲਾ ਜਾਣੈ ਸਦਾ ਰਹੈ ਕਰ ਜੋੜਿ ॥ شاذ و نادر ہی کوئی ست گرو کے محل (نیک صحبت) کو جانتا ہے اور جو جانتا ہے وہ ہمیشہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوتا ہے۔
ਆਪਣੀ ਕ੍ਰਿਪਾ ਕਰੇ ਹਰਿ ਮੇਰਾ ਨਾਨਕ ਲਏ ਬਹੋੜਿ ॥੨॥ اے نانک! اگر میرا ہری اپنا کرم کرے، تو وہ آدمی کو (بے عقلی سے) بچا لیتا ہے۔ 2۔
ਪਉੜੀ ॥ پؤڑی۔
ਸਾ ਸੇਵਾ ਕੀਤੀ ਸਫਲ ਹੈ ਜਿਤੁ ਸਤਿਗੁਰ ਕਾ ਮਨੁ ਮੰਨੇ ॥ جس خدمت سے ست گرو کا دل خوش ہوجائے ، وہی خدمت نفع آور ہے۔
ਜਾ ਸਤਿਗੁਰ ਕਾ ਮਨੁ ਮੰਨਿਆ ਤਾ ਪਾਪ ਕਸੰਮਲ ਭੰਨੇ ॥ "(کیوں کہ) جب ست گرو کا دل خوش ہو جائے، تو گناہ کے خیالات بھی دور ہو جاتے ہیں۔
ਉਪਦੇਸੁ ਜਿ ਦਿਤਾ ਸਤਿਗੁਰੂ ਸੋ ਸੁਣਿਆ ਸਿਖੀ ਕੰਨੇ ॥ ست گرو جو پیغام سکھوں کو دیتے ہیں، وہ دھیان سے اسے سنتے ہیں۔
ਜਿਨ ਸਤਿਗੁਰ ਕਾ ਭਾਣਾ ਮੰਨਿਆ ਤਿਨ ਚੜੀ ਚਵਗਣਿ ਵੰਨੇ ॥ جو سکھ ست گرو کے حکم کو مانتے ہیں، ان کی رنگت چار گنا بڑھ جاتی ہے۔
ਇਹ ਚਾਲ ਨਿਰਾਲੀ ਗੁਰਮੁਖੀ ਗੁਰ ਦੀਖਿਆ ਸੁਣਿ ਮਨੁ ਭਿੰਨੇ ॥੨੫॥ گرو مکھوں کا یہ عجیب طرزِ زندگی ہے کہ گرو کا پیغام سن کر ان کا دل خوش ہو جاتا ہے۔ 25۔
ਸਲੋਕੁ ਮਃ ੩ ॥ شلوک محلہ 3۔
ਜਿਨਿ ਗੁਰੁ ਗੋਪਿਆ ਆਪਣਾ ਤਿਸੁ ਠਉਰ ਨ ਠਾਉ ॥ جس شخص نے اپنے گرو کی مذمت کی ہے، اسے کہیں بھی جگہ نہیں ملتی۔
ਹਲਤੁ ਪਲਤੁ ਦੋਵੈ ਗਏ ਦਰਗਹ ਨਾਹੀ ਥਾਉ ॥ اس کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں اور رب کے دربار میں بھی اسے جگہ نہیں ملتی۔
ਓਹ ਵੇਲਾ ਹਥਿ ਨ ਆਵਈ ਫਿਰਿ ਸਤਿਗੁਰ ਲਗਹਿ ਪਾਇ ॥ ست گرو کی قدم بوسی کا یہ سنہری موقع پھر سے حاصل نہیں ہوتا۔ (کیونکہ)
ਸਤਿਗੁਰ ਕੀ ਗਣਤੈ ਘੁਸੀਐ ਦੁਖੇ ਦੁਖਿ ਵਿਹਾਇ ॥ ست گرو کی مذمت کرنے میں اگر کوئی گم راہ ہو جائے، تو صرف مصیبتوں میں ہی اس کی زندگی گزر جاتی ہے۔
ਸਤਿਗੁਰੁ ਪੁਰਖੁ ਨਿਰਵੈਰੁ ਹੈ ਆਪੇ ਲਏ ਜਿਸੁ ਲਾਇ ॥ عظیم انسان ست گرو کی کسی سے دشمنی نہیں ہے۔ جس کسی کو وہ چاہتا ہے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔
ਨਾਨਕ ਦਰਸਨੁ ਜਿਨਾ ਵੇਖਾਲਿਓਨੁ ਤਿਨਾ ਦਰਗਹ ਲਏ ਛਡਾਇ ॥੧॥ اے نانک ! حق کے دربار میں گرو ان کو نجات دلوادیتا ہے، جنہیں وہ رب کا دیدار کرواتا ہے۔ 1۔
ਮਃ ੩ ॥ محلہ 3۔
ਮਨਮੁਖੁ ਅਗਿਆਨੁ ਦੁਰਮਤਿ ਅਹੰਕਾਰੀ ॥ خود غرض آدمی جاہل، دھوکے باز اور گھمنڈی ہوتا ہے۔
ਅੰਤਰਿ ਕ੍ਰੋਧੁ ਜੂਐ ਮਤਿ ਹਾਰੀ ॥ اس کے دل میں صرف غصہ ہوتا ہے اور وہ جوئے میں اپنی عقل کھو دیتا ہے۔
ਕੂੜੁ ਕੁਸਤੁ ਓਹੁ ਪਾਪ ਕਮਾਵੈ ॥ وہ بغض و کینہ اور گناہ کے کام کرتا ہے (اس لیے)
ਕਿਆ ਓਹੁ ਸੁਣੈ ਕਿਆ ਆਖਿ ਸੁਣਾਵੈ ॥ وہ کیا سن سکتا ہے اور دوسروں کو کیا بتا سکتا ہے؟
ਅੰਨਾ ਬੋਲਾ ਖੁਇ ਉਝੜਿ ਪਾਇ ॥ وہ اندھا اور بہرا آدمی گم راہ ہو گیا ہے۔
ਮਨਮੁਖੁ ਅੰਧਾ ਆਵੈ ਜਾਇ ॥ اور پیدا ہوتا اور مرتا رہتا ہے۔
ਬਿਨੁ ਸਤਿਗੁਰ ਭੇਟੇ ਥਾਇ ਨ ਪਾਇ ॥ ست گرو سے ملے بغیر وہ آخرت میں مقبول نہیں ہوتا.
ਨਾਨਕ ਪੂਰਬਿ ਲਿਖਿਆ ਕਮਾਇ ॥੨॥ اے نانک! پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق جو ان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے، وہی اسے ملتا ہے۔ 2۔
ਪਉੜੀ ॥ پؤڑی۔
ਜਿਨ ਕੇ ਚਿਤ ਕਠੋਰ ਹਹਿ ਸੇ ਬਹਹਿ ਨ ਸਤਿਗੁਰ ਪਾਸਿ ॥ جن کے دل سخت ہوتے ہیں، وہ ست گرو کے پاس نہیں بیٹھتے۔
ਓਥੈ ਸਚੁ ਵਰਤਦਾ ਕੂੜਿਆਰਾ ਚਿਤ ਉਦਾਸਿ ॥ وہاں حق غالب ہو رہا ہے اور جھوٹے لوگ ذہنی طور پر غم گین رہتے ہیں۔
ਓਇ ਵਲੁ ਛਲੁ ਕਰਿ ਝਤਿ ਕਢਦੇ ਫਿਰਿ ਜਾਇ ਬਹਹਿ ਕੂੜਿਆਰਾ ਪਾਸਿ ॥ وہ بغض و کینہ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور دوبارہ جا کر جھوٹوں کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔
ਵਿਚਿ ਸਚੇ ਕੂੜੁ ਨ ਗਡਈ ਮਨਿ ਵੇਖਹੁ ਕੋ ਨਿਰਜਾਸਿ ॥ سچ میں جھوٹ نہیں ملتا، اے میرے دل ! تو فیصلہ کر کے دیکھ لے۔
ਕੂੜਿਆਰ ਕੂੜਿਆਰੀ ਜਾਇ ਰਲੇ ਸਚਿਆਰ ਸਿਖ ਬੈਠੇ ਸਤਿਗੁਰ ਪਾਸਿ ॥੨੬॥ جھوٹے جا کر جھوٹوں سے مل جاتے ہیں اور سچے سکھ ست گرو کے پاس بیٹھتے ہیں۔ 26۔
Scroll to Top
slot gacor https://s2maben.pascasarjana.unri.ac.id/s2-maben/mahademo/ https://survey.radenintan.ac.id/surat/gratis/ https://sipenda.lombokutarakab.go.id/files/payment/demo-gratis/
jp1131 https://login-bobabet.com/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://lms.poltekbangsby.ac.id/pros/hk/
slot gacor https://s2maben.pascasarjana.unri.ac.id/s2-maben/mahademo/ https://survey.radenintan.ac.id/surat/gratis/ https://sipenda.lombokutarakab.go.id/files/payment/demo-gratis/
jp1131 https://login-bobabet.com/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://lms.poltekbangsby.ac.id/pros/hk/