Urdu-Page-285

ਜਿਸ ਕੀ ਸ੍ਰਿਸਟਿ ਸੁ ਕਰਣੈਹਾਰੁ ॥
jis kee sarisat so karnaihaar.
He, to whom this Universe belongs, is the Creator thereof.
جِس کی س٘رِسٹِ سُ کرݨیَہارُ
سر شٹ ۔ دنیا۔ جہان ۔ عالم۔ کرنیہار۔ کرنے کی حیثیت میں ہے ۔ طارق رکھتا ہے ۔ کرنے ۔ کرنے والے کی
جسکا ہے یہ عالم کارساز کرتا ر وہی ہے 

 ਅਵਰ ਨ ਬੂਝਿ ਕਰਤ ਬੀਚਾਰੁ ॥
avar na boojh karat beechaar.
Don’t think of anybody else but God to be the protector also of the universe.
اور ن بۄُجھِ کرت بیِچارُ
کسی دیگر کو نہ سمجھو کرو خیال۔ 

 ਕਰਤੇ ਕੀ ਮਿਤਿ ਨ ਜਾਨੈ ਕੀਆ ॥
kartay kee mit na jaanai kee-aa.
The created cannot know the extent of the Creator.
کرتے کی مِتِ ن جانےَ کیِیا
۔ مت ۔ اندازہ ۔ کیا۔ جسے پیدا کیا ہے ۔
خود جوہے مخلوق جہان میں خالق کو کیا سمجھائیگا ۔ 

 ਨਾਨਕ ਜੋ ਤਿਸੁ ਭਾਵੈ ਸੋ ਵਰਤੀਆ ॥੭॥
naanak jo tis bhaavai so vartee-aa. ||7||
O’ Nanak, whatever pleases Him comes to pass. ||7||
 نانک جۄ تِسُ بھاوےَ سۄ ورتیِیا
بھاوے ۔ چاہتا ہے ۔ سو ورتیا ۔ وہی ہوتا ہے ۔
اے نانک۔ جو منظور خودا کو ہے وہ ہی ہو جائیگا۔

 ਬਿਸਮਨ ਬਿਸਮ ਭਏ ਬਿਸਮਾਦ ॥
bisman bisam bha-ay bismaad.
Whoever has gazed upon His wondrous wonder, is amazed!
بِسمن بِسم بھۓ بِسماد
بسمن۔ حیرت۔ بسم۔ حیران۔ بسماد۔ حیران۔
جنہوں نے خدا کو سمجھا حیرت زدہ اور حیران ہوئے

 ਜਿਨਿ ਬੂਝਿਆ ਤਿਸੁ ਆਇਆ ਸ੍ਵਾਦ ॥
jin boojhi-aa tis aa-i-aa savaad.
One who realized God, has enjoyed the bliss. 
جِنِ بۄُجھِیا تِسُ آئِیا س٘واد
سوآد۔ لطف۔ مزہ ۔
اور اسکا لطف اُٹھائیا انہوں نے ۔

 ਪ੍ਰਭ ਕੈ ਰੰਗਿ ਰਾਚਿ ਜਨ ਰਹੇ ॥
parabh kai rang raach jan rahay.
God’s humble servants remain absorbed in His Love.
پربھ کےَ رنّگِ راچِ جن رہے
رنگ۔ پیار ۔ راج ۔ محو ۔ مست مجذوب۔ جن ۔ا نسان ۔ خادم ۔
الہٰی عشق و محبت میں جو محو و مجذوب ہوئے ۔

 ਗੁਰ ਕੈ ਬਚਨਿ ਪਦਾਰਥ ਲਹੇ ॥
gur kai bachan padaarath lahay.
and through the Guru’s teachings, they obtain the commodity of Naam (love for God). 
گُر کےَ بچنِ پدارتھ لہے
۔ بچن۔ کلام ۔ پدارتھ ۔ نعمتیں۔
کلام مرشد سے برآور ہوئے نعمتیں پائیں۔

 ਓਇ ਦਾਤੇ ਦੁਖ ਕਾਟਨਹਾਰ ॥
o-ay daatay dukh kaatanhaar.
They themselves become benefactors and removers of woes of others. 
اۄءِ داتے دُکھ کاٹنہار
اوئے ۔ وہ ۔ داتے ۔ سخی ۔ کاٹنہار ۔ کاٹنے والے ۔ مٹانے والے ۔ دکھ ۔ عذاب۔
ایسے سخی عذاب مٹانے والے ہیں۔

 ਜਾ ਕੈ ਸੰਗਿ ਤਰੈ ਸੰਸਾਰ ॥
jaa kai sang tarai sansaar.
In their company, the rest of world is saved.
جا کےَ سنّگِ ترےَ سنّسار
سنگ۔ ساتھ ۔ قربت۔ سنسار۔ عالم۔ جہان ۔ دنیا۔
ان کی صحبت و قربت سے عالم کے بیڑے پار ہوئے

 ਜਨ ਕਾ ਸੇਵਕੁ ਸੋ ਵਡਭਾਗੀ ॥
jan kaa sayvak so vadbhaagee.
Fortunate is the one who becomes servant of the devotee of God.
جن کا سیوکُ سۄ وڈبھاگی
سیوک۔ خادم ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت۔
وہ خوش قسمت ہے جو خدا کے بندے کا نوکر بن جاتا ہے۔

 ਜਨ ਕੈ ਸੰਗਿ ਏਕ ਲਿਵ ਲਾਗੀ ॥
jan kai sang ayk liv laagee.
In the company of such a devotee, one becomes attuned to the Love of the One God.
جن کےَ سنّگِ ایک لِو لاگی
لو۔ محبت۔ پیار۔ لگاؤ۔ رشتہ
ایسے عقیدت مند کی صحبت میں ، ایک ہی خدا کی محبت سے وابستہ ہوجاتا ہے

 ਗੁਨ ਗੋਬਿਦ ਕੀਰਤਨੁ ਜਨੁ ਗਾਵੈ ॥
gun gobid keertan jan gaavai.
The devotee who sings the praises of God,
گُن گۄبِد کیِرتنُ جنُ گاوےَ
۔ گن گوبند۔ حمد خدا۔ کیرتن ۔ حمدوثناہ ۔
۔ حمد خدا کی جوہیں کرتے اور اوصاف الہٰی گاتے ہیں۔

 ਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ਨਾਨਕ ਫਲੁ ਪਾਵੈ ॥੮॥੧੬॥
gur parsaad naanak fal paavai. ||8||16||
O’ Nanak, by Guru’s grace receives the reward of Naam. ||8||16||
گُر پ٘رسادِ نانک پھلُ پاوےَ
گر پر ساد۔ رحمت مرشد سے
رحمت مرشد سے نانک عالم میں پھل پاتے ہیں۔

 ਸਲੋਕੁ ॥
salok.
Shalok:
سلۄکُ
 ਆਦਿ ਸਚੁ ਜੁਗਾਦਿ ਸਚੁ ॥
aad sach jugaad sach.
True One has existed from the beginning (from before time); He has existed since the beginning of the ages.

آدِ سچُ جُگادِ سچُ
آغاز جہاں سے پہلے بھی وہ سچا ہے آغاز سے بھی وہ سچا ہے

 ਹੈ ਭਿ ਸਚੁ ਨਾਨਕ ਹੋਸੀ ਭਿ ਸਚੁ ॥੧॥
hai bhe sach naanak hosee bhe sach. ||1||
He is also True now (does exist in the present); O’ Nanak, He will also be True (exist) in the future.

ہےَ بھِ سچ نانک ہۄسی بھِ سچُ ُ
وہ اب بھی سچا ہے وہ آئندہ بھی سچا ہو گا

 ਅਸਟਪਦੀ ॥
asatpadee.
Ashtapadee:
اسٹپدی
 ਚਰਨ ਸਤਿ ਸਤਿ ਪਰਸਨਹਾਰ ॥
charan sat sat parsanhaar.
Eternal is God’s presence, and those who realize His presence also become eternal.
چرن ستِ ستِ پرسنہار
ست۔ سچ ۔ صدیوی ۔ پر سنہار ۔ چھونے والے
پائے الہٰی سچے ہیں اور دائمی ہیں سچا ہے اور دائمی ہے جو ان کو چھوتا ہے

 ਪੂਜਾ ਸਤਿ ਸਤਿ ਸੇਵਦਾਰ ॥
poojaa sat sat sayvdaar.
Devotional worship of God is an ever lasting task, and those who perform such worship also become ever lasting (get out of the cycle of birth and death).
پۄُجا ستِ ستِ سیودار
۔ پوجا۔ پر ستش۔ سیودار۔ خادم۔
۔ پرستش الہٰی سچی ہے اور دائمی خادم بھی اسکا سچا ہے اور دائمی ہے

 ਦਰਸਨੁ ਸਤਿ ਸਤਿ ਪੇਖਨਹਾਰ ॥
darsan sat sat paykhanhaar.
True is the sight of Him and those who behold Him also become true (become eternal and get out of the cycle of birth and death).
درسنُ ستِ ستِ پیکھنہار
درسن ۔ دیدار۔ پیکھنہار۔ دیدار کرنے والا
۔ دیدار بھی اسکا سچا ہے سچا ہے وہ بھی جو دیدار الہٰی کرتا ہے 

 ਨਾਮੁ ਸਤਿ ਸਤਿ ਧਿਆਵਨਹਾਰ ॥
naam sat sat Dhi-aavanhaar.
His Name is True, and True are those who meditate on it. 
نامُ ستِ ستِ دھِیاونہار
۔ نام ست ۔ خدا کا نام سچ ہے ۔ دھیاونہار۔ اسے یاد کرنے والا۔ توجہ دینے والا۔
۔ نام خدا کا سچا ہے اور دائمی ہے یاد کرنے والا بھی سچا ہے اور دائمی ہے 

 ਆਪਿ ਸਤਿ ਸਤਿ ਸਭ ਧਾਰੀ ॥
aap sat sat sabh Dhaaree.
He Himself is True, and True is all that He sustains.
آپِ ستِ ستِ سبھ دھاری
آپ سچ ۔ خود سچا ہے ۔ ست سبھ دھاری ۔ جس نے سارے عالم کا نظام قائم کیا ہے ۔ وہ سچا ہے ۔
سچا آپ خدا ہے سچا جس نے عالم بنایا اور سبنھالا ہے ۔ 

 ਆਪੇ ਗੁਣ ਆਪੇ ਗੁਣਕਾਰੀ ॥
aapay gun aapay gunkaaree.
He Himself is the embodiment of virtue, and He is the bestower of virtue.
آپے گُݨ آپے گُݨکاری
آپے گن۔ خود ہی وصف ہے ۔ گنکاری ۔ گن کرنے والا۔
خدا ایک وصف ہے اور اوصاف وہ پیدا کرتا ہے ۔ 

 ਸਬਦੁ ਸਤਿ ਸਤਿ ਪ੍ਰਭੁ ਬਕਤਾ ॥
sabad sat sat parabh baktaa.
Eternal is His word and eternal becomes the one who utters that true word.
سبدُ ستِ ستِ پ٘ربھُ بکتا
سبد۔ کلام۔ بکتا ۔ بیان کرنے والا۔
کلام الہٰی سچا ہے ۔ سچا ہے جو کہتا ہے ۔ 

 ਸੁਰਤਿ ਸਤਿ ਸਤਿ ਜਸੁ ਸੁਨਤਾ ॥
surat sat sat jas suntaa.
True is the deed of meditating on God, and true is the one who listens to the praises of God. 
سُرتِ ستِ ستِ جسُ سُنتا
سرت۔ ہوش ۔ حواس ۔ جس ۔ تعریف۔ ستائش ۔ سنتا ۔ سننے والا۔
ہوش و حواس ہے اس کی سچی جو حمد خدا کی سنتا ہے جس نے سمجھ لیا 

 ਬੁਝਨਹਾਰ ਕਉ ਸਤਿ ਸਭ ਹੋਇ ॥
bujhanhaar ka-o sat sabh ho-ay.
The one who knows that God is eternal, deems everything created by Him also as eternal.
بُجھنہار کءُ ستِ سبھ ہۄءِ
بجھنہار۔ سمجھنے والا۔
۔ جس نے پہچان لیا اس کے لئے سب سچا ہے ۔ 

 ਨਾਨਕ ਸਤਿ ਸਤਿ ਪ੍ਰਭੁ ਸੋਇ ॥੧॥
naanak sat sat parabh so-ay. ||1||
O’ Nanak, God is eternal for sure! ||1||
نانک ستِ ستِ پ٘ربھُ سۄءِ
اے نانک۔ سچا ہے خدا سچ ہی صدیوی ہے ۔ 

 ਸਤਿ ਸਰੂਪੁ ਰਿਦੈ ਜਿਨਿ ਮਾਨਿਆ ॥
sat saroop ridai jin maani-aa.
One who has enshrined God, the Embodiment of Truth in his heart,
ستِ سرۄُپُ رِدےَ جِنِ مانِیا
ست ۔ سچ ۔ سروپ ۔ شکل۔ روے ۔ دل ۔ مانیا۔ ایمان لائیا
( ست) سچ کی شکل و صورت سمجھ کر جس انسان نے دل میں خدا بسایا ایمان لائیا ہے 

 ਕਰਨ ਕਰਾਵਨ ਤਿਨਿ ਮੂਲੁ ਪਛਾਨਿਆ ॥
karan karaavan tin mool pachhaani-aa.
has recognized God as the Cause of causes, the Root of all.
کرن کراون تِنِ مۄُلُ پچھانِیا
۔ کرن کراون۔ کرنے اور کروانے والا۔ مول۔ بنیاد۔ پچھانیا۔ پہچان کی ۔
۔ اس نے کرنے اور کروانے کی حقیقت اور بنیاد کو خالق کو پہچانا ہے اپنائیا ہے 

 ਜਾ ਕੈ ਰਿਦੈ ਬਿਸ੍ਵਾਸੁ ਪ੍ਰਭ ਆਇਆ ॥
jaa kai ridai bisvaas parabh aa-i-aa.
One whose heart is completely convinced (of the presence of God),
جا کےَ رِدےَ بِس٘واسُ پ٘ربھ آئِیا
بشواس ۔ یقین ۔
۔ جس کے دل میں الہٰی ہستی پر یقین ہو گیا 

 ਤਤੁ ਗਿਆਨੁ ਤਿਸੁ ਮਨਿ ਪ੍ਰਗਟਾਇਆ ॥
tat gi-aan tis man paragtaa-i-aa.
the true spiritual wisdom is revealed to him. 
تتُ گِیانُ تِسُ منِ پ٘رگٹائِیا
تت گیان۔ حقیقت علم یا علمی حقیقت ۔ پر گٹائیا ۔ ظاہر ہوا۔
اس کے دل میں علم حقیقی کا ظہور ہوگیا

 ਭੈ ਤੇ ਨਿਰਭਉ ਹੋਇ ਬਸਾਨਾ ॥
bhai tay nirbha-o ho-ay basaanaa.
Having come out of every fear, he lives without any fear.
بھےَ تے نِربھءُ ہۄءِ بسانا
بھے ۔ خوف۔ نر بھو۔ بیخوف۔
۔ وہ دنیاوی خوف سے بےخوف ہوگیا ہے ۔ 

 ਜਿਸ ਤੇ ਉਪਜਿਆ ਤਿਸੁ ਮਾਹਿ ਸਮਾਨਾ ॥
jis tay upji-aa tis maahi samaanaa.
He is absorbed into the One from whom he originated.
جِس تے اُپجِیا تِسُ ماہِ سمانا
اپجیا۔ پیدا ہوا۔ سمانا ۔ مدغم۔ مجذوب۔
جس خدا سے ہوا تھا پیدا اسی میں الحاق ہو گیا ہے ۔ مجذوب ہوگیا ہے 

 ਬਸਤੁ ਮਾਹਿ ਲੇ ਬਸਤੁ ਗਡਾਈ ॥ ਤਾ ਕਉ ਭਿੰਨ ਨ ਕਹਨਾ ਜਾਈ ॥
basat maahi lay basat gadaa-ee. taa ka-o bhinn na kahnaa jaa-ee.
Just as something is blended with something else of its own kind (more of the same kind), the two cannot be differentiated (In the same manner, a devotee loses his identity and becomes the same as God when spiritually lifted and merged with God). 

بستُ ماہِ لے بستُ گڈائی تا کءُ بھِنّن ن کہنا جائی
وست۔ اشیا۔ گڈائی ۔ ملائی۔ بھن۔ علیحدہ ۔ جدا۔
۔ اگر ایک جنس میں اس جیسی ہم جنس ملا دی جائے ۔ اسمیں جدائی مٹ جاتی ہے ۔ دوری اور دوئی ختم ہوجاتی ہے ۔ مگر اس خیال کوئی شاذ و نادر ہی سمجھتا ہے ۔ 

 ਬੂਝੈ ਬੂਝਨਹਾਰੁ ਬਿਬੇਕ ॥
boojhai boojhanhaar bibayk.
Only an acute discerner understands it.
بۄُجھےَ بۄُجھنہارُ بِبیک
ببیک ۔ حقیقت و اصلیت سمجھنے کے سمجھ ۔ دور اندیش سمجھ
انسان جس میں سوچ سمجھ اور بیداری ہے ۔ 

 ਨਾਰਾਇਨ ਮਿਲੇ ਨਾਨਕ ਏਕ ॥੨॥
naaraa-in milay naanak ayk. ||2||
O’ Nanak, in the same manner, those who have met God, have become one with Him. ||2||
نارائِن مِلے نانک ایک
۔ نارائن۔ خدا
اے نانک۔ الہٰی ذات میں مل کر وہی ذات ہوئی

 ਠਾਕੁਰ ਕਾ ਸੇਵਕੁ ਆਗਿਆਕਾਰੀ ॥
thaakur kaa sayvak aagi-aakaaree.
The servant of God is obedient to Him.
ٹھاکُر کا سیوکُ آگِیاکاری
ٹھاکر۔ آقا۔ سیوک ۔ خدمتگار ۔ آگیا کاری ۔ فرمانبرداری ۔
خادم خدا فرمانبردار ہوتا ہے ۔

 ਠਾਕੁਰ ਕਾ ਸੇਵਕੁ ਸਦਾ ਪੂਜਾਰੀ ॥
thaakur kaa sayvak sadaa poojaaree.
The servant of God always adores Him.
ٹھاکُر کا سیوکُ سدا پۄُجاری
پجاری ۔ پرستش کار
خادم آقا ہمیشہ پر ستش کار کرتا ہے ۔

 ਠਾਕੁਰ ਕੇ ਸੇਵਕ ਕੈ ਮਨਿ ਪਰਤੀਤਿ ॥
thaakur kay sayvak kai man parteet.
The servant’s mind has complete faith in God. 
ٹھاکُر کے سیوک کےَ منِ پرتیِتِ
۔ پرتیت ۔ یقین
خادم خالق کےد ل میں یقین ہوتا ہے ۔

 ਠਾਕੁਰ ਕੇ ਸੇਵਕ ਕੀ ਨਿਰਮਲ ਰੀਤਿ ॥
thaakur kay sayvak kee nirmal reet.
Immaculate is the way of life of God’s devotee.
ٹھاکُر کے سیوک کی نِرمل ریِتِ
۔ نرمل۔ پاک ۔ ریت ۔ طرز زندگی ۔
خادم خالق کی زندگی کا دستوار پاک ہوتا ہے ۔

 ਠਾਕੁਰ ਕਉ ਸੇਵਕੁ ਜਾਨੈ ਸੰਗਿ ॥
thaakur ka-o sayvak jaanai sang.
God’s servant believes that God is always with him.
ٹھاکُر کءُ سیوکُ جانےَ سنّگِ
سنگ ۔ ساتھ ۔
خادم خدا خدا کو ہمیشہ ساتھ جانتا ہے

 ਪ੍ਰਭ ਕਾ ਸੇਵਕੁ ਨਾਮ ਕੈ ਰੰਗਿ ॥
parabh kaa sayvak naam kai rang.
God’s servant is always imbued with the love of Naam.
پ٘ربھ کا سیوکُ نام کےَ رنّگِ
نام کے رنگ۔ الہٰی عاشق ۔ خدا کا پیار پریمی
۔ خادم خدا عشق الہٰی میں محو رہتا ہے 

 ਸੇਵਕ ਕਉ ਪ੍ਰਭ ਪਾਲਨਹਾਰਾ ॥
sayvak ka-o parabh paalanhaaraa.
God is the Cherisher of His servant.
سیوک کءُ پ٘ربھ پالنہارا
۔ پالنہار ۔ پرورش کرنے والا۔
۔ خدا اپنے خادم کی پرورش کرتاہے ۔ 

 ਸੇਵਕ ਕੀ ਰਾਖੈ ਨਿਰੰਕਾਰਾ ॥
sayvak kee raakhai nirankaaraa.
The Formless God preserves the honor of His devotee.
سیوک کی راکھےَ نِرنّکارا
راکھے ۔ مچاتا ہے ۔ نرنکار ۔ خدا۔
خدا اپنے خادم کی عزت کا محافظ ہے ۔ 

 ਸੋ ਸੇਵਕੁ ਜਿਸੁ ਦਇਆ ਪ੍ਰਭੁ ਧਾਰੈ ॥
so sayvak jis da-i-aa parabh Dhaarai.
His servant is one unto whom God shows mercy.
سۄ سیوکُ جِسُ دئِیا پ٘ربھُ دھارےَ
دیا ۔ مہربانی ۔د ھارے ۔ کرئے ۔
خادم خدا وہی ہے جس پر الہٰی رحمت ہے 

 ਨਾਨਕ ਸੋ ਸੇਵਕੁ ਸਾਸਿ ਸਾਸਿ ਸਮਾਰੈ ॥੩॥
naanak so sayvak saas saas samaarai. ||3||
O’ Nanak, such a servant remembers Him with every breath. ||3||
نانک سۄ سیوکُ ساسِ ساسِ سمارےَ
سمارے ۔ دلمیں بسائے ۔
۔ اے نانک وہ لمحہ ہر سانس یاد خدا میں بناتا ہے ۔ 

 ਅਪੁਨੇ ਜਨ ਕਾ ਪਰਦਾ ਢਾਕੈ ॥
apunay jan kaa pardaa dhaakai.
He covers the shortcomings of His devotee.
اپُنے جن کا پردا ڈھاکےَ
جن۔ خدمتگار۔ پردہ دھاکے ۔ عزت بر قرار رکھتا ہے ۔ گناہوں کو در گذر کرتا ہے
خدا اپنے خادم کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔

 ਅਪਨੇ ਸੇਵਕ ਕੀ ਸਰਪਰ ਰਾਖੈ ॥
apnay sayvak kee sarpar raakhai.
He surely preserves the honor of His servant.
اپنے سیوک کی سرپر راکھےَ
۔ سر پر ۔ ضرور۔ راکھے ۔ بچاؤ۔ کرتا ہے ۔ حفاظت کرتا ہے ۔
اور اپنے خادم کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے ۔

 ਅਪਨੇ ਦਾਸ ਕਉ ਦੇਇ ਵਡਾਈ ॥
apnay daas ka-o day-ay vadaa-ee.
He bestows glory on His devotee.
اپنے داس کءُ دےءِ وڈائی
داس۔ خدمتگار۔ غلام ۔ وڈائی ۔ وقار۔ عزت و حشمت۔
اپنے خادم کو وقار اور عظمت کی بخشش کرتا ہے

 ਅਪਨੇ ਸੇਵਕ ਕਉ ਨਾਮੁ ਜਪਾਈ ॥
apnay sayvak ka-o naam japaa-ee.
He blesses His servant to meditate on Naam. 
اپنے سیوک کءُ نامُ جپائی
اورا لہٰی نام جپواتا ہے 

 ਅਪਨੇ ਸੇਵਕ ਕੀ ਆਪਿ ਪਤਿ ਰਾਖੈ ॥
apnay sayvak kee aap pat raakhai.
He Himself preserves the honor of His servant.
اپنے سیوک کی آپِ پتِ راکھےَ
۔ خدا اپنے خادم کو خود عزت دیتا ہے 

 ਤਾ ਕੀ ਗਤਿ ਮਿਤਿ ਕੋਇ ਨ ਲਾਖੈ ॥
taa kee gat mit ko-ay na laakhai.
No one can estimate the high spiritual state of God’s devotee.
تا کی گتِ مِتِ کۄءِ ن لاکھےَ
گت مت ۔ حالت کا اندازہ ۔ نہ لاکھے ۔ نہیں سمجھتا ۔
۔ اس کی شان و شوکت اور عظمت کون بتا سکتا ہے ۔ 

 ਪ੍ਰਭ ਕੇ ਸੇਵਕ ਕਉ ਕੋ ਨ ਪਹੂਚੈ ॥
parabh kay sayvak ka-o ko na pahoochai.
No one can equate with the servant of God,
پ٘ربھ کے سیوک کءُ کۄ ن پہۄُچےَ
پربھ کے سیوک خدائی خدمتگار ۔ پہو چے ۔ برابر
الہٰی خادم کے کون برابر ہوتا ہے ۔ 

 ਪ੍ਰਭ ਕੇ ਸੇਵਕ ਊਚ ਤੇ ਊਚੇ ॥
parabh kay sayvak ooch tay oochay.
because the devotees of God are highest of the high
پ٘ربھ کے سیوک اۄُچ تے اۄُچے
خادم خدا اونچےسے اونچا ہے ۔ 

 ਜੋ ਪ੍ਰਭਿ ਅਪਨੀ ਸੇਵਾ ਲਾਇਆ ॥
jo parabh apnee sayvaa laa-i-aa.
One whom God applies to His service,
جۄ پ٘ربھِ اپنی سیوا لائِیا
جس سے خدمت خدا اپنی کرواتا ہے ۔ 

 ਨਾਨਕ ਸੋ ਸੇਵਕੁ ਦਹ ਦਿਸਿ ਪ੍ਰਗਟਾਇਆ ॥੪॥
naanak so sayvak dah dis paragtaa-i-aa. ||4||
O’ Nanak, that servant becomes renowned in every direction. ||4||
نانک سۄ سیوکُ دہ دِسِ پ٘رگٹائِیا
۔ وہ دس۔ ہر طرف پر گٹائیا ۔ شہرت پائی ۔
اے نانک۔ وہ خادم ہر جگہ شہرت پاتا ہے ۔

 ਨੀਕੀ ਕੀਰੀ ਮਹਿ ਕਲ ਰਾਖੈ ॥
neekee keeree meh kal raakhai.
If God infuses His power into a very weak human being (weak like a tiny ant), 
نیِکی کیِری مہِ کل راکھےَ
نیکی ۔ سنھی ۔ کیری ۔ چیونٹی ۔ کل۔ طاقت۔ قوت۔
ننھی سی چیونٹی کو بھی خدا قوت عنایت کرتا ہے

 ਭਸਮ ਕਰੈ ਲਸਕਰ ਕੋਟਿ ਲਾਖੈ ॥
bhasam karai laskar kot laakhai.
then that person can reduce the armies of millions to ashes.
بھسم کرےَ لشکر کۄٹِ لاکھےَ
بھسم ۔ راکھ ۔ سوآہ ۔ کوٹ۔ کروڑ ۔
۔ لاکھوں اور کروڑوں کو وہ پل بھر میں خاک ملاتا ہے 

 ਜਿਸ ਕਾ ਸਾਸੁ ਨ ਕਾਢਤ ਆਪਿ ॥
jis kaa saas na kaadhat aap.
The one whose life-breath, God does not take away;
جِس کا ساسُ ن کاڈھت آپِ
جس کا سانس وہ خود نہ نکالنا چاہے