Guru Granth Sahib Translation Project

Guru Granth Sahib Urdu Page 267

Page 267

ਮੁਖਿ ਅਪਿਆਉ ਬੈਠ ਕਉ ਦੈਨ ॥ بیٹھے ہی منہ میں کھانا ڈالنے کے لیے- تیری خدمت کے لیے دیے ہیں۔
ਇਹੁ ਨਿਰਗੁਨੁ ਗੁਨੁ ਕਛੂ ਨ ਬੂਝੈ ॥ یہ نا شکرا آدمی کیے ہوئے احسانات کی کچھ بھی قدر نہیں کرتا۔
ਬਖਸਿ ਲੇਹੁ ਤਉ ਨਾਨਕ ਸੀਝੈ ॥੧॥ نانک کا بیان ہے کہ اے واہے گرو ! اگر تو اس کو معاف کر دے تو ہی وہ نجات حاصل کر سکتا ہے۔
ਜਿਹ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ਧਰ ਊਪਰਿ ਸੁਖਿ ਬਸਹਿ ॥ (اے مخلوق!) جس کی مہربانی سے تو زمین پر خوش حال رہتا ہے
ਸੁਤ ਭ੍ਰਾਤ ਮੀਤ ਬਨਿਤਾ ਸੰਗਿ ਹਸਹਿ ॥ اور اپنے بیٹے، بھائی، دوست اور بیوی کے ساتھ ہنستا کھیلتا ہے،
ਜਿਹ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ਪੀਵਹਿ ਸੀਤਲ ਜਲਾ ॥ جس کی مہربانی سے تو ٹھنڈا پانی پیتا ہے۔
ਸੁਖਦਾਈ ਪਵਨੁ ਪਾਵਕੁ ਅਮੁਲਾ ॥ اور تجھے خوش کرنے والی آرام دہ ہوا اور انمول آگ ملی ہے،
ਜਿਹ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ਭੋਗਹਿ ਸਭਿ ਰਸਾ ॥ جس کی مہربانی سے تم تمام لذتیں حاصل کرتے ہیں۔
ਸਗਲ ਸਮਗ੍ਰੀ ਸੰਗਿ ਸਾਥਿ ਬਸਾ ॥ اور تمام چیزوں کے ساتھ تم رہتے ہو،
ਦੀਨੇ ਹਸਤ ਪਾਵ ਕਰਨ ਨੇਤ੍ਰ ਰਸਨਾ ॥ جس نے تجھے ہاتھ پیر، کان، آنکھ اور زبان عطا کی ہے،
ਤਿਸਹਿ ਤਿਆਗਿ ਅਵਰ ਸੰਗਿ ਰਚਨਾ ॥ (اے مخلوق!) تم اس واہے گرو کو بھلاکر دوسروں کے ساتھ محبت کرتے ہو.
ਐਸੇ ਦੋਖ ਮੂੜ ਅੰਧ ਬਿਆਪੇ ॥ ایسے عیوب نادان بے وقوفوں میں پائے جاتے ہیں۔
ਨਾਨਕ ਕਾਢਿ ਲੇਹੁ ਪ੍ਰਭ ਆਪੇ ॥੨॥ نانک کا بیان ہے کہ اے رب! ان کی تم خود ہی حفاظت کرو۔
ਆਦਿ ਅੰਤਿ ਜੋ ਰਾਖਨਹਾਰੁ ॥ جو پرماتما ابتدا سے انتہا تک (ولادت سے موت تک) سب کا محافظ ہے،
ਤਿਸ ਸਿਉ ਪ੍ਰੀਤਿ ਨ ਕਰੈ ਗਵਾਰੁ ॥ احمق آدمی اس سے محبت نہیں کرتا۔
ਜਾ ਕੀ ਸੇਵਾ ਨਵ ਨਿਧਿ ਪਾਵੈ ॥ جس کی خدمت سے اس کو نو خزانے ملتے ہیں
ਤਾ ਸਿਉ ਮੂੜਾ ਮਨੁ ਨਹੀ ਲਾਵੈ ॥ اسے بے وقوف مخلوق اپنے دل سے نہیں لگاتی۔
ਜੋ ਠਾਕੁਰੁ ਸਦ ਸਦਾ ਹਜੂਰੇ ॥ جو آقا ہمیشہ سے ہی قریب ہے،
ਤਾ ਕਉ ਅੰਧਾ ਜਾਨਤ ਦੂਰੇ ॥ اس کو جاہل مخلوق دور سمجھتی ہے۔
ਜਾ ਕੀ ਟਹਲ ਪਾਵੈ ਦਰਗਹ ਮਾਨੁ ॥ جس کی عقیدت مندانہ خدمت سے رب کے دربار میں عزت حاصل ہوتی ہے۔
ਤਿਸਹਿ ਬਿਸਾਰੈ ਮੁਗਧੁ ਅਜਾਨੁ ॥ احمق اور نادان آدمی اس واہے گرو کو بھلا دیتا ہے۔
ਸਦਾ ਸਦਾ ਇਹੁ ਭੂਲਨਹਾਰੁ ॥ فانی مخلوق ہمیشہ بھول چوک کرتی رہتی ہے۔
ਨਾਨਕ ਰਾਖਨਹਾਰੁ ਅਪਾਰੁ ॥੩॥ اے نانک! صرف ابدی واہے گرو ہی محافظ ہے۔
ਰਤਨੁ ਤਿਆਗਿ ਕਉਡੀ ਸੰਗਿ ਰਚੈ ॥ نام اور جوہر کو چھوڑ کر آدمی دولت نامی کوڑی میں خوش رہتا ہے۔
ਸਾਚੁ ਛੋਡਿ ਝੂਠ ਸੰਗਿ ਮਚੈ ॥ وہ سچائی کو چھوڑ کر جھوٹ کے ساتھ خوش رہتا ہے۔
ਜੋ ਛਡਨਾ ਸੁ ਅਸਥਿਰੁ ਕਰਿ ਮਾਨੈ ॥ جس دنیا کی چیزوں کو اسے چھوڑ جانا ہے، اس کو وہ ہمیشہ باقی رہنے والا سمجھتا ہے۔
ਜੋ ਹੋਵਨੁ ਸੋ ਦੂਰਿ ਪਰਾਨੈ ॥ جو کچھ ہونا ہے اس کو وہ دور سمجھتا ہے۔
ਛੋਡਿ ਜਾਇ ਤਿਸ ਕਾ ਸ੍ਰਮੁ ਕਰੈ ॥ جسے اسے چھوڑ جانا ہے، اس کے لیے وہ تکلیف اٹھاتا ہے۔
ਸੰਗਿ ਸਹਾਈ ਤਿਸੁ ਪਰਹਰੈ ॥ وہ اس مددگار (رب) کو چھوڑتا ہے، جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہے۔
ਚੰਦਨ ਲੇਪੁ ਉਤਾਰੈ ਧੋਇ ॥ ਗਰਧਬ ਪ੍ਰੀਤਿ ਭਸਮ ਸੰਗਿ ਹੋਇ ॥ وہ چندن کے لیپ کو دھوکر اتار دیتا ہے۔ گدھے کو صرف جلاہوا (راکھ) پسند ہے۔
ਅੰਧ ਕੂਪ ਮਹਿ ਪਤਿਤ ਬਿਕਰਾਲ ॥ آدمی ڈراؤنے اندھیرے کنویں میں گرا پڑا ہے۔
ਨਾਨਕ ਕਾਢਿ ਲੇਹੁ ਪ੍ਰਭ ਦਇਆਲ ॥੪॥ نانک کی دعا ہے کہ اے دریائے رحمت واہے گرو ! انھیں تم اندھیرے کنویں سے باہر نکال لاؤ۔
ਕਰਤੂਤਿ ਪਸੂ ਕੀ ਮਾਨਸ ਜਾਤਿ ॥ ذات انسان کی ہے لیکن اعمال جانوروں والےہیں۔
ਲੋਕ ਪਚਾਰਾ ਕਰੈ ਦਿਨੁ ਰਾਤਿ ॥ انسان دن رات لوگوں کے سامنے دکھاوا کرتا رہتا ہے۔
ਬਾਹਰਿ ਭੇਖ ਅੰਤਰਿ ਮਲੁ ਮਾਇਆ ॥ ظاہری (جسم میں) وہ مذہبی لباس پہنتا ہے لیکن اس کے نفس میں دولت کا میل ہے۔
ਛਪਸਿ ਨਾਹਿ ਕਛੁ ਕਰੈ ਛਪਾਇਆ ॥ جتنا دل چاہے وہ چھپائے لیکن اپنی اصلیت کو چھپا نہیں سکتا۔
ਬਾਹਰਿ ਗਿਆਨ ਧਿਆਨ ਇਸਨਾਨ ॥ وہ علم، مراقبہ اور غسل کرنے کا دکھاوا کرتا ہے۔
ਅੰਤਰਿ ਬਿਆਪੈ ਲੋਭੁ ਸੁਆਨੁ ॥ لیکن اس کے نفس پر لالچ کا کتا دباؤ ڈال رہا ہے۔
ਅੰਤਰਿ ਅਗਨਿ ਬਾਹਰਿ ਤਨੁ ਸੁਆਹ ॥ اس کے باطن میں حرص کی آگ موجود ہے اور ظاہر میں زہد و بے رغبتی اپنائے ہوئے ہے۔
ਗਲਿ ਪਾਥਰ ਕੈਸੇ ਤਰੈ ਅਥਾਹ ॥ اپنی گردن میں ہوس کا پتھر ڈال کر وہ انتہائی گہرے سمندر سے کیسے پار ہو سکتا ہے؟
ਜਾ ਕੈ ਅੰਤਰਿ ਬਸੈ ਪ੍ਰਭੁ ਆਪਿ ॥ اے نانک! جس کے دل میں واہے گرو خود رہتا ہے۔
ਨਾਨਕ ਤੇ ਜਨ ਸਹਜਿ ਸਮਾਤਿ ॥੫॥ ایسے آدمی کو آسانی سے رب کا وصال حاصل ہو جاتا ہے۔
ਸੁਨਿ ਅੰਧਾ ਕੈਸੇ ਮਾਰਗੁ ਪਾਵੈ ॥ صرف سننے سے ہی اندھا آدمی کس طرح راستہ ڈھونڈ سکتا ہے؟
ਕਰੁ ਗਹਿ ਲੇਹੁ ਓੜਿ ਨਿਬਹਾਵੈ ॥ اس کا ہاتھ پکڑلو (تاکہ یہ) آخر تک محبت کو نباہ سکے۔
ਕਹਾ ਬੁਝਾਰਤਿ ਬੂਝੈ ਡੋਰਾ ॥ بہرا آدمی بات کس طرح سمجھ سکتا ہے؟
ਨਿਸਿ ਕਹੀਐ ਤਉ ਸਮਝੈ ਭੋਰਾ ॥ جب ہم رات کہتے ہیں، تو وہ دن سمجھتا ہے۔
ਕਹਾ ਬਿਸਨਪਦ ਗਾਵੈ ਗੁੰਗ ॥ گونگا آدمی کس طرح بسنپد گا سکتا ہے؟
ਜਤਨ ਕਰੈ ਤਉ ਭੀ ਸੁਰ ਭੰਗ ॥ اگر وہ کوشش بھی کرے، تو بھی اس کی آواز ٹوٹ جاتی ہے۔
ਕਹ ਪਿੰਗੁਲ ਪਰਬਤ ਪਰ ਭਵਨ ॥ لنگڑا کس طرح پہاڑ پر چکر کاٹ سکتا ہے؟
ਨਹੀ ਹੋਤ ਊਹਾ ਉਸੁ ਗਵਨ ॥ اس کا وہاں جانا ممکن نہیں۔
ਕਰਤਾਰ ਕਰੁਣਾ ਮੈ ਦੀਨੁ ਬੇਨਤੀ ਕਰੈ ॥ اے نانک! اے مہربان! اے مدبر کائنات! (یہ) عاجز بندہ دعا کرتا ہے کہ
ਨਾਨਕ ਤੁਮਰੀ ਕਿਰਪਾ ਤਰੈ ॥੬॥ تیری مہربانی سے ہی مخلوق کائنات کے سمندر سے پار ہو سکتی ہے۔
ਸੰਗਿ ਸਹਾਈ ਸੁ ਆਵੈ ਨ ਚੀਤਿ ॥ جو پرماتما مخلوق کا ساتھی اور مددگار ہے، وہ اسے اپنے ذہن میں یاد نہیں کرتا۔
ਜੋ ਬੈਰਾਈ ਤਾ ਸਿਉ ਪ੍ਰੀਤਿ ॥ بلکہ وہ اس سے پیار کرتا ہے، جو اس کا دشمن ہے۔
ਬਲੂਆ ਕੇ ਗ੍ਰਿਹ ਭੀਤਰਿ ਬਸੈ ॥ وہ بالو (ریت) کے گھر میں ہی رہتا ہے۔
ਅਨਦ ਕੇਲ ਮਾਇਆ ਰੰਗਿ ਰਸੈ ॥ وہ عیاشی کے کھیلوں اور دولت کے رنگوں (خوشی) سے مزے لیتا ہے۔
ਦ੍ਰਿੜੁ ਕਰਿ ਮਾਨੈ ਮਨਹਿ ਪ੍ਰਤੀਤਿ ॥ وہ ان رنگیلیوں کو دل میں مضبوط بھروسہ سمجھتا ہے۔
ਕਾਲੁ ਨ ਆਵੈ ਮੂੜੇ ਚੀਤਿ ॥ لیکن احمق انسان اپنے دل میں کال (موت) کو یاد ہی نہیں کرتا۔
ਬੈਰ ਬਿਰੋਧ ਕਾਮ ਕ੍ਰੋਧ ਮੋਹ ॥ دشمنی، مخالفت، ہوس، غصہ، حرص،
ਝੂਠ ਬਿਕਾਰ ਮਹਾ ਲੋਭ ਧ੍ਰੋਹ ॥ جھوٹ، گناہ، لالچ اور خیانت کا
error: Content is protected !!
Scroll to Top
https://ijwem.ulm.ac.id/pages/demo/ slot gacor https://andong-butuh.purworejokab.go.id/resources/demo/ https://triwarno-banyuurip.purworejokab.go.id/assets/files/demo/ https://bppkad.mamberamorayakab.go.id/wp-content/modemo/ http://mesin-dev.ft.unesa.ac.id/mesin/demo-slot/ http://gsgs.lingkungan.ft.unand.ac.id/includes/demo/ https://kemahasiswaan.unand.ac.id/plugins/actionlog/
https://jackpot-1131.com/ https://mainjp1131.com/ https://triwarno-banyuurip.purworejokab.go.id/template-surat/kk/kaka-sbobet/
https://ijwem.ulm.ac.id/pages/demo/ slot gacor https://andong-butuh.purworejokab.go.id/resources/demo/ https://triwarno-banyuurip.purworejokab.go.id/assets/files/demo/ https://bppkad.mamberamorayakab.go.id/wp-content/modemo/ http://mesin-dev.ft.unesa.ac.id/mesin/demo-slot/ http://gsgs.lingkungan.ft.unand.ac.id/includes/demo/ https://kemahasiswaan.unand.ac.id/plugins/actionlog/
https://jackpot-1131.com/ https://mainjp1131.com/ https://triwarno-banyuurip.purworejokab.go.id/template-surat/kk/kaka-sbobet/