Guru Granth Sahib Translation Project

guru-granth-sahib-urdu-page-25

Page 25

ਜੇਹੀ ਸੁਰਤਿ ਤੇਹਾ ਤਿਨ ਰਾਹੁ ॥ یعنی ہر ذی روح اپنی سمجھ کے مطابق اس دنیا میں عمل کا راستہ اپنا چکا ہے۔
ਲੇਖਾ ਇਕੋ ਆਵਹੁ ਜਾਹੁ ॥੧॥ تمام ذی روحوں کے اعمال کا فیصلہ کرنے کا قاعدہ ایک ہی ہے، جس کے مطابق وہ آواگون کے چکر میں رہتے ہیں۔۔ 1۔۔
ਕਾਹੇ ਜੀਅ ਕਰਹਿ ਚਤੁਰਾਈ ॥ اے انسان! تم چالاکی کیوں کرتے ہو؟
ਲੇਵੈ ਦੇਵੈ ਢਿਲ ਨ ਪਾਈ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ وہ داتا رب لینے اور دینے میں کبھی بھی تاخیر نہیں کرتا۔۔ 1۔۔ وقفہ۔۔
ਤੇਰੇ ਜੀਅ ਜੀਆ ਕਾ ਤੋਹਿ ॥ اے واہے گرو! یہ تمام جاندار آپ کے بنائے ہوئے ہیں اور ان تمام جانداروں کے تم مالک ہو۔
ਕਿਤ ਕਉ ਸਾਹਿਬ ਆਵਹਿ ਰੋਹਿ ॥ اے رب ! پھر تم (ان انسانوں کی غلطیوں پر) غصہ کیوں کرتے ہو؟
ਜੇ ਤੂ ਸਾਹਿਬ ਆਵਹਿ ਰੋਹਿ ॥ اگر تم ان پر غصہ کرتے بھی ہو۔
ਤੂ ਓਨਾ ਕਾ ਤੇਰੇ ਓਹਿ ॥੨॥ تو بھی تم ان مخلوقات کے ہو اور یہ مخلوق تمہاری ہے۔۔ 2۔۔
ਅਸੀ ਬੋਲਵਿਗਾੜ ਵਿਗਾੜਹ ਬੋਲ ॥ ہم غلط الفاظ بولنے والے ہیں اور فضول باتیں کرتے ہیں۔
ਤੂ ਨਦਰੀ ਅੰਦਰਿ ਤੋਲਹਿ ਤੋਲ ॥ ہماری فضول باتوں کو تم اپنی نظر کرم میں تولتے ہو۔
ਜਹ ਕਰਣੀ ਤਹ ਪੂਰੀ ਮਤਿ ॥ جہاں نیکاعمال ہوں وہاں عقل بھی پختہ ہوتی ہے۔
ਕਰਣੀ ਬਾਝਹੁ ਘਟੇ ਘਟਿ ॥੩॥ اچھے اعمال کے بنا زندگی میں نقصان ہی نقصان ہے۔ 3۔
ਪ੍ਰਣਵਤਿ ਨਾਨਕ ਗਿਆਨੀ ਕੈਸਾ ਹੋਇ ॥ نانک دیو جی عاجزی سے کہتے ہیں کہ سمجھدار مخلوق کیسی ہونی چاہیے؟
ਆਪੁ ਪਛਾਣੈ ਬੂਝੈ ਸੋਇ ॥ جواب میں کہتے ہیں، خود کو جو پہچانتا ہے اور اس واہے گرو کو سمجھتا ہے۔
ਗੁਰ ਪਰਸਾਦਿ ਕਰੇ ਬੀਚਾਰੁ ॥ گرو کی شکل میں واہے گرو کی مہربانی سے اس کی خوبیوں پر غور و فکر (سوچ و بچار) کرتا ہے۔
ਸੋ ਗਿਆਨੀ ਦਰਗਹ ਪਰਵਾਣੁ ॥੪॥੩੦॥ ایسا سمجھدار علامہ ہی واہے گرو کی بارگاہ میں یا آخرت میں قابل قبول ہوتا ہے۔۔ 4۔۔ 30۔
ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ੧ ਘਰੁ ੪ ॥ سری راگو محلہ 1 گھرو 4۔۔
ਤੂ ਦਰੀਆਉ ਦਾਨਾ ਬੀਨਾ ਮੈ ਮਛੁਲੀ ਕੈਸੇ ਅੰਤੁ ਲਹਾ ॥ اے رب ! تم دریا کی طرح وسیع ہو، ہمہ گیر، ہو کل کائنات ہو اور میں ایک چھوٹی مچھلی کی طرح ہوں تو میں تمھاری حدوں کو کیسے جان سکتا ہوں؟ (کیوں کہ تم تو لامحدود رب ہو)۔
ਜਹ ਜਹ ਦੇਖਾ ਤਹ ਤਹ ਤੂ ਹੈ ਤੁਝ ਤੇ ਨਿਕਸੀ ਫੂਟਿ ਮਰਾ ॥੧॥ جہاں بھی میری نگاہ جاتی ہے، وہاں سب طرف تم مکمل موجود ہو، اس لیے تم سے بچھڑکر میں تڑپ کر مر جاؤں گی، یعنی تمھارے نام کی یاد سے غافل ہونے پر میں دکھی ہو کر مر جاؤں گی۔۔ 1۔۔
ਨ ਜਾਣਾ ਮੇਉ ਨ ਜਾਣਾ ਜਾਲੀ ॥ نہ ہی میں یم کی شکل میں مچھیرے کو جانتی ہوں اور نہ اس کے جال کو جانتا ہوں۔
ਜਾ ਦੁਖੁ ਲਾਗੈ ਤਾ ਤੁਝੈ ਸਮਾਲੀ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ زندگی میں جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو میں صرف آپ کو یاد کرتا ہوں۔۔1۔۔ وقفہ۔۔
ਤੂ ਭਰਪੂਰਿ ਜਾਨਿਆ ਮੈ ਦੂਰਿ ॥ اے واہے گرو! آپ تو ہر جگہ موجود ہو، لیکن میں نے آپ کو اپنی کم عقلی کی وجہ سے کہیں دور سمجھا ہے۔
ਜੋ ਕਛੁ ਕਰੀ ਸੁ ਤੇਰੈ ਹਦੂਰਿ ॥ جو کچھ بھی میں کرتی ہوں، وہ سب تیری نظر میں ہے۔ یعنی: چونکہ تم ہر جگہ موجود ہو اس لیے مخلوق جو بھی عمل کرتی ہے وہ تمہاری موجودگی میں ہی ہوتا ہے۔
ਤੂ ਦੇਖਹਿ ਹਉ ਮੁਕਰਿ ਪਾਉ ॥ میرے اعمال کو جبکہ تم دیکھ رہے ہو لیکن پھر بھی میں انکار کرتی ہوں۔
ਤੇਰੈ ਕੰਮਿ ਨ ਤੇਰੈ ਨਾਇ ॥੨॥ نہ تو میں تمہارے یہاں قبول ہونے والے اعمال ہی کرتی ہوں اور نہ ہی میں تمھارا نام لیتی ہوں۔۔ 2۔۔
ਜੇਤਾ ਦੇਹਿ ਤੇਤਾ ਹਉ ਖਾਉ ॥ اے واہےگرو ! جتنا تم دیتے ہو، میں اتنا ہی کھاتی ہوں۔
ਬਿਆ ਦਰੁ ਨਾਹੀ ਕੈ ਦਰਿ ਜਾਉ ॥ تیرے سوا کوئی دروازہ نہیں تو پھر میں کس دروازے پر جاؤں؟
ਨਾਨਕੁ ਏਕ ਕਹੈ ਅਰਦਾਸਿ ॥ میں نانک آپ سے یہی ایک دعا کرتا ہوں کہ
ਜੀਉ ਪਿੰਡੁ ਸਭੁ ਤੇਰੈ ਪਾਸਿ ॥੩॥ میری روح، جسم اور دل وغیرہ سب کچھ تمھارے فرماں بردار ہوں۔۔ 3۔۔
ਆਪੇ ਨੇੜੈ ਦੂਰਿ ਆਪੇ ਹੀ ਆਪੇ ਮੰਝਿ ਮਿਆਨੋੁ ॥ تم خود قریب ہو، دور بھی تم ہی ہو اور بیچ میں بھی آپ ہو۔
ਆਪੇ ਵੇਖੈ ਸੁਣੇ ਆਪੇ ਹੀ ਕੁਦਰਤਿ ਕਰੇ ਜਹਾਨੋੁ ॥ تم خود (ہمارے اعمال کو) دیکھتے ہو، تم ہی (اچھے اور برے الفاظ) سنتے ہو اورتم‌خود ہی اپنی قدرت سے اس کائنات کو بناتے ہو۔
ਜੋ ਤਿਸੁ ਭਾਵੈ ਨਾਨਕਾ ਹੁਕਮੁ ਸੋਈ ਪਰਵਾਨੋੁ ॥੪॥੩੧॥ نانک دیو جی کہتے ہیں کہ جو آپ حکم کرنا چاہتے ہیں، وہ ہم سب کو منظور ہے۔
ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ੧ ਘਰੁ ੪ ॥ سری راگو محلہ 1 گهرو 4۔۔
ਕੀਤਾ ਕਹਾ ਕਰੇ ਮਨਿ ਮਾਨੁ ॥ واہےگرو کی پیدا کی ہوئی مخلوق اپنے دل میں کیسے غرور کر سکتی ہے؟
ਦੇਵਣਹਾਰੇ ਕੈ ਹਥਿ ਦਾਨੁ ॥ جب کہ تمام چیزیں اس داتا کے ہاتھ میں ہیں۔
ਭਾਵੈ ਦੇਇ ਨ ਦੇਈ ਸੋਇ ॥ مخلوق کو دینا یا نہ دینا اس رب کی مرضی ہے۔
ਕੀਤੇ ਕੈ ਕਹਿਐ ਕਿਆ ਹੋਇ ॥੧॥ مخلوق کہنے سے کیا ہوتا ہے۔۔ 1۔۔۔کے
ਆਪੇ ਸਚੁ ਭਾਵੈ ਤਿਸੁ ਸਚੁ ॥ وہ خود تو حق ہے ہی، حق ہی کو قبول کرتا ہے۔
ਅੰਧਾ ਕਚਾ ਕਚੁ ਨਿਕਚੁ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ جاہل مخلوق مکمل کچی ہے۔۔1۔۔ وقفہ۔۔
ਜਾ ਕੇ ਰੁਖ ਬਿਰਖ ਆਰਾਉ ॥ جس کرتا دھرتا کے یہ انسان نما پیڑ پودے ہیں، وہی انہیں سنوارتا ہے۔
ਜੇਹੀ ਧਾਤੁ ਤੇਹਾ ਤਿਨ ਨਾਉ ॥ جیسی ان کی نسل بن جاتی ہے، ویسا ہی ان کا نام پڑ جاتا ہے۔ یعنی مخلوق کے اعمال کے مطابق ہی دنیا میں اس کا نام مشہور ہو جاتا ہے۔
ਫੁਲੁ ਭਾਉ ਫਲੁ ਲਿਖਿਆ ਪਾਇ ॥ ان کے جذبات کے مطابق ہی پھول لگتا ہے اور لکھے ہوئے اعمال کے مطابق پھل حاصل کرتے ہیں۔
ਆਪਿ ਬੀਜਿ ਆਪੇ ਹੀ ਖਾਇ ॥੨॥ انسان خود ہی بوتا ہے اور خود ہی کھاتا ہے۔ یعنی مخلوق جیسے اعمال کرتی ہے ویسے ہی پھل پاتی ہے۔۔ 2۔۔
ਕਚੀ ਕੰਧ ਕਚਾ ਵਿਚਿ ਰਾਜੁ ॥ مخلوق کی جسم جیسی دیوار کمزور ہے اور اس کے اندر بیٹھا دل جیسا معمار بھی اناڑی ہے۔
ਮਤਿ ਅਲੂਣੀ ਫਿਕਾ ਸਾਦੁ ॥ اس کی ذہانت بھی نام کی صورت میں نمک سے خالی ہے اس لیے اسے روحانی چیزوں کا ذائقہ بےکار لگے گا۔
ਨਾਨਕ ਆਣੇ ਆਵੈ ਰਾਸਿ ॥ نانک دیو جی کہتے ہیں کہ جب واہے گرو انسانی زندگی کو سنوارتا ہے تب ہی اس کی زندگی کامیاب ہوتی ہے۔
ਵਿਣੁ ਨਾਵੈ ਨਾਹੀ ਸਾਬਾਸਿ ॥੩॥੩੨॥ رب کے نام کے ذکر کے بغیر اس کو دربار میں عزت نہیں ملتی۔۔3۔۔32۔۔
ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ੧ ਘਰੁ ੫ ॥ سری راگو محلہ 1 گهرو 5۔۔
ਅਛਲ ਛਲਾਈ ਨਹ ਛਲੈ ਨਹ ਘਾਉ ਕਟਾਰਾ ਕਰਿ ਸਕੈ ॥ شیطانی طاقت بھی انسان کو دھوکہ دینے میں خود کامیاب نہیں ہو سکتی اور نہ ہی خنجر اسے کوئی زخم لگا سکتا ہے۔
ਜਿਉ ਸਾਹਿਬੁ ਰਾਖੈ ਤਿਉ ਰਹੈ ਇਸੁ ਲੋਭੀ ਕਾ ਜੀਉ ਟਲ ਪਲੈ ॥੧॥ کیونکہ رب ہمیشہ اس کا محافظ ہے لیکن انسان لالچی ہونے کے سبب دولت کے پیچھے بھٹکتا رہتا ہے۔۔ 1۔۔
ਬਿਨੁ ਤੇਲ ਦੀਵਾ ਕਿਉ ਜਲੈ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ نام کی صورت میں تیل کے بغیر یہ روح کو روشن کرنے والا علم کا چراغ کیسے جل سکتا ہے؟ ۔ 1۔۔ وقفہ۔۔
ਪੋਥੀ ਪੁਰਾਣ ਕਮਾਈਐ ॥ ਭਉ ਵਟੀ ਇਤੁ ਤਨਿ ਪਾਈਐ ॥ گرو جی جواب میں کہتے ہیں کہ مذہبی کتابوں کے اصولوں پر چل کر زندگی کو سنوارنا، علم کا چراغ جلانے کے لیے تیل ہے۔اس جسم نامی چراغ میں خوف کی بتی ڈال دی جائے۔
ਸਚੁ ਬੂਝਣੁ ਆਣਿ ਜਲਾਈਐ ॥੨॥ حقیقی علم کی آگ کے شعلے سے یہ چراغ جلایا جائے۔۔2۔۔
ਇਹੁ ਤੇਲੁ ਦੀਵਾ ਇਉ ਜਲੈ ॥ اس قسم کے مواد سے ہی یہ علم کا چراغ روشن ہو سکتا ہے۔
ਕਰਿ ਚਾਨਣੁ ਸਾਹਿਬ ਤਉ ਮਿਲੈ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ جب علم کا چراغ روشنی کرتا ہے تو غیر متشکل رب سے ملاپ ہوجاتا ہے۔۔1۔۔ وقفہ۔۔
ਇਤੁ ਤਨਿ ਲਾਗੈ ਬਾਣੀਆ ॥ انسانی جسم کو سنبھالنے کے لیے انسان کو گرو کی تعلیمات حاصل کرنی چاہئیں۔
ਸੁਖੁ ਹੋਵੈ ਸੇਵ ਕਮਾਣੀਆ ॥ رب کی عبادت سے ہی خوشی حاصل ہوتی ہے۔
Scroll to Top
https://halomasbup.kedirikab.go.id/laporan_desa/ http://magistraandalusia.fib.unand.ac.id/help/menang-gacor/ https://pbindo.fkip.unri.ac.id/stats/manja-gacor/
https://halomasbup.kedirikab.go.id/laporan_desa/ http://magistraandalusia.fib.unand.ac.id/help/menang-gacor/ https://pbindo.fkip.unri.ac.id/stats/manja-gacor/