Guru Granth Sahib Translation Project

Guru Granth Sahib Urdu Page 242

Page 242

ਗਉੜੀ ਮਹਲਾ ੫ ॥ گؤڑی محلہ 5۔
ਰੰਗ ਸੰਗਿ ਬਿਖਿਆ ਕੇ ਭੋਗਾ ਇਨ ਸੰਗਿ ਅੰਧ ਨ ਜਾਨੀ ॥੧॥ انسان دنیا کی برائیوں سے لطف اندوزی میں ڈوب گیا ہے اور ناخواندہ(انسان) ان لذتوں کی صحبت میں پھنس کر واہے گرو کو نہیں جانتا۔ 1۔
ਹਉ ਸੰਚਉ ਹਉ ਖਾਟਤਾ ਸਗਲੀ ਅਵਧ ਬਿਹਾਨੀ ॥ ਰਹਾਉ ॥ وہ کہتا ہے کہ ’’میں مال جمع کرتا ہوں، میں مال حاصل کرتا ہوں۔‘‘ اسی طرح اس کی ساری زندگیگزرجاتی ہے۔ وقفہ۔
ਹਉ ਸੂਰਾ ਪਰਧਾਨੁ ਹਉ ਕੋ ਨਾਹੀ ਮੁਝਹਿ ਸਮਾਨੀ ॥੨॥ وہ کہتا ہے ’’میں بہادر ہوں، میں پیشوا ہوں، میری طرح دوسرا کوئی نہیں‘‘۔ 2۔
ਜੋਬਨਵੰਤ ਅਚਾਰ ਕੁਲੀਨਾ ਮਨ ਮਹਿ ਹੋਇ ਗੁਮਾਨੀ ॥੩॥ وہ کہتا ہے، ’’میں کامل نو جوان ، اچھے اخلاق والا اور اونچی ذاتی کا ہوں۔‘‘ وہ اس طرح اپنے دل میں مغرور بنا ہوا ہے۔ 3۔
ਜਿਉ ਉਲਝਾਇਓ ਬਾਧ ਬੁਧਿ ਕਾ ਮਰਤਿਆ ਨਹੀ ਬਿਸਰਾਨੀ ॥੪॥ جھوٹی عقل والا انسان دولت کی ہوس میں پھنسا رہتا ہے، وہ موت کے وقت بھی تکبر کو نہیں بھولتا۔ 4۔
ਭਾਈ ਮੀਤ ਬੰਧਪ ਸਖੇ ਪਾਛੇ ਤਿਨਹੂ ਕਉ ਸੰਪਾਨੀ ॥੫॥ وہ مرنے کے بعد اپنی دولت اور جائیداد اپنے بھائی، دوست، رشتے دار اور ساتھیوں کے حوالے ہی کرتا ہے۔5۔
ਜਿਤੁ ਲਾਗੋ ਮਨੁ ਬਾਸਨਾ ਅੰਤਿ ਸਾਈ ਪ੍ਰਗਟਾਨੀ ॥੬॥ جس خواہش سے من جڑا ہوا ہے، وہ موت کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔ 6۔
ਅਹੰਬੁਧਿ ਸੁਚਿ ਕਰਮ ਕਰਿ ਇਹ ਬੰਧਨ ਬੰਧਾਨੀ ॥੭॥ انسان کبر سے اچھا کام کرتا ہے۔ پھر وہ ان بندھنوں میں پھنسا رہتا ہے۔ 7۔
ਦਇਆਲ ਪੁਰਖ ਕਿਰਪਾ ਕਰਹੁ ਨਾਨਕ ਦਾਸ ਦਸਾਨੀ ॥੮॥੩॥੧੫॥੪੪॥ ਜੁਮਲਾ نانک کی سرگذشت ہے کہ اے مہربان اعلیٰ رب! مجھ پر اپنا فضل فرما اور اپنے غلاموں کا غلام بنالے۔ 8۔3۔15۔44۔کلام
ੴ ਸਤਿਨਾਮੁ ਕਰਤਾ ਪੁਰਖੁ ਗੁਰਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥ رب ہی ایک اعلیٰ کامل سچا خالق ہے۔ وہی کرنے والا ہے، وہ ہر چیز کرنے پر قادر ہے، قابل ہے۔ گرو کی مہربانی سے ہی اسے پانا ممکن ہے۔
ਰਾਗੁ ਗਉੜੀ ਪੂਰਬੀ ਛੰਤ ਮਹਲਾ ੧ ॥ راگو گؤڑی پوربی چھنت محلہ 1۔
ਮੁੰਧ ਰੈਣਿ ਦੁਹੇਲੜੀਆ ਜੀਉ ਨੀਦ ਨ ਆਵੈ ॥ مالک شوہر کی جدائی میں عورت ذات کے لیے رات اندھیرا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کیجدائی میں اسے نیند نہیں آتی۔
ਸਾ ਧਨ ਦੁਬਲੀਆ ਜੀਉ ਪਿਰ ਕੈ ਹਾਵੈ ॥ اپنے مالک شوہر سے جدائی کے درد میں عورت ذات کمزور ہوگئی ہے۔
ਧਨ ਥੀਈ ਦੁਬਲਿ ਕੰਤ ਹਾਵੈ ਕੇਵ ਨੈਣੀ ਦੇਖਏ ॥ وہ اپنے مالک شوہر سے جدائی میں یہ کہتی ہوئی کمزور ہوگئی ہے کہ میں محبوب کو اپنی آنکھوں سے کس طرح دیکھوں؟
ਸੀਗਾਰ ਮਿਠ ਰਸ ਭੋਗ ਭੋਜਨ ਸਭੁ ਝੂਠੁ ਕਿਤੈ ਨ ਲੇਖਏ ॥ اس کے لیے ہار، میٹھے رس، شہوانی لذت اور کھانا سب جھوٹے ہیں اور کسی شمار میں نہیں۔
ਮੈ ਮਤ ਜੋਬਨਿ ਗਰਬਿ ਗਾਲੀ ਦੁਧਾ ਥਣੀ ਨ ਆਵਏ ॥ وہ جوانی کے غرور کی شراب سے مست ہوکر برباد ہوگئی ہے۔ پستان سے نکلے ہوئے دودھ کے دوبارہ پستان میں نہ آنے کی طرح اسے دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔
ਨਾਨਕ ਸਾ ਧਨ ਮਿਲੈ ਮਿਲਾਈ ਬਿਨੁ ਪਿਰ ਨੀਦ ਨ ਆਵਏ ॥੧॥ اے نانک! عورت ذات اپنے مالک شوہر سے اسی صورت میں مل سکتی ہے، اگر وہ اسے اپنے ساتھ ملاتا ہے۔ مالک شوہر کے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔ 1۔
ਮੁੰਧ ਨਿਮਾਨੜੀਆ ਜੀਉ ਬਿਨੁ ਧਨੀ ਪਿਆਰੇ ॥ اپنے محبوب مالک کے بغیر عورت ذات بے عزت ہے۔
ਕਿਉ ਸੁਖੁ ਪਾਵੈਗੀ ਬਿਨੁ ਉਰ ਧਾਰੇ ॥ اسے اپنے دل کے ساتھ لگائے بغیر وہ راحت و سکون کیسے حاصل کرسکتی ہے؟
ਨਾਹ ਬਿਨੁ ਘਰ ਵਾਸੁ ਨਾਹੀ ਪੁਛਹੁ ਸਖੀ ਸਹੇਲੀਆ ॥ مالک شوہر کے بغیر گھر رہنے کے قابل نہیں ، چاہے اپنی سہیلیوں سے پوچھ لو۔
ਬਿਨੁ ਨਾਮ ਪ੍ਰੀਤਿ ਪਿਆਰੁ ਨਾਹੀ ਵਸਹਿ ਸਾਚਿ ਸੁਹੇਲੀਆ ॥ نام کے بغیر کوئی محبت اور پیار نہیں۔ وہ اپنے حقیقی آقا کے ساتھ سکون سے رہتی ہے۔
ਸਚੁ ਮਨਿ ਸਜਨ ਸੰਤੋਖਿ ਮੇਲਾ ਗੁਰਮਤੀ ਸਹੁ ਜਾਣਿਆ ॥ سچائی اور قناعت کے ذریعے دوست (رب) سے ملاقات حاصل ہوتی ہے اور گرو کی تعلیم کے ذریعے مالک شوہر کو سمجھا جاتا ہے۔
ਨਾਨਕ ਨਾਮੁ ਨ ਛੋਡੈ ਸਾ ਧਨ ਨਾਮਿ ਸਹਜਿ ਸਮਾਣੀਆ ॥੨॥ اے نانک! جو دلہن (عورت ذات) نام ترک نہیں کرتی، وہ نام کے ذریعے رب میں ضم ہو جاتی ہے۔2۔
ਮਿਲੁ ਸਖੀ ਸਹੇਲੜੀਹੋ ਹਮ ਪਿਰੁ ਰਾਵੇਹਾ ॥ آؤ میرے دوست و احباب! ہم اپنے محبوب رب کی حمد و ثنا کریں۔
ਗੁਰ ਪੁਛਿ ਲਿਖਉਗੀ ਜੀਉ ਸਬਦਿ ਸਨੇਹਾ ॥ میں اپنے گرو دیو سے پوچھوں گی اور ان کی تعلیمات کو اپنے پیغام کے طور پر لکھوں گی۔
ਸਬਦੁ ਸਾਚਾ ਗੁਰਿ ਦਿਖਾਇਆ ਮਨਮੁਖੀ ਪਛੁਤਾਣੀਆ ॥ سچا لفظ گرو نے مجھے دکھادیا ہے، لیکن نفس پرست افسوس کرے گا۔
ਨਿਕਸਿ ਜਾਤਉ ਰਹੈ ਅਸਥਿਰੁ ਜਾਮਿ ਸਚੁ ਪਛਾਣਿਆ ॥ جب میں نے سچائی کو پہچان لیا، تو میرا آوارہ من ثابت قدم ہوگیا ہے۔
ਸਾਚ ਕੀ ਮਤਿ ਸਦਾ ਨਉਤਨ ਸਬਦਿ ਨੇਹੁ ਨਵੇਲਓ ॥ سچائی کا احساس ہمیشہ نیا ہوتا ہے اور حق نام کی محبت ہمیشہ نئی رہتی ہے۔
ਨਾਨਕ ਨਦਰੀ ਸਹਜਿ ਸਾਚਾ ਮਿਲਹੁ ਸਖੀ ਸਹੇਲੀਹੋ ॥੩॥ اے نانک! صادق اعلیٰ رب کے فضل و احسان سے راحت و سکون حاصل ہوتی ہے، میرے دوست و احباب! اس سے ملو۔3۔
ਮੇਰੀ ਇਛ ਪੁਨੀ ਜੀਉ ਹਮ ਘਰਿ ਸਾਜਨੁ ਆਇਆ ॥ میری خواہش پوری ہوگئی ہے اور میرا محبو رب میرے (دماغ کے) گھر میں آ گیا ہے۔
ਮਿਲਿ ਵਰੁ ਨਾਰੀ ਮੰਗਲੁ ਗਾਇਆ ॥ شوہر اور بیوی کی ملاقات پر مبارک گیت گائے گئے۔
ਗੁਣ ਗਾਇ ਮੰਗਲੁ ਪ੍ਰੇਮਿ ਰਹਸੀ ਮੁੰਧ ਮਨਿ ਓਮਾਹਓ ॥ مالک شوہر کی شان و محبت میں مبارک (خوشی کے) گیت گانے سے عورت ذات کی روح خوش ہوگئی ہے۔
ਸਾਜਨ ਰਹੰਸੇ ਦੁਸਟ ਵਿਆਪੇ ਸਾਚੁ ਜਪਿ ਸਚੁ ਲਾਹਓ ॥ دوست خوش ہیں اور دشمن (برائی) ناخوش ہیں۔ نیک انسان کی عبادت سے حقیقی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
ਕਰ ਜੋੜਿ ਸਾ ਧਨ ਕਰੈ ਬਿਨਤੀ ਰੈਣਿ ਦਿਨੁ ਰਸਿ ਭਿੰਨੀਆ ॥ عورت ذات ہاتھ جوڑ کر التماس کرتی ہے کہ رات دن وہ اپنے مالک کی محبت میں مگن رہے۔
ਨਾਨਕ ਪਿਰੁ ਧਨ ਕਰਹਿ ਰਲੀਆ ਇਛ ਮੇਰੀ ਪੁੰਨੀਆ ॥੪॥੧॥ اے نانک! اب محبوب آقا اور اس کی بیوی (روح) مل کر روحانی سکون سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور میری خواہش پوری ہوگئی ہے۔ 4۔ 1۔
Scroll to Top
http://bpbd.sinjaikab.go.id/data/ https://halomasbup.kedirikab.go.id/laporan_desa/ http://magistraandalusia.fib.unand.ac.id/help/menang-gacor/ https://pbindo.fkip.unri.ac.id/stats/manja-gacor/
http://bpbd.sinjaikab.go.id/data/ https://halomasbup.kedirikab.go.id/laporan_desa/ http://magistraandalusia.fib.unand.ac.id/help/menang-gacor/ https://pbindo.fkip.unri.ac.id/stats/manja-gacor/