Page 1426
ਜਿਸਹਿ ਉਧਾਰੇ ਨਾਨਕਾ ਸੋ ਸਿਮਰੇ ਸਿਰਜਣਹਾਰੁ ॥੧੫॥
॥15॥ جِسہِ اُدھارے نانکا سو سِمرے سِرجنھہارُ
لفظی معنی:پتت ۔بد اخلاقی و بدکار کو یک پاک و خوش اخلاق بنانے والا۔ پار برہم۔ کامیابی بخشے والا خدا۔ سمرتھ ۔ ساری قوتوں کا مالک با توفیق۔ اپار۔ بیشمار۔ جیسے ادھارے ۔جسے بدیوں سے بچاتا ہے ۔ سوہ۔ وہ ۔ سمر سرخہار۔ وہ اس عالم کو پیداکرنےوالے کو یاد کرتا ہے۔
ترجمہ:اے نانک، جسے خدا بچاتا ہے، وہ شخص خالق خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔
ਦੂਜੀ ਛੋਡਿ ਕੁਵਾਟੜੀ ਇਕਸ ਸਉ ਚਿਤੁ ਲਾਇ ॥ ਦੂਜੈ ਭਾਵਂੀ ਨਾਨਕਾ ਵਹਣਿ ਲੁੜ੍ਹ੍ਹੰਦੜੀ ਜਾਇ ॥੧੬॥
॥ دوُجیِ چھوڈِ کُۄاٹڑیِ اِکس سءُ چِتُ لاءِ
॥16॥ دوُجےَ بھاۄیِ نانکا ۄہنھِ لُڑ٘ہ٘ہنّدڑیِ جاءِ
لفظی معنی:دوجی۔ دوسرا۔ کواٹڑی ۔ غلط راستہ۔ اکس ۔ واحد۔ سیوچت لائے ۔ محبت کر۔ دوجی بھاویں۔ دوسروں سے محبت کرنے والے ۔ وہن لڑنڈری جائے ۔ زندگی کے بہاؤ میں برائیوں بدیؤں میں بہہ جاتے ہیں۔
॥16॥ ترجمہ: (اے میرے دوست)، مادیت کی محبت کی ٹیڑھی راہ کو چھوڑ دو اور اپنے ذہن کو صرف خدا کی طرف متوجہ کرو۔اے نانک، دنیا کا بیشتر حصہ جھوٹی دنیاوی رغبتوں اور برائیوں کے بہاؤ میں بہہ رہا ہے۔
ਤਿਹਟੜੇ ਬਾਜਾਰ ਸਉਦਾ ਕਰਨਿ ਵਣਜਾਰਿਆ ॥ ਸਚੁ ਵਖਰੁ ਜਿਨੀ ਲਦਿਆ ਸੇ ਸਚੜੇ ਪਾਸਾਰ ॥੧੭॥
॥ تِہٹڑے باجار سئُدا کرنِ ۄنھجارِیا
॥17॥ سچُ ۄکھرُ جِنیِ لدِیا سے سچڑے پاسار
لفظی معنی:تیٹڑ ے ۔ بازار۔ تینوں دکانوں والے بازار۔ مردا تین خیالوں پر مشتمل۔ رجو۔ حکومت ۔ ترقی کی خواہش رکھنے والے ۔ ستو حقیقت اور سچ پردار و مدار رکھنے والے ۔ طمعو۔ لالچی ۔ لالچ کرنے والے ۔ سؤ داکرن ونجاریا۔ دنیا میں تینوں خیلات میں زندگی بسر کرتے ہین۔ سچ وکھر۔ سچا سودا۔ جنکا کاروبار سچ اور حقیقت پر چلتا ہے ۔ سے ۔ وہ۔ سچڑے پاسار۔ حقیقی سوداگر ہیں زندگی کے۔
॥17॥ترجمہ:اس دنیاوی بازار میں انسان ایسے سوداگروں کی مانند ہیں جو عموماً مایا (مادیت) کے تین جذبوں (نقص، خوبی اور طاقت) کے تحت سودے کرتے ہیں۔لیکن حقیقی طور پر کامیاب تاجر وہ ہیں جنہوں نے خدا کے نام کی لازوال شے حاصل کی ہے۔
ਪੰਥਾ ਪ੍ਰੇਮ ਨ ਜਾਣਈ ਭੂਲੀ ਫਿਰੈ ਗਵਾਰਿ ॥ ਨਾਨਕ ਹਰਿ ਬਿਸਰਾਇ ਕੈ ਪਉਦੇ ਨਰਕਿ ਅੰਧ੍ਯ੍ਯਾਰ ॥੧੮॥
॥ پنّتھا پ٘ریم ن جانھئیِ بھوُلیِ پھِرےَ گۄارِ
॥18॥ نانک ہرِ بِسراءِ کےَ پئُدے نرکِ انّدھ٘ز٘زار
لفظی معنی:پنتھا پریم۔ پیار کا راستہ۔ نہ جانئی ۔ نہیں سمجھتا ۔ بھولی ۔ گمراہ ۔ گنوار۔ جاہل۔ بسرائکے ۔ بھلا کر۔ پورے ۔ پڑتے ہیں۔۔ نرک اندھار۔ بھاری دوزخ میں پڑتے ہیں۔
॥18॥ ترجمہ:جو عشقِ الٰہی کا راستہ نہیں جانتا، وہ احمق زندگی کی راست راہ سے بھٹک جاتا ہے۔اے نانک، خدا کو بھلا کر، لوگ ایسے دکھ سہتے رہتے ہیں جیسے وہ جہنم کے گہرے گڑھے میں ہوں۔
ਮਾਇਆ ਮਨਹੁ ਨ ਵੀਸਰੈ ਮਾਂਗੈ ਦੰਮਾਂ ਦੰਮ ॥ ਸੋ ਪ੍ਰਭੁ ਚਿਤਿ ਨ ਆਵਈ ਨਾਨਕ ਨਹੀ ਕਰੰਮਿ ॥੧੯॥
॥ مائِیا منہُ ن ۄیِسرےَ ماںگےَ دنّماں دنّم
॥19॥ سو پ٘ربھُ چِتِ ن آۄئیِ نانک نہیِ کرنّمِ
لفظی معنی:مائیا منہو نہ ویسرے منگیہہ دمارم ۔ دل سے بھولتی دنیاوی دولت ۔ مانگتا روپیہ روپیہ ۔ سو ۔پربھ۔ اس خدا۔ چت نہ آوئی ۔ نہیں خیال دلمیں۔ نانک نہیں کریم۔ اے نانک نہیں جب تقدیر میں۔
॥19॥ ترجمہ:انسان کے ذہن سے دنیاوی دولت کا خیال نہیں جاتا، وہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مال مانگتا رہتا ہے۔اے نانک، وہ خدا (جو سب کچھ دیتا ہے) اس کے ذہن میں بالکل نہیں آتا، کیونکہ خدا کے نام کی دولت اس کے نصیب میں نہیں ہے۔
ਤਿਚਰੁ ਮੂਲਿ ਨ ਥੁੜਂੀਦੋ ਜਿਚਰੁ ਆਪਿ ਕ੍ਰਿਪਾਲੁ ॥ ਸਬਦੁ ਅਖੁਟੁ ਬਾਬਾ ਨਾਨਕਾ ਖਾਹਿ ਖਰਚਿ ਧਨੁ ਮਾਲੁ ॥੨੦॥
॥ تِچرُ موُلِ ن تھُڑیِدو جِچرُ آپِ ک٘رِپالُ
॥20॥ سبدُ اکھُٹُ بابا نانکا کھاہِ کھرچِ دھنُ مالُ
لفظی معنی:تچر/ اسوقت تک۔ مول ۔ بالکل ہی ۔ تھڑبندو۔ کمی واقع نہیں ہوتی ۔ جچر۔ جب تک ہے مہربان خدا۔ کرپال۔ سبد ۔ کلام۔ اکھٹ ۔ کم نہ ہونے والا۔ کھاہے ۔ استعمال کر۔ ۔ خرچ۔ دوسروں کو۔ ادا کر۔ دھن مال۔ یہ دؤلت اور سرمایہ۔
॥20॥ ترجمہ:خدا کے نام کی دولت ختم نہیں ہوتی، جب تک خدا خود مہربان ہے۔اے نانک، خدا کی حمد و ثنا کے کلام کی دولت ایسی ہے کہ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، چاہے کوئی کتنا ہی کھائے اور دوسروں کے ساتھ بانٹ لے۔
ਖੰਭ ਵਿਕਾਂਦੜੇ ਜੇ ਲਹਾਂ ਘਿੰਨਾ ਸਾਵੀ ਤੋਲਿ ॥ ਤੰਨਿ ਜੜਾਂਈ ਆਪਣੈ ਲਹਾਂ ਸੁ ਸਜਣੁ ਟੋਲਿ ॥੨੧॥
॥ کھنّبھ ۄِکاںدڑے جے لہاں گھِنّنا ساۄیِ تولِ
॥21॥ تنّنِ جڑاںئیِ آپنھےَ لہاں سُ سجنھُ ٹولِ
لفظی معنی:کھنب۔ پر۔ دکاندڑے ۔ فروکت ہوتے ہوئے ۔ جے یہاں ۔ اگرے لوں۔ گھنا۔ لے لوں ۔ ساری تول ۔ اپنے جسم کے برابر خرید کر لوں۔ تن جڑائی اپنے ۔ اپنے جسم پر لگا کر۔ لہاں سو سجن ٹول۔ تو اُس پیارے دوست کو تلاش کر لوں۔
॥21॥ ترجمہ:اگر مجھے فروخت کے لیے پنکھ ملیں تو میں اپنے گوشت کے برابر وزن کے ساتھ انہیں خریدوں گا۔میں انہیں اپنے جسم سے جوڑ دوں گا، اور اپنے پیارے دوست، خدا کو تلاش کروں گا۔
ਸਜਣੁ ਸਚਾ ਪਾਤਿਸਾਹੁ ਸਿਰਿ ਸਾਹਾਂ ਦੈ ਸਾਹੁ ॥ ਜਿਸੁ ਪਾਸਿ ਬਹਿਠਿਆ ਸੋਹੀਐ ਸਭਨਾਂ ਦਾ ਵੇਸਾਹੁ ॥੨੨॥
॥ سجنھُ سچا پاتِساہُ سِرِ ساہاں دےَ ساہُ
॥22॥ جِسُ پاسِ بہِٹھِیا سوہیِئےَ سبھنا دا ۄیساہُ
لفظی معنی:سجن ۔ دوست۔ سچا پاتساہ ۔ صدیوی ۔ حقیقی ۔ بادشاہ۔ سرساہاں دے ساہو۔ شہنشاہ کے سر پر مراد بلند رتبہ شاہن شاہ۔ سوہیئے ۔ اچھے ۔ خوبصورت ۔ گیں ۔ سبھنا۔ داویسا ہو۔ سبھ کا بھروسا ۔ باعتماد۔
॥22॥ ترجمہ:خدا، میرا پیارا دوست، وہ ابدی بادشاہ ہے جو ساری دنیا کے بادشاہوں سے بڑا ہے،جس کے پاس بیٹھنے سے (محبت سے یاد کر نے سے) انسان خوبصورت لگتا ہے وہ سب کا سہارا ہے۔
ੴ ਸਤਿਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥ ਸਲੋਕ ਮਹਲਾ ੯ ॥ ਗੁਨ ਗੋਬਿੰਦ ਗਾਇਓ ਨਹੀ ਜਨਮੁ ਅਕਾਰਥ ਕੀਨੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਹਰਿ ਭਜੁ ਮਨਾ ਜਿਹ ਬਿਧਿ ਜਲ ਕਉ ਮੀਨੁ ॥੧॥
॥ ੴ ستِگُر پ٘رسادِ
سلوک مہلا ੯॥
॥ گُن گوبِنّد گائِئو نہیِ جنمُ اکارتھ کیِنُ
॥1॥ کہُ نانک ہرِ بھجُ منا جِہ بِدھِ جل کءُ میِنُ
لفظی معنی:گن گوبند۔ الہٰی ھمدوثناہ۔ اکارتھ ۔ بیفائدہ ۔ کین ۔ کی ۔ ہر بھج منا۔ اے دل ۔ یاد خدا کو کر ۔ جیہہ بھد۔ جس طریقے سے مچھلی پانی کو کرتی ہے۔
॥1॥ ترجمہ:اگر تم نے خدا کی تسبیح نہیں گائی تو تم نے اپنی زندگی کو بیکار بنا دیا ہے۔اے نانک کہو، اے میرے دماغ، پیار سے خدا کو یاد کرو، جیسے مچھلی پانی سے پیار کرتی ہے۔
ਬਿਖਿਅਨ ਸਿਉ ਕਾਹੇ ਰਚਿਓ ਨਿਮਖ ਨ ਹੋਹਿ ਉਦਾਸੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਭਜੁ ਹਰਿ ਮਨਾ ਪਰੈ ਨ ਜਮ ਕੀ ਫਾਸ ॥੨॥
॥ بِکھِئن سِءُ کاہے رچِئو نِمکھ ن ہوہِ اُداسُ
॥2॥ کہُ نانک بھجُ ہرِ منا پرےَ ن جم کیِ پھاس
لفظی معنی:وکھین سیؤ۔ دنیاوی ۔ زہریلی دنیاسے ۔ کاہے ۔ رچیؤ۔ کیوں ہو ملوچ۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے کے لئے ۔ اداس ۔ غمگین۔
ترجمہ: (اے میرے دوست) تم ان دنیاوی کاموں میں کیوں مشغول ہو جو روحانی زندگی کے لیے زہر ہیں۔ تم نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے آپ کو ان سے الگ نہیں کیا۔اے نانک، کہو، اے میرے دماغ، خدا کو محبت بھری عقیدت سے یاد کرو، تاکہتمموت ॥2॥ کے شکنجے میں نہ پھنس جاؤ۔
ਤਰਨਾਪੋ ਇਉ ਹੀ ਗਇਓ ਲੀਓ ਜਰਾ ਤਨੁ ਜੀਤਿ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਭਜੁ ਹਰਿ ਮਨਾ ਅਉਧ ਜਾਤੁ ਹੈ ਬੀਤਿ ॥੩॥
॥ ترناپو اِءُ ہیِ گئِئو لیِئو جرا تنُ جیِتِ
॥3॥ کہُ نانک بھجُ ہرِ منا ائُدھ جاتُ ہےَ بیِتِ
لفظی معنی:ترناپو۔ جوانی کا علام۔ ایؤ ہی گیؤ۔ اس طرح سے گذر گیا۔ جرا۔ بڑھاپا۔ تن جیت۔ جسم کو قابو کر لیا۔ کہہ نانک۔ اے نانک بتادے ۔ بھج ہرمنا۔ اے دل یاد کر خدا۔ ۔ اودھ ۔ عمر۔ جات ہے ہیت۔ گذررہی ہے ۔
॥3॥ ترجمہ:تیری جوانی رائیگاں گئی اور بڑھاپا تیرے جسم پر غالب آگیا۔اے نانک، کہو، اے میرے دماغ، کم از کم اب تو خدا کو یاد کرنا شروع کر، کیونکہ تمہاری عمر گذرتی جا رہی ہے۔
ਬਿਰਧਿ ਭਇਓ ਸੂਝੈ ਨਹੀ ਕਾਲੁ ਪਹੂਚਿਓ ਆਨਿ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਨਰ ਬਾਵਰੇ ਕਿਉ ਨ ਭਜੈ ਭਗਵਾਨੁ ॥੪॥
॥ بِردھِ بھئِئو سوُجھےَ نہیِ کالُ پہوُچِئو آنِ
॥4॥ کہُ نانک نر باۄرے کِءُ ن بھجےَ بھگۄانُ
لفظی معنی:پردھو بھیؤ۔ بوڑھے ۔ ہوگئے ۔ سوجھے نہیں۔ سمجھ نہیں آتی۔ کال پہنچوآن موت ۔ عنقریب ہے ۔ کیوں نہ بھیجیہہ بھگوان ۔ کیوں نہیں کرتا یاد خدا۔
॥4॥ ترجمہ:تم بوڑھے ہو گئے پھر بھی تم نہیں سمجھتے کہ تمہاری موت کا وقت قریب آ گیا ہے۔اے نانک کہو، اے نادان تم خدا کو پیار سے یاد کیوں نہیں کرتے۔
ਧਨੁ ਦਾਰਾ ਸੰਪਤਿ ਸਗਲ ਜਿਨਿ ਅਪੁਨੀ ਕਰਿ ਮਾਨਿ ॥ ਇਨ ਮੈ ਕਛੁ ਸੰਗੀ ਨਹੀ ਨਾਨਕ ਸਾਚੀ ਜਾਨਿ ॥੫॥
॥ دھنُ دارا سنّپتِ سگل جِنِ اپُنیِ کرِ مانِ
॥5॥ اِن مےَ کچھُ سنّگیِ نہیِ نانک ساچیِ جانِ
لفظی معنی:دؤلت ۔ عورت ۔ دھن دار۔ سنپت۔ سگل۔ تمام اثاثے و جائیداد ۔ جن اپنی کرمان ۔ ۔ جسے تو اپنی سمجھتا ہے ۔ انہیں کچھ سنگی نہیں۔ کچھ بھی تیرا ساتھی نہیں۔ نانک ساچی جان ۔ اے نانک سچی سمجھ لے۔
॥5॥ ترجمہ:آپ کا مال، شریک حیات اور وہ تمام املاک جن کا آپ دعویٰ کرتے ہیں،اے نانک، اس حقیقت کو جان لو کہ ان میں سے کوئی بھی آخر میں تمہارا ساتھی نہیں ہوگا۔
ਪਤਿਤ ਉਧਾਰਨ ਭੈ ਹਰਨ ਹਰਿ ਅਨਾਥ ਕੇ ਨਾਥ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਤਿਹ ਜਾਨੀਐ ਸਦਾ ਬਸਤੁ ਤੁਮ ਸਾਥਿ ॥੬॥
॥ پتِت اُدھارن بھےَ ہرن ہرِ اناتھ کے ناتھ
॥6॥ کہُ نانک تِہ جانیِئےَ سدا بستُ تُم ساتھِ
لفظی معنی:پتت۔ بد اخلاق ۔ بد چلن ۔ ادھارن ۔ بچانے والا۔ بھے ہرن۔ خوف مٹانے والا۔ ہر۔خدا۔ ناتھ کو ناتھ۔ جسکا مالک نہیں کوئی کا مالک ۔ کہہ نانک تیہہ جانیئے سدا بست تم ساتھ۔ اے نانک بتادے تیہہ جاننا چاہیے کہ تو ہمیشہ ساتھ اور قریب بستا ہے۔
॥6॥ ترجمہ:خدا گنہگاروں کو برائیوں سے نجات دینے والا، خوف کو ختم کرنے والا اور بے نیازوں کا مالک ہے۔اے نانک کہو، خدا کو سمجھو کہ وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہتا ہے۔
ਤਨੁ ਧਨੁ ਜਿਹ ਤੋ ਕਉ ਦੀਓ ਤਾਂ ਸਿਉ ਨੇਹੁ ਨ ਕੀਨ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਨਰ ਬਾਵਰੇ ਅਬ ਕਿਉ ਡੋਲਤ ਦੀਨ ॥੭॥
॥ تنُ دھنُ جِہ تو کءُ دیِئو تاں سِءُ نیہُ ن کیِن
॥7॥ کہُ نانک نر باۄرے اب کِءُ ڈولت دیِن
لفظی معنی:تن۔جسم۔ دھ سرمایہ۔ دولت ۔ تو کو ۔ تجھے ۔ دیو۔ دیا ہے ۔ ناں سیؤ۔ اس سے ۔نیہو پیار۔ محبت ۔نکین ۔ نہیں کرتا۔ باور ۔ دیوانے ۔ دولت دین ۔ ڈگمگاتا ہے۔
॥7॥ ترجمہ:تم نے اس خدا سے محبت پیدا نہیں کی جس نے تمہیں یہ جسم اور مال دیا ہے۔اے نانک کہو، اے احمق، اب تم اس قدر بے بسی سے کیوں کانپتے ہو۔
ਤਨੁ ਧਨੁ ਸੰਪੈ ਸੁਖ ਦੀਓ ਅਰੁ ਜਿਹ ਨੀਕੇ ਧਾਮ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨੁ ਰੇ ਮਨਾ ਸਿਮਰਤ ਕਾਹਿ ਨ ਰਾਮੁ ॥੮॥
॥ تنُ دھنُ سنّپےَ سُکھ دیِئو ارُ جِہ نیِکے دھام
॥8॥ کہُ نانک سُنُ رے منا سِمرت کاہِ ن رامُ
لفظی معنی:سنپے ۔ اچاثے و جائیداد ۔ سکھ ۔ آرام و آسائش ۔ ار۔ اور۔ نیکے دھام اور بود وب اش کے لئے اچھی جگہیں۔ سن رے منا۔ اے دل سن سمرت کا ہے ۔ کیوں یاد نہیں کرتا ۔ رام ۔ خدا۔
॥8॥ ترجمہ:خدا نے آپ کو جسم، مال، جائیداد، امن اور خوبصورت حویلیاں دیں۔اے نانک! کہو، سن اے میرے دماغ، تم اس ہمہ گیر خدا کو پیار سے کیوں یاد نہیں کرتے۔
ਸਭ ਸੁਖ ਦਾਤਾ ਰਾਮੁ ਹੈ ਦੂਸਰ ਨਾਹਿਨ ਕੋਇ ॥ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਰੇ ਮਨਾ ਤਿਹ ਸਿਮਰਤ ਗਤਿ ਹੋਇ ॥੯॥
॥ سبھ سُکھ داتا رامُ ہےَ دوُسر ناہِن کوءِ
॥9॥ کہُ نانک سُنِ رے منا تِہ سِمرت گتِ ہوءِ
لفظی معنی:دوسر۔ دوسرا۔ تیہہ سمرت۔ تیری یادوریاض کے بغیر ۔ گت۔ بلند روحانی حالت۔
॥9॥ ترجمہ:خدا تمام سکون اور راحت کا عطا کرنے والا ہے۔ کوئی دوسرا دینے والا نہیں ہے۔اے نانک، کہو، سنو اے میرے دماغ، اعلیٰ روحانی کیفیت خدا کو پیار سے یاد کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔