Guru Granth Sahib Translation Project

Urdu Classical Page 1427

Page 1427

ਜਿਹ ਸਿਮਰਤ ਗਤਿ ਪਾਈਐ ਤਿਹ ਭਜੁ ਰੇ ਤੈ ਮੀਤ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨੁ ਰੇ ਮਨਾ ਅਉਧ ਘਟਤ ਹੈ ਨੀਤ ॥੧੦॥
॥ جِہ سِمرت گتِ پائیِئےَ تِہ بھجُ رے تےَ میِت
॥10॥ کہُ نانک سُنُ رے منا ائُدھ گھٹت ہےَ نیِت
لفظی معنی:جیہہ سمرت۔ جس کی یاوریاج سے ۔ گت پاییئے ۔ روحانی حالت بہتر ہوتی ہے ۔ تیہہ بھیج رے تے میت۔ اسکو اے دوست یاد کر۔ اودھ گھٹت ہے نیت۔ ہر روز عمر کم ہو رہی ہے۔
॥10॥ ترجمہ:اے میرے دوست اس خدا کو پیار سے یاد کرو جس کو یاد کرنے سے اعلیٰ روحانی کیفیت حاصل ہوتی ہے۔اے نانک! کہو، سنو اے دماغ، زندگی کا دورانیہ (عمر) روز بروز کم ہو رہا ہے۔

ਪਾਂਚ ਤਤ ਕੋ ਤਨੁ ਰਚਿਓ ਜਾਨਹੁ ਚਤੁਰ ਸੁਜਾਨ ॥ ਜਿਹ ਤੇ ਉਪਜਿਓ ਨਾਨਕਾ ਲੀਨ ਤਾਹਿ ਮੈ ਮਾਨੁ ॥੧੧॥
॥ پاںچ تت کو تنُ رچِئو جانہُ چتُر سُجان
॥11॥ جِہ تے اُپجِئو نانکا لیِن تاہِ مےَ مانُ
لفظی معنی:پانچ تت۔ پانچ مادیات ۔ آگ پانی ہوا۔ زمین اور آسمان ۔ تن ۔ جسم۔ رجیؤ۔ پیدا کیا ہے ۔ سجان ۔ سوجھی دان۔ باہوش عقلمند۔ چتر۔ چالاک۔ ہوشیار۔ جیہہ تے ۔ جس سے ۔ اپجیؤ۔ پیدا ہوئے ہو۔ لین ۔مل جاؤ گے ۔ مان۔ سمجھ لو۔
॥11॥ ترجمہ:اے ہوشیار اور عقلمند، تو جانتا ہے کہ یہ جسم پانچ بنیادی عناصر (ہوا، آگ، پانی، آسمان اور مٹی) سے بنا ہے۔اے نانک، یقین رکھو کہ بالآخر یہ انہی عناصر میں ضم ہو جائے گا جن سے اس کی ابتدا ہوئی ہے۔

ਘਟ ਘਟ ਮੈ ਹਰਿ ਜੂ ਬਸੈ ਸੰਤਨ ਕਹਿਓ ਪੁਕਾਰਿ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਤਿਹ ਭਜੁ ਮਨਾ ਭਉ ਨਿਧਿ ਉਤਰਹਿ ਪਾਰਿ ॥੧੨॥
॥ گھٹ گھٹ مےَ ہرِ جوُ بسےَ سنّتن کہِئو پُکارِ
॥12॥ کہُ نانک تِہ بھجُ منا بھءُ نِدھِ اُترہِ پارِ
لفظی معنی:گھٹ گھٹ میہہ۔ ہر دل میں ۔ ہر جوبسے ۔ خڈا بستا ہے ۔ کہے پکار ۔ بلند آواز کہتے ہیں۔ تیہہ بھج منا۔ اے دل اسے یاد کر۔ بھو ندد اُترے پار۔ تاکہ زندگی کے خوفناک سمندر کو پار کر سکے۔
ترجمہ:اولیاء نے بلند آواز سے اعلان کیا ہے کہ خدا ہر ایک کے دل میں رہتا ہے۔اے نانک کہو، اے من، خدا کو محبت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم برائیوں کے بحرِ عالم سے پار ہو جاؤ۔

ਸੁਖੁ ਦੁਖੁ ਜਿਹ ਪਰਸੈ ਨਹੀ ਲੋਭੁ ਮੋਹੁ ਅਭਿਮਾਨੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨੁ ਰੇ ਮਨਾ ਸੋ ਮੂਰਤਿ ਭਗਵਾਨ ॥੧੩॥
॥ سُکھُ دُکھُ جِہ پرسےَ نہیِ لوبھُ موہُ ابھِمانُ
॥13॥ کہُ نانک سُنُ رے منا سو موُرتِ بھگۄان
لفظی معنی:سکھ ۔ آرام و آسائش ۔ دکھ ۔ عذآب۔ پر سے ۔ اثر انداز۔ جیہہ ۔ جیسے ۔ پرسے ۔لوبھ۔ لالچ ۔موہ۔محبت۔ ابھیمان۔ غرور ۔ سن رے منا۔ اے دل۔سو۔ وہ ۔ مورت۔ شکل۔ بھگوان۔
॥13॥ ترجمہ:وہ جو خوشی اور غم سے اثر انداز نہیں ہوتا (غم اور خوشی سے روحانی طور پر نہیں ڈگمگاتا) اور جو لالچ، جذباتی لگاؤ اور غرور سے متاثر نہیں ہوتا۔اے نانک! کہو، اے من سنو، وہ شخص خدا کا روپ ہے۔

ਉਸਤਤਿ ਨਿੰਦਿਆ ਨਾਹਿ ਜਿਹਿ ਕੰਚਨ ਲੋਹ ਸਮਾਨਿ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਰੇ ਮਨਾ ਮੁਕਤਿ ਤਾਹਿ ਤੈ ਜਾਨਿ ॥੧੪॥
॥ اُستتِ نِنّدِیا ناہِ جِہِ کنّچن لوہ سمانِ
॥14॥ کہُ نانک سُنِ رے منا مُکتِ تاہِ تےَ جانِ
لفظی معنی:استت۔ تعریف ۔ ستائش۔ نندیا۔ بدگوئی۔ ناہے جیہہ ۔ جس کے دل میں نہیں نہ متاثر کرتی ہے ۔ کنچن ۔ سونا۔ لوہ۔ لوہا ۔ سمان ۔ برابر ہے ۔ مکت ۔ آزاد۔ مراد دنیاوی جھنجھٹوں جھمیلوں سے آزاد جان ۔ سمجھ
ترجمہ:وہ جو اپنی تعریف یا غیبت (برائی) سے متاثر نہ ہو اور جس کے لیئے سونا اور لوہا یکساں ہوں (دنیوی دولت یا اس کی کمی سے متاثر نہ ہو)۔اے نانک! کہو سنو اے دماغ جان لو کہ وہ (بار بار جنم اور موت کے چکر سے) آزاد شخص ہے۔

ਹਰਖੁ ਸੋਗੁ ਜਾ ਕੈ ਨਹੀ ਬੈਰੀ ਮੀਤ ਸਮਾਨਿ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਰੇ ਮਨਾ ਮੁਕਤਿ ਤਾਹਿ ਤੈ ਜਾਨਿ ॥੧੫॥
॥ ہرکھُ سوگُ جا کےَ نہیِ بیَریِ میِت سمانِ
॥15॥ کہُ نانک سُنِ رے منا مُکتِ تاہِ تےَ جانِ
لفظی معنی:ہرکھ ۔ خوشی ۔ سوگ۔ غمی۔ بیری ۔ دشمن۔ میت۔ دوست۔ سمان ۔ برابر۔ تاہے ۔ اسے
॥15॥ ترجمہ:وہ جس پر خوشی یا غم کا اثر نہ ہو اور جس کے لیے دوست اور دشمن ایک جیسے ہوں،اے نانک! کہو اے من سن، جان لے کہ وہ مادیت کی محبت سے آزاد ہے۔

ਭੈ ਕਾਹੂ ਕਉ ਦੇਤ ਨਹਿ ਨਹਿ ਭੈ ਮਾਨਤ ਆਨ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਰੇ ਮਨਾ ਗਿਆਨੀ ਤਾਹਿ ਬਖਾਨਿ ॥੧੬॥
॥ بھےَ کاہوُ کءُ دیت نہِ نہِ بھےَ مانت آن
॥16॥ کہُ نانک سُنِ رے منا گِیانیِ تاہِ بکھانِ
لفظی معنی:بھے ۔ خوف۔ ڈراوا۔ کاہو۔ کسی کو ۔ دیت نیہہ۔ نہ دیجیئے ۔ نیہہ۔ ناہی ۔ بھے مانت۔ خوف کھاو۔کہہ نانک۔ اے نانک بتا دے ۔ گیان تاہے ۔ بکھان۔ اسے ہی انسانیت کا علمبردار سمجھو ۔ اور کہو۔
॥16॥ ترجمہ:وہ جو نہ کسی کو ڈراتا ہے اور نہ کسی سے ڈرتا ہے۔اے نانک! کہو، سنو اے دماغ، اسے روحانی طور پر عقلمند کہو۔

ਜਿਹਿ ਬਿਖਿਆ ਸਗਲੀ ਤਜੀ ਲੀਓ ਭੇਖ ਬੈਰਾਗ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨੁ ਰੇ ਮਨਾ ਤਿਹ ਨਰ ਮਾਥੈ ਭਾਗੁ ॥੧੭॥
॥ جِہِ بِکھِیا سگلیِ تجیِ لیِئو بھیکھ بیَراگ
॥17॥ کہُ نانک سُنُ رے منا تِہ نر ماتھےَ بھاگُ
لفظی معنی:جیہہ۔ جس نے ۔ بکھیا۔ دیاوی دؤلت۔ سگلی ۔ ساری بجی ۔ چھوڑی ۔ بھیکھ ۔ ظاہر۔پہراوا۔ بیراگ۔ طارق الدنیا۔ تیہہ فرما تھے بھاگ۔ اسکی پیشانی پر پیدار ہے ۔ تقدیر اسکی۔
॥17॥ ترجمہ:وہ جس نے مایا (مادیت) کو مکمل طور پر ترک کر دیا ہے اور حقیقی معنوں میں (اندرونی طور پر) طارق الدنیا کا لباس پہن لیا ہے۔اے نانک! کہو، سنو اے دماغ، اس شخص کی قسمت اچھی ہے۔

ਜਿਹਿ ਮਾਇਆ ਮਮਤਾ ਤਜੀ ਸਭ ਤੇ ਭਇਓ ਉਦਾਸੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨੁ ਰੇ ਮਨਾ ਤਿਹ ਘਟਿ ਬ੍ਰਹਮ ਨਿਵਾਸੁ ॥੧੮॥
॥ جِہِ مائِیا ممتا تجیِ سبھ تے بھئِئو اُداسُ
॥18॥ کہُ نانک سُنُ رے منا تِہ گھٹِ ب٘رہم نِۄاسُ
॥18॥ ترجمہ:جس نے مایا (مادیت) اور ملکیت کی محبت کو ترک کر دیا اور دنیا کی محبت سے لاتعلق ہو گیا۔اے نانک! کہو سنو اے دماغ خدا اس کے دل میں ظاہر ہوا ہے۔

ਜਿਹਿ ਪ੍ਰਾਨੀ ਹਉਮੈ ਤਜੀ ਕਰਤਾ ਰਾਮੁ ਪਛਾਨਿ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਵਹੁ ਮੁਕਤਿ ਨਰੁ ਇਹ ਮਨ ਸਾਚੀ ਮਾਨੁ ॥੧੯॥
॥ جِہِ پ٘رانیِ ہئُمےَ تجیِ کرتا رامُ پچھانِ
॥19॥ کہُ نانک ۄہُ مُکتِ نرُ اِہ من ساچیِ مانُ
لفظی معنی:پرانی۔ انسان ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ خود پرستی ۔ نجی ۔ ترک کر دی۔ چھوڑ دی ۔ کرتا۔ کارساز۔ کرتار۔ رام۔ اللہ ۔ خدا۔ پچھان لیا۔ مکت۔ نجات یافتہ ۔ دنیاوی جھنجھؤں سے آزاد ۔۔ ایہہ من ساچی مان۔ اس بات کو سمجھ سمجھ۔
॥19॥ ترجمہ:جس نے انا (خودی) کو ترک کر دیا اور خالق خدا کو پہچان لیا۔اے نانک! کہو، سنو! اے ذہن، اس بات کو سچ مان لے کہ ایسا شخص (تناسخ سے) آزاد ہے۔

ਭੈ ਨਾਸਨ ਦੁਰਮਤਿ ਹਰਨ ਕਲਿ ਮੈ ਹਰਿ ਕੋ ਨਾਮੁ ॥ ਨਿਸਿ ਦਿਨੁ ਜੋ ਨਾਨਕ ਭਜੈ ਸਫਲ ਹੋਹਿ ਤਿਹ ਕਾਮ ॥੨੦॥
॥ بھےَ ناسن دُرمتِ ہرن کلِ مےَ ہرِ کو نامُ
॥20॥ نِسِ دِنُ جو نانک بھجےَ سپھل ہوہِ تِہ کام
لفظی معنی:بھے ناسن ۔ خوف۔ دور ہوا ۔ درمت ہرن ۔ بد کاری مٹی۔ بد عقلی دور ہوئی۔ کل میہہ ۔ اس لڑائی جھگڑے کے دور میں۔ ہر کونام ۔ الہٰی نام۔ مرا د۔ ست ۔ سچ حق و حقیقت ۔ نس دن۔ روز و شب۔ دن رات۔ بھجے ۔ یاد کرتا اور کھتا ہے ۔ سپھل۔ برآور ۔ کاماب ۔کام۔کام۔
॥20॥ ترجمہ:جھگڑوں سے بھری اس دنیا میں، خدا کا نام خوف کو دور کرنے والا، اور بری عقل کو ختم کرنے والا ہے۔اے نانک، جو ہر وقت خدا کو یاد کرتا ہے، اس کے تمام کام کامیابی سے پورے ہوتے ہیں۔

ਜਿਹਬਾ ਗੁਨ ਗੋਬਿੰਦ ਭਜਹੁ ਕਰਨ ਸੁਨਹੁ ਹਰਿ ਨਾਮੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਰੇ ਮਨਾ ਪਰਹਿ ਨ ਜਮ ਕੈ ਧਾਮ ॥੨੧॥
॥ جِہبا گُن گوبِنّد بھجہُ کرن سُنہُ ہرِ نامُ
॥21॥ کہُ نانک سُنِ رے منا پرہِ ن جم کےَ دھام
لفظی معنی:جہبا۔ زبان ۔ گن گوبند۔ الہٰی اؤصاف ۔ بھیجو ۔ کہو۔ کرن شنہو۔ کانوں سے سنہو۔ پریم نہ جم کےد ھام۔ تو الہٰی سیاہ ۔ پولیس کے زہر نہ ہونا پڑلگا۔
॥21॥ ترجمہ:اے بھائی اپنی زبان سے خدا کی حمد پڑھو اور کانوں سے خدا کا نام سنو۔اے نانک! کہو، سنو، جو لوگ ایسا کرتے ہیں، انہیں موت کے آسیب کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ਜੋ ਪ੍ਰਾਨੀ ਮਮਤਾ ਤਜੈ ਲੋਭ ਮੋਹ ਅਹੰਕਾਰ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਆਪਨ ਤਰੈ ਅਉਰਨ ਲੇਤ ਉਧਾਰ ॥੨੨॥
॥ جو پ٘رانیِ ممتا تجےَ لوبھ موہ اہنّکار
॥22॥ کہُ نانک آپن ترےَ ائُرن لیت اُدھار
لفظی معنی:جوپرانی۔ جو انسان۔ ممتا۔ ملکیتی احساس۔ خوئشتا۔ لوبھ ۔ لالچ۔ موہ۔محبت۔ اہنکار۔ غرور ۔ تکبر ۔آپن۔ خود۔ ترے ۔خود زندگی میں کامیابی حاصل کرتا ہے ۔ اؤرن ۔ دوسروں کو ۔ لیت ادھار۔ دوسروں کو بدیوں اور برائیوں سے بچاتا ہے۔
॥22॥ ترجمہ:وہ شخص جو اپنی ملکیت، لالچ، جذباتی لگاؤ اور انا کو ترک کر دیتا ہے۔اے نانک! کہو، وہ برائیوں کے سمندر سے تیرتا ہے اور دوسروں کو بھی (برائیوں سے) بچاتا ہے۔

ਜਿਉ ਸੁਪਨਾ ਅਰੁ ਪੇਖਨਾ ਐਸੇ ਜਗ ਕਉ ਜਾਨਿ ॥ ਇਨ ਮੈ ਕਛੁ ਸਾਚੋ ਨਹੀ ਨਾਨਕ ਬਿਨੁ ਭਗਵਾਨ ॥੨੩॥
॥ جِءُ سُپنا ارُ پیکھنا ایَسے جگ کءُ جانِ
॥23॥ اِن مےَ کچھُ ساچو نہیِ نانک بِنُ بھگۄان
لفظی معنی:سپنا۔ خوآب ۔ ار۔ اور۔ پیکھنا۔ اسمیں دیکھتے ہیں۔ جگ ۔ دنیا۔ جہان ۔ علام۔ جان ۔سمجھ ۔ ساچو۔ حقیقت ۔ اصلیت۔ بن بھگوان۔ بغیر خدا۔
॥23॥ ترجمہ: (اے میرے دوست) اس دنیا کو ایک خواب اور تفریحی تماشا سمجھو۔اے نانک، خدا کے سوا، اس دنیا میں نظر آنے والی کوئی چیز لازوال نہیں ہے۔

ਨਿਸਿ ਦਿਨੁ ਮਾਇਆ ਕਾਰਨੇ ਪ੍ਰਾਨੀ ਡੋਲਤ ਨੀਤ ॥ ਕੋਟਨ ਮੈ ਨਾਨਕ ਕੋਊ ਨਾਰਾਇਨੁ ਜਿਹ ਚੀਤਿ ॥੨੪॥
॥ نِسِ دِنُ مائِیا کارنے پ٘رانیِ ڈولت نیِت
॥24॥ کوٹن مےَ نانک کوئوُ نارائِنُ جِہ چیِتِ
لفظی معنی:تس دن۔ دن رات۔ مائیا کارنے پرانی دولت نیت۔ انسان دنیاوی دلوت کی خاطر ہر روز ڈگمگات اہے ۔ کوٹن میہہ کؤ۔ کوڑوں میں سے کوئی ہے ۔نارائن ۔خدا۔جیہہ چیت۔ جس کے دل میں۔
॥24॥ ترجمہ:اے میرے دوست، انسان شب و روز مایا (دنیاوی دولت اور طاقت) کی خاطر مسلسل بھٹکتے رہتے ہیں۔اے نانک، کروڑوں میں کوئی نادر ہی ہے جس کے ذہن میں خدا کی یاد ہے۔

ਜੈਸੇ ਜਲ ਤੇ ਬੁਦਬੁਦਾ ਉਪਜੈ ਬਿਨਸੈ ਨੀਤ ॥ ਜਗ ਰਚਨਾ ਤੈਸੇ ਰਚੀ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਮੀਤ ॥੨੫॥
॥ جیَسے جل تے بُدبُدا اُپجےَ بِنسےَ نیِت
॥25॥ جگ رچنا تیَسے رچیِ کہُ نانک سُنِ میِت
لفظی معنی:جل۔ پانی ۔ بد ۔ بدا ۔ بلبلہ ۔ اپجے ۔ اُٹھتا ہے ونسے ۔ مٹ جاتا ہے ۔ جگ رچنا ۔ دنیاوی یا عالم بناؤٹ ۔ تیسے رچی۔ اس طرح سے بنائی ہے ۔ میت۔ دوست۔
॥25॥ ترجمہ:جس طرح ایک بلبلہ ہمیشہ پانی پر ظاہر اور غائب ہو جاتا ہے،اے نانک! کہو، سنو اے میرے دوست، بالکل اسی طرح ہی دنیاوی تخلیق بھی خدا کی بنائی ہوئی ہے۔

ਪ੍ਰਾਨੀ ਕਛੂ ਨ ਚੇਤਈ ਮਦਿ ਮਾਇਆ ਕੈ ਅੰਧੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਬਿਨੁ ਹਰਿ ਭਜਨ ਪਰਤ ਤਾਹਿ ਜਮ ਫੰਧ ॥੨੬॥
॥ پ٘رانیِ کچھوُ ن چیتئیِ مدِ مائِیا کےَ انّدھُ
॥26॥ کہُ نانک بِنُ ہرِ بھجن پرت تاہِ جم پھنّدھ
لفظی معنی:پرانی۔ انسانی ۔ کچھو نہ چستی ۔ کچھ بھی یاد نہیں کرتا۔ مد مائیا کے اندھ۔ سرمائے اور دلوت کی مستی اور نشے میں محو۔ اندھ ۔ روحانیت سے بیخبر۔ بن ہر بھجن۔ بغیر الہیی عبادت وریاضت ۔ پرت۔ پڑتا ہے ۔ جم پھند۔الہٰی کوتوال کا پھندہ۔
॥26॥ ترجمہ:مایا (دنیاوی دولت اور طاقت) کی محبت میں مگن ہو کر روحانی طور پر جاہل رہتا ہے اور نیک زندگی کے بارے میں بالکل نہیں سوچتا۔اے نانک! کہو کہ خدا کو یاد کیے بغیر ایسا شخص موت کے پھندے میں گرفتار رہتا ہے۔

ਜਉ ਸੁਖ ਕਉ ਚਾਹੈ ਸਦਾ ਸਰਨਿ ਰਾਮ ਕੀ ਲੇਹ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਰੇ ਮਨਾ ਦੁਰਲਭ ਮਾਨੁਖ ਦੇਹ ॥੨੭॥
॥ جءُ سُکھ کءُ چاہےَ سدا سرنِ رام کیِ لیہ
॥27॥ کہُ نانک سُنِ رے منا دُرلبھ مانُکھ دیہ
لفظی معنی:جو مکھ کوچاہے سدا ۔ اگر تو انسان ہمیشہ صدیوی آرام و آسائش چاہتا ہے ۔ سرن۔ پناہ۔ سایہ۔ رما کی لیہہ۔ خدا کا آسرا لو۔ سن رے منا۔ اے دل سن۔ درلبھ مانکھ دیہہ۔ یہ انسانی جسم نایاب ہے۔
॥27॥ ترجمہ:اگر کوئی ہمیشہ باطنی سکون کی خواہش رکھتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ہمہ گیر خدا کی پناہ لے۔اے نانک! کہو، سن اے من، یہ انسانی جسم ملنا مشکل ہے۔

ਮਾਇਆ ਕਾਰਨਿ ਧਾਵਹੀ ਮੂਰਖ ਲੋਗ ਅਜਾਨ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਬਿਨੁ ਹਰਿ ਭਜਨ ਬਿਰਥਾ ਜਨਮੁ ਸਿਰਾਨ ॥੨੮॥
॥ مائِیا کارنِ دھاۄہیِ موُرکھ لوگ اجان
॥28॥ کہُ نانک بِنُ ہرِ بھجن بِرتھا جنمُ سِران
لفظی معنی:دنیاوی دولت کے لئے بھٹکتے ہیں۔ مورکھ لوگ اجان۔ بیوقوف نا سمجھ نا واقف انسان ۔ برتھا۔ جنم سران۔ یہ زندگی بیکار گزر جاتی ہے۔
॥28॥ ترجمہ:مایا (دنیاوی مال جمع کرنے) کی خاطر، روحانی طور پر جاہل احمق چاروں طرف بھٹکتے رہتے ہیں۔اے نانک! کہو کہ خدا کو محبت کے ساتھ یاد کیے بغیر ان کی انسانی زندگی بیکار گزر جاتی ہے۔

ਜੋ ਪ੍ਰਾਨੀ ਨਿਸਿ ਦਿਨੁ ਭਜੈ ਰੂਪ ਰਾਮ ਤਿਹ ਜਾਨੁ ॥
॥ جو پ٘رانیِ نِسِ دِنُ بھجےَ روُپ رام تِہ جانُ
ترجمہ:جو خدا کو دن رات پیار سے یاد کرتا ہے، اس انسان کو خدا کا مجسم تصور کرو۔

© 2017 SGGS ONLINE
error: Content is protected !!
Scroll to Top