Guru Granth Sahib Translation Project

Guru Granth Sahib Urdu Page 341

Page 341

ਝਝਾ ਉਰਝਿ ਸੁਰਝਿ ਨਹੀ ਜਾਨਾ ॥ اےانسان! تو دنیا (کی محبت) میں الجھ گیا ہے اور خود کو اس سے آزاد کروانا نہیں جانتا۔
ਰਹਿਓ ਝਝਕਿ ਨਾਹੀ ਪਰਵਾਨਾ ॥ تو ہچکچا رہا ہے اور واہے گرو کو مقبول نہیں ہوا۔
ਕਤ ਝਖਿ ਝਖਿ ਅਉਰਨ ਸਮਝਾਵਾ ॥ تم کیوں دوسروں کو مطمئن کرنے کے لیے بحث و مباحثہ کرتے ہو؟
ਝਗਰੁ ਕੀਏ ਝਗਰਉ ਹੀ ਪਾਵਾ ॥੧੫॥ کیونکہ جھگڑا کرنے سے تجھے جھگڑا ہی ملے گا۔ 15۔
ਞੰਞਾ ਨਿਕਟਿ ਜੁ ਘਟ ਰਹਿਓ ਦੂਰਿ ਕਹਾ ਤਜਿ ਜਾਇ ॥ وہ رب تمہارے دل میں تمہارے قریب رہتا ہے، تو اسے چھوڑ کر دور کہاں جاتا ہے؟
ਜਾ ਕਾਰਣਿ ਜਗੁ ਢੂਢਿਅਉ ਨੇਰਉ ਪਾਇਅਉ ਤਾਹਿ ॥੧੬॥ جس رب کے لیے میں نے ساری دنیا تلاش کی ہے، میں نے اسے قریب ہی پالیا ہے۔ 16۔
ਟਟਾ ਬਿਕਟ ਘਾਟ ਘਟ ਮਾਹੀ ॥ واہے گرو کی مشکل راہ انسان کے دل میں ہی ہے۔
ਖੋਲਿ ਕਪਾਟ ਮਹਲਿ ਕਿ ਨ ਜਾਹੀ ॥ تو کیوں در کھول کر اس کے محل میں نہیں پہنچتا؟
ਦੇਖਿ ਅਟਲ ਟਲਿ ਕਤਹਿ ਨ ਜਾਵਾ ॥ ہمیشہ سے رہنے والے رب کا دیدار کرکے تم ڈگمگاکر کہیں نہیں جاؤ گے۔
ਰਹੈ ਲਪਟਿ ਘਟ ਪਰਚਉ ਪਾਵਾ ॥੧੭॥ تم رب سے لپٹے رہوگے اور تیرا دل خوش ہوگا۔ 17۔
ਠਠਾ ਇਹੈ ਦੂਰਿ ਠਗ ਨੀਰਾ ॥ (اے لوگو!) اس مایا کی سراب کے پانی سے خود کو دور رکھو ۔
ਨੀਠਿ ਨੀਠਿ ਮਨੁ ਕੀਆ ਧੀਰਾ ॥ میں نے بڑی مشکل سے اپنے دل کو صابر بنایا ہے۔
ਜਿਨਿ ਠਗਿ ਠਗਿਆ ਸਗਲ ਜਗੁ ਖਾਵਾ ॥ جس دھوکے باز نے پوری کائنات کو فریب دے کر نگل لیا ہے۔
ਸੋ ਠਗੁ ਠਗਿਆ ਠਉਰ ਮਨੁ ਆਵਾ ॥੧੮॥ میں نے اس دھوکے باز (رب) کو دھوکہ دیا ہے، اب میرا دل پرسکون ہے. 18۔
ਡਡਾ ਡਰ ਉਪਜੇ ਡਰੁ ਜਾਈ ॥ جب رب کا خوف پیدا ہوجاتا ہے، تو دوسرا خوف ختم ہوجاتا ہے۔
ਤਾ ਡਰ ਮਹਿ ਡਰੁ ਰਹਿਆ ਸਮਾਈ ॥ اس خوف میں دوسرا خوف سمایا رہتا ہے۔
ਜਉ ਡਰ ਡਰੈ ਤ ਫਿਰਿ ਡਰੁ ਲਾਗੈ ॥ جب انسان رب کے خوف کو ترک کردیتا ہے، تو اسے دوسرا خوف لاحق ہوجاتا ہے۔
ਨਿਡਰ ਹੂਆ ਡਰੁ ਉਰ ਹੋਇ ਭਾਗੈ ॥੧੯॥ اگر وہ بےخوف ہوجائے، تو اس کے دل سےخوف نکل جاتی ہے۔ 16۔
ਢਢਾ ਢਿਗ ਢੂਢਹਿ ਕਤ ਆਨਾ ॥ واہے گرو تو تیرے قریب ہی ہے، تو اسے کہاں تلاش کرتا ہے؟
ਢੂਢਤ ਹੀ ਢਹਿ ਗਏ ਪਰਾਨਾ ॥ تیری جان بھی باہر تلاش کرتے کرتے تھک گئی ہے۔
ਚੜਿ ਸੁਮੇਰਿ ਢੂਢਿ ਜਬ ਆਵਾ ॥ جب انسان سمیر پہاڑ پر چڑھ کر بھی واہے گرو کو تلاش کرتے کرتے اپنے جسم میں آتا ہے (یعنی اپنے اندر جھانکتا ہے)۔
ਜਿਹ ਗੜੁ ਗੜਿਓ ਸੁ ਗੜ ਮਹਿ ਪਾਵਾ ॥੨੦॥ وہ رب اس (جسم نما) قلعے میں ہی مل جاتا ہے، جس نے یہ جسم نما قلعہ بنایا ہے۔ 20۔
ਣਾਣਾ ਰਣਿ ਰੂਤਉ ਨਰ ਨੇਹੀ ਕਰੈ ॥ حرب گاہ میں لڑتا ہوا جو شخص برائیوں کو قابو میں کرنے کی استطاعت حاصل کرلیتا ہے،
ਨਾ ਨਿਵੈ ਨਾ ਫੁਨਿ ਸੰਚਰੈ ॥ وہ نہ جھکتا ہے اور نہ برائیوں سے میل کرتا ہے،
ਧੰਨਿ ਜਨਮੁ ਤਾਹੀ ਕੋ ਗਣੈ ॥ دنیا اسی شخص کو خوش قسمت مانتی ہے،
ਮਾਰੈ ਏਕਹਿ ਤਜਿ ਜਾਇ ਘਣੈ ॥੨੧॥ کیونکہ وہ انسان ایک من کو مارتا ہے اور ان زیادہ تو برائیوں کو چھوڑدیتا ہے۔ 21۔
ਤਤਾ ਅਤਰ ਤਰਿਓ ਨਹ ਜਾਈ ॥ یہ فانی دنیا ایک ایسا سمندر ہے، جسے پار کرنا مشکل ہے،
ਤਨ ਤ੍ਰਿਭਵਣ ਮਹਿ ਰਹਿਓ ਸਮਾਈ ॥ جس میں سے پار نہیں ہوا جاسکتا (کیونکہ) آنکھ، کان، ناک وغیرہ حواس دنیا کے رسوں میں ڈوبے رہتے ہیں۔
ਜਉ ਤ੍ਰਿਭਵਣ ਤਨ ਮਾਹਿ ਸਮਾਵਾ ॥ لیکن جب دنیا کا رس جسم کے اندر ہی فنا ہوجاتا ہے۔
ਤਉ ਤਤਹਿ ਤਤ ਮਿਲਿਆ ਸਚੁ ਪਾਵਾ ॥੨੨॥ تو (انسان کی) روح نورِ اعلیٰ میں سما جاتی ہے، تب حقیقی صادق رب مل جاتا ہے۔ 22۔
ਥਥਾ ਅਥਾਹ ਥਾਹ ਨਹੀ ਪਾਵਾ ॥ واہے گرو لامتناہی ہے۔ اس کی گہرائی معلوم نہیں کی جاسکتی۔
ਓਹੁ ਅਥਾਹ ਇਹੁ ਥਿਰੁ ਨ ਰਹਾਵਾ ॥ رب ابدی ہے؛ لیکن یہ جسم ہمیشہ نہیں رہتا (یعنی خاک ہوجاتا ہے)
ਥੋੜੈ ਥਲਿ ਥਾਨਕ ਆਰੰਭੈ ॥ انسان تھوڑی سی زمین پر شہر بنانا شروع کردیتا ہے۔
ਬਿਨੁ ਹੀ ਥਾਭਹ ਮੰਦਿਰੁ ਥੰਭੈ ॥੨੩॥ وہ ستونوں کے بغیر محل کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ 23۔
ਦਦਾ ਦੇਖਿ ਜੁ ਬਿਨਸਨਹਾਰਾ ॥ یہ نظر آنے والی پوری دنیا فنا ہونے والی ہے۔
ਜਸ ਅਦੇਖਿ ਤਸ ਰਾਖਿ ਬਿਚਾਰਾ ॥ ’’(اے بھائی!) تو ہمیشہ رب میں دل لگا،جو (ان آنکھوں سے) دیکھائی نہیں دیتا۔
ਦਸਵੈ ਦੁਆਰਿ ਕੁੰਚੀ ਜਬ ਦੀਜੈ ॥ لیکن جب دسویں دروازے میں علم کی چابی لگائی جاتی ہے۔
ਤਉ ਦਇਆਲ ਕੋ ਦਰਸਨੁ ਕੀਜੈ ॥੨੪॥ تو کریم رب کا دیدار کیا جاسکتا ہے۔ 24۔
ਧਧਾ ਅਰਧਹਿ ਉਰਧ ਨਿਬੇਰਾ ॥ ਅਰਧਹਿ ਉਰਧਹ ਮੰਝਿ ਬਸੇਰਾ ॥ اگر انسان زیریں دائرہ سے بلند دائرے کی طرف اڑان بھرلے، تو ساری بات ختم ہو جاتی ہے۔ زمین و آسمان میں رب کا بسیرا ہے۔
ਅਰਧਹ ਛਾਡਿ ਉਰਧ ਜਉ ਆਵਾ ॥ جب روح زمین چھوڑ کر آسمان میں جاتی ہے تو
ਤਉ ਅਰਧਹਿ ਉਰਧ ਮਿਲਿਆ ਸੁਖ ਪਾਵਾ ॥੨੫॥ روح اور رب مل جاتے ہیں اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ 25۔
ਨੰਨਾ ਨਿਸਿ ਦਿਨੁ ਨਿਰਖਤ ਜਾਈ ॥ میری رات اور دن رب کا انتظار دیکھنے میں گزرتی ہے۔
ਨਿਰਖਤ ਨੈਨ ਰਹੇ ਰਤਵਾਈ ॥ اس طرح (انتظار) دیکھ کر میری آنکھیں خون کی طرح لال ہوگئی ہیں۔
ਨਿਰਖਤ ਨਿਰਖਤ ਜਬ ਜਾਇ ਪਾਵਾ ॥ دیدار کی آرزو کرتے کرتے جب آخری دیدار ہوتا ہے تو
ਤਬ ਲੇ ਨਿਰਖਹਿ ਨਿਰਖ ਮਿਲਾਵਾ ॥੨੬॥ وہ پسندیدہ رب اپنے دیدار کے خواہش مند عبادت گذاروں کو اپنے ساتھ ملالیتا ہے۔ 26۔
ਪਪਾ ਅਪਰ ਪਾਰੁ ਨਹੀ ਪਾਵਾ ॥ رب لامتناہی ہے اور اس کی انتہا کا علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
ਪਰਮ ਜੋਤਿ ਸਿਉ ਪਰਚਉ ਲਾਵਾ ॥ میں نے نورِ اعلیٰ (رب) سے عشق کرلیا ہے۔
ਪਾਂਚਉ ਇੰਦ੍ਰੀ ਨਿਗ੍ਰਹ ਕਰਈ ॥ جو کوئی شخص اپنی پانچ حسی اعضاء کو قابو میں کرلیتا ہے،
ਪਾਪੁ ਪੁੰਨੁ ਦੋਊ ਨਿਰਵਰਈ ॥੨੭॥ وہ گناہ اور نیکی دونوں سے آزادی حاصل کرلیتا ہے۔ 27۔
ਫਫਾ ਬਿਨੁ ਫੂਲਹ ਫਲੁ ਹੋਈ ॥ پھل پھول کے بغیر ہی پیدا ہوا ہے۔
ਤਾ ਫਲ ਫੰਕ ਲਖੈ ਜਉ ਕੋਈ ॥ اگر کوئی شخص اس پھل کی دراڑ کو دیکھ لے اور اس دراڑ کا دھیان کرتا ہے۔
ਦੂਣਿ ਨ ਪਰਈ ਫੰਕ ਬਿਚਾਰੈ ॥ وہ ( پیدائش اور موت) آواگمن میں نہیں پڑتا۔
ਤਾ ਫਲ ਫੰਕ ਸਭੈ ਤਨ ਫਾਰੈ ॥੨੮॥ پھل کی وہ دراڑ تمام جسموں کو الگ کردیتی ہے۔ 28۔
ਬਬਾ ਬਿੰਦਹਿ ਬਿੰਦ ਮਿਲਾਵਾ ॥ جب قطرے سے قطرہ مل جاتا ہے تو
ਬਿੰਦਹਿ ਬਿੰਦਿ ਨ ਬਿਛੁਰਨ ਪਾਵਾ ॥ یہ قطرے دوبارہ الگ نہیں ہوتے۔
ਬੰਦਉ ਹੋਇ ਬੰਦਗੀ ਗਹੈ ॥ جو شخص رب کا خادم بن کر محبت و عقیدت سے رب کی پرستش کرتا ہے،
Scroll to Top
slot gacor https://s2maben.pascasarjana.unri.ac.id/s2-maben/mahademo/ https://survey.radenintan.ac.id/surat/gratis/ https://sipenda.lombokutarakab.go.id/files/payment/demo-gratis/
jp1131 https://login-bobabet.com/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://lms.poltekbangsby.ac.id/pros/hk/
slot gacor https://s2maben.pascasarjana.unri.ac.id/s2-maben/mahademo/ https://survey.radenintan.ac.id/surat/gratis/ https://sipenda.lombokutarakab.go.id/files/payment/demo-gratis/
jp1131 https://login-bobabet.com/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://lms.poltekbangsby.ac.id/pros/hk/