Guru Granth Sahib Translation Project

Guru Granth Sahib Urdu Page 331

Page 331

ਕਉਨੁ ਕੋ ਪੂਤੁ ਪਿਤਾ ਕੋ ਕਾ ਕੋ ॥ کون کسی کا بیٹا ہے؟ کون کسی کا باپ ہے؟ یعنی کوئی کسی کا محافظ نہیں۔
ਕਉਨੁ ਮਰੈ ਕੋ ਦੇਇ ਸੰਤਾਪੋ ॥੧॥ کون فوت ہوتا ہے اور کون کسی کو تکلیف دیتا ہے؟ 1۔
ਹਰਿ ਠਗ ਜਗ ਕਉ ਠਗਉਰੀ ਲਾਈ ॥ اس فریبی واہے گرو نے ساری دنیا کو دلفریب جھوٹ کا لبادہ اوڑھا کر مسحور کیا ہوا ہے۔
ਹਰਿ ਕੇ ਬਿਓਗ ਕੈਸੇ ਜੀਅਉ ਮੇਰੀ ਮਾਈ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ اے میری ماں! میں واہے گرو سے جدا ہوکر کیسے زندہ رہوں گا؟ 1 ۔ وقفہ۔
ਕਉਨ ਕੋ ਪੁਰਖੁ ਕਉਨ ਕੀ ਨਾਰੀ ॥ کون کسی کا شوہر ہے اور کون کسی کی اہلیہ ہے؟
ਇਆ ਤਤ ਲੇਹੁ ਸਰੀਰ ਬਿਚਾਰੀ ॥੨॥ اس حقیقت کو (اے بھائی!) تو اپنے آپ میں ہی غور کر۔ 2۔
ਕਹਿ ਕਬੀਰ ਠਗ ਸਿਉ ਮਨੁ ਮਾਨਿਆ ॥ کبیر جی کہتے ہیں کہ فریبی رب سے میرا دل اب ایک ہوگیا ہے۔
ਗਈ ਠਗਉਰੀ ਠਗੁ ਪਹਿਚਾਨਿਆ ॥੩॥੩੯॥ میرا شبہ دور ہوگیا ہے اور میں نے اس فریبی(رب) کو پہچان لیا ہے۔ 3۔ 39۔
ਅਬ ਮੋ ਕਉ ਭਏ ਰਾਜਾ ਰਾਮ ਸਹਾਈ ॥ اس دنیا کا راجا رام اب میرا مددگار بن گیا ہے۔
ਜਨਮ ਮਰਨ ਕਟਿ ਪਰਮ ਗਤਿ ਪਾਈ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ پیدائش اور موت کی زنجیر کاٹ کر مجھے نجات مل گئی ہے۔ 1۔ وقفہ ۔
ਸਾਧੂ ਸੰਗਤਿ ਦੀਓ ਰਲਾਇ ॥ واہےگرو نے مجھے سادھؤں کی صحبت میں ملادیا ہے۔
ਪੰਚ ਦੂਤ ਤੇ ਲੀਓ ਛਡਾਇ ॥ اور اس نے مجھے پانچ (روحانی) برائیوں سے بچالیا ہے۔
ਅੰਮ੍ਰਿਤ ਨਾਮੁ ਜਪਉ ਜਪੁ ਰਸਨਾ ॥ میں اپنی زبان سے امرت نام نما ذکر کرتا رہتا ہوں۔
ਅਮੋਲ ਦਾਸੁ ਕਰਿ ਲੀਨੋ ਅਪਨਾ ॥੧॥ واہے گرو نے مجھے بغیر کسی قیمت کے اپنا خادم بنالیا ہے۔ 1۔
ਸਤਿਗੁਰ ਕੀਨੋ ਪਰਉਪਕਾਰੁ ॥ ستگرو نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے،
ਕਾਢਿ ਲੀਨ ਸਾਗਰ ਸੰਸਾਰ ॥ انہوں نے مجھے دنیوی سمندر سے بچالیا ہے۔
ਚਰਨ ਕਮਲ ਸਿਉ ਲਾਗੀ ਪ੍ਰੀਤਿ ॥ اب رب کے خوبصورت قدموں سے مجھے پیار ہوگیا ہے۔
ਗੋਬਿੰਦੁ ਬਸੈ ਨਿਤਾ ਨਿਤ ਚੀਤ ॥੨॥ گووند ہر وقت میرے دل میں رہتا ہے۔ 2۔
ਮਾਇਆ ਤਪਤਿ ਬੁਝਿਆ ਅੰਗਿਆਰੁ ॥ دنیوی خواہشات کی جلتی ہوئی آگ بجھ گئی ہے۔
ਮਨਿ ਸੰਤੋਖੁ ਨਾਮੁ ਆਧਾਰੁ ॥ (رب کے) نام کے سہارے اب میرے دل میں اطمینان ہے۔
ਜਲਿ ਥਲਿ ਪੂਰਿ ਰਹੇ ਪ੍ਰਭ ਸੁਆਮੀ ॥ کائنات کا مالک رب سمندر، زمین ہر جگہ موجود ہے۔
ਜਤ ਪੇਖਉ ਤਤ ਅੰਤਰਜਾਮੀ ॥੩॥ میں جہاں کہیں بھی دیکھتا ہوں، وہیں باطن سے باخبر رب موجود ہے۔ 3۔
ਅਪਨੀ ਭਗਤਿ ਆਪ ਹੀ ਦ੍ਰਿੜਾਈ ॥ واہے گرو نے خود ہی اپنی عقیدت میرے دل میں قائم کی ہے۔
ਪੂਰਬ ਲਿਖਤੁ ਮਿਲਿਆ ਮੇਰੇ ਭਾਈ ॥ اے میرے بھائی! مجھے پچھلے جنم کے کیے اعمال کا پھل ملا ہے۔
ਜਿਸੁ ਕ੍ਰਿਪਾ ਕਰੇ ਤਿਸੁ ਪੂਰਨ ਸਾਜ ॥ وہ جس پر احسان کرتا ہے، اس کا رشتہ خوبصورت بناکر رکھ دیتا ہے۔
ਕਬੀਰ ਕੋ ਸੁਆਮੀ ਗਰੀਬ ਨਿਵਾਜ ॥੪॥੪੦॥ کبیر کا مالک غریب نواز ہے۔ 4۔ 40۔
ਜਲਿ ਹੈ ਸੂਤਕੁ ਥਲਿ ਹੈ ਸੂਤਕੁ ਸੂਤਕ ਓਪਤਿ ਹੋਈ ॥ پانی میں سوتک (نجاست)ہے، زمین میں سوتک ہے اور جو کچھ پیدا ہوا ہے، اس میں بھی سوتک کا وجود ہے۔
ਜਨਮੇ ਸੂਤਕੁ ਮੂਏ ਫੁਨਿ ਸੂਤਕੁ ਸੂਤਕ ਪਰਜ ਬਿਗੋਈ ॥੧॥ جاندار کی پیدائش میں گندگی ہے اور مرنے پر بھی نجاست ہے۔ سوتک نے رب کی تخلیق کو برباد کردیا ہے۔ 1۔
ਕਹੁ ਰੇ ਪੰਡੀਆ ਕਉਨ ਪਵੀਤਾ ॥ اے پنڈت! بتاؤ (پھر) کون پاکیزہ ہے؟
ਐਸਾ ਗਿਆਨੁ ਜਪਹੁ ਮੇਰੇ ਮੀਤਾ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ اے میرے دوست! اس علم کا بغور فکر کر۔ 1۔ وقفہ ۔
ਨੈਨਹੁ ਸੂਤਕੁ ਬੈਨਹੁ ਸੂਤਕੁ ਸੂਤਕੁ ਸ੍ਰਵਨੀ ਹੋਈ ॥ آنکھوں میں سوتک ہے، گفتار میں سوتک ہے، کانوں میں بھی سوتک ہے۔
ਊਠਤ ਬੈਠਤ ਸੂਤਕੁ ਲਾਗੈ ਸੂਤਕੁ ਪਰੈ ਰਸੋਈ ॥੨॥ اٹھتے بیٹھتے ہر وقت انسان کو سوتک لگتا ہے۔ سوتک باورچی خانہ میں بھی داخل ہوتا ہے۔ 2۔
ਫਾਸਨ ਕੀ ਬਿਧਿ ਸਭੁ ਕੋਊ ਜਾਨੈ ਛੂਟਨ ਕੀ ਇਕੁ ਕੋਈ ॥ ہر ایک انسان (سوتک کے شبہ میں) پھنسنے کا ہی طریقہ جانتا ہے؛ لیکن اس سے چھٹکارا پانے کی سمجھ کسی نایاب کو ہی ہے۔
ਕਹਿ ਕਬੀਰ ਰਾਮੁ ਰਿਦੈ ਬਿਚਾਰੈ ਸੂਤਕੁ ਤਿਨੈ ਨ ਹੋਈ ॥੩॥੪੧॥ کبیر جی کہتے ہیں: جو شخص رام کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے، اسے کوئی نجاست نہیں لگتی۔ 3۔ 41۔
ਗਉੜੀ ॥ گؤڑی۔
ਝਗਰਾ ਏਕੁ ਨਿਬੇਰਹੁ ਰਾਮ ॥ اے رام! ایک جھگڑے کا فیصلہ کیجیے۔
ਜਉ ਤੁਮ ਅਪਨੇ ਜਨ ਸੌ ਕਾਮੁ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ اگر آپ کو اپنے خادم سے کوئی خدمت لینی یے۔ 1۔ وقفہ۔
ਇਹੁ ਮਨੁ ਬਡਾ ਕਿ ਜਾ ਸਉ ਮਨੁ ਮਾਨਿਆ ॥ کیا یہ روح عظیم ہے یا وہ (رب) جس سے یہ روح ملی ہوئی ہے۔
ਰਾਮੁ ਬਡਾ ਕੈ ਰਾਮਹਿ ਜਾਨਿਆ ॥੧॥ کیا رام عظیم ہے یا وہ عظیم ہے، جو رام کو جانتا ہے؟ 1۔
ਬ੍ਰਹਮਾ ਬਡਾ ਕਿ ਜਾਸੁ ਉਪਾਇਆ ॥ کیا برہما عظیم ہے یا وہ جس نے اسے وجود بخشا ہے؟
ਬੇਦੁ ਬਡਾ ਕਿ ਜਹਾਂ ਤੇ ਆਇਆ ॥੨॥ وید عظیم ہے یا وہ جس سے (یہ علم) آیا ہے؟ 2۔
ਕਹਿ ਕਬੀਰ ਹਉ ਭਇਆ ਉਦਾਸੁ ॥ کبیر جی کہتے ہیں کہ میں اس بات سے غمگین ہوں
ਤੀਰਥੁ ਬਡਾ ਕਿ ਹਰਿ ਕਾ ਦਾਸੁ ॥੩॥੪੨॥ کہ مقام زیارت عظیم ہے یا واہے گرو کا عبادت گذار۔ 3۔ 42۔
ਰਾਗੁ ਗਉੜੀ ਚੇਤੀ ॥ راگو گؤڑی چیتی۔
ਦੇਖੌ ਭਾਈ ਗ੍ਯ੍ਯਾਨ ਕੀ ਆਈ ਆਂਧੀ ॥ اے بھائیو! دیکھو علم کی آندھی آئی ہے۔
ਸਭੈ ਉਡਾਨੀ ਭ੍ਰਮ ਕੀ ਟਾਟੀ ਰਹੈ ਨ ਮਾਇਆ ਬਾਂਧੀ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ اس شبہ کی چھونپڑی کو پوری طرح اُڑاکر لے گئی ہے اور مایا کی غلامی بھی باقی نہیں بچی۔ 1۔ وقفہ۔
ਦੁਚਿਤੇ ਕੀ ਦੁਇ ਥੂਨਿ ਗਿਰਾਨੀ ਮੋਹ ਬਲੇਡਾ ਟੂਟਾ ॥ دوغلے پن کے دونوں ستون گرگئے ہیں اور دنیا کی لگاؤ ​​نما لکڑی کی ڈنڈا بھی گر کر ٹوٹ گیا ہے۔
ਤਿਸਨਾ ਛਾਨਿ ਪਰੀ ਧਰ ਊਪਰਿ ਦੁਰਮਤਿ ਭਾਂਡਾ ਫੂਟਾ ॥੧॥ پیاس کی چھونپڑی (لکڑی ٹوٹنے پر) زمین پر گرگئی ہے اور شریر دماغ کا برتن ٹوٹ گیا ہے۔ 1۔
Scroll to Top
jp1131 https://login-bobabet.net/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://e-learning.akperakbid-bhaktihusada.ac.id/storages/gacor/
https://siakba.kpu-mamuju.go.id/summer/gcr/
jp1131 https://login-bobabet.net/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://e-learning.akperakbid-bhaktihusada.ac.id/storages/gacor/
https://siakba.kpu-mamuju.go.id/summer/gcr/