Page 1428
ਹਰਿ ਜਨ ਹਰਿ ਅੰਤਰੁ ਨਹੀ ਨਾਨਕ ਸਾਚੀ ਮਾਨੁ ॥੨੯॥
॥29॥ ہرِ جن ہرِ انّترُ نہیِ نانک ساچیِ مانُ
لفظی معنی:نس دن ۔ دن رات۔ روز و شب۔ بھجے ۔یاد خدا کو کرتا ہے ۔ روپ رام تیہہ جان۔ اسے مانند خدا سمجھ ۔ ہرجن۔ محبوب خدا۔ الہٰی خدمتگار ۔ پرانتر نہیں۔ خدا میں فرق نہیں۔ ساچی مان ۔ سچ سمجھ۔
॥29॥ ترجمہ:اے نانک، اس کو قطعی سچ سمجھو، کہ خدا اور خدا کے بندے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
ਮਨੁ ਮਾਇਆ ਮੈ ਫਧਿ ਰਹਿਓ ਬਿਸਰਿਓ ਗੋਬਿੰਦ ਨਾਮੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਬਿਨੁ ਹਰਿ ਭਜਨ ਜੀਵਨ ਕਉਨੇ ਕਾਮ ॥੩੦॥
॥ منُ مائِیا مےَ پھدھِ رہِئو بِسرِئو گوبِنّد نامُ
॥30॥ کہُ نانک بِنُ ہرِ بھجن جیِۄن کئُنے کام
لفظی معنی:پھد ۔ پھنسا ہوا۔ بن ہر بھجن۔ الہٰی عبادت وریاضت کے بغیر ۔ جیون ۔ زندگی گؤنے کام۔ کس کام۔بیفائدہ ۔ وسریؤ۔ گوبند نام۔ جب الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت بھلا رکھی ہو۔ترجمہ:وہ شخص جس کا دماغ مایا (دنیاوی دولت اور طاقت) کی محبت میں الجھا ہوا ہے اور جس نے خدا کے نام کو ॥30॥ بھلا دیا ہے۔اے نانک کہو، خدا کو یاد کیے بغیر، ایسے شخص کی زندگی کا کیا فائدہ۔
ਪ੍ਰਾਨੀ ਰਾਮੁ ਨ ਚੇਤਈ ਮਦਿ ਮਾਇਆ ਕੈ ਅੰਧੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਹਰਿ ਭਜਨ ਬਿਨੁ ਪਰਤ ਤਾਹਿ ਜਮ ਫੰਧ ॥੩੧॥
॥ پ٘رانیِ رامُ ن چیتئیِ مدِ مائِیا کےَ انّدھُ
॥31॥ کہُ نانک ہرِ بھجن بِنُ پرت تاہِ جم پھنّدھ
لفظی معنی:پرانی ۔ اے انسان۔ رام نہ چیتی ۔ یاد خدا کو نہیں کیا۔ مدمائیا کے اندھ۔دنیاوی دولت کے خمار و نشے میں مخمور۔ ہر بھجن بن ۔ الہٰی یادوریاض کے بغیر ۔ پرت ۔ پڑتا ہے ۔ جم پھند۔ الہٰی کوتوال کے پھند میں۔
॥31॥ ترجمہ:مایا (مادیت) کی محبت میں مگن، جو روحانی زندگی سے بے خبر رہتا ہے اور خدا کو یاد نہیں کرتا۔اے نانک کہو، خدا کو یاد کیے بغیر، ایسا شخص موت کے آسیب کے پھندے میں گرفتار رہتا ہے۔
ਸੁਖ ਮੈ ਬਹੁ ਸੰਗੀ ਭਏ ਦੁਖ ਮੈ ਸੰਗਿ ਨ ਕੋਇ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਹਰਿ ਭਜੁ ਮਨਾ ਅੰਤਿ ਸਹਾਈ ਹੋਇ ॥੩੨॥
॥ سُکھ مےَ بہُ سنّگیِ بھۓ دُکھ مےَ سنّگِ ن کوءِ
॥32॥ کہُ نانک ہرِ بھجُ منا انّتِ سہائیِ ہوءِ
لفظی معنی:سنگی ۔ ساتھی ۔ بھیئے ۔ دکھ ۔ بوقت مصیبت۔ عذآب ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ ہر بھج منا۔ اے دل یاد خدا کو کیا کر ۔ انت۔ بوقت اخرت ۔ سہائی ۔ مددگار۔
॥32॥ ترجمہ:خوشحالی کے وقت بہت سے ساتھی بنتے ہیں، لیکن مصیبت کے وقت کوئی ساتھ نہیں دیتا۔اے نانک! کہو: اے میرے دماغ، خدا کو پیار سے یاد کر، جو موت کے وقت بھی مدد کرتا ہے۔
ਜਨਮ ਜਨਮ ਭਰਮਤ ਫਿਰਿਓ ਮਿਟਿਓ ਨ ਜਮ ਕੋ ਤ੍ਰਾਸੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਹਰਿ ਭਜੁ ਮਨਾ ਨਿਰਭੈ ਪਾਵਹਿ ਬਾਸੁ ॥੩੩॥
॥ جنم جنم بھرمت پھِرِئو مِٹِئو ن جم کو ت٘راسُ
॥33॥ کہُ نانک ہرِ بھجُ منا نِربھےَ پاۄہِ باسُ
لفظی معنی:جنم جنم بھرمت پھریؤ۔ کی زندگیوں میں بھٹکتا رہا ۔ مٹئوں جم کوتراس۔ مگر موت کا خوف دور نہ ہوا۔ نہ بھے ۔ بیخوف۔ باس۔رہائش۔
॥33॥ ترجمہ:بے شمار جنموں میں گم اور الجھن میں بھٹکتا ہے، اس کی موت کا خوف دور نہیں ہوتا۔اے نانک! کہو، اے دماغ، خدا کو پیار سے یاد کرو تاکہ تم بے خوف خدا کی بارگاہ میں مقام حاصل کرو۔
ਜਤਨ ਬਹੁਤੁ ਮੈ ਕਰਿ ਰਹਿਓ ਮਿਟਿਓ ਨ ਮਨ ਕੋ ਮਾਨੁ ॥ ਦੁਰਮਤਿ ਸਿਉ ਨਾਨਕ ਫਧਿਓ ਰਾਖਿ ਲੇਹੁ ਭਗਵਾਨ ॥੩੪॥
॥ جتن بہُتُ مےَ کرِ رہِئو مِٹِئو ن من کو مانُ
॥34॥ دُرمتِ سِءُ نانک پھدھِئو راکھِ لیہُ بھگۄان
لفظی معنی:جتن۔ کوشش۔ مٹیو نہ من کومان۔ دل کا غرور ہ دور ہوا۔ درمت ۔ بد عقلی ۔پھدیؤ۔ پھنسا رہا۔ رکھ ۔ بچاؤ۔ بھگوان ۔ اے خدا۔
॥34॥ ترجمہ:میں نے بہت کوششیں کر کے خود کو تھکا دیا ہے، لیکن میرے دماغ کا غرور ختم نہیں ہوا۔نانک بری عقل کی گرفت میں گرفتار ہے، اے خدا، مجھے بچا لے۔
ਬਾਲ ਜੁਆਨੀ ਅਰੁ ਬਿਰਧਿ ਫੁਨਿ ਤੀਨਿ ਅਵਸਥਾ ਜਾਨਿ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਹਰਿ ਭਜਨ ਬਿਨੁ ਬਿਰਥਾ ਸਭ ਹੀ ਮਾਨੁ ॥੩੫॥
॥ بال جُیانیِ ارُ بِردھِ پھُنِ تیِنِ اۄستھا جانِ
॥35॥ کہُ نانک ہرِ بھجن بِنُ بِرتھا سبھ ہیِ مانُ
لفظی معنی:بال۔ بچپن۔ بردھ فن۔ بڑھاپا بھی۔ اوستھا۔ زندگی کے حالات ۔ لر بھجں بن ۔ الہٰی عدبات و بندگی کے بغیر ۔ برتھا۔ بیکار۔ بیفائدہ ۔ مان۔ سمجھ۔
॥35॥ ترجمہ:بچپن، جوانی اور بڑھاپے کو زندگی کے تین مراحل سمجھیں۔اے نانک کہو، خدا کو یاد کیے بغیر، ان تمام مراحل کو فضول سمجھو۔
ਕਰਣੋ ਹੁਤੋ ਸੁ ਨਾ ਕੀਓ ਪਰਿਓ ਲੋਭ ਕੈ ਫੰਧ ॥ ਨਾਨਕ ਸਮਿਓ ਰਮਿ ਗਇਓ ਅਬ ਕਿਉ ਰੋਵਤ ਅੰਧ ॥੩੬॥
॥ کرنھو ہُتو سُ نا کیِئو پرِئو لوبھ کےَ پھنّدھ
॥36॥ نانک سمِئو رمِ گئِئو اب کِءُ روۄت انّدھ
لفظی معنی:کرناہو۔ جو کرنا چاہتے تھا۔ سو۔ وہ ۔ پریو لوبھ کے پھند۔ لالچ کے پھندے میں پھنس گیا۔ سمؤ۔ وقت میں۔ رم گیو ۔ گذر گیا ۔ رووت اندھ۔ عقل کے اندھ کیون روتا ہے۔
॥36॥ ترجمہ:اے بشر، تم نے وہ نہیں کیا جو تمہیں کرنا چاہیے تھا، بلکہ تم لالچ کے پھندے میں الجھے رہے۔اے نانک: وہ وقت گزر گیا (جب تم نے خدا کو یاد کرنا تھا) اے روحانی جاہل، اب کیوں روتے ہو۔
ਮਨੁ ਮਾਇਆ ਮੈ ਰਮਿ ਰਹਿਓ ਨਿਕਸਤ ਨਾਹਿਨ ਮੀਤ ॥ ਨਾਨਕ ਮੂਰਤਿ ਚਿਤ੍ਰ ਜਿਉ ਛਾਡਿਤ ਨਾਹਿਨ ਭੀਤਿ ॥੩੭॥
॥ منُ مائِیا مےَ رمِ رہِئو نِکست ناہِن میِت
॥37॥ نانک موُرتِ چِت٘ر جِءُ چھاڈِت ناہِن بھیِتِ
॥37॥ ترجمہ:اے میرے دوست، جو دماغ مایا (مادیت) کی محبت میں الجھا ہوا ہے، اس سے بچ نہیں سکتا۔اے نانک، یہ ایسا ہی ہے جیسے دیوار پر لگی تصویر کا عکس دیوار کو نہیں چھوڑ سکتا۔
ਨਰ ਚਾਹਤ ਕਛੁ ਅਉਰ ਅਉਰੈ ਕੀ ਅਉਰੈ ਭਈ ॥ ਚਿਤਵਤ ਰਹਿਓ ਠਗਉਰ ਨਾਨਕ ਫਾਸੀ ਗਲਿ ਪਰੀ ॥੩੮॥
॥ نر چاہت کچھُ ائُر ائُرےَ کیِ ائُرےَ بھئیِ
॥38॥ چِتۄت رہِئو ٹھگئُر نانک پھاسیِ گلِ پریِ
لفظی معنی:نر چاہت۔ انسان کچھ دگر چاہتا ہے ۔ اورنے کی ۔ اورنے بھئی۔ دوسرے کی دوسری ہوگئی۔ چتوت۔ دل میں سوچتا ہے ۔ رہیؤ تھگؤر۔ دہوکا۔ فریب سے ۔ پھاسی ۔ موت کا پھندہ۔ گل پری۔ گلے پڑتا ہے ۔
॥38॥ ترجمہ:کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے، لیکن کچھ بالکل مختلف ہوتا ہے۔اے نانک انسان دوسروں کو دھوکہ دینے کا سوچتا ہے لیکن اکثر اس کی گردن موت کی پھندا میں پھنس جاتی ہے۔
ਜਤਨ ਬਹੁਤ ਸੁਖ ਕੇ ਕੀਏ ਦੁਖ ਕੋ ਕੀਓ ਨ ਕੋਇ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਸੁਨਿ ਰੇ ਮਨਾ ਹਰਿ ਭਾਵੈ ਸੋ ਹੋਇ ॥੩੯॥
॥ جتن بہُت سُکھ کے کیِۓ دُکھ کو کیِئو ن کوءِ
॥39॥ کہُ نانک سُنِ رے منا ہرِ بھاۄےَ سو ہوءِ
॥39॥ ترجمہ:انسان نے خوشی کے لیے بہت کوششیں کیں، لیکن دکھوں سے بچنے کے لیے کچھ نہ کیا۔اے نانک کہو، سنو اے من، وہی ہوتا ہے جو خدا کو راضی ہو۔
ਜਗਤੁ ਭਿਖਾਰੀ ਫਿਰਤੁ ਹੈ ਸਭ ਕੋ ਦਾਤਾ ਰਾਮੁ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਮਨ ਸਿਮਰੁ ਤਿਹ ਪੂਰਨ ਹੋਵਹਿ ਕਾਮ ॥੪੦॥
॥ جگتُ بھِکھاریِ پھِرتُ ہےَ سبھ کو داتا رامُ
॥40॥ کہُ نانک من سِمرُ تِہ پوُرن ہوۄہِ کام
لفظی معنی:جگت۔ عالم ۔ دنیا۔ بھکاری ۔ بھیک مانگنے والے ۔ داتا۔ دینے والا۔ من سمرتیہہ۔ اسکو یاد کر۔پورن ۔ مکمل
॥40॥ ترجمہ:ساری دنیا بھکاریوں کی طرح گھوم رہی ہے لیکن خدا ہی سب کو دینے والا ہے۔اے نانک کہو، اے من، اس خدا کو پیار سے یاد کرو، تاکہ تمہارے تمام کام پورے ہوں۔
ਝੂਠੈ ਮਾਨੁ ਕਹਾ ਕਰੈ ਜਗੁ ਸੁਪਨੇ ਜਿਉ ਜਾਨੁ ॥ ਇਨ ਮੈ ਕਛੁ ਤੇਰੋ ਨਹੀ ਨਾਨਕ ਕਹਿਓ ਬਖਾਨਿ ॥੪੧॥
॥ جھوُٹھےَ مانُ کہا کرےَ جگُ سُپنے جِءُ جانُ
॥41॥ اِن مےَ کچھُ تیرو نہیِ نانک کہِئو بکھانِ
لفظی معنی:مان ۔ غرور۔ تکبر۔ سپنے ۔ خواب۔ جیو۔ کیطرح ۔ جان ۔ سمجھ ۔ دکھان۔
॥41॥ ترجمہ: (اے میرے دوست) تو دنیا کے مال کا جھوٹا غرور کیوں کرتا ہے، دنیا میں ان تمام چیزوں کو ایک خواب کی طرح قلیل مدتی سمجھیں۔نانک کہتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی (حقیقت میں) تمہارا نہیں ہے۔
ਗਰਬੁ ਕਰਤੁ ਹੈ ਦੇਹ ਕੋ ਬਿਨਸੈ ਛਿਨ ਮੈ ਮੀਤ ॥ ਜਿਹਿ ਪ੍ਰਾਨੀ ਹਰਿ ਜਸੁ ਕਹਿਓ ਨਾਨਕ ਤਿਹਿ ਜਗੁ ਜੀਤਿ ॥੪੨॥
॥ گربُ کرتُ ہےَ دیہ کو بِنسےَ چھِن مےَ میِت
॥42॥ جِہِ پ٘رانیِ ہرِ جسُ کہِئو نانک تِہِ جگُ جیِتِ
لفظی معنی:گربھ ۔ غرور ۔ دیہہ۔ جسم۔ ونسے ۔ متتا ہے۔ چھن میہ تھوڑے سے وقفے میں۔ میت ۔ دوست۔ جیہہ پرانی۔ جس انسان نے ہر جس کیؤ۔ الہٰی حمدوثناہ کی ۔ نانک تیہہ جگ جیت ۔ اے نانک اس نے عالم کو فتح کر لیا۔
॥42॥ ترجمہ:اے میرے دوست، تم اپنے جسم پر فخر کرتے ہو، جو ایک پل میں فنا ہو جاتا ہے۔اے نانک، وہ شخص جس نے خدا کی حمد کی ہے، اس نے دنیاوی خواہشات پر ایسا قابو پالیا ہے، جیسے اس نے دنیا پر فتح حاصل کر لی ہے۔
ਜਿਹ ਘਟਿ ਸਿਮਰਨੁ ਰਾਮ ਕੋ ਸੋ ਨਰੁ ਮੁਕਤਾ ਜਾਨੁ ॥ ਤਿਹਿ ਨਰ ਹਰਿ ਅੰਤਰੁ ਨਹੀ ਨਾਨਕ ਸਾਚੀ ਮਾਨੁ ॥੪੩॥
॥ جِہ گھٹِ سِمرنُ رام کو سو نرُ مُکتا جانُ
॥43॥ تِہِ نر ہرِ انّترُ نہیِ نانک ساچیِ مانُ
لفظی معنی:جیہ گھٹ ۔ جس دل میں۔ سمرن رام۔یاد خدا۔ سونر۔ اس انسان ۔ مکتا۔ بدیوں برائیوں سے نجات یافتہ ۔ تیہہ ۔ نر۔ اس انسان ۔ ہر۔ خدا۔ ساچ ی مان۔ حقیقت سمجھ ۔
॥43॥ ترجمہ:وہ شخص جس کے دل میں خدا کی یاد بستی ہے، اس شخص کو (مادیت اور برائیوں کی محبت سے آزاد) سمجھیں۔اے نانک، اس کو سچی بات مان لیں کہ اس شخص اور خدا میں کوئی فرق نہیں ہے۔
ਏਕ ਭਗਤਿ ਭਗਵਾਨ ਜਿਹ ਪ੍ਰਾਨੀ ਕੈ ਨਾਹਿ ਮਨਿ ॥ ਜੈਸੇ ਸੂਕਰ ਸੁਆਨ ਨਾਨਕ ਮਾਨੋ ਤਾਹਿ ਤਨੁ ॥੪੪॥
॥ ایک بھگتِ بھگۄان جِہ پ٘رانیِ کےَ ناہِ منِ
॥44॥ جیَسے سوُکر سُیان نانک مانو تاہِ تنُ
لفظی معنی:بھگت ۔ عشق ۔ محبت ۔ پرانی ۔ انسان۔ سوکر۔ سوآن۔ سور۔ کتا۔ مانو۔ سمجھو۔ تاہے تن۔ اسکا جسم
॥44॥ ترجمہ:وہ شخص جس کے ذہن میں خدا کی عبادت نہ ہو،اے نانک، اس انسان کے جسم کو سؤر اور کتے کی مانند سمجھو۔
ਸੁਆਮੀ ਕੋ ਗ੍ਰਿਹੁ ਜਿਉ ਸਦਾ ਸੁਆਨ ਤਜਤ ਨਹੀ ਨਿਤ ॥ ਨਾਨਕ ਇਹ ਬਿਧਿ ਹਰਿ ਭਜਉ ਇਕ ਮਨਿ ਹੁਇ ਇਕ ਚਿਤਿ ॥੪੫॥
॥ سُیامیِ کو گ٘رِہُ جِءُ سدا سُیان تجت نہیِ نِت
॥45॥ نانک اِہ بِدھِ ہرِ بھجءُ اِک منِ ‘ہُئِ’ اِکِ چِتِ
لفظی معنی:سوآمی کو گریہہ۔ مالک کا گھر۔ جیؤ۔ جیسے ۔ سوآن تجت نہیںنت۔ نہیں چھوڑتا ۔ ایہہ بدھ۔ اس طریقے سے ۔ ہر بھجہو۔ یاد کرؤ خدا۔ اک من اک چت۔ یکسو ہو کر۔
॥45॥ ترجمہ:اے بھائی جس طرح کتا ہمیشہ اپنے مالک کا وفادار رہتا ہے اور اسے کبھی نہیں چھوڑتا۔اے نانک، اسی طرح آپ کو اپنے دماغ اور دل کی پوری توجہ کے ساتھ خدا کو وفاداری کے ساتھ یاد کرنا چاہئے۔
ਤੀਰਥ ਬਰਤ ਅਰੁ ਦਾਨ ਕਰਿ ਮਨ ਮੈ ਧਰੈ ਗੁਮਾਨੁ ॥ ਨਾਨਕ ਨਿਹਫਲ ਜਾਤ ਤਿਹ ਜਿਉ ਕੁੰਚਰ ਇਸਨਾਨੁ ॥੪੬॥
॥ تیِرتھ برت ارُ دان کرِ من مےَ دھرےَ گُمانُ
॥46॥ نانک نِہپھلُ جات تِہ جِءُ کُنّچر اِسنانُ
لفظی معنی:تیرتھ ۔ زیارت ۔ درت۔ پرہیز گاری ۔ فاقہ کشی ۔ دنا۔ خیرات۔ گمان۔ غرور و تکبر۔ نہچل۔ بیکار۔ کنچر اسنان۔ جیسے ہاتھی کا نہانا۔
॥46॥ ترجمہ:اگر کوئی شخص حج (زیارت گاہوں اور مقدس مقانات) پر جانے، روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے کے بعد دماغ میں تکبر محسوس کرے،اے نانک، اس شخص کی تمام نیکیاں اس طرح ضائع ہو جاتی ہیں جیسے ہاتھی کا غسل (جو نہانے کے بعد اپنے اوپر مٹی ڈالتا ہے)۔
ਸਿਰੁ ਕੰਪਿਓ ਪਗ ਡਗਮਗੇ ਨੈਨ ਜੋਤਿ ਤੇ ਹੀਨ ॥ ਕਹੁ ਨਾਨਕ ਇਹ ਬਿਧਿ ਭਈ ਤਊ ਨ ਹਰਿ ਰਸਿ ਲੀਨ ॥੪੭॥
॥ سِرُ کنّپِئو پگ ڈگمگے نیَن جوتِ تے ہیِن
॥47॥ کہُ نانک اِہ بِدھِ بھئیِ تئوُ ن ہرِ رسِ لیِن
لفظی معنی:سر کنپئو۔ سر کا نپنے لگا۔ پگ ڈگمگے ۔ پاؤں لڑ کھڑانے لگے ۔ نین جوت تے ہین۔ آنکھوں کی روشنی ختم ہوگئی ۔ ایہہ بدھ ۔ اس طریقے سے ۔ تیؤ۔ پھر بھی ۔ با وجود یکہ ۔ ہر رس لین ۔ خدا کا لطف بھی تاہم لے نہیں سکتا۔
॥47॥ ترجمہ:(بڑھاپے میں) سر کا نپنے لگتا ہے، پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں اور آنکھیں بینائی سے محروم ہو جاتی ہیں۔اے نانک کہو، اے بشر، تیرے جسم کا یہ حال ہے اور اب بھی تو خدا کی محبت میں ضم نہیں ہوتا۔