Guru Granth Sahib Translation Project

Guru Granth Sahib Urdu Page 336

Page 336

ਬਿਖੈ ਬਾਚੁ ਹਰਿ ਰਾਚੁ ਸਮਝੁ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ॥ اے دلِ نادان! جنسی لذتوں سے دور رہو، واہے گرو کی ذات میں ڈوب جاؤ اور اس نصیحت پر عمل کر!
ਨਿਰਭੈ ਹੋਇ ਨ ਹਰਿ ਭਜੇ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ਗਹਿਓ ਨ ਰਾਮ ਜਹਾਜੁ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ اے دلِ نادان! تم نے بے خوف ہوکر رب کا جہری ذکر نہیں کیا اور رام نام نما جہاز پر سوار نہیں ہوا۔ 1۔ وقفہ۔
ਮਰਕਟ ਮੁਸਟੀ ਅਨਾਜ ਕੀ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ਲੀਨੀ ਹਾਥੁ ਪਸਾਰਿ ॥ اے میرے دلِ نادان! بندر اپنا ہاتھ آگے پھیلاکر مٹھی بھر دانے لیتا ہے۔
ਛੂਟਨ ਕੋ ਸਹਸਾ ਪਰਿਆ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ਨਾਚਿਓ ਘਰ ਘਰ ਬਾਰਿ ॥੨॥ اے میرے دلِ نادان! فکرِ نجات میں اسے ہر گھر کے در پر ناچنا پڑتا ہے۔ 2۔
ਜਿਉ ਨਲਨੀ ਸੂਅਟਾ ਗਹਿਓ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ਮਾਯਾ ਇਹੁ ਬਿਉਹਾਰੁ ॥ اے میرے دلِ نادان! جس طرح طوطا نلنی پر بیٹھ کر پھنس جاتا ہے، اسی طرح دنیا کی دولت کی پیاسہے اور انسان اس میں پھنس جاتا ہے۔
ਜੈਸਾ ਰੰਗੁ ਕਸੁੰਭ ਕਾ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ਤਿਉ ਪਸਰਿਓ ਪਾਸਾਰੁ ॥੩॥ اے دلِ نادان! جس طرح قصوبھے کا رنگ چند ہی دنوں کا ہے، اسی طرح دنیا کا پھیلاؤ (چار دن کے لیے)کیا گیا ہے۔ 3۔
ਨਾਵਨ ਕਉ ਤੀਰਥ ਘਨੇ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ਪੂਜਨ ਕਉ ਬਹੁ ਦੇਵ ॥ اے دلِ نادان! غسل کے لیے بہت سی مذہبی زیارت گاہیں ہیں اور پرستش کے لیے بہت سے دیوی دیوتا ہیں۔
ਕਹੁ ਕਬੀਰ ਛੂਟਨੁ ਨਹੀ ਮਨ ਬਉਰਾ ਰੇ ਛੂਟਨੁ ਹਰਿ ਕੀ ਸੇਵ ॥੪॥੧॥੬॥੫੭॥ کبیر جی کہتے ہیں کہ اے دلِ نادان! اس طرح تمہاری نجات نہیں ہوگی۔ نجات محض واہے گرو کے ذکراور پرستش کرنے سے ہی ملے گی۔۔ 4۔ 1۔ 6۔ 57۔
ਗਉੜੀ ॥ گؤڑی۔
ਅਗਨਿ ਨ ਦਹੈ ਪਵਨੁ ਨਹੀ ਮਗਨੈ ਤਸਕਰੁ ਨੇਰਿ ਨ ਆਵੈ ॥ اس نام کی دولت کو نہ آگ جلاسکتی ہے، نہ ہوا اُڑاکر لے جاسکتی ہے اور اس دولت کے قریب چور بھی نہیں آتا۔
ਰਾਮ ਨਾਮ ਧਨੁ ਕਰਿ ਸੰਚਉਨੀ ਸੋ ਧਨੁ ਕਤ ਹੀ ਨ ਜਾਵੈ ॥੧॥ (اے لوگو!) رام نام نما دولت یکجا کر؛ چونکہ یہ دولت کہیں نہیں جاتی۔ 1۔
ਹਮਰਾ ਧਨੁ ਮਾਧਉ ਗੋਬਿੰਦੁ ਧਰਣੀਧਰੁ ਇਹੈ ਸਾਰ ਧਨੁ ਕਹੀਐ ॥ ہماری دولت تو مادھو گووند ہی ہے، جو پوری سر زمین کا سہارا ہے۔ اسی دولت کو تمام دولت سے بہترین کہا جاتا ہے۔
ਜੋ ਸੁਖੁ ਪ੍ਰਭ ਗੋਬਿੰਦ ਕੀ ਸੇਵਾ ਸੋ ਸੁਖੁ ਰਾਜਿ ਨ ਲਹੀਐ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ جو خوشی رب گووند کے جہری ذکر سے ملتی ہے، وہ خوشی ریاست کی حکمرانی میں نہیں ملتی۔ 1۔ وقفہ۔
ਇਸੁ ਧਨ ਕਾਰਣਿ ਸਿਵ ਸਨਕਾਦਿਕ ਖੋਜਤ ਭਏ ਉਦਾਸੀ ॥ اس دولت کے لیے شیو جی اور (برہما کے بیٹے) سنکادک تلاش کرتے کرتے کائنات سے بیزار ہوئے۔
ਮਨਿ ਮੁਕੰਦੁ ਜਿਹਬਾ ਨਾਰਾਇਨੁ ਪਰੈ ਨ ਜਮ ਕੀ ਫਾਸੀ ॥੨॥ جس انسان کے دل میں نجات دہندہ رب رہتا ہے، جس کے تن پر نارائن موجود ہے، اسے یم کی پھانسی نہیں لگ سکتی۔ 2۔
ਨਿਜ ਧਨੁ ਗਿਆਨੁ ਭਗਤਿ ਗੁਰਿ ਦੀਨੀ ਤਾਸੁ ਸੁਮਤਿ ਮਨੁ ਲਾਗਾ ॥ واہے گرو کی عبادت اور علم ہی (انسان کی) اصل دولت ہے۔ جس اچھی ذہانت والے کو گرو نے یہ تحفہ عطا کیا ہے، اس کا دل اس رب میں بستا ہے۔
ਜਲਤ ਅੰਭ ਥੰਭਿ ਮਨੁ ਧਾਵਤ ਭਰਮ ਬੰਧਨ ਭਉ ਭਾਗਾ ॥੩॥ رب کا نام (پیاس میں)جلتی ہوئی روح کے لیے پانی ہے اور بھاگتے دوڑتے دل کے لیے ٹھنڈک ہے۔ اس سے شکوک کے بندھنوں کا خوف دور ہوجاتا ہے۔ 3۔
ਕਹੈ ਕਬੀਰੁ ਮਦਨ ਕੇ ਮਾਤੇ ਹਿਰਦੈ ਦੇਖੁ ਬੀਚਾਰੀ ॥ کبیر جی کہتے ہیں: اے نفسانی شہوت میں مبتلا انسان! دل میں غور و فکر کرکے دیکھو،
ਤੁਮ ਘਰਿ ਲਾਖ ਕੋਟਿ ਅਸ੍ਵ ਹਸਤੀ ਹਮ ਘਰਿ ਏਕੁ ਮੁਰਾਰੀ ॥੪॥੧॥੭॥੫੮॥ اگر تیرے گھر میں لاکھوں کروڑوں ہاتھی گھوڑے ہیں، تو میرے دل کے گھر میں ایک مراری ہی ہے۔ 4۔1۔ 7۔ 58۔
ਗਉੜੀ ॥ گؤڑی۔
ਜਿਉ ਕਪਿ ਕੇ ਕਰ ਮੁਸਟਿ ਚਨਨ ਕੀ ਲੁਬਧਿ ਨ ਤਿਆਗੁ ਦਇਓ ॥ مثلاً لالچ کی وجہ سے بندر اپنے ہاتھ میں(بھنے ہوئے) چنے کی مٹھی نہیں چھوڑتا اور بایں وجہ وہ پھنس جاتا ہے،
ਜੋ ਜੋ ਕਰਮ ਕੀਏ ਲਾਲਚ ਸਿਉ ਤੇ ਫਿਰਿ ਗਰਹਿ ਪਰਿਓ ॥੧॥ اسی طرح انسان لالچ کے زیر اثر ہوکر جو بھی عمل کرتا ہ،ے وہ سبھی دوبارہ اسی کے گلے میں پڑتے ہیں۔ 1۔
ਭਗਤਿ ਬਿਨੁ ਬਿਰਥੇ ਜਨਮੁ ਗਇਓ ॥ واہے گرو کی عبادت کے بغیر انسانی پیدائش رائیگاں جاتی ہے۔
ਸਾਧਸੰਗਤਿ ਭਗਵਾਨ ਭਜਨ ਬਿਨੁ ਕਹੀ ਨ ਸਚੁ ਰਹਿਓ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ متقی کی صحبت واہے گرو کی عبادت کیے بغیر سچائی کہیں بھی بود و باش اختیار نہیں کرتی۔ 1۔ وقفہ۔
ਜਿਉ ਉਦਿਆਨ ਕੁਸਮ ਪਰਫੁਲਿਤ ਕਿਨਹਿ ਨ ਘ੍ਰਾਉ ਲਇਓ ॥ جیسے خوفناک جنگل میں کھلے ہوئے پھولوں کی خوشبو کوئی نہیں سونگھ سکتا،
ਤੈਸੇ ਭ੍ਰਮਤ ਅਨੇਕ ਜੋਨਿ ਮਹਿ ਫਿਰਿ ਫਿਰਿ ਕਾਲ ਹਇਓ ॥੨॥ اسی طرح رب کی عبادت اور بندگی کے بغیر انسان کئی اندام نہانی میں بھٹکتا ہے اور موت اسے بار بار فنا کرتی ہے۔ 2۔
ਇਆ ਧਨ ਜੋਬਨ ਅਰੁ ਸੁਤ ਦਾਰਾ ਪੇਖਨ ਕਉ ਜੁ ਦਇਓ ॥ یہ دولت، جوانی، بیٹا اور بیوی جو رب کا عطا کردہ ہے، صرف ایک گزرنے جانے والا منظر ہے۔
ਤਿਨ ਹੀ ਮਾਹਿ ਅਟਕਿ ਜੋ ਉਰਝੇ ਇੰਦ੍ਰੀ ਪ੍ਰੇਰਿ ਲਇਓ ॥੩॥ جو ان میں پھنس اور الجھ جاتے ہیں، انہیں حواس اپنی طرف متوجہ کرکے راہِ حق سے بھٹکادیتی ہے۔ 3۔
ਅਉਧ ਅਨਲ ਤਨੁ ਤਿਨ ਕੋ ਮੰਦਰੁ ਚਹੁ ਦਿਸ ਠਾਟੁ ਠਇਓ ॥ عمر آگ ہے اور تن تنکوں کا گھر ہے۔ چاروں طرف یہی بناوٹ بنی ہوئی ہے۔
ਕਹਿ ਕਬੀਰ ਭੈ ਸਾਗਰ ਤਰਨ ਕਉ ਮੈ ਸਤਿਗੁਰ ਓਟ ਲਇਓ ॥੪॥੧॥੮॥੫੯॥ اے کبیر! میں نے اس خوفنال دنیوی سمندر سے پار ہونے کے لیے ستگرو کی پناہ لی ہے۔ 4۔ 1۔ 8۔ 59۔
ਗਉੜੀ ॥ گؤڑی۔
ਪਾਨੀ ਮੈਲਾ ਮਾਟੀ ਗੋਰੀ ॥ ਇਸ ਮਾਟੀ ਕੀ ਪੁਤਰੀ ਜੋਰੀ ॥੧॥ واہے گرو نے انسانی مٹی کا جسم باپ کے ناپاک منی اور ماں کے خون سے بنایا ہے۔ 1۔
ਮੈ ਨਾਹੀ ਕਛੁ ਆਹਿ ਨ ਮੋਰਾ ॥ اے میرے گووند! میں کوئی وجود نہیں ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
ਤਨੁ ਧਨੁ ਸਭੁ ਰਸੁ ਗੋਬਿੰਦ ਤੋਰਾ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥ یہ تن،دولت اور یہ روح سب تیرے عطا کردہ ہے۔ 1۔ وقفہ۔
ਇਸ ਮਾਟੀ ਮਹਿ ਪਵਨੁ ਸਮਾਇਆ ॥ اس خاکی جسم میں حیات ڈال دی گئی ہے،
Scroll to Top
slot gacor https://s2maben.pascasarjana.unri.ac.id/s2-maben/mahademo/ https://survey.radenintan.ac.id/surat/gratis/ https://sipenda.lombokutarakab.go.id/files/payment/demo-gratis/
jp1131 https://login-bobabet.com/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://lms.poltekbangsby.ac.id/pros/hk/
slot gacor https://s2maben.pascasarjana.unri.ac.id/s2-maben/mahademo/ https://survey.radenintan.ac.id/surat/gratis/ https://sipenda.lombokutarakab.go.id/files/payment/demo-gratis/
jp1131 https://login-bobabet.com/ https://sugoi168daftar.com/ https://login-domino76.com/
https://lms.poltekbangsby.ac.id/pros/hk/