Urdu-page-2

ਗਾਵੈ ਕੋ ਵੇਖੈ ਹਾਦਰਾ ਹਦੂਰਿ ॥
گاۄےَکوۄیکھےَہادراہدوُرِ॥
gaavai ko vaykhai haadraa hadoor.
Some sing as they feel His presence.
کوئی حاضر ناظر بتاتا ہے۔

ਕਥਨਾ ਕਥੀ ਨ ਆਵੈ ਤੋਟਿ ॥
کتھناکتھیِنآۄےَتوٹِ॥
kathnaa kathee na aavai tot.
۔ توٹ ، کمی ،۔ کتھ، کہنا
There is no end to describing His virtues.
اس کی کروڑوں کہانیاں اور اس کے متعلق کروڑوں بیان ہیں

ਕਥਿ ਕਥਿ ਕਥੀ ਕੋਟੀ ਕੋਟਿ ਕੋਟਿ ॥
کتھِکتھِکتھیِکوٹیِکوٹِکوٹِ॥
kath kath kathee kotee kot kot.
کوٹ ، کوڑوں
Millions have tried to describe Him numerous number of times (yet the story of His attributes never ends).
کس میں یہ طاقت ہے کہ اُسے بیان کر سکےاور کون کون سے اَؤصاّف ہیں۔ اُسکی قوت بیان کر سکے اور اُسکی عالم کو دینےوالی نعمتیں بتا سکے۔۔

ਦੇਦਾ ਦੇ ਲੈਦੇ ਥਕਿ ਪਾਹਿ ॥
دیدادےلیَدےتھکِپاہِ॥
daydaa day laiday thak paahi.
God keeps on providing for us and we keep on receiving His Gifts until we get tired of receiving. (Depart from this world)
خدا سب نعمتوں سے اِنسان کو سرفراز کر رہا ہے حتیٰ کہ لینے والے تھک جاتے ہیں

ਜੁਗਾ ਜੁਗੰਤਰਿ ਖਾਹੀ ਖਾਹਿ ॥
جُگاجُگنّترِکھاہیِکھاہِ॥
jugaa jugantar khaahee khaahi.
۔ جُگا جکنتر ، ساج ، پیدا کرنا ۔ ، کھہہ خاک پرودت، مٹی
Throughout the ages, we keep consuming His gifts.
مگر وُوہ برابر دے رہا ہے۔۔

ਹੁਕਮੀ ਹੁਕਮੁ ਚਲਾਏ ਰਾਹੁ ॥
ہُکمیِہُکمُچلاۓراہُ॥
hukmee hukam chalaa-ay raahu.
The entire system of the universe is run according to God’s Command.
حاکم کا حُکم جاری ہے

ਨਾਨਕ ਵਿਗਸੈ ਵੇਪਰਵਾਹੁ ॥੩॥
نانکۄِگسےَۄیپرۄاہُ
naanak vigsai vayparvaahu. ||3||
، ۔ وگئے ، خوش ہوتا ہے ۔ ، بے پرواہ ، بیفکر
O’ Nanak, the carefree Almighty always blooms in bliss (while caring for His creation). ||3||
اَور تمام عالم کو رزق دے رہا ہے اِسکے باوجُود وُہ خُوش ہے۔
خلاصہاِنساّن اَپنی عقل و دانش کے جاّب سے اُسکی قوت کا اندازہ کر رہے ہیں تاہم وُہ اعداد و شمار سے بعید ہے۔

Stanza 4
اس پیرا گراف میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا ، نذرانے پیش کرنے سے خوش نہیں ہوتا کیونکہ جو نذرانہ ہم پیش کر رہے ہوتے ہیں وہ دراصل خدا کا ہی دیا ہوا ہوتا ہے۔ وہ صرف اس وقت خوش ہوتا ہے جب ہم اس سے اس کی زبان میں بات کرتے ہیں، اور اس کی زبان محبت ہے، خود اس سے پیار اور اس کی مخلوق سے پیار۔ جو شخص محبت اور عقیدت کے ساتھ اس کے نام پر غور کرتاہے، وہ اس کے فضل حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
In this stanza, it is said that God cannot be pleased by monitory offerings because what we would be offering, has been provided by Him. He can only be pleased by speaking to Him in His language and that language is Love – love for Him and love for His Creation. A person who meditates on His Name with love and devotion, can become worthy of His Grace.

ਸਾਚਾ ਸਾਹਿਬੁ ਸਾਚੁ ਨਾਇ ਭਾਖਿਆ ਭਾਉ ਅਪਾਰੁ ॥
ساچاساہِبُساچُناءِبھاکھِیابھاءُاپار
saachaa saahib saach naa-ay bhaakhi-aa bhaa-o apaar.
ساچا صاحب۔ ہمیشہ رہنے والا،آقا ۔ مالک ،ساچ نائے ۔جو سچا منصف ہے
God is True and Eternal. His Name is also True and language is infinite love.
ُسَچا خداسچامالک سچا منصف جو نہایت خُوش کلام ہے ۔ جو اُلفت بھر ا ہے

ਆਖਹਿ ਮੰਗਹਿ ਦੇਹਿ ਦੇਹਿ ਦਾਤਿ ਕਰੇ ਦਾਤਾਰੁ ॥
آکھہِمنّگہِدیہِدیہِداتِکرےداتار
aakhahi mangahi dayhi dayhi daat karay daataar.
Creation begs for favors and blessings continually and the Great Giver keeps on giving.
ُعالم اس سے مانگتا ہے اور وہ دیتا ہے ۔

ਫੇਰਿ ਕਿ ਅਗੈ ਰਖੀਐ ਜਿਤੁ ਦਿਸੈ ਦਰਬਾਰੁ ॥
پھیرِکِاگےَرکھیِئےَجِتُدِسےَدربارُ॥
fayr ke agai rakhee-ai jit disai darbaar.
To the Supreme Giver of gifts, what can we offer back (out of His gifts) so He blesses us with enlightenment and lets us have a glimpse of His Divine Presence?
تب اُسے اُن نعمتوں کے صلےمیں ہمیشہ اُسے کونسی اور کیا پیش بطور بھنیٹ کرنا چاہیے ۔ جس سے بارگاہ الہٰی کا دیدار حاصل ہو۔

ਮੁਹੌ ਕਿ ਬੋਲਣੁ ਬੋਲੀਐ ਜਿਤੁ ਸੁਣਿ ਧਰੇ ਪਿਆਰੁ ॥
مُہوَکِبولنھُبولیِئےَجِتُسُنھِدھرےپِیارُ॥
muhou ke bolan bolee-ai jit sun Dharay pi-aar.
What words can we speak off to evoke His Love?
اُور زبان سے کونسے اُلفاظ نکالیں۔ جسے سنکر وُہ ہمیں اُپنے محبت و پیار سے نوازے۔ اپنا محبو ب بنائے

ਅੰਮ੍ਰਿਤ ਵੇਲਾ ਸਚੁ ਨਾਉ ਵਡਿਆਈ ਵੀਚਾਰੁ ॥
انّم٘رِتۄیلاسچُناءُۄڈِیائیِۄیِچارُ॥
amrit vaylaa sach naa-o vadi-aa-ee veechaar.
انمرت ویلا ، علے الصبح ، تور کاتڑ کا ۔ جب کر انسانی ذہن ہر قسم کے مفکرات سے آزاد ہوتا ہے ۔۔ سچ ۔ناؤں ۔ خُدا کے سچا نام ۔ وڈیائی ۔ عظمت ۔
At a time when the Ambrosial nectar of Naam is enjoyed (generally before dawn when mind is free from worldly affairs), dwell upon the Eternal Divine.
علے الصبح ، نورئے تڑکے اُسکے سچے انصاف والے اُور اُسکی عظمت وقار پر غور وخوض کریں

ਕਰਮੀ ਆਵੈ ਕਪੜਾ ਨਦਰੀ ਮੋਖੁ ਦੁਆਰੁ ॥
کرمیِآۄےَکپڑاندریِموکھُدُیارُ॥
karmee aavai kaprhaa nadree mokh du-aar.
کرم ۔ عنائیت و شفقت۔ ، کپڑا ، خلعت ، لرؤپا ۔ ندریں ، نظیر عنائیت، موکہہ ، نجات ۔
The human body is obtained as a reward of good deeds done in the past and the liberation from the cycle of birth and death is attained by His Grace.
جس سے اُسکی بخشش سے خلعتیں میسئر ہوں اور نجات کاور یا ر اللہ کا پتہ چلے لائے

ਨਾਨਕ ਏਵੈ ਜਾਣੀਐ ਸਭੁ ਆਪੇ ਸਚਿਆਰੁ ॥੪॥
نانکایۄےَجانھیِئےَسبھُآپےسچِیار
naanak ayvai jaanee-ai sabh aapay sachiaar. ||4||
O’ Nanak, in this way (by dwelling on Him) we realize Him, who is self existent and everlasting. ||4||
نانک اِسطرح سے سمجھ آجاتی ہے کہ وہ سچائی پسند سچا آقا ہر جگہ بستا ہے۔ اُور خود ہی خو ش اِخلا ق ہے۔۔

Stanza 5
اس پیرا گراف میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے دل میں محبت کے ساتھ خدا کو یاد رکھتے ہیں وہ حقیقی معنوں میں اپنی زندگی میں امن اور خوشیاں اور حقیقی احترام حاصل کرتے ہیں۔
In this stanza, it is said that those who remember God with love in their heart, achieve peace and happiness in their lives and receive true honor

ਥਾਪਿਆ ਨ ਜਾਇ ਕੀਤਾ ਨ ਹੋਇ ॥
تھاپِیانجاءِکیِتانہوءِ॥
thaapi-aa na jaa-ay keetaa na ho-ay.
God cannot be established or created.
خدا نہ تو مقدر یا نامزد کیا جاسکتا ہے نہ اسے بنایا پیدا کیا جا سکتا ہے

ਆਪੇ ਆਪਿ ਨਿਰੰਜਨੁ ਸੋਇ ॥
آپےآپِنِرنّجنُسوءِ॥
aapay aap niranjan so-ay.
نرنجن ، بیداغ ۔پاک ۔سوئےوہ
The immaculate God has come into existence by Himself.
وہ بیداغ ؒ پاک اَز خود ہے۔

ਜਿਨਿ ਸੇਵਿਆ ਤਿਨਿ ਪਾਇਆ ਮਾਨੁ ॥
جِنِسیۄِیاتِنِپائِیامانُ॥
jin sayvi-aa tin paa-i-aa maan.
جن سیویا ، جنے خدمت کی ۔برکر خدمت کرو۔تن ، اُسنے ! مان عزت ، وقار، حتمت ۔
Those who meditate on Naam consciously, unconsciously and continuously, get elevated spiritually.
جس نے خدمت کی عزت پائی ۔

ਨਾਨਕ ਗਾਵੀਐ ਗੁਣੀ ਨਿਧਾਨੁ ॥
نانکگاۄیِئےَگُنھیِنِدھانُ॥
naanak gaavee-ai gunee niDhaan.
گنی ندھان ۔ اوصاف کا خزانہ ۔۔
O’ Nanak, let us sing praises of that Treasure of virtues by meditating on Naam.
اے نانک ایسے با اوصاف کی حمد و ثنا ہ کرؤ ۔

ਗਾਵੀਐ ਸੁਣੀਐ ਮਨਿ ਰਖੀਐ ਭਾਉ ॥
گاۄیِئےَسُنھیِئےَمنِرکھیِئےَبھاءُ
gaavee-ai sunee-ai man rakhee-ai bhaa-o.
من۔ دل ۔ذہن ۔بھاؤ ۔ پیار۔محبت ۔
Let us recite Naam with complete devotion and have love for God within.
خدا کی حمد کیجئے اوردل میں پیار کرو۔

ਦੁਖੁ ਪਰਹਰਿ ਸੁਖੁ ਘਰਿ ਲੈ ਜਾਇ ॥
دُکھُپرہرِسُکھُگھرِلےَجاء
dukh parhar sukh ghar lai jaa-ay.
وکہہ پر ہر ۔عنآپ دور کرکے ۔۔ کہہ گھر ۔ سکہہ دیتا ہے ۔
By doing so, one gets rid of all suffering and attains true spiritual peace.
ِتاکہ عذاب مٹا کر تجھے سکھ پہنچائے۔

ਗੁਰਮੁਖਿ ਨਾਦੰ ਗੁਰਮੁਖਿ ਵੇਦੰ ਗੁਰਮੁਖਿ ਰਹਿਆ ਸਮਾਈ ॥
گُرمُکھِنادنّگُرمُکھِۄیدنّگُرمُکھِرہِیاسمائی
gurmukh naadaN gurmukh vaydaN gurmukh rahi-aa samaa-ee.
کرمکھ ۔ فرمانبردار ، مرشد ۔ پیروکار مرشد ۔ مرید ۔نادن گر ۔ آواز ۔ شبد ، کلام ، وبدن گُر ۔ علم ۔
Through the Guru, we hear God’s Word, the eternal song. Through the Guru, we receive divine knowledge and through the Guru, we realize that God is all-pervading.
ِمرید مرشد ہی کلام ہے ۔ مرید مرشد ہی علم ہے ۔ مرید مرشد میں ہے نور خدا ۔

ਗੁਰੁ ਈਸਰੁ ਗੁਰੁ ਗੋਰਖੁ ਬਰਮਾ ਗੁਰੁ ਪਾਰਬਤੀ ਮਾਈ ॥
گُرُایِسرُگُرُگورکھُبرماگُرُپاربتیِمائی
gur eesar gur gorakh barmaa gur paarbatee maa-ee.
There is only one God. For us, God is Shiva, God is Vishnu and God is Parvati and other goddesses.
ِمرشد ہی ہمارے لیےشوجی۔ گورکہہ۔ برہما اور پاربتی ہے۔

ਜੇ ਹਉ ਜਾਣਾ ਆਖਾ ਨਾਹੀ ਕਹਣਾ ਕਥਨੁ ਨ ਜਾਈ ॥
جےہءُجانھاآکھاناہیِکہنھاکتھنُنجائیِ
jay ha-o jaanaa aakhaa naahee kahnaa kathan na jaa-ee.
جے ہوں جانا ۔ آگر میں سمجھ بھی لو ں ۔آکھا نا ہی ۔ بیان نہیں کر سکتا ۔۔ کہنا ۔ بیان ۔ کتھن نہ جائی ۔ بیان نہیں کر سکتا
Even if I get to know God, I cannot describe Him, because He cannot be described by any words.
خواہ میں سمجھ بھی لوں تاہم بھی بیان سے قاصر ہوں

ਗੁਰਾ ਇਕ ਦੇਹਿ ਬੁਝਾਈ ॥
گُرااِکدیہِبُجھائیِ
guraa ik dayhi bujhaa-ee.
بجھائی ۔ سمجھائی ۔۔ بجہارت ۔
O’ My Guru, grant me the wisdom,
مرشد نے ایک بجھارت سمجھائی ہے

ਸਭਨਾ ਜੀਆ ਕਾ ਇਕੁ ਦਾਤਾ ਸੋ ਮੈ ਵਿਸਰਿ ਨ ਜਾਈ ॥੫॥
سبھناجیِیاکااِکُداتاسومےَۄِسرِنجائی
sabhnaa jee-aa kaa ik daataa so mai visar na jaa-ee. ||5||
سبھناں جیاں ۔ سارے جانداروں ۔ ۔داتا ۔رازق ۔
that I never forget God, the sole provider of all beings. ||5||
ِکہ سب کا رازق واحد خُدا ہے ۔۔ میں اُسے نہ بھلاؤں

Stanza 6
اس پیرا گرافمیں کہا گیا ہے کہ مقدس مقامات کی زیاراتخدا کو خوش کرنے کا طریقہ نہیں ہیں۔ جو لوگ اسے پیار اور شوق سے یاد کرتے ہیں وہ اس کا فضل حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
This stanza states that pilgrimage to holy places is not the way to please God.Those who remember Him with love and passion become worthy of His Grace.

ਤੀਰਥਿ ਨਾਵਾ ਜੇ ਤਿਸੁ ਭਾਵਾ ਵਿਣੁ ਭਾਣੇ ਕਿ ਨਾਇ ਕਰੀ ॥
تیِرتھِناۄاجےتِسُبھاۄاۄِنھُبھانھےکِناءِکریِ
tirath naavaa jay tis bhaavaa vin bhaanay ke naa-ay karee.
تیرتھناواں ۔ غُسل زیارت گاہ۔ جے تس بھاواں ، اگر خُدا کا پیارا ہو جاؤں ۔ ۔ بن بھانے بغیر پیارے کے ۔، نائے کری ، اشنان کا کیا مطلب ۔ غُسل کا پیکار ہے ۔
Why take ritualistic baths at holy places, when He is not pleased with it ?
زیارت گاہوں کی زیارت کا مقصد یہی ہے کہ خدا کا پیار حاصل ہو ۔۔ بغیر اُسکے پیار کے حصول کے زیارت بے معنی ہے ۔۔

ਜੇਤੀ ਸਿਰਠਿ ਉਪਾਈ ਵੇਖਾ ਵਿਣੁ ਕਰਮਾ ਕਿ ਮਿਲੈ ਲਈ ॥
جیتیِسِرٹھِاُپائیِۄیکھاۄِنھُکرماکِمِلےَلئی
jaytee sirath upaa-ee vaykhaa vin karmaa ke milai la-ee.
ِجیتی ۔ جتنی ۔۔ سرٹھ ۔ عالم ۔ اُپائی ویکھاں ۔ ساہمنے پیدا کی ہوئی دیکھتے ہیں۔ بن کر ماں بغیر کرم و عنایت ۔ کے ملے لئی ۔ کیا ملا۔۔
When I look back at His creation, I realize that nothing can be obtained without His blessing.
جتنی مخلوقات نظر آرہی ہے اُسکی رحمت ۔کر م و عنایت کے بغیر لا حاصل ہے ۔

ਮਤਿ ਵਿਚਿ ਰਤਨ ਜਵਾਹਰ ਮਾਣਿਕ ਜੇ ਇਕ ਗੁਰ ਕੀ ਸਿਖ ਸੁਣੀ ॥
متِۄِچِرتنجۄاہرمانھِکجےاِکگُرکیِسِکھسُنھی
mat vich ratan javaahar maanik jay ik gur kee sikh sunee.
The mind becomes rich with divine knowledge when one listens to Guru’s teachings even once with deepest love and complete devotion.
ِانسانی ذہن عقل و دانش میں نہایت بیش بہا قیمتی ہیرے جواہرات جیسی سمجھ ہے اگر مرشد کی ایک نصیحت پندوآموزسن لے۔ ان پر عمل پیرا ہو جائے ۔

ਗੁਰਾ ਇਕ ਦੇਹਿ ਬੁਝਾਈ ॥
گُرااِکدیہِبُجھائی
guraa ik dayhi bujhaa-ee.
O’ My Guru, grant me the wisdom,
ِمرشدنے ایک سمجھ عنایت کی ہے

ਸਭਨਾ ਜੀਆ ਕਾ ਇਕੁ ਦਾਤਾ ਸੋ ਮੈ ਵਿਸਰਿ ਨ ਜਾਈ ॥੬॥
سبھناجیِیاکااِکُداتاسومےَۄِسرِنجائی
sabhnaa jee-aa kaa ik daataa so mai visar na jaa-ee. ||6||
That I never forget God, the sole provider of all beings.||6||
ِکہ تمام جانداروں کو رزق دینے والا رازق واحد خدا ہے۔

Stanza 7
اس پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ اگرخداکا فضل حاصل نہ ہولمبی عمر ، دنیاوی شہرت ، پہچان اور طاقت سب فضول ہے۔
This stanza states that long life, worldly fame, recognition, and power are useless if His Grace is not obtained.

ਜੇ ਜੁਗ ਚਾਰੇ ਆਰਜਾ ਹੋਰ ਦਸੂਣੀ ਹੋਇ ॥
جےجُگچارےآرجاہوردسوُنھیِہوءِ
jay jug chaaray aarjaa hor dasoonee ho-ay.
Even if you lived throughout the four ages, or even ten times more,
جگوں اگر چاروں جتنی عمر ہو اَور اگر اس سے بھی زیادہ ہو جائے ۔

ਨਵਾ ਖੰਡਾ ਵਿਚਿ ਜਾਣੀਐ ਨਾਲਿ ਚਲੈ ਸਭੁ ਕੋਇ ॥
نۄاکھنّڈاۄِچِجانھیِئےَنالِچلےَسبھُکوء
navaa khanda vich jaanee-ai naal chalai sabh ko-ay.
and even if you were known throughout the nine continents and were admired by all,
ِاور نو براعظموں میں شہرت حاصل ہو اور پیروکا ر بھی ہوں

ਚੰਗਾ ਨਾਉ ਰਖਾਇ ਕੈ ਜਸੁ ਕੀਰਤਿ ਜਗਿ ਲੇਇ ॥
چنّگاناءُرکھاءِکےَجسُکیِرتِجگِلےءِ
changa naa-o rakhaa-ay kai jas keerat jag lay-ay.
چنگا ناؤں ۔ نیک نام۔ ناموری ، جَسّ ۔ شہرَتّ۔ جَگ ۔ عالم دُنیا
and you earned a good name and reputation, with praise and fame throughout the world,
اگر کسی کی نیک نامی و ناموری بھی ہو اَور دُنیا میں شُہرت حاصل ہو

ਜੇ ਤਿਸੁ ਨਦਰਿ ਨ ਆਵਈ ਤ ਵਾਤ ਨ ਪੁਛੈ ਕੇ ॥
جےتِسُندرِنآۄئیِتۄاتنپُچھےَکے
jay tis nadar na aavee ta vaat na puchhai kay.
۔ نَدرّ۔ نگاّہِ شَفقَتّ ۔بات۔ خَبر ۔ دِھیان
Still, if God did not bless you with His Glance of Grace, you are like someone for whom, nobody cared.
۔ اگر وُہ الہٰی نَظّرِ عنائیت و رَحَمّتمیں نہیں تو وہ اُس اِنسان جیسا ہے۔ جِسکا کوئی خَبر گیر نہیں کسی کے دھیان میں نہیں

ਕੀਟਾ ਅੰਦਰਿ ਕੀਟੁ ਕਰਿ ਦੋਸੀ ਦੋਸੁ ਧਰੇ ॥
کیِٹاانّدرِکیِٹُکرِدوسیِدوسُدھرے
Keettaa Andhar Keett Kar Dhosee Dhos Dhharae ||
۔ کیٹ ۔ کیڑا ۔کیٹاںاندر کیٹ ۔ کیڑوں کے اَندر کیڑا ۔ دوس ۔ اَلزٗام۔
In God’s eyes, spiritually, you would be considered lowly (like a worm) and held in contempt for your deeds.
مراد وہ اتنی عظمت ۔ عزت و حرمت اور ناموری کے باوجود اِلہٰی نظر میں وہ ایک معمولی کیڑے کی مانند ہے اور جو خود گناہگار ہیں وہ بھی اُس پر الزام لگاتے ہیں۔

ਨਾਨਕ ਨਿਰਗੁਣਿ ਗੁਣੁ ਕਰੇ ਗੁਣਵੰਤਿਆ ਗੁਣੁ ਦੇ ॥
نانکنِرگُنھِگُنھُکرےگُنھۄنّتِیاگُنھُدے
Naanak Niragun Gun Karae Gunavanthiaa Gun Dhae ||
نرگن۔ بلا اوصاف ۔ گن ونتیاں ۔ با اوصاف ۔
O’ Nanak, God blesses even such an unworthy being with virtues and bestows more virtues on the virtuous.
اے نانک خدا بے وصف کو وصف عنایت کرتا ہے،

ਤੇਹਾ ਕੋਇ ਨ ਸੁਝਈ ਜਿ ਤਿਸੁ ਗੁਣੁ ਕੋਇ ਕਰੇ ॥੭॥
تیہاکوءِنسُجھئیِجِتِسُگُنھُکوءِکرے
Thaehaa Koe N Sujhee Ji This Gun Koe Karae ||7||
سجھئی۔ سمجھ آنا ۔
There is no one more pious than God. ||7||
ایسا دیگر کوئی سمجھ نہیں آتا جو اسے وصف دے سکتا ہو

Stanza 8
اس پیرا گراف کی ہر لائن لفظ ‘‘ سنیئے ’’ سے شروع ہوتی ہے۔ اس لفظ سنیئےکا مطلب ہے توجہ اور غور اور انہماک کے ساتھ سننااور جو کچھ آپ سن رہے ہیں اسے قبول کرنے میں قطعی طور پر کسی قسم کی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔
Every line in this stanza starts with the word ’Suniae’. This word ‘Suniae’ means listening with complete focus, ultimate devotion and having absolutely no apprehension or reluctance in accepting what you are listening.

ਸੁਣਿਐ ਸਿਧ ਪੀਰ ਸੁਰਿ ਨਾਥ ॥
سُنھِئےَسِدھپیِرسُرِناتھ
suni-ai siDh peer sur naath.
سنیئے۔ سننے سے ۔ سدھ ۔ یوگی ۔ جنہوں نے خدا رسیدی حاصل کر لی ہے
By listening to God’s Divine word with love and devotion, one becomes spiritually elevated like a saint, a religious leader or a great yogi.
الہٰی نام کی سماعت سے ۔انسان خدا رسیدہ ۔پیر ۔ دیوتا ۔ یوگی پاکدامن ہو جاتا ہے۔

ਸੁਣਿਐ ਧਰਤਿ ਧਵਲ ਆਕਾਸ ॥
سُنھِئےَدھرتِدھۄلآکاس
suni-ai Dharat Dhaval aakaas.
By listening to God’s word with love and devotion, one gets to know that He is the one supporting the earth (and not a bull as per the Hindu Scriptures).
سننے سے زمین ۔ فرض منصبی اور آسمان

ਸੁਣਿਐ ਦੀਪ ਲੋਅ ਪਾਤਾਲ ॥
سُنھِئےَدیِپلوءپاتال
suni-ai deep lo-a paataal.
۔ ویپ ۔براعظم۔
By listening to God’s word with love and devotion, one comes to know that God alone is the support of all the continents and the nether regions.
اور پاتال کا پتہ چلتا ہے سمجھ آتی ہے۔سننےسے خلقت اور براعظموں کی سمجھ آتی ہے ۔۔

ਸੁਣਿਐ ਪੋਹਿ ਨ ਸਕੈ ਕਾਲੁ ॥
سُنھِئےَپوہِنسکےَکالُ
suni-ai pohi na sakai kaal.
By listening to God’s word with love and devotion, one escapes from the effect of time and does not get into the cycle of birth and death.
سننے سے موتم کا اثر زائیل ہو جاتا ہے

ਨਾਨਕ ਭਗਤਾ ਸਦਾ ਵਿਗਾਸੁ ॥
نانکبھگتاسداۄِگاسُ
naanak bhagtaa sadaa vigaas.
وگاس ۔ خوشی
O’ Nanak, the devotees of God are forever in the state of joy and bliss.
۔ اے نانک عاشقان الہٰی کے دل میں ہمیشہ خوش و شاد مانی رہتی ہے۔

ਸੁਣਿਐ ਦੂਖ ਪਾਪ ਕਾ ਨਾਸੁ ॥੮॥
سُنھِئےَدوُکھپاپکاناسُ
suni-ai dookh paap kaa naas. ||8||
By listening to God’s word with love and devotion, all pains, sorrows and sins are erased. ||8||
اور اللہ نام سننے سے عذاب مٹ جاتے ہیں

Stanza 9
اس پیرا گراف کی ہر لائن لفظ ‘‘ سنیئے ’’ سے شروع ہوتی ہے۔ اس لفظ سنیئےکا مطلب ہے توجہ اور غور اور انہماک کے ساتھ سننااور جو کچھ آپ سن رہے ہیں اسے قبول کرنے میں قطعی طور پر کسی قسم کی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔
Every line in this stanza starts with the word ’Suniae’. This word ‘Suniae’ means listening with complete focus, ultimate devotion and having absolutely no apprehension or reluctance in accepting what you are listening.

ਸੁਣਿਐ ਈਸਰੁ ਬਰਮਾ ਇੰਦੁ ॥
سُنھِئےَایِسرُبرمااِنّدُ॥
suni-ai eesar barmaa ind.
ایسر ۔ شیو۔ اند۔ مکہہ ۔ منیہ ۔
By listening attentively to God’s word with love and devotion, one obtains Godly qualities (reference to the Hindu mythological gods Shiva, Brahma and Indra implies Godly qualities).
نام الہٰی سننے سے انسان شیو جی ، برہما ۔ اندر دیوتا ۔ جسا رتبہ پاتا ہے۔

ਸੁਣਿਐਮੁਖਿਸਾਲਾਹਣਮੰਦੁ॥
سُنھِئےَمُکھِسالاہنھمنّدُ॥
suni-ai mukh saalaahan mand.
مند ۔ بُرے ۔
By listening to God’s word with love and devotion, negative energy gets dissipated and one starts singing the praises of God.
(نام الہی) سننے سے برا آدمی بھی حمد و ثنا کرنے لگ جاتا ہے۔

ਸੁਣਿਐ ਜੋਗ ਜੁਗਤਿ ਤਨਿ ਭੇਦ ॥
سُنھِئےَجوگجُگتِتنِبھید॥
suni-ai jog jugat tan bhayd.
جوگ جگت ۔ یوگ کے طریقے
By listening to God’s word with love and devotion, one is able to know how the senses of the human body (eyes, ears, speech etc.) work and by using them in the right way, learn the art of unifying with God.
نام الہی سننے سے الہی ملاپ کے راز کا پتہ چلتا ہے اور جسمانی رازوں کی سمجھ آتی ہے ۔

ਸੁਣਿਐ ਸਾਸਤ ਸਿਮ੍ਰਿਤਿ ਵੇਦ ॥
سُنھِئےَساستسِم٘رِتِۄید॥
suni-ai saasat simrit vayd.
By listening to God’s word with love and devotion, one attains spiritual knowledge. (reference to the Hindu Scriptures – Shastras, Simrities and Vedas implies spiritual knowledge)
سننے سے شاشتروں سمرئیوئی اور دیدوں کے راز کا پتہ چلتا ہے

ਨਾਨਕ ਭਗਤਾ ਸਦਾ ਵਿਗਾਸੁ ॥
نانکبھگتاسداۄِگاسُ॥
naanak bhagtaa sadaa vigaas.
O’ Nanak, the devotees of God are forever in the state of joy and bliss.
اے نانک عاشقان الہی کے دل میں ہمیشہ خوشیاں اور شادمانیاں ہیں ۔