Urdu-page-1

ੴ ਸਤਿ ਨਾਮੁ ਕਰਤਾ ਪੁਰਖੁ ਨਿਰਭਉ ਨਿਰਵੈਰੁ ਅਕਾਲ ਮੂਰਤਿ ਅਜੂਨੀ ਸੈਭੰ ਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥
ستِنامُکرتاپُرکھُنِربھءُنِرۄیَرُاکالموُرتِاجوُنیِسیَبھنّگُرپ٘رسادِ॥
ik-oNkaar sat naam kartaa purakh nirbha-o nirvair akaal moorat ajoonee saibhaN gur parsaad.
There is one Eternal Universal God. His name is ‘Of Eternal Existence’. He is the creator of everything and is all-pervading. He is not afraid of anybody or anything. (Nobody is more powerful than Him). He does not discriminate against anybody. His existence is not affected by time. He is beyond the cycle of birth and death. He is self-illuminated and is self-existent. He can be realized only by Guru’s Grace.
ایک عمودی حقیقت تمام تخلیقات میں ظاہر ہےاسکا نام ابدی سچائی ہے ۔ وہ کارساز ۔ عالم کو وجود میں لانیوالا۔بیخوف۔ بلادشمنی اوربلا دشمن۔ وقت سے مبرا۔ پیدائشیا انسانی خصوصیات میں نہیں۔خود ساختہ ۔ کسی سے بنا نہیں رحمت مرشد سے اسکی سمجھ آتی ہے

॥ ਜਪੁ ॥
॥جپُ॥
jap.
Chant And Meditate:
لیکن معنی۔ اسےشناخت کر اور یاد کر۔

ਆਦਿ ਸਚੁ ਜੁਗਾਦਿ ਸਚੁ ॥
آدِسچُجُگادِسچُ
aad sach jugaad sach.
آد۔ عالم کے وجود سے پہلے ، جگاد۔ دوران زماں۔
He has existed from the beginning (from before time) and since the beginning of the ages.
خدا روز اول سے ہے دوران زمانہ ॥

ਹੈ ਭੀ ਸਚੁ ਨਾਨਕ ਹੋਸੀ ਭੀ ਸਚੁ ॥੧॥
ہےَبھیِسچُنانکہوسیِبھیِسچُ
hai bhee sach naanak hosee bhee sach. ||1||
ہے بھی سچ۔ آج ۔ زمانہ ۔ حال ۔ ہوسی۔ آئندہ بھی ۔ آنے والے زمانے میں بھی
He is True in the present (does exist now). O’ Nanak, He will also be True (exist) in the future. ||1||
غرض یہ کہ ماضی ، حال ، مستقبل زمانے کے ہر دور میں سچا اور باوجود ہے ۔

Stanza 1
سب سے پہلے یہ قول ان مختلف طریقوں کے بارے میں ہے جو اس وقت زندگی کے مقصد یعنی خدا تعالی سے اتحاد کے حصول کے لئے اختیار کئے جاتے تھے۔ تب یہ واضح ہوتا ہے کہ خدا کے اتحاد کے لئے گرو کا طریقہ مکمل طور پر خدا کی مرضی کو قبول کرنا اور اس کا احترام کرنا ہے۔
This stanza at first, relates to the various methods that were in use at the time, aiming to accomplish the life’s goal of achieving union with God. Then it declares that the Guru’s method to achieve the union is of honoring and accepting God’s Will in totality.

ਸੋਚੈ ਸੋਚਿ ਨ ਹੋਵਈ ਜੇ ਸੋਚੀ ਲਖ ਵਾਰ ॥
سوچےَسوچِنہوۄئیِجےسوچیِلکھۄار
sochai soch na hova-ee jay sochee lakh vaar.
سوچَےسوچ ، صِرف پاکیزگی کا خِیال رکھنے سے خو آہ اِسکا کتِنا خیال کیا جائے مَن پاک نہیں ہو سکتا بیروُنی پاکیزگی سے
External cleansing (Bathing at places of pilgrimage) does not achieve purity of mind even if one does such cleansing millions of times.
صِرف سوچنے ، خِیال آرّائی سے ہی اِنساّن پاکیزہنہیں ہو سَکتا ۔ اِخلاقی پاکیزگی نَہیںّ آسکتی ۔ ، اُسکے ذِہن میں اَور خیالات نہیں پاکیزگی نہیں ہو سکتینہ زِندگی کے مَقصدّ اَور حَقیقَت کو سَمجھَا جا سَکتا ہے

ਚੁਪੈ ਚੁਪ ਨ ਹੋਵਈ ਜੇ ਲਾਇ ਰਹਾ ਲਿਵ ਤਾਰ ॥
چُپےَچُپنہوۄئیِجےلاءِرہالِۄتار
chupai chup na hova-ee jay laa-ay rahaa liv taar.
لِو تار ، دِھیان کی یا من کی سوئی
Mind does not stop wandering by staying silent even by constant (ritualistic) meditation.
۔ چُپ رہنے سے خاموشی اِختیار کرَنے سے سکون ، قَلبّ ، رُوحانی سکون نہیںمل سکتا ۔ خواہ اپنا دھیان کیوں نہ جاذب مجذوب کر نہیں

ਭੁਖਿਆ ਭੁਖ ਨ ਉਤਰੀ ਜੇ ਬੰਨਾ ਪੁਰੀਆ ਭਾਰ ॥
بھُکھِیابھُکھناُتریِجےبنّناپُریِیابھار
bhukhi-aa bhukh na utree jay bannaa puree-aa bhaar.
Even if one piles up material possessions of all the planets, the greed of the mind is not appeased.
۔ بھوُکو ں کی بھوُک ختم نہیں ہوتی ۔ خواہ اُسے تَمام عالَم کی دَؤلَت ، نِعمَتوں اَور لوازماتّ ۔ زندگی حاصِلّ نہ ہو جائیں اسکی رُوحانی بھوک خَتم نہ ہو گی

ਸਹਸ ਸਿਆਣਪਾ ਲਖ ਹੋਹਿ ਤ ਇਕ ਨ ਚਲੈ ਨਾਲਿ ॥
سہسسِیانھپالکھہوہِتاِکنچلےَنالِ
sahas si-aanpaa lakh hohi ta ik na chalai naal.
سہَس سیانپاں ۔ ہزاروں دانِشمندیوں کے باوجُود
One may possess all the wisdom but in the end, it will be of no avail.
انسان خواہ کتنا ہی دانشمند اور عاقل کیوں نہ ہو بوقت آخرت بارگاہ الہی میں کوئی کام نہ آئے گی ساتھ نہ دے گی۔

ਕਿਵ ਸਚਿਆਰਾ ਹੋਈਐ ਕਿਵ ਕੂੜੈ ਤੁਟੈ ਪਾਲਿ ॥
کِۄسچِیاراہوئیِئےَکِۄکوُڑےَتُٹےَپالِ
kiv sachi-aaraa ho-ee-ai kiv koorhai tutai paal.
کوسَچیاراں ، سَچّے اِخلاّق والا ۔ پال۔ دیوار
Then, how can one achieve eternal bliss and how can the erroneous belief system be shattered?
تب وہ کوئی ذریعہ ہے جس سے انسان بااخلاق ہو سکے انسان کے پاس کوئی وسیلہ ہے جس سےدیوارکفر کو ٹوٹے؟

ਹੁਕਮਿ ਰਜਾਈ ਚਲਣਾ ਨਾਨਕ ਲਿਖਿਆ ਨਾਲਿ ॥੧॥
ہُکمِرجائیِچلنھانانکلِکھِیانالِ
hukam rajaa-ee chalnaa naanak likhi-aa naal. ||1||
پردَہ ، حُکم ۔فَرمان ، رَضاّ ، مرَضّی کے مُطابق
O’ Nanak, this veil of falsehood can be removed only by living according to God’s Command as has been willed for you by Him. ||1|
اے نانک ، باطل کا یہ پردہ صرف خدا کے حکم کے مطابق زندگی گزار کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اس کے ذریعہ آپ کے لئے خواہش کی گئی ہے۔

Stanza 2
اس پیراگراف میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سب کچھ اس (خدا) کی مرضی کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جب ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہو جاتا ہے اور ہم اس کو قبول کر لیتے ہیں تو انا جو تمام برائیوں کی جڑ ہے ، ختم ہو جاتی ہے۔
This stanza states that everything happens according to His Will. As we honor and accept this fact, ego, the root cause of all suffering vanishes.

ਹੁਕਮੀ ਹੋਵਨਿ ਆਕਾਰ ਹੁਕਮੁ ਨ ਕਹਿਆ ਜਾਈ ॥
ہُکمیِہوۄنِآکارہُکمُنکہِیاجائیِ॥
hukmee hovan aakaar hukam na kahi-aa jaa-ee.
آکار۔ شکل ۔ وَجُود پھیلاو
Everything takes its form by God’s Will but His Will cannot be stated.
الہّٰی حکم و فَرمان سے یہ عالم وَجوُد میں آیا ہے جو بیان نہیں ہو سکتا ۔

ਹੁਕਮੀ ਹੋਵਨਿ ਜੀਅ ਹੁਕਮਿ ਮਿਲੈ ਵਡਿਆਈ ॥
ہُکمیِہوۄنِجیِءہُکمِمِلےَۄڈِیائیِ॥
hukmee hovan jee-a hukam milai vadi-aa-ee.
و دیائی عَظمَتّ
All souls are created by His Will. All glory and greatness is also obtained by His Will.
الہّٰی حُکم سے ہی جاندار پیدا ہوتے ہیں اور فّرمان اِلہٰی سے ہی عَظمتّ بزرگی و برتری ملتی ہے

ਹੁਕਮੀ ਉਤਮੁ ਨੀਚੁ ਹੁਕਮਿ ਲਿਖਿ ਦੁਖ ਸੁਖ ਪਾਈਅਹਿ ॥
ہُکمیِاُتمُنیِچُہُکمِلِکھِدُکھسُکھپائیِئہِ॥
hukmee utam neech hukam likh dukh sukh paa-ee-ah.
اُتمّ باوقاّر ۔باعِزّت ۔
Some are virtuous and some wicked, all by His Will. Pain or pleasure is also received as per His Will. (based on previous deeds)
۔ الہٰی حکم سے کوئی بَلند رُتبہ اَور گھَٹیاّ اَور کمینہ ہوتا ہےاَور عَذاب و آرام و آسائشِ پاتے ہیں

ਇਕਨਾ ਹੁਕਮੀ ਬਖਸੀਸ ਇਕਿ ਹੁਕਮੀ ਸਦਾ ਭਵਾਈਅਹਿ ॥
اِکناہُکمیِبکھسیِساِکِہُکمیِسدابھۄائیِئہِ॥
iknaa hukmee bakhsees ik hukmee sadaa bhavaa-ee-ah.
بھَوّ پیئے بھٹکتے نہیں
By His Will, some are blessed and brought under His grace; while others go astray.
۔ ایک بخششوں اور نعمتوں سے نوازا جاتا ہے جب کہ دوسرا بھٹکتا پھرتا ہے

ਹੁਕਮੈ ਅੰਦਰਿ ਸਭੁ ਕੋ ਬਾਹਰਿ ਹੁਕਮ ਨ ਕੋਇ ॥
ہُکمےَانّدرِسبھُکوباہرِہُکمنکوءِ॥
hukmai andar sabh ko baahar hukam na ko-ay.
Everybody is subject to His Will; Nobody can escape it.
سارے اور سالم زیر الہٰی فرمان ہے اُسکے فرمان سے کوئی باہر نہیں ہے

ਨਾਨਕ ਹੁਕਮੈ ਜੇ ਬੁਝੈ ਤ ਹਉਮੈ ਕਹੈ ਨ ਕੋਇ ॥੨॥
نانکہُکمےَجےبُجھےَتہئُمےَکہےَنکوءِ॥੨॥
naanak hukmai jay bujhai ta ha-umai kahai na ko-ay. ||2||
اُسکے فرمان کو سمجھ لیا تو وہ خودی اور خؤیش پروری چھوڑ دیتا ہے نانک ۔ (2)
O’ Nanak, one who comprehends His Will, will not behave egotistically.
خلاصہحکم الہٰی سے انسان پیدا ہوکر عرصہ حیات بچپن سے موت تک پیدا ہوکر فرمان ِالہٰی میں رہتا ہے۔ (2)

Stanza 3
جو لوگ خدا سے محبت رکھتے ہیں وہ اس کی مختلف خوبیوں کو مکمل کرتے ہوئے اس کی طعریف کرتے ہیں ۔ لیکن کیونکہ اس کی خصوصیات اور خوبیاں لامحدود ہیں اور انسانی سوچ سے بالاتر ہیں اس لئے کوئی بھی حقیقی معنوں میں اس کی تعریف نہیں کر سکتا۔
Those who love God, praise Him by complementing His various qualities. But His virtues being endless and beyond human comprehension, nobody can praise Him entirely.

ਗਾਵੈ ਕੋ ਤਾਣੁ ਹੋਵੈ ਕਿਸੈ ਤਾਣੁ ॥
گاۄےَکوتانھُہوۄےَکِسےَتانھُ॥
gaavai ko taan hovai kisai taan.
تان ، طاقت
Only the one blessed with Godly spiritual powers can truly praise the supremacy of the Almighty.
خدائی روحانی طاقتوں سے نوازا ہوا شخص ہی دراصل اللہ تعالیٰ کی بالادستی کی تعریف کرسکتا ہے۔

ਗਾਵੈ ਕੋ ਦਾਤਿ ਜਾਣੈ ਨੀਸਾਣੁ ॥
گاۄےَکوداتِجانھےَنیِسانھُ॥
gaavai ko daat jaanai neesaan.
۔ دات ۔ بخشش ۔، نیسانھ ۔ منزل
Some sing of his Glory through Gifts received and recognize them as a sign of His grace.
کچھ لوگ اس کی طاقت کو گاتے ہیں کچھ لوگ اس کے تحفے اور اس کے تحائف کے تجربے کو اس کی علامت اور اشارہ سمجھتے ہیں.

ਗਾਵੈ ਕੋ ਗੁਣ ਵਡਿਆਈਆ ਚਾਰ ॥
گاۄےَکوگُنھۄڈِیائیِیاچار॥
gaavai ko gun vadi-aa-ee-aa chaar.
Some sing of His greatness and His noble virtues.
کچھ اس کی بڑائی اور اس کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

ਗਾਵੈ ਕੋ ਵਿਦਿਆ ਵਿਖਮੁ ਵੀਚਾਰੁ ॥
گاۄےَکوۄِدِیاۄِکھمُۄیِچارُ॥
gaavai ko vidi-aa vikham veechaar.
وکھتم ، سخت
Some sing of Him after realizing Him through difficult philosophical studies.
کچھ لوگ مشکل فلسفیانہ مطالعات کے ذریعے سےحاصل کردہ علم کو گاتے ہیں.

ਗਾਵੈ ਕੋ ਸਾਜਿ ਕਰੇ ਤਨੁ ਖੇਹ ॥
گاۄےَکوساجِکرےتنُکھیہ॥
gaavai ko saaj karay tan khayh.
Some sing of His power to create and destroy.
کوئی کہتا ہے کہ خدا پیدا کرکے مٹاتا ہے.

ਗਾਵੈ ਕੋ ਜੀਅ ਲੈ ਫਿਰਿ ਦੇਹ ॥
گاۄےَکوجیِءلےَپھِرِدیہ॥
gaavai ko jee-a lai fir dayh.
Some sing that He takes life away and then restores it.
کوئی کہتا ہے کہ خدامٹا کے دوبارہ پیدا کر دیتا ہے

ਗਾਵੈ ਕੋ ਜਾਪੈ ਦਿਸੈ ਦੂਰਿ ॥
گاۄےَکوجاپےَدِسےَدوُرِ॥
gaavai ko jaapai disai door.
Some sing that He appears far away.
کوئی اسے دور بتاتا ہے ۔