Urdu-page-8

ਸਰਮ ਖੰਡ ਕੀ ਬਾਣੀ ਰੂਪੁ ॥
سرمکھنّڈکیِبانھیِروُپُ
saramkhand kee banee roop.
سرم ۔ جہدوریاضت ۔ بانی رُوپ۔ خوش بیانی ۔ بانی ۔ شبد کلام ۔رُوپ ۔ خوبصورت
Saram Khand is the stage of hard work to beautify and uplift the soul.
سرم کی منزل ہے جُہد وریاضت کی منزل جس میں ہے سُنّدر کلام

ਤਿਥੈ ਘਾੜਤਿ ਘੜੀਐ ਬਹੁਤੁ ਅਨੂਪੁ ॥
تِتھےَگھاڑتِگھڑیِئےَبہُتُانوُپُ
tithaighaarhatgharhee-ai bahut anoop.
۔ گھاڑت ۔ بیونت ۔منصوبہ ۔گھڑیئے ۔ بتاتے جاتے ہیں ۔گھارٹ گھڑیئے ۔ منصوبہ بندی۔ انوپ ۔ نہایت خوبصورت ۔
Here an enlightened mind of incomparable beauty is fashioned. (by meditative remembrance of Naam with love and devotion)
اسمیں نہایت خُوبصُورت منصوبے بناّئے جاتے ہیں۔

ਤਾ ਕੀਆ ਗਲਾ ਕਥੀਆ ਨਾ ਜਾਹਿ ॥ ਜੇ ਕੋ ਕਹੈ ਪਿਛੈ ਪਛੁਤਾਇ ॥
تاکیِیاگلاکتھیِیاناجاہِ جےکوکہےَپِچھےَپچھُتاءِ
taa kee-aa galaa kathee-aa naa jaahi. jay ko kahai pichhai pachhutaa-ay.
تاکیا۔ اُس منزل کی ۔ گلا ۔ ذکرّ۔ کھتیا نہ جاہے ۔ بیان نہیں ہوسکتیں ۔ جے کوکہے ۔ اگر کوئی کہتا ۔ پچھے پچھتائے ۔ آخر پچھتاتا ہے ۔
The state of such an enlightened mind is beyond description and if
one tried to describe, would fail and regret the attempt.
اِس منزل کی باتیں کہنے میں کب آتی ہیں اگر ذکر کوئی کرَتا ہے تو آخر کو پچھتاتا ہے

ਤਿਥੈ ਘੜੀਐ ਸੁਰਤਿ ਮਤਿ ਮਨਿ ਬੁਧਿ ॥
تِتھےَگھڑیِئےَسُرتِمتِمنِبُدھِ
tithaigharhee-ai surat mat man buDh.
تتھے ۔ اس منزلیں ۔ گھڑیئے ۔ سنواری ۔ سدھار کیا جاتا ہے ۔ سُرت ۔ ہوش ۔مت ۔ عقل ۔ من ۔قلب ۔ بدھ ۔نیک وبدکی تمیر کرنکی قوت
The intuitive consciousness, intellect, and understanding of the mind are shaped here.
اس منزلیں ۔ ہوش و عقل ۔ من و بدُھی کی شکل وصورت سنواری وبنائی جاتی ہے

ਤਿਥੈ ਘੜੀਐ ਸੁਰਾ ਸਿਧਾ ਕੀ ਸੁਧਿ ॥੩੬॥
تِتھےَگھڑیِئےَسُراسِدھاکیِسُدھِ
tithaigharhee-ai suraa siDhaa kee suDh. ||36||
۔ سُرا ۔ فرشتے دیوتے ۔ سدھا ۔ خدارسیدہ ۔ سُدھ ۔ عقل و ہوش
The consciousness of the spiritual warriors and the accomplished ones –
the beings of spiritual perfection are shaped here. ||36||
۔یہاں تو فرشتوں۔ دیوتاؤں اور خدا رسیدوں ۔ و لیوںکی بھی عقل سنواری جاتی ہے ۔

Stanza 37
گرو نانک نے اس پیرا میں چوتھے مرحلے کو ، جو کرم کھنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے ، بیان کیا ہے۔ خدا کے ساتھ اتحاد کا مرحلہ۔
In this stanza, Guru Nanak describes the fourth stage, known as Karam Khand – the stage of Divine Grace and the final stage or experience of Sach Khand – the stage of union with God.

کرم کھنڈ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مکمل طور پر برکت پانے کا مرحلہ ہے۔ روحانی طور پرآپ اتنے مضبوط ہو جاتے ہیں کہ دنیاوی خواہشات اور لگاؤ اب آپ کو متاثر نہیں کر پاتے۔ انسان مکمل طور پر خدا کے نام میں غرق ہو جاتا ہے اور ابدی خوشی اور مسرت کا تجربہ کرتا ہے۔
Karam Khand is the stage of being completely blessed with the Grace of the Almighty. Spiritually, you become so profound that the worldly desires and attachments do not affect you anymore. One is totally immersed in God’s Name and experiences eternal joy and bliss.

سچ کھنڈ آخری مرحلہ ہے اور یہ خدا کے ساتھ اتحاد کا مرحلہ ہے۔ حقیقت کے اس دائرے میں عقیدت مند کو احساس ہوتا ہے کہبغیر ظاہری شکل والا اللہ دل میں بسا ہوا ہے۔
Sach khand is the final stage and it is the stage of union with God. In this realm of Truth, the devotee realizes that the formless Almighty is abiding in the heart.

یہاں انسان کو پورا یقین ہو جاتا ہےکہ ساری کائنات خدا کے حکم کے مطابق کام کر رہی ہے اور یہ کہ خدا ہر طرف پھیل رہا ہے اور ہر ایک کو اس کا فضل عطا کیا جارہا ہے۔ گرو نانک کہتے ہیں کہ یہ مرحلہ اس قدر بلند ہے کہ یہ بیان سے بالاتر ہے۔ یہ صرف تجربہ کیا جاسکتا ہے۔
Here, a person knows with full belief that the whole Universe is functioning under God’s command, that God is all-pervading and His Grace is being bestowed on everyone. Guru Nanak says that this stage is so elevated that it is beyond description; it can only be experienced.

ਕਰਮ ਖੰਡ ਕੀ ਬਾਣੀ ਜੋਰੁ ॥
کرمکھنّڈکیِبانھیِجورُ
karamkhand kee banee jor.
کرم ۔ بخشش ۔ بانی ۔بناوَٹ۔ جور ۔ زور ۔ طاقت ۔ قوت
Spiritual power is the attribute of the stage of Divine Grace (Karam Khand).
In this stage, a person is blessed with God’s Grace and spiritually becomes so powerful that the worldly evils or ‘Maya’ cannot affect him anymore.
الہّٰی بخشش کی منزل وُہ مَنزل ہے جہاں ہر بات قوت سے چلتی ہے

ਤਿਥੈ ਹੋਰੁ ਨ ਕੋਈ ਹੋਰੁ ॥
تِتھےَہورُنکوئیِہورُ
tithai hor na ko-ee hor.
۔ ہور ۔خدا کے علاوہ ۔دوسرا جو دھ ۔ جو دھے ۔ بہادر۔ مہاں بل۔ بھاری طاقت والے ۔ سُور ۔جنگجو ۔ تن مینہ ۔ اُنہیں ۔ رام ۔ خدا ۔ بھر پور ۔ مکمل طو ر پر ۔
In that dimension of spirituality, no one else dwells there (except those who have reached there by becoming worthy of His Grace).
۔ وہاں خدا کے سوا کسی دُوسری طاقت کا کوئی دَخل نہیں رَہتا کیونکہ اِس منزلیں دنیاوی دولت اَور کرامت اَثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

ਤਿਥੈ ਜੋਧ ਮਹਾਬਲ ਸੂਰ ॥
تِتھےَجودھمہابلسوُر
tithai joDh mahaabal soor.
Only the brave and powerful spiritual warriors reach this stage, who have conquered the temptations of worldly evils (desire, anger, greed, emotional attachments, ego etc.).
اِس مَنزل میں شہ زور ۔ دتی ۔ اَور منصُور ہی پہنچ سکتے ہیں

ਤਿਨ ਮਹਿ ਰਾਮੁ ਰਹਿਆ ਭਰਪੂਰ ॥
تِنمہِرامُرہِیابھرپوُر
tin meh raam rahi-aa bharpoor.
They are totally imbued with the Essence of God.
جنہیں خدا نے طاقت عنایت فرمائی ہے۔ دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔

ਤਿਥੈ ਸੀਤੋ ਸੀਤਾ ਮਹਿਮਾ ਮਾਹਿ ॥
تِتھےَسیِتوسیِتامہِماماہِ
tithai seeto seetaa mahimaa maahi.
سیتوسیتا۔ جنکے دلمیں نام الہّٰی مکمل طور پر بسا ہوا ہے ۔مہما ماہے۔ الہّٰی صفت صلاح و عظمت ۔ الہّٰی سچےطور پر بسی ہوئی ہے
They remain completely absorbed in God’s praises.
جس پر الہّٰی کرم عنایت ہے جنکو یہ منزل نصیب ہو گئی ہے جو اِس منزل تک جا پہنچے

ਤਾ ਕੇ ਰੂਪ ਨ ਕਥਨੇ ਜਾਹਿ ॥
تاکےروُپنکتھنےجاہِ
taa kay roop na kathnay jaahi.
۔ تاکے روپ ۔ اُنکی خوبصورتی۔ نہ کتھنے جاہے۔ بیان سے باہر ہے ۔وہ اَور وہ مکمل طور پر آراستہ و زیبائش کی ہوئی ہے
Their spiritual enlightenment cannot be described.
وُہ ہر زینت و زیبائش سے آراستہ ہوجاتے ہیں

ਨਾ ਓਹਿ ਮਰਹਿ ਨ ਠਾਗੇ ਜਾਹਿ ॥
نااوہِمرہِنٹھاگےجاہِ
naa ohi mareh na thaagay jaahi.
۔ نہ مرپہہ ۔ مُراد اُنکی رُوحانی موت نہیں ہو سکتی ۔ نہ ٹھاگے جاہے ۔ نہ اُنہی کو دھوکا دے سکتا ہے ۔
They are immune from spiritual death and worldly evils cannot overpower them.
اَور روحانی موت نہیں ہوتی اَور اُنہیں کوئی دھوکا نہیں دے سکتا ۔

ਜਿਨ ਕੈ ਰਾਮੁ ਵਸੈ ਮਨ ਮਾਹਿ ॥
جِنکےَرامُۄسےَمنماہِ
jin kai raam vasai man maahi.
Within those minds, abides God.
اُسکے دل میں الہّٰی عظمت اَور صفت صلاح اُنکے ذَرہ ذرّہ میں بَس جاتی ہے

ਤਿਥੈ ਭਗਤ ਵਸਹਿ ਕੇ ਲੋਅ ॥
تِتھےَبھگتۄسہِکےلوء
tithaibhagat vaseh kay lo-a.
وسہہ ۔ بستے نہیں ۔ لوئے ۔ لوگ ۔ کے لؤ سارے عالم کی
The devotees of many worlds reach this stage and dwell there.

ਕਰਹਿ ਅਨੰਦੁ ਸਚਾ ਮਨਿ ਸੋਇ ॥
کرہِاننّدُسچامنِسوءِ
karahi anand sachaa man so-ay.
۔ کریہہ انند ۔ شاد ۔ پُرسکون خوش و خُرم ۔
They experience eternal joy as the realization of God’s
presence is always there in their hearts.
خدا کے ادراک کے طور پر ان کو دائمی مسرت کا سامنا ہے

ਸਚ ਖੰਡਿ ਵਸੈ ਨਿਰੰਕਾਰੁ ॥
سچکھنّڈِۄسےَنِرنّکارُ
sachkhand vasai nirankaar.
سچ کھنڈ ۔ سچی منزل ۔نرنکار پاک خدا جسکی کوئی بناوٹ و شکل و صورت ہیں
This is a stage of merger with God. In this realm of Truth,
the formless Almighty abides in the heart of the devotee.
یہ منزل وُہ مَنزل ہے جس میں اِنساّن کسی خُدا سے یکسوئی ہو جاتی ہے ۔نور انسانی اَور نور الہّٰی یکجا ہو جاتا ہے ۔بھید مٹ جاتا ہے۔۔ اِسی مَنزل میں خُدا خود بَستا ہے۔

ਕਰਿ ਕਰਿ ਵੇਖੈ ਨਦਰਿ ਨਿਹਾਲ ॥
کرِکرِۄیکھےَندرِنِہال
kar kar vaykhai nadar nihaal.
۔ کر کر ویکھے ندرنہال ۔ خود پیدا کرکے خود ہی نگہبانی کرتا ہے۔ نظر عنایت ورحمت سے خوشحال بَناتا ہے۔۔
Having created, the merciful God bestows His blissful Glance on His creation.
خود ہی بَناتا ۔نگہبانی کرَتا ہے اَور ر۔حمَتوں سے خُوشحال کرَتا ہے۔

ਤਿਥੈ ਖੰਡ ਮੰਡਲ ਵਰਭੰਡ ॥ ਜੇ ਕੋ ਕਥੈ ਤ ਅੰਤ ਨ ਅੰਤ ॥
تِتھےَکھنّڈمنّڈلۄربھنّڈجےکوکتھےَتانّتنانّت
tithaikhand mandal varbhand. jay ko kathai ta ant na ant.
وربھنڈ ۔ عالم ۔ دُنیا میں ۔ انت نہ ۔ اُنت ۔ بیشمار۔
In this stage, the devotee gets to know the endless planets, endless solar systems and endless galaxies. He realizes how limitless God’s creation is.
اِس سَچ کی منَزل میں بشمار خِطے منڈل ۔ اور جَہاں اَور بھی ہیں اگر کوئی بیان کرے تو شمار نہیں ہو سکتا

ਤਿਥੈ ਲੋਅ ਲੋਅ ਆਕਾਰ ॥
تِتھےَلوءلوءآکار
tithai lo-a lo-a aakaar.
لؤلؤ آکار ۔کتنے ہی لوگ کتنی ہی دُنیا ہیں۔
In this stage, one realizes that His Creation consists of worlds beyond worlds.
۔کتنے ہی لوگ کتنی ہی دنیائیں ہیں۔

ਜਿਵ ਜਿਵ ਹੁਕਮੁ ਤਿਵੈ ਤਿਵ ਕਾਰ ॥
جِۄجِۄہُکمُتِۄےَتِۄکار
jiv jiv hukam tivai tiv kaar.
One realizes that everything functions as He commands.
جَیسا ہے فَرمان الہّٰی ویسی وُہ کرتے ہیں ۔

ਵੇਖੈ ਵਿਗਸੈ ਕਰਿ ਵੀਚਾਰੁ ॥
ۄیکھےَۄِگسےَکرِۄیِچارُ
vaykhai vigsai kar veechaar.
وگسے ۔ خوش ہوتا ہے
One realizes that God takes care of His creation and derives pleasure out of it.
۔ نگہبانی کرتا ہے اَور خوش ہوتا ہے۔

ਨਾਨਕ ਕਥਨਾ ਕਰੜਾ ਸਾਰੁ ॥੩੭॥
نانککتھناکرڑاسارُ
naanak kathnaa karrhaa saar. ||37||
کرڑاسار سخت لوہا ۔
O’ Nanak, it is impossible to describe this stage; it can only be experienced. ||37||
سمجھتا ہے۔ اے نانک اُسے بَیان کرنا لوہا چَبانا ہے۔

Stanza 38
پچھلے چارپیروں میں روحانی نشوونما کے مراحل کی وضاحت کیہے۔ یہ پیرا ان تمام کا خلاصہ بیان کرتا ہے کہ خدا کےساتھ اتحاد کیسے حاصل کیا جائے۔
The previous four stanzas explained the stages of spiritual development. This stanza sums it all up and by the use of a metaphor, shows how to achieve union with God.
یہاں مقصد سمجھانے کے لئے سنار کی ایک خوبصورت مثال استعمال ہوئی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سنار کٹھالی کے نیچے آگ بھڑکاتے ہوئے سونے کو گرم کرتا ہے ، آگ کو تیز کرنے کے لئے ہوا مہیا کرنے کے لئے اُتلیوں کا استعمال کرتا ہے اور گرم سونے کو ڈھالنے کے لئے ہتھوڑا اور ایک اینول کا استعمال کرتا ہے۔
Here, a beautiful example of a goldsmith is used to convey the message. As is known, a goldsmith heats gold in a crucible by igniting fire under the crucible, uses bellows to provide air to intensify the fire and uses a hammer and an anvil to mold the hot gold.

اس مثال کو بطور استعارہاستعمال کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ انسان کو اپنے اندر نظم و ضبط اور صبر کی لازمی خصوصیات پیدا کرنا چاہیئے۔ انسان کو روحانی علم کے ذریعہ ذہن کو بیدار کرنے ، خدا سے ڈرنے اور خدا کے نام پر اس سے پیار کرنے اور اس کی تخلیق سے پیار کرنے کے لئے سختکوشش کرنی چاہئے۔
Using this example as a metaphor it is advised that one should develop the essential qualities of self-discipline and patience. One should make a determined effort to awaken the mind with spiritual knowledge, become God fearing and stay imbued in the name of God with love for Him and love for His creation.

جب کسی شخص میں یہ خصوصیات پیدا ہوتی ہیں تورحیم خدا اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ خدا کے ساتھ ایک ہونے کا اپنا آخری مقصد حاصل کرلیتا ہے۔
When a person has these qualities, the merciful God bestows His Grace and he achieves his ultimate goal of becoming one with God.

ਜਤੁ ਪਾਹਾਰਾ ਧੀਰਜੁ ਸੁਨਿਆਰੁ ॥
جتُپاہارادھیِرجُسُنِیارُ
jat paahaaraa Dheeraj suni-aar.
جَت ۔ احساسات بَد پرضبط ۔ایسے جُزو جِسمانی جو اِنسان کو غلط راستوں اَور گناہوں کیطرف راغب کرتے ہیں پر روک لگاناضَبطّ رکھتا ۔جَت تقوے ۔ پاہار بھٹی ۔ دھیرج ۔ استقلال
Let self-discipline be the furnace (in a goldsmith’s shop) and patience the goldsmith. (self-discipline and patience are two essential qualities to have if you wish to embark upon the task of achieving spiritual enlightenment)
تُقوے کی تیری بھھٹی ہو۔ اِستقلال کو سُنارّ سمجھ لے

ਅਹਰਣਿ ਮਤਿ ਵੇਦੁ ਹਥੀਆਰੁ ॥
اہرنھِمتِۄیدُہتھیِیارُ
ahran mat vayd hathee-aar.
۔ مَت ۔ عَقلّ ۔ وید ۔ علم ۔
Let mind be the anvil, and spiritual wisdom the tools.
(Awaken the mind with spiritual knowledge)
عَقل ہواَہرن کی مانند علم ہوہتھیار تیرا۔ ہتھوڑا ہو ۔

ਭਉ ਖਲਾ ਅਗਨਿ ਤਪ ਤਾਉ ॥
بھءُکھلااگنِتپتاءُ
bha-okhalaa agan tap taa-o.
بہؤ ۔ خَوف ۔ کھلا ۔ ہوا دینے والی ۔ دہوکنی ۔تَپ تاؤ ۔ جُہد ورِیا صُفت
Let fear of God be the bellows and recitation of Naam in
strict discipline the fire to achieve spiritual enlightenment.
کھال ہو خؤب الہّٰی تیری۔ ریاضت کی آگ سے اِسے تپا

ਭਾਂਡਾ ਭਾਉ ਅੰਮ੍ਰਿਤੁ ਤਿਤੁ ਢਾਲਿ ॥
بھاںڈابھاءُانّم٘رِتُتِتُڈھالِ
bhaaNdaabhaa-o amrittitdhaal.
۔بھانڈا کُھٹالی ۔جس میں سونا پگلا کر شکل وی جاتی ہے ۔بھاؤ ۔ پریم ۔انمرت۔ آب حیات۔ خدا کا نام تت ۔ اُسمیں
In the crucible of God’s love, melt with devotion the gold of the nectar of ambrosial Naam. (With God’s love in heart, immerse yourself in His Name with devotion)
۔ دلی پریم پیار کھٹالی کرے من کی آگ جلاتا جا ۔پیار کے اِس برَتن میں لا فانی ہے حقیقت۔ سَچ اَپنا کر اسمیں پا

ਘੜੀਐ ਸਬਦੁ ਸਚੀ ਟਕਸਾਲ ॥
گھڑیِئےَسبدُسچیِٹکسال
gharhee-ai sabad sachee taksaal.
۔گھڑیئے ۔ اُسکو شکل دیتا۔ ٹکسال ۔وہ کارخانہ جہاں سکے تیار کئے ۔ ٹک ۔ٹکا ۔روپیہ۔سال ورکشال
All this will make a True mint where the coin of God’s Name is minted
(leading to spiritual enlightenment by molding one’s mind).
سچے نام کے سکے گھڑیئے سَچی ہے ٹکسال یہی ۔

ਜਿਨ ਕਉ ਨਦਰਿ ਕਰਮੁ ਤਿਨ ਕਾਰ ॥
جِنکءُندرِکرمُتِنکار
jin ka-o nadar karam tin kaar.
This deed is accomplished by only those who are blessed by His Divine Grace.
جس پر ہو نظرِعنایت قائم یہ ٹکسال کرے ۔ یہ کار ہے اُن اِنسانوں کی جن پر ہے الہّٰی نظرِ عنایت

ਨਾਨਕ ਨਦਰੀ ਨਦਰਿ ਨਿਹਾਲ ॥੩੮॥
نانکندریِندرِنِہال
naanak nadree nadar nihaal.
O’ Nanak, by His merciful Grace, they receive the eternal bliss
and become one with God. ||38||
۔ اے نانک جن اِنسانوں پر خاص نظرِعنایت وہ خوشحال کرتا ہے اپنی رحمت سے ۔

Saloke
جپجی کا اختتام سلوک کے ساتھ ہوتا ہے جو پوری ترکیب کی ایک لائن ہے۔ روح کے لئے گرو ایسے ہی ہے جیسے جسم کے لئے ہوا یا سانس ہوتا ہے۔ پانی باپ ہے اور دھرتی ماں ہے۔ دن اور رات مرد اور عورتیں، نرسوں کی طرح ہیں (دنیا میں مثبت اور منفی قوتیں) جن کی گود میں پوری دنیا کھیل رہی ہے۔ یہ دنیا ایک تماشہ گاہ ہے جس میں ہم سب اداکار ہیں جو اپنے اپنے ذمہ کا کردار ادا کر تے ہیں۔ جو لوگ جوش و جذبے اور محبت سے عقیدت کے ساتھ پوری توجہ کے ساتھ نام پر غور کرتے ہیں ، وہ خدا سے ایک ہوجانے کاآخری مقصد حاصل کر کے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
Japji ends with the Saloke which is the epilogue for the whole composition.
As air or breath is to the body, Guru is to the soul. Water is as father and earth as the great mother. Days and nights are like male and female nurses (positive and negative forces in the world) in whose lap the whole world is at play; the whole world is like a theater where we all are actors and we play our roles assigned by Him.
Those who meditate on Naam diligently, with passion and loving devotion, depart from this world achieving the ultimate goal of becoming one with God.

ਸਲੋਕੁ ॥
Saloke.

ਪਵਣੁ ਗੁਰੂ ਪਾਣੀ ਪਿਤਾ ਮਾਤਾ ਧਰਤਿ ਮਹਤੁ ॥
پۄنھُگُروُپانھیِپِتاماتادھرتِمہتُ
pavan guroo paanee pitaa maataa Dharat mahat.
پون۔ ہوا ۔سانس۔ دھرت ۔ زمین ۔مہت ۔ ماں
As air is important to the body, the Guru is to the soul. Water is as father and earth is as the great mother. (As air is essential for the body, spiritual guidance is essential for the soul. Water is the source of all life and it helps mother earth to produce the bounties that we consume).
پانی باپ ہوا ہے مُرشد ۔ زمین ہے ماں پَرورش کرنیوالی ۔

ਦਿਵਸੁ ਰਾਤਿ ਦੁਇ ਦਾਈ ਦਾਇਆ ਖੇਲੈ ਸਗਲ ਜਗਤੁ ॥
دِۄسُراتِدُءِدائیِدائِیاکھیلےَسگلجگتُ
divas raatdu-ay daa-ee daa-i-aa khaylai sagal jagat.
۔ دوس۔دن ۔ رات۔ رات۔ جگت ۔ عالم ۔ دُنیا ۔دھرم ہدُور
Days and nights are like male and female nurses (positive and negative energies) in whose lap the whole world is at play. (The world is like a theater where we all are actors and we play our roles as assigned by Him)
۔ دن ہے دائی رات دائیا یعنی اِنسان کو کھیل لگانے والا سارا عالم کھیل رہا ہے ۔یعنیانسان دن کوکام میں گذار دیتا ہے رات سوکر گُذار دیتا ہے ۔لہذا یہ دُنیا ایک کھیل ہے ۔

ਚੰਗਿਆਈਆ ਬੁਰਿਆਈਆ ਵਾਚੈ ਧਰਮੁ ਹਦੂਰਿ ॥
چنّگِیائیِیابُرِیائیِیاۄاچےَدھرمُہدوُرِ
chang-aa-ee-aa buri-aa-ee-aa vaachai Dharam hadoor.
واچے ۔ تحقیق کرتا ہے ۔ دھرمی راج ۔ عدالت عالیہ الہّٰی کا منصف
Good and bad deeds are examined by the Almighty.
اِلہّٰی مُنصِفّ اِلہّٰی خطور میں اِنسان کے اَعمال کی نیکیؤ ں اَور بدریوں کی کرتا ہے تحقیق خدا

ਕਰਮੀ ਆਪੋ ਆਪਣੀ ਕੇ ਨੇੜੈ ਕੇ ਦੂਰਿ ॥
کرمیِآپوآپنھیِکےنیڑےَکےدوُرِ
karmee aapo aapnee kay nayrhai kay door.
۔کرمی ۔اعمال ۔ کے نیڑے ۔ خواہ نزدیک ہے کے دور۔ خواہ دور ہے ۔
According to their actions, some are drawn closer to God,
and others are driven farther from Him.
جس سے کسی کو ملتی ہے صحبت قربتکسی کو دوری مل جاتی ہے ۔

ਜਿਨੀ ਨਾਮੁ ਧਿਆਇਆ ਗਏ ਮਸਕਤਿ ਘਾਲਿ ॥
جِنیِنامُدھِیائِیاگۓمسکتِگھالِ
jinee naam Dhi-aa-i-aa ga-ay maskatghaal.
Those who meditated on Naam with passion and loving devotion, departed from this world achieving the ultimate goal of becoming one with God.
جہنوں نےکی ریاض الہّٰی نام کی محنت بر آور ہوئی

ਨਾਨਕ ਤੇ ਮੁਖ ਉਜਲੇ ਕੇਤੀ ਛੁਟੀ ਨਾਲਿ ॥੧॥
نانکتےمُکھاُجلےکیتیِچھُٹیِنالِ
naanaktay mukh ujlay kaytee chhutee naal. ||1||
O’ Nanak, their souls became radiant and they got liberated from Maya. ||1||
نانک پُر نور ہوئے وہ ۔سر خرو ہوئے مصاحب بھی اُنکے آزاد ہوئے ۔

ਸੋ ਦਰੁ ਰਾਗੁ ਆਸਾ ਮਹਲਾ ੧
آسا محلا 1
sodar raag aasaa mehlaa 1
So Daar (that door) in Raag Aasa by First Guru:

ੴ ਸਤਿਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥
اک اونکارستِگُرپ٘رسادِ
ik-oNkaar satgur parsaad.
One Eternal God.realizedby The Grace Of The True Guru:
ہمیشہ قائم رہنے والا خدا صرف ایک ہے جس کی پہچان مرشد کی نظر عنایت سے ہی ہوتی ہے۔

ਸੋ ਦਰੁ ਤੇਰਾ ਕੇਹਾ ਸੋ ਘਰੁ ਕੇਹਾ ਜਿਤੁ ਬਹਿ ਸਰਬ ਸਮਾਲੇ ॥
سودرُتیراکیہاسوگھرُکیہاجِتُبہِسربسمالے
sodar tayraa kayhaa so ghar kayhaa jit bahi sarab samaalay.
سو۔ وہ ۔در ۔ دربار ۔ گھر ۔کہیا ۔ کیسا۔جت۔ جسمیں ۔بیہہ ۔ جلوہ افروز ۔ سرب ۔ سب ۔سمائے ۔ سنبھالتا ہے نگران ہے
O’ God, how magnificent must be the entrance to that amazing house of Yours, from where You are taking care of the creation?.
اَے خدا تیرا وُہ گھر اَور دَر کیسا ہے ۔جہاں جَلوہ اَفروز ہوکر تو سب جانداروں کی سنبھال اَور نگہبانی کرتا ہے

ਵਾਜੇ ਤੇਰੇ ਨਾਦ ਅਨੇਕ ਅਸੰਖਾ ਕੇਤੇ ਤੇਰੇ ਵਾਵਣਹਾਰੇ ॥
ۄاجےتیرےنادانیکاسنّکھاکیتےتیرےۄاۄنھہارے
vaajaytayray naad anayk asankhaa kaytay tayray vaavanhaaray.
۔ناد۔ آواز واؤن ہارے ۔ بجانے والے
In Your creation, countless musicians play countless musical instruments, producing countless melodies,
۔جہاں بیشمار سازبجتے ہیں اور بیشمار بجانےوالے ہیں

ਕੇਤੇ ਤੇਰੇ ਰਾਗ ਪਰੀ ਸਿਉ ਕਹੀਅਹਿ ਕੇਤੇ ਤੇਰੇ ਗਾਵਣਹਾਰੇ ॥
کیتےتیرےراگپریِسِءُکہیِئہِکیتےتیرےگاۄنھہارے
kaytaytayray raag paree si-o kahee-ahi kaytay tayray gaavanhaaray.
۔ پری سیؤ موراگنیاں
and countless singers are singing your praises in countless musical measures.
جہاں راگ اور راگنیاں گائی جاتی ہیں ۔ اور گانے والے ہیں

ਗਾਵਨਿ ਤੁਧਨੋ ਪਵਣੁ ਪਾਣੀ ਬੈਸੰਤਰੁ ਗਾਵੈ ਰਾਜਾ ਧਰਮੁ ਦੁਆਰੇ ॥
گاۄنِتُدھنوپۄنھُپانھیِبیَسنّترُگاۄےَراجادھرمُدُیارے
gaavantuDhno pavan paanee baisantar gaavai raajaa Dharam du-aaray.
The wind, the sea and the fire are singing Your praises (functioning under your command). The judge of our deeds, Dharamraj, is also singing Your Praises۔
ہوا۔ آگ اَور پانی تیری ستائش کرتے ہیں۔ مُنصف الہّٰی تیرے دَر پر تیری حَمدّ و ثَناّ کرتے ہیں

ਗਾਵਨਿ ਤੁਧਨੋ ਚਿਤੁ ਗੁਪਤੁ ਲਿਖਿ ਜਾਣਨਿ ਲਿਖਿ ਲਿਖਿ ਧਰਮੁ ਬੀਚਾਰੇ ॥
گاۄنِتُدھنوچِتُگُپتُلِکھِجانھنِلِکھِلِکھِدھرمُبیِچارے
gaavantuDhno chit gupat likh jaanan likh likhDharam beechaaray.
Chitr and Gupt, the angels on whose records the Righteous Judge of Dharma (Dharamraj) makes judgments, are singing You praises.
۔ جاسوسی الہّٰی چتر کپت جو اعمال اِنسانی تحریر کرتے ہیں۔ جنکی تحریر پر تحقیق منصف الہّٰیکرتا ہےوہ بھی صفت صلاح تیرے کرتے ہیں۔

ਗਾਵਨਿ ਤੁਧਨੋ ਈਸਰੁ ਬ੍ਰਹਮਾ ਦੇਵੀ ਸੋਹਨਿ ਤੇਰੇ ਸਦਾ ਸਵਾਰੇ ॥
گاۄنِتُدھنوایِسرُب٘رہمادیۄیِسوہنِتیرےسداسۄارے
gaavantuDhno eesar barahmaa dayvee sohan tayray sadaa savaaray.
O’ God, lords Shiva, Brahma and the goddesses, always shining in Your splendor are also singing Your praises
پاکدامن عاشقان الہّٰی متوجہ ہوئے خدا میں تیری ہی حمد و ثناہ وہ کرتے ہیں

ਗਾਵਨਿ ਤੁਧਨੋ ਇੰਦ੍ਰ ਇੰਦ੍ਰਾਸਣਿ ਬੈਠੇ ਦੇਵਤਿਆ ਦਰਿ ਨਾਲੇ ॥
گاۄنِتُدھنواِنّد٘راِنّد٘راسنھِبیَٹھےدیۄتِیادرِنالے
gaavantuDhno indar indaraasan baithay dayviti-aa dar naalay.
Lord Indra, seated on his magnificent throne, along with other gods and goddesses are singing Your praises.
جنکا ضبط ہے شہوت پر اور سچ پرست

ਗਾਵਨਿ ਤੁਧਨੋ ਸਿਧ ਸਮਾਧੀ ਅੰਦਰਿ ਗਾਵਨਿ ਤੁਧਨੋ ਸਾਧ ਬੀਚਾਰੇ ॥
گاۄنِتُدھنوسِدھسمادھیِانّدرِگاۄنِتُدھنوسادھبیِچارے
gaavantuDhno siDh samaaDhee andar gaavan tuDhno saaDh beechaaray.
سدھ سمادتھی اندر۔ الہّٰی دھیان و توجہ میں ۔ خدارسیدہ پاکدامن۔سادھ پاک اِنسان ۔ ۔
Siddhas (holy men with spiritual powers) are praising You in deep meditation, countless saintsare also singing of You in deep contemplation.
۔ اور صابر بھی تیرے ہی گن گاتے ہیں۔