Urdu New 14

ੴ ਸਤਿਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥

خدا ایک ہے، جسےسچے گرو کی مہربانی سے پایا جا سکتا ہے۔

ਰਾਗੁ ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ਪਹਿਲਾ ੧ ਘਰੁ ੧ ॥

پہلے گرو کی جانب سے سری راگ،تال ایک

ਮੋਤੀ ਤ ਮੰਦਰ ਊਸਰਹਿ ਰਤਨੀ ਤ ਹੋਹਿ ਜੜਾਉ ॥

اگر میرے لیے موتیوں اور جواہرات سے جڑی عمارت تعمیر کی جائے۔

ਕਸਤੂਰਿ ਕੁੰਗੂ ਅਗਰਿ ਚੰਦਨਿ ਲੀਪਿ ਆਵੈ ਚਾਉ ॥

ان عمارتوں پر کستوری، زعفران، خوشبودار لکڑی اور صندل وغیرہ لگانے سے ذہن میں جوش پیدا ہو جائے۔

ਮਤੁ ਦੇਖਿ ਭੂਲਾ ਵੀਸਰੈ ਤੇਰਾ ਚਿਤਿ ਨ ਆਵੈ ਨਾਉ ॥੧॥

ایسا نہ ہو کہ میں ان کو دیکھ کر بھول جاؤں اور اپنے دل سے خدا کا نام فراموش کر دوں۔ (اسی لیے میں ایسی بہکانے والی چیزوں کو نہیں دیکھتا)۔

ਹਰਿ ਬਿਨੁ ਜੀਉ ਜਲਿ ਬਲਿ ਜਾਉ ॥

یادِ الٰہی کے بغیر میری روح ایسی تڑپتی ہے گویا جل رہی ہو۔

ਮੈ ਆਪਣਾ ਗੁਰੁ ਪੂਛਿ ਦੇਖਿਆ ਅਵਰੁ ਨਾਹੀ ਥਾਉ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥

میں نے اپنے گرو سے تصدیق کی ہے کہ خدا کے سوا، کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے جہاں کسی کو مسرت اور سکون مل سکے۔

ਧਰਤੀ ਤ ਹੀਰੇ ਲਾਲ ਜੜਤੀ ਪਲਘਿ ਲਾਲ ਜੜਾਉ ॥

اے خدا، خواہ میں کسی ایسے محل میں ہوں جہاں کا فرش ہیروں اور یاقوت سے جڑا ہوا ہو، جواہرات سے مزین بستر ہو،

ਮੋਹਣੀ ਮੁਖਿ ਮਣੀ ਸੋਹੈ ਕਰੇ ਰੰਗਿ ਪਸਾਉ ॥

اور اگر کوئی انتہائی خوبصورت اور دلفریب عورت زیورات سے آراستہ ہو کر مجھے بہکانے کی کوشش کر رہی ہو۔

ਮਤੁ ਦੇਖਿ ਭੂਲਾ ਵੀਸਰੈ ਤੇਰਾ ਚਿਤਿ ਨ ਆਵੈ ਨਾਉ ॥੨॥

ایسا نہ ہو کہ میں ان کو دیکھ کر بھول جاؤں اور اپنے دل سے خدا کا نام فراموش کر دوں ۔ (اسی لیے میں ایسی بہکانے والی چیزوں کی طرف دیکھتا بھی نہیں )

ਸਿਧੁ ਹੋਵਾ ਸਿਧਿ ਲਾਈ ਰਿਧਿ ਆਖਾ ਆਉ ॥

اے خدا، اگر میں ایک قابل یوگی ہوتا جو معجزے کرنے اور صوفیانہ طاقتوں کو طلب کرنے کے قابل ہوتا۔

ਗੁਪਤੁ ਪਰਗਟੁ ਹੋਇ ਬੈਸਾ ਲੋਕੁ ਰਾਖੈ ਭਾਉ ॥

اور اپنی مرضی سے ظاہر ہو کر غائب ہو جاؤں تاکہ لوگ مجھ سے مرعوب ہو جائیں۔

ਮਤੁ ਦੇਖਿ ਭੂਲਾ ਵੀਸਰੈ ਤੇਰਾ ਚਿਤਿ ਨ ਆਵੈ ਨਾਉ ॥੩॥

اے خدا مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان طاقتوں کو دیکھ کر میں بھٹک نہ جاؤں اور تجھے بھول جاؤں ۔

ਸੁਲਤਾਨੁ ਹੋਵਾ ਮੇਲਿ ਲਸਕਰ ਤਖਤਿ ਰਾਖਾ ਪਾਉ ॥

ایک بادشاہ کے طور پر، ایک فوج جمع کروں اور تخت پر بیٹھوں.

ਹੁਕਮੁ ਹਾਸਲੁ ਕਰੀ ਬੈਠਾ ਨਾਨਕਾ ਸਭ ਵਾਉ ॥

وہاں بیٹھ کر جو چاہوں حکم کر کے حاصل کر لوں،سچے مرشد کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ بیکار ہے۔

ਮਤੁ ਦੇਖਿ ਭੂਲਾ ਵੀਸਰੈ ਤੇਰਾ ਚਿਤਿ ਨ ਆਵੈ ਨਾਉ ॥੪॥੧॥

اے خدا مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان طاقتوں کو دیکھ کر میں بھٹک نہ جاؤں اور تجھے بھول جاؤں ۔

ਸਿਰੀਰਾਗੁ ਮਹਲਾ ੧ ॥

پہلے گرو کی جانب سے سری راگ

ਕੋਟਿ ਕੋਟੀ ਮੇਰੀ ਆਰਜਾ ਪਵਣੁ ਪੀਅਣੁ ਅਪਿਆਉ ॥

اے خدا، اگر میں لاکھوں اور کروڑوں سال زندہ رہوں اور اگر ہوا میرا کھانا پینا ہو،

ਚੰਦੁ ਸੂਰਜੁ ਦੁਇ ਗੁਫੈ ਨ ਦੇਖਾ ਸੁਪਨੈ ਸਉਣ ਨ ਥਾਉ ॥

ایسی غار میں بیٹھ کر جہاں چاند اور سورج دونوں داخل نہ ہوں، میں تیرا ا دھیان کروں اور خواب میں بھی سونے کا خیال نہ کروں۔

ਭੀ ਤੇਰੀ ਕੀਮਤਿ ਨਾ ਪਵੈ ਹਉ ਕੇਵਡੁ ਆਖਾ ਨਾਉ ॥

یہ سب کرنے کے بعد بھی میں تیری قدر بیان کرنے کے قابل نہیں رہوں گا۔ میں کیسے کہوں کہ تو کتنا عظیم ہے۔

ਸਾਚਾ ਨਿਰੰਕਾਰੁ ਨਿਜ ਥਾਇ ॥

سچا خدا ازل سے بڑی شان سے ظاہر ہے۔

ਸੁਣਿ ਸੁਣਿ ਆਖਣੁ ਆਖਣਾ ਜੇ ਭਾਵੈ ਕਰੇ ਤਮਾਇ ॥੧॥ ਰਹਾਉ ॥

صرف صحیفوں کے مطالعے سے ہی اس کی خوبیاں بیان کی جا سکتی ہیں لیکن جس پر خدا کا فضل ہو (اس کی خوبیوں کو سننے اور بیان کرنے کی خواہش) اس میں پیدا ہوتی ہے۔

ਕੁਸਾ ਕਟੀਆ ਵਾਰ ਵਾਰ ਪੀਸਣਿ ਪੀਸਾ ਪਾਇ ॥

اے خدا، اگر مجھے بار بار کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور چکی میں ڈال کر ہیس دیا جائے ،

ਅਗੀ ਸੇਤੀ ਜਾਲੀਆ ਭਸਮ ਸੇਤੀ ਰਲਿ ਜਾਉ ॥

آگ میں جلا کر خاک کر دیا جائے ۔

ਭੀ ਤੇਰੀ ਕੀਮਤਿ ਨਾ ਪਵੈ ਹਉ ਕੇਵਡੁ ਆਖਾ ਨਾਉ ॥੨॥

ان سب کے بعد بھی میں تیری قدر بیان کرنے کے قابل نہیں رہوں گا۔ میں کیسے کہوں کہ تو کتنا عظیم ہے۔

ਪੰਖੀ ਹੋਇ ਕੈ ਜੇ ਭਵਾ ਸੈ ਅਸਮਾਨੀ ਜਾਉ ॥

اے خدا، اگر میں ایک پرندہ ہوتا اور اتنی بلندی پر اڑتا کہ سینکڑوں آسمانوں کو چھو سکتا۔

ਨਦਰੀ ਕਿਸੈ ਨ ਆਵਊ ਨਾ ਕਿਛੁ ਪੀਆ ਨ ਖਾਉ ॥

اتنا لطیف ہو جاؤں کہ کسی کو نظر نہ آؤں، نہ کچھ پیوں اور نہ کھاؤں۔

ਭੀ ਤੇਰੀ ਕੀਮਤਿ ਨਾ ਪਵੈ ਹਉ ਕੇਵਡੁ ਆਖਾ ਨਾਉ ॥੩॥

تب بھی میں تیری قدر کا اندازہ نہیں گا سکتا میں کیسے کہوں کہ تو کتنا عظیم ہے۔