Urdu-page-4

ਅਸੰਖ ਭਗਤ ਗੁਣ ਗਿਆਨ ਵੀਚਾਰ ॥
اسنّکھ بھگت گُنھ گِیان ۄیِچار ॥
asaNkh bhagat gun gi-aan veechaar.
، تیاگی ۔ تارک ۔ گن وبچار۔ الہّٰی اوصاف کی سوچ
Countless devotees contemplate the virtues and wisdom of the Almighty.
بیشمار الہّٰی عاشِق اوَصّاف الہّٰی کی وِچار میں کرتے ہیں ۔

ਅਸੰਖ ਸਤੀ ਅਸੰਖ ਦਾਤਾਰ ॥
اسنّکھ ستیِ اسنّکھ داتار ॥
asaNkh satee asaNkh daataar.
۔ ستی ۔حقیقت پسند ۔
There are countless holy persons and countless the philanthropists.
۔ بیشمار ہیں سچ والے اُور سخاوَت کرتے ہیں

ਅਸੰਖ ਸੂਰ ਮੁਹ ਭਖ ਸਾਰ ॥
اسنّکھ سوُر مُہ بھکھ سار ॥
asaNkh soor muh bhakh saar.
سور ۔ بہادر ۔ بھکہہ سار ہتھیار وں کے وار بَر داشت کرنے والے
There are countless spiritual heroic warriors, who bear the brunt of attack in the battlefield of life.
لاتعداد روحانی بہادر جنگجو ہیں ، جو زندگی کے میدان جنگ میں حملے کا نشانہ بنتے ہیں۔

ਅਸੰਖ ਮੋਨਿ ਲਿਵ ਲਾਇ ਤਾਰ ॥
اسنّکھ مونِ لِۄ لاءِ تار ॥
asaNkh mon liv laa-ay taar.
۔ توتار ، لگاتاردھیان لگانا
There are countless silent devotees who are attuned to the Almighty in single-minded devotion.
بیشمار ہیں جنگجو بہادر بیشمار خاموشی سے دھیان خدا میں لاتے ہیں

ਕੁਦਰਤਿ ਕਵਣ ਕਹਾ ਵੀਚਾਰੁ ॥
کُدرتِ کۄنھ کہا ۄیِچارُ ॥
kudrat kavan kahaa veechaar.
۔ قدرت۔ طاقت
As powerless as I am, how can I describe Your immense creation.
جتنا میں بے اختیار ہوں ، آپ کی بے پناہ تخلیقات کو کیسے بیان کرسکتا ہوں؟

ਵਾਰਿਆ ਨ ਜਾਵਾ ਏਕ ਵਾਰ ॥
ۄارِیا ن جاۄا ایک ۄار ॥
vaari-aa na jaavaa ayk vaar.
۔ واریا ، قربان ہونا ۔
I have nothing to offer that befits Your Greatness. Offering even my life will not suffice.
مجھ کبَ ہے طاقت جان فِدا کردوں

ਜੋ ਤੁਧੁ ਭਾਵੈ ਸਾਈ ਭਲੀ ਕਾਰ ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سائیِ بھلیِ کار ॥
jo tuDh bhaavai saa-ee bhalee kaar.
Whatever pleases You, is best for all.
کام وَہی اَچھّا ہے جس سے سمجھے نیک تو ہی

ਤੂ ਸਦਾ ਸਲਾਮਤਿ ਨਿਰੰਕਾਰ ॥੧੭॥
توُ سدا سلامتِ نِرنّکار
too sadaa salaamat nirankaar. ||17||
You alone are the Eternal and the Formless one. ||17||
اے خُدا تو ہمیشہ دائم قائم تُو ہی ۔

Stanza 18
پچھلے پیرا گراف کی طرح اس پیراگراف کی ہر سطر کا آغاز بھی لفظ ـــ‘‘اسانکھ’’ سے ہوتا ہے جس کے معنی ہیں ان گنت یا لامحدود۔ گرو نانک دنیا میں مروجہ برائیوں کی مختلف شکلوں پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں۔ آخر میں ، وہ بیان کرتا ہے کہ صرف خدا ہی ابدی اور بے بنیاد ہے اور جو بھی اسکو پسند ہے وہی سب کے لئے بہترین ہے۔
As in the previous stanza, every line in this stanza also starts with the word ‘Asankh’ which means countless or infinite. Guru Nanak is expressing astonishment at the various forms of evils prevalent in the world. In the end, he states that God alone is eternal and formless one and whatever pleases Him is best for all.

ਅਸੰਖ ਮੂਰਖ ਅੰਧ ਘੋਰ ॥
اسنّکھ موُرکھ انّدھ گھور ॥
asaNkh moorakh anDh ghor.
مورکھ ۔ اندگہور ، نہایت جاہل ۔
Countless are fools, blinded by ignorance.
بیشمار ہیں جاہل اِس دُنیا میں

ਅਸੰਖ ਚੋਰ ਹਰਾਮਖੋਰ ॥
اسنّکھ چور ہرامکھور ॥
asaNkh chor haraamkhor.
حرام خور بلاکمائے کھانے والا ۔
Countless are thieves and embezzlers.
بیشمار چوری کرنیواے بلا کمائے کھاتے ہیں

ਅਸੰਖ ਅਮਰ ਕਰਿ ਜਾਹਿ ਜੋਰ ॥
اسنّکھ امر کرِ جاہِ جور
asaNkh amar kar jaahi jor.
اَمر ۔حُکم ۔ زور۔ زبردستی
Countless impose their will by force.
بیشمار اِس عالم میں جابر زور اور طاقت سے اَپنا حُکم چلاتے ہیں

ਅਸੰਖ ਗਲਵਢ ਹਤਿਆ ਕਮਾਹਿ ॥
اسنّکھ گلۄڈھ ہتِیا کماہِ
asaNkh galvadh hati-aa kamaahi.
Countless are cut-throats and ruthless killers.
۔بیشمار قاتل ہیں ۔ اس عالم میں جو قتل کا ظُلم کرتے ہیں

ਅਸੰਖ ਪਾਪੀ ਪਾਪੁ ਕਰਿ ਜਾਹਿ ॥
اسنّکھ پاپیِ پاپُ کرِ جاہِ
asaNkh paapee paap kar jaahi.
Countless are sinners who keep on sinning.
۔ بیشمار اِس دُنیا میں ہیں گُناہگار جو گُناہ کرکے اِس عالم سے گناہوں میں مر جاتے ہیں

ਅਸੰਖ ਕੂੜਿਆਰ ਕੂੜੇ ਫਿਰਾਹਿ ॥
اسنّکھ کوُڑِیار کوُڑے پھِراہِ
asaNkh koorhi-aar koorhay firaahi.
Countless are liars, wandering lost in their lies.
بے شمار جھوٹے ہیں جو اپنے جھوٹ میں گم رہتے ہیں

ਅਸੰਖ ਮਲੇਛ ਮਲੁ ਭਖਿ ਖਾਹਿ ॥
اسنّکھ ملیچھ ملُ بھکھِ کھاہِ
asaNkh malaychh mal bhakh khaahi.
Countless are wicked who thrive on immoral behavior.
بے شمار بدکار ہیں جو غیر اخلاقی سلوک کو فروغ دیتے ہیں

ਅਸੰਖ ਨਿੰਦਕ ਸਿਰਿ ਕਰਹਿ ਭਾਰੁ ॥
اسنّکھ نِنّدک سِرِ کرہِ بھارُ
asaNkh nindak sir karahi bhaar.
سر ۔ ذمے
Countless are slanderers who continue committing sins by speaking ill of others.
بیشمار ہی غیبت کرتے ہیں اَور غیب کا گُناہ ذمے لے لیتے ہیں

ਨਾਨਕੁ ਨੀਚੁ ਕਹੈ ਵੀਚਾਰੁ ॥
نانکُ نیِچُ کہےَ ۄیِچارُ
naanak neech kahai veechaar.
Nanak describes the state of the lowly (in the stanzas aforesaid).
کمینہ غریب نانک یہ سوچ بناتا ہے

ਵਾਰਿਆ ਨ ਜਾਵਾ ਏਕ ਵਾਰ ॥
ۄارِیا ن جاۄا ایک ۄار
vaari-aa na jaavaa ayk vaar.
I have nothing to offer that befits Your Greatness, not even my life.
مجھ میں کہاں ہے طاقت صدقہ ہوں ایکبار بھی تجھ پر

ਜੋ ਤੁਧੁ ਭਾਵੈ ਸਾਈ ਭਲੀ ਕਾਰ ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سائیِ بھلیِ کار
jo tuDh bhaavai saa-ee bhalee kaar.
Whatever pleases You, is good for all.
۔ کام وہی اَچھا ہے جس سے اَچھّا سمجھے تو ہی

ਤੂ ਸਦਾ ਸਲਾਮਤਿ ਨਿਰੰਕਾਰ ॥੧੮॥
توُ سدا سلامتِ نِرنّکار
too sadaa salaamat nirankaar. ||18||
You alone are Eternal and Formless one. ||18||
۔ تو سدا سلامت پاک بے وجود تو ہی ۔ بےآکار تو ہی

Stanza 19
سابقہ پیراگراف کی طرح اس پیراگراف میں بھی ہر سطر کا آغاز لفظ ‘‘اسانکھ’’ کے ساتھ ہی ہوتا ہے ، جس کا مطلب ہے ان گنت یا لامحدود۔ اس پیرے میں ، گرو نانک حیرت سے کہتے ہیں کہ خدا کی تخلیق اس قدر وسیع عریض ہے کہ کائنات میں کوئی بھی لفظ اس کی عظمت بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
As in the previous Stanza, each line here as well starts with the word ‘Asankh’, which means countless or infinite. In this stanza, Guru Nanak says in amazement that God’s creation is so vast that no words have the ability to describe its greatness

ਅਸੰਖ ਨਾਵ ਅਸੰਖ ਥਾਵ ॥
اسنّکھ ناۄ اسنّکھ تھاۄ
asaNkh naav asaNkh thaav.
ناو۔ نام ۔ تھاو۔ مقام ۔ جگہ
Countless are the names of your creations and countless of their places.
اس طرح کوئی ہی نام ہیں اس طرح نہیں مقام بھی جن تک انسانی رسائی نا ممکن ہے

ਅਗੰਮ ਅਗੰਮ ਅਸੰਖ ਲੋਅ ॥
اگنّم اگنّم اسنّکھ لوء
agamm agamm asaNkh lo-a.
There are countless worlds that are inaccessible and unapproachable.
بیشمار دنیائیگی اور بھی ہیں

ਅਸੰਖ ਕਹਹਿ ਸਿਰਿ ਭਾਰੁ ਹੋਇ ॥
اسنّکھ کہہِ سِرِ بھارُ ہوءِ
asaNkh kehahi sir bhaar ho-ay.
۔ ذمہ ۔ بھار ، دوش ، الزام
Even the word countless cannot represent the infinite nature of His creation.
بیشمار کہنا بھی گُناہ ہے اپنے لئے

ਅਖਰੀ ਨਾਮੁ ਅਖਰੀ ਸਾਲਾਹ ॥
اکھریِ نامُ اکھریِ سالاہ
akhree naam akhree saalaah.
۔ اکھری ، حرفوں سے ۔ صلاح ۔ تعریف ، صفت ۔
It is by the use of the words that His name can be recited; it is by the use of the words that His praises can be sung.
لفظوں اَور حرفوں سے نام بَنتا ہے

ਅਖਰੀ ਗਿਆਨੁ ਗੀਤ ਗੁਣ ਗਾਹ ॥
اکھریِ گِیانُ گیِت گُنھ گاہ
akhree gi-aan geet gun gaah.
گیان ۔ علم ۔گن ۔وصف
It is through the medium of words that Divine Knowledge can be acquired, His praises sung and the virtues known.
حرفوں سے حمدّ بھی ہوئی ہے

ਅਖਰੀ ਲਿਖਣੁ ਬੋਲਣੁ ਬਾਣਿ ॥
اکھریِ لِکھنھُ بولنھُ بانھِ
akhree likhan bolan baan.
۔ بان ۔ کلام ۔ بولن ، گفتار۔
The written and spoken language can only be expressed using words.
حرفوں ہی میں عِلم لکھتا ہے حرفوں ہی سے گیت وَصفّ کے گاتے ہیں حرفوں ہی سے بولی بکی جاتی ہے

ਅਖਰਾ ਸਿਰਿ ਸੰਜੋਗੁ ਵਖਾਣਿ ॥
اکھرا سِرِ سنّجوگُ ۄکھانھِ
akhraa sir sanjog vakhaan.
سر سنجوگ۔ تقدیر جو پیشانی پربکی ہے۔۔
Only through words one’s destiny can be explained.
حرفوں سے ہی سے تقدیر بھی درج ہے پیشانی

ਜਿਨਿ ਏਹਿ ਲਿਖੇ ਤਿਸੁ ਸਿਰਿ ਨਾਹਿ ॥
جِنِ ایہِ لِکھے تِسُ سِرِ ناہِ
jin ayhi likhay tis sir naahi.
He, who has written everybody’s destiny, is beyond destiny for Himself.
حرفوں ہی سے مضمون بھی لکھے جاتے ہیں

ਜਿਵ ਫੁਰਮਾਏ ਤਿਵ ਤਿਵ ਪਾਹਿ ॥
جِۄ پھُرماۓ تِۄ تِۄ پاہِ
jiv furmaa-ay tiv tiv paahi.
As He ordains, so do we receive.
مگر کہنے والے کے نہیں لکھا ہے جیسا ہے حُکم الہّٰی ۔ ویسا ویسا پاتا ہے ۔

ਜੇਤਾ ਕੀਤਾ ਤੇਤਾ ਨਾਉ ॥
جیتا کیِتا تیتا ناءُ
jaytaa keetaa taytaa naa-o.
The universe is the manifestation of Your Name.
نہیں ہے طاقت مجھ میں کوئی سمجھ سکوں تجھ کو میں

ਵਿਣੁ ਨਾਵੈ ਨਾਹੀ ਕੋ ਥਾਉ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ ناہیِ کو تھاءُ
vin naavai naahee ko thaa-o.
There is no place where He is not.
ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پر تو موجود نہیں ہے

ਕੁਦਰਤਿ ਕਵਣ ਕਹਾ ਵੀਚਾਰੁ ॥
کُدرتِ کۄنھ کہا ۄیِچارُ
kudrat kavan kahaa veechaar.
قدرت ۔ طاقت ۔ ویچار ۔ سمجھ کر
How can I describe Your Creative Power?
تیری تخلیقی صلاحیتوں کو میں کیسے بیان کر سکتا ہوں

ਵਾਰਿਆ ਨ ਜਾਵਾ ਏਕ ਵਾਰ ॥
ۄارِیا ن جاۄا ایک ۄار
vaari-aa na jaavaa ayk vaar.
I cannot even once be a sacrifice to You.
۔ جان کروں قربان تجہی پر ایکبار

ਜੋ ਤੁਧੁ ਭਾਵੈ ਸਾਈ ਭਲੀ ਕਾਰ ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سائیِ بھلیِ کار
jo tuDh bhaavai saa-ee bhalee kaar.
Whatever pleases You, is what is truly good.
کار اچھی ہے کار وہی جس کو تو سمجھے اچھی کار

ਤੂ ਸਦਾ ਸਲਾਮਤਿ ਨਿਰੰਕਾਰ ॥੧੯॥
توُ سدا سلامتِ نِرنّکار
too sadaa salaamat nirankaar. ||19||
You are the Eternal and Formless one. ||19||
تو ہی تیری ذات سدا سلامت اور ہے پاک تو ہی

Stanza 20
اس پیرا گراف میں گرو نانک دماغ کی روحانی ‘صفائی’ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ برے خیالات اور برے اعمال ہمارے دماغوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔ عقیدت اور محبت کے ساتھ خدا کے ساتھ غور و فکر کرکے دماغ سے اس غلاظت کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اس تسبیح میں ، گرو نانک کہتے ہیں کہ کوئی شخص رسمی عمل سے نہیں بلکہ خدا کے نام میں پیار اور عقیدت کے ساتھ ڈوب کر ہی پاک ہو سکتا ہے۔
In this stanza, Guru Nanak emphasizes the importance of spiritual ‘cleansing’ of mind. Evil thoughts and bad deeds are harmful to our minds. This pollution can be removed from the mind by meditating on God with loving devotion. In this hymn, Guru Nanak says that a person becomes pure, not by ritualistic processes but by immersing in God’s Name with love and devotion.

ਭਰੀਐ ਹਥੁ ਪੈਰੁ ਤਨੁ ਦੇਹ ॥
بھریِئےَ ہتھُ پیَرُ تنُ دیہ ॥
bharee-ai hath pair tan dayh.
بھریئے ۔ اگر گرو آلودہ ہو جائیں ، ۔
When the hands, feet and the body get dirty,
اگر ہاتھ پاؤں یا تن بدن گرد آلودہ ہو جائے

ਪਾਣੀ ਧੋਤੈ ਉਤਰਸੁ ਖੇਹ ॥
پانھیِ دھوتےَ اُترسُ کھیہ
paanee Dhotai utras khayh.
کھیہ ۔ خاک ۔مٹی ۔
water can wash away the dirt.
توپانی سے وھونے سے میل دور ہو جاتی ہے

ਮੂਤ ਪਲੀਤੀ ਕਪੜੁ ਹੋਇ ॥
موُت پلیِتیِ کپڑُ ہوءِ
moot paleetee kaparh ho-ay.
موت۔ پیشاب ۔پلیتی ۔ ناپاک گند ہ ۔
When clothes are soiled and stained by urine etc.,
پیشاب سے ہو جائے نا پاک اگر

ਦੇ ਸਾਬੂਣੁ ਲਈਐ ਓਹੁ ਧੋਇ ॥
دے سابوُنھُ لئیِئےَ اوہُ دھوءِ
day saaboon la-ee-ai oh Dho-ay.
soap can wash them clean.
صابن سے دھونے سے پلیدی دور ہو جاتی ہے

ਭਰੀਐ ਮਤਿ ਪਾਪਾ ਕੈ ਸੰਗਿ ॥
بھریِئےَ متِ پاپا کےَ سنّگِ
bharee-ai mat paapaa kai sang.
مت۔ سمجھ ۔پاپ ۔ گناہ ۔
But when the mind is polluted by evil thoughts and sins,
جَب مَن میلا ہو جائے گُناہوں سے ۔

ਓਹੁ ਧੋਪੈ ਨਾਵੈ ਕੈ ਰੰਗਿ ॥
اوہُ دھوپےَ ناۄےَ کےَ رنّگِ
oh Dhopai naavai kai rang.
ناوے الہّٰی نام
it can be cleansed by only the recitation and love of Naam.
وُہ یاد نام الہّٰی سے دُھلّ جاتا ہے

ਪੁੰਨੀ ਪਾਪੀ ਆਖਣੁ ਨਾਹਿ ॥
پُنّنیِ پاپیِ آکھنھُ ناہِ
punnee paapee aakhan naahi.
پُنی ۔ ثَواب ۔ پاپی ۔ گناہگاری
‘Virtuous’ or ‘sinner’ are not just names;
ثَواب و گناہ صرف نام یا کہاوت ہی نہیں

ਕਰਿ ਕਰਿ ਕਰਣਾ ਲਿਖਿ ਲੈ ਜਾਹੁ ॥
کرِ کرِ کرنھا لِکھِ لےَ جاہُ ॥
kar kar karnaa likh lai jaahu.
we become virtuous or sinner by the kind of deeds we commit and we carry those deeds over to the next life.
۔ نیک و بد کار جو کوئی کرتا ہے سب اعمالنامے میں درج ہوکر ساتھ ہی اُسکے جاتے ہیں

ਆਪੇ ਬੀਜਿ ਆਪੇ ਹੀ ਖਾਹੁ ॥
آپے بیِجِ آپے ہیِ کھاہُ ॥
aapay beej aapay hee khaahu.
You shall harvest what you plant.
جو بوتا ہے سو کھاتا ہے ۔جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے

ਨਾਨਕ ਹੁਕਮੀ ਆਵਹੁ ਜਾਹੁ ॥੨੦॥
نانک ہُکمیِ آۄہُ جاہُ
naanak hukmee aavhu jaahu. ||20||
(Rewards and punishments are the fruits of our deeds). O’ Nanak, as per His divine laws, you come and depart from this world based on your deeds. ||20||
اے نانک حُکم سے آتا ہےانسان حُکم سے ہی چلا جاتا ہے

Stanza 21
گرو نانک اس پیراگراف میں کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص کسی پاک جگہ پر رسمی غسل وغیرہ سے نہیں ، بلکہ خدا کے نام میں پیار اور عقیدت سے ڈوب کر پاک ہو تا ہے۔ کوئی شخص چاہے جتنا بھی علم حاصل کرلے ، اس کی عظمت کو سمجھنا یا اس کی تخلیق کے رازوں کو جاننا ممکن نہیں ہے۔ انسان چاہے جتنا عالم بن جائے، یہ جاننا نا ممکن ہے کہ یہ کائنات کب اور کیسے بنائی گئی۔
In this stanza, Guru Nanak says that a person becomes pure, not by ritualistic bathing etc. in a holy place, but by immersing in God’s Name with love and devotion. No matter how much knowledge a person may gain, it is not possible to fathom His greatness or know the secrets of His Creation. No matter how knowledgeable a person becomes, it is impossible to know things like when and how He created the Universe.

ਤੀਰਥੁ ਤਪੁ ਦਇਆ ਦਤੁ ਦਾਨੁ ॥
تیِرتھُ تپُ دئِیا دتُ دانُ ॥
tirath tap da-i-aa dat daan.
تیرتھ ۔ زیارت گاہ ۔ دیا ۔ رحم۔ تپ زہر ۔ پرہیز گاری ۔
Pilgrimages, austere discipline, compassion and charity
کرے زیارت زہد کمائے رحم کرے ثواب کرے

ਜੇ ਕੋ ਪਾਵੈ ਤਿਲ ਕਾ ਮਾਨੁ ॥
جے کو پاۄےَ تِل کا مانُ
jay ko paavai til kaa maan.
مان ۔ غرُور ۔ تکبر ۔
by themselves, bring only an iota of inner bliss.
آگر اُس پر غرور گمان کرے تل جتنا پھل پائے گا۔

ਸੁਣਿਆ ਮੰਨਿਆ ਮਨਿ ਕੀਤਾ ਭਾਉ ॥
سُنھِیا منّنِیا منِ کیِتا بھاءُ ॥
suni-aa mani-aa man keetaa bhaa-o.
سنھیا۔ کی سماعت نام الہّٰی ۔منیا ۔ یقین کیا واثق اُس پر ۔ ایمان لائے ۔من کیتا بھاؤ ۔ دل سے اُسے پریم کیا ۔
A person who listens to Naam with complete devotion with love in heart
کی سماعت ایمان لائے دل سے اُسے پیار کیا

ਅੰਤਰਗਤਿ ਤੀਰਥਿ ਮਲਿ ਨਾਉ ॥
انّترگتِ تیِرتھِ ملِ ناءُ
antargat tirath mal naa-o.
انتر گت اندرونی حالت ۔
is doing the real pilgrimage by thoroughly cleansing his inner self. (by immersing in Naam)
دل میں ہے زیارت گاہ تمہارے دل کو دھو لو پاک بنا لو سچا تیرتھ ہے یہی

ਸਭਿ ਗੁਣ ਤੇਰੇ ਮੈ ਨਾਹੀ ਕੋਇ ॥
سبھِ گُنھ تیرے مےَ ناہیِ کوءِ ॥
sabh gun tayray mai naahee ko-ay.
O God, You are the Possessor of all attributes. I do not have the name of all of them۔
اے خدا تو سب وصفوں کا مالک مجھ میں وصف کا نام ہیں

ਵਿਣੁ ਗੁਣ ਕੀਤੇ ਭਗਤਿ ਨ ਹੋਇ ॥
ۄِنھُ گُنھ کیِتے بھگتِ ن ہوءِ
vin gun keetay bhagat na ho-ay.
بن گن کیتے ۔ بلا اَوصّاف ۔بھگت پریمی ، محبو ب الہّٰی
All virtue is in praising You, O’ Almighty! Without virtue, there can be no devotional worship.
جب تجھ میں وصف نہیں ہیں تو بھگتی کا تجھ میں نام نہیں

ਸੁਅਸਤਿ ਆਥਿ ਬਾਣੀ ਬਰਮਾਉ ॥
سُئستِ آتھِ بانھیِ برماءُ ॥
su-asat aath banee barmaa-o.
سو آست تو کامیا ہوئے ۔برماؤ ۔برہما ۔
I bow to You, the creator of Maya and the creator of the Divine Word.
دولت اور کلام کا مالک اندیش خدا ہے

ਸਤਿ ਸੁਹਾਣੁ ਸਦਾ ਮਨਿ ਚਾਉ ॥
ستِ سُہانھُ سدا منِ چاءُ
sat suhaan sadaa man chaa-o.
ست ۔ سچا ۔سہان اچھا لگتا ہے ۔من چاؤ ۔ دل میں خوشی ۔
You are eternal, beautiful and always everlasting inner joy.
جس سے روحانی سکون وخوشی و خرم سدا ہے

ਕਵਣੁ ਸੁ ਵੇਲਾ ਵਖਤੁ ਕਵਣੁ ਕਵਣ ਥਿਤਿ ਕਵਣੁ ਵਾਰੁ ॥
کۄنھُ سُ ۄیلا ۄکھتُ کۄنھُ کۄنھ تھِتِ کۄنھُ ۄارُ
kavan so vaylaa vakhat kavan kavan thit kavan vaar.
ویلا ۔ وقت ۔ تھت۔ چندرماں ۔ یا چاند کا دن
What was that time, and what was that moment? What was that day, and what was that date?
وہ کوئی وقت تھا،وہ چاند کی کونسی تاریخ تھی

ਕਵਣਿ ਸਿ ਰੁਤੀ ਮਾਹੁ ਕਵਣੁ ਜਿਤੁ ਹੋਆ ਆਕਾਰੁ ॥
کۄنھِ سِ رُتیِ ماہُ کۄنھُ جِتُ ہویا آکارُ
kavan se rutee maahu kavan jit ho-aa aakaar.
۔ماہ مہینہ ۔رتی ۔ موسم ۔جت جب ۔آکار ۔ عالم ظہور ۔ پذیر ہوا
What was that season, and what was that month, when the Universe was created?
۔ کونسا دن کونسا موسم جب یہ عالم ظہور میں آیا

ਵੇਲ ਨ ਪਾਈਆ ਪੰਡਤੀ ਜਿ ਹੋਵੈ ਲੇਖੁ ਪੁਰਾਣੁ ॥
ۄیل ن پائیِیا پنّڈتیِ جِ ہوۄےَ لیکھُ پُرانھُ ॥
vayl na paa-ee-aa pandtee je hovai laykh puraan.
ویل۔ وقت ۔
The Pandits (the Hindu scholars) did not know the time when the universe was created, otherwise they would have recorded it in the Puranas (Hindu Scriptures).
وقت کا گر ہوتا پتہ پنڈتوں کو تو پران میں وہ لکھ دیتے

ਵਖਤੁ ਨ ਪਾਇਓ ਕਾਦੀਆ ਜਿ ਲਿਖਨਿ ਲੇਖੁ ਕੁਰਾਣੁ ॥
ۄکھتُ ن پائِئو کادیِیا جِ لِکھنِ لیکھُ کُرانھُ
vakhat na paa-i-o kaadee-aa je likhan laykh kuraan.
وکھت ۔ ودت ۔قادیا ۔ قاضی۔
The Qadis (the Muslim scholars) did not know it either, otherwise
they would have recorded it in the Quran.
قاضی کو ہوتا معلوم اگر لکھ دیتے صاف قران میں وہ

ਥਿਤਿ ਵਾਰੁ ਨਾ ਜੋਗੀ ਜਾਣੈ ਰੁਤਿ ਮਾਹੁ ਨਾ ਕੋਈ ॥
تھِتِ ۄارُ نا جوگیِ جانھےَ رُتِ ماہُ نا کوئیِ
thit vaar naa jogee jaanai rut maahu naa ko-ee.
تھت ۔ چاند کا دن ۔وار ۔ دن کا نام ۔رُت موسم ۔ماہ ۔ مہینہ ۔
The day, the date, the month or the season when the Universe was created were not known to the Yogis either.
جوگی بھی نہیں جانتا (جب کب) یہ دنیا ظہور میں آئی ہے کونسا دن ، مہینہ اور موسم تھا

ਜਾ ਕਰਤਾ ਸਿਰਠੀ ਕਉ ਸਾਜੇ ਆਪੇ ਜਾਣੈ ਸੋਈ ॥
جا کرتا سِرٹھیِ کءُ ساجے آپے جانھےَ سوئیِ
jaa kartaa sirthee ka-o saajay aapay jaanai so-ee.
کرتا ۔ پیدا کرنے والا ۔سرٹھی۔ عالم ۔ ساجے ۔ بنانے والا ۔سوئی ۔ وہی ۔
The Creator alone knows when He created the universe.
۔ ماسوائے کار ساز کرتا ر کے جس نے یہ عالم پیدا کیا ہے ۔وہ خود وہی جانتا ہے ۔

ਕਿਵ ਕਰਿ ਆਖਾ ਕਿਵ ਸਾਲਾਹੀ ਕਿਉ ਵਰਨੀ ਕਿਵ ਜਾਣਾ ॥
کِۄ کرِ آکھا کِۄ سالاہیِ کِءُ ۄرنیِ کِۄ جانھا
kiv kar aakhaa kiv saalaahee ki-o varnee kiv jaanaa.
کوکر۔ کس طرح ۔ صالاحی ۔ تعریف ۔ورتی ۔ بیان کرتا
How can I speak of His Greatness? How can I praise Him? How can
I describe His virtues? How can I know Him?
کے لئے بولوں تعریف کروں۔ بیان کروں اورسمجھوں