Urdu-Master-9

اونکار ستگر پر ساد
SGGP. 231-
تتُ ن چیِنہِ بنّنہِ پنّڈ پرالا ॥2॥
منمُکھ اگِیانِ کُمارگِ پاۓ ॥
ہرِ نامُ بِسارِیا بہُ کرم د٘رِڑاۓ ॥
بھوجلِ ڈۄُبے دۄُجےَ بھاۓ ॥3॥
مائِیا کا مُحتاجُ پنّڈِتُ کہاوےَ ॥
بِکھِیا راتا بہُتُ دُکھُ پاوےَ ॥
جم کا گلِ جیوڑا نِت کالُ سنّتاوےَ ॥4॥
گُرمُکھِ جمکال نیڑِ ن آوےَ ॥
ہئُمےَ دۄُجا سبدِ جلاوےَ ॥
نامے راتے ہرِ گُݨ گاوےَ ॥5॥
مائِیا داسی بھگتا کی کار کماوےَ ॥
چرݨی لاگےَ تا محلُ پاوےَ ॥
سد ہی نِرملُ سہجِ سماوےَ ॥6॥
ہرِ کتھا سُݨہِ سے دھنونّت دِسہِ جُگ ماہی ॥
تِن کءُ سبھِ نِوہِ اندِنُ پۄُج کراہی ॥
سہجے گُݨ روہِ ساچے من ماہی ॥7॥
پۄُرےَ ستِگُرِ سبدُ سُݨائِیا ॥
ت٘رےَ گُݨ میٹے چئُتھےَ چِتُ لائِیا ॥
نانک ہئُمےَ مارِ ب٘رہم مِلائِیا ॥8॥4॥
گئُڑی محلا 3॥
برہما ویدُ پڑےَ وادُ وکھاݨےَ ॥
انّترِ تامسُ آپُ ن پچھاݨےَ ॥
تا پ٘ربھُ پاۓ گُر سبدُ وکھاݨےَ ॥1॥
گُر سیوا کرءُ پھِرِ کالُ ن کھاءِ ॥
منمُکھ کھادھے دۄُجےَ بھاءِ ॥1॥ رہاءُ ॥
گُرمُکھِ پ٘راݨی اپرادھی سیِدھے ॥
گُر کےَ سبدِ انّترِ سہجِ ریِدھے ॥
میرا پ٘ربھُ پائِیا گُر کےَ سبدِ سیِدھے ॥2॥
ستِگُرِ میلے پ٘ربھِ آپِ مِلاۓ ॥
میرے پ٘ربھ ساچے کےَ منِ بھاۓ ॥
ہرِ گُݨ گاوہِ سہجِ سُبھاۓ ॥3॥
بِنُ گُر ساچے بھرمِ بھُلاۓ ॥
منمُکھ انّدھے سدا بِکھُ کھاۓ ॥
جم ڈنّڈُ سہہِ سدا دُکھُ پاۓ ॥4॥
جمۄُیا ن جۄہےَ ہرِ کی سرݨائی ॥
ہئُمےَ مارِ سچِ لِو لائی ॥
سدا رہےَ ہرِ نامِ لِو لائی ॥5॥
ستِگُرُ سیوہِ سے جن نِرمل پوِتا ॥
من سِءُ منُ مِلاءِ سبھُ جگُ جیِتا ॥
اِن بِدھِ کُسلُ تیرےَ میرے میِتا ۔ ॥6॥
ستِگُرۄُ سیوے سۄ پھلُ پاۓ ॥
ہِردےَ نامُ وِچہُ آپُ گواۓ ॥
انہد باݨی سبدُ وجاۓ ॥1॥
ستِگُر تے کونُ کونُ ن سیِدھۄ میرے بھائی ۔ ॥
بھگتی سیِدھے درِ سۄبھا پائی ॥
نانک رام نامِ وڈِیائی ॥8॥5॥
نامِ وڈِیائی۔نام کی عظمت
گئُڑی محلا 3॥
ت٘رےَ گُنھ ۄکھانھےَ بھرمُ ن جاءِ ॥
بنّدھن ن توُٹہِ مُکتِ ن پاءِ ॥
مُکتِ داتا ستِگُرُ جُگ ماہِ ॥੧॥
گُرمُکھِ پ٘رانھیِ بھرمُ گۄاءِ ॥
سہج دھُنِ اُپجےَ ہرِ لِۄ لاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ت٘رےَ گُنھ کالےَ کیِ سِرِ کارا ॥
پنّڈ پرالا۔تنکوں کی گٹھڑیکُمارگِ ۔گمراہیبِسارِیا۔بھلایا جم ۔موت جمکال موت کا فرشتہ نِرملُ۔پاکپۄُرےَ ستِگُرِ حقیقی گرو ن پچھاݨےَ ۔غور نہیں کرتا وکھاݨےَ۔ احساس کرنا منِ بھاۓ۔ پسند آئے بِکھُ ۔زہر ہئُمےَ ۔غرور نِرمل ۔پاک ترے گن دکھانے ۔ تینوں اوصاف کے بیانات ۔ بھرم۔ وہم وگمان ۔ بندھن۔ ذہنی غلامی ۔ مکت ۔ نجات مکت داتا۔ نجات دالانے والا۔ ستگرو ۔ سچا مرشد (1) گورمکھ ۔ مرید مرشد رہاؤ۔ کالے کی سرکار ۔ موت کا سر یر دباؤ۔
ترجمہ
وہ زندگی کے مقصد کو نہیں سمجھتے ، اور مذہبی جھگڑوں کے تنکے کے بیکار گٹھوں سے خود کو لادتے رہتے ہیں.خودی پسند جہالت میں ، برائی کی گمراہی والا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ خدا کا نام بھول جاتے ہیں ، اور اس کی جگہ وہ ہر طرح کی رسومات قائم کرتے ہیں وہ دوئی کی محبت میں دنیا کے خوفناک سمندر میں ڈوب جاتے ہیں.ایسا شخص جو دنیاوی دولت انحصار کرتا ہے وہ بھی اپنے آپ کو پنڈت کہتا ہے اور مایا کی محبت میں رنگ جاتا ہے وہ بے حد تکلیف اٹھاتا ہے موت کا فرشتہ مستقل اس کی گردن دبوچے ہوے ہے اور یہ مستقل موت کے خوف سے دوچار ہے.موت کا فرشتہ گرو کے پیروکار کے قریب نہیں آتا ہے۔گرو کے کلام کے ذریعہ وہ تمام انا اور دوئی کو جلا دیتا ہے.خدا کے نام سے رنگین ہو کر وہ اسکی حمد گاتے رہتا ہے.مایا خدا کے بھکتوں کی نوکرانی ہے یہ ان کے لئے کام کرتی ہے.جو ان عقیدت مندوں کی عاجزی کے ساتھ خدمت کرتا ہے اسے بھی خدا کے دربار میں جگہ مل جاتی ہے.وہ ہمیشہ کے لئے بے عیب ہے۔ وہ بدیہی سکون میں مبتلا ہے.جو لوگ خدا کی تعریفیں سنتے ہیں وہ دنیا میں روحانی طور پر دولت مند افراد کہلاتے ہیں۔ہر ایک ان کے سامنے جھکتا ہے اور ان کی تعظیم کرتا ہے.بدیہی طور پر ، وہ اپنے دماغ میں خدا کی حمد گاتے رہتے ہیں.حقیقی گرو نے الہٰی لفظ نازل کیا ہے ،اس نے اپنے دماغ سے مایا کے تینوں اوصاف کو مٹا دیا ہے ، اور خود کو چوتھی حالت (مایا کے اثر سے آزاد) کے لئے مطمئن کردیا ہے۔اے نانک ، غرور کو ختم کرتے ہوئے ، گرو نے اسے خدا کے ساتھ جوڑ دیا ہے.ایک پنڈت برہما کے پڑھے ہوئے ویدوں کو پڑھتا ہے اور فلسفیانہ تنازعہ میں داخل ہوا ہے.اس کا دماغ جہالت کے اندھیروں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ خود پر غور نہیں کرتا ہے.ایسا شخص صرف اور صرف گورو کے کلام پر عمل کرکے ہی خدا کا احساس کرسکتا ہے.لہذا ، اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے گورو کی خدمت کرو موت کے خوف سے پاک ہو جاو گے.خودی پسند لوگوں کو دوئی نے کھا لیا۔ رہاو گرو کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ، بہت سے گنہگار انسان صادق بن جاتے ہیں.گرو کے کلام کے ذریعہ ، وہ باطنی سکون پاتے ہیں اور ان کے اندر گہرائی سے سکون ملتا ہے.گورو کے کلام پر عمل کرکے وہ میرے خدا کو سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں.خدا ان لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ دیتا ہے جن کو حقیقی گرو خدا کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں.وہ میرے ابدی خدا کو پسند آنے والے ہوجاتے ہیں.وہ آسمانی سلامتی کے عالم میں ، خدا کی صفت و صلاح گاتے ہیں.سچے گرو کے بغیر ، وہ شک کی وجہ سے دھوکے میں رہتے ہیں.یہ جاہل ، خود غرضی ، ہمیشہ جھوٹے دنیاوی کاموں کا زہر کھاتے ہیں.وہ موت کے آسیب کا نشانہ برداشت کرتے ہیں اور ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں.موت کا فرشتہ خدا کی پناہ میں داخل ہوجانے والے کی جھلک تک نہیں پا سکتا۔مغروریت کو ختم کرتے ہوئے ، وہ محبت سے ابدی خدا کے ساتھ مطمئن رہتا ہے.وہ اپنے شعور کو ہمیشہ خدا کے نام پر مرکوز رکھتا ہے.وہ جو سچے گرو کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں وہ خالص اور پاکیزہ ہیں.گرو کے ذہن سے اپنے دماغ کو یکجا کرکے (اور اس کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے) ، وہ پوری دنیا کو فتح کرتے ہیں.اے میرے دوست اس طرح سے آپ کو بھی خوشی ملے گی.جو شخص سچے گروکی خدمت کرے گا اس کے مشوروں پر عمل کرے گا اس کا صلہ پائے گا
وہ خود کو خدا کے نام میں فنا کر دیتا ہے.اس کے اندر آسمانی کلام کی دھنیں بجنے لگتی ہیں.میرے بھائی ، ایسا کوئی نہیں ہے جس نے گرو کی تعلیمات پر عمل کیا ہو اور کامیاب نہ ہوا ہو.عقیدت مند زندگی میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خدا کی عدالت میں ان کو اعزاز حاصل ہو جاتا ہے.نانک ، ہمیشہ خدا کے نام کی (مراقبہ) میں عظمت ہوتی ہے.مرشد کے وسیلے سے انسان اپنے وہم وگمان مٹاتا ہے ۔ اس کے وہم و گمان دور نہیں ہوتے ۔ اس کے ذہنی غلامی نہیں مٹتی .دنیا میں ذہنی غلامی سے سچا مرشد ہی نجات دہندہ ہے (1
گرو کے مشورے پر عمل کرنے سے ، ایک شخص تمام وہموں کو دور کرتا ہے۔اس کے ذہن میں آسمانی دھن ابھرتی ہے ، جو اسے خدا کے ذکر سے ہمکنار کرتی ہے۔تینوں اوصاف ترقی مادیاتی یا حکومتی سچائی پسندی ۔ لالچ وہ لوگ جو مایا کے تین طریقوں کے زیر اثر رہتے ہیں موت ان کے سروں پر منڈلاتی ہے۔۔ پیدا کرنے والے کے نام کو یاد ( نہیں کرتا) لہذا تناسخ میں پڑا رہتا ہے

SGGS p. 232

نامُ ن چیتہِ اُپاۄنھہارا ॥
مرِ جنّمہِ پھِرِ ۄارو ۄارا ॥੨॥
انّدھے گُروُ تے بھرمُ ن جائیِ ॥
موُلُ چھوڈِ لاگے دوُجےَ بھائیِ ॥
بِکھُ کا ماتا بِکھُ ماہِ سمائیِ ॥੩॥
مائِیا کرِ موُلُ جنّت٘ر بھرماۓ ॥
ہرِ جیِءُ ۄِسرِیا دوُجےَ بھاۓ ॥
جِسُ ندرِ کرے سو پرم گتِ پاۓ ॥੪॥
انّترِ ساچُ باہرِ ساچُ ۄرتاۓ ॥
ساچُ ن چھپےَ جے کو رکھےَ چھپاۓ ॥
گِیانیِ بوُجھہِ سہجِ سُبھاۓ ॥੫॥
گُرمُکھِ ساچِ رہِیا لِۄ لاۓ ॥
ہئُمےَ مائِیا سبدِ جلاۓ ॥
میرا پ٘ربھُ ساچا میلِ مِلاۓ ॥੬॥
ستِگُرُ داتا سبدُ سُنھاۓ ॥
دھاۄتُ راکھےَ ٹھاکِ رہاۓ ॥
پوُرے گُر تے سوجھیِ پاۓ ॥੭॥
آپے کرتا س٘رِسٹِ سِرجِ جِنِ گوئیِ ॥
تِسُ بِنُ دوُجا اۄرُ ن کوئیِ ॥
نانک گُرمُکھِ بوُجھےَ کوئیِ ॥੮॥੬॥
لفظی معنی:
ترے گن دکھانے ۔ تینوں اوصاف کے بیانات ۔ بھرم۔ وہم وگمان ۔ بندھن۔ ذہنی غلامی ۔ مکت ۔ نجات مکت داتا۔ نجات دالانے والا۔ ستگرو ۔ سچا مرشد (1) گورمکھ ۔ مرید مرشد (1) رہاؤ۔ کالے کی سرکار ۔ موت کا سر یر دباؤ۔ نام نہ چیتہہ اپاون ہار ۔ جس نے پیدا کیا ہے اس کو یاد کرنا (2) اندھے گرو ۔ لاعلم ۔ بیخبر ۔مول ۔ بنیاد۔ حقیقت۔ دکھ ۔ زہر۔ ماتا۔ دلدادہ ۔ محبت کرنے والا ۔ (3) مائیا کر مول۔ دنیاوی دولت کو بنیاد سمجھنا ۔ پرم گت ۔ بلند عطمت (4) دھاوت۔ بھٹکتا ۔ دوڑ دہوپ کرتا ۔ ٹھاک۔ روک ۔ سوجھی ۔ سمجھ علم (5) سرج ۔ بنائی ۔ پیدا کی ۔ گوئی ۔ مٹائی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
مرشد کے وسیلے سے انسان اپنے وہم وگمان مٹاتا ہے ۔ اس کے دلمیں روحانی سکنو اور حسن اخلاق کے لئے پیار کی روش جاری ہوتی ہے اور خدا سے پیار پیدا ہوتا ہے (1) رہاؤ۔ جسے دنیاوی دولت کی باتوں سے ہی دلچسپی ہے ۔ اس کے وہم و گمان دور نہیں ہوتے ۔ اس کے ذہنی غلامی نہیں مٹتی دنیا میں ذہنی غلامی سے سچا مرشد ہی نجات دہندہ ہے (1) تینوں اوصاف ترقی مادیاتی یا حکومتی سچائی پسندی ۔ لالچ موت کا وید یہ سیاہ رہتا ہے ۔ پیدا کرنے والے کے نام کو یاد ( نہیں کرتا) لہذا تناسخ میں پڑا رہتا ہے (2) دنیایو دولت میں مدہوش مرشد وہم وگمان نہیں مٹا سکتا ۔ ایسے مرشد کو اپنا کر انسان خدا کو بھلا کر دنیاوی دولت کی محبت میںگ رفتار ہوجاتا ہے ۔ بدکاریوں گناہوں اور برائیوں سے محبت کرنے والا۔ برائیوں میں ہی ملوث رہتا ہے (3) انسان دنیاوی دولت کو ہی زندگی کی بنیاد اور منزل اور مقصد سمجھ اسی کے لئے دوڑ دہوپ کرتے اور بھٹکتے رہتے ہین۔ لہذا دنیاوی دولت کی محبت کی وجہ سے خدا کو بھلا دیتے ہیں۔ مگر جس پر الہٰی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے ۔ وہ بلند عظمت اور بلند رتبے پاتے ہیں (4) جس کے دلمیں سچائی اور سچائی کی نورانی ہے اسکا عالم میں برتاؤ بھی سچائی پر مبنی ہوتا ہے ۔ جس کے دل میں سچائی کی نورانی ہے وہ چھپانے سے نہیں چھپتی ۔ عالم کے لوگ اسے قدرتی طور پر سمجھ لیتے ہیں (5) مریدان مرشد کی سچ سے محبت ہوتی ہے ۔ اور وہ خودی کو دونیاوی دولت کی محبت کلام و سبق مرشد کی برکت سے مٹادیتے ہین۔ میرا سچا خدا سچا ملاپ کراتا ہے (6) نعمتیں عنایت کرنے والا سچا مرشد جسے اپنا سبق و کلام سناتا ہے ۔ اسکا دنیاوی دولت کے لئے بھٹکتے دل کو روک ہوجاتی ہے ۔ اور قابو ہوجاتا ہے ۔ یہ سمجھ کامل مرشد ہی سے حاصل ہوتی ہے (7) اے نانک ۔ کوئی مرید مرشد ی اس بات کو سمجھتا ہے ۔ کہ جس نے یہ عالم پیدا کیا ہے ۔ وہی قیامت برپا کرنے والا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری کوئی ہستی نہیں۔
گئُڑیِ مہلا ੩॥
نامُ امولکُ گُرمُکھِ پاۄےَ ॥
نامو سیۄے نامِ سہجِ سماۄےَ ॥
انّم٘رِتُ نامُ رسنا نِت گاۄےَ ॥
جِس نو ک٘رِپا کرے سو ہرِ رسُ پاۄےَ ॥੧॥
اندِنُ ہِردےَ جپءُ جگدیِسا ॥
گُرمُکھِ پاۄءُ پرم پدُ سوُکھا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہِردےَ سوُکھُ بھئِیا پرگاسُ ॥
گُرمُکھِ گاۄہِ سچُ گُنھتاسُ ॥
داسنِ داس نِت ہوۄہِ داسُ ॥
گ٘رِہ کُٹنّب مہِ سدا اُداسُ ॥੨॥
جیِۄن مُکتُ گُرمُکھِ کو ہوئیِ ॥
پرم پدارتھُ پاۄےَ سوئیِ ॥
ت٘رےَ گُنھ میٹے نِرملُ ہوئیِ ॥
سہجے ساچِ مِلےَ پ٘ربھُ سوئیِ ॥੩॥
موہ کُٹنّب سِءُ پ٘ریِتِ ن ہوءِ ॥
جا ہِردےَ ۄسِیا سچُ سوءِ ॥
گُرمُکھِ منُ بیدھِیا استھِرُ ہوءِ ॥
ہُکمُ پچھانھےَ بوُجھےَ سچُ سوءِ ॥੪॥
لفظی معنی:
امولک ۔ بیش قیمت ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ نامو سیوے ۔ سچی خدمت۔ سہج ۔ روحانی سکون جو نیکیوں اور سچائیوں سے پیدا ہوتا ہے ۔ انمرت نام۔ روحانی زندگی عنایت کرنے والا سچ۔ رسنا۔ زبان۔ ہر رس۔ الہٰی لطف (1) اندن۔ ہر روز۔ ہردے ۔ دلمیں۔ جگدیسا۔ دنیا کے مالک ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ سچ گن تاس۔ سچے اوصاف کے خزانے ۔ گریہہ ۔گھر ۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔ اداس ۔ تیاگی ۔ طارق (2) جیون ۔ مکت ۔ زندگی کی بندشوں سے آزاد۔ پرم پدارتھ۔ بھار ی نعمت۔ شرے گن میٹے ۔ تینوں اوصفان ( رجو ستو طموع ) حکومت اور لالچ اور طاقت کی خواہش مٹائے ) نرمل ۔ پاک۔ سہجے ۔ قدرتا ۔ روحانی سکون میں ۔ (3) موہ کٹنب ۔ خانہ داری میں محبت یا دلچسپی ۔ پرپت۔ پیار۔ بیدھیا۔ گرفتار ۔ پکڑا۔ استھر۔ مستقل ۔
ترجمہ معہ تشریح:
روز و شب خد ا کا نام لو اور مرشد کے وسیلے سے روحانیت کا بلند رتبہ اور خوشحالی ہو (1) رہاؤ۔ نایاب بیش قیمت نام مرید مرشد سے ملتا ہے ۔ نام کی خدمت کرنے سے ہی نام کی ذریعے پر سکون رہتا ہے ۔ خدمت سے مراد یاد ہے ۔ مگر الہٰی نام کا مزہ وہی چکھتا ہے جس پر الہٰی رحمت ہو ۔ وہی آب حیات نام زبان سے گاتا ہے (1) دل سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے اور پر نور ہوجاتا ہے ۔ جب مرشد کے وسیلے سے اوصاف کے خزانے سچ یعنی خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ اور خادمان الہٰی کا خادم ہو رہتا ہے ۔ اور خانہ داری اور قبیلہ دار ہوئے ہوئے بھی دنیایو دولت کی صحبت سے پرہیز کرتا ہے (2) کوئی ہی دوران حیات مرشد کے ذریعے زندگی کی بندشوں سے آزاد ہوتا ہے ۔ وہی اونچی نعمت پاتا ہے ۔ وہی تینوں نعمتوں اوصاف کے اثرات و احساسا ت مٹا لیتا ہے اور متآ کر پاک ہوجاتا ہے اور روحانی سکون پاکر الہٰی نام سے رشتہ و رابطہ پیدا کرکے خدا سے ملاپ حاصل کر لیتا ہے (3) جب کسی کا خدا سے پیار ہوجاتا ہے تو اسے اپنے پریوار سے محبت نہیں رہتی ۔ مرشد کے وسیلے سے جب دل پابند ہوجاتا ہے تو انسان کو الہٰی رضا کی پہچان ہوجاتی ہے اور خدا کی سمجھ آجاتی ہے ۔
توُنّ کرتا مےَ اۄرُ ن کوءِ ॥
تُجھُ سیۄیِ تُجھ تے پتِ ہوءِ ॥
کِرپا کرہِ گاۄا پ٘ربھُ سوءِ ॥
نام رتنُ سبھ جگ مہِ لوءِ ॥੫॥
گُرمُکھِ بانھیِ میِٹھیِ لاگیِ ॥
انّترُ بِگسےَ اندِنُ لِۄ لاگیِ ॥
سہجے سچُ مِلِیا پرسادیِ ॥
ستِگُرُ پائِیا پوُرےَ ۄڈبھاگیِ ॥੬॥
ہئُمےَ ممتا دُرمتِ دُکھ ناسُ ॥
جب ہِردےَ رام نام گُنھتاسُ ॥
گُرمُکھِ بُدھِ پ٘رگٹیِ پ٘ربھ جاسُ ॥
جب ہِردےَ رۄِیا چرنھ نِۄاسُ ॥੭॥
جِسُ نامُ دےءِ سوئیِ جنُ پاۓ ॥
گُرمُکھِ میلے آپُ گۄاۓ ॥
ہِردےَ ساچا نامُ ۄساۓ ॥
نانک سہجے ساچِ سماۓ ॥੮॥੭॥
لفظی معنی”
کرتا ۔ کارساز۔ کرتار۔ کرنے والا۔ اور ۔ دیگر ۔کوئی ۔ ہور۔ سیوی ۔ خدمت۔ پت۔ عزت۔ اسے نام۔ سچ ۔ رتن۔ ہیرا۔ لوئے ۔ دنای میں ۔ لوگوں میں (5) انتر دل ۔ وگسے ۔ کھلتا ہے ۔ا ندن ۔ ہر روز۔ سہجے ۔ سکون میں۔ سچ حقیقت ۔ خدا۔ پرسادی ۔ رحمت سے ۔ وڈبھاگی ۔ب لند قیمت سے (6) ہونمے ۔ خودی ۔ ممتا۔ میری ۔ ملکیت ۔ درمت۔ کہوٹی عقل ۔ دکھ ۔ عذاب۔ پردے ۔ دلمیں رامنام۔ الہٰی نام۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ ۔ گورمکھ بدھ۔ سبق مردشد۔ پرگٹی ۔ظاہر ہوئی ۔ پربھ ۔ جاس۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ رویا ۔ بسا۔ چرن نواس۔ عاجزی ۔ مسکنی (7) گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ آپ خوئش ۔ اپنت۔ خودی۔ ساچا نام۔ الہٰی نام ۔ سہجے ۔ قدرتی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تو کرتا ہے ۔ کارساز کرتا رہے ہ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ تیری خدتم سے عزت و حشمت و توقیر حاصل ہوتی ہے ۔ تو کرم و عنایت فرما (5) مرشد کے وسیلے سے جسے الہٰی حمدوچناہ پیارالگتا ہے ۔ اسکا دل پھول کی مانند کھلا رہتاہے تاکہ میں تیری حمدوچناہ کروں ۔تیرا نام ایک ایسا قیمتی ہیرا ہے جو سارے عالم کو روشن کرتا ہے ۔ اور دل میں الہٰی پیار رہتا ہے ۔ اور رحمت سے الہٰی ملاپ حاصل ہو جاتا ہے ۔ سچا مرشد پوری بلند قیمت سے ملتا ہے (6) جب دل میں اوصاف کا خزانہ الہٰی نام بس جاتا ہے تو خودی خوئشتا اور بد عقلی اور عذاب ختم ہوجاتے ہیں۔ جب دلمیں خدا بس اجتا ہے تو ہوش و عقل روشن ضمیر ہوجاتی ہے (7) اے نانک ۔ اسے ہی الہٰی نام ملتا ہے جسے خدا خود کرم و عنایت کرتا ہے ۔ اسے مرشد کے ملاپ سے خودی دور کر لیتا ہے ۔ اور دلمیں ساچا نام بساتا ہے ۔ وہ پر سکون ہوکر خدا میں مجذوب رہتا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੩॥
من ہیِ منُ سۄارِیا بھےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
SGGS p. 233
سبدِ منُ رنّگِیا لِۄ لاءِ ॥
نِج گھرِ ۄسِیا پ٘ربھ کیِ رجاءِ ॥੧॥
ستِگُرُ سیۄِئےَ جاءِ ابھِمانُ ॥
گوۄِدُ پائیِئےَ گُنھیِ نِدھانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منُ بیَراگیِ جا سبدِ بھءُ کھاءِ ॥
میرا پ٘ربھُ نِرملا سبھ تےَ رہِیا سماءِ ॥
گُر کِرپا تے مِلےَ مِلاءِ ॥੨॥
ہرِ داسن کو داسُ سُکھُ پاۓ ॥
میرا ہرِ پ٘ربھُ اِن بِدھِ پائِیا جاۓ ॥
ہرِ کِرپا تے رام گُنھ گاۓ ॥੩॥
دھ٘رِگُ بہُ جیِۄنھُ جِتُ ہرِ نامِ ن لگےَ پِیارُ ॥
دھ٘رِگُ سیج سُکھالیِ کامنھِ موہ گُبارُ ॥
تِن سپھلُ جنمُ جِن نامُ ادھارُ ॥੪॥
دھ٘رِگُ دھ٘رِگُ گ٘رِہُ کُٹنّبُ جِتُ ہرِ پ٘ریِتِ ن ہوءِ ॥
سوئیِ ہمارا میِتُ جو ہرِ گُنھ گاۄےَ سوءِ ॥
ہرِ نام بِنا مےَ اۄرُ ن کوءِ ॥੫॥
ستِگُر تے ہم گتِ پتِ پائیِ ॥
ہرِ نامُ دھِیائِیا دوُکھُ سگل مِٹائیِ ॥
سدا اننّدُ ہرِ نامِ لِۄ لائیِ ॥੬॥
گُرِ مِلِئےَ ہم کءُ سریِر سُدھِ بھئیِ ॥
ہئُمےَ ت٘رِسنا سبھ اگنِ بُجھئیِ ॥
بِنسے ک٘رودھ کھِما گہِ لئیِ ॥੭॥
ہرِ آپے ک٘رِپا کرے نامُ دیۄےَ ॥
گُرمُکھِ رتنُ کو ۄِرلا لیۄےَ ॥
نانکُ گُنھ گاۄےَ ہرِ الکھ ابھیۄےَ ॥੮॥੮॥
لفظی معنی:
من ہی من سواریا ۔ الہٰی خوف سے دل قدرتی درست ہوا اور پر سکون ہوا۔ سبد۔ کلام۔ رنگیا۔ پریمی یا پیار ہوا۔ تج گھر ۔ الہٰی حضور ذہن نشین اپنے خوئش ذہن میں ۔ رجائے ۔ رضائے الہٰی (1) بھیمان ۔ تکبر۔ غرور۔ گنی ندھان۔ اوصاف کا خزانہ (1) رہاؤ۔ ویراگی ۔ طارق۔ بھو۔ خوف۔ نرملا۔ پاک۔ سبھے ۔ سب میں (2) ہر داسن۔ خادمان الہٰی۔ داس۔ خادم۔ خدمتگار۔ ان بدھ ۔ اس طرح سے (3) دھرگ ۔ لعنت ۔ سیج سکھائی ۔ آرام دیہہ خوابگاہ ۔ کامن موہ ۔ عورت کی محبت (4) گریہہ ۔ گھر ۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔ خاندان ۔ ہر پریت۔ الہٰی پیار (5) گت۔ اونچی روحانی حالت۔ پت ۔ عزت۔ دکھ ۔ عذاب۔ گت ۔ اونچی روحانی حالت۔ پت ۔ عزت۔ دکھ ۔ عذاب ۔ سگل ۔ سارے (6) سر یر سدھ ۔ جسمانی سمجھ ۔ کھما ۔ معافی ۔ (7) گور مکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ الکھ ۔ حساب سے باہر ۔ ابھیو۔ بھید ریت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدمت مرشد سے تکبر مٹ جاتا ہے ۔ اور اوصاف کے خزانے خدا سے ملاپ ہوتا ہے (1) رہاؤ۔ من نے من کی درستی الہٰی خوف اور ادب کو سکنو اور پیار سے کی کلام مرشد سے من الہٰی پریم ہوگیا ۔ اس سے الہٰی رضا میں راضی ہو ا۔ (1) جب انسان کے دل میں سبق یا کلام مرشد اور الہٰی خوف بس جاتا ہے ۔ تب اسے پاک خدا ہر جگہ بستا دکھتا دیتا ہے ۔ اسطرح اسکا الہٰی ملاپ ہوجاتا ہے کرم و عنایت مرشد سے (2) جو انسان الہٰی خادمان کے خادموں کا خدمتگار ہوجاتا ہے وہ آرام و آسائش پاتا ہے ۔ اسطرح سے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ وہ الہٰی کرم و عنایت سے الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے (3) وہ لمبی عمر ایک لعنت ہے جس مین خدا سے پیارنہ ہو۔ لعنت ہے وہ خوبصورت سے کی آرام دیہہ خوابگاہ اور اس کی محبت کا اندھیرا ۔ اور ان کا جنم لینا ہی کامیاب ہے ۔ نام سہارا ہے (4) لعنت ہے اس گھر یلو زندگی کو اور قبیلے خاندان کو جسے خدا سے محبت نہیں ۔ وہی ہمارا دوست ہے جو الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت کے بغیر میری حیثیت اور ہستی کچھ بھی نہیں (5) سچے مرشد سے ہی روحانیت کا بلند رتبہ ، ذہانت ، عزت وحشمت پاتے ہیں ۔ اور الہٰی نام کی ریاض سے سارے ہر قسم کے عذاب مٹ جاتے ہیں ۔ اور الہٰی پیار سے صدیوی سکون ملتا ہے ۔ مرشد کے ملاپ سے ہمیں اپنے جسمانی رکھ رکھاؤ کی گناہوں برائیوں اور بدکاریوں کے بارے سمجھ آتی ہے اور پتہ چلتا ہے ۔ خودی اور خواہشات کی دلمیں سلک رہی آگ بجھتی ہے ۔ غصہ مٹ جاتا ہے اور ہمیشہ معاف کر دینا ہی دلمیں بس جاتا ہے (7) خدا خود اپنی کرم وعنایت سے نام عنایت کرتاہے مرشد کے وسیلے سے اس بیش قیمت نعمت کو لیتا ہے ۔ کوئی ہی ۔ نانک ۔ اس راز اور لا حساب اور سمجھ انسانی سے بعید کی حمدوثناہ کرتاہے ۔
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
راگُ گئُڑیِ بیَراگنھِ مہلا ੩॥
ستِگُر تے جو مُہ پھیرے تے ۄیمُکھ بُرے دِسنّنِ ॥
اندِنُ بدھے ماریِئنِ پھِرِ ۄیلا نا لہنّنِ ॥੧॥
ہرِ ہرِ راکھہُ ک٘رِپا دھارِ ॥
ستسنّگتِ میلاءِ پ٘ربھ ہرِ ہِردےَ ہرِ گُنھ سارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سے بھگت ہرِ بھاۄدے جو گُرمُکھِ بھاءِ چلنّنِ ॥
آپُ چھوڈِ سیۄا کرنِ جیِۄت مُۓ رہنّنِ ॥੨॥
جِس دا پِنّڈُ پرانھ ہےَ تِس کیِ سِرِ کار ॥
اوہُ کِءُ منہُ ۄِساریِئےَ ہرِ رکھیِئےَ ہِردےَ دھارِ ॥੩॥
نامِ مِلِئےَ پتِ پائیِئےَ نامِ منّنِئےَ سُکھُ ہوءِ ॥
ستِگُر تے نامُ پائیِئےَ کرمِ مِلےَ پ٘ربھُ سوءِ ॥੪॥
ستِگُر تے جو مُہُ پھیرے اوءِ بھ٘رمدے نا ٹِکنّنِ ॥
دھرتِ اسمانُ ن جھلئیِ ۄِچِ ۄِسٹا پۓ پچنّنِ ॥੫॥
اِہُ جگُ بھرمِ بھُلائِیا موہ ٹھگئُلیِ پاءِ ॥
جِنا ستِگُرُ بھیٹِیا تِن نیڑِ ن بھِٹےَ ماءِ ॥੬॥
ستِگُرُ سیۄنِ سو سوہنھے ہئُمےَ میَلُ گۄاءِ ॥
SGGS p. 234
سبدِ رتے سے نِرملے چلہِ ستِگُر بھاءِ ॥੭॥
ہرِ پ٘ربھ داتا ایکُ توُنّ توُنّ آپے بکھسِ مِلاءِ ॥
جنُ نانکُ سرنھاگتیِ جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ چھڈاءِ ॥੮॥੧॥੯॥
لفظی معنی:
بیمکھ ۔ پرائے ۔ غیر ۔ اندن۔ ہر روز۔ دیلا نہ لہن ۔ موقعہ نہ ملیگا (1) راکھو ۔ حفاظت کرو ۔ بچاؤ۔ ست سنگت ۔ سچے ساتھی ۔ ہر وے ۔ دلمیں ۔ ہر گن ۔ سار۔ خدا اوصاف کی بنیاد ہے (1) رہاؤ۔ بھگت ۔ الہٰی عاشق ۔ خدا کے پریمی ۔ بھاودے ۔ چاہتا ہے ۔ پیارے ہیں۔ گور بھائے چلن ۔ جو گرؤ کے انصاری یا پریمی ہوکر چلتے ہیں۔ آپ چہوڈ۔ خودی مٹا کے ۔ جیوت ہوئے ذہن۔ دنیاوی بدکاریوں اور برائیوں کی زندگی میں نہ آئے دیں (2) پنڈ ۔ پران۔ جسم اور جان ۔ سرکار ۔ سر پر حکمرانی ۔ پردے دھار۔ دلمیں بسا کر (3) پت ۔ عزت۔ کرم ۔ بخشش۔ عنایت ۔ مہربانی (4) اوئے ۔ وہ ۔ بھر مدے ۔ بھٹکتے ہیں۔ ناٹکن ۔ سکون نہیں پائے ۔ ۔ دھرت ۔ زمین اسمان ۔ آسمان۔ دسٹا۔ گندگی ۔ پچن۔ خوار ہوتے ہیں (5) بھرم۔ وہم وگمان ۔ بھلائیا۔ بھٹکن مین ۔ موہ ٹھگوئی ۔ محبت کے دہوکے سے ۔ نیٹر نہ بھٹے مائے ۔ ۔ دولت نزدیک نہیں پھتکتی (6) ہونمے میل گوائے ۔ خودی کی غلاظت دور کرکے ۔ سبد رے ۔کلام کے عاشق۔ نرملے ۔ پاک۔ صاف۔ ستگر بھائے ۔ سچے مرشد کی رضامیں (7) جن۔ خادم۔ سرناگتی ۔ پناہگیر ۔ بھاوے ۔ چاہتا ہے (8)
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا اپنی کرم و عنایت سے میری حفاظت کر مجھے بچا۔ اے خدا مجھے قربت و صحبت پاکدامناں عنایت کرتا کہ خادم تیرے اوصاف اپنے دلمیں بسائے (1) رہاؤ۔ سچے مرشد ے جو بیر خی کرتے ہیں۔ منحوس دکھائی دیتے لگتے ہیں ان کو دنیاوی دولت کی بندشوں میں سزا پاتے ہیں دوبارہ موقعہ میسر نہیں ہوتا (1) خدا ان الہٰی عاشقوں کو پیار کرتا ہے ۔ جو مرشد کی رضائے مطابق زندگی بسر کرتے ہین ۔ خودی مٹآ کر خدمت کرتے ہیں اور دنیاو ی دولت کی محبت مٹا ہیں (2) نام یعنی سچ اور سچائی سے عزت ملتی ہے نام میں یقین سے سکھ حاصل ہوتا ہے ۔ مرشد سے نام حاصل ہوتا ہے اور الہٰی کرم عنایت سے الہٰی ملاپ ہوتا ہے (4) جس خداوند کریم نے جسم عنایت کیا ہے اور جس نے یہ زندگی عنایت فرمائی ہے اسی کا حکم پر فرد پر رواں ہے اسے کسی صورت دل سے فرا موش نہیں کرتا چاہیے ۔ اسے دلمیں بسانا چاہیے (3) سچے مرشد سے جو بیر خی کرتے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا زمین و آسمان پر انہیں کوئی برداشت نہیں کرتا غلاظت میں زندگی بسر کرتے ہیں (5) سارا عالم دنیاوی دولت کی محبت کے دہوکے میں حقیقت سے بھٹک رہا ہے مگر جسے سچے مرشد سے وصل ہوجاتا ہے اس کے دولت کی محبت نزدیک نہیں پھٹکتی (6) جو خدمت مرشد میں مصروف رہتے ہیں خودی مٹا کر پاکدامن ہوجاتے ہیں ۔ جو کلام میں پیار سے اس میں مجذوب ہوجاتے ہیں رضا کا ر مرشد ہوجاتے ہیں وہ پاک اور پاکدامن ہوجاتے ہیں (8) اے خدا نعمتیں عنایت کر نے والا واحدا خدا ہین مجھے اپنی کرم و عنایت سے اپناملاپ عنایت فرما خادم نانک تیرا پناہگیر ہے جیسے تیری رضا ہے ۔ اسی طرح نجات دلاؤ۔
راگُ گئُڑیِ پوُربیِ مہلا ੪ کرہلے
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کرہلے من پردیسیِیا کِءُ مِلیِئےَ ہرِ ماءِ ॥
گُرُ بھاگِ پوُرےَ پائِیا گلِ مِلِیا پِیارا آءِ ॥੧॥
من کرہلا ستِگُرُ پُرکھُ دھِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
من کرہلا ۄیِچاریِیا ہرِ رام نام دھِیاءِ ॥
جِتھےَ لیکھا منّگیِئےَ ہرِ آپے لۓ چھڈاءِ ॥੨॥
من کرہلا اتِ نِرملا ملُ لاگیِ ہئُمےَ آءِ ॥
پرتکھِ پِرُ گھرِ نالِ پِیارا ۄِچھُڑِ چوٹا کھاءِ ॥੩॥
من کرہلا میرے پ٘ریِتما ہرِ رِدےَ بھالِ بھالاءِ ॥
اُپاءِ کِتےَ ن لبھئیِ گُرُ ہِردےَ ہرِ دیکھاءِ ॥੪॥
من کرہلا میرے پ٘ریِتما دِنُ ریَنھِ ہرِ لِۄ لاءِ ॥
گھرُ جاءِ پاۄہِ رنّگ مہلیِ گُرُ میلے ہرِ میلاءِ ॥੫॥
لفظی معنی:
من کر ہلے ۔ اے بے محار اونٹ کی مانند انسانی دل ۔ کیوں بیلئے ہر رائے ۔ خداوند کریم سے کیسے ملیں (1) پورے ۔ بھاگ ۔ بلند قسمت سے (1) ویچاریا ۔ وچار۔ سوچ۔ سمجھ کر ۔ دھیائے ۔ تو جہ کر ۔ دھیان دے ۔ یا دکر ۔ لیکھا منگے ۔ حساب۔ مانگے (2) نرملا۔ پاک۔ ہونمے ۔ خودی ۔ پرتکھ۔ ظاہر ۔پر ۔ خاوند۔ وچھڑ ۔ جدائی ۔ چوٹا۔ سزا (3) ہر روے بھال بھلائے ۔ مرشد دلمیں دیدار کراتاہے (4) دن رین ۔ روز وشب۔ ہر تو ۔ خدا سے پیار۔ اپائے ۔ کوشش۔ جہد۔ گھر۔ ٹھکانہ ۔ رنگ ۔ محلیں۔ روحانی سکون
ترجمہ معہ تشریح:
اے اونٹ کی مانند آوازہ من سچے مرشد کو یاد کر (1) رہاؤ۔ اے آوارہ من ۔ تو پر دیسی یا بدیشی ہے ۔ اے مان خدا سے ملاپ کیسے حاصل ہو۔ جس کی بلند قسمت سے مرشد سے ملاپ ہوجائے ۔ پیاراخدا سے خود گلے لگاتا ہے (1) اے آوازہ من سو چ سمجھ اور الہٰی نام میں متوجو ہو ۔ تاکہ جہاں حساب کی مانگ ہو خدا خود نجات دلائے (2) اے آوارہ من تو نہایت پاک تو تھا مگر اسے خودی نے ناپاک بنا دیا ۔ خدا ظاہر تیر ے دلمیں بستا ہے ۔ مگر ا س سے جدائی پاکر عذاب پاتا ہے (3) اے میرے پیارے آوارہ من خدا کو اپنے دلمیں ٹٹول ۔ جہد کوشش سے نہیں ملتا مرشد اسے دلمیں ہی دیدار کرادیتا ہے (4) اے آوارہ من میرے پیارے من روز و شب اس سے محبت و پیار کر ۔ اس سے پرسکون ٹھکانہ مل پائیگا مگر مرشد خدا سے ملاپ کرائیگا (5)
من کرہلا توُنّ میِتُ میرا پاکھنّڈُ لوبھُ تجاءِ ॥
پاکھنّڈِ لوبھیِ ماریِئےَ جم ڈنّڈُ دےءِ سجاءِ ॥੬॥
من کرہلا میرے پ٘ران توُنّ میَلُ پاکھنّڈُ بھرمُ گۄاءِ ॥
ہرِ انّم٘رِت سرُ گُرِ پوُرِیا مِلِ سنّگتیِ ملُ لہِ جاءِ ॥੭॥
من کرہلا میرے پِیارِیا اِک گُر کیِ سِکھ سُنھاءِ ॥
اِہُ موہُ مائِیا پسرِیا انّتِ ساتھِ ن کوئیِ جاءِ ॥੮॥
من کرہلا میرے ساجنا ہرِ کھرچُ لیِیا پتِ پاءِ ॥
ہرِ درگہ پیَنائِیا ہرِ آپِ لئِیا گلِ لاءِ ॥੯॥
من کرہلا گُرِ منّنِیا گُرمُکھِ کار کماءِ ॥
گُر آگےَ کرِ جودڑیِ جن نانک ہرِ میلاءِ ॥੧੦॥੧॥
لفظی معنی :
پا کھنڈ ۔ دکھاوا۔ پرورشن ۔ لوبھ ۔ لالچ ۔ تجائے ۔ چھوڑ ۔ جسم۔ فرشتہ موت ۔ ڈنڈ۔ سزا (2) میل ۔ غلاظت ۔ ناپاکیزگی ۔ بھرم۔ شک گمان ۔ گوائے ۔ مٹائے ۔ ہرا مرتسر۔ آب حیات کا تالاب ۔ خدا ۔ گرپوریا۔ رشد نے بھر رکھا ہے ۔ مل سنگتی ۔ ساتھوں کے ملاپ سے ۔ مل۔ غلاظت (7) سکھ ۔ سکھیا۔ سبق ۔ نصیحت ۔ پسریا۔ پھیلائیا۔ انت۔ بوقت آخرت (8) ساجنا۔ دوستا۔ پت ۔ عزت ۔ پینائیا ۔ خلعت بطور عزت و حشمت ۔ منیا ۔ یقین کیا ۔ جودڑی ۔ منت سماجت ۔ گذارش ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے میرے آوارہ دوست دل لالچ اور دکھاا چھوڑ دے ۔ دکھاوا کرنے والے اور لالچی کو موت کا فرشتہ سزا دیتا ہے (2) اے آوارہ من تو میری زندگی ہے ۔ تو ناپاکیزگی دکھاوا اور وہم و گمان مٹا کامل مرشد نے نام سچ حق حقیقت کا آب حیات کا سمندر یا تالاب بھر رکھا ہے ۔ پاکدامن ساتھیون سے ملکر ناپاکیزگی دور کر (7) اے میرے پیارے من مرشد کی ایک نصیحت پر دھینا دے اور سن ۔ یہ دنیاوی محبت کا پھیلاؤ بوقت آخرت تیرے ساتھ نہ جائیگا (8) اے آوارہ من میرے دوست ے زندگی کے سفر کے لئے الہٰی نام یعنی کا رچ باندھا ہے وہ عزت و وقار پاتا ہے ۔ اسے درگاہ الہٰی میں خلعت سے نواز جاتا ہے ۔ اور خدا اپنے گلے لگاتا ہے (9) اے میرے آوارہ من مرشد میں یقین لا اور مرشد کی رضا میں رہ کر کام کر ۔ اے خادم نانک۔ مرشد کے پاس عرض گذار کہ خدا سے ملا دے ۔
گئُڑیِ مہلا ੪॥
من کرہلا ۄیِچاریِیا ۄیِچارِ دیکھُ سمالِ ॥
بن پھِرِ تھکے بن ۄاسیِیا پِرُ گُرمتِ رِدےَ نِہالِ ॥੧॥
من کرہلا گُر گوۄِنّدُ سمالِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
من کرہلا ۄیِچاریِیا منمُکھ پھاتھِیا مہا جالِ ॥
گُرمُکھِ پ٘رانھیِ مُکتُ ہےَ ہرِ ہرِ نامُ سمالِ ॥੨॥
من کرہلا میرے پِیارِیا ستسنّگتِ ستِگُرُ بھالِ ॥
ستسنّگتِ لگِ ہرِ دھِیائیِئےَ ہرِ ہرِ چلےَ تیرےَ نالِ ॥੩॥
من کرہلا ۄڈبھاگیِیا ہرِ ایک ندرِ نِہالِ ॥

SGGS p. 235
آپِ چھڈاۓ چھُٹیِئےَ ستِگُر چرنھ سمالِ ॥੪॥
من کرہلا میرے پِیارِیا ۄِچِ دیہیِ جوتِ سمالِ ॥
گُرِ نءُ نِدھِ نامُ ۄِکھالِیا ہرِ داتِ کریِ دئِیالِ ॥੫॥
لفظی معنی:
ویچاریا۔ اے سمجھدار ۔ بن۔ جنگل ۔ بن واسیا۔ جنگل میں رہنے والا۔ نہال ۔ دیکھ ۔ گووند۔ خدا۔ (1) رہاؤ ۔ منمکھ ۔ مرید من ۔ پھاتھیا۔ پھنسائیا ۔ مہا جال۔ بھاری پھندے میں۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد (2) ست سنگت ۔ سچے ساتھی ۔ پاکدامنوں کی صحبت و قربت ۔ ستگر۔ سچا مرشد (3) ہر ۔ خدا۔ ندر نہال۔ نظر سے دیکھ (4) وچ دیہی جوت سمال ۔ اس مان میں ہی الہٰی نور سمجھ ۔ نوندھ نام۔ سچا نام نو خزانوں کی مانند ہے ۔ دیال ۔ مہربان (5)
ترجمہ معہ تشریح:
اے آوازہ من خدا کو دلمیں بسا (1) رہاؤ ۔ اے آوارہ من تو سمجھدار بن تو سمجھ کے دیکھ ہوش میں جنگلوں میں بھٹک بھٹک کر دیکھ لیاخدا اور سبق مرشد دلمیں بسا (1) اے بے ضبط خودی پسند من مرید من بھاری دنیاوی دولت کے پندے میں گرفتار ہے ۔ مرید مرشد الہٰینام سچ حق و حقیقت دل میں بسا کر نجات پا لیتا ہے (2) اے میرے پیارے آوارہ من پاکدامن ساتھی اور سچا مرشد تلاش کر۔ پاکدامن ساتھیوں کی صحبت و قربت میں خدا کو یاد کر خدا کا نام ہی تیرا ساتھی ہوگا (3) اے آوارہ من جس پر خدا کی نظر عنایت ہو خوش قسمت ہے ۔ اگر خدا نجات دلائے پائے مرشد سے نجات ملتی ہے ۔ یعنی رحمت مرشد سے (4) اے میرے آزاد بے ضبط دل اس جس م میں الہٰی نور ہے ۔ اسے سنبھال ۔ الہٰی نام زندگی کے لئے تو خزانے ہیں۔ جسے مرشد الہٰی نام کی تشریح کرکے سمجھیا دیا اسے رحمان الرحیم نے ایک نعمت عنایت کر دی ۔
من کرہلا توُنّ چنّچلا چتُرائیِ چھڈِ ۄِکرالِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ سمالِ توُنّ ہرِ مُکتِ کرے انّت کالِ ॥੬॥
من کرہلا ۄڈبھاگیِیا توُنّ گِیانُ رتنُ سمالِ ॥
گُر گِیانُ کھڑگُ ہتھِ دھارِیا جمُ مارِئڑا جمکالِ ॥੭॥
انّترِ نِدھانُ من کرہلے بھ٘رمِ بھۄہِ باہرِ بھالِ ॥
گُرُ پُرکھُ پوُرا بھیٹِیا ہرِ سجنھُ لدھڑا نالِ ॥੭॥
رنّگِ رتڑے من کرہلے ہرِ رنّگُ سدا سمالِ ॥
ہرِ رنّگُ کدے ن اُترےَ گُر سیۄا سبدُ سمالِ ॥੯॥
ہم پنّکھیِ من کرہلے ہرِ ترۄرُ پُرکھُ اکالِ ॥
ۄڈبھاگیِ گُرمُکھِ پائِیا جن نانک نامُ سمالِ ॥੧੦॥੨॥
لفظی معنی :
چنچل ۔ منتشر۔ چترائی ۔ چالاکی ۔ دہوکے بازی ۔ وکرال ۔ خوفناک ۔ مکت۔ آزاد۔ انت کام ۔ بوقت آخرت (6) گیان رتن ۔ سمال۔ علم کے ہیرے کو سنبھال۔ گر گیان کھڑ گی ۔ علم مرشد کی شمشیر ۔ ہتھ دھاریا ۔ ہاتھ لی ۔ جمکال ۔ ۔ روحانی موت کرنے والے کو فرشتہ موت (7) ندھان۔ خزانہ ۔ بھرم بھو یہہ ۔ وہم وگمان میں بھٹکتا ہے ۔ باہر بھال۔ باہر ڈھونڈتا ہے ۔ گر پرکھ پورا۔ کامل مرشد۔ ہر سجن۔ دوست خدا۔ لدھڑا نال ۔ساتھ ہی میل گیا (8) رنگ رتڑے ۔ دنیاوی خوشیوں میں مخمسور ۔ ہر رنگ ۔ الہٰی پریم پیار۔ گر سیو اسبد ۔ خدمت مرشد و شبق و کلام مرشد (9) پنکی ۔ پرندے ۔ ہر ترور ۔ خدا ایک شجر ۔ پرکھ اکال۔ موت سے مبرا انسان ۔ جن ۔ خادم۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل بھٹکتے من چالاکی دہوکے بازی چھوڑ دے اس سے انسان خوفناک ہوجاتا ہے الہٰی نام دلمیں بسا یاد کر جو بوقت آخرت نجات دلاتا ہے (6) اے آوارہ من تو بلند قسمت ہے ۔ تو علم کے قیمتی ہیرے کی سبھنال کر ۔ علم مرشد ایک ایسی شمشیر ہے ۔ جس نے اسے ہاتھ مین لیا اس نے روحانی موت لانے والے کو ۔ اس شمشیر سے ختم کر دیا (7) اے آوارہ من خزانہ تیرے اندر ہے جب کہ تو اسے باہر ڈھونڈ رہاہے ۔ کامل مرشد کے ملا پ سے دوست خدا ساتھ ہی میل گیا (8) اے میرے آوارہ من اے الہٰی پیار میں مجذوب من الہٰی پیار کبھی ختم نہیں ہوتا۔ خدمت مرشد اور کلام وشب مرشد سنبھال (9) اے آوارہ من ہم پرندے ہیں اور خدا ایک شجر ہے ۔ بلند قسمت سے مرید مرشد سے ملاپ ہوا غلام نانک نے نام دل میں سنبھالا بسائیا ۔

راگُ گئُڑیِ گُیاریریِ مہلا ੫ اسٹپدیِیا
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ گُرپ٘رسادِ ॥
جب اِہُ من مہِ کرت گُمانا ॥
تب اِہُ باۄرُ پھِرت بِگانا ॥
جب اِہُ ہوُیا سگل کیِ ریِنا ॥
تا تے رمئیِیا گھٹِ گھٹِ چیِنا ॥੧॥
سہج سُہیلا پھلُ مسکیِنیِ ॥
ستِگُر اپُنےَ موہِ دانُ دیِنیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جب کِس کءُ اِہُ جانسِ منّدا ॥
تب سگلے اِسُ میلہِ پھنّدا ॥
میر تیر جب اِنہِ چُکائیِ ॥
تا تے اِسُ سنّگِ نہیِ بیَرائیِ ॥੨॥
جب اِنِ اپُنیِ اپنیِ دھاریِ ॥
تب اِس کءُ ہےَ مُسکلُ بھاریِ ॥
جب اِنِ کرنھیَہارُ پچھاتا ॥
تب اِس نو ناہیِ کِچھُ تاتا ॥੩॥
جب اِنِ اپُنو بادھِئو موہا ॥
آۄےَ جاءِ سدا جمِ جوہا ॥
جب اِس تے سبھ بِنسے بھرما ॥
بھیدُ ناہیِ ہےَ پارب٘رہما ॥੪॥
لفظی معنی :
گھانا۔ تکبر غرور۔ باور۔ دیوانہ ۔ بیگانہ ۔ علحدہ ۔ رینا۔ دہول۔ رمیا۔ خدا۔ گھٹ گھٹ چینا۔ ہر دلمیں بسا دیکھا (1) سہج ۔ پر سکون سہیلا۔ آرام دیہہ۔ پھل۔ نتیجہ ۔ مسکینی ۔ عاجزی ۔ غریبانہ ۔ انکساری ۔ غریبانہ ۔ شگر اپنے ۔ اپنے سچے مر شد نے ۔ موہے ۔ مجھے ۔ دان ۔ خیرات (1) رہاؤ۔ ۔ مندا ۔ برا۔ پھندہ ۔ جال۔ چکائی ۔ ختم کی ۔ بیرائی ۔ دشمنی (2) اپنی اپنی ۔ خوری۔ اپناپن۔ کرینہار ۔ کرنے والا۔ کار ساز ۔ خدا۔ تاتا۔ حسد۔ بغض سکھ (3) اپنو بادھیو موہا۔ اپنی محبت بنائی ۔ آوے جائے ۔ آواگون ۔ تناسخ۔ جسم جوہا۔ فرشتہ موت کی نظر میں۔ ونسے بھرما۔ بھٹکن ختم کی ۔ بھید باز فرق۔
ترجمہ معہ تشریح:
میرے مرشد نے مجھے عاجزانہ لہجہ سنجیدگی سکون اور آرام واسائش بطور خیرات عطا فرمائی ہے (1) رہاؤ۔ جب اس دل میں گرور ہوتا ہے ۔ تو اس علیحدگی ملتی ہے اور دیوانگی مین پھرتا رہتا ہے ۔ جب یہ سب کے پاوں کی دہول ہوجاتا ہے تو ہر دلمیں بستا خدا دیکھتا ہے (1) جب کیسے برا سمجھتا ہے ۔ تب یہ سمجھتاہے کہ سارے اسے پھنسانے کے لئے جال پھیلا رہے ہیں۔ جب اس نے تفریق مٹا دی تو اس کی کسی سے دشمنی نہیں رہی (2) جب اسے صرف اپنی ہی غرض سے مطلب ہے تب اسے بھاری مشکلات پیش آئینگی ۔ جب اسے کارساز کرتار کی سمجھ اور پہچان ہوگئی تو اسے حسد۔ بعض۔ اور کینہ جاتاہے (3) جب تک انسان اپنی محبت میں گرفتار ہے ۔ تناسخ اور موت کی نظرمیں رہتا ہے ۔ مگر جب اس کی دوڑ دہوپ اور بھٹکن ختم ہو جاتی ہے ۔ تب خدا میں انسان میں تمام تفریقات مٹ جاتی ہے ۔ تب خدا میں انسان میں انسان مین تمام تفریفات مٹ جاتی ہیں دوریاں ختم ہوجاتی ہین۔
جب اِنِ کِچھُ کرِ مانے بھیدا ॥
تب تے دوُکھ ڈنّڈ ارُ کھیدا ॥
جب اِنِ ایکو ایکیِ بوُجھِیا ॥
تب تے اِس نو سبھُ کِچھُ سوُجھِیا ॥੫॥
جب اِہُ دھاۄےَ مائِیا ارتھیِ ॥
نہ ت٘رِپتاۄےَ نہ تِس لاتھیِ ॥
جب اِس تے اِہُ ہوئِئو جئُلا ॥
پیِچھےَ لاگِ چلیِ اُٹھِ کئُلا ॥੬॥
کرِ کِرپا جءُ ستِگُرُ مِلِئو ॥
من منّدر مہِ دیِپکُ جلِئو ॥
جیِت ہار کیِ سوجھیِ کریِ ॥
تءُ اِسُ گھر کیِ کیِمتِ پریِ ॥੭॥

SGGS p. 236
کرن کراۄن سبھُ کِچھُ ایکےَ ॥
آپے بُدھِ بیِچارِ بِبیکےَ ॥
دوُرِ ن نیرےَ سبھ کےَ سنّگا ॥
سچُ سالاہنھُ نانک ہرِ رنّگا ॥੮॥੧॥
لفظی معنی:
بھید ۔ تفریق ۔ فرق۔ دوکھ ۔ عذاب۔ ڈنڈ ۔ سزا۔ کھید ۔ مشکلات۔ کرنیہار۔ کارساز۔ کرتار۔ ایکو ایکی ۔ وحدت ۔ سوجھیا۔ سمجھ آئی (5) دھاوے ۔ دوڑتا ہے ۔ مائیا آرتھی ۔ دولت کی غرض سے ۔ تر پتارے ۔ پیاس و بھوک نہیں مٹتی ۔ تس۔ خواہشات کی پیاس۔ جولا ۔ علیحدہ ۔ گولا۔ مائیا (6) ویپک ۔ چراغ۔ سوجھی ۔ سمجھ (7) چیت۔ فتح۔ ہار۔ شکست ۔ پیکے ۔ نیک و بد کی تمیز کرنے کی سمجھ ۔ رنگا۔ پریم ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب تک انسان ایکدوسرے میں تفریق سمجھتا رہے گا ۔ اس وقت تک عذاب سزا اور مشکلات آئیں گی ۔ جب سب میں واحد خدا کو کوبستا سمجھ لیا تب اسے ساری سمجھ آگئی (5) جتنی دیر دولت کا محتاج ہوکر اس کے لئے تگ و دو کرتا ہے ۔ اس وقت تک اس کی خواہشات کی تشنگی نہ مٹگی ۔ جب اس سے علیحدگی اختیار کر لیگا۔ تو یہ دولت اس کے پچھے پچھے دوڑ گی خدمتگار رہنے گی (6) جب کرم و عنایت سے مرشد سے ملاپ ہوجائے تو دلمیں علم کا چراغ روشن ہوجائیگای ۔ تب اسے زندگی میں حقیقی فتح اور شکست کیا ہے ۔ تب اسے انسانی جسم کی قدرو قیمت کا پتہ چلیگا (7) اے نانک ۔ خدا ہی سب کچھ کر رہا ہے جو ہو رہا ہے ۔ خود ہی ہوش و عقل اور نیک دید کی تمیز کرنے کی صلاحیت عنایت کرتاہے ۔ وہ اس کی کسی سے دوری نہیں سب کے ساتھ بستا و ہی سچی صفت صلاح کے لائق ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
گُر سیۄا تے نامے لاگا ॥
تِس کءُ مِلِیا جِسُ مستکِ بھاگا ॥
تِس کےَ ہِردےَ رۄِیا سوءِ ॥
منُ تنُ سیِتلُ نِہچلُ ہوءِ ॥੧॥
ایَسا کیِرتنُ کرِ من میرے ॥
ایِہا اوُہا جو کامِ تیرےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جاسُ جپت بھءُ اپدا جاءِ ॥
دھاۄت منوُیا آۄےَ ٹھاءِ ॥
جاسُ جپت پھِرِ دوُکھُ ن لاگےَ ॥
جاسُ جپت اِہ ہئُمےَ بھاگےَ ॥੨॥
جاسُ جپت ۄسِ آۄہِ پنّچا ॥
جاسُ جپت رِدےَ انّم٘رِتُ سنّچا ॥
جاسُ جپت اِہ ت٘رِسنا بوُجھےَ ॥
جاسُ جپت ہرِ درگہ سِجھےَ ॥੩॥
جاسُ جپت کوٹِ مِٹہِ اپرادھ ॥
جاسُ جپت ہرِ ہوۄہِ سادھ ॥
جاسُ جپت منُ سیِتلُ ہوۄےَ ॥
جاسُ جپت ملُ سگلیِ کھوۄےَ ॥੪॥
جاسُ جپت رتنُ ہرِ مِلےَ ॥
بہُرِ ن چھوڈےَ ہرِ سنّگِ ہِلےَ ॥
جاسُ جپت کئیِ بیَکُنّٹھ ۄاسُ ॥
جاسُ جپت سُکھ سہجِ نِۄاسُ ॥੫॥
جاسُ جپت اِہ اگنِ ن پوہت ॥
جاسُ جپت اِہُ کالُ ن جوہت ॥
جاسُ جپت تیرا نِرمل ماتھا ॥
جاس جپت سگلا دُکھُ لاتھا ॥੬॥
جاسُ جپت مُسکلُ کچھوُ ن بنےَ ॥
جاسُ جپت سُنھِ انہت دھُنےَ ॥
جاسُ جپت اِہ نِرمل سوءِ ॥
جاسُ جپت کملُ سیِدھا ہوءِ ॥੭॥
گُرِ سُبھ د٘رِسٹِ سبھ اوُپرِ کریِ ॥
جِس کےَ ہِردےَ منّت٘رُ دے ہریِ ॥
اکھنّڈ کیِرتنُ تِنِ بھوجنُ چوُرا ॥
کہُ نانک جِسُ ستِگُرُ پوُرا ॥੮॥੨॥
لفظی معنی :
جس مستک بھاگا ۔ الہٰی رضا جس کے حق میں ہے ۔ رویا۔ مجذوب ہوا۔ نہچل۔ مستقل (1) بھو۔ خوف۔ ابدا۔ مصیبت ۔ دھاوت ۔ دوڑتا ۔ بھٹکتا ۔ ٹھائے ۔ ٹھکانے (2) پنچا ۔ پانچوں احساسات بد ۔ ردے ۔ دلمیں۔ ترشنا۔ دل کی خواہشات کی پیاس۔ سہجے ۔ سوجھ ۔ سمجھ (3) اپرادھ۔ جرم۔ گناہ ۔ دوش۔ سادھ ۔ پاکدامن ۔ سگلی ۔ ساری (4) بلے ۔ مکلم ساتھ۔ سکھ سہج ۔ آسانی سے سکھ ۔ آرام۔ اگن۔ آگ۔ مراد خواہشات کی آگ۔ کال۔ موت (6) انحت۔ انحت ۔ ان آحت ۔ بے آواز۔ دھن۔ سنگیت ۔ نرمل سوئے ۔ پاک شہرت ۔ کمل۔ دل۔ قلب۔ سبھ۔ نظر عنایت۔ منتر ۔ نصیحت ۔ سبق۔ چورا۔ چوری ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل تو ایسی حمدوثناہ کر جو ہر دو عالموںمیں تیرے کام آئے (1) رہاؤ۔ خدمت مرشد سے ہی انسان کا رشتہ ا لہٰی نام سے پیدا ہوتا ہے ۔ ملتا اسے ہے جس کی قمت میں ہوتا۔ اس انسان کے دلمیںخدا بستا ہے ۔ اس کے دل وجان کو کو سکون ملتا ہے اور انسان مستقل مزاج ہوجاتاہے (1 جس کی حمدوثناہ ےسے خوف او ر مصیبت ختم ہو جاتی ہے ۔ بھٹکتے دل کو سکون ملتا ہے ۔ جس کی حمدوچنا سے عذاب نہیں اتا اور خود مٹ جاتی ہے ۔ (2) جس کی حمدوثناہ سے پانچوں احساسات بد زیر ہوجاتے ہیں۔ زندگی عنایت کرنے والا آبحیات اکھٹا ہوجاتا ہے ۔ جس کی حمدوثناہ سے خواہشات کی آگ بجھ جاتی ہے ۔ اور الہٰی دربار کی سمجھ آجاتی ہے (3) جس کی حمدوثناہ سے کروڑوں گناہ و دوش ختم جاتے ہیںجس کی حمدوثناہ سے انسان پاکدامن اور نیک انسانبن جاتا ہے ۔ جس ریاض سے دل کو سکون ملتاہے اور من کی غلاظت دور ہوجاتی ہے (4) جس کی صفت صلاح سے الہٰی نام کی قیمتی شے دستیاب ہوتی ہے اور اسے چھوڑتا نہیں قریبی ہوجاتا ہے ۔ جس کی ریاض سےروحانی سکنو ملتاہے جس کے حمدوثناہ سے کتنی ہی جنتوں میں رہائش ملتی ہے (5) جس کی حمدوثناہ سے خواہشات کی آگ بے اثر ہوجاتی ہے ۔ موت کا خوف مٹ جاتا ہے ۔ جس سے انسان ہر جگہ سرخرو رہتا ہے ۔ اور تمام عذا ب دور ہو جاتے ہیں (6) جس کی حمدوثناہ سے مشکلات در پیش نہیں آتیں۔ جس کی حمدوثناہ سے روحانی سکون کی روشن جاری رہتی ہے ۔ اور پاک شہرت حاصل ہوتی ہےجس کی حمدوثناہ سے دل صراط مستقیم اختیا کر لیتا ہے (7) مرشد سب کے اوپر اپنی نگاہ شفقت ڈالتاہے ۔ جس کے دلمیں الہٰی ریاض کا سبق دیتا ہے ۔ اسکا کھانا ہی ہر لمحہ الہٰی حمدوثناہ ہوجاتا ہے ۔ اے نانک جسکا مرشد کا مل ہے ۔

گئُڑیِ مہلا ੫॥
گُر کا سبدُ رِد انّترِ دھارےَ ॥
پنّچ جنا سِءُ سنّگُ نِۄارےَ ॥
دس اِنّد٘ریِ کرِ راکھےَ ۄاسِ ॥
تا کےَ آتمےَ ہوءِ پرگاسُ ॥੧॥
ایَسیِ د٘رِڑتا تا کےَ ہوءِ ॥
جا کءُ دئِیا مئِیا پ٘ربھ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ساجنُ دُسٹُ جا کےَ ایک سمانےَ ॥
جیتا بولنھُ تیتا گِیانےَ ॥
جیتا سُننھا تیتا نامُ ॥
جیتا پیکھنُ تیتا دھِیانُ ॥੨॥
سہجے جاگنھُ سہجے سوءِ ॥
سہجے ہوتا جاءِ سُ ہوءِ ॥
سہجِ بیَراگُ سہجے ہیِ ہسنا ॥
سہجے چوُپ سہجے ہیِ جپنا ॥੩॥
سہجے بھوجنُ سہجے بھاءُ ॥
سہجے مِٹِئو سگل دُراءُ ॥
سہجے ہویا سادھوُ سنّگُ ॥
سہجِ مِلِئو پارب٘رہمُ نِسنّگُ ॥੪॥
سہجے گ٘رِہ مہِ سہجِ اُداسیِ ॥
SGGS p. 237

سہجے دُبِدھا تن کیِ ناسیِ ॥
جا کےَ سہجِ منِ بھئِیا اننّدُ ॥
تا کءُ بھیٹِیا پرماننّدُ ॥੫॥
سہجے انّم٘رِتُ پیِئو نامُ ॥
سہجے کیِنو جیِء کو دانُ ॥
سہج کتھا مہِ آتمُ رسِیا ॥
تا کےَ سنّگِ ابِناسیِ ۄسِیا ॥੬॥
سہجے آسنھُ استھِرُ بھائِیا ॥
سہجے انہت سبدُ ۄجائِیا ॥
سہجے رُنھ جھُنھکارُ سُہائِیا ॥
تا کےَ گھرِ پارب٘رہمُ سمائِیا ॥੬॥
سہجے جا کءُ پرِئو کرما ॥
سہجے گُرُ بھیٹِئو سچُ دھرما ॥
جا کےَ سہجُ بھئِیا سو جانھےَ ॥
نانک داس تا کےَ کُربانھےَ ॥੮॥੩॥
لفظی معنی:
رد۔ دل۔ دھارے ۔ بسائے ۔ سنگ۔ ساتھ۔ نوارے ۔ دور کرے ۔پرگاس۔ روشنی (1) درڑتا ۔ پختگی ۔ مستقل مزاجی ۔ دیا۔ مہربانی ۔ میا ۔ مہربانی (1) ساجن ۔ دوست دشٹ ۔ دشمن ۔ جیتا۔ جتنا۔ تیتا۔ اتنا۔ پیکھن۔ دیکھنا (2) دھیان ۔متوجو ۔ سہجے ۔ پر سکون ۔ قدرتا ً ۔ ویراگ۔ تیاگ۔ جوپ خاموشی (3) بھاؤ۔ پیار۔ دوڑاؤ۔ دوری ۔ نسنگ۔ ظاہر (4) دبدھا۔ دوچتی۔ دوہرے خیال۔ پر مانند۔ بھاری سکون والا خدا (5) کیتو ۔ کیا ہے ۔ دان۔ خیرات ۔ سہج کتھا۔ پر سکون بیان ۔ آتم۔ روح ۔ ذہن۔ ابناسی ۔ لافناہ (6) آسن۔ ٹھکانہ ۔ استھر۔ مستقل۔ انحت۔ روھانی سکون۔ رن جھنکار۔ سازندگی (7) پریو ۔ پڑا۔ کرماں۔ قیمت ۔ سچ دھرما۔حقیقی فرض ۔ سہج بھیا۔ سچا علم۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس انسان پر خدا مہربان ہوجاتا ہے اسے روحانی طاقت و روحانی پختگی عنایت کرتاہے (1) رہاؤ۔ وہ انسان اپنے دل میں کلام مرشد بساتا ہے ۔ پانچوں احساسات بد سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے ۔ دس اعضے کو زیر کر لیتا ہے ۔ وہ روح روشن ہوجاتی ہے (1) جس کے لئے دوست اور دشمن ایک جیسے ہیں۔ جتنے الفاظ زبان سے نکالتاہے ۔ داشمند انہ اور عالمانہ ۔ جتنا سنتاہے سچ سنتا ہے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت ہوتا ہے ۔ جتنا دیکھتا ہے خدا ۔ سے الحاق ہوتاہے (2) پر سکون ہی سوتا اور بیداری ہوتا ہے ۔ اور قدرتی طور پر جو ہانا ہوتا ہے ۔ ہوت ا رہا ہے ۔ الہٰی رضا میں مدخل نہیں ہوتا ۔ سکون پاا ہے ۔ خواہ غمگینی ہو یا شادی یا خوشی وہ پرسکون خاموشی میں بھی اور بولنے وقت بھی پر سکون بولتاہے (3) روحانی سکون میں ہی کھاتا پیتاہے اور پریم پیار کرتاہے سکون کی وجہ سے تمام دوریاں دور ہوجاتیہین۔ سکون میں پاکدامن خدا رسید ہ کا ساتھ ہو جاتا ہے اور ظاہر خدا سے ملاپ ہوجاتا ہے (4) خواہ گھریلو زندگی گذارتا ہے یا تارک الدنیا وہ پر سکون رہتاہے ۔ اور قدرتا ً اس کی دوچتی ختم ہوجاتی ہے ۔ روحانی سکون کیوجہ سے دل خوشباش ہوجاتا ہے اور وہ سب سے بلند سکون کے مالک سے ملاپ پا لیتای ہے (5) وہ روحانی سکون پاکر نام جو آب حیات ہے نوش کرتاہے اور روحانی سکون کی برکات سے دوسرون کو روحانی زندگی خیرات میں دیتاہے اس کی روحا نہ روحانی گہانیوں کا لطف اُٹھائی ہے لافناہ خدا اس کے ساتھ بستا ہے ۔ (6) روحانی سکون میں وہ ہمیشہ مستقل مزاج رہتا ہے روحانی سکون میں ہی اس کی روح میں روحانی دھنیں گونجتی رہتی ہیں۔ اس کے دلمیں ہمیشہ ظاہر بستا ہے (7) جس انسان کے دلمیں ایسا روحانی سکون ہوتا ہے وہی اسے سمجھ سکتا ہے ۔ روحانی سکون میں انسان کی سچے مرشد سے ملاپ ہو سچے حقیقی فرض کا پتہ چلتا ہے ۔ خادم نانک اس پر قربان ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
پ٘رتھمے گربھ ۄاس تے ٹرِیا ॥
پُت٘ر کلت٘ر کُٹنّب سنّگِ جُرِیا ॥
بھوجن انِک پ٘رکار بہُ کپرے ॥
سرپر گۄنُ کرہِگے بپُرے ॥੧॥
کۄنُ استھانُ جو کبہُ ن ٹرےَ ॥
کۄنُ سبدُ جِتُ دُرمتِ ہرےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِنّد٘ر پُریِ مہِ سرپر مرنھا ॥
ب٘رہم پُریِ نِہچلُ نہیِ رہنھا ॥
سِۄ پُریِ کا ہوئِگا کالا ॥
ت٘رےَ گُنھ مائِیا بِنسِ بِتالا ॥੨॥
گِرِ تر دھرنھِ گگن ارُ تارے ॥
رۄِ سسِ پۄنھُ پاۄکُ نیِرارے ॥
دِنسُ ریَنھِ برت ارُ بھیدا ॥
ساست سِنّم٘رِتِ بِنسہِگے بیدا ॥੩॥
تیِرتھ دیۄ دیہُرا پوتھیِ ॥
مالا تِلکُ سوچ پاک ہوتیِ ॥
دھوتیِ ڈنّڈئُتِ پرسادن بھوگا ॥
گۄنُ کریَگو سگلو لوگا ॥੪॥
لفظی معنی:
پرتھمے ۔ پہلے ۔ گربھ داس۔ پیٹ میں رہائش ۔ لڑیا ۔ خلاصی ہوئی ۔ کلت ۔ عورت۔ کٹنبھ ۔ قبیلہ ۔ جریا۔ رشتہ ۔ پیدا ۔ ہوا۔ بھوجن۔ کھانا۔ ۔ انک پرکار۔ بہت سی قسموں کے ۔ کپرے ۔ کپڑے ۔ سر پر ۔ ضرور ۔ گون ۔ چلانا۔ ۔ بپرے ۔ وچارے (1) گون ۔ گونسا۔ استھان۔ مقام ۔ کبہو۔ گبھی بھی ۔ نہ لڑے ۔ ختم نہیں ہوتا۔ سبد ۔ کلمہ ۔ جت۔ جس سے ۔ درمت۔ کم ۔ عقلی ۔ بڑی ۔ سمجھ ۔ برے ۔ مٹتی ہے ۔ رہاؤ ۔ نہچل ۔ مستقل ۔کالا۔ موت۔ دنس۔ مٹے گا۔ بیتالا۔ حقیقت سے بعید بے سر۔ (2) گر ۔ پہاڑ۔ تر۔ شجر۔ دھرن۔ زمین۔ گگن۔ آسمان۔ رو۔ سور ج ۔ سس۔ چاند۔ پاوک آگ۔ پون۔ ہوا۔ نیرارے ۔ پانی ۔ دنس۔ روز۔ رین۔ شب۔ رات۔ بھید۔ راز۔ ہرت۔ پرہیز۔ ونسیہہ۔ مٹ جائیگا۔ ویدا۔ یدا (3) تیرتھ ۔زیارت اہ ۔ دیو۔ فرشتے ۔ دیہرا۔ مندر۔ پوتھی ۔ کتاب۔ سوچ پاک۔ پاک رسوئی ۔ باورچی خانہ ۔ وئی ۔ آتش پرشت۔ پر ساون ۔ طرح طرح کے کھانے ۔ دوت ۔ بطور تعظیم سیدھے لیٹ کر پر نام کرنا۔ یا جھکنا ۔ سگلے لوگا۔ سارے لوگ۔
ترجمہ معہ تشریح:
وہ کونسا مقام ہے جو ہمیشہ قائم رہتا ہے وہ کونسا کلام ہے جس سرے بری سمجھ ختم ہوجاتی ہے (1) رہاؤ۔ سب سے اول جاندارماں کے پیٹ سے نجات پاتا ہے اور بیٹے زوجہ اور قبیلے محبت میں گرفتار رہوجاتا ہے ۔ طرھ طرح کھانے اورپوشاک استعمال کرتا ہے مگر آخر بچارگی کی حالت میں اس جہاں سے چلتا پڑتاہے ۔ موت اندردیوتے کی ملکیت میں بھی ضروری آتی ہے ۔ برہما کے کاملک بھی صدیوی نہیں ۔ شیوجی کے ملک نے بھی مٹ جاتا ہے ۔ مگر عالم تینوں اوصاف کی دنیاوی دولت کی زہر تاثرات حقیقی مستقیم کو بھول کر روحانی موت مرتا ہے (2) پہاڑ شجر ۔ زمین ۔ آسمان ۔ اور تارے سورج چاند۔ ہو آگ ۔ پانی روز شب ضبط اور علیحدہ علیحدہ رواات رسم و رواج وید سمرتیاں اور شاستر یہ سب آخر ختم ہوجائنگے (3) زیار گائیں ۔ فرشتے مندر۔ مذہبی کتابیں مالا تلک۔ اور پاک باورچی خانے آتش پرست ۔ دہوتی اور ڈنڈے کی مانند بطور تعظیم و آداب جھکاو اور طرھ طرح کے کھانے غرض یہ کہ سارا عالم ہی نے ختم ہوجانا ہے (4)
جاتِ ۄرن تُرک ارُ ہِنّدوُ ॥
پسُ پنّکھیِ انِک جونِ جِنّدوُ ॥
سگل پاسارُ دیِسےَ پاسارا ॥
بِنسِ جائِگو سگل آکارا ॥੫॥
سہج سِپھتِ بھگتِ تتُ گِیانا ॥
سدا اننّدُ نِہچلُ سچُ تھانا ॥
تہا سنّگتِ سادھ گُنھ رسےَ ॥
انبھءُ نگرُ تہا سد ۄسےَ ॥੬॥
تہ بھءُ بھرما سوگُ ن چِنّتا ॥
آۄنھُ جاۄنھُ مِرتُ ن ہوتا ॥
تہ سدا اننّد انہت آکھارے ॥
بھگت ۄسہِ کیِرتن آدھارے ॥੭॥
پارب٘رہم کا انّتُ ن پارُ ॥
کئُنھُ کرےَ تا کا بیِچارُ ॥
کہُ نانک جِسُ کِرپا کرےَ ॥
نِہچل تھانُ سادھسنّگِ ترےَ ॥੮॥੪॥
لفظی منی :
ودن۔ہندو مذہب سے انسان کو چار طبقوں میں منقسم کر رکھا ہے ۔ براہمن ۔ کھتری ۔ شودر۔ جندو ۔ جاندار۔ ونس۔ مٹ جانا۔ سگل اکار۔ ساراعالم (5) سہج ۔ روحانی سکون ۔ تت۔ حقیقت ۔ بنیاد ۔ نہچل۔ مستل۔ سچ تھان ۔ سچامقام۔ تہا۔ وہاں ۔گن رسے ۔ اوصاف کا لطف۔ ان بھو نگر۔ اس بیخو ف شہر (6) شیر ۔ وہاں ۔ آون۔ جاون۔ تناسخ۔ میرت۔ موت۔ سدا انند ۔ ہمیشہ سکون اور خوشی ۔ انجت ۔ بغیر ٹھہراؤ ۔ لگاتار۔ گکھارے ۔ اکٹھ۔ ادھارے ۔ سہارے ۔ (7) انت۔ شمار۔ پار۔ کنارا۔ نہچل تھان۔ مستقل ٹھکانہ ۔ سادھ سنگ۔ پاکدامن خا ساتھی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
ذات ۔ فرقے ۔ مذہب ۔ ہندو مسلمان پرندے اور حیوان اور بیشمار قسم کے جاندار ارو یہ عالمی پھلاؤ جو دکھائی دے رہ اہے ۔ یہ زیر نظر عالم آخر مٹ جائیگا (5) مگر وہ مقام صدیوی مستقل ہے جہان ہمیشہ روحانی سکون خوشیاں اور بہاریں ہیں۔ جہاں الہٰی حمدوثناہ پاکدامن ساتھی اکھٹے ہوکر کر رہے ہوں اور الہٰی اوساف کی خوشیاں حاصل کر رہے ہوں وہ بیخوف مقام و شہر ہے (6) وہاں نہ خوف ہے نہ شک و شبہات نہ غمی اور افسوس نہ کسی قسم کی تشویش و فکر نہ روحانی موت نہ تناسخ وہاں صدیوی لگاتار روحانی سکون کے مجمئے جاری رہتے ہیں ا لہٰی عاشقوں اور عابدوں کو الہٰی صفت صلاح کا ہی سہارا ہے (7) اس کا میابیاں کا مرانیاں عنایت کرنے والے خدا کا اور اس کے اوصاف کا شمار نہیں ہو سکتا نہ اس کا کوئی کنارا ہے ۔ نہ کسی کے لئے اس کے اوصاف کی خیال آرائی مسکین ہے ۔ اے نانک بتادے سکہ جس پر الہٰی کرم وعنایت ہو صدیوی قائم دائم پاکدامنوں کا ساتھ ہے جو کامیابیاں دینے والا ہے ۔ کامیاب ہوجاتا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
جو اِسُ مارے سوئیِ سوُرا ॥
جو اِسُ مارے سوئیِ پوُرا ॥
جو اِسُ مارے تِسہِ ۄڈِیائیِ ॥
جو اِسُ مارے تِس کا دُکھُ جائیِ ॥੧॥
ایَسا کوءِ جِ دُبِدھا مارِ گۄاۄےَ ॥
اِسہِ مارِ راج جوگُ کماۄےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جو اِسُ مارے تِس کءُ بھءُ ناہِ ॥
جو اِسُ مارے سُ نامِ سماہِ ॥
جو اِسُ مارے تِس کیِ ت٘رِسنا بُجھےَ ॥
جو اِسُ مارے سُ درگہ سِجھےَ ॥੨॥
جو اِسُ مارے سو دھنۄنّتا ॥
جو اِسُ مارے سو پتِۄنّتا ॥
جو اِسُ مارے سوئیِ جتیِ ॥
جو اِسُ مارے تِسُ ہوۄےَ گتیِ ॥੩॥
جو اِسُ مارے تِس کا آئِیا گنیِ ॥
جو اِسُ مارے سُ نِہچلُ دھنیِ ॥
جو اِسُ مارے سو ۄڈبھاگا ॥
جو اِسُ مارے سُ اندِنُ جاگا ॥੪॥
جو اِسُ مارے سُ جیِۄن مُکتا ॥
جو اِسُ مارے تِس کیِ نِرمل جُگتا ॥
جو اِسُ مارے سوئیِ سُگِیانیِ ॥
جو اِسُ مارے سُ سہج دھِیانیِ ॥੫॥
اِسُ ماریِ بِنُ تھاءِ ن پرےَ ॥
کوٹِ کرم جاپ تپ کرےَ ॥
اِسُ ماریِ بِنُ جنم ن مِٹےَ ॥
اِسُ ماریِ بِنُ جم تے نہیِ چھُٹےَ ॥੬॥
اِسُ ماریِ بِنُ گِیانُ ن ہوئیِ ॥
اِسُ ماریِ بِنُ جوُٹھِ ن دھوئیِ ॥
اِسُ ماریِ بِنُ سبھُ کِچھُ میَلا ॥
اِس ماریِ بِنُ سبھُ کِچھُ جئُلا ॥੭॥
جا کءُ بھۓ ک٘رِپال ک٘رِپا نِدھِ ॥
تِسُ بھئیِ کھلاسیِ ہوئیِ سگل سِدھِ ॥
گُرِ دُبِدھا جا کیِ ہےَ ماریِ ॥
کہُ نانک سو ب٘رہم بیِچاریِ ॥੮॥੫॥
لفظی معنی :
دبدھا۔ دوچتی ۔ دوہرے خیالات۔ غیر مستقل مزاجی ۔ سورا۔ بہادر۔ پورا۔ کامل۔ وڈیائی ۔ عظمت ۔ وکھ ۔ عزاب (1) راج۔ حکومت۔ جوگ ۔ روحانی طاقت (1) رہاؤ۔ بھو۔ خوف۔ نام۔ سچ۔ سماہے ۔ سنبھالنا ۔ ترشنا۔ خواہشات کی پیاس ۔ درگیہہ۔ دربار۔ کچہری ۔ سہجے ۔ سوجھی ۔ سمجھ (2) دھنونتا۔ سرمایہ دار ۔ پتونتا ۔ عزت دار۔ جتی۔ شہوت پر ضبط رکھنے والا۔ گنی ۔ روحانی طور پر بلند حالت (3) گنی ۔ شمار ہوتاہے ۔ سمجھنا۔ نہچل دھنی ۔ مستقل مالک ۔ وڈبھاگا۔ بلند قسمت ۔ جاگا۔ پیدا ۔ چست (4) جیون مکتا ۔ دورا ن حیان بدیوں سے نجات ۔ نرمل۔ پاک ۔ جگتا۔ تدبیر ۔ گیانی ۔ عالم۔ سہج دھیانی ۔ پرسکون توجہ دینے والا (5) تھائے ۔ ٹھکانہ ۔ جسمتے نہیں چھٹے ۔ روھانی موت سے نجات نہ ملیگی (6) گیان۔ علم۔ جوٹھ۔ ناپاکیزگی ۔ میلا۔ ناپاک۔ جولا۔ علیحد (7) کر پاندھ ۔ رحمان الرحیم ۔ مہربانیوں کا خزانہ ۔ خلاصی ۔ نجات۔ چھٹکارا ۔ سدھ ۔ کامیابی ۔ برہم۔ بیچاری ۔ الہٰی اوصاف کا خیال کرنے والا۔
یہ ساری اشٹ پدی دوچتی ۔ دوہرے خیالات کے سمبندھ میں ہے کہ اسے ختم کئے بغیر انسان زندگی کامیاب نہیں ہوتی ۔ ایسا کوئی انسان ہی ہے جو دوچتی ختم کرئے یعنی جو مستقل فیصلہ کر سکے اسے ختم کرنے سے انسان گھر یلو زندگی بسر کرنے کے ساتھ ساھت الہٰی رشتہ قائم رکھ سکتا ہے (1) ہاؤ۔ جو اسے ختم کرے وہ بہادر ہے وہ کامل انسان ہے ۔ وہ با عظمت ہے وہ عزاب نہیں پاتا (1) جو اسے ختم کر لیتا ہے ۔ خوف نہیں رہتا۔ جو اسے ختم کر لیتا ہے سچ سنبھالتا ہے ۔ خواہشات کی پیاس نہیں رہتی ۔ الہٰی کچہری کی سمجھ آجاتی ہے (2) جو انسان دبدھا یا تشویش مٹا لیتا ہے ۔ وہ سرمایہ دار ہے ۔ جو دبدھا ۔ دو سمجھی مٹا دیتا ہے ۔ وبا عزت ہے اس کی شہوت پر ضبط یا لیتا ہے ۔ جو اسے مٹا دیتا ہے ۔ اسے بلند روحانیت حاصل ہو جاتی ہے (3) جو اسے مٹا دیتا ہے اسکا بیداری ہونا ہی کامیاب زندگی ہے جو اسے مٹا دیتا ہے وہ حقیقی دولتمند ہے ۔ وہ بلند قسمت ہے اور بیدار ہے (4) جو اسے مٹا دیتا ہے گھر یلو زندگی بسر کرتے ہوئے بھی برائیوں سے ازاد ہے ۔ اس کی بودو با ش ہمیشہ پاک ہوجاتی ہے ۔ طر ززندگی پاک ہوجاتی ہے ۔ وہ عاقل ہے وہ روحانی سکون پاتا ہے (5) دبدھا یا تشویش ختم کئے بغیر ٹھکانہ نہیں ملتا ۔ خواہ ۔ کرورؤں حمدوثناہ و عبادت کیوں نہ کرے ۔ نہ تناسخ ختم ہوگا نہ موت سے نجات حاصل ہوگی (6) اسے ختم کئے بغیر تحصیل علم حاصل نہ ہوگا ۔ نا پاکیزگی دور ہوگی ۔ دبدھا ختم کئے بغیر ہر شے ناپاک ہے اور خدا سے دوری رہتی ہے (7) جس پر رحمان الرحیم مہربانی ہوجاتاہے ۔ اسے دبدھا سے نجات مل جاتی ہے ۔ اور زندگی کامیاب ہوجاتی ہے ۔ اے نانک۔ جس کے دل سے دبدھا اپنے گیر کی تفریق مٹا دی ۔ وہ خدا کے اوصاف کو سمجھنے کے لائق ہوگیا۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
ہرِ سِءُ جُرےَ تا سبھُ کو میِتُ ॥
ہرِ سِءُ جُرےَ ت نِہچلُ چیِتُ ॥
ہرِ سِءُ جُرےَ ن ۄِیاپےَ کاڑ٘ہ٘ہا ॥
ہرِ سِءُ جُرےَ ت ہوءِ نِستارا ॥੧॥
رے من میرے توُنّ ہرِ سِءُ جورُ ॥
کاجِ تُہارےَ ناہیِ ہورُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ۄڈے ۄڈے جو دُنیِیادار ॥
کاہوُ کاجِ ناہیِ گاۄار ॥
ہرِ کا داسُ نیِچ کُلُ سُنھہِ ॥
تِس کےَ سنّگِ کھِن مہِ اُدھرہِ ॥੨॥
کوٹِ مجن جا کےَ سُنھِ نام ॥
کوٹِ پوُجا جا کےَ ہےَ دھِیان ॥
کوٹِ پُنّن سُنھِ ہرِ کیِ بانھیِ ॥
کوٹِ پھلا گُر تے بِدھِ جانھیِ ॥੩॥
من اپُنے مہِ پھِرِ پھِرِ چیت ॥
بِنسِ جاہِ مائِیا کے ہیت ॥
ہرِ ابِناسیِ تُمرےَ سنّگِ ॥
من میرے رچُ رام کےَ رنّگِ ॥੪॥
جا کےَ کامِ اُترےَ سبھ بھوُکھ ॥
جا کےَ کامِ ن جوہہِ دوُت ॥
جا کےَ کامِ تیرا ۄڈ گمرُ ॥
جا کےَ کامِ ہوۄہِ توُنّ امرُ ॥੫॥
جا کے چاکر کءُ نہیِ ڈان ॥
جا کے چاکر کءُ نہیِ بان ॥
جا کےَ دپھترِ پُچھےَ ن لیکھا ॥
تا کیِ چاکریِ کرہُ بِسیکھا ॥੬॥
جا کےَ اوُن ناہیِ کاہوُ بات ॥
ایکہِ آپِ انیکہِ بھاتِ ॥
جا کیِ د٘رِسٹِ ہوءِ سدا نِہال ॥
من میرے کرِ تا کیِ گھال ॥੭॥
نا کو چتُرُ ناہیِ کو موُڑا ॥
نا کو ہیِنھُ ناہیِ کو سوُرا ॥
جِتُ کو لائِیا تِت ہیِ لاگا ॥
سو سیۄکُ نانک جِسُ بھاگا ॥੮॥੬॥
لفظی معنی:
جرے ۔ رشتہ بنائے ۔ پریم پیدا کرے ۔ نہچل چیت۔ مستقل مزاج۔ کاڑا۔ تشویش۔ فکر۔ دیاپے ۔ پیدا ہونا۔ نستارا۔ فیصلہ ۔ تشریح (1) جور ۔ رشتہ بنا۔ کاج کام (1) رہاؤ۔ دنہاوار۔ دنیا رکھنے والے ۔ گاوار۔ جاہل۔ بیوقوف۔ نچ کل ۔ کمینی زات۔ نیچے خاندان ۔ سنیہہ۔ سنتے ہیں۔ سنگ۔ ساتھ ۔ صحبت ۔ قربت۔ کھن میہہ۔ بہت جلا۔ ادھریہہ۔ ادھار ہوتا ہے (2) سن نام۔ نام سنتا ۔ کوٹ مجن۔ کروڑوں زیارتیں۔ کوٹ پوجا۔ کروڑوں پر ستش ۔ جاکے دھیان ۔ توجہ دینا۔ پن۔ ثواب۔ بدھ انی ۔ طریقہ سمجھنا (3) چیت ۔ یاوکر۔ ونس۔ مٹ جائیگا۔ بیت ۔ محبت۔ ابناسی ۔ لافناہ ۔ رام رنگ ۔ الہٰی پیار (4) جاکے ۔ کام۔ جس کی خدمت سے ۔ اُترے سب بھوکھ ۔ ساری بھوک مٹ جاتی ہے ۔ جوہے دوت۔ دشمن نظر نہیں کرتے ۔ ود گمر۔ بلند عظمت ۔ امر۔ صدیوی ۔ رحانی صدیوی زندگی والا (5)چاکر۔ خادم ۔ ڈان۔ سزا۔ بنا۔ عادت ۔ عیب۔ لیکہا۔ حساب۔ وسکیکہا۔ حاصل کر (6) اون۔ کمی ۔ انکہہ۔ بھات۔ بہت طریقوں سے ۔ درشٹ۔ نگاہ۔ نظر ۔ نہال۔ خوش۔ گھال۔ خدمت۔ محنت (7) چتر۔ چالاک ۔ موڑھا۔ مورکھ ۔ بیوقوف ۔ ہین ۔ کمزور۔ سورا۔ جنگجو ۔ بہادر۔ تتہی ۔ اسی میں ۔ لاگا۔ مصروف ہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل خدا سے رشتہ تعلق پیدا کر پیار بنا۔ اس کے علاوہ دوسرا تیرے کام نہ آئیگا ۔ رہاؤ۔ جب انسان محبت خدا سے ہوجاتی ہے ۔ تو اسے سارے انسان دوست دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ مستقل مزاج ہوجاتا ہے ۔ خدا سے رشتہ بننے پر فکر و تشویش نہیں رہتی ۔ الہٰی رشتے سے کامیابیاں ملتی ہے (1) دنیا میں جو بھاری جائیدار د وں کے مالک ہیں۔ روحانی زندگی بنانے کے سلسلے میں کسی کام نہین آتیں۔ اے نادان خادم کدا خواہ نیچی ذات یا خاندان سے کیون نہ ہو تب بھی لوگ اسکا سبق پندو نصائح سنتے ہیں۔ اس کی صحبت قربت سے بہت جلد بچاؤ ہوجاتا ہے (2) جس الہٰی نام کے سننے سے کروڑوں زیارت گاہوں کی زیارت کا ثواب ملتاہے ۔ جس میں دھیان لگانے اور توجہ دینے سے گروڑوں پرشتوں کا ثواب اور الہٰی بانی سننے کا گروڑوں ثواب ہے ۔ مرشد سے الہٰی ملاپ کے ڈھنگ طریقے پیکھنا کروڑوں ثوابوں کا عوضانہ ملتا ہے (3) خدا کو اپنے دلمیں بار بار کر۔ اس سے دنیاوی دولت کی محبت مٹ جائیگی لا فناہ خدا تمہارے ساتھی ہے ۔ اے دل الہٰی پیار میںمجذوب ہو جا (4) جس کی خدمت سے خواہشات کی تمام بھوک پیاس مٹ جاتی ہے ۔ اور دشمن اس پر اپنی نظر نہہیں رکھتے جس کی خدمت و عبادت سے بلند عظمت ہوجاتا ہے ۔ جس کی خدمت سے روحانی صدیوی زندگی حاصل کر لیتا ے (5) جس کے خادم کو کوئی سزا نہیں ملتی کوئی عیب اور برائی نہیں رہتی ۔ جسکا الہٰی دفتر یں حساب نہیں مانگا جاتا۔ اس خدا سے خاص طور پر پیار کرتے رہو (6) جسمیں کسی بات کی کوئی کمینہیں جو واحد ہوتے ہوئے بھی بیشمار شگلوں میں ظاہر ہو رہا ہے ۔ جس خدا کی نگاہ شفقت سے ہر جاندار خوشی محسوس کر رہا ہے ۔ اے دل تو اس کی خدمت سر انجام دے (7) اس عالم میں نہ کوئی چست چالاک ہے ناکوئی جاہل۔ نہ کوئی ضعیف ۔ کمزور اور نہ جگنجو بہادر جسےخدا جیسے لگاتا ہے ۔ ویسے لگتا ہے ۔ اے نانک جس کی قیمت میں بیداری آتی ہ ۔ وہی خادم ہوکر خدمت کرتا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
بِنُ سِمرن جیَسے سرپ آرجاریِ ॥
تِءُ جیِۄہِ ساکت نامُ بِساریِ ॥੧॥
ایک نِمکھ جو سِمرن مہِ جیِیا ॥
کوٹِ دِنس لاکھ سدا تھِرُ تھیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِنُ سِمرن دھ٘رِگُ کرم کراس ॥
کاگ بتن بِسٹا مہِ ۄاس ॥੨॥
بِنُ سِمرن بھۓ کوُکر کام ॥
ساکت بیسُیا پوُت نِنام ॥੩॥
بِنُ سِمرن جیَسے سیِگنْ چھتارا ॥
بولہِ کوُرُ ساکت مُکھُ کارا ॥੪॥
بِنُ سِمرن گردھبھ کیِ نِیائیِ ॥
ساکت تھان بھرِسٹ پھِراہیِ ॥੫॥
بِنُ سِمرن کوُکر ہرکائِیا ॥
ساکت لوبھیِ بنّدھُ ن پائِیا ॥੬॥
بِنُ سِمرن ہےَ آتم گھاتیِ ॥
ساکت نیِچ تِسُ کُلُ نہیِ جاتیِ ॥੭॥
جِسُ بھئِیا ک٘رِپالُ تِسُ ستسنّگِ مِلائِیا ॥
کہُ نانک گُرِ جگتُ ترائِیا ॥੮॥੭॥
لفظی معنی:
بن سمرن۔ بغیر یاد خدا۔ سرپ۔ سانپ ۔ آرجاری ۔ لمبی طر۔ تیو جیو یہہ۔ ایسی زندگی ہے ۔ ساکت۔ مادہ پرست۔ نام دساری ۔ نام یعنی حقیقت سے بیخبر (1) نمکھ ۔ تھوڑی سی دیر کے لئے ۔ جیا ۔ جیتا ہے ۔ کوٹ ۔ کروڑوں ۔ تھر۔ مستقل (1) رہاؤ۔ دتھر گ ۔ لعنت۔ دسٹا۔ گندگی (2) کو کر کام۔ کتوں جیسے اعمال۔ نیتام۔بے نام (3) چھتارا۔ چھترا۔ بیڑ۔ کور۔ جھوٹ۔ کار ۔ کالا (4) گردھ ۔ گدھا ۔ نائین۔ جسا۔ بھر س ٹ۔ گندے ۔ پھراہی ۔ پھرتے ہین (5) ہر کائیا۔ باولا ۔ بندھ روک (6) آتم گھاتی ۔ روح کا قاتل۔ نیچ۔ کمینہ ۔ کل ۔ خاندان۔ جاتی ۔ ذات (7) ستسنگ۔ سچا ساتھ ۔ جگت۔ عالم۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس انسان نے آنکھ جھپکنے کی دیر کے لئے بھی خدا کی یاد میں گزار دی ۔ گویا اس نے لاکھوں کروڑوں دن کے لئے پر سکون ہوگیا (1) رہاؤ۔ بغیر الہٰی یاد کے انسانی زندگی سانپ کی زندگی کی مانند جو ہمیشہ عمر بھر دوسروں کو ڈسنے میں گذارتا ہے ۔ ایسے ہی مادہ پرست دوسروں کے لئے عذاب کا باعث بنا رہتا ہے (1) بغیر الہٰی یاد زندگی لعنت ہوجاتی ہے ۔ جیسے گودے کی چونچ ہمیشہ گندگی میں رہتا ہے ۔ ایسے ہی انسان بد گوئی اور برائیوں میں زندگی گذارتا ہے (2) خدا سے منکر انسان بزاری عورت کے لڑکے جیسا ہوجاتاے جس کے باپ کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ خدا کو بھال کر انسان کتوں کے سے کاموں میں محسور رہتا ہے (3) بغیر الہٰی انسان سینگوں والے بھیڑوں جیسا ہے ۔ جیسے خدا سے منکر انسان جیوٹ بولتاہے اور ہر جا بد نام کماتاہے 4) الہٰی یاد کے بغیر خدا سے منکر انسان گدھے جیسا ہے ۔ جو ہمیشہ اپنے جسم کو کاک میں لٹنے سے خوش ہوتا ہے (5) منکر انسان کی زندگی پاؤے کتے کیا مانند ہوتی ہے ۔ جو لاکھوں کمانے کے باوجود لالچ میں گرفتار رہتے ہیں۔ اور لالچ کے پیچے ایسے دوڑتے رہتے جیسے باولا کتا لوگوں کو کاٹنے کے لئے دوڑتا رہتا ہے (6) بغیر یاد خدا انسان روح کا قاتل ہے ۔ منکر کمینہ اور اسکا خیال ہمیشہ کمینے کاموں میں لگا رہتا ہے نہ اسکا بلند رہ جاتا ہے ۔ نرذات (7) جس پر خدا مہربان ہو جاتا ہے ۔ اسے سچے پاکدامن ساتھیوں سے ملاتا ہے اور اس طرح سے اے نانک بتادے کہ مرشد کے وسیلے سے عالم کو کامیاب بناتا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
گُر کےَ بچنِ موہِ پرم گتِ پائیِ ॥
گُرِ پوُرےَ میریِ پیَج رکھائیِ ॥੧॥
گُر کےَ بچنِ دھِیائِئو موہِ ناءُ ॥
گُر پرسادِ موہِ مِلِیا تھاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر کےَ بچنِ سُنھِ رسن ۄکھانھیِ ॥
گُر کِرپا تے انّم٘رِت میریِ بانھیِ ॥੨॥
گُر کےَ بچنِ مِٹِیا میرا آپُ ॥
گُر کیِ دئِیا تے میرا ۄڈ پرتاپُ ॥੩॥
گُر کےَ بچنِ مِٹِیا میرا بھرمُ ॥
گُر کےَ بچنِ پیکھِئو سبھُ ب٘رہمُ ॥੪॥
گُر کےَ بچنِ کیِنو راجُ جوگُ ॥
گُر کےَ سنّگِ ترِیا سبھُ لوگُ ॥੫॥
گُر کےَ بچنِ میرے کارج سِدھِ ॥
گُر کےَ بچنِ پائِیا ناءُ نِدھِ ॥੬॥
جِنِ جِنِ کیِنیِ میرے گُر کیِ آسا ॥
تِس کیِ کٹیِئےَ جم کیِ پھاسا ॥੭॥
گُر کےَ بچنِ جاگِیا میرا کرمُ ॥
نانک گُرُ بھیٹِیا پارب٘رہمُ ॥੮॥੮॥
لفظی معنی :
پرم گت ۔ روحانی بلند حالت۔ پیج ۔ عزت۔ آبرو۔ (1) وھیاؤ۔ توجہ کی ۔ گر پرساد۔ رحمت مرشد سے ۔ تھا ۔ ٹھکانہ (1) رہاؤ۔ زن ۔ زبان۔ دکھانی ۔ بیان کی ۔ انمرت ۔ بانی ۔ آبحیات۔ بول۔ کلام (2) آپ ۔ خوید۔ خوئشتا۔ اپنا پن۔ وڈ پرتاپ ۔ وقار (2) راج جوگ۔ گھریلو زندگی معہ الہٰی ملاپ ۔ پیکھو سب برہم۔ ہر جگہ بستا دیکھا خدا (4) کارج سیدھ ۔کامکامیابی ہوئے (5) آسا۔ امید۔ جسم کی پھاسا۔ موت کاپھندہ ۔ کرم ۔ قیمت۔
ترجمہ معہ تشریح:
سبق مرشد خدا کو یاد کیا۔ رحمت مرشد سے ٹھکانہ پائیا (1) رہاؤ۔ کلام مرشد سے روحانیت کی بلندی حاصل ہوئی ۔ اور کالم مرشد نے عزت بچائی (1) سبق مرشد سے زبان سے کلام الہٰی بیان کیا جو سنا تھا ۔ کرم و عنایت مرشد سے مہربان آب حیا ہوگیا (2) سبق مرشد سے خودی مٹی اور مرشد کی کرم و عنایت سے بھاری وقار ملا (3) کلام مرشدی سے تمام فکرات دور ہوگئے ۔ اور ہر جگہ دیدار خدا پائیا (4) سبق مرشد سے گھریلو زندگی میں ہی ملاپ خد اپائیا ۔ مرشد کے ساتھ سے گھریلو زندگی میں ہی ملاپ خدا پائیا۔ مرشد کے ساتھ سے سارے عالم کو کامیابی ملی ۔ مرشد کے سبق سے سب کامون میں کامیابی ملی اور دنیا کے نو خزانے حاصل ہوئے ۔ جس نے بھی مرشد سے اپنی اُمیدیں باندھیں۔ ان کا موت کا پھندہ گٹ گیا (7) کلام مرشد سے میری صحت بیدار ہوئی ۔ اے نانک مرشد سے خدا سےملاپ کرائیا۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
تِسُ گُر کءُ سِمرءُ ساسِ ساسِ ॥
گُرُ میرے پ٘رانھ ستِگُرُ میریِ راسِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر کا درسنُ دیکھِ دیکھِ جیِۄا ॥
گُر کے چرنھ دھوءِ دھوءِ پیِۄا ॥੧॥
گُر کیِ رینھُ نِت مجنُ کرءُ ॥
جنم جنم کیِ ہئُمےَ ملُ ہرءُ ॥੨॥
تِسُ گُر کءُ جھوُلاۄءُ پاکھا ॥
مہا اگنِ تے ہاتھُ دے راکھا ॥੩॥
تِسُ گُر کےَ گ٘رِہِ ڈھوۄءُ پانھیِ ॥
جِسُ گُر تے اکل گتِ جانھیِ ॥੪॥
تِسُ گُر کےَ گ٘رِہِ پیِسءُ نیِت ॥
جِسُ پرسادِ ۄیَریِ سبھ میِت ॥੫॥
جِنِ گُرِ مو کءُ دیِنا جیِءُ ॥
آپُنا داسرا آپے مُلِ لیِءُ ॥੬॥
آپے لائِئو اپنا پِیارُ ॥
سدا سدا تِسُ گُر کءُ کریِ نمسکارُ ॥੭॥
کلِ کلیس بھےَ بھ٘رم دُکھ لاتھا ॥
کہُ نانک میرا گُرُ سمراتھا ॥੮॥੯॥
لفظی معنی :
ساس۔ساس۔ ہر لمحہ ہر وقت ۔ پران۔ جان ۔ زندگی ۔ راس۔ سرمایہ (1) رہاؤ۔ درسن ۔ دیدار۔ جیوا۔ زندہ ہوں (1) رین۔ دہول۔ خاک۔ مجن۔ اشنان۔ ہونمے مل۔ خودی کی ناپاکیزگی ۔ ہرؤ ۔ دور کرو (2) جھلاوؤ۔ جیولوں (3) مہا اگن۔ خواہشا کی بھاری آگ (3) گریہہ۔ گھر۔ عقل گت۔ سوجھ ۔ بوجھ۔ پر ساد۔ رحمت (5) جیو ۔ زندگی ۔ داسرا۔ خادم (6) نمسکار۔ آداب۔ تعظیم (7) ملام۔ کلیس ۔ جھگڑا۔ بھے ۔ خوف۔ بھرم۔ شک ۔ شبہ ۔ سمرا تھا۔ قابل۔ سب طاقتوں والا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اُس مرشد کو کیون نہ ہر لمحہ ہر سانس یاد کیا جائے ۔ جو میری زندگی ہے اور سچا مرشد میرا سرمایہ ہے (1) رہاؤ۔ دیدار مرشد سے روحانی زندگی ملتی ہے ۔ اور پائے مرشد دہونے سے الہٰی جو آبحیات ہے ملتا ہے (1) مرشد کید ہول میں غسل کروں ۔ اور جنموں کی خوید کی ناپاکیزگی دور کرون (2) مرشد کو پنکھا چھولوں جس نے میری خواہشات کی آگ سے بچائیا ہے ۔ (3) اسکا پانی ڈہوؤں جس نے مجھے خر و مندی عقل وہوش سے آراستہ کیا ہے (4) جس مرشد کی رحمت سے دشمن دوست ہوگئے اس مرشد کے پینے پیسون (5) جس مرشد نے روحانی زندگی عطا کی ہے اسے اپنا ننتھا خادم بنا کے موُلِ لے لیا (6) جس مرشد نے خود ہی میرے دل میں اپنا پیار بنا لیا اسے میں ہمیشہ تعظیم و ادب سے جھکتا رہوں گا (7) اے نانک ۔ بتادے کہ میرا مرشد تمام طاقتوں والا ہے اس نے میرے تمام جھگڑے اور عذاب متا دیئے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
مِلُ میرے گوبِنّد اپنا نامُ دیہُ ॥
نام بِنا دھ٘رِگُ دھ٘رِگُ اسنیہُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نام بِنا جو پہِرےَ کھاءِ ॥
جِءُ کوُکر جوُٹھن مہِ پاءِ ॥੧॥
نام بِنا جیتا بِئُہارُ ॥
جِءُ مِرتک مِتھِیا سیِگارُ ॥੨॥
نامُ بِسارِ کرے رس بھوگ ॥
سُکھُ سُپنےَ نہیِ تن مہِ روگ ॥੩॥
نامُ تِیاگِ کرے ان کاج ॥
بِنسِ جاءِ جھوُٹھے سبھِ پاج ॥੪॥
نام سنّگِ منِ پ٘ریِتِ ن لاۄےَ ॥
کوٹِ کرم کرتو نرکِ جاۄےَ ॥੫॥
ہرِ کا نامُ جِنِ منِ ن آرادھا ॥
چور کیِ نِیائیِ جم پُرِ بادھا ॥੬॥
لاکھ اڈنّبر بہُتُ بِستھارا ॥
نام بِنا جھوُٹھے پاسارا ॥੭॥
ہرِ کا نامُ سوئیِ جنُ لےءِ ॥
کرِ کِرپا نانک جِسُ دےءِ ॥੮॥੧੦॥
لفظی معنی :+ ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا مجھے اپنا نام یعنی سچ و حقیقت عنایت کر ۔ تیرے نام کے بغیر دور پیار ایک لعنت ہے (1) رہاؤ۔ الہٰی نام یعنی سچ حق کے بغیر جو انسان کھاتا پیتا اور پہنتا ہے ۔ لعنت ہے ۔ اور ایسے ہے جیسے کتا جوٹھی اور گندی چیزوں میں اپنا پاتا رہتا ہے (1) نا م سچ حق و حقیقت کے بغیر جتے کام کئے جاتے ہیں ایسے ہیں جیسے مردہ جسمکی سجاوت (2) نا م بھلا کر دنیاوی لطف اور لذتیں اور نتمیں لینے میں اور لینے والے کو خواب میں آرام وآسائش نہ ملیگا اور جسمانی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہے ۔ 3) جو نام سچ حق وحقیقت نام چھوڑ کر دوسرے کام کرتا ہے اس کی روحانی زندگی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور دنیاوی نمائش بیکار ہوجاتے ہیے (4) جو دل سے سچ اور نام سے پیار نہیں کرتا کروڑوں اعمال کرنے کے باوجو دوزخ نصیب ہوت اہے ۔ جس نے نام دل و جان سے نہ یاد کیا دلمیں نہ بسائیا چور کی مانند موت اسے باندھی ہے (6) لاکھوں دنایوی نمائش دکھاوے جوجہد اور پھیلاؤ الہٰی نام سچ حق وحقیقت کے بغیر بیفائدہ ہیں (7) خدا کو وہی یاد کرتاہے ۔ اے نانک۔ جسے خدا خود اپنی کرم و عنایت سے دیتا ہے نام سچ حق و حقیقت۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
آدِ مدھِ جو انّتِ نِباہےَ ॥
سو ساجنُ میرا منُ چاہےَ ॥੧॥
ہرِ کیِ پ٘ریِتِ سدا سنّگِ چالےَ ॥
دئِیال پُرکھ پوُرن پ٘رتِپالےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِنست ناہیِ چھوڈِ ن جاءِ ॥
جہ پیکھا تہ رہِیا سماءِ ॥੨॥
سُنّدرُ سُگھڑُ چتُرُ جیِء داتا ॥
بھائیِ پوُتُ پِتا پ٘ربھُ ماتا ॥੩॥
جیِۄن پ٘ران ادھار میریِ راسِ ॥
پ٘ریِتِ لائیِ کرِ رِدےَ نِۄاسِ ॥੪॥
مائِیا سِلک کاٹیِ گوپالِ ॥
کرِ اپُنا لیِنو ندرِ نِہالِ ॥੫॥
سِمرِ سِمرِ کاٹے سبھِ روگ ॥
چرنھ دھِیان سرب سُکھ بھوگ ॥੬॥
پوُرن پُرکھُ نۄتنُ نِت بالا ॥
ہرِ انّترِ باہرِ سنّگِ رکھۄالا ॥੭॥
کہُ نانک ہرِ ہرِ پدُ چیِن ॥
سربسُ نامُ بھگت کءُ دیِن ॥੮॥੧੧॥
لفظی معنی :
آو۔ آغاز ۔ شروع۔ مدھ۔ درمیان۔ انت۔ آکر۔ نبھاہے ۔ ساتھ دیتا ہے ۔ ساجن۔ دوست۔ چاہے چاہتا ہے (1) سنت ساتھ۔ دیال پرکھ ۔ رحمان الرحیم۔ پورن۔ کامل ۔ پرتپائے ۔ پرورش کرتا ہے (1) رہاؤ۔ ونست ناہہی ۔ خم نہیں ہوتا۔ جیہہ پیکھا۔ جاں دیکھاتا ہون۔ سمائے ۔ بستا ہے (2) سندر۔ خوبصورت ۔ سگھڑ ۔ دانشمند۔ جیئہ داتا۔ زندگی بخشنے والا (3) روے نواس ۔ د ل میں بسنے والا۔ مائیا۔ سلک ۔ دولت کا پھندہ۔ ندرنہا ل ۔ نگاہ شفقت (5) چرن دھیان۔ پاؤں میں توجھی (6) پون پرکھ ۔ کامل انسان ۔ نوتن۔ نوجوان ۔ رکھوالا۔ حفاظتی (7) پرپد۔ الہٰی ملاپ کا رتبہ۔ سریس نام۔ ساری دولت۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا سے کی محبت ہمیشہ دیتی ہے ۔ ساتھ انسان کے مہربان کامل خدا پرورش کرتا ہے (1) رہاؤ۔ میرا من اس دوست خدا سے ملنا چاہتا ہے جو ہر وقت انسان کا ساتھ دیتا ہے (2) لافناہ ہے نہ چھوڑتاہے جہاں نظر جاتی ہے وہاں بستا دیتا ہے دکھائی (2) خوبصورت دانشمند باشعور سلیقے سے واقف اور زندگی بخشنے والا۔ بھائی ۔ مٹا باپ اور ماتا خدا (3) زندگی اور جان کا سہارا اور روحانی زندگی کا سرمایہ دلمین بسا کر کرتا ہوں ۔ پیارا سے (4) خدا نے دنیاوی دولت کا پھندہ کات کر اپنی نگاہ شفقت سے اپنالیا (5) الہٰی یادوریاض سے تمام بیماریاں کتم ہوجاتی ہے ۔ اور پاؤں میں توجو کر نے سے تمام نعمتوں کے آرام و آسائش ملتے ہیں۔ کامل ہمیشہ نیا نوجوان ہر دل میں بستا ہے ۔ اور ہر ایک کا ساتھی اور ہر ایک کا محافظ ہے (7) اے نانک بتادے کہ اے انسانوں الہٰی رتبے کو سمجھو کر خدا اپنے پریمیوں کو ساری نعمتوں سے مالا مال کر دیتا ہے ۔ جب کہ پریمیوں کے لئے نا سچ حق و حقیقت ہی ہر طرح کی دولت ہے ۔
راگُ گئُڑیِ ماجھ مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کھوجت پھِرے اسنّکھ انّتُ ن پاریِیا ॥
سیئیِ ہوۓ بھگت جِنا کِرپاریِیا ॥੧॥
ہءُ ۄاریِیا ہرِ ۄاریِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُنھِ سُنھِ پنّتھُ ڈراءُ بہُتُ بھیَہاریِیا ॥
مےَ تکیِ اوٹ سنّتاہ لیہُ اُباریِیا ॥੨॥
موہن لال انوُپ سرب سادھاریِیا ॥
گُر نِۄِ نِۄِ لاگءُ پاءِ دیہُ دِکھاریِیا ॥੩॥
مےَ کیِۓ مِت٘ر انیک اِکسُ بلِہاریِیا ॥
سبھ گُنھ کِس ہیِ ناہِ ہرِ پوُر بھنّڈاریِیا ॥੪॥
چہُ دِسِ جپیِئےَ ناءُ سوُکھِ سۄاریِیا ॥
مےَ آہیِ اوڑِ تُہارِ نانک بلِہاریِیا ॥੫॥
گُرِ کاڈھِئو بھُجا پسارِ موہ کوُپاریِیا ॥
مےَ جیِتِئو جنمُ اپارُ بہُرِ ن ہاریِیا ॥੬॥
مےَ پائِئو سرب نِدھانُ اکتھُ کتھاریِیا ॥
ہرِ درگہ سوبھاۄنّت باہ لُڈاریِیا ॥੭॥
جن نانک لدھا رتنُ امولُ اپاریِیا ॥
گُر سیۄا بھئُجلُ تریِئےَ کہءُ پُکاریِیا ॥੮॥੧੨॥
لفظی معنی :
پاریا۔ پائیا۔ کر پار یا۔ مہربانی کی (1)واریا ۔ قربان (1) رہاؤ۔ پنتھ ۔ راستہ۔ بھے ہاریا۔ خوفزہ ۔ اوٹ۔ آسرا۔ ابھاریا۔ بچاؤ (2 موہن۔ دلربا۔ دل کو پیار لگنے ولاے ۔ انوپ ۔ بیحد۔ بصورت ۔ انوکھے ۔ سرب۔ سارے ۔ پائے ۔ پاؤں۔ دکھاریا۔ دیدار (3) بھنڈاریا۔ خزانہ (4) آہی اوڑ۔ چاہا سہارا (5) بھجا۔ بازو۔ موہ کو پار یا۔ محبت کے کوئیں سے ۔ بہور ۔ دوبارہ (6) اکتھ کتھاریا۔ نا قابل بیان کہانی ۔ لڈاریا۔ بازو پھیلا ہلاتے ہوئے (7) بھوجل ۔ خوفناک سمندر کہو پکاریا۔ پکار پکار کہتا ہوں۔
ترجمہ معہ تشریح:
قربان ہو خدا پر قربان ہوں (1) راہؤ۔ بیشمار ڈھونڈتے پھرتے ہین۔ مگر کوئی اسکا شمار آخر اور انتہا معلوم نہیں کر سکے ۔ وہی اس کے ریاض کار پریمی اور عاشق ہیں جن پر اس کی اپنی رحمت اور کرم و عنایت ہے (1) یہ منکے کہ زندیگ ا راستہ نہایت خوفناک ہے اس وجہ سے وجہ سے خوفزدہ ہوں اس لئے پاکدامن خدا رسیدہ ( سنتو ) کا سہارا لیا ہے ۔ کہ بچاؤ (2) دل کو اچھے لگنے والے ( دلربا) از حد خوبصورت سب کے سہارے ۔ مرشد کے جھ جھک کر پاؤں پڑتا ہوں ۔ کہ مجھے الہٰی یدار کراؤ (3) میں نے بہت سے دوست بنائے ہیں مگر ایک پر قربان ہوں مگر سارے اوصاف کسی میں نہیں خدا ہی واحد ہستی ہے جو تمام خزانوں سے مالا مال ہے اور سارے خزانے ہر طرح سے بھرے ہوئے ہیں (4) اے نانک۔ ہر طرح خدا کے نام کی ریاض ہو رہی ہے اور اپنے آرام کے لئے اپنا درستی کر رہے ہیں۔ میں نے آپ کا آسرا لیا ہے ۔ اور تجھ پر قربان ہوں (5) مرشد نے مجھے زندگی محبت کے کوئیں سے بازو پکڑ کر اس سے نکال لیا ہے ۔ میں نے اس یقمتی زندگی کے کھیل پر فتح پا لی ہے ۔ اور دوبارہ دنیاوی محبت اور زندگی کے کھیل میں شکست نہیں کھاؤں گا (6) میں نے سارے خزانوں کے مالک کو پالیا ہے جس کی کہانی بیان سے بعید ہے اور الہٰی دربار میں عزت حشمت اور ناموس حاصل ہوا ہے ۔ اور اب بازور ہلا کے چلتا ہوں (7) خادم نانک کو ایک ایک بیش قیمت ہیرا ملتا ہے اور پکار کر کہو کہ خدمت مرشد سے دنیاوی سمندر سے پار ہو سکتے ہیں۔
گئُڑیِ مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
نارائِنھ ہرِ رنّگ رنّگو ॥
جپِ جِہۄا ہرِ ایک منّگو ॥੧॥ رہاءُ ॥
تجِ ہئُمےَ گُر گِیان بھجو ॥
مِلِ سنّگتِ دھُرِ کرم لِکھِئو ॥੧॥
جو دیِسےَ سو سنّگِ ن گئِئو ॥
ساکتُ موُڑُ لگے پچِ مُئِئو ॥੨॥
موہن نامُ سدا رۄِ رہِئو ॥
کوٹِ مدھے کِنےَ گُرمُکھِ لہِئو ॥੩॥
ہرِ سنّتن کرِ نمو نمو ॥
نءُ نِدھِ پاۄہِ اتُلُ سُکھو ॥੪॥
نیَن الوۄءُ سادھ جنو ॥
ہِردےَ گاۄہُ نام نِدھو ॥੫॥
کام ک٘رودھ لوبھُ موہُ تجو ॥
جنم مرن دُہُ تے رہِئو ॥੬॥
دوُکھُ انّدھیرا گھر تے مِٹِئو ॥
گُرِ گِیانُ د٘رِڑائِئو دیِپ بلِئو ॥੭॥
جِنِ سیۄِیا سو پارِ پرِئو ॥
جن نانک گُرمُکھِ جگتُ ترِئو ॥੮॥੧॥੧੩॥
لفظی معنی: + ترجمہ معہ تشریح:
الہٰٰی محبت میں اپنے من کو محو کرکے اور زبان سے خدا کے نام کی ریاض کرکے اس سے اس کے نام کی ماجگ کرؤ ۔ (1) رہاؤ۔ خودی چھور کر دل میں سبق مرشد میں توجو کرؤ اور ساتھیوں کے ملاپ سے الہٰی حضوری الہٰی بخشش اعمالنامے میں درجہ ہو جائگی۔ (1) جو کچھ زیر نظر ہے ساتھ جانے والا نہیں۔ مگر نا لاق منکر مادہ پرست اس میں ملوچ ہوکر ذلیل و کوار ہوتا ہے (@) درلبا دل لبھانے والا نام سچ حق و حقیقت جو ہر جگہ ہے کسی نے ہی مرشد کے وسیلے سے حاصل کی اہے ۔ (3) الہٰی عابون خدا رسدہ پاکدمان سنتوں کے بطور تعظیم و آداب جھکو اور اداب بجا لا ؤ ۔ اس سے دنیا کے تمام خزانے اور سکھ ملیگا (4) آنکھوں سے پاک دامنوں کا دیدار کیجیئے اور دل سے الہٰی حمدوثناہ اور صفت صلاھ کرؤ نام ہی کزانے ہے (5) شہوت۔ غصہ ۔الچ اور دنیاوی دولت کی محبت چھوڑ تناسخ سے نجات پاو گے (6) جب سبق مرشد علم کا چراغ روشن ہوجتا ہے ۔ تو عذاب اور لا لعمی اور جہالت کا فور ہوجاتی ہے (7) جس نے خدا کی عبادت و خدمت کی کامیابی ہوا اے خادم نانک مرشد کے وسیلے سے ایک عالم نے کامیابی پائی (8)
مہلا ੫ گئُڑیِ ॥
ہرِ ہرِ گُر گُر کرت بھرم گۓ ॥
میرےَ منِ سبھِ سُکھ پائِئو ॥੧॥ رہاءُ ॥
بلتو جلتو تئُکِیا گُر چنّدنُ سیِتلائِئو ॥੧॥
اگِیان انّدھیرا مِٹِ گئِیا گُر گِیانُ دیِپائِئو ॥੨॥
پاۄکُ ساگرُ گہرو چرِ سنّتن ناۄ ترائِئو ॥੩॥
نا ہم کرم ن دھرم سُچ پ٘ربھ گہِ بھُجا آپائِئو ॥੪॥
بھءُ کھنّڈنُ دُکھ بھنّجنو بھگتِ ۄچھل ہرِ نائِئو ॥੫॥
اناتھہ ناتھ ک٘رِپال دیِن سنّم٘رِتھ سنّت اوٹائِئو ॥੬॥
نِرگُنیِیارے کیِ بینتیِ دیہُ درسُ ہرِ رائِئو ॥੭॥
نانک سرنِ تُہاریِ ٹھاکُر سیۄکُ دُیارے آئِئو ॥੮॥੨॥੧੪॥
لفظی معنی:
تووکیا۔ چھڑکیا۔ ٹھنڈک۔ پہنچائی (1) دیپا ہو۔ روشن ہوا۔ پاوک ۔ آگ۔ ناؤ۔ کشتی (4) بھو کھنڈنو۔ خوف مٹانے والا ۔ دکھ بھنجو۔ عذاب دور کر نے والا۔ بھت و چھل۔ عابدوں کا پیارا ۔ ہر ناہو۔ الہی نام سچ و حقیقت (5) اناتھیہہ۔ بے مالک ۔ ناتھ ۔ مالک ۔ کرپال۔ مہربان۔ وہن ۔ غریب۔ سمرنتھ ۔ لائق ۔ طاقتوں سے مرقع ۔ طاقتوں والے ۔ اوٹائیو ۔ سہارا دیا (6) نرگنیارے ۔ بے اوصاف ۔ ہر رائیو ۔ شہنشاہ خدا (7) ٹھاکر ۔ ۔ آقا۔ سیوک ۔ خادم۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا خدا اور مرشد کی یاد سے میرے تمام وہم وگمان دور ہوگئے ۔ اور دل کو تسکین اور آرام حاصل ہوا۔ رہاو۔ بدکاریوں اور گناہوں میں جل رہے دل پر سبق مرشد جو چندن جیسا ہے ۔ کے اثرات سے دل نے ٹھنڈک محسوس کی (1) لا علمی اور جہالت مٹی اور سبق مرشد سے علم کا چراغ روشن ہوا (2) اور آگ کے گہرے سمندر سے سنتو کی کشتی پر چڑھ کر پار ہوئے ۔ یہ عالم خو دنیاوی دولت کی محبت بدکاریوں اور خواہشات کی آگ میں ملوچ ہے ۔ اور سینے سلگ رہے ہیں۔ سبق مرشد اور پاکدامن خرارسیدہ سنتوں کے صحبت و قربت سے زندگی کا حقیقی مقصد کا پتہ چلتا ہے ۔ اس پر عمل کرکے زندگی کامیابی کے ساتھ گذرتی ہے (3) جب نہ نیک اعمال ہوں نہ نہ فرض شناسی نہ پاکیزگی اس کے باوجود مجھے بازو سے پکڑ کر اپنا کادم بنالیا (4) عبادت سے پیار کرنے والا خدا کا نام جو ہر قسم کے خؤف کو مٹانے والا اور عذاب دور کرنے والاہے (5) اے بے مالکون کے املک غریبوں پر مہربانیان کرنے والے سنتوں کے سہارے (6) مجھ بے اوصاف کی گذارش ہے کہ اے خدا دیدار دیجیئے (7) اے آقا خادم نانک تیرے در پر تیری پناہ آئیا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
رنّگِ سنّگِ بِکھِیا کے بھوگا اِن سنّگِ انّدھ ن جانیِ ॥੧॥
ہءُ سنّچءُ ہءُ کھاٹتا سگلیِ اۄدھ بِہانیِ ॥ رہاءُ ॥
ہءُ سوُرا پردھانُ ہءُ کو ناہیِ مُجھہِ سمانیِ ॥੨॥
جوبنۄنّت اچار کُلیِنا من مہِ ہوءِ گُمانیِ ॥੩॥
جِءُ اُلجھائِئو بادھ بُدھِ کا مرتِیا نہیِ بِسرانیِ ॥੪॥
بھائیِ میِت بنّدھپ سکھے پاچھے تِنہوُ کءُ سنّپانیِ ॥੫॥
جِتُ لاگو منُ باسنا انّتِ سائیِ پ٘رگٹانیِ ॥੬॥
اہنّبُدھِ سُچِ کرم کرِ اِہ بنّدھن بنّدھانیِ ॥੭॥
دئِیال پُرکھ کِرپا کرہُ نانک داس دسانیِ ॥੮॥੩॥੧੫॥੪੪॥ جُملا
لفظی معنی:
رنگ سنگ۔ خوشی سے ۔ وکھیا۔ دنیاوی دولت۔ ان سنگ۔ ان کے ساتھ (1) سنچیو ۔ اکھٹی کرتا ۔ اودھ۔ عمر (1) رہاؤ۔ سورا۔ بہادر۔ پردھان۔ چوہداری ۔ سمانی ۔ برابری (2) آچار۔ اخلاق۔ چال چلن۔ کلنا۔ اچھے خاندان۔ جو بنونت ۔ بھر جونا۔ گمانی ۔ غرور۔ تکبر (3) بادھ بدکار ۔ بے عقل (4) میت ۔ دوست۔ بندھپ ۔ رشتے دار ۔ سکھے ۔ ساتھی ۔ سنپانی ۔ حوالے کرنی (5) باسنا۔ خواہش۔ سائی ۔ وہی ۔ پر گتانی ۔ظاہر (6) اہنبدھ ۔ تکبر۔ غرور۔ سچ۔ پاکیزگی ۔ بندھن۔ ضبط (7) داس۔ خادم۔
ترجمہ معہ تشریح:
میں سرمایہ اکھٹآ کر رہا ہوں میں کمار رہا ہوں ان خیالوں میں عمر گذر رہی ہے (1) ڑہاؤ۔ دولت کی عشق و بہار میں مشغول انسان بے خبر نہیں سمجھتا کہ عمر بیفائدہ گذر رہی ہے (1) میں بہادر ہوں میں بلند رتبہ ہوں میرے برابر کوئی نہیں (2) میں نوجوان ہوں بلند اخلاق ہوں ۔ مین بلند اور اچھے خاندان سے ہوں دلمیں اسکا غرور گھمنڈ ہے (3) اسی الجھن اور مخمسے میں بے سدھ بے عقل آخری عمر تک پھسنا رہتا ہے (4) بھائی ۔ دوست۔ رشتہ دار ۔ ساتھی کو حوالے کر جاتا ہے (5) جس خواہش میں دل محسور ہوتا ہے ۔ بوقت اخرت وہی ظاہر ہوجاتی ہے (6) تکبر اور خودی میں صفائی کے اعمال کرتا ہے ۔ اور اس کے ضبطوں میں بندھ جاتا ہے (7) اے رحمان الرحیم کرم و عنایت فرما اور مجھے نانک کو غلاموں کا غلام بنا ۔
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ گُرپ٘رسادِ ॥
راگُ گئُڑیِ پوُربیِ چھنّت مہلا ੧॥
مُنّدھ ریَنھِ دُہیلڑیِیا جیِءُ نیِد ن آۄےَ ॥
سا دھن دُبلیِیا جیِءُ پِر کےَ ہاۄےَ ॥
دھن تھیِئیِ دُبلِ کنّت ہاۄےَ کیۄ نیَنھیِ دیکھۓ ॥
سیِگار مِٹھ رس بھوگ بھوجن سبھُ جھوُٹھُ کِتےَ ن لیکھۓ ॥
مےَ مت جوبنِ گربِ گالیِ دُدھا تھنھیِ ن آۄۓ ॥
نانک سا دھن مِلےَ مِلائیِ بِنُ پِر نیِد ن آۄۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
مندھ۔ نوجان عورت ۔ دوشیزہ ۔ رین۔ رات۔ دہیلڑیا۔ عذاب بھری ۔ سادھن۔ وہ عورت ۔ دبلیا۔ کمزور ۔ پر ۔ خاوند۔ ہاوے ۔ آہون سے ۔ تھئی ۔ ہوجاتی ہے ۔ کنت۔ خاوند۔ کہو۔ کب۔ ہیں۔ انکھوں سے ۔ ویکھئے ۔ دیدار کرے ۔ سیگار۔ سجاوٹ ۔ رس۔ ۔بھوگ بھوجن۔ رسیلےلذیز میٹھے کھانے والے ۔ کتے نہ لیکھے ۔ کسی حساب مین نیہں۔ مت ۔ جوبن۔ جونای میں مست۔ گربھ گالی ۔ تکبر میں مٹادی ۔ دھا تھنی نہ آوئے ۔ نکالا ہوا دوھ دوبارہ تھنوں مین نہیں اتا۔ سادھن ملے ملائیا۔ وہ عورت ملانے سے ہی مل سکتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خاوند کی جدائی میں نوجوان عورت آہنس بھرتی ہیں رات عذاب میں گذارتی ہے نیند نہیں آتی کمزو رہوتی جاتی ہے اور خاوند کی جدائی مین دن بدن کمزور ہوتی جاتی ہے وہ انتظار کرتی رہتی ہے ۔ کہ وہ کسی طرح خاوند کا دیدار کرئے ۔ اسے سجاوٹیں اور شنگار اور لذیز میٹھے پر لطف مزیدار کھانے بد مزہ اور پھیکے محسوس ہوتے ہیں۔ اور اسے سب کچھ بیکار محسوس ہوتاہے ۔ جس عورت کو جوانی میں غرور اور تکبر میں مٹادیا جو جوانی میں ایسے مدہوش ہو جیسے شراب کے نشے میں اسے سہاگ کی حالت نصیب نہیں ہوتی ۔ جیسے ایک دفعہ دوہا ہوا دودھ دوبارہ تھنوں میں نہیں آسکتا۔ اسی طرح اے ناک وہ عورت کسی ملانے سے ملتی ہے یعنی ملانے کسی وسیلے اور درمیانی انسان یا د مرشد کی ضرورت ہے خاوند کے بغیر نیند نہیں آتی ۔ مراد زندگی اجیرن اور عذاب بن جاتی ہے ۔
مُنّدھ نِمانڑیِیا جیِءُ بِنُ دھنیِ پِیارے ॥
کِءُ سُکھُ پاۄیَگیِ بِنُ اُر دھارے ॥
ناہ بِنُ گھر ۄاسُ ناہیِ پُچھہُ سکھیِ سہیلیِیا ॥
بِنُ نام پ٘ریِتِ پِیارُ ناہیِ ۄسہِ ساچِ سُہیلیِیا ॥
سچُ منِ سجن سنّتوکھِ میلا گُرمتیِ سہُ جانھِیا ॥
نانک نامُ ن چھوڈےَ سا دھن نامِ سہجِ سمانھیِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
نمانٹریان۔ بے وقار۔ دھنی ۔ مالک ۔ اردھارے ۔ دلمیں بسائے ۔ گھر داس۔ گھریلو زندگی ۔ بن نام۔ نام یعنی سچ۔ ساچ۔ خدا۔ سجن سنتوکھ ۔ دوست صبر۔ گرمتی ۔ سبق مرشد۔ سوہ خاوند۔ خدا۔ نام نہ چھوڑے ۔ سچ اور سچائی نہ چھوڑے ۔ سادھن۔ وہ عورت ۔ نام یعنی سچ ۔ سہیج سمانیا۔ روحانی سکون ملتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
نوجوان دوشیزہ بغیر پیارے خاوندکیسے اور کیون سکون ملیگا بغیر دلمیں بسائے خاوند کے بغیر گھر میں بسنا مشکل ہے اپنی سہیلون اور ساتھیون سے پوچھ لو۔ اس طرح سے پاکدامن خدا رسیدہ ساتھیون اور الہٰی نام سچ حق و حویت کے بغیر خدا سے ملاپ نہیں ہو سکتا۔ نہ روحانی اوصاف دلمیں بس سکتے ہین۔ سبق مرشد سے جس کے دلمیں سچ یا الہٰی نام بس جاتا ہے اور وہ صابر ہوجاتا ہے ۔ تو اسے دوست خدا سے ملاپ حاصل ہوجاتا ہے اے نانک وہ الہٰی نام کی ریاض نہیں چھوڑتا اور الہٰی نام میں مکمور ہوکر روحانی سکون میں رہتا ہے ۔
مِلُ سکھیِ سہیلڑیِہو ہم پِرُ راۄیہا ॥
گُر پُچھِ لِکھئُگیِ جیِءُ سبدِ سنیہا ॥
سبدُ ساچا گُرِ دِکھائِیا منمُکھیِ پچھُتانھیِیا ॥
نِکسِ جاتءُ رہےَ استھِرُ جامِ سچُ پچھانھِیا ॥
ساچ کیِ متِ سدا نئُتن سبدِ نیہُ نۄیلئو ॥
نانک ندریِ سہجِ ساچا مِلہُ سکھیِ سہیلیِہو ॥੩॥
لفظی معنی:
ہر ۔ خاوند۔ راویہا۔ یا د کیا ۔ ریاض کی ۔ سبد۔ کلام۔ سنہا۔ پیغام۔ منمکھی ۔ مرید من۔ نکس۔ نکلتا ۔ جالو ۔ رہے ۔ بھٹکتے یں۔ سے رکتا ہے ۔ اسھر۔ سکون ۔ ٹکاؤ۔ نوتن۔ نوجوان۔ یہو۔ پیار ۔ تو بیلو ۔ نیا (3) آو ساتھیوں دوستوں۔ ملکر خدا کو یاد کریں۔ سبق مرشد سے خدا کو پیغام بھیجیں۔ سبق و کلام سے مرشد نے دیار الہٰی وپہچان کر ادی ۔ ہے خودی پند ہمیشہ پچھناتا رہیگا۔ بھٹکتا من پر سکون وہگیا ہے ۔ سچی سمجھ ہمیشہ نئی رہتی ہے ۔ا ور ہمیشہ چاقتور رہتی ہے ۔ اور کلام کی برکت سے ہمیشہ لاہٰی پریم نیا اور نئی قوت دیتا ہے ۔ اے نانک الہٰی نگاہ شفقت سے حقیقی اور سچا روحانی سکون ملتا ہے اصا ساتھیوں اور دوستوں ملین۔
میریِ اِچھ پُنیِ جیِءُ ہم گھرِ ساجنُ آئِیا ॥
مِلِ ۄرُ ناریِ منّگلُ گائِیا ॥
گُنھ گاءِ منّگلُ پ٘ریمِ رہسیِ مُنّدھ منِ اوماہئو ॥
ساجن رہنّسے دُسٹ ۄِیاپے ساچُ جپِ سچُ لاہئو ॥
کر جوڑِ سا دھن کرےَ بِنتیِ ریَنھِ دِنُ رسِ بھِنّنیِیا ॥
نانک پِرُ دھن کرہِ رلیِیا اِچھ میریِ پُنّنیِیا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
اچھ ۔ خواہش۔پٌنی ۔ پوری ہوئی۔ جیو۔ اے میری جان ۔ ساجن۔ دوست۔ در ۔ خاوند۔ منگل۔ خوشی کے نغمے ۔ اُماہیو۔ چاؤ۔ خوشی بھرا جوش۔ رہنے ۔ خوش ہوئے ۔ دشٹ ۔ دشمن۔ دیاپے ۔ دکھی ہوئے ۔ عذاب پائیا۔ ساچ جپ ۔ سچ یاد کرکے ۔ سچ لاہو ۔ سچا تناسخ۔ کر جوڑ۔ دست بسنہ ہاتھ جوڑ کر ۔ نتی ۔ عرض ۔ گذارش۔ رس بھنیا۔ پر لطف۔ رلیاں۔ خوشیان۔
ترجمہ معہ تشریح:
میری دلی خواہش پوری ہوئی اے میری جان میرے دلمیں میرا دوست خداوند کریم بس گیا ۔ جیسے خاوند و زوجہ کے ملاپ سے خوشیاں ہوتی ہے ۔ ایسے ہیمیرے دلمین خداوند کری م کے ملاپ اور بسنے سے اتنی خوشی محسو سہو رہی ہے ۔ الہٰی صفت صلاح سے انسان کےد لمین جوش و خروش اور پیار کی لہریں اُٹھتی ہیں ۔ نیکی اور نیک خیالات اُبھرتے ہین اور بدیوں اور بدخیال زیر ہوتے جاتے ہین۔ سچا ور سچے خدا کی ریاض سے سچا مفاد اور فائدہ ملتا ہے اور روحانی زندگی ملتی ہے ۔ اور روز و شب الہٰی محبت میں مخمور ہوکر الہٰی محبت کا لطف لیتی ہین۔ اور دست بستہ خداوند کریم سے دعائیں اور گذارشیں کرتے رہتے ہین۔ اے نانک۔ اس طرح خاوند کریم اور انسان روحانی سکون کا ملکر لطف لیتے ہیں۔ اس طرح انسانی خواہش پوری ہوتی ہے ۔
گئُڑیِ چھنّت مہلا ੧॥
سُنھِ ناہ پ٘ربھوُ جیِءُ ایکلڑیِ بن ماہے ॥
کِءُ دھیِریَگیِ ناہ بِنا پ٘ربھ ۄیپرۄاہے ॥
دھن ناہ باجھہُ رہِ ن ساکےَ بِکھم ریَنھِ گھنھیریِیا ॥
نہ نیِد آۄےَ پ٘ریم بھاۄےَ سُنھِ بیننّتیِ میریِیا ॥
باجھہُ پِیارے کوءِ ن سارے ایکلڑیِ کُرلاۓ ॥
نانک سا دھن مِلےَ مِلائیِ بِنُ پ٘ریِتم دُکھُ پاۓ ॥੧॥
پِرِ چھوڈِئڑیِ جیِءُ کۄنھُ مِلاۄےَ ॥
رسِ پ٘ریمِ مِلیِ جیِءُ سبدِ سُہاۄےَ ॥
سبدے سُہاۄےَ تا پتِ پاۄےَ دیِپک دیہ اُجارےَ ॥
سُنھِ سکھیِ سہیلیِ ساچِ سُہیلیِ ساچے کے گُنھ سارےَ ॥
ستِگُرِ میلیِ تا پِرِ راۄیِ بِگسیِ انّم٘رِت بانھیِ ॥
نانک سا دھن تا پِرُ راۄے جا تِس کےَ منِ بھانھیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ناہ ۔ ناتھ ۔ مالک۔ بن۔ جنگل۔ عالم۔ دھیرے گی ۔ دھیرج۔ بھروسا۔ یقین ۔ وکھم۔ دشوار۔ مشکل ۔ دھن۔ عورت۔ رین۔ رات۔ گھریاں۔ بہت زیادہ ۔ کر لائے ۔ آہ وزاری (1) پر چھوڈ بڑی ۔ خاوند کی چھوڑی ہوئی ۔ طالق شدہ ۔ سہاوے ۔ شہر تپاتی ہے ۔ پت عزت۔ اُجارے ۔ روشنی ۔ علم ۔ ساچ۔ سچ ۔ خدا۔ ستگر میلی ۔ سچامرشدملائے ۔ پرراوی ۔ خاوند ملائے ۔ وگسی۔ خوشی ہوئی ۔ بھائی ۔ پیاری (2)
ترجمہ معہ تشریح:
اے میرے پیارے خاووند کریم میں جنگل جیسی دنای میں واحد ہوں اور اکیلا ہوں اے خدا مجھے تیرے بغیر کوئی دلساسا اور بھروسا ہ دینے والا نہیں۔ اے بے پرواہ بے محتاج خدا ۔ خدا کے بغیر انسانی زندگی محال ہے ۔ اے خدا مریی عرض سن مجھے تیرا پیارا چھا لگتاہے ۔ اور مجھے سکون اور چین نہیں ملتی ۔ بغیر دلدار کے کوئی بات تک نہیں پوچھتا ۔ پیارے خدا کے بغیر انسان اکیلا ہی آہ وزاری رکتا ہے مرشد کے بغیر خدا سے کوئی ملاپ نہیں کر اسکتا۔ اے نانک انسان کو الہٰی ملاپ تبھی حاصل ہوگا انسان عزاب اُٹھاتا ہے ۔ اگر مرشد ملاپ کرائے ۔ (1) جس نے خداوند کریم نے ہی چھوڑ رکھا ہے اسکا ملاپ کون کراسکتا ہے ۔ جو کلام مرشد کو پریم پیار سے دلمین بساتا ہے اور اسکا مزہ لیتا ہے وہ روحانی طور پر نہایت خوش خلق اور خوبرو ہوجاتا ہے ۔ کلام مرشد سے انسان عزت و شہرت پاتاہے اورجسم نورانی ہوجاتا ہے ۔ اے میرے سچے ساتھی سچے دوستیہ تمام اوصاف سچے کدا کے ہیں روحانی کلما سے انسان کا دل پھول کی مانند کھلا رہتا ہے ۔ اے نانک انسان کا تب ہی خڈا سے ملاپ ہوتاہے جب وہ خدا کا دلدادہ اور پیار ہوجاتا ہے (2)
مائِیا موہنھیِ نیِگھریِیا جیِءُ کوُڑِ مُٹھیِ کوُڑِیارے ॥
کِءُ کھوُلےَ گل جیۄڑیِیا جیِءُ بِنُ گُر اتِ پِیارے ॥
ہرِ پ٘ریِتِ پِیارے سبدِ ۄیِچارے تِس ہیِ کا سو ہوۄےَ ॥
پُنّن دان انیک ناۄنھ کِءُ انّتر ملُ دھوۄےَ ॥
نام بِنا گتِ کوءِ ن پاۄےَ ہٹھِ نِگ٘رہِ بیبانھےَ ॥
نانک سچ گھرُ سبدِ سِجنْاپےَ دُبِدھا مہلُ کِ جانھےَ ॥੩॥
لفظی معنی:
بیگھریا ۔ بے گھر ۔ مٹھی ۔ لوٹی گئی۔ جیوڑیا۔ پھانسی کی رسی ۔ سبد۔ کلام۔ انتر مل۔ اندرونی دل کی ناپاکیزگی ۔ نام ۔۔سچ یا خدا۔ گت۔ بلند روحانی حالت ۔ ہٹھ۔ صد۔ سچ گھر۔ سچے دل۔ سنجہاپے ۔ پہان۔ دبدھا۔ دوچتی۔ دوہری سوچ۔ نگریہہ۔ اعضا پر ضبط۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو انسان اس چھوٹی مت جانے والی دنیاوی دولت کی گرفت میں اور محبت میں پھنس گیا اور دنیاوی نعمتوں کے پیار کے پیار نے اسے روحانی طور پر لوٹ لیا حقیقت شناسی جاتی رہی ۔ لہذا اس کے گلے کا یہ پھندہ پیارے مرشد کے بغیر کوئی کھول نہیں سکتا۔ جو خدا کو پیار کرتا ہے اور الہٰی اوساف کو سمجھنے کی سھتی کرتا ہے وہ الہٰی خادم ہوجاتا ہے ۔ بیشمار سجاوٹون اور زیارتوں کے باوجود انسان اپنے اندرونی بدکاریوں اور گناہوں کی غلاظت دور نہیں کر ستا۔ دلی ضد۔یا جنگل میں رہائش اختیار کرنے سے ماسوائے الہٰی نام یعنی سچ اور سچائی کے بغیر حقیقت اور حقیقت پرستی حاصل نہیں ہ و سکتی ۔ ے نانک ۔ سچ حقیقت اور خدا کی پہچان کلام مرشد سبق مرشد سے ہی ہو سکتی ہے ۔ دبدھا دوچتی اور قابل قناہ دنیاوی دولت کی محبت سے حقیقی ٹھکانہ منزل نصیب الجھن کا پتہ چاورپہان نہیں ہو سکتی اے نانک (3)
تیرا نامُ سچا جیِءُ سبدُ سچا ۄیِچارو ॥
تیرا مہلُ سچا جیِءُ نامُ سچا ۄاپارو ॥
نام کا ۄاپارُ میِٹھا بھگتِ لاہا اندِنو ॥
تِسُ باجھُ ۄکھرُ کوءِ ن سوُجھےَ نامُ لیۄہُ کھِنُ کھِنو ॥
پرکھِ لیکھا ندرِ ساچیِ کرمِ پوُرےَ پائِیا ॥
نانک نامُ مہا رسُ میِٹھا گُرِ پوُرےَ سچُ پائِیا ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
سچ۔ سچا۔ لافناہ ۔ صدیوی۔ سبد۔کلام۔ سچا ویچار۔ سچے ۔ سچے خیال۔ محل۔ مقام۔ ٹھکانہ ۔ انتر۔ اندرونی ۔ ذہنی ۔ نام ۔ سچ۔ واپار۔ سوداگری ۔ خرید و فروخت۔ لاہا۔ لابھ۔ منافع۔ اندنوں ۔ ہر روز۔ وکھر۔ سودا۔ کھن کھنو ۔ہر لمحہ ۔ ہر وقت۔ پر کھ ۔ آزمائش ۔ لیکھا۔ حساب۔ ندر ساچی۔ سچی نگاہ شفقتے سے ۔ کرم ۔ بخشش۔ سچ۔ حقیقت۔ خدا ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا وند کریم تیر انام سچ سچا ہے تیر اکلام سچا اور ااس کے خیالات اور سوچ سمجھ صحیح اور سچ ہے ۔ تیر ٹھکانہ تیرا دربار سچا اور صدیوی ہے تیرانام اور تیرے نام کی سوداگری ہمیشہ ساتھ یدنے والی ے ۔ الہٰی نام کی سداگری پر لطف اور منافع بخش ہے ۔ اے کدا تیرے نام کے بغیر کوئی ایسی سوداگیر سمجھ نہیں آتی اسلئے ہر وقت ہر لمحہ زندگی نام لو۔ جس انسان نے نام یعنی سچ کے سچے حساب کو ازمائیاں اور نتیجہ اخذ کیا اس پر خاوند کریم کی نگاہ شفقت و کرم و عنایت ہوئی ۔ اور الہٰی کرم و عنایت سے نام یعنی سچ کا سودا حاصل کر لیا۔ اے نانک الہٰی نام صدیوی نہایت لذیز پر لطف نعمت ہے جو کامل مرشد کے وسیلے سے ملتا ہے ۔
راگُ گئُڑیِ پوُربیِ چھنّت مہلا ੩
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ گُرپ٘رسادِ ॥
سا دھن بِنءُ کرے جیِءُ ہرِ کے گُنھ سارے ॥
کھِنُ پلُ رہِ ن سکےَ جیِءُ بِنُ ہرِ پِیارے ॥
بِنُ ہرِ پِیارے رہِ ن ساکےَ گُر بِنُ مہلُ ن پائیِئےَ ॥
جو گُرُ کہےَ سوئیِ پرُ کیِجےَ تِسنا اگنِ بُجھائیِئےَ ॥
ہرِ ساچا سوئیِ تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوئیِ بِنُ سیۄِئےَ سُکھُ ن پاۓ ॥
نانک سا دھن مِلےَ مِلائیِ جِس نو آپِ مِلاۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
اس میں عورت کو تشبح دیتے ہوئے بتائیا گیا ہے اور انسان کو نصیحت کی ہے کہ اے انسان ۔ بنو۔ بینتی ۔ عرض۔ گذارش۔ ہر ۔ خدا۔ گن۔ اوصاف۔ گر۔ مرشد۔ محل۔ منزل۔ ٹھکانہ ۔ نشانہ ۔ تسنا۔ خواہش۔ اگن۔ خواہشا ت اکا جوش۔
ترجمہ معہ تشریح:
وہ انسان جس کے دل میں الہٰی وصف بس جاتا ہے خدا اسے گذارش کرتا ہے کہ وہ الہٰی دیدار و پیار کے بغیر لمحہ بھر کے لئے گذارنا نہایت محال ہے ۔ مگر مرشد کے بغیر منزل مقصود حاصل نہیں ہو سکتا۔ جیسا ارشاد مرشد ہو ویس اہی کرؤ اور خواہشات کے جوش کی آگ کو بجھاو۔ خدا کے بغیر دوسری کوئی ایسی ہستی نہیں اس کی خدمت کے بغیر سکھ اور چین حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اے نانک۔ الہٰی وسل اسے حاصل ہو سکتا ہے ۔ جسے وہ خود ملاتا ہے ۔
دھن ریَنھِ سُہیلڑیِۓ جیِءُ ہرِ سِءُ چِتُ لاۓ ॥
ستِگُرُ سیۄے بھاءُ کرے جیِءُ ۄِچہُ آپُ گۄاۓ ॥
ۄِچہُ آپُ گۄاۓ ہرِ گُنھ گاۓ اندِنُ لاگا بھائو ॥
سُنھِ سکھیِ سہیلیِ جیِء کیِ میلیِ گُر کےَ سبدِ سمائو ॥
ہرِ گُنھ ساریِ تا کنّت پِیاریِ نامے دھریِ پِیارو ॥
نانک کامنھِ ناہ پِیاریِ رام نامُ گلِ ہارو ॥੨॥
لفظی معنی:
رین۔ رات۔ سہلٹریئے ۔ آسان۔ آرام سے ۔ ہر سیو۔ خدا سے ۔ چت لائے ۔ پیارکرئے ۔ ستگر۔ سچامرشد۔ سیونے ۔ خدمت کرنے ۔ بھاؤ کرئے ۔ پیار کرے ۔ آپ ۔ خودی۔ ہرگن گائے ۔ الہٰی حمدوثناہ کرئے ۔ بھاؤ۔ پیار ۔ جیئہ کی ملی ۔ دلی محبت والی۔ ساری ۔ بسائے ۔ نام ۔ الہٰی نام۔ سچ حق و حقیقت ۔ کامن۔ عورت۔ انسان۔ ناہ ۔ خدا۔ گل ہارو۔ گلے کی مالا یا ہار ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس کے دل میں عشق الہٰی ہے اس کی زندگی آسانی سے گذر جاتی ہ جو کدمت مرشد محبت اور پیار سے کرتا ہے اور خودی مٹاتاہے ۔ خودی مٹا کر ہر روز الہٰی حمدوثناہ پریم سے کرتا ہے ۔ اے میرے دلی ساتھی اور دوست کلام و سبق مرشد دلمیں بساو۔ جو انسان الہٰی اوصاف دلمیں بستاہے ۔ سچ سچائی اور نام الہٰی سے پیار کرتا ہے ۔ اے نانک وہ خدا کا پیارا معشو ق ہوجاتا ہے ۔ اور الہٰی نام اس کے گلے کی تسبح بن جاتا ہے ۔
دھن ایکلڑیِ جیِءُ بِنُ ناہ پِیارے ॥
دوُجےَ بھاءِ مُٹھیِ جیِءُ بِنُ گُر سبد کرارے ॥
بِنُ سبد پِیارے کئُنھُ دُترُ تارے مائِیا موہِ کھُیائیِ ॥
کوُڑِ ۄِگُتیِ تا پِرِ مُتیِ سا دھن مہلُ ن پائیِ ॥
گُر سبدے راتیِ سہجے ماتیِ اندِنُ رہےَ سماۓ ॥
نانک کامنھِ سدا رنّگِ راتیِ ہرِ جیِءُ آپِ مِلاۓ ॥੩॥
لفظی معنی:
ناہ ۔ خدا۔ دوبے ۔ دولت۔ دوسروں سے محبت۔ بھائے ۔ پیار۔ مٹھی ۔ لٹ گئی ۔ سبد۔ سبق ۔ کلام۔ وتر۔ دشوار گذار۔ کھوائی ۔ ذلیل و خوار ۔بگوئی ۔ خوار۔ ذلیل۔ پر ۔ خاوند۔ متی ۔ طلاقی ۔ چھوڑی ہوئی ۔ محل۔ منزل۔ مقصد۔ سہجے ۔ سکون میں۔ ماتی ۔ مخمور ۔ مست
ترجمہ معہ تشریح:
انسانی زندگی خدا کے بغیر اکیلے پن والی اور سنسان ہے ۔ دنیاوی دولت کی محبت میں لٹ جاتی ہے ۔ جب تک اس نے سبق و کلام مرشد حاصل نہ کیا ہو بغیر سبق و کلام مرشد کے اس دشوار گذار زندگی کو کیسے عبور ہوگا ۔ دنیاوی دولت کی محبت می ذلیل و خوار ہوگا ۔ جھوٹ کی خواری و ذلالت میں انسان منزل مقصود حاصلنہیں کر سکتا ۔ وہ خدا کا چھوڑا ہوا طلاقی شدہ ہوجاتا ہے ۔ مگر جس کے دلمیں سبق مرشد کا کلام مرشد بسائیا ہوا ہوتا ہے ۔ خدا خود اسے اپنے ساتھ ملائے رکھتا ہے ۔
تا مِلیِئےَ ہرِ میلے جیِءُ ہرِ بِنُ کۄنھُ مِلاۓ ॥
بِنُ گُر پ٘ریِتم آپنھے جیِءُ کئُنھُ بھرمُ چُکاۓ ॥
گُرُ بھرمُ چُکاۓ اِءُ مِلیِئےَ ماۓ تا سا دھن سُکھُ پاۓ ॥
گُر سیۄا بِنُ گھور انّدھارُ بِنُ گُر مگُ ن پاۓ ॥
کامنھِ رنّگِ راتیِ سہجے ماتیِ گُر کےَ سبدِ ۄیِچارے ॥
نانک کامنھِ ہرِ ۄرُ پائِیا گُر کےَ بھاءِ پِیارے ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
الہٰی ۔ ملاپ ۔ بھرم۔ وہم وگمان۔ دلی تشویش۔ چکائے ۔ دور کرئے ۔ گہور اندھار۔ گہیرا۔ اندھیرا۔ مگ۔ راستہ ۔ سبد وچارے ۔ سبق مرشد و کلام مرشد خوض کر نے سے ۔ ہر ور ۔ خاوند ۔ خداوند کریم ۔ گر کے بھائے پیارے ۔ مرشد کے پیار اور پریم کی وجہ سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی ملاپ تبھی حاصل ہو سکتیا ہے اگر خدا خو ملاتا ہے خدا کےبغیر کون ملاپ کر اسکتا ہے ۔ پیارے مرشد کے بغیر کون انسانی دل کی بھٹکن تشویش اور وہم وگمان دور کر ستا ہے ۔ مرشد کے وہم وگمان متا دینے پر اگر لاپ ہو تبھی اے ماں سکون اور آرام ملتا ہے ۔ مرشد کے بغیر روحانی زندگی بسر کرنے کے لئے صراط مستقیم کا پتہ نہیں چلاتا ۔ جبتک انسانی الہٰی پریم پیار کے خما رمیں کلام مرشد کی سمجھ کرتا ہے ۔ اے نانک مرشد کے پریم پیار سے اور اس کی برکات سے انسان کا خدا سے ملاپ ہوجاتا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੩॥
پِر بِنُ کھریِ نِمانھیِ جیِءُ بِنُ پِر کِءُ جیِۄا میریِ مائیِ ॥
پِر بِنُ نیِد ن آۄےَ جیِءُ کاپڑُ تنِ ن سُہائیِ ॥
کاپرُ تنِ سُہاۄےَ جا پِر بھاۄےَ گُرمتیِ چِتُ لائیِئےَ ॥
سدا سُہاگنھِ جا ستِگُرُ سیۄے گُر کےَ انّکِ سمائیِئےَ ॥
گُر سبدےَ میلا تا پِرُ راۄیِ لاہا نامُ سنّسارے ॥
نانک کامنھِ ناہ پِیاریِ جا ہرِ کے گُنھ سارے ॥੧॥
لفظی معنی:
کھری ۔ نہایت ۔ زیادہ ۔ نمانی ۔ بغیر مان۔ بے وقار۔ پر ۔ خاوند۔ مراد خدا۔ کاپڑ۔ کپڑے ۔ تن۔ جسم۔ پرھ بھاوے ۔ خدا کو پسند آئے ۔ انگ ۔ گود۔ سبدے ۔ کلام کے ذریعے ۔ راوی مل سکوں ۔ ہان۔ راوی ۔ مل۔ ملاپ ۔ لاہا۔ منافع۔ سارے ۔ سنبھالنا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے ماں میں خدا کے بغیر نہایت بے وقار وہں اس کے بغیر میری زندگی بے معنی ہے اور روحانی نہیں۔ کدا کے بغیر نہ جسمانی سکون ہے اور نہ بدن پر کپڑے اچھے لگتے ہیں۔ کپڑے جسم پر تبھی سجتے ہیں اگر انسان کو کدا پیار کرئے اور سبق مرشد دلمیں بستا ہو تبھی خدا سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت سے انسان اور مرشدکی گود پاکر صدیوی خش قسمت ہوجاتاہے ۔جب انسان کلام مرشد میں دل لگاتا ہے تب ہی الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ الہٰی نعم یعنی سچ ہی یا حقیقت پرستی ہی اسل میں صبح اور اصل منافع بخش ہے ۔ اے نانک خدا کو انسان تبھی پیار الگتا ہے جب انسان الہٰی اوساف دلمیں بساتاہے ۔
سا دھن رنّگُ مانھے جیِءُ آپنھے نالِ پِیارے ॥
اہِنِسِ رنّگِ راتیِ جیِءُ گُر سبدُ ۄیِچارے ॥
گُر سبدُ ۄیِچارے ہئُمےَ مارے اِن بِدھِ مِلہُ پِیارے ॥
سا دھن سوہاگنھِ سدا رنّگِ راتیِ ساچےَ نامِ پِیارے ॥
اپُنے گُر مِلِ رہیِئےَ انّم٘رِتُ گہیِئےَ دُبِدھا مارِ نِۄارے ॥
نانک کامنھِ ہرِ ۄرُ پائِیا سگلے دوُکھ ۄِسارے ॥੨॥
لفظی معنی:
سادھن۔وہ عورت ۔ اہنس۔ روز و شب۔ دن رات۔ وچارے ۔ سمجھتی ہے ۔ ذہن نشین کرتی ہے ۔ ان بدھ۔ اس طور طریقے سے ۔ اس طرح ۔ رنگ ۔ پریم ۔ سوہاگن۔ خوش قسمت۔ ساپے ۔ نام۔ ساچے سچ ۔ حقیقت ۔ گہئے ۔ حاصل کریں ۔ دبھا ۔ دوچتی ۔ نوارے ۔ دور کرے ۔در۔ مالک۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو انسان کلام مرشد ذہن نشین کر لیتا ہے ۔ وہ روز و شب الہٰی عشق میں مخمور رہتا ہے ۔ اور الہٰی ملاپ میں روحانی سکون پاتا ہے ۔ اورکلام مرشد ذہن نشین ہونے کے کارن اس کی خودی مٹ جاتی ہے ۔ اس طور الہیی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ سچے نام سچ کے پیا ر سے صدیوی خوشباش خوش قسمت الہٰی عشق و پیار سے ممخمور رہتا ہے ۔ اپنے مرشد کے ملاپ سے اپنے دل سے دوئی کتم گر کے ہی روحانی زندگی عنایت کرنے والا نام آب حیات ہے ملتا ہے اے نانک جسے الہٰی وصل حاصل ہوگیا اس کے تمام عذاب مٹ گئے (2)
کامنھِ پِرہُ بھُلیِ جیِءُ مائِیا موہِ پِیارے ॥
جھوُٹھیِ جھوُٹھِ لگیِ جیِءُ کوُڑِ مُٹھیِ کوُڑِیارے ॥
کوُڑُ نِۄارے گُرمتِ سارے جوُئےَ جنمُ ن ہارے ॥
گُر سبدُ سیۄے سچِ سماۄےَ ۄِچہُ ہئُمےَ مارے ॥
ہرِ کا نامُ رِدےَ ۄساۓ ایَسا کرے سیِگارو ॥
نانک کامنھِ سہجِ سمانھیِ جِسُ ساچا نامُ ادھارو ॥੩॥
لفظی معنی:
کامن۔ عورت ۔ مراد ۔ انسان ۔ پر ہو۔ خاوند۔ مراد۔ کدا۔ مائیا موہ ۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ کوڑ ۔ کفر۔ جھوٹ۔ مٹھی ۔ لتی ۔ کوڑیارے ۔ جھوٹے نے ۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ جنم ۔ زندگی ۔ سچ سماوے ۔ سچ سچائی اور خدا اپنائے ۔ سیگار۔ سجاوٹ۔ زیبائش ۔ سہج سمانی ۔ روحانی سکون پاتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا کو بھلا کر انسان دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے وہ جھوٹ کی گرفت میں جھوٹے کو جھوٹ لوٹ لیتا ہے اور جھوٹا ہوجاتا ہے ۔ سبق مرشد سے جھوٹ کو ختم کر نے سے یہ زندگی بیکار نہیں گذرتی ۔ سبق اور کلام مرشد کو زیر عمل لائے اور دل میں سچ اور حقیق بسائے اور خودی دل سے نکالے الہٰی دلمین بسائے اسیی زیبائش انسان کے کرنے سے اے نانک ۔ جسے سچے نام کا سہارا ہے روحانی سکون پاتاہے ۔
مِلُ میرے پ٘ریِتما جیِءُ تُدھُ بِنُ کھریِ نِمانھیِ ॥
مےَ نیَنھیِ نیِد ن آۄےَ جیِءُ بھاۄےَ انّنُ ن پانھیِ ॥
پانھیِ انّنُ ن بھاۄےَ مریِئےَ ہاۄےَ بِنُ پِر کِءُ سُکھُ پائیِئےَ ॥
گُر آگےَ کرءُ بِننّتیِ جے گُر بھاۄےَ جِءُ مِلےَ تِۄےَ مِلائیِئےَ ॥
آپے میلِ لۓ سُکھداتا آپِ مِلِیا گھرِ آۓ ॥
نانک کامنھِ سدا سُہاگنھِ نا پِرُ مرےَ ن جاۓ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
نمانی ۔ بے وقار۔ کھری ۔ نہایت ۔ بھاوے ۔ اچھا لگتا ۔ ہاوے ۔ آہ وزاری۔ سکھداتا۔ سکھ دینے والا۔ گھر۔ دل۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا مجھے اپنا ملاپ عنایت ک فرما تیرے بغیر میں نہایت عاجز و لا چار ہون۔ میں بے قرار اور بے چین ہوں نیند نہیں آتی نا اناج اور پانی اچھا لگتا ہے ۔ آہ وزاریمیں قریب المرگ ہوں خدا مالک کے بغیر کیسے روحانی سکون ملے ۔ مرشد سے گذارش کیجیئے کہ اے مرشد جیسے ہو سکے جیسے تو چاہے ویسے ملایئے ۔ سارے آرام وآسائش مہیا کرنے والا خدا خود ہی دلمیں بس جاتا ہے ۔ اے نانک وہ انسان ہمیشہ خوشباش اور کوش قسمت ہے کیونکہ اسکا آقا۔ خاوند خدا نہ جدا ہوتا ہے او رنہ اسے موت ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੩॥
کامنھِ ہرِ رسِ بیدھیِ جیِءُ ہرِ کےَ سہجِ سُبھاۓ ॥
منُ موہنِ موہِ لیِیا جیِءُ دُبِدھا سہجِ سماۓ ॥
دُبِدھا سہجِ سماۓ کامنھِ ۄرُ پاۓ گُرمتیِ رنّگُ لاۓ ॥
اِہُ سریِرُ کوُڑِ کُستِ بھرِیا گل تائیِ پاپ کماۓ ॥
گُرمُکھِ بھگتِ جِتُ سہج دھُنِ اُپجےَ بِنُ بھگتیِ میَلُ ن جاۓ ॥
نانک کامنھِ پِرہِ پِیاریِ ۄِچہُ آپُ گۄاۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
کامن ۔ عورت مراد انسان ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف۔ بیدھی ۔ گرفت میں۔ بندھن۔ سہج سبھائے ۔ قدرتا۔ من موہن۔ دل کو لبھانے والا۔ خدا۔ دبدھا۔ دوچتی۔ در۔ خاوند۔ خدا۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے ۔ رنگ۔ پریم ۔ پیار۔ کوڑ کست۔ جھوٹ۔ دہوکا۔ فریب۔ گل نابین۔ مکمل ۔ گورمکھ ۔مرید مرشد۔ بھگت۔ عابد۔ عاشق الہٰی ۔ جت ۔ جسے ۔ سہج دھن۔ روحانی جوش۔ روحانی لرہیں۔ میل ۔ ناپاکیزگی ۔ پریہہ پیاری ۔ خاوند کی پیاری ۔ آپ ۔ خودی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
انسان الہٰی لطف میں بندھا ہوا الہٰی محبت میں روحانی سکون پاتا ہے ۔ جس کے دل کو دل لبھانے والے خدا نے اپنی محبت کی گرفت میں لے لیا ہ اس کی دوئی دوئش اور روحانی سکون سے ختم ہوجاتی ہے ۔ اسے الہٰی ملاپ حاصل ہوجاتا ہے ۔ اور وہ روحانی سکون پاتا ہے ۔ انسانی جسم جھوٹ کفر دہوکا فریب سے پر ہے ۔ اور انسان گناہوں مین زندگی گذارتاہے ۔ مرشدکے ذریعے انسانی دلمیں الہٰی عشق و عبادت اور روحانیسکون پید ا ہوتا ہے ۔ اور لاہٰی پریم پیار کے بغیر ذہنی ناپاکیزگی یعنی روحانی غلاظت ختم نہیں ہوتی ۔ اے نانک۔ انسان جو اپنے دل سے خودی مٹا دیتا ہے ۔ خدا کا پیاراہوجاتا ہے ۔
کامنھِ پِرُ پائِیا جیِءُ گُر کےَ بھاءِ پِیارے ॥
ریَنھِ سُکھِ سُتیِ جیِءُ انّترِ اُرِ دھارے ॥
انّترِ اُرِ دھارے مِلیِئےَ پِیارے اندِنُ دُکھُ نِۄارے ॥
انّترِ مہلُ پِرُ راۄے کامنھِ گُرمتیِ ۄیِچارے ॥
انّم٘رِتُ نامُ پیِیا دِن راتیِ دُبِدھا مارِ نِۄارے ॥
نانک سچِ مِلیِ سوہاگنھِ گُر کےَ ہیتِ اپارے ॥੨॥
لفظی معنی: + ترجمہ معہ تشریح:
انسان کو الہٰی ملاپ حاصل ہوا مرشد ے پریم پیار کرنے کے سبب اور خدا کے دلمیں بسنے کی وجہ سے زندگی آسانی او ر آرام و آسائش سے گذرتی ہے ۔ دل میں بسانے سے پیارے سے ملاپ ہوتا ہے اور ہر روز اسکی مصبیتں مٹتی ہیں جو انسان سب ق مرشد اپنے دل یا ذہن میں اس کی تلاش کرتاہے اور غور رو خوض سے الہٰی ملاپ کا کسون پاتا ہے ۔ جو انسان روز و شب آب حیات نام یعنی سچ و حقیقت پر عمل کرتا ہے اس کی دوئی دوئشی کتم ہوجاتی ہے ۔ اے ناکن مرشد کے انتہائی محبت کی برکت سے سچے صدیوی خدا سے یکسو ہوئی ہرتی ہے خوشباش اورخوش نسبی ہوجاتی ہے ۔
آۄہُ دئِیا کرے جیِءُ پ٘ریِتم اتِ پِیارے ॥
کامنھِ بِنءُ کرے جیِءُ سچِ سبدِ سیِگارے ॥
سچِ سبدِ سیِگارے ہئُمےَ مارے گُرمُکھِ کارج سۄارے ॥
جُگِ جُگِ ایکو سچا سوئیِ بوُجھےَ گُر بیِچارے ॥
منمُکھِ کامِ ۄِیاپیِ موہِ سنّتاپیِ کِسُ آگےَ جاءِ پُکارے ॥
نانک منمُکھِ تھاءُ ن پاۓ بِنُ گُر اتِ پِیارے ॥੩॥
لفظی معنی:
پریتم ۔ پیارے ۔ سچ سبد سیگارے ۔ حقیقت او رکلام کی سجاوت سے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ مرشدکے وسیلے سے ۔ کاجر ۔ کام ۔ مقسد۔ جگ جگ ۔ ہر دور زماں میں۔ ایکو ۔ وآحد۔ سچا سوئی ۔ وہی سچا ہے ۔ بوجھے گرویچارے ۔ سبق مرشد سے سمجھ آتی ۔ منمکھ ۔ مرید من منکر خودی پسند ۔ کام ۔ شہوت۔ دیاپی ۔ گرفت میں۔ پھندے میں۔ موہ سنتاپی ۔ محب کا عذاب ۔
ترجمہ معہ تشریح:
میرے پیارے نہایت پیارے دوست آؤ سچ اور سچے نام او رکلام مرشد سے اپنے آپ کو سچا و شنگار سے انسان گذا رش کرتا ہے ۔ اس کی زندگی سنور جاتی ہے ۔ اور اپنے ذہن سے خودی نکال دیتا ہے ۔ اور مرشد کی و ساطت سے اپنے تمام کا م درست کر لیتا ہے اور مرشد کے رم و عنایت سے الہٰی شراکت حاصل کر لیتا ہے جو ہر دور زمان میں سچا اور صدیوی ہے ۔ جس کی سمجھ سبق مرشد سے آتیہے ۔ خودی پسند کو شہوت کا تاچر اپنے زیر رکھتا ہے اور محبت کے پھندے میں پھنس کر عذابا پاتا ہے وہ کسے فریاد کرئے اے نانک خودی پسند کو کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا بغیر انتہائی پیارے مرشد کے ۔
مُنّدھ اِیانھیِ بھولیِ نِگُنھیِیا جیِءُ پِرُ اگم اپارا ॥
آپے میلِ مِلیِئےَ جیِءُ آپے بکھسنھہارا ॥
اۄگنھ بکھسنھہارا کامنھِ کنّتُ پِیارا گھٹِ گھٹِ رہِیا سمائیِ ॥
پ٘ریم پ٘ریِتِ بھاءِ بھگتیِ پائیِئےَ ستِگُر بوُجھ بُجھائیِ ॥
سدا اننّدِ رہےَ دِن راتیِ اندِنُ رہےَ لِۄ لائیِ ॥
نانک سہجے ہرِ ۄرُ پائِیا سا دھن نءُ نِدھِ پائیِ ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
مندھ ۔ عورت۔ ایانی ۔ انجان ۔ نگنیا۔ بے اؤصاف۔ اگم۔ انسانی رسائی سے بلند۔ اپار۔ شمار سے باہر ۔ آپے ۔ از کود۔ بخشنہار۔ کرم فرما۔ کامن۔ عورت۔ کنت۔ خاوند۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمین۔ پریت ۔ پیار۔ بھائے ۔ پیار۔ بھگتی ۔ پریم۔ بوجھ ۔ سمجھ ۔ لو۔ دھیان۔ توجو ۔
ترجمہ معہ تشریح:
نادان نا آموز اور ( بھولی ) بھولے بے اوصاف ہے انسان جب کہ خدا انسانی رسائی سےبالا و بلند اور اعداد و شما رسے باہر ہے ۔ اگ رخدا از خود ملائے قیمتی ملاپ وہ سکتا ہے ۔ اور خود ہی بخشنے والا ہے ۔ پیار ا کدا ہی بکشنے کے لائق اور طاقت رکھتا ہے ۔ اور ہر جسم و دلمیں بستا ہے ۔ سچے مرشد نے یہ سمجھ و سبق دیا ہے کہ خدا پریم پیار اور عبادت سے ملتا ہے ۔ اے نانک۔ جو انسان مرشد پر عمل کرتا ہے ۔ وہ روز و شب روحانی سکون میں سکون پاتا ہے اور خدا سے یکسو ہوجاتاہے اور اس طرح سے ہے کہ اس نے دنیا کے نو خزانے پالئے ۔
گئُڑیِ مہلا ੩॥
مائِیا سرُ سبلُ ۄرتےَ جیِءُ کِءُ کرِ دُترُ ترِیا جاءِ ॥
رام نامُ کرِ بوہِتھا جیِءُ سبدُ کھیۄٹُ ۄِچِ پاءِ ॥
سبدُ کھیۄٹُ ۄِچِ پاۓ ہرِ آپِ لگھاۓ اِن بِدھِ دُترُ تریِئےَ ॥
گُرمُکھِ بھگتِ پراپتِ ہوۄےَ جیِۄتِیا اِءُ مریِئےَ ॥
کھِن مہِ رام نامِ کِلۄِکھ کاٹے بھۓ پۄِتُ سریِرا ॥
نانک رام نامِ نِستارا کنّچن بھۓ منوُرا ॥੧॥
لفظی معنی:
مائیا۔ دنیاوی دولت ۔ سر۔ تالاب۔ سمندر۔ دتر۔ دشوار ۔ بوہتھا۔ جہاز۔ سبد۔ کلام۔ کھیوٹ۔ ملاح۔ وچ پائے ۔ درمیانی بنانے ۔ وچولا۔ ہر آپ لگھائے ۔ خدا خود کامیابی عنایت کرتاہے ۔ ان بدھ۔ اس طریقے سے ۔ گورمکھ ۔ مرشدکے وسیلے سے ۔ بھت ۔ پریم ۔ جیوتیاں۔ دوران حیات ۔ ابو۔ ایسے ۔ مرلئے ۔ سے مراد انقلاب حیات۔ کل وکھ۔ گناہ ۔ زہریلی کار۔ پوت۔ پاک نستارا ۔ فیصلہ حقیقت کا پتہ چلتا ہے ۔ لوہے کی میل۔ کنچن ۔ سونا۔
ترجمہ معہ تشریح:
دنیاوی دولت کا سمدنر میںد نایوی محبت کی لہریں ٹھاٹیں مار رہی ہیں طوفان اتھ رہا ہے ایسے حالات میں اس دنیاوی زندگی کے سمندر سے کیسے پار ہو سکتے ہیں جب کہ مدو جزر اُٹھا رہا ہو اور راستے دشوار گذار ہوں ۔ اے انسان الہٰی نام ( سچ) حق و حقیقت کو جہاز بناؤ اور کلام ( سبق مرشد) کو ملاح بناو تو خدا خؤد ہی اس دنیایو زندگی کو کامیابی عنایت کرتاہے ۔ اس طڑح سے اس دشوار زندیگ کو کامیابی بنائیا جا سکتا ہے ۔ مرشد کے ویسلے سےا لہٰی پریم پیار ملتا ہے اور دوران حیات میں ہی زندیگ میں ایک انقلاب آجاتا ہے اور بدکاریون اور گناہوں بھری اور دنیایو دولت کی محبت میں تبہا ہوتی ہوتی پاک ارو متبرک ہوجاتی ہے اور پل بھر میں الہٰی نام ( سچ) بدکاریوں اور گناہوں کو کتم کرکے جسم کو پاک بنا دیتا ہے اے نانک الہٰی نام (سچ) ہی انسنا و ذہنی و جسمانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے ۔ اور انسان کی زندگی منور سے سونے کی مانند قیمتی اور پاک ہوجاتی ہے ۔
اِستریِ پُرکھ کامِ ۄِیاپے جیِءُ رام نام کیِ بِدھِ نہیِ جانھیِ ॥
مات پِتا سُت بھائیِ کھرے پِیارے جیِءُ ڈوُبِ مُۓ بِنُ پانھیِ ॥
ڈوُبِ مُۓ بِنُ پانھیِ گتِ نہیِ جانھیِ ہئُمےَ دھاتُ سنّسارے ॥
جو آئِیا سو سبھُ کو جاسیِ اُبرے گُر ۄیِچارے ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ رام نامُ ۄکھانھےَ آپِ ترےَ کُل تارے ॥
نانک نامُ ۄسےَ گھٹ انّترِ گُرمتِ مِلے پِیارے ॥੨॥
لفظی معنی:
استری پرکھ ۔ مرد و عورت ۔ کام۔ شہوت۔ ویاپے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ اور دیاؤ ڈالتاہے ۔ رام نام۔ الہٰی سچ ۔ حق و حقیقت ۔ بدھ ۔ طریقہ ۔ گت ۔ حقیقت۔ روحانی زندگی کا پتہ ۔ ہونمے ۔ خودی۔ دھات۔ بھٹکن ۔ ابھرے ۔ بچے ۔ گرویچار۔ سبق مرشد ۔ دکھانے ۔ بیان کرتا ہے ۔ کل خاندان۔ گھٹ ۔ دل ۔
ترجمہ معہ تشریح:
مرد و زن شہوت من محسور رہتے ہیں۔ الہٰی نام کی یاد نہیں سمجھتے ۔ ماں۔ باپ ۔ بیٹے بھائی کو نہایت عزیز سمجھتا ہے ۔ ارو رروحانی طور پر ختم ہوجاتا ہے ۔ انسان دنیاوی محبت کے سمندرمیں غرق ہو روحانی طور پر قوت ہوجاتا ہے ۔ خودی کے زیر اثر بھٹکتے رہتے ہیں۔ اسکا بچاؤ سبق مرشد میں ہے ۔ جو الہٰی نام مرشد کے وسیلے سے بیان کرتا ہے ۔ وہ خود نہیں بلکہ تمام خاندان کی زندگی کامیاب بنا دیتاہے ۔ اے نانک۔ جس انسان کے دل میں سچ اور الہٰی نام بس جاتا ہے ۔ سبق مرشد کے پر عمل سے الہٰی ملاپ حاصل کر لیتا ہے ۔
رام نام بِنُ کو تھِرُ ناہیِ جیِءُ باجیِ ہےَ سنّسارا ॥
د٘رِڑُ بھگتِ سچیِ جیِءُ رام نامُ ۄاپارا ॥
رام نامُ ۄاپارا اگم اپارا گُرمتیِ دھنُ پائیِئےَ ॥
سیۄا سُرتِ بھگتِ اِہ ساچیِ ۄِچہُ آپُ گۄائیِئےَ ॥
ہم متِ ہیِنھ موُرکھ مُگدھ انّدھے ستِگُرِ مارگِ پاۓ ॥
نانک گُرمُکھِ سبدِ سُہاۄے اندِنُ ہرِ گُنھ گاۓ ॥੩॥
لفظی معنی:
بھر۔ مستقل۔ صدیوی ۔ باجی ۔ بازی کیل۔ درڑ۔ پختہ ۔ اگم۔ انسانی رسائی سے بالا۔ آپ۔ خودی۔ مگدھ ۔ جاہل۔ ستگر۔ سچے مرشد۔ مارگ۔ راستہ ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ سہاوے ۔ اچھا لگتا ہے ۔ اندن ۔ ہر روز۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام کے بغیر کوئی صدیوی اور مستقل نہیں یہ ایک دنیاوی کھیل ہے ۔ الہٰی پریم پیار کو پختہ کرؤ یہ ایک سوداگری ہے ۔ الہٰی نام کی ۔ الہٰی نام کی سوداگری انسانی رسائی سے بلند و بالا ہے ۔ یہ دولت سبق مرشد سے ملتی ہے ۔ خدمت ہوش ار پریم سے خودی ختم ہوجاتی ہے اور ختم کر سکتے ہین۔ ہمیں بے عقل و نادان و جاہلوں و دولت کی صحبت میں ادھیوں کو سچا مرشد ہی صحیح راہ دکھتا ہے ۔ اے نانک کلام مرشد سے زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے ۔ اور انسان ہر روز الہٰی صفت صلاح کرتا رہتا ہے ۔
آپِ کراۓ کرے آپِ جیِءُ آپے سبدِ سۄارے ॥
آپے ستِگُرُ آپِ سبدُ جیِءُ جُگُ جُگُ بھگت پِیارے ॥
جُگُ جُگ بھگت پِیارے ہرِ آپِ سۄارے آپے بھگتیِ لاۓ ॥
آپے دانا آپے بیِنا آپے سیۄ کراۓ ॥
آپے گُنھداتا اۄگُنھ کاٹے ہِردےَ نامُ ۄساۓ ॥
نانک سد بلِہاریِ سچے ۄِٹہُ آپے کرے کراۓ ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
گرائے ۔ کراتا ہے ۔ سبد سوارے ۔ کلام سے زندگی کی پروش درست کرتا ہے ۔ جگ جگ ۔ ہر دور زمان میں۔ دانا۔ دانشمند ۔ بینا۔ دور اندیش۔ سیو۔ خدم۔ آپے ۔ خود۔ گن داتا۔ اوصاف دینے والا۔ اوگن۔ بد اوصاف۔ ہروے ۔دلمیں۔ نام وسائے ۔ سچ بسائے ۔ سد بلہاری ۔ سو بار قربان۔ وٹہو۔ اوپروں ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا خود ہی کراتا ہے اور خود ہی کرتا ہے ۔ خود ہی کلام مرشد کی برکات سے زندگی درست کرکے خوشحال بناتا ہے ۔ خود ہی سچے مرشد سے ملاتا ہے خود ہی کلام عنایت کرتا ہے ۔ خود ہی ہر زمانے میں اپنے پریمیوں سے پیار کرتا آئیا ہے ۔ خو دہی دانشمند اور دور اندیش ہے اور خود ہی اپنی خدمت کراتا ہے ۔ خودہی اوصاف عنایت کرتا ہے اور بد اوصاف مٹا تا ہے ۔ دلمیں نام بساتا ہے ۔ نانک سچے خدا پر قربان ہے وہ خو دہی سب کچھ کرتا اور کراتا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੩॥
گُر کیِ سیۄا کرِ پِرا جیِءُ ہرِ نامُ دھِیاۓ ॥
منّجنْہُ دوُرِ ن جاہِ پِرا جیِءُ گھرِ بیَٹھِیا ہرِ پاۓ ॥
گھرِ بیَٹھِیا ہرِ پاۓ سدا چِتُ لاۓ سہجے ستِ سُبھاۓ ॥
گُر کیِ سیۄا کھریِ سُکھالیِ جِس نو آپِ کراۓ ॥
نامو بیِجے نامو جنّمےَ نامو منّنِ ۄساۓ ॥
نانک سچِ نامِ ۄڈِیائیِ پوُربِ لِکھِیا پاۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
پر۔ خاوند۔ منہو۔ مجھ سے ۔ سہجے ۔ سکون سے ۔ ست۔ سچ ۔ سبھائے ۔ سچے پریم سے ۔ گھری ۔ نہایت ۔ پورب ۔ پہلے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے میری جان ۔ مرشد کی خدمت کر اور خدا کو یاد کر میری جان مجھ سے دور مت جا خدا دل میں ہی بستا اور مل جاتا ہے جو انسان روحانی سکون میں رہ کر الہٰی پریم میں توجہ دیتا ہے ۔ وہ اسے اپنے دلمیں ہی الہٰی ملاپ پا لیتا ہے ۔ خدمت مرشد نہایت آسان ہے جس سے وہ خود کرواتا ہے ۔ وہ نام ہی بوتا ہے نام ہی اگتا ہے ۔ نام ہی دلمیں بساتا ہے ۔ اے نانک۔ نام سے عظمت اور عزت و حشمت پاا ہے ۔ مگ ریہ پہلے سے اس کے اعمالنامے میں درج حساب سے ملتا ہے ۔
ہرِ کا نامُ میِٹھا پِرا جیِءُ جا چاکھہِ چِتُ لاۓ ॥
رسنا ہرِ رسُ چاکھُ مُزے جیِءُ ان رس ساد گۄاۓ ॥
سدا ہرِ رسُ پاۓ جا ہرِ بھاۓ رسنا سبدِ سُہاۓ ॥
نامُ دھِیاۓ سدا سُکھُ پاۓ نامِ رہےَ لِۄ لاۓ ॥
نامے اُپجےَ نامے بِنسےَ نامے سچِ سماۓ ॥
نانک نامُ گُرمتیِ پائیِئےَ آپے لۓ لۄاۓ ॥੨॥
لفظی معنی:
لو ۔ تو جو۔ نامے اپجے ۔ نام سچ حق و حقیقت سے پیدا ہوتاہے ۔ نامے ونسے ۔ نام سے ختم ہوتا ہے ۔ نام رہے لو لائے ۔ نام سے ہی توجو دیتا ے ۔ نامے سچ سچمائے ۔ نام سے ہی خدا سے یکسو ہوتا ہے ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خداوند کریم الہٰی نام سچ حق و حقیقت پر لطف اور میٹھا ہے اگر کوئی دل و جان سے لطف اُٹھائے ۔ اے مردو د زبان دوسری لذتیں ختم کر کے الہٰیمزہ لے ۔ ہمیشہ الہٰی لطف تبھی ملتاہے جب الہٰی رضا اور کلام مرشد پر عمل کرتاہے ۔ یعنی سچ اور سچائی اپنانے سے اور توجہ دینے سے روحانی سکون پاتا ہے ۔ سچ اور نام سے اسے عشق ہواتا ہے اور اسی میں دھیان لگاتا ہے ۔ نام یعنی سچ سے پیدا ہوتا ہے سے نام مٹ جاتا ہے نام سے سچ یعنی خدا سے یکسوئی پاتا ہے ۔ اے نانک الہٰی نام سبق مرشد سے حاصل ہوتاہے ۔ خدا خود ہی اپنے نام میں پیار پیدا کرتا ہے ۔
ایہ ۄِڈانھیِ چاکریِ پِرا جیِءُ دھن چھوڈِ پردیسِ سِدھاۓ ॥
دوُجےَ کِنےَ سُکھُ ن پائِئو پِرا جیِءُ بِکھِیا لوبھِ لُبھاۓ ॥
بِکھِیا لوبھِ لُبھاۓ بھرمِ بھُلاۓ اوہُ کِءُ کرِ سُکھُ پاۓ ॥
چاکریِ ۄِڈانھیِ کھریِ دُکھالیِ آپُ ۄیچِ دھرمُ گۄاۓ ॥
مائِیا بنّدھن ٹِکےَ ناہیِ کھِنُ کھِنُ دُکھُ سنّتاۓ ॥
نانک مائِیا کا دُکھُ تدے چوُکےَ جا گُر سبدیِ چِتُ لاۓ ॥੩॥
لفظی معنی:
وڈائی ۔ بیگانی ۔چاکری ۔ نوکری ۔ دھن ۔ عورت۔ حقیقت ۔ گھر ۔ درجے ۔ دوئی ۔ دوئش۔ وکھیا۔ زہر۔ دکھالی ۔ دکھ دینے والی ۔ آپ ۔ ضمیر۔ کھن کھن۔ پل پل۔ سنتائے ۔ عذاب پاتا ہے ۔ چوکے ۔ مٹتا ہے ۔ گر سبدی۔ کلام مرشد۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے میری جان جس طرح سے بیگانی نوکری کے سلسلے میں اپنا گھر بار اور عورت چھوڑ کر بدیش چلا جاتا ہے ۔ جو بھاری عذاب ہے ۔ اس طرح سے ہی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی خوشامد انسان کو جگہ جگہ بھٹکاتی ہے ۔ اے انسان دولت کی محبت کی گرفت میں کبھی سکھ حاصل نہیں ہوتا۔ دنیاوی دولت کے لالچ میں بھتکتا میں پڑھ کر غلط راستوں پر چلتا ہے ۔ اس لئے آرام وآسائش کیسے پا سکا ہے ۔ بیگانی نوکری ناہیت مشکل اور دکھدائک ہے ۔ اور انسان کو اپنی ضمیر فروخت کرنی پڑتی ہے اور فرض چھوڑنا پڑتا ہے ۔ دولت کی گرفتمیں دلمیں تشویش رہتی ہے ۔ اور پل پل عذاب آتا ہے ۔ اے نانک دنیاوی دولت کا عزاب تبھی ختم ہوتا ہے جب کلام مرشد انسان اپنا دل لگاتا ہے ۔
منمُکھ مُگدھ گاۄارُ پِرا جیِءُ سبدُ منِ ن ۄساۓ ॥
مائِیا کا بھ٘رمُ انّدھُ پِرا جیِءُ ہرِ مارگُ کِءُ پاۓ ॥
کِءُ مارگُ پاۓ بِنُ ستِگُر بھاۓ منمُکھِ آپُ گنھاۓ ॥
ہرِ کے چاکر سدا سُہیلے گُر چرنھیِ چِتُ لاۓ ॥
جِس نو ہرِ جیِءُ کرے کِرپا سدا ہرِ کے گُنھ گاۓ ॥
نانک نامُ رتنُ جگِ لاہا گُرمُکھِ آپِ بُجھاۓ ॥੪॥੫॥੭॥
لفظی معنی:
منمکھ ۔ مرید من۔ مگدھ ۔ جاہل۔ گ وار۔ حیوان۔ سبد۔ کلام ۔ رسائے ۔ لطف لے ۔ بسائے ۔ بھرم۔ شک ۔ گمان۔ مار گ۔ راستہ ۔ بھائے ۔ پیار۔ چاہت ۔ آپ۔ خودی۔ خوئش پن۔ سہیلے ۔ سوکھے آسان۔ رتن۔ قیمتی ہیرا ۔ لاہا۔ منافع ۔ بجھائے ۔ سمجھائے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خودی پسند ہمیشہ جاہل اور حیوان کی مانند رہتا ہے ۔ ہدایت مرشد و کلام مرشد دلمیں نہیں بساتا ۔ اے میری جان دولت کی محبت انسان کو گمراہ کر دیتی ہے عقل و ہوش سے بے بہرہ کر دیتی ہے ۔ بغیر سچے مرد کی رہنمائی کے انسان خود پرست رہتا ہے ۔ الہٰی راہ سے گمراہ رہتا ہے ۔ الہٰی خادم ہمیشہ مرشد کے پاؤں پڑ کر اور پیار سے ہمیشہ آرام و آسائش پاتے ہیں۔ جن پر کدا کی رحمت ہے وہ الہٰی حمدوچناہ کرتے ہیں۔ اے نانک۔ جس انسان پر خدا خود کرم و عنایت فرمات ہے ۔ وہ الہٰی حمدثناہ کرتا ہے ۔ الہٰی نام ہی دنیا میں نفع بخش ہے ۔ اس بات کی سمجھ خدا خود ہی دیتا ہے ۔
راگُ گئُڑیِ چھنّت مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
میرےَ منِ بیَراگُ بھئِیا جیِءُ کِءُ دیکھا پ٘ربھ داتے ॥
میرے میِت سکھا ہرِ جیِءُ گُر پُرکھ بِدھاتے ॥
پُرکھو بِدھاتا ایکُ س٘ریِدھرُ کِءُ مِلہ تُجھےَ اُڈیِنھیِیا ॥
کر کرہِ سیۄا سیِسُ چرنھیِ منِ آس درس نِمانھیِیا ॥
ساسِ ساسِ ن گھڑیِ ۄِسرےَ پلُ موُرتُ دِنُ راتے ॥
نانک سارِنّگ جِءُ پِیاسے کِءُ مِلیِئےَ پ٘ربھ داتے ॥੧॥
لفظی معنی:
ویراگ۔ پریشانی ۔ تشویش۔ اداسی ۔ سکھا۔ ساتھی ۔ دوست۔ پرکھ ودھائے ۔ تجویزیں اور طریقے بنانے والے ۔ سر بدھر ۔ خدا۔ آدینیا۔ پریشان۔ کر ۔ہاتھ۔ مورت۔ دوگھڑی ۔ سارنگ ۔ پییہا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خداوند کریم میرے دوست ساتھی او ر تقدیر ساز میرے دلمیں تیرے دیدار کے لئے جلد بازی پیدا ہو رہی ہے میں کیسے یترا دیدار کروں تو ہرجائی ہے سب کو پیدا کرنے والا ہے میں اداس کا تجھ سےکیسے ملا پ ہوا ۔ اے انسان وقار اور غرور چھوڑ کر ہاتھوں سے کدمت کرنے سے اور پاؤں پر رکھنے اور دلمیں دیدار کی اُمید رکھتے ہیں اور عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ ہر پل ہر گھڑی ہر وقت نہیں بھلاتے ۔ اے نانک ۔ اے خدا مجھ پپیہے کی مانند پیاسے کو تجھے کیسے ملیں ()1)
اِک بِنءُ کرءُ جیِءُ سُنھِ کنّت پِیارے ॥
میرا منُ تنُ موہِ لیِیا جیِءُ دیکھِ چلت تُمارے ॥
چلتا تُمارے دیکھِ موہیِ اُداس دھن کِءُ دھیِرۓ ॥
گُنھۄنّت ناہ دئِیالُ بالا سرب گُنھ بھرپوُرۓ ॥
پِر دوسُ ناہیِ سُکھہ داتے ہءُ ۄِچھُڑیِ بُرِیارے ॥
بِنۄنّتِ نانک دئِیا دھارہُ گھرِ آۄہُ ناہ پِیارے ॥੨॥
لفظی معنی:
بنؤ۔ عرض۔ گذارش۔ چلتا ۔ اعمال۔ دھن۔ عورت۔ کنت۔ خاوند مراد خدا۔ چلت۔ اعمال۔ کارنامے ۔ دھیرئے ۔ دھیرج ۔ وشواش۔ یقین ۔ صبر۔ ناہ ۔ خاوند۔ خدا۔ بالا۔ نوجوان۔ بھر پوریئے ۔ کامل۔ بر یارے ۔ بری ۔ بنونت۔ عرض گذارتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے یرے پیارے خاوند خدا میرے ایک عرض سنیئے ۔ میں تمہارے کار نامے دیکھ کر میرا دل و جان تیرا شیدائی ہو گیا ہے ۔ مجھے تشویش اور پیشانی ہوگئی ہے اور تسلی نہیں ہوتی میرا خدا خداوند کریم جو رحمان الرھیم ہے تمام اوساف سے مالا مال ہے اورہمیشہ نوجان ہے اے خدا تیرا کوئی گناہ نہیں میں ہی اپنے بد افعال و اعملا کی وجہ سے تجھ سے جدا ہو گیا ہوں۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ عنایت و شفقت سے اے پیارے خدا دلمین بسو۔
ہءُ منُ ارپیِ سبھُ تنُ ارپیِ ارپیِ سبھِ دیسا ॥
ہءُ سِرُ ارپیِ تِسُ میِت پِیارے جو پ٘ربھ دےءِ سدیسا ॥
ارپِیا ت سیِسُ سُتھانِ گُر پہِ سنّگِ پ٘ربھوُ دِکھائِیا ॥
کھِن ماہِ سگلا دوُکھُ مِٹِیا منہُ چِنّدِیا پائِیا ॥
دِنُ ریَنھِ رلیِیا کرےَ کامنھِ مِٹے سگل انّدیسا ॥
بِنۄنّتِ نانکُ کنّتُ مِلِیا لوڑتے ہم جیَسا ॥੩॥
لفظی معنی:
ارچی ۔ بھینٹ کروں ۔ سر ارچی ۔ سر حوالے کردوں ۔ تس۔ اس ۔ سریسا۔ پیغام۔ سھتان۔ اس جگہ ۔ گریہہ۔ مرشد کے پاس ۔ سنگ۔ ساتھ۔ کھن مینہہ۔ پل بھر مین۔ منہو چندیا۔ دل چاہا ۔ دلی ج وخواہش۔ دن رہن۔ روز و شب۔ رلیاں۔ خوشیاںکامن۔ عورت ۔ مراد انسان ۔ اندیسا۔ فکر ۔ تشویش۔ پریسانی ۔ لوڑتے ۔ ضرورت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو مجھے الہٰی پیگام پہنچائے میں اسے اپنا دل و جان اس کے والے کر دوں اور سر تک حوالے کردوں ۔ اس مرشد کے جس نے مجھے میرے ساتھ بستا د کھا دیا ۔ بل بھر میں تمام عذاب ختم ہوگئے اور دل کی ک خواہش کی مطاب ق مراد حاصل ہوئی ۔ روز و شب خوشیاں ہوئیں اور تمام فکرات ختم ہوگئے ۔ نانک عرض کرتا ہے ۔ کہ مجھے ایسے خدا سے ملاپ ہوگیا جیسا ہمیں ضرورت تھی ۔
میرےَ منِ اندُ بھئِیا جیِءُ ۄجیِ ۄادھائیِ ॥
گھرِ لالُ آئِیا پِیارا سبھ تِکھا بُجھائیِ ॥
مِلِیا ت لالُ گُپالُ ٹھاکُرُ سکھیِ منّگلُ گائِیا ॥
سبھ میِت بنّدھپ ہرکھُ اُپجِیا دوُت تھاءُ گۄائِیا ॥
انہت ۄاجے ۄجہِ گھر مہِ پِر سنّگِ سیج ۄِچھائیِ ॥
بِنۄنّتِ نانکُ سہجِ رہےَ ہرِ مِلِیا کنّتُ سُکھدائیِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
تکھا ۔ پیاس۔ سگل۔ خوشی۔ میت۔ دوست۔ بندھپ ۔ رشتہ دار۔ ہرکھ ۔ خوشی ۔ اپجیا ۔ پیدا ہوا۔ دوت۔ دشمن۔ تھاؤ گوائیا۔ مقام ختم کیا۔ انحت۔ بے آواز۔ ان آحت۔ سہج ۔ مکمل سکون اور روحانی علم میں۔
ترجمہ معہ تشریح:
میرے دل میں پیار خدا بس گیا ہے ۔ میرے تمام خواہشات پوری ہو گئین کوئی تمنا باقی نہیں رہی ۔ د ل خوشباش ہو گیا ہے اور اب دل میں روحانی امنگیں پیدا ہو رہی ہین۔ پیار آقا خدا کا ملا پ ہوا ساتھی خوشیاں منا رہے ہیں۔ سب دوستوں رشتہ دار خوش ہو رہے ہیں۔ اور دشمنوں کا ٹھکانہ ختم ہوگیا اور اب خدا میرا ساتھی ہوگیا روحانی سنگیت ہو رہے ہیں۔ نانک گذارش کرتا ہے ۔ کہ جیسے خدا کا وصل حاصل ہوجاتا ہے اسے روحانی سکون ملتا ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
موہن تیرے اوُچے منّدر مہل اپارا ॥
موہن تیرے سوہنِ دُیار جیِءُ سنّت دھرم سالا ॥
دھرم سال اپار دیَیار ٹھاکُر سدا کیِرتنُ گاۄہے ॥
جہ سادھ سنّت اِکت٘ر ہوۄہِ تہا تُجھہِ دھِیاۄہے ॥
کرِ دئِیا مئِیا دئِیال سُیامیِ ہوہُ دیِن ک٘رِپارا ॥
بِنۄنّتِ نانک درس پِیاسے مِلِ درسن سُکھُ سارا ॥੧॥
لفظی معنی:
موہن ۔ دل کو کشش کرنے والے ۔ دلربا۔ بابا موہن جی گرو امرداس جی کے برے صاحبزادے تھے ۔ آپ گو بند وال میں ایک مکان میں رہتے تھے ہمیشہ الہٰی یاد میں دھیان لگاتے تھے ۔ اس مکان کے ساتھ گلی میں بیٹھکر سرندے کے ساتھ یہ کلام گایا تھا بابا جی کو گرو گرنتھ صا حب کا متبرک گرنتھ تیار کیا تھا۔ یہاں موہن سے بابا موہن سمجھنا غلط ہے کیونکہ ۔ صفحہ نمبر 830 راگ بلاو راگ ماڑو محلہ 5 صفحہ 1082 سوہے پد 2 میں موہن مادھو کرشن مرارے ۔ اسی طرح گروگرنتھ صاحب کے صفحہ نمبر 1112 راگ تخاری محلہ 1 چوپدے نمبر 5 کے 3 پدے میں موہن موہ لیا من میرا بندھن کھول نرارے ۔ گرو گرنتھ صاحب کے صفحہ نمبر 1187 بسنت محلہ 1 اشٹ پدیاں کے پدائید 8 میں پہلے پدے میں موہن موہ لیا من محو ہے لہذا اس سے یہ سمجھ لینا کہ موہن صاحبزادے موہن کے لئے استعمال کیا گیا غلط معلوم ہوتا ہے لہذا موہن سے مراد خدا ہے ۔ سوہن اچھے لگنا ۔ سہاونے ۔ دیار ۔ دیال۔ مہربان۔ جیہہ۔ جہاں۔ دین کرپار۔ غریبوں پر مہربان۔ سکھ سارا۔ تمام سکھ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیری صفت صلاھ اچھی لتی ہے ۔ اے دل کو محبت میں گرفتار کرنے والے خدا تو انچے محلات ت کا مالک ہے جو شمار سے باہر نہیں جن کا کوئی کنار ناہیں اے خدا تیرے در پر تیری دھار مک جگہوں پر تیرے خدا رسیدہ عاشقان ( سنت) سہاونے لگتے ہیں۔ تیرے ان دھارمک جگہوں پر ہمیشہ سنت تیری صفت صلاح کرتے ہیں۔ جہاں بھی تیرے پریمی سادہو سنت ۔ اکھتے ہوتے ہیں تجھے یاد کرتے ہیں۔ اے رحمان الرحیم کرم فرمائی کر تو غریبوں اور بے گھروں پر رحم فرما۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ کہ تیرے دیدار کے بھوکے ہیں تیرے دیار سے سکھ ملتا ہے ۔
موہن تیرے بچن انوُپ چال نِرالیِ ॥
موہن توُنّ مانہِ ایکُ جیِ اۄر سبھ رالیِ ॥
مانہِ ت ایکُ الیکھُ ٹھاکُرُ جِنہِ سبھ کل دھاریِیا ॥
تُدھُ بچنِ گُر کےَ ۄسِ کیِیا آدِ پُرکھُ بنۄاریِیا ॥
توُنّ آپِ چلِیا آپِ رہِیا آپِ سبھ کل دھاریِیا ॥
بِنۄنّتِ نانک پیَج راکھہُ سبھ سیۄک سرنِ تُماریِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
انوپ ۔ انوکھے ۔ نرالے ۔ تعریف س ے بالا۔ نرالی ۔ انوکھی ۔ رالی ۔ دہول۔ کاک ۔ الیکھ ۔ تحریر سے باہر۔ کل۔ قسمت۔ دھاریا۔ رکھنے والے ۔ بنواریا۔ جنگلوں کے مالک۔ بنونت ۔ عرض گذارتا ہے ۔ پیج ۔ عزت۔
ترجمہ معہ تشریح:
( اے موہن ) تیرا کلام خوشنما ہے اور تیرے اعمال انوکھے ہیں۔ ت و و حدت کر ماننے والا ہے تو و احدہے جسے لوگ مانتے ہیں باقی سب فناہ ہو نے والے ہیں۔ اے خدا تو سب طاقتوں کا مالک ہے اور حسابکتاب سے بعید ہے سارے تجھے ہی مانتے ہیں۔ اے کدا تیرے پریمی تجھے کلام مرشد اور سبق مرشد سے اپنائیا جاس کتا ہے ۔ تو آغاز عالم سے پہلے کا ہے اور عالم کا مالک ہے تو اس عالم میں آتا ہے اور چلا جاتا ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ سارے کدمتگار تمہارے دیدار کے چاہنے والے تیرے ملاپ سے تیرے دیدار کا لطف لیتے ہیں۔ تو اپنے کادموں کی آپ ہی عزت کا محافظ ہے (2)
موہن تُدھُ ستسنّگتِ دھِیاۄےَ درس دھِیانا ॥
موہن جمُ نیڑِ ن آۄےَ تُدھُ جپہِ نِدانا ॥
جمکالُ تِن کءُ لگےَ ناہیِ جو اِک منِ دھِیاۄہے ॥
منِ بچنِ کرمِ جِ تُدھُ ارادھہِ سے سبھے پھل پاۄہے ॥
مل موُت موُڑ جِ مُگدھ ہوتے سِ دیکھِ درسُ سُگِیانا ॥
بِنۄنّتِ نانک راجُ نِہچلُ پوُرن پُرکھ بھگۄانا ॥੩॥
لفظی معنی:
ست سنگت ۔ پاکدامنوں کی صحبت و قربت ۔ درس۔ دیدار۔ دھیانا۔ توجو ۔ جسم۔ سپا الہٰی ۔ جیہہ۔ یاد کرتی ہے ۔ ندانا۔ بوقت اخرت ۔ جمکال ۔موت۔ من بچن۔ دل و کلام سے ۔ مل موت ۔ ناپاک ۔ گندے ۔ موڑ مورکھ ۔ مگدھ ۔ جاہل۔ سوگیانا۔ دانشمند۔ عالم (3)
ترجمہ معہ تشریح:
اے کدا تجھے پاکدامن سادہوں اور ساتھیون کا گردہ تجھے کرتاہے اور دیدار کی طرف دھیان لگاتے ہیں۔ اے خدا جو تجھے یا کرتے ہیں روحانی موت کا خوف نزدیک نہیں پھٹکتا اے کدا جو انسان دل سے کلام کے ذریعے اور عامل کے ذریعے تجھے یاد کرتے ہیں ۔ آخر چھے نیتجے پاتے ہیں۔ اے خدا۔ وہ انسان جو پہلے بدکار ۔ گندے اور جاہل ہوتے ہین۔ تیرے دیدار سے بلند پایہ کے دانشمند اور عاقل وہ جاتے ہیں۔ نانک دعا گو ہے ۔ کہ اے خدا تیرے حکومت ہمیشہ رہنے والی ہے ۔
موہن توُنّ سُپھلُ پھلِیا سنھُ پرۄارے ॥
موہن پُت٘ر میِت بھائیِ کُٹنّب سبھِ تارے ॥
تارِیا جہانُ لہِیا ابھِمانُ جِنیِ درسنُ پائِیا ॥
جِنیِ تُدھ نو دھنّنُ کہِیا تِن جمُ نیڑِ ن آئِیا ॥
بیئنّت گُنھ تیرے کتھے ن جاہیِ ستِگُر پُرکھ مُرارے ॥
بِنۄنّتِ نانک ٹیک راکھیِ جِتُ لگِ ترِیا سنّسارے ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
سپھل۔ پھل والا۔ سن ۔ مئے ۔ سمت ۔ لہیا۔ و دور ہوا۔ ابھیمان۔ تکبر ۔ غرور۔ مرارے ۔ خدا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیرے بھاری پھیلاؤ ہے تو بھاری قبیلے اور خاندان والا ہے ۔ اے کدا تو فرزند دوست برادر سب کو کامیابیاں عنایت کرنے والا ہے ۔ جس نے تیرا دیدار کیا اس کا غرور تکبر دور ہو ات وسارےع الم کو کامیاب بنانے کی قوت سے سر فراز ہے ۔ جس انسان نے بھی تیرے حمدوثناہ کی اس کی روحانی موت اس کے نزدیکنہیں پھتکتی ۔ اے سچے مرشد خدا تو بیشمار اوصاف کا مالک ہے ۔ نانک عرج گذارتا ہے ۔ کہ جس نے تیرا سہارا لیا ہے تیرے سہارے کی برکت سے دنیاوی زندگی مین کامیابی پائی ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
سلوکُ ॥
پتِت اسنّکھ پُنیِت کرِ پُنہ پُنہ بلِہار ॥
نانک رام نامُ جپِ پاۄکو تِن کِلبِکھ داہنہار ॥੧॥
چھنّت ॥
جپِ منا توُنّ رام نرائِنھُ گوۄِنّدا ہرِ مادھو ॥
دھِیاءِ منا مُرارِ مُکنّدے کٹیِئےَ کال دُکھ پھادھو ॥
دُکھہرنھ دیِن سرنھ س٘ریِدھر چرن کمل ارادھیِئےَ ॥
جم پنّتھُ بِکھڑا اگنِ ساگرُ نِمکھ سِمرت سادھیِئےَ ॥
کلِملہ دہتا سُدھُ کرتا دِنسُ ریَنھِ ارادھو ॥
بِنۄنّتِ نانک کرہُ کِرپا گوپال گوبِنّد مادھو ॥੧॥
سِمرِ منا دامودرُ دُکھہرُ بھےَ بھنّجنُ ہرِ رائِیا ॥
س٘ریِرنّگو دئِیال منوہرُ بھگتِ ۄچھلُ بِردائِیا ॥
بھگتِ ۄچھل پُرکھ پوُرن منہِ چِنّدِیا پائیِئےَ ॥
تم انّدھ کوُپ تے اُدھارےَ نامُ منّنِ ۄسائیِئےَ ॥
سُر سِدھ گنھ گنّدھرب مُنِ جن گُنھ انِک بھگتیِ گائِیا ॥
بِنۄنّتِ نانک کرہُ کِرپا پارب٘رہم ہرِ رائِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
پتت۔ بد اخلاق ۔ ناپاک۔ اسنکھ ۔ بیشمار۔ پنت ۔ پاک ۔ خوش اخلاق۔ پنیہہ۔ پنیہہ۔ بار بار ۔ بلہاری ۔ صدقے ۔ قربان۔ پاوکو ۔ آگ۔ تن۔ تنکے ۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ داینہار۔ جلانے والے ۔
مادہو ۔ خدا۔ مکندے ۔ نجات دہنہ ۔ خدا۔ پھادے ۔ پھند جال۔ دکھہون ۔ عذاب مٹانے والا۔ دین ۔ غریب ۔ سرن۔ پناہ۔ سیر پدھر۔ خدا ۔ وکھرا۔ دشوار۔ پنتھ ۔ راستہ ۔ آگن ساگر۔ آگ کا سمندر ۔ نمکھ ۔ آنکھ چھپلنے کی دیر ۔ کیرت ۔ یاد کرنا ۔ سادھیئے ۔ درست کرنا۔ کلمکھ ۔ گناہ ۔ جرم۔ دیتا ۔ جلانا۔ سدھ کرتا۔ درست کرنے والا۔ پاک بنا نے والا۔ ارادہو ۔ یاد کرؤ ۔
دامودر۔ خدا۔ دکھہر۔ دکھ مٹانے والا۔ بھے بھنجن ۔ خوف ۔ مٹانے والا۔ رائیا ۔ حکمران۔ سر یرنگو۔ خدا۔ منوہر ۔ دلربا۔ دل لبھا نے والا۔ بھگت۔ وچھل ۔ پریم کو پیار کنے والا۔ ہر وائیا۔ دیرینہ قدیمی عادت۔ پرکھ پورن ۔ کامل انسان ۔ منہہ چندیا۔ دلی خواہشات۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نانک۔ الہٰی نام کی ریاض کر ۔ یعنی سچ بار بار دوہرا ۔ اس سے بیشمار گناہگار مجرم ناپاک اور بدکار کو پاک بنا دیتا ہے ۔ اس پر بار بار قربان ہو ۔ یہ جیسے آگ گھاس کے ۔ تنکے جلا دالتی ہے ایسے ہی الہٰی نام یعنی سچ بدکاریوں گناہوں جرموں فناہ کر دیتا ہے ۔ چھنت
اے دل خدا کو یاد کر خدا کی یاد سے موت اور عذاب ختم ہو جاتے ہیں۔ عذاب مٹانے والے غریبوں کے مددگار کو یاد کرؤ۔ اے دل الہٰی سپاہ یعنی موت کا راستی دشوار ذار ہے آگ کس مندر ہے ۔ انکھ جھپکنے کی یاد سے درست اور صراط مستقیم ہوجاتا ہے ۔ جو گناہوں بدکاریوں اور جرموں کو جلانے والا ہے درست کرنے والا ہے روز و شب یاد کیجیئے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ اے خدا کر م فرما (1)
اے دل کدا کو یاد کر جو عذاب دور کرنے وال اخوف مٹانے والا حکمران ہے ۔ کدا رحمان الرحیم ہے ۔ دل کو فتح کرنے والا چیتے والا پریمیوں کا قدر دان یہ اس کی دیرینہ اور قدیمی فطر ت و عاوت ہے ۔ پریم پیار کا قدرت دان کامل انسان کا نام دلمیں بسانے سے دلی خواہشات کے مطابق منزل مقصود حاصل ہوتے ہین۔ یہ الہٰی نام دنیاوی دولت کے اندھیرے کوئیں سے نکال لیتا ہے دلمیں بسانے سے دیوتے کراماتی جوگی ۔ دیو باوں کے گانے والے رشی اور بیشمار الہٰی عاشق پریمی پیارے اس کی حمدوچناہ کر رہے ہیں۔ نانک ۔ عرض گزارتا ہے کہ اے شہنشاہ خدا وند کریم کرم فرما ( اس میں تیری حمدوچناہ کرتا رہو )
چیتِ منا پارب٘رہمُ پرمیسرُ سرب کلا جِنِ دھاریِ ॥
کرُنھا مےَ سمرتھُ سُیامیِ گھٹ گھٹ پ٘رانھ ادھاریِ ॥
پ٘رانھ من تن جیِء داتا بیئنّت اگم اپارو ॥
سرنھِ جوگُ سمرتھُ موہنُ سرب دوکھ بِدارو ॥
روگ سوگ سبھِ دوکھ بِنسہِ جپت نامُ مُراریِ ॥
بِنۄنّتِ نانک کرہُ کِرپا سمرتھ سبھ کل دھاریِ ॥੩॥
گُنھ گاءُ منا اچُت ابِناسیِ سبھ تے اوُچ دئِیالا ॥
بِسنّبھرُ دیۄن کءُ ایکےَ سرب کرےَ پ٘رتِپالا ॥
پ٘رتِپال مہا دئِیال دانا دئِیا دھارے سبھ کِسےَ ॥
کالُ کنّٹکُ لوبھُ موہُ ناسےَ جیِء جا کےَ پ٘ربھُ بسےَ ॥
سُپ٘رسنّن دیۄا سپھل سیۄا بھئیِ پوُرن گھالا ॥
بِنۄنّتِ نانک اِچھ پُنیِ جپت دیِن دیَیالا ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
چیت منا۔ ۔ اے دل یاد کر ۔ پار برہم۔ کامیابی عنایت کرنے والا۔ سرب کلا۔ تمام طاقتوں والا۔ جن ۔ جس نے کرنامے ۔ مہربان ۔ گھٹ گھٹ پران ادھاری ۔ ہر دل ہر زندگی کا سہارا ۔ پران۔ زندگی ۔ من ۔ دل ۔ تن ۔ جسم۔ جیئہ داتا۔ زندگی دینے والا۔ اگم ۔ انسانی رسائی سے بلند۔ اپا رو ۔ جسکا کوئی کنار نہیں۔ سرن ۔ جوگ ۔ قابل پناہ ۔ سرب دوکھ بدارے ۔ سارے عذاب مٹانے والا۔ روگ۔ بیماری ۔ سوگ۔ افسوس۔ دوکھ ۔ عزاب (3) اچت۔ مستقل ۔ ابناسی ۔ دائمی ۔ لافناہ ۔ دیالا۔ مہربان۔ بسنبھر۔ پروردگار۔ پرتپالا۔ پرورش ۔ دانا۔ عاقل۔ دانشمند۔ کال۔ موت۔ کنٹک ۔ کانٹا ۔ جیئہ ۔ دل ۔ سوپرسن۔ جس پر خوش ہے ۔ سپھل سیوا۔ برآور کدمت۔ پورن ۔ کامل۔ گھالا۔ محنت۔ اچھ۔ خواہش۔ پنی ۔ پوری ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل خدا کو یاد رکھ جس کے سہارے تمام زندگیاں قائم یہں۔ رحمان الرحیم ہے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے ۔ جو سب کو من تن اور زندگی بخشنے وال اہے ۔ جو اعداد و شمار سے باہر ہے جو پناہ گیر بندہ کی امداد کرنے والا ہے اور سب مشکلات دور کرنے والا الہٰی نام کی ریاض سے تمام بیماریاں تمام غم و فکر و تشویش اور تمام عیب اور برائیان ختم ہوجاتی ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اے مولا میرے مالک کرم فرما تو سب طاقتون کامالک ہے (3)
اے دل اس خدا کی حمدوثناہ کر جو ہمیشہ مستقل مزاج تمام جانداروں پر رحم کرنے والا لافناہ سارے عالم کا رازق و پروردار ہے ۔ جس کے دل میں بس جاتا ہے اس کے دل سے موت کا کوف لالچ دنیایو دولت کی محبت اور عذابمٹ جاتا ہے ۔ جس انسان کو الہٰی خوشنودی حاصل ہوجاتی ہے ۔ اس کی کدمت محنت برآور ہوجاتی ہے ۔ نانک ۔ عرض کرتا ہے ۔ غریب پرور خدا کی حمدوثناہ کرنے سے تمام خواہشات پوری ہوجاتی ہے ۔
گئُڑیِ مہلا ੫॥
سُنھِ سکھیِۓ مِلِ اُدمُ کریہا مناءِ لیَہِ ہرِ کنّتےَ ॥
مانُ تِیاگِ کرِ بھگتِ ٹھگئُریِ موہہ سادھوُ منّتےَ ॥
سکھیِ ۄسِ آئِیا پھِرِ چھوڈِ ن جائیِ اِہ ریِتِ بھلیِ بھگۄنّتےَ ॥
نانک جرا مرنھ بھےَ نرک نِۄارےَ پُنیِت کرےَ تِسُ جنّتےَ ॥੧॥
سُنھِ سکھیِۓ اِہ بھلیِ بِننّتیِ ایہُ متاںتُ پکائیِئےَ ॥
سہجِ سُبھاءِ اُپادھِ رہت ہوءِ گیِت گوۄِنّدہِ گائیِئےَ ॥
کلِ کلیس مِٹہِ بھ٘رم ناسہِ منِ چِنّدِیا پھلُ پائیِئےَ ॥
پارب٘رہم پوُرن پرمیسر نانک نامُ دھِیائیِئےَ ॥੨॥
لفظی معنی:
ادم۔ جہد ۔ کوشش۔ کنتے ۔ خاوند۔ مراد خدا۔ مان۔ وقار۔ گرور۔ تیاگ۔ چھوڑ کر۔ ٹھگوری ۔ دہوکہ دینے والی دوائی۔ سنتے ۔ سبق ۔ نصیحت۔ موہے ۔ محبت سے ۔ بھگونتے ۔ خدا۔ تقدیر ساز۔ جرا۔ بڑھاپا۔ مرن بھے ۔ مو ت کا کوف۔ نرک۔ دوزخ ۔ نوارے ۔ مٹاتا ہے ۔ پنت ۔ پاک ۔ صاف۔ جنتے ۔ جاندار۔
متانت ۔ مشوہر۔ صلاح۔ پکا ییئے ۔ پختہ کرین۔ یقنی بنانا۔ سہج ۔ پر سکون ۔ سبھائے ۔ پریم پیار سے ۔ اپادھ ۔ فریب۔ دہوکا۔ ریت ۔ بلا۔ بغیر۔ گیت ۔ گو بندیہہ گاییئے ۔ الہٰی حمدوثناہ کرین۔ کل کلیس۔ بدکاریون اور گناہگاریوں کے جھگڑے ۔ بھرم نا سیہہ ۔ وہم وگمان اور بھٹکن دور ہو۔ من چندیا ۔ دلی خواہشات کی مطابق۔ پار برہم۔ کامیاب بنانے والا۔ پر میسور بھاری فرشتہ ۔ نام ۔ سچ ۔ خدا ۔ دھیایئے ۔ توجہ دیں۔ ریاض کریں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے ساتھیون کوشش وکاوش سے خدا وند کریم کو خوش کرکے منائین ۔ وقار عزت و حرمت و غرور و تکبر چھوڑ کر پریم پیار کی دوائی بوٹی سے پاکدامن کے سبق و نصیحت سے اس کی خوشنودی حاصل کر ین۔ خدا کا یہ اصول ہے کہ اگروہ کسی سے پیار کرئے تو چھوڑتا نہیں۔ اے نانک۔ بڑھاپا موت ۔ خوف۔ دوزخ۔ ختم کر دیتا ہے ۔ اس انسان کو پاک و پائش بنا دیتا ہے ۔
اے ساتھیون سنہو ۔ بغیر کسی دہوکا فریب ایک مستقل رائے اور صلاح کریں۔ میری ایک نیک رائے ہے کہ الہٰی حمدوثناہ کریں۔ روحانی سکون میں اس سے حسد ۔ بغض کینہ اور جھگڑے ختم ہوجاتے ہی ۔ دلی خواہشات پوری ہوتی ہین۔ اے نانک۔ کامیابیان عنایت کرنے والا کامل کدا کا نام ( سچ ) سچ حق و حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھو اور یاض کروں۔
سکھیِ اِچھ کریِ نِت سُکھ منائیِ پ٘ربھ میریِ آس پُجاۓ ॥
چرن پِیاسیِ درس بیَراگنِ پیکھءُ تھان سباۓ ॥
کھوجِ لہءُ ہرِ سنّت جنا سنّگُ سنّم٘رِتھ پُرکھ مِلاۓ ॥
نانک تِن مِلِیا سُرِجنُ سُکھداتا سے ۄڈبھاگیِ ماۓ ॥੩॥
سکھیِ نالِ ۄسا اپُنے ناہ پِیارے میرا منُ تنُ ہرِ سنّگِ ہِلِیا ॥
سُنھِ سکھیِۓ میریِ نیِد بھلیِ مےَ آپنڑا پِرُ مِلِیا ॥
بھ٘رمُ کھوئِئو ساںتِ سہجِ سُیامیِ پرگاسُ بھئِیا کئُلُ کھِلِیا ॥
ۄرُ پائِیا پ٘ربھُ انّترجامیِ نانک سوہاگُ ن ٹلِیا ॥੪॥੪॥੨॥੫॥੧੧॥
لفظی معنی:
سکھی ۔ سہیلی ۔ ساتھی۔ اچھ ۔ خواہش۔ آس۔ اُمید۔ چرن۔ پاوں۔ پیاس درس بیراگن۔ پاؤں کی دل میں چاہ اور دیدار کی پ ہر سنت۔ الہٰی پاکدامن خادم۔ بیراگن۔ جدائی کے دورد والی ۔ نبائے ۔ سارے۔ تمام۔ کھوج۔ ڈہونڈ ۔ تلاش۔ جستجو ۔ سنگ۔ ساتھ۔ سمرتھ ۔ لائق ۔ طاقت رکھنے والا۔ با توفیق ۔ سرجن۔ فرشتہ ۔ بہشت میں رہنے والا ۔ سکھداتا ۔ سکھ ۔ آرام پہنچانے والا۔ وڈبھاگی ۔ خوش قسمت سے (3) ناہ ۔ خصم۔ خاوند۔ خدا۔ ہلیا۔ عادی ۔ آپنرا۔ اپنا ۔ بھرم۔ شک ۔ شبہ ۔ سانت۔ سکو۔ سہج ۔ روحانی سکون ۔ پر گاس۔ روشنی۔ علم ۔ کول کھلیا۔ خوشی ہوئی۔ در ۔ کاوند۔ خدا۔ سوہاگ۔ خوش قمستی ۔ انتر جامی ۔ دل کی جاننے والا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے ساتھی مجھے ہمیشہ انتظار رہتا ہے اور دعا کرتا ہون۔ کہ اے خدا میری اُمیدیں پوری کرؤ مجھے تیرے دیدار کی بھاری خواہش ہے ہو جگہ تلاش ہے ۔ دلمیں جدائی کا درد اور دیدار کی بھوک ہے ۔ تلاش کرکے خدا رسیدوں کا ساتھ ڈہونڈتا ہوں ۔ جو اس خدا سے ملاتے ہیں اور ملانے کے مجا زہیں۔ جو ہر دلمیں بستا ہے ۔ اے نانک وہی خوش قسمت ہین۔ جنمیں ۔ الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ جو تمام آرام و آسائش پہنچانے واالا ہے (3)
اے ساتھی اب میں خدا کے ساتھ بستا ہوں اور یہ میری عادت بن گئی ہے ۔ اب دل وجان سے ساتھی ہوں ۔ اے ساتھیوں اب مجھے نیند پیاری لگتی ہے اب مجھے میرا پیارا محبوب خدا پیارا لگتا ہے ۔ مریی تشویش ار بھٹکن ختم کر دی ہے دل میں سکون ہے ۔ روحانی سکون ہو گیا روحانی علم سے منور ہوگیا وہں اور دل پھول کی مانند کھل گیا ہے پر نور ہوگیا ہے ۔ دل کی جاننے والا خدا خداوند کریم مل گیا ۔ اے نانک اب یہ کبھی جدا ہنے والا نہیں۔
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
گئُڑیِ باۄن اکھریِ مہلا ੫॥
سلوکُ ॥
گُردیۄ ماتا گُردیۄ پِتا گُردیۄ سُیامیِ پرمیسُرا ॥
گُردیۄ سکھا اگِیان بھنّجنُ گُردیۄ بنّدھِپ سہودرا ॥
گُردیۄ داتا ہرِ نامُ اُپدیسےَ گُردیۄ منّتُ نِرودھرا ॥
گُردیۄ ساںتِ ستِ بُدھِ موُرتِ گُردیۄ پارس پرس پرا ॥
گُردیۄ تیِرتھُ انّم٘رِت سروۄرُ گُر گِیان مجنُ اپرنّپرا ॥
گُردیۄ کرتا سبھِ پاپ ہرتا گُردیۄ پتِت پۄِت کرا ॥
گُردیۄ آدِ جُگادِ جُگُ جُگُ گُردیۄ منّتُ ہرِ جپِ اُدھرا ॥
گُردیۄ سنّگتِ پ٘ربھ میلِ کرِ کِرپا ہم موُڑ پاپیِ جِتُ لگِ ترا ॥
گُردیۄ ستِگُرُ پارب٘رہمُ پرمیسرُ گُردیۄ نانک ہرِ نمسکرا ॥੧॥
لفظی معنی:
باون اکھری 52 حرفوں والی ۔ سکھا۔ ساتھی ۔ اگیان ۔ بھنجن۔ لا علمی دور کرنے والا۔ بندھپ ۔ رشتہ دار۔ سہودار ۔ بھائی۔ منت ۔ سبق۔ نصیحت۔ نرودھرا۔ سچ اور عقل کی شکل و صورت ۔ پارس۔ جس کی چھوہ سے لوہا سونابن اجاتاہے ۔ پرس پر۔ چھوہ سے اوپر۔ مجن۔ اشنان ۔ اپر نپرا۔ پرے سے پرے ۔ پتت پوت کر۔ گناہگاروں کو پاک بنانے والا ۔ منت۔ سبق۔ نصیحت ۔ ادھر۔ کامیابی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
مرشد ہی ماں ہے مرشد ہی باپ ہے کیونکہ مرشد ہی روحانی زندگی عنایت کرنے والا ہے مرشد ہی آقا الہٰی شکل و صورت والا ہے ۔ مرشد ہی ساتھی اور جہالت دور کرنے والا اور رشتہ دار تعلق دار اور مات زاد بھائی ہے ۔ مرشد سخی ہے جو الہٰینام کا سبق دیتا ہے ۔ مرشد کا سبق ایسا ہے ۔ زائل نہیں ہوتا۔ مرشد سچ اور عقل کی شکل و صورت ہے ۔ مرشد یک پارس ہے ۔ جس کی صحبت پارس سے بھی بہتر ہے ۔ مرشد ایک زیار گاہ ہے اور آب حیات کا تالاب ہے ۔ مرشد کےع لم کی زیارت ( سے ) نہایت بلند اہیت کی حاصل ہے ۔ مرشد الہٰی اہمیت رکھتا ہے ۔ جو سب بدکاریوں اور گناہوں کو دور کراتا ہے ۔ اور پاک صاف عادات کا حاصل بناتاہے ۔ جب سے علام و جو د مین ائیا ہے ۔ ہر زمانے میں مرشد کا عنایت کردہ نام کی ریاض سے انسان دنیاوی بدکاریوں اور گناہوں کے سمندر سے پار ہوکر زندگی کامیاب بنا لیتا ہے ۔ اے خد مرشد کی صحبت و قربت عنایت فرماتا ہے کہ ہم نادان جاہل اس کی سحبت وقربت سے کامیاب ہوجائیں مرشد الہٰی شکل وصورت کاحاسل ہے اور زندگی کو کامیابی عنایت کرنے والا ہے ۔ اس لئے اے نانک مرشد کو بطور تعظیم و آداب جھکنا اور سجدہ کرنا در کار ہے ۔
سلوکُ ॥
آپہِ کیِیا کرائِیا آپہِ کرنےَ جوگُ ॥
نانک ایکو رۄِ رہِیا دوُسر ہویا ن ہوگُ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
اوئنّ سادھ ستِگُر نمسکارنّ ॥
آدِ مدھِ انّتِ نِرنّکارنّ ॥
آپہِ سُنّن آپہِ سُکھ آسن ॥
آپہِ سُنت آپ ہیِ جاسن ॥
آپن آپُ آپہِ اُپائِئو ॥
آپہِ باپ آپ ہیِ مائِئو ॥
آپہِ سوُکھم آپہِ استھوُلا ॥
لکھیِ ن جائیِ نانک لیِلا ॥੧॥
لفظی معنی:
آپیہہ ۔ از خود۔ رورہیا۔ حاضر ہے ۔ ہوگ۔ ہوگا۔ دوسر۔ دوسرا (1)
اوا ۔ اول۔ سادھ۔ پادکامن۔ ستگر۔ سچا مرشد۔ نمسکار۔ سجدہ کرنا سر جھکانا۔ آد ۔ آگاز۔ مدھ ۔ درمیان ۔ انت۔ آکر۔ نرکار۔ خدا جو وجود کے بغیر ہے ۔بلا جسم و حجم۔ سن ۔ سنسا۔ بغیر جاندا ر۔ حیوانات ۔ بغیر قائنات قدرت۔ سنت ۔ سنتا ہے ۔ سکھ آسن۔ جاسن۔ یش ۔ صفت ۔ صلاح۔ اپائیو۔ پیدا کیا۔ سکوھم۔ قابل احساس۔ استھو لا ۔ ظاہر۔ قائنات عالم ۔ لیلا۔ کھیل تماش۔ سارا عالم خدا کا خود کا کود پیدا کیا ہوا ہے اور خود پیدا کرنے کی توفیق رکھتا ہے ۔ اے نانک وہ سارے عالم مین خودہی بس رہا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری کوئی ہستی نہیں
پوڑی
ہماری اسے سلام آداب اور جھکتےہیں جو خود ہی سچا مرشد اور پاکدامن ہے ۔ جو عالم کے آغاز درمیانی عرصے میں اور پاکدامن ہے ۔ جو عالم کے آغاز درمیانی عرصے میں اور بوقت اخرت ہوگا ۔ وہ خود ہی سنتا ہے اور خو دی اپنا آپ صفت صلاح ( ستائش ) کرتا ہے ۔ اس نے آپنے آپ کو خو دہی پیدا کیا ہے ۔ خود ہی ماں ہے اور خو دہی باپ بھی ہے ۔ خود ہی ظاہر اور خود ہی اوجھل ہے ۔ اے نانک۔ یہ الہٰی کھیل بیان سے سےباہر ہے ۔
کرِ کِرپا پ٘ربھ دیِن دئِیالا ॥
تیرے سنّتن کیِ منُ ہوءِ رۄالا ॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
دین دیالا۔ غریبوں ۔ ناتوانوں پر رحم کرنے والے ۔ سنتں۔ پاکدامن خدا رسیدہ ۔ روالا۔ دہول۔ خاک ۔ رہاؤ۔ مرکزری نقطہ نگاہ ۔ مقصد۔ آصل۔ خیال کا مقصد۔
ترجمہ معہ تشریح:
ساری باون اکھری کلام کا درمیانی خیال مندر بالا الفاظ میں ہے ۔ اے خدا ت غریبوں کے لئے رحمان الرحیم ہے کرم و عنایت سے مہربانی کرتا کہ تیرے پاکدامن خدا رسیدہ سنتوں کی من پاؤں کی دہول ہوجائے ۔
سلوکُ ॥
نِرنّکار آکار آپِ نِرگُن سرگُن ایک ॥
ایکہِ ایک بکھاننو نانک ایک انیک ॥੧
پئُڑیِ ॥
اوئنّ گُرمُکھِ کیِئو اکارا ॥
ایکہِ سوُتِ پروۄنہارا ॥
بھِنّن بھِنّن ت٘رےَ گُنھ بِستھارنّ ॥
نِرگُن تے سرگُن د٘رِسٹارنّ ॥
سگل بھاتِ کرِ کرہِ اُپائِئو ॥
جنم مرن من موہُ بڈھائِئو ॥
دُہوُ بھاتِ تے آپِ نِرارا ॥
نانک انّتُ ن پاراۄارا ॥੨॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ آکار۔ شکل وصور ت۔ نرنکار۔ بغیر شکل وصورت۔ سوت۔ نظام ۔ زیر فرمان۔ تریگن۔ تین اوصاف۔ ( رجو ۔ ترقی اور حکومت کا خیال تمو طمع لالچ ۔ ستو۔ سچائی۔ وستھار۔ پھیلاؤ۔ نرگن۔ جب دنیاوی دولت کے تینوں اوساف اوصاف کا اثر نہ ہو۔ سرگن۔ علام کی وہ شکل وصورت جس میں دنیاوی دولت اثر اندا ز ہو۔ نرارا۔ نرالا۔ انوکھا۔ پاراوار۔ جو ہر جگہ موجو دہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بلا حجم و وجود خودا خود ہی اپنا آکار پھیلاؤ کرتا ہے ۔ کود ہی عالم دنیاوی دولت کے اثرات کے بغیر اور خو دہی دنیاوی دولت کے زیر اثرات عالم بناتا ہے ۔ اے نانک۔ خدا واحد سے اپنے آپ کو بیشمار شکلوں میں تبدیل کر لیتا ہے غرض یہ کہ تمام اس سے جدانہیں ہیں۔ غرض یہ کہ وہ خود ہی ہے ۔
پوڑی ۔
مریدان مرشد بنانے کے لئے یہ عالم پیدا کیا ہے ۔ خد ا تمام جانداروں کو ایک ہی فرمان اور نظام میں رکھتے کی طاقتتوفیق رکھتا ہے ۔ خدا نے اپنے پوشیدہ شکل وصورت سے یہ ظہور پذری علام پیدا کیا ہے۔ اے خدا تو نے بیشمار اقسام کے عالم کو پیدا کیا ہے ۔ اور زندگی اور موت کی تو نے ہی بڑھائیا اور پیدا کیا ہے ۔ مگر خود دونوں سے آزاد اور علیحدہ ہے ۔ اے نانک۔ خدا کا انجام و آخرت اور شمار اور وسعت کا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے (2)
سلوکُ ॥
سیئیِ ساہ بھگۄنّت سے سچُ سنّپےَ ہرِ راسِ ॥
نانک سچُ سُچِ پائیِئےَ تِہ سنّتن کےَ پاسِ ॥੧॥
پۄڑیِ ॥
سسا ستِ ستِ ستِ سوئوُ ॥
ستِ پُرکھ تے بھِنّن ن کوئوُ ॥
سوئوُ سرنِ پرےَ جِہ پازنّ ॥
سِمرِ سِمرِ گُن گاءِ سُنازنّ ॥
سنّسےَ بھرمُ نہیِ کچھُ بِیاپت ॥
پ٘رگٹ پ٘رتاپُ تاہوُ کو جاپت ॥
سو سادھوُ اِہ پہُچنہارا ॥
نانک تا کےَ سد بلِہارا ॥੩॥
لفظی معنی:
سیئی ۔ وہی ۔ ساہ ۔ شاہ۔ دولتمند۔ بادشاہ۔ بھگونت ۔ خوش قیمت۔ سچ سنپے ۔ سچی دولت۔ سچا سرمایہ ۔ ہر راس۔ راس۔ پونجی ۔ سچ ۔ خدا۔ سچ ۔ پاکیزتی ۔ تیہہ ۔ ان ۔
پوری ۔
وؤ۔ وہی ۔ ست ۔ صدیوی ۔ ست پرکھ ۔ سچے انسان سے ۔ بھن۔ علیحدہ ۔ کوؤ۔کوئی۔ سوؤ۔ وہی ۔ سرن۔ پناہ۔ پایا۔ پاتا ہے ۔ سنسے ۔ فکر۔ تشویش ۔ بھرم۔ وہم وگمان۔ پیاپت۔ پیدا ہوتا ہے ۔ آتا۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ پرتاپ۔سہارا ۔ تاہو۔ اسے ۔ جاپت۔ معلوم ہوتا ہے ۔ پہنچنہارا۔ قابل رسائی (2)
ترجمہ معہ تشریح:
وہی جن کے دامن میں الہٰی نام کا سرمایہ ہے خدا کے نام کا سچ ہے وہی شوہوکار سرمایہ دار ہیں۔ خوش قسمت ہین۔ اے نانک ایسے انسانوں سے سچے نام کی سچی اور حقیقی دولت اور روحانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے (1)
پوڑی
(سا) خدا ہی صدیوی اور ہمیشہ رہنے والا ہے ۔ خدا ہی صدیوی و احد ہستیہے ۔ اس سے علیحدہ کوئی ہستی نہیں۔ الہٰی پناہ اسے ملتی ہے ۔ جسے وہ خود لیتا ہے ۔ وہ جو خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے اور دوسروں کو سناتا ہے ۔ اسے کوئی فکر تشوی نہیں رہتی کیونکہ اسے ہر جگہ الہٰی ظہور ہر جا نظر اتا ہے ۔ جو انسان ایسی اخلاق اور اخلاقی حالت پالیتا ہے ۔ وہی حقیقی پاکدامن سادہو ہے ۔ اے نانک میں اس پر قربان ہوں۔
سلوکُ ॥
دھنُ دھنُ کہا پُکارتے مائِیا موہ سبھ کوُر ॥
نام بِہوُنے نانکا ہوت جات سبھُ دھوُر ॥੧॥
پۄڑیِ ॥
دھدھا دھوُرِ پُنیِت تیرے جنوُیا ॥
دھنِ تیئوُ جِہ رُچ اِیا منوُیا ॥
دھنُ نہیِ باچھہِ سُرگ ن آچھہِ ॥
اتِ پ٘رِء پ٘ریِتِ سادھ رج راچہِ ॥
دھنّدھے کہا بِیاپہِ تاہوُ ॥
جو ایک چھاڈِ ان کتہِ ن جاہوُ ॥
جا کےَ ہیِئےَ دیِئو پ٘ربھ نام ॥
نانک سادھ پوُرن بھگۄان ॥੪॥
لفظی معنی:
دھن ۔ دولت۔ سرمایہ۔ مائیا موہ ۔ دولت کی محبت کور۔ جھوٹی۔ نام بہونے ۔ نام کے بغیر۔ ہوت جات ہو ۔ جاتے ہیں۔ دہور۔ دہول۔ خاک ۔ مٹی
پوڑی :
دھدا ۔ لفظ۔ پنیت۔ پاک۔ جتوا۔ خادماں ۔ تیو۔ وہ ۔ رچ۔ رچی ۔ تمیز۔ خواہش۔ باچھیہہ۔ چاہتے ہیں۔ سرگ۔ بہشت ۔ اچھے ۔ چاہتا ۔ سادھ رج ۔ پاکدامن کے پاوں کی دہول ۔ دھندے ۔ جنجال۔ تاہو۔ اسے ۔ ایک واحد ۔ وحدت۔ پیئے ۔ دلمین۔ سادھ ۔ پاکدامن ۔ جس نے اپنی زندگی کو راہ راست پر لالیا۔ پورن۔ مکمل ۔کامل۔ بھگوان۔ خدا۔ خوش قسمت۔
ترجمہ معہ تشریح:
سلوک:
کیون ہر وقت دولت کی ہی باتیں کرتے ہو۔ دولت یا سرمایہ کی محبت جھوٹی ہے الہٰی نام یا ( سچ ) سچ حق و حقیقت کے بغیر سب نے خاک ہوجاتا ہے ۔
پوڑی :
اے خدا۔ تیرے خادموں کی دہول پاک ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے دلمیں اس دہول کی خواہش ہے ۔ نا انہیں بہشت کی خواہش ہے نہ دولت سے لگاؤ وہ تو اپنے پیارے خدا کے لئے مریدان مرشد کی دہول میں مست رہتے ہین۔ جو انسان واحد خدا کا سہارا چھوڑ کر کسی دوسری طرف نہیں جاتے ۔ دنیایو دولت کی محبت اثر اندا نہیں ہوتی ۔ جن کے دل میں خدا کا نام بس جاتا ہے ۔ اے نانک وہ خدا کی مانند ہین۔
سلوک ॥
انِک بھیکھ ارُ گنِْیان دھِیان منہٹھِ مِلِئءُ ن کوءِ ॥
کہُ نانک کِرپا بھئیِ بھگتُ گنِْیانیِ سوءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
گنْنّگنْا گنِْیانُ نہیِ مُکھ باتءُ ॥
انِک جُگتِ ساست٘ر کرِ بھاتءُ ॥
گنِْیانیِ سوءِ جا کےَ د٘رِڑ سوئوُ ॥
کہت سُنت کچھُ جوگُ ن ہوئوُ ॥
گنِْیانیِ رہت آگِیا د٘رِڑُ جا کےَ ॥
اُسن سیِت سمسرِ سبھ تا کےَ ॥
گنِْیانیِ تتُ گُرمُکھِ بیِچاریِ ॥
نانک جا کءُ کِرپا دھاریِ ॥੫॥
لفظی معنی:
مکھ باتوں ۔ زبانی ۔ باتوں سے ۔ انک جگت۔ بیشمار طریقوں ۔ انک بھیکھ ۔ بیشمار بیرونی بناوت۔ گیان۔ علم۔ دھیان۔ توجھی ۔ من ہٹھ۔ دلی ضد۔ بھگت۔ پریمی ۔ گیانی ۔ عالم ۔
پوڑی
شاشتر کو بھالو ۔ شاشترؤں ۔ کی مطابق طریقوں سے ۔ درڑ۔ پختہ ۔سوؤ۔ وہ ۔ جوگ۔ ملاپ ۔ کاگیان ۔ آگیا۔ رضا۔ فرمان۔ اسن۔ گرمی ۔ سیت۔ سردی ۔ سمسر۔ برابری ۔تاکے ۔ اسے ۔ تت۔ اصلیت۔ گورمکھ مرشد کی وساطت سے ۔ ویچاری۔ خیال۔ کرپا۔ مہربانی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بیشمار بناوٹوں مذہبی بحث مباحثوں دلی ضد کرنےسے کسی کو الہٰی ملاپ نصیب نہیں ہوا۔ اے نانک ۔ بتادے کہ جس پر خدا مہربان ہوتا ہے ۔ وہی عالم اور الہٰی پریمی ہے ۔
پوڑی :
صرف زبانی باتوں اور شاشتروں کے بتائے ہوئے طریقوں سے الہٰی شراکت اور ملاپ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اسے ہی الہٰی ملاپ اور شراکت حاصل ہو سکتی ہے ۔ جس کے دلمیں پخہ طور پر خدا بس جاتا ہے جس کے دلمیں الہٰی رضآ پختہ طور پر بس جائے وہی حقیقتا ً عالم ہے ۔ اسے گرمی سردی آرام عذاب یکساں ہے ۔ اے نانک۔ جس انسان پر خدا مہربان ہے وہ عالم حقیقت اور اصلیت کو سمجھتا ہے ۔ اور سمجھے اسکا ملاپ اور شراکت خدا سے ہوجاتی ہے ۔
سلوکُ ॥
آۄن آۓ س٘رِسٹِ مہِ بِنُ بوُجھے پسُ ڈھور ॥
نانک گُرمُکھِ سو بُجھےَ جا کےَ بھاگ متھور ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
زا جُگ مہِ ایکہِ کءُ آئِیا ॥
جنمت موہِئو موہنیِ مائِیا ॥
گربھ کُنّٹ مہِ اُردھ تپ کرتے ॥
ساسِ ساسِ سِمرت پ٘ربھُ رہتے ॥
اُرجھِ پرے جو چھوڈِ چھڈانا ॥
دیۄنہارُ منہِ بِسرانا ॥
دھارہُ کِرپا جِسہِ گُسائیِ ॥
اِت اُت نانک تِسُ بِسرہُ ناہیِ ॥੬॥
لفظی معنی:
سلوک:
سر سٹ ۔ دنیا۔ عالم ۔ بن لوجہے ۔ بغیر سمجھ ۔ سمجھنے کے ۔ پس ڈہور۔ حیوان۔ مویشی ۔ بھاگ۔ قسمت۔ متھور۔ پیشانی ۔

پوڑی :
یا جگ میہہ ۔ اس زمانے میں ۔ اس زندگی میں۔ جنت میں پیدا ہوتے ہیں۔ مویہہ ۔ محبت میں گرفتار کیا۔ موہنی ۔ محبت مین گرفتار کرنے والی ۔ مائیا۔ دنیاوی دولت۔ گربھ کنٹ۔ ماتا کے پیٹ میں۔ اردھ۔ الٹا۔ تپ ۔ ریاض۔ سمرت۔ پربھ۔ الہٰی یاد۔ ارجھ۔ الجھاؤ۔ مخمسا۔ دیونہار۔ داتا ۔ داتار۔ دینے والا۔ سخی۔ مینہہ ۔ دل سے ۔ وسرنا۔ بھلائیا۔ گوسائیں۔ آقا۔ مالک۔ ات ات۔ یہاں اور وہان۔ تس۔ اسے ۔ بسرہو ۔ بھلاؤ۔
ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
سمجھ کے بغیر دنیا جو جنم لیتا ہے حیوان اور موئشی کی مانند زندگی گذارتا ہے ۔ اے نانک۔ وہ انسان مرشد سے زندگی کا صحیح راستہ سمجھ لیتا ہے جس کے اعمالنامے مین پہلے سے تحریر ہوتا ہے ۔ اس کی پیشانی پر اس کی تقدیر میں تحریر ہوتا ہے ۔

پوڑی )
اس دنای میں انسان کا آنے کا واحد مقصد الہٰی ریاض ہے ۔ مگر پیداہوتے ہی دنایوی دولت کی محبت اسے گرفتار کر لیتی ہے ۔ مان کے پیٹ میں پٹھا لٹک کر خدا کو یاد کرتا تھا۔ اور ہر سانس خدا کو یاد کرتا تھا ۔ جس دنیاوی دولت نے انسان کو چھوڑ جاتا ہے ۔ اسمیں الجھا رہتا ہے ۔ او ر سخی داتار دینے والے کو بھلا دیتا ہے ۔ جس پر خدا کی رحمت و کرم فرمائی ہوتی ہے ۔ اے نانک۔ وہ ہر دو عالم میں نہیں بھلاتا ہے ۔
سلوکُ ॥
آۄت ہُکمِ بِناس ہُکمِ آگِیا بھِنّن ن کوءِ ॥
آۄن جانا تِہ مِٹےَ نانک جِہ منِ سوءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ایئوُ جیِء بہُتُ گ٘ربھ ۄاسے ॥
موہ مگن میِٹھ جونِ پھاسے ॥
اِنِ مائِیا ت٘رےَ گُنھ بسِ کیِنے ॥
آپن موہ گھٹے گھٹِ دیِنے ॥
اے ساجن کچھُ کہہُ اُپائِیا ॥
جا تے ترءُ بِکھم اِہ مائِیا ॥
کرِ کِرپا ستسنّگِ مِلاۓ ॥
نانک تا کےَ نِکٹِ ن ماۓ ॥੭॥
لفظی معنی:
آوت۔ آنا۔ جنم لینا۔ وناس۔ مٹنا۔ حکم۔ فرمان۔ آگیا۔ اجازت۔ فرمان۔ بھن۔ علیحدہ ۔ آون جانا۔ تناسخ۔ جیہ من سوئے ۔ جس کے دلمیں بستا ہے وہ (1)
پوڑی :
ایو ۔ ایسے ۔ ایہہ۔ جیا۔ جاندار۔ گربھ۔ قسموں ۔ جسمت ۔ پیدا ہوتے ہین۔ موہ ۔ محبت۔ مگن۔ مست۔ گھٹے گھٹ ۔ ہر دلمین۔ اپائیا۔ پیدا کیا۔ کوشش ۔ وکھم۔ دشوار ۔ نکٹ ۔ نزدیک۔ مائے ۔ دنیاوی دولت۔

ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
انسان الہٰی فرمان سے پیدا ہوتا ہے اور الہٰی فرمان سے ہی فوت ہوجاتا ہے کوئی انسان اس فرمان سے بغاوت نہیں کر سکتا ہے تناسخ تب مٹتا ہے ۔ اے نانک۔ جس کے دلمیں وہ مراد خدا بستا ہے ۔
پوڑی :
جاندار بیشمار قسموں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اور محبت کی مستی میں۔ ان میں گرفتار رہتے ہیں۔ اس دنیاوی دولت نے تینوں اوصاف کے زیر کیا ہوا ہے ۔ ( رجو ۔ ستو۔ طمو) اور دلمیں دنیاوی دولت کے لئے محبت ہے ۔ اے دنیاوی دولت کی مشکلات سے عبور حاصل کر سکوں ۔ اے نانک۔ جسے خدا اپنی کرم و عنایت سے پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت و قربت عطا کر دیتاہے ۔ یہ دنیاوی دولت اس کے نزدیک نہیں پھٹکتی ۔
سلوکُ ॥
کِرت کماۄن سُبھ اسُبھ کیِنے تِنِ پ٘ربھِ آپِ ॥
پسُ آپن ہءُ ہءُ کرےَ نانک بِنُ ہرِ کہا کماتِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ایکہِ آپِ کراۄنہارا ॥
آپہِ پاپ پُنّن بِستھارا ॥
اِیا جُگ جِتُ جِتُ آپہِ لائِئو ॥
سو سو پائِئو جُ آپِ دِۄائِئو ॥
اُیا کا انّتُ ن جانےَ کوئوُ ॥
جو جو کرےَ سوئوُ پھُنِ ہوئوُ ॥
ایکہِ تے سگلا بِستھارا ॥
نانک آپِ سۄارنہارا ॥੮॥
لفظی معنی:
سبھ اسبھ ۔ نیک وبد۔ کینے ۔ کئے ۔ پربھ۔ خدا۔ پس۔ حیوان۔ ہو۔ ہو۔ میں۔ میں ۔ بن ہر ۔ بغیر خدا ۔
پوڑی )
ایکھ ۔ خود واحد۔ کر ادنہار۔ کرانے والا۔ پاپ پن۔ گناہ و نیک ثواب۔ یا جگ۔ اسی عالم میں۔ جت جت ۔ جہاں۔ جہاں۔ سو۔ سو۔ وہ وہ۔ اوا ۔ اس۔ سوئی۔ وہی ۔ فن ۔ دوبارہ۔ وستھار۔ پھیلاؤ۔ سوارنہار۔ درست کرنے والا۔

ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
خدا خود ہی اچھے یا برے بتو سل انسان خو دہی کر رہا ہے ۔ مگر اے نانک۔ جاہل انسان غرور کرتاہے ۔ میں کرتاہوں مگر الہٰی حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔

پوڑی )
کرانے والا واحد خدا ہی ہے ۔ اسی نے ہی نیک و بد کاموں کا پھیلاؤ کیا ہوا ہے ۔ جہاں جہاں جس جس کام لگاتا ہے خدا خود لگاتاہے ۔ وہی انسان پاتا ہے ۔ جو کدا دلاتا ہے ۔ اس کے عینی الہٰی اوصافکا شمار نا ممکن ہے ۔ وہی ہوتا ہے ۔ جو وہ کرتا ہے ۔ اے نانک۔ یہ تمام دنیاوی پھیلاؤ خدا کا اپنا کیا ہوا ہے ۔ وہی انسان کو صراط مستقیم پر چلا نے والا ہے ۔
سلوکُ ॥
راچِ رہے بنِتا بِنود کُسم رنّگ بِکھ سور ॥
نانک تِہ سرنیِ پرءُ بِنسِ جاءِ مےَ مور ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
رے من بِنُ ہرِ جہ رچہُ تہ تہ بنّدھن پاہِ ॥
جِہ بِدھِ کتہوُ ن چھوُٹیِئےَ ساکت تیئوُ کماہِ ॥
ہءُ ہءُ کرتے کرم رت تا کو بھارُ اپھار ॥
پ٘ریِتِ نہیِ جءُ نام سِءُ تءُ ایئوُ کرم بِکار ॥
بادھے جم کیِ جیۄریِ میِٹھیِ مائِیا رنّگ ॥
بھ٘رم کے موہے نہ بُجھہِ سو پ٘ربھُ سدہوُ سنّگ ॥
لیکھےَ گنھت ن چھوُٹیِئےَ کاچیِ بھیِتِ ن سُدھِ ॥
جِسہِ بُجھاۓ نانکا تِہ گُرمُکھِ نِرمل بُدھِ ॥੯॥
لفظی معنی:
بنتا ۔ عورت ۔ بنود۔ تماشے ۔ کسم۔ گل لالہ کے پھول۔ دکھیا۔ زہر۔ سور۔ شور۔ ونس۔ ختم ہوجائے ۔
(پوڑی)
ساکت۔ مادہ پرست۔ کرم رت۔ اعمال و ثواب کے چاہنے والے ۔ پرؤ۔ دنیاوی دکھاوے والے ۔ اپھار۔ جو برداشت نہ وہ۔ پھیت ۔ دیوار۔ سدھ۔ پاک۔ صاف۔

ترجمہ معہ تشریح:
سادہ پرست متکر عورت اور دنیاوی عیش و عشرت اور دولت کے گل لالہ کے شوخ رنگ میں مست ہو رہے ہیں۔ مگر اے نانک۔ ان کی پناہ لو جس سے خودی اور ملکیت کی اکڑفوں ختم ہوجائے ۔
(پوڑی )
اے دل۔ خدا کے بغیر جہاں جہاں پریم پیدا کر یگاؤ ہیں دنیاوی دولت کے بندھنوں کا شکار ہوجائیگا۔ مادہ پرست منکر وہی کام کرتے ہیں کہ اس طریقے سے کہیں بھی بندشوں سے نجات نہیں ملتی ۔ اعمال کے عاشق غرور کرتے ہیں۔ لہذا خودی کا بوجھ بھی نا قابل برداشت ہے ۔ اگر الہٰی نام کا پیار نہیں تو یہ اعمال فضول ہے دنیاوی دولت کی عیش و عشرت اور تماشوں میں انسان موت کے پھندوں میں بندھ جاتا ہے ۔ اس دولت کے پیار کی وجہ سے انسان کو سمجھ نہیں آتی کہ خدا ساتھ بستاہے ۔ اعمال کا حساب کرنے سے نجات نہیں ملتی ۔ مٹی کی دیوار صاف نہیں ہو سکتی ۔ اے نانک۔ خدا جسے خود عقل و دنائی عنایت کرتا ہے ۔ پناہ مرشد سے اس کی عقل پاک ہوجاتی ہے ۔
سلوکُ ॥
ٹوُٹے بنّدھن جاسُ کے ہویا سادھوُ سنّگُ ॥
جو راتے رنّگ ایک کےَ نانک گوُڑا رنّگُ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
رارا رنّگہُ اِیا منُ اپنا ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپہُ جپُ رسنا ॥
رے رے درگہ کہےَ ن کوئوُ ॥
آءُ بیَٹھُ آدرُ سُبھ دیئوُ ॥
اُیا مہلیِ پاۄہِ توُ باسا ॥
جنم مرن نہ ہوءِ بِناسا ॥
مستکِ کرمُ لِکھِئو دھُرِ جا کےَ ॥
ہرِ سنّپےَ نانک گھرِ تا کےَ ॥੧੦॥
لفظی معنی:
سادہو ۔ پاکدامن۔ سنگ۔ ساتھ۔ رنگ۔ پریم۔ ایک وحدت۔ گوڑھا رنگ۔ پختہ پر یچاہ ۔ (1)
پوڑی )
رسنا ۔ زبان۔ رے رے ۔ بدکلام ۔ ادر۔ تعظیم ۔ ادب۔ اوا۔ ان ۔ محلیں۔ محلی ۔ ٹھکانہ ۔ داسا ۔ رہائش۔ بسنا۔ جنممرن۔ پیدائش و موت۔ وناسا۔ مٹاؤ۔ خاتمہ ۔ مستک ۔ پیشانی۔ کرم۔ الہٰی بخشش۔ سنپے ۔ جائیدار ۔
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
جس نے خدا رسیدہ پاکدامن کی صحبت و قربت حاصل ہو گئی اس کی تمام راکوٹیں دور ہوگئیں (1) جو وحدت اور واحد خدا کے پریمی پیارے ہوگئے ۔ اے نانک ۔ ان کا پیار اور پریم ایسا پختہ ہوجاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
پوڑی )
( رار ) اس دلمیں رپیم پیار پیاد کرؤ ۔ اور زبان سے خدا کی ریاض کرؤ۔ تب تجھے الہٰی دربار میں بدکار م نہ ہوگی ۔ اؤ بیٹھنے کے لئے تعظیم و آداب ملیگا اور ان محلوں میں راہئش پذیر ہوگا اور نہ پیدائش و موت ہوگی نہ خاتمہ ہوگا۔ اور نہ تناسخ نہ روحانی موت ہوگی ۔ مگر اے نانک ۔ الہٰی حضور سے جس کی پیشانی پر الہٰی کرم و عنایت تحریر ہوگی ۔ اس کے دلمیں ہی سرمایہ الہٰی ہوگا۔
سلوکُ ॥
لالچ جھوُٹھ بِکار موہ بِیاپت موُڑے انّدھ ॥
لاگِ پرے دُرگنّدھ سِءُ نانک مائِیا بنّدھ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
للا لپٹِ بِکھےَ رس راتے ॥
اہنّبُدھِ مائِیا مد ماتے ॥
اِیا مائِیا مہِ جنمہِ مرنا ॥
جِءُ جِءُ ہُکمُ تِۄےَ تِءُ کرنا ॥
کوئوُ اوُن ن کوئوُ پوُرا ॥
کوئوُ سُگھرُ ن کوئوُ موُرا ॥
جِتُ جِتُ لاۄہُ تِتُ تِتُ لگنا ॥
نانک ٹھاکُر سدا الِپنا ॥੧੧॥
لفظی معنی:
وکار ۔ بدکار ۔ فضول۔ ویاپت۔ زور لگانے ہیں۔ موڑھے ۔ جاہ۔ اندھ ۔ عقل۔ کے اندھے ۔ در گندھ ۔ بد بو۔ بدکار۔ گناہ گار ۔ جرم۔ بندھ ۔ گرفت۔
(پوڑی )
( لال ) حرف اللہ پنجابی لفظ ۔ پلٹ ۔ گرفت۔ وکہے رس۔ بدکاریوں کے لطف میں۔ اہنبدھ ۔ تکبر۔ غرور۔ مدھ ۔ نشہ ۔ سدر۔ ماتے ۔ مستی ۔ ایا۔ اس۔ توے ۔ ایس طرح۔ اون۔ کم ۔ پورا ۔ مکمل ۔کامل۔ سگھر ۔ دانشمند۔ مورا۔ موڑھ ۔ جاہل۔ الپنا۔ بیلاگ۔ بلا تاثر۔

ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
اے نانک ۔ جو انسان دنیاوی دولت کی گرفت اور محبت میں پھنس جاتے ہیں وہ لا علم ( جاہل ) جا ہوں پر لالچ جھوٹے اور بدکاریاں وگناہگاریاں اپنا زور پالیتی ہیں اور وہ برائیوں میں محسور رہتا ہے ۔
(پوڑی )
جو انسان دولت کے نشے میں مخمور رہتا ہے جن کی عقل پر غرور سوار رہتا ہے اور دنیاوی دولت کی مستی میں مخمور رہتے ہیں۔ بدکاریوں اور گناہگاریوں میں اور ان کے لطف لینے میں سرور محسوس کرتے ہیں۔ اس دلوت مین پھس کر تناسخ میں پھنس کر تناسخ میں پڑے رہتے ہیں۔ جیسے جیسے الہٰی رضا ہوتی ہے ۔ ویسے ویسے اعمال کرتے ہیں۔ نہ تو اس عالم مین کوئی کام ہے نہ ادہور ا نہ وکئی دانشمند عاقل اور نہ جاہل جس طرح خدا لگاتا ہے اسی طرف انسان لگتا ہے ۔ اے نانک ۔ میر ا آقاہمیشہ بیلاگ اور پاک ہے اس پر دنیاوی دولت بے اثر ہے ۔
سلوکُ ॥
لال گُپال گوبِنّد پ٘ربھ گہِر گنّبھیِر اتھاہ ॥
دوُسر ناہیِ اۄر کو نانک بیپرۄاہ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
للا تا کےَ لۄےَ ن کوئوُ ॥
ایکہِ آپِ اۄر نہ ہوئوُ ॥
ہوۄنہارُ ہوت سد آئِیا ॥
اُیا کا انّتُ ن کاہوُ پائِیا ॥
کیِٹ ہستِ مہِ پوُر سمانے ॥
پ٘رگٹ پُرکھ سبھ ٹھائوُ جانے ॥
جا کءُ دیِنو ہرِ رسُ اپنا ॥
نانک گُرمکھِ ہرِ ہرِ تِہ جپنا ॥੧੨॥
لفظی معنی:
لال ۔ پیارا۔ گوپال۔ گٹویا گائے ۔ پالنے والا۔ کرشن۔ مراد خدا ۔ پربھ۔ خدا۔ گہر ۔ گہرا۔ گنبھیر ۔ سنجیدہ ۔ اٹھاہ ۔ اعداد و شمار سے بعید۔ بپرواہ ۔ جس نے کوئی توشیو یا فکر نہ ہوا
پوڑی )
تو لے ۔ برابر۔ الکھ ۔ واحد۔ اور ۔ دوسرا۔ اوآ۔ اسکا۔ کبٹ۔ کہرا۔ ہست ۔ ہاتھی ۔ پور۔ مکمل۔ سمانے ۔ برابر۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ سب تھاؤ۔ ہر جگہ ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔
ترجمہ معہ تشریح:
سلوک )
پیارا خدا نہایت سنجیدہ ہے جسے اور جس کی وسعت و طاقت کا اندازہ یا شمار نا ممکن ہے دوسراکوئی اس کے برار اور ثانی نہیں۔ اے نانک۔ وہ فکر و تشویش سے بالا ہے ۔
پوڑی )
خد ا کا کوئی ثانی نہیں ۔ واھد ہے دگر کوئی نہیں وہ صدیوی ہے اور پہلے سے ہے ۔ نہ کسی کو اس کی آخرت کو سمجھ سکا ہے ۔ ہاتھی اور کیڑے میں برابر بستا ہے ۔ ہر جگہ حاضر ناطر ہے ۔ خدا سب میں اور ہر جگہ بستاہے ۔ اے نانک جس نے اپنا نام اور اسکا لطف عنایت کیا ہے وہ مرید مرشد کے وسیلے سے ہمیشہ اسے یاد کرتا ہے ۔
سلوکُ ॥
آتم رسُ جِہ جانِیا ہرِ رنّگ سہجے مانھُ ॥
نانک دھنِ دھنِ دھنّنِ جن آۓ تے پرۄانھُ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
آئِیا سپھل تاہوُ کو گنیِئےَ ॥
جاسُ رسن ہرِ ہرِ جسُ بھنیِئےَ ॥
آءِ بسہِ سادھوُ کےَ سنّگےَ ॥
اندِنُ نام دھِیاۄہِ رنّگے ॥
آۄت سو جنُ نامہِ راتا ॥
جا کءُ دئِیا مئِیا بِدھاتا ॥
ایکہِ آۄن پھِرِ جونِ ن آئِیا ॥
نانک ہرِ کےَ درسِ سمائِیا ॥੧੩॥
لفظی معنی:
آتم رس۔ روحانی لطف۔ جس نے ۔ سہجے ۔ سکون سے ۔ پروان۔ قبول۔ (پوڑی ) تاہو۔ اسے ۔ گنیئے ۔ سمجھے ۔ رسن۔ زبان ۔ جاس ۔ جس کی ۔ ہر جس۔ الہٰی صفت۔ صلاح۔ بھنیئے ۔ بیان کرنا۔ سادہو ۔ پاکدامن ۔ اندن ۔ ہر روز۔ ہر وقت۔ رنگے ۔ پریم سے ۔ نامیہہ۔ نام میں۔ راتا۔ مست۔ محو۔ سادہو۔ پاکدامن۔ دھیاویہہ۔ ریاض کرئے ۔ دیا میا۔ مہربانی۔ بدھاتا۔ کار ساز۔ جون۔ زندگی ۔ ایکہہ آون۔ ایک طرف۔ پیدائش ۔ درس۔ سبق۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نانک ۔ جنہوں نے پر سکون خدا کی یاد کا لطف اُٹھائیا ۔ پہچان کی ان کااس عالم میں آنا برآور اور کامیاب ہوا وہ خو ش قسمت ہیں ( پوڑی ) اس انسان کا جنم لینا کامیاب سمجھو جو زبان سے خدا کا نام لیتے ہیں۔ اور پاکدامن کی صحبت و قربت میں رہتے ہیں ۔ اور ہر روز رپیم سے الہٰی نام یاد کرتے ہیں۔ جس پر الہٰی کرم وعنایت ہے ۔ وہ اپنا جنم لینا کامیاب بنا لیتے ہیں۔ اے نانک۔ جس کے دلمیں الہٰی دیدار بستا ے ۔اسکا تناسخ مٹ جاتا ہے دوبار جنم نہیں لیتا۔
سلوکُ ॥
زاسُ جپت منِ ہوءِ اننّدُ بِنسےَ دوُجا بھاءُ ॥
دوُکھُ درد ت٘رِسنا بُجھےَ نانک نامِ سماءُ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ززا جارءُ دُرمتِ دوئوُ ॥
تِسہِ تِیاگِ سُکھ سہجے سوئوُ ॥
ززا جاءِ پرہُ سنّت سرنا ॥
جِہ آسر اِیا بھۄجلُ ترنا ॥
ززا جنمِ ن آۄےَ سوئوُ ॥
ایک نام لے منہِ پروئوُ ॥
ززا جنمُ ن ہاریِئےَ گُر پوُرے کیِ ٹیک ॥
نانک تِہ سُکھُ پائِیا جا کےَ ہیِئرےَ ایک ॥੧੪॥
لفظی معنی:
باس۔ جسے ۔ جپت۔ جپنے سے ۔ آنند۔ پر سکون ۔ ونسے ۔ مٹے ۔ دوجا بھاؤ۔ دوسروں کا پیار ۔ دوکھ ۔ درد۔ عذاب ۔ ترشنا بجھے ۔خواہش مٹے ۔نام سماؤ۔ نام بستا ہے (پوڑی ) جارو۔ جلاؤ۔ درمت۔ کھوٹی سمجھ ۔ دوؤ۔ دوئش ۔ دوئی ۔ تسیہہ۔ اسے ۔ تیاگ۔ چھوڑ کر ۔ سہجے ۔ آسمانی سے ۔ سو۔ ہوگا۔ سنت سرنا۔ پاکدامن خدا رسیدہ کی پنا ہ میں ۔ بھوجل ۔ خؤفناک دنیاوی سمندر۔ جیہہ۔ جس کے ۔ آسر۔ سہارے ۔ ایا ۔ یہ پروؤ۔ پرؤ۔ ہیئرے ۔ دلمیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نانک جس خدا کے نام کے ریاض اور یاد سے دل کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے اور غیروں سے محبت ختم ہوتیہے ۔ عذاب مشکلات اورخواہشات ختم ہوتی ہے نام سچ حق و حقیقت میں سکون ملتا ہے (پوڑی ) بری سمجھ اور دوئش و دولت کی محبت جلا ڈالو اسے چھوڑنے سے روحانی سکون حاصل ہوگا۔ خدا رسیدہ پاکدامن کی پناہ لو ۔ اس کے سہارے دنیاوی زندگی کے سمندر کو کامیابی سے عبور کر لوگے ۔ جو انسان دل میں الہٰی نام یعنی سچ حق و حقیقت دلمیں پختہ کر لیتا ہے ۔ اسے تناسخ میں نہیں پڑنا پڑتا۔ اے نانک۔ جے کامل مرشد کا سہارا ہے وہ زندگی میں شکست نہیں کھاتا۔ اسے سکھ ملتا ہے ۔ جس کے دلمیں خدا بستا ہے اس نے روحانی سکون پالیا ۔
سلوکُ ॥
انّترِ من تن بسِ رہے ایِت اوُت کے میِت ॥
گُرِ پوُرےَ اُپدیسِیا نانک جپیِئےَ نیِت ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
اندِنُ سِمرہُ تاسُ کءُ جو انّتِ سہائیِ ہوءِ ॥
اِہ بِکھِیا دِن چارِ چھِء چھاڈِ چلِئو سبھُ کوءِ ॥
کا کو مات پِتا سُت دھیِیا ॥
گ٘رِہ بنِتا کچھُ سنّگِ ن لیِیا ॥
ایَسیِ سنّچِ جُ بِنست ناہیِ ॥
پتِ سیتیِ اپُنےَ گھرِ جاہیِ ॥
سادھسنّگِ کلِ کیِرتنُ گائِیا ॥
نانک تے تے بہُرِ ن آئِیا ॥੧੫॥
لفظی معنی:
من تن۔ دل وجان ۔ میت۔ دوست۔ ابت۔ اوت۔ یہا ں وہان۔ ہر دو عالم ۔ گر پورے ۔ کامل مرشد۔ اپدیسیا ۔ درس۔ دیا ۔ جپیئے نیت۔ ہر روز۔ یاد کرؤ (پوڑی ) اندن ۔ ہرروز۔ تاس۔ اسے ۔ انت۔ آخر ۔ اسے ہر روز یاد کرؤ جو بوقت آخرت مددگار بنے ۔ یہ دنیاوی دولت چند دنون کی مہمان آکر اسے تمام چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ تاس ۔ اسے ۔ وکھیا۔ دنیاوی دولت ۔ سب کہوئے ۔ ہر اک ۔ تمام۔ ست۔ بیٹا۔ بعنتا۔ عورت۔ سچ۔ اکھٹی کرنا۔ پت۔ عزت۔ کل۔ اس وقت۔

ترجمہ معہ تشریح:
اگر دونوں عالموں میں دوست دل وجان میں بس جائے اے نانک کامل مرشد کے درس سے اسے ہر روز یاد کرؤ۔ ( پوڑی ) جو کدا بوقت آخرت مددگار ہے اسے ہر روز اد کرؤ ۔ یہ دنیایو دولت چند دنوں کی مہمان ہے ہر انسان نہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔ مان باپ بیٹا بیٹی بھی کسی کے ل ہمیشہ ساتھی نہیں ہیں۔ گھر ۔ عورت غرض یہ کہ کوئی شے بھی سات ھ نہیں لیجا سکتے ۔ ایسی دولت یا سرمایہ اکھتا کرؤ جو کبھی مٹے نان۔ یا عزت با وقار اپنے گھر جا سکو ۔ جنہوں نے پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں الہٰی حمدوثناہ کی ۔ اے نانک ان کا تناسخ ختم ہوگیا ۔
سلوکُ ॥
اتِ سُنّدر کُلیِن چتُر مُکھِ گنِْیانیِ دھنۄنّت ॥
مِرتک کہیِئہِ نانکا جِہ پ٘ریِتِ نہیِ بھگۄنّت ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
گنْنّگنْا کھٹُ ساست٘ر ہوءِ گنِْیاتا ॥
پوُرکُ کُنّبھک ریچک کرماتا ॥
گنِْیان دھِیان تیِرتھ اِسنانیِ ॥
سومپاک اپرس اُدِیانیِ ॥
رام نام سنّگِ منِ نہیِ ہیتا ॥
جو کچھُ کیِنو سوئوُ انیتا ॥
اُیا تے اوُتمُ گنءُ چنّڈالا ॥
نانک جِہ منِ بسہِ گُپالا ॥੧੬॥
لفظی معنی:
ات سندر۔ نہایت خوبصورت ۔ کلین ۔ خاندانی ۔ چتر مکھ ۔ ہوشیار مانا ہوا۔ گیانی ۔ عالم فاضل۔ دھنونت۔ مالدار۔ ( پوڑی ) کھٹ شاستر۔ چھ شاشتروں ہندوں کی مذہبی کتابیں ۔ گیاتا کو جاننے والا عالم ۔ گیان ۔ علم۔ دھیان۔ توجہ ۔ تیرھ ۔ زیارت۔ اشنانی ۔ زیارت کرنے والا۔ سوم پاک۔ پاک باورچی خانہ ۔ اپرس۔ جسے کسی نے چھوا نہ ہو ۔ ادیانی ۔ جو کسی کو چھوت انہیں۔ پورک ۔ سانس۔ ثرھنے والا۔ ریچک ۔ سانس یا بر نکالنے والا۔ کنبھک ۔ سانس رکھنے والا۔ انیتا۔ ہر روز نہ رہنے والا۔ اتم۔ اونچا۔ گنو ۔ سمجھو۔
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
اگر کوئی انسان نہایت خوبصورت ہے اچھے خاندان سے ہو ۔ با علم اور دولتمند بھی ہو ۔ مگر اے نانک اگر اس کے دلمیں الہٰی محبت نہیں اسے روحانی مردہ کہاجائے (پوڑی ) اگر ہندوں کے چھ شاشتروں کا عالم ہے سانس اوپر چھڑ ھانے روکنے اور اتارنے بھ جانت ا ہے ۔ مذہبی بحث مباحثے کرتا ہو اور خدا میں ہوش و حواس اور توجو دیتا ہو ۔ اور اپنے ہاتھوں سے پاک کھانا تیار کرکے کھات ہو ۔ جنگلوں میں رتہا ہوں ۔ اگر اسکا الہٰی نام سے پیار نہیں تب اس کے تمام اعمال بیفائدہ اور بیکار ہیں۔ اے نانک۔ جس کے دل میں نہین بستا خدا اس سے کمینہ اور نیچی ذات والا انسان بہتر ہے ۔ جس کے دل میں بستا ہے خدا۔
سلوکُ ॥
کُنّٹ چارِ دہ دِسِ بھ٘رمے کرم کِرتِ کیِ ریکھ ॥
سوُکھ دوُکھ مُکتِ جونِ نانک لِکھِئو لیکھ ॥੧॥
پۄڑیِ ॥
ککا کارن کرتا سوئوُ ॥
لِکھِئو لیکھُ ن میٹت کوئوُ ॥
نہیِ ہوت کچھُ دوئوُ بارا ॥
کرنیَہارُ ن بھوُلنہارا ॥
کاہوُ پنّتھُ دِکھارےَ آپےَ ॥
کاہوُ اُدِیان بھ٘رمت پچھُتاپےَ ॥
آپن کھیلُ آپ ہیِ کیِنو ॥
جو جو دیِنو سُ نانک لیِنو ॥੧੭॥
لفظی معنی:
کنٹ چار وہ دس۔ ہر طرف۔ بھرمے ۔ بھٹکتے پھرتے رہے ۔ ریکھ ۔ لکیر۔ پہلے کئے اعمال۔ کیرت۔ کیا ہوا۔ اعمال ( پوڑی ) پنتھ ۔ راستہ ۔ اویان ۔ جنگل۔ کارن ۔ سبب ۔ کرتا۔ کرتار ۔ کرنے والا۔ خدا۔ سوو۔ وہی (
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
اے نانک انسان اپنے اعمال کے تاثرات کی مطابق جگہ بجگہ بھٹکتے رہتے ہین۔ اعمالنامے کے مطابق ہی اسنان عذاب و آسائش ونجات اور تناسخ پاتاہے ۔ (پوڑی )
خدا خو دہی سبب بنانے والا ہے ۔ قسمت اور اعمالنامے میں تحریر کوئی مٹا نہیں سکتا ۔ کار ساز کرتار بھوننے والا نہیں ۔ کوئی کام اسے دوبار کرنا نہیں پرتا کبھی خو دیہ راستہ دکھاتا ہے ۔ کبھی کسی کو جنگل میں بھٹکاتا اور پچھتا نے کی کار کراتا ہے یہ سارا کھیل خدا کا خو دہی پیدا کردہ ہے ۔ اے نانک جو کچھ انسانوں کو دیتا ہے وہی ملتا ہے ۔
SGGS P. 253
سلوکُ ॥
کھات کھرچت بِلچھت رہے ٹوُٹِ ن جاہِ بھنّڈار ॥
ہرِ ہرِ جپت انیک جن نانک ناہِ سُمار ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
کھکھا کھوُنا کچھُ نہیِ تِسُ سنّم٘رتھ کےَ پاہِ ॥
جو دینا سو دے رہِئو بھاۄےَ تہ تہ جاہِ ॥
کھرچُ کھجانا نام دھنُ اِیا بھگتن کیِ راسِ ॥
کھِما گریِبیِ اند سہج جپت رہہِ گُنھتاس ॥
کھیلہِ بِگسہِ اند سِءُ جا کءُ ہوت ک٘رِپال ॥
سدیِۄ گنیِۄ سُہاۄنے رام نام گ٘رِہِ مال ॥
کھیدُ ن دوُکھُ ن ڈانُ تِہ جا کءُ ندرِ کریِ ॥
نانک جو پ٘ربھ بھانھِیا پوُریِ تِنا پریِ ॥੧੮॥
لفظی معنی:
بلچھت ۔ روحانی سکون و خوشحال۔ بھندار۔ خزانہ ۔ ذخیر ہ ( 1) (پوڑی ) پاہ ۔ پاس ۔ بھاوے ۔ چاہتا ہے ۔ خواہش ہے ۔ تیہہ تیہہ۔ کھونا ۔ کبھی وہاں وہاں۔ کرچ خزانہ ۔ تصرف کی اشیا اور دولت ۔ راس۔ سرمایہ۔ کھما۔ معاف کرنا۔ گن تاس۔ اوساف کا خزانہ ۔ وگسے ۔ خوش رہنا۔ کرپال۔ مہربان۔ صدیوی ۔ ہمیشہ ۔ گنیو ۔ دولتمند۔ گریہہ۔د ل ۔ کھیہہ۔ افسوس۔ ڈان۔ سزا۔ بھانیا۔ چاہیا۔
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
اے نانک ۔ اعداد و شمار سے بعد انسان الہٰینام کی ریاض کرتے ہیں۔ وہ ان خزانوں کو تصرف میں لاتے ہیں مگر ان میں کمی واقع نہیں ہوتی (پوڑی ) خدا سب طاقتوں کا مالک ہے اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اس کے ریاض کار پریمی اس کی رجا کی مطابق اپنے اعمال کرتے اور بناتے ہیں۔ انہیں وہ سب کچھ دیتا ہے ا لہٰی نام ہی ان کی دولت اور سرمایہ ہے ۔ اسی کو اپنے تصرف میں لاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اوساف کے خزانے خدا کییاد میں مصروف رہتے ہیں اور ان کے دل میں عاجزی انکساری اور ہمدردی روحانی سکون اور مستقل مزای وغیرہ اوصاف پیدا ہوتے رہتے ہین۔ جن پر الہٰی کرم و عنایت ہوتی ہے وہ روحانیس کون اور خوشی خوشی زندگی گذارتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سر خرو اور تاباں پیشانی رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ امیر اور ان کے دل نام کی دولت سے بھرے رہتے ہیں ۔ جن پر الہٰی رحمت ہوتی ہے وہ الہٰی نظر عنایت و شفقت میں رہتے ہیں۔ نہ انہیں کوئی سزا ملتی ہے نہ فکر و تشویش نہ عذاب اتا ہے ۔ اے نانک۔ جو انسان الہٰی پایر حاصل کر لیتے ہیں ۔ جو خدا کی چاہت میں آجاتے ہین۔ زندگی کامیاب بنا لیتے ہیں۔
سلوکُ ॥
گنِ مِنِ دیکھہُ منےَ ماہِ سرپر چلنو لوگ ॥
آس انِت گُرمُکھِ مِٹےَ نانک نام اروگ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
گگا گوبِد گُنھ رۄہُ ساسِ ساسِ جپِ نیِت ॥
کہا بِساسا دیہ کا بِلم ن کرِہو میِت ॥
نہ بارِک نہ جوبنےَ نہ بِردھیِ کچھُ بنّدھُ ॥
اوہ بیرا نہ بوُجھیِئےَ جءُ آءِ پرےَ جم پھنّدھُ ॥
گِیانیِ دھِیانیِ چتُر پیکھِ رہنُ نہیِ اِہ ٹھاءِ ॥
چھاڈِ چھاڈِ سگلیِ گئیِ موُڑ تہا لپٹاہِ ॥
گُر پ٘رسادِ سِمرت رہےَ جاہوُ مستکِ بھاگ ॥
نانک آۓ سپھل تے جا کءُ پ٘رِئہِ سُہاگ ॥੧੯॥
لفظی معنی:
گن مون ۔ سوچ سمجھ ۔ گن او رشمار کر لو۔ اور منتی کر لو ۔ سر پر ۔ ضرور۔ چلنو لوگ۔ لوگوں نے چلے جاتا ہے ۔ آس ۔اُ مید ۔ انت۔ ہر روز۔ گورمکھ ۔ مرشدکے ذریعے ۔ روگ۔ تندرستی ( پوڑی ) گوبند ۔ خدا ۔ گن۔ اوصاف۔ روہو۔ یاد کرؤ۔ بسا سا ۔ وساہ ۔ اعتبار ۔ بھروسا۔ بلم۔ دیر۔ بندھ ۔ رکاوٹ۔ بیرا۔ وقت۔ بارک ۔ بچپن ۔ جو بن۔ جوانی ۔ پردھی ۔ بڑھاپا۔ بندھ۔ رکاوٹ۔ جسم پھند۔ موت کا پھندہ ۔ موڑھا۔ بیوقوف۔ تہاں۔ اس سے ۔ لپٹا ہے ۔ اس میں ملوث ہوتا ہے ۔ مستک بھاگ ۔ پیشانی کی قیمت ۔ پریہہ ۔ پیارے
ترجمہ معہ تشریح:
دلمیں سوچ سمجھ کر دیکھ لو سب نے اس عالم سے چلے جانا ہے ۔ اے نانک ۔ا لہٰی نام انسان کے دل کو تندرستی عنایت کرت اہے اور مرشد کے رحمت سے قابل فناہ نعمتوں کی امیدوں مٹ جاتی ہیں (1) ( پوڑی ) ہر لمحہ ہر سانس خدا کو یاد کرؤ اور حمدوثناہ کرؤ کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ اے دوست اس میں دیر مت کرؤ۔ اس میں بچپن جوانی ہو خواہ بڑھاپا ہی کیوں نہ ہو ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ اس وقت کا پتہ نہیں جب موت نے دبوچ لینا ہے ۔ نہ علام فاضل نہ ہوش و حؤاس کی قائمی والے خدا نے دھیان لگا نے والے کسی نے بھی اس عالم میںہمشیہ قائم نہیں رہنا ہے ۔ نہ دانشمندؤں نے رہنا ہے ۔ جاہل انسان ہی دنیاوی نعمتوں میں اپنا دل لگاتا ہے ۔ جب کہ سارے چھوڑ کر چلے گئے ۔جس کی پیشانی پر اس کی قسمت تحریر ہے ۔ وہی خدا کو یاد کرتا ہے ۔ اے نانک ۔ جن کو الہٰی حضوری نصیب ہے ۔ اُن کا اس عالم میں جنم لینا مبارکباد کا مستحق ہے ۔
سلوکُ ॥
گھوکھے ساست٘ر بید سبھ آن ن کتھتءُ کوءِ ॥
آدِ جُگادیِ ہُنھِ ہوۄت نانک ایکےَ سوءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
گھگھا گھالہُ منہِ ایہ بِنُ ہرِ دوُسر ناہِ ॥
نہ ہویا نہ ہوۄنا جت کت اوہیِ سماہِ ॥
گھوُلہِ تءُ من جءُ آۄہِ سرنا ॥
نام تتُ کلِ مہِ پُنہچرنا ॥
گھالِ گھالِ انِک پچھُتاۄہِ ॥
بِنُ ہرِ بھگتِ کہا تھِتِ پاۄہِ ॥
گھولِ مہا رسُ انّم٘رِتُ تِہ پیِیا ॥
نانک ہرِ گُرِ جا کءُ دیِیا ॥੨੦॥
لفظی معنی(سلوک)
گھو کہے ۔ پرتال کی ہے ۔ آن ۔ کوئی دسورا نہیں۔ آد۔ شروع۔ جگاو۔ درمیانی عرصے میں۔ ہووت۔ آئندہ ہونے والا (1) ( ہوڑی ۔ گھالہو ۔ پختہ کرؤ۔ منیہہ۔ من منہہ ۔ جت گت ۔ یہاں وہان۔ مراد ہر جگہ ۔ گھولیہہ۔ لطف اُٹھا ۔ پنیہہ ۔ پن ۔ثواب۔ آچرن۔ اکلاق۔ گھال۔ محنت۔ تھت۔ سکون
ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
خدا کے بگیر وئی صدیوی دوسرا نہیں بتانے ۔ واحد خدا ہی شروع درمیانی عرصے اور بو قت اخرت تا قیامت ہے (1) ( پوڑی ) اپنے من وچ پختہ خیال بناو کہ کاد کے بغیر کوئی صدیوی نہیں ۔ نہ کوئی ہوا نہ سدا بھر رہنے والا ہے ۔ ہر جگہ موجود ہے ۔ اے دل اگر تو الہٰی سایہ اور پنا میں رہے تب ہی زندگی کا مزہ لیگا۔ انسانی زندگی میں الہٰی نام سچ حق و حقیقت ہی ہے ۔ بدکاریوں اور گناہوںکے جو تاثرات مٹا سکتا ہے الہٰی پریم پیار کے بگیر دل کو سکون حاصل نہیں ہوتا۔ بیشمار انسان الہی ریاض کے بغیر کئی قسم کی دوسری محنت و مشقت کرکے آخر پچھتاتے ہیں۔ اے نانک۔ جسیے الہٰی نام مرشد عنایت فرمائیا ہے ۔ اس نے نہایت پر لطف آبحیات نوش کیا ۔
سلوکُ ॥
گنْنھِ گھالے سبھ دِۄس ساس نہ بڈھن گھٹن تِلُ سار ॥
جیِۄن لورہِ بھرم موہ نانک تیئوُ گۄار ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
گنْنّگنْا گنْ٘راسےَ کالُ تِہ جو ساکت پ٘ربھِ کیِن ॥
انِک جونِ جنمہِ مرہِ آتم رامُ ن چیِن ॥
گنِْیان دھِیان تاہوُ کءُ آۓ ॥
کرِ کِرپا جِہ آپِ دِۄاۓ ॥
گنْنھتیِ گنْنھیِ نہیِ کوئوُ چھوُٹےَ ॥
کاچیِ گاگرِ سرپر پھوُٹےَ ॥
سو جیِۄت جِہ جیِۄت جپِیا ॥
پ٘رگٹ بھۓ نانک نہ چھپِیا ॥੨੧॥
لفظی معنی:
گھن۔ گنتی کرکے ۔ گھاے ۔ بھجتا ہے ۔ دوس۔ روز۔ دن ۔ جیون ۔ زندیگ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ موہ ۔ محبت ۔ لوریہہ۔ چاہتا ہے ۔ ( پوڑی ) گراسے ۔ گرفتار کرتا ہے ۔ ساکت ۔ مادہ پرست ۔ دولت کا دلدادہ ۔ منکر۔ پربھ۔ خدا۔ چین ۔ پہچان۔ گیان دھیان۔ علم و توجہی ۔ تاہو۔ اسے ۔ کرپا۔ مہربانی ۔ کرم و عنایت ۔ چھوٹے ۔ نجات۔ سر پر ۔ ضرور۔ کاچی گاگر۔ سیر ۔ جسم۔ چیوت۔ زندگی ۔ پ٘رگٹُ ۔ ظآہر ۔
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
خدا زندگی کے دن اور سانس شمار و حساب سے اس عالم میں بھجتا ہے ۔ جس میں ایک تل جتنا کم و بیش نہیں ہو سکتا۔ اے نانک ۔ اسی کی زندیگ قابل شمار ہے ) وہ انسان جاہل ہیں جو سب میں بسے خدا کو پہچان نہیں سکتے اور دنیاوی دولت کی محبت میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں ۔ ( پوڑ) موت کی گرفت میں اور خوف میں رہتے ہیں وہ شخص جو خد اسے خدا نے منکر بنا رکھے ہیں۔ وہ تناسخ میں پڑے رہتے ہیں مگر خدا کو پہچان نہیں پاتے ۔ علم و توجہی انہیں ہی حاصل ہوتی ہے جس میں خدا خود دلاتا ہے ۔ حساب و شمار سے کسے نجات حاصل نہیں ہوتی ۔ آخر اس فانی جسم نے اور زندیگ نے ختم ضرور ہونا ہے ۔ اے نانک۔ زندگی اسی کی ہے جو دوران حیات خدا کو یاد کرتاہے ۔ اور آخر شہرت بھی پاتا ہے ۔
سلوکُ ॥
چِتِ چِتۄءُ چرنھاربِنّد اوُدھ کۄل بِگساںت ॥
پ٘رگٹ بھۓ آپہِ گد਼بِنّد نانک سنّت متاںت ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
چچا چرن کمل گُر لاگا ॥
دھنِ دھنِ اُیا دِن سنّجوگ سبھاگا ॥
چارِ کُنّٹ دہ دِسِ بھ٘رمِ آئِئو ॥
بھئیِ ک٘رِپا تب درسنُ پائِئو ॥
چار بِچار بِنسِئو سبھ دوُیا ॥
سادھسنّگِ منُ نِرمل ہوُیا ॥
چِنّت بِساریِ ایک د٘رِسٹیتا ॥
نانک گِیان انّجنُ جِہ نیت٘را ॥੨੨॥
لفظی معنی(سلوک )
چت۔ دل ۔ دماغ۔ ذہن۔ چتوؤ۔ خیال کرؤ۔ چرنا ر بند۔پائے مبارک ۔ اودھ ۔ الٹا۔ کنول۔ ذہن۔ دماغ۔ وگ سانت۔ کھلا۔ خوش ہوا ۔ پرگٹ بھیئے ۔ ظہور میں آئے ۔ گوبند۔ خدا ۔ ناسک سنت شانت۔ اے نانک خدا رسیدہ کی واعظ و نصیحت سے (1) پوڑی ) چرن کمل۔ پائے پاک ۔ اوآدن۔ وہ دن ۔ سنجوک بھاگا وہ خوش قسمت ملاپ ۔ چار کنٹ۔ چاروں طرف۔ وہ دس ۔ ہر طرف ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ چار و چار۔ نیک خیال۔ ونیو ۔ مٹیا۔ دوا۔ دوئش۔ نرمل۔ پاک۔ چنت۔ تشویش۔ فکر۔ درشٹیتا۔ درشن۔ گیانانجن۔ علم کا سرما۔ نیترا۔ آنکھوں میں
ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
جب انسان اپنے کند ذہن میں الہٰی تصور لاتاہے تو اسکا ذہن اور سچ بدل جاتی ہے ۔ انسان کوش خلق ہوجااہے ۔ اے نانک واعظ مرشد سے خدا خود ہی انسانی دلمیں ظہور میں آجاتاہے (پوڑی) وہ دن وہ وقت مبارک ہے وہ ملاپ مبارک ہے جب پائے پاک مرشد پر جھکا سجدہ کیا۔ چاروں طرف اور جگر بھٹکنے کے بعد جب کرم فرمائی ہوئی تو دیدار ہوا ۔ نیک خیالات سے دوئش دور ہوئی صحبت پاکدامنوں سے دل و ذہن پاک ہوا۔ فکر و تشویش مٹی دیدار حاصل ہوا۔ خیالات نیک ہوئے دنیاوی دولت کی محبت مٹی ۔ اے نانک۔ انکھوں میں علم اور ذہن میں سمجھ آئی ۔
سلوکُ ॥
چھاتیِ سیِتل منُ سُکھیِ چھنّت گوبِد گُن گاءِ ॥
ایَسیِ کِرپا کرہُ پ٘ربھ نانک داس دساءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
چھچھا چھوہرے داس تُمارے ॥
داس داسن کے پانیِہارے ॥
چھچھا چھارُ ہوت تیرے سنّتا ॥
اپنیِ ک٘رِپا کرہُ بھگۄنّتا ॥
چھاڈِ سِیانپ بہُ چتُرائیِ ॥
سنّتن کیِ من ٹیک ٹِکائیِ ॥
چھارُ کیِ پُتریِ پرم گتِ پائیِ ॥
نانک جا کءُ سنّت سہائیِ ॥੨੩॥
لفظی معنی(سلوک)
سیتل ۔ ٹھنڈے ۔ چھنت۔ گیت۔ داس۔ دسائے ۔ خادم ۔ خادمان (پوری ) چھورے ۔ بچے ۔ پانیہارے ۔ پانی لانے والے ۔ جھار۔ دہول۔ کاک ۔ بھگونتا ۔ اے خدا۔ سیانپ ۔ دانشمندی ۔ عقل۔ چترائی ۔ چالاک ی ۔ ٹیک۔ آسرا۔ پتری ۔ پتلی ۔ پرم گت۔ اونچا رتبہ۔ سہائی ۔ مددگار
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک ) الہٰی حمدوثناہ سے دل کو ٹھنڈک اور آرام محسوس ہوتا ہے ۔ اے خدا۔ اایسی رحمت عنایت فمرایئے کہ میں خادموں کا خادم ہوجاوں (پوڑی ) اے خدا کرم و عنایت فمرا کہ میں تیرے پاکدامن خادموں کے پاؤں کی دہول ہوجاؤں اور تیرے خادموں کا پانی بھرنے والا خادم ہوجاؤں۔ اے دل ہر طرح کی دانمشندی اور چالاکیاں چھور کر خدا رسیدہ پاکدامنوں میں تیرا خادم ہوں تیرا بچاہوں ۔ اے نانک جس کی پاکدامن مدد کرتے ہیں خواہ اسکا جسم خاک کا پتلا کیوں نہ ہو وہ روحانی بلند سے بلند رتبہ پاتے ہین ۔ جن کے پاکدامن خدا رسیدہ مددگار ہوتے ہیں۔
سلوکُ ॥
جور جُلم پھوُلہِ گھنو کاچیِ دیہ بِکار ॥
اہنّبُدھِ بنّدھن پرے نانک نام چھُٹار ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ججا جانےَ ہءُ کچھُ ہوُیا ॥
بادھِئو جِءُ نلِنیِ بھ٘رمِ سوُیا ॥
جءُ جانےَ ہءُ بھگتُ گِیانیِ ॥
آگےَ ٹھاکُرِ تِلُ نہیِ مانیِ ॥
جءُ جانےَ مےَ کتھنیِ کرتا ॥
بِیاپاریِ بسُدھا جِءُ پھِرتا ॥
سادھسنّگِ جِہ ہئُمےَ ماریِ ॥
نانک تا کءُ مِلے مُراریِ ॥੨੪॥
لفظی معنی: ( سلوک )
پھولیہہ۔ پھولتے ہیں۔ تکبر کرتے ہیں۔ زور۔ زبردستی ۔ کاچی ۔ مٹ جانے والی ۔دکار۔ بیفائدہ ۔ اہنبدھ ۔ مغرور۔ ( پوڑی ) ہوؤ۔ میں۔ نلنی ۔ طوطے کو پکڑنے والی نلی ۔ سوا۔ طوطا ۔ ٹھاکر۔ آقا۔ خدا۔ بسد۔ زمین۔ مراری ۔ خدا
ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
جو انسان دوسروں پر زور جبر اور ظلم کرتے ہیں اور اس میں اپنا وقار سمجھتے ہیں او ر تکبر اور غرور کرتے ہیں ان کا یہ جسم اور زندگی بیکار چلی جاتی ہے اور وہ وقار کے تکبر میں اس طرح گرفت اور اس طرح پھنس جاتا ہے ۔ اے نانک اس غلامی سے الہٰی نام ہی نجات دلا سکتا ہے (پوڑی ) جو انسان اپنے آپ کو عام انسان سے بلند رتبہ والا انسان سمجھے لگتا ہے وہ اس خودی میں ایسے گرفتار ہوجاتا ہے جیسے طوطا دانے کے لالچ میں نلنی کے ذریعے پکرا جاتا ہے ۔ جب انسان یہ سمجھنے لگ اجتا ہے کہ میں الہٰی پریمی ہو گیا ہوں علام فاضل ہو گیا ہوں مگر خدا اسے اور اس کی کوئی قدروقیمت نہیں سمجھتا۔ جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں ایک لیکچرار اور ویکھایا کار ہوگیا ہوں یہ ایسے ہے جیسےایک پیری والا سوداگر ہے ۔ جو پاکدامنون کی صحبت میں خودی متاتا ہے ۔ اے نانک وہی الہٰی ملاپ پاتا ہے ۔
سلوکُ ॥
جھالاگھے اُٹھِ نامُ جپِ نِسِ باسُر آرادھِ ॥
کار٘ہا تُجھےَ ن بِیاپئیِ نانک مِٹےَ اُپادھِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
جھجھا جھوُرنُ مِٹےَ تُمارو ॥
رام نام سِءُ کرِ بِئُہارو ॥
جھوُرت جھوُرت ساکت موُیا ॥
جا کےَ رِدےَ ہوت بھاءُ بیِیا ॥
جھرہِ کسنّمل پاپ تیرے منوُیا ॥
انّم٘رِت کتھا سنّتسنّگِ سُنوُیا ॥
جھرہِ کام ک٘رودھ د٘رُسٹائیِ ॥
نانک جا کءُ ک٘رِپا گُسائیِ ॥੨੫॥
لفظی معنی: ( سلوک)
جھالاگھے ۔ صبح سویرے ۔ علے الصبح ۔ نس باسر۔ روز و شب ۔ کار ۔ فکر۔ تشویش۔ اپادھ ۔ جھگڑے (پوری ) جھورن ۔ فکر۔ تشویش۔ ساکت۔ منکر۔ مادہ پرست۔ روے ۔دلمیں۔ بھاؤ بیا۔ دوئی ۔ دوئس سے محبت۔ جھریہہ۔ مٹ جاتے ہوتے ہیں۔ کمل ۔ گناہ ۔ دوش۔ انمرت۔ آبحیات۔ جھریہہ۔ جھرتے ہیں۔ درسٹائی ۔ برے خیال۔ گوسائی۔ مالک ۔ خدا
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
علے الصبح اُٹھو اور روز و شب خدا کو یاد کرؤ تاکہ تجھے غم و فکر و تشویش تجھ پر اثر انداز نہ ہو ۔ اے نانک تمام جھگڑے ختم ہوجائیں ( پوڑی ) اے انسان الہٰی نام سے سودا گری کر تا کہ تیری فکر و تشویش مٹ جائے ۔ غم و فکر یں منکر روحانی موت مرتا رہتا ہے ۔ جس کے دل میں دوئی دئوش سے پیار ہے ۔ پاکدامن خدا رسیدہ کی صحبت و قربت میں درس الہٰی وحمدوچناہ الہٰی سننے سے جو آب حیات ہے تمام گناہ دکار اور بد کاریاں دل سے مٹ جاتی ہے ۔ اے نانک۔ جس پر خدا اپنی کرم و عنایت فرماتا ہے ۔ اس کی شہوت اور غصہ جو انسانیت کے دشمن ہیں ختم ہوجاتے ہیں۔
سلوکُ ॥
جنْتن کرہُ تُم انِک بِدھِ رہنُ ن پاۄہُ میِت ॥
جیِۄت رہہُ ہرِ ہرِ بھجہُ نانک نام پریِتِ ॥੧॥
پۄڑیِ ॥
جنْنّجنْا جنْانھہُ د٘رِڑُ سہیِ بِنسِ جات ایہ ہیت ॥
گنھتیِ گنھءُ ن گنھِ سکءُ اوُٹھِ سِدھارے کیت ॥
جنْو پیکھءُ سو بِنستءُ کا سِءُ کریِئےَ سنّگُ ॥
جنْانھہُ اِیا بِدھِ سہیِ چِت جھوُٹھءُ مائِیا رنّگُ ॥
جنْانھت سوئیِ سنّتُ سُءِ بھ٘رم تے کیِچِت بھِنّن ॥
انّدھ کوُپ تے تِہ کڈھہُ جِہ ہوۄہُ سُپ٘رسنّن ॥
جنْا کےَ ہاتھِ سمرتھ تے کارن کرنےَ جوگ ॥
نانک تِہ اُستتِ کرءُ جنْاہوُ کیِئو سنّجوگ ॥੨੬॥
لفظی معنی: ( سلوک )
صحیح ۔ ٹھیک۔ درست۔ ہیت۔ محبت۔ پیار ۔ سدھارے ۔ چلے گئے ۔ پیکھو۔ دیکھتے ہیں۔ ونستو۔ مٹ جاتا ہے ۔ ۔ پیکھو ۔ دیکھتے ہی۔ کا سیو ۔ کس کے ساتھ۔ سنگ ۔ شراکت۔ ساتھ۔ چت۔ من ۔ دل۔ کوب۔ کنوان۔ بھرم۔ بھٹکن۔ بھن۔ علیحدہ ۔ کارن ۔ سبب۔
ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
اے دوست خواہ کتنی کوششین کرکے دیکھ لو اور بیشمار طریقوں سے آپ ہمیشہ نہیں رہ سکو گے ۔ اے نانک۔ اگر الہٰی نام سے پیار کرؤ گے تو روحانی زندگی پاؤ گے ( پوڑی ) اس بات کو درست اور پختہ سمجو یہ دنیاوی محبت ختم ہو جائیگی ۔ یہ شما رکرنا نا ممکن ہے کہ اس دنیا سے کتنے چلے گئے یہ شمار نہ میں کر سکتا ہوں نہ کرتا ہوں۔ جو کچھ دیکھ رہے ہیں سب مٹنے والا ہے تب شراکت اور ساتھ کس کے ساتھ کیاجائے ۔ اے دل اس بات کو صحیح درست اور پختہ سمجھ لے دنیاوی دولت سے محبت جھوٹھی ہے ۔ جو انسان دنیایو دولت کی محبت سے بچ جاتاہے اس کی بھٹکن میں نہیں پڑتا اور اپنے آپ کو اس سے علیححدہ کر لیتا ہے ۔ وہی خدا رسیدہ پاکدامن سنت ہے ۔ وہی زندگی کے درست راستے کو سمجھتا ہے ۔ اے خاد جس پر تو مہربان ہوتا ہے ۔ اسے اس دنیاوی محبت اندھے کوئیں سے نکلاتا ہے ۔ اے نانک اس کدا کی ھمدوچناہ کر جو تیرے لئے ایسا اسباب پیدا کرتا ہے جس میں ایسا کرنے کی قوت ہے ۔ یہی ایک طریقے ہے جس سے ملاپ ہو سکتا ہے ۔
سلوکُ ॥
ٹوُٹے بنّدھن جنم مرن سادھ سیۄ سُکھُ پاءِ ॥
نانک منہُ ن بیِسرےَ گُنھ نِدھِ گوبِد راءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ٹہل کرہُ تءُ ایک کیِ جا تے ب٘رِتھا ن کوءِ ॥
منِ تنِ مُکھِ ہیِئےَ بسےَ جو چاہہُ سو ہوءِ ॥
ٹہل مہل تا کءُ مِلےَ جا کءُ سادھ ک٘رِپال ॥
سادھوُ سنّگتِ تءُ بسےَ جءُ آپن ہوہِ دئِیال ॥
ٹوہے ٹاہے بہُ بھۄن بِنُ ناۄےَ سُکھُ ناہِ ॥
ٹلہِ جام کے دوُت تِہ جُ سادھوُ سنّگِ سماہِ ॥
بارِ بارِ جاءُ سنّت سدکے ॥
نانک پاپ بِناسے کدِ کے ॥੨੭॥
لفظی معنی: ( سلوک )
برتھا۔ علیحدہ ۔ ٹھل محل۔ خادم کا رتبہ۔ ٹوہے ٹاہے ۔ ڈہونڈتے ڈہونڈتے ۔ بھون۔ ٹھکانے ۔ سادہو سنگت۔ صحبت پاکدمناں ۔ سنت صدقے ۔ خدا رسیدہ ۔ پاکدامن ( سنت) پر قربان جاؤں۔ پاپ۔ دوش ۔ گناہ
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک) خدمت پاکدامن ( سادھ ) سے تناسخ ختم ہوجاتا ہے اور آرام و آسائش ملتا ہے ۔ اے نانک نام وج دل سے نہین بھلاتا جو اوصاف کا کزانہ ہے (پوڑی ) واح د خدا کی خدمت و عبات کیجیئے جس کے در سے کوئی بغیر حصول کوئی نہیں جاتا۔ اگر دل وجان میں بس جائے تو جو چاہو وہی ہوجاتا ہے ۔ جس پر پاکدامن مہربان ہوجائے ۔اسے خدمت اور ٹھکانہ ملتا ہے ۔ صحبت و قربت پاکدامناں تب ملتی ہے ۔ جب خدا خود مہربان ہوتا ہے ۔ بہت سے ٹھکانے ڈہونڈے مگر نام کے بغیر سکھ نہیں۔ جو صحبت قربت پاکدامن پا لیتے ہیں۔ ان سے پیا مبر موت روحانی بھی دور ہوجاتے ہیں۔ ا اے نانک۔ اس پاکدامن خدا رسیدہ ( ستن ) پر بار بار قربان جاؤں جس کے وجہ سے دیر ینہ گناہ مٹ جاتے ہیں۔
سلوکُ ॥
ٹھاک ن ہوتیِ تِنہُ درِ جِہ ہوۄہُ سُپ٘رسنّن ॥
جو جن پ٘ربھِ اپُنے کرے نانک تے دھنِ دھنّنِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ٹھٹھا منوُیا ٹھاہہِ ناہیِ ॥
جو سگل تِیاگِ ایکہِ لپٹاہیِ ॥
ٹھہکِ ٹھہکِ مائِیا سنّگِ موُۓ ॥
اُیا کےَ کُسل ن کتہوُ ہوُۓ ॥
ٹھاںڈھِ پریِ سنّتہ سنّگِ بسِیا ॥
انّم٘رِت نامُ تہا جیِء رسِیا ॥
ٹھاکُر اپُنے جو جنُ بھائِیا ॥
نانک اُیا کا منُ سیِتلائِیا ॥੨੮॥
لفظی معنی:
سلوک ) ٹھاک۔ روک ۔ بنہو۔ انہیں۔ سوہ۔ وہ ۔ پرسن۔ خوش ( پوڑی ) ٹھاہے ۔ گراتا نہیں۔ سگل۔ سب کچھ ۔ تیاگ۔ چھوڈ۔ ٹھہک ٹھہک ۔ ٹکرا کر ۔ کسل۔ سکھ ۔ آرام۔ خوشہالی ۔ ٹھانڈ۔ سروی ۔ رسیا۔ خوش ہوا۔ سیتلا۔ ٹھنڈا ہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) جن پر خدا اپنی کی کرم و عنایت کرتا ہے ان کے الہٰی در پر پہنچنے میں کوئی دیر نہیں ہوتی نہراستے میں کوئی رکاوٹ اٹی ہے ۔ اے نانک وہ انسان بڑے خوش قسمت ہیں جس میں خدا نے اپنا لیا ہے ۔ ( پوڑی ) جو انسان کسی کے دل کو ایذا نہیں پہنچاتے جنکا سب کچھ چھوڑ کر واھد خدا میں اعتقاد ہے جو انسان دنیاوی دولت کے لئے دوسروں سے لڑتے جھگڑے ہین۔ اور دشمنی پیدا کرکے روحانی موت خود پیدا کرتے ہیں۔ انہیں کبھی سکون نہیں ملتا نہ خوشی میسئر ہوتی ہے ۔ جو انسان یا جسے پاکدامن خدا رسیدہ ( سادہوں ) کی صحبت و قربت حاصل ہوجتی ہے ۔ ان کے دل میں روحانی سکون ذہن میں خنک آجاتی ہے اور روحانی آب حیات عنایت کرنے والا الہٰی نام سچ حق و حقیقت دل وجان میں گھر کر جاتا ہے ۔
اے نانک۔ جو انسان خدا کا پیارا ہو جاتا ہے ۔ اسکا دل ہمیشہ پاک اور ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔
سلوکُ ॥
ڈنّڈئُتِ بنّدن انِک بار سرب کلا سمرتھ ॥
ڈولن تے راکھہُ پ٘ربھوُ نانک دے کرِ ہتھ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ڈڈا ڈیرا اِہُ نہیِ جہ ڈیرا تہ جانُ ॥
اُیا ڈیرا کا سنّجمو گُر کےَ سبدِ پچھانُ ॥
اِیا ڈیرا کءُ س٘رمُ کرِ گھالےَ ॥
جا کا تسوُ نہیِ سنّگِ چالےَ ॥
اُیا ڈیرا کیِ سو مِتِ جانےَ ॥
جا کءُ د٘رِسٹِ پوُرن بھگۄانےَ ॥
ڈیرا نِہچلُ سچُ سادھسنّگ پائِیا ॥
نانک تے جن نہ ڈولائِیا ॥੨੯॥
لفظی معنی:
(سلوک ) ڈنڈوت بندن۔ سجدہ کرتا ہوں۔ انک۔ بیشمار۔ سرب کلا۔ سمرتھ۔ جو تمام طاقتوں والا اور لائق ہے ۔ ڈولن۔ ڈگمگانے ۔ راکھو ۔ بچاؤ ( پوڑی ) ڈیرا۔ مقام۔ جان۔ لمبھ ۔ پہچان کر ۔ سنجم۔ ضبط۔ گر کے ۔ سبد۔ کلام مرشد۔ پچھان۔ سمجھ بنا۔ سرم۔ محنت۔ جہد۔ گھالے ۔ کوشش کرتاہے ۔تسو۔ تنکا۔ مت۔ قدر۔ قیمت۔ درشٹ ۔ نگاہ شفقت۔ نظر عنایت ۔ نہچل ۔ صدیوی ۔ جو نہ ڈگمگائے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
( سلوک ) میں بیشمار دفعہ تجھے سجدہ کرتاہوں اے ساری طاقتوں کے مالک خدا۔ مجھے اس عالم میں ڈگمگانے سے بچاو۔ اے نانک۔ اپنی امداد سے بچاؤ ( پوڑی ) اے انسان یہ عالم صدیوی تیرے رہنے کے لئے مقام نہیںہے ۔ اس مقام یا ٹھکانے کی پہچان کر جو صدیوی رہائش کے لئے ہے ۔ اور کلام مرشد کے ذریعے سمجھ کر اس ٹھاکنے کے حصول کے لئے کونسا طریقہ ہے اس کی پہچان کر ۔ اس مقام کی پہچان اسے ہے ۔ جس پر خدا کی پوری کرم و عنایت ہے ۔ اے نانک۔ صحبت و قربت پاکدامنوں میں دائمی روحانی سکون والا ٹھکانہ ڈہونڈھ لیتے ہین۔ ان کا دل دنیاوی گھر بار میں اور اس کی خاطر ڈگمگاتا نہیں۔
سلوکُ ॥
ڈھاہن لاگے دھرم راءِ کِنہِ ن گھالِئو بنّدھ ॥
نانک اُبرے جپِ ہریِ سادھسنّگِ سنبنّدھ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ڈھڈھا ڈھوُڈھت کہ پھِرہُ ڈھوُڈھنُ اِیا من ماہِ ॥
سنّگِ تُہارےَ پ٘ربھُ بسےَ بنُ بنُ کہا پھِراہِ ॥
ڈھیریِ ڈھاہہُ سادھسنّگِ اہنّبُدھِ بِکرال ॥
سُکھُ پاۄہُ سہجے بسہُ درسنُ دیکھِ نِہال ॥
ڈھیریِ جامےَ جمِ مرےَ گربھ جونِ دُکھ پاءِ ॥
موہ مگن لپٹت رہےَ ہءُ ہءُ آۄےَ جاءِ ॥
ڈھہت ڈھہت اب ڈھہِ پرے سادھ جنا سرناءِ ॥
دُکھ کے پھاہے کاٹِیا نانک لیِۓ سماءِ ॥੩੦॥
لفظی معنی:
(سلوک ) ڈھاہن۔ مٹانے ۔ بندھ۔ رکاوٹ۔ اُبھرے ۔ بچے ۔ سادھ سنگ۔ صحبت پاکدامناں ( پوڑی ۔ اہنبدھ ۔ تکبر۔ بکرال ۔ خوفناک ۔ سہجے ۔ پر سکون۔ ڈھریی ۔ خودی کے جماد ۔ جامے مرے ۔ تناسک۔ موہ مگن۔ محبت کی مستی ۔ لپٹت۔ لگاؤ۔ سادھ جنان سرنالے ۔ پناہ پاکدامناں ۔ پھاہے ۔ پھندے ۔ جال
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے نانک۔ جنہوں الہٰی ریاض کی اور پاکدامن انسانوں کی صحبت و قربت میں شراکت کی بدکاریوں اور گناہوں سے بچی کسی قسم کی کوئی رکاؤت پیدا نہ ہوئی ( پوڑی ) اے انسان خدا کو ڈنڈتا پھرتا ہے کس لئے پھرتاہے خدا تو تیرے دلمیں بستا ہے ۔ جنگل میں کیوں ڈھونڈتے پھرتے ہو ۔ اسے اپنے دل میں ہی تلاش کرؤ اور پاکدامن خدارسیدوں کی صحبت و قربت میں اس خوفناک کودی کو مٹا دو اس سے سکھ نسیب ہوگا ۔ ان کو اے نانک الہٰی ملاپ حاصل ہوجاتا ہے ۔
سلوکُ ॥
جہ سادھوُ گوبِد بھجنُ کیِرتنُ نانک نیِت ॥
نھا ہءُ نھا توُنّ نھہ چھُٹہِ نِکٹِ ن جائیِئہُ دوُت ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
نھانھا رنھ تے سیِجھیِئےَ آتم جیِتےَ کوءِ ॥
ہئُمےَ ان سِءُ لرِ مرےَ سو سوبھا دوُ ہوءِ ॥
منھیِ مِٹاءِ جیِۄت مرےَ گُر پوُرے اُپدیس ॥
منوُیا جیِتےَ ہرِ مِلےَ تِہ سوُرتنھ ۄیس ॥
نھا کو جانھےَ آپنھو ایکہِ ٹیک ادھار ॥
ریَنھِ دِنھسُ سِمرت رہےَ سو پ٘ربھُ پُرکھُ اپار ॥
رینھ سگل اِیا منُ کرےَ ایئوُ کرم کماءِ ॥
ہُکمےَ بوُجھےَ سدا سُکھُ نانک لِکھِیا پاءِ ॥੩੧॥
لفظی معنی:
(سلوک ) نیت۔ ہر روز۔ ( پوڑی ) رن۔ جنگ۔ جہد۔ سیجیے ۔ فتح کرنا۔ آتم۔ من۔ روح۔ خوئش۔ ان ۔ دوئش۔ دوئی ۔ سوبھا دو۔ بہادر۔ متی ۔ خودی۔ خوئشتا۔ سورتن۔ بہادری ۔ ٹیک۔ سہارا۔ ادھار۔ بناید۔ آسرا۔
ترجمہ معہ تشریح:
)سلوک ) خدا اپنے ملازموں سے مخاطب ہوکر انہیں حکم دیاہے کہ جہاں پاکدامن خدا ریسدہ الہٰی حمدثناہ کر تے ہں اور جہاں ہر روز کرتے ہون لہذا نہ میں اور نہ تم اگر اس جگہ جاؤ گے بچ سکیں گے ( پوڑی ) انسان اس دنیاو ی جدوجدہ میں کامیابی تب ہی حاصل کر سکا ہے اگر یہ سب پہلے اپنے آپ یعنی خوئش پن چر جیت حاصل کرے ۔ جو انسان کودی او ر دوئی دوئش دل سے مٹا دیتا ہے ۔ وہ بھاری بہادر اور جنگجو ہے ۔ جو انسان سبق مرشد سے خودی مٹا دیتا ہے ۔ دنیاوی خواہشات کو زیر کر لیتا ہے وہ باہدر اور جنگجو ہے ۔ اسے الہٰی ملاپ حاصل ہوجاتا ہے ۔ اے ناک ۔ جو انسان خدا پر مکمل اعتقاد کرتا ہے ۔ اور روز و شب یاد کرتا ہے ۔ اور دل کو سب کے پاؤن کی کاک بناتا ہے جو اسنان ایسے اعمال کرتا ہے وہ الہٰی رضا کو سمجھ لیتا ہے ۔ ہمیشہ روحانی سکون پاتا ہے ۔ اور پہلے کئے نیک اعمال مددگار بنتے ہیں۔
سلوکُ ॥
تنُ منُ دھنُ ارپءُ تِسےَ پ٘ربھوُ مِلاۄےَ موہِ ॥
نانک بھ٘رم بھءُ کاٹیِئےَ چوُکےَ جم کیِ جوہ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
تتا تا سِءُ پ٘ریِتِ کرِ گُنھ نِدھِ گوبِد راءِ ॥
پھل پاۄہِ من باچھتے تپتِ تُہاریِ جاءِ ॥
ت٘راس مِٹےَ جم پنّتھ کیِ جاسُ بسےَ منِ ناءُ ॥
گتِ پاۄہِ متِ ہوءِ پ٘رگاس مہلیِ پاۄہِ ٹھاءُ ॥
تاہوُ سنّگِ ن دھنُ چلےَ گ٘رِہ جوبن نہ راج ॥
سنّتسنّگِ سِمرت رہہُ اِہےَ تُہارےَ کاج ॥
تاتا کچھوُ ن ہوئیِ ہےَ جءُ تاپ نِۄارےَ آپ ॥
پ٘رتِپالےَ نانک ہمہِ آپہِ مائیِ باپ ॥੩੨॥
لفظی معنی:
ـسلوک ) تن ۔ جسم۔ من ۔ذہن۔ سمجھ ۔ دھن۔ دولت۔ اربو۔ اسے بھینٹ۔ پیش کردوں۔ تسے ۔ اسے ۔ موہے ۔ مجھے ۔ بھرم۔ وہم وگمان ۔ چوکے ۔ ختم ہو۔ جوہ ۔ خوف (پوڑی ) پریت۔ پایر ۔ گن ندھ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ تپت۔ جلن ۔ (ترشنا) من باھچتے ۔ دلی خواہشات کے مطابقت ۔ تراس۔ خوف۔ جسم پنتھ۔ موت کا راستہ۔ جاس۔ جکا۔ ناوں۔ نام۔ گت۔ اونچی ۔ زندگی کی حالات۔ مت ہوئے پرگاس۔ سمجھ نورانی ہوجائے ۔ ٹھاو۔ ٹھکانہ ۔ تاہو۔ تیرے ۔ سنگ۔ ساتھ۔ گریہہ۔ گھر ۔ جوبن۔ جوانی ۔ سنت سنگ۔ صحبت و قربت پاکدامنان۔ کاج ۔ کام ۔ تاتا حصد ۔ جھگڑا۔ تاپ۔ جھگڑا۔ نوارے ۔ ختم کرتا ہے ۔ پرتپالے ۔ پرورش کرتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے نانک ۔ جو مجھے خدا سے ملا دے میں اسے دل وجان اس کے حوالے کر دوں۔ اور دولت اس کے بھینٹ کر دوں۔ جس کے ملاپ سے دل کی گمراہی موت کا خوف ختم ہوجاتا ہے ( پوڑی ) اس خدا سے پیار کرؤ جو اوصاف کا خزانہ ہے ۔ تاکہ دلی تمنا کے مطابق نتیجے اخذ کر سکے اور دل کے دکھ عذاب مٹ جائین۔ دل میں الہٰی نام بس جانے سے روحای موت کا خوف مٹ جاتا ہے لہذا دلمیں نام بسنے اور موت کا کوف مٹے ۔ اس سے بلند روحانی زندگی ملتی ہے ۔ عقل و ہوش نورانی ہوجاتی ہے ۔ الہٰی در پر ٹھاکنہ ملتا ہے ۔ اے انسان تیرے ساتھ نہ سرمایہ نہ گھر اور جوانی جاتی ہے ۔ نہ حکمرانی ۔ پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت و قربت میں کدا کو یاد کرؤ یہی تمہارے کام آنے والا ہے ۔ تب کوئی جھگڑا اور دکھ نہ ہوگا جب کہ خدا خود عذاب مٹانے والا اور پرورش کرنے والا ہے ۔ اے نانک وہی ماتاپتا ہے ۔
سلوکُ ॥
تھاکے بہُ بِدھِ گھالتے ت٘رِپتِ ن ت٘رِسنا لاتھ ॥
سنّچِ سنّچِ ساکت موُۓ نانک مائِیا ن ساتھ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
تھتھا تھِرُ کوئوُ نہیِ کاءِ پسارہُ پاۄ ॥
انِک بنّچ بل چھل کرہُ مائِیا ایک اُپاۄ ॥
تھیَلیِ سنّچہُ س٘رمُ کرہُ تھاکِ پرہُ گاۄار ॥
من کےَ کامِ ن آۄئیِ انّتے ائُسر بار ॥
تھِتِ پاۄہُ گوبِد بھجہُ سنّتہ کیِ سِکھ لیہُ ॥
پ٘ریِتِ کرہُ سد ایک سِءُ اِیا ساچا اسنیہُ ॥
کارن کرن کراۄنو سبھ بِدھِ ایکےَ ہاتھ ॥
جِتُ جِتُ لاۄہُ تِتُ تِتُ لگہِ نانک جنّت اناتھ ॥੩੩॥
لفظی معنی:
(سلوک ) گھالتے ۔ محنت و مشقت کرتے ۔ بہوبدھ۔ ببت سے طریقوں سے ۔ ترپت۔ تسلی ۔ ترشنا۔ پیاس۔ خواہش۔ لاتھ۔ ختم ہوئی ۔ سنچ سنچ ۔ اکھٹی کرتے کرتے ۔ ساکت۔ دولت کے پجاری ۔( پوڑی ) تھر۔ صدیوی ۔ مستقل۔ پسارے ۔ پھیلاتا ہے ۔ انک ۔ بیشمار۔ بنچ۔ دہوکا۔ بل چھل۔ فریب۔ اپاؤ۔ کوشش ۔ جہد ۔ تھیلی ۔ دولت۔ سرم۔ محنت۔ انتے اوسر۔ آخر ی موقعے بوقت آخرت ۔ تھت پاوہو۔ سکون پاؤ۔ گو بند بھو ۔ خدا کو یاد کرؤ ۔ سنت کی سکھ ۔ سبق مرشد۔ اسنیہہ ۔ سمبندھ ۔ رشتہ ۔ پیار۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے نانک ۔ دولت و ثروت کے پسندیدہ پرستش کار دولت اکھٹی اکھٹی کرتے کرتے ختم ہوگئے نہ تو سات گئی گو بہت ڈھنگ طریقے استعمال کئے محنت و مشقت کی مگر نہ بھوک مٹی نہ خواہش ختم ہوئی (پوڑی ) اے انسان اس علام میں وکئی صدیوی نہیں کیوں پاؤں پھیلاتا ہے ۔ تو صرف دولت کے واسطے ہی جدو جہد کر رہا ہے اور بشیمار دہوکے فریب کر رہاہے ۔
اے نادان دولت اکھٹی کرنے کے لئے محنت و مشقت کرتے ہو آکر ماند ہوجاتے ہو ۔ مگر بوقت آخرت زندگی کے کسی کام نہیں آتی۔ اے انسان سبق مرشد نے خدا کو یاد کر تجے سکون ملیگا۔ ہمیشہ خدا سے پیار کر یہی صدیوی رہنے والا ہے اور سچا رشتہ ہے سب کچھ کرن کراونو اس کے ہاتھ ہے ۔ اے نانک جس کام خدا لگاتا ہے اسی طرف لگتے ہیں۔
سلوکُ ॥
داسہ ایکُ نِہارِیا سبھُ کچھُ دیۄنہار ॥
ساسِ ساسِ سِمرت رہہِ نانک درس ادھار ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ددا داتا ایکُ ہےَ سبھ کءُ دیۄنہار ॥
دیݩدے توٹِ ن آۄئیِ اگنت بھرے بھنّڈار ॥
دیَنہارُ سد جیِۄنہارا ॥
من موُرکھ کِءُ تاہِ بِسارا ॥
دوسُ نہیِ کاہوُ کءُ میِتا ॥
مائِیا موہ بنّدھُ پ٘ربھِ کیِتا ॥
درد نِۄارہِ جا کے آپے ॥
نانک تے تے گُرمُکھِ دھ٘راپے ॥੩੪॥
لفظی معنی:
(سلوک ) داسیہہ۔ خادمان نہاریا۔ دیکھیا۔ درس۔ دیدار ( پوڑی ) دیونہار۔ دینے والا۔ تٹ ۔ کمی ۔ اگنت ۔ گینتی س ے باہر۔ بھنڈار۔ خزانے ۔ صد جیو نہار۔ ہمیشہ سلامت ۔ بسار۔ بھلائیا۔ میا۔ دوت۔ بندھ ۔ روک۔ رکاوٹ۔ نواریہہ۔ مٹاتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ دھر اپے ۔ یا صبر ہوجاتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے نانک۔ جن خادمان خدا نے یہ معلوم کر لیا ہے کہ خدا ہی ساری نعمتوں سے سر فراز کرنے والا ہے ۔ اس لئے ہر سانس اسے یاد کرؤں۔ الہٰی دیدار کو اپنا سہارا بنا کر خدا کی ریاض کرؤ (پوڑی ) کدا ہی سب کا رازق ہے رزق دینے سے اس کے خزانوں اور ذخیروں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تقسیم رزق کر نےس ے ۔ اے ناندان دل داتار کو کیوں بھلاتے ہو جو ہمیشہ تیرے ساتھ ہے ۔ خو د اسنان کو دنیاوی دولت کی غلامی میں خدا کو کیوں بھلا رکھا ہے ۔ حقیقت یہ ہے خود خدا نے انسان کی روحانی زندگی کے راہ میں دنیاوی دولت کی محبت میں باندھ رکھا ہے ۔ اے نانک جس کے عذاب تو خود مٹاتا ہے ۔وہ سبق مرشد سے سیر ہوجاتے ہی۔
سلوکُ ॥
دھر جیِئرے اِک ٹیک توُ لاہِ بِڈانیِ آس ॥
نانک نامُ دھِیائیِئےَ کارجُ آۄےَ راسِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
دھدھا دھاۄت تءُ مِٹےَ سنّتسنّگِ ہوءِ باسُ ॥
دھُر تے کِرپا کرہُ آپِ تءُ ہوءِ منہِ پرگاسُ ॥
دھنُ ساچا تیئوُ سچ ساہا ॥
ہرِ ہرِ پوُنّجیِ نام بِساہا ॥
دھیِرجُ جسُ سوبھا تِہ بنِیا ॥
ہرِ ہرِ نامُ س٘رۄن جِہ سُنِیا ॥
گُرمُکھِ جِہ گھٹِ رہے سمائیِ ॥
نانک تِہ جن مِلیِ ۄڈائیِ ॥੩੫॥
لفظی معنی:
(سلوک ) جیئرے ۔ اے میری جان ۔ دھر۔ بسا۔ ٹیک۔ آسرا ۔ لاہے ۔ بندکر ۔ چھوڑ دے ۔ ودانی ۔ بیگانی ۔ آس۔ اُمید ۔ راس۔ ٹھیک درست ( پوڑی ) دھاوت ۔ بھٹکتے ۔ بھٹکن ۔ ڈگمگاتے ۔ توؤ ۔ تب۔ سنت سنگ ۔ صحبت پاکدامن کدا رسیدہ ۔ مرشد۔ باس۔ رہائش۔ ٹھکانہ ۔ آپ ۔ خدا۔ منیہ۔ پرگاس۔ دل پر نور ہوئے ۔ زندگی گذارنے کا صراط مستقیم۔ دھن ساچا تیو۔ سچا سرمایہ ۔ دہی ہے ۔ سچ ساہا۔ سچ سچا ساہو کار۔ ہر ہر نام ۔ الہٰی نام۔ سچ ۔ سرون۔ ۔چیہہ سنیا۔ بساہا۔ سوداگری کی خرید ۔ دھیرج ۔ سنجیدگی ۔ گھٹ ۔د ل ۔ جن۔ خادم۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے میری جان دوسروں کی اُمیدیں متا کر واحد خدا کا آسرا لے ۔ اے نانک نام یعنی الہٰی سچا تمام کام ٹھیک ہوجاتے ہین۔ ( پوڑی ) بھٹکن دوڑ دہوپ تب مٹتی ہے اگر صحبت و قربت پاکدامناں خدا رسیدگا ن ( سنت) کی مل جائے ۔ الہٰی حجور کی درگاہ و دربار سے کرم وعنایت اور رحمت ہو تو انسانی من نورانی یعنی علم وہنر کسےمونر ہوجاتاہے ۔ یعنی زندگی گذار نیگا صحیح راستہ دیرافت ہوجاتا ہے ۔ سچا ساہو کار اور حقیقی سرمایہ وہی ہے ۔ الہٰی سرمایہ دلمیں خدا کا نام بسانا ہے ۔ اسے شہرت عظمت سنجیدگی ملتی ہے ۔ جو الہٰی نام میں توجہ دینے میں توجہ س سے سنتے ہیں۔ جن کے دلمیں مرشد کے وسیلے سے بستا ہے ۔ اے نانک۔ وہ شہرت و عظمت پاتے ہین۔
سلوکُ ॥
نانک نامُ نامُ جپُ جپِیا انّترِ باہرِ رنّگِ ॥
گُرِ پوُرےَ اُپدیسِیا نرکُ ناہِ سادھسنّگِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ننّنا نرکِ پرہِ تے ناہیِ ॥
جا کےَ منِ تنِ نامُ بساہیِ ॥
نامُ نِدھانُ گُرمُکھِ جو جپتے ॥
بِکھُ مائِیا مہِ نا اوءِ کھپتے ॥
ننّناکارُ ن ہوتا تا کہُ ॥
نامُ منّت٘رُ گُرِ دیِنو جا کہُ ॥
نِدھِ نِدھان ہرِ انّم٘رِت پوُرے ॥
تہ باجے نانک انہد توُرے ॥੩੬॥
لفظی معنی:
(سلوک ) نام نام ۔ الہٰی نام۔ جپ جپیا۔ ریاض ۔ یاد کرنا۔ انتر۔ باہر۔ ہر جگہ ۔ رنگ۔ پریم ۔ پیار۔ گر پورے ۔ کام مرشد۔ اپدیسیا۔ سبق سے ۔ نرک ۔ دوزخ۔ سادھ سنگ۔ پاکدامن کی صحبت میں ( پوڑی ) نام بسا ہی ۔ نامیعنی سچ بس جائے ۔ندھان۔ خزانہ ۔ دکھ ۔ زہر۔ کھپے ۔مشغول۔ ننتاکار۔ انکار۔ منت۔ سبق ۔ انحد۔ بغیر رکے
ترجمہ معہ تشریح:
سلوک ) جنہوں نے اے نانک۔ کاروبار کرتے ہوئے خدا کو یاد رکھا کامل مرشد نے انہیں ان کے نزدیک ہی دیدار کرا دیا ۔ مرشد کامل کے سبق سے اور پاکدامنوں کی صحبت سے دوزخ نصیب نہیں ہوتا۔ ( پوڑی ) جن کے دل وجان میں خدا بسا ررہتا ہے ۔ جو انسان مرشد کے وسیلے سے نام کو سب اوصاف کا خزانہ سمجھ (کے ) کر الہٰیریاض کرتے ہین وہ روحانی موت مارنے والی مائیا کے لئے جدو جہدو نہیں کرتے جنہیں مرشد سے سبق حاصل کر لیا ۔ ان کی زندگی کے سفر میں کوئی روک نہیں آتی ۔ اے نانک۔جن کے دل سب اوصاف کے کزانے الہٰی نام سے مخمور رہتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ دلی اور روحانی سکنو رہتاہے ۔
سلوکُ ॥
پتِ راکھیِ گُرِ پارب٘رہم تجِ پرپنّچ موہ بِکار ॥
نانک سوئوُ آرادھیِئےَ انّتُ ن پاراۄارُ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
پپا پرمِتِ پارُ ن پائِیا ॥
پتِت پاۄن اگم ہرِ رائِیا ॥
ہوت پُنیِت کوٹ اپرادھوُ ॥
انّم٘رِت نامُ جپہِ مِلِ سادھوُ ॥
پرپچ دھ٘روہ موہ مِٹنائیِ ॥
جا کءُ راکھہُ آپِ گُسائیِ ॥
پاتِساہُ چھت٘ر سِر سوئوُ ॥
نانک دوُسر اۄرُ ن کوئوُ ॥੩੭॥
لفظی معنی:
(سلوک )
پت۔ عزت۔ گر۔ مرشد۔ پار برہم۔ کامیابی عنایت کرنے والا۔ پرینچ۔ دکھاوا ( پوڑی ) پرمت۔ اندازہ ۔ پتت۔ ناپاک۔ بد اخلاق ۔ اگم۔ انسانی رسائی سے بلند ۔ پنیت۔ پاک ۔ اپرادہو۔ بداخلاق ۔ گناہگار ۔ پریح۔ دکھاوا۔ دھروہ ۔ دہوکا۔ گوسائین۔ مالک ۔
ترجمہ معہ تشریح:
)سلوک )
جس انسان کی عزت و آبرو کامیابی عنایت کرنے والے مرشد نے عنایت کی اس نے دہوکا دہی اور بداخلاق و بد کاری جس کے اوصاف کا شما رنہیں ۔ جن کی حیثیت لا محدود ہے ( پوڑی ) خدا انسانی رسائی سے بلند ہے ۔ وہ بدا خلاق اور گناگاروں اور ناپاک لوگوں کو پاک بنا دیتا ہے ۔ پاکدامنوں کی سحبت و قربت میں الہٰی اب حیات نام کی ریاض کرتے ہیں۔ ان کی زندگی روحانی اور پاک ہوجاتی ہے ۔ اے خدا جس کی تو حفاظت کرتا ہے ۔ تیری حمدوچناہ کری برکت سے انسان کے دل ودماگ سے دہوکا دہی فریب اور مکاری ختمہوجاتی ہے ۔ اےنانک ۔ خدا شہنشہا ہون کا شہنشاہ ہے دوسر اکوئی اسکا ثانی نہیں ۔
سلوکُ ॥
پھاہے کاٹے مِٹے گۄن پھتِہ بھئیِ منِ جیِت ॥
نانک گُر تے تھِت پائیِ پھِرن مِٹے نِت نیِت ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
پھپھا پھِرت پھِرت توُ آئِیا ॥
د٘رُلبھ دیہ کلِجُگ مہِ پائِیا ॥
پھِرِ اِیا ائُسرُ چرےَ ن ہاتھا ॥
نامُ جپہُ تءُ کٹیِئہِ پھاسا ॥
پھِرِ پھِرِ آۄن جانُ ن ہوئیِ ॥
ایکہِ ایک جپہُ جپُ سوئیِ ॥
کرہُ ک٘رِپا پ٘ربھ کرنیَہارے ॥
میلِ لیہُ نانک بیچارے ॥੩੮॥
لفظی معنی:
(سلوک ) گون۔ بھٹکن۔ پھاہے ۔ پھندے ۔ چال۔ فتح بھی من جیت ۔ من اور بدا خلاقیوں بدکاریون پر قابو پائیا ۔ تھت ۔ سکون ( پوڑی ) پھرت ۔ پھرت۔ بھٹکتے بھٹکتے ۔ درلبھ ۔ دیہہ۔ نایاب ہجسم۔ یا انسانی زندگی ۔ ایا۔ یہ ۔ اوسر۔ موقعہ۔ پھاسا۔ پھندہ ۔ آون جان۔ تناسخ۔ نانک ویچارے ۔ ویچارے ۔ نانک کو ۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) دل پر قابو پالینے سے پھندے کٹ جاتے ہیں۔ تناسخ مت جاتا ہے ۔ اے نانک جس انسان کو مرشد سکون عنایت کرتا ہے ۔ اسکا تناسخ مٹ جاتا ہے ۔ اے انسان تو علام میں بھٹکتے بھتکتے کو انسانی زندگی میسر ہوئی ہے ۔ اگر اب بھی دنیاوی دولت کی بندشوں میں گرفتار رہا تو ایسا سنہری موقع دوبار حاصل نہ ہوگا ۔ اے انسان اگر خدا کو یاد رکھیگا تو دنیاوی دولت کی تمام بندشیں مٹ جائیگی ۔ تناسخ نہ آئیگا۔ اے انسان صرف خدا واحد کو یاد رکھ ۔ اے نانک خدا سے گذار ش کر جو کارسازہ پیدار کرنے والاہے ۔ کہ کرم وعنایت فرما اور ملاپ عنایت فرما
سلوکُ ॥
بِنءُ سُنہُ تُم پارب٘رہم دیِن دئِیال گُپال ॥
سُکھ سنّپےَ بہُ بھوگ رس نانک سادھ رۄال ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ببا ب٘رہمُ جانت تے ب٘رہما ॥
بیَسنو تے گُرمُکھِ سُچ دھرما ॥
بیِرا آپن بُرا مِٹاۄےَ ॥
تاہوُ بُرا نِکٹِ نہیِ آۄےَ ॥
بادھِئو آپن ہءُ ہءُ بنّدھا ॥
دوسُ دیت آگہ کءُ انّدھا ॥
بات چیِت سبھ رہیِ سِیانپ ॥
جِسہِ جناۄہُ سو جانےَ نانک ॥੩੯॥
لفظی معنی:
(سلوک ) بنو ۔ گذارش ۔ عرض ۔ پار برہم ۔ کامیابی عنایت کرنے والے ۔ دین۔ غریب۔ دیال۔ مہربان۔ سنپے ۔ جائیدا۔ بھوگ رس۔ نعمتوں کا لطف ۔ سادھ روال۔ سادھ کی دہول ( پوڑی ) برہم ۔خدا۔ برہما۔ جسے خدا کی پہچان ہے ۔ ویسنو وگورمکھ ۔خدا رسیدہ ۔ مریدان مرشد۔ سچ دھرما ۔ سچا دھرم۔ سچا عیقدہ ۔ حقیقی فرائض۔ بیا۔ بہادر۔ برا۔ برائی۔ سیانپ ۔ عقلمندی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے خداوند کریم تو پار لگانے وال اغریبوں پر رحم کرنے والا ہے ۔ میری ایک عرض سنیئے ۔ مجھے ۔ آرام آسائش اور دنایوی نعمتوں کی لذت و لطف کو اے نانک سادہوں کی دہول سمجھوں ایسی سمجھ عنایت کر ( پوڑی ) حقیقی برہمن وہ ہے جسے برہما مراد خدا کی پہچان ہے اور اصلی ویسنو وہ ہے جو مرشد سے روحانی پاکیزگی کے فرائض سر انجام دیتے ہین۔ اس طڑح سے حقیقی جنگجو ۔ باہدر وہ ہے اپنے آپ کی دوسروں کے خلاف برائی مانگتے کا نشان مٹا دے اور اپنی برائیاں ختم کر دے ۔ تب رائی اسکے نزدیکنہیں پھتکے گی ۔ انسان اپنی ہی خودیمیں گرفتار رہتا ہے ۔ جب کہ الزام دوسروں پر نادان لگاتا ہے ۔ اے نانک۔ صرف۔ زبانی گفت و شنید ۔ بات چیت سے اور عقلمندی سے ہی کامیابی نہیں ملتی ۔ اے خاوند کریم جس نے تو اس زندیگ کا صحیح سفر۔ اور راستے کی سمجھ عنایت فرمائے وہی سمجھ پاتا ہے ۔
سلوکُ ॥
بھےَ بھنّجن اگھ دوُکھ ناس منِہ ارادھِ ہرے ॥
سنّتسنّگ جِہ رِد بسِئو نانک تے ن بھ٘رمے ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
بھبھا بھرمُ مِٹاۄہُ اپنا ॥
اِیا سنّسارُ سگل ہےَ سُپنا ॥
بھرمے سُرِ نر دیۄیِ دیۄا ॥
بھرمے سِدھ سادھِک ب٘رہمیۄا ॥
بھرمِ بھرمِ مانُکھ ڈہکاۓ ॥
دُتر مہا بِکھم اِہ ماۓ ॥
گُرمُکھِ بھ٘رم بھےَ موہ مِٹائِیا ॥
نانک تیہ پرم سُکھ پائِیا ॥੪੦॥
لفظی معنی:
(سلوک ) بھے ۔ خوف۔ بھجن۔ مٹانے والا ۔ اگھ ۔ پاپ۔ دوکھ ۔ عذاب۔ ارادھ۔ یاد رک۔ سنت سنگ ۔ پاکدامن مرشد کی صحبت و قربت۔ بھرمے ۔ (پوڑی ) بھرم۔ شک ۔ شبہ ۔د ل کی دوڑ دہوپ ۔ بھٹکن۔ سپنا۔ خواب۔ سر۔ فرشتے ۔نر۔ انسان۔ دیو۔ دیوتے ۔سیدھ ۔خدارسیدہ ۔ پاکدامن۔ سادھک ۔ پاکدامنی کے طالب۔ برہمیو۔ برہما جیسے عالم۔ ڈہکئے ۔ڈگمگانا ۔ مایوسی کا عالم ۔ دتر۔ ناقابل عبور۔ مہاں۔ بھاری ۔ وکھم ۔ دشوار۔ گورمکھ ۔مرشد۔ پرم سکھ ۔ بھاری آرام و آسائش ۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) خوف مٹانے والے گناہوں کو ختم کردینے والے خدا کو دلمیں بساو۔ یاد رکھو ۔ اے نانک جسے صحبت و قربت پاکدامناں و مرشداں نصیب ہو جائے اور خدا دلمیں بس جائے ان کے شکوک وشبہات اور دلی بھٹکن ختم ہوجاتے ہیں ( پوڑی ) اے انسان اپنی دل کی بھٹکن ختم کر ۔ یہ عالم ایک خواب کی ماندند ہے ۔ بہشتی انسان اور انسان فرشتے اور دیوی دیوتے بھی بھٹکتے رہے ہین۔ خدا رسیدہ پاکدامن برہما جیسے عالم فاضل بھی بھٹکتے رہے ۔ وہم وگمان میں اسنان ڈگمگاتا ہے ۔ اور بھٹکتا رہتا ہے ۔ یہ دنیاوی نعمتیں ایک دشوار گذار سمند رکی مانند ہین۔ جسے عبور کرنا نہایت دشوار ہے ۔ اے نانک۔ جنہون نے سبق مرشد سے عشق عالم خوف اور دل کی بھٹکن دور دہوپ ختم کر لی ۔ انہیں بھاری آرام و آسائ نصیب ہوئی ۔
سلوکُ ॥
مائِیا ڈولےَ بہُ بِدھیِ منُ لپٹِئو تِہ سنّگ ॥
ماگن تے جِہ تُم رکھہُ سُ نانک نامہِ رنّگ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
مما ماگنہار اِیانا ॥
دینہار دے رہِئو سُجانا ॥
جو دیِنو سو ایکہِ بار ॥
من موُرکھ کہ کرہِ پُکار ॥
جءُ ماگہِ تءُ ماگہِ بیِیا ॥
جا تے کُسل ن کاہوُ تھیِیا ॥
ماگنِ ماگ ت ایکہِ ماگ ॥
نانک جا تے پرہِ پراگ ॥੪੧॥
لفظی معنی:
)سلوک )
مائیا۔ دنیاوی دولت۔ ڈوے ۔ ڈگمگاتا ہے ۔ بہو ۔ بہت بدھی ۔ طریقے ۔ پٹیو۔ ملوچ۔ سنگ۔ ساتھ۔ مانگن ۔ مانگنے سے ۔ رکھو۔ بچاو۔ نامیہہ۔ سچ اور سچے نام سے ۔ رنگ۔ پریم پیار ( پوڑی ) ایانا۔ نا سمجھ ۔ نادان۔ سجانا۔ دانشمند ۔ مورکھ ۔ جاہل۔ کھ ۔ کیون ۔ پکار۔ شکوے ۔ شکایت۔ گلہ ۔ بیا۔ دکگر۔ کسل۔ روحانی آرام و آسائش۔ سکون ۔ پر ہے ۔ پراگ۔ عبور حاصل ہو ۔
ترجمہ معہ تشریح:
انسانی دل بیشمار طرز و طنز سے دنیاوی دولت کی خاطر ڈگمگاتا ہے دوڑ دہوپ اور جہدو و ترو کرا رہتا ہے اور ( مائیا ) یا دنیاوی دولت سے رابطہ قائم رکھتا ہے اے خدا جسے تم مانگتے سے روکتے ہو ۔ اے نانک۔ اسکا سچ اور الہٰی نام سے محبت ہوجاتی ہے ۔ ( پوڑی ) نادان انسان ہر وقت دولت مانگتا رہتا ہے ۔ اے دانشمند دینے والا دے رہا ہے ۔ اے نادان بے سمجھ من تو کیوں دولت کے لئے گلے شکوے آہ وزاری کر رہا ہے ۔ اس نے جو دیتا ے ۔ ایک ہی دفعہ دیدیا ہے ۔ تو مانگتا ہے دوسری چیز یں ہی مانگتا ہے ۔ جن سے کسی کو روحانی سکون حاصل نہیں ہوا۔ اے نانک۔ اگر تو نے خدا سے مانگتا ہے ۔ تو سچ اور الہٰی نام کی مانگ کر جس کی برکات و رحمت سے دنیاوی نعمتوں کی مانگ پر عبور حاصل ہوجائیگا۔
سلوکُ ॥
متِ پوُریِ پردھان تے گُر پوُرے من منّت ॥
جِہ جانِئو پ٘ربھُ آپُنا نانک تے بھگۄنّت ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
مما جاہوُ مرمُ پچھانا ॥
بھیٹت سادھسنّگ پتیِیانا ॥
دُکھ سُکھ اُیا کےَ سمت بیِچارا ॥
نرک سُرگ رہت ائُتارا ॥
تاہوُ سنّگ تاہوُ نِرلیپا ॥
پوُرن گھٹ گھٹ پُرکھ بِسیکھا ॥
اُیا رس مہِ اُیاہوُ سُکھُ پائِیا ॥
نانک لِپت نہیِ تِہ مائِیا ॥੪੨॥
لفظی معنی:
(سلوک ) مت پوری ۔ کامل عقل۔ پوری سمجھ۔ پردھان۔ باوقار ۔ لوگون میں مانا ہوا۔ گر پورے ۔ من منت۔ جس کے دلمین کامل مرشد کا سبق بس جائے ۔ جیہہ جانیو ۔ جس نے سمجھ لیا ۔ بھگونت ۔ خوش قسمت ( پوڑی ) جاہو۔ جس نے ۔ مرم ۔راز۔ بھید۔ بھیٹت۔ ملاپ ۔ سادھ سنگ۔ ملاپ اور صحبت و قربت پاکدامناں۔ پتیانا ۔ عقیدہ یا عقیدت حاصل ہوجانا۔ سمت ۔ یکسان ۔ ایک ہی ۔ برابر رہت اوتار ۔ پڑے سے بچنا۔ تاہو سنگ ۔ اسکا ساتھ ہو ۔ تاہو ترلیپا ۔ تبھی پاک ہوگے ۔ بلاتاثر۔ وسیکھا ۔ خاص طور پر ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جن کے دل میں کامل مرشد کا سبق گھر کر لیتا ہے وہ عاقل اور مقبول ہوجاتے ہین۔ جنہوں نے اپنے کدا کی سمجھ پال اے نانک وہ خوش قسمت ہے (1) جنہوں نے الہٰیر از سمجھ لا اور پاکدامنوں کی سحبت سے عقیدہ تمندی حاصل کر لی ان کے دلمیں عذاب و آسائش ایک سے مراو برابر ہوجاتے ہین۔ وہ بہشت اور دوزخ کے احساس سے بچ جاتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ سے بے تاثر بیلاگ ہوجاتے ہیں۔ انہیں ہر دلمیں الہٰینور بستا دکھائی دیتا ہے ۔ اے نانک۔ اس لطف میں انہیں روحانی آرام حاصل ہوتا ہے ۔ اور دنیاوی دولت ان پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔
سلوکُ ॥
زار میِت سُنِ ساجنہُ بِنُ ہرِ چھوُٹنُ ناہِ ॥
نانک تِہ بنّدھن کٹے گُر کیِ چرنیِ پاہِ ॥੧॥
پۄڑیِ ॥
ززا جتن کرت بہُ بِدھیِیا ॥
ایک نام بِنُ کہ لءُ سِدھیِیا ॥
زاہوُ جتن کرِ ہوت چھُٹارا ॥
اُیاہوُ جتن سادھ سنّگارا ॥
زا اُبرن دھارےَ سبھُ کوئوُ ॥
اُیاہِ جپے بِنُ اُبر ن ہوئوُ ॥
زاہوُ ترن تارن سمراتھا ॥
راکھِ لیہُ نِرگُن نرناتھا ॥
من بچ ک٘رم جِہ آپِ جنائیِ ॥
نانک تِہ متِ پ٘رگٹیِ آئیِ ॥੪੩॥
لفظی معنی:
( سلوک ) یار ۔ دوست۔ ساجن۔ دوست۔ چھوٹن۔ نجات۔ بندھن۔ غلامی ۔ چرنی ۔ پاؤں ( پوڑی ) یا ۔ پنجابی اور ہندی کا ایک لفط۔ جتن ۔ کوشش ۔ جہد ۔ بدھیا۔ بہت سے طریقوں سے ۔ ایک نام یعنی سچائی ۔ سدھیا۔ پاکیزگی ۔ یا ہو یہی ۔ ہوت۔ ہوگا۔ چھٹارا۔ نجات۔ خلاصی ۔ آواہو ۔ وہی ۔ سادھ سنگار۔ نیکیوں پاکدامنوں کی صحبت و قربت ۔ ابھرن۔ بچاؤ۔ جپے ۔ یاد خدا۔ اُبھر۔ بچاؤ۔ سمراتھا۔ طاقت۔ یوگنا۔ نرگن۔ بے اوصاف۔ نرتا تھا ۔ بے مالکون کے مالک ۔ من بچ کرم آپ جنائی ۔ جو دل کلام اور اعمال سے نمایاں کرتا ہے ۔ خود کو
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے دوستوں سنو الہٰی ریاض و عبادت کے بغیر دنیاوی دولت کی غلامیوں سے آزادی میسر نہ ہوگی ۔ اے نانک ۔ جو پائے مرشد کے گر ویدہ ہوجاتے ہیں انہیں نجات مل جاتی ہے ( پوڑی ) بہت کوشش و کاوشون کے باوجود اور بہت سے طریقے استعمال کرکے بھی بتاو کس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ جس کوشش و کاوش سے کامیابی ملتی ہے وہ پاکدامن خدا رسیدون کی صحبت و قربت ہے ۔ اپنا آپ دنایوی بندھوں سے نجات کے لئے تتو ہر ایک رکتا ہے ۔ مگر ریاض و عبات کے بغیر نجات حاصل نہ ہوگی ۔ نہ بچ سکیگا ۔ وہی کامیابی عنایت کرنے کے لائق ہے ۔ اے مالک علام ہمیں بے اوصافوں کو بچا ؤ تو ہی ا لائق ہے ۔ اے نانک۔ جن انسانوں نے اپنے دلمیں کالم اور اعملا کے ذریعے اپنے آپ بچانے کے لئے نمایان عقل و دانش پیدا کرلی ہے ان کی عقل و دانش نمایاں ہوجاتی ہے ۔
سلوکُ ॥
روسُ ن کاہوُ سنّگ کرہُ آپن آپُ بیِچارِ ॥
ہوءِ نِمانا جگِ رہہُ نانک ندریِ پارِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
رارا رین ہوت سبھ جا کیِ ॥
تجِ ابھِمانُ چھُٹےَ تیریِ باکیِ ॥
رنھِ درگہِ تءُ سیِجھہِ بھائیِ ॥
جءُ گُرمُکھِ رام نام لِۄ لائیِ ॥
رہت رہت رہِ جاہِ بِکارا ॥
گُر پوُرے کےَ سبدِ اپارا ॥
راتے رنّگ نام رس ماتے ॥
نانک ہرِ گُر کیِنیِ داتے ॥੪੪॥
لفظی معنی:
روس۔ غصہ ۔ آپن آپ ۔ خوئش ۔ خود۔ ویچار ۔ سمجھ ۔ نمانا۔ بغیر مان ۔ بے وقار۔ عاجز۔ جگ ۔ عالم۔ دنیا ۔ تدری ۔نظر عنایت ( پوڑی ) رین ۔ دہول۔ ابھیمان۔ غرو ر۔ تکبر ۔ باقی ۔ حساب اعملا جو تیرے زمہ بقائیا ہے ۔ رن ۔ جنگ ۔ درگیہہ۔ الہٰی دربار۔ سیجیہہ۔ کامیاب ہوگا۔ دکارا۔ بدکاریاں ۔ گناہگاریاں ۔ گر پورے ۔ کامل مرشد۔ سبد اپارا۔ بے حد کلام ۔ راتے ۔ مخمور۔ ماتے ۔ مست۔
ترجمہ معہ تشریح:
کسی سے گلہ اور شکوہ نہ کرؤ ۔ اپنے آپ کی پڑتال اور نشیب و فراز کو سمجھو ۔ جولوگوں میںع الم میں سجیدہ بطور عاجز اور مسکین ہوکر رہیگا۔ اے نانک۔ تو الہٰی نظر عنایت سے دنیاوی زندگی میں کامیاب ہوگا ۔ (پوڑی ) سارا عالم جس کی دہول یا ہے اے انسان تو بھی غرور اور تکبر چھوڑ دے تاکہ تیرے اعمالنامے کی حساب کی باقی جو تیرے بقائیا ہے ختم ہوجائے ۔ اس دنایوی جہاد میں تجھے تبھی کامیابی حاصل ہوگی ۔ جب تو مرشد کے وسیلے سے الہٰی نام سے پیار کریگا۔ اس طرح سے آہستہ آہستہ تیرے بدکار ختم ہوجائیگے ۔ اے نانک۔ جنہیں مرشد الہٰی نام کی نعمت عنایت کی ہے ۔ وہ الہٰی نام سے مخمور رہتے ہیں اور اس کے نام کا لطف لیتے ہیں۔
سلوکُ ॥
لالچ جھوُٹھ بِکھےَ بِیادھِ اِیا دیہیِ مہِ باس ॥
ہرِ ہرِ انّم٘رِتُ گُرمُکھِ پیِیا نانک سوُکھِ نِۄاس ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
للا لاۄءُ ائُکھدھ جاہوُ ॥
دوُکھ درد تِہ مِٹہِ کھِناہوُ ॥
نام ائُکھدھُ جِہ رِدےَ ہِتاۄےَ ॥
تاہِ روگُ سُپنےَ نہیِ آۄےَ ॥
ہرِ ائُکھدھُ سبھ گھٹ ہےَ بھائیِ ॥
گُر پوُرے بِنُ بِدھِ ن بنائیِ ॥
گُرِ پوُرےَ سنّجمُ کرِ دیِیا ॥
نانک تءُ پھِرِ دوُکھ ن تھیِیا ॥੪੫॥
لفظی معنی:
( سلوک ) دکھے ۔ بدکاریاں۔ گناہگاریان۔ بیادھ۔ بیماریاں۔ انمرت۔ آب حیات۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ( پوڑی ) اوکھد ۔ دوائی ۔ کھنا ہو۔ بہت جلد ۔ فوراً بتادے ۔ بسائے ۔ روگ۔ بیماری ۔ سپنے ۔ خواب میں۔ ہراوکھد۔ الہٰید وائی۔ گھٹ۔ دل ۔ گرپورے ۔ کامل مرشد۔ بدھ۔ طریقہ ۔ جانچ۔ سنجم۔ پرہیز گاری ۔ تھیا۔ ہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
عام طور پر انسانی جسم میں شہوت ۔ بدکاریاں لالچ اور کفر بستا ہے ۔ اے نانک جسے مرشد کے وسیلے سے الہٰی نام جو زندگی کے لئے آب حیات ہے نو شکیا آرام و آسائش پائیا ۔
(پوڑی ) للا جسے نام کی کیمیا دوائی حاصل ہو جائے ۔ اس کے عذاب و مصائب فور ا ختم ہوجاتے ہیں۔ نام یعنی سچ کی دوائی دلمیں بسا لے تو خواب میں بھی کوئی بھی کوئی بیماری نہیں آئیگی الہٰی دوئی اے بھائی سب کے دل میں تو ہے ۔ مگر کا مل مرشد کے بغیر اس کے استعمال کرنے اور زیر کار لانے کے طریقے کا پتہ نہیں چلتا ہے ۔ جب کامل مرشد نے اس کے استعمال اور پرہیز اور پرہیز گاری کے طور طریقے بتادے ہون اور مقرر کر دیئے ہوں۔ تب اے نانک۔ عذاب نہیں آتا۔
سلوکُ ॥
ۄاسُدیۄ سربت٘ر مےَ اوُن ن کتہوُ ٹھاءِ ॥
انّترِ باہرِ سنّگِ ہےَ نانک کاءِ دُراءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ۄۄا ۄیَرُ ن کریِئےَ کاہوُ ॥
گھٹ گھٹ انّترِ ب٘رہم سماہوُ ॥
ۄاسُدیۄ جل تھل مہِ رۄِیا ॥
گُر پ٘رسادِ ۄِرلےَ ہیِ گۄِیا ॥
ۄیَر ۄِرودھ مِٹے تِہ من تے ॥
ہرِ کیِرتنُ گُرمُکھِ جو سُنتے ॥
ۄرن چِہن سگلہ تے رہتا ॥
نانک ہرِ ہرِ گُرمُکھِ جو کہتا ॥੪੬॥
لفظی معنی:
( سلوک ) واسدیو۔ خدا۔ سر بتر۔ سب میں۔ اون ۔ کمی ۔ کتہو ٹھائے ۔ کسی جگہ ۔ انتر ۔ باہر۔ راد ہر جگہ ۔ سنگ۔ ساتھ ۔ کائے ۔ کہیں ۔ درائے ۔ دور (پوڑی ) ویر ۔ دشمنی ۔ کاہوں ۔ کسی سے ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں سماہو۔ بستا ہے ۔ سمائیا ہوا ہے ۔ رویا۔ سمائیا ہوا۔ گوئیا۔ گاویا۔ اسی تک رسید حاصل کی ۔ تیہہ۔ اس کے ۔ ہر کیرتن۔ الہٰی حمدوچناہ ۔ ورن چہن ۔ ذلت اور شکل وصورت ۔ سگلیہہ ۔ سب سے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) خدا سب میں سب جگہ بستا ہے ۔ کہیں اس میں کوئی کمی واقع نہی ہوتی ۔ ہر جگہ انسان کے ساتھ ہے ۔ اے نانک کہیں دو رنہیں ( پوڑی ) کسی سے دشمی مت کر اے انسان کیوں ہر دلمیں خدا بستا ہے ۔ خدا زمین اور سمندر ہر جگہ بستا ہے مگر رحمت مرشد سے کوئی شاذو نادر ہی اس کی حمدوچناہ کرتا ہے ۔ اس کے دل سے خلافت اور دشمنی ختم وہجاتی ہے ۔ جو مریدان مرشد سے الہٰی حمدوثناہ سنتے ہیں۔ خاد کی نہ وکوئی ات اور نسل ہے نہ کوئی شکل وصورت ۔ اے نانک جو کوئی بھی الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔
سلوکُ ॥
ہءُ ہءُ کرت بِہانیِیا ساکت مُگدھ اجان ॥
ڑڑکِ مُۓ جِءُ ت٘رِکھاۄنّت نانک کِرتِ کمان ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ڑاڑا ڑاڑِ مِٹےَ سنّگِ سادھوُ ॥
کرم دھرم تتُ نام ارادھوُ ॥
روُڑو جِہ بسِئو رِد ماہیِ ॥
اُیا کیِ ڑاڑِ مِٹت بِنساہیِ ॥
ڑاڑِ کرت ساکت گاۄارا ॥
جیہ ہیِئےَ اہنّبُدھِ بِکارا ॥
ڑاڑا گُرمُکھِ ڑاڑِ مِٹائیِ ॥
نِمکھ ماہِ نانک سمجھائیِ ॥੪੭॥
لفظی معنی:
( سلوک ) ہوء ہوء ۔ خودی میں ملوث ۔ دہانیا۔ زندگی ۔ گذارتا ہے ۔ ساکت۔ مادہ پرست۔ دنیاوی دولت سے محبت کرنے والا۔ مگدھ ۔ جاہل۔ اجان۔ نالائق ۔ نادان۔ ڑڑک ۔ عذاب۔ تکلیف ۔ درد۔ نرکھا ونت۔ پیاسا۔ کرت۔ مزدوری ۔ محنت ۔ مشقت ( پوڑی ) ڑاڑ۔ درد۔ سنگ ۔ ساتھ۔ سادہو۔ پاکدامن ۔ کرم اعمال۔ دھرم۔ فرائض انسانی ۔ تت ۔ اصلیت ۔ حقیقت۔ نام اردہو ۔ یا د ھققت۔ سچ کی یاد۔ روڑو ۔ خوبصورت ۔ رد۔ دل ۔ ڑاڑ۔ درد۔ ونسا ہی ۔ مٹ جاتی ہے ۔ ڑاڑ ۔ ضد ۔ اہنبدھ ۔ غرور۔ گھمنڈ۔ وکارا۔ بدکار۔ گورمکھ ۔مرید مرشد۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ نمکھ ۔ فوراً ۔ سمجھائی ۔ سمجھانے سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلو ک ) مادہ پرست دنیاوی دولت کے دلدادہ انسان کی عمر خودی اور تکبر میں گذارتی ہے ۔ اس کے دلمیں ہمیشہ بندی کا کیال رہتا ہے ۔ کیونکہ اسے روحانیت اور حقیقت سے نادان اور نا سمجھ ہے ۔ اے نانک۔ خودی کے زیر سایہ کئے ہوئے کاموں اور کار کی وجہ سے خودی کا کانٹا ان کی روحانی موت کا سبب بنتاہے ۔ جیسے پیارا پانی کے بغیر ایسے ہی وہ روحانی سکون کے بغیر تڑ پتا اور کراہتا ہے ۔ ( پوری ) انسان کے دل سے خودی اور تکبر کا درد پاکدامن خدا رسید گان کی صحبت و قربت سے دور ہو تا ہے اعمال اور انسانی فرائض کی بنیاد اور حقیقت الہٰی نام سچ حق و حقیقت ہے ۔ ایسا خوبصور تعقیدہ اور خیال جس دل یں بس جائے ۔ اس کے دل سے خودی اور تکبر کا درد مٹ جاتاہے ۔ یہ خودی تکبر اور گھمنڈ کا درد ان کے دل میں ہمیشہ قائم رہتا ہے ۔ جن کے دلمیں گرور اور تکبر گھر کر جاتا ہے ۔ اے نانک ۔ جنہوں نے غرور اور تکبر دل سے نکال دیا انہیں مرشد فوراً سے پیشتر ہی روحانی جھلک دکھا دیتا ہے ۔ اور سمجھتا دیتا ہے ۔
سلوکُ ॥
سادھوُ کیِ من اوٹ گہُ اُکتِ سِیانپ تِیاگُ ॥
گُر دیِکھِیا جِہ منِ بسےَ نانک مستکِ بھاگُ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
سسا سرنِ پرے اب ہارے ॥
ساست٘ر سِم٘رِتِ بید پوُکارے ॥
سودھت سودھت سودھِ بیِچارا ॥
بِنُ ہر بھجن نہیِ چھُٹکارا ॥
ساسِ ساسِ ہم بھوُلنہارے ॥
تُم سمرتھ اگنت اپارے ॥
سرنِ پرے کیِ راکھُ دئِیالا ॥
نانک تُمرے بال گُپالا ॥੪੮॥
لفظی معنی:
سادہو ۔ وہ انسان ج س نے اپنا من ( دامن ) پاک بنایا ہے ۔ تمام دانشمندیاں چھوڑو ۔ اوٹ۔ آسرا۔ اکتسیانپ ۔د وسری دانشمندیاں۔ ویکھیا۔ سبق۔ مستک ۔ پیشانی ۔ بھاگ ۔ قسمت ( پوڑی ) شاشتر ۔ ہندو قلعوں کی چھکتا ہیں۔ پکارے ۔ بیان کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں۔ بھولنہارے ۔ بھولنے والے ۔ اگنت۔ اپارے ۔ جو شمار نہیں ہو سکتے جن کا کوئی حد طے نہین لا محدود۔ راکھ ۔ بچاؤ۔ دیالا۔ مہربان۔ بال ۔ بچے ۔ گوپال۔ خدا۔
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
اے دل تو پاکدامن خدا رسیدہ جسنے اپنا دامن پاک بنالیا ہے اسکا سہارا لے اور دوسرے دائل اور دانشمندیاں چھور دے ۔ اے نانک جس کے دلمیں سبق مرشد بس جائے وہ خوش قسمت ہے (پوڑی ) اے میرے خدا اب شکستہ دل ہوکر تیری پناہ میں ائیا ہوں۔ ہندو فسلفہ کے ساشتر بھی یہی بتاتے ہیں اور ان پر غور و کوض کے بعد یہ تیجہ اخذ کیا ہے یہ سمجھ بنی ہے کہ الہٰی عبادت و حمدوثناہ کے بغیر دنیاوی دولت کی غلامی سے نجات حاصل نہیں ہو سکتی ۔ ہم ہر سانس بھولتے ہیں۔ اے خدا اور بے پناہ قوتوں کے مالک ہو ۔ اے نانک۔ ہم خدا کے بچے ہیں تو مہربان ہے ۔ اپنی پناہ آئے ہوئے کی عزت بچاؤ۔ اے خدا۔
سلوکُ ॥
کھُدیِ مِٹیِ تب سُکھ بھۓ من تن بھۓ اروگ ॥
نانک د٘رِسٹیِ آئِیا اُستتِ کرنےَ جوگُ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
کھکھا کھرا سراہءُ تاہوُ ॥
جو کھِن مہِ اوُنے سُبھر بھراہوُ ॥
کھرا نِمانا ہوت پرانیِ ॥
اندِنُ جاپےَ پ٘ربھ نِربانیِ ॥
بھاۄےَ کھسم ت اُیا سُکھُ دیتا ॥
پارب٘رہمُ ایَسو آگنتا ॥
اسنّکھ کھتے کھِن بکھسنہارا ॥
نانک ساہِب سدا دئِیارا ॥੪੯॥
لفظی معنی:
(سلوک ) خودی ۔ خوئشتا ۔ خود پسندی ۔ اسنگ ۔ صحبت ۔ ہند ۔ درسٹی ۔ زیر نظر۔ دیدار ۔ استت۔ صفت صلاح۔ ستائش ۔ جوگ۔ لائق ( پوڑی ) کھرا۔ ٹھیک۔ درست ۔ فراچو۔ ستائش ۔ تعریف۔ کھن ماہے ۔ فوراً سے پیشتر ۔ جلدی سے جلدی ۔ اوتے ۔ کم ۔ خالی ۔ سبھر۔ مکمل طور پر ۔ بھرا ہوا۔ بھر دیتا ہے ۔ نمانا۔ عاجز ۔ مسکین ۔ بے وقار۔ پرانی ۔ انسان ۔ نربانی ۔ بیلاگ۔ بلا واسظہ ۔ بھاوے ۔ بھاوے ۔ چاہے ۔ ادا۔ وہ ۔ اگتا ۔ شمار ور گنی سے باہر ۔ کھتے ۔ غلطیاں ۔ گناہ ۔ بخشنہار۔ معاف کرنے والا۔ صاحب ۔ آقا۔ مالک ۔ دیا ۔ مہربان ۔
ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
انسان کی خودی خود پسندی مٹنے سے انسان روحانی اور مادیاتی طور پر صحت مند اور روحانی سکون پاتا ہے ۔ اور اسے قابل حمدوثناہ کا نور نظر آئے لگتا ہے ۔ یعنی دیدار خدا پاتا ہے (پوڑی ) اس خدا کی تعریف کرؤ ج وفوراً سے پیشتر یعنی جلدی سے بھی جلدی انسانی دلوں جو بالکل اوصاف سے کالی ہوتے ہیں نیکیوں و اوصاف سے بھر دیتا ہے ۔ اور انسان عاجزی و انکساری سے روز و شب پاک خدا کی یاد میں محو رہتا ہے ۔ اسطرح سے انسان خدا کا دلدادہ اور محبوب ہوجاتا ہے ۔ا ور خد اسے روحانی سکون عنایت کرتا ہے ۔ اے نانک۔ خدا رحمان الرحیم بے پرواہ اور بخشش کرنے والا ہے ۔ وہ بیشمار لا مھدود و گناہوں کو معاف کر دیتا ہے ۔
سلوکُ ॥
ستِ کہءُ سُنِ من میرے سرنِ پرہُ ہرِ راءِ ॥
اُکتِ سِیانپ سگل تِیاگِ نانک لۓ سماءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
سسا سِیانپ چھاڈُ اِیانا ॥
ہِکمتِ ہُکمِ ن پ٘ربھُ پتیِیانا ॥
سہس بھاتِ کرہِ چتُرائیِ ॥
سنّگِ تُہارےَ ایک ن جائیِ ॥
سوئوُ سوئوُ جپِ دِن راتیِ ॥
رے جیِء چلےَ تُہارےَ ساتھیِ ॥
سادھ سیۄا لاۄےَ جِہ آپےَ ॥
نانک تا کءُ دوُکھُ ن بِیاپےَ ॥੫੦॥
لفظی معنی:
( سلوک ) ست۔ سچ ۔ سرن ۔ پناہ۔ زیر سایہ ۔ ہر رائے ۔ شہنشاہ ۔ خدا کی ۔ اکت۔ سوچ۔ سیانپ ۔ دانشمندی ۔ دلیل بازی۔ تیاگ۔ چھوڑ دے ۔ گر دیکھیا۔ سبق مرشد ۔ واعظ مرشد ۔ پندو نصائح مرشد ( پوڑی ) ایانا۔ نادان۔ نا سمجھ ۔ حکمت۔ دانائی ۔ پتیانا۔ آزمانا ۔ سہس ۔ ہزاروں۔ بھات ۔ طرز وطنز ۔ طریقوں۔ چترائی۔ چالاک ی ۔ سنگ۔ ساتھ۔ سؤ۔ اسے ۔ دن راتی ۔ روز و شب ۔ رے جیئہ ۔ اے میری جان ۔ دیاپے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
( سلوک ) اے دل میں سچ کہتا ہوں میری بات سن خدا کا سایہ قبول کرؤ جو شہنشاہ عالم ہے ۔ تمام دلائل اور دانشمندیاں اور چالا کیاں چھوڑ دے تاک ہخدا تجھے اپنالے ( پوڑی ) اے میری نادان نا اہل دل تمام چالاکیاں وادانائیا اور دلیل بازیوں اور فرماتوں سے خدا کا بھروسا حاصل نہیں ہو سکتا۔ خواہ تو ہزاروں قسم کی چالاکیاں کیوںنہ کرے اے انسان ایک بھی تیرے لئے مددگار ثابت نہ ہوگی ۔ اس لئے اے میری جان روز و شب الہٰی یاد میں محدرہ ۔ الہٰی یاد ہی تیری مددگار اور ساتھی ہوگی ۔ اے نانک۔ خدا ہے خود خدمت عنایت کرتا ہے وہی کرتا ہے اسے کوئی صعف نہیں آتا۔
سلوکُ ॥
ہرِ ہرِ مُکھ تے بولنا منِ ۄوُٹھےَ سُکھُ ہوءِ ॥
نانک سبھ مہِ رۄِ رہِیا تھان تھننّترِ سوءِ ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ہیرءُ گھٹِ گھٹِ سگل کےَ پوُرِ رہے بھگۄان ॥
ہوۄت آۓ سد سدیِۄ دُکھ بھنّجن گُر گِیان ॥
ہءُ چھُٹکےَ ہوءِ اننّدُ تِہ ہءُ ناہیِ تہ آپِ ॥
ہتے دوُکھ جنمہ مرن سنّتسنّگ پرتاپ ॥
ہِت کرِ نام د٘رِڑےَ دئِیالا ॥
سنّتہ سنّگِ ہوت کِرپالا ॥
اورےَ کچھوُ ن کِنہوُ کیِیا ॥
نانک سبھُ کچھُ پ٘ربھ تے ہوُیا ॥੫੧॥
لفظی معنی:
( سلوک ) من دوٹھے ۔ دل میں بسنے سے ۔ رورہیا ۔ بستا ہے ۔ تھان ۔ تھنتر۔ ہر جگہ ۔ سوئے ۔ وہی ( پوڑی ) ہیرؤ۔ دیکھتا ہوں۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ پور رہے ۔ بھگوان ۔ خدا کو بستا ہو۔ صدصدیوی ۔ ہمشیہ ۔ دکھ بھنجن۔ عذاب ختم کر نے والا۔ گر گیان ۔ علم مرشد ۔ ہوء میری ملکیت ۔ خودی۔ خوئشتا۔ ہوں چھٹکے ۔ خوی چھوڑ نے سے ۔ تیہہ۔ اسمیں۔ آپ ۔ خدا۔ ہتے ۔ مٹتے ہیں۔ دوکھ ۔ عذاب ۔ جنیہہ مرن۔ موت و پیدائش ۔ تناسخ۔ سنت سنگ ۔ خدا رسیدہ پاکدامنوں کی سحبت و قربت سے ۔ پر تاپ ۔ برکت و عنایت سے ۔ ہت۔ پیار۔ پریم ۔ درڑے ۔ سچ کا پابند اور پختہ کرنا۔ دیالا۔ مہربان۔ کرپالا۔ مہربان۔ اورے ۔ خدا کے بغیر ۔ کنہو ۔ کسی نے ۔ ہوا ۔ ہوتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح: (سلوک )
خدا خدا کہننے اور دل میں بسانے سے سکھ ملتا ہے روحانی سکون ملتا ہے ۔ خدا ہر دل میں اور ہر جگہ بستا ہے ۔ اے نانک ( پوڑی ) خدا کو ہر دل میں بسےد یکھتے ہیں ۔ سبق مرشد سے اس بات کی سمجھ آئی ہے ۔ خدا ہمیشہ اور اور صدیوی طور پر پہلے سے موجود ہے ۔ وہ عذاب مٹانے والا اور دوڑ کرنے والا ہے ۔ صحبت و قربت پاکدامنوں سے عذاب مٹ جاتے ہیں۔ تناسخ ختم ہوجاتا ہے ۔ روحانی سکون ملتا ہے ۔ خدا خود وہاں بستا ہے خودی مٹ جاتی ہے ۔ اے نانک۔ خدا کے سوا کوئی دوسرا کچھ کرنے والا نہیں۔ خدا ہی سب کچھ کرے والا ہے ۔
سلوکُ ॥
لیکھےَ کتہِ ن چھوُٹیِئےَ کھِنُ کھِنُ بھوُلنہار ॥
بکھسنہار بکھسِ لےَ نانک پارِ اُتار ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
لوُنھ ہرامیِ گُنہگار بیگانا الپ متِ ॥
جیِءُ پِنّڈُ جِنِ سُکھ دیِۓ تاہِ ن جانت تت ॥
لاہا مائِیا کارنے دہ دِسِ ڈھوُڈھن جاءِ ॥
دیۄنہار داتار پ٘ربھ نِمکھ ن منہِ بساءِ ॥
لالچ جھوُٹھ بِکار موہ اِیا سنّپےَ من ماہِ ॥
لنّپٹ چور نِنّدک مہا تِنہوُ سنّگِ بِہاءِ ॥
تُدھُ بھاۄےَ تا بکھسِ لیَہِ کھوٹے سنّگِ کھرے ॥
نانک بھاۄےَ پارب٘رہم پاہن نیِرِ ترے ॥੫੨॥
لفظی معنی:
( سلوک ) لیکہے ۔ حساب اعمال۔ کیتہہ۔ کرنے سے ۔ جھٹیئے ۔ نجات۔ حاصل نہیں ہوتی ۔ کھن کھن۔ ہر وقت ۔ ہر لمحہ ۔ بھلنہار۔ خطا کرنے والے ۔ بخشنہار۔ رحمانالرحیم ۔ پار اتار۔ زندگی کو کامیابی عنایت کر ( پوڑی ) لون مزامی ۔ نمک حرام۔ نا شکر ۔ احسان فراموش ۔ بیگانہ ۔ غیر رشتہ دار ۔ گناہگار۔ بدکردار ۔ الپ مت۔ ۔ کم عقل ۔ نادان۔ جیو۔ روح ۔ پنڈ۔ جسم۔ تاہے ۔ اسے ۔ نہ جانت۔ نہیں سمجھتا۔ تت۔ حقیقت۔ اصلیت ۔ لاہا۔ منافع ۔ مائیا۔ دولت ۔ دیدس ۔ ہر طرط۔ ڈہونڈن۔ تلاش کی خاطر۔ دیونہار۔ دینے والا۔ داتار۔ سخی ۔ سخاوت کرنے والا۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے کے لئے ۔منہہ ۔ من میں۔ بسائے ۔ بسائیا ۔ رایا۔ یہ ۔ سنپے ۔ جائیداد ۔ لپٹ۔ شہوت۔ پرست۔ نند ک ۔ بغض ۔ شنہو۔ ان کے ساتھ۔ بہائے ۔ گذارتا ہے ۔ تدھ بھاوے ۔ اگر تو چاہے ۔ کھوٹے سنگ کرھے ۔ ناپاک کیساتھ ۔ پاک ۔ بھاوے برہم۔ اگر خدا چاہے ۔ پابن ۔ پتھر۔ نیر ۔ پانی
ترجمہ معہ تشریح: ( سلوک )
اعمال کا حساب کرنے سے ہمیں نجات حاصل نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ ہم ہر پل ہر گھڑی اور ہر لقمہ خطا وار ہیں۔ اے نانک۔ خداوند کریم جو رحمان الرحیم ہے سے دعا ہے کہ ہماری خطائیں معاف کر دے ۔ اور اس دنیاوی زندگی کو کامیابی عنایت فرما (پوڑی ) انسان احسان فراموش گناہگار کم عقل بیگانگی رکھنے والا منکر ہے ۔ اس سے جس نے اسے روح اور جسم عنایت فرمائیا ہے ۔ اس حقیقت ک پہچان نہیں کرتا ۔ دولت کمانے کے لئے ہر طرف۔ا س کی تلا ش میں پھرتا رہتا ہے ۔ مگر اس خداوند سخی اور سخاوت کرنے والے کی طرف آنکھ جکھنے کے عرصے کے لئے بھی دل میں نہی بساتا۔ لالچ ۔ کفر ۔ بدکاریاں اور دولت کی محبت کی دھن دل میں سمائی ہوئی ہے ۔ شہوت پرستوں ۔ چروں اور بدگوؤں ان کے صحبت و قربت میں زندگی گذارتا ہے ۔ مگر اگر تو چاہے تو ناپاکوں کو پاکبازوں کی صحبت عنایت کرکے معاف کر دیتا ہے ۔ اے نانک۔ اگر خدا چاہے تو پتھر دل انسانوں کو بھی نام جو آب حیات عنایت کرکے کامیاب زندگی عنایت کر دیتا ہے ۔
سلوکُ ॥
کھات پیِت کھیلت ہست بھرمے جنم انیک ॥
بھۄجل تے کاڈھہُ پ٘ربھوُ نانک تیریِ ٹیک ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
کھیلت کھیلت آئِئو انِک جونِ دُکھ پاءِ ॥
کھید مِٹے سادھوُ مِلت ستِگُر بچن سماءِ ॥
کھِما گہیِ سچُ سنّچِئو کھائِئو انّم٘رِتُ نام ॥
کھریِ ک٘رِپا ٹھاکُر بھئیِ اند سوُکھ بِس٘رام ॥
کھیپ نِباہیِ بہُتُ لابھ گھرِ آۓ پتِۄنّت ॥
کھرا دِلاسا گُرِ دیِیا آءِ مِلے بھگۄنّت ॥
آپن کیِیا کرہِ آپِ آگےَ پاچھےَ آپِ ॥
نانک سوئوُ سراہیِئےَ جِ گھٹِ گھٹِ رہِیا بِیاپِ ॥੫੩॥
لفظی معنی:
(سلوک ) ٹیک ۔ آسرا۔ کھیلت کھیلت ۔ کھیلتے ۔ کھیلتے ۔ جس نے اپنے اخلاق اور طرز زندگی پاک بنالی ۔ ستگر ۔ سچے مرشد۔ بچن۔ کلام۔ سبق۔ پندو نصائح۔ واعظ۔ سمائے ۔ عمل پیرا ہوکر۔ کھما۔ معافی ۔ گہی ۔ دل میں بسائی ۔ سچ ۔ حقیقت۔ سنچیو ۔ اکھٹا کیا۔ جمع کیا۔ کھاہو۔ خوراک بنائیا۔ انمرت نام۔ آب حیات سچ ۔ کھری ۔ نہایت ۔ پاک یا سچ ۔ کرپا۔ مہربانی ۔ ٹھاکر۔ آقا۔ خدا۔ انند۔ سکون۔ دھرام۔ آرام۔ کھیپ ۔ مال سوداگری ۔ پنتومت ۔ باوقار۔ باعزت۔ گھر ۔ اپنے ذہن میں۔ دلاسا۔ بھروسا۔ بھگونت ۔ خوش قسمتی ہے ۔ آگے ۔ پاچھے ۔ ہر دو عالم میں۔ صراحیئے ۔ حمدوثناہ
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) اے نانک۔ اے خدا انسان بہت عرصہ حیات دنیاوی نعمتوں کے کھانے پینے ہنسے کھیلنے میں مصروف بھٹکتا رہتا ہے ۔ اے خدا تو ہی اپنی رحمت و عنایت سے اس کو خوفناک سمندر زندگی سے کامیابی سے گذارتے دے ۔ ہمیں تیرا ہی سہارا ہے (پوڑی ) انسان زندگی کے بیشمار پراؤں اور منزیلں طے کرنا کرتا ہے ۔ عذاب پاتا ہے ۔ مگر اگر مرشد سے ملاپ ہوجائے اور وعاظ و کلام مرشد پر عمل پیرا ہوجائے اور دلمیں بسالے تو تمام عذاب اور دشواریاں تم ہوجاتی ہیں ۔ جس نے معاف کرنے کی عادت بنالی اور سچ کی دولت اکھٹی کر لی اور آبحیات سچ کو زندگی کا مقسد و منزل اپنالیا سچ حق و حقیقت الہٰی نام بنائیا اور خوراک بنالیا ۔ اس پر الہٰی ڑحمت ہوتی ہے ۔ وہ روحانی سکون اور خوشباشی پاتا ہے ۔ جس انسان نے الہٰی نام سچ پر تاآخر عمل کیا ۔ اس نے منافع کمائیا مستقل مزاج ہوگای ۔ مرشد نے اسے بھروسا دیا ۔ عزت و وقار پائیا۔ الہٰی عقدتمند حاصل کی ۔ اے خدا یہ سارا کھیل تیرا کیا ہوا ہے ۔ اور اب بھی تو ہی کر رہا ہے ۔ ہر دو عالم میں توہی سب کا محفاظ ہے ۔ اے نانک۔ اس خدا کی حمدوثناہ کرین چاہیے جو ہر دلمیں بستا ہے ۔
سلوکُ ॥
آۓ پ٘ربھ سرناگتیِ کِرپا نِدھِ دئِیال ॥
ایک اکھرُ ہرِ منِ بست نانک ہوت نِہال ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
اکھر مہِ ت٘رِبھۄن پ٘ربھِ دھارے ॥
اکھر کرِ کرِ بید بیِچارے ॥
اکھر ساست٘ر سِنّم٘رِتِ پُرانا ॥
اکھر ناد کتھن ۄکھ٘ز٘زانا ॥
اکھر مُکتِ جُگتِ بھےَ بھرما ॥
اکھر کرم کِرتِ سُچ دھرما ॥
د٘رِسٹِمان اکھر ہےَ جیتا ॥
نانک پارب٘رہم نِرلیپا ॥੫੪॥
لفظی معنی:
سانگتی ۔ پناہ گریں۔ کر پاندھ۔ مہربانیوں کے خزانے ۔ رحمان الرحیم ۔ ایک اکھر ۔ ایکھ لفظ۔ ہر ۔ خدا۔ اللہ تعالیٰ ۔ نہال۔ خوشی (پوڑی ) اکھر۔ لفظ۔ تربھون۔ تینوں عالم ۔ دھارے ۔ مضمر ۔ پوشیدہ ۔ غلام۔ زیر سایہ۔ مرادتینوں عالموں کے حالات لفظوں کے ذریعے بیان ہو سکتے ہیں۔ ناد۔ آواز۔ کتھن۔ کہانیاں۔ وکھمانا ۔ لیکچر۔ واعظ ۔ تشریحات ۔ مت۔ نجات۔ غلامیوں سے چھٹکار ہ ۔ جگت ۔ طریقے ۔ وسیلے ۔ بھے ۔ خوف۔ ڈر۔ بھرما۔ وہم ۔ گیامن۔ شک ۔ کرم ۔ اعمال ۔ کیرت۔ عادت۔ سچ ۔ پاکیزگی ۔ دھرما۔ فرائض انسانی ۔ درسٹمان۔ زیر نظر۔ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے ۔ اکھر ہے ۔ جیتا۔ وہ لفظ ہے ۔ نہ لیپا ۔ بیلاگ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خڈاوند کریم رحمان الرحیم تو مہربانیوں کا خزانہ ہے ۔ ہم نے آپ کی پناہ اور سایہ میں آئے ہیں۔ اے نانک۔ جن کے دلمیں خدا کا لفظ بس جائ گھر کر جائے ان کی دل وجان خوشباش ہوجاتی ہے دل خوشیوں سے بھر جاتا ہے ( پوڑی ) خدا نے جو تینوں عالم پیدا کئے ہیں ان لفظوں سے بیان کئے جا سکتے ہیں۔ ویدوں کی سمجھ اور سچ اور تحریر لفظوں سے ہوتی ہے ۔ شاشتر اور پران بھی لفطوں میں ہی بکہے ہوئے ہیں۔ آواز۔ بیان اور واعظ بھی لفظوں کے ذریعے کیجاتی ہے ۔ غلامی سے نجات کے طور طریقے ۔ خوت وہم وگمان شکوک و شبہات بھی لفظوں سے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ وہم وگمان شکوک و شبہات بھی لفظوں سے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ اعمال و عادت پاکیزگی اور فرائض انسانی بھی لفظوں سے بتائے جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ جو کچھ بھی نظر آر ہا ہے ۔ لفظوں میں محدود ہے ۔ اور الہٰی فرمان ہے اے نانک صرف پاک خدا ہی اس کی زد سے باہر اور غیر متاثر ہے ۔
سلوکُ ॥
ہتھِ کلنّم اگنّم مستکِ لِکھاۄتیِ ॥
اُرجھِ رہِئو سبھ سنّگِ انوُپ روُپاۄتیِ ॥
اُستتِ کہنُ ن جاءِ مُکھہُ تُہاریِیا ॥
موہیِ دیکھِ درسُ نانک بلِہاریِیا ॥੧॥
پئُڑیِ ॥
ہے اچُت ہے پارب٘رہم ابِناسیِ اگھناس ॥
ہے پوُرن ہے سرب مےَ دُکھ بھنّجن گُنھتاس ॥
ہے سنّگیِ ہے نِرنّکار ہے نِرگُنھ سبھ ٹیک ॥
ہے گوبِد ہے گُنھ نِدھان جا کےَ سدا بِبیک ॥
ہے اپرنّپر ہرِ ہرے ہہِ بھیِ ہوۄنہار ॥
ہے سنّتہ کےَ سدا سنّگِ نِدھارا آدھار ॥
ہے ٹھاکُر ہءُ داسرو مےَ نِرگُن گُنُ نہیِ کوءِ ॥
نانک دیِجےَ نام دانُ راکھءُ ہیِئےَ پروءِ ॥੫੫॥
لفظی معنی:
ہتھ ۔ طاقت میں۔ ہاتھ میں۔ اگم۔ انسانی طاقت سے ۔ باہر۔ مستک ۔ پیشانی ۔ لھاونی ۔ لکھنے والا۔ ارجھ ۔ رہیو۔ سب کے ساتھ ملا ہوا۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ انوپ ۔ نہایت خوبصورت ۔ رو پاونی ۔ خوبصورت ۔ استت ۔ تعریف ۔ مکھو ۔ زبان سے ۔ منہ سے ۔ نہاریا ۔ تیری ۔ درس۔ دیدار ۔ بلہاریا ۔ قربان جاؤں ( پوڑی ) اچت ۔ لافناہ ۔ صدیوی ۔ پار برہم ۔ پار لگانے والا۔ اوناسی ۔ نامٹنے والا۔ اگھناس۔ گناہوں کو مٹانے والا۔ پورن ک۔ کامل۔ سرب۔ سب۔ دکھ بھنجن۔ عذاب ختم کرنے والا۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ ۔ سنگی ۔ ساتھی ۔ نرنکار بلا حجم و شکل وصور ت۔ نرگن۔ دنیاوی اوصاف سے بلند ۔ ندھان۔ خزانہ ۔ ببیک ۔ با عقل ہوش حقیقت و اصلیت کو حقیقت شناش والا۔ اپرنپر ۔ لا محدود۔ ندھارا۔ بے آسرا بے سہارا۔ ادھار۔ اسرا۔ داسرو۔ غلام۔ خدمتگار۔ نرگن۔ بے وصف۔ نام دان۔ سچ ۔ الہٰی نام عنایت کر ۔ رکاھیو بیئے ۔د لمیں بسا گر۔
ترجمہ معہ تشریح:
( سلوک )
انسانی رسائی سے بلند خدا کے ہاتھ میں انسانی اعمال کے حساب کے مطابق اس کی پیشانی پر تحریر کر رہا ہے ۔ مراد خدا انسان کے اعمال کے حساب سے اپنا فرمان جاری کرتا ہے ۔ سب سے اسکا رشتہ ہے انوکھی شکل و صورت والا ہے ۔ اے نانک۔ میں خدا کی تعریف منہ اور زبان سے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ تیرے دیدار سے اے خدا محو و مسرور ہو رہا ہوں۔ قربان ہوں تجھ پر ( پوڑی ) اے لافناہ صدیوی مستقل مزاج سنجیدہ گانہوں کو مٹانے والے ۔ اور تمام جانداروں میں ب سنے والے کامل عذاب مٹانے والے واصاف کے خزانے ہے ساتھی ۔ بلا شکل وصورت اور بلاتن بدن دنیاوی دولت کا تاثر قبول نہ کرنے والے سب کےسہارے اے خاد اے اوصاف کے خزانے جو ہمیشہ حقیقت اور اصلیت کو سمجھتا ہے ۔ اے لا محدود و بیشمار تو صدیوی ہے ۔ تو خدا رسیدہ پاکامن انسانوں کا ساتھی ہے ۔ اے بے سہاروں کا سہارا کل عالم کا ملاک اے مالک میں تیرا غلام ہوںمیں بے وصف ہوں نانک کو نام کا دان سچ حق و حقیقت عنایت کر جسے دلمیں بساؤں ۔
سلوکُ ॥
گُردیۄ ماتا گُردیۄ پِتا گُردیۄ سُیامیِ پرمیسُرا ॥
گُردیۄ سکھا اگِیان بھنّجنُ گُردیۄ بنّدھپِ سہودرا ॥
گُردیۄ داتا ہرِ نامُ اُپدیسےَ گُردیۄ منّتُ نِرودھرا ॥
گُردیۄ ساںتِ ستِ بُدھِ موُرتِ گُردیۄ پارس پرس پرا ॥
گُردیۄ تیِرتھُ انّم٘رِت سروۄرُ گُر گِیان مجنُ اپرنّپرا ॥
گُردیۄ کرتا سبھِ پاپ ہرتا گُردیۄ پتِت پۄِت کرا ॥
گُردیۄ آدِ جُگادِ جُگُ جُگُ گُردیۄ منّتُ ہرِ جپِ اُدھرا ॥
گُردیۄ سنّگتِ پ٘ربھ میلِ کرِ کِرپا ہم موُڑ پاپیِ جِتُ لگِ ترا ॥
گُردیۄ ستِگُرُ پارب٘رہمُ پرمیسرُ گُردیۄ نانک ہرِ نمسکرا ॥੧॥
ایہُ سلوکُ آدِ انّتِ پڑنھا ॥

SGGS p. 262
گئُڑیِ سُکھمنیِ مਃ੫॥
سلوکُ ॥
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آدِ گُرۓ نمہ ॥
جُگادِ گُرۓ نمہ ॥
ستِگُرۓ نمہ ॥
س٘ریِ گُردیۄۓ نمہ ॥੧॥
اسٹپدیِ ॥
سِمرءُ سِمرِ سِمرِ سُکھُ پاۄءُ ॥
کلِ کلیس تن ماہِ مِٹاۄءُ ॥
سِمرءُ جاسُ بِسُنّبھر ایکےَ ॥
نامُ جپت اگنت انیکےَ ॥
بید پُران سِنّم٘رِتِ سُدھاکھ٘ز٘زر ॥
کیِنے رام نام اِک آکھ٘ز٘زر ॥
کِنکا ایک جِسُ جیِء بساۄےَ ॥
تا کیِ مہِما گنیِ ن آۄےَ ॥
کاںکھیِ ایکےَ درس تُہارو ॥
نانک اُن سنّگِ موہِ اُدھارو ॥੧॥
اس سے پیشتر کہ اشپڈ ی کا ترجمہ کیا جائے ۔ اسکا درمیانی نقطہ سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ گرو گرنتھ صاحب میں جملہ اشٹ پدی مراد آٹھ مصرعو پر مشتمل کلام لہذا اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں ایک یا دو جملوں کے بعد ان کے آخر پر لفظ رہاؤ۔ لکھا ہوتا ہے ۔رہاؤ کا ملطب ہے ٹھہراؤ یعنی فل سٹاپ ۔ یعنی اگر آپ اس کل نظم یا کلام کا درمیانی نقطہ سمجھنا چاہتے ہو تو رہاؤ پر رکھو انہیں میں سارے نظم یا کلام کا مدعا و مقصد اور نچوڑ خلاص ہے ۔ ان آٹھ مصرعوں والے کلام کے علاوہ اور ھی لمبی نظمیں ہے جن کے آگاز میں رہاؤ کے الفاظ ملتے ہیں۔ ان میں رہاؤ لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ سارے کلام کا مقصد اس رہاؤ کے جملے میں درج ہے ۔ مثال کے طور پر سدھ گوشٹ میں اس کلام کی 73 پوڑیاں ہیں مگر اس کی پہلی پوڑی کے بعد مندرجہ ذیل دو فقرے رہاؤ کے ہیں۔
کیا بھویئے سچ سوچا ہوئے ۔ ساچ بن مکت نہ ہوئے ۔ر ہاؤ۔ غرض یہ کہ یہی دو فقرے تمام سدھ گوشٹ کا حقیقی اور درمیانی نقطہ یا خیال بتا رہے ہیں ۔ جو گیوں کا فرقہ یا تراؤ ں زیارتوں کو روحانی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اور اسے ہی پاکیزگی اور ذریعہ سمجھتے ہیں۔ لہذا اس سارے کلام میں جوگیوں سے اسی سلسلے میں بحث مباحثہ اور یکدوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کی سعی درج ہے ۔ اس لئے گرو صاحب نے جوگیوں کو سمجھائیا ہے کہ صرف زیارت گاہوں کی زیارت اور یا ترا ہی نجات اور پاک زندگی بنانے کا ذریعہ نہیں ۔ کلام مرشد وعاظ مرشد سے ہی انسانی قلب کو پاک بنائیا جا ستکا ہے ۔ غرض یہ کہ سارا کلام یہ اس خیال کی وضاحت ہے ۔
اب آپ راگ رام کلی کو لیجیئے جس میں دکھنی اونکار درج ہے ۔ اس کی 53 پوڑیاں ہیں مگر اس کی بھی پہلی پوڑی ( میں ) کے بعد اس طرح تحریر ہے ۔
سن پانڈے کیا لکھو جنجالا ۔ لکھ رام نام گوپالا (1) رہاؤ۔
اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ سارا کلام کسی پنڈت یا براہمن کے متعلق ہے جو صرف علم کو ہی ذریعہ نجات سمجھتا ہے ۔ اس سارے کلام میں گرو صاحب نے الہٰی عبادت اور حمدوثناہ الہٰی کو ہی اہمیت اور ذریعے نجات بنائیا ہے ۔ اس طرح کی بہت سی روحانی کلام اور نظمیں ہیں۔ جس میں سے ایک سکھنی ساحب بھی ہے اس کی 24 اشٹ پدیاں یعنی آٹح مصرعوں والا کلام جس میں پہلی پوڑی کے بعد آئی رہاؤ کا فقرہ بتاتا ہے ۔ کہ سارا کلام درمیانی دو نقلی رہاؤ میں ہے اور تمام 24 پوڑیاں صرف اس خیال کی تشریح اور وضاحت ہیں۔ سکھنی صاحب کا درمیانی اصلی مقصد مندرجہ ذیل تحریر ہے ۔ سکھنی سکھ انمرت پربھ نام ۔ بھت جناں کے من وسرام ۔ رہاؤ۔
الہٰی عبادت ۔ حقیقت پرستی ۔ حقیقت شناسی اور اس کی ریاض ہی راہ نجات اور روحانی سکو ن حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔ مگر یہ پاکدامن خدا رسیدوں اور مریدان مرشد سے ملتا ہے ۔ کیونکہ خدا ان کے دلمیں بستا ہے ۔سارا کلام اسی خیال کی وضاحت ہے ۔ سکھنی صاحب کے مدعو کا سلسلہ
1) اشٹ پدی نمبر 1،2،3 میں الہٰی نام یعنی سچ کی ریاض ہی تمام مذہبی کاموں سے بلند عظمت ہے ۔
2) انسانی دل چونکہ دنیاوی نعمتوں اور دولتوں اور اس کی رنگینوں کی محبت میں گرفتار رہتا ہے ۔ لہذا س الہٰی رحمت ، شفقت و عنایت سے ہی الہٰی نام یعنی ( سچ) کی نعمت حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ جیسا کہ اشٹ پدی 4،5،6 میں فرمائیا ہے ۔
3) جب انسان پر الہٰی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے تب انسان کو پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت و قربت حاصل ہوتی ہے ۔ جس سےا سنان حقیقت کی عظمت حاصل کرتا ہے ۔ کیونکہ ان کے روحانی رشتے الہٰی رشتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ وہی ۔ خدا شناس۔ پاکدامن ۔ اور مرید مرشد ہیں۔ اشٹ پدی 7،8،9 میں اسی کی وضاحت ہے ۔
4) سارا عالم الہٰی حمدوثناہ میں مصروف ہے ۔خدا ہر جگہ بستاہے ۔ اور ہر جاندار کو اس سے طاقت ملتی ہے ۔ اشٹ پدی 10،11 میں اس کی وضاحت تحریر ۔
5) الہٰی صفت صلاح کرنےو الے خوش قسمت انسان ہیں۔
6) انہیں اپنی عادات میں غریبی عاجزی اور انکساری بدگوئی ۔ بغض کینہ اور حسد سے بچنے کی بالقین کی ہے ۔ اور واحد خدا پر اپنا عقیدہ اور اعتماد رکھے اور سب کر پرور دگار خدا کو ہی سمجھے ۔ اشٹ پدی نمبر 16تا 15 میں اسی خیال کا اظہار اور وضاحت درج ہے ۔
7) اشٹ پدی نمبر 16 میں خدا کی شکل وصورت اور اوصاف بیان کیئے ہیں۔ کہ سب میں بسنے کے باوجود دنیاوی تینوں اوصاف خواہش بلندی و ترقی ۔ سچا ئی ۔ اور لالچ سے بلند بلند و بالا اور تاثر سے بری ۔ صدیوی اور سبق مرشد سے الہٰی نور دل میں بستا ہے ۔ اشٹ پدی 16،17،18 میں اس خیال کی وضاحت تحریر ہے ۔
8) الہٰی نام یعنی سچ ایک ایسی دولت ہے جو ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہے اور ساتھ دیتی اور الہٰی در پر عرض گذارنے سے اور الہٰی حمدوثناہ سے یہ نعمت حاصل ہوتی ہے ۔یہی خیال اشٹ پدی 19،20 میں اظہار کیا گیا ہے ۔
9) خدا کے اوصاف وحدت اور عالموں کے پھیلاؤ ۔ اور ہر ایک میں اور ہر جگہ بسنے کی وضاحت کی ہے اور خدا کےعلاوہ اس کی ثانی کوئی دوسری ہستی نہیں۔ ( پوڑی ) نمبر 21،22 پوڑیوں مرشد کےع لم کے نور سے انسان کو منور کر نے کی بات کہی ہے ۔ جس کی برکت سے خدا کے ہر جگہ ہر دل میں بسنے کی توفیق ہوتی ہے ۔
10) لہذا اس سارے کلام میں بتائیا گیا ہے کہ خدا تمام اوصاف کا خزانہ ہے ۔ اس کی یاد سے بیشمار اوصاف حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اس واسطے اس کلام کا نام سکھ منی ہے ۔ صفحہ 21،22 پوڑی اس کلام کے آغاز میں درج ہے
لفظی معنی :
اسطرح سے ہیں۔ شمرو ۔ یاد کرؤ۔ سکھ پاوؤ ۔ آرام پاو ۔ کل کلیش ۔ عذاب اور جھگڑے ۔ بسنبھر۔ پروردگار ۔ اگنت۔ شمار سے باہر ۔ا نیکے ۔ بیشمار ۔ سدھا کھر ۔ پاک ۔ لافاظ ۔ کانکہی ۔ خواہشمند ۔ ادھارو ۔ بچاؤ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
(سلوک ) آغاز زماں کے مرشد کو جسے سجدہ میرا اور آغاز سے پہلے کو سجدہ میرا سچے مرشد کو سرجھکاتا ہوں۔ اور مرشد کو ہے سجدہ
(پوڑی ) خدا کو یاد کرؤ یاد کر کے آسائش پاؤں۔ جسمانی ہر طرح کے عذابوں سے نجات حاصل کرؤ۔ بیشمار الہٰی نام کی ریاض کرتے ہیں۔ اس واحد پر وردگار کو یاد کرؤ ویدوں پورانوں اور سمرت نیوں نے لافناہ خدا کے نام کو ہی پاک تصور کیا ہے ۔ جس کے دل میں الہٰی نام کا ایک قطرہ بس جائے ۔ اس کی عظمت بیان اور شمار سے باہر ہے ۔ اے خدا تیرے دیدار کا خواہشمند ہوں اور جتنے ہیں تیرے دیدار کے عاشق ان کی صحبت و قربت میں نانک کا بیڑا پار ہوئے ۔
سُکھمنیِ سُکھ انّم٘رِت پ٘ربھ نامُ ॥
بھگت جنا کےَ منِ بِس٘رام ॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
سکھمنی منی ۔ قیمتی سکھ ۔ بلند عظمت کھ ۔ انمر ت ۔ پربھ نام۔ آبحیات ہے الہٰی نام سچ حق و حقیقت ۔ بھگت۔ عابد۔ عاشقان الہٰی وسرام ۔ ٹھہراؤ ۔ ٹھکانہ ۔ رہاؤ
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام دائمی صدیوی زندیگ عنایت کرنے والا ہے ۔ اور آرام کی ایک قیمتی منی ہے ۔ جو عابدان و عاشقان الہٰی میں بستا ہے ۔
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ گربھِ ن بسےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ دوُکھُ جمُ نسےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ کالُ پرہرےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ دُسمنُ ٹرےَ ॥
پ٘ربھ سِمرت کچھُ بِگھنُ ن لاگےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ اندِنُ جاگےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ بھءُ ن بِیاپےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ دُکھُ ن سنّتاپےَ ॥
پ٘ربھ کا سِمرنُ سادھ کےَ سنّگِ ॥
سرب نِدھان نانک ہرِ رنّگِ ॥੨॥
لفظی معنی:
گربھ ۔ ماں کا پیٹ مراد تناسخ ۔ دوکھ جنم۔ موت کا عذاب ۔ کال ۔ موت۔ پریرے ۔ مٹتا ہے ۔ لڑے ۔ ٹلتا ہے ۔ وگھن۔ رکاوٹ ۔ جاگے ۔ بیداری پیدا ہوتی ہے ۔ اندن ۔ روز و شب۔ سنتاپے ۔ پریشانی ۔ سادھ کے سنگ۔ پاکدامن خدارسیدہ خزانے ۔ ہر رنگ۔ الہٰی پیار میں۔ الہٰی عشق میں ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی یاد سے تناسخ مٹتا ہے ۔ الہٰی یاد سے عذاب مٹتا ہے ۔ اور موت کا عذاب مٹتا ہے ۔ خد ا کی یاد سے روحانی موت ختم ہوجاتی نہیں۔ الہٰی یاد سے اسنان یداری ہوجاتا ہے ۔ الہٰی یاد سے خوف ختم ہوجاتا عذاب کی دشواری ختم ہوجاتی ہے ۔ پریشانی نہیں ہوتی ۔ خدا کی پاکدامن اور کی صحبت وقربت میں یاد آتی ہے ۔ اور اس یاد میں ہی اے نانک دنیا کی تمام دولت ہے ۔
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ رِدھِ سِدھِ نءُ نِدھِ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ گِیانُ دھِیانُ تتُ بُدھِ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ جپ تپ پوُجا ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ بِنسےَ دوُجا ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ تیِرتھ اِسنانیِ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ درگہ مانیِ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ ہوءِ سُ بھلا ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ سُپھل پھلا ॥
سے سِمرہِ جِن آپِ سِمراۓ ॥
نانک تا کےَ لاگءُ پاۓ ॥੩॥
لفظی معنی:
سمرن ۔ یاد خدا۔ عبادت ۔ ریاضت ۔ ردھ ۔ قت قلب۔ سدھ ۔ اخلاقی ۔ پاکیزگی ۔ نوندھ ۔ دنیا کے مانے ہوئے نو خوزانے ۔ اصلیت ۔ بنانے عالم ۔ بدھ۔ ہوش۔ عقل ۔ سمجھ ۔ مٹتا ہے ۔ دوجا ۔ دوئش۔ دگر۔ تیرتھ ۔ اشنانی ۔ ریارت کار۔ دگہ مانی ۔ دربار میں عزت۔ وقار۔ بھلا ۔ نیک ۔ سپھل۔ کامیاب ۔ پھلا۔ برآور ۔ سپھل پھلا ۔ برآور کامیابی لاگو پائے ۔ پاؤں۔ پڑؤ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی بندگی ۔ عبادت وریاضت سے روحانیت کی بلندی عظمت پاکیزگی اور دنیاوی دولت کے نو خزانے ہے ۔ الہٰی یاد ۔ تقل علم ۔ توجہات وہوش و ہواس۔ کو مرکوز کرا ارو مرکوزئت ہے ۔ اور بنائے عالم کی حقیقت کی سمجھا ۔ عقل ہے ۔ الہٰی یاد ہی ریاضت اور پرستش ہے ۔ الہٰی یاد ہی سے دوئی دئوش مٹ جاتی ہے اور خدا کے کسی ہستی کے ثانی ہونیکا خیال ختم ہوجاتا ہے ۔ الہٰی یاد سے اسنانی قلب او ر روح پاک ہوجاتی ہے ۔ جس سے انسانزیارت کار ہو جاتا ہے ۔ یا زیارت کرنے کے لئے برابر ہوجاتا ہے ۔ الہٰی یاد سے در بار میں جو کچھ ہو رہا ہے ۔ نیک اور اچھا ہونا معلوم ہوتا ہے ۔ اور انسانی زندگی کا بلند ترین مدعا و مقصد حاصل ہوجاتا ہے ۔ مگر یاد الہٰی وہی کرتے ہیں جن سے خدا خود کرواتا ہے ۔ اے نانک ان کے پاؤں میں پڑوں (3)
پ٘ربھ کا سِمرنُ سبھ تے اوُچا ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ اُدھرے موُچا ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ ت٘رِسنا بُجھےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ سبھُ کِچھُ سُجھےَ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ ناہیِ جم ت٘راسا ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ پوُرن آسا ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ من کیِ ملُ جاءِ ॥
انّم٘رِت نامُ رِد ماہِ سماءِ ॥
پ٘ربھ جیِ بسہِ سادھ کیِ رسنا ॥
نانک جن کا داسنِ دسنا ॥੪॥
لفظی معنی:
خدا کو یاد کرنا ۔ بلندی ہے عظمت ہے ۔ الہٰی یاد بدکاریوں ست بچاتی ہے ۔ یاد کدا سے خواہشات کی تشنگی مٹتی ہے ۔ یاد خدا سے ہر طرح کی سمجھ آجاتی ہے ۔ موت کا خوف مٹ جاتا ہے ۔ اُمیدیں پوری ہوجاتی ہین۔ دل پاک ہوجاتا ہے ۔ اب حیات نام دلمیں بس جاتا ہے ۔ خدا پاکدامنوں کی زباں پر بستا ہے ۔ نانک ان کے غلاموں کا غلام اور خادموں کا خادم ہے ۔
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سے دھنۄنّتے ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سے پتِۄنّتے ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سے جن پرۄان ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سے پُرکھ پ٘ردھان ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سِ بیمُہتاجے ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سِ سرب کے راجے ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سے سُکھۄاسیِ ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سدا ابِناسیِ ॥
سِمرن تے لاگے جِن آپِ دئِیالا ॥
نانک جن کیِ منّگےَ رۄالا ॥੫॥
لفظی معنی:
دھنونتے ۔ دولتمند۔ پتونتے ۔ عزت والے ۔ پروان۔ قبول۔ باوقار۔ ہر دل عزیز۔ پردھان ۔ نیک مقبول عام۔ بے محتاجے ۔ دست نگر نہیں۔ سرب۔ سب۔ انباسی ۔ لافناہ ۔ دیالا۔ مہربان۔ رولا۔ دہول ۔
ترجمہ معہ تشریح:
کرتے ہین جو یاد خدا کو وہ دھنوالے ہین۔ اور عزت والے ہیں۔ کرتے ہیں جو یاد خدا کو لوگوں میں مقبول ہیں وہ ہیں کرتے ہیں جو یاد خاد کو لوگؤں میں منظور ہیں وہ کرتے ہین جو یاد خدا کو دست نگرنہیں کسی کے ۔ اور سارےع الم حکمران وہ ہین۔ کرتے ہیں یو یاد خدا کو آرا م و آسائش پاتے ہین۔ کرتے ہیں جو یاد خدا کو تناسخ سے نجات پاتے ہیں۔ وہی کرتے ہیں یاد خدا کی جن پر مہربان خدا خود ہے نانک ان کے پاوں کی دہول کی بھیک مانگتاہے ۔
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سے پرئُپکاریِ ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ تِن سد بلِہاریِ ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ سے مُکھ سُہاۄے ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ تِن سوُکھِ بِہاۄےَ ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ تِن آتمُ جیِتا ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ تِن نِرمل ریِتا ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ تِن اند گھنیرے ॥
پ٘ربھ کءُ سِمرہِ بسہِ ہرِ نیرے ॥
سنّت ک٘رِپا تے اندِنُ جاگِ ॥
نانک سِمرنُ پوُرے بھاگِ ॥੬॥
لفظی معنی:
اپکاری ۔ بھلائی کرنے والا۔ بلہاری ۔ قربان۔ سکھ سہاوے ۔ سرکرو۔ سوکھ بہوے ۔ آرام میں گزرتی ہے ۔ آتم ۔ خوئش ۔ خوئشتا اپنے آپ ۔ نرمل۔ پاک۔ ریتا۔ رواج۔ رسم۔ گھنیرے ۔ بہت زیادہ ۔ تیرے ۔ نزدیک۔ جاگ۔ بیداری ۔ بھا۔ قسمت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
کرتا ہے جو یاد خدا کو وہ کام نیک اور بھلے وہ کرتا ہے یاد خدا جو کرتا ہے قربان ہوں ان انسانوں پر ۔ یاد کدا جو کرتا ہے سر خرو ہوجاتا ہے وہ یاد خدا جو کرتا ہے آرام آسائش پاتا ہے ۔ یا د خدا جو کرتا ہے اپنا آپ قابو کر جاتا ہے اور طرز زندگی سنوار لیتا ہے ۔ پاک بنا لیتا ہے ۔ کرتے ہیں جو یاد خدا کو سکون روحانی پاتے ہیں۔ اور قربت الہٰی پاتے ہین۔ رحمت پاکدامن و خدا رسیدوں سے بیداری وہ پاتے ہیں۔ اے نانک جو یاد خدا کو کرتے ہیں خوش قسمت ہوجاتے ہیں۔
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ کارج پوُرے ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ کبہُ ن جھوُرے ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ ہرِ گُن بانیِ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ سہجِ سمانیِ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ نِہچل آسنُ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ کمل بِگاسنُ ॥
پ٘ربھ کےَ سِمرنِ انہد جھُنکار ॥
سُکھُ پ٘ربھ سِمرن کا انّتُ ن پار ॥
سِمرہِ سے جن جِن کءُ پ٘ربھ مئِیا ॥
نانک تِن جن سرنیِ پئِیا ॥੭॥
لفظی معنی:
کارج ۔ کام ۔ مقصد۔ جہورے ۔ فکر ۔ پریشانی ۔ ہر ۔ خدا۔ گن بانی ۔ کلام کے اوصاف۔ سہج ۔ مستقل مزاجی ۔ گن ۔ اوصاف۔ کلام۔ نہچل۔ صدیوی ۔ ڈگمگانے والا ، آسن ۔۔ ٹھکانہ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی یاد سے سب کام مکمل ہو جاتے ہیں تشویش اور فکر ختم ہوجاتے ہین ۔ تشویش اور فکر ختم ہوجاتے ہین۔ یاد کدا سے اسنان الہٰی اوصاف کے کلام گاتا ہے ۔ سکون روحانی پاتا ہے ۔ یاد خدا سے انسان پختہ ٹھکانہ پاتا ہے ۔ اور دل کو کنول کھل جاتا ہے جو کرتاہے یاد خدا کو گانے غیبی سنتا ہے۔ یاد خدا سے انسان مستقل آرام پاتا ہے ۔ ختم نہ جو ہو پاتا ہے ۔ یاد خدا وہی کرتے ہیں جن پر الہیٰ رحمت ہے ۔ نانک ان کے پاؤں پڑتا ہے ۔
ہرِ سِمرنُ کرِ بھگت پ٘رگٹاۓ ॥
ہرِ سِمرنِ لگِ بید اُپاۓ ॥
ہرِ سِمرنِ بھۓ سِدھ جتیِ داتے ॥
ہرِ سِمرنِ نیِچ چہُ کُنّٹ جاتے ॥
ہرِ سِمرنِ دھاریِ سبھ دھرنا ॥
سِمرِ سِمرِ ہرِ کارن کرنا ॥
ہرِ سِمرنِ کیِئو سگل اکارا ॥
ہرِ سِمرن مہِ آپِ نِرنّکارا ॥
کرِ کِرپا جِسُ آپِ بُجھائِیا ॥
نانک گُرمُکھِ ہرِ سِمرنُ تِنِ پائِیا ॥੮॥੧॥
لفظی معنی:
ہر سرمن۔ الہٰی یاد۔ بھگت۔ عاشقان الہٰی ۔ پر گٹائے ۔ مشہور۔ شہرت۔ یافتہ ہوئے ۔ ویداپائے ۔ پیدا کئے ۔ سدھ۔ جنہوں نے بلند روحانی رتبہ حاصل کیا۔ جتنی ۔ جنکا نفس پر ضبط ہے ۔ داتے ۔ سخی ۔ سخاوت کرنے والے ۔ پنچ کمینے ۔ چوہ کنٹ۔ چاروں طرف۔ جاتے ۔ جانے گئے ۔ مشہور ہوئے ۔ دھاری ۔ ٹکائی ۔ ٹھہرائی ۔ سب دھرنا ۔ دھرتی ۔ عالم ۔ کارن۔ سبب۔ موقعہ ۔ آکار ۔ پھیلاؤ ۔ عالم ۔ نرنکار۔ واحد خدا۔ بجھائیا ۔ سمجھائیا۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا کو یاد کرنے سے ہی بھگتوں کو شہرت حاصل ہوئی ۔ خدا کو یاد کرنے ہی ویدوں کی تحریر ہوئی ۔ خدا کو یاد کرنے سے انسانوں نے بلند روحانی رتبے حاصل کئے ۔ نفس پر قابو پائیا ۔ اور سخی اور سخاوت کرنے والے ہوئے ۔ اور الہٰی ریاض سے ہی کمینے انسانوں نے جہان میں مشہوری حاصل کی ۔ خدا کی یاد سے ہی یہ عالم قائم دائم ہے ۔ اس لئے اس عالم کو پیاد کرنے والے کو یاد رکھو۔ خدا کی یاد سے ہی عالم وجود میں آئیا ہے ۔ الہٰی یاد ہے جہاں وہاں ہے خدا۔ یاد میں بستا ہے خود خدا۔ خدا نے جسے اپنی کرم و عنایت سے یہ سمجھائیا ہے ۔ اس انسان نے اے نانک اس نے مرشد سے نعمت یاد اپنے پائی ہے ۔
سلوکُ ॥
دیِن درد دُکھ بھنّجنا گھٹِ گھٹِ ناتھ اناتھ ॥
سرنھِ تُم٘ہ٘ہاریِ آئِئو نانک کے پ٘ربھ ساتھ ॥੧॥
لفظی معنی:
دین ۔ غریب۔ ناتواں۔ کمزور ۔ مجبور۔ لاچار۔ عاجز۔ درد دکھ بھنجنا ۔ عذاب ۔ مشکلات اور مصیبت مٹانے والے ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ اناتھ ۔ جسکا کوئی مالک نہ ہو۔ ناتھ۔ مالک۔ سرن ۔پناہ۔ پربھ۔ خدا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے غریبوں ناتوانوں مظلوموں کے عذاب و مشکلات مٹانے والے ہمدرد آدم اور بے ما لکوں کے مالک ہر دل میں بسنے والے خدا۔ نانک ۔ کا دامن پکڑ کر تیری پناہ آئیا ہوں۔
اسٹپدیِ ॥
جہ مات پِتا سُت میِت ن بھائیِ ॥
من اوُہا نامُ تیرےَ سنّگِ سہائیِ ॥
جہ مہا بھئِیان دوُت جم دلےَ ॥
تہِ کیۄل نامُ سنّگِ تیرےَ چلےَ ॥
جہ مُسکل ہوۄےَ اتِ بھاریِ ॥
ہرِ کو نامُ کھِن ماہِ اُدھاریِ ॥
انِک پُنہچرن کرت نہیِ ترےَ ॥
ہرِ کو نامُ کوٹِ پاپ پرہرےَ ॥
گُرمُکھِ نامُ جپہُ من میرے ॥
نانک پاۄہُ سوُکھ گھنیرے ॥੧॥
لفظی معنی:
جیہہ ۔ جہاں۔ مراد زندگی کے سفر میں۔ ست۔ فرزند۔ بیٹا۔ من ۔ اے من۔ نام یعنی سچ حق و حقیقت ۔ سچ۔ سچائی ۔ سنگ ۔ ساتھ۔ سہائی۔ مددگار۔ میا ں بھیان۔ بھاری خوفناک۔ دوت ۔ دشمن۔جسم۔ فرشتہ موت ۔ کیول۔ صرف۔ نام سنگ ۔ نام ساتھی ہوگا۔ ہر کو نام۔ خدا کا نام ۔ کھن ماہے ۔ فورا سے پیشتر۔ ادھاری بچاتا ہے ۔ انک۔ بیشمار ۔ پبنیہہ چرن۔ دھارملک اخلاقی کامونں کے ۔ کرت ۔ کرنے سے ۔ نہیں تیرے ۔ کامیاب نہ ہوگے ۔ کوٹ پاپ ۔ کروڑوں گناہ ۔ پر ہرے ۔ دور کرتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ نام جیہو ۔ نام کی ریاض کرؤ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جہاں ماں باپ بیٹے دوست اور بھائی بھی نہ ہوں اے من وہاں نام تیرا ساتھی اور مدد گار ہے ۔ جہاں دشمن اور جہاں موت کے فرشتوں کی فوج تجھے محبوس کرتی ہو وہاں صرف الہٰی نام ہی تیرا ساتھی اور مددگار ہوگا۔ جہاں بجھے بھاری دشواریوں کس سامنا ہو الہٰی نام تجھے آنکھ جھپکنے کے عرصے میں بچائیاگا۔ جہاں بیشمار نیکیوں اور مذہبی رسومات اد ا کرنے سے کامیابی حاصل نہ ہوا الہٰی نام سچ حق و حقیقت کروڑوں گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ۔ اے دل الہٰی نام کی ریاض مرشد کے وسیلے سے کر اے نانک بہت آرام وآسائش پائیگا ۔
سگل س٘رِسٹِ کو راجا دُکھیِیا ॥
ہرِ کا نامُ جپت ہوءِ سُکھیِیا ॥
لاکھ کروریِ بنّدھُ ن پرےَ ॥
ہرِ کا نامُ جپت نِسترےَ ॥
انِک مائِیا رنّگ تِکھ ن بُجھاۄےَ ॥
ہرِ کا نامُ جپت آگھاۄےَ ॥
جِہ مارگِ اِہُ جات اِکیلا ॥
تہ ہرِ نامُ سنّگِ ہوت سُہیلا ॥
ایَسا نامُ من سدا دھِیائیِئےَ ॥
نانک گُرمُکھِ پرم گتِ پائیِئےَ ॥੨॥
لفظی معنی:
سگل۔ ساری ۔ سر شٹ۔ سارے عالم۔ راجہ ۔ حکمران۔ بندھ ۔ روک ۔ راکاوٹ۔ نسترے ۔ کامیابی ملے ۔ انک ۔ بیشمار۔ مائیا۔ دولت۔ رنگ۔ پریم۔ تکھ ۔ پیاس۔ خواہش۔ آگھاوے ۔ سنگ ۔ ساتھی ۔ سوہیلا۔ مدد گار۔ سدا۔ ہمیشہ ۔ دھیایئے ۔ توجہ کرؤ ریاض کرو۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ پرم گت۔ روحانی بلند رتبہ ۔ حالت۔
ترجمہ معہ تشریح:
سارےعالم کا حکمران بھی عذاب میں ہے ۔ مگر خدا کی یاد سے سکھ ملتا ہے ۔ لاکھوں اور کروڑوں سے رکاوٹ نہ ہو اگر یاد خدا سے کامیاب ہوجاتا ہے ۔
بیشمار دولت ہونے پر بھی خواہشات کی تشنگی جاتی نہیں ۔ یاد خدا سے بھر ہوجاتا ہے اور سیری ملتی ہے زندگی کی جن راہوں پر انسان اکیلا ہے نام الہٰی مددگار ہے ۔ اے دل ایسے نام کو ہمیشہ یاد کر ۔ اے نانک۔ مرشد کے سیلے سے بلند رتبے ملتے ہین۔
چھوُٹت نہیِ کوٹِ لکھ باہیِ ॥
نامُ جپت تہ پارِ پراہیِ ॥
انِک بِگھن جہ آءِ سنّگھارےَ ॥
ہرِ کا نامُ تتکال اُدھارےَ ॥
انِک جونِ جنمےَ مرِ جام ॥
نامُ جپت پاۄےَ بِس٘رام ॥
ہءُ میَلا ملُ کبہُ ن دھوۄےَ ॥
ہرِ کا نامُ کوٹِ پاپ کھوۄےَ ॥
ایَسا نامُ جپہُ من رنّگِ ॥
نانک پائیِئےَ سادھ کےَ سنّگِ ॥੩॥
لفظی معنی:
چھوٹت۔ خلاسی ۔ نجات۔ آزادی ۔ کوٹ۔ کروڑوں۔ باہی ۔بازو۔ پار براہی ۔ پار ہوجاتا ہے کامیابی ملتی ہے ۔ وگھن۔ رکاوٹ۔ سنگھارے مٹ جاتی ہیں۔ شتکال۔ فوراً ۔ ادھارے ۔ بچاتا ہے ۔ انک جون ۔ بیشمار زندگیان تناسخ میںپڑتی رہتی ہیں۔ دسرام۔ سکون ۔ خودی۔ خوئشتا میلا ۔ ناپاک ۔ کوٹ پاپ ۔ کروڑوں گناہ ۔ رنگ۔ پریم۔ پیار سے ۔ سادھ کے سنگ ۔ پاکدامنوں کی صحبت سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
لاکھوں اور کرورو بازووں یعنی ہمددوں کے باوجود نجات حاصل نہیں ہویت چھٹکارہ نہیں ۔ مگر الہٰی یاد سے کامیابی مل جاتی ہے ۔ جہاں بیشمار دشواریاں آجائیں خدا کا نام فوراً بچاتا ہے ۔ بیشار زندگیوں میں انسان پیدا ہوت اہے ۔ ختم ہوجاتاہے ۔ مگر یاد خدا سے سکون پاتا ہے ۔ ختم ہوجاتا ہے ۔ مگر یاد خدا سے سکون پاتا ہے ۔ خوید کی نا پاکیزگی کبھی انسان دور نہیں کرتا۔ جب کہ الہٰی نام کرورون گناہ مٹا دیتا ہے ۔ اے دل ایسے نامکی دل و جان اور پیار سے ریاض کر ۔ اے نانک نام ( پاکدامن ) سادہو وں کی صحبت و قربت سے ملتا ہے ۔
جِہ مارگ کے گنے جاہِ ن کوسا ॥
ہرِ کا نامُ اوُہا سنّگِ توسا ॥
جِہ پیَڈےَ مہا انّدھ گُبارا ॥
ہرِ کا نامُ سنّگِ اُجیِیارا ॥
جہا پنّتھِ تیرا کو ن سِجنْانوُ ॥
ہرِ کا نامُ تہ نالِ پچھانوُ ॥
جہ مہا بھئِیان تپتِ بہُ گھام ॥
تہ ہرِ کے نام کیِ تُم اوُپرِ چھام ॥
جہا ت٘رِکھا من تُجھُ آکرکھےَ ॥
تہ نانک ہرِ ہرِ انّم٘رِتُ برکھےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
مارگ۔ راشتہ ۔ گنے نہ جاہے ۔ گنتی نہ ہو سکے ۔ کوسا۔ فاصلہ ۔ اوہا۔ اس۔ سنگ۔ ساتھ ۔ توسا۔ سفر ۔ کرچ ۔ پینڈا۔ راستہ ۔ مہا۔ بھاری۔ اندھا غبار ۔ بھاری اندھیرا ۔ اجیارا۔ روشنی ۔ پنتھ ۔ راستہ ۔ سمجانو۔ ناواقف ۔ پچھانو ۔ پہچان ۔ بھیان۔ خوفناک۔ تپت۔ گری ۔ گھام۔گرمی ۔ چھام۔ سایہ۔ رکھا ۔ پیاس۔ آکر کھے ۔ گھبرہٹ پیدا کرتی ہے ۔ ہر ہر ۔ الہٰی نام۔ انمرت برکھے ۔ آب حیات کی بار ش ہوتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس زندگی کےی لمبائی اور توسیع بیان سے باہر ہے ۔ اس زندگی کے سفر کے لئے الہٰی نام راستے کے کرچ کے لئے ایک راستے کا کرچ ہے ۔ جہاں راستہ گمراہ کن اور بدیوں اور دشواریوں کے اندھیرے کا غبار ہے ۔ اس راستے کے لئے الہٰی نامیعنی سچ ایک روشنی کی کرن یا چراغ ہے ۔ جہاں زندگی کے سفر کے راز کو کوئی جاننے والا نہیں۔ وہاں الہٰی نام تیرا سچا ساتھی اور راستہ جاننے والا ہے ۔ جہاں زندگی کے سفر میں برائیون اور بدیوں کی خوفناک تیزی اور گرمی ہے ۔ وہاں۔ الہٰی نام اپنا سایہ کرتا ہے ۔ یعنی وہان سچ ایک سایہ ہے ۔ جہان خواہشات کی پیاس کی کشش ہو۔ وہاں الہٰی نام آب حیات کی بارش ہے ۔
بھگت جنا کیِ برتنِ نامُ ॥
سنّت جنا کےَ منِ بِس٘رامُ ॥
ہرِ کا نامُ داس کیِ اوٹ ॥
ہرِ کےَ نامِ اُدھرے جن کوٹِ ॥
ہرِ جسُ کرت سنّت دِنُ راتِ ॥
ہرِ ہرِ ائُکھدھُ سادھ کماتِ ॥
ہرِ جن کےَ ہرِ نامُ نِدھانُ ॥
پارب٘رہمِ جن کیِنو دان ॥
من تن رنّگِ رتے رنّگ ایکےَ ॥
نانک جن کےَ بِرتِ بِبیکےَ ॥੫॥
لفظی معنی:
برتن۔ ضرورت۔ وسرام ۔ سکون۔ اوت۔ آسرا۔ ادھرے ۔ بچے ۔ کوٹ۔ کروڑوں ۔ جس ۔ تعریف۔ صفت صلاح ۔ اوکھد۔ دوائی۔ سادھ۔ جنہوں نے اپنی عادات اور زندگی کی راہیں درست کر لیں ہیں۔ ہر جن۔ الہٰ یخادم۔ ندھان۔ کزانہ ۔ پار برہم۔ کامیابی دینے والا خدا۔ کینو۔ کیا۔ من تن۔ دل وجان ۔ رنگ۔ پریم پیار۔ رتے ۔ مخمور ۔ درت ۔ عادت ۔ خیال۔ لیبکے ۔ حقیقت شناس ۔
ترجمہ معہ تشریح:
ریاض کارون اور عابدوں کے لئے ایک ضرورت ہے ۔ اس سے کدا رسیدہ کے دلون کو تسکین و سکون ملتا ہے ۔ خادمان الہٰی کے لئے الہٰینام ایک سہارا اور آسرا ہے ۔ الہٰی نام سے کروروں لوگوں کا بچاؤ ہوا ہے ۔ الہٰی عاشق روز و شب خدا کی حمدوچناہ کرتے ہیں۔ اور الہٰی نا م کی کیا اکھٹی کرتے ہیں۔ الہٰی عابدوں کے لئے الہٰی نام ہی ایک دولت کا کزانہ ہے ۔ خدا نے اپنے خادموں کو نام کی بخشش کود کرتا ہے ۔ عابدان و خادمان الہٰی دل وجان سے واحد کدا ی یاد کے پیار سے مخمور رہتے ہیں ۔ اے نانک۔ عابدان الہٰی کے دل میں نیک و بد کی تمیز کرنے کی عادت ہوجاتی ہے ۔
ہرِ کا نامُ جن کءُ مُکتِ جُگتِ ॥
ہرِ کےَ نامِ جن کءُ ت٘رِپتِ بھُگتِ ॥
ہرِ کا نامُ جن کا روُپ رنّگُ ॥
ہرِ نامُ جپت کب پرےَ ن بھنّگُ ॥
ہرِ کا نامُ جن کیِ ۄڈِیائیِ ॥
ہرِ کےَ نامِ جن سوبھا پائیِ ॥
ہرِ کا نامُ جن کءُ بھوگ جوگ ॥
ہرِ نامُ جپت کچھُ ناہِ بِئوگُ ॥
جنُ راتا ہرِ نام کیِ سیۄا ॥
نانک پوُجےَ ہرِ ہرِ دیۄا ॥੬॥
لفظی معنی:
مکت۔ نجات۔ جگت۔ طریقہ ۔ ترپت۔ سیری ۔ تسکین ۔ تسلی ۔ بھگت۔ خوراک ۔ کھانا۔ روپ ۔ شکل وصورت ۔ رنگ ۔ پریم۔ پیار۔ ہر نام ۔ الہٰی نام۔ الہٰی سچ۔ بھنگ۔ رکاوٹ۔ وڈئیائی ۔ عظمت۔ سوبھا۔ شہرت۔ بھوگ۔ دنیاوی دولت۔ کا مزہ ۔ جوگ۔ تیاگ۔ پرہیز گاری ۔ ویوگ۔ جدائی کی پریشانی ۔ راتا۔ محو۔ ہر ہر دیو۔ خدا نے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
انسان کے لئے الہٰی نام ہی نجات کا واحد راستہ اور طریقے ہے ۔ عاشقان الہٰی یا عابدوں کے لئے نام الہٰی ہی واحد تسکین اور دنیاوی دولت سے سیری کا واحد زریعہ ہے ۔ الہٰی نام ہی خادمان الہٰی کے لئے ان کی شکل و صورت ہے ۔ الہٰی نام کی ریاض سے کبھی انہیں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی ۔ الہٰی نام ہی الہٰی خدمتگاروں کے لئے عظمت و حشمت ہے ۔ الہٰینام ہی یاد کرنے سے جدائی کی پیشانی نہیں آتی ۔ خادم الہٰی ہمیشہ الہٰی نام کی خدمت میں محو رہتا ہے ۔ اے نانک خادم خدا ہمیشہ خدا کی پرستش کرتاہے ۔
ہرِ ہرِ جن کےَ مالُ کھجیِنا ॥
ہرِ دھنُ جن کءُ آپِ پ٘ربھِ دیِنا ॥
ہرِ ہرِ جن کےَ اوٹ ستانھیِ ॥
ہرِ پ٘رتاپِ جن اۄر ن جانھیِ ॥
اوتِ پوتِ جن ہرِ رسِ راتے ॥
سُنّن سمادھِ نام رس ماتے ॥
آٹھ پہر جنُ ہرِ ہرِ جپےَ ॥
ہرِ کا بھگتُ پ٘رگٹ نہیِ چھپےَ ॥
ہرِ کیِ بھگتِ مُکتِ بہُ کرے ॥
نانک جن سنّگِ کیتے ترے ॥੭॥
لفظی معنی:
جن۔ خادم خدا ۔ بھگت ۔ عاشق الہٰی۔ عابد۔ خزنینہ ۔ خزانہ ۔ دیتا۔ دیا ۔ دیتا ہے ۔ اوٹ۔ آسرا۔ ستانی ۔ قوت۔ طاقت۔ پر تاپ ۔ برکت۔ سا کی طاقت سے ۔ اوت پوت ۔ تانے پیٹے کی مانند۔ یکسو ہوکر۔ مکمل ملاپ سے ۔ ہر رس الہٰی لطف اور مزے ۔ راتے ۔ محو۔ سن ۔ سمادھ ۔ وہ روحانی حالت جس میں مکمل سکوت طاری ہو ۔ یعنی سوئی گرنے کا بھی شور سنائی نہ دے ۔ ماتے ۔ مست ۔ محو۔ آحٹ پہر۔ رو ز و شب۔ دن رات ۔ پرگٹ۔ مشہور۔ ظاہر۔ چھپے ۔ چھپتا نہیں۔ مکت۔ نجات۔ آزاد۔ یعنی ۔ ذہنی اور دنیاوی بندشوں اور غلامیوں سے ذاد ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی خادموں کے لئے خدا ہی دولت اور خزانہ ہے ۔ یہ دولت اپنے کادموں کو خود دی ہوئی ے ۔ الٰی کادموں عابدوں کو کدا ہی کا سہارا اور وہی ان کی طاقت اور قوت ہے ۔ خادمان کدا الہٰی برکت و عنایت کی وجہ سے ۔ کسی دوسرے کی پرواہ نہیں کرتے اور وہ خدا سے تا نے پیٹے کی مانند مکل یکسو منسیلق ہوکر الہٰی لطف میں محو اور مست رہتے ہیں۔ اور مکمل سکوت کا مزہ لیتے ہیں۔ اور روز و شب حمدوچناہ کرتے ہیں اور وہ چھپائے بھی نہیں چھپتے ۔ خادمان خدا بیشمار انسانوں کو بدکاریوں اور بدیوں سے نجات دلاتے ہیں۔ اے نانک ۔ ان کی صحبت و قربت سے فیضا ب ہوتے ہیں۔
پارجاتُ اِہُ ہرِ کو نام ॥
کامدھین ہرِ ہرِ گُنھ گام ॥
سبھ تے اوُتم ہرِ کیِ کتھا ॥
نامُ سُنت درد دُکھ لتھا ॥
نام کیِ مہِما سنّت رِد ۄسےَ ॥
سنّت پ٘رتاپِ دُرتُ سبھُ نسےَ ॥
سنّت کا سنّگُ ۄڈبھاگیِ پائیِئےَ ॥
سنّت کیِ سیۄا نامُ دھِیائیِئےَ ॥
نام تُلِ کچھُ اۄرُ ن ہوءِ ॥
نانک گُرمُکھِ نامُ پاۄےَ جنُ کوءِ ॥੮॥੨॥
لفظی معنی:
پار جات۔ باغ بہشت کا وہ درخت حسار ی خواہشات پوری کرتا ۔ کام دھن ۔ دیوتاؤں یا فرشتوں کی وہ گائے جو تمام خواہشات پوری کرتی ہے ۔ ہر گن کام الہٰی حمدوثناہ ۔ اتم۔ بلند مھسو ۔ بلند عصمت۔ تل ۔ باربر ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام ہ ی بہشتی درخت شجر ہے جو تمام خواہشات پوری کرتاہے ۔الہٰی حمدوچناہ ہی کام دھین بہشتی گائے ہے ۔ جو تمام خواہشات پوری کرتی ہے ۔ الہٰی صفت صلاح سب سے بہتر کہانی ہے ۔ جس کے سنتے سے تمام عذاب مٹ جاتے ہین۔ نام کی عظمت عارفاں الہٰی کے دل میں بستی ہے اور عارفوں کی برکت سے تمام گناہ عافو ہوجاتے ہین ۔ عارفوں کی صحبت خوش قسمتی سے ملتی ہے اور خدمت عارفاں سے نام کی ریاض ہوتی ہے ۔ الہٰی نام کے برابر دوسری کوئی شے نہیں۔ اے نانک۔ مرشد کے وسیلے سے کوئی انسان ہی نام کی نعمت پاتا ہے ۔
سلوکُ ॥
بہُ ساست٘ر بہُ سِم٘رِتیِ پیکھے سرب ڈھڈھولِ ॥
پوُجسِ ناہیِ ہرِ ہرے نانک نام امول ॥੧॥
لفظی معنی:
پیکھے ۔ دیکھے ۔ سرب۔ سارے ۔ ڈھڈول ۔ مطالعہ کرکے ۔ بہس۔ برابر نہیں ۔ ہر یرے ۔ خدا کے برابر ۔ امول۔ بیش قیمت۔
ترجمہ معہ تشریح:
بہت سے ہندوں کے دھارمک گرنتھ اور شاشتروں اور سمرتیوں کا مطالعہ کیا ہے ۔ اے نانک الہٰی نام یعنی خدا کے نام کے برابر کوئی نہیں اے نانک۔ نام کی قدرو قیمت لا مثال ہے ۔
اسٹپدیِ ॥
جاپ تاپ گِیان سبھِ دھِیان ॥
کھٹ ساست٘ر سِم٘رِتِ ۄکھِیان ॥
جوگ ابھِیاس کرم دھ٘رم کِرِیا ॥
سگل تِیاگِ بن مدھے پھِرِیا ॥
انِک پ٘رکار کیِۓ بہُ جتنا ॥
پُنّن دان ہومے بہُ رتنا ॥
سریِرُ کٹاءِ ہومےَ کرِ راتیِ ॥
ۄرت نیم کرےَ بہُ بھاتیِ ॥
نہیِ تُلِ رام نام بیِچار ॥
نانک گُرمُکھِ نامُ جپیِئےَ اِک بار ॥੧॥
لفظی معنی:

جاپ۔ زبان سے کسی واعط کا بار بار بولنا۔ تاپ۔ جسم کو ۔ کوفت دینا۔ تپ ۔ تسپیا ۔ گیان ۔علم حاصل کرنا۔ دھیان ۔ توجہ دینا۔ سگل ۔ تیاگ ۔ پرہیز گاری ۔ بن۔ جنگل ۔ مدھے ۔ میں ۔ انک ۔ بیشما۔ر پر کار۔ طریقوں سے ۔ جتنا ۔ کوشش ۔ ہونمے ۔ ہون ۔ رسنا۔ قیمتی نعمتیں۔ راتی ۔ ذرہ ۔ ذرہ ۔ درت۔ ؎پرہیز ۔ نیم۔ روزانہ کا ۔ بہو بھالی ۔ بہت سے طریقوں سے ۔ تل ۔ برابر۔
ترجمہ معہ تشریح:
ریاض۔ تپسیا۔ علم و ہنر اور توجہی ۔ چھ شاشتروں اور سمرتیوں کے پندو واعظ کا مطالعہ کرکے دیکھا ہے ۔ الہٰی نام کے برابر نہیں۔ جوگیوں کے جوگ سا دھن دنیایو مذہبی نفرائض کو بار بار کرنے سارے دنیاوی جھنجٹ چھوڑ کر جنگ میں پھرنے سے گھومنے سے اور بیشما رکوششوں سخاوت ہوم کروانے اور اپنے جسم کا ذرہ ذرہ کرکے کٹاے اور آگ میں جلانے سے کئی قسم کی پرہیز گاری اور اور آگ میں جلانے سے کئی قسم کی پرہیز گاری اور اپنے اوپر کئی قسم کی بندشیں ( رکھنے ) رکھنا الہٰی نام کے وچاروں کے برابر نہیں۔ اے نانک۔ مرشد کے وسیلے سے الہٰی نام کی اگر ایک دفعہ بھی گر ریاض ہوجائے ۔
نءُ کھنّڈ پ٘رِتھمیِ پھِرےَ چِرُ جیِۄےَ ॥
مہا اُداسُ تپیِسرُ تھیِۄےَ ॥
اگنِ ماہِ ہومت پران ॥
کنِک اس٘ۄ ہیَۄر بھوُمِ دان ॥
نِئُلیِ کرم کرےَ بہُ آسن ॥
جیَن مارگ سنّجم اتِ سادھن ॥
نِمکھ نِمکھ کرِ سریِرُ کٹاۄےَ ॥
تءُ بھیِ ہئُمےَ میَلُ ن جاۄےَ ॥
ہرِ کے نام سمسرِ کچھُ ناہِ ॥
نانک گُرمُکھِ نامُ جپت گتِ پاہِ ॥੨॥
لفظی معنی:
نوکھنڈ پرتھمی ۔ زمین کے نو براعطم ۔ چر جیوے ۔لمبی عمر۔ مہاں۔ اداس۔ بھاری پریشانی ۔ تپیسر ۔ تپسیا ۔ ریاضت ۔ بندگی ۔ تھیوے ۔ ہوجائے ۔ ہو مت یران۔ زندیگ کا ۔ آگ میں جلا ڈالے ۔ کنک۔ سونا۔ سب ۔ گھوڑا۔ پیور۔ ہاتھی ۔ بھوم۔ زمین۔ بنوی کرم۔ یوگیوں کا ایک طریقہ جس سے انتڑیون کی صفائی کرتے ہیں۔ جین مارگ ۔ جنہوں کے راستے ۔ طریقے ۔ ات سادھن۔ بہت سے طریقے ۔ نمکھ نمکھ ۔ ذرہ ذرہ ۔ ہونمے میل۔ خودی کی ناپاکیزگی ۔ سمسر۔ برابر ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے زریعے ۔ نام تپت۔ نام کی ریاض سے ۔ گت۔ بلند روحانی حالت۔
ترجمہ معہ تشریح:
اگر کوئی انسان دنیا کے نو براعظموں میں گھوم لے لمبی عمر کیوں نہ گزارے ۔ دنیا کے جھنجتوں سے پریشانی ہوکر اسے چھوڑ کر عابد اور تپسیوی ہوجائے اور آ گمیں زندگی جلا ڈالے ۔ سونا ۔ چاندی اور اعلے گھوڑے ان کردے ۔ جوگیوں کےنیولی اور آسنوں سے اپنے جسم کو پاک بنائے ۔ جین مذہب کے راستے کیوں نہ آپنائے اور بھاری پرہیز گاری اور ضبط اپناے ۔اور اپنے جسم کو ریزہ ریزہ کرکے کٹالے ۔ مگر تب بھی خودی کو پلیدی اور ناپاکی ختم نہ ہوگی ۔ غرض یہ کہ خدا کے نام کے باربر کوئی چیز نہیں ۔ اے نانک نام کی ریاض سے ہی بلند روحانی رتبہ اور حالت حاصل ہوتی ہے ۔
من کامنا تیِرتھ دیہ چھُٹےَ ॥
گربُ گُمانُ ن من تے ہُٹےَ ॥
سوچ کرےَ دِنسُ ارُ راتِ ॥
من کیِ میَلُ ن تن تے جاتِ ॥
اِسُ دیہیِ کءُ بہُ سادھنا کرےَ ॥
من تے کبہوُ ن بِکھِیا ٹرےَ ॥
جلِ دھوۄےَ بہُ دیہ انیِتِ ॥
سُدھ کہا ہوءِ کاچیِ بھیِتِ ॥
من ہرِ کے نام کیِ مہِما اوُچ ॥
نانک نامِ اُدھرے پتِت بہُ موُچ ॥੩॥
لفظی معنی:
من کامنا۔ دلی خواہش۔ تیرتھ دیہر چھٹے ۔ زیارت گاہ پر ۔ موت ہو ۔ گربھ۔ تکبر۔ گھمنڈ۔ ہٹے ۔ کم نہیں ہوتا۔ سوچ۔ جسمانی پاکیزگی ۔ سوچ۔ خیال آرائی ۔ ۔ جات۔ مٹتی نہیں ۔ سادھنا۔ کوشش۔ وکھیا ۔ زیر۔ انیت۔ ہر رو ز نہ رہنے والی ۔ قابل فناہ ۔ بھیت ۔ دیوار۔ مہما۔ عظمت ۔ پتت۔ اکلاق انسانی سے گرے ہوئے ۔ انسان ۔ موچ۔ نہایت۔ باتب۔ عقلند ی و دانش۔ چالاکی ۔ سدھ۔ صاف۔ پاک ۔ کاچی بھیت ۔ خادم دیوار سہما اوچ۔ بلند عظمت ۔ ادھرے ۔ بچے ۔ بہو ۔ بہت ۔ زیادہ ۔ موچ۔ بدکردار۔ بدا خلاق۔
ترجمہ معہ تشریح:
ساس خواہش سے کہ میری زیارت گاہ پو موت واقع ہوجائے مگر غرور اور تکبر دل سے نہیں جاتا۔ روز و شب پاکیزگی اور صفائی کرتا ہے ۔ مگر دل کی ناپاکیزگی جسم سے جاتی نہیں۔ اس جسم کی پاکیزگی اور صفائی کے لئے انسان بہت کوشش کرتا ہے ۔ مگر تہام بھی دنایوی دولت اور گناہگاریوں کی زیر دل سے نہیں جاتی ۔ زیر زائل نہیں ہوتا۔ اس قابل فناہ مٹ جانے والے جسم کو کتنا ہی پانی سے صاف کیوں نہ کیا جائے ۔ مگر کچی یا کادم دیوار کی مانند جسم کبھی پاک نہ ہوگا۔ اے دل الہٰی نام سچ حق و حقیقت بلند عطمت ہے ۔ اے نانک۔ بہت سے ناپاک۔ گناہگار ۔ اور بدکرداروں اور بداخلاقیوں کا نام سے بچاؤ ہوا ہے ۔
بہُتُ سِیانھپ جم کا بھءُ بِیاپےَ ॥
انِک جتن کرِ ت٘رِسن نا دھ٘راپےَ ॥
بھیکھ انیک اگنِ نہیِ بُجھےَ ॥
کوٹِ اُپاۄ درگہ نہیِ سِجھےَ ॥
چھوُٹسِ ناہیِ اوُبھ پئِیالِ ॥
موہِ بِیاپہِ مائِیا جالِ ॥
اۄر کرتوُتِ سگلیِ جمُ ڈانےَ ॥
گوۄِنّد بھجن بِنُ تِلُ نہیِ مانےَ ॥
ہرِ کا نامُ جپت دُکھُ جاءِ ॥
نانک بولےَ سہجِ سُبھاءِ ॥੪॥
لفظی معنی:
سیانپ ۔ دانائی ۔ چالاکی ۔ بہو۔ خوف۔ دیاپے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ جتن۔ کوشش۔ ثرسن۔ پیاس۔ لالچ۔ نہ دھراپے ۔ بجھتی نیہں ۔ خواہش پویر نہیں ہوتی ۔ سر نہیں ہوتی ۔ اپاؤ۔ طریقے ۔ درگیہہ۔ الہٰی دربار ۔کچہری ۔ سہجے ۔ بھکھ ۔ دھارمک ۔ بناؤت۔ لباس۔ اگن نہیں بجھے ۔ خواہشات کی جلن ختم نیہں ہوتی ۔ جھوٹس ۔ چھٹکارہ ۔ نجات۔ اوبھ پیال۔ ترقی و تنزلی ۔ موہ ۔ محبت۔ دیاپیہہ۔ پیدا ہوتی ہے ۔ مائیا جامل ۔ دنایوی دولت کا پھندہ ۔ اور ۔ دیگر۔ کر توت۔ کار ۔ اعمال۔ سگلی ۔ سب کو ۔ جسم۔ فرشتہ موت ۔ ڈاے ۔ سزا۔ تل۔ رتی بھر۔ ذراسا۔ دکھ ۔ عذاب۔ سہج ۔ قدری ۔ سبھاے ۔ پریم کے ساتھ۔
ترجمہ معہ تشریح:
زیادہ دانائی سے موت کا خوف پیدا ہوتا ہے ۔ بیشمار کوشش وکاوش کے باوجود خواہشات کی پیاس ختم نہیں ہوتی ۔ بیشمار دھارمک مذہبی بناوٹ اور لباس پہننے سے خواہشات کی جلن ختم ہوتی ۔ لاکھون کوششوں کے باوجود منزل مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ خواہ بلند عطمت حاصل ہوجائے یا تنزلی ہوجائے ۔ انسان دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار رہتاہے ۔ الہٰی نام کے بغیر دوسرے اعمال کے لئے موت کا فرشتہ سزا دیتا ہے ۔ اور الہٰی عبادت و ریاض کے بغیر تمام کاموں سے اس کی تسلی و تشنی نہیں ہوتی ۔ خدا کے نام کی ریاض سے عذاب مٹ جاتا ہے ۔ اے نانک۔ یہ پر سکون ہوکر قدرتی بناتاہے ۔
چارِ پدارتھ جے کو ماگےَ ॥
سادھ جنا کیِ سیۄا لاگےَ ॥
جے کو آپُنا دوُکھُ مِٹاۄےَ ॥
ہرِ ہرِ نامُ رِدےَ سد گاۄےَ ॥
جے کو آپُنیِ سوبھا لورےَ ॥
سادھسنّگِ اِہ ہئُمےَ چھورےَ ॥
جے کو جنم مرنھ تے ڈرےَ ॥
سادھ جنا کیِ سرنیِ پرےَ ॥
جِسُ جن کءُ پ٘ربھ درس پِیاسا ॥
نانک تا کےَ بلِ بلِ جاسا ॥੫॥
لفظی معنی:
چار پدارتھ ۔ چار اخلایق یا تمدنی نعمتیں۔ مراد ۔ دھرم۔ مذہبی اور انسانی فرائض کی انجام دہی میں پختگی ۔ موکھ ۔ نجات۔ دنیاوی دولت کی غلامی سے نجات کام کامیابی ۔ ارتھ ۔ دنیاوی ضرورتوں ( کی ) کا مکمل ہونا۔ سادھ ۔ وہ انسان جنہوں نے اخلاقی و روحانی طور پر پاکیزگی حاصل کر لی ہے ۔ سیوا ۔ خدمت۔ دوکھ ۔ عذاب۔ ردے سد۔ دل و جان سے ۔ یکسو ہوکر۔ سوبھا۔ شہرت۔ مشہوری ۔ لورٹے ۔ ضرورتمند ۔ سادھ سنگ۔ صحبت ۔ پاکدامن۔ ہونمے ۔ خودی۔ چھورے ۔ چھوڑے ۔ جنم مرن۔ موت وپیدائش ۔ تناسک ۔ آواگون ۔ درس پیاسا۔ دیدار کی پیاس۔ بل بل۔ قربان۔
ترجمہ معہ تشریح:
اگر کسی انسان کو چار نعمتوں کی ضرورت محسوس ہو ۔ تو انہیں پاکدامنوں کی کدمت کرنی چاہیے ۔ اگر کوئی اپنا عذاب مٹانا چاہتا ہے ۔ تو اسے دل میں الہٰی نام کی ریاض کر نی چایے ۔ اگر کوئی اپنی نیک شہرت چاہتا ہے ۔ تو پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں خوید چھوڑ ے ۔ اگر کوئی آواگون یا تناس خ کا خوف کھاتا ہے ۔ تو پاکدامنوں کی پناہ قبول کرے ۔ جو دیدار خدا کو پیاسا ہے ۔ نانک اس پر قربان ہے ۔
سگل پُرکھ مہِ پُرکھُ پ٘ردھانُ ॥
سادھسنّگِ جا کا مِٹےَ ابھِمانُ ॥
آپس کءُ جو جانھےَ نیِچا ॥
سوئوُ گنیِئےَ سبھ تے اوُچا ॥
جا کا منُ ہوءِ سگل کیِ ریِنا ॥
ہرِ ہرِ نامُ تِنِ گھٹِ گھٹِ چیِنا ॥
من اپُنے تے بُرا مِٹانا ॥
پیکھےَ سگل س٘رِسٹِ ساجنا ॥
سوُکھ دوُکھ جن سم د٘رِسٹیتا ॥
نانک پاپ پُنّن نہیِ لیپا ॥੬॥
لفظی معنی:
پردھان ۔ مقبول عام ۔ سگل ۔ سارے ۔ پرکھ انسان ۔ سادھ سنگ ۔ سحبت پاکدامن ۔ ابھیمان۔ گرور ۔ تکبر ۔گھمنڈ۔ نیچا۔ عاجز ۔ مسکین ۔ اوچا۔ بلند عطمت۔ رینا۔ دہول ۔ گھٹ گھت۔ ہر دلمین۔ چینا۔ دیکھنا۔ دیدار ۔ برا۔ بدی ۔ برائی۔ پیکھے ۔ دیکھے ۔ سگل سر شٹ سارے عالم ۔ ساجنا ۔ دوست۔ سکوھ ۔ دکوھ ۔ عزاب و اسائش ۔ سم۔ باربر۔ ایک جیسے ۔ درسٹیتا۔ دیکھنا۔ خیال کرنا۔ پاپ۔ دوش۔ گناہ ۔ جرم۔ پن۔ ثواب۔ لیپا۔ تاثر۔ لگاؤ۔
ترجمہ معہ تشریح:
صحبت و قربت پاکدامناں و خدا رسیدگان نے جس نے تکبر غرور و گھمنڈ مٹا لیا وہ سارے انسانوں میں مقبول عام اور بلند عظمت ہوگیا ۔ جو اپنے آپ کو نیچ یا برا خیال کرتا ہے ۔ اسے سب سے اچھا اور نیک سمجھو۔ جو اپنے آپ کو سب کے پاؤں کی دہول خیال کرتا ہے ۔ اسے یہ دل میں الہٰی نور دکھائی دیتا ہے ۔ جس نے اپنے دل سے برائی و بدی نکال دی اسے سارا علام دوست دکھائی دیتا ہے ۔ جس کے لئے آرام وآسائش عذاب برابر ہے ۔ اے نانک۔ اس پر گناہ و ثواب کے تاثرات اپنا تاثر نہیں ڈالتے ۔
نِردھن کءُ دھنُ تیرو ناءُ ॥
نِتھاۄے کءُ ناءُ تیرا تھاءُ ॥
نِمانے کءُ پ٘ربھ تیرو مانُ ॥
سگل گھٹا کءُ دیۄہُ دانُ ॥
کرن کراۄنہار سُیامیِ ॥
سگل گھٹا کے انّترجامیِ ॥
اپنیِ گتِ مِتِ جانہُ آپے ॥
آپن سنّگِ آپِ پ٘ربھ راتے ॥
تُم٘ہ٘ہریِ اُستتِ تُم تے ہوءِ ॥
نانک اۄرُ ن جانسِ کوءِ ॥੭॥
لفظی معنی:
نر دھن۔ غریب۔ کنگال ۔ نتھاوے ۔ بے سارا۔ نمانے ۔ بے وقار۔ بے عزت۔ گھٹا۔ دل ۔ جسم۔ کرن۔ کرا ونہار۔ کار سا ز۔ سوآمی ۔ مالک۔ سگل گھٹا۔ سب کے دلوں میں۔ انتر جامی ۔ اندرونی راز جاننے والا۔ گت ۔ مت۔ حالت کا اندازہ ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ پربھ ۔ خدا۔ راتے ۔ محو۔ مست۔ اسنت۔ تعریف۔ صفت صلاح۔ نیک شہرت۔ اور ۔ دیگر ۔ دوسرا۔ جانس۔ جانتا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے کدا غریب اور کنگال کے لئے تیرا نام سچ حق و حقیقت ہی دولت ہے ۔ بے ساہرا کے لئے تیرا نام ہی سہار اہے ۔ بے وقار ہے ۔ ۔ توہی سب کو نعمتیں عطا کر نے والا ہے ۔ تو ہی کرنے اور کرانے ولا کا رساز آقا ہے اور سب کے دلونں کے اندرنوی راز سمجھنے والا ہے ۔ تو ہی اپنی حالت اور نظام کو کود جانتا ہے ۔ اور اپنے آپ میں خود میں محو ہے ۔ توہی اپنی تعیف اور قدرو منزالت خو دہی جانتا ہے تو ہی کر سکتا ہے ۔ اے نانک ۔ دوسرا کوئی ۔ اسکو نہ جانتا ہے نہ سمجھتا ہے ۔
سرب دھرم مہِ س٘ریسٹ دھرمُ ॥
ہرِ کو نامُ جپِ نِرمل کرمُ ॥
سگل ک٘رِیا مہِ اوُتم کِرِیا ॥
سادھسنّگِ دُرمتِ ملُ ہِرِیا ॥
سگل اُدم مہِ اُدمُ بھلا ॥
ہرِ کا نامُ جپہُ جیِء سدا ॥
سگل بانیِ مہِ انّم٘رِت بانیِ ॥
ہرِ کو جسُ سُنِ رسن بکھانیِ ॥
سگل تھان تے اوہُ اوُتم تھانُ ॥
نانک جِہ گھٹِ ۄسےَ ہرِ نامُ ॥੮॥੩॥
لفظی معنی:
دھرم۔ انسانی یا مذہبی فرض۔ سر یشٹ۔ بلند اہمی ت۔ نیک ۔ اچھا۔ نرمل۔ پاک و پائس۔ درست۔ کرم۔ اعمال ۔ اکلاق۔ کریا۔ مذہبی رسوم۔ اُتم۔ نیک۔ اچھی ۔ درمت۔ بد عقلی ۔کھوٹئی ۔ سمجھ ۔ مل۔ ناپاکیزگی ۔ ہریا۔ مٹی ۔ اوم۔ کوشش۔ بھلا۔ نیک ۔ اچھا۔ سدا۔ ہمیشہ ۔ انمرت۔ آبحیات۔ زندگی کو صدیوی بنانے والا پانی ۔ بانی ۔ کلام۔ ہر کوجس ۔ الہٰی صفت صلاح۔ رسن۔ زبان ۔ دکھانی ۔ تشریح۔ بیان۔ تھان۔ مقام۔ جگہ ۔ اتم۔ اچھا۔ جیہہ گھٹ۔ جس دلمیں۔ ہر نام۔ الہٰی نام۔ سچ حق و حقیقت ۔ اصل ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا کا سچا نام اور اس کی ریاض پاک اخلاق سب سے اچھا اور نیک فرض ہے ۔ سچی صحبت و قربت میں رہ کر بد اخلاقی دور کرنا اس کی ناپاکیزگی ختم کرنا ۔ ایکا چھا اور نیک اعمال ہے ۔ او رصحبت و قربت پاکدامناں برائیوں اور بدیوں اور بداخلاقیوں کی نا سمجھی کی ناپاکیزگی دور کرنا تمام مذہبی رسومات سے اچھا اور نیک خیلا ہے ۔ اور خال ہے ۔ سارے جہدو جہاد سے اچھا کام ہمیشہ خدا کو دل و جان سے یاد کرتا ہے ۔ سارے کلامون سے اب حیات کی ماندن اور آب حیات الہٰی صفت صلاح زبان سے کرنا اور سنتا ہے ۔ تمام رتبوں سے بلند رتبہ ( وہ ) اسکا ہے ۔ اے نانک۔ جس کے دلمیں الہٰی نام یعنی سچ بستاہے ۔
سلوکُ ॥
نِرگُنیِیار اِیانِیا سو پ٘ربھُ سدا سمالِ ॥
جِنِ کیِیا تِسُ چیِتِ رکھُ نانک نِبہیِ نالِ ॥੧॥
لفظی معنی:
نرگنیار ۔ ۔ بے اوصاف۔ ایانیا۔ نادان۔ نا سمجھ ۔ سمال۔ یاد رکھ ۔ چیت۔ دلمیں بسا ۔ تبھی ۔ ساتھ دیتا ے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے کم فہم انسان بے اوصاف اس خالق کو ہمیشہ یاد کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے ۔ وہی ہر وقت تیرا ساتھی اور ساتھ رہیگا۔
اسٹپدیِ ॥
رمئیِیا کے گُن چیتِ پرانیِ ॥
کۄن موُل تے کۄن د٘رِسٹانیِ ॥
جِنِ توُنّ ساجِ سۄارِ سیِگارِیا ॥
گربھ اگنِ مہِ جِنہِ اُبارِیا ॥
بار بِۄستھا تُجھہِ پِیارےَ دوُدھ ॥
بھرِ جوبن بھوجن سُکھ سوُدھ ॥
بِردھِ بھئِیا اوُپرِ ساک سیَن ॥
مُکھِ اپِیاءُ بیَٹھ کءُ دیَن ॥
اِہُ نِرگُنُ گُنُ کچھوُ ن بوُجھےَ ॥
بکھسِ لیہُ تءُ نانک سیِجھےَ ॥੧॥
لفظی معنی:
رمیا۔ رام۔ خدا۔ گن ۔ وصف۔ چیت ۔ یاد کر۔ براتی ۔ اے انسان۔ کون مول۔ کس بیاد۔ کون درسٹانی ۔ کیسا۔ دکھائی دیتا ہے ۔ ساز۔ پیدا کی ۔ سنوار۔ درست کیا۔ سیگاریا۔ تیری سجاوت کی ۔ گربھ۔ اگن۔ یٹ کی آگ۔ اُبھاریا۔ بچائیا۔ بار بوستھا۔ بچپن۔ بھر جو ہن۔ بھر پور ۔ جونای کے عالم میں۔ بھوجن۔ کھانا۔ سکھ سودھ۔ آرما اور سمجھ ۔ بردھ۔ بڑھاپے مین۔ ساک۔ رشتہ دار۔ سین ۔ دوست۔ مکھ اپیاؤ۔ منہ میں اچھے کھانے ۔ بیھ کوو یدن۔ بیٹھے کو دیتے ہین۔ نرگن۔ بے اوصاف انسان نا شکر اکچھ نہیں سمجھتا۔ اے نانک۔ اگر خدا ہی عنایت و شفقت کرے تبھی سمجھیگا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان خدا کے اوساف یاد کر کہ کس بنیاد سے کیسا خوبصورت بنا کے دکھادیا تجھے ۔ جس نے تجھے پیدا کرکے خوبصورت بنا ئیا ہے اور پیٹ کی آگ سے تجھے بچائیا ہے ۔ جس ے تجھے بچپن مین دودھ پلائیا اور نوجوانی کے عالم میں آرام اور عقل عنایت کی ۔ اور آرام و آسائش کے بارے سمجھ بخشی ۔ بورھا ہو جانے پر خدمت کے لئے رشتہ دار اور دوست بنائے ۔ جو بیٹھے بتھائے کے منہ میں لقمے ڈالتے ہیں اور اچھی خوراک دیتے ہیں۔ اے نانک۔ یہ ناشکرا بے اوصاف انسان کچھ نہیں سمجھا۔ اے خدا اگر تیری عنایت و شفقت ہو توتبھی سمجھیگا۔
جِہ پ٘رسادِ دھر اوُپرِ سُکھِ بسہِ ॥
سُت بھ٘رات میِت بنِتا سنّگِ ہسہِ ॥
جِہ پ٘رسادِ پیِۄہِ سیِتل جلا ॥
سُکھدائیِ پۄنُ پاۄکُ امُلا ॥
جِہ پ٘رسادِ بھوگہِ سبھِ رسا ॥
سگل سمگ٘ریِ سنّگِ ساتھِ بسا ॥
دیِنے ہست پاۄ کرن نیت٘ر رسنا ॥
تِسہِ تِیاگِ اۄر سنّگِ رچنا ॥
ایَسے دوکھ موُڑ انّدھ بِیاپے ॥
نانک کاڈھِ لیہُ پ٘ربھ آپے ॥੨॥
لفظی معنی:
جیہہ پر ساد ۔ جس کی رحمت سے ۔ دھر۔ زمین۔ ست۔ بیٹے ۔ بھرات۔ بھائی ۔ میت ۔ دوست ۔ بنتا۔ عورت ۔ مستقل جلا۔ تھنڈا پانی ۔ پون۔ ہوا۔ پاوک ۔ آگ۔ املا۔ بیش قیمت۔ رسا۔ لطف۔ مزے ۔ سگل ۔ ساری ۔ سمرگری ۔ ساری نعمتیں۔ ہست ۔ ہاتھ ۔ پاو۔ پاؤں۔ بدن۔ کان ۔ نیتر۔ آنکھیں۔ رسنا۔ زبان۔ تیسیہہ تیاگ۔ اسے چھوڑ کر ۔ اور سنگ رچنا۔ دوسروں سے مشغول ہے ۔ دکوھ ۔ عزاب۔ موڑھ ۔ جاہل ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان جس کی رحتم و عنایت سے تو زمین پر آرام و آسائش پاتا ہے ۔ دوستون بھائیوں بیٹوں اور عورت سے ہنستا کھیلتا ہے ۔ جس کی رحمت سے ٹھنڈآ پانی پیتا ہے ۔ جس کی مہربانی سے(تمام ) آرام دیہہ ہوا اور بیش قیمت آگ استعمال کرتا ہے ۔ جس کی رحمت سے ہر طرح کے لطف اور مزے لیتا ہے ۔ اور تیرے پاس تمام نعمتیں ہیں۔ تجھے ہاتھ پاؤں کان انکھیں اور زبان عنایت فرمائی ہے ۔ اس خدا کو بھلا رک دوسروں سے تال میل ہے ۔ اے جاہل اندھے انسان ایسے حالات میں عذاب آتا ہے ۔ اے نانک۔ اے خدا ایسے بد اوصاف سے خو دہی بچاو۔
آدِ انّتِ جو راکھنہارُ ॥
تِس سِءُ پ٘ریِتِ ن کرےَ گۄارُ ॥
جا کیِ سیۄا نۄ نِدھِ پاۄےَ ॥
تا سِءُ موُڑا منُ نہیِ لاۄےَ ॥
جو ٹھاکُرُ سد سدا ہجوُرے ॥
تا کءُ انّدھا جانت دوُرے ॥
جا کیِ ٹہل پاۄےَ درگہ مانُ ॥
تِسہِ بِسارےَ مُگدھُ اجانُ ॥
سدا سدا اِہُ بھوُلنہارُ ॥
نانک راکھنہارُ اپارُ ॥੩॥
لفظی معنی:
آد۔ آگاز ۔ انت۔ آکر۔ پریت۔ پایر۔ گوار۔ جاہل۔ سیوا۔ کدمت۔ نوندھ ۔ نو خزانے ۔ موڑھا۔ مورکھ ۔ جاہل۔ حضورے ۔ حاضر ناظر۔ ساتھ۔ دورے ۔ دور۔ ٹہل۔ خدمت۔ درگہ ۔ کچہری ۔ دربار۔ مان۔ عزت۔ وقار۔ وسارے ۔ بھلائے ۔ مگدھ ۔ جاہل۔ اجان۔ نا سمجھ ۔ بھولنہار۔ بھولنے والا۔ رکھنہار۔ بچانے والا۔ حفاظتی ۔ اپار۔ بیشمار۔
ترجمہ معہ تشریح:
اول آخر جو بچائے جاہل اس سے پیار نہ پائے ۔ خدمت سے جس کی نو خزانے ملتے ہیں۔ جاہل اسے دل نہ لگائے ۔ جو مالک ہمیشہ ساتھی ہے او رنسگی ہے ۔ اندھا جو نہ سمجھے اس کے لئے دوری ہے ۔ خدمت سے جس کی دربار میں عزت لتی ہے ۔ نا سمجھ اور جاہل اسے بھلاتا ہے ۔ ہمیشہ غفلت کرتا ہے ۔ اور بھول میں ہر دم رہتا ہے ۔ اے نانک وہ شمار سے باہر جو سب کا رکھوالا ہے ۔
رتنُ تِیاگِ کئُڈیِ سنّگِ رچےَ ॥
ساچُ چھوڈِ جھوُٹھ سنّگِ مچےَ ॥
جو چھڈنا سُ استھِرُ کرِ مانےَ ॥
جو ہوۄنُ سو دوُرِ پرانےَ ॥
چھوڈِ جاءِ تِس کا س٘رمُ کرےَ ॥
سنّگِ سہائیِ تِسُ پرہرےَ ॥
چنّدن لیپُ اُتارےَ دھوءِ ॥
گردھب پ٘ریِتِ بھسم سنّگِ ہوءِ ॥
انّدھ کوُپ مہِ پتِت بِکرال ॥
نانک کاڈھِ لیہُ پ٘ربھ دئِیال ॥੪॥
لفظی معنی:
رتن۔ ہیر ا ۔ قیمتی اشیا۔ جواہرات۔ کوڈی ۔ ایسی چیز جس کی کوئی قیمت نہیں بیکار۔ رچے ۔ محبت کرتا ہے ۔ سچے ۔ ملاپ ۔ استھر۔ دائمی ۔ ہوون۔ ہونے والا۔ پرانے ۔ پرے ہٹاتا ہے ۔ دور کرتاہے ۔ سرم۔ محنت۔ مشقت۔ جہد ۔ کوشش ۔ پر ہرے ۔ چھوڑے ۔ چندن۔ خوشبو دینے والی لکڑی ۔ گر ھب۔ گدھے ۔ بھم۔ سواہ۔ راکھ ۔ مٹی ۔ اندھ کو پ ۔ اندھ کنوان۔ پتت۔ انسانیت سے اور اکلاق سے گرا ہوا۔ بد اخلاق ۔ وکرال۔ خوفناک ۔ پربھ دیال ۔ رحمان الرھیم ۔
ترجمہ معہ تشریح:
چھوڑ کے لعل جواہروں کو بیکاروں سے پایر بڑھاتا ہے ۔ چھوڑ کے سچ حقیقت کو کفر سے پیار بناتا ہے ۔ جس نے ختم ہوجانا ہے ۔ دائمی اسے وہ مانتا ہے اور دائمی سے دوری بناتا ہے ۔ محبت اور مشقت ہے کرتا ۔ جس نے ختم ہوجاتا ہے اس سنگی اور ساتھی سے ردے اپنی وہ دوری بناتا ہے ۔ جس نے آکر مدد کرنی ہے ۔ چندن کو مل کر دہوئے اس کی قدر نہ پاتا ہے ۔ گدھے کی مستی کی مانند دہول سے پریت لگاتا ہے ۔ اے نانک ۔ خیالات کے اندھیرے کوئیں میں جو خوفناک اور ڈر والا ہے ۔ اس میں خود کوڈالا ہے ہو کر رحمان الرحیم خداتو اپنی رحمت سے نانک کو پار لگا۔
کرتوُتِ پسوُ کیِ مانس جاتِ ॥
لوک پچارا کرےَ دِنُ راتِ ॥
باہرِ بھیکھ انّترِ ملُ مائِیا ॥
چھپسِ ناہِ کچھُ کرےَ چھپائِیا ॥
باہرِ گِیان دھِیان اِسنان ॥
انّترِ بِیاپےَ لوبھُ سُیانُ ॥
انّترِ اگنِ باہرِ تنُ سُیاہ ॥
گلِ پاتھر کیَسے ترےَ اتھاہ ॥
جا کےَ انّترِ بسےَ پ٘ربھُ آپِ ॥
نانک تے جن سہجِ سماتِ ॥੫॥
لفظی معنی:
مانس۔ انسان ۔ کرتوت ۔ اعمال۔ پسو۔ حیوان۔ پچارا۔ دکھاوا۔ لوک ۔ بچارا۔ لوک دکھاوا۔ بھیکھ ۔ لباس۔ پہراوا ۔ انتر۔ اندر۔ دلمیں۔ مل۔ میل۔ ناپاکیزگی ۔ مائیا۔ دنیاوی دولت۔ چھپس ناہے ۔ چھپتی نہیں۔ باہر۔ بہرونی طور پر ۔ گیان۔ عل وہنر۔ دھیان۔ توجہی ۔ اشنان۔ پاکزیگی ۔ لوبھ ۔ لالچ ۔ سوآن۔ کتا۔ انتر ۔ آگن۔ دلمیں آگ جل رہی ہے ۔ خواہشات کی آگ ۔ با ہر تن سوآہ ۔ بدن پر راکھ کی مالش ۔ گل پاتھر ۔ گلے پتھر ۔ بندھا وہا ہے ۔ گناہون کا ۔ جبکہ زندیگ ایک گہرے سمندر کی مانند ہے ۔ انتر ۔ دلمیں۔ سہج ۔ سکون ۔ سمات ۔ سماتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
عمل کرئے حیوانوں جیسے جبکہ نسل ہے انسانوں کی لوگوں کو روز و شب و کھلا وا کرتاہے ۔ پہراوا ہے ۔ عارف انسانوں کا دل ناپاک ہے دنیاوی دولت سے ۔ چھپائے چھپتے ہیں اعمال کہاں لاکہہ پوشیدہ رکھنے سے ۔ علم وہنر کماتا ہے اور دھیان لگاتا ہے ۔ زیارت پر بھی جاتا ہے ۔ دلمیں ہے لالچ کا کتا اور دل للچاتا ہے ۔ دل میں حرض و طمع کی آگ ہے باہر فقیرون کا بھیس بناتا ہے ۔ گہرا ہے دنیاوی سمند ر۔ گلے میں پتھر کی سیل لٹکائی ہے ۔ جس کے دلمیں خدا خود بستا ہے سکون ہے اس انسان کے دل میں نانک سکون روحانی پائیا ہے
سُنِ انّدھا کیَسے مارگُ پاۄےَ ॥
کرُ گہِ لیہُ اوڑِ نِبہاۄےَ ॥
کہا بُجھارتِ بوُجھےَ ڈورا ॥
نِسِ کہیِئےَ تءُ سمجھےَ بھورا ॥
کہا بِسنپد گاۄےَ گُنّگ ॥
جتن کرےَ تءُ بھیِ سُر بھنّگ ॥
کہ پِنّگُل پربت پر بھۄن ॥
نہیِ ہوت اوُہا اُسُ گۄن ॥
کرتار کرُنھا مےَ دیِنُ بینتیِ کرےَ ॥
نانک تُمریِ کِرپا ترےَ ॥੬॥
لفظی معنی:
مارگ ۔ راستہ ۔ کر ۔ ہاتھ۔ گیہہ۔ پکڑ کر ۔ اوڑ۔ آکر۔ نیہارے ۔ ساتھ دئے ۔ بجھارت۔ بوجہنے یا سمجھنے والی چھوٹی کہانی ۔ ڈور ۔ بولا۔ تس۔ رات۔ بھورا ۔ دن ۔ بسن پد ۔ گانے ۔ اچھے راگ ۔ گنگ ۔ گونگا ۔ میں ۔ کوشش۔ سر ۔ طز۔ بھنگ ۔ لوٹ جاتی ہے ۔ پنگل ۔ پنگلا۔ لولا۔ لنگڑا ۔ پربت۔ پہاڑ۔ پربھون ۔ سیر کرنا۔ ھومنا۔ گون ۔ رسائی ۔ پہنچ ۔ گھومنا۔ اوہا۔ وہان۔ کرنا میئے ۔ میربان ترس کرنے والا۔ رحمان الرحیم۔ دین۔ عاجز ۔ مسکین ۔ بنتی ۔ عرض ۔ ارداس۔ گذارش۔ تمری ۔ تری ۔ کرپا۔ مہربانی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اندھا انسان سنکر کیسے راستہ پائیگا ۔ ہاتھ پکڑنے سے اکر تک گذارا ہوگا۔ کانوں سے بہر ہ صرف اشارہ ہی سمجھے گا۔ مگر اگر رات کہو تو دن سمجھیگا ۔ گونگا کیسے راگ الاچے گا۔ خواہ کوشش کرے تو بھی نہ گا سکیگا ۔ لالا ۔ پہاڑوں کی سیر کیسے کر یگا وہ چہل پہل نہیں کر سکتا ۔ اے نانک۔ ایسے صورت و حالات میں صرف خدا سے عرض و گذارش ہی ہو سکتی ہے کہ اے خدا مہربانی فرما کر میں عنایت و شفقت سے منزل و مقصد پا سکوں ۔
سنّگِ سہائیِ سُ آۄےَ ن چیِتِ ॥
جو بیَرائیِ تا سِءُ پ٘ریِتِ ॥
بلوُیا کے گ٘رِہ بھیِترِ بسےَ ॥
اند کیل مائِیا رنّگِ رسےَ ॥
د٘رِڑُ کرِ مانےَ منہِ پ٘رتیِتِ ॥
کالُ ن آۄےَ موُڑے چیِتِ ॥
بیَر بِرودھ کام ک٘رودھ موہ ॥
جھوُٹھ بِکار مہا لوبھ دھ٘روہ ॥
اِیاہوُ جُگتِ بِہانے کئیِ جنم ॥
نانک راکھِ لیہُ آپن کرِ کرم ॥੭॥
لفظی معنی:
سنگ سہائی۔ ساتھی و مددگار۔ چیت ۔ دل ۔ بیرائی ۔ دشمن۔ بلوا۔ ریت۔ گریہہ۔ گھر ۔ بھیتر۔ مین۔ اندر۔ رنگ ۔ پریم ۔ کیل ۔ کھیل۔ درڑ۔ پختہ طور پر ۔ پرتیت ۔ یقین ۔ بھروسہ ۔ موڑھے ۔ بیرقوف ۔ کام ۔شہوت۔ کرودھ غصہ ۔ بکار ۔ بدالاں ۔ یہان لوبھ ۔ بھاری لالچ ۔ دھروہ ۔ دہوکا ۔ ایا ہوایسے ۔ بہانے ۔ گذارے ۔ کر کرم ۔ عنایت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
نہیں یاد تجھے جو ستھی ہے مددگار بھی ہے ۔ جو دشمن ہے بیگانہ ہے تو اس سے پیار بڑھاتا ہے باتوریت کے گھر میں رہ کر دنیاوی دولت کی مستی مین کھیل تماشے کرتا ہے ۔ دل سے پریم پیاراس سے کرتا ہے ۔ دل سے موت بھلائی ہے ۔ دشمنی ۔ جھگڑا۔ اور غسہ ۔ جھٹ۔ دہوکا بداعمال اور لاچ سے محبت ہے ۔ اسی طریقے راہوں پر موت گذر گئی ۔ اے نانک۔ اپنی رکم وعنایت سے میری حفاظت کیجیئے ۔
توُ ٹھاکُرُ تُم پہِ ارداسِ ॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تیریِ راسِ ॥
تُم مات پِتا ہم بارِک تیرے ॥
تُمریِ ک٘رِپا مہِ سوُکھ گھنیرے ॥
کوءِ ن جانےَ تُمرا انّتُ ॥
اوُچے تے اوُچا بھگۄنّت ॥
سگل سمگ٘ریِ تُمرےَ سوُت٘رِ دھاریِ ॥
تُم تے ہوءِ سُ آگِیاکاریِ ॥
تُمریِ گتِ مِتِ تُم ہیِ جانیِ ॥
نانک داس سدا کُربانیِ ॥੮॥੪॥
لفظی معنی:
ٹھاکر ۔ مالک ۔ ارداس۔ عرض ۔ چیو پنڈ۔ روح و جسم۔ راس۔ سرمایہ ۔ مات پتا۔ ماں باپ ۔ بارک ۔ بچے ۔ کرپا ۔ مہربانی ۔ گھنیرے ۔ زیادہ ۔ انت ۔ آکر ۔ بھگونت ۔ خدا۔ سگل سمگری ۔ ساری قائنات ۔ سو تر دھاری زیر یا تابعہ نظام۔ گت مت۔ حالت کا اندازہ ۔ آگیا کاری ۔ زیر فرمان ۔ تم تے ہوئے ۔ تیرے پیدا کئے ہوئے ۔ آگیا کاری ۔ زیر فرمان ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے کدا تو ہے میرا خالق دراز ق ہے میری تجھ پر ہے گذارش ہے یہ روح اور جسم یہ تیری ہی دولت سر مایہ ہے ۔ تیری ہی بخشش ہے ۔ تو ہی ماں اور باپ بھی تو ہے تیرے ہی بالے بچے ہیں۔ تیری رحمت میں اے کدائیا آرام و آسائش بہترے ہیں۔ تیری آکر اور انت نہیں جانتا کوئی ۔ اوچنے سے اونچا رتبہ ہے تیرا میرے مولا تو قسمت بنانے والا ہے ۔ اونچے سے اونچا رتبہ ہے تیرا میرے مولا تو قسمت بنانے والا ہے ۔ ساری قائنات کا تو مالک ساری زیر فرمان تیرے زیر نظام تیرے اپنی سہتی اور ہوند کو تو ہی جاننے والا ہے ۔ خادم نانک تیر اہے ۔ خادم تجھ پہ ہمیشہ قربان ہے ۔
سلوکُ ॥
دینہارُ پ٘ربھ چھوڈِ کےَ لاگہِ آن سُیاءِ ॥
نانک کہوُ ن سیِجھئیِ بِنُ ناۄےَ پتِ جاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
دینہار ۔ دینے والے ۔ لاگیہ ہ ۔ لگتا ہے ۔ آن سوائے ۔ دوسری لذتوں اور لطفوں میں۔ کہو ۔ کہنے سے ۔ سیجھئی ۔ نہیں سمجھ آئی ۔ بن ناوے ۔ بغیر نام یعنی حقیقت کے بغیر پت ۔ عزت۔
ترجمہ معہ تشریح:
داتار کا در چھوڑ کر غیروں سے رشتہ بناتا ہے ۔ اے نانک۔ سمجھ نہیں آتی بغیر نام کدا کے عزت گنواتا ہے ۔
اسٹپدیِ ॥
دس بستوُ لے پاچھےَ پاۄےَ ॥
ایک بستُ کارنِ بِکھوٹِ گۄاۄےَ ॥
ایک بھیِ ن دےءِ دس بھیِ ہِرِ لےءِ ॥
تءُ موُڑا کہُ کہا کرےءِ ॥
جِسُ ٹھاکُر سِءُ ناہیِ چارا ॥
تا کءُ کیِجےَ سد نمسکارا ॥
جا کےَ منِ لاگا پ٘ربھُ میِٹھا ॥
سرب سوُکھ تاہوُ منِ ۄوُٹھا ॥
جِسُ جن اپنا ہُکمُ منائِیا ॥
سرب تھوک نانک تِنِ پائِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
وستو ۔ اشیا۔ پاچھے پاوے ۔ حاصل کرئے ۔ کھوٹ گوادے ۔ اعتبار۔ یقین ۔ کہو دیتا ہے ۔ ہر لئے ۔ کھن لے ۔ واپس لے لے ۔ کہو ۔ بتا ۔ کہا کرئے ۔ کیا کر ئیگا۔ چارا۔ پیش ۔ علاج ۔ طاقت۔ زور۔ نمسکار۔ سلام۔ سرب۔ تمام۔ سوکھ ۔ آرام۔ تاہو من۔ اس کے دلمیں۔ دوٹھا۔ بس جاتے ہین۔ جن ۔ خادم۔ انسان۔ سرب تھوک ۔ تمام نعمتیں ۔
ترجمہ معہ تشریح:
انسان دس اشیا تو پالیتا ہے مگر ایک لئے اپنا یقین اور اعتبار کھو دیتا ہے ۔ اے بیوقوف اگر وہ دس بھی واپس لے لے اور ایک بھی نہ دے تو تو کیا کرسکتا ہے ۔ تجھ میں کونسی توفیق ہے ۔ جس مالک کے ہماری کوئی پیش نہیں جاتی تو اس کے آگے سجدہ کرنا ہی درکار ہے اچھا ہے ۔ اور بھلا ہے ۔ جسے خدا سے پیار ہے دلمیں پیار بسا ہوا ہے تمام آرام و آسائش اس کے دلمیں بس جاتے ہیں۔ اے نانک۔ جس انسان پر الہٰی فرمان ہے اسے تمام عالم کی نعمتیں میسر ہیں۔
اگنت ساہُ اپنیِ دے راسِ ॥
کھات پیِت برتےَ اند اُلاسِ ॥
اپُنیِ امان کچھُ بہُرِ ساہُ لےءِ ॥
اگِیانیِ منِ روسُ کرےءِ ॥
اپنیِ پرتیِتِ آپ ہیِ کھوۄےَ ॥
بہُرِ اُس کا بِس٘ۄاسُ ن ہوۄےَ ॥
جِس کیِ بستُ تِسُ آگےَ راکھےَ ॥
پ٘ربھ کیِ آگِیا مانےَ ماتھےَ ॥
اُس تے چئُگُن کرےَ نِہالُ ॥
نانک ساہِبُ سدا دئِیالُ ॥੨॥
لفظی معنی:
اگنت۔ بیشمار۔ راس۔ سرمایہ ۔ دولت۔ پونجی ۔ ساہ ۔ ساہوکار۔ دھنی ۔ مراد کدا۔ کھات پیت ۔ کھاتا اور پیتا ہے ۔ انند۔ سکون ۔ الاس۔ خوشی ۔ امان۔ امانت۔ بہور ساہ لئے ۔ دوبارہ لے لے ۔ اگیانی ۔ نادان۔ لا علم ۔ روس ۔ غصہ ۔ پرتت ۔ اعتبار۔ کھودے ۔ گنواتا ہے ۔ بسواس ۔ یقین اعتبار ۔ دست۔ اشیا۔ نعمت۔ آگیا۔ فرمان۔ حکم۔ مانے ماتھے ۔ بخوشی تمام۔ چوگن۔ زیادہ ۔ نہال۔ خوش۔ دیال ۔ مہربان ۔
ترجمہ معہ تشریح:
( شاہو کار) مراد خدا انسان کو اپنی بیشمار نعمتوں سے سر فراز کرتا ہے انسان انہیں استعمال کرتا ہے کھاتا ہے پیتا ہے ۔ استعمال کرتا ہے ۔ اور خوش ہے سے لئے ہوئے ادھار دولت سے ) اگر خدا یا شووکار اس امانت سے کچھ واپس لے لیتا ہے تو لا عم جاہل من اسکا غصہ کرتا ہے ۔ اور اپنا یقین اور اعتبار گنوالیتا ہے ۔ اور دوبارہ اعتبار اور یقین ختم ہو جاتا ہے ۔ انسان کا فرض ہے جو کسی چیز کا ملاک ہے اسکا اسے پیش کردے ۔ اور الہٰی فرمان بکوشی تمام ہو بہو اس پر عمل کرے ۔ تب اس سے چار گنا زیادہ خدا اسے خوشیاں عنایت کریگا۔ اے نانک۔ خدا ہمیشہ مہربان ہے ۔
انِک بھاتِ مائِیا کے ہیت ॥
سرپر ہوۄت جانُ انیت ॥
بِرکھ کیِ چھائِیا سِءُ رنّگُ لاۄےَ ॥
اوہ بِنسےَ اُہُ منِ پچھُتاۄےَ ॥
جو دیِسےَ سو چالنہارُ ॥
لپٹِ رہِئو تہ انّدھ انّدھارُ ॥
بٹائوُ سِءُ جو لاۄےَ نیہ ॥
تا کءُ ہاتھِ ن آۄےَ کیہ ॥
من ہرِ کے نام کیِ پ٘ریِتِ سُکھدائیِ ॥
کرِ کِرپا نانک آپِ لۓ لائیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
انک بھات ۔ بیشمار طریقوں سے ۔ مائیا کے ہیت ۔ دولت کے لئے ۔س ر پر ۔ ضرور۔ انیت۔ ہمیشہ نہ رہنے والی ۔ برکھ ۔ شجر ۔ درتک۔ چھائیا۔ سایہ ۔ رنگ۔ پریم۔ ونسے ۔ ختم ہوجاوے ۔ من پچھتاوے ۔ دلمین افسوس کرت اہے ۔ ویسے ۔ دکھائی دیتا ہے ۔ ظاہر۔ چالنہار۔ مٹ جانے والا۔ ختم ہوجانے والا ۔ لپٹ رہیو۔ ملوث ہو رہے ہو ۔ تیہہ۔ اس سے ۔ اندھ اندھار۔ نہایت زیادہ ۔ اندھے ۔ ناہیت ۔ جاہل۔ بٹاؤ۔ مسافر۔ راہگیر ۔ نیہہ۔ محبت۔ پیار۔ کیہہ ۔کچھ بھی ۔ پریت ۔ پیار۔ کیر پا۔ مہربانی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
دنیاوی دولت کی محبت بہت طرح کی ہے ۔ مگر یہ صدیوی نہیں ۔ جو ناسان شجر کے سایہ سے پیا رکتا ہے ۔ جب ختم ہوجاتا ہے تو افسو س کرتا ہے اور پچھتا تا ہے ۔ جو بھی زی نظر آرہا ہے ۔ یہ ختم ہونے والا ہے ۔ مگر جاہل انسان اس سے ملوث ہور ہا ہے ۔ رہاگیر سے جو بھی پیار کرتاہے ۔ اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اے دل الہٰی نام کا پیار ہی سکھ آرام پہچانے والا ہے ۔ اے نانک الہٰی نام کی محبت اسے نصیب ہوتی ہے جسے اور جس پر خدا خود کر م و عنایت کرتا ہے ۔
مِتھِیا تنُ دھنُ کُٹنّبُ سبائِیا ॥
مِتھِیا ہئُمےَ ممتا مائِیا ॥
مِتھِیا راج جوبن دھن مال ॥
مِتھِیا کام ک٘رودھ بِکرال ॥
مِتھِیا رتھ ہستیِ اس٘ۄ بست٘را ॥
مِتھِیا رنّگ سنّگِ مائِیا پیکھِ ہستا ॥
مِتھِیا دھ٘روہ موہ ابھِمانُ ॥
مِتھِیا آپس اوُپرِ کرت گُمانُ ॥
استھِرُ بھگتِ سادھ کیِ سرن ॥
نانک جپِ جپِ جیِۄےَ ہرِ کے چرن ॥੪॥
لفظی معنی:
متھیا۔ مٹ جانے والا۔ جوبن۔ جوانی ۔ تن۔ جسم۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔ سبائیا سارا۔ ہونمے ۔ خوید ۔ ممتا۔ ملکیت کا خیال ( میری ) وکرال۔ خوفناک ہستی ۔ ہاتھی ۔ سب۔ گھوڑے ۔ بسہ ۔ کپڑے ۔ رنگ سنگ۔ پیار سے ۔ پیکھ ۔ دیکھ کے ۔ دھر وہ ۔ دہوکا۔ ابیمان۔ تکبر۔ گمان۔ غرور۔ استھر۔ مستقل ۔ دیریا ۔ بھگت ۔ عبادت بندگی ۔ سادھ کی سرن۔ صحبت و قربت پاکدمن ۔ پناہ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
فانی ہے یہ تن بھی دولت اور قیبلہ فانی ہے ۔ خودی اور تکبر والے دولت کی خواہش فانی ہے ۔ حکومت اور جو ش جوانی دولت اور ملکیت فانی ہے ۔ مٹ جائیگی شہوت اور خوفناک غصہ مٹ جائیگا ۔
ہاتھی گہوڑے ۔ رتھ اور کپرے سب مٹ جائینگے ۔ زر کے عاشق اور ہنسے والے ساتھی سب مٹ جائینگے ۔ دہوکا عشق تکبر اور نحووت سب مٹ جائینگے ۔ اپنے آپ پر مغرور ی کرنا اور شوکت سب مٹ جائینگے ۔ اکدامنون کی صحبت و قربت میں عبادت اور بندگی دائمی ہے ۔
مِتھِیا س٘رۄن پر نِنّدا سُنہِ ॥
مِتھِیا ہست پر درب کءُ ہِرہِ ॥
مِتھِیا نیت٘ر پیکھت پر ت٘رِء روُپاد ॥
مِتھِیا رسنا بھوجن ان س٘ۄاد ॥
مِتھِیا چرن پر بِکار کءُ دھاۄہِ ॥
مِتھِیا من پر لوبھ لُبھاۄہِ ॥
مِتھِیا تن نہیِ پرئُپکارا ॥
مِتھِیا باسُ لیت بِکارا ॥
بِنُ بوُجھے مِتھِیا سبھ بھۓ ॥
سپھل دیہ نانک ہرِ ہرِ نام لۓ ॥੫॥
لفظی معنی:
بست ۔ ہاتھ ۔ پر دھرب۔ پرائی دولت۔ ہرئے ۔ چرائین۔ سرون ۔ کان ۔ پر نند۔ دوسروں کی برائی بدگعئی۔ سنیہہ۔ سنتے ہین۔ پر تریا۔ بیگانی عورت۔ روپاو۔ خوبصورتی ۔ رسنا۔ زبان۔ ان سواد۔ دوسری لذتوں اور لطف لیتی ہے ۔ چرن ۔ پاؤن۔ وکار۔ برائی۔ دھاوے ۔ دورے ۔ من ۔ دل ۔ روح۔ سوچ۔ پر لوبھ۔ دوسروں کی مال ودولت کا لالچ۔ تن۔ جسم۔ بند۔ پراپکارا۔ دوسروں کی بھلائی ۔ پاس۔ لو۔ بدی ۔ پرائی۔ بن پوجہے ۔ بغیر سمجھے ۔ سپھل۔ کامیاب ۔ برآور۔
ترجمہ معہ تشریح:
وہ کان مٹ جائینگے جو برائی دوسروں کی سنتے ہیں۔ مٹ جائیں گے وہ ہاتھ جو دوسروں کی دولتل چراتے ہیں۔ وہ انکھیں ٹکم ہوجائیں گی جو بیگانی عورت کے حسن کا نظارہ کرتے ہیں۔ وہ زبان ختم ہوجائیگی جو کھانے کا لطف اُٹھاتی ہے ۔ ختم ہوجائینگے وہ پاؤں جو برائیوں کے لئے جاتے ہیں۔ وہ جسم ختم ہوجائیگا جو نیکی اور بھلائی نہیں کرتا ۔ ختم ہو جائیگا وہ انسان جو بدیوں کی بولتا ہے ۔ جب تک من کو سمجھ نہ آئے ہر چیز جہاں کی فانی ہے ۔ اے نانک ۔ نام الہٰی لینے سے پھ ل دیتا یہ تن انسانی ہے ۔
بِرتھیِ ساکت کیِ آرجا ॥
ساچ بِنا کہ ہوۄت سوُچا ॥
بِرتھا نام بِنا تنُ انّدھ ॥
مُکھِ آۄت تا کےَ دُرگنّدھ ॥
بِنُ سِمرن دِنُ ریَنِ ب٘رِتھا بِہاءِ ॥
میگھ بِنا جِءُ کھیتیِ جاءِ ॥
گوبِد بھجن بِنُ ب٘رِتھے سبھ کام ॥
جِءُ کِرپن کے نِرارتھ دام ॥
دھنّنِ دھنّنِ تے جن جِہ گھٹِ بسِئو ہرِ ناءُ ॥
نانک تا کےَ بلِ بلِ جاءُ ॥੬॥
لفظی معنی:
آرجا۔ عمر۔ برتھی۔ بیفائدہ ۔ ساکت۔ منرک۔ مادہ پرست۔ منافق۔ بدکار۔ ساچ بنا۔ ساچ کے بگیر۔ کیہہ۔ کیسے ۔ ہووت سوچا۔ پاک ہو۔ تن۔ جسم۔ اندن ۔ اندھا۔ درگندھ ۔ بدبو۔ برتھا بہائے ۔ بیفائدہ گذرا ہے ۔ بادل بارش۔ کرپن۔ کنجوس۔ دام۔ روپئے ۔ دلت۔ جیہہ گھٹ ۔ جس دلمیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
سنکر کی بیکار عمر گذر جاتی ہے کافر کفر کماتا ہے ۔ سچ بنا کیسے ہوگا سوچا پاک یسے کہلائیگا۔ نام سے ہو جب تن یہ کالی اندھا ہے اندھا کہلائیگا ۔ گندگی منہ سے ان کے آئے اخوت بدبودار ہوجائیگا ۔ بارش کے بغیر جیسے فصل ختم ہوجاتی ہے ۔ ایسے ہی بغیر عبادت روز و شب بیکار ختم ہوجاتے ہیں۔ بیفائدہ سب کام علام کے بیفائدہ کنجوس کی دولت جسکا کچھ آرام نہیں مبارک ہے ان انسانوں کو جن کے دل میں نام الہٰی بستا ہے ۔ اے نانک۔ دل قربان ہے ان پر جان بھی ان پر بلہاری ہے ۔
رہت اۄر کچھُ اۄر کماۄت ॥
منِ نہیِ پ٘ریِتِ مُکھہُ گنّڈھ لاۄت ॥
جاننہار پ٘ربھوُ پربیِن ॥
باہِر بھیکھ ن کاہوُ بھیِن ॥
اۄر اُپدیسےَ آپِ ن کرےَ ॥
آۄت جاۄت جنمےَ مرےَ ॥
جِس کےَ انّترِ بسےَ نِرنّکارُ ॥
تِس کیِ سیِکھ ترےَ سنّسارُ ॥
جو تُم بھانے تِن پ٘ربھُ جاتا ॥
نانک اُن جن چرن پراتا ॥੭॥
لفظی معنی:
رہت۔ بیرونی زندگی ۔ کماوت۔ اعمال۔ پریت۔ پیار۔ مکھ ۔ زبان سے ۔ گنڈھ ۔ رشتہ ۔ جور ۔ تور۔ جاننہار ۔ جاننے والا۔ پربین۔ دور اندیش ۔ دانشمند۔ بھیکھ ۔ لباس ۔ دکھاوا۔ کاہو بھین۔ کسی سے خوش نہیں ہوتا۔ نرنکار۔ کدا ۔ سیکھ ۔ سبق۔ بھانے ۔ پیارے ۔ جاتا ۔ جانا ۔ چرن۔ پاؤں۔ پراتا۔ پڑتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بیرونی طور پر مذہبی بناوٹ اور ہے مگر اعمال اس سے جدا نہیں عملی زندگی کے اس کے خافل ہے ۔ دلمیں نہیں الفت زبان سے پریم وکھاتا ہے ۔ جاننے والا سب خدا ہے ۔ واقف ہے مکنن ہے اور دور اندیش بھی ہے ۔ بیرونی دکھاوا سے نہ کوش ہوتاہے ۔ اوروں کو جو کرے نصیحت خود نہ اس پر عمل کرے تناسخ میں وہ ہر دم رہتا ہے ۔ جن کے دل میں بستا ہے ۔ آپ خدا ان کے سبق واعظ سے عالم کا بیڑا پار وہا۔ جو تیرے نہیں پیارے آقا ان کو تیری پہچان ہوئی ۔ نانک ان انسانون کے پاوں پڑتا ہے ۔
کرءُ بینتیِ پارب٘رہمُ سبھُ جانےَ ॥
اپنا کیِیا آپہِ مانےَ ॥
آپہِ آپ آپِ کرت نِبیرا ॥
کِسےَ دوُرِ جناۄت کِسےَ بُجھاۄت نیرا ॥
اُپاۄ سِیانپ سگل تے رہت ॥
سبھُ کچھُ جانےَ آتم کیِ رہت ॥
جِسُ بھاۄےَ تِسُ لۓ لڑِ لاءِ ॥
تھان تھننّترِ رہِیا سماءِ ॥
سو سیۄکُ جِسُ کِرپا کریِ ॥
نِمکھ نِمکھ جپِ نانک ہریِ ॥੮॥੫॥
لفظی معنی:
بیتنی ۔ عرض ۔ گذارش۔ پار برہم۔ جو کامیابی عنایت کرنے والا۔ ہے ۔ جناوت۔ جتلاتا ہے ۔ بجھاوت ۔ سمجھتا ہے ۔ اپاؤ۔ کوشش۔ سیانپ ۔ دانشمند ی ۔ سگل ۔ ساری ۔ آتم۔ روح۔ رہت۔ رہی ۔ مریادا۔ لڑ لائے ۔ دامن پکڑائے ۔ تھان تھنتر۔ ہر جگہ ۔ نمکھ ۔ نمکھ ۔ ہر وقت۔
ترجمہ معہ تشریح:
عرض گذارو اس خالق سے جو کامیاب بنا نے والا ہے جو سب جاننے والا ہے اور پہچاننے والا ہے ۔ جو اس نے کیا ہے پیدا اسے عزت و حشمت دیتا ہے ۔ جو چاہتا ہے ۔ فیصلہ ہے کرتا متورہ نہ کسی کا لیتا ہے کسے سمجھاوے دوری اپنی کسے نزدیک بناتا ہے ۔ جہدو دانشمندی سے بالا روحانیت سے واقف ہے ۔ بسے چاہت اہے ۔ دامن پکراتاہے ۔ ہر جا وہ بستا ہے ۔ جس پر ہے رحمت اس کی وہ خادم ہوجاتا ہے ہر د م اس کو یاد کئے جا ۔ نانک نام اسی کا نعمت ہے ۔
بیرونی
سلوکُ ॥
کام ک٘رودھ ارُ لوبھ موہ بِنسِ جاءِ اہنّمیۄ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ کرِ پ٘رسادُ گُردیۄ ॥੧॥
لفظی معنی:
شہوت ۔ غصہ اور لالچ اور محبت دنیاوی مٹ جائے تکبر اور غرور ۔ اے نانک ملے پناہ خدا کی اور رحمت مرشد کی ۔
اسٹپدیِ ॥
جِہ پ٘رسادِ چھتیِہ انّم٘رِت کھاہِ ॥
تِسُ ٹھاکُر کءُ رکھُ من ماہِ ॥
جِہ پ٘رسادِ سُگنّدھت تنِ لاۄہِ ॥
تِس کءُ سِمرت پرم گتِ پاۄہِ ॥
جِہ پ٘رسادِ بسہِ سُکھ منّدرِ ॥
تِسہِ دھِیاءِ سدا من انّدرِ ॥
جِہ پ٘رسادِ گ٘رِہ سنّگِ سُکھ بسنا ॥
آٹھ پہر سِمرہُ تِسُ رسنا ॥
جِہ پ٘رسادِ رنّگ رس بھوگ ॥
نانک سدا دھِیائیِئےَ دھِیاۄن جوگ ॥੧॥
لفظی معنی:
جیہہ پر ساد۔ جس کی رحمت سے ۔ ٹھاکر ۔ مالک ۔ رکھ من ماہے ۔ دلمیں بساو۔ چھتی انمرت ۔ طرح طرح کے لذیذ کھانے ۔ سگندھت ۔ خوشبودار اشیا۔ ۔ پرم گت۔ بلند رتبہ ۔ مندر۔ مکان۔ تیسہہ ۔ اسے ۔ گریہہ۔ گھر۔ رسنا۔ زبان۔ دھیایئے ۔ یاد کرؤ۔ دھیاون جوگ۔ جو یاد کرنے کے لائق ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان جس کی کرم و عنایت سے بیمار قسم کے لذیز کھانے کھاتا ہے ۔ اسے رکھ یاد تو اپنے دلمیں جس کی رحتم سے تو عطر خلیل لگاتا ہے ۔ اس کی یدا سے بلندر رتبہ تو پائے گا ۔ جس داتا کی رحمت سے گھر میں آرام و آسائش تو پاتا ہے اسے تو دل مین سدا بسا ۔ جس کی رحتم سے اے انسان تو اپنے کنبے میں موج و مستی کرتا ہے ۔ روز و شب زبان سے اس کو لازم ہے تو یاد کرئے ۔ جس داتا کی رحمت سے دل و جان کو عیش و آسائش ملتی ہے ۔ اے نانک۔ وہ توجہ کی لائق ہے ہر دم اس کی ریاض کرؤ۔
جِہ پ٘رسادِ پاٹ پٹنّبر ہڈھاۄہِ ॥
تِسہِ تِیاگِ کت اۄر لُبھاۄہِ ॥
جِہ پ٘رسادِ سُکھ سیج سوئیِجےَ ॥
من آٹھ پہر تا کا جسُ گاۄیِجےَ ॥
جِہ پ٘رسادِ تُجھُ سبھُ کوئوُ مانےَ ॥
مُکھِ تا کو جسُ رسن بکھانےَ ॥
جِہ پ٘رسادِ تیرو رہتا دھرمُ ॥
من سدا دھِیاءِ کیۄل پارب٘رہمُ ॥
پ٘ربھ جیِ جپت درگہ مانُ پاۄہِ ॥
نانک پتِ سیتیِ گھرِ جاۄہِ ॥੨॥
لفظی معنی:
پاٹ۔ ریشم۔ پاٹنبر ۔ ریشمی کپڑے ۔ ہڈا ویہہ۔ پہنتا ہے ۔ تیاگ۔ چھوڑ کر ۔ کت ۔ کس لئے ۔ اور۔ اوروں سے ۔ لبھاویہہ۔ لالچ کرتا ہے ۔ سیج ۔ خوابگاہ ۔ سوئجے ۔ سوتا ہے ۔ جس ۔ صفت صلاح ۔ گاویجے ۔ حمدوثناہ کر ۔ سب کرو ۔ ہر ایک ۔ مانے ۔ عزت کرتاہے ۔ مکھ ۔ منہ سے ۔ رین ۔ زبان سے ۔ دکھانے ۔ بیان کرؤ۔ رہتا دھرم۔ فرض ۔ ادا کرتا ہے ۔ ۔ کیول ۔ صرف۔ درگیہہ۔ عدالت الہٰی ۔ مان ۔ وقار۔ پت سیتی ۔ باعزت ۔ باوقار۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس داتا کی رحمت سے کپڑے ریشمی پہنتا ہے ۔ اسے چھوڑ کر کیسے غیروں سے دل للچاتا ہے ۔ جس کی رحمت اور کرم و عنایت سے ۔ آرام دیہہ خواہبگاہوں میں سوتا ہے ۔ اے دل اس کی ہر وقت اس کی حمدوچناہ تو کرتا جا۔ جس کی رحمت سے تو سب سے عزت پاتا ہے ۔ منہ اور زبان سے ۔ اس کی کر تو حمدوثناہ ۔ جس خدا کی رحمت سے فرض ادا ۔ تو کرتا ہے اس واحد کدا کو تو اپنے دل میں بسا۔ یاد خدا سے بارگاہ الہٰی عزت و حشمت ملتی ہے ۔ اے نانک پھر وقار ملیگا عزت و حشمت پائیگا۔
جِہ پ٘رسادِ آروگ کنّچن دیہیِ ॥
لِۄ لاۄہُ تِسُ رام سنیہیِ ॥
جِہ پ٘رسادِ تیرا اولا رہت ॥
من سُکھُ پاۄہِ ہرِ ہرِ جسُ کہت ॥
جِہ پ٘رسادِ تیرے سگل چھِد٘ر ڈھاکے ॥
من سرنیِ پرُ ٹھاکُر پ٘ربھ تا کےَ ॥
جِہ پ٘رسادِ تُجھُ کو ن پہوُچےَ ॥
من ساسِ ساسِ سِمرہُ پ٘ربھ اوُچے ॥
جِہ پ٘رسادِ پائیِ د٘رُلبھ دیہ ॥
نانک تا کیِ بھگتِ کریہ ॥੩॥
لفظی معنی:
آروگ۔ تندرست۔ کنچن ۔ سونا۔ ویہی ۔ جسم۔ لو۔ پیار۔ سنیہی ۔ ساتھی ۔ رشتہ دار۔ اوہلا۔ پردہ ۔ ہر جس ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ جھل ۔ وہکا۔ فریب۔ چھدر۔ نقص ۔ پہوپے ۔ برابر ثانی ۔ اوپے ۔ علای ۔ درلبھ ۔ نایاب ۔ نہ ملنے والی ۔ بھگت ۔ عبادت ۔ بندگی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس خدا کی رحمت سے تندرست سونے جیسا جسم تو نے پائیا ہے ۔ ضرورت ہے اس پیارے خدا سے پورا تو دھیان لگائے ۔ اے دل جس کدا کی رحمت سے تجھ پر پردہ رہتا ہے ۔ اس کی حمدوثناہ سے آسمائش ہر وقت پاتا ہے ۔ جس داتا کی رحمت سے تیرے عیب راز میں رہتے ہیں۔ اس خدا کا سایہ پالے کیوں اس سے تو دور رہے ۔ جس کی کرم وعنایت سے تو سب سے عالی ہے ۔ اے دل یاد سے اس کی سانس تیرا کیوں خالی ہے ۔ جس داتا کی رحمت سے نایاب جسم یہ پائیا ہے ۔ اے نانک ایسے رب کی ریاض کرؤ ریاض کرؤ۔
جِہ پ٘رسادِ آبھوُکھن پہِریِجےَ ॥
من تِسُ سِمرت کِءُ آلسُ کیِجےَ ॥
جِہ پ٘رسادِ اس٘ۄ ہستِ اسۄاریِ ॥
من تِسُ پ٘ربھ کءُ کبہوُ ن بِساریِ ॥
جِہ پ٘رسادِ باگ مِلکھ دھنا ॥
راکھُ پروءِ پ٘ربھُ اپُنے منا ॥
جِنِ تیریِ من بنت بنائیِ ॥
اوُٹھت بیَٹھت سد تِسہِ دھِیائیِ ॥
تِسہِ دھِیاءِ جو ایک الکھےَ ॥
ایِہا اوُہا نانک تیریِ رکھےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
آبھوکھن۔ زیور۔ آلس۔ ستی ۔ اسب۔ گھوڑے ۔ ہست۔ ہاتھی ۔ ملکھ ۔ زمین۔ دھنا۔ دولت۔ بنت۔ بناوٹ۔ الیکے ۔ جسکا حساب نہ ہو سکے ۔ اینہان۔ یہان۔ اوہان۔ وہان۔ رکھے ۔ تیری عزت بچاتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس داتا کی رحتم سے تو زیور پہننے یاد میں اس کے کیوں دولت کرتاہے ۔ جس کی رحمت سے کرے سواری ہاتھی گیوڑے کی اس لازم ہے اسے کبھی نہ بھلائے جس کی رحمت سے مالک ہے ۔ باغ دولت جائیدادوں کااس کو پانے دلمیں بسا۔ جس نے تجھ کو ساز سنواریا تیری بنت بنائی ہے ۔ اُٹھتے سبیٹھتے ہر دم اس کو یاد کرے ۔ اے نانک یاد کرؤ اس واحد خدا کو جو حساب کتاب سے باہر ہے ۔ جو ہر دو عالم میں تیری عزت بچائیگا۔
جِہ پ٘رسادِ کرہِ پُنّن بہُ دان ॥
من آٹھ پہر کرِ تِس کا دھِیان ॥
جِہ پ٘رسادِ توُ آچار بِئُہاریِ ॥
تِسُ پ٘ربھ کءُ ساسِ ساسِ چِتاریِ ॥
جِہ پ٘رسادِ تیرا سُنّدر روُپُ ॥
سو پ٘ربھُ سِمرہُ سدا انوُپُ ॥
جِہ پ٘رسادِ تیریِ نیِکیِ جاتِ ॥
سو پ٘ربھُ سِمرِ سدا دِن راتِ ॥
جِہ پ٘رسادِ تیریِ پتِ رہےَ ॥
گُر پ٘رسادِ نانک جسُ کہےَ ॥੫॥
لفظی معنی:
پن۔ ثواب۔ دان۔ خیرات۔ آچار۔ اخلاق۔ چال چلن۔ بیوہار۔ برتاؤ۔ سندر روپ ۔ خوبصورت شکل وصورت ۔ چتاری ۔ یاد کر ۔ انوپ ۔ لاثانی ۔ نیکی ۔ اچھی ۔ ذات۔ نسل۔ قوم۔ پت ۔ عزت۔ گر پرساد۔ رحمت مرشد سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس داتا کی رحمت سے تو خیرات اور کار ثواب تو کرتا ہے اے دل اس میں ہر وقت دھیان لگا ۔ جس داتا کی رحمت سے نیکی اور بھلائی کرتا ہے ۔ ہر سانس تو اس کو دلمیں بسا۔ جس داتا کی رحمت سے خوبصورت شکل و صورت پائی ہے ۔ اس لاچثانی خدا کو دلمیں بسا ۔ جس پاک خدا کی رحمت سے جتھے اونچی ذات میں جنم ملا۔ چاہیے تجھ کو اس پاک خدا کو روز و شب یاد کرئے ۔ جس کی رحمت سے تیری عزت و حشمت قائم ہے ۔ رحمت سے مرشد کی نانک حمدوثناہ کرئے ۔

SGGS Page=. 270
جِہ پ٘رسادِ سُنہِ کرن ناد ॥
جِہ پ٘رسادِ پیکھہِ بِسماد ॥
جِہ پ٘رسادِ بولہِ انّم٘رِت رسنا ॥
جِہ پ٘رسادِ سُکھِ سہجے بسنا ॥
جِہ پ٘رسادِ ہست کر چلہِ ॥
جِہ پ٘رسادِ سنّپوُرن پھلہِ ॥
جِہ پ٘رسادِ پرم گتِ پاۄہِ ॥
جِہ پ٘رسادِ سُکھِ سہجِ سماۄہِ ॥
ایَسا پ٘ربھُ تِیاگِ اۄر کت لاگہُ ॥
گُر پ٘رسادِ نانک منِ جاگہُ ॥੬॥
لفظی معنی:
کرن۔ کان۔ ناد۔ آواز۔ پیکھے ۔ دیکھتا ہے ۔ بسماد۔ حیران کن ۔ انمرت رسنا۔ بیٹھے انمرت جیسے زبان سے بول۔ سکھ ۔ سیہ آرام سوکن ۔ اور کت لاگہو ۔ اور کس سے رشتہ بتاؤ گے ۔ گر پرساد ۔ رحمت مرشد سے ۔ جگہو ۔ بیداری ہو۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس پاک پاک خدا کی رحمت سے اچھے اچھے نغمے سنتا ہے ۔ جس پاک کدا کی رحمت سے دنیا کے دلکش نظارون ک نظارہ کرتا ہے ۔ جس پاک خدا کی رحمت سے بیٹھی بولی بولتا ہے ۔ جس پاک خدا کی رحمت سے آسائش و سکون تو پاتا ے ۔ جس پاک خدا کی رحمت سے ہر کام میں ہے ہاتھ تیرا جس پاک خدا کی رحمت سے پھولتا ہے ۔ پھل پاتا ہے ۔ جس پاک خدا کی رحمت سے بلند رتبہ تو پاتا ہے ۔ جس پاک خدا کی رحمت سے مستقل مزاج اور سکون روحانی پاتا ہے ۔ ایسے پاک خدا کو چھوڑ کر جستجو کرتاہے غیروں کی رحمت سے مرشد کی نانک ۔ ذہن کو اپنے بیدار کر ذرا ہوش یں ۔