Urdu-Master-4

SGGS p. 74-98
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سِریِراگُ مہلا ੧ پہرے گھرُ ੧॥
پہِلےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را ہُکمِ پئِیا گربھاسِ ॥
اُردھ تپُ انّترِ کرے ۄنھجارِیا مِت٘را کھسم سیتیِ ارداسِ ॥
کھسم سیتیِ ارداسِ ۄکھانھےَ اُردھ دھِیانِ لِۄ لاگا ॥
نا مرجادُ آئِیا کلِ بھیِترِ باہُڑِ جاسیِ ناگا ॥
جیَسیِ کلم ۄُڑیِ ہےَ مستکِ تیَسیِ جیِئڑے پاسِ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ پہِلےَ پہرےَ ہُکمِ پئِیا گربھاسِ ॥੧॥
اس کلام میں گرو جی نے انسان کو ایک سوداگر تصو ر کرکے سمجھایا ہے مخاطب کیا ہے جو رات کہیں دوسرے ملک میں رات کاٹتا ہے ۔ اپنے سودے سالف کی سنبھال ایک ایک پہر بیداری میں گذارتا ہے ۔ لہذا انسانی زندگی کو رات بتایا ہے اور زندگی کو چار پہروںمیں تقسیم کرکے سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔
لفظی معنی:
رین۔ رات۔پہلے پہرے۔ رات کے پہلے پہر ۔ ونجاریا ۔ الہٰی نام کا سودا گر ۔ گربھاس ۔ ماں کے پیٹ کے اندر کی زندگی ۔ اردھ ۔ الٹا ۔ پیٹھا ۔ انتر ۔ پیٹ میں ۔ سیتی ۔ نال ۔ ارواس ۔ عرض ۔ دھیان ۔الہٰی یاد میں الہٰی تصور ۔ نامرجاو ۔ ننگا ۔ کال بھیتر۔ عالم میں ۔ باہڑ ۔ دوبارہ ۔ وڑی ۔روانی ۔لم ۔ مستک ۔ پیشانی۔ تیسی ۔ اوہی جیسی ۔ پونجی ۔ سرمایہ
ترجمہ:
اے زندگی کے سوداگر دوست انسان الہٰی حکم سے ۔ اول ماں کے پیٹ میں تجھے نو اس ملا ۔ اے دوست ماں کے پیٹ میں تو الٹا لٹکیا ہوا تھا اور خدا سے عرج گذارتا تھا اور اس میں تیرا دھیان لگا ہوا تھا ۔ انسان اس دنیا یں ننگا آتا ہے اور دوبارہ ننگاہ ہی رخصت ہوجاتا ہے اور جیسا قلم رواں سے اسکے اعمالنامے میں اسکی پیشانی پر تحریر ہوتا ہے ۔ ایسا ہی اسے میسر ہوتا ہے ۔ اے نانک کہہ زندگی کے پہلے دور رات کے پہلے پہر انسان ماں کے پیٹ میں تو اس لیتا ہے

دوُجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را ۄِسرِ گئِیا دھِیانُ ॥
ہتھو ہتھِ نچائیِئےَ ۄنھجارِیا مِت٘را جِءُ جسُدا گھرِ کانُ ॥
ہتھو ہتھِ نچائیِئےَ پ٘رانھیِ مات کہےَ سُتُ میرا ॥
چیتِ اچیت موُڑ من میرے انّتِ نہیِ کچھُ تیرا ॥
جِنِ رچِ رچِیا تِسہِ ن جانھےَ من بھیِترِ دھرِ گِیانُ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ دوُجےَ پہرےَ ۄِسرِ گئِیا دھِیانُ ॥੨॥
لفظی معنی:
ہتھ وہتھ ۔ ہر ایک رشتہ دار کے ہاتھ ۔ جسدء۔ نندکی بیوی جیسے کرشن کی پرورش کی تھی ۔ کان ۔ کرشن ۔ اچیت ۔ غافل ۔ چیت ۔ یاد کھنا ۔ انت۔ آخر ۔ گیان ۔ علم ۔ جاننا ۔ (2)
ترجمہ:
اے زندگی کے سودا گر دوست زندگی کے دوسرے دور حیات میں الہٰی دھیان بھلا دیا ۔ اور گھر کے اور عزیز و اقارب کے ہاتھوں میں نوزائدہ بچے کو نچایا اور کھلایا جاتا ہے اور ماں سہتی ہے کہ میرا بیٹا ہے ۔ جیسے جسدا کے گھر کرشن جی کی پرورش ہوئی تھی ۔ اے میرے غافل نادان جاہل من یاد رکھ بوقت آخرت کوئی بھی چیز تیری نہیں رہے گی ۔ اے انسان جس نے تجھے پیدا کیا ہے اسے نہیں سمجھ رہا اپنے دل میں سوچ وچاکر ۔اے نانک کہہ کہ زندگی کے دوسرے دور میں انسان نے خدا کو بھلا دیا اور بھول جاتا ہے ۔ (2)

تیِجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را دھن جوبن سِءُ چِتُ ॥
ہرِ کا نامُ ن چیتہیِ ۄنھجارِیا مِت٘را بدھا چھُٹہِ جِتُ ॥
ہرِ کا نامُ ن چیتےَ پ٘رانھیِ بِکلُ بھئِیا سنّگِ مائِیا ॥
دھن سِءُ رتا جوبنِ متا اہِلا جنمُ گۄائِیا ॥
دھرم سیتیِ ۄاپارُ ن کیِتو کرمُ ن کیِتو مِتُ ॥
کہُ نانک تیِجےَ پہرےَ پ٘رانھیِ دھن جوبن سِءُ چِتُ ॥੩॥
لفظی معنی:
نہ چیتہی ۔ یاد نہیں کرتا ۔ بدھا۔ بندھا ہوا ۔ بکل ۔ویاکل ۔ پریشان ۔ جو بن ۔ جوانی ۔ اہلا ۔ اعلٰے ۔ کرم ۔ اخلاق ۔(3)
ترجمہ:
زندگی کے تیسرے دور میں دولت اور جوانی میں دل تک گیا ۔ اور خدا کے نام کو یاد نہیں کرتا جو تجھے دنیاوی بندھنوں سے نجات دلا سکے ۔ انسان مادیاتی دولت کی محبت میں پریشان حال ہے ۔ خدا کو یاد نہیں کرتا اور اپنے دل میں مدہوش ہے ۔ دولت اور جوانی کی مستی میں یہ بیش قیمت اور زندگی کی نعمت گنوا دیتا ہے ۔ نہ اسے اکلاق اور فرض شناسی و انساننیت و آدمیت کا سواد خریدا ۔ نہ اس سے دوستی قائم کی ۔ اے نانک کہہ کہ زندگی کے تیسرے دور میں انسان کا دولت اور جوانی سے محبت ۔

چئُتھےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را لاۄیِ آئِیا کھیتُ ॥
جا جمِ پکڑِ چلائِیا ۄنھجارِیا مِت٘را کِسےَ ن مِلِیا بھیتُ ॥
بھیتُ چیتُ ہرِ کِسےَ ن مِلِئو جا جمِ پکڑِ چلائِیا ॥
جھوُٹھا رُدنُ ہویا دد਼یالےَ کھِن مہِ بھئِیا پرائِیا ॥
سائیِ ۄستُ پراپتِ ہوئیِ جِسُ سِءُ لائِیا ہیتُ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ چئُتھےَ پہرےَ لاۄیِ لُنھِیا کھیتُ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
لاوی ۔ فصل کاٹنے والا ۔ مراد۔ فرشتہ موت ۔ بھیت ۔راز ۔ سمجھ ۔ چیت ۔ الہٰی ارادہ ۔ دوآے ۔ اردگرد ۔ ردن۔ آہ و زاری ۔ پرایا ۔بیگانہ ۔ وست۔ اشیا ۔ پراپت ۔ حاصل ۔ ہیت محبت پیار ۔ لنیا کھیت۔ فصل کاٹی ۔ مراد زندگی کا کھیل ختم ہوا
ترجمہ:
اے زندگی کے مسافر اور الہٰی نام مراد نیک نامی اور اخلاق کے سوداگر زندگی کے چہار م دور مراد ضعیف العمر آجانے پر فرشتہ موت روح قبض کرکے لیگیا ۔ اور اسکی کسی کو سمجھ نہیں آئی ۔ کہ یہ ایسا ہوا کیا اور الہٰی حکم کا کسی کو سمجھ نہ آئی ۔ تب مردہ جسم کے گرد فضول آہ وزاری شروع ہوئی ۔ اور وہ چند منٹوں میں بیگانہ ہو گیا ۔ جس کو تمام رشتہ دار اور تعلقات والے اپنا کہتے تھے اور اسکے تمام نیک و بد اعمالات ظاہر ہوئے ۔ اے نانک بتا دے کہ آخر موت واقع ہو گئی ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
پہِلےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را بالک بُدھِ اچیتُ ॥
کھیِرُ پیِئےَ کھیلائیِئےَ ۄنھجارِیا مِت٘را مات پِتا سُت ہیتُ ॥
مات پِتا سُت نیہُ گھنیرا مائِیا موہُ سبائیِ ॥
سنّجوگیِ آئِیا کِرتُ کمائِیا کرنھیِ کار کرائیِ ॥
رام نام بِنُ مُکتِ ن ہوئیِ بوُڈیِ دوُجےَ ہیتِ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ پہِلےَ پہرےَ چھوُٹہِگا ہرِ چیتِ ॥੧॥
لفظی معنی:
پہلے پہیرے رین کے ۔ زندگی کی مسافت پہلے دور یں ۔ بانک بدھ اچیت ۔بچگانہ عقل و ہوش ۔ مراد غفلت بھری ۔ کھیر۔ دودھ ۔ ہیت ۔ محبت ۔ نیہو گھنیرا زیادہ محبت ۔ سنجوگی ۔ کے لئے اعمال کے سبب ۔ کرت۔عادت ۔ بار بار اعمال ۔ کام ۔ مکتب ۔ نجات ۔ بوڈی دوجے ۔ ہیت الہٰی نام سچ حق و حقیقت کے علاوہ دوسرے اعمال و محبت میں مستفرق ۔ چھوئیگا ہر چیت الہٰی یاد میں ہی نجات ہے ۔
ترجمہ:
اے الہٰی نام سچ حق و حقیقت کے متلاشی سوداگرزندگی کے پہلے دور جیات میں انسان بچگانہ عقل و ہوش والا ہوتا ہے ۔ دودھ پیتا ہے اور کھیل کود میں مصروف رہتا ہے ۔ اے زندگی کے سودا گر دوست ماتا پتا کا بھاری محبت پیار ہوتا ہے ۔ جس طرح سے ماں باپ کا بیٹے سے زیادہ محبت ہے۔ جو اعمال اس نے پہلے کئے تھے ان کے زیر اثر یہ زندگی حاصل ہوئی اور کئے اعمال کے مطابق جو ملنا تھا ملا ۔ اب اپنے اعمال کے مطابق کام کر رہا ہے مگر الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کے بغیر دوئی دویت اور دنیاوی دولت کی محبت میں مشتغرق ہو رہی ہے ۔ الہٰی یا دور ریاض کے بغیر نجات نہیں ۔ اے نانک بتا دے کہ پہلے دور میں خدا کی یاد سے ہی نجات حاصل ہوگی ۔

دوُجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را بھرِ جوبنِ مےَ متِ ॥
اہِنِسِ کامِ ۄِیاپِیا ۄنھجارِیا مِت٘را انّدھُلے نامُ ن چِتِ ॥
رام نامُ گھٹ انّترِ ناہیِ ہورِ جانھےَ رس کس میِٹھے ॥
گِیانُ دھِیانُ گُنھ سنّجمُ ناہیِ جنمِ مرہُگے جھوُٹھے ॥
تیِرتھ ۄرت سُچِ سنّجمُ ناہیِ کرمُ دھرمُ نہیِ پوُجا ॥
نانک بھاءِ بھگتِ نِستارا دُبِدھا ۄِیاپےَ دوُجا ॥੨॥
لفظی معنی:
بھر جو بن ۔ جوانی کے بلند عالم میں ۔ مے مت ۔ شراب میں مدہوش ۔ اندھے نام نہ چت۔ عقل و ہوش کے اندھے کے الہٰی نام سچ حق و حقیقت دل میں نہیں بستی ۔ گھٹ انتر ۔ دل میں نہیں ۔ رس گیس ۔ دوسرے مزے اور لطف ۔ گیان ۔دھیان علم و توجہی۔ گن ۔وصف ۔ سنجم ۔ ضبط ۔ پرہیز گاری ۔ جنم مد ہوگے ۔ تناسخ میں پڑ ہو گے ۔ بھائے بھگت ۔ پریم پیار
ترجمہ:
زندگی کے دوسرے دور میں اے زندگی کے سوداگر دوست جوانی کے عالم میں انسان کی عقل و ہوش اس طرح ہو جاتی ہے جیسے شراب کے نشے میں مد ہوش شرابی ۔ روز و شب شہوت کی خواہش میں مستفرق رہتا ہے عقل کےاندھے کے دل میں الہٰی نام سچ حق وحقیقت کا خیال نہیں ۔ الہٰی نام کے علاوہ دوسرے لطف مرزے پیار ہیں ۔ نہ علم ہے نہ توجہ اور دھیان نہ وصف ہے نہ ضبط و پرہیز گاری ۔ کفر میں موت ہوگی ۔ نہ ہے زیارت نہ پاکیزگی نہ پرہیز گاری نہ فرض شناشی نہ اعمال ۔ اے نانک الہٰی خدمت و عبادت اور پریم پیار سے زندگی کو کامیابی ملتی ہے اور دوچتی اور خیالی لرزش و ڈگمگاہٹ میں دنیاوی دولت کی محبت اثر پذیر ہوتی ہے ۔
تیِجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را سرِ ہنّس اُلتھڑے آءِ ॥
جوبنُ گھٹےَ جروُیا جِنھےَ ۄنھجارِیا مِت٘را آۄ گھٹےَ دِنُ جاءِ ॥
انّتِ کالِ پچھُتاسیِ انّدھُلے جا جمِ پکڑِ چلائِیا ॥
سبھُ کِچھُ اپُنا کرِ کرِ راکھِیا کھِن مہِ بھئِیا پرائِیا ॥
بُدھِ ۄِسرجیِ گئیِ سِیانھپ کرِ اۄگنھ پچھُتاءِ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ تیِجےَ پہرےَ پ٘ربھُ چیتہُ لِۄ لاءِ ॥੩॥
لفظی معنی:
تیجے پہرے ۔ زندگی کے تیسرے دور میں ۔ سر س الٹھرے آئےہنس کی مانند سفید بال ہونے شروع ہوئے ۔ جوبن گھٹے جوانی کا جوش کم ہوا ۔ جرو آجنے ۔ بڑھاپے ۔ نے جیت حاصل کی ۔ آوگھٹنے ۔ عمر میں کمی آئی ۔ انت کال۔ بوقت آخرت ۔ اندھے حقیقت سے بینخر ۔ حاجم پکڑ چلایا مراد جب فرشتہ موت نے آولوچا ۔ پرایا ۔بیگانہ ۔ بدھ وسرجی ۔ عقل ہوش میں کمی۔ اوگن ۔ بد اوصاف
ترجمہ:
اے زندگی کے سودا گر دوست ۔ زندگی کے تیسرے دور میں سر کے بال سفید ہونے لگتے ہیں ۔ جوانی کا جوش و خروش کم ہو جاتا ہے ۔ بڑھاپے کا زور ہو جاتا ہے ۔عمر روز بروز گٹھنے لگتی ہے ۔ دنیاوی دولت کی محبت میں مد ہوش انسان بوقت آخرت پچھتاتا ہے ۔ جب موت کی گرفت میں آجاتا ہے ۔ تب بوقت آخرت پچھتاتا ہے ۔ اے انسان جسے اپنی سمجھ کر سنبھال کرتا تھا ذرا سے وقفے کے بعد بیگانہ ہو جاتا ہے ۔ دنیاوی دولت کی محبتمیں عقل ہوش حواس اور دانشمندی ختم ہو جاتی ہے اور انسان کے ہوئے گناہوں کا پسچا تاپ کرتا ہے ۔ اے نانک انسان زندگی کے تیسرے دور میں خدا کو یکسو ہو کر یا دور ریاض کرے ۔

چئُتھےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را بِردھِ بھئِیا تنُ کھیِنھُ ॥
اکھیِ انّدھُ ن دیِسئیِ ۄنھجارِیا مِت٘را کنّنیِ سُنھےَ ن ۄیَنھ ॥
اکھیِ انّدھُ جیِبھ رسُ ناہیِ رہے پراکءُ تانھا ॥
گُنھ انّترِ ناہیِ کِءُ سُکھُ پاۄےَ منمُکھ آۄنھ جانھا ॥
کھڑُ پکیِ کُڑِ بھجےَ بِنسےَ آءِ چلےَ کِیا مانھُ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ چئُتھےَ پہرےَ گُرمُکھِ سبدُ پچھانھُ ॥੪॥
لفظی معنی:
تن کھین۔ جسم کمزور ہو گیا ۔ وین۔ بول ۔باتیں ۔ اکھتیں اندھ ۔ آنکھوں میں اندھیرا ۔ سبھ رس۔ زبانیں لطف ۔ ۔پراکوتا نا ۔ طاقت نہیں رہی کھڑپکی ۔ کھیتی پک گئی ۔ کڑ بھجے ۔سوکھ کر ٹوٹی
ترجمہ:
اے زندگی کی سودا گری کے لئے ائے ہوئے سوداگر دوست ۔ زندگی کے چوتھے دور حیات میں انسان بوڑھا ہو جاتا ہے ۔ جسمانی کمزور آجاتی ہے ۔ نظر کمزور ہو جاتی ہے کانوں سے سنائی نہیں دیتا ۔ نابینا ہو جاتا زبان کا ضآئفہ جاتا رہتا ہے ۔ قوت اور کوشش و کاوش ختم ہو جاتی ہے ۔ نہ کوئی اوصاف ہے تو آرام و آسائش کیسے حاصل ہو ۔ لہذا خودی پسند تناسخ میں پڑ ا رہتا ہے کیتھی پک جاتی ہے ناڑ خستہ ہو جاتا ہے ۔ لہذا اس فخر سوہے ۔ جس نے ختم ہو جانا ہے ۔ اے نانک بتا دے کہ اے انسان زندگی کے چوتھے دور حیات میں مرشد کے وسیلے سے کلام سمجھ

اوڑکُ آئِیا تِن ساہِیا ۄنھجارِیا مِت٘را جرُ جرۄانھا کنّنِ ॥
اِک رتیِ گُنھ ن سمانھِیا ۄنھجارِیا مِت٘را اۄگنھ کھڑسنِ بنّنِ ॥
گُنھ سنّجمِ جاۄےَ چوٹ ن کھاۄےَ نا تِسُ جنّمنھُ مرنھا ॥
کالُ جالُ جمُ جوہِ ن ساکےَ بھاءِ بھگتِ بھےَ ترنھا ॥
پتِ سیتیِ جاۄےَ سہجِ سماۄےَ سگلے دوُکھ مِٹاۄےَ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ گُرمُکھِ چھوُٹےَ ساچے تے پتِ پاۄےَ ॥੫॥੨॥
لفظی معنی:
اوڑک۔ بوقت آخرت ۔ تن ساہیا ۔ ان سانسوں کا ۔جر۔بڑھاپا ۔ جروانا زور آور ۔ طاقتور ۔ کن ۔کندھا۔ون ۔ باندھنا جوہ نہ ساگے ۔ تاک نہیں سکتے ۔پت سیتی عزت سے
ترجمہ:
اے زندگی کے سوداگر دوست بڑھاپے زور پا لیا آخری سانس عنقریب ہے اور بڑھاپا کندھوں پر سوار ہے اور گناہگاریوں نے تجھے باندھ رکھا ہے جس کے دل میں ذرا بھی اوصاف نہ ہوں تو اسے گناہ باندھ لیتے ہیں اوصاف والا انسان نہ تو عذاب پاتا ہے نہ تناسخ موت کا پھندہ اور جسم کا خوف اسکی تاک میں نہیں رہتے پیار پریم اور الہٰی خوف سے دنیاوی سمندر سے پار ہو جاتا ہے اور اس عالم سے با عزت جاتا ہے روحانی سکون پاتا ہے اور تمام عذاب مٹ جاتے ہیں اے نانک کہہ مرشد کے وسیلے سے نجات پاتا ہے اور عزت وحشمت پاتا ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੪॥
پہِلےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را ہرِ پائِیا اُدر منّجھارِ ॥
ہرِ دھِیاۄےَ ہرِ اُچرےَ ۄنھجارِیا مِت٘را ہرِ ہرِ نامُ سمارِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپے آرادھے ۄِچِ اگنیِ ہرِ جپِ جیِۄِیا ॥
باہرِ جنمُ بھئِیا مُکھِ لاگا سرسے پِتا مات تھیِۄِیا ॥
جِس کیِ ۄستُ تِسُ چیتہُ پ٘رانھیِ کرِ ہِردےَ گُرمُکھِ بیِچارِ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ پہِلےَ پہرےَ ہرِ جپیِئےَ کِرپا دھارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
اور۔ پیٹ ۔ منجہار ۔ میں ۔ سمار ۔یاد گر ۔اچرے ۔ بول ۔ اگنی ۔ پیٹ کی آگ ۔ جیویا ۔ زندہ رہا ۔ مکھ لاگا ۔ منہ روبرا ہوا ۔ سر سے ۔ ماں باپ خوش ہوئے ۔۔
ترجمہ:
اے زندگی کے سودا گر تو اس عالم میں زندگی کی سوداگری کے لئے آیا ہے اور انسان خدا پہلے دور زندگی میں ماں کے پیٹ میں ٹھکانہ دیتا ہے ۔ وہاں خدا سے اپنی ہوش اور دھیان لگاتا ہے ۔ اور الہٰی نام یاد کرتا ہے ۔ اور اس پیٹ کی آگ میں الہٰی نام سے ہی زندہ ہے ۔ مگر جب ماتا پیٹ سے باہر آیا تو ماں باپ خو ش ہوئے ۔ اپنے دل میں یہ بات سمجھ لے کہ یہ جسکی یہ بخشش ہے اسے دل میں بساؤ ۔ اے نانک کہو کہ زندگی کے پہلے دور میں خدا کو یاد کرؤ ۔

دوُجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را منُ لاگا دوُجےَ بھاءِ ॥
میرا میرا کرِ پالیِئےَ ۄنھجارِیا مِت٘را لے مات پِتا گلِ لاءِ ॥
لاۄےَ مات پِتا سدا گل سیتیِ منِ جانھےَ کھٹِ کھۄاۓ ॥
جو دیۄےَ تِسےَ ن جانھےَ موُڑا دِتے نو لپٹاۓ ॥
کوئیِ گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ کرےَ ۄیِچارُ ہرِ دھِیاۄےَ منِ لِۄ لاءِ ॥
کہُ نانک دوُجےَ پہرےَ پ٘رانھیِ تِسُ کالُ ن کبہوُنّ کھاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
دوبے بھائے ۔ دوئی ۔دویش ۔ غیروں سے محبت ۔ مراد خدا کے بغیر دنیاوی دولت سے محبت ۔ دتے نو پٹائے ۔ دینے والے کو چھوڑ کر اسکی دی ہوئی اشیائ سے محبت ۔ کال ۔موت ۔ تو لائے ۔ ہوش یکجا کرنا۔ محبت کرنا ۔
ترجمہ:
اے زندگی کے سوداگر دوست دلمیں اللہ تعالٰی کے بغیر زندگی کے دوسر دور میں دل زندگی کے دوسرے شعبوں میں دل لگاتا ہے ۔ اور ماں باپ میرا میرا کرکے اپنے گلے لگاتے ہیں ۔ اور پرورش کرتے ہیں ۔ اس غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے دل میں یہس وچ سمجھکر کہ بڑا ہو کر کچھ کما کے کھلائے گا ۔ جو رزق دیتا ہے ۔ دینے والے کی قدر وقیمت نہیں سمجھتا ۔ اور دیئے ہوئے سے محبت کرتا ہے ۔ اگر کوئی مرید مرشد ہودہ اس حقیقت کو سمجھتا ہے اور دل و جان سے خدا سے محبت کرتا ہے ۔ اے نانک بتا دے کہ زندگی کے دوسرے دورمیں خدا سے محبت کرتا ہے ۔ اسے روحانی موت نہیں سناتی ۔

تیِجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را منُ لگا آلِ جنّجالِ ॥
دھنُ چِتۄےَ دھنُ سنّچۄےَ ۄنھجارِیا مِت٘را ہرِ ناما ہرِ ن سمالِ ॥
ہرِ ناما ہرِ ہرِ کدے ن سمالےَ جِ ہوۄےَ انّتِ سکھائیِ ॥
اِہُ دھنُ سنّپےَ مائِیا جھوُٹھیِ انّتِ چھوڈِ چلِیا پچھُتائیِ ॥
جِس نو کِرپا کرے گُرُ میلے سو ہرِ ہرِ نامُ سمالِ ॥
کہُ نانک تیِجےَ پہرےَ پ٘رانھیِ سے جاءِ مِلے ہرِ نالِ ॥੩॥
لفظی معنی:
آل۔ جنجال ۔گھریلو مخمے میں ۔ دنیاوی الجھنوں میں ۔ سنچولے۔ دولت اکھٹی کرنے میں ۔ناا ہر نہ سمال ۔الہٰی نام اور خدا کو یاد نہیں کرتا ۔ سکھائی ۔ساتھی ۔ سنپے جائیداد ۔
ترجمہ:
اےزندگی کے سوداگر دوست زندگی کے تیسرے دور میں انسان کا گھر میں محبت ہو جاتی ہے اورانسان دنیاوی کاربار اور گھریلو الجھنوں میں پھنس جاتا ہے الہٰی نام اور خدا کو کبھی یاد نہیں کرتا جو بوقت آخرت ساتھی ہوگا ۔ یہ دنیاوی دولت جھوٹھی ہے جسے انان چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور بوقت آخرت پچھتاتا ہے ۔ جس پر الہٰی کرم و عنایت سےمرشد ملاتا ہے ۔ الہیی نا میں دل لگاتا ہے ۔ اے نانک بتادے کہ جو انسان نام میں دل لگاتے ہیں آخر ملاپ الہٰی پاتے ہیں ۔
چئُتھےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را ہرِ چلنھ ۄیلا آدیِ ॥
کرِ سیۄہُ پوُرا ستِگُروُ ۄنھجارِیا مِت٘را سبھ چلیِ ریَنھِ ۄِہادیِ ॥
ہرِ سیۄہُ کھِنُ کھِنُ ڈھِل موُلِ ن کرِہُ جِتُ استھِرُ جُگُ جُگُ ہوۄہُ ॥
ہرِ سیتیِ سد مانھہُ رلیِیا جنم مرنھ دُکھ کھوۄہُ ॥
گُر ستِگُر سُیامیِ بھیدُ ن جانھہُ جِتُ مِلِ ہرِ بھگتِ سُکھاںدیِ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ چئُتھےَ پہرےَ سپھلِئوُ ریَنھِ بھگتا دیِ ॥੪॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
ادی۔آئیا ۔ دی ۔ گذرتی جا رہی ہے ۔ کھ۔ن کھن ۔ہر پل ۔ سھتر ۔مستقل ۔ رلیاں۔خوشیان ۔ کہووھو۔مٹاو ۔ سکھا ندی ۔ آرام دیہہ۔

ترجمہ؛
اے زندگی کے سوداگر دوست زندگی کے چہارم دور مین زندگی کی رات عنقریب ختم ہونیوالی ہے ۔ خدا کو ہر وقت یاد رکھو اس میں بالکل تساہل یا تعمل نہ کرؤ ۔ اس سے ہی مستقل مزاج زندگی بن سکے گی ۔ ہر دور زندگی میں اورالہٰی یاد سےہمیشہ سکون پاؤگے خوشباشی ہو گی اور تناسخ ختم ہو جائیگا ۔ خدا اور رسول میں فرق نہ سمجھو کیونکہ مرشد کی وساطت سے ہی عبادت الہٰی سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ اے نانک بتا دے کہ اس طرح سے عبادت کنندگان عابدوں کی زندگی کامیاب رہتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
پہِلےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را دھرِ پائِتا اُدرےَ ماہِ ॥
دسیِ ماسیِ مانسُ کیِیا ۄنھجارِیا مِت٘را کرِ مُہلتِ کرم کماہِ ॥
مُہلتِ کرِ دیِنیِ کرم کمانھے جیَسا لِکھتُ دھُرِ پائِیا ॥
مات پِتا بھائیِ سُت بنِتا تِن بھیِترِ پ٘ربھوُ سنّجوئِیا ॥
کرم سُکرمُ کراۓ آپے اِسُ جنّتےَ ۄسِ کِچھُ ناہِ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ پہِلےَ پہرےَ دھرِ پائِتا اُدرےَ ماہِ ॥੧॥
لفظی معنی:
پہرے ۔دور ۔ رین ۔ رات ۔ ونجاریا۔ سوداگر ۔ دھر۔رحم ۔ پائتہ ۔پائیا ۔ دھرے ۔ پیٹ ۔ منجھارمیں ۔ ماسی ۔مہبنے ۔ محلت۔ موقعہ ۔ دھر ۔ الہٰی حضور سے ۔ ست ۔ بیٹا ۔ بنتا ۔ عورت ۔ مکرم۔ نیک اعمال ۔
ترجمہ:
انسانی زندگی کے پہلے دور میں اے زندگی کے سوداگر دوست تو پیٹ میں لطفے سے پڑا اور دس مہینوں میں انسانی بت بنا۔ اور تجھے اعمال کے لئے مقررہ مدت حاصل ہوئی اور پہلے کئے ہوئے اعمال کے مطابق اسے اعمالات کے لئے مقررہ معیاد پہلے سے تحریر ہوتا ہے ۔ ماں باپ۔بھائی ،عورت ان میں اسے میل جول اور رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ خدا خود ہی انسان سےنیک و بد اعمال کرواتا ہے ۔ انسان کا اسکے لئےکوئی زورکار گر نہیں ہوتا ۔ اےنانک کہہ زندگی کے پہلے دور میں خدا پیٹ میں نواس کرواتا ہے

دوُجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را بھرِ جُیانیِ لہریِ دےءِ ॥
بُرا بھلا ن پچھانھئیِ ۄنھجارِیا مِت٘را منُ متا اہنّمےءِ ॥
بُرا بھلا ن پچھانھےَ پ٘رانھیِ آگےَ پنّتھُ کرارا ॥
پوُرا ستِگُرُ کبہوُنّ ن سیۄِیا سِرِ ٹھاڈھے جم جنّدارا ॥
دھرم راءِ جب پکرسِ بۄرے تب کِیا جبابُ کرےءِ ॥
کہُ نانک دوُجےَ پہرےَ پ٘رانھیِ بھرِ جوبنُ لہریِ دےءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
بھر جوانی ۔ شباب کے عالم مین کہہ۔ ترنگ ۔ اُچھالا ۔ متا۔ مست ۔ آگے ۔آئندہ۔ عاقبت ۔اگلاجہاں ۔ اہنمیو ۔خودی ۔تکبر۔غرور ۔ پنتھ۔ راہ زندگی ۔راستہ ۔ کردار ۔دشوار گذار ۔ ٹھاوے ۔سر اوپر ۔ کھڑا۔جسم جندار ۔ظالم ۔جسم ظالم فرشتہ موت ۔ پکرس ۔پکڑپکا ۔گرفت مین لیگا ۔ بورئے ۔نادان ۔جاہل ۔(2)
ترجمہ:
زندگی کے دوسرے دور میں اے زندگی کے سوداگر دوست دل خودی و تکبر میں مدہوش ہے ۔ نیک وبد کی تمیز سے بے بہرہ ہے ۔مگر زندگی کا اگلا راستہ بڑا دشوار گذار ہے ۔ کامل سچے مرشد کی کبھی خدمتگاری نہیںں کی سرپر موت کا ظالم فرشتہ کھڑا ہے ۔ او اے غافل جب الہٰی منصف تجھے گرفتار کر یگا تو محبوس ہوگا ۔ تو اسے کیا جواب دیگا ۔ اے نانک کہہ زندگی کے دوسرے دور میں انسان میں جو ن و شباب پورے عروج پر ہوتا ہے ۔(2)

تیِجےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را بِکھُ سنّچےَ انّدھُ اگِیانُ ॥
پُت٘رِ کلت٘رِ موہِ لپٹِیا ۄنھجارِیا مِت٘را انّترِ لہرِ لوبھانُ ॥
انّترِ لہرِ لوبھانُ پرانیِ سو پ٘ربھُ چِتِ ن آۄےَ ॥
سادھسنّگتِ سِءُ سنّگُ ن کیِیا بہُ جونیِ دُکھُ پاۄےَ ॥
سِرجنہارُ ۄِسارِیا سُیامیِ اِک نِمکھ ن لگو دھِیانُ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ تیِجےَ پہرےَ بِکھُ سنّچے انّدھُ اگِیانُ ॥੩॥
لفظی معنی:
دکھ ۔زہر مراد دنیاوی دولت ۔سچے۔اکھٹی کرنا ۔ اندھ اگیان۔ نہایت جہالت ۔لاعلمی ۔ کلیر۔عورت ۔ لوبھان۔ لالچ کا راز ۔ سادھ سنگ ۔صحابہ ۔ سرجنہار۔سازند۔پیدا کرنیوالا۔ وساریا ۔بھلائیا ۔ نکھ۔آنکھ جھپکنے کے وقفے کے لئے ۔ دھیان ۔ہوس وحواس مرکوز کرنا
ترجمہ:
الہٰی نام کی سوداگری کے لئے آئے ہوئے انسان دوست زندگی کے تیسرے دور میں لاعمی اور نادانی کے عالم میں زہر اکھٹی کرتاہے۔ زوجہ و فرزندگی کی محبت میں گرفتار سوداگر دوست دل میں لالچ کی لہریں اُٹھتی ہیں۔ اور لالچ کی لہروں سے سرشاد خدا کو دل سے بھلا رکھا ہے ۔ صحابہ کا ساتھ و قربت چھوڑ کر تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔ سازندہ کو بھلا کر آنکھ جھپکنے جتنے وقفے کے لئے بھی خدا میں دھیان نہیں جماتا ۔ اے نانک کہہ اے انسان زندگی کے تیسرےدور میں انسان لاعلمی اور جہالتیں دنیاوی دولت کی زہر اکھٹی کرتا ہے

چئُتھےَ پہرےَ ریَنھِ کےَ ۄنھجارِیا مِت٘را دِنُ نیڑےَ آئِیا سوءِ ॥
گُرمُکھِ نامُ سمالِ توُنّ ۄنھجارِیا مِت٘را تیرا درگہ بیلیِ ہوءِ ॥
گُرمُکھِ نامُ سمالِ پرانھیِ انّتے ہوءِ سکھائیِ ॥
اِہُ موہُ مائِیا تیرےَ سنّگِ ن چالےَ جھوُٹھیِ پ٘ریِتِ لگائیِ ॥
سگلیِ ریَنھِ گُدریِ انّدھِیاریِ سیۄِ ستِگُرُ چاننھُ ہوءِ ॥
کہُ نانک پ٘رانھیِ چئُتھےَ پہرےَ دِنُ نیڑےَ آئِیا سوءِ ॥੪॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ درگھ ۔درباری خدا الہٰی عدالت ۔ بیلی ۔دوست ۔ساتھی ۔ سکھائی ۔مددگار ۔ مدادی ۔ گدری ۔گذری ۔ بیتی ۔اندھیاری ۔ اندھیرے میں ۔ناسمجھی میں۔لاعلمی میں
ترجمہ:
اے زندگی کے سوداگر دوست وہ مقررہ روز زندگی عنقریب آگیا ہے تومرشد کے وسیے سے الہٰی نام دلمیں بسا یہ نام ہی عدالت الہٰی میں تیرا مددگار و ساتھی ہوگا ۔ یہ دنیاوی دولت کی محبت تیرا ساتھ نہ دیگی ۔اس سے تو نے جھوٹا پیار لگا رکھا ہے ۔ پر تیرے ساتھ نہ جائیگی۔زندگی کاسارا دور (عمر) حیات جہالت اور لا علمی میں گذر رہی ہے ۔ خدمت مرشد سے ذہن نورانی ہوتا ہے۔ اے نانک کہہ کہ زندگی کے چوتھے دور میں روز آخرت حیات نزدیک آگیا ہے ۔

لِکھِیا آئِیا گوۄِنّد کا ۄنھجارِیا مِت٘را اُٹھِ چلے کمانھا ساتھِ ॥
اِک رتیِ بِلم ن دیۄنیِ ۄنھجارِیا مِت٘را اونیِ تکڑے پاۓ ہاتھ ॥
لِکھِیا آئِیا پکڑِ چلائِیا منمُکھ سدا دُہیلے ॥
جِنیِ پوُرا ستِگُرُ سیۄِیا سے درگہ سدا سُہیلے ॥
کرم دھرتیِ سریِرُ جُگ انّترِ جو بوۄےَ سو کھاتِ ॥
کہُ نانک بھگت سوہہِ درۄارے منمُکھ سدا بھۄاتِ ॥੫॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
کمانا۔ کی ہوئی کہانی ، کارکردگی ۔ یلم ۔ دیر ۔ اونی۔فرتہ موت نے ۔ دہیلے ۔دکھی ۔ سوبیلے۔سکھی ۔ کرم۔بخشش ۔عنایت ۔اعمال سوہے ۔خوش آئندہ ۔ اچھےلگتے ہیں۔ بھوات بھڑکائے جاتے ہیں۔
ترجمہ:
جب الہٰی پروانہ موصول ہوا اے زندگی کے سوداگر تو تمہارے ساتھ تو تمہارے اعمال بھی ساتھ ہونگے ۔ ذرا بھر دیر نہ ہوگی اے زندگی کے سوداگر اس وقت انسانی روح زبر دست فرشتہ موت کے زبردست ہاتھوں سے قبض کی گئی ہوگی ۔ جب پوانہ آتا ہےالہٰی حکم موصول ہوتا ہے۔ تو خودی پسند مرید من کو آگے لگا لیتے ہیں ۔ اور عذاب پاتے ہیں۔اسکے برعکس جنہوں نے سچے مرشد کی خدمت کی ہوتی ہے وہ ہمیشہ الہٰی ورگہہ میں سرخرو اور سکھ پاتے ہیں ۔ یہ جسم انسانی اعمال کےلئے زمین ہے اس زمین میں جیسے اعمال کا بیچ کوئی بوتا ہے جیسا بوتا ہے ویسا کھاتا ہے ۔ مراد ویسا ہی نتیجہ اسکے کئے اعمال کا ملتا ہے ۔ اے نانک کہہ دے الہیی پریمی الہٰی دربار میں سرخرو و اداب پاتے ہیں اور خودی پسند بھٹکتے رہتے ہیں۔

سِریِراگُ مہلا ੪ گھرُ ੨ چھنّت
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
مُنّدھ اِیانھیِ پیئیِئڑےَ کِءُ کرِ ہرِ درسنُ پِکھےَ ॥
ہرِ ہرِ اپنیِ کِرپا کرے گُرمُکھِ ساہُرڑےَ کنّم سِکھےَ ॥
ساہُرڑےَ کنّم سِکھےَ گُرمُکھِ ہرِ ہرِ سدا دھِیاۓ ॥
سہیِیا ۄِچِ پھِرےَ سُہیلیِ ہرِ درگہ باہ لُڈاۓ ॥
لیکھا دھرم راءِ کیِ باکیِ جپِ ہرِ ہرِ نامُ کِرکھےَ ॥
مُنّدھ اِیانھیِ پیئیِئڑےَ گُرمُکھِ ہرِ درسنُ دِکھےَ ॥੧॥
لفظی معنی:
مندھ ۔عورت۔ پیئیڑے۔اس عالم میں ۔ پکہتے ۔دیکھے ۔ گورمکھ ۔مرشد ذریعے ۔ سہییاں ۔ساتھیوں میں ۔ سنہیلی ۔سوکھی ۔ بانہہ لڈھائے بے فکربا عزت با وقار ۔ کر کہے ۔مٹا دیتا ہے ۔ قلم پھر دینا ۔لکیر کاتنے کے لئے لگائی
ترجمہ:
اگر انسان بے علم ناشناس ہے اس عالم میں تو اسے کیسے دیدار ہو سکتا ہے ۔ جب خدا کرم و عنایت فرماتا ہے توحضور مرشد ہوکر خدا رسیدگی کے اعمال سیکھتا ہے ۔ اور مرید مرشد کے وسیلے سے سیکھ کر ان کی مدد سے اسکی حمد و ثناہ کرے ۔ اس سے انسان اپنے ساتھیوں میں آرام اور سکھ پاتا ہے۔ اور الہٰی درگاہ میں بے فکر جاتا ہے ۔ اور محاسب الہٰی کی باقی پر الہٰی عبادت وریاض سے یکسر قلم پھیر دی جاتی ہے ۔ اے لا علم نادان انسان اس عالم کے مرید مرشد کے وسیلے سے دیدار الہٰی پاے

ۄیِیاہُ ہویا میرے بابُلا گُرمُکھے ہرِ پائِیا ॥
اگِیانُ انّدھیرا کٹِیا گُر گِیانُ پ٘رچنّڈُ بلائِیا ॥
بلِیا گُر گِیانُ انّدھیرا بِنسِیا ہرِ رتنُ پدارتھُ لادھا ॥
ہئُمےَ روگُ گئِیا دُکھُ لاتھا آپُ آپےَ گُرمتِ کھادھا ॥
اکال موُرتِ ۄرُ پائِیا ابِناسیِ نا کدے مرےَ ن جائِیا ॥
ۄیِیاہُ ہویا میرے بابولا گُرمُکھے ہرِ پائِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
گورمکھے ۔مرشد کےوسیلے سے ۔ آگیان اندھیرا ۔لاعلمی اور جہالت کا اندھیرا ویاہ۔ملاپ۔ کٹیا ۔ ختم کیا ق گرگیان پر چنڈبلایا۔بیداری کا علم چراغ روشن کیا ۔ ونیسا ۔مٹیا ۔ رتن پدارتھ۔قسمتی نعمت ۔ بابولا۔اے بابل ۔اے پتا۔ آپ اپے ۔جواز خود ہے
ترجمہ:
اےمیرے باپ اب خد سے میرا رتہ قائم ہو گا ہے اور مرید مرشد کی وساطت سے یہ میرا رشتہ قائم ہوا ہے ۔ لاعلمی او جہالت کا اندھیرا ختم ہو کر علم کے چراغ سے روشنی نمودار ہو گئی ہے ۔ علم مرشد سے اندھیرا ختم ہو گیا اور الہٰی قسمتی نعمت نام سچ ۔حق وحقیقت موصول ہو گی ۔ خودی و عذاب مٹ گیا ۔ اور اپنے آپ کی پہچان سے خودی مٹ گئی ۔ لافناہ خدا سے رشتہ قائم ہو گیا ۔ جو تناسخ سے بری ہے ۔ اے میرے باپ اب میرا رشتہ اللہ تعالٰی سے قائم ہو گیا ہے ۔

ہرِ ستِ ستے میرے بابُلا ہرِ جن مِلِ جنّجنْ سُہنّدیِ ॥
پیۄکڑےَ ہرِ جپِ سُہیلیِ ۄِچِ ساہُرڑےَ کھریِ سوہنّدیِ ॥
ساہُرڑےَ ۄِچِ کھریِ سوہنّدیِ جِنِ پیۄکڑےَ نامُ سمالِیا ॥
سبھُ سپھلِئو جنمُ تِنا دا گُرمُکھِ جِنا منُ جِنھِ پاسا ڈھالِیا ॥
ہرِ سنّت جنا مِلِ کارجُ سوہِیا ۄرُ پائِیا پُرکھُ اننّدیِ ॥
ہرِ ستِ ستِ میرے بابولا ہرِ جن مِلِ جنّجنْ سد਼ہنّدیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
ہرست ستے۔خدا خالص حقیقتاً سچ ہے ۔ سایرڑے ۔الہٰی درگاہ۔ اگلے جہان میں ۔ کھری نہایت ۔ نام سمالیا ۔ نام میں دھیان لگایا ۔جن ۔جیت حاصل کرکے ۔ ور ۔خاوند ۔ خدا ۔ انندی ۔ پرسکون
ترجمہ:
خدا ایک حقیقت اور سچ اور دائمی ہے اسکے پریمیوں اور خدا رسیگان سے ملنا خوش آئند ہے ۔ اس عالم میں انکی صحبت و قربت اوریاد الہیی سے انسانی زندگی خوش نصیبی ہے ۔ اسے ہر دو عالم میں شہرت ملتی ہے ۔ جنہوں نے اس عالم میں اپنی زندگی سنار کر شہرت حاصل کرلی دوسرے جہان میں شہرت پائیگی ۔ ان کی زندگی کامیاب ہے ۔ جنہوں نے سبق مرشد سے اپنے دل پر قابو پاکرزندگی کی روشن ہی بدل ڈالی ۔ الہٰی پریمیوں سے مل کر کام درست ہوئے اور خدا سے ملاپ ہوا جو سکون کا سر چشمتہ ہے ۔اور آدی اور ابدی ہے خدا س ہے حقیقت ہے دوامی ہے اور پارساؤں اور الہٰی پریمیوں اور خدا رسیدگان کی صحبت و قربت سے شہرت اور نیکی ملتی ہے ۔ (3)

ہرِ پ٘ربھُ میرے بابُلا ہرِ دیۄہُ دانُ مےَ داجو ॥
ہرِ کپڑو ہرِ سوبھا دیۄہُ جِتُ سۄرےَ میرا کاجو ॥
ہرِ ہرِ بھگتیِ کاجُ سُہیلا گُرِ ستِگُرِ دانُ دِۄائِیا ॥
کھنّڈِ ۄربھنّڈِ ہرِ سوبھا ہوئیِ اِہُ دانُ ن رلےَ رلائِیا ॥
ہورِ منمُکھ داجُ جِ رکھِ دِکھالہِ سُ کوُڑُ اہنّکارُ کچُ پاجو ॥
ہرِ پ٘ربھ میرے بابُلا ہرِ دیۄہُ دانُ مےَ داجو ॥੪॥
لفظی معنی:
کاج۔ کام۔ سوہیلا۔نیک ۔ اچھا ۔کھنڈ ۔دیش ۔ برہمنڈ۔ عالم ۔ کچ پاجو۔خام اور محض دکھا وا ہے
ترجمہ:
اے پتا خدا مجھے الہٰی نام عطا فرما ۔ یہ میرے لئے ایسا ہے جیسے شادی والی لڑکی کےلئے دہیزکا دان ۔ الہٰی نام کے ہی کپڑے دیجئے جس سے تمام کام سنوار جائیں ۔ الہیی عبادت الہٰی ریاض نیک کام ہے جو مرشد اور سچا مرشد نے یہ دان دلواتا ہے ۔ دیس اور عالم میں شہرت ملتی ہے ۔ یہ ایک ایسا خیرات دان ہے ۔ کہ اسکے برابر کوئی دوسرا دان نہیں ہے ۔ اگر کوئی دوسرا انسان جو اپنے من کا مرید ہے ۔ اسکے برار رھ کر دکھلاتا ہے وہ جھوٹا ہے ۔ تکبر ہے ۔اورصرف دکھاوا اور پاکھنڈ ہے ۔ اے میرے باپ خدا مجھے اپنا نام بطور عطیہ دان کیججئے ۔

ہرِ رام رام میرے بابولا پِر مِلِ دھن ۄیل ۄدھنّدیِ ॥
ہرِ جُگہ جُگو جُگ جُگہ جُگو سد پیِڑیِ گُروُ چلنّدیِ ॥
جُگِ جُگِ پیِڑیِ چلےَ ستِگُر کیِ جِنیِ گُرمُکھِ نامُ دھِیائِیا ॥
ہرِ پُرکھُ ن کب ہیِ بِنسےَ جاۄےَ نِت دیۄےَ چڑےَ سۄائِیا ॥
نانک سنّت سنّت ہرِ ایکو جپِ ہرِ ہرِ نامُ سوہنّدیِ ॥
ہرِ رام رام میرے بابُلا پِر مِلِ دھن ۄیل ۄدھنّدیِ ॥੫॥੧॥
لفظی معنی:
ہرام۔اے خدا ۔اے رام ۔ رام میرے بابولا ۔اے میر پتا رام ۔ خاوند اور عورت کے ملاپ سے انسانی سمجاج میں اضافہ ہوتا ہے ۔ انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جگھو جگ ۔ہر ایک زمانہ میں ۔ہمیشہ ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ چڑھے کوایا ۔روز افزوں ۔ سوہندی ۔اچھی لگتی ہے ۔
ترجمہ:
اس چھنت میں گرو صاحب نے ایک دنیاوی شادی کی تبیح دیکر سجھایا گیا ہے کہ انسان خداوند کریم سے تبھی ملاپ ہو سکتا ہے جیسے ایک عورت کا اپنے خاوند سے رشتہ ہے اور وہ رشتہ اگر دونوں ہم آہنگی اور وصفوں کی بنا پر کامیاب ہوتا ہے ۔ اول سبق مرشد پر عمل پیرا ہوکر خودی کو یکسر مٹادے ۔ توقیر و غیرت کو اس راہ میں حائل نہ ہونےدے ۔ جس سے روحانی علم کا چراغ روشن ہوتا ہے ۔ تب جس کی اس جستجو ہے ۔ اسکے اپنے اندر یعنی ذہن سے ہی ملجاتا ہے اور اسکا لطف سے انسان سرشار ہو جاتا ہے ۔ اور انسان اور خدا میں یکسوئی ہو جاتی ہے۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے جن انسانوں نے خدمت و صحبت و قربت سے استفادہ حاصل کرکے ہر دو عال مین شہرت و حشمت حاصل کرتے ہیں ۔ اے میے پتا خدا کے ملاپ سے ہی انسان زاد کا پھیلاؤ سالہا سال اور بہت پہلے سے چلا اتا ہے ۔ اور اسکی اولا چلی آتی ہے جنہوں نے مرشد کے ذریعے الہٰی نام کی عبادت وریاضت کی وہ مرشد کی روحانی اولاد ہے ۔ خدالافناہ ہے ۔ وہ ہمیشہ نعمتیں عنایت کرتا ہے ۔ اے نانک خدا اور الہٰی پریمی یکسو ہیں ۔ الہٰی عبادت وریاضت سے انسانی زندگی نیک اور خوبصورت ہو جاتی ہے ۔ اور اس راستے پر گامزن ہو جاتے ہیں۔

سِریِراگُ مہلا ੫ چھنّت
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را گوبِنّد نامُ سمالے ॥
من پِیارِیا جیِ مِت٘را ہرِ نِبہےَ تیرےَ نالے ॥
سنّگِ سہائیِ ہرِ نامُ دھِیائیِ بِرتھا کوءِ ن جاۓ ॥
من چِنّدے سیئیِ پھل پاۄہِ چرنھ کمل چِتُ لاۓ ॥
جلِ تھلِ پوُرِ رہِیا بنۄاریِ گھٹِ گھٹِ ندرِ نِہالے ॥
نانکُ سِکھ دےءِ من پ٘ریِتم سادھسنّگِ بھ٘رمُ جالے ॥੧॥
لفظی معنی:
سمالے۔چپتے کر۔یاد کر۔ دلمیں بسا ۔ ہر تہے ۔ساتھ دیتا ہے خدا ۔ برتھا۔ بیفائدہ ۔ من چندے ۔دلی خواہشات کے مطابق ۔ بنواری ۔خدا ۔ نہالے ۔نگاہ شفقت ۔ سکھ ۔ سبق ۔پند و آموز ۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے دوست دل الہٰی نام سچ حق وحقیقت دل میں بسا اے میرے پیارے دوست دل خدا تیرا ساتھ دیگا ۔ ساتھی و مددگار ہوگا ۔ اسکی ریاض کر یہ بیفائدہ نہ وگا ۔ اسے دلی خواہشات کی مطابق پھل ملتا ہے جو خدا سے پریم کرتا ہے ۔ خدا ہر جگہ موجود ہے اور ہر دل میں بستا ہے اور نگاہ شفقت ہے اسکی ۔ اے نانک اس دل کو سبق دے کر پاکدامن پارساؤں کی صحبت و قربت مین تمام شک و شہبات مٹا دے

من پِیارِیا جیِ مِت٘را ہرِ بِنُ جھوُٹھُ پسارے ॥
من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را بِکھُ ساگرُ سنّسارے ॥
چرنھ کمل کرِ بوہِتھُ کرتے سہسا دوُکھُ ن بِیاپےَ ॥
گُرُ پوُرا بھیٹےَ ۄڈبھاگیِ آٹھ پہر پ٘ربھُ جاپےَ ॥
آدِ جُگادیِ سیۄک سُیامیِ بھگتا نامُ ادھارے ॥
نانکُ سِکھ دےءِ من پ٘ریِتم بِنُ ہرِ جھوُٹھ پسارے ॥੨॥
لفظی معنی:
دکھ۔زیر۔بوہتھ۔جہاز ۔ سہسا ۔فکر ۔تشویش۔آو۔روز ازل سے پہلے ۔ اھارے ۔آسرا ۔
ترجمہ:
اے میرے پیار ے دوست دل خدا کے بغیر یہ تمام عالمی پھیلاؤ جھوٹا ہے ۔ اے پیارے دوست دل یہ عالم زہر کا سمندر ہے ۔ اے انسان پائے الہیی کو جہاز بناؤ تاکہ تجھے عذاب و تشویش نہ رہے ۔ جس بلند قسمت سے کامل مرش سے ملاپ سے ہر وقت الہٰی ریاض کرؤ ۔ روز ازل اور مابعد کے دور زماں میں الہٰی نام سچ ۔حق و حقیقت ہی الہیی پریمیوں کو سہارا ہے ۔ اے پیارے دل نانک کا سبق ہے کہ صحبت خدا رسیدہ پاکدامن پارساؤں کی صحبت و قربت میں رہ کر اپنی بھٹکن دور کر۔(2)

من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را ہرِ لدے کھیپ سۄلیِ ॥
من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را ہرِ درُ نِہچلُ ملیِ ॥
ہرِ درُ سیۄے الکھ ابھیۄے نِہچلُ آسنھُ پائِیا ॥
تہ جنم ن مرنھُ ن آۄنھ جانھا سنّسا دوُکھُ مِٹائِیا ॥
چِت٘ر گُپت کا کاگدُ پھارِیا جمدوُتا کچھوُ ن چلیِ ॥
نانکُ سِکھ دےءِ من پ٘ریِتم ہرِ لدے کھیپ سۄلیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
کھیپ۔ سودے کا پنڈل ۔ سولی۔منافع بخش ۔ الکہہ۔ عداد و شمار سے باہر ۔ ابھیوے ۔راز ۔پوشیدہ راز ۔نہچل مستقل ۔ تیہہ۔وہاں ۔ چیتر ۔جاسوسی ۔منشی خدا ۔ محاسب اعمالات انسانی کی عدالت عالیہ ۔ الہٰی ۔ حساب مٹا دیا۔کیچو نہ چلی ۔کوئی پیش نہ گئی ۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے دوست دل الہٰی نام کامنافع بخش سودا اُٹھائے ۔ اے میرے پیارے دل الہٰی در پر قائم ہو جا یہی در قائم دائم ہے ۔ اور مستقل ہے ۔ اس الہٰی در کی خدمت کیجئے جو اعداد و شمار سے بالا تر پوشیدہ راز اور مستقل ٹھکانہ ہے ۔ نہ اسے تناسخ میں پڑناپڑتا ہے تمام عذاب اور فکر و تشویش مت جاتے ہیں ۔ اور محتسب اعمالات کے کاعذات اور حساب ختم ہوجاتا ہے ۔ اور فرشتہ موت اسکا کچھ وگاڑ نہیں سکتا ۔ اے نانک میرے پیارے دل کو یہ سبق دیجئے کہ الہٰی نام کی منافع بخش سودے کی (کھیپ) بھار اکھٹا کروں ۔

من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را کرِ سنّتا سنّگِ نِۄاسو ॥
من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را ہرِ نامُ جپت پرگاسو ॥
سِمرِ سُیامیِ سُکھہ گامیِ اِچھ سگلیِ پُنّنیِیا ॥
پُربے کماۓ س٘ریِرنّگ پاۓ ہرِ مِلے چِریِ ۄِچھُنّنِیا ॥
انّترِ باہرِ سربتِ رۄِیا منِ اُپجِیا بِسُیاسو ॥
نانکُ سِکھ دےءِ من پ٘ریِتم کرِ سنّتا سنّگِ نِۄاسو ॥੪॥
لفظی معنی:
سنتاستنگ ۔ صحبت پاکدامن خدارسیدہ ۔پارساؤں ۔پرگاسو۔ روشنی ۔ نواسو۔ٹھکانہ ۔ سمر۔ یاد کرنا ۔ چھ ۔خواہش ۔ سگلی۔ ساری ۔ پنیاں۔پوری ہوتی ہے ۔ پربھے کمائے پہلے کیے اعمال ۔ سریرنگ خدا ۔ چری و چھونیا۔ دیرینہ جدا ہوئے ۔ سریت ۔ ہر جگہ ۔سب کے لئے ۔ بسوآسو ۔یقین۔ بھروسہ ۔اعتماد
ترجمہ:
اے میرے پیارے دوست من پاکدامن پارساؤں خدا رسیدگان کی صحبت و قربت اختیارکر ۔ اے میرے پیارے دوست دل الہٰی کی ریاض سے روحانی رونی ملتی ہے ۔ آقا کو یاد کر جو سکھ اور آرام دینے والا ہے ۔ اور تمام خواہشات ببوریاں کرنیوالا ہے ۔ پہلے کئے ہوئے اعمال کے صدقہ دیرینہ جدا ہوئے ہوئے خدا سے ملاپ ہوجاتا ہے ۔ خدا ہر جگہ بستا ہے یہ یقین مجھے ہو گیا ۔ اے پیار دل نانک یہ سبق دیتا ہے کہ پارساؤں پاکدامنوں اور مریدان مرشد کی صحبت و قربت اختیار کر ۔

من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را ہرِ پ٘ریم بھگتِ منُ لیِنا ॥
من پِیارِیا جیِءُ مِت٘را ہرِ جل مِلِ جیِۄے میِنا ॥
ہرِ پیِ آگھانے انّم٘رِت بانے س٘رب سُکھا من ۄُٹھے ॥
س٘ریِدھر پاۓ منّگل گاۓ اِچھ پُنّنیِ ستِگُر تُٹھے ॥
لڑِ لیِنے لاۓ نءُ نِدھِ پاۓ ناءُ سربسُ ٹھاکُرِ دیِنا ॥
نانک سِکھ سنّت سمجھائیِ ہرِ پ٘ریم بھگتِ منُ لیِنا ॥੫॥੧॥੨॥
لفظی معنی:
ہزپریم بھگت ۔ من لینا۔ الہٰی پریم پیار اور عبادت و ریاضت میں میرا دل مشغول و سور ہے ۔مینا ۔مھلی ۔ آگھانے ۔ سیر ہو گئے ۔ مکمل طور پر سیر ہونا ۔ انمرت بانے ۔ انمرت آپ حیات ۔ بانے ۔بول۔بانی ۔ آب حیات جیساکلام ۔ وٹھے ۔ بستے ۔ سریدھر ۔ خدا پر ماتما ۔ منگل ۔ خوشی ۔ کے گیت ۔ رچھ۔ خواہش ۔ نوندھ ۔ نوخزانے ۔ سر بس۔ سب کچھ ۔ سکھ ۔سبق
ترجمہ:
اے میرے پیارے دوست دل الہٰی پریم اور الہٰی عبادت دل میں سا ۔ جیسے اے پیارے دل خدا سے ایسا پیار کر جیسا مچھلی کا پانی سے ہے ۔خدا کا آب حیات کلام دل میں بسانے سے تمام سکھ اور انسان کی دنیاوی خواہشات کی پیار مٹ جاتی ہے ۔ خدا سے ملاپ ہو جاتا ہے ۔ اور الہٰی حمد وثناہ کرتا ہے ۔ اُسکی تمام خواہشات پوری ہوجاتی ہیں ۔ اے نانک جسے خدا رسیدہ (سنت) نے سبق د دیا اسکا من الہٰی عشق میں اور پریم میں سر مست ہوجاتا ہے ۔ اسے خدا تعالٰی اپنے دامن لگا لیتا ہے ۔ یہ سمجھو اسنے سارے عالم کی دولت پالی ۔

سِریِراگ کے چھنّت مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ڈکھنھا ॥
ہٹھ مجھاہوُ ما پِریِ پسے کِءُ دیِدار ॥
سنّت سرنھائیِ لبھنھے نانک پ٘رانھ ادھار ॥੧॥
چھنّتُ ॥
چرن کمل سِءُ پ٘ریِتِ ریِتِ سنّتن منِ آۄۓ جیِءُ ॥
دُتیِیا بھاءُ بِپریِتِ انیِتِ داسا نہ بھاۄۓ جیِءُ ॥
داسا نہ بھاۄۓ بِنُ درساۄۓ اِک کھِنُ دھیِرجُ کِءُ کرےَ ॥
نام بِہوُنا تنُ منُ ہیِنا جل بِنُ مچھُلیِ جِءُ مرےَ ॥
مِلُ میرے پِیارے پ٘ران ادھارے گُنھ سادھسنّگِ مِلِ گاۄۓ ॥
نانک کے سُیامیِ دھارِ انُگ٘رہُ منِ تنِ انّکِ سماۄۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
ڈکھنا۔ ڈکھنی زبان ۔ ہٹھ مجاہو۔ ہر دل میں ۔ ماپری۔ میرے خدا ۔ پران ادھار ۔ زندگی کے سہارے ۔ پسے کیسے ۔ (چھنت) سیو نال۔ ریت ۔شرع ۔ رسم ۔ رواج ۔ سنن من۔ سنتوں کے دل میں ۔ آوئے آتی ہے بستی ہے ۔ دتیا بھاؤ ۔ دؤیش۔امتیاز ۔ بپرت ۔غلط برٹاؤ ۔ الٹی رسم ۔ انیت بے انصافی ۔ بھاوئے ۔ پسند کرنا ۔ درساوئے دیدار پہونا ۔ بغیر ۔ ہینا کمزور ۔ انگر یہہ ۔کرپا۔ مہربانی ۔ آتک ۔گود۔ سماوئے ۔بسائے ۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے خدامجھے میرے دل میں تیرا دیدار کیسے پاؤں ۔ اے نانک زندگی کس سہار خداپناہ و صحبت قربت پاکدامن پا رساؤں خدا رسیدگان سے دیدار ہوگا ہے ۔(چھنت) الہٰی پائے مقدس و مبارک سے عشق و محبت رکھنے کی رسم ورواج سنتوں کے دل میں ہی بستی ہے ۔ دوئی دؤیش ناانصافی اور غلط برتاؤانہیں پسند نہیں ۔ دیدار الہٰی کے بغیر خامان الہٰی کو کوئی زندگی کا دوسرا پہلو انہیں اچھا نہیں لگتا ۔ ایک پل بھر کے لئے بھی اُنکی تسلی و تشفی نہیں ہوتی ۔جیسے پانی کے بغیر مچھلی مر جاتی ہے ۔ ایسے ہی الہٰی نام سچ ۔حق وحقیقت کے بغیر نحیف وکمزور اور بے سہارا ہو جاتا ہے ۔ اور روحانی موت ہوگئی لگتی ہے ۔ اے میرے پیارے خدا میرے زندگی کے سہارے مل تاکہ تیری پاکدامن پارساؤں کی صحبت و قربت میں حمد وثناہ کریں ۔ اے نانک کے آقا کرم و عنایت فرماتا کہ میں دل و جان سے تیری گود میں سمایا رہوں ۔

ڈکھنھا ॥
سوہنّدڑو ہبھ ٹھاءِ کوءِ ن دِسےَ ڈوُجڑو ॥
کھُل٘ہ٘ہڑے کپاٹ نانک ستِگُر بھیٹتے ॥੧॥
چھنّتُ ॥
تیرے بچن انوُپ اپار سنّتن آدھار بانھیِ بیِچاریِئےَ جیِءُ ॥
سِمرت ساس گِراس پوُرن بِسُیاس کِءُ منہُ بِساریِئےَ جیِءُ ॥
کِءُ منہُ بیساریِئےَ نِمکھ نہیِ ٹاریِئےَ گُنھۄنّت پ٘ران ہمارے ॥
من باںچھت پھل دیت ہےَ سُیامیِ جیِء کیِ بِرتھا سارے ॥
اناتھ کے ناتھے س٘رب کےَ ساتھے جپِ جوُئےَ جنمُ ن ہاریِئےَ ॥
نانک کیِ بیننّتیِ پ٘ربھ پہِ ک٘رِپا کرِ بھۄجلُ تاریِئےَ ॥੨॥
لفظی معنی:
ہب ٹھائے ۔ ہرجگہ ۔ ڈوجڑو۔ دوسرا ۔ کپاٹ ۔ دروازہ ۔ ستگر ۔سچا مرشد ۔ بھٹتے ۔ملاپ سے ۔ (چھنت) کو نوپ ۔ انکھے بندے بے نطیر ۔ بیشال ۔جسکی مثال نہ دی جاسکے ۔ اپار ۔ بیشمار ۔سنن آدھارسنتوں کا سہارا ۔ وچاریئے ۔ خیال آرائی کرنا ۔ سمجہنا ۔ ساس ہر سان ۔ گراس ۔ہرلقمہ ۔ بسیاس ۔یقین ۔بھروس۔اعتماد ۔ منہو ۔دل سے ۔وساریئے ۔بھلایئے ۔ نمکھ ۔آنکھ جھپکنے کے وقفے کے لئے ۔ تاریئے ۔ملتوی کرنا ۔ہٹانا ۔ گنونت ۔ باوصف۔ وصف والے ۔ برتھا ۔درد ۔بیفائدہ ۔ سارے سنبھالے ۔ خبرگیری ۔ بھوجل خوفناک سمندر ۔ تاریئے ۔ عبور کرنا
ترجمہ:
الہٰی نور ہر جگہ اپنا نور بکھیرتادکھائی دیتا ہے ۔ کوئی دوسرا ایسا دکھائی نہین دیتا اے نانک سچے مرشد کے ملاپ سے ذہن کے کپاٹ کھلتے ہیں سمجھ آتی ہے اے خدا تیرا کلام بینظیر۔لامثال ہے جوخدا رسیدگان کے لئے سہارا ہیں ۔ کامل و واثق یقین اور بھروسے سے یاد کرؤ ۔ دل سے یکسوں بھلایا جائے ۔ دل سے آنکھ کے جھپکنے کے وقفے کے لئے کیوں کنارہ کشی کی جائے ۔ اوجھل کیا جائے ۔ وہ وصفوں کا مالک ہماری زندگی کا سہارا ہے ۔ اوردلی خواہشات کی مطابق پھل دیتا ہے اور ہر ایک کی خبر گیری کرتا ہے ۔ وہ بے مالکو کا مالک اور سب کا ساتھی ہے اسکی ریاض کرؤ اور زندگی بیکار جوئے میں نہ ہاڑونانک خدا سے دعا گو ہے کہ از کرم و عنایت اس دنیاوی سمندر عبور کراؤ ۔(2)

ڈکھنھا ॥
دھوُڑیِ مجنُ سادھ کھے سائیِ تھیِۓ ک٘رِپال ॥
لدھے ہبھے تھوکڑے نانک ہرِ دھنُ مال ॥੧॥
چھنّتُ ॥
سُنّدر سُیامیِ دھام بھگتہ بِس٘رام آسا لگِ جیِۄتے جیِءُ ॥
منِ تنے گلتان سِمرت پ٘ربھ نام ہرِ انّم٘رِتُ پیِۄتے جیِءُ ॥
انّم٘رِتُ ہرِ پیِۄتے سدا تھِرُ تھیِۄتے بِکھےَ بنُ پھیِکا جانِیا ॥
بھۓ کِرپال گوپال پ٘ربھ میرے سادھسنّگتِ نِدھِ مانِیا ॥
سربسو سوُکھ آننّد گھن پِیارے ہرِ رتنُ من انّترِ سیِۄتے ॥
اِکُ تِلُ نہیِ ۄِسرےَ پ٘ران آدھارا جپِ جپِ نانک جیِۄتے ॥੩॥
لفظی معنی:
مجن ۔ اشنان۔ کھ دھول۔کی ۔ سادھ ۔پاکدامن ۔ سائیں ۔آقا ۔خدا ۔ تھیئے ہوئے ۔ ہجھے سارے ۔ تھوکڑے ۔نعمتیں ۔ (چھنت) دھام ۔ گھر ۔ سوآمی ۔مالک۔آقا ۔ سوآی دھام۔ کانہ خدا ۔ وسرام ۔آرام ۔ آسانگ ۔ اُمیدوں سے ۔ جیوتے ۔ زندگی پاتے ہیں ۔ جیتے ہیں ۔ گالتان ۔ مدہوش ۔ تھر ۔ قائم ۔ تھیوتے ۔ ہوتے ہیں ۔ دکہے بن وکاروں کا پانی آب گناہ ۔ پھیکا ۔مد مزہ ۔ ندھ۔خزانہ ۔ سیو تو ۔ بسانا ۔ سربسو ۔سارا ۔ انتر۔ دل میں ۔ پران ادھارا۔زندگی کا سہارا
ترجمہ:
جن پر خدا کی کرم و عنایت ہوتی ہے انہیں سادھوؤں کے پاؤں کی دھول میں اشنان کرنیکا موقعہ میسر ہوتا ہے ۔ اے نانک تمام مال و دولت میسر ہوگئی ۔ (چھنت) وہ خدا کا عایشان محل ہے ۔ جہاں عاشقان الہٰی آرام پاتے ہیں ۔ اور اسی امید میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ دل و جان میں مدہوش الہٰی نام کی ریاض آب حیات الہٰی نام سچ حق وحقیقت نوش ذہن نشین کرتے ہیں ۔ آب حیات نوش کرکے ہمیشہ قائم دائم رہتے ہیں ۔ اور گناہوں کو بھرا بدمزہ پانی سمجھتے ہیں ۔ خدا مہربان ہوا مجھ پر سادھوؤں کی صحبت کا لطف اُٹھایا ۔سب سے اچھا سارے آرام پہنچانے والا الہٰی نام دل میں بسایا ۔ ذرا سے وقفے کے لئے بھی بہولوں جو میری زندگی کا سہارا ہے ۔ اسکی ریاض سے نانک زندہ ہے روحانی زندگی جیتا ہے (3)

ڈکھنھا ॥
جو تءُ کیِنے آپنھے تِنا کوُنّ مِلِئوہِ ॥
آپے ہیِ آپِ موہِئوہُ جسُ نانک آپِ سُنھِئوہِ ॥੧॥
چھنّتُ ॥
پ٘ریم ٹھگئُریِ پاءِ ریِجھاءِ گوبِنّد منُ موہِیا جیِءُ ॥
سنّتن کےَ پرسادِ اگادھِ کنّٹھے لگِ سوہِیا جیِءُ ॥
ہرِ کنّٹھِ لگِ سوہِیا دوکھ سبھِ جوہِیا بھگتِ لکھ٘ز٘زنھ کرِ ۄسِ بھۓ ॥
منِ سرب سُکھ ۄُٹھے گوۄِد تُٹھے جنم مرنھا سبھِ مِٹِ گۓ ॥
سکھیِ منّگلو گائِیا اِچھ پُجائِیا بہُڑِ ن مائِیا ہوہِیا ॥
کرُ گہِ لیِنے نانک پ٘ربھ پِیارے سنّسارُ ساگرُ نہیِ پوہِیا ॥੪॥
لفظی معنی:
گور ۔ ٹھگنے والی دوائی ۔اگادھ ۔جسکا شمار نہ ہو سکے ۔ انسانی سمجھ سے بعید ۔ سکھی ۔ساتھی ۔ کر ۔ہاتھ ۔ ریجہائے ۔خوش کیئے ۔ پرساد۔رحمت سے ۔ کنٹھے گلے لگ کے ۔ سب۔ سارے ۔ دوکہہ۔ وکار ۔ جوہیا ۔ پرکھنا ۔ بھگت لکھن کر۔ بھگتوں کی نشانی ۔ وٹھے ۔ بست ۔ تٹھے خوش۔ منگل ۔خوشی کے گیت ۔ ہوہیا دکھے ۔ گہہ۔پکڑتا ۔(4)
ترجمہ:
اے خداجن کو تواپنا لیتا ہے انہیں تو ملت ہے ۔اپنے آپ اپنے سے محبت کرکے اے نانک آپ ہی اپنی صفت صلاح سنتا ہے۔(چھنت)
عاشقان الہٰی نے پیا رجو کسی کو اپنا بنانے والی دوئی ہے خدا کو کھلاکے خدا کو اپنی محبت میں گرفتار کر لیا اور الہٰی پریمیوں کی کرم و عنایت سے خدا کے اتھاہ پیار سے زندگی باشعور ہوجاتی ہے ۔ اسکی تمام برائیاں ختم ہوجاتی ہے ۔ اسے برائیوں سے نجات حاصل ہوجاتی ہے ۔ اور اس میں پارسائی اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں ۔ جس سے خدا خوش ہوکر اسے سارے سکھ دیتا ہے ۔ او تناسخ مٹ جاا ہے ۔ جس سے وہ اپنے ساتھیوں سے مل کر الہٰی صفت صلاح کرتا ہے جس سے اسکی تمام خواہشات پوری ہوتی ہیں لہذا دنیاوی مایا اسے اپنے جال میں نہیں پھنساتی ۔ اے نانک پیارے خدا نے اپنے دامن لگا لیا ان پر دنیاوی تاثرات خم ہو جاتے ہیں اثر پذیر ہوتے

ڈکھنھا ॥
سائیِ نامُ امولُ کیِم ن کوئیِ جانھدو ॥
جِنا بھاگ متھاہِ سے نانک ہرِ رنّگُ مانھدو ॥੧॥
چھنّتُ ॥
کہتے پۄِت٘ر سُنھتے سبھِ دھنّنُ لِکھتیِ کُلُ تارِیا جیِءُ ॥
جِن کءُ سادھوُ سنّگُ نام ہرِ رنّگُ تِنیِ ب٘رہمُ بیِچارِیا جیِءُ ॥
ب٘رہمُ بیِچارِیا جنمُ سۄارِیا پوُرن کِرپا پ٘ربھِ کریِ ॥
کرُ گہِ لیِنے ہرِ جسو دیِنے جونِ نا دھاۄےَ نہ مریِ ॥
ستِگُر دئِیال کِرپال بھیٹت ہرے کامُ ک٘رودھُ لوبھُ مارِیا ॥
کتھنُ ن جاءِ اکتھُ سُیامیِ سدکےَ جاءِ نانکُ ۄارِیا ॥੫॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
سائیں۔آقا ۔مالک ۔ امول ۔ بیش قیمت ۔ متھاہ ۔ پیشانی ۔ ہر رتگ ۔الہٰی ملاپ کی خوشی (چھنت) سب ۔سارے ۔کل ۔خاندان ۔ ستنگ ۔ساتھ ۔ رنگ۔خوشی ۔ وچاریا ۔سمجھ ۔ کر ۔ہتھ ۔ہاتھ ۔ جستو ۔صفت صلاح ۔ وھاوے ۔دؤڑتا ہے ۔ جون نہ دھاوے ۔تناسخ میں نہیں آتا ۔ بھیت ۔ملاپ ۔اکتھ ۔ناقابل بیان ۔ صدقے قربان
ترجمہ:
خدا کا نام بیش قیمت ہے جسکی قیمت سمھ سے باہر ہے ۔ جسکی پیشانی پر اسکےاسکے مدر کنندہ ہے اے نانک الہٰی ملب سکون وہ پاتے ہیں (چھنت)
جو انسان خدا کی حمد وثناہ کرتے ہیں ۔ انکی زندگی کی روشن پاک ہوجاتی ہے ۔ اور صفت صلاح سنتے ہیں وہ خوش قسمت ہوجاتے ہیں ۔ اور جو اپنے ہاتھوں سے بکھتے ہیں وہ اپنے سارے خاندان کو اس دنیاوی سمندر سے عبور کرا دیتے ہیں ۔ جنہیں مرشد کاملا پ حاصل ہوجائے وہ الہٰی نام اپنے دل میں بسا کر سے لطف اندو ہوتے ہیں ۔ خدا جس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اسے اپنی حمد و ثناہ عنایت فرمائی اسکا تناسخ مٹ جاتا ہے روحانی موت نہیں ہوتی ۔ سچے رحمان مہربان مرشد کے ملاپ سے شہوت لالچ اور غصہ ختم ہوگیا ۔ قربان ہے اے نانک جس کو بیان کرنے سے انسان قاصر ہے

سِریِراگُ مہلا ੪ ۄنھجارا
ੴ ستِنامُ گُرپ٘رسادِ ॥
ہرِ ہرِ اُتمُ نامُ ہےَ جِنِ سِرِیا سبھُ کوءِ جیِءُ ॥
ہرِ جیِء سبھے پ٘رتِپالدا گھٹِ گھٹِ رمئیِیا سوءِ ॥
سو ہرِ سدا دھِیائیِئےَ تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
جو موہِ مائِیا چِتُ لائِدے سے چھوڈِ چلے دُکھُ روءِ ॥
جن نانک نامُ دھِیائِیا ہرِ انّتِ سکھائیِ ہوءِ ॥੧॥
مےَ ہرِ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
ہرِ گُر سرنھائیِ پائیِئےَ ۄنھجارِیا مِت٘را ۄڈبھاگِ پراپتِ ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
اُتم۔ اعلٰے ۔ سریا۔ پیدا کیا۔ سب کوئے ۔ سارے ۔جاندار ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں ۔ رمیا ۔ رام۔سکھائی ۔ساتھی ۔۔ ونجاریا سترا ۔ سوداگر دوست
ترجمہ:
جس نے سارے عالم کو پیدا کیا ہے اسکا نام بیش قیمت اور اعلٰے ہے ۔ اسکویاد کرؤ اسکے علاوہ دوسرا کوئی اسکا ثانی نہیں ۔ وہ ہر دل میں بستا ہے اور سب کی پرورش کرتا ہے ۔ جنہیں دولت سے عشق ہے یہیں چھوڑ اتے ہیں ۔ اور چھوڑتے وقت روتے ہیں ۔ خادم نانک نام الہٰی کی ریاض کی جو بوقت آخرت مددگارہے ۔۔ خدا کے بغیر یری کوئی ہست ہی نہیں ۔ خدا پناہ مرشد سے ملتا ہے اے زندگی کے سوداگر دوست بلند قسمت سے ملتا ہے ۔

سنّت جنا ۄِنھُ بھائیِیا ہرِ کِنےَ ن پائِیا ناءُ ॥
ۄِچِ ہئُمےَ کرم کماۄدے جِءُ ۄیسُیا پُتُ نِناءُ ॥
پِتا جاتِ تا ہوئیِئےَ گُرُ تُٹھا کرے پساءُ ॥
ۄڈبھاگیِ گُرُ پائِیا ہرِ اہِنِسِ لگا بھاءُ ॥
جن نانکِ ب٘رہمُ پچھانھِیا ہرِ کیِرتِ کرم کماءُ ॥੨॥
منِ ہرِ ہرِ لگا چاءُ ॥
گُرِ پوُرےَ نامُ د٘رِڑائِیا ہرِ مِلِیا ہرِ پ٘ربھ ناءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
بن۔بغیر۔ نناؤں ۔نام کے بغیر ۔ ایسوآ ۔بدکار ۔بد چلن ۔ پتا جاتا ۔باپ کی ذات۔ تھٹا ۔خوش ہونا۔ پساؤ ۔رحمت ۔ ابہہ دن نہیں۔رات ۔ اہینس ۔ روز وشب ۔ بھاؤ ۔پریم ۔ برہم۔خدا ۔ کیرت ۔صفت صلاح ۔ پچھانیا ۔سمجھ کی ۔ گماؤ ۔عمل پیرا ۔(2) گرپورے کامل مرشد ۔درڑائیا ۔حفظ کیا ۔ ذہن نشین کرایا
ترجمہ:
پاکدامن پارساؤں کے بغیر کسی انسان نے الہٰی نام سچ۔حق وحقیقت حاص نہیں کیا ۔ کیونکہ جوخودی میں کام کیا جاتا ہے ایسے ہے جیسے گنجری کے بیٹے کے باپ کا نام نہیں ہوتا ۔ باپ کی ذات عنی الہٰی اولاد تب ہی ہوسکتا ہے ۔ جب مرشد اپنی کرم و عنایت کرے ۔ بلند قسمت سے مرشد سے ملاپ ہوتا ہے جس کےملاپ سے روز و شب اسکے پریم میں دل سرمست رہتا ہ ۔ خادام نانک نے خدا کی پہچان کر لی ہے لہذا اس سے رشتہ قائم ہو گیا ہے ۔ اب اسکی صفت صلاح کرتا ہوں اے دل خدا سے پیار کر بلند قسمت سےمرشد ملا دل میں پرماتما کی خوشی ہے کامل مرشد نے الہٰی نام حق کرادیا اور الہٰی نام ملا ۔

جب لگُ جوبنِ ساسُ ہےَ تب لگُ نامُ دھِیاءِ ॥
چلدِیا نالِ ہرِ چلسیِ ہرِ انّتے لۓ چھڈاءِ ॥
ہءُ بلِہاریِ تِن کءُ جِن ہرِ منِ ۄُٹھا آءِ ॥
جِنیِ ہرِ ہرِ نامُ ن چیتِئو سے انّتِ گۓ پچھُتاءِ ॥
دھُرِ مستکِ ہرِ پ٘ربھِ لِکھِیا جن نانک نامُ دھِیاءِ ॥੩॥
من ہرِ ہرِ پ٘ریِتِ لگاءِ ॥
ۄڈبھاگیِ گُرُ پائِیا گُر سبدیِ پارِ لگھاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
جب تگ۔جب تک۔جوبن ۔حسن جوانی ساس۔ سانس ۔ چلایاں۔سفر زندگی ۔ وٹھا۔بسا ۔ دھر ۔الہٰی حضور سے۔ لگہائے ۔ عبورکرانا
ترجمہ:
اے انسان جب تک جوانی ہے اور سانس ہیں تو زندہ ہے ۔ الہٰی نام کی ریاض کر دوران زندگی تیرا ساتھ دیگا اور بوقت آخرت تجھے نجات دلائے گا ۔ قربان ہوں ان انسانوں پر جنکے دل میں بستا ہے ۔ جنہوں نے خدا کو یاد نہیں کی بوقت آخرت پچھتاتے ہیں ۔ جنکی پیشانی پروردگار الہٰی سے تحریر ہے ۔ اے نانک یاد کر تے ہیں وہی خدا ۔(3) اے دل خدا سے پیار کر بلند قسمت سے مرشد سے پیار کر بلند قسمت سے مرشد ملا اس نے اپنے کلام سے زندگی میں کامیابی دی

ہرِ آپے آپُ اُپائِدا ہرِ آپے دیۄےَ لےءِ ॥
ہرِ آپے بھرمِ بھُلائِدا ہرِ آپے ہیِ متِ دےءِ ॥
گُرمُکھا منِ پرگاسُ ہےَ سے ۄِرلے کیئیِ کےءِ ॥
ہءُ بلِہاریِ تِن کءُ جِن ہرِ پائِیا گُرمتے ॥
جن نانکِ کملُ پرگاسِیا منِ ہرِ ہرِ ۄُٹھڑا ہے ॥੪॥
منِ ہرِ ہرِ جپنُ کرے ॥
ہرِ گُر سرنھائیِ بھجِ پءُ جِنّدوُ سبھ کِلۄِکھ دُکھ پرہرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
آپے ۔از خود ۔ آپ ۔ خود ۔ دیوے ۔دیتا ہے ۔ بھرم۔شک ۔ بھلا یندا ۔ بھلاتا ہے ۔کج رودی ۔گمراہ ۔ گورمکھا ۔مرید مرشد ۔ گرمتے ۔سبق مرشد ۔ کمل پرگاسیا ۔ دل خواش ہوا ۔ ٹھڑا ۔بسیا ۔ سرنائی ۔پناہ ۔ جندو۔اے زندگی ۔ کل دکھ ۔ گناہ ۔ پرہرے ۔دور کرے
ترجمہ:
خدا خود ہی پیدا کرنیوالا ہے خود ہی ظہور مین لانیوالا ہے ۔ اور خود ہی ختم کرنیوالا ہے ۔ خود ہی انسان کو غل راستے پرلگاتا ہے ۔ اور خودہی سمجھاتا ہے ۔ مریدان مرشد کے دل پر نور رہیں جو کوئی ہی ہے ۔ میں قربان ہوں ان پر جنہوں نے سبق مرشدسے پالیا ہے ۔ خادم نانک کا دل خوش ہے خدا دل میں بس گیا ہے (4) اے دل کی ریاض کر اے میری جان الہٰی مرشد کی پناہ قبول کرتاکہ تیرے تمام گناہ اور عذاب مٹ جائے

گھٹِ گھٹِ رمئیِیا منِ ۄسےَ کِءُ پائیِئےَ کِتُ بھتِ ॥
گُرُ پوُرا ستِگُرُ بھیٹیِئےَ ہرِ آءِ ۄسےَ منِ چِتِ ॥
مےَ دھر نامُ ادھارُ ہےَ ہرِ نامےَ تے گتِ متِ ॥
مےَ ہرِ ہرِ نامُ ۄِساہُ ہےَ ہرِ نامے ہیِ جتِ پتِ ॥
جن نانک نامُ دھِیائِیا رنّگِ رتڑا ہرِ رنّگِ رتِ ॥੫॥
ہرِ دھِیاۄہُ ہرِ پ٘ربھُ ستِ ॥
گُر بچنیِ ہرِ پ٘ربھُ جانھِیا سبھ ہرِ پ٘ربھُ تے اُتپتِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
گھٹ گھٹ ۔ہر دل میں ۔ رمیا۔ رام ۔ کت بھت۔ کس طرح ۔ بیٹھیئے ۔ملاپ کریں ۔ من چت۔ دل میں ۔ ادھار آسرا ۔ گت۔ عظمت ۔بلندی ۔ وساہو ۔ پونجی ۔ پت۔ عزت ۔ رت ۔پیار رتگ ۔پریم ۔ ست۔سچ۔صدیوں ۔ اتپت ۔پیدائش
ترجمہ:
ہر دل میں بستا ہے خدا کس طرح اسکا پتہ چل ۔ کیسے پہچا و ملاپ ہو ۔ کامل مرشد کے ملاپ و سبق سے ہ دل میں بستا ہے ۔ میرے لئے تو خدا کا نام ہی سہارا ہے ۔ خدا کے نام سچ حق وحقیقت سے ہی روحانی عظمت و علم روحانی حاصل ہوتا ہے ۔ الہٰی نام ہی میری دولت ہے اور نام نیک خاندان اور عزت وحشمت ہے ۔ اے خادم نانک جس نے نام میں دھیان لگایا اس پر الہٰی پیار کے تاثرات سے پر لطف پریم و لطف پیار میں مخمور ہو گیا (5) اے دل خدا کو یاد کر اسکی ریاض کر مرشد الہٰی پناہ اختیار کر تاکہ تیرے گناہ و عذاب دور ہوجائے ۔

جِن کءُ پوُربِ لِکھِیا سے آءِ مِلے گُر پاسِ ॥
سیۄک بھاءِ ۄنھجارِیا مِت٘را گُرُ ہرِ ہرِ نامُ پ٘رگاسِ ॥
دھنُ دھنُ ۄنھجُ ۄاپاریِیا جِن ۄکھرُ لدِئڑا ہرِ راسِ ॥
گُرمُکھا درِ مُکھ اُجلے سے آءِ مِلے ہرِ پاسِ ॥
جن نانک گُرُ تِن پائِیا جِنا آپِ تُٹھا گُنھتاسِ ॥੬॥
ہرِ دھِیاۄہُ ساسِ گِراسِ ॥
منِ پ٘ریِتِ لگیِ تِنا گُرمُکھا ہرِ نامُ جِنا رہراسِ ॥੧॥ رہاءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
جن گود ۔جنہیں ۔ پورب ۔پہلے ۔ لکھا۔تحریر پرگاس۔ روشنی ۔بیوپار۔سوداگر ۔ وکھر ۔سودا ۔ راست۔ سرمایہ ۔ اجلے ۔پاک ۔ روشن ۔ انٹھا ۔خوش ۔ گن تاس۔ اوصاف کاخزانہ (2) ساس۔سانس۔ گراس۔لقمہ ۔ رہراس ۔راستے کا سرمایہ ۔سفر خرچ
ترجمہ:
جن کے اعمالنامے میں پہلے سے تحریر ہے ۔ وہ مرشد سے ملاپ کرتے ہیں ۔ اے زندگی کے سوداگر دوست جنہوں نے الہٰی دولت کا سودا خرید کیا ہ وہ سرخرو ہوئے ہیں جنہوں نےخدمتگاری اور خدمتگارانہ اور انداز وفکر سے اختیار کیا ہے الہٰی نام روشن ہوا ۔ اے خادم نانک مرشد انہیں ملا ہے جن پر خزانہ اوصاف خدا خود مہربان ہوتا ہے (2) ہر سانس اور ہر لقمہ خدا کو یاد کرؤ ۔ مجھے میرے دل میں ان کا پیار ہے مریدان مرشد کا جنکی دولت الہٰی نام سچ ۔حق وحقیقت ہے

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سِریِراگ کیِ ۄار مہلا ੪ سلوکا نالِ ॥
سلوک مਃ੩॥
راگا ۄِچِ س٘ریِراگُ ہےَ جے سچِ دھرے پِیارُ ॥
سدا ہرِ سچُ منِ ۄسےَ نِہچل متِ اپارُ ॥
رتنُ امولکُ پائِیا گُر کا سبدُ بیِچارُ ॥
جِہۄا سچیِ منُ سچا سچا سریِر اکارُ ॥
نانک سچےَ ستِگُرِ سیۄِئےَ سدا سچُ ۄاپارُ ॥੧॥
لفظی معنی:
آکار ۔ حجم۔ شکل وصورت ۔جسم ۔ نہچل۔ قائم ۔ غیر متزلزل ۔ مت ۔عقل ۔سمجھ ۔ اپار۔ ازحد ۔ گر کا شبد ۔ کلام مرشد ۔ جیہو ۔ زبان ۔ من۔دل ۔ سچا سریرا کار ۔ بدن انسانی ۔ ستگر سہوہیئے ۔ خدمت مرشد کریں
ترجمہ:
تمام راگوں مین بڑھیا راگ سیریراگ ہے اگر دل میں سچ یعنی حقیقتسے محبت ہو۔ ہمیشہ سچ اور سچاخدا نام سچ حق وحقیقت دل میں ہوا اور عقل میں مستقل مزاجی ہو اور کلام مرشد کا قیمتی سبق کا دل مین خیال ہوا جس سے زبان سچی دل سچا اور انسانی زندگی کامیاب ہو جاتی ہے ۔ مگر اے نانک یہ سچی خریداری تب ہی ہو سکتی ہے اگر مرشد کے تابعدار اور اس پر عمل پیرا ہوں یہی سچی سوداگری ہے

مਃ੩॥
ہورُ بِرہا سبھ دھاتُ ہےَ جب لگُ ساہِب پ٘ریِتِ ن ہوءِ ॥
اِہُ منُ مائِیا موہِیا ۄیکھنھُ سُننھُ ن ہوءِ ॥
سہ دیکھے بِنُ پ٘ریِتِ ن اوُپجےَ انّدھا کِیا کرےءِ ॥
نانک جِنِ اکھیِ لیِتیِیا سوئیِ سچا دےءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
پرہا۔ پیار ۔ دھات ۔بھٹکن ۔مائیا ۔ صاحب پربت۔مالک کا پیار ۔ سیہہ۔آقا ۔ سچا خدا
ترجمہ:
جب تک خدا وند کریم سے پیار نہیں ساری دنیاوی دودھوپ اوربھٹکن ہے۔ دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار من نہ دیکھتا ہے نہ سنتا ہے ۔ اندھا کیا کرئے؟ بغیر دیدار پیار نہیں ہو سکتا ۔نانک جس خدا نے انسانی ذہن اور بینائی دیدار لے لیا ےوہ ہی دائم قائم خدا سچا دیتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ اِکو کرتا اِکُ اِکو دیِبانھُ ہرِ ॥
ہرِ اِکسےَ دا ہےَ امرُ اِکو ہرِ چِتِ دھرِ ॥
ہرِ تِسُ بِنُ کوئیِ ناہِ ڈرُ بھ٘رمُ بھءُ دوُرِ کرِ ॥
ہرِ تِسےَ نو سالاہِ جِ تُدھُ رکھےَ باہرِ گھرِ ॥
ہرِ جِس نو ہوءِ دئِیالُ سو ہرِ جپِ بھءُ بِکھمُ ترِ ॥੧॥
لفظی معنی:
دیبان۔ دربار سہارا ۔ امر ۔حکم ۔ چت۔من۔دل ۔ گھر باہ ۔ ہر جگہ ۔ جپ ۔پادکر ۔ وکھم۔سخت ۔ اوکھا ۔مشکل ۔دشوار
ترجمہ:
خدا واحد ہے اور واحد ہے اسکا درباراس واحد خدا کارساز کرتار کا ہی فرمان فرماں زواں ہے اسے دل میں بساؤ ۔ وہ لا شریک ہے دوسرں کا خوف اور شک و شبہ دور کرؤ ۔ اسی کی حمد و ثناہ کرو جو تیرا ہر جگہ رکھوالا ہے ۔ جس پر مہربان ہے وہ اسکی یاد سے اس جہاں سے زندگی کامیابی سے گذار لیتا ہے دشواریاں غبورکر لیتا ہے ۔
لفظی معنی:
داتی۔نعمتیں ۔ صاحب ۔خدا ۔آقا ۔مالک ۔ تمام نعمتیں الہٰی ملکیت ہین اسکی کوئی برابری نہیں کر سکتا ۔ کسی کا اس پر زور نہیں چلتا ۔ ایک بیدای کی حالت میں بھی نہیں لے سکتے۔ اور ایک کو خواب سے بیدار کرکے دے دیتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
داتیِ ساہِب سنّدیِیا کِیا چلےَ تِسُ نالِ ॥
اِک جاگنّدے نا لہنّنِ اِکنا سُتِیا دےءِ اُٹھالِ ॥੧॥
لفظی معنی:
داتی۔نعمتیں ۔ صاحب ۔خدا ۔آقا ۔مالک ۔ تمام نعمتیں الہٰی ملکیت ہین اسکی کوئی برابری نہیں کر سکتا ۔ کسی کا اس پر زور نہیں چلتا ۔ ایک بیدای کی حالت میں بھی نہیں لے سکتے۔ اور ایک کو خواب سے بیدار کرکے دے دیتا ہے ۔
ترجمہ:
تمام نعمتیں الہٰی ملکیت ہیں اسکی کوئی برابری نہیں کر سکتا ۔ کسی کا اس پر زور نہیں چلتا ۔ ایک بیداری کی حالت میں بھی نہیں لے سکتے ۔ اور ایک کو خواب سے بیدار کرکے دے دیتا ہے۔

مਃ੧॥
سِدکُ سبوُریِ سادِکا سبرُ توسا ملائِکاں ॥
دیِدارُ پوُرے پائِسا تھاءُ ناہیِ کھائِکا ॥੨॥
لفظی معنی:
صادق۔ صدق والے ۔سچے ۔ صبوری ۔ صبر ۔شکر ۔ نوشا۔ مسافر کا خرچ ۔ ملائک ۔فرشتے ۔ پائیسا ۔پاتے ہیں ۔ کھائیک ۔باتونی ۔ نادان ۔جاہل (2)
ترجمہ:
صادقوں کا خزانہ (سرمایہ) صبر،شکر اور صدق ہوتا ہے ۔ فرشتہ سیرتوں کے لئے ۔ وہ خدا کا دیدار پاتے ہیں اور جاہل باتونی کو کہین ٹھکانہ نہین ملتا۔

پئُڑیِ ॥
سبھ آپے تُدھُ اُپاءِ کےَ آپِ کارےَ لائیِ ॥
توُنّ آپے ۄیکھِ ۄِگسدا آپنھیِ ۄڈِیائیِ ॥
ہرِ تُدھہُ باہرِ کِچھُ ناہیِ توُنّ سچا سائیِ ॥
توُنّ آپے آپِ ۄرتدا سبھنیِ ہیِ تھائیِ ॥
ہرِ تِسےَ دھِیاۄہُ سنّت جنہُ جو لۓ چھڈائیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
وگسدا۔خوش ہوتا ہے ۔ اپائیکے پیدا کرکے ۔ کارے۔کام لگاتا ہے ۔ وڈیائی ۔عظمت ۔ سائیں آقا ۔مالک ۔ تھاہیں۔ہر جگہ ۔ چھڈائی ۔ نجات دلائے
ترجمہ:
خدا سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اے خدا تو نے سب کو خود پیدا کرکے آپ ہی کام میں لگائیا ہے اوراپنی عظمت سے آپ ہی خوش ہوتا ہے ۔ اے خدا تجھ سے بغیر کوئی شے نہیں ۔ تو ایک سچا مالک ہے ہر جگہ تیرے ہی نور سے منور ہے عالم ۔ اے پارساؤ ۔خدا رسیدؤں ایسے خدا کو یاد کرؤ جو تجھے نجات دلائے ۔
(2)

سلوک مਃ੧॥
پھکڑ جاتیِ پھکڑُ ناءُ ॥
سبھنا جیِیا اِکا چھاءُ ॥
آپہُ جے کو بھلا کہاۓ ॥
نانک تا پرُ جاپےَ جا پتِ لیکھےَ پاۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
فکڑ۔فضول ۔ ناؤ ۔مشہوری ۔ناموری ۔ چھاؤں۔ اسرا۔نہار ۔ حاپے ۔پتہ چلتا ہے ۔ پت لیکھے پائے۔الہٰی دربار میں مقبول ہو
ترجمہ:
ذات ۔ قوم یا خاندان کا غرور اور تکبر بیکار اور فضول ہے ۔ حقیقتاً سب کا سایہ ایک ساہے یعنی سب برابر ہیں ۔ اگر از خود کوئی اپنے آپ کو بلند و برتر کہلاتا ہے ۔ اے نانک اس کی پہچان تب ہے اگر اسکی عزت حساب اعمال میں ہے یقنی عطمت اور نیک و بد اعمال سے ہے ۔

مਃ੨॥
جِسُ پِیارے سِءُ نیہُ تِسُ آگےَ مرِ چلیِئےَ ॥
دھ٘رِگُ جیِۄنھُ سنّسارِ تا کےَ پاچھےَ جیِۄنھا ॥੨॥
لفظی معنی:
تس آگے مرچلیئے ۔ اپنی خودی ختم کرکے اپنے اپ کو مکمل طور پر اسکے مطابق بنانا
ترجمہ:
جس سے پیار ہے اس سے خودی ، تکبر اورغیر در اور عظمت و شہرت کا خیال چھور کا اپنا آپ اسکے حوالے کرؤ ۔ اس سے بیرونی اختار کرنا زندگی ےلئے ایک نعمت ہے

پئُڑیِ ॥
تُدھُ آپے دھرتیِ ساجیِئےَ چنّدُ سوُرجُ دُءِ دیِۄے ॥
دس چارِ ہٹ تُدھُ ساجِیا ۄاپارُ کریِۄے ॥
اِکنا نو ہرِ لابھُ دےءِ جو گُرمُکھِ تھیِۄے ॥
تِن جمکالُ ن ۄِیاپئیِ جِن سچُ انّم٘رِتُ پیِۄے ॥
اوءِ آپِ چھُٹے پرۄار سِءُ تِن پِچھےَ سبھُ جگتُ چھُٹیِۄے ॥੩॥
لفظی معنی:
ساجیئے ۔ بنائی ہے ۔ دس چار ہٹ ۔ چودہ طبق ۔ تھیولے ۔ ہوتے ہیں ۔ دیاپئی ۔ تاثر پہنچاتا ۔
ترجمہ:
آپ خداسے مخاطب ہیں کہ اے خدا تو نے یہ عالمخود پیدا کیا ے اور اس میں دو چراغ چاند اور سورج بنائے ہیں اور چودہ طبق زندگی کی خریداری کے لئے اور سوداگری کے لئے بنائے ہیں ۔ ایک ایسے ہیں جنہیں خدا روحانی زندگی جو منافع بخش ہے عنایت فرماتا ہے ۔ جس سے وہ مردان مرشد ہو جاتا ہیں ۔ انہیں موت اپناتاثر نہیں ڈال سکتی جنہوں نے حقیقی آب حیا جو روحانی زندگی کا سرچشمہ ہے وہ خود نجات پاتے ہیں اور انکی پرؤ کاری سے سارا عالم نجات پاتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
کُدرتِ کرِ کےَ ۄسِیا سوءِ ॥
ۄکھتُ ۄیِچارے سُ بنّدا ہوءِ ॥
کُدرتِ ہےَ کیِمتِ نہیِ پاءِ ॥
جا کیِمتِ پاءِ ت کہیِ ن جاءِ ॥
سرےَ سریِئتِ کرہِ بیِچارُ ॥
بِنُ بوُجھے کیَسے پاۄہِ پارُ ॥
سِدکُ کرِ سِجدا منُ کرِ مکھسوُدُ ॥
جِہ دھِرِ دیکھا تِہ دھِرِ مئُجوُدُ ॥੧॥
لفظی معنی:
وکھ ۔ موقعہ ۔ بندہ ۔غلام ۔ خدمتگار ۔ سرے شریعت ۔ رع سمجھنا ۔ سجدہ ۔۔سرجھکانا آداب بجالانا ۔ پار۔کامیابی ۔ مکہسود۔ مقصد ۔ مدعا۔مطلب ۔ چیہہ دھر۔جدھر ۔ موجد ۔حاضر ۔ کہی نہ جائے ۔بیان نہیں ہو سکتی
ترجمہ:
خدا نے خود عالم پیدا کرکے خود ہی اس میں بس رہا ہے ۔ موقعہ شنا ش ہی کادام ہو سکتا ہے الہٰی ملاپ کے لئے یہی موقعہ اور وقت ہے خدا اپنی بنائی کائنات قدرت مین موجود ہے مگر اسکی قدر ت کا اندازہ اور قیمت بیان سے باہر ہے ۔اگر قسمت تو بیان نہیں ہو سکتی ۔ جو انسان مذہبی رسومات (مذہبی قاعدے قانون) رسم و رواج کا ہی خیال کرتا ہے سمجھتا ہے ۔ زندگی کے مدعا و مقصدو کو سمجھے بغیر حقیقت کو جانے بغیر کیسے کامیاب ہوگا ۔ خدا پر ایمان لاو ۔ بھروسہ رکھو اور اسکے اگے سرجھکاؤ ۔ اسے اپنی زندگی کا منتہائے مقصود بناو ۔ تب جدھر دیکھو نظارہ الہٰی دیکھو گے

مਃ੩॥
گُر سبھا ایۄ ن پائیِئےَ نا نیڑےَ نا دوُرِ ॥
نانک ستِگُرُ تاں مِلےَ جا منُ رہےَ ہدوُرِ ॥੨॥
لفظی معنی:
گرسبھا۔ مرشدکی صحبتو قربت ساتھ ۔ ایو۔ اس طرح سے ۔ حدور ۔حضوری میں
ترجمہ:
جسمانی مرشد سے دوری یا قربت سے حقیقی ساتھ و صحبت حاصل نہیں ہوتا ۔ جب تک اے نانک دل حضوری میں اور ساتھ نہ ہو ۔ تب ہی مرشد سے ملاپ ہوسکتا ہے جب حضوری میں ہو

پئُڑیِ ॥
سپت دیِپ سپت ساگرا نۄ کھنّڈ چارِ ۄید دس اسٹ پُرانھا ॥
ہرِ سبھنا ۄِچِ توُنّ ۄرتدا ہرِ سبھنا بھانھا ॥
سبھِ تُجھےَ دھِیاۄہِ جیِء جنّت ہرِ سارگ پانھا ॥
جو گُرمُکھِ ہرِ آرادھدے تِن ہءُ کُربانھا ॥
توُنّ آپے آپِ ۄرتدا کرِ چوج ۄِڈانھا ॥੪॥
لفظی معنی:
دیپ۔ جزیدہ ۔سپت۔ سات۔ ساگر۔سمندر ۔ نوکھنڈ ۔ نو براعظم ۔ دس اشٹ اٹھاراں ۔ سارگ پانا۔ زمین کا مالک خدا۔ گورمکھ ۔ مریدان مرشد۔ارادھدے۔دھان لگات
ہیں ۔ریاض کرت ہیں۔ چوج۔تماشے ۔وڈانا ۔حیران کرنے والے
ترجمہ:
اے خدا ساتوں جزیرے ،ساتوں سمندر نو براعظم چاروں دید اٹھارا پران ان سب میں تیرا ہی نور ہے تو سب میں بس رہا ہے ۔ اور سب کا پیارا ہے اے خداوند کریم تمام جاندار عالم تجھے یاد کرتے ہیں ۔ میں ۔ قربان ہوں ان پر جو مرید مرشد ہوکر تیری ریاضت کرتے ہیں ۔ اے خدا تو اپنا ایک کھیل اورڈرامہ جو حیران کرنیوالا ہے خود سب میں حاضر ہے۔

سلوک مਃ੩॥
کلءُ مساجنیِ کِیا سدائیِئےَ ہِردےَ ہیِ لِکھِ لیہُ ॥
سدا ساہِب کےَ رنّگِ رہےَ کبہوُنّ ن توُٹسِ نیہُ ॥
کلءُ مساجنیِ جائِسیِ لِکھِیا بھیِ نالے جاءِ ॥
نانک سہ پ٘ریِتِ ن جائِسیِ جو دھُرِ چھوڈیِ سچےَ پاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
کلو۔ قلم ۔ ماجنی ۔ ودات ۔ رنگ ۔پیار ۔ سیہہ پیار ۔خاوند کی محبت ۔ دھر ۔الہٰی حضور سے ۔ سچے ۔سچا ۔ چھودی پائے پہلے سے پارکھی ہے
ترجمہ:
قلم و دات کیا منگواتے ہو دل میں لکھ لو ۔ ہمیشہ الہٰی پیار سے کبھی رشتہ نہیں ٹوتتا کیونکہ نہ قلم و دات اور نوشتہ بھی ساتھ ہی ختم ہو جائیگا ۔ مگر وہ پیار اے نانک ختم نہ ہوگا جو سچے خدا نے اپنے حضور نے دل میں بسا دیا ہے ۔

مਃ੩॥
ندریِ آۄدا نالِ ن چلئیِ ۄیکھہُ کو ۄِئُپاءِ ॥
ستِگُرِ سچُ د٘رِڑائِیا سچِ رہہُ لِۄ لاءِ ॥
نانک سبدیِ سچُ ہےَ کرمیِ پلےَ پاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ویوپائے ۔ تحقیق و تشریح کر یکھو ۔ درڑیاپئیا سبق پختہ کیا ۔ دل میں بسائیا ۔ کرمی ۔عنایت و بخشش سے
ترجمہ:
اے انسان اس بات کی تحقیق کرے کہ جو کچھ زیر نظر ہے دکھائی دے رہا ہے ساتھ نہیں جائیگا ۔ سچے مرشد نے یہ سچا یقین اور بھرؤسا دلائیا ہے کہ سچے خدا اور سچ سے پیار کرؤ اے نانک اگر خدا کرم و عنایت فرمائے تو کلام مرشد سے سچاخدادل میں بستا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ انّدرِ باہرِ اِکُ توُنّ توُنّ جانھہِ بھیتُ ॥
جو کیِچےَ سو ہرِ جانھدا میرے من ہرِ چیتُ ॥
سو ڈرےَ جِ پاپ کماۄدا دھرمیِ ۄِگسیتُ ॥
توُنّ سچا آپِ نِیاءُ سچُ تا ڈریِئےَ کیتُ ॥
جِنا نانک سچُ پچھانھِیا سے سچِ رلیتُ ॥੫॥
لفظی معنی:
وسوڈرے بے پاپ گماودا ۔خوف زدہ وہ ہے جو گناہ کرتا ہے ۔ دھرم و گیت ۔نیک انسان ہمیشہ خوش رہتا ہے ۔ کیت ۔کس لئے ۔ سچ زلیت ۔ سچ میں مل جاتے ہیں
ترجمہ:
اے خدا عالم میں ہر جگہ تیرا ہی نور ہے ۔تو ہی راز دلی جاننے والا ہے ۔ جو کچھ کرتے ہیں وہ جانتا ہے ۔ اے دل اسے یاد کر ۔ جو گناہ رتا ہے گناہگار خوف کرتا ہے ۔ فرض شناس خوش ہوتا ہے ۔ اے خدا تو سچا ہے تیرا انصاف سچا ہے تو پھر خوف کیسا اے نانک نہوں نے حقیقت سمجھ لی وہ سچ سے یکسو ہوگئے۔

سلوک مਃ੩॥
کلم جلءُ سنھُ مسۄانھیِئےَ کاگدُ بھیِ جلِ جاءُ ॥
لِکھنھ ۄالا جلِ بلءُ جِنِ لِکھِیا دوُجا بھاءُ ॥
نانک پوُربِ لِکھِیا کماۄنھا اۄرُ ن کرنھا جاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
جلوؤ ۔ جل جائے ۔ سن۔معہ۔ بھاؤ ۔پیار ۔ دوجا بھاؤ ۔دوئی ۔دؤیش
ترجمہ:
وہ قلم معہ دوات اور کاغذ اور لکھنے والا جل جائے جس نے دنیاوی دولت کا حساب محبت لکھا ہے ۔ اے نانک انسان پہلے سے تحریر اپنے اعمالنامے کے مطاب اعمال کرتا ہے اسکے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کرسکتا۔

مਃ੩॥
ہورُ کوُڑُ پڑنھا کوُڑُ بولنھا مائِیا نالِ پِیارُ ॥
نانک ۄِنھُ ناۄےَ کو تھِرُ نہیِ پڑِ پڑِ ہوءِ کھُیارُ ॥੨॥
پئُڑیِ ॥
ہرِ کیِ ۄڈِیائیِ ۄڈیِ ہےَ ہرِ کیِرتنُ ہرِ کا ॥
ہرِ کیِ ۄڈِیائیِ ۄڈیِ ہےَ جا نِیاءُ ہےَ دھرم کا ॥
ہرِ کیِ ۄڈِیائیِ ۄڈیِ ہےَ جا پھلُ ہےَ جیِء کا ॥
ہرِ کیِ ۄڈِیائیِ ۄڈیِ ہےَ جا ن سُنھئیِ کہِیا چُگل کا ॥
ہرِ کیِ ۄڈِیائیِ ۄڈیِ ہےَ اپُچھِیا دانُ دیۄکا ॥੬॥
لفظی معنی:
وڈیائی ۔عظمت ۔شہرت۔ جیہ کا۔زندگی کا۔ اچپھیا ۔بغیر صلاح مشورہ
ترجمہ:
جس خدا کا انصاف دھرم پر مبنی ہے ۔ اسکی حمد و ثناہ نیک اعمال ہے ۔ اور بلند عظمت ہے ۔ اور اسکی صفت صلاح اس لئے بری ہے کہ وہ دل کے کردار کے حساب سے پھل دیتا ہے سزا و جزا ۔ اس کی اس لئے بھی بلند عظمت ہے کہ وہ چغل دُزد خور کی بات نہین سنتا ۔ اس لئے بھی بلند عظمت ہے کہ وہ سب کو بغیرصلاح مشورہ رزق بخشتا ہے ۔ خدا کی اس لئے عظمت ہے کہ ہر ایک اسکی صفت صلاح کرتا ہے اس لئے عظمت ہے وہ ہمیشہ انصاف کرتا ہے ۔ اور اس لئے عظمت کہ وہ دل و جان سے کئے ہوئے اعمال کی سزا وجزا دیتا ہے ۔ اس لئے بھی وہ سی کی بدگوئی نہیں سنتا ۔ اور ہر ایک کو بغیر کسی صلاح مشورہ رزق عنایت کرتا ہے

سلوک مਃ੩॥
ہءُ ہءُ کرتیِ سبھ مُئیِ سنّپءُ کِسےَ ن نالِ ॥
دوُجےَ بھاءِ دُکھُ پائِیا سبھ جوہیِ جمکالِ ॥
نانک گُرمُکھِ اُبرے ساچا نامُ سمالِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سپنو ئ۔جائیداد ۔ دولت وزر ۔ جوہی ۔تاک ۔زیر نظر ۔
ترجمہ:
میری میری کرتے سارے مر گئے ۔ مگر زر دولت کسی کے ساتھ نہیں گئی ۔ دولت کی محبت میں عذاب پاتے ہیں ۔ اور موت ہر وقت ان کے سر پر منڈلاتی اور طاق میں رہتی ہے ۔ نانک مریدان مرشد سچا نام سچ حق وحقیقت بسا کر بچ جاتے ہیں ۔

مਃ੧॥
گلیِ اسیِ چنّگیِیا آچاریِ بُریِیاہ ॥
منہُ کُسُدھا کالیِیا باہرِ چِٹۄیِیاہ ॥
ریِسا کرِہ تِناڑیِیا جو سیۄہِ درُ کھڑیِیاہ ॥
نالِ کھسمےَ رتیِیا مانھہِ سُکھِ رلیِیاہ ॥
ہودےَ تانھِ نِتانھیِیا رہہِ نِماننھیِیاہ ॥
نانک جنمُ سکارتھا جے تِن کےَ سنّگِ مِلاہ ॥੨॥
لفظی معنی:
آچار۔چال چلن۔ کسدھا۔کھوٹا۔تناڑیاں۔ان کی ۔ نشانیاں ۔کمزور ۔ نمانیاں ۔ بے وقار ۔ سکارتھا ۔سپھل۔کامیاب۔
ترجمہ:
باتوں میں تو ہم نیک ہیں مگر اخلاقاً بد دل سیاہ اورکھوٹا مگر ظاہرنیک نقل ان کی کرتی ہین جو خدمت مین در پر کھڑی ہیں ۔ اور آقا کے پیار میں س مست ہیں ۔ اور خوشیاں مناتے ہیں ۔ جو طاقت و قوت ہوتے ہوئے عاجزانہ وانکسارانہ زندگی بسر کرتے ہے ۔ اے نانک ہماری زندگی کامیاب ہو سکتی ہے اگران کا ساتھ و صحبت و قربت میں رہیں

پئُڑیِ ॥
توُنّ آپے جلُ میِنا ہےَ آپے آپے ہیِ آپِ جالُ ॥
توُنّ آپے جالُ ۄتائِدا آپے ۄِچِ سیبالُ ॥
توُنّ آپے کملُ الِپتُ ہےَ سےَ ہتھا ۄِچِ گُلالُ ॥
توُنّ آپے مُکتِ کرائِدا اِک نِمکھ گھڑیِ کرِ کھِیالُ ॥
ہرِ تُدھہُ باہرِ کِچھُ نہیِ گُر سبدیِ ۄیکھِ نِہالُ ॥੭॥
لفظی معنی:
مینا۔مچھلی ۔ و تایندا ۔۔پچھاتا ہے ۔ سییال۔جالا ۔ کنول الپت ۔کنول کی مانند پاک ۔بیلاگ ۔ گلالہ ۔سرخ رنگ ۔ گل لالہ ۔ نہال ۔خوش ۔ مکت ۔نجات
ترجمہ:
اے خدا تو خود ہی پانی ہے اور خود ہی پانی کی مچھلی خود ہی جال ہے اور خود ہی جال پچھاتا ہے ۔ تو آپ ہی پانی پر جالا ہے اور آپ ہی پانی میں بیلاگ کنول کا پھول اور خود ہی سب میں ہوتے ہوئے سرخرو جو ایک پل لگاتا دھیان تجھ مین نجات تو دلاتا ہے ۔ اسے تیرے بغیر نہیں شے کوئی کلام مرشد سے ملنا ہے بلند رتبہ ۔

سلوک مਃ੩॥
ہُکمُ ن جانھےَ بہُتا روۄےَ ॥
انّدرِ دھوکھا نیِد ن سوۄےَ ॥
جے دھن کھسمےَ چلےَ رجائیِ ॥
درِ گھرِ سوبھا مہلِ بُلائیِ ॥
نانک کرمیِ اِہ متِ پائیِ ॥
گُر پرسادیِ سچِ سمائیِ ॥੧॥
لفظ معنی:
دھوکھا۔شک ۔فریب ۔شبہ ۔ کرمی۔بخشش ۔ دھن۔عورت۔ انسان ۔ محل۔ٹھکانہ دربار
ترجمہ:
جو انسان الہٰی رضا نہیں سمجھتا وہ بھٹکتارہتا ہے ۔ دل میں شک و شبہات ہین چین نہیں دل کو تسکین نہیں ۔ جو ایک عورت کی مانند اپنے خاوند کی رضا میں چلتی ہے ۔ اسے گھر میں وقار اورعزت ملتی ہے ۔ اور شہرت پاتی ہے ۔ ایسے ہی جو انسان خدا کی رضا میں راضی ہے اور اسکے فرمان میں فرمانبرداری کرتا ہے عزت و حشمت پاتا ہے ۔ خداکے گھر ٹھکانہ ملتا ہے ۔ اے نانک کرم وعنایت سے یہ سمجھ آئی ہے کہ رحمت مرشد سے انسان کا رشتہ خدا سے منسلک رہتا ہے ۔

مਃ੩॥
منمُکھ نام ۄِہوُنھِیا رنّگُ کسُنّبھا دیکھِ ن بھُلُ ॥
اِس کا رنّگُ دِن تھوڑِیا چھوچھا اِس دا مُلُ ॥
دوُجےَ لگے پچِ مُۓ موُرکھ انّدھ گۄار ॥
بِسٹا انّدرِ کیِٹ سے پءِ پچہِ ۄارو ۄار ॥
نانک نام رتے سے رنّگُلے گُر کےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
بھگتیِ رنّگُ ن اُترےَ سہجے رہےَ سماءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
وھونیا۔خانی بغیر ۔ کسنبھا ۔گل لالہ ۔ چھوچھا۔تھوڑا ۔کم ۔ پچ موئے۔ذلیل وخوار ہوئے ۔ رنگسے ۔پریمی ۔ گرکے سہج ۔سبھائے ۔مرید مرشد پر سکون ۔ سہجے ۔پرسکون مستقل مزاج ۔
ترجمہ:
اے خودی پسند و خود ارادی الہٰی نام سے بے بہرہ گل لالہ کا رنگ دیکھ کر مت بھول ۔ اس کا رنگ چند روزہ ہے اور اسکا کوئی قیمت نہیں چند کوڈیاں ہے ۔ جنکا خدا کے علاوہ دوسرے مادیات مین محبت ہے جیسے گندگی کے کیرے ۔ نادان اور جاہل ان کی مانند ذلیل وخوار ہوتے ہیں ۔ اے نانک جنہیں نام سے پیار ہے اور مرشد کے سبق پر عمل پیرا ہوکر زندگی بسر کرتےہیں وہ الہٰی پریمی ہوکر ان کا الہٰی پریم کا اثر کبھی کم نہیں ہوتا ۔ اور وہ پر سکون ہوکر زندگی گذارتے ہیں ۔

پئُڑیِ ॥
سِسٹِ اُپائیِ سبھ تُدھُ آپے رِجکُ سنّباہِیا ॥
اِکِ ۄلُ چھلُ کرِ کےَ کھاۄدے مُہہُ کوُڑُ کُستُ تِنیِ ڈھاہِیا ॥
تُدھُ آپے بھاۄےَ سو کرہِ تُدھُ اوتےَ کنّمِ اوءِ لائِیا ॥
اِکنا سچُ بُجھائِئونُ تِنا اتُٹ بھنّڈار دیۄائِیا ॥
ہرِ چیتِ کھاہِ تِنا سپھلُ ہےَ اچیتا ہتھ تڈائِیا ॥੮॥
لفظی معنی:
سنبھایا ۔پہنچایا ۔ ڈھاہیا۔ بولیا ۔ اوئے ۔اس ۔ اتٹ ختم نہ ہونیوالا ۔ اچیتا ۔یاد نہ کرنا۔ ہت نڑائیا ۔ہاتھ پھیلانا۔مانگنا
ترجمہ:
اے خدا تو نے عالم پیدا کرکے سب کو رزق بہم پہنچاتا ہے ۔ ایک چشت و چالاکی سےپیٹ پالنے میں اور زبان سےجھوٹ طوفان بولتے ہیں (یعنی الہٰی احسان نہین سمجھتے) جوتو چاہتا ہے وہ وہی کرتے ہین ۔ تو نے انہیں اسی کام میں لگا ر کھا ہے ۔ ایک کو حقیقت جنہیں تو ن سمجھا دی انہیں اتے نا ختم ہونیوالے خزانے عنایت کر دیئے ہیں یعنی انکو صابر اور صابریت عطا کر دی ۔ جو انسان خدا کو یاد کرکے دولت کا استعمال کرتے ہیں انہیں یہ کامیابیاں عنایت کرتی ہے ۔اور الہٰی منکر ہمیشہ ہاتھ پھیلاتے رہتے ہیں ۔ انکی خواہشات پوری نہیں ہوتیں۔

سلوک مਃ੩॥
پڑِ پڑِ پنّڈِت بید ۄکھانھہِ مائِیا موہ سُیاءِ ॥
دوُجےَ بھاءِ ہرِ نامُ ۄِسارِیا من موُرکھ مِلےَ سجاءِ ॥
جِنِ جیِءُ پِنّڈُ دِتا تِسُ کبہوُنّ ن چیتےَ جو دیݩدا رِجکُ سنّباہِ ॥
جم کا پھاہا گلہُ ن کٹیِئےَ پھِرِ پھِرِ آۄےَ جاءِ ॥
منمُکھِ کِچھوُ ن سوُجھےَ انّدھُلے پوُربِ لِکھِیا کماءِ ॥
پوُرےَ بھاگِ ستِگُرُ مِلےَ سُکھداتا نامُ ۄسےَ منِ آءِ ॥
سُکھُ مانھہِ سُکھُ پیَننھا سُکھے سُکھِ ۄِہاءِ ॥
نانک سو ناءُ منہُ ن ۄِساریِئےَ جِتُ درِ سچےَ سوبھا پاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
وکھانیہہ ۔بیان کرتے ہیں ۔ اسکی تشریھ کرتے ہیں ۔ سو آئے مدعا و مقصد ۔کے لئے ۔ دوبے بھائے ۔دولت کی محبت میں ۔ سنبھاہے ۔دیتا ہے ۔ پورب ۔پہلے سے ۔ وہائے ۔گذرتی ہے
ترجمہ:
پنڈت وید پرھتا ہے اور انہیں سمجھاتا ہے ۔ دل میں دولت کی محبت خواہش ہے ۔لہذا مائیا کی محبت میں ایسا کرتا ہے ۔ اورنام سچ حق وحقیقت کو بھلا بیٹھا ہے ۔ جس نے یہ زندگی عنایت کی ہے ۔ لہذا اسے سزا ملت ہے ۔ جس نے رزق دیا ہے اسے بھلاتا ہے اسکے روحانی موت کا پھندہ گلے پرا رہتا ہے تناسخ میں بھٹکتا رہتاہے ۔ مرید خود اندھے کو کچھ نہیں سوجھتا ۔ پہلے اعمالنامے میں تحریر کی مطابق عمل کرتا ہے ۔ خوش قسمتی سے سچا مرشد سکھ دینے والا ملجائے اور دل میں نام بس جائے تو سکون پاتا ہے ۔ اور عمر روحانی سکون میں گذرتی ہے ۔ اے نانک ایا نام دل سے نہیں بھلانا چاہیے ۔ جس کے ذریعے سچے در پر عظمت و شہرت ملے ۔

مਃ੩॥
ستِگُرُ سیۄِ سُکھُ پائِیا سچُ نامُ گُنھتاسُ ॥
گُرمتیِ آپُ پچھانھِیا رام نام پرگاسُ ॥
سچو سچُ کماۄنھا ۄڈِیائیِ ۄڈے پاسِ ॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تِس کا سِپھتِ کرے ارداسِ ॥
سچےَ سبدِ سالاہنھا سُکھے سُکھِ نِۄاسُ ॥
جپُ تپُ سنّجمُ منےَ ماہِ بِنُ ناۄےَ دھ٘رِگُ جیِۄاسُ ॥
گُرمتیِ ناءُ پائیِئےَ منمُکھ موہِ ۄِنھاسُ ॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ راکھُ توُنّ نانکُ تیرا داسُ ॥੨॥
لفظی معنی:
حیو۔خدمت کو ۔ گنتاس۔ خزانہ اوصاف ۔ شبد۔ کلام ۔ سینم ۔جزو احساس جسمانی پر ضبط ۔ دھرگ۔ لعنت ۔ موہ۔محبت پرگاس۔ روشنی ۔ سچو سچ ۔حقیقت
ترجمہ:
خدمت مرشد سے سکھ ملتا ہے ۔ سچا نام سچ حق وحقیقت اوصاف کا خزانہ ہے ۔ سبق مرشد اپنے آپ کی پہچان ہوئی الہیی نام ذہنمیں روشن ہوتا ہے حقیقی کار ماو ،عظمت و شہرت الہٰی درگاہ میں ہے ۔ رب اکبر کے پاس حقیقی کلام کی صفت صلاح کرؤ ۔ جس سے کامل روحانی سکون ملتا ہے ۔ ریاضت ،تپسیا اور نفس پر ضبط دل میں بساؤ ۔ بغیر نام زندگی ایک لعنت ہے ۔ نام سبق مرشد سے ملتا ہے ۔ مرید من محبت میں پھنس کر ختم ہو جاتے ہیں ۔ اے خدا جیسے تیری رضا ہے اسی طرح امداد کر ۔ نانک تیرا خادم ہے

پئُڑیِ ॥
سبھُ کو تیرا توُنّ سبھسُ دا توُنّ سبھنا راسِ ॥
سبھِ تُدھےَ پاسہُ منّگدے نِت کرِ ارداسِ ॥
جِسُ توُنّ دیہِ تِسُ سبھُ کِچھُ مِلےَ اِکنا دوُرِ ہےَ پاسِ ॥
تُدھُ باجھہُ تھاءُ کو ناہیِ جِسُ پاسہُ منّگیِئےَ منِ ۄیکھہُ کو نِرجاسِ ॥
سبھِ تُدھےَ نو سالاہدے درِ گُرمُکھا نو پرگاسِ ॥੯॥
لفظی معنی:
سبھ۔ سارے ۔ راس۔سرمایہ ۔ ارداس۔گذارش ۔عرض ۔ پاس۔ نزدیک ۔ نرجاس۔ملاحظہ۔تشریح
ترجمہ:
اے خدا تو سب کا ہے اور سارے تیرے ہیں۔ تو سب کا سرمایہ ہے ۔ سارے تجھ سے ہی خیرات مانگتے ہیں ۔ اور ہر روز عرض گذارتے ہیں ۔ جس سے تو دیتا ہے اسے سب کچھ مل جاتا ہے ۔ ایک کے تو ساتھ اور قریب ہے ۔ اور ایک کے لئے ساتھ ہوتا ہوا بھی دور ہے ۔ تیرے بغیر اور نہیں جس سے مانگ سکیں ۔ اے دل تحقیق کرکے دیکھ لے ۔ سارا عالم اے خدا تیری ہی صفتصلاح کر ہا ہے ۔ مریدان مرشد تیری درگاہ میں نوران ہوتے ہیں ۔ زیر نظر آتے ہیں

سلوک مਃ੩॥
پنّڈِتُ پڑِ پڑِ اُچا کوُکدا مائِیا موہِ پِیارُ ॥
انّترِ ب٘رہمُ ن چیِنئیِ منِ موُرکھُ گاۄارُ ॥
دوُجےَ بھاءِ جگتُ پربودھدا نا بوُجھےَ بیِچارُ ॥
بِرتھا جنمُ گۄائِیا مرِ جنّمےَ ۄارو ۄار ॥੧॥
لفظی معنی:
چینئی ۔ پچھانتا ۔ دوبے بھائے۔دؤئیش کی محبت ۔ جگت ۔عالم ۔ تنتر۔ دلم میں ۔ اپنے اندر ۔ پر بودھدا ۔ بیدار کرنا۔ سمجھانا ۔پندونصیحت
ترجمہ:
پڑھ پڑھ کر پنڈت اونچی سریلی آواز سے سناتا ہے ۔ دولت کی محبت سے سرشار ہے ۔ دل میں خدا کی پہچا ن نہیں کرتا ۔ لہذا دلی طور پر جاہل اور نا اہل ہے ۔ دولت سے محبت ہے ۔ لوگوں کو واعظ کرتا ہے ۔ اپنی زندگی گنوا رہا ہے ۔اور تناسخ میں پڑتا ہے

مਃ੩॥
جِنیِ ستِگُرُ سیۄِیا تِنیِ ناءُ پائِیا بوُجھہُ کرِ بیِچارُ ॥
سدا ساںتِ سُکھُ منِ ۄسےَ چوُکےَ کوُک پُکار ॥
آپےَ نو آپُ کھاءِ منُ نِرملُ ہوۄےَ گُر سبدیِ ۄیِچارُ ॥
نانک سبدِ رتے سے مُکتُ ہےَ ہرِ جیِءُ ہیتِ پِیارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
چوکے ۔ ختم ہونا ۔ آپے نو آپ کھائے ۔ خویشتا ۔خودی ۔خودی ختم کرنا
ترجمہ:
جنہوں نے سبق مرشد پر عمل کیا انہیں ناموری حاصل ہوئی ۔ ہر کہ خدمت کرو اور مخدوم شد اسے وچار کرکے سمجھو۔ اپنے دل سے خودی مٹا کر دل صاف اور پاک ہوتا ہے ۔ دنیاوہ آہ و زاری ختم ہو جاتی ہے ۔ کلام مرشد پرغور و خوض سے اے نانک جو سبق پر عمل کرتے ہیں نجات پاتے ہیں اور خدا سے پیار پاتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ کیِ سیۄا سپھل ہےَ گُرمُکھِ پاۄےَ تھاءِ ॥
جِسُ ہرِ بھاۄےَ تِسُ گُرُ مِلےَ سو ہرِ نامُ دھِیاءِ ॥
گُر سبدیِ ہرِ پائیِئےَ ہرِ پارِ لگھاءِ ॥
منہٹھِ کِنےَ ن پائِئو پُچھہُ ۄیدا جاءِ ॥
نانک ہرِ کیِ سیۄا سو کرے جِسُ لۓ ہرِ لاءِ ॥੧੦॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔مرید مرشد ۔ گورمکھ پاوے تھائے ۔ مرشد کے ذریعے قبول ہوئی ہے ۔ٹھکانہ ملتا ہے ۔
ترجمہ:
خدمت خداکامیاب ہے مگر قبول مرشد کے وسیلے سے ہوتی ہے جسے چاہتا ہے خدا ملتا ہے اسے مرشد وہی خدا کی ریاض و بندگی کرتا ہے ۔ کلام مرشد سے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ اور خدا کامیابی عنایت کرتا ہے ۔ دیدوں کا مطالعہ کرکے دیکھ لو دلی ضد سے کسے نے کامیابی اور الہٰی ملاپ حاصل نہیں کیا ۔ اے نانک (الہٰی بندگی) خدمت خدا وہی کرتا ہے جس سے خدا آپ کراتا ہے

سلوک مਃ੩॥
نانک سو سوُرا ۄریِیامُ جِنِ ۄِچہُ دُسٹُ اہنّکرنھُ مارِیا ॥
گُرمُکھِ نامُ سالاہِ جنمُ سۄارِیا ॥
آپِ ہویا سدا مُکتُ سبھُ کُلُ نِستارِیا ॥
سوہنِ سچِ دُیارِ نامُ پِیارِیا ॥
منمُکھ مرہِ اہنّکارِ مرنھُ ۄِگاڑِیا ॥
سبھو ۄرتےَ ہُکمُ کِیا کرہِ ۄِچارِیا ॥
آپہُ دوُجےَ لگِ کھسمُ ۄِسارِیا ॥
نانک بِنُ ناۄےَ سبھُ دُکھُ سُکھُ ۄِسارِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
ترجمہ:
اے نانک وہ جنگجو بہادر ہے ۔ جس نے اپنے دل سے دشمن خودی و تکبر ، غرورپر فتح حاصل کر لی ۔ قابو پالیا ۔ خودی نجات پائی اور سارے خاندان کو کامیاب بنائیا ۔ مرشد کے وسیلے سے نام کی صفت صلاح سے اپنی زندگی درست کر لیتے ہیں ۔ وہ سچے الہٰی دربار میں نام کی محبت سے شہرت و حشمت پاتے ہیں ۔ اور خود غرض خودی پسند خودی سے موت وگاڑ مرتے ہیں ۔ مگر ان کے بس کی بات نہیں سب کچھ رضائے الہٰی میں ہوتا ہے ۔ اپنے آپ کی پہچان نہیں کرت ۔ دوئی دؤئیش میں خدا کو بھلائیا ۔ اے نانک نام کے بغیر عذاب ہی عذاب ہے سکھ کا نام ہی بھول جاتاہے ۔

مਃ੩॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ نامُ دِڑائِیا تِنِ ۄِچہُ بھرمُ چُکائِیا ॥
رام نامُ ہرِ کیِرتِ گائیِ کرِ چاننھُ مگُ دِکھائِیا ॥
ہئُمےَ مارِ ایک لِۄ لاگیِ انّترِ نامُ ۄسائِیا ॥
گُرمتیِ جمُ جوہِ ن ساکےَ ساچےَ نامِ سمائِیا ॥
سبھُ آپے آپِ ۄرتےَ کرتا جو بھاۄےَ سو ناءِ لائِیا ॥
جن نانکُ نامُ لۓ تا جیِۄےَ بِنُ ناۄےَ کھِنُ مرِ جائِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
درڑائیا ۔ مکمل طور پر سمجھائیا،ذہن نشین کرایا ۔ چکائیا ۔دور کیا ۔ ہرکیرت۔ الہٰی صفت صلاح ۔ مگ۔ راستہ ۔ جسم ۔فرشتہ موت ۔(2)
ترجمہ:
جن کے دل میں کامل مرشد نے الہٰی نام بسا دیا ان کے تمام شک و شبہات دورکر دیئے ۔ وہ الہٰی نام کی صفت صلاح کرتے ہیں ۔ اور انہیں ان کے دلوں کو حقیقت کی روشنی سے منور کرکے زندگی کا صراط مستقیم سے روشناس کردیا ۔ خودی کو ختم کراکے وحدت سے پیار ہو گیا ۔ دل میں نام بس گیا ۔ بسایا ۔ سبق مرشد پر عمل کے باعث موت ان پردباؤ نہیں ڈال سکتی ۔ سچے نام میں دھیان تک جاتا ہے ۔ یہ سارا خدا کا اپنا کھیل ہے ۔ جسے چاہتا ہے جس پر اسکی نگاہ شفقت ہے ۔ خادم نانک کی زندگی ناممین دھیان لگانے میں ہے ۔ بغیر نام معمولی وقفے مین میری روحانی موت ہے

پئُڑیِ ॥
جو مِلِیا ہرِ دیِبانھ سِءُ سو سبھنیِ دیِبانھیِ مِلِیا ॥
جِتھےَ اوہُ جاءِ تِتھےَ اوہُ سُرکھروُ اُس کےَ مُہِ ڈِٹھےَ سبھ پاپیِ ترِیا ॥
اوسُ انّترِ نامُ نِدھانُ ہےَ نامو پرۄرِیا ॥
ناءُ پوُجیِئےَ ناءُ منّنیِئےَ ناءِ کِلۄِکھ سبھ ہِرِیا ॥
جِنیِ نامُ دھِیائِیا اِک منِ اِک چِتِ سے استھِرُ جگِ رہِیا ॥੧੧॥
لفظی معنی:
ہر دیبان ۔ اعلٰی عدالتیں ۔ سیو ۔ سے سرخرو۔ خوشباش ۔با عزت۔با وقار ۔ موہ ڈٹھے ۔دیدار سے ۔ اوس انتر ۔اسکے دل میں ۔ نام ندھان ۔الہٰی نام سچ حقوحقیقت کا خزانہ ۔ پاپی ۔ دوشی ۔گناہگا ۔ ناموپروریا ۔ نام مراد سچ۔حق وحقیقت سے ہی اسکے گرد روشنی کا حلقہ بنا ۔ کل وکھ۔ گناہ ۔ سبھ ہریا۔ مٹے ۔ ستھر ۔ مستقل
ترجمہ:
جو انسان الہٰی دربار مراد صحبت پارسایاں میں مل گیا ہے ۔ ان میں ملاپ کرنجان گا ہے سمجھ لی ہے وہ دنیا کی تمام سو سائیٹوں میں مقبول ہوجاتا ہے۔ جو انسان الہٰی دربار میں ملیا ہے اسےسب درباروں میں عزت ملتی ہے ۔ جہاں جاتا ہے ۔ سر خرو ہوتا ہے ۔ اسکے دیدار سے گناہگار بھی کامیابیاں پاتے ہیں ۔ اسکے دل میں نام کا خزانہ ہے ۔ نام ہی اسکا پروار قبیلہ ہے ۔ نام کی ریاض نام میں دھیان لگانے سے سب گناہ مٹ جاتے ہیں ۔ جنہوں نے یکسو ہوکر نام کی ریاض کی و قائم دائم ہوئے

سلوک مਃ੩॥
آتما دیءُ پوُجیِئےَ گُر کےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
آتمے نو آتمے دیِ پ٘رتیِتِ ہوءِ تا گھر ہیِ پرچا پاءِ ॥
آتما اڈولُ ن ڈولئیِ گُر کےَ بھاءِ سُبھاءِ ॥
گُر ۄِنھُ سہجُ ن آۄئیِ لوبھُ میَلُ ن ۄِچہُ جاءِ ॥
کھِنُ پلُ ہرِ نامُ منِ ۄسےَ سبھ اٹھسٹھِ تیِرتھ ناءِ ॥
سچے میَلُ ن لگئیِ ملُ لاگےَ دوُجےَ بھاءِ ॥
دھوتیِ موُلِ ن اُترےَ جے اٹھسٹھِ تیِرتھ ناءِ ॥
منمُکھ کرم کرے اہنّکاریِ سبھُ دُکھو دُکھُ کماءِ ॥
نانک میَلا اوُجلُ تا تھیِئےَ جا ستِگُر ماہِ سماءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
آتماویؤ۔ آتما فرشہ ۔خدا۔ سہج ۔ روحانی ۔ سکون میں ۔ سبھالے ۔ پریم پیار سے ۔ پریت ۔یقین ۔ پرچا۔واقفیت ۔ پہچان ۔ نائے ۔ اشنان کرنے سے ۔ غسل کرنے سے
ترجمہ:
مرشد کے سبق و واعظ کے مطابق پر سکون ہوکر خداکی پر ستش کرؤ ۔ جب انسان کو خدا میں یقین اور صدق ہو جائے تب دل میں اسکی محبت ہو جاتی ہے ۔ تو روح انسانی غیر متزلزل ہو جاتی ہے ۔ اور مرشد کے انصاری ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ سچے مرشد کی محبت میں اور عادات میں روح غیر متزلزل ہو کر مستقل مزاج ہو جاتی ہے ۔ مرشد کے بغیر سکون نہیںپایا جاتا اور لالچ کی ناپاکیزگی دور نہیں ہوتی ۔ یہ ناپاکیزگی دور ہوتی ہے اگر پل بھر بھی نام دل مین بس جائے ۔ تو سمجھو کہ اڑسٹھ تیرتھو کے اشنان کے برابر ہے ۔ سچ میں دھیان لگانے سے پلیدی نہیں ہوتی ۔ یہ نا پاکیزگی مایا کی محبت سے لگتی ہے ۔ جو دھو نے سے نہیں دور ہوتی ۔ مرید من تکبر میں جو اعمال کرتا ہے عذاب ہی عذاب پاتا ہے ۔ اے نانک نا پاک ت پاک ہوتا ہے سچے مرشد کا انصاری ہوجائے ۔

مਃ੩॥
منمُکھُ لوکُ سمجھائیِئےَ کدہُ سمجھائِیا جاءِ ॥
منمُکھُ رلائِیا نا رلےَ پئِئےَ کِرتِ پھِراءِ ॥
لِۄ دھاتُ دُءِ راہ ہےَ ہُکمیِ کار کماءِ ॥
گُرمُکھِ آپنھا منُ مارِیا سبدِ کسۄٹیِ لاءِ ॥
من ہیِ نالِ جھگڑا من ہیِ نالِ ستھ من ہیِ منّجھِ سماءِ ॥
منُ جو اِچھے سو لہےَ سچےَ سبدِ سُبھاءِ ॥
انّم٘رِت نامُ سد بھُنّچیِئےَ گُرمُکھِ کار کماءِ ॥
ۄِنھُ منےَ جِ ہوریِ نالِ لُجھنھا جاسیِ جنمُ گۄاءِ ॥
منمُکھیِ منہٹھِ ہارِیا کوُڑُ کُستُ کماءِ ॥
گُر پرسادیِ منُ جِنھےَ ہرِ سیتیِ لِۄ لاءِ ॥
نانک گُرمُکھِ سچُ کماۄےَ منمُکھِ آۄےَ جاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
کرت۔ کام ۔ پیئے کرت۔ اپنے کئے اعمال ۔ لو۔ دھات ۔ محبت اور دوری ۔بھٹکن ۔ ستھ و یہاتی پنچائت ۔ منجھ ۔ میں ۔ سبھائے ۔ پریم ۔ بھنچیئے ۔استعمال کریں ۔ لبھنا ۔جھگرنا ۔ جنے جنے ۔ قابو وزیر ضبط لائے
ترجمہ:
جو انسان سچے مرشد سے بے رخی کرتا ہے وہ سمجھانے سے نہیں سمجھتا اگر اسے مریدان مرشد سے ملاپ بھی کرادیں تب بھی ان میں شامل نہ ہوگاکیونکہ اسے اپنے اعمال کے مطابق بھٹکتا ہے ۔زندگی کے دوراستے ہیں ایک حقیقت اور خد ا سے پیار کاراستہ ہے ۔ دوسرا خدا کی انسان کو بخشی ہوئی نعمتوں سے پیار کا راستہ ۔ خدا رسیدہ مرید مرشد انسان اپنے اعمال کلام مرشد کے پیمانے کے مطابق اپنے دل پر ضبط حاصل کرتا ہے اور وہ اپنے نفس کے گناہگارانہ رش احساس سے جھگڑا کرتا ہے یعنی اسے سمجھاتا ہے اورغور و خوض سے اسے زیر ضبط لاتا ہے ۔ اس طرح سے مرشد کے دیئے ہوئے سبق پر عمل پیرا ہوکر مرشد کا انصاری ہوجاتا ہے ۔ اورخواہشات کی مابق پھل جاتا ہے ۔ اور آب حیات نوش کرتا ہے ۔ جو نا فرمان ہوکر جو دوسروں سے جھگڑتا ہے زندگی بر باد کرتا ہے اور مرید من دلی ضد سے زندگی کی (بازی) ہار جاتا ہے ۔ اور کفر او کوڑ کے اعمال مین مشغول رہتا ہے ۔ مرید مرشد (گرسکھ) سچے مرشد کی کرم و عنایت سے اپنے دل پر عبور حاصل کرکے اسے جیت کر خدا سے یکسوئی کرتا ہے اور اس میں انا رحمت مرشد سے لگاتا ہے اے نانک جبکہ منک خودی پسند بھٹکتا پھرتا ہے مرید مرشد حقیقت اور سچ یر کار لاتا ہے

پئُڑیِ ॥
ہرِ کے سنّت سُنھہُ جن بھائیِ ہرِ ستِگُر کیِ اِک ساکھیِ ॥
جِسُ دھُرِ بھاگُ ہوۄےَ مُکھِ مستکِ تِنِ جنِ لےَ ہِردےَ راکھیِ ॥
ہرِ انّم٘رِت کتھا سریسٹ اوُتم گُر بچنیِ سہجے چاکھیِ ॥
تہ بھئِیا پ٘رگاسُ مِٹِیا انّدھِیارا جِءُ سوُرج ریَنھِ کِراکھیِ ॥
ادِسٹُ اگوچرُ الکھُ نِرنّجنُ سو دیکھِیا گُرمُکھِ آکھیِ ॥੧੨॥
لفظی معنی:
ساکھی ۔ سبق۔ ہدایت ۔ کر اکھی ۔ مٹائی ۔ ادشٹ۔ راز۔ پوشیدہ ۔ گوچر۔ انسان ۔ رسائی سے بالا ۔ الکھ ۔ حساب سے بعید ۔ بیحساب ۔ نرنجن۔ بیداغ۔ پاک ۔آلائش سے ۔ آکھی ۔ آنکھوں سے
ترجمہ:
اے الہٰی خدا رسیدو پریمیوں سچے مرشد کی ایک ہدایت اور سبق سنو ۔ جس کے قسمت میں پہلے سے ہی ہے وہ اس سبق کو دل میں بساتا ہے ۔ الہٰی آب حیات سبق کہانی جو بلند عظمت اور نہایت مقبول ہے انسان غیر متزلزل مستقل حالات میں پر سکون صفت صلاح سے زندگی کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے ۔ تب اسکا ذہنی اندھیر دور ہو جاتا ہے اور ذہن سے دل و دماغ سے لا علمی کا اندھیرا کا فور ہوکر علم کی روشنی سے ذہن منور ہوجاتا ہے ۔ جیسے رات کے اندھیرے کو سور کی روشنی کا فور کر دیتی ہے ۔ آنکھوں سے اوجھل خدا جو انسانی رسائی سے بعید ہے جو حساب سے باہر ہے جو بیداغ اور پاک ہے ۔ وہ سچے مرشد کی حضوری میں اپنی آنکھوں سے اسکا دیدار ہو جاتا ہے ۔

سلوکُ مਃ੩॥
ستِگُرُ سیۄے آپنھا سو سِرُ لیکھےَ لاءِ ॥
ۄِچہُ آپُ گۄاءِ کےَ رہنِ سچِ لِۄ لاءِ ॥
ستِگُرُ جِنیِ ن سیۄِئو تِنا بِرتھا جنمُ گۄاءِ ॥
نانک جو تِسُ بھاۄےَ سو کرے کہنھا کِچھوُ ن جاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
لیکھے ۔ حساب میں ۔ کامیاب ۔ منظور ۔ آپ ۔ خودی ۔
ترجمہ:
جو انسان سچے مرشد کے بتائے سبق پر عمل کرتا ہے وہ اپنی زندگی کامیاب کر لیتا ہے ۔ اپنے دل سے خودی و تکبر دور کرکے حقیقت اور سچائی سے پیار کرتا ہے ۔ جو سبق مرشد پر عمل نہیں کرتا اسکی زندگی بیکار چلی جاتی ہے ۔ اے نانک کچھ کہا نہیں جا سکتا جیسی اسکی رضا ہے ۔ جیسا وہ چاہتا ہے وہی کرتا ہے ۔۔

مਃ੩॥
منُ ۄیکاریِ ۄیڑِیا ۄیکارا کرم کماءِ ॥
دوُجےَ بھاءِ اگِیانیِ پوُجدے درگہ مِلےَ سجاءِ ॥
آتم دیءُ پوُجیِئےَ بِنُ ستِگُر بوُجھ ن پاءِ ॥
جپُ تپُ سنّجمُ بھانھا ستِگُروُ کا کرمیِ پلےَ پاءِ ॥
نانک سیۄا سُرتِ کماۄنھیِ جو ہرِ بھاۄےَ سو تھاءِ پاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
دیڑیا ۔ مفید ۔ گھرا ہوا ۔ وکار۔ ناواجب ۔ فضول گنا ہواں والے ۔ اگیانی ۔ لا علم ۔ آتم دیو۔ نورانی ۔فرشتہ ۔خدا ۔ سنجم ۔ جزور جسمانی پر ضبط ۔ جزور احساسات پر ضبط ۔ بھانا۔ رضا ۔ گرمی ۔ مہربانی ۔ سیو اسرت۔ خدمت باہوش۔ ہر بھاوے ۔ جو منظور خدا ہو ۔(2)
ترجمہ:
گذاہگاریوں اور بد کاریوں میں مخسور من گناہوں بھرے کام کرتا ہے ۔ دوئی دوئش میں لا علمی میں جو پرستش کرتے ہیں اسے الہٰی دربار میں سزا ملتی ہے ۔ روح رشنانے والے خدا کی پرستش کرنی چاہیے۔ تاہم اسکے لئے سچے مرشد کےبغیر اسکی سمجھ نہیں آتی ۔ سچے مرشد کی رضا میں رہنا ہی ریاضت ، بندگی ،اطاعت و ضبط اگر الہٰی کرم و عنایت ہو تب حاصل ہوتی ہے ۔ اے نانک خدمتگاری باہوش خدمت کرتا وہی ہے جو الہٰی رضا میں ہو وہی مقبول ہوتی ہے ۔(2)
پئُڑیِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپہُ من میرے جِتُ سدا سُکھُ ہوۄےَ دِنُ راتیِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپہُ من میرے جِتُ سِمرت سبھِ کِلۄِکھ پاپ لہاتیِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپہُ من میرے جِتُ دالدُ دُکھ بھُکھ سبھ لہِ جاتیِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپہُ من میرے مُکھِ گُرمُکھِ پ٘ریِتِ لگاتیِ ॥
جِتُ مُکھِ بھاگُ لِکھِیا دھُرِ ساچےَ ہرِ تِتُ مُکھِ نامُ جپاتیِ ॥੧੩॥
لفظی معنی:
کل وکھ ۔ گناہ ۔دوش ۔ جرم ۔(2) والد۔ دلدر ۔ غریبی ۔ (3) مکھ گورمکھ ۔ مریدان مرشد کا سرغذ ۔ مکھ (4) منہ ۔ پیشانی ۔
ترجمہ:
اے دل ریاض الہٰی کرتاکہ ہمیشہ سکھ حاصل ہو روز و شب ۔ اے دل الہٰی عبادت و اطاعت جر جسکی ریاض سے تمام گناہ دوش مٹ جاتے ہیں ۔ اے دل الہٰی ریاض کر جس سے غریبی اور بھوک کاعذ اب مٹ جائے ۔ اے دل عبادت کر خدا کی تاکہ سچے مرشد کی صحبت و قربت میں رہ کر خدا سے تیرا پیار ہو جائے ۔ جس کی قیمت ساچے الہٰی دربار میں اسکے مقدر میں لکھا ۔ اسی سے ہی نام کی ریاض کراتا ہے

سلوک مਃ੩॥
ستِگُرُ جِنیِ ن سیۄِئو سبدِ ن کیِتو ۄیِچارُ ॥
انّترِ گِیانُ ن آئِئو مِرتکُ ہےَ سنّسارِ ॥
لکھ چئُراسیِہ پھیرُ پئِیا مرِ جنّمےَ ہوءِ کھُیارُ ॥
ستِگُر کیِ سیۄا سو کرے جِس نو آپِ کراۓ سوءِ ॥
ستِگُر ۄِچِ نامُ نِدھانُ ہےَ کرمِ پراپتِ ہوءِ ॥
سچِ رتے گُر سبد سِءُ تِن سچیِ سدا لِۄ ہوءِ ॥
نانک جِس نو میلے ن ۄِچھُڑےَ سہجِ سماۄےَ سوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
۔ مرتک ، مردہ ۔(2) پھیر ۔ گیڑا ۔ تناسخ ۔ (3) ندھان ۔ خزانہ (4) کرم ۔ بخشش و عنایت ۔ (5) سہج ۔ روحانی سکون ۔
ترجمہ:
سچے مرشد کی جنہوں نے خدمت نہیں کی اور نہ سبق کےمطابق خیالات بنائے ۔ دل علم سے روشن نہ ہوا وہ انسان دنیا میں زندہ ہوتے ہوئے مردہ سیرت ہے ۔وہ جو راسی کے گیڑ میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ اور تناسخ میں پڑھ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے سچے مرشد کی خدمت وہی کرتا ہے جس سے خدا خود کراتا ہے ۔ سچا مرشد نام کا خزانہ ہے ۔ جو الہٰی کرم و عنایت سے ملتا ہے ۔ جو انسان سچے مرشد کے کلام کے ذریعے سچ اور حقیقت سے جنکا پیار ہے ۔ ان کا دھیان اور ہوش ہمیشہ یکساں رہتا ہے ۔ اے نانک خدا جسے ملاتا ہے جدائی نہیں پاتے وہ سکون پاتے ہیں ۔

مਃ੩॥
سو بھگئُتیِ جد਼ بھگۄنّتےَ جانھےَ ॥
گُر پرسادیِ آپُ پچھانھےَ ॥
دھاۄتُ راکھےَ اِکتُ گھرِ آنھےَ ॥
جیِۄتُ مرےَ ہرِ نامُ ۄکھانھےَ ॥
ایَسا بھگئُتیِ اُتمُ ہوءِ ॥
نانک سچِ سماۄےَ سوءِ ॥੨॥
لفظی معنی
بھگوتی ۔ وشنو کا بھگت عابد (2) بھگونتے خدا ۔ (3) آپ ۔ خویش ۔ اپنے آپ کو (4) دھاوت ۔بھٹکتا ۔ دوڑتا ۔ جیوت مرے ۔ انقلاب ۔زندگی بدی سے نیکی کی طرف رجوع (5) دکھانے ۔ بیان کرنا (6)
ترجمہ:
حقیقی اور سچا بھگت وہ ہے جسے خدا کی پہچان ہے ۔ رحمت مرشد سے اپنے آپ کو اور کردار خود کو سمجھتا ہو ۔ اپنے آپ کے نیک و بد کردار کو سمجھتا ہو ۔ اور بھٹکتے من کو ٹھکانے رکھے اور دوران حیات زندگی کی روشن میں انقلاب لائے ۔ اور خداخدا کہے ۔ ایسا بھگت ہی بلند عظمت ہوتا ہے ۔ اے نانک بھگت خدا سے یکسو رہتا ہے ۔ اور رشتہ استوار رہتا ہے ۔ خدائی نہیں ہوتی (2)

مਃ੩॥
انّترِ کپٹُ بھگئُتیِ کہاۓ ॥
پاکھنّڈِ پارب٘رہمُ کدے ن پاۓ ॥
پر نِنّدا کرے انّترِ ملُ لاۓ ॥
باہرِ ملُ دھوۄےَ من کیِ جوُٹھِ ن جاۓ ॥
ستسنّگتِ سِءُ بادُ رچاۓ ॥
اندِنُ دُکھیِیا دوُجےَ بھاءِ رچاۓ ॥
ہرِ نامُ ن چیتےَ بہُ کرم کماۓ ॥
پوُرب لِکھِیا سُ میٹنھا ن جاۓ ॥
نانک بِنُ ستِگُر سیۄے موکھُ ن پاۓ ॥੩॥
لفظی معنی:
باد ۔ بحث ۔ جھگڑا (2) پورب ۔ پہلے سے خدا کی طرف سے (3)
لفظی معنی:
دل میں دھوکا ہو بدی ہو اور اپنے آپ کو بھگت کہلاتا ہو ۔ ایسے دھوکا وہی سےالہٰی ملاپ نہیں ہو سکتا ۔ دوسروں کی بد گوئی سے دل ناپاک ہو جاتا ہے ۔ بیرونی پاکیزگی سے دل کی ناپاکیزگی دور نہیں ہوتی ۔ پارساؤں سے جھگڑتا ہے وہ دنیاوی دولت میں ملوث ہمیشہ عذاب پاتا ہے ۔ خدا کا نام یاد نہیں کرتا ۔ دنیاوی رس میں کرتا ہے ۔ پہلے سے اس کے اعمالنامے میں تحریر شدہ مٹ نہیں سکتا ۔ اے نانک بغیر خدمت مرشد نجات نہیں مل سکتی ۔(3)

پئُڑیِ ॥
ستِگُرُ جِنیِ دھِیائِیا سے کڑِ ن سۄاہیِ ॥
ستِگُرُ جِنیِ دھِیائِیا سے ت٘رِپتِ اگھاہیِ ॥
ستِگُرُ جِنیِ دھِیائِیا تِن جم ڈرُ ناہیِ ॥
جِن کءُ ہویا ک٘رِپالُ ہرِ سے ستِگُر پیَریِ پاہیِ ॥
تِن ایَتھےَ اوتھےَ مُکھ اُجلے ہرِ درگہ پیَدھے جاہیِ ॥੧੪॥
لفظی معنی:
کڑ ۔ فکر مند (2) سواہی ۔ راکھ (3) بساہی صبح ۔ سویرے (4) ترپت ۔ بھوک پیاس بجھی (5) اگھاہی ۔ بھوک مٹی (5) اجلے ۔ سر خرو (7) پیدھے ۔پہنائے (4)
ترجمہ:
جنہوں نے سچے مرشد میں اپنی توجو مبذول کی ہر روز عذاب نہیں پاتے وہ فکر میں نہیں سوتے جنہوں نے مرشد میں دھیان لگایا انکی بھوک پیاس مٹ گئی ۔ جنہوں نے سچے مرشد میں دھیان لگایا انہیں موت کا خوف مٹ گیا ۔ جن پر خدا نے کرم و عنایت فرمائی انہیں نے سچے مرشد کے پاؤں کا اسرا لیا۔ پناہ میں آئے وہ ہر دو عالموں میں سر خرو ہوئے ۔ انہیں الہٰی درگاہ میں عزت اور خلعتیں نصیب ہوئیں۔

سلوک مਃ੨॥
جو سِرُ ساںئیِ نا نِۄےَ سو سِرُ دیِجےَ ڈارِ ॥
نانک جِسُ پِنّجر مہِ بِرہا نہیِ سو پِنّجرُ لےَ جارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
ڈار ۔ پھینکدو ۔ بر ہا(2) تڑپ ۔ پیار کی کشش ۔
ترجمہ:
۔جو سر جھکتا نہیں یاد خدا میں اسے اتار دینا بہتر ہے ۔ اے نانک جس انسانی جسم میں پیار اور جدائی کے لئے تڑپ نہیں اسے جلا دو۔

مਃ੫॥
مُنّڈھہُ بھُلیِ نانکا پھِرِ پھِرِ جنمِ مُئیِیاسُ ॥
کستوُریِ کےَ بھولڑےَ گنّدے ڈُنّمِ پئیِیاسُ ॥੨॥
لفظی معنی:
منڈھو ۔ مولوں ۔ بنیادی طور پر ۔(2) بہولڑے ۔ بھو ل میں ۔ (3) ڈنم۔ گہرا گڑھا ۔
ترجمہ:
ا ے نانک جس نے عالم کی بیاد کار ساز کو بھلادیا وہ تناسخ میں پڑھا رہیگا ۔ وہ کستوری سمجھ کر گندے اور گہرے گڑھے میں گرتا ہے ۔(2)

پئُڑیِ ॥
سو ایَسا ہرِ نامُ دھِیائِئےَ من میرے جو سبھنا اُپرِ ہُکمُ چلاۓ ॥
سو ایَسا ہرِ نامُ جپیِئےَ من میرے جو انّتیِ ائُسرِ لۓ چھڈاۓ ॥
سو ایَسا ہرِ نامُ جپیِئےَ من میرے جُ من کیِ ت٘رِسنا سبھ بھُکھ گۄاۓ ॥
سو گُرمُکھِ نامُ جپِیا ۄڈبھاگیِ تِن نِنّدک دُسٹ سبھِ پیَریِ پاۓ ॥
نانک نامُ ارادھِ سبھنا تے ۄڈا سبھِ ناۄےَ اگےَ آنھِ نِۄاۓ ॥੧੫॥
لفظی معنی:
انتی اؤسر۔ بوقت آخرت ،بوقت آخری موقعہ (2) ترشنا ۔بھکھ ۔ خواہشات کی بھوک پیاس ۔ (3) گورمکھ ۔ مرشد انصاری ۔مرید مرشد ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔(4) وڈبھاگی ۔ بلند قسمت ۔ سب ۔ سارے (5) آن۔ لاکے
ترجمہ:
اے دل ایسے خدا کو یاد کرنا چاہیے جس کی سب پر حکومت ہے ۔ جس کی حکمرانی سب پر چلتی ہے ۔ ایسے الہٰی نام کی ریاضت کرؤ جو بوقت آخرت نجات دلائے ۔ ایسےخدا کی عبادر کرؤ جو دلی خواہشات کی بھوک پیاس مٹا دے ۔ اس خدا کی عبادت کرؤ جو سب عیب جوئی کرنیوالے بدگویان کو اور بد کاروں کو ان بلند قسموں کے پاؤں لگواتا ہے ۔ جنہوں نے مرشد کے وسیلے سے الہٰی ریاضت کی ہے ۔ اے نانک الہٰی نام کی ریاضت کر یہ سب سے بڑا ہے ۔ نام کے آگے سب کو جھگایا ہے (5)

سلوک مਃ੩॥
ۄیس کرے کُروُپِ کُلکھنھیِ منِ کھوٹےَ کوُڑِیارِ ॥
پِر کےَ بھانھےَ نا چلےَ ہُکمُ کرے گاۄارِ ॥
گُر کےَ بھانھےَ جو چلےَ سبھِ دُکھ نِۄارنھہارِ ॥
لِکھِیا میٹِ ن سکیِئےَ جو دھُرِ لِکھِیا کرتارِ ॥
منُ تنُ سئُپے کنّت کءُ سبدے دھرے پِیارُ ॥
بِنُ ناۄےَ کِنےَ ن پائِیا دیکھہُ رِدےَ بیِچارِ ॥
نانک سا سُیالِئو سُلکھنھیِ جِ راۄیِ سِرجنہارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
نورنہار ۔ مٹا نیوالا ۔ سو آلیؤ ۔ سوہنا ۔ راوی ۔ پیار کیا (2) کرتار ۔ کرتا ۔ سازندہ ۔ (3) سازندہ ۔ پیدا کرنیوالا بنانیوالا ۔(4) سونپے پیش کرے ۔ حوالے کرے (5) دیس ۔ بھیس ۔بناؤٹ (6) گاوار۔ جاہل ۔ نادان (7) بھانے ۔رضا ۔انصاری (8) سلکھنی ۔ نیک کردار
ترجمہ:
جھوٹی بدکردار بد صورت بد سیرت اپنا شنگار کرتی ہے ۔خاوند کی رضا میں نہیں جاہل اپنے خاوند پر اپنا حکم چلاتی ہے ۔ جو سچے مرشد کی رضا میں چلتا ہے وہ اپنے عذاب اور جھگڑے مٹا دیتا ہے ۔جو خدا نے اسکے اعمالنامے میں تحریر کر رکھے ہیں انہیں کوئی مٹا نہیں سکتا ۔ دل و جان اپنے خاوند خدا کے حوالے کر دے اور دل میں سبق مرشد بسائے ۔ بغیر نام نہیں ملاسکے ۔ یہ دل میں سوچ سمجھ کر دیکھ لو ۔ اے نانک وہی نیک بخت خوبرو اور نیک کردار وہی ہے جس پر الہٰی کرم و عنایت ہے ۔

مਃ੩॥
مائِیا موہُ گُبارُ ہےَ تِس دا ن دِسےَ اُرۄارُ ن پارُ ॥
منمُکھ اگِیانیِ مہا دُکھُ پائِدے ڈُبے ہرِ نامُ ۄِسارِ ॥
بھلکے اُٹھِ بہُ کرم کماۄہِ دوُجےَ بھاءِ پِیارُ ॥
ستِگُرُ سیۄہِ آپنھا بھئُجلُ اُترے پارِ ॥
نانک گُرمُکھِ سچِ سماۄہِ سچُ نامُ اُر دھارِ ॥੨॥
لفظی معنی:
۔ غبار ۔ اندھیرا ۔لا علمی ۔(2) اروار نہ پار ۔ جسکا کوئی کنارہ نہیں ۔ انابنا (3) منھکھ ۔ خودارادی ۔ خودی پسند ۔(4) اگیانی ۔ لا علم ۔ (5) بھلکے ۔ کل ۔ہر روز ۔ (6) دوبے بھائے ۔ دوئی ۔ دؤیش کی محبت میں ۔(7) بھوجل ۔دنیا ۔ جسے خوفناک سمندر سے تشبیح دی گئی ہے ۔(8) گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ (9) اردھار ۔ دلمیں بسانا ۔
ترجمہ:
دنیاوی دولت سے محبت ایک بے سمجھی اور لا علمی کا اندھیرا ہے ۔ جسکا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا ۔ اپنے من کا انصاری لا علمی عذاب پاتا ہے اور الہٰی نام بھلا کر ڈگمگاتا ہے ۔ صبح اُٹھ کر بہت سے کام کرتا ہے اور دوئی دویش سے محبت ہے اور دنیاوی دولت سے محبت اور اسی میں دھیان ہے ۔ جو سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں اسکے بتائے راستے پر چلتے ہیں اس دنیاوی سمندر سے یعنی کامیاب زندگی بنا لیتےہیں ۔ نانک جنہیں قربت مرشد حاصل ہے سچے نام کو دل میں بسا کر سچ میں دھیان لگاتے ہیں ۔(2)
پئُڑیِ ॥
ہرِ جلِ تھلِ مہیِئلِ بھرپوُرِ دوُجا ناہِ کوءِ ॥
ہرِ آپِ بہِ کرے نِیاءُ کوُڑِیار سبھ مارِ کڈھوءِ ॥
سچِیارا دےءِ ۄڈِیائیِ ہرِ دھرم نِیاءُ کیِئوءِ ॥
سبھ ہرِ کیِ کرہُ اُستتِ جِنِ گریِب اناتھ راکھِ لیِئوءِ ॥
جیَکارُ کیِئو دھرمیِیا کا پاپیِ کءُ ڈنّڈُ دیِئوءِ ॥੧੬॥
لفظی معنی:
خدا ہر جگہ موجود ہے اسکا کوئی شریک نہیں (وحدۃ لا شریک ہو) خدا خود انصاف کرتا ہے ۔ اور جھوٹوں کو سزا دیتا ہے ۔ سچے آچارولوں ۔ نیک چلنوں اچھے اخلاق والوں عظمت اور وقار عنایت کرتا ہے ۔ خدا ہمیشہ انصاف اوروقار عنایت کرتا ہے ۔ خدا ہمیشہ انصاف اور سچا انصاف کرتا ہے ۔ ایسا خدا جو غریب پروری ہے اور بے مالکوں کا مالک ہے کی صفت صلاح کرؤ جو گناہگاروں کو سزا اور نیک انسان کو جزا و عظمت سے نوازتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
منمُکھ میَلیِ کامنھیِ کُلکھنھیِ کُنارِ ॥
پِرُ چھوڈِیا گھرِ آپنھا پر پُرکھےَ نالِ پِیارُ ॥
ت٘رِسنا کدے ن چُکئیِ جلدیِ کرے پوُکار ॥
نانک بِنُ ناۄےَ کُروُپِ کُسوہنھیِ پرہرِ چھوڈیِ بھتارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
۔ میلی ۔ ناپاک (2) کامنی ۔ عورت ۔ (3) کلہکنی ۔ بدکردار ۔(4) کنار۔ بری عورت ۔ (5) پرپرکھے۔ دوسرے مرد سے (6) مچکی ختم نہیں ہوتی (7) پر ہر چھوڈی ۔ طلاق شدہ ۔ (8) بھتار۔ خاوند
ترجمہ:
من دامریدانسان اس بد چلن بد کردار ناپاک عورت کی مانند ہے جس نے اپنے خاوند چھوڑ کر غیر انسان سے محبت کرتی ہے ۔ اسکی خواہش کبھی پوری نہیں ہوتی ۔ خواہشات کی آگ میں جلتی آہ وزاری کرتی ہے رہتی اے نانک نام سچ حق وحقیقت کے بغیر انسان اس بد شکل بد کردار عورت جیسا ہے اور جو خاوند نے طلاق رکھی ہے

مਃ੩॥
سبدِ رتیِ سوہاگنھیِ ستِگُر کےَ بھاءِ پِیارِ ॥
سدا راۄے پِرُ آپنھا سچےَ پ٘ریمِ پِیارِ ॥
اتِ سُیالِءُ سُنّدریِ سوبھاۄنّتیِ نارِ ॥
نانک نامِ سوہاگنھیِ میلیِ میلنھہارِ ॥੨॥
لفظی معنی:
۔شبدرتی۔ کلام میں محبت (2) سوہاگنی ۔خوش قسمت (3) بھاے ۔ پیار میں (4) سو آلیؤ ۔ خوبصورت (5) ات۔ نہایت (6) سوبھاونتی ۔نیک شہرت
ترجمہ:
سچے مرشد کا پیار ا پیار سے اور سبق کے پیار سے ایسا ہے جیسے ایک خاوند کی پیاری عورت جو اپنے سہاگ کی پیار ی ہے ۔ جو اپنے سچے پریم پیار سے اپنے خاوند سے پیار بھری زندگی بسر کرتی ہے ۔ وہ نہایت خوب صورت خوبرو اور باوقار اوریا بلند عظمت ہے ۔ اے نانک نام سے ہی انسان کی خوبصورتی خوبروئی ہے اور ملا نیوالا اسے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ تیریِ سبھ کرہِ اُستتِ جِنِ پھاتھے کاڈھِیا ॥
ہرِ تُدھنو کرہِ سبھ نمسکارُ جِنِ پاپےَ تے راکھِیا ॥
ہرِ نِمانھِیا توُنّ مانھُ ہرِ ڈاڈھیِ ہوُنّ توُنّ ڈاڈھِیا ॥
ہرِ اہنّکاریِیا مارِ نِۄاۓ منمُکھ موُڑ سادھِیا ॥
ہرِ بھگتا دےءِ ۄڈِیائیِ گریِب اناتھِیا ॥੧੭॥
لفظی معنی:
اُستت ۔ تعریف ۔ستائش ۔(2) پھاتھے ۔ پھنسے ہوئے ۔(3) نمسکار ۔ تعظیم ۔ اداب (4) نیا ۔ بے وقار ۔(5) ڈھاڈھی ۔ زور آور ۔ با قوت ۔ (4) اہنکاریاں ۔ مغرور ۔ تکبر یاں ۔ (7) ناتھیاں ۔ جنکا کوئی مایک نہیں (8)
ترجمہ:
اے خدا وند کریم جن کو تو پھنسے ہوئے کو نکا لتا ہے ۔ تیری صفت صلاح کرتے ہیں ۔ اے خدا سارے تجھے سجدہ کرتے ہیں ۔ جنہیں گناہوں سے باز رکھتا ہے ۔ اے خدا تو بے عزتوں کی عزت ہے اور سب سے طاقتور ہے ۔ اے خدا تو مغرور اور تکبر ولوں کو نیچا دکھاتا ہے ۔ اور نادانوں اور خود داروں کو صراط مستقیم پر ڈالتا ہے ۔اور غریبوں اور ناداروں کو اور الہٰی بھگتوں کو عظمت دیتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
ستِگُر کےَ بھانھےَ جو چلےَ تِسُ ۄڈِیائیِ ۄڈیِ ہوءِ ॥
ہرِ کا نامُ اُتمُ منِ ۄسےَ میٹِ ن سکےَ کوءِ ॥
کِرپا کرے جِسُ آپنھیِ تِسُ کرمِ پراپتِ ہوءِ ॥
نانک کارنھُ کرتے ۄسِ ہےَ گُرمُکھِ بوُجھےَ کوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
۔ بھانے ۔ چاہت۔ رضا ۔مرضی کے مطابق ۔ (2) ڈھیائی ۔ بلند عظمت ۔(3) اُتم ۔ نایاب ۔ (4) کرم۔ بخشش ۔ و عنایت ۔ (5) کارن ۔ موقعہ ۔سبب
ترجمہ:
جو انسان سچے مرشد کی رضا میں زندگی بسر کرتا ہے اسے وقار ۔ اداب اور عظمت وشہرت ملتی ہے ۔ خدا کی بارگاہ میں ۔ خدا کا عظمت نام سچ حق وحقیقت دل میں گھر کر جاتا ہے ۔ جسے کوئی مٹا نہیں سکتا جس پر کرم و عنایت ہوتی ہے ۔ خدا کی اسے اسکی بخشش سے ملتا ہے ۔ اے نانک ایسا موقعہ کرتار کے اخیتار میں ہے جسے کوئی مرید مرشد سمجھتا ہے ۔

مਃ੩॥
نانک ہرِ نامُ جِنیِ آرادھِیا اندِنُ ہرِ لِۄ تار ॥
مائِیا بنّدیِ کھسم کیِ تِن اگےَ کماۄےَ کار ॥
پوُرےَ پوُرا کرِ چھوڈِیا ہُکمِ سۄارنھہار ॥
گُر پرسادیِ جِنیِ بُجھِیا تِنِ پائِیا موکھ دُیارُ ॥
منمُکھ ہُکمُ ن جانھنیِ تِن مارے جم جنّدارُ ॥
گُرمُکھِ جِنیِ ارادھِیا تِنیِ ترِیا بھئُجلُ سنّسارُ ॥
سبھِ ائُگنھ گُنھیِ مِٹائِیا گُرُ آپے بکھسنھہارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
۔ اندن۔ ہر روز (2) لوتار ۔ لگاتار ۔(3) بندی ۔ خادمہ ۔غلام (4) ارادھیا ۔ ریاضت کی ۔ (5) اندن۔ ہر روز ۔ (6) کماولے ۔ خدمت کرتی ہے ۔ (7) پرسادی ۔ مہربانی سے ۔ رحمت سے ۔ (7) وآر ۔ در ۔دروازہ ۔(8) جندار۔ ظالم ۔سخت (9) گنی ۔ وصف سے
ترجمہ:
اے نانک جس نے لگاتار الہٰی نام سچ حق وحقیقت کی ریاضت کی الہٰی خادمہ (دولت) اسکے زیر کار کرتی ہے ۔ مراد انکی خدمت کرتی ہے ۔ کامل مرشد انہیں زندگی میں ہر لحاظ سے کامل انسان بنایا ہے ۔ رحمت مرشد سے جس نے اس بات کو سمجھ لیا انہوں نے نجات پالی ۔ مرید من حکم نہیں سمجھتے انہیں ظالم جسم پیٹتے ہیں ۔ جنہوں نے مرید کی وساطت سے جنوں نے ریاضت کی وہ اس علام میں کامیاب زندگی بسر کی اوصاف سے تمام بد اوصاف پر قابو پا یا مرشد بخشنے والا ہے ۔ (2)

پئُڑیِ ॥
ہرِ کیِ بھگتا پرتیِتِ ہرِ سبھ کِچھُ جانھدا ॥
ہرِ جیۄڈُ ناہیِ کوئیِ جانھُ ہرِ دھرمُ بیِچاردا ॥
کاڑا انّدیسا کِءُ کیِجےَ جا ناہیِ ادھرمِ ماردا ॥
سچا ساہِبُ سچُ نِیاءُ پاپیِ نرُ ہاردا ॥
سالاہِہُ بھگتہُ کر جوڑِ ہرِ بھگت جن تاردا ॥੧੮॥
لفظی معنی:
پرتیت ، بھروسا۔ یقین (2) جیود ۔ اتنا بڑا (3) دھرم۔ انصاف (4) کاڑا۔ فکر اندیشہ خوف ۔ (5) دھرم ۔ ناانصافی (7) سچا ۔دائمی (8) کرجوڑ ۔ہاتھ جوڑ کر عاجزی و انکساری سے ۔
ترجمہ:
صادقان الہٰی کو خدا پر بھروسہ ہے ۔ کر خدا پوشیدہ راز دلی جاننے والا ہے ۔ اسکا کوئی ثانی نہیں خدا انصاف زیر غور لاتا ہے ۔ لہذا غم و فکر کیوں کریں وہ نا انصافی سے سزا نہیں دیتا ۔ وہ سچا حکمران ہے اور سچا اسکا انصاف ہے ۔ گناہگار انسان شکست کھاتا ہے ۔ اے صادقان الہٰی عاجزی و انکساری سے خدا کی صفت صلاح کرؤ ۔ خدا اپنے عاشقان کو گناہوں ،بدکاریوں سے بچاتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
آپنھے پ٘ریِتم مِلِ رہا انّترِ رکھا اُرِ دھارِ ॥
سالاہیِ سو پ٘ربھ سدا سدا گُر کےَ ہیتِ پِیارِ ॥
نانک جِسُ ندرِ کرے تِسُ میلِ لۓ سائیِ سُہاگنھِ نارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
۔۔ اُر۔ دل ،برد (2) انتر ۔د ل میں (3) صالاحی ۔ صفت گردو (4) گرکے ہیت ۔ مرشد کے پیار کے ذریعے (5) سوہاگن ۔ خاوند والی
ترجمہ:
عورت سے تشبیح دیکر فرماتے ہیں عورت چاہتی ہے کہ ہمیشہ میرے پیارے سے میرا ملاپ رہے اور اسے دل میں بسائے رکھوں ۔ اس خدا کی ہمیشہ ہمیشہ صفت صلاح مرشد کے لگائے پیار سے کرتی رہوں ۔ اے نانک جس پر ہو ذرر الہٰی اسے ملا لیتا ہے وہی خدا کا پیارا ہے ۔

مਃ੩॥
گُر سیۄا تے ہرِ پائیِئےَ جا کءُ ندرِ کرےءِ ॥
مانھس تے دیۄتے بھۓ دھِیائِیا نامُ ہرے ॥
ہئُمےَ مارِ مِلائِئنُ گُر کےَ سبدِ ترے ॥
نانک سہجِ سمائِئنُ ہرِ آپنھیِ ک٘رِپا کرے ॥੨॥
لفظی معنی:
۔ ملاین۔ ملائے ہیں (2) سہج۔ سکون ۔ (3) سمائین ۔ یکسو ہانا۔ دھیان جمانا ۔(4) ندر۔ نظر عنایت ۔ مشفقانہ نظر ۔
ترجمہ:
جس پر خدا کی مشفقانہ ہے نظر وہ انسان سبق مرشد پر عمل پیرا ہوکر خدا سے وصل پاتا ہے ۔ خدا کی یاد سے انسان انسان سے فرشتہ سیرت ہو جاتا ہے ۔ خودی ختم کرکے اور اس پر عبور پر لیا جس نے اسے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے خدا ۔ اور کلام مرشد سے کامیابی حاصل کرتا ہے ۔ اے نانک ۔ خدا اپنی کرم و عنایت سے اسے روحانی سکون عنایت کرتا ہے

پئُڑیِ ॥
ہرِ آپنھیِ بھگتِ کراءِ ۄڈِیائیِ ۄیکھالیِئنُ ॥
آپنھیِ آپِ کرے پرتیِتِ آپے سیۄ گھالیِئنُ ॥
ہرِ بھگتا نو دےءِ اننّدُ تھِرُ گھریِ بہالِئنُ ॥
پاپیِیا نو ن دیئیِ تھِرُ رہنھِ چُنھِ نرک گھورِ چالِئنُ ॥
ہرِ بھگتا نو دےءِ پِیارُ کرِ انّگُ نِستارِئنُ ॥੧੯॥
لفظی معنی:
۔ ویکھالین ۔ وکھالتا ہے (2) گھالین ۔ لگاتا ہے ۔(3) بہالین ۔ بہالے ۔(4) پرتیت ۔ یقین ۔ (5) تھر ۔ مستقل (6) نرک گہور۔ بھاری دوزخ (7) کر اتگ ۔ اپنی کود
ترجمہ:
خدا نے خود اپنی عبادت دریاضت کرا کے اپنی عظمت ظاہر کی ہے ۔خدا اپنا یقین خود کرتا ہے اور ان سے آپ ہی خدمت کراتا ہے خود ہی سکون دیتا ہے اور خود ہی مستقل مزاجی عنایت کرتا ہے ۔ اور دل میں بسا رکھا ہے ۔ گناہگاروں کو متزلزل رکھتا ہے مستقل مزاج نہیں رکھتا ۔ اور دوزخ میں رکھتا ہے ۔ عاشقان کو پیار کرتا ہے اور اپنے ساتھ سے کامیابیاں عنایت کرتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
کُبُدھِ ڈوُمنھیِ کُدئِیا کسائِنھِ پر نِنّدا گھٹ چوُہڑیِ مُٹھیِ ک٘رودھِ چنّڈالِ ॥
کاریِ کڈھیِ کِیا تھیِئےَ جاں چارے بیَٹھیِیا نالِ ॥
سچُ سنّجمُ کرنھیِ کاراں ناۄنھُ ناءُ جپیہیِ ॥
نانک اگےَ اوُتم سیئیِ جِ پاپاں پنّدِ ن دیہیِ ॥੧॥
کہتے ہیں کہ گرؤ نانک صاحب جی ے ایک دن مردانے کو لکڑیاں لینے کے لئے بھیجا ایک ویشنو کے پاس وہ ابھی رسوئی کی تیاری کر رہا تھا مردانے کو دیکھ کر غصے میں آگیا کہ کمینی ذات پیش پے گیا رسوئی کی پاکیزگی جاتی رہی اس کے بارے گرؤ نانک صاحب نے یہ سلوک بیان کیا ہے
لفظی معنی:
۔ کبدھ۔ کم عقلی ۔جہالت ۔ مراسی ہے ۔ (2) کریا ۔ بیرحمی ۔ قصائی پن ہے ۔(3)پر نندا۔ بد گوئی ۔ چوہڑی ہے ۔ (4) مٹھی ۔ ٹھگی ۔(5) کرؤدھ ۔ غصہ ۔ چنڈال ۔ظالم ۔ (6) کاری ۔ رسوئی کے گرد لکیر نکالنا (7) کیا تھیئے کیا ہوتا ہے (8) سنجم ۔ ضبط (9) ناون ۔اشنان (۔0) پند ۔ نصحیت
ترجمہ:
کم عقلی ۔نادانی ایک مراسن ہے بیرحمی قصائن اور بد گوئی چوہڑی اور غصہ چنڈالنی جس نے انسان کو دھوکے میں رکھا ہوا ہے ۔ اگر یہ چاروں دل میں سمائی ہوئی ہوں تو رسوئی گرد لکریں لگانے سے کیا فائدہ ۔ اے نانک رسوئی کی پاکیزگی کے لئے سچ اپناؤ نیک کردار کی لکیر کھینچو الہٰی یاد ایک غسل ہے ۔ جو دوسروں کو گناہوں کے لئے ترغیب نہیں دتے وہی الہٰی درگاہ میں با وقار و بلند عظمت ہوتے ہیں۔

مਃ੧॥
کِیا ہنّسُ کِیا بگُلا جا کءُ ندرِ کرےءِ ॥
جو تِسُ بھاۄےَ نانکا کاگہُ ہنّسُ کرےءِ ॥੨॥
ترجمہ:
جس پر ہونگاہ شفقت الہٰی خواہ ہو دھوکا باز ہو نیک سیرت اگر وہ چاہے تو کمینے اور بد چلن اور بدقماش کو بھی نیک اور فرشتہ سیرت انسان بنا سکتا ہے اور بنا دیتا ہے ۔(2)

پئُڑیِ ॥
کیِتا لوڑیِئےَ کنّمُ سُ ہرِ پہِ آکھیِئےَ ॥
کارجُ دےءِ سۄارِ ستِگُر سچُ ساکھیِئےَ ॥
سنّتا سنّگِ نِدھانُ انّم٘رِتُ چاکھیِئےَ ॥
بھےَ بھنّجن مِہرۄان داس کیِ راکھیِئےَ ॥
نانک ہرِ گُنھ گاءِ الکھُ پ٘ربھُ لاکھیِئےَ ॥੨੦॥
لفظی معنی:
۔ ستگر سچ ساکھیئے۔ سچا مرشد سچا شاہد ہے (2) سنتا سنگ ۔صحبت خدا رسیداں ۔ (3) ندھان۔ خزانہ ۔(4) گن گائے ۔صفت صلاح ۔(5) لاکھیئے ۔ سمجھ آتا ہے ۔(6) سچ ۔ خدا
ترجمہ:
جو کام کرنا چاہو اس کے لئے خدا کے پاس ارداس کیجیئے ۔ خدا اسے درست کر دیتا ہے ۔ سچا مرشد سچا شاہد ہے ۔ صحبت و قربت پارسایاں ایک خزانہ ہے ۔ جو ایک آب حیات ہے ۔ اسے نوش کیجیئے ۔ وہ خوف دور کرنیوالا رحمان الرحیم ہے ۔ مجھ خادم کو بچاہیئے حفاظت کیجیئے ۔ نانک صاحب جی الہٰی صفت صلاح کرنے سے بے حساب بیشمار خدا کی سمجھ آجاتی ہے اور اشراکیت ہو جاتی ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تِس کا سبھسےَ دےءِ ادھارُ ॥
نانک گُرمُکھِ سیۄیِئےَ سدا سدا داتارُ ॥
ہءُ بلِہاریِ تِن کءُ جِنِ دھِیائِیا ہرِ نِرنّکارُ ॥
اونا کے مُکھ سد اُجلے اونا نو سبھُ جگتُ کرے نمسکارُ ॥੧॥
لفظی معنی:
۔ جیؤ ۔ جان ۔ روح ۔ زندگی (2) پنڈ ۔ بت ۔ سریر ۔ جسم
ترجمہ:
یہ روح اور بت ۔جسم و جان اور زندگی اسی کی ہے جو سب کا سہارا ہے ۔ سب کو اسرا دیتا ہے ۔ اے نانک مرشد کے وسیلے سے اسکی خدمت کرؤ جو ہمیشہ ہمیشہ نعمتیں اور رزق عنایت کرتا ہے صدقے جاؤں ان پر جنہوں نے نرنکار خدا کی ریاضت کی ہے وہ ہمیشہ سر خرو ہیں اور خوشباش رہتے ہیں ۔اور سارا عالم سجدے کرتا ہے ۔۔

مਃ੩॥
ستِگُر مِلِئےَ اُلٹیِ بھئیِ نۄ نِدھِ کھرچِءُ کھاءُ ॥
اٹھارہ سِدھیِ پِچھےَ لگیِیا پھِرنِ نِج گھرِ ۄسےَ نِج تھاءِ ॥
انہد دھُنیِ سد ۄجدے اُنمنِ ہرِ لِۄ لاءِ ॥
نانک ہرِ بھگتِ تِنا کےَ منِ ۄسےَ جِن مستکِ لِکھِیا دھُرِ پاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
۔ نوندھ ۔ نوخزانے (2) انحد ۔لگاتار ۔ (3) دھنی ۔ سرسیر گم ۔ اواز و بحر ۔(2)
ترجمہ:
سچے مرشد کے ملاپ سے خیالات اور سمجھ بدل جاتے ہیں اور ہوش الٹ کر دنیا کی تمام دولت نو خزانے کھانے اور صرف میں لانے کے لئے مل جاتے ہیں ۔ اور اٹھار سدھیان مراد روحانی طاقتیں اسکے پیچھے ہو جاتی ہیں ۔ مگر اس میں کوئی لرزش نہیں آتی وہ ثابت قدم رہتا ہے ۔ اور روحانی سکون میں لگاتار اسکے دل میں الہٰی یاد کی روش جاری رہتی ہے ۔ اور وہ الہٰی عشق سے خدا سے یکسو رہتا ہے ۔ اے نانک الہٰی پریم پیار انکے دل میں بستا ہے جن کی پیشانی پر سابقہ الہٰی عشق والے کردار سے انکے اعمالنامے میں تحریر ہیں۔

پئُڑیِ ॥
ہءُ ڈھاڈھیِ ہرِ پ٘ربھ کھسم کا ہرِ کےَ درِ آئِیا ॥
ہرِ انّدرِ سُنھیِ پوُکار ڈھاڈھیِ مُکھِ لائِیا ॥
ہرِ پُچھِیا ڈھاڈھیِ سدِ کےَ کِتُ ارتھِ توُنّ آئِیا ॥
نِت دیۄہُ دانُ دئِیال پ٘ربھ ہرِ نامُ دھِیائِیا ॥
ہرِ داتےَ ہرِ نامُ جپائِیا نانکُ پیَنائِیا ॥੨੧॥੧॥ سُدھُ
لفظی معنی:
۔ ڈھاڈی ۔ڈھڈے سے گانیوالا (2) مکھ لایا ۔پیش بلایا (3) ارتھ ۔ مقصد ۔مدعا ۔ مطلب ۔(4) پینایا ۔بطور تعظیم یا اداب خلعت عنایت فرمائی ۔
ترجمہ:
میں خدا کا ایک گانے والا گیت کار خدا تعالیٰ کے در پر حاضر ہوا ہوں۔ خدا نے میری عرض داشت سنی اور مجھے دیدار ہوا اور خدا نے مجھے بلا کر پوچھا کہ اے گویئے گیت کار تو کس مقصد سے آیا ہے ۔ تو میں نے عرض کی مجھے یہ دان دو کہ کہ میں ہمیشہ تجھے یاد کروں اور رحمان الرحیم خدا نے مجھ سے الہٰی نام کی ریاضت کروائی ۔ اس خداوندکریم سخاوت کرنیوالے نے مجھ سے ریاضت کروائی اور نانک کو بطور شفقت و عنایت خلعت عنایت فرمائی۔

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سِریِراگُ کبیِر جیِءُ کا ॥ ایکُ سُیانُ کےَ گھرِ گاۄنھا
جننیِ جانت سُتُ بڈا ہوتُ ہےَ
اِتنا کُ ن جانےَ جِ دِن دِن اۄدھ گھٹتُ ہےَ ॥
مور مور کرِ ادھِک لاڈُ دھرِ پیکھت ہیِ جمراءُ ہسےَ ॥੧॥
ایَسا تیَں جگُ بھرمِ لائِیا ॥
کیَسے بوُجھےَ جب موہِیا ہےَ مائِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
کہت کبیِر چھوڈِ بِکھِیا رس اِتُ سنّگتِ نِہچءُ مرنھا ॥
رمئیِیا جپہُ پ٘رانھیِ انت جیِۄنھ بانھیِ اِن بِدھِ بھۄ ساگرُ ترنھا ॥੨॥
جاں تِسُ بھاۄےَ تا لاگےَ بھاءُ ॥
بھرمُ بھُلاۄا ۄِچہُ جاءِ ॥
اُپجےَ سہجُ گِیان متِ جاگےَ ॥
گُر پ٘رسادِ انّترِ لِۄ لاگےَ ॥੩॥
اِتُ سنّگتِ ناہیِ مرنھا ॥
ہُکمُ پچھانھِ تا کھسمےَ مِلنھا ॥੧॥ رہاءُ دوُجا ॥
لفظی معنی:
۔جننی ۔ پیدا کرنے والی ۔ ماتا ۔(3) ۔ست ۔ بیٹا ۔ فرزند ۔ (3) اودھ۔ عمر ۔ (4) مور مور ۔میرا میرا (5) ادھک ۔ زیادہ (6) پیکھیت۔ دیکھ کر (7) جمراؤ ۔ فرشتہ ۔موت ۔ (8) نہچیو ۔ یقیناً
ترجمہ:
ماتا سمجھتی ہے کہ میرا بیٹا بڑا ہو رہا ہے ۔ مگر یہ بات نہیں سمجھتی کہ یوں یوں دن گذر رہے ہیں اسکی عمر گھٹ رہی ہے ۔ وہ یوں کہتی ہے یہ میرا بیٹا ہے یہ میرا بیٹا ہے بڑا پیار کرتی ہے اسے دیکھ کر فرشتہ موت ہنستا ہے ۔ اس طرح خدا نے ایک عالم کو بھول میں ڈال رکھا ہے ۔ وہ کیسے سمجھے جب اس دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار ہے ۔ کبیر صاحب جی فرماتے ہیں کہ اے انسان اس دنیاوی دولت کے لطفت لینے چھوڑ دے ۔ ان لطفوں سے انسان کی روحانی موت ہو جاتی ہے ۔ خدا کو یاد کر اے انسان کلام الہٰی ہی سے پائیدار زندگی ملتی ہے ۔اور اس طریقے سے انسان اس دنیاوی زندگیوں کے سمندر سے عبور حاصل کرتا ہے۔ جب خدا چاہتا ہے اسکی رضا ہوتی ہے تبھی اس سے انس پیدا ہوتی ہے ۔ اور دل سے شک و شبہات مٹتے ہیں ۔ مستقل مزاج ہو جاتا ہے انسان علم سے منور ہوکر سکون پاتا ہے اور رحمت و عنایت مرشد سے الہٰی ملاپ اور یکسوئی ہوجاتی ہے ۔(3) خدا میں دل لگانے سے روحانی موت نہیں ہوتی کیونکہ انسان کو الہٰی حکم کی پہچان ہو جاتی ہے ۔ تب خدا سے اسکا ملاپ ہوجاتا ہے
مدعائے کلام:
جانداروں کی طاقت سے بعید ہے خدا خود ہی انسان کو دنیاوی دولت کی محبت میں پھنساتا ہے اس دنیاوی دولت کی محبت میں انسانی ضمیر مردہ ہو جاتی ہے ۔ اور اسے نیک و بد کی تمیز جاتی رہتی ہے ۔ مگر اگر خدا کرم و عنایت فرمائے تو دل سے دنیاوی دولت کی محبت ختم ہو کر انسان کی خدا سے یکسوئی ہوجاتی ہے ۔ دل میں لرزش نہیں رہتی انسان مستقل مزاجی ہو جاتا ہے اور الہٰی رضا کی سمجھ آجاتی ہے اور ضمیر میں بیدیار رہتی ہے ۔

سِریِراگُ ت٘رِلوچن کا ॥
مائِیا موہُ منِ آگلڑا پ٘رانھیِ جرا مرنھُ بھءُ ۄِسرِ گئِیا ॥
کُٹنّبُ دیکھِ بِگسہِ کملا جِءُ پر گھرِ جوہہِ کپٹ نرا ॥੧॥
دوُڑا آئِئوہِ جمہِ تنھا ॥
تِن آگلڑےَ مےَ رہنھُ ن جاءِ ॥
کوئیِ کوئیِ ساجنھُ آءِ کہےَ ॥
مِلُ میرے بیِٹھُلا لےَ باہڑیِ ۄلاءِ ॥
مِلُ میرے رمئیِیا مےَ لیہِ چھڈاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
انِک انِک بھوگ راج بِسرے پ٘رانھیِ سنّسار ساگر پےَ امرُ بھئِیا ॥
مائِیا موُٹھا چیتسِ ناہیِ جنمُ گۄائِئو آلسیِیا ॥੨॥
بِکھم گھور پنّتھِ چالنھا پ٘رانھیِ رۄِ سسِ تہ ن پ٘رۄیسنّ ॥
مائِیا موہُ تب بِسرِ گئِیا جاں تجیِئلے سنّسارنّ ॥੩॥
آجُ میرےَ منِ پ٘رگٹُ بھئِیا ہےَ پیکھیِئلے دھرمرائو ॥
تہ کر دل کرنِ مہابلیِ تِن آگلڑےَ مےَ رہنھُ ن جاءِ ॥੪॥
جے کو موُنّ اُپدیسُ کرتُ ہےَ تا ۄنھِ ت٘رِنھِ رتڑا نارائِنھا ॥
اےَ جیِ توُنّ آپے سبھ کِچھُ جانھدا بدتِ ت٘رِلوچنُ رامئیِیا ॥੫॥੨॥
لفظی معنی:
اگلڑا۔ نہایت زیادہ (2) جرا ۔ بڑھاپا ۔ وگسیہہ۔ خوش ہوتا ہے ۔(4) کملا جیؤ کنول کے پھول کے مانند (5) پر گھر ۔ بیگانے گھر (6) جو ہے ۔نظر رکھتا ہے ۔پٹ نرا ۔اے دھوکا باز انسان ۔ دوڑا آیئو ہے ۔ دوڑتا آ رہا ہے ۔ جمیہہ ۔ تنا ۔ فرشتہ موت کا فرزند (۔0) تن آگلڑے انکے ساہمنے (۔۔) ساجن ۔ دوست (۔2) باہڑی ۔بلائے ۔ بازوؤں میں لیکر ۔بیٹھل ۔ خدا ۔ امر۔ لافناہ ۔موٹھا ۔ ٹھگیا گیا ۔ چیتس ناہی (2) یاد نہ کرنا ۔ ۔ وکھم گہور پنتھ ۔ بھاری اندھیرا راستہ ۔رو۔ سورج ۔ سعس چاند۔ پرویسا ۔ داخل ہونا ۔ تجیلے ۔چھوڑنا ۔ پیکھیئے کر۔ ہاتھ دل کرن۔ کچل دینا۔ ترن ۔تنکا ۔ رتڑا۔ کسی کے زیر اثر ہونا ۔بدت۔ بیان کرنا ۔ رمیا ۔ رام ۔
ترجمہ:
اے انسان تیرے دل میں دولت سے نہایت محبت ہے ۔ بڑھاپے اور موت کا خوف بھلا دیا ۔ اپنے قبیلے کو دیکھ کر کنول کے پھول کی مانند کھلتا ہے ۔ اور اے بد کردار دوسروں کے گھر پر نظر رکھتا ہے ۔۔ موت کا فرشتہ دوڑ کر آرہا ہے ۔ میں اس کے ساہمنے ٹک نہ سکوں گا ۔ کوئی کوئی پیارا آکے کہتا ہے کہ میرے رام مجھے آکے مل اور مجھے اپنی بازوؤں میں لے لے ۔ اور مجھے چھوڑا۔ اے انسان تو طرح طرح کی دنیاوی لزتوں اور لطفوں میں تونے خدا کو بھلا دیا اور سمجھتا ہے کہ اس عالم میں ہمیشہ رہے گا ۔ اور دولت کے دھوکے میں اپنی زندگی غفلت میں گذار دی ۔ (2) اے انسان تو نے نہایت دشوار گذار اندھیرا راستہ اختیار کر رکھا ہے ۔ جہاں نہ سورج کی روشنی ہے نہ چاند کی مراد نہ دن ہے نہ رات بیداری میں گذارتا ہے ۔ غفلت کی نید سو رہا ہے ۔ اس دولت کی بوقت موت آخر چھوڑے گا ہی ۔(3) آج میرے دل میں یہ بات ظاہر ہو گئی کہ الہٰی منصف کے روبرو پیش ہونا پڑیگا ۔ وہاں تو بھاری قوتوں کے مالکوں کو بھی پائمال کر دیا جاتا ہے ۔ میں اسکےآگے کوئی حیل وحجت نہ کر سکوں گا ۔(4) اگر کوئی مجھے سبق دیتاہے تو مجھے ہر شے میں عرض یہ کہ جنگل اور گھاس کے تنکے میں تیرا دیدار پاتا ہوں ۔ اے خدا میری تویہ ایک گذارش ہے ورنہ اپنے آپ تو ہی سمجھتا ہے ۔
مدعائے کلام :
کہ انسان دنیاوی دولت کی محبت میں سر سے پاؤں تک گرفتار ہے ۔ ایسے موت یاد نہیں ۔ نعمتوں کی لذتوں میں سر شار سمجھتے ہیں کہ ہم نےکبھی مرنا نہیں ۔ لہذا زندگی بیکار گذار رہے ہیں لہذا اسکے لئے اسکا نتیجہ بھگتنا پڑیگا ۔ مگر البتہ ایسے بھی ہیں کوئی کوئی بہت کم جو اپنی آخرت کو یاد رکھتے ہیں اور خدا کی صفت صلاح کرتے ہیں۔
س٘ریِراگُ بھگت کبیِر جیِءُ کا ॥
اچرج ایکُ سُنہُ رے پنّڈیِیا اب کِچھُ کہنُ ن جائیِ ॥
سُرِ نر گنھ گنّدھ٘رب جِنِ موہے ت٘رِبھۄنھ میکھُلیِ لائیِ ॥੧॥
راجا رام انہد کِنّگُریِ باجےَ ॥
جا کیِ دِسٹِ ناد لِۄ لاگےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھاٹھیِ گگنُ سِنّگنِْیا ارُ چُنّگنِْیا کنک کلس اِکُ پائِیا ॥
تِسُ مہِ دھار چُئےَ اتِ نِرمل رس مہِ رسن چُیائِیا ॥੨॥
ایک جُ بات انوُپ بنیِ ہےَ پۄن پِیالا ساجِیا ॥
تیِنِ بھۄن مہِ ایکو جوگیِ کہہُ کۄنُ ہےَ راجا ॥੩॥
ایَسے گِیان پ٘رگٹِیا پُرکھوتم کہُ کبیِر رنّگِ راتا ॥
ائُر دُنیِ سبھ بھرمِ بھُلانیِ منُ رام رسائِن ماتا ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
۔ اچرج۔ حیران کرنے والی ۔ پنڈیا ۔اے پنڈے ۔سر ۔ فرشتے (2) نر ۔ انسان ۔گن۔ کادمان ۔ فرشتہ ہائے ۔ گندھرب ۔ فرشتوں کے گانے والے ۔گیت کار ۔ میکھلی ۔نظام ۔ کتنگری ۔ نبینا۔ ساز ۔ دشٹ ۔نگاہ شفقت ۔ ناد ۔ کلام کی دھن ۔ گگن ۔ ذہن دسواں دوآ ۔ سنگھیا ۔ دایں سر۔ اڑا ۔ چنگھیا۔ باہیں سر۔ پنگلا ۔ کنک۔ سونا ۔ کلس ۔ گھڑا ۔ رس ۔پر لطف رس ۔ پرکھو تم ۔ بلند پایہ انسان ۔ رام رسائن۔ الہٰی نام کا خمار، ماتا۔ مست ، انوکھی ۔ تین بہون ۔ تینوں عالم
ترجمہ:
اے پنڈت اس حیران کن خدا کا ایک تماشہ سن جو اب بیان نہیں ہو سکتا ۔ جس نے فرشتے ،فرشتوں کےخادم اور ان کے گانے والے کو اپنی محبت کی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ اور تینوں جہانوں کو اس میں باندھ رکھا ہے ۔جس کی نگاہ شفقت سے کلام الہٰی میں محبت پیدا ہوتی ہے اس خدا کی ستائش کا سنگیت میرے دل میں بچ رہا ہے ۔ میرا ذہن ایک بھبھٹی کی مانند ہو گیا ہے مراد میری ہوش اور دھیان اس میں لگاہوا ہے ۔ برے کاموں سے پرہیز ایسے ہے جیسے شراب کی بھٹی میں فالتوپانی نکالنے کی نلکی ۔ اور نیک اوصاف پر عمل پیرا ہونا شراب نکالنے کی نلی ہے ۔ اور پاک دل سونے کا کلس یا برتن اب میں نے اپنے دل کو سونے کے برتن کی مانند پاک بنا لیا ہے ۔ اس میں ایک نہایت پاک دھارا بہہ رہی ہے ۔ اور تمام لزتوں سے بہتر لزت پائی جا رہی ہے (2)ایک انوکھی اور نرالی بات یہ ہے کہ میں نے اپنے سانسوں کو پیالہ بنا رکھا ہے ۔ مراد اب میں ہر سانس خدا کو یاد کرتا ہوں ۔ اور تینوں عالموں میں واحد خدا ہی بستا نظر آرہا ہے اب بتاؤ کہ اس سے بڑا کون ہے ۔ (3) ایسے اس خدا کی بابت پہچان اور علم ہو گیا ہے ۔ اے الہٰی پیار سے لبریز سرشار کبیر کہہ۔ کہ تمام عالم بھول میں ہے ۔ رحمت خدا سے میرا دل الہٰی محبت کے لطف سے سر مست ہو گیا ہے
مدعا کلام مرشد پر عمل کرنے پر خدا سے محبت ہو جاتی ہے ۔ اور اسکی لزت و لطف بیان نہیں ہو سکتا مگر دل و ذہن اسکی لذت اسے محظوظ رہتے ہیں ۔ اور ہر لمحہ اسکی یاد میں گذرتا ہے اور خدا ہی اسے سب سے بڑا نظر آتا ہے اور دل اسکی محبت میں مست رہتا ہے ۔

س٘ریِراگ بانھیِ بھگت بینھیِ جیِءُ کیِ ॥
پہرِیا کےَ گھرِ گاۄنھا ॥
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
رے نر گربھ کُنّڈل جب آچھت اُردھ دھِیان لِۄ لاگا ॥
مِرتک پِنّڈِ پد مد نا اہِنِسِ ایکُ اگِیانُ سُ ناگا ॥
تے دِن سنّملُ کسٹ مہا دُکھ اب چِتُ ادھِک پسارِیا ॥
گربھ چھوڈِ م٘رِت منّڈل آئِیا تءُ نرہرِ منہُ بِسارِیا ॥੧॥
پھِرِ پچھُتاۄہِگا موُڑِیا توُنّ کۄن کُمتِ بھ٘رمِ لاگا ॥
چیتِ رامُ ناہیِ جم پُرِ جاہِگا جنُ بِچرےَ انرادھا ॥੧॥ رہاءُ ॥
بال بِنود چِنّد رس لاگا کھِنُ کھِنُ موہِ بِیاپےَ ॥
رسُ مِسُ میدھُ انّم٘رِتُ بِکھُ چاکھیِ تءُ پنّچ پ٘رگٹ سنّتاپےَ ॥
جپُ تپُ سنّجمُ چھوڈِ سُک٘رِت متِ رام نامُ ن ارادھِیا ॥
اُچھلِیا کامُ کال متِ لاگیِ تءُ آنِ سکتِ گلِ باںدھِیا ॥੨॥
ترُنھ تیجُ پر ت٘رِء مُکھُ جوہہِ سرُ اپسرُ ن پچھانھِیا ॥
اُنمت کامِ مہا بِکھُ بھوُلےَ پاپُ پُنّنُ ن پچھانِیا ॥
سُت سنّپتِ دیکھِ اِہُ منُ گربِیا رامُ رِدےَ تے کھوئِیا ॥
اۄر مرت مائِیا منُ تولے تءُ بھگ مُکھِ جنمُ ۄِگوئِیا ॥੩॥
پُنّڈر کیس کُسم تے دھئُلے سپت پاتال کیِ بانھیِ ॥
لوچن س٘رمہِ بُدھِ بل ناٹھیِ تا کامُ پۄسِ مادھانھیِ ॥
تا تے بِکھےَ بھئیِ متِ پاۄسِ کائِیا کملُ کُملانھا ॥
اۄگتِ بانھِ چھوڈِ م٘رِت منّڈلِ تءُ پاچھےَ پچھُتانھا ॥੪॥
نِکُٹیِ دیہ دیکھِ دھُنِ اُپجےَ مان کرت نہیِ بوُجھےَ ॥
لالچُ کرےَ جیِۄن پد کارن لوچن کچھوُ ن سوُجھےَ ॥
تھاکا تیجُ اُڈِیا منُ پنّکھیِ گھرِ آݩگِن ن سُکھائیِ ॥
بینھیِ کہےَ سُنہُ رے بھگتہُ مرن مُکتِ کِنِ پائیِ ॥੫॥
لفظی معنی:
۔ گربھ کنڈل ۔ پیٹ ۔ (2) اردھ ۔ الٹا ۔ (2) آچھت ۔ ہوتا تھا (4) لو ۔ ہوش ۔ (5) مرتک پنڈ۔ میٹی کے گولے ۔(6) پد۔ہستی ۔ (7) مد۔ مستی ۔ تکبر ۔(8) اہینس ۔ دن رات ۔ (9) اگیان ۔ لا علمی (۔0( سنا گا۔ بلانا غر ۔ خدا میں دھیان تھا ۔ تے دن سمل ۔ وہ دن یاد کر ۔ کشٹ ۔ مہاں دکھ ۔ اس بھاری عذاب کو (۔3) ادھک ۔ بہت زیادہ ۔ (۔4) میرت منڈل ۔ اس عالم میں (۔5) لزہر۔ خدا ۔ موڑھیا۔ اے جاہل ۔ کون کمت ۔ کونی کم عقلی ۔ نادانی ۔بھرم ۔ شک ۔بھول ۔۔ چیت۔ یاد کر ۔ ناہی ۔ ودنہ ۔ انرادھا ۔ ضدی ۔ اونود۔ کھیل ۔ چند ۔دھیان ۔ میدھ ۔ پاک ۔ (4) وکھ ۔ زہر ۔ پرگت۔ ظاہر (6) سنتاے ۔ تنگ کرنا (7) سنجم۔ جسمانی ضبط ۔ سکرت۔ مت ۔ نیک خایال ۔ کال۔ سیاہ ۔ نرلج۔ بے حیا ۔ سیکرت مت۔ نیک خیال ۔ اچھی سمجھ ۔ (2) ترن۔ جوانی 2 تیج۔ طاقت 3 تریہ مکھ۔ عورت کا منہ ۔ چہرہ ۔ جوہے طاقتا ہے ۔ سر ۔اپسر ۔ نیک و بد
ترجمہ:
اے انسان جب تو ماں کے پیٹ میں تھا تب تیرا دھیان خدا میں تھا ۔ جسمانی ہستی کا تجھے غرور نہ تھا ۔ روز و شب باد خدا میں مصروف تھا ۔ اور تجھ میں لا علمی نہیں تھی ۔ وہ دن یاد کر جب (ماں کے پیٹ میں ) بھاری عذاب اٹھا رہا تھا ۔ مگر اب بہت زیادہ پھیلا رکھا ہے ۔ ماں کے پیٹ سے جب سے دنیا میں آیا ہے ۔ اسی وقت سے خدا کو بھلا رکھا ہے ۔۔
تو کونسے وہم و گمان اور بے سمجھی میں لگا ہوا ہے ۔ اسی وقت سے خدا کو بھلا رکھا ہے ۔ اے نادان پھر پچھتائیگا ۔ خدا کو یاد کر ورنہ دوزخ میں جانا ہوگا ۔ جیسے کوئی ضدی پھرتا ہے ۔۔پہلے پجپن کے کھیل کود میں دھیان لگاتا رہا اور اسکا لطف لیتا رہا ۔ اور پل پل اسکی محبت میں گرفتار رہا ۔ اب دنیاوی دولت کو جو ایک زہر ہے اسے آب حیات سمجھ کر اسے نوش کرتا ہے ۔ تب تجھے پانچوں خیالات بد۔ شہوت ۔غصہ ۔ لالچ ۔محبت اور تکبر میں ملوث ہے اور نیک خیالی ۔جپتپ سنجم اور نیک اعمال اور سوچ چھوڑ دی ہے ۔ اور خدا کو یاد نہیں کرتا ۔ اور شہوت تیرے دل میں ٹھاٹھنں مار رہی ہے ۔ اور بدیوں میں مصرف ہے ۔ لہذا اب شادی کروالی ۔ (2) جوانی کا جوش ہے بیگانی عورتوں کی طرف بڑی نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔ نیک و بد وقت کا دل میں خیال نہیں اور شہوت میں مستہے اے دولت کی بھول میں مست انسان کیا تجھے یہ سمجھ نہیں کہ اچھا کیا ہے ۔ برا کیا ۔ دولت اور اولاد کو دیکھ کر مغرور ہو رہا ہے ۔ اور خدا کو دل سے بھلا بیٹھا ہے ۔ اور رشتہ داروں کی موت پر دل میں اندازے لگاتا ہے ۔ کہ میرے حصے کتنی دولت آئیگی ۔ زبان اور شہوت کے لطف میں اپنی زندگی گنوارہا ہے ۔(3)
اے انسان بال سفید کنول کے پھول سے بھی زیادہ سفید ہو گئے ہیں آواز مدھم ہو گئی ہے آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے دماغ میں شاطرانہ چالیں نہیں رہیں ۔ عقل کمزور پڑ گئی تب بھی شہوت کی لہر تیرے دل میں ہے ۔ تب بھی دل میں برے خیالوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ جسم مر جھا گیا ہے ۔ اس عالم میں آکے الہٰی صفت صلاح چھوڑ رکھی ہے ۔ بعد میں پچھتائیگا ۔
چھوٹے چھوٹے بچے دیکھ کر دل میں محبت پیدا ہوتی ہے غرور کرتا ہے مگر سمجھتا نہیں ۔ بینائی کمزور ہو چکی ہے ۔ طاقت ختم ہو چکی تاہم مزید جینے کا لالچ ہے ۔ روح پرواز کر نے پر لاش صحن میں پڑی اچھی نہیں لگتی ۔ بینی صاحب فرماتے ہیں کہ اے پارساؤں ۔ اگر دوران حیات اگر یہی حال رہا تو مرنے کے بعد نجات کا کیا فائدہ اور کیسے ملی ہے ۔

سِریِراگُ ॥
توہیِ موہیِ موہیِ توہیِ انّترُ کیَسا ॥
کنک کٹِک جل ترنّگ جیَسا ॥੧॥
جءُ پےَ ہم ن پاپ کرنّتا اہے اننّتا ॥
پتِت پاۄن نامُ کیَسے ہُنّتا ॥੧॥ رہاءُ ॥
تُم٘ہ٘ہ جُ نائِک آچھہُ انّترجامیِ ॥
پ٘ربھ تے جنُ جانیِجےَ جن تے سُیامیِ ॥੨॥
سریِرُ آرادھےَ مو کءُ بیِچارُ دیہوُ ॥
رۄِداس سم دل سمجھاۄےَ کوئوُ ॥੩॥
لفظی معنی:
۔ توہی موہی ۔ تیرے اور میرے درمیان ۔ (2) موہی توہی ۔ میرے اور تیرے درمیان ۔ (3) انتر ۔فرق ۔(4) کنک ۔ سونا ۔(5) کٹک ۔زیور ۔ جل۔ پانی ۔ ترنگ۔ پانی کی لہر ۔۔ جوؤپے۔ جب ۔ (2) نر کرنتا ۔ نہیں کرتا ۔ (3) اہے اننتا ۔ اے بیشمار ۔ پتت۔ ناپاک (5) پاون ۔ پاک ۔ پتت پاون ناپاک کو پاک بنانے والے ۔ کیے نتا ۔کیے ہوتا ۔ نایک۔رہنما ۔ (2) جانیجے پہچاننا ۔ رادھے ۔ ریاضت کرنا ۔ ویچار ۔سمجھ ۔سوجھ (3) سمررل۔سب سے ایک سا برتاؤ
ترجمہ:
میرے اور تیرے اور تیرے اور میرے درمیان کونسا فرق ہے ۔ سونے اور سونے کے زیور،پانی اور کی لہر میں جیسا
اے لا محدود خدا اگر انسان گناہ نہ کرے تو تیرا نام جو ناپاک کو پاک بنانے والا ہے کیسے ہوتا ۔۔ اے دلی راز جاننے والے خدا آپ جو ہمارے آقا ہو ۔ آقا کو دیکھ کر یہ پہچان ہو جاتی ہے کہ اس کا خادام کیسا ہوگا ۔ اور خادم سے آقا کی پہچان ہو جاتی ہے ۔(2) اس لئے اے خدا مجھے یہ علم عنایت فرما۔ کہ جب تک میں قائم ہوں تب تک تجھے یاد کروں ۔ اے روید اس کو کوئی خدا رسیدہ پاکدامن یہ سمجھاوے کہ اے خدا تو ہر جگہ موجود ہے ۔
مدعا
دراصل جانداروں اور خدا میں کوئی فرق نہیں وہ ہر جگہ موجود ہے ۔ انسان اسے بھلا کر گناہوں میں ملوث ہوکر اس سے جدا دکھائی دینے لگتا ہے ۔ اخر وہ خود ہی کسی خدا رسیدہ مرشد سے ملا کر بھولے ہوئے کو اپنا آپ دیدار کراتا ہے

راگُ ماجھ چئُپدے گھرُ ੧ مہلا ੪
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ مےَ ہرِ منِ بھائِیا ॥
ۄڈبھاگیِ ہرِ نامُ دھِیائِیا ॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ نام سِدھِ پائیِ کو ۄِرلا گُرمتِ چلےَ جیِءُ ॥੧॥
مےَ ہرِ ہرِ کھرچُ لئِیا بنّنِ پلےَ ॥
میرا پ٘رانھ سکھائیِ سدا نالِ چلےَ ॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ نامُ دِڑائِیا ہرِ نِہچلُ ہرِ دھنُ پلےَ جیِءُ ॥੨॥
ہرِ ہرِ سجنھُ میرا پ٘ریِتمُ رائِیا ॥
کوئیِ آنھِ مِلاۄےَ میرے پ٘رانھ جیِۄائِیا ॥
ہءُ رہِ ن سکا بِنُ دیکھے پ٘ریِتما مےَ نیِرُ ۄہے ۄہِ چلےَ جیِءُ ॥੩॥
ستِگُرُ مِت٘رُ میرا بال سکھائیِ ॥
ہءُ رہِ ن سکا بِنُ دیکھے میریِ مائیِ ॥
ہرِ جیِءُ ک٘رِپا کرہُ گُرُ میلہُ جن نانک ہرِ دھنُ پلےَ جیِءُ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
۔ سدھ ۔ کامیابی ۔پران ۔ زندگی ۔ (3) نہچل ۔ مستقل ۔ (3) رایا ۔راجہ ۔ بادشاہ ۔ پران جیوئیا ۔ زندگی عنایت کرنیوالا ۔نیر۔ پانی ، بال سکھائی ۔بچپن کا دوست ۔ مددگار
ترجمہ:
الہٰی نام مجھے پیارا لگ رہا ہے ۔ بلند قسمت سے خدا کو یاد کیا ۔کامل مرشد سے الہٰی نام کی کامیابی حاصل ہوئی کوئی ہی سبق مرشد پر کار بند رہتا ہے ۔۔ میں الہٰی نام اپنی زندگی کے سفر کے لئے بطور خرچ اپنے دامن میں باندھ لیا ہے ۔ جو میرا زندگی کا ساتھی بن گیا ہے ۔کامل مرشد نے الہٰی نام مجھے پکا کرادیا اب الہٰی نام مستقل طور پر میری دولت ہو گیا ۔ خدا میرا حقیقی دوست ہے اور پیارا شہنساہ ہے ۔ اور کوئی مجھے ملا دے جو مجھےپکا کرا دیا اب الہٰی نام مستقل طور پر میری دولت ہو گیا ۔ خدا میرا حقیقی دوست ہے اور پیارا شہنشاہ ہے ۔ اور کوئی مجھےملادے جو مجھے میری زندگانی بخشنے والا ہے ۔ اے میرے پیارے دیدار کے بغیر رہ نہیں سکتا ۔ میری آنکھو سے آنسو بیہہ رہے ہیں ۔ سچا مرشد میرا بچپن کا ساتھی ہے ۔ اے میری ماں بغیر دیدار رہنا محال ہے ۔اے خدا کرم و عنایت سے مرشد سے ملاپ کراؤ ۔ خادام نانک اسکے الہٰی نام دامن میں ہے

ماجھ مہلا ੪॥
مدھُسوُدن میرے من تن پ٘رانا ॥
ہءُ ہرِ بِنُ دوُجا اۄرُ ن جانا ॥
کوئیِ سجنھُ سنّتُ مِلےَ ۄڈبھاگیِ مےَ ہرِ پ٘ربھُ پِیارا دسےَ جیِءُ ॥੧॥
ہءُ منُ تنُ کھوجیِ بھالِ بھالائیِ ॥
کِءُ پِیارا پ٘ریِتمُ مِلےَ میریِ مائیِ ॥
مِلِ ستسنّگتِ کھوجُ دسائیِ ۄِچِ سنّگتِ ہرِ پ٘ربھُ ۄسےَ جیِءُ ॥੨॥
میرا پِیارا پ٘ریِتمُ ستِگُرُ رکھۄالا ॥
ہم بارِک دیِن کرہُ پ٘رتِپالا ॥
میرا مات پِتا گُرُ ستِگُرُ پوُرا گُر جل مِلِ کملُ ۄِگسےَ جیِءُ ॥੩॥
مےَ بِنُ گُر دیکھے نیِد ن آۄےَ ॥
میرے من تنِ ۄیدن گُر بِرہُ لگاۄےَ ॥
ہرِ ہرِ دئِیا کرہُ گُرُ میلہُ جن نانک گُر مِلِ رہسےَ جیِءُ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
۔ مدھ سودن۔ خدا (2) من۔ تن ۔پران۔ دل ۔ بدن۔ روح ۔(3) وڈھاگ۔ بلند قسمت ۔ کہوجی ۔ تلاش کرنیوا ۔ حقیقت کو سمجہنے کی کوشش کرنیوالا ۔ (2) بھالائی ۔ تلاش (3) وسائی ۔پتہ کرنا۔ دین۔ غریب ۔عاجز ۔ وگسے ۔ خوش ہونا (3) ۔ نیند۔ سونا ۔ غفلت ۔ (4) ویدن ۔ درد ۔ (3) برہو۔ جدائی ۔ رہسے۔خوش ہونا ۔(4)
ترجمہ:
خدا میرا دل و جان اور زندگی ہے ۔ میں خدا بغیر کسی دوسروں کو نہیں جانتا ۔ کوئی دوست سنت بلدنت قسمت سے ملے ۔ جو مجھے پیارےخدا کی بابت بتائے ۔ میں دل و جان سے اسکا متلاشی ہوں اور تلاش کرتا ہوں ۔ اے میری ماں مجھے کیسے پیارا ملے ۔ صحبت و قربت پارسایاں سے دریافت کرتا ہوں کیونکہ خدا پاکدامن پارساؤں کی صحبت میں خدا بستا ہے ۔ (2) میرا پیارا سچا مرشد حفاظت کرنیوالا ہے ۔ اور ہم غریب عاجز بچے ہیں آپ پرورش کرؤ ۔میں کامل سچا مرشد میری ماں اور باپ ہے ایسے میں ایسا خوش ہوتا ہوں ۔ جتنا پانی سے کنول کا پھول کھلتا ہے ۔(3) بغیر دیدار مرشد نیند نہیں آتی ۔ میرے دل و جان میں جدائی کا درد ہے ۔ اے خدا اپنی کرم و عنایت سے خدا مرشد سے ملایئے ۔ خادام نانک کو مرشد کے ملاپ سے روحانی و ذہنی خوشی ملتی ہے ۔ ۔

ماجھ مہلا ੪॥
ہرِ گُنھ پڑیِئےَ ہرِ گُنھ گُنھیِئےَ ॥
ہرِ ہرِ نام کتھا نِت سُنھیِئےَ ॥
مِلِ ستسنّگتِ ہرِ گُنھ گاۓ جگُ بھئُجلُ دُترُ تریِئےَ جیِءُ ॥੧॥
آءُ سکھیِ ہرِ میلُ کریہا ॥
میرے پ٘ریِتم کا مےَ دےءِ سنیہا ॥
میرا مِت٘رُ سکھا سو پ٘ریِتمُ بھائیِ مےَ دسے ہرِ نرہریِئےَ جیِءُ ॥੨॥
میریِ بیدن ہرِ گُرُ پوُرا جانھےَ ॥
ہءُ رہِ ن سکا بِنُ نام ۄکھانھے ॥
مےَ ائُکھدھُ منّت٘رُ دیِجےَ گُر پوُرے مےَ ہرِ ہرِ نامِ اُدھریِئےَ جیِءُ ॥੩॥
ہم چات٘رِک دیِن ستِگُر سرنھائیِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ بوُنّد مُکھِ پائیِ ॥
ہرِ جلنِدھِ ہم جل کے میِنے جن نانک جل بِنُ مریِئےَ جیِءُ ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
۔ پڑھیئے۔ پڑھیں (2) گنیئے ۔ اسے سمجھیں ۔ (3) بھوجل۔ عالم (4) تر ۔ دشوار گذار ۔ (!) سکھی ۔ ساتھی (2) ہرمیل۔ الہٰی ۔ ملاپ کرا ۔ (3) نریریئے۔ خدا ۔(2) بیدن۔ جدائی کا درد ۔(3) وکھانے ۔ بیان کرنا ۔ (3) اوکھد۔ دوائی ۔(4) ادھریئے ۔ ادھار۔ اسرا ۔کامیابی ۔ (3) چاترک پیپہا ۔ (4) دین ۔ عاجز ۔ (5) جل ندھ۔ سمند ۔ (6) مینا ۔مچھلی
ترجمہ:
آؤ ساتھیو۔ الہٰی نام پڑھیں۔ اور اس کی سوچ وچار کریں اسکے اوصاف کی اور الہٰی کہانی ہمیشہ سنیں ۔ اور پاکدامن پارساؤں کی صحبت و قربت میں الہٰی اوصاف کی صفت صلاح کریں ۔ اور اس دنیاوی سمندر پر عبور حآصل کریں ۔ جس سے پار ہونا نہایت دشوار ہے ۔۔ اے سچے ساتھی دوست ۔ آؤ خداسے ملاپ کریں ۔ جو مجھے میرے پیارا کا پیغام دے ۔ وہی میرا دوست ہے ساتھی و بھائی ہے ۔ جو مجھے اسکا ٹھکانہ بتائے ۔(2) میرے درد کو کامل مرشد ہی جانتا ہے ۔ جنیں خدا کا نام لئے بغیر رہ نہیں سکتا ۔مجھے اپنا سبق دیجیئے ۔ جو میرے لئے ایک دوائی ہے ۔ جو میرا درد جدائی دور کر سکتا ہے ۔ اے کامل مرشد یہ نایاب سبق دیجیئے ۔ الہٰی نام سے ہی مجھے آرام میلگا ۔ (3)
ہم غریب ناتواں پپیہوں کی مانند نہیں سچے مرشد کی پناہ لی ہے ۔ اور الہٰی نام کی آسمانی بوند منہہ میں ڈالی ہے ۔ خدا ایک پانی کا سمندر ہے اور ہم پانی کی مچھلیاں ۔ خادام نانک اس نام جو آب خیات ہے کے بغیر ہماری روحانی موت ہو جائیگی ۔

ماجھ مہلا ੪॥
ہرِ جن سنّت مِلہُ میرے بھائیِ ॥
میرا ہرِ پ٘ربھُ دسہُ مےَ بھُکھ لگائیِ ॥
میریِ سردھا پوُرِ جگجیِۄن داتے مِلِ ہرِ درسنِ منُ بھیِجےَ جیِءُ ॥੧॥
مِلِ ستسنّگِ بولیِ ہرِ بانھیِ ॥
ہرِ ہرِ کتھا میرےَ منِ بھانھیِ ॥
ہرِ ہرِ انّم٘رِتُ ہرِ منِ بھاۄےَ مِلِ ستِگُر انّم٘رِتُ پیِجےَ جیِءُ ॥੨॥
ۄڈبھاگیِ ہرِ سنّگتِ پاۄہِ ॥
بھاگہیِن بھ٘رمِ چوٹا کھاۄہِ ॥
بِنُ بھاگا ستسنّگُ ن لبھےَ بِنُ سنّگتِ میَلُ بھریِجےَ جیِءُ ॥੩॥
مےَ آءِ مِلہُ جگجیِۄن پِیارے ॥
ہرِ ہرِ نامُ دئِیا منِ دھارے ॥
گُرمتِ نامُ میِٹھا منِ بھائِیا جن نانک نامِ منُ بھیِجےَ جیِءُ ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
بھیجے۔ میری خواہش پوری ہو جائے ۔ بھوک باقی نہ رہے ۔(2) میری سردھا ۔میرا یقین ۔ (3) میل بھریجے ۔ زندگی کا ناپاک ہونا ۔ (4) بھیجے ۔ تسلی
ترجمہ:
اے الہٰی پاکدامن پارساؤ میرے بھائیوں ملا مجھے میرے خدا کی بابت بتاؤ ۔ میرے دل میں اسکی بھوک ہے ۔ اے عالم کو زندگیاں عنایت کرنے والے سختی داتے ۔ دیدار الہٰی سےمیری دل کو تسکیل ملیگی ۔۔ صحبت و قربت پارسایاں میں الہٰی صفت صلاح کہوں ۔ میرے دل کو الہٰی کہانی مجھے میرے دل کو اچھی لگتی ہے ۔ پیاری لگتی ہے ۔ الہٰی نام سچ ۔حق و حقیقت کا آب حیات ہر دل کو اچھا لگتا ہے ۔ یہ آب حیات سچے مرشد کے ملاپسے ہی پیا جا سکتا ہے ۔(2) الہٰی ساتھ اور بلند قسمت سے اور سچے ساتھی ملتے ہیں ۔ اور بد قسمت وہم و گمان میں سزا پاتے ہیں ۔ خوش قسمت کے بغیر صحبت و قربت پارسایاں الہٰی نہیں ملتی اور نیک ساتھیوں کے ساتھ بغیر صحبت کے انسانی زندگی ناپاک ہوجاتی ہے ۔(3) اے زندگیاں بخشنے والے عالم کی زندگی آکے ملو اور اپنی رحمت کے صدقے مجھے نام دیجئے ۔ سبق مرشد میرے دل کو میھٹا اور پیارا لگتا ہے ۔ خادام نانک کا دل نام سچ حق و حقیقت سے تر بستر ہوگیا ہے ۔

ماجھ مہلا ੪॥
ہرِ گُر گِیانُ ہرِ رسُ ہرِ پائِیا ॥
منُ ہرِ رنّگِ راتا ہرِ رسُ پیِیائِیا ॥
ہرِ ہرِ نامُ مُکھِ ہرِ ہرِ بولیِ منُ ہرِ رسِ ٹُلِ ٹُلِ پئُدا جیِءُ ॥੧॥
آۄہُ سنّت مےَ گلِ میلائیِئےَ ॥
میرے پ٘ریِتم کیِ مےَ کتھا سُنھائیِئےَ ॥
ہرِ کے سنّت مِلہُ منُ دیۄا جو گُربانھیِ مُکھِ چئُدا جیِءُ ॥੨॥
ۄڈبھاگیِ ہرِ سنّتُ مِلائِیا ॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ رسُ مُکھِ پائِیا ॥
بھاگہیِن ستِگُرُ نہیِ پائِیا منمُکھُ گربھ جوُنیِ نِتِ پئُدا جیِءُ ॥੩॥
آپِ دئِیالِ دئِیا پ٘ربھِ دھاریِ ॥
ملُ ہئُمےَ بِکھِیا سبھ نِۄاریِ ॥
نانک ہٹ پٹنھ ۄِچِ کاںئِیا ہرِ لیَݩدے گُرمُکھِ سئُدا جیِءُ ॥੪॥੫॥
لفظی معنی:
۔ گرگیان ۔ سبق علم ۔مرشد ۔(2) ہررس۔ الہٰی لطف ۔ (3) ہر رنگ ۔الہٰی پریم پیار ۔ (4) ٹل ٹل۔ اچھل ۔ اچھل ۔۔ مکھ چوؤدا جیو ۔ زبان سے بولتا ہوں ۔(2) بھاگ ہین۔ بد قسمت ۔(2) گربھ جونی ۔ غرور بھری زندگی ۔(3) مل ۔ناپا کیزگی (2) دکھیا۔ زہر ۔(3) نواری ۔ دور کی ۔(4) ہٹ پٹن ۔ دکانیں اور بازار ۔ کائیا ۔ جسم ۔ بدن۔ ۔ (2) گورمکھ ۔ مرید مرشد
ترجمہ:
خدا و مرشد کا سبق و علم کا لطف خدا نے دیا ہے ۔ جس سے دل الہٰی پریم سے متاثر ہو گیا ہے ۔ اور الہٰی نام کا لطف لیتا ہے ۔ اس لئے خدا ہی زبان سے کہتا ہوں ۔ دل الہٰی لطف سے مخمور ہو گیا ہے ۔۔ آؤ عارفان الہٰی مجھے اپنے گلے لگاؤ ۔ اور مجھے میرے پیارے خدا کے قصے کہانیاں بتاؤاور سناؤ ۔ اے عارفان الہٰی جو الہٰی کلام زبان سے کہتا ہے اسے میں اپنا من اسکے حوالے کردو ۔ (2) بلند قسمت سے الہٰی عارف سے میرا ملاپ ہوا ۔ اور کامل مرشد نے الہٰی نام کا لطف میرے منہ میں ڈالا ۔ بد قسمتوں کو سچا مرشد نہیں ملتا ۔ خودی پسند ہر روز مغرور رہتا ہے ۔(3) خدا مہربان ہے اور مہربانی کرتا ہے ۔ اس نے دولت کی تمام ناپاکیزگی دور کر دی ۔ اے نانک جو انسان صحبت مرشد میں رہتے ہیں وہ اپنے اس جسم کے سنہر اور بازار و دکانوں سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت کے سودے کی خریداری کرتے ہیں ۔

ماجھ مہلا ੪॥
ہءُ گُنھ گوۄِنّد ہرِ نامُ دھِیائیِ ॥
مِلِ سنّگتِ منِ نامُ ۄسائیِ ॥
ہرِ پ٘ربھ اگم اگوچر سُیامیِ مِلِ ستِگُر ہرِ رسُ کیِچےَ جیِءُ ॥੧॥
دھنُ دھنُ ہرِ جن جِنِ ہرِ پ٘ربھُ جاتا ॥
جاءِ پُچھا جن ہرِ کیِ باتا ॥
پاۄ ملوۄا ملِ ملِ دھوۄا مِلِ ہرِ جن ہرِ رسُ پیِچےَ جیِءُ ॥੨॥
ستِگُر داتےَ نامُ دِڑائِیا ॥
ۄڈبھاگیِ گُر درسنُ پائِیا ॥
انّم٘رِت رسُ سچُ انّم٘رِتُ بولیِ گُرِ پوُرےَ انّم٘رِتُ لیِچےَ جیِءُ ॥੩॥
ہرِ ستسنّگتِ ست پُرکھُ مِلائیِئےَ ॥
مِلِ ستسنّگتِ ہرِ نامُ دھِیائیِئےَ ॥
نانک ہرِ کتھا سُنھیِ مُکھِ بولیِ گُرمتِ ہرِ نامِ پریِچےَ جیِءُ ॥੪॥੬॥
لفظی معنی:
۔ اگم ۔ جہاں اور جس تک انسانی رسائی ناممکن ہے ۔ گوچر۔ جو بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ سوآمی ۔ آقا ۔مالک ۔ پاو ۔ پاؤں ۔ پیچے ۔ پیٹا جائے ۔ پیسن ۔ (2) دڑائیا ۔ مکمل طور پر سمجھایا ۔ (3) پر یچےمتاثر ہوا ۔ جان پہچان
ترجمہ:
میں الہٰی صفات اور الہٰی نام کی ریاض کروں اور صحبت و قربت عارفان نام دل میں بساؤں خدا انسانی رسائی اور بیان سے بعید ہے ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے اے آقا تیرے نام کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے ۔ ۔ وہ انسان خوش قسمت ہیں ۔جنہوں نے خدا کو پہچان لیا ہے ۔ میں ان سے الہٰی صفات کی باتیں پوچھوں ۔ انکے پاؤ ں مل مل کے صاف کرؤں ۔ الہٰی خادموں کے ملاپ سے ہی الہٰی نام کا لطف اُٹھایا جا سکتا ہے ۔ (2) سخی مہربان سچے مرشد نے نام سمجایا ۔ بلند قسمت سے مرشد کا دیدار ہوا ۔ اب میں روحانی زندگی عنایت کرنیوالا نام رس کا لطف لیتا ہوں ۔ اور لافناہ انمرت نام بیان کرتا ہوں ۔ کامل مرشد کی وساطت سے ہی یہ آب حیات لیا جاسکتا ہے ۔ (3) (ہرست سنگت) اے خدا مجھے صحبت و قربت عارفاں ملا صحبت و قربت عارفاں ہی میں الہٰی نام کی ریاض ہو سکتی ہے ۔ اے نانک الہٰی صفت صلاح سنوں اور زبان سے اس میں مخمور رہوں ۔(4)

ماجھ مہلا ੪॥
آۄہُ بھیَنھے تُسیِ مِلہُ پِیاریِیا ॥
جو میرا پ٘ریِتمُ دسے تِس کےَ ہءُ ۄاریِیا ॥
مِلِ ستسنّگتِ لدھا ہرِ سجنھُ ہءُ ستِگُر ۄِٹہُ گھُمائیِیا جیِءُ ॥੧॥
جہ جہ دیکھا تہ تہ سُیامیِ ॥
توُ گھٹِ گھٹِ رۄِیا انّترجامیِ ॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ نالِ دِکھالِیا ہءُ ستِگُر ۄِٹہُ سد ۄارِیا جیِءُ ॥੨॥
ایکو پۄنھُ ماٹیِ سبھ ایکا سبھ ایکا جوتِ سبائیِیا ॥
سبھ اِکا جوتِ ۄرتےَ بھِنِ بھِنِ ن رلئیِ کِسےَ دیِ رلائیِیا ॥
گُر پرسادیِ اِکُ ندریِ آئِیا ہءُ ستِگُر ۄِٹہُ ۄتائِیا جیِءُ ॥੩॥
جنُ نانکُ بولےَ انّم٘رِت بانھیِ ॥
گُرسِکھاں کےَ منِ پِیاریِ بھانھیِ ॥
اُپدیسُ کرے گُرُ ستِگُرُ پوُرا گُرُ ستِگُرُ پرئُپکاریِیا جیِءُ ॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
۔ ست سنگت۔ سچے ساتھی (2) واریا ۔ صدقے ۔ (3) گھمایا ۔ قربان ۔۔ سوآمی ۔آقا ۔مالک ۔ (2) گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں ۔(3) اتنتر جامی ۔دلی راز جاننے والا (4) گر پورے ۔ کامل مرشد ۔(5) وتایا ۔ قربان ۔(3) انمرت۔ آب حیات ۔ (2) پراپکاری ۔ دوسروں کے ساتھ بھالئی کرنیوالا ۔(4)
ترجمہ:
آؤ سچے ساتھیوں مل بیٹھیں ۔ جو پیارے کو بتائے ۔ میں اس پر قربان جاؤں میں نے صحبت عارفان میں خدا دوست پا لیا ہے ۔ میں مرشد پر قربان ہوں ۔ جدھر جاتی ہے نظر میری وہیں دیکھتا ہوں خدا ۔ ہر دل میں بستا ہے رازداں کامل مرشد نے ساتھ بستا دکھا دیا ۔ قربان ہوں سچے مرشد پر ۔(2) ایک ہوا اور ایک ہی مٹی سبھ میں نور وہی ہے ۔ جدا جدا جو دیتے ہیں دیکھائی سبھ میں نور وہی ہے ۔ (مگر) گور نور وہی ہے سبھ میں تاہم ہیں جدا جدا ۔رحمت مرشد سے دیدار ہوا خدا واحدا کا ۔ قربان ہوں اپنے مرشد پر ۔(3) خادم نانک ذکر کرتا ہے کلام آب حیات کا جو مریدان مرشد کے دل کا پیارا ہے ۔ کامل مرشد اور سچا مرشد سبق دیتا ہے ۔ جو بھلائی کمانے والا ہے ۔(4)

ست چئُپدے مہلے چئُتھے کے ॥
ماجھ مہلا ੫ چئُپدے گھرُ ੧॥
میرا من لوچےَ گُر درسن تائیِ ॥
بِلپ کرے چات٘رِک کیِ نِیائیِ ॥
ت٘رِکھا ن اُترےَ ساںتِ ن آۄےَ بِنُ درسن سنّت پِیارے جیِءُ ॥੧॥
ہءُ گھولیِ جیِءُ گھولِ گھُمائیِ گُر درسن سنّت پِیارے جیِءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تیرا مُکھُ سُہاۄا جیِءُ سہج دھُنِ بانھیِ ॥
چِرُ ہویا دیکھے سارِنّگپانھیِ ॥
دھنّنُ سُ دیسُ جہا توُنّ ۄسِیا میرے سجنھ میِت مُرارے جیِءُ ॥੨॥
ہءُ گھولیِ ہءُ گھولِ گھُمائیِ گُر سجنھ میِت مُرارے جیِءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِک گھڑیِ ن مِلتے تا کلِجُگُ ہوتا ॥
ہُنھِ کدِ مِلیِئےَ پ٘رِء تُدھُ بھگۄنّتا ॥
موہِ ریَنھِ ن ۄِہاۄےَ نیِد ن آۄےَ بِنُ دیکھے گُر دربارے جیِءُ ॥੩॥
ہءُ گھولیِ جیِءُ گھولِ گھُمائیِ تِسُ سچے گُر دربارے جیِءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھاگُ ہویا گُرِ سنّتُ مِلائِیا ॥
پ٘ربھُ ابِناسیِ گھر مہِ پائِیا ॥
سیۄ کریِ پلُ چسا ن ۄِچھُڑا جن نانک داس تُمارے جیِءُ ॥੪॥
ہءُ گھولیِ جیِءُ گھولِ گھُمائیِ جن نانک داس تُمارے جیِءُ ॥ رہاءُ ॥੧॥੮॥
لفظی معنی:
۔ لوچے ۔ خواہش کرتا ہے ۔ چاہتا ہے (2) بلپ ۔ آہ و زاری ۔ (3) ترکھا ۔پیاس (4) سہج ۔ حقیقی سکون ۔ (5) سارتگ پانی ۔ خدا ۔(6) مرارے ۔ خدا ۔ (7) موہ رین نہ وہارے ۔ میری رات نہیں گذرتی ۔ (8) اوناسی ۔ لافناہ ۔ چسا ۔ تہورا وقفہ۔ گہوی ۔ صدقے قربان۔ سہاوا ۔ سوہنا خوشباش ۔ سہج۔ روحانی سکون میں ۔ بانی ۔ کلام حمد و ثناہ ۔ دھن۔ سر ۔ سارنگ پانی جسکے ہاتھ عالم کی کمان ہے ۔ کر ۔کب۔ رہن ۔رات ۔مراد زندگی کا وقت ۔ نیند ۔ مراد چین یا سکون۔ بھاگ ۔ مقدر۔ تقدیر ۔ قسمت ۔ چسا ۔تھوڑے سے وقفے کی لئے ۔
ترجمہ:
میرے دل میں دیدار مرشد کی بھاری خواہش ہے ۔ اور پپیہے کی مانند آہ و زاری ہے ۔ بغیر سنت پیارے کے نہ دیدار کی پیاس بجھتی ہے ۔ نہ دل کو تسلی ہوتی ہے ۔ میں پیارے مرشد کے دیدار پر قربان ہوں ۔ تو خوبرو ہے اور پر سکون خوش گفتار ۔ اے خدا تیرے دیدار کو کیے بڑی دیو ہو گئی ہے ۔ اے میرے پیارے خدا وہ کونسا ملک ہے ۔جہاں تیری جائے مکین ہے ۔ قربان کرتا ہوں قربان تجھ پر اے میرے پیارے خدا اے میرے پیارے خدا اگر ایک گھڑی نہیں ملتے تھے میرے لے ایک بھاری صدقہ تھا اب اے قسمت بنانے والے کب ملو گے ۔ میری نہ رات گذررتی ہے نہ نیند آتی ہے تیرے دربارکے دیدار کے بغیر ۔ (3) اے خدا تیرے سچے دربار پر قربان ہوں ۔۔ خوش قسمتی ہے میری مرشد سے ہوا ملاپ میرا ۔ اپنے اندر سے مل گیا خدا جو لافناہ ہے ۔ اے خدا تیرا خادم نانک ٹھوڑے سے وقفے کے لئے بھی نہ ہو تجھ سے جدا اور خدمت کرتا ہے ۔ قربان جاؤں تیرے خادموں پر اے خادم نانک ۔

راگُ ماجھ مہلا ੫॥
سا رُتِ سُہاۄیِ جِتُ تُدھُ سمالیِ ॥
سو کنّمُ سُہیلا جو تیریِ گھالیِ ॥
سو رِدا سُہیلا جِتُ رِدےَ توُنّ ۄُٹھا سبھنا کے داتارا جیِءُ ॥੧॥
توُنّ ساجھا ساہِبُ باپُ ہمارا ॥
نءُ نِدھِ تیرےَ اکھُٹ بھنّڈارا ॥
جِسُ توُنّ دیہِ سُ ت٘رِپتِ اگھاۄےَ سوئیِ بھگتُ تُمارا جیِءُ ॥੨॥
سبھُ کو آسےَ تیریِ بیَٹھا ॥
گھٹ گھٹ انّترِ توُنّہےَ ۄُٹھا ॥
سبھے ساجھیِۄال سدائِنِ توُنّ کِسےَ ن دِسہِ باہرا جیِءُ ॥੩॥
توُنّ آپے گُرمُکھِ مُکتِ کرائِہِ ॥
توُنّ آپے منمُکھِ جنمِ بھۄائِہِ ॥
نانک داس تیرےَ بلِہارےَ سبھُ تیرا کھیلُ دساہرا جیِءُ ॥੪॥੨॥੯॥
لفظی معنی:
۔ سمای ۔ یاد کرنا (2) سہیلا۔آرام دیہہ ۔ (3) گھالی۔ کدمت ۔ (4) ردا۔ دل من ۔ (5) وٹھا ۔ وسیا نہیں (6) داتارا۔ دینے والا ۔ صاحب ۔ آقا ۔مالک (6) نوؤندھ۔ دولت کے خزانے ۔ (3) بھنڈارا ۔ ذخیرہ ۔(4) ترپت ۔ پیاس ۔ (5) اگھاولے ۔ سیر ہوولے ۔ بھوک پیاس مٹے ۔ (2) آسے ۔ اُمیدیں (3) گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں ۔ (4) وٹھا ۔ بستا ہے (5) جھیوال ۔ حصہ دار ۔ مشترکہ ۔ شریک (6) سداین ۔کہلاتے ہیں ۔(7) باہرا۔ غیر ۔ (3) گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔(2) مکت ۔نجات ۔ (چھٹکارا ۔ آزاد (3) منھکھ ۔ مرید من (4) بھواییئے ۔ بھٹکانا ۔(5) بلہارے ۔ صدقے ۔ دساہرا ۔ ظہور پذیر ۔(4)
ترجمہ:
وہ موسم اور وقت اچھا ہے جب تو دل میں بستا ہے وہ کام جو تیرے خدمت ہے اچھا ہے ۔ وہ دل اچھا ہے جس میں تو بستا ہے ۔ اے سب کے خالق خدا ۔۔ اے خدا تو سب کا مشترکہ ہمارا باپ ہے ۔ تیرے نوخزانے مکمل طور بھرے ہوئے ہیں ۔ جو ناخم ہونیوالے ہیں ۔ جس سے تو دیتا ہے اسکی پیاس بچھا دیتا ہے ۔ وہی تیرا دلدادہ ہے ۔(2) سب کو تجھ سے ہی اُمیدیں ہیں ۔ ہر دل میں تیرا ہی نور ہے ۔ تو ہی بستا ہے ۔ سب کا تیرے ساتھ اشتراک ہے اور اشتراکیت کہلاتے ہیں ۔ کوئی غیر دکھائی نہیں دیتا ۔(3) اے خدا تو مرید مرشد کے ذریعے نجات دلاتا ہے ۔ تو خود ہی مرید من کو بھٹکاتا ہے ۔ خادم نانک قربان ہے تجھ پر سارا تیرا ظاہر کھیل اور تماشا ہے ۔

ماجھ مہلا ੫॥
انہدُ ۄاجےَ سہجِ سُہیلا ॥
سبدِ اننّد کرے سد کیلا ॥
سہج گُپھا مہِ تاڑیِ لائیِ آسنھُ اوُچ سۄارِیا جیِءُ ॥੧॥
پھِرِ گھِرِ اپُنے گ٘رِہ مہِ آئِیا ॥
جو لوڑیِدا سوئیِ پائِیا ॥
ت٘رِپتِ اگھاءِ رہِیا ہےَ سنّتہُ گُرِ انبھءُ پُرکھُ دِکھارِیا جیِءُ ॥੨॥
آپے راجنُ آپے لوگا ॥
آپِ نِربانھیِ آپے بھوگا ॥
آپے تکھتِ بہےَ سچُ نِیائیِ سبھ چوُکیِ کوُک پُکارِیا جیِءُ ॥੩॥
جیہا ڈِٹھا مےَ تیہو کہِیا ॥
تِسُ رسُ آئِیا جِنِ بھیدُ لہِیا ॥
جوتیِ جوتِ مِلیِ سُکھُ پائِیا جن نانک اِکُ پسارِیا جیِءُ ॥੪॥੩॥੧੦॥
لفظی معنی:
۔ انحد ۔ بغیر بجائے لگاتار سنگیت ۔ سہج سہیلا ۔روحانی سکون ۔ آسانی سے ۔(3) سد ۔ہمیشہ ۔(4) اکیلا ۔ کھیل (5) سہج گچھا ۔ روحانی ذہنی علمیت (6) تاڑی ۔ دھیان (7) ترپت اگھائے ۔ بھوک پیاس مٹی ۔(7) پھر گھر ۔اپنے ذہن میں (9) ان بہو ۔ خدا ۔ (2) راجن آپے لوگا ۔ خود ہی راجہ خود ہی رعیت (2) یزبانی ۔ تیاگی (3) بھوگا ۔ کھانیوالا ۔ مصارف ۔ تصرف کرنیوالا (4) نیانیں ۔ انصاف کرنیوالا ۔(5) پکاریا ۔ آہ و زاری ۔ شوروغل ۔ (3) بھید ۔بہٹا۔ راز معلوم کرنا (2) ایک پساریا ۔ وحدت کا پھیلاؤ
ترجمہ:
لگاتار پر سکون الہٰی سنگیت روحانی آسانی سے ہو رہا ہے ۔ اور سبق مرشد سے ہمیشہ پر سکون آرام پا رہا ہوں ۔ مستقل روحانی دھیان میں اپنا ذہن درست کر لیا ہے ۔ اور دوبارہ گہوم کر اپنے ذہن نشین ہو گیا ہوں اور جو چاہتا تھا پایا ۔ اے عارفان بھوک پیاس مٹ گئی ۔ اور مرشدنے پیارے خدا کے دیدار کرا دیئے ۔(2) وہ خود ہی راجہ اور خود ہی رعیت ہے ۔ خود ہی تیاگی خود ہی مصارف اور خود تخت پر جلوہ آفروز ہو کر انصاف کرتے ہوں اے خدا ۔(3) جیسا میں نے دیکھا ہے ویسا ہی کہتا ہوں ۔ اسکا لطف وہی لیتا ہے ۔ جس نے اسکا راز سمجھ لیا ۔ نور سے نور ملا یعنی یکسو ہوا آرام ملا ۔ اے خادام نانک یہ سارا وحدت اور واحد خدا کا پھیلاؤ ہے

ماجھ مہلا ੫॥
جِتُ گھرِ پِرِ سوہاگُ بنھائِیا ॥
تِتُ گھرِ سکھیِۓ منّگلُ گائِیا ॥
اند بِنود تِتےَ گھرِ سوہہِ جو دھن کنّتِ سِگاریِ جیِءُ ॥੧॥
سا گُنھۄنّتیِ سا ۄڈبھاگنھِ ॥
پُت٘رۄنّتیِ سیِلۄنّتِ سوہاگنھِ ॥
روُپۄنّتِ سا سُگھڑِ بِچکھنھِ جو دھن کنّت پِیاریِ جیِءُ ॥੨॥
اچارۄنّتِ سائیِ پردھانے ॥
سبھ سِنّگار بنھے تِسُ گِیانے ॥
سا کُلۄنّتیِ سا سبھرائیِ جو پِرِ کےَ رنّگِ سۄاریِ جیِءُ ॥੩॥
مہِما تِس کیِ کہنھُ ن جاۓ ॥
جو پِرِ میلِ لئیِ انّگِ لاۓ ॥
تھِرُ سُہاگُ ۄرُ اگمُ اگوچرُ جن نانک پ٘ریم سادھاریِ جیِءُ ॥੪॥੪॥੧੧॥
لفظی معنی:
۔ جت گھر ۔ جس دل میں (2) منگل ۔ خوشی (3) و نور ۔ خوشیاں (4) انند ۔ سکھ ۔ تتے گھر ۔ اسی گھر ۔۔ گنونتی ۔ گنودان ۔ بااوصاف ۔ (2) سیونت ۔ شریفانہ عادات ۔ (3) سوہاگن ۔خاوند والی ۔خاوند کی پیاری ۔ پتی برنا ۔ (4) روپ ونت۔ خوبصورت ۔ (5) سکھڑ ۔ سمجھدار ۔ (6) پچکھن۔ دانشمند (7) چارونت نیک چلن ۔ پردھان۔ سماج میں مقبول ۔ (9) گیانے ۔علمت ۔سمجھداری (۔0) کلونتی ۔خاندانی ۔ سبھرائی ۔ بھراواں والی ۔ با وقار (3)۔ مہما ۔ شہرت ۔ (2) اگوچر۔ انسان رسائی سے بعید زیبان (3) اگم ۔ انسانی رسائی سے بعد ۔ (4) سادھاری ۔ بااسرا۔ باسہارا ۔
ترجمہ:
جس دل میں خدا وند کریم نے خوش نصیبی عنایت فرمائی ۔ اسکے دل میں الہٰی صفت صلاح ہوتی ہے۔ اور اس دل میں روحانی خوشیاں اچھی لگتی ہیں ۔ جس سے خدا نے روحانی خوبصورتی عنایت فرمائی ہے ۔ ۔ وہی با اوصاف بلند قسمت با اولد نیک سیرت با وقار زوجہ ہے ۔ اور اسکی زندگی اچھی ہو جاتی ہے ۔ وہی نیکدل با شعور بلند خیال ہے (2) وہی نیک چلن مقبول خدا سے شراکت بدولت تمام روحانی اوصاف اسکی زندگی کو خوبصورت بنا دیتے ہیں ۔ اور وہ اونچے خاندان اور با وقار ہوجاتا ہے ۔ (3) اسکی شہرت و عظمت بیان سے باہر ہے ۔ جس سے خدا نے اپنے گلے لگا لیا ۔ خدا نے جو انسانی رسائی سے بلند و بالا بیان سے بعید قائم دائم آقا ہوجاتا ہے خادم نانک پیار۔ پریم اسکے لئے مددگار ہو جاتا ہے ۔

ماجھ مہلا ੫॥
کھوجت کھوجت درسن چاہے ॥
بھاتِ بھاتِ بن بن اۄگاہے ॥
نِرگُنھُ سرگُنھُ ہرِ ہرِ میرا کوئیِ ہےَ جیِءُ آنھِ مِلاۄےَ جیِءُ ॥੧॥
کھٹُ ساست بِچرت مُکھِ گِیانا ॥
پوُجا تِلکُ تیِرتھ اِسنانا ॥
نِۄلیِ کرم آسن چئُراسیِہ اِن مہِ ساںتِ ن آۄےَ جیِءُ ॥੨॥
انِک برکھ کیِۓ جپ تاپا ॥
گۄنُ کیِیا دھرتیِ بھرماتا ॥
اِکُ کھِنُ ہِردےَ ساںتِ ن آۄےَ جوگیِ بہُڑِ بہُڑِ اُٹھِ دھاۄےَ جیِءُ ॥੩॥
کرِ کِرپا موہِ سادھُ مِلائِیا ॥
منُ تنُ سیِتلُ دھیِرجُ پائِیا ॥
پ٘ربھُ ابِناسیِ بسِیا گھٹ بھیِترِ ہرِ منّگلُ نانکُ گاۄےَ جیِءُ ॥੪॥੫॥੧੨॥
لفظی معنی:
۔ کہوجت کہوجت ۔ تلاش کرتے کرتے ۔ (2) درشن چاہے ۔ دیدار کی خواہش ہوئی ۔ (3) بھانت بھانت۔ طرح طرح کے (4) اوگاہے ۔گلاش کیے ۔ پھرتے رہے ۔ (5) نرگن ۔ واحد ۔خدا ۔(6) سرگن ۔ خدا کا وہ وصف جب ذرہ زرہ اسکے نور سے روشن ہے ۔ ۔ گھٹ شاشت ۔۔چھ شاشترا (2) بچرت ۔ ویچار کرتے ہیں (3) مکھ گیانا۔ زبان سے علم کا (4) نولی کرم۔ جو گیوں کی جسمانی ورزش (2) بر کھ ۔ برس۔ سال (2) گون۔ مسافری کرنا ۔ (3) بھرماتا۔ سفر کرنا۔ بھرماتا ۔ ہر روز سفر کرنا ۔ بہوڑ بہوڑ ۔ دوبارہ دوبارہ ۔ سادھ ۔ پاکدامن ۔ گھٹ۔ دل ۔ منگل ۔خوشی ۔
ترجمہ:
انسان الہٰی تلاش میں جنگلوں اور پہاڑوں میں خدا کے دیدار کی اور سکون کے لئے پھرتا ہے ۔جو تینوں دنیاوی اوصاف سے بلدن تر بھی ہے ۔ اور تینوں اوصاف یعنی رجو ستو اور طمعوں میں بھی ہے ۔ خواہش کہ کوئی ایسا ہو جو اسے الہٰی ملاپ کرائے ۔
بہت سے چھ شاشتروں کی وچار کرتے ہیں ۔ اور ان کا اپدیش و واعظ بھی سناتے ہیں۔ دیوتاؤں کی پرستش بھی کرتے ہیں پیشانی پر تلک لگاتے ہیں او زیارت کرتے ہیں ۔ جوگیوں کے کرم نیولی وغیرہ کرتے ہیں ۔ اور چوراسی آسن کرتے ہیں مگر ایسا کرنے سے سکون حاصل نہ ہوگا ۔(2) انیک سال جپ تپ کیا اور ساری زمین پر پھرتے رہے ۔ مگر سکون پھر بھی نہیں ملا اور دوبارہ اسکے پیچھے پھرتے رہے ۔(3) خدا نے اپنی کرم و عنایت سے میرا ایک عارف سے ملاپ کرایا ۔ جس سے دل کو سکون اور شانتی میسر ہوئی ۔ خدا دل میں بسا اور نانک الہٰی خوش حمد و ثناہ کے گیت گاتا ہے ۔

ماجھ مہلا ੫॥
پارب٘رہم اپرنّپر دیۄا ॥
اگم اگوچر الکھ ابھیۄا ॥
دیِن دئِیال گوپال گوبِنّدا ہرِ دھِیاۄہُ گُرمُکھِ گاتیِ جیِءُ ॥੧॥
گُرمُکھِ مدھُسوُدنُ نِستارے ॥
گُرمُکھِ سنّگیِ ک٘رِسن مُرارے ॥
دئِیال دمودرُ گُرمُکھِ پائیِئےَ ہورتُ کِتےَ ن بھاتیِ جیِءُ ॥੨॥
نِرہاریِ کیسۄ نِرۄیَرا ॥
کوٹِ جنا جا کے پوُجہِ پیَرا ॥
گُرمُکھِ ہِردےَ جا کےَ ہرِ ہرِ سوئیِ بھگتُ اِکاتیِ جیِءُ ॥੩॥
اموگھ درسن بیئنّت اپارا ॥
ۄڈ سمرتھُ سدا داتارا ॥
گُرمُکھِ نامُ جپیِئےَ تِتُ تریِئےَ گتِ نانک ۄِرلیِ جاتیِ جیِءُ ॥੪॥੬॥੧੩॥
لفظی معنی:
۔ پار برہم۔ بلند پایہ روحانی ہستی ۔خدا ۔ (2) اپرنپر ۔ لا محدود ۔ (3) الکھ ۔ حساب نہ ہو سکے جسکا (4) ابھیوا۔ جس کا راز معلوم نہ ہوسکے ۔(5) گاتی ۔نجات دہندہ ۔ مدھ سودن ۔ خدا (6) سنگی ۔ساتھی ۔ (3) کرشن مراری ۔ مراد خدا (4) دمودر ۔ مراد خدا (6) نرہاری ۔ جو کچھ نہیں کھاتا ۔ کیسوا۔ لمبے بالوں والا ۔ (2) نرویرا ۔ جسکی کسی سے دشمنی نہیں ۔(3) اموکھ درشن ۔ نایاب دیدار ۔ (4)
ترجمہ:
کامیابیاں عنایت فرمانے والا لا محدود خدا جس تک انسانی رسائی نا ممکن ہے۔ جس سے بیان نہیں کیا جا سکتا اور حساب کتاب سے بعید ہے ۔ جو ایک راز ہے جسکا کسی کو بھید نہیں ۔ جو لاچاروں مجبوروں اور غریبوں پر مہربان ہے ۔ مرشد کے وسیلے سے اسکی حمد و ثناہ کرؤ جو بلند روحانیت عنایت کرنیوالا ہے ۔ وہ مرشد کے وسیلے سے کامیابیاں دیتا ہے ۔ اور ہمیشہ اور دائمی ساتھی ہے ۔ مہربان ہے رحمان الرحیم ہے وہ کسی اور طریقے سے نہیں مل سکتا ۔ (2) جو بلا دشمن اور کچھ کھاتا نہیں جسکی کروڑو لوگ پر ستش کرتے ہیں ۔ مرشد کے وسیلے سے جسکے دل میں بس جاتا ہے وہ انسان خدا کا شہدائی اور دلدادہ ہوجاتا ہے ۔(3) جسکا دیدار براور ہے جو اعداد و شمار سے بالا ہے ۔ جسکی ہستی لا محدود ہے ۔ جو بلند عظمت اور نعمتیں عنایت کرنیوالا ہے ۔ اگر مرشد کی وساطت سے اسکی حمد و ثناہ کیجائے تو اسکے نام کی برکت سے زندگی کامیاب ہو جاتی ہے ۔ اے نانک یہ بلند روحانی عظمت کسی کو ہی حاصل ہوتی ہے ۔

ماجھ مہلا ੫॥
کہِیا کرنھا دِتا لیَنھا ॥
گریِبا اناتھا تیرا مانھا ॥
سبھ کِچھُ توُنّہےَ توُنّہےَ میرے پِیارے تیریِ کُدرتِ کءُ بلِ جائیِ جیِءُ ॥੧॥
بھانھےَ اُجھڑ بھانھےَ راہا ॥
بھانھےَ ہرِ گُنھ گُرمُکھِ گاۄاہا ॥
بھانھےَ بھرمِ بھۄےَ بہُ جوُنیِ سبھ کِچھُ تِسےَ رجائیِ جیِءُ ॥੨॥
نا کو موُرکھُ نا کو سِیانھا ॥
ۄرتےَ سبھ کِچھُ تیرا بھانھا ॥
اگم اگوچر بیئنّت اتھاہا تیریِ کیِمتِ کہنھُ ن جائیِ جیِءُ ॥੩॥
کھاکُ سنّتن کیِ دیہُ پِیارے ॥
آءِ پئِیا ہرِ تیرےَ دُیارےَ ॥
درسنُ پیکھت منُ آگھاۄےَ نانک مِلنھُ سُبھائیِ جیِءُ ॥੪॥੭॥੧੪॥
لفظی معنی:
۔ قدرت ۔ طاقت ۔ ۔ اوجہڑ ۔ غلط راستہ ۔ بھائے ۔ رضا ۔ بھرم۔ شبہ ۔ (2) اتھاہا۔ بے اندازہ ۔ (3) خاک ۔ دھول ۔مٹی(4) یکھت (5) دیکھتے ہیں ۔ آگھاوے ۔ سیر ہو جائے بھوک مٹ جائے ۔
ترجمہ:
اے خدا جو تو فرمان کرنتا ہے وہی کرتے ہیں جاندار ۔ غریبوں اور عاجزوں کو تمہارا ہی سہارا ہے ۔ اے خدا تیرا دیا ہوا آہمیں ملتا ہے ۔ اے میرے پیارے سبھ کچھ تو ہی ہے تیرے قائنات اور تیری طاقت پر فرمان ہوں میں ۔۔ تیرے رضا فرمان سے انسان غلط راستہ اختیار کرتا ہے اور تیری رضا سے ہی صراط مستقیم ۔ تیری رضا سے ہی تیرہ حمد و ثناہ مرشد کراتا ہے ۔ تیری رضا سے ہی انسان وہم و گمان میں تناسخ بھٹکتا ہے ۔(2) ناہی کوئی کم عقل اور نادان ۔ ناہی دانشمند جو کچھ ہو رہا ہے تیرے رضآ میں ہو رہا ہے ۔ اے خدا تو انسان رسائی سے بلند تر ہے نہ تو بیان ہو سکتا ہے تو اعداد و شمار سے باہر ہے اور نہ تیری سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے تیری قدو ومنزلت بیان سے باہر ہے (3) اے میرے پیارے عارفان کی دھول دیجیئے ۔ میں تیرے در پر آیا ہوں تیرے دیدار سے بھوک پیاس مٹ گئی دل سیر ہو گیا ۔ اے نانک اسکی رضا و رغبت سے ہی ملاپ ہوتا ہے
SGGS p. 98
ماجھ مہلا ੫॥
دُکھُ تدے جا ۄِسرِ جاۄےَ ॥
بھُکھ ۄِیاپےَ بہُ بِدھِ دھاۄےَ ॥
سِمرت نامُ سدا سُہیلا جِسُ دیۄےَ دیِن دئِیالا جیِءُ ॥੧॥
ستِگُرُ میرا ۄڈ سمرتھا ॥
جیِءِ سمالیِ تا سبھُ دُکھُ لتھا ॥
چِنّتا روگُ گئیِ ہءُ پیِڑا آپِ کرے پ٘رتِپالا جیِءُ ॥੨॥
بارِک ۄاںگیِ ہءُ سبھ کِچھُ منّگا ॥
دیدے توٹِ ناہیِ پ٘ربھ رنّگا ॥
پیَریِ پےَ پےَ بہُتُ منائیِ دیِن دئِیال گوپالا جیِءُ ॥੩॥
ہءُ بلِہاریِ ستِگُر پوُرے ॥
جِنِ بنّدھن کاٹے سگلے میرے ॥
ہِردےَ نامُ دے نِرمل کیِۓ نانک رنّگِ رسالا جیِءُ ॥੪॥੮॥੧੫॥
لفظی معنی:
۔ وڈسمر تھا ۔ بھاری طاقت والا ۔ جیئے سمای ۔ دل میں بسائے ۔ پرتپالا ۔پرورش کرنیوالا ۔ (2) بارک ۔ بچے ۔ توٹ کمی ۔ (3) بندھ۔ بندش ۔ غلامی ۔ نرمل۔ پاک ۔ رتگ رسالا ۔ پر لطف ۔بامزہ ۔
ترجمہ:
عذاب آتا ہے سبھی جب بھول جائے خدا۔ یا نام الہٰی ۔ دولت کی بھوک لگتی ہے اورک ئی قسم کی دوڑ دھوپ کرتا ہے ۔ الہٰی ریاض سے ہمیشہ سکھ ملتا ہے جیسے رحمان الرحیم اپنی کرم عنایت سے بخشتا ہے ۔۔ میرا سچا مرشد مرشد بڑی طاقت والا ہے ۔ جب میں اسے اپنے دل میں بساتا ہوں تو تمام دکھ دور ہو جاتا ہے ۔ فکر و خودی کی بیماری مٹ جاتی ہے ۔ خدا خود پرورش کرتا ہے ۔(2) میں ایک بچے کی مانند سب کچھ مانگتا ہوں ۔ وہ ہمیشہ پریم سے عنایت کرتا ہے ۔ کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتا ۔ میں اس غریب پرور کو ہمیشہ پاؤں پڑ کر اسے مناتا ہوں ۔(3) میں قربان ہوں کامل مرشد پر جس نے میری بندشیں اور پابندیاں تؤر ڈالیں ۔ اور دل میں پاک نام بسا کر ۔ اے نانک میری زندگی پاک اور پریم کے لطف سے مخمور کر دی ۔