Urdu-Master-37

SGGS p. 384-474
SGGSP-484
آسا ॥
انّترِ میَلُ جے تیِرتھ ناۄےَ تِسُ بیَکُنّٹھ ن جاناں ॥
لوک پتیِنھے کچھوُ ن ہوۄےَ ناہیِ رامُ ازانا ॥੧॥
پوُجہُ رامُ ایکُ ہیِ دیۄا ॥
ساچا ناۄنھُ گُر کیِ سیۄا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جل کےَ مجنِ جے گتِ ہوۄےَ نِت نِت میݩڈُک ناۄہِ ॥
جیَسے میݩڈُک تیَسے اوءِ نر پھِرِ پھِرِ جونیِ آۄہِ ॥੨॥
منہُ کٹھورُ مرےَ بانارسِ نرکُ ن باںچِیا جائیِ ॥
ہرِ کا سنّتُ مرےَ ہاڑنّبےَ ت سگلیِ سیَن ترائیِ ॥੩॥
دِنسُ ن ریَنِ بیدُ نہیِ ساست٘ر تہا بسےَ نِرنّکارا ॥
کہِ کبیِر نر تِسہِ دھِیاۄہُ باۄرِیا سنّسارا ॥੪॥੪॥੩੭॥
لفظی معنی:
انتر میل۔ قلب ناپاک ہے ۔ تیرتھ ۔ زیارت ۔ دیکنٹح۔ بہشت۔ لوک پتینے ۔ لوگوں کو وشواس دلانا۔ ایانا۔ انجان ۔ نادان۔ (1) پوجہو رام۔ خدا کی پرستش کرؤ۔ دیوا۔ فرشتہ ۔ نور (1) رہاؤ۔ صخت دل ۔ نرک۔ دوزخ۔ بانچیا ۔ بچ سکتا ۔ ہاڑ نبے ۔ کلاٹھی زمین ۔ سین ۔ رعایا (3) دنس رین ۔ دن رات۔ روز و شب ۔ دید نہیں شاشتر ۔ جہاں مذہبی کتابیں نہیں۔ تہا ۔ وہاں۔ نرنکار۔ بے آکار۔ بلا حجم۔ تسیہہ۔ اسے ۔ دھیادہو دھیان لگاو۔ بادر یا سنسار۔ اے نادان لوگ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اگر دل بدیوں اور برائیوں کی وجہ سے ناپاک ہے اور زیارت گاہوں پر غسل کرکے جسمانی پاکیزگی کرتا ہے تو اُسے بہشت یا جنت نہیں مل پاتی ۔ لوگوں کو اپنا عقید تمند بنانے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ خدا نادان نہیں (1)
خدا کی پرستش کرؤ۔ سچا غسل یا زیارت خدمت مرشد ہے ۔ مراد سچے مرشد کے بتائے ہوئے صرا ط مستقیم اختیار کرنا اور سبق پر عمل پیرا ہونا ہی اسل زیارت ہے (1) رہاؤ۔ اگر پانی سے غسل کرنے پر اگر نجات حاصل ہو تی ہو تو مینڈک تو پانی میں ہی رہتے ہیں تو اس انسان کو مینڈک کی مانند سمجھو ایسا انسان ہمیشہ تناسخ میں پڑا رہتا ہے (2) اگر سخت دل بیرحم کی بنارس میں موت ہو جائے تو وہ دوزخ سے نہیں بچ سکتا ۔ اور الہٰی پاکدامن عاشق خدا رسیدہ ( سنت) مگہر کی کلر اٹھی ستم زدہ زمین پر بھی اس کی موت ہوجائے تو بھی اس کی وجہ سے تمام لوگ کامیابی پائیں گے (3) کبیر جی فرماتے ہیں کہ اے نادان لوگو اس خدا کو یاد کرؤ جو وہاں بستا ہے ۔جہاں نہ دن ہے نہ رات جہاں نہ وید ہے نہ شاشتر مراد روحانیت نہ وقت کی نہ دھارملک مذہبی کتابوں کی دست نگر اور محتاج ہے ۔

SGGS P-485
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آسا بانھیِ س٘ریِ نامدیءُ جیِ کیِ
ایک انیک بِیاپک پوُرک جت دیکھءُ تت سوئیِ ॥
مائِیا چِت٘ر بچِت٘ر بِموہِت بِرلا بوُجھےَ کوئیِ ॥੧॥
سبھُ گوبِنّدُ ہےَ سبھُ گوبِنّدُ ہےَ گوبِنّد بِنُ نہیِ کوئیِ ॥
سوُتُ ایکُ منھِ ست سہنّس جیَسے اوتِ پوتِ پ٘ربھُ سوئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جل ترنّگ ارُ پھین بُدبُدا جل تے بھِنّن ن ہوئیِ ॥
اِہُ پرپنّچُ پارب٘رہم کیِ لیِلا بِچرت آن ن ہوئیِ ॥੨॥
مِتھِیا بھرمُ ارُ سُپن منورتھ ستِ پدارتھُ جانِیا ॥
سُک٘رِت منسا گُر اُپدیسیِ جاگت ہیِ منُ مانِیا ॥੩॥
کہت نامدیءُ ہرِ کیِ رچنا دیکھہُ رِدےَ بیِچاریِ ॥
گھٹ گھٹ انّترِ سرب نِرنّترِ کیۄل ایک مُراریِ ॥੪॥੧॥
آپ مہاراشٹر کے ایک مشہور بھگت جو 1270 میں ضلع ستار کے نرسی دامنی گاؤں میں پیدا ہوئے اور بہت دیر تک پندر پر میں رہے اور ( وہی) وہیں 1350 میں فوت ہوئے ۔ آپ چھینبے کا کام کرتے تھے ۔ ان کی کچھ بانی گرو گرنتھ صاحب دچ چڑھائی گئی ۔ ضلع گورداسپور میں بھی آپ کا مندر ہے ۔ جس کی سیوا سردار جسا سنگھ رامگڑھیئے نے کروائی ہے اور تالاب رانی سدا کو رنے موضع گھمان میں بنوائیا تھا ۔
لفظی معنی:
ایک ۔ واحد۔ انیک۔ بیشمار شکل صورتوں میں پورک ۔ مکمل ۔ جت دیکھو ۔ جہاں نظر جاتی ہے ۔ تت سوئی۔ وہیں وہ ۔ چتر ۔ تصویر۔ بچتر۔ حیران کرنے والی۔ بموہت ۔ پیاری ۔ دل کو پیاری لگنے والی۔ ور لابوجھے ۔ کوئی نہیں سمجھتا ہے (1) گوبند۔ خدا۔ سوت۔ دھاگا۔ من ست ۔ سات منکے ۔ سہنس۔ ہزاروں۔ اوت پوت ۔ تانا پیٹا (1) رہاؤ۔ جل۔ پانی ۔ نین۔ پانی کی جھگ۔ بدبدا۔ بلبلہ ۔ بھن ۔ علیحدہ ۔ جدا۔ پر پنچ۔ دنیاوی کھیل ۔ پار برہم۔ خدا۔ لیلا۔ کھیل ۔ تماشہ۔ وچرت۔ سمجھنے پر۔ آن ۔ علیحدہ ۔ دوسرا۔ (2) متھیا۔ جھوٹھا۔ بھرم۔ وہم و گمان۔ منورتھ۔ مقصد۔ مدعا ۔ ست۔ سچ۔ صدیوی ۔ سکرت۔ نیکی ۔ نیل اعمال۔ منسا۔ ارادہ۔ گر اپدیسی ۔ وعاظ۔ سبق مرشد۔ مانیا۔ عقیدہ پیدا ہوئی ۔ رچنا۔ عالمی پھیلاؤ۔ ردھے وچاری۔ دلمیں سوچ کر دیکھو۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ سرب نرنتر۔ سب میں لگاتا ۔ کیول ۔صرف۔ ایک مراری ۔ واحد خدا۔
ترجمہ معہ تشریح:
واحد خدا بیشمار شکلوں اور صورتوں میں ہر جگہ موجود ہے ۔ جدھر نظر جاتی ہے ۔ اسکا ظہور ہے ۔ مگر اس راز کو سمجھتا ہے کوئی۔ کیونکہ دنیاوی مائیا کے بیشمار حیران کرنے والی رنگ رنگی شکلیں اور صورتیں اور اس کی محبت کو کوئی ہی سمجھتا ہے (1) ہرجا ہر ایک میں ہے خدا خدا کے بغیر نہیں دوسرا کوئی ۔ جیسے دھاگا ایک منکے ہزاروں اس میں ہوں ڈالے ہوئے ۔ اسی طرح سے سب میں نور الہٰی جس طرح تانے پیٹے میں آپس میں دھاگے ملے ہوئے ہیں۔ اس طرح سے سب میں بستا ہے خدا (1) رہاؤ۔ جیسے پانی اور پانی کی لہریں ۔ پانی جھاگ اور پانی کے بلبلے پانی سے جدا نہیں یہ دنیا الہٰی کھیل ہے بچارنے پر نہیں جدا (2) یہ جھوٹا اور غلط خیال دلوں میں گھر کر گیا ہے کہ یہ دنیاوی نعمتیں صدیوی ہیں جیسے خواب میں دیکھے نظارے اور نعمتیں نیک ارادے اور سبق واعظ مرشد سے ان وہم وگمان سے نجات اور بیداری پیدا ہوتی ہے ۔ دل میں عقیدتمندی اور تسکین ملتی ہے ۔ کہ یہ نعمتیں صدیوی نہیں (3) نامدیو صاحب جی ۔ فرماتے ہیں کہ دل میں سوچ سمجھ کر دیکھو کہ خدا کی بنائی ہوئی یہ دنیا ایک کھیل ہے اور ہر دلمیں خدا بستا ہے ۔
مراد ۔ خدا اپنی اس دنیا میں جو اس نے خود پیدا کی ہے ہر جگہ ہر د ل میں موجو دہے ۔ مگر اس کی سمجھ رحمت مرشد سے ملتی ہے ۔

آسا ॥
آنیِلے کُنّبھ بھرائیِلے اوُدک ٹھاکُر کءُ اِسنانُ کرءُ ॥
بئِیالیِس لکھ جیِ جل مہِ ہوتے بیِٹھلُ بھیَلا کاءِ کرءُ ॥੧॥
جت٘ر جاءُ تت بیِٹھلُ بھیَلا ॥
مہا اننّد کرے سد کیلا ॥੧॥ رہاءُ ॥
آنیِلے پھوُل پروئیِلے مالا ٹھاکُر کیِ ہءُ پوُج کرءُ ॥
پہِلے باسُ لئیِ ہےَ بھۄرہ بیِٹھل بھیَلا کاءِ کرءُ ॥੨॥
آنیِلے دوُدھُ ریِدھائیِلے کھیِرنّ ٹھاکُر کءُ نیَۄیدُ کرءُ ॥
پہِلے دوُدھُ بِٹارِئو بچھرےَ بیِٹھلُ بھیَلا کاءِ کرءُ ॥੩॥
ایِبھےَ بیِٹھلُ اوُبھےَ بیِٹھلُ بیِٹھل بِنُ سنّسارُ نہیِ ॥
تھان تھننّترِ ناما پ٘رنھۄےَ پوُرِ رہِئو توُنّ سرب مہیِ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
آنیلے کنبھ ۔ گھڑا لاکر۔ بھرائیلے اودک۔ پانی بھرواکر ۔ ٹھاکر۔ پتھر کا بت۔ جیئہ ۔ جاندار۔ بیٹھل۔ وشنو۔ مراد ۔ خدا۔ بھیلا۔ بھائی (1) جتر۔ جدھر۔ تت۔ وہاں۔ مہاں۔ انند۔ بھاری سکون۔ صدکیلا۔ ( ہزارو) سینکڑوں کھیل (1) رہاؤ۔ آنیلے پھول لائے ۔ پر وئیلے مالا۔ مالا میں پروئے ۔ ٹھاکر کی ہوں پوج کرؤ ۔ بت کی پرستش کرتے ہو۔ باس۔ خوشبو ۔ بھوریہہ۔ بھورے (2) رید بھائیلے کھیر ۔ کھیر ہوائی ۔ نیوبد۔ نید ندا۔ دعوت ۔ بھینٹ۔ وٹاریؤ۔ جوٹھاکیا (3) اوبھے ۔ اوپر۔ ایبھے ۔ نیچے ۔ تھا ن تھنتر۔ ہر جگہ ۔ پر نوے ۔ عرض کرتا ہے ۔ پور جیو۔ مکمل طور پر بستا ہے ۔ سرب مہی ۔ سب میں ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بت کے غسل کے لئے پانی کا گھڑا بھرا کے لائے ۔ بیالیس لاکھ جاندار پانی میں رہتے ہیں اور پاک خدا تو پہلے ہی ان سب میں بستا تھا۔ پھر بت کا غصل کس لئے (1)
جہاں جاؤ وہاں ہے پاک خدا جو بھاری خوشیوں اور کھیلوں میں مصروف ہے (1) رہاؤ۔
پھول لاکر مالا بنا کر بت کی بھینٹ چڑھاؤ ں۔ جبکہ اس کی خوشبو بھورا پہلے سے لے چکا ہے تو خدا کی بھینٹ کیونکر اور کیسے کیجائے کیونکہ جوٹھی خوشبو قبول نہ ہوگی اور بھورے میں بھی خدا کا نور ہے تو پھر بت کی پرست کس لئے؟ اگر دودھ لاکر اور اس کی کھیر بنا کر یہ نعمت بت کی بھینٹ کر وں کیونکہ دودھ تو بچھڑے نے جوٹھا کر رکھا ہے اور بچھڑے میں خدا بستا تھا اور جو ٹھا دودھ قبول بھی نہیں ہوتا تو پھر بت کی بھینٹ کیوں کی جائے ؟
خلا میں خدا ہے زمین پر خدا ہے بغیر خدا انہیں عالم ۔ نامدیو خدا سے عرض گذارتا ہے کہ تو تو ہر جگہ ہر مقام مکمل طور پر سب میں بستا ہے ۔

آسا ॥
منُ میرو گجُ جِہبا میریِ کاتیِ ॥
مپِ مپِ کاٹءُ جم کیِ پھاسیِ ॥੧॥
کہا کرءُ جاتیِ کہ کرءُ پاتیِ ॥
رام کو نامُ جپءُ دِن راتیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
راںگنِ راںگءُ سیِۄنِ سیِۄءُ ॥
رام نام بِنُ گھریِء ن جیِۄءُ ॥੨॥
بھگتِ کرءُ ہرِ کے گُن گاۄءُ ॥
آٹھ پہر اپنا کھسمُ دھِیاۄءُ ॥੩॥
سُئِنے کیِ سوُئیِ رُپے کا دھاگا ॥
نامے کا چِتُ ہرِ سءُ لاگا ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
گج ۔ گز۔ جیہبا۔ زبان۔ کانی ۔ قینچی ۔ مپ مپ ۔ منتی کرکے ۔ ماپ ماپ کر ۔ کاٹو ۔ کاٹو۔ جسم کی پھاسی ۔ موت کا پھندہ (1) جاتی ۔ ذات۔ پانی ۔ گوت ۔ کہا گرو۔ کوئی پرواہ نہین۔ جپو۔ یاد کرتا ہوں (1) رہاؤ۔ رانگی ۔ رنگ والی مٹی۔ رانگوں ۔ رنگتا ہوں۔ سیون ۔ سینے والا۔ سیوؤ۔ سیتا ہوں ۔ گھر یؤ۔ گھڑی کے لئے (2) خصم۔ خاوند ۔ مالک مراد خدا۔
ترجمہ معہ تشریح:
مجھے اب کسی ذات گوت کی کوئی پرواہ نہیں۔ روز و شب خدا کا نام لیتا ہوں (1) رہاؤ۔ میرا دل گز ہے اور زبان کینچی اور اب پیمائش کرکے موت کے پھندے کو کاٹ رہا ہوں (1) اس جسمانی رنگ رنگنے والی مٹی بنا کر الہٰی نام کے رنگ رہا ہوں اور الہٰی نام کی سیون سی رہا ہوں ۔ الہٰی نام کے بغیر تھوڑی دیر کے لئے جینا محال ہے ۔ میں الہٰی عبادت وریاضت کر رہا ہوں۔ اور ہر وقت اسے یادکرتا ہوں (3) مجھے اب سونے کی سوئی مراد سبق مرشد و کلام مرشد مل گیا ہے جس کی برکت میری عقل و ہوش پاک ہوگئی ہے اور اب میرا دل کا خدا سے الحاق ہو گیا ہے اور سیتا گیا ہے ۔
خلاصہ کلام :
الہٰی یاد کی یہ عظمت ہے اگر کمینی ذات والا بھی اگر خدا کو یاد کرتا ہے دنیاوی خوف تو دور کی بات ہے موت کا خوف بھی مٹ جاتا ہے ۔ اس کے عادات و عمل پاک ہوجاتے ہیں اور وہ الہٰی یاد میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔

آسا ॥
ساپُ کُنّچ چھوڈےَ بِکھُ نہیِ چھاڈےَ ॥
اُدک ماہِ جیَسے بگُ دھِیانُ ماڈےَ ॥੧॥
کاہے کءُ کیِجےَ دھِیانُ جپنّنا ॥
جب تے سُدھُ ناہیِ منُ اپنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِنّگھچ بھوجنُ جو نرُ جانےَ ॥
ایَسے ہیِ ٹھگدیءُ بکھانےَ ॥੨॥
نامے کے سُیامیِ لاہِ لے جھگرا ॥
SGGS P-486
رام رسائِن پیِءُ رے دگرا ॥੩॥੪॥
لفظی معنی:
ساپ۔ سانپ ۔ کنچ۔ کھال۔ وکھ ۔ زہر۔ ادک ۔ پانی ۔ ماہے ۔ میں۔ بگ۔ بگلا۔ دھیان۔ توجہ ۔ ماڈے ۔ لگاتا ہے (1) کاہے ۔ کس لئے ۔ کیجے دھیان۔ توجہ ہی کیوں دیجیئے ۔ جپننا۔ الہٰی ریاض میں۔ سدھ۔ پاک۔ رہاؤ (1) سینگھچ بھوجن۔ شیر والا کھانا۔ جونر جانے ۔ جو انسان جانتا ہے ۔ ایسے ہی ٹھگدیو دکھانے ۔ اسے دہوکا بازوں کا فرشتہ کہتے ہیں (2) نامے کا سوآمی ۔ نامے کے مالک۔ لاہے لے جھگڑا۔ جھگڑا ختم کر دیا۔ دگرا ۔ دہوکا باز ۔ رام رسائن۔ آبحیات۔
ترجمہ معہ تشریح:
جیسے سانپ کبنح چھوڑ دیتا ہے مگر زہر نہیں چھوڑتا ۔ جیسے بگلا پانی میں اپنا دھیان لگاتا ہے ۔ مراد بیرونی دکھاوا بیفائدہ ہے (1) اے بھائی جب تک دل صاف نہیں اس وقت تک دھیان لگانے و ریاض و عبادت کرنا بیکار ہے (1) رہاؤ۔ جو انسان ظلم و (جبر) زبر سے روزی کماتا ہے اور کمانے جانتا ہے ۔ ایسےا نسان کو دہوکا باز کہو (2) نامدیو کے آقانے یہ جھگڑا ختم کر دیا کہ اے ظالم الہٰی نام آب حیات ہے اسے پی ۔

آسا ॥
پارب٘رہمُ جِ چیِن٘ہ٘ہسیِ آسا تے ن بھاۄسیِ ॥
راما بھگتہ چیتیِئلے اچِنّت منُ راکھسیِ ॥੧॥
کیَسے من ترہِگا رے سنّسارُ ساگرُ بِکھےَ کو بنا ॥
جھوُٹھیِ مائِیا دیکھِ کےَ بھوُلا رے منا ॥੧॥ رہاءُ ॥
چھیِپے کے گھرِ جنمُ دیَلا گُر اُپدیسُ بھیَلا ॥
سنّتہ کےَ پرسادِ ناما ہرِ بھیٹُلا ॥੨॥੫॥
لفظی معنی:
پار برہم۔ پار لگانے والا خدا۔ چینی ۔ پہچان ۔ سمجھ لینا۔ آسا۔ امیدیں۔ خواہشات۔ نہ بھاوسی ۔ اسے اچھی نہیں لگتیں۔ گتیہہ۔ جن عاشقان الہٰی۔ الہٰی پیارے ۔ چیتیئے ۔ یاد کرتے ہیں۔ اچنت۔ بیفکر۔ بے غم۔ ترہیگا۔ کامیاب ہوگا۔ سنسار ساگر۔ دنیاوی سمندر۔ وکھے کو بنا۔ زہریلا جنگل (1) رہاؤ۔ چھیپے ۔ چھنبے ۔ درزی۔ دیئلا۔ خا نے دیا۔ گر اپدیس بھٹیلا۔ اچھا سبق مرشد۔ سنیتہہ کے پر ساد۔ رحمت پاکدامن ۔ ناما ہر بھیٹلا ۔ الہٰی ملاپ حاصل ہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل اس زندگی کے دنیاوی سمندر سے کیسے پار ہوگا کس طرح زندگی کامیاب بنائیگا۔ تو اس دنیاوی جھوٹی دولت دیکھ کر بھول میں پڑ گیا (1) رہاؤ۔ اے انسان اگر تجھے الہٰی پہچان حاصل ہوجائے تو تجھے دنیاوی خواہشات اور امیدوں سے پیار اچھا نہ لگے گا۔ عاشقان الہٰی و عابداں نے خدا کو یاد کیا ہے جس سے ان کے دل بیفکر رہتے ہیں۔ (1) خواہ نامے کوچھینبے یا درزی کے گھر جنم دیا ہے تاہم بھی اچھے نیک سبق مرشد سے اور رحمت پاکدامن خدا رسیدہ کے وسیلے سے نامے کو وصل خدا حاص ہوا۔
خاصلہ شبد۔
دنیاوی دولت کا ساتھ چھوڑ کر ہی الہٰی وصل حاصل ہو سکتا ہے الہٰی یادوریاض صحبت و قربت مرشد پاکدامن خدا رسیدگان ۔

آسا بانھیِ س٘ریِ رۄِداس جیِءُ کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
م٘رِگ میِن بھ٘رِنّگ پتنّگ کُنّچر ایک دوکھ بِناس ॥
پنّچ دوکھ اسادھ جا مہِ تا کیِ کیتک آس ॥੧॥
مادھو ابِدِیا ہِت کیِن ॥
بِبیک دیِپ ملیِن ॥੧॥ رہاءُ ॥
ت٘رِگد جونِ اچیت سنّبھۄ پُنّن پاپ اسوچ ॥
مانُکھا اۄتار دُلبھ تِہیِ سنّگتِ پوچ ॥੨॥
جیِء جنّت جہا جہا لگُ کرم کے بسِ جاءِ ॥
کال پھاس ابدھ لاگے کچھُ ن چلےَ اُپاءِ ॥੩॥
رۄِداس داس اُداس تجُ بھ٘رمُ تپن تپُ گُر گِیان ॥
بھگت جن بھےَ ہرن پرماننّد کرہُ نِدان ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
مرگ ۔ ہرن۔ مین۔ مچھلی ۔ بھرنگ۔ بھورا۔ کنچر۔ ہاتھی۔ ایک دوکھوناس۔ صرف ایک بد اوصاف کی وجہ سے تباہ و برباد ہوتے ہیں۔ پنج دوکھ اسادھ جامینہ۔ جس میں پانچ لا علاج بد اوصاف ہیں۔ جامینہہ ۔ جس میں۔ تاکی ۔ اسکی ۔ تاکی کیتک آس۔ اس سے کیا امید ہو سکتی ہے (1) اے خدا ہدایایت کہیں ۔ انسان نے لا علمی سے پیار پالیا ہے اور سوچ وچار و ہو ش و حواس کا چراغ کا نور یا روشنی مدھم ہو چکی ہے (1) رہاؤ۔ تر گدجون۔ ٹیڑھی چلنے والی جاندار یں۔ اچیت۔ غال۔ پن۔ پاپ۔ ثواب و گناہ۔ اسوچ ۔ سوچ نہ سکنا۔ سنبھو۔ ممکن۔ اوتار۔ جنم ۔ پیدائش ۔ دلبھ ۔ نایاب ۔ سنگت۔ ساتھ۔ پوچ۔ بدیوں۔ براے اعمال۔ لہ ۔ اس کی (2) ۔ کرم۔ اعمال۔ کال بھاس۔ موت کا پھندہ ۔ ابدھ۔ جوکاٹی نہ جا سکے ۔ اپاکے ۔ ترود۔ کوشش (3) رویداس داس۔ خادم رویداس ۔ اداس۔ غمگینی ۔ تج۔ چھوڑ۔ بھرم ۔ وہم و گمان ۔ گر گیان۔ سبق مرشد ۔ واعظ مرشد۔ تپن تپ۔ واعظ مرشد پر عمل پیرا ہوا ۔ بھے ہرن ۔ خوف مٹانے والے پر مانند ۔ مکمل سکون۔ ندان۔ آخر۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا انسان بے سمجھی اور لا علمی سے پیار کرتا ہے ۔ اس لئے نیک و بد کی تمیز کر نے کی سوچ و ہوش کا نورانی چراغ مراد ذہن کند ہوجاتا ہے (1) رہاو۔ ہرن۔ مچھلی بھورا ۔ پتنگا اور ہاتھی صرف ایک برائی کی وجہ سے بر باد ہوتے ہیں۔ مگر انسان میں تو پانچ ایسی برائیوں سے دو چار ہے جن کی بیخ کنی نہیں ہو سکی ۔ تب اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے (1 ) مویشی وغیرہ جس میں سوچنے اور سمجھنے کی طاقت نہیں تب ان کا اچھے اور برے کی تمیز سے لا پرواہی قدرتی ہے ۔ مگر انسانی جنم نایاب ہے اور مشکل سے ملتا ہے ۔ مگر اس کی صحبت و قربت بدیوں اور برائیوں سے ہے 2) انسا ن جہاں بھی ہے اس کی زندگی کا انحصار نیک و بد اعمال پر ہے ۔ سارے جاندار روحانی موت کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں جو کاتی نہیں جا سکتی جس کے لئے کوئی کوشش کار گر نہیں (3) اے خادم رویداس ۔ غمیگنی اور تشویش چھوڑ اور سبق و واعظ مرشد کو زیر کار لاکر اس پر عمل پیرا ہو یہی حقیقی تپسیا ہے ریاضت ہے ۔ اے الہٰی عاشقان و الہٰی پریمیوں اور پیار کرنے والوں کے خوف دور کرنے والے خدا۔ رویداس کو بھی پورن سکون عنایت فرما۔
خلاصہ ۔
گناہ اور برائی تو ایک ہی زیادہ ہے مگر انسان تو پانچ عظیم گناہوں میں مبتلا ہے ۔ اس سے بچنے کے لئے خوئش کوشش اور سمجھ کار گ رنہیں ہو سکتی اور اپناذہنی چراغ کا عکس پاک نہیں رکھ سکتا الہٰی رحمت و کرم و عنایت سے ہی برائیوں سے بچ سکتا ہے ۔

آسا ॥
سنّت تُجھیِ تنُ سنّگتِ پ٘ران ॥
ستِگُر گِیان جانےَ سنّت دیۄا دیۄ ॥੧॥
سنّت چیِ سنّگتِ سنّت کتھا رسُ ॥
سنّت پ٘ریم ماجھےَ دیِجےَ دیۄا دیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّت آچرنھ سنّت چو مارگُ سنّت چ اول٘ہگ اول٘ہگنھیِ ॥੨॥
ائُر اِک ماگءُ بھگتِ چِنّتامنھِ ॥
جنھیِ لکھاۄہُ اسنّت پاپیِ سنھِ ॥੩॥
رۄِداسُ بھنھےَ جو جانھےَ سو جانھُ ॥
سنّت اننّتہِ انّترُ ناہیِ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
تجھی تن ۔ تیرا جسم۔ سنگت۔ ساتھ ۔ پران۔ زندگی ۔ جان ۔ ستگر گیان۔ سبق مرشد۔ جانے ۔ سمجھنا۔ جانتا ۔ سنت ۔ اے سنت ۔ دیوا دیو۔ اے دیوتاؤں کے دیوتا (1) چی ۔ کی ۔ سنگت۔ ساتھ ۔ صحبت ۔ سنت کتھا۔ خدا رسیدہ کی کہانی ۔ رس ۔ لطف۔ ماجھے ۔ مجھے دیجیئے ۔ سنت۔ پریم۔ خدا رسیدہ کا پیار (1) رہاو۔ سنت آچرن ۔ سنت کا چال چلن۔ روحانی راہ ۔ اوہگ ۔ اوہگنی ۔ خدمت خادماں (2) اور اک ماگو۔ اور ایک مانگتا ہوں۔ بھگت ۔ الہٰی پیار۔ چنتا من۔ دل کے فکر و تشویش کی منی ۔ دلی خواہش کی مطابق پھل دینے والی منی ۔ اسنت۔ کافر۔ خدا سے دور ۔ جنی لکھاوہو۔ نہ دکھاؤ۔ پاپی سن۔ معہ گناہگار (3) رویداس بھنے ۔ رویداس بیان کرتا ہے ۔ جانے جان۔ جا نتا ہے ۔ سمجھتا ہے ۔ انتر ۔ فرق۔ سنت۔ اننتیہہ۔ سنت اور ۔ اس بیشمار کے درمیان۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دیو تاؤں کے دیوتا فرشتاؤں کے فرشتہ مراد بلند عظمت فرشتہ خدا مجھے پاکدامن خدا سیدہ و سنتوں کی محبت و قربت عنایت فرما اور تیری رحمت سے میں سنتوں کی الہٰی کہانی کا لطف لے سکوں اور مجھے سنتوں کا پیار عنایت کر (1) رہاؤ۔ اے فرشتوں کے بلند عظمت فرشتہ خدا۔ سچے مرشد کے سبق و واعظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سنت تیری ہی روح اور زندگی ہے اور انہیں تیرا ساتھ حاصل ہے اور ا نہین تیری صحبت و قربت حاصل ہے (1)
اے خدا مجھے سنتوں کے سے اعمال اور چال چلن اور سنتوں والا طرز زندگی اور سنتوں کے خادموں کی خدمت عنایت فرما (2)
میں ایک اور نعمت کی مانگ کرتا ہوں ۔ مجھے اپنا عشق و پریم پیار عنایت کر جو دلی خواہشات کے مطابق پھل دینے والا ہے ۔ مجھے گناہگاروں اور بدکاروں کا دیدار نہ کر (3) رویداس عرض گذارتا ہے ۔ کہ وہی دانشمند ہے اسے ہی حقیقی پہچان اور سمجھ ہے ۔ کہ سنتوں اور خدا کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے ۔

آسا ॥
تُم چنّدن ہم اِرنّڈ باپُرے سنّگِ تُمارے باسا ॥
نیِچ روُکھ تے اوُچ بھۓ ہےَ گنّدھ سُگنّدھ نِۄاسا ॥੧॥
مادھءُ ستسنّگتِ سرنِ تُم٘ہ٘ہاریِ ॥
ہم ائُگن تُم٘ہ٘ہ اُپکاریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تُم مکھتوُل سُپید سپیِئل ہم بپُرے جس کیِرا ॥
ستسنّگتِ مِلِ رہیِئےَ مادھءُ جیَسے مدھُپ مکھیِرا ॥੨॥
جاتیِ اوچھا پاتیِ اوچھا اوچھا جنمُ ہمارا ॥
راجا رام کیِ سیۄ ن کیِنیِ کہِ رۄِداس چمارا ॥੩॥੩॥
لفظی معنی:
ارنڈ ۔ یا پیرے ۔ نکمے ۔ بیچارے ارنڈ کا پودا ۔ داسا۔ سکونت۔ روکھ ۔ رخ۔ درخت۔ شجر۔ گند ۔ بلا خوشبو ۔ سگند ۔ خوشبو ۔ نواسا ۔ بس گئی (1) مادہو ۔ اے خدا ۔ ست سنگت۔ سچا ساتھ ۔ سچی صحبت و قربت۔ سرن تمہاری ۔ تیری پناہ ۔تیرا سایہ ۔ اوگن۔ بد وصف۔ اپکاری ۔ بھلائی کرنے والا۔ (1) رہاؤ ۔ مختول ۔ سپید۔ سفید۔ سپیل۔ پیلا۔ ہم پیرے ۔ بچارے ۔ جیسے مدھبپ مکھیر۔ جیسے شہد کی مکھیاں ۔ (2 ) اوچھا۔ پنچ ۔ جات۔ ذات۔ پانی اوچھا۔ نیچ گوت۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا میں نے تیری صحبت و قربت اور تیرا سایہ اختیار کیا ہوا ہے میں گناہگار بے وصف ہوں اور آپ بھلائیاں اور نیکیاں کرنے والے ہو۔ رہاؤ۔ آپ چندن کی مانند خوشبو ئیں بکھیرنے والے اور میں ارنڈ کے پودے کی مانند نکما آدمی مگر تمہاری صحبت و قربت حاصل ہے ۔ جس کی وجہ سے میں اب نیچے رخ سے اونچا شجر ہو گیا ہوں مراد اب مجھےعظمت نصیب ہوگئی ہے ۔ اور شہرت و حشمت کی خوشبو اس صحبت و قربت سے حاصل ہو گئی ہے (1) اے خدا آپ سفید اور پیلے مخمل کی مانند ہو اور او رمیں ایک کیڑے جیسا اے خدا سچی صحبت و قربت میں اس طرح سے رہوں جس طرح شہد کی مکھیاں شہد کے چھتے میں رہتی ہے (2) اے رویداس چمار کہہ دے ۔ میں نیچی ذات سے نیچے خاندان سے ہوں اور نیچوں میں میری پیدائش ہے اے خدا اگر میں میرے آقا میرے مالک تیری عبادت و ریاضت و تجھ سے پیار نہ کیا تو سچ مچ نیچ رہ جاونگا۔

آسا ॥
کہا بھئِئو جءُ تنُ بھئِئو چھِنُ چھِنُ ॥
پ٘ریمُ جاءِ تءُ ڈرپےَ تیرو جنُ ॥੧॥
تُجھہِ چرن اربِنّد بھۄن منُ ॥
پان کرت پائِئو پائِئو رامئیِیا دھنُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّپتِ بِپتِ پٹل مائِیا دھنُ ॥
SGGS P-487
تا مہِ مگن ہوت ن تیرو جنُ ॥੨॥
پ٘ریم کیِ جیۄریِ بادھِئو تیرو جن ॥
کہِ رۄِداس چھوُٹِبو کۄن گُن ॥੩॥੪॥
لفظی معنی:
کہا بھیو کیا ہوا ۔ جوؤتن۔ اگر جسم۔ چھن چھن۔ ٹکڑے کڑے ۔ پریم جائے ۔ پیار جانے سے ۔ توؤ۔ تب۔ ڈرپے ڈرتا ہے۔ تیرو جن ۔ تیرا خادم (1) تجیہہ چرن۔ تیرے پاؤں۔ اربند۔ کنول کے پھول جیسے ۔ بھون من۔ میرے من کا گھر ۔ پان ۔ گرت ۔ پینے سے ۔ اسکا لطف لینے سے ۔ پائیو پائیو امیادھن۔ الہٰی دولت پائی (1) رہاؤ۔ سنپت ۔ خوشحالی ۔ سرمایہ کی بہتات۔ بپت۔ مصیبت۔ پٹل۔ پردہ ۔ نامیہہ۔ اس میں۔ مگن۔ مست ۔ محو۔ ہوت۔ نہ تیروجن۔ تیرا خادم۔ اس میں محو ومجذوب نہیں ہوتا (2) جیوری ۔ رسی ۔ چھوٹو ۔ نجات۔ کون گن۔ کس وصف سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا۔ میرا دل تیرے کنول کے پھول جیسے تیرے مبارک پاؤں اپنی جائے رہائش بنا چکا ہے اور تیرے مبارک پاؤں سے الہٰی نام کا لطف لیتے لیتے تیرا نام کا سرمایہ مل گیا (1) رہاؤ۔ اگر میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جائے ختم ہوجائے تو کوئی پرواہ نہ ہوگی ۔ تیرا خادم اے خدا تیرا پیار دور ہونے کے خوف سے ڈرتا ہے (1) خوشحالی ۔ مصیبت اور دولت دنیاوی دولت کے پردے ہیں۔ مگر اے خدا تیر خادم ان کی گرفت میں نہیں آتا (2) رویداس کا بتادے ہے کہ اے خدا۔ تیرے خدمتگار تیری محبت میں بندھے ہوئے ہیں۔ اور میرا دل اس گرفت سے نکلتا نہیں چاہتا۔ یہ کس وصف سے نجات پائیگا۔

آسا ॥
ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرے ॥
ہرِ سِمرت جن گۓ نِسترِ ترے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ کے نام کبیِر اُجاگر ॥
جنم جنم کے کاٹے کاگر ॥੧॥
نِمت نامدیءُ دوُدھُ پیِیائِیا ॥
تءُ جگ جنم سنّکٹ نہیِ آئِیا ॥੨॥
جن رۄِداس رام رنّگِ راتا ॥
اِءُ گُر پرسادِ نرک نہیِ جاتا ॥੩॥੫॥
لفظی معنی:
ہر سمرت ۔ الہٰی یاد سے ۔ جن۔ خادم خدا۔ نستر ترے ۔ دنیاوی زندگی جو ایک سمندر کی مانند ہے ۔ سے کامیابی حاصل کی (1 ) رہاؤ۔ اُجاگر۔ مشہور۔ شہرت و عظمت پائی۔ کاگر۔ کاغذ ۔ اعمال کا حساب لیتی ذات پا ت کا حساب (1) نمت۔ واسطے ۔ برکت و قوت سے ۔ جگ۔ عالم۔ دنیا۔ سنکٹ۔ عذاب۔مصیبت (2) رام رنگ راتا۔ الہٰی نام کے پیار میں۔ اور اس کے اثرات میں محو ومجذوب۔ گر پر ساد۔ رحمت مرشد سے ۔ نرک۔ دوزخ۔
ترجمہ معہ تشریح:
ہر ایک سبد یا کلام کا اصل مطلب و مدعا اس کے۔ رہاؤ۔ کلام میں ہوتا ہے ۔ یہاں روداس جینے الہٰی بندگی یا عبادت ہر سانس کی ہے ان پر دنیاوی دولت اپنا تاثر نہیں ڈال سکتی یہ اصول بتا کے الہٰی بھگتوں کی مثال دیتے ہیں کہ کبیر جی نے بھگتی کی تو عالم میں مشہور ہوا نا مدیو نے بھگتی کی خدا سے ملاپ حاصل ہوا۔ اس سے دو باتیں صافر ظاہر نہیں کر نامدیو نے کسی مورتی کو دودھ نہیں پلائیا کسی بت کی پرستش سے نامدیو کےدل میں الہٰی پیار کا اشتیاق پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ ہر سانس الہٰی یاد کی برکت سے عالم میں شہرت پائی ۔
مراد:
الہٰی ریاض و عبادت سے اور اس کی برکت سے اس عالم میں شہرت و عظمت پا سکتے ہیں۔ سانس سانس الہٰی نام کی یاد سے سچ او ر حقیقت اپنا کر خادم خدا مکمل طور پر دنیاوی زندگی میں کامیابی شہرت حاصل کرتے ہیں ۔ رہاؤ۔
الہٰی ریاض و عبادت سے کبیر بھگت نے شہر ت و عظمت پائی اور اخرت حساب اعمال سے نجات پائی (1) الہٰی ریاض و عبادت کی برکت سے خدوا کو دودھ پلائیا۔ اور تناسخ سے نجات پائی (2) خادم خدا رویداس بھی الہٰی پریم کے زیر اثر آگیا ہے ۔ اسی تاثر سے اور رحمت مرشد سے دوزخ میں جانا نہیں پڑیگا۔

آسا ॥
ماٹیِ کو پُترا کیَسے نچتُ ہےَ ॥
دیکھےَ دیکھےَ سُنےَ بولےَ دئُرِئو پھِرتُ ہےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جب کچھُ پاۄےَ تب گربُ کرتُ ہےَ ॥
مائِیا گئیِ تب روۄنُ لگتُ ہےَ ॥੧॥
من بچ ک٘رم رس کسہِ لُبھانا ॥
بِنسِ گئِیا جاءِ کہوُنّ سمانا ॥੨॥
کہِ رۄِداس باجیِ جگُ بھائیِ ॥
باجیِگر سءُ مد਼ہِ پ٘ریِتِ بنِ آئیِ ॥੩॥੬॥
لفظی معنی:
پتر۔ پتلا۔ نپت ۔ ناچتا ہے ۔(1) رہاؤ۔ پاوے ۔ پاتا ہے ۔ گربھ۔ غرور ۔ تکبر۔ روون۔ روتا ہے (1 من۔ دل۔ بچ۔ بول۔ باتوں ۔ کرم۔ کام۔ اعمال۔ رس کیہہ۔ لطف اور لذتوں میں۔ لبھانا۔ لالچ۔ ونس۔ مٹنے پر (2) باجی۔ بازی۔ کھیل ۔ بازیگر ۔ کھلانے والا۔ موہ۔ میں۔ پریت بن ائی ۔ محبت ہوگئی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
مٹی کا پتلا انسان کیسے بھٹکتا پھرتا ہے ۔ یعنی یہ اس کی دوڑ دہوپ دنیاوی سرمایہ کے لئے کرتا پھرتا ہے اسی کی ہی طرف غور و خوض ہے نظر دوڑاتا دیکھتا ۔ سنتا اور دوڑا پھرتا ہے ۔ رہاؤ ۔ جب کچھ حاصل ہوجاتا ہے تو اسکا غرور کرتا ہے اور جب یہ سرمایہ چلا جاتا ہے تو آہ وزاری کرتا ہے (1) اپنے دل کلام اور اعمال کے ذیرعے لطف اور لذتوں کے احساس میں گرفتار ہے ۔ بوقت آخرت اسے کہیں برا ٹھکانہ ہی حاصل ہوگا (2) رویداس صاحب کا فرمان ہے ۔ اے دنیا کے لوگوں یہ دنیا ایک کھیل ہے اور میرا پیار اس کھیل بنانے والے سے ہوگیا ہے ۔
خلاصہ :
اس دنیاوی سرمائے میں گرفتار انسان بھٹکتا ہے اور مذا ق بنتا ہے لہذا اس ظلالت سے وہی بچ سکتا ہے ۔ جو اس دنیاوی سرمایہ کے بنانے والے سے پیار کریگا۔

آسا بانھیِ بھگت دھنّنے جیِ کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
بھ٘رمت پھِرت بہُ جنم بِلانے تنُ منُ دھنُ نہیِ دھیِرے ॥
لالچ بِکھُ کام لُبدھ راتا منِ بِسرے پ٘ربھ ہیِرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِکھُ پھل میِٹھ لگے من بئُرے چار بِچار ن جانِیا ॥
گُن تے پ٘ریِتِ بڈھیِ ان بھاںتیِ جنم مرن پھِرِ تانِیا ॥੧॥
جُگتِ جانِ نہیِ رِدےَ نِۄاسیِ جلت جال جم پھنّدھ پرے ॥
بِکھُ پھل سنّچِ بھرے من ایَسے پرم پُرکھ پ٘ربھ من بِسرے ॥੨॥
گِیان پ٘رۄیسُ گُرہِ دھنُ دیِیا دھِیانُ مانُ من ایک مۓ ॥
پ٘ریم بھگتِ مانیِ سُکھُ جانِیا ت٘رِپتِ اگھانے مُکتِ بھۓ ॥੩॥
جوتِ سماءِ سمانیِ جا کےَ اچھلیِ پ٘ربھُ پہِچانِیا ॥
دھنّنےَ دھنُ پائِیا دھرنھیِدھرُ مِلِ جن سنّت سمانِیا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
بھرمت بھرمت۔ بھٹکتے بھٹکتے ۔ بہو ۔ جنم۔ بہت پر ۔ بہت سی زندگیاں ۔ بلانے ۔ گذرے ۔ تن من۔ دل و جان۔ دھیرے ۔ مستقل مزاج۔ تحمل مزاج۔ وکھ۔ زہر۔ کلام ۔ شہوت۔ لبدھ۔ کے لالچ میں۔ راتا ۔ محو ومجذوب ۔ پربھ وسرے ۔ خدا بھلاتا ہے (1) رہاؤ ۔ دکھ پھل۔ زہریلے نتیجے ۔ زہر آلودہ ۔ پھل۔ بورے پاگل۔ چار و چار۔ نیک کاموں کا خیال ۔ سمجھ۔ نہ جانیا۔ نہ سمجھا۔ گن نے ۔ اوصاف کے علاوہ ۔ ان بھانتی اور ہی قسم کی ۔ جنم مرن۔ تناسخ (1) جگت ۔ جان ۔ طرز زندگی کی سمجھ۔ نواسی۔ بسائی۔ بٹھائی۔ جلت جال۔ جلتے ہوئے پھندے ۔ سنچ۔ اکھٹے کرنا۔ جمع کرنا۔ پرم پرکھ پرہ ۔ اس عظیم خدا (2) گیان پرویس ۔ علم کی روشنی۔ گریہہ۔ مرشد نے ۔ دھن۔ دولت۔ مان۔ شردھا ۔ عقیدہ ۔ ترپت۔ تسلی۔ یقین۔ اگھانے ۔ سیر ہوئے ۔ جوت۔ نور ۔ اچھلی ۔ جسے دہوکا نہیں دیا جاسکتا۔ پہچانیا۔ سمجھیا۔ دھرنی دھر ۔ زمین کا مالک۔ مل جن۔ خادمان خدا کے ملاپ سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بھٹکتے بھٹکتے بہت عرصہ گذر جاتا ہے دل وجان اور دولت مستقل نہیں رہتے جسم ختم ہوجاتا ہے دل بھٹکتا رہتا ہے اور دولت ختم ہوجاتی ہے ۔ انسان لالچ اور زہریلے زہر آلودہ لطف اور لذتوں اور شہوت میں محظوظ قیمتی خدا کو دل سے بھلا دیتا ہے (1) رہاؤ۔ اے نادان انسان زہریلے پھل تجھے اچھے لگتے ہیں تجھے نیکی کا خیال نہیں اوصاف کو بھلا کر دوسری قسم کی محبت تیرے دل میں گھر کر رہی ہے ۔ تیرا تناسخ تیار ہو رہا ہے (1) تو نے بہترین زندگی گذارنے کا نسخہ نہیں سمجھا اور نہ دل میں بسا ئیا ہے خواہشات کی آگ میں جلتے ہوئے کو فرشتہ موت کا پھندہ تیار ہو رہا ہے ۔ اور تو بدکاریوں بھری لذتوں میں مصروف ان بدیوں کے ڈھیر اکھٹے کرنے میں مصروف اس عظیم قوت خدا کو بھلا رکھا ہے (2) جس انسان کو مرشد نے علم کی دولت عنایت کی ہے ۔ جس سے اس کے ذہن و قلب میں اور اس کے ہوش و ہواس میں خدا بس گیا اس کے دل میں عقیدت پیدا ہو گئی ۔ غرض یہ کہ خدا سے یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسے الہٰی محبت اور پریم اچھا لگتا ہےاور دنیاوی دولت کی غلامی سے نجات پا لیتا ہے (3)
جس انسان کے دل میں الہٰی نور بس گیا ۔ اس نے دنیاوی دولت کے دہوکے میں نہ آنے والے خدا کو پہچان لیا۔ دھنے نے بھی زمین کے مالک کی خدا کی دولت حاصل کر لی اور صحبت و قربت پاکدامن خدا ریسدگان سے خدا کی محبت میں محو ومجذوب ہوگیا ہوں۔ (4)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دھنا جی اپنی زبان سے فرماتے ہیں کہ صحبت و قربت پاکدامن میں زمین کے مالک خدا سے ملاپ اور پہچان ہوئی ہے ۔ مگر کچھ غلط قسم کے لوگوں یہ کہانی مشہور کر رکھی ہے کہ دھنے نے براہمن سے ٹھاکر لیکر اس کی پرستش کی اور پر ستش سے الہٰی ملاپ حاصل ہوا اس وہم وگمان کو دور کر نے کے لئے گرو ارجن دیوجی نے اگلا شبد اپنی طرف سے بیان کیا ہے ۔

مہلا ੫॥
گوبِنّد گوبِنّد گوبِنّد سنّگِ نامدیءُ منُ لیِنھا ॥
آڈھ دام کو چھیِپرو ہوئِئو لاکھیِنھا ॥੧॥ رہاءُ ॥
بُننا تننا تِیاگِ کےَ پ٘ریِتِ چرن کبیِرا ॥
نیِچ کُلا جولاہرا بھئِئو گُنیِز گہیِرا ॥੧॥
رۄِداسُ ڈھُۄنّتا ڈھور نیِتِ تِنِ تِیاگیِ مائِیا ॥
پرگٹُ ہویا سادھسنّگِ ہرِ درسنُ پائِیا ॥੨॥
سیَنُ نائیِ بُتکاریِیا اوہُ گھرِ گھرِ سُنِیا ॥
ہِردے ۄسِیا پارب٘رہمُ بھگتا مہِ گنِیا ॥੩॥
SGGS P-488
اِہ بِدھِ سُنِ کےَ جاٹرو اُٹھِ بھگتیِ لاگا ॥
مِلے پ٘رتکھِ گُسائیِیا دھنّنا ۄڈبھاگا ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
نامدیو ۔ من لینا ۔ نامدیو کا دل محو ومجذوب ہوا۔ آدھ دام۔ دو کوڑی ۔ کوڈی۔ ہو ہو لاکھینا ۔ لاکھ پتی ہوا ۔ نیچ کلا ۔ کمینے خاندان والا۔ گنی گہیر۔ بھاری اوصاف کا مالک ہوا (1) رویداس ڈھونتا ڈہورنت ۔ رویداس ۔ جو مردہ مویشی ڈہونے کا کام کرتا تھا ۔ تیاگی مائیا۔ دنیاوی دولت ۔ چھوڑی۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ مشہور۔ سادھ سنگ۔ پاکدامن خدا رسیدہ کی صحبت و قربت سے ۔ ہر درشن پائیا۔ دیدار خدا ہوا۔ (2) بت کا ریا ۔ قاصد ۔ چھٹی رساں۔ سوبھا ۔ نیکی ۔ نیک شہرت ۔ پار برہم ۔ خا۔ بھگتا ۔ عاشقان الہٰی ۔ الہٰی پریمی (3) بدھ۔ طرقیہ ۔ پرتکھ ۔ ظاہر ۔ دڈبھاگا۔ بلند قسمت۔
ترجمہ معہ تشریح:
نا مدیو ہمیشہ الہٰی نا م میں محو رہتا تھا لہذا الہٰی نام کی برکت سے آدھی دمڑی کا چھینا لاکھوں کا ہوا (1) رہاؤ۔ کپڑا بننا چھوڑ کر کبیرے خدمت خدا میں محو ہوا کیبر نیچ قوم ہوتے ہوئے جلاہا اوصاف کا سمندر ہوا(1) رویداس جو ہمیشہ مردہ موئشی اُٹھانے کا کام کرتا تھا جب دنیاوی دولت کی محبت چھوڑی تو صحبت و قربت پاکدامن خدا رسیدگان سے شہرت یافتہ ہوا اور دیدار خدا ہوا (2)
سین قوم حجام جو پیغام رسانی کا کام کرتا تھا اس کے دل میں الہٰی محبت ہو نیکی وجہ سے دلمیں خدا بسنے کیوجہ سے ہر گھر میں شہرت نصیب ہوئی اور الہٰی پریمیو ں میں شمار ہوا (3) اس طرح کی باتیں سنرک دھنا جٹ الہٰی پیار میں محو ہوا اور ظاہر وصل و دیدار حاصل ہوا اور بلند قسمت ہوا ۔

رے چِت چیتسِ کیِ ن دزال دمودر بِبہِ ن جانسِ کوئیِ ॥
جے دھاۄہِ ب٘رہمنّڈ کھنّڈ کءُ کرتا کرےَ سُ ہوئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جننیِ کیرے اُدر اُدک مہِ پِنّڈُ کیِیا دس دُیارا ॥
دےءِ اہارُ اگنِ مہِ راکھےَ ایَسا کھسمُ ہمارا ॥੧॥
کُنّمیِ جل ماہِ تن تِسُ باہرِ پنّکھ کھیِرُ تِن ناہیِ ॥
پوُرن پرماننّد منوہر سمجھِ دیکھُ من ماہیِ ॥੨॥
پاکھنھِ کیِٹُ گُپتُ ہوءِ رہتا تا چو مارگُ ناہیِ ॥
کہےَ دھنّنا پوُرن تاہوُ کو مت رے جیِء ڈراںہیِ ॥੩॥੩॥
لفظی معنی:
چت ۔ دل۔ چیتس ۔ یاد نہیں کرتا ۔ دیال۔ مہربان و مشفق ۔ دمودر ۔ خدا۔ بیہہ ۔ دوسرا۔ جانس۔ جانتے ۔ دھاویہہ ۔ دوڑ یگا ۔ برہمنڈ ۔ کھنڈ۔ سارے عالم کے ملکوں میں۔ کرتا ۔ کرتار۔ کرنے والا۔ سو سوہوہی ۔ وہی ہوگا۔ (1) رہاؤ ۔ جننی ۔ ماں۔ اور۔ پیٹ۔ ادک ۔ پانی ۔ پنڈ۔ جسم۔ دس دوآر۔ دس دروازوں والا (1) رہاؤ۔ خوراک ۔ اگن مینہ راکھے ۔ آگ میں محافظ ہے ۔ خصم۔ مالک (1) کمی ۔ کچھوی ۔ تن تس۔ اس کے بچے ۔ پنکھ ۔ پر ۔ کھیر ۔ دودھ ۔ پورن پر ماند۔ مکمل پر سکون۔ منوہر۔ دل لبھانے والا۔ دیکھ من ماہی ۔ دلمیں نظر دوڑا (2) پاکھان۔ پتھر ۔ کیٹ ۔ کیڑا۔۔ گپت ۔ پوشیدہ ۔ تاچو۔ مارگ ناہی ۔ باہرنکلنے کے لئے کوئی راستہ نہیں۔ پورن تاہو۔ اسے بھی مکمل رز ق یا خوراک دیتا ہے ۔ مت رجیئہ ڈرا ہی اے دل تو کیوں خوف کرتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل تو رحمان الرحیم خداوند کریم کو کیون یاد نہیں کرتا۔ جس کے بغیر ہمکسی کو نہیں جانتے ۔ خواہ تو عالم کے تمام ملکوں اور بدیشوں میں پھٹکتے پھرتے رہو تب بھی وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا اور جو خدا کریگا وہی ہوگا (1) رہاؤ۔ ماں کے پیٹ کے پانی میں ہمارا دس دروازوں والا جسم بنائیا پیٹ کی آگ میں خوراک پہنچائی اور حفاظت کی ایسا مہربان مالک ہے (1) کچھوی پانی میں رہتی ہے مگر بچے باہر ریت پر ہیں۔ نہ ان کے پر ہیں نہ ان کے لئے دودھ ہے ۔ اے انسان دلمیں سوچ سمجھ اور خیال دوڑا کہ وہ مکمل طور پر سکون خدا ان کی بھی پرورش کرتا ہے (2) پتھر کا کیڑا پوشیدہ طور پر پتھر میں رہتا ہے اس کے لئے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں اسے بھی کامل خدا رزق پہنچاتا ہے ۔ بھگت دھنا جی فرماتے ہیں کہ اے دل تو بھی خوف نہ کر

آسا سیکھ پھریِد جیِءُ کیِ بانھیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
دِلہُ مُہبتِ جِنّن٘ہ٘ہ سیئیِ سچِیا ॥
جِن٘ہ٘ہ منِ ہورُ مُکھِ ہورُ سِ کاںڈھے کچِیا ॥੧॥
رتے اِسک کھُداءِ رنّگِ دیِدار کے ॥
ۄِسرِیا جِن٘ہ٘ہ نامُ تے بھُءِ بھارُ تھیِۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپِ لیِۓ لڑِ لاءِ درِ درۄیس سے ॥
تِن دھنّنُ جنھیدیِ ماءُ آۓ سپھلُ سے ॥੨॥
پرۄدگار اپار اگم بیئنّت توُ ॥
جِنا پچھاتا سچُ چُنّما پیَر موُنّ ॥੩॥
تیریِ پنہ کھُداءِ توُ بکھسنّدگیِ ॥
سیکھ پھریِدےَ کھیَرُ دیِجےَ بنّدگیِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
دلہو محبت۔ جن کی دل کی گہریوں سے محبت ہے ۔ ۔ سچیا۔ سچا عاشق۔ سچا پریمی ۔ جن من ہو ۔ مکھ ہور۔ در دل دگر ۔ ہر زبان دگر۔ سے ۔ وہ ۔ کانڈھے ۔ کہاتے ہین۔ کچیا۔ جھوٹے (1) رتے ۔ محو ومجذوب۔ عشق ۔ محبت۔ دیدار ۔ ریکھنے ۔ وسیرا۔ بھولیا۔ بھوئے بھار تھیئے ۔ وہ زمین پر بوجھ ہیں۔ (1) رہاؤ۔ لڑ۔ دامن۔ در۔ دروازہ۔ درویس۔ فقیر۔ جنیدی ۔ جنم دینے والی۔ دھن۔ شاباش۔ آئے سپھل ۔ سے ۔ ان کا پیدا ہونا کامیاب ہے (2) پر ودرگار ۔ پروش کرنے والا۔ اپار۔ لا محدود ۔ اگم ۔ جس تک رسائی نہ ہو سکے ۔ سچ ۔ حقیقت۔ صدیوی ۔ چما ۔ بوسالوں ۔ پیر مو۔ میں پاؤں (3) پنیہہ۔ سایہ ۔ آسرا۔ بخشندگی ۔ بخشنے والا۔ خیر۔ خیرات۔ بھیک ۔ بندگی ۔ تابعداری ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو انسان الہٰی عشق و دیدار مین محو ومجذوب ہیں اور جنہوں نے الہٰی نام بھلا دیا وہ زمین کے لئے بوجھ ہیں (1) رہاؤ۔ جن کو خڈا سے دلی محبت وہ سچے عاشقان الہٰی ہیں۔ جن کے دل میں اور ہے زبان پہ اور ہو جھوٹے عاشق کہلاتے ہیں۔ دہان دگر بر زبان دگر (1) وہی در الہٰی کے فقیر ہیں جنہیں دیتا ہے اپنا دامن خود خدا۔ شاباش ہے اس ماں کو جس نے اسے جنم دیا ہے ۔ اسکا جہاں میں پیدا ہونا مبارکباد کا مستحق ہے ۔ اور کامیاب ہے (2) اے پرودگار تو شمار سے باہر اور انسانی رسائی سے بلند اور لا محدود ہے ۔ جنہوں نے تجھے حقیقت اور صدیوی سمجھ لیا ہے ۔ میں ان کی قدمبوسی کروں۔ (3) اے خدا تو بخشنے والا ہے مجھے تیرا سہارا ہے ۔ شیخ فرید کو اپنی اطاعت کی خیرا ت دیجیئے ۔

آسا ॥
بولےَ سیکھ پھریِدُ پِیارے الہ لگے ॥
اِہُ تنُ ہوسیِ کھاک نِمانھیِ گور گھرے ॥੧॥
آجُ مِلاۄا سیکھ پھریِد ٹاکِم کوُنّجڑیِیا منہُ مچِنّدڑیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جے جانھا مرِ جائیِئےَ گھُمِ ن آئیِئےَ ॥
جھوُٹھیِ دُنیِیا لگِ ن آپُ ۄجنْائیِئےَ ॥੨॥
بولیِئےَ سچُ دھرمُ جھوُٹھُ ن بولیِئےَ ॥
جو گُرُ دسےَ ۄاٹ مُریِدا جولیِئےَ ॥੩॥
چھیَل لنّگھنّدے پارِ گوریِ منُ دھیِرِیا ॥
کنّچن ۄنّنے پاسے کلۄتِ چیِرِیا ॥੪॥
سیکھ ہیَزاتیِ جگِ ن کوئیِ تھِرُ رہِیا ॥
جِسُ آسنھِ ہم بیَٹھے کیتے بیَسِ گئِیا ॥੫॥
کتِک کوُنّجاں چیتِ ڈءُ ساۄنھِ بِجُلیِیا ॥
سیِیالے سوہنّدیِیا پِر گلِ باہڑیِیا ॥੬॥
چلے چلنھہار ۄِچارا لےءِ منو ॥
گنّڈھیدِیا چھِء ماہ تُڑنّدِیا ہِکُ کھِنو ॥੭॥
جِمیِ پُچھےَ اسمان پھریِدا کھیۄٹ کِنّنِ گۓ ॥
جالنھ گوراں نالِ اُلامے جیِء سہے ॥੮॥੨॥
لفظی معنی:
بوے ۔ فرماتا ہے ۔ کہتا ہے ۔ اللہ لگو ۔ خدا سے رشتہ بناؤ۔ تن ۔ جسم۔ ہوسی ۔ خاک ۔ مٹی ۔ ہوجائیگا۔ گور گھرے ۔ قبر میں ٹھکانہ ہوگا (1) ٹاکم ۔ روکھان اعضے جسمانی کو نجڑیاں ۔ کونج کی مانند ہے ۔ منہو ۔ دل سے ۔ مچندڑیاں۔ اکسائی ہوئ ہیں (1) رہاؤ۔ گھم۔ دوبارہ۔ونجایئے ۔ گنوایئے ۔آپ۔خوش (2) سچ ۔ حقیقت۔ اصل۔ دھرم۔انصاف۔ فرض انسانی ۔ گر ۔مرشد۔ واٹ ۔ راستہ۔مرید۔ پر وکار۔ جو لیئے ۔ اس پر کار بندرہناچاہیے۔ اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے (3)چھیل۔ خوبصورت ۔ بانکےجوان۔گوری من۔کمزوور عورت ۔ دھیریا۔حوصلہ افزا ہوتاہے ۔ کنچن۔سونا۔ دنے۔جیسے ۔ کلوت ۔ آرا۔ چیریا۔چیرے جاتےہیں۔مراد عذاب پاتے ہیں (4) تھر۔صدیوی ۔ مستقل۔ آسن۔جگہ ۔کیتے۔کتنےہی ۔ بیس ۔ بیٹھ (5) کتککونجاں۔ماہ۔کا رتک میں کونجاں۔ڈو۔ جنگل کی آگ ۔ سیاے ۔ سر دی کے موسم میں۔ پر ۔ پتی ۔ خاوند۔ با ہڑیاں۔ بازو (6) چلنہار ۔ چلنے والے ۔ گنڈ سیدیا ۔ بننے میں۔ لٹر ندیا ۔ ختم ہوتے ۔ ہک کھنو۔ ایک پل (7) جمی ۔ زمین ۔ کھیوٹ۔ ملاح ۔ رہبر۔ کن۔ کہاں۔ جانن گوراں نال ۔ قبروں میں عذاب پا ر ہے ہیں ۔ الامے ۔ لعنتیں۔ جیہ ۔ روح۔ سہے ۔ برداست کرتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے شیخ فرید آج یعنی اس انسانی دور حیات میں وصل خاد ہو سکتا ہے ۔ ان کو نج جیسے اعضے احساسات جسمانی پر ضبط رکھو جو دل کو بھڑکاتی اور اکساتی ہیں (1) رہاو۔ شیخ فرید جی فرماتے ہیں کہ خدا سے پیار کرؤ ۔ رشتہ پیدا کرؤ۔ کیونکہ اس جسم نے متی میں مل جانا ہے اور تیرا اسکا مقام ہوگی (1)
اگر تو سمجھتا ہے کہ موت لازم ہے اور دوبار ہ نہیں آنا۔ تو اس فناہ ہونیوالی مٹ جانے والی دنیا سے پیار بنا کر اپنے آپ کو نہ گنواؤ (2) بانکے نوجوان مر د یعنی پاکدامن خدا سیدہ اپنی زندگی کامیابی سے گذارتے ہیں اور اس دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور کر لیتے ہیں۔غرض یہ کہ کمزور دل عورت کو بھی اس سے حوصلہ ملتا ہے (4) سچ اور فرض شناشی ہی کینی چاہیے ،جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور مرشد کےبتائے ہوئے راستے پر مریدوں کی طرح چلنا چاہیے (3) اے شیخ فرید ۔ اس دنیا میں صدیوی زندہ نہیں رہا۔ کوئی زندگی صدیوی اور مستقل نہیں جہاں ہم سکون پذیر ہیں کتنے ہی سکونت اختیار کرکے اس جہاں سے کوچ کر گئے (5) مادہ کا رک میں کونجیں ۔ چیت کے مہینے میں جنگل کی آگ اور ساون کے مہینے میں آسمان بجلی سردی کے موسم میں ( بتی ) خاوند کے گلے میں ان کی ہویوں کی خوبصورت بازو اچھے لگتے ہیں (6) اے دل دل سمجھ لے خیال کر ختم ہونے والا ختم ہور ہا ہے ۔ بننے میں چھ ماہ لگتے ہیں ختم پل بھر میں ہوجاتا ہے (7) زمین اور آسمان اس بات کے شاہد ہیں کہ بہت سے رہبر اور پیغمبر کہلانے والے کہان ہیں۔ جسم تو قیروں میں ختم ہوجاتے ہیں۔ مگر کئے اعمال کی ساز اور جزا روح برداشت کرتی ہے ۔۔
انسان علم حاصل کرنے سے سے قاصر رہتا ہے جبتک اسے اپنے رہبر اور مرشد میں مکمل عقیدتمندی نہ ہو ۔
SGGSP 982
Missing- Does not belong here-note
بانی گرو ہے بانی وچ بانی انمرت سارے
بانی کہے سیوک جن مانے پرتکھ گرو نستارے
ہر روز ست سنگ کے بعد ارداس ہوتی ہے
گروگرنتھ جی مانیو پرگٹ گراں کی دیہہ
جو پربھ کو ملیو چہے کھوج شبد میں لیہ

یعنی جسمانی طور پر کوئی صدیوی نہیں رہ سکتا مگر رہبروں کے کلام آج بھی زندہ ہیں۔ مرشد ہمیشہ زندگی گذارنے کے طور طریقوں میں رہنمائی کرتا ۔
جو شخص گرو گرنتھ ساحب کو گرو بھی مانتا ہے ۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ ا سمیں متضاد خیال بھی ہے ۔ اسے عقیدتمندی نہیں کہہ سکتے یہ تو ایسے ہے ۔

SGGS p. 474
mehlaa 2.
اسلام جوا دووے کرے مڈہو گھتھا جائے
نانک دووے کوڑیا ، تھائے نہ کائی پائے
جو انسان گرو گرنتھ صاحب کو گر و بھی مانتا ہے مگر مگراہ
بھی ہے اور شک و شبہ اور اختلاف بھی رکھتاہے وہ ۔
حقیقتا ً دو بیڑیوں میں سوار ہوکر زندگی گذارنے کی کوشش کرتا ہے ۔
اس سب کے باوجود انسانی زندگی ہمیشہ اور صدیوی نہیں اس لئے پیر ، پیغمبر ۔ مرشد۔ رہنما ہونے کے باوجود اس کی زندگی بھی صدیوی نہیں مگر اس کے تحریری رہنمائی آج بھی رہنما ہوکر رہنمائی کر رہی ہے ۔ وید آج سے ہزاروں مال پہلے تحریر ہوئے ہیں مگر آج بھی موجود ہیں قرآن شریف چودہ سال پہلے تحریر ہوئی ۔ آج بھی اس طرح بائیل توریت اور زمبور وغیرہ آج بھی ہیں گو ان کو تحریر کرنے کرانے والے اس جہاں سے بہت عرصہ پہلے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ انسان کا ایمان بدلتا رہتا ہے ۔ انسان کی رہنمابدلتی رہتی ہے کبھی سارا ہندوستاودیوں کو مانتا تھا۔ اس کے بعد اسلام نے اسے کفر کرار دیا ویدوں کی تعلیم پر نکتہ چینی کی اسی طرح اسلام اور بہودیوں کے ایمان و اعتقا و اعتماد میں فرق ہے اس طرح سے عیسائیوں میں بھی رومن کیتھومک ۔ پروٹسٹنٹ ۔ پیور ٹیفر۔ کوہکر ۔ وغیرہ بہت سے فرقے ہیں۔ جنکا اعتماد و اعتقاد جدا ہیں مگر ایک بات ساری انسانیت میں مشترق ہے کہ سارے انسان واحد خدا کی اولاد ہیں۔ اور تمام بنی نوع انسان کو انسانی بھلائی کے لئے انسانیت کا بئوارہ ۔ ذاتوں ۔ گونوں مذہبوں کی چاردیواریوں کے اندر قید کر دینا انسانیت کے خلاف ہے گرو نانک صاحب کا فلسفہ انسان ان تمام عقائد و اعتماد کی پابندیوں سے آزاد کراا جو محض جسمانی اور یبرونی طور پر رہنما ئی کرتی ہیں اور انسان سے انسان کے درمیان تفریق پیدا کرتی ہیں۔ لہذا اشرع اور مریاد ا کے اس اصول نے ہمیشہ رشتے استوار کر نے میں اور مذہبی حکومتوں کو ایک ہتھار اور اسلحہ ہوکر انسانیت اور آدمیت کو برباد کرنے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ گرو نانک صاحب نے ہمیشہ سچ ۔ حق و حقیقت کے طلبگار ہونے کی ہدایت کی ہے ۔ یہی انسانیت ۔ حقیقت پرستی ۔ انصاف ۔ مساوات در ین گرو نانک صاحب مابعد کے گرو صاحبان اور بھگتوں کی بانی میں درج ہے ۔ جب کہ اندھ وشواشی اصل حقیقت کی پہچان کی خلاف مزہبی تصعب کی آنکھوں پر باندھنے کی ایک پٹی جو ہمیں حقیقت پہنچاننے کی راہ میں ہمیشہ سدراہ اور حائل رہتی ہے ۔ اسی لئے اس کلام کی وسیع نظریئے وسیع سوچ و ہوش سے بجائے زبانی پڑھنے پاٹھ کرنے کے اس کو سوچنا سمجھنا اور اس ست سنگت میں پڑھنا سمجھنا ہی سے حق ۔ حقیقت اور سچ کا پتہ چلتا ہے ۔