Urdu-Master-34

Register No 14
SGGS- page 1271- 1332
ملار مہلا ੫॥
پرمیسرُ ہویا دئِیالُ ॥
میگھُ ۄرسےَ انّم٘رِت دھار ॥
سگلے جیِء جنّت ت٘رِپتاسے ॥
کارج آۓ پوُرے راسے ॥੧॥
سدا سدا من نامُ سم٘ہ٘ہالِ ॥
گُر پوُرے کیِ سیۄا پائِیا ایَتھےَ اوتھےَ نِبہےَ نالِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُکھُ بھنّنا بھےَ بھنّجنہار ॥
آپنھِیا جیِیا کیِ کیِتیِ سار ॥
راکھنہار سدا مِہرۄان ॥
سدا سدا جائیِئےَ کُربان ॥੨॥
کالُ گۄائِیا کرتےَ آپِ ॥
سدا سدا من تِس نو جاپِ ॥
د٘رِسٹِ دھارِ راکھے سبھِ جنّت ॥
گُنھ گاۄہُ نِت نِت بھگۄنّت ॥੩॥
ایکو کرتا آپے آپ ॥
ہرِ کے بھگت جانھہِ پرتاپ ॥
ناۄےَ کیِ پیَج رکھدا آئِیا ॥
نانکُ بولےَ تِس کا بولائِیا ॥੪॥੩॥੨੧॥
لفظی معنی:
پرمیسر۔ خدا۔ دیال۔ مہربان ۔ میگھ ۔ بادل ۔ برسے ۔ برستا ے ۔ انمر ت دھار۔ آب حیات کی دھارائیں۔ سگلے ۔ سارے ۔ جیئہ ۔ جاندار۔ ترپتا سے ۔ سیر ہوئے ہیں۔ راستے ۔ درست (1) نام سمال۔ سنبھال ۔ یاد کر۔ سیوا۔ خدمت۔ ایتھے اوتھے ۔ یاہں اور وہاں ۔ نیھہے نال ساتھ دے (1) رہاؤ۔ دھ بھنا۔ عذاب مٹائئا ۔ بھے ۔ بھنجنہار ۔ خوف مٹانے ی توفیق رھنے والے ۔ کال۔ موت۔ جاپ۔ یاد گر۔ درسٹ دھار ۔ نظر عنایت و شفقت ۔ جنت۔ مخلوقات ۔ بھگونت ۔ تقدیرساز (2) پرتاپ۔ قدوقامت قدر۔
ترجمہ
اے دل ہمیشہ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت سنبھال مراد دل میں بسا یاد رکھ جو کامل مرشد کی خدمت سے دریافت ہو جاتا ہے ہر دو عالموں میں مددگار ساتھی بنتا ہے ۔ رہاؤ۔ خدا مہربان ہوا بادل برسا آب حیات کی دھاروں کی بارش ہوئی ساری مخلوقا ت کو تسکین حاصل ہوئی۔ سارے کام مکمل ہوئے (1) عذاب مٹانے کی توفیق رکھنے والا ہمیشہ عذاب مٹاتا ہے اور (اپنے ) اپنی مخلوقات کی سنبھال کرتا ہے ۔ حفاظت کی توفیق رکھنے والا خدا مہربان رہتا ہے میں ہمیشہ اس پر قربان ہوں (2) خدا نے موت مٹائی اے دل ہمیشہ اسکی ریاضت عبادت بندگی و اطاعت کر۔ خدا پنی نظر عنایت و شفقت سے ساری مخلوقات کی حفاظت کرتا ہے ۔ اس خداوند کریم کی ہر روز حمدوثناہ کرؤ (3) کرتار واحد ہے اسکی عطمت و برکات اسکے ریاضتی و خدمتگار جانتے ہیں۔ خدا نام ست سچ حق وحقیقت کی عزت اور قدر کرتا آیا ہے ۔ نانک اسکی رضا و فرمان سے کہہ رہا ہے ۔

ملار مہلا ੫॥
گُر سرنھائیِ سگل نِدھان ॥
ساچیِ درگہِ پائیِئےَ مانُ ॥
بھ٘رم بھءُ دوُکھُ دردُ سبھُ جاءِ ॥
سادھسنّگِ سد ہرِ گُنھ گاءِ ॥
من میرے گُرُ پوُرا سالاہِ ॥
نامُ نِدھانُ جپہُ دِنُ راتیِ من چِنّدے پھل پاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ستِگُر جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
گُر پارب٘رہمُ پرمیسرُ سوءِ ॥
جنم مرنھ دوُکھ تے راکھےَ ॥
مائِیا بِکھُ پھِرِ بہُڑِ ن چاکھےَ ॥੨॥
گُر کیِ مہِما کتھنُ ن جاءِ ॥
گُرُ پرمیسرُ ساچےَ ناءِ ॥
سچُ سنّجمُ کرنھیِ سبھُ ساچیِ ॥
سو منُ نِرملُ جو گُر سنّگِ راچیِ ॥੩॥
گُرُ پوُرا پائیِئےَ ۄڈ بھاگِ ॥
کامُ ک٘رودھُ لوبھُ من تے تِیاگِ ॥
کرِ کِرپا گُر چرنھ نِۄاسِ ॥
نانک کیِ پ٘ربھ سچُ ارداسِ ॥੪॥੪॥੨੨॥
لفظی معنی:
گرسرنائی ۔ پناہ مرشد۔ سگل ندھان ۔ سارے ۔خزانے ۔ مان ۔ عزت وقار ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ بھو ۔ خوف۔ ساچی درگیہہ۔ صدیوی ۔ عدالت ۔ سادھ سنگ ۔ سحبت مرشد (1) نام ندھان۔ نام کا خزانہ خدا۔ من چندے ۔ دلی خواہشات کے مطاببق ۔رہاؤ۔ اور دوسرا ۔ پار برہم۔ پار لگانیوالا۔ پرمیسور۔ بھاری مالک ۔ سوئے ۔ وہی ۔جنم مرن۔ موت و پیدائش ۔ آواگون۔ تناسخ۔ راکھے ۔ بچاتا ہے ۔ مائیا بکھ ۔ زہریلی مائیا۔ بہئٹر۔ دوبارہ۔ (2) مہما۔ عظمت ۔ ساچے نائے ۔ سچے صدیوی نام سچ حق وحقیقت۔ راکھے ۔بچاتا ہے ۔ مائئا بکھ۔ دنیاوی دولت کی زہر۔ نہٹر ۔ دوبارہ ۔ گر ۔ساچے نائے ۔ مرشد اور خدا سچا نام ہے ۔ سچ کرنی۔ حقیقی سچے اعمال اور سنجم ضبط۔ پرہیز گاری ۔ سبھ ساچی۔ سچ اور حقیقت پر منحصر ۔ نرمل۔ پاک ۔ گرسنگ۔ راچی۔ مرشد کے ساتھ محو ومجذوب (3) گر پورا ۔کامل مرشد۔ تیاگ۔ ترک کرکے ۔ چرن نواس۔ پریمی ۔ سچ ارداس۔ حقیقی گزارش
ترجمہ:
اے دل کامل مرشد کی تعریف کر۔ نام جو سچ حق وحقیقت کا سدیوی خزانہ ہے روز و شب یاد کیا کر اس سے دلی خواہش کی مطابق نتائج اخز ہوتے ہیں ۔رہاؤ۔ پناہ مرشدی میں سارے خزانے ہیں۔ سچی عدالت خدا میں عزت ووقار حاصل ہوتا ہے ۔ بھٹکن ۔ خوف ۔ مصائب ختم ہو جاتی ہے ۔ مرشد کی صحبت و قربت میں الہٰی حمدوثناہ کرنے سے (1) سچے مرشد کے برابر دوسری کوئی ہستی نہیں۔ مرشد ہے کامیاب نبانے والے اور مرشد ہے مالک اعلے تناسخ سے بچاتا ہے دوبارہ دنیاوی دولت کا مزہ نہیں لیتا۔ (2) مرشد کی عظمت بیان سے باہر ہے ۔ سچا نام سچ حق وحقیقت ست سدیوی ہے ۔ یہ ہی مرشد ہے اور مانند خدا ہے ۔ جس کے اعمال سچے اور پرہیز گاری سچی ہو وہ پاک دل ہو جاتا ہے جو مرشد کی صحبت و قربت میں محو وہوجاتا ہے (3) کامل مرشد بلند قسمت سے ملتا ہے شہوت غصہ لالچ دل سے نکال کر مرشد کی کرم و عنایت سے قدمبوسی حاصل ہوتی ہے ۔ نانک کی خدا سے سچی گذارش ہے ۔

راگُ ملار مہلا ੫ پڑتال گھرُ ੩
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
گُر منارِ پ٘رِء دئِیار سِءُ رنّگُ کیِیا ॥
کیِنو ریِ سگل سیِگار ॥
تجِئو ریِ سگل بِکار ॥
دھاۄتو استھِرُ تھیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایَسے رے من پاءِ کےَ آپُ گۄاءِ کےَ کرِ سادھن سِءُ سنّگُ ॥
باجے بجہِ م٘رِدنّگ اناہد کوکِل ریِ رام نامُ بولےَ مدھُر بیَن اتِ سُہیِیا ॥੧॥
ایَسیِ تیرے درسن کیِ سوبھ اتِ اپار پ٘رِء اموگھ تیَسے ہیِ سنّگِ سنّت بنے ॥
بھۄ اُتار نام بھنے ॥
رم رام رام مال ॥
منِ پھیرتے ہرِ سنّگِ سنّگیِیا ॥
جن نانک پ٘رِءُ پ٘ریِتمُ تھیِیا ॥੨॥੧॥੨੩॥
لفظی معنی:
گرمنار۔ مرشد کو متفق کرکے ۔ آمادہ کرکے ۔ پریہ دیار۔ پیارے کو مہران۔ سیؤ۔ ساتھ ۔ رنگ کیا۔ پریم کیا۔ کینو ۔ کیا۔ سگل۔ سیگار ۔ ساری سجاوٹ۔ تجؤ ۔ چھوڑا ۔سگل بکار۔ ساری برائیاں۔ دھاوتے ۔ بھٹکتے ۔ دوڑ دہوپ کرتے ۔ استھر ۔ مستقل ۔پائیدار۔ تھیا۔ ہوئے ۔ رہاؤ۔ پایکے ۔ حاصل کرکے ۔۔ آپ گوایکے ۔ خودی مٹاکر ۔ سادھن پاکدامنوں۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ باجے بجیہہ مردنگ۔ ڈہول بجتے ہیں۔ انا حد۔ لگاتار ۔ کوکل۔کوئل۔ مدھر بین۔ میٹھے بول۔ سہیا۔ سوہنے ۔ اچھے لگتے ہیں (1) درسن کی سوبھ ۔ دیدار کی شہرت ۔ات اپار۔ نہایت بیشمار ۔ پریہ ۔ پیارے ۔ اموگھ ۔ کامیاب ۔ تیسے ہی ۔ اس طرح سے سنگ سنت ہنے ۔ محبوب خدا کے ساتھ پیار ہو ۔ بھو ۔ زندگی کے خوفناک سمندر۔ اتار۔ پارکرانے والا۔ فام بھنے سچ حق وحقیقت کہے ۔ رم ۔ رام۔ خدا میں محو ۔ رام مال۔ الہٰی دولت ۔ من پھیرتے ۔ دل کو بدل کر ہر سنگ سنگیا۔ الہٰی محبت کا ساتھی۔ جن نانک۔ اے خادم نانک۔ پریؤ۔ پیارا۔ پریتم تھیا۔ پیارا ہوگیا۔
ترجمہ:
مرشد کی خوشنودی حاصل کرکے رحمان الرحیم پیارے خدا کے ساتھ روحانی وذہنی خوشی نصیب ہوئی اس نے روحانی طور پر آراستہ کر لیا مراد روحانی واخلاقی اوصاف نصیب ہوئے اور تمام برائیاں ترک کر دیں اور بھٹکن و دوڑ دہوپ مٹی ۔ مستقل مزاج ہوا (1) رہاو۔ اے دل اس طرح سے الہٰی وصل وملاپ حاصل کرکے اور خود پسندی مٹا کر پاکدامن پارساؤں کی صحبت و قربت اختیار کر ۔ اس سے تیری روح و ذہن میں لگاتار خوشیوں کے ڈہول اور کوئل کی طرح تیرے بول میٹھاس سے بھر جائیں گے اس طرح سے الہٰی نام گاؤگے (1) اے میرے پیارے خدا تیرے دیدار کی شہرت و عظمت ایسی ہے جو کامیابی کا ناشان ہے جو اعدادوشمار سے بعید ہے سنت کا ساتھ ہو جائے ۔ خوفناک زندگی کو عبور کرانے والا نام کی ریاض و یاد سے ۔ جو الہٰینام کی تسبیح اپنے دل میں پھیرتے ہیں ۔ الہٰی ساتھ سے اسکے ساتھی ہو جاتے ہیں۔ اے خادمنانک۔ خدا ان کا محبوب ہو جاتا ہے ۔

ملار مہلا ੫॥
منُ گھنےَ بھ٘رمےَ بنےَ ॥
اُمکِ ترسِ چالےَ ॥
پ٘ربھ مِلبے کیِ چاہ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ت٘رےَ گُن مائیِ موہِ آئیِ کہنّءُ بیدن کاہِ ॥੧॥
آن اُپاۄ سگر کیِۓ نہِ دوُکھ ساکہِ لاہِ ॥
بھجُ سرنِ سادھوُ نانکا مِلُ گُن گوبِنّدہِ گاہِ ॥੨॥੨॥੨੪॥
لفظی معنی:
دل بھاری جنگل میں بھٹکتا ہے ۔ بھرمے ۔ بھٹکتا ہے ۔ امک۔ امتنگ ۔ خواہش۔ چاہ ۔ رس۔ لطف ۔ ملبے۔ملنے ۔ چاہ۔ خواہش۔ رہاؤ۔ تریگن۔ مائی موہ ۔ تینوں اوصافوں والی مائیا کی محبت۔ بیدن۔ درد۔ (1) آن ۔آپاو۔ اور کوشش ۔ ستگر ۔ سارے ۔ دوکھ ۔ عذاب ۔ بھج سرن۔ سادہو۔ پاکدامن کی پانہ لو۔ گن گوبند گاہے ۔ الہیی اوصاف اختیار کرکے ۔
ترجمہ:
انسانی دل اس دنیاوی گھسنے جنگل میں بھتکتا رہتا ہے ۔ جب الہٰی ملاپ کی امنگ اسکے دل میں پیدا ہوتی ہے تو روحانی جوش و خروش روحانی زندگی کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ رہاؤ۔ تینوں اوصاف والی دنیاوی دولت مجھے اپنی گرفت میں لیتی ہے بتاؤ یہ درد کسے کہوں (1) دوسری تمام کوششیں کہیں ہیںکوئی بھی یہ عزاب دور نہیں کر سکا۔ مرشد کی پناہ اختیار کر اور الہٰی حمدوثناہ کر اور الہٰی اوصاف اپنا۔
.
. ملار مہلا ੫॥
پ٘رِء کیِ سوبھ سُہاۄنیِ نیِکیِ ॥
ہاہا ہوُہوُ گنّدھ٘رب اپسرا اننّد منّگل رس گاۄنیِ نیِکیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دھُنِت للِت گُنگ٘ز٘ز انِک بھاںتِ بہُ بِدھِ روُپ دِکھاۄنیِ نیِکیِ ॥੧॥
گِرِ تر تھل جل بھۄن بھرپُرِ گھٹِ گھٹِ لالن چھاۄنیِ نیِکیِ ॥
سادھسنّگِ رامئیِیا رسُ پائِئو نانک جا کےَ بھاۄنیِ نیِکیِ ॥੨॥੩॥੨੫॥
لفظی معنی:
سوبھ ۔ شہرت ۔سہاونی ۔ اچھی ۔ نیکی ۔ اچھی ۔ ہاہا ہوہو ۔ بہشت کے گانے والوں کے نام۔ اپسرا۔ دوشیزئیں۔ منگل۔ خوشی۔ رس۔ لطف۔ مزہ۔ گاونی۔ گانے والی۔ رہاؤ۔ وصفت ۔ دھن۔ سر۔ للت۔ خوبصورت ۔ گنگ ۔ اوصاف کو سمجھنے والے ۔ ایک ھانت ۔ بیشمار قسموں والے ۔ بہو بدھ بہت سے طریقوں سے ۔ روپ ۔ شکل (1) گر ۔ پہاڑ۔ تر ۔ شجر۔ عقل ۔ز مین۔ جل۔ پانی۔ بھون۔ علام۔ بھر پر۔ مکمل طور پر۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دل ۔ لالن ۔ خدا۔ چھاونی۔ چھایہ ہوا۔ ڈیرہ۔ سادھ سنگ۔ پاک صحبت و قربت۔ رامئیا رس۔ الہٰی ملاپ کا لطف ۔ بھاونی۔ نیکی اچھی چاہت۔ پیار ۔
ترجمہ:
جیسے پیارے خدا کی حمد و ثناہ اچھی لگتی ہے ۔ بہشتی گوییئے اور دوشیزئیں خوشی بھرے پر لطف مزیدار گانے گا رہے ہیں ۔رہاؤ۔ سنگیت کیس ریں بااوصاف عالم بیشمار قسموں کے بہت سے طریقوں سے شکالیں دکھا رہے ہیں (1) پہاڑ ۔ درخت۔ زمین ۔ پانی ۔ عالم ہر دل میں بستا ہے ۔ اے نانک پاکدامن کی صحبت میں خدا کا لطف اٹھاتا ہے ۔ جسکی خواہش اور ارادہ نیک ہے ۔

ملار مہلا ੫॥
گُر پ٘ریِتِ پِیارے چرن کمل رِد انّترِ دھارے ॥੧॥ رہاءُ ॥
درسُ سپھلِئو درسُ پیکھِئو گۓ کِلبِکھ گۓ ॥
من نِرمل اُجیِیارے ॥੧॥
بِسم بِسمےَ بِسم بھئیِ ॥
اگھ کوٹِ ہرتے نام لئیِ ॥
گُر چرن مستکُ ڈارِ پہیِ ॥
پ٘ربھ ایک توُنّہیِ ایک تُہیِ ॥
بھگت ٹیک تُہارے ॥
جن نانک سرنِ دُیارے ॥੨॥੪॥੨੬॥
لفظی معنی:
گرپرریت ۔ پیارے ۔پیارے مرشد کے پیار۔ چرن کمل۔ پاک پاؤں ۔ رد ۔ انتر۔ دلمیں۔ دھارے ۔ بسائے ۔ رہاؤ۔ درس ۔ ددیار۔ سپھلیؤ ۔ برآور ہوا۔ ددرس پیکھؤ۔ دیدار کرکے ۔ کل وکھ گئے ۔ گناہ ختم ہوئے ۔ نرمل۔ پاک۔ اجیارے ۔ روشن ہوا (1) بسم۔ حیران کرنیوالی۔ بسمے بسم بھی ۔ حیرانگی حیران ہوئی ۔ اگھ کوٹ کروڑوں گناہ ۔ ہرقے ۔ مٹے ۔ نام لئی ۔ سچ حق وحقیقت اپنانے سے ۔ گر چرن ۔ پائے مرشد۔ مستک ۔ پیشانی ۔ ڈارپہی ۔ رکھ دیتے ہیں۔ پربھ۔ اے خدا۔ ایک توں ہی ۔ توواحد ہے ۔ ٹیک اسرا۔ سرن وآرے ۔ تیرے در کی پناہ۔
ترجمہ:
مرشد کی برکت وعنایت سے میں خدا کا گرویدہ ہوگیا ہوں اور خدا دل میں بسالیا ہے (1) رہاؤ۔ دیدار برآور ہے دیدار سے گناہ مٹ جاتے ہیں ۔ دل پاک اور روشن ہو جاتا ہے (1) حیرانگی حیران رہ جاتی ہے کروڑون گناہ الہٰی نام سے دور ہو جاتے ہیں۔ جو پائے مرشد پریشانی رکھتے ہیں اے خدا تو ہی واحد ہستی ہے ۔ تیرے عابدوں کو تیرا ہی سہارا ہے ۔ خادم نانک تیرے در پر تیری زیر پنا ہے ۔

ملار مہلا ੫॥
برسُ سرسُ آگِیا ॥
ہوہِ آننّد سگل بھاگ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّت سنّگے منُ پرپھڑےَ مِلِ میگھ دھر سُہاگ ॥੧॥
گھنگھور پ٘ریِتِ مور ॥
چِتُ چات٘رِک بوُنّد اور ॥
ایَسو ہرِ سنّگے من موہ ॥
تِیاگِ مائِیا دھوہ ॥
مِلِ سنّت نانک جاگِیا ॥੨॥੫॥੨੭॥
لفظی معنی:
برس۔ بارش کر۔ سرس۔ پر لطف ہو کر۔ آگیا۔ زیر فرمان۔ سگ2wل بھاگ۔ ساری قسمت۔ رہاؤ۔ سنت نگے ۔ صحبت مرشد۔ من پرپھرے ۔ دل برھتا ہے ۔ مل میگھ ۔ بادل سے ملکر ۔ دھر سہاگ ۔ زمین سر سبز ہو جاتی ہے (1) گھنگھور۔ بادلوں کی گرج ۔ پریت۔ پیار۔ چت چاترک۔ پپیے کا دل۔ بوند اور ۔ آسمانی بوند کی طرف ۔ ہر سنگ ۔ خدا کے ساتھ ۔ من موہ ۔ میرا من۔ تیاگ ۔ ترک کر ۔چھوڑ دے ۔ مائیا دیوہ۔ دنیاوی دولت کی دہوکا بازی ۔ جاگیا۔ بیدار ہوا سمجھ آئی ۔
ترجمہ:
اے دل زیر فرمان بارش کر خوش ہوکر تاکہ ہر طرح کی خوشنودی حاصل ہو اور قدیر بیدار ہو (1) ۔ رہاؤ۔ مرشد کی صحبت میں من پر جوش ہوتا ہے جس طرح سے بادل برسنے پر زمین سر سبز ہو جاتی ہے (1) جیسے مور کی بادل کی گرج سے محبت ہے پپیہے کی آسمانی بوند سے ایسے ہی میری محبت دلی خدا سے ہے ۔ اے نانک دنیاوی دولت کی دہوکا بازی چھوڑ کر مرشد سے ملکر بیدار ہو۔

ملار مہلا ੫॥
گُن گد਼پال گاءُ نیِت ॥
رام نام دھارِ چیِت ॥੧॥ رہاءُ ॥
چھوڑِ مانُ تجِ گُمانُ مِلِ سادھوُیا کےَ سنّگِ ॥
ہرِ سِمرِ ایک رنّگِ مِٹِ جاںہِ دوکھ میِت ॥੧॥
پارب٘رہم بھۓ دئِیال ॥
بِنسِ گۓ بِکھےَ جنّجال ॥
سادھ جناں کےَ چرن لاگِ ॥
نانک گاۄےَ گوبِنّد نیِت ॥੨॥੬॥੨੮॥
لفظی معنی:
گن گوپال۔ تعریف خدا کی ۔ نیت۔ ہر روز۔ دھار چیت۔ دل میں بسا ۔ رہاو۔ مان۔ وقار۔ غرور۔ تج ۔ چھوڑ۔ گمان۔ شکوک۔ تکبر۔ سادہواں کے سنگ ۔ خدا رسیدہ پاکدامن پارساؤں کی محبت و قربت اختیار کر۔ ہرسمر۔ خدا کو یاد کر۔ ایک رنگ ۔ یکسو ہوکر۔ مٹ جاہے دوھ ۔ تاکہ عیب دور ہو جائیں (1) دیال۔ مہربان۔ ونس۔ گیے ۔ مٹ گئے ۔ وکھے جنجال ۔ دنیاوی دولت کے پھندے ۔ چرن لاگ۔ پاؤں پڑ ۔ گولے گوبند۔ الہٰی حمد ثناہ ۔ نیت ۔ ہر روز۔
ترجمہ:
پروردگار کی ہر روز حمدوثناہ کیا کرؤ۔ اور دل میں الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت بساؤ ۔ رہاؤ۔ اے انسان دل کے وہم وگمان غرور و تکبر چھوڑ کر خدا رسیدہ پاکدامن سادہوؤں کی صحبت و قربت اختیا ر کر خدا کو یکسو ہو کہ خدا کو کیا کہ تیرے تمام عیب مٹ جائینگے (1) خدا مہربان ہوا سارے دنیاوی پھندے ٹوٹ گئے ۔ پاکدامنوں کی پناہ لی۔ اے نانک۔ ہر روز الہٰی حمدوثناہ کرتا ہوں۔

ملار مہلا ੫॥
گھنُ گرجت گوبِنّد روُپ ॥
گُن گاۄت سُکھ چیَن ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ چرن سرن ترن ساگر دھُنِ انہتا رس بیَن ॥੧॥
پتھِک پِیاس چِت سروۄر آتم جلُ لیَن ॥
ہرِ درس پ٘ریم جن نانک کرِ کِرپا پ٘ربھ دیَن ॥੨॥੭॥੨੯॥
لفظی معنی:
گھن۔ بادل ۔ گرجت۔ گرجتا ہے ۔ گوبند روپ۔ الہیی شکل وصورت۔ گن گاوت۔ حمدوثناہ ۔ سکھ چین۔ آرام و آسائش ۔رہاؤ۔ ہر چن ۔ پائے الہٰی ۔ سرن ترن ۔ پناہ سے کامیابی ۔ ساگر۔ زندگی کا سمندر۔ دھن۔ سر۔ انتہا۔ لگاتار۔ رس بین۔ میٹھے بول (1) پھتک ۔ پاندھی ۔ راہیگر ۔ مسافر۔ چت۔ دل ۔ سرودر ۔ تالاب ۔آتم جل۔ روحانی پانی ۔ الہٰی نام ۔ لین لینے کے لئے ۔ ہر درس پریم۔ الہیی دیدار سے پیار۔ جن نانک۔ خدمتگار نانک ۔ کرپا پربھ دین۔ اے خدا مہربانی کرکے دیجیئے ۔
ترجمہ:
الہٰی شکل وصورت والا بادل گرجتا ہے مراد مرشد جس میں الہٰی اوصاف ہیں جو روحانی واخلاقی اوصاف کا مجسمہ ہے روحانیت کی بارش کرتا ہے تب الہٰی حمدوثناہ سے روحانی و ذہنی سکون ملتا ہے ۔ رہاؤ۔ الہیی پیار دنیاوی زندگی کے سمندر کو کامیابی سے عبور کرنے کے لئے ایک جہاز ہے ۔ سریلے لگاتار میٹھے بول (1) زندگی گذار رہے راہگیر کی پیاس روحانی جل۔ آب حیات کے حصول کے لئے رہتی ہے روحانی مسافر کی ۔ اے نانک الہٰی دیدار کا پیار اپنے خدمتگاروں کو خدا اپنی کرم وعنایت سے دیتا ہے ۔

ملار مہلا ੫॥
ہے گوبِنّد ہے گوپال ہے دئِیال لال ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘ران ناتھ اناتھ سکھے دیِن درد نِۄار ॥੧॥
ہے سم٘رتھ اگم پوُرن موہِ مئِیا دھارِ ॥੨॥
انّدھ کوُپ مہا بھئِیان نانک پارِ اُتار ॥੩॥੮॥੩੦॥
لفظی معنی:
ہے گوبند ہے گوپال ہے۔ اے خدا۔ ہے ۔ دیال ۔لال۔ اے مہربانیوں کے مجسمے ۔ اے رحمان الرحیم ۔رہاؤ۔ پران ناتھ۔ زندگی کے مالک۔ اناتھ۔ بے مالک ۔سکھے ۔ساتھی ۔ مددگار۔ دن درونوار۔ غریبوں کے عذاب مٹانیوالے (1) سمرتھ۔ باتوفیق۔اگم۔رسائی سے باہر۔ پورن۔ مکمل۔ مئیا دھار۔ مہربنا کر (2) اندھ کوپ۔ اندھیرے کوئیں۔ مہا بھیان ۔ بھاری خوفناک ۔ پارا تار ۔ کامیاب بنا۔
ترجمہ:
اے خدا اے چشمہ مہربان رحم ۔ اے خدا وند کریم (1) رہاؤ۔ اے زندگی کے مالک ۔ اے بے مالکوں کے مالک ۔ اے غریبوں کے درد مٹانیوالے (1) اے ہر طرح سے باتوفیق ساری قوتوں کے مالک اے انسان عقل و ہوش سے بعید ۔ کامل ۔ ہرجائی مجھ پر رحم فرما (2)اے نانک۔ اے خدا یہ عالم ایک بھاری خوفناک کنوآں ہے ۔ جس میں بھاری اندھیرا ہے ا سے پار کر مراد کامیابی عنایت کر ۔

ملار مہلا ੧ اسٹپدیِیا گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
چکۄیِ نیَن نیِد نہِ چاہےَ بِنُ پِر نیِد ن پائیِ ॥
سوُرُ چر٘ہےَ پ٘رِءُ دیکھےَ نیَنیِ نِۄِ نِۄِ لاگےَ پاںئیِ ॥੧॥
پِر بھاۄےَ پ٘ریمُ سکھائیِ ॥
تِسُ بِنُ گھڑیِ نہیِ جگِ جیِۄا ایَسیِ پِیاس تِسائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سرۄرِ کملُ کِرنھِ آکاسیِ بِگسےَ سہجِ سُبھائیِ ॥
پ٘ریِتم پ٘ریِتِ بنیِ ابھ ایَسیِ جوتیِ جوتِ مِلائیِ ॥੨॥
چات٘رِکُ جل بِنُ پ٘رِءُ پ٘رِءُ ٹیرےَ بِلپ کرےَ بِللائیِ ॥
گھنہر گھور دسوَ دِسِ برسےَ بِنُ جل پِیاس ن جائیِ ॥੩॥
میِن نِۄاس اُپجےَ جل ہیِ تے سُکھ دُکھ پُربِ کمائیِ ॥
کھِنُ تِلُ رہِ ن سکےَ پلُ جل بِنُ مرنُ جیِۄنُ تِسُ تاںئیِ ॥੪॥
دھن ۄاںڈھیِ پِرُ دیس نِۄاسیِ سچے گُر پہِ سبد پٹھائیِ ॥
گُنھ سنّگ٘رہِ پ٘ربھُ رِدےَ نِۄاسیِ بھگتِ رتیِ ہرکھائیِ ॥੫॥
پ٘رِءُ پ٘رِءُ کرےَ سبھےَ ہےَ جیتیِ گُر بھاۄےَ پ٘رِءُ پائیِ ॥
پ٘رِءُ نالے سد ہیِ سچِ سنّگے ندریِ میلِ مِلائیِ ॥੬॥
سبھ مہِ جیِءُ جیِءُ ہےَ سوئیِ گھٹِ گھٹِ رہِیا سمائیِ ॥
گُر پرسادِ گھر ہیِ پرگاسِیا سہجے سہجِ سمائیِ ॥੭॥
اپنا کاجُ سۄارہُ آپے سُکھداتے گوساںئیِ ॥
گُر پرسادِ گھر ہیِ پِرُ پائِیا تءُ نانک تِپتِ بُجھائیِ ॥੮॥੧॥
لفظی معنی:
نین ۔ آنکھ ۔ نیند نہ چاہے ۔ سونا نہیں چاہتی ۔ بن پر ۔ بغیر خاوند۔ سور۔ سورج (1) پر پریم۔ پیارے کا پیار۔ سکھائی ۔ ساتھی ۔جگ ۔دنیا۔ عالم۔ پیاس۔ چاہ۔ تسائی۔ تیز ۔ تکھی ۔ رہاؤ۔ سرور ۔ تالاب۔ بگسے ۔ کھلتا ہے ۔ سہج سبھائے ۔ قدرتا ۔ از خود ۔ ابھ ۔ دلمیں ۔ جوتی جوت ملائی ۔ نور سے نور مل گیا (2) چاترک پپیہا۔ ٹیرے ۔ بولتا ہے ۔ بللائی ۔ بلکتا ہے ۔آہ وزاری کرتا ہے ۔ گھنہر۔ بادل۔ گھور۔ گرجتا ہے ۔ دسودس۔ ہر طرف (3) مین ۔ مچھلی ۔ نواس ۔ ٹھکانہ۔ پرب ۔ پہلے ۔ کمائی ۔ کی ہوئی کار۔ کھن تل۔ تھوڑے سے وقفے کے لئے ۔مرن جیون۔ موت و پیدائش (4) دھن ۔ عورت ۔ وانڑی ۔ پر دیسن۔ پر دیس نواسی۔ خاوند دیس بستا ہے ۔ سچے گرپیہہ۔ سچے مرشد کے پاس ۔ سبد۔ پیغام۔ پٹھاینں۔ بھیجتی ہے ۔ گن ستگریہہ۔ اوصاف۔ اکھٹے کرتی ہے ۔ پربھ روے نواسی دل میں بستا خدا۔ بھگت رتی ۔ پیار میں محو و مجذوب ۔ ہرکھائی۔ خوش ہوتی ہے (5) پریوپریو۔ پیاراپیارا ۔سبھے ۔ ساری ۔جتی ۔ جتنی ہے ۔ گربھاوے ۔ مرشد جسے چاہے ۔ پریؤ پائی۔ خاوند یا خدا سے ملاپ ہوتا ہے ۔ پریؤ ناے سد ہی سچ سنگے ۔ خدا ہمیشہ ساتھ ہے ۔ ندری نگاہ شفقت سے (6) جیؤ۔ روح۔ سوئی ۔ وہی ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں۔ سمائی ۔ بستا ہے ۔ گر پرساد۔ رحمت مرشد سے ۔ پرگاسیا۔ روشن ہوا۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ سہج سمائی۔ پرسکون ہوا (7) ۔ گوسائیں ۔ مالک عالم ۔پر ۔ خاوند۔ خدا۔ تپت۔ جلن ۔
ترجمہ:
مجھے صدیوی مددگار خدا کا پیار پیارا لگتا ہے ۔ میرے دل میں اتنی ملاپ کی زبردست خواہش ہے کہ میں اسکے بغیر دنیا میں پل بھر زندگی مھال ہے (1) ۔ رہاؤ۔ چکوی رات کو چلوے کے بغیر سو نہیں سکتی وہ آنکھوں میں نیند نہیں چاہتی ۔ سورج طلوع ہونے پر چکوے کو آنکھوں سے دیکھتی ہے ۔ تو پنچی ہوکر پاؤں پڑتی ہے(1) کنول کا پھول تالاب میں سورج کی کرن آسمان میں ہوتی ہے ۔ اسے دیکھکر خود بخود کھل جاتا ہے ۔ دل میں اپنے پیارے کا ایسا پیار بنتا ہے روحوں کا آپسی ملاپ ہو جاتا ہے (2) پپیہا آسمانی بوند کے بغیر پریؤ پریؤ پکارتا ہے اور آہ و زاری کرتا ہے ۔ بادل ہر طرف گرجتا ہے برستا ہے مگر پپہے کی پیاس آسمانی قطرے کے بغیر مٹتی نہیں (3) مچھلی پانی میں پیدا ہوتی ہے پانی میں رہتی ہے پہلے سے کئے ہوئے اعمال کے مطابق عذاب و آسائش پاتی ہے تھوڑے سے تھوڑے عرضے کے لئے بی پانی کے بغیر رہ نہیں سکتی اسکی موت و پیدائش پانی سے ہی وابسطہ ہے (4) خدا دل میں بستا ہے اس سے جدا ہوئی ہوئی روح سچے مرشد کے وسیلے سے پیغام بھیجتی ہے اور روحانی اوصاف جمع کرتی ہے تب اسکے دل میں بستا خدا ظاہر اور روشن ہو جاتا ہے ۔ روح اسکی عبادت وریاضت کے پیار میں محو ومجذوب ہوکر خوشی محسوس کرتی ہے (5) ساری مخلوقات یاد خدا کو کرتی ہے مگر جسے مرشد چاہتا ہے وہ پیارے کو پاتا ہے خدا ہمیشہ ساتھ ہے مرشد نظر عنایت و شفقت سے ملاتا ہے (6) ہر ایک میں اسی کا نور اور روح ہے اور ہر دل میں وہی بستا ہے ۔ رحمت مرشد سے جس کے دل میں ظاہر اور روشن ہو جاتا ہے وہ روحانی وذہنی سکون پاتا ہے (7) مالک عالم سکھداتا آرام و آسائش بخشنے والا اپنے کام خود ہی درست کرتا ہے ۔ رحمت مرشد سے ذہن وقلب میں طہور پذیر ہوا ۔ تب اے نانک دل کی تپش بجھ گئی ۔

ملار مہلا ੧॥
جاگتُ جاگِ رہےَ گُر سیۄا بِنُ ہرِ مےَ کو ناہیِ ॥
انِک جتن کرِ رہنھُ ن پاۄےَ آچُ کاچُ ڈھرِ پاںہیِ ॥੧॥
اِسُ تن دھن کا کہہُ گربُ کیَسا ॥
بِنست بار ن لاگےَ بۄرے ہئُمےَ گربِ کھپےَ جگُ ایَسا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جےَ جگدیِس پ٘ربھوُ رکھۄارے راکھےَ پرکھےَ سوئیِ ॥
جیتیِ ہےَ تیتیِ تُجھ ہیِ تے تُم٘ہ٘ہ سرِ اۄرُ ن کوئیِ ॥੨॥
جیِء اُپاءِ جُگتِ ۄسِ کیِنیِ آپے گُرمُکھِ انّجنُ ॥
امرُ اناتھ سرب سِرِ مورا کال بِکال بھرم بھےَ کھنّجنُ ॥੩॥
کاگد کوٹُ اِہُ جگُ ہےَ بپُرو رنّگنِ چِہن چتُرائیِ ॥
نان٘ہ٘ہیِ سیِ بوُنّد پۄنُ پتِ کھوۄےَ جنمِ مرےَ کھِنُ تائیِ ॥੪॥
ندیِ اُپکنّٹھِ جیَسے گھرُ ترۄرُ سرپنِ گھرُ گھر ماہیِ ॥
اُلٹیِ ندیِ کہاں گھرُ ترۄرُ سرپنِ ڈسےَ دوُجا من ماںہیِ ॥੫॥
گارُڑ گُر گِیانُ دھِیانُ گُر بچنیِ بِکھِیا گُرمتِ جاریِ ॥
من تن ہیݩۄ بھۓ سچُ پائِیا ہرِ کیِ بھگتِ نِراریِ ॥੬॥
جیتیِ ہےَ تیتیِ تُدھُ جاچےَ توُ سرب جیِیا دئِیالا ॥
تُم٘ہ٘ہریِ سرنھِ پرے پتِ راکھہُ ساچُ مِلےَ گوپالا ॥੭॥
بادھیِ دھنّدھِ انّدھ نہیِ سوُجھےَ بدھِک کرم کماۄےَ ॥
ستِگُر مِلےَ ت سوُجھسِ بوُجھسِ سچ منِ گِیانُ سماۄےَ ॥੮॥
نِرگُنھ دیہ ساچ بِنُ کاچیِ مےَ پوُچھءُ گُرُ اپنا ॥
نانک سو پ٘ربھُ پ٘ربھوُ دِکھاۄےَ بِنُ ساچے جگُ سُپنا ॥੯॥੨॥
لفظی معنی:
جاگت ۔ بیدار۔ ہوشیار۔ خبردار۔ گرسیو۔ خدمت مرشد ۔ میں کوناہی ۔ میری کوئی اہمیت یا وقف نہیں ۔ انک جتن۔ بیشمار کوششوں ۔ رہن نہ پاوے ۔ رہ نہیں سکتا۔ آچ۔ آنچ ۔ تپش ۔ گرمی۔ کاچ۔ کانچ۔ شیشہ ۔ ڈھیہہ پاہی مٹ جاتے ہیں (1) تن دھن۔ جسم اور سرمائے ۔ گربھ ۔غرور ۔ وسنت۔ مٹتے ۔ بار ۔ دیر ۔ بورے ۔ دیوانے ۔ ہونمے گربھ ۔ خودی اور تکبر۔ کھپے ۔ ذلیل وخؤار (1) رہاؤ۔ جگدیس ۔ مالک عالم ۔ رکھوارے ۔ محافظ ۔پرکھے ۔ تمیز ۔ شناخت ۔ پہچان ۔ سوئی ۔ وہی ۔ حیتی ۔ جتنی ۔ تیتی ۔ اتنی ۔ تجھ ہی تے ۔ تیری پیدا کی ہوئی ۔ تم سر ۔ تیرے برابر ۔ اور نہ کوئی نہیں کوئی دوسرا (2) جیئہ اپائے ۔ جاندار پیدا کرکے ۔ جگت ۔ ڈھنگ ۔ طریقے ۔ وس کینی ۔ زیر کئے ۔ انجن۔ سرمہ ۔ امر۔ صدیوی ۔ بلاموت۔ اناتھ ۔ کوئی مالک نہیں۔ بے مالک۔ سرب سر۔ سب سے بلند ہستی ۔ کال ۔ بکال۔ موت و پیدائش ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ وہم و گمان۔ بھے ۔ خوف۔ کھنجن۔ مٹانے والا دور کرنے والا (3) کاگرکوٹ۔ کاغذکا لعہ ۔ بپرو ۔ بچارا۔ رنگن تے چہن۔ رنگ وشکل ۔ چترائی ۔ چلااکی ۔ نانی سی بوند۔ ایک چھوٹا سا قطرہ ۔ پون۔ ہوا کا جھونکا۔ پت۔ کھورے ۔ عزت گنوانا۔ جنم مرے اؤاگون ۔ تناسخ ۔ کھن ۔ ہل میں (4) ندی اپکنٹھ۔ ندی کنارے ۔ ترور ۔ شجر ۔ سرپن گھر۔ سانپنی کی بل۔ گھر ماہی ۔ گھر میں۔ الٹی ندی ۔ ندی کا بہا الٹ جائے ۔ ڈسے ۔ ڈنگ مارتی ہے ۔ دوجا من ۔ ماہی ۔ جب دلمیں دویت یادویش ہو (5) گارڈ ۔ سانپ کا منتر۔ گرگیان ۔ علم مرشد۔ دھیان۔ توجو ۔ گرچنی ۔کلام مرشد سے ۔ گرمت ۔ سبق مرشد ۔ جاری ۔ جلائے ۔ من تن ہینو۔ دل وجان ۔ ٹھنڈا۔ سچ پائیا۔ صدیوی سچا خدا پائیا۔ نراری ۔ نرالی۔ انوکھی (6) جیتی ۔جتنی ۔ تیتی ۔ اتنی ۔ تدھ جاپے ۔ تجھ سے مانگتی ہے ۔ سر جیاں دیالا۔ سارے جانداروں پر مہربانی کرنیوالا۔ پت راکھے ۔ عزت کی حفاظت کرتا ہے ۔ ساچ۔ ملے گوپالا۔ تیرا صدیوں نام سچ حق وحقیقت وست دستیاب ہو (7) دنیاوی دولت کے کاروبار کی غلامی میں لوگ اندھے اور روحانی واخلاقی طور پر بے سمجھ ہو رہے ہیں۔ شکاری کے سے اعمال کرتے ہیں۔ سچا مرشد لے تو۔ اسے سمجھ آجاتی ہے دل میں حقیقت اور علم بس جاتا ہے (8) صدیوی خدا کے نام ست۔ سچ حق وحقیقت کے بغیر انسانی جسم خام ہے ۔ اس لئے اپنے مرشد سے پوچھتا ہوں اے نانک۔ وہ دیدار خدا کرتا ہے بغیر سچ اور سچے خدا یہ عالم ایک خواب ہے

ملار مہلا ੧॥
چات٘رِک میِن جل ہیِ تے سُکھُ پاۄہِ سارِنّگ سبدِ سُہائیِ ॥੧॥
ریَنِ ببیِہا بولِئو میریِ مائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘رِء سِءُ پ٘ریِتِ ن اُلٹےَ کبہوُ جو تےَ بھاۄےَ سائیِ ॥੨॥
نیِد گئیِ ہئُمےَ تنِ تھاکیِ سچ متِ رِدےَ سمائیِ ॥੩॥
روُکھیِ بِرکھیِ اوُڈءُ بھوُکھا پیِۄا نامُ سُبھائیِ ॥੪॥
لوچن تار للتا بِللاتیِ درسن پِیاس رجائیِ ॥੫॥
پ٘رِء بِنُ سیِگارُ کریِ تیتا تنُ تاپےَ کاپرُ انّگِ ن سُہائیِ ॥੬॥
اپنے پِیارے بِنُ اِکُ کھِنُ رہِ ن سکݩءُ بِن مِلے نیِد ن پائیِ ॥੭॥
پِرُ نجیِکِ ن بوُجھےَ بپُڑیِ ستِگُرِ دیِیا دِکھائیِ ॥੮॥
سہجِ مِلِیا تب ہیِ سُکھُ پائِیا ت٘رِسنا سبدِ بُجھائیِ ॥੯॥
کہُ نانک تُجھ تے منُ مانِیا کیِمتِ کہنُ ن جائیِ ॥੧੦॥੩॥
لفظی معنی:
چاترک مین۔ پپہا اور مچھلی ۔ سارنگ ہرن۔ سبد۔ گھنڈے ہیڑے کی آواز۔ سہائی۔ مددگار (1) رین۔ رات۔ پر یہ سیؤ۔ پریت۔ پیارے سے پیار۔ کبہو ۔ کبھی ۔ جوتے بھاوے ۔ جوتیری رضا ہے (2) ہونمے تن تھاکی خودی کم ہوتی ہے ۔ نیند ۔ غفلت ۔ سچ مت ۔ حقیقی سمجھ (3) رکھیں برکھیں۔ درختوں ۔ اڈؤ۔ پرواز ۔ نام سبھائی ۔ نام سچ وحقیقت پیار سے (4) لوچن تار۔ آنکھون کی نگتارتا ۔ٹکٹکی ۔ بلاتی ۔ آہ زاری کرتی ۔ للتا ۔ زبان ۔ درسن پیارس۔ دیدار کی چاہ۔ رجائی۔ رضا کا مالک (5) سیگار سجاوٹ ۔ تیتا۔ اتنا۔ تن تاپے ۔ جسم عذاب پاتا ہے ۔ کاپر ۔ کپڑا۔ انگ نہ سہائی۔ جسم پر سجاوٹ نہیں دیتا (6) کھن۔ معمولی عرصے کے لئے (7) نجیک ۔ نزدیک ۔ ساتھ ۔ بپڑی ۔ بیاری ۔ ستگر دیادکھائی۔ سچے مرشد نے دکھادیا (7) سہج ۔ پرسکون ۔ ترسنا۔ پیاس۔ خواہش۔ سبد بجھائی ۔ کلام سے مٹائی (9) تجھ تے من مانیا۔ تیری وجہ سے میرا من یقین و ایمان لائیا۔
ترجمہ:
رات کو اے میری ماں پپیا بولا ۔ مراد آسمانی بوند کے پیار میں ۔ جس سے میرے دل میں درد پیدا ہوا ۔رہاؤ۔ پپیہا اور مچھلی کو پانی سے آرام پاتے ہیں اور ہرن گھنڈے ہیڑے کی آواز سے (1) پیارے سے پیار کبھی الٹا نہیں مگر ہوتا ہے وہی جو تیری رضا (2) غفلت ختم ہوئی خودی مٹ گئی حقیقت دل میں بسی (3) پپیہا درختوں کے جھنڈ سے اڑ کر جاتا ہے مگر اسمانی بوند کی پیاس ہے مگر میں بھاری پریم پیار سے الہٰی نام جو آب حیات ہے نوش کر رہا ہوں (4) خدا کے دیدار کی بھاری چاہ ہے میری آنکھوں کی ٹکٹکی انتظار میں بندھی ہوئی ہے (5) خدا کے بغیر تمام سجاوٹیں بیکار ہیں اور جتنا سیگار یاسجاوٹ ہے اتنا زیادہ عذاب ملتا ہے کپڑے بھی جسم پر اچھے نہیں لگتے (6) اپنے پیارے کے بغیر ایک پل رہنا محال ہے ۔ ملے بگیر یند نہیں آتی (7) خدا ساتھ بستا ہے نزدیک ہے مگر بدقسمت کو سمجھ نہیں سچے مرشد نے دیدار کرادیا (8) پرسکون ملا جس سے روحانی و ذہنی سکون حاصل ہوا اور کلام یا سبق سے خواہشات کی پیاس بجھی (9) اے نانک بتادے کہ اے خدا تیری کرم وعنایت سے ہی میرا دل تجھ میں ایمان و یقین لائیا ہے جسکی یمت بیان نہیں ہوسکتی ۔

ملار مہلا ੧ اسٹپدیِیا گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
اکھلیِ اوُݩڈیِ جلُ بھر نالِ ॥
ڈوُگرُ اوُچءُ گڑُ پاتالِ ॥
ساگرُ سیِتلُ گُر سبد ۄیِچارِ ॥
مارگُ مُکتا ہئُمےَ مارِ ॥੧॥
مےَ انّدھُلے ناۄےَ کیِ جوتِ ॥
نام ادھارِ چلا گُر کےَ بھےَ بھیتِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ستِگُر سبدیِ پادھرُ جانھِ ॥
گُر کےَ تکیِئےَ ساچےَ تانھِ ॥
نامُ سم٘ہ٘ہالسِ روُڑ٘ہ٘ہیِ بانھِ ॥
تھیَں بھاۄےَ درُ لہسِ پِرانھِ ॥੨॥
اوُڈاں بیَسا ایک لِۄ تار ॥
گُر کےَ سبدِ نام آدھار ॥
نا جلُ ڈوُنّگرُ ن اوُچیِ دھار ॥
نِج گھرِ ۄاسا تہ مگُ ن چالنھہار ॥੩॥
جِتُ گھرِ ۄسہِ توُہےَ بِدھِ جانھہِ بیِجءُ مہلُ ن جاپےَ ॥
ستِگُر باجھہُ سمجھ ن ہوۄیِ سبھُ جگُ دبِیا چھاپےَ ॥
کرنھ پلاۄ کرےَ بِللاتءُ بِنُ گُر نامُ ن جاپےَ ॥
پل پنّکج مہِ نامُ چھڈاۓ جے گُر سبدُ سِجنْاپےَ ॥੪॥
اِکِ موُرکھ انّدھے مُگدھ گۄار ॥
اِکِ ستِگُر کےَ بھےَ نام ادھار ॥
ساچیِ بانھیِ میِٹھیِ ام٘رِت دھار ॥
جِنِ پیِتیِ تِسُ موکھ دُیار ॥੫॥
نامُ بھےَ بھاءِ رِدےَ ۄساہیِ گُر کرنھیِ سچُ بانھیِ ॥
اِنّدُ ۄرسےَ دھرتِ سُہاۄیِ گھٹِ گھٹِ جوتِ سمانھیِ ॥
کالرِ بیِجسِ دُرمتِ ایَسیِ نِگُرے کیِ نِسانھیِ ॥
ستِگُر باجھہُ گھور انّدھارا ڈوُبِ مُۓ بِنُ پانھیِ ॥੬॥
جو کِچھُ کیِنو سُ پ٘ربھوُ رجاءِ ॥
جو دھُرِ لِکھِیا سُ میٹنھا ن جاءِ ॥
ہُکمے بادھا کار کماءِ ॥
ایک سبدِ راچےَ سچِ سماءِ ॥੭॥
چہُ دِسِ ہُکمُ ۄرتےَ پ٘ربھ تیرا چہُ دِسِ نام پتالنّ ॥
سبھ مہِ سبدُ ۄرتےَ پ٘ربھ ساچا کرمِ مِلےَ بیَیالنّ ॥
جاںمنھُ مرنھا دیِسےَ سِرِ اوُبھوَ کھُدھِیا نِد٘را کالنّ ॥
نانک نامُ مِلےَ منِ بھاۄےَ ساچیِ ندرِ رسالنّ ॥੮॥੧॥੪॥

لفظی معنی:
اکھلی۔ ساری زمین ۔ اونڈی ۔ جھکی ہوئی۔ جل بھر۔ سمندر۔ ڈوگر۔ پہاڑ۔ اوچو۔ اونچے ۔ گڑ۔ کھائی۔ ساگر سیتل۔ سمندر ۔ ٹھنڈا۔ مارگ۔ راستہ ۔ مکتا۔ کھلا۔ ہونمے مار۔ خودی مٹا کر۔ گرسبد وچار ۔ کلام مرشد کو سمجھ کر (1) اتدھلے ۔ اندھے ۔ ناوے الہٰی نام جوت۔ روشی ۔ ادھار۔ آسرے ۔ بھے ۔ خوف۔ بھیت ۔ راز ۔رہاؤ۔ پادر۔ صراط مستقیم ۔ سیدھا راستہ ۔ تکیئے آسرے ۔ ساچے تان۔ الہٰی طاقت ۔ نام سمالس۔ نام سنبھالنا۔ روڑی بان۔ برھیا عادت (2) اڈان ۔ پروا کروں۔ گر کے سبد۔ مرشد کی واعظ ۔ نام ادھار ۔ نام کے آسرے ۔ نج گھر ۔ ذہن نشین ۔ ۔ تیہہ۔ تب ۔ النہار۔ چلنے کی توفی رکھنے والا (3) جت گھر جس دلمیں۔ بدھ۔ طریقہ ۔ بیجؤ۔ دوسرا۔ نہ جاپے ۔ سمجھ نہیں آتا۔ محل۔ ٹھکانہ ۔ باجھو۔ بغیر ۔ دبیا چھاپے ۔ دباہوا ہے زیر تاثرات۔ کرن پلاو ۔ آہ و زاری ۔ بللاتؤ۔ آہ وزاری ۔ پل پنکج۔ آنکھ کے جھپکنے جتنی دیر میں۔ ۔ سنجھاپے ۔ پہچان (4) مورکھ ۔ بیوقوف ۔ اندھے ۔ ناواقف۔ مگدھ گوار۔ جاہل۔ بھے ۔ خوف ۔نام ادھار۔ سچ حق وحقیقت کا آسرا۔ انمرت ۔ دھار ۔ آب حیات کی دھار۔ موکھ دوآر۔ نجات کا دروازہ (5) بھے ۔ خوف اور ادب ۔ بھائے ۔ پیار۔ گرکرنی۔ اعمال مرشد ۔ سچ بنای۔ سچا کلام۔ اند۔ بادل۔ ورسے ۔ برستا ہے ۔ دھرت ۔ سہاوی ۔ زمین اچھی ہو جاتی ہے ۔ گھٹ گھٹ جوت سمانی ۔ ہردلمیں نور بستا ہے ۔ کالر پیجس ۔ کللر بونا۔ درمت ۔ بد عقلی ۔ نگرے ۔ بغیر مرشد انان۔ گھور اندھارا۔ بھاری اندھیرا (6) پربھ رجائے ۔ الہٰی رضا سے ۔ کارکمائے ۔ کام کرتا ہے ۔ایک سبد۔ ایک کلام۔ راپے ۔محو۔ سچ سمائے ۔ خدا بسائے ۔ (7) چوہ دس۔ چاروں طرف۔ ورتے ۔ جاری ہے ۔ پتال پتالوں میں۔ بیال۔لافناہ ۔ سر اوبھو ۔ نددراکال۔ سر پرکھڑے ہیں۔ بھوک۔ نیند اور موت۔ من بھاوے ۔ دل چاہتا ہے ۔ ساچی ۔ ندر رسال۔ حقیقی نظر عنایت و شفقت خدا۔
ترجمہ:
مجھ نادان کو نام ست سچ حق و حقیقت سے روشناس اور روشن ہوگیا ہوں اب میں زندگی کے سفر میں الہٰی نام کو اپنا ہم سفر اور آسرا بنا کر زندگی گذارتاہوں ۔ مرشد کے بتائے ہوئے خوف وادب میں رہ کر زندگی کی دشواریوں کے بارے مرشد کے سمجھائے ہوئے رازوں کی مدد سے زندگی گذارتا ہوں ۔رہاؤ۔ ساری زمین پانی یا سمندر کے دباؤ کے تحت جھکتی ہوئی ہے ۔ پہاڑ اونچا ہے اور کھائی پاتال تک ہے مراد ایک طرف ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔ اونچے پہاڑ اور گہری کھائیاں ہیں۔ مگر کلام مرشد کو سمجھنے سوجنے سے سمندر آرام دیہہ ہو جاتا ہے اور خودی مٹانے سے زندگی کی راہیں کھل جاتی ہیں اور اونچی نیچی ہموار ہو جاتی ہے (1) اے انسان سچے مرشد کے سبق و کلام سے زندگی کے ہموار راستے کو سمجھ لیتا ہے اور زندگی کے سفر میں واعظ و سبق مرشد کو رہنما بنا کر زندگی گذارتا ہے سچے مرشد کے پاک کلام کے ذیرعے الہٰی نام دل میں بساتا ہے ۔ اے خدا جب تیری رضآ و فرمان ہوتا ہے تب تو انسان تیرا اور پہچان کر پالیتا ہے (2) جیسے جیسے انسان سب و واعظ وکلام مرشد کو اپنا کر نام کو زندگی کی بنیاد بنا کر زندگی اڑائیں بھرتا ہے تو زندگی کی راہوں میں نہ سمندر نہ اونچے پہاڑ نہ آبشاریں مراد خودی تکبر اور بد احساسات زندگی کی راہوں میں حائل اور رکاوٹیں بنتی ہیں انسان ذہن نشین ہو جاتا ہے نہ تناسخ یا آواگون نہ اس راستے کوئی راہگیر ملتا ہے (3) اے خدا جسکے دل میں تو بس جاتا ہے اسکی روحانی واخلاقی حالت کا تصور تجھ ہی کو ہے تیرے بغیر کوئی دوسرا ٹھکانہ یا آسرا نہیں سوجھتا ۔ سارا عالم خدا کے علاوہ دیگر سہاروں کے دباؤں کے نیچے دبا ہوا ہے ۔ مرشد کے بغیر سمجھ نہیں آتی ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا جو آسرا چھوڑ کر سنت سماجت کرتا ہے ۔ بغیر مرشد نام اور حیقت کی سمجھ نہیں آتی ۔ مگر جو انسان کلام مرشد کو پہچان لیتا ہے الہیی نام اسے آنکھ جھپکنے کے عرصے میں اسے دنیاوی دولت کے دباؤ اور تاثرات سے آزاد گر لیتا ہے (4) دنیا میں بیشمار نادان جاہل ایسے ہیں جو دنیاوی دولت کی محبت میں اتنے سرشار رہتے ہیں کہ انہیں اسکے علاوہ کچھ سوجھتا نہیں۔ اور ایک ایسے بھی ہیں جو مرشد کے خوف و ادب میں رہ کر الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا آسرا لیتے ہیں وہ صدیوی خدا کی سچی پاک کلام کی آب حیات کی دھار نوش کرتے ہیں۔ جو نوش کرتا ہے اسکی زندگی کی راہیں دنیاوی دولت کی غلامی سے نجات کا دروازہ حاصل ہو جاتا ہے (5) جنکے دل میں الہیی نام ست سچ حق وحقیقت الہٰی خوف و ادب دلمیں بس جاتا ہے وہ اپنے اعمال مرشد کے سبق کے مطابق بنا لیتے ہیں اور سچی کلام جو حقیقت پر ہے اپنا لیتے ہیں ان پر مرشد رحمت کی بارش کرتا ہے ۔ جس سے اسکا دین دل و دماغ پاک اور خوشنما ہو جاتا ہے اور اسے ہر دل میں الہٰی نور ردکھائی دیتا ہے ۔ مرشد سے منکر کی یہ نشانی ہے کہ وہ بد عقلی سے کلر اٹھی زمین سچ بوتا ہے ۔ سچے مرشد کے بغیر لاعلمی اور جہالت کا گہرا اندھیرا ہے ۔ وہ بغیر پانی کے بدیوں برائیوں کے سمندر میں غوطے کھا کر ڈوب کر مرتا ہے () دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے الہٰی رضا و فرمان سے ہوتا ہے جو حکم یا فرمان خدا کی طرف سے صادر ہوگیا اسے کوئی مٹا نہیں سکتا ۔ انسان الہٰی فرمان کے مطابق کام کرتا ہے ۔ ایک سبد میں محو و مجذوب ہوکر صدیوی سچے خدا کے نام ست سچ و حقیقت میں محو رہتا ہے (7) اے خدا سارے علام میں تیرا ہی فرمان جاری ہے غرض یہ کہ پاتال میں بھی تیرا ہی نام ہے ساری مخلوقات میں سدیوی سچے خدا کا فرمان جاری ہے جس اسکا ملاپ نصیب ہوتا ہے اسکی کرم و عنایت سے ہوتا ہے ۔ ورنہ انسان کے سر پر تناسخ آواگون دنیاوی دولت کی بھوک روحانی و اخلاقی موت اور دولت کی محبت کی غفلت سوار رہتے ہیں۔ اے نانک جس کی الہٰی نام سچ حق وحقیقت سے دلی محبت ہو اس پر آرام و آسائش لطفوں کی کان خدا کی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے ۔

ملار مہلا ੧॥
مرنھ مُکتِ گتِ سار ن جانےَ ॥
کنّٹھے بیَٹھیِ گُر سبدِ پچھانےَ ॥੧॥
توُ کیَسے آڑِ پھاتھیِ جالِ ॥
الکھُ ن جاچہِ رِدےَ سم٘ہ٘ہالِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایک جیِء کےَ جیِیا کھاہیِ ॥
جلِ ترتیِ بوُڈیِ جل ماہیِ ॥੨॥
سرب جیِء کیِۓ پ٘رتپانیِ ॥
جب پکڑیِ تب ہیِ پچھُتانیِ ॥੩॥
جب گلِ پھاس پڑیِ اتِ بھاریِ ॥
اوُڈِ ن ساکےَ پنّکھ پساریِ ॥੪॥
رسِ چوُگہِ منمُکھِ گاۄارِ ॥
پھاتھیِ چھوُٹہِ گُنھ گِیان بیِچارِ ॥੫॥
ستِگُرُ سیۄِ توُٹےَ جمکالُ ॥
ہِردےَ ساچا سبدُ سم٘ہ٘ہالُ ॥੬॥
گُرمتِ ساچیِ سبدُ ہےَ سارُ ॥
ہرِ کا نامُ رکھےَ اُرِ دھارِ ॥੭॥
سے دُکھ آگےَ جِ بھوگ بِلاسے ॥
نانک مُکتِ نہیِ بِنُ ناۄےَ ساچے ॥੮॥੨॥੫॥
لفظی معنی:
مرن۔ موت ۔ مکت ۔ نجات۔ آزادی ۔ گت ۔ حالت۔ سار۔ قدرومنزلت یا قیمت ۔ کنٹھے ۔ کنارے ۔ الگ ۔ علیحدہ۔ گر سبد پچھانے ۔ کلام یا سبق مرشد کو پہچان (1) آڑ۔ ایک بگلے کی قسم کا پرندہ ۔ پھاتھی جال۔ جال میں بھینس گیا۔ الکھ ۔ جو سمجھ و سوچ سے باہر ہے ۔ رودے سمال ۔ دلمیں بسا ۔ رہاؤ۔ ایک جیئہ کے ۔ ایک جان کی خاطر ۔ کیئہ کھا ہی ۔ کتنے جیئہ کھاتی ہے ۔ جل تری ۔ پانی پر تیرتی ہے ۔ بوڈی ۔ ڈوبتی ہے (2) سر ب جیئہ ۔ سارے جانداروں کو کے لئے پرتپانی ۔ اچھی طرح عزآب میں ڈالا ہے ۔(3) گل پھاس ۔ گلے میں پھندہ ۔ پنکھ پساری نو پرپھیلا کر اڑنہیں سکتا ہے (4) رس چوگیہہ۔ لطف لیتا ہے ۔ منمکھ ۔ مرید من۔ گوار۔ جاہل۔ پھاتھی چھوٹیہہ۔ پھندے سے نجات ملتی ہے ۔ گن ۔وصف۔ گیان۔ علم۔ وچار۔ سوچ سمجھ کر (5) ستگر ۔ سیو ۔ سچے مرشد کی خدمت کر ۔ توٹے جمکال۔ اسے موت روحانی مٹ جاتی ہے ۔ ہروے ۔ دل و ذہن مین۔ ساچا سبد سمال۔ سچ سچا ۔ کالم۔ بسا (6) گرمت ۔ سبق مرشد ۔ ساچی۔ حقیقی ۔ اصلی ۔ سبد ہے سار۔ کلام ہے بنیاد۔ اردھار۔ دلمیں بسا (7) سودھ آگے ۔ وہ آئندہ عذاب بن جاتے ہیں۔ جے بھوگ ۔بلا سے ۔ دنیاوی عیش و عشرت ۔ مکت نہیں بن ناوے ساچے ۔ سچے نام کے بغیر نجات حاصل نہیں۔
ترجمہ:
اے پرندے آڑ کس طرح پھندے میں پھنس گیا۔ اس انسانی عل و ہوش سے بعید خدا سے مانگ اور دل میں بسا (1) رہاؤ۔ اے انسان تجھے مو ت و نجات کی قدرویمت کی سمجھ نہیں۔ کنارے الگ رہ کر کلام مرشد کو پہچانتا ہے (1) ایک جان کے لئے جانداروں کو کھاتا ہے ۔ پانی میں تیرتا ہے ۔ آخر پانی میں ہی ڈوب جاتا ہے (2) سارے جانداروں کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے ۔ جب پکڑا جاتا ہے تو پچھاتا ہے (3) جب گلے میں بھاری پھندہ پڑتا ہے تو پچھتا تاہے ۔ تو پر پھیلا کر اڑ نہیں سکتا (4) مرید من عیش عشرت کرتا ہے مزے لیتا ہے جاہل۔ اس پھندے سے چھٹکارہ تب حاصل ہوتا جب اوصاف و علم کو سوچے اور سمجھے گا (5) سچے مرشد کی خدمت سے روحانی واخلای موت کا پھندہ ٹوٹتا ہے ۔ دلمیں ساچا صدیوی کلام بسا (6) سچا سب مرشد کلام کی بنیاد ہے حقیقت ہے ۔ الہٰی نام ست سچ حقوحقیقت دلمیں بساؤ (7) عیش وعشرت لطف مزے آئندہ کے لئے عابت کےلئے زندگی کے سفر میں عذاب و مصائب ہو جاتے ہیں۔ اے نانک۔ سچے نام سچ حق وحقیقت کے بغیر اس دنیاوی دولت اور عذاب و مصائب سے نجات حاصل نہیں ہو سکتی ۔

ملار مہلا ੩ اسٹپدیِیا گھرُ ੧॥
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کرمُ ہوۄےَ تا ستِگُرُ پائیِئےَ ۄِنھُ کرمےَ پائِیا ن جاءِ ॥
ستِگُرُ مِلِئےَ کنّچنُ ہوئیِئےَ جاں ہرِ کیِ ہوءِ رجاءِ ॥੧॥
من میرے ہرِ ہرِ نامِ چِتُ لاءِ ॥
ستِگُر تے ہرِ پائیِئےَ ساچا ہرِ سِءُ رہےَ سماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ستِگُر تے گِیانُ اوُپجےَ تاں اِہ سنّسا جاءِ ॥
ستِگُر تے ہرِ بُجھیِئےَ گربھ جونیِ نہ پاءِ ॥੨॥
گُر پرسادیِ جیِۄت مرےَ مرِ جیِۄےَ سبدُ کماءِ ॥
مُکتِ دُیارا سوئیِ پاۓ جِ ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥੩॥
گُر پرسادیِ سِۄ گھرِ جنّمےَ ۄِچہُ سکتِ گۄاءِ ॥
اچرُ چرےَ بِبیک بُدھِ پاۓ پُرکھےَ پُرکھُ مِلاءِ ॥੪॥
دھاتُر باجیِ سنّسارُ اچیتُ ہےَ چلےَ موُلُ گۄاءِ ॥
لاہا ہرِ ستسنّگتِ پائیِئےَ کرمیِ پلےَ پاءِ ॥੫॥
ستِگُر ۄِنھُ کِنےَ ن پائِیا منِ ۄیکھہُ رِدےَ بیِچارِ ॥
ۄڈبھاگیِ گُر پائِیا بھۄجلُ اُترے پارِ ॥੬॥
ہرِ ناماں ہرِ ٹیک ہےَ ہرِ ہرِ نامُ ادھارُ ॥
ک٘رِپا کرہُ گُرُ میلہُ ہرِ جیِءُ پاۄءُ موکھ دُیارُ ॥੭॥
مستکِ لِلاٹِ لِکھِیا دھُرِ ٹھاکُرِ میٹنھا ن جاءِ ॥
نانک سے جن پوُرن ہوۓ جِن ہرِ بھانھا بھاءِ ॥੮॥੧॥
لفظی معنی:
کرم۔بخشش۔ کنچن ۔ سونا۔ جاں۔ یا رجائے ۔ رضائے ۔ فرمان (1) ساچا۔ صدیوی سچا۔ سمائے محو ومجذوب ۔ رہاؤ۔ گیان۔ اپپجے ۔ سمجھ آتی ہے ۔ علم پیدا ہوتا ہے ۔ سنسا۔ فکر ۔تشویش ۔ بھیئے ۔ سمجھ آتی ہے ۔ گربھ جونی ۔ تناسخ ۔ آواگون (2) گرپر سادی رحمت مرشد سے ۔ جیوت مرئے ۔ دنیاوی ۔ جھمیلوں سے بے نیاز۔ مرجیے ۔ روحانی واخلای زندگی بسر کرے ۔ سبد کمائے ۔ سبق مرشد پر عمل پیرا ہو۔ اور اپنا اسکے مطابق اخلاق اور ال چلن بنائے ۔ مکتدوآر ۔ راہ نجات۔ آپ ۔ خودی۔ اپناپن۔ خوئشتا (3) شوکرجمے ۔ خدا پرست۔ سکت۔ دولت پرستی ۔ اچر۔ چربے ۔ جنکو کھائیا نہ جا سکے ۔ بدیوں برائیوں ببیک بدھ۔ تمیز کے قابل سوچ و سمجھ ۔ جو نیک دبد کو سمجھ سکے ۔ پرکھے پرکھ ملائے ۔ جو مرشد کے وسیلے سے خدا کا ملاپ حاصل کرے (4) وھاتر بازی۔ مٹ جانیوالی کھیل اچیت ۔ غافل۔ مول۔ بنیاد۔ اصل ۔ حقیقت ۔ لاہا۔ منافع۔ ست سنگت۔ پاک ساتھیوں سے ۔ کرمی پلے پائے ۔ الہٰی بخشش سے حاصل ہوتا ہے (5) ردے وچار۔ دلمیں سوچ کر وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ بھوجل۔ زندگی کا خوفناک سمندر۔ اترے پار۔ زندگی کامیاب ہوئی (6) ہرناما۔الہٰی نام۔ ست سچ حق وحقیقت ۔ ہریک ۔ آسرا ۔ ادھار۔ اسرا۔۔ موکھ دوآر۔ راہ نجات (7) مستک للاٹ۔ پیشانی پر تحریر الہٰی فرمان ۔ پورن ۔ کامل۔ بھانا بھائے ۔ جنہوں نے رضائے الہٰی سے پیار کیا۔
ترجمہ:
اے دل الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت سے پیار کر ۔ سچے مرشد کے ذریعے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ جو سچا ہے صدیوی ہے ۔ اس میں محو ومجذوب رہو ۔ رہاؤ اگر الہٰی بخشش اور کرم و عنایت ہو تبھی سچا مرشد ملتا ہے ۔ بغیر بخشش نہیں ملتا۔ سچے مرشد ملنے پر انسان سونے کی مانند قابل قدر ہوجاتا ہے یا رضائے الہٰی ہو (1) سچے مرشد سے علم اور سمجھ آتی ہے تب انسانی دل کی بھٹکن اور تشویش دور ہوتی ہے ۔ مرشد کے ذیرعے الہیی ہستی کی سمجھ آتی ہے تب انسان پس و پیش و تناسخ میں نہیں پڑتا (2) سچے مرشد کی رھمت سے دوران حیات دنیاوی دولت پر ست زندگی ترک کرکے سبق مرسشد پر عمل پیرا ہو جاتا ہے ۔ مگر نجات وہی پاتا ہے جو دل سے خود پرستی مٹاتا ہے (3) رحمت مرشد سےانسان دولتی پرستی اور خود پرستی چھوڑ کر خدا پرست ہوجاتا ہے ۔ بدیاں برائیاں شہوت پرستی لالچ غرور و تکبر اور غصہ وغیرہ جنکا تدارک محال ہے ترک کر دیتا ہے تو نیک و بد کی تمیز کرنیوالی سوچ و سمجھ حاصل ہو جاتی ہے اس طرح مرشد کے وسیلے سے الہٰی ملاپ حاصل ہ کر لیتا ہے (4) یہ دنیا ایک مٹ جانے والا تماش ہے ۔ انسان غافل اور بے سمجھ ہے اور اس دنیا س ے روحانیت واخلاق کا بنیادی سرمایہ ختم کرکے اس علام سے ہجرت کر جاتا ہے ۔ اس زندگی کی نفع پاک صحبت و ربت اور پاک ساتھیوں سے حاصل ہوتا ہے جو الہٰی بخشش سے حاصل ہوتی ہے (5) اے انسانوں دلمیں سوچ سمجھ کر دیکھ لو کہ بگیر رہبر کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ بند قسمت سے جب رہبر ملتا ہے تو کامیابی حاصل ہوتی ہے (6) الہٰی نام ست سچ حق وحیت ہی ایک سہارا ہے اور الہیی نام ہی ایک اسرا اے خدا کرم و عنایت فرماو مرشد ملاؤ تاکہ درو راہ نجات حاصل کروں (7) جنکی پیشانی پر خدا نے کندہ کر دیا ہے اسے مٹائیا نہیں جاسکتا ۔ اے نانک کامل انسان وہی ہوئے ہیں جو الہٰی رضا میں راضی ہیں۔

ملار مہلا ੩॥
بید بانھیِ جگُ ۄرتدا ت٘رےَ گُنھ کرے بیِچارُ ॥
بِنُ ناۄےَ جم ڈنّڈُ سہےَ مرِ جنمےَ ۄارو ۄار ॥
ستِگُر بھیٹے مُکتِ ہوءِ پاۓ موکھ دُیارُ ॥੧॥
من رے ستِگُر سیۄِ سماءِ ॥
ۄڈےَ بھاگِ گُر پوُرا پائِیا ہرِ ہرِ نامُ دھِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ آپنھےَ بھانھےَ س٘رِسٹِ اُپائیِ ہرِ آپے دےءِ ادھارُ ॥
ہرِ آپنھےَ بھانھےَ منُ نِرملُ کیِیا ہرِ سِءُ لاگا پِیارُ ॥
ہرِ کےَ بھانھےَ ستِگُرُ بھیٹِیا سبھُ جنمُ سۄارنھہارُ ॥੨॥
ۄاہُ ۄاہُ بانھیِ ستِ ہےَ گُرمُکھِ بوُجھےَ کوءِ ॥
ۄاہُ ۄاہُ کرِ پ٘ربھُ سالاہیِئےَ تِسُ جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
آپے بکھسے میلِ لۓ کرمِ پراپتِ ہوءِ ॥੩॥
ساچا ساہِبُ ماہرو ستِگُرِ دیِیا دِکھاءِ ॥
انّم٘رِتُ ۄرسےَ منُ سنّتوکھیِئےَ سچِ رہےَ لِۄ لاءِ ॥
ہرِ کےَ ناءِ سدا ہریِیاۄلیِ پھِرِ سُکےَ نا کُملاءِ ॥੪॥
بِنُ ستِگُر کِنےَ ن پائِئو منِ ۄیکھہُ کو پتیِیاءِ ॥
ہرِ کِرپا تے ستِگُرُ پائیِئےَ بھیٹےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
منمُکھ بھرمِ بھُلائِیا بِنُ بھاگا ہرِ دھنُ ن پاءِ ॥੫॥
ت٘رےَ گُنھ سبھا دھاتُ ہےَ پڑِ پڑِ کرہِ ۄیِچارُ ॥
مُکتِ کدے ن ہوۄئیِ نہُ پائِن٘ہ٘ہِ موکھ دُیارُ ॥
بِنُ ستِگُر بنّدھن ن تُٹہیِ نامِ ن لگےَ پِیارُ ॥੬॥
پڑِ پڑِ پنّڈِت مونیِ تھکے بیداں کا ابھِیاسُ ॥
ہرِ نامُ چِتِ ن آۄئیِ نہ نِج گھرِ ہوۄےَ ۄاسُ ॥
جمکالُ سِرہُ ن اُترےَ انّترِ کپٹ ۄِنھاسُ ॥੭॥
ہرِ ناۄےَ نو سبھُ کو پرتاپدا ۄِنھُ بھاگاں پائِیا ن جاءِ ॥
ندرِ کرے گُرُ بھیٹیِئےَ ہرِ نامُ ۄسےَ منِ آءِ ॥
نانک نامے ہیِ پتِ اوُپجےَ ہرِ سِءُ رہاں سماءِ ॥੮॥੨॥
لفظی معنی:
ویدبانی۔ ویدوں شاشتروں کا کلام سبق یا واعظ۔ درندا۔ رائج۔ تریگن۔ تینوں اوصاف پر مشتمل ۔ رجو۔ حکومتی ۔ ستو۔ سہچ حق وحقیقت ۔ ڈنڈ ۔ سز۔ موکھ دوآر۔ درنجات (1) ستگر سیو۔ سچے مرشد کی کدمت ۔ سمائے ۔ محو۔ گرپور۔ کامل مرشد۔ نام دھیائے ۔ نام میں تتوجہ دیکر (1) رہاو۔ اپنے بھانے اپنی رضا وفرمان سے ۔ سرشٹ ۔ دنیا علام ۔ اپائے ۔ پیدا کیا۔ ادھار۔ اسرا۔ نرمل۔ پاک ۔ بھیئیا ۔ ملاپ کیا۔ جنم سوارنہار۔ جو زندگی درست کرنے کی توفیق رکھتا ہے (2) واہو واہو ۔ شاباش۔ ست۔ سچی صدیوی ۔ صلاحییئے ۔ تعریف کرؤ۔ تس۔ جیو۔ اس جتنا وڈا۔ اور دیگر ۔کرم ۔ بخشش۔ پراپت۔ حاصل (3) ماہرو ۔ مکنن ۔ ماہر ۔ انمر۔ آب حیات ۔ برسے ۔ برستا ہے ۔ سنتو کھیئے ۔ صابر۔ بولائے ۔ پیار کرے ۔ ہر کے نائے ۔ الہٰی نام سے ہریاولی ۔ خوشباش (4) پٹتیا ئے ۔ ملاحظہ کرکے ۔ سہج سبھائے ۔ روحانی سکون کی محبت میں۔ ۔ منمکھ ۔ خودی پسند ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ وہم وگمان۔ بھلائیا ۔ گمراہ (5) دھات ۔ دولت کی بھٹکن ۔ دوڑ دہوپ۔ مکت۔ نجات۔ آزادی ۔ موتی ۔خاموشی اختیار کرنیوالے عالم۔ ابھیاس۔ بار بار پڑھنا اور سمجھنا۔ چت نہ آوئی ۔ دلمیں نہیں بستا ۔ سچ گھر داس ۔ذہن نشین ۔ سرہونہ اترے ۔ دور نہیں ہوتا۔ کپٹ۔ ناپاکیزگی ۔ وناس۔ ختم نہیں ہوتی (7) پرتاپدا۔ خواہش کرتا ہے ۔ بھاگاں ۔ قسمت۔ ندر۔ نگاہ۔ شفقت ۔ پت۔ عزت۔ اپجے ۔ پیدا ہوتی ہے ۔
ترجمہ:
اے دل خدمت مرشد میں محو ومجذوب رہ۔ بلند قسمت سے کامل مرشد ملتا ہے ۔ الہٰی نام میں دھیان لگاتا ہے ۔ لگانے سے (1) رہاؤ۔ سارا عالم میں ویدوں کی تعلیم رائج ہے اور تینوں اوصاف ک ہی سوچ سمجھ ہوتی ہے ۔ مگر نام کے بغیر یعنی ست سچ حق وحقیقت کے بغیر فرشتہ موت کی سزا پاتا ہے ۔تناسخ اور پس و پیش اور آواگون میں رہتا ہے جو سچے مرشد سے ملاپ کر لیتا ہے ونجات پالیتا ہے اور نجات کا دروازہ پالیتا ہے (1) خدا نے اپنی رضا سے یہ عالم پیدا کیا اور خود ہی آسرا دیتا ہے دل کو اپنی رضا سے پاک بنائیا اور اسکی محبت خدا سے ہوگئی الہٰی رضا و فرمان سے سچے مرشد سے ملاپ ہوا جو زندگی راہ راست پر لانے کی توفیق رکھتا ہے (2) قابل تعریف کلام سچ اور صدیوی ہے مرید مرشد ہوکر اسکی سمجھ آتی ہے ۔ حیران کن کہہ کر الہٰی حمدوثناہ کرؤ اس جتنا بلند رتبہ کوئی نہیں۔ خود ہی جس پر کرم و عنایت کرتا ہے اسے اپناے ساتھ ملاتا ہے (3) صدیوی سچا مالک ہی مالک عالم ہے سچے مرشد نے دکھادیا۔ جسے دیدار کرائیا اسکے من و ذہن میں روحانیت وخوش اخلاق کی آب حیات کی بارش ہونے لگتی ہے دل صابر ہو جاتا ہے ۔ سچ وحقیقت سے محبت ہوجاتی ہے الہٰی نام کی برکت سے زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہے اداسی غمگینی کبھی کبھی نمودار نہیں ہوتی (4) دل میں فصلہ کرکے دیکھ لو کہ سچے مرشد کے بغیر کسی کو ملاپ نصیب نہیں ہوا۔ الہیی کرم و عنایت سے سچا مرشد ملتا ہے ۔ قدرتی طور پر مرید من وہم وگمان اور بھٹکن میں گمراہ ہے بغیر تقدیر الہٰی نام کی دولت نصیب نہیں ہوتی (5) تینوں اوصاف میں دنیاوی دولت کی دوڑ دہوپ کا ہی ذکر ازکار ہے ان کے ذریعے نجات حاصل نہیں ہو سکتی نہ راہ نجات حاصل ہوتا ہے سچے مرشد کے بغیر دنیاوی دولت کی گلامی نہیں جاتی نہ الہیی نام سچ حقیقت سے پیار ہوتا ہے (6) پنڈت مراد عالم علم اور منی پڑھ پرھ اور مطالعہ کر کر ماند ہوئے ویدوں کا نہ ہی الہٰی نام سچ حق وحقیقت اور ست دل مں بسا نہ ذہن نشین یا منزل مقصود حاصل ہوا۔ نہ روحانی موت کا خدشتہ مٹتا ہے نہ دل سے دہوکا فریب جاتا ہے (7) الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے حصول کی ہر دلمیں چاہ اور خواہش ہے مگر بغیر قسمت حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اگر الہٰی نظر عنایت و شفقت ہو مرشد سے ملاپ ہو جائے تو نام دلمیں بس جاتا ہے ۔ نانک نام سے عزت و توقیر پیدا ہوتی ہے ۔ اور انسان خدا میں خدا میں محو ومجذ ب ہو جاتا ہے

ملار مہلا ੩ اسٹپدیِ گھرُ ੨॥
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ہرِ ہرِ ک٘رِپا کرے گُر کیِ کارےَ لاۓ ॥
دُکھُ پل٘ہ٘ہرِ ہرِ نامُ ۄساۓ ॥
ساچیِ گتِ ساچےَ چِتُ لاۓ ॥
گُر کیِ بانھیِ سبدِ سُنھاۓ ॥੧॥
من میرے ہرِ ہرِ سیۄِ نِدھانُ ॥
گُر کِرپا تے ہرِ دھنُ پائیِئےَ اندِنُ لاگےَ سہجِ دھِیانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِنُ پِر کامنھِ کرے سیِگارُ ॥
دُہچارنھیِ کہیِئےَ نِت ہوءِ کھُیارُ ॥
منمُکھ کا اِہُ بادِ آچارُ ॥
بہُ کرم د٘رِڑاۄہِ نامُ ۄِسارِ ॥੨॥
گُرمُکھ کامنھِ بنھِیا سیِگارُ ॥
سبدے پِرُ راکھِیا اُر دھارِ ॥
ایکُ پچھانھےَ ہئُمےَ مارِ ॥
سوبھاۄنّتیِ کہیِئےَ نارِ ॥੩॥
بِنُ گُر داتے کِنےَ ن پائِیا ॥
منمُکھ لوبھِ دوُجےَ لوبھائِیا ॥
ایَسے گِیانیِ بوُجھہُ کوءِ ॥
بِنُ گُر بھیٹے مُکتِ ن ہوءِ ॥੪॥
کہِ کہِ کہنھُ کہےَ سبھُ کوءِ ॥
بِنُ من موُۓ بھگتِ ن ہوءِ ॥
گِیان متیِ کمل پرگاسُ ॥
تِتُ گھٹِ نامےَ نامِ نِۄاسُ ॥੫॥
ہئُمےَ بھگتِ کرے سبھُ کوءِ ॥
نا منُ بھیِجےَ نا سُکھُ ہوءِ ॥
کہِ کہِ کہنھُ آپُ جانھاۓ ॥
بِرتھیِ بھگتِ سبھُ جنمُ گۄاۓ ॥੬॥
سے بھگت ستِگُر منِ بھاۓ ॥
اندِنُ نامِ رہے لِۄ لاۓ ॥
سد ہیِ نامُ ۄیکھہِ ہجوُرِ ॥
گُر کےَ سبدِ رہِیا بھرپوُرِ ॥੭॥
آپے بکھسے دےءِ پِیارُ ॥
ہئُمےَ روگُ ۄڈا سنّسارِ ॥
گُر کِرپا تے اِہُ روگُ جاءِ ॥
نانک ساچے ساچِ سماءِ ॥੮॥੧॥੩॥੫॥੮॥
راگُ ملار چھنّت مہلا ੫॥
لفظی معنی:
دکھ پلر ۔ دکھ دور کرکے ۔ ہر نام۔ الہٰی نام ۔ ست سچ حق وحقیقت ۔ ساچی گت۔ سچ حق پر مبنی روحانی اخلاقی زندگی کی بلند حالت۔ سبد ۔ کلام (1) ہر سیو۔ خدا کی خدمت ۔ ندھان۔ خزانہ ۔ (1) کامن ۔ عورت ۔ سیگار۔ سجائے ۔ دہچارنی۔ بد چلن۔ خوار۔ ذلیل ۔ بادآچار۔ جھگرالوں چلن۔ بہو کرم درڑا دیہہ۔ بہت سے اعمال پختہ کراتا ہے ۔ گورمکھ کامن۔ مرید مرشد عورت سبدے پر راکھیا اردھار۔ کلام کے ذریعے خاوند کو دلمیں بساتی ہے ۔ سوبھاونتی ۔ باشہرت (3) دوبے لوبھائیا۔ دنیاوی دولت کے لالچ میں۔ گیانی ۔ علام۔ باعلم۔ مکت۔ نجات (4) من موئے ۔ دل پر ضبط ھاصل کیے بغیر۔ بھگت ۔ عبادت و ریاضت ۔ گیان متی ۔ روحانیت واخلاق کی سمجھ ۔ کمل پرگاس۔ ذہن کا پھول کھلتا ہے مراد دماغ روشن ہوتا ہے ۔ تت ۔ اس ۔ گھت ۔ دلمیں۔ نامے ۔ نام نواس۔ الہیی نام ست۔ سچ حق وحقیقت بستی ہے (5) بھیجے ۔ متاثر ۔ برتھی۔ بیفائدہ ۔ جنم ۔ زندگی (6) سنے ۔ وہی ۔ بھر پور۔ مکمل طور پر (7) ہونمے روگ۔ خودی کی بیماری ۔ ساچے ساچ۔ صدیوی سچے ۔ سچ خدا۔ سمائے ۔ محو ومجذوب ۔
ترجمہ:
اے دل خدمت خدا ایک خزانہ ہے مرشد کی کرم و عنایت سے الہٰی دولت میسر ہوتی ہے ۔ ہر روز روحانی و ذہنی سکون رہتا ہے ۔ رہاؤ۔ جس پر الہٰی رحمت و عنایت ہو وہی خدمت مرشد کرتا ہے ۔ عذاب و مصائب دور کرکے الہٰی نام ست سچ وحقیقت دلمیں بساتا ہے ۔ انسانی زندگی کا پاک شعور و نسب العین پاک دلمیں بساتا ہے ۔ کلام مرشد کلام کے ذریعے سناتا ہے (1) جو عورت اپنے خاوند کے بغیر اپنے آپ کو سجاتی ہے اسے بد چلن کہتے ہیں اور ہر روز ذلیل ہوتی ہے مریدان من کی یہ روش بیفائدہ بیکار چلا جاتا ہے ۔ وہ حقیقت کو بھلا کر دکھاوے کے بہت سے کام کرتے ہیں (2) مرید مرشد عورت کے لئے یہ سجاوٹ واج ہے کہ کلام کے ذریعے خاوند دلمیں بسائے ۔ خودی مٹا کر وحدت و واحد کی پہچان کرے ۔ اسے با قل وشعور باشہرت عورت کہتے ہیں یا کہنا چاہیے (3) بغیر سخی مرشد کسی کو وصل نصیب نہیں ہوا۔ مرید من دوسرے لالچوں کا لالچ کرتا ہے ۔ اس طرح سے کسی عالم کو ہی سمجھ آئی ۔ بغیر ملاپ مرشد نجات حاصل نہیں ہوئی (4) کہنے کو تو سب کہتے ہیں مگر جب تک دل پر ضبط حاصل ہیں ہوتی الہٰی عبادت وریاضت خدمت خدا ہو نہیں سکتی ۔ علم وعقل سے ذہن ودماغ روشن ہوتا ہے ۔ اس سے الہٰی نام کی سمجھ عقل و شعور والی سمجھ سے نام دلمیں بستا ہے (5) سارے خود پسندی میں عبادت وریاضت کرتے ہیں مگر اس طرح سے نہ دل متاچر ہوتا ہے نہ روحانی و ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے کہہ کر بھگتی مراد خمت خداکرتا ہوں اپنے آپ کو بھگت ظاہر کرتا ہے مگر یہ خدمت خدا بیکار ہے زندگی اور خدمت بیکار چلی جاتی ہے (6) مگر حقیقتاً خادمان خدا وہی ہیں سچے مرشد کے من کو پیارے ہین جن کو الہیی نام ست سچ حق و حقیقت سے پیار ہے اور ہمیشہ نام کو ساتھی سمجھتے ہیں۔ کلام مرشد کے ذریعے خدا ہر جگہ بستا دکھائی دیتا ہے (7) خدا خود ہی بخشش کرکے اپنا پریم پیار عنایت کرتا ہے دنیا میں خود پسندی ایک بھاری بیماری ہے رحمت مرشد سے یہ مرض ختم ہوتی ہے ۔ اے نانک۔ وہ ہمیشہ الہٰی سچے سچ میں محو ومجذوب رہتا ہے

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
پ٘ریِتم پ٘ریم بھگتِ کے داتے ॥
اپنے جن سنّگِ راتے ॥
جن سنّگِ راتے دِنسُ راتے اِک نِمکھ منہُ ن ۄیِسرےَ ॥
گوپال گُنھ نِدھِ سدا سنّگے سرب گُنھ جگدیِسرےَ ॥
منُ موہِ لیِنا چرن سنّگے نام رسِ جن ماتے ॥
نانک پ٘ریِتم ک٘رِپال سدہوُنّ کِنےَ کوٹِ مدھے جاتے ॥੧॥
پ٘ریِتم تیریِ گتِ اگم اپارے ॥
مہا پتِت تُم٘ہ٘ہ تارے ॥
پتِت پاۄن بھگتِ ۄچھل ک٘رِپا سِنّدھُ سُیامیِیا ॥
سنّتسنّگے بھجُ نِسنّگے رݩءُ سدا انّترجامیِیا ॥
کوٹِ جنم بھ٘رمنّت جونیِ تے نام سِمرت تارے ॥
نانک درس پِیاس ہرِ جیِءُ آپِ لیہُ سم٘ہ٘ہارے ॥੨॥
ہرِ چرن کمل منُ لیِنا ॥
پ٘ربھ جل جن تیرے میِنا ॥
جل میِن پ٘ربھ جیِءُ ایک توُہےَ بھِنّن آن ن جانیِئےَ ॥
گہِ بھُجا لیۄہُ نامُ دیۄہُ تءُ پ٘رسادیِ مانیِئےَ ॥
بھجُ سادھسنّگے ایک رنّگے ک٘رِپال گوبِد دیِنا ॥
اناتھ نیِچ سرنھاءِ نانک کرِ مئِیا اپُنا کیِنا ॥੩॥
آپس کءُ آپُ مِلائِیا ॥
بھ٘رم بھنّجن ہرِ رائِیا ॥
آچرج سُیامیِ انّترجامیِ مِلے گُنھ نِدھِ پِیارِیا ॥
مہا منّگل سوُکھ اُپجے گوبِنّد گُنھ نِت سارِیا ॥
مِلِ سنّگِ سوہے دیکھِ موہے پُربِ لِکھِیا پائِیا ॥
بِنۄنّتِ نانک سرنِ تِن کیِ جِن٘ہ٘ہیِ ہرِ ہرِ دھِیائِیا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
پرتیم پریم بھگت کے دانے ۔ پیارا خدا پیارا اور عشق الہٰی دینے والا سخی اور داتا رہے ۔ جن۔ خادم ۔ خدمتگار ۔ سنگ۔ ساتھ ۔ راتے ۔ محو ومجذب۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے ک عرصے ۔ وسرے ۔ بھولے ۔ گوپال۔ مالک عالم۔ گن ندھ ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ سرب گن جگدیسرئے ۔ سارے اوصاف کا مالک۔ من موہ لینا چرن گنگے ۔ دل کو اپنی محبت کا گرویدہ بنا لیتا ہے ۔ نام رس چن ماتے ۔ الہٰی نام سچ حق وحقیقت میں محو ومجذب کوٹ مدھے ۔ کروڑوں میں سے ۔ جاتے ۔ جانتا یا پہچانتا ہے (1) گت۔ روحانی بلند حالت۔ اپارے ۔ اعداد و شمار سے بعد ۔ لا محدود ۔ اگم ۔ انسانی عقل و ہوش و شعور سے بعد۔ ماہپتت۔ بد اخلاق ۔ بد چلن ۔ ناپاک۔ تارے کامیاب کیے ۔ سنت سنگے ۔ محبوبان خدا کے ساتھ ۔ بھج تنگے ۔ بلا خوف بلا جھجھگ یاد کر ا۔ انتر جامیا۔ دلی راز جاننے والے کو ۔ کوٹ جنم۔ کروڑوں زندگیوں میں۔ بھرمنت۔ بھٹکتے ۔ نام سمرت تارے الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد وریاض اور عمل کرنے پر کامیاب بنائے ۔ درس پیاس۔ بھوک و پیاس دیدار ۔ لیہو سمہارے ۔ سنبھال لیجیئے ۔ مراد اپنا لو (2) پربھ جل۔ خدا ایک پانی ۔ جن تیرے مینا۔ تیرے خادم مچھلیاں ۔ بھن ۔ علیحدہ ۔ آن ۔ دوسرا جانیئے ۔ سمجھو ۔ گہہ بھجا۔ بازو پکڑ کر ۔ نام دیو ہو۔ نام عنایت کرؤ تو پر سادی مانیئے ۔ تیری رحمت سے قدرو منزلت حاصل ہوتی ہے ۔ بھج سادھ سنگے ۔ نیک پارسا وپاکدامن کی محبت و قربت میں عبادت و ریاضت کر ۔ ایک رنگے ۔ یکسو محبت میں۔ کرپال گوبند دینا۔ غریب پرور ۔ اناتھ ۔ بغیر مالک۔ نیچ ۔ کمینہ ۔ سرنائے ۔ پناہ میں۔ میئیا ۔ مہربانی ۔ اپنا کینا ۔ اپنائیا (3) آپس کو ۔ اپنے آپ کو ۔ آپ ملائیا ۔ خود ملائیا۔ بھرم بھنجن۔ بھٹکن مٹآنیوال ۔ آچرج سوآمی ۔ حیران کن مالک۔ انتر جامی ۔ اندرونی راز جاننے والا۔ گن ندھ ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ مہامنگل ۔ باری خوشیاں۔ ساریا۔ دل میں بسائے ۔پورب لکھیا پہلے سے تحریر ۔ پائیا ۔ حاصل ہوا۔ ۔ بنونت ۔ عرض گزارتا ہوں۔ سرن ۔ پناہ۔ دھیائیا ۔ دھاین لگائیا۔
ترجمہ:
خدا اپنے عاشقوں کو پیار بخشش کرتا ہے ۔ عبادت و ریاضت عنایت کرتا ہے ۔ اور اپنے خدمتگاروں سے محو و مجذوب رہتا ہے اور اپنے خدمتگاروں کے دل سے آنکھ جھپکنے کے عرصے سے نہیں بھولتا ۔ پروردگار علام خزانہ اوصاف کا مالک ہے اور اپنے خدمتگاروں کو اپنی محبت میں گرفتار کر لیتا ہے اور اسکے خدمتگار اسکے نام سچ حق وحقیقت کے لطف میں محو ومجذوب رہتے ہیں۔ اے نانک پیارا خدا جو رحمان الرحیم ہے کرؤروں میں سے کسی کو ہی اسکی جان پہچان اور اشتراک ہے (1) اے خدا تیری بلندی تیری اہمیت انسانی عقل و ہوش و سمجھ سے بعید اور تیری ہستی لا محدود ہے تو نے بھاری گنا ہگاروں کو کامیابی بخشی ہے تو گناہگاروں کو پاک بنا نیوالا بھگتی سے پیار کرنیوالا اور مہربنانیوں کا سمندر رحمان الرحیم ہے ۔ سادہوں پاکدامنوں پارساؤں کی محبت و قربت میں بلا جھجھک یاد کر ۔ اس دلی رازوں کو جاننے والے خدا کو کروڑوں زندگیاں بھٹکن میں بھٹکتی ہوئیں الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد و عمل پیرا ہو کر کامیاب ہوئیں اے نانک کہہ کہ اے خدا تیرے دیدار کی دلمیں پیاس ہے مجھے اپنا لو (2) اے خدا میں تیرے یادوں کا گرویدہ رہوں ۔ اے خداتو پانی ہے اور تیرے خدمتگار مچھلیاں اے خدا پانی اور مچھلیاں بھی تو ہی ہے اس سے علیحدہ کچھ نہ سمہو ۔ اے خدا مجھےبازو سے پکڑ اپنا نام ست سچ حق وحقیقت عنایت کرؤ تیری رحمت و عنایت سے ہی قدر و منزلت حاصل ہو سکتی ہے ۔ اے انسان سادہووں کی محبت و قربت میں کسو ہوکر غریب پرور پروردگار کو یاد کیا کر ۔ اے نانک۔ اے خدا تیری پناہ آئے بغیر مالک کمینوں کو جو تیری زیر پناہ آتے ہیں اپنی کرم وع نایت سے پنالو (3) بھٹکن دور کرنیوالا خدا اپنے آپ کو اپنے میں ملاتا ہے ۔ کدا ایک عجیت و غریب ہستی ہے وہ راز دان ہے وہ اوصاف کا خزانہ جن محبوبوں کو مل جاتا ہے وہ اسکے اوصاف اپنے دلمیں بساتے ہیں ۔ جس سے انکے دلمیں بھاری سکون اور خوشیان پیدا ہوتی ہیں۔ مگر جنکے اعمالنامہ و مقدر میں پہلے سے تحریر ہوتا ہے ۔ انہیں الہٰی ملاپ سے اعلے معیار زندگی حاصل کرلی اور دیدار سے اسمیں محو ومجزوب ہوگئے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ جنہوں نے خدا میں دھیان لگائیا ہے ۔ میں انکی پناہ میں ہوں۔

ۄار ملار کیِ مہلا ੧
رانھے کیَلاس تتھا مالدے کیِ دھُنِ ॥
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سلوک مہلا ੩॥
گُرِ مِلِئےَ منُ رہسیِئےَ جِءُ ۄُٹھےَ دھرنھِ سیِگارُ ॥
سبھ دِسےَ ہریِیاۄلیِ سر بھرے سُبھر تال ॥
انّدرُ رچےَ سچ رنّگِ جِءُ منّجیِٹھےَ لالُ ॥
کملُ ۄِگسےَ سچُ منِ گُر کےَ سبدِ نِہالُ ॥
منمُکھ دوُجیِ ترپھ ہےَ ۄیکھہُ ندرِ نِہالِ ॥
پھاہیِ پھاتھے مِرگ جِءُ سِرِ دیِسےَ جمکالُ ॥
کھُدھِیا ت٘رِسنا نِنّدا بُریِ کامُ ک٘رودھُ ۄِکرالُ ॥
اینیِ اکھیِ ندرِ ن آۄئیِ جِچرُ سبدِ ن کرے بیِچارُ ॥
تُدھُ بھاۄےَ سنّتوکھیِیا چوُکےَ آل جنّجالُ ॥
موُلُ رہےَ گُرُ سیۄِئےَ گُر پئُڑیِ بوہِتھُ ॥
نانک لگیِ تتُ لےَ توُنّ سچا منِ سچُ ॥੧॥
لفظی معنی:
من رہسیئے ۔ دل کھلتا ہے ۔ دٹھے ۔ مینہ برسنے پر ۔ دھرن۔ زمین ہر یاولی ۔سر سبز۔ سر ۔ تالاب۔ سبھر۔ مکمل طور پر۔ نال ۔ تالاب ۔ اندر ۔ دلمیں۔ رچے سچ رنگ۔ سچا پریم پیار رہنا۔ جیؤ جسٹھے لال۔ جیسے مجھٹے کا لال ۔ کمل وگسے ۔ دل کھلتا ہے ۔ کوش ہوتا ہے ۔ سچ من۔ دل پاک۔ نہال۔ خوش۔ ندر۔ نظر کرکے ۔ پھاہی پھاتی ۔ جیسے پھندے میں پھنسا ہوا۔ جمکال ۔ موت ۔ کھدیا ۔ بھوک ۔ ترسنا۔ خواہش ۔ پیار ۔ نندا۔ بد گوئی ۔ کام کرؤدھ ۔ شہوت اور غصہ ۔ وکرال۔ خوفناک۔ سبد نہ کرے وچار۔ جبتک ۔ سبد۔ کلام۔ وچار۔ سوچے سمجھے ۔ سنتوکھیا۔ صبر۔ چوکے ۔ مٹتا ہے ۔ آل جنجال۔ گھریلو مسئلے ۔ مخمسے ۔ مول ۔ اصل۔ بنیاد۔ پوڑی ۔ زینہ ۔ صیفہ ۔ بوہتھ ۔ جہاز۔ تت۔ حقیقت ۔ اصلیت۔ سچا ۔ صدیوی ۔ من سچ ۔ دل پاک ۔
ترجمہ:
مرشد کے ملاپ سے دل کھلتا ہے جیسے بارش برسنے پر زمین سر سبز ہوجاتی ہے تالاب پانی سے بھر جاتے ہیں اور مجیٹھ مانند پختہ سرک۔ اسکا قلب کھلتا ہے سچا خدا دلمیں بستا ہے کلام مرشد خوشباش ہو جاتا ہے ۔ بجکہ غور سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ مرید من کی حالت بالکل اسکے برعکس ہوتی ہے ۔ جیسے پھندے یا جال میں پھنسے ہوئے ہرن کو سر پر گھڑی موت دکھائی دیتی ہے ۔ دنیاوی دولت کی بھوک پیاس بد گوئی شہوت وغصہ خوفناک صورت میں ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے ۔ جبتک وہ کلام و سبق مرشد کو سوچتا سمجھتا نہیں۔ اے خدا جب تو چاہتا ہے تیری رضا ہوتی ہے تو صبر آتا ہے گھریلو مسئلے مخمسے مٹتے ہیں۔ اس سے روحانی واخلاقی بنیاد پختہ ہو جاتی ہے مرشد بلند ی و برتری کے لئے زینہ اور زندگی کے سمندر کو عبور کرنے اور زندگی منزل حاصل کرنے کے لئے جہاز سے اے نانک ۔ جو اسکی سنبھال خبرداری کرتا ہے وہ حقیقت پا لیتا ہے ۔ صدیوی سچ سچا خدا من میں صدیوی طور پر بس جاتا ہے ۔

مہلا ੧॥
ہیکو پادھرُ ہیکُ درُ گُر پئُڑیِ نِج تھانُ ॥
روُڑءُ ٹھاکُرُ نانکا سبھِ سُکھ ساچءُ نامُ ॥੨॥
لفظی معنی:
پادھر ۔ ۔راستہ۔ ہیک در۔ ایک دروازہ ۔ گرپوڑی ۔ مرشد ۔ ایک زینہ ۔ نج تھان۔ اس جگہ یا ہستی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جو از خود وہنگ سروپ یا ہستی ہے ۔ روڑو ۔ خوبصورت ۔ ٹھاکر۔ مالک۔ سبھ سکھ ۔ ہر طرح کے آرام و آسائش ۔ ساچو نام ۔ حقیقی طور پر سچا صدیوی نام ست ۔ سچ حق و حقیقت۔
ترجمہ:
ایک ہی ہے راستہ اور ایک ہی دوازہ اس ذاتی مقام پر پہنچنے کے لئے مرشد زینہ ہے ۔ اے نانک خوبصورت آقا اور سارے آرام و آسائش سچے الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت میں ہیں۔

پئُڑیِ ॥
آپیِن٘ہ٘ہےَ آپُ ساجِ آپُ پچھانھِیا ॥
انّبرُ دھرتِ ۄِچھوڑِ چنّدویا تانھِیا ॥
ۄِنھُ تھنّم٘ہ٘ہا گگنُ رہاءِ سبدُ نیِسانھِیا ॥
سوُرجُ چنّدُ اُپاءِ جوتِ سمانھِیا ॥
کیِۓ راتِ دِننّتُ چوج ۄِڈانھِیا ॥
تیِرتھ دھرم ۄیِچار ناۄنھ پُربانھِیا ॥
تُدھُ سرِ اۄرُ ن کوءِ کِ آکھِ ۄکھانھِیا ॥
سچےَ تکھتِ نِۄاسُ ہور آۄنھ جانھِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
ساج ۔ پیدا ۔ کرکے ۔ انیر ۔ آسمان۔ دھرت۔ زمین ۔ اپائے ۔ پیدا کرکے ۔ وچھوڑ۔ جدا کرکے ۔ چندوآ۔ اسمان ۔ بن تھم۔ بغیر سہارے ۔ گگن ۔ آسمان ۔ دنندت ۔ دن ۔ رہائے ۔ ٹکائیا۔ سبد نیسانیا۔ کلام منزل ۔ نقارہ ۔ چوج ۔ تماشے ۔ وڈانیا۔ حیران کرنیوالے ۔ تیرتھ ۔ زیارت گاہ ۔ دھرم۔ فراءج۔ وچار۔ خیال آرائی ۔ سوچنا ۔سمجھنا۔ پرہانیا۔ دھارمک یا مذہبی ۔ محلیں یا میلے ۔ تدھ سر۔ تیرے برابر۔ اور نہ کوئے نہیں کوئی ۔ دوسرا ۔ کے آکھ دکھانیئے ۔ کیا کہہ بیان کریں (1)
ترجمہ:
خدا نے خود کو پیدا کرکے خود ہی اسکی پہچان کی۔ زمین وآسمان کو ایک دوسرے سے جدا کرکے ایک خیما بنائیا اور آسمان کو کسی آسرے ٹھرئیا کلام نقارہ بنائیا۔ چاندار اور سوچ پیدا کرکے انمیں اپنا نور پیدا کیا۔ دن رات پیدا کرکے خیران کرنے والے تماشے بنائے ۔ زیارت گاہوں پر مذہبی میلے کرنے اور زیارت کرنے اور مذہبی فرآئض کو سمجھنے کے خیال پیدا کیے ۔ اے خدا تیرے متعلق کیا کہیں کیونکہ تیرے برابر کوئی دوسری ہستی نہیں جس سے تجھے مشابہ یا تسبیح دی جا سکے ۔ تیرے سچے صدیوی تخت پر تیرا ٹھکانہ ہے ۔ باقی سارا عالم مٹ جانیوالا آنیوالا اور چلے جانیوالا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
نانک ساۄنھِ جے ۄسےَ چہُ اوماہا ہوءِ ॥
ناگاں مِرگاں مچھیِیا رسیِیا گھرِ دھنُ ہوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
اماہا۔ خوشیان۔ رسیاں ۔ لطف ۔ چاہنے والے ۔
ترجمہ:
اے نانک ساون کے مہینے بارش ہو تو چار کو خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ سانپوں کو ہر نوں مچھلیوں اور لطف کے خواہشمندو کو جنکے گھر سرمایا ہو ۔

مਃ੧॥
نانک ساۄنھِ جے ۄسےَ چہُ ۄیچھوڑا ہوءِ ॥
گائیِ پُتا نِردھنا پنّتھیِ چاکرُ ہوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
وچھوڑا ۔ جدائی۔ گائیں پتا۔ بچھڑے یا بیل۔ نردھنا۔ غریب ۔ پنتھی ۔ راہگیر ۔ مسافر۔ چاکر۔ نوکر۔
ترجمہ:
اے نانک۔ اگر ساون کے مہینے بارش ہو جائے تو چاروں کو جدا ہونا پڑتا ہے بچھڑوں کو جدائی جب گائیں چرنے جاتی ہیں یبل جب ہل جو تنے کے لئے لیجائے جاتے ہیں غریبوں کو مزدوری کے لئے باہر جانے پر ۔ مسافروں کو اور نوکروں کو جدا ہونا پڑتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
توُ سچا سچِیارُ جِنِ سچُ ۄرتائِیا ॥
بیَٹھا تاڑیِ لاءِ کۄلُ چھپائِیا ॥
ب٘رہمےَ ۄڈا کہاءِ انّتُ ن پائِیا ॥
نا تِسُ باپُ ن ماءِ کِنِ توُ جائِیا ॥
نا تِسُ روُپُ ن ریکھ ۄرن سبائِیا ॥
نا تِسُ بھُکھ پِیاس رجا دھائِیا ॥
گُر مہِ آپُ سموءِ سبدُ ۄرتائِیا ॥
سچے ہیِ پتیِیاءِ سچِ سمائِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
سچا ۔ صدیوی ۔ سچ ۔ سچیار۔ سچے آچار واخلاق والا۔ سچ درتائیا ۔ سچ و حقیقت رائج کی ۔ تاڑی ۔ یکسو۔ کنول۔ بنیاد ۔ آغاز۔ انت۔ آکر۔ جائیا۔ پیدا کیا۔ روپ ۔ شکل و سورت۔ ریکھ ۔ نشنای۔ درن۔ ذات۔ فرقہ ۔ سبائیا۔ سارے ۔ رجا۔ غیر حاجتمند ۔ صابر۔ دھیائیا۔ دوڑتا ہے ۔ گرمینہہ۔ مرشد میں۔ سموئے ۔ مجذوب۔ سبد درتائیا۔ فرمان جاری کیا۔ سچے ہی پتیائے ۔ خدا میں یقین و ایمان لاکر۔ سچ سمائیا۔ سچ حق و حقیقت مراد خدا میں محو ومجذوب ۔
ترجمہ:
اے خدا تو پاک ہستی ہے تیرا اخلاق اور برتاؤ پاک ہے ۔ جس نے اس ہستی کو ہر جائی بنائیا ہے ۔ اچھی عالم ظہور پذیر نہیں تھا اس وقت تو یکسو تھا ۔ اپنے آپ کو چھپار کھا تھا ۔ گوبرہما اپنے آپ کو بلند ہستی کہلاتا تھا تاہم وہ تیرے راز کو سمجھ نہیں سکا۔ اے خدا نہ تیری کوئی ما ں ہے نہ باپ جس نے تجھے پیدا کیا ہے نہ تیری کوئی شکل وصورت ہے نہ کوئی نشانی نہ کوئی ذات ہے نہ فرقہ ۔ تاہم سارے تیرے ہیں نہ تجھے بھوک لگتی ہے نہ پیاس۔ تو ہر وقت بلا حاجت و ضرورت ہے ۔ خود کو مرشد میں مح ومجذوب کرکے اپنا فرمان چلاتا ہے ۔ مراد سب کو پیغام پہنچاتا رہتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
ۄیَدُ بُلائِیا ۄیَدگیِ پکڑِ ڈھنّڈھولے باںہ ॥
بھولا ۄیَدُ ن جانھئیِ کرک کلیجے ماہِ ॥੧॥
لفظی معنی:
کرک۔ درد۔ ویدگی ۔ دوا دارو کے لئے ۔ بھولا۔ نادان۔ انجان۔ نہ جانیئی ۔ نہیں سمجھتا ۔
ترجمہ:
حکیم علاج دوا دارد کے لئے بلائیا جاتا تو وہ نبض پکڑ مرض کی تشخیص کی کوشش کرتا ہے ۔ مگر اسے یہ معلوم نہیں یہ دلمیں جدائی کا درد ہے خدا سے ۔

مਃ੨॥
ۄیَدا ۄیَدُ سُۄیَدُ توُ پہِلاں روگُ پچھانھُ ॥
ایَسا داروُ لوڑِ لہُ جِتُ ۄنّجنْےَ روگا گھانھِ ॥
جِتُ داروُ روگ اُٹھِئہِ تنِ سُکھُ ۄسےَ آءِ ॥
روگُ گۄائِہِ آپنھا ت نانک ۄیَدُ سداءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سودید ۔ وہی دیدیا حکیم ہے ۔ روگ ۔ مرض ۔ پچھان۔ تشخیص کر ۔ وتجے روگا گھان۔ تمام مرضیں دور ہو جائیں۔ اُٹھایئے ۔ اُٹھ جان۔ مراد ختم ہو جائیں ۔ تن ۔ جسم ۔
ترجمہ:
اے وید حکیم تو تبھی اچھا وید ہے جب پہلے مرض کی تشحیص کرے کہ مرض ہے کونسی ۔ ایسی دوائی کی ضرورت ہے جس سے تامم امرض دور ہو جائیں۔ جس دوائی سے مرض ختم ہو جائے اور جسم راحت محسوس کرئے ۔ سب سے اول اپنی مرضی دور کرے تب ہی اے نانک حکیم قابل اور اعلٰے وید کہلا سکتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ب٘رہما بِسنُ مہیسُ دیۄ اُپائِیا ॥
ب٘رہمے دِتے بید پوُجا لائِیا ॥
دس اۄتاریِ رامُ راجا آئِیا ॥
دیَتا مارے دھاءِ ہُکمِ سبائِیا ॥
ایِس مہیسُرُ سیۄ تِن٘ہ٘ہیِ انّتُ ن پائِیا ॥
سچیِ کیِمتِ پاءِ تکھتُ رچائِیا ॥
دُنیِیا دھنّدھےَ لاءِ آپُ چھپائِیا ॥
دھرمُ کراۓ کرم دھُرہُ پھُرمائِیا ॥੩॥
لفظی معنی:
دیواپائیا۔ دیوتے پیدا کیے ۔ پوجا۔ پرستش۔ دیتا ۔ وانو ۔ دیو ۔ یا بدکراری انسان۔ دھا ۔ حملے کرکے ۔ دس او تار۔ سبائیا۔ سب کے اندر بسا ہوا۔ میسر ۔ شوجی ۔ انت۔ کل واقفیت ۔ سچی قیمت۔ وہ قیمت جو حقیقت درست کی طاقت پر مشتمل ۔ تخت رچائیا۔ اپنے بستے ۔ بیٹھنے کے لئے رہائش پذیر ہونے کے لئے و حکمرانی کےلئے عالم پیدا کیا۔ دنیاوھندے لائے ۔ لوگوں کو کام اور کاروبار مہیا کیا۔ آپ چھپائیا۔ اپنے آپ کو پشیدہ رکھا۔ دس دیوتاؤں میں سے دوجنگل میں رہنے والے ۔ براہ و نرسنگ ۔ دوپانی میں رہنے والے ۔ مچھ اور کچھ ۔ چار براہمن بودھ ۔ باون ۔ پرسرام۔ نیہہ کلنگ۔ دو حکرمان ۔ رام چندر اور کرشن ۔
ترجمہ:
خدا نے تین دیوتے پیدا کیے برہما دشنو اور شو جی برہما کو چار وید دیئے اور انکی پرستش میں لگائیا ۔دس اوتاروں والا حکمران رام چندر پیدا ہوا ۔ اور بدقماس دیوں پر حملے کرکے موت کے گھاٹ اتارا ۔ جو سب میں بستا ہے اسکے فرمان سے شو جی بھاری وقت خدا کی عبادت کی مگر خدا کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکا۔ خدا نے روحانیت کی صدیوی قیمت ادا کرکے اس عالم کو اپنی حکمران کے لئے ایک دارالخلافہ اور تخت بنائیا ہے اور مخلوقات کو کاروبار میں مصروف کرکے اہنے آپ کو پوشیدہ رکھا ہے ۔ اے خدا تیرے فرمان کی مطابق ہی تو منصف ہوکر فرائض منصبی کے مطابق اعمال کرا رہا ہے ۔

سلوک مਃ੨॥
ساۄنھُ آئِیا ہے سکھیِ کنّتےَ چِتِ کریہُ ॥
نانک جھوُرِ مرہِ دوہاگنھیِ جِن٘ہ٘ہ اۄریِ لاگا نیہُ ॥੧॥
لفظی معنی:
جلہر ۔ بادل۔ برسنہار۔ برسنے کی توفیق رکھنے والا۔ سکھ سون ۔ آرام و آسائش پاتے ہیں۔ سوہاگن ۔ کدا پرست۔ سیہہ ۔ خاوند مراد خدا۔
ترجمہ:
اے ساتھی ساون مراد موقہ آئیا ہے بادل برسنے اور مینہ برسانے کی توفیق رکھتا ہے مراد مرشد واعظ و سبق دینے کی توفیق رکھتا ہے ۔ اے نانک خدا پرست جن کو خدا سے محبت ہے آرام و آسائش پائیں اور محسوس کرینگے ۔

مਃ੨॥
ساۄنھُ آئِیا ہے سکھیِ جلہرُ برسنہارُ ॥
نانک سُکھِ سۄنُ سوہاگنھیِ جِن٘ہ٘ہ سہ نالِ پِیارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
کنتے ۔ خاوند مراد خدا ۔ چت کریہو۔ یاد کر۔ جھور۔ بچھتا ۔ فکر تشویش ۔ دوہاگنی ۔ دو خاوندوں والی ۔ بت پرست۔
ترجمہ:
اے انسان تجے سنہری موقعہ حاصل ہوا ہے ۔ خدا کو یاد کرنیکا ۔ اے نانک۔ بت پرست جکا بہت سے دیوتاؤں میں یقن و ایمان ہیں مراد خدا کے علاوہ دوسروں پر تکیہ اور ایمان ہے پچھائیں گے ۔

پئُڑیِ ॥
آپے چھِنّجھ پۄاءِ ملاکھاڑا رچِیا ॥
لتھے بھڑتھوُ پاءِ گُرمُکھِ مچِیا ॥
منمُکھ مارے پچھاڑِ موُرکھ کچِیا ॥
آپِ بھِڑےَ مارے آپِ آپِ کارجُ رچِیا ॥
سبھنا کھسمُ ایکُ ہےَ گُرمُکھِ جانھیِئےَ ॥
ہُکمیِ لِکھےَ سِرِ لیکھُ ۄِنھُ کلم مسۄانھیِئےَ ॥
ستسنّگتِ میلاپُ جِتھےَ ہرِ گُنھ سدا ۄکھانھیِئےَ ॥
نانک سچا سبدُ سلاہِ سچُ پچھانھیِئےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
ملاکھاڑا۔ کشتی کا میدان۔ رچیا۔ پیدا کیا۔ بھڑتھو۔ خرمستی ۔ شور۔ مچیا۔ خوش ہوئے ۔ گورمکھ ۔ میردان مرشد۔ منمکھ ۔ مریدان من۔ پچھار۔ شکشت دی ۔ کچیا ۔ خام عقیدتمند۔ بھڑے ۔ لڑتا ہے ۔ خصم ۔ مالک ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ مسوانیئے ۔ بغیر سیاہی دوالی دوات۔ وکھانیئے ۔ بیان کئے جاتے ہیں۔ سچا سبد صلاح ۔ سچے صدیوی کلام کی صفت و تعریف سے ۔ سچ پچھانیئے ۔ خدا و حقیقت کی سمجھ آتی ہے ۔
ترجمہ:
خدا نے یہ عالم ایک کشتی کا میدان نیکی و بدی کے پرستاروں کے لئے تیار کیا ہے شوروؑل جاری ہے مریددان مرشد بلند حوصلہ ہیں اور خودی پسندوں کو جو خام خیالی ہیں شکست دے رہے ہیں۔ مگر خدا مخلوقات میں مجذوب ہوکر یہ کام سر انجام دے رہا ہے ۔ مرید مرشد ہوکر یہ سمجھ آتی ہے کہ سب کا مالک ہے واحد خدا ۔ اپنے فرمان کے مطابق ہر جاندار کے اعمالنامے میں بغیر قلم دوات الہیی رضا کی تھریر تحریر ہے ۔ الہیی ملاپ پاک صحبت و قربت سے ہوا ہے جہاں ہر وقت حمدوچناہ ہوتی ہے اور سچ وحقیقت کا پتہ چلتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
اوُݩنۄِ اوُݩنۄِ آئِیا اۄرِ کریݩدا ۄنّن ॥
کِیا جانھا تِسُ ساہ سِءُ کیۄ رہسیِ رنّگُ ॥
رنّگُ رہِیا تِن٘ہ٘ہ کامنھیِ جِن٘ہ٘ہ منِ بھءُ بھاءُ ہوءِ ॥
نانک بھےَ بھاءِ باہریِ تِن تنِ سُکھُ ن ہوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
اوننو اوننو ۔ جھک جھک کر ۔ اور۔ دیگر۔ کرہندا۔ کرتا ۔ ون۔ قسم۔ جانا۔ سمجھاں ۔ تس ساہ ۔ اس شاہور کار۔ کیو کیسے ۔ رہسی ۔ رہیگا۔ رنگ ۔ پریم ۔ پیار۔ تن کامنی ۔ ان اشخا ژ کے ساتھ۔ بھؤ۔ خوف۔ بھاؤ۔ پیار۔ بھے ۔ بھائے باہری ۔ خوف و اداب اور پیار کے بغیر ۔
ترجمہ:
جھک جھک کے بادل آتا ہے اور طرھ طرح کے رنگ دکھاتا ہے ۔ کیا سمجھو اس شاہ سے کیسے پیار بنیگا ۔ پیار اسی سے ہوتا ہے جنکے دلمیں ہو خوف وادب ۔ اے نانک خوف و اداب کے بغیر آرام و آسائش ملتا نہیں۔

مਃ੩॥
اوُݩنۄِ اوُݩنۄِ آئِیا ۄرسےَ نیِرُ نِپنّگُ ॥
نانک دُکھُ لاگا تِن٘ہ٘ہ کامنھیِ جِن٘ہ٘ہ کنّتےَ سِءُ منِ بھنّگُ ॥੨॥
لفظی معنی:
نیر۔ پانی ۔ نپنگ صاف۔ جن کتنے سیو۔ جن کا خاوند سے ۔ من بھنگ۔ دل ٹوٹا ہوا ۔
ترجمہ:
بادل جھ جھک کر برس رہا ہے اور صاف پانی برس رہا ہے مگر اے نانک ان عورتوں کو دکھ محسوس ہو رہا ہے جنکے دل میں اپنے خاوند سے جدائی ہے یہ شبیھ ہے اس سے مراد جو منکر خدا سے ہیں الہٰی کرم و عنایت کے باجود عذاب محسوس کرتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
دوۄےَ ترپھا اُپاءِ اِکُ ۄرتِیا ॥
بید بانھیِ ۄرتاءِ انّدرِ ۄادُ گھتِیا ॥
پرۄِرتِ نِرۄِرتِ ہاٹھا دوۄےَ ۄِچِ دھرمُ پھِرےَ ریَبارِیا ॥
منمُکھ کچے کوُڑِیار تِن٘ہ٘ہیِ نِہچءُ درگہ ہارِیا ॥
گُرمتیِ سبدِ سوُر ہےَ کامُ ک٘رودھُ جِن٘ہ٘ہیِ مارِیا ॥
سچےَ انّدرِ مہلِ سبدِ سۄارِیا ॥
سے بھگت تُدھُ بھاۄدے سچےَ ناءِ پِیارِیا ॥
ستِگُرُ سیۄنِ آپنھا تِن٘ہ٘ہا ۄِٹہُ ہءُ ۄارِیا ॥੫॥
لفظی معنی:
دووئے طرفاں ۔ مراد دنیاوی و طارقان ۔ نیک و بد۔ دیوتے اور دانو۔ حق پرست اور جابر۔ سب میں خود۔ اک ورتیا۔ خود موجود ہے ۔ دیدبانی ورتائے ویدوں کے کلام کی نصیحتیں ۔ واد۔ جھگڑا۔ پرورت ۔ دنیاوی زندگی بسر کرنا۔ نرورت۔ طارق الدنیا۔ دینیا سے بیرخی ۔ ہاٹھا۔ طرف۔ دھرم۔ جائز ۔ درست۔ غلط۔ پھیرے رہباریا۔ رہبر۔ راہ دکھاوا۔ وکیل ۔ وجولا۔ منمکھ ۔ خودی پسند۔ مریدن من ۔ کچے ۔ خام ۔ کوڑ یار۔ نہچؤ۔ جرور۔ تسلی ہے ۔ درگیہہ۔ عدالت ۔ الہٰی عدالت انصاف ۔ ہاریا۔ شکست کھانی ہے ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد ۔ سور ۔ سورما۔ بہادر۔ کام کرودھ ۔ شہوت اور غصہ ۔ سچے اندر محل۔ اپنے آپ میں ۔ مراد الہٰی حضوری میں پاکدامن ۔ سبد سوریا کلام سبق و واعظ سے اپنے کردار کو راہ راست پر لے آئے ۔ سے بھگت۔ ایسے عاشق خدا۔ بھاودے ۔ تجھے پیارے لگتے ہیں۔ سچے نائے پیاریا۔ جنکو سچے مراد صدیوی سچے الہیی نام سچ وحقیقت سے پیار ہے ۔
ترجمہ:
خدا نے دو قسموں دو خیالات اور اخلاق کے انسان پیدا کیے ۔ نیک و بد ۔ خوش اخلاق بداخلاق۔ خدا پرست۔ مادہ پرست ۔ فرشتہ سیرت اور شیطانیت۔ مگر سب مین کود بستا ہے ۔ ویدوں کے کلام میں جھگڑا پیدا کیا ہوا ہے ۔ علیحدہ علیحدہ سمجھ ہے ۔ مریدان مرش اور مریدان من کے خیالات جد ا جدا ہیں۔ جو خدا نے پیدا کیے ہیں اور یہ تفرفات بھی خدا کے ہی پیدا کئے ہوئے ہیں۔ دنیاوی خانہ داری گھریلو زندگی میں شمولیت اور اسے ترک وبیباک یہ دنوں زنگی کے سللسے خدا کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ اور کود ہی مذہب و دھرم کی شکل وصورت میں جائز و ناجائز کے فیصلے کے لئے منصف وکیل اور وچولا ہے ۔ خودی پسند مریدان من جھوٹے اور حقیق سے بے پہرہ ہیں لازم ہے وہ الہٰی عدالت میں زندگی کے کھیل میں شکست خوردہ ہونگے ۔ مریدان مرشد جنہوں نے سبق مرشد سے دشمنان اخلاق روحانیت احساسات بد کام کرودھ ۔ لوبھ ۔ موہ اہنکار۔ مراد شہوت۔ غصہ لالچ محبت غرور پر ضبط حاصل کرلی ہے ۔ وہ بہادر ہیں انہیں ہی الہٰی وصل و ملاپ درگیہہ ومحل الہیی میں تھکانہ ملتا ہے ۔ وہی حقیقی خادمان خدا ہیں اور محبوب خدا ہیں جنکو ست سچ حق وحقیقت سے محبت ہے ۔ جو شخس سبق مرشد پر عمل کرتے ہیں میں قربان ہوں ان پر ۔

سلوک مਃ੩॥
اوُݩنۄِ اوُݩنۄِ آئِیا ۄرسےَ لاءِ جھڑیِ ॥
نانک بھانھےَ چلےَ کنّت کےَ سُ مانھے سدا رلیِ ॥੧॥
لفظی معنی:
جھڑی ۔ لگاتار۔ بھانے چلے کنت کے ۔ جو خاوند کی رضا میں زندگی گذارتی ہے ۔ رلی ۔ خوشی سکون ۔
ترجمہ:
مرشد بادل کی طرح سچ حق وحقیقت جو صدیوی طور معاون زندگی بنتے کی بارش کرنے لیے آئیا ہے ۔ اے نانک جو عورت خاوند کی رضا میں راضی ہوکر زندگی گذارتی ہے وہ ہمیشہ سکون اور خوشی حاصل کرتی ہے مراد جو انسان الہٰی رضآ میں راضی رہتا ہے ہمیشہ پر سکون اور خوشیوں بھری زندگی گذارتا ہے ۔

مਃ੩॥
کِیا اُٹھِ اُٹھِ دیکھہُ بپُڑیں اِسُ میگھےَ ہتھِ کِچھُ ناہِ ॥
جِنِ ایہُ میگھُ پٹھائِیا تِسُ راکھہُ من ماںہِ ॥
تِس نو منّنِ
ۄسائِسیِ جا کءُ ندرِ کرےءِ ॥
نانک ندریِ باہریِ سبھ کرنھ پلاہ کرےءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
بپڑیں ۔ اے بیچارگی اور مجبوری کی حالت میں انسانوں ۔ میگھے ہتھ کچھ نا ہے ۔ اس بادل کی کوئی توفیق نہیں ۔ پٹھایا۔ بھیجا ہے ۔ تس راکھہو من مانہے ۔ اسے دل میں بساؤ۔ وسائسی ۔ بساتا ہے ۔ جاکو ندر کرے ۔ جس پر اسکی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے ۔ کرن پلاہ ۔ اہ و ذاری ۔
ترجمہ:
اے مجبور و لاچار انسانوں اس بادل کے کچھ اختیار نہیں نہ ہی اس میں کوئی توفیق ہے ۔ جس نے یہ بادل بھیجا ہے اسے دل میں بساؤ۔ جس پر خدا کی اپنی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے ۔ اسکے دل میں بساتا ہے ۔ اے نانک الہٰی نظر عنایت سے باہر سارے آہ وزاری کرتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
سو ہرِ سدا سریۄیِئےَ جِسُ کرت ن لاگےَ ۄار ॥
آڈانھے آکاس کرِ کھِن مہِ ڈھاہِ اُسارنھہار ॥
آپے جگت اُپاءِ کےَ کُدرتِ کرے ۄیِچار ॥
منمُکھ اگےَ لیکھا منّگیِئےَ بہُتیِ ہوۄےَ مار ॥
گُرمُکھِ پتِ سِءُ لیکھا نِبڑےَ بکھسے سِپھتِ بھنّڈار ॥
اوتھےَ ہتھُ ن اپڑےَ کوُک ن سُنھیِئےَ پُکار ॥
اوتھےَ ستِگُرُ بیلیِ ہوۄےَ کڈھِ لۓ انّتیِ ۄار ॥
اینا جنّتا نو ہور سیۄا نہیِ ستِگُرُ سِرِ کرتار ॥੬॥
لفظی معنی:
سو۔ آسے ۔ سر یویئے ۔ خدمت کیجاتے ۔ یادوریاض کیجائے ۔ کرت۔ کرنے میں۔ وار۔ دیر۔ آڈانے ۔ اڑتے ۔ مراد بغیر آسرے ۔ آکاس آسمان۔ کھن مینہ ۔ آنکھو جھپکنے کی دیر میں۔ ڈھاہے اسارنہار۔ مٹا کر بنانے کی توفیق رکتھا ہے ۔ جگت اپائیکے ۔ دنیا پیدا کرکے ۔ قدرت ۔ طاقت ۔ وچار۔ سوچنا سمجھنا۔ خیال آرائی ۔ لیکھا ۔ حساب۔ اگے ۔ بارگاہ الہیی میں۔ مار ۔ سزا۔ پت سیو لیکھا نبڑے ۔ با عزت حساب ختم ہوتا ہے ۔ بھنڈار۔ کزانے ۔ اوتھے ہتھ نہ اپڑے ۔ وہان رسائی نہیں ہوسکتی ۔ کوک نہ سنیئے پکار۔ آہ وزاری کی طرف دھیان جاتا ہے یا سنی جاتی ہے یا پرواہ کی جاتی ہے ۔ اوتھے ستگر بیلی ہووے ۔ وہاں سچا مرشد ہی مددگار بنتا ہے ۔ انتی وار۔ بوقت آخرت ۔ جنتا ۔ مخلوقات ۔ ستگر سر ۔ کرتار۔ جب ۔ مرشد کی امدا ہو۔
ترجمہ:
اسکی ہمیشہ عبادت و ریاضت کرنی چاہیے جس کو پیدا کرتے دیر نہیں لگتی(وہ) اسکے بگیر آسرے لگائے و ٹھہرائے ہوئے آسمان کو ایک آنکھ جھپکنے کے عرصے میں مٹا کر بنا نیکی توفیق رکھتا ہے ۔ وہی خود ہی اس عالم کو پیدا کرکے اس قائنات قدرت کا خیال رکھتا ہے مرید من سے بارگاہ خدا سے جب حساب مانگا جاتا ہے تو سزا پاتا ہے مرید مرشد کا با عزت حساب ہوتا ہے کیونکہ مرشد نے الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے خزانے بخش رکھے ہیں۔ بوقت حساب اعمال کسی دوسرے کی وہاں رسائی نہیں ہو سکتی ۔ نہ آہ زاری کام آتی ہے ۔ اسوقت سچا مرشد ہی مددگار ہوتا ہے ۔ جو بوقت اخرت عذاب سے بچاتا ہے ۔ ان کے سر پر سچا مرشد یا کار ساز کرتار ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
بابیِہا جِس نو توُ پوُکاردا تِس نو لوچےَ سبھُ کوءِ ॥
اپنھیِ کِرپا کرِ کےَ ۄسسیِ ۄنھُ ت٘رِنھُ ہرِیا ہوءِ ॥
گُر پرسادیِ پائیِئےَ ۄِرلا بوُجھےَ کوءِ ॥
بہدِیا اُٹھدِیا نِت دھِیائیِئےَ سدا سدا سُکھُ ہوءِ ॥
نانک انّم٘رِتُ سد ہیِ ۄرسدا گُرمُکھِ دیۄےَ ہرِ سوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
بابیہا ۔ سارنگ ۔ چاترک ۔ پییہا ۔ اس سبد میں انسان کو باسہا سے تشبیح دیکر سمجھائیا ہے ۔ لوچے ۔ چاہتا ہے ۔ وسسی ۔ برستا ہے ۔ ون ۔ جنگل۔ ترن ۔ گھاس پھوس۔ ہر یا۔ سر سبز۔ پر ساوی ۔ رحمت سے ۔ ورلا۔ کوئی ۔ ساذو نادر۔ بوجھے ۔ سمجھتا ہے ۔ دھیاییئے ۔ دھیان لگائیں۔ انمرت۔ آب حیات۔ ۔ گورمکھ دیوے ۔ ہر سوئے ۔ خدا اسے مرشد کے وسیلے سے دیتا ہے ۔
ترجمہ:
اے بابیہا جسکی خواہش تجھے ہے اسے سارے چاہتے ہیں۔ اہنی مہربانی سے برتا ہے جس سے جنگل گھاس سر سبز ہو جاتا ہے ۔ مگر اسکی سمجھ کسی کو ہی رحمت مرشد سے حاصل ہوتی ہے ۔ ہر وقت بیٹھتے اُٹھتے ہر روز دھیان دینے سے آرام و آسائش حاصل ہوتا ہے ۔ اے نانک ۔ ہمیشہ آب حیات جو روحایت اخلاق زندگی کو بخشتا ہے اسے خدا مرشد کے وسیلے سے دیتا ہے ۔

مਃ੩॥
کلملِ ہوئیِ میدنیِ ارداسِ کرے لِۄ لاءِ ॥
سچےَ سُنھِیا کنّنُ دے دھیِرک دیۄےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
اِنّد٘رےَ نو پھُرمائِیا ۄُٹھا چھہبر لاءِ ॥
انُ دھنُ اُپجےَ بہُ گھنھا کیِمتِ کہنھُ ن جاءِ ॥
نانک نامُ سلاہِ توُ سبھنا جیِیا دیدا رِجکُ سنّباہِ ॥
جِتُ کھادھےَ سُکھُ اُپجےَ پھِرِ دوُکھُ ن لاگےَ آءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
کلمل۔ پریشان ۔ میدنی ۔ زمین۔ ارداس۔ عرض ۔ گذارش ۔ سچے سنیا گن وے ۔ خدا نے غور سے سنا۔ دھیرک دھیرج ۔ دلاسا۔ سہج سبھائے ۔ قدرتی طور پر ۔ وٹھا ۔ برسیا ۔ چھہیر ۔ لگاتار۔ بہو گھنا ۔ بہت زیادہ۔ نام صلاح تو ۔ اے انسان الہٰی نام جو ست ہے سچ ہے جو حق و حقیقت کی تعریف کر ۔ دیدار رزق سنبھاہے ۔ جو سب کو روزی دیتا ہے ۔ سکھ اپجے ۔ آرام و آسائش پیدا ہوتا ۔
ترجمہ:
جب زمین سوکھے سے پیرشان ہوتی ہے تو لگاتار عرایض و گذار سیں کرتی ہے ۔ خدا سکی عرض سنکر اسے تسلی دیتا ہے اپنے قدرتی عادات کی مطابق ۔ تب بادل کو فرمان جاری کرتا ہے تب وہ لگاتار بارش کرتا ہے ۔ اس سے بہت زیادہ اناج پیدا ہوتا ہے جس کی قیمت بیان ہیں ہو سکتی ۔ اے نانک صلاح تو اس خدا کا نام جو ست ہے سچ ہے حق ہے حقیقت ہے جو سارے عالم کو رزق دیتا ہے کی حمدوثناہ کر جسکے کھانے سے سکھ ملتا ہے غرض یہ کہ دوبارہ عذاب نہیں آتا۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ جیِءُ سچا سچُ توُ سچے لیَہِ مِلاءِ ॥
دوُجےَ دوُجیِ ترپھ ہےَ کوُڑِ مِلےَ ن مِلِیا جاءِ ॥
آپے جوڑِ ۄِچھوڑِئےَ آپے کُدرتِ دےءِ دِکھاءِ ॥
موہُ سوگُ ۄِجوگُ ہےَ پوُربِ لِکھِیا کماءِ ॥
ہءُ بلِہاریِ تِن کءُ جو ہرِ چرنھیِ رہےَ لِۄ لاءِ ॥
جِءُ جل مہِ کملُ الِپتُ ہےَ ایَسیِ بنھت بنھاءِ ॥
سے سُکھیِۓ سدا سوہنھے جِن٘ہ٘ہ ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥
تِن٘ہ٘ہ سوگُ ۄِجوگُ کدے نہیِ جو ہرِ کےَ انّکِ سماءِ ॥੭॥
لفظی معنی:
ہر جیؤ۔ اے خدا ۔ سچا سچ ۔ صدیوی سچ اور سچا۔ سچے ۔ جو سچ حق وحقیقت کے متلاشی اور عمل کرنیوالوں کو لیہہ ملائے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔ دوجے ۔ دوسرے مراد منمکھ ۔ دوجی طرف ۔ دویت اور دوئی اور دوئی کی طرف ۔ کوڑملے ۔ جھوٹ ۔ میں ملوچ۔ نہ ملیا جائے ۔ الہٰی ملاپ حاصل نہیں ہو سکتا۔ آپے جوڑ و چھوڑییئے ۔ خود ہی ملاتا اور خود ہی جدا کرتا ہے ۔ پورب ۔ پہلے ۔ پہاری ۔ قربان۔ ہر چرنی لولائے ۔ جو پائے ۔ الہٰی سے پیار کرتے ہیں۔ جل مہہ۔ پانی میں کمل الیت۔ بیلاگ۔ بنت ۔ بناوٹ۔ آپ ۔ خودی ۔ کوئشتا ۔ تن سنگ۔ الکے ساتھ۔ سوگ ۔صدمہ ۔ افسوس ۔ وجوگ۔ جدائی ۔ انک ۔ گود۔
ترجمہ:
اے خدا تو صدیوی ہے ۔ سچا ہے جو تیری مانند حقیقت پرست ہو جاتا ہے اسے تو اپنے ساتھ ملا لیاتا ہے ۔ دوسری طرف خودی پسند جو کفر میں ملوث اور محو ہے ۔ کفر پرستوں کا تجھ سے اے خدا ملاپ نہیں ہو سکتا۔ اے خدا خود ہی ملاتا ہے ۔ اور خود ہی جدائی دیتا ہے اور خود ہی اپنی طاقت کے جوہر دکھاتا ہے محبت کی وجہ سے پہلے کئے ہوئے اعمال کے نتیجے کے طور پر جیسا اسکے اعمالنے میں تحریر ہوتا ہے اسے غم اور جدائی ملتی ہے ۔ میں قربان ہوں ان پر جو پائے الہٰی سے محبت کرتے ہیں۔ جس طرح سے کنول کا پھول پانی میں رہنے سے پانی کا اثر قبول نہیں کرتا بیلاگ رہتا ہے ۔ ایسا طیرقہ اختیار کرؤ۔ وہی ہمیشہ سر خرور رہتے ہیں جو اپنے دل سے خودی مٹاتے ہیں ۔ جو خدا میں محو ومجذوب ہو جاتے ہیں شہرت پاتے ہیں غمی تشویش اور جدائی نہیں ملتی ۔

سلوک مਃ੩॥
نانک سو سالاہیِئےَ جِسُ ۄسِ سبھُ کِچھُ ہوءِ ॥
تِسےَ سریۄِہُ پ٘رانھیِہو تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
گُرمُکھِ ہرِ پ٘ربھُ منِ ۄسےَ تاں سدا سدا سُکھُ ہوءِ ॥
سہسا موُلِ ن ہوۄئیِ سبھ چِنّتا ۄِچہُ جاءِ ॥
جو کِچھُ ہوءِ سُ سہجے ہوءِ کہنھا کِچھوُ ن جاءِ ॥
سچا ساہِبُ منِ ۄسےَ تاں منِ چِنّدِیا پھلُ پاءِ ॥
نانک تِن کا آکھِیا آپِ سُنھے جِ لئِئنُ پنّنےَ پاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سو۔ اسے ۔ صلاحیئے ۔ تعریف کیجائے ۔ دس سبھ کچھ ۔ تابع ہر شے ۔ پرانیہو ۔ اے انسانوں ۔ اور۔ دوسرا۔ مول۔ بالکل۔ چنتا۔ فکر ۔ تشویش ۔ سہجے ۔ بلا تردر۔ قدرتی ۔ من چندیا ۔ دلی مرادیں۔ پنے ۔ لیکھے ۔
ترجمہ:
اے اسکی تعریف کرو جو دنیا کی ہر شے کا مالک ہے اور ہر طرح کی توفیق رکھتا ہے ۔ اسکی خدمت اور یاد وریاض کرؤ جس کے علاوہ دوسری کوئی ہستی اسکے بالمقابل اسکے برابر نہیں۔ مرید مشد ہوکر جس کے دل مین خدا بس جاتا ہے وہ ہمیشہ سکھ پاتا ہے ۔ فکر و تشویش بالکل نہیں ہوتی اور سارا فکر دل سے نکل جاتا ہے ۔ جو کچھ ہوتا بلا ترود قدرتی طور پر ہوتا ہے اسکے علاوہ کچھ کہانیں جا سکتا ۔ اگر خدا دل میں بس جائے ولی مردایں حاصل ہوتی ہیں۔ اے نانک انکی سنوائی خدا کرتا ہے جنکو اپنا دامن دیا ہے ۔

مਃ੩॥
انّم٘رِتُ سدا ۄرسدا بوُجھنِ بوُجھنھہار ॥
گُرمُکھِ جِن٘ہ٘ہیِ بُجھِیا ہرِ انّم٘رِتُ رکھِیا اُرِ دھارِ ॥
ہرِ انّم٘رِتُ پیِۄہِ سدا رنّگِ راتے ہئُمےَ ت٘رِسنا مارِ ॥
انّم٘رِتُ ہرِ کا نامُ ہےَ ۄرسےَ کِرپا دھارِ ॥
نانک گُرمُکھِ ندریِ آئِیا ہرِ آتم رامُ مُرارِ ॥੨॥
لفظی معنی:
انمرت ۔ آب حیات۔ ایساپانی جو انسان زندگی کو روحانی واخلاقی طور پر پاک و شفاف بناتا ہے ۔ بوجھن۔ بوجھنتے سمجھتے ہیں۔ جس میں سمجھنے کی توفیق ہے ۔ اردھار۔ دلمیں بسائیا۔ رنگ راتے ۔ پیار و پریم میں محو ۔ ہونمے ترسنا مار۔ خودی اور بھوک مٹا کر ۔ انمرت ہر کا نام ہے ۔ آب ھیات الہیی نام ست سچ حق وحقیقت ہے اور سے کرپادھار۔ جو الہیی کرم وعنایت سے برستا ہے ۔ ندری ۔ نظر عنایت و شفقت سے ۔
ترجمہ:
آب حیات مراد روھانیت واخلاق کی ہمیشہ بارش ہوتی ہے اسکو وہی سمجھتا ہے جو سمجھنے کی توفیق رکھتا ہے ۔ جس نے مرید مرشد ہوکر اسے سمجھا اس نے اس آب ھیات سبق کو دل میں بسائیا ۔ وہ خودی خود پسندی اور خواہشات کی بھوک مٹا کر الہٰی مھبت پیار میں محو و مجذو ب ہوکر اس آب حیات الہٰی نام نوش کرتے ہیں مراد ست سچ حق وحقیقت دل میں بساتے ہیں۔ آب حیات الہٰی نام ہے الہیی کرم و عنایت سے برستا ہے ۔ اے نانک۔ خدا کا دیدار مرشد کے وسیلے سے یا مرشد ہوکر ہوتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
اتُلُ کِءُ تولیِئےَ ۄِنھُ تولے پائِیا ن جاءِ ॥
گُر کےَ سبدِ ۄیِچاریِئےَ گُنھ مہِ رہےَ سماءِ ॥
اپنھا آپُ آپِ تولسیِ آپے مِلےَ مِلاءِ ॥
تِس کیِ کیِمتِ نا پۄےَ کہنھا کِچھوُ ن جاءِ ॥
ہءُ بلِہاریِ گُر آپنھے جِنِ سچیِ بوُجھ دِتیِ بُجھاءِ ॥
جگتُ مُسےَ انّم٘رِتُ لُٹیِئےَ منمُکھ بوُجھ ن پاءِ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ نالِ ن چلسیِ جاسیِ جنمُ گۄاءِ ॥
گُرمتیِ جاگے تِن٘ہ٘ہیِ گھرُ رکھِیا دوُتا کا کِچھُ ن ۄساءِ ॥੮॥
لفظی معنی:
اتل۔ جو تالیا نہ جاسکے ۔ مراد جسکی قدروقیمت سمجھ سے باہر ہے ۔ کیو ۔ کسے ۔ تولیئے ۔ سمجھیں۔ بن تولے ۔ بغیر سمجھے ۔ پائیا نہ جائے ۔ حصول ممکن نہیں۔ گر کے سبد۔ کلام و واعظ مرشد۔ وچاریئے ۔ سوچیں سمجھیں۔ گن مینہ رہے سمائے ۔ تو اس وصف میں مجذوب رہے ۔ مراد اچھے اوصاف کے دل میں بسانے مین مصروف رہے ۔ مراد باوصف انسان خدا میں محو و مجزوب رہتا ہے ۔ اپنا آپ تولسی ۔ جب انسان کو اپنی قدروقیمت نیک و بد اعمال اوصاف کو سمجھے تو اسے خدا از خود ملتا ہے ۔ سچی بوجھ ۔ سچی سمجھ ۔ جگت سے ۔ دنیا لٹ رہی ہے ۔ گرمتی جاگے ۔ سبق ۔ مرشد سے جو بیدار ہوئے ۔ گھر رکھیا۔ اپنا آپ برائیوں عیبوں سے بچائیا ہے ۔ وسایئے ۔ زور
ترجمہ:
خدا جو انسانی رسائی عقل و ہوش سے بعید ہے اسکو کیسےس مجھیں مگر سوجے سمجھے اسکا وصل ملاپ و دیدار ھاصل نہیں ہو سکتا۔ مرشد کے سبق و اعظ و کلام سے سوا سمجھا جا سکتا ہے جو سوچتا سمجھتا ہے اسکے اوصاف میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ خدا کو اپنی قدرومنزلت کی سمجھ ہے ۔ اور وہ خود ہی ملتا اور ملاتا ہے ۔ چونکہ وہ بیمشار اور لامحدود ہتی ہے ۔ اس لئے اسکے اوصاف اور قدرومنزلت بیان نہیں ہو سکتی ۔ قربان ہوں میں اپنے مرشد پر جسنے حقیقی واصلی سمجھ سمجھا دی ۔ سارا عالم اور اسکی مخلوق لٹ ہو رہی ہے ۔ اور اسکی آب حیات زندگی کی لوٹ ہو رہی ہے اور اسکے نیک اوصاف اور نیکیان لٹ رہی ہیں۔ مگر مرید من خودی پسند کو سمجھ نہیں آرہی سمجھتا نہیں۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے ساتھ نہیں جاتا کچھ بھی ساتھ لہذا انسان کی زندگی بیکار چلی جاتی ہے ۔ جنہوں نے سبق مرشد سے بیدار کیا اور روحانی واخلاقی پاکیزگی حاصل کی عبیوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

سلوک مਃ੩॥
بابیِہا نا بِللاءِ نا ترساءِ ایہُ منُ کھسم کا ہُکمُ منّنِ ॥
نانک ہُکمِ منّنِئےَ تِکھ اُترےَ چڑےَ چۄگلِ ۄنّنُ ॥੧॥
لفظی معنی:
بللائے ۔ آہ وزاری۔ ترسائے ۔ مرجھائے ۔غمگین ۔ حکم من۔ فرمانبردار ہو۔ تکھ اترے پیاس بجھتی ہے ۔ چوگن ون۔ سرخرورئی ۔
ترجمہ:
اے پپیہے مراد انسان آہ وزاری نہ کر نہ ڈل ڈگمگا خدا کی رضا میں راضی رہ فرمانبرداری کر ۔ اے نانک فرمان برداری سے خواہشات کی پیاس بجھتی ہے اور سرخروئی حاصل ہوتی ہے ۔

مਃ੩॥
بابیِہا جل مہِ تیرا ۄاسُ ہےَ جل ہیِ ماہِ پھِراہِ ॥
جل کیِ سار ن جانھہیِ تاں توُنّ کوُکنھ پاہِ ॥
جل تھل چہُ دِسِ ۄرسدا کھالیِ کو تھاءُ ناہِ ॥
ایتےَ جلِ ۄرسدےَ تِکھ مرہِ بھاگ تِنا کے ناہِ ॥
نانک گُرمُکھِ تِن سوجھیِ پئیِ جِن ۄسِیا من ماہِ ॥੨॥
لفظی معنی:+ ترجمہ
بابیہا ۔ انسان کو باسہے کی تشبیح دیکر مخاطت کیا ہے اس جل مراد۔ عالم یا دنیا میں ہرہائش پذید ہے اسی میں بو دوباش اور کاروبار کرتا ہے اور اسکی تجھے خبر نہیں اور آہ وزاری کر رہا ہے ۔ پانی اور زمین ہر جگہ برس رہا ہے اس سے کوئی جگہ خالی نہیں۔ اتنی بارش ہو نے کے باوجود تو پیاسا ہے لہذا تیری قسمت میں ہیں۔ اے نانک ان جن کو سمجھ آگئی جنکے دل میں بس گیا۔
مرا خدا ہر جگہ ہر دلمیں بستا بسنے کے باجود ملاپ وصل و دیدار کے لئے ترس رہا ہے کیونکہ اسے اسکی سمجھ نہیں (خلاصہ )

پئُڑیِ ॥
ناتھ جتیِ سِدھ پیِر کِنےَ انّتُ ن پائِیا ॥
گُرمُکھِ نامُ دھِیاءِ تُجھےَ سمائِیا ॥
جُگ چھتیِہ گُبارُ تِس ہیِ بھائِیا ॥
جلا بِنّبُ اسرالُ تِنےَ ۄرتائِیا ॥
نیِلُ انیِلُ اگنّمُ سرجیِتُ سبائِیا ॥
اگنِ اُپائیِ ۄادُ بھُکھ تِہائِیا ॥
دُنیِیا کےَ سِرِ کالُ دوُجا بھائِیا ॥
رکھےَ رکھنھہارُ جِنِ سبدُ بُجھائِیا ॥੯॥
لفظی معنی:
ناتھ ۔ جوگی ۔ جتی ۔ جنکی شہوت پر ضبط ہے ۔ سدھ ۔ جسنے زندگی کا راہ راست حاصل کر لیا۔ پیر۔ روحانی بزرگ۔ ۔ انت ۔ آخر۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ نام دھیائے ۔ نام میں توجہ دی ۔ تجھے سمائیا ۔ تجھ میں محو ومجذوب ہوا۔ جگ چھتیہ ۔لاکھوں سال ۔ غبار۔ اندھیرا۔ بھائیا۔ اچھا لگا۔ جلا ہنب اسرال ۔ خوفناک پانی ہی پانی ۔ نیل انیل۔ بیشمار ۔ از خد بیشمار۔ اگم ۔ انسانی عقل و ہوش سے باہر ۔ سر چیت ۔ سازندہ ۔سبائیا۔ سب کو پیدا کیا۔ اگن اپائی وادبھکھ تہائیا۔ بھوک پیاس کے جھگڑے کی اگ پیدا کی ۔ ۔ کال۔ موت۔ دوجا بھائیا۔ جنکو دویت سے پیار ہے ۔ رکھنہار۔ جسے حفاطت کی توفیق ہے ۔ سبد بجھائیا۔ کلام سمجھائیا۔
ترجمہ:
کتنے ہی جوگی خدا رسیدہ شہوت پر ضبطرکھنے والے ولی اللہ مذہبی رہنما ہوئے کسی نے تیرے راز کو سمجھ نہیں آئی ۔ کسی کو تیری قدرومنزلت کی سمجھ نہیں آئی ۔ مریدان مرشد الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت میں دھیان لگا کر اپنا کر تجھ میں ہی محو ومجذوب ہو جاتے ہیں۔ چھتیس جگ مراد لاکھوں سال اس دنیا میں اندھیرا اور پانی تھا۔ اے اعداد و شمار سے باہر لا محدود ہستی اے انسانی عقل و ہوش سے بلند و بالا تو نے سارے عالم کو پیدا کیا اور جانداروں میں خواہشات کی آگ اور بھوک پیاس پیدا کی اور ان مخلوقات سر پر موت بنائی جنہوں نے خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت کی ۔ خدا سے منکر ہوکر قائنات قدرت سے محبت کی ۔مگر حفاظت کی توفیق رکھنے والے خدا نے کلام کے ذریعے سمجھائیا اور خود حفاظت کی ۔

سلوک مਃ੩॥
اِہُ جلُ سبھ تےَ ۄرسدا ۄرسےَ بھاءِ سُبھاءِ ॥
سے بِرکھا ہریِیاۄلے جو گُرمُکھِ رہے سماءِ ॥
نانک ندریِ سُکھُ ہوءِ اینا جنّتا کا دُکھُ جاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سبھ تے ۔ ہر جگہ۔ سب کے اوپر۔ بھائے ۔ پریم پیار سے ۔ سبھائے ۔ عادت کی مطابق۔ برکھا۔ شجر ۔ مراد انسان۔ ہر یاوے ۔ خوش قسمت۔ سمائے۔ ۔ محو ۔ ندری ۔ الہٰی کرم و عنایت سے ۔
ترجمہ:
الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی ہر جگہ برابر بارش ہوتی ہے مگر وہی فائدہ اسکا اٹھاتے ہیں جو مرید مرشد ہوکر اس میں دھیان لگاتے اور اپناتے ہیں اے نانک۔ جن پر خدا کی رحمت عنایت اور شفقت ہوتی ہے وہ آرام و آسائش پاتے ہیں اور مصیبت مٹ جاتی ہے ۔

مਃ੩॥
بھِنّنیِ ریَنھِ چمکِیا ۄُٹھا چھہبر لاءِ ॥
جِتُ ۄُٹھےَ انُ دھنُ بہُتُ اوُپجےَ جاں سہُ کرے رجاءِ ॥
جِتُ کھادھےَ منُ ت٘رِپتیِئےَ جیِیا جُگتِ سماءِ ॥
اِہُ دھنُ کرتے کا کھیلُ ہےَ کدے آۄےَ کدے جاءِ ॥
گِیانیِیا کا دھنُ نامُ ہےَ سد ہیِ رہےَ سماءِ ॥
نانک جِن کءُ ندرِ کرے تاں اِہُ دھنُ پلےَ پاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
بھنی رین ۔ خوش قسمت رات ۔ چمکیا ۔ روشی ہوئی ۔ وٹھا ۔ برسیا۔ چھہیر ۔ موسلادار ۔ سوہ ۔ مالک۔ رجائے ۔ رضا ۔ ترتپتیئے ۔ تسلی۔ جگت۔ طریقہ ۔ سمائے ۔ ملاپ ۔ مندمل۔ مجذوب۔ گیانیاں ۔ دانمشنداں ۔ عالموں ۔ ندر ۔ نگاہ۔ شفقت۔ پلے ۔ دامن ۔
ترجمہ:
جب الہٰی کرم و عنایت ہوتی ہے تو زندگی پر نور ہو جاتی ہے جس کی رحمت سے بیشمار نعمتیں میسئر ہوتی ہیں ۔ جب خدا کی ہوتی ہے رضا ۔ جس کے کھانے سے دل کو تسکین حاصل ہوتی ہے اور طرز زندگی کا پتہ چلتا ہے یہ دولت خدا کا کھیل ہے کبھی آتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے عالموں دانشمندوں کے لئے دولت اور سرمایہ الہٰی نام ست سچ اور حق و حقیقت ہے جو ہمیشہ قائم دائم رہتا ہے ۔ اے ناک۔ الہٰی نطر عنایت و شفقت سے یہ دولت نصیب ہوتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
آپِ کراۓ کرے آپِ ہءُ کےَ سِءُ کریِ پُکار ॥
آپے لیکھا منّگسیِ آپِ کراۓ کار ॥
جو تِسُ بھاۄےَ سو تھیِئےَ ہُکمُ کرے گاۄارُ ॥
آپِ چھڈاۓ چھُٹیِئےَ آپے بکھسنھہارُ ॥
آپے ۄیکھےَ سُنھے آپِ سبھسےَ دے آدھارُ ॥
سبھ مہِ ایکُ ۄرتدا سِرِ سِرِ کرے بیِچارُ ॥
گُرمُکھِ آپُ ۄیِچاریِئےَ لگےَ سچِ پِیارُ ॥
نانک کِس نو آکھیِئےَ آپے دیۄنھہارُ ॥੧੦॥
لفظی معنی:
کے سیؤ ۔ کس سے ۔ پکار۔ فریاد۔ شکایت ۔ بھاوے سوتھیئے ۔ جو چاہتا ہے ہوتا ہے ۔ گاوار۔ جاہل۔ ادھار۔ آسرا۔ سر سر۔ ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ آپ و چاریئے ۔ اپنے اعمال و کردار کو سمجہو ۔ دیونہار۔ دینے کی توفیق رکھتا ہے ۔
ترجمہ:
خدا جو کچھ ہوتا ہے خود کرتا ہے اور خود ہی کرواتا ہے ۔ تب اسکے خلاف کونسی ہستی ہے جس کے یا فریاد وشکایت کریں۔ وہ خود ہی کروا کے خود ہی اسکا حساب مانگتا ہے ۔ جو خدا چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ مگر جاہل انسان بیفائدہ حکم چلاتا ایسے ہونا چاہیے ایسے نہ ہونا چاہیے ۔ جب خدا نجات دلائے تب نجات نصیب ہوتی ہے جب بخشنے کی توفیق رکھنے والا خدا بخشش کرتا ہے ۔ خود ہی سب کو آسرا دیتا ہے ۔ سب میں کود ہی بس کر سب کا علیحدہ علیحدہ دھیان رکھتا ہے ۔ مرید مرشد ہوکر کرا گر اپنے خوئش امعال و کردار کو سوچا سمجھا جائے تبھی خدا سے پیار پیدا ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ کس سے کہیں کہ دے مجھے جب خود ہی دینے والا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
بابیِہا ایہُ جگتُ ہےَ مت کو بھرمِ بھُلاءِ ॥
اِہُ بابیِݩہا پسوُ ہےَ اِس نو بوُجھنھُ ناہِ ॥
انّم٘رِتُ ہرِ کا نامُ ہےَ جِتُ پیِتےَ تِکھ جاءِ ॥
نانک گُرمُکھِ جِن٘ہ٘ہ پیِیا تِن٘ہ٘ہ بہُڑِ ن لاگیِ آءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
جگت ۔ دنیا ۔ عالم ۔ بھرم۔ وہم و گمان۔ بھٹکن۔ بھلائے ۔ گمراہ ۔ پسو۔ حیوان۔ بوجھن۔ سمجھ ۔ انمرت۔ آب حیات ۔ تکھ ۔ پیاس۔ بہوڑ۔ دوبارہ ۔
ترجمہ:
ایسا نہ ہو کہ کوئی بھول میں رہے گمراہ رہے بایہا یہ دنیا یہ عالم ہے یہ ببیہا تو حیونا ہے ۔ اسے سمجھ نہیں کہ الہٰی نام آب حیات ہے جسے پینے سے پیاس مت جاتی ہے ۔ اے نانک۔ جنہوں نے یہ آب حیات پیا ہے انہیں دوبارہ پیاس نہیں لگتی ۔

مਃ੩॥
ملارُ سیِتل راگُ ہےَ ہرِ دھِیائِئےَ ساںتِ ہوءِ ॥
ہرِ جیِءُ اپنھیِ ک٘رِپا کرے تاں ۄرتےَ سبھ لوءِ ॥
ۄُٹھےَ جیِیا جُگتِ ہوءِ دھرنھیِ نو سیِگارُ ہوءِ ॥
نانک اِہُ جگتُ سبھُ جلُ ہےَ جل ہیِ تے سبھ کوءِ ॥
گُر پرسادیِ کو ۄِرلا بوُجھےَ سو جنُ مُکتُ سدا ہوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سیتل ۔ ٹھنڈا۔ ہر دھیائے ۔ خدا میں دھیان لگانے سے ۔ سانت۔ سکون۔ ورتے سبھ لوئے ۔ سبھ لوگوں مراد ساری دنیا میں۔ وٹھے ۔ برسنے پر۔ جیا۔ جانداروں کو ۔ جیا جگت۔ زندگی گذارنے کا طریقہ ۔ دھرنی ۔ زمین ۔ سیگار۔ سجاوٹ۔ گر پرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ مکت۔ آزادی۔
ترجمہ:
ملا ر ٹھنڈک یا سکون پہنچانے والا راگ ہے ۔ خدا میں دھیان لگانے سے سکون ملتا ہے ۔ اگر خدا کی کرم و عنایت کرے تو سب میں بستا معلوم ہوتا ہے ۔ جیسے ظاہر ۔ بادل برسنے پر زمین سر سبز ہو جاتی ہے ۔ سبزہ زار پھولوں پھلوں سے خوبصورت دکھائی دینے لگتی ہے ۔ اس طرح سے زندگی گذارنے کے طور طریقے نیک اوصاف سے پر نور ہو جاتے ہیں۔ اے نانک سارا عالم ہی الہٰی شکل وصورت ہے کیونکہ ہر شے خدا کی ہی پیدا کی ہوئی ہے اسکو رحمت مرشد سے کوئی ہی سمجھتا ہے ۔ وہ نجات پاتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
سچا ۄیپرۄاہُ اِکو توُ دھنھیِ ॥
توُ سبھُ کِچھُ آپے آپِ دوُجے کِسُ گنھیِ ॥
مانھس کوُڑا گربُ سچیِ تُدھُ منھیِ ॥
آۄا گئُنھُ رچاءِ اُپائیِ میدنیِ ॥
ستِگُرُ سیۄے آپنھا آئِیا تِسُ گنھیِ ॥
جے ہئُمےَ ۄِچہُ جاءِ ت کیہیِ گنھت گنھیِ ॥
منمُکھ موہِ گُبارِ جِءُ بھُلا منّجھِ ۄنھیِ ॥
کٹے پاپ اسنّکھ ناۄےَ اِک کنھیِ ॥੧੧॥
لفظی معنی:
دھنی ۔ مالک۔ گنی ۔ سمجھوں ۔ کوڑا گربھ ۔ جھوٹا غرور۔ منی ۔ وقارو عظمت ۔ میدنی ۔ زمین۔ گنی ۔ سمجہو۔ ہونمے ۔ خودی۔ کیہی ۔ کیسی ۔ گنت گنی ۔ عداد و شمار۔ غبار۔ اندھیرا ۔ ۔ بھلا منجھ ونی ۔ جنگل میں بھولا ہوا۔ گنی ۔ سمہو ۔ پاب اسنکھ ۔ بیشمار گناہ۔ ناوے اک گنی ۔ نام کا ایک ذرہ ۔
ترجمہ:
اے خدا تو صدیوی بے محتاج مالک ہے ۔ اے خدا تو خود ہی سب کچھ کرنےا ور کرانیکی توفیق رکھتا ہے ۔ دوسرے کس کو تیرے جیسا سمجھو ۔ انسان کا غرور فضول ہے ۔ تیرے عظمت ہی صدیوی ہے ۔ جو اپنے مرشد کے سبق پر عمل کرتا ہے اسی کی زندگی برآور ہے ۔ اگر دل سے خودی دور ہو جائے تو اعمال کے حساب کی ضرورت نہیں رہتی ۔ خودی پسند محبت کے اندھیرے میں اس طرح بھتکتا رہتا ہے جیسے جنگل راستہ بھولا ہو ۔ بیشمار گناہوں کو الہٰی نام سچ حق وحقیقت کا ایک ذرہ ختم کر دیتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
بابیِہا کھسمےَ کا مہلُ ن جانھہیِ مہلُ دیکھِ ارداسِ پاءِ ॥
آپنھےَ بھانھےَ بہُتا بولہِ بولِیا تھاءِ ن پاءِ ॥
کھسمُ ۄڈا داتارُ ہےَ جو اِچھے سو پھل پاءِ ॥
بابیِہا کِیا بپُڑا جگتےَ کیِ تِکھ جاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
یہاں انسان کو باپپیہے سے تشبیح دی ہے ۔ خصمے ۔ مالک ۔ خدا۔ محل۔ ٹھکانہ ۔ نہ جانہی ۔ نہیں جانتا۔ ارداس پائے ۔ عرض گذار ۔ آپنے بھانے ۔ اپنی مرضی سے ۔ بہتا بولیا۔ زیادہ غرور ۔ تھائے ۔ ٹھکانے ۔ داتار۔ سخی۔ دانی ۔ چھے ۔ خواہش مراد ۔ سو ۔ وہی ۔ پھل۔ نتیجہ ۔ بیچارہ ۔ تکھ ۔ پیاس۔
ترجمہ:
اے انسان تجھے خدا کے گھر کا پتہ نہیں گھر کے دیکھنے کے لئے عرض گذار اپنی مرضی سے زیادہ پکار کرتا ہے ۔ اس لئے پکار قبول نہیں ہوتی ۔ مالک بھاری سختی ہے اس سے مرادیں خواہشات پوری ہوتی ہیں۔ انسان اکیلا بیچارہ تو کیا سارے عالم کی پیار بجھاتا ہے ۔

مਃ੩॥
بابیِہا بھِنّنیِ ریَنھِ بولِیا سہجے سچِ سُبھاءِ ॥
اِہُ جلُ میرا جیِءُ ہےَ جل بِنُ رہنھُ ن جاءِ ॥
گُر سبدیِ جلُ پائیِئےَ ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥
نانک جِسُ بِنُ چسا ن جیِۄدیِ سو ستِگُرِ دیِیا مِلاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
بھنی ۔ رین ۔ پر سرور یا پیار۔ سہجے سچ سبھائے ۔ پر سکون حالت میں ۔ حقیقت سمجھ کر اسکے پریم پیار سے ۔ یہ جل ۔ میرا دالہٰی نام حقیقت ۔ گر پرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ آپ ۔ خودی ۔ اور اپناپن۔ چسا ۔ تھوڑے سے وقت کے لئے ۔ جیودی ۔ زندگی ۔
ترجمہ:
انسان اعلے الصبح پر سکون دلی پیار سے عرض گذارتا ہے کہ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ہی میری زندگی ہے ۔ اس کے بغیر میرا جینا محال ہے ۔ دل سے خودی اور خویشتا ختم کرکے کلام مرشد کے ذریعے ۔ اے نانک۔ جس کے بغیر ایک بل کے لئے زندگی محال ہے اسے سچے مرشد نے ملا دیا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
کھنّڈ پتال اسنّکھ مےَ گنھت ن ہوئیِ ॥
توُ کرتا گوۄِنّدُ تُدھُ سِرجیِ تُدھےَ گوئیِ ॥
لکھ چئُراسیِہ میدنیِ تُجھ ہیِ تے ہوئیِ ॥
اِکِ راجے کھان ملوُک کہہِ کہاۄہِ کوئیِ ॥
اِکِ ساہ سداۄہِ سنّچِ دھنُ دوُجےَ پتِ کھوئیِ ॥
اِکِ داتے اِک منّگتے سبھنا سِرِ سوئیِ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ باجاریِیا بھیِہاۄلِ ہوئیِ ॥
کوُڑ نِکھُٹے نانکا سچُ کرے سُ ہوئیِ ॥੧੨॥
لفظی معنی:
سرجی ۔ سازی ۔ پیدا کی ۔ تدھے گوئی۔ مٹائی۔ میدنی ۔ زمین ۔ تجھ ہی ۔ تو نے ہی ۔ راجے ۔ حکمران ۔ خان۔ دس ہزاری ۔ ملوک۔ ملکوں کے بادشاہ ۔ شہنشاہ ۔ ساہ ۔ شاہوکار۔ سداویہہ۔ کہلاتے ہین۔ سنچ دھن۔ دولت اکھٹی کرتے ہیں۔ دوجے ۔ دویت ۔ پت۔ عزت۔ داتے ۔ سخی ۔ نگتے ۔ بھکاری ۔ سبھنا سر۔ سب کے اوپر ۔ سوئی ۔ وہی ۔ کوڑ۔ کفر۔ جھوٹ ۔ ہن ناوے ۔ سچ ۔ حق وحقیقت کے بغیر۔ باجا ریا۔ بہروییئے ۔ مسخرے ۔ بھیہاول ۔ خوف زدہ ۔ نکھٹے ۔ مٹ جاتا ہے ۔
ترجمہ:
زمین اسکے حصے جذیرے اور زیر زمین اتنی ہیں کہ شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ اے خدا تو ہی سازدہ ہے ان کا تو نے ہی یہ عالم پیدا کیا ہے تو ہی اسے مٹانیوالا ہے ۔ چوراسی لاکھ قسم کے جاندار تو نے ہی اس روئے زمین پر پیدا کیے ہیں۔ ایک راجے یا حکمران خان یا سردار اور مالکان ملکوں کے مراد بادشاہ شہنشاہ کہلاتے ہیں۔ ایک دولت اکھٹی کرتے ہیں اور شاہوکار کہلاتے ہیں اور دوئی دویت میں عزت گنواتے ہیں ایک سخی ہیں اور ایک بھکاری منگر سب پر ہے سایہ اسی خدا کا اور سب کا ہے مالک وہ ۔ مگر الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے بغیر تمام بہروپیئے اور مسخرے ہیں۔ اے نانک۔ بالا آخر کفر مٹ جاتا ہے ۔ سچ حق وحقیقت اور سچ و خدا جو کرتا ہے وہی ہوتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
بابیِہا گُنھۄنّتیِ مہلُ پائِیا ائُگنھۄنّتیِ دوُرِ ॥
انّترِ تیرےَ ہرِ ۄسےَ گُرمُکھِ سدا ہجوُرِ ॥
کوُک پُکار ن ہوۄئیِ ندریِ ندرِ نِہال ॥
نانک نامِ رتے سہجے مِلے سبدِ گُروُ کےَ گھال ॥੧॥
لفظی معنی:
گنھونتی ۔ بااوصاف ۔ وصف ولاے ۔ گنوان ۔ محل۔ ٹھکانہ ۔ منزل ۔ مقصد ۔ اوگنونتی ۔ بدکار۔ بداوصاف۔ دور ۔ خدا سے دور۔ انتر ۔ ذہن و قلب۔ میں۔ گورمکھ سدا حضور۔ مرید مرشد کےد لمیں بستا ہے ۔ کوک پکار۔ آہ وازاری ۔ ندری ۔ نظر عنایت و شفقت سے ۔ ندرنہال۔ نظر سے خوش۔ نام رتے ۔ نام میں محو ومجذوب مراد ست سچ حق وحقیقت اپنانے سے ۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ سبد گروکے گھال۔ کلام سبق وواعظ مرشد پر عمل کرنیپر۔
ترجمہ:
اے انسان گنواے انسان منزل پا لیتے ہیں اوگنوں والوں سے منز دور ہو جاتی ہے ۔ اے انسان خدا تیرے ذہن و قلب میں بستا ہے اور مرید مرشد کے ساتھ اور ھاضر رہتا ہے ۔ نہ عرض کی ضرورت رہتی ہے نہ آہ وزاری و شکایت کی رحمان الرحیم کی نظر عنایت و شفقت سے خوشیاں اور لہریں بہریں ہو جاتی ہیں۔ اے نانک الہٰی نام ست سچ حق اور حقیقت پر عمل کرنے سے اور کلام سبق واعظ و جھوٹ پر عمل کرنے سے آسانی سے الہٰی وصل ملاپ و دیدار حاصل ہوجاتا ہے ۔

مਃ੩॥
بابیِہا بینتیِ کرے کرِ کِرپا دیہُ جیِء دان ॥
جل بِنُ پِیاس ن اوُترےَ چھُٹکِ جاںہِ میرے پ٘ران ॥
توُ سُکھداتا بیئنّتُ ہےَ گُنھداتا نیدھانُ ॥
نانک گُرمُکھِ بکھسِ لۓ انّتِ بیلیِ ہوءِ بھگۄانُ ॥੨॥
لفظی معنی:
بینتی ۔ عرض ۔ کرپا۔ مہربانی ۔ جیئہ دنا۔ روحانی واخلاقی زندگی کی خیرات۔ جل سے مراد نام۔ پیاس ۔ ترشنا ۔ خواہش ۔ پران ۔ زندگی ۔ سکھداتا ۔ آرام و آسائش پہنچانیوالا ۔ گن داتا۔ اوصاف بخشنے والا۔ نیدھان ۔ خزانوں کا مالک۔ انت ۔ آخر۔ بیلی ۔ دوست ۔ بھگوان ۔(خدا)
ترجمہ:
انسان عرض گذارتا ہے کہ از راہ کرم و عنایت روھانی واخلاقی طرز زندگی عنایت فمراییئے اے خدا۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت جوآب حیات ہے میری مراد پوری نہیں ہوتی میری روح پریشان رہتی ہے ۔ اے خا تو اعداد وشمار سے بعید ہے تو اوصاف بخشش کرنیوالا ہے غرض کہ اوصاف کا خزانہ ہے ۔ اے نانک خدا مرشد پر مہربانی کرتا ہے اوربوقت اخرت مدگار ہوتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
آپے جگتُ اُپاءِ کےَ گُنھ ائُگنھ کرے بیِچارُ ॥
ت٘رےَ گُنھ سرب جنّجالُ ہےَ نامِ ن دھرے پِیارُ ॥
گُنھ چھوڈِ ائُگنھ کماۄدے درگہ ہوہِ کھُیارُ ॥
جوُئےَ جنمُ تِنیِ ہارِیا کِتُ آۓ سنّسارِ ॥
سچےَ سبدِ منُ مارِیا اہِنِسِ نامِ پِیارِ ॥
جِنیِ پُرکھیِ اُرِ دھارِیا سچا الکھ اپارُ ॥
توُ گُنھداتا نِدھانُ ہہِ اسیِ اۄگنھِیار ॥
جِسُ بکھسے سو پائِسیِ گُر سبدیِ ۄیِچارُ ॥੧੩॥
لفظی معنی:
جگت ۔عالم ۔ دنیا۔ اپایئکے ۔ پیدار کرکے ۔ گن ۔ اوگن۔ نیک و بد اوصاف۔ تریگن ۔ بلندی کی خواہش اور اسکے لیے دوڑ دہوپ ۔ رج گن ۔ حسد۔ غصہ ۔ تم ۔ طمع گن ۔ لالچ۔ طریقت ۔ مراد ست گن ۔ جنجال ۔ پھندہ۔ خوآر۔ ذلی۔ ۔ کت ۔ کس لیے ۔ سچے سبد۔ سچے کلام سے ۔ اہنس۔ روز و شب ۔ دن رات۔ اردھاریا۔ دلمین بسائیا۔ سچا۔ صدیوی سچ ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ گن داتا۔ گن دینے والا۔ ندھان۔ خزانہ ۔ اوگنیار۔ بداوصاف ۔ پالیسی ۔ پاتا ہے ۔ گر سبدی وچار۔ کلام مرشد ۔ سمجھ کر ۔
ترجمہ:
خدا علام پیدا کرکے اسکے نیک و بد اوصاف کو سوچنا سمجھتا ہے تینوں دنیاوی اوصاف زندگی کے لئے ایک جال ہیں۔ اس پھندے میں پھنسا ہوا انسان الہٰی نام سچ و حقیقت سے پیار نہیں کرتا۔ جہوں نے نیکیوں کو چھوڑ براہوں سے پیار کرتے ہیں آکر الہیی عدالت میں ذلیلل ہوتے ہین انہوں نے جوئے کے کھیل میں زندگی برباد کر دی۔ ان کا جنم لینا بیکار ہے ۔ جنہوں نے اس صڈیوی سچے عقل و ہوش سے باہر اعدا د و شمار سے باہر دلمیں بائیا وہ عرض گذارتے ہیں کہ اے خدا تو اوصاف کا خزانہ ہے جسے تو بخشتا ہے وہی پاتا ہے کلام مرشد کو سمجھ کر ۔

سلوک مਃ੫॥
راتِ ن ۄِہاۄیِ ساکتاں جِن٘ہ٘ہا ۄِسرےَ ناءُ ॥
راتیِ دِنس سُہیلیِیا نانک ہرِ گُنھ گاںءُ ॥੧॥
ترجمہ:
مادہ پرستوں کی رات نہیں گذرتی جنہوں الہٰی نام ست سچ اورحقیقت کو بھلا رکھا ہے ۔ مگر اے نانک جو حمد خدا کی گاتے ہیں انکی زندگی آرام و آسائش میں گذرتی ہے ۔

مਃ੫॥
رتن جۄیہر مانھکا ہبھے منھیِ متھنّنِ ॥
نانک جو پ٘ربھِ بھانھِیا سچےَ درِ سوہنّنِ ॥੨॥
لفظی معنی:
رتن ۔ ہریے ۔ جوپہرا۔ مانکا۔ موتی ۔ ہبھے ۔ سارے ۔ منی ۔ منی ۔ جوپربھ بھانیا۔ جو محبوب خدا ہیں ۔ سچے در سوہن ۔ بارگاہ خدا پر سجھتے ہین۔
ترجمہ:
ان کی پیشانی پر سارے قیمتی ہیرے جواہرات اور موتیوں سے سجائے ہوئے ہیں جو محبوب خدا ہیں۔ اے نانک۔ وہ الہٰی در پر سبھتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
سچا ستِگُرُ سیۄِ سچُ سم٘ہ٘ہالِیا ॥
انّتِ کھلویا آءِ جِ ستِگُر اگےَ گھالِیا ॥
پوہِ ن سکےَ جمکالُ سچا رکھۄالِیا ॥
گُر ساکھیِ جوتِ جگاءِ دیِۄا بالِیا ॥
منمُکھ ۄِنھُ ناۄےَ کوُڑِیار پھِرہِ بیتالِیا ॥
پسوُ مانھس چنّمِ پلیٹے انّدرہُ کالِیا ॥
سبھو ۄرتےَ سچُ سچےَ سبدِ نِہالِیا ॥
نانک نامُ نِدھانُ ہےَ پوُرےَ گُرِ دیکھالِیا ॥੧੪॥
لفظی معنی:
سچا ستگر سیو۔ سچے مرشد کی کدمت ۔ سچ سمیا لیا۔ حقیقت میں محو ہوا۔ ۔ انت ۔ بوقت آخرت ۔ کھلو آ آئے ۔ امدادی ہوا۔ ستگر اگے ۔ سچے مرشد کی نصیحت کی مطابق ۔ گھالیا۔ ۔ محبت و مشقت کی ۔ پوہ ۔ متاثر۔ جمکال۔ موت ۔ سچا رکھوالیا۔ خدا محافظ ہوتا ہے ۔ گر ساکھی جوت۔ مرشد کی نورانی واعظ و سبق ۔ جگائے دیو بالیا۔ روشناش کرائیا ۔ مرید من الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے بغیر کافر ہے جھوٹا ہے ۔ بدروھوں اور بھوتوں کی مانند بھٹکتا پھرتا ہے ۔ ایسے انسان چمڑے اندر لیٹے حیوان ہیں۔ پسو مانس چم لیئے ۔ا ندر ہو کالیا۔ جنکا باطن سیاہ ہے ۔ سبھے ورتے سچ۔ ہر طرف خدا بستا ہے ۔ سچے سبد نہالیا۔ الہیی کلام سے دیدار ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ نام ندھان ۔ خدا کا نام ست سچ حق وحقیقت ایک خزناہ ہے ۔ پورے گر دیکھالیا۔ کامل مرشد دیدار کراتا ہے ۔
ترجمہ:
جس نے سچے مرشد کے سبق کے مطابق خدا کی عبادت تابعداری اور ریاضت کی اور بطور خدمت محنت و مشقت کی وہ بوقت اخرت بطور امدادی ساتھ دیتی ہے ۔ موت انسان کو متاثر نہیں کر سکتی ۔ خدا محافظ بنتا ہے ۔ سبق مرشد ایک نورانی چراغ روشنی دیتی ہے اور ہبر ہو جاتی ہے ۔ مگر جو انسان مرید من ہوتا ہے بغیر نام مراد سچ حق وحقیقت کافر جھوٹا ہے اور بد روحوں و بھولوں کی طرح بھٹکتا پھرتا ہے ۔ وہ ایک ھیونا کی مانند چمڑے میں لپٹا ہوا انسان ہے جسکا قلب و روح کالی ہے ۔ کلام مرشد سے پتہ چلتا ہے کہ خدا ہر جگہ بستا ہے ۔ اے نانک۔ خدا کا نام ست سچ حق وحقیقت ایک خزانہ ہے جو کامل مرشد ظہور پذیر کرتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
بابیِہےَ ہُکمُ پچھانھِیا گُر کےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
میگھُ ۄرسےَ دئِیا کرِ گوُڑیِ چھہبر لاءِ ॥
بابیِہے کوُک پُکار رہِ گئیِ سُکھُ ۄسِیا منِ آءِ ॥
نانک سو سالاہیِئےَ جِ دیݩدا سبھناں جیِیا رِجکُ سماءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
حکم۔ رجا۔ سہج سبھائے ۔ قدرتا یا بلا جیلہ و ترود۔ مراد آسانی سے ۔ گر کے ۔ مرشد کے سبق کے مطابق۔ میگھ ۔ بادل۔ دیا ۔ کرم و عنیات۔ مہربانی ۔ گوڑھی ۔ چھہیر ۔ لگاتار موسلادار۔ کوک پکار۔ آہ زاری ۔ صلاحیئے ۔ تعریف کیجائے ۔ سبھنا حیا۔ ساری مخلوقات کو ۔ رزق سمائے ۔ روزی پہنچاتا ہے ۔
ترجمہ:
انسان نے الہٰی رضا و فرمان کو پہنچانا مرشد کے مطابق ۔ مرشد کی سبق وواعظ و نصیحت اور الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت سے مکمل طور پر روشناس اور واقف کرائیا ۔ جس سے انسان کی آہ وزاری مٹ جاتی اور انسان دل سکون محسوس کرتا ہے ۔ اے نانک صفت صلاح اسکی کرؤ جو سبھ کو رزق پہنچاتا ہے ۔

مਃ੩॥
چات٘رِک توُ ن جانھہیِ کِیا تُدھُ ۄِچِ تِکھا ہےَ کِتُ پیِتےَ تِکھ جاءِ ॥
دوُجےَ بھاءِ بھرنّمِیا انّم٘رِت جلُ پلےَ ن پاءِ ॥
ندرِ کرے جے آپنھیِ تاں ستِگُرُ مِلےَ سُبھاءِ ॥
نانک ستِگُر تے انّم٘رِت جلُ پائِیا سہجے رہِیا سماءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
چاترک ۔ اسکو بہت سے نامون سے پکاراجاتا ہے ۔ سارنگ ۔ پپیہا ۔ پپیہا ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ نہ جانہی ۔ نہیں سمجھتا ۔ تکھا ۔ پیاس۔ کت ۔ کس ۔ دوبے بھائے ۔ دوسرے وہم و گمان کی مھبت میں ۔ بھر میا۔ بھٹکتا ہے ۔ انمرت جل۔ آب ھیات۔ حقیقت ۔ پہلے دامن ۔ ندر ۔ نظر عنایت و شفقت ۔ سبھائے ۔ قدرتی طور پر ۔ سہجے ۔ سکون میں۔
ترجمہ:
اے چاترک تجھے سمجھ نہیں کہ تجھے کونسی پیاس ہے کس چیز کے پینے سے یہ پیاس مٹے گی ۔ تو دنیاوی دولت کی مھب تمیں بھٹک رہا ہے تجھے آب ھیات جو زندگی کو روحانی و اخلاقی طور پر پاک بناتا ہے میسر نہیں۔ اگر الہٰی نظر عنایت و شفقت ہو اور اپنے اعمال و کردار کو زیر نظر لائے تو قدرتا تیرا ملاپ سچے مرشد سے ہوگا۔ اے نانک یہ آب حیات سچے مرشد سے دسبیان ہوتا ہے ۔ اس سے انسان روحانی و ذہنی سکون پاتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
اِکِ ۄنھ کھنّڈِ بیَسہِ جاءِ سدُ ن دیۄہیِ ॥
اِکِ پالا ککرُ بھنّنِ سیِتلُ جلُ ہیݩۄہیِ ॥
اِکِ بھسم چڑ٘ہ٘ہاۄہِ انّگِ میَلُ ن دھوۄہیِ ॥
اِکِ جٹا بِکٹ بِکرال کُلُ گھرُ کھوۄہیِ ॥
اِکِ نگن پھِرہِ دِنُ راتِ نیِد ن سوۄہیِ ॥
اِکِ اگنِ جلاۄہِ انّگُ آپُ ۄِگوۄہیِ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ تنُ چھارُ کِیا کہِ روۄہیِ ॥
سوہنِ کھسم دُیارِ جِ ستِگُرُ سیۄہیِ ॥੧੫॥
لفظی معنی:
ون کھنڈ۔ جنگل میں۔ بیسہ ۔ بیٹھتا ہے ۔ سد نہ دیو ہی ۔ آواز نہیں دیتے ۔ پالا۔ سردی ۔ ککر۔ برف۔ بھن۔ توڑ کر۔ سیتل جل۔ ٹھندا پانی۔ ہینو ہی ۔ برف برداشت کرتے ہیں۔ بھسم ۔ سوآہ ۔ راکھ ۔ انگ ۔ جسم ۔ میل۔ غلاظت۔ ناپاکیزگی ۔ نہ دہووہی ۔ نہیں صاف کرتے ۔ جٹا۔ بال۔ بکٹ۔ سخت۔ بکرال ۔ کوف ناک۔ ڈراؤنے ۔ کل گھر کھودہی ۔ گھر اور خاندان کا نام گنواتے ہیں۔ لگن ۔ ننگے ۔ دن رات ۔ روز وشب۔ نیند نہ سوہی ۔ سوتے ہیں ۔ اگن جلاویہہ انگ ۔ جسم کو آگ سے جلاتے ہیں۔ آپ و گوہی ۔ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرتے ہین۔ بن ناوے ۔ بغیر الہیی نام۔ ست سچ حق وحقیقت ۔ تن چھار۔ جسم سوآہ ۔ سوہن ۔ شاندار۔ شہرت یافتہ ۔
ترجمہ:
ایک جنگل میں جا گوشہ نشین ہو جاتے ہیں اور بلناے پر آواز بھی نہیں دینے مراد خاموشی ااختیار کر لیتے ہیں ۔ اور ایک سردی صرف توڑ کر ٹھنڈے پانی میں بیٹھتے ہیں جس میں برف جمی ہوتی ہے ۔ ایک جسم پر پبھوت یا سوآہ لگاتے ہیں۔ اور جسم سے میل دور نہیں رکتے ۔ ایک بالوں کی جٹاں بنا کر ڈراؤنی شکل بناتے ہیں اپنا گھر اور کاندان کا نام گنواتے ہیں ایک اپنا جسم آگ سے جلاتے ہیں اور اپنے آپ کو ذلیل کرتے ہیں۔ مگر الہیی نام ست سچ حق وحقیقت کے بغیر یہ سب فضول ہے ۔ تو انسنا کیا کہہ روئے ۔ ایک بالکل ننگے دن رات رہتے ہیں اور سونے تک نہیں۔ جو سچے مرشد کے دکھائے راستے پر چلتے ہیں وہ بارگاہ خدا میں سرخروئی پاتے ہین۔

سلوک مਃ੩॥
بابیِہا انّم٘رِت ۄیلےَ بولِیا تاں درِ سُنھیِ پُکار ॥
میگھےَ نو پھُرمانُ ہویا ۄرسہُ کِرپا دھارِ ॥
ہءُ تِن کےَ بلِہارنھےَ جِنیِ سچُ رکھِیا اُرِ دھارِ ॥
نانک نامے سبھ ہریِیاۄلیِ گُر کےَ سبدِ ۄیِچارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
انمرت ویلے ۔ اعلے الصبح ۔ صب ح سویرے ۔ پکار ۔ ۔ عرض ۔ میگھے ۔ بادل ۔ فرمان ۔ حکم۔ درسہو ۔ بارش کرؤ۔ بلہارنے ۔ قربان ۔ سچ رکھیا اردھار۔ سچ حقیقت اور خدا دلمیں بسائیا۔ نامے سبھ ہر یاولی ۔ الہٰی نام سے سارا عالم نور سے بھر جاتا ہے ۔ گر کے سبد وچار ۔ کلام مرشد کی سمجھ کر۔
ترجمہ:
جب علے الصبح صبح سویرے خدا کے در پر عرض گذارتا ہے تو خدا اسکی فریاد سنتا ہے ۔ بادل مراد مرشد کو فرمان ہوا ککہ بارش کرو مراد لوگوں کو راہ راست مراد سچ حق حقیقت کے پرستار بناؤ میں قربان ہوں ان پر جنہوں نے سچ وحقیقت مراد خدا دلمیں بسا رکھا ہے ۔ اے نانک الہیی نام مراد ست سچ حق وحقیقت اپنانے سے اور کلام مرشد کو سمجھنے سے خوشحالی نصیب ہوتی ہے ۔

مਃ੩॥
بابیِہا اِۄ تیریِ تِکھا ن اُترےَ جے سءُ کرہِ پُکار ॥
ندریِ ستِگُرُ پائیِئےَ ندریِ اُپجےَ پِیارُ ॥
نانک ساہِبُ منِ ۄسےَ ۄِچہُ جاہِ ۄِکار ॥੨॥
لفظی معنی:
تکھا ۔ پیاس ۔ نہ اترے ۔ دور نہیں ہوتی ۔ او ۔ اسطرح سے ۔ پکار ۔ منت سماجت۔ ندری ۔ نظر عنایت سے ۔ اپجے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ صاھب ۔ مالک۔ وکار۔ برائیاں۔
ترجمہ:
اے انسان اس طرح سے تیری پیاس نہ مٹے گی خواہ سو بار منت سماجت بھی کرے ۔ خدا کی نظر عنایت و شفقت سے مرشد کا ملاپ حاصل ہوتا ہے اور اسکی کرم وعنایت سے ہی پیار پیدا ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ خدا کینظر عنایت سچا مرشد ملتا ہے اور دل سے برائیاں دور ہوتی ہیں۔

پئُڑیِ ॥
اِکِ جیَنیِ اُجھڑ پاءِ دھُرہُ کھُیائِیا ॥
تِن مُکھِ ناہیِ نامُ ن تیِرتھِ ن٘ہ٘ہائِیا ॥
ہتھیِ سِر کھوہاءِ ن بھدُ کرائِیا ॥
کُچِل رہہِ دِن راتِ سبدُ ن بھائِیا ॥
تِن جاتِ ن پتِ ن کرمُ جنمُ گۄائِیا ॥
منِ جوُٹھےَ ۄیجاتِ جوُٹھا کھائِیا ॥
بِنُ سبدےَ آچارُ ن کِن ہیِ پائِیا ॥
گُرمُکھِ اوئنّکارِ سچِ سمائِیا ॥੧੬॥
لفظی معنی:
اوجھڑ۔ گمراہ۔ دھرہو۔ آغاز سے ۔ کھوآئیا۔ جینی ۔ جین مت پر چلنے والے ۔ مکھ نام۔ زبان پر خدا کا نام ہے ۔ تیرھ نائیا۔ کسی تیرتھ کی زیارت کرتے ہیں۔ سیر کھوہائے ۔ سر کے بال نوچتے ہیں۔ کچل۔ ناپاک ۔ غلیظ ۔ جات ۔ ذات ۔ پت ۔ عزت ۔ کرم ۔ اعمال۔ جنم گوائیا۔ بیفائدہ زندگی گذر گئی ۔ من جوٹھے ۔ ناپاک من ۔ آچار۔ اخلاق۔ چلن ۔
ترجمہ:
جین مت والوں نے شروع سے ہی اپنے آپ کو گمراہ کرکے خدا کو بھلائیا ہوا ہے نہ وہ خدا کا نام لیتے ہیں نہ زیارت گاہوں کی زیارت کرتے ہیں۔ بال نچواتے ہیں بال منڈواتے نہیں۔ روز و شب غلیظ رہتے ہیں کلام سے محبت نہیں نہ اسکی کو ذات ہے نہ عزت نہ اچھے اعمال زندگی بیکار گنواتے ہیں۔ ناپاک دل بد ذات جوٹھا کھاتے ہیں ۔ بغیر سبق و واعظ کسی کا اخلاق و چال چلن کسی کو ھاصل نہیں ہوا۔ جبکہ مریدان مرشد واحد خدا جو صدیوی ہے میں ایمان لاتے ہیں۔

سلوک مਃ੩॥
ساۄنھِ سرسیِ کامنھیِ گُر سبدیِ ۄیِچارِ ॥
نانک سدا سُہاگنھیِ گُر کےَ ہیتِ اپارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سرسی ۔ پر لطف۔ کامنی ۔ عورت۔ گر سبدی وچار۔ کلام مرشد سمجھ کر۔ سدا سوہاگنی ۔ ہمیشہ خدا پرست۔ ہت ۔ محبت۔
ترجمہ:
جیسے ساون کے مہینے میں بارش سے تمام پودے ہرے بھرے اور چاروں طرف ہریاول نظر آتی ہے اور رسوں سے بھر جاتے ہیں ۔ عین اس طرح سے انسان کلام مرشد کو سوچ سمجھ کر اے نانک انسان خدا پرست مرشد سے از حد محبت کرنے والا ہو جاتا ہے ۔

مਃ੩॥
ساۄنھِ دجھےَ گُنھ باہریِ جِسُ دوُجےَ بھاءِ پِیارُ ॥
نانک پِر کیِ سار ن جانھئیِ سبھُ سیِگارُ کھُیارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
دجھے ۔ جلتا ہے ۔ گن باہری ۔ جس میں کوئی وصف نہیں۔ دوجے بھائے ۔ دنیاوی محبت۔ پر ۔ خاوند۔ سار۔ قدرو منزلت۔ سیگار ۔ سجاوٹیں۔ وکھاوے ۔ خوآر۔ ذلالت۔
ترجمہ:
جس طرح سے ساون کے مہینے میں جس طرح بارز ہونے پر جنگل سبزہ زار ہرا بھرا ہو جاتا ہے مگر بے وصف آک اور بھسرا یا جوانہہ جل جاتا ہے سوکھ جاتا ہے جیسے الہٰی نام ستس چ حق و حقیقت کی بارش ہونے پر خدا پرست خوش ہوتے ہین جبکہ منکر دنیاوی محبتوں والے جلتے ہیں حسد بغض وکینہ کرتے ہیں۔ اے نانک جسے یا جس عورت کو اپنے خاوند کی قدرومنزلت نہیں اسکے تمام دکھاوے فضول ہیں اور ذلیل کرنے والے ہیں ۔ مراد دکھاوے کے اعمال سے ظلالت پیدا ہوتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
سچا الکھ ابھیءُ ہٹھِ ن پتیِجئیِ ॥
اِکِ گاۄہِ راگ پریِیا راگِ ن بھیِجئیِ ॥
اِکِ نچِ نچِ پوُرہِ تال بھگتِ ن کیِجئیِ ॥
اِکِ انّنُ ن کھاہِ موُرکھ تِنا کِیا کیِجئیِ ॥
ت٘رِسنا ہوئیِ بہُتُ کِۄےَ ن دھیِجئیِ ॥
کرم ۄدھہِ کےَ لوء کھپِ مریِجئیِ ॥
لاہا نامُ سنّسارِ انّم٘رِتُ پیِجئیِ ॥
ہرِ بھگتیِ اسنیہِ گُرمُکھِ گھیِجئیِ ॥੧੭॥
لفظی معنی:
سچا۔ صدیوی ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ ابھیؤ ۔ راز جو سمجھ سے باہر۔ ہٹھ۔ ضد۔ ایسے اعمال جو دل پر دباؤ ڈال کر کیے جائیں۔ پتجی ۔ خوش ہوتا ۔ راگ پریا۔ راگنیاں ۔ بھیجی ۔ متاثر ۔ اثر نہیں پڑتا۔ تال ۔ بہرا۔ بھگت ۔ عبادت ۔ ریاضت۔ ان نہ کھائے مورکھ ۔ ایک بیوقوف اناج نہیں کھاتے ۔ ترسنا۔ دنیاوی نعمتوں کی کواہش ۔ دھیجی ۔ دھرج ۔ صبر ۔ کرم بدھیہہ۔ دکھاوے کے اعمالوں میں بندھے ہوئے ۔ کھپ ۔ مجذوب۔ مریجئی ۔ مرتے ہیں۔ لاہا۔ منافع۔ نام۔ الہٰی نام۔ ست ۔ سچ حق وحقیقت ۔ سنسار۔ دنیا میں۔ انمرت پیجی ۔ آب حیات پینا ہے ۔ ہر بھگتی ۔ الہٰی عشق ۔ عبادت وریاضت ۔ اسنیہہ۔ نیہہ۔ محبت۔ اسنیہہ۔ محبت نہ ہونا۔
ترجمہ:
سچا صدیوی سچ خدا جو انسانی سوچ سمجھ سے بعید ہے جو ایک راز ہے دلی ضد سے خود نہیں ہوتا۔ ایک راگنیاں گاتا ہے اس سے متاثر نہیں ہوتا ۔ ایک ناچ کرکے بہر بناتا ہے مگر اس طرح سے عبادت و ریاضت نہیں ہو سکتی الہیی پیا رنہیں کیا جا سکتا ۔ ایک اناج نہیں کھاتے ان بیوفقوں کا کیا کیا جائے ۔ خواہشات میں اضافنہ کو کسی طریقے سے کم نہیں ہوتا۔ کتنے ہی اعمال میں مراد کرم کا نڈوں ) دکھاوے کے اعمالوں میں ملوث لوگ ذلیل ہوکر مرتے ہیں۔ اس دنیا میں الہٰی نام سچ ہی منافع بخش ہے ۔ اس آب حیات کو پیؤ۔ الہٰی عشق و خدمت عبادت و ریاضت سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں مرید مرشد ہی اسکا لطف لیتے ہیں۔

سلوک مਃ੩॥
گُرمُکھِ ملار راگُ جو کرہِ تِن منُ تنُ سیِتلُ ہوءِ ॥
گُر سبدیِ ایکُ پچھانھِیا ایکو سچا سوءِ ॥
منُ تنُ سچا سچُ منِ سچے سچیِ سوءِ ॥
انّدرِ سچیِ بھگتِ ہےَ سہجے ہیِ پتِ ہوءِ ॥
کلِجُگ مہِ گھور انّدھارُ ہےَ منمُکھ راہُ ن کوءِ ॥
سے ۄڈبھاگیِ نانکا جِن گُرمُکھِ پرگٹُ ہوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
ملار۔ ایک راگ کا نام ہے ۔ سیتل ۔ ٹھنڈا ۔ گرپرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ا یک پہچانیا۔ واحد خدا کی سمجھ آتی ہے ۔ ایکو سچا وئے ۔ خدا واحد ہست ہے ۔ گر سبدی ۔ کلام مرشد سے ۔ من تن سچا۔ دل و جان ۔ پاک ۔ سہچ من ۔جب دل میں سچ بستا ہو۔ سچی سوئے ۔ شہرت سچی ہوتی ہے ۔ سچی بھگت ۔ سچا پیار۔ سچا عشق ۔ سہجے ہی ۔ سکون میں ہی ۔ پت ۔ عزت۔ کلجگ۔ اس جھگڑوں کے دور میں ۔ گھور اندھار۔ بھاری لاعلمی کا اندھیرا۔ گور مکھ پرگٹ ہوئے ۔ مریدان مرشد کو ظہور پذیر ہوتا ہے ۔
ترجمہ :
جو انسان مریدان مرشدہوکر پلا راگ گاتے ہیں انکے دل وان کو سکون اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے کیونکہ کلام کے ذریعے انہیں خدا کی پہچان ہو جاتی ہے ۔ جو صدیوی ہے انکا دل و جان مانند خدا ہو جات اہے ۔ مراد خدا مین مھو ومجذوب ہو جاتا ہے کدا انکے دلمیں بس جاتا ہے ۔ جس سے وہ شہرت پاتے ہیں انکے دلمیں سچا عشق خدا ہوتا ہے جس سے روحانی و ذہنی سکون اور عزت پاتے ہیں ۔ اس جھگڑے کے دور میں بھاری لاعلمی کا دور اور اندھیرا ہے ۔ مریدان من کو اس اندھیرے میں راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اے نانک۔ وہ انسان خوش قسمت ہیں جنکے اندر مرشد کے ذریعے ظہور پذیر ہو جاتا ہے ۔

مਃ੩॥
اِنّدُ ۄرسےَ کرِ دئِیا لوکاں منِ اُپجےَ چاءُ ॥
جِس کےَ ہُکمِ اِنّدُ ۄرسدا تِس کےَ سد بلِہارےَ جاںءُ ॥
گُرمُکھِ سبدُ سم٘ہ٘ہالیِئےَ سچے کے گُنھ گاءُ ॥
نانک نامِ رتے جن نِرملے سہجے سچِ سماءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
اند۔ بادل۔ چاؤ۔ خویش۔ جس کے حکم ۔ جس کے زیر فرمان ۔ بلہارے ۔ صدقے ۔ قربان۔ سبد سمہالئے ۔ دل میں بسا ہے ۔ سچے ۔ صدیوی خدا۔ نام رتے ۔ جو الہٰی نام میں محو ومجذوب نہ ملے ۔ پاک ۔ سہے سچ ۔ سماؤ۔ پر سکون ۔ سچ سچے خدا میں مجذوب ۔
ترجمہ:
جب مینہ برستا ہے تو لوگوں کے دلوں میں خوشیاں پیدا ہوتی ہیں۔ جس کے فرمان سے برستا ہے اسکے صدقے ہے ۔ قربان ہوں۔ مرید مرشد ہوکر کلام دل میں بساؤ اور خدا کی حمدوثناہ کرؤ۔ اے ناک۔ جو الہیی نام ست ۔ سچ حق وحقیقت سے متاثر اور محو ومجذوب ہیں وہ پاک ہیں اور خدا میں محو ہیں۔

پئُڑیِ ॥
پوُرا ستِگُرُ سیۄِ پوُرا پائِیا ॥
پوُرےَ کرمِ دھِیاءِ پوُرا سبدُ منّنِ ۄسائِیا ॥
پوُرےَ گِیانِ دھِیانِ میَلُ چُکائِیا ॥
ہرِ سرِ تیِرتھِ جانھِ منوُیا نائِیا ॥
سبدِ مرےَ منُ مارِ دھنّنُ جنھیدیِ مائِیا ॥
درِ سچےَ سچِیارُ سچا آئِیا ॥
پُچھِ ن سکےَ کوءِ جاں کھسمےَ بھائِیا ॥
نانک سچُ سلاہِ لِکھِیا پائِیا ॥੧੮॥
لفظی معنی:
کرم ۔ بخشش۔ دھیائے ۔ دھیان لگا کر ۔ پورا سبد۔ مکمل کلام۔ پورے گیان دھیان مکمل علم اور توجہ ۔ میل ۔مراد کردار۔ و اعمال کی برائیوں کی ناپاکیزگی ۔ چکائیا۔ دور کی ۔ ہرسر۔ خدا کو تالاب سمجھ ۔ منوآنائیا۔ من نے غسل کیا ۔ سبد ۔ کلام کے ذریعے ۔ من مار۔ من زیر ضبط لاتے ہیں۔ دھن ۔ شاباش ۔ جسنیدی مائیا۔ جس نے اسے جنم دیا ہے ۔ مان ۔ درسچے ۔ کدا کے دربار و عدالت میں۔ سچیار ۔ نیک چلن ۔ سچے اخلاق۔ سچا آئیا۔ اسکا دنیا میں آنا کامیاب ہے ۔ پچھ ۔ تحقیق ۔ حصے بھائیا۔ کدا کا محبوب ہوا۔ سچ ۔صلاح ۔ خدا کی (حمدوثناہ سے ) لکھا پائیا۔ اسکے اعمالنامے میں تحریر پائیا۔
ترجمہ:
جس نے کامل مرشد کی خڈمت کی اس نے مکمل علم اور ہر طرح سے کامل کدا کا دیدار و ملاپ پائیا۔ پوری تقدیر سے خدا میں بھیان لگائیا اور پورا کلام اور سبق دلمیں بسائیا پورے علم اور دھیان سے ناپاکیزگی مٹائی ۔ خدا کو ایک تالاب اور زیارت گاہ سمجھ کر اس میں دل کا گصل کیا ۔ کلام کی برکت و عنایت سے من کو زیر (کرکے) کیا اسکی ماں قابل ستائش جس نے ایسے بیٹے کو جنم دیا ہے ایسے انسان کا سچے خدا کے دربار میں سچے ہیں ان کا اس عالم میں جنم لینا ایک پاک اور مبارک ہے ۔ ایسا انسان جو منظور نظر خدا کو ہے اسکی کوئی تحقیق نہیں کر سکتا۔ اے نانک خدا کی حمدوثناہ اسکی تحریر اعمالنامے کے مطابق پاتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
کُلہاں دیݩدے باۄلے لیَݩدے ۄڈے نِلج ॥
چوُہا کھڈ ن ماۄئیِ تِکلِ بنّن٘ہ٘ہےَ چھج ॥
دین٘ہ٘ہِ دُیائیِ سے مرہِ جِن کءُ دینِ سِ جاہِ ॥
نانک ہُکمُ ن جاپئیِ کِتھےَ جاءِ سماہِ ॥
پھسلِ اہاڑیِ ایکُ نامُ ساۄنھیِ سچُ ناءُ ॥
مےَ مہدوُدُ لِکھائِیا کھسمےَ کےَ درِ جاءِ ॥
دُنیِیا کے در کیتڑے کیتے آۄہِ جاںہِ ॥
کیتے منّگہِ منّگتے کیتے منّگِ منّگِ جاہِ ॥੧॥
لفظی معنی:
کلہا۔ ٹوپی ۔ جو فقیر اپنے مرید بطور مان نشینی دیتے ہیں جسے سیلی ٹوپی کہا جاتا ہے ۔ باوے ۔ دیوانے ۔ نلج۔ بے شرم ۔ چوہا کھڈ نہ ماوئی ۔ خود کے لئے کڈ تنگ ہے ۔ مراد خود تو نجات کے قابل نہیں علاوہ ازیں دوسروں کو مرید بناتے ہیں۔ نکل۔ کرم ۔ چھج ۔ توفیق و برکت سے زیادہ ۔ دین دعائی ۔ دعائیں۔ بکشش۔ حکم نہا جاپیئی ۔ رضائے الہٰی کی سمجھ نہیں ۔ کتھے جائے سما ہے ۔ کہ وہ کہان بسے گا۔ ہاڑی اور ساونی کی فصل ۔ ایک نام ۔ واھد الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ہے ۔ محدود صرف ۔ پٹہ ۔ رجسٹری ۔ کیتڑے ۔ کتنے ہی ۔
ترجمہ:
وہ مرشد یوناے اور بیوقوف ہیں جو اپنے مریدوں کو سیلہلی ٹوپی یا لام بطور جان نشنی دیتے ہیں اور بے جیا نہیں جو لیتے ہیں کیونکہ خود تو نجات یا نہیں سکے دوسروں کو بخشش کرتے ہیں۔ جو مصداق اسکے ہے کر خود کے لئے تو جگہ تنگ سے اور ساتھ جیلہ جانشین بناتے ہیں۔ چوہا کھڈ نہ ماوئی نکل بنیاد چھ ۔ جو مریدوں کو برکیتں عنایت کرتے خود اخلاقی و روحانی طور پر مردہ ہیں تو مرید بھی ایسے ہونگے ۔ اے نانک الہیی رضا و رفرمان کی سمجھ نہیں کہ ان انکے اعمال کے مطابق کیا حال ہوگا ۔ میرے لیے تو الہیی نام فصل ربیع ہے اور سچا نام ہی فصل فریف ہے ۔ یہ پٹہ یار رجسٹری خدا کے گھر یاد ریبار جا کر تحریر کرالیا ہے ۔ اس دنیا کے کتنے ہی دروازے ہیں اور کتنے ہی آتے ہین اور چلے جاتے ہیں اور کتنے ہی بھکاری بھیک مانگتے ہیں اور مالک مانک کر چلے جاتے ہیں۔

مਃ੧॥
سءُ منھُ ہستیِ گھِءُ گُڑُ کھاۄےَ پنّجِ سےَ دانھا کھاءِ ॥
ڈکےَ پھوُکےَ کھیہ اُڈاۄےَ ساہِ گئِئےَ پچھُتاءِ ॥
انّدھیِ پھوُکِ مُئیِ دیۄانیِ ॥
کھسمِ مِٹیِ پھِرِ بھانیِ ॥
ادھُ گُل٘ہا چِڑیِ کا چُگنھُ گیَنھِ چڑیِ بِللاءِ ॥
کھسمےَ بھاۄےَ اوہا چنّگیِ جِ کرے کھُداءِ کھُداءِ ॥
سکتا سیِہُ مارے سےَ مِرِیا سبھ پِچھےَ پےَ کھاءِ ॥
ہوءِ ستانھا گھُرےَ ن ماۄےَ ساہِ گئِئےَ پچھُتاءِ ॥
انّدھا کِس نو بُکِ سُنھاۄےَ ॥
کھسمےَ موُلِ ن بھاۄےَ ॥
اک سِءُ پ٘ریِتِ کرے اک تِڈا اک ڈالیِ بہِ کھاءِ ॥
کھسمےَ بھاۄےَ اوہو چنّگا جِ کرے کھُداءِ کھُداءِ ॥
نانک دُنیِیا چارِ دِہاڑے سُکھِ کیِتےَ دُکھُ ہوئیِ ॥
گلا ۄالے ہیَنِ گھنھیرے چھڈِ ن سکےَ کوئیِ ॥
مکھیِ مِٹھےَ مرنھا ॥
جِن توُ رکھہِ تِن نیڑِ ن آۄےَ تِن بھءُ ساگرُ ترنھا ॥੨॥
لفظی معنی:
ہستی ۔ ہاتھی ۔ ڈرکے ۔ ڈکارتا ہے ۔پھوکے ۔ پھنکارے مارتا ہے ۔ دیوانی ۔ پاگل۔ بھانی ۔ بھاوی ۔ رضا ۔ ادھ گلہا۔ گلی ۔ گین ۔ گگن ۔ آسمان ۔ بلائے ۔ بولتی ہے ۔ خصمے بھاوے ۔ جو منظور ہو مالک رضائے الہیی۔ سکتا ۔ طاقتور۔ جاہر۔ بینہہ۔ شیر۔ سے مریا۔ سوہرن ۔ سبھ پچھے ۔ سارے اسکی بدولت ۔ ستانا۔ طاقتور ۔ گھرے ۔ گھرنے گھڈ۔ ماوے ۔ پیوندا۔ پچھتا ہے ۔ پچھتاتا ہے ۔ بک ۔ گرج ۔ خصمے ۔ مالک۔ مول۔ بالکل ۔ نہ بھاوے ۔ نہیں چاہتا ۔ چار دہاڑے ۔ چند روزہ ۔ گللا والے ۔ فجول باتونی ۔ بھو ساگر۔ ترنا۔ اس خوفناک سمندر مراد زندگی ۔ کو کامیاب بنانا۔
ترجمہ:
ہاتھی کتنا ہی گھی گڑ اور دانا کھاتا ہے ۔ دکارتا اور پھنکارے مارتا ہے ۔ مگر جب ساسن نکل جاتے ہیں تو پچھتاتا ہے مراد حکمران اعلۓ افسران طرح طرح کے پر لطف کھانے کھاتے ہیں۔ ڈکارتے ہیں بد زبانی کرتے ہیں عش ق عشرت اور گناہ کرے ہیں مگر سانس نکلنے پر پچھتاتے ہیں اندھی دیونای دنیا غرور کرتی ہے ۔ اگر خدا دلمیں بسائے تبھی رضائے راضی پائے ۔ جب دل سے غرور جائے ۔ چند دانے چڑی کی خوراک ہے ۔ تب بھی کھا کر آسمان میں اڑتی اور بولتی ہے ۔ اگر وہ یاد خدا کو رکرتی ہے تو تب ہی خدا کو بھاتی ہے ۔ مراد غریبی مغرور سے اچھی ہے جو محبوب خدا ہے نام خدا کا لیتی ہے ۔ طاقتور شیر سینکڑوں ہرنوں کو مارتا ہے اور اسکے پیچھے ہزاروں اہکار افسران و سردار کھاتے ہیں۔ جانور ۔ جنگل کے گیدڑ وغیرہ کھاتے ہیں ۔ یعنی طاقت کے نشے میں اپنے آپے سے باہر رہتا ہے اس طرح سے دنیاوی حکمران سینکڑے ہی نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں سے جبر و ظلم سے دولت اکھٹی کرکے کو عیش و عشرت کرتے ہیں۔ آخرت عذاب پاتے ہیں۔ اس دنیا میں باتونی تو بہت ہیں مگر اسے کوئی چھوڑ نہیں سکتا۔ جیسے میٹھا مکھی کی موت کا باعثت بنتا ہے ۔ اسی طرح سے انسان کی موت روحانی واخلاقی دنیاو عیش و عشرت اور دنیاوی نعمتیں موت کا باعثت بنتی ہیں۔ اے خدا جنکا محافظ خدا ہوتا ہے یہ دنیاوی دولت کی محبت نزدیک نہیں آتی وہ اس دنیاوی زندگی کے سمندر کو کامیابی سے پار کر لیتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
اگم اگوچرُ توُ دھنھیِ سچا الکھ اپارُ ॥
توُ داتا سبھِ منّگتے اِکو دیۄنھہارُ ॥
جِنیِ سیۄِیا تِنیِ سُکھُ پائِیا گُرمتیِ ۄیِچارُ ॥
اِکنا نو تُدھُ ایۄےَ بھاۄدا مائِیا نالِ پِیارُ ॥
گُر کےَ سبدِ سلاہیِئےَ انّترِ پ٘ریم پِیارُ ॥
ۄِنھُ پ٘ریِتیِ بھگتِ ن ہوۄئیِ ۄِنھُ ستِگُر ن لگےَ پِیارُ ॥
توُ پ٘ربھُ سبھِ تُدھُ سیۄدے اِک ڈھاڈھیِ کرے پُکار ॥
دیہِ دانُ سنّتوکھیِیا سچا نامُ مِلےَ آدھارُ ॥੧੯॥
لفظی معنی:
اگوچر۔ بیان سے بعید۔ اگتم۔ انسانی عقل و ہوش سے بلند۔ دھنی ۔ مالک۔ سچا۔ صدیوی سچ ۔ الکھ ۔ سمجھ سے بعید۔ اپار۔ اتنا وسیع کہ کنارہ نہیں۔ داتا۔ سخی دینے والا۔ منگتے ۔ بھکاری ۔ دیونہار۔ سخاوت کی توفیق رکھنے والا۔ جنی ۔ جنہوں نے ۔ سیویا۔ خدمت کی۔ گرمتی ویچار۔ سبق مرشد کو سمجھ کر۔ بھاودا۔ اچھا معلوم ہوت اہے ۔ صلاحیئے ۔ تعریف کریں۔ ون پریتی ۔ بغیر پیار۔ بھگت۔ عبادت وریاضت ۔ ڈھاڑی ۔ گانیوالا۔ سنتو کھیا۔ صابر۔ آدھار۔ آسرا۔
ترجمہ:
اے انسان عقل و ہوش سے بعید بیان باہر سمجھ میں نہ آنیوالا لا محدود وسیع و بیشمار خدا تو سب کا ملاک ہے تو سخی ہے سارے بھکاری تو ہی دواحد ہستی ہے جو سب کو دینے کی توفیق رکھنے والا ہے ۔ ہر کہ خدمت کرد آدرام آرام و آسائش پائیا سبق مرشد کو سمجھ کر ۔ مگر ایک ایسے ہیں جنکو دنیاوی دولت سے محبت مگر یہی تیری رضا ہے ۔ سچے مرشد کے کلام کے ذریعے دل میں پیار پیدا کرکے ہی اے خدا تیری حمدوثناہ ہو سکتی ہے ۔ پریم پیار کے بغیر بندگی نہیں ہو سکتی۔ اور پیار ستگر بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اے خدا تو سب کا ہے سارے تیری بندگی یادوریاض کرتے ہیں دھاڈیبہی عرض گذارتا ہے کہ اپنا نام بخشش کر جس سے صابر ہو جاؤں اور نام سچ حق وحقیقت میرا آدھار مراد بنیاد اور آسرا ہو جائے ۔

سلوک مਃ੧॥
راتیِ کالُ گھٹےَ دِنِ کالُ ॥
چھِجےَ کائِیا ہوءِ پرالُ ॥
ۄرتنھِ ۄرتِیا سرب جنّجالُ ॥
بھُلِیا چُکِ گئِیا تپ تالُ ॥
انّدھا جھکھِ جھکھِ پئِیا جھیرِ ॥
پِچھےَ روۄہِ لِیاۄہِ پھیرِ ॥
بِنُ بوُجھے کِچھُ سوُجھےَ ناہیِ ॥
موئِیا روݩہِ روݩدے مرِ جاںہیِ ॥
نانک کھسمےَ ایۄےَ بھاۄےَ ॥
سیئیِ مُۓ جِنِ چِتِ ن آۄےَ ॥੧॥
لفظی معنی:
کال۔ موت ۔ چھجے کائیا۔ جسم۔ پرانا اور خستہ حال۔ کال۔ وقت۔ پرال۔ نکمی ۔ درتن درتیا ۔ قابل استعمال کیا۔ جنجال ۔ پھندہ ۔ بھلیا۔ گمراہ ہوا۔ تپ تال۔ عبادت۔ ریاضت کا طور طریقہ ۔ جھکھ جھکھ ۔ کھپ کھپ۔ جھیر ۔ جھگڑے ۔ تناسخ ۔ پس و پیش ۔ پچھے رو ویہہ۔ موت کے بعد روتے ہیں۔ پھر ۔ دوبارہ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ چت۔ دل ۔
ترجمہ:
ہر روز عمر گھٹتی ہے جسم بوسیدہ اور پرانا ہوتا جاتا ہے غرض یہ کی نکما ہو جاتا ہے ساری اشیا قابل استعمال ایک پھندہ ہو جاتے ہیں اس طرح سے گمراہ ہوا انسان بندگی عبادت و ریاضت کے طور طریقے بھول جاتا ہے ۔ بے علم اندھا انسان فضول کھپ کھپ کر مخمسے میں پڑ جاتا ہے ۔ مرنے پر اسے رونے ہیں کہ اسے دوبارہ لائیں۔ بغیر سمجھ کوئی راستہ یا طریقہ سمجھ نہیں آتا آخر مرنے والا تو مر گیا بعد میں اسکے پچھے رشتہ دار فضول روتے ہیں مگر اے نانک۔ خدا کو یہی منظور تھا اور اسکی رضا تھی ۔

مਃ੧॥
مُیا پِیارُ پ٘ریِتِ مُئیِ موُیا ۄیَرُ ۄادیِ ॥
ۄنّنُ گئِیا روُپُ ۄِنھسِیا دُکھیِ دیہ رُلیِ ॥
کِتھہُ آئِیا کہ گئِیا کِہُ ن سیِئو کِہُ سیِ ॥
منِ مُکھِ گلا گوئیِیا کیِتا چاءُ رلیِ ॥
نانک سچے نام بِنُ سِر کھُر پتِ پاٹیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
دیر ۔ دشمنی ۔ وادی ۔ چھگڑے ۔ ون ۔ رنگ ۔ روپ ونسیا۔ شکل وصور مٹی ۔ سر کھر ۔ سر سے پاؤں تک ۔ پت ۔ عزت پاٹی ۔ کتم ہوئی ۔ منمکھ گلا گوئیا۔ دل اور زبان سے باتیں کہیں۔ چاورلی ۔ موج مستی ۔
ترجمہ:
انسنا کی موت واقع ہونیسے ۔ محبت پیار ختمہو جاتا ہے دشمنی ختم ہو جاتی ہے جھگڑے مٹ جاتے ہیں رنگ اور شکل وسورت کتم ہو جاتی جسم سپردک خاک و آتش ہو جاتا ہے ۔ رشتہ دار دو اسطہ دار سوچتے ہیں اور باتیں کہ آخر کہاں سے آئیا کہاں گیا وہ ایسا تھا ایسا نہیں تھا اس میں عیب تھے یا نہیں ایسے اوصاف تھے اور خوشیوں میں زندگی بسر کی ۔مگر اے نانکسچے نام ست سچ حق وحقیقت کے بغیر سر سے پاؤں تک عزت و آبرو دریدہ ہے ۔

پئُڑیِ ॥
انّم٘رِت نامُ سدا سُکھداتا انّتے ہوءِ سکھائیِ ॥
باجھُ گُروُ جگتُ بئُرانا ناۄےَ سار ن پائیِ ॥
ستِگُرُ سیۄہِ سے پرۄانھُ جِن٘ہ٘ہ جوتیِ جوتِ مِلائیِ ॥
سو ساہِبُ سو سیۄکُ تیہا جِسُ بھانھا منّنِ ۄسائیِ ॥
آپنھےَ بھانھےَ کہُ کِنِ سُکھُ پائِیا انّدھا انّدھُ کمائیِ ॥
بِکھِیا کدے ہیِ رجےَ ناہیِ موُرکھ بھُکھ ن جائیِ ॥
دوُجےَ سبھُ کو لگِ ۄِگُتا بِنُ ستِگُر بوُجھ ن پائیِ ॥
ستِگُرُ سیۄے سو سُکھُ پاۓ جِس نو کِرپا کرے رجائیِ ॥੨੦॥
لفظی معنی:
سکھائی۔ ساتھی ۔ مددگار۔ بورانا۔ دیوناہ ۔ پاگل۔ ناوے سار۔ الہٰی نام۔ ست سچ حق وحقیقت کی خبر۔ سمجھ ۔ قدرومنزلت۔ پروان۔ منظور۔ قبول۔ جوتی جوت۔ نور سے نور۔ سو صاھب۔ جیسا مالک ۔ سو سیوک تیہا۔ ویسا ہی خدمتگار ۔ جس بھانا من وسائی ۔ جس نے الہٰی رجا و فرمان دل میں بسائیا ۔ اپنے بھانے اپنی رضا و مرضی کی مطابق۔ اندھا اندھ کمائی۔ عقل سے اندھے کے اعمال بلا سمجھ اندھے ۔ وکھیا۔ دنیاوی دولت۔ رجے ۔ تسکین ۔ صبر۔ دوجے ۔ دوئی ۔ دویت ۔ وگوتا۔ ذلیل وخوار۔ بوجھ ۔ سمجھ ۔ سیوے ۔ خدمت کرے ۔ رجائی۔ رضا کا مالک خدا۔
ترجمہ:
اے انسانوں آپ حیات نام جو روحانی و اخلاقی طور پر انسان کو راہ راست پر لاتا ہے جو ست سچ حق وحقیقت ہے انسانی زندگی کو آرام و آسائش پہنچانے والا ہے اور بوقت اخرت امدادی بنتا ہے ۔ مرشد کے بغیر سارا عالم دیوناہ ہو رہا ہے کیونکہ مرشد کے بغیر الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی قدر و منزلت کی سمجھ نہیں آتی۔ جوشخص مرشد کی خدمت کرتا ہے ۔ وہی منظور و مقبول و خدا ہوتا ہے جس نے نور سے نور ملائیا ہے ۔ جو اپنی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے کس نے آرام آسائش پائیا ہے ۔ جیسا مالک ویسا ہی اسکا خادم جس نے فرمان و رضا دلمیں بسائیا جیسے ہر کہ خدمت کرو اور مخدوم شدہر کہ خودداریدار اور محروم جس نے خدمت کی وہ خدمت کروناے والا ہو گای جس نے خود پسندی کی کالی رہ گیا بوستان سعدی ۔ دنیاوی دولت سے کبھی صبر نہیں ہوتا بد عقل کی کبھی بھوک ختم نہیں ہوتی ۔ عقل سے خالی اندھا انسان اندہوں والے کام کرتا ہے دوئی دویت اور میری میری کرنیوالا اس میں ملوث ہر ایک ذلیل وخوار ہوتا ہے ۔ بغیر مرشد سچے اسکی سمجھ نہیںآتی ۔ جس پر رضا و فرمان کے مالک خدا کی کرم فرمائی ہوتی ہے وہ خدمت مرشد کرتا ہے وہ آرام و آسائش پاتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
سرمُ دھرمُ دُءِ نانکا جے دھنُ پلےَ پاءِ ॥
سو دھنُ مِت٘رُ ن کاںڈھیِئےَ جِتُ سِرِ چوٹاں کھاءِ ॥
جِن کےَ پلےَ دھنُ ۄسےَ تِن کا ناءُ پھکیِر ॥
جِن٘ہ٘ہ کےَ ہِردےَ توُ ۄسہِ تے نر گُنھیِ گہیِر ॥੧॥
لفظی معنی:
سرم ۔ جہد۔ ترود۔ محنت و مشقت۔ سرم ۔ شرم ۔ حیا۔ اے نانک ۔ اگر دولت ہو دامن ۔ نام الہٰی سچ حق وحقیقت کی جو ست ہے صدیوی ہے تو عزت و حیا بر قرار رہتی ہے ۔ سودھن اس دولت کو متر دوست کاڈھیئے کہا جاتا ۔ جت ۔ جس سے ۔ فقیر ۔ بھکاری ۔ پروے ۔ دلمیں ذہن میں۔ گنی گہیر۔ گہرے اوصاف والے ۔
ترجمہ:
اے نانک۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر دولت نصیب ہو جائے تو عزت بر قرار رہتی فرض ادا کیے جاس کتے ہیں مگرا یسی دولت دوست یا مددگار نہیں کہلاتی جس کی وجہ سے سزا ملتی ہے جس کے پاس ایسی دولت ہے وہ روحانی اور اخلاقی طور پر بھکاری نہیں اے خدا جنکے دامن تو بستا ہے وہ انسان گہرے اوصاف والے ہیں۔

مਃ੧॥
دُکھیِ دُنیِ سہیڑیِئےَ جاءِ ت لگہِ دُکھ ॥
نانک سچے نام بِنُ کِسےَ ن لتھیِ بھُکھ ॥
روُپیِ بھُکھ ن اُترےَ جاں دیکھاں تاں بھُکھ ॥
جیتے رس سریِر کے تیتے لگہِ دُکھ ॥੨॥
لفظی معنی:
دکھی ۔ محبت و مشقت کے عذاب سے ۔ دنی ۔ سرمایہ ۔ سیڑیئے ۔ اکٹھی کی جاتی ہے ۔ جائے ۔ اگر چلی جائے ۔ سچے نام بن ۔ الہٰی نام کے بغیر۔ کتھی ۔ دور ہوئی ۔ مٹی ۔ روپی ۔ خوبصورتی ۔ رس۔ لطف۔ تیتے ۔ اتنے ۔
ترجمہ:
عذاب برداشت کرکے محبت و مشقت سے دولت اکھٹی کیجاتی ہے ۔ جب چلا جاتا ہے تب بھی عذا ب محسوس ہوتا ہے ۔ اے نانک الہٰی سچے نام ست سچ حق وحقیقت اپنائے بگیر کسی کی بھوک دور نہیں ہوتی ۔ جب ویکھتے ہیں تو مزید بھوک لگتی ہے ۔ جسمانی طور پف جتنے لطف و مزے ہیں اتنے ہی مزید دکھ تکلیف آتی ہے ۔

مਃ੧॥
انّدھیِ کنّمیِ انّدھُ منُ منِ انّدھےَ تنُ انّدھُ ॥
چِکڑِ لائِئےَ کِیا تھیِئےَ جاں تُٹےَ پتھر بنّدھُ ॥
بنّدھُ تُٹا بیڑیِ نہیِ نا تُلہا نا ہاتھ ॥
نانک سچے نام ۄِنھُ کیتے ڈُبے ساتھ ॥੩॥
لفظی معنی:
اندھی کمی ۔ وہ کام جو بلا سوچے سمجھے کئے جانیں۔ اندھا من۔ دل بھی نہیں سوچتا سمجھتا ۔ مراد بے سمجھ ۔ تن ۔ اندھ ۔ تن اندھ ۔ جسمانی ہوش نہیں رہتی ۔ چکڑ لایئے کیا تھیئے ۔ مٹی لگانے سے کیا ہوتا ہے ۔ جاں ۔ جب اتٹے پتھر بند۔ جب پتھروں سے تیار کیا بندھ ٹوٹ جائے ۔ بیڑی ۔ کشتی ۔ تلہا ۔ عارضی کشتی ۔ ہاتھ ۔ گہرائی کا اندازہ ۔ کیتے ۔ کتنے ۔ ساتھ ۔ قافلے ۔ گروہ ۔
ترجمہ:
بغیر سوچے سمجھے کام کرنے سے من بے سمجھ ہو جاتا ہے من کی بے سمجھی کی وجہ سے عاضائے احساس بھی سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ لہذا جیسے جب پتھروں سے تیار کیا ہوا باندھ ٹوٹ جائے تو مٹی کے پشتے بنانے سے کیا ہوتا ہے ۔ جب شیطانیت کا بہاؤ یا سیلاب پختہ یقین ایمان بلاوے تو ثواب و سخاوت وغیرہ دل کو ڈگمگانے سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ جبکہ گہرائی کا بھی اندازہ نہیں۔ اے نانک۔ سچے نام جو صدیوی ہے سچ ہے حق ہے اور حقیق ہے کتنے ہی قافلے اور گروہ ختم ہو گئے ۔

مਃ੧॥
لکھ منھ سُئِنا لکھ منھ رُپا لکھ ساہا سِرِ ساہ ॥
لکھ لسکر لکھ ۄاجے نیجے لکھیِ گھوڑیِ پاتِساہ ॥
جِتھےَ سائِرُ لنّگھنھا اگنِ پانھیِ اسگاہ ॥
کنّدھیِ دِسِ ن آۄئیِ دھاہیِ پۄےَ کہاہ ॥
نانک اوتھےَ جانھیِئہِ ساہ کیئیِ پاتِساہ ॥੪॥
لفظی معنی:
رپا۔ چاندی ۔ ساہا ۔ سر ساہ۔ (شہنشاہ ) چیدہ شاہوکار۔ لشکر۔ فوج۔ لکھی گھوڑی ۔ پاتاسا۔ لاکھوں گھورون والا بادشاہ۔ سایہ ۔ سمندر۔ اسگاہ ۔ اندازے سے باہر۔ گندمی ۔ کنارہ ۔ دھاہی ۔ آہ وزاری ۔ گہاہ ۔ گندھی ۔ ۔ کنارہ ۔ دھاہی ۔ آہ و زاری ۔ گہا ۔ ہائے ہائے کا شعور وغل۔ اوتھے ۔ وہاں۔ ساہ کیئی پاتساہ ۔ کونسا شاہور اور کونسا بادشاہ ہے ۔
ترجمہ:
اگر کسی کے پاس لاکھوں من ہو سانا لکھوں ہی من ہو چاندی اور شاہوکاروں سے برا ہو شاہو کار لاکھوں لشکر اور ہوں فوجوں اور اسلحہ بھی ہو بیشمار بابے ہو بجتے اور نیزے بردار لاکھوں گھوڑوں والا ہو بادشاہ۔ مگر جس سمندر کو پار کرنا ہے وہاں آگ پانی نہایت گہر سمندر جیسے پار کرنا جسکا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا جہان آہ وزاری کا شوروغل ہو رہا ہے ۔ اے نانک۔ وہان تمیز کیجاتی ہے کونسا دولتمند ہے کونسا بادشاہ ہے (مراد) دنیاوی بادشاہت اور شاہوکار برائیوں اور بدکاریوں کی آگ میں جلنے سے اور بہروں میں ڈوبنے سے بچا نہیں سکتی دولت اور بادشاہت نہ آہ وزاری مٹتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
اِکنا گلیِں جنّجیِر بنّدِ ربانھیِئےَ ॥
بدھے چھُٹہِ سچِ سچُ پچھانھیِئےَ ॥
لِکھِیا پلےَ پاءِ سو سچُ جانھیِئےَ ॥
ہُکمیِ ہوءِ نِبیڑُ گئِیا جانھیِئےَ ॥
بھئُجل تارنھہارُ سبدِ پچھانھیِئےَ ॥
چور جار جوُیار پیِڑے گھانھیِئےَ ॥
نِنّدک لائِتبار مِلے ہڑ٘ہ٘ہۄانھیِئےَ ॥
گُرمُکھِ سچِ سماءِ سُ درگہ جانھیِئےَ ॥੨੧॥
لفظی معنی:
گلی زنجیر ۔ گلے طوق۔ بند۔ قید۔ بدھے ۔ غلام ۔ چھٹیہہ۔ نجات پاتے ہیں۔ سچ۔ سچ حقیقت اور خدا سچ پچھانیئے ۔ اصلیت کو سمجھ کر۔ حکم ۔ فرمان ۔ رضا ۔ نیڑ ۔ فیصلہ ۔ گیئیا۔ جانے پر۔ تارنہار۔ عبور کرنے کی ۔ توفیق رکھنے والا۔ چار۔ بد اخلاق۔ جوآر۔ جوا کھیلنے والے ۔ پیڑے گھانیئے ۔ سخت عذاب دیا جاتا ہے ۔ نندک ۔ بدگوئی کرنے والا۔ لا عتباد ۔ چغل کور پڑانیئے ۔ ہتھکڑی ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ سچ خدا۔ سمائے ۔ محو ومجذوب۔ درگیہہ۔ عدالت۔
ترجمہ:
ایک ایسے جنکے گلے مین الہٰی طوق ہوتا ہے وہ الہٰی قید مین ہیں۔ مراد وہ دنیاوی دولت کی محبت کا طوق انکے گلے میں ہے ۔ انکو سچ حقیقت اور اصلیت کو سمجھ کر پہچان کرنے سے نجات حاصل ہوتی ہے جیسا اسکے اعمالنامے میں تحریر ہوتا دستیاب ہوتا ہے اسے حقیقت سمجہو ۔ الہٰی فرمان و رضا سے فیصلہ ہوتا ہے اسکی سمجھ بوقت اخرت آتی ہے ۔ کلام اس دنیاوی زندگی کے خوفناک سمند کو عبور کرانی کے توفیق رکھتا ہے اسے پہچان ۔ چور۔ بد اخلاق بدقماش ۔ جو ا کھیلنے والے کو سخت عذاب ملیگا ۔ بد گوئی کرنے والے چغل خور دنیاوی زندگی کے سیلاب میں بیہہ جائینگے ۔ مریدان مرشد خدا میں محو ومجذب رہتے ہیں بارگاہ خدا میں قدرومغزلت پائیں گے ۔

سلوک مਃ੨॥
ناءُ پھکیِرےَ پاتِساہُ موُرکھ پنّڈِتُ ناءُ ॥
انّدھے کا ناءُ پارکھوُ ایۄےَ کرے گُیاءُ ॥
اِلتِ کا ناءُ چئُدھریِ کوُڑیِ پوُرے تھاءُ ॥
نانک گُرمُکھِ جانھیِئےَ کلِ کا ایہُ نِیاءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
فقیرے ۔ بھکاری۔ مورکھ ۔ بیوقوف ۔ پنڈت۔ عالم ۔ اندھے ۔ بے علم ۔ پارکھو۔ تمیز کرنیوالا ۔ ایوئے ۔ اس طرھ سے ۔ گوآؤ ۔ گفتگو۔ بات چیت۔ بیان ۔ علت ۔ شرارت۔ چوہدری ۔ معتبر۔ کوڑی ۔ جھوٹی ۔ پورے تھاؤ۔ رہبر بنتی ہے ۔ گورمکھ ۔ جانیئے ۔ مرید مرشد سمجھتا ہے ۔ نیاؤ ۔ انصاف۔
ترجمہ:
فقیر کو شاہ کہتے ہیں بیوقوف کو عالم بے علم کو پار کھونیک و بد کی تمیز کرنیوالا۔ اس طرح بیان کرتے ہیں ۔ شرارتی کوچہداری ۔ جھوٹی عورت رہبر بنتی ہے ۔ اے نانک مرشد کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ اس جھگڑے جدال کے دور میں یہ انصاف ہے ۔

مਃ੧॥
ہرنھاں باجاں تےَ سِکداراں این٘ہ٘ہا پڑ٘ہ٘ہِیا ناءُ ॥
پھاںدھیِ لگیِ جاتِ پھہائِنِ اگےَ ناہیِ تھاءُ ॥
سو پڑِیا سو پنّڈِتُ بیِنا جِن٘ہ٘ہیِ کمانھا ناءُ ॥
پہِلو دے جڑ انّدرِ جنّمےَ تا اُپرِ ہوۄےَ چھاںءُ ॥
راجے سیِہ مُکدم کُتے ॥
جاءِ جگائِن٘ہ٘ہِ بیَٹھے سُتے ॥
چاکر نہدا پائِن٘ہ٘ہِ گھاءُ ॥
رتُ پِتُ کُتِہو چٹِ جاہُ ॥
جِتھےَ جیِیا ہوسیِ سار ॥
نکیِ ۄڈھیِ لائِتبار ॥੨॥
لفظی معنی:
مکداراں ۔ تعلقہ دار۔ پڑھیا۔ سدھائیا ہوا۔ بھاندی ۔ پھندہ ۔ جال۔ جات۔ ہم جنس۔ پھہائین۔ پھناتے ہیں۔ اگے بوقت عاقبت ۔ تھاو۔ ٹھکانہ ۔پنڈت ۔ عالم۔ بینا۔ دور اندیش ۔ کماناوں ۔ جو ست سچ حق وحقیقت پر عمل کرتے ہیں۔ پہلے زمین میں بنیاد جڑ پیدا جوتی ہے ۔ تبھی اوپر خجر کا سایہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس طرح سے پہلے روح و ذہن روحانی واخلاقی کردار سے پاک ہو تبھی بیرونی سکون و آسائش حاصل ہوتی ہے ۔ اب اسے زمانے میں مانند شیریں۔ مقدم۔ مصاحب۔اہکار ۔ چاکر۔ نوکر۔ نہد پائن گھاؤ۔ ناخنوں سے رخم بناتے ہیں۔ رت پت۔ کو ن اور مجھ ۔ جتھے جیاں ہوسی سار۔ جہاں لوگ بیدار ہونگے اور خبر گیری یا سنبھال ہوگی ۔ نکیں ۔ وڈین لااعتبار ۔ ۔ وہاں بے اعتبار شخصوں کے نام کاٹے جاتے ہیں مراد شرمندہ کیا جاتا ہے ۔
ترجمہ:
ہرن باج علاقہ کا تعلق دار یا سردار کو عالم لوگ پڑھے یا سدھائے ہوئے کہتے ہیں مگر یہ پڑھائی کیا ہے جہاں پھندہ یا جال لگا ہوتا ہے وہاں پھنساتے ہیں اپنے ہم نس ہاتھون کو لہذا ایسے پڑھے ہوئے خدا کے گھر قبول نہیں ہوتے انہیں ٹھکانہ نہیں ملتا۔ خواندہ اور عالم وہی شخس ہے اور وہی دور اندایش ہے جو الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کے پابندیں اور انموری کماتے ہیں ۔پہلے زمین جڑ بنتی ہے تب ہی ساریہ دار شجر بنتا ہے ۔ لہذا پہلے قلب کی صفائی کا بیج بویا جاتا ہے مراد الہٰی نام کی حقیقت دلمیں بستی ہے جس سے روحانیت پودا بڑا ہوتا ہے جس سے زندگی پائیدار نامور اور قابل احترام بنتی ہے ۔ مگر اس زمانے مین حکمران جنگل کے شیر کی مانند ہیں اور اہلکار اور امراو و زرا ان کتوں کی مانند ہیں جو سوئے ہوئے بیٹھے ہوئے کو جاوبو چتے ہیں ملازم پہلے ناخنوں سےنوچ کر زخم بناتے ہیں اور خون پیتے ہیں جہاں لوگ ہوشیار و بیدار ہوتے ہیں وہاں رشوت خوروں اور بدکرداروں کی بدنامی ہوتی ہے اور ذلیل خوآر ہوتے ہیں ۔

پئُڑیِ ॥
آپِ اُپاۓ میدنیِ آپے کردا سار ॥
بھےَ بِنُ بھرمُ ن کٹیِئےَ نامِ ن لگےَ پِیارُ ॥
ستِگُر تے بھءُ اوُپجےَ پائیِئےَ موکھ دُیار ॥
بھےَ تے سہجُ پائیِئےَ مِلِ جوتیِ جوتِ اپار ॥
بھےَ تے بھیَجلُ لنّگھیِئےَ گُرمتیِ ۄیِچارُ ॥
بھےَ تے نِربھءُ پائیِئےَ جِس دا انّتُ ن پاراۄارُ ॥
منمُکھ بھےَ کیِ سار ن جانھنیِ ت٘رِسنا جلتے کرہِ پُکار ॥
نانک ناۄےَ ہیِ تے سُکھُ پائِیا گُرمتیِ اُرِ دھار ॥੨੨॥
لفظی معنی:
میدنی ۔ زمین۔ سار ۔ سنبھال ۔ خبر گیری ۔ بھے ۔ خوف۔ بھرم۔ بھٹکن۔ وہم و گمان۔ نام نہ لگے پیار۔ حقیقت و اصلیت سے پیار پیدا نہیں ہوتا۔ بھؤ۔ پیار۔ اپجے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ موکھ دوآر۔ راہ نجات۔ سہج۔ سکون ۔ مستقل مزاجی۔ ار۔ دل ۔ ذہن۔ جوتی جوت۔ نور سے نور۔ اپار۔ لا محدود۔ گرمتی وچار۔ سبق مرشد کو سمجھ کر۔ بھے تے نربھے ۔ خوف سے بیخوفی ۔ انت۔ آخر۔ پارادار۔ کنارے ۔ سار۔ قدر و قیمت ۔ ترشنا۔ پیاس۔ پکار۔ آہ و زاری ۔ اردھار۔ دلمیں بسا کر۔
ترجمہ:
خدا نے خود یہ عالم اور زمین پیدا کی ہے اور خود ہی اسکی سنبھال اور خبر گیری کرتا ہے ۔ خوف کے بغیر بھٹکن اور وہم و گمان مٹتے نہیں۔ نہ ہی سچ و حقیقت سے پیار بنتا ہے ۔ خوف سے سکون اور مستقل مزاجی پیدا ہوتی ہے ۔ اس لا محدود الہٰی نور سے نور کے ملاپ سے ۔خوف سے اس خوفناک زندگی کے سمندر کو سبق مرشد کو سمجھ کر پار کیا جاسکتا ہے ۔ خوف سے ہی بیخوفی پیدا ہوتی ہے ۔ جسکا نہ آخر ہے نہ کنارا۔ مریدن من کو خوفکی قدرومنزلت کی قدر نہیں وہ خواہشات کی آگ میں جلتا ہوآ آہ و زاری کرتا ہے ۔ اے نانک نام سچ و حقیقت سے ہی سبق مرشد کو دلمیں بسا کر آرام و آسائش پائیا جاتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
روُپےَ کامےَ دوستیِ بھُکھےَ سادےَ گنّڈھُ ॥
لبےَ مالےَ گھُلِ مِلِ مِچلِ اوُݩگھےَ سئُڑِ پلنّگھُ ॥
بھنّئُکےَ کوپُ کھُیارُ ہوءِ پھکڑُ پِٹے انّدھُ ॥
چُپےَ چنّگا نانکا ۄِنھُ ناۄےَ مُہِ گنّدھُ ॥੧॥
لفظی معنی:
خوبصوری اور شہوت کا بھکمے ساوے ۔ بھوک اور لطف آپس میں رشتہ ہے ۔ گنڈھ ۔ رشتہ یا سمبندھ ۔ بے مالے ۔ لالچ اور دولت کا۔ گھل مل۔ آپس میں اک مک۔ مچل۔ یکسو۔ اوتگمے ۔ انیندا۔ سونے والا۔ سوڑ ۔ تنگ ۔ پلنگ ۔ چارپائی۔ بھونکے ۔ بکواس۔ فضول بولنا۔ کوپ ۔ غصے ۔خوار۔ ذلیل۔ پھکڑ۔ بیوقوف ۔ جاہل ۔ بے علم ۔ پٹے اندھ ۔ اندھا بیوقوف ۔ بے عقل پیتتا ہے ۔ چپے ۔ کاموشی ۔ گندھ ۔ گندے ۔
ترجمہ:
خوبصورتی اور شہوت بھوک اور لطف آپس میں دوستی ہے اللچ اور دولت کا آپس میں مکمل ملاپ اور یکسوئی ۔ اونگھائے یا نیندے آدمی کے لئے تنگ جگہ ہی یلنگ یا چارپائی ہے ۔ غصے میں انسان زیادہ بولتا ہے اور بد زبانی کرکے ذلیل وخوار ہوتا ہے ۔ بیوقوف جہالت اور لا علمی کی وجہ سے پیتتا ہے ۔ اے نانک خاموشی اچھی ہے اور نام سچ حق وحقیقت اور ست کے بغیر منہ سے بد کالامی کی بد بو آتی ہے ۔

مਃ੧॥
راجُ مالُ روُپُ جاتِ جوبنُ پنّجے ٹھگ ॥
اینیِ ٹھگیِں جگُ ٹھگِیا کِنےَ ن رکھیِ لج ॥
اینا ٹھگن٘ہ٘ہِ ٹھگ سے جِ گُر کیِ پیَریِ پاہِ ॥
نانک کرما باہرے ہورِ کیتے مُٹھے جاہِ ॥੨॥
لفظی معنی:
راج۔ حکومت۔ حکمرانی ۔ مال۔ دولت۔ سرمایہ۔ روپ ۔ خوبصورتی ۔ جات۔ اونچا خاندان۔ جوبن ۔ جوانی ۔ اپنی ۔ انہوں نے ۔ ٹھگ و ہوکے باز۔ جگ ۔ عالم ۔ لج ۔ شرم ۔ حیا۔ اپنا ٹھگن ٹھگ سے ۔ ان دہو کے بازوں کو وہ دہوکا دیتے ہیں۔ گر کی پیری پاہے ۔ جو مرشد کے پاؤں پڑتے ہیں۔ کرما باہرے ۔ بد نصیب ۔ بد قسمت ۔ بیبھاگ۔ کیتے ۔ کتنے ہی ۔ ستھے ۔ لٹے ۔ لوٹے ۔ جاہے ۔ جاتے ہیں۔
ترجمہ:
حکمرانی دولت خوبصورتی اور بلند خاندانی اور جوانی پانچوں دہوکا دینے والے ٹھگ ہیں ان دہوکا با زٹھگوں نے سارے عالم کو ٹھگ لیا ہے کسی نے بھی ان سے اپنی عزت نہیں بچائی ۔ مگر ان کو وہ ٹھگ ٹھگ لیتے ہیں جو پائے مرشد پڑتے ہیں۔ اے نانک۔ اسکے علاوہ کتنے ہی بے نصیب بے بھاگ ہیں جو لٹ رہے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
پڑِیا لیکھیدارُ لیکھا منّگیِئےَ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ کوُڑِیارُ ائُکھا تنّگیِئےَ ॥
ائُگھٹ رُدھے راہ گلیِیا روکیِیا ॥
سچا ۄیپرۄاہُ سبدِ سنّتوکھیِیا ॥
گہِر گبھیِر اتھاہُ ہاتھ ن لبھئیِ ॥
مُہے مُہِ چوٹا کھاہُ ۄِنھُ گُر کوءِ ن چھُٹسیِ ॥
پتِ سیتیِ گھرِ جاہُ نامُ ۄکھانھیِئےَ ॥
ہُکمیِ ساہ گِراہ دیݩدا جانھیِئےَ ॥੨੩॥
لفظی معنی:
پڑھیا۔ پڑھا ہوا۔ لیکدار۔ حساب رکھنے والا۔ منیم ۔ محاسب ۔ اکاوشنٹ ۔ لیکھا ۔ حساب ۔ سنیگئے ۔ مانگا۔ جاتا ہے ۔ بن ناوے ۔ الہٰی نام یا حقیقت کے بگیر۔ کوڑیار۔ کافر۔ جھوٹا۔ اوکھا ۔ شکل۔ گیلیے ۔ دشواری ۔ اوگھٹ ۔ دشوار۔ ردے ۔ روکے ۔ راہ ۔ راستے ۔ سچا پیرا وہ ۔ صدیوی بے محتاج ۔ سبد ۔ سبق ۔ کلام۔ ہاتھ ۔ اندازہ ۔ گہر ۔ گہری سوچ سو مجھ کا مالک ۔ گنبھیر ۔ مستقل مزاج۔ اتھاہ ۔ اندازے اور شمار سے بعد۔ موہے مہ ۔ منہ پر سامنے ۔ چوٹاں ۔ سزا۔ بن گر۔ بغیر مرشد ۔ چھٹسی ۔ نجات۔ پت سیتی ۔ باعزت ۔ نام وکھانیئے ۔ الہٰی نام حقیقت کہہ کر۔ ساہ۔ سانس ۔ گراہ ۔ لقمہ ۔ ویندا جانیئے ۔د ینے والے کو سمجہو۔
ترجمہ:
محاسب خوا ہ خواندہ ہو حساب اس سے بھی لیا جاتا ہے ۔ بگیر الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے بگیر کافر جھوٹا دشوار پات اہے اور دشوار رہتا ہے ۔ زندگی کی راہیں دشوار ہو جاتی ہیں رک جاتی ہیں کدا بے محتاج ہے اسکے کلام سے صبر ملتا ہے انسان صابر ہو جاتا ہے ۔ خدا کہری سوچ و سمجھ والا سنجیدہ اور انازے اور شمار سے باہر بیشمار اسکا اندازہ یا شمار نہیں ملتا ۔ مرشد کے بغیر کسی کو نجات حاصل نہیں ہوتی ۔ جو الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کہتا ہے بوقت اخرت عزت و ناموری پات اہے ۔ یہ سمجھ لو زندگی اور روزی یا لقمہ خدا کے زیر رضا و فرمان ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
پئُنھےَ پانھیِ اگنِ جیِءُ تِن کِیا کھُسیِیا کِیا پیِڑ ॥
دھرتیِ پاتالیِ آکاسیِ اِکِ درِ رہنِ ۄجیِر ॥
اِکنا ۄڈیِ آرجا اِکِ مرِ ہوہِ جہیِر ॥
اِکِ دے کھاہِ نِکھُٹےَ ناہیِ اِکِ سدا پھِرہِ پھکیِر ॥
ہُکمیِ ساجے ہُکمیِ ڈھاہے ایک چسے مہِ لکھ ॥
سبھُ کو نتھےَ نتھِیا بکھسے توڑے نتھ ॥
ۄرنا چِہنا باہرا لیکھے باجھُ الکھُ ॥
کِءُ کتھیِئےَ کِءُ آکھیِئےَ جاپےَ سچو سچُ ॥
کرنھا کتھنا کار سبھ نانک آپِ اکتھُ ॥
اکتھ کیِ کتھا سُنھےءِ ॥
رِدھِ بُدھِ سِدھِ گِیانُ سدا سُکھُ ہوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
پونے ۔ہوا۔ اگنی ۔ آگ۔ جیؤ۔ روح ۔ دھرتی ۔ زمین ۔ پاتال۔ زیر زمین۔ آکاس۔ آسمان۔ عارجا ۔ عمر۔ جہیر۔ دکھی ۔ تکھٹے ۔ کمی واقع نہیں ہوتی ۔ فقیر ۔ بھکاری ۔ سابے ۔ پیدا کرے ۔ ڈھاہے ۔ مٹائے ۔ چسے ۔ تھوڑے سے وقفے میں۔ نتھے ۔ قابو۔ نتھ ۔ غلامی ۔ ورنا چہنا ۔ شکل و صور اور نشانوں سے باہر۔ لیکھے باجھ ۔ جسکا حساب تحریر نہیں۔ بغیر اعمالنامے ۔ الکھ ۔ بے حسابا۔ کھیئے ۔ کہیں۔ آکھیئے ۔ صلاحتا کریں۔ جاپے ۔ جایا یا سمجھا جاتا ہے ۔ سچو سچ۔ مکمل حقیقت ۔ کار۔ کام ۔ آپ اکتھ ۔ خود بیان سے باہر۔ اکتھ کی کتھا۔ بیان سے باہر کی بابت بیان۔ ردھ ۔ کراماتی طاقت ۔ بدھ ۔ عقل وشعور ۔ سدھ ۔ روحانی و اخلاقی زندگی گذارنے کا طریقہ ۔ گیان ۔ علم ۔ تعلیم ۔
ترجمہ:
خدا نے ہوا پانی اور آگ وغیرہ مادیات کے ملاپ سے اور اس مین روح پھونک کر یہ ہستی پیدا کی ہے لہذا اسے از خود خوشی ااور غمی بے معنی ہے ۔ مگر حالات سب کے جدا جدا ہیں کوئی زمین پر کوئی زمین اہ رکوئی اسمان پر مراد کوئی حکمران اور کوئی وزیر اور کوئی بھکاری ہے ۔ ایک لمبی عمر والے اور ایک چھوٹی عمر والے ۔ ایک آسان زندگی گذارتے ہیں ایک عذاب میں مرتے ہیں۔ ایک دوسروں کو کھانیکے لیے دیتے ہیں اور کمی نہیں رہتی اور ایک ہمیشہ بھیک مانگتے ہیں بھکاری ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں پیدا کر دیتا ہے اور لاکھوں میں ختم کر دیتا ہے ۔ اپنے فرمان سے ۔ سب کو اپنی رضا و فرمان میں غلام پائیا جس پر کرم و عنایت ہوتی ہے آزادی کر دیتا ہے ۔ مگر خود حساب سے باہر نہ کوئی نشانی ہے مگر ہر جگہ ہ ستا محسوس ہوتا ہے ۔ اے نانک ۔ کار اوبیان سبھ کارخدا کی ہیں کیں وجہ سے کریں بیان اسے جب سب جگہ حقیقت اسکی سمجھ میں آتی ہے ۔ اے نانک خود بیان سے باہر ہے ۔ جو شخس اس لابیان کا بیان سنتا ہے وہ بلند ہوش و سمجھ کا مالک ہو جاتا ہے الہٰی علم سے روحانی واخلاقی زندگی سے روشناش ہوجاتا ہے اور ہمیشہ آرام و اسائش پاتاہے ۔

مਃ੧॥
اجرُ جرےَ ت نءُ کُل بنّدھُ ॥
پوُجےَ پ٘رانھ ہوۄےَ تھِرُ کنّدھُ ॥
کہاں تے آئِیا کہاں ایہُ جانھُ ॥
جیِۄت مرت رہےَ پرۄانھُ ॥
ہُکمےَ بوُجھےَ تتُ پچھانھےَ ॥
اِہُ پرسادُ گُروُ تے جانھےَ ॥
ہوݩدا پھڑیِئگُ نانک جانھُ ॥
نا ہءُ نا مےَ جوُنیِ پانھُ ॥੨॥
لفظی معنی:
احر۔ ناقابل برداشت ۔ حیرے ۔ برداشت کرے ۔ نؤ کل۔ جسم کے دروازے ۔ بندھ ۔ رکاوت ۔ ذہن میں ۔ سانس ۔ پوبے پران ۔ ذہنی پرستش ۔ تھر کندھ ۔ جسمانی مستقل مزاجی ۔ نہ ڈگمگانے والا جسم۔ جیوت مرت رہے پروان ۔ نفسانی خواہشات کتم کرنے پر منظور خدا ہوتا ہے ۔ حکمے لوجھے ۔ اگر رضا و فرمان الہٰی سمجھے ۔ تت پچھانے ۔ حقیقت سمجھے ۔ ایہہ برساد۔یہ رحمت سے ۔ جانے ۔ سمجھ آتی ہے ۔ پڑیگ ۔ پکڑا جائیگا۔ ہوندا۔ خوددار۔ خودی پسند۔ جو اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے ۔ جونی پان ۔ تناسخ پات اہے ۔
ترجمہ:
جب انسان اس حالت پر قابو پا لیتا ہے جو ناقابل برداشت کر لیتا ہے تو نفساتی اعضا پر قاب پا لیتا ہے ۔ جب ہر سانس یاد خدا کو کرتا ہے تو جسم پائیدا ہوجاتا ہے ۔ انسان کہاں سے آئای ہے اور کہاں جائیگا۔ اگر اسکو سمجھ کر نفساتی خواہشات پر قابو پاکر منظور محبوب خدا ہو جاتا ہے مراد جیہرتے اپجیو نالکا لین تانہے مینہ ۔ مان جو رضا و فرمان خدا سمجھتا ہے اور حقیقت و اصلیت کی پہچان کرتا ہے ۔ اسکا میتہ رحمت مرشد سے چلتا ہے ۔ جو اپنی ہستی کا غرور کرتا ہے سمجھ لو کہ وہ بارگاہ کدا میں گرفتار ہو جائیگا۔ جس میں نہ غرور نہ ملکیت کی ملکیت وہ تناسخ نہ پائیگا۔

پئُڑیِ ॥
پڑ٘ہ٘ہیِئےَ نامُ سالاہ ہورِ بُدھیِ مِتھِیا ॥
بِنُ سچے ۄاپار جنمُ بِرتھِیا ॥
انّتُ ن پاراۄارُ ن کِن ہیِ پائِیا ॥
سبھُ جگُ گربِ گُبارُ تِن سچُ ن بھائِیا ॥
چلے نامُ ۄِسارِ تاۄنھِ تتِیا ॥
بلدیِ انّدرِ تیلُ دُبِدھا گھتِیا ॥
آئِیا اُٹھیِ کھیلُ پھِرےَ اُۄتِیا ॥
نانک سچےَ میلُ سچےَ رتِیا ॥੨੪॥
لفظی معنی:
ہور بدھین متھیا۔ دوسری سوچیں جھوٹی ہیں۔ برتھیا۔ بیفائدہ ۔ بیکار ۔ انت ۔ اخر۔ پاراوار ۔ کنارہ ۔ گربھ ۔ غرور۔ سچ حقیقت ۔ خدا۔ بھائیا۔ پیارا۔ نام وسار۔ حقیقت بھال کر ۔ تاون ۔ تتیا۔ تلے جاتے ہیں۔ دبھا ۔ دوچتی ۔ دوعقلی ۔ پھرے اوتیا۔ اوبڑا پھرتا ہے ۔ گمراہ رہتا ہے ۔ مخالفت سمت ۔ الٹ ۔ مخالف ۔ غلط راستے ۔ سچے میل ۔ خدا سے ملاپ ۔ سچے رتیا۔ خدا میں محو مجزوب ہوئے میں۔
ترجمہ:
الہٰی حمد و ثناہ ہی کرنی چاہیے دوسری سوچ سمجھ جھوٹی اور فضول ہے ۔ بغیر خدا کی نام ست سچ حق وحقیقت کی خرید و فروخت مراد کود اپنانے اور دوسروں کو اپنانے کی تلقین کرنے کے یہ زندگی بیکار ہے ۔ خدا کی آخر اور کنارہ کسی کو نہیں ملا۔ سارا عالم غرور کے اندھیرے میں ہے اس لیے سچ اور حقیق کو اچھی نہیں سمجھتے ۔ جو سچ وحقیقت بھلا کر زندگی گذارتے ہیں ۔ تلو کی مانند کو بلو میں پیے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ سخت عذاب پاتے ہین اس کے علاوہ مزید خواہشات کی آگ جلتی پر دویت دوچتی کا تیل پانے پر جلتے ہیں ۔ حتی کہ تمام عمر ؐکالف سوچ اور چال چلن کی وجہ سے غلط راہ اور بھٹکن میں گذر جاتی ہے ۔ اے نانک۔ خدا سچ حق وحقیقت اپنائے سے ہی خدا سے ملاپ ہوتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
پہِلاں ماسہُ نِنّمِیا ماسےَ انّدرِ ۄاسُ ॥
جیِءُ پاءِ ماسُ مُہِ مِلِیا ہڈُ چنّمُ تنُ ماسُ ॥
ماسہُ باہرِ کڈھِیا منّما ماسُ گِراسُ ॥
مُہُ ماسےَ کا جیِبھ ماسےَ کیِ ماسےَ انّدرِ ساسُ ॥
ۄڈا ہویا ۄیِیاہِیا گھرِ لےَ آئِیا ماسُ ॥
ماسہُ ہیِ ماسُ اوُپجےَ ماسہُ سبھو ساکُ ॥
ستِگُرِ مِلِئےَ ہُکمُ بُجھیِئےَ تاں کو آۄےَ راسِ ॥
آپِ چھُٹے نہ چھوُٹیِئےَ نانک بچنِ بِنھاسُ ॥੧॥
لفظی معنی:
نمیا۔ بیرج ۔ باتخم کا پیٹ میں پڑنا۔ واس۔ ٹھکانہ ۔ رہائش ۔ جیؤ پائے ماس میہہ۔ جان۔ سانس یا روح ماس میہہ ۔ پائی ۔ مما ۔ ماس گراس۔ گوشت کا مما۔ اسکا لقمہ ۔ ہوا۔ وہایا۔ شادی ہوئی۔ ماسے اندر ساس۔ سانس یا زندگی بھی گوشت کے اندر ہے ۔ وڈاہوا۔ نوجوان ہوا۔ گھر ئے آئیا۔ تو بیسوی جو گھر لے آیا گوشت کی تنی ہوئی۔ ماسواپجے سبھے ساک۔ سارے رشتے دار ۔ گوشت سے پیدا ہوئے ۔ حکم۔ رضا ۔ فرمان ۔ راس۔ درستی ۔ ٹھیک۔ آپ چھئے ۔ نجات از خود۔ بچن ۔ چرچا۔ بحث ۔ موجب خاتمہ ہوئی ۔
ترجمہ:
سب سے اول گوشت ہی انسان یا جاندار کی بنیاد ہے کیونکہ گوشت سے تخم پیدا ہوات ہے تخم سے جاندار کی بنیاد بنتی ہے تخم بھی ماس میں داخل ہوتا ہے اس میں اس کا ٹھکانہ بنتا ہے تب جان ماس مینہ ہی پڑتی ہے ۔ تب ماس یا گوشت ہی گوشت سے ہی ہڈیاں اور چمڑہ پیدا ہوتا ہے جب گوشت یا ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے گوشت کا ٹکڑا ممے کی صورت میں اسکا لقمہ بنتا ہے ۔ لہذا اسکا منہ بھی گوشت کا ہوتا ہے زبان گوشت کی بنی ہوتی ہے غرض یہ کہ زندگی اور سانس گوشت میں ہی ہوتے ہیں ۔ جب بچہ جوان ہوتا ہے گوشت سے بنی ہوئی بیوی کو گھر لے اتا ہے ۔ گوشت سے ہی گوشت پیدا ہوتا ہے ۔ سارے واسطہ دار اور رشتے دار ماس سے پیدا ہوئے اور گوشت سے بنے ہوتے ہیں۔ اگر سچا مرشد سے ملاپ ہو جائے تو الہٰی رضا و فرمان کی سمجھ آتی ہے تب صبح پتہ چلتا ہے ورنہ بحث مباحثہ باعث نقصان بنتا ہے ۔

مਃ੧॥
ماسُ ماسُ کرِ موُرکھُ جھگڑے گِیانُ دھِیانُ نہیِ جانھےَ ॥
کئُنھُ ماسُ کئُنھُ ساگُ کہاۄےَ کِسُ مہِ پاپ سمانھے ॥
گیَݩڈا مارِ ہوم جگ کیِۓ دیۄتِیا کیِ بانھے ॥
ماسُ چھوڈِ بیَسِ نکُ پکڑہِ راتیِ مانھس کھانھے ॥
پھڑُ کرِ لوکاں نو دِکھلاۄہِ گِیانُ دھِیانُ نہیِ سوُجھےَ ॥
نانک انّدھے سِءُ کِیا کہیِئےَ کہےَ ن کہِیا بوُجھےَ ॥
انّدھا سوءِ جِ انّدھُ کماۄےَ تِسُ رِدےَ سِ لوچن ناہیِ ॥
مات پِتا کیِ رکتُ نِپنّنے مچھیِ ماسُ ن کھاںہیِ ॥
اِست٘ریِ پُرکھےَ جاں نِسِ میلا اوتھےَ منّدھُ کماہیِ ॥
ماسہُ نِنّمے ماسہُ جنّمے ہم ماسےَ کے بھاںڈے ॥
گِیانُ دھِیانُ کچھُ سوُجھےَ ناہیِ چتُرُ کہاۄےَ پاںڈے ॥
باہر کا ماسُ منّدا سُیامیِ گھر کا ماسُ چنّگیرا ॥
جیِء جنّت سبھِ ماسہُ ہوۓ جیِءِ لئِیا ۄاسیرا ॥
ابھکھُ بھکھہِ بھکھُ تجِ چھوڈہِ انّدھُ گُروُ جِن کیرا ॥
ماسہُ نِنّمے ماسہُ جنّمے ہم ماسےَ کے بھاںڈے ॥
گِیانُ دھِیانُ کچھُ سوُجھےَ ناہیِ چتُرُ کہاۄےَ پاںڈے ॥
ماسُ پُرانھیِ ماسُ کتیبیِ چہُ جُگِ ماسُ کمانھا ॥
ججِ کاجِ ۄیِیاہِ سُہاۄےَ اوتھےَ ماسُ سمانھا ॥
اِست٘ریِ پُرکھ نِپجہِ ماسہُ پاتِساہ سُلتاناں ॥
جے اوءِ دِسہِ نرکِ جاںدے تاں اُن٘ہ٘ہ کا دانُ ن لیَنھا ॥
دیݩدا نرکِ سُرگِ لیَدے دیکھہُ ایہُ دھِگنْانھا ॥
آپِ ن بوُجھےَ لوک بُجھاۓ پاںڈے کھرا سِیانھا ॥
پاںڈے توُ جانھےَ ہیِ ناہیِ کِتھہُ ماسُ اُپنّنا ॥
توئِئہُ انّنُ کمادُ کپاہاں توئِئہُ ت٘رِبھۄنھُ گنّنا ॥
تویا آکھےَ ہءُ بہُ بِدھِ ہچھا توئےَ بہُتُ بِکارا ॥
ایتے رس چھوڈِ ہوۄےَ سنّنِیاسیِ نانکُ کہےَ ۄِچارا ॥੨॥
لفظی معنی:
گوشت ۔ گیان ۔ علم و دانش س ۔سمجھ ۔ دھیان ۔ توجہ ۔ کون ۔ ماس کون ساگ کہاوے ۔ کسے گوشت اور کسے سبزی کہتے ہیں۔ پاپ گناہ۔ سمانے ۔ بستا ہے ۔ ہوم جگ۔ ہون اور رہگیر ۔ بانے ۔ عادت یا کلام ۔ ماس چھوڈ۔ گوشت کھانا ترک کرکے ۔ راتی مانس کھانا ۔ مگر رات مراد اندھیرے میں انسنا کی کمائی لوٹی جاتی ہے ۔ پھڑ کر ۔ پاکھنڈ ۔ دکھاوا۔ مظآہرہ ۔ بوجھے ۔ سوئے ۔ وہی ۔ اندھ کماوے ۔ بے عقلی کے کام کرتا ہے ۔ ردے ۔ دلمیں۔ لوچن ۔ دیکھنے یا تمیز کی آنکھ۔ رکت۔ خون ۔ نپنے ۔ پیدا ہوئے ۔ نس ۔ رات۔ ۔ میلا ۔ ملاپ ۔ مندھ کما ہی ۔ گوشت ہی کام آتا ہہے ۔ ما سہونمے ۔ گوشت سے ہی گوشت میں بنیاد رکھی گئی ۔ ماسہو جملے ۔ گوشت سے پیدا ہوئے ۔ بھانڈے ۔ برتن ۔ مندا۔ برا۔ جیئہ جنت۔ ساری مخلوقات ۔ جیئہ لیے بسرا ۔ جاندار میں ٹھکانہ ۔ ابھکھ ۔ کھانے کے ناقابل ۔ بھکیہہ ۔ کھاتا ہے ۔ بھکھ تج چھوڈیہہ۔ کھانے کے لائق چھوڑ تے ہیں۔ اندھ گرؤ۔ مرشد جنکا بے سمجھ ۔ پرانی ۔ ہندوں کا مذہبی گرنتھ یا کتاب۔ کتبیں ۔ قرآن شریف۔ چوہ جگ۔ وقت کے چاروں دوروں میں ۔ جج کا ج دیباہ سہارے ۔ یگہ اوشادی وغیرہ میں گوشت اچھا لگتا ہے ۔ ماس سمانا ۔ گوشت استعمال ہوتا ہے ۔ پنجیہہ ۔پیدا ہوتے ہیں۔ نرک۔ دوزخ۔ دان ۔ خیرات۔ دیندا ۔ دینے والا۔ بندے ۔ لینے والے ۔ سرگ ۔ جنت۔ بہشت۔ آپ نہ بجھے لوک سمجھائے ۔ خود کو خبر نہیں دوسروں کو سمجھاتا ہے ۔ کتھو ماس اپنا ۔ گوشت کہاں سے پیدا ہوتا ہے ۔ تویہو۔ پانی سے ۔ ان ۔ کماد۔ کپاہاں۔ پانی سے ۔ اناح روئی ۔ اور گنا پیدا ہوتا ہے ۔ تربھون ۔ تینوں عالم ۔ بہو بدھ اچھا ۔ بہت طریقوں سے ۔ اچھا ہوں۔ تومے ۔ بہت بکار۔ ۔ پانی میں بہت سی برائیاں بھی ہیں۔ ایتے رس۔ اتنے لطف و مزلے ۔ چھوڈ۔ ترک کرکے ۔ سنیاسی ۔ طارق الدنیا ۔ وچارا۔ خیال دلیل ۔
ترجمہ:
اے انسانو گوشت کے بارے دیوانے بیوقوف جھگڑتے ہیں جنکو نہ علم ہے نہ دانش نہ حقیقت میں دھیان لگاتے اور توجہ دیتے ہیں۔ گوشت کیا ہے اور سبزی کسے کہتے ہیں۔ کمیں گناہ ہے ۔ کس کا کھانا یا استعمال کرتا ہے ۔ پرانے وقتوں میں گنڈے کو ذبح کرکے دیو تاؤں کے عادات کی مطابق اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہون اور بگیہ کیا کرتے تھے ۔ جو شخس گوشت چھوڑ کر ناک بند کرتے ہیں۔ گوشت کی بوآتی ہے ۔ مگر رات کو آدمی کھا جاتے ہیں مراد پوشیدہ طور پر انسانوں کو انسانوں کو لوٹنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ مراد گوشت نہ کھانے کا دکھاوا اور پاکھنڈ بناتے ہیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے ۔ ویسے نہ انکو علم سمجھ اور دانش ہے نہ ہوش مگرر انے نانک۔ کسی عقل کے اندھے کو سمجھانا بیفائدہ ہے ۔ جو کہنے کے باوجود سمجھتا نہیں۔ حقیقتاً اندھا وہ ہے جو جو اندھوں بیوقوفوں والے کام کرتا ہے جس کے ذہن میں سوچنے سمجھنے والی آنکھ نہیں ۔ جو ماں باپ کے کون سے پیدا ہوئے ہیں مگر مچھی کے گوشت سے پریہز کرتے ہیں مراد گوشت میں سے پیدا ہوکر گوشت سے پرہیز ۔ جبت مرد عورت کا ملاپ ہوتا ہے گوشت کا ہی ملاپ ہوتا ہے ہم ساری مخلوقات گوشت کی پتلیاں ہیں گوشت ہی بنیاد ہے گوشت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اے پنڈت نہ تجھے علم ہے نہ توجہی یونہی اپنے آپ کو چالاک و دانش کہلاتا ہے ۔ بیرونی گوشت کو برا کہتا ہے گھر کے گوشت کو اچھا سمجھتا ہے ۔ ساری مخلوقات گوشت سے پیدا ہوتی ہے اور گوشت میں ہی بستی ہے ۔ جو کھانے کے لائق نہیں کھاتا ہے مراد جو اسکا حق نہیں وہ کھاتا ہے جو کھانے کے لائق ہے اسے چھوڑتا ہے جسکا رہبر خود اندھا ہو وہی (اسے) وہی اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ ہم تمام گوشت کے پتلے ہیں ہماری بنیاد بھی گوشت ہے اور گوشت سے پیدا ہوئے ہیں۔ اے گوشت کے پرہیز گار پنڈت گوشت کے بحث مباحثہ کرکے دانشمند کہلاتا ہے اور اص نہ تجھے علم و دانش ہے ۔ نہ تجھے سمجھ ہے ۔ پرانوں میں گوشت جنگجوؤں کو کھانا جائز ٹھہرائیا ہے ۔ مسلمانوں کی مذہبی کتابوں میں بھی گوشت کے استعمال کر ذکر ہے ۔ عالم کے آغاز سے ہی گوشت استعمال ہوتا آئیا ہے ۔ یگئہ اور شادی وغیرہ میں بھی گوشت کا استعمال عما ہے اور ہر دور زماں میں استعمال ہوتا آئیا ہے ۔ مرد عورت ادشاہ و شہنشاہ ہ بھی گوشت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان سب کو دوزخ میں جانا پڑیگا تب ان سے خیرات کیوں لیتے ہو۔ خیرات دینے والے کو دوزخ نصیب ہوگا اور خیرات لینے والے کو جنت نصیب ہوگی دیکو کیا یہ جبر و ظلم نہ ہو گا۔ اے پنڈت تجھے خود سمجھ نہیں اور لوگوں کو سمجھاتا ہے ۔ اس لیے اچھا سمجھدار ہے مراد بیوقوف ہے ۔ اے پنڈت کیا مجھے کہ گوشت کہاں سے پیدا ہوتا ہے ۔ پانی سے اناج گنا اور کپاس پیدا ہوتی ہے اور تینوں عالم پیدا ہوئے ہیں۔ پانی کہتا ہے کہ میں بہت سے طریقوں سے نیکیاں کرتا ہوں مراد خوراک و پوشش مہیا کرتا ہوں۔ اور بیشمار قسم کی نعمتیں پانی میں وجود ہیں ۔ مگر پانی میں برائیاں بھی موجود ہیں لہذا اتنے لطف اور مزے چھوڑ کر طارق الدنیا ہو جائے ۔

پئُڑیِ ॥
ہءُ کِیا آکھا اِک جیِبھ تیرا انّتُ ن کِن ہیِ پائِیا ॥
سچا سبدُ ۄیِچارِ سے تُجھ ہیِ ماہِ سمائِیا ॥
اِکِ بھگۄا ۄیسُ کرِ بھرمدے ۄِنھُ ستِگُر کِنےَ ن پائِیا ॥
دیس دِسنّتر بھۄِ تھکے تُدھُ انّدرِ آپُ لُکائِیا ॥
گُر کا سبدُ رتنّنُ ہےَ کرِ چاننھُ آپِ دِکھائِیا ॥
آپنھا آپُ پچھانھِیا گُرمتیِ سچِ سمائِیا ॥
آۄا گئُنھُ بجاریِیا باجارُ جِنیِ رچائِیا ॥
اِکُ تھِرُ سچا سالاہنھا جِن منِ سچا بھائِیا ॥੨੫॥
لفظی معنی:
جیبھ ۔ زبان ۔ انت ۔ آکر۔ سچا سبد۔ حقیقی کلام ۔ وچار۔ سوچ سمجھ کر۔ سمائیا ۔ محو ومجذب ہوگیا۔ بھوادیس ۔ بھگو پہراوا یا دکھاوا۔ بھر ے ۔ بھٹکتے ۔ دیس دنتر۔ دیس بدیس ۔ لکائیا۔ پوشیدہ ۔ رتبن ۔ قیمتی ۔ چانن ۔ روشن ۔ آپ ۔ خوئش ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ بجاریا۔ دکھاوا کرنیوالا۔ ڈہونگی ۔ بجارجنی رچائیا ۔ ڈہونگ بنائیا۔
ترجمہ:
میری زبان ایک ہے اور تو بیشمار اوصاف کا مالک میں کون کونسے اوصاف کا ذکر کرؤ ن ۔ جو تیرے اوصاف کو کلام کے ذریعے سمجھتا ہے سوچتا ہے تیرا ہو جاتا ہے اے خدا ایک بھگوا پہراوا بنا کر بھٹکتے پھرتے ہیں مگر مرشد کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ دیس بدیس بھٹکتے تیری جستجو میں ماند ہوئے مگر اے خدا تو نے اپنے آپ کو انکے اندر چھپا رکھا ہے ۔ کالم مرشد ایک قیمتی ہیرا ہے جو اسے روشنی میں لاکر دکھاتا ہے خوش قسمت ہے وہ انسان جس نے اپنی اوقات و حقیقت کی پہچان کرلی سبق مرشد سے خدا کا ہوگیا۔ مگر جنہوں نے دکھاوے کا بازار لگا ہے وہ تناسخ میں پڑے رہیں گے ۔ جنکو خدا سے دلی محبت ہے جنکا خدا محبوب ہو گیا ہے وہ حمدوچناہ خدا کی کرتے ہیں۔
سلوک مਃ੧॥
نانک مائِیا کرم بِرکھُ پھل انّم٘رِت پھل ۄِسُ ॥
سبھ کارنھ کرتا کرے جِسُ کھۄالے تِسُ ॥੧॥
لفظی معنی:
کرم۔ اعمال۔ پرکھ ۔ شجر۔ انمرت۔ آب حیات۔ وس ۔ زہر۔ کارن ۔ سیت۔ کرتا ۔ کارساز۔ کرتار ۔ خدا۔
ترجمہ:
اے نانک دنیاوی اعمال ایک درخت کی طرح ہیں جسے دو طرح کے پھل لگتے ہیں ایک آپ حیات جو زندگی کو روحانی واخلاقی طور پر آسودہ حال بناتے ہیں دوسرے زہر جو زندگی کو اچرن اور مصیبوں میں ڈالتے ہیں۔ مگر اس کا سبب بنانے والا ہے خود خدا۔

مਃ੨॥
نانک دُنیِیا کیِیا ۄڈِیائیِیا اگیِ سیتیِ جالِ ॥
اینیِ جلیِئیِں نامُ ۄِسارِیا اِک ن چلیِیا نالِ ॥੨॥
لفظی معنی:
وڈیائیاں۔ ناموری ۔ اینی جلیئی ۔ ان جلی ہوئیوں نے ۔ نام وساریا۔ خدا اور حقیقت بھلائی ۔
ترجمہ:
اے نانک دنیاوی ناموریوں کو آگ میں جلا دو انہوں نے الہٰی نام ست سچ وحقیقت کو بھلا دیا اور بوقت اخرت ایک بھی ساتھ دینے والی نہیں۔

پئُڑیِ ॥
سِرِ سِرِ ہوءِ نِبیڑُ ہُکمِ چلائِیا ॥
تیرےَ ہتھِ نِبیڑُ توُہےَ منِ بھائِیا ॥
کالُ چلاۓ بنّنِ کوءِ ن رکھسیِ ॥
جرُ جرۄانھا کنّن٘ہ٘ہِ چڑِیا نچسیِ ॥
ستِگُرُ بوہِتھُ بیڑُ سچا رکھسیِ ॥
اگنِ بھکھےَ بھڑہاڑُ اندِنُ بھکھسیِ ॥
پھاتھا چُگےَ چوگ ہُکمیِ چھُٹسیِ ॥
کرتا کرے سُ ہوگُ کوُڑُ نِکھُٹسیِ ॥੨੬॥
لفظی معنی:
سیر سیر ۔ علیحدہ علیحہد۔ نیڑ ۔ فیصلہ ۔ حکم چلائیا۔ فرمان ہوا۔ ہتھ ۔ طاقت۔ جہاز۔ بیڑ۔ بناکر۔ اگن ۔ آگ۔ بھکمے ۔ جلتی ہے ۔ بھڑہاڑ۔ بھانیڑ ۔ آگ کے جلنے کی آواز۔ اندن۔ ہر روز ۔ بھگسی ۔ جلتی ہے ۔ پھاتھا ۔ پھنسا ہوا۔ چگے ۔ چگتا ہے ۔ جوگ ۔ رزق ۔ روزی ۔ چھٹسی ۔ نجات پاتا ہے ۔ ہوگ۔ ہوتا ہے ۔ کوڑ ۔ نکھٹسی ۔ کفر مت جائیگا۔
ترجمہ:
اے خدا تیرا فرمان کہ ہر ایک کا جدا جدا فیصلہ ہونا ہے فیصلہ کرنا تیری توفیق ہے تو میرے دل کو پیارا ہے جب موت آتی ہے تو کوئی بچا نہیں سکتا ۔ ظالم برھاپا کندہوں پر سوار ہو کر نا چتا ہے ۔ سچا مرشد جہاز ہے اور بیڑا ہے وہ ہی بچاتا ہے ۔ آگ کے بھانبڑ جل رہے ہیں۔ اور ہر روز جلتے ہیں۔ مراد دنیا میں خواہشات کی آگ پر زور جل رہی ہے ۔ ان خواہشات کی گرفت میں دن گذرا رہا ہے ۔ جو مل رہا ہے اس پر گذارہ کر رہا ہے ۔ کارساز کرتار کدا جو کرتا ہے وہی ہوتا ہے اور جھوٹ و کفر مٹ جاتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
گھر مہِ گھرُ دیکھاءِ دےءِ سو ستِگُرُ پُرکھُ سُجانھُ ॥
پنّچ سبد دھُنِکار دھُنِ تہ باجےَ سبدُ نیِسانھُ ॥
دیِپ لوء پاتال تہ کھنّڈ منّڈل ہیَرانُ ॥
تار گھور باجِنّت٘ر تہ ساچِ تکھتِ سُلتانُ ॥
سُکھمن کےَ گھرِ راگُ سُنِ سُنّنِ منّڈلِ لِۄ لاءِ ॥
اکتھ کتھا بیِچاریِئےَ منسا منہِ سماءِ ॥
اُلٹِ کملُ انّم٘رِتِ بھرِیا اِہُ منُ کتہُ ن جاءِ ॥
اجپا جاپُ ن ۄیِسرےَ آدِ جُگادِ سماءِ ॥
سبھِ سکھیِیا پنّچے مِلے گُرمُکھِ نِج گھرِ ۄاسُ ॥
سبدُ کھوجِ اِہُ گھرُ لہےَ نانکُ تا کا داسُ ॥੧॥
لفظی معنی:
گھر میہہ گھر دکھائے ۔ دلمیں بستے خدا کا دیدا گر ۔ پر کھ سبحان ۔ وہ دانشمند انسان ہے ۔ سچ سبد۔ پانچ قسم کے سازوں کی آواز تار ۔ چم ۔ دھات۔ گھڑا اور پھوک ۔ دھنکار۔ دھن ۔سر ۔ نیسان ۔ نقار ہ ۔ دیپ۔ جزیر۔ لوع۔ لوگ ۔ عوام۔ پاتال۔ زیر زمین ۔ کھنڈ۔ زمین کے طبق۔ منڈل ۔ براعظم ۔ تار۔ اونچی ۔ سر ۔ گھور باجنتر۔ گھور یا جنتر۔ سازوں کا بھاری شور وعغل ۔ ساچ تخت سلطان ۔ اس سچے تخت پر شاہ عالم ۔ سکھن کے گھر مراد ذہن۔ راگ۔ سنگیت ۔ سن منڈل ۔ روحانی و ذہنی سکون ایسے ذہنی حالات جہاں دنیاوی جھمیلوں سے ذہن آزاد ہوتا ہے ۔ لو ۔ محو۔ اکتھ ۔ جو بیان نہ ہو سکے ۔ کتھا ۔ کہنا ۔ بیچارئے ۔ خیال و ؤڑانا ۔ سوچنا۔ سمجھنا۔ منسا۔ ارادے ۔ مینہ ۔ دل میں۔ سمائے ۔ بسائے ۔ سکھیاں۔ ساتھی دوست۔ پنچے ۔ نیک احساسات ۔ مراد ست۔ سچ ۔ صبر ۔ رحم ۔ فرض۔ مستقل مزاجی ۔ ستو گن ۔ اچھے وصف۔ گور مکھ ۔ مرشد کے زیرعے ۔ تج گھر ۔ ذہن نشینی ۔ واس۔ ٹھکانہ۔ رہائش ۔ سبد کھوج۔ ایہہ گھر لہے ۔ جو کلام سمجھ کر اس ذہن کی تالش کر لیتا ہے ۔ داس۔ غلام ۔ خدمتگار ۔
ترجمہ:
جو شخص ذہن میں بستے خدا کا دیدار کرا دیتا وہ دانمشند مرشد ۔ تب انسان جب ذہن نشین ہو جاتا ہے تو سبد پیدا ہوتا ہے ۔ مراد سبد ذہن کو اتنا متاثر کر دیتا ہے کہ اس پر دوسرے خیالات متاثر نہیں کرتے ۔ تب روحانی سنگیت کی روہیں بہنے لگتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پانچ قسم کے ساز بج رہے ہوں اور میٹھی سنگیت کی دھنیں ہو رہی یہں۔ ایسے حالات میں پہنچ کر انسان قدرت کے کرشمے ، جذیریوں عالموں زیر زمینو ں اور برا عظموں کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ اس ساری قائنات قدرت کا مالک و شنہشاہ تخت پر جلوہ افروز معلوم ہوتا ہے ۔ ان حالات میں پہنچ کر انسان سازوں کی اونچی سر کا سور سنتا ہے اس الہٰی ملاپ میں انسان ذہن نشین رہ کر روحانی سکنو پاتا ہے ۔ یسے جیسے اس ناقابل بیان کہانی بیان کرتے ہیں تو ارادے دل میں مجذوب ہو جاتے ہیں یہ ذہن دنیاوی حالات سے الٹ کر آب حیات سے بھر جاتا ہے اور بھٹکتا نہیں دوسری طرف نہیں سوچتا اور اسی ہستی کو جو سارے عالم کی بنیاد ہے جو ہر دور زماں میں بستا ہے بغیر زبان بلائے الہٰی یاد میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ اسطرح سے مرید رمشد ہوکر ذہن نشین ہو جاتا ہے ۔ سارے اعجائے احساس اور فرشتہ سیرت عادات و اوصاف سچ صبر رحم فرض انسانی ۔ استقلال دوست ہو جاتے ہیں۔ سچے مرشد کے کلما و سبق کو سمجھ کر منزل حقیقت کو حاصل کر لیتا ہے ۔ نانک اسکا غلام ہے ۔

مਃ੧॥
چِلِمِلِ بِسیِیار دُنیِیا پھانیِ ॥
کالوُبِ اکل من گور ن مانیِ ॥
من کمیِن کمتریِن توُ دریِیاءُ کھُدائِیا ॥
ایکُ چیِجُ مُجھےَ دیہِ اۄر جہر چیِج ن بھائِیا ॥
پُراب کھام کوُجےَ ہِکمتِ کھُدائِیا ॥
من تُیانا توُ کُدرتیِ آئِیا ॥
سگ نانک دیِبان مستانا نِت چڑےَ سۄائِیا ॥
آتس دُنیِیا کھُنک نامُ کھُدائِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
۔ چلمل بجلی کچمک۔ بسیار۔ زیادہ ۔ فانی ۔ فناہ ہو جانیوالی ۔ قانو ب عقل۔ الٹ یا مخالف سمجھ ۔ گور ۔ قبر۔ کیمن۔ کیمنہ ۔ کھٹیا ۔ کمترین ۔ نہایت گھٹیا۔ دریاؤ ۔ سمندر۔ خدائیا۔ اے خدا۔ پر آب ۔ پانی سے بھر ا ہوا۔ خام۔ کچا۔ کوبے حکمت۔ ۔ کہاں کی دانائی ۔ تیانا ۔ توانا ۔ طاقتور۔ سگ۔ کتاب۔ قدرت۔ طاقت ۔ توفیق ۔ مستانہ ۔ مست۔ آتش۔ آگ ۔ خنک۔ ٹھنڈا۔
ترجمہ:
یہ دنیا بجلی چمک کی مانند تھوڑے سے وقفے کے لئے مگر مٹ جانیوالی اور فناہ ہو جانیوالی ہے ۔ مجھ بیوقوف کے دلمیں قبر کا خیال ہی نہیں رہا۔ میں کمنہ ہی نہیں کمزین ہوں اے خدا تو مانند سمندر ہے ایک چیز مجھے دیجیئے دوسری ساری مانند زہر نہیں مجھ اچھی نہیں لگتیں۔ میں پانی سے بھرا وہا خام ہوں کہاں کی ہے یہ دانائی خدا۔ تو ایک بلند قوت ہستی ہے ۔ تیری طاقت سے ہی مجھے زندی میسر ہوئی ہے ۔ اے خدا نانک تیرے دربار کا ایک کتا ہے ۔ یہ عالم ایک آگ ہے اور تیرا نام ست سچ حق وحقیقت ٹھنڈک برسانے والا ہے ۔

پئُڑیِ نۄیِ مਃ੫॥
سبھو ۄرتےَ چلتُ چلتُ ۄکھانھِیا ॥
پارب٘رہمُ پرمیسرُ گُرمُکھِ جانھِیا ॥
لتھے سبھِ ۄِکار سبدِ نیِسانھِیا ॥
سادھوُ سنّگِ اُدھارُ بھۓ نِمانھِیا ॥
سِمرِ سِمرِ داتارُ سبھِ رنّگ مانھِیا ॥
پرگٹُ بھئِیا سنّسارِ مِہر چھاۄانھِیا ॥
آپے بکھسِ مِلاۓ سد کُربانھِیا ॥
نانک لۓ مِلاءِ کھسمےَ بھانھِیا ॥੨੭॥
لفظی معنی:
سبھو۔ سارا۔ چلت۔ کھیل ۔ تماشہ ۔ چلت وکھانیا۔ تماشہ بیان کیا ہے ۔ پار برہم ۔ پار لگانیوال۔ پر میسور۔ بھاری یا بڑا مالک ۔ جانیا۔ سمجھا ۔ لتھے ۔ ختم ہوئے ۔ نکار۔ برائیاں۔ سبد۔ کلام۔ نیسائیا ۔ دہونسا۔ نقارہ ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ ادھار۔ آسرا۔ بچاؤ۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ روشن ۔ مشہور۔ چھاونیا ۔ سائیبان ۔ قربانیا۔ قربان ۔ بھانیا۔ پیارے ۔
ترجمہ:
یہ سارا عالم ایک تماشے کی مانند ہے اور تماشہ ہی کہا جا سکتا ہے ۔ مرشد کے وسیلے کا میابیاں بکشنے ولاے وڈے مالک کی سمجھ اور پہچان ہوتی ہے ۔ تمام برائیاں دور ہو جاتی ہیں۔ سچے مرشد کے کلام سے جو ایک نقارہ ہے ۔ خدا رسیدہ پاکدامن سادہو کی صحبت سے بے محتاجی اور آسر اور بچاؤ ہوتا ہے ۔ خدا کی بندگی یا دوریاض سے ہر طرح کی آرام و آسائش ملتی ہے ۔ دنیا میں ناموری ملتی ہے اور خدا کا ہر وقت سایہ رہتا ہے ۔ میں قربان ہوں خدا پر وہ خود ہی اپنی کرم و عنایت سے اپنے ساتھ ملاتا ہے ۔ جو محبوب خدا کے ہیں اے نانک۔

سلوک مਃ੧॥
دھنّنُ سُ کاگدُ کلم دھنّنُ دھنُ بھاںڈا دھنُ مسُ ॥
دھنُ لیکھاریِ نانکا جِنِ نامُ لِکھائِیا سچُ ॥੧॥
لفظی معنی:
کاگد۔ کاغذ۔ بھانڈہ ۔ دوات۔ مس۔ سیاہی ۔ لکھیاری ۔ تحریر کرنیوالا۔ دھن ۔ مبارک۔ شاباش۔ خوش قسمت ۔ سچ ۔ صدیوی ۔
ترجمہ:
مبارک ہے وہ کاغذ اور قلم مبارک ہے اس ساہی اور دات ۔ اے نانک مبارک ہے وہ تحریر (کنندہ ) کرنیوالا جسے کدا کا سچا نام تحریر کیا ہے ۔

مਃ੧॥
آپے پٹیِ کلم آپِ اُپرِ لیکھُ بھِ توُنّ ॥
ایکو کہیِئےَ نانکا دوُجا کاہے کوُ ॥੨॥
لفظی معنی:
اے خدا تو ہی ہے تختی اور تو ہی قلم ہے ۔ تحریر بھی تو ہی ہے ۔ اے نانک واحد و وحدت کہو دوسرا کیسے ہو سکتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
توُنّ آپے آپِ ۄرتدا آپِ بنھت بنھائیِ ॥
تُدھُ بِنُ دوُجا کو نہیِ توُ رہِیا سمائیِ ॥
تیریِ گتِ مِتِ توُہےَ جانھدا تُدھُ کیِمتِ پائیِ ॥
توُ الکھ اگوچرُ اگمُ ہےَ گُرمتِ دِکھائیِ ॥
انّترِ اگِیانُ دُکھُ بھرمُ ہےَ گُر گِیانِ گۄائیِ ॥
جِسُ ک٘رِپا کرہِ تِسُ میلِ لیَہِ سو نامُ دھِیائیِ ॥
توُ کرتا پُرکھُ اگنّمُ ہےَ رۄِیا سبھ ٹھائیِ ॥
جِتُ توُ لائِہِ سچِیا تِتُ کو لگےَ نانک گُنھ گائیِ ॥੨੮॥੧॥ سُدھُ ॥
لفظی معنی:
درتدا۔ بستا۔ بنت ۔ بناوٹ ۔ بیونت۔ پلاننگ ۔ تدھ بن ۔ تیرے بغیر۔ گت۔ حالت۔ مت۔ منتی ۔ اندازہ ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ اگوچر۔ انسانی عقل و ہوش سے بلند۔ گرمت ۔ سبق مرشد۔ اگیان ۔ بے علمی ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ گر گیان ۔ علم مرشد۔ گوائی ۔ ختم کیا۔ سو نام دھیائی ۔ وہ نام ست۔ سچ حق وحقیقت میں دھیان لگاتا ہے ۔ رپا۔ مہربانی ۔ کرتا۔ کار ساز۔ کرتار۔ پرکھ ۔ باتوفیق ہستی ۔ اگم ۔ انسانی عقل و ہوش سے بعید ۔ رویا ۔ بسا ہوا۔ سبھ ٹھاینئں ۔ ہر جگہ۔ جت۔ جہاں۔ سچیا ۔ سچے خدا۔ تت ۔ قہیں۔
ترجمہ:
اے خدا تو نے یہ قائنات قدرت خود پیدا کی ہے اور خود ہی اس میں بستا ہے تیرے بغیر دوسری کوئی ہستی نہیں تو ہی پوشیدہ ہے اس میں ہر جگہ۔ اپنے حالات اور وسعت کی بابت تجھے ی معلوم ہے اپنی قدرومنزلت کی بابت تجھے ہی پتہ ہے تو انسانی عقل و ہو سے بعید کارساز کرتار ہستی ہے اور ہر جگہ موجود ہے ۔سبق مرشد سے تیرا دیدار ہوتا ہے ۔ ذہن میں لا علمی باعث عذاب ہے ۔ علم و سبق مرشد سے دور ہوتی ہے ۔ اے خدا جس پر تیری کرم و عنایت ہوتی ہے اسے ساتھ دیتا ہے وہ سچ حق وحقیقت میں جو ست ہے صدیوی ہے توجہ دیتا ہے اے خدا تو کارساز کرتار انسانی عقل و ہوش سے بعید ہر جگہ بستا ہے ۔ اے سچے صدیوی خدا جدھر تو لگاتا ہے اسی طرف لگتے ہیں نانک تیری حمدوثناہ کرتا ہے ۔

راگُ ملار بانھیِ بھگت نامدیۄ جیِءُ کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سیۄیِلے گوپال راءِ اکُل نِرنّجن ॥
بھگتِ دانُ دیِجےَ جاچہِ سنّت جن ॥੧॥ رہاءُ ॥
جاں چےَ گھرِ دِگ دِسےَ سرائِچا بیَکُنّٹھ بھۄن چِت٘رسالا سپت لوک سامانِ پوُریِئلے ॥
جاں چےَ گھرِ لچھِمیِ کُیاریِ چنّدُ سوُرجُ دیِۄڑے کئُتکُ کالُ بپُڑا کوٹۄالُ سُ کرا سِریِ ॥
سُ ایَسا راجا س٘ریِ نرہریِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سیویلے ۔ یاد کیا ہے ۔ گوپال۔ مالک زمین۔ رائے ۔ راجہ ۔ حکمران۔ اکل۔ بلا خاندان۔ نرنجن۔ بیداغ ۔ ہستی ۔ بھگت۔ عشق الہیی۔ دان ۔ خیرات۔ دیجے ۔ دو ۔ جاچیہہ۔ مالگتے ہیں۔ سنت۔ عاشقان الہٰی ۔ رہاؤ۔ جاپے گھر ۔ جسکے گھر یمں ۔ دگ وسے ۔ ہر طف ۔ سرایچہ شامیانہ ۔ پیکنٹھ بھون ۔ جنت۔ بہشت۔ جستر سالہ ۔ تصویروں کا گھر۔ سپت لوک ۔ ساتوں عالموں ۔ سامان ۔ برابر ۔ پوریلے ۔ پوری طرح۔ جان چے ۔ جسکے ۔ گھر ۔ گھر ۔ لچھمی ۔ دولت۔ کماری ۔ نوجوان۔ چند سورج دیوڑے چاند۔ سورج ۔ دو چراغ چراغاں کرنیوالے ۔ کوتک ۔ کھلونا۔ بپڑا۔ وچارا۔ کال۔ زمانہ ۔ موت۔ پڑا وچارا۔ کوٹوال۔ محافظ ۔ سو۔ وہ کرا۔ کیا۔ سیری ۔ سب ے سر پر۔ نرہری ۔ خدا۔
ترجمہ:
اس خدا کو یاد کرؤ جو سارے عالم کا محافظ ہے ۔ جسکا کائیو خدان نہیں۔ جو بدایغ ہے ۔ جس سے عاشقان الہٰی بندگی اور عبادت کی خیرات مانگتے ہیں ۔ خدا کو بھاری حکمران اور شہنشاہ سمجھو جسکے گھر ہر طرف شامیانہ لگا ہوا ہے ۔ یہ چاروں طرفیں اسکی کا ناتیں ہیں۔ سارا عالم اسکی جنت اور تصویر گھر یا عجائب گھر ہے ۔ جسکے گھر میں دولت نوجوانی کی حالت میں ہے ۔ چاند اور سورج اسکے گھر میں چراغ ہیں جو چراغاں کرتے ہیں روشنی دیتے ہیں۔ موت اور زمانہ وہاں ایک کھلونا اور کھیل ہیں۔ ایسا کرنیوالا وہاں محافظ ہے ۔ اس لئے ایسا حکمران اور شہنشاہ ہے خدا۔

جاں چےَ گھرِ کُلالُ ب٘رہما چتُر مُکھُ ڈاںۄڑا جِنِ بِس٘ۄ سنّسارُ راچیِلے ॥
جاں کےَ گھرِ ایِسرُ باۄلا جگت گُروُ تت سارکھا گِیانُ بھاکھیِلے ॥
پاپُ پُنّنُ جاں چےَ ڈاںگیِیا دُیارےَ چِت٘ر گُپتُ لیکھیِیا ॥
دھرم راءِ پرُلیِ پ٘رتِہارُ ॥
سد਼ ایَسا راجا س٘ریِ گوپالُ ॥੨॥
جاں چےَ گھرِ گنھ گنّدھرب رِکھیِ بپُڑے ڈھاڈھیِیا گاۄنّت آچھےَ ॥
سرب ساست٘ر بہُ روُپیِیا انگروُیا آکھاڑا منّڈلیِک بول بولہِ کاچھے ॥
چئُر ڈھوُل جاں چےَ ہےَ پۄنھُ ॥
چیریِ سکتِ جیِتِ لے بھۄنھُ ॥
انّڈ ٹوُک جا چےَ بھسمتیِ ॥
سد਼ ایَسا راجا ت٘رِبھۄنھ پتیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
۔ جاں چے ۔ جس کے ۔ کلال برہما۔ گھمار ۔ برہما ہو۔ چتر مکھ ۔ چار چہروں والا۔ ڈھانبڑا۔ سانچے میں ڈھالنے والا۔ جن بسو سنسار راپیلے ۔ جس نے سارا عالم قائنات قدرت پیدا کیا ہے ۔ جاں کے گھر ۔ جسکے گھر میں۔ ایسر باوالا ۔ مست شوجی ہے ۔ جگت گرو۔ مرشد عالم۔ تت سارکھا ۔ حقیقت سمجھانے والا۔ گیان دبھاکھیلے ۔ بھاکھیلے ۔ جوا اسلیت سمجھات اہے ۔ پاپ پن ۔ گناہ و ثواب ۔ جان پے ڈانگیا ۔ جسکے چوبدیدار یا دربان ۔ دوآرے چتر گپت لیکھیا ۔ پوشیدہ اعمالنے تحریر کرنیوالے منشتی دربان ہیں۔ پرلی ۔ قیامت ڈھانے والا۔ پرتہار۔ دربان۔ سوایسا راجہ ۔ سیری گوپال۔ خدا ایسا حکمران ہے ۔(2)گن۔ خدمت۔ گاران شوجی ۔ گندھرپ۔ دیوتاؤں کے ستگر کار ۔ رکھی ۔ رشی ۔ ولی اللہ ۔ بپڑے ۔ بیچارے ۔ ڈھاڈھیا۔ گانے ولاے ۔ گاوت۔ آچھے ۔ گاتے ہیں۔ سرب ۔ ساشتر ۔ سارے ۔ شاشتر۔ بہو روپیا۔ بہت سی صورتوں میں ۔ انگیر ویا ۔ اکھاڑ۔ چھوٹا سا میدان ۔ منڈلیک۔ مطیع حکمران ۔ بول بولیہہ کاچھے ۔ اچھے اچھے کلام کہتے ہیں۔ چور ۔ ڈہول جاں پے ہے پون ۔ ہوا جس کی چور کرتی ہے ۔ چیری ۔ مرید ۔ شاگرد ۔ سکت ۔ دنیاوی دولت۔ جیت لے بھون ۔ جسنے عالم فتح کر لیا ہے ۔ برہمنڈ۔ ساری زمین یا عالم ۔ انڈ۔ اس الم کا حسہ ۔ بھسمتی ۔ چولہا۔ تربھون۔ تینوں عالم ۔ پتی ۔ مالک ۔
ترجمہ:
جس گھر پر شوجی کے خدمتگار اور دیوتاؤں کے سنگیت کا اور سارے رشتی اور بچارے ڈھاڈی اسکی حمدوچناہ کرتے ہیں۔ سارے شاشتر طرح طرح کے چھوٹے اکھاڑے ہیں۔ اس دنیا کے تمام بادشاہ جس کے مطیع اور تابعدار ہیں۔ ہوا جس کی چو جھولتی ہے ۔ دنیاوی دولت جسکی غلامہ ہے ۔ جس نے سارے علام کو فتح کر رکھا ہے ۔ یہ زمین جس کی رسوئی میں ایک چولہے کی مانند ہے ۔ مراد جسکا رازق ہے وہ(3)جسکےگھر برہما ایک برتن بنانے والے گھما ر کیمطاح ہے جسے چار مونہوں والا برہما ایسا ہے شہنشا ہ عالم کے روبروجیسے ایک گاؤں کے چوہدری کے آگے ایک برتن بنانیوال گھمار ہوتا ہے ۔ شوجی جیسے مرشد علام کہتے ہیں جو سب کو موت کا پیغام دیتا ہے خدا کے گھر میں ایک دیوناہ مسخرا ہے ۔ گناہ و ثواب جسکے دربار میں چوبدار ہیں الہٰی جا سوس جو خفتیہ اعمالنامے تحریر کرتے ہیں اسکے دربان ہیں۔ الہٰی منصف اس خدا کا ایک معمولی دربان ہے ۔

جاں چےَ گھرِ کوُرما پالُ سہس٘ر پھنیِ باسکُ سیج ۄالوُیا ॥
اٹھارہ بھار بناسپتیِ مالنھیِ چھِنۄےَ کروڑیِ میگھ مالا پانھیِہاریِیا ॥
نکھ پ٘رسیۄ جا چےَ سُرسریِ ॥
سپت سمُنّد جاں چےَ گھڑتھلیِ ॥
ایتے جیِء جاں چےَ ۄرتنھیِ ॥
سد਼ ایَسا راجا ت٘رِبھۄنھ دھنھیِ ॥੪॥
لفظی معنی:
کورما۔ گچھوا۔ پال۔ پلنگ۔ چارپائی ۔ سہسفنی ۔ ہزار فنوں والا۔ باسک سہج والو۔ سیج ۔ بستر کی تنیاں ہیں۔ اٹھاربھار مراد سارے عالم کے سبز زار پھول بھیٹ کر نیوالی مالن۔ چھیانولے کروڑی میگھ مالا۔ پانی ہاریا ۔ چھیانولے کروڑو بادل اسکے پانی لانے والے نوکر۔ نکھ ۔ ناخن۔ پرسیو۔ پسینہ ۔ جاپے سرسری ۔ گنگا ۔ سپت سمند۔ سات سمندر جاپے گھڑ تھلی ۔ سات سمندر جسکی گھڑ ونجی ۔ گھڑے ٹکانے والی ۔ جیئہ جنت۔ مخلوقات ۔ بھانڈے ۔ برتن ۔
ترجمہ:
جسکے گھر کھچوایک پلنگ ہے ۔ ہزار پھوں والا سانپ خفتگاہ کی تنیاں ہیں ۔ اٹھارہ بھار سبزہ زار اسکی پھول بھینٹ کرنیوالی مالکن چھیانوے کروڑ بادل اسکے پانی بھرنے والے نوکر۔ گنگا ندی اسکے ناخنوخ کا پسینہ اور ساتوں سمندر اسکی گھڑے رکھنے والے گھڑونجی ۔ اور دنیا کی ساری مخلوقات اسکے برتن ۔

جاں چےَ گھرِ نِکٹ ۄرتیِ ارجنُ دھ٘روُ پ٘رہلادُ انّبریِکُ ناردُ نیجےَ سِدھ بُدھ گنھ گنّدھرب بانۄےَ ہیلا ॥
ایتے جیِء جاں چےَ ہہِ گھریِ ॥
سرب بِیاپِک انّتر ہریِ ॥
پ٘رنھۄےَ نامدیءُ تاں چیِ آنھِ ॥
سگل بھگت جا چےَ نیِسانھِ ॥੫॥੧॥
لفظی معنی:
جاپے گھر ۔ جس کے گھر ۔ نکٹ ورتی ۔ نزدیکی ۔ مصاجب۔ نیجے ۔ رکھی ۔ سیدھ ۔ خدا رسیدہ جنہوں زندگی کا صحیح راہ پالیا ہے ۔ بدھ ۔ عاقل ۔ شوجی کے مرید دیوتاؤں کے سنیگتہ کار۔ بانولے ۔ بونجہ ۔ بیر۔ ہیلے ۔ کھیل۔ اہتے جیئہ ۔ اتنی مخلوقات ۔ جاں چے ہے ۔ گھنری ۔ اسکے گھر ہیں۔ سرب بیاٌک ۔ ہر جگہ بسنے والا ۔ انتر ہری ۔ سبکے اندر ہے ۔ پرنوے نامدیو ۔ نامدیو عرض گذارتا ہے ۔ تاں چی آن ۔ مبھے اسکا آسرا ہے ۔ سگل بھگت۔ جاپے ۔ نیسان سارے الہٰی رضا کا ر جسکے زیر سایہ ہیں۔
ترجمہ:
خدا ایک ایسا حکمران اور شہنشاہ ہے جسکے گھر اسکے نزدیک رہنے والے ارجن پر ہلاد ۔ انبریک نارد نیجے ۔ خدا رسیدہ جوگی ۔ عالم انسان شوجی کے گن دیوتاؤں کے سنگیت کار ۔ بونجہ ہیر وغیرہ جسکے ایک معمولی کھلونے ہیں ۔ اور عالم کی ساری مخلوقات اسکے گھر ہے وہ ہر جگہ ہر ایک کے دلمیں بستا ہے نامدیو عرض گذارتا ہے کہ مجھے اس خدا کا آسرا اور سہارا ہے جسکے آسراے اور سہارے خدا کو محبت کرنیوالے سکون پاتے ہیں خوشباش ہیں۔

ملار ॥
مو کءُ توُنّ ن بِسارِ توُ ن بِسارِ ॥
توُ ن بِسارے رامئیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
آلاۄنّتیِ اِہُ بھ٘رمُ جو ہےَ مُجھ اوُپرِ سبھ کوپِلا ॥
سوُدُ سوُدُ کرِ مارِ اُٹھائِئو کہا کرءُ باپ بیِٹھُلا ॥੧॥
موُۓ ہوُۓ جءُ مُکتِ دیہُگے مُکتِ ن جانےَ کوئِلا ॥
اے پنّڈیِیا مو کءُ ڈھیڈھ کہت تیریِ پیَج پِچھنّئُڈیِ ہوئِلا ॥੨॥
توُ جُ دئِیالُ ک٘رِپالُ کہیِئتُ ہےَ اتِبھُج بھئِئو اپارلا ॥
پھیرِ دیِیا دیہُرا نامے کءُ پنّڈیِئن کءُ پِچھۄارلا ॥੩॥੨॥
لفظی معنی:
موکؤ۔ مجھے ۔ نہ وسار۔ نہ بھلا۔ رمئیا۔ میرے رام ۔ میرے خدا ۔ رہاؤ۔ آلاونتی ۔ گھر والوں مراد مندر والوں کو ۔ بھرم ۔ گمان ۔ گمراہی ۔ کوپلا۔ غصہ ۔ سود ۔ سود ۔ شودر۔ شودر۔ کمینہ کمنہ ۔ ماراٹھایئو۔ زوو کوب کرکے اٹھا دیا ۔ کہا کرؤ۔ کیا کرؤ (1) موئے ہوئے ۔ مموت کے بعد ۔ مکت۔ نجات۔ کویئلا ۔ کوئی بھی ۔ پنڈیا۔ پنڈت ۔ پجاری ۔ ڈھیڈ ۔ نیچ ۔ کمنہ ۔ پیج ۔ عزت۔ پچھونڈی ہو ہیلا۔ پیچھے ہو رہی ہے ۔ گھٹ رہی ہے ۔ (2) کہیٹ ۔ کہتے ہیں۔ اتبھج۔ لمبے بازوؤں والا۔ طاقتور۔ اپارلا۔ بیشمار ۔ دیہرا۔ مندر۔ پچھوارلا۔ پچھلا حصہ ۔
ترجمہ:
اے خدا مجھے نہ بھلانا مجھے نہ بھلانا ۔ رہاو۔ ان مندر والوں اس مند رکے پجاریوں کو یہ غرور اور وہم و گمان ہے کہ وہ اونچی ذات اور خاندان والے ہیں اس لیے غسے ہوکر مجھے مارتے ہیں زردوکوب کرتے ہیں اور شودر شودر کہہ کر باہر نکال دیا ۔ اس طرح سے اے خدا تیری ہی آبرو اور عزت گھٹتی ہے مراد تیری محبت کرنیوالا کب نچ اور کمنہ رہ سکتا ہے ۔(1) جب مرنے پر نجات دوگے تو کسی کو نجات کا پتہ نہ چلے گا۔ یہ پجاری ۔ مجھے نیچ اور کمینہ کہتا ہے ۔ اس سے عزت گھٹتی ہے (2) تجھے رحمان الرحیم کہتے ہیں تو نہایت بھاری طاقتور والا ہے مندر نا مدیو کی طرف کر دیا اور پانڈے کی طرف پیٹھ کر دی ۔ ۔ مراد عبادت اور ریاضت اور یقین واثق انسان کو بیخوف و غیور بناتا ہے ۔

ملار بانھیِ بھگت رۄِداس جیِ کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ناگر جناں میریِ جاتِ بِکھِیات چنّمارنّ ॥
رِدےَ رام گوبِنّد گُن سارنّ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُرسریِ سلل ک٘رِت بارُنیِ رے سنّت جن کرت نہیِ پاننّ ॥
سُرا اپۄِت٘ر نت اۄر جل رے سُرسریِ مِلت نہِ ہوءِ آننّ ॥੧॥
تر تارِ اپۄِت٘ر کرِ مانیِئےَ رے جیَسے کاگرا کرت بیِچارنّ ॥
بھگتِ بھاگئُتُ لِکھیِئےَ تِہ اوُپرے پوُجیِئےَ کرِ نمسکارنّ ॥੨॥
میریِ جاتِ کُٹ باںڈھلا ڈھور ڈھوۄنّتا نِتہِ بانارسیِ آس پاسا ॥
اب بِپ٘ر پردھان تِہِ کرہِ ڈنّڈئُتِ تیرے نام سرنھاءِ رۄِداسُ داسا ॥੩॥੧॥
لفظی معنی:
ناگرجنا۔ اے میرے شہر کے رہنے والو ۔ بکھیات ۔ مہشور۔ چمار۔ چمڑے کا کام کرنیوالی چمار ہے ۔ ردے ۔ دلمیں ۔ رام ۔ خدا۔ گوبند گن ۔ الہٰی اوصاف۔ سار۔ بساتا ہوں۔ سر سری ۔ گنگا۔ سلل۔ پانی ۔ کرت۔ بنائیا۔ بارنی ۔ شراب۔ سنت جن۔ محبوب خدا۔ کرت نہیں پاننگ۔ نہیں پیتے ۔ سرا۔ شراب۔ اپوتر۔ ناپاک۔ نت ۔ خوآہ ۔ اور۔ دوسرے ۔ آن ۔۔ علیحدہ ۔ (1) تر ۔ درخت۔ شجر ۔ ترتار۔ تاڑی کا درخت ۔ اپوتر کرمانیئے ۔ ناپاک سمجھو ۔ کاگرا۔ کاغذ ۔ کرت وچار۔ سوچتے سمجھتے ہیں۔ بھگت بھگوت ۔ الہٰی حمدوچناہ لکھیئے ۔ تحریر ۔ تیہہ اوپر اسکے اوپر ۔ پوجیئے عسکار ۔ تو اسکی پر ستش ہوتی ہے ۔ سرجھکاتے ہیں۔ کٹ بانڈھلا ۔ کاٹنے داڈ ھنے ولاا۔ ڈہور۔ موئشی ۔ حیوان۔ ڈھونتا ۔ ڈہونے والا ۔ ننیہہ۔ ہر روز۔ بنارسی ۔ آس پاسا۔ بنارس کے گردونواح ۔ بپر پردھان ۔ برہمنوں کے مانے ہوئے ۔ تیہہ۔ اسے ۔ کریہہ ڈنڈوت ۔ جھکتے ہیں۔ تیرے نام سرنائے رویداس داسا۔ اے خدا تیرے نام سچ حق وحقیقت کے زیر پناہ ۔ روداس تیرا غلام آئیا ہے ۔
ترجمہ:
اے شہر کے لوگو یہ مصدقہ ہے کہ میری ذات چمار ہے ۔ میرے دل میں خدا بستا ہے او رمیں خدا کی حمدوثناہ کرتا ہوں ۔ رہاؤ۔ گنگا کے پاکپانی سے تیار کی ہوئی شراب محبوبان خدا و عاشقان الہٰی نہیں پیتے ۔ ناپاک شراب یا کوئی دوسری ناپاک اشیا گنگا میں ملکر گنگا ہی ہو جاتی ہے (1) جیسے تاڑی کا درخت ناپاک مانا جاتا ہے ۔ مگر جب کاغذ کی شکل میں بدل جات اہے تو اس پر لکھی ہوئی الہٰی حمدوثناہ عبادت و بندگی و ریاضت کے لفظ کو تظیم و آداب کے لئے سرجکائے جاتے ہیں پیشانی رگڑی جاتی ہیں پرستش کیجاتی ہے ( میری ذات )(2) میری ذات چمڑے کے کاٹنے باڈھنے کا کام کرتے ہیں اور بناس اردگرد مردہ مویشیوں کے اُٹھانے کا کام کرتے ہیں۔ اے خدا اب عالم فاضل مقبول عالم برہمن اسی ذات میں پیدا ہوئے ہوئے تیرے خدمتگار رودیاس جو تیرے نام ست سچ حق وحقیقت میں اعتقاد رکھتا ہے بطور تعظیم و ادب سرجھکاتے ہیں۔

ملار ॥
ہرِ جپت تیئوُ جنا پدم کۄلاس پتِ تاس سم تُلِ نہیِ آن کوئوُ ॥
ایک ہیِ ایک انیک ہوءِ بِستھرِئو آن رے آن بھرپوُرِ سوئوُ ॥ رہاءُ ॥
جا کےَ بھاگۄتُ لیکھیِئےَ اۄرُ نہیِ پیکھیِئےَ تاس کیِ جاتِ آچھوپ چھیِپا ॥
بِیاس مہِ لیکھیِئےَ سنک مہِ پیکھیِئےَ نام کیِ نامنا سپت دیِپا ॥੧॥
جا کےَ ایِدِ بکریِدِ کُل گئوُ رے بدھُ کرہِ مانیِئہِ سیکھ سہیِد پیِرا ॥
جا کےَ باپ ۄیَسیِ کریِ پوُت ایَسیِ سریِ تِہوُ رے لوک پرسِدھ کبیِرا ॥੨॥
جا کے کُٹنّب کے ڈھیڈھ سبھ ڈھور ڈھوۄنّت پھِرہِ اجہُ بنّنارسیِ آس پاسا ॥
آچار سہِت بِپ٘ر کرہِ ڈنّڈئُتِ تِن تنےَ رۄِداس داسان داسا ॥੩॥੨॥
لفظی معنی:
جپت تیوجنا۔ وہی تیرے خدمتگار ۔ پدم کولاس پت۔ دولت کے مالک خدا ۔ تاس۔ اسکے ۔ سم ۔ برابر ۔ آن کوو۔ کوئی دوسرا۔ انیک ۔ بیشمار ۔ بستھر یو۔ پھیلا ہوا ہے ۔ آن رے آن ۔ ہر ایک میں۔ بھر پور۔ بستا ہے ۔سوو ۔ وہی ۔ رہاؤ۔ بھاگوت لیکھیئے ۔ جسکے گھر الہٰی حمدوثناہ تحریر ہو رہی ہے اور پیکھیئے دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ تاس۔ اسکے اسکی ۔ جات ۔ ذات۔ آچھوپ چھیپا۔ اچھوت چھینیا۔ بیایہہ لیکھیئے ۔ بیاس میں تحریر ہے ۔ نام کی نامنا۔ الہٰی نام کی ناموری و عظمت ۔ سپت دیپا۔ ساتوں جزایئر باہر اعظموں (1) کل۔ خاندان ۔ گیورے بدھ کریہہ۔ گائے ذبح کرتے ہیں۔ شیخ ۔ پیرا۔ شہیدوں پر اعتماد ہے ۔ جاگے ۔ جسکے ۔ ویسی ۔ اس طرح ۔ پوت۔ بیٹے ۔ ایسی سری ۔ ایسی ہوتی ہے ۔ تہولوک ۔ تینو عالموں میں ۔ پرسدھ ۔ مشہور۔ نامور ۔ (2) کٹنب ۔ قبیلہ ۔ ڈھیڈ ۔ نیچ ذات والے ۔ ڈہور ڈہو ونت پھویہ ۔ مردہ مویشی اُٹھاتے پھرتے ہیں۔ آچار سہت۔ کرم کانڈی ۔ بیرونی اخلاق کے پابند۔ بپر کریہہ ڈنڈوت ۔ برہمن ۔ سجدے کرتے ہیں۔ سرجھاکتے ہیں۔ تن تنے ۔ انکے بیٹے رویداس کو ۔ داسان داس۔ خدا کے غلاموں کا غلام ۔ رویداس۔
ترجمہ:
جو شخس یاد خدا کو کرتے ہیں خدمتگار خدا ہو جاتے ہیں ۔ خدا کا نہیں ثانی کوئی دوسرا۔ ایک سے بیشمار پھیلا ہو آبستا ہو ہر دل میں دکھائی دیتا ہے ۔ رہاؤ۔ جسکے گھر حمد خدا کی تحریر ہوتی ہے ۔ اسکے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا وہ ذات کا شودر چھنبا تھا ۔ بیاس میں تحریر سنک کی تحریر گردہ مذہبی کتاب میں درج ہے ۔ کہ الہٰی نام سچ حق وحقیقت کی عظمت و ناموری ساتون براعظموں اور سارے علام میں ہے ۔(1) جس ذات اور خاندان کے لوگ عید اور بکر عید کے موقع پر گائے ذبح کرتے ہیں اور شیخو پیروں اور شہیدوں میں اعتقاد رکھتے ہیں جس کبیر کے اباواجداد سے یہ رسم جاری ہے انکی اولاد بھی ویسے ہی کرتے ہے ۔ سارے عالم میں نامور ہوا ہے ۔(2) جسکے قبیلے کے لوگ مرادہ مویشی اُٹھانے کا کام کرتے تھے جسکے خاندان کے لوگ بنارس کے گردونواح میں بستے ہیں انکے خاندان میں پیدا ہوئے رویداس جو خدا کے غلاموںکا غلاموں ہوگیا ۔ شرعی یا مریادا کے پابند پنڈت سجدے کرتے ہیں پاؤں پڑتے ہیں سر جھکاتے ہیں۔

ملار
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
مِلت پِیارو پ٘ران ناتھُ کۄن بھگتِ تے ॥
سادھسنّگتِ پائیِ پرم گتے ॥ رہاءُ ॥
میَلے کپرے کہا لءُ دھوۄءُ ॥
آۄیَگیِ نیِد کہا لگُ سوۄءُ ॥੧॥
جوئیِ جوئیِ جورِئو سوئیِ سوئیِ پھاٹِئو ॥
جھوُٹھےَ بنجِ اُٹھِ ہیِ گئیِ ہاٹِئو ॥੨॥
کہُ رۄِداس بھئِئو جب لیکھو ॥
جوئیِ جوئیِ کیِنو سوئیِ سوئیِ دیکھِئو ॥੩॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
پران ناتھ ۔ زندگی کے مالک ۔ سادھ سنگت۔ خدا رسیدہ پاکدامن انسان جنہوں راہ منزل کے طور طریقے حاصل کر لیئے ہیں کی صحبت و قربت ۔ پرم گتے ۔ بلند روحانی و اخلاقی حالت۔ رہاؤ۔ میلے کپڑے کب تک صاھب کرتے ہوگے اس طرح سے ناپاک نیت ۔ ارادے اور ذہن غفلت ناپاک نفس کی نیند کس سے کیسے بیدار آئیگی ۔ جوئی جوئی ۔ جو ریو جو جو اکھٹا کیا ہے ۔ سوئی سوئی ۔ وہی ۔ پھائیو۔ پھاڑ دیا۔ جھوٹھے ۔ ذبح ۔ جھوٹی سوداگری ۔ ہائیو ۔ ہٹی دکنا ۔ اُٹھ ہی گئی ۔ ختم ہو گئی ۔(2) بھیوجب لیکھے ۔ جب حساب ہوا ۔ کینو ۔ کیا ۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے خدا وہ کونسی عبادت اور بندگی تھی جس سے تیرا وصل نصیب ہوتا ۔ سادہوں کی صحبت و قربت سے بلند روحانی واخلاقی حالت نصیب ہوئی ۔ رہاؤ۔ نفسانی برائیاں کب تک دور کرونگا ۔ غفلت میں کب تک غافل رہونگا۔ مراد اب برائی کرونگا نہ غافل رہونگا (1) جو جو میں نے اکھٹآ کیا ہے اسکا حساب ختم ہوگیا اور اب کفر و جھوٹ کی دکان اور سودا گری ختم ہو گئی ۔ اے رویداس بتا دے کہ جب حساب اعمال ہو آوہی وہی نظر آئیا۔

راگُ کانڑا چئُپدے مہلا ੪ گھرُ ੧
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
میرا منُ سادھ جناں مِلِ ہرِیا ॥
ہءُ بلِ بلِ بلِ بلِ سادھ جناں کءُ مِلِ سنّگتِ پارِ اُترِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ ہرِ ک٘رِپا کرہُ پ٘ربھ اپنیِ ہم سادھ جناں پگ پرِیا ॥
دھنُ دھنُ سادھ جِن ہرِ پ٘ربھُ جانِیا مِلِ سادھوُ پتِت اُدھرِیا ॥੧॥
منوُیا چلےَ چلےَ بہُ بہُ بِدھِ مِلِ سادھوُ ۄسگتِ کرِیا ॥
جِئُں جل تنّتُ پسارِئو بدھکِ گ٘رسِ میِنا ۄسگتِ کھرِیا ॥੨॥
ہرِ کے سنّت سنّت بھل نیِکے مِلِ سنّت جنا ملُ لہیِیا ॥
ہئُمےَ دُرتُ گئِیا سبھُ نیِکرِ جِءُ سابُنِ کاپرُ کرِیا ॥੩॥
مستکِ لِلاٹِ لِکھِیا دھُرِ ٹھاکُرِ گُر ستِگُر چرن اُر دھرِیا ॥
سبھُ دالدُ دوُکھ بھنّج پ٘ربھُ پائِیا جن نانک نامِ اُدھرِیا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
ہریا۔ خوش ہوا۔ ۔ سنگت۔ ساتھیوں ۔ پار اتریا۔ کامیاب ہوا۔ رہاؤ۔ کرپا۔ مہربانی ۔ سادھ جنا پگ پریا۔ سادہوؤں کے پاؤں پڑا۔ جانیا ۔ سمجھیا۔ پتیت ۔ بد اخلاق ۔گ ناہگار ۔ ادھیریا۔ ادھار ۔ ہوا منوآ۔ ۔ من ۔ بدھ ۔ طریقے ۔ وسگت۔ قابو۔ تنت ۔ جال۔ بدھک ۔ شکاری ۔ گرس۔ پکڑا۔ مینا۔ مچھلی ۔ کھریا۔ لیگیا۔(2) سنت بھل نیکے ۔ نیک اچھے ۔ مل ۔میل ناپاکیزگی ۔ لہیئیا۔ ختم ہو جاتی ہے ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ درت ۔ گناہ ۔ صابن کا پر کریا۔ جیسے صابن سے کپڑے کو پاک کر دیتی ہے۔ نیکر ۔ لک (3) مستک ۔ پیشنای ۔ ارد۔ دلمیں۔ والد۔ دلدر۔ کنگالی ۔ دوکھ ۔ عذاب ۔ بھنج۔ دور۔ نام ادھریا۔ نام کی برکت سے کامیابی حاصل ہوئی ۔
ترجمہ:
میرا دل محبوبان الہٰی سے مل کر روحانی واخلاقی طور پر شائستہ و خوش ہوا۔ قربان ہوں نیک ساتھیوں کے ملاپ سے کامیابی ہوتی ہے ۔ رہاؤ۔ اے خدا کرم و عنایت فرماؤ تاکہ پادامن سادہوؤں کے پاؤں پڑں۔ شاباش ہے ان سادہووں جنہوں نے خدا کی پہچان کر لی ہے سادہو کے ملاپ سے بد اخلاق گناہگا ر بھی بچ جاتے ہین (1) دل بھٹکتا رہتا ہے بہت طرح سے سادہو کے ملاپ سے قابو ہو جاتا ہے ۔ جیسے شکاری پانی میں جال پھیلاتا ہے اور مچھلی کو پھنسا کر قابو کرکے لیگیا (2) الہیی عاشاق و محبوب خدا و خدمتگاران اچھے ھسن اخلاق زندگی والے ہوتے ہیں انکے ملاپ سے نفسانی ناپاکیزگی دنیاوی برائیوں بد کاریوں گناہگاریوں کی ناپاکیزگی دور ہو جاتی ہے ۔ خود ی تکبر اور گناہگاریوں کے میل اس طرھ سے دور ہو جاتی ہے جیسے صابن کپڑے کی میل ختم کر دیتی ہے (3) جسکی پیشانی پر خدا نے تحریر کیا ہوتا ہے ۔ اس نے پائے مرشد اپنےد لمیں بسائے اور ہر طرح کے عذاب و مصائب دور کرنیوالا خدا کا وصل نصیب ہوا۔ اے نانک الہٰی نام ست سچ و حق وحقیقت دل میں بسائیا ۔

کانڑا مہلا ੪॥
میرا منُ سنّت جنا پگ رین ॥
ہرِ ہرِ کتھا سُنیِ مِلِ سنّگتِ منُ کورا ہرِ رنّگِ بھین ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہم اچِت اچیت ن جانہِ گتِ مِتِ گُرِ کیِۓ سُچِت چِتین ॥
پ٘ربھِ دیِن دئِیالِ کیِئو انّگیِک٘رِتُ منِ ہرِ ہرِ نامُ جپین ॥੧॥
ہرِ کے سنّت مِلہِ من پ٘ریِتم کٹِ دیۄءُ ہیِئرا تین ॥
ہرِ کے سنّت مِلے ہرِ مِلِیا ہم کیِۓ پتِت پۄین ॥੨॥
ہرِ کے جن اوُتم جگِ کہیِئہِ جِن مِلِیا پاتھر سین ॥
جن کیِ مہِما برنِ ن ساکءُ اوءِ اوُتم ہرِ ہرِ کین ॥੩॥
تُم٘ہ٘ہ ہرِ ساہ ۄڈے پ٘ربھ سُیامیِ ہم ۄنھجارے راسِ دین ॥
جن نانک کءُ دئِیا پ٘ربھ دھارہُ لدِ ۄاکھرُ ہرِ ہرِ لین ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
پگ رین ۔ پاؤں کی دہول ۔من کورا۔ بلا کسی اثر ۔ پاک۔ ہر رنگ ۔ الہٰی پریم۔ بھین ۔ متاثر ہوا۔ رہاؤ۔ اچت۔ بے دھیان ۔ اچیت ۔ غافل ۔ گت مت۔ ۔ روھانی واخلاقی حالت کا اندازہ ۔ سچت ۔ ہوشیار۔ چتین ۔ ذہن ۔ ذہین ۔ ہیرا ۔ دل ۔ انگکوت ۔ اپنا کیا۔ ہر نام چین ۔ الہٰی نام ست۔ سچ ۔ حق وحقیقت کی ریاض کی (1) انگر ۔ ہیئراتین ۔ دل ان کو ۔ پتت۔ ناپاک ۔ بداخلاق ۔ گناہگار ۔ پوین ۔ پاک و پائس (2) اتم ۔ بلند ہستی ۔ پاتھر سین ۔ سنگیدل ۔ متاثر ۔ برن ۔ بیان ۔ مہما ۔ عظمت ۔ کین کیے (3) ساہ شاہ ۔ شاہوکار ۔ونجارے ۔ سوداگر۔ اس پونجی۔ سرمایہ ۔ واکھر ۔ سودا۔
ترجمہ”:
میرا دل خدا کو پیار کرنیوالون کے پاؤں کی دہول ہے ۔ الہٰی حمدوثناہ ساتھیوں کے ملاپ سنی جس سے میرا صاد دل الہٰی پیار مین بھیگ گیا ۔ مصروف ہو گیا ۔ رہاؤ ۔ ہم بے دھیان غافل ہیں نہیں جانتے کہ خدا کتنی بلند ہستی کا مالک ہے مرشد نے ہوشیار بیدار کیے ۔ خدا جو غریب پرور ہے جسے اپنائیا اس نے اپنے دلمیں الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی ریاض کی (1) الہٰی ولی اللہ جنہیں خدا سے محبت ہے ملیں تو میں اپنا جگر بھینٹ کردوں ۔ الہٰی سنت کے ملاپ سے الہٰی ملاپ ہوتا ہے اور ناپاکو گناہگاروں کو پاک و پائس بنا دیتے ہیں (2 ) خدمتگاران خدا کو دنیا میں بلند عظمت اور اونچی زندگی ولاے کہتے ہیں جن کے ملاپ سے پتھر دل پگل جاتے ہیں اور پیج جاتے ہیں ان خدمتگاروں کی عظمت بیان نہیں ہو سکتی خدا ان بلند زندگی بخش دیتا ہے (3) اے میرے مولا تو شاہکار ہے بھاری مالک ہے اور ہم سوداگر ہمیں سرمایہ عنایت کیجیئے ۔ اے خدا اپنے خادم پر عنایت فرماؤ تاکہ میں تیرے نام ست سچ حق وحقیقت کی سوداگر کا سودا اُٹھا سکوں۔

کانڑا مہلا ੪॥
جپِ من رام نام پرگاس ॥
ہرِ کے سنّت مِلِ پ٘ریِتِ لگانیِ ۄِچے گِرہ اُداس ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہم ہرِ ہِردےَ جپِئو نامُ نرہرِ پ٘ربھِ ک٘رِپا کریِ کِرپاس ॥
اندِنُ اندُ بھئِیا منُ بِگسِیا اُدم بھۓ مِلن کیِ آس ॥੧॥
ہم ہرِ سُیامیِ پ٘ریِتِ لگائیِ جِتنے ساس لیِۓ ہم گ٘راس ॥
کِلبِکھ دہن بھۓ کھِن انّترِ توُٹِ گۓ مائِیا کے پھاس ॥੨॥
کِیا ہم کِرم کِیا کرم کماۄہِ موُرکھ مُگدھ رکھے پ٘ربھ تاس ॥
اۄگنیِیارے پاتھر بھارے ستسنّگتِ مِلِ ترے تراس ॥੩॥
جیتیِ س٘رِسٹِ کریِ جگدیِسرِ تے سبھِ اوُچ ہم نیِچ بِکھِیاس ॥
ہمرے اۄگُن سنّگِ گُر میٹے جن نانک میلِ لیِۓ پ٘ربھ پاس ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
پرگاس۔ روشن ۔ پریت۔ پیار۔ گریہہ۔ گھر ۔ اداس۔ طارق ۔ رہاؤ۔ ہروے ذہن۔ لزہر ۔ خدا۔ کرپا۔ مہربانی ۔ اندن ۔ ہر روز۔ انند۔ سکون ۔ بھیئیا۔ ہوا۔ وگسیا ۔ کھلا۔ آس ۔ امید (1) ۔ گراس۔ لقمہ ۔ کل کوھ ۔ گناہ۔ دہن ۔ جل گئے ۔ کھن انتر آنکھ جھپکنے کے وقفے میں۔ پھاس ۔ پھندے ۔ جال (2) کرم ۔ کیڑے ۔ کرم ۔ اعمال۔ کماویہہ۔ کرین۔ مورکھ ۔ بیوقوف ۔ مگدھ ۔ جاہل۔ رکھے ۔ حفاظت کرتا ہے ۔ اوگنیارے ۔ گناہگار۔ ترے تراس۔ کامیاب ہوئے (3) جیتی ۔ جتنی ۔ سر شٹ ۔د نیا ۔ جگدیسر ۔ مالک عالم ۔ اوچ ۔ اونچے ۔ پنچ ۔ کمینے ۔ وکھیاس۔ بدکار۔ اوگن ۔ بد اوصاف ۔
ترجمہ:
اے دل یاد خدا کے نام کو کیا کر اس سے مراد ست سچ حق و حقیقت کی یاد وریاض سے ذہن روشن ہوتا ہے ۔ خدا کے ولی اللہ سنت کے ملاپ سے محبت ہو جاتی ہے ۔ اور گھریلو خانہ دار زندگی گذارتے ہوئے طارق اور بیلاگ ہو جاتا ہے ۔ رہاؤ۔ خدا نے کرم وعنایت فرمائی دلمیں الہٰی نام ست سچ حق حقیقت کی ریاض کی جس سے ہر وقت سکون ہوا ۔ دل خوش ہوا کوشش ہوئی ملاپ کی امید پیدا ہوئی (1) ہم ے ہر سانس ہر لقمہ خدا سے پیار کیا ۔ ہمارے گناہ جل گئے آنکھ جھپکنے کے عرصے میں اور سارے دنیاوی پھندے ٹوٹ گئے (2) ہم ناچیز کیڑون جیسے ہیں ہم کیا کر سکنے کی حالت میں ہیں ہم بیوقوفوں جاہلوں کا محافظ خدا ہے ۔ ہم بے اوصاف اور بد اوصاف بھاری پتھروں کی طرح ہیں سچے ساتھیوں کی صحبت کیسے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے (3) خدا وند کریم نے جتنا عالم پیدا کیا ہے سب بلند ستی کے مالک ہیں ہم نیچ بدکاری کی وجہ سے نیچ اور کمینے ہیں۔ ہمارے بد اوصاف مرشد کے ساتھ سے مٹے اے خادم نانک مرشد ہمیں خدا سے ملاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
میرےَ منِ رام نامُ جپِئو گُر ۄاک ॥
ہرِ ہرِ ک٘رِپا کریِ جگدیِسرِ دُرمتِ دوُجا بھاءُ گئِئو سبھ جھاک ॥੧॥ رہاءُ ॥
نانا روُپ رنّگ ہرِ کیرے گھٹِ گھٹِ رامُ رۄِئو گُپلاک ॥
ہرِ کے سنّت مِلے ہرِ پ٘رگٹے اُگھرِ گۓ بِکھِیا کے تاک ॥੧॥
سنّت جنا کیِ بہُتُ بہُ سوبھا جِن اُرِ دھارِئو ہرِ رسِک رساک ॥
ہرِ کے سنّت مِلے ہرِ مِلِیا جیَسے گئوُ دیکھِ بچھراک ॥੨॥
ہرِ کے سنّت جنا مہِ ہرِ ہرِ تے جن اوُتم جنک جناک ॥
تِن ہرِ ہِردےَ باسُ بسانیِ چھوُٹِ گئیِ مُسکیِ مُسکاک ॥੩॥
تُمرے جن تُم٘ہ٘ہ ہیِ پ٘ربھ کیِۓ ہرِ راکھِ لیہُ آپن اپناک ॥
جن نانک کے سکھا ہرِ بھائیِ مات پِتا بنّدھپ ہرِ ساک ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
گر واک ۔ کلام مرشد۔ ۔ جگدیسر ۔ مالک عالم ۔ درمت ۔ بد عقلی ۔ دوجاؤ۔ دویت ۔ خدا کے علاوہ دوسروں کی محبت۔ جھاک ۔ بد نظر ۔رہاؤ۔ نانا۔ طرح طرھ کے ۔ روپ ۔ شکل۔ گھٹ ۔ گھٹ۔ ہر دلمیں۔ رام رویؤ۔ خدا بستا ہے ۔ گپلاک ۔ کپت۔ پوشیدہ ۔ پرگٹے ۔ ظاہر ہوئے ۔ اگھر ۔ طاہر لکھیا کے تکا۔ دنیاوی دولت کے دروازے (1) سوبھا ناموری ۔ شہرت۔ اردھاریؤ۔ دلمیں بسائیا۔ ہر رسک رساک ۔ الہٰی لطف اُٹھانے والے ۔ پیارے ۔پریمی بچھراک ۔ چھڑے (2) اُٹم ۔ بلند ہستی ۔ جن۔ کادم ۔ باس۔ خوشبو۔ بسانی ۔ بسی ۔ مسکی ۔ بدیؤ (2) آپن اپتاک ۔ اپنا کر۔ سکھا۔ ساتھی ۔ بند روپ ۔ رشتہ دار۔ ساک ۔ شریک ۔ حصہ دار ۔
ترجمہ:
اے دل سبق مرشد کے مطابق الہیی نام ست سچ حق و حقیقت کی ریاض کر ۔ جسکے تاثرات سے بد عقلی دنیاوی محبت اور امیدں خدا کی کرم و عنیات سے ختم ہو گئیں ۔ رہاؤ۔ خدا بیشمار شکلوں رنگوں میں ہے اور ہر دل میں بستا ہے پوشیدہ طور پر ۔ الہٰی محبوبان کے ملاپ سے خدا ظاہر ظہور ہوتا ہے اور دنیاوی دولت کی محبت کے دروازے کشادہ ہو جاتے ہیں (1) ان سنتوں کی نیک شہرت اور ناموری ہوتی ہے جنہوں نے پورے پریم سے خدا دلمیں بسالیا جنکو ایسے سنت ملجاتے ہیں ان کا ملاپ خدا سے ہو جاتا ہے (2) الہٰی سنتوں میں خدا بستا ہے وہ دوسروں سے بلند ہستی ہوجاتےہیں انہوں نے الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی خوشبو بسائی ہوتی اور گناہوں کی بد بو دور ہو جاتی ہے (3) اے خا اپنے خدمتگار تو نے ہی پیدا یے ہیں اور انہیں اپنا کر انکی حفاظت کرتا ہے ۔ اے نانک۔ خدا پانے خدمتگاروں کا ساتھی ۔ دوست ماتا پتا بھائی رشتہ دار اور واسطہ دار ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
میرے من ہرِ ہرِ رام نامُ جپِ چیِتِ ॥
ہرِ ہرِ ۄستُ مائِیا گڑ٘ہ٘ہِ ۄیڑ٘ہ٘ہیِ گُر کےَ سبدِ لیِئو گڑُ جیِتِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
مِتھِیا بھرمِ بھرمِ بہُ بھ٘رمِیا لُبدھو پُت٘ر کلت٘ر موہ پ٘ریِتِ ॥
جیَسے ترۄر کیِ تُچھ چھائِیا کھِن مہِ بِنسِ جاءِ دیہ بھیِتِ ॥੧॥
ہمرے پ٘ران پ٘ریِتم جن اوُتم جِن مِلِیا منِ ہوءِ پ٘رتیِتِ ॥
پرچےَ رامُ رۄِیا گھٹ انّترِ استھِرُ رامُ رۄِیا رنّگِ پ٘ریِتِ ॥੨॥
ہرِ کے سنّت سنّت جن نیِکے جِن مِلِیا منُ رنّگِ رنّگیِتِ ॥
ہرِ رنّگُ لہےَ ‘ن’ اُترےَ کبہوُ ہرِ ہرِ جاءِ مِلےَ ہرِ پ٘ریِتِ ॥੩॥
ہم بہُ پاپ کیِۓ اپرادھیِ گُرِ کاٹے کٹِت کٹیِتِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ دیِئو مُکھِ ائُکھدھُ جن نانک پتِت پُنیِتِ ॥੪॥੫॥
لفظی معنی:
چیت۔ دلمیں۔ وست۔ اشیا۔ گڑھ ۔ قلعہ ۔ ویڑھی ۔ بند گھری ہوئی۔ جیت۔ فتح کر لیا ۔ رہاؤ۔ متھیا۔ مٹ جانیوالا۔ بھرم۔ بھٹکن۔ لبدھو۔ گھرا ہوا۔ پریت۔ پیار۔ ترور ۔ شجر ۔ درکت۔ ونس۔ مٹ جائے ۔ بھیت ۔ دیوار (1) اوتم ۔ بلند عظمت ۔ پرتیت ۔ اعتقاد ۔ پرچے ۔ اعتماد ۔ بھروسا۔ رویا۔ بسا۔ گھٹ ۔ دل ۔ استھر ۔ قائم دائم۔ رنگ پریم۔ پیار (2) نیکے ۔ اچھے من رنگ رنگیت ۔ دل پریم سے پریمی ہوا۔ کبہو۔ کبھی (3) پرادھی ۔ گناہگار ۔ آؤکھد۔ دوائی ۔ پتت۔ بدکار ۔ ناپاک۔ پینیت ۔ پاک و پائس۔
ترجمہ:
اے دل الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت دلمیںببسا خدا تمہارے دلمیں بستا ہے مگر تجھے دنیاوی دولت جو ایک قلعے مانند ہے تجھے گھر رکتھا ہے ۔س بق مرشد سے اس قلعے کو فتح کیا جا سکتا ہے ۔ رہاؤ۔ جھوٹے کتم ہو جانیوالے لالچوں بیٹے بیوی کی محبت میں بہت بھٹکتا ہے ۔ جیسے درخت کے معمولی سایہ آنکھ جھپکنے میں ختم ہو جاتا ہے اس طرح سے جسم جو کچی دیوار کی مانند ہے جو جلدی ختم ہوجاتی ہے (1) الہٰی خدمتگار بلند روحانی واخلاقی زندگی گذارنے والے ہے ۔ خدا خوش ہوتا ہے سب میں بستا دکھائی دیتا ہے ۔ جب پریم پیار سے ریاض تو سکون ملا (2) ہم گناہگار وں نے بہت گناہ کیے ہیں مرشد ان کے گناہ کاٹ دیتا ہے ۔ انکے منہ میں نام سچ حق وحقیقت کی دوائی ڈال کر اے نانک۔ بدکارگناہگار سے پاک و پائس بنا دیتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
جپِ من رام نام جگنّناتھ ॥
گھوُمن گھیر پرے بِکھُ بِکھِیا ستِگُر کاڈھِ لیِۓ دے ہاتھ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُیامیِ ابھےَ نِرنّجن نرہرِ تُم٘ہ٘ہ راکھِ لیہُ ہم پاپیِ پاتھ ॥
کام ک٘رودھ بِکھِیا لوبھِ لُبھتے کاسٹ لوہ ترے سنّگِ ساتھ ॥੧॥
تُم٘ہ٘ہ ۄڈ پُرکھ بڈ اگم اگوچر ہرِ ڈھوُڈھِ رہے پائیِ نہیِ ہاتھ ॥
توُ پرےَ پرےَ اپرنّپرُ سُیامیِ توُ آپن جانہِ آپِ جگنّناتھ ॥੨॥
اد٘رِسٹُ اگوچر نامُ دھِیاۓ ستسنّگتِ مِلِ سادھوُ پاتھ ॥
ہرِ ہرِ کتھا سُنیِ مِلِ سنّگتِ ہرِ ہرِ جپِئو اکتھ کتھ کاتھ ॥੩॥
ہمرے پ٘ربھ جگدیِس گُسائیِ ہم راکھِ لیہُ جگنّناتھ ॥
جن نانکُ داسُ داس داسن کو پ٘ربھ کرہُ ک٘رِپا راکھہُ جن ساتھ ॥੪॥੬॥
لفظی معنی:
جگناتھ ۔ مالک عالم ۔ گھومن گھیر ۔ بھنور۔ گردباد۔ بکھ بکھیا۔ روھانی واخلاقی موت لانے والے زہریلے ۔ ہاتھ ۔ امیداد ۔ رہاؤ۔ ابھے ۔ بیخوف۔ نرنجن۔ پاک ۔ بیداغ ۔ نرہر ۔ خدا۔ رکاھ لیہو۔ حفاظت کیجیئے ۔ پاتھ ۔ پتھر ۔پاپی ۔ گناہگار ۔ کام کرؤدھ ۔ شہوت اور غصہ ۔ دکھیالوبھ ۔ دولت کا لالچ ۔ کاسٹ ۔ کاٹھ ۔ لکڑی ۔ لوہ ۔ لوہا۔ سنگ۔ ساتھ (1) وڈپرکھ ۔ بلند عطمت ہستی ۔ اگم اگوچر۔ انسنای عقل و ہوش سے بعید بیان نہ ہو سکنے والے ۔ ڈہونڈ ۔ تلاش ۔ ہاتھ ۔ اندازہ ۔ اپرنپر۔ اتنا وسیع کر کنارہ نہیں (2) اور رسٹ ۔ اوجھل۔ ست۔ سنگت۔ پاک ۔ ساتھی ۔ سادہو۔ جس نے زندگی کی روھانی منزل پالی۔ پاتھ ۔ راستہ ۔ اکتھ ۔ جو بیان نہ ہوسکے (3) جگدیش ۔ مالک زمین ۔ جن ۔ خدمتگار ۔ داس داسن کو غلاموں کے غلام کو ۔
ترجمہ:
اے دل مالک عالم کے نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد وریاج کرائے دنیاوی دولت کے بھنور سے جو زہر آلودہ ہے جو روحانی واخلاقی موت لانیوال اہے ۔ میں جو پھنس جاتے ہیں۔ اپنے امداد ہاتھ سے نکال لیتا ہے ۔ رہاؤ۔ اے کدا مالک عالم بیخوف بیداگ پاک ہو جکبہ گناہکار پتھر کی مانند سنگدل شہوت غصے اور دنیاوی دولت کے لالچ میں گرفتار ہمیں بچا لو جیسے لکڑی کے ساتھ لوہا ترجاتا ہے ۔ اے کدا تو انسانی ہستی عقل و ہوش سے بلند و بالا اور بیان سے بعید ہے ۔ ہم نے تیری جستجو اور تلاش کی مگر تیرا شمار اور اندازہ معلوم نہیں ہوا۔ تو اتنا وسیع ہے کہ کنارہ نہیں تو اپنی قیمت قدرومنزلت کو خود ہی جانت اہے (2) تو آنکھوں سے اوجھل اس بیان سے بعید خدا کا نام خدا رسیدہ کی صحبت و قربت میں سبق مرشد سے ہی کی یاد وریاج کیا جسکتا ہے اورحمدوثناہ ہو سکتی ہے اسکے سارے اوصاف بیان نہیں ہو سکتے (3) ہمارے خدا مالک عالم ہمیں بچاؤ اے خدا تیرا خدمتگار نانک ۔ تیرے غلامو کا غلام ہے ۔ اپنی کرم وعنایت سے اپنے خدمتگاروں کے ساتھ رکھیئے ۔

کانڑا مہلا ੪ پڑتال گھرُ ੫॥
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
من جاپہُ رام گُپال ॥
ہرِ رتن جۄیہر لال ॥
ہرِ گُرمُکھِ گھڑِ ٹکسال ॥
ہرِ ہو ہو کِرپال ॥੧॥ رہاءُ ॥
تُمرے گُن اگم اگوچر ایک جیِہ کِیا کتھےَ بِچاریِ رام رام رام رام لال ॥
تُمریِ جیِ اکتھ کتھا توُ توُ توُ ہیِ جانہِ ہءُ ہرِ جپِ بھئیِ نِہال نِہال نِہال ॥੧॥
ہمرے ہرِ پ٘ران سکھا سُیامیِ ہرِ میِتا میرے منِ تنِ جیِہ ہرِ ہرے ہرے رام نام دھنُ مال ॥
جا کو بھاگُ تِنِ لیِئو ریِ سُہاگُ ہرِ ہرِ ہرے ہرے گُن گاۄےَ گُرمتِ ہءُ بلِ بلے ہءُ بلِ بلے جن نانک ہرِ جپِ بھئیِ نِہال نِہال نِہال ॥੨॥੧॥੭॥
لفظی معنی:
جاپہو ۔ جپو ۔ یاد کرؤ۔ ہر ۔ خدا ۔ گورمکھ ۔ گھڑ ٹکسال۔ مرشد کے ذریعے الہٰی نام کے سیلے چلا۔ کرپال ۔ مہربان ۔ رہاؤ۔ اگم اگوچر ۔ (الہٰی ) اوصاف۔ انسانی عقل و ہوش سے بعید اور بیان سے قاصر ہین۔ جیہہ۔ زبان۔ کتھے ۔ بیان ۔ اکتھ کتھا ۔ کہانی بیان نہیں کی جا سکتی (1) پران سکھا سوآمی ۔ زندگی کے مالک ساتھی ۔ مہتا ۔ دوست ۔ دھن مال۔ مال و دولت ۔ بھاگ۔ قسمت۔ سہاگ۔ خاوند۔ گن گاوے ۔ حمدوثناہ کرے ۔
ترجمہ:
اے دل پر ور عالم کو یاد کیا کر۔ الہٰی نام کے قیمتی مانند لعل چواہرات اور ہیرے ہے ۔ اے خدا مہربانی کر الہٰی نام کی ٹکسال بنا تاکہ نام کے گھڑین۔ رہاؤ۔ خدا ہمارے لیے ہماری زندگی کا دوست ہے ۔ اے خدا تیرے اوصاف انسانی رسائی سے بعید بیان سے باہر نہیں زبان بیان سے قاصر ہے ۔ اے خدا اپنے متعلق تو ہی جانتا ہے ۔ تیری یاد وریاض سے مجھے خوشی محسوس ہو رہی ہے (1) خدا ہماری زندگی بھر دوست ہے میرے دل میرے جسم میں مراد ل و جان کے لئے الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ہی مال و دولت ہے جس کے تقدیر و مقدر نمیں ہے ۔ اس نے پالیا وہ حمدوثناہ کرتا ہے مرشد کے سبق پر عمل کرکے اے خادم نانک الہٰی نام کی یاد وریاض سے میرے دلمیں روحانی سکون اور خوشیاں پیدا ہوتی ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
ہرِ گُن گاۄہُ جگدیِس ॥
ایکا جیِہ کیِچےَ لکھ بیِس ॥
جپِ ہرِ ہرِ سبدِ جپیِس ॥
ہرِ ہو ہو کِرپیِس ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ کِرپا کرِ سُیامیِ ہم لاءِ ہرِ سیۄا ہرِ جپِ جپے ہرِ جپِ جپے جپُ جاپءُ جگدیِس ॥
تُمرے جن رامُ جپہِ تے اوُتم تِن کءُ ہءُ گھُمِ گھُمے گھُمِ گھُمِ جیِس ॥੧॥
ہرِ تُم ۄڈ ۄڈے ۄڈے ۄڈ اوُچے سو کرہِ جِ تُدھُ بھاۄیِس ॥
جن نانک انّم٘رِتُ پیِیا گُرمتیِ دھنُ دھنّنُ دھنُ دھنّنُ دھنّنُ گُروُ سابیِس ॥੨॥੨॥੮॥
لفظی معنی:
جگدیس۔ مالک عالم۔ جیہہ۔ زبان۔ کیچے ۔ کرؤ۔ لکھ بیس۔ بیس لاکھ بناؤ۔ ہر سبد۔ الہٰی کلام ۔ ہوکر پیس۔ مہربانی کر ۔ رہاؤ۔ سوآمی ۔ مالک ۔ سیوا ۔ کدمت ۔ جاپؤ۔ جپتے رہیں۔ اُٹم۔ بلند عثمت۔ گھم گھمے ۔ قربان جائین (1) بھاویس۔ رضا ہو ۔ چاہو۔ انمرت۔ آب حیات۔ سابیس ۔ شاباش۔
ترجمہ:
اے انسانوں الہٰی حمدوثناہ کرؤ۔ اور بیس لاکھ زبانیں بناؤ۔ مراد بیس لاکھ بار یاد کرؤ۔ الہیی کلام کے ذریعے یاد کرؤ۔ اے خدا کرم و عنایت فرما۔ رہاؤ۔ اے خدا کرم و عنایت فرما ہمیں اپنی کدمت میں لگاؤ ۔ میں ہمیشہ تیرے نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد و ریاج کرتا رہون۔ اے خدا جو تیری یاد وریاض کرتے وہ بلند روحانی واخلاقی زندگی والے ہو جاتے ہیں۔ میں ان پر قربان ہوں (1) اے خدا تو سبھ سے دڈا ہے تو بہت وڈا ہے تو ہوی کرتا ہے جو تیری رضا و مرضی ہے ۔ اے خدمتگار نانک۔ جس نے سبق مرشد سے آب ھیات جو روحانی واخلاقی طور پر پاک بنا دیتا ہے نوش کیا قابل ستائش ہیں اور شاباش ہے مرشد کو۔

کانڑا مہلا ੪॥
بھجُ رامو منِ رام ॥
جِسُ روُپ ن ریکھ ۄڈام ॥
ستسنّگتِ مِلُ بھجُ رام ॥
بڈ ہو ہو بھاگ متھام ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِتُ گ٘رِہِ منّدرِ ہرِ ہوتُ جاسُ تِتُ گھرِ آندو آننّدُ بھجُ رام رام رام ॥
رام نام گُن گاۄہُ ہرِ پ٘ریِتم اُپدیسِ گُروُ گُر ستِگُرا سُکھُ ہوتُ ہرِ ہرے ہرِ ہرے ہرے بھجُ رام رام رام ॥੧॥
سبھ سِسٹِ دھار ہرِ تُم کِرپال کرتا سبھُ توُ توُ توُ رام رام رام ॥
جن نانکو سرنھاگتیِ دیہُ گُرمتیِ بھجُ رام رام رام ॥੨॥੩॥੯॥
لفظی معنی:
بھج۔ یاد کر۔ رامو۔ خا۔ روپ ۔ شکل۔ ریکھ ۔ یکو نشان ۔ وڈام ۔ وڈا۔ ست سنگت۔ سچے ساتھی ۔ بھاگ تھام۔ بلند قسمت ۔ رہاؤ۔ جت گریہہ مندر۔ جس گھر یا مندر۔ ہر ہوت جاس۔ الہٰی حمدوچناہ ۔ تت گھر ۔ اس گھر ۔ انددو آنند ۔ خوشیان بھر ۔ روحانی و ذہنی سکون۔ رام نام گن ۔ الہٰی نام۔ ست ۔ سچ حق وحقیقت کی حمدوچناہ ۔ اپدیس ۔ واعظ ۔ پندو نصائج۔ سکھ ہوت۔ آرام و آسائش ملتی ہے ۔ (1) سبھ سر شٹ دھار۔ سارے عالم کے سہارے و آسرے ۔ کرپال۔ مہربان ۔ کرتا۔ کارسا۔ کرنیوالا ۔ جن ناکوں۔ خادم نانک ۔ سر ناگتی ۔ زیر سایہ و پناہ۔ گرمتی ۔ سبق ۔ مرشد ۔
ترجمہ:
اے دل یاد کر اس خدا کو جسکی نہ کوئی شکل وصورت ہے نہ لکیر و نشان جو بلند عظمت ہے ۔ سچے ساتھیوں کی صھبت میں یاد کرؤ۔ جو سب سے بڑا ہے ۔ رہاؤ۔ جسکا گھر مندر ہے جس میں خدا کی حمدوثناہ ہوتی ہے ۔ جہاں ہر وقت خوشیاں اور سکون رہتا ہے ۔ رہاں خدا کی صفت صلاح کرتے رہو۔ واعظ و پندو نصائج مرشد آرام و آسائش اور روحانی و ذہنی سکون ملتا ہے (1) اے خداتو سارے عالم کے لئے ہے ایک سہارا و آسرا ۔ تو کار ساز ہے رحمان الرحیم ہے ۔ خدمتگار نانک ۔ اےخدا تیرے زیر سایہ و پناہ ہے سبق مرشد عنایت فمرا ہمیشہ الہٰی نام یاد کر۔

کانڑا مہلا ੪॥
ستِگُر چاٹءُ پگ چاٹ ॥
جِتُ مِلِ ہرِ پادھر باٹ ॥
بھجُ ہرِ رسُ رس ہرِ گاٹ ॥
ہرِ ہو ہو لِکھے لِلاٹ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کھٹ کرم کِرِیا کرِ بہُ بہُ بِستھار سِدھ سادھِک جوگیِیا کرِ جٹ جٹا جٹ جاٹ ॥
کرِ بھیکھ ن پائیِئےَ ہرِ ب٘رہم جوگُ ہرِ پائیِئےَ ستسنّگتیِ اُپدیسِ گُروُ گُر سنّت جنا کھولِ کھولِ کپاٹ ॥੧॥
توُ اپرنّپرُ سُیامیِ اتِ اگاہُ توُ بھرپُرِ رہِیا جل تھلے ہرِ اِکُ اِکو اِک ایکےَ ہرِ تھاٹ ॥
توُ جانھہِ سبھ بِدھِ بوُجھہِ آپے جن نانک کے پ٘ربھ گھٹِ گھٹے گھٹِ گھٹے گھٹِ ہرِ گھاٹ ॥੨॥੪॥੧੦॥
لفظی معنی:
چاٹؤ۔ چوموں ۔ پگ ۔ پاون ۔ پادھر ۔ پدھرا۔ سیدھا۔ باٹ۔ راسہت ۔ بھج ہر رس۔ یاد کر لطف الہٰی ۔ رس ہر گاٹ ۔ الہٰی لطفت گٹ کرکے پی ۔ کھے للاٹ ۔ پیشانی پر تحریر۔ رہاؤ۔ کھٹ کرم ۔ چھا اعمال۔ کریاکر ۔ اعمال بنا۔ پگ چاٹ۔ پھاؤ ں چوم ۔ للاٹ ۔ پیشانی پر ۔ بسقھار ۔ پھیلاؤ ۔ سدھ ۔ جنہوں راہ عمال پالیا۔ سادھک۔ جو اس راہ کی جستجو میں ہیں۔ جٹ جٹا۔ البھے ہوئے بالوں کا چھر ۔ بھیکھ ۔ دکھاوا۔ برہم جوگ۔ الہٰی ملاپ ۔ ست سنگتی ۔ سچے ساتھیوں کی صحبت سے ۔ اپدیس ۔ واعظ ۔ نسیبت ۔ گروگر۔ مرشد کی بتائی ہوئی راہ و طریقہ ۔ سنت جنا۔ الہیی متلاشی خدمتگاروں کھول کھولپاٹ۔ من کے دروازے کھول کھول بتاتے ہین (1) پاپرنپر۔ پرے سے پرے ۔ اتنا وسیع کہ کنارہ نہین۔ آت اگاہ۔ نہایت کبردار۔ بھر پر ۔ مکمل طور پر بس رہا موجود۔ جل تھلے ۔ زمین اور پانی میں۔ تھاٹ ۔ بناوٹ۔ بدھ ۔ طریقے ۔ بوجھیہہ۔ سمجھے ۔ گھٹ ۔ گھٹے ۔ ہر دل ۔
ترجمہ:
جس مرشد کے ملاپ سے الہٰی ملاپ کے صراط مستقیم کا پتہ چلتا ہے ۔ میں اس مرشد کے پاؤن چومتا ہوں۔ الہیی یاد وریاض سے الہٰی لطف اُٹھاؤ۔ اور گھٹ گھٹ پیؤ۔ تیری پیشانی کی تحریر نمودار ہو جائیگی ۔ رہاؤ۔ پنڈتوں کی طرف ویدوں کو پڑھان اور پڑھانا ۔ پگ کرنا اور کروانا ۔ پڑھنا اور پڑھاتا۔ خیرات کرنا اور کرانات اور بہت سے پھیلاؤ ۔ ان جوگیوں کی مانند جنہوں نے راہ پالی ہے اور کوشان ہیں۔ جٹاں بنا کر مذہبی لباس پہن کر الہٰی ملاپ حاصل نہیں ہو سکتا۔ الہٰی ملاپ نیک سچے ساتھیوں کے ملاپ سے حاصل ہوتا ہے ۔ سبق واعظ و پندو نصائج مرشد۔ اور بتائے راہ راست سے اور متلاشی عاشقان کدا کے ملاپ سے پانے دل کے دروازے کھولنے پر مراد مکمل سوچ وچار کرنے پر (1) اے مالک تو نہایت کشادہ وسیع کہ تیرے عرض وطول کا کنارہ نہیں غرض یہ کہ تو ہر جگہ زمین وپانی میں موجود ہے ۔ یہ ساری مخلوقات اور قئائنات قدرت تیری اور تیری پیداوار اور پیدا کی ہوئی ہے ۔ تو سارے طرز اور طریقے جانتا ہے اور خود ہی سمجھت اہے ۔ کادم نانک کا خدا ہر دلمیں بستا ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
جپِ من گوبِد مادھو ॥
ہرِ ہرِ اگم اگادھو ॥
متِ گُرمتِ ہرِ پ٘ربھُ لادھو ॥
دھُرِ ہو ہو لِکھے لِلادھو ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِکھُ مائِیا سنّچِ بہُ چِتےَ بِکار سُکھُ پائیِئےَ ہرِ بھجُ سنّت سنّت سنّگتیِ مِلِ ستِگُروُ گُرُ سادھو ॥
جِءُ چھُہِ پارس منوُر بھۓ کنّچن تِءُ پتِت جن مِلِ سنّگتیِ سُدھ ہوۄت گُرمتیِ سُدھ ہادھو ॥੧॥
جِءُ کاسٹ سنّگِ لوہا بہُ ترتا تِءُ پاپیِ سنّگِ ترے سادھ سادھ سنّگتیِ گُر ستِگُروُ گُر سادھو ॥
چارِ برن چارِ آس٘رم ہےَ کوئیِ مِلےَ گُروُ گُر نانک سو آپِ ترےَ کُل سگل ترادھو ॥੨॥੫॥੧੧॥
لفظی معنی:
گوبند مادہو۔ مالک عالم و قائنات ۔ اگم اگادہو ۔ انسانی رسائی سے بعید اندازے اور اعداد سے باہر ۔ مت ۔ سمجھ ۔ گرمت۔ سبق مرشد ۔ لادہو۔ ملا۔ لکھے لادہو ۔ تحریر پیشانی ۔ رہاؤ۔ بکھ مائیا۔ روحانیت و اخلاق کے لئے زہر۔ سنچ ۔ اکھٹی کرکے ۔ بہو چتے بکار۔ دلمیں بہت برائیاں ۔ ہر ھج ۔ یاد خدا کو کر ۔ سنت سنگتی ۔ عاشقان الہٰی کے ساتھ صھبت۔ گر سادہو۔ مرشد راہ راست یافتہ ۔ چھوہ ۔ چھونے سے ۔ پارس۔ منور۔ پارس کے بوسیدہ لوہے کو چھونے سے ۔ کنچن ۔ سونا۔ پتت۔ بدکار۔ بد اخلاق۔ سدھ ہووت۔ پاک ہو جاتے ہیں۔ گرمتی سدھ ہادہو ۔ سبق مرشد سے پاک روحانی اخلاقی زندگی بسر کرنیوالے ہو جاتے ہیں (1) جیؤ ۔ جیسے ۔ کاسٹ ۔ لکڑی ۔ سنگ لوہا۔ لوہے کے ساتھ وملاپ سے ۔ پاپی ۔ گناہگار۔ سادھ سادھ سنگتی ۔ نیک پارساؤں پاکدامنوں کی صحبت و قربت سے ۔ گر ستگر گرسادہو ۔ سچے مرشد کے بتائے ہوئے راہ پر چلنے سے پاک ہو جاتا ہے ۔ چار برن ۔ براہمن ۔ کتھری ۔ شودر وئش ۔ آپ تیرے کل سگل ترادہو۔ خود کامیاب ہوتا ہے اور سارے خداندان کو کامیاب بناتا ہے ۔
ترجمہ:
اے دل ماک عالم و قائنات قدرت خدا کویاد کرر ۔ خدا انسانی رسائی سے بعید اندازے اور اعداد و شمار سے باہر ہے ۔ عقل اور سبق مرشد سےا لہٰی وصل و ملاپ نسبی ہوتا ہے ۔ جس کے پیشانی پر خدا کی طرف سے کندہ تھریر ہوتا ہے (1) روھانی واخلاقی موت لانے والا سرمایہ اکٹھا کرکے انسان بیشمار برائیوں کی طرف اپنا رجوع کرتا ہے ۔س نت عاشق الہٰی اور سچے ساتھیوں صحبت یاد خدا اور سچے مرشد کے بتائے ہوئے راہ راست مرشد اور پاکدامن اس طرح سے جیسے پارس کو بوسیدہ لوہے سے چھونے سے کنچن ہو جاتا ہے اس طرح سے گناہگار ساتھیوں کے ملاپ سے پاک ہو جاتا ہے ۔ سبق مرشد سے (1) جس طرح سے لکڑی کی صحبت و ملاپ سے لوہا تیر نے لگتا ہے ۔ اسطرح سے گناہگاروں کو پاکدامن کی صحبت و مرشد کے بتائے ہوئے سبق سے کامیاب ہو جاتا ہے ۔ زندگی میں ۔ اے نانک۔ برہمن کتھری شودر اور ویش چار ذاتیں مشہور ہیں۔ ان میں سے جوکوئی بھی مرشد سے ملتا ہے وہ خودکامیاب ہو جاتا ے اور اپنے خاندان والوں اور تعلقداروں کو بھی کامیاب بناتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
ہرِ جسُ گاۄہُ بھگۄان ॥
جسُ گاۄت پاپ لہان ॥
متِ گُرمتِ سُنِ جسُ کان ॥
ہرِ ہو ہو کِرپان ॥੧॥ رہاءُ ॥
تیرے جن دھِیاۄہِ اِک منِ اِک چِتِ تے سادھوُ سُکھ پاۄہِ جپِ ہرِ ہرِ نامُ نِدھان ॥
اُستتِ کرہِ پ٘ربھ تیریِیا مِلِ سادھوُ سادھ جنا گُر ستِگُروُ بھگۄان ॥੧॥
جِن کےَ ہِردےَ توُ سُیامیِ تے سُکھ پھل پاۄہِ تے ترے بھۄ سِنّدھُ تے بھگت ہرِ جان ॥
تِن سیۄا ہم لاءِ ہرے ہم لاءِ ہرے جن نانک کے ہرِ توُ توُ توُ توُ توُ بھگۄان ॥੨॥੬॥੧੨॥
لفظی معنی:
جس ۔ صفت ۔ صلاح۔ تعریف۔ حمدوثناہ ۔ پاپ۔ گناہ۔ لہان ۔ مٹ جاتے ہیں۔ مت ۔ سمجھ ۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ جس ۔ تعریف ۔ کان ۔ کانوں ہے ۔ کرپان ۔ مہربان ۔ رہاؤ۔ سمرت نام۔ ست سچ حق وحقیقت کو یاد رکھنے سے ۔ منہ ۔ سادھارے ۔ دل راہ راست۔ پر ۔ جاتا ہے ۔ اک من اک چت۔ یکسو ہوکر۔ سادہو ۔ وہ نیک انسان جنہوں نے طرز ندگی راہ راست پر لے آئے ۔ اس تت ۔ تعریف (1) ہرولے ۔ دلمین۔ تیرے بھو سندھ ۔ خوفناک۔ سمندر۔ بھگت ہرچن ۔ا نہیں خدا کے خدمتگار ۔ سمجھ ۔
ترجمہ:
اے انسانوں یاد خدا کو کیا کرؤ۔ خدا کی یاد سے گناہ مٹتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔ سبق مرشد حاصل کرکے اور کانوں سے الہٰی حمدوچناہ سننے سے خدا مہربان ہوتا ہے ۔ رہاؤ۔ اے خدا تیرے خدمتگار یکسو ہوکر دل و جان سے تجھ میں دھیان لگاتے ہیں۔ آرام و آسائش کا خزانہ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد وریاض سے وہ مریدان مرشد روحانی و ذہنی سکون پاتے ہیں۔ اے خدا تیری تعریف کرتے ہیں خدا رسیدہ پاکدامن سادہو اور سنتو خدمتگاروں طریقے سے سچے مرشد سے ملکر خدا کی (1) اے مالک جنکے دلمیں تو بستا ہے وہ روحانی وذہنی سکون حاصل کرتے ہیں اور اس دنیاوی زندگی کو جو ایک خوفناک مسندر کی مانند ہیں کو کامیاب بنا لیتے ہیں اور اس پر عبور حاصل کر لیتے ہیں انکو الہٰی خدمتگار سمجھو ۔ ان کی خدمت میں اے خدا لگائے رکھو ۔ کدمتگار نانک کے خدا تو۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
گائیِئےَ گُنھ گوپال ک٘رِپا نِدھِ ॥
دُکھ بِدارن سُکھداتے ستِگُر جا کءُ بھیٹت ہوءِ سگل سِدھِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِمرت نامُ منہِ سادھارےَ ॥
کوٹِ پرادھیِ کھِن مہِ تارےَ ॥੧॥
جا کءُ چیِتِ آۄےَ گُرُ اپنا ॥
تا کءُ دوُکھُ نہیِ تِلُ سُپنا ॥੨॥
جا کءُ ستِگُرُ اپنا راکھےَ ॥
سو جنُ ہرِ رسُ رسنا چاکھےَ ॥੩॥
کہُ نانک گُرِ کیِنیِ مئِیا ॥
ہلتِ پلتِ مُکھ اوُجل بھئِیا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
کرپاندھ ۔ مہربانیوں کا خزانہ ۔ رحمان الرحیم۔ دکھ بدارن ۔ عذاب مٹانیوالا۔ بھیٹت ۔ ملاپ سے ۔ ہوئے سگل سیدھ ۔ ساری کامیابیاں ھاصل ہوتی ہیں ۔ رہاؤ۔ سادھارئے ۔ سہارا۔ کوٹ ۔ کروڑوں ۔ پرادھی ۔ اپر دھی ۔ گناہگار ۔ کھن میہہ۔ آنکھ ۔ جھپکنے کے عرصے میں ۔ تارے کامیاب بناتا ہے (1) چیت ۔ دل ۔ تل ذرا سا۔ سپنا۔ خواب میں (2) راکھے ۔ حفاظت کرے ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف ۔ رسنا۔ زبان۔ چاکھے ۔ لطف لے (3) گر ۔ مرشد۔ میئیا۔ مہربانی ۔ حلت پلت۔ ہر دو عالموں میں۔ اجل بھیا ۔ سرخرو ۔ بیداغ۔
ترجمہ:
مالک عالم کدا کے ملکر حمدوچناہ کریں جو رحمان الرحیم ہے مہربانیوں کا خزانہ ہے ۔ عذاب دور کرنیوالا آرام و آسائش پہنچا نیوالا سچا مرشد جس کے ملاپ سے زندگی میں ہر طرح کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہین (1) رہاؤ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد وریاض سے من کو سہارا ملت اہے برائیوں کے خلاف لڑنے میں اس سے کروڑوں گناہگاروں کو آنکھ جھپکنے کے عرصے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے (1) جس کو اپنا مرشد یاد رہتا ہے ۔ اسے خواب میں بھی ذرا سا عذاب آتا ہے ۔ (2) جسکا سچا مرشد خود محافظ ہو وہ زبان سے الہٰی نام کا لطف اُٹھاتا ہے (3) اے نانک بتادے کہ مرشد نے مہربانی کی جس سے ہر دو عالموں میں سرخرو ہوئے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
آرادھءُ تُجھہِ سُیامیِ اپنے ॥
اوُٹھت بیَٹھت سوۄت جاگت ساسِ ساسِ ساسِ ہرِ جپنے ॥੧॥ رہاءُ ॥
تا کےَ ہِردےَ بسِئو نامُ ॥
جا کءُ سُیامیِ کیِنو دانُ ॥੧॥
تا کےَ ہِردےَ آئیِ ساںتِ ॥
ٹھاکُر بھیٹے گُر بچناںتِ ॥੨॥
سرب کلا سوئیِ پربیِن ॥
نام منّت٘رُ جا کءُ گُرِ دیِن ॥੩॥
کہُ نانک تا کےَ بلِ جاءُ ॥
کلِجُگ مہِ پائِیا جِنِ ناءُ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
آرادھیؤ۔ یاد وریاض ۔ سوآمی ۔ ملاک ۔ جپنے ۔ یادویاض ۔ رہاؤ۔ دان ۔ خیرات (1) سانت۔ سکون ۔ گربچنات۔ کلام رمشد ۔ سبق مرشد (2) پربین ۔ مکنن ۔ کامل۔ نام منتر۔ ست ۔ سچ ۔ حق وحقیقت کا سبق (3) بل جاؤ۔ قربان ۔
ترجمہ:
اے میرے آقا میں تیری یاد وریاض کرتا ہوں۔ اُھٹے بیٹھتے سوتے جاگتے ہر سانس یاد کرتا ہوں ۔ رہاؤ۔ اے کدا اسکے دلمیں نام ست سچ حق و حقیقت بستا ہے جس پر تیری کرم و عنایت ہو تر خیرات کرے ۔ رہاو۔ اسکے دل کو سکون محسوس ہوتا ہے جو کلام مرشد کے مطابق الہٰی ملاپ پاتا ہے (2) ہر قسم کے ہنروں میں وہی کامل ہوتا ہے ۔ جسے مرشد جسکو الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا سبت دیتا ہے (3) اے نانک بتادے کہ اس جھگڑے کے دو رمیں قربان ہوں اس پرجنہوں نے نام دریافت کیا۔

کانڑا مہلا ੫॥
کیِرتِ پ٘ربھ کیِ گاءُ میریِ رسناں ॥
انِک بار کرِ بنّدن سنّتن اوُہاں چرن گوبِنّد جیِ کے بسنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
انِک بھاںتِ کرِ دُیارُ ن پاۄءُ ॥
ہوءِ ک٘رِپالُ ت ہرِ ہرِ دھِیاۄءُ ॥੧॥
کوٹِ کرم کرِ دیہ ن سودھا ॥
سادھسنّگتِ مہِ منُ پربودھا ॥੨॥
ت٘رِسن ن بوُجھیِ بہُ رنّگ مائِیا ॥
نامُ لیَت سرب سُکھ پائِیا ॥੩॥
پارب٘رہم جب بھۓ دئِیال ॥
کہُ نانک تءُ چھوُٹے جنّجال ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
کیرت ۔ صفت صلاح۔ حمدوثناہ ۔ تعریف ۔ ۔ رسنا۔ زبان ۔ بندھن۔ نمسکار۔ سجدہ ۔ اوہان۔ وہاں۔ چرن گوبند ۔ پائے خدا ۔ رہاؤ۔ انک بھانت۔ بیشمار طریقے اپنا کر ۔ دوآر۔ دروازہ ۔ منزل ۔ نہ پاوؤ۔ حاصل نہیں ہوتی ۔ ہوئے کرپال۔ مہربان ۔ دھیاوؤ۔ دھیان لگاؤ (1) کروڑون اعمال سے یہ جسم پاک نہیں ہوتا۔ نیک پارساؤں کی صحبت و قربت میں بیدار ہوتا ہے ۔ سودھا ۔ پاک و پائس ۔ پر بودھا ۔ بیدار (2) ترشنا ۔ خواہشات کی پیاس۔ بوجھی ۔ ختم نہیں ہوتی ۔ بہورنگ ۔ بہت سے رنگوں میں۔ نام لیت۔ نام اپنانے سے (3) پاربرہم۔ کامیابی بخشنے والا۔ جنجال ۔ پھندے ۔
ترجمہ:
اے زبان الہٰی حمدوثناہ کیا کر ۔ سنتوں کے پاؤں پر بار بار سجدہ کرؤ سر جھکاؤ۔ کیونکہ سنتوں کے دلمین پائے خدا بستے ہیں۔ رہاؤ۔ بیشمار طریقوں سے منزل اور در حاصل نہیں ہوتا۔ مگر جب خدا خود مہربان ہوتا ہے تو دھیان لگتا ہے (1) کروڑوں اعمالوں سے پاک نہیں ہوتا نیک پارساؤں خدا رسیدہ پاکدامنوں کی صحبت ق قربت سے بیدار ہوت اہے (2) سارے ہنروں میں دانشمند مسکین اور کامل جسے مرشد الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا درس دیدیا (3) ۔ اے نانک قربان جاؤں اس پر جس نے اس دور یہ شورش میں نام پالیا۔

کانڑا مہلا ੫॥
ایَسیِ ماںگُ گوبِد تے ॥
ٹہل سنّتن کیِ سنّگُ سادھوُ کا ہرِ ناماں جپِ پرم گتے ॥੧॥ رہاءُ ॥
پوُجا چرنا ٹھاکُر سرنا ॥
سوئیِ کُسلُ جُ پ٘ربھ جیِءُ کرنا ॥੧॥
سپھل ہوت اِہ دُرلبھ دیہیِ ॥
جا کءُ ستِگُرُ مئِیا کریہیِ ॥੨॥
اگِیان بھرمُ بِنسےَ دُکھ ڈیرا ॥
جا کےَ ہ٘رِدےَ بسہِ گُر پیَرا ॥੩॥
سادھسنّگِ رنّگِ پ٘ربھُ دھِیائِیا ॥
کہُ نانک تِنِ پوُرا پائِیا ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
گوبند ۔ مالک عالم۔ ٹہل۔ خدمت ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ صحبت۔ ہر نام۔ ہرناما۔ الہٰی نام۔ جپ ۔ یاد وریاض ۔ پرم گتے ۔ بلند روحانی و ذہنی حالت ۔ رہاؤ۔ پوجا ۔ چرنا۔ پرستش پا۔ ٹھاکر سرنا۔ مالک کی پناہ ۔ سوئی ۔ وہی ۔ کسل۔ خوشحالی (1) درلبھ ۔ نایاب ۔ میا ۔ مہربانی (2) اگیان ۔ بے علمی ۔ بھرم۔ بھٹکن ۔ ونسے ۔ مٹے ۔ دکھ ڈیرا۔ عذاب کا ٹھکانہ ۔ بروئے ۔ دلمیں ۔ گر پیرا ۔ ۔ پائے مرشد (3) ۔ سادھ سنگ ۔ صحبت ۔ سادہو ۔ رنگ پربھ ۔ الہٰی پیار۔ پورا۔ کامل۔

ترجمہ:
مانگو ۔ سنتوں خدمت کرتارہوں مرشد کی صحبت خدا نے نام سچ حق وحقیقت جو ست ہے اپناؤن تکاہ بلند روحانی وذہنی سکون کی حالت حاصل ہو نسبی میں ۔ رہاؤ۔ پرستش پائے خدا و پناہ خدا۔ اسی میں راضی و خوشھالی سمجھو جو ہو رہائے خدا (1) تکاہ یہ نایاب جسم کا میاب ہو۔ جس پر سچا مرشد مہربانی کرتا ہے (2) لاعلمی بھٹکن اور عذاب ختم ہو جاتے ہیں جسکے دلمیں مرشد کی قدرومنزلت بس جاتی ہے (3) جسنے سادھ کی صحبت میں رہ کر خدا عبادت اور بندگی کی اے نانک بتادے کہ اس نے کامل خدا کا وصل و ملاپ پالیا۔

کانڑا مہلا ੫॥
بھگتِ بھگتن ہوُنّ بنِ آئیِ ॥
تن من گلت بھۓ ٹھاکُر سِءُ آپن لیِۓ مِلائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گاۄنہاریِ گاۄےَ گیِت ॥
تے اُدھرے بسے جِہ چیِت ॥੧॥
پیکھے بِنّجن پروسنہارےَ ॥
جِہ بھوجنُ کیِنو تے ت٘رِپتارےَ ॥੨॥
انِک س٘ۄاںگ کاچھے بھیکھدھاریِ ॥
جیَسو سا تیَسو د٘رِسٹاریِ ॥੩॥
کہن کہاۄن سگل جنّجار ॥
نانک داس سچُ کرنھیِ سار ॥੪॥੫॥
لفظی معنی:
بھگتی ۔ عبادت ۔ بھگن ۔ عبداں ۔ بن آئی۔ راس آتی ہے ۔ ہوں ۔کو ۔ تن ۔ من ۔ دل وجان ۔ گللت ۔ یکسو۔ اک میک۔ محو۔ رہاؤ۔ گاون ہاری ۔ گانے والی ۔ تے وہ۔ ادھرتے ۔ کامیاب (1) پیکھے ۔ دیکھتا ہے ۔ بنجن۔ کھانا۔ پرونہارے ۔ پیش کرنیوالا۔ بھوجن ۔ کینو ۔ کھانا کھائیا۔ ترپتارے ۔ سیر ہوتا ہے (2) سوآنگ ۔ بہروپ ۔ شکلیں۔ کاچھے ۔ بناتا ہے ۔ بھیکھد ھاری ۔ بھیس یا بہروپ بنایوالا ۔ درسٹاری ۔ نظر آتا ہے (3) جنجار ۔ پھندہ ۔جال۔ سچ کرنی سار۔ حقیقی عمل ہی ۔ حقیقت اور اعلے اعمال ہہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
تیرو جنُ ہرِ جسُ سُنت اُماہِئو ॥੧॥ رہاءُ ॥
منہِ پ٘رگاسُ پیکھِ پ٘ربھ کیِ سوبھا جت کت پیکھءُ آہِئو ॥੧॥
سبھ تے پرےَ پرےَ تے اوُچا گہِر گنّبھیِر اتھاہِئو ॥੨॥
اوتِ پوتِ مِلِئو بھگتن کءُ جن سِءُ پردا لاہِئو ॥੩॥
گُر پ٘رسادِ گاۄےَ گُنھ نانک سہج سمادھِ سماہِئو ॥੪॥੬॥
لفظی معنی:
ہر جس ۔ الہٰی صت صلاھ ۔ اماہیؤ۔ خوش ہوا ۔ رہاو۔ پرگاس۔ روشن ۔ پیکھ ۔ دیکھر ۔ سوبھا ۔ شہرت ۔ جت کت۔ جہان کہیں۔ آہیؤ ۔ موجود (1) سبھ تے پرے ۔ سبھ سے دور۔ اوچا ۔ بلند عظمت ۔ گہیر گنبھیر ۔ گہری سوچ ۔ سمجھ والا دانشمند سنجیدہ مستقل مزاج (2) اوت پوت ۔ تانے پیٹے کی مانند آپسی ملاپ یا رشتہ ۔ پرودہ ۔ راز افشاں کیا (3) گر پرساد ۔ رحمت مرشد ے ۔ گن ۔ اوصاف ۔ سہج سمادھ روحانی و ذہنی ۔ ذہن نشینی ۔ سماہی ؤ۔ محو ومجذوب ہوا۔
ترجمہ:
اے خدا تیرے تیری تعریف تیری حمدوچناہ سنکر تیرے خدمتگار خوش ہوتے ہین ۔ رہاؤ۔ الہیی عظمت و حشمت دیکھ کر دل کھلتا ہے روشن ہوتا ہے جدھر دیکھتا ہوں ہوتا ہے موجود وہان (1) سب سے دور اور دور سے بلند عظمت گہری سوچ و سمجھ والا سنجیدہ اندازے اور شمار سے بعید (2) آپس میں اس طرح یکسو جس طرح تانا اور پیٹا بھگتوں محبوبوں اور خدمتگاروں سے اور ان پر اپنا راز افشاں کرتا ہے (3) اے نانک۔ رحمت مرشد سے جو حمدوثناہ کرتا ہے وہ روحانی و ذہنی سکون میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
سنّتن پہِ آپِ اُدھارن آئِئو ॥੧॥ رہاءُ ॥
درسن بھیٹت ہوت پُنیِتا ہرِ ہرِ منّت٘رُ د٘رِڑائِئو ॥੧॥
کاٹے روگ بھۓ من نِرمل ہرِ ہرِ ائُکھدھُ کھائِئو ॥੨॥
استھِت بھۓ بسے سُکھ تھانا بہُرِ ن کتہوُ دھائِئو ॥੩॥
سنّت پ٘رسادِ ترے کُل لوگا نانک لِپت ن مائِئو ॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
سنتن ۔ محبوبان خدا۔ آپ ۔ خود خدا۔ ادھارن۔ بچاؤ۔ یاکامیابی کے لئے ۔ رہاؤ۔ درسن بھیٹت۔ دیدار و ملاپ ۔ پنیتا۔ پوتر۔ پاک ۔ خوش فہم و اعمال۔ ہر منتر۔ درڑایو۔ الہٰی نام دلمیں پختہ کرائیا۔ (1) نرمل پاک۔ اوکھد۔ دوائی (2) ۔ استھیت ۔ مستقل مزاج۔ کتہو ۔ کہیں۔ دھایو ۔ بھٹکتا (3) سنت پرساد۔ سنتوں کی کرپا سے ۔ لپت ۔ ملوث ۔
ترجمہ:
خلقت کے بچاؤ اور کامیابی کے لئے خدا سنتوں کے دل میں بستا ہے ۔ رہاؤ۔ دیدار سے انسان پاک و پائس ہو جاتا ہے اور الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت دلمیں پختہ طور پر بسا دیتا ہے (1) اسکے سارے دل و ذہنی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ جو الہٰی نام کی دوائی کھاتا ہے ۔ دل پاک و پائس ہو جاتا ہے (2) وہ مستقل مزاج ہو جاتا ہے سکون پاتا ہے اور بھٹکتا نہیں (3) محبوبان الہٰی کی رحمت سے ساری مخلوقات کامیاب ہوئی اے نانک ان پر دنیاوی دولت اپنا تاثرات نہیں پاتی ۔

.
کانڑا مہلا ੫॥
بِسرِ گئیِ سبھ تاتِ پرائیِ ॥
جب تے سادھسنّگتِ موہِ پائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نا کو بیَریِ نہیِ بِگانا سگل سنّگِ ہم کءُ بنِ آئیِ ॥੧॥
جو پ٘ربھ کیِنو سو بھل مانِئو ایہ سُمتِ سادھوُ تے پائیِ ॥੨॥
سبھ مہِ رۄِ رہِیا پ٘ربھُ ایکےَ پیکھِ پیکھِ نانک بِگسائیِ ॥੩॥੮॥
لفظی معنی:
تات ۔ حسد۔ بسدگئی ۔ بھول گئی ۔ سادھ سنگت ۔ پارساؤں ۔ خدا ترسوں ۔ خدا رسیدوں کی صحبت و قربت ۔ رہاؤ۔ بیری دشمن ۔ سگل سنگ۔ سب کے ساتھ ۔ بن ائی ۔ اتفاق۔ متبق (1) پربھ کینو۔ خدا جو کرتا ہے ۔ بھل بھانیو ۔ اچھا سمجہو ۔ سعت۔ نیک صلاح (2) سبھ میہہ روزہیا ۔ سبھ میں بستا ہے ۔ پربھ ایکو ۔ واحد خدا ۔ پیکھ ۔ دیکھ کر وگسائی ۔ خوش ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
دوسروں سے حسد کرنا بھول گیا ہوں جب سے سادہوؤں کی سحبت و قربت نسیب ہوئی ہے ۔ رہاؤ۔ اب مجھے نہ کوئی دشمن ہے نہ کسی سے بیگانگی ہے ۔ اب سب کے ساتھ میرا محبت پیار ہے (1) کدا جو کچھ کرتا ہے اسے اچھا سمجھتا ہون یہ نیک خیال سادہو نے سمجھائیا ہے (2 ) سبھ میں واحد خدا بستا ہے جسے دیکھ دیکھ نانک خوشی محسوس کرتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
ٹھاکُر جیِءُ تُہارو پرنا ॥
مانُ مہتُ تُم٘ہ٘ہارےَ اوُپرِ تُم٘ہ٘ہریِ اوٹ تُم٘ہ٘ہاریِ سرنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
تُم٘ہ٘ہریِ آس بھروسا تُم٘ہ٘ہرا تُمرا نامُ رِدےَ لےَ دھرنا ॥
تُمرو بلُ تُم سنّگِ سُہیلے جو جو کہہُ سوئیِ سوئیِ کرنا ॥੧॥
تُمریِ دئِیا مئِیا سُکھُ پاۄءُ ہوہُ ک٘رِپال ت بھئُجلُ ترنا ॥
ابھےَ دانُ نامُ ہرِ پائِئو سِرُ ڈارِئو نانک سنّت چرنا ॥੨॥੯॥
لفظی معنی:
پرنا۔ آسرا۔ مان ۔ مہت ۔ وقار و عظمت اوٹ۔ اسرا۔ سرنا ۔ پناہ ۔ رہاؤ۔ آس ۔ امید ۔ بھروسا۔ یقین ۔ ردے ۔ دلمیں۔ دھرنا۔ بسانا ۔ سہیلے ۔ آسان (1) ۔ دیا ۔ مہربانی ۔ بھؤجل ۔ سنسار۔ خوفناک سمندر۔ ابھے دان۔ بیخوفی ۔ نام۔ ست ۔ سچ حق وحقیقت ۔ سر ڈراریؤ۔ سر رکھا۔ سنت چرنا۔ سنتوں کے قدموں پر ۔
ترجمہ:
اے آقا تیرا سہارا تیرا آسرا مجھے تم پر فخر اور آسرا ہے اور تیری پناہ ہے ۔ رہاو۔ اے خدا تم پر ہی امید وابسطہ ہے تم پر ہی یقین اور بھروسا ہے تیرا ہی نام دلمیں بسائیا ہے ۔ تیری دی ہوئی مجھے طاقت ہے ۔ تیرے ہی ساتھ میں آسائش میں ہوں۔ تیرے فرمان کا تابعدار اور زیر فرمان کام کرتا ہوں (1) تیری ہی کرم و عنایت ورحمت سے آرام و آسائش پاتا ہوں تیری ہی مہربانی سے اس دنیاوی زندگی کے خوفناک سمندر کو عبور کر سکتا ہوں۔ اے نانک ۔ بیخوفی کی خیرات دینے وال انام خدا حاصل ہوا سر سنت کے قمدوں پر رکھا ۔

کانڑا مہلا ੫॥
سادھ سرنِ چرن چِتُ لائِیا ॥
سُپن کیِ بات سُنیِ پیکھیِ سُپنا نام منّت٘رُ ستِگُروُ د٘رِڑائِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
نہ ت٘رِپتانو راج جوبنِ دھنِ بہُرِ بہُرِ پھِرِ دھائِیا ॥
سُکھُ پائِیا ت٘رِسنا سبھ بُجھیِ ہےَ ساںتِ پائیِ گُن گائِیا ॥੧॥
بِنُ بوُجھے پسوُ کیِ نِیائیِ بھ٘رمِ موہِ بِیاپِئو مائِیا ॥
سادھسنّگِ ہم جیۄریِ کاٹیِ نانک سہجِ سمائِیا ॥੨॥੧੦॥
لفظی معنی:
سادھ ۔ ایسا شخص جسے طرز زندگی کو راہ راست پر پالیا۔ زندگی گذارنے سیدھاراہ پالیا اور اپنا لیا۔ سرن ۔ سایہ ۔ پناہ۔ چرن ۔ پاؤں۔ چت لائیا۔ دلمیں بسائیا ۔ سپن ۔ خواب ۔ پیکھی ۔ دیکھی ۔ سپنا۔ خواب ۔ مین کی بات سنی ۔ خواب کی بات سنی ۔ پیکھی سنا ۔ دیکھی ۔ مراد خواب دیکھا۔ نام کا سبق مراد ست سچ حق وحقیقت ۔ مکمل طور پر ۔ ستگر درڑائیا۔ پختہ کرائیا ۔ رہاؤ۔ ترپتانے ۔ تسلی و تشنی ۔ راج ۔ حکومت۔ جبن ۔ جوانی ۔ دھن ۔ سرمایہ ۔ دھائیا۔ بھٹکیا ۔ بہور بہور۔ بار بار۔ ترشنا ۔ خواہشات کی پیاس ۔ سانت ۔ سکون (1) بن بوجھے ۔بغیر سمجھے ۔ نیایں ۔ مانند۔ جیسے ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ بیاپیؤ۔ بسئیا۔ سادھ سنگ ۔ سادہو کی صھبت سے ۔ جیوری ۔ پھندہ ۔ر سی ۔ سہج سمائیا۔ سکون روحانی وذہنی ملا۔
ترجمہ:
جب سے سادھ کی زیر سایہ رہ کر خدا کا گرویدہ ہوگیا ہوں اسکے پاؤں سے دل لگالیا ہے اس زندگی کو ایک خواب سنا تھا اب وہ خواب آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور اب سچے مرشد نے الہٰی نام سچ سچ حق وحقیقت دل میں مستقل طور پر ذہن نشین کرا دیا ہے ۔ رہاؤ۔ انسانی دل حکمرانی جونای اور دولت سے اسکی تسلی و تشنی نہیں ہوتی اور بار بار اسکے لیے بھٹکتا رہتا ہے ۔ آرام و آسائش تب حاصل ہوتا ہے ۔ جب خواہشات کی پیاس بجھتی ہے اور الہٰی حمدوثناہ سے سکون ملتا ہے (1) انسنا بغیر سوچ سمجھ کے انسان کی شکل میں ایک حیونا ہے ۔ اسے دنیاوی دولت کی محبت دلمیں بسی رہتی ہے ۔ کدا رسیدہ پاکدا من راہ زندگی یافتہ خادم خدا کی صحبت و قربت میںرہن سے اسکا دنیاوی دولت کی محبت کا پھندہ اور رسی کٹ جاتی ہے ۔ اے نانک تب انسنای روحانی وذہنی سکون میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
ہرِ کے چرن ہِردےَ گاءِ ॥
سیِتلا سُکھ ساںتِ موُرتِ سِمرِ سِمرِ نِت دھِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سگل آس ہوت پوُرن کوٹِ جنم دُکھُ جاءِ ॥੧॥
پُنّن دان انیک کِرِیا سادھوُ سنّگِ سماءِ ॥
تاپ سنّتاپ مِٹے نانک باہُڑِ کالُ ن کھاءِ ॥੨॥੧੧॥
لفظی معنی:
سیتلا سکھ ۔ سانت ۔ صورت ۔ ۔ ٹھنڈ۔ آرام و آسائش ۔ سکون کی شکل وصورت ۔ خدا۔ سمر سمر۔ یادوریاض۔ نت ۔ ہر روز۔ دھیائے ۔ دھیان لکائے ۔ ہراؤ۔ آس۔ امید۔ پورن ۔ مکمل ۔ کوٹ جنم۔ دکھ ۔ جائے ۔ کروڑوں زندگیوں کا عذاب دور ہا جاتا ہے (1)۔ پند ان۔ ثواب و خیرا۔ نیک کریا۔ بیشمار اعمال۔ سادہو سنگ ۔ صحبت پارسایاں۔ سمائے ۔ رہنے سے ۔ تاپ۔ عذاب ۔ سنتاپ ۔ جھگڑے ۔ کال نہ کھائے ۔ روحانی موت واقع نہیں ہوتی ۔
ترجمہ:
خدا دلمیں بسا کر اسکی حمدکرنے اسمین دھیان دینا جو خنک ہستی آرام و آسائش کا مجسمہ ہے ہر روز یاد کیا کر دھیان لگاؤ۔ رہاؤ۔ ساری امیدیں پوری ہوتی ہیں اور کروڑوں زندگیاں گذارنے کا عذاب مٹتا ہے (1) خدا رسیدہ پاکدامن محبوب خدا کی صحبت اختیار کرنا بیشمار ثواب و خیرات اور نیک اعمال کرنے کے برابر ہے اسکی برکت و عنایت سے عذاب جھگڑے اور روحانی واخلاقی موت واقع نہیں ہوتی ۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੩
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کتھیِئےَ سنّتسنّگِ پ٘ربھ گِیانُ ॥
پوُرن پرم جوتِ پرمیسُر سِمرت پائیِئےَ مانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آۄت جات رہے س٘رم ناسے سِمرت سادھوُ سنّگِ ॥
پتِت پُنیِت ہوہِ کھِن بھیِترِ پارب٘رہم کےَ رنّگِ ॥੧॥
جو جو کتھےَ سُنےَ ہرِ کیِرتنُ تا کیِ دُرمتِ ناس ॥
سگل منورتھ پاۄےَ نانک پوُرن ہوۄےَ آس ॥੨॥੧॥੧੨॥
لفظی معنی:
کھتیئے ۔ کہیں۔ سنت سنگ ۔ سنت کے ساتھ۔ پربھ گیان ۔ الہٰی جانکاری ۔ سمجھ ۔ پورن ۔ مکمل۔ پرم جوت۔ بھاری روشنی ۔ پرمیسور۔ بھای ۔ مالک ۔ سمرت ۔ یادوریاض ۔ مان ۔ عزت ۔ وقار ۔ رہاؤ۔ آوت جات۔ آواگون ۔ تناسخ۔ سٹرم۔ سمرت۔ سادہوسنگ ۔ سادہو کی محبت میں یاد وریاض سے ۔ پتت ۔ بداخلاق۔ ناپاک ۔پنیت۔ پاک و پائس ۔ کھن بھیتر ۔ آنکھ جھپکنے کے وقفے میں ۔ پار برہم کے رنگ کامیابیاں بخشنے والے خدا کے پریم پیار میں (1) کتھے ۔ کہتے ہیں۔ ہرکیرتن ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ درمت بدعقلی ۔ بے سمجھی ۔ ناس۔ مٹ جاتی ہے ۔ سگل ۔ سارے ۔ منورتھ ۔ مقصد۔ پورن ۔ پوری ۔ آس۔ امید۔
ترجمہ:
سنتوں کی صحبت و قربت میں کدا کی جان پہچان اور علم کے بارے خیال آرائی اور سوچنے سمجھنے کی گفتار وبات چیت کرنی چاہیے ۔ مکمل اونچی نورانی شکل وصورت کی یاد وریاض سے عظمت و حشمت اور قدروقیمت حاصل ہوتی ہے ۔ رہاؤ۔ تناسخ مٹ جاتا ہے ٹھکاوٹ دور ہو جاتی ہے ۔ سادہو کی صحبت و قربت سے ناپاک بداخلاق پاک و پائس خوش اخلاق نیک چلن ہو جاتے ہیں۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے کے لئے الہٰی پریم پیار سے (1) جو خدا کی حمدوثناہ سنتا ہے اورکرتا ہے اسکی بے سمجھی بد عقلی مٹ جاتی ہے ۔ اے اسے سارے مقصد حل ہو جاتے ہیں اور امیدں برآتی ہیں۔

کانڑا مہلا ੫॥
سادھسنّگتِ نِدھِ ہرِ کو نام ॥
سنّگِ سہائیِ جیِء کےَ کام ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّت رینُ نِتِ مجنُ کرےَ ॥
جنم جنم کے کِلبِکھ ہرےَ ॥੧॥
سنّت جنا کیِ اوُچیِ بانیِ ॥
سِمرِ سِمرِ ترے نانک پ٘رانیِ ॥੨॥੨॥੧੩॥
لفظی معنی:
ندن ۔ خزانہ ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ سہائی ۔ مددگار۔ جیئہ ۔ روح ۔ رہاؤ۔ سنت رین ۔ سادہو کی دہول ۔ نت ۔ ہر روز ۔ مجن ۔ اشنان ۔ غسل۔ کل وکھ ۔ ۔ گناہ (1) ۔ ہرے ۔ دور کرتا ہے ۔ مٹاتا ہے ۔ اوچی بانی ۔ بلند روحانی واخلاقی زندگی بنا نے والا سبق و کلام۔پرنای ۔ انسان ۔
ترجمہ:
صحبت سادہوں میں الہٰی نام کا خزانہ ہے جو روحانی ساتھی اور مددگار بنتا ہے اور کام آتا ہے ۔ رہاؤ۔ جو سنتوں کی دہول میں غسل کرتا ہے ۔ اسکے دیرینہ گناہ عافو ہو جاتے ہیں(1) سنتوں کا سبق کلام و واعظ طرز زندگی کو بلند عظمت دلانے اور بنانے والی ہے ۔ اے نانک اسکی یاد وریاض سےا نسان کو کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
سادھوُ ہرِ ہرے گُن گاءِ ॥
مان تنُ دھنُ پ٘ران پ٘ربھ کے سِمرت دُکھُ جاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایِت اوُت کہا لد਼بھاۄہِ ایک سِءُ منُ لاءِ ॥੧॥
مہا پۄِت٘ر سنّت آسنُ مِلِ سنّگِ گوبِدُ دھِیاءِ ॥੨॥
سگل تِیاگِ سرنِ آئِئو نانک لیہُ مِلاءِ ॥੩॥੩॥੧੪॥
لفظی معنی:
سادہو ۔ جسنے روحانی زندگی کا راہ راست پالیا ہے ۔ مان ۔ وقار۔ ہرے ۔ شاد۔ گن گائے ۔ صفت وصلاح ۔ تن ۔ جسم۔ دھن۔ سرمایہ۔ پران۔ زندگی ۔ سمرت۔ یادوریاض ۔ رہاؤ۔ ایت۔ ۔یاہں۔ اوت۔ وہاں۔ لوبھادیہہ۔ لالچ کرتا ہے ۔ ایک سیو۔ واحد وحدت ۔ سیؤ۔ ساتھ ۔ من لائے ۔ دل گا (1) پوتر۔ پاک ۔ آسن ۔ ٹھکناہ ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ گوبند۔ مالک عالم (2) تیاگ ۔ ترک کر کے ۔ چھوڑ کر۔ آن ۔ ٹھکانہ
ترجمہ:
سادہو الہٰی حمد وثناہ کرکے ہر بھرا مراد خوش ہوتا ہے ۔ عزت و قار دولت زندگی خدا کی عباد و بدگی کرنے سے عذاب مٹ جاتا ہے ۔ رہاو۔ ادھر اُدھر کیوں لالچ کرتا ہے واحد خدا دلمیں بسا (1) سنت کا ٹھکانہ پاک ہے اسکے ساتھ ملاپ کرکے خدا میں دھیان دو (2) سب کچھ ترک کرکے اے نانک ملا لو ۔

کانڑا مہلا ੫॥
پیکھِ پیکھِ بِگساءُ ساجن پ٘ربھُ آپنا اِکاںت ॥੧॥ رہاءُ ॥
آندا سُکھ سہج موُرتِ تِسُ آن ناہیِ بھاںتِ ॥੧॥
سِمرت اِک بار ہرِ ہرِ مِٹِ کوٹِ کسمل جاںتِ ॥੨॥
گُنھ رمنّت دوُکھ ناسہِ رِد بھئِئنّت ساںتِ ॥੩॥
انّم٘رِتا رسُ پیِءُ رسنا نانک ہرِ رنّگِ رات ॥੪॥੪॥੧੫॥
لفظی معنی:
پیکھ پیکھ ۔ دیکھ دیکھ ۔ بگساؤ ۔ خوش ہونا ۔ ساجن۔ دوست ۔ اکانت ۔ اکیلا۔ رہاو۔ آنندا۔ مکمل پرسکون۔ ۔ تس آن ۔ اس ۔ دوسرا ۔ بھانت ۔ اس جیسا (1) کسمل ۔ گناہ ۔ جانت۔ جاتے ہیں (2) گن رمنت۔ اوصاف بسانے سے ۔ دکھ ناسیہ ۔ عذاب مٹتے ہیں۔ رد۔ دل ۔ بھینت ۔ ہوتا ہے ۔ سانت ۔ پرسکون (3) انمبر تارس۔ زندگی کو روحانی واخلاقی پاک بنانے والا آب حیات۔ ہر رنگ الہٰی پیار۔ رات۔ محو۔
ترجمہ:
اپنے دوست خدا کے ددیار سے خوشی میسر ہوتی ہے ۔ خدا نرالا اور انوکھا ہے ۔ رہاؤ۔ خدا سکون آرام و آسائش کا مجسمہ ہے ۔ اس جیسی کوئی دوسری ہستی نہیں (1) اسکی یادوریاض سے گروڑوں گناہ مٹ جاتے ہیں (2) اوصاف اپنانے سے عذاب مٹتا ہے دل کو سکون ملتا ہے (3) زبان سے آب حیات جو زندگی کو روحانی واخلاقی طور پر پاک بنات اہے نوش کیجیئے ۔ اے نانک۔ الہٰی محبت میں محو ومجذوب رہو۔

کانڑا مہلا ੫॥
ساجنا سنّت آءُ میرےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آندا گُن گاءِ منّگل کسملا مِٹِ جاہِ پریرےَ ॥੧॥
سنّت چرن دھرءُ ماتھےَ چاںدنا گ٘رِہِ ہوءِ انّدھیرےَ ॥੨॥
سنّت پ٘رسادِ کمل بِگسےَ گوبِنّد بھجءُ پیکھِ نیرےَ ॥੩॥
پ٘ربھ ک٘رِپا تے سنّت پاۓ ۄارِ ۄارِ نانک اُہ بیرےَ ॥੪॥੫॥੧੬॥
لفظی معنی:
ساجنا۔ دوست۔ رہاؤ۔ آنندا۔ پر سکون۔ مگل ۔ خوشی ۔ کسملا۔ گناہ۔ دوش۔ پاپ۔ گریہہ۔ گھر (2) سنت پرساد۔ سنت کی رھمت سے ۔ کمل۔ دل ۔ بیگسے ۔ خوش ہوتا ہے ۔ ۔ پیکھ نیرے ۔ ساتھ سمجہو (3) پربھ کرپا۔ الہٰی رحمت اوہ بیرئے ۔ اس وقت۔
ترجمہ:
اے میرے دوست سنتور میرے گھر آو ۔ رہاؤ۔ سنت کو علیحدہ کرنے سے دل پور نور ہو جاتا ہے ۔ جس میں اندھیرا ہوتا ہے (2) سنت کی رحمت سے دل کھلتا ہے ۔ خدا کو نزدیک حاضر ناظر سمجھ کر حمدوچناہ کرؤ۔ اے نانک۔ الہٰی کرم و عنایت سے سنت سے ملاپ ہوا اس وقت پر قربان ہوں۔

کانڑا مہلا ੫॥
چرن سرن گوپال تیریِ ॥
موہ مان دھوہ بھرم راکھِ لیِجےَ کاٹِ بیریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بوُڈت سنّسار ساگر ॥
اُدھرے ہرِ سِمرِ رتناگر ॥੧॥
سیِتلا ہرِ نامُ تیرا ॥
پوُرنو ٹھاکُر پ٘ربھُ میرا ॥੨॥
دیِن درد نِۄارِ تارن ॥
ہرِ ک٘رِپا نِدھِ پتِت اُدھارن ॥੩॥
کوٹِ جنم دوُکھ کرِ پائِئو ॥
سُکھیِ نانک گُرِ نامُ د٘رِڑائِئو ॥੪॥੬॥੧੭॥
لفظی معنی:
گوپال۔ پروردگار علام ۔ موہ ۔ محبت۔ پیار۔ مان ۔ وقار۔ دہو۔ دہوکا۔ بھرم۔ بھٹکن۔ راکھ ۔ بچاؤ۔ حفاظت کرؤ۔ بیری ۔ بیڑی ۔ رہاؤ۔ بوڈت ۔ ڈوبتے ۔ ادھرے ۔ بچ جاتے ہیں۔ رتناگر ۔ ہیروں کی کان (1) سیتلا۔ ٹھنڈا۔ ہر نام۔ الہٰی نام۔ ست ۔ سچ حق وحقیقت ۔ پورلو۔ بستا ہے ۔ دین دردی نوار۔ غریب نواز۔ تارن ۔ کامیاب بنانے والا۔ پتت ۔ گناہگار ۔ گر نام درڑائیو۔ مرشد نے الہٰی نام دلمیں پختہ طور پر دلمیں بسائیا۔
ترجمہ:
اے پروردگار علام میں تیرے زیر سایہ و پناہ آئیا ہوں۔ دنیاوی دولت کی محبت و قار غرور دہوکا بازی بھٹکن وغیرہ بیڑی یا پھندے کاٹ کر میری حفاظت کیجیئے ۔ رہاو۔ اس دنیاوی سمند رمیں ڈوبتے انسان کو الہٰی یاد وریاض جو ہیروں کی کان ہے بچاتا ہے (1) الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت دلوں میں ٹھنڈک پہنچانے وال اہے ۔ ہر جگہ بستا ہے خدا میرا (1) خدا غریبوں کے عذاب دور کرکے کامیاب بنانیوال اہے ۔ خدا رحمان الرحیم ۔ مہربانیوں کا خزانہ اور بد اخلاق گناہگاروں کو کامیاب پاک زندگی دینے والا ہے (3) کروڑوں زندگیوں کو دکھ ہی نصیب ہوتا ہے ۔ مگرا ے نانک ۔ مرشد کا دیا ہوا سبق نام ست سچ حق و حقیقت مکمل طور پختہ طور پر دلمیں بسانے سے سکھ و آرام و آسائش نصیب ہوتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
دھنِ اُہ پ٘ریِتِ چرن سنّگِ لاگیِ ॥
کوٹِ جاپ تاپ سُکھ پاۓ آءِ مِلے پوُرن بڈبھاگیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
موہِ اناتھُ داسُ جنُ تیرا اۄر اوٹ سگلیِ موہِ تِیاگیِ ॥
بھور بھرم کاٹے پ٘ربھ سِمرت گِیان انّجن مِلِ سوۄت جاگیِ ॥੧॥
توُ اتھاہُ اتِ بڈو سُیامیِ ک٘رِپا سِنّدھُ پوُرن رتناگیِ ॥
نانک جاچکُ ہرِ ہرِ نامُ ماںگےَ مستکُ آنِ دھرِئو پ٘ربھ پاگیِ ॥੨॥੭॥੧੮॥
لفظی معنی:
پریت۔ پیار۔ دھن ۔قابل ستائش۔ چرن ۔ پاؤں۔ جاپ تاپ ۔ عبادت۔ ریاضت۔ بندگی ۔ پورن وڈھاگی ۔ مکمل خوش قسمتی سے ۔ رہاؤ۔ اناتھ ۔ بے مالک۔ داس۔ غلام۔ خادم۔ اوراوٹ ۔ دوسرا اسرا۔ سگللی ۔ موہ ۔ سارے پیار۔ تیاگی ۔ ترک کیے ۔ بھور بھرم۔ تھوڑے سے وہم و گمان ۔ کاٹے ۔ دور کیے ۔ پربھ سمرت۔ الہٰی یاد وریاض ۔ گیان انجن۔ علم کا سرمہ ۔ سووت ۔ غفلت۔ جاگی ۔ بیداری آئی۔ (1) اتھاہ ۔ اعداد وشمار سے بعید۔ بڈو ۔ بڑا۔ ۔ کرپا سندھ ۔ مہربنایوں کا سمندر۔ رتناگی ۔ ہیروں کی کان۔ جاچک ۔ بھکاری ۔ مستک ۔ پیشنای ۔ پاگی ۔ پاؤں۔
ترجمہ:
وہ پیار ہے قابل ستائش جو پائے الہٰی سے لگتی ہے کروڑوں یادوریاض عبادت و بندگی کا ثواب حاصل ہوتا ہے اورا لہٰی وسل و ملاپ حاصل ہوتا ہے خوش نصیبی سے ۔رہاؤ۔ اے تیرا خدمتگار بے مالک ہوں مجھے تیرا ہی آصرا ہے میں نے ساری محبتیں ترک کر دیں تیری یاد وریاض سے ذرا سا بھی وہم و گمان اور بھٹکن نہیں رہی الہٰی یاد وریاض سے علم و سمجھ کا سرمہ ملا اور غفلت سے بیداری پیدا ہوئی (1) اے خدا تو اعداد و شمار سے بعید رحمان الرحیم مہربانیوں کا خزانہ اور ہیروں کی کان ہے ۔ بھکاری نانک الہٰی نام ست سچ وحقیقت مانگتا ہے اور میں نے اپنی پیشانی الہٰی پاؤں پر ٹکا دی ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
کُچِل کٹھور کپٹ کامیِ ॥
جِءُ جانہِ تِءُ تارِ سُیامیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
توُ سمرتھُ سرنِ جوگُ توُ راکھہِ اپنیِ کل دھارِ ॥੧॥
جاپ تاپ نیم سُچِ سنّجم ناہیِ اِن بِدھے چھُٹکار ॥
گرت گھور انّدھ تے کاڈھہُ پ٘ربھ نانک ندرِ نِہارِ ॥੨॥੮॥੧੯॥
لفظی معنی:
کچل ۔ ناپاک ۔ کٹھور ۔ سنگدل ۔ کپٹ ۔ دہوکے باز۔ جھڑالو ۔ کامی ۔ شہوت والا۔ جانیہہ۔ سمجھے ۔ سوآمی ۔ مالک ۔ رہاؤ۔ سمرتھ ۔ باتوفیق ۔ سرن جوگ ۔ پناہگیر کی حفاظت کے قابل۔ کل ۔ طاقت۔ دھار۔ اپنا کر (1) جاپ تاپ ۔ ریاضت ۔ تپسیا ۔ بندگی ۔عبادت ۔ سچ بیرون پاکیزگی ۔ سنجم۔ ضبط ۔ بدھے ۔ ان طریقوں سے ۔ چھٹکار۔ نجات۔ چھٹکا۔ نجات۔ گرت گھور۔ اندھ ۔ اندھیرے کوئیں میں گرے ہوئے ۔ ندرنہار۔ نظر عنیات و شفقت سے ۔
ترجمہ:
اے میرے آقا ہم ناپاک بد اخلاق سنگدل ۔ دہوکے بازجھگڑالو اور شہوتی ہیں۔ جیسے تو سجھتا ہے ۔ اس طرح سے کامیاب بناؤ ۔ رہاؤ۔ اے خدا تو ہر قسم کی توفیق رکھتا ہے اور زیر سیاہ و پناہ آئے ہوئے کی پانی طاقت سے حفاظت کرنے کی قالیبت رکھتا ہے ۔ او ر بچاتا ہے ۔ عبادت وریاضت بندگی اور تپسیا ۔ جسمای پاکیزگی اور ضبط اعضا کے ان طریقوں سے نجات حاصل نہیں ہوتی اندھیرے کوئیں سے اےخدا اپنی نظر عنایت و شفقت سے باہر نکال۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੪
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
نارائِن نرپتِ نمسکارےَ ॥
ایَسے گُر کءُ بلِ بلِ جائیِئےَ آپِ مُکتُ موہِ تارےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کۄن کۄن کۄن گُن کہیِئےَ انّتُ نہیِ کچھُ پارےَ ॥
لاکھ لاکھ لاکھ کئیِ کورےَ کو ہےَ ایَسو بیِچارےَ ॥੧॥
بِسم بِسم بِسم ہیِ بھئیِ ہےَ لال گُلال رنّگارےَ ॥
کہُ نانک سنّتن رسُ آئیِ ہےَ جِءُ چاکھِ گوُنّگا مُسکارےَ ॥੨॥੧॥੨੦॥
لفظی معنی:
نار این۔ خدا۔ نرپت۔ سہنشاہ ۔ ٹمسکارے ۔ سجد ۔ ہے ۔ سرجھکاتا ہے ۔ ایسے گر۔ ایسے مرشد۔ بل بل ۔ قربان ۔ مکت ۔ آزاد۔ موہ ۔ مجھے ۔ تارے ۔ کامیاب بناتا ہے ۔ رہاؤ۔ کون کون ۔ کونسے کونسے ۔ گن ۔ اوصاف۔ انت نہیں۔ شمار نہیں۔ کورے ۔ کروڑون ۔ کوہے ۔ کون ہے ۔ ایسو بیچارے ۔ سوچے سمجھے (1) بسم ۔ حیرنا ۔ لال گللا۔ گل لالہ ۔ نہایت سرخ ۔ سنتن رس۔ سنتوں کو لطف ۔ مسکارے ۔ مسکر ۔
ترجمہ:
جو شخس خدا کے آگے سر جھکاتا ہے سجدہ کرتا ے ایسے مرشد پر قربان جائیں جو خؤد آزاد ہے اور مجھے کامیاب بناتا ہے ۔ رہاؤ۔ اسکے کونسے کونسے اوصاف بیان کروں اسکا کوئی اندازہ نہیں اتنے ہیں۔ لاکھوں اور کروڑوں میں سے ایسا کوئی ہے سوچتا اورسمجھتا (1) حیرانگی سے حیران ہے جو خدا اسے دیکھ حیرانی ہوئی مجھے اور الہٰی محبت میں گل لالہ کی مانند سر خرور ہوا۔ اے نانک بتادے ۔ کہ جن عاشقان و محبوبان خدا سنوں نے اس لطف اُٹھائیا روحانیت وہ اسکا لطف بتانہیں سکتے جیسے گونگا کسی چیز لطف اُٹھا کر بستا نہیں سکتا مسکرا دیتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
ن جانیِ سنّتن پ٘ربھ بِنُ آن ॥
اوُچ نیِچ سبھ پیکھِ سمانو مُکھِ بکنو منِ مان ॥੧॥ رہاءُ ॥
گھٹِ گھٹِ پوُرِ رہے سُکھ ساگر بھےَ بھنّجن میرے پ٘ران ॥
منہِ پ٘رگاسُ بھئِئو بھ٘رمُ ناسِئو منّت٘رُ دیِئو گُر کان ॥੧॥
کرت رہے ک٘رتگ٘ز٘ز کرُنھا مےَ انّترجامیِ پ਼گ٘ز٘زان ॥
آٹھ پہر نانک جسُ گاۄےَ ماںگن کءُ ہرِ دان ॥੨॥੨॥੨੧॥
لفظی معنی:
آن ۔ دوسرا ۔ اوچ ۔ نیچ۔ اونچے اور نیچے والوں کو ۔ سمان۔ برابر۔ پبکھ ۔ سمانو ۔ برابر۔ مکھ بکنو۔ زبان سے بولتے ہیں ۔رہاؤ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ سکھ ساگر۔ آرام و آسائش کے سمند ر۔ بھے بھنجن۔ خوف۔ مٹانے والے ۔ پران۔ زندگی ۔ جان ۔ پرگاس۔ روشنی ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ ناسیؤ۔ مٹی ۔ منتر۔ نصیحت ۔ سبق واعظ (1) کگر گیہہ۔ کرنے کی توفیق رکھنے والے ۔ کارلائق۔ کرنامے ۔ رحمدل۔ انتر جامی ۔ دلی راز جاننے والے ۔ گبہان ۔ گیان دوانش۔ جس گاوے ۔ حمدوثناہ کرے ۔ مانگ کو ۔ مانگنے کے لئے ۔ دان ۔ خیرات۔
ترجمہ:
سنت خدا کے علاوہ کسی سے تعلق یا واسطہ نہیں رکھتے ۔ اونچے رتبے والوں اور نیچ کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور زبان سے نام خدا کا لیتے ہیں اور دلمیں بساتے ہیں۔خدا کو سب میں یکساں بستا دیکھتے ہیں۔ رہاؤ۔ آرام و آسائش کا سمندر ہر دلمیں بستا دیکھتے ہیں جو مجھے زندگی سے عزیز ہے جو خوف مٹانیوالا ہے ۔ جب دل پر نور ہو جاتا ہے تو بھٹکن اور وہم و گمان مٹ جاتے ہیں۔ جب سے مرشد نے الہٰی سبق واعظ و نصیب میرے کان میں سنا کر پختہ کر دیا (1) الہٰی کار کو سمجھنے والے خدا ئی خدمتگار سنت جو دلی رازوں سے واقف ہیں رحمان الرحیم الہٰی اوصاف بیان کرتے ہیں ۔ نانک ہر وقت الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ الہٰی خیرات مانگنے کے لئے ۔
کانڑا مہلا ੫॥
کہن کہاۄن کءُ کئیِ کیتےَ ॥
ایَسو جنُ بِرلو ہےَ سیۄکُ جو تت جوگ کءُ بیتےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُکھُ ناہیِ سبھُ سُکھُ ہیِ ہےَ رے ایکےَ ایکیِ نیتےَ ॥
بُرا نہیِ سبھُ بھلا ہیِ ہےَ رے ہار نہیِ سبھ جیتےَ ॥੧॥
سوگُ ناہیِ سدا ہرکھیِ ہےَ رے چھوڈِ ناہیِ کِچھُ لیتےَ ॥
کہُ نانک جنُ ہرِ ہرِ ہرِ ہےَ کت آۄےَ کت رمتےَ ॥੨॥੩॥੨੨॥
لفظی معنی:
کیتے ۔ کتنے ہی ۔ برلو۔ کوئی ہی ۔ سیوک ۔خدمتگار۔ تت۔ اصلیت۔ حقیقت ۔ جوگ کؤ بیٹے ۔ جوالہٰی ملاپ سمجھتا ہے (1) جیت ۔ فتح (1) سوگ ۔ افسوس۔ ہر کھی ۔ خوشی ۔ چھوڈ ناہی کچھ لیتے ۔ چھوڈ کر کچھ ملتا نہیں۔ کت آوئے ۔ کب آتا ہے ۔ کت ۔ رمتے ۔ کب جاتا ہے ۔
ترجمہ:
کہنے اور کہلانے کے لئے تو بہت ہیں مگر حقیقتا بہت کم خدائی خدمتگار ہیں جو الہٰی ملاپ کی حقیقت کو سمجھتے ہیں ۔ رہاؤ۔ جس کی نظر میں خدا بستا ہے اس پر عذاب کوئی اثر نہیں کرتا اسے ہر طرح کا آرام و آسائش حاصل رہتا ہے ۔ اسے برا دکھائی نہیں دیتا ہر ایک کو اچھا اور نیک سمجھتا ہے وہ ہمیشہ جتنا ہے کبھی شکست نہیں ہوتی (1) اسے کبھی افسوس یا تشیوش نہیں رہتی خوشی رہتی ہے اسے چھوڑ کر کچھ دوسرا اختیار نہیں کرتا۔ اے نانک۔ جو شخص خدا کا ایسا خدمتگار ہو جاتا ہے اسے آواگون یا تناسخ نہیں رہتا۔

کانڑا مہلا ੫॥
ہیِۓ کو پ٘ریِتمُ بِسرِ ن جاءِ ॥
تن من گلت بھۓ تِہ سنّگے موہنیِ موہِ رہیِ موریِ ماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جےَ جےَ پہِ کہءُ ب٘رِتھا ہءُ اپُنیِ تیئوُ تیئوُ گہے رہے اٹکاءِ ॥
انِک بھاںتِ کیِ ایکےَ جالیِ تا کیِ گنّٹھِ نہیِ چھوراءِ ॥੧॥
پھِرت پھِرت نانک داسُ آئِئو سنّتن ہیِ سرناءِ ॥
کاٹے اگِیان بھرم موہ مائِیا لیِئو کنّٹھِ لگاءِ ॥੨॥੪॥੨੩॥
لفظی معنی:
ہیے ۔ ہروے ۔ دل ۔ بسر ۔ بھول۔ تن ۔ من ۔ دل و جان ۔ تیہہ سنگے ۔ ساتھ ۔ موہنی ۔ دل کو اپنی محبت میں گرفتار کرنیوالی ۔ رہاؤ۔ برتھا۔ درد۔ دکھ ۔ بیکار ۔ جنیں ۔ جین ۔ جس جس کے پاس۔ تینو ۔ تینو ۔ اسے اسے ۔ گہے ۔ پکڑے ہوئے ۔ تکائے ۔ کاوٹیں۔ انک بھانت۔ بیشمار قسموں کی ۔ ایکے جالی ۔ ایک ہی پھندہ ۔ گھنٹ ۔ گانٹھ ۔ خمسر۔ چھورائے ۔ چھوڑائیا نہیں جا سکتا (1) سنت کی سر نائے ۔ سنتوں کی پناہ ۔ اگیان بے علمی ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ موہ مائیا دنیاوی دلوت کی محبت ۔ کنٹھ ۔ لگائے ۔
ترجمہ:
کہیں دل سے میرا پریتم نہ بھولے ۔ اے ماں۔ دل و جاں مست ہو رہی ہے دنیاوی دولت مین ۔ رہاؤ۔ جس جس پہ کہتا ہوں کہانی اپنی درد کی وہی وہی اس میں پھنسے ہوئے اور زندگی کی رو میں اتکے ہوئے ۔ اسکا بیشمار قسموں کا ہے ایک ہی پھندہ جسکی گانٹھ کوئی چھڑا نہیں سکتا (1) اے نانک۔ بھٹکتے بھٹکتے جو سنتوں کے سیزر سایہ آتا ہے ۔ وہ بے علمی جہالت بھٹکن دنیاوی دولت کی محبت ختم کرکے اسے للے لگاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
آند رنّگ بِنود ہمارےَ ॥
نامو گاۄنُ نامُ دھِیاۄنُ نامُ ہمارے پ٘ران ادھارےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نامو گِیانُ نامُ اِسنانا ہرِ نامُ ہمارے کارج سۄارےَ ॥
ہرِ نامو سوبھا نامُ بڈائیِ بھئُجلُ بِکھمُ نامُ ہرِ تارےَ ॥੧॥
اگم پدارتھ لال امولا بھئِئو پراپتِ گُر چرنارےَ ॥
کہُ نانک پ٘ربھ بھۓ ک٘رِپالا مگن بھۓ ہیِئرےَ درسارےَ ॥੨॥੫॥੨੪॥
لفظی معنی:
آنند۔ سکون ۔ خوشی ۔ رنگ ۔ پریم۔ ونود۔ تماشے ۔ نامو گاون ۔ ست سچ حق وحقیقت ہی ہمارا گانا ہے ۔ نامو دھیاون ۔ نام میں دھیان۔ پران ۔ زندگی ۔ آدھارے ۔ آصرا۔ رہاؤ۔ ناموگیان ۔ نام ہی اصلی علم ہے ۔ (نامو) نام اسنانا ۔ نام ہی تیرتھ یا ترا یا زیارت ۔ کارج ۔ کام ۔ سوارے ۔ درست کرتا ہے ۔ سوبھا ۔ شہرت۔ وڈائی ۔ عظمت بھوجل۔ خوفناک زندگی کا سمندر۔ وکھم۔ دشوار۔ تارے ۔ کامیاب بناتا ہے ۔ اگم ۔ انسانی رسائی سے اوپر۔ پدارتھ ۔ نعمت۔ گر چر نارے ۔ قدمر مرشد ۔ مولا۔ بیش قیمت ۔ اتنا قسمتی کہ قیمت مقر ر نہ کی جاسکے ۔ کرپال ۔ مہربان ۔ مگن ۔ محو ۔ مست ۔ ہیرے ۔ دلمیں۔ در سارے ۔ دیدار۔
ترجمہ:
روحانی سکون خوشیاں ہمیشہ میرے دلمیں بستی ہیں۔ لاہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ہی میرے لیے سنگیت ہے نام میں ہی دھیان نام ہی زندگی کی منزل و مقصد ۔ رہاؤ۔ نام ہی علم و دانش نام ہی زیارت اور الہٰی نام سے ہی سارے کام درست ہوتے ہیں۔ نام سے ہی عظمت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔ اور نام ست سچ حق وحقیقت اس دشوار گذار زندگی کے خوفناک سمندر سے پار لگاتا ہے ۔ (1) الہٰی نام سے شہرت عظمت۔ نام ایک ایسی قیمتی نعمت ہے جسکی قیمت مقرر نہیں ہوسکتی (جس تک نہ انسانی رسائی ہو سکتی ہے یہ بیش قیمت ہیرا قدم مبارک مرشد سے حاصل ہوتا ہے ۔ اے نانک بتادے کہ جب خدا مہربان ہوتا ہے تو انسان اپنے دلمیں الہٰی دیدار پاک محو ومجذوب ہوجاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
ساجن میِت سُیامیِ نیرو ॥
پیکھت سُنت سبھن کےَ سنّگے تھورےَ کاج بُرو کہ پھیرو ॥੧॥ رہاءُ ॥
نام بِنا جیتو لپٹائِئو کچھوُ نہیِ ناہیِ کچھُ تیرو ॥
آگےَ د٘رِسٹِ آۄت سبھ پرگٹ ایِہا موہِئو بھرم انّدھیرو ॥੧॥
اٹکِئو سُت بنِتا سنّگ مائِیا دیۄنہارُ داتارُ بِسیرو ॥
کہُ نانک ایکےَ بھاروسءُ بنّدھن کاٹنہارُ گُرُ میرو ॥੨॥੬॥੨੫॥
لفظی معنی:
نیرو ۔ نزدیک ۔ پیکھت ۔ دیکھتے ۔ سنت ۔ سننے ۔ سنگے ۔ ساتھ ۔ تھورے ۔ کاج ۔ تھوڑے سے زندگی کی مقصدوں کے لئے ۔ برو۔ برا۔ کہہ پھیرو۔ کیوں برح کام ۔ رہاؤ۔ چیتو لپٹائیو ۔ جتنا لپٹتے ہو۔ جتنا ملوث ہوتے ہو۔ کچھو ناہی ۔ کچھ بھی نہیں ۔ کچھ تیرو۔ تیرا کچھ نہیں۔ آگے درسٹ آوت۔ بعد میں دکھائی دینے لگتا ہے ۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ ایہا۔ یہاں۔ موہیو۔ محبت میں۔ گرفتار ۔ بھرم۔ بھٹکن ۔ ۔ اندھیرو۔ جہالت (1) ست ۔ بیٹے ۔ بنتا ۔ بیوی ۔ سنگ مائیا۔ دنیاوی دولت ۔ دیونہار دینے والے ۔ سختی ۔ مراد خدا ۔ بسیرو ۔ بھلا دیا۔ ایکے ۔ بھاروسیو۔ واحد پر یقین ۔ بندھن ۔ کاٹنھار۔ غلامی مٹانیوالا۔
ترجمہ:
سب کا دوست اور مالک خد تمہارے ساتھ ہے ۔ سب کے ساتھ بستا ہے دیکھتا ہے سنتا ہے ۔ زندگی کے تھوڑے سے مقصد کے خاطر برے کام کیون کرتے ہو۔ رہاؤ۔ اے انسان الہٰی نام سچ حق وحقیقت کے بگیر جس جس سے تو ملوث ہے ان میں سے کسی میں سے کچھ بھی تیرا نہیں۔ تو دنیاوی دولت کی محبت مین پھنس رہا ہے ۔ وہم و گمان میں ہے ۔ مگر بوقت اخرت حساب اعمال سب ظاہر ہو جاتا ہے اور دکھائی دینے لگتار ہے (1) اے انسان تو دنیاوی دولت کی محبت میں بیٹے بیوی کی محب تمیں سکی داتار۔ دینے والے خدا کو بھلا رکھا ہے جس سے تیری روحانی واخلاقی زندگی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اے نانک بتادے کہ واحد خدا میں بھروسا رکھو مرشد غلامی مٹانےکے توفیق رکھتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
بِکھےَ دلُ سنّتنِ تُم٘ہ٘ہرےَ گاہِئو ॥
تُمریِ ٹیک بھروسا ٹھاکُر سرنِ تُم٘ہ٘ہاریِ آہِئو ॥੧॥ رہاءُ ॥
جنم جنم کے مہا پراچھت درسنُ بھیٹِ مِٹاہِئو ॥
بھئِئو پ٘رگاسُ اند اُجیِیارا سہجِ سمادھِ سماہِئو ॥੧॥
کئُنُ کہےَ تُم تے کچھُ ناہیِ تُم سمرتھ اتھاہِئو ॥
ک٘رِپا نِدھان رنّگ روُپ رس نامُ نانک لےَ لاہِئو ॥੨॥੭॥੨੬॥
لفظی معنی:
بکھے ۔ دل ۔ بدکاریوں۔ برائیوں کے فوج۔ گاہیو۔ ختم کر دیا۔ ٹیک ۔ آسرا۔ بھروسا۔ یقین۔ ٹھاکر۔ مالک۔ سرن ۔ سایہ ۔ پناہ۔ آہیؤ۔ چاہتا ہوں۔ رہاؤ۔ مہا پراچھت ۔ بھاری گناہ۔ درسن بھیٹ ۔ دیدار و ملاپ ۔ مٹانیو ۔ مٹا دینے ۔ پرگاس۔ روشن۔ اجیارا۔ اجالا۔ روشنی ۔ سہج سمادھ ۔ روحانی دھیان یا توجہ ۔ سماہیو۔ محوو مجذوب (1) تم نے ۔ تجھ سے ۔ تم سمرتھ اتھاہیو ۔ آپ بیشمار توفیق رکھتے ہو۔ کر پاندھان۔ مہربانیوں کے خزانے ۔ رنگ ۔ پریم پیار۔ رس۔ لطف۔ مزہ ۔ نام ۔ ست ۔ سچ ۔ حق و حقیقت ۔ لاہیؤ۔ لابھ ۔ منافع۔
ترجمہ:
اے خدا تیرے سنتوں کے ذریعےمیں نفسانی خواہشات کی فوج کو زیر کر لیا ہے ۔ مجھے تیرا ہی آسرا تیرا ہی یقین و ایمان اور تیرا ہی سایہ و پناہ چاہتا ہون ۔ رہاؤ۔ دیرینہ کیے ہوئے بھاری گناہ۔ تیرے دیدار و ملاپ سے مٹ جاتے ہیں۔ اور روحانی روشنی اور سمجھ حاصل ہوتی ہے ۔ اور روحانک سکون اور توجہ میں مبذول ہوتا ہے (1) کون کہتا ہے کہ تجھ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ تو بشیمار قوتوں کا مالک لاتعداد طاقتوں کی توفیق رکھتا ہے ۔ اے نانک کہہ خدا بیشمار مہربانیوں کا خزانہ ہے (رحمان الرحیم ) ہے تیرا نام ست سچ حق و حقیقت کے پریم پیار کا لطف کا منافع کماؤ۔

کانڑا مہلا ੫॥
بوُڈت پ٘رانیِ ہرِ جپِ دھیِرےَ ॥
بِنسےَ موہُ بھرمُ دُکھُ پیِرےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِمرءُ دِنُ ریَنِ گُر کے چرنا ॥
جت کت پیکھءُ تُمریِ سرنا ॥੧॥
سنّت پ٘رسادِ ہرِ کے گُن گائِیا ॥
گُر بھیٹت نانک سُکھُ پائِیا ॥੨॥੮॥੨੭॥
لفظی معنی:
بوڈت پرانی ۔ ڈوبتے انسان ۔ جپ دھیرئے ۔ الہٰی یاد وریاض سے ہوصلہ ہوت اہے ۔ اور دنیاوی دولت کی محبت ختم ہوتی ہے بھٹکن مٹتی ہے عذاب مٹتا ہے ۔ رہاؤ۔ میں روز و شب پائے مرشد میں دھیان لگاتا ہوں۔ جدھر نظر جاتی تیرا سایہ ہوتا ہے (1) سنت کی رحمت سے الہٰی حمدوثناہ کرتا ہوں۔ اے نانک مرشد کے ملاپ سے روحانی سکون حاصل ہوا۔
ترجمہ:

کانڑا مہلا ੫॥
سِمرت نامُ منہِ سُکھُ پائیِئےَ ॥
سادھ جنا مِلِ ہرِ جسُ گائیِئےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرِ کِرپا پ٘ربھ رِدےَ بسیرو ॥
چرن سنّتن کےَ ماتھا میرو ॥੧॥
پارب٘رہم کءُ سِمرہُ مناں ॥
گُرمُکھِ نانک ہرِ جسُ سُناں ॥੨॥੯॥੨੮॥
لفظی معنی:
الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کی یاد وریاض سے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے ۔ سمرت ۔ یاد کرنے سے نام الہٰی نام۔ مینہ ۔ من یاذہن ۔ سکھ ۔ سکون ۔ سادھ ۔ سادہوں کے ساتھ ۔ ملکر۔ ہر جس ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ رہاؤ۔ پربھ ردے بسیرو ۔ خد ا دلمیں بسے ۔ چرن ۔ پاؤں ۔ ماتھا ۔ پیشانی ۔ سمرہو ۔ یاد کرؤ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ ہر جس۔ الہٰی صفت صلاح۔
ترجمہ:
الہٰی نا م کی یاد وریاض سے ذہنی و روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ سادہوؤں کے ساتھ ملکر الہٰی یاد وریاض کرنے سے ۔ رہاؤ۔ اے اپنی کرم و عنایت سے دلمیں بس۔ میری پیشانی سنتوں کے پاؤں پر جھکی رہے (1) اے دل یاد خدا کو یاد کر ۔ اے نانک۔ مرید مرشد ہوکر الہٰی حمدوثناہ سنتو ۔

کانڑا مہلا ੫॥
میرے من پ٘ریِتِ چرن پ٘ربھ پرسن ॥
رسنا ہرِ ہرِ بھوجنِ ت٘رِپتانیِ اکھیِئن کءُ سنّتوکھُ پ٘ربھ درسن ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرننِ پوُرِ رہِئو جسُ پ٘ریِتم کلمل دوکھ سگل مل ہرسن ॥
پاۄن دھاۄن سُیامیِ سُکھ پنّتھا انّگ سنّگ کائِیا سنّت سرسن ॥੧॥
سرنِ گہیِ پوُرن ابِناسیِ آن اُپاۄ تھکِت نہیِ کرسن ॥
کرُ گہِ لیِۓ نانک جن اپنے انّدھ گھور ساگر نہیِ مرسن ॥੨॥੧੦॥੨੯॥
لفظی معنی:
پریت۔ پیار۔ چرن پربھ پرسن۔ پائے الہٰی چھونے ۔ رسنا۔ زبان۔ بھوجن ۔کھان۔ ترپتانی ۔ سیر ہوئی۔ تسکین پائی ۔ سنتو کھ ۔ صبر ۔ پربھ درسن۔ دیدار خدا ۔ رہاؤ۔ کرتن ۔ کان ۔ جس پریتم ۔ الہٰی صف صلاح ۔ ۔ کلمل ۔ گناہ ۔ دوکھ ۔ عذاب۔ سگل۔ سارے ۔ مل ۔ ناپاکیزگی ۔ ہرسن ۔ دور کرسکن ۔ والا۔ پاون ۔ پاؤں ۔ دھاون ۔ دوڑ۔ پنتھا ۔ راستہ ۔کائیا۔ جسم۔ سرسن ۔ پر لطف۔ (1) پورن ۔ مکمل ۔ ابناسی ۔ لافناہ۔ آن ۔ دیگر ۔ دوسرا۔ اپاو ۔ کوشش۔ سرن گہی ۔ پناہ لی۔ تھکت۔ ماند۔ کرسن ۔ کرتے وقت ۔ کر ۔ ہاتھ ۔ گیہہ۔ پکڑ ۔ اندھ گھور۔ جاہلت ۔ لاعلمی کا سخت اندھیرا۔ ساگر ۔ سمندر۔ مرسن ۔ مرتا۔
ترجمہ:
میرے دلمیں پائے الہٰی چھونے کا پیار اور چاہ ہے ۔ زبان خدا کے کھانے سے تکسین پاتی ہے ۔ آنکھوں کو دیدار سے صبر ہوتا ہے ۔ رہاؤ۔ کانوں میں پیارے کی صفت صلاح ہوتی ہے ۔ جو تمام گناہوں عیبوں اور برائیوں کے غلاظت و ناپاکیزگی دور کرنے کی توفیق رکھتی ہے ۔ انکے پاؤں کی آہٹ الہٰی ملاپ کے راستے میں آسانی بنتی ہے ۔ جسمانی اعضا سنتوں کے نام تسلی و تشفی پاتے ہیں(1) جنہوں نے لافناہ خدا کی پناہ حاصل کرلی انہیں دوسرے حیلے یا کوشش میں ماند نہیں ہونا پڑتا۔ اے نانک۔ جنکا ہاتھ تھام لیا خدا نے وہ اس دنیاوی زندگی کے سمندر کے بھنور میں نہیں روحانی موت مرتے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
کُہکت کپٹ کھپٹ کھل گرجت مرجت میِچُ انِک بریِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
اہنّ مت ان رت کُمِت ہِت پ٘ریِتم پیکھت بھ٘رمت لاکھ گریِیا ॥੧॥
انِت بِئُہار اچار بِدھِ ہیِنت مم مد مات کوپ جریِیا ॥
کرُنھ ک٘رِپال گد਼پال دیِن بنّدھُ نانک اُدھرُ سرنِ پریِیا ॥੨॥੧੧॥੩੦॥
لفظی معنی:
کوہکٹ ۔ بولتے ہیں۔ کپٹ۔ جھگڑے ۔ کھپٹ۔ کھپانے ولاے ۔ مٹادینے والے ۔ کھل ۔ جاہل۔ حیوان ۔ گرجت۔ گرجتے ہیں۔ زور لگاتے ہیں۔ مرجت۔ مرتے ہیں۔ میچ ۔ موت۔ انک ۔ برائیا ۔ بیشمار بار۔ رہاؤ۔ اہا۔ اہنکار۔ غرور ۔ مت۔ عقل ۔ ان رت ۔ ۔ دوسروں میں ملوث ۔ کمت ۔ الٹی عقل ۔ ہت ۔ پیار۔ پریتم پیکھت ۔ کمیت۔ برے دوست ۔ پریتم پیکھت ۔ پیارے کو دیکھ کر۔ بھرمت ۔ بھٹکتے ۔ لاکھ گریا ۔ گریا ۔ گلیوں۔ (1) انیت ۔ روز مرہ کے نہیں مراد کبھی کبھار ۔ بیوہار۔ کام کاج۔ اچار۔ چال چلن ۔ بدھ ۔ طریقے ۔ پینت ۔ خالی۔ مم۔ میر تیر ۔ مدھ ۔ نشہ ۔ مات ۔ محو۔ست ۔ کوپ ۔ غصہ۔جریا۔ جلنا۔ کرن ۔ ترس۔ کرپال۔ مہربان ۔ گوپال۔ مالک عالم۔ دین بندھ ۔ غریب پرور ۔ ادھر ۔ بچاؤ ۔
ترجمہ:
جن کے دل میں برائیاں بدکاریاں جو روحانیت اور روحانی زندگی کو برباد کرتی ہیں بھٹکتی ہیں وہ اخلاقی و روحانی طور پر بار بار مرتے ہیں۔ رہاؤ۔ خودی میں محو دوسروں سے واسطہ اور تعلق برے دوستوں سے محبت کرکے آوارہ گردی گلیوں میں کرتا پھرتا ہے جبکہ خدا کی نظر میں ہوتا ہے ۔ (1) بد اخلاقیوں اور ناپائیدار نعمتوں کے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں اور نیک خیال نیک چلن سے محروم رہتے ہیں ملکیت کے کشتے میں محو غصے اور حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ اے نانک۔ اے رحمان الرحیم اے خداوند کریم تو غریب پرورے ہے ۔ میں تیرے زیر سایہ ہوں تیری پناہ مجھے بچا۔

کانڑا مہلا ੫॥
جیِء پ٘ران مان داتا ॥
ہرِ بِسرتے ہیِ ہانِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گوبِنّد تِیاگِ آن لاگہِ انّم٘رِتو ڈارِ بھوُمِ پاگہِ ॥
بِکھےَ رس سِءُ آسکت موُڑے کاہے سُکھ مانِ ॥੧॥
کامِ ک٘رودھِ لوبھِ بِیاپِئو جنم ہیِ کیِ کھانِ ॥
پتِت پاۄن سرنِ آئِئو اُدھرُ نانک جانِ ॥੨॥੧੨॥੩੧॥
لفظی معنی:
تیاگ۔ چھوڑ کر۔ آن ۔ دوسروں ۔ لاگیہہ رشتہ بنائے ۔ انمرتو۔ آب حیات ۔ بھوم۔ زمین۔ ڈار ۔ پھینک۔ پاگیہہ۔ پھیلاتا ہے ۔ پھینکتا ہے ۔ وکھے رس۔ زہر آلودہ لطف۔ آسکت ۔ امید کرتا ہے ۔ موڑھے ۔ مورکھ ۔ نادان۔ کاہے ۔ کیسے ۔ سکھ مان ۔ آرام پا سکتا ہے ۔(1) جیئہ ۔ روح ۔ پران ۔ زندگی ۔ مان ۔ عزت۔ داتا۔ دینے والا۔ ہر بسرتے ۔ خدا کو بھال کر۔ ہان ۔ نقصان ۔ رہاو۔ کام ۔ شہوت۔ کرؤدھ ۔ غصہ ۔ لوبھ ۔ لالچ۔ بیا پیؤ ۔ پیدا ہوا۔ جنم ہی کی کھان۔ یہ تناسخ اور آواگون کی کان ہے ۔ پتیت ۔ ناپاک۔ پاون ۔ پاک۔ ادھر ۔ بچاؤ ۔ جان ۔ سمجھ ۔

ترجمہ:
وقار و عزت بخشنے والا ہے اسے بھلا کر نقصان ہوگا۔ رہاؤ۔ خدا کو چھوڑ کر دوسری طرف توججہ اور دھیان ہے تیرا یہ ایسے ہے کہ آب حیات زمین پر پھینکتا ہے (1) شہوت ۔ غصہ اور الا لچ بس جانا تناسخ کی علامت ہے ۔ ناپاکوں گناہگاروں کو خوش اخلاق پاک بنانے والے خدا اے نانک بتادے کہ اپنا پناہگیر سمجھ کر ان برائیوں سے بچا رکھو۔

کانڑا مہلا ੫॥
اۄِلوکءُ رام کو مُکھاربِنّد ॥
کھوجت کھوجت رتنُ پائِئو بِسریِ سبھ چِنّد ॥੧॥ رہاءُ ॥
چرن کمل رِدےَ دھارِ ॥
اُترِیا دُکھُ منّد ॥੧॥
راج دھنُ پرۄارُ میرےَ سربسو گوبِنّد ॥
سادھسنّگمِ لابھُ پائِئو نانک پھِرِ ن مرنّد ॥੨॥੧੩॥੩੨॥
لفظی معنی:
اولوکؤ ۔ دیکھتا ہوں۔ مکھا ر بند۔ خوبصورت ۔ قیمتی ہیرا۔ بسری ۔ بھولی ۔ چند ۔ فکر تشویش ۔ رہاؤ۔ چرن کمل۔ پائے پاک ماند کنول کے پھول۔ ردے ۔ دلمیں۔ دھار بساؤ۔ اُتریا ۔ دور ہوا۔ دکھ مند۔ برائیوں کا عذاب ۔ (1) ر اج۔ حکمرانی ۔ دھن۔ سرمایہ۔ پروار۔ قبیلہ ۔ خاندان ۔ سر بسے ۔ سارے ۔ تمام ۔ سادھ سنگم ۔ صحبت پاکدامن۔ لابھ پائیو۔ منافع ملتا ہے ۔ مرند ۔ موت۔
ترجمہ:
اب خدا کا خوبصورت چہرے کا دیدار کرتا ہوں ۔ ڈہونڈ تے ڈہوندتے ایک قیمتی ہیرا ملا جس سارے فکر و تشویشات مٹ گئیں۔ رہاؤ۔ پائے پاک خدا دلمیں بسانے سے ساری برائیاں اور عذاب مٹ گئے ۔ اب میرے لیے خدا ہی حکومت دولت اور میرا خاندان اور قبیلہ ہے ۔ اے نانک۔ جنہوں نے پاکدامن کی صحبت کا منافع کمائیا۔ انکی دوبارہ اخلاقی اور روحانی موت واقع نہیں ہوتی ۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
پ٘ربھ پوُجہو نامُ ارادھِ ॥
گُر ستِگُر چرنیِ لاگِ ॥
ہرِ پاۄہُ منُ اگادھِ ॥
جگُ جیِتو ہو ہو گُر کِرپادھِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
انِک پوُجا مےَ بہُ بِدھِ کھوجیِ سا پوُجا جِ ہرِ بھاۄاسِ ॥
ماٹیِ کیِ اِہ پُتریِ جوریِ کِیا ایہ کرم کماسِ ॥
پ٘ربھ باہ پکرِ جِسُ مارگِ پاۄہُ سو تُدھُ جنّت مِلاسِ ॥੧॥
اۄر اوٹ مےَ کوءِ ن سوُجھےَ اِک ہرِ کیِ اوٹ مےَ آس ॥
کِیا دیِنُ کرے ارداسِ ॥
جءُ سبھ گھٹِ پ٘ربھوُ نِۄاس ॥
پ٘ربھ چرنن کیِ منِ پِیاس ॥
جن نانک داسُ کہیِئتُ ہےَ تُم٘ہ٘ہرا ہءُ بلِ بلِ سد بلِ جاس ॥੨॥੧॥੩੩॥
لفظی معنی:
پوجہو ۔ پرستش کرو ۔ نام ارادہو ۔ سچ حق حقیقت جو ست اور صدیوی ہے یاد رکھو ۔ گر ستگر ۔ مرشد جو سچا مرشد ہے ۔ چرنی لاگ۔ پاؤں پڑو۔ اگادھ ۔ لامحدود۔ اعداد و شمار سے بعید ۔ جگ جیتو ۔ علام پر فتح پاؤ۔ گر کرپادھ ۔ رھمت مرشد سے ۔ رہاؤ۔ انک پوجا۔ بیشمار پرستش ۔ بہو بدھ ۔ بہت سے طریقوں سے ۔ کھوجی ۔ ڈنڈھی ۔ تلاش کی ۔ ساپوجا ۔ وہ پرستش ۔ ہربھاواس ۔ خدا کو پیار ہے ۔ پتر ۔ پتلی وجود۔ جوری ۔ بنائی۔ کرم ۔ اعمال۔ کماس۔ کرسکتی ہے ۔ مارگ۔ راستے ۔ جنت ۔ جاندار۔ انسان ملاس۔ ملتا ہے (1 ) اوٹ۔ آسرا۔ آس۔ امید۔ دین ۔ غریب۔ ارداس۔ گذارش۔ سبھ گھٹ ۔ سارے دلوں میں۔ نواس۔ بستا ہے ۔ چرنن۔ پاؤں۔ کہیت ۔ کہتا ہے ۔ جاس ۔ جاتا ہوں ۔
ترجمہ:
الہٰی پرستش الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے ذریعے نادر وریاض کیجیئے ۔ پائے مرشد پڑ کر اے دل لا محدود اعاد شمار سے بعید ہے پاو۔ رحمت مرشد سے عالم پر فٹھ پاؤ۔ پر ستش بیشمار قسموں کی ہے میں نے بہت سے قسموں سے تحقیق کی ہے ۔ حقیقتاً پرستش وہی ہے اور اچھی ہے جس سے خدا راضی ہو۔ انسان مٹی سے ایک بت تیار کیا ہے اسکی اپنی کوئی توفیق نہیں۔ اے خدا جسے اپنے امداد ہاتھ سے بازو پکڑکر راستے پر گامزن کرتا ہے وہی تیرا وصل و ملاپ پات اہے (1) مجھے کوئی دوسرا آسرا سمجھ نہیں آتا اے خدا میری امید تجھ سے ہی وابسطہ ہے ۔ غریب انسان کونسی گذارش کی جرات کرتا ہے جبکہ ہر دل میں خدا بستا ہے ۔ میرے دلمیں پائے الہٰی کی خواہشت ہے ۔ اے نانک۔ کو خادم خدا کہتے ہیں میں تجھ پر بار بار قربان ہوں۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੬
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
جگت اُدھارن نام پ٘رِء تیرےَ ॥
نۄ نِدھِ نامُ نِدھانُ ہرِ کیرےَ ॥
ہرِ رنّگ رنّگ رنّگ انوُپیرےَ ॥
کاہے رے من موہِ مگنیرےَ ॥
نیَنہُ دیکھُ سادھ درسیرےَ ॥
سو پاۄےَ جِسُ لِکھتُ لِلیرےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سیۄءُ سادھ سنّت چرنیرےَ ॥
باںچھءُ دھوُرِ پۄِت٘ر کریرےَ ॥
اٹھسٹھِ مجنُ میَلُ کٹیرےَ ॥
ساسِ ساسِ دھِیاۄہُ مُکھُ نہیِ مورےَ ॥
کِچھُ سنّگِ ن چالےَ لاکھ کرورےَ ॥
پ٘ربھ جیِ کو نامُ انّتِ پُکرورےَ ॥੧॥
منسا مانِ ایک نِرنّکیرےَ ॥
سگل تِیاگہُ بھاءُ دوُجیرےَ ॥
کۄن کہاں ہءُ گُن پ٘رِء تیرےَ ॥
برنِ ن ساکءُ ایک ٹُلیرےَ ॥
درسن پِیاس بہُتُ منِ میرےَ ॥
مِلُ نانک دیۄ جگت گُر کیرےَ ॥੨॥੧॥੩੪॥
لفظی معنی:
جگت ادھارن ۔ عالم کو بچا نیوالا ے تیرا نام برایتوں بدکاریوں سے ۔ نوندھ ۔ نو خزانے ۔ ہر کیرے ۔ کدا کے ۔ انوپیرے ۔ انوکھے ۔ نرالے ۔ موہ مگنیر کے ۔صحبت میں محو ہو رہا ہے ۔ نینہو ۔ آنکھوں سے سادھ درسیرے ۔ دیدار پاکدامن (مرشد) سوپاوے ۔ وہی پاتا ہے ۔ لکھت للیرے ۔ جس کی پیشانی پر کندہ و تحریر ہے ۔ رہاؤ۔ سیوؤ۔ خدمت کیجیئے ۔ سادھ سنت۔ چر نیرے ۔ پاکدامن عاشق الہٰی کے پاؤں ۔ بانچؤ ۔ چاہتا ہوں۔ دہور ۔ دہول ۔ پوتر کر یرے ۔ پاک بنانیوالی ۔ مجن ۔ اشنان ۔ گصل۔ میل کٹیر کے ۔ گناہوں کی غلاظت دور کرتی ہے ۔ دھیاوہو ۔ یاد کرؤ۔ نہیں مورے ۔ نہیں موڑتا ۔ سنگ ساتھ ۔ کرؤرے ۔ کروڑون ۔ پرھ نام۔ ست۔ سچ حق وحقیقت ۔ انت ۔ بوقت آخرت ۔ پکرورے ۔ ساتھ دیتا ہے ۔ امدادی ہوتا ہے (1) منسا۔ ارادہ ۔ مان ۔ سمجھ ۔ نرنکیرے ۔ اس خدا کا جو بلا آکار یا شکل وصورت ہے ۔ تیاگہو ۔ چھوڑو ۔ ترک کرؤ ۔ بھاؤ دوجے ۔ دوسروں کی محبت۔ کون ۔ کونسے ۔ گن ۔وصف ۔ پریہ ۔ پیارے ۔ برن ۔ بیان ۔ ٹلیرے ۔ تیری مہربانیاں ۔ درسن ۔ دیدار ۔ جگت گر کیرے ۔ مرشد عالم ۔
ترجمہ:
میرے پیارے خدا تیرا نام ست سچ حق وحقیقت عالم کو بچانیوال اے اے خدا تیرا نام عالم کے نو خزانوں جیسا ہے (اے دل ) خدا کے پریم پیار انوکھے نرالے پریم پیار اور تماشے ہیں۔ اے دل انکی محبت میں کیوں محو ہو رہا ہے ۔ آنکھوں سے پاکدامن خدا رسیدہ سادہو کا دیدار کر۔ مگر یہ اسے نصیب ہوتا ہے ۔ جیسے اسکی پیشانی پر کندہ یا تحریر ہوتا ہے ۔ رہاؤ۔ میں سادہوں سنتوں کے پاؤں کی خدمت کرتا ہوں میں انکے قدموں کی دہول مانگتا ہوں جو پاک بنانے والی ہے وہ اڑسٹھ زیارت گاہوں کی زیارت ہے اور انسان کی نفسانی ناپاکیزگی دور کرتی ہے ۔ ہر سانس یاد کرؤ اور اس سے منہ نہ موڑو ـ بیرکھی) بیرخی نہ کرؤ۔ لاکھوں اور کروڑوں میں سے کچھ بھی ساتھ جانیوالا نہیں۔ بوقت اخرت الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ہی مدد گار اور ساتھی بنتا ہے ۔ (1) اے انسان خواہشات اور ارادے واحد دا تک مخصوص رکھ دوسری تمام خواہشات اور محبتیں ترک کر دے ۔ اے خدا تیرا کون کونسی صفتیں بیان کرؤ میں تیری ایک صفت بھی بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ اے خدا تیرے دیدار کی میرے دلمیں لا انتہا چا ہ ہے ۔ اے مرشد عالم نانک کو مل۔

کانڑا مہلا ੫॥
ایَسیِ کئُن بِدھے درسن پرسنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
آس پِیاس سپھل موُرتِ اُمگِ ہیِءُ ترسنا ॥੧॥
دیِن لیِن پِیاس میِن سنّتنا ہرِ سنّتنا ॥
ہرِ سنّتنا کیِ رین ॥
ہیِءُ ارپِ دین ॥
پ٘ربھ بھۓ ہےَ کِرپین ॥
مانُ موہُ تِیاگِ چھوڈِئو تءُ نانک ہرِ جیِءُ بھیٹنا ॥੨॥੨॥੩੫॥
لفظی معنی:
کون بدھے ۔ کونسا طریقہ ۔ درسن پرسنا۔ جس سے دیدار و چھوہ ۔ خدا حاصل ہو۔ رہاؤ۔ آس۔ امید۔ پیاس۔ زبردست خواہش ۔ سپھل مورت۔ برآور شکل وصورت۔ اُمنگ ہیؤ ۔ دلی خواہشات ۔ ترسنا ۔ پیاسا ہوں (1) دین ۔ غریب۔ ناتواں ۔ لین ۔ ملوث۔ متاثر۔ پیاس مین ۔ مچھلی کی سی پیاس۔ سنتنا ہر ۔ سنتنا ۔ عاشقان الہٰی محبوبان خدا۔ ہر سنتنا کی رین ۔ عاشقان و محبوبان الہٰی کے قدموں کی دہول ۔ ہیو ارپ۔ دل بھینٹ ۔ کرپین ۔ مہربان۔ مان ۔ عزت و وقار۔ تیاگ ۔ تر کرکے ۔ چھوڑ کر۔ ہر جیو بھیٹنا ۔ الہٰی ملاپ ۔
ترجمہ:
ایسا کونسا طریقہ ہے کہ دیدار خدا ہو اور چھوہ حاصل ہو جائے ۔ رہاؤ۔ امیدیں اور مرادیں پوری کرنے والا خدا کے دیدار کی میرے دل میں بھاری خواہش اُٹھتی ہے اور دل دیدار کے لئے ترس رہا ہے ۔ (1) اگر غریب بن کر وقار چھوڑ کر جس طرح مچھلی کو پانی کی پیاس ہوتی ہے ۔ اگر خدا کے عاشق و محبوب کے قدموں کی دہول کے لئے اپنا دل بھینٹ کردو ۔تو خدا مہربان ہو جاتا ہے ۔ اے نانک۔ وقار ۔ محبت ۔اور تکبر چھوڑ دے تو دیدار وصل و ملاپ خدا حاصل ہو جاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
رنّگا رنّگ رنّگن کے رنّگا ॥
کیِٹ ہست پوُرن سبھ سنّگا ॥੧॥ رہاءُ ॥
برت نیم تیِرتھ سہِت گنّگا ॥
جلُ ہیۄت بھوُکھ ارُ ننّگا ॥
پوُجاچار کرت میلنّگا ॥
چک٘ر کرم تِلک کھاٹنّگا ॥
درسنُ بھیٹے بِنُ ستسنّگا ॥੧॥
ہٹھِ نِگ٘رہِ اتِ رہت بِٹنّگا ॥
ہءُ روگُ بِیاپےَ چُکےَ ن بھنّگا ॥
کام ک٘رودھ اتِ ت٘رِسن جرنّگا ॥
سو مُکتُ نانک جِسُ ستِگُرُ چنّگا ॥੨॥੩॥੩੬॥
لفظی معنی:
رنگا۔ کئی طرح کے پریم پیار میں رنگنے یا ملوث کرنیوالا۔ کیٹ ۔ کیڑے ۔ ہست۔ ہاتھی ۔ پورن ۔ مکمل۔ سبھ سنگا۔ سبھ کا ساتھی ۔ رہاؤ۔ برت۔ پرہیز گاری ۔ نیم ۔ پابندی ۔ تیرتھ ۔ زیارت ۔ سہت گنگا ۔ ہیوت ۔ برف۔ ار۔ اور ۔پوجا چار۔ پرستش کے کام ۔ سیلنگا ۔ چوکڑی مارکر ۔ چکر کرم ۔ چکر بنانا۔ تلک ۔ پیشانی پر تلک ۔ کھاٹنگا ۔ چھ اعضے پر ۔ دونوں ٹانگوں دونوں بازووں ۔ سیر اور جسم کے درمیان تلک یا مذہبی نشان۔ درسن بھیٹے بن ۔ بغیر دیدار و ملاپ۔ ست ۔ سنگا۔ سچی ۔ پاکدامن ساتھ وصحبت۔ (1) ہٹھ ۔ ضد۔ نگریہہ۔ اعضے پر ضبط یا قابو ۔ جتن ۔ کوشش ۔ بٹنگا ۔ بغیر ٹانگوں مراد سر کے بھاریا بل ہو روگ ۔ خودی ۔ خوئشتا کی بیماری ۔ دیاپے ۔ زور پکڑتی ہے ۔ بستی ہے ۔ چکے نہ ختم نہیں ہوتی ۔ بھنگا۔ کمی ۔ گھاٹا ۔ کام روڈھ ۔ شہوت و غصہ ۔ ات ۔ نہایت۔ ترسن ۔ خواہشات ۔ جرنگا۔ جلتے ہین۔ سومکت۔ نجات اسے ملتی ہے ۔ جس ستگر چنگا۔ جسکا مرشد اچھا ہو۔
ترجمہ:
خدا بیشمار طور طریقوں سے کیڑی سے لیکر ہاتھی تک سبھ میں سب کے ساتھ بستا ہے ۔ رہاؤ۔ پرہیز گاری ۔ پابندی ۔ زیارت زیادت گاہوں معہ گنگا ۔ ٹھنڈے پانی اور برف کی برداشتگی ۔ بھوکا رہنا اور ننگے رہنے اور کوئی بیٹھ کر پرستش کے اعمال کرنے اور اعضائے جسمانی اعضا پر تلک ۔ چکر وغیرہ دونوں بازوؤں دونوں ٹانگوں سر ۔ چھانی پر نشان اور چکر بناتے ہین۔ مگر پارساؤں الہٰی خدمتگاروں پاکدامن سادہوں کے ساتھ و صحبت و قربت کے بغیر اور دیدار کے بغیر یہ سارے اعمال بیکار ہیں (1) ضد۔ اعضے پر ضبط اور سر کے بھار رہنے سے خودی اور خوئشتا اپنا دباؤ اور تاثر بناتی ہے ۔ اسکی روحانی کمی پوری نہیں ہوتی ۔ شہوت غصہ اور خواہشات کی بھوک نہیں مٹتی انسان خواہشات کی آگ میں جلتا رہتا ہے ۔ اے نانک۔ اس سے صرف وہی بچتا ہے جسکا مرشد اچھا ہوا۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੭
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
تِکھ بوُجھِ گئیِ گئیِ مِلِ سادھ جنا ॥
پنّچ بھاگے چور سہجے سُکھیَنو ہرے گُن گاۄتیِ گاۄتیِ گاۄتیِ درس پِیارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیَسیِ کریِ پ٘ربھ مو سِءُ مو سِءُ ایَسیِ ہءُ کیَسے کرءُ ॥
ہیِءُ تُم٘ہ٘ہارے بلِ بلے بلِ بلے بلِ گئیِ ॥੧॥
پہِلے پےَ سنّت پاءِ دھِیاءِ دھِیاءِ پ٘ریِتِ لاءِ ॥
پ٘ربھ تھانُ تیرو کیہرو جِتُ جنّتن کرِ بیِچارُ ॥
انِک داس کیِرتِ کرہِ تُہاریِ ॥
سوئیِ مِلِئو جو بھاۄتو جن نانک ٹھاکُر رہِئو سماءِ ॥
ایک توُہیِ توُہیِ توُہیِ ॥੨॥੧॥੩੭॥
لفظی معنی:
تکھ ۔ پیاس۔ سادھ جنا۔ خادمان پاکدامن خدا۔ پنچ بھاگے ۔ پانچوں احساسات بد ۔ کام ۔ شہوت ۔ غصہ ۔ لالچ ۔ دنیاوی محبت۔ غرور و تکبر ۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ سکھنو ۔ آسانی سے ۔ درس۔ دیدار ۔ رہاؤ۔ موسیو۔ میرے ساتھ ۔ ہؤ۔ خودی ۔ ہیؤ ۔ دل (1) پہلے ۔ اول ۔ پے ۔ پاؤں ۔ دھیائے دھیائے ۔ دھیان و توجو دیکر۔ پریت۔ پیار۔ تھان۔ ٹھکانہ ۔ کیہرو۔ کونسا۔ جت ۔ جہاں۔ بیچار۔ سوچ سمجھ ۔ خیال آرائی ۔ انک ۔ بیشمار ۔ داس ۔ خدمتگار ۔ غلام۔ کیرت۔ صفت صلاح ۔ حمدوثناہ ۔ تعریف ۔ بھاوتو ۔ پیار۔ محبوب ۔ ٹھاکر ۔ آقا ۔ مالک ۔ سمائے ۔ بستا ہے ۔
ترجمہ:
سادہوؤں کے ملاپ سے میری خواہشات کی پیاس دور ہوگئی ۔ پانچوں اخلاقی و روحانی برائیاں اور اخلاقی چور آسانی سے الہٰی حمدوثناہ سے بھاگ گئے ۔ رہاؤ۔ اے جیسی کرم و عنیات تو نے مجھ پر کی ہے ۔ اسکا عوضانہ میں کیسے کر سکتا ہوں۔ میرا دل و ذہن تجھ پر قربان ہے ۔ صدقے ہے (1) پہلے پائے مرشد پڑ کر تجھ میں توجہ اور دھیان لگائیا ہے ۔ اے وہ کونسا مقام اور ٹھکانہ ہے جہاں تو خیال آرائی اور سوچ وچار کرتا ہے ۔ تیرے بیشمار خدمتگار تیری صفت صلاح کرتے رہتے ہیں۔ ان کا ہی ملاپ ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ جو محبوب خدا ہیں۔ اے خدا واحد ہستی ہے ۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੮
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
تِیاگیِئےَ گُمانُ مانُ پیکھتا دئِیال لال ہاں ہاں من چرن رین ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ سنّت منّت گُپال گِیان دھِیان ॥੧॥
ہِردےَ گوبِنّد گاءِ چرن کمل پ٘ریِتِ لاءِ دیِن دئِیال موہنا ॥
ک٘رِپال دئِیا مئِیا دھارِ ॥
نانکُ ماگےَ نامُ دانُ ॥
تجِ موہُ بھرمُ سگل ابھِمانُ ॥੨॥੧॥੩੮॥
لفظی معنی:
تیاگیئے ۔ ترک کرؤ۔ چھوڑو۔ گمان ۔ شک و شہبات ۔ مان ۔ عزت ۔ غرور ۔ وقار۔ پیکھتا ۔ دیکھتا ہے ۔ دیال۔ مہربان ۔ چرن رین ۔ پاؤں یا قدموں کی دہول ۔ رہاؤ۔ سنت ۔ منت عاشق و محبوب خدا کی واعط سبق و پندو نصائج ۔ گوپال۔ مالک ۔ زمین ۔ گیان ۔ علم ۔ دانش ۔ دھیان ۔ توجہ (1) ہروے ۔ دمیں۔ گوبند گائے ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ چرن کمل۔ پائے پاک ۔ پریت لائے ۔ پیار کرے ۔ دین دیال ۔ غریب پرور۔ موہنا۔ اپنی محبت کی گرفت میں لے لینے والا۔ تج ۔ چھوڑ کر ۔ ترک کرکے ۔ بھرم۔ بھٹکن ۔ سگل ابھیمان۔ سارے غرور وتکبر۔
ترجمہ:
غرور و تکبر شک و شبہات اور وقار چھوڑ کر مہربان رحمان الرحیم کی تجھ پر نظر ہے اے دل اسکے قدموں کی دہول ہو جا (1) رہاؤ۔ محبوبان و عاشقان الہٰی (سنتوں ) واعط سبق و پندو نصائج میں اپنی سوچ سمجھ اور دھیان کر (1) دلمیں خدا کی صفت صلاح کر اور پائے پاک سے پیار کر مراد اسکا گرویدہ ہو جا۔ خدا مہربان اور اپنی محبت میں گرفتار کرنیوالا ہے ۔ اے مہربانیوں کے چشمے مہربانی فرما۔ نانک تیرے نام ست سچ حق و حقیقت کی بھیک مانگتا ہے ۔ دنیاوی محبت بھٹکن اور ہر قسم کا غرور و تکبر ترک کر دے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
پ٘ربھ کہن ملن دہن لہن گُر مِلے آن نہیِ اُپاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تٹن کھٹن جٹن ہومن ناہیِ ڈنّڈدھار سُیاءُ ॥੧॥
جتن بھاںتن تپن بھ٘رمن انِک کتھن کتھتے نہیِ تھاہ پائیِ ٹھاءُ ॥
سودھِ سگر سودھنا سُکھُ نانکا بھجُ ناءُ ॥੨॥੨॥੩੯॥
لفظی معنی:
کہن ۔ صفت صلاح۔ ملن دہن ۔ پامال کرنے اور جلانے ۔ لہن ۔ پرایتی ۔ حاصل کرنا۔ گرملے ۔ مرشد کے ملاپ سے ۔ آن ۔ اور ۔ اپاؤ۔ طریقہ ۔ وسیلہ ۔ رہاؤ۔ تٹن ۔ دیرا کا کنارہ ۔ تٹ ۔ کھٹن ۔ چھ ۔ روزمرہ ۔ چھ اعمال کرنے ۔ پڑھنا۔ پڑھانا۔ دان لینا اور دینا وغیرہ وغیرہ ۔ جٹن ۔ جٹاں دھارن کرنا۔ ہومن۔ ہوم کرنا۔ ڈنڈ دھار۔ ڈنڈا رکھنے والا جوگی ۔ سوآؤ ۔ مقصد (1) جتن ۔ کوشش ۔ بھانتن ۔ بہت سی قسمیں۔ تپن ۔ تپسیا ۔ جسمانی ایذا رسانی ۔ بھرمن۔ پھرتے رہنا ۔ کتھن ۔ گہیا۔ گتھتے ۔ کہتے ۔ تھاہ ۔ اندازہ ۔ تھاؤ ۔ ٹھکانہ ۔ سودھ ۔ درستی ۔ سودھانا۔ درست کرنا۔ سگر ۔ سگل۔ سارے ۔ بھج ناؤ۔ نام یاد کر ۔
ترجمہ:
الہٰی حمدوثناہ سے ہی بدکاریوں برائیوں کو جلائیا اور پائمال کیا جاسکتا ہے مرشد کے ملاپ سے اسکے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ۔ رہاؤ۔ زیارت گاہوں کی زیارت برہمنوں کے چھ اعمال ۔تعلیم لینا اور دینا خیرات لینی اور دہنی لگیر کرنا اور کرنا ۔ جٹاں رکھنیاں۔ ہوم کرنے اور ڈنڈا رکھنے والے جوگی بنتا سے کوئی مطلب و مقصد (1) بیشمار قسم کی کوشش ۔ تپسیا ۔ پھرتے رہنا بیشمار بیان کرنے سے اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ نہ ہی ٹھکانے کا پتہ چلتا ہے ۔ اے نانک۔ بیشمار خیالات کی درستی سوچنے سمجھنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ ہوا ہے ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد وریاض اور اسکے مطابق اعمال کرنے سے سکون اور راحت نصیب ہوتی ہے ۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੯
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
پتِت پاۄنُ بھگتِ بچھلُ بھےَ ہرن تارن ترن ॥੧॥ رہاءُ ॥
نیَن تِپتے درسُ پیکھِ جسُ توکھِ سُنت کرن ॥੧॥
پ٘ران ناتھ اناتھ داتے دیِن گوبِد سرن ॥
آس پوُرن دُکھ بِناسن گہیِ اوٹ نانک ہرِ چرن ॥੨॥੧॥੪੦॥
لفظی معنی:
پیتت پاون ۔ بداخلاق کو با اخلاق بنانیوالا۔ بھگت۔ وچھل ۔ عبادت۔ بندگی وریاضت سے پیار کرنے والا مراد دعا بدوں و ریاض کاروبار سے پیار کرنے ولا۔ بھے ہرن۔ خوف دور کرنے والا۔ تارن ترن ۔ پار لگا نیوالا جہاز یا کشتی ۔ رہاؤ۔ نین ۔ آنکھیں۔ تپتے تسکین پاتے ہیں۔ درس پیکھ ۔ دیدار کرکے ۔ جس تو کھ ۔ صفت صلاح کرنے سے صبر حاصل ہوتا ہے ۔ سنت ۔ سننے سے ۔ کرن ۔ کانوں (1) پران ناتھ ۔ زندگی کے مالک ۔ اناتھ ۔ بے مالک ۔ داتے ۔سخی ۔ دین ۔ غریب ۔ آس پورن ۔ امیدیں پوری کرنے والے ۔ گہی اوٹ ۔ آسرا لیا۔ ہر چن ۔ پائے ۔ خدا۔
ترجمہ:
اے خدا تو بدا خلاق کو با اخلاق بنانے والا ہے ۔ عبادت بندگی خدمت و ریاضت سے پیار کنے والا ہے ۔ تو خوف مٹا نے والا ہے ۔ تو انسانوں کو زندگی سمندر کو کامیابی سے عبور کرانے کے لئے کشتی اور جہاز ۔ رہاؤ۔ تیرے دیدار سے آنکھوں کو تسکین حاصل ہوتی ہے تیری حمدوثناہ سنکر کان صبر پاتے ہیں اور سکون محسوس کرتے ہیں(1) اے زندگی کے مالک غریب نواز غریب پرور خدا تیری پناہ میں آئیا ہوں۔ اے امیدیں اور مرادیں پوری کرنے والے اور دکھ درد مٹانے والے نانک نے تیرے قدموں کا آسرا لیا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
چرن سرن دئِیال ٹھاکُر آن ناہیِ جاءِ ॥
پتِت پاۄن بِردُ سُیامیِ اُدھرتے ہرِ دھِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سیَسار گار بِکار ساگر پتِت موہ مان انّدھ ॥
بِکل مائِیا سنّگِ دھنّدھ ॥
کرُ گہے پ٘ربھ آپِ کاڈھہُ راکھِ لیہُ گوبِنّد راءِ ॥੧॥
اناتھ ناتھ سناتھ سنّتن کوٹِ پاپ بِناس ॥
منِ درسنےَ کیِ پِیاس ॥
پ٘ربھ پوُرن گُنتاس ॥
ک٘رِپال دئِیال گُپال نانک ہرِ رسنا گُن گاءِ ॥੨॥੨॥੪੧॥
لفظی معنی:
چرن سرن ۔ پاؤں کی پناہ۔ دیال ٹھاکر۔ مہربان خدا ۔ آن ناہی جائے ۔ دوسری کوئی جگہ یا ٹھکانہ نہ نہیں۔ پتت پاون ۔ بد اخلاقوں گناہگاروں کو پاک و پائس بنانے کا۔ برد۔ عادت ۔ روزمرہ کا کام۔ ادھرتے ۔ کامیاب ہوتے ۔ ہر دھیائے ۔ الہٰی یادوریاض سے ۔ رہاؤ۔ سیسار۔ سنسار۔ علام ۔ دنیا ۔ گار ۔ دلدل۔ بکار۔ برائیوں ۔ ساگر۔ سمندر۔ پنت۔ بد اخلاق ۔ گناہگار ۔ موہ مان۔ غور ۔ تکبر اور دنیاوی مھبت ۔ اندھ ۔ اندھ ۔ زندگی کی حقیقت سے بے علم نا واقف ۔ نادان ۔ بکل ۔ پریشان ۔ مائیا سنگ دھند۔ دنیاوی دولت کے کاروبار ۔ گر گہے ۔ ہاتھ پکڑ کر۔ راکھ لیہو۔ بچاؤ ۔ گوبند رائے ۔ اے خدا (1) اناتھ ناتھ ۔ بے ملکوں کے مالک ۔ سناتھ سنس ۔ اے سنتوں کے سہارے ۔ کوٹ پاپ۔ کروڑوں گناہ۔ بناس ۔ مٹانیوالے ۔ درسنے ۔ دیدار۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ ۔ کرپال دیال۔ رحمان الرحیم۔ رسنا۔ زبان ۔
ترجمہ:
اے مہربان خدا میں تیرے زیر سایہ زیر پناہ آئیا ہو تیرے بغیر ایسا کوئی ٹھکانہ اور جگہ نہیں۔ تو بد اخلاق گناہگاروں کو نیک چلن خوش۔ اخلاق بنانیوا ۔ ہے تو ایسی عادات والا ہے تیرا روز مرہ کا کام ہے ۔ تیری یاد وریاض سے کامیابیاں نصیب ہوتی ہیں ۔ رہاؤ۔ یہ عالم یہ دنیا برائیوں بداعمالوں کی ایک دلدل اور سمندر ہے ۔ دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار انسان غرور اور تکبر میں مد ہوش ۔ اس میں گرتے ہیں اور گرے ہوئے ہیں۔ اے خداوند کریم ہاتھ پکڑ کر اس سے خود نکالوں اور بچاؤ (1) اے بے مالکوں کے مالک ۔ اے عاشقان و محبوبان خد اکے سہارے کروڑوں گناہوں کو مٹا دینے والے میرے دل میں تیرے دیدار کی پیاس ہے ۔ خدا اوصاف کا ایک خزانہ ہے ۔ اے رحمان الرحیم اے کامل خدا نانک زبان سے تیری حمدوثناہ کرتا رہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
ۄارِ ۄارءُ انِک ڈارءُ ॥
سُکھُ پ٘رِء سُہاگ پلک رات ॥੧॥ رہاءُ ॥
کنِک منّدر پاٹ سیج سکھیِ موہِ ناہِ اِن سِءُ تات ॥੧॥
مُکت لال انِک بھوگ بِنُ نام نانک ہات ॥
روُکھو بھوجنُ بھوُمِ سیَن سکھیِ پ٘رِء سنّگِ سوُکھِ بِہات ॥੨॥੩॥੪੨॥
لفظی معنی :
دار۔ دارؤ۔ قربان جاؤں ۔ انک ۔ بیشمار ۔ ڈارؤ۔ کردوں ۔ سکھ پر یہ ۔ پیارے کے سکھ پر۔ سہاگ ۔ ملاپ ۔ پلک رات۔ رات کے تھوڑے سے وقفے پر ۔ رہاؤ ۔ گنک ۔ سونا۔ مندر۔ مکان۔ کنک۔ مندر۔ سنہری مکان ۔ پاٹ۔ ریشم ۔ سیج ۔ خوآبگاہ ۔ سکھی ۔ سہیلی ۔ ساتھن۔ تات۔ واسطہ ۔ لگاؤ ۔ (1) مکت ۔ موتی ۔ انک بھوگ۔ بیشمار کھانے ۔ بن نام۔ بغیر خدا کے نام کے مراد ست سچ حق و حقیقت کے ۔ ہات ۔ روھانی واخلاقی موت ہے ۔ راکھو بھوجن۔ بغیر دال سبزی یا نمک روٹی کھانا ۔ بھوم سین ۔ زمین پر سونا یا لیٹنا ۔ سکھی پر یہ سنگ سوکھ بہات۔ اے ساتھ پیارے کی صحبت میں ۔ آرام و آسائش میں گذرتا ہے ۔
ترجمہ”:
اے سہیلی ۔ میں پیارے خاوند مراد خدا کی ملاپ کے تھوڑے سے وقفے اور رات کے ملاپ کے لطف و لذت اور سکھ پر بیشمار آرام و آسائش لطف و لذتیں قربان کرتا ہوں۔ رہاؤ۔ ساتھیؤ سونے و محلات و سنہری مندروں سے نہ میری کوئی محبت ہے نہ لگن ریشمی کپڑون اور ریشمی خوآبگاہ کی قدرقیمت (1) اے نانک۔ موتی ہیرے لعل یہ روحانی و اخلاقی موت کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے دوستو روکھی روٹی کھانے اور زمین پر سونا بہتر ہے ۔ پیارے خدا کی صحبت و قربت میں زندگی گذارنا ۔ جیسے شیخ سعدی کا فارسی کی کتاب بوستان عدی میں بتائیا ہے نان جو خوردن بر زمیں نششن بہ از کمر زر یں بستن و درخدمت ایستا دن ۔ مراد ۔ جوکی روٹی کھانہہ بہتر سنہری پیٹی باندھ کر کسی کی خدمت میں کھڑنے سے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
اہنّ تورو مُکھُ جورو ॥
گُرُ گُرُ کرت منُ لورو ॥
پ٘رِء پ٘ریِتِ پِیارو مورو ॥੧॥ رہاءُ ॥
گ٘رِہِ سیج سُہاۄیِ آگنِ چیَنا تورو ریِ تورو پنّچ دوُتن سِءُ سنّگُ تورو ॥੧॥
آءِ ن جاءِ بسے نِج آسنِ اوُݩدھ کمل بِگسورو ॥
چھُٹکیِ ہئُمےَ سورو ॥
گائِئو ریِ گائِئو پ٘ربھ نانک گُنیِ گہیرو ॥੨॥੪॥੪੩॥
لفطی معنی:
اہا تورو ۔ غرور و تکبر دور کرؤ۔ مکھ جورو۔ صحبت اپناؤ ۔ گر گر کرت ۔ مرشد کے سبق میں دل لگا کر۔ من لورو ۔ دل ٹٹولو ۔ کھوجو۔ پریہ ۔ پیارے ۔ پریت ۔ پیار۔ پیارو۔ پیارا ہے ۔ رہاؤ گریہہ۔ گھر الہٰی جائے مسکن ۔ بردا۔ ذہن۔ سیج ۔ خواب گاہ ۔ سہاوی ۔ خوبصورت ۔ آگن ۔ آنگن ۔ صھن ۔ چینا ۔ آرام دیہہ۔ پنج دوتن ۔ پانچ دشمن ۔ بداحساسات ۔ توڑو مٹاؤ۔ سنگ ساتھ ۔ نج آسن ۔ ذہن نشین ۔ اوند کمل ۔ الٹا ہوا ذہن۔ اور سوچ ۔ وگسورو ۔ کھلتا ہے ۔ چھٹکی ہونمے ۔ خودی مٹی ۔ شورو ۔ شوروغل ۔ جھگڑے ۔ گنی گہیر و گہری سوچ سمجھ والا ۔
ترجمہ:
غرور و تکبر مٹاؤ آپس میں ملاپ بناو۔ مرشد کو دلمیں بسا کر اپنے دل و کردار کی تحقیق کرؤ۔ پیارے خدا کا پیار سے پیار ہے ۔ رہاو۔ پانچوں نفسانی خواہشات شہوت ، غصہ ، لالچ، دنیاوی دولت کی محبت اور غرور و تکبر سے اپنا تعلق اور رشتہ توڑو جو روحانی واخلاقی زندگی کے دشمن ہیں ۔ یہ ذہن روشن ہو جائیگا پاک ہو جائیگا ذہن نشینی ہوگی اور سکون ملیگا (1) اے نہ تناسخ سے واسطہ پڑیگا نہ آواگون ہوگا ذہن نشینی ہوگی الٹا ہوا کنول یا ذہن روشن ہو جائیگا خودی کا شوروغل ختم ہوجائیگا۔ بھٹکن ختم ہوگی ۔ اے نانک۔ خدا بھاری اوصاف کا مالک ہے اسکی حمدوثناہ کرؤ۔

کانڑا مਃ੫ گھرُ ੯॥
تاں تے جاپِ منا ہرِ جاپِ ॥
جو سنّت بید کہت پنّتھُ گاکھرو موہ مگن اہنّ تاپ ॥ رہاءُ ॥
جو راتے ماتے سنّگِ بپُریِ مائِیا موہ سنّتاپ ॥੧॥
نامُ جپت سوئوُ جنُ اُدھرےَ جِسہِ اُدھارہُ آپ ॥
بِنسِ جاءِ موہ بھےَ بھرما نانک سنّت پ٘رتاپ ॥੨॥੫॥੪੪॥
لفظی معنی:
تاں تے ۔ اس واسطے ۔ ممنا ۔ اے من۔ ہر جاپ ۔ یاد خدا کو کر۔ سنت وید۔ سنت اور مذہبی کتابیں ۔ کہت ۔ بتاتی ہیں۔ پنتھ ۔ راستہ ۔ مراد زندگی گذارنے اور الہیی ملاپ کے راستے ۔ گاکھرو۔ دشوار گذار۔ موہ مگن ۔ دنیاوی دولت کی محبت میں مگن یا محو۔ اہا تاپ۔ تکبر کا بخار۔ رہاؤ۔ راتے ۔ متاثر ۔ ماتے ۔محو ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ بپری ۔ نامراد ۔ مائیا موہ سنتاپ ۔ دنیاوی دولت کی محبت کا عذاب (1) نام جپت ۔ جو یاد خدا کو کرتے ہیں ۔ ادھرے ۔ کامیابیان پاتے ہیں۔ سود ۔ وہی ۔ ونس ۔ مٹ جاتا ہے موہ ۔ بھے ۔ بھرما۔ محبت ۔ خوف اور بھٹکن ۔ سنت پرتاپ ۔ مرشد کی برکت و عنایت سے ۔
ترجمہ:
سو اسطے اے دل یا د خد کو کیا کر ۔ جو مرشد ومحبوبان الہٰی بتاتے ہیں کہ دنیاوی دولت کی محبت اور خودی کے عذاب سے بچنے کا راستہ نہایت دشوار ہے ۔ مرشد اور مذہبی کتابیں یہی بتاتیں ہیں۔ رہاؤ۔ اے دل جو انسان اس نامراد دنیاوی دولت میں محو ومجذوب رہتے ہیں۔ انہیں اس محبت کی وجہ سے بیشمار جھگڑوں اور عذابوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ (1) جو یاد اور الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت اپنانے میں وہی بچتے ہیں کامیاب ہوتے ہیں یا جسے خدا خود کامیاب بناتا ہے ۔ اے نانک مرشد کی برکت و عنایت سے اسکے دل سے دنیاوی دولت کی محبت مٹ جاتی ہے اسکے خوف اور بھٹکن ختم ہو جاتی ہے ۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੧੦
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ایَسو دانُ دیہُ جیِ سنّتہُ جات جیِءُ بلِہارِ ॥
مان موہیِ پنّچ دوہیِ اُرجھِ نِکٹِ بسِئو تاکیِ سرنِ سادھوُیا دوُت سنّگُ نِۄارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کوٹِ جنم جونِ بھ٘رمِئو ہارِ پرِئو دُیارِ ॥੧॥
کِرپا گوبِنّد بھئیِ مِلِئو نامُ ادھارُ ॥
دُلبھ جنمُ سپھلُ نانک بھۄ اُتارِ پارِ ॥੨॥੧॥੪੫॥
لفطی معنی:
دان ۔ خیرات ۔ جات ۔ جاؤں ۔ بلہار ۔ قربان ۔ صدقے ۔ مان موہی ۔ عزت و وقار کی محبت ۔ پنچ دوہی ۔ پانچوں عیبوں کی قریب میں۔ اُرجھ ۔ الجھاؤ ۔ نکٹ بیسو ۔ ساتھ بستی ہوں۔ دوت سنگ نوار۔ دشمنوں کا ساتھ دور کرؤ (1) کرپا ۔ مہربانی ملیونام ادھار۔ ست سچ حق وحقیقت کا آسرا ملا۔ دلبھ جنم۔ نایاب زندگی ۔ سپھل ۔ کامیاب۔ بھو ۔ بھنور۔
ترجمہ:
اے سنتہو ایسا خیرات کرو جس پر میں قربان جاؤں ۔ عزت و وقار کی محبت پانچوں نفسانی عیبوں کے قریب میں الجھ انکے قریب رہتا ہوں اب پاکدامن خدا رسیدہ سادہوؤں کی پناہ لی ہے میرا ان نفسانی عیبوں سے بچاؤ کراؤ ۔ رہاؤ۔ کروڑوں زندگیوں میں بھٹکن ہے اب تھکا ماندہ ہوکر تیرے در پر آئیا ہوں۔ الہیی نام خدا کی کرم و عنایت سے حاصل ہوا ہے ۔ جو میرے لیے آسرا ہے ۔ یہ نایاب انسانی زندگی کا میاب ہوئی ہے ۔ اے نانک۔ اس زندگی کے خوفناک سمندری بھنور سے پار کرے ۔

کانڑا مہلا ੫ گھرُ ੧੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سہج سُبھاۓ آپن آۓ ॥
کچھوُ ن جانوَ کچھوُ دِکھاۓ ॥
پ٘ربھُ مِلِئو سُکھ بالے بھولے ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّجوگِ مِلاۓ سادھ سنّگاۓ ॥
کتہوُ ن جاۓ گھرہِ بساۓ ॥
گُن نِدھانُ پ٘رگٹِئو اِہ چولےَ ॥੧॥
چرن لُبھاۓ آن تجاۓ ॥
تھان تھناۓ سرب سماۓ ॥
رسِک رسِک نانکُ گُن بولےَ ॥੨॥੧॥੪੬॥
لفظی معنی:
سہج ۔ قدرتی طور پر ۔ سبھائے ۔ اپنے پریم پیار سے ۔ آپن ۔ اپنے آپ ۔ از خود۔ کچھو ۔ کچھ بھی ۔ جانو ۔ جانتا ۔ کچھو دکھائے ۔ کچھ بھی دکھائیا۔ بالے ۔ بچگانہ ۔ بھولے نادان ۔ رہاؤ۔ سنجوگ ۔ ملاپ ۔ سادھ ۔ سنگلے ۔ نیک پارساؤں خدا رسیدوں کی صحبت و قربت میں ۔ کتہو ۔ کہیں۔ گھر یہہ بسائے ۔ دلمیں ذہن نشین ۔ گن ندھان ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ پرگیٹو ۔ ظاہر ہوا۔ چرے ۔ دامن مراد اس جسم میں (1) چرن لبھائے ۔ پاؤں گا گرویدہ ۔ یا پیارا ہوا۔ (1) آن ۔ دوسرے ۔ تجائے ۔ چھوڑے ۔ تھان تھنائے ۔ ہر جگہ۔ سرب۔ سارے ۔ سمائے ۔ بسے ۔ رسک رسک ۔ پر لطف مزے سے ۔ گن بولے ۔ صفت صلاح کی ۔
ترجمہ:
پر سکون پریم پیار سے از خود ملاپ نصیب ہوا ۔ میں نہ تو کچھ جانتا تھا نہ ہی کوئی نیک اعمال دکھا سکا ۔ مجھے ایک نادان بچہ سمجھ کر ملاپ ہوا۔ رہاؤ۔ قدرتاً نیک پارساؤں سادہوؤں کی صھبت و قربت نصیب ہوئی ۔ بھٹکن مٹی ذہن نشین ہوا اور اوصاف کے خزانے خدا اسی جسم میں ظاہر ہوا۔ (1) دوسرے اور دویت چھوڑ کر پائے مرشد نے کشش کی اسکا گرویدہ ہوا۔ جو ہر جگہ سب میں بستا ہے ۔ نانک پر لطف مزے سے اسکی حمدثناہ کرتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
گوبِنّد ٹھاکُر مِلن دُرائیِ ॥
پرمِتِ روُپُ اگنّم اگوچر رہِئو سرب سمائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کہنِ بھۄنِ ناہیِ پائِئو پائِئو انِک اُکتِ چتُرائیِ ॥੧॥
جتن جتن انِک اُپاۄ رے تءُ مِلِئو جءُ کِرپائیِ ॥
پ٘ربھوُ دئِیار ک٘رِپار ک٘رِپا نِدھِ جن نانک سنّت رینائیِ ॥੨॥੨॥੪੭॥
لفظی معنی:
درایں ۔ دشوار۔ مشکل ۔ پرمت ۔ اندازے سے بعید ۔ اگم اگوچر۔ عقل و ہوش کی رسائی سے باہر ۔ رہاؤ۔ کہن ۔ بیانوں یابات چیت سے ۔ بھون۔ یا تراؤں سے ۔ انک ۔ الت چترائی ۔ دلائیل بازی یا چالاکیوں سے (1) جتن ۔ کوشش۔ اپاؤ ۔حیلے ۔ کرپائی ۔ مہربانی ۔ دیار ۔ مہربانی ۔ کریار ۔ کر پاندھ ۔ رحمان الرحیم ۔ مہربانیوں کا خزانہ ۔ رینائی ۔ قدموں کی دہول ۔
ترجمہ:
الہٰی ملاپ نہایت دشوار ہے ۔ اعداد و شمار سے بعید شکل و صورت کا مالک انسانی عقل و ہوش سے باہر سب میں بسا ہوا ہ ۔ رہاؤ۔ صرف زبنای باتوں اور زیارت کرنے اور بیشمار دلیلوں اور چالاکیوں سے ملاپ نصیب نہیں ہوتا (1) بیشمار کوششو سے ملاپ نہیں ہوتا ۔ ملاپ تب ہوتا ہے جب رحمان الرحیم مہربانیوں کا خزانہ ۔ اے نانک الہٰی خادمان خدا سنتوں کی قدموں کی دہول میں رہنے سے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
مائیِ سِمرت رام رام رام ॥
پ٘ربھ بِنا ناہیِ ہورُ ॥
چِتۄءُ چرناربِنّد ساسن نِسِ بھور ॥੧॥ رہاءُ ॥
لاءِ پ٘ریِتِ کیِن آپن توُٹت نہیِ جورُ ॥
پ٘ران منُ دھنُ سربسد਼ ہرِ گُن نِدھے سُکھ مور ॥੧॥
ایِت اوُت رام پوُرنُ نِرکھت رِد کھورِ ॥
سنّت سرن ترن نانک بِنسِئو دُکھُ گھور ॥੨॥੩॥੪੮॥
لفظی معنی:
چتوؤ ۔ یاد کرتا ہوں۔ چرنا ربند۔ پاک پاؤں۔ ساسن ۔ ہر سان کے ساتھ ۔ نس بھور۔ دن رات ۔ روز و شب ۔ رہاؤ ۔ لائے پریت۔ پیار کے ساتھ ۔ کیسن آپن ۔ اپنائیا ۔ تو ٹت نہیں جور۔ ملاپ ختم نہیں ہوتا۔ پران ۔ زندگی ۔ من ۔ دل ۔ دھن۔ سرمایہ ۔ سر بسو۔ سب کچھ گن ندھے ۔ اوصاف کا خزناہ مور ۔ میرا (1) ایت ۔ یہاں۔ اوت ۔ وہاں۔ نرکھت ۔ تمیز ۔ روکھور ۔دلمیں بستا ہو۔ سنت سرن ۔ سایہ مرشد۔ ترن کشتی ۔ بنیؤ ۔ مٹاتا ۔ دکھ گور بھاری عذاب۔
ترجمہ:
اے ماں میں یاد خدا کو کرتا ہوں ۔ خدا کے بغیر دوسری کوئی ہستی اس لائق نہیں روز و شب پائے پاک خدالگاتا ہوں ۔ رہاؤ۔ صحبت بناکر اپنابنالیا لہذا پیار کی گانٹھ نیں ٹوٹیگی ۔ دل و جان زندگی اور ہر شے اس اوصاف کے خزانے کا ہے اور وہی میرے لیے آرام آسائش ہے (1) یہاں وہان ہر جگہ بستا ہے خدا میں اسے اپنے ذہن دل و دماغ میں پوشیدہ دیدار کرتا ہوں ۔ اے نانک۔ سایہ محبوب خداسنت کا ایک جہاز ہے اسکا بھاری عذاب مٹ جاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੫॥
جن کو پ٘ربھُ سنّگے اسنیہُ ॥
ساجنو توُ میِتُ میرا گ٘رِہِ تیرےَ سبھُ کیہُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
مانُ ماںگءُ تانُ ماںگءُ دھنُ لکھمیِ سُت دیہ ॥੧॥
مُکتِ جُگتِ بھُگتِ پوُرن پرماننّد پرم نِدھان ॥
بھےَ بھاءِ بھگتِ نِہال نانک سدا سدا کُربان ॥੨॥੪॥੪੯॥
لفظی معنی:
جن ۔ خدمتگار ۔ پرھ ۔ خدا۔ سنگھ ۔ ساتھ ۔ سنیہہ۔ سمبندھ ۔ رشتہ ۔ محبت ۔ ساجنو ۔ پیاریؤ ۔ دوستو۔ میت ۔ دوست ۔ گریہہ۔ گھر ۔ سبھ ۔ کیہو ۔ سب کچھ ۔ رہاؤ۔ مکت۔ نجات۔ آزادی ۔ جگت ۔ طریقہ سلیقہ ۔ مان ۔ عزت۔ وقار۔ تان ۔ طاقت۔ دھن ۔ سرمایہ ۔ دولت ۔ لکھمی ۔ دولت ۔ مت۔ بیٹے ۔ اولاد۔ دیہہ ۔ جسم۔ توانائی ۔ (1) ۔ بھگت۔ کھانا۔ روزی ۔ رزق ۔ پر مانند۔ مکمل خوشنودی کا مالک ۔ پرم ۔ ندھان ۔ خزانہ ۔ بھے ۔ خوف۔ ادب آداب۔ بھائے ۔ پیار۔ نہال ۔ خوشی ۔
ترجمہ:
خدمتگار خدا کا خدا سے رشتہ واسطہ ساتھ اور پیار ہوتا ہے ۔ اے خدا تو میرا میرا دوست ہے تیرے گھر ہرشے اور نعمت ہے ۔ اے خدا میں تجھے سے عزت وقار طاقت ۔ سرمایہ دولت ۔ بیٹا اور جسمانی ۔ تندرستی مانگتا ہوں (1) اے خدا تو ازادی طرز زندگی مراد زندگی گذارنے کا طریقہ و سلیقہ ۔ رزق روزی سب سے بلند روحانی وہذنی سکون اور آرام و آسائش کا خزانہ ہے ۔ نانک تجھ پر ہمیشہ ہمیشہ قربان ہے جو شخس اے خدا تیرے ادب و اداب پریم پیار میں زندگی بسر کتا ہے ۔ خوشیاں پاتا۔

کانڑا مہلا ੫॥
کرت کرت چرچ چرچ چرچریِ ॥
جوگ دھِیان بھیکھ گِیان پھِرت پھِرت دھرت دھرت دھرچریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اہنّ اہنّ اہےَ اۄر موُڑ موُڑ موُڑ بۄرئیِ ॥
جتِ جات جات جات سدا سدا سدا سدا کال ہئیِ ॥੧॥
مانُ مانُ مانُ تِیاگِ مِرتُ مِرتُ نِکٹِ نِکٹِ سدا ہئیِ ॥
ہرِ ہرے ہرے بھاجُ کہتُ نانکُ سُنہُ رے موُڑ بِنُ بھجن بھجن بھجن اہِلا جنمُ گئیِ ॥੨॥੫॥੫੦॥੧੨॥੬੨॥
لفظی معنی:
کرت کرت۔ کرتے ہیں۔ چرچ چرچ چرچری ۔ بحث مباحثے ۔ جوگ دھیان الہٰی ملاپ کے لئے دھیان یا یکسوئی کرنا۔ بھیکھ ۔ فرقے ۔ گیان ۔ علم ۔ جاننا۔ پھرت پھرت ۔ ہمیشہ پھرتے ہیں۔ دھرت دھرت ۔ دھرچری ۔ زمین پر یا تری یا مسافری ۔ رہاؤ۔ اہ۔ اہ۔ غرور ہی ۔ غرور تکبر ہی تکبر۔ اہے ۔ ہے ۔ اور ۔ دوسرا۔ موڑھ ۔ موڑھ ۔ بیوقوف۔ جاہل۔ بورئی ۔ نادان۔ بد مست ۔ جت ۔ جہاں۔ جات جات جات۔ جہاں کہیں جاتے ہیں۔ کال ہہئی ۔ روحانی واخلاقی موت ہے (1) مان ۔غرور ۔ تکبر۔ تیاگ۔ ترک کر ۔ چھوڑ۔ مرت مرت۔ موت ۔ نکٹ نکٹ ۔ نزدیک۔ سدا ہیئی ۔ ہمیشہ ہے ۔ ہرے بھاج۔ خدا کو یاد کر۔ کہت نانک ۔ نانک کہتا ہے ۔ بن بھجن۔ ۔ بغیر یاد خدا۔ اہلا جنم گئی ۔ قیمتی زندگی گذر رہی ہے ۔
ترجمہ:
ہمیشہ بحث مباحثے کرتے ہیں بیشمار جوگی جنہیں جوگیوں کے دھیان لگانی کی سمجھ اور علم ہے اور زمین پر چلتے پھرتے ہین ۔ رہاؤ۔ اور مغرور جو غرور و تکبر میں محو ہیں وہ مورکھ اور بد مست ہیں۔ اسے مذہبی فرائض و اعمال سمجھتے ہیں۔ مگر جہاں جاتے ہیں روحانی اخلاقی موت ساتھ نزدیک ہوتی ہے (1) اے انسان اسکا غرور و تکبر چھوڑدے روحانی موت ہمیشہ ساتھ ہے نزدیک ہے ۔ نانک کہتا ہے ۔ اے بیوقوف بد عقل خدا کو یاد کیا کر بگیر عبادت بندگی و ریاضت یہ قیمتی زندگی بیکار گذر رہی ہے ۔

کانڑا اسٹپدیِیا مہلا ੪ گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
جپِ من رام نامُ سُکھُ پاۄیَگو ॥
جِءُ جِءُ جپےَ تِۄےَ سُکھُ پاۄےَ ستِگُرُ سیۄِ سماۄیَگو ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھگت جناں کیِ کھِنُ کھِنُ لوچا نامُ جپت سُکھُ پاۄیَگو ॥
ان رس ساد گۓ سبھ نیِکرِ بِنُ ناۄےَ کِچھُ ن سُکھاۄیَگو ॥੧॥
گُرمتِ ہرِ ہرِ میِٹھا لاگا گُرُ میِٹھے بچن کڈھاۄیَگو ॥
ستِگُر بانھیِ پُرکھُ پُرکھوتم بانھیِ سِءُ چِتُ لاۄیَگو ॥੨॥
گُربانھیِ سُنت میرا منُ د٘رۄِیا منُ بھیِنا نِج گھرِ آۄیَگو ॥
تہ انہت دھُنیِ باجہِ نِت باجے نیِجھر دھار چُیاۄیَگو ॥੩॥
رام نامُ اِکُ تِل تِل گاۄےَ منُ گُرمتِ نامِ سماۄیَگو ॥
نامُ سُنھےَ نامو منِ بھاۄےَ نامے ہیِ ت٘رِپتاۄیَگو ॥੪॥
لفظی معنی:
جپ ۔ یاد کر۔ من ۔ اے دل۔ رام نام۔ خدا کا نام ۔ ست ۔ سچ ۔ حق وحقیقت۔ پاویگو۔ پائیگا۔ سیو۔ خدمت۔ سماویگو۔ الہٰی نام میں محوو مجذوب ہوگا۔ رہاؤ۔ بھگت جناں ۔ کادمان خدا۔ لوچا۔ خواہش ۔ کھ کھن ۔ تھوڑے تھوڑے وقفے بعد۔ ان رس۔ دوسرے لطف ۔ ساد ۔ مزے ۔ نیکر۔ نکل گئے دور ہوگئے ۔ سکھاویگو ۔ سکھ دینے والا۔ اچھا نہیں لگتا۔(1) گرمت ۔ سبق مرشد۔ پرکھوتم ۔ بلند عظمت انسانوں کی (2) درویا۔ متاثر ہوا۔ بھینا ۔ اثر پذیر ۔ تج گھر ۔ ذہن نشین۔ اپنے اصلی ٹھکانے ۔ انحت ۔ ان آحت ۔ بے آواز۔ دھنی ۔ سر۔ مراد سر یلا راگ۔ تت۔ ہر روز ۔ نیجھر دھار چو آویگو۔ آب حیات کے چشمے سے ۔ آب حیات کی دھیار جاری ہوگی (3) سماویگو ۔ محو ومجذوب ۔ بھاوے ۔ پیارا۔ چاہتا ہے ۔ ترپتاویگو۔ تسکین پاتا ہے (4) ۔
ترجمہ:
اے دل الہٰی نام جو صدیوی ہے سچ ہے جو جائز صحیح اور درست ہے واجب ہے اور حقیقت اور اصلیت ہے یاد وریاض کیا کر اس سے سکھ اور آرام و آسائش حاصل ہوگا۔ جیسے جیسے یاد وریاض کرو گے سچے مرشد کی خدمت سے اسمیں محو ومجذوب ہو جاؤ گے ۔ رہاو۔ الہٰی خدمتگاروں دلمیں اسکے لئے ہر وقت خواہش رہتی ہے اور نام کی یاد وریاض سے سکون پاتے ہیں انکے دل ودماغ سے دوسرے لطف اور مزے دور ہو جاتے ہیں اور انہیں نام کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگتا ہے (1) سبق مرشد سے اسے خدا سے پیار ہو جاتا ہے اور وہ میٹھے بول بولتے ہیں۔ سچے مرشد کا کلام بلند عظمت انسان کا کلام ہے لہذا اس کلام میں دلچسپی لو (2) اس کلام کو سنکر میرا دل متاثر ہوا اور ذہن نشین ہوا۔ تب ۔ تب بے آواز لگاتا ر سریلی صدائیں ہونے لکھیں۔ اور آب حیات کی ہر روز دھارا جاری ہوئی (3) ہر وقت الہٰی نام کی یادوریاض جاری ہے اور سبق مرشد کی مطابق الہٰی نام میں محو ومجذوب ہوں۔ نام سنکر نام دل کو پیار لگتا ہے ۔ نام سے دل کو تسکین ملتی ہے (4)

کنِک کنِک پہِرے بہُ کنّگنا کاپرُ بھاںتِ بناۄیَگو ॥
نام بِنا سبھِ پھیِک پھِکانے جنمِ مرےَ پھِرِ آۄیَگو ॥੫॥
مائِیا پٹل پٹل ہےَ بھاریِ گھرُ گھوُمنِ گھیرِ گھُلاۄیَگو ॥
پاپ بِکار منوُر سبھِ بھارے بِکھُ دُترُ ترِئو ن جاۄیَگو ॥੬॥
بھءُ بیَراگُ بھئِیا ہےَ بوہِتھُ گُرُ کھیۄٹُ سبدِ تراۄیَگو ॥
رام نامُ ہرِ بھیٹیِئےَ ہرِ رامےَ نامِ سماۄیَگو ॥੭॥
اگِیانِ لاءِ سۄالِیا گُر گِیانےَ لاءِ جگاۄیَگو ॥
نانک بھانھےَ آپنھےَ جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ چلاۄیَگو ॥੮॥੧॥
لفظی معنی:
کنک ۔ سونا۔ کاپر۔ کپڑے ۔ بھانت ۔ قسمیں۔ پھیکے ۔ بد مزہ ۔ نکمے (5) پٹل ۔ پردہ ۔ گھومن گھر ۔ بھنور۔ ۔ گھلا ویگو ۔ پھنساتی ہے ۔ پاپ ۔ گناہ۔ بکار۔ منور۔ بوسیدہ لوہا۔ وکھ ۔ زہر ۔ ایسی دنیاوی دولت جو روحانی واخلاقی زندگی کے لئے زہر ہے ۔ دتر تیرے کے لئے دشوار کامیابی کے لئے دشوار (6) بھؤ ۔ خوف۔ بیراگ ۔ پیار۔ لگن ۔ بھئیا۔ ۔ ہوا۔ بوہتھ ۔ جہاز۔ کھیوٹ ۔ صلاح ۔ ملاییئے ۔ رامے نام۔ الہٰی نام (7) اگیان ۔ لاعلمی ۔ لائے ۔ لگا کر ۔ گرگیان ۔ علم مرشد ۔ بھانے ۔ رجائے الہٰی ۔ جگاویگو۔ بیدار کرتا ہے ۔ بھانے آپنے اپنی رضا و زہر فرمان ۔
ترجمہ:
اے دل دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار انسان سونے اور چاندی کے قیمتی زیور اور قسموں قسموں کے اچھے اچھے کپڑے پہنتا ہے مگر بغیر الہٰی نام ست جو صدیوی ہے جو سچ ہے حق ہے اور حقیقت ہے سارے بد مزہ ہیں انسان آواگون اور تناسخ میں پڑا رہتا ہے (5) دنیاوی دولت کا بھاری سخت پردہ ہے ۔ اسکی محبت کے پرودہ میں انسان خیالات کے بھنور میں محصور رہتا ہے ۔ گناہ دوش ایک بوسیدہ لوہے کی مانند ہیں ۔لہذا یہ زہریلی دولت کی محبت جو انسان کی روحانی زندگی زہر قاتل کی مانند ہے زندگی کامیاب بنانے کے لئے دشوار اور حائل ہے ۔ کامیابی دشوار ہے (6) خدا کا خوف وادب اور مھبت ایک جہاز ہے اور مرشد ایک ملاح جو کلام کے ذریعے کامیاب کرتا ہے ۔ الہٰی نام سے خدا کا وصل و ملاپ نصیب ہوتا ہے (7) لا علمی کی جہالت اور غفلت میں سوئے انسان کو علم مرشد سے بیداری حاصل ہوتی ہے ۔ اے نانک ۔ خدا پنی رضا و فرمان سے جس طرح سے اسکی رضا و مرضی ہوتی ہے اسی طرح کے زندگی کے راستے پر چلاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
جپِ من ہرِ ہرِ نامُ تراۄیَگو ॥
جو جو جپےَ سوئیِ گتِ پاۄےَ جِءُ دھ٘روُ پ٘رہِلادُ سماۄیَگو ॥੧॥ رہاءُ ॥
ک٘رِپا ک٘رِپا ک٘رِپا کرِ ہرِ جیِءُ کرِ کِرپا نامِ لگاۄیَگو ॥
کرِ کِرپا ستِگُروُ مِلاۄہُ مِلِ ستِگُر نامُ دھِیاۄیَگو ॥੧॥
جنم جنم کیِ ہئُمےَ ملُ لاگیِ مِلِ سنّگتِ ملُ لہِ جاۄیَگو ॥
جِءُ لوہا ترِئو سنّگِ کاسٹ لگِ سبدِ گُروُ ہرِ پاۄیَگو ॥੨॥
سنّگتِ سنّت مِلہُ ستسنّگتِ مِلِ سنّگتِ ہرِ رسُ آۄیَگو ॥
بِنُ سنّگتِ کرم کرےَ ابھِمانیِ کڈھِ پانھیِ چیِکڑُ پاۄیَگو ॥੩॥
بھگت جنا کے ہرِ رکھۄارے جن ہرِ رسُ میِٹھ لگاۄیَگو ॥
کھِنُ کھِنُ نامُ دےءِ ۄڈِیائیِ ستِگُر اُپدیسِ سماۄیَگو ॥੪॥
لفظی معنی:
نام تراویگو ۔ نام سے ۔ ست سچ حق و حقیقت اپنانے سے زندگی کامیاب بناؤ گے ۔ گت ۔ بلند روحانی واخلاقی زندگی ۔ سماوپہوگو۔ محو ومجذوب ہوا۔ رہاؤ۔ دھیاویگو ۔ دھیان یا توجہ ۔(1) ہونمے مل ۔ خودی اور خوئشتا کی ناپاکیزگی ۔ کاسٹ ۔ لکڑی (2) ہر رس ۔ الہٰی لطف۔ کرم ۔ اعمال۔ ابھیمانی ۔ مغرور ۔ گڈھ ۔ پانی چیکڑ ۔ پاویگو ۔ نیکوں کو گناہوں میں بدلنا (3) رکھوارے ۔ محافظ ۔ میٹھ ۔ پان۔ لطف۔ اپدیس ۔ واعظ ۔ سبق (4) ۔
ترجمہ:
اے دل الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد و ریاض زندگی کامیاب بناتی ہے ۔ جو الہٰی نام کی یادوریاض کرتا ہے اسکی روھانی واخلاقی زندگی کی حالت بہتر ہو جاتی ہے ۔ اور وہ دھر و پر ہلاد کی مانند محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔ رہاؤ۔ اے خدا کرم و عنایت فمرا کر مجھے الہٰی نام یمں لگاؤ خدا خود اپنی کرم و عنایت سے نام میں دھیان و توجہ لگواتا ہے ۔ اے خدا اپنی مہربانی سے مرشد ملاؤ۔ مرشد کے ملاپ سے نام میں توجہ دی جاسکتی ہے (1) انسان نیک پارساؤں پاکدامنوں کی صحبت و سے ناپاکیزگی دور ہو جاتی ہے ۔ جس طرح لکڑی کے ساتھ لوہا تیر نے لگتا ہے اس طرح سے کلام مرشد سے الہٰی وصل وملاپ حاصل ہوتا ہے (2) اے انسانوں سچے نیک بلند اخلاق روحانی سنتہوں کی سچی صحبت و قربت اختیار کر ؤ الہٰی لطف ملتا ہے ۔ بغیر صحبت مغرور انسان اعمال کرتا ہے وہ نیکوں اور اوصافوں کو مٹی میں دفن کرنا ہے (3) خادماں خدا کا محافظ ہوتا ہے خود خدا تبھی انہیں الہٰی نام سے محبت پیار پیدا ہوتا ہے ۔ نام سے ہر وقت عظمت وحشمت حاصل ہوتی ہے اور خادم خدا سبق مرشد میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ (4)

بھگت جنا کءُ سدا نِۄِ رہیِئےَ جن نِۄہِ تا پھل گُن پاۄیَگو ॥
جو نِنّدا دُسٹ کرہِ بھگتا کیِ ہرناکھس جِءُ پچِ جاۄیَگو ॥੫॥
ب٘رہم کمل پُتُ میِن بِیاسا تپُ تاپن پوُج کراۄیَگو ॥
جو جو بھگتُ ہوءِ سو پوُجہُ بھرمن بھرمُ چُکاۄیَگو ॥੬॥
جات نجاتِ دیکھِ مت بھرمہُ سُک جنک پگیِں لگِ دھِیاۄیَگو ॥
جوُٹھن جوُٹھِ پئیِ سِر اوُپرِ کھِنُ منوُیا تِلُ ن ڈُلاۄیَگو ॥੭॥
جنک جنک بیَٹھے سِنّگھاسنِ نءُ مُنیِ دھوُرِ لےَ لاۄیَگو ॥
نانک ک٘رِپا ک٘رِپا کرِ ٹھاکُر مےَ داسنِ داس کراۄیَگو ॥੮॥੨॥
لفظی معنی:
نو۔ جھک۔ بھگت جناں۔ عاشق و محبوب و خادمان خدا۔ پھل گن ۔ برآور اوساف۔ دسٹ ۔ گناہگار ۔ دوسی ۔ پچ۔ ذلیل وخوار (5) برہما ۔ کی پیدائش کنول کے پھول سے مانتے ہیں اور مچھودری کابیٹا مانتے ہیں۔ بیاس کو ۔ تپ تاپن ۔ تپسیا ۔ پوجن ۔ پرستش ۔ بھرمن بھرم ۔ بھٹکنا (6) جات نجات۔ اونچی نیچی ذات۔ سک ۔ برہما کا بیٹا۔ جوٹھن ۔ جوٹھ ۔ سب کے جوٹھے کھانے ۔ تل تھوڑا (7) سینگھاسن ۔ تخت۔ دہول۔ دہول۔ داسن داس ۔ غلاموں کا غلام ۔
ترجمہ:
خادمان خدا الہٰی عاشق و محبوب خدا کی قدروعظمت میں سر جھکانا چاہیے خادمان خدا بھی جکھے رہتے ہیں ۔ جھکنے سے روھانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ جو بدقماش خادمان خدا کی بد گوئی کرتے ہیں (5) برہما کی پیدائش کنول کے پھول سے مانتے ہیں او ربیاس کو مچھلی یا مچھودری کا بیٹا مانتے ہیں۔ تاہم وہ اپنی پرستش کراتے ہیں خادم خدا بھگت کی قدر کرؤ ۔ اس سے دل کی بھٹکن مٹتی ہے ۔ (6) اونچی نیچی ذات کے دہوکے میں نہ رہو۔ سک نے جنک کے پاؤں پڑ کر خدا میں دھیان لگائیا۔ اسکے سر پر ساری رسوئی یا باوری خانے کی جوٹھ سر پر پڑی مگر پھر بھی نہ ڈگمگائیا (7) گو جنک گدنی نشین ہوا تخت پر بیٹھا تاہم نو مہینوں یا عالموں کے قدموں پر سر جھکاتا تھا ۔ اے خدا نانک پر کرم فرمائی کر مجھے اپنے غلاموں کا غلام بنا دے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
منُ گُرمتِ رسِ گُن گاۄیَگو ॥
جِہۄا ایک ہوءِ لکھ کوٹیِ لکھ کوٹیِ کوٹِ دھِیاۄیَگو ॥੧॥ رہاءُ ॥
سہس پھنیِ جپِئو سیکھناگےَ ہرِ جپتِیا انّتُ ن پاۄیَگو ॥
توُ اتھاہُ اتِ اگمُ اگمُ ہےَ متِ گُرمتِ منُ ٹھہراۄیَگو ॥੧॥
جِن توُ جپِئو تیئیِ جن نیِکے ہرِ جپتِئہُ کءُ سُکھُ پاۄیَگو ॥
بِدر داسیِ سُتُ چھوک چھوہرا ک٘رِسنُ انّکِ گلِ لاۄیَگو ॥੨॥
جل تے اوپتِ بھئیِ ہےَ کاسٹ کاسٹ انّگِ تراۄیَگو ॥
رام جنا ہرِ آپِ سۄارے اپنا بِردُ رکھاۄیَگو ॥੩॥
ہم پاتھر لوہ لوہ بڈ پاتھر گُر سنّگتِ ناۄ تراۄیَگو ॥
جِءُ ستسنّگتِ ترِئو جُلاہو سنّت جنا منِ بھاۄیَگو ॥੪॥
لفظی معنی:
گرمت ۔ سبق مرشد۔ رس۔ لطف۔ مزہ ۔ جہوا۔ زبان۔ کوٹی ۔ کروڑو ۔ دھیا ویگو۔ دھیان لگاتے ہیں۔ رہاؤ۔ سہس فنی ۔ ہزاروں فنوں والا۔ سیخ ناگے ۔ سیخ ناگ ۔ سانپ ۔ انت ۔ اخر۔ نیکے ۔ اچھے ۔ داسی ۔ خادمہ ۔ بدر چھوک چھوہر۔ اچھوت لڑکا۔ کرشن انک گل ۔ کرشن نے گلے اور چھاتی لگائیا (2) اوپت ۔ پیدا ہوئی ۔ کاسٹ ۔ کڑی ۔ انگ ۔ اعضا ۔ جسم ۔ سوارے ۔ درست کرتا ہے ۔ برو ۔ عادت (3) لوہ ۔ لوہا۔ گر سنگت ۔ مرشد کی صھبت ۔ ناو۔ کشتی ۔ تراویگو۔ کامیاب بناتی ہے ۔ ست سنگت ۔ پاک صحبت۔ سنت جناں ۔ خادمان خدا عاشق و محبوب خدا۔ بھایگو ۔ پیارا ہوگا۔ ٓ

کھرے کھروۓ بیَٹھت اوُٹھت مارگِ پنّتھِ دھِیاۄیَگو ॥
ستِگُر بچن بچن ہےَ ستِگُر پادھرُ مُکتِ جناۄیَگو ॥੫॥
ساسنِ ساسِ ساسِ بلُ پائیِ ہےَ نِہساسنِ نامُ دھِیاۄیَگو ॥
گُر پرسادیِ ہئُمےَ بوُجھےَ توَ گُرمتِ نامِ سماۄیَگو ॥੬॥
ستِگُرُ داتا جیِء جیِئن کو بھاگہیِن نہیِ بھاۄیَگو ॥
پھِرِ ایہ ۄیلا ہاتھِ ن آۄےَ پرتاپےَ پچھُتاۄیَگو ॥੭॥
جے کو بھلا لوڑےَ بھل اپنا گُر آگےَ ڈھہِ ڈھہِ پاۄیَگو ॥
نانک دئِیا دئِیا کرِ ٹھاکُر مےَ ستِگُر بھسم لگاۄیَگو ॥੮॥੩॥
لفظی معنی:
کھرے کھروئے ۔ کھڑے کھڑوتے ۔ بیٹت۔ اوٹھت ۔ اُٹھتے بیٹھتے ۔ پنتھ ۔ راستہ ۔ مارگ۔ راستہ ۔ پادھر ۔ صاف راستہ ۔ مکت ۔ نجات۔ آزاد ۔ جناویگو ۔ سمجھاتا ہے ۔ (5) ساسن ۔ خبرداری ۔ بل ۔ طاقت ۔ نیہہساسن ۔ سانس نہ لیتے ہوئے بھی ۔ بوجھے ۔ سمجھ آتی ہے ۔ گرمت ۔ سبق مرشد سماویگو ۔ محو ومجذوب (6) جیئہ جیئین کو ۔ روحانی زندگی بخشش کرنے والا ۔ بھاگ ہین۔ بد قسمت ۔ بھاوے گو۔ نہیں چاہتا ۔ ویلا ۔ موقعہ ۔ ہاتھ ۔ میسر ۔ پرتاپے ۔ عذاب پاتا ہے (7) ۔ بھلا لوڑے ۔ اچھا چاہے ۔ ڈھیہہ۔ لیٹ ۔ عاجزی و انکساری ۔ دیا ۔ مہربانی ۔ بھسم ۔ پاؤں دہول ۔ رکھ۔
ترجمہ:
گھڑے کھلوتے بیٹھے اُٹھتے راستہ چلتے راستے مین خدا میں دھیان لگاتا ہے ۔ کلام مرشد واعظ مرشد سیدھا صاف راہ نجات بناتا ہے (5) بوقت سانس ہر سانس طاقت حاصل کرتا ہے ۔ رحمت مرشد سے خودی سمجھتا ہے ۔ سبق مرشد سے نام جو ست ہے سچ ہے حق ہے اور حقیقت ہے و محوومجذوب رہتا ہے (6) سچا مرشد روحانی واخلاقی زندگی بخشنے والا ہے ۔ بد قسموں کو یہ اچھی نہیں لگتی ۔ بعد میں یہ موقعہ میسر نہیں ہوتا۔ عذاب پاتا ہے اور پچھتاتا ہے (7) اگر کوئی اپنی نیکی چاہتا ہے تو خودی مٹا مرشد کے در پر پڑا رہے ۔ اے نانک خدا سے التجاو درخواست کرکے اے مولا میرے آقا میری پیشانی پر دہول پائے مرشد لگی رہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
منُ ہرِ رنّگِ راتا گاۄیَگو ॥
بھےَ بھےَ ت٘راس بھۓ ہےَ نِرمل گُرمتِ لاگِ لگاۄیَگو ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ رنّگِ راتا سد بیَراگیِ ہرِ نِکٹِ تِنا گھرِ آۄیَگو ॥
تِن کیِ پنّک مِلےَ تاں جیِۄا کرِ کِرپا آپِ دِۄاۄیَگو ॥੧॥
دُبِدھا لوبھِ لگے ہےَ پ٘رانھیِ منِ کورےَ رنّگُ ن آۄیَگو ॥
پھِرِ اُلٹِئو جنمُ ہوۄےَ گُر بچنیِ گُرُ پُرکھُ مِلےَ رنّگُ لاۄیَگو ॥੨॥
اِنّد٘ریِ دسے دسے پھُنِ دھاۄت ت٘رےَ گُنھیِیا کھِنُ ن ٹِکاۄیَگو ॥
ستِگُر پرچےَ ۄسگتِ آۄےَ موکھ مُکتِ سو پاۄیَگو ॥੩॥
اوئنّکارِ ایکو رۄِ رہِیا سبھُ ایکس ماہِ سماۄیَگو ॥
ایکو روُپُ ایکو بہُ رنّگیِ سبھُ ایکتُ بچنِ چلاۄیَگو ॥੪॥
لفظی معنی:
رنگ راتا۔ پیار میں محو ۔ مست ۔ بھے بھے تراس۔ خوف و ادب ۔ نرمل۔ پاک۔ گرمت۔ سبق واعظ مرشد۔ لاگ ۔ لگن ۔ متاثر۔ رہاؤ۔ بیراگی ۔ طارق۔ نکٹ ۔ نزدیک ۔ گھر ۔ ذہن و قلب ۔ پنک۔ دہول (1) دبدھا ۔ دوچتی ۔ دوہری سوچ سمجھ ۔ لوبھ ۔ لالچ۔ ۔ کورے ۔ صاف ۔ الٹیو جنم۔ زندگی میں بدلاؤ۔ لاوگیو ۔ لاتا ہے (2) فن ۔ دوبارہ۔ دھاوت۔ بھٹکن۔ تریگیا۔ تینوں اوصاف۔ ۔ کھن۔ آنکھ جپکنے کے عرصے کے لئے ۔ پرچے ۔ خوش ہوئے ۔ وسگت۔ قابو۔ موکھ مکت۔ نجات۔ آزادی (3) اونکار۔ واحد بلا وجود جسم وحجم ۔ روربیا ۔ بستا ہے ۔ سبھ ۔ سارا عالم۔ ایکس ماہے ۔ واحد یا وحدت میں سماو یگو ۔ سملت ۔ مدغم۔ ایکو روپ ۔ واحد شکل وصورت ۔ بہت سے رنگوں اور شکلوں میں۔ ایکت بچن چلاویگو۔ واحد فرمان میں چلاتا ہے ۔
ترجمہ:
دل الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب ہوکر الہٰی حمدوچناہ کرتا ہے ۔ خدا کے خوف و ہراس اور ادب سے پاک ہوکر سبق مرشد سے متاثر ہوتا ہے ۔ رہاؤ۔ جب انسان الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے تو ہمیشہ دنیاوی دولت سے منفرت ہو جاتا ہے تو خدا اسکے دل و دماغ میں بس جاتا ہے ۔ انکے قدموں کی دہول ملنے سے روحانی زندگی میسر ہوتی ہے اور یہ دہول پا خدا خود دلاتا ہے (1) انسان دوہری سوچ و خیالات میں لگنے کی وجہ سے لالچ مین محصور رہتے ہین انکے پریم پیار سے خالی دل میں الہیی پیار پیدا نہیں ہو سکتا نہ الہٰی ملاپ ہو سکتا ہے جب کلام مرشد سے اسکے خیالات اور طرز زندگی میں بدلاؤ آتا ہے ۔ اسے نئی روحانی طرز زندگی میسر ہوتی ہے اور مرشد کے ملاپ سے الہٰی پیار اور پریم پیدا اور انسان متاثر ہوتا ہے (2) انسان زندگی کے تیونں اوصاف حکمرانی و ترقی حقیقت پسندی ۔ اور لالچ میں ہر طرف دوڑ دہوپ میں بھٹکتا رہتا ہے سکون نہیں پاتا ۔ جب مرشد کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے تو دل قابو ہوتا ہے تب برائیوں بدکاریوں سے نجات حاصل ہوتی ہے (3) واحد خدا کی ہستی ہی ہر جگہ بستی ہے اور سارا عالم اس میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ خدا واحد ہوتے ہوئے بیشمار طرزوں قسموں والا ہو جاتا ہے ۔ اور سب اسکے زیر فرمان چلتے ہیں۔

گُرمُکھِ ایکو ایکُ پچھاتا گُرمُکھِ ہوءِ لکھاۄیَگو ॥
گُرمُکھِ جاءِ مِلےَ نِج مہلیِ انہد سبدُ بجاۄیَگو ॥੫॥
جیِء جنّت سبھ سِسٹِ اُپائیِ گُرمُکھِ سوبھا پاۄیَگو ॥
بِنُ گُر بھیٹے کو مہلُ ن پاۄےَ آءِ جاءِ دُکھُ پاۄیَگو ॥੬॥
انیک جنم ۄِچھُڑے میرے پ٘ریِتم کرِ کِرپا گُروُ مِلاۄیَگو ॥
ستِگُر مِلت مہا سُکھُ پائِیا متِ ملیِن بِگساۄیَگو ॥੭॥
ہرِ ہرِ ک٘رِپا کرہُ جگجیِۄن مےَ سردھا نامِ لگاۄیَگو ॥
نانک گُروُ گُروُ ہےَ ستِگُرُ مےَ ستِگُرُ سرنِ مِلاۄیَگو ॥੮॥੪॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ ایک ایک ۔ واحد۔ پچھاتا ۔ پہچان کی ۔ لکھاویگو ۔ سمجھاتا ہے ۔ نج محلی ۔ ذاتی ٹھکانے اور گھر پر ۔ انحد سبد۔ لگاتار روحانی سکون کی گانے کی شکل و صورت (5) جیئہ جنت ۔ مخلوقات ۔ سرمیٹ ۔ علام ۔ دنیا۔ سوبھا۔ نیک شہرت۔ عظمت۔ وحشمت ۔ محل ۔ ٹھکانہ ۔ منزل مقصود۔ آئے جائے ۔ آواگون ۔ تناسخ (6) بچھڑے ۔ جدا ہوئے ۔ گرو ملاویگو ۔ مرشد ملاتا ہے ۔ ستگر ملت۔ سچے مرشد کے ملاپ سے ۔ مت ملین ۔ ناپاک ۔ سمجھ ۔ وگساویگو ۔ روشن یا ذہن ہو جاتی ہے (7) جگجیون ۔ زندگی عالم ۔ سردھا۔ یقین۔ ستگر ۔ سچا مرشد۔ سرن ۔ پناہ۔
ترجمہ:
مرید مرشد واحد خدا کی پہچان مرید مرشد ہوکر کرتا ہے ۔ مرید مرشد کا ملاپ خدا کے ذاتی ٹھکانے اور گھر پر ہو جاتا ہے اسکے ذہن دل و دماغ میں روحانی وذہنی لگاتار روحانی سنگیت جو بے آواز ہوتے ہیں ہونے لگتے ہیں (5) یوں تو خدا نے ساری مخلوقات قائنات اور عالم پیدا کیا ہے ۔ مگر عظمت و حشمت مرید مرشد کو ہی عالم میں ملتی ہے ۔ مرید مرشد کے بغیر کسی کو الہٰی منزل و ٹھکانہ نصیب نہیں ہوتا تناسخ عذاب و مصائب میں رہتا ہے آواگون پاتا ہے (6) پیار خدا سے جو عرصہ دراز سے جدا ہوئے مرشد اپنی کرم و عنایت سے ملا دیتا ہے ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے بھاری سکون حاصل ہوتا ہے ۔ ناپاک سمجھ و خیالات روشن اور انسان ذہن سمجھدار ہو جاتا ہے (7) اے خدا کرم و عنایت فرماؤ کہ زندگیئے عالم الہٰی نام جو ست ہے سچ ہے حق ہے اور حقیقت میں میرا یقین و ایمان دلانیوالا ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
من گُرمتِ چال چلاۄیَگو ॥
جِءُ میَگلُ مستُ دیِجےَ تلِ کُنّڈے گُر انّکسُ سبدُ د٘رِڑاۄیَگو ॥੧॥ رہاءُ ॥
چلتوَ چلےَ چلےَ دہ دہ دِسِ گُرُ راکھےَ ہرِ لِۄ لاۄیَگو ॥
ستِگُرُ سبدُ دےءِ رِد انّترِ مُکھِ انّم٘رِتُ نامُ چُیاۄیَگو ॥੧॥
بِسیِئر بِسوُ بھرے ہےَ پوُرن گُرُ گرُڑ سبدُ مُکھِ پاۄیَگو ॥
مائِیا بھُئِئنّگ تِسُ نیڑِ ن آۄےَ بِکھُ جھارِ جھارِ لِۄ لاۄیَگو ॥੨॥
سُیانُ لوبھُ نگر مہِ سبلا گُرُ کھِن مہِ مارِ کڈھاۄیَگو ॥
ستُ سنّتوکھُ دھرمُ آنِ راکھے ہرِ نگریِ ہرِ گُن گاۄیَگو ॥੩॥
پنّکج موہ نِگھرتُ ہےَ پ٘رانیِ گُرُ نِگھرت کاڈھِ کڈھاۄیَگو ॥
ت٘راہِ ت٘راہِ سرنِ جن آۓ گُرُ ہاتھیِ دے نِکلاۄیَگو ॥੪॥
لفظی معنی:
گرمت ۔ سبق مرشد۔ چال۔ زندگی کے کاروبار ۔ سیگل ۔ ہاتھی ۔ دیجے ۔ تابع ۔ نیچے ۔ انلس ۔ سوآ ۔ درڑاوئے ۔ ذہن نشین ۔ رد۔ دلمیں۔ انمرت۔ آب حیات ۔ جلتے چلے چلے ۔ بار بار بھٹکتا ہے ۔ ہر لو ۔ الہٰی محبت ۔ لگن ۔ ۔ رد دلمیں (1) بیسئر ۔ سانپ ۔ بسو۔ زہر۔ گرڑسبد ۔ زہر اتارنے کا منتر۔ بھونگ ۔ سانپنی ۔ وکھ ۔ زہر۔ جھار۔ جھاڑ کر (2) سوآن ۔ کتا۔ لوبھ ۔ لالچ۔ سگ سبلا۔ طاقتور ۔ کھن ۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے دوران ۔ ست۔ سچ ۔ سنتو کھ ۔ صبر ۔ قناعت ۔ دھرم۔ فرض۔ ہرگن ۔ الہٰی حمدوچناہ (3) پنکج موہ ۔ محبت کی دلدل ۔ نگھرت۔ دھنستا ہے ۔ ترا ہے ترا ہے ۔ بچا لو بچالو۔ ہاتھی ۔ ہاتھ ۔ بازور۔
ترجمہ:
اے دل سبق مرشد سے زندگی کے راہ راست پر چل سکتے ہیں ۔ جیسے مست ہاتھی کو آنکس کے تابعد رکھ کر چلائیا جاتا ہے ۔ اس طرح سے مرشد کے کلام کا کنڈا یا سبق ذہن نشین مرشد کرواتا ہے ۔ رہاؤ۔ انسان ہر طرف بھٹکتا پھر تا ہے ۔ مرشد بھٹکن سے بچا کر خدا سے محبت بنا دیتا ہے ۔ سچا مرشد دلمیں سبق و کلام بسا دیتا ہے منہ میں آب حیات نام ست سچ وحق و حقیقت ڈالتا ہے (1) سانپ زہر سے بھرے ہوتے ہیں مرشد اسکے منہ میں زہر اتارنے کا منتر ڈال دیتا ہے ۔ یہ مائیا ایک ناگنی یا سانپنی ہے اسکے نزدیک نہیں بھٹکتی مرشد جھاڑ کر خدا سے پیار بنا دیتا ہے (2) لالچ جسم میں طاقتور بنا رہتا ہے ۔ مرشد آنکھ جھپکنے کے عرصے میں مار نکا دیت اہے ۔سچ صبر اور فرض انسانی الہٰی شہر مراد سچے پاک انسانوں کی صحبت و قربت میں بسے ہوئے ہیں۔ جہاں انسان الہٰی حمدوثناہ کرتا رہتا ہے (3) محبت کی دلدل میں دھنستا جاتا ہے مرشد دھنستے انسان کو باہر نکال دیتا ہے ۔ بھٹکتا انسان جب پناہ آتا ہے بچا لو بچالو کہتا ہوا مرشد ہاتھ پکڑ کر اس محبت کی دلدل سے نکال لیتا ہے ۔

سُپننّترُ سنّسارُ سبھ باجیِ سبھُ باجیِ کھیلُ کھِلاۄیَگو ॥
لاہا نامُ گُرمتِ لےَ چالہُ ہرِ درگہ پیَدھا جاۄیَگو ॥੫॥
ہئُمےَ کرےَ کراۄےَ ہئُمےَ پاپ کوئِلے آنِ جماۄیَگو ॥
آئِیا کالُ دُکھدائیِ ہوۓ جو بیِجے سو کھۄلاۄیَگو ॥੬॥
سنّتہُ رام نامُ دھنُ سنّچہُ لےَ کھرچُ چلے پتِ پاۄیَگو ॥
کھاءِ کھرچِ دیۄہِ بہُتیرا ہرِ دیدے توٹِ ن آۄیَگو ॥੭॥
رام نام دھنُ ہےَ رِد انّترِ دھنُ گُر سرنھائیِ پاۄیَگو ॥
نانک دئِیا دئِیا کرِ دیِنیِ دُکھُ دالدُ بھنّجِ سماۄیَگو ॥੮॥੫॥
لفظی معنی:
سپننتر۔ خوآب۔ باجی ۔ بازی ۔ کھیل ۔ کھلا ویگو ۔ کھلاتا ۔ لاہا۔ منافع۔ درگیہہ ۔ عدالت خدا۔ پیدھا۔ سروپا۔ سر سے پاؤں تک ۔ خلعت ۔ پاؤے گے (5) ہونمے ۔ خودی ۔ خود پسندی ۔ کوئیلے پاپ ۔ گناہوں کی راکھ پا کوئلے ۔ جماویگو ۔ سیجے ہیں ۔ کال ۔ موت ۔ کھو لاویگو ۔ کھلائیگا۔ (6) رام نام دھن سنچہو ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی حقیقی دولت اکھٹی کرؤ ۔ پت ۔ عزت۔ ٹوٹ ۔ کمی (7) ردھ انتر۔ دلمیں ۔ ذہن ۔ دل و دماغ میں۔ دھن گر سرنائی ۔ پناہ مرشد کا سرمایہ ۔ دکھ والا۔ غریبی ۔ ناداری کا عذاب۔ بھنج ۔ مٹا کر ۔
ترجمہ:
یہ دنیا ایک خوآب ہے ۔ یہ ایک کھیل ہے خدا کھیل کھلاتا ہے ۔ الہٰی نام کا سبق مرشد کی مطابق فائدہ اُٹھاؤ اس سے الہٰی عدالت میں خلعت مراد قدروقیمت منزلت حاصل ہوگی (5) جو انسان ہمیشہ خودی میں محصور رہتا ہے اور گناہوں کو بوتا ہے جو بوسیدہ اور کویلے ہوتے ہیں جب موت آتی ہے یا بوقت انجام و اخرت جو گناہ بوئے ہوئے ہیں مراد گناہوں کی سزا پاتا ہے (6) اے عاشقان الہٰی الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کی دولت جمع کرؤ جب دامن میں زندگی کے سفر میں بطور خرچ ہوگی تو عزت پاؤگے ۔ جو اس دولت کو خود خرچ کریگا اور دوسروں کو تقسیم کریگا۔ اس میں کمی واقع نہ ہوگی (7) اے نانک۔ یہ الہٰی نام کی دولت پناہ مرشد سے ملتا ہے اور دلمیں بستا ہے جیسے خدا اپنی کرم و عنایت سے بخشش کرتا ہے ۔ اسکے عذاب و مصائب مٹا کر نام میں محوومجذوب ہو جاتا ہے ۔

کانڑا مہلا ੪॥
منُ ستِگُر سرنِ دھِیاۄیَگو ॥
لوہا ہِرنُ ہوۄےَ سنّگِ پارس گُن پارس کو ہوءِ آۄیَگو ॥੧॥ رہاءُ ॥
ستِگُرُ مہا پُرکھُ ہےَ پارسُ جو لاگےَ سو پھلُ پاۄیَگو ॥
جِءُ گُر اُپدیسِ ترے پ٘رہِلادا گُرُ سیۄک پیَج رکھاۄیَگو ॥੧॥
ستِگُر بچنُ بچنُ ہےَ نیِکو گُر بچنیِ انّم٘رِتُ پاۄیَگو ॥
جِءُ انّبریِکِ امرا پد پاۓ ستِگُر مُکھ بچن دھِیاۄیَگو ॥੨॥
ستِگُر سرنِ سرنِ منِ بھائیِ سُدھا سُدھا کرِ دھِیاۄیَگو ॥
دئِیال دیِن بھۓ ہےَ ستِگُر ہرِ مارگُ پنّتھُ دِکھاۄیَگو ॥੩॥
ستِگُر سرنِ پۓ سے تھاپے تِن راکھن کءُ پ٘ربھُ آۄیَگو ॥
جے کو سرُ سنّدھےَ جن اوُپرِ پھِرِ اُلٹو تِسےَ لگاۄیَگو ॥੪॥
لفظی معنی:
دھیاویگو ۔ توجہ دیتا ہے ۔ دھیان لگاتا ہے ۔ ہرن ۔ سونا ۔ گن ۔ وصف۔ مہا پرکھ ۔ بلند عظمت انسان ۔ رہاؤ۔ گراپدیس ۔ واعظ مرشد۔ سیوک ۔ خادم۔ خدمتگار ۔ پیج ۔ عزت (1) نیکو۔ نیک۔ اچھے ۔ انمرت آب حیات ۔ وہ پانی جس کے پینے سے انسانی زندگی روحانی اور اخلاقی طور پر پاک و پائس ہو جاتی ہے ۔ امراپد ۔ جاویداں تربتہ۔ (2) من بھائی ۔ پیاری لگی ۔ سدھا سدھا ۔ آب حیات ۔ دیال دین غریب پرور۔ ہر مارگ ۔ الہٰی راستہ (3) تھاپے ۔ شرف حاصل کیے ۔ راکھن ۔ بچاؤ ۔ حفاظت ۔ سر ۔ تیر ۔ سندھے ۔ نشانہ بناتا ہے ۔ الٹو ۔ بدل کر۔
ترجمہ:
جسکا دل پناہ مرشد میں پر کر خدا دھیان لگاتا ہے ۔ جیسے لوہا پارس سے چھونے سے سونا بن جاتا ہے پارس سے لگاؤ کا وصف اس میں اجاتا ہے ۔ رہاو۔ سچا مرد پارس کی طرح ہے جو اسکی محبت کرتا ہے پھل پاتا ہے جس طرح سے سبق و واعظ مرشد سے پر ہلا و کامیاب ہوآ مرشد خدمتگار کی عزت بچاتا ہے (1) کلام مرشد نیک ہیں کلام مرشد سے زندگی روحانی واخلاقی طور پر پاک و پائس ہو جاتی ہے ۔ جس طرح سے انبریک نے حیات جاویداں پائی سچے مرشد کی زبان سے نکلے کلام میں دھیان لگانیسے (2) سچے مرشد کی پناہ میرے دل کو اچھی لگی وہ کلام مرشد کو روحانیت اور اخلاق بخشنے والا سمجھ کر دلمیں بساتا ہے ۔ مرشد غریب پرور ہوتا ہے وہا لہٰی راہیں دکھلاتا ہے (3) جو پناہ مرشد میں آتے ہیں عظمت و حشمت قدرومنزلت پاتے ہیں ۔ خدا خود ان کا محافظ بنتا ہے ۔ جو انہیں ان پر تیرکا نشانہ باندھتا ہے وہ تیرا ان کو ہی نشانہ بناتا ہے ۔

ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ سرُ سیۄہِ تِن درگہ مانُ دِۄاۄیَگو ॥
گُرمتِ گُرمتِ گُرمتِ دھِیاۄہِ ہرِ گلِ مِلِ میلِ مِلاۄیَگو ॥੫॥
گُرمُکھِ نادُ بیدُ ہےَ گُرمُکھِ گُر پرچےَ نامُ دھِیاۄیَگو ॥
ہرِ ہرِ روُپُ ہرِ روُپو ہوۄےَ ہرِ جن کءُ پوُج کراۄیَگو ॥੬॥
ساکت نر ستِگُرُ نہیِ کیِیا تے بیمُکھ ہرِ بھرماۄیَگو ॥
لوبھ لہرِ سُیان کیِ سنّگتِ بِکھُ مائِیا کرنّگِ لگاۄیَگو ॥੭॥
رام نامُ سبھ جگ کا تارکُ لگِ سنّگتِ نامُ دھِیاۄیَگو ॥
نانک راکھُ راکھُ پ٘ربھ میرے ستسنّگتِ راکھِ سماۄیَگو ॥੮॥੬॥ چھکا ੧॥
لفظی معنی:
ہرسر۔ الہٰی سمندر۔ مراد پاک صحبت و قربت ۔ نیک ساتھیو کا ساتھ ۔ درگیہہ۔ عدالت الہٰی ۔ مان ۔ عزت۔ وقار۔ منزلت۔ ۔ دواویگو ۔ دلائے گا۔ گرمت ۔ دھیاویہہ۔ سبق مرشد سے دھیان لگائے ۔ گل مل۔ گلے ملکر ۔ میل ۔ ساتھ (5) گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ ناد۔ آواز۔ دید ۔ مذہبی کتاب۔ گر پر چے ۔ مرشد خوش ہونے سے ۔ نام دھیاویگو۔ الہٰی نام ست سچ و حق و حقیقت میں دھیان و توجو ہوتی ہے ۔ ہر روپ ۔ الہٰی شکل ۔ مانند خدا۔ ہر جن۔ خادم خدا۔ پوج ۔ پستش (6) ساکت ۔ مادہ پرست ۔ منکر الہٰی ۔ بیمک ۔ بے توجہی ۔ بھرمادیگو ۔ بھٹکائیگا۔ لوبھ لہر۔ لالچ کی لہریں۔ ۔ سوآن کی سنگت۔ کتے کی صحبت ۔ وکھ مائیا۔ زہریلی دنیاوی دولت کرنگ۔ مردار (7) لگاویگو۔ لگاتا ہے ۔ راکھ راکھو ۔ بچالو بچالو۔ سماویگو محو ومجذوب ۔
ترجمہ:
جو خدا خدا کا تالاب سچے انسانوں کی صحبت و قربت کا سہارا لیتے ہیں عدالت الہٰی میں وقار و منزلت پاتے ہیں جو ہمیشہ سبق واعظ مرشد پر عمل کرتے ہیں اور دھیان دیتے ہیں خدا انکو گلے لگاتا ہے اور وصل عنایت کرتا ہے (5) مرید مرشد ایک صدا ہے ایک مذہبی کتاب ہے اور مرشد کی خوشنودی حاصل کرکے الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت میں دھیان لگاتا ہے ۔ وہ مانند خدا ہو جاتا ہے ۔ خدا اسے عظمت و حشمت قدرومنزلت بخشتا ہے (6) مادہ پرست منکر الہٰی جس نے مرشد نہیں اپنائیا اور مرشد میں جسکا دھیان اور توجہ نہیں خدا ان کو بھٹکاتا ہے ان کے دلمیں لالچ کی لہریں اُٹھتی ہیں اسکے اندر جس طرح کتے کو مردار کو کھانے سے خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ اس طرح لالچ میں ملوث انسان روحانی واخلاقی موت کا باعث بننے والی دولت کی زہر میں ملوث رہتا ہے (7) خدا کا نام ست سچ حق وحقیقت سارے عالم کو کامیاب بنانے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے ۔ مگر جو سچی نیک انسانوں پارساؤں خدا رسیدہ پاکدامن کی صحبت قربت اختیار کریں گے وہی اس میں توجہ دیں گے دھیان لگائیں گے اے میرے خدا نانک کو بچا حفاظت کر مجھے سچی پاک صحبت و قربت عنایت کر میں اس میں محو ومجذوب ہوں ۔

کانڑا چھنّت مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سے اُدھرے جِن رام دھِیاۓ ॥
جتن مائِیا کے کامِ ن آۓ ॥
رام دھِیاۓ سبھِ پھل پاۓ دھنِ دھنّنِ تے بڈبھاگیِیا ॥
ستسنّگِ جاگے نامِ لاگے ایک سِءُ لِۄ لاگیِیا ॥
تجِ مان موہ بِکار سادھوُ لگِ ترءُ تِن کےَ پاۓ ॥
بِنۄنّتِ نانک سرنھِ سُیامیِ بڈبھاگِ درسنُ پاۓ ॥੧॥
مِلِ سادھوُ نِت بھجہ نارائِنھ ॥
رسکِ رسکِ سُیامیِ گُنھ گائِنھ ॥
گُنھ گاءِ جیِۄہ ہرِ امِءُ پیِۄہ جنم مرنھا بھاگۓ ॥
ستسنّگِ پائیِئےَ ہرِ دھِیائیِئےَ بہُڑِ دوُکھُ ن لاگۓ ॥
کرِ دئِیا داتے پُرکھ بِدھاتے سنّت سیۄ کمائِنھ ॥
بِنۄنّتِ نانک جن دھوُرِ باںچھہِ ہرِ درسِ سہجِ سمائِنھ ॥੨॥
لفظی معنی:
سے ۔ وہ ۔ ادھرے ۔ ادھار ہوآ۔ بچ ۔ دھیائے ۔ دھیان لگائیا۔ جتن ۔ کوشش۔ سبھ ۔ سارے ۔ دھن دھن ۔ شاباش ۔ قابل تعریف و ستائش ۔ وڈبھاگیا۔ بلند قسمت۔ ست سنگت۔ پاک صحبت۔ جاگے ۔ بیدار ۔ ہویار۔ چوکس۔ ایک ۔ واحد ۔ لولاگیا۔ محبت پیار۔ تج چھوڑ کر ۔ ترک کرے ۔ مان موہ ۔ وقار ۔ محبت۔ عزت۔ سادہو۔ جس نے طرز زندگی راہ راست پر لگالی ۔ لگ ۔ پڑ۔ پائے ۔ پاؤں ۔ بنونت نانک۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ سرن سوامی ۔ پناہ آقا۔ درسن ۔ دیدار (1) سادہو۔ عاشقان الہٰی ۔ محبوب خدا۔ پاکدامن ۔ جس نے زندگی کا راہ راست پالیا ہو۔ بھیہہ ۔ یاد کریں۔ نارائن ۔ خدا۔ رسک رسک ۔ مزلے لیکر۔ لطف سے ۔ گن گائے ۔ حمدؤثناہ کرکے ۔ امیؤ ۔ انمرت۔ آب حیات۔ ۔ ایسا پانی جو زندگی کو روحانی واخلاقی طور پر پاک و پائس بنا دیتا ہے ۔جنم مرنا۔ آواگون ۔ تناسخ۔ بھاگیئے ۔ مٹ جاتا ہے ۔ داتے ۔ دینے والے ۔ خدا۔ پرکھ بدھاتے ۔ تدبیر ساز۔ سیو کمائن ۔ موقہ خدمت۔ دہور بانچھے ۔ دہول چاہتا ہے ۔ رس دیدار۔ سبق۔ سہج ۔ روحانی وذہنی سکون۔ سمائن ۔ محو ومجذوب۔
ترجمہ:
گناہوں اور براہوں سے وہی بچتے ہیں جو خدا میں بھیان لگاتے ہیں۔ شاباش ہے انکو بلند قسمت ہیں وہ ۔ دنیاوی دولت کی کوشش کام نہیں آتیں۔ جو یاد خدا کو کرتا ہے ساری مرادیں پاتا ہے بلند قسمت ہیں وہ خوش قسمت ہیں وہ ۔ وہ پاک صحبت و قربت میں بیدار رہ کر الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت اخیتا ر کرکے وحدت و واحد سے پیارکرتے ہیں۔ وقار غرور اور عزت کا خیال ترک کرکے محبت و برائیاں چھوڑ کر بلند اخلاق ہوجاتے ہیں۔ انکے قدموں پڑنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے نانک عرض گذارتا ہے کہ پناہ خدا و دیدار بلند قسمت سے حاصل ہوتی ہے (1) سادہو سے ملکر ہر روز خدا کے گن گاو۔ اور پر سکون پر لطف حمدوثناہ کریں۔ حمدوثناہ سے زندگی روحانی واخلاقی طور پر پاک ہوجاتی ہے اور آب حیات پینے سے تناسخ مٹ جاتا ہے نیک سچی صحبت اختیار کرنے سے عذاب متاثر نہیں کرتا۔ اے مہربان رازق تدبیر ساز سنتوں کی خدمت کا موقہ مہیا کرے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ خادم پاؤں کی دہول چاہتا ہے کہ دیدار سے روحانی وذہنی سکون میں محو ومجذوب رہے ۔

سگلے جنّت بھجہُ گوپالےَ ॥
جپ تپ سنّجم پوُرن گھالےَ ॥
نِت بھجہُ سُیامیِ انّترجامیِ سپھل جنمُ سبائِیا ॥
گوبِدُ گائیِئےَ نِت دھِیائیِئےَ پرۄانھُ سوئیِ آئِیا ॥
جپ تاپ سنّجم ہرِ ہرِ نِرنّجن گوبِنّد دھنُ سنّگِ چالےَ ॥
بِنۄنّتِ نانک کرِ دئِیا دیِجےَ ہرِ رتنُ بادھءُ پالےَ ॥੩॥
منّگلچار چوج آننّدا ॥
کرِ کِرپا مِلے پرماننّدا ॥
پ٘ربھ مِلے سُیامیِ سُکھہگامیِ اِچھ من کیِ پُنّنیِیا ॥
بجیِ بدھائیِ سہجے سمائیِ بہُڑِ دوُکھِ ن رُنّنیِیا ॥
لے کنّٹھِ لاۓ سُکھ دِکھاۓ بِکار بِنسے منّدا ॥
بِنۄنّتِ نانک مِلے سُیامیِ پُرکھ پرماننّدا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
سگلے ۔ سارے ۔ جنت ۔ مخلوق۔ بھجہو۔ یاد کرؤ۔ گوپائے ۔ خدا۔ جپ تب ۔ عبادت و ریاضت۔ سنجم۔ پرہیز گاری ۔ ضبط ۔ گھائے ۔ محنت و مشقت ۔ نت ۔ ہر روز۔ انتر جامی ۔ اندرونی راز جانیوالا ۔ سبائیا۔ سارا ہی ۔ پروان ۔ منظور۔ قبول۔ نرنجن۔ بیداگ۔ پاے ۔ پلے ۔ دامن (3) سگلچار۔ خوشی کے گیت ۔ چوج ۔ خوشی۔ پر مانند۔ بھاری خوشیوں بھرے سکون کا مالک ۔ سکھہگامی ۔ آرام و آسائش پہنچانے والا۔ پنیئیا۔ پوریاں ہوئیں۔ چھ ۔ خواہش۔ کنٹھ ۔ گلے ۔ مندا۔ برائیاں۔
ترجمہ:
ساری خلعت کو کدا کی بندگی کرنی چاہیے ۔ ہر روز پوشیدہ اندرونی راز جاننے والے خدا کی یاد وریاض کرؤ۔ اس سے زندگی کامیاب ہوتی ہے ۔ جو ہر روز یاد خدا کو کرتا ہے اور دھیان لگاتا ہے اسکی اس دنیا میں جنم لینا منظور ہے (دنیاوی دولت ) عبادت وریاضت اور پرہیز گاری مکمل محنت و مشقت ہے ۔ زہر عبادت و ریاضت بیداغ پاک خدا کا بوقت آخرت ساتھ دیتا ہے ۔ نانک عرض گزارتا ہے کہ کرم فرمائی کیجیئے تاکہ الہٰی ہیرا نام دامن باندھ لوں (3) سب سے بلند خوشیوں کے مالک خدا جسے اپنی کرم و عنایت سے ملجاتے ہیں اسکے ذہن اور روحن میں روحانی وذہنی سکون اور خوشی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسکی دلی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اسکے دلمیں خوشیوں کی لہریں اُٹھتی ہیں اور وہ دوبارہ مصائب سے گبھراتا نہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ کہ سب سے اونچے سکون کا مالک خدا جسے ملجاتے ہیں اور اپنے گلے لگاتے ہیں اسے سارے آرام و آسائش دکھاتے ہیں۔ اسکے ذہن دل و دماغ سے ساری برائیاں اور بدکاریاں مٹا دیتے ہیں۔

کانڑے کیِ ۄار مہلا ੪
موُسے کیِ ۄار کیِ دھُنیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سلوک مਃ੪॥
رام نامُ نِدھانُ ہرِ گُرمتِ رکھُ اُر دھارِ ॥
داسن داسا ہوءِ رہُ ہئُمےَ بِکھِیا مارِ ॥
جنمُ پدارتھُ جیِتِیا کدے ن آۄےَ ہارِ ॥
دھنُ دھنُ ۄڈبھاگیِ نانکا جِن گُرمتِ ہرِ رسُ سارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
ندھان خزانہ ۔ گرمت۔ سبق و واعظ مرشد۔ رکھ اردھار۔ دلمیں بسا۔ دامن داسا۔ غلاموں کا غلام۔ ہونمے دکھیا۔ خودی دنیاوی دولت کی ۔ مار ۔ ختم کر ۔ جنم پدارتھ ۔ زندگی کی نعمت۔ ہار۔ شکست ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف۔ سار ۔ سنبھالا۔
ترجمہ:
الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ایک خزانہ ہے ۔ سب مرشد کے مطابق دلمیں بساؤ۔ خدمتگاروں غلاموں کا خدمتگار اور غلام بن خودی اور دنیاوی دولت کی محبت ترک کرکے ۔ انسانی زندگی کی نعمت کا مقصد حاصل کرنے سے کبھی زندگی میں شکست نہ ہوگی ۔ اے نانک۔ بلند قسمت ہیں وہ انسان سبق مرشد پر عمل پیرا ہو کر الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کا لطف اُٹھائیا ہے ۔

مਃ੪॥
گوۄِنّدُ گوۄِدُ گوۄِدُ ہرِ گوۄِدُ گُنھیِ نِدھانُ ॥
گوۄِدُ گوۄِدُ گُرمتِ دھِیائیِئےَ تا درگہ پائیِئےَ مانُ ॥
گوۄِدُ گوۄِدُ گوۄِدُ جپِ مُکھُ اوُجلا پردھانُ ॥
نانک گُرُ گوۄِنّدُ ہرِ جِتُ مِلِ ہرِ پائِیا نامُ ॥੨॥
لفظی معنی:
گنی ندھان۔ اوصاف کا خزانہ ۔ گرمت دھیایئے ۔ مرشد کے سبق کے مطابق۔ درگیہہ۔ الہیی دربار و عدالت ۔ مان۔ وقار۔ عظمت وعزت۔ مکھ اجلا۔ سر خرو۔ پردھان ۔ مقبول عام۔ جت ۔ جس کے ۔
ترجمہ:
خدا اوصاف کا خزانہ ہے اگر سبق مرشد پر عمل کرکے اسمیں توجہ و بجائے دھیان لگائیا جائے توا لہٰی دربار میں توقیر عظمت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔ اسکی یاد وریاض سے مقبول عام اور انسان سرخرو ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ مرشد ہوتا ہے مانند خدا جس کے ملاپ سے الہٰی نام ملتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
توُنّ آپے ہیِ سِدھ سادھِکو توُ آپے ہیِ جُگ جوگیِیا ॥
توُ آپے ہیِ رس رسیِئڑا توُ آپے ہیِ بھوگ بھوگیِیا ॥
توُ آپے آپِ ۄرتدا توُ آپے کرہِ سُ ہوگیِیا ॥
ستسنّگتِ ستِگُر دھنّنُ دھنّند਼ دھنّن دھنّن دھنو جِتُ مِلِ ہرِ بُلگ بُلوگیِیا ॥
سبھِ کہہُ مُکھہُ ہرِ ہرِ ہرے ہرِ ہرِ ہرے ہرِ بولت سبھِ پاپ لہوگیِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
سبدھ ۔ الہٰی ملاپ کے طور طریقوں کا ماہر۔ سادھک ۔ ملاپ کے طور طریقے جاننے کے لئے کوشاں۔ جگ جوگیا۔ یوگ میں ملوث ۔ دس ۔ سیرا۔ لطف لینے کا۔ بھوگ بھوگیا۔ دنیاوی اشیا استعمال کرنیوالا۔ ورتدا ۔ موجود۔ ہوگیا۔ ہوتا ہے ۔ جت مل ۔ جسکے ملاپ سے ۔ بلگ بلوگیا۔ حمدوثناہ کرتا ہے ۔ بولت ۔ بولنے سے ۔ پاپ۔ گناہ۔ لہوگیا۔ ختم ہو جاتے ہیں۔
ترجمہ:
اے خدا تو کود ہی ایک ماہر جوگی ہے ۔ خود ہی ماہر ہو چکا یوگ کے طریقوں میں یوگی ہے اور خود ہی اسکے لیے جہدوکوشاں ہے خود ہی دنیاوی نعمتوں کا لطف لینے والا اور استعمال کرنیوالا ہے کیونکہ خانہ داروں اور طارقوں میں تو ہی بس رہا ہے ۔ اور جو تو کرتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ سچے مرشد کا سچ پاک ساتھ صحبت و قربت قابل ستائش ہے قابل تعریف ہے جس کے ملاپ سے الہٰی حمدوثناہ کیجاتی ہے ۔ جہاں سارے زبان سے خدا خدا پکارتے ہیں اور خدا کدا کہنے سے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔

سلوک مہلا ੪॥
ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ نامُ ہےَ گُرمُکھِ پاۄےَ کوءِ ॥
ہئُمےَ ممتا ناسُ ہوءِ دُرمتِ کڈھےَ دھوءِ ॥
نانک اندِنُ گُنھ اُچرےَ جِن کءُ دھُرِ لِکھِیا ہوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
گور مکھ ۔ مرید مرشد۔ ہونمے ۔ خودی ۔ کوئشتا ۔ ممتا۔ اپنا پن۔ ناس۔ مٹتا۔ درست۔ نالاقئقی ۔ بدعقلی ۔ اندن ۔ ہر روز۔ گن اچرے ۔ صفت۔ صلاح۔ دھر ۔ خدا کی عدالت کی طرف سے ۔
ترجمہ:
خدا خدا کہتا ہے الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت جسے مرشد کے وسیلے سے حاصل کرتا ہے ۔ جو خودی اور خوئشتا کو مٹاتا اور بد عقلی اور نالائقی و ہوتکال دیتا ہے ۔ اے نانک ہر روز وہی حمدوثناہ کرتا ہے جس کے تقدیر میں الہٰی عدالت میں تحریر کیا ہوتا ہے ۔

مਃ੪॥
ہرِ آپے آپِ دئِیالُ ہرِ آپے کرے سُ ہوءِ ॥
ہرِ آپے آپِ ۄرتدا ہرِ جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
جو ہرِ پ٘ربھ بھاۄےَ سو تھیِئےَ جو ہرِ پ٘ربھ کرے سُ ہوءِ ॥
کیِمتِ کِنےَ ن پائیِیا بیئنّتُ پ٘ربھوُ ہرِ سوءِ ॥
نانک گُرمُکھِ ہرِ سالاہِیا تنُ منُ سیِتلُ ہوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
دیال ۔ مہربان۔ سو ۔ وہی ۔ ہوے ۔ ہوتا ہے ۔ ورتدا۔ موجود۔ جیوڈ۔ اتنا بڑا۔ اور ۔ دوسرا۔ ہر پربھاوے ۔ جو خدا چاہتا ہے ۔ سوجھیئے ۔ وہی ہوتا ہے ۔ قیمت ۔ قدرومنزلت۔ بے انت۔ اعداد و شمار سے بعید ۔ صالاحیا۔ صفت صلاح کرنے سے ۔ تن من دل و جان ۔ سیتل ۔ ٹھنڈا۔
ترجمہ:
خدا رحمان الرحیم ہے جو کچھ خدا خود کرتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ خدا ہر جائی ہے ہر جگہ موجود ہے اسکے برابر دوسری کوئی عظیم ہستی نہیں ۔ جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ اسکی قدرومنزلت کوئی پا نہیں سکتا وہ اعداد و شمار سے بعید ہے ۔ اے نانک مرید مرشدہوکر اسکی حمدوثناہ کرنے سے دل کو سکون اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
سبھ جوتِ تیریِ جگجیِۄنا توُ گھٹِ گھٹِ ہرِ رنّگ رنّگنا ॥
سبھِ دھِیاۄہِ تُدھُ میرے پ٘ریِتما توُ ستِ ستِ پُرکھ نِرنّجنا ॥
اِکُ داتا سبھُ جگتُ بھِکھاریِیا ہرِ جاچہِ سبھ منّگ منّگنا ॥
سیۄکُ ٹھاکُرُ سبھُ توُہےَ توُہےَ گُرمتیِ ہرِ چنّگ چنّگنا ॥
سبھِ کہہُ مُکھہُ رِکھیِکیسُ ہرے رِکھیِکیسُ ہرے جِتُ پاۄہِ سبھ پھل پھلنا ॥੨॥
لفظی معنی:
جوت ۔ نور۔ روشنی ۔ جگجیونا۔ زندگیئے عالم ۔ عالم کو ظہور پذیر کرنیوالا ۔ گھسٹ گھسٹ ۔ ہر دلمیں ۔ ہر رنگ۔ الہٰی پریم پیار۔ دھیاویہہ۔ دھیان دیتے ہیں۔ پریتما ۔ پیار یا۔ ست پرکھ ۔ پاک ہستی ۔ نرنجنا۔ بیداغ ۔ داتا ۔ سخی ۔ دینے والا۔ بھکھاریا۔ بھیک مانگنے والے ۔ جاپیہہ۔ مانگتے ہیں۔ سبھ منگ۔ ساری ضرورتیں۔ ہر چنگ چنگنا۔ خدا نہایت ہی نیک اور اچھا ہے ۔ رکھیکس ۔ ہرے ۔ خدا۔ جت ۔ جسکے ذریعے ۔
ترجمہ:
اے زندگیئے عالم خدا ۔ سارا عالم تیرے ہی نور سے روشن ہے تو ہر دل کو الہٰی پیار لگانیوالا ہے ۔ سارے میرے پیار یا تجھ میں دھیان لگاتے ہیں تو ایک پاک بیداغ ہستی ہے تو ہی واحد دینے والا سخی ہے جبکہ سارا عالم بھکاری ہے ۔ سارے ہر ضرورت تجھ سے مانگتے ہیں۔ خدمتگار اور آقا تو خود ہی ہے ۔ سبق مرشد سے پیار لگنے لگ جاتا ہے ۔ سارے زبان سے صفت صلاح کرؤ جو ہر طرح کے پھل اور کامیابیاں بخشنے والا ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
ہرِ ہرِ نامُ دھِیاءِ من ہرِ درگہ پاۄہِ مانُ ॥
جو اِچھہِ سو پھلُ پائِسیِ گُر سبدیِ لگےَ دھِیانُ ॥
کِلۄِکھ پاپ سبھِ کٹیِئہِ ہئُمےَ چُکےَ گُمانُ ॥
گُرمُکھِ کملُ ۄِگسِیا سبھُ آتم ب٘رہمُ پچھانُ ॥
ہرِ ہرِ کِرپا دھارِ پ٘ربھ جن نانک جپِ ہرِ نامُ ॥੧॥
لفظی معنی:
دھیائے ۔ دھیان لگا۔ ہر ورگیہہ۔ الہٰی عدالت و دربار۔ مان ۔ عزت۔ وقار۔ چھیہہ۔ خوآہش۔ کل وکھ ۔ گناہ۔ چکے ۔ ختم ہوتا ہے ۔ گمان ۔ شک و شبہات۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ کمل۔ ذہن۔ گیسیا۔ روشن ہوآ۔ اٹم برہم۔ روح اور خدا۔
ترجمہ:
اے دل الہٰی نام جو ست ہے سدیوی ہے میں دھیان لگاتا کہ تجھے الہٰی عدالت میں عزت و وقار نصیب ہ۔ جو خوآہش ہو وہی مراد پوری ہوگی اور سبق مررشد سے دھیان لگا گا۔ اس سے گناہ و دوش مٹ جائیگے خودی اور غرور دور ہوگا۔ مرید مرشد کا دل کھلتا ہے روشن ہوتا اور وہ خدا کو ہر جگہ بستے کی پہچان کرنے کی لائق و قابل ہو جاتا ہے ۔ اے خدا کرم و عنایت فرماتا کہ تیرا خدمتگار نانک الہٰی نام جو ست ہے سدیوی ہے یادوریاض کرتا ہے ۔

مਃ੪॥
ہرِ ہرِ نامُ پۄِتُ ہےَ نامُ جپت دُکھُ جاءِ ॥
جِن کءُ پوُربِ لِکھِیا تِن منِ ۄسِیا آءِ ॥
ستِگُر کےَ بھانھےَ جو چلےَ تِن دالدُ دُکھُ لہِ جاءِ ॥
آپنھےَ بھانھےَ کِنےَ ن پائِئو جن ۄیکھہُ منِ پتیِیاءِ ॥
جنُ نانکُ داسن داسُ ہےَ جو ستِگُر لاگے پاءِ ॥੨॥
لفظی معنی۔ پوت۔ پاک۔ زندگی کو روحانی طور پر پاکیزہ بنانیوالا۔ جپت۔ یادوریاض سے ۔ دکھ ۔ عذاب ۔ پورب ۔ پہلے سے ۔ بھائے ۔ رضا۔ دالا۔ غریبی ۔ ناداری ۔ اپنے بھائے ۔ اپنی مرضی ۔ پتیائے ۔ تسلی ۔ ستگر لاگے پائے ۔ سچے مرشد کے قدموں پڑتا ہے ۔
ترجمہ:
الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت پاک و پائس ہے ۔ اسکے دلمیں بسانے اور عمل کرنے سے عذاب مٹ جاتا ہے جسکے تقدیر و مقدر میں پہلے سے تحریر ہوتا ہے انکے دلمیں بستا ہے ۔ جو سچے مرشد کی رضا و فرمان میں کام کرتا ہے ۔ انکی غریبی ناداری کا عذا ب ختم ہو جاتا ہے ۔ اپنی آزاد مرضی سے کسے حاصل نہیں ہوا۔ اسکی تسلی کرکے دیکھ لو۔ خادم وغلام نانک غلاموں اور خدمتگاروں کا خادم اور غلام ہے ان کو جو سچے مرشد کے پاؤں پڑتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
توُنّ تھان تھننّترِ بھرپوُرُ ہہِ کرتے سبھ تیریِ بنھت بنھاۄنھیِ ॥
رنّگ پرنّگ سِسٹِ سبھ ساجیِ بہُ بہُ بِدھِ بھاںتِ اُپاۄنھیِ ॥
سبھ تیریِ جوتِ جوتیِ ۄِچِ ۄرتہِ گُرمتیِ تُدھےَ لاۄنھیِ ॥
جِن ہوہِ دئِیالُ تِن ستِگُرُ میلہِ مُکھِ گُرمُکھِ ہرِ سمجھاۄنھیِ ॥
سبھِ بولہُ رام رمو س٘ریِ رام رمو جِتُ دالدُ دُکھ بھُکھ سبھ لہِ جاۄنھیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
تھان تھننتر۔ تھان۔ جگہ مقام ۔ تھننتر ۔ جگہوں کے درمیانی جگہ ۔ بھر پور۔ مکلم طور پر ۔ کرتے ۔ کرتار۔ کارساز۔ کرنے والے ۔ بنت ۔ منصوبہ ۔ پلان۔ تجویز۔ رنگ پرنگ ۔ سسٹ ۔ طرح طرح کا عالم۔ ساجی ۔ بنائی۔ بہو بدھ ۔ بہت سے طریقوں سے ۔ جوت ۔ روشنی ۔ ورتیہہ۔ موجود ہے ۔ تدھے ۔ تو ہی ۔
ترجمہ:
اے خدا تو ہر جگہ موجود ہے اور اس عالم کو منصوبہ پلان تیرا ہی بنائیا ہوا ہے ۔ یہ طرف طرح کا عالم قائنات بہت سے طرقوں س اور بہت سے قسموں میں پیدا کی ہے ۔ اے کارساز کرتار سازندہ عالم و قائنات اس ساری قائنات قدرت میں تیرا ہی نور ہے اور اس نور میں تو از خود ہیں۔ تو ہی سبق واعظ پندونصائح مرشد میں لگاتا ہے ۔ جس پر تو مہربان ہوتا ہے اسکا ملاپ سچے مرشد سے کرتا ہے ۔ اور مرید مرشد کی زبان سے خدا کی بابت سمجھوتا ہے ۔ سارے خدا خدا کہو جس سے ناداری عذاب اور بھوک مٹ جاتی ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
ہرِ ہرِ انّم٘رِتُ نام رسُ ہرِ انّم٘رِتُ ہرِ اُر دھارِ ॥
ۄِچِ سنّگتِ ہرِ پ٘ربھُ ۄرتدا بُجھہُ سبد ۄیِچارِ ॥
منِ ہرِ ہرِ نامُ دھِیائِیا بِکھُ ہئُمےَ کڈھیِ مارِ ॥
جِن ہرِ ہرِ نامُ ن چیتِئو تِن جوُئےَ جنمُ سبھُ ہارِ ॥
گُرِ تُٹھےَ ہرِ چیتائِیا ہرِ ناما ہرِ اُر دھارِ ॥
جن نانک تے مُکھ اُجلے تِتُ سچےَ دربارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
انمرت۔ آبحیات۔ نام رس۔ نام کا مزہ ۔ ہرار دھار۔ خدا دلمیں بساو۔ جوئے جنم۔ جوئے میں زندگی ۔ تٹھے ۔ مہربان ۔ خوش۔ اجلے ۔ سرخرو۔
ترجمہ:
الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت روحانی اور اخلاقی زندگی بنانیوالا ہے ۔ اس آب حیات کے لطف کو دلمیں بساؤ۔ کلام کے خیالات سمجہو کہ خدا نیک لوگوں میں بستا ہے ۔ اے دل الہٰی نام میں دھیان لگا اور خودی کی زہر دل سے نکال ۔ جو الہٰی نام میں دھیان لگا اور خودی کی زہر دل سے نکال۔ جو الہٰی نام دلمیں نہیں بساتے انہوں نے قیمتی زندگی جوئے میں ہار دی ۔ جب مرشد مہربان ہوتا ہے تو یاد خدا کراتا ہے ۔ اے انسان الہٰی نام دل میں بسا۔ اے خادم نانک۔ وہ خدا کے دربار میں سرخرود ہیں۔

مਃ੪॥
ہرِ کیِرتِ اُتمُ نامُ ہےَ ۄِچِ کلِجُگ کرنھیِ سارُ ॥
متِ گُرمتِ کیِرتِ پائیِئےَ ہرِ ناما ہرِ اُرِ ہارُ ॥
ۄڈبھاگیِ جِن ہرِ دھِیائِیا تِن سئُپِیا ہرِ بھنّڈارُ ॥
بِنُ ناۄےَ جِ کرم کماۄنھے نِت ہئُمےَ ہوءِ کھُیارُ ॥
جلِ ہستیِ ملِ ناۄالیِئےَ سِرِ بھیِ پھِرِ پاۄےَ چھارُ ॥
ہرِ میلہُ ستِگُرُ دئِیا کرِ منِ ۄسےَ ایکنّکارُ ॥
جِن گُرمُکھِ سُنھِ ہرِ منّنِیا جن نانک تِن جیَکارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
کیرت۔ صفت صلاح۔ حمدوثناہ ۔ اُتم ۔ نیک ۔ کرنی ۔ اعمال۔ سار۔ اچھا ۔ نیک۔ مت۔ سمجھ ۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ اردھار۔ دلمیں بسا ۔ سوپیا۔ بخشش کیا۔ ہر بھنڈار ۔ الہٰی خزانہ ۔ کرم گماونے ۔ اعمال کرنے ۔ نت ۔ ہر روز۔ ہونمے ۔ خودی ۔ خوآر۔ ذلیل۔ چھار۔ خاک۔ ایکنکار۔ واحد بلاوجود خدا۔ یکار۔ سجدہ ۔ سرجھکاتا ہوں ۔ غسکار۔ سلام۔
ترجمہ:
الہٰی حمدوثناہ اس جھگڑے وجدل کے دور میں اعلیے الہٰی نام ہے اور نیک اور اعلٰلے اعمال ہے ۔ یہ حمدوثناہ سبق مرشد سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ الہٰی نام دلمیں بسا رکھنے کے لئے ایک گلے کا ہار ۔ بلند قسمت ہیں وہ انسان جنہوں نے خدا میں دھیان لگائیا ہے ۔ خدا نے انہیں ایک خزانہ بخش رکھا ہے ۔ الہٰی نام مراد ست سچ حق وحقیقت جتنے اعمال کیے جاتے ہیں ان خودی میں پھنس کر انسان ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔ جسے ہاتھی کو پانی سے نہلاتے ہیں مگر پھر بھی مٹی جسم پر ڈالتا ہے ۔ اے خدا کرم وعنایت سے سچے مرشد سے ملاؤ تاکہ واحد خدا دلمیں بسے ۔ جسنے مرشد کے وسیلے سے سنکر خڈا یں امان لائیا اے نانک وہ عظمت وحشمت پاتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
رام نامُ ۄکھرُ ہےَ اوُتمُ ہرِ نائِکُ پُرکھُ ہمارا ॥
ہرِ کھیلُ کیِیا ہرِ آپے ۄرتےَ سبھُ جگتُ کیِیا ۄنھجارا ॥
سبھ جوتِ تیریِ جوتیِ ۄِچِ کرتے سبھُ سچُ تیرا پاسارا ॥
سبھِ دھِیاۄہِ تُدھُ سپھل سے گاۄہِ گُرمتیِ ہرِ نِرنّکارا ॥
سبھِ چۄہُ مُکھہُ جگنّناتھُ جگنّناتھُ جگجیِۄنو جِتُ بھۄجل پارِ اُتارا ॥੪॥
لفظی معنی:
وکھر۔ سودا۔ اُٹم۔ اعلے ۔ نائیک ۔ مالک ۔ ورتے ۔ موجود۔ ونجار۔ سوداگر۔ جوت۔ نور۔ روشنی ۔ سچ ۔حقیقی ۔ اصلی۔ پسارا۔ پھیلاؤ۔ سبھ ۔ سارے ۔ دھیاویہہ۔ دھیان لگاتے ہیں۔ سپھل سے ۔ وہ کامیاب ہیں۔ چوہو۔ بولو۔ مکھہو۔ منہ سے ۔ جگیجونو۔ زندگئے عالم ۔ جت ۔ جس سے ۔ بھوجل۔ خوفناک سمندر۔
ترجمہ:
الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ایک بلند پایہ اعلے سودا ہے سارا عالم سوداگر ہے اور خدا سب کا سردار ہے اے خدا ساری قائنات قدرت میں اے کارساز کرتار تیرا ہی نور ہے یہ ساری قائنات تیرے نور سے آباد ہے اور اس نور میں بھی تو از خود ہے ۔ ساری مخلوقات تجھ میں دھیان لگاتی ہے ۔ یہ سارا پھیلاؤ سچا ہے جو سبق مرشد پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور تیری حمدوثناہ کرتے ہیں اے خدا وہ منزل و مقصد زندگی پالیتے ہیں۔ خدا ہی سارے عالم کا مالک اور زندگئے عالم ہے ۔ سارے منہ سے کہو اے مالک عالم جس کے کہنے سے اس دنیاوی زندگی کے خوفناک سمندر کو عبور کیا جاسکتا ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
ہمریِ جِہۄا ایک پ٘ربھ ہرِ کے گُنھ اگم اتھاہ ॥
ہم کِءُ کرِ جپہ اِیانھِیا ہرِ تُم ۄڈ اگم اگاہ ॥
ہرِ دیہُ پ٘ربھوُ متِ اوُتما گُر ستِگُر کےَ پگِ پاہ ॥
ستسنّگتِ ہرِ میلِ پ٘ربھ ہم پاپیِ سنّگِ تراہ ॥
جن نانک کءُ ہرِ بکھسِ لیَہُ ہرِ تُٹھےَ میلِ مِلاہ ॥
ہرِ کِرپا کرِ سُنھِ بینتیِ ہم پاپیِ کِرم تراہ ॥੧॥
لفظی معنی:
ہمری جہوا۔ ہماری زبان۔ گن اگم اتھاہ۔ آوصاف۔ اعداد و شمار سے بعید ۔ ایالیا۔ انجان ۔ بے سمجھ ۔ مت ۔ اُتما۔ بلند اعلے ۔ پایہ نصیحت ۔ سبق ۔ پگ ۔ پاؤں ۔ قدموں ۔ پاہ ۔پڑیں۔ پاپی ۔ گناہگار۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ تراہ۔ عبور کریں۔ تٹھے ۔ خوش ہو۔ میل ملاہ ۔ ملاپ کر۔ کرم ۔ کیڑے ۔ تراہ ۔ تارہو۔ کامیاب بناؤ۔
ترجمہ:
ہماری زبان ایک ہے جبکہ خدا بیشمار اوصاف ہیں جسکا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ انساننی عقل ہوش سے بعید ہیں۔ ہم انجان نا واقف بے سمجھ کیسے یادوریاض کریں تو بلند عقل و ہوش عنایت کر جسکے صدقے مرشد کے پاؤں پڑجائیں۔ پاک ساتھیوں صحبت و قربت ملا اے خدا تاکہ ہم گناہگار کامیاب ہو سکیں زندگی میں ۔ اے خدا اپنے خادم کو بخش لے اور خوش ہوکر ملاپ بخش اے خدا مہربانی فرما اور میری گذارش سن ہم گناہگار کیروں جیسے کو اس دنیاوی زندگی کے سمند ر سے عبور کر کامیابی سے ۔

مਃ੪॥
ہرِ کرہُ ک٘رِپا جگجیِۄنا گُرُ ستِگُرُ میلِ دئِیالُ ॥
گُر سیۄا ہرِ ہم بھائیِیا ہرِ ہویا ہرِ کِرپالُ ॥
سبھ آسا منسا ۄِسریِ منِ چوُکا آل جنّجالُ ॥
گُرِ تُٹھےَ نامُ د٘رِڑائِیا ہم کیِۓ سبدِ نِہالُ ॥
جن نانکِ اتُٹُ دھنُ پائِیا ہرِ ناما ہرِ دھنُ مالُ ॥੨॥
لفظی معنی:
جیگجیونا۔ زندگئے عالم۔ دیال۔ مہربان ۔ بھائیا۔ اچھی لگتی ۔ آسا۔ امید۔ منسا۔ ارادے ۔ وسری۔ بھولی ۔ چوکا۔ ختم ہوا۔ آل جنجال۔ گھریلو مخمسے ۔ کاروبار الجنیں۔ تٹھے ۔ مہربان ہوئے ۔ نام درڑائیا۔ دلمیں مکمل طور پر بسائیا۔ سبد نہال۔ کلام کے ذریعے خوش ۔ اتٹ۔ کم نہ ہونیوالی ۔ دھن۔ دولت ۔ ہر ناما۔ الہٰی نام۔
ترجمہ:
اے زندگئے عالم خدا کرم و عنایت فرما اور مہربانی کرکے سچے مرشد سے ملا ۔ خدمت مرشد پیاری لگنے لگی جب مہربان ہوا خدا۔ ساری امیدیں اور ارادے بھولے دل سے گھریلو خانہ داری کاروباری الجنیں ختم ہوئیں۔ مرشد نے خوش ہوکر الہٰی نام پختہ طور پر دلمیں بسائیا اور سب کے ذریعے خوش کیا۔ خادم نانک نے نہ ختم ہونے والا سرمایہ حاصل کیا الہٰی نام کی دولت

پئُڑیِ ॥
ہرِ تُم٘ہ٘ہ ۄڈ ۄڈے ۄڈے ۄڈ اوُچے سبھ اوُپرِ ۄڈے ۄڈوَنا ॥
جو دھِیاۄہِ ہرِ اپرنّپرُ ہرِ ہرِ ہرِ دھِیاءِ ہرے تے ہونا ॥
جو گاۄہِ سُنھہِ تیرا جسُ سُیامیِ تِن کاٹے پاپ کٹونا ॥
تُم جیَسے ہرِ پُرکھ جانے متِ گُرمتِ مُکھِ ۄڈ ۄڈ بھاگ ۄڈونا ॥
سبھِ دھِیاۄہُ آدِ ستے جُگادِ ستے پرتکھِ ستے سدا سدا ستے جنُ نانکُ داسُ دسونا ॥੫॥
لفظی معنی:
وڈونا۔ وڈہ ۔اپرنپر۔ بھاری وسعتوں والا۔ ہرے تے ہونا خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ جس ۔ حمدوثناہ۔ جانے پہچانے ۔ سمجھے ۔ مت گرمت۔ عقل و سبق مرشد۔ پرکھ ۔ ہستی ۔ آو۔ آغاز سے ۔ ستے ۔ سچ ۔ صدیوی ۔ جگاد۔ سارے زمانوں میں۔ پرتکھ ۔ ظاہر۔ سدا سدا۔ ہمیشہ ۔ داس دسونا۔ غلاموں کا غلام۔
ترجمہ:
اے خدا تو نہایت بلند بڑون سے بری ہستی ہے اے خدا تو نہایت بھاری وسعتوں والا اعداد و شمار سے باہر ہے ۔ جو تیرا دھیان کرتے ہیں وہ بھی تیرے ہی پیدا کیے ہوئے ہیں جو تیری حمدوثناہ کرتے سنتے ہیں میرے آقا انکے گناہ مٹ جاتے ہیں وہ اے خدا وہ بلند قسمت مقبول عام اور سچے مرشد کے سبق اور پندونصائح پر عمل سے بلند قسمت ہو جاتے ہیں۔ آغاز عالم اور آغاز دور زماں سے ہے اور اب بھی ظہور پذیر ہے اور صدیوی ہے خادم نانک غلاموں کا غلام و خدمتگار ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
ہمرے ہرِ جگجیِۄنا ہرِ جپِئو ہرِ گُر منّت ॥
ہرِ اگمُ اگوچرُ اگمُ ہرِ ہرِ مِلِیا آءِ اچِنّت ॥
ہرِ آپے گھٹِ گھٹِ ۄرتدا ہرِ آپے آپِ بِئنّت ॥
ہرِ آپے سبھ رس بھوگدا ہرِ آپے کۄلا کنّت ॥
ہرِ آپے بھِکھِیا پائِدا سبھ سِسٹِ اُپائیِ جیِء جنّت ॥
ہرِ دیۄہُ دانُ دئِیال پ٘ربھ ہرِ ماںگہِ ہرِ جن سنّت ॥
جن نانک کے پ٘ربھ آءِ مِلُ ہم گاۄہ ہرِ گُنھ چھنّت ॥੧॥
لفظی معنی:
گرمنت۔ سبق مرشد۔ اگم اگوچر۔ انسانی عقل و ہوش سے بلند اور بیان سے بعید ۔ اچنت۔ قدرتی بلا ترود ۔ ورتد۔ بستا ہے ۔ بھوگد۔ برتتا۔ زیر تصرف۔ کولاکنت۔ مالک دولت۔ بھکھیا۔ بھیک۔ سسٹ۔ عالم۔ دنیا ۔ ہرگن ۔ چھنت ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔
ترجمہ:
خدا سارے عالم کی زندگی ہے اسکی سبق مرشد کے مطابق حمدوثناہ کرؤ خدا انسانی عقل و ہوش رسائی اور بیان سے بعید ہے وہ بلا جہدوترود قدرتی ملاپ ہوآ۔ خدا ہر دل میں بستا ہے اور وہ خود بخود اعداد و شمار سے باہر اور وہ خود ہی ہر طرح کے لطف اُٹھاتا ہے اور مالک دولت و سرمایہ ہے ۔ یہ خود ہی رزق بھی ساری مخلوقات کو جو اس نے پیدا کی ہے پہنچاتا ہے ۔ اے رحمان الرحیم پروردگار خدا وہ خیرات بخشش کر جو تیرے عاشق و محبوب سنت تیرے خدمتگار مانگتے ہیں دعائیں کرتے ہیں اے خادم نانک کے آقا خدا میں تاکہ تیری حمدوثناہ کی نظمیں گاتے ہیں۔

مਃ੪॥
ہرِ پ٘ربھُ سجنھُ نامُ ہرِ مےَ منِ تنِ نامُ سریِرِ ॥
سبھِ آسا گُرمُکھِ پوُریِیا جن نانک سُنھِ ہرِ دھیِر ॥੨॥
لفظی معنی:
پربھ سجن ۔ دوست خدا۔نام ۔ الہٰی نام ۔ ست سچ حق و حقیقت میرے دل و جان میں بس گیا ہے ۔ مرشد کے وسیلے سے میری تمام امیدیں پوری ہو گئیں ہیں اور خادم نانک کو سنکر تسلی ملتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ اوُتمُ ہرِیا نامُ ہےَ ہرِ پُرکھُ نِرنّجنُ مئُلا ॥
جو جپدے ہرِ ہرِ دِنسُ راتِ تِن سیۄے چرن نِت کئُلا ॥
نِت سارِ سمال٘ہ٘ہےَ سبھ جیِء جنّت ہرِ ۄسےَ نِکٹِ سبھ جئُلا ॥
سو بوُجھےَ جِسُ آپِ بُجھائِسیِ جِسُ ستِگُرُ پُرکھُ پ٘ربھُ سئُلا ॥
سبھِ گاۄہُ گُنھ گوۄِنّد ہرے گوۄِنّد ہرے گوۄِنّد ہرے گُنھ گاۄت گُنھیِ سمئُلا ॥੬॥
لفظی معنی:
اوتم ۔ قابل تعریف ۔ ہریا۔ خوسحالی ۔ پرکھ نرنجں ۔ پاک بیداغ ہستی ۔ مولا ۔ خوشباش ۔ نکٹ ۔ نزدیک ۔ جؤلا۔ علیحدہ ۔ سؤلا ۔ خوش۔ سمؤلا۔ محو ومجذوب۔
ترجمہ:
الہٰی نام بلند اخلاق اور روحانی زندگی بخشنے والا اور خدا ایک عظیم ہستی ہے ۔ اور خدا خوش مجاز پاک اور بیداغ ہے ۔ جو اسکی یاد وریاض کرتے ہیں دنیاوی دولت انکے قدم چومتی ہے خدمت کرتی ہے ۔ خدا ساری خلعت و مخلوقات کی سنبھال اور خبر گیری کرتا ہے ۔ اور سب کے ساتھ بستا ہے ۔ تاہم با واسطہ ہے ۔ مگر اسے وہی سمجھتا ہے جسے خود سمجھاتا ہے ۔ جس پر مہربان مرشد خدا مہربان ہوتا ہے ۔ سارے خد اکی حمدوثناہ کرؤ حمدوثناہ سے خدا میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
سُتِیا ہرِ پ٘ربھُ چیتِ منِ ہرِ سہجِ سمادھِ سماءِ ॥
جن نانک ہرِ ہرِ چاءُ منِ گُرُ تُٹھا میلے ماءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
ستیا ۔ سوتے ہوئے ۔ چیت ۔ یاد کر۔ سہج سمادھ ۔ روحانی و ذہنی حالت میں یکسوئی ۔ دھیان ۔ سمائے ۔ محو ومجذوب رہ ۔ چاؤ۔ خوشی ۔ تٹھا ۔ خوش
ترجمہ:
اے دل بوقت سونے اور سوتے ہوئے بھی خدا کو یاد کر اور روحانی و ذہنی سکون میں یکسو ہرکر محو ومجذوب رہ۔ خادم نانک کے دل میں الہٰی خوشیاں ہیں مرشد خوش ہوکر ملاپ کراتا ہے ۔

مਃ੪॥
ہرِ اِکسُ سیتیِ پِرہڑیِ ہرِ اِکو میرےَ چِتِ ॥
جن نانک اِکُ ادھارُ ہرِ پ٘ربھ اِکس تے گتِ پتِ ॥੨॥
لفظی معنی:
پرہڑی ۔ محبت ۔ پیار۔ چت۔ میرے دلمیں۔ آدھار۔ آسرا۔ گت پت۔ بلند روحانی واخلاقی زندگی اور عزت۔
ترجمہ:
واحد خدا کا ہے آسرا واحد خدا سے روحانی اخلاقی زندگی ملتی ہے اور اسی سے ہی عزت و آبرو۔

پئُڑیِ ॥
پنّچے سبد ۄجے متِ گُرمتِ ۄڈبھاگیِ انہدُ ۄجِیا ॥
آند موُلُ رامُ سبھُ دیکھِیا گُر سبدیِ گوۄِدُ گجِیا ॥
آدِ جُگادِ ۄیسُ ہرِ ایکو متِ گُرمتِ ہرِ پ٘ربھُ بھجِیا ॥
ہرِ دیۄہُ دانُ دئِیال پ٘ربھ جن راکھہُ ہرِ پ٘ربھ لجِیا ॥
سبھِ دھنّنُ کہہُ گُرُ ستِگُروُ گُرُ ستِگُروُ جِتُ مِلِ ہرِ پڑدا کجِیا ॥੭॥
لفطی معنی:
پنچ سبد۔ پانچ قسم کے سنگیتک سازوں کی دھنیا یا آوازیں۔ تار۔ چمڑا۔ دھات۔ گھڑا۔ پھوک۔ مت۔ سمجھ ۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت۔ انحد۔ سنگیتک روحانی ساز جو بغیر بجائے بجتا مراد روحانی سکون و خوشی کی لہروں کا لطف ۔ آنند مول۔ لطف کی بنیاد۔ گوبند گجیا۔ ظاہر ہوا۔ بھجیا۔ یادوریاض کی ۔ لجیا۔ عزت۔ پڑداکجیا۔ پردا چھپائیا۔
ترجمہ:
اسے ذہن میں روحانی سنگیت کی دھنیں بجتی ہیں جو بغر بجائے بجتی ہیں اور پانچوں قسموں کے سازوں کی دھنیں بجتی ہیں کلام مرشد سے خدا اسکے دلمیں ظہور میں اجاتا ہے اور وہ اسے ہر جگہ بستا محسوس کرتا ہے ۔ جو سبق مرد کے مطابق اسکی یادوریاض کرتا ہے اسے یہ یقین ہوجاتا ہے کہ آغاز عالم سے لیکر مابعد کے دور میں وہی دائمی ہستی ہے ۔ اے خدا اپنے خدمتگاروں کو یہ خیرات دیجیئے اور عزت بچایئے ۔ سارے مرشد کو شاباش مرشد سچے مرشد شاباش جسکے ملاپ سے خدا تمہارے پردے ڈھانپتا ہے ۔

سلوکُ مਃ੪॥
بھگتِ سروۄرُ اُچھلےَ سُبھر بھرے ۄہنّنِ ॥
جِنا ستِگُرُ منّنِیا جن نانک ۄڈ بھاگ لہنّنِ ॥੧॥
لفظی معنی:
بھگت۔ عشق الہیی ۔ سبھر۔ سرؤور۔ تالاب۔ وہن ۔ بھر کر۔ باہر نکل رہا ہے ۔ ستگر منیا۔ ایمان لائے ۔ وڈبھاگ۔ بلند قسمت ۔ لہن ۔ لیتے ہیں۔
ترجمہ:
مرشد ایک الہٰی عشق و بندگی و عبادت کا دریا ہے اور بھر کر بہہ رہا ہے ۔ جو مرشد میں ایمان لاتے ہیں اے نانک وہ بلند قسمت ہیں۔

مਃ੪॥
ہرِ ہرِ نام اسنّکھ ہرِ ہرِ کے گُن کتھنُ ن جاہِ ॥
ہرِ ہرِ اگمُ اگادھِ ہرِ جن کِتُ بِدھِ مِلہِ مِلاہِ ॥
ہرِ ہرِ جسُ جپت جپنّت جن اِکُ تِلُ نہیِ کیِمتِ پاءِ ॥
جن نانک ہرِ اگم پ٘ربھ ہرِ میلِ لیَہُ لڑِ لاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
اسنکھ ۔ بیشمار ۔ گن ۔ وصف۔ کتھن۔ کہے ۔ بیان ۔ اگم ۔ انسانی رسائی سے بعید ۔ اگاودھ ۔ اعدا د وشمار سے باہر۔ ہرجن ۔ خادمان خدا ۔ لڑ۔ دامن ۔
ترجمہ:
بیشمار ناموں سے موسوم ہے ۔ خدا نام بھی انگینت اور اوصاف بھی بیشمار ہیں جو بیان ہو نہیں سکتے ۔ خدا انسانی رسائی سے بعد اور انداز وں سے باہر ہے اسکا ملاپ کس طریقے سے ہو سکتا ہے اور ملائے جا سکتے ہیں۔ جو الہٰی حمدوثناہ خود کرتے اور کراتے ہیں خدا کی اور اسکے اوصاف کی قدروقیمت ادا نہیں کی جا سکتی ۔ اسکے در پر صرف گذارش کی جا سکتی ہے ۔ اے انسان رسائی عقل و ہوش سے بعید خا خدمتگار نانک کو اپنے دامن لگا کر ملا لیجیئے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ اگمُ اگوچرُ اگمُ ہرِ کِءُ کرِ ہرِ درسنُ پِکھا ॥
کِچھُ ۄکھرُ ہوءِ سُ ۄرنیِئےَ تِسُ روُپُ ن رِکھا ॥
جِسُ بُجھاۓ آپِ بُجھاءِ دےءِ سوئیِ جنُ دِکھا ॥
ستسنّگتِ ستِگُر چٹسال ہےَ جِتُ ہرِ گُنھ سِکھا ॥
دھنُ دھنّنُ سُ رسنا دھنّنُ کر دھنّنُ سُ پادھا ستِگُروُ جِتُ مِلِ ہرِ لیکھا لِکھا ॥੮॥
لفظی معنی:
درسن ۔ دیدار ۔ پکھا ۔ دیکھوں ۔ وکھر ۔ سودا۔ درنیئے ۔ بیان کریں۔ روپ ۔ شکل۔ رکھا۔ ریکھ ۔ نشان۔ سوئی جن۔ وہی انسان ۔ چٹسال ۔ سکول ۔ مدرسہ ۔ پاٹھ شالہ ۔ جت ۔ جس میں۔ ہر گن ۔ الہٰی اوصاف۔ سکھا ۔ سیکھے جا سکے ہیں۔ ۔ رسنا ۔ زبان ۔ کر ہاتھ ۔ پادھا۔ استاد۔ جت مل ہر لیکھا ۔ لکھا ۔ جس کے ملاپ سے حساب الہٰی لکھا جا سکتا ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
ہرِ ہرِ نامُ انّم٘رِتُ ہےَ ہرِ جپیِئےَ ستِگُر بھاءِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ پۄِتُ ہےَ ہرِ جپت سُنت دُکھُ جاءِ ॥
ہرِ نامُ تِنیِ آرادھِیا جِن مستکِ لِکھِیا دھُرِ پاءِ ॥
ہرِ درگہ جن پیَنائیِئنِ جِن ہرِ منِ ۄسِیا آءِ ॥
جن نانک تے مُکھ اُجلے جِن ہرِ سُنھِیا منِ بھاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
انمرت۔ آب حیات۔ ستگر بھائے ۔ سچے مرشد کے پریم پیار سے ۔ پوت۔ پاک۔ ارادھیا۔ یادکیا۔ مستک ۔ پیشانی ۔ دھر۔ خدا کی طرف سے ۔ لکھیا۔ تحریر ۔ درگیہہ۔ عدالت ۔ دربار۔ پبنائن ۔ پہنائے جاتے ہیں۔ خلعتیں بخشش کی جاتی ہے ۔ ہر من بسیا آئے ۔ خدا جنکے دلمیں بستا ہے ۔ اجلے ۔ سرخرو۔ من بھائے ۔ دلی پریم ۔ پیار سے۔
ترجمہ:
آب حیات ہے الہٰی نام سچے مرشد کے پیار اور پریم سے اسکی یادوریاض ہوتی ہے ۔ الہیی نام پاک ہے اور زندگی کو پاک بنانیوالا ہے اسکی حمدوثناہ کرنے اور سننے سےعذاب مٹتے ہیں الہٰی نام کی یاد وریاض وہی شخص کرتے ہیں جنکے پیشانی پر عدالت الہٰی نے تحریر کیا ہوتاہے ۔ انہیں بارگاہ و عدالت خدا میں خلعتیں پہنچائی جاتی ہیں مراد قدرمنزلت پاتے ہیں جنکے دل میں خدا بس جاتا ہے ۔ اے خادم نانک سر خرو ہیں وہ جنہوں نے الہٰی نام پریم پیار اور دھیان سے سنا۔

مਃ੪॥
ہرِ ہرِ نامُ نِدھانُ ہےَ گُرمُکھِ پائِیا جاءِ ॥
جِن دھُرِ مستکِ لِکھِیا تِن ستِگُرُ مِلِیا آءِ ॥
تنُ منُ سیِتلُ ہوئِیا ساںتِ ۄسیِ منِ آءِ ॥
نانک ہرِ ہرِ چئُدِیا سبھُ دالدُ دُکھُ لہِ جاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ندھان۔ خزانہ ۔ گورمکھ ۔ مرشد کی وساطت سے ۔ سیتل ۔ ٹھنڈا ۔ سانت۔ سکون۔ چودیا۔ کہنے سے ۔ والد ۔ ولدر۔ غریبی ۔ ناداری ۔ کنگالی ۔ لیہہ جائے ۔ مٹ جاتی ہے ۔
ترجمہ:
الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت ایک بیش قیمت خزانہ ہے جو مرشد کی وساطت سے حاصل ہوتا ہے ۔ جنکی پیشانی پر خدا نے تحریر کیا ہوتا اسکا ملاپ سچے مرشد سے ہوتا ہے اسکا دل و جان سکون پاتا ہے اور دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے ۔ اے نانک خدا خدا کہنے سے سارے عذاب ناداری اور غریبی مٹ جاتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہءُ ۄارِیا تِن کءُ سدا سدا جِنا ستِگُرُ میرا پِیارا دیکھِیا ॥
تِن کءُ مِلِیا میرا ستِگُروُ جِن کءُ دھُرِ مستکِ لیکھِیا ॥
ہرِ اگمُ دھِیائِیا گُرمتیِ تِسُ روُپ نہیِ پ٘ربھ ریکھِیا ॥
گُر بچنِ دھِیائِیا جِنا اگمُ ہرِ تے ٹھاکُر سیۄک رلِ ایکِیا ॥
سبھِ کہہُ مُکھہُ نر نرہرے نر نرہرے نر نرہرے ہرِ لاہا ہرِ بھگتِ ۄِسیکھِیا ॥੯॥
لفظی معنی:
دھرمستک ۔ بارگاہ خدا کی طرف سے پیشانی پر ۔ لیکھیا۔ تحریر ہوتا ہے ۔ اگتم ۔ انسنای رسائی سے بعید ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد۔ روپ ۔ شکل۔ ریکھیا۔ نشان ۔ گربچن ۔ کلام مرشد۔ اگم ۔ انسانی عقل سے بعد۔ ٹھاکر ۔ مالک۔ سیوک ۔ خدمتگار ۔ خادم۔ ایکیا۔ یکسو یا مانند۔ مز ۔ مرد ۔ نرہرے ۔ مالک خلقت ۔ لاہا۔ منافع۔ وسیکھا۔ خاص۔
ترجمہ:
میں ان پر ہمیشہ ہمیشہ قربان ہوں جنہوں نے میرا پیار اور مرشد روھانی رہنما کا دیدار کیا ہے میرے سچے مرشد ملاپ ان کو ہوتا ہے جنکی پیشانی پر خدا کی طرف سے تحریر ہوتا ہے ۔ جو اس انسانی رسائی سے بعید سبق مرشد سے اس میں دھیان لگاتا ہے ۔ جس کی نہ کوئی شکل و صورت ہے نہ نشان نہ جسے بیان کیا جسکتا ہے ۔ جس نے کلام مرشد سےد ھیان لگائیا انسانی عقل و ہوش اور رسائی س بعید خدا اور اسکے خدمتگار خدا سے ملکر اس میں یکسو ہو جاتے ہیں سارے زباں سے خدا کا نام لو خدا خدا کہو الہٰی خدمت کا منافع سب سے اعلیٰ منافع ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
رام نامُ رمُ رۄِ رہے رمُ رامو رامُ رمیِتِ ॥
گھٹِ گھٹِ آتم رامُ ہےَ پ٘ربھِ کھیلُ کیِئو رنّگِ ریِتِ ॥
ہرِ نِکٹِ ۄسےَ جگجیِۄنا پرگاسُ کیِئو گُر میِتِ ॥
ہرِ سُیامیِ ہرِ پ٘ربھ تِن مِلے جِن لِکھِیا دھُرِ ہرِ پ٘ریِتِ ॥
جن نانک نامُ دھِیائِیا گُر بچنِ جپِئو منِ چیِتِ ॥੧॥
لفظی معنی:
رم ۔ محو ہو ۔ رور ہے ۔ جو بستا ہے ۔ رام رمیت ۔ جو محو ومجذوب ہے ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں۔ ٹکٹ ۔ نزدیک ۔ جگجیونا۔ زندگی عالم ۔ پرگاس۔ روشن۔ تن ۔ انکو۔ دھرہر پریت۔ خدا نے الہٰی پیار۔ گربچن ۔ کلام مرشد۔ من چیت۔ دل سے ۔
ترجمہ:
الہٰی نام بسائے رہو اور اس میں محو ومجذوب رہو جو ہر دلمیں بس رہا ہے جس نے اپنے طور طریقوں سے یہ دنیاوی کھیل بنائیا ہے جو علام زندگی ساتھ بس راہ ہے جسے دوست مرشد نے روشن کیا ہے ظہور پذیر کیا ہے ۔ ایسا مالک خدا کا مالک ان سے ہوتا ہے جنکے تقدیر میں خدا کا پیار تحریر ہوتا ہے ۔ اے خادم نانک۔ جنہوں نے کلام مرشد کے ذریعے نام میں دھیان کیا اور کلام مرشد سے دلمیں بسائیا۔

مਃ੪॥
ہرِ پ٘ربھ سجنھُ لوڑِ لہُ بھاگِ ۄسےَ ۄڈبھاگِ ॥
گُرِ پوُرےَ دیکھالِیا نانک ہرِ لِۄ لاگِ ॥੨॥
لفظی معنی:
لوڑلیہو ۔ تلاش کرؤ۔ وڈبھاگ ۔ بلند قسمت سے ۔ گر پورے ۔ کامل مرشد۔ کو لاگ۔ الہٰی محبت پیار سے ۔ (2)
ترجمہ:
اے انسانوں خدا جو انسان دوست ہے تلاش کرو۔ جو بلند قسمت سے دلمیں بستا ہے ۔ جسے کامل مرشد نے دیدار کرادیا اسے خدا سے محبت ہو جاتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
دھنُ دھن سُہاۄیِ سپھل گھڑیِ جِتُ ہرِ سیۄا منِ بھانھیِ ॥
ہرِ کتھا سُنھاۄہُ میرے گُرسِکھہُ میرے ہرِ پ٘ربھ اکتھ کہانھیِ ॥
کِءُ پائیِئےَ کِءُ دیکھیِئےَ میرا ہرِ پ٘ربھُ سُگھڑُ سُجانھیِ ॥
ہرِ میلِ دِکھاۓ آپِ ہرِ گُر بچنیِ نامِ سمانھیِ ॥
تِن ۄِٹہُ نانکُ ۄارِیا جو جپدے ہرِ نِربانھیِ ॥੧੦॥
لفظی معنی:
دھن دھن۔ قابل ستائش ۔ سہاوی ۔ سوہنی ۔ اچھی ۔ سپھل گھڑی ۔ اچھا موقعہ ۔ ہر سیو ۔ الہٰی کدمت۔ من بھانی ۔ میرے دل کو پیاری ہوئی۔ اکتھ ۔ ناقابل بیان۔ سگھڑ سجانی ۔ دانشمند۔ ہوشمند۔ میل۔ ملاپ ۔ گربچنی ۔ کلام مرشد سے ۔ نام سمانی ۔ الہٰی نام میں محو ومجذوب ہونے سے ۔ تن وٹہو۔ ان پر۔ وریا۔ قران ۔ نربانی ۔ بیلاگ ۔ پاک ۔
ترجمہ:
خوش قسمت اور قابل ستائش ہے وہ وقت وہ موقہ جب خدمت خدا دل کو بھاتی ہے ۔ اے مرید ان مرشد الہٰی کہانی سناؤ جو بیان سے بعید ہے کہ کس طرح سے اسک ملاپ و دیدار ہو سکتا ہے ۔ کلام مرشد اور سبق سے جنکی سمجھ پر ماتما یا خدا کے نام ست سچ حق وحقیقت میں محو ومجذوب ہو جاتی ہے ۔ ان پر نانک قربان ہے جو پاک خدا کے پاک نام کی یادوریاض کرتے ہیں۔

سلوک مਃ੪॥
ہرِ پ٘ربھ رتے لوئِنھا گِیان انّجنُ گُرُ دےءِ ॥
مےَ پ٘ربھُ سجنھُ پائِیا جن نانک سہجِ مِلےءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
رتے ۔ متاچر۔ لوینا۔ آنکھیں۔ گیان انجن۔ علم کا سرمہ ۔ گروئے مرشد دیتا ہے ۔ پربھ سجن۔ دوست خدا۔ سہج سلے ۔ مکمل سکون کی حالت میں۔
ترجمہ:
مرشد کے علم کا سرمہ بخشش کرنی کی وجہ سے الہٰی پریم پیار سے متاثر ہو گئیں ہیں مجھے اپنا دوست پالیا اے خادم نانک روحانی سکون میسر ہوا ۔

مਃ੪॥
گُرمُکھِ انّترِ ساںتِ ہےَ منِ تنِ نامِ سماءِ ॥
نامُ چِتۄےَ نامو پڑےَ نامِ رہےَ لِۄ لاءِ ॥
نامُ پدارتھُ پائیِئےَ چِنّتا گئیِ بِلاءِ ॥
ستِگُرِ مِلِئےَ نامُ اوُپجےَ ت٘رِسنا بھُکھ سبھ جاءِ ॥
نانک نامے رتِیا نامو پلےَ پاءِ ॥੨॥
ترجمہ:
مرید مرشد کے دل میں سکون رہتا ہے وہ الہٰی نام میں محو ومجذوب رہتا ہے وہ نام میں دل لگاتا ہے نام ہی پڑھتا ہے اور نام سے پیار کرتا ہے الہٰی نام کی نعمت ملنے سے فکر و تشویش مٹ جاتی ہے ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے نام حاصل ہوتا ہے ۔ جس سے خواہش اور دنیاوی دولت کی بھوک ختم ہوجاتی ہے ۔ اے نانک نام میں محو ومجذوب ہونے اور نام سے متاچر ہونے پر نام میسر ہوتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
تُدھُ آپے جگتُ اُپاءِ کےَ تُدھُ آپے ۄسگتِ کیِتا ॥
اِکِ منمُکھ کرِ ہارائِئنُ اِکنا میلِ گُروُ تِنا جیِتا ॥
ہرِ اوُتمُ ہرِ پ٘ربھ نامُ ہےَ گُر بچنِ سبھاگےَ لیِتا ॥
دُکھُ دالدُ سبھو لہِ گئِیا جاں ناءُ گُروُ ہرِ دیِتا ॥
سبھِ سیۄہُ موہنو منموہنو جگموہنو جِنِ جگتُ اُپاءِ سبھو ۄسِ کیِتا ॥੧੧॥
لفظی معنی:
وسگت ۔ قابو۔ منمکھ ۔ مرید من ۔ ہاراین ۔ شکستکھائی۔ جیتا ۔فتح کیا۔ اوتم۔ بلند۔ سبھاگے ۔ خوش قسمتی سے ۔ دکھ ۔ تکلیف۔ عذاب ۔ مصائب ۔ والا۔ نداری ۔ غریبی ۔ کنگالی ۔ موہنو۔ موہ لینے والے ۔ اپائے ۔ پیدا کرکے ۔
ترجمہ:
اے خدا تو نے خود عالم پیدا ککرے اپنے قابو زہر احکام کیا ہوا ہے ۔ ایک مرید من کو زندگی میں شکست دے رکھی ہے اور ایک مرشد سے ملا کر زندگی کے کھیل کو جیت لیا ہے ۔ خدا کا نام ست سچ حق وحقیقت بلند رتبہ آدرش ہے ۔ جو خوش قسمت سے کلام مرشد سے حاصل ہوتا ہے ۔ اور لیا ہے ۔ یا مرشد نے الہٰی نام دی اہے تب اسکا عذاب و مصائب اور ناداری دور ہوگئی۔ اے انسانوں اس دلربا دل کو اپنی محبت میں گرفتار کر نیوالے جس نے سارے عالم و مخلوقات کو پیدا کیا ہے ۔ اور سب قابو اور زیر نظام کیا ہوا ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
من انّترِ ہئُمےَ روگُ ہےَ بھ٘رمِ بھوُلے منمُکھ دُرجنا ॥
نانک روگُ ۄجنْاءِ مِلِ ستِگُر سادھوُ سجنا ॥੧॥
لفظی معنی:
بھولے بھٹکے ۔ مرید من کے دلمیں خودی کی بیماری ہے بد قماس بدکاری میں ۔ اے نانک اس بیماری کو خدا رسیدہ دوستوں سے ملکر دور کرؤ ۔

مਃ੪॥
منُ تنُ تامِ سگارۄا جاں دیکھا ہرِ نیَنھے ॥
نانک سو پ٘ربھ مےَ مِلےَ ہءُ جیِۄا سدُ سُنھے ॥੨॥
لفظی معنی:
تام سگاروا۔ تبھی اچھا ہے ۔ جاں۔ جب۔دیکھا ہرنینے ۔ جب خدا آنکھوں سے دیکھے ۔ صد۔ آواز
ترجمہ:
دل و جان تبھی خوشحال ہوسکتی ہے اور قابل قدر ہے جب آنکھوں سے دیدار خدا کرے ۔ اے نانک وہ خدا مجھے ملے تو اسکی آواز سنکر مجھے روحانی زندگی حاصل ہو۔

پئُڑیِ ॥
جگنّناتھ جگدیِسر کرتے اپرنّپر پُرکھُ اتولُ ॥
ہرِ نامُ دھِیاۄہُ میرے گُرسِکھہُ ہرِ اوُتمُ ہرِ نامُ امولُ ॥
جِن دھِیائِیا ہِردے دِنسُ راتِ تے مِلے نہیِ ہرِ رولُ ॥
ۄڈبھاگیِ سنّگتِ مِلےَ گُر ستِگُر پوُرا بولُ ॥
سبھِ دھِیاۄہُ نر نارائِنھو نارائِنھو جِتُ چوُکا جم جھگڑُ جھگولُ ॥੧੨॥
لفظی معنی:
جگناتھ ۔ مالک عالم۔ جگدشر۔ جگت ایشر۔ مالک دنیا۔ ۔ کرتے ۔ کرنے والے ۔ کارساز۔ اپرنپر۔ پرے سے پرے مراد اتنا وسیع کہ کنارہ نہیں۔ تول ۔ جسے تو لیا نہ جا سکے ۔ وزن نہ ہوسکے ۔ اُتم ۔ بلند قدروقیمت والا۔ امول۔ جسکی قیمت قائم نہ ہو سکے ۔ رول ۔ بھول۔ بول ۔ نصیحت۔ جم جھگڑجھگول۔ جھگڑا۔
ترجمہ:
اے مالک عالم و دنیا کار ساز نہایت اور وسیع تر بیشمار اندازے سے بعید خدا۔ اے مریدان مرشد خد ا بلند رتبہ قابل قدر نام اتنا بیش قیمت ہے کہ قیمت مقرر نہیں کی جاسکتی جنہوں نے روز و شب دھیان لگائیا وہ اس سے یکسو ہوئے ۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلند قسمت سے مرشد کی صحبت حاصل ہوتی ہے اور اسکا سبق واعظ حاصل ہوتا ہے ۔ سارے خدا میں دھیان لگاؤ جسکی برکت و عنایت سے الہٰی منصف و کوتوال کا جھگڑا خم ہو جات اہے ۔

سلوک مਃ੪॥
ہرِ جن ہرِ ہرِ چئُدِیا سرُ سنّدھِیا گاۄار ॥
نانک ہرِ جن ہرِ لِۄ اُبرے جِن سنّدھِیا تِسُ پھِرِ مار ॥੧॥
لفظی معنی:
چؤدیا۔ کہتے ہوئے ۔ سر ۔ تیر۔ سندھیا۔ نشانہ باندھا۔ گاوار۔ جاہل۔ بیوقوف۔ ہریو۔ الہٰی پیار۔ اُبھرے ۔ بچے ۔ جن سندھیا۔ جس نے نشانہ باندھا ۔ پھر بدل کر۔ مار۔ موت۔
ترجمہ:
جاہل انسان خدا کی عبادت بندگی تیر کا نشانہ باندھتے ہیں۔ اے نانک ۔ خادمان خدا الہٰی پریم پیار سے بچتے ہیں جبکہ نشانہ باندھنے والے خود اسکا نشانہ بنتے ہیں اسی تیر کا اور روحانی موت پاتے ہیں۔

مਃ੪॥
اکھیِ پ٘ریمِ کسائیِیا ہرِ ہرِ نامُ پِکھنّن٘ہ٘ہِ ॥
جے کرِ دوُجا دیکھدے جن نانک کڈھِ دِچنّن٘ہ٘ہِ ॥੨॥
لفظی معنی:
کسائییا ۔ کشش کی۔ پکھن۔ دیکھتی ۔ دیکھتی ۔ وچن۔ دیں۔
ترجمہ:
جنکی آنکھوں میں ہے کشش پیار کی وہی الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی طرف نظر دوڑاتی ہیں۔ مگر اے نانک جن کی خدا کے علاوہ نظر دوسری طرف ہے الہٰی حضوری سے ناکل دیئے جاتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ پوُرنو اپرنّپرُ سوئیِ ॥
جیِء جنّت پ٘رتِپالدا جو کرے سُ ہوئیِ ॥
مات پِتا سُت بھ٘رات میِت تِسُ بِنُ نہیِ کوئیِ ॥
گھٹِ گھٹِ انّترِ رۄِ رہِیا جپِئہُ جن کوئیِ ॥
سگل جپہُ گوپال گُن پرگٹُ سبھ لوئیِ ॥੧੩॥
لفظی معنی:جل۔ پانی ۔ تھل۔ زمین۔ مہیئل ۔ خلا۔ پورنو۔ بستا ہے ۔ اپرنپر۔ اتنا وسیع اور وسعت والا کہ ۔ سوئی ۔ وہی ۔ جیئہ جنت۔ مخلوقات۔ پرتپالا۔ پرورش کرتا ہے ۔ ست ۔ بیٹے ۔ بھرات۔ بھائی ۔ میت ۔ دوست ۔ جپیہئہ ۔ یادوریاض۔ جن۔ خدمتگار۔ گوپال گن ۔ الہٰی حمدوثناہ۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ سبھ لوئی۔ ساری دنیا سارے عوام میں۔
ترجمہ:
کدا پانی زمین اور آسمان غرض یہ کہ ہر جگہ موجود ہے بستا ہے اور نہایت وسعتوں والا ہے ۔ساری مخلوقات کی پرورش کرتا ہے پروردگار ہے جو کرتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ ماتا ۔پتا۔ بیٹا بھائی دوست اسکے بغیر نہیں کوئی ۔ ہر دل میں بستا ہے کوئی بھی یادوریاض کرے ۔ سارے کرؤ عبادت خد کی حمدوثناہ کرؤ جو سارے عالم میں ظاہر ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
گُرمُکھِ مِلے سِ سجنھا ہرِ پ٘ربھ پائِیا رنّگُ ॥
جن نانک نامُ سلاہِ توُ لُڈِ لُڈِ درگہِ ۄنّجنُْ ॥੧॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ سجنا۔ دوست۔ رنگ ۔ پیار۔ لڈ لڈ۔ بخوشی ۔ درگیہہ ونجھ ۔ عدالت الہٰی جا۔
ترجمہ:
جنہوں نے مرید مرشد سے ملاپ کیا انہوں نے پیار خدا کا پائیا ۔ اے نانک الہٰی نام ست سچ وحقیقت کی حمدوثناہ کر بخوشی خدا کی عدالت جا۔

مਃ੪॥
ہرِ توُہےَ داتا سبھس دا سبھِ جیِء تُم٘ہ٘ہارے ॥
سبھِ تُدھےَ نو آرادھدے دانُ دیہِ پِیارے ॥
ہرِ داتےَ داتارِ ہتھُ کڈھِیا میِہُ ۄُٹھا سیَسارے ॥
انّنُ جنّمِیا کھیتیِ بھاءُ کرِ ہرِ نامُ سم٘ہ٘ہارے ॥
جنُ نانکُ منّگےَ دانُ پ٘ربھ ہرِ نامُ ادھارے ॥੨॥
لفظی معنی:
داتا۔ دینے الا۔ رازق۔ سبھس ۔ سبھ کا۔ جیئہ ۔ مخلوق ۔ ارادھدے ۔ یاد کرتے ہیں۔ دان۔ خیرات۔ بھیک ۔ ہتھ کڈھیا۔ مراد کرم و عنایت فرمائی ۔ میہو وٹھا۔ بارش ہوئی ۔ ان جمیا۔ اناج پیدا ہوا۔ بھاؤکر۔ پریم پیار سے ۔ سہارے ۔ سنبھالے ۔ ادھارے ۔ آسرا۔
ترجمہ:
اے خدا تو سبھ کا رازق ہے اور ساری مخلوقات تیری ہے ۔ ساری مخلوقات تجھے ہی یاد کرتی ہے اور تجھ سے بھیک مانگتے ہیں خدا وند کریم جب مہربان ہوا تو رحمت کی بارش ہونے لگی تو پیار کی کاشتکاری میں اناج پیدا ہوا تو الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا دلمیں بسا۔ خادم نانک۔ الہٰی نام کی بھیک مانگتا ہے تاکہ زندگی کے لئے آسرا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
اِچھا من کیِ پوُریِئےَ جپیِئےَ سُکھ ساگرُ ॥
ہرِ کے چرن ارادھیِئہِ گُر سبدِ رتناگرُ ॥
مِلِ سادھوُ سنّگِ اُدھارُ ہوءِ پھاٹےَ جم کاگرُ ॥
جنم پدارتھُ جیِتیِئےَ جپِ ہرِ بیَراگرُ ॥
سبھِ پۄہُ سرنِ ستِگُروُ کیِ بِنسےَ دُکھ داگرُ ॥੧੪॥
لفظی معنی:
اچھا۔ خواہشات۔ پور ییئے ۔ پوری ہوتی ہیں۔ سکھ ساگر۔ آرام و آسائش کا سمندر۔ ارادھیئے ۔ یادوریاض ۔ گر سبد۔ کلام مرشد۔ رتناگر۔ ہیروں کی کان ۔ ادھار۔ بچے ۔ کامیابی ۔ پاٹے جم کاگر۔ الہٰی منصف کے اعمالنامے کے حساب کی مثل۔ پھٹجاتے ہیں۔ بیراگر ۔ چشمہ محبت ۔ ونسے ۔ مٹے ۔ دکھ ۔ عذاب۔ داگر۔ داغ۔
ترجمہ:
آرام و آسائش کے سمندر خدا وند کریم کی حمدوثناہ دلی خواہشات پوری ہوتی ہیں۔ کلام مرشد جو قیمتی اوصاف کی کان ہے کے ذریعے خدا کی عبادت بندگی اور یاد ریاض کرنی چاہیے خدا رسیدہ سادہو کے ملاپ وصحبت اور ساتھ سے کامیابی ملتی اور الہٰی منصف میں اعمالنامے کی مژل اور حسابات ختم ہو جاتے ہیں۔ اور زندگی کی نعمت کے کھیل کی جیت لیتے ہیں الہٰی نام کی یادوریاض سے ۔ اے انسانوں پناہ مرشد اختیار کرؤ۔ عذاب کا داغ مٹ جاتا ہے ۔

سلوک مਃ੪॥
ہءُ ڈھوُنّڈھیݩدیِ سجنھا سجنھُ میَڈےَ نالِ ॥
جن نانک الکھُ ن لکھیِئےَ گُرمُکھِ دیہِ دِکھالِ ॥੧॥
لفظی معنی:
ڈہونڈ ینڈھدی ۔ تلاش۔ جستجو۔ سجن۔ دوست۔ ایکھ ۔ جسکی شکل وصورت بیان نہ ہو سکے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔
ترجمہ:
خدا کی تلاش باہر کرتا رہا جبکہ ساتھ تھا میرے قریب تھا میرے ۔ اے خادم نانک۔ خدا کی شکل و صورت بیان نہیں ہو سکتی جبکہ مرید مرشد دیدار کرادیتا ہے ۔

مਃ੪॥
نانک پ٘ریِتِ لائیِ تِنِ سچےَ تِسُ بِنُ رہنھُ ن جائیِ ॥
ستِگُرُ مِلےَ ت پوُرا پائیِئےَ ہرِ رسِ رسن رسائیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
تن سچے ۔ اس صدیوی سچ اور سچے ۔ تس بن ۔ اسکے بگیر ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف۔ رسن ۔ زبان۔ رسائی۔ پر لطف۔ ہوئی۔
ترجمہ:
اے نانک۔ قائم دائم خدا نے خود پیار پیدا کیا لہذا اسکے بگیر رہ نہیں سکتے سچے مرشد کے ملاپ سے کامل خدا کا ملاپ ہوتا ہے زبان الہٰی نام کے لطف میں پر لطف رہتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
کوئیِ گاۄےَ کو سُنھےَ کو اُچرِ سُناۄےَ ॥
جنم جنم کیِ ملُ اُترے من چِنّدِیا پاۄےَ ॥
آۄنھُ جانھا میٹیِئےَ ہرِ کے گُنھ گاۄےَ ॥
آپِ ترہِ سنّگیِ تراہِ سبھ کُٹنّبُ تراۄےَ ॥
جن نانکُ تِسُ بلِہارنھےَ جو میرے ہرِ پ٘ربھ بھاۄےَ ॥੧੫॥੧॥ سُدھُ ॥
لفظی معنی:
اچر۔ بول۔ مل۔ میل۔ ناپاکیزگی ۔ من چندیا۔ دلی خواہش یا مراد ۔ آون جانا۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔ خاندان۔ ہر پربھ بھاوے ۔ جو محبوب خدا ہے ۔
ترجمہ:
اے انسانوں جو الہٰی حمدوثناہ کے گیت گاتا ہے سنتا ہے اور بولتا ہے اسکی دیرنہ ناپاکیزگی دور ہو جاتی ہے اور دلی مرادیں پاتا ہے ۔ الہٰی حمدوثناہ سے تناسخ مٹ جاتا ہے ۔ خود کامیاب ہوتا ہے اور ساتھیوں کو کامیاب بناتا ہے غرض یہ کہ سارے خاندان کو کامیاب بناتا ہے ۔ خادم نانک قربان ہے اس پر جو محبوب خدا ہے ۔

راگُ کانڑا بانھیِ نامدیۄ جیِءُ کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ایَسو رام راءِ انّترجامیِ ॥
جیَسے درپن ماہِ بدن پرۄانیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بسےَ گھٹا گھٹ لیِپ ن چھیِپےَ ॥
بنّدھن مُکتا جاتُ ن دیِسےَ ॥੧॥
پانیِ ماہِ دیکھُ مُکھُ جیَسا ॥
نامے کو سُیامیِ بیِٹھلُ ایَسا ॥੨॥੧॥
لفظی معنی:
ایسو رام رائے ۔ ایسا خداوند ۔ انتر جامی ۔ راز دل جاننے والا۔ درپن ۔ شیشا۔ بدن۔ جسم۔ پرانی ۔ ظاہر۔ رہاؤ۔ گھٹا گھٹ۔ ہر دلمیں۔ لیپ ۔ اثر۔ چھیپے ۔ نشان۔ بندھن ۔ مکتا۔ پابندیوں سے آزاد۔ جان نہ ویسے ۔ غلامیوں میں دکھائی نہیں دیتا ۔ (1) مکھ ۔ چہرہ
ترجمہ:
خدا راز دل جاننے والا ہے ایسا ہے جیسے شیشے میں جسم ۔ رہاؤ۔ ہر دلمیں بستا ہے مگر کسی اثر سے بیباق اور بغیر نشان۔ پابندیوں سے آزاد کبھی غلامی یا پابندی میں دکھائی نہیں دیتا۔ جیسے پانی میں چہرہ دیکھتے ہو۔ اس طرح کا ہے مالک نامدیو۔

راگُ کلِیان مہلا ੪
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
راما رم رامےَ انّتُ ن پائِیا ॥
ہم بارِک پ٘رتِپارے تُمرے توُ بڈ پُرکھُ پِتا میرا مائِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ کے نام اسنّکھ اگم ہہِ اگم اگم ہرِ رائِیا ॥
گُنھیِ گِیانیِ سُرتِ بہُ کیِنیِ اِکُ تِلُ نہیِ کیِمتِ پائِیا ॥੧॥
گوبِد گُنھ گوبِد سدا گاۄہِ گُنھ گوبِد انّتُ ن پائِیا ॥
توُ امِتِ اتولُ اپرنّپر سُیامیِ بہُ جپیِئےَ تھاہ ن پائِیا ॥੨॥
اُستتِ کرہِ تُمریِ جن مادھوَ گُن گاۄہِ ہرِ رائِیا ॥
تُم٘ہ٘ہ جل نِدھِ ہم میِنے تُمرے تیرا انّتُ ن کتہوُ پائِیا ॥੩॥
جن کءُ ک٘رِپا کرہُ مدھسوُدن ہرِ دیۄہُ نامُ جپائِیا ॥
مےَ موُرکھ انّدھُلے نامُ ٹیک ہےَ جن نانک گُرمُکھِ پائِیا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
رم۔ خدا جو ہر جائی ہے اور سب میں بستا ہے ۔ا نت ۔ آخرت۔ ہستی کی قدرقیمت کا اندازہ ۔ بارک ۔ بچے ۔ پرتپارے ۔ پردر دہ۔ وڈپرکھ ۔ بلند ستی ۔ مائیا۔ ماتا ۔ رہاؤ۔ اسنکھ ۔ بیشمار ۔ اگم ۔ رسائی سے باہر۔ رائیا۔ حکمران۔ سرت ۔ خیال آرائی ۔ سوچ ۔ گنی ۔ گیانی ۔ اوصاف والے دانشمند۔ تل۔ ذراسی (1) گن گوبند انت۔ گو بند مراد خدا کے اوصاف کے شمار کی آخر۔ امت۔ جسکی پیمائش نہ کی جاسکے ۔ اتول ۔وزن نہ کیا جاسکے ۔ اپنپر۔ پرے سے پرے مراد اتنا وسیع کہ کنارہ نہ ہو۔ تھاہ ۔ گہرائی کا اندازہ (2) استت ۔ تعریف ۔ ستائش ۔ مادہو ۔ خدا۔ رائیا۔ رجاہ ۔ حکمران۔ خدا ۔ جل ندھ ۔ سمندر۔ مینے ۔ مچھلی ۔ انت ۔ آخر۔ کتہو ۔ کہیں (3) مدھسودن ۔ خدا۔ نام جپائیا ۔ یا دوریاض کے لئے نام عنایت فرماو۔ اندھلے ۔ نابینا۔ ٹیک۔ آسرا۔ گورمکھ ۔ مرشدکے وسیلے سے ۔
ترجمہ:
خدا جو ہرجائی اور سب کے اندر بسا ہآس اسکی آخرت کا کسی کو پتہ نہیں۔ ہم تیرے پروردہ بچے ہیں تو بلند عظمت اور سب سے عالی ہے تو ہی ہمارا ماتا پتا ہے ۔ رہاؤ۔ خدا بیشمار ناموں وال اہے ۔ اس تک انسان رسائی حاصل نہیں کر سکتا ۔ بہت سے عالم فاضل بہت خیال آرائی اور سوچ وچار کرتے ہیں مگر ذراسی قدرومنزلت نہیں پاسگا۔ (1) ہمیشہ الہٰی حمدوچناہ کرتے ہیں مگر کسی کو اسکے اوصاف کی تعداد انازہ نہیں لگا سکا اے خدا تیری ہستی کی پیمائش نہیں ہوسکتی وز ن نہیں کیا جاسکتا تو نہایت وسیع ہے تیرا نام کی بہت یا د وریاض ہو رہی ہے ۔ مگر تیری قوتوں کی گہرائی کا پتہ نہیں چلا (2) اے خدا تیرے خادم تیری حمدوثناہ کرتے ہیں مگر آپ ایک سمندر کی مانند ہو اور انسان ایک مچھلی کوئی بھی تیری ہستی اور قوت کا اندازہ نہں لگا سکا۔ (3) اے ظالموں کو ختم کرنے والے خدا الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت یادوریاض کے لئے عنایت فمراؤ۔ مجھ عقل و دانش سے بہرے نادان کو نام کا ہی آسرا ہے اے خدمتگار نانک مرید مرشد ہونے سے ملتا ہے ۔

کلِیانُ مہلا ੪॥
ہرِ جنُ گُن گاۄت ہسِیا ॥
ہرِ ہرِ بھگتِ بنیِ متِ گُرمتِ دھُرِ مستکِ پ٘ربھِ لِکھِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر کے پگ سِمرءُ دِنُ راتیِ منِ ہرِ ہرِ ہرِ بسِیا ॥
ہرِ ہرِ ہرِ کیِرتِ جگِ ساریِ گھسِ چنّدنُ جسُ گھسِیا ॥੧॥
ہرِ جن ہرِ ہرِ ہرِ لِۄ لائیِ سبھِ ساکت کھوجِ پئِیا ॥
جِءُ کِرت سنّجوگِ چلِئو نر نِنّدکُ پگُ ناگنِ چھُہِ جلِیا ॥੨॥
جن کے تُم٘ہ٘ہ ہرِ راکھے سُیامیِ تُم٘ہ٘ہ جُگِ جُگِ جن رکھِیا ॥
کہا بھئِیا دیَتِ کریِ بکھیِلیِ سبھ کرِ کرِ جھرِ پرِیا ॥੩॥
جیتے جیِء جنّت پ٘ربھِ کیِۓ سبھِ کالےَ مُکھِ گ٘رسِیا ॥
ہرِ جن ہرِ ہرِ ہرِ پ٘ربھِ راکھے جن نانک سرنِ پئِیا ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
ہبیا ۔ خوش ہوا۔ بنی ۔ لائق ۔ ست۔ سمجھ ۔ گرمت۔ سبق ۔ واعظ مرشد۔ مستک ۔ پیشانی ۔ لکھیا۔ تھریر ۔ رہاؤ۔ پگ ۔ پاؤں۔ کیرت۔ صفت صلاح ۔ گھس چندن ۔ خوشبو دیتا ہے ۔ چندن گھسنے کے بعد (1) ہرجن۔ خادم خدا۔ ہر لو خدا سے محبت ۔ ساکت مادہ پرست ۔ منکر۔ منافق ۔ کھوج پییا۔ مخالفت کرتے ہیں۔ جیؤ کرت ۔ سنجوگی ۔ جیسے کئے اعمالات کے تاثرات کے مطابق نند ک بدگوئی کرنے والا ۔ ناگن ۔ سانپنی (2) رکاھے ۔ محافظ ۔ جگ جگ ۔ ہر زمانے میں۔ جن رکھیا۔ خدمتگار کی حفاظت کی ۔ دیت ۔ براآدمی ۔ بخیلی ۔ چغلی ۔ حسد۔ جھر پریا۔ مایوس۔ ہوا (3) جیئہ جنت۔ مخلوقات ۔ کالے ۔ موت۔ گرسیا۔ زرد میں۔ قابؤ۔ سرن ۔ پناہ۔
ترجمہ:
خادم خدا خدا کی حمدوچناہ کرکے خوشی محسوس کرتا ہے سبق مرشد پر عمل پیرا ہوکر الہٰی خدمت یادوریاض اسے پیاری محسوس ہوتی ہے ۔ خدا نے پہلے سے ہی اسکی پیشانی پر کندہ کی ہوتی ہے ۔ رہاؤ۔ مرشد میں دن رات دھیان لگاتا ہوں ۔ جس کی برکت و عنایت سے خدا میرے دل میں بس گیا ۔ الہٰی حمدوثناہ دنیا میں ایک قیمتی نعمت ہے یسے چندن خوشبوں دیتا ہے ۔ پتھر پہ گھسنے کے بعد (1) خادم خدا خدا سے پیار کرتے ہیں اور منکر و منافق قدرورت و حسد کرتے ہیں ۔ جیسے جیسے پہلے کئے ہوئے اعمال کے تاثرات کے مطابق بد گوئی کی طرف بڑھتا ہے ویسے ہی اسکی روحانی واخلاقی زندگی بد سے بد تر ہوتی جاتی ہے اور وہ حسد میں جلتا رہتا ہے ۔ جیسے سانپ کے ڈسنے سے موت ہو جاتی ہے (2) اے خدا اپنے محبوبوں کے خود محافظ ہو اور ہر وقت ہر دور زماں م حفاظت کی ہے ۔ جس جس دشمن نے بدگوئی کی آخر شکست کھائی (3) خدا نے جتنی مخلوقات پیدا کی آخر لقمہ اجل ہوئے ۔ اے خادم نانک۔ خدا نے اپنے بھگتوں ریاض کاروں کی خود حفاظت کی جو زیر پناہ آئیا۔

کلِیان مہلا ੪॥
میرے من جپُ جپِ جگنّناتھے ॥
گُر اُپدیسِ ہرِ نامُ دھِیائِئو سبھِ کِلبِکھ دُکھ لاتھے ॥੧॥ رہاءُ ॥
رسنا ایک جسُ گاءِ ن ساکےَ بہُ کیِجےَ بہُ رسُنتھے ॥
بار بار کھِنُ پل سبھِ گاۄہِ گُن کہِ ن سکہِ پ٘ربھ تُمنتھے ॥੧॥
ہم بہُ پ٘ریِتِ لگیِ پ٘ربھ سُیامیِ ہم لوچہ پ٘ربھُ دِکھنتھے ॥
تُم بڈ داتے جیِء جیِئن کے تُم جانہُ ہم بِرتھے ॥੨॥
کوئیِ مارگُ پنّتھُ بتاۄےَ پ٘ربھ کا کہُ تِن کءُ کِیا دِنتھے ॥
سبھُ تنُ منُ ارپءُ ارپِ اراپءُ کوئیِ میلےَ پ٘ربھ مِلتھے ॥੩॥
ہرِ کے گُن بہُت بہُت بہُ سوبھا ہم تُچھ کرِ کرِ برنتھے ॥
ہمریِ متِ ۄسگتِ پ٘ربھ تُمرےَ جن نانک کے پ٘ربھ سمرتھے ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
جگناتھ ۔ مالک عالم۔ اپدیس ۔ سبق۔ واعظ۔ دھیایؤ۔ دھیان لگایئیو ۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ دکھ ۔ مصائب۔ لاتھے ۔ ختم ہوئے ۔ رہاؤ۔ رسنا۔ زبان۔ جس ۔ تعریف۔ ستائش ۔ حمدوثناہ ۔ بہو رستتھے ۔ زیادہ زبانوں کے مالک۔ تمنتھے ۔ تیرے (1) لوچیہہ۔ چاہتے ہیں۔ دکھنتھے ۔ دیکھنے یادیدار کی ۔ داتے ۔سخی۔ برتھے ۔ درد دل (2) مارگ۔ طریقہ ۔ پنتھ ۔ راستہ ۔ دنتھے ۔ دوں۔ ارپؤ۔ بھینٹ۔ اراپؤ۔ بھینٹ کراوں۔ ملتھے ۔ خدا کو ملا ہوا۔ (3) سوبھا شہرت۔ تپھ ۔ معمولی ۔ برنتھے ۔ برنتھے ۔ بیان کرتے ہیں۔ وسگت ۔ قابؤ ۔ سمرتھے ۔ باتوفیق ۔
ترجمہ:
اے دل مالک عالم خدا کو یاد کیا کر۔ سبق مرشد کے مطابق الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت میں دھیان لگانے سے سارے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔ رہاؤ۔ اے خدا میری واحد زبان تیرے اوصاف بیان کرنے سے قاصر ہے زیادہ زبانیں بخش ۔ ساری مخلوقات بار بار ہر گھڑی ہر پل تیری حمدوچناہ کرتے ہیں۔ مگر تاہم تیرے سارے اوصاف بیان نہیں کر سکتے (1) اے خدا اب تجھ سے بہت پیار ہوگیا ہے اب تیرے دیدار کی چاہ ہوگئی ہے ۔ آپ بھاری سخی ہو اور آپ مخلوقات زندگیاں بخشنے والے ہو تو ہی ہمارے درد دل کو جانتا ہے (2) اگر کوئی الہٰی ملاپ کا رستہ بتائے تو اسے کیا دینا چاہیے ۔ اگر کوئی خدا رسیدہ محبوب خدا مل جائے اور وہ خدا سے ملاوے تو میں اپنا سب کچھ اور دل و جان بھینٹ کردوں (3) ۔ الہٰی اوصاف بیشمار ہیں اور بیشمار عظمت وحشمت ہے مگر ہم بہت کم بیان کر سکتے ہیں ۔ اے نانک۔ باتوفیق خدا۔ ہماری عقل و ہوش تیرے زیر فرمان ہے اے خدا۔

کلِیان مہلا ੪॥
میرے من جپِ ہرِ گُن اکتھ سُنتھئیِ ॥
دھرمُ ارتھُ سبھُ کامُ موکھُ ہےَ جن پیِچھےَ لگِ پھِرتھئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سو ہرِ ہرِ نامُ دھِیاۄےَ ہرِ جنُ جِسُ بڈبھاگ متھئیِ ॥
جہ درگہِ پ٘ربھُ لیکھا ماگےَ تہ چھُٹےَ نامُ دھِیائِتھئیِ ॥੧॥
ہمرے دوکھ بہُ جنم جنم کے دُکھُ ہئُمےَ میَلُ لگتھئیِ ॥
گُرِ دھارِ ک٘رِپا ہرِ جلِ ناۄاۓ سبھ کِلبِکھ پاپ گتھئیِ ॥੨॥
جن کےَ رِد انّترِ پ٘ربھُ سُیامیِ جن ہرِ ہرِ نامُ بھجتھئیِ ॥
جہ انّتیِ ائُسرُ آءِ بنتُ ہےَ تہ راکھےَ نامُ ساتھئیِ ॥੩॥
جن تیرا جسُ گاۄہِ ہرِ ہرِ پ٘ربھ ہرِ جپِئو جگنّنتھئیِ ॥
جن نانک کے پ٘ربھ راکھے سُیامیِ ہم پاتھر رکھُ بُڈتھئیِ ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
میرے من۔ میرے دل۔ جپ۔ یاد کر۔ ہرگن ۔ الہٰی اوصاف۔ اکتھ ۔ ناقابل بیان ۔ سنبھئی ۔ سنتے ہیں دھرم۔ انسنای فرض ۔ ارتھ ۔ ضرورتوں کا پورا ہونا ۔ کام ۔ کامیابیاں۔ موکھ ۔ نجات۔ رہاؤ۔ وڈبھاگ متھئی ۔ بلند قسمت سے جس کی پیشانی پر تحریر ہے (1) رہاؤ۔ درگیہہ۔ عدالتمیں۔ لیکھا۔ حساب۔ دھیاتھئی ۔ دھیان لگا کر (1 دکوھ ۔ عذآب ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ الگتھئی ۔ لگی ہے ۔ ہرجل نادائے ۔ الہٰی پانی سے غسل کرائے ۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ گھتی ۔ ختم ہو جاتے ہیں (2) نام بھجتھی ۔ نام ۔ ست سچ حق وحقیقت کی یادوریاض کرتا ہے ۔ اوسر ۔ موقہ ۔ بنت۔ بنتا ہے ۔ راکھے ۔ بچاتا ہے ۔ نام ساتھیئی ۔ ساتھی ہوکر (3) جگنتھی ۔ مالک عالم ۔ ڈبتھیئی ۔ ڈوب رہے کو۔
ترجمہ:
اے دل یاد کر اس خدا کو جس کے اوصاف جس کو بیان سے باہر سنتے ہیں جس کے روزمرہ کے فرائض دنیاوی ضرورتوں کا پورا ہونا ۔ کامیابیاں اور ناجت جو زندگی کے لئے نعمت اور نشانہ ہیں خدائی خدمتگار کے پیچھے پرتھی ہیں مراد اسے میسر نہیں۔ رہاؤ۔ الہٰی نام میں وہی شخس دھیان دیتا ہے جس خادم خدا کی پیشانی پر بلند قسمت سے تحریر ہوتا ہے ۔ جب الہٰی عدالت میں اعمالات کا حساب مانگا جاتا الہٰی نام میں دھیان لگانے سے سرخرو ہوتا ہے (1) انسان کے اندر دیرینہ عیبوں اور خودی کی ناپاکیزگی اکھٹی ہوتی رہتی ہے ۔ مرشد اپنی کرم و عنایت الہٰی نام کے پاک (جل) سے غسل کرا کر عیبوں اور گناہوں کی غلاظت دور کر دیتا ہے (2) خادماں خدا کے دل میں خدا بستا ہے اور وہ الہٰی نام کی یادوریاض کرتے ہیں جب کوئی آخرتی موقع بنتا ہے تو الہٰی نام ساتھی بنتا ہے (3) اے خدا تیرے خدمتگار تیری حمدوچناہ کرتے ہیں مالک علام ۔ اے نانک کے محافظ ہم پتھروں جیسوں کو ڈوبنے سے بچاؤ۔

کلِیان مہلا ੪॥
ہمریِ چِتۄنیِ ہرِ پ٘ربھُ جانےَ ॥
ائُرُ کوئیِ نِنّد کرےَ ہرِ جن کیِ پ٘ربھُ تا کا کہِیا اِکُ تِلُ نہیِ مانےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ائُر سبھ تِیاگِ سیۄا کرِ اچُت جو سبھ تے اوُچ ٹھاکُرُ بھگۄانےَ ॥
ہرِ سیۄا تے کالُ جوہِ ن ساکےَ چرنیِ آءِ پۄےَ ہرِ جانےَ ॥੧॥
جا کءُ راکھِ لےءِ میرا سُیامیِ تا کءُ سُمتِ دےءِ پےَ کانےَ ॥
تا کءُ کوئیِ اپرِ ن ساکےَ جا کیِ بھگتِ میرا پ٘ربھُ مانےَ ॥੨॥
ہرِ کے چوج ۄِڈان دیکھُ جن جو کھوٹا کھرا اِک نِمکھ پچھانےَ ॥
تا تے جن کءُ اندُ بھئِیا ہےَ رِد سُدھ مِلے کھوٹے پچھُتانےَ ॥੩॥
تُم ہرِ داتے سمرتھ سُیامیِ اِکُ ماگءُ تُجھ پاسہُ ہرِ دانےَ ॥
جن نانک کءُ ہرِ ک٘رِپا کرِ دیِجےَ سد بسہِ رِدےَ موہِ ہرِ چرانےَ ॥੪॥੫॥
لفظی معنی:
جتونی ۔ سوچ ۔دلی خیال۔ جانے سمجھاتا ہے ۔ نند ۔ بد گوئی ۔ تل ذرا سا۔ رہاؤ۔ لا فناہ ۔ دائمی ۔ اوچ ۔ بلند عظمت ۔ کال۔ موت۔ جوہ ۔ زیر نظر۔ ہر جانے ۔ خدمتگار خدا (1) سمرت ۔ اچھی سمجھ ۔ دانش ۔ پے کانے ۔ پاے کانے ۔ کام میں دھیان ۔ دیکر۔ اپر۔ برابری ۔ مانے ۔ منظور یا قبول (2) ۔ چوج ۔ کھل تماشے ۔ وڈان ۔ حیران کرنے والے ۔ نمکھ آنکھ جھپکنے کے عرصے میں ۔ رد۔ دل ۔ سدھ ۔ صاف (3) سمرتھ ۔ قابل ۔ باتوفیق ۔ دانے ۔ خیرات ۔ بھیک۔ سد۔ ہمیشہ ۔ ردے ۔ دلمیں۔ چرانے ۔ چرن پاؤں۔
ترجمہ:
ہماری تشو یش خدا ہی کو معلوم ہے ۔ دوسرا اگر کوئی بد نامی یا بد گوئی کرتا تو خدا رتی بھر اسکے کہنے کو نہین مانتا ۔ رہاؤ ۔ اے انسان سب کچھ چھوڑ کر لافناہ خدا کی خدمت کر جو سب سے بلند تقدیر سازہ سہتی ہے ۔ الہٰی کدمت کرنیوالے پر موت اپنی نظر تک نہیں ڈال سکتی بلکہ اسکے پاؤں پڑتی ہے (1) جنکا محافظ بنتا ہے خدا اسے اچھی عقل اور سمجھ بخشش کرتا ہے ۔ جو مقبول ومنظور خدا ہو جاتا ہے اسکی کوئی برابر نہیں کر سکتا (2) خدا کے کرشمے حیران کرنے والے ہیں وہ آنکھ جھپکنے کے دور میں نیک و بد کی پہچان کر لیتا ہے ۔ پاک دل اسکا ملاپ حاصل کر لیتے ہیں اور برے ناپاک پچھتاتے رہتے ہیں۔ اس لیے خادموں کو سکون ملتا ہے (3) اے خدا تو قابلیت اور باتوفیق قوتوں کا مالک ہے ۔ تجھ سے ایک بھیک مانگتا ہوں۔ خادم نانک کو اپنی مہربانی اور کرم عنایت سے بخشش کر تیرے پاؤں ہمیشہ میرے دلمیں بسے رہیں۔

کلِیان مہلا ੪॥
پ٘ربھ کیِجےَ ک٘رِپا نِدھان ہم ہرِ گُن گاۄہگے ॥
ہءُ تُمریِ کرءُ نِت آس پ٘ربھ موہِ کب گلِ لاۄہِگے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہم بارِک مُگدھ اِیان پِتا سمجھاۄہِگے ॥
سُتُ کھِنُ کھِنُ بھوُلِ بِگارِ جگت پِت بھاۄہِگے ॥੧॥
جو ہرِ سُیامیِ تُم دیہُ سوئیِ ہم پاۄہگے ॥
موہِ دوُجیِ ناہیِ ٹھئُر جِسُ پہِ ہم جاۄہگے ॥੨॥
جو ہرِ بھاۄہِ بھگت تِنا ہرِ بھاۄہِگے ॥
جوتیِ جوتِ مِلاءِ جوتِ رلِ جاۄہگے ॥੩॥
ہرِ آپے ہوءِ ک٘رِپالُ آپِ لِۄ لاۄہِگے ॥
جنُ نانکُ سرنِ دُیارِ ہرِ لاج رکھاۄہِگے ॥੪॥੬॥ چھکا ੧॥
لفظی معنی:
آس۔ امید۔ کرپاندھان۔ مہربانیوں کے خزانہ ۔ رحمان الرحیم۔ رہاؤ۔ بارک ۔ بچے ۔ مگدھ ۔ بیوقوف۔ ایان۔ نااہل۔ ست ۔ بیٹا ۔ کھن کھن۔ پل پل۔ بھاوہنگے ۔ پیارے (1) تھور ۔ ٹھکانہ (2) بھاویہہ۔ چاہتا ہے ۔ جوتی جوت۔ نور میں نور۔ یکسو (3) لو۔ محبت۔ لگن۔ لاج۔ عزت۔
ترجمہ:
اے مہربانیوں کے خزانے خدا کرم و عنایت فرما تاکہ تیری حمدوثناہ کرتے رہیں۔ ہم آپ ہر ہر روز امید کرتے ہیں آپ کب گلے لگاؤ گے ۔ رہاؤ۔ ہم بیوقوف نادان بچے ہیں آپ باپ ہو باپ ہمیشہ سمجھاتے ہیں۔ بیٹا بار بار بھولتا ہے بگاڑتا ہے مگر عالم کے باپ سمجھاتے ہیں اور پیارے ہیں (1) اے خدا جو تو دیتا ہے وہی پاتے ہیں۔ ہمیں دوسرا کوئی ٹھکانہ ڈکھائی نہیں دیتا جہاں ہم جاسکیں (2) جو ہیں عاشق الہٰی وہی محبوب خدا کے ہیں ۔ نور میں نور ملانے سے نور سے یکسو ہا جائینگے (3) خدا خود مہربان ہوکر اپنا پیار لگاتے ہیں ۔ خادم نانک۔ زیر پناہ ترے در پر ہے خدا خود ہی عزت رکھتے ہو۔

کلِیانُ بھوپالیِ مہلا ੪
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
پارب٘رہمُ پرمیسُرُ سُیامیِ دوُکھ نِۄارنھُ نارائِنھے ॥
سگل بھگت جاچہِ سُکھ ساگر بھۄ نِدھِ ترنھ ہرِ چِنّتامنھے ॥੧॥ رہاءُ ॥
دیِن دئِیال جگدیِس دمودر ہرِ انّترجامیِ گوبِنّدے ॥
تے نِربھءُ جِن س٘ریِرامُ دھِیائِیا گُرمتِ مُرارِ ہرِ مُکنّدے ॥੧॥
جگدیِسُر چرن سرن جو آۓ تے جن بھۄ نِدھِ پارِ پرے ॥
بھگت جنا کیِ پیَج ہرِ راکھےَ جن نانک آپِ ہرِ ک٘رِپا کرے ॥੨॥੧॥੭॥
لفظی معنی:
پار برہم۔ پارلگانیوالا خدا۔ پرمیشور۔ اونچا مالک ۔ دکھ نوارن ۔ عذآب مٹانیوالا۔ جاچیہہ۔ مانگتے ہیں۔ سکھ ساگر۔ آرام و آسائش کا سمندر۔ کو عبور کرنیوالا جہاز۔ چنتا منے ۔ منی یا ہیرا جو دلی مرادیں پوری کرتا ہ ۔ رہاؤ۔ دین دیال ۔ غریبوں پر مہربان غریب پرور جگدیش ۔ مالک عالم ۔ دمودر۔ خدا۔ انتر جامی ۔ راز دل جاننے والا۔ نربھؤ۔ بیخوف۔ دھیائیا۔ دھیان لگائیا۔ مرار ۔ خدا۔ مکندے ۔ نجات دہند ہ (2) پیج ۔ عزت۔
ترجمہ:
اے خدا تو کامیاب بنانیوال ااعلے مالک ہے تو سب کی دلی مرادیں کرنے والاآرام و آسائش کا سمند رہے ۔ اے دنیایو زندگی کے سمندر کو عبور کرنے والے جہاز اور دلی مرادیں پوری کرنے والے ہیرے سارے عابد و خدمتگاران خدا تجھی سے مانگتے ہیں۔ رہاؤ۔ اے گریب پرور مالک عالم راز دل جاننے والے خدا اے خدا اے نجات بخشنے والے جنہوں نے سبق مرشد تیری یادوریاض و عبات کی ہے وہ بیخوف ہوئے (1) جو خدا کی زیر اطاعت و پناہ آئے اپنے عابدوں رضا کاروں اور ریاض کرنے والوں کی عزت رکھتا ہے ۔

راگُ کلِیانُ مہلا ੫ گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ہمارےَ ایہ کِرپا کیِجےَ ॥
الِ مکرنّد چرن کمل سِءُ منُ پھیرِ پھیرِ ریِجھےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آن جلا سِءُ کاجُ ن کچھوُئےَ ہرِ بوُنّد چات٘رِک کءُ دیِجےَ ॥੧॥
بِنُ مِلبے ناہیِ سنّتوکھا پیکھِ درسنُ نانکُ جیِجےَ ॥੨॥੧॥
لفظی معنی:
ال۔ بھوڑ۔ مکر ند۔ پھولوں ۔ رس۔ ریچھے ۔ مشتاق رہے ۔ رہاؤ۔ ہر بوند ۔ الہٰی قطرہ آب ۔ آسمانی قطرہ آب ۔ چاترک۔ پپیہا ۔ (1) سنتوکھا ۔ صبر۔ پیکھ درسن ۔ دیدار کرکے ۔ جیجے ۔ جیتا ہے ۔ زندہ ہے ۔
ترجمہ:
اے خدا مجھ پر یہ کرم و عنایت کر کہ جس طرح سے بھورا پھول کے رس مشتاق رہتا ہے ۔ میں تیرا گرویدہ رہون۔ رہاؤ۔ دوسرے پانیوں سے کچھ کام نہیں پپیہے کو آسمانی قطرہ دیجیئے ۔ (1) بغر ملاپ صبرنہیں آتا تیرا دیدار کرنے سے زندگی میئسر ہوتی ہے ۔

کلِیان مہلا ੫॥
جاچِکُ نامُ جاچےَ جاچےَ ॥
سرب دھار سرب کے نائِک سُکھ سموُہ کے داتے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کیتیِ کیتیِ ماںگنِ ماگےَ بھاۄنیِیا سو پائیِئےَ ॥੧॥
سپھل سپھل سپھل درسُ رے پرسِ پرسِ گُن گائیِئےَ ॥
نانک تت تت سِءُ مِلیِئےَ ہیِرےَ ہیِرُ بِدھائیِئےَ ॥੨॥੨॥
لفظی معنی:
جاچک ۔ بھکاری ۔ نام جاپے ۔ نام مانگتا ہے ۔ سرب دھار۔ سب کے آسرے ۔ سرب کے نائیک ۔ ملاک ۔ سکھ سموہ ۔ سارے سکھ ۔ داتے دینے والا۔ رہاو۔ کیتی کیتی ۔ کتنے ہی ۔ مانگن مانگے ۔ مانگیں۔ مانگتے ہیں۔ بھاونیاں۔ مرادیں۔ خواہشات (1) درس۔ دیدار۔ پرس۔ چھوہ۔ گن گاییئے ۔حمدوثناہ ۔صفت صلاح تت ۔ تت سیؤ۔ حقیقت حقیقت سے ۔ ہیرے ہیر بدھاییئے ۔ ہیرا مراد۔ قیمتی من کو نایاب خدا میں محو ومجذوب کرؤ۔
ترجمہ:
بھکاری الہٰی نام ست سچ وحقیقت مانگا ہے ۔ سب کے آسرے سب کے مالک سارے آرام و آسائش پہنچانے والے ۔ رہاؤ۔ کتنے ہی مرادیں مانگنے والے ہیں اور حآصل کرتے ہیں (1) الہٰی دیدار سے سارے پھل حاصل ہوتی ہے اور چھوہ سے حمدوثناہ کرتے ہیں اے نانک۔ اصل و حقیقت اصل و حقیقت میں مجذوب ہو جاتی ہے ۔ جیسے ہیرے جیسا دل الہٰی ہیرے میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔

کلِیان مہلا ੫॥
میرے لالن کیِ سوبھا ॥
سد نۄتن من رنّگیِ سوبھا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ب٘رہم مہیس سِدھ مُنِ اِنّد٘را بھگتِ دانُ جسُ منّگیِ ॥੧॥
جوگ گِیان دھِیان سیکھناگےَ سگل جپہِ ترنّگیِ ॥
کہُ نانک سنّتن بلِہارےَ جو پ٘ربھ کے سد سنّگیِ ॥੨॥੩॥
لفظی معنی:
میرے لال سوبھا مراد خدا کی شہرت۔ سدا توتن ۔ ہمیشہ ۔ نیئی ۔ من رنگی ۔ سوبھا ۔ من کو متاثر کرنے والی شہرت۔ رہاؤ۔ برہم۔ برہما۔ مہیس۔ شوجی ۔ سدھ ۔ خدا یا الہٰی ملاپ یافتہ جوگی ۔ منی ۔ روحانی عالم ۔ اندر۔ اندرویتا۔ جس ۔ حمدوثناہ (1) جوگ الہٰی ملاپ کا طریقہ ۔ گیان ۔ علم ۔ دھیان۔ توجہ ۔ سگل ۔ سار ۔ بپیہہ۔ یادو ریآض کرتے ہیں۔ ترنگی ۔ لہروں والے کو ۔ بلہارے ۔ قربان ۔ سنگی ۔ ساتھی ۔
ترجمہ:
میرے خدا کی عظمت و حشمت ہمیشہ نئی اور دل کو اپنے پیار کی کشش رکھتی ہے ۔ رہاو۔ برہما شوجی خدا رسیدہ جوگی منی اور اندر ہمیشہ اس سے حمدوثناہ خدمت و عبادت کی بھیک مانگتے ہیں (1) جوگی ۔ عالم اور دھیان لگانے والے شیخ اور ناگے اس لہری خدا کے نام کی یادریاض کرتے ہیں۔ اے نانک بتادے کہ قربان ان سنتوں پر جو خدا کے ہمیشہ ساتھی بنے رہتے ہیں۔

کلِیان مہلا ੫ گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
تیرےَ مانِ ہرِ ہرِ مانِ ॥
نیَن بیَن س٘رۄن سُنیِئےَ انّگ انّگے سُکھ پ٘رانِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِت اُت دہ دِسِ رۄِئو میر تِنہِ سمانِ ॥੧॥
جت کتا تت پیکھیِئےَ ہرِ پُرکھ پتِ پردھان ॥
سادھسنّگِ بھ٘رم بھےَ مِٹے کتھے نانک ب٘رہم گِیان ॥੨॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
تیرے مان ۔ تیرے وقار کے صدقہ ۔ نین ۔ آنکھیں۔ بین ۔ بول۔ کلام۔ سرون ۔ کانوں۔ انگ انگے ۔ ہر اعضا جسمانی ۔ پران ۔ زندگی ۔ سانس ۔ رہاؤ۔ ات ات ۔ یہاں وہاں ۔ دیہہ دس۔ ہر طرف۔ رویؤ۔ بستا ہے ۔ میر ۔ بہار ۔ تنیہہ۔ تنکے ۔ سمان ۔ برابر ۔ یکساں (1) جت کتا۔ جہاں کہیں ۔ تت ۔ وہیں۔ پیکھیئے ۔ دیکھتے ہیں۔ پرکھ پت۔ مالک ۔ انسان ۔ پردھان ۔ مقبول علام ۔ سادھ سنگ ۔ صھبت نیک انسان ۔ بھرم بھے ۔ بھٹکن اور خوف ۔ برہم گیان ۔ الہٰی روحانی شراکت کی سمجھ و واقفیت ۔
ترجمہ:
تیرے عنایت کئے ہوئے وقار و عظمت کے ذریعے اے خدا آنکھوں کلام اور کانوں سے اور جسمانی اعضا اور سانس سے آرام اور سکون پاتے ہیں۔ رہاؤ۔ یہاں وہاں مراد ہر جگہ تو بستا ہے پہاڑ سے لیکر ایک تنکے تک یکساں اور برابر (1) جہاں کہیں نظر دوڑاتے ہیں دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں وہ مقبول عام نظر آتا ہے ۔ سادہوں کے ساتھ اور صحبت سے وہم و گمان اور خوف مٹتا ہے الہٰی حمدوچناہ اور الہٰی علام سے اے نانک۔

کلِیان مہلا ੫॥
گُن ناد دھُنِ اننّد بید ॥
کتھت سُنت مُنِ جنا مِلِ سنّت منّڈلیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گِیان دھِیان مان دان من رسِک رسن نامُ جپت تہ پاپ کھنّڈلیِ ॥੧॥
جوگ جُگتِ گِیان بھُگتِ سُرتِ سبد تت بیتے جپُ تپُ اکھنّڈلیِ ॥
اوتِ پوتِ مِلِ جوتِ نانک کچھوُ دُکھُ ن ڈنّڈلیِ ॥੨॥੨॥੫॥
لفظی معنی:
گن ۔ وصف۔ ناد۔ سبد۔ آواز۔ دھن۔ آزاد کی رؤ۔ انند۔ سکون۔ وید۔ علم و دانش۔ کتھت۔ کہنا۔ سنت۔ سننا ۔ من جنا۔ الہٰی خدمتگار جنہوں نے برائیوں سے پرہیز کرلای۔ سنت ۔ منڈلی ۔ عاشقان ومحبوبان خدا کی صحبت و قربت۔ رہاؤ۔ گیان دھیان۔ علم وتوجہ ۔ مان ۔ عزت ووقار۔ دان ۔ خیران ۔ رسک ۔ لطف۔ لطف۔فے ۔ رسن ۔ زبان۔ پاپ۔ گناہ ۔ گھنڈلی ۔ مٹ جاتے ہیں (1) جوگ جگت۔ الہٰی ملاپ کا طریقہ تت بیتے ۔ حقیقت کے جاننے والے علمبردار۔ بھگت ۔ خوراک سرت ۔ ہوش۔ سبد۔ کلام۔ اکھنڈلی ۔ لگاتار۔ اوت ۔ پوت۔ آپس میں تانے پیٹے کی طرف ملاپ ۔ یکسو۔ دوقلب یک جان ۔ دکھ ۔ عذاب۔ ڈنڈلی ۔ سزا۔
ترجمہ:
الہٰی اوساف اور آواز و کلام کی سریں سکون دینے والا علم کو سوچتے سمجھتے اور سنتے ہیں دانشور لوگ عاشقان الہٰی و محبوبان خدا کی صحبت و قربت میں ۔ رہاؤ۔ جہاں علم توجہ اور وقار ہے مراد روحانیت و اخلاقی زندگی کی سمجھ آتی ہے اس میں دھیان جاتا ہے اور الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت سے پیار پیدا ہوتا ہے اور دوسروں کو سکھائیا اور تقسیم کیا جاتا ہے وہاں دل لطف سے اسکی زبان سے حمدوچناہ کرتا ہے جس سے گناہ مٹ جاتے ہیں۔ (1) الہٰی ملاپ کا طریقہ علم اور روحانی زندگی کی خوراک کے راز کو سمجھنے والے ہوش کلام و حقیقت کو جاننے والے ہمیشہ عبادت وریاضت کرتے ہیں۔ اے نانک۔ وہ الہٰی نور سے ملکر اسمیں مدغم ہوکر یکسو ہا جاتے ہیں۔ اور تانے پیٹے کی طرف ایک ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی عذاب انہیں متاثر نہیں کرتا۔

کلِیانُ مہلا ੫॥
کئُنُ بِدھِ تا کیِ کہا کرءُ ॥
دھرت دھِیانُ گِیانُ سست٘رگِیا اجر پدُ کیَسے جرءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِسن مہیس سِدھ مُنِ اِنّد٘را کےَ درِ سرنِ پرءُ ॥੧॥
کاہوُ پہِ راجُ کاہوُ پہِ سُرگا کوٹِ مدھے مُکتِ کہءُ ॥
کہُ نانک نام رسُ پائیِئےَ سادھوُ چرن گہءُ ॥੨॥੩॥੬॥
لفظی معنی:
بدھ ۔ طریقہ ۔ دھرت دھیان۔ دھیان لگانا۔ شاشتر گیا۔ مذہبی کتابوں کو سمجھنے والے ۔ اجرپد۔ ناقابل برداشت رتبہ یا درجہ ۔ جرو۔ برداشت ہو۔ رہاؤ۔ سرن پرؤ۔ پناہ لوں (1) کا ہو ۔ پیہ۔ کسی کے پاس ۔ راج ۔ حکومت۔ ۔ سرگا۔ جنت۔ بہشت۔ کوٹ مدھے ۔ کروڑوں میں سے ۔ مکت۔ نجات ۔ آزادی۔ نام رس۔ الہٰی نام کا لطف۔ سادہو سرن ۔ خداریسدہ پاکدامن کی زیر پناہ ۔ گہؤ۔ پکڑنیسے ۔
ترجمہ:
الہٰی ملاپ کے لئے کونسا طریقہ اپنائیا جائے ۔ دھیان لگانا ۔ مذہبی کتابوں کو سمجھنا جانا۔ بیکار ہے ۔ گرتاہم یہ حالت نہ قابل برداشت ہے اسے کیسے برداشت کیا جائے ۔ رہاؤ۔ یسن ۔ مہیس ۔ خدا رسیدہ روحانی انسان منی اور اند رکس کے در پر اسکی پناہ لوں۔ (1) کسی کے پاس حکومت بخشش کرنے کی طاقت ہے کوئی بہشت دے سکتا ہے ۔ کروڑوں میں کوئی ہی ایسی ہستی ہے جو برائیوں سے نجات دلائے ۔ اے نانک۔ بتاد ے کہ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا مزہ چکھنے کو مل سکتا ہے اگر سادہو کے پاؤں پڑؤ۔

کلِیان مہلا ੫॥
پ٘رانپتِ دئِیال پُرکھ پ٘ربھ سکھے ॥
گربھ جونِ کلِ کال جال دُکھ بِناسنُ ہرِ رکھے ॥੧॥ رہاءُ ॥
نام دھاریِ سرنِ تیریِ ॥
پ٘ربھ دئِیال ٹیک میریِ ॥੧॥
اناتھ دیِن آسۄنّت ॥
نامُ سُیامیِ منہِ منّت ॥੨॥
تُجھ بِنا پ٘ربھ کِچھوُ ن جانوُ ॥
سرب جُگ مہِ تُم پچھانوُ ॥੩॥
ہرِ منِ بسے نِسِ باسرو ॥
گوبِنّد نانک آسرو ॥੪॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
پران پت۔ زندگی کے مالک۔ دیال پرکھ ۔ مہربان انسان یا ہستی ۔ سکھے ۔ ساتھی ۔ دوست۔ گربھ جون۔ تناسخ۔ آواگون ۔ کل ۔ جھگرا۔ کال جال۔ موت کا پھندہ۔ دکھ بناسن ۔ عذاب مٹانیوالا۔ ہررکھے ۔ خداحاٖط۔ رہاؤ۔ اے خدا تیرا نام ست ۔ سچ حق وحقیقت کا پابند تیری زیر پناہوں اے مہربان مجھے تیرا ہی آسرا ہے (1) اے خدا تیرے بغیر مجھے کچھ اور کچھ بھی جان پہچان نہیں ہر دور زماں تو ہی دوست ہے انسان کا (3) بے مالک غریب کی تجھ پر ہی امیدوابسطہ ہیں تیرا نام دلمیں بسار ہے (2) اے خدا تور روز و شب دلمیں بسے ۔ اے خدا نانک کے لئے آسرا ہے ۔

کلِیان مہلا ੫॥
منِ تنِ جاپیِئےَ بھگۄان ॥
گُر پوُرے سُپ٘رسنّن بھۓ سدا سوُکھ کلِیان ॥੧॥ رہاءُ ॥
سرب کارج سِدھِ بھۓ گاءِ گُن گُپال ॥
مِلِ سادھسنّگتِ پ٘ربھوُ سِمرے ناٹھِیا دُکھ کال ॥੧॥
کرِ کِرپا پ٘ربھ میرِیا کرءُ دِنُ ریَنِ سیۄ ॥
نانک داس سرنھاگتیِ ہرِ پُرکھ پوُرن دیۄ ॥੨॥੫॥੮॥
لفظی معنی:
من تن ۔ دل و جان سے ۔ جپیئے ۔ یادوریاض ۔ بھگوان ۔ کدا۔ سوپرسن۔ خوشباس ۔ مہربان۔ سدا ۔ ہمیشہ ۔ گلیان ۔ خوشحال ۔ رہاؤ۔ سرب ۔ کارج ۔ سارے کام ۔ سبدھ بھیئے ۔ کامیاب اور درست ہوئے ۔ گن گوپال۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ نا ٹھیادکھ کال۔ روحانی موت اور عذاب مٹا (1) سیو۔ خدمت۔ سرناگی ۔ زیر پناہ پورن ۔ دیو۔ مکمل دیوتا۔
ترجمہ:
اے انسان دل و جان سے یاد خدا کرؤ۔ کامل مرشد کی خوشنودی سے ہمیشہ خوشحالی حاصل ہوتی ہے ۔ رہاؤ۔ الہٰی حمدوچناہ سے سارے کام درست ہو جاتے ہیں۔ جو سادہوں کی صحبت و قربت میں حمد خدا کی گاتا ہے ۔ روحانی موت اور عذاب مٹ جاتے ہیں (1) اے خدا مہربانی کرکہ میں تیری روز و شب خدمت کرو۔ اے کامل فرشتے خدا خادم نانک تیراپناہگیر ہے ۔

کلِیانُ مہلا ੫॥
پ٘ربھُ میرا انّترجامیِ جانھُ ॥
کرِ کِرپا پوُرن پرمیسر نِہچلُ سچُ سبدُ نیِسانھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ بِنُ آن ن کوئیِ سمرتھُ تیریِ آس تیرا منِ تانھُ ॥
سرب گھٹا کے داتے سُیامیِ دیہِ سُ پہِرنھُ کھانھُ ॥੧॥
سُرتِ متِ چتُرائیِ سوبھا روُپُ رنّگُ دھنُ مانھُ ॥
سرب سوُکھ آننّد نانک جپِ رام نامُ کلِیانھُ ॥੨॥੬॥੯॥
لفظی معنی:
انتر جامی۔ دلی راز جاننے والا۔ جان ۔ سمجھ ۔ نہچل۔ نہ ڈگمگانے والا۔ دائمی ۔ سچ ۔ صدیوی ۔ سبد۔ کلام ۔ نیسان ۔ پرورانہ راہداری ۔ رہاؤ۔ آن۔ دوسرا۔ سمرتھ ۔ با توفیق ۔ باقوت ۔ آس۔ امید۔ من تان ۔ دل کو سہارا یا طاقت ۔ سرب گھٹا۔ سارے دلوں ۔ دانے سوآمی ۔ سخی مالک ۔ سو ۔ وہی ۔ پہرن کھانے پہننے کے لئے (1) سرت۔ ہوس۔ مت ۔ عقل و ہوش۔ چترائی ۔ چالاکی ۔ سوبھا ۔ شہرت ۔ روپ رنگ دھن۔ شکل و صورت ۔ رنگ پیار۔ دھن ۔ سرمایہ ۔ مان۔ وقار۔ عزت۔ سرب ۔ سوکھ ۔ ہر طرح کے آرام و آسائش ۔ کلیان ۔ خوشحالی ۔
ترجمہ:
میرا خدا راز دل جاننے والا ہے ۔ اے مالے اعلے مجھے صدیوی نہ ڈگمگانیوالا کلام تیرے در تک پہنچنے کا پروانہ عنایت کر بخشش ۔ رہاؤ۔ اے خدا تیرے بغیر ایسی کوئی با توفیق ہستی نہیںتجھ سے ہی مجھے امید ہے اور اسی کا ہے اسرا۔ سب کودینے والا داتار سخی تو ہی سب کو کھانے پہننے کے لئے دیتا ہے کھاتے پہنتے ہیں (1) ہوش ۔ عقل دانشمند ۔ عظمت وحشمت شکل وصورت سرمایہ و عزت ووقار سارے آرام و آسائش اے نانک الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یاد وریاض و عمل سے خوشحالی حاصل ہوتی ہے ۔

کلِیانُ مہلا ੫॥
ہرِ چرن سرن کلِیان کرن ॥
پ٘ربھ نامُ پتِت پاۄنو ॥੧॥ رہاءُ ॥
سادھسنّگِ جپِ نِسنّگ جمکالُ تِسُ ن کھاۄنو ॥੧॥
مُکتِ جُگتِ انِک سوُکھ ہرِ بھگتِ لۄےَ ن لاۄنو ॥
پ٘ربھ درس لُبدھ داس نانک بہُڑِ جونِ ن دھاۄنو ॥੨॥੭॥੧੦॥
لفظی معنی:
چرن سرن ۔ پناہ پا۔ کلیان ۔ خوشحالی ۔ پربھو نام۔ الہٰی نام۔ پتت پاونو ۔ گناہگاروں کو پاک نیوالا۔ رہاؤ۔ آن ۔ دیگر۔ دوسرا۔ سمرتھ ۔ لائق ۔ قابل با توفق ۔ آس۔ امید۔ مان (1) سادھ ۔ سنگ ۔ سادھ کا ۔ ساتھ ۔ صحبت ۔ جپ ۔ یادوریاض کر۔ نسنگ ۔ بلا شرم و حیا ۔ جمکال ۔ روحانی واخلاقی موت (1) ۔ مکت ۔ نجات ۔ جگت۔ طریقہ ۔ انک ۔ بیشمار۔ سوکھ ۔ آرام و آسائش ۔ ہر بھگت ۔ الہٰی محبت و خدمت ۔ لوے نہ لاونو ۔ برابر نہیں۔ پربھ درس۔ الہٰی دیدار۔ لبدھے ۔ پیار ۔ پریمی بہوڑ۔ دوبار۔ دھاونو ۔ بھٹکتا ۔
ترجمہ:
الہٰی پناہ سے خوشحالی ملتی ہے ۔ خدا کا نام ست سچ حق وحقیقت ناپاک کو پاک بناتا ہے ۔ رہاؤ۔ جو انسان سادہوں کے ساتھ اسکی صحبت و قربت میں یاد خدا کو کرتا ہے اسے روحانی واخلاقی موت کا خوف و خطر نہیں رہتا (1) نجات حاصل کرنے کے طیرقے اور لا انتہا آرام و آسائش الہٰی صحبت اور پیار کے برابر نہیں۔ الہٰی دیدار و محبت کا متوالا انسان دوبار آواگون اور تناسخ میں نہیں پڑتا ۔

کلِیان مہلا ੪ اسٹپدیِیا
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
راما رم رامو سُنِ منُ بھیِجےَ ॥
ہرِ ہرِ نامُ انّم٘رِتُ رسُ میِٹھا گُرمتِ سہجے پیِجےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کاسٹ مہِ جِءُ ہےَ بیَسنّترُ متھِ سنّجمِ کاڈھِ کڈھیِجےَ ॥
رام نامُ ہےَ جوتِ سبائیِ تتُ گُرمتِ کاڈھِ لئیِجےَ ॥੧॥
نءُ درۄاج نۄے در پھیِکے رسُ انّم٘رِتُ دسۄے چُئیِجےَ ॥
ک٘رِپا ک٘رِپا کِرپا کرِ پِیارے گُر سبدیِ ہرِ رسُ پیِجےَ ॥੨॥
کائِیا نگرُ نگرُ ہےَ نیِکو ۄِچِ سئُدا ہرِ رسُ کیِجےَ ॥
رتن لال امول امولک ستِگُر سیۄا لیِجےَ ॥੩॥
ستِگُرُ اگمُ اگمُ ہےَ ٹھاکُرُ بھرِ ساگر بھگتِ کریِجےَ ॥
ک٘رِپا ک٘رِپا کرِ دیِن ہم سارِنّگ اِک بوُنّد نامُ مُکھِ دیِجےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
راما۔ خدا۔ رم ۔ سب میں بسا ہوا۔ سن من بھیجے ۔ سنکر متاثر ہوتا ہے ۔ انمرت ۔ آب حیات۔ حیات کو اخلاقی بنانیوالا روحانی بنانیوالا ۔ میٹھا۔ پیار۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ رہاؤ۔ کاسٹ۔ لکڑی ۔ میسنتر ۔ آگ۔ متھ ۔ ہلاکر۔ سنجم۔ ضبط و زیر نظام ۔ گڈھجے ۔ نکالی جاسکتی ہے ۔ رام نام۔ الہٰی نام۔ حوت سبائی ۔ سب کے اندر ہے نور۔ تت۔ حقیقت ۔ اصلیت (1) نو درواز ۔ جسم میں نو سوراخ ۔ پھیکے ۔ بد مزہ ۔ دسویں ۔ انمرت۔ چویئیجے ۔ مراد ذہن کے ذریعے آب حیات کی دھار بہتی ہے ۔ گر سبدی ہر رس پیجے ۔ گلام مرشد کے ذریعے اسکا لطف لیا جاتا ہے (2) کائیا۔ جسم ۔ نیکو۔ اچھا۔ ہر رس۔ الہٰی لطف۔ امول امولک۔ جسکا مول یا قیمت مقرر نہ ہوسکے (3) اگم۔ انسانی رسائی سے بعید ۔ ٹھاکر مالک عالم ساگر۔ سمندر۔ بھگت ۔ خدمت وعبادت ۔ دین سارنگ ۔ غریب پپیہے ۔ بوند نام۔ الہٰی نام کا قطرہ ۔
ترجمہ:
سب میں بسے خدا کو سنکر من ماتر ہوتا ہے ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت آب حیات کا لطف مزیدار ہے یہ آب حیات سبق مرشد کے ذریعے روحانی وذہنی سکون میں حاصل ہو سکت اہے ۔ رہاؤ۔ جیسے لکڑی میں آگ پوشیدہ اسے جہدوکوشش سے نکال سکتے ہیں اس طرح سے الہٰی نام ہے یہ سارے علام میں پوشیدہ ہے مگر اسکی حقیقت کا پتہ سبق مرشد سے چلتا ہے (1) انسانی جسم میں نو سوراخ یا دروازے ہیں جنکے ذریعے انسان کا رشتہ بیرونی دنیا سے بنتا ہے مگر یہ سارے بد مزہ ہیں آب حیات کی دھارا دسویں دروازے مراد ذہن میں بہتی ہے ۔ اے پیارے خدا ہمیشہ کرم و عنایت فرما کلام مرشد سے یہ لطف حاصل ہو سکتا ہے (2) انسانی جسم ایک شہر کی مانند ہے اس میں الہٰی لطف کا سود خرید کرؤ۔ یہ بیش قیمت بیرا جواہرات خدمت مرشد سے حاصل ہو سکتا ہے (3) خڈا انسانی رسائی سے بعید سچا مرشد تک رسائی محال ہے الہٰی ہیرے جواہرات کا سمندر بھرا ہوا ہے ۔ اچھی طرح سے بندگی عبادت وریاضت کرنے سے الہٰی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔ اے خدا مہربانی کر ہم غریب پپیہے منہ میں الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا قطرہ ڈالو۔

لالنُ لالُ لالُ ہےَ رنّگنُ منُ رنّگن کءُ گُر دیِجےَ ॥
رام رام رام رنّگِ راتے رس رسِک گٹک نِت پیِجےَ ॥੫॥
بسُدھا سپت دیِپ ہےَ ساگر کڈھِ کنّچنُ کاڈھِ دھریِجےَ ॥
میرے ٹھاکُر کے جن اِنہُ ن باچھہِ ہرِ ماگہِ ہرِ رسُ دیِجےَ ॥੬॥
ساکت نر پ٘رانیِ سد بھوُکھے نِت بھوُکھن بھوُکھ کریِجےَ ॥
دھاۄتُ دھاءِ دھاۄہِ پ٘ریِتِ مائِیا لکھ کوسن کءُ بِتھِ دیِجےَ ॥੭॥
ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ جن اوُتم کِیا اُپما تِن٘ہ٘ہ دیِجےَ ॥
رام نام تُلِ ائُرُ ن اُپما جن نانک ک٘رِپا کریِجےَ ॥੮॥੧॥
لفظی معنی:
لالن ۔ الہٰی نام ایک قیمتی لعل ۔ رنگن ۔ رنگ چڑھانے یا رنگنے کی مٹی ۔ من رنگن ۔ من کو متاچر کرنے کے لئے ۔ گر ۔ مرشد طریقہ ۔ رام رنگ راتے ۔ خدا میں محو ومجذوب۔ رس۔ لطف۔ مزہ ۔ رسک ۔ پر لطف۔ گٹک ۔ لطف سے (5) بسدا۔ زمین ۔ سپت دیپ۔ سات براعظم ۔ ساگر۔ سمندر۔ کنچن۔ سونا۔ کاڈھ دھریجے ۔ نکال کردیں۔ انہوں ۔ ان کو ۔ باچھیہہ ۔ چاہتے ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف (6) ساکت ۔ مادہ پرست۔ خدا سے منکر منافق ۔ بھوکن بھوکھ۔ بھوک ہی بھوک ۔ دھاوت ۔ بھٹکتے دوڑ دہوپ کرتے ۔ لکھ کوسن۔ لاکھوں میلوں کو سوں۔ بتھ ۔ فرق (7) اُٹم ۔ عظمت۔ اپما۔ تعریف۔ ستائش ۔ تل ۔ برابر۔
ترجمہ:
بیش قیمت خدا ایک اعلے رنگ ہے اے مرشد اس سے متاثر کرنے کے لئے دل کو دیجیئے ۔ خدا کی محبت میں محو ومجذوب ہر روز اسکا لطف لو (5) سات ہیں زمین کے بر اعظم اور سات ہیں سمند ران سے سونا نکال کر رکھدیں ۔ خادمان خدا عابدان کو اسکی ضرورت نہیں وہ ہمیشہ خدا سے سے الہٰی محبت پیار کا لطف مانگتے ہیں (6) منکر و منافق خدا و مادہ پرست انسان ہمیشہ بھوکے بھوک پکارتے ہیں ۔ دنیاوی دولت کی کشش میں ہمیشہ بھٹکتے پھرتے ہیں اور خدا سے لاکھوں کوس دور رہتے ہیں (7) خدائی خدمتگاروں عابدوں کی کیا تعریف کریں وہ بلند عظمت ہیں۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے برابر دوسری کوئی عظمت و حشمت نہیں اے خدا خادم نانک پر کرم و عنایت فرما۔

کلِیان مہلا ੪॥
رام گُرُ پارسُ پرسُ کریِجےَ ॥
ہم نِرگُنھیِ منوُر اتِ پھیِکے مِلِ ستِگُر پارسُ کیِجےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُرگ مُکتِ بیَکُنّٹھ سبھِ باںچھہِ نِتِ آسا آس کریِجےَ ॥
ہرِ درسن کے جن مُکتِ ن ماںگہِ مِلِ درسن ت٘رِپتِ منُ دھیِجےَ ॥੧॥
مائِیا موہُ سبلُ ہےَ بھاریِ موہُ کالکھ داگ لگیِجےَ ॥
میرے ٹھاکُرُ کے جن الِپت ہےَ مُکتے جِءُ مُرگائیِ پنّکُ ن بھیِجےَ ॥੨॥
چنّدن ۄاسُ بھُئِئنّگم ۄیڑیِ کِۄ مِلیِئےَ چنّدنُ لیِجےَ ॥
کاڈھِ کھڑگُ گُر گِیانُ کرارا بِکھُ چھیدِ چھیدِ رسُ پیِجےَ ॥੩॥
لفظی معنی: رام۔ اے خدا۔ گرپارس۔ مرشد اس پار کی مانند ہے ۔ جسکے لوہے سے چھونے سے سونا بن جاتا ہے ۔ پرس۔ چھوہ مراد میل۔ نرگی ۔ بلاوصف۔ منور۔ بوسیدہ نکمالوہا۔ پارس کے ۔ پارس بناؤ ۔ رہاؤ۔ سرگ ۔ بہشت ۔ جنت۔ مکت ۔ نجات ۔ آزادی ۔ بانچھیہہ۔ چاہتے ہیں۔ نت ۔ ہر روز۔ آسا۔ امیدیں۔ درسن ۔ دیدار۔ ترپت۔ تسلی ۔ تسکین ۔ دھیجے ۔ سکون (1) سبل۔ طاقتور ۔ موہ ۔ محبت۔ کالخ۔ داگ۔ الپت۔ بیلاگ۔ مرگائی۔ مرغا بی ۔پتک ۔ پر۔ بھیجے ۔ بھیگتے (2) چندن داس ۔ چندن کی کوشبو۔ بھونگم ۔ سانپ۔ ویٹرھی ۔ گھری ہوئی۔ کو کسطرح۔ ملیے ۔ چندن لیجے ۔ چندن حاصل ہو۔ کھڑگ ۔ تلوار۔ گرگیان۔ سبق مرشد۔ دکھ چھید۔ زہر دور کرکے ۔ رس پیجے ۔ لطف حاصل کرؤ (3) آن ۔ لیاکر۔ سمرھا ۔ لکڑوں کے ڈھیر۔ بینتر۔ آگل۔ بھسم۔ رکاھ ۔ مہا اگر ۔ پاپ۔ بھاری گناہ۔ ساکت نہ ۔ منکر و منافق مادہ پرست۔ لوکی ۔ چنگاری ۔ ذرہ آتش۔
ترجمہ:
اے خدا پارس مرشد سے ملا دو ۔ ہم بد اوصاف بوسیدہ آتش زدہ لوہے یا منور کی مانند ہیں مراد زندگی بیکار ہے سچا مرشد پارس بنا دیتا ہے ۔ رہاؤ۔ سارے لوگ ہمیشہ نجات اور بہشت و جنت چاہتے ہیں ۔ مگر اسکے دیدار کے خواہشمند نجات چاہتے انکی الہٰی دیدار سے تسلی ہوتی ہے اور تسکین پاتے ہیں (1) دنیاوی دولت کی محبت بھاری طاقتور اسکی محبت سے زندگی داغدار نبتی ہے مگر خادماں خدا اس بیلاگ غیر متاچر اس طڑح رہتے ہیں جیسے مرغابی پانی میں رہنے کے باجود اسکے پر نہیں بھیگتے (2) چندن کی خوشبو سانپوں سے گھری ہوتی ہے تو کیسے چندن کی خوشبوں سانپوں سے گھری ہوتی ہے تو کیسے چندن حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ تب علم مرشد کی تلوار میاں سے باہر نکالو زہر کاٹ کر اسکا لطف اُٹھاؤ (3) اگر ایندھ کا ایک ڈھیر جمع کر لیا جائے تو آگ کی ایک چنگاری جلا کر رکاھ کر دیتی ہے ۔ بھاری گناہگار منکر و منافق خدا مادہ پرست انسان جس نے کیے ہوں خدا رسیدہ سادہوں سے الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے سبق سے اسکو جلائیا جا سکتا ہے ۔

آنِ آنِ سمدھا بہُ کیِنیِ پلُ بیَسنّتر بھسم کریِجےَ ॥
مہا اُگ٘ر پاپ ساکت نر کیِنے مِلِ سادھوُ لوُکیِ دیِجےَ ॥੪॥
سادھوُ سادھ سادھ جن نیِکے جِن انّترِ نامُ دھریِجےَ ॥
پرس نِپرسُ بھۓ سادھوُ جن جنُ ہرِ بھگۄانُ دِکھیِجےَ ॥੫॥
ساکت سوُتُ بہُ گُرجھیِ بھرِیا کِءُ کرِ تانُ تنیِجےَ ॥
تنّتُ سوُتُ کِچھُ نِکسےَ ناہیِ ساکت سنّگُ ن کیِجےَ ॥੬॥
ستِگُر سادھسنّگتِ ہےَ نیِکیِ مِلِ سنّگتِ رامُ رۄیِجےَ ॥
انّترِ رتن جۄیہر مانھک گُر کِرپا تے لیِجےَ ॥੭॥
میرا ٹھاکُرُ ۄڈا ۄڈا ہےَ سُیامیِ ہم کِءُ کرِ مِلہ مِلیِجےَ ॥
نانک میلِ مِلاۓ گُرُ پوُرا جن کءُ پوُرنُ دیِجےَ ॥੮॥੨॥
لفطی معنی۔
نیکے ۔ اچھے ۔ انتر ۔ دلمیں۔ سادہو۔ جنہوں نے دل قابو کر رکھا ہے ۔ نام دھریے ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت دلمیں بسائیا ہوا ہے ۔ پرسن ۔ پرس۔ اسکی چھوہ سے ۔ سادہوجن۔ خدا رسیدہ خدمتگار ۔ ہربھوان ۔ خدا۔ دکھیجے ۔ دکھائی دیتا ہے(5) ساکت ۔ منکر و مناف ۔ مادہ پرست۔ گرجھی ۔ پیچیدہ ۔ تان تنجے ۔ زندگی کا مسئلہ ۔ تنیجے ۔ حال ہو۔ تنت سوت۔ سوت کا دھاگا۔ نکسے ناہی ۔ نکلتا نہیں۔ سنگ ۔ ساتھ (6) ستگر سادھ سنگت سچے مرشد کی صحبت و قربت ۔ نیکی ۔ اچھی ۔ لیجے ۔ حاصل کرؤ (7) ۔ گر پورا۔ کامل مرشد۔ پورن ۔ کاملیت ۔
ترجمہ:
وہ نیک انسان خدا رسیدہ خادم خدا ہیں جنکے دلمیں سچ حق وحقیقت بستی ہے ۔ ان کے ملاپ جھوہ سے انسان عابد خدائی خدمتگار اور دیدار پاتا ہے (5) مادہ پرست منکر و منافق بیشمار الجنں میں گرفتار ہے ۔ لہذا یہ زندگی راہ راست پر آئے ۔ یہ الجھن حل نہیں ہو سکیں۔ اس لئے ساکت کا ساتھ نہ کرؤ (6) سچے مرشد خدا پرست کی صحبت و قربت اچھی ہے اس میں مل کر خدا میں محویت ہو سکتی ہے انسان کے ذہن دل و دماغ میں بیمشار ہیرے جواہرات کے اوصاف موجود ہیں کرم و عنایت سے حاصل ہو سکتے ہیں (7) خدا وند کریم ایک نہایت بلند ہستی ہے ۔ ہمیں اسکا ملاپ کیسے نصیب ہو سکتا ہے ۔ اے نانک کامل مرشد ملاپ کراتا ہے خامل بنا ۔

کلِیانُ مہلا ੪॥
راما رم رامو رامُ رۄیِجےَ ॥
سادھوُ سادھ سادھ جن نیِکے مِلِ سادھوُ ہرِ رنّگُ کیِجےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیِء جنّت سبھُ جگُ ہےَ جیتا منُ ڈولت ڈول کریِجےَ ॥
ک٘رِپا ک٘رِپا کرِ سادھُ مِلاۄہُ جگُ تھنّمن کءُ تھنّمُ دیِجےَ ॥੧॥
بسُدھا تلےَ تلےَ سبھ اوُپرِ مِلِ سادھوُ چرن رُلیِجےَ ॥
اتِ اوُتم اتِ اوُتم ہوۄہُ سبھ سِسٹِ چرن تل دیِجےَ ॥੨॥
گُرمُکھِ جوتِ بھلیِ سِۄ نیِکیِ آنِ پانیِ سکتِ بھریِجےَ ॥
میَندنّت نِکسے گُر بچنیِ سارُ چبِ چبِ ہرِ رسُ پیِجےَ ॥੩॥
رام نام انُگ٘رہُ بہُ کیِیا گُر سادھوُ پُرکھ مِلیِجےَ ॥
گُن رام نام بِستھیِرن کیِۓ ہرِ سگل بھۄن جسُ دیِجےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
خدا جو ہر جگہ بستا ہے اس خدا کی یاد وریاض کرنی چاہیے ۔ نیکے ۔ نیک ۔ بلند عظمت۔ ہر رنگ ۔ الہٰی پیار پریم ۔ رہاؤ۔ جیئہ جنت۔ مخلوقات ۔ سبھ جگ۔ سارا علام۔ جیتا۔ جتنا ۔ دولت۔ ڈگمگا ۔ تھمن۔ سہارا۔ (1) بسدھا۔ زمین ۔ تلے ۔ نیچے ۔ ریجے ۔ رہو۔ ات اتم ۔ نہایت نیک۔ سبھ سر سٹ ۔ سارا عالم۔ چرن تلے ۔ زیر پاؤں ہے (2) گورمک جوت۔ مریدان مرشد کا نور۔ بھلی شونیکی۔ الہٰی نور ہونی کی وجہ سے ۔ ان پانی سکت بھریجے ۔ دنیاوی دولت ان کا دمر بھرتی ہے ۔ مین ۔ مو۔ دنت۔ دانت۔ نکسے ۔ نکلے ۔ گربچنی ۔ کلام مرشد سے ۔ سار ۔ لوہا۔ (3) انگریہہ۔ کرپا۔ مہربانی ۔ سادہو پرکھ ۔ خدا رسیدہ انسان۔ بستھرن ۔ پھیلاؤ۔ سگل بھون۔ سارے عالم میں۔ جس تعریف۔ حمدوثناہ ۔ دیجے ۔ دیتا ہے ۔
ترجمہ:
اس خدا کو کرو یاد ہمیشہ جو ہر جائی ہے ۔ بلند اخلاق ہو جاتے ہیں مرید مرشد خدا رسیدہ نیک انسان ہو جاتے ہیں۔ انکے ملاپ سے الہٰی محبت کا سکون ملتا ہے ۔ رہاؤ۔ جتنی دنیا کی مخلوقات ہے ساری پس و پیش اور ڈگمگارہی ہے ۔ اے خدا کرم و عنایت فرما اور عالم کو سہارا اور بھروسے کے لئے سہارا دیجیئے (1) زمین سب کے پاؤں تلے رہتی ہے مگر آخر ب کے اوپر آجاتی ہے مراد عاجزی اور انکساری سے زندگی گذارنی چاہیے اگر زندگی کا ایسا راستہ اختیار کرؤ گے تو ساری زمین تمہارے پاؤں تلے ہوگے بلند عظمت ہوگے (2) مریدان مرشد نیک دل الہٰی نور والے نیک انسان کیونکہ وہ الہٰی نور کا ایک جز ہو جاتے ہیں۔ جس کی برکت و عنایت سے دنیاوی دولت ان کا دم بھرتی ہے ۔ کلام مرشد سے انکے دلمیں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے ۔ جس سے برائیوں کو زیر کرکے الہٰی لوہے کی مانند سخت بدیوں کو قابو کیا جاسکتا ہے ۔ اور الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کا لطف و مزہ آتا ہے (3) الہٰی نام دینے کی بھاری مہربانی ہوئی مرشد سے ملاپ سے ۔ مرشد لاہٰی نام کے اوصاف سارے عالم میں پھیلاتا ہے ۔
سادھوُ سادھ سادھ منِ پ٘ریِتم بِنُ دیکھے رہِ ن سکیِجےَ ॥
جِءُ جل میِن جلنّ جل پ٘ریِتِ ہےَ کھِنُ جل بِنُ پھوُٹِ مریِجےَ ॥੫॥
مہا ابھاگ ابھاگ ہےَ جِن کے تِن سادھوُ دھوُرِ ن پیِجےَ ॥
تِنا تِسنا جلت جلت نہیِ بوُجھہِ ڈنّڈُ دھرم راءِ کا دیِجےَ ॥੬॥
سبھِ تیِرتھ برت جگ٘ز٘ز پُنّن کیِۓ ہِۄےَ گالِ گالِ تنُ چھیِجےَ ॥
اتُلا تولُ رام نامُ ہےَ گُرمتِ کو پُجےَ ن تول تُلیِجےَ ॥੭॥
تۄ گُن ب٘رہم ب٘رہم توُ جانہِ جن نانک سرنِ پریِجےَ ॥
توُ جل نِدھِ میِن ہم تیرے کرِ کِرپا سنّگِ رکھیِجےَ ॥੮॥੩॥
لفظی معنی:
سادہو ۔ جنہوں نے زندگی گذارنے کا صحیح طریقہ اور الہٰی ملاپ حاصل کر لیا ہے ۔ سادھ جو راہ راست زندگی کی جستجو اور تلاش میں کوشاں ہیں۔ من پریتم ۔ جنکے دلمیں خدا بستا ہے ۔ جنکے دل میں الہٰی قدروقیمت ہے ۔ دیکھے ۔ دیدار۔ مین ۔ مچھلی (5) ابھاگ۔ بد قسمت۔ دہور۔ خاک پا۔ تر سنا۔ خواہشات ۔ بوجھیہہ۔ سمجھے ۔ ڈنڈ۔ سزا (6) تیرتھ ۔ زیارت گاہ ۔ برت۔ پرہیز گاری ۔ جگ پن۔ یگو کے ثواب۔ ہوئے ۔ برف۔ چھپحے ۔ جسم ناکارہ کئے ۔ اتلا تول۔ نہ وزن کر سکنے والا وزن۔ رام نام۔ الہٰی نام ست۔ سچ و حقیقت ۔ پجے ۔ مکے برابر۔ تول تلیجے ۔ برابری کر سکتا (7) تو گن ۔ تیرے اوصاف۔ برہم۔ خدا۔ سرن پریجے ۔ زیر پناہ ہے ۔ جل ندھ ۔ سمندر۔ سنگ رکھیجے ۔ صحبت و قربت عنایت کر۔
ترجمہ:
ان خدا رسیدگان نے جنہوں نے روحانی واخلاقی زندگی کا راہ راست پالیا ہے اور جو اسکے لیے کوشآں ہیں جن کے دل و ذہن میں خدا بستا ہے بغیر دیدار رہ نہیں سکتے جیسے مچھلی کی پانی سے محبت ہے تھوڑے سے عرصے کے لئے بھی پانی کے بغیر مر جاتی ہے (5) نہایت بد قسمت ہیں وہ لوگ جنکو انکے خاک پا نصیب نہیں ہوتی ۔ وہ خواہشات کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور خواہشات کی آگ نہیں بجھی ۔ الہٰی منصف ۔ انکو سزا دیتا ہے (6) ساری زیارت گاہیں اور پرہیز گاری یگیئہ کے ثواب اور برف میں جسم کو ناکارہ کر دینا ان طریقوں میں سے کوئی طریقہ الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت پر عمل دراامد کے برابر نہیں۔ خدا کے نام کی قدروقیمت کا وزن یا برابری نہیں کرسکتا جو سبق مرشد سے ملتا ہے ۔ (7) اے خدا اپنے ثواب تو ہی جانتا ہے خادم نانک تیری زیر پناہ ہے تو ایک سمندر ہے اور ہم تیری مچھلیاں ہیں۔ اپنی کرم و عنایت سے اپنی صحبت و قربت عنایت کر اور ساتھ بخشش کر۔

کلِیان مہلا ੪॥
راما رم رامو پوُج کریِجےَ ॥
منُ تنُ ارپِ دھرءُ سبھُ آگےَ رسُ گُرمتِ گِیانُ د٘رِڑیِجےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ب٘رہم نام گُنھ ساکھ تروۄر نِت چُنِ چُنِ پوُج کریِجےَ ॥
آتم دیءُ دیءُ ہےَ آتمُ رسِ لاگےَ پوُج کریِجےَ ॥੧॥
بِبیک بُدھِ سبھ جگ مہِ نِرمل بِچرِ بِچرِ رسُ پیِجےَ ॥
گُر پرسادِ پدارتھُ پائِیا ستِگُر کءُ اِہُ منُ دیِجےَ ॥੨॥
نِرمولکُ اتِ ہیِرو نیِکو ہیِرےَ ہیِرُ بِدھیِجےَ ॥
منُ موتیِ سالُ ہےَ گُر سبدیِ جِتُ ہیِرا پرکھِ لئیِجےَ ॥੩॥
سنّگتِ سنّت سنّگِ لگِ اوُچے جِءُ پیِپ پلاس کھاءِ لیِجےَ ॥
سبھ نر مہِ پ٘رانیِ اوُتمُ ہوۄےَ رام نامےَ باسُ بسیِجےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
رم رم ۔ خدا جو سب میں بستا ہے ۔ پوج ۔ پرستش ۔ عبادت۔ ارپ ۔ بھینٹ ۔ رس گرمت گیان۔ سبق مرشد کے علم کا لطف۔ درڑیجے ۔ ذہن نشین (1) رہاؤ۔ برہم نام گن ۔ الہٰی نام کا وصف۔ ساکھ ترودر۔ شجر کی شاخیں۔ نت ۔ ہر روز۔ پوج ۔ پرستش ۔ آتم ۔ روح ۔ دیؤ۔ دیوتا (1) بیک بدھ ۔ نیک و بد کی تمیز کرنیوالی سمجھ ۔ وچر وچر۔ سمجھ سمجھ رس پیجے لطف اٹھاؤ ۔ گر پرساد۔ رحمت مرشد سے ۔ پدارتھ ۔ نعمت۔ من ویجے ۔ دل بھینٹ چڑھاؤ۔ (2) نرمولک۔ بے قیمت مراد نہایت بیش قیمت۔ یکو اچھا۔ ہیرے ہیر بدھیجے ۔ اسمیں دل لگاو۔ من موتی حال ہے ۔ دل خاص موتی ہے ۔ گر سبدی ۔ کلام مرشد سے ۔ پرکھ تحقیق (3) سنگت سنت سنگ الہٰی عاشق پریمی محبوب خدا کی صحبت و قربت سے ۔ اوچو۔ بلند اخلاق ہستی ۔ جیؤ۔ جیلے ۔ پیپ۔ پیپل۔ پلاس۔ چھچھرا۔ پراتی اوتم ۔ بلند ہستی ۔ رام نامے باس بسیجے ۔ جس میں الہٰی نام کی خوشبو اوصاف پیدا ہو جائیں۔
ترجمہ:
خدا جو ہر جائی ہے سب میں بستا ہے کی عبادت وریاضت کرنی چاہیے ۔ دل وجان اور سب کچھ اسے بھینٹ کردوں سبق مرشد کا لطف اور سمجھ ذہن نشین کراداے (1) ۔ رہاؤ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحققیت کا وصف ہی شجر کی شاخیں ہیں جن سے ہر روز جن کے پھول چن چن خدا کی پرستش کی جاتی ہے ۔ خدا ہی پرستش کے لائق ہے اور یہی دیوتا ہے اسکے لطف سے عبادت وریاضت کرنی چاہیے (1) نیک و بد کی تمیز کرنے کی سمجھ اس عالم میں سب سے پاک ہے اسکی مدد سےسمجھ سمجھ کر لطف حاصل کرؤ۔ رحمت مرشد سے یہ نعمت حاصل ہوئی ہے اپنے دل کو سچے مرشد کے حوالے کردو (2) یہ ایک بیش قیمت ہیرا ہے ۔ اسمیں دل محو ومجذوب کر دو کلام مرشد کی وساطت سے ایک موتی کی مانند قیمتی ہو جاتا ہے اور کلام مرشد سے اسکی سمجھ آتی ہے اسکی قدرومنزلت کی (3) الہٰی عاشق و محبوب خدا سنت کی صحبت و قربت اپنا کر انسان بلند اہمیت کا حاصل بلند روحانی ہستی ہوجاتا ہے جیسے پیپل کا دڑخت چھچھرے کھا کر اسے اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اس طرح سے جسکے اندر الہٰی جذب کر لیتا ہے اس طرح سے جسکے اندر الہٰی نام سچ حقیقت کی خوشبو بس جائے وہ انسان بلند روحانی و اخلاقی زندگی والا ہوجاتاہے

نِرمل نِرمل کرم بہُ کیِنے نِت ساکھا ہریِ جڑیِجےَ ॥
دھرمُ پھُلُ پھلُ گُرِ گِیانُ د٘رِڑائِیا بہکار باسُ جگِ دیِجےَ ॥੫॥
ایک جوتِ ایکو منِ ۄسِیا سبھ ب٘رہم د٘رِسٹِ اِکُ کیِجےَ ॥
آتم رامُ سبھ ایکےَ ہےَ پسرے سبھ چرن تلے سِرُ دیِجےَ ॥੬॥
نام بِنا نکٹے نر دیکھہُ تِن گھسِ گھسِ ناک ۄڈھیِجےَ ॥
ساکت نر اہنّکاریِ کہیِئہِ بِنُ ناۄےَ دھ٘رِگُ جیِۄیِجےَ ॥੭॥
جب لگُ ساسُ ساسُ من انّترِ تتُ بیگل سرنِ پریِجےَ ॥
نانک ک٘رِپا ک٘رِپا کرِ دھارہُ مےَ سادھوُ چرن پکھیِجےَ ॥੮॥੪॥
لفظی معنی:
دھرم۔ انسانی فرض ۔ گر۔ گیان۔ سبق مرشد ۔ درڑائیا۔ ذہن نشین کرائیا۔ بہکار ۔ باس۔ خوشبو ۔ جگ دیجے ۔ عالم کو دیتا ہے (5) ایک جوت۔ واحد نور ۔ من بسیئیا۔ دلمیں بسا۔ درسٹ ۔ نظر۔ آتم ۔ رام ۔ خدا اور روح ۔ پسرے ۔ پھیلے ۔ سبھ چرن تل سر دیجے ۔ سب سے عاجزی و انکساری سے پیش آؤ (6) نکٹے ۔ بے ھیا۔ تن ۔ انکے ۔ ساکت۔ مادہ پرست۔ اہنکاری ۔ مغرور۔ بن ناوے دھرگ جیویجے ۔ بغیر الہٰی نام ست ۔ سچ حق وحقیقت کے ایک لعنت ہے (7) جب تگ۔ جبتک ۔ بیگل ۔ بلا جھجھک ۔ یکھجے ۔ جھاڑوں ۔
ترجمہ:
جو ہر روز نیک پاک کام کرتا ہے ۔ مراد جس طرح سے کسی درخت کی نیئی کونپلیں پھوٹتی ہیں نیکیاں اسکے دامن آتی ہیں۔ انسانی فرائض کی ادائگی کے بھول اسے لگتے ہیں۔ اور سبق مرشد کا علم کا پھل لگتا ہے جس کی خوشبو عالم میں پھلتی ہے (5) سارے عالم میں الہٰی نور دکھائی دیتا ہے ۔ وہی دلمیں بستا ہے ۔ ساری مخلوقات میں سب میں خدا بستا ہے کا نظریہ بناؤ۔ روح اور خدا ایک ہی نور سے ہیں اور ایک ہی پھیلاؤ ہے ۔ اس لیئے سب کے ساتھ عاجزی و انکساری سے پیش آؤ (6) الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے بغیر سارے بے حیا اور بے قدری ہوتی ہے ۔ اور بے حیائی کراتے ہیں۔ منکر و منافق مادہ پرست مغرور اور تکبری کہلاتے ہیں۔ الہیی نام کے بغیر زندگی ایک لعنت ہے (7) جبتک زندگی میں ایک سانس بھی آرہا ہے تبتک بلاجھجھک زیر سیاہ خدا رہو ۔ اے نانک ۔ کرم وعنایت فرماؤ کہ میں خدا رسیدہ پاکدامن سادہوں کے پاؤں بوسی کرتا رہوں۔

کلِیان مہلا ੪॥
راما مےَ سادھوُ چرن دھُۄیِجےَ ॥
کِلبِکھ دہن ہوہِ کھِن انّترِ میرے ٹھاکُر کِرپا کیِجےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منّگت جن دیِن کھرے درِ ٹھاڈھے اتِ ترسن کءُ دانُ دیِجےَ ॥
ت٘راہِ ت٘راہِ سرنِ پ٘ربھ آۓ مو کءُ گُرمتِ نامُ د٘رِڑیِجےَ ॥੧॥
کام کرودھُ نگر مہِ سبلا نِت اُٹھِ اُٹھِ جوُجھُ کریِجےَ ॥
انّگیِکارُ کرہُ رکھِ لیۄہُ گُر پوُرا کاڈھِ کڈھیِجےَ ॥੨॥
انّترِ اگنِ سبل اتِ بِکھِیا ہِۄ سیِتلُ سبدُ گُر دیِجےَ ॥
تنِ منِ ساںتِ ہوءِ ادھِکائیِ روگُ کاٹےَ سوُکھِ سۄیِجےَ ॥੩॥
جِءُ سوُرجُ کِرنھِ رۄِیا سرب ٹھائیِ سبھ گھٹِ گھٹِ رامُ رۄیِجےَ ॥
سادھوُ سادھ مِلے رسُ پاۄےَ تتُ نِج گھرِ بیَٹھِیا پیِجےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
راما۔ اے خدا۔ سادہو۔ چرن ۔ پائے مرشد۔ دہوویجے ۔ دہوؤں۔ کل وکھ ۔ گناہ۔ وہن ہوہے ۔ جل جاتےہیں۔ کھن انتر۔ آنکھ جھپکنے کے وقفے میں (1) دین ۔ غریب۔ ناتواں ۔ کھرے درٹھاڈے ۔ تیرے در پر کھڑے ات ترسن کؤ۔ تیرے در پر کھڑے پیاسوں کو۔ دان دیجے ۔ بھیک بخش۔ گرمت ۔ سبق۔ نام۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت بخش اور درڑیجے ۔ ذہن نشین کر (1) کام ۔ شہوت۔ کرودھ ۔ غصہ ۔ نگر۔ جسم۔ سبلا۔ نہایت طاقتور۔ جوجھ ۔ لڑائی جھگڑا ۔ کریجے ۔ کرتے ہیں ۔ انگیکار۔ اپناؤ۔ رکھ لیوہو۔ بچاؤ ۔ گرپورا۔ کامل مرشد (2) انتر۔ دلمیں ۔ذہن میں۔ سبل ۔طاقتور۔ دکھیا۔ دنیاوی دولت ۔ ہو۔ برف۔ سیتل۔ ٹھنڈی ۔ادھکائی ۔ بہت۔ روگ۔ بیماری ۔ سکھ سودیجے ۔ راحت پائے (3) رویا۔ پڑتی ہے ۔ سرب ٹھائی۔ ہر جگہ ۔ رام رویجے ۔ اسطرح خدا ہر جگہ بستا ہے ۔ سادہو سادھ ۔ خدا رسیدہ جنہوں زندگی کے راز اور روحانی واخلاقی زندگی گذارنا سمجھ لیا ہے ۔ ملے رس پاوے ۔ کے ملاپ سے لطف حاصل ہوتا ہے ۔ تت۔ اصلیت۔ نج۔ ذاتی ۔ خوئش ۔ تج گھر۔ ذہن ۔ نشین ہوکر۔ آزادی سوچ وچار۔ رس پاوے ۔ لطف ومزہ پاتا ہے ۔
ترجمہ:
اے خدا کرم و عنایت فرماییئے تاخدارسید سادہو کی خدمت کرتا رہوں جس سے پل بھر میں سارے گناہ جل جاتے ہیں۔ رہاؤ۔ اے خدا تیرے در پر بے غیرت غریب ہوکر تیرے در پر کھڑے ہاں ہمیں خیرات دیجیئے ۔ پیا سے نہایت خواہشمند ہوکر تیرے زیر سایہ آئے ہیں سبق مرشد اور الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ذہن نشین کراییئے (1) یہ جسم شہوت اور غصے سے بھرا ہوا ہے جو نہایت طاقتور ہے ہر روز لڑائی جھگڑے کرتا ہے ۔ اے خدا اپناؤ اور بچاؤ۔ کامل مرشد کے ملاپ سے بچالو (2) انسان کے دل میں دنیاوی دولت کی خواہشات کی آگ جل رہی ہے ۔ اے خدا بر فیلا ٹھنڈا کلام رمشد عنایت کر ۔ تکاہ دل و جان سکون پائے اور ٹھنڈک محسوس ہو بیماری ختم ہو اور راحت محسوس ہو (3) جیسے سورج کرنیں ہر جگہ روشنی پہنچاتی ہے اس طرح سے ہر دلمیں خدا بستا ہے ۔ جن کی خڈا رسیدہ سادہووں سے ملاپ ہو جاتا ہے وہ اسکا لطف اٹھاتے ہیں اور حقیقت و اسلیت کا لطف ذہن نشین ہوکر پاتے ہیں۔

جن کءُ پ٘ریِتِ لگیِ گُر سیتیِ جِءُ چکۄیِ دیکھِ سوُریِجےَ ॥
نِرکھت نِرکھت ریَنِ سبھ نِرکھیِ مُکھُ کاڈھےَ انّم٘رِتُ پیِجےَ ॥੫॥
ساکت سُیان کہیِئہِ بہُ لوبھیِ بہُ دُرمتِ میَلُ بھریِجےَ ॥
آپن سُیاءِ کرہِ بہُ باتا تِنا کا ۄِساہُ کِیا کیِجےَ ॥੬॥
سادھوُ سادھ سرنِ مِلِ سنّگتِ جِتُ ہرِ رسُ کاڈھِ کڈھیِجےَ ॥
پرئُپکار بولہِ بہُ گُنھیِیا مُکھِ سنّت بھگت ہرِ دیِجےَ ॥੭॥
توُ اگم دئِیال دئِیا پتِ داتا سبھ دئِیا دھارِ رکھِ لیِجےَ ॥
سرب جیِء جگجیِۄنُ ایکو نانک پ٘رتِپال کریِجےَ ॥੮॥੫॥
لفظی معنی:
پریت۔ پریم پیار۔ جیو چکوی دیکھ سوریجے ۔ جیسے چکوی سورج کے دیکھنے کی ۔ نہ کھت نرکھت ۔ دیکھتے دیکھتے ۔ رین ۔ رات۔ مکھ کاڈھے ۔ سورج طلوع ہو۔ انمرت۔ آب حیات (5) ساکت۔ مادہ پرست۔ منکر و منافق۔ لوبھی ۔ لالچی ۔ درمت ۔ بد عقلی ۔ میل ۔ ناپاکیزگی ۔ سوآئے ۔ غرض ۔ ضرورت ۔ سوآن ۔ کتا ۔ وساہ ۔ بھروسا (6) سنگت ۔ صحبت و قربت ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف۔ پر اپکار۔ دوسروں کی بھالئی ۔ بہو گگنیا۔ زیادہ اوصاف والا۔ مکھ ۔ منہ میں ۔ ہر دیجے ۔ اے خدا دیجیئے ۔ سنت بھلت۔ عابدان و عاشقان الہٰی (7) اگم ۔ انسانی عقل و ہوش سے بعید ۔ دیال پت۔ مہربانیوں کا مالک ۔ داتا۔ سخی ۔ رکھ لیجے ۔ بچاؤ ۔ سرب جیئہ ۔ ساری مخلوقات ۔ جگ جیون ۔ زندگئے عالم ۔ پرتپال ۔ پرورش۔
ترجمہ:
خدمتگار کی صحبت مرشد سے ہوتی ہے جس طرح سے سورج کے طلوع ہونے کا انتظار چکوی کو ہوتا ہے ۔ انتظار میں رات گذارتی ہے کہ طلوع ہو تو آب حیات جو زندگی روحانی واخلاقی طور پر راہ راست پر لاتا ہے ۔ (ساکت) مراد منکر و منافق مادہ پرست کتے کی طرح لالچی کے دلمیں بد عقلی کی غلاظت بھری ہوتی ہے اپنی غرض کے لئے بہت باتیں بناتا ہے ان کا بھروسا نہیں کرنا چاہیے (6) اے خدا عاشقان ومحبو بان الہٰی و عابدوں کی صحبت و قربت عنایت کر جس سے الہٰی محبت کا لطف حاصل ہوتا ہے ۔ وہ منہ دوسروں کی بھلائی کی باتیں کرتے ہیں اور وہ بیشمار اوصاف والے ہوتے ہیں۔ وہ زبان سے خدا کی بخشش کرتے ہیں (7) اے خدا انسانی رسائی سے بعید ہے ۔ رحمان الرحیم ہے اپنی کرم و عنایت سے برائیوں سے بچاییئے تو ہی ساری مخلوقات کی زندگی ہے اے نانک خدا ہی پروردگار ہے ۔

کلِیانُ مہلا ੪॥
راما ہم داسن داس کریِجےَ ॥
جب لگِ ساسُ ہوءِ من انّترِ سادھوُ دھوُرِ پِۄیِجےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّکرُ ناردُ سیکھناگ مُنِ دھوُرِ سادھوُ کیِ لوچیِجےَ ॥
بھۄن بھۄن پۄِتُ ہوہِ سبھِ جہ سادھوُ چرن دھریِجےَ ॥੧॥
تجِ لاج اہنّکارُ سبھُ تجیِئےَ مِلِ سادھوُ سنّگِ رہیِجےَ ॥
دھرم راءِ کیِ کانِ چُکاۄےَ بِکھُ ڈُبدا کاڈھِ کڈھیِجےَ ॥੨॥
بھرمِ سوُکے بہُ اُبھِ سُک کہیِئہِ مِلِ سادھوُ سنّگِ ہریِجےَ ॥
تا تے بِلمُ پلُ ڈھِل ن کیِجےَ جاءِ سادھوُ چرنِ لگیِجےَ ॥੩॥
رام نام کیِرتن رتن ۄتھُ ہرِ سادھوُ پاسِ رکھیِجےَ ॥
جو بچنُ گُر ستِ ستِ کرِ مانےَ تِسُ آگےَ کاڈھِ دھریِجےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
راما۔ اے خدا۔ داسن داس ۔ غلاموں کے غلام ۔ خادموں کے خادم۔ سادہو دہور۔ سادہو کے قدموں کی دہول۔ پویجے ۔ پڑے ۔ جب لگ ساس ۔ جبتک زندگی قائم ہے ۔ رہاؤ۔ لوچیجے ۔ چاہتے ہیں۔ پوت۔ پاک۔ بھون۔ گھر۔ چرن دھریجے ۔ جہاں سادہو کے قدم ٹکتے ہیں (1) الج ۔ حیا۔ عزت۔ اہنکار۔ غرور۔ سادہو سنگ۔ صحبت و ساتھ سادہو۔ کان ۔ محتاجی ۔ چکاوے ۔ ختم کر دیتی ہے ۔ وکھ ڈبدا کاڈھ ۔ دنیاوی دلوت ۔ کے سمند رڈوبتے کو نکال لیت اہے (6) بھرم بھٹکن ۔ وہم وگمان ۔ بہو ابھ سک کہیے ۔ روحانی طور پر خشک زندگی ۔ مل سسادہو سنگ۔ سادہو کی صحبت و ساتھ سے ہری بھری مراد خوشحال ہو جاتی ہے ۔ بلم ۔ دیر ۔ ڈھل ۔ سستی ۔ سادہو چرن لیجے ۔ ساوہو کے قدم یں پڑو (3) رام نام الہٰی نام۔ کیرتن ۔ حمدوثناہ ۔ رتن و تھ قیمتی ایشای ۔ نعمت۔ بچن گر۔ کلام مرشد ۔ ست ۔ ست سچ و حقیقت ۔ کاڈھ دھریجے ۔ پیش کردو۔
ترجمہ:
رما۔ اے خدا۔ داساں داسن غلاموں کاغلام بنا اور جبتک زندگی قائم ہے اسو قت سنت کی دہول بنے رہو ۔ رہاؤ۔ شو جی ۔ نادر سیخ ناگ بھی سادہو کے قدموں دہول چاہتے تھے ۔ وہ گھر پاک ہو جاتے ہیں جن میں قدم سادہو کے پڑتے ہیں (1) غیرت اور بیرونی شرم و حیا چھوڑ کر اور غرور وتکبر چھوڑ کر سادہوؤں کی صحبت و قربت اختیار کرؤ جس سے الہٰی منصف کی محتاجی ختم ہو جاتی ہے ۔ اخلاقی و روحانی موت لانے والے دنیاوی دولت کے سمندر سے ڈوبتے کو نکال لو (2) بھٹکن اور وہم وگمان میں پڑھ انسنای زندگی خشک اور روکھی ہو جاتی ہے ۔ جو کھر کھڑسک ہو جاتے ہیں مگر سنتوں کی صحبت و قربت سے زندگی تروتازہ ہو جاتی ہے ۔ اسلیے دیر اور کاہل نہیں کرنی چاہیے سادہو کے قدموں میں پڑنے کےلئے (3) الہٰی نام اور حمدوچناہ کی نعمت خدا نے سنتوں کو بخشی ہوئی ہے ۔ جسکا ایمان اور بھروسا سبق مرشد میں ہے ۔ مرشد یہ نعمت اسے بخشش کرتا ہے ۔

سنّتہُ سُنہُ سُنہُ جن بھائیِ گُرِ کاڈھیِ باہ کُکیِجےَ ॥
جے آتم کءُ سُکھُ سُکھُ نِت لوڑہُ تاں ستِگُر سرنِ پۄیِجےَ ॥੫॥
جے ۄڈ بھاگُ ہوءِ اتِ نیِکا تاں گُرمتِ نامُ د٘رِڑیِجےَ ॥
سبھُ مائِیا موہُ بِکھمُ جگُ تریِئےَ سہجے ہرِ رس پیِجےَ ॥੬॥
مائِیا مائِیا کے جو ادھِکائیِ ۄِچِ مائِیا پچےَ پچیِجےَ ॥
اگِیانُ انّدھیرُ مہا پنّتھُ بِکھڑا اہنّکارِ بھارِ لدِ لیِجےَ ॥੭॥
نانک رام رم رمُ رم رم رامےَ تے گتِ کیِجےَ ॥
ستِگُرُ مِلےَ تا نامُ د٘رِڑاۓ رام نامےَ رلےَ مِلیِجےَ ॥੮॥੬॥ چھکا ੧॥
لفظی معنی:
جن بھائی ۔ اے لوگ ۔ گرکاڈھی بانہہ کییجے ۔ مرشد بازو اونچا کرکے بلند آواز پکارتا ہے ۔ آتم ۔ روحانی سکھ ۔ سکون ۔ لورہو۔ چاہتے ہو۔ ستگر سرن پویجے ۔ تو سچے مرشد کے زیر سایہ رہو (5) وڈبھاگ ۔ بلند قسمت ۔ نیکا۔ اچھا ۔ گرمت ۔ سبق مرشد سے ۔ نام درڑیجے ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ذہن نشین کرؤ۔ مائیا موہ وکھم ۔ دنیاوی دولت کی محبت دشوار ہے ۔ جگ ترییئے ۔ عالم کو عبور کیا جاسکتا ہے ۔ سہجے ۔ آسانی اور سکون سے ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف (2) ادھکائی ۔ زیادہ پیارے ۔ وسچ مائیا بپے پچیجے ۔ اس دنیاوی دولت میں اسکی خواہشات میں جلتے رہتے ہیں۔ اگیان ۔ بے علمی ۔ اند ھیر ۔ اندھیر۔ بے سمجھی ۔ پنتھ ۔ راستہ۔ وکھڑا۔ دشوار گذار۔ اہنکار۔ غرور و تکبر۔ بھاری لالیجے ۔ کے بوجھ تلے ۔ دربار رہتا ہے (7) رما رم ۔ خدا میں محو دلمیں بسا۔ رم رم رم رامے ۔ خد میں محو ومجذوب ہونے سے ۔ انسان کی روحانی و اخلاقی زندگی اہمیت کی حاصل ہوجاتی ہے ۔ نام درڑائے ۔ ذہن نشین کراتا ہے ۔ نامے رمے ۔ ملیجے ۔ نام میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے ۔
ترجمہ:
ا سنتہو سنو مرشد بازو اونچے کرکے بلند آواز پکار رہا ہے ۔ اگر روحانی و ذہنی سکون چاہتے ہو تو سچے مرشد کے زیر سایہ رہو (5) اگر کوئی بلند قسمت ہو تو وہ سبق مرشد سےا لہٰی نام ست سچ حق و حقیقت ذہن نشین کر لیت اہے ۔ دنیاوی دولت کی محبت کی وجہ سے دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور کرنا دشوار ہے ۔ لہذا روحانی و ذہنی سکون میں رہ کر الہٰی نام کا لطف لو (6) جو دنیاوی دولت کے زیادہ پریمی ہیں وہ مائیا کی خواہشات کی آگ میں جلتے رہتے ہیں ۔ لا علمی روحانی واخلاقی بے سمجھی ایک اندھیرا ہے ۔ اور راستہ زندگی کا دشوار رہے کیونکہ انسان نے غرور اور تکبر کا بوجھ اُٹھا رکھا ہے ۔ اے نانک۔ ہمیشہ خدا کو یاد کرکے اسمیں محو ومجذوب رہو۔ خدا کی محبت سے ہی بلند روحانی عطمت وحشمت حاصل ہوتی ہے ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت ذہن نشین ہوتا ہے اور اسمیں صدیوی طور پر محو ومجذوب ہوا جاتا ہے ۔

ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
راگُ پربھاتیِ بِبھاس مہلا ੧ چئُپدے گھرُ ੧॥
ناءِ تیرےَ ترنھا ناءِ پتِ پوُج ॥
ناءُ تیرا گہنھا متِ مکسوُدُ ॥
ناءِ تیرےَ ناءُ منّنے سبھ کوءِ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ پتِ کبہُ ن ہوءِ ॥੧॥
اۄر سِیانھپ سگلیِ پاجُ ॥
جےَ بکھسے تےَ پوُرا کاجُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ناءُ تیرا تانھُ ناءُ دیِبانھُ ॥
ناءُ تیرا لسکرُ ناءُ سُلتانُ ॥
ناءِ تیرےَ مانھُ مہت پرۄانھُ ॥
تیریِ ندریِ کرمِ پۄےَ نیِسانھُ ॥੨॥
ناءِ تیرےَ سہجُ ناءِ سالاہ ॥
ناءُ تیرا انّم٘رِتُ بِکھُ اُٹھِ جاءِ ॥
ناءِ تیرےَ سبھِ سُکھ ۄسہِ منِ آءِ ॥
بِنُ ناۄےَ بادھیِ جم پُرِ جاءِ ॥੩॥
ناریِ بیریِ گھر در دیس ॥
من کیِیا کھُسیِیا کیِچہِ ۄیس ॥
جاں سدے تاں ڈھِل ن پاءِ ॥
نانک کوُڑُ کوُڑو ہوءِ جاءِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
نائے تیرے ۔ اے خدا تیرے نام جو ست ہے سچ ہے جو حق ہے اور حقیقت ہے ۔ ترنا ۔ کامیابی ۔ ۔ پت ۔ عزت۔ پوج ۔ قدرومنزلت ۔ گہنا ۔ زیور ۔ مقصود۔ مقصد ۔ منزل ۔ مت۔ سمجھ ۔ گیان ۔ علم ۔ ناؤ ں ۔ منے سبھ کوئے ۔ نام میں سارے ایمان لاتے ہیں۔ بن ناوے ۔ سچ حق وحقیقت کے بغیر ۔ پت ۔ عزت (1) اور سیانپ ۔ دوسری دانشمندی ۔ پاج دکھاوا۔ کاج ۔ کام ۔ مقصد۔ رہاؤ۔ تان ۔ طاقت ۔ دیبان ۔آسر ۔ لشکر۔ فوج۔ سلطان ۔ بادشاہ ۔ مان ۔ وقار۔ مہت ۔ اہمیت۔ پروان۔ قبول۔ ندری ۔ نظر عنایت ۔ کرم بخشش ۔ نسان ۔ پروانہ راہداری (2) سہج ۔ سکون ۔ صلاح ۔ حمدوثناہ ۔ انمرت۔ آب حیات۔ وکھ ۔ بدیو برائیوں کی زہر ۔ سکھ و سیہہ من آئے ۔ دلی مرادوں کی مطابق آرام و آسائش پاتے ہیں۔ بادھی ۔ گرفتار ہوکر ۔ جم پر جائے ۔ جم کے شہر جاتے ہیں (3) ناری ۔ عورت ۔ بیری ۔ بیڑی ۔ بندش۔ کیچہہ ۔ کرے ویس ۔ پہراوے ۔ ڈھل۔ دیر ۔ کوڑ کوڑو ہو جائے ۔ تو جھوٹی ہو جاتی ہیں۔
ترجمہ:
اے خدا تیرا نام ست سچ حق و حقیقت اس دنیاوی زندگی جو بدیوں اور برائیوں کا سمندر ہے کو عور کیا جاسکتا ہے ۔ الہٰی نام سے ہی عزت وقار اور قدروقیمت و منزلت حاصل ہوتی ہے ۔ اے خدا تیرا نام ایک زیور ہے جو انسان زندگی کو سجاتا ہے اور الہٰی نام ہی ایک زیور ہے جو انسان زندگی کو سجاتا ہے اور الہٰی نام ہی انسانی زندگی کی منزل و مقصد ہے ۔ سارے الہٰی نام میں ہی ایمان لاتے ہیں۔ الہٰی نام۔ ست سچ حق وحقیقت کے عزت نہیں ہوتی (1) الہٰی نام کے علاوہ دوسری سمجھ و عقلمندیاں محض دکھاوا ہیں۔ جس پر خدا کی رکم وعنایت ہوتی ہے ۔ اسکا مقصد زندگی پورا ہوتا ہے ۔ رہاؤ۔ اے خدا تیرا نام ہی قوت و حوکمت تیرا نام ہی بادشاہی و فوجی سرداری ہے ۔ تیرے نام سہی ہی وقار عظمت وحشمت و مقبولیت حاصل ہوتی ہے ۔ اے خدا تیری نظر عنایت سے زندگی کا پروانہ راہداری حاصل ہوتا ہے زندگی کے سفر کے لئے (2) تیرے نام سے ہی روحانی و ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے اور اسی کی برکت سے حمد وثناہ کیجاسکتی ہے ۔ تیر کے نام جو ایک آب حیات ہے ۔ بدیوں برائیوں کی زہر دور ہوتی ہے ۔ تیرے نام کی برکت سے ہر طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے روحانی و ذہنی بغیر الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت گرفتار ہوکر مجرموں کے جگہ جانا پڑتا ہے (3) عورت ۔ گھر ۔ جائیداد و ملکیت یہ سب انسانی زندگی کے حصول حقیقت میں بندشیں ہیں۔ مگر جب موت کا پیغام آتا ہے تو دیر نہیں لگتی ۔ اے نانک۔ تب یہ سارا جھوٹ اور فریب ثابت ہوتا ہے ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
تیرا نامُ رتنُ کرمُ چاننھُ سُرتِ تِتھےَ لوءِ ॥
انّدھیرُ انّدھیِ ۄاپرےَ سگل لیِجےَ کھوءِ ॥੧॥
اِہُ سنّسارُ سگل بِکارُ ॥
تیرا نامُ داروُ اۄرُ ناستِ کرنھہارُ اپارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پاتال پُریِیا ایک بھار ہوۄہِ لاکھ کروڑِ ॥
تیرے لال کیِمتِ تا پۄےَ جاں سِرےَ ہوۄہِ ہورِ ॥੨॥
دوُکھا تے سُکھ اوُپجہِ سوُکھیِ ہوۄہِ دوُکھ ॥
جِتُ مُکھِ توُ سالاہیِئہِ تِتُ مُکھِ کیَسیِ بھوُکھ ॥੩॥
نانک موُرکھُ ایکُ توُ اۄرُ بھلا سیَسارُ ॥
جِتُ تنِ نامُ ن اوُپجےَ سے تن ہوہِ کھُیار ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
رتن ۔ قیمتی ۔ ہیرا ۔ کرم ۔ بخشش۔ چانن۔ روشنی ۔ سرت۔ ہوش۔ تیتھے لوئے ۔ وہاں روشنی ہے ۔ اندھیر ۔ لاعلمی ۔ جہالت۔ سگل ۔ سادی کھوئے مٹاتا ہے ۔ (1) سنسار ۔ دنیا۔ بکرا۔ بیکار۔ بیفائدہ ۔ دارو ۔ دوائی ۔ ناست۔ نیست ۔ فارسی ۔ مٹانیوالا۔ کرنہار۔ کرنیوالا۔ اپار۔نہایت وسیع ۔ رہاؤ۔ پاتال پریاں ۔ زیر زمین آبادیات ۔ ایک بھار ۔ ایک پلڑے ۔ ہوویہہ۔ لاکھ کروڑو ۔ اور اس طڑح کی لاکھوں کروڑوں ہوں۔ تیرے اس بیش قیمت لعل کی قدروقیمت ۔ سرے ۔ اسکے علاوہ ہور۔ دوسری چیزیں ہوں۔ دوکھاتے سکھ اپجے ۔ عذاب سے آسائش پیدا ہوتی ہے ۔ سکھی ۔ ہودیہہ دکھ ۔ آرام و آسائش سے عذاب آتا ہے ۔ جت مکھ ۔ جس منہ سے تو صلاحیئے ۔ تیری حمدوثناہ ہوتی ہو۔ تت مکھ ۔ اس منہ سے (3) اے نانک۔ تو واحد شخص ہے جو بیوقوف ہے ۔ اور ۔ دوسرا ۔ بھلا ۔ نیک۔ سیسار۔ عالم۔ جت تن جس جسم میں نام۔ ست۔ سچ ۔ حق وحقیقت نہیں۔ خوآر ۔ ذلیل۔

ترجمہ:
اے خدا تیرا نام ست سچ حق وحقیقت اس پر تیری بخشش سے جسکے دلمیں بستا ہے اسکا ذہن پور نور اور روشن ہوجاتا ہے ۔ جو اس سے خالی بے بہرہ ہے اس پر کم عقلی اور لا علمی کا زور ہو جاتا ہے اور وہ اپنا سبھ کچھ گنوا دیتا ہے (1) یہ سارا عالم برا ہی برا ہے اور بیمار ہے تیرا نام اس بیمار دنیا کے لئے ایک دوائی اسکے بغیر دوسری دوائی نہیں تو کارساز اور نہایت وسیع ہستی ہے ۔ رہاؤ۔ ساری زیر زمیں آبادیاں دیش اور لاکھوں کوڑوں ملک ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں تب بھی اس قیمتی لعل کی قدروقیمت کے خوآہ کتنی نعمتیں ہوں برابری نہیں کر سکتے (2) عذاب سے آسائش پیدا ہوتی ہے اور عیش و عشرت سے روحانی واخلاقی بیماریاں اور عذآب ۔ جس منہ سے یا زبان سے اے خدا تیری حمدوثناہ کیجاتی ہے اسے کسی قسم کی بھوک پیاس نہیں رہتی (3) اے نانک۔ تو ہی وآحد بیوقوف انسان ہے اگر تیرے ذہن میں نام نہیں ورنہ تجھ سے سارا عالم اچھا اور نیک ہے ۔ جس جس انسان کے دلمیں نام نہیں بستا وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
جےَ کارنھِ بید ب٘رہمےَ اُچرے سنّکرِ چھوڈیِ مائِیا ॥
جےَ کارنھِ سِدھ بھۓ اُداسیِ دیۄیِ مرمُ ن پائِیا ॥੧॥
بابا منِ ساچا مُکھِ ساچا کہیِئےَ تریِئےَ ساچا ہوئیِ ॥
دُسمنُ دوُکھُ ن آۄےَ نیڑےَ ہرِ متِ پاۄےَ کوئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اگنِ بِنّب پۄنھےَ کیِ بانھیِ تیِنِ نام کے داسا ॥
تے تسکر جو نامُ ن لیۄہِ ۄاسہِ کوٹ پنّچاسا ॥੨॥
جے کو ایک کرےَ چنّگِیائیِ منِ چِتِ بہُتُ بپھاۄےَ ॥
ایتے گُنھ ایتیِیا چنّگِیائیِیا دےءِ ن پچھوتاۄےَ ॥੩॥
تُدھُ سالاہنِ تِن دھنُ پلےَ نانک کا دھنُ سوئیِ ॥
جے کو جیِءُ کہےَ اونا کءُ جم کیِ تلب ن ہوئیِ ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
بے کارن ۔ جس سبب۔ مقصد و مدعا کے لئے ۔ اُچرے دھیان کیئے ۔ سنکر۔ شوجی ۔ سدھ ۔ خدا رسیدہ جنہوں نے مقصد زندگی کا علم حاصل کر لیا۔ اداسی ۔ دنیا سے بیزار ہوئے ۔ مرم ۔ راز ۔ بھیدا (1) من ساچا۔ من حقیقت پسند ۔ مکھ ساچا ۔ زبان میں حقیقت ۔ اور حقیقت کہو۔ ترییئے ساچا ہوئی ۔ کامیابی حاصل ہوتی ہے اور صدیوی حقیقت ہو جاتا ہے ۔ رہاؤ۔ ہر مت ۔ الہٰی سمجھ ۔ رہاؤ۔ اگن ۔ طمع ۔ لالچ اور غصہ ۔ بنب ۔ سکون ذہن۔ ستوگن ۔ پون ۔ ہوا۔ رجوگن ۔ تین اوصاف پر مشتمل۔ نام کے داسا ۔ نام کے غلام۔ تسکر۔ چور۔ کوٹ۔ پچاسا۔ ایسی جگہ جہاں ویرناہ ہو۔ مراد حقیقت سے کروڑوں کوس دور (2) ۔ چنگیائی ۔ نیکی ۔ بغاوے ۔ شیخی بگھارنا (3) تذصلاحن۔ اے خدا جو تیری حمدوثناہ کرتے ہیں۔ دھن۔ دولت ۔ سرمایہ۔ پلے ۔ دامن۔ جیؤ گیہئے محبت و عزت سے بلانا ۔ طلب ۔ جواب طلبی ۔ وجہ پوچھنا۔
ترجمہ:
اے بھائی دلمیں ہو سچ حقیقت ہو زبان پر زندگی کے اس سمندر کو اس سے عبور کیا جاسکتا ہے ۔ دشمن اور عذاب نزدیک نہیں پٹھکتا الہٰی سبق وہ پالیتا ہے ۔ رہاؤ۔ جس مقصد و مدعا کو ساہمنے رکھ کر برہما نے وید بیان کیئے شوجی نے خانہ داری اور دنیاوی دولت چھوڑی ۔ جسکے حصول کے لئے خدا رسیدہ جوگیوں نے دنیا سے بیزاری اختیار کی اور دیوتاؤں کو بھی راز معلوم نہ ہوا (1) یہ سارا عالم خواہشا ت و لالچ کی آگ مراد طمع کے وصف اور سچ حق پرستی کے اوصاف اور ترقی و حکمرانی کے وصف کی بناوٹ میں ہے ۔ مگر یہ تینوں اوصاف الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے گلام ہیں۔ اس الہٰی نام کو متاثر نہیں کر سکتے ۔ جو الہٰی نام میں یقین نہیں رکھتے وہ اصل و حقیقت سے کروڑوں کوس دور ہیں (2) اگر کوئی ایک آدھ نیکی کر لیتا ہے تو اپنے دلمیں شیخی بگھارتا ہے ۔ فخر محسوس کرتا ہے ۔ خدا جو اتنے اوصاف کا مالک ہے دیتا ہے اور پچھتاتا نہیں (3) اے خدا جو تیری حمدو ثناہ کرتے ہیں انکے دامن الہٰی نام کا سرمایہ ہے نانک کے لئے تیرا نام ہی دور ہے ۔ جو کوئی پریم پیار اور عزت سے بلاتا ہے الہٰی کوتوال اسکے اعمالنامے کی تحقیق نہیں کرتا ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
جا کےَ روُپُ ناہیِ جاتِ ناہیِ ناہیِ مُکھُ ماسا ॥
ستِگُرِ مِلے نِرنّجنُ پائِیا تیرےَ نامِ ہےَ نِۄاسا ॥੧॥
ائُدھوُ سہجے تتُ بیِچارِ ॥
جا تے پھِرِ ن آۄہُ سیَسارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جا کےَ کرمُ ناہیِ دھرمُ ناہیِ ناہیِ سُچِ مالا ॥
سِۄ جوتِ کنّنہُ بُدھِ پائیِ ستِگُروُ رکھۄالا ॥੨॥
جا کےَ برتُ ناہیِ نیمُ ناہیِ ناہیِ بکبائیِ ॥
گتِ اۄگتِ کیِ چِنّت ناہیِ ستِگُروُ پھُرمائیِ ॥੩॥
جا کےَ آس ناہیِ نِراس ناہیِ چِتِ سُرتِ سمجھائیِ ॥
تنّت کءُ پرم تنّتُ مِلِیا نانکا بُدھِ پائیِ ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
روپ ۔ شکل۔ جات ۔ خاندان۔ مکھ ۔ چہرہ ۔ ماسا۔ ذرا بھی ۔ نرنجن۔ بیداغ خدا۔ تیرے نام۔ نام میں۔ نواسا۔ بھروسا۔ ٹھکانہ (1) آؤدہو۔ جوگی ۔ سہجے ۔ ذہنی سکون کے ساتھ ۔ تت۔ اصلیت وحقیقت ۔ وچار۔ سوچ۔ سمجھ خیا ل کر۔ پھر نہ اوہو سیسار۔ دنیا میں انا نہ ہو ۔رہاؤ۔ کرم۔ اعمال۔ دھرم۔ انسان فرائض۔ سچ ۔ پاکیزگی ۔ مالا ۔ تسبیح ۔ شو جوت کنہو۔ الہٰی نور سے ۔ بدھ ۔ سمجھ ۔ رکھوالا۔ محافظ (2) ۔ برت۔ پرہیز گاری ۔ نیم ۔ روز مرہ کا مذہبی کام۔ گت اوگت ۔ جنت و دوزخ کا خیال۔ چنت۔ فکر ۔ تشویش ۔ بکبائی ۔ فضول بولنا (3) ۔ آس۔ امید ۔ نراس۔ نا امیدی ۔ دل کو باہوش با سمجھ ۔ چت سرت سمجھائی ۔ تنت ۔ روح ۔ پرم تنت۔ خدا۔ بلند روحانی ہستی ۔ بدھ ۔ سمجھ ۔
ترجمہ:
اے جوگی ذہنی سکون سے حقیقت و اصلیت سمجھ ۔ یہ نہ سمجھ تیرا تناسخ مٹ گیا ہے ۔ رہاؤ۔ جنکی نہ کوئی شکل و صورت ہے نہ بلند ذات نہ خوبصورت نقش و نگار سچے مرشد کے ملاپ پاک خدا کا وصل حاصل ہوا اے تیرے پاک نام ست سچ حق و حقیقت میں ٹھکانہ ملا ۔ اے جوگی ذہن نشین اور روحانی سکون سے حقیقت کو سمجھ تاکہ دوبارہ تناسخ میں آنا پڑے ۔ رہاؤ۔ جس کے نہ نیک اعمال ہیں نہ مذہبی اور انسانی فرائض کی ادائیگی نہ پاک تسبیح انکو خدا نے سمجھ عنایت کی سچا مرشد محافظ ہوا (2) جو نہ پرہیز گار ہے نہ روزمرہ کے مذہبی فرائض کی ادائیگی ناہی فضول بول چا۔ نہ جنت و دوزخ کا خیال سچے مرشد نے فرمائیا ہے (3) جس کے ذہن میں نہ اُمید ہے نہ ناامیدی کا دلمیں ہوش حواس ہیں۔ تو اسے دریائے نور خدوندکریم کا وصل نصیب ہوجاتا ہے اسے یہ سمجھ آجاتی ہے ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
تا کا کہِیا درِ پرۄانھُ ॥
بِکھُ انّم٘رِتُ دُءِ سم کرِ جانھُ ॥੧॥
کِیا کہیِئےَ سربے رہِیا سماءِ ॥
جو کِچھُ ۄرتےَ سبھ تیریِ رجاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘رگٹیِ جوتِ چوُکا ابھِمانُ ॥
ستِگُرِ دیِیا انّم٘رِت نامُ ॥੨॥
کلِ مہِ آئِیا سو جنُ جانھُ ॥
ساچیِ درگہ پاۄےَ مانھُ ॥੩॥
کہنھا سُننھا اکتھ گھرِ جاءِ ॥
کتھنیِ بدنیِ نانک جلِ جاءِ ॥੪॥੫॥
لفظی معنی:
تاکاکہیا۔ ان کا کہنا۔ در ۔ خدا کے در پر۔ پروان ۔ قبول ہوتا ہے ۔ وکھ ۔ زہر۔ انمرت۔ آب حیات۔ سم ۔ برابر (1) ۔ سربے ۔ سب تھاں۔ ورتے ۔ ہو رہا ہے ۔ تیری رضائے ۔ تیرے زیر فرمان ۔ رہاؤ۔ پرگٹی جوت۔ نور ظہور ہوآ۔ چوکا۔ ختم ہوا۔ ابھیمان ۔ غرور۔ ستگر ۔سچے مرشد نے ۔ انمرت نام۔ الہٰی نام ست۔ سچ حق و حقیقت جو زندگی کوروحانی و اخلاقی پاکیزگی بخشتا ہے (2) کل میں آئیا ۔ پرنا ۔ اسی شخص کی زندگی قبول ہوتی ہے ۔ بارگاہ خدا۔ ساچی ۔ درگیہہ۔ سچے دربار۔ مان ۔ عزت (3) ۔ کہنا سننا۔ کہنا اور سننا۔ اکتھ ۔ جسکی بابت کہا نہیں جاسکتا ۔ کتھی بدنی ۔ ۔ فضول بولنا۔
ترجمہ:
کیا کہیں اے خدا تو ہے ہر شے میں سمائیا ہوآ۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے تیری رضا و فرمان سے ہو رہا ہے ۔ رہاؤ۔ اسکا کہنا بارگاہ خدا میں مانا جات اہے جو آپ حیات اور زہر برابر سمجھتا ہے (1) جس کے دل و دماگ میں الہٰی نور ظہور پذیر ہوا اسکا غرور دور ہو سچے مرشد نے آب حیات نام ست سچ حق و حقیقت کا سب بخشش کیا (2) زندگی اسی کی قبول ہوتی ہے زمانے میں جسے بارگاہ الہٰی میں قدرومنزلت حاصل ہوتی ہے (3) وہی بول بولنے اور سننے اچھے ہیں جن سے الہٰی صحبت و قربت حاصل ہو۔ اے نانک۔ دوسری کہی سنی باتیں بیکار چلی جاتی ہیں۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
انّم٘رِتُ نیِرُ گِیانِ من مجنُ اٹھسٹھِ تیِرتھ سنّگِ گہے ॥
گُر اُپدیسِ جۄاہر مانھک سیۄے سِکھُ سد਼ کھوجِ لہےَ ॥੧॥
گُر سمانِ تیِرتھُ نہیِ کوءِ ॥
سرُ سنّتوکھُ تاسُ گُرُ ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرُ دریِیاءُ سدا جلُ نِرملُ مِلِیا دُرمتِ میَلُ ہرےَ ॥
ستِگُرِ پائِئےَ پوُرا ناۄنھُ پسوُ پریتہُ دیۄ کرےَ ॥੨॥
رتا سچِ نامِ تل ہیِئلُ سو گُرُ پرملُ کہیِئےَ ॥
جا کیِ ۄاسُ بناسپتِ سئُرےَ تاس چرنھ لِۄ رہیِئےَ ॥੩॥
گُرمُکھِ جیِء پ٘ران اُپجہِ گُرمُکھِ سِۄ گھرِ جائیِئےَ ॥
گُرمُکھِ نانک سچِ سمائیِئےَ گُرمُکھِ نِج پدُ پائیِئےَ ॥੪॥੬॥
لفظی معنی:
انمرت۔ آب حیات۔ جو روحانی واخلاقی طور پر صدیوی پاک بناتا ہے ۔ نیر ۔پانی ۔ گیان ۔ علم و دانش۔ اٹھ سٹھ تیرتھ سنگ رہے ۔ جواڑسٹھ تیرتھوں کی اہمیت رکھتا ہے ۔ من ۔ مجن۔ جو دل کو پاک بناتا ہے ۔ اپدیس ۔ واعظ ۔نصحیت ۔ سیوے ۔ خدمت کرے ۔ کھوج لہے ۔ تلاش پر حاصل ہوتے ہیں (1) سمان ۔ برابر۔ تیرتھ ۔ زیارت۔ سر ۔ سمندر۔ سنتوکھ ۔ صبر۔ تاس۔ اس جیسا (1) ۔ رہاؤ۔ گر دریاؤ ۔ سمندر۔ جل نرمل۔ پانی پاک۔ درمت۔ بدعقلی ۔ میل ہرے ۔ دور کرتا ہے ۔ ناون ۔ اشنان۔ پسو پرتیتہو۔ حیونا و شیطان سے ۔ دیو ۔ فرشتہ بنائے (2) رتا سچ نام ۔ سچے نام میں محو ومجذوب و متاثر ۔ تل ہیئل۔ دل و دماغ۔ من و ذہن۔ پرمل۔ چندن ۔ خوشبو تقسیم کرنے والا۔ واس۔ خوشبو سے ۔ بناسپتی ۔ سبزہ زار۔ تسا چرن لوریئے ۔ اس کے پاو ں کے گرویدہ و مشتاق رہو (3) گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ جیئہ پران ۔ زندگی گذارنے کے طریقے میں سدھاریا انقلاب پیدا ہوتا ہے ۔ گورمکھ سیو گھر جایئے اور مرشد کے وسیلے سے ہی برائیوں سے نجات کا موقعہ حاصل ہوتا ہے ۔ خوشحالی ملتی ہے ۔ سچ سماییئے ۔ خد امیں محو و مجذوب ۔ تج پد۔ ذہن نشینی ۔
ترجمہ:
علم دل کے لیے غسل اور زندگی کو روحانی واخلاقی طور پر پاکیزہ بنانیوال آب حیات اور اڑسٹھ تیرتھوں کا اشنان یا زیارت ہے ۔ جو زندگی میں ہمیشہ ساتھ دیتا ہے ۔ واعظ مرشد جواہرات کی مانند قیمتی ہیں جو تلاش کرتا ہے جسے جستجو ہے پاتا ہے (1) مرشد کے برابر کوئی زیارت گاہ نہیں جو اسکے برابری رک سکے ۔ مرشد ہی صبر کا سمندر ہے ۔ رہاؤ۔ مرشد ایک پاک پانی کا سمندر ہے جس کے ملاپ سے دل کی برائیوں کی ناپاکیزگی دور ہوتی ہے ۔ سچے مرشد کا ملاپ کامیاب گصل ہے ۔ مرشد حیوانوں بدروحو ں سے فرشتے اور فرشتہ سیرت بنا دیتا ہے (2) سچ اور سچے نام سچ سچ حق وحقیقت دل و دماگ والا مرشد کو چندن سے تشبیح دینا مناسب ہے ۔ چندن کی خوشبو سے اسکے نزدیک اگنے والے سبزہ دینے لگتے ہیں۔ ایے مرشد کا گرویدہ ہونا چاہیے (3) مرشد کی وساطت سے زندگی کی اندر روحانی واخلاقی زندگی کی روہیں پیدا ہوتی ہیں اور مرشد کے وسیلے سے الہٰی در نصیب ہوتا ہے اے نانک مرشد کی وساطت سے ہی بلند روحانی رتبہ حاصل ہوتا ہے اور ہمیشہ اس میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
گُر پرسادیِ ۄِدِیا ۄیِچارےَ پڑِ پڑِ پاۄےَ مانُ ॥
آپا مدھے آپُ پرگاسِیا پائِیا انّم٘رِتُ نامُ ॥੧॥
کرتا توُ میرا ججمانُ ॥
اِک دکھِنھا ہءُ تےَ پہِ ماگءُ دیہِ آپنھا نامُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پنّچ تسکر دھاۄت راکھے چوُکا منِ ابھِمانُ ॥
دِسٹِ بِکاریِ دُرمتِ بھاگیِ ایَسا ب٘رہم گِیانُ ॥੨॥
جتُ ستُ چاۄل دئِیا کنھک کرِ پ٘راپتِ پاتیِ دھانُ ॥
دوُدھُ کرمُ سنّتوکھُ گھیِءُ کرِ ایَسا ماںگءُ دانُ ॥੩॥
کھِما دھیِرجُ کرِ گئوُ لۄیریِ سہجے بچھرا کھیِرُ پیِئےَ ॥
سِپھتِ سرم کا کپڑا ماںگءُ ہرِ گُنھ نانک رۄتُ رہےَ ॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
ودیا۔ علم الہٰی وروحانی ۔ مان ۔ عزت۔ وقار۔ آپا مدھے ۔ اپنے اندر اپنے آپ کو پرگاسیا۔ روشن کیا۔ مراد اپنے کردار پر نظر دوڑائی ۔ سوچا سمجھا۔ پائیا انمرت نام اور الہٰی نام ۔ ست ۔ سچ حق و حقیقت کو محسوس کیا (1) کرتا۔ اے کارساز ۔ کرتار۔ ججمان ۔ دان دینے والا۔ دکھنا۔ خیرات۔ بھیک۔ پنچ تسکر۔ پانچ چور ۔ دھاوت ۔ دوڑ دہوپ کرتے ۔ رکاھے ۔ روکھے ۔ چوکا ۔ مٹا۔ من ابھیمان۔ دکا غرور۔ دسٹ بکاری ۔ بری نظر۔ درمت۔ بد عقلی ۔ برہم گیان ۔ علم الہٰی (2) جت۔ شہوت سے پرہیز۔ ست ۔ حقیقت پرستی ۔ پسندی ۔ پراپت پاتی دھان۔ پاتی ۔ پتل۔ مراد دھیان ۔ کی پتل بخشش کرؤ۔ نیک اعمال کا دہودھ ۔ سنتوکھ گھیؤ۔ صبر کا گھی (3) گھما ۔ زیادتی کی برداشت کا مادہ۔ دھیرج ۔ برداشت۔ کر گیو لویری ۔ دودھ دینے والی گائے ۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ من جو مانند ایک بچھڑے کے ہے اسکا لطف اٹھا سکے ۔ صفت سرم ۔ حمدوثناہ کی کوشش۔ ہرگن ۔ الہٰی صفت۔ رقت رہے ۔ محوو مجذوب ہے ۔
ترجمہ:
اے خدا تو میرا دان دینے والا ججمان ہے اور میں تیرا برہمن ہوں میں ایک خیرات مانگتا ہوں کہ مجھے اپنا نام ست ۔ سچ حق و حقیقت عنایت کر۔ رہاؤ۔ جسکی برکت سے پانچوں تسکراخلاق و روحانیت کی بھٹکن اور دوڑ دہوپ ختم ہوتی ہے ۔ اور دل کا غرور مٹتا ہے ۔ برا نظریہ بد عقلی دور ہوئی ایسا ہے علم خدا (2) شہوت سے پرہیز گار اور حقیقت اور حقیقت پسندی کے چاول مہربانی کرنے کی گندم اور دھیان لگانے کی پتل دیجیئے ۔ نیک اعمال کا دہودھ اور صبر بطور گھی ایسی خیرات مانگتا ہوں (3) مہربانی اتحمل مزاجی بطور دودھ دینے ولای گائے جس سے بچھرا مراد میرا دل اور ذہن اسکا لطف لے سکے ۔ حمدوثناہ کی کوشش مانگتا ہوں اے نانک۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
آۄتُ کِنےَ ن راکھِیا جاۄتُ کِءُ راکھِیا جاءِ ॥
جِس تے ہویا سوئیِ پرُ جانھےَ جاں اُس ہیِ ماہِ سماءِ ॥੧॥
توُہےَ ہےَ ۄاہُ تیریِ رجاءِ ॥
جو کِچھُ کرہِ سوئیِ پرُ ہوئِبا اۄرُ ن کرنھا جاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیَسے ہرہٹ کیِ مالا ٹِنّڈ لگت ہےَ اِک سکھنیِ ہور پھیر بھریِئت ہےَ ॥
تیَسو ہیِ اِہُ کھیلُ کھسم کا جِءُ اُس کیِ ۄڈِیائیِ ॥੨॥
سُرتیِ کےَ مارگِ چلِ کےَ اُلٹیِ ندرِ پ٘رگاسیِ ॥
منِ ۄیِچارِ دیکھُ ب٘رہم گِیانیِ کئُنُ گِرہیِ کئُنُ اُداسیِ ॥੩॥
جِس کیِ آسا تِس ہیِ سئُپِ کےَ ایہُ رہِیا نِربانھُ ॥
جِس تے ہویا سوئیِ کرِ مانِیا نانک گِرہیِ اُداسیِ سو پرۄانھُ ॥੪॥੮॥
لفظی معنی:
آوت۔ بوقت پیدائش ۔ کنے نہ راکھیا۔ رکاوٹ کی۔ جاوَت ۔ بوقت موت۔ پر جانے ۔ اُسے ہی پَتہ ہے ۔ سمائے ۔ مَحو ومَجذوب (1) واہو۔ حیران کرنیوالا۔ تیری رجائے ۔ تیری رَضا و فَرمان ۔ ہوئیبا۔ ہوگا۔ دوسرا کر نہیں سکتا۔ رہاؤ۔ ہرہٹ کی مالا ۔ کوینں کی مال۔ سکھنی ۔ کھیل یا چھوٹا سا تالاب ۔ تیلے ہی دنیاوی خدا کا کھیال (2) سرتی کے مارگ ۔ علم و دانش کے راستے پر۔ چل کے ۔ عمل کرکے ۔ الٹی ندر پرگاسی ۔ نظریہ دنیاوی دولت کو چھوڑ کر روحانی راہ روشن ہوا۔ برہم گیانی ۔ الہٰی علم کا راز دان۔ گر ہی ۔ خانہ دار ۔ گھریلو ۔ اداسی ۔ طارق۔ یا تیاگی (3) آسا۔ اُمیدیں۔ سونپ ۔ حوالے کر۔ نربان ۔ آزاد طبیعت ۔ جس تو ہوا۔ جس خدا سے پیدا ہوا ہے ۔ سوئی کر مانیا۔ اسمیں ایمان لائیا۔ پروان ۔ منظور ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
الہٰی رضا کی مطابق جو پیدا ہوتا ہے اسے پیدا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا بوقت موت مرنے سے بھی نہیں روکا جاسکتا۔ جس خدا سے پیدا ہوتا ہے اسی میں مدغم ومجذوب ہو جاتا ہے ۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے (1) اے خدا بلند ہستی ہے اور حیران کرنیوالی ہے تیری رضا۔ جو کچھ تو کرتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ دوسرے کسی کی کچھ مجال اور ہستی نہیںکہ کچھ کر سکے ۔ رہاؤ۔ جس طرح سے چلتے کویں کے رہٹ میں ٹنڈیں باندھی ہوتی ہیں۔ جب کنوآں چلتا ہے ویسے ویسے کچھ خالی ہو جاتی ہیں کچھ بھر جاتی ہیں اس طرح کا کدا نے یہ کھیل بنائیا ہوا ہے ۔ مراد کچھ اس جہاں سے چلے جاتے ہیں اور کچھ اور آجاتے ہیں ۔ یہی ہے یہاں کی عظمت (2) اس انسان کا نظریہ روشن ہے جو عقل و دانش کا راستہ اختیار کر کے ۔ دنیاوی دولت کی محبت کا راستہ بدل لیتا ہے ۔ اے الہٰی علم و دانش کے متلاشی اپنے دلمیں سوچ وچار کر کہ کون گھر باری ہے اور کون طارق (3) جس خدا نے دنیاوی دولت کی امیدیں انسان کو سونپ دیں ہیں اسی کو سونپ کر بلا خواہشات و آرزو ہوکر زندگی بسر کرتا ہے اور الہٰی رضآ میں راضی رہتا ہے اور اسمیں ایمان لاتا ہے ۔ خوآہ وہ خانہ داری ہو طارق الدنیا وہ بارگاہ خدا میں قبول ہوتا ہے ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
دِسٹِ بِکاریِ بنّدھنِ باںدھےَ ہءُ تِس کےَ بلِ جائیِ ॥
پاپ پُنّن کیِ سار ن جانھےَ بھوُلا پھِرےَ اجائیِ ॥੧॥
بولہُ سچُ نامُ کرتار ॥
پھُنِ بہُڑِ ن آۄنھ ۄار ॥੧॥ رہاءُ ॥
اوُچا تے پھُنِ نیِچُ کرتُ ہےَ نیِچ کرےَ سُلتانُ ॥
جِنیِ جانھُ سُجانھِیا جگِ تے پوُرے پرۄانھُ ॥੨॥
تا کءُ سمجھاۄنھ جائیِئےَ جے کو بھوُلا ہوئیِ ॥
آپے کھیل کرے سبھ کرتا ایَسا بوُجھےَ کوئیِ ॥੩॥
ناءُ پ٘ربھاتےَ سبدِ دھِیائیِئےَ چھوڈہُ دُنیِ پریِتا ॥
پ٘رنھۄتِ نانک داسنِ داسا جگِ ہارِیا تِنِ جیِتا ॥੪॥੯॥
لفظی معنی:
دسٹ۔ نظریہ ۔ خیالات۔ بکاری ۔ بری نظر۔ بندھن باندھے ۔ قابو کرے ۔ ہؤ۔ میں۔ تس ۔ اسکے ۔ بل ۔ قربان۔ سار ۔ قدروقیمت۔ اصلیت۔ تمیز۔ اجائی ۔ فضول (1) بولو ۔ کہو۔ کرتار ۔ کرنیوالے ۔ کارساز۔ سچ نام ۔ سچے نام۔ سچ حق وحقیقت ۔ فن ۔ دوبارہ ۔ر ہاؤ۔ جنی ۔ جنہوں نے ۔ جان سجائیا۔ جس نے سمجھنے کے لائق کو سمجھا ۔ پروان ۔ قبول منظور (2) بھولا ۔ گمراہ ۔کرتا۔ ایسا بوجھے کوئی ۔ اسطرح کوئی سمجھے (3) ناؤ۔ الہٰی نام ۔ پربھاتے ۔ صبح سویرے ۔ علے الصبح۔ سبد دھیایئے ۔ کلام میں دھیان لگائیں۔ چھوڈ ہو۔ دنی پریتا۔ دنیاوی محبت۔ پرنوت ۔ عرض گذارتا ہے ۔ داسن داسا۔ غلاموں کا غلام۔ جگ ہاریا۔ جو عالم میں اپنے آپو کو شکست پائی۔ تن جیتا وہ فتیحیاب ہوا۔
ترجمہ:۔
جس نے بری نظر و نظریہ کو خیالات کے بندھنوں باندھ لیا اس پر قربان ہوں ۔ جسے نیک و بد ثواب و گناہ کی تمیز نہیں راز نہیں سمجھتا بلاوجہ گمراہ ہو رہا ہے ۔ (1) کارساز گرتار مراد خا کا نام لو تاکہ تناسخ میں نہ آنا پڑے ۔ رہاؤ۔ جو اونچوں کو نیچا بنا دیتا ہے اور نیچوں کو بادشاہ بنا دیتا ہے ۔ جنہوں نے اس راز دان کو جان لیا پہچان کر لی وہ مقبول ہوئے (2) سمجھائیا اسے جا سکتا ہے اگر گمراہ ہو۔ یہ سارا الہٰی کرتب اور کھیل تماشہ ہے ایسی کسی کو ہی سمجھ ہے (3) علے الصبح کلام مرشد میں دھیان لگاؤ دنیاوی محبت ترک کرؤ۔ نانک عرض گذارتا ہے غلاموں غلام ہے اسنے سارے عالم کو شکشت دیدی اور خود فیتجیاب ہوآ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
منُ مائِیا منُ دھائِیا منُ پنّکھیِ آکاسِ ॥
تسکر سبدِ نِۄارِیا نگرُ ۄُٹھا ساباسِ ॥
جا توُ راکھہِ راکھِ لیَہِ سابتُ ہوۄےَ راسِ ॥੧॥
ایَسا نامُ رتنُ نِدھِ میرےَ ॥
گُرمتِ دیہِ لگءُ پگِ تیرےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منُ جوگیِ منُ بھوگیِیا منُ موُرکھُ گاۄارُ ॥
منُ داتا منُ منّگتا من سِرِ گُرُ کرتارُ ॥
پنّچ مارِ سُکھُ پائِیا ایَسا ب٘رہمُ ۄیِچارِ ॥੨॥
گھٹِ گھٹِ ایکُ ۄکھانھیِئےَ کہءُ ن دیکھِیا جاءِ ॥
کھوٹو پوُٹھو رالیِئےَ بِنُ ناۄےَ پتِ جاءِ ॥
جا توُ میلہِ تا مِلِ رہاں جاں تیریِ ہوءِ رجاءِ ॥੩॥
جاتِ جنمُ نہ پوُچھیِئےَ سچ گھرُ لیہُ بتاءِ ॥
سا جاتِ سا پتِ ہےَ جیہے کرم کماءِ ॥
جنم مرن دُکھُ کاٹیِئےَ نانک چھوُٹسِ ناءِ ॥੪॥੧੦॥
لفظی معنی:
من مائیا من دھائیا ۔ دل دنیاوی دولت کے لئے دوڑ دہوپ کرتا ہے اور پرندوں کی طرح آسمانوں میں پرواز کرتا ہے ۔ تسکر ۔ چور ۔ سبد۔ کلام کے ذریعے ۔ نواریا۔ دور کیا۔ نگروٹھا ساباس۔ اور جسم میں نیکیاں نمودار ہوئیں۔ بسیں ۔ راکھیہہ۔ حفاظت کرتا ہے ثابت ہووے راس۔ تو سرمایہ قائم دائم رہتا ہے (1) نام رتن ۔ الہٰی ہیرا نام۔ ندھ ۔ خزانہ ۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ لگو پگ ۔ تیرے ۔ تیرے پاؤں پڑوں ۔ رہاؤ۔ جوگی ۔ طارق الدنیا ۔ ۔ بھوگیا ۔ دنیاوی نعمتوں کا لطف لینے والا۔ مورکھ گاوار ۔ بیوقوف جاہل۔ داتا ۔ سخی ۔ منگتا ۔ بھکاری ۔ سر گر۔ بھاری مرشد۔ کرتار۔ خدا۔ پنچ مار۔ پانچوں بدعتوں کو ختم کرنےسے ۔ برہم وچار۔ الہٰی سمجھ بنتی ہے (2) بھولا گمراہ۔ گھٹ گھرٹ ۔ ہر دلمیں۔ وکھانیئے ۔ کہتے ہیں۔ کہو ۔ کسی سے ۔ کھوٹو۔ برا۔ بد قماش۔ پوٹھو رالیے ۔ الٹا رلایا جات اہے ۔ پت ۔ عزت (3) جات جنم ۔ ذات یا خاندان۔ سچ گھر ۔ الہٰی ٹھکانہ ۔ یہو بتائے ۔ کا پتہ پوچھو ۔ ساجات۔ ذات وہی ہے ساپت ہے ۔ جیسا کام کرتا ہے ۔ چھوٹس نائے ۔ نام ست ۔ سچ حق و حقیقت سے نجات حاصل ہوتی ہے ۔
ترجمہ:
یہ انسانی دل دنیاوی دولت کے لئے دوڑ دہوپ جہوترود کرتا ہے اور پندوں کی طرح آسمانوں میں پروار کرتا ہے جس نے چوروں کو کلام سے دور کیا تو جسم آباد خوشحال ہوتا ہے اے خدا جب تو محافظ ہوتا ہے تو اوصاف کا سرمایہ محفوظ رہتا ہے (1) نام ایک قیمتی ہیرے جواہرات کا خزانہ ہے سبق مرشد کے ذریعے ملتا ہے ۔ اسے دیجیئے تاکہ تیرے پاؤں پڑارہوں ۔ رہاؤ۔ یہ من طارق الدنیا ہے ۔ دنیاوی نعمتوں کا مصارف ہے یہی من بیوقوف اور جاہل ہے ۔ من سخی اور سخاوت کرنے والا ہے بھکاری ہے ۔ مگر اگر رہبر مرشد وخدا ہو تو انسان پانچوں بدعتوں شہورت غصہ لالچ دنیاوی دولت کی محبت غرور و تکبر کو ختم کرنسے ذہنی و روحانی سکون حاصل ہوتا ہے یہ ہے الہٰی فرمان سوچ و چار (2)ہر دلمیں بستا کہتے ہیں بتاو اسکا دیدار کیسے ہو۔ کھوٹے الٹے کرکے پھینکے جاتے ہیں رلتے ہیں ۔ بغری نام ست سچ حق وحقیقت کے عزت گنواتے ہیں۔ اے خدا اگر تو اپنا وصل و ملاپ عنایت کرے اور اگر تیری رضا و فرمان ہو (3) خدا کے دربار میں ذات خاندان یا گوت کی بابت نسل و قوم کا امتیاز نہیں ہوتا۔ زندگی کی راہ راست کی بابت دریافت ہوتی ہے ۔ انسان کی ذات و عزت اسکے اعمال پر منحصر ہے ۔ اے نانک۔ موت و پیدائش کا عذاب سے نجات الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت سے حاصل ہوتی ہے ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
جاگتُ بِگسےَ موُٹھو انّدھا ॥
گلِ پھاہیِ سِرِ مارے دھنّدھا ॥
آسا آۄےَ منسا جاءِ ॥
اُرجھیِ تانھیِ کِچھُ ن بساءِ ॥੧॥
جاگسِ جیِۄنھ جاگنھہارا ॥
سُکھ ساگر انّم٘رِت بھنّڈارا ॥੧॥ رہاءُ ॥
کہِئو ن بوُجھےَ انّدھُ ن سوُجھےَ بھوݩڈیِ کار کمائیِ ॥
آپے پ٘ریِتِ پ٘ریم پرمیسُرُ کرمیِ مِلےَ ۄڈائیِ ॥੨॥
دِنُ دِنُ آۄےَ تِلُ تِلُ چھیِجےَ مائِیا موہُ گھٹائیِ ॥
بِنُ گُر بوُڈو ٹھئُر ن پاۄےَ جب لگ دوُجیِ رائیِ ॥੩॥
اہِنِسِ جیِیا دیکھِ سم٘ہ٘ہالےَ سُکھُ دُکھُ پُربِ کمائیِ ॥
کرمہیِنھُ سچُ بھیِکھِیا ماںگےَ نانک مِلےَ ۄڈائیِ ॥੪॥੧੧॥
لفظی معنی:
جاگت۔ بیدار و ہوشیار ہونیکے باجود۔ وگسے ۔ خوش ہوتا ہے ۔ موٹھو ۔ لٹ رہا ہے ۔ دہوکا کھا رہا ہے ۔ اندھا ۔ غافل ۔ گل پھاہی ۔ گلے میں پھندہ یا رسی ۔ سرمارے دھندا۔ سر ذہنی کوفت میں دنیاوی کشمکش کی ۔ آسا۔ اُمید۔ ببراسا۔ نا اُمید۔ ارجھی تانی ۔ دنیاوی الجھنوں ۔ کچھ نہ بسائے ۔ کوئی زور نہیں چلتا۔ بسائے ۔ زور نہیں (1) جاگس جیون بیداری ہی زندگی ہے ۔ جاگنہار۔ بیدار رہنے کی توفیق رکھنے والے ۔ سکھ ساگر۔ آرام و آسائش کا سمندر۔ انمرت بھنڈار ۔ آب حیات کا خزانہ ۔ رہاؤ۔ کہیؤ نہ بوجھے ۔ کہے گئے کو سمجھتا نہیں۔ اندھ نہ سوجھے ۔ خود کو سمجھ نہیں۔ بھونڈی کارکمائی ۔ برے اعمال کرتا ہے ۔ پریت۔ محبت۔ پرمیسور ۔ خدا۔ اللہ تعالیٰ ۔ گرمی ۔ بخشش۔ وڈائی ۔ عظمت (2) دن دن آوے ۔ ایک ایک دن کرکے عمر گذر رہی ہے ۔ تل تل تھوڑا تھوڑا کرکے ۔ چھجے ۔ کم ہو رہی ہے ۔ گھٹتی ہے ۔ مائیا موہ گھٹائی ۔ دنیاوی دولت دلمیں بسی رہتی ہے ۔ تھوڑ۔ ٹھکانہ ۔ بوڈو۔ ڈوبتا ہے ۔ جب لگ ۔ جبتک ۔ دوجی رائی ۔ ذراسی بھی دویت ہے (3) اہنس ۔ روز و شب۔ جیئا ۔ مخلوق ۔ دیکھ ۔ خبر داری ۔ سماے ۔ سنبھال۔ پرب ۔ پہلے ۔ کمائی ۔ امعال۔ کرم ہین ۔ بد قسمت۔ سچ بھیکھیا۔ سچ اور سچی بھیک ۔ نانک ملے وڈائی ۔ اے نانک عظمت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔
ترجمہ:
انسان بیداری ہو شیاری میں ہونے کےباوجود غافل ناسمجھی میں لٹ رہا ہے ۔ مگر خوش ہے ۔ اسکے گلے میں دنیاوی دولت کا پھندہ ہے اور دنیاوی دولت کے مخمسے سر پر کھڑے ہیں۔ انسان امیدوں اور نا امیدی کی آمد و رفت میں محبوس ہے ۔ اور ایسے الجھاؤ میں کچھ زور نہیں چلتا (1) اے خدا تو زندگیئے عالم ہے اور تجھ میں بیداری کی توفیق بھی ہے اے خدا تو آرام و آسائش کا سمندر ہے اور آبحیات کا خزانہ یا ذخیرہ ۔ رہاؤ۔ کہنے سے سمجھتا نہیں اور ازخود سمجھ نہیں ہر روز بد اعمالیاں کرتا ہے ۔ اے خدا خود الہٰی پریم پیار عنایت کر تیری کرم و عنایت سے عظمت و حشمت حاصل ہوتی ہے (2) عرصہ حیات ہر روز گذر رہا ہے اور تھوڑا تھوڑا کرکے کم ہو رہا ہے گھٹ رہا ہے مگر دنیاوی دولت کی محبت قائم ہے بغیر مرشد اس ڈوب رہی زندگی کو ٹھکانہ حاصل نہیں (ہوتا) ملتا ۔ جب تک اسکے دوئی دوئش سے ذرا سا بھی واسطہ ہے (3) خدا ہر روز مخلوقات عالم کی سنبھال کرتا ہے ۔ عذاب و آسائش کا انحصا ر اسکے پہلے کئے ہوئے اعمال پر منحصر ہے ۔ اے نانک۔ جب بد قسمت انسان سچ و حق کو بھیک مانگتا ہے تو اسے بلند و عظمت و حشمت حاصل ہوگی ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
مسٹِ کرءُ موُرکھُ جگِ کہیِیا ॥
ادھِک بکءُ تیریِ لِۄ رہیِیا ॥
بھوُل چوُک تیرےَ دربارِ ॥
نام بِنا کیَسے آچار ॥੧॥
ایَسے جھوُٹھِ مُٹھے سنّسارا ॥
نِنّدکُ نِنّدےَ مُجھےَ پِیارا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِسُ نِنّدہِ سوئیِ بِدھِ جانھےَ ॥
گُر کےَ سبدے درِ نیِسانھےَ ॥
کارنھ نامُ انّترگتِ جانھےَ ॥
جِس نو ندرِ کرے سوئیِ بِدھِ جانھےَ ॥੨॥
مےَ میَلوَ اوُجلُ سچُ سوءِ ॥
اوُتمُ آکھِ ن اوُچا ہوءِ ॥
منمُکھُ کھوُل٘ہ٘ہِ مہا بِکھُ کھاءِ ॥
گُرمُکھِ ہوءِ سُ راچےَ ناءِ ॥੩॥
انّدھوَ بولوَ مُگدھُ گۄارُ ॥
ہیِنھوَ نیِچُ بُروَ بُرِیارُ ॥
نیِدھن کوَ دھنُ نامُ پِیارُ ॥
اِہُ دھنُ سارُ ہورُ بِکھِیا چھارُ ॥੪॥
اُستتِ نِنّدا سبدُ ۄیِچارُ ॥
جو دیۄےَ تِس کءُ جیَکارُ ॥
توُ بکھسہِ جاتِ پتِ ہوءِ ॥
نانکُ کہےَ کہاۄےَ سوءِ ॥੫॥੧੨॥
لفظی معنی:
سٹ۔ خاموش۔ مورکھ ۔ بیوقوف۔ ادھک ۔ بکؤ ۔ زیادہ ۔ بولوں۔ تیری لورہییا۔ تیری محبت گھٹتی ہے ۔ بھول گمراہی ۔ چوک ۔ اکائی ۔ نام بنا۔ اصلیت۔ بغیر ۔ آچار۔ اخلاق۔ چال چلن (1) جھوٹھ مٹھے ۔ سنسار ۔ دنیاوی جھوٹ میں لٹ رہی ہے ۔ نندک۔ بد گوئی کرنے والا ۔ نندے ۔ بد گوئی کرتا ہے ۔ رہاؤ۔ جس نندیہہ۔ جسکی بدگوئی کرتا ہے ۔ سوئی بدھ (جانیہہ) جانے ۔ طرز زندگی کا طریقہ (2) میں میلے ۔ ہم ناپاک ۔ اجل۔ پاک ۔ سرخرو۔ سچ سوئے ۔ صدیوی پاک وہی ۔ اپنے آپ کو بلند کہنے سے عظیم ہستی نہیں ہوسکتا۔ منمکھ ۔ مرید من ۔ کھول ۔ آزاد نہ طور پر ۔ مہاوکھ کھائے ۔ برائیوں بدیوں کی زہر کھاتا ہے ۔ مراد بد اعمالیاں کرتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ راچے ۔ ساچے نائے ۔ سچ حق وحقیقت مین محو ہوت اہے (3) اندھو ۔ جو حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے ۔ بولو۔ جو اصلیت نہیں سنتا ۔ مگدھ ۔ بیوقوف ۔ گوار جاہل۔ ہینو بے سمجھ ۔ نیچ ۔ کمینہ ۔ بروبریار۔ نہایت بدکار۔ نیدھن ۔ نردھن۔ غریب ۔ کنگال۔ دھن۔ سرمایہ۔ نام پیار ۔ نام سچ ۔ حق وحقیقت سے محبت۔ سار ۔ اصلی۔ وکھیا۔ زہر۔ چھار۔ راکھ (4) اسنت۔ تعریف۔ نندا۔ بدگوئی۔ سبد وچار ۔ کلام کی سمجھ ۔ جیکار۔ سجدہ ۔ تو بخشے جات پت ۔ اے خدا تیری کرم و عنایت ہی ذات و عزت ہے ۔
ترجمہ:
اگر خاموش رہتا ہوں تو لوگ بیوقوف کہتے ہیں۔ اگر سمجھانے کے لئے بولتا ہوں کہتا ہوں تو تیری محویت و مجذوبیت میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ حقیقتاً گمراہی وہی ہے جو تیری عدالت میں گمراہی تسلیمہو۔ الہٰی نام ست سچ و حق و حقیقت کے بگیر اخلاق و نیک چلن ہے ہی کیا (1) جھوٹ اور فریب میں عالم لٹ رہا ہے بدگوئی کرنیوالا برا کہت اہے مگر میرے لیے پیار ا ہے ۔ رہاؤ۔ نندیہہ ۔ جسکو برا کہتا ہے وہی زندگی گذارنے کے راہ راست کو سمجھتا ہے ۔ کلام مرشد زندگی کے سفر کے لئے پروانہ راہداری ہے الہٰی نام کے سبب سے اندرونی رازوں کا پتہ چلتا ہے ۔ جس پر الہٰی نظر عنایت ہوتی ہے ۔ اسی کو اس طریقے کا پتہ چلتا ہے (2) انسان ناپاک ہے خدا پاک ہے ۔ کہنے سے عظمت حاصل نہیں ہوتی ۔ مرید من آزادانہ بھاری برائیوں میں مشغول ہے ۔ مرید مرشد سچے نام میں محو ومجذوب رہتا ہے (3) آنکھوں سے اندھا کانوں سے بہرہ کمینہ را بدکار بیوقوف جاہل وحیوان ہوں اے انسان کنگال کے لئے الہٰی نام ایک سرمایہ پیارا ہے یہ خصوصی سرمایہ ہے باقی راکھ کے برابر ہے (4) اے خدا خوآہ ہو تعریف ہو یا بدگوئی یا کلام کی سوچ وچار جو دیتا ہے اسکے آگے سجدہ کرتا سر تسلیم خم کرتا ہوں اے خدا تیری بخشش کرم و عنایت ہی بلند خاندانی قبیلیائی اور ذات ہے اور عزت و توقیر ہے ۔ اے نانک۔ کہتا ہے کہلاتا ہے خود وہی ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
کھائِیا میَلُ ۄدھائِیا پیَدھےَ گھر کیِ ہانھِ ॥
بکِ بکِ ۄادُ چلائِیا بِنُ ناۄےَ بِکھُ جانھِ ॥੧॥
بابا ایَسا بِکھم جالِ منُ ۄاسِیا ॥
بِبلُ جھاگِ سہجِ پرگاسِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِکھُ کھانھا بِکھُ بولنھا بِکھُ کیِ کار کماءِ ॥
جم درِ بادھے ماریِئہِ چھوُٹسِ ساچےَ ناءِ ॥੨॥
جِۄ آئِیا تِۄ جائِسیِ کیِیا لِکھِ لےَ جاءِ ॥
منمُکھِ موُلُ گۄائِیا درگہ مِلےَ سجاءِ ॥੩॥
جگُ کھوٹوَ سچُ نِرملوَ گُر سبدیِں ۄیِچارِ ॥
تے نر ۄِرلے جانھیِئہِ جِن انّترِ گِیانُ مُرارِ ॥੪॥
اجرُ جرےَ نیِجھرُ جھرےَ امر اننّد سروُپ ॥
نانکُ جل کوَ میِنُ سےَ تھے بھاۄےَ راکھہُ پ٘ریِتِ ॥੫॥੧੩॥
لفظی معنی:
میل۔ ناپاکیزگی ۔ پیدھے ۔ پوشش۔ پہننا۔ ہان ۔ نقصان۔ بک بک ۔ بول بول۔ واد۔ جھگڑا ۔ (1) وکھم جال۔ سخت جال۔ واسیا۔ بسئیا۔ بیل ۔ جھاگ ۔ لہروں والی جھگ والا پانی۔ سہج پرگاسیا۔ روحانی ذہنی سکون روشن ہوا ۔ رہاؤ ۔ وکھ کھانا ۔ مراد انسان برا کھانا برا بولنا برے کام کرنے۔ جم در۔ الہٰی کوتوالی میں۔ بادھے ماریہہ۔ باندھ کر پیٹے جاتے ہیں۔ چھوٹس ۔ نجات حاصل ہوتی ہے ۔ ساچےنائے ۔ سچے نام سے (2) مول۔ اصل سرمایہ ۔ درگیہہ۔ دربار۔ (3) جگ ۔ دنیا ۔ کھوٹو ۔ جولوگوں میں چل نہ سکے ۔ سچ ۔ مراد خدا۔ نرملو۔ پاک۔ گرسبدی ویچار۔ کلام مرشد سے سمجھ ۔ مرار۔ خدا (4) اجرے جرے ۔ جھرتا ہے ۔ امر ۔ صدیوی ۔ انند۔ روحانی سکون ۔ جل کو مین ۔ پانی کی مچھلی ۔ سے ۔ ہے ۔ تھے ۔ تجھے ۔ بھاوے ۔ چاہے ۔ راکھو پریت ۔ پیار رکھو ۔
ترجمہ:
لذیز مزیدار پر لطف کھانے کھانے سے دل ناپاک ہو جاتا ہے اور اچھے اچھے کپڑے پہننے سے بھی روحانی زندگی کی سمجھ اور سوچ میں خلل پڑتا ہے بغیر نام ست ۔ سچ وحق وحقیقت کی بول بول کر جھگڑ نا بغیر نام زہر ہے (1) ایسے مضبوط ضالت میں من گرفتار ہے ۔ جھاگ والے پانی مراد برائیوں بدکاریوں کو فلانگ کر سکون ملا توحقیقت سے روشناش ہوآ۔ رہاؤ۔ جسکا کھانا روحانی واخلاقی زندگی کے لئے زہر ہے اور زبان درازی اور براے اعمال کرنے والے کو الہٰی کوتوال کوتوالی میں باندھ کر پیٹتے ہیں جبکہ جو سچ حق وحقیقت کے علمبردار ہوتے ہیں نجات پاتے ہیں (2) انسان اس دنیا میں جیسا آتا ہے ویسا خالی ہات چلا جاتا ہے اور اعمال جو کیے ہیں اعمالنامے میں تحریر ہوجاتے ہیں مرید من کے پاس جو اوصاف تھے گنوا کر جاتا ہے آخر عدالت میں سزا پات اہے (3) جگ مراد انسان بد قماش ہے خدا پاک ہے اسکا کلام مرشد سے پتہ چلتا ہے ۔ ایسے انسان بہت کم ہیں۔ جنکے دلمیں الہٰی قدروقیمت اور علم ہے (4) جو ناقابل برداشت کو بردشات کر لیتا ہے اسکے دلمین روحانی چشمہ اور آبشار جاری ہوجاتی ہے جو الہٰی صحبت و پیار ہے اے نانک۔ جیسے مچھلی کو پانی سے پیار ہے اس طرح سے تو اپنی محبت میرے دلمیں بنا کر رکھو۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
گیِت ناد ہرکھ چتُرائیِ ॥
رہس رنّگ پھُرمائِسِ کائیِ ॥
پیَن٘ہ٘ہنھُ کھانھا چیِتِ ن پائیِ ॥
ساچُ سہجُ سُکھُ نامِ ۄسائیِ ॥੧॥
کِیا جاناں کِیا کرےَ کراۄےَ ॥
نام بِنا تنِ کِچھُ ن سُکھاۄےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جوگ بِنود س٘ۄاد آننّدا ॥
متِ ست بھاءِ بھگتِ گوبِنّدا ॥
کیِرتِ کرم کار نِج سنّدا ॥
انّترِ رۄتوَ راج رۄِنّدا ॥੨॥
پ٘رِءُ پ٘رِءُ پ٘ریِتِ پ٘ریمِ اُر دھاریِ ॥
دیِنا ناتھُ پیِءُ بنۄاریِ ॥
اندِنُ نامُ دانُ ب٘رتکاریِ ॥
ت٘رِپتِ ترنّگ تتُ بیِچاریِ ॥੩॥
اکتھوَ کتھءُ کِیا مےَ جورُ ॥
بھگتِ کریِ کرائِہِ مور ॥
انّترِ ۄسےَ چوُکےَ مےَ مور ॥
کِسُ سیۄیِ دوُجا نہیِ ہورُ ॥੪॥
گُر کا سبدُ مہا رسُ میِٹھا ॥
ایَسا انّم٘رِتُ انّترِ ڈیِٹھا ॥
جِنِ چاکھِیا پوُرا پدُ ہوءِ ॥
نانک دھ٘راپِئو تنِ سُکھُ ہوءِ ॥੫॥੧੪॥
لفظی معنی:
گیت۔ ناد ۔ گانا بجانا۔ ہرکھ ۔ خوشی ۔ چترائی ۔ چالاکی ۔ دہوکابازی ۔ رہس ۔ انند۔ فرمائس ۔ حکومت ۔ پہنن کھانا۔ خوردونوش و پوشتں ۔ چیت نہ پائی ۔ دلپسند نہیں۔ ساچ ۔ سچ ۔ خدا۔ سہج ۔ روحانی سکون ۔ نام ۔ بسائی۔ بسے (1) نام بنا۔ نام کے بغیر ۔ سکھاوے ۔ اچھا نہیں لگتا ۔ رہاؤ۔ جوگ ۔ الہٰی ملاپ ۔ ونود۔ تماشے ۔ کھیل۔ سوآد۔ لطف۔ مزے ۔ آنند۔ سکون ۔ مت۔ ست بھائے ۔ عقل ۔ سچے پریم پیار سے ۔ اندر روتوراج ۔ بھگت گوبندا۔ خدمت۔ خدا۔ روندا۔ خدادلمیں بستا ہے ۔ کیرت۔ حمدوثناہ ۔ صفت صلاح۔ تج ۔ ذاتی ۔ سندا۔ ہتھار۔ (2) پریؤ۔ پیارے ۔ پریت۔ پیار۔ ار۔ دلمیں۔ دھاری ۔ دینا ناتھ ۔ غریب پرور ۔ غریبوں کا مالک ۔ پیؤ۔ پیار ۔ بنواری ۔ چنگلوں کی تسبیح والا۔ اندن ۔ ہر روز۔ برت۔ کاوی ۔ پرہیز گار۔ ترپت۔ تسلی ۔ ترنگ ۔ لہریں۔ تت۔ اصلیت۔ (3) اکتھو ۔ ناقابل بیان۔ بھگت ۔ کدمت و عبادت ۔ مور۔ مجھ سے ۔مور ۔ میرا۔ انتر ۔ ذہن میں۔ پورا پد۔ کامل رتبہ ۔ دھرا پیؤ۔ سیر ہوا۔
ترجمہ:
گانے بجانے خویان چالاکیاں دنیاوی لہریں حکمرانیاں لذیز کھانے اور پوشش دل کو اچھے نہیں لگتے ۔ خدا ۔ سکوں اور الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت دلمیں بساتا ہوں (1) کیا سمجھو کہ خدا میرے لیے کیا کر رہا اور کرارہا ہے ۔ الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے بغیر دل کو کچھ اچھا نہیں لگتا ۔ الہٰی حمدوثناہ روزمرہ کی کارہوگئی ہے ۔ نور الہٰی دل میں بس گیا ہے (2) پیارے کا پیار دلمیں بس گیا ہے وہ غریب نواز غریبوں کا مالک ہے اور مالک کل علام ہے ۔ ہر روز لوگوں کو نام کی خیرات پرہیز گاری کرتا ہوں۔ اور حقیقت و اصلیت سمجھ کر روحانی وذہنی طور پر سیر ہوگیا ہوں (3) مجھ میں کونسی طاقت ہے کہ اے خدا تیرے اوصاف جو بیان سے باہر ہیں بیان کرؤ ں مجھ سے اپنی خدمت و عبادت کراؤ تاکہ میرے دلمیں بسی میں اور میری ختم ہوجائے ۔ کس کی خدمت کرؤ جب تیرے علاوہ دوسری ہستی ہی کوئی نہیں (4) کالم مرشد پر لطف ہے ۔ ایسا آب حیات اپنے دلمیں معلوم ہوا ہے ۔ جس نے اسکا لطف اُٹھائیا اس نے کامل روحانی رتبہ حاصل کیا۔ اے نانک۔ اسکو دنیاوی نعمتوں کی خواہش باقی نہیں رہی اورو روحانی و ذہنی سکون پائیا۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
انّترِ دیکھِ سبدِ منُ مانِیا اۄرُ ن راںگنہارا ॥
اہِنِسِ جیِیا دیکھِ سمالے تِس ہیِ کیِ سرکارا ॥੧॥
میرا پ٘ربھُ راںگِ گھنھوَ اتِ روُڑوَ ॥
دیِن دئِیالُ پ٘ریِتم منموہنُ اتِ رس لال سگوُڑوَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اوُپرِ کوُپُ گگن پنِہاریِ انّم٘رِتُ پیِۄنھہارا ॥
جِس کیِ رچنا سو بِدھِ جانھےَ گُرمُکھِ گِیانُ ۄیِچارا ॥੨॥
پسریِ کِرنھِ رسِ کمل بِگاسے سسِ گھرِ سوُرُ سمائِیا ॥
کالُ بِدھُنّسِ منسا منِ ماریِ گُر پ٘رسادِ پ٘ربھُ پائِیا ॥੩॥
اتِ رسِ رنّگِ چلوُلےَ راتیِ دوُجا رنّگُ ن کوئیِ ॥
نانک رسنِ رساۓ راتے رۄِ رہِیا پ٘ربھُ سوئیِ ॥੪॥੧੫॥
لفظی معنی:
انتر۔ اندر۔ سبد من مانیا۔ کلام میں ایمان و یقین دل لائیا۔ ۔ اور ۔ دوسرا۔ رانگنہار۔ متاثر ۔ کرنیوالا۔اہنس۔ دن رات۔ جیئا ۔ مخلوقات ۔ دیکھ ۔ نگہبانی ۔ سماے ۔ سنبھالتا ہے ۔ تس۔ اس ۔ سرکار۔ حکمرانی (1) رانگ گھنو۔ نہایت پریمی پیار۔ ات ۔ روڑو ۔ نہایت خوبصورت۔ دین دیال۔ غریب نواز۔ پریتم ۔ پیارا۔ منموہن ۔ دلربا۔ ات رس لال ۔ سگوڑو۔ ناہیت پریمی سرخ رنگ ۔ راتی ۔ مھو ۔ دوجارنگ ۔ دوسرا پیار۔ رہاؤ۔ کوپ ۔ کنوآں ۔ گگن ۔ آسمان ۔ پنہاری ۔پانی بھر نیوالا۔ انمرت۔ آب حیات۔ پیونہارا۔ پینے کی توفیق رکھنے والا۔ رچنا۔ پیدا کیا۔ بدھ ۔ طریقہ ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ گیان ۔ علم و دانش (2) پسری ۔ پھیلی ۔ رس ۔ لطف۔ مزہ ۔ بگاسے ۔ کھلے ۔ سس۔ چاند۔ سور۔ سورج ۔ سمائیا۔ غصہ عاجزی و انکساری میں جذب ہوگیا ۔ کال ۔ موت۔ بندھس ۔ باندھ کر ۔ منسا۔ ارادے ۔ من ماری ۔ دلمیں ختم کیے ۔ گرپرساد۔ رحمت مرشد سے (3) رس۔ لطف۔ مزہ۔ رنگ ۔ چلولے ۔ گل لالہ کی طرح ۔ راتی ۔ محو۔ دوجارنگ ۔ دوسری محبت۔ رسن۔ زبان۔ رسائے ۔ محو و مجذوب ۔
ترجمہ:
دلمیں پاکر دیدار دل کلام میں ایمان و یقین لائیا کر اسکے علاوہ دوسرا نہیں کوئی متاثر کرنیوالا ۔ ہر روز نگہابنی کرتا ہے مخلوقات کو سنبھالتا ہے اسی کی ہی بادشاہی اور ریمائیا ہے (1) میرا خدا بھاری پریمی ہے گریب پرور غریب نواز اور مہربان ہے ۔ پیارا سب کے دل کو پیارا دلربا ہے ۔ رہاؤ۔ الہٰی نام جوآب حیات ہے سب سے اوپر ذہن انسانی میں ہے ۔ مراد انسان کے سر میں ہے بلند روحانی واخلاقی ضمیر والا انسان اسے پی سکتا ہے جس نے یہ پیدا کیا ہے وہی اسے پینے کا طریقہ جانتا ہے ۔ جسنے یہ عالم پیدا کیا ہے مرید مرشد ہوکر خدا سے رابطہ بنتا ہے اور اسکے اوصاف کو سمجھتا ہے (2) جس طرح سے سورج کی کرنیں پڑتی ہیں کنول کے پھول کھلتے ہیں اس طرح سے جب الہٰی کرن جب ذہن کو روشن کرتی ہے تو انسان کا من الہٰی نام ست ۔ سچ حق وحقیقت کے رس سے کھل جاتا ہے اور غصہ و لالچ انسان کے تحمل مزاجی اور پرسکون میں جذب ہو جاتا ہے ۔ موت روحانی کا خوف مٹا کر دنیاوی احساسات و ارادے و جذاب ختم کرکے رحمت مرشد سے خدا اپنے اندر ہی دیدار کر لیتا ہے (3) جن پر الہٰی محبت گھر کر جاتی ہے اس پر دنیاوی دولت اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔ اے نانک۔ جنہوں نے الہٰی نام کے لطف میں محو و مجذوب ہوئے انہیں ہر جگہ خدا کا دیدار ہوتا ہے ۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
بارہ مہِ راۄل کھپِ جاۄہِ چہُ چھِء مہِ سنّنِیاسیِ ॥
جوگیِ کاپڑیِیا سِرکھوُتھے بِنُ سبدےَ گلِ پھاسیِ ॥੧॥
سبدِ رتے پوُرے بیَراگیِ ॥
ائُہٹھِ ہست مہِ بھیِکھِیا جاچیِ ایک بھاءِ لِۄ لاگیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ب٘رہمنھ ۄادُ پڑہِ کرِ کِرِیا کرنھیِ کرم کراۓ ॥
بِنُ بوُجھے کِچھُ سوُجھےَ ناہیِ منمُکھُ ۄِچھُڑِ دُکھُ پاۓ ॥੨॥
سبدِ مِلے سے سوُچاچاریِ ساچیِ درگہ مانے ॥
اندِنُ نامِ رتنِ لِۄ لاگے جُگِ جُگِ ساچِ سمانے ॥੩॥
سگلے کرم دھرم سُچِ سنّجم جپ تپ تیِرتھ سبدِ ۄسے ॥
نانک ستِگُر مِلےَ مِلائِیا دوُکھ پراچھت کال نسے ॥੪॥੧੬॥
لفظی معنی:
باریہہ میہہ راول ۔ جوگیوں کے بارہ فرقے ۔ ہیت۔ پاو۔ آئی ۔ گیمئے ۔ پاگل ۔ گوپال ۔ کنتھڑی ۔ بن ۔ چولی اور داس۔ سنیاسیوں کے دس فرقے ۔ تیرتھ ۔ آشرم ۔ ون ۔ ازنیبئہ گر ۔ پروت ۔ ساگر سرسوتی ۔ بھارتی اور پری ۔ کاپرئے ۔ سر کھوتے مراد جینی (1) سبد رتے ۔ سبق مرشد یا کلام مرشد سے متاثر ۔ بیراگی ۔ طارق۔ اؤہٹھ۔ دل و ذہن ۔ بھیکھا ۔ بھیک۔ جاچی ۔ مانگی ۔ ایک بھائے ۔ وحدت کی محبت میں ۔ رہاؤ۔ واد پڑھیہہ۔ بحث مباحثہ ۔ کر کر یا کرنی ۔ کرم کانڈ۔ دکھاوے کے اعمال ۔ بن بوجھے ۔ بغیر سمجھے ۔ سجھے ۔ سمجھ نہیں آتی ۔ منمکھ ۔ مرید من ۔ وچھڑ۔ جدا ہوکر (2) سبد ملے ۔ جو سبق واعظ پر عمل کرتا ہے ۔ سوچا چاری ۔ پاک اخلاق و چال چلن ۔ ساچی درگیہہ مانے ۔ سچی عدالتمیں عزت پاتے ہیں۔ اندن ۔ ہر روز ۔ نام رتن ۔ قیمتی ہیرے جیسے نام۔ ساچ ۔ حقیقت سمانے ۔ محوو مجذوب (3) سگلے کرم دھرم۔ سارے اعمال و فرائض۔ سچ سنجم۔ پاکیزگی و پرہیز گاری و ضبط۔ جپ ۔ تپ۔ عبادت و ریاضت۔ تیرتھ زیارت۔ سبدوسے ۔ کلام سبق و واعظ میں مضمر ہیں۔ ستگر ملے ملائیا۔ سچا مرشد ملانے سے ملتا ہے ۔ دکھ ۔ عذاب۔ پراچھت۔ گناہ ۔ کال۔ روحانی موت۔ نسے ۔ مٹتی ہے ۔
ترجمہ:
باراں فرقوں کے جوگی دس فرقوں کے سنیاسی کاپڑ یئے جینی گودڑی پہننے والے فقیر کلام سبق و واعظ مرشد کے بغیر ان کے سب میں دنیاوی دولت کے گلے دنیاوی دولت کا پھندہ پڑا رہتا ہے (1) جو وعاظ و سبق پر عمل کرتے ہیں۔ وہ طارق ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے دلمیں بسے خدا کی محبت کی بھیک مانگی ہے ۔ رہاؤ۔ برہمن مذہبی رسوم ادا کراتا ہے اور اسکے بارے بحث مباحثے کرتا ہے ۔ اور پڑھ کر سناتا ہے ۔ مرید من خدا کی یاد چھوڑ کر وحانی عذاب پاتا ہے بغیر سمجھے کچھ سمجھ نہیں آتا اور زندگی گذارنے کے راہ راست کا پتہ نہیں چلتا (2) پاک اخلاق وہی ہوتے ہیں جو سبق و واعظ یا کلام پر عمل کرتے ہیں وہ بارگاہ الہٰی میں قدرو منزلت پاتے ہیں۔ وہ ہر روز قیمتی نام میں دھیان دیتے ہیں اور خدا میں محو ومجذوب رہتے ہین (3) سارے فرائض انسانی اعمال پاکیزگی و پرہیز گاری عبادت و ریاضت کلام مرشد میں مضمر ہیں۔ اے نانک۔ جسکا ملاپ الہٰی رحمت سے سچے مرشد سے ہوجاتا ہے اسکے تمام عذاب گناہ روحانی موت ختم ہو جاتے ہیں۔

پ٘ربھاتیِ مہلا ੧॥
سنّتا کیِ رینھُ سادھ جن سنّگتِ ہرِ کیِرتِ ترُ تاریِ ॥
کہا کرےَ بپُرا جمُ ڈرپےَ گُرمُکھِ رِدےَ مُراریِ ॥੧॥
جلِ جاءُ جیِۄنُ نام بِنا ॥
ہرِ جپِ جاپُ جپءُ جپمالیِ گُرمُکھِ آۄےَ سادُ منا ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر اُپدیس ساچُ سُکھُ جا کءُ کِیا تِسُ اُپما کہیِئےَ ॥
لال جۄیہر رتن پدارتھ کھوجت گُرمُکھِ لہیِئےَ ॥੨॥
چیِنےَ گِیانُ دھِیانُ دھنُ ساچوَ ایک سبدِ لِۄ لاۄےَ ॥
نِرالنّبُ نِرہارُ نِہکیۄلُ نِربھءُ تاڑیِ لاۄےَ ॥੩॥
سائِر سپت بھرے جل نِرملِ اُلٹیِ ناۄ تراۄےَ ॥
باہرِ جاتوَ ٹھاکِ رہاۄےَ گُرمُکھِ سہجِ سماۄےَ ॥੪॥
سو گِرہیِ سو داسُ اُداسیِ جِنِ گُرمُکھِ آپُ پچھانِیا ॥
نانکُ کہےَ اۄرُ نہیِ دوُجا ساچ سبدِ منُ مانِیا ॥੫॥੧੭॥
لفظی معنی:
رین ۔ خاک پا۔ قدموں کی دہول۔ سادھ جن سنگت ۔ خدا پرستوں کی صحبت و قربت ۔ ہر کیرت۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ ترتاری ۔ زندگی کے سمندر کو عبور کرنیکے لئے تاری لاؤ۔ کہا کرے بپرا۔ وچار کیا کر سکتا ہے ۔ جم ڈرپے ۔ الہٰی کوتوال ڈرتا ہے ۔ گورمکھ ۔ روے مراری ۔ جب مرید مرشد کے دلمیں خدا بستا ہے ۔ (1) جل جاؤ جیون ۔ زندگی جلتی ہے ۔ نام بغیر مراد ۔ سچ حق وحقیقت کے بغیر ۔ جپؤ۔ یادوریاض ۔ جپمالی ۔ تسبیح۔ ساد۔ لطف۔ مزہ ۔ رہاؤ ۔ گراپدیس ۔ واعظ مرشد ۔ سبق مرشد۔ ساچ سکھ ۔ حقیقی آسائش۔ اپما ۔ تعریف ۔ گورمکھ لیئے ۔ مرشد کے وسیلے سے حاصل کرؤ (2) چینے ۔ پہچاننا ۔ سمجھنا۔ گیان ۔ علم ۔ دیان ۔ توجو۔ دھن ساچو۔ سچا سرمایہ۔ نرالنبھ ۔ جسے کسی آسرے یا امداد کی ضرورت نہیں۔ نرآہار۔ جو کچھ کھاتا نہیں۔ نیہکیول۔ جو خواہشات سے غیر متاثر ہے ۔ نربھؤ ۔ بیخوف۔ تاڑی ۔ عقل و ہوش کی یکسوئی یا مرکوز کرنا۔ (3) سایئر سپت بھرے جل نرمل۔ سات سمندر پاک پانی سے بھرے ہوئے ۔ الٹی ۔ مخالف سمت ۔ ناو۔ کشتی ۔ ٹھاک۔ روک ۔ گورمکھ ۔ سہج ۔ سماوے ۔ مرشد کے وسیلے سے روحانی سکون پائے (4) گرہی گرہستی خانہ دار ۔ گھریلو زندگی والا۔ داس اداسی ۔ دنیا سے بیزار طارق ۔ آپ پچھانیا۔ اپنے اعمال و کرادر کی تحقیق کی۔ اور ۔ دوسرا۔ سبد من مانیا۔ دل کلام میں یقین ایمان اور بھرؤسا لائیا۔
ترجمہ:
عاشقان الہٰی کے قدموں کی خاک و صحبت و قربت الہٰی حمدوچناہ سے زندگی کامیاب ہوتی ہے الہٰی کوتوال کی مجال ہی کیا ہے جب دلمیں بستا ہوا خدا مرشد کے وسیلے سے بلکہ خوف کھاتا ہے (1) یہ زندگی الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کے بغیر جلتی رہتی ہے ۔ الہٰی یادوریاض کرؤ تسبیح بنا کر جس سے مرشد کی وسطاطت سے لطف آتا ہے (1) رہاؤ۔ جسے سچے مرشد کا دائمی سکون آنے لگتا ہے اسکی کیا تعریف کیجائے بیان نہیں ہو سکتی مرشد کے ذریعے تحقیق و تلاش سے قیمتی نعمتیں اوصاف پا لیتا ہے (2) جو شخص علم اور توجہ دیتا ہے کلام و واعظ میں اسے الہٰی اشتراکیت کی سمجھ آجاتی ہے جس سے اسکا اشتراک صدیوی ہو جاتا ہے اسے کسی دوسری امداد وسہارے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ جسے کسی خوراک کی ضرورت نہیں جس پر خواہشات اثر پذیر نہیں ہوتیں۔ (3) جس انسان کے پانچوں اعضائے احساس من اور عقل و شعور سے پاک و پائس رہتے ہیں زندگی میں انقلاب آجاتا ہے بھٹکتے خیالات تھم جاتے ہیں اور مرشد کے وسیلے سے روھانی و ذہنی سکون پاتے ہیں (4) جس نے مرشد کے وسیلے سے اپنے کردار واعمال کی تمیز کرکلی پہچان لیا وہی ہے گرہستی اور وہی ہے طارق ۔ نانک۔ بیان کرتا ہے کہ اسکے علاوہ دوسری کوئی ہستی نہیں دکھائی دیتی ۔ جسکا دل سکون حاصل کرنے کے لئے کلام میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔
SGGS p. 1332

راگُ پ٘ربھاتیِ مہلا ੩ چئُپدے
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلا کوئیِ بوُجھےَ سبدے رہِیا سمائیِ ॥
نامِ رتے سدا سُکھُ پاۄےَ ساچِ رہےَ لِۄ لائیِ ॥੧॥
ہرِ ہرِ نامُ جپہُ جن بھائیِ ॥
گُر پ٘رسادِ منُ استھِرُ ہوۄےَ اندِنُ ہرِ رسِ رہِیا اگھائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اندِنُ بھگتِ کرہُ دِنُ راتیِ اِسُ جُگ کا لاہا بھائیِ ॥
سدا جن نِرمل میَلُ ن لاگےَ سچِ نامِ چِتُ لائیِ ॥੨॥
سُکھُ سیِگارُ ستِگُروُ دِکھائِیا نامِ ۄڈیِ ۄڈِیائیِ ॥
اکھُٹ بھنّڈار بھرے کدے توٹِ ن آۄےَ سدا ہرِ سیۄہُ بھائیِ ॥੩॥
آپے کرتا جِس نو دیۄےَ تِسُ ۄسےَ منِ آئیِ ॥
نانک نامُ دھِیاءِ سدا توُ ستِگُرِ دیِیا دِکھائیِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ ورلا ۔ شاذ و نادر ۔ بوجھے ۔ سمجھتا ہے ۔ سبدے ۔ کلام کے ذریعے ۔ نام رتے ۔ الہٰی نام سے متاثر ہوکر ۔ گر سبدے ۔رہیا سمائی ۔ کہ خدا کلام میں سمائیا ہوا ہے ۔ ساچ رہے لولائی ۔ خدا سے محبت ہوگئی ہے ۔ (1) گرپرساد۔ رحمت مرشد سے ۔ استھر ۔ مستقل مزجا ۔ اندن ہر رس رہیا ۔ گھائی ۔ ہرروز الہٰی لطف سے سیر رہتا ہے ۔ رہاؤ۔ بھگت۔ عبادت و خدمت ۔ لاہا۔ لابھ ۔ نفع۔ نرمل۔ پاک ۔ سچ نام چت لائی۔ سچے نام ست سچ حق وحقیقت سے اگر صحبت ہو (2) سکھ سیگار ۔ آرام و آسائش کی سجاوٹ ۔ نام وڈی وڈیائی ۔ نام سے ہی بلند عظمت وحشمت ہے ۔ اکھٹ ۔ ناختم ہونیوالے ۔ بھنڈار۔ خزانے ۔ ذخیرے ۔ توٹ ۔ کمی ۔ سیوہو۔ خدمت کرؤ (3) آپے ۔ از خود ۔ تس ۔ اسکے ۔ نام دھیائے ۔ دھیان لگا۔
ترجمہ:
کسی مرید مرشد کو ہی یہ سمجھ آتی ہے کہ خدا کلام میں مضمر ہے ۔ نام مین محو ومجذوب ہونے سے ہمیشہ سکھ حاصل ہوتا ہے ۔ خدا سے پیار بنت اہے (1) الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کی یادوریاض کرؤ رحمت مرشد سے دل مستقل مزاج ہوتا ہے اور ہر روز اسکے لطف مزے سے سیر رہتا ہے ۔ رہاؤ۔ ہر روز الہٰی خدمت عبادت وریاضت کرو انسانی زندگی کے لئے منافع بخش ہے ۔ الہٰی نام میں دلچسپی لینے دھیان لگانے انسان روحانی واخلاقی طور پر پاکیزہ زندگی بسر کرنے والا ہو جاتا ہے وہ برائیوں سے ناپاک نہیں ہوتا (2) اس آرام و آسائش سے آراستہ کا دیار مرشد نے کرائیا نام بلند عظمت و حشمت ہے اسکے بیشمار خزانہ انسان کے اندر بھرے ہوئے ہیں۔ جس میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی ہمیشہ خدمت کرؤ اور یاد رکھو (3) یہ نام ست سچ و حقیقت کا خزانہ خود ہی عنایت کتا ہے اور یہ دلمیں بس جات اہے ۔ اے نانک ہمیشہ نام میں دھیان لگا سچے مرشد نے تجھے راستہ دکھا دیا ہے ۔