Urdu-Master-30

SGGS page 1040-1098
ماروُ مہلا ੧॥
سچُ کہہُ سچےَ گھرِ رہنھا ॥
جیِۄت مرہُ بھۄجلُ جگُ ترنھا ॥
گُرُ بوہِتھُ گُرُ بیڑیِ تُلہا من ہرِ جپِ پارِ لنّگھائِیا ॥੧॥
ہئُمےَ ممتا لوبھ بِناسنُ ॥
نءُ در مُکتے دسۄےَ آسنُ ॥
اوُپرِ پرےَ پرےَ اپرنّپرُ جِنِ آپے آپُ اُپائِیا ॥੨॥
گُرمتِ لیۄہُ ہرِ لِۄ تریِئےَ ॥
اکلُ گاءِ جم تے کِیا ڈریِئےَ ॥
جت جت دیکھءُ تت تت تُم ہیِ اۄرُ ن دُتیِیا گائِیا ॥੩॥
سچُ ہرِ نامُ سچُ ہےَ سرنھا ॥
سچُ گُر سبدُ جِتےَ لگِ ترنھا ॥
اکتھُ کتھےَ دیکھےَ اپرنّپرُ پھُنِ گربھِ ن جونیِ جائِیا ॥੪॥
سچ بِنُ ستُ سنّتوکھُ ن پاۄےَ ॥
بِنُ گُر مُکتِ ن آۄےَ جاۄےَ ॥
موُل منّت٘رُ ہرِ نامُ رسائِنھُ کہُ نانک پوُرا پائِیا ॥੫॥
سچ بِنُ بھۄجلُ جاءِ ن ترِیا ॥
ایہُ سمُنّدُ اتھاہُ مہا بِکھُ بھرِیا ॥
رہےَ اتیِتُ گُرمتِ لے اوُپرِ ہرِ نِربھءُ کےَ گھرِ پائِیا ॥੬॥
جھوُٹھیِ جگ ہِت کیِ چتُرائیِ ॥
بِلم ن لاگےَ آۄےَ جائیِ ॥
نامُ ۄِسارِ چلہِ ابھِمانیِ اُپجےَ بِنسِ کھپائِیا ॥੭॥
اُپجہِ بِنسہِ بنّدھن بنّدھے ॥
ہئُمےَ مائِیا کے گل پھنّدھے ॥
جِسُ رام نامُ ناہیِ متِ گُرمتِ سو جم پُرِ بنّدھِ چلائِیا ॥੮॥
گُر بِنُ موکھ مُکتِ کِءُ پائیِئےَ ॥
بِنُ گُر رام نامُ کِءُ دھِیائیِئےَ ॥
گُرمتِ لیہُ ترہُ بھۄ دُترُ مُکتِ بھۓ سُکھُ پائِیا ॥੯॥
گُرمتِ ک٘رِسنِ گوۄردھن دھارے ॥
گُرمتِ سائِرِ پاہنھ تارے ॥
گُرمتِ لیہُ پرم پدُ پائیِئےَ نانک گُرِ بھرمُ چُکائِیا ॥੧੦॥
گُرمتِ لیہُ ترہُ سچُ تاریِ ॥
آتم چیِنہُ رِدےَ مُراریِ ॥
جم کے پھاہے کاٹہِ ہرِ جپِ اکُل نِرنّجنُ پائِیا ॥੧੧॥
گُرمتِ پنّچ سکھے گُر بھائیِ ॥
گُرمتِ اگنِ نِۄارِ سمائیِ ॥
منِ مُکھِ نامُ جپہُ جگجیِۄن رِد انّترِ الکھُ لکھائِیا ॥੧੨॥
گُرمُکھِ بوُجھےَ سبدِ پتیِجےَ ॥
اُستتِ نِنّدا کِس کیِ کیِجےَ ॥
چیِنہُ آپُ جپہُ جگدیِسرُ ہرِ جگنّناتھُ منِ بھائِیا ॥੧੩॥
جو ب٘رہمنّڈِ کھنّڈِ سو جانھہُ ॥
گُرمُکھِ بوُجھہُ سبدِ پچھانھہُ ॥
گھٹِ گھٹِ بھوگے بھوگنھہارا رہےَ اتیِتُ سبائِیا ॥੧੪॥
گُرمتِ بولہُ ہرِ جسُ سوُچا ॥
گُرمتِ آکھیِ دیکھہُ اوُچا ॥
س٘رۄنھیِ نامُ سُنھےَ ہرِ بانھیِ نانک ہرِ رنّگِ رنّگائِیا ॥੧੫॥੩॥੨੦॥
لفظی معنی:
سچُ ۔ صدیوی سچ ۔ حق و حقیقت ۔ کہہُ ۔ یاد رکھو۔ بولو۔ سچے گھر رہنھا ۔ اس سے الہٰی حَضُوری حاصل ہوتی ہے ۔ جیِۄت مرہُ ۔ زندہ رہتے ہوئے خواہشات بد مٹاؤ۔ بھۄجلُ ۔ خوفناک سمندر۔ بوہتھ ۔ جہاز۔ بیڑی ۔ کشتی ۔ تلہا ۔ عارضی کشتی۔ ہر جپ۔ الہٰی ریاض ۔ پار لنگھائیا۔ کامیابی حاصل ہوگی (1) ہونمے ۔ خودی۔ لوبھ۔ لالچ۔ آسن۔ ٹھکانہ ۔ آپے آپ اُپائیا۔ اپنے آپ کو پیدا کیا (2) گرمت ۔ سبد مرشد ۔ اکل۔ بلا بناوٹ۔ جت جت۔ جہاں جہاں۔ تت تت۔ وہیں وہیں۔ اور ۔ اور ۔ دیگر ۔ دوسرا ۔ دنیا ۔ دیگر ۔ دوسرا (3) برلو۔ الہٰی پیار۔ سچ۔ صڈیوی ۔ دائمی ۔ سرنا۔ سایہ ۔پناہ۔ گرسبد۔ کلام مرشد۔ حتے تگ۔ جس پر عمل کرنے سے ۔ اکتھ ۔ جو بیان نہ کیا جا سکے ۔ کتھے ۔ بیان کرے ۔ گربھ ۔ پیٹ (4) سچ بن۔ الہٰی نام ست ۔ سچ حق و حقیقت اپنائے بغیر۔ ست۔ طاقت۔ سنتوکھ ۔ صَبر ۔ مکت۔ نجات۔ آزادی۔ مُول منتر۔ بنیادی منتر جو دوسرے منزوں کی بنیاد ہے ۔ رسائن ۔ سر چشمہ لطف (5) اَتھاہ۔ اندازے سے باہر ۔ مہادکھ بھریا۔ بھاری زہروں سے بھرا ہوا۔ انیت۔ بیلاگ۔ بلاواسطہ (6) جگ ہت۔ دنیاوی پیار۔ چترائی۔ چالاکی ۔ ہوشیاری ۔ بلم۔ دیر۔ ابھیمانی ۔مغرور (7) بندھن بندھے ۔ غلامی میں گرفتار (8) موکھ مکت۔ نجات ۔ آزادی ۔ دھیایئے ۔ دھیان لگائیں۔ دتر۔ جو ظہور نہ ہو سکے (9) گودردھن۔ بندرابن کے نزدیک ایک پہاڑ۔ سائر۔ سمندر۔ پاہن۔ پتھر۔ پرم پد۔ اونچا درجہ ۔ بھرم۔ وہم وگمان ۔ شک و شبہ (10) آتم چینہو۔ روحانی پرکھ ۔ اکل۔ بلا خاندان (11) گرمت ۔سبق مرشد سے ۔ سکے ۔ ساتھی۔ پنچ ۔ مقبول عام۔ اگن ۔ نوار۔ خواہشات کی آگ دور کرکے ۔ منمکھ ۔مرید من ۔ ردانتر ۔ دلمیں ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر ۔لکھائیا ۔ سمجھائیا (12) سبد یتجے ۔ کلام مین یقین و ایمان لاتا ہے ۔ استت۔ تعریف نندا۔ بد گوئی ۔ چینہو آپ ۔ اپنے آپ کی پڑتال ۔ پرکھ یا تحقیق کرو۔ جگدیسر۔ مالک عالم۔ من بھائیا۔ دل کو پیارا محسوس ہوا (13) برمند۔ دنیا۔ گھنڈ۔ اسکا حصہ مراد جسم۔ بھوگے ۔ صرف کرتا ہے ۔ استعمال کرتا ہے ۔ اتیت۔ طارق۔ بے واسطہ ۔ بیالگ (14) سوچا۔ پاک۔ آکھی۔ آنکھون سے ۔ روسنی ۔ کانوں ۔ ہر رنگ ۔ الہٰی پریم پیار۔
ترجمہ:
سَچائی سے صدیوی خدا کی حَضُوری حاصل ہوتی ہے ۔ بغیر غرور اور تکبر غیربی اختیار کرنے سے زندگی کے خوفناک سمندر کو پار کر سکو گے ۔ مرشد زندگی سمندر کو پار کر نے کے لئے ایک جہاز کشتی اور عارضی کشتی کی طرح ہے اے دل خدا کو یاد کر اس سے زندگی کے سمندر کو عبور کرلیگا 1) اس سے خودتی ملکیتی ہوس، لالچ مٹتا ہے زندگی کے نو دروازوں کی برائیوں سے نجات حاصل ہوتی ہے اور دسویں دروازے مراد ذہن نشینی حاصل ہوتی ہے ۔ بلند و بالا وسیع تر ہے جواز خد ظہور پذیر ہوا ہے اسمیں رہائش پذیر ہے (2) سبق مرشد پر عمل اور خدا سے پریم پیار سے کامیابی ملتی ہے اس خدا کی جسکا کوئی خاندان ہی نہیں کی حمدوثناہ سے موت کا خوف مٹ جاتا ہے اے خدا جدھر دیکھتا ہوں تجھے دیکھتا ہوں ) میں تیری ہی صفت صلاح کرتا ہوں (3) خدا کا نام سچ صدیوی سچ حق و حقیقت ہے اور کلام مرشد بھی سچا صدیوی رہنے والا ہے جس پر عمل کرنے سے دیدار ہوتا ہے تو دوبارہ جنم نہیں لینا پڑتا (4)سَچائی کے بغیر صبر نہیں ہوتا بغیر سبق مرشد انسان آواگون میں پڑا رہتا ہے بنیادی کلمہ الہٰی نام کے لطفوں کا شمہ ہے ( اسے ) وہ کامل خدا پاتا ہے (5) سَچائی اور صداقت کے بغیر اس عالم سے اس خؤفناک زندگی کے سمندر کو عبور نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ نہایت گہرا سمندر زہر بھرا ہے ۔ اس سے غیر متاثر ہوکر سبق مرشد اور دنیاوی اعمال سے اوپر اُٹھ کر اس بیخوف خدا اور بیخوفی کا مقام حاصل ہوتا ہے (6) اس دنیا کا پیار اور محبت جھوٹی ہے اور اس محبت کی دانائی بھی جھوتی ہے اس دولت کے آنے اور چلے جانے میں دیر نہیں لگتی مغرور انسان خدا کے نام ست سچ حق و حقیقت کو بھلا کر یہاں سے مراد اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتے ہیں۔ وہ آواگون میں پڑتے ہیں ذلیل و خوآر ہوتے ہیں (7) ایسے انسان پس و پیش و تناسخ میں پڑے رہتے ہیں ۔جنہوں نے ہی سچ و حقیقت اپنائی ہے نہ ہی سبق مرشد حاصل کی انکے گلے میں دنیاوی دولت کی غلامی کا پھندہ پڑا رہتا ہے اور خودی سوار رہتی ہے انہیں الہٰی تھانے میں بھیجا جاتا ہے (8) مرشد کے بغیر دنیاوی بندھنوں کی غلامی سے نجات حاصل نہیں ہو سکتی نہ ہی الہٰی نام سچ و حقیقت میں دھیان لگاتا ہے ۔ سبق مرشد سے اس ناقابل عبور زندگی کے سمندر آزاد ہوتا ہے اور آرام و آسائش حاصل ہوتی ہے (9) سبق مرشد سے بلند روحانی واخلاقی قدروقیمت حاصل ہوتی ہے ۔ اسی سبق مرشد سے بلند روحانی واخلاقی قدروقیمت حاصل ہوتی ہے ۔ اسی سبق مرشد کی برکت سے کرشن نے گود ردھن پہاڑ انگلی پر اُٹھالیا تھا اور رام چندر نے سمندر پر پتھر تیرا دیئے تھے ۔ اے نانک مرشد وہم و گمان مٹاتا ہے (10) سبق مرشد حاصل کرؤ اور اس سے زندگی پر سچا عبور حاصل ہوگا اپنی ضمیر کی پڑتال کرؤ خدا دلمیں بساؤ خدا کا نام سچ حق و حقیقت دلمیں بسانے اور عمل کرنے سے دوزخ کی راہیں اور غلامی ختم ہوجاتی ہے اور یاد سے پاک خدا کا وصل نصیب ہوتا ہے (11)سبق مرشد سے پانچوں اعضائے عمل و احساس ساتھی اور مرشدی براور بن جاتے ہیں۔ سبق مرشد سے خواہشات کی آگ ختم ہو جاتی ہے دل سے اپنی زبان خدا کا نام لو حیات عالم خدا کا دیدار تجھے اندر ہی ہو جائیگا (12) مرشد کے وسیلے سے سمجھنے سے کلام میں یقین بنتا ہے تب انسان کسی کی خوشامدی تعریف اور نہ بدگوئی کرتا ہے اپنے آپ کی روحانی واخلاقی پڑتال کرؤ اور مالک عالم کی یادوریاض کرؤ۔ اس سے خدا سے پیار ہوجاتا ہے (13) جو سارے عالم میں اسے اپنے اندر محسوس کرؤ اور سمجھو مرشد کے وسیلے سے سمجھو اور کلام کی پہچان کرو اور حقیقت معلوم کرؤ۔ ہر دلمیں بس کر دنیا کی تمام نعمتوں کا لطف اُٹھانیوالا پھر بھی طارق الدنیا اور بے واسطہ ہے (14) سبق مرشد کے وسیلے سے حمدوثناہ کرؤ ۔ اس سے زندگی پاکیزہ بنتی ہے اور اپنی آنکھوں سے بلند ہستی دیکھو۔ اے نانک جو اپنی آنکھوں سے خدا کا نام سچ حق وحقیقت سنتا ہے وہ خدا کے پریم پیار میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੧॥
کامُ ک٘رودھُ پرہرُ پر نِنّدا ॥
لبُ لوبھُ تجِ ہوہُ نِچِنّدا ॥
بھ٘رم کا سنّگلُ توڑِ نِرالا ہرِ انّترِ ہرِ رسُ پائِیا ॥੧॥
نِسِ دامنِ جِءُ چمکِ چنّدائِنھُ دیکھےَ ॥
اہِنِسِ جوتِ نِرنّترِ پیکھےَ ॥
آننّد روُپُ انوُپُ سروُپا گُرِ پوُرےَ دیکھائِیا ॥੨॥
ستِگُر مِلہُ آپے پ٘ربھُ تارے ॥
سسِ گھرِ سوُرُ دیِپکُ گیَنھارے ॥
دیکھِ ادِسٹُ رہہُ لِۄ لاگیِ سبھُ ت٘رِبھۄنھِ ب٘رہمُ سبائِیا ॥੩॥
انّم٘رِت رسُ پاۓ ت٘رِسنا بھءُ جاۓ ॥
انبھءُ پدُ پاۄےَ آپُ گۄاۓ ॥
اوُچیِ پدۄیِ اوُچو اوُچا نِرمل سبدُ کمائِیا ॥੪॥
اد٘رِسٹ اگوچرُ نامُ اپارا ॥
اتِ رسُ میِٹھا نامُ پِیارا ॥
نانک کءُ جُگِ جُگِ ہرِ جسُ دیِجےَ ہرِ جپیِئےَ انّتُ ن پائِیا ॥੫॥
انّترِ نامُ پراپتِ ہیِرا ॥
ہرِ جپتے منُ من تے دھیِرا ॥
دُگھٹ گھٹ بھءُ بھنّجنُ پائیِئےَ باہُڑِ جنمِ ن جائِیا ॥੬॥
بھگتِ ہیتِ گُر سبدِ ترنّگا ॥
ہرِ جسُ نامُ پدارتھُ منّگا ॥
ہرِ بھاۄےَ گُر میلِ مِلاۓ ہرِ تارے جگتُ سبائِیا ॥੭॥
جِنِ جپُ جپِئو ستِگُر متِ ۄا کے ॥
جمکنّکرُ کالُ سیۄک پگ تا کے ॥
اوُتم سنّگتِ گتِ مِتِ اوُتم جگُ بھئُجلُ پارِ ترائِیا ॥੮॥
اِہُ بھۄجلُ جگتُ سبدِ گُر تریِئےَ ॥
انّتر کیِ دُبِدھا انّترِ جریِئےَ ॥
پنّچ بانھ لے جم کءُ مارےَ گگننّترِ دھنھکھُ چڑائِیا ॥੯॥
ساکت نرِ سبد سُرتِ کِءُ پائیِئےَ ॥
سبدُ سُرتِ بِنُ آئیِئےَ جائیِئےَ ॥
نانک گُرمُکھِ مُکتِ پرائِنھُ ہرِ پوُرےَ بھاگِ مِلائِیا ॥੧੦॥
نِربھءُ ستِگُرُ ہےَ رکھۄالا ॥
بھگتِ پراپتِ گُر گوپالا ॥
دھُنِ اننّد اناہدُ ۄاجےَ گُر سبدِ نِرنّجنُ پائِیا ॥੧੧॥
نِربھءُ سو سِرِ ناہیِ لیکھا ॥
آپِ الیکھُ کُدرتِ ہےَ دیکھا ॥
آپِ اتیِتُ اجونیِ سنّبھءُ نانک گُرمتِ سو پائِیا ॥੧੨॥
انّتر کیِ گتِ ستِگُرُ جانھےَ ॥
سو نِربھءُ گُر سبدِ پچھانھےَ ॥
انّترُ دیکھِ نِرنّترِ بوُجھےَ انت ن منُ ڈولائِیا ॥੧੩॥
نِربھءُ سو ابھ انّترِ ۄسِیا ॥
اہِنِسِ نامِ نِرنّجن رسِیا ॥
نانک ہرِ جسُ سنّگتِ پائیِئےَ ہرِ سہجے سہجِ مِلائِیا ॥੧੪॥
انّترِ باہرِ سو پ٘ربھُ جانھےَ ॥
رہےَ الِپتُ چلتے گھرِ آنھےَ ॥
اوُپرِ آدِ سرب تِہُ لوئیِ سچُ نانک انّم٘رِت رسُ پائِیا ॥੧੫॥੪॥੨੧॥
لفظی معنی:
پر ہر ۔ دوسروں کی چھوڑو۔ نچندہ۔ بیفکر ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ وہم و گمان (1) نس دامن۔ رات کی بجلی ۔ چمک چندائن ۔ چمکتی روشنی۔ اہنس۔ دنرات۔ جوت۔ نور۔ روشنی۔ نرنتر۔ لگاتار۔ انوپ سروپا۔ انوکھی شکل و صورت (2) سس۔ چاند۔ سور۔ سورج ۔ گینارے ۔ ذہن میں۔ دیپک ۔ چراغ۔ ادسٹ۔ جو نظر نہیں آتا۔ برہم۔ خدا (3) ترسنا۔ خؤاہشات کی پیاس۔ انبھؤ پد۔ علمی لیاقت کا بلند درجہ۔ نرمل۔ پاک (4) ادشٹ۔ نظروں سے اوجھل۔ اگوچر۔ عقل و ہو ش سے اوپر (5) دھیرا۔ دھریج ۔ سکون پسند۔ ڈگھٹ ۔ دشوار گذار راستہ ۔ بھؤ بھنجن۔ خوف مٹانیوالا (6) بھگت ہیت ۔ بھگتی کے پیار کے لئے ۔ ترنگا۔ لہریں۔ بلوے ۔ جوش۔ پدارتھ۔ نعمت۔ جگت۔ سبائیا۔ سارے عالم کو (7)واکے ۔ اسکے ۔ ستگرمت ۔ سچے مرشد کی سمجھ۔ جم کنکر۔ موت کا غلام۔ اُتم سنگت۔ اچھے ساتھیوں کی صحبت ۔ گت مت۔ حالت اور بودوباش۔ رہن سہین (8) دبدھا۔ دوچتی۔ دوئش۔ انتر جریئے ۔ اندر جلادو۔ پنچ بان۔ پانچ تیر۔ مراد پانچ اوصاف۔ ست ۔ سچ ۔ صبر ۔ رحمدلی۔ فرض اور برداشت۔ ۔ گگننتر۔ دسواں درازہ ۔ ذہن ۔ دھنکھ ۔ کمان (9) چڑھائیا۔ نشانہ باندھا۔ ساکت۔ مادہ پرست ۔ منکر۔ مکت۔ نجات ۔ پرائن۔ سہارا (10) ناحد۔ لگاتار۔ دھن انند۔ روحانی سکنو کی رؤ (11) سرنا ہی لیکھا ۔ ذمے حساب باقی نہیں۔ الیکھ ۔ لیکھ ریت۔ بلا حساب۔ اتیت۔ آزاد۔ بیلاگ۔ اجونی۔ جنم نہ لینے والا۔ سنبھو ۔ خود بخود (12) انتر ۔ اپنے اندر۔ نرنتر۔ لگاتار۔ انت ۔ دوسری طرف (13) ابھ انتر۔ اپنے دلمیں۔ سہج۔ روحانی سکون (14) سرب۔ تیہہ لوئی۔ تینوں عالموں میں۔
ترجمہ:
اے انسان شہوت ، غصہ اور دوسروں کی بدگوئی کرنا چھوڑ دے ۔ لالچ چھوڑ کر بیفکر ہو جا۔ جو انسان وہم و گمان کے بندھوں سے آزاد ہو جاتا ہے وہ اپنے اندر ہی دیدار خدا پا لیتا ہے اورا لہٰی نام کا لطف لیتا ہے (1) جس طرح سے رات کے وقت بجلی چمک اور روشنی دکھتے ہو اسطرح سے الہٰی نور لگاتار ہر جگہ بستا دیکھ سکتے ہو ۔ وہ انکوھی خوبصورت شکل و صورت کامل مرشد ہی دکھاتا ہے (2) سچے مرشد سے ملاپ کرنے پر خود ہی کامیاب بناتا ہے ۔ پر سکون ذہن میں جب علم کا سورج چراغ ہوکر روشن کرتا ہے اس نظروں سے اوجھل جس کی بابت عقل و ہوش کام نہیں کرتی جو لا محدود ہے اسکا دیدار کرکے اس سے پریم بناؤ جو تینوں عالموں میں ہر جگہ بستا دکھائی دیتا ہے (3) اب حیات مراد روحانی واخلاقی زندگی کا لطف لینے سے خواہشات و دنیاوی دولت کی پیاسی مٹ جاتی ہے اور خوف نہیں رہتا (اور) جب خؤدی مٹا دیتا ہے جب پاکیزگی پیدا کرنیوالے کلمہ پر عمل کمائیا جاتا ہے تو بلند سے بلند تر روحانی واخلاقی رتبے انسان کماتا ہے (4) اس لامحدود آنکھوں سے اوجھل ہستی کا نام سچ حق و حقیقت ہے جو بیان سے باہر ہے جو نہایت پر لطف اور مٹھاس سے بھرا ہوا ہے اور پیار بھراہے نانک کو ہر زمانہ میں دیجیئے جسک آخر ملتا نہیں (5) جسکے ذہن میں الہٰی نام سچ۔ حق و حقیقت جو ایک قیمتی ہیرے جیسا ہے اسکی یادوریاض من من کو دلاسا اور دھیرج یا وشواش دلاتا ہے ۔دشوار گذار راستوں کا خوف مٹا نیوالا خدا کا ملاپ ہوتا ہے اُسکا تناسخ اور پس و پیش مٹ جاتا ہے (6) بھگتی کی محبت کی کلام مرشد سے لہریں اُٹھتی ہیں میں الہٰی نام سچ حق و حقیقت کی حمدوثناہ مانگتا ہوں ۔ خدا چاہے تو مرشد ملاتا ہے اور خدا سارے عالم کو اس بدیوں اور برائیوں کے سمندر سے پار لگاتا ہے (7) (جو) جسکے اندر ہے سچے مرشد کی سمجھ و ریاض خدا کی کرتا ہے ۔ موت اور غلام اسکے پاؤں کے غلام ہو جاتے ہیں۔ جس کی صحبت و قربت ہو اچھی اسکی روحانی واخلاقی زندگی اور بودوباش اچھا ہو جاتا ہے اور وہ زندگی کےخوفناک سمندر پر عبور حاصل کر لیتا ہے (8) اس زندگی کے خوفناک سمندر کو کلام مرشد پر عمل سے پار ہو سکتے ہیں ۔ اندرونی ذہن کشمکش اندر ہی جل جاتی ہے پانچ تیر مراد پانچ اوصافوں کو کمان پر چلے پر جڑھا کر ان مراد ذہن بسا کر ایسا نشانہ باندھتا ہے کہ اخلاقی و روحانی موت ختم ہو جاتی ہے پانچ تیروں سے مراد سچ ،صبر ، فرض شناشی ، برداشت اور رحمدلی سے مراد ہے (9) مگر مادہ پرست انسان کے دلمیں کلام میں محبت اور سمجھ ہی پیدا نہیں ہوتی ۔ جس سے وہ آواگون میں پڑا رہتا ہے ۔ اے نانک سایہ مرشد ہی نجات کا ذریعہ اوروسیلہ ہے ۔ خدا بلند قسمت سے مرشد سے ملاپ کراتا ہے (10) بیخوف سچا مرشد محافظ ہوجائے جسکا اسے مرشد اسے الہیی پیار کی نعمت بخشتا ہے اسکے دلمیں اور ذہن میں روھانی سکون کی لرہیں اُٹھنے لگتی ہیں۔ کلام مرشد سے وصل خدا پاتا ہے (11) بیخوف ہے وہی جسکے زمے ہیں حساب کسی کا باقی ۔ ایسی ہستی ہے خودخدا جسکا دیدار قائنات قدرت سے ہوتا ہے وہ اسکے باوجود بے واسطہ ہےپیدائش سے مبرا طارق ہے وہ خود بخود ہے اے نانک سبق مرشد سے ملتا ہے (12) کلما مرشد سے سمجھتا ہے اور اپنے اندرونی راز سمجھ کر انسان کا دل پاک بیداغ خدا اسکے دلمیں ظاہر ہوجاتا ہے ۔ اے نانک۔ اس خدا کی صفت صلاح ساتھیوں کی محبت و قربت سے دسیتابہوتی ہے ۔ خدا اسے روحانی وذہنی سکون دیتا ہے (14) وہ اپنے اندر اور قائنات قدرت میں اسی کا نور دیکھتا ہے وہ بے واسطہ رہتا ہے اور بھٹکتے من کو قابو میں رکھتا ہے ۔ اے نانک۔ اسے تینوں عالموں میں سب کی بنیاد اور سبب کا محفاظ بستا دکھائی دیتا ہے وہ روحانی زندگی کا لطف اُٹھاتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੧॥
کُدرتِ کرنیَہار اپارا ॥
کیِتے کا ناہیِ کِہُ چارا ॥
جیِء اُپاءِ رِجکُ دے آپے سِرِ سِرِ ہُکمُ چلائِیا ॥੧॥
ہُکمُ چلاءِ رہِیا بھرپوُرے ॥
کِسُ نیڑےَ کِسُ آکھاں دوُرے ॥
گُپت پ٘رگٹ ہرِ گھٹِ گھٹِ دیکھہُ ۄرتےَ تاکُ سبائِیا ॥੨॥
جِس کءُ میلے سُرتِ سماۓ ॥
گُر سبدیِ ہرِ نامُ دھِیاۓ ॥
آند روُپ انوُپ اگوچر گُر مِلِئےَ بھرمُ جائِیا ॥੩॥
من تن دھن تے نامُ پِیارا ॥
انّتِ سکھائیِ چلنھۄارا ॥
موہ پسار نہیِ سنّگِ بیلیِ بِنُ ہرِ گُر کِنِ سُکھُ پائِیا ॥੪॥
جِس کءُ ندرِ کرے گُرُ پوُرا ॥
سبدِ مِلاۓ گُرمتِ سوُرا ॥
نانک گُر کے چرن سریۄہُ جِنِ بھوُلا مارگِ پائِیا ॥੫॥
سنّت جناں ہرِ دھنُ جسُ پِیارا ॥
گُرمتِ پائِیا نامُ تُمارا ॥
جاچِکُ سیۄ کرے درِ ہرِ کےَ ہرِ درگہ جسُ گائِیا ॥੬॥
ستِگُرُ مِلےَ ت مہلِ بُلاۓ ॥
ساچیِ درگہ گتِ پتِ پاۓ ॥
ساکت ٹھئُر ناہیِ ہرِ منّدر جنم مرےَ دُکھُ پائِیا ॥੭॥
سیۄہُ ستِگُر سمُنّدُ اتھاہا ॥
پاۄہُ نامُ رتنُ دھنُ لاہا ॥
بِکھِیا ملُ جاءِ انّم٘رِت سرِ ناۄہُ گُر سر سنّتوکھُ پائِیا ॥੮॥
ستِگُر سیۄہُ سنّک ن کیِجےَ ॥
آسا ماہِ نِراسُ رہیِجےَ ॥
سنّسا دوُکھ بِناسنُ سیۄہُ پھِرِ باہُڑِ روگُ ن لائِیا ॥੯॥
ساچے بھاۄےَ تِسُ ۄڈیِیاۓ ॥
کئُنُ سُ دوُجا تِسُ سمجھاۓ ॥
ہرِ گُر موُرتِ ایکا ۄرتےَ نانک ہرِ گُر بھائِیا ॥੧੦॥
ۄاچہِ پُستک ۄید پُراناں ॥
اِکِ بہِ سُنہِ سُناۄہِ کاناں ॥
اجگر کپٹُ کہہُ کِءُ کھُل٘ہ٘ہےَ بِنُ ستِگُر تتُ ن پائِیا ॥੧੧॥
کرہِ بِبھوُتِ لگاۄہِ بھسمےَ ॥
انّترِ ک٘رودھُ چنّڈالُ سُ ہئُمےَ ॥
پاکھنّڈ کیِنے جوگُ ن پائیِئےَ بِنُ ستِگُر الکھُ ن پائِیا ॥੧੨॥
تیِرتھ ۄرت نیم کرہِ اُدِیانا ॥
جتُ ستُ سنّجمُ کتھہِ گِیانا ॥
رام نام بِنُ کِءُ سُکھُ پائیِئےَ بِنُ ستِگُر بھرمُ ن جائِیا ॥੧੩॥
نِئُلیِ کرم بھُئِئنّگم بھاٹھیِ ॥
ریچک کُنّبھک پوُرک من ہاٹھیِ ॥
پاکھنّڈ دھرمُ پ٘ریِتِ نہیِ ہرِ سءُ گُر سبد مہا رسُ پائِیا ॥੧੪॥
کُدرتِ دیکھِ رہے منُ مانِیا ॥
گُر سبدیِ سبھُ ب٘رہمُ پچھانِیا ॥
نانک آتم رامُ سبائِیا گُر ستِگُر الکھُ لکھائِیا ॥੧੫॥੫॥੨੨॥
لفظی معنی:
کرنیہار ۔ جو کر نے کی توفیق رکھتا ہے ۔ اپارا۔ اتنا وسیع کہ کنار نہیں ۔ کیتے کا ۔ جو کیا ہوا ہے ۔ کرنیوالے نے بنائا ہے ۔ کہو کچھ چارا۔ طاقت۔ زور ۔ اپائے ۔ پیدا کرکے ۔ رزق۔ روزی ۔ سر سر۔ ہر ایک پر (1) بھر پورے ۔ مکمل طور پر ۔ نیڑے ۔ نزدیک ۔ گیت ۔ پوشیدہ ۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ ہر گھٹ۔ ہر دلمیں۔ ورتے تاک سبائیا۔ سب میں ماہرہوکر بستا ہے (2) ست سمائے ۔ اسکے ذہن و ہوش میں بستا ہے ۔ انوپ۔ انوکھا۔ آند روپ ۔ پرسکون۔ پر تسکین ۔ اگوچر۔ جو بیان سے باہر ۔ بھرم ۔ وہم وگمان ۔ شک و شبہات (3) من تن ۔ دھن ۔ دل ۔ جسم ۔ دولت۔ تے ۔ سے ۔ انت۔ آکر۔ سکھائی۔ ساتھی ۔ چلن وارا۔ چلنے والا۔ موہ پسار۔ محبت کا پھیلاؤ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ بیلی ۔ دوست (4) گرمت ۔ سبق مرشد ۔ سورا۔ بہادر۔ مارگ۔ راستے (5) جس۔ تعریف۔ جاچک ۔ بھکاری ۔ سیو۔ خدمت۔ ہردرگیہہ۔ الہٰی دربار مین (6) محل۔ ٹھکانے ۔ حَضُوری ۔ گت پت۔ بلند روحانی حالت اور عزت۔ ساکت۔ مادہ پرست۔ تھٹور ۔ٹھکانہ ۔ ہر مندر۔ بارگاہ الہٰی (7) سمند اتھاہا۔ بیشمار گہرا سمندر ۔ لاہا۔ منافع۔ وکھیامل۔ زیریلی ناپاکیزگی ۔ انمرت سر ناوہو۔ آبحیات کے تالاب میں غسل کرؤ۔ سنگ ۔ پرہیز ۔ سنکوچ۔ نراس۔ بے اُمید ۔ سنا۔ فکر ۔ دوکھ بناسن۔ عذاب مٹانیوالا (9) ساپے بھاوے ۔ جو خدا کا پیارا۔ وڈیائی۔ وڈیائے ۔ آداب دیتا ہے ۔ کون سودوجا ۔ اسکے عللاوہ دوسرا کون ہے ۔ ہر گر مورت ایکاو درتے ۔ خدا اور مرد ایک ہی جگہ بستے ہیں ایک سی اہمیت ہے ۔ ہر گر بھائیا۔ خدا کو مرشد پیارا ہے (10) واچیہہ۔ پڑھتا ہے ۔ پستک ۔ کتاب ۔ سنادیہہ کاناں۔ کانوں سے سنتے ہیں۔ اجگر۔ از دہا۔ کپٹ۔ کواڑ۔ دروازہ۔ تت۔ اصلیت (11) ببھوت۔ راکھ ۔ سوآہ۔ بھسم۔ سوآہ۔ کرودھ چنڈال ۔ ظالم کمینہ ۔ غسہ۔ ہونمے ۔ خودی۔ پاکھنڈ۔ دکھاوا۔ جوگ۔ روحانی منزل (12) ادیانا۔ جنگلوں میں رہائش ۔ جت ۔ نفس پر ضبط۔ ۔ ست۔ سَچائی۔ سنجم۔ اعضائے جسمانی پر قابو۔ گیان ۔علم (13) نیونی ۔ پیٹ کی درزش ۔ بھاٹھی۔ ذہن۔ بھوئنگم۔ سانپ کی مانند کنڈلی والی شریانیں ۔ ریچک۔ سانس باہر نکالنا۔ گنبھک۔ سانس اندر بھرنا۔ من ہاٹھی۔ دلی ضد۔ پورک۔ سنانس اندر ٹھہرانا۔ پاکھنڈ دھرم۔ دکھاوے کا دھرم (14) آتم رام۔ بستا خدا۔ ترجمہ:
قادر قائنات قدرت کار ساز نہایت وسیع ہے جسکا کوئی کنارا نہیں۔ جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں کونسی طاقت و قوت ہے وہ اسکے ساہمنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا وہ خود ہی پیدا کرکے خود ی رزق پہنچاتا ہے سب اور سارے اسکے زیر فرمان ہیں (1) مکمل طور پر سبھ پر اسکا حکم چلتا ہے اور سارےعالم میں بستا ہے ۔ کیا کہوں کہ وہ کس کے نزدیک ہے اور کس سےدوری اسے پوشیدہ او رظاہر ہر دل میں ماہر ہوکر بستا ہے (2) جسے خدا ملاتا ہے اسکے ہوش میں بس جاتا ہے ۔ کلما مرشد سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں دھیان لگاتا ہے ۔ خڈا رحمان الرحیم ہے انوکھی شکل و صورت ہے بیان سے باہر ہے مرشد کے ملاپ سے ذہنی کوفت و بھٹکن و گمراہی جاتی ہے (3) دل ۔ جسم دولت سے الہٰی نام پیارا ہے (جو) خدا بوقت آخرت بوقت رحلت ساتھی بنتا ہے ساتھ دیتا ہے دنیاوی دولت کی سحبت کا پھیلاو نہ ساتھی ہے نہ یارو مددگار بغیر خدا مرشد کسی کو آرام و آسائش حاصل نہیں ہوتی (4) جس کامل مرشد کی نظر عنایت شفقت ہوتی ہے اُسے کلام سے ملاتا ہے اور سق مرشد سے بہادر ہو جاتا ہے ۔ اے نانک۔ اس مرشد اُسکے پاؤں کی خدمت کرؤ جس نے گمراہ کر راہ دکھاتا ہے اور لگائیا ہے (5) عاشقان الہٰی پارسان حقیقی خدا رسیدگان ہوں نے سبق مرشد پالیا ہے اے انہیں تیرے نام سچ حق و حقیقت سے محبت ہوجاتی ہے یہی الہٰی حمدوثناہ ہی سے انہیں محبت ہے ۔ کدا کے درکا بھکاری خدا کی درگیہہ میں خدمت کرتا ہے اور الہٰی حَضُوری میں سفت صلاھ کرتا ہے (6) جسکا ملاپ سچے مرشد سے ہو جاتا ہے خدا اسے بلاتا ہے اسکی روحانی زندگی کی حالت اچھی اور بلند ہو جاتی ہے اسے عزت نصبی ہوتی ہے ۔ مادہ پرست منکر کو خدا کے در پر ٹھکانہ نصیب نہیں ہوتا تناسخ میں پڑتا ہے عذاب پاتا ہے (7) سچا مرشد بیشمار گہر سمندر ہے اس سے نام سچ حق وحقیقت جو ایک قیمتی ہیرے کی مانند ہیں کی دولت کا منافع کماؤ۔ اس سےد نیاوی دؤلت جو مانند زیر ہے کی غلاظت دور ہوتی ہے جوآب حیات کا غسل ہے اس سے مرشد جو صبر کا تالاب ہے ملاپ ہوتا ہے (8) مرشد کی بتائی ہوئی خدمت کرؤ اس میں کفایت نہ ورتو ۔ امیدوں کے باوجود نا اُمیدور ہو۔ اس خدا کو جو فکر و تشیوش مٹاتا ہے ۔ اور عذاب مٹاتا ہے کی خدمت کیجیئے تاکہ دوبارہ لاحق نہ ہو (9) چا خدا اپنے چاہتوں کی قدر کرتا ہے ۔ عزت و توقیر بخشش کرتا ہے ۔ دوسرا کوئی ایسا نہیں جو سمجھائے ۔ خداو مرشد ہی ایک واحد ہستی ہے جو اس دنیا میں کام کر رہی ہے اے نانک۔ جو خدا کا محبوب ہے وہی مرشد کو پیار ہے جو مرشد کا پیار ہے وہی خدا کو محبوب (10) ویدں پرانوں مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے ۔ ایک بیٹھکر کانوں سے سنتے ہیں اور سناتا ہے نہ تو مرشد سے حقیقت سمجھے بغیر اصلیت کی سمجھ آتی ہے نہ ذہن نشین ہوتے ہیں (11) راکھ بناتے ہیں اور جسم پر لگاتے ہیں مگر دلمیں خود اور غصہ جو ظالم بستا ہے دکھاوے سے الہٰی ملاپ اور منزل حاصل ہیں ہوتی ۔ نہ سچے مرشد کے بغیر نظروں سے اوجھل سمجھ سے کعبہ خدا کا وصل و ملاپ نصیب ہوتا ہے (12) زیارت گاہوں کی زیارت کیجاتی ہے پرہیز گاری شرع یا مریادا اخٹیار کرتے ہیں جنگلوں میں رہائش کرتے ہیں نفس پر ضبط سَچائی اعضائے جسمانی پر قابو توپاتے ہیں تعلم و تعیلم کی باتیں کرتے ہیں ۔ مگر الہٰی نام سچ حق و حقیقت کے بغیر آرام نہیں ملتا اور سچے مرشد کے بغیر بھٹکن نہیں جاتی (13) سانس ذہن میں چڑھائے ہیں اتارتے ہیں روکتے ہیں انتڑیون کو بلاتے اور درزش کرتے ہیں مگر صرف دکھاوے کامذہب ہے اس سے خدا سے سے محبت پریم پیار نہیں بن سکتا نہ کلما مرشد کا لطف نصیب ہوتا ہے (14) قائنات قدرت کے دیدار سے دلمیں یقین و ایمان بنتا ہے اور کلام مرشد سے خدا کی پہچان ہوتی ہے اے نانک انہیں کل وعالم میں بستا الہٰی نور کا دیدار ہوتا ہے ۔ مرشد ہی پوشیدہ نظروں سے اوجھل کا دیدار کراتا ہے ۔

ماروُ سولہے مہلا ੩
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ہُکمیِ سہجے س٘رِسٹِ اُپائیِ ॥
کرِ کرِ ۄیکھےَ اپنھیِ ۄڈِیائیِ ॥
آپے کرے کراۓ آپے ہُکمے رہِیا سمائیِ ہے ॥੧॥
مائِیا موہُ جگتُ گُبارا ॥
گُرمُکھِ بوُجھےَ کو ۄیِچارا ॥
آپے ندرِ کرے سو پاۓ آپے میلِ مِلائیِ ہے ॥੨॥
آپے میلے دے ۄڈِیائیِ ॥
گُر پرسادیِ کیِمتِ پائیِ ॥
منمُکھِ بہُتُ پھِرےَ بِللادیِ دوُجےَ بھاءِ کھُیائیِ ہے ॥੩॥
ہئُمےَ مائِیا ۄِچے پائیِ ॥
منمُکھ بھوُلے پتِ گۄائیِ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سو ناءِ راچےَ ساچےَ رہِیا سمائیِ ہے ॥੪॥
گُر تے گِیانُ نام رتنُ پائِیا ॥
منسا مارِ من ماہِ سمائِیا ॥
آپے کھیل کرے سبھِ کرتا آپے دےءِ بُجھائیِ ہے ॥੫॥
ستِگُرُ سیۄے آپُ گۄاۓ ॥
مِلِ پ٘ریِتم سبدِ سُکھُ پاۓ ॥
انّترِ پِیارُ بھگتیِ راتا سہجِ متے بنھِ آئیِ ہے ॥੬॥
دوُکھ نِۄارنھُ گُر تے جاتا ॥
آپِ مِلِیا جگجیِۄنُ داتا ॥
جِس نو لاۓ سوئیِ بوُجھےَ بھءُ بھرمُ سریِرہُ جائیِ ہے ॥੭॥
آپے گُرمُکھِ آپے دیۄےَ ॥
سچےَ سبدِ ستِگُرُ سیۄےَ ॥
جرا جمُ تِسُ جوہِ ن ساکےَ ساچے سِءُ بنھِ آئیِ ہے ॥੮॥
ت٘رِسنا اگنِ جلےَ سنّسارا ॥
جلِ جلِ کھپےَ بہُتُ ۄِکارا ॥
منمُکھُ ٹھئُر ن پاۓ کبہوُ ستِگُر بوُجھ بُجھائیِ ہے ॥੯॥
ستِگُرُ سیۄنِ سے ۄڈبھاگیِ ॥
ساچےَ نامِ سدا لِۄ لاگیِ ॥
انّترِ نامُ رۄِیا نِہکیۄلُ ت٘رِسنا سبدِ بُجھائیِ ہے ॥੧੦॥
سچا سبدُ سچیِ ہےَ بانھیِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلےَ کِنےَ پچھانھیِ ॥
سچے سبدِ رتے بیَراگیِ آۄنھُ جانھُ رہائیِ ہے ॥੧੧॥
سبدُ بُجھےَ سو میَلُ چُکاۓ ॥
نِرمل نامُ ۄسےَ منِ آۓ ॥
ستِگُرُ اپنھا سد ہیِ سیۄہِ ہئُمےَ ۄِچہُ جائیِ ہے ॥੧੨॥
گُر تے بوُجھےَ تا درُ سوُجھےَ ॥
نام ۄِہوُنھا کتھِ کتھِ لوُجھےَ ॥
ستِگُر سیۄے کیِ ۄڈِیائیِ ت٘رِسنا بھوُکھ گۄائیِ ہے ॥੧੩॥
آپے آپِ مِلےَ تا بوُجھےَ ॥
گِیان ۄِہوُنھا کِچھوُ ن سوُجھےَ ॥
گُر کیِ داتِ سدا من انّترِ بانھیِ سبدِ ۄجائیِ ہے ॥੧੪॥
جو دھُرِ لِکھِیا سُ کرم کمائِیا ॥
کوءِ ن میٹےَ دھُرِ پھُرمائِیا ॥
ستسنّگتِ مہِ تِن ہیِ ۄاسا جِن کءُ دھُرِ لِکھِ پائیِ ہے ॥੧੫॥
اپنھیِ ندرِ کرے سو پاۓ ॥
سچےَ سبدِ تاڑیِ چِتُ لاۓ ॥
نانک داسُ کہےَ بیننّتیِ بھیِکھِیا نامُ درِ پائیِ ہے ॥੧੬॥੧॥
لفظی معنی:
سہجے ۔ قدرتی طور پر ۔ وڈائی ۔ عطمت۔ سمائی ۔ بستا ہے ۔ (1) غبارا ۔ اندھیرا۔ گور مکھ ۔ مرید مرشد۔ ندر۔ نگاہ شفقت (2) گر پرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ بللادی ۔ آہ وزاری۔ کوائی ۔ ذلیل وخوآر (3) بھوے ۔ گمراہ ۔ پت۔ عزت۔ نائے ۔ نام ۔ ست ۔ سچ ۔ حق حقیقت ۔ رائے ۔ محو ومجذوب ۔ سمائی۔ محو (4) منسا۔ ارادہ۔ من ماہے سمایا۔ ذہن نشین ہوا۔ بجھائی۔ سمجھ (5) آپ گوائے ۔ خودی مٹائے ۔ سہج متے ۔ روحانی سکون کی سمجھ۔ بن۔ اتفا رائے ۔ دوکھ نوارن ۔ عذاب مٹانے والا۔ جاتا۔ سمجھ ملی ۔ جگجیون داتا۔ عالم کو زندگی بخشنے والا سخی ۔ بھرم بھؤ۔ خوف و بھٹکن (7) جرا ۔ بڑھاپا۔ جم۔ موت۔ جوہ نہ ساکے ۔ تاک میں نہ رہ سکے ۔ سیؤ۔ ساتھ (8) ترسنا اگن ۔ خوآہشات کی آگ۔ کھپے ۔ خوآر ہوتا ہے ۔ وکار۔ بدیون برائیون ۔ ٹھور۔ ٹھکانہ ۔ بوجھ بجھائی۔ سمجھ سمجھائی ہے ۔ نیہکیول۔ پاک وپائس۔ ترسنا ۔ پیاس (10) بیراگی ۔ طارق ۔ آون جان۔ آواگون ۔ تناسخ۔ رہائی ۔ ختم (11) میل چکائے ۔ ناپاکیزگی مٹائے ۔ نرمل۔ پاک (12) کتھ کتھ لوجھے ۔ کہہ کہہ ۔ بحث مباحثے کرتا ہے (13) گیان دہونا ۔ بے علم۔ سوجھے ۔ سمجھتا ۔ بانی سبد وجائی ہے ۔ جیسے کلام تاثر پاتا ہے (14) کرم۔ اعمال۔ فرمائیا۔ فرمان۔ حکم۔ ست سنگت۔ سچے ساتھیوں کی صحبت و قربت (15) تاڑی۔ دھیان ۔ یکسوئی۔ بھیکھیا۔ بھیک۔ (16)
ترجمہ:
خدا نے بلا جہد قدرتا اپنے زیر فرمان یہ عالم پیدا کیا ہے اور اپنی عظمت و بلندی اسکے وجود کو دیکھ کر محسوس کر رہا ہے ۔ وہ آپ ہی کر اور کرارہا ہے اور اپنی رضا کی مطاق بس رہا ہے (1) دنیاوی دولت کی محبت اندھیر غبار ہے ۔ عالم میں ۔ مرید مرشد ہی اس بات کو سمجھتا ہے ۔ جس پر خداکی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے اُسےیہ سمجھ آتی ہے خد خود اپنا مملاپ دیتا ہے (2)خدا خؤد ملاپ عنایت کرتا ہے اور رحمت مرشد سے قدر ومنزلت بخشتا ہے ۔ مرید من غیر محبت کی وجہ سے خوآر ہوتا ہے اور آہ وزاری کرتا ہے (3) اس عالم کے اندر خؤدی اور دنیاوی دولت بھی اسمیں بھردی ۔ مرید من گمراہی میں عزت گنواتا ہے ۔ مرید مرشد ہوکر الہٰی نام سچ ۔ حق و حقیقت میں محو ومجذوب ہو سکتا ہے (4) روحانی زندگی کا ہیرا نام سچ حق و حقیقت کا علم مرشد سے حاصل ہوتا ہے وہ دلی ارادے ختم کرنے سے دلمیں بستا ہے ۔ کاراز کرتار ہی سارے کھیل کرتا ہے اور خود ہی سمجھتا ہے (5) خودی مٹا کر سچے مرشد کی خدمت کرؤ جو کرتا ہے وہ خدا جو انسان دوست ہے کےملاپ سے روحانی سکون پاتا ہے کلام رمشد کے ذریعے اسکے دل میں خدا سے محبت اور پیار رہتا ہے وہ خداک ے پریم میں محو ومجذوب رہتا ہے۔ روحانی سکون کی وجہ سے خدا میں یقین و ایمان بنا رہتا ہے ۔ عذاب مٹانیوالے کی سمجھ مرشد دیتا ہے زندگئے عالم سخی خود ملتا ہے کدا جسے لگاتا ہے وہی سمجھتا ہے خوف اور بھٹکن دور ہو جاتا ہے ۔ خدا خود ہی مرید مرشد بناتا ہے سچے صدیوی کلام سے سچے مرشد کی خدمت کرتا ہے ۔ اُسکا سچے صدیوی خدا سے پیار بنا رہتا ہے اس لئے بڑھاپا اور موت اس پر نظر نہیں رکھتی (8) (سارے ) سارا عالم خواہشات کی آگ میں جل رہا ہے ۔ بدیوں اور برائیوں میں ملوث عذاب پاتا ہے ۔ سچے مرشد نے سمجھائیا ہے جبکہ مرید من کو کبھی اور کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا (9) بلند قسمت ہیں وہ جو خدمت مرشد کی کرتے ہیں جنکا ہمیشہ ساچے صدیوی خدا کے نام سچ حق و حقیقت سے پیار بنا رہتا ہے ۔ انکے دلمیں پاک ساز بان ست بستا ہے جسکی وجہ سے کلام کے ذریعے خواہشات ختم ہو جاتی ہے (10) سچے صدیوی کلام کے سچے ہیں بول او ربیان مرشد کے ذریعے کسی کو ہی ہے اسکی پہچان سچے صدیوی کلام میں محو ہونے سے انسان طارق ہو جاتا ہے اسکا آواگؤن اور تناسخ مٹ جاتا ہے (11) جسے کلام کی سمجھ آجاتی ہے اُسکی روحانی واخلاقی ناپاکیزگی مٹ جاتی ہے ۔ پاک نام سچ حق و حقیقت (ست) اُسکے دلمیں بس جاتا ہے۔ ہمیشہ خدمت مرشد کیجیئے ۔ اس سے خودی مٹ جاتی ہے (12) مرشد کے سمجھانے سے ہی خدا کے در کا پتہ چلتا ہے مراد زندگی کے راہ راست کا پتہ چلتا ہے ۔ سچ حق و حقیقت الہٰی نام سے خالی بے بہرہ انسان فضول بحث مباحثے کرتا ہے سچے مرشد کی خدمت کی یہ عظمت ہے کہ اسکی خواہشات کی بھوک پیاس مٹ جاتی ہے (13) اگر خدا خود ملے تبھی سمجھ آتی ہے علم سے بے بہرہ انسان کو کچھ سمجھ نہیں آتی ۔ مرشد کی بخشی ہوئی نعمت اگر ہمیشہ دل میں ہو بسی ہوئی یہ بول کلام میں محو بیان کی ہے (14) جو خدا کی طرف سے انسان کے اعمالنامے میں تحریر ہے وہی اعمال کرتا ہے انسان خدا کی رضا و فرمان کو کوئی مٹا نہیں سکتا ۔ سچی قیمت و قربت ان کو نصیب ہوتی ہے جنکے اعمالنامے میں خدا کی طرف سے تحریر ہوتا ہے (15) جس پر خدا کی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے پاک صحبت و قربت انہیں نصیب ہوتی ہے جو سچے صدیوی کلام میں دھیان لگاتا ہے ۔ خادم نانک۔ عرض گذارتا ہے کہ نام سچ حق و حقیقت کی بھیک تیرے در سے ملتی ہے اے خدا ۔

ماروُ مہلا ੩॥
ایکو ایکُ ۄرتےَ سبھُ سوئیِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلا بوُجھےَ کوئیِ ॥
ایکو رۄِ رہِیا سبھ انّترِ تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوئیِ ہے ॥੧॥
لکھ چئُراسیِہ جیِء اُپاۓ ॥
گِیانیِ دھِیانیِ آکھِ سُنھاۓ ॥
سبھنا رِجکُ سماہے آپے کیِمتِ ہور ن ہوئیِ ہے ॥੨॥
مائِیا موہُ انّدھُ انّدھارا ॥
ہئُمےَ میرا پسرِیا پاسارا ॥
اندِنُ جلت رہےَ دِنُ راتیِ گُر بِنُ ساںتِ ن ہوئیِ ہے ॥੩॥
آپے جوڑِ ۄِچھوڑے آپے ॥
آپے تھاپِ اُتھاپے آپے ॥
سچا ہُکمُ سچا پاسارا ہورنِ ہُکمُ ن ہوئیِ ہے ॥੪॥
آپے لاءِ لۓ سو لاگےَ ॥
گُر پرسادیِ جم کا بھءُ بھاگےَ ॥
انّترِ سبدُ سدا سُکھداتا گُرمُکھِ بوُجھےَ کوئیِ ہے ॥੫॥
آپے میلے میلِ مِلاۓ ॥
پُربِ لِکھِیا سو میٹنھا ن جاۓ ॥
اندِنُ بھگتِ کرے دِنُ راتیِ گُرمُکھِ سیۄا ہوئیِ ہے ॥੬॥
ستِگُرُ سیۄِ سدا سُکھُ جاتا ॥
آپے آءِ مِلِیا سبھنا کا داتا ॥
ہئُمےَ مارِ ت٘رِسنا اگنِ نِۄاریِ سبدُ چیِنِ سُکھُ ہوئیِ ہے ॥੭॥
کائِیا کُٹنّبُ موہُ ن بوُجھےَ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ ت آکھیِ سوُجھےَ ॥
اندِنُ نامُ رۄےَ دِنُ راتیِ مِلِ پ٘ریِتم سُکھُ ہوئیِ ہے ॥੮॥
منمُکھ دھاتُ دوُجےَ ہےَ لاگا ॥
جنمت کیِ ن موُئو آبھاگا ॥
آۄت جات بِرتھا جنمُ گۄائِیا بِنُ گُر مُکتِ ن ہوئیِ ہے ॥੯॥
کائِیا کُسُدھ ہئُمےَ ملُ لائیِ ॥
جے سءُ دھوۄہِ تا میَلُ ن جائیِ ॥
سبدِ دھوپےَ تا ہچھیِ ہوۄےَ پھِرِ میَلیِ موُلِ ن ہوئیِ ہے ॥੧੦॥
پنّچ دوُت کائِیا سنّگھارہِ ॥
مرِ مرِ جنّمہِ سبدُ ن ۄیِچارہِ ॥
انّترِ مائِیا موہ گُبارا جِءُ سُپنےَ سُدھِ ن ہوئیِ ہے ॥੧੧॥
اِکِ پنّچا مارِ سبدِ ہےَ لاگے ॥
ستِگُرُ آءِ مِلِیا ۄڈبھاگے ॥
انّترِ ساچُ رۄہِ رنّگِ راتے سہجِ سماۄےَ سوئیِ ہے ॥੧੨॥
گُر کیِ چال گُروُ تے جاپےَ ॥
پوُرا سیۄکُ سبدِ سِجنْاپےَ ॥
سدا سبدُ رۄےَ گھٹ انّترِ رسنا رسُ چاکھےَ سچُ سوئیِ ہے ॥੧੩॥
ہئُمےَ مارے سبدِ نِۄارے ॥
ہرِ کا نامُ رکھےَ اُرِ دھارے ॥
ایکسُ بِنُ ہءُ ہورُ ن جانھا سہجے ہوءِ سُ ہوئیِ ہے ॥੧੪॥
بِنُ ستِگُر سہجُ کِنےَ نہیِ پائِیا ॥
گُرمُکھِ بوُجھےَ سچِ سمائِیا ॥
سچا سیۄِ سبدِ سچ راتے ہئُمےَ سبدے کھوئیِ ہے ॥੧੫॥
آپے گُنھداتا بیِچاریِ ॥
گُرمُکھِ دیۄہِ پکیِ ساریِ ॥
نانک نامِ سماۄہِ ساچےَ ساچے تے پتِ ہوئیِ ہے ॥੧੬॥੨॥
لفظی معنی:
ایکو ایک ۔ واحد خدا۔ درے ۔ بستا ہے ۔ سبھ سوئی۔ ساری جگد۔ اور دوسرا (1) اُپائے ۔ پیدا کئے ۔ گیانی دھیانی ۔ علم والے اور دھیان توجہ لگانے والے ۔ رزق۔ روزی ۔ سماہے ۔ دیتا ہے (2) اندھ ۔ اندھار۔ اندھیرغبار۔ ہونمے ۔ خودی ۔ میرا ۔ اینت ۔ جلت۔ تشیوش (3) جوڑ۔ وچھوڑے ۔ ملاپ ۔ جدائی ۔ تھاپ اُتھابے ۔ پیدا کرے اور مٹائے ۔ سچا حکم۔ سچا صدیوی فرمان ۔ ہورن ۔ دیگر سے (4) سو۔ وہ ۔ گر پرسادی۔ رحمت مرشد سے ۔ بھؤ بھاگے ۔ خوف دور ہوتا ہے ۔ سکھداتا۔ سکھ دینے والا۔ (5) پرب ۔ پہلے سے ۔ اندن ۔ ہر روز۔ سیوا۔ خدمت۔ (6) جاتا جانیا۔ پہچان کی ۔ ترسنا۔ اگن نواری۔ خواہشات ۔ جلن مٹآئی جین۔ سمجھ کر (7) کائیا۔ جسم ۔ کٹنب۔ پریوار۔ قبیلہ ۔ آکھی ۔ کہی۔ نام روے ۔ سچ حق وحقیقت یاد رکھتا ہے (8) دھات دوبے۔ دوسری دوڑ دہوپ۔ بھٹکن۔ خمت۔ پیدا ہوتے ہی۔ کی نہ مووی۔ نہ فوت ہوا۔ ابھاگا۔ بد قسمت۔ آوت جات ۔ آواگون ۔ تناسخ۔ برتھا۔ بیکار۔ بیفائدہ ۔ (9) کسدھ ۔ ناپاک ۔ مل ۔ ناپاکیزگی ۔ غلاظت (10) پنچ دوت۔ پانچ دشمن ۔ شہوت۔ غصہ ۔ لالچ دنیاوی محبت غرور و تکبر ۔ سنگھاریہہ ۔ متاتے ہیں۔ سینے ۔ خوآب۔ سدھ۔ ہوش (11) وڈبھاگے ۔ بلند قسمت سے ۔ رویہہ رنگ راتے ۔ رہتا ہے ۔ پریم پیار میں۔ محو۔ سہج سماوے سوئی ہے ۔ وہ روحانی سکون پاتا ہے (12) گر کی چال۔ مرشد کی طرز زندگی ۔ جاپے ۔ پتہ چلتا ہے ۔ سبھاپے ۔ پہچانتا ہے ۔ گھٹ انتر۔ دلمیں۔ رسنا۔ زبان ۔ رس چاکھے ۔ لطفلے ۔ سہج سوئی ہے ۔ صدیوی وہی ہے (13) نوارے بوجھے ۔ سمجھے ۔ سیچ سمائیا۔ حقیقت میں محوو مجذوب ہوا۔ سچا سیو ۔ خڈا کی خدمت ۔ سبد سچ راتے ۔ سچا کلام بسا کر۔ (15) بیچاری ۔ سوچ سمجھ کر ۔ پکی ساری۔ چوپٹ کے کھیل مین پار ہو چکی نہ دیں۔ مراد زندگ نزل یافتہ انسان ۔ نام سماوے ۔سچ حق و حقیقت میں محوو مجذوب ۔
ترجمہ:
ہر جگہ وہی واحد خدا مرید مرشد کو ہے اسکی سمجھ ۔ ہر دل میں بستا ہے وہی نہیں اُسکے علاوہ دوسرا کوئی (1) اس نے چوراسی لاکھ اقسام کے جاندار پیدا کئے ہیں عالم فاضل اور دھیان و توجہ دینے والے کہتے ہیں اور سناتے ہیں خدا خود ہی سب کو روزی دیتا ہے اور سب کو رزق پہنچاتا ہے نہہہیں کوئی ثانی اُسکا اس عالم میں (2) دنیاوی دولت کی محبت اندھیر عبار کی مانند جسمیں نہ کچھ دکھائی دیتا ہے نہ عقل و ہوش کام کرتی ہے ۔ چاروں طرف خودی اور اپنے آپ اپنی ملکیت اور اپنے پن کا پھیلاؤ ہو رہا ہے ۔ انسان روز و شب حسد کینہ بغض اور لالچ میں جل رہے ہیں مرشد کے بغیر سکون نہیں پاتے (3) خڈا خود ہی ماپ کراتا ہے اور خود جدائی دیتا ہے ۔ خود ی پیدا کرکے خود ی مٹاتا ہے فرمان الہٰی ہے صدیوی ہ ٹلنے والے ہے اور پائیداد ہے اور سچا ہے پھیلاؤ عالم کا ۔ کسی دوسرے میں نہیں توفیق ایسی (5) اُسے ہی ہوتا ہے ملاپ حاصل جسے خدا خود ملاتا ہے ۔ رحمت مرشد سے اُسکا موت کا خوف مٹ جاتا ہے ۔ اُسکے دلمیں کلام الہٰی بس جاتا ہے جو آرام دیہہ ہے مرید مرشد ہی کوئی اسکو سمجھتا ہے (5) خود ہی اپنا ملاپ کراتا ہے جو اُسکے اعمالنامے میں ہے تحریر پہلے سے اسکو مٹایا جا سکتا نہیں۔ مرید مرشد عبادت خدا کی کرتا ہے جو مرشد کے بغیر ہو سکتی ہے (6) سچے مرشد کی خڈمت سے ہمیشہ سکھ حاصل ہوتا ہے ۔ اور سب کو دینا والا سخی خود ہیآ ملتا ہے ۔ خودی مٹا کر خوآہشات کی آگ بجھاتا ہے ۔ کلام کی پہچان سے سکون ملتا ہے (7) جیسے اپنے خاندان اور جسم سے محبت ہے وہ روحانیت اور اخلاق کی نہیں ہے سمجھ اُسے مرید مرشد ہونے سے اُسے اپنی آنکھوں سے دکھائی دینے لگ جاتا ہے سب کچھ وہ ہر وقت الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں اپنا دھیان لگاتا ہے الہٰی ملاپ سے آرام پاتا ہے (8) مرید من کی دوڑ دنیاوی دؤلت میں رہتی ہے ۔ وہ بد بخت جنم لیتے ہی مرکیوں نہ گیا اس نے آواگون اور تناسخمیں ہی زندگی برباد کر لی مرشد کے بگیر نجات نہیں ملتی (9) یہ جسم ناپاک اسے خودی کی ناپاکیزگی سے متاثر ہے ۔ خوآہ اسے سو بار صاف کیا جائے دہویا جائے تب بھی اس کی ناپاکیزگی دور نہیں ہوتی اگر کلام و واعظ مرشد سے صاف کیا جائے تو پاک ہو جاتا ہے اور دوبار کبھی ناپاک نہیں ہوتا (10) جو کلام کو نہیں سمجھتا اسکا خیال نہیں کرتا۔ پانچوں روز واخلاق دشمن عیب اُسے جسمانی دف پہنچاتے ہیں۔ انسان تناسخمیں پڑا رہتا ہے ۔ دلمین دنیاوی دولت کی محبت کا اندھیرا چھائیا رہتا ہے۔ جس سے خوآب میں پاک نہیں ہوتا (11) ایک ایسے ہیں جنہوں نے پانچوں عیبوں پر فتح حآصل کر لی ہے ۔ اور کلام پر عمل پیرا ہوگئے ہیں اور بلند اور خوش قسمتی سے سچے مرشد سے ملاپ ہوگیا ہے دلمیں حقیقت اور خدا بس گیا ہے ۔ اس سے پریم پیار بن گیا ہے وہ روحانی و ذہنی سکون میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے (12) مرشد کی طرز زندگی کا پتہ مرشد سے ہی لگاتا ہے ۔ کامل خدمتگار کی پہچان اسکے کلام سے ہوتی ہے وہ ہمیشہ اپنی زبان سے سڈیوی نام سچ حق و حقیقت کا لطف اُٹھاتاہے اور دلمیں بسائے رکھتا ہے (13) وہ کلام مرشد کے ذریعے خودی مٹا لیتا ہے اور الہٰی نام ست دلمیں بساتا ہے ۔ واحد خدا کے بگیر کسی سے پہچان نہیں جو کچھ خدا کی رضا و فرمان میں ہو رہا ہے وہ درست ہے (14) سچے مرشد کے بغیر کسی کو روحانی وذہنی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ مرید مرشد ہوکر اسکی سمجھ آتی ہے ۔ اس صدیوی سچ وحقیقت میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ اس سچ حقیقت کی خدمت سے خوید مٹ جاتی ہے کلام کے وسیلے سے (15) خدا خود ہی اوصاف کے لئے لائق سمجھ کر اوصاف عنایت کرتا ہے ۔ جنہیں عنایت کرتا ہے زندگی کے کھیل کو جیت لیتے ہیں۔ اے نانک۔ وہ ہمیشہ الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں دھیان لگائے رکھتے ہیں اور اس حقیقت سے عزت و توقیر وہ پاتے ہیں۔

ماروُ مہلا ੩॥
جگجیِۄنُ ساچا ایکو داتا ॥
گُر سیۄا تے سبدِ پچھاتا ॥
ایکو امرُ ایکا پتِساہیِ جُگُ جُگُ سِرِ کار بنھائیِ ہے ॥੧॥
سو جنُ نِرملُ جِنِ آپُ پچھاتا ॥
آپے آءِ مِلِیا سُکھداتا ॥
رسنا سبدِ رتیِ گُنھ گاۄےَ درِ ساچےَ پتِ پائیِ ہے ॥੨॥
گُرمُکھِ نامِ مِلےَ ۄڈِیائیِ ॥
منمُکھِ نِنّدکِ پتِ گۄائیِ ॥
نامِ رتے پرم ہنّس بیَراگیِ نِج گھرِ تاڑیِ لائیِ ہے ॥੩॥
سبدِ مرےَ سوئیِ جنُ پوُرا ॥
ستِگُرُ آکھِ سُنھاۓ سوُرا ॥
کائِیا انّدرِ انّم٘رِت سرُ ساچا منُ پیِۄےَ بھاءِ سُبھائیِ ہے ॥੪॥
پڑِ پنّڈِتُ اۄرا سمجھاۓ ॥
گھر جلتے کیِ کھبرِ ن پاۓ ॥
بِنُ ستِگُر سیۄے نامُ ن پائیِئےَ پڑِ تھاکے ساںتِ ن آئیِ ہے ॥੫॥
اِکِ بھسم لگاءِ پھِرہِ بھیکھدھاریِ ॥
بِنُ سبدےَ ہئُمےَ کِنِ ماریِ ॥
اندِنُ جلت رہہِ دِنُ راتیِ بھرمِ بھیکھِ بھرمائیِ ہے ॥੬॥
اِکِ گ٘رِہ کُٹنّب مہِ سدا اُداسیِ ॥
سبدِ مُۓ ہرِ نامِ نِۄاسیِ ॥
اندِنُ سدا رہہِ رنّگِ راتے بھےَ بھاءِ بھگتِ چِتُ لائیِ ہے ॥੭॥
منمُکھُ نِنّدا کرِ کرِ ۄِگُتا ॥
انّترِ لوبھُ بھئُکےَ جِسُ کُتا ॥
جمکالُ تِسُ کدے ن چھوڈےَ انّتِ گئِیا پچھُتائیِ ہے ॥੮॥
سچےَ سبدِ سچیِ پتِ ہوئیِ ॥
بِنُ ناۄےَ مُکتِ ن پاۄےَ کوئیِ ॥
بِنُ ستِگُر کو ناءُ ن پاۓ پ٘ربھِ ایَسیِ بنھت بنھائیِ ہے ॥੯॥
اِکِ سِدھ سادھِک بہُتُ ۄیِچاریِ ॥
اِکِ اہِنِسِ نامِ رتے نِرنّکاریِ ॥
جِس نو آپِ مِلاۓ سو بوُجھےَ بھگتِ بھاءِ بھءُ جائیِ ہے ॥੧੦॥
اِسنانُ دانُ کرہِ نہیِ بوُجھہِ ॥
اِکِ منوُیا مارِ منےَ سِءُ لوُجھہِ ॥
ساچےَ سبدِ رتے اِک رنّگیِ ساچےَ سبدِ مِلائیِ ہے ॥੧੧॥
آپے سِرجے دے ۄڈِیائیِ ॥
آپے بھانھےَ دےءِ مِلائیِ ॥
آپے ندرِ کرے منِ ۄسِیا میرےَ پ٘ربھِ اِءُ پھُرمائیِ ہے ॥੧੨॥
ستِگُرُ سیۄہِ سے جن ساچے ॥
منمُکھ سیۄِ ن جانھنِ کاچے ॥
آپے کرتا کرِ کرِ ۄیکھےَ جِءُ بھاۄےَ تِءُ لائیِ ہے ॥੧੩॥
جُگِ جُگِ ساچا ایکو داتا ॥
پوُرےَ بھاگِ گُر سبدُ پچھاتا ॥
سبدِ مِلے سے ۄِچھُڑے ناہیِ ندریِ سہجِ مِلائیِ ہے ॥੧੪॥
ہئُمےَ مائِیا میَلُ کمائِیا ॥
مرِ مرِ جنّمہِ دوُجا بھائِیا ॥
بِنُ ستِگُر سیۄے مُکتِ ن ہوئیِ منِ دیکھہُ لِۄ لائیِ ہے ॥੧੫॥
جو تِسُ بھاۄےَ سوئیِ کرسیِ ॥
آپہُ ہویا نا کِچھُ ہوسیِ ॥
نانک نامُ مِلےَ ۄڈِیائیِ درِ ساچےَ پتِ پائیِ ہے ॥੧੬॥੩॥
لفظی معنی:
جگجیون ۔ حیات عالم۔ ساچا۔ صدیوی ۔ سچا۔ گر سیوا۔ کدمت۔ مرشد۔ سبد پچھاتا۔ کلام سے پہچان آتی ہے ۔ امر۔ فرمان۔ پاتشاہی ۔ بادشاہت۔ سرکار۔ بنائی ہے ۔ کام کی ذمہ داری سونپی ہے (1) نرمل۔ پاک ۔ آبپچھاتا ۔ خوئش نیک و بدکردار کی تحقیق کی سمجھا ۔ رسنا۔ زبان ۔ سبد۔ رتی ۔ کلام سے محظوظ ۔ درساپے ۔ سڈیوی سچے کے در پر ۔ پت ۔ عزت۔ وقار۔ (2) وڈیائی ۔ نندک۔ بدگو۔ برائی کرنے والا۔ نام رتے ۔ سچ حق و حقیقت میں محو ۔ پرم ہنس ۔ کامل انسان۔ خدا رسیدہ ۔ بیراگی ۔ طارق ۔ تج گھر تاڑی۔ ذہن نشینی(3) سبد مرے ۔ جو کلام سے ۔ برائیاں مٹادیتا ہے ۔ جن پور۔ مکمل یا کامل خدمتگار ۔ سوار۔ سوریا ۔ بہادر۔ کائیا ۔ جسم۔ انمرت سر۔ روحانی زندگی بنانے والے پانی کا تالاب۔ ساچا من۔ پاک من ۔ بھائے سبھائے ۔ بھاری ۔ پریم پیار کے ساتھ (4) اورا۔ دوسرون کو۔ سانت۔ تسکین ۔ تسلی (5) بھسم۔ راکھ ۔ ۔ بھیکھ ھاری ۔ پارسائی لباس پہنے ہوئے ۔ سبدے ۔ پندونصائح ۔ واعظ و کلام ۔ اندن۔ ہر روز۔ جلت۔ زیر فکر تشویش ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ وہم وگمان۔ شک و شبہات۔ بھرمائی۔ بھٹکتا ہے (6) گر یہہ گھر۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔ پریوار۔ اداسی ۔ طارق۔ سبد ہوئے ۔ کلام سے بدیاں چھوڑ کر ۔ نام نواسی۔ دلمین نام مراد سچ حق و حقیقت بسا کر۔ رنگ راتے ۔ پیار میں محو ۔ بھگت ۔ الہٰی عشق۔ بھائے ۔ پیار (7) وگوتا ۔ ذلیل وخوآر۔ بھؤکے ۔ بھونکتا ہے ۔ لوبھ ۔ لالچ (8) سچے سبد۔ سے کلام سے ۔ سچی پت۔ صدیوی عزت ۔ مکت۔ نجات۔ دنیاوی غلامی سے چھٹکارا ۔ آزادی ۔ بنت ۔ منصوبہ۔ طریقہ کار (9) سدھ ۔ جنہون نے زندگی گذارنے کے طریقے ۔ راستے پا لئے ہیں۔ سادھک۔ جو زندگی کا مقصد و منزل پانے کی کوشش میں ہیں۔ ویچاری۔ سوچنے سمجھنے اور خیال ارائی کرنیوالے ۔ اہنس۔ روز و شب ۔ دن رات۔ نام رتے ۔ سچ حق و حقیقت سے متاثر ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ بھؤ۔ خوف۔ بھگت بھائے ۔ پریم پیار سے (10) منوآ مارسنے سیؤ لوجیہہ۔ من کو قابو کرکے من سے جھگڑتا ہے ۔ ساچے سبد رتے ۔ صدیوی سچے کلام میں محو ۔ اک رنگی ۔ ایک پریمی (11) سیرجے ۔ پیدا کرکے ۔ بھانے ۔ رضا سے ۔ ندر ۔ نگاہ شفقت۔ من وسیا۔ دلمین بسا (12) ستگر سیویہہ ۔ جو خدمت کرتے ہیں۔ سچے مرشد کی ۔ ساچے ۔ با اخلاق ۔ کاچے کم فہم۔ بھاوے ۔ رضا (13) جگ جگ۔ ہر دور زمانمیں۔ ساچا۔ صدیوی پاک ۔ پورے بھاگ۔ بلند قسمت سے ۔ وچھڑے ۔ جدا ۔ صہج ۔ روحانی سکون (14) میل ۔ ناپاکیزگی ۔ کمائیا ۔ اکھٹی کی ۔ دوجا بھائیا۔ روحانیت کے علاوہ دوسری دنیاوی زندگی سے محبت ۔ لو لائی ۔ سوچ سمجھ کر (15) بھاوے ۔ چاہتا ہے ۔ رضا۔ پت۔ عزت (16)
ترجمہ:
زندگیئے عالم صدیوی سخی سب کو دینے والا ہے واحد خدا خدمت مرشد اور کلام سے اسکی پہچان ہوتی ہے ۔ سارا عالم اسکے زیر فرمان ہے ہر زمانے میں ہر جاندار کے ذمہ کام لگائیا ہے (1) پاک انسان وہی ہے جس نے اپنے آپ کو پہچانا ہے ۔ اسے آرام و آسائش پہنچانے والا سخی خود ملتا ہے کلام مرشد میں محوزبان خدا کی حمدوثناہ کرتی ہے اُسے ہمیشہ خدا کے در پر عزت ملتی ہے (2) مرید مرشد الہٰی نام ست کی بدولت شہرت و عثمت پات اہے ۔ جبکہ مرید من بدگوئی کرکے عزت گنواتا ہے ۔ نام مراد سچ حق و حقیقت اپنانے والے مکمل انسان حقیقت پرست طارق اور ذہن نشین ہیں (3) کلام سے متاثر ہوکر برائیوں کو چھوڑ دیتا ہے وہی کامل انسان ہے یہ سچے مرشد کا ارشاد یا کہنا ہے اس انسان جسم کے اندر چشمہ آب حیات ہے جس کے پانی سے روھانی اوراخلاقی ہوجاتی ہے ۔ جسے پاک من دلی پریم سے پیتا ہے (4) پنڈت مذہبی کتابیں خود پڑتا ہے اور دوسروں کو سمجھاتا ہے ۔ مگر اپنا دل جل رہا ہے اُسکا اسے پتہ نہیں مراد دل میں خواہشات کی تپش ہے ۔ بغیر سچے مرشد کی خدمت کے الہٰی نام سچ حق و حقیقت کا پتہ نہیں چلتا صرف پڑھنے سے ذہنی سکون حاصل نہیں ہوتا (5) ایک درویشون و فقیروں کا پہراوا پہن کر اور راکھ لگا کر پھر رہے ہیں مگر کلام و واعظ یا پندونصائح کے کون ہے جس نے خودی مٹالی ہو ۔ دن رات وہم وگمان پہراوے میں بھٹکتا ہے اور جلتا رہتا ہے (6) ایک ایسے گھریلو زندگی بسر کرنے کے باوجود طارق الدنیا ہیں۔ کلام سے خوآہشات مٹآ کر الہیی نام سچ حق وحقیقت میں دھیان لگاتے ہیں۔ وہ ہر وقت الہٰی محبت میں خدا کے ادب خوف کی وجہ سے خدا میں دل کا دھیان لگاتے ہیں (7) خودی پسند بدگوئی کرکے ذلیل وخوآر ہوت اہے اور کتے کی مانند بھونکتا ہے ۔ موت روحانی واخلاقی سے کبھی نجات نصیب نہیں ہوتی بوقت اخرت پچھتاتا اس جہان سے رخصت ہوتا ہے (8٭ سچے کلام حمدوثناہ عبادت و بندگی سے صدیوی سچی عزت حاصل ہوتی ہے ۔ سچے مرشد کے بگیر خدا کا نام (ست) سچ حق و حقیقت حاصل نہیں خدا نے ایسا منصوبہ طریقہ اور اصول بنائیا ہے (9) ایک ایسے ہیں جنہون نے زندگی کا مدعا و مقصد حاصل کر لیا ہے ۔ اور ایک اسکے لئے کوشش میں ہیں اور بہت سے خیالی آرائی کرنے والے ہیں اور ایک پاک خدا کے نام (ست) سچ حق و حقیقت مین محو ومجذوب ہیں۔ جس نے خدا خود ملتا ہے اسے ہی ملاپ نصیب ہوتا ہے ۔ اسے ہی زندگی کے راہ راست کا پتہ چلتا ہے اور کدا کی محبت کی چاہت کی برکت سے خوف دور ہوتا ہے (10) صرف زیارت اور خیرات سے ہی اصلیت و حقیقت کی سمجھ نہیں آتی ۔ ایک ایسے ہیں جو برائیوں سے پرہیز کرنے کے لئے دل کو قابو کر لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنے من سے جھگڑ کرتے ہیں ۔ ایسے عاشق الہٰی حمدوثنا میں محو ومجذوب رہتے ہیں اور کلام کے وسیلے سے خدا سے رابطہ قائم رہتا ہے (11) خدا خود ہی پیدا کرکے خود ہی عزت بخشش کرتا ہے اور خود ہی اپنی رضا و آزاد مرضی سے ملاپ عنایت کرتا ہے ۔ خود ہی اپنی نظر عنایت و شفقت سے دلمیں بستا ہے یہی ہے فرمان خدا کا (12) خڈمتگاران سچے مرشد کی زندگی روحانی واخلاقی پاک ہو جاتی ہے ۔ خودی پسندوں کی زندگی کمزور رہ جاتی ہے کیونکہ وہ خدمتگاری کرنا نہیں جانتے ۔ خدا یہ کھیل خود ہی کر کر دیکھتا جیسا اچھس مجھتا اسی طرح کراتا ہے (12) ہر زمانے میں صدیوی سچا خدا ہی دینے والا ہے ۔ بلند قسمت سے کلام مرشد کی سمجھ آتی ہے ۔ جسکے ذہن میں کلام بس جائے ان کے دل سے جاتا نہین ۔ خڈا انہیں اپنی نظر عنایت و شفقت سے روحای وزہنی سکون عنایت کرتا ہے (14) خود پسندی سے بدیوں کی ناپاکزگی اکھٹی ہوتی ہے ۔ انہیں دوئی دوئش سے ہی محبت رہتی ہے دل میں سوچ وچار کرکے دیکھو بغیر سچے مرشد کی خدمت کے نجات حاصل نہیں ہوتی ۔ دوئی دوئش سے انسان آواگون کی گرفت میں رہتا ہے (15) وہی ہوتا ہے اور کرتا ہے جو رضائے خدا ہوتی ہے ۔ خود انسان میں کرنے کی کوئی توفیق نہیں۔ اے نانک الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت اپنانے سچی عزت و عظمت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
جو آئِیا سو سبھُ کو جاسیِ ॥
دوُجےَ بھاءِ بادھا جم پھاسیِ ॥
ستِگُرِ راکھے سے جن اُبرے ساچے ساچِ سمائیِ ہے ॥੧॥
آپے کرتا کرِ کرِ ۄیکھےَ ॥
جِس نو ندرِ کرے سوئیِ جنُ لیکھےَ ॥
گُرمُکھِ گِیانُ تِسُ سبھُ کِچھُ سوُجھےَ اگِیانیِ انّدھُ کمائیِ ہے ॥੨॥
منمُکھ سہسا بوُجھ ن پائیِ ॥
مرِ مرِ جنّمےَ جنمُ گۄائیِ ॥
گُرمُکھِ نامِ رتے سُکھُ پائِیا سہجے ساچِ سمائیِ ہے ॥੩॥
دھنّدھےَ دھاۄت منُ بھئِیا منوُرا ॥
پھِرِ ہوۄےَ کنّچنُ بھیٹےَ گُرُ پوُرا ॥
آپے بکھسِ لۓ سُکھُ پاۓ پوُرےَ سبدِ مِلائیِ ہے ॥੪॥
دُرمتِ جھوُٹھیِ بُریِ بُرِیارِ ॥
ائُگنھِیاریِ ائُگنھِیارِ ॥
کچیِ متِ پھیِکا مُکھِ بولےَ دُرمتِ نامُ ن پائیِ ہے ॥੫॥
ائُگنھِیاریِ کنّت ن بھاۄےَ ॥
من کیِ جوُٹھیِ جوُٹھُ کماۄےَ ॥
پِر کا ساءُ ن جانھےَ موُرکھِ بِنُ گُر بوُجھ ن پائیِ ہے ॥੬॥
دُرمتِ کھوٹیِ کھوٹُ کماۄےَ ॥
سیِگارُ کرے پِر کھسم ن بھاۄےَ ॥
گُنھۄنّتیِ سدا پِرُ راۄےَ ستِگُرِ میلِ مِلائیِ ہے ॥੭॥
آپے ہُکمُ کرے سبھُ ۄیکھےَ ॥
اِکنا بکھسِ لۓ دھُرِ لیکھےَ ॥
اندِنُ نامِ رتے سچُ پائِیا آپے میلِ مِلائیِ ہے ॥੮॥
ہئُمےَ دھاتُ موہ رسِ لائیِ ॥
گُرمُکھِ لِۄ ساچیِ سہجِ سمائیِ ॥
آپے میلےَ آپے کرِ ۄیکھےَ بِنُ ستِگُر بوُجھ ن پائیِ ہے ॥੯॥
اِکِ سبدُ ۄیِچارِ سدا جن جاگے ॥
اِکِ مائِیا موہِ سوءِ رہے ابھاگے ॥
آپے کرے کراۓ آپے ہورُ کرنھا کِچھوُ ن جائیِ ہے ॥੧੦॥
کالُ مارِ گُر سبدِ نِۄارے ॥
ہرِ کا نامُ رکھےَ اُر دھارے ॥
ستِگُر سیۄا تے سُکھُ پائِیا ہرِ کےَ نامِ سمائیِ ہے ॥੧੧॥
دوُجےَ بھاءِ پھِرےَ دیۄانیِ ॥
مائِیا موہِ دُکھ ماہِ سمانیِ ॥
بہُتے بھیکھ کرےَ نہ پاۓ بِنُ ستِگُر سُکھُ ن پائیِ ہے ॥੧੨॥
کِس نو کہیِئےَ جا آپِ کراۓ ॥
جِتُ بھاۄےَ تِتُ راہِ چلاۓ ॥
آپے مِہرۄانُ سُکھداتا جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ چلائیِ ہے ॥੧੩॥
آپے کرتا آپے بھُگتا ॥
آپے سنّجمُ آپے جُگتا ॥
آپے نِرملُ مِہرۄانُ مدھُسوُدنُ جِس دا ہُکمُ ن میٹِیا جائیِ ہے ॥੧੪॥
سے ۄڈبھاگیِ جِنیِ ایکو جاتا ॥
گھٹِ گھٹِ ۄسِ رہِیا جگجیِۄنُ داتا ॥
اِک تھےَ گُپتُ پرگٹُ ہےَ آپے گُرمُکھِ بھ٘رمُ بھءُ جائیِ ہے ॥੧੫॥
گُرمُکھِ ہرِ جیِءُ ایکو جاتا ॥
انّترِ نامُ سبدِ پچھاتا ॥
جِسُ توُ دیہِ سوئیِ جنُ پاۓ نانک نامِ ۄڈائیِ ہے ॥੧੬॥੪॥
لفظی معنی:
جو آئیا ۔ پیدا ہوا ہے ۔ سبھ ۔ سارے ۔ جاسی ۔ چلے جائینگے ۔ دوجے بھائے ۔ خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت۔ جم پھاسی۔ روحای موت کے پھندے میں۔ بادھا۔ گرفتار۔ اُبھرے ۔ بچے ۔ ساچے ساچ سمائی ہے ۔ وہ پاک سچ و حقیقت مراد خدا کی محبت میں محو ومجذوب رہتے ہیں (1) کرتا کرتار۔ ندر۔ نگاہ شفقت و عنیات۔ لیکھے ۔ حساب اندر۔ گورمکھ گیان۔ علم مرشد ۔ سوجھے ۔ سمجھ آتی ہے ۔ اگیانی ۔ بے علم۔ اندھ کمائی ہے ۔ اندھوں کے سے کام کرتا ہے (2) سہسا۔ فکر۔ تشویش ۔ بوجھ۔ سمجھ۔ نام رتے ۔ سچ و حقیقت الہٰی نام۔ رتے ۔ محو۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ ساچ ۔ خدا ۔ حقیقت ۔ سمائی ۔مجذوب (3) دھندے دھاوت ۔ دنیاوی کاروبار کی دوڑ دہوپ ۔ منور۔ جلا ہوا لوہا ۔ کنچن ۔ سونا۔ بھیٹے گرپور۔ کامل مرشد کے ملاپ سے ۔ پورے سبد۔ مکمل کلام (4) درمت ۔ بدعقلی ۔ بری۔ بد ۔ بریار۔ برائیوں کا گھر۔ اوگنیاری ۔ بداؤصاف والی ۔ کچی مت ۔ کم فہم ۔ پھیکا۔ تلخ۔ مکھ بوے ۔ زبان سے منہ سے کہے ۔ نام نہ پائے ۔ خدا کا نام ست نصیب نہیں ہوتا (5) کنت۔ خاوند۔ مراد خدا۔ بھاوے ۔ اچھی نہیں لگتی ۔نہیں چالتا ۔ من کی جوٹھی۔ ناپاک دل ۔ جوٹھ کماوے ۔ کفر کماتی ہے ۔ پر ۔ خاوند۔ ساؤ۔ لطف ۔ مرضی (6) کھوٹی۔ بری۔ کھوٹ۔ برے کام۔ سیگار۔ سجاوٹ ۔ زیائش۔ پر ۔ خصم نہ بھاوے ۔ خاوند مالک کو پیاری نہیں۔ گوننتی ۔ بااوصاف۔ راوے ۔ ملاپ کرتا ہے ۔ حکم۔ فرمان محبت۔ بخش لئے دھرلیکھے ۔ بوقت حساب بخشش دیتا ہے ۔ نام رتے ۔ نام میں پریم میں محو (7) ہونمے ۔ خودی ۔ دھات ۔ دوڑ دہوپ۔ موہ رس۔ محبت کا لطف۔ لوساچی ۔ سچی لگن ۔ محبت (8) سبد وچار۔ کلام سمجھ کر ۔ جاگے ۔ بیدار ۔ ہوشیار۔ سوئے ۔ غفلت۔ میں ۔ ابھاگے ۔ بد قسمت ۔ جاتی ہے ۔ توفیق نہیں (10) کال ۔ موت۔ گر سبد نوارے کالم مرشد سے دور کر دیتا ہے ۔ اردھارے ۔ دل یا ذہن میں بسا کر (11) دیونای ۔ پاگل۔ دکھ ماہے سمانی۔ عذآب پاتی ہے ۔ بھیکھ ۔ پہراوے (12) جت بھاوے ۔ جو پسند ہے اسکی چاہت ہے ۔ تت ۔ اس طرح۔ اُس ۔ توے ۔ اسطرح (13) کرتا۔ کرنیوالا۔ بھگتا۔ استعمال کرنے والا۔ سنجم۔ ضبط۔ پرہیز ۔ جگتا۔ ملا ہوا ۔ مندمل۔ نرمل۔ پاک ۔ مدھ سودن۔ گناہگاروں کو مٹانے والا (14) جاتا۔ جان لیا۔ پہچانا۔ اکھتے ۔ ایک جگہ ۔ گپت۔ پوشیدہ ۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ بھرم بھؤ۔ بھٹکن اور خوف (15) انتر نام۔ دلمیں یا ذہن میں نام ست ۔ سوئی جن۔ وہی انسان۔ وڈائی۔ عزت۔
ترجمہ:
جو دنیا میں پیدا ہوتا ہے موت بھی اُسکے لئے لازم ہے ۔ دنیاوی محبت میں گرفتار انسان روحانی موت کے پھندے میں گرفتار رہتا ہے۔ سچا مرشد اگر اسکا محافظ ہو جائے تو اس سے بچ جاتا ہے اور الہٰی محبت میں محو وسرشار رہتا ہے (1) خدوند کرم کارساز کرتار خود ی کرکے دیکھتا ہے جس پر اسکی نظر عنات و شفقت ہے وہی پران ہوتا ہے جس نے مرید مرشد ہوکر علم حاصل کر لیا اُسے ساری سمجھ آجاتی ہے بے علم انسان اندھوں کے سے کام کرتا ہے (2) منمکھ مرید من ہر وقت خوف وہراس میں رہتا ہے اور سمجھتا نہیں تناسخ اور پس و پیش میں زندگی ضائع کر دیتا ہے ۔ مرید مرشد الہٰی نام سے سرشار آرام و آسائش اور روحانی سکون پاتے ہیں اور روحانی سکون سے محظوظ رہتے ہیں (3) دنیاوی کاروبار کی دوڑ دہوپ میں انسانی من جلے سٹرے لوہے منور کی مانند ہو جاتا ہے مگر کامل مرشد مل جانے پر سونا ہو جاتا ہے جس پر خدا بخشش کرتا ہے وہ روحانی سکون پاتا ہے اور حمدوثناہ میں محو ومجذوب رہتا ہے (4) بد عقل عورت بری ہے اور برائیوں کا مجسمہ بن جاتی ہے بد اوصاف بد اوصافوں سے بھری رہتی ہے کم عقلی کی وجہ سے زبان سے کڑوی اور تلخ زبانی کرتی ہے بد عقلی کی وجہ سے الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت سے محروم رہتی ہے (5) بداوصاف انسان خداکا محبوب نہیں ہوسکتا ۔ ناپاک من کفر گماتا ہے خاوند خدا کے عادات و لطف کو نہیں سمجھتا ۔ بغیر مرشد سمجھ نہیں آتی (6) بیرونی طور پر اپنے آپ کو سجاتا یا سجاوٹیں کرتا ہے جو خدا کو پسند نہیں ۔ بااوصاف انسان کا ہمیشہ آپسی ملاپ رہتا ہے سچا مرشد اُسکا ملاپ کراتا ہے (7) خودی محبت کی دوڑ دہوپ میں لگاتی ہے ۔ بجہ مرید مرشد حقیقی محبت مسرور رہتا ہے ۔ خدا خود ملاپ کراتا ہے ملاپ کراکے نگران بنتا ہے مگر سچے مرشد کے بغیر اسکی سمجھ نہیں آتی (9) ایک کلام کو سچ سمجھ کر بیدار و ہوشیار ہو جاتے ہیں۔ بجکہ ایک دنیاوی دولت کی محبت میں بد قسمت غفلت کرتے ہیں۔ جو کچھ کرتا ہے خدا کرتا ہے جو کراتا ہے خدا کراتا ہے دوسرے کسی کی کیا مجال جو کرس کے (10) جو انسان کلام مرشد کے تاثرات سے روحانی واخلاقی موت کو ختم کردیتا ہے اور خدا نام ست سچ و حقیقت دلمیں بساتا ہے سچے مرشد کی خدمت سے آرام و آسائش پاتا ہے اور خدا کے نام میں محو ومجذوب رہتاہے (11) جو انسان دنیاوی دولت کے لئے دیوانوں کی مانند دوڑتا پھرتا ہے دنیاوی دولت کی محبت میں عذآب پاتا ہے ۔ خوآہ کوئی کتنے ہی دھارمک یا مذہبی دکھاوے کیوں نہ کرے اور پہراوے کرے سچے آرام و آسائش حاصل نہ ہوگا (12) پکار کس سے کیجائے کس سے عرض گذاریں جب خدا خود کراتا ہے جس راہ پر وہ چلانا چاہتا ہے چلاتا ہے وہ مہربان ہے آرام و آسائش پہنچانے والا ہے جیسے چاہتا ہے چلاتا ہے (13) خود ہی پیدا کرنیوالا ہے خدا اور خود اسے استعمال میں لاتا ہے خود ہی پرہیز گار ہے اور خود ہی سب میں بستا ہے ۔ کود ہی پاک رحمان الرھیم ہے ۔ خود ہی بدکاریوں کو ختم کرنے والا جسکی نا فرمانی نہیں ہو سکتی (14) بند قسمت ہے وہ انسان جس نے واحد خدا کو جان لیا پہچان لیا۔ سارے عالم زندگی اور زندگی بخشنے والا ہر دلمیں ہے بس مرشد کے وسیلے سے وہم و گمان اور خوف مٹ جاتا ہے (15) مرید مرشد خدا کو واحد سمجھتا ہے واحد ہی پہچانتا ہے ۔ اے نانک۔ اے خدا جسے تو دیتا ہے وہی پاتا ہے ۔ اے نانک۔ خدا کےنام ست سچ حق حقیقت (سے ) میں ہی عظمت و حشمت مضمر ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
سچُ سالاہیِ گہِر گنّبھیِرےَ ॥
سبھُ جگُ ہےَ تِس ہیِ کےَ چیِرےَ ॥
سبھِ گھٹ بھوگۄےَ سدا دِنُ راتیِ آپے سوُکھ نِۄاسیِ ہے ॥੧॥
سچا ساہِبُ سچیِ نائیِ ॥
گُر پرسادیِ منّنِ ۄسائیِ ॥
آپے آءِ ۄسِیا گھٹ انّترِ توُٹیِ جم کیِ پھاسیِ ہے ॥੨॥
کِسُ سیۄیِ تےَ کِسُ سالاہیِ ॥
ستِگُرُ سیۄیِ سبدِ سالاہیِ ॥
سچےَ سبدِ سدا متِ اوُتم انّترِ کملُ پ٘رگاسیِ ہے ॥੩॥
دیہیِ کاچیِ کاگد مِکدارا ॥
بوُنّد پۄےَ بِنسےَ ڈھہت ن لاگےَ بارا ॥
کنّچن کائِیا گُرمُکھِ بوُجھےَ جِسُ انّترِ نامُ نِۄاسیِ ہے ॥੪॥
سچا چئُکا سُرتِ کیِ کارا ॥
ہرِ نامُ بھوجنُ سچُ آدھارا ॥
سدا ت٘رِپتِ پۄِت٘رُ ہےَ پاۄنُ جِتُ گھٹِ ہرِ نامُ نِۄاسیِ ہے ॥੫॥
ہءُ تِنُ بلِہاریِ جو ساچےَ لاگے ॥
ہرِ گُنھ گاۄہِ اندِنُ جاگے ॥
ساچا سوُکھُ سدا تِن انّترِ رسنا ہرِ رسِ راسیِ ہے ॥੬॥
ہرِ نامُ چیتا اۄرُ ن پوُجا ॥
ایکو سیۄیِ اۄرُ ن دوُجا ॥
پوُرےَ گُرِ سبھُ سچُ دِکھائِیا سچےَ نامِ نِۄاسیِ ہے ॥੭॥
بھ٘رمِ بھ٘رمِ جونیِ پھِرِ پھِرِ آئِیا ॥
آپِ بھوُلا جا کھسمِ بھُلائِیا ॥
ہرِ جیِءُ مِلےَ تا گُرمُکھِ بوُجھےَ چیِنےَ سبدُ ابِناسیِ ہے ॥੮॥
کامِ ک٘رودھِ بھرے ہم اپرادھیِ ॥
کِیا مُہُ لےَ بولہ نا ہم گُنھ ن سیۄا سادھیِ ॥
ڈُبدے پاتھر میلِ لیَہُ تُم آپے ساچُ نامُ ابِناسیِ ہے ॥੯॥
نا کوئیِ کرے ن کرنھےَ جوگا ॥
آپے کرہِ کراۄہِ سُ ہوئِگا ॥
آپے بکھسِ لیَہِ سُکھُ پاۓ سد ہیِ نامِ نِۄاسیِ ہے ॥੧੦॥
اِہُ تنُ دھرتیِ سبدُ بیِجِ اپارا ॥
ہرِ ساچے سیتیِ ۄنھجُ ۄاپارا ॥
سچُ دھنُ جنّمِیا توٹِ ن آۄے انّترِ نامُ نِۄاسیِ ہے ॥੧੧॥
ہرِ جیِءُ اۄگنھِیارے نو گُنھُ کیِجےَ ॥
آپے بکھسِ لیَہِ نامُ دیِجےَ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سو پتِ پاۓ اِکتُ نامِ نِۄاسیِ ہے ॥੧੨॥
انّترِ ہرِ دھنُ سمجھ ن ہوئیِ ॥
گُر پرسادیِ بوُجھےَ کوئیِ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سو دھنُ پاۓ سد ہیِ نامِ نِۄاسیِ ہے ॥੧੩॥
انل ۄاءُ بھرمِ بھُلائیِ ॥
مائِیا موہِ سُدھِ ن کائیِ ॥
منمُکھ انّدھے کِچھوُ ن سوُجھےَ گُرمتِ نامُ پ٘رگاسیِ ہے ॥੧੪॥
منمُکھ ہئُمےَ مائِیا سوُتے ॥
اپنھا گھرُ ن سمالہِ انّتِ ۄِگوُتے ॥
پر نِنّدا کرہِ بہُ چِنّتا جالےَ دُکھے دُکھِ نِۄاسیِ ہے ॥੧੫॥
آپے کرتےَ کار کرائیِ ॥
آپے گُرمُکھِ دےءِ بُجھائیِ ॥
نانک نامِ رتے منُ نِرملُ نامے نامِ نِۄاسیِ ہے ॥੧੬॥੫॥
لفظی معنی:
سچ۔ صدیوی و سچے پاک ۔ گہر ۔ گنبھیرے ۔ نہایت ۔ سنجیدہ ۔ چیرے ۔ دامن۔ گھٹ بھوگوے ۔ دل میں بستا ہے ۔ سکوھ ۔ آرام و آسائش (1) سچے سبد۔ سچے کلام ۔ سچا صاحب ۔ صدیوی سچا ملاک۔ سچی نائی۔ (سچے نام ) سچی نائی۔ سچے نام کی وجہ سے ۔ گر پرسادی۔ مرشد کی رحمت سے ۔ توٹی جم کی پھاسی ہے ۔ موت کا پھندہ ٹوٹ گیا (2) مت اُتم۔ اونچی سمجھ ۔ انترکمل۔ ذہن۔ پر گاسی ۔ روشن (3) دیہی کاچی جم خام۔ختم ہو جانے والا۔ کاغذ مکدارا۔ کاغذ کی مانند۔ بارا دیر نہیں لگتی۔ کنچن۔کائیا۔ سونے کیا مانند جسم۔ جسانر نام نواسی ہے ۔ جسکے اندر (ست) صدیوی سچ ۔ سچ حق و حقیقت بستی ہے (4) سچا چؤکا۔ پاک باورچی خانہ ۔ سرت کی کار ۔ ہوش و سمجھ کی اسکے لکریں۔ ہر نام بھوجن۔ خدا کا نام ست سچ حق وحقیقت کھانا۔ مراد دلمیں اور زہن میں بسانا (5) سچ۔ خڈا۔ آدھارا۔ آسرا۔ ترپت۔ تسلی۔ پوتر۔ پاک ۔ پاون۔ ناہیت پاک ۔ جت گھٹ ۔ جسکے دلمیں (5) بلہاری ۔ قربان۔ صدقے ۔ ساجے ۔ کدا سے ۔ جاگے ۔ بیدار و ہوشیار۔ رسنا۔ زبان ۔ ہر رس راسی ۔ الہٰی لطف سے لطف اندوز ہے (6) چیتا ۔ دلمیں۔ پوجا۔ پرستش۔ سچ۔ حقیقت ۔ اصلیت (7) بھرم بھرم۔ بھٹک بھٹک کر۔ پھر پھر ۔ بار بار ۔ بھولا۔ گمراہ ۔ بھلائیا۔ گمراہ کیا۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ چینے سبد۔ سبد کے پیمانے سے اسکی اسلیت اور قدروقیمت کی سمجھ۔ انباسی۔ لافناہ (8) کام کرودھ ۔ شہوت اور غصہ ۔ اپرادھی ۔ گناہگار۔ بولیہہ۔ کہنے سے قاصر۔ گن ۔ وصف۔ سیوا۔ خدمت ۔ سادھی۔ کی ۔ ساچ نام۔ سچا نام۔ ست۔ انباسی۔ لافناہ (9) جوگا۔ توفیق رکھنے والا۔ لائق۔ سو ۔ وہی (10) تن ۔ جسم۔ دھرتی ۔ زمین۔ سبد بیج اپار۔ا کلام کا وسیع بیج یا تخم بوؤ۔ سیتی ونج سے سسوداگری۔ سچ دھن جمیا۔ جب سچی حقیقی دولت پیدا ہو جائے ۔ توٹ نہ آوے ۔ کمی واقع نہیں ہوتی۔ انتر نام نواسی ہے ۔ تو دل و دماغ میں۔ سچ حق و حقیقت بس جاتی ہے (11) اوگنیارے ۔ بلاوصف۔ بداوصاف ۔ گن ۔ وصف۔ اچھائی۔ پت۔ عزت۔ اکت نام۔صرف واحد نام (12) انتر۔ دلمیں۔ گرپرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ دھن۔ سرمایہ (13) انل داؤ۔ خوآہشات کی آگ کی ہوائیں۔ بھرم بھلائی۔ وہم وگمان و شک و شہبات میں گمراہ کرتی ہیں۔ سدھ۔ ہوش۔ عقل گرمت۔ سبق مرشد۔ نام پرگاسی ہے ۔ سچ و حقیقت۔ ست کو روشن کرتا ہے (14) سوتے ۔ غافل۔ لاپرواہ ۔ وگوتے ۔ ذلیل و خوآر۔ بہوچنتا جاے ۔ فکر و تشویش میں جلتا ہے (15) کرتے ۔ کرتار۔ خدا۔ گورمکھ۔ مرشد کے زریعے ۔ دیہہ بجھائی ۔ سمجھاتا ہے ۔ نرمل۔ پاک و پائش ۔ نامے نام نام نواسی ہے ۔ نام مراد ست و حقیقت کی برکت و قوت سے سچے صدیوی نام سچ و حق ق حقیقت بس جاتی ہے دل قلب و ذہن میں۔

ماروُ مہلا ੩॥
ایکو سیۄیِ سدا تھِرُ ساچا ॥
دوُجےَ لاگا سبھُ جگُ کاچا ॥
گُرمتیِ سدا سچُ سالاہیِ ساچے ہیِ ساچِ پتیِجےَ ہے ॥੧॥
تیرے گُنھ بہُتے مےَ ایکُ ن جاتا ॥
آپے لاءِ لۓ جگجیِۄنُ داتا ॥
آپے بکھسے دے ۄڈِیائیِ گُرمتِ اِہُ منُ بھیِجےَ ہے ॥੨॥
مائِیا لہرِ سبدِ نِۄاریِ ॥
اِہُ منُ نِرملُ ہئُمےَ ماریِ ॥
سہجے گُنھ گاۄےَ رنّگِ راتا رسنا رامُ رۄیِجےَ ہے ॥੩॥
میریِ میریِ کرت ۄِہانھیِ ॥
منمُکھِ ن بوُجھےَ پھِرےَ اِیانھیِ ॥
جمکالُ گھڑیِ مُہتُ نِہالے اندِنُ آرجا چھیِجےَ ہے ॥੪॥
انّترِ لوبھُ کرےَ نہیِ بوُجھےَ ॥
سِر اوُپرِ جمکالُ ن سوُجھےَ ॥
ایَتھےَ کمانھا سُ اگےَ آئِیا انّتکالِ کِیا کیِجےَ ہے ॥੫॥
جو سچِ لاگے تِن ساچیِ سوءِ ॥
دوُجےَ لاگے منمُکھِ روءِ ॥
دُہا سِرِیا کا کھسمُ ہےَ آپے آپے گُنھ مہِ بھیِجےَ ہے ॥੬॥
گُر کےَ سبدِ سدا جنُ سوہےَ ॥
نام رسائِنھِ اِہُ منُ موہےَ ॥
مائِیا موہ میَلُ پتنّگُ ن لاگےَ گُرمتیِ ہرِ نامِ بھیِجےَ ہے ॥੭॥
سبھنا ۄِچِ ۄرتےَ اِکُ سوئیِ ॥
گُر پرسادیِ پرگٹُ ہوئیِ ॥
ہئُمےَ مارِ سدا سُکھُ پائِیا ناءِ ساچےَ انّم٘رِتُ پیِجےَ ہے ॥੮॥
کِلبِکھ دوُکھ نِۄارنھہارا ॥
گُرمُکھِ سیۄِیا سبدِ ۄیِچارا ॥
سبھُ کِچھُ آپے آپِ ۄرتےَ گُرمُکھِ تنُ منُ بھیِجےَ ہے ॥੯॥
مائِیا اگنِ جلےَ سنّسارے ॥
گُرمُکھِ نِۄارےَ سبدِ ۄیِچارے ॥
انّترِ ساںتِ سدا سُکھُ پائِیا گُرمتیِ نامُ لیِجےَ ہے ॥੧੦॥
اِنّد٘ر اِنّد٘راسنھِ بیَٹھے جم کا بھءُ پاۄہِ ॥
جمُ ن چھوڈےَ بہُ کرم کماۄہِ ॥
ستِگُرُ بھیٹےَ تا مُکتِ پائیِئےَ ہرِ ہرِ رسنا پیِجےَ ہے ॥੧੧॥
منمُکھِ انّترِ بھگتِ ن ہوئیِ ॥
گُرمُکھِ بھگتِ ساںتِ سُکھُ ہوئیِ ॥
پۄِت٘ر پاۄن سدا ہےَ بانھیِ گُرمتِ انّترُ بھیِجےَ ہے ॥੧੨॥
ب٘رہما بِسنُ مہیسُ ۄیِچاریِ ॥
ت٘رےَ گُنھ بدھک مُکتِ نِراریِ ॥
گُرمُکھِ گِیانُ ایکو ہےَ جاتا اندِنُ نامُ رۄیِجےَ ہے ॥੧੩॥
بید پڑہِ ہرِ نامُ ن بوُجھہِ ॥
مائِیا کارنھِ پڑِ پڑِ لوُجھہِ ॥
انّترِ میَلُ اگِیانیِ انّدھا کِءُ کرِ دُترُ تریِجےَ ہے ॥੧੪॥
بید باد سبھِ آکھِ ۄکھانھہِ ॥
ن انّترُ بھیِجےَ ن سبدُ پچھانھہِ ॥
پُنّنُ پاپُ سبھُ بیدِ د٘رِڑائِیا گُرمُکھِ انّم٘رِتُ پیِجےَ ہے ॥੧੫॥
آپے ساچا ایکو سوئیِ ॥
تِسُ بِنُ دوُجا اۄرُ ن کوئیِ ॥
نانک نامِ رتے منُ ساچا سچو سچُ رۄیِجےَ ہے ॥੧੬॥੬॥
لفظی معنی:
ایکو سیوی ۔ خدمتگار واحد ۔ سدا تھر ۔ ساچا۔ ہمیشہ صدیوی سچا ہے ۔ دوجے لاگے ۔ خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت ۔ کاچا کم اہمیت والا۔ سچ ۔ مستقل خدا۔ ساچے ہی ساچ ۔ نتیجے ۔ حقیقت اور سچ سے سچے خدا میں یقین و ایمان بنتا ہے ۔ جاتا ۔ جانیا۔ سمجھیا۔ جگجیون داتا۔ علام کو زندگی بخشنے والا۔ گرمت۔ سبق مرشد سے ۔ بھیجے ۔ متاثر ہوتا ہے (2) نواری ۔مٹائی۔ نرمل ہونمے ماری۔ خودی مٹانے سے پاک ہوجاتا ہے ۔ سہجے ۔ روحانی سکون میں۔ رنگ راتا۔ روھانی پریم پیار میں۔ رسنا رام رویجے ہے ۔ زبان خدا میں محو ہے (3) وہانی۔ گذاری ۔ ایانی۔ انجان ۔ بے سمجھ ۔ جمکال۔ روحانی موت۔ نہاے ۔ نگاہ رکھتی ہے ۔ گھڑی مہت ۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد۔ عارجا ۔ عمر۔ چھیجے ۔ گھٹتی ہے (4) لوبھ۔ لالچ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ جمکال۔ روحانی موت۔ سوجھے ۔ سمجھتا ۔ اشکال ۔ بوقت آخرت بوقت موت (5) ساچی سوئے ۔ سچی شہرت ۔ خصم۔ مالک۔ گن میہہ۔ اوصاف میں۔ بھیجے ہے ۔ متاثر ہوتا ہے ۔ (6) گر کے سبد ۔ مرشد کے سبد کے ذریعے ۔ سوہے ۔ شہرت پاتا ہے ۔ نام رسائن ۔ الہٰی نام سچ حق وحقیقت جو سچ ہے صدیوی ہے ۔ لطف کا سرچشمہ سے ۔ موہے ۔ محبت میں آجاتا ہے ۔ مائیا موہ میل پتنگ ۔ دنیاوی دولت کی ناپاکیزگی تھوڑی سی بھی نہیں لگتی (7) سوئی۔ وہی ۔ پرگٹ طاہر۔ نائے ساچے ۔ سچے نام۔ انمرت۔ آبحیات (8) کل وکھ ۔ گناہ ۔ نوار نہارا۔ دور کرنے کی توفیق رکھنے والا۔ گورمکھ تن من بھیجے ہے ۔ دل و جان متاثر ہوتی ہے (9) مائیا اگن ۔ دنیاوی دولت کی آگ ۔ جلے سنسارے ۔ دنیا میں جلتی ہے ۔ سبدوچارے ۔کلام کو سمجھ کر۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے (10) جم کا بھؤ پاوے ۔ اخلاقی موت سے ڈرتے ہیں۔ ہر ہر رسنا ۔ زبان سے خدا خدا کا نام لینے سے (11) بھگت ۔ الہٰی عشق ۔ سانت ۔ سکون۔ پوترپاؤن۔ پاک بنانے والی ۔ بھیجے ۔ متاثر (12) بیچاری ۔ سوچ سمجھکر۔ تریگن بدھک ۔ تینوں اوصافوں حکومتی ۔ لالچی طاقتی کے غلام۔ مگت نجات۔ آزادی۔ نراری نرالی ۔ انوکھی ۔ گورمکھ ۔ میر مرشد۔ گیان ۔ علم ۔ تعلیم ۔ رویجے ۔ مصروف (13) بوجھیہہ ۔ سمجھے ۔ ہر نام۔ خدا کی حیققت ۔ لوجھیہہ ۔ نا خوشی کا اظہار۔ انتر میل۔ دل ناپاک۔ اگیانی اندھا ۔ بے علم آنکھوں سے حقیقت کو نہ دیکھنے والا۔ دتر۔ دشوار گذار ۔ تریجے ۔ پار ہوگا (14) آکھ دکھانیہہ ۔ کہتا ہے اور اسکی تشریح مراد کھول کر بیان کرتا ہے ۔ انتر ۔ ذہن ۔ بھیجے۔متاچر ہوتا ہے ۔ پچھانیہہ۔ قدروقیمت سمجھتا ہے ۔ پن ۔ ثواب۔ پاپ۔ گناہ۔ مراد نیک و بد ۔ درڑائیا۔ دلمیں مکمل طور پر بسائیا پختہ طور پر۔ انمرت ٓپیجے مے ۔ وہ پانی جس کے پینے سے ہمیشہ کے لئے زندگی روحانی واخلاقی طور پر پاک ہو جاتی ہے (!5) ساچا۔ صدیوی سچا پاک اور دیگر دوسرا ۔ نام رتے ۔ نام میں محو و متاثر ۔ سچ مکمل طور پاک۔ من ساچا۔ پاک من۔ رویجے ۔ متاثر ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
واحد خدا جو صدیوی سچا اور پاک ہے کی خدمت کرؤ جو دنیاوی دولت کی محبت میں مصروف رہتا ہے اسکی زندگی روحانی اور اخلاقی طور پر کمزور ہو جاتی ہے ۔ سبق مرشد سے اسکی حمدوثناہ کرنے سے صدیوی سچے پاک خدا میں یقین و ایمان پیدا ہوتا ہے (1) اے خدا تو بیشمار اوصافوں کا مالک ہے مگر مجھے تو ایک بھی سمجھ نہیں۔ جب عالم کو زندگی بخشنے والا خدا خود ساتھ ملاتا ہے ۔ خود ہی اپنی عنایت و بخشش سے اُسے عظمت و شہرت عنایت کرتا ہے ۔ سبق مرشد سے یہ دل متاثر ہوتا ہے (2) دنیاوی دؤلت کا جوش و خروش کلام سے مٹتا ہے دور ہوتا ہے ۔ اور خؤدی مٹآ کر انسان کا ذہن پاک ہو جاتا ہے ۔ اس سے انسان پر سکون ہوکر مستقل مزاجی سے حمدوثناہ کرتا ہے اور زبان پر خدا کا نام رہتا ہے (3) مریی دولت میری زمین میرے محلات کوٹھی ومکان کے ذکر و اذکار میں گذری ۔ مرید من نے نہیں سمجھانا اہلی میں بھٹکتا رہا۔ یہ نہ سمجھا کر روحانی واخلاقی موت ہر پل ہر گھڑی تجھ پر نظر رکھ رہی ہے اور ہر روز عمر گھٹتی جار ہی ہے (4) دلمیں لالچ نے گھر بنالیا سر پر روحانی واخلاقی موت گھڑی ہے سمجھ نہیں آرہی ۔ جو اعمال انسان کرتا ہے اُسکا اعمال کے مطابق انجام ہوگا تب بوقت اخرت کیا کرؤ گے کچھ نہ کر سکو گے (5) جو سچ و حقیقت اپناتا ہے اسے سچی شہرت حاصل ہوتی ہے ۔ مرید من دنیاوی محبت میں روتا ہے ہر دو طرز زندگی کا مالک ہے خود خدا وہ خود ہی اپنے اوصاف سے متاثر ہوتا ہے (6) کلام مرشد سے انسان شہرت پاتا ہے زندگی اچھی بن جاتی ہے ۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت سے جو یاک میا ہے کی محبت میں اس دل کو محبت ہو جاتی ہے دنیاوی دولت کی تھوڑی سی رتی پر ناپاکیزگی بھی نہیں لگتی اور سبق مرشد سے الہٰی نام میں مسرور و متاثر رہتا ہے (7) سب کے دلمیں خڈا بستا ہے اوررحمت مرشد سے ظہور پذیر ہو جاتا ہے ۔ خودی مٹآنے سے ہمیشہ سکھ ملتا ہے اور سچے نام خدا سے سچ حق وحقیقت اپنانے سے جو آب حیات جو روحانی واخلاقی زندگی بناتا ہے ۔ پیا جاسکتا ہے (8) ایسا خدا جو تمام برائیوں گناہوں عذابوں کو مٹانے کی توفیق رکھتا ہے مرید مرشد کے وسیلے سے اسکی کدمت اور کلام کو سچ سمجھ کر مرید مرشد کا دل و جان متاچر ہو جاتا ہے اور یہ سارا خدا خود انجام دیتا ہے (9) سارا علام دنیاوی دولت کی خواہشات اور حصول کے لئے جل رہا ہے ۔ بھٹکن رہا ہے ۔ مرید مرشد کلام کی سوچ و سمجھ سے اسے دور کرتا ہے ۔ اس سے ذہنی سکون وراحت ملتی ہے ہمیشہ آرام و آسائش پاتا ہے سبق مرشد سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں دھیان رہتا ہے (10) فرشتوںکے بادشا ہ بادشاہی تخت پر بیٹھے ہوئے بھی روحانیموت سے ڈرتے تھے ۔ خوآہ کتنے مذہبی اعمال کیوں نہ کئے جائیں ۔ روحای واخلاقی موت سے نجات حآصل نہیں ہوتی ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے نجات حاصل ہوتی ہے جب خدا کی محبت کا لطف زبان سے پیتے ہیں (11) مرید من کے دلمیں خدا کا پیار نہیں ہوتا مرید مرشد کے دلمیں سکون تسکین اور الہٰی محبت ہوتی ہے ۔ کلام رمشد ہمیشہ انسانی قلب وذہن کو پاک بناتا ہے اور پاک بنانے کی توفیق رکھتا ہے اور سبق مرشد پر عمل کرنے سے دل متاچر ہوتا ہے (12) سوچ سمجھاور خیال دوڑ اکر دیکھو برہما وشنو اور مہیش تنوں اوصافؤں ترقی یا حکمرانی لالچ میں ملوث اور طاقت و قوت کی دستیابی کے غلام تھے اور پابند تھے ۔ جبکہ نجات اور آزادی ایک اس سے علیحدہ ہے ۔ مرید مرشد صرف ایک ہی علم روحانی حاصل کرتا ہے کہ ہر وقت الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں دھیان لگاتا اور رکھتا ہے (13) انسان وید تو پڑھتا ہے مگر الہٰی نام کو نہیں سمجھتا۔ دنیاوی دؤلت کی جوہ سے پڑھ پڑھ کر پریشان ہوتے ہیں۔ جسکا دل ناپاک ہے تو بے علم عقل کا اندھا اس زندگی کی دشواریوں کو کسے عبور کریگا (14) ویدون کی بحث ساری بیان کرتے اور تشریح کرتے ہیں مگر نہ ذہنی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں نہ کلما کی قدروقیمت سمجھتے ہیں۔ ویدوں نے بار بار اعمال ثواب و گناہ کی طرف توجو دلائی ہے کہ کونسا اعمال کار ثواب ہے اور کونسا گناہ ہے اور اسکا پابند رہنے کی تلقین کی ہے ۔ جبکہ مرید ان مرشد آب حیات ایک ایس پانی ہے جو انسانی زندگی روحانی واخلاقی طور پر پاک بناتا کو پیتے ہیں (15) واحد خدا ہی ایک ایسی ہستی ہے جو پاک بھی ہے اور صدیوی بھی ہے ۔ اُسکے دوسرا کوئی اُسکا ثانی اور برابر نہیں ۔ اے نانک۔ جو انسان الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں محو ومحظوظ ہو جاتے ہیں وہ مستقل مزاجی ہوجاتے ہیں۔ اُنکے دلمیں صدیوی سچ اور سچا خدا بس جاتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
سچےَ سچا تکھتُ رچائِیا ॥
نِج گھرِ ۄسِیا تِتھےَ موہُ ن مائِیا ॥
سد ہیِ ساچُ ۄسِیا گھٹ انّترِ گُرمُکھِ کرنھیِ ساریِ ہے ॥੧॥
سچا سئُدا سچُ ۄاپارا ॥
ن تِتھےَ بھرمُ ن دوُجا پسارا ॥
سچا دھنُ کھٹِیا کدے توٹِ ن آۄےَ بوُجھےَ کو ۄیِچاریِ ہے ॥੨॥
سچےَ لاۓ سے جن لاگے ॥
انّترِ سبدُ مستکِ ۄڈبھاگے ॥
سچےَ سبدِ سدا گُنھ گاۄہِ سبدِ رتے ۄیِچاریِ ہے ॥੩॥
سچو سچا سچُ سالاہیِ ॥
ایکو ۄیکھا دوُجا ناہیِ ॥
گُرمتِ اوُچو اوُچیِ پئُڑیِ گِیانِ رتنِ ہئُمےَ ماریِ ہے ॥੪॥
مائِیا موہِ سبدِ جلائِیا ॥
سچُ منِ ۄسِیا جا تُدھُ بھائِیا ॥
سچے کیِ سبھ سچیِ کرنھیِ ہئُمےَ تِکھا نِۄاریِ ہے ॥੫॥
مائِیا موہُ سبھُ آپے کیِنا ॥
گُرمُکھِ ۄِرلےَ کِن ہیِ چیِنا ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ سچُ کماۄےَ ساچیِ کرنھیِ ساریِ ہے ॥੬॥
کار کمائیِ جو میرے پ٘ربھ بھائیِ ॥
ہئُمےَ ت٘رِسنا سبدِ بُجھائیِ ॥
گُرمتِ سد ہیِ انّترُ سیِتلُ ہئُمےَ مارِ نِۄاریِ ہے ॥੭॥
سچِ لگے تِن سبھُ کِچھُ بھاۄےَ ॥
سچےَ سبدے سچِ سُہاۄےَ ॥
ایَتھےَ ساچے سے درِ ساچے ندریِ ندرِ سۄاریِ ہے ॥੮॥
بِنُ ساچے جو دوُجےَ لائِیا ॥
مائِیا موہُ دُکھ سبائِیا ॥
بِنُ گُر دُکھُ سُکھُ جاپےَ ناہیِ مائِیا موہ دُکھُ بھاریِ ہے ॥੯॥
ساچا سبدُ جِنا منِ بھائِیا ॥
پوُربِ لِکھِیا تِنیِ کمائِیا ॥
سچو سیۄہِ سچُ دھِیاۄہِ سچِ رتے ۄیِچاریِ ہے ॥੧੦॥
گُر کیِ سیۄا میِٹھیِ لاگیِ ॥
اندِنُ سوُکھ سہج سمادھیِ ॥
ہرِ ہرِ کرتِیا منُ نِرملُ ہویا گُر کیِ سیۄ پِیاریِ ہے ॥੧੧॥
سے جن سُکھیِۓ ستِگُرِ سچے لاۓ ॥
آپے بھانھے آپِ مِلاۓ ॥
ستِگُرِ راکھے سے جن اُبرے ہور مائِیا موہ کھُیاریِ ہے ॥੧੨॥
گُرمُکھِ ساچا سبدِ پچھاتا ॥
نا تِسُ کُٹنّبُ نا تِسُ ماتا ॥
ایکو ایکُ رۄِیا سبھ انّترِ سبھنا جیِیا کا آدھاریِ ہے ॥੧੩॥
ہئُمےَ میرا دوُجا بھائِیا ॥
کِچھُ ن چلےَ دھُرِ کھسمِ لِکھِ پائِیا ॥
گُر ساچے تے ساچُ کماۄہِ ساچےَ دوُکھ نِۄاریِ ہے ॥੧੪॥
جا توُ دیہِ سدا سُکھُ پاۓ ॥
ساچےَ سبدے ساچُ کماۓ ॥
انّدرُ ساچا منُ تنُ ساچا بھگتِ بھرے بھنّڈاریِ ہے ॥੧੫॥
آپے ۄیکھےَ ہُکمِ چلاۓ ॥
اپنھا بھانھا آپِ کراۓ ॥
نانک نامِ رتے بیَراگیِ منُ تنُ رسنا نامِ سۄاریِ ہے ॥੧੬॥੭॥
لفظی معنی:
سچے ۔ صدیوی سچے نے سچا تخت۔ صدیوی سچا مقام حکمرانی ۔ رچائیا۔ بنائیا۔ تج گھر۔ ذاتی گھر۔ وسیا۔ رہائش اختیار کی ۔ تتھے موہ نہ مائیا۔ وہاں نہ عشق و محبت نہ دنیاوی دولت ۔ سدہی ۔ ہمیشہ ۔ ساچ۔ صدیوی سچا خدا۔ گھٹ ۔ دل ۔ ذہن ۔ کرنی ساری۔ نیک اچھے اعمال (1) سچا سودا۔ سچی خرید ۔ سچ ۔ واپار۔ سچی سوداگری ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ دوڑ دہوپ ۔ تتھے ۔ وہاں ۔ ڈرجا پاسارا۔ دنیاوی پھیلاؤ۔ کھٹیا ۔ کمائیا ہوا۔ ۔ توٹ نہ آوے ۔ کمی واقع نہیں ہوتی۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ کوویچاری ۔ کوئی سمجھدار۔ خیال آرا (2) انتر سبد۔ دلمیں حمدوثناہ ۔ وڈبھاگے ۔ بلند قسمت۔ سچے سبد۔ سچے کلام سے ۔ سبد رتے ۔ کلام سے متاثر ہوکر ویچاری۔ وچار کرنے والے (3) سچو سچا۔ پاک خدا جو صدیوی ہے ۔ گرمت۔ سمجھ مرشد ۔ اوچو اوچی پوڑی ۔ نہایت بلند سیڑھی ۔۔ منزل کے حصول کے لئے راستہ۔ گیان رتن۔ قیمتی علم۔ ہونمے ۔ خودی (4) جاتدھ بھائیا ۔ جبت (تدھے( چینا۔ پہچان کی۔ کینا۔ کیا۔ سو سچ کماوے ۔ وہ سچا کام کرتا ہے ۔ ساچی کری۔ ساچے اعمال۔ ساری۔ تیک ۔ اچھی (6) کارکمائی ۔ اعمال ۔ ہونمے ترشنا۔ خودی و خوآہشات کی بھوک ۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ انتر سیل۔ ذہن ٹھنڈا پر سکون (7) ساچ لگے ۔ جنہوں نے ۔ حیقت مراد خدا اپنائیا سچے سبد۔ پاک کلام سے ۔ ساچ سہاوے ۔ پاک اور پاکیزگی اچھی ہو جاتی ہے ۔ ایتھے ۔ اس عالم میں۔ ود رساچے ۔ وہ الہٰی حَضُوری یا بارگاہ الہٰی میں پاکباز۔ یا سرخرو (8) دوجے ۔ دنیاوی دؤلت میں۔ سبائیا ۔ نہایت زیادہ ۔ جاپے ۔سمجھ نہیں آتی (9) ساچ سبد۔ پاک کلام۔ بھائیا۔ اچھا یا پیارا ۔ پورب لکھیا۔ پہلے سے تحریر۔ تنی ۔ انہوں نے ۔ سچو سیویہہ۔ خدمت خدا۔ دھیاویہہ ۔ دھیان لگائے ۔ سچ رتے ۔ حقیقت میں محو ومجذوب ۔ ویچاری ۔ بلند عقل و ہوشو ۔ دانا (10) سوکھ سہج سمادھی ۔ آرام و آسائش اور ذہنی سکون ۔ نرمل۔ پاک۔ گرکی سیو۔ خدمت مرشد (11) سچے لائے ۔ خدا سے ملائے ۔ بھانے ۔ چاہے ۔ اُبھرے ۔ بچے ۔ خوآری ۔ ذلیل (12) ساچا سبد۔ پاک کلام۔ پچھاتا۔ پہچان کی ۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔ پریوار۔ سبھ انتر ۔ سبھ کے دلمیں۔ آدھاری ۔ آسرا دینے والا (13) بھائیا ۔ پسند آئیا۔ پیارا ہوا۔ دھر خصم۔ بارگاہ الہٰی سے مالک نے ۔ ساچ کماویہہ۔ پاک اعمال۔ دکھ نواری۔ عذآب دور ہوتا ہے (!4) ساچے سبدے ۔ ساچے پاک اعمال۔ اندر ساچا۔ دلمیں ہو یاد خدا۔ تن من ساچا۔ تو دل و جان پاک ۔ بھنڈاری خزانے (15) ویکھے ۔ نگرانی کرتا ہے ۔ بھانا۔ رضا۔ بیراگی ۔ طارق۔ من تن۔ رسنا۔ دل و جان و زبان۔ نام سواری ہے ۔ سچ حق وحقیقت سے درست اور پاک ہوجاتی ہے ۔
ترجمہ:
سچے پاک خدا نے جو صدیوی ہے ایک تخت بنائیا ہے اسکا ذاتی گھر ہے جاہاں دنیاوی دؤلت اثر ہیں کر سکتی اپنی محبت کا خدا ہمیشہ اُسکے دلمیں بسا رہتا ہے جو مرید مرشد ہوکر اپنے اعمال نیک اور پاک اعلے بلند ترین بنا لیتا ہے (1) سچی پاک خریداری سچا پاک سودا اور سوداگری ہے وہاں نہ ہے وہم وگمان نہ شک کی گنجائش نہ دنیاوی پھیلاؤ ۔ سچی پاک دؤلت کمانے پر کبھیکمی واقع نہیں ہوتی مگر اسے کوئی دانا سمجھدار انسان ہی سمجھتا ہے (2) اس حقیقت میں وہی لگتا ہے جیسے خدا خود لگاتا ہے جنکے دلمیں ذہن میں کلام بس جاتا ہے بلند قسمت ہیں وہ اُنکی پیشانی پر اُنکی تقدیر اور مقدر بیدار رہتا ہے ۔ پاک کلام سے ہمیشہ حمدوپناہ کرنے سے کلام میں محو ومجذوب ہونے سے انسان بلند خیالات کا مالک ہو جاتا ہے (3) نہایت پاک انسان ہی پاک خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ میری نظر واحد خدا پر ہے کسی دوسرے سے واسطہ نہیں۔ سبق مرشد الہٰی منزل تک پہنچنے کے لئے اعلے سیڑھی ہے اس بلند علم سے جو نہایت قدروقیمت والا ہے اس سے خودی مٹ جاتی ہے (4) دنیاوی دؤلت کی محبت کلام سے جل جاتی ہے جب دلمیں سچ حقیقت اور خدا تب بستا ہے جب انسان خدا کا محبوب ہو جاتا ہے سچے پاک انسان کے اعمال بھی پاک سچے اور نیک ہوتے ہیں۔ جس سے خودی اور خواہشات کی پیاس دور ہو جاتی ہے (5) دنیاوی دؤلت کی محبت خدا کی خود پیدا کی ہوئی ہے ۔ اعمال نیک ہوجاتے ہیں اور نیک اعمال ہی زندگی کا اصل مدعا و مقصد ہے (6) جس نے خدا کی رضا و فرمان اور جو اسے پسند کے مطابق کام کیا خودی اور خوآہشات کو کلام کی مطابق ختم کیا سبق مرشد سسے دل میں ہمیشہ ٹھنڈک محسوس کی اور خؤدی مٹآئی (7) بغیر سچے پاک خدا کے دوسرے دنیاوی دؤلت کی محبت میں بھاری عذاب ہیں دنیاوی دؤلت کی محبت میں بھاری عذاب ہے (9) سچا پاک کلام جن کے دل کو پسند آئیا پیارا محسوس ہوا پہلے سے اعمالنامے میں تحریر کی مطابق اُس پر عمل کیا وہ خدا کی خدمت مراد عبادت بندگی و ریاضت کرتے ہیں اور خدا میں دھیان لگاتےہیں اور سچے سچ میں محو ہوکر بلند خیال ہو جاتے ہیں (10) خدمت مرشد جسکو پیاری ہو جاتی ہے وہ آرام محسوس کرتا ہے اور ذہنی و روحانی سکون پاتا ہے خدا کی یادوریاض سے قلب ذہن اور دل پاک ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے خدمت مرشد اُسے پیاری لگتی ہے (11) جنہیں سچے مرشد نے خدا سے ملاپ کرائیا ناطہ و رشتہ بنادیا انہوں نے آرام دیہہ زندگی گذاری ۔ اپنی رضا سے انہیں اپنا محبوب بنائیا۔ جنکا محافظ سچا مرشد ہوا وہی بچے باقی دنیاوی دولت کی محبت میں زلیل و خوآر ہوئے (12) جس نے مرید مرشد ہوکر پاک کلام کو سمجھا۔ نہ اُسکا کوئی کنبہ رہا نہ ماتا رہی ہے اُص پاک خدا کی ۔ سب کے دلمیں واحد بس رہا ہے اور سبھ کو ہے آسرا و سہارا (13) جنہین خودی سے پیار ہے جہیں اپنا پن پسند ہے دنیاوی دولت پیاری ہے یہ کسی کے اختیار کی بات نہیں خدا کی طرف سے ایسا فرمان ہے اور تحریر ہے جو انسان سچے مرشد کے سبق پر عمل پیرا ہوکر سچ حق و حقیقت کی کمائی کرتے ہیں خدا ان کا دکھ درد مٹاتا ہے (15) اے خدا جب تو دیتا ہے تب ہی آرام و آسائش ملتی ہے سچے پاک کلام کی برکت سے سچے اعمال عمل میںآتے ہیں جب ہو پاک ذہن تو دل و جان پاک ہو جاتے ہیں اُسکے عشق الہٰی کے خزانے بھر جاتے ہیں (15) خود کرتا ہے فرمان خدا اورخود نگرانی کرتا ہے اوراپنی رضا وہ آپ کرتا ہے ۔ اے نانک۔ جو انان الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت اپناتے ہیں وہ طارق الدنیا ہو جاتے ہیں ان کا دل و جان اور زبان نام اپنانے سے سنور جاتای ہے۔

ماروُ مہلا ੩॥
آپے آپُ اُپاءِ اُپنّنا ॥
سبھ مہِ ۄرتےَ ایکُ پرچھنّنا ॥
سبھنا سار کرے جگجیِۄنُ جِنِ اپنھا آپُ پچھاتا ہے ॥੧॥
جِنِ ب٘رہما بِسنُ مہیسُ اُپاۓ ॥
سِرِ سِرِ دھنّدھےَ آپے لاۓ ॥
جِسُ بھاۄےَ تِسُ آپے میلے جِنِ گُرمُکھِ ایکو جاتا ہے ॥੨॥
آۄا گئُنھُ ہےَ سنّسارا ॥
مائِیا موہُ بہُ چِتےَ بِکارا ॥
تھِرُ ساچا سالاہیِ سد ہیِ جِنِ گُر کا سبدُ پچھاتا ہے ॥੩॥
اِکِ موُلِ لگے اونیِ سُکھُ پائِیا ॥
ڈالیِ لاگے تِنیِ جنمُ گۄائِیا ॥
انّم٘رِت پھل تِن جن کءُ لاگے جو بولہِ انّم٘رِت باتا ہے ॥੪॥
ہم گُنھ ناہیِ کِیا بولہ بول ॥
توُ سبھنا دیکھہِ تولہِ تول ॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ راکھہِ رہنھا گُرمُکھِ ایکو جاتا ہے ॥੫॥
جا تُدھُ بھانھا تا سچیِ کارےَ لاۓ ॥
اۄگنھ چھوڈِ گُنھ ماہِ سماۓ ॥
گُنھ مہِ ایکو نِرملُ ساچا گُر کےَ سبدِ پچھاتا ہے ॥੬॥
جہ دیکھا تہ ایکو سوئیِ ॥
دوُجیِ دُرمتِ سبدے کھوئیِ ॥
ایکسُ مہِ پ٘ربھُ ایکُ سمانھا اپنھےَ رنّگِ سد راتا ہے ॥੭॥
کائِیا کملُ ہےَ کُملانھا ॥
منمُکھُ سبدُ ن بُجھےَ اِیانھا ॥
گُر پرسادیِ کائِیا کھوجے پاۓ جگجیِۄنُ داتا ہے ॥੮॥
کوٹ گہیِ کے پاپ نِۄارے ॥
سدا ہرِ جیِءُ راکھےَ اُر دھارے ॥
جو اِچھے سوئیِ پھلُ پاۓ جِءُ رنّگُ مجیِٹھےَ راتا ہے ॥੯॥
منمُکھُ گِیانُ کتھے ن ہوئیِ ॥
پھِرِ پھِرِ آۄےَ ٹھئُر ن کوئیِ ॥
گُرمُکھِ گِیانُ سدا سالاہے جُگِ جُگِ ایکو جاتا ہے ॥੧੦॥
منمُکھُ کار کرے سبھِ دُکھ سباۓ ॥
انّترِ سبدُ ناہیِ کِءُ درِ جاۓ ॥
گُرمُکھِ سبدُ ۄسےَ منِ ساچا سد سیۄے سُکھداتا ہے ॥੧੧॥
جہ دیکھا توُ سبھنیِ تھائیِ ॥
پوُرےَ گُرِ سبھ سوجھیِ پائیِ ॥
نامو نامُ دھِیائیِئےَ سدا سد اِہُ منُ نامے راتا ہے ॥੧੨॥
نامے راتا پۄِتُ سریِرا ॥
بِنُ ناۄےَ ڈوُبِ مُۓ بِنُ نیِرا ॥
آۄہِ جاۄہِ نامُ نہیِ بوُجھہِ اِکنا گُرمُکھِ سبدُ پچھاتا ہے ॥੧੩॥
پوُرےَ ستِگُرِ بوُجھ بُجھائیِ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ مُکتِ کِنےَ ن پائیِ ॥
نامے نامِ مِلےَ ۄڈِیائیِ سہجِ رہےَ رنّگِ راتا ہے ॥੧੪॥
کائِیا نگرُ ڈھہےَ ڈھہِ ڈھیریِ ॥
بِن سبدےَ چوُکےَ نہیِ پھیریِ ॥
ساچُ سلاہے ساچِ سماۄےَ جِنِ گُرمُکھِ ایکو جاتا ہے ॥੧੫॥
جِس نو ندرِ کرے سو پاۓ ॥
ساچا سبدُ ۄسےَ منِ آۓ ॥
نانک نامِ رتے نِرنّکاریِ درِ ساچےَ ساچُ پچھاتا ہے ॥੧੬॥੮॥
لفظی معنی:
آپے آپ ۔ از خود۔ اُپائے ۔ پیدا کیا۔ اپنا۔ اپنے آپ کو ۔ پرچھنا۔ پوشیدہ طور پر۔ سار ۔ خبر گیری ۔ سنبھال۔ پچھاتا ۔ پہچانا (1) مہیس۔ شیو جی۔ سر سر ۔ ایک کے ذمے ۔ دھندے ۔ کام کاروبار۔ بھاوے ۔ چاہے ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے (2) آواگون۔ آدورفت ۔ چنے بکار۔ بدیوںبرائیوں کا دلمیں خیال کرتا ہے ۔ تھر ساچا صلاھی ۔ خدا کو مستقل صدیوی ہونی کی وجہ سے تعریف کرتا ہے ۔ سد ہی ہمیشہ ۔ گر کا سبد پچھاتا ہے ۔ کلام مرشد کی پہچان کی ۔ (3) مول ۔ اصل۔ حقیقت۔ بنیاد۔ ڈالی۔ شاخ۔ جز۔ جنمگوائیا۔ زندگی بیکار ضائع کی۔ انمرت پھل۔ زندگی کو روحانیواخلاقی بنانے والے نتیجے ۔ انمرت باتا۔ آب حیات گفتار۔ جس سے زندگی نہ روحانی بنتی ہے (4) بولیہہ بول۔ کیا کہیں ۔ کہنے کی توفیق نہیں۔ تویہہ تول ۔ شناخت کرتا ہے ۔ وزن جانجتا ہے ۔ ایکو جاتا ہے ۔ ایک پہچاناہے (5) تدھ بھانا۔ تیرا پیارا۔ محبو۔ سچی کار۔ سچے کام۔ اوگن۔ بداوصاف۔ گن ۔ وصف۔ نرمل۔ پاک (6) سوئی۔ وہی ۔ دوجی درمت۔ دنیاوی دؤلت کی محبت کی بدعقلی ۔ ایکس۔ وحدانیت ۔ اپنے رنگ ۔ اپنے پریم۔ سد۔ ہمیشہ۔ راتا ہے ۔ محو ومجذوب رہتا ہے ۔ ایکس مینہہ پربھ ایک سمانا ۔ اپنے رنگ سدااتا ہے ۔ مراد و حدانیت میں واحد خدا بستا ہے اور ہمیشہ اپنے پریم پیار میں محو ومجذوب رہتا ہے (7) کم۔ پھول۔ ذہن۔ کملانا۔ مرجھائیا۔ منمکھ۔ خودی پسند۔ سبد۔ کلام۔ ہدایت۔ سبق۔ ایانا۔ بے سمجھ۔ نا اہل۔ گر پرسادی۔ رحمت مرشد سے ۔ کائیا کھوبے ۔ اپنے جسم کی پڑتال کرے (8) کوٹ گہی ۔ قلعہ جو گرفتار ہے ۔ پاپ نوارے ۔ گناہ دور کئے ۔ اردھارے ۔ دلمیں بسا کر۔ جیؤ رنگ مجھٹھے راتا ہے ۔ جیسے میھٹے کے رنگ سے متاثر ہے (9) گیان کتھے ۔ علم کہنے سے ۔ ٹھور۔ ٹھکانہ۔ گورمکھ گیان۔ مرید مرشد کا علم ۔ جاتا ۔پہچان۔ (10) سب دکھ سبائے ۔ سارے بھاری عذاب کے ۔ در ۔ بارگاہ خدا۔ سچا ۔ صدیوی (11) نامو نام۔ صرف نام۔ سچ و حقیقت۔ دھیاییئے ۔ دھیان لگائیں۔ سداسد۔ ہمیشہ (12) پوت ۔ پوتر۔ پاک۔ مقدس۔ بن نیرا۔ بغیر پانی (13) نامے نام۔ سچ حق و حقیقت پانے سے ۔ وڈیائی ۔ عظمت و حشمت۔ سہج۔ روحانی سکون۔ رنگ راتا۔ پریم پیار میں محو (14) چوکے ۔ مٹتی نہیں۔ ختم نہیں ہوتی ۔ ساچ صلاحے ۔ سچ مراد خدا کی حمد کیجیئے ۔ ساچ سماوے ۔خدا میں محو ومجذوب رہے ۔ جن ۔ جس نے ۔ جاتا ۔ جانا ۔ پہچانا (15) نرنکاری ۔ جسکا کوئی شکل و صورت اور جسم نہیں۔ آکار نہیں۔ درسابے ۔ سچے خدا کے در پر۔ ساچ پچھاتا ہے ۔ سچے خدا کی پہچان کی ۔
ترجمہ:
خدا نے خود ہی اپنے آپ کو پیدا کرکے ظہور پذیر کیا ہے اور ہر ایک میں پوشیدہ طور پر بس رہا ہے اور عالم کو زندگی بخشنے والا خدا سب کی خبر گیری کرتا ہے ۔ جس نے آپنے آپ کی مراد نیک و بد کردار کی پہچان کی ہے (1) جس نے برہما وشنو اور شوجی پیدا کئے اور سب کو کام لگائیا جس نے مرشد کی معرفت و حدت کی پہچان کی ہے (2) یہ عالم آنا جانا ہے دنیاوی دؤلتکی محبت دلمیں برائیاں پیدا کرتی ہے ۔ جس نے کلام مرشد کیو پہچان لیا وہ مستقل سچا خدا جو صڈیوی ہے کی حمدوثناہ کرتا ہے (3) جنہوں نے حقیقت ، اصلیت اور بنیاد سے رشتہ ناطہ پیدا کیا انہیں آرام و آسائش ھاصل ہوئی اور جنہوں نے شاخؤں سے رشتہ بنائیا مراد دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی رشتہ بنائیا اپنی زندگی بیکار ضائع کی ۔ آب حیات کی نتیے انہیں میسر ہوتے ہیں جن کی گفتار آبحیات ہے مراد انہیں روحانی واخلایق زندگی میسر ہوتی ہے جنکی بول چال اخلاقی و روحانی ہے (4) جب ہمارے اند کوئی گن یا وصف ہی نہیں تو کہیں تو کیا کہیں ۔ اے خدا تو سب کے کردار کا وزن کرتا ہے اسلیت کی پہچان کرتا ہے ۔ جس طرح تیری رضا و مرضی ہے جس طرح تو رکاھے اُسی طرح سے رہنا ہے ۔ مرید مرشد نے تیری وحدت کو پہچانا ہے (5) جب تیری رضا و مرضی ہو تو سچے کام لگاتا ہے تو بد اوصاف چھوڑ کر تو اوصاف دلمیں بستے ہیں ۔۔ اوصاف میںہے واحد خدا کالام مرشد سے اسکی پہچان اور سمجھ آتی ہے (6) جہاں دیکھتا ہوں وہیں واحد خدا دیکھتا ہوں ۔ دنیاوی محبت اور بد عقلی کلام و سبق سے ختم ہو جاتی ہے ۔ وحدانیت میں واحد خدا محو ومجذوب رہتا ہے اپنے آپ کی محبت میں محو رہتا ہے (7) جسم میں اُسکا ذہن مر جھائیا رہتا ہے کیونکہ خود پسندی کلام و سبق سے بے بہرہ انجان اور نا اہل ہے جو رحمت مرشد سے اپنے جسم کو ڈہونڈتا ہے حقیقت کی پڑتال کو تا ہے ۔ وہ عالم کو زندگی بخشنے والے خدا کو پالیتا ہے (8) جو خدا انسان کے ان گناہوں کو دور کر لیتا ہے جو اسکے جسم کو گرفتار کر لتے ہیں۔ ہمیشہ اُس خدا کو دلمیں بساؤ۔ اس سے اپنی خواہشات کی مطابق نتیجے حاصل ہوتے ہیں جس طرح سے مجیٹھ کا رنگ پختہ رنگ ہے (9) خود پسندی علم و مسجھ کی باتیں تو جو حقیقتاً اس میں نہیں اسلئے اُسے ٹھکانہ حاصل نہیں ہوتا اور تناسکمیںپڑا رہتا ہے ۔ مرید مرشد کا علم یہی ہے کہ وہ ہمیشہ الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے اور ہر زمانے میں واحد خدا کو بستا دیکتھا ہے (10) مرید من وہی کارکرتا ہے جو عذآب کا باعث بنے ۔کلام مرشد اسکے دل میں بستا نہیں اس لئے الہٰی در نصیب نہیں ہو سکتا ۔ مرید مرشد کے دلمیں کلام بستا ہے اس سے خدا بستا ہے اس لئے آرام و آسائش پہنچانے کی ہمیشہ خدمت کیجیئے (11) جدھر نظر جاتی ہے خدا نظر آتا ہے ہر جگہ۔ کامل مرشد ساری سمجھ دیتا ہے اے انسانوں ہمیشہ الہٰی نام سچ حق و حقیقت کی طرف دھیان لگاو ہمیشہ یہ دل نام محو رہتا ہے (12) نام میں محو ومجذوب دل پاک و پائس ہو جاتا ہے بغیر نام سچ حق و حقیقت ایسے برائیوں اور بد کاریون میں متفرق ہو جاتا ہے جیسے کوئی بغیر پانی کے ڈوب جائے ۔ وہ تناسخ اور پس و پیش میں پڑا رہتا حقیقت و اسلیت کی سمجھ نہیں ایک مرید مرشد ہوکر کلام سمجھتے ہیں (13) کامل مرشد نے یہ سمجھائیا ہے کہ الہٰی نام سچ حق و حقیقت اپنائے بگیر نجات یا ذہنی آزاید حاصل نہیں ہو سکتی ۔ نام اپنانے سے عظمت اور حشمت حاصل ہوتی ہے روحانی وزہنی سکون ملتا ہے اور الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب رہتا ہے انسان (14) یہ انسانی جسمانی شہر مسمار ہو جاتا ہے اور کلام کے بغیر پس و پیش و تناسخ ختم نہیں ہوتا ۔ جس نے مرید مرشد واحد خدا کی پہچان کر لی وہ خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے خدا میں محو ومجذوب رہتا ہے (15) اُسے ہی یہ نعمت نصبی ہوتی ہے جس پر خدا کی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے ۔ اپک کلام اُسی کے دلمیں اکربستا ہے اے نانک۔ خدا کے نام سچ حق و حقیقت سے متاثر انسان مانند نرنکار سچے صدیوی خدا کے در پر پہچانا جاتا ہے مراد مقبولیت پاتا ہے ۔

ماروُ سولہے ੩॥
آپے کرتا سبھُ جِسُ کرنھا ॥
جیِء جنّت سبھِ تیریِ سرنھا ॥
آپے گُپتُ ۄرتےَ سبھ انّترِ گُر کےَ سبدِ پچھاتا ہے ॥੧॥
ہرِ کے بھگتِ بھرے بھنّڈارا ॥
آپے بکھسے سبدِ ۄیِچارا ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سوئیِ کرسہِ سچے سِءُ منُ راتا ہے ॥੨॥
آپے ہیِرا رتنُ امولو ॥
آپے ندریِ تولے تولو ॥
جیِء جنّت سبھِ سرنھِ تُماریِ کرِ کِرپا آپِ پچھاتا ہے ॥੩॥
جِس نو ندرِ ہوۄےَ دھُرِ تیریِ ॥
مرےَ ن جنّمےَ چوُکےَ پھیریِ ॥
ساچے گُنھ گاۄےَ دِنُ راتیِ جُگِ جُگِ ایکو جاتا ہے ॥੪॥
مائِیا موہِ سبھُ جگتُ اُپائِیا ॥
ب٘رہما بِسنُ دیۄ سبائِیا ॥
جو تُدھُ بھانھے سے نامِ لاگے گِیان متیِ پچھاتا ہے ॥੫॥
پاپ پُنّن ۄرتےَ سنّسارا ॥
ہرکھُ سوگُ سبھُ دُکھُ ہےَ بھارا ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سو سُکھُ پاۓ جِنِ گُرمُکھِ نامُ پچھاتا ہے ॥੬॥
کِرتُ ن کوئیِ میٹنھہارا ॥
گُر کےَ سبدے موکھ دُیارا ॥
پوُربِ لِکھِیا سو پھل پائِیا جِنِ آپُ مارِ پچھاتا ہے ॥੭॥
مائِیا موہِ ہرِ سِءُ چِتُ ن لاگےَ ॥
دوُجےَ بھاءِ گھنھا دُکھُ آگےَ ॥
منمُکھ بھرمِ بھُلے بھیکھدھاریِ انّت کالِ پچھُتاتا ہے ॥੮॥
ہرِ کےَ بھانھےَ ہرِ گُنھ گاۓ ॥
سبھِ کِلبِکھ کاٹے دوُکھ سباۓ ॥
ہرِ نِرملُ نِرمل ہےَ بانھیِ ہرِ سیتیِ منُ راتا ہے ॥੯॥
جِس نو ندرِ کرے سو گُنھ نِدھِ پاۓ ॥
ہئُمےَ میرا ٹھاکِ رہاۓ ॥
گُنھ اۄگنھ کا ایکو داتا گُرمُکھِ ۄِرلیِ جاتا ہے ॥੧੦॥
میرا پ٘ربھُ نِرملُ اتِ اپارا ॥
آپے میلےَ گُر سبدِ ۄیِچارا ॥
آپے بکھسے سچُ د٘رِڑاۓ منُ تنُ ساچےَ راتا ہے ॥੧੧॥
منُ تنُ میَلا ۄِچِ جوتِ اپارا ॥
گُرمتِ بوُجھےَ کرِ ۄیِچارا ॥
ہئُمےَ مارِ سدا منُ نِرملُ رسنا سیۄِ سُکھداتا ہے ॥੧੨॥
گڑ کائِیا انّدرِ بہُ ہٹ باجارا ॥
تِسُ ۄِچِ نامُ ہےَ اتِ اپارا ॥
گُر کےَ سبدِ سدا درِ سوہےَ ہئُمےَ مارِ پچھاتا ہے ॥੧੩॥
رتنُ امولکُ اگم اپارا ॥
کیِمتِ کۄنھُ کرے ۄیچارا ॥
گُر کےَ سبدے تولِ تولاۓ انّترِ سبدِ پچھاتا ہے ॥੧੪॥
سِم٘رِتِ ساست٘ر بہُتُ بِستھارا ॥
مائِیا موہُ پسرِیا پاسارا ॥
موُرکھ پڑہِ سبدُ ن بوُجھہِ گُرمُکھِ ۄِرلےَ جاتا ہے ॥੧੫॥
آپے کرتا کرے کراۓ ॥
سچیِ بانھیِ سچُ د٘رِڑاۓ ॥
نانک نامُ مِلےَ ۄڈِیائیِ جُگِ جُگِ ایکو جاتا ہے ॥੧੬॥੯॥
لفظی معنی:
سبھ جس کرنا۔ جسکی کار ہر کام کرنا ہے ۔ جیئہ جنت۔ ساری مخلوقات ۔ گپت۔پوشیدہ طور پر (1) بھنڈارا۔ خزانے ۔ کرسیہہ۔ کرتا ہیں۔ سچے ۔ خدا سے ۔ راتا ۔ محو (2) امولو۔ بیش قیمت ۔ تو ے تولو۔ اسکی قدروقیمت کی شناخت کرتا ہے ۔ پچھاتا ہے ۔ پہچان کرتا ہے (3) ندر۔ نگاہ شفقت۔ دھر۔ خدا کے در سے ۔ چوکے پھیری ۔ تناسخ مٹتا ہے ۔ جاتا۔ پہچان (4) اپائیا۔ پیدا کیا ۔ دیوسبائیا۔ سارے دیوتے ۔ بھانے ۔ پیارے ۔ نام لاگے ۔ سچ ۔ حق و حقیقت اپنائیا۔ گیان متی ۔ علمی سمجھ (5) پاپ۔ گناہ۔ بد کار۔ پن۔ ثواب۔ نیک کام۔ ہرکھ۔ خوشی۔ سوگ ۔ غمی۔ بھارا۔ زیادہ۔ گورمکھ نام پچھاتا ہے ۔ جس نے مرشد کے وسیلے نام پہچانا (6) کرت۔ اعمال کے تاثرات جو بار بار کرنے پر عادت بن جاتی ہے ۔ اسکے تاثرات۔ موکھ درآرا۔ نجات کا دروازہ۔ پورب۔ پہلے ۔ پھل۔ انجام ۔ نتیجہ ۔ آپ مار۔ خویشتا ختم کرکے (7) چت۔ دل ۔ دوجے بھائے ۔ خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت ۔ گھنا۔ نہایت زیاد۔ منمکھ۔خودی پسند۔ بھیکھدھاری۔ مذہبی پہراوا یا نامئش کرنیوالے ۔ انت کال۔ بوقت آخرت (8) بھانے ۔ رضا ورغبت ۔ کل وکھ۔ زہریلی ۔ کار۔ گناہ۔ دوکھ ۔ سبائے ۔ سارے عذاب۔ ہر نرمل۔پاک ہے خدا۔ نرمل ہے بانی۔ پاک ہے کلام۔ ہر سیتی ۔ خدا میں (9) گن ندھ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ ٹھاک رہائے ۔ روکتا ہے ۔ گن اوگن۔ اوساف۔ بد اوساف۔ درلی ۔ شاذ و نادر۔ کس نی ہی ۔ جاتا۔ جانیا۔ سمجھیا (10) ات۔ نہایت ۔ اپار۔ کراتا ہے(11) میلا۔ ناپاک۔ جوت۔ نور۔ روشنی۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ ویچار۔ سوچ سمجھ کر۔ ہونمے خودی۔ نرمل۔ پاک ۔ رسنا۔ زبان (12) گڑ کائیا۔ جسمانی قلعے میں ۔ ہٹ با جارا۔ دکانیں اور بازار (13) امولک ۔ بیش قیمت ۔اگم ۔ انسانی عقل و ہوش سے بیع ۔ تول ۔ تولائے ۔ پرکھ ۔ تحقیق ۔ قدروقیمت (14) وستھارا۔ تشرعات۔ پسرایا پااسارا۔ پھیلاؤ ہوا۔ موکرھ ۔ بیوقوف ۔ سبد نہ بوجھے ۔کالام نہیں سمجھتا۔
ترجمہ:
اے کار ساز کرتار تیرا ہی سارا کیا ہوآ ہے ۔ ساری مخلوقات تیری زیرہ پناہ ہے ۔ تو پوشیدہ تور پر سب کے اندر بستا ہے کلام مرشد سے تیرا پتہ چلتا ہے (1) الہٰی عشق کے خزانے بھرے پڑے ہیں ۔ کلام مرشد کے ذریعے خود ہی سمجھتا ہے ۔ اے خدا جو تجھے پیارا ہے جو تو چاہتا ہے وہی کرتا ہے خدا سے دل محو ومجذوب ہے (2) اے خدا تو خود بیش قیمت ہیرے کی مانند ہے اور کود ہی اسکی تحقیق و تمیز کرتا ہے اپنی نگاہ شفقت سے ۔ اے خدا ساری خلقت تیری پناہگیر ہے ۔ اپنی کرم و عنایت سے اپنی پہچان کرتا ہے (3) جس پر تیری تیرے در سے نظر عنایت و شفقت ہوا اسکا تناسخ مٹ جاتا ہے وہ روز و شب کرتا ہے حمدوثناہ اور ہر دور زمان میں تجھے جانتا اور سمجھتا ہے (4) اے خدا تو نے دنیاوی دولت کی محبت میں سارا عالم پیدا کیا ہے ۔ اور سارے دیوتے برہما وشنو اور شوجی پیدا کئے ۔ جو تیرے محبوب نہیں انہوں الہٰی نام سچ حق و حقیقت اپنائیا اور علم سمھ کی برکت سے پہچانا ہے (5) سارے عالم میں گناہ و ثواب جاری ہیں ۔ خوشی اور غمی کا بھاری عذآب ہے ۔مرید مرشد ہونے سے آرام و آسائش ملتا ہے مرید مرشد ہونے سے نام سچ حق و حقیقت دست کی پہچان ہوتی ہے (6) پہلے سے کئے ہوئے اعمال کے تاثرات کوئی مٹانے کی توفیق نہیں رکھتا ۔ آزادی ونجات کا وسیلہ کلام مرشد ہے ۔ پہلے سے جو تحریر ہے اعمالنامے میں وہی انجام ہوتا ہے جو خویشتا مٹا دیتا ہے اور پہچانتا ہے (7) دنیاوی دولت کی محبت خدا سے محبت ہونے نہیں دیتی ۔ جبکہ دنیاوی دولت کی محبت میں بھاری عذآب ہے ۔ آئندہ وآخر میں۔ مرید من وہم وگمان میں مبتدا۔ گمراہ ہیں مذہبی وکھاوے اور پہراوے سے مگر بوقت آخرت یا آخر کا پچھتا تا ہے (8) جو الہٰی رضا و مرضی میں رہ کر خدا کی حمدوچناہ کرتا ہے اسکے سارے عذاب و گناہ عافعہ ہوجاتے ہیں خدا خدو پاک ہستی ہے ۔ لہذا اسکا کلام بھی پاک ہے اس سے خدا کی محبت میں من محو ومجذوب ہوجاتا ہے (9) جس پر الہٰی نظر عنایت و شفقت ہے وہ وصل الہٰی پاتا ہے جو ہے اوصاف کا خزانہ جو خؤدی اور خوئشتا کو روک لاگاتا ہے کسی کو ہی یہ سمجھ آئی ہے اوصاف و بداوصاف دینے والا ایک ہی واحد خدا ہے (10) میرا خدا نہایت پاک اور اعداد وشمار اور سیو ہستی ہے جو کلام مرشد کو سمجھنے سے خود ہی ملاپ ہوجاتا ہے اپنی بخشش سے سچ سچے خدا کو ذہن نشین کراتا ہے پختہ طور پر جس سے دل وجان حقیقت میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے (11) گو دل و جان ناپاک ہے مگر ذہن نور الہٰی سے منور پر نور اور روشن ہے سبق مرشد سے اس خیال کی سمجھ آتی ہے خودی مٹانے سے دل پاک ہوجاتا ہے زبان سے اسکی خدمت کرنے سے مراد ھمدوثناہ سے آرام و آسائش ملتا ہے (12) اس قلعہ نما جسم میں بہت سی دکانیں اور بازار ہیں جس میں خڈا کے نام ست سچ حق و حقیقت کی قیمتی نعمت ہے جسکی قیمت اعداد و شمار اور اندازے سے باہر ہے کلام مرشد سے خڈا کے در پر سجتا ہے خودی مٹانے سے اسکی سمجھ آتی ہے (13) یہ اتنا قیمتی ہے کہ دنیا میں اسکے قیمت کے برابر کوئی شے نہیں کونہے جو اسکی قیمت کو سوچ سمجھ سکے کلام مرشد کے پیمانے یا بٹو سے اسکی تحقیق و تمیز کرتا ہے اپنے دلمیں کلام سے پہچانا جاتا ہے (14) سمریتوں اور شاشتروں میں اسکا بھاری وستھار اور پھیلاؤ ہے اور تشریحات کی گئی ہیں۔ مگر اس میں دنیاوی دؤلت کی محبت ہی بیان کی گئی تشریحات ہیں۔ بیوقوف پڑھتے تو ہیں کلام کی سمجھ نہیں بہت کم ہیں جنہوں نے جہوں نے اسکو سمجھتا ہے (15) خود ہی قادر کار ساز کرتار کرتا اور کراتا ہے ۔ سچا پاک کلام خدا ذہن نشین پختہ طور کراتا ہے ۔ اے نانک۔ الہٰی نام سچ حق و حققیقت سے عظمت و حشمت و عزت دستیاب ہوتی ہے اُسے ہر زمانے خدا کے بسنے کی سمجھ آتی ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
سو سچُ سیۄِہُ سِرجنھہارا ॥
سبدے دوُکھ نِۄارنھہارا ॥
اگمُ اگوچرُ کیِمتِ نہیِ پائیِ آپے اگم اتھاہا ہے ॥੧॥
آپے سچا سچُ ۄرتاۓ ॥
اِکِ جن ساچےَ آپے لاۓ ॥
ساچو سیۄہِ ساچُ کماۄہِ نامے سچِ سماہا ہے ॥੨॥
دھُرِ بھگتا میلے آپِ مِلاۓ ॥
سچیِ بھگتیِ آپے لاۓ ॥
ساچیِ بانھیِ سدا گُنھ گاۄےَ اِسُ جنمےَ کا لاہا ہے ॥੩॥
گُرمُکھِ ۄنھجُ کرہِ پرُ آپُ پچھانھہِ ॥
ایکس بِنُ کو اۄرُ ن جانھہِ ॥
سچا ساہُ سچے ۄنھجارے پوُنّجیِ نامُ ۄِساہا ہے ॥੪॥
آپے ساجے س٘رِسٹِ اُپاۓ ॥
ۄِرلے کءُ گُر سبدُ بُجھاۓ ॥
ستِگُرُ سیۄہِ سے جن ساچے کاٹے جم کا پھاہا ہے ॥੫॥
بھنّنےَ گھڑے سۄارے ساجے ॥
مائِیا موہِ دوُجےَ جنّت پاجے ॥
منمُکھ پھِرہِ سدا انّدھُ کماۄہِ جم کا جیۄڑا گلِ پھاہا ہے ॥੬॥
آپے بکھسے گُر سیۄا لاۓ ॥
گُرمتیِ نامُ منّنِ ۄساۓ ॥
اندِنُ نامُ دھِیاۓ ساچا اِسُ جگ مہِ نامو لاہا ہے ॥੭॥
آپے سچا سچیِ نائیِ ॥
گُرمُکھِ دیۄےَ منّنِ ۄسائیِ ॥
جِن منِ ۄسِیا سے جن سوہہِ تِن سِرِ چوُکا کاہا ہے ॥੮॥
اگم اگوچرُ کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
گُر پرسادیِ منّنِ ۄسائیِ ॥
سدا سبدِ سالاہیِ گُنھداتا لیکھا کوءِ ن منّگےَ تاہا ہے ॥੯॥
ب٘رہما بِسنُ رُد٘رُ تِس کیِ سیۄا ॥
انّتُ ن پاۄہِ الکھ ابھیۄا ॥
جِن کءُ ندرِ کرہِ توُ اپنھیِ گُرمُکھِ الکھُ لکھاہا ہے ॥੧੦॥
پوُرےَ ستِگُرِ سوجھیِ پائیِ ॥
ایکو نامُ منّنِ ۄسائیِ ॥
نامُ جپیِ تےَ نامُ دھِیائیِ مہلُ پاءِ گُنھ گاہا ہے ॥੧੧॥
سیۄک سیۄہِ منّنِ ہُکمُ اپارا ॥
منمُکھ ہُکمُ ن جانھہِ سارا ॥
ہُکمے منّنے ہُکمے ۄڈِیائیِ ہُکمے ۄیپرۄاہا ہے ॥੧੨॥
گُر پرسادیِ ہُکمُ پچھانھےَ ॥
دھاۄتُ راکھےَ اِکتُ گھرِ آنھےَ ॥
نامے راتا سدا بیَراگیِ نامُ رتنُ منِ تاہا ہے ॥੧੩॥
سبھ جگ مہِ ۄرتےَ ایکو سوئیِ ॥
گُر پرسادیِ پرگٹُ ہوئیِ ॥
سبدُ سلاہہِ سے جن نِرمل نِج گھرِ ۄاسا تاہا ہے ॥੧੪॥
سدا بھگت تیریِ سرنھائیِ ॥
اگم اگوچر کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
جِءُ تُدھُ بھاۄےَ تِءُ توُ راکھہِ گُرمُکھِ نامُ دھِیاہا ہے ॥੧੫॥
سدا سدا تیرے گُنھ گاۄا ॥
سچے ساہِب تیرےَ منِ بھاۄا ॥
نانکُ ساچُ کہےَ بیننّتیِ سچُ دیۄہُ سچِ سماہا ہے ॥੧੬॥੧॥੧੦॥
لفطی معنی:
سو سچ۔ اُس صدیوی سچے خدا کو۔ سرجنہارا۔ جس میں پیدا کرنے کی توفیق ہے ۔ سیوہو۔ خدمت کرؤ۔ سبدے ۔ کلام سے ۔ دوکھ نوار نہارا۔ عذاب مٹانے کی توفیق رکھتا ہے ۔ اگم ۔ اگوچر۔ جو انسانی عقل و ہوش سے بلند ترین ہے ۔ اتھاہ ۔ اندازے سے بعید۔ بیشمار گہرا ۔ مرا سنجیدہ (1) آپے سچا۔ خود خڈا سچ و رتائے ۔ اپنا سچا فرمان جاری کرتا ہے ۔ ساچو سیو یہہ ۔ سچے خدا کی خدمت سے ۔ ساچ کماویہہ۔ اعمال سچے ہوتے ہیں۔ نامے سچ سماہا ہے ۔ انسان الہٰینام سچ حق و حقیقت میں محو ومجذوب رہتا ہے (2) ونج ۔ سوداگری ۔ آپ پچھانے ۔ اپنے نیک و بد کی تمیز ۔ ایکس ۔ واحد خدا۔ ساہو ۔۔ شاہوکار۔ پونجی۔ سرمایہ ۔ وساہا۔ خریدتے ہیں (4) ساجے ۔ سازے ۔ پیدا کرے ۔ سرشٹ ۔ عالم دنیا۔ اپائے ۔ پیدا کرے ۔ ورے گؤ۔ کسی کو ہی ۔ بجھائے سمجھاتا ہے ۔ ساچے ۔ پاک (5) گھڑ ے ۔ درست کرتاہے ۔ مائیا موہ ۔ سرمائے کی محبت۔ دوجے جنت۔ دوسری مخلوقات ۔ پاجے ۔ مصروف کر رکھتے ہیں۔ اندھ کماوے ۔ اندھون کے سے کام۔ جیوڑا۔ رسا۔ پھاہا۔ پھندہ (6) گرمتی ۔ سبق مرشد۔ اس جگ میہہ۔ اس دنیا میں ۔ لاہا ۔ نفع (7) سچی نائی۔ پاک عظمت و عزت۔ سوہے ۔ اچھے لگتے ہین۔ چوکا ۔ ختم ہوا۔ کاہا۔ قضیا۔ جھگڑا (8) لیکھا۔ حساب ۔ تاہا۔ اُسکا۔ (9) ردر۔ شوجی ۔ انت۔ آخر۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ جسکی شکل و صورت بتائی نہ جا سکے ۔ ابھیو ۔ راز۔ لکھاہا۔ سمجھتا ہے (10) سوجھی۔ سمجھ۔ محل۔ منزل۔ٹھکانہ ۔ گن ۔ اوصاف ۔ گاہ۔ راستہ (11) جانیہہ سارا۔ قدروقیمت (12) دھاوت ۔ دؤڑتے ۔ بھٹکتے ۔ بے پرواہا۔ بے محتاج ۔ کسی کا دست نگر نہینں۔ بیراگی۔ طارق الندیا۔ اکھ گھر ۔ وحدت میں یقین ۔ من تاہا۔ اُسکے دلمیں (13) درتے ۔ بستا ہے ۔ ایکو سوئی۔ وہی واھد خدا۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ نرمل۔ پاک ۔ تج گھر داسا۔ ذہن نشین (14) جیؤ تدھ بھاوے ۔ جیسے تو چاہے ۔ راکھیہہ۔ حفاظت کر۔ دھیاہا۔ دھیان۔ توجو (15) سچے صاحب۔ سچے مالک۔ بنتی ۔ عرض گذارش ۔ سچ سماہا۔ حقیقت میں بسون۔
ترجمہ:
اُس صدیوی سچے خدا کی کدمت کے لئے جو کارساز ہے کرتا ر ہے جسے عالم پیدا کرنے کی توفیق ہے ۔ کلام سے عذآب مٹانے کی توفیق رکھتا ہے (1) جو انسان سمجھ عقل و ہوش سے بلند و بالا تر ہے جس کی قدرقیمت کا اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ جس کی سنجیدگی و دنائی کی گہرائی کا پتہ نہیں لگ سکتا ہ (1) خود ہی سچا خدا اپنا سچا فرمان جاری کرتا ہے ایک ایسے ہین جن کو خدا اپنے آپ سے لگاو اور اشتراک بناتا ہے ۔ سچے خدا کی خدمت سے سچے پاک اعمال کرتے ہیں اور سچے الہٰی نام سچ حق و حقیقت اپناتے ہیں (2) بارگاہ خدا سے خدا خود ہی اپنے عابدون محبوبوں کو اپنے ساتھ ملاتا ہے سچے عشق و عبادت میں لگاتا ہے ۔ اس زندگی کا یہی فائدہ اور نفع ہے ۔ صدیوی سچے کلام کی حمدوثناہ کیجائے (3) مریدان مرشد سوداگری تو کرتے ہیں مگر اپنے آپ کی پہچان کرتے ہیں خدا کے بغیر دوسرے کو نہیں جانتے ۔ سچا شاہو کار سرمایہ دار سچا سوداگر الہٰی نام (ست ) سچ حق و حقیقت کی خریداری کرتےہی ں (4) خدا خود ہی پیدا کرتا ہے خود ہی عالم پیدا کیا ہے کسی کو ہی کلام مرشد کی سمجھ دیتا ہے جو سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں وہ پاک و پائس ہوجاتے ہیںان کا موتہ کا پھندہ خدا کات دیتا ہے (5) خدا پیدا کرتا ہے درسٹی کرتا ہے سجاتا اور سنوارتا ہے دوئی دؤیش اور دنیاوی دؤلت کی محبت میں لگاتا ہے ۔ مرید میں ہمیشہ اندھیوں کے سے کام کرتا ہے جبکہ موت کا پھندہ گلے میں پڑا رہتا ہے ((6) خدا خود ہی بخشتا ہے اور خدمت مرشد میں لگاتا ہے اور سبق مرشد سے نام سچ حق و حقیقت دلمیں بساتا ہے جو ہر روز الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں دھیان لگاتا ہے جو پاک ہے اس دنیا میں یہی منافع بخش کا رہے (7) خدا خود صدیوی پاک ہے اور اسکی نیکی عطمت اور شہرت بھی صدیوی اور پاک ہے جو مرشد کے ذریعے دیتا اور دلمیں بساتا ہے ۔ جن کے لمیں بس جاتا ہے انکی زندگی اچھی شہرت اور عزت والی بن جاتی ہے اور ہر قسم کے دنیاوی تنازعے مٹ جاتے ہیں (8) خدا انسنای رسائی عقل ہوش سے بعید ہے اسکی قدروقیمت ادا نہیں ہو سکتی ۔ رحمت مرشد سے دلمیں بستا ہے جو ہمیشہ اوصاف بخشنے والے سخی کی ککالم کے ذریعے حمدوثناہ کرتا ہے اس سے اسکے اعمال کا حساب نہیں مانگتا (9) برہما وشنو اور شیوجی اسی کی خدمت کرتے ہیں اوریہ بھی اس سمجھ سے باہر کے پوشیدہ راز کا انت نہیں پا سکے اے خدا جن پر تیری نظر عنایت و شفقت ہو آپنکو مرشد کے ذریعے اس ذہنی اور دل و دماغ کی سمجھ سے باہر اس کی شکل و صورت کے متعلق سمجھا دیتا ہے (10) جب کامل مرشد سمجھات اہے تو واحد نام سچ حق و حقیقت دلمیں بستا ہے نام کی یادریاض اور ھدھیان دینے اور لگانے سے ٹحکانہ ملتا ہے اور اوصاف کی سمجھ آتی ہے (11) خدمتگار خڈا کے حکم کی فرمانبرداری کے لئے خدمت کرتے ہیں۔ جبکہ خودی پسند نہ حکم ورضا کی سمجھ ہے نہ اسکی قدرقیتم جانتے ہیں الہٰی رضا و فرمان کی فرمانبرداری سے عزت اور ناموری حاصل ہوتی ہے اس بے محتاج کے فرمان سے (12) رحمت مرشد سے الہٰی رآض و فرمان کا پتہ چلتا ہے اور بھٹکتے دوڑ دہوپ کرتے من ٹھہراؤ حاصل ہوتا ہے اور ذہن نشین ہوتا ہے ۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت اپنانے سے انسان طارق ہو جاتا ہے اور انم اسکے دلمیں بسا رہتا ہے (13) ساری دنیا میں خدا بستا ہے اور رحمت مرشد سے ظہور پذیر اور جگمگاتا ہے ۔ حمدوچناہ سے ذہن پاک ہوتا ہے اور ذہن نشین ہوجاتا ہے (14) اے خدا تیرے عابد وعاشق ومحبوب تیری پناہگیری میں رہتے ہیں۔ اے خدا تو انسانی رسائی عقل و ہوش سے بلند و بالا تر ہے تیری قدروقیتم کی پہچان سے محروم ہیں۔ اے خدا جیسے تیری رضا و فرمان ہے اسی طرح سے رکھتا ہے جیسا تو چاہتا ہے مرید مرشد تیرے نام سچ حق و حقیقت میں دھیان لگاتے ہین (15) اے خدا رحمت فرماتا کہ ہمیشہ تیری حمدوثناہ کرتا رہوں تاکہ اے سچے آقا و مالک تیرا محبوب ہو جاو۔ نانک سچی عرض گذارتا ہے کہ صدیوی سچ و حقیقت عنایت کر تاکہ سچ و حقیقت میں بسو۔

ماروُ مہلا ੩॥
ستِگُرُ سیۄنِ سے ۄڈبھاگیِ ॥
اندِنُ ساچِ نامِ لِۄ لاگیِ ॥
سدا سُکھداتا رۄِیا گھٹ انّترِ سبدِ سچےَ اوماہا ہے ॥੧॥
ندرِ کرے تا گُروُ مِلاۓ ॥
ہرِ کا نامُ منّنِ ۄساۓ ॥
ہرِ منِ ۄسِیا سدا سُکھداتا سبدے منِ اوماہا ہے ॥੨॥
ک٘رِپا کرے تا میلِ مِلاۓ ॥
ہئُمےَ ممتا سبدِ جلاۓ ॥
سدا مُکتُ رہےَ اِک رنّگیِ ناہیِ کِسےَ نالِ کاہا ہے ॥੩॥
بِنُ ستِگُر سیۄے گھور انّدھارا ॥
بِنُ سبدےَ کوءِ ن پاۄےَ پارا ॥
جو سبدِ راتے مہا بیَراگیِ سو سچُ سبدے لاہا ہے ॥੪॥
دُکھُ سُکھُ کرتےَ دھُرِ لِکھِ پائِیا ॥
دوُجا بھاءُ آپِ ۄرتائِیا ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ الِپتو ۄرتےَ منمُکھ کا کِیا ۄیساہا ہے ॥੫॥
سے منمُکھ جو سبدُ ن پچھانھہِ ॥
گُر کے بھےَ کیِ سار ن جانھہِ ॥
بھےَ بِنُ کِءُ نِربھءُ سچُ پائیِئےَ جمُ کاڈھِ لئیگا ساہا ہے ॥੬॥
اپھرِئو جمُ مارِیا ن جائیِ ॥
گُر کےَ سبدے نیڑِ ن آئیِ ॥
سبدُ سُنھے تا دوُرہُ بھاگےَ متُ مارے ہرِ جیِءُ ۄیپرۄاہا ہے ॥੭॥
ہرِ جیِءُ کیِ ہےَ سبھ سِرکارا ॥
ایہُ جمُ کِیا کرے ۄِچارا ॥
ہُکمیِ بنّدا ہُکمُ کماۄےَ ہُکمے کڈھدا ساہا ہے ॥੮॥
گُرمُکھِ ساچےَ کیِیا اکارا ॥
گُرمُکھِ پسرِیا سبھُ پاسارا ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سو سچُ بوُجھےَ سبدِ سچےَ سُکھُ تاہا ہے ॥੯॥
گُرمُکھِ جاتا کرمِ بِدھاتا ॥
جُگ چارے گُر سبدِ پچھاتا ॥
گُرمُکھِ مرےَ ‘ن’ جنمےَ گُرمُکھِ گُرمُکھِ سبدِ سماہا ہے ॥੧੦॥
گُرمُکھِ نامِ سبدِ سالاہے ॥
اگم اگوچر ۄیپرۄاہے ॥
ایک نامِ جُگ چارِ اُدھارے سبدے نام ۄِساہا ہے ॥੧੧॥
گُرمُکھِ ساںتِ سدا سُکھُ پاۓ ॥
گُرمُکھِ ہِردےَ نامُ ۄساۓ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سو نامُ بوُجھےَ کاٹے دُرمتِ پھاہا ہے ॥੧੨॥
گُرمُکھِ اُپجےَ ساچِ سماۄےَ ॥
نا مرِ جنّمےَ ن جوُنیِ پاۄےَ ॥
گُرمُکھِ سدا رہہِ رنّگِ راتے اندِنُ لیَدے لاہا ہے ॥੧੩॥
گُرمُکھِ بھگت سوہہِ دربارے ॥
سچیِ بانھیِ سبدِ سۄارے ॥
اندِنُ گُنھ گاۄےَ دِنُ راتیِ سہج سیتیِ گھرِ جاہا ہے ॥੧੪॥
ستِگُرُ پوُرا سبدُ سُنھاۓ ॥
اندِنُ بھگتِ کرہُ لِۄ لاۓ ॥
ہرِ گُنھ گاۄہِ سد ہیِ نِرمل نِرمل گُنھ پاتِساہا ہے ॥੧੫॥
گُنھ کا داتا سچا سوئیِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلا بوُجھےَ کوئیِ ॥
نانک جنُ نامُ سلاہے بِگسےَ سو نامُ بیپرۄاہا ہے ॥੧੬॥੨॥੧੧॥
لفظی معنی:
بلند قسمت والے ہیں جو سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں سے وڈبھاگی بلند قسمت ۔ سنگورسیون۔ سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں۔ ساچ نام۔ صدیوی نام الہٰی ست ۔ سدا سکھداتا ۔ ہمیشہ سکھ دینے والا۔ رویا گھٹ انتر۔ جو دلمیں بستا ہے ۔ سبد سچے اوماہا ہے ۔ سچے پاک کلام سے محبت کی لہریں پیدا ہوتی ہیں (1) ندر۔ نگاہ شفقت۔ ہر کا نام۔ خدا کا نام (ست) (2) ہونمے ۔ خودی۔ ممتا۔ اپنت۔ مکت۔ آزاد۔ رنگی ۔ پریم۔ پیار۔ کاہا۔ واسطہ۔ جھگڑا (3) گھور ۔ اندھیرا ادنھیرا غبار۔ پارا۔ کنارا۔ کامیابی ۔ مہابیراگی ۔ کامل طارق الدنیا۔ لاہا۔ منافع (4) گرتے ۔ کرنے والے ۔ کرتار۔ دھر لکھ پائیا۔ خدا کی طرف سے تحریر شدہ ہے ۔ دوجا بھاو۔دنیاوی دؤلت کی محبت ۔ ورتائیا۔ بسائیا۔ ایستے ۔ بیلاگ ۔ بغیر واسطہ یا تعلق ۔ ویساہا۔ بھرؤسا (5) بھے ۔ خوف۔ سار ۔ قدروقیتم ۔ نربھؤ۔ بیخوف۔ سچ ۔ حقیقت ۔ خدا۔ ساہا۔ سانس۔ جان۔ زندگی (6) سر کار۔ حکمرانی ۔ حکمی ۔ تابع ۔ ماتح۔ حکم کماوے۔ حکم کی تعمیل گرتا ہے ۔ ساہا۔ سانس ۔ افریؤ۔ گستاخ۔ مت ۔ ایسا نہو ہو (7) آکار۔ پھیلاؤ۔ پسر یا ۔ پھیلیا۔ پاسارا۔ پھیلاؤ۔ سو۔ وہ ۔ سچ ۔ حقیقت ۔ خدا۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ تاہا۔ اُسی کا (9) جاتا۔ جانیا ۔سمجھیا ۔کرم ۔ بخشش۔ بدھاتا ۔ تدبیر ساز۔ پچھاتا ۔ پہچان سمجھ ۔ سماہا۔ محو (10) نام سبد صلاحے ۔ سچ و حقیقت کی کلام سے ھمدوچناہ کرتا ہے ۔ ادھارے ۔ بچائے ۔ وساہا۔ یقین (11) سانت۔ ذہنی سکون۔ ہرودے ۔دلمیں۔ ذہن میں ۔ نام۔ ست سچ و حقیقت۔ درمت۔ بدعقلی ۔ پھاہا۔ پھندہ ۔جال (12) اُپجے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ ساچ سماوے ۔ خدا۔ حقیقت میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ جونی ۔ جنم۔ رنگ راتا۔ پیار مین مصروف ۔ لاہا۔مناع کمنا (13) گورمکھ بھگت ۔ مرید مرشد اور عابد ۔ سوہے دربارے ۔ دربار الہٰی کی زیتت ہوتے ہیں۔ پاک کلام ۔ سچی بانی۔ سڈیوی سچے پاک کلام۔ سبد سوارے ۔ کلام سے زندگی میں درستی آتی ہے اور صھیح ہوتی ہے ۔ سہج سیتی ۔ ذہنی سکون سے ۔ گھر ۔ ذہن نشین (14) بھگت کرہو۔ عبادت وریاضت۔ لولائے ۔ دھیان اور توجہ اور پیار سے ۔ ہرگن گاویہہ۔ الہٰی حمدوثناہ سے ۔ نرمل۔ پاک۔ نرمل گن پاتساہا ہے ۔ پاکزگی الہٰی وصف ہے (15) وگسے ۔ خوش ہوتا ہے ۔ بے پرواہا ۔ بے محتاج ۔ و سب نگر نہیں۔
ترجمہ:
بلند قسمت اور خوش قسمت جو سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں جو خدا کے صدیوی نام جو سچ ہے ست ہے حقیقت ہے سسے پیار کرتے ہیں۔ صدیوی آرام و آسائش پہنچانے والا خدا دلمیں بستا ہے ۔ پاک کلام سے ذہنی و روھانی جوش و خروش بنا رہتا ہے (1) اگر خدا کی نظر عنایت و شفقت ہو تو مرشد سے ملاتا ہے الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت دلمیں بساتا ہے ۔ جب ہر طرح کے آرام و آسائش پہنچانے والا خدا بس جائے تو کلام سے دلمیں جوش و خروش اور روحانی واخلاقی زندگی کی لرہیں بنتی ہیں (2) خدا جب مہربان ہوتا ہے تو ملاپ بناتا ہے ۔ خودی میں میری مراد خویشتا مٹاتا ہے ۔ صرف الہٰی محبت کی وجہ سے ہمیشہ آزادی رہتا ہے ۔ اسکا کسی سے واسطہ اور تکرار نہیں رہتا ۔ (3) مرشد کی کدمت کے بغیر انسان ہوش و عقل و سمجھ سے کالی ذہنی اور بے سمجھی کے اندھیرا غبار مین زندگی گذارتا ہے ۔ کلام و سبق کے بغیر کنارہ نہیںپاتا زندگی کا مراد زندگی کامیاب نہیں ہوتی۔ جنہون نے کلام اپانائیا وہ طارق ہوئے خدا کا کلام ہی انکے لئے منافع بخش ہے (4) خدا نے آغاز سے اپنی طرف سے عذآب و آسائش تحریر کیا ہوا ہے ۔ دنیاوی محبت بھی خود ہی پیدا کی ہے ۔ مرید مرشد ہونے سے انسان اس سے بیلاگ رہتا ہے جبکہ مرید من کا کوئی اعتبار یا یقین نہیں (5) مرید من وہی ہے جسے کلام کی پہچان نہیں مرشد کے خوف کی کوئی قدرقیمت نہیں۔ ۔ خوف کے بگیر بیخوفی سچے خدا کو کیسے پا سکتے ہیں نامعلوم کب موت آجائیگی (6)مغرورموتکو ختم نہیں کر سکتے جبکہکلام مرشد کے نزدیک نہیں پھتکتی اور کلام سنکر دور بھاگتی ہے کہ کہین ایسا نہ ہو کہ بے محتاج خدا کوئی سزا ہی نہدیدے ۔ سارے عالم میں خدا کیحکمرانی ہے ۔ اسکے آگے فرشتہ موت کی مجال ہی کیاماتحت نے حکم کی تعمیل کرنی ہوتی ہے حکم سے زندگی ختم کرتا ہے (8) مرید مرشد کو یہ سمجھ کر یہ عالم یہ دنیا خدا کی پیدا کی ہوئی ہے یہ ساری قائنات قدرت خدا کی پیدا کردہ ہے مرید مرشد ہونے سے سچ مراد خدا اور حقیقتکی سمجھ آتی ہے سچے پاک کلام سے آرام و آسائش حاسل ہوتا ہے (9) مرید مرشد ہوکر اعمال کے طریقے بنانے والے کی س مجھ آتی ہے چاروں وقتوں اور زمانوں میں کلام مرشد کے ذریعے پہچان بنتی ہے مرید مرشد تناسخ میں نہیں پڑتا نہ اور وہ ہہمیشہ کالم میں محو ومجذوب رہتا ہے (10) مرید مرشد انسای رسائی عقل و ہوش سے بعید خدا کے نام ست سچ جو صدیوی ہے حق و حقیقت ہے کلام کے ذریعے حمدوثناہ کرتا ہے ۔ نام سچ حق و حقیقت چاروں وقتوں اور زمانون یں لوگوں کو بچانے کایاب بنانے کا واحد وسیلہ رہا ہے ۔ اور کلام سے نام کے سودے کی خریداری کی جاسکتی ہے (11) مرید مرشد ہمیسہ پر سکون رہتا ہے آرام و آسائش پاتا ہے دلمیں الہٰی نام ست بساتا ہے مرید مرشد ہونے سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت اور ست کا پتہ چلتا ہے اس سے بدعقلی بد چلنی کا پھندہکٹ جاتا ہے (12) مرید مرشد جس نے پیاد کیا ہے اسی میں محو ومجذوب رہتا ہے تناسخ میں نہیں پڑتا ۔ مرید مرشد خدا کے عشق و محب ت میں محو رہتا ہے اور ہر روز یہی منافع کماتا ہے (13) مرید مرشد خدا کے پیارے دربار الہٰی کی زینت بنتے ہیں۔ سچی صدیوی کلام زندگی کو آراستہ اور راہ راست پر لاتی ہے ۔ ہر روز الہٰی حمدوثناہ کرنے سے ذہن نشینی اور روحانی سکون پاتا ہے (14) سچے کامل مرشد کلام سناتا ہے کہ روز الہٰی بندگی اور عبادت کیجیئے الہٰی صفت صلاح سے انسانی زندگی اور پاک و پائس ہو جاتا ہے پاک اوصاف والا ہے خداوند کریم (15) گن یا اوصاف کی نعمت بخشنے والا ہے وہی خداوند کریم ۔ اسکی سمجھ کسی مرید مرشد کو ہوتی ہے ۔ اے نانک۔ جو خادم خدا کے نام (ست) سچ حق و حقیقت کی صفت صلاح کرتا ہے اس بے محتاج خدا کے نام کی خوشباشی اسے نصیب ہوتی ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
ہرِ جیِءُ سیۄِہُ اگم اپارا ॥
تِس دا انّتُ ن پائیِئےَ پاراۄارا ॥
گُر پرسادِ رۄِیا گھٹ انّترِ تِتُ گھٹِ متِ اگاہا ہے ॥੧॥
سبھ مہِ ۄرتےَ ایکو سوئیِ ॥
گُر پرسادیِ پرگٹُ ہوئیِ ॥
سبھنا پ٘رتِپال کرے جگجیِۄنُ دیدا رِجکُ سنّباہا ہے ॥੨॥
پوُرےَ ستِگُرِ بوُجھِ بُجھائِیا ॥
ہُکمے ہیِ سبھُ جگتُ اُپائِیا ॥
ہُکمُ منّنے سوئیِ سُکھُ پاۓ ہُکمُ سِرِ ساہا پاتِساہا ہے ॥੩॥
سچا ستِگُرُ سبدُ اپارا ॥
تِس دےَ سبدِ نِسترےَ سنّسارا ॥
آپے کرتا کرِ کرِ ۄیکھےَ دیدا ساس گِراہا ہے ॥੪॥
کوٹِ مدھے کِسہِ بُجھاۓ ॥
گُر کےَ سبدِ رتے رنّگُ لاۓ ॥
ہرِ سالاہہِ سدا سُکھداتا ہرِ بکھسے بھگتِ سلاہا ہے ॥੫॥
ستِگُرُ سیۄہِ سے جن ساچے ॥
جو مرِ جنّمہِ کاچنِ کاچے ॥
اگم اگوچرُ ۄیپرۄاہا بھگتِ ۄچھلُ اتھاہا ہے ॥੬॥
ستِگُرُ پوُرا ساچُ د٘رِڑاۓ ॥
سچےَ سبدِ سدا گُنھ گاۓ ॥
گُنھداتا ۄرتےَ سبھ انّترِ سِرِ سِرِ لِکھدا ساہا ہے ॥੭॥
سدا ہدوُرِ گُرمُکھِ جاپےَ ॥
سبدے سیۄےَ سو جنُ دھ٘راپےَ ॥
اندِنُ سیۄہِ سچیِ بانھیِ سبدِ سچےَ اوماہا ہے ॥੮॥
اگِیانیِ انّدھا بہُ کرم د٘رِڑاۓ ॥
منہٹھِ کرم پھِرِ جونیِ پاۓ ॥
بِکھِیا کارنھِ لبُ لوبھُ کماۄہِ دُرمتِ کا دوراہا ہے ॥੯॥
پوُرا ستِگُرُ بھگتِ د٘رِڑاۓ ॥
گُر کےَ سبدِ ہرِ نامِ چِتُ لاۓ ॥
منِ تنِ ہرِ رۄِیا گھٹ انّترِ منِ بھیِنےَ بھگتِ سلاہا ہے ॥੧੦॥
میرا پ٘ربھُ ساچا اسُر سنّگھارنھُ ॥
گُر کےَ سبدِ بھگتِ نِستارنھُ ॥
میرا پ٘ربھُ ساچا سد ہیِ ساچا سِرِ ساہا پاتِساہا ہے ॥੧੧॥
سے بھگت سچے تیرےَ منِ بھاۓ ॥
درِ کیِرتنُ کرہِ گُر سبدِ سُہاۓ ॥
ساچیِ بانھیِ اندِنُ گاۄہِ نِردھن کا نامُ ۄیساہا ہے ॥੧੨॥
جِن آپے میلِ ۄِچھوڑہِ ناہیِ ॥
گُر کےَ سبدِ سدا سالاہیِ ॥
سبھنا سِرِ توُ ایکو ساہِبُ سبدے نامُ سلاہا ہے ॥੧੩॥
بِنُ سبدےَ تُدھُنو کوئیِ ن جانھیِ ॥
تُدھُ آپے کتھیِ اکتھ کہانھیِ ॥
آپے سبدُ سدا گُرُ داتا ہرِ نامُ جپِ سنّباہا ہے ॥੧੪॥
توُ آپے کرتا سِرجنھہارا ॥
تیرا لِکھِیا کوءِ ن میٹنھہارا ॥
گُرمُکھِ نامُ دیۄہِ توُ آپے سہسا گنھت ن تاہا ہے ॥੧੫॥
بھگت سچے تیرےَ درۄارے ॥
سبدے سیۄنِ بھاءِ پِیارے ॥
نانک نامِ رتے بیَراگیِ نامے کارجُ سوہا ہے ॥੧੬॥੩॥੧੨॥
لفظی معنی:(ترجمہ)
ا ے میری جان خدا کی خدمت کیجیئے جو انسانی عقل و ہوش سے بعید ہے جو اتنا وسیع ہے کہ کنارہ ہی نہیں نہ اسکا آخر ہے نہ اسکے ادھر ے اور ادھرے کنارے ۔ رحمت مرشد سےجس کے دلمیں بس جاتا ہے وہ باعقل وشعور اور نہایت ذہن اور روشن دماغ ہوجاتا ہے (1) سب میں ایسا وہی خدا بستا ہے جو رحمت مرشد سے ظہور مین اور روشن ی میں آتا ہے ۔ سبھ کی پرورش کرتا ہے اور سبھ کو روزی پہنچاتا ہے (2) کامل مرشد نے خود سمجھنے کے بعد سمجھائیا ہے ۔ سارا عالم خدا کے فرامن سے پیدا ہوا ہے جو اسکی فرمانبرداری کرتا ہے آرام و اسائش پاتا ہے ۔ اسکا فرمان شاہوں کے بادشاہوں پر بھی چلتا ہے (3) سچے مرشد کا سبق بھی اہمیت والا ہے ۔ اُسکے کلام سے عالم نے کامیابی حاسل کی ہے اپنی کار کرکے خود اُسکی نگرانی کرتا ہے اور لقمہ اور سانس بخشش کرتا ہے (4) کروڑوں میں سے کسی کو ہی سمجھتا ہے جو کلام مرشد کے پایار مین محو رہتے ہیں اور ہر طرح کا آرام و آسائش عنایت کرتا ہے کی صٖت صلاح کرتے ہیں خدا انہیں الہٰی عبادت اوصفت صلاح عنایت کرتا ہے (5) جو سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں انکی زندگی پاک ہوجاتی ہے جو پس و پیش اور تناسخ میںپڑے رہتے ہین انکی زندگی روحانی اور اخلاقی طور پر کمزور ہو جاتی ہے انسانی رسائی عقل و ہوش سے بعید بے محتاج عبادت وریاضت سے پیار رنے والا نہایت سنجیدہ اور گہری سوچ والا ہے (4) کامل مرشد انسان کے ذہن میں الہٰینام ست سچ و حقحقیقت مستقل طور پر بساتا ہے ۔ وہ کلام کے ذریعے خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے اُسے یہ محسوس ہونے لگاتا ہے کہ سب کے دلمیں خدا بستا ہے اور ہر ایک کا وقت (فتن) مخصوص اور مقرر ہے ۔ مراد اس جہاں سے جانیکا (7) مرید مرشد خدا کو ساتھ بسا حاضر ناظر سمجھتا ہے ۔ جو کلام کے ذریعے عبادت وریاجت کرتا ہے وہ دنیاویو خواہژات سے اور دنیاوی دؤلت کی تمناوں سے پر سر رہتا ہے جو ہر روز سچے صدیوی کلام سے خدا کی خدمت عبادت وریاضت سے کرتے ہیں ۔ انکے ذہن اور دل و دماغ مین روھانی سکون اُمڈتا ہے اور لہرین اُٹھتی ہیں (8) روحای واخلاقی زندگی سے بیخبر انسان مذہبی روایتی رسموں رواجون دنیاوی دولتکی محبت زیارت گاہوں کی زیارت پر زور دیتا ہے پختہ گراتا ہے ۔ مگر جو انسان بار بار دلی ضد سے کام کرتا ہے تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔ جو دولت کمانے کا لالچ کرتے ہیں انکی زندگی مین بدعقلی اور دوچتی دوہرے خیالات حائل ہو جاتے ہیں (9) کامل مرشد جس کو الہٰی خدمت عبادت وریاضت کا یقین وایمان پیدا کر دیتا ہے دلمین وہ کلام مرشد کے ذریعے الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں دل لگاتا ہے ۔ خدا ُسکے ذہن دل و دماغ میں بستا رہتا ہے وہ متاثر ہوکر عبادت وریاضت اور حمدوثناہ کرتا رہتا ہے (10) (سچے) سچا صدیوی خدا اکلاق و روحانیت دشمن دیووں کو کتم کرنے والا ہے ۔ کلام مرشد کی برکت سے عابدوں وخدمتگاروں کو کامیاب زندگی بخشنے والا ہے ۔۔ میرا خدا صدیوی پاک اور شاہوں بادشاہون پر حکمران ہے (11) وہی ہیں عابد وخدمتگار سچے اور پاک جو ہیں دلی محبوب تیرے ۔ وہ تیرے در پر اے خدا تیری حمدوثناہ کرتے ہیں کلام مرشد سے رن کی روحانی زندگی بہتر ہوجاتی ہے وہ ہر روز پاک کلام گاتے ہیں اور بے سرو سامان گنگال کے لئے نام سرمایہاور دولت ہے (12) اے خدا جن ہیں تو ملاتا ہے جدائی نہیں دیتا وہ ہمیشہ کلام مرشد کے ذریعے تیری حمدوچناہ کرتے ہین اے خدا تو سب کا واحد ماکلک ہے کام سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت تیری ہی صفت صلاح ہے (13) کلام کے بغیر تیری شناکت و پہچان نہیں ہو سکتی ۔ تو خود بخود اپنی بیان سے باہر کہانی بیان کرتا ہے تو خود ہی مرشد کی شکل وصورت میں کلام بخشتا ہے عنایت کرتا ہے اور خود ہی الہٰی نام ذہن نشینی کے لئے پہنچاتا ہے (14) اے خدا تو خود ہی دنیا پیدا کرنے والا ہے کار ساز کرتار ہے تیری تحریر کوئی مٹا نہیں سکتا۔ مٹانے کی توفیق کسی مین ہے ۔ مرشد کے ذریعے نام سچ حق و حقیقت خود ہی بخشش کرتا ہے اسے کسی قسم کی کوئی تشویش اور فکر متاثر نہین کرتے (15) اے خدا تیرے دربار مین تیرے عابد سرخرو رہتے ہیں کیونکہ تیری محبت پریم پیاریں وہ کلام سے تیری خدمت کرتے ہیں۔ اے نانک۔ نام سچ حق و حقیقت سے متاچر ہوکر انسان طارق ہو جاتا ہے الہٰی نام سچ و حقیقت سے کام کامیاب ہوجاتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
میرےَ پ٘ربھِ ساچےَ اِکُ کھیلُ رچائِیا ॥
کوءِ ن کِس ہیِ جیہا اُپائِیا ॥
آپے پھرکُ کرے ۄیکھِ ۄِگسےَ سبھِ رس دیہیِ ماہا ہے ॥੧॥
ۄاجےَ پئُنھُ تےَ آپِ ۄجاۓ ॥
سِۄ سکتیِ دیہیِ مہِ پاۓ ॥
گُر پرسادیِ اُلٹیِ ہوۄےَ گِیان رتنُ سبدُ تاہا ہے ॥੨॥
انّدھیرا چاننھُ آپے کیِیا ॥
ایکو ۄرتےَ اۄرُ ن بیِیا ॥
گُر پرسادیِ آپُ پچھانھےَ کملُ بِگسےَ بُدھِ تاہا ہے ॥੩॥
اپنھیِ گہنھ گتِ آپے جانھےَ ॥
ہورُ لوکُ سُنھِ سُنھِ آکھِ ۄکھانھےَ ॥
گِیانیِ ہوۄےَ سُ گُرمُکھِ بوُجھےَ ساچیِ سِپھتِ سلاہا ہے ॥੪॥
دیہیِ انّدرِ ۄستُ اپارا ॥
آپے کپٹ کھُلاۄنھہارا ॥
گُرمُکھِ سہجے انّم٘رِتُ پیِۄےَ ت٘رِسنا اگنِ بُجھاہا ہے ॥੫॥
سبھِ رس دیہیِ انّدرِ پاۓ ॥
ۄِرلے کءُ گُرُ سبدُ بُجھاۓ ॥
انّدرُ کھوجے سبدُ سالاہے باہرِ کاہے جاہا ہے ॥੬॥
ۄِنھُ چاکھے سادُ کِسےَ ن آئِیا ॥
گُر کےَ سبدِ انّم٘رِتُ پیِیائِیا ॥
انّم٘رِتُ پیِ امرا پدُ ہوۓ گُر کےَ سبدِ رسُ تاہا ہے ॥੭॥
آپُ پچھانھےَ سو سبھِ گُنھ جانھےَ ॥
گُر کےَ سبدِ ہرِ نامُ ۄکھانھےَ ॥
اندِنُ نامِ رتا دِنُ راتیِ مائِیا موہُ چُکاہا ہے ॥੮॥
گُر سیۄا تے سبھُ کِچھُ پاۓ ॥
ہئُمےَ میرا آپُ گۄاۓ ॥
آپے ک٘رِپا کرے سُکھداتا گُر کےَ سبدے سوہا ہے ॥੯॥
گُر کا سبدُ انّم٘رِت ہےَ بانھیِ ॥
اندِنُ ہرِ کا نامُ ۄکھانھیِ ॥
ہرِ ہرِ سچا ۄسےَ گھٹ انّترِ سو گھٹُ نِرملُ تاہا ہے ॥੧੦॥
سیۄک سیۄہِ سبدِ سلاہہِ ॥
سدا رنّگِ راتے ہرِ گُنھ گاۄہِ ॥
آپے بکھسے سبدِ مِلاۓ پرمل ۄاسُ منِ تاہا ہے ॥੧੧॥
سبدے اکتھُ کتھے سالاہے ॥
میرے پ٘ربھ ساچے ۄیپرۄاہے ॥
آپے گُنھداتا سبدِ مِلاۓ سبدےَ کا رسُ تاہا ہے ॥੧੨॥
منمُکھُ بھوُلا ٹھئُر ن پاۓ ॥
جو دھُرِ لِکھِیا سُ کرم کماۓ ॥
بِکھِیا راتے بِکھِیا کھوجےَ مرِ جنمےَ دُکھُ تاہا ہے ॥੧੩॥
آپے آپِ آپِ سالاہے ॥
تیرے گُنھ پ٘ربھ تُجھ ہیِ ماہے ॥
توُ آپِ سچا تیریِ بانھیِ سچیِ آپے الکھُ اتھاہا ہے ॥੧੪॥
بِنُ گُر داتے کوءِ ن پاۓ ॥
لکھ کوٹیِ جے کرم کماۓ ॥
گُر کِرپا تے گھٹ انّترِ ۄسِیا سبدے سچُ سالاہا ہے ॥੧੫॥
سے جن مِلے دھُرِ آپِ مِلاۓ ॥
ساچیِ بانھیِ سبدِ سُہاۓ ॥
نانک جنُ گُنھ گاۄےَ نِت ساچے گُنھ گاۄہ گُنھیِ سماہا ہے ॥੧੬॥੪॥੧੩॥
لفظی معنی:
ساچے ۔ صدیوی سچے ۔ رچائیا۔ پیدا کیا۔۔۔ بنائیا۔ اُپائیا۔ پیدا کیا۔ وگسے ۔ خوش ہوتا ہے ۔ رس۔ مزے ۔ ماہا ۔ میں (1) واجے بؤن ۔ ہوا چلتی ہے مراد سانس جاری ہیں۔ سیوسکتی ۔ دنیاوی دؤلت ۔ گر پرسادی۔ رھمت مرشد سے ۔ اُلتی خلاف۔ گیان ۔ علم۔ دانش۔ سبد۔ کلام۔تاہا۔ اُسے (2) اندھیرا۔ مراد دنیاوی دؤلت کی محبت ۔ چانن۔ روشنی۔ دانش۔ اور نہ بیا نہیں کوئی دوسرا۔ کمل وگسے ۔ ذہن ۔ ذہنی خوشی۔ بدھ۔ عقل ۔ ہوش۔ آپ پچھانے ۔ اپنے اعمال و کرتوت کی پہچان (3) گہن گت ۔ اپنے اعمال کی نیکی بدی۔ اچھائی ۔ بدائی ۔ بلندی و پستی۔۔ آکھ وکھانے ۔ کہا بیان کرنا۔ گیانی۔ عالم ۔ گورمکھ۔ مرید مرشد (4) دست۔ اشیا۔ کیٹ۔ کوآڑ۔ تختے ۔ انمرت۔ آبحیات۔ ایسا پانی جو زندگی کو روحانی واخلاقی طور پاک بناتا ہے ۔ ترشنا۔ خواہشات (5) رس۔ لطف۔ مزے ۔ ورے ۔ کسی کو ہی۔ گر سبد۔ کلام مرشد۔ بجھائے ۔ سمجھاتا ہے ۔ اندر کھوبے ۔ اپنے کردار واعمال وخیالتکے نیک و بد۔ اچھائیان۔ برائیاں کی تحقیق کرے اور تمیز اور تفریق میں دھیان لگائے ۔۔ سوچے اور سمجھے ۔ باہر کا ہے ۔ لوبھٹکن ارو دوڑ دہوپ میں کیوں۔ (6) چاکھے ۔ رس لئے ۔ ساد۔ لطف۔ امراپد۔ حیات جاویداں۔ رس تاہا ہے ۔ لطف ایسا ہے (7) سبد ہر نام وکھانے ۔ کلام سے الہٰی نام ست بیان کراتا ہے ۔چکاہا ہے ۔ دور کر لیتا ہے (8) ہونمے ۔ میرا۔ خودی اور اپنے زیر اختیارات کا لالچ ۔ سوہاہے ۔ زندگی اچھی ہو جاتی ہے (9) بانی۔ بول۔ ہرکا نام وکھانی۔ ہر روز ۔ خدا کا نام ست بیان کر۔ سچا۔ صدیوی سچا۔ گھٹ انتر۔ دلمیں۔ سوگھٹ نرمل۔ وہ دل و ذہن پاک و متبرک ہوجاتا ہے (10) پرملداس۔ چندن کی خوشبو (11) اکتھ کتھے ۔ ناقابل بیان کو بیان کرے (12) بھولا۔ گمراہ ۔ ٹھور۔ ٹھکانہ ۔کرمکمائے۔ اعمال کرے ۔ وکھیا راتے ۔ دنیاوی دولت مین محو ومجذوب۔ کھوجے ۔ تلاش کرے ۔ مرجنمے دکھ۔ موت و پیدائش ۔ تناسخ کا عذاب (13) الکھ ۔ انسنای عقل و ہوش سے بعد (14) لکھ کوتی ۔ لاکھوں کرورون ۔ کرم۔ اعمال۔ سبدے کالم سے ۔ سچ۔ صدیوی خدا (15) ساچی ۔ بانی۔ پاک کلام۔ گن۔ اوصاف۔ گنی ۔ اوصاف کا مالک۔
ترجمہ:
صدیوی سچے پاک خدانے اس دنیا کو اپنے لئے ایک کھیل بنائیا ہے اور اس میں کوئی بھی جادنار کسی دوسرے جیسا نہیں پیداکیا اور ایک دوسرے کے فرق کو دیکھ کر خود ہی خوش ہوتا ہے اور جس م میں تمام لطف اور مزے پیدا کر دیئے ہیں (1) خود ہی سانس کا ساز پیداکیا ہے اور اس جسم میں دؤلت اور روح پیدا کی ہے ۔ اگر رحمت مرشد سے دنیاوی دولت کی طرف جس سے زندگی روحانی واخلاقی بن جاتی ہے ھاصل ہو جاتا ہے (2) ذہانت اور جہالت خدا کی خود پیدا کردہ ہے ۔ سارے عالم میں خدا خود بستا ہے اسکے علاوہ نہیں کوئی ثانی اسکے ہستی دوسری۔ جو رحمت مرشد سے اپنی اکلاخی در روحانی زندگی کی تحقیق کرتا ہے اُسکا ذہن روشن اور دل خوش رہتا ہے وہ باعقل وشعور ہوجاتا ہے (3) اپنی پاکیزہ حالت کے متعلق خدا کو خود ہی معلوم ہے ورنہ لوگ دوسروں سے سن سنکر خود بیان کرتے ہیں ۔ جو شخس روحانیت کا وافکار ہوجاتاہے وہ اس راز کو سمجھ جاتا ہے اور صدیوی خدا کیحمدوثناہ کرتا رہتا ہے (4)اس جسم میں یشمار نعمتیں موجود ہیں۔ جنکا دروازہ کھولنے کی توفیق اس خدا کے پاس ہے مرید مرشد آسانی سے آبحیات جس سے زندگی جاویداں اخلاقی روحانی وہجاتی ہے پیا جا سکتا ہے ۔ جس سے خواہشات کی جلن بجھ جاتی ہے (5) اس انسانی جسممیں بیشمار لطف اور مزے پائے ہوئے ہیں کسی کو ہی کلام مرشد کے ذریعے سمجھائیا ہے اگر انسان اسے اپنے ذہن میں ہی اسکی جستجو اور تلاش کرے تو کلام سے صفت صلاح کرے تو باہر تلاش کرنے کی ضرور ت ہی کیا ہے (6)بغیر استعمال اور صرف کرنے کے لطف کس نے لیا ہے ۔ جسے خدا مرشد کے کلام سے آبحیات پلاتا ہے انسان اس آبحیات پی کر جاویداں ہوجاتا ہے جہاں روحانی موت بے اثر ہوجاتا ہے تب وہ کلام مرشد کا مزہ لیتا ہے (7) جو اپنی روحانی زندگی کو پہچان لیت وہ تمام اوصاف کا واقفکار ہوجاتا ہے ۔ کلام مرشد سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت کا ذکر کرتا ہے ہر روز نام میں محویت سے دنیاوی دؤلت کی محبت ختم ہوجاتی ہے (8) خدمت مرشد سے ہر شے حاصل ہوتی ہے انسان خوشتا خود غرضی اور خودیمٹالیتا ہے ۔ جس پر آرام و آسائش پہنچات نے والا سخی مہربان ہوجائے اسکی زندگی کلام مرد سے اچھی ہوجات ہے (9) کلام مرشد آبحیات ہے جو انسانی زندگی کو روحانی واخلاقی طور پر پاک بناتی ہے جو ہر روز الہٰی نام سچ حق و حقیقت بیان کرت ہے جسکے خدا بس جاتا ہے وہ دل پاک اور قابل احترام ہو جاتا ہے (10) خدمتگار خدمت اور کلام سے صفت صلاھ کرتا ہے خدا کی محبت میں سر شار رہتاہ ے جسے خود سبد سےملاتا ہے جو شخص بے محتاج صدیوی سچے خدا کی کلام کے ذریعے جو بیان نہیں ہو سکتا بیان کرتا ہے اور صف صلاح کرتا ہے اوصاف بخشش کرنے والا خدا اسے کلام مرشد میں ملائے رکھتا ہے جس سے اسے کلام کا لطف آنے لگتا ہے (12) گمراہ مرید من کو کہیںٹھکانہ نہیں ملتا جو خدا کی طرف سے تحریر ہے وہ وہی کام کرتا ہے اُسکے پہلے کئے ہوئے اعمالون کی مطابق وہ دنیاوی دؤلت کی مستی میں سر شار سرمائے کی تلاش میں رہتا ہے لہذا آواگون میں پڑارہتا ہے (14) اگر کوئی اپنے طور پر حمدوثناہ کرتا ہے اے خدا تیری صفت تیرے وصف تیرے ندر ہی ہیں تو خود صدیوی سچا ہے تیرے بول تیرا کلام پاک اور صدیوی سچا ہے تو بیان سے باہر اور نہایت سنجیدہ ہے (14) کوئی خوآہ کتنے ہی مذہبی اعمال کرے مگر مرشد کے بغیر لا حاصل ہے خدا رھمت مرشد سے دلمین بستا ہے وہ کلام سے صفت صلاھ کرتا ہے (15) خدا سے ملاپ اُسی کا ہوتا ہے جسکا ملاپ ا ز خود کراتا ہے صدیوی سچے کلام سے زندگی آراستہ ہو جاتی ہے خادم نانک۔ ہر روز پاک خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے صفت صلاح کرنے سے اس اوصاف کے مالک میں محوومجذوب ہو جاتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
نِہچلُ ایکُ سدا سچُ سوئیِ ॥
پوُرے گُر تے سوجھیِ ہوئیِ ॥
ہرِ رسِ بھیِنے سدا دھِیائِنِ گُرمتِ سیِلُ سنّناہا ہے ॥੧॥
انّدرِ رنّگُ سدا سچِیارا ॥
گُر کےَ سبدِ ہرِ نامِ پِیارا ॥
نءُ نِدھِ نامُ ۄسِیا گھٹ انّترِ چھوڈِیا مائِیا کا لاہا ہے ॥੨॥
رئیِئتِ راجے دُرمتِ دوئیِ ॥
بِنُ ستِگُر سیۄے ایکُ ن ہوئیِ ॥
ایکُ دھِیائِنِ سدا سُکھُ پائِنِ نِہچلُ راجُ تِناہا ہے ॥੩॥
آۄنھُ جانھا رکھےَ ن کوئیِ ॥
جنّمنھُ مرنھُ تِسےَ تے ہوئیِ ॥
گُرمُکھِ ساچا سدا دھِیاۄہُ گتِ مُکتِ تِسےَ تے پاہا ہے ॥੪॥
سچُ سنّجمُ ستِگُروُ دُیارےَ ॥
ہئُمےَ ک٘رودھُ سبدِ نِۄارےَ ॥
ستِگُرُ سیۄِ سدا سُکھُ پائیِئےَ سیِلُ سنّتوکھُ سبھُ تاہا ہے ॥੫॥
ہئُمےَ موہُ اُپجےَ سنّسارا ॥
سبھُ جگُ بِنسےَ نامُ ۄِسارا ॥
بِنُ ستِگُر سیۄے نامُ ن پائیِئےَ نامُ سچا جگِ لاہا ہے ॥੬॥
سچا امرُ سبدِ سُہائِیا ॥
پنّچ سبد مِلِ ۄاجا ۄائِیا ॥
سدا کارجُ سچِ نامِ سُہیلا بِنُ سبدےَ کارجُ کیہا ہے ॥੭॥
کھِن مہِ ہسےَ کھِن مہِ روۄےَ ॥
دوُجیِ دُرمتِ کارجُ ن ہوۄےَ ॥
سنّجوگُ ۄِجوگُ کرتےَ لِکھِ پاۓ کِرتُ ن چلےَ چلاہا ہے ॥੮॥
جیِۄن مُکتِ گُر سبدُ کماۓ ॥
ہرِ سِءُ سد ہیِ رہےَ سماۓ ॥
گُر کِرپا تے مِلےَ ۄڈِیائیِ ہئُمےَ روگُ ن تاہا ہے ॥੯॥
رس کس کھاۓ پِنّڈُ ۄدھاۓ ॥
بھیکھ کرےَ گُر سبدُ ن کماۓ ॥
انّترِ روگُ مہا دُکھُ بھاریِ بِسٹا ماہِ سماہا ہے ॥੧੦॥
بید پڑہِ پڑِ بادُ ۄکھانھہِ ॥
گھٹ مہِ ب٘رہمُ تِسُ سبدِ ن پچھانھہِ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ تتُ بِلوۄےَ رسنا ہرِ رسُ تاہا ہے ॥੧੧॥
گھرِ ۄتھُ چھوڈہِ باہرِ دھاۄہِ ॥
منمُکھ انّدھے سادُ ن پاۄہِ ॥
ان رس راتیِ رسنا پھیِکیِ بولے ہرِ رسُ موُلِ ن تاہا ہے ॥੧੨॥
منمُکھ دیہیِ بھرمُ بھتارو ॥
دُرمتِ مرےَ نِت ہوءِ کھُیارو ॥
کامِ ک٘رودھِ منُ دوُجےَ لائِیا سُپنےَ سُکھُ ن تاہا ہے ॥੧੩॥
کنّچن دیہیِ سبدُ بھتارو ॥
اندِنُ بھوگ بھوگے ہرِ سِءُ پِیارو ॥
مہلا انّدرِ گیَر مہلُ پاۓ بھانھا بُجھِ سماہا ہے ॥੧੪॥
آپے دیۄےَ دیۄنھہارا ॥
تِسُ آگےَ نہیِ کِسےَ کا چارا ॥
آپے بکھسے سبدِ مِلاۓ تِس دا سبدُ اتھاہا ہے ॥੧੫॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ ہےَ تِسُ کیرا ॥
سچا ساہِبُ ٹھاکُرُ میرا ॥
نانک گُربانھیِ ہرِ پائِیا ہرِ جپُ جاپِ سماہا ہے ॥੧੬॥੫॥੧੪॥
لفظی معنی:
نہچل۔ مستقل ۔ سچ سوئی۔ وہ صدیوی سچا۔ سوجھی ۔ سمجھ ۔۔ ہر رس۔ بھینے ۔ الہٰی لطف سے متاچر۔ دھیائن۔ توجہ دیتے ہیں۔ گرمت سبق مرشد۔ سیل سناہا۔ شرافت یا نیکی کا زرہ بکتر (1) رنگ ۔ پریم ۔ پیار۔ سچیارا۔ خوش اخلاق۔ نیک چلن ۔ ناؤندھ نام۔ دنیاوی نعمتوں کے نؤ خزانے ۔ لاہا۔ لالچ (2) وھیائن توجہ دینا ۔ دھیان لگانا۔ رعیت ۔ رعایا۔ راجے ۔ حکرمان ۔ درمت ۔ بد علقی۔ دوئی ۔ دونون ۔ ایک ۔ واحد ۔ ایک دیائن۔ اگر وحدت میں توجہ ہو۔ نہچل۔ مستقل ۔ تناہا۔ ان کا (3) ساچا۔ صدیوی سچا خدا۔ گت مکت ۔ آزادانہ حالت۔ تسے تے ۔ اُسی سے (4) سچ سنجم۔ حقیقت اور پر ہیز گاری ۔ ہونمے کرؤدھ۔ خودی اور غصہ ۔ نوارے مٹاتا ہے ۔ سیل شرافت ۔ نیکی سنتوکھ ۔ صبر۔ تاہا۔ وہان (5) ونسے ۔ متتاہے ۔ نام وسارا۔ سچ حق و حقیقت بھا کر ۔ لاہا۔ منافع (6) سچا امر۔ صدیوی سچا فرمان۔ حکم۔ سہائیا۔ اچھا ۔ پنچ سبد۔ پانچ قسم کے سانر ملاکر۔ واجا وائیا ۔ باجہ بجائیا۔ مراد مکمل سکون حاصل کیا۔ کارج ۔ کام ۔ سچ نام۔ سچے نام۔ ست سچ حق و حقیقت۔ سوہیلا۔ آسان۔ گیہا ۔ گیسا (7) کھ میہہ۔ آنکھ جھپکنے جتنے وقفے میں۔ دوجی درمت۔ دوسری دنیاوی محبت کی بے عقلی۔ سنجوگ۔ ملاپ وجوگ ۔ وچھوڑا ۔ کرت۔ پہلے کمائے اعمالون کا اثر (8) جیون مکت۔ دؤران حیات نجات۔ روگ۔ بیماری (9) پنڈ ۔پیٹ۔ جسم۔ بھیکھ۔ دکھاوا۔ نمائش۔ لسٹا۔ گندگی (10) سماہا۔ لوث (11) وتھ۔ نعمت۔ بدارتھ۔ دھاویہہ۔ دوڑ دہوپ ۔ بھٹکن۔ ساد۔ لطف۔۔ ان رس۔ غیر لطفوں میں۔ راتی رسنا۔ ملوث زبان۔ پھکی۔ بد مزہ۔ مول۔ بالکل (12) بھرم۔ شک شبہ۔ بھتارو۔ خاوند۔ درمت۔ بدعقلی۔ خوآرو۔ ذلیل۔ کام کرؤدھ ۔ شہوت اور غسے ۔ سنہے ۔ خوآب میں۔ دوے ۔ دنیاوی دؤلت کی مھبت میں۔ تاہا۔ اُسے (13) کنچن دیہی ۔ سونے جیسا جسم۔ سبد بھتارو۔ کلام خاوند۔ بھوگ ۔ بھوگے ۔ استعمال کرے ۔ مولا اندر ۔ غیر محل پائے ۔ ٹھکانے مین بے ٹھکانہ ملے ۔ بھانا بجھ ۔ رجا سمجھ (14) ویونہارا۔ دینے کی توفیق رکھنے والا۔ چار ۔ پیش ۔ طاقت۔ ہیلل۔ اتھاہا۔ گہرا۔ نہایت با عقل و شعور (15) جیؤ ۔ روح۔ زندگی ۔ پنڈ ۔ جسم۔ تس کیرا۔ اسکا ۔ سچا صاحب۔ سچا آقا۔ ٹھاکر۔ مال۔ گربانی۔ کلام مرشد۔ سماہا۔ مجذوب۔
ترجمہ:
اس دنیا میں صدیوی مستقل صرف خدا ہے کامل مرشد سے یہ سمجھ آئی ہے جو خدا کے لطف سے متاثر ہیں وہ ہمیشہ اس میں دھیان لگاتے ہیں سبق مرشد پر عمل انکے نیک چال چلن کے لئے ایک زرہ بکتر ہے (1) جن کے دلل میں ہے خدا کی محبت وہ حقیقت کا دلدادہ اور حقیقت پرست ہے ۔ کلام مرشد سے اسکے دلمیں الہٰی نام سچ حق و حقیقت سے محبت ہو جاتای ہے ۔ نام جو دنیا کے نو خزانوں جیسا ہے جب دلمیں بس جائے تو دولت کا لالچ چھوت جات اہے (2) حکمران راجے ار رعائیا دونوں بد عقلی کیوجہ سے دوئی دوئش میں گرفتار ہیں ۔ بغیر سچے مرشد کی اتفاق رائے ہیں ہو پاتے ۔ جو وحدت میں یا اتفاق یا یکسوئی مین دھیان لگاتے ہیں آرام ؤآسائش پاتے ہیں۔ انکی حکومت ڈگمگاتی نہیں (3) تناسخ سے کوئی بچا نہیں سکتا موت و پیدائش خدا کے ہاتھ ہے مرید مرشد ہوکر ہمیشہ سچے خدا میں دھیان لگاؤ۔ بلند روحانی زندگی اور برائیوں سے نجات اسی سے ملتی ہے (4) سچ حقیقت سچے مرشد کے در پر پرہیز گار ہے ۔ خودی غصہ اور اشتعال کلام سے مٹتا ہے سچے مرشد کی خدمت سے ہمیشہ آرام و آسائش حاصل ہوتی ہے ۔ شرافت نیکی اور صبر و سکون مرشد کے در سے حاصل ہوتا ہے (5) اس دنیای میں خودی سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔ سارا عالم الہٰی نام سچ و حقیقت کو بھلا کر روحای واخلاقی موت مرتا ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت کے بغیر نام سچ و حقیقت حاصل نہیں ہوتی سچا نام ہی اس دنیا میں منافع بخشش نام ہی ہے (6) صدیوی سچا فرمان رضائے الہٰی کلام سے اچھا لگنے لگتا ہے یہ ایساپر لطف ہےجتنا پانچوں قسم کے ساز بجنے سے لگتا ہے سچے نام سے ہمیشہ کام آسان ہو جاتے ہیں بغیر کلام کام ہی کیسا ہے (7) دوئی دوئش سے کا سر انجا م نہیں پاتے اس پل بھر میں خوشی پل میں غمی ملتی ہے ۔ ملاپ اور جدائی خدا کی تحریر کردہ ہے مگر کے لئے ہوئے اعمال مٹائے نہیں جا سکتے (8) جو انسان کلام مرشد کی مطابق زندگی بسر کرتا ہے وہ خانہ داری میں رہتے ہوئے زندگی کے دوران ہی نجات حاصل کر لیتا ہے ۔ رحمت مرشد سے وہ عظمت و حشمت پاتا ہے اور ہمیشہ خدا میں محو ومجذوب رہتا ہے خودی اسے متاث رنہیں کرتی (9) جو انسان پر لطف کھانے کھا کر جسم کر (فربا) موتا تازہ بناتا ہے اور مذہبی پہراواے بناتا ہے دکھاوا کرتا ہے اور کلام کی مطابق زندگی بسر نہیں کرتا اسکے اندر بھاری بیماری پیدا ہوتی ہے وہ ہر وقت ن بدیوں اور برائیوں میں مبتلاد رہتا ہے (10) لوگ دید اور دوسری مذہبی کتابیں پڑھتے ہیں بحث مباحثے کرتے ہیں خدا جو دلمیں بستا ہے اسکی کلام کے ذریعے پہچان نہیں کرتے ۔ جو مرید مرشد ہوجاتا ہے وہ اصلیت اور حقیقت ڈہونڈتا ہے اسکی زبان پر الہٰی نام کا لطف چھائیا رہتا ہے (11) گھر کی ایشا چھوڑ کر باہر بھٹکتا پھرتا ہے ۔ مرید من عقل و ہوش کے بغیر نابینا نا عاقبت اندیش حقیقت کا لطف نہیں پاتے ۔ دوسرے لطفوں میں محو بدکلامی کرتے ہیں زبان سے الہٰی لطف انہیں بلکل پسند نہیں آتا (12) مرید من کا مالک وہم و گمان ہے ۔ بدعقلی کی وجہ سے روحانی واخلاقی موت مرتا ہےا ور ذلیل وخوآر ہوتا ہے شہوت غصہ اشتعال اور دنیاوی دولت کی محب تمیں اسے خوآب میں بھی آرام و آسائش حاصل نہیں ہوتی (13) یہ سبد جب اس کندن کی مانند جسم کا آقا ہو جائے تو ہ ہر وقت خدا کی محب تمیں مصروف رہتا ہے تو وہ اس لا مکان خدا کو سب کے دل میں بستا دیکھتا ہے اور اسکی رضا کو سمجھ کر اس میں محو ومجذوب رہتا ہے (14) خدا جس میں دینے کی توفیق ہے خو دہی دیتا ہے اس کے سہانے کسی کی مجال ہی کیا ہے وہ خود ہی اپنی بخشش سے سبد سے ملاتا ہے انکا کلام نہایت سنجیدہ ہے (15) یہ روح اور جسم خدا کا دیا ہوا ہے وہ صدیوی ہے اے نانک کلام رمشد سے الہٰی وصل و ملاپ حاصل ہوتا ہے اُسکی یادوریاض سے اسمیں محو ومجذوب ہواجاتا ۔

ماروُ مہلا ੩॥
گُرمُکھِ ناد بید بیِچارُ ॥
گُرمُکھِ گِیانُ دھِیانُ آپارُ ॥
گُرمُکھِ کار کرے پ٘ربھ بھاۄےَ گُرمُکھِ پوُرا پائِدا ॥੧॥
گُرمُکھِ منوُیا اُلٹِ پراۄےَ ॥
گُرمُکھِ بانھیِ نادُ ۄجاۄےَ ॥
گُرمُکھِ سچِ رتے بیَراگیِ نِج گھرِ ۄاسا پائِدا ॥੨॥
گُر کیِ ساکھیِ انّم٘رِت بھاکھیِ ॥
سچےَ سبدے سچُ سُبھاکھیِ ॥
سدا سچِ رنّگِ راتا منُ میرا سچے سچِ سمائِدا ॥੩॥
گُرمُکھِ منُ نِرملُ ست سرِ ناۄےَ ॥
میَلُ ن لاگےَ سچِ سماۄےَ ॥
سچو سچُ کماۄےَ سد ہیِ سچیِ بھگتِ د٘رِڑائِدا ॥੪॥
گُرمُکھِ سچُ بیَنھیِ گُرمُکھِ سچُ نیَنھیِ ॥
گُرمُکھِ سچُ کماۄےَ کرنھیِ ॥
سد ہیِ سچُ کہےَ دِنُ راتیِ اۄرا سچُ کہائِدا ॥੫॥
گُرمُکھِ سچیِ اوُتم بانھیِ ॥
گُرمُکھِ سچو سچُ ۄکھانھیِ ॥
گُرمُکھِ سد سیۄہِ سچو سچا گُرمُکھِ سبدُ سُنھائِدا ॥੬॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ سوجھیِ پاۓ ॥
ہئُمےَ مائِیا بھرمُ گۄاۓ ॥
گُر کیِ پئُڑیِ اوُتم اوُچیِ درِ سچےَ ہرِ گُنھ گائِدا ॥੭॥
گُرمُکھِ سچُ سنّجمُ کرنھیِ سارُ ॥
گُرمُکھِ پاۓ موکھ دُیارُ ॥
بھاءِ بھگتِ سدا رنّگِ راتا آپُ گۄاءِ سمائِدا ॥੮॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ منُ کھوجِ سُنھاۓ ॥
سچےَ نامِ سدا لِۄ لاۓ ॥
جو تِسُ بھاۄےَ سوئیِ کرسیِ جو سچے منِ بھائِدا ॥੯॥
جا تِسُ بھاۄےَ ستِگُروُ مِلاۓ ॥
جا تِسُ بھاۄےَ تا منّنِ ۄساۓ ॥
آپنھےَ بھانھےَ سدا رنّگِ راتا بھانھےَ منّنِ ۄسائِدا ॥੧੦॥
منہٹھِ کرم کرے سو چھیِجےَ ॥
بہُتے بھیکھ کرے نہیِ بھیِجےَ ॥
بِکھِیا راتے دُکھُ کماۄہِ دُکھے دُکھِ سمائِدا ॥੧੧॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ سُکھُ کماۓ ॥
مرنھ جیِۄنھ کیِ سوجھیِ پاۓ ॥
مرنھُ جیِۄنھُ جو سم کرِ جانھےَ سو میرے پ٘ربھ بھائِدا ॥੧੨॥
گُرمُکھِ مرہِ سُ ہہِ پرۄانھُ ॥
آۄنھ جانھا سبدُ پچھانھُ ॥
مرےَ ن جنّمےَ نا دُکھُ پاۓ من ہیِ منہِ سمائِدا ॥੧੩॥
سے ۄڈبھاگیِ جِنیِ ستِگُرُ پائِیا ॥
ہئُمےَ ۄِچہُ موہُ چُکائِیا ॥
منُ نِرملُ پھِرِ میَلُ ن لاگےَ درِ سچےَ سوبھا پائِدا ॥੧੪॥
آپے کرے کراۓ آپے ॥
آپے ۄیکھےَ تھاپِ اُتھاپے ॥
گُرمُکھِ سیۄا میرے پ٘ربھ بھاۄےَ سچُ سُنھِ لیکھےَ پائِدا ॥੧੫॥
گُرمُکھِ سچو سچُ کماۄےَ ॥
گُرمُکھِ نِرملُ میَلُ ن لاۄےَ ॥
نانک نامِ رتے ۄیِچاریِ نامے نامِ سمائِدا ॥੧੬॥੧॥੧੫॥
لفظی معنی:
ناد۔ سنگہی۔ سنکھ وید۔ مذہبی کتاب۔ وچار۔ خیالات۔ گیان ۔ علم۔۔ دھیان۔ توجہ۔ پربھ بھاوے ۔ خدا کو پسند (1) منوا ۔ من ۔ الٹ ۔ خلاف۔ پراوے ۔ روکتا ہے ۔ ناد وجاوے ۔ اعلان کرتا ہے ۔ سچ رتے بیراگی۔ حقیقت میں محو وہکر طارق ہو جاتا ہے ۔ تج گھر۔ ذہن نشین (2) ساکھی ۔ سبق ۔ انمرت بھاکھی۔ آبحیات سمجھ کر یبان کی ۔ سچے ۔ سبدے ۔ صدیوی سچے کلام سے ۔ سبھاکھی۔ خوشی سے بیان کی ۔ سچ رنگ۔ سچے پریم سے ۔ سچے سچ ۔ صدیوی سچے خدا جو مکمل سچ ہے ۔ (3) نرمل۔ پاک۔ ست سرناوے ۔ سچے پاک ۔ تالاب میں غسل مراد پارساؤں پاکدامنوں کی صحبت و قربت ۔ میل ۔ ناپاکیزگی ۔۔ سچ سماوے ۔ سچ بستی ہے ۔ سچو سچ کماوے ۔ صدیوی سچے اعمال کرتا ہے ۔ سدہی ۔ ہمیشہ کے لئے ۔ سچی بھگت ۔ سچی پیار بھری خدمت ۔ درڑائیدا ۔ دلمیں پکے طور پر بستا ہے (4) بینی ۔ جول۔ نینی ۔ نظر۔نگاہ۔ س کماوے گرنی ۔ سچے پاک اعمال۔ اور سچ کہائیدا۔ دوسروں سے بھی سچ کہلاتا ہے مراد خدا خدا کہلاتا ہے (5) سچو سچا۔ صدیوی سچا پاک سچ۔ سبد رسنا پیدا۔ کلام سنات اہے (6) سوجہی ۔ سمجھ۔ ہونمے ۔ خودی۔ مائیا۔ دولت کا لالچ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ پوڑی ۔ منزل۔ اُتم۔ بلند عظمت۔ درسچے ۔ سچے خدا کے در پر (7) ہر گن۔ الہٰی صفت صلاح (7) سچ سنجم۔ پاک پرہیز گاری۔ کرنی سار۔ اعمال کی بنیاد۔ موکھ دوآر۔ راہ نجات۔ بھائے ۔ پریم پیار۔ آپ گوائے ۔ خود مٹا کر (8) من کھوج سنائے ۔ دل کی حقیقت بناتے (9) سچے نام۔ صدیوی سچے نام سچ و حقیقت ۔۔۔ بھاوے ۔ چاہے بھانے ۔ رضا۔ مرجی (10) من ہٹھ کرم۔ دلی جد سے اعمال چھجے ۔ کمزور ہوتا ہے ۔ بھیکھ۔ پہراوے ۔ بناوٹ ۔ بھیجے ۔ خوش۔ وکھیاراتے ۔ دنیاوی دؤلت میں ملوچ ۔ یا پریم (11) سجھی۔ سنبھ ۔ سم۔ برابر۔ بھائید۔ پیارا لگات اہے (12) گورمکھ مریہہ۔ جو مرید مرشد ہوکر خودی مٹالیتا ہے ۔ سوہے ۔ اچھا ہوجاتا ہے ۔ پروان ۔ منظور۔ قبول (13) وڈبھاگی۔ بلند قسمت۔ درسچے ۔ کدا کے در پر۔ سوبھا شہرت۔ سوبھا۔ شہرت (14) تھاپ۔ اُتھاپے ۔ پیدا کرے اور مٹائے ۔ پربھ بھاوے ۔ خدا راضی ہوتا ہے ۔ لیکھے ۔ حساب (15) سچو سچ۔ مکمل حقیقت۔ ویچاری ۔ خیال آرا۔
ترجمہ:
خدا نے یہ عالم یہ دنیا اپنے فرمان سے پیدا کی ہے اور خود ہی پیدا کرکے ختم کرتا ہے ۔ خود ہی سب سے انصاف کرتا ہے اور سچ وحقیقت سے ملاتا ہے ۔
مرید مرشد کے لئے سنگی مذہبی کتاب سوچنا سمجھنا ہی ہے یہی مرید مرشد کے لئے علم اور توجہ دیانا ہے مرید مرشد وہی کار کرتا ہے جو خڈا کی رضا و مرضی میں ہو اور وہ وصل لاہٰی یا لیتا ہے (1) مرید مرشد دنیاوی دولتون سے اپنی رجوع ار توجہ بدل لیتا ہے مرید مرشد کا کلام بول ہی ناد بجاتا ہے ۔ مرید مرشد سچ و حقیقت مین محو ومجذوب طارق ہوکر ذہن نشین ہوجات اہے (2) مرید مرشد کا سبق شہادت یا گوہای آبحیات کہنا ہے جس سے زندگی روحانی واخلاقی ہوجاتا ہے سچے صڈیوی کلام سے سچ حق و حقیقت کہتا ہے جو نہایت خوشنما ہے ۔ ہمیشہ سچے پریم پیار میں محو ومجذوب میرا دل حقیقی سچ مین ملحق محو ومجذوب ہوگیا ہے (3) مرید مرشد کا دل پاک و پائس ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ ست سچ حق و حقیقت کے تالاب مین غسل کرتا ہے (وہ) اس ے بدیون و برائیوں کی ناپاکیزگی ناپاک نہیں بنایتی وہ سچ اور سچے خدا مین محو رہتا ہے وہ حقیقت اور سچ پر مبنی اعمال کرتا ہے اور سچا عشق پریم پیار پختہ کرتا ہے (4) مرید مرشد کے بولون میں خدا بستا ہے اسکی آنکھوں مین خدا کا نور بستا ہے مرید مرشد کی کار اعمال سچے ہوتے ہین۔ مرید مرشد سب و روز ہمیشہ خود سچ کہتا ہے اور دوسروں سے سچ کہلاتا ہے (5) مرید مرشد کے بول قابل عظیم اور قابل قدرت ہوتے ہیںمرید مرشد سچ حق حقیقت اور خدا کی بات کہتا ہے ۔ مرید مرشد ہمیشہ سچے پاک خدا کی خدمت کرتا ہے اور دوسروں کو الہٰی کلام سناتا ہے (6) مرید مرشد کو روحانیت ارور اخلاقی زندگی کی سمجھ آجاتی ہے وہ دنیایو دولت کا وہم وگمان اور خودی مٹا دیتا ہے مرید مرشد کی زندگی کا نصب العین نہایت بلند اور متبر ہوتا ہے وہ خدا کے در پر خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے (7) مرید مرشد کی زندگی کا مقصد پاک پرہیزگاری اور پاک اعمال ہوتا ہے مرید مرشد کو برائیوں سے نجات حاصل ہوجاتی ہے ۔ مرید مرشد الہٰی عشق خدمت و عبادت اور الہٰی نام مین محو ومجذوب رہتا ہے (8) مرید مرشد دل ٹٹول سناتا ہے ۔ ہمیشہ سچے نام سچ حق و حقیقت سے پیار کرؤ۔ جو رضائے خدا ہےوہی وہ کرتا ہے جو دل سے پسند کرتا ہے (9) جب چاہتا ہے تو مرشد سے ملاتا ہے اور جب چااہتا ہے دلمیں بساتا ہے پانی رضا سے پیار کرتا ہے اور رضا سے دلمیں بساتا ہے (10) دلی ضد سے جو کام کیا جائے وہ روحانی واکلاقی طور پر کمزور ہوتا ہے ۔ وہ مذہبی شرع مریادا پہرااے اور تمائش سے خوش نہیں ہوتا۔ دیاوی دؤلت کی محبت مین محصور انسان ہمیشہ مصیبت اور عذاب میں گرفتار رہتا ہے (11) مرید مرشد ہونے سےا نسان آرام و آرام آسائش کماتا ہے اور مصیبت مین مجذوب رہتا ہے اور روحانی زندگی کی زندگی اور موت کی سمجھ حاصل کرتا ہے ۔ جو انسان زندگی اور موت کو برابر جانتا ہے وہ محبوب خدا ہو جاتا ہے (12) مرید مرشد کی موت بھی قبول ہوتی ہے آواگون کی سمجھ کلام سے آتی ہے ایسا سنان نہ تناسخ میں پڑتا ہے نہ عذاب پاتا ہے وہ ہمیشہ الہٰی نور مین محو ومجذوب مجذوب رہتا ہے (12) بلند قسمت ہیں وہ انسان وصل سچے مرشد کا حاصل ہوا۔ خودی سے محبت مٹادی ۔ جب دل پاک ہو جائے پھر نا پاک نہیں ہوتا اور سچے خدا کے در بار میں شہرت پاتا ہے (14) جو کچھ کرتا ہے خدا خود کرتا ہے اور کراتا ہے ۔ نگراں بھی خود پیدا کرکے مٹاتا بھی خود۔ مرید مرشد ہو کرکی ہوئی خدمت خدا کو پیارے ہے خدا سنکر اسے منظور کرتا ہے حساب مین اندراج کرتا ہے (!5) مرید مرشد سچی حقیقی وحقی اعمال کرتا ہے مرید مرشد پاک ہوتا ہے ناپاکیزگی اس پر اپنا اثر نہیں ڈالتی ۔ اے نانک۔ خخدا کے نام سچ حق و حقیقت سے متاچر انسان سمجھدار و عاقابل ہوجات اہے اور ہمیشہ نام مین محوومجذوب رہتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
آپے س٘رِسٹِ ہُکمِ سبھ ساجیِ ॥
آپے تھاپِ اُتھاپِ نِۄاجیِ ॥
آپے نِیاءُ کرے سبھُ ساچا ساچے ساچِ مِلائِدا ॥੧॥
کائِیا کوٹُ ہےَ آکارا ॥
مائِیا موہُ پسرِیا پاسارا ॥
بِنُ سبدےَ بھسمےَ کیِ ڈھیریِ کھیہوُ کھیہ رلائِدا ॥੨॥
کائِیا کنّچن کوٹُ اپارا ॥
جِسُ ۄِچِ رۄِیا سبدُ اپارا ॥
گُرمُکھِ گاۄےَ سدا گُنھ ساچے مِلِ پ٘ریِتم سُکھُ پائِدا ॥੩॥
کائِیا ہرِ منّدرُ ہرِ آپِ سۄارے ॥
تِسُ ۄِچِ ہرِ جیِءُ ۄسےَ مُرارے ॥
گُر کےَ سبدِ ۄنھجنِ ۄاپاریِ ندریِ آپِ مِلائِدا ॥੪॥
سو سوُچا جِ کرودھُ نِۄارے ॥
سبدے بوُجھےَ آپُ سۄارے ॥
آپے کرے کراۓ کرتا آپے منّنِ ۄسائِدا ॥੫॥
نِرمل بھگتِ ہےَ نِرالیِ ॥
منُ تنُ دھوۄہِ سبدِ ۄیِچاریِ ॥
اندِنُ سدا رہےَ رنّگِ راتا کرِ کِرپا بھگتِ کرائِدا ॥੬॥
اِسُ من منّدر مہِ منوُیا دھاۄےَ ॥
سُکھُ پلرِ تِیاگِ مہا دُکھُ پاۄےَ ॥
بِنُ ستِگُر بھیٹے ٹھئُر ن پاۄےَ آپے کھیلُ کرائِدا ॥੭॥
آپِ اپرنّپرُ آپِ ۄیِچاریِ ॥
آپے میلے کرنھیِ ساریِ ॥
کِیا کو کار کرے ۄیچارا آپے بکھسِ مِلائِدا ॥੮॥
آپے ستِگُرُ میلے پوُرا ॥
سچےَ سبدِ مہابل سوُرا ॥
آپے میلے دے ۄڈِیائیِ سچے سِءُ چِتُ لائِدا ॥੯॥
گھر ہیِ انّدرِ ساچا سوئیِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلا بوُجھےَ کوئیِ ॥
نامُ نِدھانُ ۄسِیا گھٹ انّترِ رسنا نامُ دھِیائِدا ॥੧੦॥
دِسنّترُ بھۄےَ انّترُ نہیِ بھالے ॥
مائِیا موہِ بدھا جمکالے ॥
جم کیِ پھاسیِ کبہوُ ن توُٹےَ دوُجےَ بھاءِ بھرمائِدا ॥੧੧॥
جپُ تپُ سنّجمُ ہورُ کوئیِ ناہیِ ॥
جب لگُ گُر کا سبدُ ن کماہیِ ॥
گُر کےَ سبدِ مِلِیا سچُ پائِیا سچے سچِ سمائِدا ॥੧੨॥
کام کرودھُ سبل سنّسارا ॥
بہُ کرم کماۄہِ سبھُ دُکھ کا پسارا ॥
ستِگُرُ سیۄہِ سے سُکھُ پاۄہِ سچےَ سبدِ مِلائِدا ॥੧੩॥
پئُنھُ پانھیِ ہےَ بیَسنّترُ ॥
مائِیا موہُ ۄرتےَ سبھ انّترِ ॥
جِنِ کیِتے جا تِسےَ پچھانھہِ مائِیا موہُ چُکائِدا ॥੧੪॥
اِکِ مائِیا موہِ گربِ ۄِیاپے ॥
ہئُمےَ ہوءِ رہے ہےَ آپے ॥
جمکالےَ کیِ کھبرِ ن پائیِ انّتِ گئِیا پچھُتائِدا ॥੧੫॥
جِنِ اُپاۓ سو بِدھِ جانھےَ ॥
گُرمُکھِ دیۄےَ سبدُ پچھانھےَ ॥
نانک داسُ کہےَ بیننّتیِ سچِ نامِ چِتُ لائِدا ॥੧੬॥੨॥੧੬॥
لفظی معنی:
سر شٹ۔ دنیا۔ عالم۔ حکم۔ تابع فرمان۔ ساجی ۔ سازی پیدا کی ۔ تھاپ۔ پیدا کرکے ۔ اُتھاپی۔ مٹائی۔ نوااسی ۔ راہئش پذیر ۔ بسنا۔ یاؤ۔ انصاف۔ ساچا۔ خدا۔ جو صدیوی ہے ۔ ساچے ساچ ملایا۔ ملائیداد۔ سچا خدا سچے سے ملاتا ہے (1) کائیا ۔ جسم۔ کوٹ ۔ قلعہ ۔ آکار۔ پھلاو۔ مائیا موہ۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ پسر یا پاسار۔ پھیلاؤ ہوا ہے پھیلاو۔ بن سبدے بھسمے کی ڈھیری ۔ بغیر کلام ایک راکھ کا ڈھیر ہے ۔ کھیہو کھیہہ رلائیدا۔ راکھ میں راکھ ملانا ہے 2) کائیا کوٹ کنچن اپارا۔ یہ جسم سونے کا ایک وسیع قلعہ ہے ۔ رویا۔ بستا ہے ۔ سبد۔ کلام۔ گن ساچے ۔ حقیقی اوصاف۔ پریتم۔ پیارے (3) کائیا ہر مندر۔ یہ جسم خدا کا گھر ہے ۔ آپ سوارے ۔ خدا خود اسکی درستی کرتا ہے اور آراستہ کرتا ہے ۔ ونجن۔ سوداگری کرتے ہیں۔ ندری ۔نظر عنایت و شفقت (4) سوسوچا۔ پاکدامن وہ ہے ۔ کرودھ ۔ غسہ۔ نوارے ۔ مٹانے ۔ سبدے بوجھے ۔ کلام سے سمجھے ۔ آپ سوارے ۔ اپنے کردار کی درستی کرے (5) نرمل۔ پاک۔ بھگت۔ عشق و عبادت خدا۔ نرالی۔ انوی۔ من تن ۔ ذہن و جسم۔ دہووے ۔ دھلائی۔ پاک بنانا۔ سبد وچاری۔ کلام کو سمجھنے والے کے ذریعے ۔ رنگ راتا۔ پریم پیار میں ملوچ (6) منوادھاوے ۔ دل دوڑ دہوپ کرتا ہے ۔ سکھ پکر۔ سکھ جو ایک پرالی یا ناکارہ گھاس کی مانند ہے ۔ تیاگ۔ چھٹگر ۔ بھیٹے ۔ ملاپ ۔ ٹھوڑ۔ ٹھکناہ (7) اپرنپر۔ نہایت وسیع۔ ویچاری۔ دانشمند ۔ خیال ۔ آرا۔ کری ساری۔ نیک اعمال (7 ستگر میلے پورا۔ کامل سچا مرشد ملاتا ہے ۔ سچے سبد۔ حقیقی کلام ۔ مہابل۔ بھاری توفیق ار ارقت والا۔ ودیائی۔ عظمت وحشمت (9) ساچا سوئی۔ وہی پاک خدا۔ نام ندھان۔ سچ حق و حقیقت کا خزناہ ۔ رسنا۔ زبان۔ دھیائیدا۔ دھیان لگانا۔ توجہ دینی (10) دسنتر بھوے ۔ بد یشی سفر یا یا ترا۔ انتر نہیں بھاے ۔ اپنے آپ کی تلاش نہیں۔ جمکاے ۔ روحانی واکلاقی موت۔ بھرمائیدا۔ بھٹکتا ہے (11) جپ تب سنجم۔ عبادت وریاضت و پرہیز گایر۔ سبد نہ کماہی ۔ جب تک کلام رمشد کا عامل نہیں ہوتا۔ سچے سچ سچے صدیوی خدا (12) کام کرودھ ۔ شہوت اور غسہ۔ سیل ۔ بھاری طاقتور۔ بہو کرم۔ بہت سے اعمال۔ کماوے ۔ کرتا ہے ۔ دکھ کا پسارا۔ عذآب و مصیبت کا پیھلاؤ ۔ سچے سبد۔ سچے کلام سے (13) پؤن۔ ہوا۔ بیشتر۔ آگل۔ مائیا موہ۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ گربھ۔ غرور۔ تکبر ۔ درتے ۔ بستا ہے ۔ جن کیتے ۔ جس نے پیدا کیا ہے ۔ چکائیدد۔ مٹاتا ہے (14) گرھبھ ویاچے ۔ غرور بستا ہے ۔ ہونمے ہوئے رہے ۔ خودی بن گئے ہیں۔ جم کاکے ۔ موت (15) اپائے ۔ پیدا کئے ۔ بدھ ۔ طریقہ ۔ گورمکھ دیوئے ۔ مرید مرشد ہونے پر طریقہ دیتا ہے ۔ سبد پچھانے ۔ کالم سے پہچان آتی ہے ۔ سچ نام ۔ سچے صدیوی نام ۔ سچ حق و حقیقت سے ۔ چت۔ دل۔
ترجمہ:
خدا نے اپنے فرمان سے یہ عالم پیدا کیا ہے ۔خود ہی پیدا کرمٹاتا ہے خود ہی سچا انصاف کرتا ہے اور سچے صڈیوی خدا سے ملاتا ہے (1) انسانی جسم ایک قلعہ اور الہٰی ظہور ہے اس دنیا من دنیاوی دؤلت کی محبت پھیلی ہوئی ہے ۔ لہذا یہ قلعہ بغیر کلام کے ایک رکاھ کا ڈھیر ہے ۔ اس لئے مٹی مین مٹی مل جاتی ہے (2) یہ جسم سونے کا عمدہ قلعہ ہے س میں ک کلام بستا ہے ۔ مرید مرشد ہمیشہ اُسکی حمدوثناہ کرتا ہے اُس سچے صدیوی خدا کی جس روحانی وذہنی سکون پاتا ہے (3) یہ جسم خدا کی رہائش کے لئے ایک گھر ہے جسے خدا خؤد آراستہ کرتا اور سنوارتا ہے ۔ لہذا ا سمیں خدا بستا ہے مرشد کے کلام و سبق کے ذریعے روحای سوداگر اسکی سوداگری کرتے ہیں۔ خدا پانی کرم وعنات سے لاپ عنایت کرتا ہے (4) پاک وشفاف ہے وہی جس نے دل و ذہن سے غسہ ختم کردیا ۔ کلام کو سمجھ کر اپنے کردار کو درست کرکے ۔ جوکچ کرتا ہے خدا خود کرتا اور کراتا ہے اور خود ہی دل میں بساتا ہے (5) پاک الہٰی عشق ایک انوکھی نعمت جس سے زندگی پاک وپائس ہوجاتی ہے کلام سبق اور سوچ سمجھ سے دل و ذہن کی صفائی کرؤ۔ اس سے ہمیشہ انسان الہٰی عشق و محبت مین محو ومجذوب رہتا ہے ۔ خدا پانی کرم وعنایت سے عبادت وریاضت کراتا ہے (6) اس جسمانی گھر میں انسانی چنچل مین دوڑ دہوپ میں مصروف رہتا ہے ۔ ذہنی وروحانی سکون اور آرام و آسائچ چھوڑ کر بھاری عذاب پتاتا ہے ۔ بگیر سچے مرشد کے ملاپ کے ٹھکانہ ہیں ملتا غرض یہ کہ یہ کھیل خدا خؤد کراتا ہے (7) لا محدود خدا خود ہی سوچ سمجھ عنایت کرت اہے اور خود ہی نیک اعمال کے لئے مواقع پیدا کرتا ہے اس میں انسان میں کیا طاقت سے خود اپنی گرم وعنایت سے ملاتا ہے (8) خدا خود ہی کامل سچے مرشد سے ملاتا ہے اور سچے پاک کلام سے روحای طاقت در بناتا ہے ۔ خود ہی ملاپ سے عظمت و حشمت عنایت کرتا ہے لہذا ایسا انسان خدا سے دل لگاتا ہے (9) خدا انسان کے د ل میں بستا ہے کوئی مرید مرشد ہی اسکو سمجھتا ہے ۔ جب الہٰی نام سچ وحقیقت کا خزانہ دل میں بسن جائے تو زبان سے نام میں دھیان لگاتا ہے مراد حمدوثناہ کرتا ہے (10) انسان دیش بدیش خدا کی جستوج میں سفر کرتا ہے مگر اپنے قلب و ذہن کی تلاش نہیں کرتا۔ دنیاوی دولت کی محبت کی گرفت مین روحانی واخلاقی موت مرتا ہے ۔ موت کا پھندہ کبھی ٹوٹتانہیں۔ دنیاوی دولت کی محبت مین بھٹکتا رہتا ہے (11) جب تک انسان کلام مرشد پر عمل پیرا نہیں ہوتا عبادت وریاضت اور پرہیز گاری کا کوئی مطلب نہیں بیکار ہے کلام مرشد کے ملاپ سے وصل الہٰی دستیبا ہوتا ہے الہٰی نام سچ حق و حقیقت دل میں بستا ہے (12) شہوت اور غصہ دنیا میں بھاری طاقتور احساس ے ۔ خوآہ کوئی تنے ہی اعمال کرتا رہے موجب عذآب ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت مراد اسکی نصیحت پر عمل کرنے سے سکون حاصل ہوتا ہے وہ سچے کلام سے ملاتا ہے (13) ۔ ہوا ۔ پانی آگ وغیرہ مادایت پر مشتمل یہ جسم کے اندر ہمیشہ دنیاوی دؤلت اپنا دباؤ ار دببہ بنائے رھتی ہے اور بستی ہے سب کے اندر مگر ج سنے اسے پیدا کیا ہے اگر اسکی پہچان ہو جائے تو اسکی محبت ختم ہوجاتی ہے (14) ایک مائیا کی محبت کا غرور اور تکبر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو خدی بنائے رکھتے ہیں یا مجسمہ بنے رہتے ہین۔ روحانی واکلاقی موت سے بیخبر ہیں اور بوقت آخرت پچھتاوا کرتے ہیں (15) جس نے انسان کو پیدا کیا ڈکھنگ اور طریقے بھی وہی جانتا ہے ۔ مراد انسان کے اخلاقی و روحای موت سے بچنے کے مرشد کے ذریعے وہی دیتا ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ایسا ان خدا کے نام سچ حق و حقیقت میں اپنا دل لگاتا ہے

ماروُ مہلا ੩॥
آدِ جُگادِ دئِیاپتِ داتا ॥
پوُرے گُر کےَ سبدِ پچھاتا ॥
تُدھُنو سیۄہِ سے تُجھہِ سماۄہِ توُ آپے میلِ مِلائِدا ॥੧॥
اگم اگوچرُ کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
جیِء جنّت تیریِ سرنھائیِ ॥
جِءُ تُدھُ بھاۄےَ تِۄےَ چلاۄہِ توُ آپے مارگِ پائِدا ॥੨॥
ہےَ بھیِ ساچا ہوسیِ سوئیِ ॥
آپے ساجے اۄرُ ن کوئیِ ॥
سبھنا سار کرے سُکھداتا آپے رِجکُ پہُچائِدا ॥੩॥
اگم اگوچرُ الکھ اپارا ॥
کوءِ ن جانھےَ تیرا پرۄارا ॥
آپنھا آپُ پچھانھہِ آپے گُرمتیِ آپِ بُجھائِدا ॥੪॥
پاتال پُریِیا لوء آکارا ॥
تِسُ ۄِچِ ۄرتےَ ہُکمُ کرارا ॥
ہُکمے ساجے ہُکمے ڈھاہے ہُکمے میلِ مِلائِدا ॥੫॥
ہُکمےَ بوُجھےَ سُ ہُکمُ سلاہے ॥
اگم اگوچر ۄیپرۄاہے ॥
جیہیِ متِ دیہِ سو ہوۄےَ توُ آپے سبدِ بُجھائِدا ॥੬॥
اندِنُ آرجا چھِجدیِ جاۓ ॥
ریَنھِ دِنسُ دُءِ ساکھیِ آۓ ॥
منمُکھُ انّدھُ ن چیتےَ موُڑا سِر اوُپرِ کالُ روُیائِدا ॥੭॥
منُ تنُ سیِتلُ گُر چرنھیِ لاگا ॥
انّترِ بھرمُ گئِیا بھءُ بھاگا ॥
سدا اننّدُ سچے گُنھ گاۄہِ سچُ بانھیِ بولائِدا ॥੮॥
جِنِ توُ جاتا کرم بِدھاتا ॥
پوُرےَ بھاگِ گُر سبدِ پچھاتا ॥
جتِ پتِ سچُ سچا سچُ سوئیِ ہئُمےَ مارِ مِلائِدا ॥੯॥
منُ کٹھورُ دوُجےَ بھاءِ لاگا ॥
بھرمے بھوُلا پھِرےَ ابھاگا ॥
کرم ہوۄےَ تا ستِگُرُ سیۄے سہجے ہیِ سُکھُ پائِدا ॥੧੦॥
لکھ چئُراسیِہ آپِ اُپاۓ ॥
مانس جنمِ گُر بھگتِ د٘رِڑاۓ ॥
بِنُ بھگتیِ بِسٹا ۄِچِ ۄاسا بِسٹا ۄِچِ پھِرِ پائِدا ॥੧੧॥
کرمُ ہوۄےَ گُرُ بھگتِ د٘رِڑاۓ ॥
ۄِنھُ کرما کِءُ پائِیا جاۓ ॥
آپے کرے کراۓ کرتا جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ چلائِدا ॥੧੨॥
سِم٘رِتِ ساست انّتُ ن جانھےَ ॥
موُرکھُ انّدھا تتُ ن پچھانھےَ ॥
آپے کرے کراۓ کرتا آپے بھرمِ بھُلائِدا ॥੧੩॥
سبھُ کِچھُ آپے آپِ کراۓ ॥
آپے سِرِ سِرِ دھنّدھےَ لاۓ ॥
آپے تھاپِ اُتھاپے ۄیکھےَ گُرمُکھِ آپِ بُجھائِدا ॥੧੪॥
سچا ساہِبُ گہِر گنّبھیِرا ॥
سدا سلاہیِ تا منُ دھیِرا ॥
اگم اگوچرُ کیِمتِ نہیِ پائیِ گُرمُکھِ منّنِ ۄسائِدا ॥੧੫॥
آپِ نِرالمُ ہور دھنّدھےَ لوئیِ ॥
گُر پرسادیِ بوُجھےَ کوئیِ ॥
نانک نامُ ۄسےَ گھٹ انّترِ گُرمتیِ میلِ مِلائِدا ॥੧੬॥੩॥੧੭॥
لفظی معنی:
آو۔ آغاز۔ جگاد۔ جبت سے زمانے کا آغاز ہوا۔ دیا ۔ رحمدل۔ مہربانی۔ پت ۔ عزت۔ داتا۔ دینے والا۔ سکی ۔ سبد پچھاتا۔ کلام سے پہچان یا سمجھ آتی ہے ۔ سیوہہ ۔ خدمت کرے ۔ سے ۔ وہ ۔ تجھیہہ۔ تجھ میں۔ سماویہہ۔ محوو مجذوب ۔ میل۔ملاپ (1) سرنائی ۔ پناہگیر ۔ تدھ بھاوے ۔ جیسی تیری رجا و مرضی ہے ۔ توے ۔ اس طرح ۔ مارگ۔ راستے (2) ہے بھی۔ آج بھی ہے ۔ سچا۔ صدیوی سچا خدا ۔ ہوسی آئندہ ہوگا۔ سوئی۔ وہی ۔ سابے ۔ پیدا کرے ۔ اور نہو کوئی علاوہ نہیں کوئی دوسرا۔ سار۔ خبر گیری ۔ سنبھال۔ رجک۔ رزق ۔ روزی (3) اگم۔ نارسا۔ انسانی رسائی سے بعید۔ اگوچر۔ بیان سے باہر۔ الکھ۔ سمجھ سے باہر۔ اپارا۔ ناہیت وسیع۔ پروار۔ کنبہ۔ قبیلہ ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے ۔ بجھا ئیداد۔ سمجھات اہے (4) پاتال پریا۔ زیر زمین لوگ۔ آکار۔ لا محدود۔ درتے ۔ چلتا ہے ۔ حکمکردار۔ زبرداست سخت فرمان۔ ھکم سابے ۔ حکمسے پیدا کرتا ہے ۔ کرتا ے ۔ مت۔ عقل۔ سوہووے ۔ ویساہوجاتا ہے ۔ سبد بجھاہدا ۔ سمجھات اہے (6) عاجا۔ عمر ۔ چھجدی ۔ گھٹتی ہے ۔ رین دنس۔ روز و شب۔ دن رات۔ سکاھی۔ شاہد۔ گواہ۔ موڑھا۔ بیوقوف ۔ جاہل۔ اندھ ۔ بیخبر۔ کال۔ موت۔ روآید۔ گرجتا (7) جاتا۔ جان لیا۔ پچان کرلی ۔ گرم بدھا تا۔ تقدیر ساز۔ پورے بھاگ۔ بلند قسمت سے ۔ گر سبد پچھاتا ۔ کلام رمشد سمجھا۔ جت پت۔ سچ سچا سوئی۔ انسان کی ذات عزت سچا خدا ہی ہے ۔ ہونمے مار۔ خودی مٹا کر (9) کٹھور۔ بریحم۔ سخت دل۔ دوجے بھائے ۔ دوسروں کی محبت ۔ بھرمے بھولا۔ وہم وگمان میں گمراہ۔ ابھاگا۔ بد قسمت۔ گرم۔ مہرانی ۔ بخشش۔ سہجے ہی۔ آساسنی سے (10) مانس جنم ۔ انسانی زندگی ۔ گربھگت درڑائے ۔ الہٰی عبادت وریاضت مرشد دلمیں پختہ طور پر بساتا ہے ۔ بسٹا۔ گندگی ۔ فضلا۔ بسٹا پھر پائیداد۔ بدیوں اور برائیوں کی گندگی میں ڈالا جاتا ہے (11) کرم۔ مہربانی ۔ بخشش۔ گربھگت درڑائے ۔مر شد عشق الہٰی پکتہ بناتا ہے ۔ بھاوے ۔ رضا ور مرضی ۔ توے ۔ اسطرح (12) انت۔ آکر۔ راز۔ تت۔ حقیقت۔ اسلیت ۔ بھرم۔ بھلائیداد۔ وہم و گمان میں گمراہ کرتا ہے (13) سر سر۔ ہر ایک کے ذمے ۔ دھندے ۔ کاروبار۔ تھاپ اُتھاپے ۔ پیدا کرکے مٹاتا ہے ۔ دیکھے نظر ڈالتا ہے ۔ نگرنای کرتا ہے ۔ بجھائیداد۔ سمجھاتا ہے (14) سچا صاحب۔ صدیوی سچا ملاک۔ گہر گنبھیر ۔ نہایت سنجیدہ ۔ مستقل مزاج۔ دھیرا۔ مستقل مزاج با یقین (15) نرالم۔ بے واسطہ۔ دھندے لوئی۔ لوگ ۔ کاروبار میں ۔ بوجھے ۔ مسجھے ۔ گھٹ انتر۔ دلمیں۔ گرمت ۔ سبق مرشد۔
ترجمہ:
اے خدا تو آغاز عالم اور ما بعد کے دور میں رحمان الرحیم ہے ۔ رحمدل اور عزت ووقار بخشنے والا ہے ۔ تیری پہچان کلام مرشد سے ہوتی ہے ۔ جوتیری خدمت کرتے ہیں وہ تجھ میں ہی محو ومجذوب ہو جاتے ہیں تو خود ہی انکا ملاپ کراتا ہے (1) اے خدا تو انسانی رسائ عقل و ہوش سے بعید تو بیان سے باہر ہے ۔ تیری قدروقیمت کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ ساری مخلوقات یرے زیر سایہ و پناہگیر ہے ۔ جیسی تیری آزاد مرضی ورضا ہے انہیں تو اسی راستے چلاتا ہے (6) اے خدا تو آج بھی ہے اور آئندہ بھی ہوگا مستقبل میں بھی تیری ہستی رہیگی تو عالم کو پیدا کرنے وال اہے تیرے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں تو سب کی نگرانی اور خبر گیری کرتا ہے اور خود ی سب کو رزق دیتا اور پہنچاتا ہے (3) اے خدا تو انسانی عقل و ہوش اور رسائی سے بعید ہے تیری بابت کچھ بیان ہیں ہو سکتا تو حساب کتاب سے بھی باہر تو نہایت وسیع حقے کہ تیرا کوئی کنارہ نہیں نہ کسی کو کوئی خبر ہے ۔ اے خدا تجھے تو ہی جانتا ہے کسی کو تیرے کنبے اور قبیلے کی خبر نہیں خود ہی سبق مرشد کے ذریعے اپنی پہچان بخشش کرتا ہے اور سمجھ دیتا ہے (4) زیر زمینوں اور عالم کے پھیلاؤ اور اسمیں بسنے والوں پر تیری سخت حکرمانی اور فرمانبروالی ہے ۔ تیرے ہی فرمان سے پیدا ہوتے ہیں فرمان سے ہی مٹ جاتے ہیں ۔ ترے ہی فرمان سے ملاپ ہوتا ہے (5) جسے اے خدا تیرے حکمورضا کی سمجھ ہے وہ تیری حمدوثناہ کرتا ہے ۔ جسیی عقل و ہوش عنایت رتا ہے اے خدا وہ ویسا ہوجات اہے ۔ توخود کالم سمجھاتا ہے (6) اے انسان تیری عمر رفتہ ہر روز گھٹتی جا رہی ہے ۔ شب و روز ہیں اسکے شاہد دونوں عقل و ہوش سے بصیرا انسان یاد نہیں رکھتا کہ سر پر گھڑی گرج رہی ہے (7) جو انسان پائے مرشد پڑتا ہے اسکا دل و جان ٹھنڈک محسوس کرتا ہے اسکے ذہن اور دل سے وہم و گمان مراد ذہنی دؤڑ دہوپ اور خوف دور ہو جاتا ہے جو خدا کے اوساف کی صفت صلاح کرتا ہے اُس سے سچے بول بولاتا ہے (8) اے خدا جسے تیری پہچان ہوگئی کہ تو اعمال بنانیوالا ہے ۔ پوری تقدیر و مقدر سے کلام مرشد سے پہچان لیتا ہے ۔ خدا خود مٹا کر اپنے ساتھ ملا لیت اہے ۔ اسلئے انسان کی ذات و خاندان خود خدا ہو جات اہے (9) دنیاوی دؤت کی محبت میں انسان بیرحم سخت دل اور جابر ہو جاتا ہے بد قسمت و ہم ومگان میں بھتکتا گمراہ ہوا رہتا ہے اے خدا اگر تیری کرم عنایت ہو جائے تو سچے مرشد کی خدمت سے روحانی وذہنی سکون پاتا ہے (10) خدا نے چوراسی لاکھ قسم کے جاندار خود ہ پیدا کئے ہیں۔ انسان زندگی میں مرشد انسان کے دل میں الہٰی عشق و محبت پختہ کرتا ہے ۔ بغیر الہیی عبادت وریاضت کے انسان بدیوں بدکاریوں اور برائیوں کی غلاظت میں محسور رہتا ہے ۔ بار بار اسمیں پڑتا ہے (11) خدا جب مہربان ہوتا ہے تو انسان کے دلمیں اپنی محبت پختہ بناتا ہے ۔ بغیر الہٰی نام و عنات و صل و ملاپ خدا حاصل نہیں ہو سکتا۔ جو کچھ ہوتا ہے خدا خود ہی کرتا او رکراتا ہے اور سبھ کو اپنی رضا و مرضی سے چجلاتا ہے (12) سمرتیوں شاشتروں سے راز الہٰی سمجھ نہیں آتا۔ عقل سے بصیر انسان حقیقت وآصلیت سمجھ نہیں سکتا ۔ خدا ہی سب کچھ کرتا اور کراتا ہے خود ہی وہم و گمان میں گمراہ کرتا ہے (13) خدا سب کچھ خود کراتا ہے اور خود ہی ہر ایک کی کاروباری ذمہ داری عائد کرتا ہے ۔ خود ہی بناتا ہے اور مٹاتا ہے خود ہ اور نظر رکتھا ہے خود ہی خود ہی مرشد کے وسیلے سے سمجھاتا سے خود ہی (14) صدیوی سچا خدا نہایت سنجیدہ اور مستقل مزاج ہے اسکی حمدوثناہ سے دل کو رآحت تسکین اور تسلی ملتی ہے (15) خدا پاک ۔ بیلاگ باقی لوگ سارے لوگ دنیاوی کاروبار میں مصروف ہیں۔ رحمت مرشد سے کسی کو ہی اسکی سمجھ آتی ہے ۔ اے نانک۔ جب دلمیں نام خدا کا بستا ہے ۔ تو سبق مرشد سے میل ملاتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
جُگ چھتیِہ کیِئو گُبارا ॥
توُ آپے جانھہِ سِرجنھہارا ॥
ہور کِیا کو کہےَ کِ آکھِ ۄکھانھےَ توُ آپے کیِمتِ پائِدا ॥੧॥
اوئنّکارِ سبھ س٘رِسٹِ اُپائیِ ॥
سبھُ کھیلُ تماسا تیریِ ۄڈِیائیِ ॥
آپے ۄیک کرے سبھِ ساچا آپے بھنّنِ گھڑائِدا ॥੨॥
باجیِگرِ اِک باجیِ پائیِ ॥
پوُرے گُر تے ندریِ آئیِ ॥
سدا الِپتُ رہےَ گُر سبدیِ ساچے سِءُ چِتُ لائِدا ॥੩॥
باجہِ باجے دھُنِ آکارا ॥
آپِ ۄجاۓ ۄجاۄنھہارا ॥
گھٹِ گھٹِ پئُنھُ ۄہےَ اِک رنّگیِ مِلِ پۄنھےَ سبھ ۄجائِدا ॥੪॥
کرتا کرے سُ نِہچءُ ہوۄےَ ॥
گُر کےَ سبدے ہئُمےَ کھوۄےَ ॥
گُر پرسادیِ کِسےَ دے ۄڈِیائیِ نامو نامُ دھِیائِدا ॥੫॥
گُر سیۄے جیۄڈُ ہورُ لاہا ناہیِ ॥
نامُ منّنِ ۄسےَ نامو سالاہیِ ॥
نامو نامُ سدا سُکھداتا نامو لاہا پائِدا ॥੬॥
بِنُ ناۄےَ سبھ دُکھُ سنّسارا ॥
بہُ کرم کماۄہِ ۄدھہِ ۄِکارا ॥
نامُ ن سیۄہِ کِءُ سُکھُ پائیِئےَ بِنُ ناۄےَ دُکھُ پائِدا ॥੭॥
آپِ کرے تےَ آپِ کراۓ ॥
گُر پرسادیِ کِسےَ بُجھاۓ ॥
گُرمُکھِ ہوۄہِ سے بنّدھن توڑہِ مُکتیِ کےَ گھرِ پائِدا ॥੮॥
گنھت گنھے سو جلےَ سنّسارا ॥
سہسا موُلِ ن چُکےَ ۄِکارا ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ گنھت چُکاۓ سچے سچِ سمائِدا ॥੯॥
جے سچُ دےءِ ت پاۓ کوئیِ ॥
گُر پرسادیِ پرگٹُ ہوئیِ ॥
سچُ نامُ سالاہے رنّگِ راتا گُر کِرپا تے سُکھُ پائِدا ॥੧੦॥
جپُ تپُ سنّجمُ نامُ پِیارا ॥
کِلۄِکھ کاٹے کاٹنھہارا ॥
ہرِ کےَ نامِ تنُ منُ سیِتلُ ہویا سہجے سہجِ سمائِدا ॥੧੧॥
انّترِ لوبھُ منِ میَلےَ ملُ لاۓ ॥
میَلے کرم کرے دُکھُ پاۓ ॥
کوُڑو کوُڑُ کرے ۄاپارا کوُڑُ بولِ دُکھُ پائِدا ॥੧੨॥
نِرمل بانھیِ کو منّنِ ۄساۓ ॥
گُر پرسادیِ سہسا جاۓ ॥
گُر کےَ بھانھےَ چلےَ دِنُ راتیِ نامُ چیتِ سُکھُ پائِدا ॥੧੩॥
آپِ سِرنّدا سچا سوئیِ ॥
آپِ اُپاءِ کھپاۓ سوئیِ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ سدا سلاہے مِلِ ساچے سُکھُ پائِدا ॥੧੪॥
انیک جتن کرے اِنّد٘ریِ ۄسِ ن ہوئیِ ॥
کامِ کرودھِ جلےَ سبھُ کوئیِ ॥
ستِگُر سیۄے منُ ۄسِ آۄےَ من مارے منہِ سمائِدا ॥੧੫॥
میرا تیرا تُدھُ آپے کیِیا ॥
سبھِ تیرے جنّت تیرے سبھِ جیِیا ॥
نانک نامُ سمالِ سدا توُ گُرمتیِ منّنِ ۄسائِدا ॥੧੬॥੪॥੧੮॥
لفظی معنی:
چھتی جگ۔ بھاری عرصہ اور زمانہ ۔ کیؤ۔ کیا۔ غبار۔ ایسا وقت گذارا جس کی بابت کچھ معلوم نہیں۔ سرجنہارا۔ جس میں ۔ پیدا کرنے کی توفیق ہے ۔ آکھ وکھانے ۔ کہے اور بیان کرے (1) اونکار۔ خدا ۔ سرشٹ دنیا۔ اُپائی۔ پیدا کی ۔ وڈیائی۔ عظمت۔ بزرگی ۔ ویک ۔ علیحدہ۔ ساچا۔ صدیوی سچا خدا۔ بھن گھڑائیدا۔ مٹاتا ہے اور پیدا کرتا ہے (2) باجیگر۔ بازیگر۔ کھیل کرنے والا۔ اجی ۔ کھیل۔ ندری آئی ۔ نظر آئی۔ الپت۔ بیلاگ۔ بغیر واسطہ ۔ ساچےسیو۔ سچے صدیوی خدا سے (3) گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں ۔ پون وہے ۔ سانسن جاری ہیں۔ ایک رنگی ۔ باجہے بابے ساز۔ زندگی کا بج رہا ہے ۔ دھن ۔ سر ۔ آکار۔ جسمانی پھیلاؤ۔ مل پونے نے سبھ و جائیداد ۔ ہوا کے ساتھ یا سانسوں سے جاری ہے (4) نہجؤ ۔ ضرور۔ ہونمے ۔ خودی۔ کھووے ۔ مٹائے ۔ گرپرسادی۔ رحمت مرشد سے ۔ نامونام۔ ہر وقت نام ہ نام مراد سچ حق و حقیقت ۔ دھیائیدا۔ توجہ دیتا ہے (5) لاہا۔ نفع (6) کرم کماویہہ۔ اعمال کرے ۔ ودھیہہ وکار۔ بدیاں اور برائیوں میں اضافہ ہوتا ہے (7) بجھائے ۔ سمجھائے ۔ بندھن۔ غلامی ۔ مکتی ۔ آزادی ۔ نجات (8) گھنت گنے ۔ اعداد و شمار کا لحاظ کر نے سے ۔ جلے نسارا ۔ دنیا میں فکر و تشیوش میں جلتا ہے ۔ سہسا۔ فکر۔ تشیوش۔ مول ۔ بالکل۔ چکے وکار۔ برائیاں ختم نہیں ہوتئیں۔ گنت چکائے ۔ حساب ختم کرے ۔ سچے سچ۔ صدیوی سچے خدا (9) دئے ۔ دے ۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ سچ نام صلاحے ۔ سچ ۔ حق و حقیقت کی تعریف کرے یا ثناہ گوئی کرے (10) جچ۔ ریاضت ۔ تپ ۔ جسمانی کوفت یا اذیت پہنچانا۔ سنجم۔ پرہیز گاری ۔ نام پیارا۔ پیار انام (11) لوبھ۔ لالھ میلے ۔ ناپاک۔ مل لائے ۔ناپاک بنائے ۔ میلے کرم۔ ناپاک اعمال ۔ کارگروگی ۔ کوڑو کوڑ ۔ مکمل کفر یا جھوٹ ۔ داپارا۔ سوداگری (12) نرمل بای ۔ پاک کلام۔ ہسا۔ تشویش۔ بھانے ۔ رضا۔ نام چیت۔ سچ ۔ حق و حقیقت دلمین بسا کر (13) سر ندا۔ ساز گار۔ پیدا کرنے والا۔ اپائے گھپائے ۔ پیدا کرے اور مٹائے (14) انیک ۔ جتن ۔ بیشمار کوششوں کے باوجود۔ اندری ۔ شہوت کی خواہش۔ کام کرودھ۔ شہوت اور غصے ۔ دس ۔ قابو۔ من مارے ۔ من کو اپنے زہر کرنے سے ۔ میرا تیرا ۔ خوئش ۔ و دگر ۔ اپنا اور دوسرا۔ جنت۔ جاندار۔ مخولق ۔ نام سملا۔ نام بسا۔ گرمتی۔ سبق مرشد۔
ترجمہ:
بہت ساز مانہ ایسے حالات میں گذارا جسکی بابت کسی کو کچھ معلوم نہیں اس علام کا ۔ اے خدا اسکی تجھے ہی علم ہے اسکی قدروقیمت و اصلیت کا تجھے ہ پتہ ہے (1) خدانے ہی یہ عالم پیدا کیا ہے اس دیا کے کھیل تماشے ساری قئانات قدرت تیری ہی بزرگی بلند اور عظمت ہے ۔ خدا ہی سب میں فرق علیحدہ علیحدہ قسم کے بنائے ہیں اور خود پیدا کرکے مٹاتا ہے (2) یہ عالم یہ دنیا بازیگر کی بازی کیطرح ہے ۔ جسکو کامل مرشد سمجھاتا ہے ۔ خدا خود ہے اس سے بیلاگ بلا واطہ رہتا ہے ۔ جسکو اسکی سمجھ آجاتی ہے وہ سچے خدا سے اپنا دل لگاتا ہے محبت کرتا ہے (3) اس انسانی جسم میں سر اور تال سے ساز بج رہے ہیں یہ سر اور دھنیں جس مین بجائے کی توفیق ہے خود بجا رہا ہے ۔ ہر دل میں سانس جاری ہیں جو ہمیشہ اس خدا کا پیدا کیا ہو اہے ۔ جو ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہتا ہے ہوا سے ملکر یہ ساز بجاتا ہے (4) خدا جو کچھ کرتا ہے لازمی ہوتا ہے ۔ کلاما مرشد سے خودی مٹ جاتی ہے ۔ خدا جسے رھمت مرشد سے بزرگی و بلندتی عنایت کرتا ہے وہ الہٰی نام سچ حق و حقیقت دست میں اپنا دھیان لگات اہے (5) خدمت مرشد کے علاوہ دوسری چیز اتنی منافع بخش نہیں ۔ سچ حق و حقیقت الہٰی نام دلمیں بسائے اور اسی کی حمدوثناہ کرے ۔ الہٰی نام آرام و آسائش پہنچانے وال اہے اور نام سے اسلی وحقیقی منافع حاصل ہوتا ہے (6) الہٰی نام سچ و حقیقت بغیر اس دنیا میں ہر طرف عذاب ہ عذاب ہے ۔ اسکے بغیر خوآہ کتنے ہی کام سر انجام دیئے جائیں اس سے بدیوں اور برائیوں میں اضافہ ہوتا جائیگا۔ سچ حق و حقیقت کے بغیر روحانی و ذہنی سکون حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسکے بغیر ہر جگہ ہر وقت عذاب ہی عذاب ہے (7) جو کچھ دنیا مین ہوتا ہے خدا خود ہی کرتا اور کراتا ہے ۔ رھمت مرشد سے خڈا کسی کو ہی سمجھاتا ہے ۔ مرید مرشد دنیاوی و ذہنی غلامی کی بندشوں سے آزاد ہوتا ہے اور بدیوں اور برائیوں سے آزاد کرتا ہے (8) جو انسان ہر وقت دولت کی نت میں مصروف رہت اہے وہ ہمیشہ خواہشات کی آگ میں جلتا رہتا ہے ۔ اسکی فکر مندری اور تشویش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ مرید مرشد ہونے سے فکر مندری ختم ہوتی ہے اور الہٰی یادوریاض میں مصروفیت حاصل ہوتی ہے (9) اگر خدا خود بیفکری بخشے تبھی حاصل ہوتی ہے ۔ رحمت مرشد سے ظاہر ہوجاتا ہے اسکے ذہن میں وہ پریم پیار سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں توجہ دیتا ہے اور اس سے روھانی وزہنی سکون پات اہے (10) خدا کا پیار نام سچ و حقیقت اپنانا ہی عبادت ور یاضت و پرہیز گاری ہے اور تمام گناہوں کو عافو کر دیتا ان گناہوں کو کاٹنتے کی توفیق رکھنے والا ۔ خدا کا نام اپنانے سے دل و جان کو سکون ملت اہے انسان روھانی وزہنی سکون میں محو ومجذوب رہتا ہے (11) دلمیں لالچ ہونے سے دل ناپاک ہو جاتا ہے اور ناپاک من کو مزیر ناپاکی لگتی ہے ۔ ناپاک اعمال سے عذاب پات اہے ۔ وہ ہمیشہ جھوٹ کی سوداگری کرت اہے اور جھوٹ بول کر عذاب پاتا ہے (12) پاک کلام جو دلمیں بساتا ہے ۔ رھمت مرشد سے اسکی فکر مندری مٹ جاتی ہے ۔ جو مرشد کی رضا میں رہ کر روز و شب خدا کے نام میں دل لگات اہے نام کی برکت سے سکھ پاتا ہے (13) خدا ہی پیدا کرنے والا ہے اور خود ہی پیدا کر مٹاتا ہے ۔ مرید مرشد ہوکر جو حمدوثناہ الہٰی کرتا ہے وصل سے اُسکے روھانی سکون پاتا ہے (14) بیشامر کوششوں کے باوجو دشہوت قابو نہیں ہوتی ہر شخص شہوت اور غصے میں جل رہ اہے ۔ خدمت ہ مرشد سے من قابو آتا ہے ۔ من پر قابو پانے سے ہی من میں مھو ہو جاتا ہے (!5) آپسی تفریق بھیخدا کی ہی پیدا کی ہوئی ۔ اے خدا ساری مخلوقاتتیری ہے تیری ہی پیدا کروہ ہے ۔ اے نانک۔ خدا کا نام سچ حق و حقیقت دلمیں بسایہ سبق مرشد سے دلمیں بستا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
ہرِ جیِءُ داتا اگم اتھاہا ॥
اوسُ تِلُ ن تماءِ ۄیپرۄاہا ॥
تِس نو اپڑِ ن سکےَ کوئیِ آپے میلِ مِلائِدا ॥੧॥
جو کِچھُ کرےَ سُ نِہچءُ ہوئیِ ॥
تِسُ بِنُ داتا اۄرُ ن کوئیِ ॥
جِس نو نام دانُ کرے سو پاۓ گُر سبدیِ میلائِدا ॥੨॥
چئُدہ بھۄنھ تیرے ہٹنالے ॥
ستِگُرِ دِکھاۓ انّترِ نالے ॥
ناۄےَ کا ۄاپاریِ ہوۄےَ گُر سبدیِ کو پائِدا ॥੩॥
ستِگُرِ سیۄِئےَ سہج اننّدا ॥
ہِردےَ آءِ ۄُٹھا گوۄِنّدا ॥
سہجے بھگتِ کرے دِنُ راتیِ آپے بھگتِ کرائِدا ॥੪॥
ستِگُر تے ۄِچھُڑے تِنیِ دُکھُ پائِیا ॥
اندِنُ ماریِئہِ دُکھُ سبائِیا ॥
متھے کالے مہلُ ن پاۄہِ دُکھ ہیِ ۄِچِ دُکھُ پائِدا ॥੫॥
ستِگُرُ سیۄہِ سے ۄڈبھاگیِ ॥
سہج بھاءِ سچیِ لِۄ لاگیِ ॥
سچو سچُ کماۄہِ سد ہیِ سچےَ میلِ مِلائِدا ॥੬॥
جِس نو سچا دےءِ سُ پاۓ ॥
انّترِ ساچُ بھرمُ چُکاۓ ॥
سچُ سچےَ کا آپے داتا جِسُ دیۄےَ سو سچُ پائِدا ॥੭॥
آپے کرتا سبھنا کا سوئیِ ॥
جِس نو آپِ بُجھاۓ بوُجھےَ کوئیِ ॥
آپے بکھسے دے ۄڈِیائیِ آپے میلِ مِلائِدا ॥੮॥
ہئُمےَ کردِیا جنمُ گۄائِیا ॥
آگےَ موہُ ن چوُکےَ مائِیا ॥
اگےَ جمکالُ لیکھا لیۄےَ جِءُ تِل گھانھیِ پیِڑائِدا ॥੯॥
پوُرےَ بھاگِ گُر سیۄا ہوئیِ ॥
ندرِ کرے تا سیۄے کوئیِ ॥
جمکالُ تِسُ نیڑِ ن آۄےَ مہلِ سچےَ سُکھُ پائِدا ॥੧੦॥
تِن سُکھُ پائِیا جو تُدھُ بھاۓ ॥
پوُرےَ بھاگِ گُر سیۄا لاۓ ॥
تیرےَ ہتھِ ہےَ سبھ ۄڈِیائیِ جِسُ دیۄہِ سو پائِدا ॥੧੧॥
انّدرِ پرگاسُ گُروُ تے پاۓ ॥
نامُ پدارتھُ منّنِ ۄساۓ ॥
گِیان رتنُ سدا گھٹِ چاننھُ اگِیان انّدھیرُ گۄائِدا ॥੧੨॥
اگِیانیِ انّدھے دوُجےَ لاگے ॥
بِنُ پانھیِ ڈُبِ موُۓ ابھاگے ॥
چلدِیا گھرُ درُ ندرِ ن آۄےَ جم درِ بادھا دُکھُ پائِدا ॥੧੩॥
بِنُ ستِگُر سیۄے مُکتِ ن ہوئیِ ॥
گِیانیِ دھِیانیِ پوُچھہُ کوئیِ ॥
ستِگُرُ سیۄے تِسُ مِلےَ ۄڈِیائیِ درِ سچےَ سوبھا پائِدا ॥੧੪॥
ستِگُر نو سیۄے تِسُ آپِ مِلاۓ ॥
ممتا کاٹِ سچِ لِۄ لاۓ ॥
سدا سچُ ۄنھجہِ ۄاپاریِ نامو لاہا پائِدا ॥੧੫॥
آپے کرے کراۓ کرتا ॥
سبدِ مرےَ سوئیِ جنُ مُکتا ॥
نانک نامُ ۄسےَ من انّترِ نامو نامُ دھِیائِدا ॥੧੬॥੫॥੧੯॥
لفظی معنی:
داتا۔ سخی۔ دینے والا۔ تل۔ ذرا سی۔ تمائے ۔ طمع۔ لالچ۔ اپڑ۔ برابر ۔ ثانی (1) نہچؤ۔ لامزی ۔ ضرور۔ اور ۔ دوسرا۔ نامدان۔ نام۔ سچ ۔ حق و حقیقت خیرات کرے (2) چودہ بھون۔ سات آصمان اور سات پاتال۔ ہٹناے ۔ بازار۔ انتر نالے ۔ دلمیں قریب ہی (3) سہج انند۔ رؤحانی و ذہنی سکون اور سرور۔ ڈٹھا ۔ بسا ۔ سہجے ۔ قدرتی طور پر (4) وچھڑے ۔ جدا ہوکر۔ اندن ۔ ہر روز۔ دکھ سبائیا ۔ بھاری عذآب ۔ متھے کالے ۔ پیشنای پر برائیون کی سیاہی ۔ محل ۔ ٹھکانہ ۔ (5) سہج بھائے ۔ قدرتاً ۔ بلا ترود۔ سچی لو۔ سچا۔ پیار۔ سچے میل۔ سچا ملاپ (6) بھرم ۔ بھٹکن۔ سچو سچ کماویہہ۔ ہر طرح سے حقیقی اور اصلی اعمال۔ سچے میل صدیوی سچا ملاپ ۔بھرم چکائے ۔ وہم وگمان دور کرے (7) سوئی۔ وہی ۔ بجھائے ۔ بوجھے ۔ سمجھائ سمجھے (8) جنم گوائیا۔زندگی برباد کی ۔ چوکے ۔ ختم۔ جمکال۔ فرشتہ موت۔ تل گھانی ۔ پیڑائیداد۔ اتنا سخت حساب جیسے تل گھانی میں یا کویلو میں پیلے جاتے ہیں 0) پورے بھاگ ۔ بلند قسمت سے ۔ ندر۔ نظر عنایت وشفقت۔ محل سچے ۔ سچے خدا کے در پر یا ٹھکانے پر (10) تدھ بھائے جنہیں ( تیر) تو پیار کرتا ہے یا جو تجھے پیارے (11) اندر پرگاس۔ ذہن روشن۔ نام پدارتھ۔ سچ و حقیقت کی نعمت ۔ گیان رتن ۔ علم جو ہیرے کی مانند قیمتی ہے ۔ گھٹ چانن۔ زہن روشن ہوت اہے ۔ اگیان اندھیر۔ لا علمی کا اندھیرا۔ گوائید۔ مٹتا ہے (12) اگیانی ۔ بے علم۔ ابھاگے ۔ بد قسمت۔ چلایا۔ زندگی گذارتے وقت۔ گھر در۔ منزل مقسود۔ جم در بادھا۔ فرشتہ موت کا گرفتار کیا ہوا (13) مکت ۔ آزادی ۔ گیانی دھیانی ۔ عالم و توجہی ۔ وڈیائی۔ عظمت و حشمت۔ سوبھا۔ شہرت (14) ممتا۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ سچ ۔ لو۔ سچے خدا اور سچ سے محبت۔ سچ ونجہہ۔ سچ کی سوداگری ۔ لاہا ۔ نفع (15) سبدے مرے ۔ کلام کے ذریعے ۔ خدودی ۔ مٹائے ۔ سوئی جن وہی شخس۔ نامو نام۔ ہر وقت حقیقت کی پرستاری۔
ترجمہ:
خدا نہایت مہربان رازق دنیا میں اُسکے برابر کوئی سخی نہیں اُسے بالکل لالچ بھی نہیں نہ کسی کا محتاج ہے ۔ اُسکا دنیا میں ثانی نہیں وہ خود ہی اپنا میل ملات اہے (1) وہ جو کچھ کرتا ہے لازما ہوتا۔ اسکے بغیر دنیا کوئی سخی نہیں ۔ جسے خدا نام کی خیرات دیتا ہے وہی پاتا ہے کلام مرشد سے ملا کر اسے ملاتا ہے (2) چودہ بھون یا طبق تیرے لئے ایک بازار ہیں۔ سچا مرشد اسے ذہن میں ہی دکھا دیتا ہے ۔ جو خداکے نام سچ حق و حقیقت کا سودا گر ہے ۔ کلام مرشد سے پا لیتا ہے (3 سچے مرشد کی خدمت سے روحانی وذہنی سکون پاتا ہے ۔ دلمیں خدا بساتا ہے قدرتی طور پر خدا پانی عبادت اور بندگی کراتا ہے (4) جو شخس سچے مرشد کو چھوڑ دیتے ہیں عذآب پاتے ہیں ان کو ہر روز مار پڑتی ہے اور عذآب بڑھتا جات اہے ۔ پیشانی داغدار ہو جاتی ہے ٹھکانہ یا منزل نہیں پاتے عذاب ہی عذاب برداشت کرتے ہیں (5) خوش قسم ہیں وہ جو مرشد کی خدمت کرتے ہیں ۔ اور قدرتی طور پر انہیں سچی محبت ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ سچے حقیقی اعمال کرتے ہیں اور سچے خدا سے ملاپ پاتے ہیں (6) جسے خدا دیتا ہے وہی پاتا ہے جس کے دلمیں سچ بس جائے اسکی بھتکن مٹ جاتی ہے ۔ سچ اور حقیقت بخشنے والا خڈا جسے دیتا ہے وہی پاتا ہے سچ و حقیقت (7) سبھ کا کارساز کرتار ہے خود خدا ۔ جسے سمجھاتا ہے ۔ وہی سمجھتا ہے یہ ۔ خود ہی اسے عطمت و حشمت سے نوازتا ہے اور خود ہی میل ملاتا ہے (8) خودی کی مغروری میں زندگی برباد کردی ۔ مگر دنیاوی دؤلت کی محبت ختم نہ ہوئی بوقت آخرت جب اعمال کا حساب فرشتہ موت لیتا ہے تو وہ اس طرح پیلتا ہے کوہلو میں تلوں کو پیلا جاتا ہے (9) مرشد کے بتائے ہوئے راہ پر انسان تبھی چل سکتا ہے جب خدا کی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے ۔ فرشتہ موت نزدیکنہیں آتا تب الہٰی قربت کا سکون پاتا ہے (10) اے خدا وہی سکون اور آرام آسائش پاتے جنہیں تو پیار کرتا ہے ۔ جو بلند قسمت سے مرشد کے بتائے راہ پر چلتے ہیں ساری عظمت تیرے پاس ہے جسے تو دیتا ہے وہی پات اہے (11) مرشد ذہن روشن کرتا ہے ۔ جس سے خدا کا نام سچ حق و حقیقت دل میں بستا ہے ۔ علم و دانش سے ذہن روشن ہوتا ہے لا لعمی اور جہالت ختم ہوجاتی ہے (12) لا علم عقل سے بصیر دنیاوی دؤلت میں محظوظ رہتے ہیں بلا کسی جواز اور وجہ کے پانی کے بغیر بدیوں اور برائیوں کے پانی میں روحانی وذہنی طور پر مرتے ہیں۔ زندگی کے سفر میں اپنی منزل و مقصد اور زندگی کے سفر میں اپنی منزل و مقصد اور زندگی کے مدعا کا پتہ نہیں چلتا آخر خدا سے عذاب پاتا ہے (13) سچے مرشد کے بتائے ہوئے راہ پر چلنے کے بگیر نجات یا آزادی حاص ن ہوگی۔ ایسا کسی بھی دانشمند عالم اور توجہی سے پوچھ لو۔ جو سچے مرشد کے بتائے راہ پر چلتا ہے اسے بزرگی عطمت وحشمت حاصل ہوتی ہے اور خدا کے در پر شہرت حاصل کرتا ہے (14) جو سچے مرشد کے بتائے راہ پر گامزن ہوتا ہے اسے خدا خود ملاتا ہے ۔ دنیاوی دؤلت کا لالچ ختم کرکے سچ و حقیقت سے پیار کرے اور ہمیشہ سچ و حقیقت کی سوداگری کرتے ہیں و سچ و حقیقت الہٰی نام کا منافع کماتے ہیں (15) خدا خود ہی کرتا اور کار کراتا ہے ۔ سبق و کلام سے جو خؤدی مٹاتا ہے وہ برائیوں اور دنیاوی غلامیوں سے نجات پا لیتا ہے ۔ اے نانک جب الہٰی نام سچ حق اور حقیقت دلمیں بس جائے تو اسکی توجہ ہر وقت سچ وحقیقت الہٰی نام میں رہتی ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
جو تُدھُ کرنھا سو کرِ پائِیا ॥
بھانھے ۄِچِ کو ۄِرلا آئِیا ॥
بھانھا منّنے سو سُکھُ پاۓ بھانھے ۄِچِ سُکھُ پائِدا ॥੧॥
گُرمُکھِ تیرا بھانھا بھاۄےَ ॥
سہجے ہیِ سُکھُ سچُ کماۄےَ ॥
بھانھے نو لوچےَ بہُتیریِ آپنھا بھانھا آپِ منائِدا ॥੨॥
تیرا بھانھا منّنے سُ مِلےَ تُدھُ آۓ ॥
جِسُ بھانھا بھاۄےَ سو تُجھہِ سماۓ ॥
بھانھے ۄِچِ ۄڈیِ ۄڈِیائیِ بھانھا کِسہِ کرائِدا ॥੩॥
جا تِسُ بھاۄےَ تا گُروُ مِلاۓ ॥
گُرمُکھِ نامُ پدارتھُ پاۓ ॥
تُدھُ آپنھےَ بھانھےَ سبھ س٘رِسٹِ اُپائیِ جِس نو بھانھا دیہِ تِسُ بھائِدا ॥੪॥
منمُکھُ انّدھُ کرے چتُرائیِ ॥
بھانھا ن منّنے بہُتُ دُکھُ پائیِ ॥
بھرمے بھوُلا آۄےَ جاۓ گھرُ مہلُ ن کبہوُ پائِدا ॥੫॥
ستِگُرُ میلے دے ۄڈِیائیِ ॥
ستِگُر کیِ سیۄا دھُرِ پھُرمائیِ ॥
ستِگُر سیۄے تا نامُ پاۓ نامے ہیِ سُکھُ پائِدا ॥੬॥
سبھ ناۄہُ اُپجےَ ناۄہُ چھیِجےَ ॥
گُر کِرپا تے منُ تنُ بھیِجےَ ॥
رسنا نامُ دھِیاۓ رسِ بھیِجےَ رس ہیِ تے رسُ پائِدا ॥੭॥
مہلےَ انّدرِ مہلُ کو پاۓ ॥
گُر کےَ سبدِ سچِ چِتُ لاۓ ॥
جِس نو سچُ دےءِ سوئیِ سچُ پاۓ سچے سچِ مِلائِدا ॥੮॥
نامُ ۄِسارِ منِ تنِ دُکھُ پائِیا ॥
مائِیا موہُ سبھُ روگُ کمائِیا ॥
بِنُ ناۄےَ منُ تنُ ہےَ کُسٹیِ نرکے ۄاسا پائِدا ॥੯॥
نامِ رتے تِن نِرمل دیہا ॥
نِرمل ہنّسا سدا سُکھُ نیہا ॥
نامُ سلاہِ سدا سُکھُ پائِیا نِج گھرِ ۄاسا پائِدا ॥੧੦॥
سبھُ کو ۄنھجُ کرے ۄاپارا ॥
ۄِنھُ ناۄےَ سبھُ توٹا سنّسارا ॥
ناگو آئِیا ناگو جاسیِ ۄِنھُ ناۄےَ دُکھُ پائِدا ॥੧੧॥
جِس نو نامُ دےءِ سو پاۓ ॥
گُر کےَ سبدِ ہرِ منّنِ ۄساۓ ॥
گُر کِرپا تے نامُ ۄسِیا گھٹ انّترِ نامو نامُ دھِیائِدا ॥੧੨॥
ناۄےَ نو لوچےَ جیتیِ سبھ آئیِ ॥
ناءُ تِنا مِلےَ دھُرِ پُربِ کمائیِ ॥
جِنیِ ناءُ پائِیا سے ۄڈبھاگیِ گُر کےَ سبدِ مِلائِدا ॥੧੩॥
کائِیا کوٹُ اتِ اپارا ॥
تِسُ ۄِچِ بہِ پ٘ربھُ کرے ۄیِچارا ॥
سچا نِیاءُ سچو ۄاپارا نِہچلُ ۄاسا پائِدا ॥੧੪॥
انّتر گھر بنّکے تھانُ سُہائِیا ॥
گُرمُکھِ ۄِرلےَ کِنےَ تھانُ پائِیا ॥
اِتُ ساتھِ نِبہےَ سالاہے سچے ہرِ سچا منّنِ ۄسائِدا ॥੧੫॥
میرےَ کرتےَ اِک بنھت بنھائیِ ॥
اِسُ دیہیِ ۄِچِ سبھ ۄتھُ پائیِ ॥
نانک نامُ ۄنھجہِ رنّگِ راتے گُرمُکھِ کو نامُ پائِدا ॥੧੬॥੬॥੨੦॥
لفظی معنی:
تدھ ۔ تو نے ۔ کرنا۔ کرنا ہے ۔ سو وہ۔ کرپائیا۔ کردیا۔ بھانے ۔ رضا۔ ورلا۔ کوئی ہی ۔ بھانا۔ جو چاہتا ہے ۔ سہجے ہی ۔ آسانی سے ۔ سکھ سچ۔ حقیقت کا لطف ۔ کماوے ۔ پاتا ہے (2) بھانا منے ۔ جو تیری رضا میں راضی ۔ لوچے ۔ خوآہش (2) ودیائی ۔ عزت ۔ آبرو(3) پدارتھ۔ نعمت۔ بھائیداد ۔ پیارا (4) چترائی۔ چالاکی ۔ بھرمے بھولا۔ وہم و گمان میں گمراہ۔ گھر محل۔ منزل و ٹھکانہ (5) دھر فرمائی خدا کی طرف سے (6) اُیجے ۔ پیدا ہوت اہے ۔ چھیجے ۔ مٹتا ہے ۔ بھیجے ۔ متاچر۔ رسنا۔ زبان سے ۔ دھیائے ۔ توجہ دے ۔ رس بھیے ۔ لطف سے متاچر (7) محلے اندرومحل۔ جسمانی محل کے اندر ٹھکانہ ۔ سچ چت۔ خدا سے محبت۔ سچ دئے ۔ خدا بخشے ۔ ۔ سوئی۔ وہی ۔ سچ ۔ خدا۔ سچے سچ۔ صدیوی سچے خدا سے سچ (8) دسار ۔ بھلا کر ۔ روگ ۔ بیماری۔ کسٹی۔ کوہڑی ۔ نر کے ۔ دوزخ۔ داسا۔ رہائش (9) نام رتے ۔ نام سے متاچر ۔ محو ۔ تن ۔ اُنکی ۔ نرمل۔ پاک۔ ہنسا۔ روح۔نیہا۔ پیار۔ نح گھر داسا ۔ ذہن نشینی (10) سب کو۔ سارے ۔ ونج ۔ سوداگری ۔ واپار۔ سوداگو۔ توٹا۔ گھاٹا۔ ناگو۔ ننگا۔ آئیا پیدا ہوا۔ جاسی۔ اس دنیا سے جائیگا (11) گر کر پا۔ مرشد کی مہربانی سے ۔ گھٹ انتر۔ دلمیں۔ نامو نام۔ ہر وقت یادوریاضت خدا (12) لوچے ۔ چاہت۔ خوآہش ۔ جیتی جتنی۔ دھر پربھ کمائی۔ پہلے سے آغاز سے کئے ہوئے اعمال کے مطابق ۔ گر کے سبد ۔ کلام مرشد سے (13) کائیا کوٹ ۔ جسمانی قلعہ۔ وچار۔ خیال آرائی۔ سوچ سمجھ ۔ نیاؤ۔ انصاف۔ سچوواپار۔ پاک سودار ۔ نہچل ۔ مستقل ۔ (14) انتر گھر۔ ذہن میں۔ بنکے ۔ خوبصورت۔ تھان۔ مقام۔ ات ساتھ ۔ اسکے ساتھ۔ نیہے ۔ گذرتی ہے ۔ سچے ہر صدیوی سہے خدا۔ سچا من وسائیدا۔ خدا دلمیں بسا کر (15) ینت ۔ تجویز ۔ منصوبہ۔ پلا۔ سب وتھ۔ ساری اشیا۔ نام ونجیہہ۔ جو نام یا حق سچ کی سوداگری کرتے ہیں۔ رنگ راتے ۔ پیار سے متاثر۔
ترجمہ:
اے خدا جو تیری کرنے کی خوآہش تھی وہ کرپائیا۔ مگر تیری رضا و مرضی پر کوئی ہی متفق ہوا۔ اے خدا تیری رضا و مرضی تلسیم کرتا ہے وہ آراد و آسائش پاتا ہے تیری رضر و مرضی ہی سکھ یا آرام ہے (1) مرید مرشد کو اے خدا تیری رضا و مرضی پیار ہے وہ ذہنی و روحانی سکون میں سچ اور پاکیزگی پاتا ہے ۔ یون تو تیری رضا کی فرمانبرداری کی بہت سے خواہش مند ہیں مگر دا اپنی رضا خود تسلیم کرتا ہے (2) جو تیری رضا تسلیم کرتا ہے اے خدا وہ تیرا ملاپ پاتا ہے جسکو تیری رضا سے ہے محبت وہ تجھ میں محو ومجذوب رہتا ہے تیری رضا میں اے خدا مضمر ہے عزت مگر کسی کو ہی یہ رضا تو کرواتا ہے (3) اے خڈا جسے تو پیار کرتا ہے مرشدسے ملاتا ہے مرید مرشد سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت کی نعمت ملتی ہے ۔ اے خدا تو نے یہ سارا عالم اپنی رضا سے پیدا کیا ہے جسے تو رضا عنایت کرتا ہے اُسے تیری رضا سے محبت ہو جاتی ہے (4) جاہل مرید من تیری رضا تسلیم نہ کرکے عذآب اُٹھاتا ہے وہم وگمان میں گمراہ تناسخ میں پڑ کر کبھی بھی منزل اور ٹھکانہ نہیں پاتا (5) سچے مرشد سے ملاکر عزت افزائی رتا ہے ۔ پہلے سے ہی سچے مرشد کی کدمت کا حکم ہے مراد مرشد کے بتائے راستے کا راہگیر بننے کی تلقین کی ہے ۔ سچے مرشد کے راستے پر چلنے سے ناموری اور خدا کے نام سچ و حقیقت اپنانے سے سکون ملتا ہے (6) سب کچھ خدا کے نام سے پیدا ہوتا ہے نام سے مٹ جاتا ہے رحمت مرشد سے دل و جان اس سے متاثر ہوتی ہے زبان سے اس نام میں تجوہ دینے سے اسکے سرور سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اسکے لطف سے مزہ آتا ہے (7) اس جسمانی محل میں الہٰی محل یا ٹھکانہ کسی کو ہی ملتا ہے ۔ مرشد کے سبق و کلام سے حقیقت میں دل لگائے ۔ جسے خدا دیتا ہے وہی سچ و حقیقت پاتا ہے اور سچے صدیوی خدا میں یکسوئی پاتا ہے (8) نام بھلا ر دل و جان کو عذآب اور مصیبت میں پڑنا ہے ۔ دنیاوی دولت کی مھبت روحانی بیماری اور ذہنی کوفت کمانا ہے خدا کے نام سچ حق و حقیقت اپنائے بغیر اخلاقی و روحاین کوہڑکی بیماری میں مبتلا رہتا ہے اور دوزک نصیب ہوتا ہے (9) نام یعنی سچ حق و حقیت سے متاثر انسان کو جسمانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے روح اور زہن پاک ہوجاتا ہے اور پیار کا آرام پاتا ہے (10) سارے سوداگری بیوپار او ر کاروبار کرتے ہیں مگر الہٰی نام سچ حق و حقیقت کے بگیر گھاٹا ہی اُٹھاتے ہیں اس عالم میں انسان ننگا جنم لیت اہے ننگا ہی چلا جاتا ہے اسلتی کے بگیر عذآب پاتا ہے (11) جسے خدا دیتا ہے وہی نام پاتا ہے مرشد کے کلام سے خدا دلمیں بستا ہے مرشد کی کرم و عنایت سے خڈا دلمیں بستا ہے اور ہر وقت خدا کے نام میں دل لگاتا ہے (12) اس دنیا کے سارے لوگ الہٰی نام سچ حق و حقیقت کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن نام انہیں میسئر ہوتا ہے ۔ جنہوں نے پہلے نیک امعال کئے ہوتے ہیں بلند قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے الہٰی نام پالیا کلام مرشد کے ذریعے خدا انہیں اپنے ساتھ ملا لیتا ہے (13) جسمانی قلعہ ایک وسیع عمارت کی مانند ہے ۔ جس میں بیٹھ کر خدا اپنے خیالات دوڑاتا اور سوچتا سمجھتا ہے خڈا کا انصاف سچا ہے اور صدیوی ہے اور سوداگری پاک ہے ۔ جو سوداگری نام کی کرتا ہے مستقل مزاج ہوجاتا ہے (14) ایسے انسان کا زہن و قلب پاک جسم خوب صورت ہو جاتا ہے کسی کو ایسی صورت حال نصیب ہوتا ہے مرشد کے وسیلے سے سچے خدا اور پاک دل قلب و ذہن میں بسا کر اسطرح سے خدا کے ساتھ آخری وقت تک پورا ساتھ رہتا ہے (15) خدا نے ایک منصوبہ بنا رکھا ہے کہ اس نے تمام ایشا اس جسم مں ڈال دی ہیں جو روحانی زندگی کے لئے ضرروی ہیں جو شخص الہٰی نام کی سوداگری کرتے ہیں۔ اے نانک۔ وہ اسکے پیار سے متاثر ہوکر مزید مرشد ہوکر الہٰی نام سچ حق و حقیقت پاتے ہیں کوئی۔

ماروُ مہلا ੩॥
کائِیا کنّچنُ سبدُ ۄیِچارا ॥
تِتھےَ ہرِ ۄسےَ جِس دا انّتُ ن پاراۄارا ॥
اندِنُ ہرِ سیۄِہُ سچیِ بانھیِ ہرِ جیِءُ سبدِ مِلائِدا ॥੧॥
ہرِ چیتہِ تِن بلِہارےَ جاءُ ॥
گُر کےَ سبدِ تِن میلِ مِلاءُ ॥
تِن کیِ دھوُرِ لائیِ مُکھِ مستکِ ستسنّگتِ بہِ گُنھ گائِدا ॥੨॥
ہرِ کے گُنھ گاۄا جے ہرِ پ٘ربھ بھاۄا ॥
انّترِ ہرِ نامُ سبدِ سُہاۄا ॥
گُربانھیِ چہُ کُنّڈیِ سُنھیِئےَ ساچےَ نامِ سمائِدا ॥੩॥
سو جنُ ساچا جِ انّترُ بھالے ॥
گُر کےَ سبدِ ہرِ ندرِ نِہالے ॥
گِیان انّجنُ پاۓ گُر سبدیِ ندریِ ندرِ مِلائِدا ॥੪॥
ۄڈےَ بھاگِ اِہُ سریِرُ پائِیا ॥
مانھس جنمِ سبدِ چِتُ لائِیا ॥
بِنُ سبدےَ سبھُ انّدھ انّدھیرا گُرمُکھِ کِسہِ بُجھائِدا ॥੫॥
اِکِ کِتُ آۓ جنمُ گۄاۓ ॥
منمُکھ لاگے دوُجےَ بھاۓ ॥
ایہ ۄیلا پھِرِ ہاتھِ ن آۄےَ پگِ کھِسِئےَ پچھُتائِدا ॥੬॥
گُر کےَ سبدِ پۄِت٘رُ سریِرا ॥
تِسُ ۄِچِ ۄسےَ سچُ گُنھیِ گہیِرا ॥
سچو سچُ ۄیکھےَ سبھ تھائیِ سچُ سُنھِ منّنِ ۄسائِدا ॥੭॥
ہئُمےَ گنھت گُر سبدِ نِۄارے ॥
ہرِ جیِءُ ہِردےَ رکھہُ اُر دھارے ॥
گُر کےَ سبدِ سدا سالاہے مِلِ ساچے سُکھُ پائِدا ॥੮॥
سو چیتے جِسُ آپِ چیتاۓ ॥
گُر کےَ سبدِ ۄسےَ منِ آۓ ॥
آپے ۄیکھےَ آپے بوُجھےَ آپےَ آپُ سمائِدا ॥੯॥
جِنِ من ۄِچِ ۄتھُ پائیِ سوئیِ جانھےَ ॥
گُر کےَ سبدے آپُ پچھانھےَ ॥
آپُ پچھانھےَ سوئیِ جنُ نِرملُ بانھیِ سبدُ سُنھائِدا ॥੧੦॥
ایہ کائِیا پۄِتُ ہےَ سریِرُ ॥
گُر سبدیِ چیتےَ گُنھیِ گہیِرُ ॥
اندِنُ گُنھ گاۄےَ رنّگِ راتا گُنھ کہِ گُنھیِ سمائِدا ॥੧੧॥
ایہُ سریِرُ سبھ موُلُ ہےَ مائِیا ॥
دوُجےَ بھاءِ بھرمِ بھُلائِیا ॥
ہرِ ن چیتےَ سدا دُکھُ پاۓ بِنُ ہرِ چیتے دُکھُ پائِدا ॥੧੨॥
جِ ستِگُرُ سیۄے سو پرۄانھُ ॥
کائِیا ہنّسُ نِرملُ درِ سچےَ جانھُ ॥
ہرِ سیۄے ہرِ منّنِ ۄساۓ سوہےَ ہرِ گُنھ گائِدا ॥੧੩॥
بِنُ بھاگا گُرُ سیۄِیا ن جاءِ ॥
منمُکھ بھوُلے مُۓ بِللاءِ ॥
جِن کءُ ندرِ ہوۄےَ گُر کیریِ ہرِ جیِءُ آپِ مِلائِدا ॥੧੪॥
کائِیا کوٹُ پکے ہٹنالے ॥
گُرمُکھِ لیۄےَ ۄستُ سمالے ॥
ہرِ کا نامُ دھِیاءِ دِنُ راتیِ اوُتم پدۄیِ پائِدا ॥੧੫॥
آپے سچا ہےَ سُکھداتا ॥
پوُرے گُر کےَ سبدِ پچھاتا ॥
نانک نامُ سلاہے ساچا پوُرےَ بھاگِ کو پائِدا ॥੧੬॥੭॥੨੧॥
لفظی معنی:
کائیا۔ جسم۔ کنچن سونا۔ سبد ۔ کلام۔ ویچار۔ سوچتے سمجھتے اور خیال کرنے پر۔ ہر وسے ۔ خدا بستا ہے ۔ انت۔ آکر۔ پارا دار۔ نہایت وسیع لا محدود۔ سچی بانی۔ پاک کلام۔ سبد ملائیا۔ کلام ملاتا ہے ۔ ہر جیؤ۔ خدا سے (1) ہرچتہہ۔ جو یاد خدا کو کرتے ہیں۔ تن ۔ ان پر ۔ بلہارے ۔ قربان۔ دہور۔ دہول۔ خاک۔ مکھ ۔ چرہے ۔ مستک۔ پیشانی۔ ست سنگت۔ ست ۔ سچے ۔ پاک۔ سنگت ۔ ساتھیوں (2) گن۔ وصف۔ گن گاوا۔ حمدوچناہ۔ پربھ بھاوا۔ خدا کا پیارا محبوب۔ سہاوان۔ دلدادہ۔ چوہ کنڈی ۔ چاروں طرف۔ ساچے نام کدا کے نام سچ حق و حقیقت سمائید۔ محو ومجذوب (3) ساچا۔۔ پاکدامن۔ جن۔ انسان ۔ شخس۔ انتر بھائے ۔ ذہن و قلب و اعمال کی کاریا اعمال کی تحقیق یا نیک و بد کی تمیز کرے ۔ ندر نہاے ۔ نگاہ شفقت وعنایت کی نظر سے دیکھے ۔۔ گیان انجن۔ علم کا سرمہ ۔ ندری ندر۔ مشفقانہ نگاہ (4) مانس جنم انسانی زندگی ۔ سبد چت۔ کلام سے دلی محبت۔ اند اندھیرا۔ اندھیرا غبار ۔ اتنا اندھیرا جسمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا نہ سوجھتا ہے ۔ بجھائید ۔ سمجھات اہے (5) کت آئے ۔ کس لئے پیدا ہوئے ۔ جنم گوائے ۔ زندگی برباد کی ۔ دوبے بھاٹے ۔ دنیاوی دولت کی محبتمیں۔ ہتھ نہ آوے ۔ حاصل ہ ہوگا ۔ پگ کھسیا۔ پاوں پھسل جانے پر ۔ پچھتائید۔ پچھتاتا ہے (6) پوتر ۔ پاک وپائس۔ سچ گنی ۔گہیرا۔ سچا بااوصاف۔ سنجیدہ مستقل مزاج خدا۔ سچو سچ دیکھے سبھ تھائیں۔ اسے ہر جا خدا نظر اتا ہے ۔ سچ سچن من و سائید۔ حقیقت اور خدا کو سنکر دلمیں بساتا ہے (7) ہونمے گنت۔ خودی اور حساب مراد دؤلت کی گنتی ۔ نوارے ۔ متانا یادور کرتا ہے ۔ اردھارے ۔ دلمیں بسا کر۔ مل ساچے۔ خدا کے ملاپ سے (8) چیتائے ۔ یاد کرائے ۔ دیکھئے ۔ نظر ڈالتا ہے ۔ ۔ بوجھے ۔سمجھتا ہے ۔ سمائید۔ بخود (9) وتھ۔ نعمت۔ سوئی۔ وہی ۔ آپ پچھانے سوئی جن نرمل ۔ جو اپنے آپ کی پہچان کرت اہے وہی شخس پاک ہے ۔ بانی سبد سنا ئید۔ بول کر کلام سنات اہے (10) پوت۔ مقدس۔ چیتے ۔ یاد کرے ۔ گنی گہیر۔ گہرے سنجیدہ اوصاف والا۔ گن۔ اوصاف ۔ (11) مول بنیاد۔ اصل۔ بھلائیا۔گمراہ کیا (12) پروان۔ منظور۔ قبول۔ ہنس۔ رؤح۔ سوہے ہرگن گائید۔ حمدوثناہ کرتا خدا کی اچھا لگتا ہے (13) بن بھاگا۔ بغیر تقدیر۔ بھوے ۔ گمراہ ۔ بللائے ۔ آہ وزاری گرتے ہٰن ۔ ہرجیؤ۔ کدا (14) کائیا کوٹ۔ جسمانی قلعہ ۔ بکے مٹناے ۔ بکے بازار۔ وست۔ اشیا۔ سماے ۔ سنبھال کی ہوئی۔ اتم پدوی ۔ بلند عظمت رتبہ (15) پچھاتا ۔ پہچان آئی۔ پورے بھاگ ۔ کامل قسمت سے ۔
ترجمہ:
کلام یا سبق مرشد سے انسانی جسم سونے کی طرح قیمتی ہوجاتا ہے اس میں خدا بستا ہے جس کے اوصاف اعداد و شمار سے باہر ہیں۔ ہر روز الہٰی عبادت اورحمد وثناہ سے اور کلام سے خدا سے لاتا ہے (1) قربان ہوں ان پر جو خدا کی یادوریاض کرتے ہیں کلام مرشد سے ان سے ملاپ ہوتا ہے ان کی خاک پا قدموں کی مٹی یا دہول اپنے چہرے اور پیشانی پر لگاتا ہون جو پاک ساتھیوں میں خدا کی حمدچناہ کرتے ہیں (2) اگر محبوب خدا ہو جاوں تو اسکی حمدوثناہ کرؤ ۔ اگر دلمیں بس جائے خدا کا نام سچ حق و حقیقت بس جائے تو کلام سے زندگی اچھی ہو سکتی ہے ۔ کلام مرشد جو چاروں طرف سنتی جاتی ہے اس سے سارے عالم میں شہرت اور ناموری حاصل ہوتی ہے ۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت میں دھیان لگانے سے اسمیں محو ومجذوب ہوجاتاہے (3) پاک و پائس ہے وہ انسان جو اپنے قلب و اعمال کی تحقیق کرتا ہے کلام مرشد کے ذریعے خدا اس پر نظر عنایت شفقت ڈالتا ہے جو کلام مرشد سے علم و دانش کا سرمہ استعمال کرتا ہے رحمان الرحیم اپنی نظر عنایت سے ملا لیتا ہے (4)انسانی زندگی اور انسانی جسم بھاری خوش قسمتی سے حاصل ہوت اہے ۔ اسی انسان زندگی میں کلام سے محبت بنتی ہے کلام کے بگیر یہ زندگی ایک اندھیر غبار ہے اسکی سمجھ خدا مرشد کے ذریعے دیتا ہے (5) جنہون نے زندگی یکار برباد کرلی ان کا پیدا ہونا ہی بیکار ہے ۔ من کام مرید انسان دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار رہتا ہے ۔ ایس اموقعہ دوبارہ حاصل نہیں ہوتا پاوں تھڑکنے پر انسان پچھتاتا ہے (6) کلام مرشد پر عمل کرنے سے یہ جسم پاک و پائس ہوجاتا ہے ایسیے جسم میں خدا بستا جو صدیوی اور تمام اوصاف کا مالک ہے ۔ سنجیدہ مستقل مزاج گیری سوچ سمجھ والا ہے ۔ وہ ہر جگہ خدا اور حقیقت دیکھتا دل میں بساتا اور سنتا ہے (7) خودی اور دنیاوی حساب کلام مرشد دور کرتا یا مٹتا ہے ۔ خدا دلمیں بساؤ۔ جو کلام رمشد کے ذریعے خدا کی حمد وثناہ کرتا ہے وہ خدا کے ملاپ سے روحانی وذہنی سکون پاتا ہے (8) خدا کی یادوریاض وہی کرتا ہے جس سے خدا خود کرواتا ہے او ر کلام مرشد کی برکت و عنایت سے دل میں بس جاتا ہے ۔ خود نظر ڈالتا ہے سمجھتا ہے اور بیخود ہو جاتا ہے ((9) جس کے دل میں یہ نعمت اپنے دل میں ڈنڈھ لی اسکی سمجھ اسے ہی ہے ۔ کلام مرشد سے اپنے ذہن سو چ و کردار کی پہچان کرتا ہے ۔ جس نے اپنا آپ پہچان لی اوہی ہے پاک انسان پاک کردار ہو جاتا ہے ۔ وہ حمدوثناہ کرتا ہے کلام مرشد سناتا ہے (10) اسکا جسم پاک اور متبرک ہو جاتا ہے ۔ جو کلام مرشد کے ذریعے بھاری سنجیدہ مستقل مزاج خدا کو یاد کرتا ہے ۔ جو ہر روز تعریف خدا کی کرتا ہے اور اسکے وصفوں میں محو ہوجات اہے (11) جو انسان دنیاوی دؤلت کی محبت میں گمراہ ہوگیا ہے اُسکا جسم دنیاوی دؤلت کی محبت کی بنیاد بن جاتا ہے ۔ خدا کی یاد کے بگیر عذآبب اُٹھات اہے (12) جو شخس خدمت سچے مرشد کی کرتا ہے اور اسکے بتائے راہ پر چلتا ہے منظور نظر خدا ہو جاتا ہے وہ جسمانی و روحانی طور پر پاک و پائس ہو جات اہے اور سچے خدا کے در پر پہچان اور قدروقیمت پات اہے ۔ خدمت خدا کرنے سے دل میں بسانے سے اور حمدوثناہ گرنے سے خوشگوار زندگی بسر کرنے والا ہوجاتا ہے (13) بغیر قسمت خدمت مرشد ہو نہیں سکتی ۔ مرید من اخلاقی طور پر مرتا آہ وزاری کرتا ہے ۔ جن پر مرشد کی نظر عنایت ہوتی ہے انہیں خدا پانے ساتھ ملا لیتا ہے (14) جسم انسانی ایک قلعہ ہے اور اس میں پختہ بازار میں مراد برائیوں بدکاریوں سے بچنے کے لئے ایک قلعہ سے ۔ جو مرید مرشد ہوکر سچ حق و حقیقت کی حفاظت میں محٖوظ رکھتا ہے اس جسمانی قعلے میں اعضائے جسمانی ایک بازار کی حیثیت رکھتے ہیں جو بدیوں کے مقابلہ بغیر لرزش و ڈگمگانے کے کرتے ہیں۔ الہٰی نام سچ و حقیقت میں دھیان لگانے اور توجہ دینے سے بلند عظمت اور بلند رتبے ملتے ہیں (15) خدا ہی انسان کو آرام و آسائش پہنچانے وال اہے ۔ کامل مرشد کےکلام سے اسکی سمجھ آتی ہے اے نانک نام کی تعریف کرنے سے خدا بلند قسمت سے کسی کو ملتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
نِرنّکارِ آکارُ اُپائِیا ॥
مائِیا موہُ ہُکمِ بنھائِیا ॥
آپے کھیل کرے سبھِ کرتا سُنھِ ساچا منّنِ ۄسائِدا ॥੧॥
مائِیا مائیِ ت٘رےَ گُنھ پرسوُتِ جمائِیا ॥
چارے بید ب٘رہمے نو پھُرمائِیا ॥
ۄر٘ہے ماہ ۄار تھِتیِ کرِ اِسُ جگ مہِ سوجھیِ پائِدا ॥੨॥
گُر سیۄا تے کرنھیِ سار ॥
رام نامُ راکھہُ اُرِ دھار ॥
گُربانھیِ ۄرتیِ جگ انّترِ اِسُ بانھیِ تے ہرِ نامُ پائِدا ॥੩॥
ۄیدُ پڑےَ اندِنُ ۄاد سمالے ॥
نامُ ن چیتےَ بدھا جمکالے ॥
دوُجےَ بھاءِ سدا دُکھُ پاۓ ت٘رےَ گُنھ بھرمِ بھُلائِدا ॥੪॥
گُرمُکھِ ایکسُ سِءُ لِۄ لاۓ ॥
ت٘رِبِدھِ منسا منہِ سماۓ ॥
ساچےَ سبدِ سدا ہےَ مُکتا مائِیا موہُ چُکائِدا ॥੫॥
جو دھُرِ راتے سے ہُنھِ راتے ॥
گُر پرسادیِ سہجے ماتے ॥
ستِگُرُ سیۄِ سدا پ٘ربھُ پائِیا آپےَ آپُ مِلائِدا ॥੬॥
مائِیا موہِ بھرمِ ن پاۓ ॥
دوُجےَ بھاءِ لگا دُکھُ پاۓ ॥
سوُہا رنّگُ دِن تھوڑے ہوۄےَ اِسُ جادے بِلم ن لائِدا ॥੭॥
ایہُ منُ بھےَ بھاءِ رنّگاۓ ॥
اِتُ رنّگِ ساچے ماہِ سماۓ ॥
پوُرےَ بھاگِ کو اِہُ رنّگُ پاۓ گُرمتیِ رنّگُ چڑائِدا ॥੮॥
منمُکھُ بہُتُ کرے ابھِمانُ ॥
درگہ کب ہیِ ن پاۄےَ مانُ ॥
دوُجےَ لاگے جنمُ گۄائِیا بِنُ بوُجھے دُکھُ پائِدا ॥੯॥
میرےَ پ٘ربھِ انّدرِ آپُ لُکائِیا ॥
گُر پرسادیِ ہرِ مِلےَ مِلائِیا ॥
سچا پ٘ربھُ سچا ۄاپارا نامُ امولکُ پائِدا ॥੧੦॥
اِسُ کائِیا کیِ کیِمتِ کِنےَ ن پائیِ ॥
میرےَ ٹھاکُرِ اِہ بنھت بنھائیِ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ کائِیا سودھےَ آپہِ آپُ مِلائِدا ॥੧੧॥
کائِیا ۄِچِ توٹا کائِیا ۄِچِ لاہا ॥
گُرمُکھِ کھوجے ۄیپرۄاہا ॥
گُرمُکھِ ۄنھجِ سدا سُکھُ پاۓ سہجے سہجِ مِلائِدا ॥੧੨॥
سچا مہلُ سچے بھنّڈارا ॥
آپے دیۄےَ دیۄنھہارا ॥
گُرمُکھِ سالاہے سُکھداتے منِ میلے کیِمتِ پائِدا ॥੧੩॥
کائِیا ۄِچِ ۄستُ کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
گُرمُکھِ آپے دے ۄڈِیائیِ ॥
جِس دا ہٹُ سوئیِ ۄتھُ جانھےَ گُرمُکھِ دےءِ ن پچھوتائِدا ॥੧੪॥
ہرِ جیِءُ سبھ مہِ رہِیا سمائیِ ॥
گُر پرسادیِ پائِیا جائیِ ॥
آپے میلِ مِلاۓ آپے سبدے سہجِ سمائِدا ॥੧੫॥
آپے سچا سبدِ مِلاۓ ॥
سبدے ۄِچہُ بھرمُ چُکاۓ ॥
نانک نامِ مِلےَ ۄڈِیائیِ نامے ہیِ سُکھُ پائِدا ॥੧੬॥੮॥੨੨॥
لفظی معنی:
نرنکار۔ ایسی ہستی جسکا کوئی آکار نہیں۔ آکار۔ پھیلاؤ۔ حجم۔ (1) تریگن۔ رج گن۔ بڑاہونے کی خوآہش ۔ غسہ۔ حسد۔ میں ملوچ۔ تم گن۔ جب طارق۔ بیراگی۔ دنیاوی جھنجھٹوں سے آزاد تو ست گن۔ پر سوت۔ گربھ۔ مراد مائیا کے پیٹ ذریعے خدا کے تحم سے پیدا کئے ۔ درہے ۔ سال ۔ ماہ ۔ مہینے ۔ وار۔ دن۔ سوجہی ۔ سمجھ ۔ عقل (2) کرنی ۔ اعمال ۔ سار۔ بنیاد۔ کرنی سار۔ کار لائق۔ اردھار۔ دلمیں بسا کر۔ گربانی ۔ کلام مرشد۔ ورتی ۔جاری ۔ ہر نام جپائیداد۔ خدا کا نام سچ حق و حقیقت کی یادوریاض (3) دادسماے ۔ بحث مباحثے کرنا۔ جمکاے ۔ روھانی واخلاقی موت۔ تریگن بھرم بھلائید۔ تینوں اوصافوں کی بھٹکن اور گمراہی (4) گورمکھ مرید مرشد ۔ ایکسی ۔ وحدت۔ لو۔ لگن ۔ محبت۔ تربدھ۔ تین طرح طریقوں ۔ منسا ارادہ ۔ منیہہ۔ من میں۔ ساپے سبد۔ پاک سچے کلام ۔ مکتا۔ آزاد۔ چکایداد۔ ختم کرتا ہے (5) سہجے ماتے ۔ روحانی سکون میں محو (6) بھرم۔ وہم وگمان ۔ بھٹکن ۔ دوبے بھائے ۔ دوسری محبت۔ سوہا۔ شوخ۔ بلم۔ دیر۔ (7) بھے ۔ خوف۔ بھائے پیار۔ رنگائے ۔ اختیار کرے ۔ ان ۔ اس۔ رنگ۔ پریم پیار۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے (8) ابھیمان۔ غرور۔ دریگہہ۔ دربار خدائی۔ مان۔ عزت۔ وقات۔ بوجھے ۔ سمجھ (9) آپ لکائیا پوشیدہ کر رکھا ہے ۔ سا ۔ صڈیوی حقیقت۔ واپار۔ سوداگری ۔ امولک۔ اتنا بیش قیمت کہ قیمت مقرر کیجاسکے (10) بنت۔ منصوبہ۔ کائیا سودھے ۔ جسم کی دسیت۔ آپیہہ آپ۔ خود بخود (11) توٹا۔ گھاٹا ۔ نقصان ۔ کمی ۔ لاہا۔ نفع۔ کھوبے ۔ تلاش ۔ ونج ۔ بیوپار۔ سوداگری ۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ سہج ۔ روحانی سکون (12) محل۔ ٹھکانہ ۔ جائے رہائش ۔ بھنڈار۔ ذخیرہ ۔ خزانہ ۔ دیوسہارا۔ جس میں دینے کی توفیق ہے ۔ من میلے ۔ دل کے ملاپ سے ۔ قیمت ۔ قدر (13) دست۔ نعمت۔ قیمت۔ قدر ۔ ہٹ۔ دکان (14) سبدے ۔ کلام سے ۔ سہج۔ ذہنی سکون (15) بھرم۔ وہم و گمان ۔ وڈیائی ۔ قدرومنزلت۔
ترجمہ:
ایسی ہستی نے جسکا اپنا کوئی وجود نہیں پیلاؤ ہیں قائنات قدرت اور عالم جو باجوود ہے کا وجود پیدا کیا اور دنیاوی دؤلت اور قائنات قدرت سے محبت اپنے فرمان سے ہی پیدا کی ہے ۔ یہ کھیل اس کرتار نے بنا ئیا ہے ۔ اسے سنکر دل میں بساتا ہے اسنان (1) اس عالم کی مآں دنیاوی دولت نے مالک و پتائے عالم کے تخم سے تین خیالات والے انسان پیدا کئے اول ایسے جنکی ترقی کرنے اور بڑے بننے کی خوآہش ہے جسے رجوگن کہا گیا ہے ۔ دوئم حسد ۔ غصہ اور غضبناکی میں رہنے والے جسے تموگن بتا تےہیں ۔ تیرے ایسے انسان جو دنیاوی جھنجھتوں اور مخموں سے آزاد طارق الدنیا رہ کر زندگی بسر کرنا پسند کرتے ہیں۔ ست گن بتائیا گیا ہے پیدا کئے برہما کو چاروں دید تیار کرنے کا فرمان جاری کیا ۔ سال۔ مہینے دن اور تھیت پیدا کرکے سمجھ اور عقل اسی خدا نے پید اکی ہے (2) خدمت مرشد سے یہ کار لائق حاصل ہوئی۔ خدا کے نام س حق و حقیقت دل میں بساؤ۔ کلام مرشد اس دنیا میں جاری ہے اور اس کلام سے خدا کا نام سچ حق و حقیت حاسل ہوتا ہے (3 ) جو انسان وید پڑھتا ہے ہر روز بحث مباحثے کرتا ہے ۔ لاہٰی نام سچ و حقیقت کا کوئی خیال نہیں روحانی و ذہنی واخلاقی موت میں گرفتار رہتا ہے ۔ دوسری محبتوں کی گرفت مین ہمیشہ عذآب پاتا ہےاور زندگی کے تینوں اوصافوں کی بھٹکن اور گمراہی میں زندگی گذارتا ہے (4) مرید مرد کا وحدت میں یقنی وایمان ہے اور تیونں اوصاف کی وجہ سے پیدا ہوئے ارادے دل میں ہی مٹ ادیتا ہے سچے پاک کلام سے دنیاوی دؤلت کی غلامی اورمحبت سے آزادی پاتا ہے (5) جو خدا کی بارگاہ سے ہیں محبوب خد وہ محبوب اب بھی ہیں رحمت مرشد سے روحانی ذہنی سکون میں محو ومجذوب رہتے ہین۔ سچے مرشد کی خدمت سے ہمیشہ خدا ملتا ہے اور خدا اسے اپنے آپے میں مجذوب کر لیتا ہے (6) دنیاوی دؤلت کی بھٹکن میں وسل خدا نسبی نہیں ہوتا۔ غیر محبت میں عذآب پات اہے شوخ رنگ جس طرح چند رز کا مہمان ہوت اہے ۔ اسکے ختم ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی (7) اس دل کو الہٰی خوف و ادب اور محبت سے متاچ رکتے سے اسنان سچے خدا کی محبت میں مجذوب ہوجاتا ہے ۔ بلند قسمت سے ہی یہ پریم پیار نصیب ہواتا ہے سبق مرشد سے اسیا پیار نصیب ہوتا ہے (8) خودی پسند غرور اور تکبر کتا ہے خدا کے دربار میں کبھی عزت و وقار حاصل نہیں کرت دوئی دوئش میں زندگی برباد کرتا ہے زندگی کے صھیح راہوں طور طریقوں کی سمجھ کے بغیر ہمیشہ عذآب پات اہے (9) خدا نے اپنے آپ انسان کے اند رپوشیدہ طور پر چھپائیا ہوا ہے سچا ہے خڈا سی سوداگری اسکی اسکا سچا بیش قیمت نام سچ حق و حقیقت حاصل ہوت اہے رحمت مرشد سے اور اسکے ملاپ کرانے سے ملاپ نصیب ہوتا ہے (10) اس جسم کی قدروقیمت کو نہیں سمجھا ۔ مگر میرے آقا خدا نے ایک منصوبہ بنائیا ہے شرع قائم کی ہے ۔ مرید مرشد ہوکر اس جسم کو درست بنائے اور خود کو اپنے اندر جذب کرے دلمیں (11) زندگی کا نفع اور نقصان اس زندگی کے اندر ہی ہے ۔ مرید مرشد بے محتاج خدا کی جستجو کرتا ہے مرید مرشد اسکی سوداگری یں آرام و آسائش پات اہے اور آسانی سے روحانی وزہنی سکون پات اہے (12) صدیوی سچا ہے وہ ٹھکانہ اور سچا ہے خزانہ مگر یدنے کی توفیق رکھنے والا خود وہی دیتا ہے مرید مرشد ہر طرح کے آرام و آسائش بخشنے والے خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے اور اُس سے دل ملاکر اسکی قدروقیمت سمجھتا ہے (13) اس جسم میں ایک ایسی چیز یا اشبیا جسکی قدروقیمت کا اندازہ نہیں ہو سکتا مرید مرشد کے وسیلے سے خدا خود اسکی قدرشناشی کرتا ہے ۔ جس خدا کی یہ جسم دکان ہے ۔ اس ایشا کی قدروقیمت کی پہچان ہے مرشد کے وسیلے سعنایت کرکے پچھتا ہین۔ مطلب یہ اشیا الہٰی نام ہے (14) خدا سب کے اندر بستا ہے رحمت مرشد اسکا حصول ہے ۔ وہ خود ہی مرشد سے ملا کر اپنے ساتھ ملاتا ہے ۔ کلام کے ذریعے روحانی وذہنی سکون عنایت کرتا ہے (15) خددا خود ہی سچے کلام سے ملاتا ہے اور کلام کے ذریعے بھٹکن اور وہم و گمان مٹاتا ہے اے نانک۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت سے برتری بزرگی و بلندی نصیب ہوتی ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
اگم اگوچر ۄیپرۄاہے ॥
آپے مِہرۄان اگم اتھاہے ॥
اپڑِ کوءِ ن سکےَ تِس نو گُر سبدیِ میلائِیا ॥੧॥
تُدھُنو سیۄہِ جو تُدھُ بھاۄہِ ॥
گُر کےَ سبدے سچِ سماۄہِ ॥
اندِنُ گُنھ رۄہِ دِنُ راتیِ رسنا ہرِ رسُ بھائِیا ॥੨॥
سبدِ مرہِ سے مرنھُ سۄارہِ ॥
ہرِ کے گُنھ ہِردےَ اُر دھارہِ ॥
جنمُ سپھلُ ہرِ چرنھیِ لاگے دوُجا بھاءُ چُکائِیا ॥੩॥
ہرِ جیِءُ میلے آپِ مِلاۓ ॥
گُر کےَ سبدے آپُ گۄاۓ ॥
اندِنُ سدا ہرِ بھگتیِ راتے اِسُ جگ مہِ لاہا پائِیا ॥੪॥
تیرے گُنھ کہا مےَ کہنھُ ن جائیِ ॥
انّتُ ن پارا کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
آپے دئِیا کرے سُکھداتا گُنھ مہِ گُنھیِ سمائِیا ॥੫॥
اِسُ جگ مہِ موہُ ہےَ پاسارا ॥
منمُکھُ اگِیانیِ انّدھُ انّدھارا ॥
دھنّدھےَ دھاۄتُ جنمُ گۄائِیا بِنُ ناۄےَ دُکھُ پائِیا ॥੬॥
کرمُ ہوۄےَ تا ستِگُرُ پاۓ ॥
ہئُمےَ میَلُ سبدِ جلاۓ ॥
منُ نِرملُ گِیانُ رتنُ چاننھُ اگِیانُ انّدھیرُ گۄائِیا ॥੭॥
تیرے نام انیک کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
سچُ نامُ ہرِ ہِردےَ ۄسائیِ ॥
کیِمتِ کئُنھُ کرے پ٘ربھ تیریِ توُ آپے سہجِ سمائِیا ॥੮॥
نامُ امولکُ اگم اپارا ॥
نا کو ہویا تولنھہارا ॥
آپے تولے تولِ تولاۓ گُر سبدیِ میلِ تولائِیا ॥੯॥
سیۄک سیۄہِ کرہِ ارداسِ ॥
توُ آپے میلِ بہالہِ پاسِ ॥
سبھنا جیِیا کا سُکھداتا پوُرےَ کرمِ دھِیائِیا ॥੧੦॥
جتُ ستُ سنّجمُ جِ سچُ کماۄےَ ॥
اِہُ منُ نِرملُ جِ ہرِ گُنھ گاۄےَ ॥
اِسُ بِکھُ مہِ انّم٘رِتُ پراپتِ ہوۄےَ ہرِ جیِءُ میرے بھائِیا ॥੧੧॥
جِس نو بُجھاۓ سوئیِ بوُجھےَ ॥
ہرِ گُنھ گاۄےَ انّدرُ سوُجھےَ ॥
ہئُمےَ میرا ٹھاکِ رہاۓ سہجے ہیِ سچُ پائِیا ॥੧੨॥
بِنُ کرما ہور پھِرےَ گھنیریِ ॥
مرِ مرِ جنّمےَ چُکےَ ن پھیریِ ॥
بِکھُ کا راتا بِکھُ کماۄےَ سُکھُ ن کبہوُ پائِیا ॥੧੩॥
بہُتے بھیکھ کرے بھیکھدھاریِ ॥
بِنُ سبدےَ ہئُمےَ کِنےَ ن ماریِ ॥
جیِۄتُ مرےَ تا مُکتِ پاۓ سچےَ ناءِ سمائِیا ॥੧੪॥
اگِیانُ ت٘رِسنا اِسُ تنہِ جلاۓ ॥
تِس دیِ بوُجھےَ جِ گُر سبدُ کماۓ ॥
تنُ منُ سیِتلُ ک٘رودھُ نِۄارے ہئُمےَ مارِ سمائِیا ॥੧੫॥
سچا ساہِبُ سچیِ ۄڈِیائیِ ॥
گُر پرسادیِ ۄِرلےَ پائیِ ॥
نانکُ ایک کہےَ بیننّتیِ نامے نامِ سمائِیا ॥੧੬॥੧॥੨੩॥
لفظی معی:
اگم۔ انسانی رسائی ۔ عقل و ہوش سے باہر۔ اگوچر۔ جو بیان کیا جاسکتے ۔ بے پرا ہے بے محتاج۔ اتھا ہے ۔ اندازے سے باہر۔ اپر۔ رسائی۔ براری۔ ر سبدی ۔ کلام مرشد کے ذریعے (1) تدھنو سیویہہ ۔ تری خدمت کرتا ہے ۔ جو تدھ بھاویہہ۔ جو تیرا محبوب یا پیار اہے ۔ سچ ۔ ست ۔ نام۔ اندن۔ ہر روز۔ رویہہ۔ راویہہ۔ یاوریاض ۔ رسنا۔ زبان۔ رس۔ لطف۔ مزہ۔ بھائیا۔ پیار ہو ا(2) سبد مریہہ۔ کلام سے بدیوں اور بررائیون کو چھوڑدے ۔ مرن سیواریہہ۔ انکی بداخلاقیوں کی موت سے زندگی سنورتی ہے ۔ درست ہوتی ہے ۔ ہروے اردھاریہہ ۔ ذہن میں بسائے ۔ سپھل۔ برآور۔ کامیاب۔ دوجا بھاو۔ دوسروں کی محبت۔ چکائیا۔ مٹائیا (3) آپ ۔ خودی۔ لاہا۔ نفع۔ لابھ (4) کہن نہ جائی۔ کہے نہیں جا سکتے ۔ انت ۔ آخر۔ پارا۔ کنارہ۔ گنی۔ بااوصاف۔ سمایا محو (5) پسارا ۔ پھیلاو ہوا۔ اگیان ۔ بے سمجھ ۔ لاعلم۔ اندھ۔ ادنھا۔ اندھیارا۔ جاہال۔ دھندے دھوت۔ کاروبار میں ڈوڑ دہوپ (6) کرم۔ بخشش ہونمے میل۔ خودی کی غلاظت یا ناپاکیزگی ۔ نرمل۔ پاک۔ گیان۔ علم۔ رتن۔ ہیرا۔ بیش قیمت (7) انیک۔ بیمشار۔ قیمت ۔ در۔ سچ نام۔ صدیوی سچا نام ۔ سچ ۔ حق وحﷺیقت۔ ہروے وسائ۔ ذہن نشین کرے ۔ سہج ۔ ذہن سکون (8) امولک اتنا بیش قیمت کہ قیمت مقرر نہ کیجاسکے ۔ تولنہار۔ جس میں قیمت مقرر کرنے کی توفیق ہو۔ تولے تول۔ قیمت مقرر کرے ۔ تولائے ۔ مقرر کرائے ۔ گر سبدی میل کلام سے ملا کر۔ تولائیا۔ اسکی قدروقیمت مقرر کرواتا ہے (9) اراداس۔ عرض۔ بہاویہہ۔ پٹھاتا ہے ۔ سکھداتا ۔ آرام و آسائش پہنچا نے والا۔ پورے کرم۔ کامل عنایت ۔ دھیائیا۔ تو جہ کی (10) جت ۔ شوت پر ضبط۔ تپ۔ تپسیا ۔ عبادت۔ سنجم۔ پرہیز گار۔ سچ کماوے ۔ اگر حقیقت کے مطابق اعمال اپنائے ۔ ہرگن گاوے ۔ الہٰی حمدوچناہ کرے ۔ دکھ ۔ زہر۔ بدی۔ انمرت۔ آب حیات۔ روحانی واکلاقی زندگی (11) اندر سوجھے ۔ ذہن با عقل با عشعور ہو جائے ۔ ٹھاک۔۔ روک ۔ سچ ۔ حقیقت (12) کرم۔ عنایت ۔ شفقت۔ مہربانی۔ بحشش چکے دھیری ۔ تناسخ نہیں متا ۔ دکھ کاراتا ۔ بدیوں میں محسور۔ وکھ کماوے برے اعمال کرتا ہے (13 ) بھیکھ ۔ بناوٹ ۔ دکھاوا۔ بھیکھ ھاری ۔ بنادلیں اور پہرواے کرنیوالا۔ جیوت مرے ۔ دوران حیات خودی یا خود پسندی ختم کرے ۔ مکت۔ نجات۔ آزادی۔ سچے نائے ۔ صدیوی نام (14) اگیان۔ لاعلمی ۔ ترشنا۔ خوآہشات۔ تینہہ۔ جسم۔ کرودھ۔ نوارے ۔ غصہ متائے (15) سچی وڈیائی۔ حقیقی قدرومنزلت۔ گرپسادی رحمت ۔ مرشد سے ۔ درے ۔ کسی نے ہی ۔ بننتی ۔ گذارش ۔ عرض ۔ نامو نام ۔ ہر وقت سچے صدیوی نام سچ حق و حقیقت مین محو ومجذوب مراد متاثر و عامل ہے ۔
ترجمہ:
اے بے محتاج انسانی عقل و ہوش سے بلند و بالا رسائی سے بعید بیان سے باہر رحمان الرحیم انسان عقل و ہوش بلند مستقل مزاج اور سنجیدہ خدا تیرا کوئی ثانی نہیں جیسے تو کلام مرشد سے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے کوئی اسکی برا بری ہیں کر سکتا (1) اے خدا جو تیرا محبوب ہو جاتا ہے وہی تیری خدمت کرتا ہے کلام مرشد سے تیرے پیار میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے وہ روز وشب تیری حمدوثناہ کرتا ہے اور زبان سے اسکا لطف اُتھاتا ے (2) جو شخص برائیوں بداعمالیوں اور خودی کو کلام سے متاثر ہوکر اپنی برائی بھری ضمیر کی موت مر جاتا ہے ایسی موت دوسروں کے لئے مثالی راہ دکھاوا موت ثابت ثآبت ہوتی ہے اور اس سے زندگیوں کو درستی کا موقعہ ملتا ہے ایسای انسان الہٰی اوصاف دل میں بساتا اور ذہن نشین کرتا ہے خدا کے پاؤن پڑکر زندگی کامیاب بنالیتے ہیں اور دنیاوی دؤلت کی محبت ختم کردیتے ہیں (3) خدا خود اپنے ساتھ ملاتا ہے جو کلام مرشد سے خودی متا لیتا ہے ۔ وہ ہیشہ ہر روز الہٰی عشق عبادت وریاضت میں محو ومتاچر ریتے اور زمانے میں اسکا نفع کماتے ہیں (4) اے خدا چاہنے کے باوجود تیرے اوصاف بیان کرنے سے قاصر ہوں اے خدا تو اپنے وسیع اوصاف والا ہے کہ کنارہ نہیں نہ آخر ہے اور قیمت اتنی ہے مقرر کیجا نہیں سکتی ۔ سارے ہر طرح کے سکھ دینے والا خدا جب مہربان ہوتا ہے گنوانا کو اپنے اوصاف مین محو کر لیتا ہے (5) اس دنیا میں ہر طرف محبت کا پھیلاؤ ہے مرید من بے علم جاہل حقیقت سے بیخبر اندھیرے مین زندگی گذارتا ہے اور کاروبار کی دؤڑ دہوپ میں زندگی برباد کرتا ہے سچ حق و حقیقت الہٰی نام کے بغیر عذآب پاتا ہے (6) اگر خدا مہربان ہو جائے تو سچے مرشد سے ملاپ ہو جاتا ہے اور کلام سے خودی کی ناپاکیزگی دور ہو جاتی ہے جس سے قلب و ذہن پاک ہو جاتا ہے اور ذہن علم سے منطور ہو جاتا ہے اور لا علمی وجہالت کا اندھیرا غائب ہو جاتا ہے (7) اے خدا تو بیشمار ناموں سے موسوم اور مشہور ہیں جن کیی قیمت اور نہیں ہو سکتی تیرا صدیوی نام سچ یا ست دل میں بساو کون ہے ایسی ہستی جوتیری قیمت مقر ر کر سکے تو خود ہی روحانی و ذہنی سکون عنایت کرتا ہے (8) اے خدا تیرا نام اتنا بیش قیمت ہے کہ قیمت مقرر نہیں ہو سکتی تو انسانی رسائی عقل و ہوش سے بلند تر ہ تو اتنی وسعت والا ہے کہ کنارہ نہیں۔ نہ ہی اسکی قیمت مقرر کرنے کی توفیق رکھتا ہے خود ہی خدا پانے نام کی قدروقیمت جانتا اور قدروقیمت کرواتا ہے ارور کلا مرشد سے ملا کر قدر کرواتا ہے (9) اے جدا خدمت کرتے ہیں تیرے خدمتگار اور تجھ سے عرض گذارتے ہیں تو خود ان سے ملتا ہے پاس بٹھاتا ہے سب جانداروں کو آرام و آسائش پہنچانے والا خدا کی مہربانی سے اہلیان لگائیا (10) جو شخص حقیقت پر زنتانہ اعمال کرتا ہے جو سچ حقیقی کام ہے شہوت پر ضبط سچ اور پرہیز گاری اس میں آجاتی ہے جس سے یہ من وذہن پاک ہوجاتا ہے اگر الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے یہ اس دنیاوی زیر آلودہ دور میں رہتے وئے آبحیات حاصل کرتے ہیں یہی خدا کو پیار ہے (11) جسے سمجھاتا ہے خدا سمجھتا ہے وہی جو حمدوثناہ کرتا ہے اُسکا ذہن و قلب سمجھدار ہو جات اہے اس خودی رکتی ہے آسانی سے وسل خدا ہوت اہے (12) بغیر الہٰی کرم و عنایت بیشمار لوگ تناسخ میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور تناسخ ختم نہیں ہوتا ۔ جو انسان دنیاوی دؤلت کا شیدائی ہوگیا اور اسے ہی خریدیگا اُسے کبھی آرام حاصل نہ ہوگا (13) دکھاوا کرنے والا بہت سے دکھاوے یا پہرواے کرتا ہے مگر کلام کے بغیر خودی مٹتی نہیں نہ کسی نے ختم کی ہے ۔ جب دنیاوی کاروبار کرتے ہوئے اپنا پن ختم کر دیتا ہے تب خودی سے نجات ملتی ہے تب ہی سچے صدیوی نام سے رابطہ قائم ہوتا ہے (14) لا علمی اور خوہشات کی تشنگی اسی جسم کو جلاتی ہے اُسکی بجھتی ہے جو کلام مرشد پر عمل کرتا ہے اور دل میں بساتا ہے ۔ اُسکا دل و جان پر سکون رہتا ہے جو جو غصہ مٹادیتا ہے (15) سچا اور صدیوی ہے خدا اور سچی اور صدیوی ہے عظمت اسکی جو رحمت مرشد سے کسی کو ہی حاصل ہوتی ہے ۔ نانک ایک عرض گذارتا ہے کہ وہ ہر وقت خدا کے نام میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔

ماروُ مہلا ੩॥
ندریِ بھگتا لیَہُ مِلاۓ ॥
بھگت سلاہنِ سدا لِۄ لاۓ ॥
تءُ سرنھائیِ اُبرہِ کرتے آپے میلِ مِلائِیا ॥੧॥
پوُرےَ سبدِ بھگتِ سُہائیِ ॥
انّترِ سُکھُ تیرےَ منِ بھائیِ ॥
منُ تنُ سچیِ بھگتیِ راتا سچے سِءُ چِتُ لائِیا ॥੨॥
ہئُمےَ ۄِچِ سد جلےَ سریِرا ॥
کرمُ ہوۄےَ بھیٹے گُرُ پوُرا ॥
انّترِ اگِیانُ سبدِ بُجھاۓ ستِگُر تے سُکھُ پائِیا ॥੩॥
منمُکھُ انّدھا انّدھُ کماۓ ॥
بہُ سنّکٹ جونیِ بھرماۓ ॥
جم کا جیۄڑا کدے ن کاٹےَ انّتے بہُ دُکھُ پائِیا ॥੪॥
آۄنھ جانھا سبدِ نِۄارے ॥
سچُ نامُ رکھےَ اُر دھارے ॥
گُر کےَ سبدِ مرےَ منُ مارے ہئُمےَ جاءِ سمائِیا ॥੫॥
آۄنھ جانھےَ پرج ۄِگوئیِ ॥
بِنُ ستِگُر تھِرُ کوءِ ن ہوئیِ ॥
انّترِ جوتِ سبدِ سُکھُ ۄسِیا جوتیِ جوتِ مِلائِیا ॥੬॥
پنّچ دوُت چِتۄہِ ۄِکارا ॥
مائِیا موہ کا ایہُ پسارا ॥
ستِگُرُ سیۄے تا مُکتُ ہوۄےَ پنّچ دوُت ۄسِ آئِیا ॥੭॥
باجھُ گُروُ ہےَ موہُ گُبارا ॥
پھِرِ پھِرِ ڈُبےَ ۄارو ۄارا ॥
ستِگُر بھیٹے سچُ د٘رِڑاۓ سچُ نامُ منِ بھائِیا ॥੮॥
ساچا درُ ساچا دربارا ॥
سچے سیۄہِ سبدِ پِیارا ॥
سچیِ دھُنِ سچے گُنھ گاۄا سچے ماہِ سمائِیا ॥੯॥
گھرےَ انّدرِ کو گھرُ پاۓ ॥
گُر کےَ سبدے سہجِ سُبھاۓ ॥
اوتھےَ سوگُ ۄِجوگُ ن ۄِیاپےَ سہجے سہجِ سمائِیا ॥੧੦॥
دوُجےَ بھاءِ دُسٹا کا ۄاسا ॥
بھئُدے پھِرہِ بہُ موہ پِیاسا ॥
کُسنّگتِ بہہِ سدا دُکھُ پاۄہِ دُکھو دُکھُ کمائِیا ॥੧੧॥
ستِگُر باجھہُ سنّگتِ ن ہوئیِ ॥
بِنُ سبدے پارُ ن پاۓ کوئیِ ॥
سہجے گُنھ رۄہِ دِنُ راتیِ جوتیِ جوتِ مِلائِیا ॥੧੨॥
کائِیا بِرکھُ پنّکھیِ ۄِچِ ۄاسا ॥
انّم٘رِتُ چُگہِ گُر سبدِ نِۄاسا ॥
اُڈہِ ن موُلے ن آۄہِ ن جاہیِ نِج گھرِ ۄاسا پائِیا ॥੧੩॥
کائِیا سودھہِ سبدُ ۄیِچارہِ ॥
موہ ٹھگئُریِ بھرمُ نِۄارہِ ॥
آپے ک٘رِپا کرے سُکھداتا آپے میلِ مِلائِیا ॥੧੪॥
سد ہیِ نیڑےَ دوُرِ ن جانھہُ ॥
گُر کےَ سبدِ نجیِکِ پچھانھہُ ॥
بِگسےَ کملُ کِرنھِ پرگاسےَ پرگٹُ کرِ دیکھائِیا ॥੧੫॥
آپے کرتا سچا سوئیِ ॥
آپے مارِ جیِۄالے اۄرُ ن کوئیِ ॥
نانک نامُ مِلےَ ۄڈِیائیِ آپُ گۄاءِ سُکھُ پائِیا ॥੧੬॥੨॥੨੪॥
لفظی معنی:
ندری ۔ نظر عنایت ۔ بھگتا ۔ عابد۔ لیہو۔ ملائے ۔ ملا لیتا ہے ۔ صلاحن۔ تعریف کرتے ہیں۔ لولائے ۔ دھیان لگا کر ۔ تؤ۔ تیری ۔ اُبھریہہ۔ برائیوں سے بچتے ہیں۔ کرتے کرتار (1) پورے ۔ سبد۔ مکمل کلام۔ بھگت سہائی۔ عبادت میں مددگار۔ انتر سکھ ۔ ذہنی سکون۔ سچی بھگتی ۔ سچی عبادت۔ راتا ۔ محو (2) سد ۔ ہمیشہ ۔ کرم ۔ بخشش ۔ گر پورا ۔ کامل مرشد۔ انتر اگیان۔ ذہنی لاعلمی ۔ سبد بجھائے ۔کلام سمجھاتا ہے (3) اندھا۔ عقل و ہوش کا اندھا ۔ اندھ کمائے ۔ اندھیوں کے سے کام کرتا ہے ۔ سنکٹ جونی۔ عذآب بھری زندگی۔ بھرمائے ۔ بھٹکاتا ہے ۔ جیوڑا۔ پھندہ (4) نوارے ۔ دور کتا ہے ۔ اردھارے ۔ دل میں بسا کر۔ پرج وگوئی۔ رعبت۔ خوآر ہوتی ہے ۔ بھر۔ مستقل۔ جوت۔ نور۔ روشنی۔ جوتی جوت۔ نور مین نور۔ مراد یکسوئی (6) پنچ دوت۔ پانچ اخلاقی یا روحانی دشمن۔ چتویہہ۔ دل میں خیال کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں۔ وکار۔ برائیاں ۔ بدیاں۔ پسارا۔ پھیلاؤ۔ مکت۔ آزاد (7) غبر ۔ بھاری اندھیرا۔ جہالت کا دور ۔ ڈبے ۔ زندگی میں نا کامی ۔ بھیٹے ۔ ملاپ کرے ۔ سچ درڑائے ۔ حقیقت ذہن نشین کرائے ۔ سچ نام ۔ صدیوی سچا نام خدا کا۔ من بھائیا۔ دل نے پیار محسوس کیا۔ ساچا۔ صدیوی سچا۔ دربار۔ عدالت کیچری۔ دھن۔ سر۔ تال۔ سچے گن۔ صدیوی سچے اوصاف۔ (9) گھر اندر۔ انسانی جسم جو خدا کا گھر ہے ۔ کو گھر پائے ۔ کوئی ہی ٹھکانہ پاتا ہے ۔ گر کے سبدے ۔ کلام مرشد سے ۔ سہج سبھائے ۔ قدرتی طور پر۔ اوتھے ۔ وہاں۔ سوگ۔ افسوس۔ غمگیی ۔ وجوگ۔ جدائی۔ سہجے ۔ قدرتی ۔ آسانی سے ۔ سہج سمائیا۔ روحانی وذہنی سکون حاصل ہوا (10) دسٹ ۔ بد اعمال ۔ بھؤدے ۔ بھٹکتے ۔ کسنگت ۔ بری یا بری ساتھیوں کی صحبت (11) باجہو۔ بغیر۔ سنگت ۔ صحبت ۔ پار۔ کامیابی ۔گن رویہہ۔ ثنا ہ کوی ۔ تعریف اوصاف۔ جوتی جوت ۔ روحانی ملاپ (12) پرکھ۔ درکت۔ شجر۔ پنکھی۔ پرندہ پروں والا جانور۔ واسا۔ رہائش۔ انمرت ۔ آبحیات۔ ایسا پانی جس کے پینے سے زندگی جاویداں اور روحانی اخلاقی طور پر پاک ہو جاتی ہے نواسا۔ ٹھکانہ ۔ تج گھر۔ ذاتی گھر۔ واسا۔ رہائش (13) کاتیا سودیہہ۔ جسمانی درستی ۔ سبد وچاریہہ۔ کلام کا خیال کرے ۔ ٹھگوری۔ دہوکے قریب کی دوائی۔ بھرم۔ وہم وگمان۔ ذہنی بھٹکن ۔ کرپا۔ مہربانی (14) جانہو۔ سمجھو۔ نجیک۔ نزدیک۔ بگسے کمل۔ ذہن خوشی محصوس کرتا ہے ۔ کرن پرگاسے ۔ روح یا ذہن روشن ہوجاتا ہے ۔ پرگٹ ظاہر (15) اور ۔ دوسرا۔ آپ گوائے ۔ خود پسندی ختم کرے ۔
ترجمہ:
اے خدا تو اپن نظر عنایت و شفقت سے اپنے عابدوں کو اپے ساتھ ملا رکھتا ہے ۔ عابد ہمیشہ تری محبت میں تیری حمدوناہ کرتے ہیں اے تیری پنا ہ گیری میں عابد گناہوں سے بچتے ہیں کارساز کرتار خود ہیمیل ملاتا ہے (1) کامل کلام عابدوں کا مددگار بنتا ہے ذہن پرسکون اور شانت ہوجاتا ہے وہ خدا سے دلی پیار کرتا ہے (2) خودی میں ہمیشہ جسمانی جلن رہتی ہے ۔ اگر اے خدا تیری مہربانی ہوجائے تو کامل مرشد سے ملاتا ہے ذہن لا علمی کلام دور کرتا ہے اور سچے مرشد سے روحانی سکون پاتا ہے (3) خودی پسند جاہلانہ کام کرتا ہے زندگی عذابوں میں گذارتا ہے ۔ روھانی موت کا پھندہ کبھی کٹتا نہیں بوقت آخرت عذاب پاتا ہے (4) کلام تناسخ مٹاتا ہے ۔ سچا نام الہٰی دلمیں بسائے ۔ کلام مرشد سے من پر ضبط رکھنے سے خودی مٹ جاتی ہے وہ یاد خدا میں محو ہو جاتا ہے (5) عالم یا دنیا تناسخ میں ذلیل وخوآر ہوتی ہے سچے مرشد کے بغیر کسی و ٹکاؤ یا متقل مزاجی حاصل نہیں ہوتی۔ جب ذہن پر نور ہو تو کلام سے آرام و آسائش حاصل ہوتا ہے اور نور کا نور سے ملاپ ہو جاتی ہے اور خدا سے یکسوئی ہو جاتی ہے (6) پانچوں اکالق دشمن احساس بد برائیاں سوچتے ہیں ہر طرف دنیاوی دول ت کی محبت کا زور ہے اور پھیلا ہوا ہے سچے مرشد کی کدمت کرنے سے مراد اسکے بتائے راہ پر چلنے سے نجات یا چھٹکاراہ حاصل ہوتا ہے اور پانچوں اخلاق پر ضبط حاصل ہوجاتی ہے (7) مرشد کے بغیر دنیاوی محبت اتنی زبردست ہے کہ زندگی اندھیر ہو جاتی ہے کچھ سمجھ نہیں آتی۔ اس میں اسنان بار بار غرقاب ہوتا ہے ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے خدا سچ حق و حقیقت پختہ طور پر ذہن نشین کراتا ہے اور خدا کا نام ست دل کا پیارا ہو جاتا ہے (8) خدا کادر سچا اور صدیوی ہے اور اسکی عدالت و کیچری صدیوی سچی ہے کلام سے محبت خدا کی خدمت ہے ۔ جو سچی سر اور تال سے خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے وہ سچے صدیوی خدا میں محو ومجذوب و جاتا ہے ۔ جو اپنے دل مین خدا کے گھر کا پتہ لگالیتا ہے وہ کلام مرشد سے روحانی سکون پاتا ہے ایسی حالت میں غمگینی اور جدائی متاثر نہیں کرتی وہ روحانی سکون پاتا ہے (10) خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت میں بد اعمالیاں دل میں بس جاتی ہیں ایسی حالت میں انسان محبت کی تشنگی میں بھٹکتا رہتا ہے ایسے بد اعمال ہمیشہ بری صھبت اختیار کرتے ہیں اور عذآب پاتے ہیں اور ایسے اعمال کرتے ہیں جو عذآب کا سرب بنتے ہیں (11) سچے مرشد کے بغیر صحبت نصیبھ نہیں ہوتی اور کلام کے بگیر کامیابی کسی کو نہیں ملتی ۔ جو دن رات خدا کی صفت صلاح کرتے ہیں وہ روھانی طور پر خدا سے یکسو ہو جاتے ہیں (12) انسانی جسم ایک درخت کی مانند ہے جسمیں ایک پرندہ بستا ہے وہہمیشہ کلام مرشد کو پانا کر آب حیات الہٰی نام سچ حق و حقیقت اپناتے ہیں و بالکل بھٹکتے نہیں ذہن نشین رہتے ہیں (13) جو انسان اپنے جسم کی درستی کرتے ہیں اور کلام مرشد دل میں بساتے اور خیال رکتھے ہیں وہ محبت کی دائی بھٹکن مٹاتے ہیں ارام آسائش پہنچانے والا خدا خود میل ملاتا ہے (14) خدا تمہارے ساتھ ہے اسے دو رنہ سمجھو کلام مرشد سے اسکی نزدیک سے پہچان کرؤ اس سے ذہن و قلب پھول کی مانند کھلا رہتا ہے الہٰی نور ذہن روشن کرتا ہے ۔ ظہور مں لاتا ہے (15) قادر و کرتار صدیوی ہے وہ پیدا کرتا ہے موت بھ دیتا ہے اسکے بگیر کسی دوسرے میں ایسی توفیق نہیں۔ اے نانک۔ نام یعنی سچ حق اور حقیقت پر عمل کرنے سے عزت اور شہرت حاصل ہوتی ہے اور خود پسندی مٹانے پر روحای وذہنی سکون ملتا ہے ۔

ماروُ سولہے مہلا ੪
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سچا آپِ سۄارنھہارا ॥
اۄر ن سوُجھسِ بیِجیِ کارا ॥
گُرمُکھِ سچُ ۄسےَ گھٹ انّترِ سہجے سچِ سمائیِ ہے ॥੧॥
سبھنا سچُ ۄسےَ من ماہیِ ॥
گُر پرسادیِ سہجِ سماہیِ ॥
گُرُ گُرُ کرت سدا سُکھُ پائِیا گُر چرنھیِ چِتُ لائیِ ہے ॥੨॥
ستِگُرُ ہےَ گِیانُ ستِگُرُ ہےَ پوُجا ॥
ستِگُرُ سیۄیِ اۄرُ ن دوُجا ॥
ستِگُر تے نامُ رتن دھنُ پائِیا ستِگُر کیِ سیۄا بھائیِ ہے ॥੩॥
بِنُ ستِگُر جو دوُجےَ لاگے ॥
آۄہِ جاہِ بھ٘رمِ مرہِ ابھاگے ॥
نانک تِن کیِ پھِرِ گتِ ہوۄےَ جِ گُرمُکھِ رہہِ سرنھائیِ ہے ॥੪॥
گُرمُکھِ پ٘ریِتِ سدا ہےَ ساچیِ ॥
ستِگُر تے ماگءُ نامُ اجاچیِ ॥
ہوہُ دئِیالُ ک٘رِپا کرِ ہرِ جیِءُ رکھِ لیۄہُ گُر سرنھائیِ ہے ॥੫॥
انّم٘رِت رسُ ستِگُروُ چُیائِیا ॥
دسۄےَ دُیارِ پ٘رگٹُ ہوءِ آئِیا ॥
تہ انہد سبد ۄجہِ دھُنِ بانھیِ سہجے سہجِ سمائیِ ہے ॥੬॥
جِن کءُ کرتےَ دھُرِ لِکھِ پائیِ ॥
اندِنُ گُرُ گُرُ کرت ۄِہائیِ ॥
بِنُ ستِگُر کو سیِجھےَ ناہیِ گُر چرنھیِ چِتُ لائیِ ہے ॥੭॥
جِسُ بھاۄےَ تِسُ آپے دےءِ ॥
گُرمُکھِ نامُ پدارتھُ لےءِ ॥
آپے ک٘رِپا کرے نامُ دیۄےَ نانک نامِ سمائیِ ہے ॥੮॥
گِیان رتنُ منِ پرگٹُ بھئِیا ॥
نامُ پدارتھُ سہجے لئِیا ॥
ایہ ۄڈِیائیِ گُر تے پائیِ ستِگُر کءُ سد بلِ جائیِ ہے ॥੯॥
پ٘رگٹِیا سوُرُ نِسِ مِٹِیا انّدھِیارا ॥
اگِیانُ مِٹِیا گُر رتنِ اپارا ॥
ستِگُر گِیانُ رتنُ اتِ بھاریِ کرمِ مِلےَ سُکھُ پائیِ ہے ॥੧੦॥
گُرمُکھِ نامُ پ٘رگٹیِ ہےَ سوءِ ॥
چہُ جُگِ نِرملُ ہچھا لوءِ ॥
نامے نامِ رتے سُکھُ پائِیا نامِ رہِیا لِۄ لائیِ ہے ॥੧੧॥
گُرمُکھِ نامُ پراپتِ ہوۄےَ ॥
سہجے جاگےَ سہجے سوۄےَ ॥
گُرمُکھِ نامِ سماءِ سماۄےَ نانک نامُ دھِیائیِ ہے ॥੧੨॥
بھگتا مُکھِ انّم٘رِت ہےَ بانھیِ ॥
گُرمُکھِ ہرِ نامُ آکھِ ۄکھانھیِ ॥
ہرِ ہرِ کرت سدا منُ بِگسےَ ہرِ چرنھیِ منُ لائیِ ہے ॥੧੩॥
ہم موُرکھ اگِیان گِیانُ کِچھُ ناہیِ ॥
ستِگُر تے سمجھ پڑیِ من ماہیِ ॥
ہوہُ دئِیالُ ک٘رِپا کرِ ہرِ جیِءُ ستِگُر کیِ سیۄا لائیِ ہے ॥੧੪॥
جِنِ ستِگُرُ جاتا تِنِ ایکُ پچھاتا ॥
سربے رۄِ رہِیا سُکھداتا ॥
آتمُ چیِنِ پرم پدُ پائِیا سیۄا سُرتِ سمائیِ ہے ॥੧੫॥
جِن کءُ آدِ مِلیِ ۄڈِیائیِ ॥
ستِگُرُ منِ ۄسِیا لِۄ لائیِ ॥
آپِ مِلِیا جگجیِۄنُ داتا نانک انّکِ سمائیِ ہے ॥੧੬॥੧॥
لفظی معنی:
سچا ۔ صدیوی ۔ دائمی خدا۔ سوارنہارا۔ انسان درستی کرنے کی توفیق رکھنے والا۔ اور ۔ دوسرا۔ سوجھس۔ سوجھتا ۔ مسجھ میں آتا۔ ہیجی ۔ دوسرا۔ کار۔ کام۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ گھٹ انتر۔ دلمیں ۔ سہجے ۔ آسانی سے (1) ماہی ۔ میں ۔ سہج سمای ۔ ذہنی سکون پاتا ہے ۔ گر چرنی ۔ پانے مرشد (2) گیان ۔ علم ۔ پوجا۔ پرستش۔ نام رتن۔ نام۔ جو ہریے کی مانند بیش قیمت ہے ۔ دھن۔ سرمایہ۔ بھائی۔ پیاری (3) گت۔ بلند روھانی حالت ۔ پریت۔ پیار ۔ سرنائی ۔ زیر پناہ (4) جاچی۔ بیش قیمت (5) انمرت رس۔ آبحیات کا لطف ۔ ایسا لطف جو روحانی واخلاقی زندگی بسر کرنے میں ہے ۔ وسوے دوآر۔ ذہن میں۔ پرگٹ۔ ﷽اہر۔ تیہہ۔ وہاں۔ انحد ۔ لگاتار۔ سبد۔ کلام۔ دھن۔ سر۔ دھنبانی۔ کلام کی سر (6) کرتے ۔ کرتار۔ دھر۔ خدا کی طرف سے ۔ لکھ ۔ اعمالنامے کے مطابق۔ وہاں ۔ گذری ۔ سیجھے ۔ سمجھ نہیں آتا ((7) گیان رتن۔ ہریے جیسا علم۔ پرگٹ۔ بھئیا۔ ظاہر ہوا۔ سہجے ۔ آسانی سے ۔ وڈیائی ۔ بلند شہرت۔ بلحائی۔ قربان ہوں۔ پرگٹیا۔ روشن ہوا۔ سور۔ سورج۔ اندھیار۔ اندھیرا۔ لا علم۔ نس۔ رات۔ جہالت۔ گررتن اپار۔ بیشمار قابل مرشد کی وجہ سے۔ کرم ۔ بخشش (10) سوئے ۔ شہرت۔ پر گٹی ۔ پھیلی۔ ظاہر ہوئی۔ چوہ جگ۔ وقت چاروں دؤرون میں۔ نرمل ہچھالوئے ۔ لوگوں میں پاک شہرت۔ نامے نام رتے ۔ ہر وقت نام میں محو۔ لو۔ لگن۔ محبت (1) سہجے جاگے ۔ روحانی یا ذہنی سکون میں بیداری ۔ سہجے سوئے ۔ روحانی سکون میں سوئے ۔ دھیائی ہے ۔ دھیان لگانا (12) بھگتا مکھ۔ عابدوں کے منہ میں ۔ انمرت ہے بانی۔ آبحیات ہے کلام۔ ایسا کلام جو انسانی زندگی کو روحاین اور اخالقی طور پر جاویدان بنا دیتا ہے ۔ آکھ ۔ کہہ۔ بیان۔ دکھانی ۔ تشریح کی۔ کرت۔ کر نے سے ۔ من بگسے ۔ دل کھلتا ہے ۔ خوش ہوتا ہے (13) مورکھ ۔ بیوقوف ۔ اگیان۔ بے علم۔ سمجھ پڑی۔ سمجھ آئی (14) جاتا۔ جان لیا۔ ایک پچھاتا ۔ واحد خدا کو پہچانا ۔ سربے ۔ سبھ میں۔ رو رہیا۔ بستا ہے ۔ آتم چین ۔ اپنے کردار و ذہن کی پڑتال یا تحقیق سے ۔ پرم پد۔ بلند روحانی واخلاقی رتبہ ۔ سیوا سرت سمائی ہے ۔ ہوش خدمت میں محو ہے (15) آد۔ آغاز ۔ شروع ہے ۔ جگجیون داتا۔ زندگئے عالم۔ داتا۔ سخی۔ دینے والا۔ انک۔ انگ گودا۔
ترجمہ:
خدا انسانی زندگی کو درست کرنے راہ راست پر لانے کی توفیق رکھتا ہے ۔ اسے دوسرا کام سمجھ ہیں آتا مرشد کے وسیلے سے خدا دلمیں بستا ہے وہ آسانی سے ہی خدا میں محو ہوجات اہے (1) سب کے دلمیں خدا بستا ہے ۔ مگر رحمت مرشد سے روحانی وزہنی سکون ملتا ہے ۔ مرشد کی یاد سے روحانی سکون پات اہے پائے مرشد سے دل لگانے سے (2) سچا مرشد ایک علم ہے دانشمندی ہے دانش سکھتا ہے سچا مرشد خدا کی عبادت کا درس دیتا ہے ۔ سے مرشد کے علاوہ کوئی دوسرا خدمت خدا نہیں سکھتا۔ سچا مرشد خدا کا نام جو ایک قیمتی ہیرے جیسا ہے ۔ یہ دؤلت حاصل ہوتی ہے سچے مرشد کی مجھے پیاری ہے (3) سچے مرشد کے علاوہ جس میں دوسروں سے محبت ہے وہ بد قسمت تناسخ پڑے رہتے ہیں۔ اے نانک۔ وہ تبھی بلند روحانی درجہ پاتے ہیں۔ اگر وہ مرشد کی پناہ لیتے ہیں (4) مرید مرشد کا پیار ہمیشہ سچا ہوتا ہے ۔ سچے مرشد سے بیش قیمت نام مانگتا ہوں۔ اے خدا کرم و عنایت فرماؤ پناہ مرشد دیجیئے (5) آبحیات کا لطف جس سے زندگی اور ذہن پر سکون ہوتا ہے سچا مرشد پیدا کرتا ہے خدا اسکے ذہن کو منور اور پر نور کرتا ہے ۔ ایسے حالات میں لگاتار الہٰی حمدوثناہ سے اس طرح سے معلوم ہوتا ہے جیسے پانچوں قسم کے سازیج رہے ہوں۔ جس سے روحانی وذہنی سکون ملتا ہے اور پیاد وہتا ہے اور انسان روحانی سکون مین محو ومجذوب ہو جاتا ہے (6) جنکا بارگاہ الہٰی سے تحریر ہوتا ہے وہ اپنی زندگی مرشد کی یاد میں گذارتی ہے سچے مرشد کے بگیر کچھ سمجھ نہیں آتی پائے مرشد سے دل لگاو (7) مح﷽وب خدا کو خدا خود دیتا ہے وہ مرشد کے وسیلے سے نام کی نعمت لیتا ہے ۔ جس پر خدا مہربان اسے خدا کا نام (ست) سچ حق و حقیقت بخشش کرت اہے ۔ اے نانک۔ وہ خدا کے نام مین محو ہو جاتا ہے (8) جسکا ذہن و قلب علم سے پر نور ہوجاتا ہے خدا کے نام کی نعمت سچ حق وحقیقت آسانی سے مل جاتی ہے ۔ مگر یہ عزت و شہرت مرشد سے ملتی ہے ۔ ایسے سچر مرشد پر سوبار قربان ہوں (9)جیسے جب سورج جب چمکتا ہے ۔ تو رات کا اندھیرا غائب ہوجاتا ہے عین اس طرح سے مرشد کے بیش قیمت علم و دانش سے جہالت اور لا علمی کا دور ختم ہوجاتا ہے خدا کی بخشش و کرم و عنایت سے جیسے نصیب ہو جائے وہ سکون پاتا ہے (10) مرشد سے جسے الہٰی نام حاسل ہوجات اہے اسکی ہر طرف شہرت ہو جاتی ہے ۔ سارے عالم میں نیکی چاتا ہے اور پاک نصور ہوت اہے خدا کے نام سچ و حقیقت سے متاچر ہونے کی وجہ سے آرام و آسائش پاتا ہے ۔ ور نام میں محو رہتا ہے (11) خدا کا نام مرشد سے ملتا ہے وہ بیداری کے وقت اور سوتے وقت دونوں میں ذہنی سکون پاتا ہے ۔ اے نانک۔ مرشد کے وسیلے سے نام میں محو ہوکر نام میں دھیان لگاتا ہے (12) عابدان و عاشقان کے زبان پر اور منہ میں آبحیات جو زندگی کو خوشگوار اور روحانی و خلاقی طور پر کامیاب بناتا رہتا ہے ۔ مرشد الہٰی نام کہتا ہے اور ساتھ تشیح بھی کرتا ہے خدا خدا کہنے سے مراد یادوریاض سے دل خوش ہوتا ہے ککھلتا ہے پائے مرشد لگتا ہے (13) انسان کم عقل نہیں کسی طرح کا علم یہں اب سچے مرشد نے سمجھائا ہے اے خدا مہربانی فرما اور سچے مرشد کی خدمت کروا (14) جس نے سچے مرشد کو سمجھا اس نے تو حید کو سمجھا۔ آرا و آسائش پہنچانے والا خا سب میں بستا ہے اپنی روحانی تحقیق و جانچ کرنے پر روحانی طور پر بلند رتبے حاصل ہوتے ہیں ۔ اسکے ہوش و حواس خدا کی عبادت و خدمت میں لگے رہتے ہیں (15) جنکو خدا کے در سے عزت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔ انہیں مرشد سے محبت ہوتی ہے اور دل میں بستا ہے ۔ اے نانک۔ عالم کو زندگی بخشنے والا خدا خود آکر ملتا ہے وہ خدا کی گود میں بستے ہیں۔

ماروُ مہلا ੪॥
ہرِ اگم اگوچرُ سدا ابِناسیِ ॥
سربے رۄِ رہِیا گھٹ ۄاسیِ ॥
تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوئیِ داتا ہرِ تِسہِ سریۄہُ پ٘رانھیِ ہے ॥੧॥
جا کءُ راکھےَ ہرِ راکھنھہارا ॥
تا کءُ کوءِ ن ساکسِ مارا ॥
سو ایَسا ہرِ سیۄہُ سنّتہُ جا کیِ اوُتم بانھیِ ہے ॥੨॥
جا جاپےَ کِچھُ کِتھائوُ ناہیِ ॥
تا کرتا بھرپوُرِ سماہیِ ॥
سوُکے تے پھُنِ ہرِیا کیِتونُ ہرِ دھِیاۄہُ چوج ۄِڈانھیِ ہے ॥੩॥
جو جیِیا کیِ ۄیدن جانھےَ ॥
تِسُ ساہِب کےَ ہءُ کُربانھےَ ॥
تِسُ آگےَ جن کرِ بیننّتیِ جو سرب سُکھا کا دانھیِ ہے ॥੪॥
جو جیِئےَ کیِ سار ن جانھےَ ॥
تِسُ سِءُ کِچھُ ن کہیِئےَ اجانھےَ ॥
موُرکھ سِءُ نہ لوُجھُ پرانھیِ ہرِ جپیِئےَ پدُ نِربانھیِ ہے ॥੫॥
نا کرِ چِنّت چِنّتا ہےَ کرتے ॥
ہرِ دیۄےَ جلِ تھلِ جنّتا سبھتےَ ॥
اچِنّت دانُ دےءِ پ٘ربھُ میرا ۄِچِ پاتھر کیِٹ پکھانھیِ ہے ॥੬॥
نا کرِ آس میِت سُت بھائیِ ॥
نا کرِ آس کِسےَ ساہ بِئُہار کیِ پرائیِ ॥
بِنُ ہرِ ناۄےَ کو بیلیِ ناہیِ ہرِ جپیِئےَ سارنّگپانھیِ ہے ॥੭॥
اندِنُ نامُ جپہُ بنۄاریِ ॥
سبھ آسا منسا پوُرےَ تھاریِ ॥
جن نانک نامُ جپہُ بھۄ کھنّڈنُ سُکھِ سہجے ریَنھِ ۄِہانھیِ ہے ॥੮॥
جِنِ ہرِ سیۄِیا تِنِ سُکھُ پائِیا ॥
سہجے ہیِ ہرِ نامِ سمائِیا ॥
جو سرنھِ پرےَ تِس کیِ پتِ راکھےَ جاءِ پوُچھہُ ۄید پُرانھیِ ہے ॥੯॥
جِسُ ہرِ سیۄا لاۓ سوئیِ جنُ لاگےَ ॥
گُر کےَ سبدِ بھرم بھءُ بھاگےَ ॥
ۄِچے گ٘رِہ سدا رہےَ اُداسیِ جِءُ کملُ رہےَ ۄِچِ پانھیِ ہے ॥੧੦॥
ۄِچِ ہئُمےَ سیۄا تھاءِ ن پاۓ ॥
جنمِ مرےَ پھِرِ آۄےَ جاۓ ॥
سو تپُ پوُرا سائیِ سیۄا جو ہرِ میرے منِ بھانھیِ ہے ॥੧੧॥
ہءُ کِیا گُنھ تیرے آکھا سُیامیِ ॥
توُ سرب جیِیا کا انّترجامیِ ॥
ہءُ ماگءُ دانُ تُجھےَ پہِ کرتے ہرِ اندِنُ نامُ ۄکھانھیِ ہے ॥੧੨॥
کِس ہیِ جورُ اہنّکار بولنھ کا ॥
کِس ہیِ جورُ دیِبان مائِیا کا ॥
مےَ ہرِ بِنُ ٹیک دھر اۄر ن کائیِ توُ کرتے راکھُ مےَ نِمانھیِ ہے ॥੧੩॥
نِمانھے مانھُ کرہِ تُدھُ بھاۄےَ ॥
ہور کیتیِ جھکھِ جھکھِ آۄےَ جاۄےَ ॥
جِن کا پکھُ کرہِ توُ سُیامیِ تِن کیِ اوُپرِ گل تُدھُ آنھیِ ہے ॥੧੪॥
ہرِ ہرِ نامُ جِنیِ سدا دھِیائِیا ॥
تِنیِ گُر پرسادِ پرم پدُ پائِیا ॥
جِنِ ہرِ سیۄِیا تِنِ سُکھُ پائِیا بِنُ سیۄا پچھوتانھیِ ہے ॥੧੫॥
توُ سبھ مہِ ۄرتہِ ہرِ جگنّناتھُ ॥
سو ہرِ جپےَ جِسُ گُر مستکِ ہاتھُ ॥
ہرِ کیِ سرنھِ پئِیا ہرِ جاپیِ جنُ نانکُ داسُ دسانھیِ ہے ॥੧੬॥੨॥
لفظی معنی:
آبناسی ۔ لافناہ۔ ربے ۔ سب میں۔ گھٹ۔ دل ۔ داسی۔ رہائش پذیر ۔ بستا ہے ۔ تس بن۔ اسے بگیر۔ اور ۔ دوسرا۔ سریو ہو۔ یاد کرو۔ پرانی ۔ اے انسانوں (1) راکھنہار۔ حفاظت کی توفیق رکھنے والا۔ اُتم بانی۔ بلند عمت کلام (2) کتھاو۔ کہیں۔ گرتا۔ گرتار۔ چوج وڈائی ۔ حیران کریوالا۔ کھیل (3) ویدن۔ عذآب ۔ درد۔ دانی سخی (4) سار۔ قدرقیمت۔ اجانے ۔ انجان ۔ نادان۔ لوجھ۔ جھگڑا۔ پرانی۔ اے انسان ۔ پد۔ درجہ۔ نربانی۔ ایسی حالت میں۔ کوئی خواہش نہ ہو (5) چنت۔ فکر۔ جنتا۔ ۔ جانداروں۔ سبھتے ۔ سبھ کو۔ اچنت۔ ۔ بیفکر۔ دان۔ خیرات۔ پاتھر۔ پتھر۔ کیٹ ۔ کیڑا۔ بکھانی۔ پتھروں میں (6) آس۔ اُمید۔ میت۔ دوست۔ ست۔ بیٹے ۔ بھائی۔ برادر۔ ساہ۔ شاہوکار۔ بیوہار۔ رسم و رواج۔ پرائی۔ دوسروں یا بیگانوں ۔ بیلی۔ مددگار۔ سارنگ پانی۔ تیرا انداز (7) بنواری ۔ جنگلوں کے مالک۔ خدا۔ آسا ۔ منسا۔ امیدیں اور ارادے ۔ تھاری ۔ تمہاری ۔ بھو گھنڈن ۔ تناسخ۔ مٹانے والا۔ سکھ ۔ آرام ۔ سہجے ۔ ذہنی سکون میں۔ رین۔ وہانی ۔ رات گذر یگی ۔ مراد زندگی گذرے گی (8) سیویا۔ خدمت کی ۔ تن۔ اس نے ۔ بھرم وبھؤ۔ بھٹکن اور خوف۔ ۔ بھاگے دور ہوئے ۔ پت۔ عزت (9) گریہہ۔ خانہ داری۔ قبیلہ داری۔ اداسی ۔ طارق ۔ جنک، ہگوک، (10)ہونمے ۔ خودی۔ تھائے ۔ ٹھکانہ ۔ آوے جائے ۔ تناسخ میں پڑا رہے ۔ تپ ۔تپسیا۔ سیوا۔ خدمت۔ بھانی۔ پسند (11) سوآمی۔ملاک۔ انتر جامی۔ اندرنوی راز جاننے والا۔ نام دکھانی۔ سچ وحقیقت الہٰی نام کہتا رہون (12) زور۔ طاقت۔ اہنکار۔ غرور۔ تکبر۔ دیبان۔ حاکم۔ ٹیک دھر۔ انحصار وآسرا ۔ نمانی ۔ غریب ۔ عاجز (13) نماتے مان۔ بے وقار کو وقار یا عزت۔ تدھ بھاوے ۔ تو چاہتا ے ۔ جھکھ جھکھ ۔ ذلیل وخوآر ۔ پکھ مدد۔ اوپر گل۔ تدھ۔ تجھ پر بات (14) دھیائیا۔ دھیان دیا۔ پرم پد۔ بلند رتبہ (15) ورتیہہ۔ بستا ہے ۔ جگناتھ ۔ مالک عالم۔ مستک ہاتھ۔ پیشانی پر ہاتھ۔ داس دسانی۔ غلاموں کا غلام ۔
ترجمہ:
خدا انسانی عقل و ہوش سے بعید بیان سے باہر اور لافناہ ہے ۔ پرہر لدمیں بستا ہے اسکے بغیر اتنا بڑا سخی کوئی نہیں اے انسانوں اسکی یادوریاض کرو (1) جسکا محافظ ہو خود خدا اسے کون مار سکتا ہے ۔ اے خڈا رسیدہ سنتہو ایسے خدا کی خدمت وریاضت کرؤ۔جسکا کلام پاک اور بلند درجے کا ہے (2) جب یہ سمجھ آجائے کہ اس عالم میں کچھ بھی صدیوی اور پائدار نہیں ۔ تو وہاں خدا ہر جگہ مکمل طور پر موجود ہے ۔ خدا سوکھے سے ہر یادل سر سبز بنا دیتا ہے اس میں دھیان لگاو وہ حیران کرنے والے کھیل کھیلتا ہے (3) اس مالک پر قربان ہوں جسے لوگوں کے درد دل کی پہچان ہے ۔ اے انسان اس سے عرض گذار جو ہر طرح کا آرام و آسائش پہنچاتا ہے (4) جسے دوسرے کے د کی قدروقیمت کی خبر نہیں اس سے اس بارے کچھ نہ کہو اے انسان بیوقوف سے جھگڑا مت کر خدا کی ریاض کر اس سے خواہشات سے مبرا زندگی کا رتبہ حاصل ہوتا ہے (5) اے انسان فکر مت کر تیرا فکر خدا کو ہے وہ سب کو زمین اور سمند رمیں رزق مہیا کرتا ہے میرا خدا بیفکری سے خیرات کرتا ہے غرض یہ کہ پتھر میں کیڑے کو پہنچاتا ہے (6) اے انسان دوست بیٹے اور بھائی سے اُمید مت رکھ نہ کسی شاہکور اور کاروباری اور غیر سے اُمید رکھ ۔ خدا کے نام سچ حق اور حقیقت (ست) کوی مددگار نہیں لہذا اسکی ہی یادوریاض کرے جسکے ہاتھ میں زمین کی کمان ہے (7) ہر روز یاد خدا کو کیا کرؤ۔ جو تمہارے امیدیں اور ارادے پورے کرتا ہے اے نانک۔ اس خوف مٹانے والے تناسخ ختم کرنے والے کی ریاج کرو تاکہ زندگی روحانی وزہنی سکون میں بسر اوقار ہو سکے (8) جس نے کی عبادت اس نے آرام پائیا اور آسانی سے الہٰی نام مین محو ومجذوب ہوا۔ جو اسکا پناہگیر ہو جاتا ہے وہ اسکی عزت کا محافظ ہو جاتا ہے وید اور پران شہات اسکی دیتے ہیں (9) جیسے خدا خدمت میں لگاتا ہے لگتا ہے وہی کرتا ہے عبادت خدا ۔ کلام رمشد سے اسکی بھٹکن اور خوف مٹ جاتا ہے ۔ خانہ داری اور گھریلو زندگی میں بیباق یا طارق رہتا ہے جس طرح سے کنول کا پھول پانی مین رہتے ہوئے (10) خودی میں کی ہوئی خدمت اہمیت نہیں رکتھی اور قبول نہیں ہوتی۔ انسان تناسخ وہی خدمت اور عبادت و تپسیا منظور کدا ہوتی ہے ۔ جو اسے پسند ہوتی ہے (11) اے میرے آقا میں تیری کونسی تعریف کرؤں تو سب کے راز دل جاننے وال اہے اے کرتار تیرے سے میں بھیک مانگتا ہووں کہ میں ہر روز تیرے نام کی ریاض کرتا رہوں (12) کسی کو بلارے یا مقرر ہونے کا غرور ہے کسی دنیاوی دولت کی مغروری مگر میرا اے خدا کوئی آسرا اور سہارا نہیں اے کرتار تو مجھ عاجز و لاچار کی حفاظت کر (13) اے خدا بے وقاروں کا ہے تو وقار جو چاہتا ہے تو کرتا ہے ۔ دوسرے بیشمار ذلیل وخوار ہوتے ہیں جنکا امدادی تو خدا ان کی ہر بات تجھ پر آتی ہے (14) جنہوں نے نام خدا مین دھیان لگائیا ہے انہویں نے مرشد کی رحمت سے بلند رتبہ پائیا ہے ۔ جنہوں نے کی ہے خدمت خدا کی انہوں نے آرام نصیب ہوا ہے بغیر عبادت وخدمت پچھتائیا ہے (15) اے خدا تو عالم کا مالک ہے اور سبھ میں بستا ہے وہی ریاض خدا کی کرتا ہے جس کی پیشنای پر وتو نے امدادی ہاتھ ٹکائیا ہے ۔ پناہ الہٰی میں ریاض خدا کرتا ہوں خادم نانک۔ تیرے غلاموں کا غلام ہے ۔

ماروُ سولہے مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کلا اُپاءِ دھریِ جِنِ دھرنھا ॥
گگنُ رہائِیا ہُکمے چرنھا ॥
اگنِ اُپاءِ ایِدھن مہِ بادھیِ سو پ٘ربھُ راکھےَ بھائیِ ہے ॥੧॥
جیِء جنّت کءُ رِجکُ سنّباہے ॥
کرنھ کارنھ سمرتھ آپاہے ॥
کھِن مہِ تھاپِ اُتھاپنہارا سوئیِ تیرا سہائیِ ہے ॥੨॥
مات گربھ مہِ جِنِ پ٘رتِپالِیا ॥
ساسِ گ٘راسِ ہوءِ سنّگِ سمالِیا ॥
سدا سدا جپیِئےَ سو پ٘ریِتمُ ۄڈیِ جِسُ ۄڈِیائیِ ہے ॥੩॥
سُلتان کھان کرے کھِن کیِرے ॥
گریِب نِۄاجِ کرے پ٘ربھُ میِرے ॥
گرب نِۄارنھ سرب سدھارنھ کِچھُ کیِمتِ کہیِ ن جائیِ ہے ॥੪॥
سو پتِۄنّتا سو دھنۄنّتا ॥
جِسُ منِ ۄسِیا ہرِ بھگۄنّتا ॥
مات پِتا سُت بنّدھپ بھائیِ جِنِ اِہ س٘رِسٹِ اُپائیِ ہے ॥੫॥
پ٘ربھ آۓ سرنھا بھءُ نہیِ کرنھا ॥
سادھسنّگتِ نِہچءُ ہےَ ترنھا ॥
من بچ کرم ارادھے کرتا تِسُ ناہیِ کدے سجائیِ ہے ॥੬॥
گُنھ نِدھان من تن مہِ رۄِیا ॥
جنم مرنھ کیِ جونِ ن بھۄِیا ॥
دوُکھ بِناس کیِیا سُکھِ ڈیرا جا ت٘رِپتِ رہے آگھائیِ ہے ॥੭॥
میِتُ ہمارا سوئیِ سُیامیِ ॥
تھان تھننّترِ انّترجامیِ ॥
سِمرِ سِمرِ پوُرن پرمیسُر چِنّتا گنھت مِٹائیِ ہے ॥੮॥
ہرِ کا نامُ کوٹِ لکھ باہا ॥
ہرِ جسُ کیِرتنُ سنّگِ دھنُ تاہا ॥
گِیان کھڑگُ کرِ کِرپا دیِنا دوُت مارے کرِ دھائیِ ہے ॥੯॥
ہرِ کا جاپُ جپہُ جپُ جپنے ॥
جیِتِ آۄہُ ۄسہُ گھرِ اپنے ॥
لکھ چئُراسیِہ نرک ن دیکھہُ رسکِ رسکِ گُنھ گائیِ ہے ॥੧੦॥
کھنّڈ ب٘رہمنّڈ اُدھارنھہارا ॥
اوُچ اتھاہ اگنّم اپارا ॥
جِس نو ک٘رِپا کرے پ٘ربھُ اپنیِ سو جنُ تِسہِ دھِیائیِ ہے ॥੧੧॥
بنّدھن توڑِ لیِۓ پ٘ربھِ مولے ॥
کرِ کِرپا کیِنے گھر گولے ॥
انہد رُنھ جھُنھکارُ سہج دھُنِ ساچیِ کار کمائیِ ہے ॥੧੨॥
منِ پرتیِتِ بنیِ پ٘ربھ تیریِ ॥
بِنسِ گئیِ ہئُمےَ متِ میریِ ॥
انّگیِکارُ کیِیا پ٘ربھِ اپنےَ جگ مہِ سوبھ سُہائیِ ہے ॥੧੩॥
جےَ جےَ کارُ جپہُ جگدیِسےَ ॥
بلِ بلِ جائیِ پ٘ربھ اپُنے ایِسےَ ॥
تِسُ بِنُ دوُجا اۄرُ ن دیِسےَ ایکا جگتِ سبائیِ ہے ॥੧੪॥
ستِ ستِ ستِ پ٘ربھُ جاتا ॥
گُر پرسادِ سدا منُ راتا ॥
سِمرِ سِمرِ جیِۄہِ جن تیرے ایکنّکارِ سمائیِ ہے ॥੧੫॥
بھگت جنا کا پ٘ریِتمُ پِیارا ॥
سبھےَ اُدھارنھُ کھسمُ ہمارا ॥
سِمرِ نامُ پُنّنیِ سبھ اِچھا جن نانک پیَج رکھائیِ ہے ॥੧੬॥੧॥
لفظی معنی:
کالا۔ طاقت۔ اُپائے ۔ پیدا کرکے ۔ دھری۔ ۔ ٹکائی۔ دھرنا۔ زمین۔ گگن۔ آسمان۔ رہائیا۔ ٹکائیا۔ ھکمے ۔ قربان سے ۔ چرنا آسرا دیکر۔ آگن اپائے ۔ آگ پیدا کرکے ۔ ایندھن۔ لکڑیون ۔ باندھی ۔ بند کی ۔ راکھے ۔ حفاظت کرتا ہے (1) رزق ۔ روزی ۔ سنبھا ہے ۔ پہنچاتا ہے ۔ سمرتھ باتوفیق۔ اپا ہے ۔ غیر متاثر ۔ کارن۔ سبب۔ تھاپ۔ پیدا کرکے ۔ اتھاینہارا۔ مٹانے کی توفیق رکھنے والا۔ سہائی۔ مددگار (2) ماگ گربھ ۔ماں کے پیٹ میں ۔ پرتپالیا۔ پرورش کی ۔ ساس گراس۔ ہر ساسن ہر لقمہ ۔ ہوئے سنگ۔ ساتھ ہوکر۔ سمالیا۔ سنبھال کی ۔ پریتم۔ پیار۔ وڈیائی۔ بزرگی و شہرت (3 سلطان۔ بادشاہ ۔ کان ۔امرا۔ روار۔ کھن۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے میں ۔ کیرے ۔ نادار ۔ غریب ۔نادار۔ نواز۔ کرم و عنایت سے ۔ میرے ۔ امیر۔ گربھ ۔ غرور۔ تکبر۔ نوارن۔ دور کرکے ۔ سرب سدھارن۔ سب کے لئے سہارا (4) سو۔ وہ ۔ پتونتا۔ با عزت۔ دھنونتا۔ مالدار۔ بھگونتا ۔ با نصیب۔ ست۔ بیٹا۔ بندھپ۔ رشتہ دار ۔ سر شٹ ۔ دنیا ۔ عالم۔ اپائی۔ پیدا کی (5) سرنا۔ پناہ ۔ بھؤ۔ خوف۔ سادھ ۔ سنگت ۔ محبت و قربت ۔ پاکدامناں ۔ نہچؤ۔ ضرور ہی ۔ اترنا۔ کامیابی ۔ گن ندھان۔ اوصاف کا خزانہ ۔ من بچ کرم۔ دل ۔ کلام ۔ بول ۔ اعمال ۔ سجائی ۔ سزا (6) من تن۔ دل وجان۔ رویا۔ بسیا ۔ بھیویا ۔ بھٹکیا ۔ بناس۔مٹا کر۔ ڈیر۔ ٹھکانہ ۔ ترپت رہے ۔ اگھائی۔ خواہشات باقی نہیں رہی سیر ہوئے (7) میت ۔ دوت۔ تھان تھنتر۔ ہر جگہ ۔ انتر حامی۔ اندرونی پوشیدہ رازہ جاننے والا۔ چنتا۔ فکر۔ تشویش۔ (8) کوٹ ۔ کروڑ۔ باہا۔ بازو۔ جس کیرتن۔ تعریفی نفعے ۔ سنگ دھن تاہا۔ اسکے پاس دولت ہے ۔ گیان گھٹگ ۔ علم کی تلوار ۔ دوت ۔ دشمن ۔ ردھائی۔ بلے سے (9) جپ چپنے ۔ جو قابل ریاض ہے ۔ نرک۔ دوزخ۔ رسک رسک۔ مزے کے ساتھ (10) گھنڈ ۔ برہمنڈ۔ دیش دنیا۔ ادھارنہار۔ بچانیوالا۔ اتھاہ ۔ اندازے سے باہر گہر۔ تسیہہ ۔ اسے ۔ دھیائی۔ دھیان ۔ توجہ (11) بندھن۔ غلامی ۔ گھر گوے ۔ گھریلو خدمتگار ۔ انحد ۔ بلا رکے ۔ لگاار۔ رنجھنکار۔ سریلہ راگ۔ سہج دھن۔ روحانی سکون ۔ بھری سر۔ ساشری کار۔ صڈیوی سچا کام (12) پرتیت ۔ یقین ایمان ۔ ہونمے مت۔ خود پسندانہ سمجھ۔ انگیکار۔ اپنائیا ۔ سوبھ ۔ شہرت۔ سوہائی ۔ امداد (13) بے جیکار۔ صفت صلاح ۔ تعریف ۔ جگد لینے ۔ ملاک عالم۔ ایسے ۔ خدا۔۔ جگت سبائی۔ سارے عالم (14) ست۔ صدیوی سچ۔ جاتا ۔ جانیا۔ سمجھا۔ من راتا۔ دل محو۔ جیویہہ۔ زندگی ملتی ہے ۔ ایکنکا۔ واحد خدا ۔ سارا عالم جسکا آکار یا جسم ہے (15) سبھے ادھارن ۔ سب کو کامیاب بنانے والا۔ پنی ۔ پوری۔ اچھا۔ خواہش ۔ پیج ۔ عزت۔
ترجمہ:
جس نے قوت پیدا کرکے زمین بنائی جس نے اپنے فرمان سے آسمان ٹکائیا جس نے آگ لکڑیون میں باندھی ۔ وہی خدا محافظ ہے ۔ جس میں آنکھ جھپکنے کے عرصے میں پیدا کرکے مٹا نے کی توفیق ہے ۔ اے انسان وہ تیرا مددگار ہے (2) جس نے مان کے پیٹ میں (امداد کی) پرورش کی جس نے ہر سانس ہر لقمہ تیرا ساتھی ہوکر تجھے سنبھالا۔ جس کی اتنی بلند عظمت ہو اسے ہمیشہ یاد رکھو (3) جو بادشاہوں سرداروں کو آنکھ جھپکنے کے عرصے میں نادار بنا دیتا ہے وہ غریبوں ناداروں امیری بخش دیتا ہے ۔ وہ غرور اور تکبر مٹانیوالا اور سب کا سہارا ہے ۔ اسکی قدرو قیمت بیان نہیں ہو سکتی (4) عزت دار اور دولتمند وہی ہے جسکے دل میں بستا ہے خدا وہی ماں باپ ۔ بیٹا اور رشتہ دار ۔ وہی ہے جس نے یہ عالم پیدا کیا (5) الہٰی پناہ گیری میں کوی خوف نہیں خدا رسیدہ پاکدامنوں کی صحبت و قربت سے یقیناً ضرور کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ جو دل سے زبان سے اعمال سے جو یاد خدا کو کرتا ہے اسے کبھی سزا نہیں ملتی (6) جب دل میں بستا ہو اوصاف کا خزانہ خدا تو تناسخ میں نہیں پڑنا پڑتا اسے ۔ عذاب ختم ہو جاتے ہیں اور آرام و آسائش پاتا ے کیونکہ خواہشات باقی نہیں رہتیں (7) ہمارا دوست وہی مالک ہے جو ہر جگہ بستا ہے اور دلی بوشیدہ راز جاننے والا ہے کامل خدا کی یاد سے سارے فکر مٹا لیتا ہے (8) خدا کا نام کروڑوں اور لاکھون بازوں کی قوت ہے سچ حق اور حقیقت میں۔ الہٰی حمدوچناہ اسکا ساتھی اور سرمایہ ہے جس نے خدا نے علم کی تلوار اپنی کرم و عنایت سے بخشی ہے جسے وہ دھا بول کر اپنے دشمنوں کو مار لیتا ہے (9) یاد کیا کرؤ خڈا کو یہ قابل ریاض ہے اس سے جیت حاصل ہوگی اور ذہن نشین ہو جاؤ گے چوراسی لاکھ زندگیوں کے دوزخ دیکھتے نصیب نہ ہونگے ۔ لطف سے حمدوثناہ کرؤ (10) دنیا اور اسکے دیشوں میں با نیوالا ہے خدا۔ بیشار بلند عظمت اور ناہیت گہرا انسانی رسای سے بلند و بالا نہایت وسیع جس پر کرم و عنایت کرتا ہے وہ اس میں دھیان لگاتا ہے (11) غلامی کی زنجریں توڑ کر جسے اپنا لیا خدا نے اپنی کرم و عنایت سے اسے اپنا غلام بنالیا لگاتار اسکے ذہن وروح میں میٹھی مروں وال روحانی راگ ہونے لگتا ہے یہی ہے اسے کام یہی کمانیا ہوا سرمایہ (12) جسے اے خدا تجھمیں یقین و ایمان ہو گیا ہے خودی یا خود پسندانہ عقل و ہوش ختم ہوئی ۔ خدا نہ مجھ اپنابنا لیا اور دنیا میں شہرت نصیب ہوئی (13) مالک کی صفت صلاح کرتے رہو اور خدا یہ قربان جاؤ۔ اسکے بغیر اسکا ثانی کوئی دکھائی نہیں دیتا وہ سارے عالم واحد ہستی ہے (14) سچا صدیوی خدا کو جس نے سمجھ لیا رحمت سے مرشد سے اس سے متاثر ہوگیا تیری یاد سے اے خدا تیری پرستارو و خدمتگاروں کو روحانی زندگی نصیب ہوتی ہے اور وہ سب میں بسنے والے واحد خدا میں محو ومجذوب ہو جاتے ہیں (15) خدا اپنے عابدوں پرستاروں کا پیار ہے اور سب کو کامیاب بنانے والا ہے ہمارا آقا ۔ الہٰی نام سچ حق حقیقت کی یادوریاض سے ساری خوآہشات پوری ہوتی ہیں۔ اے نانک خدا ہمیشہ اپنے خادموں کی عزت رکھتا ہے ۔

ماروُ سولہے مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سنّگیِ جوگیِ نارِ لپٹانھیِ ॥
اُرجھِ رہیِ رنّگ رس مانھیِ ॥
کِرت سنّجوگیِ بھۓ اِکت٘را کرتے بھوگ بِلاسا ہے ॥੧॥
جو پِر کرےَ سُ دھن تتُ مانےَ ॥
پِرُ دھنہِ سیِگارِ رکھےَ سنّگانےَ ॥
مِلِ ایکت٘ر ۄسہِ دِنُ راتیِ پ٘رِءُ دے دھنہِ دِلاسا ہے ॥੨॥
دھن ماگےَ پ٘رِءُ بہُ بِدھِ دھاۄےَ ॥
جو پاۄےَ سو آنھِ دِکھاۄےَ ॥
ایک ۄستُ کءُ پہُچِ ن ساکےَ دھن رہتیِ بھوُکھ پِیاسا ہے ॥੩॥
دھن کرےَ بِنءُ دوئوُ کر جورےَ ॥
پ٘رِء پردیسِ ن جاہُ ۄسہُ گھرِ مورےَ ॥
ایَسا بنھجُ کرہُ گ٘رِہ بھیِترِ جِتُ اُترےَ بھوُکھ پِیاسا ہے ॥੪॥
سگلے کرم دھرم جُگ سادھا ॥
بِنُ ہرِ رس سُکھُ تِلُ نہیِ لادھا ॥
بھئیِ ک٘رِپا نانک ستسنّگے تءُ دھن پِر اننّد اُلاسا ہے ॥੫॥
دھن انّدھیِ پِرُ چپلُ سِیانا ॥
پنّچ تتُ کا رچنُ رچانا ॥
جِسُ ۄکھر کءُ تُم آۓ ہہُ سو پائِئو ستِگُر پاسا ہے ॥੬॥
دھن کہےَ توُ ۄسُ مےَ نالے ॥
پ٘رِء سُکھۄاسیِ بال گُپالے ॥
تُجھےَ بِنا ہءُ کِت ہیِ ن لیکھےَ ۄچنُ دیہِ چھوڈِ ن جاسا ہے ॥੭॥
پِرِ کہِیا ہءُ ہُکمیِ بنّدا ॥
اوہُ بھارو ٹھاکُرُ جِسُ کانھِ ن چھنّدا ॥
جِچرُ راکھےَ تِچرُ تُم سنّگِ رہنھا جا سدے ت اوُٹھِ سِدھاسا ہے ॥੮॥
جءُ پ٘رِء بچن کہے دھن ساچے ॥
دھن کچھوُ ن سمجھےَ چنّچلِ کاچے ॥
بہُرِ بہُرِ پِر ہیِ سنّگُ ماگےَ اوہُ بات جانےَ کرِ ہاسا ہے ॥੯॥
آئیِ آگِیا پِرہُ بُلائِیا ॥
نا دھن پُچھیِ ن متا پکائِیا ॥
اوُٹھِ سِدھائِئو چھوُٹرِ ماٹیِ دیکھُ نانک مِتھن موہاسا ہے ॥੧੦॥
رے من لوبھیِ سُنھِ من میرے ॥
ستِگُرُ سیۄِ دِنُ راتِ سدیرے ॥
بِنُ ستِگُر پچِ موُۓ ساکت نِگُرے گلِ جم پھاسا ہے ॥੧੧॥
منمُکھِ آۄےَ منمُکھِ جاۄےَ ॥
منمُکھِ پھِرِ پھِرِ چوٹا کھاۄےَ ॥
جِتنے نرک سے منمُکھِ بھوگےَ گُرمُکھِ لیپُ ن ماسا ہے ॥੧੨॥
گُرمُکھِ سوءِ جِ ہرِ جیِءُ بھائِیا ॥
تِسُ کئُنھُ مِٹاۄےَ جِ پ٘ربھِ پہِرائِیا ॥
سدا اننّدُ کرے آننّدیِ جِسُ سِرپاءُ پئِیا گلِ کھاسا ہے ॥੧੩॥
ہءُ بلِہاریِ ستِگُر پوُرے ॥
سرنھِ کے داتے بچن کے سوُرے ॥
ایَسا پ٘ربھُ مِلِیا سُکھداتا ۄِچھُڑِ ن کت ہیِ جاسا ہے ॥੧੪॥
گُنھ نِدھان کِچھُ کیِم ن پائیِ ॥
گھٹِ گھٹِ پوُرِ رہِئو سبھ ٹھائیِ ॥
نانک سرنھِ دیِن دُکھ بھنّجن ہءُ رینھ تیرے جو داسا ہے ॥੧੫॥੧॥੨॥
لفظی معنی:
سنگی ۔ ساتھی۔ نار۔ عورت ۔ مراد ۔ جسم۔ پٹائی ۔ ملوث ۔ جوگی ۔ نرلیپ۔ بیلاگ ۔ بے واسطہ ۔ ارجھ ۔ واسطہ دار۔ رنگ ۔ پریم ۔ رس۔ لطف۔ مای ۔ اُٹھانے میں۔ کرت۔ اعمال۔ سنجوگ۔ ملاپ ۔ کترا۔ اکٹھے (1) پر۔ خاوند۔ تت۔ فوڑا ۔ بھوگ بلاسا۔ عیش و عشرت ۔ سہگار رکھے سیگانے ۔ خوبصورت بنا کے رکھتی ہے ۔ پریؤ۔ روح (2) بدھ ۔ طریقوں سے ۔ دھاوے ۔ دوڑ دہوپ۔ کوشش (3) دووکر جورے ۔ دونوں ہاتھ باندھ کر ۔ بنؤ۔ عرض ۔ گذارش۔ پر دیس ۔ دوسرے دیس۔ ونج ۔ سوداگری ۔ گریہہ بھیتر ۔ اس گھر میں۔ جت ۔ جس سے ۔ اترے بھوکھ پیاسا ہے ۔ بھوکھ پیاس نہ رہے (4) سگلے سارے ۔ کرم دھرم جگ سادھے ۔ سارے مقررہ مذہبی فرائض ۔ ادکئے ۔ بن۔ بغیر۔ ہر رس۔ الہٰی لفط۔ سکھ تل ۔ معمولی آرام۔ لادھا۔ حاصل ہوا۔ ست سنگے ۔ سچے ساتھیوں کی ۔ دھن پر ۔ خاوند اور بیوی ۔ مراد جسم و روح۔ الاسا۔ روحانی سکون ۔ دھن اندھی۔ جسم جاہل۔ چیل۔ چالاک ۔ سیانی ۔ دانشمند۔ پانچ تت کار چن ۔ پانچ مادیات کا مل۔ رچانا۔ کھیل کھیلنا ۔ وکھر۔ سودا۔ سو۔ وہ ۔ پانیو۔ حاصل کرؤ۔ ستگر پاساسے ۔ سچے مرشد کے پاس ہے (6) دس۔ رہ۔ سکھ داسی۔ آرام پانے والے ۔ بال گوپاے ۔ لیکھے ۔ کام۔ بچن دیہہ ۔ اقرار کر (7) ہؤ۔ میں۔ حکمی۔ زیر فرمان۔ بھاروٹھا کر۔ بھاری مالک ۔ کان ۔ خوف۔ چھندا ۔ محتاجی۔ جچر۔ جس طرح۔ تچر۔ اس طرح ۔ اوٹھ سدھاسا ہے ۔ اُٹھ کے جانا ہے (8) چنچل کاچے ۔ کم عقل بہوربہور۔ بار بار۔ سنگ ۔ ساتھ۔ ہاسا۔ ہنسی مجول۔ ذوق (9) آگیا۔ فرمان ۔ حکم۔ پرہوبلائیا۔ خدا نے بلائیا ہے ۔ متا ۔ متورہ ۔ اوٹھ سدھ بیؤ۔ اُٹھ چلے ۔ چھوٹر ماٹی۔ جسم جو ایک کاک کی مانند ہے چھوڑ کر۔ متھن۔ جھوٹا۔ موہاسا۔ آپسی میل (10) لوبھی۔ لالچی ۔ سیو۔ خدمت سدپرے ۔ ہمیشہ ۔پچ موٹےے ساکت۔ مادہ پرست ۔ ذلیل وخوآر ہوئے ۔ نگرے ۔ بے مرشد۔ بھاسا ۔پھندہ۔ جم۔ موت (11) چوٹا۔ سزا۔ نرک۔ دوزک۔ بھوگے ۔ برداشت کرتا یا اُٹھاتا ہے۔ گورمکھ۔ مرید مرشد۔ لیپ۔ اثر۔ ماسا۔ ذراسا (12) سوئے ۔ وہی ۔ ہر جیؤ بھائیا۔ محبوب خدا۔ پہرائیا۔ خلقت سے نواز۔ سرپاؤ سر سے پاؤں تک پہراوا۔ خاصا۔ خاص (13) ستگر پورے ۔ کامل مرشد۔ سرن کے داتے ۔ سرن دینے والے ۔ بچن کے سورے ۔ کہی بات پر نورے اُترنے ۔ والے ۔ وچھڑ۔ جدا۔ جاسا۔ جاتا (14) گن ندھان۔ اوصاف کا خزانہ ۔ کیم ۔ قیمت۔ قدر۔ گھٹ گھٹ۔ ہر دلمیں۔ پورریؤ۔ بستا ہے ۔ دین دکھ بھنجن۔ عذآب مٹانیوالا۔ رین ۔ دہول۔ جو داسا ہے ۔ جو کدمتگار یا غلامی ہیں۔
ترجمہ:
پاک روح کا جب انسانی جسم سے رشتہ بن جاتا ہے جسم اس سے لپٹ جاتا ہے ساتھ نہیں چھوڑتا اور رسے اپنی محبت میں گرفتار کر لیتا ہے اور اسکا اس طرح سے لطف اُٹھاتا ہے جیسے عورت اپنے خاوند کا یہ ملاپ انسان کے کئے اعمال کے مطابق ہوتا ہے اور عیش و عشرت کرتے ہیں (1) خاوند یا روح چاہتی ہے جسم یا بیوی فوراً قبول کرتی ہے ۔ اور دونوں روز وشب اکھٹے رہتے ہیں۔ خاوند مراد روح جسم کو شنگارتی سجاتی اور سنوارتی ہے اور سنوار کر رکھتی ہے اور حوصلہ افزائی کرتی ہے (2) جب جسم روح سے کچھ طلب کرتا ہے تو روح اسکے لئے تگ وڈو کرتی ہے اور کئی طرح کے طریقے اپناتی ہے اور جو پاتی ہے آکر دکھلاتی ہے ۔ ایک ایسی اشیا ہے جس سے رسائی حاصل نہیں ہوتی ۔ اس لئے جسم بھوکا اور پیاسا رہتا ہے ۔ مراد۔ الہٰی نام سچ حق حقیقت تک رسائی نہیں ہوتی (3) جسم دونوں ہاتھ باندھ کر عرض گذارتا ہے اے خاوند کسی دوسرے دیش نہ جاؤ اسی گھر یا جسم میں ہی رہو اور کوئی ایسی سوداگری کرتے رہو جس سے میری بھوک پیاس مٹتی رہے مراد میری ضرورتیں پوری ہوتی رہیں (4) سارے لوگ ہمیشہ مذہبی فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ مگر خدا کے نام کے بغیر ذرا سا بھی آرام و آسائش نہیں ملتا۔ اے نانک۔ جب پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں خدا کی کرم و عنایت ہوتی ہے تو جسم اور روح مل کر روھانی و ذہنی سکون کا مزہ لیتے ہیں (5) انسانی جسم دنیاوی نعمتوں کی گرفت میں ہے لہذا روح اسکی صحبت و قربت میں نہایت ہوشیاری دانشمندی سے دنیاوی کھیل کھیل رہتی ہے جس کھیل کو پانچ بنیادی مادیات سے تیار کیا گیا ہے ۔ اے انسان جس نعمت کی خریداری کے لئے یہ جنم ہوا ہے وہ نعمت مرشد کے پاس ہے (6) جسم کہتا ہے کہ اے روح میرے ساتھ رہ میرے پیارے خاوند ۔ تیرے بغیر میری کوئی قدروقیمت نہیں اقرار کر کہہ تو مجھ چھوڑ کر نہ جائیگا (7) روح نے جواب دیا کہ میں تو حکم کا غلام ہوں میرا آقا بھری مالک ہے جو کسی کا محتاج نہیں جتنی دیر وہ تیرے ساتھ رکھیگا اتنی دیر ہی رہ سکتا ہوں۔ جب بلائے گا تو چلا جاؤنگا (8) جب روح نے جسم کو ایسا سچا جواب تو بیوقوف کم عقل جسم نے سمجھ نہ پائی اور بار بار خاوند روح کا ساتھ مانگتی رہتی ہے ۔ روح اسے ہانسی محول سمجھ لیتا ہے (9) لہذا جب خدا کی طرف سے بلاوے کا مراحلہ یا طلبی آتی ہے تو جسم سے کسی صلاح مشورے بغیر وہ اس جسم کو جو اسکے بغیر مٹی کیمانند چھوڑ کرچلا جاتا ہے۔ اے نانک دیکھ لے سمجھ لے کہ یہ محبت کا چھوٹا کھیل تماشا ہے (10) اے میرے لالچی من سن سچے مرشد کی شب و روز خدمت کر ۔ سچے مرشد کے بغیر مادہ پرست ذلیل و خوآر ہوتے ہیں بے مرشدکے گلے ہمیشہ پھندہ پڑا رہتا ہے (11) خود پسندی دنیا میں آتا ہے چلا جاتا ہے اور بار بار سزا پاتا ہے اور ہر طرح کے عذآب پاتا ہے مگر مرید مرشد پر اسکا رتی بھر اثر نہیں پڑتا (12) مریر مرشد وہی ہے جومحبوب خدا ہے ۔ جسے خدا نے خود خلعت سےنواز اسکی شہرت کو ہے کون مٹا سکتا۔ جس کی قدروقیمت خدا پائے اسے الہٰی صحبت و قربت میں روحانی و ذہنی سکون پاتا ہے (13) قربان ہوں اس کامل مرشد پر پناہ میں آئے کا امدادی ہے اور اقرار پر پور ا اترتا ہے اور امداد کی توفیق رکھتا ہے ۔ ایسے کامل مرشد کی کرم و عنایت سے اسیا آرام آسائش اور سکون بخشنے والے خدا سے کبھی جدا نہ ہونگا (14) خدا جو آوساف کا خزانہ ہے کی قدرقیمت ادا نہیں کی جاسکتی تو ہر جگہ ہر جسم کے اندر بستا ہے ۔ اے نانک۔ اپنے پناہگیروں غریبوں ناتوانوں کے عذآب مٹا نیوالے میں غلاموں خدمتگاروں کے پاوں کی دہول ہوں۔

ماروُ سولہے مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کرےَ اننّدُ اننّدیِ میرا ॥
گھٹِ گھٹِ پوُرنُ سِر سِرہِ نِبیرا ॥
سِرِ ساہا کےَ سچا ساہِبُ اۄرُ ناہیِ کو دوُجا ہے ॥੧॥
ہرکھۄنّت آننّت دئِیالا ॥
پ٘رگٹِ رہِئو پ٘ربھُ سرب اُجالا ॥
روُپ کرے کرِ ۄیکھےَ ۄِگسےَ آپے ہیِ آپِ پوُجا ہے ॥੨॥
آپے کُدرتِ کرے ۄیِچارا ॥
آپے ہیِ سچُ کرے پسارا ॥
آپے کھیل کھِلاۄےَ دِنُ راتیِ آپے سُنھِ سُنھِ بھیِجا ہے ॥੩॥
ساچا تکھتُ سچیِ پاتِساہیِ ॥
سچُ کھجیِنا ساچا ساہیِ ॥
آپے سچُ دھارِئو سبھُ ساچا سچے سچِ ۄرتیِجا ہے ॥੪॥
سچُ تپاۄسُ سچے کیرا ॥
ساچا تھانُ سدا پ٘ربھ تیرا ॥
سچیِ کُدرتِ سچیِ بانھیِ سچُ ساہِب سُکھُ کیِجا ہے ॥੫॥
ایکو آپِ توُہےَ ۄڈ راجا ॥
ہُکمِ سچے کےَ پوُرے کاجا ॥
انّترِ باہرِ سبھُ کِچھُ جانھےَ آپے ہیِ آپِ پتیِجا ہے ॥੬॥
توُ ۄڈ رسیِیا توُ ۄڈ بھوگیِ ॥
توُ نِربانھُ توُہےَ ہیِ جوگیِ ॥
سرب سوُکھ سہج گھرِ تیرےَ امِءُ تیریِ د٘رِسٹیِجا ہے ॥੭॥
تیریِ داتِ تُجھےَ تے ہوۄےَ ॥
دیہِ دانُ سبھسےَ جنّت لوئےَ ॥
توٹِ ن آۄےَ پوُر بھنّڈارےَ ت٘رِپتِ رہے آگھیِجا ہے ॥੮॥
جاچہِ سِدھ سادھِک بنۄاسیِ ॥
جاچہِ جتیِ ستیِ سُکھۄاسیِ ॥
اِکُ داتارُ سگل ہےَ جاچِک دیہِ دانُ س٘رِسٹیِجا ہے ॥੯॥
کرہِ بھگتِ ارُ رنّگ اپارا ॥
کھِن مہِ تھاپِ اُتھاپنہارا ॥
بھارو تولُ بیئنّت سُیامیِ ہُکمُ منّنِ بھگتیِجا ہے ॥੧੦॥
جِسُ دیہِ درسُ سوئیِ تُدھُ جانھےَ ॥
اوہُ گُر کےَ سبدِ سدا رنّگ مانھےَ ॥
چتُرُ سروُپُ سِیانھا سوئیِ جو منِ تیرےَ بھاۄیِجا ہے ॥੧੧॥
جِسُ چیِتِ آۄہِ سو ۄیپرۄاہا ॥
جِسُ چیِتِ آۄہِ سو ساچا ساہا ॥
جِسُ چیِتِ آۄہِ تِسُ بھءُ کیہا اۄرُ کہا کِچھُ کیِجا ہے ॥੧੨॥
ت٘رِسنا بوُجھیِ انّترُ ٹھنّڈھا ॥
گُرِ پوُرےَ لےَ توُٹا گنّڈھا ॥
سُرتِ سبدُ رِد انّترِ جاگیِ امِءُ جھولِ جھولِ پیِجا ہے ॥੧੩॥
مرےَ ناہیِ سد سد ہیِ جیِۄےَ ॥
امرُ بھئِیا ابِناسیِ تھیِۄےَ ॥
نا کو آۄےَ نا کو جاۄےَ گُرِ دوُرِ کیِیا بھرمیِجا ہے ॥੧੪॥
پوُرے گُر کیِ پوُریِ بانھیِ ॥
پوُرےَ لاگا پوُرے ماہِ سمانھیِ ॥
چڑےَ سۄائِیا نِت نِت رنّگا گھٹےَ ناہیِ تولیِجا ہے ॥੧੫॥
بارہا کنّچنُ سُدھُ کرائِیا ॥
ندرِ سراپھ ۄنّنیِ سچڑائِیا ॥
پرکھِ کھجانےَ پائِیا سراپھیِ پھِرِ ناہیِ تائیِجا ہے ॥੧੬॥
انّم٘رِت نامُ تُمارا سُیامیِ ॥
نانک داس سدا کُربانیِ ॥
سنّتسنّگِ مہا سُکھُ پائِیا دیکھِ درسنُ اِہُ منُ بھیِجا ہے ॥੧੭॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
انند۔ خوشیاں منانا ۔ انندی ۔خوشیوں کا مالک۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں ۔ پورن ۔ بستا ہے ۔ سیر سریہہ۔ اسکے ذمہ ۔ نیرا۔ فیصلہ ۔ سر ساہا کے ۔ شاہوکاروں کے سر پر۔ سچا صاحب۔ سدیوی سچا مالک (1) ہر کھونت ۔ خوشی کا مالک۔ آننت ۔ جس کے آکر کا پتہ نہ چلے ۔ ویالی ۔ مہربان۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ سرب اُجالا۔ سب کو روشن کرنے والا۔ روپ۔ شکل۔ وگسے ۔ خوش ہوتا ہے ۔ پوجا۔ پرستش۔ (2) ویچار۔ خیال۔ سوچ ۔ سمجھ ۔ سچ ۔صدیوی خدا۔ پسارا۔ پھیلاؤ۔ بھیجا۔ متاثر۔ خوش ہوتا ہے (3) تخت۔ حکمرانی ۔ سچی پاتساہی ۔ صدیوی سر لطنت و حکرمای ۔ کھجنہ ۔ خزانہ ۔ ساچا ساہی ۔ صڈیوی شاہوکار۔ دھاریؤ۔ اپنائؤ۔ سبھ ساچا۔ سارا عالم۔ سچے سچ۔ خدا ہی خدا۔ درتیجا۔ برتاؤ ہو رہا ہے (4) سچ تپادس کیرا۔ سچے خدا کا سچا انصاف۔ ساچا تھان۔ صدیوی مقام۔ قدرت ۔ قائنات ۔ سچی بانی۔پاک منصوبہ ۔ کیجا ۔ کیا ہے (5) وڈراجا ۔ حکمران ۔ پورے کا جا۔ پورے کام۔ انتر باہر۔ اندرونی اور بیرونی ۔ پتیجا۔ خوش ہوتا ہے ۔ رسیئیا۔ لطف لینے والا۔ بھوگی ۔ مصارف۔ نربان۔ جسے کوئی خوآہش نہ ہو۔ جوگی۔ طارق۔ سہج ۔ روحانی سکون۔ میؤ۔ انمرت۔ آبحیات۔ درسٹیجا۔ نظریہ (7) دات۔ دادنی ۔ خیرات۔ دان۔ خیرات۔ پن۔ تواب۔جنت۔ جانداروں ۔ لوئے ۔ لوگوں۔ توٹ نہ آوے ۔ کمی واقع نہیں ہوتی ۔ بھنڈارے ۔ ذخیرے ۔ خزانے ۔ ترپت رہے آگھیجا ہے ۔ مکمل طور پر تسلی ہو جاتی ہے (8) جاچیہہ ۔ مانگتے ہیں۔ سدھ ۔ خدا رسیدہ ۔ سادھک۔ الہٰی منزل کے حصول کے لئے جہدوریاض کر نے والے ۔ بنواسی ۔ جنگلوںمیں رہنے والے ۔ جتی ۔ شہوت پر ضبط رکھنیوالے ۔ ستی حقیقت پر ست۔ لکھواسی۔ آڑام پرست۔ داتار۔ دینے والا۔ سخی۔ سگل۔ سارے ۔ جاپک۔ منگتے ۔ دان۔ بھیک۔ خیرات۔ سر سٹیجا۔ سارے عالم کو (9) بھگت۔ عبادت۔ بندگی ۔ رنگ ۔ پریم۔ اپار۔ بیشمار ۔ تھاپ۔ پیدا کرکے ۔ اُتھاینہارا۔ اسے ختم کرنے کی توفیق رکھنے والا۔ بھاروتول ۔ بھاری قدروقیمت اور بے پناہ طاقت کا مالک ۔ بھگتیجا۔ عابد بنتے ہیں (10) درس۔ دیدار۔ سوئی۔ وہی ۔ تدھ جانے ۔ اسے ی تیری پہچان ہوتی ہے ۔ چتر سروپ۔ دانشمندانہ شکل و صورت ۔ بھاویجا ۔ جسے تو اپنا محبوب بنانے (11) جس چیت آویہہ ۔ جس کے دل میں بس جائے ۔ بے پرواہا ۔ بے محتاج۔ ساچا۔ ساہا۔ صدیوی سچا شاہکور۔ بھؤ۔ خوف۔ اور کیا۔ دوسروں کا کہنا (12) ترسنا بجھی ۔خواہش مٹی ۔ انتر ذہن۔ ٹھنڈا ۔ پر سکون ۔ توٹا۔ توٹا ۔ گنڈ۔ ملائیا۔ سرت۔ سبد۔ کلام کی ہوش۔ ردھ انتر۔ ذہن و قلب میں ۔جاگی ۔ بیدار ہوئی۔ آمیؤ۔ آبحیات۔ جو زندگی کو جاویدان بناتا ہے ۔ جھول جھو۔ ہلا ہلا کر۔ مراد مزے سے (13) سد سد۔ ہمیشہ کے لئے ۔ امر جاویداں۔ ہمیشہ کے لئے زندگی۔ ابناسی ۔ لافناہ ۔ تھوکے ہوجائے ۔ بھرمیجا۔ بھٹکن۔ وہم وگمان (14) پوری بانی ۔ کامل کلام ۔پورے لاگا۔ کامل خدا سے تعلق بنا۔ چڑھے سوائیا نت نت رنگا۔ ہر روز پیار بڑھتا ہے ۔ گھٹے ناہی ۔ کم نہیں ہوتا۔ نولیجا ۔ تحقیق کرنے پر (15) بارہا کنچن۔ باراں بنی کا سونا۔ سدھ۔ درست۔ ندرصراف۔ سونے کو پرکھنے والے کی نظر میں۔ ونیس ۔ بارہ بی کا نایئجا۔ آنچ نہیں آتی (14) سنت سنگ ۔ صحبت مرشد بھیجا۔ متاثر ہوا ۔
ترجمہ:
خوشیوں کا مالک خدا خوشیاں منا رہا ہے ۔ ہر دلمیں بس کر اسکے اعمال کی مطابق فیصلے سنا رہا ہے اور کر رہا ہے اس عالموں کے بادشاہوں کے سر پر بھی ہے حکمرانی اسکی نہیں اسکاثانی دنیا میں کوئی دوسرا (1) بیشمار خوشباش ہے وہ رحمان الرحیم ہے ہرجائی ہے ہر جگہ ظاہر ظہور ہے سارا عالم اسی سے پر نور ہے بیشمار بنا کے شکلیں دیکھ رہا ہے سبھ کو دیکھ دیکھ خوش ہوتا ہے اور پرستش اپی کرتا ہے (2) خود ہی اس نے یہ قائنات قدرت بنائی ہے خیال بھی خودہی رکھتا ہے خود ہی خدا نے یہ عالم پھیلائیا ہے اور دن رات سبھ کوکھیل کھلاتا ہے خود ہی سبھ کو سن سنکر خوشی مناتا ہے (3) سدا سلامت تخت ہے اسکا صدیوی اسکی بادشاہی اور سلطنت ہے اسکی ۔ سدا رہنے والا ہے خزانہ اسکا سچی اور صدیوی شہنشاہی ہے ۔ سارے عالم کا امدادی ہے وہ اور صدیوی قانون ہے اسکا (4) سچا پاک قانون ہے پاک خدا کا سچا اور پاک ٹحکانہ ہے صدیوی ہے اور پاک ہے قائنات قدرت تیری اے خدا سچے مالک تو نے آرام پیدا کیا ہے (9) جنہوں نے خدا رسیدی حاصل کر لی ہے ۔ اور جو کوشش میں ہیں اور جنہوں نے جنگلوں میں رہائش اختیار کر لی ہے تیرے در کے بھکاری اے خدا۔ جنہوں نے اپنی ضمیر اور جنسی شہوت پر ضبط پا لیا ہے اورجنہوںنے سچ اور ست اختیار رک لیا ہے اورجو آرام و آسائش سے زندگی گذارتے ہیں۔ اے خدا تو واحد سخی ہے سارے عالم کو خیرات دیتا ہے (9) بیشمار اے خدا تیری عبادت اور بندگی کرت ہیں ار روحانی سکون وہ پاتے ہیں۔ اے خدا تو پل میں پیدا کرکے مٹانے کی توفیق ہے تجھ میں۔ اے خدا تو بیشمار قوتوں کا ماکل ہے لہذا اسکی رضا و فرمان کی فرمانبرداری سے ہی عابدورضا کار بنتے ہیں (10) اے جسے تو دیتا ہے اپنا وہی اسے ہی تیری پہچانی ہوتی ہے کلام مرشد سے ذہنی و روھانی سکون کا لطف اُٹھاتا ہے ۔ اے خدا جسے تو محبوب بنا لیت اہے اپنا وہ ہی با عقل با شعور اور دانمشند وہی ہے (11) جس کے دل مین تو بس جائے اے خدا بے محتاج وہ ہو جاتا ہے جس کے دل میں تو بس جائے اے خدا بیشمار دؤلت کا مالک ہو جاتا ہے جس کے دل میں تو بس جائے تو پھر کسی کا خوف اسے نہیں رہتا ہے ۔ کوئی بھی اسکا کچھ بگاڑ سکتا نہیں (12) جس کامل مرشد نے ٹوٹے تعلقات منقطع ہوئے ہوئے بہال کئے ۔ اسکے ذہن میں خواہشات کی جلتی آگ بجھی تسکین و شانت محسوس ہوئی ۔ سبق و کلام مرشد سے اسکے ذہن میں بیداری آئی با ہوش و شعور ہوا اب آبحیات زندگی کا لطف و مزے سے چسکیوں سے پیتا ہے (13) ایسے شخص کی زندگی جاویداں ہو جاتی ہے روحانی واخلاقی موت ہوتی نہیں لافناہ ہوجاتا ہے تناسخ مٹ جاتا ہے اور بھتکن مٹ جاتی ہے (14) کامل مرشد کا کلام مکمل ہوتا ہے ۔ کامل کے واسطے سے کامل میں بسا اور سمائیا رہتا ہے ۔ عشق الہٰی بڑھتا رہتا ہے ہر روز تحقیق ہونے پر بھی نہ گھٹتا ہے (15) ایسا پاک ہو جاتا ہے انسان جیسےبارہ بنی سونا پاک کرائیا جاتا ہے مرشد جو صرف کی مانند ہوتا ہے اسکی نظروں میں بھی قبول و منظور ہو جاتا ہے ۔ تو سونے کی مانند پاک ہوئے تو صراف خزانے پاتا ہے تو اسکو دوبار تپائیا نہ جاتا ہے ۔ مراد ایسے ہی بعد تحقیق الہٰی قبول خدا کو ہوتا ہے (!6) اے خدا تیرا نام آبحیات ہے اس سے زندگی روھانی اوراخلاقی طور پاک ہو جاتی ہے اور جاویدانہوجاتی ہے خادم نانک ہمیشہ قربان ہے صحبت و قربت پاکدامن خدا رسیدہ مرشد سے بھاری سکون حاصل ہوا اور دیدار سے دل متاثر ہوا۔

ماروُ مہلا ੫ سولہے
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ
گُرُ گوپالُ گُرُ گوۄِنّدا ॥
گُرُ دئِیالُ سدا بکھسِنّدا ॥
گُرُ ساست سِم٘رِتِ کھٹُ کرما گُرُ پۄِت٘رُ استھانا ہے ॥੧॥
گُرُ سِمرت سبھِ کِلۄِکھ ناسہِ ॥
گُرُ سِمرت جم سنّگِ ن پھاسہِ ॥
گُرُ سِمرت منُ نِرملُ ہوۄےَ گُرُ کاٹے اپمانا ہے ॥੨॥
گُر کا سیۄکُ نرکِ ن جاۓ ॥
گُر کا سیۄکُ پارب٘رہمُ دھِیاۓ ॥
گُر کا سیۄکُ سادھسنّگُ پاۓ گُرُ کردا نِت جیِء دانا ہے ॥੩॥
گُر دُیارےَ ہرِ کیِرتنُ سُنھیِئےَ ॥
ستِگُرُ بھیٹِ ہرِ جسُ مُکھِ بھنھیِئےَ ॥
کلِ کلیس مِٹاۓ ستِگُرُ ہرِ درگہ دیۄےَ ماناں ہے ॥੪॥
اگمُ اگوچرُ گُروُ دِکھائِیا ॥
بھوُلا مارگِ ستِگُرِ پائِیا ॥
گُر سیۄک کءُ بِگھنُ ن بھگتیِ ہرِ پوُر د٘رِڑ٘ہ٘ہائِیا گِیاناں ہے ॥੫॥
گُر د٘رِسٹائِیا سبھنیِ ٹھاںئیِ ॥
جلِ تھلِ پوُرِ رہِیا گوسائیِ ॥
اوُچ اوُن سبھ ایک سماناں منِ لاگا سہجِ دھِیانا ہے ॥੬॥
گُرِ مِلِئےَ سبھ ت٘رِسن بُجھائیِ ॥
گُرِ مِلِئےَ نہ جوہےَ مائیِ ॥
ستُ سنّتوکھُ دیِیا گُرِ پوُرےَ نامُ انّم٘رِتُ پیِ پاناں ہے ॥੭॥
گُر کیِ بانھیِ سبھ ماہِ سمانھیِ ॥
آپِ سُنھیِ تےَ آپِ ۄکھانھیِ ॥
جِنِ جِنِ جپیِ تیئیِ سبھِ نِست٘رے تِن پائِیا نِہچل تھاناں ہے ॥੮॥
ستِگُر کیِ مہِما ستِگُرُ جانھےَ ॥
جو کِچھُ کرے سُ آپنھ بھانھےَ ॥
سادھوُ دھوُرِ جاچہِ جن تیرے نانک سد کُرباناں ہے ॥੯॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
گوپال ۔ پرورش کرنے والا۔ گووند ۔ راز دان۔ دیال۔ مہربان ۔ بخشندہ ۔ بخشش کرنے والا۔ ساست۔ ہندؤں کے مذہبی کتابیں جو تعداد میں چھ ہے ۔ سمرت۔ ہندوں کی رہنمای کے لئے مذہبی رہنماؤں کی تھریر کردہ سمریاں۔ کھٹ کرم۔ برہمنوں کے لئے چھ مقررہ اعمال۔ (!) خو پڑھنا دوسرو پڑھنا۔ لگہہ کرنا اور کانا۔ دان دیان ۔ اور لیتا ۔ پوتر استھانا۔ پاک مقام (1) سمرت۔ یاد کرنے سے ۔ کل وکھ ۔ گناہ۔ ناسیہہ۔ مٹ جاتے ہیں۔ دور ہو جاتے ہین جم سنگی ۔ موت کے ساتھ ۔ پھاسیہہ۔ پھنستا نہیں۔ نرمل۔ پاک ۔ اپمانا۔ بے قدری ۔ بے عزتی (2) ترک۔ دوزخ۔ دھیائے ۔ توجہ دیتا ہے دھیان لگاتا ہے ۔ سیوک ۔ مرید۔ خدمتگار۔ سادھ سنگ۔ صحبت و قربت پاکیزگان ۔ جیئہ دانا ے ۔ روحانی زندگی عنایت کرتا ہے (3) کیرتن ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ نرک۔ دوزخ۔ اعراف ۔ بھیٹ ۔ ملاپ ۔ ہر جس ۔ الہٰی صفت صلاح۔ مکھ بھنیئے ۔ زبان سے بیان کریں۔ کل کلیس۔ لڑائی جھگڑے ۔ درگیہہ۔ در پر ۔ بارگاہ پر۔ مانا۔ وقار۔ قدروقیمت (4) اگم اگوچر۔ انسانی عقل و ہوش رسائی سے اور بیان سے بعید۔ بھولا مارگ ۔ گمراہ۔ وگھن۔ رکاوٹ ۔ بھگتی ۔ عبادت وریاضت۔ درڑاییا ۔ مکمل طور پر ذہن نشین کرائیا۔ گیان۔ علم و دانش (5) درسٹائیا ۔ دیدار کرائیا۔ ٹھامیں۔ ہر مقام۔ ہر جگہ ۔ پوریہیا۔ بس رہا ہے ۔ گوسائیں۔ مالک زمیں علام۔ اوچ۔ اون نشیب و فراز۔ اونچے ۔ نیچے ۔ ایک سمانا۔ برابر سہج دھیانا۔ روحانی سکون میں توجہی (6) ترسن بجھائی ۔ خواہشات کی پیاس مٹائی ۔ جو ہے ۔ تاک۔ زیر نظر۔ مائی۔ دیاوی دؤلت ۔ ست سنتوکھ ۔ سچائی اور صبر۔ گرپورے ۔ کامل مرشد ۔ نام انمرت ۔ الہٰی نام سچ حق وحقیقت جو آبحیات روحانی واخلاقی زندگی بنانے والا ہے ۔ پی پاناں۔ پیا اور پلائیا (7) مہما۔ عظمت ۔ بزرگی ۔ بلندی ۔ بھانے ۔ رضا سے ۔ بانی ۔ کلام سبق ۔ پندوآموز۔ سبھ ماہے سمنای۔ سبھ کے دل میں بسنے والی۔ دکھانی ۔ گہی ۔ بیان کی۔ نسترے ۔ کامیاب ہوئے ۔ نہچل۔ مستقل ۔د ائمی ۔ تھاناں۔ ٹھکانہ ۔مقام () جاچیہہ ۔ مانگتے ہیں۔ جن تیرے ۔ تیرے خدمتگار ۔ خادم۔
ترجمہ:
مررشد مرید کی پرورش کرتا ہے مرشد مرید کا رادان ہے ۔ مرشد مہربان ہے اور بخشنے والا ہے مرشد ایک مذہبی کات بہے مرشد رہنما ہے اور مرشد چھ مذہبی اعمال ہے اور ایک پاک زیارت گاہ ہے (1) مرشد کی یاد سے سارے گگناہ عافو ہو جاتے ہیں روحانی واخلاقی موت کے پھندے میں پھنسنا نہیں پڑتا ۔ مرشد کی یادوریاض سے دل پاک ہوجاتا ہے مرشد بے عزتی اور بے قدرتی سے بچاتا ہے (2) خادم مرشد دوزخمیں نہیں پڑتا خادم مرشد یاد خدا کو کرتا ہے ۔ خادم مرشد محبت و قربت پاکدامنان نصیب ہوتی ہے مرشد ہمیشہ روحانی واخلاقی زندگی خیرات کرتا ہے (3) در مرشد پر خدا کی حمدوثناہ سنو اور سچے مرشد سے ملکر الہٰی صفت صلاح زبانں سے کیجیئے ۔ مرشد جھگڑے مٹاتا ہے ۔ سچا مرشد الہٰی در پر قدرمنزلت دلاتا ہے (4) مرشد خدا کا جو انسنای رسائی عقل و ہوش سے بلند و بالا اور بعید ہے دیدار کراتا ہے مگراہ کو راہ دکھاتا ہے ۔ خادم مرشد کی عبادت وریاضت میں کوئی روک نہیں آتی ۔ وہ مکمل علم مرید کو خدا کے بارے پختہ کراتا ہے (5) مرشد مرید کو خداکے ہر جگہ بسنے کا دیدار کراتا ہے ۔ زمین پر اور سمندر میں مالک عالم ہے بس راہ ہرنشیب و فراز میں اونچے پوانوں میں اور سچے مقاموں میں ناداروں میں سرداروں میں یکسان بستا ہے دل میں روحانی وذہنی سکون پیدا ہوتا ہے (6) مرشد کے ملنے سے دلمیں تمناؤں اور خواہشات کی جلتی آگ بجھ جاتی ہے اور دنیاوی دؤلت کی آبو تاب ماتثر کرنے سے قاصرہوجاتی ہے کاملمرشد جسے ست یا سچ اور صبر وعنایت کرتا ہے وہ آبحیات جو زندگی کو جاویداں بناتا ہے نام خدا کا سچ حق اور حقیقت خود پیتا ہے اوروں کو پلاتا ہے (79 کلام سبق اور پندونصائح مرشد سبھ کے دل و ذہن میں بستی ہے جو پہلے خود سنی ہے اور آپ بیانی ہے ۔ جنہوں نے یادوریاض کی ہے اسکی سب اس دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور کر لیا ہے ۔ منزل پالی ہے جو مستقل ہے اور دائمی ہے (8) سچے مرشد کی عطمت قدرومنزلت کا پتہ سچے مرشد کو ہی ہے کہ جو کچھ کرتا ہے خدا اپنی رضا و فرمان سے کرتا ہے ۔ اے نانک۔ خادمان خدا پاکدامنوں کے قدموں کی دہول مانگتے ہیں۔ سو بار قربان ہوں ان پر۔

ماروُ سولہے مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آدِ نِرنّجنُ پ٘ربھُ نِرنّکارا ॥
سبھ مہِ ۄرتےَ آپِ نِرارا ॥
ۄرنُ جاتِ چِہنُ نہیِ کوئیِ سبھ ہُکمے س٘رِسٹِ اُپائِدا ॥੧॥
لکھ چئُراسیِہ جونِ سبائیِ ॥
مانھس کءُ پ٘ربھِ دیِئیِ ۄڈِیائیِ ॥
اِسُ پئُڑیِ تے جو نرُ چوُکےَ سو آءِ جاءِ دُکھُ پائِدا ॥੨॥
کیِتا ہوۄےَ تِسُ کِیا کہیِئےَ ॥
گُرمُکھِ نامُ پدارتھُ لہیِئےَ ॥
جِسُ آپِ بھُلاۓ سوئیِ بھوُلےَ سو بوُجھےَ جِسہِ بُجھائِدا ॥੩॥
ہرکھ سوگ کا نگرُ اِہُ کیِیا ॥
سے اُبرے جو ستِگُر سرنھیِیا ॥
ت٘رِہا گُنھا تے رہےَ نِرارا سو گُرمُکھِ سوبھا پائِدا ॥੪॥
انِک کرم کیِۓ بہُتیرے ॥
جو کیِجےَ سو بنّدھنُ پیَرے ॥
کُرُتا بیِجُ بیِجے نہیِ جنّمےَ سبھُ لاہا موُلُ گۄائِدا ॥੫॥
کلجُگ مہِ کیِرتنُ پردھانا ॥
گُرمُکھِ جپیِئےَ لاءِ دھِیانا ॥
آپِ ترےَ سگلے کُل تارے ہرِ درگہ پتِ سِءُ جائِدا ॥੬॥
کھنّڈ پتال دیِپ سبھِ لویا ॥
سبھِ کالےَ ۄسِ آپِ پ٘ربھِ کیِیا ॥
نِہچلُ ایکُ آپِ ابِناسیِ سو نِہچلُ جو تِسہِ دھِیائِدا ॥੭॥
ہرِ کا سیۄکُ سو ہرِ جیہا ॥
بھیدُ ن جانھہُ مانھس دیہا ॥
جِءُ جل ترنّگ اُٹھہِ بہُ بھاتیِ پھِرِ سللےَ سلل سمائِدا ॥੮॥
اِکُ جاچِکُ منّگےَ دانُ دُیارےَ ॥
جا پ٘ربھ بھاۄےَ تا کِرپا دھارےَ ॥
دیہُ درسُ جِتُ منُ ت٘رِپتاسےَ ہرِ کیِرتنِ منُ ٹھہرائِدا ॥੯॥
روُڑو ٹھاکُرُ کِتےَ ۄسِ ن آۄےَ ॥
ہرِ سو کِچھُ کرے جِ ہرِ کِیا سنّتا بھاۄےَ ॥
کیِتا لوڑنِ سوئیِ کرائِنِ درِ پھیرُ ن کوئیِ پائِدا ॥੧੦॥
جِتھےَ ائُگھٹُ آءِ بنتُ ہےَ پ٘رانھیِ ॥
تِتھےَ ہرِ دھِیائیِئےَ سارِنّگپانھیِ ॥
جِتھےَ پُت٘رُ کلت٘رُ ن بیلیِ کوئیِ تِتھےَ ہرِ آپِ چھڈائِدا ॥੧੧॥
ۄڈا ساہِبُ اگم اتھاہا ॥
کِءُ مِلیِئےَ پ٘ربھ ۄیپرۄاہا ॥
کاٹِ سِلک جِسُ مارگِ پاۓ سو ۄِچِ سنّگتِ ۄاسا پائِدا ॥੧੨॥
ہُکمُ بوُجھےَ سو سیۄکُ کہیِئےَ ॥
بُرا بھلا دُءِ سمسرِ سہیِئےَ ॥
ہئُمےَ جاءِ ت ایکو بوُجھےَ سو گُرمُکھِ سہجِ سمائِدا ॥੧੩॥
ہرِ کے بھگت سدا سُکھۄاسیِ ॥
بال سُبھاءِ اتیِت اُداسیِ ॥
انِک رنّگ کرہِ بہُ بھاتیِ جِءُ پِتا پوُتُ لاڈائِدا ॥੧੪॥
اگم اگوچرُ کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
تا مِلیِئےَ جا لۓ مِلائیِ ॥
گُرمُکھِ پ٘رگٹُ بھئِیا تِن جن کءُ جِن دھُرِ مستکِ لیکھُ لِکھائِدا ॥੧੫॥
توُ آپے کرتا کارنھ کرنھا ॥
س٘رِسٹِ اُپاءِ دھریِ سبھ دھرنھا ॥
جن نانکُ سرنھِ پئِیا ہرِ دُیارےَ ہرِ بھاۄےَ لاج رکھائِدا ॥੧੬॥੧॥੫॥
لفظی معنی:
آو ۔ آغاز عالم۔ نرنجن۔ پاک۔ بیداگ۔ نرنکار۔ بغیر آکار۔ پھیلاو ۔ حجم۔ بلا شکل و صورت ۔ درتے ۔ بستا ہے ۔ نرارا۔ نرالا۔ انوکھا۔ ورن۔ رنگ۔ نسل۔ چین ۔ شکل وصورت۔ نشانی۔ حکمے ۔ فرمان سے ۔ سر چنٹ دنیا۔ علام۔ اپائیداد۔ پیدا کیا (1) سبائی۔ ساری ۔ جون ۔ جونیاں۔ زندگیاں۔ مانس۔ انسان۔ وڈیائی۔ عظمت و حشمت۔ بزرگی بلندی۔ پؤڑی ۔منزل۔ زندگی کی راہ۔ چوکے ۔ گمراہ ۔ آئے ۔ جائے ۔ آواگؤن ۔ تناسخ (2) کیتا ہووے ۔ جو خدا کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ نام بدارتھ۔ نام کی نعمت۔ بھلائے ۔ گمراہ کرے ۔ سوبوجھے ۔ وہ سمجھتا ہے ۔ ہرکھ سوگ۔ غمی ۔خوشی۔لگر ۔شہر ۔ اُبھرے ۔ بچے۔ سرنیا۔ پناہ گیر ۔ نرار۔نرالا ۔ انوکھا۔ سوبھا۔ شہرت (4) انک کرم۔ بیشمار اعمال۔ بندھن۔ غلامی۔ بندھن پیرے ۔ پآون مین بیڑی ۔ کرتا ۔ بے موسمی۔ بیج بیجے ۔ بیج بوئے ۔ جمے ۔ اُگتا ۔ لاہا۔ نفع۔ مول۔ اصل (5) کیرتن۔ صفت صلاھ۔ وڈیائی۔ پروھانا۔ قبول۔ عام۔ دھیانا۔ غوروخوض۔ سگلے کل سارے۔ سارے خاندان ۔ درگیہہ پت۔ خدا کے در پع عزت (6) کھنڈ۔ حصے ۔ پاتال۔ زیر زمین۔ دیپ۔ جزیرے ۔ لوآ۔ لوگوں میں۔ کالے دس۔ موت کی ضبط میں۔ نہچل۔ مستقل۔ دوامی۔ ابناسی۔ لافناہ (7) ہرکا سیوک۔ خادم خدا ۔ ہر ہی جیہا۔ خدا کی مانند ۔ بھید۔ راز۔ مانس۔ دیہا۔ انسانی جسم۔ جل ترنگ۔ پانی کی لہر۔ بہو بھاتی ۔ بہت سی قسموںمیں۔ سلے سلل۔ مراد آخر پانی میں پانی مل جاتا ہے ۔ جاچک ۔ بھکاری ۔ دان خیرات۔ دوآرے ۔ در پر۔ بھاوے ۔ چاے ۔ دیہہ درس۔ ویدار بخش ۔ جت ۔ جس سے ۔ ترپتا سے ۔ تلسی ہوجائے ۔ہر کیرتن۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ٹھہائید۔ سکنو (9) روڈھٹا کر۔ خوبصورت خدا۔ وس۔ زیر ضبط۔ سنتابھاوے ۔ عاشقان الہٰی جو ہر سانس ہر لومہ خدا میں دھیان لگاتے ہیں۔ انکو پسند ہو۔ کیتا لوڑن ۔ جو کرنے کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ در ۔ در پر ۔ پھیر۔ رکاوٹ۔ (10) اؤگھٹ۔ دشواری۔ پرانی(اے ) انسان کو ۔ سارنگ پائی۔ اسے جس کے اہتھ میں دیا کی کمان ہے ۔ چھڈائید ۔ نجات دلاتا ہے (11) اتھاہا۔ اتنا گہر جسکا شمار یا اندازہ نہ وہسکے ۔ بے پرواہا ۔ جو نہیں دست نگر کسی کا بے محتاج ۔ ضرورت مند نہیں۔ کات سلک ۔ پھندہ ۔ کاٹ کر ۔ غلامی دور کرکے ۔ مارگ۔ زندگی کی صحیح راہ ۔ پر ۔ سنگت ۔ صحبت و قربت ۔ داسا۔ رہائش ۔ بستا ہے (12) حکم بجھے ۔ رضائے الہٰی کو سمجھے ۔ سیوک ۔ خادم۔ برا ۔ بھلا۔نیک و بد۔ سمسر۔ برابر۔ سہیئے ۔ برداشت کرین۔ ایکو بوجھے ۔ وحدت کو سمجھے ۔ سہج سمائید۔ روحانی سکونپاتا ہے (13) ہر کے بھگت ۔ الہٰی عابد و عاشق۔ بال سبھائے ۔ بچگانہ عادات۔ ۔ تیت اداسی ۔ طارق الدنیا۔ انک رنگ ۔ بیشمار پریم۔ بہو بھانی۔ بہت سے طریقوںسے (14) قیمت ۔ قدرومنزلت ۔ گورمکھ پرگٹ بھیا ۔ مرید مرشد ۔ ظاہر ہوا۔ مستک۔ پیشنای۔ دھر۔ خدا کی طرف سے ۔ لیکھ تحریر (15) کارن ۔ سب۔ سر شٹ اپائے ۔ علام پیدا کرکے ۔ دھری سبھ دھرنا۔ ساری زمین کو ٹکائیا۔سہارا۔ دیا ۔ یر بھاوئے ۔ رضائے الہٰی۔ لاج ۔ عزت۔
ترجمہ:
پاک خدا جو آغاز عالم روز اول سے ہے جس کی کوئی شکل و صورت نہیں۔ سبھ میں بسنے کے باوجود سبھ سے علیحدہ اور نرالا ہے ۔جس کا کوئی رنگ و نسل سارا عالم اسکے فرمان سے پیدا ہوا ہے ۔خدا نے چوراسی لاکھ اقسام کے جاندار پیدا کئے ہیں۔مگر انسان کو شرف المخلوقات پیدا یا ہے ۔ اسے اہمیت عنایت کی ہے جو انسان اس منزل سے رہ جاتا ہے وہ آواگون کے اہمیت و شہرت دینا بیسود ہے ۔مرشدکے وسیلے سے الہٰی نام (صت) سچ حق و حقیوت اپناؤ۔ گمراہ دوہی ہوتا ہے جسےگمراہ خدا کرتا ہے ۔ اسے سمجھ آتی ے جسے خدا خود سمجھاتا ہے (3) یہ انسانی جسم خوشی اور غمی کے لئے ایک شہر بنائیا ہے اس سے اسی کا بچاؤ ہوتا ہے سچے مرشد کی پناہ میں آتا ہے ۔ جو انسان دنیاوی دؤلت کے تینوں اوساف حکرمانیا ترقی لالچ ، غسہ اور تکبر ست سچ طاقت و قوت سے نرالا غیر متاثر رہتا ہے سارے عالم میں شہرت پاتا ہے (4) بیشمار اعمال کئے مگر جتنے کے لئے ذہنی غلامی ار بندشوں کا سبتبنتے بغیرموسم سیج بیجنے سے اگتا نہیں بلکہ اس سے منافع یا سود تو درکنار اصل بھی ضائع ہو جاتا ہے (5) زمانے کے اس دور میں جسے کل کا دؤر کتہ ہیں۔ کیرتن مراد صفت صلاح ہی مقبول عام ہے ۔ اگر مرید مرشد ہوکر غوروخوض سے یاد وریاج کی جائے اس سے انسان کو اپنے آپ کو کامیابی حاصل ہوتی ہےسارے خاندان کو کامیابی ملتی ہے بارگاہ خدا میں توقیر و قدرومنزلت حاصل ہوتی ہے اور با عزت اسی عالم میں سے رخصت ہوتا ہے (6) دنیاکا ہر خطہ غرض یہ کہ زیر زمین اور جذریوں میں رہنے والے سارے لوگ ان سب کوخدانے موتکے تابع بنائیا ہے ۔ لافناہ جاویداں واحد خدا کی ہستی ہے ۔ یا وہ غیر متزلزل ہے جو یاد خا کو کرتا ہے (7) خدمتگار خدا خدا کی مانند ہوجاتا ہے ۔ انسانی جسم دیکھر خدا اور انسان مین رازنہ بناؤاور سمجھو یہ ایسے ہے پانی کی لرہیں پانی سے اُٹھتی ہیں اور آخر پانیمیں ملجاتی ہے (8) ایک بھکاری در پر جاکر بھیک مانگتا ہے ۔ بج رضا خدا کی ہوتی ہے تو کرم و عنایت کرتاہےاے خدا ویدار بدیہہ جس سے دل کو تسکین حاصل ہو الہٰی حمدوثناہ سے من غیر متزلزل ہو جاتا ہے (9) خود خدا کسی طرح سے قابو نہیں ہوتا خدا وہی کچھ کرتا ہے جو ولی اللہ چاہتے ہیں وہ وہی کروا لیتے ہیں خدا سے جسکی ضرورت ہوتی ہے انکی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی دشواری حائل نہیں ہوتی (10) انسان کو جہاں کوئی دشوایری آئے وہان یاد کرؤ خدا جس کے ہاتھ مین کمانڈ عالم کی ۔ جہاں عورت کی ذات اور بیٹا نہ ہو ساتھی وہان خدا خود نجات دلاتا ہے (11) خدا انسانی رسئای عقل و ہوش سے ہے بلند و بالا اور گہری سوچ وسمجھ کا مالک ہے ۔ اس لئے اس سے کیسے ملاپ ہو اس بے محتاج خدا سے ۔جس کے دنیاوی پھندے کاٹکر زندگی کی منزل کی راہ پر لگاتا ہے ۔ اسے ساتھیوںکی صحبت ملتی ہے (12) رضا کار ہے وہی خدا کا جس نے رجا کو جان لیا۔ بدی اور بھلائی دونون کو برابر برداشت کرتا ہے ۔ خودی کے مٹجانے سے ہی سمجھ وحدت کی آتی ہے وہ مرید مرشد ہوکر ذہنی و روحانی سکون وہ پاتا ہے (13 عابد ہمیشہ روحانی وزہنی سکون پاتے ہیں۔ بچگانہ عادات اور طارق الدیا رہتے ہیں۔ جیسے باپ بیٹے س پیار ہے اور کرتا ایسے سایہ خدا میں رہ پیار پریم میں زندگی گذارتے ہیں (14) خدا بیشمار س ہے انسانی رسائی سے بعید ہے بیان سے ہے باہر جس کی قدروقیتم ادا نہیں ہو سکتی اسکا ملاپ تبھی ہوسکتا ہے جب خدا خود ملاتا ہے مرید مرشد ہوکر ان کے ذہن میں روشنہوتا ے جن کی پیشانی پر تحریر خدا نے کی ہوتی ہے (15) اے خدا سبب بھی توہے اور سبب بنانے والا بھی تو۔ عالم پیدا کرنے والا بھی ت و ٹکا نیوالا قائم رکھنوالا بھی تو۔ خادم نانک خدا کے در پر اسکی زیر سیاہ زیر پناہ ہے خدا چاہے تو محافظ عزتہے ۔

ماروُ سولہے مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
جو دیِسےَ سو ایکو توُہےَ ॥
بانھیِ تیریِ س٘رۄنھِ سُنھیِئےَ ॥
دوُجیِ اۄر ن جاپسِ کائیِ سگل تُماریِ دھارنھا ॥੧॥
آپِ چِتارے اپنھا کیِیا ॥
آپے آپِ آپِ پ٘ربھُ تھیِیا ॥
آپِ اُپاءِ رچِئونُ پسارا آپے گھٹِ گھٹِ سارنھا ॥੨॥
اِکِ اُپاۓ ۄڈ درۄاریِ ॥
اِکِ اُداسیِ اِکِ گھر باریِ ॥
اِکِ بھوُکھے اِکِ ت٘رِپتِ اگھاۓ سبھسےَ تیرا پارنھا ॥੩॥
آپے ستِ ستِ ستِ ساچا ॥
اوتِ پوتِ بھگتن سنّگِ راچا ॥
آپے گُپتُ آپے ہےَ پرگٹُ اپنھا آپُ پسارنھا ॥੪॥
سدا سدا سد ہوۄنھہارا ॥
اوُچا اگمُ اتھاہُ اپارا ॥
اوُنھے بھرے بھرے بھرِ اوُنھے ایہِ چلت سُیامیِ کے کارنھا ॥੫॥
مُکھِ سالاہیِ سچے ساہا ॥
نیَنھیِ پیکھا اگم اتھاہا ॥
کرنیِ سُنھِ سُنھِ منُ تنُ ہرِیا میرے ساہِب سگل اُدھارنھا ॥੬॥
کرِ کرِ ۄیکھہِ کیِتا اپنھا ॥
جیِء جنّت سوئیِ ہےَ جپنھا ॥
اپنھیِ کُدرتِ آپے جانھےَ ندریِ ندرِ نِہالنھا ॥੭॥
سنّت سبھا جہ بیَسہِ پ٘ربھ پاسے ॥
اننّد منّگل ہرِ چلت تماسے ॥
گُنھ گاۄہِ انہد دھُنِ بانھیِ تہ نانک داسُ چِتارنھا ॥੮॥
آۄنھُ جانھا سبھُ چلتُ تُمارا ॥
کرِ کرِ دیکھےَ کھیلُ اپارا ॥
آپِ اُپاۓ اُپاۄنھہارا اپنھا کیِیا پالنھا ॥੯॥
سُنھِ سُنھِ جیِۄا سوءِ تُماریِ ॥
سدا سدا جائیِ بلِہاریِ ॥
دُءِ کر جوڑِ سِمرءُ دِنُ راتیِ میرے سُیامیِ اگم اپارنھا ॥੧੦॥
تُدھُ بِنُ دوُجے کِسُ سالاہیِ ॥
ایکو ایکُ جپیِ من ماہیِ ॥
ہُکمُ بوُجھِ جن بھۓ نِہالا اِہ بھگتا کیِ گھالنھا ॥੧੧॥
گُر اُپدیسِ جپیِئےَ منِ ساچا ॥
گُر اُپدیسِ رام رنّگِ راچا ॥
گُر اُپدیسِ تُٹہِ سبھِ بنّدھن اِہُ بھرمُ موہُ پرجالنھا ॥੧੨॥
جہ راکھےَ سوئیِ سُکھ تھانا ॥
سہجے ہوءِ سوئیِ بھل مانا ॥
بِنسے بیَر ناہیِ کو بیَریِ سبھُ ایکو ہےَ بھالنھا ॥੧੩॥
ڈر چوُکے بِنسے انّدھِیارے ॥
پ٘رگٹ بھۓ پ٘ربھ پُرکھ نِرارے ॥
آپُ چھوڈِ پۓ سرنھائیِ جِس کا سا تِسُ گھالنھا ॥੧੪॥
ایَسا کو ۄڈبھاگیِ آئِیا ॥
آٹھ پہر جِنِ کھسمُ دھِیائِیا ॥
تِسُ جن کےَ سنّگِ ترےَ سبھُ کوئیِ سو پرۄار سدھارنھا ॥੧੫॥
اِہ بکھسیِس کھسم تے پاۄا ॥
آٹھ پہر کر جوڑِ دھِیاۄا ॥
نامُ جپیِ نامِ سہجِ سماۄا نامُ نانک مِلےَ اُچارنھا ॥੧੬॥੧॥੬॥
لفظی معنی:
اے خدا۔ کچھ نظر آرہا ہے وہ تو ہی ہے کانوں سے جو وہ تیرے ہی بول ہیں۔ یہ سارے عالم تیرا ہی ہے پیدا کیوا ہوا تیرے علاوہ دوسرا کوئی معلوم نہیں وہتا (1) اپنے پیدا کئے کا خود ہی خیال رکتھا ہے اور خود ہی خدا ہوا خود ہی عالم کا پھیلاو کیا ہے خود ہ ہر دل کی خبر گیری کرتا ہے (2) اے خڈا کتنے ہی بھاری دریاوں والے پیدا کئے ہیں اور ایک طارق الدنیا بنائے ہیں اور ایک خانہ داری گھریلو زندگی والے بنائے ہیں۔ ایک بھوکے ارو خواہش نہیں متتی اور بہت سے سیر طبت والے ہیں۔ مگر سارے تیرے سہارے ہیں (3) خڈا صدیوی اور جاویداں ہے اپنے عابدوں پر ستا ری سے ہے یکسو ہوا ہوا۔ پوشیدہ بھی ہے وہ اور ظاہر بھی ہے اور خود کا اپنا ہی ہے پھیلاو کیا ہو ا(4) خدا صدیوی ہے اور جاویداں بھی ہے انسانی رسئای عقل و ہوش سے بعید اور گہری سوچ و سمجھ کا مالک ہے خامیوں کو بھرنے وال ابھرے ہوئے کو کالی کرتا ہے یہ اسکا ایک کرشمہ ہے (5) اے خدا کرم و عنایت فرما میرے شہنشاہ تاکہر زبنا سے کروں تیری حمدؤثناہ آنکھوں سے کرؤ دیدار تیر اکنوں سے سن سن کر ہو جائے ہر ا بھر دل میرا۔ میرے آقا تو سبھکو کمیاب نانیوالا ہے (6) اپنے کئے ہوئے کی نگرانی خود ہی کرتا ہے ۔ جتنے جادنار ہیں عالم میں یاد تجھے کرتے ہیں اپنی قائنات قدرت کی سمجھ تجھے ہی اے نظر شفقت کے آقا پانی نظر عنایت و شفقت سے سبھ پر نظر ڈالتا ہے (7) پاس خدا کے خدا ریسدہ پاکدامن ولی اللہ کی صحبت و قربت میں رہتے ہیں۔ دیکھ الہٰی کرشموں کو سکون روحانی پاتے ہیں اور لگاتار سریلی بانی سے حمدوخدا کی کرتے ہن خادم نانک بھی ان اوصافوںکو اپنے دل میں بساتا ہے (8) آواگون اس عالم کو تیرا ہی ایک کرشمہ ہے ۔ ایسے بیشمار کرشمے کرکے دیکھتا ہے ۔ پیدا کرنے کی توفیق رکھنے والا ۔ پے پیاد کئے ہوئے کی خود ہی پرورش کرتا ہے (9) اے تیری شہرت سننے روحای روحانی زندگی ملتی ہے اس لئے میں ہر دم صدقے تم پر جاتا ہوں ۔ دونون ہاتھ باندھ کر یاد تجھ میںکرتا ہوں۔ روز و شب اے میرے رسائی سے بعید شمار سے باہر آا (10) تیرے بغیر تعریف کروں کس کی تیری ہی یاد ہر وم دل میں رہتی ہے ۔ تیری رضا سمجھ کر خادم تیرے اے خدا ہر دم خوشیاں پاتے ہیں یہی رزق اور کمائی ہے ان عابدوں کی ان خادموں کی (11) سبق مرشد کے ذریعے دل میں سچے پاک خدا کو یاد کیا تو کر۔ مرشد کے سبق پر عمل کرنے سے دل کو پیار کدا میں محو تو کر۔ سبق مرشد کی بھگت سے دنیاوی غلامی مٹ جاتی ہے من کی بھٹکن دنیاوی محبت جل جاتی ہے (12) جہاں رکھتا ہے کدا مقام سکون ہے جو کچھ ہوتا ہے رضا میں خدا کے اسے اچھس سمجھا دشمنی مٹ جاتی ہے دشمن نہیں کوئی جہاں دیکھتے ہیں خدادیکتھے ہیں خدا دیکھتے ہے (13) خؤف مٹا جہالت ختم ہوئی ۔ پاک خدا کا نور ظہور ہوا خودیمٹا کر سایہ خدا میں آئے جس نے جنم یدا ہے اسکی خدمت کی (14) ایسے انسان کوئی ہی بلند قسمت سے ملتے ہیں جو ہر دم یاد خدا کو کرتے ہینں۔ ایسے شخس کی صحبت سے ہر شخس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اپنے خاندان کو سنوارتا ہے درست کرتا ہے راہ راست پر لگاتا ہے (15) خداوند کریم سے یہ بخشش حاصل ہوکر ہر دونوںہاتھ باندھکر خد امیں دھیان لگاوں الہٰی نام سچ حق و حقیقت کی یادوریاض کرو اور اسی یاد میں روحانی وذہنی پاؤں اور نام میں اسے نانک یاد کا موقعہ حاصل ہے ۔

ماروُ مہلا ੫॥
سوُرتِ دیکھِ ن بھوُلُ گۄارا ॥
مِتھن موہارا جھوُٹھُ پسارا ॥
جگ مہِ کوئیِ رہنھُ ن پاۓ نِہچلُ ایکُ نارائِنھا ॥੧॥
گُر پوُرے کیِ پءُ سرنھائیِ ॥
موہُ سوگُ سبھُ بھرمُ مِٹائیِ ॥
ایکو منّت٘رُ د٘رِڑاۓ ائُکھدھُ سچُ نامُ رِد گائِنھا ॥੨॥
جِسُ نامےَ کءُ ترسہِ بہُ دیۄا ॥
سگل بھگت جا کیِ کردے سیۄا ॥
اناتھا ناتھُ دیِن دُکھ بھنّجنُ سو گُر پوُرے تے پائِنھا ॥੩॥
ہورُ دُیارا کوءِ ن سوُجھےَ ॥
ت٘رِبھۄنھ دھاۄےَ تا کِچھوُ ن بوُجھےَ ॥
ستِگُرُ ساہُ بھنّڈارُ نامُ جِسُ اِہُ رتنُ تِسےَ تے پائِنھا ॥੪॥
جا کیِ دھوُرِ کرے پُنیِتا ॥
سُرِ نر دیۄ ن پاۄہِ میِتا ॥
ستِ پُرکھُ ستِگُرُ پرمیسرُ جِسُ بھیٹت پارِ پرائِنھا ॥੫॥
پارجاتُ لوڑہِ من پِیارے ॥
کامدھینُ سوہیِ دربارے ॥
ت٘رِپتِ سنّتوکھُ سیۄا گُر پوُرے نامُ کماءِ رسائِنھا ॥੬॥
گُر کےَ سبدِ مرہِ پنّچ دھاتوُ ॥
بھےَ پارب٘رہم ہوۄہِ نِرملا توُ ॥
پارسُ جب بھیٹےَ گُرُ پوُرا تا پارسُ پرسِ دِکھائِنھا ॥੭॥
کئیِ بیَکُنّٹھ ناہیِ لۄےَ لاگے ॥
مُکتِ بپُڑیِ بھیِ گِیانیِ تِیاگے ॥
ایکنّکارُ ستِگُر تے پائیِئےَ ہءُ بلِ بلِ گُر درسائِنھا ॥੮॥
گُر کیِ سیۄ ن جانھےَ کوئیِ ॥
گُرُ پارب٘رہمُ اگوچرُ سوئیِ ॥
جِس نو لاءِ لۓ سو سیۄکُ جِسُ ۄڈبھاگ متھائِنھا ॥੯॥
گُر کیِ مہِما بید ن جانھہِ ॥
تُچھ مات سُنھِ سُنھِ ۄکھانھہِ ॥
پارب٘رہم اپرنّپر ستِگُر جِسُ سِمرت منُ سیِتلائِنھا ॥੧੦॥
جا کیِ سوءِ سُنھیِ منُ جیِۄےَ ॥
رِدےَ ۄسےَ تا ٹھنّڈھا تھیِۄےَ ॥
گُرُ مُکھہُ الاۓ تا سوبھا پاۓ تِسُ جم کےَ پنّتھِ ن پائِنھا ॥੧੧॥
سنّتن کیِ سرنھائیِ پڑِیا ॥
جیِءُ پ٘رانھ دھنُ آگےَ دھرِیا ॥
سیۄا سُرتِ ن جانھا کائیِ تُم کرہُ دئِیا کِرمائِنھا ॥੧੨॥
نِرگُنھ کءُ سنّگِ لیہُ رلاۓ ॥
کرِ کِرپا موہِ ٹہلےَ لاۓ ॥
پکھا پھیرءُ پیِسءُ سنّت آگےَ چرنھ دھوءِ سُکھُ پائِنھا ॥੧੩॥
بہُتُ دُیارے بھ٘رمِ بھ٘رمِ آئِیا ॥
تُمریِ ک٘رِپا تے تُم سرنھائِیا ॥
سدا سدا سنّتہ سنّگِ راکھہُ ایہُ نام دانُ دیۄائِنھا ॥੧੪॥
بھۓ ک٘رِپال گُسائیِ میرے ॥
درسنُ پائِیا ستِگُر پوُرے ॥
॥੧੫॥੨॥੭॥ سوُکھ سہج سدا آننّدا نانک داس دسائِنھا
لفظی معنی:
صورت۔ شکل ۔ گوار جاہل۔ متھن۔ جھوٹا۔ موہار۔ محبت کا پھیلاؤ۔ پسارا۔ پھیلاؤ۔ نہچل۔مستقبل ۔ نارائنا۔ وآحد خدا (1) مہوہ ۔ محبت۔ سوگ۔ غمی۔ بھرم۔ بھٹکن۔ منتر۔ کلام سبق نصیبت۔ درڑائے ۔ مکمل پختہ طور پر ذہننیشن ۔ اؤکھہ ۔ دوائی۔ سچ نام۔ خڈا کا سچا نام۔ سچ حق و حقیقت جو صدیوی ہے ۔ رد۔ دلمیں (2) دیوا۔ دیوتے ۔ فرشتے ۔ سگل۔ سارے ۔ اناتھا ناتھ۔ بے مالوں کا مالک۔ دین ۔ غربوں ۔ عاجزوں ۔ مجبوروں ۔ دکھ ۔ بھنجن۔ عذآب مٹانیوالا (3) سوجھے ۔ سمجھ نہیں آتا۔ تربھون۔ تیونں عالومں میں۔ دھاوے ۔ ودڑبھج۔ تک و دؤ۔ ساہو۔ شاہ ۔ شاہوکار۔ بھنڈار۔ خزانہ ۔ پانا۔ پاتا ہے (4) پنتیا ۔ پاک ۔ سر۔ بہشت۔ کے رہنے والے ۔ نر ۔ انسان ۔ دیو ۔ دیوتے ۔ مٹا۔ اے دوست۔ سب پرک ھ۔ سچا انسان ۔ ستگر ۔ سچا مرشد۔ پرمیسر۔ بڑا مالک۔ پار پرائنا۔ کامیابی حاصل ہونی ہے (5) پارجات۔ دلی خواہشات کی مطابق پھل دینے والا بہشتی خیالی شجر۔ لوڑیہہ ۔ ضرورت۔ کام دھن۔ بہشتی گائے ۔ سوہی ۔ سجاوٹ دیتی ہے ۔ ترپت۔ تسلی۔ تسکین ۔ سنتوکھ۔ صبر۔ رسائنا۔ لطفوں کی کان (6) پنچ دھاتو۔ پانچ بد احساسا۔ بھے پار برہم۔ الہٰی خوف نرملا۔ پاکیزہ ۔ پارس۔ ایک بٹی جس کے لوہے کے ساتھ چھونے سے سونا بن جاتا ہے ۔ پرس۔ چھوہ۔ دکھائنا۔ دیدار ہوتا ہے (7) مکت۔ نجاات۔ بپٹری۔ بیچاری۔ گیانی۔ علام۔ تیاگے ۔ چھوڑے ۔ ایککنکار۔ واحد خدا درسائنا۔ درس۔ سبق۔ دیدار (8) مہما۔ عطمت۔ اہمیت۔ بزرگی ۔ وڈبھاگ متھائنا۔ اسکی پیشانی ۔ پرتحریر بلند قسمت۔ سوئی۔ وہی (9) تپھ مات۔ بہت کم۔ اپنپر۔ نہایت وسیع۔ سیتلاینا۔ ٹھنڈک۔ سکنو (10) سوئے ۔ شہرت۔ من جیوئے ۔ دل کو زندگی ملی۔ ردے وسے ۔ ذہن نشین ہوا ۔ ٹھنڈا۔ تھویئے ۔ سکون پائے ۔ الائے ۔ بیان کرے ۔ جم کے پنتھ۔ موت کی رہا پر (11) سرنائی۔ پناہ گیری ۔ جیؤ۔ روح۔ زدگی۔ پراندھن۔ زندگی کا سرمایہ۔ کیرمانیا۔ ناچیز کیڑے جیسا ۔ دیا ۔ مہربانی (12) نرگن۔ بے اوصاف ۔ سنگ ۔ ساتھ۔ ٹہلے ۔ خدمت (13) بھرم بھرم۔ بھٹکن بھٹکن کر ۔ تم سرنائیا۔ تیری زیر پناہ۔ سنتیہہ سنگ۔ پار ساون پاکدامنوں کی صحبت (!4) گوسائی ۔ مالک۔ درسن۔ دیدار۔ سوکھ سہج۔ روحانی سکون ۔ داس وسانیا۔ غلاموں کا گلام۔
ترجمہ:
اے جاہل انسان شگل وصورت دیکھ کر گمراہ نہ ہو یہ سارا جھوتی محبت کا پھیلاو ہے اس دنیا ین واحد خدا ہی دائمی اور مستقل ہےورنہ کوئ بھی سدیوی نہیںہے 01) کامل مرشد کے زیر پناہ رہ وہ دنیاوی محبت ، غمی اور بھٹن مٹا دیتا ہے وہ ایک سبق نصیحت اور کلام ذہن نشین کراتا ہے ۔ صدیوی خدا کا سچا نام سچ حق و حقیقت دل میں بساؤ۔ ایک دوئی ہے (2) جس الہٰی نام کے لئے دیوتا امنگ اور خواہش کرتے ہین۔ جس کی تمام عابدوعاشقان خدا خدمت کرتے ہیں۔ جو بے مالکوں کا مالک ہے جو غریبون ناتوانوںکے دکھ درد مٹانے والا ہے ۔ ایس اکدا کا کامل مرشد کے ذریعے ملاپ حاصل ہوت اہے (!3) دوسرا کوئی اسیا در سمجھ نہیں آتا خوآہ تینوں عالموں میں دوڑ دہوپ کرتا ہے تو بھی کوئی سمجھ نہ ائی گی سچا مرشد نام کے خزانے کا شاہ ہے ۔ اس سے یہ نام کی نعمت حاصل ہو سکتی ہے (4) جسکے پاؤں کی دہول انسان کو پاک بنا دیتی ہے اسے اے دوست فرشتے اور انسان حاصل ہیں کر سکتے ۔ صرف سچا اسنان سچا مرشد ہی ہے جس کے ملاپ سے اس دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور کیا جاسکتا ہے (5) اے دل اگر تو بہشتی شجر حاصل کرنا چاہت اہے اگر تو چاہتا ہے کہ کہ بہشتی گائے تیرے در پر کھڑی اچھی لگے ۔ کامل مرشد کی خدمت الہٰی نام سچ حق و حقیقت پر عمل صبر کر صابر رہ غرض یہ کہ الہٰی نام سے ہی ارے لطوں کا چشمہ حیات ہے (6) کالما و سبق مرشد سے پانچؤں بد احساسات و عمل ختم ہو اتے ہیں ۔ خدا کے خوف سے انسان پاک ہوجاتا ہے ۔ جب کامل مرشد سے ملاپ ہو جائے جو ایک پارس کی مانند ہے دیدار خدا وصل خدا ہوجاتا ہے (7) کئی بہشت اور جنت نیہں اسکے پایاں ایسی صورت میں عالم نجات کو بھی چھوڑ دیتے ہیں سچا مرشد کے وسیلے سے ہی واحد خدا کاملاپ حاصل ہوتا ہے یا ذریعہ ہے قربان وہں دیار مرشد ہر (8) مرشد کی خدمت اور قد روقیتم کوئی نہیں سمجھتا مرشد ہی روحانیت میں خدا ہے جو انسانی عقل و ہوش سے بعی دہے مرید مرشد وہی ہوتا جس کی پیشانی پر اسکی تقدیر بیدار ہو جائے ذہن روشن ہوجائے (9) مرشد کی عطمت و بلندی کا ویدوں کو بھی خبرنہیں ۔ دو دوسروں سے سنر سنکر ذراسی بات بناتے ہیں کامیابی بخشنے وال اخدا ہایت وسیع سچا مرشد ہے ۔ جس کی یادوریاض سے من ٹھنڈک اور سکون پاتا ہے (10) جسکی شہرت سننے سے من کو روحانی واخلاقی زندگی نصبی ہوتی ہے دل میں بس جائے تو ذہن کو ٹھڈک متی ہے ۔ بار بار رو گرو زبان سے کہن ے پر شہرت نصیب ہوتی ہے ۔ اسے اخلاقی موت کی راہ پر نہیں چلنا پڑتا ہے (11) والی اللہ کی پناہ لے لی ہے اور نزدگی اسے پیش کر دی ہے ۔ مجھے خدمتکی ہوش و سمجھ ہیں ہے مجھ نا چیز کیڑے پر مہربانی کرؤ (12) مجھ بے اوصاف کو اپنا ساتھی بنالو اور کرم و عنایت سے اپنی خدمت کرواؤ پنکھا جھولوں چکی پیسوں اور سنت کے چرن دہوکر سکون پاوں (13) میں بہت سے دروں پر بھٹک بھٹک کر اس در پر آئیا ہو ں اب تیرا پناہگیریوں مجھے ہمیشہ کے لئے صحبت سنت میں رکھ اور ان سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت کی بھیک دلوا اے خدا (14) اے نانک جب مہربانہوا میر آقتا تو کامل مرشد کا دیدار ہوا۔ اب ہمیشہ روحای وزہنی سکون رہتا ہے اور غلاموں کا غلام ہوں میں۔
ماروُ سولہے مہلا ੫

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سِمرےَ دھرتیِ ارُ آکاسا ॥
سِمرہِ چنّد سوُرج گُنھتاسا ॥
پئُنھ پانھیِ بیَسنّتر سِمرہِ سِمرےَ سگل اُپارجنا ॥੧॥
سِمرہِ کھنّڈ دیِپ سبھِ لویا ॥
سِمرہِ پاتال پُریِیا سچُ سویا ॥
سِمرہِ کھانھیِ سِمرہِ بانھیِ سِمرہِ سگلے ہرِ جنا ॥੨॥
سِمرہِ ب٘رہمے بِسن مہیسا ॥
سِمرہِ دیۄتے کوڑِ تیتیِسا ॥
سِمرہِ جکھ٘ز٘زِ دیَت سبھِ سِمرہِ اگنتُ ن جائیِ جسُ گنا ॥੩॥
سِمرہِ پسُ پنّکھیِ سبھِ بھوُتا ॥
سِمرہِ بن پربت ائُدھوُتا ॥
لتا بلیِ ساکھ سبھ سِمرہِ رۄِ رہِیا سُیامیِ سبھ منا ॥੪॥
سِمرہِ تھوُل سوُکھم سبھِ جنّتا ॥
سِمرہِ سِدھ سادھِک ہرِ منّتا ॥
گُپت پ٘رگٹ سِمرہِ پ٘ربھ میرے سگل بھۄن کا پ٘ربھ دھنا ॥੫॥
سِمرہِ نر ناریِ آسرما ॥
سِمرہِ جاتِ جوتِ سبھِ ۄرنا ॥
سِمرہِ گُنھیِ چتُر سبھِ بیتے سِمرہِ ریَنھیِ ارُ دِنا ॥੬॥
سِمرہِ گھڑیِ موُرت پل نِمکھا ॥
سِمرےَ کالُ اکالُ سُچِ سوچا ॥
سِمرہِ سئُنھ ساست٘ر سنّجوگا الکھُ ن لکھیِئےَ اِکُ کھِنا ॥੭॥
کرن کراۄنہار سُیامیِ ॥
سگل گھٹا کے انّترجامیِ ॥
کرِ کِرپا جِسُ بھگتیِ لاۄہُ جنمُ پدارتھ سو جِنا ॥੮॥
جا کےَ منِ ۄوُٹھا پ٘ربھُ اپنا ॥
پوُرےَ کرمِ گُر کا جپُ جپنا ॥
سرب نِرنّترِ سو پ٘ربھُ جاتا بہُڑِ ن جونیِ بھرمِ رُنا ॥੯॥
گُر کا سبدُ ۄسےَ منِ جا کےَ ॥
دُکھُ دردُ بھ٘رمُ تا کا بھاگےَ ॥
سوُکھ سہج آننّد نام رسُ انہد بانھیِ سہج دھُنا ॥੧੦॥
سو دھنۄنّتا جِنِ پ٘ربھُ دھِیائِیا ॥
سو پتِۄنّتا جِنِ سادھسنّگُ پائِیا ॥
پارب٘رہمُ جا کےَ منِ ۄوُٹھا سو پوُر کرنّما نا چھِنا ॥੧੧॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ سُیامیِ سوئیِ ॥
اۄرُ ن کہیِئےَ دوُجا کوئیِ ॥
گُر گِیان انّجنِ کاٹِئو بھ٘رمُ سگلا اۄرُ ن دیِسےَ ایک بِنا ॥੧੨॥
اوُچے تے اوُچا دربارا ॥
کہنھُ ن جائیِ انّتُ ن پارا ॥
گہِر گنّبھیِر اتھاہ سُیامیِ اتُلُ ن جائیِ کِیا مِنا ॥੧੩॥
توُ کرتا تیرا سبھُ کیِیا ॥
تُجھُ بِنُ اۄرُ ن کوئیِ بیِیا ॥
آدِ مدھِ انّتِ پ٘ربھُ توُہےَ سگل پسارا تُم تنا ॥੧੪॥
جمدوُتُ تِسُ نِکٹِ ن آۄےَ ॥
سادھسنّگِ ہرِ کیِرتنُ گاۄےَ ॥
سگل منورتھ تا کے پوُرن جو س٘رۄنھیِ پ٘ربھ کا جسُ سُنا ॥੧੫॥
توُ سبھنا کا سبھُ کو تیرا ॥
ساچے ساہِب گہِر گنّبھیِرا ॥
کہُ نانک سیئیِ جن اوُتم جو بھاۄہِ سُیامیِ تُم منا ॥੧੬॥੧॥੮॥
لفظی معنی:
سمرے۔یاد رکھتا ہے ۔ آکاسا۔ آسمان۔ گن تاسا۔ اوصاف کے خزانے ۔ پؤن ۔ ہوا۔ بیسنتر۔ آگل۔ سگل۔ سارے ۔ اپار جنا ۔ عام لوگ (1) کھنڈ ۔ حصے ۔ دیپ۔ جزیرے ۔ لوآ۔ لوگ۔ پاتال۔ زیر زمین۔ پریا۔ آبادیان۔ سچ سوآ۔ پاک شہرت یافتہ خدا۔ کھانی ۔ کان بانی۔ بولیاں۔ زبایں۔ ہرجنا۔ خادمان خدا (2) دیوتے ۔ فرشتے ۔ کوڑ ۔کروڑ۔ جکھ ۔ دیوتے ۔ دیت۔ منکران خدا۔ اگنت۔ جسکا شمار نہ وہسکے ۔ جس گنا۔ اوصاف کی تعریف (3) پس ۔ حیوان۔ پنکھی۔ پرندے ۔ بھوتا۔ بد روھیں۔ بن جنگل۔ پریت۔ پہاڑ۔ اودہوتا۔ ننگے سادہو ۔ لتا۔ بیل۔ بلی۔ دانے یا تخم والی شاخ یا تہنی۔ سکاھ ۔ دالی۔ رورہیا۔ بستا ہے ۔ سبھنا۔ سارے دلوں میں (4) تھول۔ بھاری قدآور۔ سوکھم۔ چھوٹے ۔ جنتا۔ جاندار۔ سدھ۔ خدا رسیدہ ۔ ۔منزل مقصود پر پہنچنے ہوئے ۔ سادھک۔ منزل تک پہنچنے کے لئے جادی۔ منتا۔ سبق ۔ نصیحت ۔ ہرمنتا۔ الہٰی سبق۔ گپت۔ پوشیدہ۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ سگل بھون۔ سارے عالم ۔ پربھ دھنا۔ مالک خدا (5) سمریہہ۔ یاد کرتے ہیں۔ نر۔مراد۔ ناری ۔ عورت۔ آسرما۔ بزرگوں نے انسان زندگی چار حصوں میں تقسیم کی اتھا۔ برہمچریہ یعنی پہلے پچیس برس۔ پڑھائی لکھائی اور تعلیم حاصل کرنا۔ دوسرا پچیس سے پچاس سال۔ خانہ داری گھریلوں زندگی بس کرنا۔ بان پرست۔ جنگلوں میں رہ کر یاد خدا میں زندگی گذارنا ۔ سنیاس۔ ہر طڑح کی زندگی سے علیحدہ ہوکر خدا کی عبادت ۔ مراد۔ ورن ۔ ذات۔ کھتری۔ ویش ۔ شودر۔ اور برہمن۔ گنی ۔ بااوصاٖ۔ چتر۔چالاک۔ ست۔ سچے ۔ بیتے ۔ عالم (6) مورت۔ دوگھڑی ۔ پل۔ نمکھا۔ آنکھ جھپکنے کا وقفہ۔ کال۔ موت۔ اکال۔ جنم۔ سچ۔ جسمانی پاکزیگی ۔ سوچا۔ خیال۔ سچ سوچا۔ پاک کے پاک خیالات۔ ساؤن۔ نشانی ۔ ساسر۔کتاب۔ سنجوگا۔ ملاپ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر (7) سگل گھٹا کے انتر جامی۔ سب کے دلوں کے راز دان۔ جنم پدارتھ۔ زندگی کی نعمت ۔ جنا۔ جیت لی (8) ووٹھا۔ بس گیا۔ کرم۔ بخشش ۔ سرب نرنتر۔ سبھ کے اندر۔ جاتا۔ جانا۔ سمجھا۔ بہوڑ۔ دوبارہ۔ بھرم رنا۔ بھٹکن میں ذلیل ہوا (9) سبد۔ کلام ۔ سبق ۔ سکوھ سہج ۔ روحانی سکون کا آرام۔ آنند۔ خوشیاں۔نام رس۔ سچ و حقیقت کا مزہ۔ انحد ۔ لگاتار۔ بانی ۔کلام۔ دھ۔ سر۔ رؤ (10) دھنونتا۔ دؤلتمند۔ پنونتا۔ با عزت۔ سادھ سنگ۔ پاکدامن کا ساتھ۔ پور کرما۔ خوش قسمت۔ چھنا۔ پوشیدہ (11) مہیئل۔ خلا۔ سوآمی۔مالک۔ اور ۔ دوسرا۔ گرگیان انجن۔ مرشد کے علم کا سرما ۔ بنا بغیر (12) اتھاہ۔ انتا گہرا کہ اندازہ نہ ہو سکے ۔ اتل۔ جو تو لیا نہ جا سکے ۔ مینا۔ تولنا (13) بئیا۔ دوسرا۔ آد۔ پہلا۔ مدھ۔ درمیان۔ انت۔ آخر۔ سگل۔ پسارا۔ پھیلاؤ۔ تم تنا۔ تمہارا جسم (14) جمدوت موت کا ملازم ۔ نکٹ۔ نزدیک۔ سگل۔ منورتھ ۔ سارے مقصد ۔ سرونی ۔ کانوں سے ۔ جس ۔ حمد۔ تعریف (15) اُتم۔ بلند رتبہ ۔ بھاویہہ۔ چاہے ۔ تم منا۔ تیرے دل کو۔
ترجمہ:
زمین اور آسمان بھی یاد خدا کو کرتے ہیں ۔۔ چاند اور سورج بھی جو خزانے اوصاف کے ہیں یاد خدا کو کرتے ہیں ہوا پای اور آگ غر ض یہ کہ ساری قائنات قدرت یاد خدا کو کرتی ہے (1) سارے عالم کے حصے اور جزیرے اور ان میں بسے والے لوگ زیر زمین اور آبادیاں اس پاک خدا کو پاک ہے جسکے شہرت یا دسب کرتے ہیں ۔ کانیں اور زبانیں اور سارے خدمتگار خداکے یاد کرتے ہیں (2) بیشمار برہمے وشنو اور شوجی اور تیتس کروڑو فرشتے یاد خدا کو کرتے ہیں۔ جکھ فرشتے اور اخلاق دشمن دیت وغیرہ یاد کرتے ہیں۔ خدا کو جس کے اوصاف شمارنہیں ہو سکتے (3) حیوان پرندے اور بد روحیں یاد خدا کو کرت ی ہیں جنگل اور پہاڑ ننگے سادہوؤں جیسے ڈالیاں شاخیں اور بیلیں سبھ یاد خدا کو کرتے ہیں اور سب کے دل میں بستا ہے خدا (4) بھاری قدآور ارو ننتھ منے جاندار بھی یاد خدا کو کرتے ہیں خدا رسیدہ جنہوں نے منزل حاصل کر لی ہے اور جہادی جو کوشش میں ہیں اور سبق خدا کا جو سارے عالم کا مالک ہے جو پوشیدہ بھی ہے اور ظاہر بھی یاد اسے سب کرتے ہیں (5) مرد عورت چارو آشرموں کے سب ذاتوں کے اور فرقوں کے اوصافوں والےا ور دانشمند و عالم فاضل روز و شب یاد خدا کو کرتے ہین (6) ہر گھڑی پل اور آنکھ جھپکنے کا عرصہ یاد خڈا کر کرتا ہے موت اور جنم اور پاک خیالی یاد خدا میں رہتی ہے ۔ موقعہ محل بناتنے والا جو تش اور ملاپ آپسی جو سمجھ سے باہر ہے اور بیان نہیں ہو سکتا بھی یاد خدا کو کرتے ہیں 07) کرنے اور کانے والا مالک سبکے دل کے راز جاننے والا جسے اپنی کرم وعنایت سے اپنی عبادت کراتا ہے وہ اس قیمتی انسانی زندگی کا کھیل جیت لیتا ہے (8) جس کے دل میں خدا بس جاتا ہے وہ سبق مرشد پوری رح یاد کرتا ہے ۔ وہ سب میں بستے خدا کا دیدار پا لیتا ہے اور تناسخمیں نہیں پڑتا (9) سبق مرشد جس کے دل میں بس جاتا ہے ۔ اسکی بھٹکن اور عذآب مٹ جاتے ہیں وہ روھانی سکون پاتا ہے ۔ الہٰی نا م کا لطف لینے لگتا ہے اور کلام کی رو جاری ہونے لگتی ہے (10) جس نے یاد کیا خدا دولتمند ہوا عزت پائی جس نے پاکدامن کا ساتھ لیا ۔ جس کے دل میں خدا سا بلند قسمت ہوا شہرت پائی (11) اے خڈا تو عالمی بلند دربار والا ہے جسکا کوئیکنار نہیں اتنا وسی ہے نہ اسکا کوئی آخر ہے نہ ہی تیرا وزن ہو سکتا ہے منتی (13) زمین سمندر اور خلاص میں ہرجا تو ہے بستا تیرے بغیر نہیں کوئی دوسرا مرشد سبق و علم یہ وہم وگماں مٹادیا واحدا خدا کے بغیر نہیں دکھائی دیتا دوسرا (14) اے خدا تو کرنے والا ہے یہ سارا تیریا ہی کیا ہوا ہے تیرے بغیر نہیں کوئی دوسرا ۔ آغآز عالم سے لیکر مراد ابتدا درمیان اور آخر تو ہی ہے یہ ساری قائنات قدرت تو ہی ہے تیری ہی ذات ہے (14) جو خدا رسیدہ پاکدامن کی صحبت و قربت میں تیری حمدوثناہ کرتا ہے اسکے سارے مقصد پورے ہوتے ہیں فرشتہ موت نزدیک نہیں پھتکتا مراد اسکی روحانی وآخلاقی موت واقع نہیں ہوتی جو کانوں سے سنتا ہے الہٰی صفت صلاح (15) اے خدا تو سبھ کا ہے اور سارے تیرے ہیں اے خدا تو صدیوی مستقل مزاج نہایت سمجھدا رہے اے نانک ۔ بتادے ک ہ وہی انسان بلند اقبال ہے جو تیرے دل کو اچھے لگتے ہیں۔

ماروُ مہلا ੫॥
پ٘ربھ سمرتھ سرب سُکھ دانا ॥
سِمرءُ نامُ ہوہُ مِہرۄانا ॥
ہرِ داتا جیِء جنّت بھیکھاریِ جنُ باںچھےَ جاچنّگنا ॥੧॥
ماگءُ جن دھوُرِ پرم گتِ پاۄءُ ॥
جنم جنم کیِ میَلُ مِٹاۄءُ ॥
دیِرگھ روگ مِٹہِ ہرِ ائُکھدھِ ہرِ نِرملِ راپےَ منّگنا ॥੨॥
س٘رۄنھیِ سُنھءُ بِمل جسُ سُیامیِ ॥
ایکا اوٹ تجءُ بِکھُ کامیِ ॥
نِۄِ نِۄِ پاءِ لگءُ داس تیرے کرِ سُک٘رِتُ ناہیِ سنّگنا ॥੩॥
رسنا گُنھ گاۄےَ ہرِ تیرے ॥
مِٹہِ کماتے اۄگُنھ میرے ॥
سِمرِ سِمرِ سُیامیِ منُ جیِۄےَ پنّچ دوُت تجِ تنّگنا ॥੪॥
چرن کمل جپِ بوہِتھِ چریِئےَ ॥
سنّتسنّگِ مِلِ ساگرُ تریِئےَ ॥
ارچا بنّدن ہرِ سمت نِۄاسیِ باہُڑِ جونِ ن ننّگنا ॥੫॥
داس داسن کو کرِ لیہُ گد਼پالا ॥
ک٘رِپا نِدھان دیِن دئِیالا ॥
سکھا سہائیِ پوُرن پرمیسُر مِلُ کدے ن ہوۄیِ بھنّگنا ॥੬॥
منُ تنُ ارپِ دھریِ ہرِ آگےَ ॥
جنم جنم کا سوئِیا جاگےَ ॥
جِس کا سا سوئیِ پ٘رتِپالکُ ہتِ تِیاگیِ ہئُمےَ ہنّتنا ॥੭॥
جلِ تھلِ پوُرن انّترجامیِ ॥
گھٹِ گھٹِ رۄِیا اچھل سُیامیِ ॥
بھرم بھیِتِ کھوئیِ گُرِ پوُرےَ ایکُ رۄِیا سربنّگنا ॥੮॥
جت کت پیکھءُ پ٘ربھ سُکھ ساگر ॥
ہرِ توٹِ بھنّڈار ناہیِ رتناگر ॥
اگہ اگاہ کِچھُ مِتِ نہیِ پائیِئےَ سو بوُجھےَ جِسُ کِرپنّگنا ॥੯॥
چھاتیِ سیِتل منُ تنُ ٹھنّڈھا ॥
جنم مرنھ کیِ مِٹۄیِ ڈنّجھا ॥
کرُ گہِ کاڈھِ لیِۓ پ٘ربھِ اپُنےَ امِءُ دھارِ د٘رِسٹنّگنا ॥੧੦॥
ایکو ایکُ رۄِیا سبھ ٹھائیِ ॥
تِسُ بِنُ دوُجا کوئیِ ناہیِ ॥
آدِ مدھِ انّتِ پ٘ربھُ رۄِیا ت٘رِسن بُجھیِ بھرمنّگنا ॥੧੧॥
گُرُ پرمیسرُ گُرُ گوبِنّدُ ॥
گُرُ کرتا گُرُ سد بکھسنّدُ ॥
گُر جپُ جاپِ جپت پھلُ پائِیا گِیان دیِپکُ سنّت سنّگنا ॥੧੨॥
جو پیکھا سو سبھُ کِچھُ سُیامیِ ॥
جو سُننھا سو پ٘ربھ کیِ بانیِ ॥
جو کیِنو سو تُمہِ کرائِئو سرنھِ سہائیِ سنّتہ تنا ॥੧੩॥
جاچکُ جاچےَ تُمہِ ارادھےَ ॥
پتِت پاۄن پوُرن پ٘ربھ سادھےَ ॥
ایکو دانُ سرب سُکھ گُنھ نِدھِ آن منّگن نِہکِنّچنا ॥੧੪॥
کائِیا پات٘رُ پ٘ربھُ کرنھیَہارا ॥
لگیِ لاگِ سنّت سنّگارا ॥
نِرمل سوءِ بنھیِ ہرِ بانھیِ منُ نامِ مجیِٹھےَ رنّگنا ॥੧੫॥
سولہ کلا سنّپوُرن پھلِیا ॥
انت کلا ہوءِ ٹھاکُرُ چڑِیا ॥
اند بِنود ہرِ نامِ سُکھ نانک انّم٘رِت رسُ ہرِ بھُنّچنا ॥੧੬॥੨॥੯॥
لفظی معنی:
سمرتھ ۔ باتوفیق۔ سرب سکھ ۔ انا۔ سارے آرام و آسائش دینے کے ۔ سمر ہونام۔ خدا کے نام۔ ست۔ سچ حق و حقیقت۔ ہر داتا۔ خدا سکھی ہے ۔ بھیکھاری ۔ بھیک مانگ نےوالے ۔ بانچھے ۔ چاہتا ہے ۔ جاچنگنا ۔ بھکاری (1) دہور۔ دہول۔ پرم گت۔ بلند روحانی حالت۔ میل۔ ناپاکزیگی ۔ دھیرگ روگ۔ بھاری بیماری۔ اؤکھد۔ دوائی۔ نر مل۔ پاک راچے متاثر (2) سرونی ۔ کانون سے ۔ بمل۔ حس۔ پاک صفت ۔ صلاھ۔ اوت۔ آسرا۔ تجو۔ چھوڑو۔ وکھ کامی۔ زہریلی ۔ خواہشات۔ سکرت۔ نیک کمائی۔ سنگنا۔ شرمندگی (3) رسنا ۔ زبنا ۔ کمانے ۔ کمانے ہوئے ۔ کئے ہوئے۔ اوگن۔ بداوصاف ۔ بد اعمال۔ بنچ دوت۔ پانچ دشمن۔ احساسات بد۔ تج ۔۔ چھوڑ کر۔ تنگنا۔ تنگ کرنیوالے ۔ دکھائی (4) چرن کمل۔ پھول کی مانند پاک ۔ بوہتھ۔ جہاز۔ سنگ ۔ ساتھ۔ سگر۔ سمندر۔۔ ارچا بندھن۔ پورستش۔ سمت نواسی۔ با شعور رہنا۔ ننگنا۔ بے شرم ہونا۔ (5) داس داسن کو ۔ غلامون کا گلام۔ کرپا ندھان۔ مرہبانیون کا خزناہ۔ دین دیالا۔ غریب نواز۔ بنگنا۔ جدائی (6) ارپ ۔ بھینٹ ۔ جاگے ۔ بیار۔ ہوشیار۔ پرتپالک۔ پرورش کرنے ولاا ۔ ہت تیاگی۔ خودی چھوڑ ۔ ہنتنا۔ روحانی واخلاقی موت لانے والا (7) انت رجامی۔ اندرونی راز دان۔ اھال۔ جو دہو کے بیش نہ آئے ۔ بھرم بھیت ۔ وہم وگمان کی دیوار۔ سر بنگنا۔ سب میں بنسے والا (8) انتر جامی۔ اندرونی راز دان۔ اچھل۔ جودہو کے بیش نہ آئے ۔ بھرم بھیت ۔ وہم و گمان کی دیوار۔ سربنگنا ۔ سب میں بسنے والا (8) جت کت۔ جہاں کہیں۔ پیکھؤ۔ دیکھتا ہون۔ سکھ ساگر ۔ آرام و آسائش کا سمندر۔ توٹ ۔ کمی۔ بھنڈار۔ خزانہ ۔ رتنا گر۔ ہیروں کی کان۔ اگیہہ۔ جو زیر گرفت نہ ہو۔ اگاہ۔ اتھاہ۔ پتہ ۔ مت ۔ اندازہ۔ کرپنگنا۔ جس پر مہربانی ہو (9) سیتل تھنڈی ۔ مٹوی ڈتبھا۔ بھٹکن مٹی۔ گرگیہہ۔ ہاتھ پکڑا۔ امیؤ۔ انمرت ۔ آبحیات۔ درسٹنگنا۔ زیر نظر (10) ٹھائی۔ جگہ ۔ ٹھکانے ۔ آدمدھ انت۔ آغاذ یا شروع۔ درمیان ۔ انت۔ اکر۔ ترسن۔ خواہش۔ بھرمنگنا ۔ وہم و گمان۔ بھٹکن (11) پر میسور۔ بھاری مالک۔ گوبند۔ مالک عالم۔ کرتا۔ کرنے والا۔ بخسند۔ بخشنے والا۔ گیان دیپک۔ علم چراگ۔ سنت سنگنا۔ عاشقان الہٰی کا ساتھی (12) پیکھا۔ دیکھتا ہون۔ سوامی۔ خدا۔ آقا۔ سننا۔ سنتا ہوں۔ پربھ کی بانی۔ الہٰی بول۔ سرن سہائی۔پناہ کا امدادی ۔ سنتیہہ تنا۔ سنتون کا آسرا (13) جاچک۔ بھکاری ۔ جاچیہہ ۔ بھیک مانگتا ہے ۔ ارادھیہہ۔ عرج گذارتا ہے ۔ پتیت پاون ۔ ناپاک کو پاک بنانیوالے ۔ پورن ۔ کامل ۔ پربھ سادھے ۔ اے پاک خدا۔ (14) کائیا۔ جسم۔ پاتر۔ برتن۔ کرنیہارا۔ بنانے والا۔ لگی لاگ۔ متاثر ہوا۔ سنت سنگارا۔ خدا رسیدہ عاشقان خدا کی صحبت و قربت سے ۔ نرمل سوئے ۔ پاک ہشہرت۔ بنی ہربای۔ الہٰی کلام ہوئی۔ نام مجیٹھے رنگنا ۔ خد ا کے نام سچ حق و حقیقت کے پکے ممراد نہ اترنے والے اعمال سے متاثر (15) سولیہہ کالا۔ سولان طاقتوں ۔ سنپورن ۔ مکمل۔ انت کالا۔ بیشمار طاقتو ر ۔ چڑھیا ۔ ظاہر ہوا۔ انند و ونود۔ رؤحانی خوشیاں۔ انمرت رس۔ اب حیات کا لطف۔ بھنچنا۔ ماننا۔ مزہ لینا۔
ترجمہ:
اے ہر طرح کے آرام و آسائش ا کی دینے کی توفیق رھھنے والے خدا ۔ اے مہربان میں تیرے نام ست سچ و حقیقت کو یاد کرتا رہوں مہربانی کر ۔ خدا سخاوت کرنے والا سخی ہے جبکہ سارے مخلوقات بھکاری خادم بھکاری ہوکر بھیک مانگتا ہے (1) میں تیرے خادمیوں ک ی کاک پا مانگتا ہون تاکہ بلند روحانی واخلاقی رتبہ یا سکوں ۔۔ اور دیرنہ پ ناپاکیزگی دور کر سکوں خدا ایک ایسی دو ا ہے اس سے دیرینہ بیماریاں کتم ہو جاتی ہیں۔ میں اس پاک خدا سے متاثر ہو نا مانگتا ہوں اے خدا کانوں سے تیری پاک حمدوچناہ سنوں ۔ مجھے ایک ہی آسرا ہے تیرا ۔ میں روحانی واکلاقی موت لانے والی شہوتی خواہش ترک کردوں اور جھک ھجک کر پاؤں پکڑوں اور چھوؤ تیرے کدمتگاروں کے اور نیکیاں اور نیکک اعمال کرنے میں کوتاہی نہ کرو اور نہ ہچکچاؤں (3) اے خدا زبان سے تیری حمدوثناہ کرو تاکہ میرے کئے ہوئے گناہ عافو ہو جائیں۔ اور میرا من تیری یادوریاض کی برکت سے میرا دل پانچوں روحانی واخلاقی دشمنوں کا ساتھ چھور کر دل اکلاقی و روحانی زندگی حاصل کرے گا (4) خدا کو ہر وقت یاد رکھنا زندگی کے سمندر کو پار کرنے کے لئے ایک جہاز پر سوار ہونا ہے اور سادہوں کی سحبت وقربت اس زندگی کے لئے تیرنا ۔ خدا کو سب جانداروں میں بستا دیکھا یہی اسکی پرستش اور عبادت ہے اس سے تناسخ میں نہیں پڑنا پڑتا (5) اے خدا مجھے اپنے غلاموں کا غلام بناے اے رحمان الرحیم غریبوں ناتوان پر مہربانیاں کرنے والے ہربانیوں کے خزانے جسکا خود خدا امدادی ساتھی وہ اسکے ملاپ کبھی بھی ٹوٹ نیں سکتا (6) جس نے اپنا دل وجان خدا کو بھینٹ کر دیا اسکی دیرینہ سوئی ضمیر بیدار ہوگئی ۔۔ جس نے اسے پیدا کیا ہے وہی پرورش کرتا ہے وہ خود چھوڑ دیتا ہے جو انسان کی اکلاقی و روحانی موت کا باعثت بنتی ہے (7) خدا جو زمین اور سمند رمیں مکمل طور پر بستا ہے اور راز دان ہے ۔ جو دہکا فریب میں نہ آنے والا آقا ہر دلمیں بستا ہے اس نے وہم وگمان اور بھٹکن کی دیوار منہدم کر دی کامل مرشد نے اسے سب میں بستا خدا دکھائی دینے لگتا ہے (8) جہاں دیکھتا ہوں آرام آسائش کے سمندر خدا کو دیکھتا ہوں ۔ قیمتی اوصاف مراد ہیروں کی کان اور خزانہ خدا دیکھتا ہوں جس میں کبھی کمی واقع نہیں ہوئی۔ الہٰی قوت و طاقت اور ہستی کا کچھ اندازہ نہیں ہوسکتا۔ اسکی سمجھ اسے آتی ہے جس پر مہربان ہو خود خدا (9) جسکا خدا نے امدادی ہاتھ پکڑا اور پنایا اپی آبحیات نظروں سے اسکے دل وجان کو راحت ملتی ہے ۔ اور آواگون مٹ جاتا ہے (10) ہر جگہ بستا ہے واحد کدا نہیں اسکے بگیر دگر کوئی ۔ وہی خدا حال مآضی و مسقتبل میں بھی ہوگا اور رہیگا اور اسب ہے اس سے خواہشات ختم ہونی ہیں بھٹکنا مراد تگ و دو مٹی ہے (11) مرشد پورا بلند مالک ہے سارا عالم اسکا ہے وہ کرتار ہے اور ہمیشہ بخشش کرنے والا ہے مرشد کا بتائیا سبق کی یادوریاض سے اچھے نتیجے برآمد ہوتے ہیں۔ علم کا چراگ جلتا ہے جس سے ذہن روشن ہوتا ہے خدا رسیدہ پاکدامنوں کی صحبت و قربت حاصل ہوتی ہے (12) جو کچھ اس عالم یمں ہے خدا ہے جو دیکھتا ہوں خدا دیکھت اہوں۔ جو سنائی دیتا ہے الہٰی کالم ہے ۔ جو کوئی کر رہا ہے وہ خدا کر رہا ہے اور کرا رہا ہے اے خدا تو اپنے پناہگیروں کا امدادی اور سہارا ہے اور سنتوں کا آسرا (13) اے خدا بھکاری تجھ سے ہی بھیک مانگتا ہے اور تجھ سے ہی عرض و معروض ہے اے خدا تو ناپاکیزگوں کو پاک بنانیوال اپاک خڈا ہے تجھ سے ایک ہی خیرات مانگتا ہوں سب کو آرما و آسائش دینے والے اسے علاوہ دوسری مانگیں ناکارہ اور نکمی ہیں (14) کارساز کرتارنے اس جسم کو ایک برتن بنائیا ہے ۔ جسے خدا رسیدہ پاکدامن عاشق خدا کی صحبت و قربت سے یہ لاگ لگ جائے اسے پاک شہرت حاصل ہوجاتی ہے الہٰی کلام سے اور دل الہٰی نام ست س چ حق و حقیقت سے مکمل طور پر متاثر ہوجاتا ہے (15) جس کے ذہن دل و دماغ میں کدا کی روشنی روشن ہوجائے جو بیمشار طاقتو ں اور قوتوں وال اہے اسکی زندگی مکمل طور پر کامیاب ہو جاتی ہے ۔ اے نانک۔ خوشیان اور کھڑے خدا کے نام کی طاقت و اخلاقی زندگی بخشنے والا آبحیات کا وہ لطف اُٹھاتا ہے ۔

ماروُ سولہے مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
توُ ساہِبُ ہءُ سیۄکُ کیِتا ॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تیرا دیِتا ॥
کرن کراۄن سبھُ توُہےَ توُہےَ ہےَ ناہیِ کِچھُ اساڑا ॥੧॥
تُمہِ پٹھاۓ تا جگ مہِ آۓ ॥
جو تُدھُ بھانھا سے کرم کماۓ ॥
تُجھ تے باہرِ کِچھوُ ن ہویا تا بھیِ ناہیِ کِچھُ کاڑا ॥੨॥
اوُہا ہُکمُ تُمارا سُنھیِئےَ ॥
ایِہا ہرِ جسُ تیرا بھنھیِئےَ ॥
آپے لیکھ الیکھےَ آپے تُم سِءُ ناہیِ کِچھُ جھاڑا ॥੩॥
توُ پِتا سبھِ بارِک تھارے ॥
جِءُ کھیلاۄہِ تِءُ کھیلنھہارے ॥
اُجھڑ مارگُ سبھُ تُم ہیِ کیِنا چلےَ ناہیِ کو ۄیپاڑا ॥੪॥
اِکِ بیَساءِ رکھے گ٘رِہ انّترِ ॥
اِکِ پٹھاۓ دیس دِسنّترِ ॥
اِک ہیِ کءُ گھاسُ اِک ہیِ کءُ راجا اِن مہِ کہیِئےَ کِیا کوُڑا ॥੫॥
کۄن سُ مُکتیِ کۄن سُ نرکا ॥
کۄنُ سیَساریِ کۄنُ سُ بھگتا ॥
کۄن سُ دانا کۄنُ سُ ہوچھا کۄن سُ سُرتا کۄنُ جڑا ॥੬॥
ہُکمے مُکتیِ ہُکمے نرکا ॥
ہُکمِ سیَساریِ ہُکمے بھگتا ॥
ہُکمے ہوچھا ہُکمے دانا دوُجا ناہیِ اۄرُ دھڑا ॥੭॥
ساگرُ کیِنا اتِ تُم بھارا ॥
اِکِ کھڑے رساتلِ کرِ منمُکھ گاۄارا ॥
اِکنا پارِ لنّگھاۄہِ آپے ستِگُرُ جِن کا سچُ بیڑا ॥੮॥
کئُتکُ کالُ اِہُ ہُکمِ پٹھائِیا ॥
جیِء جنّت اوپاءِ سمائِیا ॥
ۄیکھےَ ۄِگسےَ سبھِ رنّگ مانھے رچنُ کیِنا اِکُ آکھاڑا ॥੯॥
ۄڈا ساہِبُ ۄڈیِ نائیِ ॥
ۄڈ داتارُ ۄڈیِ جِسُ جائیِ ॥
اگم اگوچرُ بیئنّت اتولا ہےَ ناہیِ کِچھُ آہاڑا ॥੧੦॥
کیِمتِ کوءِ ن جانھےَ دوُجا ॥
آپے آپِ نِرنّجن پوُجا ॥
آپِ سُ گِیانیِ آپِ دھِیانیِ آپِ ستۄنّتا اتِ گاڑا ॥੧੧॥
کیتڑِیا دِن گُپتُ کہائِیا ॥
کیتڑِیا دِن سُنّنِ سمائِیا ॥
کیتڑِیا دِن دھُنّدھوُکارا آپے کرتا پرگٹڑا ॥੧੨॥
آپے سکتیِ سبلُ کہائِیا ॥
آپے سوُرا امرُ چلائِیا ॥
آپے سِۄ ۄرتائیِئنُ انّترِ آپے سیِتلُ ٹھارُ گڑا ॥੧੩॥
جِسہِ نِۄاجے گُرمُکھِ ساجے ॥
نامُ ۄسےَ تِسُ انہد ۄاجے ॥
تِس ہیِ سُکھُ تِس ہیِ ٹھکُرائیِ تِسہِ ن آۄےَ جمُ نیڑا ॥੧੪॥
کیِمتِ کاگد کہیِ ن جائیِ ॥
کہُ نانک بیئنّت گُسائیِ ॥
آدِ مدھِ انّتِ پ٘ربھُ سوئیِ ہاتھِ تِسےَ کےَ نیبیڑا ॥੧੫॥
تِسہِ سریِکُ ناہیِ رے کوئیِ ॥
کِس ہیِ بُتےَ جبابُ ن ہوئیِ ॥
نانک کا پ٘ربھُ آپے آپے کرِ کرِ ۄیکھےَ چوج کھڑا ॥੧੬॥੧॥੧੦॥
لفظی معنی:
صاحب۔ مالک۔ ہؤ۔ میں۔ سیوک ۔ خدمتگار ۔ جیؤ۔ روح۔ پنڈ۔ جسم۔ دیتا۔ دیا ہوا۔ اساڑا۔ ہمارا (1) پٹھائے بھیجے ۔ جگ دنیا۔ بھانا۔ رضا۔ مرضی۔ کرم۔ اعمال۔ کمائے کئے ۔ کچھ کاڑا۔ کوئی فکر (2) اوہا ۔ اوہاں۔ وہاں۔ ایہا۔ ایہاں۔ یہاں۔ ہر جس ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ بھیئے کہیں۔ لیکھ ۔ تحیر۔ الیکھے ۔ تحریر سے باہر ۔ جھاڑ۔ جھیڑا۔ جھگڑا (3) بارک۔ بالک۔ بچے ۔ تھارے ۔ تیرے ۔ اوجھڑ۔ گمراہ۔مارگ۔ راستے ۔ ویپاڑا۔ الٹے (4) بیسائے ۔ بسائے ۔ گریہہ۔ گھر۔ پٹھائے ۔ بھیئے دسنتر۔ دیس دیس ۔ملک بہ ملک ۔ راجا۔ حکمرانی ۔ گوڑا۔ جھوٹا۔ غلط (5) مکتی ۔ آزاد۔ نرکا۔ نرک۔ دوزخ۔ سیاری ۔ دنیاوی ۔ گھریلو ۔ بھگتا ۔ عابد۔ دانا۔ دانشمند۔ ہوچھا کم عقل۔ سرتا۔ با ہوش۔ سمجھدار۔ جڑا۔ جاہل (6) اور ۔ دوسرا۔ دھڑا۔ پارٹی (7) ساگر ۔ جاہل۔ سچ بیڑا۔ صدیوی جہاز (8) کوتک ۔ کھیل۔ کال۔موت۔پٹھائیا۔ بھیجا۔ جیئہ جنت۔ مکلوقات۔ اپائے پیدا کئے ۔ سمائے ۔ ختم کئے ۔ وگسنے ۔ کوش ہوتا ہے ۔ رچن کہنا۔ بنائیا۔ اکھاڑا۔ کھیل کامیدا (9) نائی۔ نام ۔ شہرت و عظمت ۔ داتار۔ دیتے والا۔ اہاڑ۔ انداہز (10) دوجا۔ دوسرا۔ نرنجن۔ پاک ۔ پوجا ۔ پجا۔ برابر ۔ ثانی۔ گیانی۔ عالم۔ تعلیم یافتہ ۔ دھیانی ۔ توجہ دینے والا۔ ستونتا۔ بلند اکلاق ۔ پاکدامن ۔ ات ۔ نہایت۔ گاڑا۔ بلند (11) کینڑ یا دن ۔ کافی عرصہ ۔ گپت ۔ چھپا ہوا ۔ سن۔ ساکن۔ خود بکود۔ دھندوکار۔ اندھیر۔ ایسی حالت جسکے بارے کچھ کسی کو معلوم نہی۔ پرگھٹڑآ۔ ظاہر ۔ہوا (12) سکتی ۔ دنیاوی دؤلت۔ سیل۔ با قوت۔ سورا۔ بہادر۔ امر۔ حکم۔ سیو۔ سکون۔ سیتل۔ ٹھنڈک۔ ٹھار۔ گڑ۔ برف کی مانند ٹھنڈا (3) نوازے ۔ کرم فرمائی۔ گورمکھ سابے ۔ مرید مرشد بناتا ہے ۔ نام وسے ۔ خدا کا نام بستا ہے ۔ انحد۔ لگاتار۔ ٹھکرائی۔ مالکی ۔ سرداری (14) قیمت ۔ مول۔ قدر۔ گوسائی۔ مالک۔ ہاتھ۔ طاقت۔ نبیڑا۔ فیصلہ (15) سریک ۔ شراکت والا۔ بانجھیدار۔ برابر۔ ثانی۔ بتے ۔ کام ۔ جواب۔ عذر داری ۔ چوج۔ کھیل۔
ترجمہ:
اے خدا تو مالک ہے اور مجھے تو نے اپنا خدمتگار پیدا کیا ہے یہ روح اور جسم تیرا ہی دیا ہوا ہے کرنے والا بھی تو اور کرنے وال ابھی تو ہے جو کچھ ہے تو ہی ہے ہمارا کچھ بھی نہں (1) تیرے بھیجے ہوئے ہیں اس دیا میں آئے ہیں جوتیری رضا و مرضی ہے وہی اعمال کرتے ہیں۔ اے خدا تیری رضا و مرضی و فرمان کے بغیر کچھ نہیں کیا جاسکتا تاہم بھی تو بے فکر ہے (2) وہان تمہارے حکم سننے میں آتا ہے ۔ یہان بھی تیری حمدوثناہ ہو رہی ہے ۔ اے خدا تو اعمالنامے تحریر کرنے والا ہے مگر خود اس تحریر حساب سے باہر ہے ۔ کوئی ہستی تجھ سے جھگڑا نہیں کر سکتی (3) اے خدا تو سبھ کاباپ ہے اور سارے تیرے بچے اور اولاد ہیں تو اپنی مرضی سے کھیل کھلاتا ہے گمراہ اور راستہ تو ہی بنا نے والا ہے کوئی اسکے خلاف نہیں چل سکتا (4) ایک کو گھر میں بسا رکھا ہے اور ایک دوسرے دیسوں میں بھیجتا ہے ایک کو گھاس کھوننے والا گھاہی بناتا ہے اور ایک کو حکمران بناتا ہے ۔ تیرے ان کس کو جھوٹا کہا جاسکتا ہے (5) کون ہے جو آزاد اور نجات یافتہ ہے اورکون ہے جیسے دوزخنصیب ہے کون خانہ داری اور کون عابد اور طارق ہے ۔ کون دانمشند ہے کون کم عقل کون باہوش و شعور اور کون ہے جاہل (6) فرمان سے ہ نجات ملتی ہے اور فرمان سے دوزخ ۔ حکم سے خانہ دار اور حکم سے ہی طارق حکم سے ہی کم عقل ہوتا ہے اور دانشمند بنتا ہے دوسرا نہیں شریک کوئی (7) ایک سمندر کی طرح وسیع بناتا ہے اور ایک خود پسندی اور جاہل بنا کر دوزخ بھیجتا ہے اور ایک کو اس دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور کراتا ہے مراد زندگی کامیاب بنتا ہے اور سچا مرشد اسکے لئے جہاز اور ملاح بن جاتا ہے (89 موت کا کھلونا جسے خدا نے اپنے فرمان سے بھیجا ہے مخلوقات پیدا کرکے ختم کرتا ہے ۔ اس طرح اس کھیل کو دیکھتا ہے خوش ہوتا ہے اور سبھ یں بس کر اسکا لطف اُٹھاتا ہے اوریہ اس نے ایک کھیل کا میدان ( سٹیدیم ) بنائیا ہے (9) خڈا ایک بلند عظمت نامور مالک ہے ۔ بھاری سخی بخشش کرنے وال اہے جائے رہائش بھی بڑی ہے ۔ وہ انسانی عقل و ہوش سے بعید بلند و بالا بیان سے باہر ۔ اعداد و شمار سے باہر جسکا اندازہ تول اور مستی پیمائش نہیں کی جاسکتی (10)خدا ایک ایسی ہستی ہے جسکی قدرقیمت کی کسی دوسرے کو خبر نہیں اور اس پاک ہستی کا دوسرا کوئی ثانی ہے ۔ خود عالم ہے خود ہی توہی اور بھاری بلند اخلاق ارو چال چلن کا مالک ہے (11) کتنا ہی عرصہ نظروں سے اوجھل پوشیدہ رہا اور بیشمار ساکن یکسوئی میں رہا بیخودی کی حالت میں کتنا ہی عرصہ اسس حالت میں رہا جس کی کسے خبر نہیں ۔ اور آخر اپنے آپ کو اس عالم کی سورت میں ظاہر کیا (12) طاقتور بھاری قوتوں کا مالک خود کو دنیاوی دولت کہلاتا ہے ۔ اور خؤد بہادر انہ فرمان جاری کیا۔ چونکہ خود خڈا ٹھنڈا مزاج والا ہے ۔ اس لئے سب میں سکون اوصانت ماحول بنائیا ہے (13) جس پر خدا کی کرم و عنیات ہوتی ہے ۔ اسے مرید مرشد بناتا ہے ۔ جس کے دل میں الہٰی نام (ست) مراد سچ حق و حقیقت بس جاتی اسکے ذہن میں روحانی وذہنی خوشی کے ساز و سرو پیدا ہوتا ہے ۔ اسے روحانی بلند حاصل ہوتی ہے اور روحانی واخلاقی موت نزدیک نیں پھٹکتی ہے (14) اے نانک بتادے کہ خدا اعداد و شمار سے بعید ہے ۔ ہر دور زماں آغاز عالم دور درمیانی و بوقت آخرت مراد حال۔ ماضی مستقبل میں اسکی قدرومنزلت و عظمت کا غذوں پر تحریر نہیں کی جاسکتی یہ فیصلہ اسکے ہی اختیار میں ہے (15 ) خدا کا دنیا میں کوئی ثانی اور اسکے برابر کوئی ہستی نہیں وہ کس ہی کام میں کسی کو جوا ب وہ نہیں ہے ۔ نانک کا خداخود ہی یہ تماشے اور کھیل کھیل کر دیکھ رہا ہے ۔

ماروُ مہلا ੫॥
اچُت پارب٘رہم پرمیسرُ انّترجامیِ ॥
مدھُسوُدن دامودر سُیامیِ ॥
رِکھیِکیس گوۄردھن دھاریِ مُرلیِ منوہر ہرِ رنّگا ॥੧॥
موہن مادھۄ ک٘رِس٘ن مُرارے ॥
جگدیِسرُ ہرِ جیِءُ اسُر سنّگھارے ॥
جگجیِۄن ابِناسیِ ٹھاکُر گھٹ گھٹ ۄاسیِ ہےَ سنّگا ॥੨॥
دھرنھیِدھر ایِس نرسِنّگھ نارائِنھ ॥
داڑا اگ٘رے پ٘رِتھمِ دھرائِنھ ॥
باۄن روُپُ کیِیا تُدھُ کرتے سبھ ہیِ سیتیِ ہےَ چنّگا ॥੩॥
س٘ریِ رامچنّد جِسُ روُپُ ن ریکھِیا ॥
بنۄالیِ چک٘رپانھِ درسِ انوُپِیا ॥
سہس نیت٘ر موُرتِ ہےَ سہسا اِکُ داتا سبھ ہےَ منّگا ॥੪॥
بھگتِ ۄچھلُ اناتھہ ناتھے ॥
گوپیِ ناتھُ سگل ہےَ ساتھے ॥
باسُدیۄ نِرنّجن داتے برنِ ن ساکءُ گُنھ انّگا ॥੫॥
مُکنّد منوہر لکھمیِ نارائِنھ ॥
د٘روپتیِ لجا نِۄارِ اُدھارنھ ॥
کملاکنّت کرہِ کنّتوُہل اند بِنودیِ نِہسنّگا ॥੬॥
اموگھ درسن آجوُنیِ سنّبھءُ ॥
اکال موُرتِ جِسُ کدے ناہیِ کھءُ ॥
ابِناسیِ ابِگت اگوچر سبھُ کِچھُ تُجھ ہیِ ہےَ لگا ॥੭॥
س٘ریِرنّگ بیَکُنّٹھ کے ۄاسیِ ॥
مچھُ کچھُ کوُرمُ آگِیا ائُتراسیِ ॥
کیسۄ چلت کرہِ نِرالے کیِتا لوڑہِ سو ہوئِگا ॥੮॥
نِراہاریِ نِرۄیَرُ سمائِیا ॥
دھارِ کھیلُ چتُربھُجُ کہائِیا ॥
ساۄل سُنّدر روُپ بنھاۄہِ بینھُ سُنت سبھ موہیَگا ॥੯॥
بنمالا بِبھوُکھن کمل نیَن ॥
سُنّدر کُنّڈل مُکٹ بیَن ॥
سنّکھ چک٘ر گدا ہےَ دھاریِ مہا سارتھیِ ستسنّگا ॥੧੦॥
پیِت پیِتنّبر ت٘رِبھۄنھ دھنھیِ ॥
جگنّناتھُ گوپالُ مُکھِ بھنھیِ ॥
سارِنّگدھر بھگۄان بیِٹھُلا مےَ گنھت ن آۄےَ سربنّگا ॥੧੧॥
نِہکنّٹکُ نِہکیۄلُ کہیِئےَ ॥
دھننّجےَ جلِ تھلِ ہےَ مہیِئےَ ॥
مِرت لوک پئِیال سمیِپت استھِر تھانُ جِسُ ہےَ ابھگا ॥੧੨॥
پتِت پاۄن دُکھ بھےَ بھنّجنُ ॥
اہنّکار نِۄارنھُ ہےَ بھۄ کھنّڈنُ ॥
بھگتیِ توکھِت دیِن ک٘رِپالا گُنھے ن کِت ہیِ ہےَ بھِگا ॥੧੩॥
نِرنّکارُ اچھل اڈولو ॥
جوتِ سروُپیِ سبھُ جگُ مئُلو ॥
سو مِلےَ جِسُ آپِ مِلاۓ آپہُ کوءِ ن پاۄیَگا ॥੧੪॥
آپے گوپیِ آپے کانا ॥
آپے گئوُ چراۄےَ بانا ॥
آپِ اُپاۄہِ آپِ کھپاۄہِ تُدھُ لیپُ نہیِ اِکُ تِلُ رنّگا ॥੧੫॥
ایک جیِہ گُنھ کۄن بکھانےَ ॥
سہس پھنیِ سیکھ انّتُ ن جانےَ ॥
نۄتن نام جپےَ دِنُ راتیِ اِکُ گُنھُ ناہیِ پ٘ربھ کہِ سنّگا ॥੧੬॥
اوٹ گہیِ جگت پِت سرنھائِیا ॥
بھےَ بھئِیانک جمدوُت دُتر ہےَ مائِیا ॥
ہوہُ ک٘رِپال اِچھا کرِ راکھہُ سادھ سنّتن کےَ سنّگِ سنّگا ॥੧੭॥
د٘رِسٹِمان ہےَ سگل مِتھینا ॥
اِکُ ماگءُ دانُ گوبِد سنّت رینا ॥
مستکِ لاءِ پرم پدُ پاۄءُ جِسُ پ٘راپتِ سو پاۄیَگا ॥੧੮॥
جِن کءُ ک٘رِپا کریِ سُکھداتے ॥
تِن سادھوُ چرنھ لےَ رِدےَ پراتے ॥
سگل نام نِدھانُ تِن پائِیا انہد سبد منِ ۄاجنّگا ॥੧੯॥
کِرتم نام کتھے تیرے جِہبا ॥
ستِ نامُ تیرا پرا پوُربلا ॥
کہُ نانک بھگت پۓ سرنھائیِ دیہُ درسُ منِ رنّگُ لگا ॥੨੦॥
تیریِ گتِ مِتِ توُہےَ جانھہِ ॥
توُ آپے کتھہِ تےَ آپِ ۄکھانھہِ ॥
نانک داسُ داسن کو کریِئہُ ہرِ بھاۄےَ داسا راکھُ سنّگا ॥੨੧॥੨॥੧੧॥
لفظی معنی:
اچت ۔ دائمی ۔ لافناہ۔ پار برہم۔ کامیاب بنانے والا۔ پر میسور۔ بڑا مالک۔ انتر جامی۔ اندرونی ۔ پوشیدہ راز جاننے والا۔ مدھ سودن۔ مدہو راکھش کو مارنے والا۔ وامودر۔ جس کے پیٹ کے اردگرد رسی ہے ۔ رکھی کیس۔ اعضائے عالم کامالک ۔ گووردھن ۔ دھاری ۔ پہاڑ اُٹھانیوالا۔ مرلی منوہر۔ بنسری ۔ بنجانے والا (1) موہن ۔ محبت میں گرفتار کرنے والا۔ کرشن مرارے ۔ مرراکھش کا دشمن کرشن مراری۔ جگدیرسر۔ مالک عالم۔ اسر۔ دینتوں ۔ سنگھارے ۔ مارنے والا۔ جگیجون ۔ زندگئے عالم۔ ابناسی ۔ لافناہ ۔ گھٹگھٹ داسی ۔ ہر دل میں بسنے والا۔ سنگا۔ ساتھی۔ ساتھ (2) دھر یندھر۔ زمین کا سہارا۔ ایس۔ مالک۔ نرسنگھ ۔ انسان اور شیر کی شکل و سورت والا۔ نارائن۔ جسکا گھر پانی پر ہے ۔ مراد خدا۔ دار۔ دانت۔ اگرے ۔ اوپر۔ پرتھم۔ پرتھیوی ۔زمین۔ دھرائن۔ آسرے والا۔ باون روپ۔ بونے کی شکل ۔ کرتے کرتار۔ سیتی ۔ ساتھ۔ چنگا۔ اچھا نیک (3) بن والی۔ جنگل کا مالک۔ ریکھیا۔ شکل و سورت ۔ چکرپان ۔ چکر پہنن والا۔ درس۔ دیدار۔ اتوپیا۔ انوکھا ۔نرالا۔ سہس۔ نیتر۔ ہزاروں آنکھون والا۔ صورت ۔ شکل۔ منگا۔ مانگنے والا (4) بھگت وچھل۔ بھگتی کو پیار کرنے والا ۔ انتھیہہ ناتھو۔ بے مالکوں کا مالک۔ گوپی ناتھ۔ گوپیون کا مالک۔ سگل ہے ساتھے ۔ سب کے ساتھ ہے ۔ باسدیو۔ سب کے اندر۔ بسنے والا فرشتہ۔ نرنجن۔ بیداغ۔ پاک۔ داتے ۔ سخی۔ برن۔ بیان۔ گن انگا۔ اوصاف کی تعاد (5) مکند۔ نجات دہندہ ۔ منوہر ۔ دل چیتنے والا۔ لکھمی نارائن۔ دؤلت کا خاوند۔ نارائن ۔ لجا ۔ حیا ۔ شرم۔ نوار۔ بچانے والا۔ ادھارن۔ بچانے والا۔ کلا گنت ۔ دولت کا خاوند۔ کنتوہل۔ کھیل۔ بنودی۔ سکون کا للطف لینے والا ۔ تہنگا۔ جسکا کوئی ساتھی نہ ہو (6) امو گھ ۔ برآور ۔ پھلدار ایک ۔ درسن دیدار۔ آجونی سنبھو ۔ پیدا نہ ہونیوالا۔ خود بخود۔ اکال صورت ۔ موت سے بری۔ نرمرنے والا۔ گھؤ۔ موت۔ نہ مٹنے والا۔ ایگت ۔ لافناہ۔ اگوچر ۔ عقل و ہوش سے باہر (7) بیکٹھ جنت۔ بہشت ۔ واسی ۔ با شندے ۔ سر برنگ۔ دنیاوی دؤلت کا پریمی ۔ مچھ ۔ کچھ کورم ۔ مچھلی اور کچھوا۔ آگیا۔ زیر فرمان۔ اؤ راسی ۔ جنم ۔ زندگی پائی ۔ کیسو۔ لمبے والون والا۔ چلت ۔کھیل۔ نراے ۔ انوکھے ۔ کیتا لوڑلیہہ۔ جو کر نیکی ضرورت ہے (8) نراہاری ۔ نہ کھانے والا۔ نرویر ۔ بلا دشمن۔ سمائیا۔ سمائیا۔ سب میں بسنے والا۔ دھار کھیل۔ کھیل بنا کر۔ چترب بھج ۔ چار بازاروں والا۔ ساول سند۔ روپ ۔کالی شکل والا۔ خوب صورت ۔ بین ۔ بنسری ۔ موہیگا۔محبت میں گرفتار (9) بنمالا۔ جنگلی پھولوںکی تسبیح۔۔ سبھوکھن۔ زیور۔ کمل نین ۔ کنول کے پھولوں جیسی آنکھین۔ سندر کنڈل۔ جس کے کمانیدار بھرؤے ۔ بین ۔ بنسری۔ گدا۔ گرج۔ ایک ہتھار۔ دھاری ۔ پہننے والا۔ مہساسارتھی۔ بھاری رتھوان ۔ ست۔ سنگا۔ سچا ساتھی (10) پیت پتنر۔ سیلے ۔ پہرواے والا۔ تربھون دھنی ۔ تینوں عالموں کا مالک ۔ جگدناتھ۔ مالک ۔ عالم ۔ گوپال۔ مالک عالم۔مکھ بھنی۔ زباں سے کہنا ہوں۔ سارنگدھر۔ تیر کمان والا۔ بیٹھلا۔ دنیاوی دولت سے پرہیز کرنے والا۔ طارق الدنیا ۔س ربنگا۔ سب کا ساتھی (11) نیہکط ۔ بغیر عذاب۔ بلا کانٹا۔ نیہکیول۔ بغیر خواہشات ۔ دھنجے ۔ دنیاوی دولت پر فتح پانے والا۔ مہیئے ۔میں۔میرت لوک۔ اس دنیا میں۔ پیال۔ پاتال۔ زیر زمین۔ سیمپت ۔نزدیک استھر۔ قائم دائم۔ ابھگا۔ لافناہ (12) پتت پاون ۔ بد قماش ۔ گناہگاروں کو پاک بنانے والا۔ بد اخلاقوں کی با خالق بنانے والا۔ دکھ۔ عذاب۔ بھے ۔ خوف۔ بھنجن۔ دو رکرنے والا۔ اہنکار ۔ غرور ۔ تکبر۔ نوارن۔ مٹانیولا۔ بھوکھنڈن ۔ تناسخ مٹانے والا۔ توکھت ۔ خوش گنے نہ کت ہی ۔ کس وصف سے بھگا۔ متاثر (13) نرنکار۔ بلا حجم وپھیلاؤ ۔ اچھل۔ دہوکے میں نہ آنیوالا ۔ اڈو ۔ مستقل مزاج۔ جوت سروپی۔ نوری شکل۔ مؤلو۔ کھڑان والا۔ مراد خوش کرنے والا۔ آپہو ۔ از خود (14) گوپی ۔ گائیں چرانے والیان۔ کاہن ۔ کرشن۔ بانا۔ جنگل۔ اپاویہہ۔ پیدا کرتا ہے ۔ کھپا ویہہ۔ مٹاتا ہے ۔ لیپ۔ اثر۔ رنگا۔ دنیاوی پریم کا (15) ایک جیہہ۔ زبانں ایک ۔دکھانے بیان کرے ۔ سہس فنی سیکھ ۔ ہزاروں فنوں والا سانپ۔ انت۔ آخر۔ شمار۔ کوتن۔ نوجوان۔ گن ۔ وصف (16) اوت۔ آسرا۔ گہی ۔ پکڑی۔ حاصل کی ۔ جگت پت ۔ علام کے پتا۔ سرنائیا۔ پناہگیر ہوا ۔ بھے ۔ خوف۔ بھیانک ۔خوفناک ۔ ڈراؤنی۔ جمدوت۔ خدمتگار موت۔ دتر۔ ناقابل ۔ عبوعر۔ کرپال۔مہربان۔ اچھا۔ خواہش۔ راکہو۔ حفاظت کرؤ بچاؤ۔ سادھ سنتن۔ خدا رسیدہ پاکدامن والی اللہ ۔ سنگ سنگا۔ ساھ و صحبت (17) درسٹیمان ۔ جو نظر آرہا ہے ۔ سگل متھرا ۔ سارا مٹنے والا ۔ دان ۔ خیرات۔ بھیک۔ سنت۔رہنا۔ ست کی دہول۔ مستک۔ پیشانی۔ پرم پد۔ بلند روحانی واخلاقی رتبہ۔ پراپت ۔ ھاصل )17( ردے پراتے ۔ دلمیں بسائے ۔ ۔ نام ندھان۔ ست کا خزانہ انحد لگاتار۔ سبد سبق ۔ کلام ۔ من واجنگا۔من میں بجتا ہے (19) کرتم۔ نام ۔کئے ہوئے ۔اعمالوں کے مطابق نام۔ کتھے ۔کہے ۔ گائے ۔ بیان کئے ۔ مہبا۔ زبان سے ۔ پریوار بلا۔ پہنے سے آغاز سے ۔ درس۔ دیدار۔من رنگ لگا۔ دل کو پیار اور پریم ہوگیا ہے (20) تیری گت میت۔ اپنی روحانی حالت کا اندازہ۔ کتھہی ۔کہے ۔ وکھانیہہ۔ بیان کریہہ۔ داس۔ خدمتگار۔ سنگا۔ ساتھ۔
ترجمہ:
اے خدا تو لافناہ ہے کامیابیاں بخشنے وال اہے بھاری بڑا مالک ہے راز دان دل کا ۔ تو ہی مدھ سودن اور دامودر ہے تو ہی گودردھن دھاری مرلی منوہر اور بیشمار کھیل تماش کرنے والا ہے (1) اے خدا موہن مادہو کرشن مراری تو ہی ہے تو ہی مالک عالمے تو ہی ظالموں کو ختم کرنے والا ہے تو عالم کی زندگی ہے تو سب میں بستا ہے اور ساتھ ہے (2) تیرا ہی زمین کو ہے آسرا تو ہی مالک ہے تو ہی نرسنگھ ہے تو ہی وشنو ہے جو سمندر میں رہتا ہے ۔ زمین کو اپنے دانتوں پر اُٹھانے والا بھی تو ہے تو نے بونے کی شکل اختیار کی تھی اور سب کا ساتھی ہے (3) تو ہی رام چند ہے جس کی کوئی شکل وصورت نہیں۔ تو ہی بنوالی اور سد ہوش چکر رکھنے وال اہے تو ہزاروں آنکھوں وال اہے اور تیری ہزاروں شکلون وال اہے تو واحد سخی ہے باقی سب تیرے بھکاری ہیں۔ (4) اے خدا تو بے مالکوں کا مالک ہے تو عبادت و خدمتگاری کو محبت کرنے والا ہے ۔ سب جانداروں کا ساتھی ہے تو بیلاگ سخی ہے ۔ تو اتنے اوصاف والا ہے ۔ جو بیان سے باہر ہیں (5) اے خدا تو نجات دہندہ ہے تو ہی دنیاوی دؤلت کا خاوند نارائن ہے ۔ دروپتی کی عزت بچا نے والا بھی تو ہی ہے ۔ تو بیشمار کھیل کھلتا ہے تو ہر طرح کے لطف اور مزے لینے والا ہونے کے باوجود باوجود اس سے بے واسطہ ہے (6) تیرا دیدار برآور ہے اور تم جنم نہیں لیتا تو از خود خود بخود ہے ۔ تو موت سے بری ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا لافناہ ہے تو انکھوں سے اوجھل انسانی عقل و ہوش سے بلند و بال اور ہر شے تیرے سہارے ہہے (7) اے پیارے بہشت و جنت میں رہنے والے ۔ تیرے ہی زیر فرمان سے مچھ کچھ وگیرہ پیدا ہوئے ہیں۔ اے لمبے والوں والے تو بیشمار کھیل کھیلتا ہے جس کی تجھے ضرورت ہے وہ ضرور ہوتا ہے (8) تو اے خدا کچھ نہیں کھاتا تیری کسی سے دشمنی نہیں۔ تاہم سب میں بستا ہے ۔ تو نے یہ عالم پیدا کرکے چار بازاروں وال ابرہما کہلائیا تو بیشمار سیاہ فام سنر شکلیں بناتا ہے اور بنسری بجا کر سارے عالم کو اپنی محبت مین جکڑ لیتا ہے (9) سارا جنگل تیرے لئے ایک زیور ہے ۔ کنول کے پھلوں جیسی آنکھوں والے چھلے دار بالوں والے کلنی پہنتے والے اے بنسری والے سنکھ دکھنے والے چکر دھاری گدار رکھنے والے تو اپنے سچے ساتھیون کا رہبر ہے (10) اے پیلے کپڑوں والے تینون عالموں کے مالک پروردگار عالم زبان سے تیرے نام کہتا ہوں اے تیر کمان پہننے والے اے خدا دنیاوی دولت سے متاثر نہ ہوے والے میں تیرے اوصاف بیان کرنے سے قاضر ہوں (11) اے خدا تیرا کوئی دشمن نہیں نہ ہی تو اس دنیاوی دؤلت کا تو اثر پذری ہے تو سارے علام کی دؤلت پر فتح حاصل کرلی ے ۔ تو سمند رمیں زمین پر ہر جائی ہے اس دنا میں پاتال میں نزدیک اور ساتھ ہے وہ مستقل اور دائمی و لافناہ ہے (12) خدا بد اخلاقوں اخلاق سے گرنے والوں کو پاک با اخالق بنانیوالا ہے عذآب اور خوف دور کرنے وال اہے تکبر و غرور مٹانے والا اور تناسخختم کرنے والا ہے ۔ غریب نواز عبادت و خدمت ر خوش ہونے وال اکسی بھ دوسرے وصف سے متاچر نہیں ہوتا (13) اس بلا حجم و پھیلاو والے خدا کو دہوکا یا فریب نہیں دیا جا سکتا مستقل مزاج ہے اسکی شکل و صورت نورانی ہی نہیں صرف نور ہے جس سے تمام عالم پر نور ے اس سے ملاپ اسک نصیب ہوتا ہے جیسے آپ ملاتا ہے ۔ ازخود کسی کو نصیب نہیں ہوتا (14) خدا ہی خود گوپی ہے اور کاہن بھی ہے اور خود ہی جنگل میں گاہیں چراتا ہے ۔ خدا خود ہی پیدا کرتا اور مٹاتا ہے مگر ان سب کھیل تماشوں کا ذرا سا بھی اے خدا تجھ پر اثر نہیں (15) زبان ایک ہے اوصاف بیشمار کون کونسے اوصاف بیان کرؤں ۔ ہزاروں فنوں والے شیش ناگ کو بھی تیری آخر کا پتہ ہیں نوجواں ہوکر روز وشب بیان کرے تیرا نام اے خدا تب ھی تیرا یاک وصف بیان نہیں ہو سکتا ہے (16) اے سارے عالم کے باپ تیرا سہارا لیا ہے فرشتہ موت خوفنکا ہے اورخوف زدہ کرتا ہے اور دنیاوی دولت ناقابل عبور ہے ۔ دشوار گذار ہے ۔ مہربانی کرکے پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت و قربت عنایت کیجیئے (17) جو زیر نظر ہے سارا مٹ جانے والا ہے اے خدا میں تیرے سے ایک بھیک مانگتا ہوں کہہ مجھے پاکدامن عاشقان الہٰی کے پاوں کی دہول نسبی ہو ۔ اسے پیشانی پر لگانے سے بلند روحانی رتبہ نصیب ہوتا ہے جسے حاصل ہوگا وہی پائیگا (18) جن پر پر آرام و آسائش دینے وال امہربان ہوتا ہے وہ پائے پاکامن دل میں بساتا ہے ۔ انہیں سب خزانوں سے برتر اعلے خزانہ نصیب ہوتا ہے انکے د میں روحانی سرور ہونے لگتا ہے (19) یہ زبان تیرے اُن ناموںکو کہتی ہے جو تیرے اعمالون اور اوصافوں کو دیکھ کر بنائے ہیں مگر سب سے پہا آغآز سے نام ست نام ہے ۔ اے نانک ۔ بتادے کہ تیرے عابدورخدمتگار تیرے زیر پناہ ہیں۔ میرے دل میں تجھ سے پریم پیار ہوگیا ہے ۔ اس لئے دیدار دیجیئے (20) اے خدا اپنی حالتو شمار سے تو ہی واقف ہے تو خود ہی کہہ اور بیان کر ۔ نانک غالمون کا غلام بنادے اگر تیری رحمت وع نایت ہو تو اپنے عابدوں و خدمتگاروں کی صحبت و قربت عنایت فرما ۔

ماروُ مہلا ੫॥
الہ اگم کھُدائیِ بنّدے ॥
چھوڈِ کھِیال دُنیِیا کے دھنّدھے ॥
ہوءِ پےَ کھاک پھکیِر مُساپھرُ اِہُ درۄیسُ کبوُلُ درا ॥੧॥
سچُ نِۄاج زکیِن مُسلا ॥
منسا مارِ نِۄارِہُ آسا ॥
دیہ مسیِتِ منُ مئُلانھا کلم کھُدائیِ پاکُ کھرا ॥੨॥
سرا سریِئتِ لے کنّماۄہُ ॥
تریِکتِ ترک کھوجِ ٹولاۄہُ ॥
مارپھتِ منُ مارہُ ابدالا مِلہُ ہکیِکتِ جِتُ پھِرِ ن مرا ॥੩॥
کُرانھُ کتیب دِل ماہِ کماہیِ ॥
دس ائُرات رکھہُ بد راہیِ ॥
پنّچ مرد سِدکِ لے بادھہُ کھیَرِ سبوُریِ کبوُل پرا ॥੪॥
مکا مِہر روجا پےَ کھاکا ॥
بھِستُ پیِر لپھج کماءِ انّداجا ॥
ہوُر نوُر مُسکُ کھُدائِیا بنّدگیِ الہ آلا ہُجرا ॥੫॥
سچُ کماۄےَ سوئیِ کاجیِ ॥
جو دِلُ سودھےَ سوئیِ ہاجیِ ॥
سو مُلا ملئوُن نِۄارےَ سو درۄیسُ جِسُ سِپھتِ دھرا ॥੬॥
سبھے ۄکھت سبھے کرِ ۄیلا ॥
کھالکُ زادِ دِلےَ مہِ مئُلا ॥
تسبیِ زادِ کرہُ دس مردنُ سُنّنتِ سیِلُ بنّدھانِ برا ॥੭॥
دِل مہِ جانہُ سبھ پھِلہالا ॥
کھِلکھانا بِرادر ہموُ جنّجالا ॥
میِر ملک اُمرے پھانائِیا ایک مُکام کھُداءِ درا ॥੮॥
اۄلِ سِپھتِ دوُجیِ سابوُریِ ॥
تیِجےَ ہلیمیِ چئُتھےَ کھیَریِ ॥
پنّجۄےَ پنّجے اِکتُ مُکامےَ ایہِ پنّجِ ۄکھت تیرے اپرپرا ॥੯॥
سگلیِ جانِ کرہُ مئُدیِپھا ॥
بد امل چھوڈِ کرہُ ہتھِ کوُجا ॥
کھُداءِ ایکُ بُجھِ دیۄہُ باںگاں بُرگوُ برکھُردار کھرا ॥੧੦॥
ہکُ ہلالُ بکھورہُ کھانھا ॥
دِل دریِیاءُ دھوۄہُ میَلانھا ॥
پیِرُ پچھانھےَ بھِستیِ سوئیِ اجرائیِلُ ن دوج ٹھرا ॥੧੧॥
کائِیا کِردار ائُرت زکیِنا ॥
رنّگ تماسے مانھِ ہکیِنا ॥
ناپاک پاکُ کرِ ہدوُرِ ہدیِسا سابت سوُرتِ دستار سِرا ॥੧੨॥
مُسلمانھُ موم دِل ہوۄےَ ॥
انّتر کیِ ملُ دِل تے دھوۄےَ ॥
دُنیِیا رنّگ ن آۄےَ نیڑےَ جِءُ کُسم پاٹُ گھِءُ پاکُ ہرا ॥੧੩॥
جا کءُ مِہر مِہر مِہرۄانا ॥
سوئیِ مردُ مردُ مردانا ॥
سوئیِ سیکھُ مسائِکُ ہاجیِ سو بنّدا جِسُ نجرِ نرا ॥੧੪॥
کُدرتِ کادر کرنھ کریِما ॥
سِپھتِ مُہبتِ اتھاہ رہیِما ॥
ہکُ ہُکمُ سچُ کھُدائِیا بُجھِ نانک بنّدِ کھلاس ترا ॥੧੫॥੩॥੧੨॥
لفظی معنی:
اللہ اگم۔ خدا جس تک انسانی رسائی نا ممکن ہے ۔ خدائی بند۔ خدا کے انسان۔ دھندے ۔ مخمسے ۔ جھمیلے ۔ ہوئے ۔ پے خاک فقیر ۔ فقیروں کے پاؤں کی خاک ہوجا۔ مسافر۔ سفر کرنیوالا۔ درویس۔ جو خدا کے در پر منظور ہوئے (1) سچ ۔ ایسا سچ ۔ جو صدیوی اور دائمی ہے ۔ نواز ۔ نماز ۔ یاد خدا۔ یقین ۔ خدا میں بھروسا۔ مضلا۔ نماز ادا کرنے والی پھوہڑی۔ منسا۔ ارادہ۔ مار۔ ختم کرکے ۔ نوار ہو ۔ امیدیں ختم کر۔ دیہہ مسیت۔ اپنے جسم کو مسجد خدا کا گھر بنا۔ من مؤلانا۔ دل کو مولوی ۔ کللم خدائی۔ خدا کا کللمہ ۔ پاک گھر ۔ ناہیت پاک (2) شرع ۔ شریعت ۔ مذہبی یا بیرونی طریقہ لودوبارش۔ طریقت ۔ خدا کے وسل و دیار کے لئے ایک طریقہ اور منزل۔ ترک۔ پرہیز گاری ۔ ٹولاوہو۔ تلاش کرؤ ۔ معرفت۔ روحانی زندگی بنانے اور گذارنے کی منزل اور علم ۔ ابدال۔ فقیر۔ جت۔ جس سے ۔ پھر نہ مررا۔ دوبارہ موت نہ ہو (3) قرآن کتب ۔ قران مجید۔ دل میں کماہی ۔ دلمیں بسا۔ دس عورات۔ د ساعضائے جسمانی۔ رکھہو بدارہی ۔ براے راہ پر چلنے سے روکو۔ پانچ مرد۔ پانچ احساسا۔ کام ۔ شہوت ۔ کرؤدھ۔ غسہ۔ گضبناکی ۔ لوبھ۔ لالچ۔ موہ۔ دنیاوی محبت۔ اہنکار ۔ غرور۔ تکبر۔ صدق۔ سچا یقین۔ خیر خیرات۔ صبوری۔ صبر۔ قبول پرا۔ منظور ہوتا ہے (4) مکہ ۔ پاک اور متبر شہر۔ جہا حضرت محمدﷺ صاحب پیاد ہوئے جہان مسلمان حج او رزیارت کے لئے جاتے ہیں۔ اسے مکہ معظمہ کے نام سے پکار اجاتا ہے ۔ مہر۔ رحمدلی۔ روضہ ۔ بطور پرہیز کھانا نہا کھانا۔ پے خاکا۔ پاؤں کی خا ہوجانا ۔ عاجزی ۔ انکساری ۔ بھست۔ بہشت۔ جنت۔ پیر۔ رہبر۔ پیر لفظ جذبات۔ یا سبق مرشد۔ کمائے ۔ عمل کرے ۔ اندازہ ۔ مکمل طور پر ۔ حور۔ بہشت کی خوبصورت عورتیں۔ نور۔ الہٰی روشنی۔ مشق۔ خوشبو۔ خدائیا۔ اے خدا۔ بندگی اللہ ۔ خدا کی تابعداری ۔ عبات اعلے ۔ بہتر ۔ برھیا۔ حجرا۔ گوشہ (5) سچ کماوے ۔ جو صدیوی سچے خدا کی تابعداری اور اور حقیقت پر عمل پر پیرا ہو۔ سوئی قاضی ۔ قاضی وہی ہے ۔ سودھے ۔ پاک بنائے ۔ حاجی ۔ حج کرنے والا۔ ملا۔ مولوی ۔ ملعون ۔ لعنت۔ برائیان۔ نوارے ۔ مٹائے ۔ درویش ۔ جس کی فقیری منظور خدا سے ۔ سفت دھرا۔ صفت یا گن ہے آسرا۔ (6) سبھے وھت ۔ سارے موقعے ۔ ویلا۔ موقے ۔ خالق۔ خلقت کا مالک۔ مؤلا۔ خدا۔ تسبیھ۔ مالا۔ دس مرون۔ دس اعضائے جسمانی کو زیر کرنا (ست) سیل بندھان۔ شرافت ۔ نیکی و پرہیز گاری۔ برا۔ اصل (7) جانہو۔ سمجھو۔ فلہاالا۔ تھوڑی دیر کے لئے ۔ چند روزہ ۔ خلخاہ۔ خآنہ داری۔ قبیلہ داری۔ برادر۔ بھای۔ ہمو۔ ساری۔ جنجالا۔ پھندہ۔ غلامی۔ میر۔ شاہ۔ امیر۔ ملک۔ مالک۔ اُمرے ۔ بھاری امیر۔ فانائیا۔ مٹ جانے والے ہیں۔ مقام قائم رہنے والا۔ خدا نے در۔ خدا کا گھر (8)اولصفت۔ خدا کی حمدو تعریف ۔ صبوری۔ صابر ہونا ۔ تیجی ۔ حلمی۔ عاجزی۔ انکساری۔ چوتھی خیری ۔ خیرات کرنا۔ ۔ پنجے اکت۔ مقامے ۔ پانچوں بداحساسات پر ضبط۔ پنج وکھت۔ پانچوں موقے ۔ اپر پرا۔ ناہیت اچھے ہیں (9) سگلی جان ۔۔ سارے عالم کو سمجھو ۔ مؤدیفا۔ وظیفہ۔ بد عمل۔ برےکام ۔ ہتھ کو۔ لوٹا اسناوا۔ خدا نے ایک ۔ واحد خدا۔ سمجھ سمجھکر۔ بانگاں ۔ صدائیں۔ آوازیں۔ برگؤ۔ سنگہی یا تونی ۔ برخور دار کھ۔ بھلانیک فرزند یا بچہ (10) حق حلال نیککمائی۔ بخور ہو۔ کھاو۔ میلانا۔ ناپاک۔ پیر مرشد ۔ رہبر۔ بھستی سوئی۔ وہی بہشت کا حقدار ہے ۔ عزرائیل ۔ فرشتہ موقت۔ دوج ۔ دوزخ۔ ٹھرا۔ دھکیلتا (11) کائیا۔ جسم۔ کردار۔ اعمال۔ اؤرت یقینا ۔ وفادار۔ فرمانبردار حکینا۔ حقدار۔ حدیثہ ۔ اسلامی شرع کی مقدس کتاب۔ حدورہدیسا۔ الہٰی شرع۔ صابت صورت۔ مکمل شکل و صورت۔ دستار سیرا۔ سر پر پکگڑی رکھنا (12) موم دل ۔نرم دل۔ انتر کی مل۔ اندرونی ناپاکیزگی ۔ دہووے ۔ پاک بنائے ۔ دنیا رنگ۔ دنیاوی پیار۔ نیرے۔ نزدیک۔ کسم۔ پھول۔ پات۔ ریشم۔ گھو۔ گھی پاک۔ صاف۔ ہرا۔مبرگ۔ شالا (13) جاگؤ۔ جس پر ۔ مہر۔ مہربانی۔ مہربانا۔مہربان کی ۔ مردانا۔ بہادر مرد ۔ شیخ بزرک ۔ مسائخ۔ السامی صلاحکار۔ سو بندہ۔ وہی ۔ کدائی خدمتگار ۔نظر نرا۔ جس پر نظر عنایت و شفقت خدا 014) قدرت قادر ۔ قادر یا کدا۔ قدرت ۔ قائنات ۔ کریما۔ بکشہار۔ کرن۔کام ۔تھاہ۔ اتنی زیادہ کہ زنادہ یا شمار نہ ہو سکے ۔ رحیما۔ رحمدل۔ محبت پیار۔ حق۔ خدا۔ حکم۔ فرمان۔ سچ خدائیا ۔ سچے خدا۔ بند خلاص۔ غلامی سے نجات۔
ترجمہ:
اے انسان خدا کے بندے خدا انسانی رسائی عقل و ہوش سے بلند و بالا ہستی ہے ۔ دنیاوی مخمسے اور جھمیلوں کو چھوڑ ار خدا کے فقیروں کے پاؤں کی دہول ہوجا۔ اور ایک مسافر کی زندگی بسر کر ایسا فقیر خدا کے در پر قبول ہوتا ہے (1) خدا کے نام ست جو صدیوی قائم دائم دہنے والا ہے کی یادوریاض کو نماز بنا اور خدا مین یقین واثق اور ایمان کو مصلا سمجھ اور بنا دل سے ارادے اور اُمیدیں جو دلمیں بناتا ہے ختم کر۔ اس جسم کو عبادت گاہ یا مسجد تصور کر اور من کو مولوی اور دل کو پاک و شفاقف رکھ ۔ یہ اللہ کا کلام ہے (2) خدا کے نام۔ سچ حق و حقیقت کو زیر نظر اور نظریہ بنا کر کدا کی بندگی کو یہی حقیقی شرع اور شریعت ہے ۔ یہی جستجو خدا ہے من کو پاک و شفاف بنا کر طریقہ ہے ۔ اے ابدال فقیر دل پر ضبط رکھنا ہی معرفت یا زندگی کی یاک منزل ہے اور حقیقت اپنا تاکہ تیری روھانی واکلاقی موت واقع نہ ہو (3) اے انسان دل میں خدا کا تصور بسا عبادت کہ یہ ہی قران اور مذہبی کتابوں کی تعلیم ہے ۔ جسم کے دس اعضائے اعمال کو برائی ار بدیوں سے رکو اور پانچوں احساسات بد پرضبط حاصل کرؤ۔ خیرات کرنا اور صبر رکھنا اور صدق وایمان لانے سے خدا کے در پر مقبولیت حاصل ہوتی ہے (4) خدا ترسی رحمدلی جائے حج یا مکمہ ہے ۔ خدا کے رہبر ۔ پیر یا مرشد کے سبق و نصیحت پر عمل کرتا ہی بہشت ہے عاجزی انکساری اور پاؤں کی دہول ہوجانا ایک روضہ ہے ۔ الہٰی عبادت تابعداری بندگی ہی الہٰی یا بہشتی حوریں اور نور خدا ہے اور یہی عبادت کے لئے برھیا حجرا یا گوشہ نشینی اور یہی ہے مشک عنبرا (5) خدا پرست عبادت و بندگی کرنے والا بھی حقیقی طور پر قاضی ہے جس نے اپنے دل کو پاک بنالیا وہی حقیق ی حاجی ہے جس نے اپنے دل سے بدیوں اور برایوں کی لعنت سے پاک بنالیا وہی حقیقتا مولوی ہے ۔ اسلی فقیر وہ ہے جسے خدا کی حمدوچناہ ہی سہارا ہے (6) خدا کو ہر وقت یا د رکھنا عبادت بندگی یا دوریاض ہی ایک تسبیح ( سسوی) ہے اور اسدس اعضائے اعمال جسم پر ضبط رکھنا اچھی عادات شرافت اور نیکی پرہیز گاری سنت (7) اے انسان اس قائنات قدرت کو عاضی سمجھ۔ یہ کانہ داری اور قیبلہ داری اے بھای سارے پھندے اور جال ہیں شاہوکار۔ بادشاہ امیر و زیر سب نے ختم ہوجانا ہے واحد خدا ہی صدیوی قائم دائم ہے (7) اے انسان یہ پانچ وقت تیرے لئے خوش نصیب ہیں۔ پہلا حمدوثناہ خدا۔ دوجا صابریت صبوری تیری عاجزی و انکساری یا حلیمی ۔ چوتھے ۔ خیرا کرنا ۔ پانچویں۔ پانچوں احساسات بد پر ضب ط حاصل کرنا ۔ مراد صبر عاجزی دوسروں کی بھلائی نفس پر ضبط اور الہٰی حمدوثناہ روحانی زندگی کے لئے پانچ نمازیں نہیں ان صفا سے زندگی روحانی طور پر بلندی حاصل کرتی ہے (9) اے انسان سارے عالم میں واحد خدا کو بستا سمجھنا ہی الہٰی کالم ہر وقت دل میں بسانے اور یاد رکھنے کےلئے وطیفہ ہے ۔ بد اعمال کو چھوڑ رک اسے اپنے ہاتھ میں جسمانی پاکیزگی کے لئے لوٹا سمجھ ۔ خدا کو واحد سمجھ کو اسے بلند آواز بنتا اور خدا کا نیک فرزند بنتے کی کوشش کر اے فقیر (10) حق کی کمائی کرنا ہی حلا ہے اسےاپنا کھانا بنا ۔ دل کو دریا کی طرح وسیع بنانے کی کوشش کرؤ۔ اور اسے پاک بناو ناپاکیزگی دہوڈالو جسسے اپنے رہبر کی پہچان ہوجائے وہ بہشت کا حقدار ہوجاتا ہے ۔ فرشتہ موت اسے دوزخ میں نہیں ڈالتا (11) اپنے جسم کو جس کے ذریعے نیک و بد اعمال کئے جاتے ہیں اسے ایک وفادار بیوی بنا ۔ برائیوں اور بدیوں کے بد اعمال کی بجائے حق پرستی اور الہٰی ملاپ کے خوشیوں کا لطف لیاک کر۔ ناپاک ہو رہے دل کو پاک بنانے کی کوشش کرؤ ۔ الہٰی شرع کی کتاب خداکی دی ہوئی شکل و صورت کو برقرار رکھان ہے یہی ہر دو عالموں مین عزت وآبرو حاسل کرنے کا طریقہ و وسیلہ ہے ۔ (12) حقیقی مسلمان رحمدل اور نزم دل ہوتا ہے ۔ جو اپنے دل سے بدیوں برائیوں سے پاک بناتا ہے دنیاوی عیش ق عشرت کے نزدیک نہیں جاتا ۔ اسطرح سے پاک رہتا ہے ۔ جیسے پھول ریشم گھی اور ہرن کی کھال پاک ہوتی ہے (13) جس پر مہربان خدا کی مہربانی اور کرم و عنایت ہو وہی برایوں سے لرنے کے لئے جہادی اور نہادر ہواتا ہے ۔ جو خدا کی نظر عنایت و شفقت میں ہو وہی شیک مسائخ اور حاجی ہے (14) قادر کی قائنات قدرت ارو خداوندکریم کے کرنے کو رحمان الرحیم کی حمدوچناہ اور محبت حق فرمان اور الہٰی سچ سمجھ کر اے نانک دنیاوی غلامی سے نجات حاصل ہوتی ہے ۔

ماروُ مہلا ੫॥
پارب٘رہم سبھ اوُچ بِراجے ॥
آپے تھاپِ اُتھاپے ساجے ॥
پ٘ربھ کیِ سرنھِ گہت سُکھُ پائیِئےَ کِچھُ بھءُ ن ۄِیاپےَ بال کا ॥੧॥
گربھ اگنِ مہِ جِنہِ اُبارِیا ॥
رکت کِرم مہِ نہیِ سنّگھارِیا ॥
اپنا سِمرنُ دے پ٘رتِپالِیا اوہُ سگل گھٹا کا مالکا ॥੨॥
چرنھ کمل سرنھائیِ آئِیا ॥
سادھسنّگِ ہےَ ہرِ جسُ گائِیا ॥
جنم مرنھ سبھِ دوُکھ نِۄارے جپِ ہرِ ہرِ بھءُ نہیِ کال کا ॥੩॥
سمرتھ اکتھ اگوچر دیۄا ॥
جیِء جنّت سبھِ تا کیِ سیۄا ॥
انّڈج جیرج سیتج اُتبھُج بہُ پرکاریِ پالکا ॥੪॥
تِسہِ پراپتِ ہوءِ نِدھانا ॥
رام نام رسُ انّترِ مانا ॥
کرُ گہِ لیِنے انّدھ کوُپ تے ۄِرلے کیئیِ سالکا ॥੫॥
آدِ انّتِ مدھِ پ٘ربھُ سوئیِ ॥
آپے کرتا کرے سُ ہوئیِ ॥
بھ٘رمُ بھءُ مِٹِیا سادھسنّگ تے دالِد ن کوئیِ گھالکا ॥੬॥
اوُتم بانھیِ گاءُ گد਼پالا ॥
سادھسنّگتِ کیِ منّگہُ رۄالا ॥
باسن میٹِ نِباسن ہوئیِئےَ کلمل سگلے جالکا ॥੭॥
سنّتا کیِ اِہ ریِتِ نِرالیِ ॥
پارب٘رہمُ کرِ دیکھہِ نالیِ ॥
ساسِ ساسِ آرادھنِ ہرِ ہرِ کِءُ سِمرت کیِجےَ آلکا ॥੮॥
جہ دیکھا تہ انّترجامیِ ॥
نِمکھ ن ۄِسرہُ پ٘ربھ میرے سُیامیِ ॥
سِمرِ سِمرِ جیِۄہِ تیرے داسا بنِ جلِ پوُرن تھالکا ॥੯॥
تتیِ ۄاءُ ن تا کءُ لاگےَ ॥
سِمرت نامُ اندِنُ جاگےَ ॥
انت بِنود کرے ہرِ سِمرنُ تِسُ مائِیا سنّگِ ن تالکا ॥੧੦॥
روگ سوگ دوُکھ تِسُ ناہیِ ॥
سادھسنّگِ ہرِ کیِرتنُ گاہیِ ॥
آپنھا نامُ دیہِ پ٘ربھ پ٘ریِتم سُنھِ بیننّتیِ کھالکا ॥੧੧॥
نام رتنُ تیرا ہےَ پِیارے ॥
رنّگِ رتے تیرےَ داس اپارے ॥
تیرےَ رنّگِ رتے تُدھُ جیہے ۄِرلے کیئیِ بھالکا ॥੧੨॥
تِن کیِ دھوُڑِ ماںگےَ منُ میرا ॥
جِن ۄِسرہِ ناہیِ کاہوُ بیرا ॥
تِن کےَ سنّگِ پرم پدُ پائیِ سدا سنّگیِ ہرِ نالکا ॥੧੩॥
ساجنُ میِتُ پِیارا سوئیِ ॥
ایکُ د٘رِڑاۓ دُرمتِ کھوئیِ ॥
کامُ ک٘رودھُ اہنّکارُ تجاۓ تِسُ جن کءُ اُپدیسُ نِرمالکا ॥੧੪॥
تُدھُ ۄِنھُ ناہیِ کوئیِ میرا ॥
گُرِ پکڑاۓ پ٘ربھ کے پیَرا ॥
ہءُ بلِہاریِ ستِگُر پوُرے جِنِ کھنّڈِیا بھرمُ انالکا ॥੧੫॥
ساسِ ساسِ پ٘ربھُ بِسرےَ ناہیِ ॥
آٹھ پہر ہرِ ہرِ کءُ دھِیائیِ ॥
نانک سنّت تیرےَ رنّگِ راتے توُ سمرتھُ ۄڈالکا ॥੧੬॥੪॥੧੩॥
لفظی معنی:
چار برہم۔ پارلگانیوالا ۔ خدا۔ سبھ اوچ۔ سب سےب لند۔ براجے ۔ بستا ہے ۔ تھاپ۔ پیاد کرکے ۔ اُتھاپے ۔ مٹاتا ہے ۔ ساجے ۔ بناتا ہے ۔ شرن ۔ پناہ ۔ گہت ۔ پکڑنے سے ۔ بھؤ۔ خوف۔ بال۔ رتی بھر (1) گربھ اگن ۔ پیٹ کی آگ ۔ اُبھاریا۔ بچاریا۔ رکت۔ خون۔ کرم ۔ کڑے ۔ سنگھاریاں ۔ مرنے دیا۔ پرتپالیا۔ پرور ش کی ۔ سگل گھٹا۔ سارے دلون کا (2) چرن کمل۔ پھولوں جیسے پاؤن۔ سرنائی۔ پناہگیر ۔ ساوھ سنگ ۔ صحبت پاکدامن ۔ ہر جس ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ دوکھ نوارے ۔ عذآب متائے ۔ بھؤ۔ خوف۔ کال۔ موت (3) سرمرتھ۔ با توفیق ۔ اکتھ ۔ جوکہی نہ جا سکے ۔ دیوا۔ فرشتہ ۔ جیئہ جنت۔ ساری مخولقات۔ انڈج۔ انڈوں سے ۔ پیدا ہونے والے ۔ جیرج ۔ جیر سے پیدا ہونے والے ۔ سنج ۔ پینے سے پدیا ہونے والے ۔ اُتمج۔ خودرو۔ بہو پرکاری ۔ بہت سے طریقون ے (4) پراپت۔ حاصل۔ ندھانا۔ خزانہ ۔ رس۔ لطف۔ کر گیہہ۔ ہاتھ پکڑا۔ اندھ ۔ کوپ۔ اندھے کوئین۔ سالکا۔ صادق ۔ خڈارسیدہ (5) آد۔ آغاز۔ انت۔ آکر۔ بھرم۔ بھٹکن ۔ بھؤ۔ کوف۔ دالد۔ غریبی ۔ بھکمری ۔ گھال۔ مشقت۔ محنت۔ (6) اُتم بانی۔ متبرک کلام۔ گوپال۔ زمین یا علام کو پالنے والا۔ روالا۔ دہول۔ باسن۔ خواہشات۔ نباسن ۔ بلاخواہشات۔ کلمل۔ گناہ۔ (7) نیت۔ رسم۔ رواج ۔ نرالی۔ انوکھی۔ نالی۔ ساتھ۔ آرادھن۔ یاد۔ آلکا۔ سستی ۔غفلت (8) ان رجامی۔ اندرونی راز جاننے والا۔ نمکھ ۔ ذرا سا۔ وسرہو۔ بھولہو۔ بن۔ جنگل۔ جل۔ مراد سمندر۔ تھالگا۔ ریگستان (9) تتی داؤ۔ گرم ہوا۔ پریشانی۔ تاکو۔ اسے ۔ سمرت۔ نام ۔ سچ حق و حقیقت کی یاد وریاض ۔ اندن۔ ہر روز۔ جاگے ۔ بیدار وہشیار ہے ۔ اند ۔ دنود۔ روحانی خوشیاں۔ گالکا۔ تعلق (10) روگ سوگ۔ بیماری و غمگینی ۔ خلقا خلقت ۔ پدیا کرنے والا۔ روزی مہیئا کرنے والا (1) رنگ رتے ۔ پریم پیار مین محوو متاچر۔ درے ۔ شاذو نادر۔ بھالکا۔ ملتے ہیں۔ تلاش سے (12) دہوڑ۔ دہول۔ خا پا۔ کاہو بیرا۔ کبھی بھی ۔ پرم پد۔ بلند رتبہ۔ سنگی ۔ ساتھی۔ نالکا ۔ ساتھ (113) ساجن۔ دوست۔ میت۔ دوست۔ سوئی وہی ۔ درڑائے ۔ ذہ ن شین کرائے ۔ درمت ۔ بدعقلی ۔ تجائے ۔ چھڑائے ۔ اپدیش۔ ۔ نصیحت ۔ سبق ۔ نرمالکا۔ پاک و پائس بنانے والا (14) گر۔ مرشد۔ پربھ کے پیرا۔ خدا پرستی ۔ کھنڈیا۔مٹائیا۔ بھرم۔ وہم وگمان۔ انالکا۔ ساتھی نیں تھا (15) آٹھ پہر۔ مراد ہر وقت۔ دھیائی۔ توجہ دیان۔ دھیان رکھنا ۔ رنگ راتے ۔ پریم میں محو ومتاثر ۔ سمرتھ وڈالکا ۔ بھاری۔ توفیق اور قوتوں کا ملاک ہیں۔
ترجمہ:
خدا سبھ سے بلند ذہن نشین روحانی ٹھکانے رہائش پذیر رہت اہے وہ خود ہی پیدا کرتا ہے اور مٹاتا ہے خود ہی اور خود ہی بناتا ہے مراد عالم وجود میں لااتا ہے اسکی پناہ گیری سے روحانی خوشیان حاصل ہوتی ہے دنیاوی دؤلت کی محبت کا خوف اس پر اثر انداز نیں ہوتا (1) پیٹ کی آگ مین جس نے بچائیا۔ خون اور کیڑوں سے مرنے نہیں دیا اور اپنی یادوریاض سے پرورش کی ۔ ایسا خدا سبھ کے دلوں کا مالک ہے (2) جو انسان خدا کا پنا ہ گیر ہوجاتاہے اور پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت و قربت میں الہٰی حمدوچناہ کرتا ہے خدا اسکے ساری زندگی کے عذآب مٹادیتا ہے ۔ خدا کی یادوریاض سے روحانی واخلاقی موت کا خوف مٹا جاتا ہے مٹ جاتا ہے (3) خدا سب طاقتوں کا مالک ہے اسکی شکل وصورت بیان نہیں کی جاسکتی وہ انسانی عقل و ہوش اور انسانی رسائی سے ب عید ہے اور نور ہی نور ہے ساری مخلوقات اسکے سہارے ہے ۔ انڈوں جیروں پیسنے اور خود رؤ چاروں جانداروں کی کانوںکی مخلوقات کی بہت سے طریقوں سے پروش کرتا ہے (4 خدا کا نام جس کے دل میں بستا ہے الہٰی نام کا لطف ۔ اسے ہی یہ خزانہ نسیب ہوتا ہے جنہیں اس دنیایو دؤلت کے کوٹئیں سے خدا ہاتھ پکڑ نکال لیت اہے ۔ مگر ایسا کوئی ہی سنت ہوتا ہے (5) زمانے کے ہر دور ماضی حال و مستقبل وہی خدا ہے ۔ وہی کرتا ہے جو ہوتا ہے صحبت و قربت پارسایان پاکامنوں خا رسیدوں سے خوف۔ بھٹکن ۔ غریبی اور جھگڑی مٹ جاتے ہیں (6) زندگی کو بلندی بہتر بنانے والے کلام الہٰی کی حمدوثناہ کیا کرؤ۔ اس طرح سے زندگی تمام خواہشات مٹا کر دا رسیدہ پاکدامن عاشقان الہٰی کی ناک یا پا مانگو ۔ اس سے سارے گناہ جل جاتے ہن (7) خدا رسیدہ عاشقان خدا کی یہ انوکھی اور نرالی رسم وراج ہے کہ وہ خدا کو ہمیشہ اپنے ساتھ سمجھتے ہیں خدا کو یہ سانس یاد کرؤ دلمیں بساؤ اور یادوراض میں غفلت نہ کرؤ (8) جدھر نظر جاتیی راز دل جاننے والا خدا دیکھتت خدا تیرے خدمتگار تیری یادوریاض سے روحانی زندیگ پاتے ہیں۔ جنگل سمنر اور زمین غرض یہ کہ ہر جگہ تو آباد ہے (9) اے خدا نیں کوئی دشواری پیش نہیں آتی جو ہر روز بیدار رہتے ہیں خدا کے نام سچ حق و حقیقت سے خڈا کو یاد رکھنے والا روحانی سکون کا لطف لیتا ہے خوش رہتا ہے اور دنیاوی دؤلت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا (10) غمگینی اور بیماری اور عذاان ہوتا ااون کی صھبت میں صفت صلاح خدا کی کرتا ہے اے خالق خدا۔ میرے پیار میری یہ ذارش سن کر مجھے خدا کا نام سچ حق و حقیقت بخشیئے (11) اےپیارے خدا تیرا نام ایک قیمتی نعمت ہے ۔ اے خدا تیرے خدمتگار (محبوب) اس میں محو ومجذوب رہتے ہیں۔ جو تیرے پریم پیار میں۔ اے خدا محو ومجذوب ہوجاتے ہں۔ تیرے مانند ہوجاتے ہیں۔ مگر ایسے بہت کم ملتے ہیں (12) میرا دل انکی خا پا مانگتا ہے جہ نہیں بھولتا کبھی خڈا انکے ساتھ اور صحبت سے بلند رتبے حاصل ہوتے ہیں۔ جن کے ساتھ رہتا ہے خدا (13)میرا دوست اور پیار ا ہے وہی جو وآحد خدا کو ذہن نشین کراتا ہے اور بدعقلی گنواتا ہے میرے دل سے ۔ جو مجھ سے شہوت غصہ اور تکبر چھڑواتا ہے ۔ اسکا سبق اور نصیحت پاک بنانے ولای ہے (14) اے خدا تیرے بغیر نہین کوئی میرا ۔ مرشد نے مجھے اے خدا تیرا دامن پکڑائیا ہے میں قربان ہوں اس سچے مرشد پر قربان ہوں جسے میری بھٹکن جو میری ساتھی نہیں مٹا دی (15) ہر سانس خدا کو نہ بھولوں ہر وقت اس میں دھیان رہے ۔ اے نانک۔ اے خدا تو سبھ ہر طرح کی طاقتوں کا ملاک ہے اور سب سے بلند عظمت ہے تیرے محبوب سنت ۔ ہمیشہ تیرے پریم پیار میں محو ومجذوب اور متاچر ہتے ہیں۔

ماروُ مہلا ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
چرن کمل ہِردےَ نِت دھاریِ ॥
گُرُ پوُرا کھِنُ کھِنُ نمسکاریِ ॥
تنُ منُ ارپِ دھریِ سبھُ آگےَ جگ مہِ نامُ سُہاۄنھا ॥੧॥
سو ٹھاکُرُ کِءُ منہُ ۄِسارے ॥
جیِءُ پِنّڈُ دے ساجِ سۄارے ॥
ساسِ گراسِ سمالے کرتا کیِتا اپنھا پاۄنھا ॥੨॥
جا تے بِرتھا کوئوُ ناہیِ ॥
آٹھ پہر ہرِ رکھُ من ماہیِ ॥
سادھسنّگِ بھجُ اچُت سُیامیِ درگہ سوبھا پاۄنھا ॥੩॥
چارِ پدارتھ اسٹ دسا سِدھِ ॥
نامُ نِدھانُ سہج سُکھ نءُ نِدھِ ॥
سرب کلِیانھ جے من مہِ چاہہِ مِلِ سادھوُ سُیامیِ راۄنھا ॥੪॥
ساست سِنّم٘رِتِ بید ۄکھانھیِ ॥
جنمُ پدارتھُ جیِتُ پرانھیِ ॥
کامُ ک٘رودھُ نِنّدا پرہریِئےَ ہرِ رسنا نانک گاۄنھا ॥੫॥
جِسُ روُپُ ن ریکھِیا کُلُ نہیِ جاتیِ ॥
پوُرن پوُرِ رہِیا دِنُ راتیِ ॥
جو جو جپےَ سوئیِ ۄڈبھاگیِ بہُڑِ ن جونیِ پاۄنھا ॥੬॥
جِس نو بِسرےَ پُرکھُ بِدھاتا ॥
جلتا پھِرےَ رہےَ نِت تاتا ॥
اکِرتگھنھےَ کءُ رکھےَ ن کوئیِ نرک گھور مہِ پاۄنھا ॥੭॥
جیِءُ پ٘رانھ تنُ دھنُ جِنِ ساجِیا ॥
مات گربھ مہِ راکھِ نِۄاجِیا ॥
تِس سِءُ پ٘ریِتِ چھاڈِ ان راتا کاہوُ سِرےَ ن لاۄنھا ॥੮॥
دھارِ انُگ٘رہُ سُیامیِ میرے ॥
گھٹِ گھٹِ ۄسہِ سبھن کےَ نیرے ॥
ہاتھِ ہمارےَ کچھوُئےَ ناہیِ جِسُ جنھائِہِ تِسےَ جنھاۄنھا ॥੯॥
جا کےَ مستکِ دھُرِ لِکھِ پائِیا ॥
تِس ہیِ پُرکھ ن ۄِیاپےَ مائِیا ॥
نانک داس سدا سرنھائیِ دوُسر لۄےَ ن لاۄنھا ॥੧੦॥
آگِیا دوُکھ سوُکھ سبھِ کیِنے ॥
انّم٘رِت نامُ بِرلےَ ہیِ چیِنے ॥
تا کیِ کیِمتِ کہنھُ ن جائیِ جت کت اوہیِ سماۄنھا ॥੧੧॥
سوئیِ بھگتُ سوئیِ ۄڈ داتا ॥
سوئیِ پوُرن پُرکھُ بِدھاتا ॥
بال سہائیِ سوئیِ تیرا جو تیرےَ منِ بھاۄنھا ॥੧੨॥
مِرتُ دوُکھ سوُکھ لِکھِ پاۓ ॥
تِلُ نہیِ بدھہِ گھٹہِ ن گھٹاۓ ॥
سوئیِ ہوءِ جِ کرتے بھاۄےَ کہِ کےَ آپُ ۄجنْاۄنھا ॥੧੩॥
انّدھ کوُپ تے سیئیِ کاڈھے ॥
جنم جنم کے ٹوُٹے گاںڈھے ॥
کِرپا دھارِ رکھے کرِ اپُنے مِلِ سادھوُ گوبِنّدُ دھِیاۄنھا ॥੧੪॥
تیریِ کیِمتِ کہنھُ ن جائیِ ॥
اچرجُ روُپُ ۄڈیِ ۄڈِیائیِ ॥
بھگتِ دانُ منّگےَ جنُ تیرا نانک بلِ بلِ جاۄنھا ॥੧੫॥੧॥੧੪॥੨੨॥੨੪॥੨॥੧੪॥੬੨॥
لفظی معنی:
چرن کمل۔ پھولوں جیسے پاک پاوں ۔ پروے ۔ دل ۔ ذہن۔ دھاری۔ بساؤ۔ نمسکاری ۔ پیشانی جھکاؤ۔ کھن کھن۔ بار بار ۔ ۔ تن ۔ من ۔ دل وجان۔ ۔ ارپ۔ بھینٹ۔ سہاونا۔ سوہنا (1) ٹھاکر۔مالک۔ وسارے ۔ بھلائے ۔ جیؤ پنڈ۔ روح اور جسم ۔ ساز سوار ۔ پیدا کرکے درست کئے ۔ گراس۔ لقمہ ۔ کرا۔ کرتار۔ پاونا۔ پانا (2) برتھا۔ بیکار۔ من ماہی ۔ دلمیں۔ بسا۔ بھج۔ یاد کر۔ اچت۔ لافناہ۔ سادھ سنگ۔ سادہووں ۔ فقروں کے ساتھ۔ درگیہہ۔ بارگاہ۔ عدالت ۔ سوبھا ۔ شہرت۔ چارپدارتھ۔ چار نعمتیں۔ سدھیاں مراد کراماتی طاقتیں۔ نام ندھان۔ الہٰی نام کا خزانہ (ست) یا سچ۔ سہج سکھ۔ روحانی وزہنی سکون۔ نوندھ۔ نو خزانے ۔ سرب کلیان۔ ہر طرح کی خوشحالی۔ چاہے ۔ چاہتا ہے ۔ سادہو ۔ جس نے طرز زندگی درست کرلی ۔ ہے سوآمی راونا۔ عبادت خدا (4) وکھانی۔ ویارکھیا۔ تشریح۔ جیت۔ پرانی۔ فتح کر۔ پر ہرییئے ۔ چھوڑئے ۔کام ۔ شوت ۔ کرودھ ۔ غصہ۔ نندا۔ بدگوئی۔ رسنا۔ زبان (5) روپ ۔ شکل۔ ریکھیا۔ لکیر۔ نشانی۔ کل ۔ خاندان۔ جاتی۔ ذات۔ پورن پور رہیا۔ مکمل طور پر بستا ہے ۔ وڈبھاگی ۔ بند قسمت۔ بہوڑ ۔ دوبارہ۔ جونی۔ جنم۔ زندگی ۔ ۔ پاونا۔ نصیب نہ ہوگی (6) پرکھ بدھاتا۔ منصوبہ ساز ہستی ۔ تاتا۔ غصے میں۔ آکرت گھنے ۔ احسان فراموش۔ نرک گھور ۔ غضبناک دوزخ (7) جیؤ ۔ زندگی۔ ساجیا۔ پیدا کی ۔ نوازیا مہربانی فرمای۔ ان راتا۔ دوسروں کی محوت میں محو۔ کاہو ۔ برے ناہ لاونا ۔ کسی میں کامیابی حاصل نہ کرنا (8) انگریہہ ۔ کرم و عنایت ۔ مہربانی۔ گھٹ گھٹ۔ ہر دلمیں۔ سبھن۔ سبھ ۔ کے ساتھ۔ نیڑے ۔ نزدیک۔ کچھوئ ۔ کچھ بھی۔ جانیئہہ۔ سمجھا ئے ۔ تسے ۔ اُصے ۔ جناونا۔ سمجھانا (9) مستک۔ پیشانی۔ دھر۔ بارگاہ۔ خدا سے ۔ پرکھ ۔ انسان۔ ویاپے مائیا۔ دنیاوی دولت نہیں بستی ۔ متاچر کرتی ۔ لوئے نہ لاونا۔ نزدیک نہ پھتکنے دیان (10) آگیا۔ اجازت ۔چینے ۔ پہچانیا جت کت۔ جہاں کہیں (11) وڈداتا۔ بھاری سخی۔ پورن پرکھ ۔ مکمل ہستی ۔ بدھات ا۔ منصوبہ ساز۔ بال سہائی۔ بچسن سے مددگار ۔ بھاونا ۔ پیار (12) مرت۔ موت۔ دوکھ ۔ سوکھ ۔ آرام و آسائش۔ تل۔ ذرا سا۔ بدھیہہ۔ گھٹیہہ۔کمی بیشی ۔ سوی ہوئے ۔ وہی ہوتا ہے ۔ کرتے بھاوے ۔ جو رضائے کرتا ہے ۔ آپ وجھاونا۔ پانے آپ کو ذلیل کرنا (13) اندھ کوپ ۔ اندھے کوئین۔ مراد جہالت ۔ سیئی کاڈھے ۔ وہی نکالتا ہے ۔ ٹوٹے گانڈھے ۔ منقطع تعلقا تکو بناتا ہے ۔ کرپا دھار۔ مہربانی کرکے ۔ کر۔ بناکر۔ مل۔ سادہو۔ مرشد سے ملکر (15) قیمت۔ قدر۔ اچرج روپ۔ حیران کرنے ولای شکل ۔ وڈی وڈیائی۔ بلند۔ عظمت و حشمت۔ دان۔ خیرات۔ بھیک۔
ترجمہ:
کامل مرشد کے آگے بار بار پیشای جھکاؤں اور اسکے پاؤں کا گروید ہو جاؤں اور دل و جان اسے بھینٹ کردوں تو دنیا میں اموری حاصل ہوجائے (1) اس مالک کو کیوں دل سے بھلائیا جائے جس نے یہ حسن زندگی نعیات کی ہے ۔ اسے ہر سانس ہر لقمہ دل میں بساؤ خدا کا ر ساز ک وکیونکہ کئے ہوئے کا صلہ ملتا ہے (2) خدا کے گھر سے خالی ہاتھ کوئی نہیں آتا ہر قت اُسے دل میں بسا۔ سادہو والی اللہ کی صحبت میں راہ کر اسے لافناہ مالک کو یاد کیا کر اس سے بارگاہ خدا میں ناموری اور شہرت حاصل ہوتی ہے (3) چاروں نعمتیں اُٹھاراں کراماتی طاقتیں خدا کے نام کا خزانہ روحانی سکون دنیاوی نو خزانے اور ہر طرح کی خوشحالی اگر دل سے چاہتا ہے تو ولی اللہ سے ملکر خدا کی عبادت و ریاضت کر (4) شاشتر سمرتیاں یہی بتاتی ہیں اور وید کر اے انسان اپنی زندگی پر عبور یا فتح حاصل کر کامیاب نبا۔ شہوت پرستی ۔ غصہ اور بدگوئی چھور رک اے نانک۔ زبان سے حمدوچناہ کر (5) خدا جسکی نہ کوئی شکل و صورت ہے نہ کوئی نشانی ہے نہ کوئی ی خاندان ے نہ ذات ۔ جو روز و شب موجود ہے جو اسکی یادوریاض کرتا ہے ۔ وہ بلند قسمت ہے اسے تاسخ میں جنا نہیں پڑتا ہے (6) جسنے بھلائیا منصوبہ ساز خدا۔ وہ ہر روز پریشان حال رہتاہے ۔ ایسے احسان فراموش کو کوئی بچانہیں سکتا ۔ دوزخ میں ڈالا جاتا ہے (7) جس نے زندگی عنایت فرمائی ہے خوبصورت جسم بخشا ہے ارور دولت عنایت کی ہے ۔ مان کے پیٹ میں حفاظتکی ہے رحمت فرمائی ہے اسکی محبت پیار چھوڑ کر دوسروں سے محبت کرتا ہے اسے کہیں کامیابی حاصلنہیں ہوتی (8) اے میرے آقا مریے مالک کرم وعنایت فرما مہربانی کر۔ تو ہر دل میں بستا ہے سبھ کے ساتھ ہے انسان کے پاس کوئی توفیق نیں ہے جسے تو سمجھائے وہی سمجھتا ہے (9) جسکی پیشانی پر خدا نے کندہ کیا ہے تحریر ہے اسی انسان کو دنیاوی دؤلت متاچر نہیں کرتی۔ اے نانک۔ خادمان خدا ہمیشہ زیر پناہ خدا رہتے ہیں وہ کسی دوسرے کوخدا کے برابر نہیں سمجھتے (10) آرام و آسائش خدا کے ہاتھ ہے ۔ آبحیات نام جو انسانی زندگی کو روحانی اور اخلاقی طور پر بہتر بناتا ہے کسی کو ہی پہچان ہے ۔ اسکی قدروقیمت بیان سے باہر ہے جہان کہیں وہ بستا ہے (11) وہی ہے خادم خدا دیتی ہے بھاری سختی وہی کامل انسان اور منصوبہ ساز ہے وہی تیرا بچپن کا ساتھی اور مددگار ہے جو تیرا دلی محبوب ہے (12) موت و آرام و آسائش تحریر ہیں جو نہ ذرا سے بڑھائے جا سکتے نہ گھٹائے جا سکتے ہیں۔ ہوتا ہے وہی جو رضائے خدا ہوتا ہے اور نہ گہہ کر ذلیل خوآر ہونا ہے (13) دنیاوی دؤلت کے اندھے کوہیں سے ہوی نکالتا ہے اور دیرینہ ٹوٹے رشتے دوبار قائم کرتا ہے جنہیں اپنی کرم و عنایت سے اپنالیتا ہے وہ سادہو سے ملکر خدا کی حمدوثناہ کرتے ہیں (14) اے خدا تیرے قدروقیمت بیان سے باہ رہے تیری شکل و خیران کرنے والی ہے تو بلند عطمت ہے تیرا خدمتگار اے خدا تیری خدمت کی خیرات چاہتا ہے ۔ نانک صدقے و قربان ہے تجھ پر ۔
ماروُ ۄار مہلا ੩
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سلوکُ مਃ੧॥
ۄِنھُ گاہک گُنھ ۄیچیِئےَ تءُ گُنھُ سہگھو جاءِ ॥
گُنھ کا گاہکُ جے مِلےَ تءُ گُنھُ لاکھ ۄِکاءِ ॥
گُنھ تے گُنھ مِلِ پائیِئےَ جے ستِگُر ماہِ سماءِ ॥
مد਼لِ امد਼لُ ن پائیِئےَ ۄنھجِ ن لیِجےَ ہاٹِ ॥
نانک پوُرا تولُ ہےَ کبہُ ن ہوۄےَ گھاٹِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سہلگھو ۔ سستا۔ لاکھ ۔ قیمتی ۔ وکائے ۔ فروخت۔ گن نے گن مل۔ وصف ہونے کی وجہ سے وصف ملتا ہے ۔ سمائے ۔ گاہک ۔ خریدار ۔ بے ستگر ماہے سمائے ۔ اگر اپنے آپ کو سچے مرشد میں محو ومجذوب کردے ۔ مول۔ قیمت۔ امول۔ نہایت۔بیش قیمت ۔ جسکی قیمت مقرر نہ کی جاسکے ۔ وتج۔ خریداری ۔ ہاٹھ ۔ دکان ۔ تول۔ تخمینہ ۔ پورا۔ مکمل (1)
ترجمہ:
اگر خریدار کے بغیر کوئی وصف یا قیمتی نعمت فروخت کیجائے تو وہ سستی قیمت پر بیچنی یا فروخت کرنی پڑلگی ۔ برعکس اسکے اگر خریدار ملجائے وہ مہنگے دام ۔ فروخت وہ جاتی ہے ۔ اگر اپنا آپا مرشد کے حوالے کر دیا جائے تو خدا کی حمدوثناہ کرنے سے مراد با اوصاف کے ملاپ سے اوصاف حاصل ہوتا ہے ۔ کیونکہ اوساف قیمتا حاصل نہیں ہو سکتے کیونکہ نہایت بیش قیمت ہیں نہ کسی دکان سے خریدا جا سکتا ہے ۔ اے نانک اسکی قیمت مقرر ہے ۔ جو کبھی کم و بیش نہیں ہوتی (1)
مਃ੪॥
نام ۄِہوُنھے بھرمسہِ آۄہِ جاۄہِ نیِت ॥
اِکِ باںدھے اِکِ ڈھیِلِیا اِکِ سُکھیِۓ ہرِ پ٘ریِتِ ॥
نانک سچا منّنِ لےَ سچُ کرنھیِ سچُ ریِتِ ॥੨॥
لفظی معنی:
دہونھے ۔ بغیر۔ بھرمسہ۔ بھٹکتے ہیں۔ آویہہ۔ جاویہہ۔ آواگون ۔ تناسک۔ نیت۔ ہر روز۔ باندھے ۔ غلام۔ ڈھلیا۔کم غلام۔ سکھیئے ۔ آرا م پاتے ہں ۔ ہر پریت۔ خدا سے محبت ہے ۔ سچا من ۔ جو خدا میں یقین و ایما ن لاتا ہے ۔ سچ کرنی ۔ سچے نیک پاک اعمال ۔ سچ ریت۔ پاک رسم و رواج۔
ترجمہ:
الہٰی نام ست سچ حق وحقیقت کے بغیر جو صدیوی ہے انسان آواگون اور تناسخ میں بھٹکتا رہتا ہے کئی دنیایوی بندھوں کے غلام ہیں اور کئی کم بندھوںمیں ہیں ایک خدا کے پریم پیار سے آرام پاتے ہیں۔ اے نانک۔ جو خدا میں یقین وایمان لاتا ہے اسکے اعمال سچے ہو جاتے ہیں اور سچے رسم و رواج ہوجاتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
گُر تے گِیانُ پائِیا اتِ کھڑگُ کرارا ॥
دوُجا بھ٘رمُ گڑُ کٹِیا موہُ لوبھُ اہنّکارا ॥
ہرِ کا نامُ منِ ۄسِیا گُر سبدِ ۄیِچارا ॥
سچ سنّجمِ متِ اوُتما ہرِ لگا پِیارا ॥
سبھُ سچو سچُ ۄرتدا سچُ سِرجنھہارا ॥੧॥
لفظی معنی:
گیان۔ علم۔ دانش۔ کھڑگ۔ شمشیر۔ تلوار ۔ کراارا۔ سکت۔ بھرم گڑ۔ وہم وگمان کا قلعہ ۔ کٹیا۔ گرائیا۔ موہ۔ دنیاوی محبت۔ لوبھ۔ لالچ ۔ اہنکار۔ غرور۔ تکبر ۔ گر سبدویچار۔ کلام رمشد کو سوچ سمجھ کر۔ سچ سنجم۔ حقیقت اور ضبط سے ۔ مت اتما۔ عقل وہوش بلند و برتر ۔ سچو سچ و رتدد۔ ہر جگہ خدا بستا ہے ۔ سرجنہار۔ پیدا کرنے والا (1)

ترجمہ:
مرشد سے علم کی تیز شمشیر حاصل ہوئی جس کی بری تیز دھار ہے ۔ جس نے وہم و گمان کا قلعہ مسمار کر دیا دنیاوی دولت کی محبت لالچ اور تکبر و غرور میں محصور تھا۔ یا جسکی دیواریں ان سے بنی ہوئی تھیں۔ کلام یا سبق مرشد کو سچ سمجھ کر الہٰی نام ست سچ و حقیقت دل میں بسا اور سچ و ضبط اختیار کرنے سے عقل بہتر ہوئی اور خدا سے پیار پیدا ہوا اور ہر جگہ بستے خدا کا دیدار ہوا۔
سلوکُ مਃ੩॥
کیدارا راگا ۄِچِ جانھیِئےَ بھائیِ سبدے کرے پِیارُ ॥
ستسنّگتِ سِءُ مِلدو رہےَ سچے دھرے پِیارُ ॥
ۄِچہُ ملُ کٹے آپنھیِ کُلا کا کرے اُدھارُ ॥
گُنھا کیِ راسِ سنّگ٘رہےَ اۄگنھ کڈھےَ ۄِڈارِ ॥
نانک مِلِیا سو جانھیِئےَ گُروُ ن چھوڈےَ آپنھا دوُجےَ ن دھرے پِیارُ ॥੧॥
لفظی معنی:
کہدارا راگ۔ ایک راگ ہے ۔ جس میں اور ماردر آگ میں ۔ معمولی فرق ہے ۔ سبدے ۔ کلام۔ ست سنگت۔ پاکدامنوں کی صحبت و قربت ۔ سچے ۔ صدیوی خدا سے ۔ مل ۔ ناپاکیزگی ۔ کلا ۔ خاندان۔ نسب۔ راس۔ سرمایہ۔ سنگدیئے ۔ اکھٹا کرے ۔ آوگن کیداراراگ۔بد اوصاف ۔ وڈار۔ پھاڑ کر مارے ۔
ترجمہ:
کیداراگ کو راگوں میں تبھی سمجھ آئیگا اگر کلام سے محبت ہو۔ اگر دل و دماغ سے ناپاکیزگی دور کردے جائے تو خاندان کو کامیابی حاسل ہوتی ہے اوصاف کی دولت جمع کرے اور بد اوصاف مٹا دے ۔ اے نانک۔ ملاپ اسکا سمجھو جو مرشد کا ساتھ اور آسرا نہ چھوڑے ۔ دوئی دوئش سے پیار نہ کرے ۔

مਃ੪॥
ساگرُ دیکھءُ ڈرِ مرءُ بھےَ تیرےَ ڈرُ ناہِ ॥
گُر کےَ سبدِ سنّتوکھیِیا نانک بِگسا ناءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ساگر۔ دنیاوی زندگی کو سمبدر سے تشبیح دی ہے ۔ ڈر۔ خوف۔ سنتوکھیا۔ صابر۔ وگسا۔ خوش۔ نائے ۔ نام ۔ سچ و حقیقت سے
ترجم:
جب زندگی کے بنیادی سمندر کی طرف نظر جاتی ہے سوچتے ہیں تو خوف محسوس ہوتا ہے مگر اے خدا تیرا خوف رکھنے سے دنیاوی خوف دور ہا جاتا ہے کیونکہ کلام مرشد سے انسان صابر ہوجاتا ہے ۔ اور خدا کے نام سچ و حقیقت پر عمل کرنے س دل کھلتا ہے (2)

مਃ੪॥
چڑِ بوہِتھےَ چالسءُ ساگرُ لہریِ دےءِ ॥
ٹھاک ن سچےَ بوہِتھےَ جے گُرُ دھیِرک دےءِ ॥
تِتُ درِ جاءِ اُتاریِیا گُرُ دِسےَ ساۄدھانُ ॥
نانک ندریِ پائیِئےَ درگہ چلےَ مانُ ॥੩॥
لفظی معنی:
بوہتھ ۔ جہاز۔ ٹھاک۔ روک۔ دھیرک۔ حوصلہ ۔ یقین ۔ سادھان۔ ہوشیار۔ بیدار۔ مان ۔ وقار۔ (3)
ترجمہ:
دنیاوی زندگی کے سمندر میں لہریں اُٹھ رہی ہیں مگر جہاز میں سوار ہو جاؤ۔ مراد سبق و کلام مرشد ایک جہاز ہے ۔ اس پر عمل کرؤ۔ سچے حقیقی جہاز مراد سبق وکلام سے اور اس پر عمل کرنے سے کوئی رکاوٹ نہیں آتی زندگی میں اگر مرشد یقین حوصلہ افزائی کرے ۔ مرشد ہوشیار نظر آتا ہے وہ وہان پہنچا ئے گا۔ اے نانک۔ خدا کی نظر عنایت و شفقت حاصل ہوتا ہے بارگاہ خدا میں وقار حاصل ہوتا ہے (3)

پئُڑیِ ॥
نِہکنّٹک راجُ بھُنّچِ توُ گُرمُکھِ سچُ کمائیِ ॥
سچےَ تکھتِ بیَٹھا نِیاءُ کرِ ستسنّگتِ میلِ مِلائیِ ॥
سچا اُپدیسُ ہرِ جاپنھا ہرِ سِءُ بنھِ آئیِ ॥
ایَتھےَ سُکھداتا منِ ۄسےَ انّتِ ہوءِ سکھائیِ ॥
ہرِ سِءُ پ٘ریِتِ اوُپجیِ گُرِ سوجھیِ پائیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
نہکنٹک ۔ بلا دکھ تکلیف ۔ راج۔ ھکمرای ۔ بھنچ ۔ کر ۔ زیر تصرف۔ لا ۔ سچ کمائی۔ حقیقت اپنا سچی کمائی حقی کر۔ نیاو۔ انصاف۔ سچا اُپدیش ۔ سچی حقیقی واعظ پندو نصائج۔ بن ۔ ا تفاق ۔ سکھائی۔ ساتھی ۔ اپجی ۔ پیدا ہوئی۔ سوجہی ۔ سمجھ (2)
ترجمہ:
اے انسان بلا خوف و خطر حکمرای کر مرشد کے وسیلے سے سچ کما ۔ خدا تخت پر بیٹھ کر انصاف کرتا ہے وہ تجھے پاکدامنوں کی صحبت مہیا کرادیگا۔ سچا سبق سچی واعظ و نصیحت ہے یادویاریض خدا ہے اس سے خدا سے تیرا تعلق ار رشتہ پیدار ہو جائیگا۔ اس زندگی میں خدا دل میں بس جائیگا اور بوقت آخرت ساتھی اور مددگار ہوگا۔ جسے سچے مرشد نے سمجھ بخشی اسکا خدا سے پیار ہوگیا (2)
سلوکُ مਃ੧॥
بھوُلیِ بھوُلیِ مےَ پھِریِ پادھرُ کہےَ ن کوءِ ॥
پوُچھہُ جاءِ سِیانھِیا دُکھُ کاٹےَ میرا کوءِ ॥
ستِگُرُ ساچا منِ ۄسےَ ساجنُ اُت ہیِ ٹھاءِ ॥
نانک منُ ت٘رِپتاسیِئےَ سِپھتیِ ساچےَ ناءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
بھولی بھولی ۔ گمراہی میں۔ پادھر۔ صحیح راستہ ۔ سیانیا۔ دانشمندان ۔ ستگر۔ سچا مرشد ۔ جن ۔ دوست۔ اُت ہی ٹھائے ۔ اسی جگہ ۔ ترپتا سیئے ۔ تسکین پاتا ہے ۔ تسلی ہو جاتی ہے ۔ صفتی ساچے ۔ سچے نام کی صفت صلاح کرنے سے ۔
ترجمہ:
بہت عرصہ گمراہ رہا مجھے کس نے درست راہ نہین بتائیا دانشمندوں سے پوچھو جس سے میرا عذآب دور ہو جائے ۔ اے نانک اگر سچا مرشد دل میں بس جائے تو دوست وہیں ہے ۔ اے نانک۔ سچے نام سچ حق و حقیقت کو تسکین ملتی اور تسلی ہو جاتی ہے ۔

مਃ੩॥
آپے کرنھیِ کار آپِ آپے کرے رجاءِ ॥
آپے کِس ہیِ بکھسِ لۓ آپے کار کماءِ ॥
نانک چاننھُ گُر مِلے دُکھ بِکھُ جالیِ ناءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
کرنی ۔ کار لائق۔ ۔ کار ۔ کام۔ رضائے ۔ مرضی۔ چانن۔ روشنی ۔ دکھ ۔ عذاب تکلیف۔ وکھ۔ زہر۔ جالی نائے ۔ سچ و حقیقت الہٰی نام سے جل جاتی ہے (2)
ترجمہ:
خدا اپنی رضا سے جو کام اسکے کار لائق ہوتا ہے کرتا ہے خود ہی کسی کو بخشتا اور کام کرتا ہے اے نانک۔ ملاپ مرشد سے جسکا ذہن روشن ہو جاتا ہے وہ الہٰی نام ست سچ و حقیقت کی طارقت سے دنیاوی دولت زیلرے اثرات مٹا دیتا ہے (2)

پئُڑیِ ॥
مائِیا ۄیکھِ ن بھُلُ توُ منمُکھ موُرکھا ॥
چلدِیا نالِ ن چلئیِ سبھُ جھوُٹھُ دربُ لکھا ॥
اگِیانیِ انّدھُ ن بوُجھئیِ سِر اوُپرِ جم کھڑگُ کلکھا ॥
گُر پرسادیِ اُبرے جِن ہرِ رسُ چکھا ॥
آپِ کراۓ کرے آپِ آپے ہرِ رکھا ॥੩॥
لفظی معنی:
بھل ۔گمراہ۔ منمکھ ۔مرید من۔ مورکھا ۔ بیوقوف ۔ درب۔ دولت ۔ اگیانی ۔ بے علم۔ نادان ۔ اندھ۔ عقل سے اندھا بجھئی ۔ سمجھتا ہیں۔ گھڑگ۔ تولار۔ شمشر ۔ کلخا ۔ موت کی ۔ ابھرے ۔ بچتا ہے ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف ۔ ہر رکھا ۔ خدامحافظ۔
ترجمہ:
اے مرید من جاہل انسان مائیا دیکھ کر گمراہ نہ ہو۔ بوقت رحلت و رخصت یہ کسی کے ساتھ نہیں جاتی یہ سارا سرمایہ جھوٹا سمجھ ۔ بے علم عقل سے اندھا انسان نہیں سمجھتا کہ وت کی تلوار سر پر گھڑی ہے ۔ جنہوں نے الہٰی لطف کا مزہ لیا رحمت مرشد سے بچتے رہے ۔ خدا خود ہی یہ کرتا ہے اور کراتا ہے ۔ اور خودہی اسکا محافظ ہے ۔

سلوکُ مਃ੩॥
جِنا گُرُ نہیِ بھیٹِیا بھےَ کیِ ناہیِ بِنّد ॥
آۄنھُ جاۄنھُ دُکھُ گھنھا کدے ن چوُکےَ چِنّد ॥
کاپڑ جِۄےَ پچھوڑیِئےَ گھڑیِ مُہت گھڑیِیالُ ॥
نانک سچے نام بِنُ سِرہُ ن چُکےَ جنّجالُ ॥੧॥
لفظی معنی:
بھیٹیا۔ ملیا۔ بھے ۔ خوف۔ بند۔ بوند ۔ تھوڑا سابھی ۔ آون جانا۔ تناسخ۔ گھنا۔ نہایت زیادہ ۔ چوکے ۔ متتا ۔ چند ۔ تشویش ۔ فکر مندی۔ کاپڑ۔ کپڑے ۔ پچھوڑیئے ۔ پھتکتے ہیں۔ گھڑی مہت ۔ ہر گھڑی اور ہر مہت کے بعد ۔
ترجمہ:
جنکو ملاپ نصیب نہیں ہوا مرشد کا دل میں ذرہ بھر خدا کا خوف نہیں وہ تناسخ کے بھاری عذآب میں پڑا رہتا ہے اور ہر وقت ذہنی تشویش اور فکر لاحق رہتا ہے جس طرح کپڑے پھٹکائے جاتے ہں اور جیسے گھڑیال برا بار سزا پاتی ہے ۔ اے نانک۔ خدا کے سچے نام سچ اور حقیقت کے بغیر اسکے جھمیلے اور جھگڑے ختم نہیں ہوتے ۔

مਃ੩॥
ت٘رِبھۄنھ ڈھوُڈھیِ سجنھا ہئُمےَ بُریِ جگتِ ॥
نا جھُرُ ہیِئڑے سچُ چءُ نانک سچو سچُ ॥੨॥
لفظی معنی:
تربھون۔ تینوں عالم ۔ ڈہوڈی ۔ تلاش کی ۔ ہونمے ۔ خودی۔ ۔ جگت ۔ دنیا۔ جھر۔ فکر کر۔ ہیڑے ۔ اے دل۔ سچچو۔ سچ کہہ۔ سچو سچ ۔ خدا دائمی۔ اور صدیوی ہے ۔
ترجمہ:
اے دوست تینوں عالموں میں تلاش کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ خودی یا خود پسندی بری بلا ہے ۔ اے نانک۔ فکر نہ کر دل میں سچ کہہ خدا صدیوی اور دائمی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
گُرمُکھِ آپے بکھسِئونُ ہرِ نامِ سمانھے ॥
آپے بھگتیِ لائِئونُ گُر سبدِ نیِسانھے ॥
سنمُکھ سدا سوہنھے سچےَ درِ جانھے ॥
ایَتھےَ اوتھےَ مُکتِ ہےَ جِن رام پچھانھے ॥
دھنّنُ دھنّنُ سے جن جِن ہرِ سیۄِیا تِن ہءُ کُربانھے ॥੪॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ ہر نام سمانے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت پانا۔ بھگتی ۔ عشق الہٰی ۔ گرسبد۔ کلام مر شد۔ نیسانے ۔ نشانی ۔ سنمکھ۔ حضوریئے ۔ جانے پہچان۔ ایتھے اوتھے ۔ ہر دو عالموں میں ۔ مکت ۔ آزاد۔ سیویا۔ خدمت کی ۔
ترجمہ:
جو شخص مرید مرشد ہوجاتا ہے خدا اسے بخش دیتا ہے مراد دنیاوی دولت کے اثرات سے بچاتا ہے ۔ وہ الہٰی نام سچ حق و حقیقت اپناتا ہے اور پیروی کرتا ہے ۔ خدا یہی اسے اپنے عشق و خدمت میں لگاتا ہے ۔ کلام مرشد علم ہوجاتا ہے ۔ اطرح سے حضوریئے کی خداکے در پر پہچان بن جاتا ہے جنہوں نے خدا پہچان ہر دو عالموں میں آزادی پاتے ہیں۔ میں قربان ہوں ان پر جنہوں نے خدمت خدا کی قابل ستائش ہیں۔

سلوکُ مਃ੧॥
مہل کُچجیِ مڑۄڑیِ کالیِ منہُ کسُدھ ॥
جے گُنھ ہوۄنِ تا پِرُ رۄےَ نانک اۄگُنھ مُنّدھ ॥੧॥
لفظی معنی:
محل۔ مہلا۔ عورت۔ کچجی۔ کوجھے چج والی ۔ بے شعور ۔ مڑوڑی ۔ اپنے جسم سے پیار رکھنے والی۔ کالی ۔ سنہو کسدھ۔ ناپاک دل کی وجہ سے بد قماش۔ گن ۔ وصف۔ پر ۔ خاون۔د روے ۔ پیار ہو۔ اوگن ۔ بد اوصاف ۔
ترجمہ:
جسے شعور نہیں زندگی کا صرف اپنے جسم کا ہی پیار ہے ناپاک دل اور بد کردار اگر ہو وصف ہو کوئی تبھی ملاپ ہو خاوند سے اے نانک۔ اسکے پاس صرف بد اوصاف ہی نہیں۔

مਃ੧॥
ساچُ سیِل سچُ سنّجمیِ سا پوُریِ پرۄارِ ॥
نانک اہِنِسِ سدا بھلیِ پِر کےَ ہیتِ پِیارِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ساچ سیل ۔ مکمل طور پر شریف خدا پرست۔ سچ نجھی ۔ مکمل طور پر نفس پر ضبط کی پاند۔ ساپوری پرویار۔ پانے کنبے میں مکمل رہنے والی۔ اہنس۔ دن رات۔
ترجمہ:
نیک مکمل شریف باضبط اور کنبے میں مقبول ہوتی ہے اے نانک۔ جسے دن رات اپنے خاوند سے پیار ہو ویہ نیک اور اچھے چال چلن والی شریف ہے ۔

پئُڑیِ ॥
آپنھا آپُ پچھانھِیا نامُ نِدھانُ پائِیا ॥
کِرپا کرِ کےَ آپنھیِ گُر سبدِ مِلائِیا ॥
گُر کیِ بانھیِ نِرملیِ ہرِ رسُ پیِیائِیا ॥
ہرِ رسُ جِنیِ چاکھِیا ان رس ٹھاکِ رہائِیا ॥
ہرِ رسُ پیِ سدا ت٘رِپتِ بھۓ پھِرِ ت٘رِسنا بھُکھ گۄائِیا ॥੫॥
لفظی معنی:
نام ندھان۔ سچ حق و حقیقت کا خزانہ ۔ گر سبد۔ کلام مرشد۔ نرملی۔ پاک ہررس۔الہٰی لطف۔ مزہ۔ چاکھیا۔ لطف اُٹھائیا۔ ان رس۔ دوسرے ۔ لطفوں ۔ ٹھاک۔ روک۔ ترپت۔ تسلی ۔ تسکین ۔ ترشنا۔ بھکھ۔ بھوک پیاس۔ گوائیا۔ ختم ہوئی۔
ترجمہ:
جس شخص نے اپنی روحانی واخلاقی زندگی کی تحقیق کی الہٰی نام سچ حق و حقیقت کا خزانہ پالیا ۔ خدا اسے اپنی کرم عنایت سے کلام رمشد سے ملاتا ہے ۔ مرشد کی پاک کلام کے ذریعے الہٰی لطف و مزہ پلاتا ہے جنہوں نے لطف لیا ہے خدا کا دوسرے لطفوں میں روک آجاتی ہے اور انکی دنیاوی لطفوں کی بھوک پیاس مٹ جاتی ہے ۔

سلوکُ مਃ੩॥
پِر کھُسیِۓ دھن راۄیِۓ دھن اُرِ نامُ سیِگارُ ॥
نانک دھن آگےَ کھڑیِ سوبھاۄنّتیِ نارِ ॥੧॥
لفظی معنی:
کھسیئے ۔ خوشی ۔ دھن راوے ۔ عورت سے ملاپ ہوتا ۔ دھن۔ ارنام سیگار۔ جس عورت نے اپنے من و ذہن کو الہٰی نام سچ و حقیقت سے سجائیا ہوا ہو۔ سوبھاونتی ۔ شہرت یافتہ۔
ترجمہ:
جس انسان سے اپنے من اور ذہن کو الہٰی نام مراد سچ حق وحقیقت سے آراستہ کر رکھا ہو خدا خوشی سے اپنا ساتھ دیتا ہے ۔ جو انسان اےنانک۔ خدا کی اطاعت و تابعداری سرخروبی پاتا ہے اور شہرت حاصل کرتا ہے ۔

مਃ੧॥
سسُرےَ پیئیِئےَ کنّت کیِ کنّتُ اگنّمُ اتھاہُ ॥
نانک دھنّنُ سد਼ہاگنھیِ جو بھاۄہِ ۄیپرۄاہ ॥੨॥
لفظی معنی:
سسرے پیئیئے ۔ سوہر ے اور پیکے یہاں مراد ہر دو عالموں سے ہے ۔ کنت ۔ خاوند مراد خا سے ہے ۔ کنت کی ۔ خدا کے زیر سایی یا ملکیت میں۔ اگنم اتھاہ۔ مراد انسانی رسائی عقل و ہوش سے بلند و بالا اور نہایت گہرائی سے سوچنے والے ۔ سوہاگنی ۔ محبوب ۔ خدا۔ بھاوے ۔ چاہتا ہے ۔ بے پرواہ ۔ بے محتاج۔
ترجمہ:
جو انسان اس خدا کی انسانی رسائی عقل و ہوش اور سمجھ سے بلند و بالا ناہیت گہری سنجیدہ سمجھ اور خیالات والا ہے کاخڈا پرست ہے ۔ اے نانک۔ ایسے خدا پرست قابل ستائش ہیں اور محبوب خدا ہیں۔

پئُڑیِ ॥
تکھتِ راجا سو بہےَ جِ تکھتےَ لائِک ہوئیِ ॥
جِنیِ سچُ پچھانھِیا سچُ راجے سیئیِ ॥
ایہِ بھوُپتِ راجے ن آکھیِئہِ دوُجےَ بھاءِ دُکھُ ہوئیِ ॥
کیِتا کِیا سالاہیِئےَ جِسُ جادے بِلم ن ہوئیِ ॥
نِہچلُ سچا ایکُ ہےَ گُرمُکھِ بوُجھےَ سُ نِہچلُ ہوئیِ ॥੬॥
لفظی معنی:
تحتے ۔ تخت۔ پر چلوہ افروز۔ لائق ۔ قابل۔ سچ پچھانیا۔ حقیقت سمجھی۔ سچ راجے ۔ سچے حکمران ۔ سیئی ۔ وہی ۔ بھوپت۔ مالکان زمین حکمران۔ دوجے بھائے ۔ خدا کے علاوہ دوسروںس ے محبت۔ کیتا۔ پیدا کیا ہوا۔ بلم ۔دیر۔ نہچل۔ مستقل۔ صدیوی ۔ نہچل۔ مستقل مزاج ۔
ترجمہ:
وہی حکمران اور راجہ بن کر تخت پر جلوہ افروز ہوتا ہے جو تکت کے لائق ہوتا ہے حقیقتاً وہی راجے یا حکرمان ہیں جنہوں نے خدا اور حقیقت پالی ۔ ان مالکان زمین کو حکمران یا راجے کہالنے کا حق نہیں۔ جو خدا کے علاوہ اور حقیقت کے بغیر دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور عذاب برداشت کرتے ہیں۔ جو پیدا کیا ہے خدا نے اسکی صفت صلاح کیا ہے اسکے متتے دیر نہیں لگتی ۔ صدیوی مستقل طور پر حکمران اور راجہ صرف خدا ہے جو مرید مرشد ہوکر اسے سمجھ لیتا ہے وہ مستقل مزاج ہوجاتاہے ۔

سلوکُ مਃ੩॥
سبھنا کا پِرُ ایکُ ہےَ پِر بِنُ کھالیِ ناہِ ॥
نانک سے سوہاگنھیِ جِ ستِگُر ماہِ سماہِ ॥੧॥
لفظی معنی(ترجمہ)
سب کا مالک ہے واھد خدا کوئی ایسا انسان نہیں جس کے سر پر خدا کا سایہ نہ ہو۔ مگر اے نانک وہی ہیں محبوب خدا جنکا واسطہ اور تعلق سچے مرشد سے ہے ۔

مਃ੩॥
من کے ادھِک ترنّگ کِءُ درِ ساہِب چھُٹیِئےَ ॥
جے راچےَ سچ رنّگِ گوُڑےَ رنّگِ اپار کےَ ॥
نانک گُر پرسادیِ چھُٹیِئےَ جے چِتُ لگےَ سچِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ادھک ۔ زیادہ۔ ترنگ ۔لہریں ۔ مراد خیالات کا مدو جزر۔ اتار چڑھاؤ۔ در ۔ صاحب۔ کدا کے در پر ۔ چھٹیئے ۔ کیسے نجات حاصل ہو۔ راچے سچ رنگ۔ اگر خدا کے پریم پیار میں محو ہو۔ اپار۔ لا محدود ۔ وسیع۔ گر پر سادی۔ رحمت مرشد سے ۔ بے چت لگے سچ۔ اگر دل میں ۔ خدا بستا ہے ۔
ترجمہ:
انسان کے دل میں خواہشاتکی لرہیں اُٹھتی ہیں ایسی حالت میں خدا کے در پر کیسے نجات حاصل ہو۔ اگر اس لا محدود خدا کی محبتمیں محو ومجذوب رہے ۔ اے نانک۔ تب رھمت مرشد سے سرخرو ہوتا ہے نجات حاصل کرتا ہے ۔ اگر دل میں خدا بسا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ کا نامُ امولُ ہےَ کِءُ کیِمتِ کیِجےَ ॥
آپے س٘رِسٹِ سبھ ساجیِئنُ آپے ۄرتیِجےَ ॥
گُرمُکھِ سدا سلاہیِئےَ سچُ کیِمتِ کیِجےَ ॥
گُر سبدیِ کملُ بِگاسِیا اِۄ ہرِ رسُ پیِجےَ ॥
آۄنھ جانھا ٹھاکِیا سُکھِ سہجِ سۄیِجےَ ॥੭॥
لفظی معنی:
امول۔ اتنا قیمتی کہ قیمت مقرر نہ ہوسکے ۔ سر شٹ ۔ عالم ۔دنیا۔ ساجیئن۔ پیدا کی ۔ ورتیجے ۔ بستا ہے ۔ سچ قیمت ۔ کیجے ۔ قیمت ۔ سچ ہو سکتا ہے ۔ کل وگسیا۔ دل خوش ہوا۔ ٹھاکیا ۔ ردکیا۔ سکھ سہج سویجے ۔ روھانی سکون میں سوئے ۔
ترجمہ:
خدا کا نام ناہیت بیش قیمت ہے ۔ اسکی قیمت مقرر نہیں ہو سکتی ۔ خدا نے خود ہی یہ عالم پیدا کیا ہے ۔ خود ہی اس میں بستا ہے مرشد کے ذریعے اسکی حمدوثناہ کرنا ہی اسکی قدرو قیمت ہے ۔ کلام مرشد سے ذہن اور دل کھلتا ہے اس طرح سے اس خدا کا لطف لو ۔ اس سے تناسخ متتا ہے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔

سلوکُ مਃ੧॥
نا میَلا نا دھُنّدھلا نا بھگۄا نا کچُ ॥
نانک لالو لالُ ہےَ سچےَ رتا سچُ ॥੧॥
لفظی معنی:
میلا۔ ناپاک ۔ دھندلا۔ نیم ناپاک۔ بھگوا۔ جوگیوں یا فقرانہ بھیس۔ کچ ۔کچا۔ دنیاوی محبت۔ لا لولا۔ سر خرو۔ سچے رتا۔ خدا سے متاثر۔ سچ ۔ خدا۔
ترجمہ:
اے نانک۔ جو انسان صدیوی کدا کے نام میں محو ومجذوب ہوکر رہتا ہے وہ سر خرور مراد پاک اور مانند خدا سچ ہوجاتا ہے ۔ نہ وہ ناپاک رہتا ہے نہ ناپاک نظریہ نہ کسی بھیس بنانے کی خوآہش نہ دنیاوی محبت رہتی ہے ۔

مਃ੩॥
سہجِ ۄنھسپتِ پھُلُ پھلُ بھۄرُ ۄسےَ بھےَ کھنّڈِ ॥
نانک ترۄرُ ایکُ ہےَ ایکو پھُلُ بھِرنّگُ ॥੨॥
لفظی معنی:
سہج ۔ روھانی یا ذہنی سکون ۔ نھسپت ۔ جنگلا لاتی سبزہ زار ۔ بھور ۔ بھورا۔ دسے ۔ بستا ہے ۔ بھے کھنڈ۔ خوف دور کرکے ۔ ترور ۔شجر ۔ درخت۔ بھرنگ۔ بھوڑ۔
ترجمہ:
جس طرح سے شجر پرندوں کے لئے رات گذار نے کےلئے ایک آسرا ہے اس طرح سے روح کے لئے خدا ایک آسرا اور سہارا ہے ۔ جس طرح سے بھورا بیخوف ہوکر پھلوں پھولوں پر چکر لگاتا ہے ۔ اے نانک۔ شجر مراد خدا واحد ہے اور ایک ہی پھول کا عاشق ہے بھؤرا۔ وہ دنیاوی نعتموںکی حرص وہو مین بھٹکنے کی بجائے ذہنی و روحانی سکون میں زندگی گذارتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
جو جن لوُجھہِ منےَ سِءُ سے سوُرے پردھانا ॥
ہرِ سیتیِ سدا مِلِ رہے جِنیِ آپُ پچھانا ॥
گِیانیِیا کا اِہُ مہتُ ہےَ من ماہِ سمانا ॥
ہرِ جیِءُ کا مہلُ پائِیا سچُ لاءِ دھِیانا ॥
جِن گُر پرسادیِ منُ جیِتِیا جگُ تِنہِ جِتانا ॥੮॥
لفظی معنی:
لوجھیہ۔ جھگڑتے ہیں۔ منے سیؤ۔ اپنے من یا ضمیر سے ۔ پردھانا۔ مقبول عام۔ ہر سیتی ۔خدا سے ۔ آپ ۔ خویشتا۔ اپنے دل اور اسکے عمل و کردار۔ محت ۔ محسو۔ بلندی و پرتری۔ من ماہے ۔ دلمیں۔ ہرجیو کا محل ۔ الہٰی ٹھکانہ ۔ سچ لائے دھیانا۔ خدا اور حقیقت میں توجہ لگا کر ۔ گرپرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ من جیتیا۔ من پر عبور ۔ حاصل کر لیا۔ جگ تنیہہ جتانا۔ اسی نے دنیا فتح کرنی ہے ۔
ترجمہ:
جو شخص اپنے دل سے لڑائی کرتے ہیں وہ بہادر ہیں اور مقبول عام ہوجاتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو پہچانیا ہے انہیں وسل خدا نصیب ہوا۔ عالموں کی یہ بلند خیالی ہے کہ وہ اپنے دل میں محظوظ رہتے ہیں۔ خدا کا ٹھکانہ ملا سچے خدامیں دھیان لگانے سے ۔ جنہوں نے رحمت مرشد سے اپنے من جیتا ہے انہوں ہی نے علام جیتا ہے ۔

سلوکُ مਃ੩॥
جوگیِ ہوۄا جگِ بھۄا گھرِ گھرِ بھیِکھِیا لیءُ ॥
درگہ لیکھا منّگیِئےَ کِسُ کِسُ اُترُ دیءُ ॥
بھِکھِیا نامُ سنّتوکھُ مڑیِ سدا سچُ ہےَ نالِ ॥
بھیکھیِ ہاتھ ن لدھیِیا سبھ بدھیِ جمکالِ ॥
نانک گلا جھوُٹھیِیا سچا نامُ سمالِ ॥੧॥
لفظی معنی:
جوگی ہوواں۔ اگر جوگی ہوجاوں۔ بھیکھیا۔ خیرات۔ بھیک ۔ درگیہہ۔ خدا کی عدالت میں۔ لیکھا۔ حساب۔ اتر ۔ جواب۔ نام ۔ سچ ۔ حق و حقیقت ۔ سنتوکھ ۔ صبر۔ مڑھی۔ مکان یا کوٹھا۔ نال ساتھ۔ بھیکھی۔ دکھاو سے ۔ ہاتھ ۔ حقیقت کی گہرائی۔ لدھیا۔ حاصل نہ ہوگی ۔ جمکال۔ موت۔ گلاں ۔ باتیں۔
ترجہ:
اگر میں جوگی ہو جاؤں میں پھرتا رہوں اور گھر گھر بھیک مانگتا رہوں۔ خداکے دربارمیں جب اعمال کا حساب ہوگا تو کس کس بات کا جواب دونگا۔ جس نے خدا کے نام سچ حق و حقیقت کو بھیک بنائیا اور صبر کر رہائش کے لئے مکان بنائای تو خدا ہمیہ اسکے ساتھ ہے ۔ بناوٹ اور دکھاوے سے اصلیت کا پتہ نہیں چلتا سارے عالم کو موت نے اپنے کلاوے میں باندھ رکھا ہے ۔ اے نانک باقی تمام باتیں جھوتی ہیں۔ خدا کے نام سچ حق و حقیقت یاد رکھ۔

مਃ੩॥
جِتُ درِ لیکھا منّگیِئےَ سو درُ سیۄِہُ ن کوءِ ॥
ایَسا ستِگُرُ لوڑِ لہُ جِسُ جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
تِسُ سرنھائیِ چھوُٹیِئےَ لیکھا منّگےَ ن کوءِ ॥
سچُ د٘رِڑاۓ سچُ د٘رِڑُ سچا اوہُ سبدُ دےءِ ॥
ہِردےَ جِس دےَ سچُ ہےَ تنُ منُ بھیِ سچا ہوءِ ॥
نانک سچےَ ہُکمِ منّنِئےَ سچیِ ۄڈِیائیِ دےءِ ॥
سچے ماہِ سماۄسیِ جِس نو ندرِ کرےءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
لیکھا۔ حساب۔ در ۔ دروازہ۔ ٹھکانہ ۔ سیوہو۔ اختیار نہ کرؤ۔ لوڑلہو۔ تلاش کرؤ۔ اور ۔ دوسرا۔ سرنائی۔ پناہ گیر۔ چھٹیئے ۔ نجات ملتی ہے ۔ سچ دڑارائے ۔ حقیقت ذہن نشین کراتا ہے ۔ سچ درڑ۔ حقیقت خود ذہن نشین کرتا ہے ۔ سچے حکم منیئے ۔ الہٰی رضا قبول کرنے سے ۔ سچی وڈیائی۔ حقیقی عظمت و حشمت ۔ ندر۔ نظر عنایت و شفقت ۔
ترجمہ:
جس کے در پر حساب مانگا جات اہے اسکے اعمال کا اس در کو نہ اپناؤ۔ ایسے سچے مرشد کی تلاش کرؤ ۔ جس کے برابر دوسرا نہ مل سکے ۔ اسکی پنا ہگیری سے نجات حاصل ہوگی ۔ اور کوئی حساب نہیں مانگتا جوخود سچ حق و حقیقت الہٰی نام ذہن نشین کرتا ہے اور دوسروں کو ذہن نشین کراتا ہے اور سچا کلام دیتا ہے ۔ جس کے دل میں خدا بس جاتا ہے اسکا دل وجان بھی سچا مانند خدا ہوجاتا ہے ۔ اے نانک۔ الہٰی رضا و فرمان ماننے سےخڈا سچی عطمت و شہرت دیتاہے اور خود خدا میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے جس پرخدا کی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
سوُرے ایہِ ن آکھیِئہِ اہنّکارِ مرہِ دُکھُ پاۄہِ ॥
انّدھے آپُ ن پچھانھنیِ دوُجےَ پچِ جاۄہِ ॥
اتِ کرودھ سِءُ لوُجھدے اگےَ پِچھےَ دُکھُ پاۄہِ ॥
ہرِ جیِءُ اہنّکارُ ن بھاۄئیِ ۄید کوُکِ سُنھاۄہِ ॥
اہنّکارِ مُۓ سے ۄِگتیِ گۓ مرِ جنمہِ پھِرِ آۄہِ ॥੯॥
لفظی معنی:
سورے ۔ بہادر۔ اہنکار۔ غرور۔ تکبر۔ اندھے ۔ ناعاقبت اندیش ۔ آپ ۔ خوئش۔ دوجے ۔ دوئی دؤئش۔ بچ۔ ذلیل وخوآر ۔ کرودھ ۔ غصہ ۔ لوجھدے ۔ لڑتے ہیں بھاوٹی ۔ پیار انہیں نہیں چاہتا۔ کوک ۔ پکار۔ پکار۔ وگتی ۔ بر حالت۔ بد روح۔
ترجمہ:
جو انسان غرور و تکبر میں مرتے ہیں عذآب پاتے ہیں وہ بہادر کہلاتے ۔ نا عاقبت اندیشوں اپنے آپ کی خبر نہیں دوئی دویش میں ذلیل و خوآر ہوتے ہیں۔ بھاری غصے میں آکر ذلیل و خوآر ہوتے اور دونوں عاموں میں عذآب پاتے ہیں۔ مذہبیکتابیں پکار پکار کر کہتی ہیں۔ خدا غرور و تکبر اچھا نہیں سمجھتا ۔ جو غرور و تکبر مں مرتا ہے وہ د روح برے حال مرتا ہے اور تناسخ میں پڑارہتاہے ۔

سلوکُ مਃ੩॥
کاگءُ ہوءِ ن اوُجلا لوہے ناۄ ن پارُ ॥
پِرم پدارتھُ منّنِ لےَ دھنّنُ سۄارنھہارُ ॥
ہُکمُ پچھانھےَ اوُجلا سِرِ کاسٹ لوہا پارِ ॥
ت٘رِسنا چھوڈےَ بھےَ ۄسےَ نانک کرنھیِ سارُ ॥੧॥
لفظی معنی:
کاگؤ ۔کوے ۔ اجلا۔ سفید۔ لوہے ناد۔ لوہے کی کشتی۔ پرم پدارتھ۔ عطیم نعمت۔ دھن سوارنہار۔ شاباش اس درستی کرنے والے کو سرکاسٹ۔ لکڑی کے سر پر۔ ترسنا۔ خوآہشات ۔ بھے وسے ۔ خوف رکھے ۔ کرنی سار۔ اعمال کی بنیاد۔ اصل اعمال۔
ترجمہ:
کوا سفید ہین ہو سکتا لوہے کی کشتی کنارے نہیں لگی مگر شاباش ہے اُس درستکار کو جو ایک عظیم نعمت تسلیم کرتا ہے ۔ فرمان و رضا کی پہچان کرنے سے پاک ہو جاتا ہے ۔ انکڑے کے اسرے لوہا کنارے لگ جاتا ہے ۔ اے نانک۔ خواہشات چھوڑنا اور خدا کے خوف مین زندگی بسر کرنا ہی سب سے اعلے اعمال ہے ۔

مਃ੩॥
ماروُ مارنھ جو گۓ مارِ ن سکہِ گۄار ॥
نانک جے اِہُ ماریِئےَ گُر سبدیِ ۄیِچارِ ॥
ایہُ منُ مارِیا نا مرےَ جے لوچےَ سبھُ کوءِ ॥
نانک من ہیِ کءُ منُ مارسیِ جے ستِگُرُ بھیٹےَ سوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
جو دل کو ختم کرنے کے لئے جنگلوں اور ریگستانوں میںگئے ایسے جاہل مار نہیں سکتے اگر یہ من زیر یا قابو ہو سکتا ہے تو اے نانک۔ کلام مرشدکو سوچنے اور مجھنے سے قایو ہو سکتا ہے ۔ درنہ کوئی کتنی کوشش کیوں نہ کرے یہ قابو نہیں ہوسکتا۔ اے نانک۔ اگر کسی با توفیق مرشد کا ملاپ ھاصل ہوجائے تو یہ من ہی من کو قابو کرتاہے ۔

پئُڑیِ ॥
دوۄےَ ترپھا اُپائیِئونُ ۄِچِ سکتِ سِۄ ۄاسا ॥
سکتیِ کِنےَ ن پائِئو پھِرِ جنمِ بِناسا ॥
گُرِ سیۄِئےَ ساتِ پائیِئےَ جپِ ساس گِراسا ॥
سِم٘رِتِ ساست سودھِ دیکھُ اوُتم ہرِ داسا ॥
نانک نام بِنا کو تھِرُ نہیِ نامے بلِ جاسا ॥੧੦॥
لفظی معنی:
دو وے طرفا۔ دونون نکتہ نگاہ یا نظرئے ۔ اُپائن۔ پیدا کئے ۔ سکت۔ دنیاوی دولت۔ سیو۔ روح۔ بناسا۔ مٹ جانا۔ فناہ۔ سات۔ سکون۔ ساس۔ گراسا۔ ہر سانس۔ ہر لقمہ ۔ ہرداسا۔ الہٰی خادم۔ تھر۔ مستقل ۔ نامے بل جاسا ۔ قربان جاؤن نام پر ۔
ترجمہ:
ا س عالم میں دنیاوی دؤلت اور روح ہر دو بستی ہیں۔ یہ ہر دو نظرئے خدا کے خود پیدا کئے ہوئے ہیں مادہ پرستی سے کسی کو خدا نہیں ملا اس سے زندگی برباد وہتی ہے ۔ خدمت مرشد سے سکون ملتا ہے اسے ہر سانس اور ہر لقمہ یادرکھ ۔ مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرکے دیکھ لو خادمان کدا ہی نیک انسنا ہیں۔ اے نانک۔ خدا کے نام ست سچ حق و حقیقت بغیر صدیوی اور دائمی نہیں قربان ہوں خداکے نام پر ۔

سلوکُ مਃ੩॥
ہوۄا پنّڈِتُ جوتکیِ ۄید پڑا مُکھِ چارِ ॥
نۄ کھنّڈ مدھے پوُجیِیا اپنھےَ چجِ ۄیِچارِ ॥
متُ سچا اکھرُ بھُلِ جاءِ چئُکےَ بھِٹےَ ن کوءِ ॥
جھوُٹھے چئُکے نانکا سچا ایکو سوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
پنڈت ۔ عالم ۔ جوتکی ۔ نجومی۔وید پرھا مکھ چار۔ چاروں دیدزبانی پڑنیون ۔ نوگھنڈ ۔ زمین کے نو برا عظموں ۔مدھے میں ۔ چج ویچار۔ خیالات کی سمجھ کی وجہ سے ۔ مت ۔ ایسانہ ہو۔ سچا اکھر۔ سچا لفظ ۔ چؤکے ۔ رسوئی۔ باورچی خانہ ۔ بھٹے ۔ناپاک۔ سچا ایکو سوئے ۔ سچا ہے صرف واحد خدا۔
ترجمہ:
اگر عالم فاضل اور نجومی ہوجاؤں چاروں وید زبانی پڑہوں سارے عالم میں پرستش ہو اپنے شعور وخلاق و چال چلن کی وجہ سے اور پاکیزگی اپناؤں کہ کہیں میرے باورچی خانے کو چھوڑ کرناپاک نہ بناوے یہ سارے باورچی خانے جھوتھے اور ناپاک ہیں جبکہ صدیوی و دائمی خدا ہی پاک ہے ۔

مਃ੩॥
آپِ اُپاۓ کرے آپِ آپے ندرِ کرےءِ ॥
آپے دے ۄڈِیائیِیا کہُ نانک سچا سوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
اُپائے ۔ پیدا کرے ۔ندر۔ نظر عنایت و شفقت ۔ وڈیائیا۔ عظمت وشہرت۔
ترجمہ:
خدا خود ہی پید اکرکے خود ہی نظر عنایت کرتا ہے اور خود ہی عظمت و شہرت دیتا ہے ۔ اے نانک۔ خود ہی صدیوی و دائمی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
کنّٹکُ کالُ ایکُ ہےَ ہورُ کنّٹکُ ن سوُجھےَ ॥
اپھرِئو جگ مہِ ۄرتدا پاپیِ سِءُ لوُجھےَ ॥
گُر سبدیِ ہرِ بھیدیِئےَ ہرِ جپِ ہرِ بوُجھےَ ॥
سو ہرِ سرنھائیِ چھُٹیِئےَ جو من سِءُ جوُجھےَ ॥
منِ ۄیِچارِ ہرِ جپُ کرے ہرِ درگہ سیِجھےَ ॥੧੧॥
لفظی معنی:
کنٹک ۔ کانٹا۔ کال۔ موت۔ اپھریؤ۔ بے روک۔ پاپی ۔ گناہگار۔ لوجھے ۔ جھگڑتا ہے ۔ بھیدیئے ۔ مجذوب۔ جھوجھے ۔ جنگ ۔ سیجھے ۔کامیاب۔
ترجمہ:
کانٹا اور موت ایک سے ہیں کوئی دوسرا کانٹا اس جیسا نہیں۔ یہ موت سارے عالم میں چلتی ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ گناہگاروں سے خاص طور پ جنگ کرتی ہے ۔ کلام مرشد کے ذریعے ملاپ ہوتاہے خدا سے یاد سے سمجھ آتی ہے ۔ اس لئے الہٰی پناہ گیری سے نجات ملتی ہے جو اپنے من سے ٹکراتا ہے ۔ جو دلمیں سوچ سمجھ خدا کی یادوریاض کرتا ہے بارگاہ خدا میں کامیابی پاتا ہے ۔

سلوکُ مਃ੧॥
ہُکمِ رجائیِ ساکھتیِ درگہ سچُ کبوُلُ ॥
ساہِبُ لیکھا منّگسیِ دُنیِیا دیکھِ ن بھوُلُ ॥
دِل درۄانیِ جو کرے درۄیسیِ دِلُ راسِ ॥
اِسک مُہبتِ نانکا لیکھا کرتے پاسِ ॥੧॥
لفظی معنی:
رجائی۔ رضا۔ مرضی ۔ ساکھتی۔ میل۔ملاپ۔ خیالاتی اتفاق بناوٹ ۔ درگیہہ سچ ۔ خدا کی عدالت ۔ قبول۔ منظور۔ بھول۔ گمراہی ۔ دل دربانی۔ دل کی نگرانی ۔ درویشی ۔ فقیری ۔ دل راس۔ دل درست ہوتا ہے ۔ عشق محبت۔ پیار۔ پریم۔ لیکھا ۔ حساب۔
ترجمہ:
خدا کے فرمان ورضا کی مطابق کام کرنے سے خدا سے اتفاق بنتاہے ہمرا ہی پیدا ہوتی ہے خدا کی عدالت میں سچ اور صاف گوی منظور ہوتی ہے ۔ دنیا کو دیکھ کر گمراہ نہ ہو خدا نے تیرے اعمال کا حساب مانگنا ہے جو اپنے دل پرنظر رکھتا ہے پہریداری کرتا ہے دل کو راہ راست پر رکھنا ہی حقیقی درویشی اور فقیری ہے ۔ اے نانک۔ انسنا کے عشق و محبت کا حساب خدا کے پاسا ہے ۔

مਃ੧॥
الگءُ جوءِ مدھوُکڑءُ سارنّگپانھِ سباءِ ॥
ہیِرےَ ہیِرا بیدھِیا نانک کنّٹھِ سُبھاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
الگوؤ۔ الگ۔ علیحدہ۔ جوئے ۔ جو بھی ۔ مدھو کڑؤ۔ بھورے ۔ سارنگ پان۔ کمانڈر۔ خدا۔ سپہ سالار۔ سبائے ۔ سارے ۔ ہیرے ہیرا بیدھیا۔ من ہیرے کی مانند جو قیمتی ہے نام الہٰی سچ و حق وحقیقت میں بندھ گیا۔ کنٹھ۔ گلے ۔ سبائے ۔ سارئے ۔
ترجمہ:
جو عاشق الہٰی بھورئے کی طرح جگہ جگہ سے حقیقت کی تلاش کرتا اور دلمیں بساتا ہے جس کی روح خدا سے جڑی ہوئی ہے اے نانک۔ وہ الہٰی نام سچ حق و حقیقت کی محبت میں گرفتار ہوگیا تو قدرتی طور پر خدا اسکے گلے میں بس جاتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
منمُکھ کالُ ۄِیاپدا موہِ مائِیا لاگے ॥
کھِن مہِ مارِ پچھاڑسیِ بھاءِ دوُجےَ ٹھاگے ॥
پھِرِ ۄیلا ہتھِ ن آۄئیِ جم کا ڈنّڈُ لاگے ॥
تِن جم ڈنّڈُ ن لگئیِ جو ہرِ لِۄ جاگے ॥
سبھ تیریِ تُدھُ چھڈاۄنھیِ سبھ تُدھےَ لاگے ॥੧੨॥
لفظی معنی:
منمکھ ۔ مرید من۔ کال۔ موت۔ ٹھاگے ۔ ٹگھے گئے ۔ دہوکے میں۔ ویلا۔ موقعہ۔ ڈنڈ ۔ سزا۔ ہر لو جاگے ۔ جو الہٰی محبت میں بیدار ہیں۔ چھڈاونی۔ نجات دلانی۔
ترجمہ:
من کے مرید انسان دنیاوی دؤلت کی محبت میں گرفتار رہتے ہیں اور ہر وقت موت کا خوف رہتا ہے جو دنیاوی محبت میں گرفتار رہتے روحانی واخلاقی طور پر ان کا روحای سرمایہ لٹ جاتا ہے دہوکا فریب ہو جاتا ہے اور وہ وتھورے عرصے میں روحانی واخلاقی طور مٹ جاتے ہیں بعد میں موقہ نہیں ملتا موت کا فرشتہ سزا دیتا ہے جو خدا کو یاد رکھتے ہیں انہیں فرشتہ موت کی سزا نہیں ملتی اے خدا سارے مخلوقات تیری ہے تو نے ہی نجات دلانی ہے تو ہی سب کا سہاراہے ۔

سلوکُ مਃ੧॥
سربے جوءِ اگچھمیِ دوُکھُ گھنیرو آتھِ ॥
کالرُ لادسِ سرُ لاگھنھءُ لابھُ ن پوُنّجیِ ساتھِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سربے ۔ سارے ۔ جوئے ۔ جستجو۔ تلاش۔ ڈہونڈا۔الچھمی ۔ لافناہ۔ گھنیرے ۔ زیادہ۔ آٹھ۔ ہے ۔ سرلاگھنؤ۔ سمندر پار کرنا ہے ۔ لابھ ۔ منافع ۔ پونجی ۔ سرمایہ ۔
ترجمہ:
جو انسان اس عالم کو لافناہ اور صدیوی سمجھتا ہے ۔ سمجھو اسے ناہیت بھاری عذآب آئیگا ۔ اس نے سمندر پار کرنا اور وہ کللر لاودھ رہا ہے ۔ نہ اسکے پاس اسل ہے نہ سود۔

مਃ੧॥
پوُنّجیِ ساچءُ نامُ توُ اکھُٹءُ دربُ اپارُ ॥
نانک ۄکھرُ نِرملءُ دھنّنُ ساہُ ۄاپارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
پونجی ۔ سرمایہ ۔ ساچؤ نام۔ خدا کے نام ۔ سچ حق وحقیقت ۔ اکھٹؤ۔ کم نہ ہونے والی۔ درب۔ دؤلت۔ وکھر ۔ سودا۔ نرمکؤ۔ پاک۔ دھن۔ ساہو۔ شاباش اس شاہ کو۔ واپار ۔ سوداگاری ۔
ترجمہ:
جس انسان کے پاس لہٰی نام کا سرمایہ سچ حق و حقیقت ہے وہ نہ ختم ہونے وال انہ کم ہونے والا بیشمار سرمایہ ہے ۔ اے نانک۔ یہ پاک سودا ہے اسکا شاہ اور سوداگر دونوں کو شاباش ہے ۔

مਃ੧॥
پوُرب پ٘ریِتِ پِرانھِ لےَ موٹءُ ٹھاکُرُ مانھِ ॥
ماتھےَ اوُبھےَ جمُ مارسیِ نانک میلنھ نامِ ॥੩॥
لفظی معنی:
پورب۔ پہلی ۔ پریت ۔ پیارا۔ پران ۔ پہچان کر۔ سمجھ ۔ موٹو ٹھاکر۔ بلند عظمت ملاک۔ مان ۔ یقین وایمان ۔ ماتھے اوبھے ۔ منہ بھار ۔ جم مارسی۔ موت ماریگا۔ میلن نام۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت اپنانے سے۔
ترجمہ:
خدا کی طرف سے پہلے کئے ہوئے تجھ سے کو پہچان اور یاد کر اس بلند عظمت آقا کو۔ اے نانک۔ نام کے ملاپ مراد سچ حقیقت اپنا کر روحانی وآخلاقی موت کو منہ بھا ر گیر ادیگا۔

پئُڑیِ ॥
آپے پِنّڈُ سۄارِئونُ ۄِچِ نۄ نِدھِ نامُ ॥
اِکِ آپے بھرمِ بھُلائِئنُ تِن نِہپھل کامُ ॥
اِکنیِ گُرمُکھِ بُجھِیا ہرِ آتم رامُ ॥
اِکنیِ سُنھِ کےَ منّنِیا ہرِ اوُتم کامُ ॥
انّترِ ہرِ رنّگُ اُپجِیا گائِیا ہرِ گُنھ نامُ ॥੧੩॥
لفظی معنی:
پنڈ ۔ جسم۔ سوارئن۔ درست۔ کیا۔ نوندھ۔ نوخزانے ۔ نام۔ الہٰی نام۔ سچ حق و حقیقت ۔ بھرم بھلائن۔ وہم و گمان مین گمراہ کیا۔ نہفل کام۔ کام ہر آور نہیں۔
ترجمہ:
ایک ایسے ہیں کہ انہوں نے مرید مرشد ہوکر خدا کے نور کی سمجھ کی ۔ ایک ایسے ہیں جنہوں نے نام سنکر ایمان لائے ۔ یہ انکا نیک کام ہے ۔ انکے دل میں خدا سے پریم پیار پیدا ہوتا ہے ۔ جو نام دلمیں بساتے ہیں اور حمدوثناہ گاتےہں۔

سلوکُ مਃ੧॥
بھولتنھِ بھےَ منِ ۄسےَ ہیکےَ پادھر ہیِڈُ ॥
اتِ ڈاہپنھِ دُکھُ گھنھو تیِنےَ تھاۄ بھریِڈُ ॥੧॥
لفظی معنی:
بھولتنھ ۔ ۔ بھولے پن ۔ بھے ۔ خوف۔ پادر۔ پدھرا۔ صاف۔ ہیڈ ۔ ہردا۔ ات ڈاہپن ۔ حسد۔ تسنے تھاو پریڈ ۔ تینوں دل بول و جسم۔ بھریڈ۔ ناپاک ہوجاتے ہیں۔
ترجمہ:
بھولے پن جس میں من سادگی اور سیدھاراہ اختیار کرتا ہے ۔ اسمیں خدا کا خوف بستا ہے ۔ زیادہ حسد سے زیادہ عذآب آتا ہے اور من جسم اور بول یا کلام ناپاک ہوجاتے ہیں۔

مਃ੧॥
ماںدلُ بیدِ سِ باجنھو گھنھو دھڑیِئےَ جوءِ ॥
نانک نامُ سمالِ توُ بیِجءُ اۄرُ ن کوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ماندل۔ ڈہول ۔ باجنھو۔ بجائیا ہے ۔ گھنو۔ بہت سے ۔دھڑیئے ۔ فرقے ۔ جوئے ۔ جستجو ۔ تلاش ۔ تکنا۔ زیر نظر۔ بیجو۔ دوسرا۔ اور دیگر۔
ترجمہ:
بہت سے لوگوں کا دھیان اُس ڈہول کی طرف جاتا ہے جو ویدوں نے بجائیا ہے ۔ اے نانک۔ تو الہٰی نام سچ حق و حقیقت کو یاد رکھ اسکے علاوہ زندگی گذارنے کا صحیح راستہ نہیں۔

مਃ੧॥
ساگرُ گُنھیِ اتھاہُ کِنِ ہاتھالا دیکھیِئےَ ॥
ۄڈا ۄیپرۄاہُ ستِگُرُ مِلےَ ت پارِ پۄا ॥
مجھ بھرِ دُکھ بدُکھ ॥
نانک سچے نام بِنُ کِسےَ ن لتھیِ بھُکھ ॥੩॥
لفظی معنی:
ساگر۔ سمندر ۔ گنی۔ اوصاف۔ اتھاہ۔ اندازے و مقدار سے بعید۔ ہاتھا لا ۔ تھاہ۔ اندازہ ۔ تھاہ پتہ۔ بے پرواہ۔ بے محتاج۔ پارپو۔ کامیابی ملے ۔ مجھ ۔ مدھ۔ درمیان ۔ دکھ بدکھ ۔ بھاری عذآب ۔ لتھی بھکھ ۔ بھوک مٹتی نہیں۔
ترجمہ:
اؤصاف کا سمندر انتہائی گہرا ہے اسکی گہرائی کا اندازہ کس نے کیا ہے اور دیکھا ہے ۔ خدا بے محتاج ہے سچے مرشد کے ملاپ سے کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ اسکے اندر عذآب بھر ا ہوا ہے ۔ اے نانک۔ سچے نام سچ حق اور حقیقت کسی کی بھوک نہیں متی ۔

پئُڑیِ ॥
جِنیِ انّدرُ بھالِیا گُر سبدِ سُہاۄےَ ॥
جو اِچھنِ سو پائِدے ہرِ نامُ دھِیاۄےَ ॥
جِس نو ک٘رِپا کرے تِسُ گُرُ مِلےَ سو ہرِ گُنھ گاۄےَ ॥
دھرم راءِ تِن کا مِتُ ہےَ جم مگِ ن پاۄےَ ॥
ہرِ نامُ دھِیاۄہِ دِنسُ راتِ ہرِ نامِ سماۄےَ ॥੧੪॥
لفظی معنی:
جنی اندر بھالیا۔ جس ے اپنے اندرونی نفسی اعمال کی تحقیق کی ۔ گر سبد۔کلام مرشد سے ۔ سہاوے ۔ سوہینے ۔ ہوگئے ۔ چھن۔ خواہش۔ پائید ے ۔ پاتے ہیں۔ ہر نام دھاوے ۔ الہٰی نام سچ ۔ حق و حقیقت میں دھیان لگائے ۔سو ۔ وہ ۔ ہرگن گاوے ۔ خدا کی حمدوثناہ کرے۔ دھرم رائے ۔ الہٰی منصف ۔ مت ۔ دوست۔ جم مگ۔ موت کی راہ۔ ہر نام سماوے ۔ خدا کے نام میں محوومجذوب ۔
ترجمہ:
سچے مرشد کے کلام کے جس نے اپنے من و ذہن کی تحقیق کی پڑتال کی وہ خوشحال ہوئے ۔ وہ خداکے نام سچ حق و حقیقت میں دھیان لگا کر دل کی خواہش کی مطابق نتیجے اخذ کئے پھل پاتے ہیں۔ جس پر خدا نے مہربانی کی اسے مرشد سے ملائیا وہ خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ الہٰی منصف سے دوستی ہو جاتی ہے وہ انہیں روھانی واخلاقی موت کی راہ پر نہیں پاتا۔ وہ روز و شب الہٰی نام میں دھیان لگاتا ہے اورمحو ومجذوب رہتا ہے ۔

سلوکُ مਃ੧॥
سُنھیِئےَ ایکُ ۄکھانھیِئےَ سُرگِ مِرتِ پئِیالِ ॥
ہُکمُ ن جائیِ میٹِیا جو لِکھِیا سو نالِ ॥
کئُنھُ موُیا کئُنھُ مارسیِ کئُنھُ آۄےَ کئُنھُ جاءِ ॥
کئُنھُ رہسیِ نانکا کِس کیِ سُرتِ سماءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سرگ۔ جنت۔ بہشت ۔ مرت۔ زمینی عالم۔پیال ۔ زیر زمین ۔ سنیئے ۔ سننے میں آتا۔ وکھانیئے ۔ بیان کرتے ہیں۔ حکم نہ جائی میٹیا۔ اسکے حکم کی فرماتی نہیں ہو سکتی ۔ رہسی ۔ رہیگا۔ سرت۔ ہوش۔
ترجمہ:
یہی سننے اور بیان میں آئی ہے کہ جنت و بہشت اس عالم اور پاتال یا زیر زمین تینوں عالموں میں اسکا فرمان جو بھی تحریر ہے مٹائیا نہیں سکتا ۔ جو ساتھ ہے نہ کوئیمرتا ہے نہ مارتا ہے نہ کوئی پیدا ہوتا ہے نہ مرتا ہے اے نانک۔ کس کی ہوش خدا میں لگتی ہے مراد سب کچھ خدا کی اپنی کار ہے ۔

مਃ੧॥
ہءُ مُیا مےَ مارِیا پئُنھُ ۄہےَ دریِیاءُ ॥
ت٘رِسنا تھکیِ نانکا جا منُ رتا ناءِ ॥
لوئِنھ رتے لوئِنھیِ کنّنیِ سُرتِ سماءِ ॥
جیِبھ رسائِنھِ چوُنڑیِ رتیِ لال لۄاءِ ॥
انّدرُ مُسکِ جھکولِیا کیِمتِ کہیِ ن جاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ہؤ۔ خودی۔ میں ۔ خود۔ پؤن۔ ہوا۔ طوفان۔ وہے دریاؤ۔ دریا جاری ہیں۔ ترشنا۔ خوآہشات ۔ تھکی ۔ ماند پڑی ۔ من رتا نائے ۔ جب من میں خدا کا نام بس گیا۔ لوئن ۔ آنکھیں۔ رتی مخمور۔ گنی ۔ کانوں میں۔ سرت ۔ ہوش۔ مسک۔ خوشبو ۔ جھکولیا۔ ہلائیا ہواہے ۔
ترجمہ:
جبتک انسان پر ہونمے خودی کے زیر اثر ہے اسکے اندر خواہشات کے دریا بہتے ہیں۔ مگر جب اے نانک دل الہٰی نام کے زیر اثر ہو جاتا ہے ۔ تو خواہشات مٹ جاتی ہیں انکھیں اپنے آپ میں مکمور ہو جاتی ہیں۔ سماع کی خواہش کانوں میں ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ زبان نام کے زیر اثر اسکے پریم پیار سے سرخرو ہوجاتی ہے ۔ من نام کی خوشبو سے معطرہوجاتا ہے ایسی زندگی کی قیمت بیان سے باہر ہے ۔

پئُڑیِ ॥
اِسُ جُگ مہِ نامُ نِدھانُ ہےَ نامو نالِ چلےَ ॥
ایہُ اکھُٹُ کدے ن نِکھُٹئیِ کھاءِ کھرچِءُ پلےَ ॥
ہرِ جن نیڑِ ن آۄئیِ جمکنّکر جمکلےَ ॥
سے ساہ سچے ۄنھجارِیا جِن ہرِ دھنُ پلےَ ॥
ہرِ کِرپا تے ہرِ پائیِئےَ جا آپِ ہرِ گھلےَ ॥੧੫॥
لفظی معنی:
جگ ۔ دنیا۔ ندھان۔ خزانہ ۔ نامونال چلے ۔ نام بوقت آکرت ساتھ جاتا ہے ۔ اگھٹ۔کم نیہں ہوتا۔ جم کنکر۔ موت کا خدمتگار ۔ جمکلے ۔ فرشتہ موت۔ سوساہ ۔ وہ شاہوکار ۔ ونجاریا۔ سوداگر۔ ہر دھن پہلے۔ جس کے دامن میں خدا کی دؤلت ہے ۔ گھلے ۔ بھیجنا ہے ۔
ترجمہ:
اس دنیا میں خدا کا نام سچ و حقیقت ہی ایک خزانہ ہے نام ہی بوقت آخرت یا رحلت ساتھ جاتا ہے ۔ نام ایک نہ ختم ہونیوالا خزانہ ہے اسے کتفا کھاؤ خرچو استعمال کرؤ ختم نہ ہوگا۔ خادم خدا کے نزدیک روحانی واخلاقی موت نزدیک نہیں پھتکتی جنہون نے الہٰی نام کا سرمایہ سچ حق اور حقیقت اکھٹا کیا وہ حقیق سچے شاہو کار ہیں ۔ اور سچے سوداگر یہ نام کا خداکی کرم و عنایت سے حاصل ہوتا ہے باخدا خود بھیجے ۔

سلوکُ مਃ੩॥
منمُکھ ۄاپارےَ سار ن جانھنیِ بِکھُ ۄِہاجھہِ بِکھُ سنّگ٘رہہِ بِکھ سِءُ دھرہِ پِیارُ ॥
باہرہُ پنّڈِت سدائِدے منہُ موُرکھ گاۄار ॥
ہرِ سِءُ چِتُ ن لائِنیِ ۄادیِ دھرنِ پِیارُ ॥
ۄادا کیِیا کرنِ کہانھیِیا کوُڑُ بولِ کرہِ آہارُ ॥
جگ مہِ رام نامُ ہرِ نِرملا ہورُ میَلا سبھُ آکارُ ॥
نانک نامُ ن چیتنیِ ہوءِ میَلے مرہِ گۄار ॥੧॥
لفظی معنی:
واپارے ۔ سوداگری ۔ سار ۔ قدروقیمت۔ نہ جاننی ۔ نہیں سمجھتا ۔ وکھ ۔ زیر۔ وہاجیہہ۔ سوداگری ۔ سنگریہہ۔ اکھٹی کرتا ہے ۔ باہو۔ دکھاوے کے طور پر۔ پنڈت۔ سدا یندے ۔ عالم کہلاتے ہیں۔ گوار۔ جاہل۔ چت۔ دل۔ دادی ۔ بحث۔ مباحثے ۔ جھکڑے ۔ آہار۔ روزی۔ نرملا۔ پاک ۔ آکار۔ پھیلاؤ ۔ میلے ۔ ناپاک۔
ترجمہ:
خود پسندی مرید من کو سوداگری کی قدروقیمت اور خبر نہیں وہ زیر خریدتا ہے ۔ مائیا جو ایک زہر ہے اکھٹی کرتا ہے اور اس زہریلے سرمائے سے پیار کرتا ہے ۔ بیرونی طور پر پنڈت یا علام کہلاتا ہے جبکہ باطنی بیوقوف اور جاہل ہے ۔ خدا سے دلی محبتنہیں مگر علم کی وجہ سے بحث مباحثے کرتا ہے اور بحث مباحثوں کی باتیں اور کہانیاں کہتے ہیں۔ جھوٹ بول کر روزی کماتے ہیں۔ اس دنای میں اللہ کا نام سچ حق وحقیقت ہی پاک ہے باقی سارا عالم جو زیر نظر ہے ناپاک ہے اےنان۔ جو اللہ کے پاک نام سچ حق اور حقیقت کو پیش نظرنہیں رکھتے وہ ناپاک ہوکر گوار جاہل روحانی واخلاقی موت مرتے ہیں۔

مਃ੩॥
دُکھُ لگا بِنُ سیۄِئےَ ہُکمُ منّنے دُکھُ جاءِ ॥
آپے داتا سُکھےَ دا آپے دےءِ سجاءِ ॥
نانک ایۄےَ جانھیِئےَ سبھُ کِچھُ تِسےَ رجاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سیوئے ۔ خدمتگار ی ۔ حکم منے ۔ فرمانبرداری ۔ داتا۔ سخی۔ سزائے ۔ سزا۔ بولے ۔ اسطرح سے ۔ رضائے ۔ مرضی ۔
ترجمہ:
بغیر خدمت انسان عذآب پاتا اور پاتا اور فرمانبرداری سے عذآب مٹ جاتا ہے خدا ہی آرام و آسائش پہنچانے والا ہے اور سزا بھی وہی دیتا ہے ۔ اے نانک۔ سمجھ لو اسطرح سے جو کچھ ہے اور ہورہا ہے اسکی رضا سے ہورہا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ نام بِنا جگتُ ہےَ نِردھنُ بِنُ ناۄےَ ت٘رِپتِ ناہیِ ॥
دوُجےَ بھرمِ بھُلائِیا ہئُمےَ دُکھُ پاہیِ ॥
بِنُ کرما کِچھوُ ن پائیِئےَ جے بہُتُ لوچاہیِ ॥
آۄےَ جاءِ جنّمےَ مرےَ گُر سبدِ چھُٹاہیِ ॥
آپِ کرےَ کِسُ آکھیِئےَ دوُجا کو ناہیِ ॥੧੬॥
لفظی معنی:
نردھن۔ کنگال۔ غریب ۔ ترپت۔ تسلی۔ بھرم ۔ وہم وگمان۔ بھلائیا ۔گمراہ۔ وکھ پاہی ۔ عذآب پاتا ہے ۔ کرما ۔ تقدیر۔ اعمال۔ لوچاہی۔ خوآہش کرے ۔ چھٹا ہ ۔ نجات پاتا ہے ۔ دوجا۔ دیگر ۔ دوسرا۔
ترجمہ:
خدا کے نام سچ حق و حقیقت کے بگیر سارا عالم گنگال ہے ۔ کیونکہ نام کے بغیر تسلی نہیں ہوتی نہ صبر آتا ہے بغیر اعمال و مقدر خوآہ کوئی کتنی خوآہش کیوں نہ کرے الہٰی کرم وعنایت کے بغیر نام حاصل نہیں ہوتا انسان پس و پیش و تناسخ میں رہتا ہے نجات حاصل نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے خدا خود کرتا ہے شکایت یا آہ زاری کس سے کیجائے ۔ کلام مرشدمیں ہی بچا جاسکتا ہے کیونکہ خدا کے بغیر دوسری ایسی کوئی ۔

سلوکُ مਃ੩॥
اِسُ جگ مہِ سنّتیِ دھنُ کھٹِیا جِنا ستِگُرُ مِلِیا پ٘ربھُ آءِ ॥
ستِگُرِ سچُ د٘رِڑائِیا اِسُ دھن کیِ کیِمتِ کہیِ ن جاءِ ॥
اِتُ دھنِ پائِئےَ بھُکھ لتھیِ سُکھُ ۄسِیا منِ آءِ ॥
جِنّن٘ہ٘ہا کءُ دھُرِ لِکھِیا تِنیِ پائِیا آءِ ॥
منمُکھُ جگتُ نِردھنُ ہےَ مائِیا نو بِللاءِ ॥
اندِنُ پھِردا سدا رہےَ بھُکھ ن کدے جاءِ ॥
ساںتِ ن کدے آۄئیِ نہ سُکھُ ۄسےَ منِ آءِ ॥
سدا چِنّت چِتۄدا رہےَ سہسا کدے ن جاءِ ॥
نانک ۄِنھُ ستِگُر متِ بھۄیِ ستِگُر نو مِلےَ تا سبدُ کماءِ ॥
سدا سدا سُکھ مہِ رہےَ سچے ماہِ سماءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
سنتی۔ خدا رسیدہ حق پرست۔ ستگر ۔ سچا مرشد۔ درڑائیا ۔ ذہن نشین کرائیا۔ کہی ۔ بیان ۔ انت دھن۔ اس دؤلت۔ بھکھ لتھی۔ بھوک مٹی ۔ سکھ ۔ سکون ۔ نردھن۔ کنگال۔ سانت۔ سکون ۔ چنت چتودا۔ سوچتا ۔ فکر و تشویش ۔ سہسا۔ فکر مندری۔ تشوش ۔ مت بھوی ۔ عقل چکراگئی ۔
ترجمہ:
اس عالم میں عاشقان الہٰی جن کے دل مین حق و حقیقت بستی ہے الہٰی نام سچ حق و حقیقت کا سرمایہ کمائیا ہے جنکو خدا نے سچے مرشد سے ملائیا ہے سچے مرشد نے خدا اور حقیقت ذہن نشین کرائیا جسکی قدر قیمت بیان نہیں ہو سکتی ۔ اس دؤلت کی دستیابی سے بھوک مٹ جاتی ہے ۔ اور دل میں سکون پیدا ہوا جن کے نصیب مین خدا نے تحریر کیا ہوا ہے ۔ پائیا۔ مریدان میں کا عالم ہمیشہ غریب اور کنگال رہتا ہے اور دؤلت کے لئے آہ و زاری کرتا ہے ہر وقت بھٹکتا رہتا ہے فکر مندری جاتی نہیں ۔ ہر وقت سوچتا رہتا ہے ۔ اے نانک۔ مرشد کے بغیر عقل پھر جاتی ہے اگر سچے مرشد سے ملاپ ہوجائے تب سبق و کلام پر عمل پیرا ہوئے ہمیشہ آرام و آسائش پائے اور خدا سے اشتراک بنا رہے ۔
مਃ੩॥
جِنِ اُپائیِ میدنیِ سوئیِ کار کرےءِ ॥
ایکو سِمرہُ بھائِرہُ تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
کھانھا سبدُ چنّگِیائیِیا جِتُ کھادھےَ سدا ت٘رِپتِ ہوءِ ॥
پیَننھُ سِپھتِ سناءِ ہےَ سدا سدا اوہُ اوُجلا میَلا کدے ن ہوءِ ॥
سہجے سچُ دھنُ کھٹِیا تھوڑا کدے ن ہوءِ ॥
دیہیِ نو سبدُ سیِگارُ ہےَ جِتُ سدا سدا سُکھُ ہوءِ ॥
نانک گُرمُکھِ بُجھیِئےَ جِس نو آپِ ۄِکھالے سوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
میدنی ۔ زمین۔ سوئی۔ وہی ۔ سار۔ سنبھال۔ خبرداری۔ سمرہو۔ یاد کرؤ۔ تس۔ اُس۔ کھانا ۔ خوراک۔ سبد چنگیائیاں۔ کلام و واعظ و نیکیاں ۔ ترپت۔ تسلی۔ پہن۔ پوشاک۔ صفت ثنائے ۔ تعریف۔ حمد۔ اوجلا۔ پاک۔ میلا۔ ناپاک۔ سہجے ۔ قدرتی طور پر۔ سچ دھن۔ حقیقی دؤلت۔ کھٹیا۔ کمائیا۔ حاصل کیا۔ تھوڑ۔ کم۔ سیگار۔ سجاوٹ ۔ آب وکھانے سوئے ۔ جسے خود سمجھائے ۔
ترجمہ:
سنبھال و خبر گیری وہی کرتا ہے جس نے زمین بنائی ہے ۔ اے بھائی یاد کرو واحد کو اسکے بغیر نہیں کوئی ہستی دوسری ۔ کھانا بناؤ۔ کلام واعظ اور نصیحت و نیکیاں جس کے کھانے سے تسکین ملے تسلی ہو جائے ۔ پوشاک بناو۔ ھمدوالہیی ہمیشہ کے لئے پاک ہو جائے ۔ جو ناپاک ہوتا نہیں۔ پر سکون ہوکر کمائیا ہوا سرمایہ کبھی جو سچا سرمایہ جو سچا قو حقیقی اور بر حق ہو کم ہوتا نہیں۔ جسم کے لئے کلاممرشد ایک زیور ہے اس سے آرام و آسائش حاصل ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ راز زندگی وہ سمجھتا ہے ۔ جسے خدا خد سمجھتا ہے مرشد کے ذریعے ۔

پئُڑیِ ॥
انّترِ جپُ تپُ سنّجمو گُر سبدیِ جاپےَ ॥
ہرِ ہرِ نامُ دھِیائیِئےَ ہئُمےَ اگِیانُ گۄاپےَ ॥
انّدرُ انّم٘رِتِ بھرپوُرُ ہےَ چاکھِیا سادُ جاپےَ ॥
جِن چاکھِیا سے نِربھءُ بھۓ سے ہرِ رسِ دھ٘راپےَ ॥
ہرِ کِرپا دھارِ پیِیائِیا پھِرِ کالُ ن ۄِیاپےَ ॥੧੭॥
لفظی معنی:
انتر۔ ہروے ۔ ذہن۔ من۔ جپ تپ۔ یادوریاض و عبادت ۔ سنجمو ۔ اعضائے ۔ احساس جسم پر ضبط یا نفس پر ضبط ۔ گھر سبدی جاپے ۔ کلام مرشد سے پتہ چلاتا ہے ۔ دھیایئے دھیان دیں۔ ہونمے اگیان۔ خودی و جہالت ۔ گواپے ۔ ختم ہوتی ہے ۔ انمرت۔ آبحیات ۔ ایسا پانی جو زندگی کو روحانی و اخلاقی طور پر بلندی پر پہنچاتا ہے ۔ بھر پور۔ پورا بھرا ہوا۔ چاکیھیا ۔ چکھنے سے ۔ ساد۔ لطف۔ مزہ ۔ جاپے ۔ پتہ چلتا ہے ۔ نربھؤ بیخوف۔ دھراپے ۔ سیر ہو جاتا ہے ۔ تسلی ہو جاتای ہے ۔ کال نہ ویاپے ۔ موت واقع نہیں ہوتی ۔
ترجمہ:
دل میں ہی ہے یادوریاض وعبادت اور نفس پر ضبط کے متعلق کلما مرشد سے پتہ چلتا ہے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت میں دھیان لگانے سے جہالت اور ال علمی مٹ جاتی ہے انسان آب حیات سے بھرا ہوا ہے اسکے لطف لینے اور چکھنے سے مزے کا پتہ چلتا ہے جنہوں نے لطف لیا وہ بیخوف ہوئے جنہوں نے اسکے لطف سے تسلی پانی سیر ہوئے ۔ جن پر الہٰی کرم و عنایت تھی انہیں یہ لطف دستیاب ہوا جنہیں خدا نے پانی کرم و عنایت سے یہ لطف دیا۔ روھانی واخلاقی موت اسکے نزدیک نہیں پھٹکتی ۔

سلوکُ مਃ੩॥
لوکُ اۄگنھا کیِ بنّن٘ہ٘ہےَ گنّٹھڑیِ گُنھ ن ۄِہاجھےَ کوءِ ॥
گُنھ کا گاہکُ نانکا ۄِرلا کوئیِ ہوءِ ॥
گُر پرسادیِ گُنھ پائیِئن٘ہ٘ہِ جِس نو ندرِ کرےءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
اوگنا۔ بد اوصاف ۔ گنٹھڑی ۔ گٹھ ۔ پنڈا۔ وہاجے ۔ خدریدتا ۔ گاہک ۔ خریدار ۔ درلا۔ شاذو نادر۔ کوئی ہی ۔ گر پرسادی۔ رحمت مرشد سے ۔
ترجمہ:
عام لوگ بد اوصاف کی (گانٹھے ) گاینٹں۔ باندھی ہوئی ہیں۔ اوصاف کوئی نہیں خریدتا۔ وصف کے خریدار بہت کم ہیں۔ رحمت مرشد سے اوصاف دستیاب ہوت ے ہیں۔ جس پر خدا کی نگاہ شفقت ہے ۔

مਃ੩॥
گُنھ اۄگُنھ سمانِ ہہِ جِ آپِ کیِتے کرتارِ ॥
نانک ہُکمِ منّنِئےَ سُکھُ پائیِئےَ گُر سبدیِ ۄیِچارِ ॥੨॥
لفظی معنی:

وصف اور بد وصف برابر ہیں کیونکہ یہ خدا کے خود پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اے نانک۔ فرمان کا فرمانبرداری ہونے سے آرام و آسائش حاصل ہوتااور کلام مرشد کو سوچنے اور سمجھنے سے ۔

پئُڑیِ ॥
انّدرِ راجا تکھتُ ہےَ آپے کرے نِیاءُ ॥
گُر سبدیِ درُ جانھیِئےَ انّدرِ مہلُ اسراءُ ॥
کھرے پرکھِ کھجانےَ پائیِئنِ کھوٹِیا ناہیِ تھاءُ ॥
سبھُ سچو سچُ ۄرتدا سدا سچُ نِیاءُ ॥
انّم٘رِت کا رسُ آئِیا منِ ۄسِیا ناءُ ॥੧੮॥
لفظی معنی:
۔ راجہ تکت۔ تکت مالک ۔ ضمیر کا مالک ۔ خدا ۔ نیاء ۔ انصاف ۔ در ۔ دردوازہ ۔ جانیئے ۔ سمجھ آتا ہے ۔ محل اسراؤ ۔ محلات وسرائے ۔ گھرے ۔ جائز ۔ مناسب ۔ پرکھ ۔ پڑتال۔ تحقیقیں ۔ خزانے ۔مقبول۔ منظور۔ کھوٹیا۔ بدکردار۔ ۔ جھوٹے ۔ تھاو۔ ٹھکانہ ۔ سبھ سچو سچ ورتدا۔ ہمیشہ حقیقت ۔ صدیوی سچ ہر جگہ بستا ہے ۔ سدا سچ نیاء۔ صدیوی سچا انصاف انمرت کارس۔ آبحیات کا لطف ۔ ایسا پانی جو زندیگ کو دائمی صدیوی بناتا ہے کا مزہ۔
ترجمہ:
انسان کے ذہن یا دل و دماغ مینحکمران عالم خدا ذہن نیشن ہے جو خود ہی انصاف کرتا ہے مراد دل میں ضمیر ہے کلام مرشد سے اسکے دروازے اور ٹھکانے کا پتہ چلتا ہے ۔ اسکے اندر محلات اور آسرے ہں۔ وہاں جائز نا جائز نیک وبد کی تحقیق ہوتی ہے ۔ درست تسلیم ہو جاتے ہیں مقبول ہوجاتے ہیں ناجائز و جھوٹوں کو کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا۔ خدا ہر جائی ہے ہر جگہ بستا ہے اور سچا ہے اسکا انصاف مگر اسکے در کا پتہ چلتا ہے ۔ انہیں آب حیات کا لطف آتا جنکے دل میں نام بستا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
ہءُ مےَ کریِ تاں توُ ناہیِ توُ ہوۄہِ ہءُ ناہِ ॥
بوُجھہُ گِیانیِ بوُجھنھا ایہ اکتھ کتھا من ماہِ ॥
بِنُ گُر تتُ ن پائیِئےَ الکھُ ۄسےَ سبھ ماہِ ॥
ستِگُرُ مِلےَ ت جانھیِئےَ جاں سبدُ ۄسےَ من ماہِ ॥
آپُ گئِیا بھ٘رمُ بھءُ گئِیا جنم مرن دُکھ جاہِ ॥
گُرمتِ الکھُ لکھائیِئےَ اوُتم متِ تراہِ ॥
نانک سوہنّ ہنّسا جپُ جاپہُ ت٘رِبھۄنھ تِسےَ سماہِ ॥੧॥
لفظی معنی:
ہؤمے ۔ خودی۔ گیانی ۔ عالم ۔ دانشمند۔ بوجھنا۔ بجھارت ۔ پہیلی ۔ اکتھ ۔ جوکہی نہ جا سکے ۔ کتھا ۔ کہانی۔ تت۔ اصلیت۔ الکھ ۔ جو سمجھ نہ آئے ۔ سبھ ماہے ۔ سبھ کے اندر۔ جانیئے ۔ سمجھ آتا ہے ۔ آپ۔ اپناپن۔ خودی۔ بھرم بھؤ۔ وہم وگمان اور خوف۔ گرمت۔ سبق و واعظ مرشد۔ اُتم مت۔ بلند عقل ۔ ترا ہے ۔ کامیابی سے عبور کر جاتے ہیں۔ سوہ ۔ وہ میں ہوں ۔ ہنگ سا۔ میں وہ ہوں ۔ مراد یکسو۔ اس میں اور اس میں کا تفرقہ نہیں رہا۔ تربھون۔ تینوں عالم۔
ترجمہ:
اےخدا جب میں اپنی ہستی جتاتا ہوں تو تو میرے پاس نہیں رہتا مگر جب تومیرے اندر بستا ہے تومیری خودی نہیں رہتی ۔ اے عالمو فاضلو اس پہلی یا بجھارت کو سمجھو یہ ناقابل بیان کہانی ایک راز ہے مگر یہ اصلیت مرشد کے بغیر سمجھ نہیں آتی ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے سمجھ آتی ہے یا دلمیں کلام بسے ۔ جب خودی ختم ہوجاتی ہے تو بھٹکن اور خوف مٹ جاتا ہے ۔ تناسخ کا عذآب ختم ہوجاتا ہے اور سبق مرشد سے نا سمجھ آنے والے خدا کی سمجھ اجاتی ہے ۔ اور عقل بلند با شعور ہو جاتی ہے ان کی زندگی کامیابی ہو جاتی ہے اور وہ زندگی اس سمندر کو کامیابی سے عبور کر یتے ہیں۔ اے نانک تو بھی یادوریاض کر تاکہ یکسوئی خدا سے حاصل ہوجائے اور آپسی بھید مٹ جائے ۔ تینوں عالموں کے جاندار اس میں جاذب و مجذوب ہیں۔

مਃ੩॥
منُ مانھکُ جِنِ پرکھِیا گُر سبدیِ ۄیِچارِ ॥
سے جن ۄِرلے جانھیِئہِ کلجُگ ۄِچِ سنّسارِ ॥
آپےَ نو آپُ مِلِ رہِیا ہئُمےَ دُبِدھا مارِ ॥
نانک نامِ رتے دُترُ ترے بھئُجلُ بِکھمُ سنّسارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
مانک ۔ موتی۔ پرکھیا۔ آزمایا۔ گر سبد ویچار۔ کلام مرشد کے خیالات کے مطابق ۔ ورے ۔ کوئی۔ جانیہہ۔ جانتے ہیں۔ گلجگ ۔ جھگڑوں کا دؤر ۔ مشیرنی کا زمانے ۔ سنسار ۔ دنیا۔ نام رتے ۔ سچ و حقیقت سے متاثر و محو۔ دتر۔ دشوارگذاریاں ۔ بھوجل وکھم سنسار۔ زہریلے خوفناک سمندر۔
ترجمہ:
جس نے موتی کی مانند نایاب قیمتی من کلام مرشد کے منتا کی مطابق تحقیق کی ایسے انسان اس دنیا میں بہت کم نہیں اس جھگڑوں بھر دنیا مین اسکی خوئشتا خودی اور میری ملکیتی احساس کو ختم کرکے خود بہ خود میں محوو مجذوب رہتے ہیں۔ اے نانک۔ جو الہٰی نام سے متاثر و محو وہوئے انہوں نے اس دنیاوی زندگی کی دشواریوں پر عبور حاصل کیا ۔ اس خوفناک سمندر جسی دنیاوی زندگی پر ۔

پئُڑیِ ॥
منمُکھ انّدرُ ن بھالنیِ مُٹھے اہنّمتے ॥
چارے کُنّڈاں بھۄِ تھکے انّدرِ تِکھ تتے ॥
سِنّم٘رِتِ ساست ن سودھنیِ منمُکھ ۄِگُتے ॥
بِنُ گُر کِنےَ ن پائِئو ہرِ نامُ ہرِ ستے ॥
تتُ گِیانُ ۄیِچارِیا ہرِ جپِ ہرِ گتے ॥੧੯॥
لفظی معنی:
اندر۔ ذہن و قلب ۔ بھالنی ۔ تحقیق ۔ پڑتال۔ تلاش۔ مٹھے ۔ دہوکے ۔ فریب میں آئے ۔ اہنمتے ۔ غرور و تکبر سے بھرے ہوئے ۔ چارے کنڈاں۔ چارون سمتوں ۔ طرفوں ۔ بھو ۔ بھٹک کر ۔ پھ کر ۔ جھکے ۔ ماند ہوئے ۔ تکھ تتے ۔ جلانیوالی پیاس۔ سمرت شناشت۔ مذہبی کتابوں ۔ وگوتے ۔ ذلیل و خوآر۔ سودھنی ۔ غور سے تٹھقیق ستے ۔ صدیوی ۔ دائمی ۔ تت گیان۔ علمی حقیقت یا علمی نتیجہ ۔ وچاریا۔ سوچیا سمجھیا۔ ہر جپ ۔ الہٰی دیاوریاض ۔ پرگتے ۔ روحانی واخلاقی حالت زندگی کی درست ہوتی ہے ۔
ترجمہ:
خودی پسند اپنے ذہن و قلب غرور و تکبر میں گرفتار کی تحقیق بابت کر دار کی نیکی و بدی نہیں کرتے خواہشات کی آگ مین جلنے کی وجہ سے ہر طرف بھٹک کر ماند ہوئے ۔ سمریتوں شاشتروں اور مذہبی کتابوں کا بغور مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے ذلیل وخوآر ہوئے ۔ بغیر مرشد الہٰی نام سچ حق و حقیقت کسی کو دستیبا نہیں ہوا جو صدیوی اور دائمی ہے ۔ حقیقی و آسلی سوچ اور خیال یہ دریافت ہوئی ہے سچ حق و حقیقت الہٰی نام کی یاد وریاض سے ہی انسان کی روھای واخلاقی حاتل درست ہوتی ہے ۔ ۔

سلوک مਃ੨॥
آپے جانھےَ کرے آپِ آپے آنھےَ راسِ ॥
تِسےَ اگےَ نانکا کھلِءِ کیِچےَ ارداسِ ॥੧॥
لفظی معنی:
خدا خود ہی سمجھتا ہے کرتا ہے اور خود ہ راہ راست پر لاتا ہے اس لئے اے نانک اسکے آگے گھڑے ہوکر عرض گذار و۔

مਃ੧॥
جِنِ کیِیا تِنِ دیکھِیا آپے جانھےَ سوءِ ॥
کِس نو کہیِئےَ نانکا جا گھرِ ۄرتےَ سبھُ کوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
جن ۔ جس نے ۔ کیا۔ پیدا کیا۔ دیکھیا۔ خبر گیری ۔ نگرانی۔ سوئے ۔ وہی ۔ جاگھر ۔ درتے سبھ کوئے ۔ جب سب کے ذہن و جگر میں بستا ہے ۔
ترجمہ؛
جس نے کیا ہے یہ عالم پیدا خبر گیری و سنبھال وہ ہی کرتا ہے وہ ہی اسکے متعلق جانتا بھی ہے ۔ تو نالش کس سے کریں سبھ میں ہے بستا وہی ۔

پئُڑیِ ॥
سبھے تھوک ۄِسارِ اِکو مِتُ کرِ ॥
منُ تنُ ہوءِ نِہالُ پاپا دہےَ ہرِ ॥
آۄنھ جانھا چُکےَ جنمِ ن جاہِ مرِ ॥
سچُ نامُ آدھارُ سوگِ ن موہِ جرِ ॥
نانک نامُ نِدھانُ من مہِ سنّجِ دھرِ ॥੨੦॥
لفظی معنی:
سبھے توھک۔ ہر طرح کے ذخیرے ۔ وسار ۔ بھول جا۔ مت۔ دوست۔ من تن۔ دل وجان۔ نہال۔ خوش۔ پاپا۔ گناہوں ۔ وہے ۔ جلاتا ہے ۔ چکے ۔ ختم ہوتا ہے ۔ آدھار۔ آسرا۔ سوگ ۔ غمگینی ۔ خبر۔ جل۔ سٹر۔ سنج دھر۔ اکھٹا کر۔
ترجمہ:
ندیا کی تمام چیزوں کو بھلا کر واحد خدا سے دوستی بنا اس سے دل و دماغ خو ش ہوگا اور خدا تمام گناہوں کو جلا دیگا۔ اے نانک۔ اس سے تناسخ مٹ جائیگا اور روھانی واخلاقی موت واقع نہ ہوگی ۔ الہٰی نام سچ حق وحقیقت کا فلسفہ ایک بیش قیمت خزانہ ہے اسے اپنے ذہن و قلب می اکھٹا کر

سلوک مਃ੫॥
مائِیا منہُ ن ۄیِسرےَ ماںگےَ دنّما دنّم ॥
سو پ٘ربھُ چِتِ ن آۄئیِ نانک نہیِ کرنّم ॥੧॥
لفظی معنی:
وسرے ۔ بھولتا ہیں۔ وماں ونم۔ سرمایہ ہی سرمایہ ۔ سوبھ ۔ اس خدا کو۔ چت نہ آوئی ۔ دلمیں خیال نہیں ۔ نہیں کرم نصیب میں نہیں۔

مਃ੫॥
مائِیا ساتھِ ن چلئیِ کِیا لپٹاۄہِ انّدھ ॥
گُر کے چرنھ دھِیاءِ توُ توُٹہِ مائِیا بنّدھ ॥੨॥
لفظی معنی:
ساتھ نہ چلئی ۔ بوقت آخرت در وات ساتھ نہیں جاتی۔ اندھ۔ جاہل۔ بندھ۔ غلامی ۔
ترجمہ:
اے جاہل انسان یہ دنیاوی دؤلت و رحلت انسان کے ساتھ نہیں جاتی ۔ سچے مرشد میں وھان لگا تاکہ تیری دنیاوی دولت کی غلامی جاتی ۔

پئُڑیِ ॥
بھانھےَ ہُکمُ منائِئونُ بھانھےَ سُکھُ پائِیا ॥
بھانھےَ ستِگُرُ میلِئونُ بھانھےَ سچُ دھِیائِیا ॥
بھانھے جیۄڈ ہور داتِ ناہیِ سچُ آکھِ سُنھائِیا ॥
جِن کءُ پوُربِ لِکھِیا تِن سچُ کمائِیا ॥
نانک تِسُ سرنھاگتیِ جِنِ جگتُ اُپائِیا ॥੨੧॥
لفظی معنی؛
بھانے ۔ رضا میں راضی۔ حکم سنایؤن ۔ فرمانبرداری کی ۔ سچ دھیائیا۔ کدا میں توجہ دی دھیان لگائیا۔ پورب لکھیا۔ پہلے سے تحریر ہے اعمالنامے میں۔ دات۔ نعمت۔ سچ کمائیا ۔ عمل درآمد کیا۔ سرناگتی ۔ پناہ گیری ۔ جگت اپائیا۔ عالم پیدا کیا۔
ترجمہ:
خدانے اپنی رضا کی مطابق اپنی فرمبرداری کرائی ہے او ر رضا سے خدا سچے مرشد سے ملاتا ہے وہ رضا میں راضی رہ کر خدا میں اپنی توجو مرکوز کرتا ہے ۔ رضا جتنی اور کوئی نعمت نہیں میں حقیقت سناتا وہں جنکے اعمالنامے میں پہلے سے تحریر ہے وہ خدا کی حمدوثناہ کرتے ہیں اور سچ و حقیقت عمل میں لاتے ہیں۔ مالک اسکا پناہ گیر ہے جس نے عالم پیدا کیا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
جِن کءُ انّدرِ گِیانُ نہیِ بھےَ کیِ ناہیِ بِنّد ॥
نانک مُئِیا کا کِیا مارنھا جِ آپِ مارے گوۄِنّد ॥੧॥
لفظی معنی:
گیان ۔ علم و دانش۔ بھے ۔ خوف۔ بند۔ بوند۔ تھوڑی سی ۔ گووند۔ خدا۔
ترجمہ:
جن کے ول میں نہ ہے خوف خدا نہ عقل و دانش درا اے نانک۔ وہ تو روحانی واخلاقی طور پر پہلے ہی روحانی طور پرمردہ ہیں۔ ان سے زیادہ کیا موت ہوگی۔

مਃ੩॥
من کیِ پت٘ریِ ۄاچنھیِ سُکھیِ ہوُ سُکھُ سارُ ॥
سو ب٘راہمنھُ بھلا آکھیِئےَ جِ بُجھےَ ب٘رہمُ بیِچارُ ॥
ہرِ سالاہے ہرِ پڑےَ گُر کےَ سبدِ ۄیِچارِ ॥
آئِیا اوہُ پرۄانھُ ہےَ جِ کُل کا کرے اُدھارُ ॥
اگےَ جاتِ ن پُچھیِئےَ کرنھیِ سبدُ ہےَ سارُ ॥
ہورُ کوُڑُ پڑنھا کوُڑُ کماۄنھا بِکھِیا نالِ پِیارُ ॥
انّدرِ سُکھُ ن ہوۄئیِ منمُکھ جنمُ کھُیارُ ॥
نانک نامِ رتے سے اُبرے گُر کےَ ہیتِ اپارِ ॥੨॥
لفظی معنی:
پتری ۔ کتاب علم جیوتش یا نجوم۔ داچنی ۔ سمجھنی ۔ سار۔ اعلے ۔ بھلا ۔ نیک۔ بوجے ۔ سمجھے ۔ برہم وچار ۔ الہٰی خیالات کو سمجھنا ۔ پروان ۔ قبول۔ منظور۔ کل۔ خاندان۔ ادھار۔ کامیاب۔ وکھیا۔ دنیاوی دؤلت ۔ اندر سکھ ۔ ذہن سکون۔ خوآر۔ ذلیل۔ اُبھرے ۔ بچے ۔
ترجمہ:
اپنے من کو (سمجھنا) سمجھنے ہی سے حقیقی و ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے ۔نیک برہمن وہی ہے خدائی خیالات سمجھتا اور جانتا ہے جو کلام رشد کے ذریعے سوچ سمجھ کر خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ دنیا میں اُسی کا پیدا ہونا قبول ہوتا ہے جو اپنے خاندان کو کامیاب بناتا ہے ۔ خدا کے دربار میں ذات کو ترجیح حاصل نہیں نہ کوئی پوچھتا ہے ۔ باقی پڑھنا اور کمانا بیکار ہے اور دنیاوی دؤلت سے محبت اعمال ہی کلما کی بنیاد ہے ۔ ذہنی سکون نہں ملتا زندگی ودلالت میں گذارتی ہے ۔ اے نانک۔مرشد سے پریم پیار کرنے کی وجہ سے الہٰی نام سچ حق و حقیقت سے متاثر ہوکر بچ جاتے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
آپے کرِ کرِ ۄیکھدا آپے سبھُ سچا ॥
جو ہُکمُ ن بوُجھےَ کھسم کا سوئیِ نرُ کچا ॥
جِتُ بھاۄےَ تِتُ لائِدا گُرمُکھِ ہرِ سچا ॥
سبھنا کا ساہِبُ ایکُ ہےَ گُر سبدیِ رچا ॥
گُرمُکھِ سدا سلاہیِئےَ سبھِ تِس دے جچا ॥
جِءُ نانک آپِ نچائِدا تِۄ ہیِ کو نچا ॥੨੨॥੧॥ سُدھُ ॥
ماروُ ۄار مہلا ੫ ڈکھنھے مਃ੫
لفظی معنی:
سچا۔ صدیوی خدا۔ حکم۔ رضا وفرمان۔ خصم۔ مالک خدا۔ کچا۔ متزلزل یقین و الا۔ جت بھاوے ۔ جیسا چاہتا ہے ۔ تت ۔ اسطرح۔ گورمکھ ہرسچا۔ سچا خدا مرید مرشد کی معرفت ۔ صاحب آقا۔ رچا۔ رچی ۔ شراکت ۔ نچا۔ کھیل۔
ترجمہ:
پیدا کرکے خود خدا خبر گیری بھی کود ہی کرتا ہے ۔ صدیوی دوآمی خدا جو اپنے آقا کے حکم کونہیں سمجھتا و منزلزل ایمان انسان ہے جس طرح سچا صدیوی کدا چاہتا ہے اسکی رضا و فرمان ہے اس طرح لگاتا ہے مرید مرشد ہوکر سچا ہو جاتا ہے سبھ کا مالک ہے واحد خدا مگر کلام مرشد اس میں رچی یا محبت پیدا ہوتی ہے ۔مرید مرشد ہوکر کرؤ حمدوثناہ بر سارے خدا کے کھیل ہیں۔ اے نانک۔ جیسے خدا چاہتا ہے ویسے اعمال کرتا ہے انسان۔

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
توُ چءُ سجنھ میَڈِیا ڈیئیِ سِسُ اُتارِ ॥
نیَنھ مہِنّجے ترسدے کدِ پسیِ دیِدارُ ॥੧॥
لفظی معنی:
چؤ ۔ کہہ۔ بتا۔ سجن۔ دوست۔ میڈیا۔ میرے ۔ نین ۔ آنکھیں۔ ۔ مہنجے ۔ برے ۔ ڈیئی ۔ سس اتار۔ سیر اتارکر ویدوں ۔ کر پسی ۔ کب دیکھوں ۔ دیدار۔
ترجمہ:
اے میرےپیارے دؤلت کیا میں اپنا سر اتار کرتیری بھنیٹ کر دوں میری آنکھیں میرے دیدار کر کے انتظار میں ترس رہی ہیں کہ تیرا کب دیدار ہوگا۔

مਃ੫॥
نیِہُ مہِنّجا تئوُ نالِ بِیا نیہ کوُڑاۄے ڈیکھُ ॥
کپڑ بھوگ ڈراۄنھے جِچرُ پِریِ ن ڈیکھُ ॥੨॥
لفظی معنی:
تئو ۔ پریم پیار۔ رشتہ۔ منجا۔ میرا۔ تو۔ تیرے ۔ بیا۔ دوسرے ۔ کوڑا دے ۔ جھوٹے ۔ ڈیکھ ۔ دیکھے ۔ گپڑ بھوگ ۔ کھانا پہننا ۔ ڈراونے ۔ خوف زدہ کرنے والے ۔ پری ۔ خاوند۔ ۔ نہ ڈیکھ دیدار کر لوں۔
ترجمہ:
اے خدا مجھے تجھ سے پیار ہے یہ دیکھا ہے کہ دوسری محبتیں جھوتی ہیں۔ کھانے پہننے سے خوف ذدہ ہوں اے مالک جب تک تیرا دیدار نہ ہوجائے ۔

مਃ੫॥
اُٹھیِ جھالوُ کنّتڑے ہءُ پسیِ تءُ دیِدارُ ॥
کاجلُ ہار تمول رسُ بِنُ پسے ہبھِ رس چھارُ ॥੩॥
لفظی معنی:
جھالو ۔ صبح سویرے ۔ کنتڑے ۔ اے خاوند۔ ہؤپسی ۔ دیدار ۔ کب تیرا دیدار کرؤں۔ کاجل۔ بڑھیا سرما۔ تحول۔ تینو ل۔ پان ۔ رس۔ ضائقہ۔ سوآد۔ بن پسے ۔ بغیر دیکھے ۔ ہبھ سارے ۔ چھار ۔ راکھ ۔ سوآہ ۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے خاوند مراد خدا میں تیرے درس و دیدار کے لئے صبح سویرے تیرا دیدار پاؤں اُٹھتاہوں ۔ کاجل پان کارس۔ مالا۔ یہ تمام تیرے دیدار کے بغیر میرے لئے راکھ ہیں۔

. پئُڑیِ ॥
توُ سچا ساہِبُ سچُ سچُ سبھُ دھارِیا ॥
گُرمُکھِ کیِتو تھاٹُ سِرجِ سنّسارِیا ॥
ہرِ آگِیا ہوۓ بید پاپُ پُنّنُ ۄیِچارِیا ॥
ب٘رہما بِسنُ مہیسُ ت٘رےَ گُنھ بِستھارِیا ॥
نۄ کھنّڈ پ٘رِتھمیِ ساجِ ہرِ رنّگ سۄارِیا ॥
ۄیکیِ جنّت اُپاءِ انّترِ کل دھارِیا ॥
تیرا انّتُ ن جانھےَ کوءِ سچُ سِرجنھہارِیا ॥
توُ جانھہِ سبھ بِدھِ آپِ گُرمُکھِ نِستارِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
سچا صاحب۔ سچامک۔ آقا۔ صدیوی قائم دائم۔ سچ ۔ سبھ دھاریا۔ سچا صیوی سچ اپنائیا۔ گورمکھ کیتو تھاٹ۔ مرشدی راہ بنائیا۔ سرج سنساریا۔ عالم پیدا کرکے ۔ ہر آگیا ہوئے وید۔ الہٰی فرمان و منظوری سے وید ینے ۔ پاپ۔ گناہ۔ پن ۔ چواب۔ تریگن ۔ تین اوصاف۔ رجو تمو ۔ ستو۔ حکمرانی۔ لالچ اور سچائی۔ ستھرائیا۔ پھیلائے ۔ نوکھنڈ۔ نو بر اعظم۔ پرتھوی ۔ زمین۔ ساج۔ پیدا کر ۔ ہر رنگ سوریا۔ اسے بہت سے رنگوں سے آراستہ کیا۔ ویکھی جنت۔ اپائے ۔ بیشمار قسم کے جاندار۔ پیدا کئے ۔ انتر کل۔ وھریا۔ انکے اندر طارق پیدا کی ۔ سچ سرجنہاریا۔ پیدا کرنے والا خدا۔ بدھ ۔ طریقے ۔ گورمکھ نشاریا ۔ مرشد کے وسیلے سے کامیاب بناتا ہے ۔
ترجمہ:
اے کدا تو سچا مالک ہے صدیوی ہے تیرا قانون صدیوی ہے جو تو نے بنائیا اور اپنائیا ہے کہ مرشد کے بتائے راستے پر چلنا ہے تیرے زیر فرمان ہی مذہبی کتابیں ظہور میں آئیں تو نے ہی برہما وشنو اور شو پیدار کئے تو نے تین اوصاف پر مشتمل یہ عالم کا پھیلاؤ کیا۔ تو نے ہی نو براعظموں والی زمین پیدا کرکے ۔ اسے بیشمار قسموں سےاستوار کیا اور سجائیا اور بیشمار قسموں کے جاندار پیدا کے لئے اور انہیں طاقت عنایت کی ۔ کوئی بھی تیرے اوصاف کی قدرقیمت کو سمجھ نہیں سکتا۔ اپنے طرز و طریقے او ازوں کی تجھے ہی سمجھ ہے تو سبھ کو مرشد کے بتائے راہ پر چلا کرکامیابی عنایت کرتا ہے ان سب کی طاقت اپنے لئے مخصؤص کر رکھی ہے ۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
جے توُ مِت٘رُ اساڈڑا ہِک بھوریِ نا ۄیچھوڑِ ॥
جیِءُ مہِنّجا تءُ موہِیا کدِ پسیِ جانیِ توہِ ॥੧॥
لفظی معنی:
میز۔ دؤست۔ اساڈڑا۔ ہمارا۔ ہک بھوری ۔ زراسی دیر کے لئے ۔ چھوڑ۔ جدا کر۔ جیؤ۔ دل ۔ مہنجا۔ میرا۔ تؤ۔ تو نے ۔ موہیا۔ پیارا۔ بنالیا۔ کد یسی ۔ کب دیدار ہوگا۔ جانی۔م یری جان ۔ توہ ۔ تیرا ۔
ترجمہ:
اے خدا اگر تو میا دوست ہے تو ذارا سی دیر کے لئے مجھے اپنے سے جدا نہ کر۔ میرا دل تیری محبت میں گرفتار ہوگیا ہے ۔

مਃ੫॥
دُرجن توُ جلُ بھاہڑیِ ۄِچھوڑے مرِ جاہِ ॥
کنّتا توُ سءُ سیجڑیِ میَڈا ہبھو دُکھُ اُلاہِ ॥੨॥
لفظی معنی:
درجن۔ بد قماش۔ دشمن۔ جل بھاہڑی۔ وہکتی آگ۔ میں جل۔ وچھوڑے ۔ جدائی۔ کنتا۔ اے خاوند۔ خدا۔ سؤسیجری ۔ خفتگاہ میں سوجا۔ دل میں بس۔ میڈا۔ میرا۔ ہھو دکھ۔ میرا سارا عذا الا ہے ۔ اتار دے ۔ دور کر۔
ترجمہ:
اے دشمن بد قماش تو پھڑگتی آگ میں جل اور جدائی تو مٹ جا ۔ اے خاوند تو خفتگاہ میں سوچا اور تاکہ میرے تمام عذآب مٹ جائیں مراد اے بد قماش بدارہ تو بھڑکتی آگ میں جاتا کہ جدائی مٹ جائے اے خداوند کریم تو میرے دل میں بس جاتا کہ میرے تمام عذآب مٹ جائیں۔

مਃ੫॥
دُرجنُ دوُجا بھاءُ ہےَ ۄیچھوڑا ہئُمےَ روگُ ॥
سجنھُ سچا پاتِساہُ جِسُ مِلِ کیِچےَ بھوگُ ॥੩॥
لفظی معنی:
درجن ۔ بر انسان ۔ دوجا بھاؤ۔ خدا کے علاوہ دنیاوی دؤلت سے محبت ۔ وچھوڑا۔ جدائی۔ ہونمے روگ۔ خودی کی مرض۔ سجن۔ دؤست۔ سچیا تساہ ۔ صدیوی سچا شہنشاہ مراد خدا۔ بھوگ۔ سکون ۔
ترجمہ:
انسانی دشمن خداکے علاوہ دوسروں سے محبت ہے الہٰی جدائی بھاری مرض ہے خودی کی ۔ صدیوی رہنے والا شہنشاہ خڈا دؤصت جس کے ملاپ سے سکون و آسائش حاصل ہونی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
توُ اگم دئِیالُ بیئنّتُ تیریِ کیِمتِ کہےَ کئُنھُ ॥
تُدھُ سِرجِیا سبھُ سنّسارُ توُ نائِکُ سگل بھئُنھ ॥
تیریِ کُدرتِ کوءِ ن جانھےَ میرے ٹھاکُر سگل رئُنھ ॥
تُدھُ اپڑِ کوءِ ن سکےَ توُ ابِناسیِ جگ اُدھرنھ ॥
تُدھُ تھاپے چارے جُگ توُ کرتا سگل دھرنھ ॥
تُدھُ آۄنھ جانھا کیِیا تُدھُ لیپُ ن لگےَ ت٘رِنھ ॥
جِسُ ہوۄہِ آپِ دئِیالُ تِسُ لاۄہِ ستِگُر چرنھ ॥
توُ ہورتُ اُپاءِ ن لبھہیِ ابِناسیِ س٘رِسٹِ کرنھ ॥੨॥
لفظی معنی:
اگم۔ انسانی عقل و ہوش سے بعید ۔ دیال۔ مہربان ۔ سجیا۔ پیدا کیا۔ نائیک۔ مالک۔ سگل بھؤن ۔ سارے عالم ۔ قدرت طاقت ۔ قائنات۔ سگل رؤن ۔ سب میں بسنے والے ۔ تدھ اپڑ۔ تیرے برابر۔ تیرا ثانی۔ ابناسی۔ لافناہ ۔ اجگ اوھرن۔ عالم کو کامیاب بنانے والا۔ تھاپے ۔ بنائے ۔ کرتا سگل دھرن۔ ساری زمین بنا نے والا۔ آون جان۔ آواگون۔ تناسخ۔ لیپ ۔ لاگ۔ اثر۔ ترن۔ تنکا۔ ستگر چرن ۔ سچے مرشد کے پاؤں۔ اپائے ۔ کوشش سر سٹ کرن ۔ کار ساز عالم ۔
ترجمہ:
اےخدا تو انسانی رسائی سے بعید ہے رحامن الرحیم ہے تو اعداد و شمار سے بھی بعید ہے تیری قدروقیمت کون ہے جو بیان کرے ۔ تونے سارا عال پیدا کیا ے تو اسکا مالک ہے ۔ کوئی تیری طاقت کا اندازہ نہیں لگا سکتااے خدا تو لافناہ اور عالم کو کامیاب بنانے والا ہے دنیا میں کوئی تیرا ثانی نہیں ۔ تو نے چاروں زمانے دو ر تیرے بنائے ہوئے ہیں سارے زمین تو نے بنائی ہے ۔ تناسخ اور آواگون تیرا بنائیا ہوا ہے مگر تجھ پر اسکا ایک تنکے برابر اثر نہیں۔ جس پر تو مہربان ہوت اہے اسے سچے مرشد کے پاوں لگاتا ہے اے لافناہ کارساز کرتار عالم دوسری کوشش معلوم نہیں ہوتی جس سے تیرا ملاپ حاصل ہوا۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
جے توُ ۄتہِ انّگنْنھے ہبھ دھرتِ سُہاۄیِ ہوءِ ॥
ہِکسُ کنّتےَ باہریِ میَڈیِ ۄات ن پُچھےَ کوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
وتیہہ۔ آجائے ۔ انگنے ۔ آنگن۔ صحن۔ سبھ دھرت۔ ساری زمین ۔ سہاوی۔ خوبصورت۔ بکس۔ ایک۔ کنتے ۔ خاوند۔ میڈی ۔
ترجمہ:
اے خدا اگر تو میرے ذہن میں بس جائے تو میرا جسم خوبصورت ہوجائے ۔ تیرے بغیر میریکوئی قدروقیمت نہیں

مਃ੫॥
ہبھے ٹول سُہاۄنھے سہُ بیَٹھا انّگنْنھُ ملِ ॥
پہیِ ن ۄنّجنْےَ بِرتھڑا جو گھرِ آۄےَ چلِ ॥੨॥
لفظی معنی:
کول۔ نعمتیں۔ سہاونے ۔ اچھی ہیں۔ سوہ۔ خاوند۔ پہی ۔ مسافر۔ ونجھے ۔ جاتا۔ برتھڑا۔ خالی۔
ترجمہ:
جس کے ذہن و دل و دماغ میں خدا بس جائے اسکے لئے تمام نعتمیں پر لطف ہوجاتی ہیں۔ جو زندگی کا مسافر بیرونی نعمتوں کو چھوڑ کر ذہن نشین ہوجاتا ہے وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ نہیں جاتا۔

مਃ੫॥
سیج ۄِچھائیِ کنّت کوُ کیِیا ہبھُ سیِگارُ ॥
اِتیِ منّجھِ ن سماۄئیِ جے گلِ پہِرا ہارُ ॥੩॥
لفظی معنی:
سیج۔ بستر۔ کنت ۔ خاوند۔ کو ۔ واسطے ۔ ہبھ سارے ۔ سیگار۔ آراسگتی۔ اتی ۔ اتنا۔ منجھ۔ وتھ ۔ فاصلہ ۔ سماویئی۔ اچھی نہیں لگتی ۔ پہرا ۔ پہنوں۔
ترجمہ:
میں خاوند کے ملاپ کے لئے خفتگاہ کو آراستہ کیا۔ اور اب اتنا فاصلہ بھی برداشت سے باہر ہے کرگلے میں ہار یا مالا پہن لوں۔ مراد میں نے الہٰی ماپ کے لئے بہت سے مذہبی فرائض ادا کئے ہیں مگر اب جب ملاپ ہوگیا وہ الہٰی ملاپ رکاوٹ بن رہے ہیں۔

پئُڑیِ ॥
توُ پارب٘رہمُ پرمیسرُ جونِ ن آۄہیِ ॥
توُ ہُکمیِ ساجہِ س٘رِسٹِ ساجِ سماۄہیِ ॥
تیرا روُپُ ن جائیِ لکھِیا کِءُ تُجھہِ دھِیاۄہیِ ॥
توُ سبھ مہِ ۄرتہِ آپِ کُدرتِ دیکھاۄہیِ ॥
تیریِ بھگتِ بھرے بھنّڈار توٹِ ن آۄہیِ ॥
ایہِ رتن جۄیہر لال کیِم ن پاۄہیِ ॥
جِسُ ہوۄہِ آپِ دئِیالُ تِسُ ستِگُر سیۄا لاۄہیِ ॥
تِسُ کدے ن آۄےَ توٹِ جو ہرِ گُنھ گاۄہیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
پار برہم۔ کمایاب بنانیوالا۔ پرمیسور۔ اعلے مالک۔ جون ۔ جنم۔ ساجیہہ سر سٹ ۔ دنیا پیدا کرکے ۔ ساج سماوہی۔ پیدا کر کے اسمیں بستا ہے ۔ لکھیا۔ سمجھیا۔ کیؤ ۔ گیسے ۔ ورتیہہ۔ بستا ہے ۔ قدرت طاقت ۔ توٹ۔ گمی۔ کیم ۔ قیمت۔
ترجمہ:
اے خدا کا میاب بنانے والا ہے اور سب سے بڑا مالک عالم آئیا اور آپ اس میں بستا ہے ۔ تیرا شکل و صورت بیان نہیں ہو سکتی ۔ تو پھر تیری حمدوثناہ کیسے کیجائے ۔ تو سبھ میں بس کر اپنی طاقت دکھا رہا ہے ۔ تیرے پاس تیری عبادت وریاضت مراد بھگتی کے خزانے بھرے ہوئے ہیں جن میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ تیرے اوصاف لعل و جواہرات کی مانند قیمتی ہیں جن کی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی ۔ اے خدا جس پر تو مہربان ہوت اہے اسے سچے مرشد کی خدمت میں لگاا ہے ۔ اسے کسی قسم کی کمی نہیں آتی جو حمدوثناہ کرتا ہے ۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
جا موُ پسیِ ہٹھ مےَ پِریِ مہِجےَ نالِ ॥
ہبھے ڈُکھ اُلاہِئمُ نانک ندرِ نِہالِ ॥੧॥
لفظی معنی:
مؤ۔ میں۔ پسی ۔ دیکھتا ہوں۔ ہروا۔ ذہن۔ پری ۔ خاوند مراد خدا ۔ سہبے نال۔ خدا ساتھ ہے ۔ ہبھے ڈکھ ۔ تمام عذآب ۔ الابیم۔ اتارے ہیں۔ ندرنہا۔ نگاہ۔ عنایت و شفقت سے ۔
ترجمہ:
جب میں اپنے ذہن اور من میں دھیان لگاتا ہوں تو خدا کو ساتھ پاتا ہوں اے نانک۔ اس نے اپنی نظر عنایت و شفقت سے سارے عذآب مٹا دیتے ۔

مਃ੫॥
نانک بیَٹھا بھکھے ۄاءُ لنّمے سیۄہِ درُ کھڑا ॥
پِریِۓ توُ جانھُ مہِجا ساءُ جوئیِ سائیِ مُہُ کھڑا ॥੨॥
لفظی معنی:
بھکھے واؤ۔ تیری ہوا کھا ۔ سو رہا ہوں۔ جوئی۔ جستجو ۔ تلاش ۔
ترجمہ:
اے خدا بیشمار تیرے در پر تیری جستجو میں ہیں۔ اور اے نانک۔ تو خدا کی جستجو میں ہے اور اسکے در پر خدمت میں ہے اے خدا تو میرا مقصد جانتا ہے کہ میں کیوں گھڑا ہوں وہ یہ ہے کہ میں تیرا دیدار پاؤں۔

مਃ੫॥
کِیا گالائِئو بھوُچھ پر ۄیلِ ن جوہے کنّت توُ ॥
نانک پھُلا سنّدیِ ۄاڑِ کھِڑِیا ہبھُ سنّسارُ جِءُ ॥੩॥
لفظی معنی:
کیاگا لایؤ۔ کیا بات کرتا ہے ۔ بھوجھ۔ جالگلی جیوان ۔ یا جاہل۔ پرویل نہ جو ہے ۔ بیگانی عورت کو حسرت سے نہ دیکھ ۔ کنت ۔ خاوند۔ پھلا سندی وار۔ سارا عالم مہک رہا ہے ۔ کھلا ہوا ہے ۔
ترجمہ:
اے انسان خیال کر کہ خدا ہر جگہ بس رہا ہے یاد رکھ ۔ بیگانی عورت پر نگاہ نہ رکھ اور غلط باتیں نہ کر۔ ایک باغیچے کی طرح سارا عالم کھل رہا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
سُگھڑُ سُجانھُ سروُپُ توُ سبھ مہِ ۄرتنّتا ॥
توُ آپے ٹھاکُرُ سیۄکو آپے پوُجنّتا ॥
دانا بیِنا آپِ توُ آپے ستۄنّتا ॥
جتیِ ستیِ پ٘ربھُ نِرملا میرے ہرِ بھگۄنّتا ॥
سبھُ ب٘رہم پسارُ پسارِئو آپے کھیلنّتا ॥
اِہُ آۄا گۄنھُ رچائِئو کرِ چوج دیکھنّتا ॥
تِسُ باہُڑِ گربھِ ن پاۄہیِ جِسُ دیۄہِ گُر منّتا ॥
جِءُ آپِ چلاۄہِ تِءُ چلدے کِچھُ ۄسِ ن جنّتا ॥੪॥
لفظی معنی:
سگھڑ۔ باشعور۔ ہوشمند۔ سبحان۔ بیدار مغر۔ ورتنتا۔ بستا ہے ۔ ٹھاکر۔ مالک۔ سیوکو۔ خدمتگار ۔ پوجنا۔ پوجتے ۔ والا۔ دانا۔ دانشمند۔ بینا۔ دور اندیش ۔ ستونتا۔ خوش اخلاق۔ جتی ۔ نفس پر ضبط رکھنے والا۔ ستی ۔ حق پرست ۔ نرملا۔ پاک ۔ بھگونتا۔ تقدیر ساز۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ چون ۔ کھیل۔ گرمنتا۔ واعظ مرشد۔ دس۔ زور۔ طارقت ۔ جتنا ۔ عالم لوک ۔ خلقت ۔
ترجمہ:
اے خدا تو نہایت دانشمند بیدار مغرز ہوشمند شکل وصورت والا اور سب میں بسنے والا ہے ۔ تو مالک بھی ہے خدمتگار بھی پر ستش کرنے والا بھی دانشمند بھی دور اندیش بھ نفس پر تیرا ضبط سے اور خوش اخلاق بھی یہ عالم تیرا ایک کھیل اور تماشہ ہے یہ عالم تو نے اپنے آپ کو پھیلائیا ہے ار پھیلاؤ تیرا کیا ہوا ہے اور خود ہی کھیل کھیل رہا ہے ۔ یہ تناسخ و آواگون پیدا کرکے اپنا کھیل دیکھ رہا ہے ۔ جسے تو واعظ مرشد دیتا ہے اسے دوبارہ جنم نہیں لینا پڑتا ۔ اے خدا جیسے تو چلاتا اسطرح سے بسر اوقات کرتی ہے مخلوقات جانداروں کا کچھ زور نہیں چلتا

ڈکھنھے مਃ੫॥
کُریِۓ کُریِۓ ۄیَدِیا تلِ گاڑا مہریرُ ॥
ۄیکھے چھِٹِڑِ تھیِۄدو جامِ کھِسنّدو پیرُ ॥੧॥
لفظی معنی:
کریئے کریئے ۔ ۔ کنارے کنارے ۔ دیدیا۔ جانے والے ۔ مسافر۔ تل گاڑھا میری۔دلدل بنی ہوئی ہے ۔ زمین۔ چھٹر۔ چھینٹے ۔ تھیودے ۔ نہ پڑھاین۔ جام ۔ جب کھندو۔ تھڑک جائے ۔ پھس جائے ۔ پیر ۔پاوں۔
ترجمہ:
اے ندی کے کنارے چلنے والے انسان تیرے پاؤں کے نیجے دلدل بن رہی ہے ایسا نہ ہوکر تیرا پھسل جائے اور تجھ پر وکھیے لگ جائیں۔ ہ ایک تشبیح ہے مشابہ کیا گیا ہے اے انسان جیسے کوئی مسافر ندی کے کنارے چلتا ہے ایسے ہی زندگی گذارنا ہے نصیحت کی ہے کہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اُٹھا کر کہیں تیری زندگی داغدار نہ ہوجائے ۔

مਃ੫॥
سچُ جانھےَ کچُ ۄیَدِئو توُ آگھوُ آگھے سلۄے ॥
نانک آتسڑیِ منّجھِ نیَنھوُ بِیا ڈھلِ پبنھِ جِءُ جُنّمِئو ॥੨॥
لفظی معنی:
سچ جانے ۔ سچ یا صدیوی سمجھکر۔ کچ ۔ کچے ۔ مٹ جان والے ۔ ویدیو۔ اے جانے والے مسافر۔ اگھو اگھے ۔ آگے آگے جانے والے ۔ سلوے ۔ اکھٹا کرتا ہے ۔ آتسٹری۔ آگ۔ منھ ۔ میں ۔ درمیان ۔ نینو ۔مکھن۔ بیا ۔ دوسرے ۔ ڈھل۔ پگل کر ۔ پین ۔ نلو فریا ۔ چوپتی ۔ جیؤ ۔ جیے ۔ جیؤ ۔ ختم ہوجاتی ہے ۔

مਃ੫॥
بھورے بھورے روُہڑے سیۄیدے آلکُ ॥
مُدتِ پئیِ چِرانھیِیا پھِرِ کڈوُ آۄےَ رُتِ ॥੩॥
لفظی معنی:
بھورے بھورے ۔ نادان و گمراہ۔ رو ہٹرے ۔ رو ہیڑے ۔ روے ۔ سیوے ۔ خدمت میں۔ آنک۔ آپس ۔ سستی۔ مدت ۔ عرصہ ۔ وقت ۔ چرانیا۔ بہت دیر۔ گڈو ۔ کب۔ رت۔ موسم۔
ترجمہ:
اے بھولی گمراہ روح خدا کی خدمت یا دوریاض میں غفلت کرتی ہے ۔ بھاری مدت کے بعد یہ انسانی زندگی حاصل ہوئی ہے ۔ پھر ی موقعہ کب حاصل ہوگا ۔

پئُڑیِ ॥
تُدھُ روُپُ ن ریکھِیا جاتِ توُ ۄرنا باہرا ॥
اے مانھس جانھہِ دوُرِ توُ ۄرتہِ جاہرا ॥
توُ سبھِ گھٹ بھوگہِ آپِ تُدھُ لیپُ ن لاہرا ॥
توُ پُرکھُ اننّدیِ اننّت سبھ جوتِ سماہرا ॥
توُ سبھ دیۄا مہِ دیۄ بِدھاتے نرہرا ॥
کِیا آرادھے جِہۄا اِک توُ ابِناسیِ اپرپرا ॥
جِسُ میلہِ ستِگُرُ آپِ تِس کے سبھِ کُل ترا ॥
سیۄک سبھِ کردے سیۄ درِ نانکُ جنُ تیرا ॥੫॥
لفظی معنی:
تدھ ۔ تیری ۔ روپ۔ شکل۔ ریکھیا۔ ریکھ ۔ لکیر ۔ نشانی۔ درنا ۔ فرقہ ۔ ذات۔ قوم۔ مانس۔ انسان۔ ۔ درتیہہ جاہرا۔ حاضر ناطر ۔ گھٹ ذہں۔ جسم ۔ لیپ ۔ تاثر۔ لاپرا۔ لگتا ۔ متاثر۔ سب ۔ جوت سماہرا۔ سب میں ہے تیر انور سمائیا ہوا۔ ویو۔ دیوتا ۔ فرشتہ ۔ بدھاتے ۔ منصوبہ ساز۔ پلا نر۔ نرہرا۔ انسان کے خدا ۔ ارادے ۔ حمدوثناہ ۔ جو ۔ زبان ۔ ابناسی ۔ لافناہ ۔ اپر ۔پرا۔ پرے توں پرے ۔ نہایت وسیع غرض یہ کہ اتنا وسیع کہ کنارا نہیں۔ کل ۔ خاندان۔ قیلہ ۔ جن تیرا۔ خادم تو۔
ترجمہ:
اے خدا تیری نہ کوئی شکل و صورت ہے نہ نشانی کوئی۔ نہ تیری ذات قوم و فیرقہ سے تعلق ۔ انسان سمجھتے ہیں دور مگر تو ھاضر ناصر۔ ہر دل میں بستا ہے اور نعمتوں کا لطف اُٹھاتا ہے ۔ تاہم دنیاوی تاثرات سے پاک ہے ۔ تو روحانی سکون وال اہے اور شمار سے بعید ہر جاندار میں ہے نور تیرا سمالیا ہوا۔ تو کار ساز منصوبہ ساز سارے دیوتاؤں و فرشتوں میں فرشتہ ہے تو دیوتا ہے تو ۔ اتنا وسیع ہے تو کر کنارا نہیں لفناہ ہے جب کہ زبان ایک ہے کیسے ہو حمدوثناہ تیری جسکا ملاپ کراداے مرشد خاندان اسکے کامیابیاں پاتے ہیں۔ اسکے درخدمتگار خادم خدمت کرتے ہیں ۔ میں نانک بھی تیرا غلام ہوں اے خدا۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
گہڈڑڑا ت٘رِنھِ چھائِیا گاپھل جلِئوہُ بھاہِ ॥
جِنا بھاگ متھاہڑےَ تِن اُستاد پناہِ ॥੧॥
لفظی معنی:
گہڈڑڑا۔ تنکوں کا پاگاس کا چھیرا۔ چھائیا۔ سایہ۔ غافل۔ لا پرواہ ۔ بھاہ ۔ آگ۔ جلیؤیہہ۔ جل جاتا ہے ۔ اُستاد ۔ مرشد گرو ۔ بھاگ ۔ تقدیر ۔مقدر۔ متھاہڑے ۔ پیشنای پر ۔ پناہ۔ پناہ ۔
ترجمہ:
مدہوش انسان کا یہ جسم جو گھا سکے بنے ہوئے جھوپنٹری جیسا ہے ۔ خوآہشات کی آگ مین جل رہا ہے جن کی پیشانی پر خوش قسمت کندہ ہے اسے مرشد کی پناہ اور ہربری حاصل ہو جاتی ہے ۔

مਃ੫॥
نانک پیِٹھا پکا ساجِیا دھرِیا آنھِ مئُجوُدُ ॥
باجھہُ ستِگُر آپنھے بیَٹھا جھاکُ دروُد ॥੨॥
لفظی معنی:
پیٹھا۔ آتا پیپا۔ ۔ پکا۔ پکائیا۔ ساجیا۔ دسترو کوآن پر رکھا۔ موجود۔ تیار کیا۔ باجہو۔ بگیر ۔ ستگر ۔ سچے مرشد ۔ جھاک۔ انتظار۔ دور ۔ کھانے سے پہلے کی دعا۔
ترجمہ:
اے نانک۔ نیاز کے لئے آتا پییا۔ کھانا پکائیا تیار کیا دستر خوان پر سجایا گیا مگر جب تک سچا مرشد نہ ملے دعا ادا کرنے کے لئے انسان اکسے کھانے کی انتظا مین رہتا ہے ۔ مراد عام طور مسلامنوں میں رواج ہے کہ کسی طہوار یا متبر عیدہ عغیرہ روز قاضی کو کھانا کھلائیا جاتا ہے قاضی پہلے کھانے کی خدا سے دیا کرتا ہے جسے دور کہتے ہیں تب وہ کھانا خدا کی طرف سسے کھا نکی قبولیت حاصل ہوتی ہے اس درمیانی عرصے یں کھانیکا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ مدعایہ کہ انسان کتنے مذہبی عقائد ادا کیون ہ کرے مرشد کے بغیر الہٰی رحمت حاصلنہیں ہو سکتی۔

مਃ੫॥
نانک بھُسریِیا پکائیِیا پائیِیا تھالےَ ماہِ ॥
جِنیِ گُروُ منائِیا رجِ رجِ سیئیِ کھاہِ ॥੩॥
لفظی معنی:
بھسر یا۔ روت۔ من جو زمین پر پکائی جاتی ہے ۔ گرومنائیا ۔ مرشد کی خوشنودی حاصل کی ۔ سیئی ۔ وہی ۔
ترجمہ:
اے نانک۔ زمین پر بطور نیاز روٹ پکائیا اور تھال یا برتن میں رکھا جنہوں نے مرشد کی خوشنودی حاصل کی انہوں غربت کھائیا مراد جنہوں نے بتائیا ہوا راہ اختایر کیا انہیں غربت میں بھی زندگی کا لطف اُٹھائیا۔

پئُڑیِ ॥
تُدھُ جگ مہِ کھیلُ رچائِیا ۄِچِ ہئُمےَ پائیِیا ॥
ایکُ منّدرُ پنّچ چور ہہِ نِت کرہِ بُرِیائیِیا ॥
دس ناریِ اِکُ پُرکھُ کرِ دسے سادِ لد਼بھائیِیا ॥
اینِ مائِیا موہنھیِ موہیِیا نِت پھِرہِ بھرمائیِیا ॥
ہاٹھا دوۄےَ کیِتیِئو سِۄ سکتِ ۄرتائیِیا ॥
سِۄ اگےَ سکتیِ ہارِیا ایۄےَ ہرِ بھائیِیا ॥
اِکِ ۄِچہُ ہیِ تُدھُ رکھِیا جو ستسنّگِ مِلائیِیا ॥
جل ۄِچہُ بِنّبُ اُٹھالِئو جل ماہِ سمائیِیا ॥੬॥
لفظی معنی:
تدھ ۔ تو نے ۔ خدا سے مخاطب ۔ جگ ۔ دنیا۔ ہوتمے ۔ خودی۔ مندر۔ جسم۔ پنچ چور۔ پانچ اخلاق دشمن۔ احساس۔ دس ناری ۔ انسان اعضے ۔پرکھ من ۔ ساد۔ لطف ۔لوبھائیا۔ لالچ ۔ بھرمائیا۔ بھٹکتے ۔ ہاٹھا۔ دونوں طرف۔ مریدان مرشد و مریدان من کے الگ ۔ الگ ۔ زندگی گذارنے کی راہیں۔ سو۔ بیدار ۔ سکت ۔دنیاوی دولت۔ بھائیا۔ پیار ہوا۔ وچہو۔ اسکے درمیان سے ۔ ست سنگ ۔ نیک صحبت و قربت ۔ بنب۔ بلبلے ۔ سمائیا۔ مجذوب ہوئے ۔
ترجمہ:
اےخدا تو نے اسنان میں کود پیدا کرکے دنیا کو ایک کھیل کا میدان بنا دیا۔ انسانی جسم میں پانچ چور ہیں جو ہر روز بدیاں کرتے ہیں۔ من ایک اور اعضے دس ہیں جو ہر وقت لطف چاہت ہیں ان کو درلبا دنیاوی دؤلت نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ہر روز بھٹکتے رہتے ہیں۔ خدا نے دو فریق خودی ہی بنائے ہیں۔ روح اور مادہ ۔ روح مادہ کے مقابلے شکشت خوردہ ہے ۔ اس طرح سے خدا کو منظور ہے اور ایک کو نیک صحبت و قربت عنایت کرکے اس مادہ سے بچا لیا جیسے پانی سے پیدا ہوابلبلہ پانی میں ملجاتا ہے۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
آگاہا کوُ ت٘راگھِ پِچھا پھیرِ ن مُہڈڑا ॥
نانک سِجھِ اِۄیہا ۄار بہُڑِ ن ہوۄیِ جنمڑا ॥੧॥
لفظی معنی:
آگاہا۔ عاقبت ۔ مستقبل ۔ تراگہہ۔ بڑھنے کی کوشش کر۔ پچھا ۔ ماضی ۔ مہڈڑا ۔ نر مڑ۔ مراد۔ پیچھے نہ رہ ۔ سبھ ۔کامیاب ہوا۔ ویہادار۔ اسیار ۔ بہور ۔ دوبارہ ۔جنمڑا۔ زندگی ۔
ترجمہ:
اے انسان منزل کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کر پیچھے کی طرف نہ مڑا ۔ اے نانک اسی زندگی کو کامیاب بنا کیونہ دوبارہ زندگی حاصل نہ ہوگی ۔

مਃ੫॥
سجنھُ میَڈا چائیِیا ہبھ کہیِ دا مِتُ ॥
ہبھے جانھنِ آپنھا کہیِ ن ٹھاہے چِتُ ॥੨॥
لفظی معنی:
سجن میڈا۔ میرا دوست۔ چائیا۔ خوشباش۔ ہبھ ۔ سب۔ مت۔ دوست۔ اپنا ۔ پیارا۔ ٹھاہے چت۔ کسی کا دل نہیں دکھاتا۔
ترجمہ:
میر ا دوست خوشباش ہے ۔ سارے اسے اپنا دوست کہتے ہیں۔ سارے اسے اپنا سمجھتے ہیں وہکسی کے دل کو آزار نہیں کرتا۔

. مਃ੫॥
گُجھڑا لدھمُ لالُ متھےَ ہیِ پرگٹُ تھِیا ॥
سوئیِ سُہاۄا تھانُ جِتھےَ پِریِۓ نانک جیِ توُ ۄُٹھِیا ॥੩॥
لفظی معنی:
کجھرا ۔ گبھا۔ پوشیدہ ۔ لدبھم۔ مجھے ملا۔ متھے ۔ پیشانی ۔ پرگٹ تھیا۔ ظاہر ہوا۔ سہاوا۔ سوہنا۔ خوبصورت۔ تھا۔ مقام ۔ پرییئے ۔ پیار خدان ۔ خدا۔ ڈٹھیا ۔ بسا۔
ترجمہ:
ایک قیمتی لعل جو میرے اندر پوشیدہ تھا مجھے مل گیا جس سے میری پیشانی پرنور ہوگئی۔ وہی مقام وہی دل جس میں تو بس جاتا ہے اے نانک وہ اچھا ہو جاتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
جا توُ میرےَ ۄلِ ہےَ تا کِیا مُہچھنّدا ॥
تُدھُ سبھُ کِچھُ میَنو سئُپِیا جا تیرا بنّدا ॥
لکھمیِ توٹِ ن آۄئیِ کھاءِ کھرچِ رہنّدا ॥
لکھ چئُراسیِہ میدنیِ سبھ سیۄ کرنّدا ॥
ایہ ۄیَریِ مِت٘ر سبھِ کیِتِیا نہ منّگہِ منّدا ॥
لیکھا کوءِ ن پُچھئیِ جا ہرِ بکھسنّدا ॥
اننّدُ بھئِیا سُکھُ پائِیا مِلِ گُر گوۄِنّدا ॥
سبھے کاج سۄارِئےَ جا تُدھُ بھاۄنّدا ॥੭॥
لفظی معنی:
مہچھندا ۔ محتاجی۔ پندا۔ خدمتگار ۔ غلام۔ لکھی ۔ دؤلت۔ توٹ ۔کمی۔ رہند۔ رکھتا ۔ میدنی ۔ زمین۔ سبھ۔ سارے ۔ سیو۔ خدمت۔ منگہہ مندا۔ برا نہیں چاہتے ۔لیکھا۔ حساب اعمالات ۔ انند بھیا۔ سکون ملا۔ کاج ۔ کام۔ بھاوند۔ جب تو چاہے ۔
ترجمہ:
اے خدا جب تو ہے مددگار میرا مجھے محتاجی کس کی ہہے ۔ جب تیر اغلام ہوں سب کچھ دیتا ہے مجھے دنیاوی نعتموں اور سرمائے کی کمی نہیں رہتی مین کھاتا ہوں خرچ کرتا ہوں۔ زمین کی ساری مخلوق تیری خدمت کرتی ے ۔ دشمنوںکو دست بنا دیتا ہے کوئی برا نہیں چاہتا۔ جب تیری کرم و عنایت ہو تو کو حساب نہیں پوچھتا۔ خدا کی مانند مرشد کے ملاپ سے دل کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ۔ملتا ہے اور جب تیری رضا ہو تو تمام کام درست ہو جاتے ہیں۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
ڈیکھنھ کوُ مُستاکُ مُکھُ کِجیہا تءُ دھنھیِ ॥
پھِردا کِتےَ ہالِ جا ڈِٹھمُ تا منُ دھ٘راپِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
ڈیکھن ۔ دیدار۔ مشقا۔ شوقین۔ کیجیا۔ کیسا۔ تؤ ۔ تؤ۔ دھنی ۔ مالک ۔ ڈھتم۔ میں دیکھیا۔ من دھراپیا۔ تسلی ہوئی دل کی ۔
ترجمہ:
مجھے تیرے دیدار کا ہے شوق اے میرے آقا کیسا ہے تیرا چہرا۔ میں کسی بری ھالت میں پھر رہا تھا جب تیرا دیدار ہوا تو من کو تسکین ملا
مਃ੫॥
دُکھیِیا درد گھنھے ۄیدن جانھے توُ دھنھیِ ॥
جانھا لکھ بھۄے پِریِ ڈِکھنّدو تا جیِۄسا ॥੨॥
لفظی معنی:
گھنسے ۔ نہایت زیادہ۔ دیدن ۔ درد۔ دھنی۔ مالک۔ آقا۔ جانا۔ خوآہ جاتوں۔ بھوے ۔ خوآہ ۔ بھاویں۔ ڈکھنو تاجیو سا۔ تیرے دیدار سے ملتی ہے زندگی ۔
ترجمہ:
ڈکھیو میں ہوتے ہیں بیشمار درد مگر درد کی پہچان ہے تجھے میرے آقا ۔ گو کتنا ہی جانوں مگر تیرے دیدار سے زندگی ملتی ہے مجھے

مਃ੫॥
ڈھہدیِ جاءِ کرارِ ۄہنھِ ۄہنّدے مےَ ڈِٹھِیا ॥
سیئیِ رہے امانھ جِنا ستِگُرُ بھیٹِیا ॥੩॥
لفظی معنی:
گرار۔ کنارہ۔ ۔ وہن۔ بہاؤ۔ دہندے ۔ جاری ۔ ڈٹھیا۔ کیمیا۔ سیئی ۔ وہی امان ۔ سچ سلامت ۔ بھیٹا۔ ملاپ کیا۔
ترجمہ:
یہ دنیا ایک دربار کی مانند ہے جسمیں برائیوں کا سیلاب اُمڈ رہا ہے جس سے اخلاقی و روحانی کنارے ٹوٹ رہے ہیں اور ان برائیوں کے سیلاب میں بیشمار غرقاب ہوتے میں نے دیکھے ہیں۔ صبح۔ صلامت وہی رہے جنکو صچے مرشد کا وصل و ملاپ نصیب ہوا۔

پئُڑیِ ॥
جِسُ جن تیریِ بھُکھ ہےَ تِسُ دُکھُ ن ۄِیاپےَ ॥
جِنِ جنِ گُرمُکھِ بُجھِیا سُ چہُ کُنّڈیِ جاپےَ ॥
جو نرُ اُس کیِ سرنھیِ پرےَ تِسُ کنّبہِ پاپےَ ॥
جنم جنم کیِ ملُ اُترےَ گُر دھوُڑیِ ناپےَ ॥
جِنِ ہرِ بھانھا منّنِیا تِسُ سوگُ ن سنّتاپےَ ॥
ہرِ جیِءُ توُ سبھنا کا مِتُ ہےَ سبھِ جانھہِ آپےَ ॥
ایَسیِ سوبھا جنےَ کیِ جیۄڈُ ہرِ پرتاپےَ ॥
سبھ انّترِ جن ۄرتائِیا ہرِ جن تے جاپےَ ॥੮॥
لفظی معنی:
بھکھ۔ چاہ۔ خواہش ۔ تس۔ اُسے ۔ دکھ نہ دیاپے ۔ عذآب متاثرنہیں کرتا۔ گورمکھ ۔مرشد کے ذریعے ۔ چوہ کنڈی۔ چاروں طرف۔ جاپے ۔ جانیا جاتا ہے ۔ شہرت پاتا ہے ۔ سرنی۔ زیر پناہ۔ تس۔ اس سے ۔ کنیہہ پاپے ۔ گناہ خوف کھاتے ہیں۔ مل۔ ناپاکیزگی ۔ دہوڑی ناپے ۔ دہول میں غسل کرتے ہیں۔ بھانا۔ رضا۔ منیا۔ تلسیم کیا۔ سوگ۔ افسوس ۔ غمگینی اداسی ۔ فکر تشویش۔ سنتاپے ۔ عذاب نہیں پہنچاتی ۔ مت ۔ دوست۔ جیؤ ۔ اتنا بھاری۔ سوبھا ۔ شہر ت۔مشہوری ۔ سبھ ۔ انتر ۔ سبھ میں
ترجمہ:
اے خدا جس کے دل میں ہے پیاس تیرے ملاپ کی عذآب اسے ستا سکھتا نہیں۔ جس نے مرید مرشد ہوکر سمجھ پائی اسکی شہرت چاروں طرف ہوئی۔ جو انسان اسکا پناہگیر ہوا خوف زادہ اس سے گناہ وہئے ۔ دہول پائے مرشد کی غسل سے دیر ینہ نا پاکیزگی دور ہوئی جس نے تسلیم کی رضا اسکی غمگینی اسے متاتی نہیں۔ اے خدا تو سبھ کا ہے دوست سبھ کو اپنا سمجھتا ہے خادمان خدا کو ایسی شہرت ملتی ہے جتنی خود خدا کی ہوتی ہے ۔ سبھ کے دل مں خدا انکی عظمت و حشمت بنا دتیا ہے ۔ خدا کی پہچان خادم سے ہوتی ہے ۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
جِنا پِچھےَ ہءُ گئیِ سے مےَ پِچھےَ بھیِ رۄِیاسُ ॥
جِنا کیِ مےَ آسڑیِ تِنا مہِجیِ آس ॥੧॥
لفظی معنی:
جناپیھے ۔ جنکا محتاج۔ ہؤ میں۔ سے وہ۔ میں پچھے ۔ میری طرح ۔ رومیاس۔ پھرتے ہیں۔ اسٹری ۔ اُمید۔ تنا۔ انہیں ۔ مہجی ۔ ب میری ۔
ترجمہ:
سارا عالم دنیاوی دؤلت کے لئے بھٹکتا ہے جن سے میں نے اُمید بنادھی محتاج بنا وہ بھی مریی طرح پھرتے ہیں۔ جن سے اُمید کی امداد کی وہ مجھ سے اُمید رکھتے ہیں۔
مਃ੫॥
گِلیِ گِلیِ روڈڑیِ بھئُدیِ بھۄِ بھۄِ آءِ ॥
جو بیَٹھے سے پھاتھِیا اُبرے بھاگ متھاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
بھگھی گڑ کی روڑی پر مکھی بار بار اڑ کر آتی ہے ۔ جب اور جو اس پر بیٹھ گئی ۔ بھنس گئی ۔ وہی بچی جن کے پیشانی پر اسکی تقدیر میں گندہ ہوتا ہے ۔

مਃ੫॥
ڈِٹھا ہبھ مجھاہِ کھالیِ کوءِ ن جانھیِئےَ ॥
تےَ سکھیِ بھاگ متھاہِ جِنیِ میرا سجنھُ راۄِیا ॥੩॥
لفظی معنی:
ڈٹھا۔ دیکھیا۔ ہبھ ۔ سارے ۔ مجھا ہے ۔ میں ۔ جانیئے ۔ سمجھے ۔ سکھی۔ سہیلی ۔ ساتھی۔ بھاگ متھاہ ۔ پیشانی ۔ پر مقدر۔ راویا۔ ملاپ کا لطف اُٹھائیا۔
ترجمہ:
سب میں بستے خدا کا دیدار کیا اسکے بغیر خالی کوئی نہیں یہ سمجھ ۔مگر ان کی پیشانی پر مقدر بیدار ہوتا ہے جن کو خدا کا ملاپ حاصل ہوا ۔

پئُڑیِ ॥
ہءُ ڈھاڈھیِ درِ گُنھ گاۄدا جے ہرِ پ٘ربھ بھاۄےَ ॥
پ٘ربھُ میرا تھِر تھاۄریِ ہور آۄےَ جاۄےَ ॥
سو منّگا دانُ گد਼سائیِیا جِتُ بھُکھ لہِ جاۄےَ ॥
پ٘ربھ جیِءُ دیۄہُ درسنُ آپنھا جِتُ ڈھاڈھیِ ت٘رِپتاۄےَ ॥
ارداسِ سُنھیِ داتارِ پ٘ربھِ ڈھاڈھیِ کءُ مہلِ بُلاۄےَ ॥
پ٘ربھ دیکھدِیا دُکھ بھُکھ گئیِ ڈھاڈھیِ کءُ منّگنھُ چِتِ ن آۄےَ ॥
سبھے اِچھا پوُریِیا لگِ پ٘ربھ کےَ پاۄےَ ॥
لفظی معنی:
اگر الہٰی رضا ہو تو ڈھاڈی اسکے در پر حمدوثناہ کرتا ہے ۔ میرا خدا مستقل دائمی ہے باقی آتے ہیں مراد پیدا ہوتے ہیں اور فوقت ہو جاتے ہیںاے مالک عالم و زمین میں وہ خیرات اور بھیک مانگتا ہوں جس سے میری بھوک مٹ جائے ۔ اے خدا دیدار بدیہہ جس سے ڈھاڈی کو تسکین حاصل ہو۔ سخی سخاوت کرنے والے خدا نے میری عرض سنی ڈھاڈی کو اپنے محل بلائیا دیدار خدا سے ہر دو بھوک و عذاب مٹ گئے اور مجھے یہ خیال ہی نہ رہا کہ اس سے کچھ مانگوں خدا کے پاؤں پڑنے سے تمام خواہشات پوری ہوئیں۔ اُس خدا نے مجھ بے وقار و عزت بے اوصاف ڈھاڈی کو بخشش

ہءُ نِرگُنھُ ڈھاڈھیِ بکھسِئونُ پ٘ربھِ پُرکھِ ۄیداۄےَ ॥੯॥
ڈکھنھے مਃ੫॥
جا چھُٹے تا کھاکُ توُ سُنّجنْیِ کنّتُ ن جانھہیِ ॥
دُرجن سیتیِ نیہُ توُ کےَ گُنھِ ہرِ رنّگُ مانھہیِ ॥੧॥
لفظی معنی:
جاچھٹے تاخا۔ جب روح جسم سے پرواز کر جاتی ہے اس روح کے بغیر جسم کو مالک کی سمجھ نہی۔ جب برائیوں برے آڈمیوں سے محبت ہوتو کس صفت و وصف کے ساتھ الہٰی پیار کا لطف لوگے

مਃ੫॥
نانک جِسُ بِنُ گھڑیِ ن جیِۄنھا ۄِسرے سرےَ ن بِنّد ॥
تِسُ سِءُ کِءُ من روُسیِئےَ جِسہِ ہماریِ چِنّد ॥੨॥
لفظی معنی:
گھڑی ۔ تھوڑی سی دیر کے لئے ۔ جیونا۔ زندگی ۔ وسرے ۔ بھلا کر۔ بند۔ تھوڑی سی دیر کے لئے ۔ سرے گذارا۔ روسیئے ۔ خنگی ۔ ناراضگی ۔ چند ۔ فکر و تشویش۔
ترجمہ:
جس کے بغیر تھوڑی سی دیر کے لے زندہ نہیں رہ سکتے ۔ اے دل اس سے ناراضگی و خفگی کیسے جسے ہمارا فکر لاحق ہے ۔

مਃ੫॥
رتے رنّگِ پارب٘رہم کےَ منُ تنُ اتِ گُلالُ ॥
نانک ۄِنھُ ناۄےَ آلوُدِیا جِتیِ ہورُ کھِیالُ ॥੩॥
لفظی معنی:
رتے رنگ پاربرہم ۔ کامیابی بخشنے والے خدا کی محبت سے متاثر و محو۔ من تن ۔ دل جان۔ روح و قلب۔ ات گللدل۔ نہایت سرخ۔ گل لالہ کی طرح۔ بن ناوے ۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت کے بگیر۔ آلودیا۔ ناپاک ۔ جتی ۔ جتنے بھی۔
ترجمہ:
جو شخص خدا کی محبت سے متاثر ہو جاتے ہیں ان کا دل وجان گل لالہ کی مانند نہایت سرخ ہو جاتا ہے اے اننک۔ الہٰی نام ست سچ حق و حقیقت کے بغیر جتنے بھی دوسرے خیالات ہیں ذہن و قلب کو روحانی واخلاقی طور پر ناپاک بناتے ہیں۔

پۄڑیِ ॥
ہرِ جیِءُ جا توُ میرا مِت٘رُ ہےَ تا کِیا مےَ کاڑا ॥
جِنیِ ٹھگیِ جگُ ٹھگِیا سے تُدھُ مارِ نِۄاڑا ॥
گُرِ بھئُجلُ پارِ لنّگھائِیا جِتا پاۄاڑا ॥
گُرمتیِ سبھِ رس بھوگدا ۄڈا آکھاڑا ॥
سبھِ اِنّد٘ریِیا ۄسِ کرِ دِتیِئو ستۄنّتا ساڑا ॥
جِتُ لائیِئنِ تِتےَ لگدیِیا نہ کھِنّجوتاڑا ॥
جو اِچھیِ سو پھلُ پائِدا گُرِ انّدرِ ۄاڑا ॥
گُرُ نانکُ تُٹھا بھائِرہُ ہرِ ۄسدا نیڑا ॥੧੦॥
لفظی معنی:
متر ۔ دوست۔ کاڑا۔ فکر۔ تشویش۔ ٹھگی ۔ دہوکا بازارں فریب کاروں۔ جگ ٹھگیا۔ عالم کو اپنے فریب میں لے رکھا ہے ۔ تدھ۔ تو نے ۔ مار نواڑ۔ دوکئے ۔ بھؤ جل۔ خوفناک سمندر۔ پار ۔ کنگھائیا۔ عبور کرائیا۔ کامیاب بنائیا۔ پواڑ۔ جھگڑا ۔ فتح کیا۔ گرمتی ۔ سبق دو اعظم مرشد۔ رس بھوگدا۔ لطف اُٹھاتا ہے ۔ اندریا۔ اعضائے جسمانی۔ ستونتا۔ پاکدامن ۔ جت ۔ جس طرف۔ کھنجو تارا۔ کشمکش ۔ صابر۔
ترجمہ:
اے خدا جب تو دوست ہے تو فکر کیسا جن دہوکا بازاروں فریب کاروں نے عالم کو فریب میں لے لیا انہیں تو نے بھگا دیا اور ختم کر دیئے ۔ مرشد نے زندگی کے خوفناک سمندر کو عبوعر کادیا۔ اور اس زندگی کی لڑائی جیت لی۔ اب سبق و واعظ مرشد سے اور اص پر عمل کرنے سے دنیا کے اس عالمی کھیل کے میدان کے سارے لطف اُٹھاتا ہوں سارے اعضائے جسمانی میرے زیر ضبط کردیں۔ اے میرے پاکدامن آقا اب جس طرف لگاتا ہوں اس طرف کام کرتی ہیں کسی طرح کی کوئی کشمکش نہیں۔ جیسا چاہتا ہوں ویسے نتائج برآمد ہوتے ہیں اور مرشد نے ذہن نشین بنا دیا۔ اے بھائیوں مرشد نانک خوش ہوا۔ اب مجھ ساتھ بستا دکھائی دیتا ہے ۔

ڈکھنھے مਃ੫॥
جا موُنّ آۄہِ چِتِ توُ تا ہبھے سُکھ لہاءُ ॥
نانک من ہیِ منّجھِ رنّگاۄلا پِریِ تہِجا ناءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
جاتو۔ جب تو ۔ آویہہ۔ چت ۔ جب تو دلمیں بستا ہے ۔ ہبھے سکھ۔ سارے آرام و آسائش ۔ کہاؤ۔ پاتا ہوں۔ رنگا والا۔ پریمی ۔ پری ۔ پیارے ۔ تہجا۔ تیرا۔
ترجمہ:
اے خدا جب تو میرے دل میں بستا ہے تو ہر طرح کا آرام و آسائش پاتا ہوں ۔ اے ناک اے میرے پیارے خدا تیرا نام سچ حق و حقیقت ست دل میں محبت بھرا پیارا محسوس ہوتا ہے ۔

مਃ੫॥
کپڑ بھوگ ۄِکاراے ہبھے ہیِ چھار ॥
کھاکُ لد਼ڑیدا تنّنِ کھے جو رتے دیِدارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
کپڑ بھوگ۔ کھانا۔ پہننا۔ وکار ۔ بیفائدہ ۔ بیکار۔ چھار۔ راکھ ۔ لوڑید۔ ضرورت ہے ۔ تن کھے ۔ آنکی خاک ۔ جو رتے دیدار ۔ جو دیدار الہٰی میں محو ومجذوب ہیں۔
ترجمہ:
کھانا پہننا بیفائدہ اور سارا ایک راکھ کی مانند ہے مجھے ان کے قدموں کی خا چاہیئے ۔ جو دیدار الہٰی میں محوو مجذوب ہیں۔
مਃ੫॥
کِیا تکہِ بِیا پاس کرِ ہیِئڑے ہِکُ ادھارُ ॥
تھیِءُ سنّتن کیِ رینھُ جِتُ لبھیِ سُکھ داتارُ ॥੩॥
لفظی معنی:
تکہہ۔ نظر رکھتا ہو۔ بیا ۔ دوسری۔ باس۔ طرف۔ ہیڑے ۔ دل میں۔ بک ۔ ایک۔ آدھار۔ آسرا۔ تھیؤ۔ ہوجا۔ سنت کی ین ۔ محبوبان خدا و عاشقان الہٰی کی دہول۔ جب لبھی ۔ جس سے ۔ ملتا ہے ۔ سکھ داتار۔ سکھ دینے والا سخی۔
ترجمہ:
اے انسان دوسرے آسروں پر کیوں نظر رکھ رہا ہے دل میں واحد خدا پر تکیہ رکھ ۔ محبوبان و عاشقان خدا کے پاؤں کی خا ک ہو جا جس سے آرام و آسائش پہنچانے والے خدا کا وصل نصیب ہو۔
SGGS page 1098

پئُڑیِ ॥
ۄِنھُ کرما ہرِ جیِءُ ن پائیِئےَ بِنُ ستِگُر منوُیا ن لگےَ ॥
دھرمُ دھیِرا کلِ انّدرے اِہُ پاپیِ موُلِ ن تگےَ ॥
اہِ کرُ کرے سُ اہِ کرُ پاۓ اِک گھڑیِ مُہتُ ن لگےَ ॥
چارے جُگ مےَ سودھِیا ۄِنھُ سنّگتِ اہنّکارُ ن بھگےَ ॥
ہئُمےَ موُلِ ن چھُٹئیِ ۄِنھُ سادھوُ ستسنّگےَ ॥
تِچرُ تھاہ ن پاۄئیِ جِچرُ ساہِب سِءُ من بھنّگےَ ॥
جِنِ جنِ گُرمُکھِ سیۄِیا تِسُ گھرِ دیِبانھُ ابھگےَ ॥
ہرِ کِرپا تے سُکھُ پائِیا گُر ستِگُر چرنھیِ لگےَ ॥੧੧॥
لفظی معنی:
کرما۔ اعمال۔ تقدیر۔ لگے ۔ سکون۔ دھرم۔ فرض۔ دھیر۔ دھریج۔ مستقل مزاج۔ مول نہ لگے ۔ بالکل ہی نہیں سکون پاتا۔ ایہہ کرکرے ۔ اس ہاتھ کرتا ہے ۔ ایہہ کر پائے ۔ دوسرے ہاتھ اسکا نتیجہ پاتا ہے ۔ گھڑی مہت نہ لاگے ۔ زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ سودھیا۔ تحقیق کی ۔ بن سنگت۔ ساتھیوں ۔ اہنکار۔ تکبر۔ بھگے ۔ جاتا نہیں۔ ہونمے ۔ خودی۔ سادہو ست سنگے ۔ صحبت و قربت پاکدامن ۔ تچر۔ اسوقت تک ۔ تھاہ۔ ٹھاکنہ ۔ صاحب سیومن بھے ۔ خدا سے ہے دل شکستہ ۔ گورمکھ سویایا۔ مرشد کے ذریعے خدمت کی ۔ دیبان ابھگے ۔ گھر دیبان ابگھے ۔ دلمیں دربار لگ جاتا ہے ۔ چرنی لگے ۔ پاؤں پڑ کر ۔
ترجمہ:
خدا کی کرم و عنایت کے بغیر کدا سے ملاپ نہیں ہوسکتا ۔ بغیر سچے مرشد کے دل کے لگن خدا سے نیہں لگتی ۔ دنیا میں دھرم مراد روحانی واخلاقی پاکیزگی کے بگیر مستقل مزاجی نہیں رہتی۔ دھم ہی ہمیشہ مستقل رہتا ہے ۔ مگر اسوقت تک جب تک انسان بدیوں برائیوں اور گناہوں میں ملوث رہتا ہے بالکل سکون اور چین نہیں پاتا ۔ کئے ہوئے اعمالون کے نتیجے براامد ہونے میں دیر نہیں لگتی انسان اس ہاتھ کرتا ہے تو دوسرے ہاتھ پاتا ہے ۔ چاروں زمانوں (میں) کی تحقیق سے پتاہ چلتا ہے کہ صحبت کے بغیر غرور نہیں مٹتا اور مریدان مرشد کی صحبت وقربت کے بغیر خودی نہیں جاتی۔ جب تک خدا سے بیرخی ہے الہٰی اوساف کی تیہہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ جس جس سے مرید مرشد ہوکر خدمت خدا کی اسکا دل عدالت الہٰی ہوا مراد وہ فرض شناس باضمری ہوگیا ۔ الہٰی کرم و عنایت سے ہی رؤحانی واخلاقی سکون ملتا ہے اور پائے مرشد کا گرویدہ ہوتا ہے ۔