Urdu-Master-3

س٘ریِراگُ مہلا ੫॥
نامُ دھِیاۓ سو سُکھیِ تِسُ مُکھُ اوُجلُ ہوءِ ॥
پوُرے گُر تے پائیِئےَ پرگٹُ سبھنیِ لوءِ ॥
سادھسنّگتِ کےَ گھرِ ۄسےَ ایکو سچا سوءِ ॥੧॥
میرے من ہرِ ہرِ نامُ دھِیاءِ ॥
نامُ سہائیِ سدا سنّگِ آگےَ لۓ چھڈاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُنیِیا کیِیا ۄڈِیائیِیا کۄنےَ آۄہِ کامِ ॥
مائِیا کا رنّگُ سبھُ پھِکا جاتو بِنسِ نِدانِ ॥
جا کےَ ہِردےَ ہرِ ۄسےَ سو پوُرا پردھانُ ॥੨॥
سادھوُ کیِ ہوہُ رینھُکا اپنھا آپُ تِیاگِ ॥
اُپاۄ سِیانھپ سگل چھڈِ گُر کیِ چرنھیِ لاگُ ॥
تِسہِ پراپتِ رتنُ ہوءِ جِسُ مستکِ ہوۄےَ بھاگُ ॥੩॥
تِسےَ پراپتِ بھائیِہو جِسُ دیۄےَ پ٘ربھُ آپِ ॥
ستِگُر کیِ سیۄا سو کرے جِسُ بِنسےَ ہئُمےَ تاپُ ॥
نانک کءُ گُرُ بھیٹِیا بِنسے سگل سنّتاپ ॥੪॥੮॥੭੮॥
لفظی معنی:
اُجل۔ سرخرو۔پاک ۔سبھنی لوئے ۔ تمام ۔ لوگوں میں ۔ ۔ سہائی ۔مدد گار ۔ اُگے ۔آئندہ ۔ عاقبت ۔۔ کونے کام ۔ کس مقصد کے لئے ۔ پھکا ۔ بدمزہ ۔ جاتو ۔ جاتے ہی ۔ ونس ۔ ختم ۔ فناہ ۔ ندان ۔بوقت آخرت ۔ پردھان۔ مانا ہوا مقبول عام۔ رینکا ۔دھول پا ۔ آپ ۔ خودی
ترجمہ:
جس نے خدا کو یاد کیا سکھ پائیا ۔وہ سرخرو ہوا کامل مرشد سے ملتا ہے لہذا سب لوگوں میں شہرت پاتا ہے ۔اور سارے عالم میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور صحبت پاکدامناں و خدا رسیدگان میں بستا ہے ۔اے میرے من الہٰی نام یاد کر الہٰی نام ہمیشہ مدد گار ہے جو بوقت آخرت چھٹکارا دلاتا ہے۔ دنیاوی عظمت و شہرت کسی کام نہیں آتی آخرختم ہو جاتا ہے۔ جس کے دلمیں خدا بس تا ہے وہی کامل اور مقبول ہے۔ ۔ خودی چھوڑ تمام جہد و دانش چھوڑ پائے ۔مرشد پکڑ یہ قیمتی رتن اُسے ملتا ہے۔ جسکے پیشانی اور مقدر میں ہے اے بھائی الہٰی نام اُسے ملتا ہے جسے خودا خود عنایت کرتا ہے سچے مرشد کی خدمت وہی کرتا ہے۔ جسے خودی کی تپش بجھادی۔ اے نانک کو مرشد مل گیا جس سے سارے عذاب مت گئے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
اِکُ پچھانھوُ جیِء کا اِکو رکھنھہارُ ॥
اِکس کا منِ آسرا اِکو پ٘رانھ ادھارُ ॥
تِسُ سرنھائیِ سدا سُکھُ پارب٘رہمُ کرتارُ ॥੧॥
من میرے سگل اُپاۄ تِیاگُ ॥
گُرُ پوُرا آرادھِ نِت اِکسُ کیِ لِۄ لاگُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِکو بھائیِ مِتُ اِکُ اِکو مات پِتا ॥
اِکس کیِ منِ ٹیک ہےَ جِنِ جیِءُ پِنّڈُ دِتا ॥
سو پ٘ربھُ منہُ ن ۄِسرےَ جِنِ سبھُ کِچھُ ۄسِ کیِتا ॥੨॥
گھرِ اِکو باہرِ اِکو تھان تھننّترِ آپ ॥
جیِء جنّت سبھِ جِنِ کیِۓ آٹھ پہر تِسُ جاپِ ॥
اِکسُ سیتیِ رتِیا ن ہوۄیِ سوگ سنّتاپُ ॥੩॥
پارب٘رہمُ پ٘ربھُ ایکُ ہےَ دوُجا ناہیِ کوءِ ॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تِس کا جو تِسُ بھاۄےَ سُ ہوءِ ॥
گُرِ پوُرےَ پوُرا بھئِیا جپِ نانک سچا سوءِ ॥੪॥੯॥੭੯॥
لفظی معنی:
پچھالو۔ دوست۔ اکو ۔ داحد ۔پر ان ادھار ۔زندگی کا سہارا۔ اُپار ۔حیلہ ۔ لو ۔اُنس ۔ تپاگ۔چھوڑنا۔ ترک ۔تھان تھنتر ۔ ہر جگہ ۔ سنتاپ ۔ عذاب ۔جھگڑا ۔
ترجمہ:
واحد خدا ہی روح اور زندگی کو جاننے پہچاننے والا ہے ۔ وہی زندگی کا محافظ ہے اور اس واحد کا ہی زندگی کو سہارا اور آسرا ہے اسکی پناہ میں ہی سکھ ہے وہی کار از اور کامیابی عنایت کرنیوالا ہے ۔۔ اے دل تمام کوشش و کاؤش چھور کر زندگی کامل مرشد سے دلی پیار کیا ۔ واحد خداسے محبت پیکار کر ۔ ایک ہی واحد خدا ہی بھائی دوست اورماں باپ ہے اسی کو دل کو سہارا ہے جسنے دل سے کیوں بھلائین جسنے سب کچھ اپنے زیر کر رکھا ہے ۔(2) ہر دل میں اور ہر اور ہر جابستا ہے اور واحد خدا جسنے تمام عالم پیدا کیا ہے ۔ اسے روز و شب یاد کر ۔ اس سے پیار کرنیے کسی قسم کا عذاب اور جھگڑا نہیں ہوتا ۔ پروردگار۔کامیابیاں عطا فرمانے والا ہے واحد خدا ہے انہیں کوئی اُسکا ثانی دوسرا ۔ یہ دل و جان وجسم اُسی کا ہے جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اے نانک جواُس کو کامل انسان ہو جاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
جِنا ستِگُر سِءُ چِتُ لائِیا سے پوُرے پردھان ॥
جِن کءُ آپِ دئِیالُ ہوءِ تِن اُپجےَ منِ گِیانُ ॥
جِن کءُ مستکِ لِکھِیا تِن پائِیا ہرِ نامُ ॥੧॥
من میرے ایکو نامُ دھِیاءِ ॥
سرب سُکھا سُکھ اوُپجہِ درگہ پیَدھا جاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جنم مرنھ کا بھءُ گئِیا بھاءُ بھگتِ گوپال ॥
سادھوُ سنّگتِ نِرملا آپِ کرے پ٘رتِپال ॥
جنم مرنھ کیِ ملُ کٹیِئےَ گُر درسنُ دیکھِ نِہال ॥੨॥
تھان تھننّترِ رۄِ رہِیا پارب٘رہمُ پ٘ربھُ سوءِ ॥
سبھنا داتا ایکُ ہےَ دوُجا ناہیِ کوءِ ॥
تِسُ سرنھائیِ چھُٹیِئےَ کیِتا لوڑے سُ ہوءِ ॥੩॥
جِن منِ ۄسِیا پارب٘رہمُ سے پوُرے پردھان ॥
تِن کیِ سوبھا نِرملیِ پرگٹُ بھئیِ جہان ॥
جِنیِ میرا پ٘ربھُ دھِیائِیا نانک تِن کُربان ॥੪॥੧੦॥੮੦॥
لفظی معنی:
اُیجے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ مستک ۔ پیشانی ۔ پیدھا۔ پہنائیا ۔ بھاؤ بھگت ۔ عبادت ۔کی محبت ۔ بہؤ۔ڈر ۔ گوپال ۔ خدا ۔ پرتپال ۔پروردگار ۔ (2) اتھان تھنتر۔ ہر جگہ ۔ (3) پار برہم۔ خدا ۔ پارلگانیوالا ۔ پردھان۔ مقبول عام۔بلند عظمت ۔ یزملی ۔ پاک (پرگٹ ۔ ظاہر ۔)
ترجمہ:
جنہوں نے سچے مرشد سے دل لگائیا وہ بلند اقبال لہذا عظمت و مقبول ہوئے ۔ اور جن پر کرم و عنایت کی وہ صاحب علم ہوئے ۔ دل میں گیان پیدا ہوا جنے مقدر میں اُنکی پیشانی پ تحریر نمودار ہوتی ہے ۔انہیں الہٰی نام حاصل ہوا ۔ ۔ اے میرے دل صرف واحد نام یاد کر ۔ جس سے سارے اعلیٰ سکھ پیدا ہوتے ہیں اور الہٰی درگاہ میں خلعتیں ملتی ہے ۔ مراد وقار ۔ توقرد عزت ملتی ہے تناسخ مٹتا ہے ۔ اور الہٰی پیار ملتا ہے ۔ صحبت پاکدامناں خدا رسیدگان کی صحبت و قربت سے انسان پاکیزگی پاتا ہے اور خدا خود پر ورش کرتا ہے ۔ اور دیرینہ جسموں کی بدکاریوں کی ناپاکیزگی دور ہوجاتی ہے اور دیدار مرشد سے خوشیاں مملتی ہے ۔ (2) ہر جگہ اُسی کے نور سے روشن ہے ۔ ہر جگہ بستا ہے ۔ وہی کامیابیاں عنایت کرنیوالا ہے ۔ سب کا راز ہے واحد خدا اس کی پناہ سے نجات ملتی ہے ۔ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ (3) جنکے دلمیں خدا بستا ہے وہ صاحب اقبال وبلند عظمت ہوئے ۔ اُنکی عالمگیر پاک شہرت ہوئی ۔ جنہوں نے خدا کی عبادت دریافت کی قربا ن ہے نانک ان پر۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
مِلِ ستِگُر سبھُ دُکھُ گئِیا ہرِ سُکھُ ۄسِیا منِ آءِ ॥
انّترِ جوتِ پ٘رگاسیِیا ایکسُ سِءُ لِۄ لاءِ ॥
مِلِ سادھوُ مُکھُ اوُجلا پوُربِ لِکھِیا پاءِ ॥
گُنھ گوۄِنّد نِت گاۄنھے نِرمل ساچےَ ناءِ ॥੧॥
میرے من گُر سبدیِ سُکھُ ہوءِ ॥
گُر پوُرے کیِ چاکریِ بِرتھا جاءِ ن کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
من کیِیا اِچھاں پوُریِیا پائِیا نامُ نِدھانُ ॥
انّترجامیِ سدا سنّگِ کرنھیَہارُ پچھانُ ॥
گُر پرسادیِ مُکھُ اوُجلا جپِ نامُ دانُ اِسنانُ ॥
کامُ ک٘رودھُ لوبھُ بِنسِیا تجِیا سبھُ ابھِمانُ ॥੨॥
پائِیا لاہا لابھُ نامُ پوُرن ہوۓ کام ॥
کرِ کِرپا پ٘ربھِ میلِیا دیِیا اپنھا نامُ ॥
آۄنھ جانھا رہِ گئِیا آپِ ہویا مِہرۄانُ ॥
سچُ مہلُ گھرُ پائِیا گُر کا سبدُ پچھانُ ॥੩॥
بھگت جنا کءُ راکھدا آپنھیِ کِرپا دھارِ ॥
ہلتِ پلتِ مُکھ اوُجلے ساچے کے گُنھ سارِ ॥
آٹھ پہر گُنھ ساردے رتے رنّگِ اپار ॥
پارب٘رہمُ سُکھ ساگرو نانک سد بلِہار ॥੪॥੧੧॥੮੧॥
لفظی معنی:
سب۔ سارا۔پرگاسیا۔ دل روشن ہوا ۔ من الہٰی نورسے منور ہوآ انتر جامی ۔ راز دلی جاننے والا ۔ کام ۔شہوت ۔کرودھ۔ غصہ ۔ لوبھ۔لالچ۔ ونسیا۔ مٹیا ۔ بھیان ۔ تکبر ۔(2) گوہنہ۔ خدا ۔ نرمل۔پاک ۔ برتھا۔ بیفائدہ ۔ اچھا۔خواہشات ۔ کرہنیا ۔ کر سنہار۔ کاراز ۔ کرتار ۔کرنیوالا ۔ نام۔سچایار ۔پاک ۔سچ۔نیک چلن ۔ دان ۔سخاوت ۔ شنان ۔ پاکیزگی ۔لاہا ۔ لابھ ۔ سچ محل ۔سچھا ٹھکانہ ۔ پچھان ۔ پہچاننا ۔ ساتھی ۔(3) یلت ۔پلت ۔ ہر دو عالم۔ سار۔ سنبھال ۔ سارے سنبھالے ۔ رنگ ۔پریم پیار ۔ ساگرؤ ۔سکھوں کا سمندر
ترجمہ:
سچے مرشد کے ملاپ سے تمام عذاب مت جاتے ہیں ۔ دل کو الہٰی سکون ملتا ہے ۔ ذہن روشن ہوجاتا ہے ۔ چہرہ نورانی ہو جاتا ہے پاکدامن کے ملاپ سے جو پہلے سے کی ہوئی نیک نامیاں اُسکےکے اعمال نامے میں تحریر ہوتی ہے ۔ سچے پاک نام کی ہر وز ریاض کر پاک ہے ۔ اے دل کلام مرشد ے سکھ ملتا ہے اور کامل مرشد کی ہوئی خدمت بیفائدہ نہیں جاتی ۔ الہٰی نام کا خزانہ ملا دلی خواہشات پوری ہوئی ۔ اُس کار ساز کرنیوالے کی پہچان کر جو ہمیشہ ساتھی اور راز دلی جاننے والا ہے ۔ رحمت مرشد ریاض الہٰی۔سخاوت اور پاکیزگی سے رُخ نورانی ہوجاتا ہے ۔ اور شہرت ۔غصہ ۔ لالچ ۔تکبر چھوڑ دینے سے ۔ (2) تمام کام پایہ تکمیل کو پہنچے اور نام کا منافع کمائیا ۔ کرم وعنایت کی اور مہربان ہوکر تناسخ متائیا ۔ کلام مرشد سے سچا ٹھکانہ اور گھر پائیا اُسکے کلام کی پہچان سے ۔(3) خدا عاشقان الہٰی عابدوں کو بچاتا ہے ۔ حفاظت کرتا ہے ۔ اپنی کرم و عنایت سے اور سچے خدا کے اوصاف دلمیں بسا کر ہر دو جہان میں عطمت و حشمت پاتا ہے اور سرخ رو ہوتا ہے روز و شب اسکے اوصاف یاد کرت ہیں اسکے پیار میں محو رہتے ہیں ۔ اے نانک سکھوں کا سمندر ہے خدا نانک اُس پر قربان ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
پوُرا ستِگُرُ جے مِلےَ پائیِئےَ سبدُ نِدھانُ ॥
کرِ کِرپا پ٘ربھ آپنھیِ جپیِئےَ انّم٘رِت نامُ ॥
جنم مرنھ دُکھُ کاٹیِئےَ لاگےَ سہجِ دھِیانُ ॥੧॥
میرے من پ٘ربھ سرنھائیِ پاءِ ॥
ہرِ بِنُ دوُجا کو نہیِ ایکو نامُ دھِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کیِمتِ کہنھُ ن جائیِئےَ ساگرُ گُنھیِ اتھاہُ ॥
ۄڈبھاگیِ مِلُ سنّگتیِ سچا سبدُ ۄِساہُ ॥
کرِ سیۄا سُکھ ساگرےَ سِرِ ساہا پاتِساہُ ॥੨॥
چرنھ کمل کا آسرا دوُجا ناہیِ ٹھاءُ ॥
مےَ دھر تیریِ پارب٘رہم تیرےَ تانھِ رہاءُ ॥
نِمانھِیا پ٘ربھُ مانھُ توُنّ تیرےَ سنّگِ سماءُ ॥੩॥
ہرِ جپیِئےَ آرادھیِئےَ آٹھ پہر گوۄِنّدُ ॥
جیِء پ٘رانھ تنُ دھنُ رکھے کرِ کِرپا راکھیِ جِنّدُ ॥
نانک سگلے دوکھ اُتارِئنُ پ٘ربھُ پارب٘رہم بکھسِنّدُ ॥੪॥੧੨॥੮੨॥
ترجمہ:
اگر کامل مرشد سے ملاپ ہو تو کلام کا خزانہ حامل ہو ۔ اے خدا کرم و عنایت فرماتاکہ الہٰی نام سچ حق وحقیقت کی ریاض کریں ۔ تناسخ کی مرض ختم ہوا اور روحانی سکون میں توجہ ہوئے ۔۔ اے دل خدا کی پاہ رہ ۔ خدا کے بغیر دوسری کوئی ایسی ہستی نہیں ۔ واحد الہٰی نام سچ۔حق وحقیقت میں دھیان لگا ۔ خدا ایک ایسا اوصاف کا گہرا سمندر ہے جسکی گہرائی بیشمار ہے ۔ ساتھیو سے ملکر خوش قسمتی سے ہے اسکی خدمت کر ۔ جسکی قدر و قیمت و منزلت بیان سے باہر ہے ۔(2) اے خدا مجھے تیرا سہارا ہے تیرا گزویدہ ہوں ۔ تیری برکت و طاقت سے میری زندگی ہے ۔ اے خدا تو بے وقاروں کا وقار ہے ۔ عاجزوں لاچاروں مجبوروں کے لئے مان ہے وقار ہے ۔ مجھے تیرا ساتھ حاصل ہوا ۔(3) ہر وقت خدا کی عبادت ویاظت کیجئے ۔ خدا زندگی کا سانسوں کا محافظ ہے ۔ زندگی کو بدیوں برائیوں سے بچاتا ہے اے نانک خدا بخشش ہے سارے عیب و برائیاں دور کرتا ہے

سِریِراگُ مہلا ੫॥
پ٘ریِتِ لگیِ تِسُ سچ سِءُ مرےَ ن آۄےَ جاءِ ॥
نا ۄیچھوڑِیا ۄِچھُڑےَ سبھ مہِ رہِیا سماءِ ॥
دیِن درد دُکھ بھنّجنا سیۄک کےَ ست بھاءِ ॥
اچرج روُپُ نِرنّجنو گُرِ میلائِیا ماءِ ॥੧॥
بھائیِ رے میِتُ کرہُ پ٘ربھُ سوءِ ॥
مائِیا موہ پریِتِ دھ٘رِگُ سُکھیِ ن دیِسےَ کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دانا داتا سیِلۄنّتُ نِرملُ روُپُ اپارُ ॥
سکھا سہائیِ اتِ ۄڈا اوُچا ۄڈا اپارُ ॥
بالکُ بِردھِ ن جانھیِئےَ نِہچلُ تِسُ درۄارُ ॥
جو منّگیِئےَ سوئیِ پائیِئےَ نِدھارا آدھارُ ॥੨॥
جِسُ پیکھت کِلۄِکھ ہِرہِ منِ تنِ ہوۄےَ ساںتِ ॥
اِک منِ ایکُ دھِیائیِئےَ من کیِ لاہِ بھراںتِ ॥
گُنھ نِدھانُ نۄتنُ سدا پوُرن جا کیِ داتِ ॥
سدا سدا آرادھیِئےَ دِنُ ۄِسرہُ نہیِ راتِ ॥੩॥
جِن کءُ پوُربِ لِکھِیا تِن کا سکھا گوۄِنّدُ ॥
تنُ منُ دھنُ ارپیِ سبھو سگل ۄاریِئےَ اِہ جِنّدُ ॥
دیکھےَ سُنھےَ ہدوُرِ سد گھٹِ گھٹِ ب٘رہمُ رۄِنّدُ ॥
اکِرتگھنھا نو پالدا پ٘ربھ نانک سد بکھسِنّدُ ॥੪॥੧੩॥੮੩॥
لفظی معنی:
سچ سیؤ۔سچے خدا سے ۔ جائے ۔ جاند ۔ آوے ۔ آنا ۔ آوے جائے ۔نہ پیدا ہوتا ہے نہ موت ہے ۔ نہ وچھوڑیاوچھڑے نہ جدا کرنیے جدا ہوا ہے ۔ بھنبھنا ۔مٹانیوالا ۔ ست بھائے۔ سچے پیار ۔ نرنجن ۔ بیداغ ۔ دھرگ ۔لعنت سیل ونت ۔ نیک سیرت ۔ سانت سبھاؤ ۔ اپار روپ ۔ از حد خوبصورت ۔ سکھا ۔ساتھی ۔ پردھ ۔ بورھا ۔ نہچل۔ جو نہ دگمگائے ۔ مستقل ۔ ندھارا آدھار۔محکوموں کیلئے سہارا ۔ کل وکہہ۔گناہ ۔ دوش ۔ بریہہ۔ ختم ہونا ۔ اک من ۔یکسو ۔ذہن نشین ۔ بھرانت ۔ بھٹگن۔ نوتن۔نوجوان ۔ وسرہو ۔بھلا ؤ ۔ (3) پورب پہلے ۔ ارپن۔حوالے کرنا ۔ اکیت گھن ۔ ناشکر ۔
ترجمہ:
میرا پیار اُس سچے خدا حقیقت سے ہو گیا ہے ۔ جو نہ پیدا ہوتا ہے نہ اُسے موت نہ جدا کرنیسے جدا ہوتا ہے اورسب میں بستا ہے ۔ جو غریبوں اناتھوں ، بے مالکوں کے دکھ دور کرتا ہے ۔ اور خادموں سے سچاپیار کرتا ہے ۔ جسکی شکل و صورت حیران کرنے والی ہے ۔ جو بیداغ ہے ۔ اے ماں ایسا مرشد نے ملائیا ہے ۔ ۔ اے بھائی ایسے خدا کو دوست بناؤ ۔ دنیاوی دولت سے محبت ایک لعنت ہے اس سے محبت کرنیوالا کوئی سکھی دکھائی نہیں دیتا ۔ ۔ عقلمند ۔سخی۔نرم ونیک عادات ۔پاک ۔بلند عظمت ۔بیحد خوبرو مددگار ساتھی ۔ جو نہ بوڑھا ہے نہ بچہ جسکا دربار ۔ عدالت ہمیشہ قائم و دائم دوآمی ہے ۔ جو مانگو ملتا ہے جو بے سہاروں کے لئے سہارا ہے ۔(2) جسکے دیدار سے گناہ مٹ جاتے ہیں دل کو تسلی اور ٹھنڈک ملتی ہے ۔ جسے دل و جان سے یکسو ہوکر ذہن نشینی سے یاد کرنسے دل کے خدشات مٹ جاتے ہیں ۔ جو اوصاف کا خزانہ ہمیشہ نوجوان جسکی سخاوت مکمل ہے ۔اُسے ہمیشہ روز و شب یاد کرو اور کبھی نہ بھلاؤ ۔ (3) جنکے پہلے سے اعمالنامے میں تحریر ہے ۔ خدا اُسکا ساتھی ہے ۔ دل و جان اُسکے حوالے کرؤ اور تمام زندگی اُسپر قربان کرؤ ۔ وہ دیکھتا ہے سنتا ہے حاضر و ناظر ہے ہر دلمیں بستا ہے ۔ ناشکروں کی بھی پرورش کرتاہے ۔ اے نانک خداہمیشہ بخشش کرنیوالا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
منُ تنُ دھنُ جِنِ پ٘ربھِ دیِیا رکھِیا سہجِ سۄارِ ॥
سرب کلا کرِ تھاپِیا انّترِ جوتِ اپار ॥
سدا سدا پ٘ربھُ سِمریِئےَ انّترِ رکھُ اُر دھارِ ॥੧॥
میرے من ہرِ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
پ٘ربھ سرنھائیِ سدا رہُ دوُکھُ ن ۄِیاپےَ کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رتن پدارتھ مانھکا سُئِنا رُپا کھاکُ ॥
مات پِتا سُت بنّدھپا کوُڑے سبھے ساک ॥
جِنِ کیِتا تِسہِ ن جانھئیِ منمُکھ پسُ ناپاک ॥੨॥
انّترِ باہرِ رۄِ رہِیا تِس نو جانھےَ دوُرِ ॥
ت٘رِسنا لاگیِ رچِ رہِیا انّترِ ہئُمےَ کوُرِ ॥
بھگتیِ نام ۄِہوُنھِیا آۄہِ ۄنّجنْہِ پوُر ॥੩॥
راکھِ لیہُ پ٘ربھُ کرنھہار جیِء جنّت کرِ دئِیا ॥
بِنُ پ٘ربھ کوءِ ن رکھنہارُ مہا بِکٹ جم بھئِیا ॥
نانک نامُ ن ۄیِسرءُ کرِ اپُنیِ ہرِ مئِیا ॥੪॥੧੪॥੮੪॥
لفظی معنی:
جن۔جسنے ۔ پربھ ۔ خدا ۔ سہج۔۔ قدرتاً ۔پرسکون ۔ بلا ڈگمگاے ۔ سوار ۔ درست کر۔۔ کالا۔ قوت ۔ اُردھار ۔دلمیں بسا کے ۔ نہ وپاپے زورنہں پاسکتا۔ رُپا۔ چاندی ۔ مانک۔ موتی ۔ خاک۔مٹی ۔ست۔ بیٹا ۔فرزند ۔ بندھپا۔ رشتہ دار ۔ کوڑے جھوٹے ۔ تسیہہ اُسے ۔ جانئی ۔ جائے ۔ منھکہہ ۔ مرید من ۔ (2) رورہیا ۔ بستا ہے ۔ ونجیہ ۔ بھٹکتے ہیں ۔ چلے جاتے ہیں ۔ پور ۔گروہ ۔ پربھ ۔ خدا ۔ وکٹ۔ مشکل ۔ جم بھیا۔جسم کا خو ۔ بھگتی نام دھونیا۔ پریم اور نام کے بغیر ۔ وسریؤ ۔ بہوؤ ۔ مئیا ۔ مہربانی ۔
ترجمہ:
جس خدا نے دل و جان و زندگی بخشی و دولت سے سرفراز کیا ۔ قدرتی خوبصورتی عطا کی اور تمام قوتوں سے آراستہ کیااور نورانیون سے روشن کیا اے انسان اس خدا کو ہمیشہ دلمیں بساؤ ۔۔ اے میرے خدا میرے مالا خدا کے بغیر ایسی کوئی ہستی نہیں لہذا ہمیشہ ایسے خدا کی پناہ میں رہو تاکہ کوئی عذاب نہ آئے ۔ رت۔ نعمتیں موتی ۔سونا چاندی متی جیسی ہہیں ۔ ماں۔باپ ۔بیٹے اور رشتہ دار سب جھوٹے ہیں ۔ جو سب کرنیوالا ہے کار ساز کرتار اُسکی سمجھ نہیں کرتا اُسے نہیں سمجھتا ۔ہ اے خودی پسند خد ارادی تو ایک جانور کی مانند ہے ناپاک ہے اور گندا ہے۔ مطلب پرست ہے ۔(2) خدا جو دلمیں اندر اور باہر ہرجگہ موجود ہے اُسے دور سمجھتا ہے دنیاوی خواہشاتکی بھوک میں مضمر ہے ۔ دل تکبر اور خودی سے بھرا ہوا ہے ۔ اور الہٰی پریم پیار نام کو نہیں گروہوں کے گروہ تناسخ میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔(3) اے کارساز کرتار تو خود ہی اپنی کرم وعنایت سے جانداروں کو بچالے ۔ بغیر خدا کے کوئی بچانے والا نہیں اور موت کا بھاری خوف چھائیا ہوا ہے ۔ اے نانک عرض گذار کر خدا کا نام نہ بھلاؤں۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
میرا تنُ ارُ دھنُ میرا راج روُپ مےَ دیسُ ॥
سُت دارا بنِتا انیک بہُتُ رنّگ ارُ ۄیس ॥
ہرِ نامُ رِدےَ ن ۄسئیِ کارجِ کِتےَ ن لیکھِ ॥੧॥
میرے من ہرِ ہرِ نامُ دھِیاءِ ॥
کرِ سنّگتِ نِت سادھ کیِ گُر چرنھیِ چِتُ لاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نامُ نِدھانُ دھِیائیِئےَ مستکِ ہوۄےَ بھاگُ ॥
کارج سبھِ سۄاریِئہِ گُر کیِ چرنھیِ لاگُ ॥
ہئُمےَ روگُ بھ٘رمُ کٹیِئےَ نا آۄےَ نا جاگُ ॥੨॥
کرِ سنّگتِ توُ سادھ کیِ اٹھسٹھِ تیِرتھ ناءُ ॥
جیِءُ پ٘رانھ منُ تنُ ہرے ساچا ایہُ سُیاءُ ॥
ایَتھےَ مِلہِ ۄڈائیِیا درگہِ پاۄہِ تھاءُ ॥੩॥
کرے کراۓ آپِ پ٘ربھُ سبھُ کِچھُ تِس ہیِ ہاتھِ ॥
مارِ آپے جیِۄالدا انّترِ باہرِ ساتھِ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ سرب گھٹا کے ناتھ ॥੪॥੧੫॥੮੫॥
لفظی معنی:
تت۔ ہمیشہ ۔ ندھان۔ خزانہ ۔ ست۔ پیشانی ۔ سبھ ۔ سارے ۔سوار پئہہ دوست کیے جاتے ہیں ۔ بھرم ۔وہم وگمان ۔بھٹکن ۔ (2) اٹھ سٹھ ۔اڑسٹھ۔اٹھاہت۔ ناو۔غسل ۔ سواؤ۔ مقصد ۔ تھاؤ۔وقار ۔ٹھکانہ ۔ (3) تس ہی ہتھ ۔ اُسی کے زیر توفیق ۔ ناتھ۔ مالک
ترجمہ:
میرابدن اور دولت و حکومت ۔ملک اولاد ۔عیش وعشرت اور پوشش اور بہت سی بیویوں کا حرم غرضیکہ اگر دلمیں نہیں یاد خدا تو سب بیکار اور فضول ہیں ۔ اے دل خدا کو یاد کر اور پاکدامن خدا رسیدہ (سادھ) کی صحبت و قربت اختیار کر اور پائے مرشد میں دل لگا کر ویدہ ہوجا ۔ خدا کا نام الہٰی جو ایک قیمتی خزانہ ہے کی ریاض تبھی ہو سکتی ہے اگرکرم وعنایت ہو اور مقدر پیشانی پر تحریر ہوا۔ مرشد کے پاؤں پڑنے سے تمام کام درست ہوجاتے ہیں ۔ خودی اور شک مٹ جاتے ہیں اور بھٹکن ختم ہو جاتی ہے ۔(2) اے انسان تو پاکدامن (سادھ) کی صحبت اختیار کر جو جواڑ سٹھ ترتھوں کی زیارت ہے ۔ اس سے تن بدن ۔دل وجان اور روح تروتازہ اور روحانی ہو جاتی ہے اور زندی کا یہی حقیقی مقصد ہے ۔ اس سے اس جہان میں عظمت و شہرت ملتی ہے اور الہٰی دربار میں سند۔ (2) جو کچھ اس عالم میں ہورہا ہے اس کا کارساز کرتار خود خدا ہے اور سارا کام اُسی کے اختیار میں ہے ۔ خود ہی روحانی موت دیتا ہے ۔روحانی زندگی عنایت کرتا ہے اور ہر وقت کا ساتھی ہے ۔ اے نانک خدا سب جانداروں کا مالک ہے میں اُسکی پناہ میں ہوں۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
سرنھِ پۓ پ٘ربھ آپنھے گُرُ ہویا کِرپالُ ॥
ستگُر کےَ اُپدیسِئےَ بِنسے سرب جنّجال ॥
انّدرُ لگا رام نامِ انّم٘رِت ندرِ نِہالُ ॥੧॥
من میرے ستِگُر سیۄا سارُ ॥
کرے دئِیا پ٘ربھُ آپنھیِ اِک نِمکھ ن منہُ ۄِسارُ ॥ رہاءُ ॥
گُنھ گوۄِنّد نِت گاۄیِئہِ اۄگُنھ کٹنھہار ॥
بِنُ ہرِ نام ن سُکھُ ہوءِ کرِ ڈِٹھے بِستھار ॥
سہجے سِپھتیِ رتِیا بھۄجلُ اُترے پارِ ॥੨॥
تیِرتھ ۄرت لکھ سنّجما پائیِئےَ سادھوُ دھوُرِ ॥
لوُکِ کماۄےَ کِس تے جا ۄیکھےَ سدا ہدوُرِ ॥
تھان تھننّترِ رۄِ رہِیا پ٘ربھُ میرا بھرپوُرِ ॥੩॥
سچُ پاتِساہیِ امرُ سچُ سچے سچا تھانُ ॥
سچیِ کُدرتِ دھاریِئنُ سچِ سِرجِئونُ جہانُ ॥
نانک جپیِئےَ سچُ نامُ ہءُ سدا سدا کُربانُ ॥੪॥੧੬॥੮੬॥
لفظی معنی:
کرپال۔ مہربان ۔ جنجال ۔ مخمسے ۔ سگتر۔ سچا مرشد ۔ نکھ ۔انکھ چھپکنے کے وقفے میں ۔۔ وستھار ۔پھیلاؤ ۔ سہجے ۔ پرسکون ۔ بہوجل۔ خوفناک سمندر ۔(2) سنجما۔ ضبط ۔ سادھو ۔پاکدامن ۔ جسنے اپنا اخلاق درست کر لیا ۔ خدا رسیدہ ۔ لوک ۔چھپکے ۔ تھان تھنتر۔ ہر جگہ ۔ (3) امر۔ فرمان۔ حکم۔ سیر جیون ۔ پیدا کرنا ۔ ہوں میں
ترجمہ:
مرشد مہربان ہوا اسلئے خداکی پناہ لی ۔ سچے مرشد کے سبق سے تمام پھندے اور اڑجنیں ختم ہوگئیں ۔ دلمیں الہٰی نام کا آب خیات بسا ۔ جس سے دل خوشباش ہوا ۔۔ اے میرے دل خدمت مرشد ہی حقیقی بنیاد ہے ۔ اس سے خدا وند کریم کرم و عنایت کرتا ہے ۔ اسے کبھی آنکھ چھپکنے کے عرصہ کے لئے بھی نہ بھلاؤ ۔ ہرروز الہٰی صفت صلاح کرنسے بدکرداریاں اور گناہ مٹ جاتے ہیں وہ گناہ ہتانے والا ہے ۔ سارا پھیلاؤ کرکے دیکھ لیا۔ الہٰی نام کے بغیر سکھ نہیں ملتا ۔ پر سکون ہوکر الہٰی صفت صلاح کرنسے انسان یہ عالم جو ایک خوفناک سمندر کی مانند ہے پار ہوجاتا ہے ۔ زیارت گاہوں کی زیارت ۔رومنے یا ورت اور خیالات و احاسات بد پر ضبط کی کوشش کا ثواب خاک پائے پاکدامن مین مضمر ہے ۔ اے انسان کس سے چھپ کر بد اعمال کر رہا ہے جب کہ خدا ہر جگہ موجود ہے ۔ جبکہ تو حاضر ناظر دیکھ رہا ہے ۔ (3) خدائی سچی پاتشاہی ہے ۔ اُسکا فرمان سچا ہے اور سچے کا سچا ٹھکانہ ہے ۔ اے نانک اسکے سچے نام کو یاد کرمیں ہمیشہ ہمیشہ اُسپر قربان ہوں۔۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
اُدمُ کرِ ہرِ جاپنھا ۄڈبھاگیِ دھنُ کھاٹِ ॥
سنّتسنّگِ ہرِ سِمرنھا ملُ جنم جنم کیِ کاٹِ ॥੧॥
من میرے رام نامُ جپِ جاپُ ॥
من اِچھے پھل بھُنّچِ توُ سبھُ چوُکےَ سوگُ سنّتاپُ ॥ رہاءُ ॥
جِسُ کارنھِ تنُ دھارِیا سو پ٘ربھُ ڈِٹھا نالِ ॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ پوُرِیا پ٘ربھُ آپنھیِ ندرِ نِہالِ ॥੨॥
منُ تنُ نِرملُ ہوئِیا لاگیِ ساچُ پریِتِ ॥
چرنھ بھجے پارب٘رہم کے سبھِ جپ تپ تِن ہیِ کیِتِ ॥੩॥
رتن جۄیہر مانھِکا انّم٘رِتُ ہرِ کا ناءُ ॥
سوُکھ سہج آننّد رس جن نانک ہرِ گُنھ گاءُ ॥੪॥੧੭॥੮੭॥
لفظی معنی:
ادم۔ کوشش و کاوش ۔ سنت ۔ خدا رسیدہ ۔ پاکدامن ۔کارن۔ منورتھ ۔ مدعا و مقصد ۔ اچھے ۔خواہش ۔کے مطابق ۔بنچھ ۔کھا ۔صرف کر ۔ چوکے ۔ختم ہوئے ۔ مہئیل ۔ کلا ندر نہال۔نگاہ شفقت ۔ (2) چیرن بھجے ۔ خدمت پا
ترجمہ:
کوشش و کاوش سے الہٰی ریاضت کرنا بلند قسمت سے روحانی دولت کمانا ہے ۔اے انسان اس دولت کی کمائی کر۔ خدا رسیدہ کے ساتھ مل کر ریاض کرنیسے جنم جنم کی پاکیزگی دورہو جائیگی ۔۔ اے دل خدا کا یاد کر تاکہ دل خواہشات کے مطابق پھل کھائے ۔ اور تمام رنج و غم اور عذاب مٹ جائے ۔ اے انسان جس مقصد کے لئے یہ انسانی جسم ملا ہے اسے تو نے اپنے ساتھ دیدار کر لیا ہے ۔ خدا زمین آسمان خلا ہر جگہ موجود ہے اور اُسکی نگاہ شفقت ہے اُسپر ۔ (2) جسکا خدا اور سچائی سے پریم پیار ہوگیا تو اُسکی دل و جان پاک ہوجاتا ہے ۔ جسنے پائے الہٰی کی خدمت کی تو سمجھو اُس نے تمام ریاض پرستش اوتپسیا کر لی ۔(3) الہٰی نام ہی آب حیات ہیرے جواہرات اور موتی ہے ۔ اے نانک الہٰی سفت صلاح میں سکھ روحانی سکون اور خوشیاں مضمر ہیں۔ ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
سوئیِ ساستُ سئُنھُ سوءِ جِتُ جپیِئےَ ہرِ ناءُ ॥
چرنھ کمل گُرِ دھنُ دیِیا مِلِیا نِتھاۄے تھاءُ ॥
ساچیِ پوُنّجیِ سچُ سنّجمو آٹھ پہر گُنھ گاءُ ॥
کرِ کِرپا پ٘ربھُ بھیٹِیا مرنھُ ن آۄنھُ جاءُ ॥੧॥
میرے من ہرِ بھجُ سدا اِک رنّگِ ॥
گھٹ گھٹ انّترِ رۄِ رہِیا سدا سہائیِ سنّگِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُکھا کیِ مِتِ کِیا گنھیِ جا سِمریِ گوۄِنّدُ ॥
جِن چاکھِیا سے ت٘رِپتاسِیا اُہ رسُ جانھےَ جِنّدُ ॥
سنّتا سنّگتِ منِ ۄسےَ پ٘ربھُ پ٘ریِتمُ بکھسِنّدُ ॥
جِنِ سیۄِیا پ٘ربھُ آپنھا سوئیِ راج نرِنّدُ ॥੨॥
ائُسرِ ہرِ جسُ گُنھ رمنھ جِتُ کوٹِ مجن اِسنانُ ॥
رسنا اُچرےَ گُنھۄتیِ کوءِ ن پُجےَ دانُ ॥
د٘رِسٹِ دھارِ منِ تنِ ۄسےَ دئِیال پُرکھُ مِہرۄانُ ॥
جیِءُ پِنّڈُ دھنُ تِس دا ہءُ سدا سدا کُربانُ ॥੩॥
مِلِیا کدے ن ۄِچھُڑےَ جو میلِیا کرتارِ ॥
داسا کے بنّدھن کٹِیا ساچےَ سِرجنھہارِ ॥
بھوُلا مارگِ پائِئونُ گُنھ اۄگُنھ ن بیِچارِ ॥
نانک تِسُ سرنھاگتیِ جِ سگل گھٹا آدھارُ ॥੪॥੧੮॥੮੮॥
لفظی معنی:
ساست ۔ شاشتر ۔ ساؤن۔ موقعہ ۔ جت۔جس ویلے ۔ جس وقت ۔ ساچی ۔ سچی ۔ پونجی ۔ دولت ۔ بیٹیا ۔ ملیا ۔ رنگ ۔پریم ۔ گھٹ گھٹ ۔ہر دلمیں ۔ آون جاؤ۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ مت ۔منتی ۔ شمار ۔ نرند۔ راجہ ۔ بادشاہ ۔ راج نرند شہنشاہ ۔ اوسر ۔موقعہ ۔ مجن ۔ اشنان ۔ رسنا ۔ زبان ۔ گنوتی رسنا۔ با اوصاف زبان ۔ پنڈ ۔جسم ۔ کرتار۔ کرنیوالا ۔ سرجنہار ۔پیدا کرنیوالا ۔ مارگ ۔ راستہ ۔ پایئون۔ پائیا ۔ ویچار سوچ سمجھ ۔ آدھار ۔ آسرا ۔
ترجمہ:
اے انسان موقعہ محل بموجب کتاب نجوم اور خوش آئندہ نشان ہے جس وقت جس موقع خدا کو یاد کرتے ہو ۔ اُسکی یاد و ریاضت میں مشغول ہو ۔ مرشد نے پائے الہٰی کی دولت عنایت فرمائی ہے ۔ (بے گھر کو گھر مل گیا ہے ) سچی دولت اور حقیقی دولت سچ پرمنحصر اسپر بنیاد والی زیر ضبط زندگی ہے ۔ جسکے صدقے روز و شب الہٰی صفت صلاح کرؤ ۔ کرم و عنایت سے الہٰی وصل حاصل ہوا جس سے تناسخ مٹ گیا ۔۔ اے دل الہٰی محبت و پیار میں ہمیشہ عبادت و ریاضت کر ۔خدا ہر دلمیں بستا ہے وہ مددگار اور ساتھی ہے ۔ الہٰی عبادت و ریاض کرنسے اُسکے آرام و آسائش جو دیتا ہے شمار سے باہر ہیں ۔ جنہوں نے نام کا لطف اُٹھائیا انکی پیاس مٹ گئی وہی اس لطف کو سمجھ سکتا ہے صحبت و قربت پاکدامن خدا رسیدگان پیار ارحمان الرحیم ۔بخشند دلمیں بستا ہے ۔ جنہوں نے اُسکی خدمت اور عبادت و ریاضت کی وہ شنہشاہوں کےشاہ ہوئے ۔(2) وہ وقت جس میں الہٰی صفت صلاح میں گذرتا ہے کروڑوں زیار گاہوں کی زیارت ہے ۔ جو زبان اوصاف الہٰی کہتے ہے۔اسکے برابر کوئی سخاوت نہیں ۔ رحمان الرحیم اپنی نگاہ شفقت و رحمت سے دل وجان میں بستا ہے ۔ یہ دل و جان روح و قلب الہٰی ملکیت ہے ۔میں ہمیشہ اُسپر قربان ہو ۔ (3) جسے ملالیا خود خدا وہ کبھی نہ ہوگا جدا ۔ اُس سازندہ خدا نے غلاموں کے بندھن کاٹ کر غلامی سے نجات دلاتا ہے ۔ وہ بغیر اوصاف و بد اوصاف کا خیال کیے بغیر بھولے ہوئے کو راہ راست پر لاتا ہے ۔ نانک اسکے زیر سایہ ہے جو تمام دلوں کا سہارا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
رسنا سچا سِمریِئےَ منُ تنُ نِرملُ ہوءِ ॥
مات پِتا ساک اگلے تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
مِہر کرے جے آپنھیِ چسا ن ۄِسرےَ سوءِ ॥੧॥
من میرے ساچا سیۄِ جِچرُ ساسُ ॥
بِنُ سچے سبھ کوُڑُ ہےَ انّتے ہوءِ بِناسُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ساہِبُ میرا نِرملا تِسُ بِنُ رہنھُ ن جاءِ ॥
میرےَ منِ تنِ بھُکھ اتِ اگلیِ کوئیِ آنھِ مِلاۄےَ ماءِ ॥
چارے کُنّڈا بھالیِیا سہ بِنُ اۄرُ ن جاءِ ॥੨॥
تِسُ آگےَ ارداسِ کرِ جو میلے کرتارُ ॥
ستِگُرُ داتا نام کا پوُرا جِسُ بھنّڈارُ ॥
سدا سدا سالاہیِئےَ انّتُ ن پاراۄارُ ॥੩॥
پرۄدگارُ سالاہیِئےَ جِس دے چلت انیک ॥
سدا سدا آرادھیِئےَ ایہا متِ ۄِسیکھ ॥
منِ تنِ مِٹھا تِسُ لگےَ جِسُ مستکِ نانک لیکھ ॥੪॥੧੯॥੮੯॥
لفظی معنی:
رستا۔ زبان ۔ سچا۔پاک ۔ ہمیشہ قائم دائم ۔ بہتے ۔ چسا۔ تھوڑے سے وقت کے لئے ۔ ۔جچر ۔جتنی دیر۔ کوڑ ۔کفر ۔ جھوٹ ۔ انتے ۔آخر۔صاحب ۔آقا ۔مالک ۔ رہن نہ جائے۔ گذارہ نہیں ہو سکتا ۔ یقین نہیں آتا ۔ تسلی نہیں ہوتی ۔ اگلی ۔زیادہ ۔ سیہہ بن ۔ بغیر خاوند ۔ (2) پورا کامل بنڈار ۔خزانہ ۔ پار اوار ۔ ہر دو کنارے (3) پروردگار۔ پرورش کونیوالا ۔ چلت ۔کھیل ۔ تماشے ۔گوتک ۔ وسیکھ ۔خاص ۔ ستک ۔پیشانی ۔
ترجمہ:
زبان سے الہٰی ریاض کرنیسے (زبان) دل و جان ۔روح و قلب پاک ہوجاتی ہے ۔ ماں باپ اور بہت سے رشتہ دار تو ہیں ۔ مگر خدا کے بغیر ہمیشہ ساتھی اور مدد گار کوئی نہیں۔ اگر اُس خدا کی کرم و عنایت و شفقت ہو تو ٹھوڑے سے وقفہ کے لئے بیھ نہ بھلاؤ ۔ اے دل جب تک جسم میں سانس ہیں اور زندگی قائم ہے سچے خدا کی خدمت گرؤ ۔سچے خداکےبغیر سب کچھ جھوٹ اور کفر اور مٹ جانے والا ہے ۔آخر مٹجائیگا۔ اور مٹ جاتا ہے ۔ میرا آقا پاک ہے اُسکے بغیر زندگی محال ہے ۔ میرے دلمیں اُسکے ملاپ کے لئے تڑپ ہے جو نہایت زیادہ ہے ۔ کوئی مجھے اس سے ملائے میری ماں ۔ چاروں طرف جستجو کر چکا ہوں مجھے خدا کے بغیر کوئی سہارا۔ آسرا اور ٹھکانہ معلم نہیں دیتا ۔ (2) اُس سے عرض کر درخواست کر جو تجھے ملائے تجھے کارساز کرتار سے ۔ سچا مرشد نام سچ حق و حقیقت عنایت کرنیوالا ہے جسکے پاس نام کےخزانے ہیں ۔ ہمیشہ اُسکی حمد و چناہ اور صفتصلاح کیجیئے جو صفات کا سمندر ہے ۔ ایسا سمندر جسکاکوئی کنارہ ہیں ۔(3) پروردگار پرورش کرنیوالے کی صفتصلاح کرؤ اور کرنی چاہیے جس میں بیشمارخاصیتیں موجود ہیں۔ہمیشہ اُسے یاد رکھو یہی خاص نیک خصلت و سمجھ ہے ۔ اے نانک اُسے ہی اسکا مزہ ۔لطف اور میٹھا لگتا ہے اُسکے دلمیں ہی اکسا عشق ہوتا ہے جسکی پیشانی پر تحریرکندہ ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
سنّت جنہُ مِلِ بھائیِہو سچا نامُ سمالِ ॥
توسا بنّدھہُ جیِء کا ایَتھےَ اوتھےَ نالِ ॥
گُر پوُرے تے پائیِئےَ اپنھیِ ندرِ نِہالِ ॥
کرمِ پراپتِ تِسُ ہوۄےَ جِس نو ہوءِ دئِیالُ ॥੧॥
میرے من گُر جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
دوُجا تھاءُ ن کو سُجھےَ گُر میلے سچُ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سگل پدارتھ تِسُ مِلے جِنِ گُرُ ڈِٹھا جاءِ ॥
گُر چرنھیِ جِن منُ لگا سے ۄڈبھاگیِ ماءِ ॥
گُرُ داتا سمرتھُ گُرُ گُرُ سبھ مہِ رہِیا سماءِ ॥
گُرُ پرمیسرُ پارب٘رہمُ گُرُ ڈُبدا لۓ تراءِ ॥੨॥
کِتُ مُکھِ گُرُ سالاہیِئےَ کرنھ کارنھ سمرتھُ ॥
سے متھے نِہچل رہے جِن گُرِ دھارِیا ہتھُ ॥
گُرِ انّم٘رِت نامُ پیِیالِیا جنم مرن کا پتھُ ॥
گُرُ پرمیسرُ سیۄِیا بھےَ بھنّجنُ دُکھ لتھُ ॥੩॥
ستِگُرُ گہِر گبھیِرُ ہےَ سُکھ ساگرُ اگھکھنّڈُ ॥
جِنِ گُرُ سیۄِیا آپنھا جمدوُت ن لاگےَ ڈنّڈُ ॥
گُر نالِ تُلِ ن لگئیِ کھوجِ ڈِٹھا ب٘رہمنّڈُ ॥
نامُ نِدھانُ ستِگُرِ دیِیا سُکھُ نانک من مہِ منّڈُ ॥੪॥੨੦॥੯੦॥
لفظمی معنی:
سنبھال۔ دلمیں بسا ۔ توسا۔ سنر خرچ ۔ بند ہو۔ اکھٹا کر ہو ۔ تہال ۔ خوشی ۔ کرم ۔بخشش ۔ عنایت ۔ جیوڈ ۔ اتنا بڑا ۔ سگل۔ سارا ۔ کت ۔ کس ۔ کرن کارن سمر تھ۔ جو کارن کرنیکی حیثیت میں ہے ۔ جہچل جو نہ ڈگمگائے ۔ جس میں لرزش نہ ہو ۔ بھے بھنجن۔ خوف مٹانے والا ۔ دکھ کتھ ۔عذاب مٹانے والا ۔ گہہ۔ گہرائی والا۔ ساگر۔ سمندر ۔ گنبھیر ۔سنجیدہ ۔ اگہہ کھنڈ۔ گناہ مٹانے والا ۔ ڈنڈ ۔ سزا ۔ تل ۔ برابر ۔ مادی ۔ برہمنڈ ۔ عالم ۔ جہان ۔ دنیا ۔ ندھان ۔ خزانہ ۔ منڈ ۔بسانا ۔ بٹھانا
ترجمہ:
اے برادر ان ملت ۔پاکدامن پارساؤ خدا رسیدگان کی صحبت و قربت میں سچے نام الہٰی کی ریاض کرؤ ۔ سفر راہ کے لئے سرمایہ باندھو ۔ جو ہر دو عالموں میں آپ ک ساتھ دے ۔ جو مرشد کامل سے اور اُسکی نگاہ شفقت سے میسر ہوتا ہے ۔ اسکی بخشش اُسے ہوتی ہے جس پر وہ مہربان ہوتا ہے ۔۔ اے دل ۔ مرشد جتنا بلند اخلاق کوئی نہیں ۔ نہ کوئی دوسرا ٹھکانہ دکھائی دیتا ہے اور سمجھ آتا ہے جو سچای کے مجسمے خدا سے ملاپ کر اسکے ۔ جسنے دیدار مرشد پا لیا وہ سب نعمتوں سے سر فراز ہو گیا ۔ جنہیں پائے مرشد سے عشق ہو گیا ۔ وہ بلند قسمت ہیں ۔ مرشد سب نعمتوں سے سر فراز کرنیکی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور تمام طاقتوں سے مرقع ہے ۔ اور نا کامیابوں کو کامیاب بنانے والا ہے ۔ مرشد الہٰی توفیق رکھتا ہے ۔ (2) کس منہ سے مرشد کی صفت کریں اُسے سب کام کرنیکی توفیق حاصل ہے ۔ وہ پیشانیاں ڈگمگاتی ہیں جس پیشانی پر اس نے دست جمایت و شفقت رکھتا ہے۔ مرشد نے آب حیات نام سچ۔حق و حقیقت پلائیا ہے زندگی اور موت کی بیماری کے لئے ایک نایاب دوا ہے ۔ خدمت مرشد سے خوف و عذاب مٹ جاتے ہیں ۔ سچا مرشد دور اندیش ۔سنجیدہ اور آرام و آسائش کا دریا ہے ۔ اور گناہوں کو مٹانے والا ہے ۔ جنہوں نے مرشد کی خدمت کی وہ فرشتہ موت کی سزا سے بچ گیا ۔ اُسنے تمام عالم ڈھونڈ پائیا ۔ کوئی اُسکا ثانی نہیں ۔ اے نانک جس نے انسان الہٰی نام کا خذانہ عطا فرمایا ہے اُسکے دلمیں روحانی سکون بس گیا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
مِٹھا کرِ کےَ کھائِیا کئُڑا اُپجِیا سادُ ॥
بھائیِ میِت سُرِد کیِۓ بِکھِیا رچِیا بادُ ॥
جاںدے بِلم ن ہوۄئیِ ۄِنھُ ناۄےَ بِسمادُ ॥੧॥
میرے من ستگُر کیِ سیۄا لاگُ ॥
جو دیِسےَ سو ۄِنھسنھا من کیِ متِ تِیاگُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِءُ کوُکرُ ہرکائِیا دھاۄےَ دہ دِس جاءِ ॥
لوبھیِ جنّتُ ن جانھئیِ بھکھُ ابھکھُ سبھ کھاءِ ॥
کام ک٘رودھ مدِ بِیاپِیا پھِرِ پھِرِ جونیِ پاءِ ॥੨॥
مائِیا جالُ پسارِیا بھیِترِ چوگ بنھاءِ ॥
ت٘رِسنا پنّکھیِ پھاسِیا نِکسُ ن پاۓ ماءِ ॥
جِنِ کیِتا تِسہِ ن جانھئیِ پھِرِ پھِرِ آۄےَ جاءِ ॥੩॥
انِک پ٘رکاریِ موہِیا بہُ بِدھِ اِہُ سنّسارُ ॥
جِس نو رکھےَ سو رہےَ سنّم٘رِتھُ پُرکھُ اپارُ ॥
ہرِ جن ہرِ لِۄ اُدھرے نانک سد بلِہارُ ॥੪॥੨੧॥੯੧॥
لفظی معنی:
اُپجیا۔ پیدا ہوا ۔ ساد ۔ لطف۔ مزہ ۔ سرد ۔ سہرد ۔ دلی دوست ۔ دکھیا ۔ زہر ۔ باد ۔ جھگڑا ۔ بلم ۔ دیر ۔ بسماد۔ حیران کن ۔ ۔ ونسنا۔ فناہ ۔ کوکر ۔ کتا ۔ ہر کائیا ۔ پاگل ۔ ابھکھ ۔ نا قابل خوردی ، کھانے کے ناقبل ۔ مد۔ نشہ ۔ ویاپیا۔ پیدا ہوا ۔(2) پساریا ۔ کھلاریا ۔ بھیتر ۔ درمیان ۔ پھاسیا۔ پھنسا ہوا ۔ (3) بھو بدھ ۔ بہت سے طریقوں سے ۔ سمرتھ ۔ باحیثیت ۔ قابل ۔ اُدھرے۔ بچے
ترجمہ:
دنیاوی نعمتوں کو بالذت با مزہ سمجھ کر زیر تصرف لائیا مگر بعد میں اسے بد مزہ پایا ۔ بھائی اور جگری دوست جنہیں بنایا زہر آلودہ ہوئے ۔ اور جھگڑے پیدا ہوئے ۔ اور ان نعمتوں کے مٹنے میں دیر نہ لگتی ۔ بغیر الہٰی نام سچ۔ حق و حقیقت کے یہ حیران کرن والی بات ہے ۔ ۔ اے دل سچے مرشد کی خدمت کر خودی چھوڑ ۔ جو زیر نظر ہے دکھائی دے رہا ہے سب مٹ جانیوالا ہے ۔ جیسے پاگل کتا ہر طرف دوڑتا ہے ۔ اسی طرح لالچی انسان نہیں سمجھتا جائز ناجائز نہیں سمجھتا نیک و بد کا خیال نہیں رکھتا ۔ شہوت اور غصے میں گرفتار انسان تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔(2) مائیا نے وکاروں کا جال بنا کر انسان کے کردار کو ناپاک بنانے کے لئے پھیلا رکھا ہے اُسے پھنسانے کے لئے یہ یہ مادیاتی جال ہے ۔ اس سے اے نکل نہیں سکتا ۔ جس قادر ۔ کرتار نے پیدا کیا ہے ۔ یہ سب کچھ عنایت کیا ہے اسکی جستجو کر اسے نہیں سمجھتا لذا تناسخ میں گذرتی ہے زندگی آخر کروڑوں چھوڑ کر چلے جاناہے ۔ (3) اس علام کو مادیات نے بہت سے طریقوں سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ اس گرفت سے وہی بچ سکتا ہے ۔ جسکا خدا خود محافظ ہے ۔ جو تمام قوتوں کا مالک ہے الہٰی عاشق الہٰی پریم سے ہی بچتے ہیں ۔ نانک سو بار قربان ہے ان پر ۔

سِریِراگُ مہلا ੫ گھرُ ੨॥
گوئِلِ آئِیا گوئِلیِ کِیا تِسُ ڈنّپھُ پسارُ ॥
مُہلتِ پُنّنیِ چلنھا توُنّ سنّملُ گھر بارُ ॥੧॥
ہرِ گُنھ گاءُ منا ستِگُرُ سیۄِ پِیارِ ॥
کِیا تھوڑڑیِ بات گُمانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیَسے ریَنھِ پراہُنھے اُٹھِ چلسہِ پربھاتِ ॥
کِیا توُنّ رتا گِرست سِءُ سبھ پھُلا کیِ باگاتِ ॥੨॥
میریِ میریِ کِیا کرہِ جِنِ دیِیا سو پ٘ربھُ لوڑِ ॥
سرپر اُٹھیِ چلنھا چھڈِ جاسیِ لکھ کروڑِ ॥੩॥
لکھ چئُراسیِہ بھرمتِیا دُلبھ جنمُ پائِئوءِ ॥
نانک نامُ سمالِ توُنّ سو دِنُ نیڑا آئِئوءِ ॥੪॥੨੨॥੯੨॥
لفظی معنی:
گویل ۔ چراگاہ ۔ گوئلی ۔ چرواہا ۔ ڈنو۔ شیخی ۔ دکھاوا ۔ پسار ۔ پھیلاؤ ۔ محلت ۔ مقررہ وقت ۔میعاد ۔ سمل ۔ سنبھال ۔ ۔ گمان ۔ غرور ۔ ۔ پربھات۔ صبح ۔ باغات۔ باغ ۔(2) لوڑ۔ تلاش کر ۔ سر پر۔ ضرور ۔ لازمی (3) بھرمتیا ۔ بھٹکتے ۔ دکھ ۔ نایاب ۔ سمال دلمیں بسا ۔
ترجمہ:
اے انسان تو اس عالم میں ایسے آیا ہے ۔ جیسے چرواہا مویشی چرانے چراگاہ میں آتا ہے ۔ چند روز کے لئے آتا ہے اسکا تجھے کونسا فخر اور غرور ہے ۔ جب یہ مقررہ وقت ختم ہو جائیگا تو تجھے لازمی جانا ہوگا ۔ لہذا تو اپنی زندگی کی درستی کرے ۔۔ اے دل خدا کی عبادت کر اور حمد و ثناہ اور مرشد کی پیار سے خدمت کر تجھے معمولی سے بات پر کونسا غرور ہے ۔۔ اے انسان تیری اوقات اُس مہمان کی مانند ہے جو شب باشی کرکے صبح ہوتی ہی چلا جاتا ہے لہذا زندگی کی رات گذر جانے کے بعد تجھے بھی اس عالم سے رخصت ہونا پڑیگا ۔ یہ عالم اور عالمی کاروبار پھولوں کے باغ کی مانند ہیں جو جلدی ہی مرجھا جاتے ہیں ۔(2) اے انسان اپنی ملکیت کا ڈھنڈوہ کیا پیٹتا ہے اُس دینے والے خدا کا احساس کر کیونکہ تو نے لازمی طور پر اس جہاں سے رخصت ہونا ہے ۔ اور یہ لاکھوں اور کروڑوں نہیں چھوڑ جائیگای ۔ (3) چوراسی لاکھ زندگیاں میں سے یہ نایاب زندگی تجھے میسر ہوئی ہے ۔ اے نانک نام بسا کیونکہ وہی دن نزدیک آگیا ہے (موت)

سِریِراگُ مہلا ੫॥
تِچرُ ۄسہِ سُہیلڑیِ جِچرُ ساتھیِ نالِ ॥
جا ساتھیِ اُٹھیِ چلِیا تا دھن کھاکوُ رالِ ॥੧॥
منِ بیَراگُ بھئِیا درسنُ دیکھنھےَ کا چاءُ ॥
دھنّنُ سُ تیرا تھانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِچرُ ۄسِیا کنّتُ گھرِ جیِءُ جیِءُ سبھِ کہاتِ ॥
جا اُٹھیِ چلسیِ کنّتڑا تا کوءِ ن پُچھےَ تیریِ بات ॥੨॥
پیئیِئڑےَ سہُ سیۄِ توُنّ ساہُرڑےَ سُکھِ ۄسُ ॥
گُر مِلِ چجُ اچارُ سِکھُ تُدھُ کدے ن لگےَ دُکھُ ॥੩॥
سبھنا ساہُرےَ ۄنّجنْنھا سبھِ مُکلاۄنھہار ॥
نانک دھنّنُ سوہاگنھیِ جِن سہ نالِ پِیارُ ॥੪॥੨੩॥੯੩॥
لفظی معنی:
تچر ۔ اُتنی دیر ۔ وسیہہ۔ تو بسیگی ۔ سہیلڑی ۔ سکھالی ۔ خاکو رال ۔ خاک میں ملجاتی ہے ۔۔ ویراگ ۔ پریم ۔پیار ۔ دھن ۔ شاباش ۔ تھان۔ ٹھکانہ ۔ جگہ ۔ گھر ۔ دل ۔ گنت ۔ خآوند ۔ روح ۔ اُٹھی چلسی ۔ پرواز ۔چلی گئی ۔ کنتڑا۔ روح ۔(2) پئیڑے ۔ پیکے ۔ ساہرڑلے۔ ساہرے ۔ چج ۔ زندگی گذارنے کا سلیقہ ۔ اچار۔ اخلاق ۔ چال چلن ۔(3) ونجنا۔ جانا ۔ سیھ نال ۔ خاوند کیساتھ ۔ (4)
ترجمہ:
جب تک روح بدن میں ہے آپس میں روح اور جسم کا ملاپ ہے یہ جسم آرام سے ہے اسے سکھ حاصل ہے ۔ جب روح پرواز کرجائیگی ۔ تو یہ بدن مٹی میں مل جائیگا۔ ۔ اے خدا میرے دل میں تیرے دیدار کے لئے تڑپ اور دیدار کی پیاس ہے اور دیدار کے لئے خوشی ہے وہ مقام خؤش بخت ہے ۔ جب تک روح بدن میں سب عزت کرتے ہیں پیار سے پیکارتے ہیں ۔ جب روح پرواز کرجاتی ہے ۔ کوئی بات نہیں پوچھتا ۔(2) اے انسان اس علام میں خدا کی خدمت کرتاکہ عاقبت میں آرام میسر ہو۔ مرشد سے مل کر زندگی گذارنے کا سلیقہ سیکھ ۔ تاکہ تجھے کبھی عذاب نہ اُٹھانا پڑے ۔ (3) سب نے اس عالم سے چلے جانا ہے راہ ملک عدم روانہ ہونا ہے ۔ اے نانک وہ انسان خوش قسمت ہے جن کا اپنے آقا خداوند کریم سے محبت ہے ۔ ۔

سِریِراگُ مہلا ੫ گھرُ ੬॥
کرنھ کارنھ ایکُ اوہیِ جِنِ کیِیا آکارُ ॥
تِسہِ دھِیاۄہُ من میرے سرب کو آدھارُ ॥੧॥
گُر کے چرن من مہِ دھِیاءِ ॥
چھوڈِ سگل سِیانھپا ساچِ سبدِ لِۄ لاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُکھُ کلیسُ ن بھءُ بِیاپےَ گُر منّت٘رُ ہِردےَ ہوءِ ॥
کوٹِ جتنا کرِ رہے گُر بِنُ ترِئو ن کوءِ ॥੨॥
دیکھِ درسنُ منُ سادھارےَ پاپ سگلے جاہِ ॥
ہءُ تِن کےَ بلِہارنھےَ جِ گُر کیِ پیَریِ پاہِ ॥੩॥
سادھسنّگتِ منِ ۄسےَ ساچُ ہرِ کا ناءُ ॥
سے ۄڈبھاگیِ نانکا جِنا منِ اِہُ بھاءُ ॥੪॥੨੪॥੯੪॥
لفظی معنی:
کارن ۔ سبب ۔اسباب ۔ کرن ۔ کرنیوالا ۔ آکار۔ پھیلاؤ ۔ دھیاوھو ۔ یاد کرؤ ۔ آدھار ۔ آلہ ۔ ۔ ساچ شبد۔ سچے کلام ۔سچے سبق ۔ پران ۔ زندگی ۔ من تن ۔ دل وجان ۔ (!) دکھ اندھار ۔ بھاری گہرا اندھیرا ۔(2) کرنی ساز ۔ حقیقی بنیادی اعمال ۔ آپ چھوڑ ۔ خودی مٹا کررہنا ۔ دھول ۔ دئے پربھ نرنکار۔ خدا دیتا ہے ۔ (3) سگل ۔ سارا ۔ پسر یا پارسار۔ یہ سارا پھیلاؤ ۔ سگل برہم ویچار۔ سارے الہٰی سوچ سمجھ۔ خیالات
ترجمہ:
جسنے یہ عالم پیدا کیا ہے وہی سب اسباب پیدا کرنیوالا ہے ۔ اے دل اسکو یاد کر اسکی طرف متوجہ ہو جسکا سب کو سہارا ہے ۔۔ اے انسان پائے مرشد کا گرویدہ ہو جا اور تمام چالاکیاں ۔دھوکا بازیاں اور ہو شمندیاں چھوڑ کر سچے کلام مرشد کو پیار کر دلمیں سبق مرشد ۔ اسے عذاب جھگڑے اور خوف نہیں رہتا ۔ کروڑوں کوششوں کے باوجود مرشد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔(2) دیدار مرشد سے دل کو تقویت ملتی ہے ۔ اور تمام گناہ عافو ہو جاتے ہیں ۔ قربان ہوں میں ان پر جو پائے مرشد پڑتے ہیں ۔ (3) خدا رسیدگان و پاکدامناں کی صحبت و قربت ملے سچے خدا کا نام دلمیں بستا ہے ۔ اے نانک بلند قسمت ہیں وہ انسان جن کے دلمیں یہ پیار بستا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
سنّچِ ہرِ دھنُ پوُجِ ستِگُرُ چھوڈِ سگل ۄِکار ॥
جِنِ توُنّ ساجِ سۄارِیا ہرِ سِمرِ ہوءِ اُدھارُ ॥੧॥
جپِ من نامُ ایکُ اپارُ ॥
پ٘ران منُ تنُ جِنہِ دیِیا رِدے کا آدھارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کامِ ک٘رودھِ اہنّکارِ ماتے ۄِیاپِیا سنّسارُ ॥
پءُ سنّت سرنھیِ لاگُ چرنھیِ مِٹےَ دوُکھُ انّدھارُ ॥੨॥
ستُ سنّتوکھُ دئِیا کماۄےَ ایہ کرنھیِ سار ॥
آپُ چھوڈِ سبھ ہوءِ رینھا جِسُ دےءِ پ٘ربھُ نِرنّکارُ ॥੩॥
جو دیِسےَ سو سگل توُنّہےَ پسرِیا پاسارُ ॥
کہُ نانک گُرِ بھرمُ کاٹِیا سگل ب٘رہم بیِچارُ ॥੪॥੨੫॥੯੫॥
لفظی معنی:
سنچ۔ جمع کر ۔ اکھٹا کر ۔ پوج۔ پرستش کر ۔ ساج ۔ ساز ۔ پیدا کیا ۔ سواریا ۔ درستی کی ۔ اُدھار۔ بچاؤ ۔ ۔ اپا ر ۔ بیشمار ۔ ردے ۔ دل من ۔ آدھار ۔ آسرا ۔ سہارا ۔ ۔ رہاؤ ۔ کام ۔ شہوت ۔ کرودھ ۔ غصہ ۔ ماتے ۔ مست ۔محو ۔ ویاپیا ۔ پیدا ہوا ۔ اہنکا ۔ غرور ۔ تکبر ۔ سنسار ۔ جہاں ۔ عالم ۔دنیا ۔ اندھار۔ اندھیرا ۔ (2) ست ۔ سچ ۔ سچائی ۔ سنتو کھ ۔ صبر ۔قناعت ۔ دیا ۔ رحم ۔ کرنی ۔ اعمال ۔ سار ۔ بنیاد ۔ حقیقت ۔ بلندی ۔ آپ ۔خودی ۔ رین ۔دھول ۔ لیبریا۔ پھیلاؤ ۔ ویچار ۔ خیال ۔ سمجھ۔
ترجمہ:
اے انسان الہٰی کی دولت جمع کر ۔ سچے مرشد کی پرستش و عزت کر تمام بیفائدہ اور بڑے کام چھوڑ ۔ جس نے تجھے پیدا کرکے تیری درستی فرمائی ہے ۔ اس خدا کو یاد کر اسی سے تجھے سہارا اور اسرا ملیگا ۔ ۔ اے دل خدا کو یاد کر جو واحد ہے جس نے زندگی روح اور بدن عنایت فرمایا ہے اور دل کے لئے سہارا ہے ۔ یہ عالم ۔ شہوت ۔ غصہ ۔تکبر اور غرور میں بد مست ہے اسے اپنی گرفت میں گرفتار کر رکھا ہے لہذا اے انسان پائے خدا رسیدگان پڑ تاکہ لا علمی و جہالت کا اندھیرا مٹے ۔(2) سچ۔ سچائی ۔ صبر۔ رحم پر عمل کر یہی اعلٰی اعمال ہیں ۔ خودی کو چھوڑ کر سب کے پاؤ ں کی دھول ہو جا۔ یعنی عاجزی و انکساری اختیار ک۔ یہ الہٰی کرم و عنایت ہے ۔(3) اے نانک فرمان کر کہ جس کے وہم و گمان شک و شبہات مرشد نے مٹا دیئے اسے سارا جو دکھائی دیتا زیر نظر ہے اور جتنا عالم کو پھیلاؤ ہےسارا خدا اور خدا کا پیدا کردہ الہٰی نور ہے

سِریِراگُ مہلا ੫॥
دُک٘رِت سُک٘رِت منّدھے سنّسارُ سگلانھا ॥
دُہہوُنّ تے رہت بھگتُ ہےَ کوئیِ ۄِرلا جانھا ॥੧॥
ٹھاکُرُ سربے سمانھا ॥
کِیا کہءُ سُنھءُ سُیامیِ توُنّ ۄڈ پُرکھُ سُجانھا ॥੧॥ رہاءُ ॥
مان ابھِمان منّدھے سو سیۄکُ ناہیِ ॥
تت سمدرسیِ سنّتہُ کوئیِ کوٹِ منّدھاہیِ ॥੨॥
کہن کہاۄن اِہُ کیِرتِ کرلا ॥
کتھن کہن تے مُکتا گُرمُکھِ کوئیِ ۄِرلا ॥੩॥
گتِ اۄِگتِ کچھُ ندرِ ن آئِیا ॥
سنّتن کیِ رینھُ نانک دانُ پائِیا ॥੪॥੨੬॥੯੬॥
لفظی معنی:
دکرت۔ سکرت۔ نیک و بد اعمال ۔ مندھے ۔ میں ۔ سگلانا ۔ سارا جہاں ۔۔ ٹھاکر۔ آقا ۔ مالک ۔ خدا ۔ سجانا ۔ دانشمند ۔ ابھیمان ۔ غرور ۔ تکبر ۔ گھمنڈر ۔ تت ۔حقیقت ۔ اصلیت ۔ سمد رسی ۔ مادات کا قابل ۔ منداہی ۔میں سے ۔ کیرت کر لا ۔ صفت صلاح ۔ گت ۔ نجات ۔ اوگت ۔ غلامی ۔
ترجمہ:
ساراعالم نیک و بد اعمال کو ہی مذہب اور لا مذہب ہی ہی سمجھتا ہے مگر عاشق الہٰی ان دونوں خیالوں اور سدھانتوں سے بلا ہے ۔ خدا سب میں بستا ہے اے میرے آقا کیو کہوں کیا سنوں تو بلند عظمت اور بھاری دانشمند ہے ۔۔ جو انسان عزت و آبرو و وقار اور بے عزتی اور تکبر کے احساس میں گرفتار ہے وہ خادم و خدمتگار نہیں ۔ اے پارساؤں ۔ خدا رسیدگان کروڑوں میں سے کوئی حقیقت پسند حقیقت پرست ہے جو سب کو مساوی نظر سے دیکھتا ہو ۔ (2) واعظ پندو نصحیت ۔صفت صلاح کرنا اور کرانے کو جہاں میں شہرت و حشمت حاصل کرنیکا ذریعہ ہے ۔ کوئی مرید مرشد ہی ان زبانی کلامی کہنے بیان کرنیسے آزاد ہے ۔(3) اے نانک جس نے دھول پائے خدا رسیدگان حاصل کر لی ہے اسے غلامی و ونجات کا نظریہ کا خیال ہی نہیں رہتا ۔ (4)

سِریِراگُ مہلا ੫ گھرُ ੭॥
تیرےَ بھروسےَ پِیارے مےَ لاڈ لڈائِیا ॥
بھوُلہِ چوُکہِ بارِک توُنّ ہرِ پِتا مائِیا ॥੧॥
سُہیلا کہنُ کہاۄنُ ॥
تیرا بِکھمُ بھاۄنُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہءُ مانھُ تانھُ کرءُ تیرا ہءُ جانءُ آپا ॥
سبھ ہیِ مدھِ سبھہِ تے باہرِ بیمُہتاج باپا ॥੨॥
پِتا ہءُ جانءُ ناہیِ تیریِ کۄن جُگتا ॥
بنّدھن مُکتُ سنّتہُ میریِ راکھےَ ممتا ॥੩॥
بھۓ کِرپال ٹھاکُر رہِئو آۄنھ جانھا ॥
گُر مِلِ نانک پارب٘رہمُ پچھانھا ॥੪॥੨੭॥੯੭॥
لفظی معنی:
لاڈلڈ ھائیا۔ ہنسی خوشی میں کھیل کود کی ۔ کھیل کود میں وقت گذارا ۔ بہول چوکھ ۔ بھول اور غلطیاں کیں ۔ مایا ۔ ماتا ۔ ماں ۔۔ مہیلا۔ آسان ۔ وکہم ۔ مشکل ۔ بھاون ۔ رضا ۔ جگتا۔ طریقہ ۔ بندھن مکت ۔ غلامی کی بندشوں سے آزادی ۔ ممتا ۔میرڈ ۔(3) آون جانا۔ آوا گون ۔ تناسخ ۔ (4)
ترجمہ:
اے خدا تیرے یقین اور بھروسے کیوجہ سے ہنستا کھیل کود میں مصروف رہا ۔ کیونکہ انسان بھی بچوں کی مانند بھولتا اور اکتا جاتا ہے ۔ اے خدا تو میرا باپ اور ماں ہے ۔ ۔ گو سمجھتا اور کہلاتا آسان ہے ۔مگرتاہم اے خدا تیری رضا میں راضی رہنا مشکل ہے ۔۔ اے میرے بے محتاج باپ میں تیری عزت و آبرو رکھتا ہوں ۔ کیونکہ میں تجھے اپنا سمجھتا ہو ں ۔ اے خدا تو سب میں بسنے کے باوجود سب سے باہر ہے ۔(2) اے میرے پتا خدا مجھے نہیں معلوم کہ کونسا طور طریقہ ہے جس سے تیری خوشنودی حاصل ہو ۔ اے بندھنوں سے اور غلامیوں سے آزاد خدا رسیدوں وہ مجھے اپنا خیال کرتا ہے ۔(3) خدا مہربان ہوا رحمت فرمائی تناسخ مٹا ۔ اے نانک مرشد کے ملاپ سے خدا سے وہی شراکت کر لیتا ہے جس نے پہچانا خدا

سِریِراگُ مہلا ੫ گھرُ ੧॥
سنّت جنا مِلِ بھائیِیا کٹِئڑا جمکالُ ॥
سچا ساہِبُ منِ ۄُٹھا ہویا کھسمُ دئِیالُ ॥
پوُرا ستِگُرُ بھیٹِیا بِنسِیا سبھُ جنّجالُ ॥੧॥
میرے ستِگُرا ہءُ تُدھُ ۄِٹہُ کُربانھُ ॥
تیرے درسن کءُ بلِہارنھےَ تُسِ دِتا انّم٘رِت نامُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِن توُنّ سیۄِیا بھاءُ کرِ سیئیِ پُرکھ سُجان ॥
تِنا پِچھےَ چھُٹیِئےَ جِن انّدرِ نامُ نِدھانُ ॥
گُر جیۄڈُ داتا کو نہیِ جِنِ دِتا آتم دانُ ॥੨॥
آۓ سے پرۄانھُ ہہِ جِن گُرُ مِلِیا سُبھاءِ ॥
سچے سیتیِ رتِیا درگہ بیَسنھُ جاءِ ॥
کرتے ہتھِ ۄڈِیائیِیا پوُربِ لِکھِیا پاءِ ॥੩॥
سچُ کرتا سچُ کرنھہارُ سچُ ساہِبُ سچُ ٹیک ॥
سچو سچُ ۄکھانھیِئےَ سچو بُدھِ بِبیک ॥
سرب نِرنّترِ رۄِ رہِیا جپِ نانک جیِۄےَ ایک ॥੪॥੨੮॥੯੮॥
لفظی معنی:
جمکال۔ موت ۔ وٹھا ۔ بسا ۔ بھیٹیا ۔ ملیا ۔ ۔ وٹہوں۔ آپ پر ۔ تس۔ کرم و عنایت سے ۔انمرت۔ آب حیات ۔ ۔ بھاؤ ۔ پریم پیار ۔ سبحان۔ دانمشند ۔ آتم دان ۔ روح بخشی ۔ ندھان ۔ خزانہ ۔ (2) سبھائے ۔ پیار سے ۔ سچے ۔ خدا ۔ ویسن۔ غھکانہ ۔(3) وویک ۔ ہوشمند
ترجمہ:
سنتوں نے بھائیوں سے مل کر موت کا پھندہ کاٹا ڈالا ۔ خدا وند کریم نے رحمت فرمائی اور دلمیںبس گیا ۔ کامل مرشد کے ملاپ سے سارے پندرے اور الجھنیں دور ہو گئیں ۔۔ اے میرے سچے مرشد میں تجھ پر قربان ہوں ۔ آپ نے مجھے آب حیات نام سچ وحقیقت عنایت فرمایا ہے لہذا تیرا دیدار پر قربان ہوا ۔۔ اے خدا دانشمند ہے وہ شخس جس نے پریم پیار سے تیری خدمت سر انجام دی ۔ جنکے دلمیں نام کا خزانہ ہے اور ان کی رہبری سے نجات میسر ہوتی ہےمرشد جیسا سخاوت کرنیوالا کوئی دانی نہیں جس نے روحانی وذہنی بلند بیداری عنایت فرمائی ہے ۔(2) ان اشخاص کا اس عالم میں پیدا ہونا جنم لینا قابل قبول ہے جنہیں نیکی اور نیک نیت سے اور نیک خیال سے مرشد سے ملاپ کا شرف حاصل ہوجاتا ہے ۔ سچے خدا سے پیار اور پریم کرنے سے درگھ الہٰی میں شرف حاصل ہوتا ہے۔ اس کارساز ۔ قادر ۔ کریم کی دسترس میں ہیں عظمتیں اور حرمتیں پہلے سے مقدر میں تحریر سے ملتی ہیں ۔(3) کار ساز ۔ کرتار ۔ سچ ہے ۔ جو حقیقت کرنے کی تمام قوتیں توفیق رکھتا ہے ۔ در سب کا مالک ہے ۔ جو قائم ودائم سب کا سچا سہارا ہے اسے سچی عقل و ہوش سے سچو سچ کے لئے ۔ جسکی عق و ہوش حقیقت شناض ہے ۔ سب میں بے روک ٹوک لگاتار بس رہا ہے نانک اُسے یا دکرکےزندگی گذارتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
گُرُ پرمیسُرُ پوُجیِئےَ منِ تنِ لاءِ پِیارُ ॥
ستِگُرُ داتا جیِء کا سبھسےَ دےءِ ادھارُ ॥
ستِگُر بچن کماۄنھے سچا ایہُ ۄیِچارُ ॥
بِنُ سادھوُ سنّگتِ رتِیا مائِیا موہُ سبھُ چھارُ ॥੧॥
میرے ساجن ہرِ ہرِ نامُ سمالِ ॥
سادھوُ سنّگتِ منِ ۄسےَ پوُرن ہوۄےَ گھال ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرُ سمرتھُ اپارُ گُرُ ۄڈبھاگیِ درسنُ ہوءِ ॥
گُرُ اگوچرُ نِرملا گُر جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
گُرُ کرتا گُرُ کرنھہارُ گُرمُکھِ سچیِ سوءِ ॥
گُر تے باہرِ کِچھُ نہیِ گُرُ کیِتا لوڑے سُ ہوءِ ॥੨॥
گُرُ تیِرتھُ گُرُ پارجاتُ گُرُ منسا پوُرنھہارُ ॥
گُرُ داتا ہرِ نامُ دےءِ اُدھرےَ سبھُ سنّسارُ ॥
گُرُ سمرتھُ گُرُ نِرنّکارُ گُرُ اوُچا اگم اپارُ ॥
گُر کیِ مہِما اگم ہےَ کِیا کتھے کتھنہارُ ॥੩॥
جِتڑے پھل منِ باچھیِئہِ تِتڑے ستِگُر پاسِ ॥
پوُرب لِکھے پاۄنھے ساچُ نامُ دے راسِ ॥
ستِگُر سرنھیِ آئِیا باہُڑِ نہیِ بِناسُ ॥
ہرِ نانک کدے ن ۄِسرءُ ایہُ جیِءُ پِنّڈُ تیرا ساسُ ॥੪॥੨੯॥੯੯॥
لفظی معنی:
پوجیئے ۔ پر ستش کریں ۔ جیہ ۔ زندگی ۔ سبھسے۔ سب کو ۔ ادھار۔ اسرا ۔ ستگر ویچن ۔ ۔سبق مرشد ۔ واعظ ۔ پندو نصحت ۔ کلام کماونے ۔ پر عمل کرنا ۔ سادھو ۔ وہ شخص جس نے اپنی عادات و اعمال کو انسانیت کے مطابق درست کر لیا ہوا ۔ الہٰی رضا کا انساری بنا لیا ہو ۔ ستنگ ۔ ساتھ ۔صحبت و قربت ۔ پورن ۔ کامل ۔ مکمل ۔ گھال۔ کمائی ۔ جدو جہد ۔ سمر تھ ۔ قابل ۔ اپار۔ بیشمار ۔ اگو چر۔ ناقابل ۔بیان ۔ بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ یزملا ۔ پاک ۔کرتا۔ کرتار ۔ کرنہار کرنیکے لائق ۔ گور مکھ۔ مرید مرشد ۔ سوئے ۔ شہرت ۔ (2) پار جات ۔ہندو دھارمک گرمھتون کے مطابق جنت کے پانچ درختوں میں سے ایک درخت ۔ پارجات ہے جو تمام انسانی خواہشات پوریاں کرتا ہے ۔ یہ پانچ درخت یہ ہیں ۔ مندار۔ پارجات۔ سنتان ۔ کلپ اور ہری چندن ۔ یہ بھی خیا ل کیا جاتا ہے کہ جب دیوتاؤں نے سمندر کو رڑکیا تو یہ پارجات کا درخت ان چودہ رتنوں میں ملا تھا اور بوقت تقسیم اندر کو ملا اسکے بعد کرشن نے اس سے چھین کر سیتہ بھاما محبوبہ کرشن جی کے صحن میں لگا دیا ۔ منیا ۔ ارادہ ۔ اگم ۔ انسانی ۔ رسائی سے بلند ۔(3) بانچھیئے ۔ چاہیے ۔ وناس۔ فناہ ۔ وسرؤں ۔ میں بہولوں ۔ جیؤ ۔ زندگی ۔ پنڈ ۔جسم ۔ ساس۔ سانس ۔
ترجمہ:
اے دل و جان کامل پریم پیار سے خدا اور مرشد کی پرستش کرؤ۔ مرشد روحانی زندگی عطا کر نیوالے ہے اور سب کو سہارا دیتا ہے ۔ سچے مرشد کے کلام پر عمل کرنا سچا خیال اور صحیح سمجھ ہے ۔ سادھوؤں کی سحبت و قربت اختیار کرنیکے علاوہ یہ مادیاتی محبت مٹنے والی خاک میں ملنے والی ہے ۔ ۔ اے دوست خدا کے نام کو دلمیں بسا ۔ اگر سادھو کی صحبت و قربت میں دل لگا ہو تاکہ جدو جہد زندگی اور تردد کامیاب ہو جائے ۔۔ مرشد سب طاقتوں سے سرفراز ہے سب کا مالک ہے اسمیں بیشمار اوصاف ہیں بلند قسمت سے اُسکا دیدار حاصل ہوتا ہے مرشد انسانی رسائی سے بالا تر ہے پاک انسان ہے ۔ اسکے برابر اسکا ثآنی کوئی نہیں ۔ مرشد روحانی زندگی عطا کرنیوالا ہے سچی شہرت اسکے وسیلے سے ملتی ہے ۔ مرشد کے اختیار سے باہر کچھ نہیں جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے ۔ (2) مرشد ہی زیارت گاہ ہے مرشد ہی بہتشی شجر ہے ۔پارجات ہے ۔ مرشد الہٰی نام کی سخاوت کرنیوالا ہے ۔جس سے تمام عالم کو سہارا ملتا ہے ۔ مرشد پاک خدا کی طرح ہے اور انسانی رسائی سے بلند ہے مرشد کی عظمت و حشمت بیان نہیں ہو سکتی ۔(3) جتنی دلمیں خواہشات اور ارادے ہیں اور ان کی کامیابیاں چاہتے ہو ۔ مرشد سے مل جاتی ہیں ۔ پہلے سے اعمالمانے میں تحریر کیمطابق ہی ملتے ہیں ۔ سچے الہٰی نام کی دولت پناہ مرشد سے ملتی ہے ۔ جو دوبارہ نہیں مٹتی ۔ اے نانک خدا کو نہ بھلاؤ ۔ یہ زندگی ۔دل وجان الہٰی عنایت و کرم ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
سنّت جنہُ سُنھِ بھائیِہو چھوُٹنُ ساچےَ ناءِ ॥
گُر کے چرنھ سریۄنھے تیِرتھ ہرِ کا ناءُ ॥
آگےَ درگہِ منّنیِئہِ مِلےَ نِتھاۄے تھاءُ ॥੧॥
بھائیِ رے ساچیِ ستِگُر سیۄ ॥
ستِگُر تُٹھےَ پائیِئےَ پوُرن الکھ ابھیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ستِگُر ۄِٹہُ ۄارِیا جِنِ دِتا سچُ ناءُ ॥
اندِنُ سچُ سلاہنھا سچے کے گُنھ گاءُ ॥
سچُ کھانھا سچُ پیَننھا سچے سچا ناءُ ॥੨॥
ساسِ گِراسِ ن ۄِسرےَ سپھلُ موُرتِ گُرُ آپِ ॥
گُر جیۄڈُ اۄرُ ن دِسئیِ آٹھ پہر تِسُ جاپِ ॥
ندرِ کرے تا پائیِئےَ سچُ نامُ گُنھتاسِ ॥੩॥
گُرُ پرمیسرُ ایکُ ہےَ سبھ مہِ رہِیا سماءِ ॥
جِن کءُ پوُربِ لِکھِیا سیئیِ نامُ دھِیاءِ ॥
نانک گُر سرنھاگتیِ مرےَ ن آۄےَ جاءِ ॥੪॥੩੦॥੧੦੦॥

لفظی معنی:
چہوٹن۔ نجات۔ خلاصی ۔ سچے نائے ۔سچے ۔ الہٰی نام سے ۔ سر یونے ۔ خدمت کرنی ۔ منتھاوے ۔ بے مالک ۔ جسکے لئے کوئی جگہ نہیں خانہ بدوش ۔ تھاؤ ۔ جگہ گھر ۔ تھٹے ۔ خوش ہوولے ۔ پورن ۔کامل ۔ الکہہ ۔ بیشمار ۔ ابھیو ۔ راز ۔ ولہو ۔ پر ۔ سچ ۔ ہمیشہ ۔ جاویداں ۔ اندھ ۔ ہر وز ۔ (2) ساس۔ سانس ۔گراس ۔ لقمہ ۔ ساس گراس۔ ہر لقمہ وہر سانس ۔ سپھل ۔ مورت ۔ کامیابی ۔عطا کرنیوالی شخصیت ۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ ۔ (3) پورب ۔ پہلا ۔ سیئی ۔ وہی ۔ دھیائے ۔ یاد کرنا ۔
ترجمہ:
اے برادران ملت خدا رسیدگانوں سنو ۔ نجات ۔ آزادی ۔ چھٹکارہ۔ سچے نام سے ہے ۔ مراد سچ ۔حق و حقیقت اپنانے میں ہے ۔ خدمت پائے مرشد اور الہٰی نام ہی زیارت گاہ ہے ۔ بوقت عاقبت درگاہ الہٰی میں انہیں قبولیت حاصل ہے قبول ہوتے ہیں ۔ اسی سے بے مالکوں خانہ بدوشوں کو وہاں جگہ ملتی ہے ۔۔ اے بھائی سچے مرشد کی خدمت کرؤ ۔ سچے مرشد کی خوشنودی پر ہی کامل و شمار سے بالا جو ایک راز ہے خدا کا ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔۔ میں سچے مرشد پر قربان ہوں جس نے ست نام کی بخشش فرمائیں ہے ۔ روز و شب قائم دائم خدا کی صفت صلاح کرتا ہوں ۔ کرم و عنایت مرشد و رحمت سے اب خورد و پوش سچ اور سچا نام ہو گیا ہے ۔(2) مرشد وہ شخصیت ہے جو ہر قسم کی کامیابیاں عطا کر سکتی ہے ۔ اسکے برابر کوئی دوسری شخصیت دکھائی نہیں دیتی ۔ روز و شب اسے یاد کرؤ ۔ اُسکی نظر عنایت سے ہی سچے نام کا خزانہ ملتا ہے ۔(3) اسے ہر سانس ہر لقمہ نہ بھلاؤ خدا اور مرشد کی آپس میں یکسوئی ہے ۔ آپس میں یکسانیت کا رشتہ ہے ۔ اس خدا س جو سب میں بس رہا ہے ۔ جنکے مقدر میں جنکے اعمالنامے میں پیشتر تحریر ہے وہی نام کی ریاض کر پاتے ہیں ۔ اے نانک پناہ مرشد سے تناسخ ختم ہوجاتا ہے

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੧ اسٹپدیِیا ॥
آکھِ آکھِ منُ ۄاۄنھا جِءُ جِءُ جاپےَ ۄاءِ ॥
جِس نو ۄاءِ سُنھائیِئےَ سو کیۄڈُ کِتُ تھاءِ ॥
آکھنھ ۄالے جیتڑے سبھِ آکھِ رہے لِۄ لاءِ ॥੧॥
بابا الہُ اگم اپارُ ॥
پاکیِ نائیِ پاک تھاءِ سچا پرۄدِگارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تیرا ہُکمُ ن جاپیِ کیتڑا لِکھِ ن جانھےَ کوءِ ॥
جے سءُ سائِر میلیِئہِ تِلُ ن پُجاۄہِ روءِ ॥
کیِمتِ کِنےَ ن پائیِیا سبھِ سُنھِ سُنھِ آکھہِ سوءِ ॥੨॥
پیِر پیَکامر سالک سادک سُہدے ائُرُ سہیِد ॥
سیکھ مسائِک کاجیِ مُلا درِ درۄیس رسیِد ॥
برکتِ تِن کءُ اگلیِ پڑدے رہنِ دروُد ॥੩॥
پُچھِ ن ساجے پُچھِ ن ڈھاہے پُچھِ ن دیۄےَ لےءِ ॥
آپنھیِ کُدرتِ آپے جانھےَ آپے کرنھُ کرےءِ ॥
سبھنا ۄیکھےَ ندرِ کرِ جےَ بھاۄےَ تےَ دےءِ ॥੪॥
تھاۄا ناۄ ن جانھیِئہِ ناۄا کیۄڈُ ناءُ ॥
جِتھےَ ۄسےَ میرا پاتِساہُ سو کیۄڈُ ہےَ تھاءُ ॥
انّبڑِ کوءِ ن سکئیِ ہءُ کِس نو پُچھنھِ جاءُ ॥੫॥
ۄرنا ۄرن ن بھاۄنیِ جے کِسےَ ۄڈا کرےءِ ॥
ۄڈے ہتھِ ۄڈِیائیِیا جےَ بھاۄےَ تےَ دےءِ ॥
ہُکمِ سۄارے آپنھےَ چسا ن ڈھِل کرےءِ ॥੬॥
سبھُ کو آکھےَ بہُتُ بہُتُ لیَنھےَ کےَ ۄیِچارِ ॥
کیۄڈُ داتا آکھیِئےَ دے کےَ رہِیا سُمارِ ॥
نانک توٹِ ن آۄئیِ تیرے جُگہ جُگہ بھنّڈار ॥੭॥੧॥
لفظی معنی:
آکھ آکھ ۔ کہہ کہہ ۔ من بادنا۔ دل کو ذلیل ۔ کرنا ۔ کھپانا ہے ۔ جیؤ ۔جیؤ ۔ جیسے جیسے ۔ جاپے ۔ دکھائی دیتا ہے ۔ سمجھ آتی ہے ۔ کت ۔کونسی۔ رہے ۔ ماند پڑگئے ۔ لولائے دل و دماغ کو یکسو کرکے ۔۔بابا ۔ اے بھائی ۔ الہو ۔ اللہ ۔ خدا ۔ اگم ۔ انسانی رسائی سے بلند ۔ اپار۔ جسکے اوصاف کو سمجھا نہ جا سکے ۔ پاکی۔ پاک ۔ نائی ۔ عظمت ۔ تھائے ۔ جگہ ۔۔ کیتڑا۔ کتنا ۔ یکہہ نہ جانے ۔ تحریر کرنا ۔ نہیں جانتا ۔ سائیز ۔شاعر ۔ میلیہہ ۔ اکھٹے کریں ۔ پجا ویہہ ۔ نہیں پہنچتے ۔ کنے ۔ کسے نے ۔ سوئے ۔خبر ۔(2) پیکامر۔ پیغمر ۔ سالک ۔ رہبر ۔ صادق۔ صدق والے۔ سویدے ۔ لاپرواہ فقیر ۔ سید ۔ شہید ۔ قربان ہونے والے ۔ شیخ ۔مذہبی ۔بزرگ ۔ مشایخ ۔ بلند عظمت ،مذہبی رہنما ۔ قاضی ۔ اسلامی منصف ۔ ملا۔ مولوی ۔ رسید ۔ خدا یافتہ ۔ درویش ۔ فقیر ۔ برکت ۔ روحانی قوت ۔ اگلی ۔ نہایت زیادہ ۔ درود ۔نماز کے بعد کی دعا ۔(3) ندر۔ نظر (4) درنا۔ ورن ۔ ذات ۔پات ۔انبٹر نہ سیکئی۔ رسائی نہیں پا سکتا ۔ (5) چسا ۔ تھوڑا سا وقت ۔ حکم ۔ فرمان ۔ (6) سب کو ۔ ہر انسان ۔ ویچار ۔ خیال ۔(7)
ترجمہ:
انسانی من کو اکساہٹ دیکر بار بار ریاض الہٰی اپدیش وواعظ سے مجبور کرنا چاہیے ۔ جیسے جیسے اسے ہوش و سمجھ آتی ہے کہ جسے بول کر سناتے ہیں کہ اسکی کتنی عظمت ہے ۔ اور جتنے بھی کہنے والے ہیں سکب کہہ کہہ کر اُسمیں اپنی توجو اور دھیان لگاتے ہیں ۔۔ اے برادر خدا انسانی رسائی سے بعید اور شمار سے باہر ہے ۔ اُسکا کوئ کنارہ نہیں ۔ وہ پاک ہے اسکا نام پاک ہے اسکا ٹھکانہ پاک ہے ۔ اور سچا پرورش کرنیوالا ہے ۔۔ اے خدا کسے سمجھ نہیں آتی کہ تیرا فرمان کتنا پائیدار اور کیسا ہے نہ کوئی اسے لکھ سکتا ہے ۔ اگر سینکڑوں شاعر اکھٹے کر لیں تو بھی تل بھر اس تک رسائی نہیں ہو سکتی ۔ نہ بیان کر سکتے ہیں ۔ کوئی انسان تیری قیمت نہیں پا سکتا ۔ تمام دوسروں سے سن سن کر ہی کہہ رہے ہیں ۔(2) بیشمار ۔ بزرگ ۔ بلند عظمت ۔ رسول الہٰی۔الہٰی قاصد ۔ رہبر ۔ سچائی پسند ۔ صادق ۔ اپنے آپ کو قربان کر دینے والا شہید ۔ درویش ۔فقیر ۔ قاضی ۔ مولوی اور شیخ ۔ اور جنکی خدا تک رسائی ہے اور الہٰی قوتیں رکھتے ہیں ۔ انہیں بھی تیرے اوصاف کا اندازہ نہیں کر سکے وہ بھی آخر تیرے در پر دعا ہی کرتے ہیں ۔(3) خدا نہ کسی سے صلاح مشورہ کرکے عالم پیدا کرتا ہے نہ کسی کی صلاح سے برباد کرتا ہے ۔ نہ کسی سے صلاح کرکے دیتا اور لیتا ہے ۔ اپنی طاقت ووعظمت کو خود ہی سمجھتا ہے ۔ اور سب کچھ آپ ہی کرتا ہے ۔ اور سب پر اسکی نگاہ شفقت ہے ۔ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ۔(4) خدا کا اتنا بڑا پھیلاؤ اور دنیا میں ہیں ۔ کہ ان جگہوں کا نام نہیں جانتے کہ کتنا بڑا نام ہے ۔ جہاں تک انسانی رسائی نا ممکن ہے ۔ تو کس سے ان کا نام پوچھا جائے ۔ نہ یہ بتایا جا سکتا ہے کہ جہاں شہنشاہ عالم خدا بستا ہے ۔ (5) یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا کس ذات کو اچھا یا برا سمجھتا ہے ۔ اور خود کو ایک قوم کو یا دوسری قوم یا ذات کو ابھی یا بری سمجھتا ہے اگر خدا کسی شخس کو عظمت عنایت کر دیتا ہے یہ عظمت اس خدا کے ہاتھ ہے ۔ جو اُسے اچھا لگتا ہے اُسے عظمت عنایت کرتا ہے اور اپنی رضا سے اُسکی زندگی سنواردیتا ہے ۔ اُسمیں ذرا تامل نہیں کرتا ۔ (6)الہٰی نعمتوں کی بخشش کے مد نظر ہر ایک زیادہ سے زیادہ خواہشات رکھتا ہے ۔ اور اس سے مانگتا ہے ۔ یہ بتا نا از حد مشکل ہے کہ خدا کتنا بڑا ہے ۔ کتنا بڑا سختی ہے ۔ اُسکی سخاوت اعداد وشمار سے بعید ہے ۔ اے نانک الہٰی خزانے میں کبھی کمی واقعہ نہیں ہوتی ہمیشہ بھر ے رہتے ہیں۔

مہلا ੧॥
سبھے کنّت مہیلیِیا سگلیِیا کرہِ سیِگارُ ॥
گنھت گنھاۄنھِ آئیِیا سوُہا ۄیسُ ۄِکارُ ॥
پاکھنّڈِ پ٘ریمُ ن پائیِئےَ کھوٹا پاجُ کھُیارُ ॥੧॥
ہرِ جیِءُ اِءُ پِرُ راۄےَ نارِ ॥
تُدھُ بھاۄنِ سوہاگنھیِ اپنھیِ کِرپا لیَہِ سۄارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر سبدیِ سیِگاریِیا تنُ منُ پِر کےَ پاسِ ॥
دُءِ کر جوڑِ کھڑیِ تکےَ سچُ کہےَ ارداسِ ॥
لالِ رتیِ سچ بھےَ ۄسیِ بھاءِ رتیِ رنّگِ راسِ ॥੨॥
پ٘رِء کیِ چیریِ کاںڈھیِئےَ لالیِ مانےَ ناءُ ॥
ساچیِ پ٘ریِتِ ن تُٹئیِ ساچے میلِ مِلاءُ ॥
سبدِ رتیِ منُ ۄیدھِیا ہءُ سد بلِہارےَ جاءُ ॥੩॥
سا دھن رنّڈ ن بیَسئیِ جے ستِگُر ماہِ سماءِ ॥
پِرُ ریِسالوُ نئُتنو ساچءُ مرےَ ن جاءِ ॥
نِت رۄےَ سوہاگنھیِ ساچیِ ندرِ رجاءِ ॥੪॥
ساچُ دھڑیِ دھن ماڈیِئےَ کاپڑُ پ٘ریم سیِگارُ ॥
چنّدنُ چیِتِ ۄسائِیا منّدرُ دسۄا دُیارُ ॥
دیِپکُ سبدِ ۄِگاسِیا رام نامُ اُر ہارُ ॥੫॥
ناریِ انّدرِ سوہنھیِ مستکِ منھیِ پِیارُ ॥
سوبھا سُرتِ سُہاۄنھیِ ساچےَ پ٘ریمِ اپار ॥
بِنُ پِر پُرکھُ ن جانھئیِ ساچے گُر کےَ ہیتِ پِیارِ ॥੬॥
نِسِ انّدھِیاریِ سُتیِۓ کِءُ پِر بِنُ ریَنھِ ۄِہاءِ ॥
انّکُ جلءُ تنُ جالیِئءُ منُ دھنُ جلِ بلِ جاءِ ॥
جا دھن کنّتِ ن راۄیِیا تا بِرتھا جوبنُ جاءِ ॥੭॥
سیجےَ کنّت مہیلڑیِ سوُتیِ بوُجھ ن پاءِ ॥
ہءُ سُتیِ پِرُ جاگنھا کِس کءُ پوُچھءُ جاءِ ॥
ستِگُرِ میلیِ بھےَ ۄسیِ نانک پ٘ریمُ سکھاءِ ॥੮॥੨॥
لفظی معنی:
کنت۔ خاوند ۔ پیلیاں ۔ عورتیں ۔ گنت۔ حساب ۔ سوہا۔ لال ۔ سرخ ۔ ویس ۔ پوشیش ۔ پوشاک پہرا وا ۔ پاکھنڈ دکھاو۔ پاج۔ بیرونی دکھاوا ۔ ہر جیؤ ۔ اے خدا ۔ بؤ۔ ایسے ۔ راولے۔ محبت کرنا ۔ سوہاگنی ۔ خاوند کی دلداہ ۔ سیگاریا ۔ جسکو بناؤ شتگار کیا ہو ۔ کر ۔ہاتھ ۔ لال ۔ سرخرو ۔ سچ بھے۔ خوف الہٰی ۔ بھائے ۔ پریم پیار ۔ رنگ ۔ احساس ۔ پیار ۔ راس۔ پر لطف۔ با مزہ ۔ (2) چیری ۔غلام ۔ نوکرانی ۔ لالی۔ نوکرانی ۔ ملاؤ ۔ملاپ ۔ بیدھیا۔ جکڑا ہوا۔ گرفتار ۔ (3) سادھن ۔ وہ عورت ۔ ریسالو ۔ پر لطف ۔مخمور ۔ نو تن ۔ جوان ۔ (4) دھڑی ۔پٹی ۔ وطن ۔ عورت ۔ مانڈھیئے ۔سجاوٹ ۔ شنگار کریں ۔ چندن۔ خوشبوں دینے والا درخت ۔ دیپک ۔ چراغ ۔ وگاسا ۔ خوشبو ں سے بھرا ۔ جوش و خروش سے مخمور ۔ اُرہار۔ دل کی ملا۔ چھاتی یا گلے کا ہار ۔(4) مستک ۔ پیشانی ۔ منی ۔ قیمتی ہیرا ۔ ہیت۔پیار ۔ (7) انس اندھیاری ۔ اندھیری کالی رات ۔ رین ۔ رات ۔ زندگی کو رات سے تشیبح سکھائے ۔ ساتھی ۔
ترجمہ:
خاوندوں کی تمام زوجگان اپنا بناؤ سجاوٹ اور شنگار بناتی ہیں مگر جو اس پر فخر یا غرور کرتی ہیں اور دکھاوا کرتی ہیں یہ بیکار اور بیفائدہ ہے ۔ ایسے دکھاوے سے پیار اور پریم نہیں مل سکتا یہ دکھاوا دھوکا بازی بناوٹی ۔ نقلی ہے ۔ اس سے ذلالت و خوآری کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔۔ مراد سارے انسان خدان کو پیارے ہیں نمائش بیکار ہے ۔ اے خدا وہ عورتیں مراد (انسان) خوش قسمت ہیں ۔ جنکو تیری خوشنودی حاصل ہے ۔ جنکو تو اپنی عنایت و شفقت و رحمت سے خود با حسن با اخلا۔ بنا لیتا ہے خداوند کریم کا مل یقین ۔ باوثوق عورتوں (انسانوں) سے محبت کرتا ہے ۔۔ جو انسان کلام سبق و واعظ مرشد سے اپنے طرز عمل سے زندگی (اخلاق) کا بناؤ شنگار کرتا ہے اور دل و جان سے اُسکی یاد میں اُسکے حوالے (سپرد) کر دیتا ہے ۔ اور اُسکے لئے وقف کر دیتا ہے ۔ اور با دست بستہ باوثوق وکامل یقین سچی دعا و گذارش کرتا ہے وہ ہمیشہ اسکے ادب و احترام میں غیر متزلذل رہتا ہے وہ اسکے پیار کا لطف اُٹھاتا ہے ۔(2) جو خادمہ خاوند کی محبوبہ کہلاتی ہے اور سمجھی جاتی ہے ۔جسکا نام پر بھروسنہ ہے اسکا ہمیشہ پیار برقرار رہتا ہے ۔ کبھی نہیں ٹوٹتی الہٰی ساتھ بنا رہتا ہے ۔ الہٰی صفت صلاح کے کلام میں مسرور رہتی ہے ۔ اور خدا اسکے دلمیں بسا رہتاہے اس پر قربان ہوا ۔(3) وہ انسان جو (عورت) جسکا کلام مرشد میں اپنی ہوش و ذہن کو منسلک رکھتا ہے وہ کبھی منکر و منافق نہیں ہوتا اس پر ہمیشہ الہٰی سایہ بر قرار رہتا ہے ۔ خدا آرام کی کان ہے جو صدیوی ہے ۔ جو کبھی مٹتا نہیں وہ ہمیشہ اپنی نگاہ رحمت و شفقت سے اپنی رضا کیمطابق اس حسن اخلاق انسان سے پیار کرتا رہتا ہے ۔(4) سچ عورت کی چجاوٹ کے لئے پٹی سمجھواور پیار کپڑے اور پوشاک خدا کو دل میں بسانا خوشبو دار چندن و ذہن مندر ہے ۔ کلام الہٰی کا چراغ روشن ہوا اور دل میں الہٰی نام کی مالا ہوا ۔ (5) جس کے اندر ہوش و سمجھ اور علم ہو اور پیشانی پر پیار کی جھلک ہو ۔ وہی (عورت) انسان لوگوں میں جاہ و حشمت پاتا ہے ۔ وہ انسان خدا کے سوا اور کلام مرشد کے بغیر کسی دوسرے سے پیار اور رشتہ نہیں بناتا ۔(6) اے دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار انسان زندگی اندھیری رات میں غفلت بھری نیند سو رہا ہے ۔ الہٰی ملاپ کے بغیر یہ زندگی کی رات با آسانی گذر نہیں سکتی ۔ وہ دل جل جاتا ہے بدن جل جاتا ہے جس میں الہٰی یاد نہیں ۔الہٰی یاد کے بغیر انسان بیکار ہے ۔ اگر انسان کو الہٰی پیار حاصل نہیں تو یہ حسین زندگی بیفائدہ گذر جاتی ہے ۔(7) خدا انسان کے ساتھ ہے ۔ مگر نادان کو سمجھ نہیں ۔ میں دولت کی محبت اور غفلت میں سو رہا ہوں کس سے پوچھوں ملاپ کیلئے جب کہ اے خدا تو بیدار ہے ۔ اے نانک سچا مرشد خدا سے ملاپ کراتا ہے ۔الہٰی خوف اور پیار سے الہٰی ساتھ نصیب ہوتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
آپے گُنھ آپے کتھےَ آپے سُنھِ ۄیِچارُ ॥
آپے رتنُ پرکھِ توُنّ آپے مولُ اپارُ ॥
ساچءُ مانُ مہتُ توُنّ آپے دیۄنھہارُ ॥੧॥
ہرِ جیِءُ توُنّ کرتا کرتارُ ॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ راکھُ توُنّ ہرِ نامُ مِلےَ آچارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپے ہیِرا نِرملا آپے رنّگُ مجیِٹھ ॥
آپے موتیِ اوُجلو آپے بھگت بسیِٹھُ ॥
گُر کےَ سبدِ سلاہنھا گھٹِ گھٹِ ڈیِٹھُ اڈیِٹھُ ॥੨॥
آپے ساگرُ بوہِتھا آپے پارُ اپارُ ॥
ساچیِ ۄاٹ سُجانھُ توُنّ سبدِ لگھاۄنھہارُ ॥
نِڈرِیا ڈرُ جانھیِئےَ باجھُ گُروُ گُبارُ ॥੩॥
استھِرُ کرتا دیکھیِئےَ ہورُ کیتیِ آۄےَ جاءِ ॥
آپے نِرملُ ایکُ توُنّ ہور بنّدھیِ دھنّدھےَ پاءِ ॥
گُرِ راکھے سے اُبرے ساچے سِءُ لِۄ لاءِ ॥੪॥
ہرِ جیِءُ سبدِ پچھانھیِئےَ ساچِ رتے گُر ۄاکِ ॥
تِتُ تنِ میَلُ ن لگئیِ سچ گھرِ جِسُ اوتاکُ ॥
ندرِ کرے سچُ پائیِئےَ بِنُ ناۄےَ کِیا ساکُ ॥੫॥
جِنیِ سچُ پچھانھِیا سے سُکھیِۓ جُگ چارِ ॥
ہئُمےَ ت٘رِسنا مارِ کےَ سچُ رکھِیا اُر دھارِ ॥
جگ مہِ لاہا ایکُ نامُ پائیِئےَ گُر ۄیِچارِ ॥੬॥
ساچءُ ۄکھرُ لادیِئےَ لابھُ سدا سچُ راسِ ॥
ساچیِ درگہ بیَسئیِ بھگتِ سچیِ ارداسِ ॥
پتِ سِءُ لیکھا نِبڑےَ رام نامُ پرگاسِ ॥੭॥
اوُچا اوُچءُ آکھیِئےَ کہءُ ن دیکھِیا جاءِ ॥
جہ دیکھا تہ ایکُ توُنّ ستِگُرِ دیِیا دِکھاءِ ॥
جوتِ نِرنّترِ جانھیِئےَ نانک سہجِ سُبھاءِ ॥੮॥੩॥
لفظی معنی:
آپے ۔ از خود ۔ کتھے ۔ بیان کرنا ۔ پرکھ ۔ آزمائش ۔ ساچؤ ۔ سچا ۔ محت ۔ عظمت ۔۔ آچار ۔ اخلاق ۔ اُجلے ۔ پاک ۔صاف ۔ کیسٹھ ۔ درمیانی ۔ وکیل ۔ وچولا ۔ ڈیٹھ ۔ ظاہر ۔۔ ڈیٹھ ۔ پوشید ۔(2) بوہتھا ۔ جہاز ۔ اپار۔ بے کنارہ ۔ واٹ ۔راستہ ۔ شبد۔کلام کلمہ شبق۔ غبار ۔ نہایت بھاری اندھیرا ۔(3) کیتی ۔کتنی ۔ بیشمار ۔ دکھندے ۔کام۔ کاروبار ۔ گر۔ مرشد ۔(4) واک ۔ کلمہ ۔ تیت تن اس جسم میں ۔ اوتاک ۔ تکھ ۔ سہارا ۔ (5) جگ چار ۔ہمیشہ ۔ ار ۔ دل ۔ لاہا ۔ منافع ۔ (6) راس ۔سرمایہ ۔ بیسئی ۔ بیٹھتا ہے ۔ پت ۔ آبرو۔ عزت ۔(7) ستگرو۔ سچا مرشد ۔ لزنتر ۔ لگاتار ۔ اک رس ۔ سہج۔ سکون ۔ سبھائے ۔ قدرتی ۔ فطرطاً
ترجمہ:
اے خدا تو خود ہی ہے وصف خود ہی کرتا ہے بیاں اور سنتا ہے خود ہی سچتا ہے خود ہی ۔ خود ہی ہے قیمتی ہیرا اور خود ہی اسکی پہچان و آزمائش کرتا ہے ۔ جوہری ہے خود ہی اور خود ہی بیش قیمت خود ہی سچی عظمت خود ہی سخی سخاوت کرنیوالا ۔۔ اے خدا سازبھی تو سازندہ بھی تو جس طرح تیری رضا و رغبت ہے ۔ اسی طرح مجھے بچا اے خدا تیرا نام ملنے سے ہی میں حسن اخلاق ہوں ۔۔ اے خدا تو ہی پاک آبدار ہیرا ہے اور خود ہی پکا مستقل مجیٹھی رنگ ۔ خود ہی آبدار موتی اور خود ہی عابدوں کا رسول ۔ کلام مرشد سے تیری صفت صلاح ہو سکتی ہے ۔ ہر دلمیں تو بستا ہے مراد خود ہی ظاہر ہے اور خود ہی پوشیدہ راز ہے تو ۔(2) خود ہی سمندر ہے اور خود ہی جہاز خود ہی کنارے ۔ خود ہی صراط مستقیم اور دانشمند راہگیر بھی اور کلام مرشد کے ذریعے اس سے پار ہونیوالا بھی تو ہے پناہ مرشد کے بغیر یہ عالم ایک بھاری اندھیرے ہے ۔ اے خدا جو انسان تیرا خوف نہیں رکھتے انہیں دنیاوی خوف رہتا ہے ۔ (3) واحد خدا ہی ہمیشہ دائمی اور قائم رہنے والا ہے ۔ باقی تمام عالم آتا ہے اور چلا جاتا ہے ۔ صرف خدا ہی ایک پاک ہستی ہے ۔ باقی تمام عالم کاروبار میں گرفتار ہے ۔جنکا اُستاد محافظ ہے وہی بچتے ہیں سچے خدا سے پریم کرکے ۔(4) خدا کی پہچان کلام مرشد سے ہوتی ہے ۔ جس کے دل میں الہٰی بیٹھک ہے خدا بستا ہے وہ پاک رہتا ہے نا پاک نہیں رہتا ۔ جس پر الہٰی نگاہ شفقت ہوتی ہے اسکا نام کے بغیر کسی سے واسطہ نہیں رہتا ۔(5) جنہیں حقیقت اور سچ کی پہچان ہو گئی وہ ہمیشہ سکون پاتے ہیں ۔ خودی اور خواہشات کو زیر کرکے سچائی اور سچ دل میں بسا لیا۔ اس عالم میں نام سچ ۔حق و حقیقت ہی منافع بخش ہے جو سبق مرشد سے ملتا ہے ۔(6) اے انسانوں ہمیشہ اس عالم میں سچا سودا خریدو سچ کا بیؤ پا ر کرؤ یہی منافع بخش سرمایہ ہے ۔ سچی عدالت میں سچی عرضداشت ہی قبول ہوتی ہے ۔ با عزت و باوقار اعمال سے زندگی کا حساب ختم ہو جاتا ہے ۔ الہٰی نام ایک روشنی سے ہے ۔(7) بلند سے بلند اور بلندر تر کہتے ہیں کہنے سے دیدار نہیں ہوسکتا ۔ جب سچے مرشد نے دیدار کر ایا تو خدا وحدا کا دیدار ہوا ۔ اور جہاں دیکھتا ہوں الہٰی دیدار پاتا ہوں ۔ اے نانک نور الہٰی ہرجا روشن ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
مچھُلیِ جالُ ن جانھِیا سرُ کھارا اسگاہُ ॥
اتِ سِیانھیِ سوہنھیِ کِءُ کیِتو ۄیساہُ ॥
کیِتے کارنھِ پاکڑیِ کالُ ن ٹلےَ سِراہُ ॥੧॥
بھائیِ رے اِءُ سِرِ جانھہُ کالُ ॥
جِءُ مچھیِ تِءُ مانھسا پۄےَ اچِنّتا جالُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سبھُ جگُ بادھو کال کو بِنُ گُر کالُ اپھارُ ॥
سچِ رتے سے اُبرے دُبِدھا چھوڈِ ۄِکار ॥
ہءُ تِن کےَ بلِہارنھےَ درِ سچےَ سچِیار ॥੨॥
سیِچانے جِءُ پنّکھیِیا جالیِ بدھِک ہاتھِ ॥
گُرِ راکھے سے اُبرے ہورِ پھاتھے چوگےَ ساتھِ ॥
بِنُ ناۄےَ چُنھِ سُٹیِئہِ کوءِ ن سنّگیِ ساتھِ ॥੩॥
سچو سچا آکھیِئےَ سچے سچا تھانُ ॥
جِنیِ سچا منّنِیا تِن منِ سچُ دھِیانُ ॥
منِ مُکھِ سوُچے جانھیِئہِ گُرمُکھِ جِنا گِیانُ ॥੪॥
ستِگُر اگےَ ارداسِ کرِ ساجنُ دےءِ مِلاءِ ॥
ساجنِ مِلِئےَ سُکھُ پائِیا جمدوُت مُۓ بِکھُ کھاءِ ॥
ناۄےَ انّدرِ ہءُ ۄساں ناءُ ۄسےَ منِ آءِ ॥੫॥
باجھُ گُروُ گُبارُ ہےَ بِنُ سبدےَ بوُجھ ن پاءِ ॥
گُرمتیِ پرگاسُ ہوءِ سچِ رہےَ لِۄ لاءِ ॥
تِتھےَ کالُ ن سنّچرےَ جوتیِ جوتِ سماءِ ॥੬॥
توُنّہےَ ساجنُ توُنّ سُجانھُ توُنّ آپے میلنھہارُ ॥
گُر سبدیِ سالاہیِئےَ انّتُ ن پاراۄارُ ॥
تِتھےَ کالُ ن اپڑےَ جِتھےَ گُر کا سبدُ اپارُ ॥੭॥
ہُکمیِ سبھے اوُپجہِ ہُکمیِ کار کماہِ ॥
ہُکمیِ کالےَ ۄسِ ہےَ ہُکمیِ ساچِ سماہِ ॥
نانک جو تِسُ بھاۄےَ سو تھیِئےَ اِنا جنّتا ۄسِ کِچھُ ناہِ ॥੮॥੪॥
لفظی معنی:
سر۔ سمندر ۔ اسگاہ ۔ نہایت گہرا ۔ویسا ہو ۔ اعتبار ۔ بھروسہ ۔ کہتے کارن ۔ کرنیکی وجہ سے ۔ سبب سراہو ۔ سے ۔ ۔ ایؤ ۔ اس طرح سے مانسا ۔ انسان ۔ اچنتا ۔ اتفاقا ۔۔ بادھو کال کو ۔ موت کا باندھا ہوا ۔ اپھار۔ ضدی ۔ سچ ۔ دائمی ۔ حقیقت ۔ دبدھا۔ دوچتی ۔ دوئی ۔ لرزش دل دل کا ڈگمگانا ۔ سچا یار۔ حسن اخلاق ۔ بااخلاق ۔(2) سیچانا۔ شکاری پنچہی ۔ شکرا ۔ گر ۔ مرشد ۔ ساتھ ۔ ساتھ سنگی ۔ (3) ساجن ۔دوست ۔ وکھ۔ زیر ۔ ہوں ۔ خودی ۔ (5) اغبار۔ اندھیرا ۔ بوجھ۔ سمجھ سنچرے ۔ پہنچ ۔ رسائی ۔(6) پاراوار ۔ کنارا ۔ ہر دو کنارے ۔ (7) اُیجیہہ پیدا ہوتی ہے ۔ بیدا ۔ کاتے وس ۔ موت کے زیر اثر ۔
ترجمہ:
نہایت گہرے کھارے سمندر کی مچھلی جال کو سمجھ نہ سکی ۔ جو نہایت خوبصورت اور عقلمند تھی اس نےکیوں بروسا کیا ۔ اور اس بھروسا کرنیکی وجہ سے پکڑی گئی ۔ اور موت جو سر پر منڈلا رہی تھی نہ ٹلی ۔ ۔ اے بھائی ایسے ہی موت سر پر گھڑی ہے ۔ مچھلی کی مانند ہی انسان پر بھی موت کا جال ہے ۔ جو اتفاقاً اور اچانک آپڑتا ہے ۔۔ تمام عالم موت کی گرفت میں ہے ۔ مرشد کی رسائی اور پناہ کے بغیر موت کا خوف دور نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے حقیقت اور سچ اپنایا وہ بچ گئے ۔ جو سچے خدا کے ذر پر حقیقت اور سچ پرمبنی زندگی گذار رہے ہیں ۔ (2) جیسے شکاری کے ہاتھ میں شکر اور جال ہے ۔ ایسے ہی جنہیں مرشدنے بچایا وہ بچے باقی دنیاوی دولت کے جال میں گرفتار ہو گئے ۔ جنکے دامن میں الہٰی نام (سچا یار) نہیں وہ مایا کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں ۔ اور ان کا کوئی ساتھ ہیں دیتا ۔ (3) اس خدا وند کریم جو حقیقت ہے سچ ہے اس سچے کو یاد کرؤ اس سچے کا سچا مقام ہے ۔ جس نے اسکی فرمان برداری کی اس پر ایمنا لائیا ان کا سچ میں دھیان ہو گیا ۔ اُنکے دل و زبان پاک ہو گئے ۔ جن کے دل و جان میں مرشد کی معرفت الہٰی نام کا علم حاصل ہو گیا ۔ (4) اے انسان مرشد سے الہٰی ملاپ کے لئے درخواست عرض گذار ۔ وہ الہٰی ملاپ ہو جائے تو روحانی کسون ملجاتا ہے مراد روحانی موت نزدیک نہیں پھٹکتی ۔ تب نام میں بس جاؤں اور نام میرے دل میں بس جائے ۔ (5)مرشد کے ملاپ بغیر زندگی انتہائی اندھیرے میں گذرتی ہے ۔ مرشد کے سبق و کلام کے بغیر زندگی کے سلیقہ و طریقہ کی سمجھ نہیں آتی کہ کیسے زندگی گذارنی ہے ۔ مرشد کے سبق و کلام سے ذہن روشن ہو جاتا ہے اور روحانی بیداری آجاتی ہے ۔ اور ہوش و عقل حقیقت سے جڑ جاتی ہے ۔ لہذا روحانیت میں موت کا خوف مٹ جاتا ہے اور انسان الہٰی نور سے یکسوئی حاصل کر لیتا ہے ۔ (6) اے خدا تو ہی میرا دوست ہے تو نہایت دانا و دانشمند ہے ۔ تو خود ہی اپنے ساتھ ملاتا ہے اور ملاپ کی قوت آپ میں ہے ۔ کلام مرشد سے تیری حمد و ثناہ ہو سکتی ہے جو لامحدود ہے ۔ وہاں روحانی موت اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔ (7) الہٰی حکم سے اس عالم کے جاندار پیدا ہوئے ہیں ۔ اور اسکے احکام میں ہی کاروبار کرتے ہیں ۔ اور الہٰی حکم سے موت کی گرفت میں ہیں ۔ الہٰی حکم سے ہی خداسے ملاپ ہوتا ہے ۔ اے نانک جو کچھ رضائے الہٰی میں ہے وہی ہوتا ہے ان جانداروں کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
منِ جوُٹھےَ تنِ جوُٹھِ ہےَ جِہۄا جوُٹھیِ ہوءِ ॥
مُکھِ جھوُٹھےَ جھوُٹھُ بولنھا کِءُ کرِ سوُچا ہوءِ ॥
بِنُ ابھ سبد ن ماںجیِئےَ ساچے تے سچُ ہوءِ ॥੧॥
مُنّدھے گُنھہیِنھیِ سُکھُ کیہِ ॥
پِرُ رلیِیا رسِ مانھسیِ ساچِ سبدِ سُکھُ نیہِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پِرُ پردیسیِ جے تھیِئےَ دھن ۄاںڈھیِ جھوُرےءِ ॥
جِءُ جلِ تھوڑےَ مچھُلیِ کرنھ پلاۄ کرےءِ ॥
پِر بھاۄےَ سُکھُ پائیِئےَ جا آپے ندرِ کرےءِ ॥੨॥
پِرُ سالاہیِ آپنھا سکھیِ سہیلیِ نالِ ॥
تنِ سوہےَ منُ موہِیا رتیِ رنّگِ نِہالِ ॥
سبدِ سۄاریِ سوہنھیِ پِرُ راۄے گُنھ نالِ ॥੩॥
کامنھِ کامِ ن آۄئیِ کھوٹیِ اۄگنھِیارِ ॥
نا سُکھُ پیئیِئےَ ساہُرےَ جھوُٹھِ جلیِ ۄیکارِ ॥
آۄنھُ ۄنّجنْنھُ ڈاکھڑو چھوڈیِ کنّتِ ۄِسارِ ॥੪॥
پِر کیِ نارِ سُہاۄنھیِ مُتیِ سو کِتُ سادِ ॥
پِر کےَ کامِ ن آۄئیِ بولے پھادِلُ بادِ ॥
درِ گھرِ ڈھوئیِ نا لہےَ چھوُٹیِ دوُجےَ سادِ ॥੫॥
پنّڈِت ۄاچہِ پوتھیِیا نا بوُجھہِ ۄیِچارُ ॥
ان کءُ متیِ دے چلہِ مائِیا کا ۄاپارُ ॥
کتھنیِ جھوُٹھیِ جگُ بھۄےَ رہنھیِ سبدُ سُ سارُ ॥੬॥
کیتے پنّڈِت جوتکیِ بیدا کرہِ بیِچارُ ॥
ۄادِ ۄِرودھِ سلاہنھے ۄادے آۄنھُ جانھُ ॥
بِنُ گُر کرم ن چھُٹسیِ کہِ سُنھِ آکھِ ۄکھانھُ ॥੭॥
سبھِ گُنھۄنّتیِ آکھیِئہِ مےَ گُنھُ ناہیِ کوءِ ॥
ہرِ ۄرُ نارِ سُہاۄنھیِ مےَ بھاۄےَ پ٘ربھُ سوءِ ॥
نانک سبدِ مِلاۄڑا نا ۄیچھوڑا ہوءِ ॥੮॥੫॥
لفظی معنی:
جوٹھے۔ ناپاک ۔ تن ۔ جسم ۔ جیہوا۔زبان ۔ رتھ ۔ پانی ۔۔ مندھے ۔ عورت ۔ زوجہ ۔ پررلیاں۔ خاوند سے پیار ۔ نیہہ۔ پیار ۔ (!) دھن۔ عورت ۔ وانڈی ۔غیر پردیسن ۔ وچھڑی ۔ جدا ہوئی ۔ کرن پلاو۔ آہ وزاری ۔ پربھاوے ۔ خاوند کی پسندیدہ ۔(2) صالاحی ۔ ستائش ۔ صفت کرنی ۔ نہال ۔ خوشی ۔ نظر کرنا۔ دیکھنا ۔ راولے ۔ تصرف ۔ (3) کامن ۔عورت ۔ پیئے ۔ یہ دنیا ۔ آون و تجھن ۔تناسخ۔ آواگون ۔ ڈاکھڑ و۔ دشوار ۔ مشکل ۔ کنت ۔ خاوند ۔(4) مستی ۔ طلاقی ۔ کیت ساد ۔ کس لطف کیلئے ۔ فادل ۔ فضول ۔ باد ۔ جھگڑا ۔ (5) ا واچیہہ ۔ مطالعہ ۔ ان کو ۔دوسروں کو ۔بھولے ۔ بھٹکتے ہیں ۔ شبد۔ کلمہ ۔ کلام ۔ سار ۔ بنیاد ۔(6) جو کتی ۔ جوتشی ۔ کرم ۔ بخشش ۔ وکھان۔ واعظ ۔ (7) ور ۔ خاوند
ترجمہ:
اگر دل ناپاک ہے خیالات و احساسات ناپاک ہیں تو تن بدن بھی ناپاک ہے۔ اور زبان بھی ناپا ک ہے ۔ اگر دل ناپاک ہے انسان گنہاوں میں ملوث ہوگا زبان سے جھوٹ بولیگا ۔ بد اخلاقیاں کریگا ۔ تو پاک کیسے ہو سکتا ہے ۔ لہذا کلام مرشد کے بغیر ایسے ذہن اور دل و دماغ کو پاک نہیں بنایا جاسکتا ۔ بیرونی جسمانی پاکیزگی سے پاک نہیں ہو سکتا ۔ یہ پاکیزگی سچے خدا سے ہی حاصل ہوتی ہے ۔۔ اے انسان بلا اوصاف کیسے سکھ ہو سکتا ہے ۔ خاوند (خدا) سے محبت پریم پیار اور سچے کلام میں سکھ آرام و آسائش مظہر ہے ۔ ۔ اگر دل میں خدا کی یاد نہ ہو تو انسان اس عورت کی مانند پچھتاتا ہے جسکا خاوند باہر چلا گیا ہے ۔ اور ایسے تڑپتا ہے جیسے تھوڑے پانی میں مچھلی تڑپتی ہے ۔ آہ وزاری اور کوشش کرتی ہے ۔ اگر خدا چاہے اسکی رضا ہو اور نگاہ شفقت سے نظر ڈالے تو سکھ ملتا ہے ۔(2) اے انسان اپنے ساتھیوں اور پاکدامن خدا رسیدوں کی محبت و قربت میں الہٰی صفت صلاح کرنے سے ذہن میں خدا کا ظہور ہو جاتا ہے ۔ اسکا دل الہٰی پریم سے مخمور ہو جاتا ہے اور کلام مرشد سے اسکا طرز زندگی درست ہو جاتا ہے اور با اوصاف ہوکر سر خرو ہو جاتا ہے ۔ جس سے الہٰی پیار ہو جاتا ہے ۔(3) گناہگار انسان کی زندگی بیکار چلی جاتی ہے ۔ اسے نہ اس دنیا میں نہ اگللے جہان میں روحانی سکون ملتا ہے ۔ چھوٹ اور گناہوں میں سلگتا رہتا ہے ۔ اور تناسخ کی مشکلوں میں گرفتار رہتا ہے اور خدااسے بھلا دیتا ہے ۔(4) گو وہ خدا کا پیارا محبوب تھا کس وجہ سے خدا اسے بھلا دیا جدائی پالی ۔ کیونکہ فضول اول جلول بولتا تھا ۔ اور خدا کی رضا میں راضی نہ تھااوردنیاوی دولت کی لذتوں میں مشغول تھا ایسے میں اسے الہٰی در پرٹھکانہ نہیں ملتا ۔ (5) پنڈت کتابوں گر شخصوں کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اصلیت و حقیقت نہیں سمجھتا ۔ دوسروں کو سمجھاتا ہے ۔ مگر یہ سارا دولت کے حصول کے لئے ہے یہ سودا گری ہے ۔ سارا عالم جھوٹی کہانیوں میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ الہٰی حمدو ثناہ اور کلام مرشد کے مطابق ہی حقیقی زندگی گذارتا ہے ۔(6) کتنے ہی جو تشی اور پنڈت دیدوں پر خیال آرائی کرتے ہیں ۔ اور آپس میں تبادلہ خیالات میں ہم خیالی ہونیکی وجہ سے شہرت تو پائے ہیں ۔ مگر اسکی وجہ سے تناسخ پڑے رہتے ہیں ۔کوئی انسان صرف واعظوں کو سنکر یا بیان کرنے سے سکون حاصل نہیں کر ستا ۔ خودی توکبر چھوڑ کر بغیر کرم و عنایت مرشد کے نجات نہیں ملتی ۔ (7) سارے اپنے آپ کو باوصف گنوان کہلاتے ہیں ۔ مگر میرے میں تو کوئی وصف نہیں ۔ اگر خدا وند کریم مجھے پیار اگلے تو میں بھی اسکا منظور نظر ہو سکتا ہوں ۔ اے نانک کلام مرشد اپنا کے اس سے جدائی نہیں ہوئی لہذا ملاپ حاصل ہو گیا ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
جپُ تپُ سنّجمُ سادھیِئےَ تیِرتھِ کیِچےَ ۄاسُ ॥
پُنّن دان چنّگِیائیِیا بِنُ ساچے کِیا تاسُ ॥
جیہا رادھے تیہا لُنھےَ بِنُ گُنھ جنمُ ۄِنھاسُ ॥੧॥
مُنّدھے گُنھ داسیِ سُکھُ ہوءِ ॥
اۄگنھ تِیاگِ سمائیِئےَ گُرمتِ پوُرا سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ۄِنھُ راسیِ ۄاپاریِیا تکے کُنّڈا چارِ ॥
موُلُ ن بُجھےَ آپنھا ۄستُ رہیِ گھر بارِ ॥
ۄِنھُ ۄکھر دُکھُ اگلا کوُڑِ مُٹھیِ کوُڑِیارِ ॥੨॥
لاہا اہِنِسِ نئُتنا پرکھے رتنُ ۄیِچارِ ॥
ۄستُ لہےَ گھرِ آپنھےَ چلےَ کارجُ سارِ ॥
ۄنھجارِیا سِءُ ۄنھجُ کرِ گُرمُکھِ ب٘رہمُ بیِچارِ ॥੩॥
سنّتاں سنّگتِ پائیِئےَ جے میلے میلنھہارُ ॥
مِلِیا ہوءِ ن ۄِچھُڑےَ جِسُ انّترِ جوتِ اپار ॥
سچےَ آسنھِ سچِ رہےَ سچےَ پ٘ریم پِیار ॥੪॥
جِنیِ آپُ پچھانھِیا گھر مہِ مہلُ سُتھاءِ ॥
سچے سیتیِ رتِیا سچو پلےَ پاءِ ॥
ت٘رِبھۄنھِ سو پ٘ربھُ جانھیِئےَ ساچو ساچےَ ناءِ ॥੫॥
سا دھن کھریِ سُہاۄنھیِ جِنِ پِرُ جاتا سنّگِ ॥
مہلیِ مہلِ بُلائیِئےَ سو پِرُ راۄے رنّگِ ॥
سچِ سُہاگنھِ سا بھلیِ پِرِ موہیِ گُنھ سنّگِ ॥੬॥
بھوُلیِ بھوُلیِ تھلِ چڑا تھلِ چڑِ ڈوُگرِ جاءُ ॥
بن مہِ بھوُلیِ جے پھِرا بِنُ گُر بوُجھ ن پاءُ ॥
ناۄہُ بھوُلیِ جے پھِرا پھِرِ پھِرِ آۄءُ جاءُ ॥੭॥
پُچھہُ جاءِ پدھائوُیا چلے چاکر ہوءِ ॥
راجنُ جانھہِ آپنھا درِ گھرِ ٹھاک ن ہوءِ ॥
نانک ایکو رۄِ رہِیا دوُجا اۄرُ ن کوءِ ॥੮॥੬॥
لفظی معنی:
جپ۔ ریاضت ۔ تپ ۔ تپسیا ۔ عبادت ۔ یرتھ۔ زیارت گاہ ۔ سنجم ۔ زہد ۔ پر ہیز گاری ۔ ضبط۔ واس ۔ ٹھکانہ ۔ بستے ۔ تاس۔ فائدہ ۔ رادے۔ بوئے ۔ تنے ۔کاٹنا ۔ ۔ مندھے ۔ اے عورت ۔ تیاگ ۔ چھوڑ دینا ۔ سمائیئے۔ اپنایئے۔ خدا کو دل میں بسا ہیں ۔ محو ہونا ۔ توجہ دیتا۔ دھیان لگانا ۔۔راس ۔سرمایہ ۔پونجی۔ گنڈھاں۔ اطراف ۔ وست۔ سودا ۔ رہی ۔ بیقدری ۔ اگلا۔نہایت زیادہ ۔ کوڑیار۔جھوٹی ۔(2) لاہا ۔ منافع ۔ نس ۔ رات ۔ توتنا ۔ نوجوان ۔ ویچار۔ سوچنا۔ خیال آرائی ۔ سار۔ سنبھال ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ برہم ویچار ۔ الہٰی سمجھ ۔ (3) اتنتر ۔ دلمیں ۔ جوت اپار۔ از حتہ ۔نورانی ۔ سچے آسن ۔ سچی صحبت ۔ (4) آپ ۔اپنا آپ ۔ خود ۔ محل ۔ٹھکانہ ۔ ترھبون ۔ تینوں عالم ۔ ساچو ساچے نائے۔ سچے کے سچے نام سے ۔(5) جاتا سنگ ۔ جس نے ساتھ سمجھا۔ پر ۔خدا ۔ راولے ۔ پیار ۔ کرتا ہے ۔ رتنگ ۔ پریم ۔(4) تھل۔ زمین ۔ ڈوگر ۔پہاڑا ۔ جاؤ ۔ میں جاؤں ۔ بوجھ۔ سمجھ ۔ آو وجاؤ ۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ پدھاو۔ مسافر ۔ راجن۔ راجہ ۔ ٹھاک ۔ روک ۔ زور رہبا
ترجمہ:
زہد وریاضت کی زیارت گاہوں پر ٹھکانہ بنایا ۔ نیکیاں کیں ثواب کیے ۔ مگر روحانی وصفوں کے بغیر جیسا بوتا ہے ویسا کٹتا ہے ۔ روحانی اوصاف کو بغیر زندگی کی بیفائدہ ہے ۔۔ اے نیک انسان اوصاف کمانے سے سکھ ملتا ہے ۔ اور بداوصاف چھوڑ کر سبق مرشد پر عمل سے کامل انسان بنتا ہے ۔ سوداگر بغیر سرمایہ چاروں طرف نظر دوڑاتا ہے حقیقی کی سمجھ نہیں گھر میں ضروری سامان ہے ۔ مگر انسان جھوٹ اور کفر میں اپنے آپ کو لٹا رہا ہے اور اعلٰی نام سچ حق وحقیقت اور سودے کے بغیر مشکل میں ہے ۔(2) انسان روز و شب نیا منافع کماتا ہے ۔ جو الہٰی نام کی آزمائش و پہچان کرتا ہے ۔ اے انسان نام کے سودا گروں سے مل کر اور مرشد کے وسیلے سے نام کی سوداگری کرتا ہے اور مرشد کے ذریعے الہٰی اوصاف اپنے ذہن میں بٹھاتا ہے وہ اس سرمائے کو اپنے دل و دماغ میں ہی پا لیتا ہے ۔ غرض یہ کہ زندگی کا حقیقی مدعا و مقصد حاصل کرکے اس جہاں سے رخصت ہوتا ہے ۔(3) خدا رسیدگان کی صحبت و قربت میں الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے اور اعلٰی ملاپ کی توفیق رکھنے والا ملائے ۔ مل کر پھرجدائی نہیں ہوتی کیونکہ دلمیں الہٰی نور ہے ۔ سچے پریم پیار سے سچا خدا سچے مقام پر بستا ہے ۔(4) جس نے آپا امتحان سے اپنی پہچان کر لی ۔اسے اپنے دل کے خوش نما مقام پر الہٰی رہائش ٹھکانہ نو اس پا لیا ۔ سچے کے پیار و رشتے سے سچا دامن ملتا ہے اور الہٰی نام اپنانے سے تینوں عالموں میں الہٰی پہچان ہو جاتی ہے (5) جس انسان کو خدا کے ساتھ ہونے کی سمجھ آگئی وہ نیک بخت ہے اسے الہٰی ساتھ مل جاتا ہے اور خدا پریم میں اسے پیار کرتا ہے ۔ خدا نے اسے روحانی اوصاف سے ایسا گردیدہ کر لیتا ہے کہ وہ ہمیشہ خدا سے یکسو ہو جاتا ہے لہذا انسان سچا یار راستباز ہو جاتا ہے (6) اگر انسان تمام زمین کو چکر لگاتا پھرے اور پھرتے پھرتے پہاڑوں پر بھی چلا جائے بھول میں اور جنگلوں میں بھٹکتا پھرتا رہے تب بھی صحیح سمجھ نہیں آسکتی الہٰی نام سے بھول کر تناسخ میں پڑا رہے گا (7)اے انسان ان سے جا کر دریافت کرو جو اس روحانی راستے کے راہگیر ہیں ۔ جو خدمتگار ہو کر اس راستے پر گامزن ہیں ۔ جو اس خدا کو عالم کا شنہشاہ سمجھتے ہیں ۔ انہیں الہٰی در پر روک ٹوک نہیں ہوتی ۔ اے نانک ۔ انہیں ہر جا واحد الہٰی نور موجود دکھائی دیتا ہے ۔ اسکے علاوہ کوئی دوسرا دکھائی نہیں پڑتا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
گُر تے نِرملُ جانھیِئےَ نِرمل دیہ سریِرُ ॥
نِرملُ ساچو منِ ۄسےَ سو جانھےَ ابھ پیِر ॥
سہجےَ تے سُکھُ اگلو نا لاگےَ جم تیِرُ ॥੧॥
بھائیِ رے میَلُ ناہیِ نِرمل جلِ ناءِ ॥
نِرملُ ساچا ایکُ توُ ہورُ میَلُ بھریِ سبھ جاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ کا منّدرُ سوہنھا کیِیا کرنھیَہارِ ॥
رۄِ سسِ دیِپ انوُپ جوتِ ت٘رِبھۄنھِ جوتِ اپار ॥
ہاٹ پٹنھ گڑ کوٹھڑیِ سچُ سئُدا ۄاپار ॥੨॥
گِیان انّجنُ بھےَ بھنّجنا دیکھُ نِرنّجن بھاءِ ॥
گُپتُ پ٘رگٹُ سبھ جانھیِئےَ جے منُ راکھےَ ٹھاءِ ॥
ایَسا ستِگُرُ جے مِلےَ تا سہجے لۓ مِلاءِ ॥੩॥
کسِ کسۄٹیِ لائیِئےَ پرکھے ہِتُ چِتُ لاءِ ॥
کھوٹے ٹھئُر ن پائِنیِ کھرے کھجانےَ پاءِ ॥
آس انّدیسا دوُرِ کرِ اِءُ ملُ جاءِ سماءِ ॥੪॥
سُکھ کءُ ماگےَ سبھُ کو دُکھُ ن ماگےَ کوءِ ॥
سُکھےَ کءُ دُکھُ اگلا منمُکھِ بوُجھ ن ہوءِ ॥
سُکھ دُکھ سم کرِ جانھیِئہِ سبدِ بھیدِ سُکھُ ہوءِ ॥੫॥
بیدُ پُکارے ۄاچیِئےَ بانھیِ ب٘رہم بِیاسُ ॥
مُنِ جن سیۄک سادھِکا نامِ رتے گُنھتاسُ ॥
سچِ رتے سے جِنھِ گۓ ہءُ سد بلِہارےَ جاسُ ॥੬॥
چہُ جُگِ میَلے ملُ بھرے جِن مُکھِ نامُ ن ہوءِ ॥
بھگتیِ بھاءِ ۄِہوُنھِیا مُہُ کالا پتِ کھوءِ ॥
جِنیِ نامُ ۄِسارِیا اۄگنھ مُٹھیِ روءِ ॥੭॥
کھوجت کھوجت پائِیا ڈرُ کرِ مِلےَ مِلاءِ ॥
آپُ پچھانھےَ گھرِ ۄسےَ ہئُمےَ ت٘رِسنا جاءِ ॥
نانک نِرمل اوُجلے جو راتے ہرِ ناءِ ॥੮॥੭॥
لفظی معنی:
دیہہ۔ جسم ۔ من ۔ دل ۔ ابھ پیر۔ دلی درد ۔ اندرونی درد ۔ سہجے ۔ پر سکون ۔ قدرتاً ۔ اگلو ۔ نہایت زیادہ ۔ جم تیر ۔ موت کا نشانہ ۔ ۔ جل نائے ۔ غسل ۔ ہر کامندر ۔ خدا کا گھر ۔ مراد انسانی جسم ۔ کر یہار ۔سازندہ ۔ پیدا کرنیوالا ۔ رو۔ سورج ۔ سس۔ چاند۔ دیپ ۔ چراغ ۔ انوپ ۔ کیمیا۔ حیران کرنیوالا ۔ لا مثال ۔ کمیاب ۔ تربھون جوت۔ تینوں عالم کو روشن کرنیوالا نور ۔ پٹن ۔ شہر ۔ گڑھ ۔ قلعہ ۔ آنجن سر مر ۔ نرنجن بھائے ۔ بیداغ ۔ خدا کا پیار ۔ بھے بھنجنا۔ خوف دور کرنیوالا ۔ تھائے ۔ ٹھکانہ ۔ سہج۔ سکون ۔(3) ہت ۔ محبت ۔ پیار ۔ ٹھور ۔ ٹھکانہ ۔ نہ پایئنی ۔ناحصول ۔ کس کسوٹی ۔ آزمائش ۔ امتحان لینا ۔(4) سب کو ۔ ہر ایک ۔ اگلا ۔ نہایت زیادہ ۔ منھکھ ۔ خودی پسند ۔ اپنی رائے ۔پر عمل کرنیوالا ۔ بوجھ۔ سمجھ ۔ من جن ۔ پارسا۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ ۔ جن گئے ۔ جیت گئے ۔ کامیاب ہوئے ۔ جاس ۔ میں جاتا ہوں ۔(5) واچیئے ۔ تحقیق مطالعہ کریں ۔ بانی برہم ۔ الہٰی کلام ۔ (6) چوہ جگ ۔ فی زمانہ ۔ ہر وقت ۔ میل ناپاک ۔ پت ۔ عزت ۔ کہوٹے ۔گنوائے (7) مٹھی ۔ دھوکے میں آئی ۔ (8)
ترجمہ:
اے انسان پاکیزگی کی سمجھ مرشد دیتا ہے مرشد سمجھاتا ہے کہ پاک بدن کیسا ہوتا ہے کیا ہے ۔ اگر پاک خدا کی دل میں محبت ہو پاکیزگی حسن اخلاق دل میں بستا ہو جو روز دلی جانتا ہے بس جائے ۔ سکون نہایت آرام روحانی سکون خوشباشی اور موت نشانہ نہیں بناتی ۔۔ اے برادر یہ ناپاکیزگی دور نہیں ہوگی جب تک پاک پانی سے غسل نہ کرؤ گے مراد اے خدا صرف تو ہی پاک ہے ۔ مراد الہٰی نام ہی پاک آب حیات ہے اس آب حیات نام کی غسل سے روحانی پاکیزگی ہوگی ۔۔ خدا نے یہ انسانی جسم اپنے رہنے کے لئے ایک خوب صورت محل تعمیر کیا ہے ۔ اس میں تینوں عالموں کا نور اس میں جگمگا رہا ہے اسکے اندر چاند اور سورج کی روشنی جگمگاتی ہے مراد اسکے اندر جہالت ۔ لاعلمی کا اندھیرا دور کرنیوالا علم کا چراغ اپنی روشنی سے اسے روشن کر دیتا ۔ اور شہوت،غصہ ، لالچ ، محبت اور تکبر کی حرارت اور گرمی کو شانت۔ ٹھنڈک پہنچانے والی قوت ،چاند،ٹھنڈ ک پہنچاتا ہے ۔اسی میں دکانیں شہر قلعے کمرے اور سچے سودے کا بیوپار ہوتا ہے ۔(2) اگر انسان بقائمی ہوش و ہواس اور سنجیدگی و سکون سے بغیر ڈگمگائےتو ظاہرا و باطن ہر جا خدا بستا دکھائی دیتا ہے ۔ الہٰی رضا میں رہنے سے سب خوف مٹ جاتے ہیں ۔ اور علم کا سرمہ دینے والا مرشد اگر مل جائے تو انسان کو پر سکون روحانی حالات میں ملا دیتا ہے ۔(3) خدا انسان کے اعمال و اخلاق کی اس طرح آزمائش کرتا ہے امتحان لیتا ہے جیسے سنا ر سونے کی کسوٹی پر سونے کی پرکھ کرتا ہے ۔ ایسے ہی خدا اپنے انسانی اخلاق کے قاعدے قانون اور سید ھانت قانون کے مطابق اسکے اچھائیاں ، برائیاں ، نیک و بد کی آزمائش کرتا ہے کہ اسکے مطابق انسان کی روحانی کے حالت کیسے ہیں ۔ پاک و صاف و گناہگار کو دوسرے زمرے میں اسے ٹھکانہ نہیں ملتا امیدیں اور خوف شک و شہبات دور کرنے سے الہٰی ملاپ ہوتا ہے ۔(4) آرام و آسائش تو سب چاہتے ہیں مگر دکھ اور عذاب کوئی نہیں چاہتا ۔ مگر آرام کے بعد بھاری دکھ آتا ہے جبکہ خودی پسند انسان اس راز کو سمجھ نہیں پاتا ۔ سکھ دکھ کو ایک جیسا سمجھنا چاہیے ۔ اور سبق پر علمدرآمد سے ہی اس پر پابندی سے سکھ ملتا ہے ۔(5)دبدوں میں برہما کے بیٹے بیاس رشی کی بانی درج ہے اور پڑھی جاتی ہے ۔ یکسو صوفی ، خدمتگار ، پاکدامن ، خدا رسیدہ ، خدمتگار نام کے خذانے میں محو اور نام کے پرییم و پیارے ہیں ۔ انہوں نے زندگی پر فتح حآصل کر لی ہے میں ان پر قربان ہوں ۔ (6) جن کی زبان اور منہ میں نام نہیں ہر زمانے میں ہر وقت ناپاک ہیں اور آلودگی سے بھرے ہوئے ہیں ۔ الہٰی ریاض و عشق کے بغیر سیاہ روح اور بے آبرو ہوتے ہیں ۔ جس نے الہٰی نام کو بھلایا ۔ بد اوصاف اسے لوٹ لیتے ہیں ۔ اور وہ پچھتاتا ہے ۔(7) غورو خوض کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ الہٰی خوف و ادب دل میں بٹھانے سے خدا مرشد کے ملانے سے مل جاتا ہے ۔ اور اپنے آپ کی پہچان کرنے سے اپنی حقیقت و اصلیت کا پتہ چل جاتا ہے ۔ دل کی بھٹکن ختم ہو جاتی ہے ۔ روحانی سکون مل جاتا ہے خودی مٹ جاتی ہے ۔ خواہشات کی بھوک ختم ہو جاتی ہے ۔ اے نانک جن انسانوں پر نام کا وجد طاری ہوجاتا ہے ان کی زندگی پاک اور نورانی ہو جاتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
سُنھِ من بھوُلے باۄرے گُر کیِ چرنھیِ لاگُ ॥
ہرِ جپِ نامُ دھِیاءِ توُ جمُ ڈرپےَ دُکھ بھاگُ ॥
دوُکھُ گھنھو دوہاگنھیِ کِءُ تھِرُ رہےَ سُہاگُ ॥੧॥
بھائیِ رے اۄرُ ناہیِ مےَ تھاءُ ॥
مےَ دھنُ نامُ نِدھانُ ہےَ گُرِ دیِیا بلِ جاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرمتِ پتِ ساباسِ تِسُ تِس کےَ سنّگِ مِلاءُ ॥
تِسُ بِنُ گھڑیِ ن جیِۄئوُ بِنُ ناۄےَ مرِ جاءُ ॥
مےَ انّدھُلے نامُ ن ۄیِسرےَ ٹیک ٹِکیِ گھرِ جاءُ ॥੨॥
گُروُ جِنا کا انّدھُلا چیلے ناہیِ ٹھاءُ ॥
بِنُ ستِگُر ناءُ ن پائیِئےَ بِنُ ناۄےَ کِیا سُیاءُ ॥
آءِ گئِیا پچھُتاۄنھا جِءُ سُنّجنْےَ گھرِ کاءُ ॥੩॥
بِنُ ناۄےَ دُکھُ دیہُریِ جِءُ کلر کیِ بھیِتِ ॥
تب لگُ مہلُ ن پائیِئےَ جب لگُ ساچُ ن چیِتِ ॥
سبدِ رپےَ گھرُ پائیِئےَ نِربانھیِ پدُ نیِتِ ॥੪॥
ہءُ گُر پوُچھءُ آپنھے گُر پُچھِ کار کماءُ ॥
سبدِ سلاہیِ منِ ۄسےَ ہئُمےَ دُکھُ جلِ جاءُ ॥
سہجے ہوءِ مِلاۄڑا ساچے ساچِ مِلاءُ ॥੫॥
سبدِ رتے سے نِرملے تجِ کام ک٘رودھُ اہنّکارُ ॥
نامُ سلاہنِ سد سدا ہرِ راکھہِ اُر دھارِ ॥
سو کِءُ منہُ ۄِساریِئےَ سبھ جیِیا کا آدھارُ ॥੬॥
سبدِ مرےَ سو مرِ رہےَ پھِرِ مرےَ ن دوُجیِ ۄار ॥
سبدےَ ہیِ تے پائیِئےَ ہرِ نامے لگےَ پِیارُ ॥
بِنُ سبدےَ جگُ بھوُلا پھِرےَ مرِ جنمےَ ۄارو ۄار ॥੭॥
سبھ سالاہےَ آپ کءُ ۄڈہُ ۄڈیریِ ہوءِ ॥
گُر بِنُ آپُ ن چیِنیِئےَ کہے سُنھے کِیا ہوءِ ॥
نانک سبدِ پچھانھیِئےَ ہئُمےَ کرےَ ن کوءِ ॥੮॥੮॥
لفظی معنی:
بادرے ۔ پاگل ۔ دکھ بھاگ۔ عذاب مٹ جاتا ہے ۔ دوہاگنی ۔ بدکار۔ دو خاوندوں والی ۔ طلاقی ۔بدقمست ۔ ۔ ندھان۔ خزانہ ۔ گر ۔ مرشد ۔ بل ۔ قربان صدقے۔ ۔ پت ۔ عزت ۔(2) سو آو ۔ مدعا ومقصد ۔ (3) بھیت ۔ دیوار ۔ چیت ۔ من ۔ دل ۔ رپے ۔ اثر قبول کرنا ۔ متاثر ۔ لزبانی پد۔ روحانی رتبہ ۔ جہاں دنیاوی خواہشا اثر انداز نہ ہو سکیں ۔(4) شبد۔ کلمہ ۔ کلام ۔(5) تج ۔ چھوڑنا ۔ صلاحن ۔ صٖت کرنا۔ تعریف کرنا ۔ اُردھار۔ دل میں بسان۔ آدھار۔ آسرا ۔ (4) نہ چینئے ۔ جس کی آزمائش نہیں ہو سکتی۔
ترجمہ:
اے بھولے نادان من مرشد کے پاؤں پڑا ۔ الہٰی نام کی ریاض کر ۔ تاکہ عذاب مٹے اور موت کا خوف ختم ہو ۔ دکار۔ بد چلن ۔ دوئی میں گرفتار کو سخت عذاب ملتا ہے ۔ اور الہٰی رشتہ قائم نہیں رہتا ۔ ۔ اے برادر مجھے اسکے بغیر کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں ۔ میرے لیےنام ہی بیش قیمت خزانہ ہے ۔ جو مرشد نے بخشش کیا ہے میں اس پر قربان ہو۔ شاباش ہےاس مرشد کو جس کے ملاپ سے عزت ملتی ہے ۔ مجھے اس کی صحبت و قربت حاصل رہے ۔ اس مرشد کے بغیر میری زندگی پل بھر کے لئے بھی اجیرن ہے ۔ مجھ نادان لا علم کو نام کا ہی سہارا ہے ۔ اسے نہ بھولوں اور اسکے سہارے میں اپنا حقیقی مدعا حاصل کر لوں ۔(2) جنکا مرشد لا علم اور جاہل ہو انکے شاگردوں کو کہاں ٹھکانہ ملیگا ۔ وہ کیسے منزل مقصودکو حاصل کر سکیں گے ۔ سچے مرشد کے بغیر نام حاصل نہ ہوگا اور نام کے بغیر زندگی کا مقصد حل نہیں ہوتا ۔ نام کے بغیر انسان کا عالم میں آنا بیکار ہے ۔ انسان آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور پچھتاتا رہتا ہے ۔ جیسے غیر آباد مکان میں کوا آتا ہے ۔ (#) نام کے بغیر بدن کلر اٹھی زمین میں دیوار کی مانند ہے ۔ کیونکہ وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتی رہتی ہے ۔ اسے تب تک ٹکھانہ نہیں ملتا ہے جب تک حق سچ دل میں نہ بس جائے ۔ اگر کلام مرشد دل میں بس جائے تو قناعت والا اور خواہشات کے بغیر جہاں خواہشات جہاں اثر پذیر نہیں وہ رتبہ حاصل ہو جاتا ہے ۔(4) میں اپنے مرشد سے پوچھ کر کام کرؤں گا ۔ اگر کلام کی صفت صلاح دل میں بس جائے تو خودی کا عذاب مٹ جائے ۔ تو سچا ساچےسے آسانی سے ملا دے ۔(5) شبد دل میں بسا کر اور شہوت ، غصہ اور تکبر چھوڑ کر پاکدامن زندگی بنا لیتے ہیں بن جاتی ہے ۔ وہ ہمیشہ الہٰی حمد و ثناہ کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ خدا کو دل میں بسا لیتے ہیں ۔ جو خدا تمام جانداروں کی زندگی کا سہارا ہے ۔ اسے کبھی دل سے نہیں بھالتے ۔ (6) جس انسان نے گناہوں بھری زندگی سے نجات حاصل کر لی ۔ کلام مرشد پر عمل درآمد کیا وہ دائمی زندگی حاصل کر لیتا ہے اسے روحانی طور پر دوبارہ مرنا نہیں پڑتا ۔ کلام سے ہی الہٰی ملاپ ہوتا ہے اور نام سے عشق ہوتا ہے ۔ کلام کے بغیر عالم بھول میں رہتا ہے اور تناسخ میں پڑ ا رہتا ہے ۔(7) سارے اپنے آپ کی صفتیں کرتے رہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ شگرمرشد کے بغیر خوائش پڑتال نہیں ہو سکتی ۔ کہنے سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ اے نانک کلام مرشد کے ذریعے خوئش پہچان ہو جاتی ہے ۔ وہ خوئش صفت نہیں کرتا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
بِنُ پِر دھن سیِگاریِئےَ جوبنُ بادِ کھُیارُ ॥
نا مانھے سُکھِ سیجڑیِ بِنُ پِر بادِ سیِگارُ ॥
دوُکھُ گھنھو دوہاگنھیِ نا گھرِ سیج بھتارُ ॥੧॥
من رے رام جپہُ سُکھُ ہوءِ ॥
بِنُ گُر پ٘ریمُ ن پائیِئےَ سبدِ مِلےَ رنّگُ ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر سیۄا سُکھُ پائیِئےَ ہرِ ۄرُ سہجِ سیِگارُ ॥
سچِ مانھے پِر سیجڑیِ گوُڑا ہیتُ پِیارُ ॥
گُرمُکھِ جانھِ سِجنْانھیِئےَ گُرِ میلیِ گُنھ چارُ ॥੨॥
سچِ مِلہُ ۄر کامنھیِ پِرِ موہیِ رنّگُ لاءِ ॥
منُ تنُ ساچِ ۄِگسِیا کیِمتِ کہنھُ ن جاءِ ॥
ہرِ ۄرُ گھرِ سوہاگنھیِ نِرمل ساچےَ ناءِ ॥੩॥
من مہِ منوُیا جے مرےَ تا پِرُ راۄےَ نارِ ॥
اِکتُ تاگےَ رلِ مِلےَ گلِ موتیِئن کا ہارُ ॥
سنّت سبھا سُکھُ اوُپجےَ گُرمُکھِ نام ادھارُ ॥੪॥
کھِن مہِ اُپجےَ کھِنِ کھپےَ کھِنُ آۄےَ کھِنُ جاءِ ॥
سبدُ پچھانھےَ رۄِ رہےَ نا تِسُ کالُ سنّتاءِ ॥
ساہِبُ اتُلُ ن تولیِئےَ کتھنِ ن پائِیا جاءِ ॥੫॥
ۄاپاریِ ۄنھجارِیا آۓ ۄجہُ لِکھاءِ ॥
کار کماۄِہ سچ کیِ لاہا مِلےَ رجاءِ ॥
پوُنّجیِ ساچیِ گُرُ مِلےَ نا تِسُ تِلُ ن تماءِ ॥੬॥
گُرمُکھِ تولِ تد਼لائِسیِ سچُ تراجیِ تولُ ॥
آسا منسا موہنھیِ گُرِ ٹھاکیِ سچُ بولُ ॥
آپِ تُلاۓ تولسیِ پوُرے پوُرا تولُ ॥੭॥
کتھنےَ کہنھِ ن چھُٹیِئےَ نا پڑِ پُستک بھار ॥
کائِیا سوچ ن پائیِئےَ بِنُ ہرِ بھگتِ پِیار ॥
نانک نامُ ن ۄیِسرےَ میلے گُرُ کرتار ॥੮॥੯॥
لفظی معنی:
دھن۔ عورت ۔ بیگار۔ بناؤ۔ سجاؤٹ ۔ جو بن جوانی ۔ باد ۔ جھگڑا ۔ خوآر۔ ذلیل ۔ سیجڑی ۔ پچھونا ۔ گھنسے ۔ زیادہ ۔ سچ بھتار ۔ خاوند کے لئے خوابگگاہ بچھونا ۔ ۔ شبد۔ کلام ۔ سہج۔ سکون ۔ سچ ۔ خدا ۔ گن چار ۔ با اخلاق ۔ با وصف ۔(2) ورکامنی ۔ زوجہ خاوند ۔ دگسیا ۔ خؤش ہوا ۔ ساچے نائے ۔ سچا الہٰی نام ۔ (3) منوآ۔ غیر سنجیدہ من، گمراہ ۔ راولے ۔ پیار کرنا ۔ رکت ۔یکسوئی ۔ رل ۔ یکسو ۔ ادھار۔ آسرا ۔ (4) اُپجے ۔پیدا ہونا ۔ کھن ۔ تہوڑ ۔وقفہ ۔ رورہے جڑے رہنا ۔ (5) وجہو ۔ تنخواہ ۔مزدوری ۔ لاہا ۔ نفع ۔ طمع ۔ لالچ ۔ (6) ترازی ۔ تکڑی ۔ ٹھاکی۔ روکی ۔(7) کھتنے کہن۔ زبانی ۔ باتوں ۔ پستک بھار ۔ نہ فضول کتابیں پڑھنے سے ۔(8)
ترجمہ:
خاوند کے بغیر عورت کا بناؤ شنگار اور جوانی جھگڑا اور ذلالت ہے ۔ نہ تو خوابگاہ کا آرام اورخوشی پانی ہے اور بناؤ شنگار اور سجاوٹ فضول ہے اس دو خانودوں والی عورت جو طلاق شدہ بھاری دکھ اُٹھاتی ہے ۔ انسان کے لئے دکھاوا شہرت سب فضول ہے ۔ جب تک دل میں خدا نہ بستا ہا ۔ (!) اے دل یاد الہٰی و ریاض الہٰی سے ہی سکھ حاصل ہوگا ۔ مرشد کے بغیر الہٰی پیار نہیں ہو سکتا اور کلام مرشد سے پیار پیدا ہوتا ہے ۔۔ خدمت مرشد سے آرام و آسائش ملتی ہے ۔ روحانی سکون ملتا ہے ۔ اورالہٰی پیار ہی اسکا شنگار اور عجافٹ ہے ۔اور سچے پیار سے ہی الہٰی ملاپ ہو سکتا ہے ۔ قربت وصحبت مرشد اور اسکی اسکی حضوری میں رہ کر ہی الہٰی رشتہ مشترک و اشتراک اور پہچان ہو سکتی ہے ۔ وہ باحسن اخلاق و اوصاف الہٰی سے مرشد ہی ملا سکتا ہے ۔(2) شیخ سعدی
ہر کہ خدمت کرد ۔ او مخدوم شد
ہر کہ خودرادید او مخدوم شد
اے انسان تو سچ اپنا جو اپنا تا ہے خدا اسے اپنا پیار پریم عنایت کرتا ہے اور اپنا پیارا کر لیتا ہے ۔ دل و جان سچ سے مخمور ہو کر شگفتہ حال ہو جاتے ہیں ۔ جسکی قیمت بیان نہیں کی جا سکتی ۔ دل میں خدا بس کر نام سے پاک روح اور نورانی ہو جاتا ہے ۔(3) اگر انسان کے خیالات جو دل میں پیدا ہوتے ہیں تبدیل ہوکر پاک ہو جائیں تو خدا دل میں بس جاتا ہے ۔ جیسے گلے میں موتیوں کا ہار ایک دھاگے میں پرونے کی وجہ سے ایک ہے ۔ ایسے ہی اپنی ہوش و ہواس کو خدا میں مرکوز کرنے سے انسان خدا سے یکسو ہوجاتا ہے ۔مگر روحانی سکون پاکدامن خدا رسیدہ کی صحبت و قربت پناہ مرشد اور نام کی ریاض کے سہارے ملتا ہے ۔ (4)انسان کے دل میں خیالات آتے ہیں جلدی ہی مٹ جاتے ہیں ۔ اور جلدی ہی پریشان ہوتا رہتا ہے پل میں رتی پل میں ماشہ پل میں تولا ) یعنی کبھی زمین پر کھبی آسمان یعنی حرص وہوا میں ڈگمگاتا رہتا ہے اگر دل کو کلام کی پہچان ہو جاتی ہے تو اسکی بھٹکن ختم ہو جاتی ہے ۔ تب اسے روحانی موت نہیں ستاتی ۔ خدا آقا لا محدود ہے اُسکا انداز تول اور پیمائش نہیں ہو سکتی نہ زبانی باتوں سے ملاپ ہو سکتا ہے ۔(5) تمام جانداروں کا خدائی کی طرف سے روزینہ اوررزق مقرر ہوتا ہے ۔ مراد ہر زندگی سانس اور نعمتیں یہ زندگی کا سودا گر انسان خدا سے پاتا ہے اور جو خدا کی خدمت و کار سر انجام دیتے ہیں ۔ وہ الہٰی رضا کے مطابق منافع کماتے ہیں ان کا مرشد سے ملاپ ہو جاتا ہے ۔ جس سے ذرہ بھر لالچ نہیں ہے ان کو روحانی سچی دولت ملتی ہے ۔(6)مرید مرشد زندگی کی نیکی بدیوں کو سچ کے ترازو اور سچ کے بٹوں سے تلواتا ہے ۔ پہچان کرتا ہے اُسکی قدر و قیمت سمجھتا ہے ۔ اور سچے فرمان سے حسین خواہشوں اور ارادوںپر روک لگاتا ہے ۔ یہ الہٰی تول کبھی بڑھتا اور گھٹتا نہیں جیسے خدا خود تلاتا ہے ۔ (7)نہ تو زبانی باتوں سے نہ زیادہ کتابوں کے مطالعہ سے نجات ملتی ہے ۔ اگر الہٰی عبادت نہیں الہٰی عشق نہیں تو بیرونی جسمانی پاکیزگی سے الہٰی ملاپ حاصل نہ ہوگا ۔ اے نانک کلام مرشد سے ہی خوئش تحقیق پہچان و پڑتال ہو سکتی ہے ۔ وہ خودی و خوئیش ستائش نہیں کرتا ۔ جسے نام نہیں بھولتا اسے مرشد خدا سے ملا دیتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
ستِگُرُ پوُرا جے مِلےَ پائیِئےَ رتنُ بیِچارُ ॥
منُ دیِجےَ گُر آپنھے پائیِئےَ سرب پِیارُ ॥
مُکتِ پدارتھُ پائیِئےَ اۄگنھ میٹنھہارُ ॥੧॥
بھائیِ رے گُر بِنُ گِیانُ ن ہوءِ ॥
پوُچھہُ ب٘رہمے ناردےَ بید بِیاسےَ کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گِیانُ دھِیانُ دھُنِ جانھیِئےَ اکتھُ کہاۄےَ سوءِ ॥
سپھلِئو بِرکھُ ہریِیاۄلا چھاۄ گھنھیریِ ہوءِ ॥
لال جۄیہر مانھکیِ گُر بھنّڈارےَ سوءِ ॥੨॥
گُر بھنّڈارےَ پائیِئےَ نِرمل نام پِیارُ ॥
ساچو ۄکھرُ سنّچیِئےَ پوُرےَ کرمِ اپارُ ॥
سُکھداتا دُکھ میٹنھو ستِگُرُ اسُر سنّگھارُ ॥੩॥
بھۄجلُ بِکھمُ ڈراۄنھو نا کنّدھیِ نا پارُ ॥
نا بیڑیِ نا تُلہڑا نا تِسُ ۄنّجھُ ملارُ ॥
ستِگُرُ بھےَ کا بوہِتھا ندریِ پارِ اُتارُ ॥੪॥
اِکُ تِلُ پِیارا ۄِسرےَ دُکھُ لاگےَ سُکھُ جاءِ ॥
جِہۄا جلءُ جلاۄنھیِ نامُ ن جپےَ رساءِ ॥
گھٹُ بِنسےَ دُکھُ اگلو جمُ پکڑےَ پچھُتاءِ ॥੫॥
میریِ میریِ کرِ گۓ تنُ دھنُ کلتُ ن ساتھِ ॥
بِنُ ناۄےَ دھنُ بادِ ہےَ بھوُلو مارگِ آتھِ ॥
ساچءُ ساہِبُ سیۄیِئےَ گُرمُکھِ اکتھو کاتھِ ॥੬॥
آۄےَ جاءِ بھۄائیِئےَ پئِئےَ کِرتِ کماءِ ॥
پوُربِ لِکھِیا کِءُ میٹیِئےَ لِکھِیا لیکھُ رجاءِ ॥
بِنُ ہرِ نام ن چھُٹیِئےَ گُرمتِ مِلےَ مِلاءِ ॥੭॥
تِسُ بِنُ میرا کو نہیِ جِس کا جیِءُ پرانُ ॥
ہئُمےَ ممتا جلِ بلءُ لوبھُ جلءُ ابھِمانُ ॥
نانک سبدُ ۄیِچاریِئےَ پائیِئےَ گُنھیِ نِدھانُ ॥੮॥੧੦॥
لفظی معنی:
سب پیار ۔سب کو پیار کرنیوالا (خدا) ۔ مکت ۔ نجات ۔چھٹکارا ۔ پدارتھ ۔ نعمت ۔ (!) گیان ۔ علم جاننا ۔ اکتھ ۔ناقابل بیان ۔ کہاولے ۔ کہلاتا ہے ۔ سوئے ۔ وہی ۔ سپھلیؤ ۔ براور ۔ پھل دینے والا ۔ مانکی ۔موتی ۔ (2) بھنڈارے ۔ خزانے ۔ سنچیئے ۔اکھٹے کرنا ۔ کرم ۔ بخشش ۔ اسر۔دیو۔ جن ۔(3) بھوجل ۔ خوفناک سمندر ۔ دکہم ۔ مشکل ۔ دشوار ۔گندھی ۔کنارہ ۔ ملا ر ۔صلاح ۔ بھے کا بوتھا ۔خوف سے بچانے والا جہاز ۔(4) جلؤ ۔ جل جائے ۔ جلاونی ۔ جلنے کے قابل ۔ رسائے ۔ پرلطف۔ اگلو ۔ زیادہ ۔(5) کللت ۔ عورت ۔ باد۔ جھگڑا ۔ مارگ راستہ ۔ آتھ ۔ مایا ،مالیات۔ (7) کاتھ ۔ صفت صلاح کرنا پیئے کرت پہلے کیے اعمال ۔ کمائے کام ۔(8) جیؤ۔ جاندار ۔ گئی ندھان اوصاف کا خزانہ ۔(8)
ترجمہ:
کامل مرشد کے ملاپ سے قیمتی اور بیش قیمت خیالات ہو جاتے ہیں اسے اپنا من حوالے کر دو اور اسے مکمل پیار کؤ وہ نجات دلاتا ہے ۔ اوصف بد مٹا تا ہے ۔۔ اے برادران مرشد کے بغیر علم حاصل نہیں ہوتا ۔ خوآہ ناردرشی سے دیدوں کے بکہنے والے پیاس سے جا پوچھو۔ ۔ کامل مرشد ہی علم ودھیان (ہوش) دھن (محویت) کی سمجھ دیتا ہے ۔ جو ناقابل بیان ہے ۔ مرشد ایک پھلدار درخت ہےسر بز سایہ دار جسکا سایہ نہایت گہرا ہے ۔ اسکے پاس قیمتی خیالات کاخزانہ ہے ۔(2) مرشد کے خزانے سے پاک نام کی سچ حق وحقیقت محبت ملتی ہے ۔ جو بلند قسمت اور جس پر الہٰی کرم و عنایت ہے یہ سوچا پاک سودا خریدتا ہے ۔ مرشد سکھ دینے والا عذاب مٹانے والا گناہگار جنوں کو گناہوں کو مارنے والا ہےمراد خیالات بد کو مٹانے والا ہے ۔(3) یہ عالم ایک خوفناک سمندر ہے جسکا کوئی کنارہ نہیں ۔ اسے پار کر نے کے لئے نہ کوئی بیٹری نہ تلا۔ اور نہ ملاح نہ چپو۔ سچا مرشد اس خوف کے لئے ایک جہاز ہے ۔ جو نظر عنایت سے پارکر ادیتا ہے ۔(4) ذرا سے وقفے کے لئے بھول جانے پر سکھ ختم ہو جاتا ہے عذاب ملنا ہے ایسی زبان جلنے کے قابل ہے جل کیوں نہ جائے جو لطف و لذت اورمزے سے نام کی ریاض نہیں کرتی ۔ الہٰی محبت کے بغیر جسم فناہ ہوتا ہے ۔ عذاب آتا ہے الہٰی کوتوال پکڑ لیتا ہے ۔ گرفتار ہو جاتا ہے تو پچھتاتا ہے ۔ (5) انسان اپنے بدن دولت ۔ عورت کو اپنی اپنی کہتا ہے مگر ساتھ نہیں جاتی نہ نبھاتی ہے ۔ الہٰی نام کے بغیر یہ دولت بیکار رہے ۔ دولت کے راستے کا اہگیر انسان ایک بھول میں پڑ جاتا ہے ۔ سچے خدا کی خدمت کرؤ ۔ مرید مرشد کے وسیلے سے ہی الہٰی حمد و ثناہ ہو سکتی ہے ۔(6) کئے ہوئے اعمال جو پہلے سے پیشانی پر یا جو اعمالنامے میں تحڑیر نہیں مٹائے نہیں جا سکتے ۔ جو الہٰی رضا سے تحریر ہوتے ہیں ۔ الہٰی نام کے بغیر نجات نہیں ملتی سبق مرشد سے ملاپ ہوتا ہے ۔(7) خدا کے بغیر انسان تناسخ میں پڑارہتا ہے جس نے یہ زندگی اور دل و جان کی بخشش کی ہے اُسکے بغیر انسان کے لئے کوئی سہارا نہیں ۔ اے خدا میری یہ خودی اور ملکیتی خیال اور لالچ اور تکبر غرور جل کیوں نہ جائے ۔ اے نانک کلام اور سبق مرشد سے اوصاف کا خذانہ ملتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
رے من ایَسیِ ہرِ سِءُ پ٘ریِتِ کرِ جیَسیِ جل کملیہِ ॥
لہریِ نالِ پچھاڑیِئےَ بھیِ ۄِگسےَ اسنیہِ ॥
جل مہِ جیِء اُپاءِ کےَ بِنُ جل مرنھُ تِنیہِ ॥੧॥
من رے کِءُ چھوُٹہِ بِنُ پِیار ॥
گُرمُکھِ انّترِ رۄِ رہِیا بکھسے بھگتِ بھنّڈار ॥੧॥ رہاءُ ॥
رے من ایَسیِ ہرِ سِءُ پ٘ریِتِ کرِ جیَسیِ مچھُلیِ نیِر ॥
جِءُ ادھِکءُ تِءُ سُکھُ گھنھو منِ تنِ ساںتِ سریِر ॥
بِنُ جل گھڑیِ ن جیِۄئیِ پ٘ربھُ جانھےَ ابھ پیِر ॥੨॥
رے من ایَسیِ ہرِ سِءُ پ٘ریِتِ کرِ جیَسیِ چات٘رِک میہ ॥
سر بھرِ تھل ہریِیاۄلے اِک بوُنّد ن پۄئیِ کیہ ॥
کرمِ مِلےَ سو پائیِئےَ کِرتُ پئِیا سِرِ دیہ ॥੩॥
رے من ایَسیِ ہرِ سِءُ پ٘ریِتِ کرِ جیَسیِ جل دُدھ ہوءِ ॥
آۄٹنھُ آپے کھۄےَ دُدھ کءُ کھپنھِ ن دےءِ ॥
آپے میلِ ۄِچھُنّنِیا سچِ ۄڈِیائیِ دےءِ ॥੪॥
رے من ایَسیِ ہرِ سِءُ پ٘ریِتِ کرِ جیَسیِ چکۄیِ سوُر ॥
کھِنُ پلُ نیِد ن سوۄئیِ جانھےَ دوُرِ ہجوُرِ ॥
منمُکھِ سوجھیِ نا پۄےَ گُرمُکھِ سدا ہجوُرِ ॥੫॥
منمُکھِ گنھت گنھاۄنھیِ کرتا کرے سُ ہوءِ ॥
تا کیِ کیِمتِ نا پۄےَ جے لوچےَ سبھُ کوءِ ॥
گُرمتِ ہوءِ ت پائیِئےَ سچِ مِلےَ سُکھُ ہوءِ ॥੬॥
سچا نیہُ ن تُٹئیِ جے ستِگُرُ بھیٹےَ سوءِ ॥
گِیان پدارتھُ پائیِئےَ ت٘رِبھۄنھ سوجھیِ ہوءِ ॥
نِرملُ نامُ ن ۄیِسرےَ جے گُنھ کا گاہکُ ہوءِ ॥੭॥
کھیلِ گۓ سے پنّکھنھوُنّ جو چُگدے سر تلِ ॥
گھڑیِ کِ مُہتِ کِ چلنھا کھیلنھُ اجُ کِ کلِ ॥
جِسُ توُنّ میلہِ سو مِلےَ جاءِ سچا پِڑُ ملِ ॥੮॥
بِنُ گُر پ٘ریِتِ ن اوُپجےَ ہئُمےَ میَلُ ن جاءِ ॥
سوہنّ آپُ پچھانھیِئےَ سبدِ بھیدِ پتیِیاءِ ॥
گُرمُکھِ آپُ پچھانھیِئےَ اۄر کِ کرے کراءِ ॥੯॥
مِلِیا کا کِیا میلیِئےَ سبدِ مِلے پتیِیاءِ ॥
منمُکھِ سوجھیِ نا پۄےَ ۄیِچھُڑِ چوٹا کھاءِ ॥
نانک درُ گھرُ ایکُ ہےَ اۄرُ ن دوُجیِ جاءِ ॥੧੦॥੧੧॥
لفظی معنی:
کملیہہ۔ کمل کا پھول ۔ وگسے۔ خوش ہوئے ۔ شگفتگی ۔ سینہہ۔ سمبندھ ۔ رشتہ ۔ جیہ۔ جان ۔ تینہہ ۔ تناں ۔ اسے ۔ پچھاڑیئے دھکیلنا ۔ ۔ گورمکھ ۔ مرید ۔مرشد ۔ انتر ۔ دل میں ۔ زورہیا ۔ دل میں بستا ہے ۔۔ نیر پانی ۔ ادھکیؤ ۔ زیادہ ۔ گھنو ۔زیادہ ۔ من ۔ دل ۔ ابھ پیر ۔ اندرونی درد ۔(2) چا ترک ۔ پیپہا ۔ کرم بخشش ۔ کرت پائیا ۔ پہلے سے کئے اعمال ۔ (3) آوٹن ۔ ابالا ۔ کہوے ۔ سہارتا ہے ۔ سچ ۔ سچائی ۔ (4) سور۔سورج ۔(5) گنت گناونی۔ اوصاف بیانی ۔ شیخی بگھارنا ۔(6) گیان پدارتھ ۔ نعمت علم ۔ تربہون سوجہی تینو عالموں کا علم ۔سمجھ ۔(7)پنکہنو ، پرندے ۔ سرتل ۔ سمندر پر ۔ پڑ ۔ کھیل کا میدان ۔ پڑمل ۔کھیل کی جیت ۔ (8) سوہتنگ سوحا ۔ وہ میں ہوں ۔ سوما آپ بچھایئے اس بات کی پہچان کر آیا میں خدا کی مانند بااوصاف ہوں۔ اس سے میری شراکت ہو گئی یا نہیں ۔ کیا میں خدا سے یکسوہو گیا ہوں ۔ (9) منھکھ ۔ مرید من ۔ خودی پسند ۔ خود ارادی ۔ پتیائے ۔ یقین ۔بھروسہ ۔
ترجمہ:
اے دل خدا سے ایسا پیار کر جیسا پانی کا کنول کے پھول سے ہے ۔ کنول پھول کو پانی کی لہریں بچھاڑتی ہیں دھکیلتی ہیں تاہم شگفتہ ہوتا ہے کھلتا ہے ۔ پانی میں ایسے جاندار پیدا کئے ہیں جو پانی کے بغیر مر جاتے ہیں ۔۔ اے دل پیار کے بغیر نجات نہیں ۔ مرشد خدا دل میں بسا دیتا ہے اور الہٰی عشق کے خزانےبخش دیتا ہے ۔۔ اے دل خدا سے ایسا پیار کر جیسا مچھلی کا پانی سے ہے ۔ جتنا پانی زیادہ ہوگا اتنا ہی زیادہ سکھ پانی ہے ۔ اور دل و جان زیادہ سکون پاتا ہے ۔ پانی کے گھڑی تھر کے لئے زندہ نہیں رہ سکتی ۔ اسکے دل کے درد کو خدا ہی جانتا ہے ۔(2)اے دل خدا سے ایسا پیار کر جیسا پپیہے کا بارش سے ہے ۔ جبکہ تالاب پانی سے پورے بھرے ہوتے ہیں چاروں طرف سبزہ زار ہوتے ہیں ۔ تاہم اسے اس پانی سے کوئی واسطہ نہیں ۔ مگر اے دل تیرے کیا اختیار ہے خدا اپنی کرم و عنایت و رحمت سے ملے تو ملتا ہے ۔ اپنے کے لئے اعمال کا نتیجہ تو ملتا ہی ہے ۔(3) اے دل خدا سے ایسا پیار کر جیسا پانی اور دھودھ کا ہوتا ہے ۔ تو پانی کے اُبانے کی آنچ خؤد برداش کرتا ہے دودھ کو جلنے سے بچاتا ہے ۔ جدا ہوئے ہولے کو اسطرح ساتھ لاکر عظمت عزت اور آبرو عنایت کرتا ہے ۔(4) اے دل خدا سے ایسا پیا کر جیسا چکوی کا سورج سے ہے ۔ سورج غروب ہو نے پر پل بھر کے لئے بھی نہیں سوتی ۔ وجھل سورج کو ساتھ سمجھتی ہے ۔ جو انسان مرشد کی صحبت قربت میں رہتا ہے اسے خدا ہمیشہ ساھ دکھائی دیتا ہے ۔ مگر خود پسند خود ارادی مرید من کو یہ سمجھ نہیں آتی ۔ (5) خودی پسند اپنی ستائش اور صٖتیں کرتا رہتا ہے ۔ مگر ہوتا وہی ہے جو کرتا ہے خدا ۔ خواہ کوئی سارے کتنیاں خواہشاں کرن اسکا اوصاف کی قدر و قیمت نہیں پائی جا سکتی ۔ اگر دامن میں سبق مرشد ہو انسان الہٰی نام سچ و حقیقت میں مصروفیت پاتا ہے اور روحانی خؤشی و سکون پاتا ہے ۔ (6) سچا رشتہ ، سچا یار نہیں ٹوٹتا ۔ اگر سچے مرشد نے ملایا ہو ۔ علم کی نعمتسے تینوں عالموں کی سمجھ آجاتی ہے ۔ اگر انسان اوصاف چاہتا ہے اسکا خریدار ہے تو پاک نام نہ بھلائے ۔(7) وہ پرندے اس عالم میں دانہ چنتے ہیں کھیل کھیل کر چلے جانا ہے اور یہ کھیل ایک دو روز میں ختم ہو جاتی ہے ۔ اے خدا جس سے تو ملاتا ہے وہی ملتا ہے اور زندگی کا سچا کیل جیت کر جاتا ہے ۔(8) مرشد کے بغیر پیار پیدا نہیں ہوتا اور خودی کی (پلیدی) ناپاکی دور نہیں ہوتی ۔ جب انسان کے دل میں کلام مرشد مکمل طور پر بس جاتا ہے اور اس پر کامل واثق یقین اور بھروسہ ہو جاتا ہے تو انسان کو اپنی اصلیت وحقیقت کی پہچان ہوتی ہے ۔ کہ انسانی والہٰی عادات و عمل آپس میں میل کھاتے ہیں یا نہیں ۔مرشد کے وسیلے سے اپنے آپ کی پہچان ہوتی ہے ۔ انسان اسکے علاوہ کوئی کوشش نہیں کر سکتا ۔ (9) جو انسان کلام مرشد پر یقین کرکے مل چکے ہیں ان کا اور کونسا ملاپ ہے انکے اندر ایسی کوئی جدائی نہیں رہ جاتی جس سے دور کرکے انہیں دوبارہ خدا سے ملایا جائے ۔ مگر من کے مرید کو یہ سمجھ نہیں آتی اس لئے پائے الہٰی سے جدا ہوکر عذاب پاتا ہے ۔ اے نانک جو انسان کے لئے ٹھکانہ الہٰی در ہے اسکے علاوہ کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں دیکھائی دیتا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
منمُکھِ بھُلےَ بھُلائیِئےَ بھوُلیِ ٹھئُر ن کاءِ ॥
گُر بِنُ کو ن دِکھاۄئیِ انّدھیِ آۄےَ جاءِ ॥
گِیان پدارتھُ کھوئِیا ٹھگِیا مُٹھا جاءِ ॥੧॥
بابا مائِیا بھرمِ بھُلاءِ ॥
بھرمِ بھُلیِ ڈوہاگنھیِ نا پِر انّکِ سماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھوُلیِ پھِرےَ دِسنّتریِ بھوُلیِ گ٘رِہُ تجِ جاءِ ॥
بھوُلیِ ڈوُنّگرِ تھلِ چڑےَ بھرمےَ منُ ڈولاءِ ॥
دھُرہُ ۄِچھُنّنیِ کِءُ مِلےَ گربِ مُٹھیِ بِللاءِ ॥੨॥
ۄِچھُڑِیا گُرُ میلسیِ ہرِ رسِ نام پِیارِ ॥
ساچِ سہجِ سوبھا گھنھیِ ہرِ گُنھ نام ادھارِ ॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ رکھُ توُنّ مےَ تُجھ بِنُ کۄنُ بھتارُ ॥੩॥
اکھر پڑِ پڑِ بھُلیِئےَ بھیکھیِ بہُتُ ابھِمانُ ॥
تیِرتھ ناتا کِیا کرے من مہِ میَلُ گُمانُ ॥
گُر بِنُ کِنِ سمجھائیِئےَ منُ راجا سُلتانُ ॥੪॥
پ٘ریم پدارتھُ پائیِئےَ گُرمُکھِ تتُ ۄیِچارُ ॥
سا دھن آپُ گۄائِیا گُر کےَ سبدِ سیِگارُ ॥
گھر ہیِ سو پِرُ پائِیا گُر کےَ ہیتِ اپارُ ॥੫॥
گُر کیِ سیۄا چاکریِ منُ نِرملُ سُکھُ ہوءِ ॥
گُر کا سبدُ منِ ۄسِیا ہئُمےَ ۄِچہُ کھوءِ ॥
نامُ پدارتھُ پائِیا لابھُ سدا منِ ہوءِ ॥੬॥
کرمِ مِلےَ تا پائیِئےَ آپِ ن لئِیا جاءِ ॥
گُر کیِ چرنھیِ لگِ رہُ ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥
سچے سیتیِ رتِیا سچو پلےَ پاءِ ॥੭॥
بھُلنھ انّدرِ سبھُ کو ابھُلُ گُروُ کرتارُ ॥
گُرمتِ منُ سمجھائِیا لاگا تِسےَ پِیارُ ॥
نانک ساچُ ن ۄیِسرےَ میلے سبدُ اپارُ ॥੮॥੧੨॥
لفظی معنی:
سنھکھ ۔ خودی پسند۔ مرید من ۔ بھولے ۔ بھلیا ۔ گمراہ بھالیئے ۔ گمراہ کریں ۔ ٹھور ۔ ٹھکانہ ۔ اندھی ۔ نا سمجھ ۔ آوے جائے ۔ آواگون ۔ تناسخ۔ گیان پدائتھ ۔ نعمت ۔ علم ۔ ۔ بھرم ۔شک ۔ شبہ ۔ دوہاگنی ۔ دو خاوندوں والی ۔ پر اتک خاون کی ود ۔ ۔ دسنتری ۔ دیس بدیس ۔ تج جائے چھوڑے دے ۔ ڈوتگر پہاڑ۔ وچہونی جدا ہوئی ۔ گربھ ۔ غرور ۔(2) رس ۔ مزہ ۔ لطف۔ سہج ۔ سکون ۔ ادھار ۔ آسرا ۔(3)اکھتر ۔ (4) سادھن ۔ عورت ۔ گرکے ہیت مرشد کا پیار ۔ (5) چاکری خدمت ۔ خدمتگاری ۔(6) کرم بخشش ۔ پلے پائے ۔ دامن میں ۔(7) گرمت سبق مرشد
ترجمہ:
خودی پسند گمراہ ہو جاتا ہے گمراہی میں ٹھکانہ ملتا ۔مرشد کے بغیر اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا لاعلمی کے اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ لا علمی کیوجہ سے دھوکے میں لٹ جاتا ہے ۔۔ دنیاوی دولت شک و شبہات میں انسان کو بھلا دیتی ہے ۔ دو خاوندوں کی عورت کی مانند خاوند کی گود نہیں پا سکتا ۔ انسان زاد دیس بدیش گمراہی میں بھٹکتی پھرتی ہے اور گھر چھوڑ چلی جاتی ہے ۔لہذا کبھی کسی پہاڑ کی گپھار میں کبھی کہیں ٹیلہ پر دل ڈگمگاتا پھرتا ہے ۔ جب بارگاہ الہٰی سے ہی جدائی مل گئی تو کیسے ملاپ ہو ۔ غرور میں لٹ کر جلاتی ہے ۔ جدا ہوئے ہوئے کو الہٰی نام کے پیار سے ملاتا ہے ۔ مرشد الہٰی اوصاف کی برکات سے الہٰی نام کے سہارے قائم دائم خدا سے بے لرزش و ڈگمکاہٹ شہرت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔ اے خدا جیسے تیری رضا ہے اسی طرح مجھے بچا ۔ تیرے بغیر میرا کون محافظ و آقا ہے ۔ (3) انسان علام فاضل ہوکر بھی گمراہ ہو جاتا ہے ۔ بھیس بنا کر بھی دل میں غرور اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے ۔ زیارت گاہوں کی زیارت سے بھی کوئی فایدہ نہیں ہوتا ۔ کیونکہ دل میں غرور و تکبر کی (پلیدی) نااکیزگی ہو جاتی ہے ۔ یہ دل اس جسم کا بادشاہ ہے ۔ اور سلطان اور دل جسم پر سلطانی کرتا ہے ۔ مرشد کے بغیر اسے کون سمجھائے ۔ (4) مرشد کے وسیلے سے حقیقت سمجھ کر پریم کی نعمت ملتی ہے ۔ کلام مرشد اپنانے سے خودی مٹتی ہے ۔ اس نے کلام مرشد کے ذریعے اپنے ذہن و من میں سے ہی اس لا محدود خدا وند کریم کو دریافت کر پا لیا ہے ۔(5) خڈمت مرشد سے دل پاک ہو جاتا ہے ۔ روحانی سکون ملتا ہے جس انسان کے دل میں کلام مرشد بس جتا ہے وہ اپنے دل سے خودی مٹا لیتا ہے اور نام مراد سچ حق حقیقت کے حصول کی نعمت سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے ۔ (6) نعمت الہٰی کرم و عنایت سے ملتا ہے از خود کوئی لے نہیں سکتا ۔ خودی مٹا کر پائے مرشد پکڑ کر پاک خدا کے پیار سے ہی پاک خدا سے ملاپ ہوتا ہے ۔ (7)تمام انسان بھول جاتے ہیں بھول سکتے ہیں ۔ صرف مرشد کارساز،کرتار خدا ہی بھول سے باہر ہے ۔ جس انسان نے سبق مرشد پر عمل کرکے من درست کر لیا اسکے دل میں الہٰی پریم ہو جاتا ہے ۔ اے نانک جسے کلام مرشد لا محدود خدا سے ملا دیتا ہے اسے کبھی خدا نہیں بھولتا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
ت٘رِسنا مائِیا موہنھیِ سُت بنّدھپ گھر نارِ ॥
دھنِ جوبنِ جگُ ٹھگِیا لبِ لوبھِ اہنّکارِ ॥
موہ ٹھگئُلیِ ہءُ مُئیِ سا ۄرتےَ سنّسارِ ॥੧॥
میرے پ٘ریِتما مےَ تُجھ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
مےَ تُجھ بِنُ اۄرُ ن بھاۄئیِ توُنّ بھاۄہِ سُکھُ ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نامُ سالاہیِ رنّگ سِءُ گُر کےَ سبدِ سنّتوکھُ ॥
جو دیِسےَ سو چلسیِ کوُڑا موہُ ن ۄیکھُ ॥
ۄاٹ ۄٹائوُ آئِیا نِت چلدا ساتھُ دیکھُ ॥੨॥
آکھنھِ آکھہِ کیتڑے گُر بِنُ بوُجھ ن ہوءِ ॥
نامُ ۄڈائیِ جے مِلےَ سچِ رپےَ پتِ ہوءِ ॥
جو تُدھُ بھاۄہِ سے بھلے کھوٹا کھرا ن کوءِ ॥੩॥
گُر سرنھائیِ چھُٹیِئےَ منمُکھ کھوٹیِ راسِ ॥
اسٹ دھاتُ پاتِساہ کیِ گھڑیِئےَ سبدِ ۄِگاسِ ॥
آپے پرکھے پارکھوُ پۄےَ کھجانےَ راسِ ॥੪॥
تیریِ کیِمتِ نا پۄےَ سبھ ڈِٹھیِ ٹھوکِ ۄجاءِ ॥
کہنھےَ ہاتھ ن لبھئیِ سچِ ٹِکےَ پتِ پاءِ ॥
گُرمتِ توُنّ سالاہنھا ہورُ کیِمتِ کہنھُ ن جاءِ ॥੫॥
جِتُ تنِ نامُ ن بھاۄئیِ تِتُ تنِ ہئُمےَ ۄادُ ॥
گُر بِنُ گِیانُ ن پائیِئےَ بِکھِیا دوُجا سادُ ॥
بِنُ گُنھ کامِ ن آۄئیِ مائِیا پھیِکا سادُ ॥੬॥
آسا انّدرِ جنّمِیا آسا رس کس کھاءِ ॥
آسا بنّدھِ چلائیِئےَ مُہے مُہِ چوٹا کھاءِ ॥
اۄگنھِ بدھا ماریِئےَ چھوُٹےَ گُرمتِ ناءِ ॥੭॥
سربے تھائیِ ایکُ توُنّ جِءُ بھاۄےَ تِءُ راکھُ ॥
گُرمتِ ساچا منِ ۄسےَ نامُ بھلو پتِ ساکھُ ॥
ہئُمےَ روگُ گۄائیِئےَ سبدِ سچےَ سچُ بھاکھُ ॥੮॥
آکاسیِ پاتالِ توُنّ ت٘رِبھۄنھِ رہِیا سماءِ ॥
آپے بھگتیِ بھاءُ توُنّ آپے مِلہِ مِلاءِ ॥
نانک نامُ ن ۄیِسرےَ جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ رجاءِ ॥੯॥੧੩॥
لفظی معنی:
ست۔فرزند۔ بیٹا ۔ بندھپ ۔ رشتہ دار ۔ نار ۔ استری ۔ جوبن ۔ جوانی ۔ لب ۔ پیار ۔ لوبھ ۔لالچ۔ ہنگار ۔ تکبر ۔غرور ۔ گھمنڈ ۔ ٹھگوی ۔ نشہ آور بوٹی ۔ ہوء ۔ میں ۔ سنسار ۔ جہاں ۔ عالم ۔ دنیا۔ نہ بھاوئی ۔ خودی چنگا نہیں لگدا۔اچھا معلوم نہیں ہوتا ۔ صلاحی ۔صفت کرنا ۔ رنگ سیو ۔ پریم سے ۔ کوڑا ۔جھوٹھ ۔ واٹ راستہ ۔ وٹاو ۔ راہگیر ۔ مسافر ۔ (2)آکھن ۔ کہنے کو کیلئے ۔ سچ۔ سچائی اپنا کر ۔ کھوٹا ۔ناجائز ۔ پت۔ عزت ۔ کیتڑے ۔کتنے ہی ۔ بیشمار ۔ بوجھ ۔ سمجھ ۔ (3) کھوٹی راس۔ وہ سرمایہ جو سوداگری میں کام نہ آئے ۔ شٹ دھات ۔ سونا ۔ چاندی ۔ تانبہ ۔ جست ۔ کلمی ۔ لوہا۔ سکا ۔پیتل ۔(4) چار درن ۔ چار مذہب ۔ ذاتیں ۔ چھ رس ۔ مٹھا ۔ سلونا ۔ تکھا۔کیلہ ۔ کھٹا ۔ گوڑ ۔ وگاس۔ شگفتگی ۔ خوشباشی ۔ خوش ۔(4) تیری قیمت نہ پوئے ۔ تیرا ثانی کوئی نہیں ۔ چکی تشبیح دی جا سکے ۔ جسکی بابت کہا جا سکے کہ تو اس مانند ہے ۔ ٹھوک وجائے ۔ مکمل تسلی سے ۔ ہاتھ گہرائی ۔(5) جت ۔ جس میں ۔ باد جھگڑا ۔ دکھیا۔ زہر۔ جو دنیاوی دولت کو کہتے ہیں ۔ ساد ۔ لطف ۔ (6) بندھ ۔ پکڑ ۔ گرمت ۔ سبق مرشد ۔ نائے ۔ نام الہٰی سچ۔ حق و حقیقت ۔ (7) اپت عزت ۔ ساتھ ۔ ساتھی ۔ (8) تربھون ۔ تینوں عالم ۔عالموں ۔ تینوں ۔ جہانوں ۔ سنسار ۔
ترجمہ:
بیٹے ۔ رشتہ دار ۔ گھر ۔ زوجہ وغیر کیوجہ سے یہ محبت گرفتار کرنیوالی دنیاوی دولت کی بھوک پیاس جانداروں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔ دولت نے جوانی نے لالچ نے تکبر نے تمام عالم کو لوٹ لیا ہے ۔ اور اس محبت نے مجھے بھی لوٹ لیا ہے جس نے کل عالم کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ اور زور پار ہی ہے ۔ اے میرے پیارے خدا میں تیرے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں ۔ مجھے تیرے سیوا اور کسی سے پیار نہیں ۔ جب تو مجھے پیارا لگتا ہے تو اس سے مجھے روحانی سکون ملتا ہے ۔۔ کلام مرشد کے ذریعے صبر اپنانے کے نام الہٰی کی صفت صلاح کرؤ ۔ اس عالم میں جو آیا ہے ۔ اُس نے چلے جانا ہے ۔ جو دکھائی دیتا ہے اس نے مٹ جانا ہے اسکا جھوٹا پیار نہ گرؤ دیکھ ۔ انسان ایک مسافر ہے مسافری کے بعد یہاں سے رحصت ہو جائیگای ۔(2) کہنے کو تو بیشمار کہتے ہیں مگر مرشد کے بغیر سمجھ نہیں آتی ۔ اگر الہٰی نام مل جائے مراد سچ حق و حقیقت کی سمجھ آجائے اور الہٰی صفت صلاح ہو جائے اور جو انسان الہٰی عشق سے محفوظ ہو جائے ۔ اسے یہ دو عالموں میں عزت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔ کوئی بذات خود نہ نیک ہے نہ بد جوا ے خدا تیری خوشنودی میں ہے جس سے تیری خوشنودی حاصل ہے وہی نیک ہے ۔(3) مرشد شرن سے خواہشات سے نجات یا ارادی سے ہی خلاصی ملتی ہے اور خودی پسند جھوٹا اور کھوٹا سرمایہ جمع کرتا ہے ۔ سب انسان خدائی بندے ہیں ۔ مگر بادشاہی سکے کی مانند جو آٹھ دھاتوں کی آمیزش سے بنتا ہے گھر جائز تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح جو انسان مرشد کے سبق کے مطابق زندگی کے لئے صراط مسقیم اپنا کر اسے کلام کے مطابق سنوار لیتا ہے۔ سچا یار بنا لیتا ہے ۔ اسے آزمائشی خدا اُسکی آزمائش کرکے اسے قبول کر لیتا ہے ۔(4) میں نے تمام عالم کی آزمائش کرکے دیکھ لی ہے ۔ اے خدا مجھے تیرا کوئی ثانی دکھائی نہیں دیتا ۔ بیان کر نے سے تیرا اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ جو انسان تجھ سے سچ و حقیقت برابر پیار کرتے ہیں ۔ عزت پاتے ہیں ۔ سبق مرشد سے تیری صفت صلاح کی جاسکتی ہے ۔ مگر تیرا ثانی کی تلاش میں کچھ کہنا نا ممکن ہے ۔(5) جس اس خالی جسم اور قلب میں نام الہٰی اور نام الہٰی کا پیار نہیں اس میں خودی کی بہتات ہوتی ہے ۔ مرشد کے بغیر علم نہیں دوئی دولت کا زہر یلا بدمزہ لطف ہے ۔بغیر روحانی اوصاف کے یہ خالی جسم بیکار ہے اور دنیاوی دولت کا بدمزہ لطف بنارہتا ہے ۔(6) انسان اُمیدوں و خواہشات میں گرفتار پیدا ہوتا ہے ان خواہشات اور اُمیدوں کی گرفت میں زندگی گذارتا ہے ۔ اور بار بار مشکلیں اور عذاب اُٹھاتا ہے ۔ اور گناہوں بھری زندگی کی وجہ سے ان بد کاریوں میں گرفتار عذاب جھیلتا ہے ۔ اگر سبق مرشد پر عمل کرے اور الہٰی نام کی ریاض کرےتو نجات پا سکتا ہے ۔(7) اے خدا تو آسمان زیر زمین اور تینوں عالموں میں بستا ہے ۔ اور خود ہی الہٰی عشق کے پریم پیار سے خودہی ملا لیتا ہے ۔ سب جگہ بستا ہے جس سے تیری رضا ہے ویسے ہی بچاؤ ۔ اگر سبق مرشد دل میں بس جائے تو نیکنامی اور عزت ہے ۔ اور سبق مرشد سے ہی صفت صلاح سے خودی مٹتی ہے ۔(8) اے خدا تو ہی زمین آسمان اور زیر زمین اور تینوں عالموں میں بستا ہے ۔ بھگتی بخشتا ہے ۔ اور اپنا بخشش کرکے خود ہی اپنے ساتھ ملاتا ہے ۔ اے نانک جس سے رضائے الہٰی ہے ویسا ہوتا ہے تیرا نام نہ بھولوں ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
رام نامِ منُ بیدھِیا اۄرُ کِ کریِ ۄیِچارُ ॥
سبد سُرتِ سُکھُ اوُپجےَ پ٘ربھ راتءُ سُکھ سارُ ॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ راکھُ توُنّ مےَ ہرِ نامُ ادھارُ ॥੧॥
من رے ساچیِ کھسم رجاءِ ॥
جِنِ تنُ منُ ساجِ سیِگارِیا تِسُ سیتیِ لِۄ لاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تنُ بیَسنّترِ ہومیِئےَ اِک رتیِ تولِ کٹاءِ ॥
تنُ منُ سمدھا جے کریِ اندِنُ اگنِ جلاءِ ॥
ہرِ نامےَ تُلِ ن پُجئیِ جے لکھ کوٹیِ کرم کماءِ ॥੨॥
اردھ سریِرُ کٹائیِئےَ سِرِ کرۄتُ دھراءِ ॥
تنُ ہیَمنّچلِ گالیِئےَ بھیِ من تے روگُ ن جاءِ ॥
ہرِ نامےَ تُلِ ن پُجئیِ سبھ ڈِٹھیِ ٹھوکِ ۄجاءِ ॥੩॥
کنّچن کے کوٹ دتُ کریِ بہُ ہیَۄر گیَۄر دانُ ॥
بھوُمِ دانُ گئوُیا گھنھیِ بھیِ انّترِ گربُ گُمانُ ॥
رام نامِ منُ بیدھِیا گُرِ دیِیا سچُ دانُ ॥੪॥
منہٹھ بُدھیِ کیتیِیا کیتے بید بیِچار ॥
کیتے بنّدھن جیِء کے گُرمُکھِ موکھ دُیار ॥
سچہُ اورےَ سبھُ کو اُپرِ سچُ آچارُ ॥੫॥
سبھُ کو اوُچا آکھیِئےَ نیِچُ ن دیِسےَ کوءِ ॥
اِکنےَ بھاںڈے ساجِئےَ اِکُ چاننھُ تِہُ لوءِ ॥
کرمِ مِلےَ سچُ پائیِئےَ دھُرِ بکھس ن میٹےَ کوءِ ॥੬॥
سادھُ مِلےَ سادھوُ جنےَ سنّتوکھُ ۄسےَ گُر بھاءِ ॥
اکتھ کتھا ۄیِچاریِئےَ جے ستِگُر ماہِ سماءِ ॥
پیِ انّم٘رِتُ سنّتوکھِیا درگہِ پیَدھا جاءِ ॥੭॥
گھٹِ گھٹِ ۄاجےَ کِنّگُریِ اندِنُ سبدِ سُبھاءِ ॥
ۄِرلے کءُ سوجھیِ پئیِ گُرمُکھِ منُ سمجھاءِ ॥
نانک نامُ ن ۄیِسرےَ چھوُٹےَ سبدُ کماءِ ॥੮॥੧੪॥
لفظی معنی:
اور ۔ ویچار ۔ اسکے علاوہ خیال ۔ پربھ راتوؤ ۔ الہٰی پیار میں مخسور ۔ سار ۔ بنیاد ۔ ادھا۔آسرا ۔۔ ساچی خصم رضائے ۔ سچی رضآئے ۔ الہٰی ۔ سگاریا۔ سجایا ۔ وینز ۔ آگ ۔ اک رتی تول کٹائے ۔ تھوڑا تھوڑا کرکے کٹائے ۔ سمدھا ۔ لکڑی ۔ اندھ ۔ روز و شب۔ تل نہ پجئی ۔ کے برابرنہ ہوگی ۔ کوٹی ۔کروڑوں ۔ (2) کروت۔ آرا ۔ ہیمنچل ۔ ہمالیے کی برف میں ۔ تل ۔ برابر ۔ ٹھوک بجائے ۔ پوری تحقیق سے ۔ کامل امتحان ۔ (3) کنچن ۔ سونا ۔ کوٹ ۔ قلعہ ۔ دت ۔ دان سخاوت ۔ ہیور۔ گہوڑا ۔ گیور ۔ ہاتھی ۔ بھوم۔ زمین ۔ گھنی ۔ زیادہ ۔ گربھ ۔ تکبر ۔ غرور ۔گھمنڈ ۔ گمان۔ شک ۔ شبد ۔ (4) من ہٹھ ۔ دلی ضد ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ موکھ ۔ نجات ۔ دوآر۔ دروازہ ۔ سچھو۔ سچ سے ۔ اورے ۔ پنچے ۔ سچ آچار۔ سچا چال چلن ۔ اعمال ۔ آچار۔ اعمال ۔ (5) سب کو ۔ ہر ایک کو ۔ بھانڈے ساجیئے ۔پیدا کئے ۔ چاروں طرف تینوں عالموں میں ہے نور وہی ۔ چانن تیہہ لوئے ۔ کرم ۔عنایت ۔ شفقت ۔ رحمت ۔(6) سادھ ۔ پاکدامن ۔ سنتوکھ ۔ سبر ۔ گر بھائے ۔ رحمت مرشد سے ۔ اکتھ کھتا ۔ ناقابل بیان کہانی ۔ پیدھا ۔ خلعت ۔ (7) گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں ۔ وابے ۔ بجتی ہے ۔ کنگری ۔ ساز ۔(8)
ترجمہ:
جس کے دل میں بس جائے (الہٰی) خدا اور کونسی بات رہ گئی ہے جس سے سمجھا جائے ۔ ہوش و کلام سے سکھ پیدا ہوتا ہے الہٰی پیار سکھ کی بنیاد ۔ اور خصوصی سکھ روحانی ہے اے خدا جیسے تیری رضا ہے رکھ مجھے الہٰی نام کا سہھارا ہے۔ ۔ اے دل خدا کی رضا سچی ہے ۔ جس نے یہ روح اور جسم بنا کے اس کو خوبصورت بنایا ہے ۔ اس سے پری کر ۔ اگر ایک رتی پر تول کے برابر کاٹ کاٹ کر آگ میں اس کا حون کر دیا جائے دل و جان کو لکڑی سمجھ کر روز و شب میں جلاؤں ۔ اور ایسے ہی لاکھوں کام زیر علم لاؤں یہ الہٰی نام سچ۔حق وحقیقت کے برابر نہ ہونگے ۔(2) اگر سر پر آرا چلوا کے جسم کے دو حصے کر دے ۔ اگر ہمالیہ کی برف میں گلا دیا جائے ۔ تب بھی ذہنی دردنہ جائیگا ۔ سب آزما کر دیکھ لیا کوئی بھی الہٰی نام کی ریاض کے برابر نہیں ہے ۔(3) اگر ونے کے قلعے دان کر دوں اور بہت سارے گھوڑے زمین اور گاہیں دان دیدوں دل میں اس کا غرور اور تکبر ہو جاتا ہے ۔ جس انسان کو سچے مرشد نے الہٰی نام کی بخشش کی ہے ۔ اُس کے دل میں الہٰی نام مستقل طورپر بس جاتا ہے ۔(4) کتنے ہی ضدی سمجھ کے لوگ نہیں ۔ کتنی ہی کتابوں کے علیحدہ علیحدہ خیال آسائی کرتے ہیں ۔ بیشمار ایسے اعمال ہیں اس انسان کے لئے پا بندیاں ہیں ۔ مگر نجات مرشد ہی دلاتا ہے ۔ مگر سچ اور سچائی سے سب پیچھے ہیں اور سب سے اونچا سچا اخلاق یا اعمال ہے ۔ (5) وہ سب کو اونچا کہتا ہے اورسب کو اونچا کہنا چاہیے کیونکہ اس خدا کی نظر میں کوئی کمینہ نہیں ۔ تمام انسان و جاندار ایک ہی خدا نے پیدا کئے ہیں ۔ اور تینوں عالموں میں اُسی کا نور ہے ۔ کرم و عنایت سے ہی سچی اخلاقی زندگی ملتی ہے ۔ اسکی بخشش جو اسے الہٰی درگاہ سے ملی ہے کوئی مٹا نہیں سکتا ۔(6) پاکدامن خدا رسیدہ ہی پاکدامن خدا سے ملاپ کراتا ہے ۔ اسے مرشد کے پیار سے دل میں صبر بستا ہے ۔اگر سچے مرشد کی تقلید کرے اسکے سبق پر عمل پیرا ہو تو الہٰی کہانی جو ناقابل بیان ہے کی صفت صلاح ہو سکتی ہے اور صفت صلاح کا آب حیات نوش کر نے سے دل میں صبر آتا ہے اور بارگاہ الہٰی میں خلعقتیں ملتی ہیں ۔(7) کلام مرشد کے روز و شب پریم پیار سے ہر دل میں روحانی سنگت ہوتا ہے ۔ خوشی ہوتی ہے مگر یہ سمجھ کیسے ہی آتی ہے ۔ اے نانک نام نہ بھلا کلام پر عمل درآمد سے ہی نجات ملیگی ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
چِتے دِسہِ دھئُلہر بگے بنّک دُیار ॥
کرِ من کھُسیِ اُسارِیا دوُجےَ ہیتِ پِیارِ ॥
انّدرُ کھالیِ پ٘ریم بِنُ ڈھہِ ڈھیریِ تنُ چھارُ ॥੧॥
بھائیِ رے تنُ دھنُ ساتھِ ن ہوءِ ॥
رام نامُ دھنُ نِرملو گُرُ داتِ کرے پ٘ربھُ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رام نامُ دھنُ نِرملو جے دیۄےَ دیۄنھہارُ ॥
آگےَ پوُچھ ن ہوۄئیِ جِسُ بیلیِ گُرُ کرتارُ ॥
آپِ چھڈاۓ چھُٹیِئےَ آپے بکھسنھہارُ ॥੨॥
منمُکھُ جانھےَ آپنھے دھیِیا پوُت سنّجوگُ ॥
ناریِ دیکھِ ۄِگاسیِئہِ نالے ہرکھُ سُ سوگُ ॥
گُرمُکھِ سبدِ رنّگاۄلے اہِنِسِ ہرِ رسُ بھوگُ ॥੩॥
چِتُ چلےَ ۄِتُ جاۄنھو ساکت ڈولِ ڈولاءِ ॥
باہرِ ڈھوُنّڈھِ ۄِگُچیِئےَ گھر مہِ ۄستُ سُتھاءِ ॥
منمُکھِ ہئُمےَ کرِ مُسیِ گُرمُکھِ پلےَ پاءِ ॥੪॥
ساکت نِرگُنھِیارِیا آپنھا موُلُ پچھانھُ ॥
رکتُ بِنّدُ کا اِہُ تنو اگنیِ پاسِ پِرانھُ ॥
پۄنھےَ کےَ ۄسِ دیہُریِ مستکِ سچُ نیِسانھُ ॥੫॥
بہُتا جیِۄنھُ منّگیِئےَ مُیا ن لوڑےَ کوءِ ॥
سُکھ جیِۄنھُ تِسُ آکھیِئےَ جِسُ گُرمُکھِ ۄسِیا سوءِ ॥
نام ۄِہوُنھے کِیا گنھیِ جِسُ ہرِ گُر درسُ ن ہوءِ ॥੬॥
جِءُ سُپنےَ نِسِ بھُلیِئےَ جب لگِ نِد٘را ہوءِ ॥
اِءُ سرپنِ کےَ ۄسِ جیِئڑا انّترِ ہئُمےَ دوءِ ॥
گُرمتِ ہوءِ ۄیِچاریِئےَ سُپنا اِہُ جگُ لوءِ ॥੭॥
اگنِ مرےَ جلُ پائیِئےَ جِءُ بارِک دوُدھےَ ماءِ ॥
بِنُ جل کمل سُ نا تھیِئےَ بِنُ جل میِنُ مراءِ ॥
نانک گُرمُکھِ ہرِ رسِ مِلےَ جیِۄا ہرِ گُنھ گاءِ ॥੮॥੧੫॥
لفظی معنی:
چتے ۔ چتر کار کئے ہوئے ۔ نقش و نگار کئے ہوئے ۔ دھولہہ ۔ محل ۔ بگے ۔ سفید ۔ بتنک ۔ خوبصورت ۔ دوآر ۔ دروازے ۔ اُساریا ۔ بنوایا ۔ دوبے ۔ دوئی ۔ چھار ۔ راکھ ۔ نر ملو ۔ پاک ۔۔ پوچھ ۔ تحقیق ۔پڑتال ۔ بیلی ۔ دوست ۔(2)سنجوگ۔ ملاپ ۔ وگیئہہ۔ خوشی ہوتے ہیں ۔ ہرکھ ۔ خوشی ۔ سوگ ۔ غمی ۔ افسوس ۔ شبد۔ سبق ۔کلام ۔ اہنس ۔ دن ۔رات ۔ روز و شب ۔(3) چت چلے ۔ دل ڈگمگاتا ہے ۔ بھوگ دکھانا ۔ دت۔ دولت ۔ وگوپیئے ۔ ذلیل و خوار ہونا ۔ وست ۔ چیز ۔ مراد نام کی دولت ۔ مسی ۔ دھوکے میں لٹی ۔ منھکھ ۔ خودی پسند ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ مرشد کے ذریعے ۔(4) ساکت ۔ مادہ پرست ۔منکر ۔منافق ۔ نر گنیا ریا۔ بے اوصاف ۔ رکت ۔ خون ۔۔ بند۔ ویرج تجنم۔ تنو۔ جسم ۔ پران پہچان ۔ پون ۔ سانس ۔ مستک ۔پیشانی ۔ نیسان ۔ پروانہ ۔ حکم۔ نشان ۔(5) کیا گنی ۔ کیا سمجھو ۔ (6) بھلیے ۔ بھول جاتے ہیں ۔ نندرا ۔ نید ۔ سر پن۔ سانپنی ۔ دوڑ ۔ دولت ۔ دوسرا برتاؤ ۔ وچاریے ۔سمجیئے ۔ لوئے ۔ لوگ ۔(7) دودھے مائے ۔ماں کا دود ۔ میں ۔مچھلی ۔ رس ۔ لطف ۔(8)
ترجمہ:
اے دل جو یہ محلات جن پر نقش و نگار کیا ہے جو سفید خوبصورت دروازوں سے آراستہ ہے ۔ جو دلی خوشبوں سے تعمیر کیا ہے ۔ جبکہ دوئی دویش سے محبت ہے اور پیار سے دل خالی ہے تو آخر مسمار ہو جائیں گے ۔ اسی طرح جو دل پیار سے خالی ہے آخر اس نے ختم ہوکر مٹی میں مل جائیگا ۔۔ اے بھائی یہ تن و دولت ساتھ نہیں جاتی ۔ الہٰی نام سچ ۔حق و حقیقت جو ایک پاک سرمایہ ہے مگر ملتا اسے ہے جس نے مرشد عنایت کرتا ہے ۔ اورخدا بخشش کرتا ہے ۔ الہٰی نام ہے تو پاک اور مقدس مگر جس نے دینے والا ہے جس سے دیدے ۔ اسکی بوقت عاقبت تحقیقات نہیں ہوتی ۔ جسکا مرشد و خدا ہر دو دوست نہیں ۔ وہ خود ہی کرم و عنایت کرنیوالا ہے اور وہی نجات دہندہ ہے ۔(2) خودی پسند یہ سمجھتا ہے کہ بیٹےاور بیٹیاں کامیل کو اپنے سمجھتا ہے ۔ زوجہ کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔ کبھی خوش ہوتا ہے اور کبھی غمی میں ڈوب جاتا ہے ۔کلام مرشد کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہنے سے روحانی سکون پاتے ہیں ۔ الہٰی نام کا سکون ہی شب روز انکی خوراک ہے ۔(3) جب دولت جاتی ہے تو دل ڈگمگاتا ہے ۔ مادہ پرست خدا کو اور سکھ کو باہر ڈھونڈنے سے ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔الہٰی نام کی دولت تو تمہارے دل میں ہی ہے ۔ خودی پسند خودی کی وجہ سے لٹ گیا اور مرشد کے بتا ئے صراط مستقیم پر چلنے والا یہ دولت حاصل کر لیتا ہے ۔(4) اے بے اوصاف بے وصف مادہ پرست منکر و منافق اپنی حقیقت کی سمجھ کر ۔ تمہارے جسم خون اور تخم سے تیار ہوا ہے ۔ اور آگ میں جلنا کرتے ہیں جبکہ گیانی ہر بنس ماں کے پیٹ کی آگ بتاتے ہیں لہذ رامل ماں کے پیٹ کی آگ زیاہ درست معلوم نہیں ہوتا ہے ۔ لہذا اسکی پہچان کر اور سمجھ ۔ تیرا جسم سانس کے سہارے ہے اور پیشانی پر الہٰی نشان ہے ۔(5) ہر ایک انسان لمبی زندگی کی تمنا کرتا ہے اور کوئی مرنا نہیں چاہتا ۔ مگر اسی کی زندگی پر سکون ہے جو مرشد کے ذریعے اسکے دل میں خدا بستا ہے ۔ اس نام سچ حق و حقیقت سے خالی انسان کو کیا سمجھیں جس سے نہ کبھی مرشد کا دیدار کیا ہے ۔ نہ خدا کا ۔ (6) جیسے رات کے وقت خواب میں انسان کئی طرح کے نظارے دیکھتا ہے اور اسے سچ سمجھتا ہے ۔ اور یہ تب تک سوتا ہے سچ ہوتا ہے ۔ اسی طرح یہ انسان دنیاوی دولت جو ایک سانپ کی مانند ہے اسکی گرفت میں خودی اور ملکیت میں خواب کی مانند گرفتار رہتا ہے ۔ جب سبق مرشد حاصل کرلیتا ہے ۔ تو اسے سمجھ آجاتی ہے کہ زندگی اور یہ عالم ایک خیال اور خواب ہے ۔(7) کواہشات کی آگ الہٰی نام کے پانی سے بجھتی ہے ۔ جیسے بچے کی ماں کے دودھ سے ۔ جیسے گنول پانی کے بغیر اور مچھلی پانی کے بغیر نہیں نہیں زندہ رہ سکتی ۔ ایسے ہی اے نانک مرید مرشد الہٰی لطف الہٰی صفت صلاح سے زندگی پاتا ہے

سِریِراگُ مہلا ੧॥
ڈوُنّگرُ دیکھِ ڈراۄنھو پیئیِئڑےَ ڈریِیاسُ ॥
اوُچءُ پربتُ گاکھڑو نا پئُڑیِ تِتُ تاسُ ॥ س
گُرمُکھِ انّترِ جانھِیا گُرِ میلیِ تریِیاسُ ॥੧॥
بھائیِ رے بھۄجلُ بِکھمُ ڈراںءُ ॥
پوُرا ستِگُرُ رسِ مِلےَ گُرُ تارے ہرِ ناءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
چلا چلا جے کریِ جانھا چلنھہارُ ॥
جو آئِیا سو چلسیِ امرُ سُ گُرُ کرتارُ ॥
بھیِ سچا سالاہنھا سچےَ تھانِ پِیارُ ॥੨॥
در گھر مہلا سوہنھے پکے کوٹ ہجار ॥
ہستیِ گھوڑے پاکھرے لسکر لکھ اپار ॥
کِس ہیِ نالِ ن چلِیا کھپِ کھپِ مُۓ اسار ॥੩॥
سُئِنا رُپا سنّچیِئےَ مالُ جالُ جنّجالُ ॥
سبھ جگ مہِ دوہیِ پھیریِئےَ بِنُ ناۄےَ سِرِ کالُ ॥
پِنّڈُ پڑےَ جیِءُ کھیلسیِ بدپھیَلیِ کِیا ہالُ ॥੪॥
پُتا دیکھِ ۄِگسیِئےَ ناریِ سیج بھتار ॥
چویا چنّدنُ لائیِئےَ کاپڑُ روُپُ سیِگارُ ॥
کھیہوُ کھیہ رلائیِئےَ چھوڈِ چلےَ گھر بارُ ॥੫॥
مہر ملوُک کہائیِئےَ راجا راءُ کِ کھانُ ॥
چئُدھریِ راءُ سدائیِئےَ جلِ بلیِئےَ ابھِمان ॥
منمُکھِ نامُ ۄِسارِیا جِءُ ڈۄِ ددھا کانُ ॥੬॥
ہئُمےَ کرِ کرِ جائِسیِ جو آئِیا جگ ماہِ ॥
سبھُ جگُ کاجل کوٹھڑیِ تنُ منُ دیہ سُیاہِ ॥
گُرِ راکھے سے نِرملے سبدِ نِۄاریِ بھاہِ ॥੭॥
نانک تریِئےَ سچِ نامِ سِرِ ساہا پاتِساہُ ॥
مےَ ہرِ نامُ ن ۄیِسرےَ ہرِ نامُ رتنُ ۄیساہُ ॥
منمُکھ بھئُجلِ پچِ مُۓ گُرمُکھِ ترے اتھاہُ ॥੮॥੧੬॥
لفظی معنی:
دونگر۔پہاڑ ۔ پیئڑے ۔پیکے ۔ یعنی اس عالم میں ۔ گاکھڑؤ ۔مشکل ۔ تت ۔ اس میں ۔ تاس ۔ اسکی ۔۔ بھوجل ۔ سمندر ۔ دنیاوی سمندر ۔ دکھم۔ مشکل ۔ دشوار ۔رست ۔لطف ۔ ۔ امر ۔ داومی ۔ سچے تھان سچے مقام ۔(2) کوٹ ۔ قلعے ۔ہستی۔ہاتھی۔ پاکھرے ۔ کاٹھیا۔ اسار۔ بے سمجھ ۔(3) سنچیئے ۔ اکھٹا کرنا ۔دوہی ۔ ڈھنڈو ۔ منادی ۔ سسر۔ سر پر ۔ پنڈ ۔ جسم ۔ بدن ۔ بد فیلی ۔ بد اعمال ۔ بدکاری ۔ گناہ ۔(4) وگسیئے۔ خوش ہونا ۔چوا۔ عطر ۔ خوشبو دار تیل ۔ کھیہہ ۔ خاک ۔مٹی ۔ گھر بار ۔ گھریلو سامان ۔(5) محر۔ چودھری سردار ۔ ملوک ۔ بادشاہ ۔ راؤ ۔ راجہ ۔ ڈو ۔ آگ ۔ دھدا ۔ جلا ۔ کان ۔ کانا ۔ (6) بھاہے ۔ آگ ۔(7) ویسا ہو ۔ دولت۔ کاجل ۔ کالخ ۔ دھوآں سیاسی ۔ (7) سر ہان ۔ پاتشاہ شہنشاہ ۔ اتھاہ ۔ لامحمدود ۔ (8)
ترجمہ:
انسان خوفناک پہاڑ دیکھ کر خوف زدہ ہے ۔ یہ پہاڑ اتنے اونچے اوردشوار گذار ہیں نہ اس پر چڑھنے کے لئے کوئی زینہ ہے اگر مرشد سے ملاپ ہو جائے تو اس پر چڑھنے کا طریقہ بتاتا ہے ۔ اس سے الہٰی ملاپ جو اسکے اندر بستا ہے ہو جاتا ہے ۔ انسان کو کامل انسان بننے کے لئے اور اس منزل کو حآصل کرنا ایک دشوار گذار اونچے پہاڑ پر چڑھنے کی مترادف ہے ۔ لہذا اس منزل اور نشانہ حاصل کرینے لئے مرشد کے سبق سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ ۔ اے بھائی یہ دنیاوی خوفناک سمندر سے پار ہونا نہایت مشکل ہے ۔ البتہ اگر کامل مرشد اگر رحمت وشفقت سے ملجائے تو مرشد اسے نام سچ ۔حق وحقیقت سے نواز کر کامیابی بخش دیتا ہے ۔۔ اگر میں ہر وقت یا درکھوں کہ اس عالم سے چلے جانا ہے ۔ اور یہ سمجھ لوں کہ سارے عالم نے ہی رخصت ہونا ہے ۔ اور اس عالم میں جو پیدا ہو گیا آخر اس نے مرنا ہے ۔ صرف خدا ہی مرشد روحانی موت سے تیری اور لا فناہ ہے ۔ تو سچے تھان مراد صحبت پاکدامناں ہیں اسکی صفت صلاح کرنی چاہیے ۔(2) ہزاروں خوبصورت دروازوں والے محلات قلعے پختہ ہزاروں قلعےہزاروں فوجیں اور خوبصورت زینوں اور کاٹھیوں والے گھوڑے اور ہاتھی۔کسی کام نہ آئے ۔ کسی کے ساتھ نہیں گئے اور ذلیل و خوار ہوئے اور روحانی موت ہوئی ۔ (3) سونا چاندی زر و دولت اکھٹی کرنی اک پھندہ ہے ۔ اگر عالم میں اس دولت و ثروت کی شہرت کے لئے منادی ہو جائے تب بھی نام سچ۔حق و حقیقت کے بغیر روحانی موت برپر موجود ہے ۔ جب زندگی کی کھیل ختم ہو جاتی ہے۔ تو یہ جسم مٹی میں مل جاتا ہے ۔ تب بد اعمال ذلیل و خوار اور بد حال ہوتا ہے ۔(4) باپ بیٹے کو دیکھ کر خوش ہے خاوند بیوی دیکھ کر پھولتا نہیں سماتا ۔ عطر لگاتا ہے چندن لگاتا ہے اور پوشش و پوشاک سے سجاتا ہے شنگار کرتا ہے ۔ مگر آخر گھر بار چھوڑ کر رحلت کرجاتا ہے اور خاک میں مل جاتا ہے ۔(5) سردار ۔ بادشاہ ۔راجہ راؤ یا خان چودھری یا رائزادہ کہلاتے ہیں اور تکبر و غرور میں جلتے ہیں ۔ خود پسند اس جلے ہوئے کانے کی مانند ہے ۔ نام کو بھلا کر ۔(6) جو بھی اس عالم میں پیدا ہوا ہے اپنی عظمت اور بالادستی بتاتےبتائے رحلت کر جاتا ہے ۔ یہ عالم ایک کاجل کی کوٹھڑی ہے ۔ جو اس میں ملوت ہو جاتا ہے اسکا دل و جان پر سیاہ داغ پڑ جاتے ہیں ۔ جنکو کلام مرشد کے ذریعے مرشد نے خواہشات کی آگ سے بچا دیا وہ اس میں رہتے ہوئے بیداغ رہتے ہیں ۔(7) اے نانک جو بادشاہوں کے بادشاہ شنہشاہ عالم ہے ۔ اسکے سچے نام کو اپناتے ہیں کامیابیاں پاتے ہیں ۔ مجھے الہٰی نام نہ بھولے الہٰی نام رتن حقیقی دولت ہے ۔ خودی پسند اس عالم میں جودجہد کرتےہوئے روحانی موت مر جاتے ہیں ۔ اور مرشد کی صحبت و قربت میں رہنے والے اس دنیاوی زہریلی دنیا میں کامیابیاں پاتے ہیں ۔ اور ان گناہوں بھری ہواؤں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੨॥
مُکامُ کرِ گھرِ بیَسنھا نِت چلنھےَ کیِ دھوکھ ॥
مُکامُ تا پرُ جانھیِئےَ جا رہےَ نِہچلُ لوک ॥੧॥
دُنیِیا کیَسِ مُکامے ॥
کرِ سِدکُ کرنھیِ کھرچُ بادھہُ لاگِ رہُ نامے ॥੧॥ رہاءُ ॥
جوگیِ ت آسنھُ کرِ بہےَ مُلا بہےَ مُکامِ ॥
پنّڈِت ۄکھانھہِ پوتھیِیا سِدھ بہہِ دیۄ ستھانِ ॥੨॥
سُر سِدھ گنھ گنّدھرب مُنِ جن سیکھ پیِر سلار ॥
درِ کوُچ کوُچا کرِ گۓ اۄرے بھِ چلنھہار ॥੩॥
سُلتان کھان ملوُک اُمرے گۓ کرِ کرِ کوُچُ ॥
گھڑیِ مُہتِ کِ چلنھا دِل سمجھُ توُنّ بھِ پہوُچُ ॥੪॥
سبداہ ماہِ ۄکھانھیِئےَ ۄِرلا ت بوُجھےَ کوءِ ॥
نانکُ ۄکھانھےَ بینتیِ جلِ تھلِ مہیِئلِ سوءِ ॥੫॥
الاہُ الکھُ اگنّمُ کادرُ کرنھہارُ کریِمُ ॥
سبھ دُنیِ آۄنھ جاۄنھیِ مُکامُ ایکُ رہیِمُ ॥੬॥
مُکامُ تِس نو آکھیِئےَ جِسُ سِسِ ن ہوۄیِ لیکھُ ॥
اسمانُ دھرتیِ چلسیِ مُکامُ اوہیِ ایکُ ॥੭॥
دِن رۄِ چلےَ نِسِ سسِ چلےَ تارِکا لکھ پلوءِ ॥
مُکامُ اوہیِ ایکُ ہےَ نانکا سچُ بُگوءِ ॥੮॥੧੭॥
مہلے پہِلے ستارہ اسٹپدیِیا ॥
سِریِراگُ مہلا ੩ گھرُ ੧ اسٹپدیِیا
لفظی معنی:
گندھرب۔ فرشتوں کے سنگیت کار ۔گانے والے ۔ سلار ۔ سردار ۔ در کوچ کوچا۔ کوچ در کوچ ۔ اورے بھے۔ اسکے علاوہ بھی ۔(3) ملوک ۔بادشاہ ۔ اُمرے ۔ امرا۔ مہت ۔ تھوڑے سے وقفے کے لئے ۔ پہوچ۔ پہچنا ۔ (4) شبداہ ماہے ۔ زبانی باتوں سے ۔ دکھانے بیان کرتے ہیں ۔ محیل ۔ خلا ۔(5) اگم ۔جہاں تک انسانی رسائی نا ممکن ہے ۔ قادر ۔ قدرت کا ملک مالک ۔ کریم ۔ کرم و عنایت کرنوالا ۔ مقام ۔ ٹھکانہ ۔ رسم ۔رحمت کرنیوالا ۔ (6) سیس ۔ سیس ۔ سر یو ۔ لیکھ ۔ حساب ۔ اسمان ۔ دھرتی ۔چلسی ۔ زمین و زمین وآسمان ۔ مٹ جائیں گے ۔(7) رو۔ سورج ۔ سس ۔ چاند۔ نس۔ رات ۔ پلوئے ۔ چھپ ۔ جائیں گے ۔ بگوئے ۔ کہھ ۔
ترجمہ:
یہ دنیا دائمی طور پر مستقل ٹھکانہ نہیں ہے ۔ ہر وقت موت کا اندیشہ اس جہان میں چلے جانے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ اسے اس عالم کو دائمی اور مستقل خیال نہ کرؤ ۔ اس لئےیہ انسان کے لئے دائمی مستقل ٹھکانہ نہیں ۔۔ یہ کیسے مستقل ٹھکانہ ہو سکتا ہے ۔ یقین کرکے نیک اعمال کا زندگی سفر کے لئے سرمایا اکھٹا کرؤ اور الہٰی نام سچ ۔حق حقیقت اپناؤ ۔ جوگی آسن جما کے بیٹھتا ہے اور ساہیں فقیر تکیئے میں اپنا ڈیرہ لگاتا ہے ۔ پنڈت دھار ملک اور مذہبی گرشھتوں کی کتھانیں سناتا ہے ۔ اور سدھ شیوجی کے مندروں میں بیٹھتا ہے ۔(2) دیوتے اور کامل یوگی فرشتوں کے خادم اور سنگیت کا ر ۔ رشی اولیے ۔ شیخ پیر اور سردار ۔ سب اس دنیا سے چلے گئے اور باقی چلنے والے ہیں ۔(3) بادشاہ ۔خان ۔راجے۔امیر و زیر (اپنا اپنا) یہاں سے چلے گئے ۔ اے دل سمجھ لے کہ گھڑی پل بعد تو نے بھی چلے جانا ہے ۔ پہنچ جاتا ہے ۔(4) سہنے کو تو سب کہہ دیتے ہیں مگر بوجھتا ہے کوئی ۔ سمجھتا ہے کوئی ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ زمین ،آسمان اور خلا میں ہے وہی ۔(5) اللہ تعالٰی ۔ بیشمار ناممکن ہے جس تک رسائی ۔ قادر ہے کارساز کرتا رہے کرم و عنایت کرنیوالا ہے ۔ سارا عالم آنا جاتا ہے ۔ مستقل و دائم رحمان الرحیم ہے ۔(6) مستقل قائم دائم اسے ہی کہتے ہیں جو لا فناہ واکال ہے ۔ یہ نہ زمین ہو نہ آسمان ہوگا بس واحد خدا ہوگا ۔(7) نہ دن رہے گا نہ سورج رہے گا نہ چاند ہوگا ۔ نہ رات ہوگی تارے بھی نہ رہیں گے ۔ اے نانک سچ کہہ رہے گا صرف واحد خدا


ستِگُر پ٘رسادِ ॥
گُرمُکھِ ک٘رِپا کرے بھگتِ کیِجےَ بِنُ گُر بھگتِ ن ہوءِ ॥
آپےَ آپُ مِلاۓ بوُجھےَ تا نِرملُ ہوۄےَ کوءِ ॥
ہرِ جیِءُ سچا سچیِ بانھیِ سبدِ مِلاۄا ہوءِ ॥੧॥
بھائیِ رے بھگتِہیِنھُ کاہے جگِ آئِیا ॥
پوُرے گُر کیِ سیۄ ن کیِنیِ بِرتھا جنمُ گۄائِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپے ہرِ جگجیِۄنُ داتا آپے بکھسِ مِلاۓ ॥
جیِء جنّتاے کِیا ۄیچارے کِیا کو آکھِ سُنھاۓ ॥
گُرمُکھِ آپے دے ۄڈِیائیِ آپے سیۄ کراۓ ॥੨॥
دیکھِ کُٹنّبُ موہِ لوبھانھا چلدِیا نالِ ن جائیِ ॥
ستِگُرُ سیۄِ گُنھ نِدھانُ پائِیا تِس کیِ کیِم ن پائیِ ॥
پ٘ربھُ سکھا ہرِ جیِءُ میرا انّتے ہوءِ سکھائیِ ॥੩॥
پیئیِئڑےَ جگجیِۄنُ داتا منمُکھِ پتِ گۄائیِ ॥
بِنُ ستِگُر کو مگُ ن جانھےَ انّدھے ٹھئُر ن کائیِ ॥
ہرِ سُکھداتا منِ نہیِ ۄسِیا انّتِ گئِیا پچھُتائیِ ॥੪॥
پیئیِئڑےَ جگجیِۄنُ داتا گُرمتِ منّنِ ۄسائِیا ॥
اندِنُ بھگتِ کرہِ دِنُ راتیِ ہئُمےَ موہُ چُکائِیا ॥
جِسُ سِءُ راتا تیَسو ہوۄےَ سچے سچِ سمائِیا ॥੫॥
آپے ندرِ کرے بھاءُ لاۓ گُر سبدیِ بیِچارِ ॥
ستِگُرُ سیۄِئےَ سہجُ اوُپجےَ ہئُمےَ ت٘رِسنا مارِ ॥
ہرِ گُنھداتا سد منِ ۄسےَ سچُ رکھِیا اُر دھارِ ॥੬॥
پ٘ربھُ میرا سدا نِرملا منِ نِرملِ پائِیا جاءِ ॥
نامُ نِدھانُ ہرِ منِ ۄسےَ ہئُمےَ دُکھُ سبھُ جاءِ ॥
ستِگُرِ سبدُ سُنھائِیا ہءُ سد بلِہارےَ جاءُ ॥੭॥
آپنھےَ منِ چِتِ کہےَ کہاۓ بِنُ گُر آپُ ن جائیِ ॥
ہرِ جیِءُ بھگتِ ۄچھلُ سُکھداتا کرِ کِرپا منّنِ ۄسائیِ ॥
نانک سوبھا سُرتِ دےءِ پ٘ربھُ آپے گُرمُکھِ دے ۄڈِیائیِ ॥੮॥੧॥੧੮॥
لفظی معنی:
گورمکھ۔ مرید مرشد۔ حضوریہ مرشد ۔ آپ ۔ خود ۔ بوجہے ۔ سمجھ لینا ۔ سچا ۔دائمی۔شبد۔کلام ۔ کلمہ ۔ جگ ۔ عالم ۔ برتھا ۔ بیفائدہ ۔ بیکار ۔ جگیحون۔ عالم کی زندگی ۔ بخش۔ کرم و عنایت ۔(2) سیو خدمت ۔ گن ندھان۔ اوصاف کا خزانہ ۔(3) پیڑے ۔ اس دنیا میں ۔ منھکھ ۔ خودارادی ۔ خودی پسند ۔ پت ۔ آبرو۔ عزت ۔ مگ ۔ راستہ ۔ ٹھور ۔ٹھکانہ ۔(4) اندن۔ ہرروز ۔ گریہہ ۔ کرتے ہیں ۔ سچ ۔ حقیقت ۔ (5) بھاؤ ۔ پریم پیار ۔ ویچار ۔ خیال ۔ سمجھنا ۔ سیویئے خدمتگاری ۔ سہج۔ روحانی سکون ۔ سد۔ ہمیشہ ۔ اردھار۔ دل میں بسانا ۔ (6) من نرمل ۔ پاک دل ۔ سب ۔ سارا ۔ ستگر ۔سچامرشد۔ (7) چت۔ دل۔من ۔ آپ خوئش ۔ بھگت ۔وچھل ۔عاشقان و عابدان ۔ کو پیار کرنیوالا۔
ترجمہ:
مرشد کی کرم و عنایت الہٰی رحمت سے ریاضت و عبادت ہو سکتی ہے ۔ بغیر مرشد ریاضت نہیں ہو سکتی ۔ خدا سچا ہے اسکا کلام سچا ہے ۔ جب انسان ذہن نشین ہونا سمجھ جاتا ہے اسکی زندگی پاکدامن ہو جاتی ہے کلام سے ملاپ ہوتا ہے ۔۔ اے بھائی ریاضت الہٰی کے بغیر اسکا اس عالم میں پیدا ہونا بے فائدہ ہے ۔ کامل مرشد کی خدمت کے بغیر زندگی بیکار گذر جاتی ہے ۔ ۔ خدا خود ہی زندگی بخشنے والا خدا خودہی اپنے رحم و کرم سے ساتھ ملاتا ہے ۔ اور نہ ان جانداروں میں کونسی طاقت ہے اور کیا کہہ سکتے ہیں اور کیسے سنائیں ۔ خدا خود ہی مرشد کے ذریعے عظمت و حشمت عنایت کرتا ہے ۔ اور خود ہی خدمتگاری اور عبادت وریاضت کراتا ہے ۔(2) انسان اپنے پرپوار قبیلہ اور خاندان کو دیکھ کر خوش ہوتاہے جوبوقت آخرت ساتھ نہیں جاتا ۔ سچے مرشد کی خدمت سے اوصاف کا خزانہ ملا جسکی قیمت کا اندازہ اور صلہ نہیں دے سکتے ۔ خدا میرا ساتھی ہے ۔ جو بوقت آخر مدد گار ہے ۔(3) اس عالم میں زندگیاں بخشنے والے داتار خدا کو بھلا کر خودی پسند اپنی عزت گنواتا ہے ۔ سچے مرشد کے بغیر کوئی زندگی کا راستہ نہیں جانتا ۔ اور عقل کے اندھے کو کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا ۔ سکھ دینے خدا دل میں نہیں بسایا اس لئے بوقت آخرت پچھتاتا ہے ۔(4) اس عالم میں سبق مرشد سے دلمیں بسایا اور روز و شب الہٰی عبادت و ریاضت کی اور خودی اور دنیاوی محبت مٹائی ۔ جس سے پیار کیا ویسا ہوا ۔ اور اُسی کے پیار میں تک گیا ۔(5)جس پر نگاہ شفقت خدا کرتا ہے اسے اپنا پیار پیدا کرتا ہے اور اس انسان کو کلام مرشد کے ذریعے اسکی وچار کرتا ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت سے سکون ملتا ہے اور خودی اور خواہشات مٹتی ہیں ۔ اوصاف دینے والا خدا دل میں بستا ہے ۔ اور اسے اپنے دل میں لکاتا ہے ۔(6) خدا پا ک ہے اور پاک دل سے ہی اس سے ملا جا سکتا ہے ۔ اگر اوصاف کا خزانہ نام الہٰی سچ حق وحقیقت دل میں بس جائے تو خودی اور عذاب مٹ جاتے ہیں ۔ میں اس پر قربان ہوں جس سچے مرشد نے الہٰی صفت صلاح کا کلام سنایا ہے ۔ (7) اگر کوئی اپنے دل میں سوچے اور کہے کہ میں اپنے دل سے خودی مٹا دی ہے ۔ اور دوسروں سے کہا ئے مرشد کے بغیر خودی ختم نہیں ہوتی ۔ خدا عابدوں کا پیارا سکھ دینے والا ہے ۔ جس انسان پر کرم و عنایت کرتا ہے اسکے دل میں بستا ہے ۔ اے نانک شہرت ، ہوش و عقلمندی خود بخود دیتا ہے اور مرشد کے ذریعے عظمت عنایت کرتا ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
ہئُمےَ کرم کماۄدے جمڈنّڈُ لگےَ تِن آءِ ॥
جِ ستِگُرُ سیۄنِ سے اُبرے ہرِ سیتیِ لِۄ لاءِ ॥੧॥
من رے گُرمُکھِ نامُ دھِیاءِ ॥
دھُرِ پوُربِ کرتےَ لِکھِیا تِنا گُرمتِ نامِ سماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ۄِنھُ ستِگُر پرتیِتِ ن آۄئیِ نامِ ن لاگو بھاءُ ॥
سُپنےَ سُکھُ ن پاۄئیِ دُکھ مہِ سۄےَ سماءِ ॥੨॥
جے ہرِ ہرِ کیِچےَ بہُتُ لوچیِئےَ کِرتُ ن میٹِیا جاءِ ॥
ہرِ کا بھانھا بھگتیِ منّنِیا سے بھگت پۓ درِ تھاءِ ॥੩॥
گُرُ سبدُ دِڑاۄےَ رنّگ سِءُ بِنُ کِرپا لئِیا نا جاءِ ॥
جے سءُ انّم٘رِتُ نیِریِئےَ بھیِ بِکھُ پھلُ لاگےَ دھاءِ ॥੪॥
سے جن سچے نِرملے جِن ستِگُر نالِ پِیارُ ॥
ستِگُر کا بھانھا کماۄدے بِکھُ ہئُمےَ تجِ ۄِکارُ ॥੫॥
منہٹھِ کِتےَ اُپاءِ ن چھوُٹیِئےَ سِم٘رِتِ ساست٘ر سودھہُ جاءِ ॥
مِلِ سنّگتِ سادھوُ اُبرے گُر کا سبدُ کماءِ ॥੬॥
ہرِ کا نامُ نِدھانُ ہےَ جِسُ انّتُ ن پاراۄارُ ॥
گُرمُکھِ سیئیِ سوہدے جِن کِرپا کرے کرتارُ ॥੭॥
نانک داتا ایکُ ہےَ دوُجا ائُرُ ن کوءِ ॥
گُر پرسادیِ پائیِئےَ کرمِ پراپتِ ہوءِ ॥੮॥੨॥੧੯॥
لفظی معنی:
جسم ڈنڈ۔ جسم کی سزا ۔ کرم ۔ اعمال ۔ سیون ۔ خدمت ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ مرشد انصاری ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ دھر۔ الہٰی درگاہ سے ۔ پورب پہلے سے ۔ کرتے ۔کرنیوالے نے کرتا ۔ سمائے ،ملجائے۔پرتیت۔اعتبار، یقین ۔ شردھا ۔ بھاؤ پریم ۔ (2) سوے ۔سوتا ہے ۔ لوچیئے ۔خواہش کریں ۔ کرت ۔ اعمال ۔ بھانا ۔رضائے الہٰی ۔ تھائے ۔ ٹھکانے۔ دڑاولے پکا کرائے ۔ رتگ ۔پریم ۔کرپا مہربانی ۔ نیر یئے ۔ آبپاشی ۔(4) نرملے ۔پاک ۔ بھاتا گماودلے۔ رضا پر کاربند رہتا ۔ وکار ۔بدکار ۔ گناہ ۔(5) من ہٹھ ۔دلی ضد ۔ اُپائے ۔کوشش ۔ سودھو ۔ وچار کر ؤ۔ سادھو مرشد ۔(6) جس سے اپنے آپ کو پاکدامن بنالیا ۔ ندھان ۔فرانہ ۔(7) گر پر ساد۔ رحمت مرشد ۔ کرم بخشش ۔(8)
ترجمہ:
جو انسان خودی اور تکبر کرتے ہیں انہیں فرشتہ موت سزا دیتا ہے ۔ جو سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں بچ جاتے ہیں۔خدا سے پریم پیار کرنے سے ۔ اے دل مرشد کے وسیلے سے الہٰی نام میں دھیان لگا ۔ پہلے سے جو اعمالنامے میں کرتا رنے تحریر کیا ہے وہ سبق مرشد سے نام میں دھیان لگاتے ہیں ۔۔ بغیر سچے مرشد ایمان ویقین نہیں ہوتا نہ نام سے پیار اور پریم پیدا ہوتا ہے ۔ خواب میں بھی سکھ نہیں ملتا عذاب میں ہی سوتا اور دھیان رہتا ہے ۔(2) اگر خدا خدا کرکے خواہشات بڑھائیں تاہم کئے اعمال مٹ نہیں سکتے ۔ بھگت الہٰی رضا قبول کرتے ہیں ۔ لہذا انہیں الہٰی در پر ٹھکانہ ملتا ہے ۔(3) مرشد پریم سے کلام پکا کراتا ہے ۔ مگر بغیر کرم و عنایت حاصل نہیں ہوسکتا ۔ خواہ آب حیات سے آبپاشی کیجائے تب بھی زہریلے پھل دوڑ کرلگتے ہیں۔غرض یہ کہ نتیجہ برا نکلتا ہے ۔(4) وہی انسان سچے اور پاک ہیں جنکا سچے مرشد سے پیار ہے ۔ جو سچے مرشد کی رضا کے کاربند ہیں عمل کرتے ہیں خودی اور بد کاریوں کو چھوڑتے ہیں جو ایک زہر ہے ۔(5) دلی ضد سے کئے کاموںسے نجات نہیں ملتی ۔ سمریتوں اور شاشتروں کو توجہ اور غور و خوض سے مطالعہ کرکے دیکھ لو ۔ سادھوؤں کی صحبت و قربت سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ کلام مرشد پر عمل کرکے ۔(6) خدا کا نام ایسا خزانہ ہے جسکا شمار نا ممکن ہے وہی مرید مرشد خوشحال زندگی گذارتے ہیں جن پرخدا کی رحمت ہے ۔ (7) اے نانک نعمتیں بخشنے والا واحد خدا ہے ۔ رحمت مرشد اور کرم و عنایت سے ملتی ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
پنّکھیِ بِرکھِ سُہاۄڑا سچُ چُگےَ گُر بھاءِ ॥
ہرِ رسُ پیِۄےَ سہجِ رہےَ اُڈےَ ن آۄےَ جاءِ ॥
نِج گھرِ ۄاسا پائِیا ہرِ ہرِ نامِ سماءِ ॥੧॥
من رے گُر کیِ کار کماءِ ॥
گُر کےَ بھانھےَ جے چلہِ تا اندِنُ راچہِ ہرِ ناءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پنّکھیِ بِرکھ سُہاۄڑے اوُڈہِ چہُ دِسِ جاہِ ॥
جیتا اوُڈہِ دُکھ گھنھے نِت داجھہِ تےَ بِللاہِ ॥
بِنُ گُر مہلُ ن جاپئیِ نا انّم٘رِت پھل پاہِ ॥੨॥
گُرمُکھِ ب٘رہمُ ہریِیاۄلا ساچےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
ساکھا تیِنِ نِۄاریِیا ایک سبدِ لِۄ لاءِ ॥
انّم٘رِت پھلُ ہرِ ایکُ ہےَ آپے دےءِ کھۄاءِ ॥੩॥
منمُکھ اوُبھے سُکِ گۓ نا پھلُ تِنّنا چھاءُ ॥
تِنّنا پاسِ ن بیَسیِئےَ اونا گھرُ ن گِراءُ ॥
کٹیِئہِ تےَ نِت جالیِئہِ اونا سبدُ ن ناءُ ॥੪॥
ہُکمے کرم کماۄنھے پئِئےَ کِرتِ پھِراءُ ॥
ہُکمے درسنُ دیکھنھا جہ بھیجہِ تہ جاءُ ॥
ہُکمے ہرِ ہرِ منِ ۄسےَ ہُکمے سچِ سماءُ ॥੫॥
ہُکمُ ن جانھہِ بپُڑے بھوُلے پھِرہِ گۄار ॥
منہٹھِ کرم کماۄدے نِت نِت ہوہِ کھُیارُ ॥
انّترِ ساںتِ ن آۄئیِ نا سچِ لگےَ پِیارُ ॥੬॥
گُرمُکھیِیا مُہ سوہنھے گُر کےَ ہیتِ پِیارِ ॥
سچیِ بھگتیِ سچِ رتے درِ سچےَ سچِیار ॥
آۓ سے پرۄانھُ ہےَ سبھ کُل کا کرہِ اُدھارُ ॥੭॥
سبھ ندریِ کرم کماۄدے ندریِ باہرِ ن کوءِ ॥
جیَسیِ ندرِ کرِ دیکھےَ سچا تیَسا ہیِ کو ہوءِ ॥
نانک نامِ ۄڈائیِیا کرمِ پراپتِ ہوءِ ॥੮॥੩॥੨੦॥
لفظی معنی:
پنکھی۔ پرندے ۔ برکھ ۔ شجر ۔ درخت ۔ سچ۔ حق ۔ دائمی ۔ گربھائے ۔ مرشد کو پیارا ۔ سہج ۔روحانی سکون ۔ اُڈے نہ بھٹکتا نہیں ۔ نج گھر ۔ اپنی حقیقت ذات خود (ذہن نشین) آوے جائے۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ نام ۔حسن اخلاق۔ نیکنامی ۔ سچا یار ۔صراط مستقیم ۔۔ کمائے ۔ اعمال بنائے ۔ راپے۔ اپنائے ۔ بھانے رضا ۔ اندن ۔ ہر وز ۔ چوہ دس ۔ چاروں طرف ۔ گھنے ۔ زیادہ ۔ واجیہہ ۔ جلتے ہیں ۔ حسد کرنا ۔ (2) گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ حضوریہ مرشد ۔ سنبھائے ۔ پریم میں ۔ ساکھا ۔ شاخ ۔ تیس ساکھا ۔ تین اوصاف ۔ رجو۔ ستو۔ تمحو ۔ شبد کلام ۔ انمرت ۔پھل ) روحانی زندگی دینے والا پھل مراد نام ۔(3) منھکھ خودی پسند ۔ اُبھے ۔کھڑے کھڑے ۔ گراؤں ۔ گاؤں ۔ جالییہہ ۔ جلائے جائیں ۔(4) حکمے ۔ حکم میں ۔پیئے کرت۔ کئے ہوئے اعمال کے نتیجے میں ۔ کرت ۔ اعمال ۔ پھراؤ ۔نتیجہ ۔ بھٹکن ۔ سماؤ ۔ ملتا ۔ ملوث ہونا ۔سچ۔ سچائی ۔دائمی ۔(5) بیڑے ۔ بچارے ۔ گوار۔ جاہل۔ نادان ۔ بے عقل ۔ (6) ندری نظر ۔ سچا۔ حق ۔خدا ۔ کرم ۔ عنایت ۔بخشش ۔ (7) ہیت پیار
ترجمہ:
جو روح اس انسانی جسم میں جو ایک شجر کی مانند ہے بیٹھ کر قائم دائم خدا کے نام سچ حق وحقیقت کا دانہ چنتا ہے ۔ اور مرشد کا پیار اور پریمی ہو جاتا ہے ۔ حقیقت پسندی کرنی ہے وہ الہٰی لطف لیتی ہے سکون پاتی ہے ۔ تناسخ اور بھٹکن میں نہیں پڑتا ۔ وہ خوئش حقیقت میں بستی ہے اور خدا کے نام میں دھیان لگااتا ہے ۔۔ لالے دل مرشد کے بتائے راستے پر گامزن رہ ۔ جو مرشد کی رضا میں رہتا ہے وہ ہر روز الہٰی نام میں دھیان لگاتا ہے ۔ جو انسان اور ارواح دنیاوی دولت کے لئے چاروں طرف بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ وہ جتنی زیادہ کوشش کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ عذاب اٹھاتے ہیں ۔ اور ہر روز خواہشات کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور آہ و زاری کرتے ہیں ۔ بغیر مرشد کے الہٰی ٹھکانے کا پتہ نہیں چلتا ۔ نہ روحانی زندگی دینے والا نام ( جو ایک قیمتی میوہ ہے) پاتے ہیں ۔(2) مرید مرشد اللہ تعالٰی سے یکسوئی پا لیتا ہے ۔ ویسا ہو جاتا ہے اسے ایک سر سبز شجر خیال کرؤ ۔ جو ہمیشہ خدا سے یکسورہتا ہے اور روحانی سکون پذیر رہتا ہے ۔ اور اُسے دنیاوی دولت کی تینوں شاخوں یا اسکی تین صورتوں رجو۔سنو۔ تموں پر عبورحاصل ہوتا ہے اور اسے صرف الہٰی نام کا پھل لگتا ہے جو دائمی ہے وہ خدا خود کھلاتا ہے ۔(3) خود پسندی ۔ من کے پیروکار اس اُکھڑے درخت کی مانند ( کھڑسک) سوکھ جاتے ہیں ۔ نہ ان کو پھل آتا ہے نہ چھاؤں ہوتی ہے ۔ انکی صحبت نہ کرؤ نہ وہ پھل دیتے ہیں نہ سایہ ۔ نہ ان کا کوئی گھر گھاٹ ہوتا ہے ۔ مراد نہ وہ الہٰی ریاض کرتے ہیں نہ خدمت ہمیشہ ایسے درخت کو کاٹتے اور جلاتے ہیں ۔ یعی وہ ہمیشہ عذاب پاتے ہیں ۔ نہ انکے پاس کلام ہے نہ نام ۔(4) انسان الہٰی فرمان میں ہی اعمال کرتا ہے ۔ اور وہ اعمالمانے کے مطابق تناسخ میں پڑے رہتے ہیں ۔ اور الہٰی فرمان کے مطابق ہی الہٰی دیدار حاصل ہوجاتا ہے ۔ جہاں بھیجتا ہے جاتا ہے ۔ الہٰی حکم سے ہی سچ و حق یقنی حقیقت بستی ہے اور لہٰی فرمان ۔(5)دل میں بستا ہے خدا ۔ جاہل نادان حکم نہیں سمجھتا سمجہتے ۔ اپنی من کی ضد سے کام کرتے ہیں اور ہر روز ذلیل ہوتے ہیں ۔ نہ انہیں سکون ملتا ہے نہ الہٰی پیار ۔ (6) مریدان مرشد شرطرو ہوتے ہیں کیونکہ انکے دل میں مرشد کے لئے اتشاہ اور پیار ہے ۔ وہ سچی عبادت ور ریاضت میں مشغول رہتے ہیں اور سچے الہٰی دربار میں خوش (اخلاقی) اخلاق مانے جاتے ہیں ۔ ان کا اس عالم میں پیدا ہونا اور زندگی گذارنا مقبول ہوجاتا ہے اور سارے خاندان اور قبیلے کو بھی مقبولیت اور کامیابی میلتی ہے ۔(7) سارے انسان اور جاندار الہٰی نظر میں کام کرتے ہیں اور اسکی نظر سے کوئی اوجھل نہیں ۔ جس پر جیسی نظر ہوتی ہے وہ ویسا ہوجاتا ہے ۔ الہٰی نام میں بھاری عظمتیں ہیں (مگر کرم و عناایت سے ملتی ہیں ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
گُرمُکھِ نامُ دھِیائیِئےَ منمُکھِ بوُجھ ن پاءِ ॥
گُرمُکھِ سدا مُکھ اوُجلے ہرِ ۄسِیا منِ آءِ ॥
سہجے ہیِ سُکھُ پائیِئےَ سہجے رہےَ سماءِ ॥੧॥
بھائیِ رے داسنِ داسا ہوءِ ॥
گُر کیِ سیۄا گُر بھگتِ ہےَ ۄِرلا پاۓ کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سدا سُہاگُ سُہاگنھیِ جے چلہِ ستِگُر بھاءِ ॥
سدا پِرُ نِہچلُ پائیِئےَ نا اوہُ مرےَ ن جاءِ ॥
سبدِ مِلیِ نا ۄیِچھُڑےَ پِر کےَ انّکِ سماءِ ॥੨॥
ہرِ نِرملُ اتِ اوُجلا بِنُ گُر پائِیا ن جاءِ ॥
پاٹھُ پڑےَ نا بوُجھئیِ بھیکھیِ بھرمِ بھُلاءِ ॥
گُرمتیِ ہرِ سدا پائِیا رسنا ہرِ رسُ سماءِ ॥੩॥
مائِیا موہُ چُکائِیا گُرمتیِ سہجِ سُبھاءِ ॥
بِنُ سبدےَ جگُ دُکھیِیا پھِرےَ منمُکھا نو گئیِ کھاءِ ॥
سبدے نامُ دھِیائیِئےَ سبدے سچِ سماءِ ॥੪॥
مائِیا بھوُلے سِدھ پھِرہِ سمادھِ ن لگےَ سُبھاءِ ॥
تیِنے لوء ۄِیاپت ہےَ ادھِک رہیِ لپٹاءِ ॥
بِنُ گُر مُکتِ ن پائیِئےَ نا دُبِدھا مائِیا جاءِ ॥੫॥
مائِیا کِس نو آکھیِئےَ کِیا مائِیا کرم کماءِ ॥
دُکھِ سُکھِ ایہُ جیِءُ بدھُ ہےَ ہئُمےَ کرم کماءِ ॥
بِنُ سبدےَ بھرمُ ن چوُکئیِ نا ۄِچہُ ہئُمےَ جاءِ ॥੬॥
بِنُ پ٘ریِتیِ بھگتِ ن ہوۄئیِ بِنُ سبدےَ تھاءِ ن پاءِ ॥
سبدے ہئُمےَ ماریِئےَ مائِیا کا بھ٘رمُ جاءِ ॥
نامُ پدارتھُ پائیِئےَ گُرمُکھِ سہجِ سُبھاءِ ॥੭॥
بِنُ گُر گُنھ ن جاپنیِ بِنُ گُنھ بھگتِ ن ہوءِ ॥
بھگتِ ۄچھلُ ہرِ منِ ۄسِیا سہجِ مِلِیا پ٘ربھُ سوءِ ॥
نانک سبدے ہرِ سالاہیِئےَ کرمِ پراپتِ ہوءِ ॥੮॥੪॥੨੧॥
لفظی معنی:
گورمکھ۔ مرید مرشد ۔ دھیایئے۔ دھیان لگائیں ۔ منھکھ ۔ اپنے من کےمطابق کام کرنیوالا ۔ خودی پسند ۔ بوجھ ۔ سمجھ ۔ اجلے ۔ روشن ۔ صاف ۔ سہجے ۔ آہستہ ۔۔ سہاگ ۔ خاوند ۔ بھائے ۔ پریم ۔ نہچل ۔ قائم ۔ شبد۔ کلام ۔ اتن۔ گود ۔(2) لو جھئی سمجھنا ۔ بھرم۔ شک ۔ شبہ ۔ سماے ۔دھیان ۔ لگانا ۔(3) سچ ۔ حقیقت ۔ سدھ۔ کامل ۔یوگی ۔ نو۔ لوگ ۔ عالم ۔ دیاپت۔ دباؤ بنانا ۔ ادھک ۔ زیادہ ۔ مکت ۔ نجات ۔ دبدھا۔ دوچتی ۔ دوہری سوج ۔(5) دکھ ۔ عذاب ۔ تکلیف ۔ بدھ ۔ گرفتار ۔(6) تھائے ۔ٹھکانہ ۔ تھائے نہ پائے ۔ غیر مقبول ۔ (7) جاپنی ۔ سمجھ نہ آتا ۔ بھگت وچھل۔ بھگتی سے پیار کرنیوالا کرم۔ عنایت بخشش ۔(8)
ترجمہ:
مرشد کے وسیلے سے نام میں دھیان لگاؤ خودی پسند اسکو سمجھتا نہیں ۔ مریدان مرشد ہمیشہ سر خرور رہتے ہیں ۔ کوینکہ خدا انکے دل میں بستا ہے ۔ روحانی سکون سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔۔ اے بھائی خادموں کا خادم ہوجا ۔ یہی مرشد کی خدمت ہے ۔ یہی بھگتی یا ریاضت عبادت ہے ۔ جو کسی کو ہی ملتی ہے وہ ہمیشہ خوش قسمت ہیں جو مرشد کے پریم میں زندگی کے سفر پر گامزن ہونے نہیں ۔ انہیں الہٰی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اُسکا خدا سے ملاپ ہو جاتا ہے جو دائمی ہے لافناہ ہے جو انسان کلام سے ملاپ حاصل کر لیتا ہے ۔ اسے خدااپنی پناہ اور گود میں لے لیتا ۔ (2) خدا ایک پاک ہستی ہے جس سے مرشد کے بغیر ملا پ نہیں ہو سکتا ۔ جو صرف کرنے اور پڑھنے سے حقیقت یعنی حق وسچ وحقیقت اور خدا کی سمجھ نہیں آتی ۔ مذہبی لباس اور بناوٹوں سے بھٹکنوں میں پڑکر انسان کج روی اختیار کر لیتا ہے سبق مرشد میں دھیان اور عمل سے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے اور زبان الہٰی لطف سے مسرور رہتی ہے ۔(3) دنیاوی دولت کی محبت ختم رکے روحانی سکون سبق مرشد سے ملتا ہے کلام مرشد کے بغیر انسان عذاب پاتا ہے خودی پسند دولت کی ہوس اپنی گرفت میں جکڑ رکھتی ہے ۔ کلام مرشد کے وسیلے سے ہی عبادت دریاضت ہو سکتی ہے اور خدا سے ملاپ ہو سکتا ہے ۔ (4) خدا رسیدہ یوگی بھی دولت کی ہوش میں بھول کر کج روی ہوکر بھٹکتے پھرتے ہیں ان کا خدا میں دھیان نہیں لگتا ۔ یہ دنیاوی دولت نے تینوں عالموں میں اپنا غلبہ پا رکھا ہے ۔ بغیر مرشد اس سے نجات حاصل نہیں ہوتی ۔ نہ مایا کی دوچتی مٹتی ہے ۔ (5) یہ مایا کیسے کہتے ہیں اور کیا کرتی ہے ۔ یہ انسان دکھ اور سکھ میں گرفتار ہے ۔ اورخودی میں کام کرتا ہے ۔ کلام کے بغیر شک و شہبات نہیں مٹتے نہ خودی مٹتی ہے ۔ (6) پریم پیار کے بغیر عبادت نہیں ہوتی اور کلام کے بغیر الہٰی پیار پیدا نہیں ہوتا ۔ کلام سے خودی متتی ہے اور دولت کا شک و شبہ مٹتا ہے ۔ مرشد کے وسیلے سے قدرتی طور پر نام کی نعمت ملتی ہے ۔(7) بغیر مرشد اوصاف کی سمجھ اور پتہ نہیں چلتا اور وصفوکے بغیر بھگتی یا عبادت نہیں ہو سکتی ۔ خدا بھگتوں سے پیار کرنیوالا ہے۔وہ دل میں بسایا جس سے قدرتی اس سے ملاپ ہو ۔ اے نانک کلام مرشد سے ہی الہٰی صفت صلاح ہو سکتی ہے ۔ جو اسکی رحمت و کرم و عنایت سے ملتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
مائِیا موہُ میرےَ پ٘ربھِ کیِنا آپے بھرمِ بھُلاۓ ॥
منمُکھِ کرم کرہِ نہیِ بوُجھہِ بِرتھا جنمُ گۄاۓ ॥
گُربانھیِ اِسُ جگ مہِ چاننھُ کرمِ ۄسےَ منِ آۓ ॥੧॥
من رے نامُ جپہُ سُکھُ ہوءِ ॥
گُرُ پوُرا سالاہیِئےَ سہجِ مِلےَ پ٘ربھُ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھرمُ گئِیا بھءُ بھاگِیا ہرِ چرنھیِ چِتُ لاءِ ॥
گُرمُکھِ سبدُ کمائیِئےَ ہرِ ۄسےَ منِ آءِ ॥
گھرِ مہلِ سچِ سمائیِئےَ جمکالُ ن سکےَ کھاءِ ॥੨॥
ناما چھیِبا کبیِرُ جد਼لاہا پوُرے گُر تے گتِ پائیِ ॥
ب٘رہم کے بیتے سبدُ پچھانھہِ ہئُمےَ جاتِ گۄائیِ ॥
سُرِ نر تِن کیِ بانھیِ گاۄہِ کوءِ ن میٹےَ بھائیِ ॥੩॥
دیَت پُتُ کرم دھرم کِچھُ سنّجم ن پڑےَ دوُجا بھاءُ ن جانھےَ ॥
ستِگُرُ بھیٹِئےَ نِرملُ ہویا اندِنُ نامُ ۄکھانھےَ ॥
ایکو پڑےَ ایکو ناءُ بوُجھےَ دوُجا اۄرُ ن جانھےَ ॥੪॥
کھٹُ درسن جوگیِ سنّنِیاسیِ بِنُ گُر بھرمِ بھُلاۓ ॥
ستِگُرُ سیۄہِ تا گتِ مِتِ پاۄہِ ہرِ جیِءُ منّنِ ۄساۓ ॥
سچیِ بانھیِ سِءُ چِتُ لاگےَ آۄنھُ جانھُ رہاۓ ॥੫॥
پنّڈِت پڑِ پڑِ ۄادُ ۄکھانھہِ بِنُ گُر بھرمِ بھُلاۓ ॥
لکھ چئُراسیِہ پھیرُ پئِیا بِنُ سبدےَ مُکتِ ن پاۓ ॥
جا ناءُ چیتےَ تا گتِ پاۓ جا ستِگُرُ میلِ مِلاۓ ॥੬॥
ستسنّگتِ مہِ نامُ ہرِ اُپجےَ جا ستِگُرُ مِلےَ سُبھاۓ ॥
منُ تنُ ارپیِ آپُ گۄائیِ چلا ستِگُر بھاۓ ॥
سد بلِہاریِ گُر اپُنے ۄِٹہُ جِ ہرِ سیتیِ چِتُ لاۓ ॥੭॥
سو ب٘راہمنھُ ب٘رہمُ جو بِنّدے ہرِ سیتیِ رنّگِ راتا ॥
پ٘ربھُ نِکٹِ ۄسےَ سبھنا گھٹ انّترِ گُرمُکھِ ۄِرلےَ جاتا ॥
نانک نامُ مِلےَ ۄڈِیائیِ گُر کےَ سبدِ پچھاتا ॥੮॥੫॥੨੨॥
لفظی معنی:
پربھ ۔ خدا ۔ اللہ تعالیٰ ۔ بھرم ۔ شک شبہ ۔ بھلائے ۔ گمراہ کئے ۔ منھکھ ۔ خودی پسند ۔ کرم ۔ اعمال ۔کرم ۔ بخشش۔ عنایت ۔۔ مالا جیئے۔صفت صلاح کرنی ۔ سہج۔روحانی سکون ۔۔ بھرم ۔ بھٹکن۔ پگ ورڈ ۔ محل ۔ ٹھکانہ ۔ سچ ۔ حقیقت ۔ اجمکال ۔موت ۔(2) گت۔ بلندر روحانی رتبہ ۔ بیتے ۔ جاننے والے ۔ برہم کے بیتے ۔خدا کی پہچان کرنیوالا ۔ شبد ۔کلام ۔ پچھا نیہہ۔ پہچان کرتے ہیں ۔(3) دیت ۔ ہندو مذہب ۔میں ۔منکر و منافق ۔ کو انسان کی بجائے ۔ لا مذہب کہتے تھے ۔ سنبجم ضبط۔ بھاؤ۔ پیار ۔ بھیٹئے ۔ ملاپ کرنا ۔(4) کھٹ درشن ۔ چھ بھیکہہ۔ چھ بھیکہہ یا ویس ۔ جوگی ۔ سنیاسی ۔ جنگم ۔ سر یوڑے ۔ دیراگی ۔ بودھی ۔ مت۔ مریا دا ۔شریعت ۔ ختم کرنا ۔ (5)پنڈت ۔ عالم فاضل ۔ وکھا نیہہ۔ بیان کرتے ہیں ۔ داد۔ بحث جھگڑا ۔ مکت ۔نجات ۔(6) اُپجے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ میل ملاپ ۔ سبھائے ۔ پریم سے ۔ آپ ۔ خود ۔ گوائی ۔ دور کرنا ۔ بھائے پیار۔ ولہو۔ اس پرسے ۔ (7) ہندے ۔پہچان ۔ رنگ ۔پریم ۔پیار ۔(8)
ترجمہ:
دولت کی محبت خدا کی خود پیدا کردہ ہے ۔ اور خود ہی کج روی لگاتا ہے ۔ خودی پسند کج روی کرتا ہے مگر اسکو سمجھتا نہیں ۔ اور زندگی بے فائدہ گذر جاتی ہے ۔ کلام مرشد اس عالم میں ایک روشنی ہے ۔ اور الہٰی کرم و عنایت سے دل میں بستی ہے ۔۔ اے دل نام کی ریاض کر اس سے سکھ ملتا ہے ۔ کامل مرشد کی شاباش کہو ۔جس سے روحانی سکون اور الہٰی ملاپ ہوتا ہے ۔۔ پائے الہٰی میں مراد دل لگانے سے شک و شہبات مٹتے ہیں اور خوف دور ہوتا ہے ۔ کلام مرشد زیر کار لانے اور اس پر عمل کرنے سے خدا دل میں بستا ہے ۔ من اپنے ذہن میں مقیم اور سکون پاتا ہے ۔ اور روحانی موت اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔(2) نامدیو درزی اور کبیر بنکر جو اس وقت کی شودر یا کیمسن ذات کہلاتے تھے کامل مرشد کے مرید ہوتے ہوئے بلند روحانی رتبہ حاصل ہوا ۔ خدا کو جاننے پہچاننے والے اور کلام کو سمجھنے والے تھے اور خدا سے رشتہ اور اشتراکیت پیدا کی اس سے خودی اور ذات مٹا کر بلند ردفانیت کے علمیر دار ہوئے ۔ فرشتے اور انسان ان کا کلام گاتے ہیں ۔اور کوئی مٹا نہیں سکتا ۔(3) ایک منافق و منکر کا لڑکا جو مذہبی اعمال واصول بھی نہیں جانتا تھا نہ فرض شناش تھا نہ کسی مذہبی کتاب کا مطالعہ کیا تھا سچے مرشد کے ملاپ سے پاک ہوکر جبکہ نہ اُسکا اپنے پر ضبط تھا نہ دل میں دویش تھی روز و شب الہٰی نام کی ریاض کرنے لگا اور وحدت کا قائل ہو کر دل میں بسا لیا اور کسی دوسرے کو اس کا چانی نہ سمجھتاتھا ۔(4) چھ درشنوں بھہکوں والے جوگی سنیاسی و یراگی جنگم سر یوڑے ناتھ یودھی وغیرہ وغیرہ بغیر مرشد کے کلام کے کج روی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔اور دنیاوی دولت میں مشتفرق رہتے ہیں ۔ نجات حآصل نہیں کر پاتے ۔ سچے مرشد کی خدمت اور الہٰی نام دل میں بسا کر ہی روحانیت اور زندگی گذارنے کا حقیقی سلیقہ و طریقہ زندگی حاصل ہوتا ہے پتہ چلتا ہے اور سچے کلام کو دل میں بسانے سے تناسخ مٹتا ہے ۔(5) عالم پڑھ پڑھ کر بحث مباحثے کرتے ہیں ۔ بغیر مرشد بھٹکن ختم نہیں ہوتی ۔ اور چوراسی لاکھ جنموں کا آواگون بنا رہتا ہے ۔ جب مرشد انسان کو پائے مرشد سے انسان کو ملاتا ہے تو وہ الہٰی ریاض کرتا ہے جس سے اسے روحآنیت حاصل ہوتا ہے ۔(6) جب پیار سے مرشد ملتا ہے تو پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں الہٰی نام ظہور میں آتا ہے تو میں اپنی دل و جان اسکے حوالے کردوں ۔ تو خودی مٹ جاتی ہےاور سچے مرشد کے پیار بسر اوقات کروں ۔ جو مرشد مجھے خدا سے ملاتا ہے اسکے مرتے جاؤں ۔ (7)بر اہمن وہ ہے جس نے خدا کی پہچان کی ہے ۔ اور خدا سے اسکا پیار ہے ۔ خدا سب کے دلوں میں اور ساتھ بستا ہے ۔ مگر کوئی ہی مرشد کی وساطت سے سمجھتا ہے ۔ اے نانک کلام مرشد پر عمل سے خدا کی پہچان اور رسائی ہوتی ہے نام اور عظمت و حشمت و شہرت پاتے ہیں۔۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
سہجےَ نو سبھ لوچدیِ بِنُ گُر پائِیا ن جاءِ ॥
پڑِ پڑِ پنّڈِت جوتکیِ تھکے بھیکھیِ بھرمِ بھُلاۓ ॥
گُر بھیٹے سہجُ پائِیا آپنھیِ کِرپا کرے رجاءِ ॥੧॥
بھائیِ رے گُر بِنُ سہجُ ن ہوءِ ॥
سبدےَ ہیِ تے سہجُ اوُپجےَ ہرِ پائِیا سچُ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سہجے گاۄِیا تھاءِ پۄےَ بِنُ سہجےَ کتھنیِ بادِ ॥
سہجے ہیِ بھگتِ اوُپجےَ سہجِ پِیارِ بیَراگِ ॥
سہجےَ ہیِ تے سُکھ ساتِ ہوءِ بِنُ سہجےَ جیِۄنھُ بادِ ॥੨॥
سہجِ سالاہیِ سدا سدا سہجِ سمادھِ لگاءِ ॥
سہجے ہیِ گُنھ اوُچرےَ بھگتِ کرے لِۄ لاءِ ॥
سبدے ہیِ ہرِ منِ ۄسےَ رسنا ہرِ رسُ کھاءِ ॥੩॥
سہجے کالُ ۄِڈارِیا سچ سرنھائیِ پاءِ ॥
سہجے ہرِ نامُ منِ ۄسِیا سچیِ کار کماءِ ॥
سے ۄڈبھاگیِ جِنیِ پائِیا سہجے رہے سماءِ ॥੪॥
مائِیا ۄِچِ سہجُ ن اوُپجےَ مائِیا دوُجےَ بھاءِ ॥
منمُکھ کرم کماۄنھے ہئُمےَ جلےَ جلاءِ ॥
جنّمنھُ مرنھُ ن چوُکئیِ پھِرِ پھِرِ آۄےَ جاءِ ॥੫॥
ت٘رِہُ گُنھا ۄِچِ سہجُ ن پائیِئےَ ت٘رےَ گُنھ بھرمِ بھُلاءِ ॥
پڑیِئےَ گُنھیِئےَ کِیا کتھیِئےَ جا مُنّڈھہُ گھُتھا جاءِ ॥
چئُتھے پد مہِ سہجُ ہےَ گُرمُکھِ پلےَ پاءِ ॥੬॥
نِرگُنھ نامُ نِدھانُ ہےَ سہجے سوجھیِ ہوءِ ॥
گُنھۄنّتیِ سالاہِیا سچے سچیِ سوءِ ॥
بھُلِیا سہجِ مِلائِسیِ سبدِ مِلاۄا ہوءِ ॥੭॥
بِنُ سہجےَ سبھُ انّدھُ ہےَ مائِیا موہُ گُبارُ ॥
سہجے ہیِ سوجھیِ پئیِ سچےَ سبدِ اپارِ ॥
آپے بکھسِ مِلائِئنُ پوُرے گُر کرتارِ ॥੮॥
سہجے ادِسٹُ پچھانھیِئےَ نِربھءُ جوتِ نِرنّکارُ ॥
سبھنا جیِیا کا اِکُ داتا جوتیِ جوتِ مِلاۄنھہارُ ॥
پوُرےَ سبدِ سلاہیِئےَ جِس دا انّتُ ن پاراۄارُ ॥੯॥
گِیانیِیا کا دھنُ نامُ ہےَ سہجِ کرہِ ۄاپارُ ॥
اندِنُ لاہا ہرِ نامُ لیَنِ اکھُٹ بھرے بھنّڈار ॥
نانک توٹِ ن آۄئیِ دیِۓ دیۄنھہارِ ॥੧੦॥੬॥੨੩॥
لفظی معنی:
سہجے ۔ روحآنی سکون ۔ لوچدی ۔ چاہتی ہے ۔ خواہش کرتی ہے ۔ جو تکی ۔ جوتشی ۔ بھیکی بھیس بنانے والے ۔بھیٹے ۔ ملاپ سے ۔۔ شہدے ۔ کلام ۔ اُیجے پیدا ہوتا ہے ۔ سچ حق۔ خدا ۔۔ کتھنی ۔کہنا ۔گاویا۔ صفت صلاح ۔ تھائے بولے قبول ہونا ۔ ۔ یاد ۔جھگڑا ۔ فضول ۔ (2) صلاحی ۔ تو صفت صلاح کر ۔ لو لائے ۔ دھیان لگانا ۔ رستا زبان ۔(3) کال ۔موت ۔ وڈیا ۔ ختم کیا ۔(4) دوجے بھائے ۔دویش ۔ دوئی ۔ دوسروں سے پیار ۔ منھکھ کرم۔ اعمال خود پسنداں ۔ چکی ختم نہیں ہوتے ۔(5) ترنے گن ۔ زندگی کے تین اوصاف ۔ رجو ۔ ستو ۔ تمہو ۔(6) گمتھا ترگننام ۔ تینوں اوصاف زندگی سے بلند تر اوصاف جس سے پرم پد کہے ہیں ۔ سوئے شہرت ۔(7) ملائن اس نے ملا لیے ہیں ۔ اند۔اندھا نابینا ۔ غبار ۔جہایت اندھیرا ۔ کر تارکونیولا ۔(8) سہجے ۔ روحانی سکون ۔ جوت ۔ نور ۔ روشنی ۔ یزنکار۔ بیغرا آکار ۔ وہ جسکا جسمانی پھیلاؤ نہ ہو (9) کریہہ ۔ کرتے ہیں ۔ جو ختم نہ ہو ۔ بھنڈار ۔ خزانہ ۔ دیونہار ۔ دینے والا ۔ (۔0)
ترجمہ:
روحانی سکون تو سب چاہتے ہیں مگر مرشد کے بغیر لاحاصل ہے ۔ جو تشی اور پنڈت پڑہتے ماند پڑگئے ۔ مگر کرم کانڈی چھ بھیکوں والے وہم گمان میں بھولے روحانی و ذہنی سکون نہیں پا سکے رہے ۔ ملاپ مرشد اور رضائے الہٰی سے روحانی سکون ملتا ہے ۔ اسکی کرم و عنایت سے ۔۔ اے برادر مرشد کے بغیر سکون نہیں ۔ کلام مرشد سے ہی سکون پیدا ہوتا ہے اور الہٰی ملاپ سے سچی حقیقی شہرت ۔(!) پرسکون ہوکر صفت صلاح کرنے سے الہٰی دربار میں مقبولیت حاصل ہوتی ہے بغیر سکون کچھ کہنا صرف بحث ہے ۔ سکون سے ہی الہٰی پیارپیدا ہوتا ہے اور سکون میں ہی الہٰی پیار اور پریم پیدا ہوتا ہے ۔ روحانی اور ذہنی سکون سے سکھ ۔ٹھنڈک ملتی ہے۔سکون کے بغیر زندگی ایک لڑائی جھگڑا ہے ۔(2) پرسکون ہوکر ہمیشہ ہمیشہ اپنی عقل و ہوش کو مر کوز کرکے صفت صلاح کرؤ ۔ پرسکون اوصاف گاؤ اور پریم پیار سے اس میں مرکوز ہوجاؤ ۔ کلام سے خدا دل میں بستا ہے ۔ زبان سے اسکا لطف لو ۔(3) سچ کی پناہ اپنا کر پرسکون الہٰی نام دل میں بسا کر سچے اعمال و کردار سے آسانی سے روحانی موت ختم کیجاسکتی ہے ۔ وہ خؤش قسمت ہیں جنکا ملاپ ہوگیا اور روحانی سکون پیدا نہیں ہوتا اور دویش سے پیار کرنے سے خودی پسند کردار سے انسان خودی میں جلتا رہتا ہے اور تناسخ نہیں مٹتا ۔ زندگی کے تینوں اوصاف رجو۔ ستو ۔ تمو میں سکون پیدا نہیں ہوتا ۔(5)تینوں اوصاف کے اہم و گمان میں مبتلا ہوکر بھٹکن میں گج روی اختیار کر لیتا ہے ۔ پڑھنے پڑھانے اور کہنے کا کیا فائدہ جب بنیادی طور پر ہی غلط راستے پر گامزن ہے ۔ اور راستے سے بھٹک گیا ہے ان تینوں اوصاف زندگی سے اوپر بیباک چوتھے بلند اخلاقی و روحانی درجہ کی زندگی میں پہنچ کر دل میں ٹھنڈک و شانت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ حالت جو مرید مرشد دامن میں ڈالتا ہے ۔(6) تینوں اوصاف سے پاک پیلاگ روح یا ذہن یہ ایک نام کا خزانہ ہے ۔ روحانی سکون میں اسکی سمجھ آتی ہے ۔ با وصف انسان ہی خدا کی صفت صلاح کرتے ہیں ۔ گمراہوں کو روحانی سکون اور کلام ملاپ کر دا دیتا ہے ۔(7) بغیر روحانی سکون تمام اندھیرا غبار دنیاوی دولت کی محبت کاگہرا اندھیرا چھا یا رہتا ہے ۔ روحانیی سکون میں سچے کلام سے سمجھ آئی اور کامل مرشد سے اپنی کرم و عنایت سے ملاپ کرایا ۔(8) روحانی سکون میں ہی آنکھوں سے اوجھل بیخوف خدا بلا آکار نورانی پہچان ہوئی ۔ سب کا ہے واحد خدا جو سب کو دینے والا ہے جو انسانی نور کو اپنے نور میں جذب کرنے اور ملانے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے کامل کلام سے صت گرؤجو لا محدود ہے ۔ (9) عالموں کی دولت و سرمایہ یہ نام ہے سچ حق و حقیقت ۔ جو پر سکون اسکی سوداگی کرتے ہیں

سِریِراگُ مہلا ੩॥
ستِگُرِ مِلِئےَ پھیرُ ن پۄےَ جنم مرنھ دُکھُ جاءِ ॥
پوُرےَ سبدِ سبھ سوجھیِ ہوئیِ ہرِ نامےَ رہےَ سماءِ ॥੧॥
من میرے ستِگُر سِءُ چِتُ لاءِ ॥
نِرملُ نامُ سد نۄتنو آپِ ۄسےَ منِ آءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ جیِءُ راکھہُ اپُنیِ سرنھائیِ جِءُ راکھہِ تِءُ رہنھا ॥
گُر کےَ سبدِ جیِۄتُ مرےَ گُرمُکھِ بھۄجلُ ترنھا ॥੨॥
ۄڈےَ بھاگِ ناءُ پائیِئےَ گُرمتِ سبدِ سُہائیِ ॥
آپے منِ ۄسِیا پ٘ربھُ کرتا سہجے رہِیا سمائیِ ॥੩॥
اِکنا منمُکھِ سبدُ ن بھاۄےَ بنّدھنِ بنّدھِ بھۄائِیا ॥
لکھ چئُراسیِہ پھِرِ پھِرِ آۄےَ بِرتھا جنمُ گۄائِیا ॥੪॥
بھگتا منِ آننّدُ ہےَ سچےَ سبدِ رنّگِ راتے ॥
اندِنُ گُنھ گاۄہِ سد نِرمل سہجے نامِ سماتے ॥੫॥
گُرمُکھِ انّم٘رِت بانھیِ بولہِ سبھ آتم رامُ پچھانھیِ ॥
ایکو سیۄنِ ایکُ ارادھہِ گُرمُکھِ اکتھ کہانھیِ ॥੬॥
سچا ساہِبُ سیۄیِئےَ گُرمُکھِ ۄسےَ منِ آءِ ॥
سدا رنّگِ راتے سچ سِءُ اپُنیِ کِرپا کرے مِلاءِ ॥੭॥
آپے کرے کراۓ آپے اِکنا سُتِیا دےءِ جگاءِ ॥
آپے میلِ مِلائِدا نانک سبدِ سماءِ ॥੮॥੭॥੨੪॥
لفظی معنی:
ستگر ۔ سچا مرشد ۔ میلے ۔ ملنے سے پھیر۔ تناسخ ۔ آواگون ۔ شبد۔ کلام ۔ نامے ۔ نام سے ۔۔سیو۔ نال ۔ نوتنو۔ نوجوان ۔ من۔دل ۔۔ ہرجیو ۔اے خدا ۔ جیوت مرئے ۔ دوران حیات موت۔ مراداعمال میں اور اخلاق میں تبدیلی ۔ بھوجل ۔دنیاوی خوفناک سمندر ۔(2) بھاگ تقدیر ۔قسمت ۔ سہائی ۔ مددگار ۔ سہجے ۔سکون سے ۔(3) منھکھ ۔ خودی پسند ۔ بندھ ھن۔ بندشیں ۔پابندیاں ۔ بندھ ۔ گرفت ۔(4) من۔ نقس ۔ شبد ۔کلام ۔ رنگ پریم ۔ اندھ۔ ہر وز ۔(5) انمرت ۔ آب حیات ۔ آتم رام ۔ خدا ۔ سیون ۔ خدمت ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ اکتھ ۔کہانی جو بیان نہ ہو سکے ۔ ناقابل بیان ۔(6) سچا ۔حقیقی ۔ (7) وئے جگائے ۔ بیدار کرکے دیتا ہے ۔ شبد ملائے ۔ کلام سے متاثر کرکے ۔
ترجمہ:
سچے مرشد کے ملاپ سے بھٹکن ختم ہو جاتی ہے ۔ تناسخ نہیں رہتا اور عذاب مٹ جاتا ہے ۔ کامل کلام سے ر قسم کی سمجھ آجاتی ہے ۔اور الہٰی نام میں دھیان لگ جاتا ہے ۔۔ اے دل سچے مرشد سے پریم کر ۔ پاک نام سچ حق وحقیقت ہمیشہ نیا رہتا ہے اور از خود دل میں بس جاتا ہے ۔ اے خدا اپنی پناہ میں رکھو اور جیسے رکھو گے ویسےہی رہنا ہے ۔ کلام مرشد سے دو ران حیات موت ہے ۔ اور مرشد سے دنیاوی کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔(2) خوش قسمتی سے الہٰی نام حاصل ہوتا ہے ۔ سبق مرشد اور کلام مددگار ہے ۔ کار ساز کرتار خدا خود ہی دل میں بس جاتا ہے ۔اور روحانی سکون پاتا ہے ۔(3) ایک خودی پسندوں کو کلام اچھا نہیں لگتا ۔ لہذا بندشوں میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ اور تناسخ میں بیکار زندگی گنوا لیتا ہے ۔ (4) الہٰی پریمیوں کے دل میں تکسین و تسلی رہتی ہے ۔ اور سچے کلام کے تاثر و پریم میں مسرور رہتے ہیں ۔ اور روز و شب صفت صلاح کرتے ہیں اور پاک نام سے روحانی سکون پاتے ہیں ۔(5) مریدان مرشد سب انسانوں میں الہٰی نور کی پہچان کرکے اسکی آب حیات کلام کہتے ہیں ۔ اور واحد کی خدمت دریاضت کرتے ہیں ۔(6) مرشد کے وسیلے سےسچے خدا کی خدمت سے دل میں بس جاتا ہے ۔ خدا ہمیشہ سچے خدا کے پریم و تاثر سے اپنی کرم و عنایت سےاپنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔(7) خدا خود ہی کرتا اور کراتا ہے اور ایک کو خواب غفلت سے بیدار کرکے دیتا ہے ۔ اے نانک آپ ہی کلام مرشد میں ملا کے خدا خو ہی ملا لیتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
ستِگُرِ سیۄِئےَ منُ نِرملا بھۓ پۄِتُ سریِر ॥
منِ آننّدُ سدا سُکھُ پائِیا بھیٹِیا گہِر گنّبھیِرُ ॥
سچیِ سنّگتِ بیَسنھا سچِ نامِ منُ دھیِر ॥੧॥
من رے ستِگُرُ سیۄِ نِسنّگُ ॥
ستِگُرُ سیۄِئےَ ہرِ منِ ۄسےَ لگےَ ن میَلُ پتنّگُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سچےَ سبدِ پتِ اوُپجےَ سچے سچا ناءُ ॥
جِنیِ ہئُمےَ مارِ پچھانھِیا ہءُ تِن بلِہارےَ جاءُ ॥
منمُکھ سچُ ن جانھنیِ تِن ٹھئُر ن کتہوُ تھاءُ ॥੨॥
سچُ کھانھا سچُ پیَننھا سچے ہیِ ۄِچِ ۄاسُ ॥
سدا سچا سالاہنھا سچےَ سبدِ نِۄاسُ ॥
سبھُ آتم رامُ پچھانھِیا گُرمتیِ نِج گھرِ ۄاسُ ॥੩॥
سچُ ۄیکھنھُ سچُ بولنھا تنُ منُ سچا ہوءِ ॥
سچیِ ساکھیِ اُپدیسُ سچُ سچے سچیِ سوءِ ॥
جِنّنیِ سچُ ۄِسارِیا سے دُکھیِۓ چلے روءِ ॥੪॥
ستِگُرُ جِنیِ ن سیۄِئو سے کِتُ آۓ سنّسارِ ॥
جم درِ بدھے ماریِئہِ کوُک ن سُنھےَ پوُکار ॥
بِرتھا جنمُ گۄائِیا مرِ جنّمہِ ۄارو ۄار ॥੫॥
ایہُ جگُ جلتا دیکھِ کےَ بھجِ پۓ ستِگُر سرنھا ॥
ستِگُرِ سچُ دِڑائِیا سدا سچِ سنّجمِ رہنھا ॥
ستِگُر سچا ہےَ بوہِتھا سبدے بھۄجلُ ترنھا ॥੬॥
لکھ چئُراسیِہ پھِردے رہے بِنُ ستِگُر مُکتِ ن ہوئیِ ॥
پڑِ پڑِ پنّڈِت مونیِ تھکے دوُجےَ بھاءِ پتِ کھوئیِ ॥
ستِگُرِ سبدُ سُنھائِیا بِنُ سچے اۄرُ ن کوئیِ ॥੭॥
جو سچےَ لاۓ سے سچِ لگے نِت سچیِ کار کرنّنِ ॥
تِنا نِج گھرِ ۄاسا پائِیا سچےَ مہلِ رہنّنِ ॥
نانک بھگت سُکھیِۓ سدا سچےَ نامِ رچنّنِ ॥੮॥੧੭॥੮॥੨੫॥
لفظی معنی:
سیویئے ۔ خدمت۔ کیجائے ۔ بھیٹیا ۔ ملیا ۔ گنبھیر ۔سنجیدہ ۔ سچی سنگت ۔ حقیقی محبت۔ سچے ساتھی ۔ سچ ۔ حق ۔خدا ۔ دھیر ۔ دھیرج ۔تحمل مزاجی ۔۔ نسنگ ۔ بے پرواہ ۔ نظر انداز ۔ پتنگ ۔ معمولی ۔۔ پت ۔عزت ۔ سچے ناؤں ۔ سچانام ۔سچ پر مبنی نام ۔ سچااخلاق ۔ پچھانیا ۔ سمجھا ۔ پہچان کی ۔ گنہو ۔ کہیں بھی ۔ (2) سچ کھانا ۔ سچ دل میں بسانا ۔ سچے دج ہی داس ۔ اپنے آپ کو سچ اور سچے خدا میں مٹا دینا مراد اس سے یکسو ہاجانا ۔ ایک جوت دوئے مورتی ۔ نج گھر ۔ اپنے ذہن میں سوچنا ۔(3) ساکھی ۔ اپدیش ۔ واعظ ۔ گواہی ۔شہادت ۔ سوئے شہرت روئے ۔ روتے ہوئے ۔(4) کت ۔ کس کام ۔بے فائدہ ۔ سنسار ۔ دنیا ۔ جہان عالم ۔ در ۔ دروازہ ۔ مار یہئہ ۔ سزا دی جاتی ہے ۔ وار وار۔بار بار ۔دوبارہ ۔ (5) بھج بھاگ کر ۔ دڑائیا ۔ پکا کیا ۔ نہ بھولنے والا ۔ سنجم ۔ ضبط ۔ قابو ۔ بوہتھا۔ جہاز ۔(6) مکت نجات ۔ آزادی ۔ موتی ۔ خاموش رہنے والے ۔ ڈوبے بھائے ۔ دوئی دویش سے محبت کرنا ۔ پت ۔ آبرو۔ عزت ۔(7) کرن ۔ کرتے ہیں ۔ محل عالیشان مکان ۔ سچے محل ۔ سچا مکان الہی گھر ۔ رچن ۔ مخمور
ترجمہ:
خدمت مرشد سے دل و جان پاک ہو جاتا ہے ۔ دل میں روحانی خوشی و سکون اور سکھ ملتا ہے اور اس نہایت سنجیدہ خدا سے ملاپ ہوتا ہے ۔ سچے پاکدامن خدا رسیدگان کی محبت و قربت دل میں سچا نام دل میں تحمل پیدا ہوتا ہے ۔۔ اے دل سچے مرشد کی خدمت کر بے لوث اور خواہشات کے بغیر اعماد کیساتھ مرشد کی خدمت سے خدا دل میں بستا ہے اور ذرہ بھر داغ نہیں لگتا ۔ سچے کلام اور سچے نام سے عزت پیدا ہوتی ہے ۔ جنہوں نے خودی مٹا کے خدا کی پہچان کی میں ان پر قربان ہوں ۔ خودی پسند حقیقت نہیں سمجھتا اسے کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا ۔ (2) جنکی روحانی خوراک سچ اور پوشش سچ اور سچے خدا میں ٹھکانہ ہو گیا اور ہمیشہ سچے خدا کی صٖت صلاح اور سچا کلام اور اس پر عمل کیا کاربند ہوئے اُس نے خوئش روح اور خدا کی پہچان کر لی ۔ شناخت کرلی اور سبق مرشد سے ان کی ہوش و سمجھ اپنی روح میں بس جاتی ہے ۔(3) سچی نظر ۔ سچی زبان سے دل و جان سچا ہو جاتا ہے ۔ سچے علم و واعظ سے سچے کی سچی شہرت ہو جاتی ہے ۔ جنہوں نے سچ بھلائیا ۔ عذاب پایا اور عذاب میں روتے ہوئے اس جہاں سے کوچ کیا ۔ (4) ان کا اس جہاں میں آنا بیکار ہو جاتا ہے ۔ اور الہٰی سپاہ انہیں باندھ کر وہاں مارتی ہے جہاں ان کی آہ و زاری کوئی سن سکے زندگی بیکار گئی اور تناسخ میں پڑے رہے ۔(5) جو اس جہان کو بد کاریوں اورگناہوں کی آگ میں جلتا دیکھ کر مرشد کی پناہ میں آگئے ۔ سچے مرشد نے انہیں حقیقت سچ اور اصلیت اپنانے کا درس دیا انکے ذہن میں پختہ کیا اور ہمیشہ سچ اور ضبط میں رہنے کی تلقین کی سچا مرشد ایک سچا جہاز ہے جو اس خوفناک دنیاوی سمندر سے پارلگاتا ہے اپنے کلام سے (6) خواہ کوئی چوراسی لاکھ جوتوں میں بھٹکتا رہے ان کی بغیر مرشد نجات نہیں ہوئی ۔ پنڈت اور رشی منی مذہبی و دھار مک کتابوں کا مطالعہ کرتے کرتے ماند پڑ گئے اور دوئی دویش کی محبت میں ذلیل و خوار ہوئے اور عزت گنوائی سچے مرشد نے کلام سے واضع کر دیا خدا کے بغیر دوسری کوئی ہستی نہیں ۔(7) جہیں سچے خدا نے سچ میں لگایا حق و حقیقت ذہن نشین کی انہوں نے سچ اپنایا اور سچی کار واعمال سر انجام دیتے ہیں اور انہیں اپنے ذہن و روح میں ٹھکانہ مل گیا ۔ اور سچا مقام رہنے کے لئے ملا الہٰی حضور ی ۔ اے نانک الہٰی پریمی ہمیشہ سکھ پاتے ہیں سکھی ہیں اور سچے نام سچ ۔حق و حقیقت میں محفوظ نہیں

سِریِراگُ مہلا ੫॥
جا کءُ مُسکلُ اتِ بنھےَ ڈھوئیِ کوءِ ن دےءِ ॥
لاگوُ ہوۓ دُسمنا ساک بھِ بھجِ کھلے ॥
سبھو بھجےَ آسرا چُکےَ سبھُ اسراءُ ॥
چِتِ آۄےَ اوسُ پارب٘رہمُ لگےَ ن تتیِ ۄاءُ ॥੧॥
ساہِبُ نِتانھِیا کا تانھُ ॥
آءِ ن جائیِ تھِرُ سدا گُر سبدیِ سچُ جانھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جے کو ہوۄےَ دُبلا ننّگ بھُکھ کیِ پیِر ॥
دمڑا پلےَ نا پۄےَ نا کو دیۄےَ دھیِر ॥
سُیارتھُ سُیاءُ ن کو کرے نا کِچھُ ہوۄےَ کاجُ ॥
چِتِ آۄےَ اوسُ پارب٘رہمُ تا نِہچلُ ہوۄےَ راجُ ॥੨॥
جا کءُ چِنّتا بہُتُ بہُتُ دیہیِ ۄِیاپےَ روگُ ॥
گ٘رِستِ کُٹنّبِ پلیٹِیا کدے ہرکھُ کدے سوگُ ॥
گئُنھُ کرے چہُ کُنّٹ کا گھڑیِ ن بیَسنھُ سوءِ ॥
چِتِ آۄےَ اوسُ پارب٘رہمُ تنُ منُ سیِتلُ ہوءِ ॥੩॥
کامِ کرودھِ موہِ ۄسِ کیِیا کِرپن لوبھِ پِیارُ ॥
چارے کِلۄِکھ اُنِ اگھ کیِۓ ہویا اسُر سنّگھارُ ॥
پوتھیِ گیِت کۄِت کِچھُ کدے ن کرنِ دھرِیا ॥
چِتِ آۄےَ اوسُ پارب٘رہمُ تا نِمکھ سِمرت ترِیا ॥੪॥
لفظی معنی:
ڈہوئی ۔ اسرا ۔ مشکل ۔ مصیبت، دشواری ۔ لاگو ۔ مارنے والے ۔ پیچھا کریں۔ بھج کھلے ۔دوڑ گئے ۔ چوکے ختم ہو گئے ۔ اُسراؤ ۔ اسرے ۔سہارے ۔ چت ۔آوے۔ یاد آئے ۔ دل میں بسے ۔۔ آئے نہ جائے ۔دائمی ۔ لافناہ ۔ تھر ۔ مستقل ۔ دبلا ۔ کمزور ۔ پیر ۔ درد ۔ دھیر ۔ حوصلہ ۔ دلاسہ ۔ سو آرتھ ۔ غرض ۔ سوآو ۔ مطلب ۔ نہچل۔ قائم دائم ۔(2) دیہی ۔ بدن ۔جسم۔ دیاپے ۔ زور پائے ۔ گر سست ۔ دنیاداری ۔ ہرکھ ۔ خوشی ۔سوگ۔ افسوس ۔ گون ۔ یا تراکونی ۔ سفر کرنا ۔ سین ۔ بیٹھنا ۔ آرام کرنا ۔ سوئے ۔ اس انسان ۔ (3) کام ۔شہوت۔ موہ ۔ محبت ۔ کرپن۔ کنجوس ۔ لوبھ ۔ لالچ ۔ کل وکھ۔ گناہ ۔ دوش ۔ اکھ ۔گناہ۔چارے کل وکھ ۔ چاروں گناہ دوش۔ مد شراب پینا ۔ سونا چڑانا۔ گرناری گمن۔ گئو براہمن گھات ۔ اسر ۔ راکھش۔ سنگہار ۔قتل ۔ کرن۔ کان ۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کی دیر ۔(4)
ترجمہ:
جسے کوئی مصیبت آجائے اور کوئی اسے سہارا نہ دے ۔ اور دشمن اسکے پھیچے پڑ جائیں اور رشتہ دار بھی ساتھ نہ دیں ۔ تمام سہارے ختم ہو جائیں ۔ اگر اسے خدا یاد آجائے ۔ تو اسے گرم ہوا بھی نقصان نہیں پہنچاتی ۔ یعنی اسکا بال بھر نقصان نہ ہوگا ۔(2) مالک ۔آقا ۔خدا کمزوروں کے لئے ایک طاقت اور سہارا ہے ۔ اور کلام مرشد سے خدا جو فناہ ہے سچ سمجھ ۔ اگر کوئی کمزور ہو اور کنگالی اور بھکھتری کی تکلیف ہو ۔نہ کوئی پائی پیہ پاس ہو ۔نہ کوئی دلاسہ دینے والا ہو اور نہ کوئی شخص غرض و ضرورت پوری کرتا ہو نہ کوئی مطلب پورا ہو نہ کوئی کام ہو سکے ۔ اگر دل میں ہو یاد الہٰی تو بادشاہت کا حکمران ہو جاتا ہے ۔(2) جسے بہت زیادہ فکر ہوں اور بیماریوں سے گھبرا ہو ا ہو ۔ اور دنیاوی جنجال میں گرفتار ہو کبھی غمی ہو کبھی خوشی ۔ چاروں طرف بھٹکتا پھرتا ہو آنکھ جھپکنے کے وقفہ کے لئے بھی آرام مسیر نہ ہو ۔ اگر دل میں ہو یاد خدا دل و جان ٹھنڈک سے شرابور ہوگا ۔(3) اگر کسی انسان کو شہوت غصہ ، اور محبت نے اس پر قابو پا لیا ہو اور کنجوس اور لالچی ہو اور چارؤں بھاری گناہ ۔ شراب پینا ۔ سونا چرانا۔ غیر عورت کی صحبت کرنا گائے اور برہن کو قتل کرنا ۔ کے جرم کا ارتکاب کیا ہو ۔اگر ایسا برے فعلوں کا ارتکاب کیا ہو ۔ کہ اسے ماردینا ہی بہتر ہو کبھی بھی کوئی گرنتھ ،گیت اور نظم وغیرہ کانوں سے نہ سنی ہو ۔ اگر دل میں آجائے یاد خدا تو آنکھ جھپکنے کی دیر کی یاد سے اس خوفناک دنیاوی سمندر سے پار ہو جائیگای ۔ (4)

ساست سِنّم٘رِتِ بید چارِ مُکھاگر بِچرے ॥
تپے تپیِسر جوگیِیا تیِرتھِ گۄنُ کرے ॥
کھٹُ کرما تے دُگُنھے پوُجا کرتا ناءِ ॥
رنّگُ ن لگیِ پارب٘رہم تا سرپر نرکے جاءِ ॥੫॥
راج مِلک سِکداریِیا رس بھوگنھ بِستھار ॥
باگ سُہاۄے سوہنھے چلےَ ہُکمُ اپھار ॥
رنّگ تماسے بہُ بِدھیِ چاءِ لگِ رہِیا ॥
چِتِ ن آئِئو پارب٘رہمُ تا سرپ کیِ جوُنِ گئِیا ॥੬॥
بہُتُ دھناڈھِ اچارۄنّتُ سوبھا نِرمل ریِتِ ॥
مات پِتا سُت بھائیِیا ساجن سنّگِ پریِتِ ॥
لسکر ترکسبنّد بنّد جیِءُ جیِءُ سگلیِ کیِت ॥
چِتِ ن آئِئو پارب٘رہمُ تا کھڑِ رساتلِ دیِت ॥੭॥
کائِیا روگُ ن چھِد٘رُ کِچھُ نا کِچھُ کاڑا سوگُ ॥
مِرتُ ن آۄیِ چِتِ تِسُ اہِنِسِ بھوگےَ بھوگُ ॥
سبھ کِچھُ کیِتونُ آپنھا جیِءِ ن سنّک دھرِیا ॥
چِتِ ن آئِئو پارب٘رہمُ جمکنّکر ۄسِ پرِیا ॥੮॥
کِرپا کرے جِسُ پارب٘رہمُ ہوۄےَ سادھوُ سنّگُ ॥
جِءُ جِءُ اوہُ ۄدھائیِئےَ تِءُ تِءُ ہرِ سِءُ رنّگُ ॥
دُہا سِرِیا کا کھسمُ آپِ اۄرُ ن دوُجا تھاءُ ॥
ستِگُر تُٹھےَ پائِیا نانک سچا ناءُ ॥੯॥੧॥੨੬॥
لفظی معنی:
مکھا گر ۔ زبانی ۔ بچرے ۔ وچار سکے ۔ تیرتھ ۔زیارت گاہ ۔ گھٹ ۔ چھ ۔ سر پر ۔ لازمی ،ضروری ۔ ملک ۔ جائیداد ۔ راج ۔ حکومت ۔ دستھار ۔کھلائ ۔ اپھار ۔ مغرور ۔ چائے ۔۔خوشی ۔(2) دھناڈھ ۔ سرمایہ دار ۔ آچارونت۔ نیک خوش اخلاق ۔ ست ۔بیٹا ۔فرزند ۔ ترکش بند تیروں کے رکھنے کے لئے بھتھا ۔ کھڑ رساتل دبت تو اسے لیجا کر کہرے دوزخ میں ڈالا جائیگا ۔ کایا روگ ۔ جسمانی بیماری ۔ چھدر ۔ زخم ۔ کاڑا۔ فکر ۔غم ۔ مرت ۔ موت ۔ اہنس ۔روز و شب ۔ دن رات ۔ جیئے ۔ دلمیں ۔ستک ۔ شک ۔ شبہ ۔ گنکر ۔ خادم ۔غلام ۔ وس ۔زہر ۔ تٹھے ۔ خوش ۔ رنگ پریم
ترجمہ:
اگر کوئی چاروں دید ۔شاشتر اور سمریتوں کو زبانی بیان کر سکتا ہو ۔ اگر بڑے بڑے جوگیوں اور تپسیا کرنے والے اور زیارت گاہوں کی زیارت کرتا ہو اگر اسکا اللہ تعالیٰ خدا سے اسے پیار نہیں تو لازمی دوزخ جائیگا ۔ (5) اگر کسی کو حکومت حاصل ہو اور جائیدادوں کا مالک اور سردار ہو ۔ اور بیشمار نعمتوں سے سر فراز ہو اور ان کا لطف لیتا ہو ۔ اور اگر خوبصورت پھلدار باغوں کا مالک ہو اور حکم چلاتا ہو مغرور ہوکر دنیا کے کھیل تماشے اور خوشیوں سے مسرت حاصل ہو اگر نہ ہو دل میں یاد خدا تو سانپ بنیگا ۔ سانب کی زندگی ملیگی (6)
اگر کوئی دولتمند ،سرمایہ دار ، خوش اخلاق شہرت حاصل ہو پاک رسم رواج ہوں ۔ماں ،باپ، بیٹوں اور بھائیوں سے بھی پیار ہو اور زرہ بکتر بند فوجیں اسکی جی حضوری کرتی ہو ۔(7) اگر نہیں دل میں یاد خد تو آخر اسے دوزخ میں لیجایا جائیگا ۔ (8) اگر کسے کوئی موذی بیماری نہ ہو اور نہ زخمی ہو اور نہ کسے قسم کا کوئی فکر ہو نہ موت کا فکر ہو اور روز و شب عیش و عشرت میں گذرتا ہو ۔ اور اپنی ملکیت کا کوئی شک شبہ نہ ہو اگر دل میں نہ ہو یاد خدا آخر ظالم فرشتہ موت کے کر مچاریوں کی حراست میں جائیگا (8) جس پر الہٰی رحمت اور کرم عنایت کرے اسے پاکدامن خدا رسیدگان کی صحبت و قربت ملے جتنی صحبت قربت میں اضافہ ہوگا اتنا ہی الہٰی پیار میں اضافہ ہوگا ۔ خدا ہر دو الہٰی محبت اور دنیاوی محبت ہے دونوں کا مالک آپ ہے خدا نہیں اسکے علاوہ کوئی ۔ اے نانک سچا مرشد کی عنایت و شفقت سے خدا کا سچا نام حاصل ہوتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫ گھرُ ੫॥
جانءُ نہیِ بھاۄےَ کۄن باتا ॥
من کھوجِ مارگُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دھِیانیِ دھِیانُ لاۄہِ ॥
گِیانیِ گِیانُ کماۄہِ ॥
پ٘ربھُ کِن ہیِ جاتا ॥੧॥
بھگئُتیِ رہت جُگتا ॥
جوگیِ کہت مُکتا ॥
تپسیِ تپہِ راتا ॥੨॥
مونیِ مونِدھاریِ ॥
سنِیاسیِ ب٘رہمچاریِ ॥
اُداسیِ اُداسِ راتا ॥੩॥
بھگتِ نۄےَ پرکارا ॥
پنّڈِتُ ۄیدُ پُکارا ॥
گِرستیِ گِرستِ دھرماتا ॥੪॥
اِک سبدیِ بہُ روُپِ اۄدھوُتا ॥
کاپڑیِ کئُتے جاگوُتا ॥
اِکِ تیِرتھِ ناتا ॥੫॥
نِرہار ۄرتیِ آپرسا ॥
اِکِ لوُکِ ن دیۄہِ درسا ॥
اِکِ من ہیِ گِیاتا ॥੬॥
گھاٹِ ن کِن ہیِ کہائِیا ॥
سبھ کہتے ہےَ پائِیا ॥
جِسُ میلے سو بھگتا ॥੭॥
سگل اُکتِ اُپاۄا ॥
تِیاگیِ سرنِ پاۄا ॥
نانکُ گُر چرنھِ پراتا ॥੮॥੨॥੨੭॥
لفظی معنی:
جانو نہیں ۔ میں نہیں جانتا ۔ کون باتا ۔ کونسی بات ۔ بھاوے ۔ اچھی لگتی ہے ۔ مارگ ۔راستہ ،طریقہ ۔ دھیانی ۔ دھیانی ۔ دھیان لگانیوالے ۔ گیانی ،توجہ دینے والے ۔عالم ۔اہل علم ۔ کن ہی کسے نے ہی ۔ ۔ بھگوئی ۔ ویشنو بھگت ۔ جکتا ۔ طریقہ ۔یعنی ورت۔ سنجم ،پرہیزگاری ۔ تپسیہ ۔ تپ ۔تپسیا ۔ تپسی ۔ تپ کرنیوالا ۔ مونی ۔ خوموش رہنے والا ۔ موندبھاری ۔خاموش ۔ خاموشی اختیار کرنے والا ۔ اداس ۔بھیکھ ۔ویس ۔ نولے پرکار ۔ نو قسم کے سنتا ۔سمرن۔ خدمتگار ۔ ارچن ۔ پرستش ۔ پوجا ۔سکھیہ ۔دوستانہ ۔ داسیہ ۔ خدمتگاری ۔گرست ۔ خانہ داری ۔ دھرماتما ۔ دھرم پر عمل کرنیوالا ۔ (4) اک شبدی ۔صرف ایک لفظ بولنے والا ۔ بہروپ ۔ بہت سی شکلیں اور بھیس بنانے والا ۔ او دھوتا ۔ ناگے ۔ کاپڑی ۔کفتی پہننے والے ۔ کوتے ۔ شاعر ۔ جاگوتا ۔ جاگر کرن ۔ والے تیرتھ ۔ زیارت گاہ (5)
ترجمہ:
سمجھ نہیں آتی کہ وہ کونسی بات ہے جس سے خدا کی خوشنودی حاصل ہو سکے اسے پسند ہو ۔ اے دل اسے طریقہ اور راستے کی تلاش کر ۔ دھیان مرکوز کرنیوالے دھیان جماتے ہیں ۔ عالم اہل علم علم کے متعلق خیال آرائی کرتے ہیں ۔ مگر خدا کو کیسی نے ہی پہچانا یا سمجھتا ہے ۔۔ بھگوت کے پرستار مراد دشنوکے بھگ۔ عابد یا پریمی طریقے اپناتے ہیں ۔ یوگ پوگ کو ہی راہ نجات کہتے ہیں تپسیا کرنیوالے تپسیا میں محو و مجذوب رہتے ہیں ۔(2) خاموش رہنے والے خاموش رہتے ہیں ۔ سنیاسی شہوت پر ضبط کر ہی راہ نجات سمجھتے ہیں ۔ طارق طارق میں محو و مجذوب رہتے ہیں ۔(3) بھگتی ۔یا الہٰی عبادت و ریاضت یا خدمت خدا نو قسموں کی ہے ۔ پنڈت وید اونچی آواز سے پڑھتے ہیں خانہ دار یا قبیلہ دار قبیل واری اور خانہ دار مراد گھریلو زندگی کو اہمیت دیتے ہیں ۔(4)
بہت سے زبان سے ایک ہی لفظ الکتھ پکارتے ہیں ۔ ایک طرح طرح کی شکلیں بنانے کو عبادت یا بھگتی سمجھتے اور ایک ننگے رہنے کو راہ نجات یا عبادت مانتے ہیں ۔ ایک خاص قسم کے قمیض ، چوگا یا چولا یا گفتی پہنے کو الہٰی خدمت یا بھگتی ماننتے ہیں ۔ ایک ڈرامے یا ناغک یا سوآتگ بنانے کو الہٰی خوشنودی سمجھتے ہیں ۔ ایک نہ سونے جاگنے رہنا الہٰی ملاپ کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ ایک زیارت گاہوں کی زیارت کو ۔ (5) ایک کھانا نہ کھانا بھوکے رہنا ایک جھوٹ چھات کیوجہ سے کسی کو نہیں چھوتے ۔ ایک گھپاؤں میں چھپ کر رہتے ہیں اور کسی کو اپنا دیدار نہیں دیتے اور ایک اپنے دل میں ہی عالم ہیں ۔(6) ان میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو کم نہیں سمجھتا ہر ایک کہتا ہے ۔ کہ خدا تک رسائی حاصل کر لی ہے ۔ مگر حقیقتاً عابد ، عاشق و خدمتگار وہی ہے ۔ مگر عابد ، عاشق و خادم وہی ہے جیسے الہٰی ملاپ حآصل ہو گیا ۔ (7) مگر میں نے تمام دلائل اور تمام کوشیش چھوڑ دی ہیں اورالہٰی پناہ لے لی ہے ۔ نانک مرشد کے پاؤں آگر ہے

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੩॥
جوگیِ انّدرِ جوگیِیا ॥
توُنّ بھوگیِ انّدرِ بھوگیِیا ॥
تیرا انّتُ ن پائِیا سُرگِ مچھِ پئِیالِ جیِءُ ॥੧॥
ہءُ ۄاریِ ہءُ ۄارنھےَ کُربانھُ تیرے ناۄ نو ॥੧॥ رہاءُ ॥
تُدھُ سنّسارُ اُپائِیا ॥
سِرے سِرِ دھنّدھے لائِیا ॥
ۄیکھہِ کیِتا آپنھا کرِ کُدرتِ پاسا ڈھالِ جیِءُ ॥੨॥
پرگٹِ پاہارےَ جاپدا ॥
سبھُ ناۄےَ نو پرتاپدا ॥
ستِگُر باجھُ ن پائِئو سبھ موہیِ مائِیا جالِ جیِءُ ॥੩॥
ستِگُر کءُ بلِ جائیِئےَ ॥
جِتُ مِلِئےَ پرم گتِ پائیِئےَ ॥
سُرِ نر مُنِ جن لوچدے سو ستِگُرِ دیِیا بُجھاءِ جیِءُ ॥੪॥
ستسنّگتِ کیَسیِ جانھیِئےَ ॥
جِتھےَ ایکو نامُ ۄکھانھیِئےَ ॥
ایکو نامُ ہُکمُ ہےَ نانک ستِگُرِ دیِیا بُجھاءِ جیِءُ ॥੫॥
لفظی معنی:
سرگ۔ جنت ۔ بہشت ۔ مچھ ۔ اس جہان میں ۔پیال ۔ عالم زیر زمین ۔ پاتال ۔۔ ہوں واری میں قربان ہوں ۔ ہوں دارے ۔ قربان ہوواں ۔ قربان تیرے ناو نو ۔ اے خدا تیرے نام پر ۔ مراد سچ ۔حق و حقیقت پر قربان ہوں ۔۔ ہر ایک کو ۔ دیکھہہ۔ خبر گیری کرتا ہے ۔ کر قدرت۔ اس قائنات کو بنا کر ۔ پاسا ڈھال ۔ چو پڑ کا کھیل ۔(2) پر گٹ ہارے ۔ زیر نظر پھیلاؤ میں ۔ ناوے لو الہٰی نام کے لئے ۔ سب ۔ ہرایک کو پر تا پیدا اپنی عنایت و شفقت کرتا ہے ۔ پرناپ شان ۔ (3) بل جایئے ۔ قربان جاؤں ۔ جب ملئے ۔ جسکے ملنے سے ۔ پرم گت ۔روحانی بلند رتبہ ۔ اخلاقی بلندی ۔ سر دیوتے ۔ ستگر ۔ سچا مرشد (4)
ترجمہ:
اے خدا تو جب جوگی کے دل میں بستا ہے تو جوگی ہے لوگ کماتا ہے ۔ اور جب مادہ پرست میں بستا ہے تو مادہ پرست ہے ۔ مگر تاہم نہ جنت میں بسے والوں نے نہ اس عالم کے لوگوں نے اور نہ پاتال میں رہنے والے کو تیرے اوصاف اور تیرا شمار نہیں پا سکے ۔۔ اے خدا میں قربان ہوں صدقے ہوں اور تیرے نام پر سچ۔حق وحقیقت پر قربان ہوں ۔ ۔ اے خدا تو نے عالم پیدا کیا ہے اور ہر ایک کو کام میں لگایا ہے ۔ اور اپنے کئے ہوئے کو زیر نظر رکھتا ہے ۔ مراد اس دنیاوی کھیل میں انقلاب لاتا ہے ۔ اسے پلٹتا ہے ۔ (2) اس عالم کے پھیلاؤ میں خدا صاف سمجھ رہا ہے ۔ اے انسانوں سارا عالم اس کائنات قدرت میں ظاہر دیکھ رہے ہیں اور سارے نام اور اسکے توقیر وقار کو سمجھتے ہیں ۔ مگر سچے مرشد کے بغیر پایا نہیں جا سکتاسارا ۔ عالم مایا کی محبت کی جال میں گرفتار ہے ۔(3) قربان جاؤں سچے مرشد پر جس کے ملنے سے بلند روحانی رتبہ ملتا ہے ۔ فرشتے انسان عالم فاضل چاہتے ہیں اسکی سچے مرشد نے سمجھا دیا ۔(4) سچی جگت کیسی سمجھیں جہاں صرف واحد خدا کے نام سچ حق وحقیقت کی صفت صلاح اور وچار و خیال آرائی ہوئی ہو ۔ اے نانک سچے مرشد نے سمجھا دیا ہے ۔ کہ واحد الہٰی نام کا ہی الہٰی حکم ہے ۔(5)

اِہُ جگتُ بھرمِ بھُلائِیا ॥
آپہُ تُدھُ کھُیائِیا ॥
پرتاپُ لگا دوہاگنھیِ بھاگ جِنا کے ناہِ جیِءُ ॥੬॥
دوہاگنھیِ کِیا نیِسانھیِیا ॥
کھسمہُ گھُتھیِیا پھِرہِ نِمانھیِیا ॥
میَلے ۄیس تِنا کامنھیِ دُکھیِ ریَنھِ ۄِہاءِ جیِءُ ॥੭॥
سوہاگنھیِ کِیا کرمُ کمائِیا ॥
پوُربِ لِکھِیا پھلُ پائِیا ॥
ندرِ کرے کےَ آپنھیِ آپے لۓ مِلاءِ جیِءُ ॥੮॥
ہُکمُ جِنا نو منائِیا ॥
تِن انّترِ سبدُ ۄسائِیا ॥
سہیِیا سے سوہاگنھیِ جِن سہ نالِ پِیارُ جیِءُ ॥੯॥
جِنا بھانھے کا رسُ آئِیا ॥
تِن ۄِچہُ بھرمُ چُکائِیا ॥
نانک ستِگُرُ ایَسا جانھیِئےَ جو سبھسےَ لۓ مِلاءِ جیِءُ ॥੧੦॥
لفظی معنی:
بھرم۔ شک ۔ شبہ ۔ بھلایا ۔حقیقت پسندی سے دور کیا ۔ آپہو۔ تزھ۔ تونے از خود ۔ کہوایا ۔ گوایا ۔ پرتاپ ۔ دوسروں کو دکھ ۔ (6) خصمہو ۔ خاوند ۔خدا ۔ ویس ۔بھیس ۔ لباس ۔ پہراوا ۔تنا کا منی ۔ ان عورتوں کی ۔ رین ۔ زندگی ۔ وہائے ۔ گذرنا ۔ پورب ۔ پہلے سے ۔(7) سہیاں۔ سہیلیاں ۔ساتھی ۔ سیہہ نال ۔ خاوند کے ساتھ ۔ (9) رس۔ لطف۔ مزہ ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ سبھسے ۔ سب سے ہر ایک سے ۔(۔0)
ترجمہ:
یہ عالم وہم و گمان میں بھلایا ہے اور گمراہ ہوا ہے خود ہی اسے راستے سے بھٹکا کر کج روی پر گامزن کیا ہوا ہے ۔ جو بدقسمت ہیں گمراہ ہیں جنکے دوہرے خیالات ہیں انہیں عذاب ملتا ہے ۔(6) ان بد قسمت خدا سے منکر و منافق انسانوں کی علامات کیا ہیں ۔ جنہیں خدا سے جدائی پائی ہوئی ہے ۔ اور بے آبرو ہوکر بھٹک رہے ہیں ۔ جنکی زندگی بد اخلاقی میں گذر رہی ہے ۔ اور عذاب میں کٹ رہی ہے ۔(7)خوش قسمت انسانوں نے کونسے نیک اچھے کام سر انجام دیئے ہیں ۔ پہلے سے تحریر اعمال نامے کے نتیجے میں پھل ملا ہے اور خدا نے اپنی نظر عنایت سے اپنے ساتھ ملا لیا ہے ۔(8) جنہوں نے الہٰی فرمانبرداری کی الہٰی رضا میں راضی رہے اور دل میں کلام کو بسایا اور جنکا اللہ تعالٰی خداوند کریم سے محبت ہے وہ (سوہاگن) یعنی خدا دوست ہیں ۔ (9) جنہوں نے الہٰی رضا میں رہنے کا لطف لیا ہےا نہوں نے اپنےدل سے تمام شک و شہبات دور کر دیتے ہیں ۔ اے نانک سچے مرشد کو ایسا سمجھو جو سب کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔ (۔0)

ستِگُرِ مِلِئےَ پھلُ پائِیا ॥
جِنِ ۄِچہُ اہکرنھُ چُکائِیا ॥
دُرمتِ کا دُکھُ کٹِیا بھاگُ بیَٹھا مستکِ آءِ جیِءُ ॥੧੧॥
انّم٘رِتُ تیریِ بانھیِیا ॥
تیرِیا بھگتا رِدےَ سمانھیِیا ॥
سُکھ سیۄا انّدرِ رکھِئےَ آپنھیِ ندرِ کرہِ نِستارِ جیِءُ ॥੧੨॥
ستِگُرُ مِلِیا جانھیِئےَ ॥
جِتُ مِلِئےَ نامُ ۄکھانھیِئےَ ॥
ستِگُر باجھُ ن پائِئو سبھ تھکیِ کرم کماءِ جیِءُ ॥੧੩॥
ہءُ ستِگُر ۄِٹہُ گھُمائِیا ॥
جِنِ بھ٘رمِ بھُلا مارگِ پائِیا ॥
ندرِ کرے جے آپنھیِ آپے لۓ رلاءِ جیِءُ ॥੧੪॥
توُنّ سبھنا ماہِ سمائِیا ॥
تِنِ کرتےَ آپُ لُکائِیا ॥
نانک گُرمُکھِ پرگٹُ ہوئِیا جا کءُ جوتِ دھریِ کرتارِ جیِءُ ॥੧੫॥
لفظی معنی:
ستگر ملئے ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے ۔ جن جس نے ۔ اہکرن ۔ اتنکار ۔ غرور ۔تکبر ۔ گھمنڈا ۔ شک ۔پیشانی ۔۔ انمرت ۔ آب حیات ۔ زندگی کوروحانیت۔ نیکی ۔نیک اخلاق ۔بخشنے والا پانی ۔ ۔ بانیا ۔کلام ۔ کلمہ ۔ تیریا بھگتا ۔اے خدا تیرے عابداں و عاشقان ۔ ردے ۔ دل میں ۔ سمانیا ابتی ۔ ذہن نشین ہوتی ہے ۔ ندر ۔ نظر عنایت و شفقت ۔ نشار ۔کامیابی ۔(۔2) جانیے ۔ سمجہیں ۔ نام وکھانیئے ۔ الہٰی نام سچ حق و حقیقت بیان کی جا سکے ۔ ستگریا جھو ۔ سچے مرشد کے بغیر ۔ پایو ۔ ملنا ۔ سبھ تعلی کرم کمائے جیو ۔ سارے اپنے دنیاوی اعمال زیر کار لاکر ماند ہوگئے ۔(3) دھوگھمایا ۔ قربان ہوں ۔ بھرم بھلا ۔ شک شبہات میں گمراہ ۔ مارگ راستے (۔4) تن کرت ۔ اس کارساز کرتار نے ۔ آپ ۔ خوئش ہستی ۔ لگایا ۔ پوشیدہ رکھتا ہے ۔ پرگٹ ہوا۔ ظاہر ا ۔ جاگو جوت دھری کرتا رجیو ۔جسکے اندر خدا نے اپنا نور ۔روشنی رکھی (۔5)
ترجمہ:
جس نے اپنے دل سے غرور اور تکبر نکال دیا اسے سچے مرشد کے ملاپ کا پھل حاصل کر لیا ۔ بد کاریوں اور بد عقلی کا عذاب مٹا لیا ۔ قسمت میں بیداری آئی ۔(۔۔) اے خدا تیرا کلام آب حیات ہے تیرے پریمیوں کے دل میں بستا ہیں اگر دل میں خدمت کرنا ہو تو سکھ ملتا ہے ۔ تو اپنی نظر عنایت سےسے کامیابیاں بخشش کرتا ہے ۔ تبھی مرشد کو ملیا سمجھو جس کے ملنے سے نام سچ حق و حقیقت کی سمجھ اور تشریح دل میں بس جائے ۔ سچے مرشد کے بغیر نہیں ملتا سارے دوسرے کام کر کر کے ماند ہو گئے ۔(۔3) قربان ہوں سچے مرشد پر جس نے مجھے غلط راستہ پر بھٹکتے ہوئے کو صراط مستقیم پر ڈالا دیا ۔ اگر وہ نگاہ شفقت ڈالے تو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے (۔4) اے خدا تو سب میں بستا ہے اور اپنے آپ کو چھپا رکھا ہے ۔ اے نانکجس انسان کے اندر مرشد کے وسیلے سے اپنے نور کو ظہور پذیر کیا ہے اسکے دل میں خدا ظہور میں آجاتا ہے (۔5)

آپے کھسمِ نِۄاجِیا ॥
جیِءُ پِنّڈُ دے ساجِیا ॥
آپنھے سیۄک کیِ پیَج رکھیِیا دُءِ کر مستکِ دھارِ جیِءُ ॥੧੬॥
سبھِ سنّجم رہے سِیانھپا ॥
میرا پ٘ربھُ سبھُ کِچھُ جانھدا ॥
پ٘رگٹ پ٘رتاپُ ۄرتائِئو سبھُ لوکُ کرےَ جیَکارُ جیِءُ ॥੧੭॥
میرے گُنھ اۄگن ن بیِچارِیا ॥
پ٘ربھِ اپنھا بِردُ سمارِیا ॥
کنّٹھِ لاءِ کےَ رکھِئونُ لگےَ ن تتیِ ۄاءُ جیِءُ ॥੧੮॥
مےَ منِ تنِ پ٘ربھوُ دھِیائِیا ॥
جیِءِ اِچھِئڑا پھلُ پائِیا ॥
ساہ پاتِساہ سِرِ کھسمُ توُنّ جپِ نانک جیِۄےَ ناءُ جیِءُ ॥੧੯॥
تُدھُ آپے آپُ اُپائِیا ॥
دوُجا کھیلُ کرِ دِکھلائِیا ॥
سبھُ سچو سچُ ۄرتدا جِسُ بھاۄےَ تِسےَ بُجھاءِ جیِءُ ॥੨੦॥
لفظی معنی:
خصم ۔ مالک ۔ خدا ۔ نوازیا۔ رحمت فرمائی ۔ جیو ۔پنڈ ۔جسم و جان ۔ پیچ ۔عزت۔ دوئے کر۔ دونو ہاتھ ۔ دھار ۔ رکھے (۔6) سنجم ۔ ضبط ۔ سب ۔ سارے ۔ رہے ۔ختم ہو گئے ۔ سب لوگ ۔ سارا عالم ساری دنیا (۔7) پربھ۔ خدا ۔ بردھ ۔ عادت ۔ سماریا ۔ یاد کیا ۔ گنٹھ ۔ گلے ۔ رکھبون۔ حفاظت کی (۔8) من۔ دل ۔ تن۔ جسم ۔ جیے ۔ دل ۔ اچھیڑا ۔ دلی ۔خواہش (۔9) آپے آپ ۔ از خود ۔ دوجا کھیل ۔ دوئی دؤیش والا کھیل ۔ مراد دنیاوی مادیاتی دولت کا کھیل (20)
ترجمہ:
میرے آقا میرے خدا نے خود ہی نوازش کی ہے ۔ اور خود ہی روح اور جسم سے دیکر پیدا کیا ہے ۔ اور دونوں ہاتھ پیشانی پر لگا کر اسکی عزت بچائی ہے ۔ اسے بد کاریوں اور گناہوں سے بچایا ہے (۔6) اور انسانی احساسات بد پر ضبط ہونے کرو سے اور دانشمندی کی ضرورت نہیں رہتی ۔ خدا کو تمام ضروتوں کی سمجھ ہے اس نے اپنے خادم کے وقار تابدار کرتا ہے ۔ جس سے ساراعالم اسکی جیکار بلاتا ہے (۔7) خدااپنےعادات کی مطابق میرے نیک و بد اوصاف کا دھیان نہ کرتے ہوئے اپنے گلے لگایا ۔ میری حفاظت کی اور مجھے کسی قسم کے عذاب کی آنچ نہیں آنے دی (۔8) میں نے دل و جان سے الہٰی ریاض کی اور دلی خواہشات کے مطابق پھل پائے نتیجے برآمد کئے ۔ اے خدا تو شاہوں کے شہنشاہوں کا مالک ہے تو ۔ نانک تیرے نام کی ریاض سے زندہ ہے (۔9) اے خدا تو نے خود ہی پیدا کر کے دوئی دؤیش اور دوسرے مادیاتی کھیل پیدا کرکے دکھلایا ہے ۔ اے خدا تو ہر جائی ہے جسے تو چاہتا ہے ۔ اسے سمجھا دیتا ہے (20)

گُر پرسادیِ پائِیا ॥
تِتھےَ مائِیا موہُ چُکائِیا ॥
کِرپا کرِ کےَ آپنھیِ آپے لۓ سماءِ جیِءُ ॥੨੧॥
گوپیِ نےَ گویالیِیا ॥
تُدھُ آپے گوءِ اُٹھالیِیا ॥
ہُکمیِ بھاںڈے ساجِیا توُنّ آپے بھنّنِ سۄارِ جیِءُ ॥੨੨॥
جِن ستِگُر سِءُ چِتُ لائِیا ॥
تِنیِ دوُجا بھاءُ چُکائِیا ॥
نِرمل جوتِ تِن پ٘رانھیِیا اوءِ چلے جنمُ سۄارِ جیِءُ ॥੨੩॥
تیریِیا سدا سدا چنّگِیائیِیا ॥
مےَ راتِ دِہےَ ۄڈِیائیِیا ॥
انھمنّگِیا دانُ دیۄنھا کہُ نانک سچُ سمالِ جیِءُ ॥੨੪॥੧॥
لفظی معنی:
چکایا ۔ دور کیا ۔ختم کیا ۔ گوپی نے گوآ لیا ۔ تو خود وہی گوپی اور خود ہی کاہن اور خود ۔ ہی دریائے ۔ جمنا ۔ گوئے ۔ زمین ۔ گر پر سادی مرشد کی رحمت سے (22) جن ۔جس نے ۔ بھاؤ ۔ پیار ۔ نرمل۔ پاک ۔ سوار ۔ درستی ۔ (23) دہے ۔ ونے ۔ وڈآئیاں ۔ صلاحیاں ۔ان منگیا۔ بغیر مانگے ۔ سچ سمال ۔سچی یاد (24)
ترجمہ:
رحمت مرشد سے ملاپ ہوا ۔ جس سے مادہ پرستی اور مادیات کی محبت چلی گئی ۔ اور اپنی عنایت و شفقت سے اپنے سے یکسو کر لیا (2۔) اے خدا تو ہی گوپی ہے اور خود ہی کاہن ہے تو ہی دریا ئے جمنا بھی ہے ۔ اور تو نے ہی سارے عالم کی ذمہ داری اختیار کر رکھی ہے ۔ تو ہی یہ دنیاپیدا کی ہے یہ جاندار پیدا کیے ہیں ۔ اور خود ہی مٹاتا ہے اور خود ہی درستی کرتا ہے ۔(22) اے خدا تیرے اوصاف تیری نیکیاں میں ہمیشہ ہمیشہ روز و شب انکی صفت صلاح کرتا ہوں ۔ اے نانک کہہ کہ اے خدا تو بغیر مانگے اپنی نعمتیں بخشش کرتا ہے لہذا دل میں خدا بساؤ ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
پےَ پاءِ منائیِ سوءِ جیِءُ ॥
ستِگُر پُرکھِ مِلائِیا تِسُ جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ جیِءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گوسائیِ مِہنّڈا اِٹھڑا ॥
انّم ابے تھاۄہُ مِٹھڑا ॥
بھیَنھ بھائیِ سبھِ سجنھا تُدھُ جیہا ناہیِ کوءِ جیِءُ ॥੧॥
تیرےَ ہُکمے ساۄنھُ آئِیا ॥
مےَ ست کا ہلُ جویائِیا ॥
ناءُ بیِجنھ لگا آس کرِ ہرِ بوہل بکھس جماءِ جیِءُ ॥੨॥
ہءُ گُر مِلِ اِکُ پچھانھدا ॥
دُزا کاگلُ چِتِ ن جانھدا ॥
ہرِ اِکتےَ کارےَ لائِئونُ جِءُ بھاۄےَ تِݩۄےَ نِباہِ جیِءُ ॥੩॥
تُسیِ بھوگِہُ بھُنّچہُ بھائیِہو ॥
گُرِ دیِبانھِ کۄاءِ پیَنائیِئو ॥
ہءُ ہویا ماہرُ پِنّڈ دا بنّنِ آدے پنّجِ سریِک جیِءُ ॥੪॥
ہءُ آئِیا سام٘ہ٘ہےَ تِہنّڈیِیا ॥
پنّجِ کِرسانھ مُجیرے مِہڈِیا ॥
کنّنُ کوئیِ کڈھِ ن ہنّگھئیِ نانک ۄُٹھا گھُگھِ گِراءُ جیِءُ ॥੫॥
لفظی معنی:
پے پائے ۔ پاؤں پڑھ کر ۔ منائی ۔ خوشنودی حاصل کرنا ۔ سوئے ۔ اسے ۔۔ ام ۔ماں ۔ ابے ۔ باپ ۔ تھاوہو ۔ سے زیادہ ۔ ۔ ہرکھ ۔ انسان ۔ جیوڈ ۔اتنا بڑا ۔ اور ۔دوسرا ۔ گوسائی مہنڈا میرا آقا۔مالک ۔ ٹھڑا ۔ ایسا پیارا ۔ ۔ حکمے ۔ حکم سے ۔ ساون ۔ برسات کا ۔ موسم یا مہینہ ۔ست ۔ سچے اخلاق ۔ جو آیا جوڑیا ۔چلایا ۔ ناؤ ۔ نام سچ حق و حقیقت ۔ آس ۔اُمید ۔ بوہل۔ خرمن ۔ ڈھیر ۔ بخش کرم و عنایت ۔ جمائے ۔ پیدا ہو ۔ گرمل ۔ مرشد کے ملاپ ۔ اکتے کارے ۔ ایک ہی کام میں دو کاگلا ۔ دوسرا کاغذ۔ دوسرا حساب ۔ مدعا و مقصد (3) بھوگو ۔ بھنچہو ۔ کھاؤ لطف ۔ دربار ۔ کوائے ۔ خلعت ۔پوشاک ۔ مہر ۔ چویدری ۔ شریک ۔ اشتراکی ۔ اخلاقی دشمن (4)
ترجمہ:
میں پاؤں پڑ ھ کر اسے خوش کرتا ہوں ۔ جس نے مجھے اس خدا سے ملا دیا ہے ۔ جسکا کوئی ثانی نہیں ۔ میرا آقا (خدا) ایسا ہے جو سب ماں باپ اور سب سے زیادہ میٹھا اور پیارا ہے ۔ (بہن بھائی اور دوستوں میں سے کوئی بھی تیرے جیسا نہیں ۔۔ اے خدا تیرے فرمان سے ماہ ساؤن آگیا ۔ ہے ۔ مراد میرے لئے مناسب وقت اور موقع ملا ہے ۔ میں نے اس سنوارنے اور سچ بونے کے لئے سچ کا ہل چلایا ہے ۔ یعنی میں نے اپنا آپا اور اخلاق کو ٹھیک اور سچ بونےکے لئے سچائی اختیار کی ہے ۔ اس اُمید پر تاکہ تیری رحمتوں شفقوں کے خرمت اکھٹے کر لوں ۔(2) میں مرشد سے مل کر واحد خدا اور وحدت کی پہچان کی ہے ۔ دوسرا کاغذی تحریر اور حساب سے بے خبر ہوں ۔ خدا نے مجھے ایک ہی کام میں لگایا ہے اب جیسے تیری رضا ہے اسی طرح کامیابی عنایت فرما ۔(3) اے ساتھی دوستوں الہٰی نام کا لطف لو ۔ مجھے خدا نے الہٰی درگاہ میں خلعت پہنا دی ۔ جسکی برکت سے میں اپنے جسم کا مالک ہو گیاہوں ۔ لہذا میں پانچوں بد احصان پر قابو پالیا ہے ۔(4) میں تیری پناہ آگیا ہوں ۔ اب پانچوں احساسات میرے خدمتگار ہو گئے ہیں اور کوئی باغی نہیں ہو سکتا اے ناک اب میرا (جسمانی شہر) خوشحال بستا ہے ۔(5)

ہءُ ۄاریِ گھُنّما جاۄدا ॥
اِک ساہا تُدھُ دھِیائِدا ॥
اُجڑُ تھیہُ ۄسائِئو ہءُ تُدھ ۄِٹہُ کُربانھُ جیِءُ ॥੬॥
ہرِ اِٹھےَ نِت دھِیائِدا ॥
منِ چِنّدیِ سو پھلُ پائِدا ॥
سبھے کاج سۄارِئنُ لاہیِئنُ من کیِ بھُکھ جیِءُ ॥੭॥
مےَ چھڈِیا سبھو دھنّدھڑا ॥
گوسائیِ سیۄیِ سچڑا ॥
نءُ نِدھِ نامُ نِدھانُ ہرِ مےَ پلےَ بدھا چھِکِ جیِءُ ॥੮॥
مےَ سُکھیِ ہوُنّ سُکھُ پائِیا ॥
گُرِ انّترِ سبدُ ۄسائِیا ॥
ستِگُرِ پُرکھِ ۄِکھالِیا مستکِ دھرِ کےَ ہتھُ جیِءُ ॥੯॥
مےَ بدھیِ سچُ دھرم سال ہےَ ॥
گُرسِکھا لہدا بھالِ کےَ ॥
پیَر دھوۄا پکھا پھیردا تِسُ نِۄِ نِۄِ لگا پاءِ جیِءُ ॥੧੦॥
سُنھِ گلا گُر پہِ آئِیا ॥
نامُ دانُ اِسنانُ دِڑائِیا ॥
سبھُ مُکتُ ہویا سیَسارڑا نانک سچیِ بیڑیِ چاڑِ جیِءُ ॥੧੧॥
لفظی معنی:
ہوں ۔ میں گھما جاود ۔ قربان جاتا ہو ۔ ساہا ۔ اے بادشاہ ۔ تدھ ۔ تجھے ۔ تھیہ ۔ برباد گاؤں ۔(2) اٹھے ۔ پیارے کو ۔ چندی ۔ خواہش ۔ سبھے کاج ۔ تمام کام ۔ سوارین۔ درست کر دیئے ۔ لاہین ۔ختم کر دی ۔(7) سبہو ۔ سارا ۔ ڈھندڑ ا ۔کام کاج ۔ سیوی ۔ریاضت ۔ سچڑا۔ صدیوں ۔ سچا ۔ قائم دائم ۔ نوندھ ۔ نوخزانے ۔ ندھان ۔ خزانہ ۔ چھک ۔مضبوطی سے ۔(8) سکھی ہوں ۔سکھ ۔روحانی سکھ ۔ نہایت سکھ ۔ ستگر ۔ سچا مرشد ۔ مستک ۔ پیشانی (9) دھرمسال ۔ نیک اعمال ۔ لئے جگہ ۔ الہٰی عبات کا مقام سکول ۔ سچ ۔ صدیوں ۔ تو سجدہ (۔0) سر جھکانا ۔ سن ۔ سنک ۔ دان ۔ سخاوت ۔ سیسارڑ ۔ سنسار ۔ مکت۔ آزادی ۔نجات ۔ سچی بیڑی ۔ سچی ناؤ ۔ کشتی (۔۔)
ترجمہ:
میں اے خدا تجھ پر قربان ہوں اور لگاتار تجھے یاد کرتا ہوں ۔ آپ نے میرا ویران دل وجان آباد کر دیا لہذا آپ پر قربان ہوں (6) میں لب پیارے خدا کو ہر روز دیاد کرتا ہوں ۔ اور دلی مراد یں حاصل کرتا ہوں ۔ اس نے میرے تمام کام درست کر دیئے ہیں ۔ اور میرے دل کی بھوک مٹا دی ہے (7) اب میں تمام دنیاوی کاروبار چھوڑ کر سچے آقا خدا کی خدمت کرتا ہوں ۔ اور جو نام جو اور شخص دنیاوی نو خزانے مظمر ہیں اسکا امن مضبوطی سے پکڑ لیا ہے (8) میں اب سکھی ہوں اور سکھ پا لیا ہے ۔ سبق مرشد دل میں بسا لیا ہے ۔ اور میری پیشانی پر دست رحمت رکھ کر دیدار الہٰی کرا دیا ہے (9) اب میں صحبت و قربت پاکدامناں اختیار کر لی جو ایک حقیقی فرض شناشی اور تحقیق عمل کے لئے ایک سچی دھرم شالہ و پاتھ شالہ ہے ۔ اور مریدان مرشد کی تلاش کرکے لاتا ہوں ۔ انکے پاؤں دھوتا ہوں پنکھا پھیرتا ہوں ۔ اور عاجزی و انکساری سے پیش آتا ہوں ۔ اور خدمت کرتا ہوں ۔(۔0) میں تعریف اور نیکی سنکر آیا ہوں ۔ اور نام سچ حق و حقیقت کی سخاوت بخشش کرنا اور خود دھیان لگانا اور پاک زندگی بسر کرنے کا سبق مجھے پختہ کروایا ہے ۔ کہ وہ یعنی اے نانک سچی کشتی میں چڑھا کر سب کو بدیوں برائیوں سے نجات ہو جاتی ہے آزاد ہو جاتا ہے ۔۔

سبھ س٘رِسٹِ سیۄے دِنُ راتِ جیِءُ ॥
دے کنّنُ سُنھہُ ارداسِ جیِءُ ॥
ٹھوکِ ۄجاءِ سبھ ڈِٹھیِیا تُسِ آپے لئِئنُ چھڈاءِ جیِءُ ॥੧੨॥
ہُنھِ ہُکمُ ہویا مِہرۄانھ دا ॥
پےَ کوءِ ن کِسےَ رجنْانھدا ॥
سبھ سُکھالیِ ۄُٹھیِیا اِہُ ہویا ہلیمیِ راجُ جیِءُ ॥੧੩॥
جھِنّمِ جھِنّمِ انّم٘رِتُ ۄرسدا ॥
بولائِیا بولیِ کھسم دا ॥
بہُ مانھُ کیِیا تُدھُ اُپرے توُنّ آپے پائِہِ تھاءِ جیِءُ ॥੧੪॥
تیرِیا بھگتا بھُکھ سد تیریِیا ॥
ہرِ لوچا پوُرن میریِیا ॥
دیہُ درسُ سُکھداتِیا مےَ گلِ ۄِچِ لیَہُ مِلاءِ جیِءُ ॥੧੫॥
تُدھُ جیۄڈُ اۄرُ ن بھالِیا ॥
توُنّ دیِپ لوء پئِیالِیا ॥
توُنّ تھانِ تھننّترِ رۄِ رہِیا نانک بھگتا سچُ ادھارُ جیِءُ ॥੧੬॥
لفظی معنی:
دے کن ۔ مکمل دھیان سے ۔ کامل توجو سے ۔ ٹھوک بجائے ۔ آزمائش کرکے ۔ بعد تحقیق مکمل ۔ رجھاندا ۔زبردستی عذاب نہیں پہنچا سکتا ۔ وٹھیا۔ ہو جانا ۔ بس جانا ۔ حلیمی ۔راج ۔مھٹاس بے تکبری حکومت ۔ پیار والد راج ۔ (۔3) جھم جھم ۔ آہستہ آہستہ ۔ انمرت۔ آب حیات ۔ تھائے ۔ مقام ۔جگہ (۔4) لوچا۔ خواہش ۔ (۔5) دیپ۔ جزیرہ ۔ لوئے ۔لوک ۔ تھننتر ۔ ہر جگہ ۔ سچ ۔حق ۔خدا ۔ اللہ ۔ پریم آتما ۔ ادھار۔ اسرا ۔
ترجمہ:
سارا عالم یاد وخدمت الہٰی میں مصروف ہے ۔ اور تو دھیان سے عرضداشت سنتا ہے ۔ میں سارے لوگوں کو آزما کر دیکھ لیا ہے ۔ کہ خدا نے خود ہی نجات دلائی ہے (۔2) اب خدا وند کریم رحمان الرحیم کا فرمان ہے ۔کہ کوئی کسی دوسرے پر اثر انداز نہ ہوگا ۔ سب پر سکون بس گے کیونکہ اب عاجزانہ حکومت ہے ۔ پیار بھرا راج ہے ۔ مراد جب دلوں میں روحانی سکون ہو تو اس انسان پیار اور خوش اخلاق ہوکر سب سے پیار کرنا فرض سمجہنے لگتا ہے ۔ اور جب سارے ایسا ہو جائیں تو جب کسی سے دشمنی نہیں نفرت نہیں تکبر تو یہ از خود انکسارانہ و عاجزانہ حکومت ہے (۔3) آب حیات کی آہستہ آہستہ بوندا باندی ہو رہی ہے ۔ اور مالک کا جیسا فرمان ہے ۔ ویسا ہی بولتا ہوں ۔ مجھے آپ پر فخر محسوس ہو رہا ہے ۔ آپ مجھے خود ہی قبول فرماؤ گے (۔4) اے خدا تیرے عاشقوں و پریمیوں کے دل میں ہمیشہ تیرے دیدار کی بھوک رہتی ہے ۔ اے خدا میری یہ خواہش پوری کر اور مجھے اپنے گلے لگاؤ (۔5) اے خدا تو تمام ملکوں غرض یہ کہ عالم میں بستا ہے ۔ مجھے تلاش کر نے پر تیرا کوئی ثانی اور اتنی بڑی عظمت والا نہیں ملا ۔ اے نانک الہٰی پریمیوں کو خدا کا ہی سہارا ہے (۔6)

ہءُ گوسائیِ دا پہِلۄانڑا ॥
مےَ گُر مِلِ اُچ دُمالڑا ॥
سبھ ہوئیِ چھِنّجھ اِکٹھیِیا دزُ بیَٹھا ۄیکھےَ آپِ جیِءُ ॥੧੭॥
ۄات ۄجنِ ٹنّمک بھیریِیا ॥
مل لتھے لیَدے پھیریِیا ॥
نِہتے پنّجِ جُیان مےَ گُر تھاپیِ دِتیِ کنّڈِ جیِءُ ॥੧੮॥
سبھ اِکٹھے ہوءِ آئِیا ॥
گھرِ جاسنِ ۄاٹ ۄٹائِیا ॥
گُرمُکھِ لاہا لےَ گۓ منمُکھ چلے موُلُ گۄاءِ جیِءُ ॥੧੯॥
توُنّ ۄرنا چِہنا باہرا ॥
ہرِ دِسہِ ہاجرُ جاہرا ॥
سُنھِ سُنھِ تُجھےَ دھِیائِدے تیرے بھگت رتے گُنھتاسُ جیِءُ ॥੨੦॥
مےَ جُگِ جُگِ دزےَ سیۄڑیِ ॥
گُرِ کٹیِ مِہڈیِ جیۄڑیِ ॥
ہءُ باہُڑِ چھِنّجھ ن نچئوُ نانک ائُسرُ لدھا بھالِ جیِءُ ॥੨੧॥੨॥੨੯॥
لفظی معنی:
ہوء ۔ میں ۔ گوساینں ۔مالک ۔ پہلو انٹرا۔ پہلوان ۔ دمالڑا ۔دمالے والد ۔طرہ ۔سربند ۔ چھنج۔ ایک قسم کا کھیل کا میدان ۔ دکھئے ۔ واہگورو ۔ خدا ۔ دات۔ باجے ۔ ٹک ۔چھوٹا نقارہ ۔ مل پہلوان ۔ بھیریاں ۔ٹہتے ۔ قابو کئے ۔ کنڈ ۔پیٹھ (۔8) واٹ ۔ رستہ ۔گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔ منھکھ ۔خودی پسند (۔9) ورن ۔ رتن ۔ چہن۔ شکل ۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ (20) جگ جگ ہر ودر زمان ۔ وئے ۔ پیارے ۔ سیوڑی ۔ خدمت ۔ جپوڑی ۔ رسی ۔ مہڈی ۔میری ۔ باپر ۔ دوبارہ ۔ اوسر۔ موقعہ ۔ بھال ۔تلاش ۔(2۔)
ترجمہ:
میں مالک یعنی خدا کا ایک پہلوان ہوں ۔ اور مرشد کے ملاپ سے میں بند رتبہ کا پہلوان ہو گیا ہوں ۔ اس عالمی دنگل میں تمام انسان اکھٹے ہوئے ہیں ۔ جہاں پیدا ۔ خدا بیٹھا آپ اس کشتیوں کو دیکھ رہا ہے ۔ (۔7) اس دنگل میں ڈھول تو تیاں بج رہی ہیں ۔ پہلوان دنگل میں پھیریاں لگا رہے ہیں ۔ میں نے پانچوں (جوانوں) پہلوانوں کو قابو کرنے سے مرشد نے مجھے پیٹھ پر تھپکی دی (۔8) سارے اس عالم میں پیدا ہوئے ہیں ۔ مگر سارے راستہ بدل کر جائیں گے ۔ اپنے گھر مراد اپنے اپنے کئے اعمال کی مطابق نتیجے حاصل کرینگے ۔ مریدان مرشد نفع کمائیں گے اس زندگی سے جبکہ خودی پسند اپنا سرمایہ جو پہلے ان کے پاس ہے گنوا جائیں گے (۔9)اے خدا تو شکل و صورت اور رنگ و نسل میں نہیں ہے ۔ مگر تاہم حاضر ناظر اور ظہور میں ہے ۔ لوگ صرف صفات سن سن کر ہی تجھے یاد کر رہے ہیں ۔ اور تجھ میں دھیان لگاتے ہیں ۔ تو اوصاف کا خزانہ ہے ۔ اور تیرے پریمی تیرے پیار میں محظوظ ہوتے رہتے ہیں ۔ (20) میں ہر وقت الہٰی خدمت کی لہذا مرشد نے میری مادیاتی محبت کی زنجیر جس میں میں محسور تھا ۔ کاٹ دی ۔ اب میں اس عالمی دنگل کے اکھاڑے میں بھٹکتا نہ رہوں گا ۔ اے نانک لہذا مجھے موقعہ میسر ہو گیا ہے ۔

ان اشٹ پدیوں تفصیل حسب ذیل ہے
گرونانک ویو جی 17+1=18
گرواجن دیوجی 3-00
گروامر داس جی 8
کل 29