Urdu-Master-26

SGGS p 834 – 879
بِلاۄلُ مہلا ੪॥
گُرمُکھِ اگم اگوچرُ دھِیائِیا ہءُ بلِ بلِ ستِگُر ستِ پُرکھئیِیا ॥
رام نامُ میرےَ پ٘رانھِ ۄساۓ ستِگُر پرسِ ہرِ نامِ سمئیِیا ॥੧॥
جن کیِ ٹیک ہرِ نامُ ٹِکئیِیا ॥
ستِگُر کیِ دھر لاگا جاۄا گُر کِرپا تے ہرِ درُ لہیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِہُ سریِرُ کرم کیِ دھرتیِ گُرمُکھِ متھِ متھِ تتُ کڈھئیِیا ॥
لالُ جۄیہر نامُ پ٘رگاسِیا بھاںڈےَ بھاءُ پۄےَ تِتُ ائیِیا ॥੨॥
داسنِ داس داس ہوءِ رہیِئےَ جو جن رام بھگت نِج بھئیِیا ॥
منُ بُدھِ ارپِ دھرءُ گُر آگےَ گُر پرسادیِ مےَ اکتھُ کتھئیِیا ॥੩॥
منمُکھ مائِیا موہِ ۄِیاپے اِہُ منُ ت٘رِسنا جلت تِکھئیِیا ॥
گُرمتِ نامُ انّم٘رِت جلُ پائِیا اگنِ بُجھیِ گُر سبدِ بُجھئیِیا ॥੪॥
اِہُ منُ ناچےَ ستِگُر آگےَ انہد سبد دھُنِ توُر ۄجئیِیا ॥
ہرِ ہرِ اُستتِ کرےَ دِنُ راتیِ رکھِ رکھِ چرنھ ہرِ تال پوُرئیِیا ॥੫॥
ہرِ کےَ رنّگِ رتا منُ گاۄےَ رسِ رسال رسِ سبدُ رۄئیِیا ॥
نِج گھرِ دھار چُئےَ اتِ نِرمل جِنِ پیِیا تِن ہیِ سُکھُ لہیِیا ॥੬॥
منہٹھِ کرم کرےَ ابھِمانیِ جِءُ بالک بالوُ گھر اُسرئیِیا ॥
آۄےَ لہرِ سمُنّد ساگر کیِ کھِن مہِ بھِنّن بھِنّن ڈھہِ پئیِیا ॥੭॥
ہرِ سرُ ساگرُ ہرِ ہےَ آپے اِہُ جگُ ہےَ سبھُ کھیلُ کھیلئیِیا ॥
جِءُ جل ترنّگ جلُ جلہِ سماۄہِ نانک آپے آپِ رمئیِیا ॥੮॥੩॥੬॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ اگم ۔ انسانی سے بعید ۔ اگوچر۔ جو بیان نہیں ہو سکتا۔ دھیائیا ۔ توجہ دی ۔ دھیان دیا ۔ ہؤ۔ میں ۔ بل بل ۔ صدقے ۔ قربان ۔ ست پر کھیا ۔ سچے انسان پر ۔ پران ۔ سانسوں میں ۔ ستگر پرس ۔ سچے مرشد کو چھو کر۔ ہر نام سمیا ۔ الہٰی نام میں محو ومجذوب (1) ٹیک ۔ آسرا ۔ ٹیکئیا۔ آسرا بنائیا ہے ۔ دھر ۔ اوٹ۔ آسرا دامن۔ ہر در لہئیا۔ الہٰی دروازہ پائیا (1) رہاؤ۔ گرم کی دھرتی ۔ اعمال کے لئے میدان یا زمین۔ گورمکھ متھ متھ ۔ مرشد کے ذریعے تحقیق کرکے ۔ تت۔ اصلیت۔ حقیقت ۔ لال جواہر نام۔ قیمتی نام سچ و حقیقت ۔ پرگاسیا۔ ظہور میں لائیا۔ بھانڈے ۔ برتن مراد ذہن ۔ بھاؤ۔ پریم ۔ پیار۔ تت۔ اسکے (2) داسن ۔ داس۔ غلاموں کے غلام ۔ خدمتگاروں کے خدمتگار ۔ جوجن ۔ جو انسان ۔ تج ۔ ذاتی طور پر ۔ من ۔ ذہن ۔ بدھ ۔ عقل ۔ ادپ ۔ بھینٹ۔ گر پرسادی ۔رحمت مرشد سے ۔ اکتھ ۔ جوکہی نہ جا سکے ۔ کتھیئیا۔ کہنا (3) منمکھ ۔ مرید من۔ مائیا موہ ویاپے ۔ دنیاوی ڈولت کی محبت کی گرفت میں رہتے ہیں۔ ترشنا ۔ پیاس ۔ جلت تکھیا۔ پیاس میں جلتے ہیں۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ پابندو آموز مرشد ۔ نام انمرت جل۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کا آب حیات جس سے انسان زندگی روحانی واخلاقی بن جاتی ہے ۔ اگن بجھی خواہشات مٹ گئیں۔ گرسبد۔ کلام مرشد سے بجھائی (4) ناپے ۔ فرمانبرداری ۔ انحد۔ لگاتار۔ دھن۔ ذہنی رؤ۔ تور ۔ منگیتک ساز مراد باجا ۔ اُستت۔ تعریف ۔ ستائش ۔ وکھ رکھ چرن ہرتال پرئیا۔ پاؤں رکھ رکھ وزن یا بحر ۔ پورا کرتے ہیں مراد الہٰی رضا میں راضی رہتے ہیں (5) ہر کے رنگ رتا۔ الہٰی محبت مین محو ومجذوب ۔ رس۔ لطف۔ مزہ۔ رسال۔ چشمہ لطف۔ رس سبد روئیا۔ کلام کو پر لطف کہتا ہے اور دلمیں بساتا ہے ۔ تج گھر۔ اپنے ذہن میں۔ دھار چوے ات نرمل۔ نہایت پاک دھار برستی ہے ۔ جن پئیا۔ جس ے نوش کی ۔ تن ہی سکھ لہئیا۔ اس نے آرام پائیا (6) من ہٹھ ۔ دلی ضد۔ کرم ۔ اعمال ۔ ابھیمانی ۔ مغرور۔ جؤ۔ بالک۔ جیسے بچہ۔ بالو۔ ریت۔ گھر ۔اسرئیا۔ گھر بناتا ہے ۔ آوے لہر سندساگر کی ۔ سمندر کی لہریں آتی ہیں۔ کھن میہہ۔ تھوڑے سے وقفے میں ہی (7) سر ۔ تالاب۔ ساگر۔ سمندر ۔ جل ترنگ ۔ پانی کی لہریں ۔ جل جلیہہ سماویہہ۔ پانی پانی میں ملجاتا ہے ۔ آپے آپ رمیئیا۔ اسطرح ہر شے میں بستا ہے خدا۔
ترجمہ:
خادم کا آسرا وسہارا الہٰی نام سچ و حقیقت ہی بنائیا ہے ۔ سچے مرشد کا دامن تھام کر کرم وعنایت مرشد اے لہ ٰی درحاصل ہوگیا ہے ۔ رہاؤ۔ مرشد کے وسیلے انسانی رسائی عقل و ہوش سے بعد جو بیان سے باہر ہے دھیان لگائیا قربان ہوں اس سچے انسان پر اور سے مرشد پر جس نے الہٰی نام سچ و حقیقت دلمیں بسادی الہٰی نام سچ و حقیقت میرے ہر سانس میں بسادی سچے مرشد کی چھوکی برکت سے اب الہٰی نام سچ و حقیقت میں محو ومجذوب ہوں (1) یہ انسانی جسم انسان کو اعمال کے لئے زمین عنایت کی ہے خدا نے مرشد کے ذریعے تحقیقات و جانچ سے نام سچ و حقیقت ظہور میں آتی ہے ۔ اس طرح لعل و جواہرات سے قیمتی نام سچ و حقیقت روشن ہوتی ہے ۔ تب ذہن میں پریم بستا ہے (2) جو شخص الہٰی ذات کے خاص پریمی ہو جاتے ہیں انکے خدمتگاروں کے خدمتگار ہو جانا چاہیے اپنا من عقل و ہوش مرشد کو بھینٹ کرکے اس نا قابل بیان کو بیان مراد اسکی حمدوثناہ کرتا ہوں (3) مرید من دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار رہتا ہے جس سے یہ من خواہشات کی آگ میں جلتا رہتا ہے ۔ سبق مرشد سے آب حیات ملا جو زندگی کو اخلاقی و روحانی بناتا اور سنوارتا ہے جس سے خواہشات کی آگ بجھتی ہے اور کلام مرشد کی سمجھ آتی ہے (4) یہ من سچے مرشد کے آگے نا چتا ہے مراد اسکی فرمانبرداری کرتا ہے اور لگاتار الہٰی کلام کی لہریں چلنے لگتی ہیں اور انسان دن رات ہر وقت خدا کی صفت صلاح کرتا رہتا ہے اور موقعہ محل کے مطابق چلتا ہے (5) الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب چشمہ لطف کے کلام کلام مرشد کا گاتے ہوئے لطف لیتا ہے اسکےذہن میں روحانیت کی دھار بہنے لگتی ہے جس نے آب حیات نوش کیا زندگی کا لطف لیا (6) مغرور انسان دلی ضد سے کام کرتا ہے ۔ جیسے بچے ریت کا گھر بناتے ہیں سمندر کے پانی کے لہریں آتی ہیں اور گھر کو چند لمحو کے اندرمسماکر دیتی ہیں (7) خدا خود ہی تالاب ہے اور خود ہی سمندر اور خود ہی ہے عالم جو اسکے لئے ایک کھیل ہے جیسے پانی کی لہریں پانی میں ہی ملجاتی ہیں اسطرح سے سے خود ہی خدا ہر جگہ ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
ستِگُرُ پرچےَ منِ مُنّد٘را پائیِ گُر کا سبدُ تنِ بھسم د٘رِڑئیِیا ॥
امر پِنّڈ بھۓ سادھوُ سنّگِ جنم مرن دوئوُ مِٹِ گئیِیا ॥੧॥
میرے من سادھسنّگتِ مِلِ رہیِیا ॥
ک٘رِپا کرہُ مدھسوُدن مادھءُ مےَ کھِنُ کھِنُ سادھوُ چرنھ پکھئیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
تجےَ گِرستُ بھئِیا بن ۄاسیِ اِکُ کھِنُ منوُیا ٹِکےَ ن ٹِکئیِیا ॥
دھاۄتُ دھاءِ تدے گھرِ آۄےَ ہرِ ہرِ سادھوُ سرنھِ پۄئیِیا ॥੨॥
دھیِیا پوُت چھوڈِ سنّنِیاسیِ آسا آس منِ بہُتُ کرئیِیا ॥
آسا آس کرےَ نہیِ بوُجھےَ گُر کےَ سبدِ نِراس سُکھُ لہیِیا ॥੩॥
اُپجیِ ترک دِگنّبرُ ہویا منُ دہ دِس چلِ چلِ گۄنُ کرئیِیا ॥
پ٘ربھۄنُ کرےَ بوُجھےَ نہیِ ت٘رِسنا مِلِ سنّگِ سادھ دئِیا گھرُ لہیِیا ॥੪॥
لفظی معنی:
ستگر پرپے ۔ سچے مرشد کی خوشنودی ۔ من مندر۔ من کے لئے مندر ہے ۔ گر کا سبد۔ کلام مرشد۔ تن بھسم۔ سریر پر راکھ یا ببھوتی لگانا ہے ۔ امر۔ صدیوی زندہ ۔ سادہونگ ۔ سادہو کے ساتھ صحبت (1) سادھ سنگت۔ صحبت و قربت پاکدامن ۔ مدھودن مادہو۔ خدا۔ پکھیا۔ پاؤں دہونا۔ رہاؤ۔ گر ہست ۔ گھر یلو زندگی چھوڑ کر۔ بھیا بن باسی۔ جنگل میں رہائش اختیار کی ۔ دھاوت دھائے ۔ بھٹکتا من بھٹکتا ہے ۔ تدے ۔ تبھی ۔ گھر آوے ۔ سکون پاتا ہے ۔ ہر سادہو ۔ الہٰی پاکدامن ۔ سرن ۔ پوئیا۔ پناہ گزیں ہونے پر (2) دھیاپوت۔ اولاد۔ سنیاسی ۔ طارق۔ آسا۔ آس۔ بہت سی اُمیدیں۔ نراس۔ بے امید۔ سکھ لہیا۔ آرام پاتا ہے ۔ اپجی ترک۔ دلمیں نفرت پیدا ہوئی ۔ دگفبر ۔ نالگا سادہو۔ وگ ۔ طرف۔ انبر۔ آسمان۔ دیدس۔ دس اطراف۔ گون ۔ دہوڑ دوپو۔ پربھون۔ اچھی طرح دوڑ دہوپ۔ ترسنا ۔ خواہشات ۔ دیاگھر ۔ مہربانی کرنیکا خیال۔
ترجمہ:
اے دل خدا رسیدہ پاکدامن کی صحبت اختیار کر اے خدا کرم و عنایت فرمایئے کہ میں بار بار ہر وقت اس پاکدامن خدا رسیدہ کے پاؤں دہوؤں ۔ مراد اسکا گرویدہ ہو جاؤں فرمانبردار ہو کر خدمت کرؤ (1) رہاؤ۔ سچے مرشد کی خوشنودی دل کے لئے کانوں ڈالنے والی جوگی کی مندر ا ہے ۔ اور کلام مرشد جسم پر ملنے والی تبھوتی یاراکھ ۔ صحبت پاکدامن سے تناسخ مراد موت و پیدائش کا چکر ختم ہو جاتا ہے (1) گھریلو زندگی چھوڑ کر جنگل میں رہائش پذیر ہو۔ مگر پل بھر کے لئے بھین چین میسر نہ ہوئی ۔ بھٹکتے من کو چین تبھی حاصل ہوتی ہے جب سادہو پاکدامن صحبت یا پناہ کریں ہو (2) جو شخس آل اولاد چھوڑ کر طارق الدنیا ہو جاتا ہے مگر دلمیں بیشمار امیدیں بناتا اور باندھتا ہے ۔ امید پر امید باندھتا ہے یہ نہیں سمجھتا کے آرام و آسائش ذہنی و روحانی بے امید ہونے میں ہے (3) دنیا سے نفرت پیدا ہوئی اور دیس بدیس کی تاترا کی مگر سمجھ نہ آئی خواہشات نہمٹیں سادہو پاکدامن کی صحبت اختیار کرنے سے چشمہ کرم و عنایت خدا کا ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔

آسنھ سِدھ سِکھہِ بہُتیرے منِ ماگہِ رِدھِ سِدھِ چیٹک چیٹکئیِیا ॥
ت٘رِپتِ سنّتوکھُ منِ ساںتِ ن آۄےَ مِلِ سادھوُ ت٘رِپتِ ہرِ نامِ سِدھِ پئیِیا ॥੫॥
انّڈج جیرج سیتج اُتبھُج سبھِ ۄرن روُپ جیِء جنّت اُپئیِیا ॥
سادھوُ سرنھِ پرےَ سو اُبرےَ کھت٘ریِ ب٘راہمنھُ سوُدُ ۄیَسُ چنّڈالُ چنّڈئیِیا ॥੬॥
ناما جیَدیءُ کنّبیِرُ ت٘رِلوچنُ ائُجاتِ رۄِداسُ چمِیارُ چمئیِیا ॥
جو جو مِلےَ سادھوُ جن سنّگتِ دھنُ دھنّنا جٹُ سیَنھُ مِلِیا ہرِ دئیِیا ॥੭॥
سنّت جنا کیِ ہرِ پیَج رکھائیِ بھگتِ ۄچھلُ انّگیِکارُ کرئیِیا ॥
نانک سرنھِ پرے جگجیِۄن ہرِ ہرِ کِرپا دھارِ رکھئیِیا ॥੮॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
آسن سدھ ۔ عبادت کے طور طریقے ۔ سکھہہ بہتیرے ۔ بہت سے سکھے ۔ردھ سدھ ۔ معجزے کراماتی طاقتیں۔ چیٹک چھیٹکیا جا دووغیرہ خواہش ۔ ترپت۔ تسلی ۔ تسکین ۔ سنتوکھ ۔ صبر ۔ مل ساوہو ۔ پاکدامن۔ سادہو کے ملاپ سے الہٰی نام سدھ پیئیا۔ الہٰی نام سچ و حقیقت سے کامیابی حاصل ہوتی ہے (5) انڈج ۔ انڈے سے پیدا ہونیوالے ۔ جیرج ۔ جیر سے پیدا ہونیوالے ۔ سیتج ۔ پستے سے پیدا ہونیوالے ۔ اتبھج۔ خودرو۔ سبھ ۔ سارے ۔ ورن ۔ رنگ ۔ چیئہ جنت ۔ مخلوقات۔ سادہولرن ۔ پناہ پاکدامن۔ اُبھرے بچے (4) اوجات۔ نیچی ذات۔ چمیار چمیئیا۔ چمڑے کا کام کرنیوالا ۔ سادہو ۔ جن سنگت۔ جنہوں نے سادہو ۔ مراد جنہوں پاکدامن خدا رسیدہ انسانوں کی صحبت اور ساتھ اختیار کیا ۔ دھن دھنا جٹ۔ شاباش ۔ دھناجٹ۔ ہر دئیا۔ الہٰی رحمت سے (7) پیج ۔ عزت۔ بھگت وچھل۔ پریمیؤ کا پیار۔ انگکار ۔ اپنانا۔ دامن پکڑانا ۔ جگجیون ۔ روح عالم۔ جہاں کی زندگی۔ رکھیئیا ۔ حفاظت کرتا ہے ۔
ترجمہ:
کمال یافتہ جوگی بہت سے ریاضت و عبادت کے طور طریقے سیکھتے ہیں مگر وہ بھی معجزوں کی خدا سے مانگ مانگتے ہیں مگر نہ دل کو تسلی ہوتی ہے نہ تسکین پاتے ہیں نہ صبر رہتا ہے نہ دلمیں ٹھنڈ ک رہتی ہے ۔ البتہ خڈا رسیدہ پاکدامن سادہو کے ملاپ سے الہٰی نام سچ وحقیقت کے ذریعے انسان تسکین پاتا ہے اور کامیاب روحانی واخلاقی زندگی پاتا ہے (5) انڈوں سے پیدا ہونیوالے ۔ جیور یاپسینہ سے پیدا ہونیوالے یا خودرو سارے بیشمار رنگوں اور شکلوں کی مخلوقات پیدا کی ہے ۔ جو پاکدامن کی پناہ اختیار کر لیتے ہیں ہیں وہ بچتے ہیں خوآہ بھاری ظلم کیوں نہ ہو (6) نا مدیو ۔ جیدیؤ ۔ کبیر ۔ تر لوچن او رنیچی ذات کا رویداس جو چمار چمڑے کا کام کرتا تھا ۔ جسنے بھی پاکدامنوں صحبت اختیار کی شاباش ہے ڈھان جٹ او سیب نے ملاپ کیا اسنے الہٰی ملاپ پائیا خدا رحمت کے خزانے کا (7) خدا ہمیشہ روحانی رہبر سنتوں کی ہمیشہ حفاظت کرتا ہے اور طرفداری کرتا ہے ۔ اے نانک۔ جو عالم کی زندگی خدا کی پناہ لیتے ہیں وہ اپنی کرم و عنایت سے حفاظت کرتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
انّترِ پِیاس اُٹھیِ پ٘ربھ کیریِ سُنھِ گُر بچن منِ تیِر لگئیِیا ॥
من کیِ بِرتھا من ہیِ جانھےَ اۄرُ کِ جانھےَ کو پیِر پرئیِیا ॥੧॥
رام گُرِ موہنِ موہِ منُ لئیِیا ॥
ہءُ آکل بِکل بھئیِ گُر دیکھے ہءُ لوٹ پوٹ ہوءِ پئیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہءُ نِرکھت پھِرءُ سبھِ دیس دِسنّتر مےَ پ٘ربھ دیکھن کو بہُتُ منِ چئیِیا ॥
منُ تنُ کاٹِ دیءُ گُر آگےَ جِنِ ہرِ پ٘ربھ مارگُ پنّتھُ دِکھئیِیا ॥੨॥
کوئیِ آنھِ سدیسا دےءِ پ٘ربھ کیرا رِد انّترِ منِ تنِ میِٹھ لگئیِیا ॥
مستکُ کاٹِ دیءُ چرنھا تلِ جو ہرِ پ٘ربھُ میلے میلِ مِلئیِیا ॥੩॥
چلُ چلُ سکھیِ ہم پ٘ربھُ پربودھہ گُنھ کامنھ کرِ ہرِ پ٘ربھُ لہیِیا ॥
بھگتِ ۄچھلُ اُیا کو نامُ کہیِئتُ ہےَ سرنھِ پ٘ربھوُ تِسُ پاچھےَ پئیِیا ॥੪॥
لفظی معنی:
پیاس۔ تشنگی ۔ اُٹھی پربھ کیری ۔ خدا کی پیدا ہوئی ۔ برتھا۔ حالت۔ اور۔ دوسرا۔ پیر پریئیا۔ دوسروں کا درد۔ گر موہن ۔محبت میں گرفتار کرنیوالے مرشد نے ۔ موہ من لیا۔ مرے من کو پانی محبت کے گرفت میں کر لیا ۔ آکل بکل بھئی ۔ پریشان حال۔ لوٹ پوٹ۔ قابو سے باہر ۔ رہاؤ۔ نہ خت پھرؤ۔ پہچان کرتا پھرتا ۔ دیس دسنتر ۔ دیس ۔ بدیس۔ پربھ ویکھن۔ دیدار خدا۔ من چیئیا۔ دلمیں خوشی۔ من تن ۔ دلو جان ۔ مارگ پنتھ ۔ راستہ ۔ دکھیئیا۔ دکھائیا (2 ) سندیسا۔ خبر۔ پربھ کیر۔ خدا کا ۔ من تن ۔ دل و جان۔ میٹھ ۔ لگن ۔ مستک ۔ پیشانی ۔ ماتھا۔ چرناتل ۔ پاؤں کے نیچے ۔ ہر پربھ میلے ۔ جو خدا سے ملاپ کرائے (3) پربھ پر بودھیہہ۔ خدا کو سمجھیں گن کامن ۔ اوصاف کے جادو۔ ہر پربھ لہیا۔ خدا کو حآصل کریں۔ بھگت وچھل ۔ پیار کا پیرا۔ اکو۔ اسے ۔ سرن پرھ ۔ پناہ الہٰی۔ تس پاچھے ۔ اسکے لئے ۔
ترجمہ:
اپنی محبت میں گرفتار کرلینے والے مرشد نے مراد پیارے مرشد نے میرے من کو پانی محبت میں گرفتار کر لیا ۔ دیدار مرشد سے پریشان (بے) حال ہوگیا ہو اور ہوش و حواس جاتے رہے اور میرا اپنا آپ میرے اختیار سے باہر ہو گیا (1) رہاؤ۔ میرے دلمیں الہٰی ملاپ کی اُمنگ پیدا ہوئی اور کلام مرشد نے میرے دل کو مجروح کر دیا میرے دل کی حالت میرے دل ہی جانتا دوسرا دوسرے کے درد کو کب سمجھتا ہے (1) میں دیدار خدا کے لئے دیس بدیس تلاش میں گھومتا پھرتا ہوں میرے دلمیں دیدار و ملاپ کی بھرای اُمنگ ہے ۔ میں اپنا جسم کاٹ کر بھینٹ کیوں نہ کردوں جس نے مجھے راہ دیدار بتائیا اور دکھائیا ہے (2) جو کوئی بھی مجھے الہٰی پیغام دیتا ہے وہ میرے دل و جان کو پیارا لگتا ہے ۔ جو کوئی مجھے الہٰی ملاپ کرائے میں سر کاٹ کر اسکے پاؤں تلے رکھدوں (3) آؤساتھیؤ اوصاف کے جادو سے الہٰی ملاپ حاصل کریں اور خدا کو سمجھیں الہٰی نام سچ و حقیقت پیارے کا پیارا کہلاتا ہے آس اسکے زیر سایہ و پناہ رہیں۔

کھِما سیِگار کرے پ٘ربھ کھُسیِیا منِ دیِپک گُر گِیانُ بلئیِیا ॥
رسِ رسِ بھوگ کرے پ٘ربھُ میرا ہم تِسُ آگےَ جیِءُ کٹِ کٹِ پئیِیا ॥੫॥
ہرِ ہرِ ہارُ کنّٹھِ ہےَ بنِیا منُ موتیِچوُرُ ۄڈ گہن گہنئیِیا ॥
ہرِ ہرِ سردھا سیج ۄِچھائیِ پ٘ربھُ چھوڈِ ن سکےَ بہُتُ منِ بھئیِیا ॥੬॥
کہےَ پ٘ربھُ اۄرُ اۄرُ کِچھُ کیِجےَ سبھُ بادِ سیِگارُ پھوکٹ پھوکٹئیِیا ॥
کیِئو سیِگارُ مِلنھ کےَ تائیِ پ٘ربھُ لیِئو سُہاگنِ تھوُک مُکھِ پئیِیا ॥੭॥
ہم چیریِ توُ اگم گُسائیِ کِیا ہم کرہ تیرےَ ۄسِ پئیِیا ॥
دئِیا دیِن کرہُ رکھِ لیۄہُ نانک ہرِ گُر سرنھِ سمئیِیا ॥੮॥੫॥੮॥
لفظی معنی:
خما سیگار ۔ معاف کرنا یا بخش دینے کے زیور سے سجائے ۔ من دیپک گرگیان بلیئیا ۔ دل کے چراگ کو علم رمشد سے روشن کرے ۔ رس رس۔ مزے لیکر۔ بھوگ۔ استعمال ۔ درتے ۔ ہم تس آگے ہم اسے پیش کریں (5) ہر ہر حار کنٹھ ہے بنیا۔ خدا میرے گللے کی تسبیح یا حار ہوگیا ہے ۔ من موتی چور وڈگہن گنیئیا ۔ سر پر پہننے کا زیور مراد دل ایک اعلے زیور ہو گیا ہے ۔ سردھا ۔ ایمان ۔ یقین ۔ سیج ۔ سونے کا بستر۔ پربھ چھوڈ۔ الہٰی جدائی۔ بھیئیا۔ پیارا (6) کہے پربھ اور۔ الہٰی فرمان اور ہے ۔ اور کچھ کیجے ۔ کچھ اور کرتا ہے ۔ سبھ باد۔ سارے جھگڑے ۔ فوکٹ ۔ فضول۔ بیکار ۔ لیؤ سہاگن ۔ اوصاف والا اپنائیا۔ تھوک مکھ پئیا ۔ منہ پر تھوک پڑتا ہے ۔ چیری ۔ شاگرد۔ اگم گوسائیں۔ انسانی عقل و ہوش ورسائی سے اوپر مالک ۔ تیرے دس۔ تیرے زہر اختیارات ۔ کیا ہم کریہہ۔ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ دین ۔ غریب۔
ترجمہ:
معاف کر دینے بخش دینے علم مرشد سے ذہن کو روشن کرنے سے اس وصف سے جوا پنا بناؤ سیگار کرتا ہے الہٰی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اسے خدا اسکا پر لطف مزہ لیتا ہے ۔ ہم اسے اپنی زندگی قربان کرتا ہوں (5) خدا میرے گلے کا ہار ہو گیا ہے اور دل ایک قیمتی زیور ہوگیا ہے الہٰی نام مین ایمان اور یقین کو بستہ بنالیا ہے اور خدا سے میرے محبت و پیار ہو گیا ہے اب اس سے جدا ہو نہیں سکتا (6) جو الہٰی رضا و فرمان کے مطابق نہیں چلتا تو جو کچھ کرتا ہے فضول اور بیکار ہے تو یہ جہدوریاضت فضول اور بیکار چلا جاتا ہے ۔ شرمندگی اُٹھائی پڑتی ہے ۔ خدا نے کسی دوسرے کو اپنالیا (7) اے خدا ہم شاگرد ہیں اور تو مالک عالم ہم تیر زیر اختیارات ہیں اس لئے کچھ کرنے سے قاضر ہیں ۔ اے نانک بتادے ۔ کہ ہم ناتوانوں ناداروں پر کرم و عنایت فرما ؤ اور بچاؤ ہمیں مرشد کی پناہ عنایت فرما۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
مےَ منِ تنِ پ٘ریمُ اگم ٹھاکُر کا کھِنُ کھِنُ سردھا منِ بہُتُ اُٹھئیِیا ॥
گُر دیکھے سردھا من پوُریِ جِءُ چات٘رِک پ٘رِءُ پ٘رِءُ بوُنّد مُکھِ پئیِیا ॥੧॥
مِلُ مِلُ سکھیِ ہرِ کتھا سُنئیِیا ॥
ستِگُرُ دئِیا کرے پ٘ربھُ میلے مےَ تِسُ آگےَ سِرُ کٹِ کٹِ پئیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
رومِ رومِ منِ تنِ اِک بیدن مےَ پ٘ربھ دیکھے بِنُ نیِد ن پئیِیا ॥
بیَدک ناٹِک دیکھِ بھُلانے مےَ ہِردےَ منِ تنِ پ٘ریم پیِر لگئیِیا ॥੨॥
ہءُ کھِنُ پلُ رہِ ن سکءُ بِنُ پ٘ریِتم جِءُ بِنُ املےَ املیِ مرِ گئیِیا ॥
جِن کءُ پِیاس ہوءِ پ٘ربھ کیریِ تِن٘ہ٘ہ اۄرُ ن بھاۄےَ بِنُ ہرِ کو دُئیِیا ॥੩॥
کوئیِ آنِ آنِ میرا پ٘ربھوُ مِلاۄےَ ہءُ تِسُ ۄِٹہُ بلِ بلِ گھُمِ گئیِیا ॥
انیک جنم کے ۄِچھُڑے جن میلے جا ستِ ستِ ستِگُر سرنھِ پۄئیِیا ॥੪॥
لفظی معنی:
اگتم ۔ انسانی عقل و ہوش سے باہر۔ سروھا ۔ ایمان ۔ یقین ۔ بشواش ۔ جیؤ چا ترک ۔ جیسے پیپہا۔ جیؤ بن املے ۔ جیسے بغیر نشے (1) ہر کتھا سنیئیا ۔ الہٰی کہانی سنی ۔ کٹ کٹ پیئیا۔ کاٹ کر رکھدوں ۔ رہاؤ۔ روم روم ۔ بال بال ۔ بیدن ۔ درد۔ بیدک ۔ وید حکیم ۔ ناٹک ۔ بنض کی تشخیص کرنیوالے ۔ بھلانے ۔ گمراہ ہوئے (2) جیؤبن املے املی ۔ جیسے نشے کے بغیر نشئی ۔ پیاس۔ تشنگی ۔ پربھ کیری ۔ خد اکی ۔ دوئیا۔ دوسرا (3) آن آن ۔ آآگر ۔ تس و ٹہو۔ اس پر سے ۔ ستگر سرن پوئیا۔ سچے مرشد کے زیر پناہ ۔
ترجمہ:
آؤ۔ ساتھیوں کتھا سنیں سچا مرشد سے خدا کی سچا مرشد مہربان ہوتا ہے اسے خدا سے ملا دیاتا ہے اسے سر کاٹ کاٹ کر پیش کروں۔ رہاؤ۔ میرے دل و جان میں اس انسانی عقل و ہوش سے بعید خدا سے پریم پیار پیدا ہو چکا ہے میرے دلمیں بار بار ہر گھڑی بہت زبردست خواہش اور امنگ ملاپ کے لئے پیدا ہو رہی ہے ۔ دیدار مرشد سے میرے دل کی مراد پوری ہوتی ہے جیسے آسمانی بوند پپیہے کے منہ میں پڑنے سے پپیہے کی ہوتی ہے (1) میرے بال بل میں دل و جان میں ایک درد ہے۔ بغیر دیدار الہٰی مجھے نیند نہیں آتی ۔ وید اور حکم میری کی تشخیص سے گمراہ ہو جاتے ہیں میرے دل و ذہن میں الہٰی پریم پیار اور ہجر کا درد ہے (2) میں تھوڑے سے وقفے کے لئے اپنے پیارے کے بغیر رہ ہیں سکتا جیسے نشی نشے کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جنکو الہیی ملاپ کی تشنگی ہے انہیں اسکے علاوہ انہیں دوسرا نہیں بھاتا۔ اگر کوئی میرا ملاپ خدا سے کر ادے تو اس پر قربان ہو جاوں ۔ سچے مرشد کی پناہ لینے پر دیرینہ جدا ہوئے ہوئے کو بھی ملا دیتا ہے ۔

سیج ایک ایکو پ٘ربھُ ٹھاکُرُ مہلُ ن پاۄےَ منمُکھ بھرمئیِیا ॥
گُرُ گُرُ کرت سرنھِ جے آۄےَ پ٘ربھُ آءِ مِلےَ کھِنُ ڈھیِل ن پئیِیا ॥੫॥
کرِ کرِ کِرِیاچار ۄدھاۓ منِ پاکھنّڈ کرمُ کپٹ لوبھئیِیا ॥
بیسُیا کےَ گھرِ بیٹا جنمِیا پِتا تاہِ کِیا نامُ سدئیِیا ॥੬॥
پوُرب جنمِ بھگتِ کرِ آۓ گُرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ بھگتِ جمئیِیا ॥
بھگتِ بھگتِ کرتے ہرِ پائِیا جا ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ نامِ سمئیِیا ॥੭॥
پ٘ربھِ آنھِ آنھِ مہِنّدیِ پیِسائیِ آپے گھولِ گھولِ انّگِ لئیِیا ॥
جِن کءُ ٹھاکُرِ کِرپا دھاریِ باہ پکرِ نانک کڈھِ لئیِیا ॥੮॥੬॥੨॥੧॥੬॥੯॥
لفظی معنی:
خوآبگاہ ۔ سیج ۔ دل ۔ ذہن ۔ محل۔ ٹھکانہ ۔ منمکھ۔ خودی پسند ۔ بھرمیئیا۔ بھٹکتا ہے ۔ کھن۔ تھوڑے سے وقفے میں ۔ ڈھیل۔ دیر (5) کریا چار۔ کرم کانڈ ۔ دکھاوے کے اعمال۔ پاکھنڈ ۔ دکھاوا ۔ کپٹ ۔ فریب ۔ دہوکا۔ لوبئیا۔ لالچ۔ بیسوآ۔ بازاری عورت ۔ پتاتا ہے ۔ اسکے باپ ۔ کیا نام سدیئیا۔ کس نام سے پکارو گے (6) پورب جنم پہلے جنم میں۔ گر بھگت جمیئیا۔ مرشد نے انکے دل و ذہن میں الہٰی محبت کا بیج بودیا۔ ہر نام سمیئیا ۔الہٰی نام سچ و حقیقت میں محو ہوئے (7) خدا نے ۔ انگ ۔ جسم ۔ ٹھاکر۔ مالک۔ خدا۔ کرپا۔ مہربانی بالہہ۔ بازد۔
ترجمہ:
واحد ہے خدا اور واحد ہے دل جسمیں بستا ہے خدا مگر مرید من کو ملتا نہیں ٹھکانہ بھٹکتا رہتا ہے خودی پسند وہم و گمان میں اگر مرشد کو اپنائے خدا سے ملاپ پانے میں دیر نہیں ہوتی (5) اگر کوئی دنیاوی مذہبی اعمال اور شرع دینی کا قائل رہے تب اسکے دلمیں لالچ دہوکا فریب اور دنیاوی دکھاوے کے اعمال ہی بسے رہتے ہیں الہٰی ملاپ میسر نہیں ہوتا ۔ جیسے اگر بازاری عورت کے گھر بچہ پیدا ہو جائے تو اسکے باپ کا نام بتائیا نہیں جا سکتا (6) جنہوں نے اپنی زندگی میں پہلے ہی الہٰی عبادت وریاضت کی ہوتی ہے ۔ مرشد انکے ذہن میں الہٰی پیار و پریم کا بیج بو دیتا ہے ۔ جب دلمیں ہر وقت الہٰی نام سچ و حقیقت میں دھیان لگا رہتا ہے ۔ اور انسان سچ و حقیقت میں محو ومجذوب رہتا ہے تب اسے الہٰی ملاپ میسر ہو جاتا ہے (7) خدا نے خود الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب کیا تب اسکے ذہن میں جہدوویراضت کا جذیہ پیدا کیا اور اسمیں رنگینی پیدا کی اور اپنے ساتھ الھاق بنائیا اے نانک۔ جن پر خدا نے کی نظر عنایت و شفقت اسے بازو سے پکڑ کر اس دنیاوی زندگی کے سمندر کو طوفانی لہروں سے بچا کر کامیابی عنایت فرمائی ۔
میزان کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ اسٹ پدیا محلہ (1) 1-2
3-1
4-2
کل : 9

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ اسٹپدیِ گھرُ ੧੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
اُپما جات ن کہیِ میرے پ٘ربھ کیِ اُپما جات ن کہیِ ॥
تجِ آن سرنھِ گہیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘ربھ چرن کمل اپار ॥
ہءُ جاءُ سد بلِہار ॥
منِ پ٘ریِتِ لاگیِ تاہِ ॥
تجِ آن کتہِ ن جاہِ ॥੧॥
ہرِ نام رسنا کہن ॥
مل پاپ کلمل دہن ॥
چڑِ ناۄ سنّت اُدھارِ ॥
بھےَ ترے ساگر پارِ ॥੨॥
منِ ڈورِ پ٘ریم پریِتِ ॥
اِہ سنّت نِرمل ریِتِ ॥
تجِ گۓ پاپ بِکار ॥
ہرِ مِلے پ٘ربھ نِرنّکار ॥੩॥
پ٘ربھ پیکھیِئےَ بِسماد ॥
چکھِ اند پوُرن ساد ॥
نہ ڈولیِئےَ اِت اوُت ॥
پ٘ربھ بسے ہرِ ہرِ چیِت ॥੪॥
لفظی معنی:
اُپما۔ تعریف ۔ عظمت ۔ روحانی بلندی۔ تج آن ۔ دوسروں کو چھوڑ کر ۔ کتیہہ۔ کہیں (1) ہرنام ۔ الہیی نام سچ و حقیقت ۔ رسنا۔ زبان ۔ اپار۔ جسکا کوئی کنارہ حد بنا نہ ہو۔ سر بلہار ۔ سو بار قربان ۔ پریت ۔ پیار۔ تج آن ۔ دوسروں کو چھوڑ کر۔ سرن گہی ۔ پناہ لی ۔ کہو ۔ کہیں (1) رسنا۔ زبان سے ۔ مل۔ میل۔ ناپاکیزگی ۔ کلمل۔ گناہ۔ دہن ۔ جلانا۔ ناو۔ کشتی ۔ سنت اوھار۔ روحانی رہبر بچاتا ہے ۔بھے ساگر۔ خوفناک سمندر۔ پار۔ عبور کرنا۔ کامیابی (2) من ڈور پریم پریت۔ دلمیں پیار محبت کی لگن ہے ۔ سنت نرمل ریت ۔ روحانی رہبروں کی پاک رسم۔ پاپ بکار۔ گناہگاریاں اور بدکاریاں۔ نرنکار۔ بلا آکارو حجم۔ (3) پیکھیئے ۔ دیدار کریں۔ بسماد۔ حیرت زدہ۔ ھیران۔ چکھ ۔ لطف لیکر۔ پورن ساد ۔ مکمل لطف یا مزہ ۔ ڈولئے ۔ ڈگمائیں۔ ات اوت ۔ یہاں اور وہاں ۔ اس علام میں اور عاقبت یا اگللے جہان میں۔
ترجمہ:
الہٰی عظمت و حشمت بیان سے بعید ہے ۔ دوسروں کو چھوڑ کر الہٰی پناہ و سایہ حاصل کی اہے (1) ۔ رہاؤ۔قربان ہوں اس پاک خدا پر مجھے اس سے پیار ہوگیا ہے ۔ اب اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاتا (1) زبان سے خدا کا نام لیتا ہوں اور گناہوں اور بدکاریوں کی غلاظت دور کرتا ہوں ۔ روحانی رہبر کی کشتی پر سوار ہونے میں ہے بچاؤ۔ زندگی کے خوفناک سمند رسے پار ہو جاتے ہیں (2) اس من کو الہٰی پریم پیار کی ڈور یا ضابطے میں باندھنا روھانی رہبروں کا پاک قصد و رسم ہے جو اسمیں بندھ جاتے ہیں ۔ وہ گناہو و بدکاریوں کو چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا ملاپ بے حجم و بے آکار خدا سے ہو جاتا ہے (3) دیدار خدا سے خیرت ہوتی ہے مکمل لطف اور مکمل سکون ملتا ہے نہیں ڈگمگاتا انسان ہر دو عالموں میں جو ہر دلمیں بستا ہے (4)

تِن٘ہ٘ہ ناہِ نرک نِۄاسُ ॥
نِت سِمرِ پ٘ربھ گُنھتاسُ ॥
تے جمُ ن پیکھہِ نیَن ॥
سُنِ موہے انہت بیَن ॥੫॥
ہرِ سرنھِ سوُر گُپال ॥
پ٘ربھ بھگت ۄسِ دئِیال ॥
ہرِ نِگم لہہِ ن بھیۄ ॥
نِت کرہِ مُنِ جن سیۄ ॥੬॥
دُکھ دیِن درد نِۄار ॥
جا کیِ مہا بِکھڑیِ کار ॥
تا کیِ مِتِ ن جانےَ کوءِ ॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ سوءِ ॥੭॥
کرِ بنّدنا لکھ بار ॥
تھکِ پرِئو پ٘ربھ دربار ॥
پ٘ربھ کرہُ سادھوُ دھوُرِ ॥
نانک منسا پوُرِ ॥੮॥੧॥
لفظی معنی:
نرک ۔ دوزخ۔ نواس ۔ رہائش ۔ نت سمر۔ ہر روز یاد کر ۔ پربھ گن تاس۔ خدا اوصاف کا خزانہ ہے ۔ جم نہ پیکھیہہ نین ۔ موت کے فرشتہ کا آنکھوں نہ دیکھوں ۔ انحت بین ۔ بے آواز روحانی سنگیت (5) سور۔ بہادر۔ وس۔ ماتحت ۔ زیر۔ دیال۔ مہربان ۔ نگم ۔ وید ۔ کہے نہ بھید۔ راز نہیں سمجھ سکے ۔ من جن۔ الہٰی پریمی و خدمتگار (6) دکھ دین ۔ غریبوں کا عذاب ۔ نوار۔ دور کرنیوالا۔ وکھڑی۔ دشوار۔ مشکل۔ مت۔ منتی ۔ حساب۔ جل۔ پانی ۔ تھل۔ زمین ۔ مہیل۔ خلا (7) بندھنا۔ سجدہ۔ سرجھکانا۔ تھک۔ ماند ہوکر۔ دربار۔ عدالت الہٰی ۔ سادہو دہور۔ خاک پائے پاکدامن ۔ منسا ارادہ ۔ خواہش۔
ترجمہ:
انہیں نہ جانا پڑلگا دوزخ جو اوصاف کے خزانے خدا کو ہر روزیاد کرتے ہیں۔ انہیں دیکھنا پڑتا آنکھوں سے فرشتہ موت جو روحانی گیت سنگت و ساز بغیر بجاے جو بجتا ہے (5) جو خدا کی پناہ میں رہتے ہیں خدا انکے بس میں رہتا ہے وید نہیں پا سکے راز خدا کا ولی اللہ اور فقیر الہٰ ہر روز اسکی خدمت کرتے ہیں (6) جسکی دشوار ہے کار وخدمت اسکی گنتی اور حساب نہیں جانتا کوئی پانی زمین اور خلامیں بستا ہے وہی (7) لاکہوں بار سجدہ کرتا ہوں تجھے اے خدا ماند ہوکر آیا ہوں تیرے دربار مجھے پاکدامنوں کی خاک پابنادے نانک کا یہ کر ارادہ پور۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
پ٘ربھ جنم مرن نِۄارِ ॥
ہارِ پرِئو دُیارِ ॥
گہِ چرن سادھوُ سنّگ ॥
من مِسٹ ہرِ ہرِ رنّگ ॥
کرِ دئِیا لیہُ لڑِ لاءِ ॥
نانکا نامُ دھِیاءِ ॥੧॥
دیِنا ناتھ دئِیال میرے سُیامیِ دیِنا ناتھ دئِیال ॥
جاچءُ سنّت رۄال ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّسارُ بِکھِیا کوُپ ॥
تم اگِیان موہت گھوُپ ॥
گہِ بھُجا پ٘ربھ جیِ لیہُ ॥
ہرِ نامُ اپُنا دیہُ ॥
پ٘ربھ تُجھ بِنا نہیِ ٹھاءُ ॥
نانکا بلِ بلِ جاءُ ॥੨॥
لوبھِ موہِ بادھیِ دیہ ॥
بِنُ بھجن ہوۄت کھیہ ॥
جمدوُت مہا بھئِیان ॥
چِت گُپت کرمہِ جان ॥
دِنُ ریَنِ ساکھِ سُناءِ ॥
نانکا ہرِ سرناءِ ॥੩॥
بھےَ بھنّجنا مُرارِ ॥
کرِ دئِیا پتِت اُدھارِ ॥
میرے دوکھ گنے ن جاہِ ॥
ہرِ بِنا کتہِ سماہِ ॥
گہِ اوٹ چِتۄیِ ناتھ ॥
نانکا دے رکھُ ہاتھ ॥੪॥
ہرِ گُنھ نِدھے گوپال ॥
سرب گھٹ پ٘رتِپال ॥
منِ پ٘ریِتِ درسن پِیاس ॥
گوبِنّد پوُرن آس ॥
اِک نِمکھ رہنُ ن جاءِ ॥
ۄڈ بھاگِ نانک پاءِ ॥੫॥
لفظی معنی:
جنم مرن ۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ نور ۔ مٹا۔ ہار پریؤ ۔ ماند ہوکر۔ دآر۔ در پر ۔ گیہہ۔ پکڑ ۔ سادہوسنگ ۔ صحبت و قربت پاکدامن ۔ مسٹ ۔ میٹھا ۔ ہر رنگ ۔ الہٰی پیار۔ دیا مہربانی ۔ لیہو لڑ لائے ۔ اپنے دامن لگاؤ۔ انم دھیائے ۔ سچ وحقیقت میں توجہ کرنے () دینا ناتھ ۔ غریبوں ناتوانوں کا مالک ۔ جاچؤ ۔ مانگتا وہں ۔ سنت روال۔ روحانی رہبروں کے پاؤن کی کاک یا دہول ۔ رہاؤ۔ وکھیا کوپ۔ زہر کا کنوآں ۔ تم ۔طمع۔ لالچ۔ اگیان ۔ لاعلمی ۔ جہالت۔ موہ ۔ محبت۔ گھوپ۔ نہایت بھاری اندھیرا ۔ گیہہ بھجا۔ باز وپکڑ کر ۔ ٹھاؤ۔ ٹھکانہ (2) لوبھ موہ بادھی دیہہ ۔ لالچ اور محبت میں گرفتار ہے یہ جسم ۔ کھیہہ ۔ مٹی ۔ جمدوت ۔ موت کا ملازم۔ بھیئان ۔ غجبناک۔ چت گپت ۔ خیالی الہٰی جاسوس یا منشی ۔ گرمیہہ۔ اعمال ۔ دن رین ۔ روز و شب۔ دن رات۔ ساکھ ۔ شاحد ۔ گواہ (3) بھے بھنجنا۔ خوف مٹانے والے ۔ مرار ۔ خدا۔ پتت۔ بد اخلاق ۔ بدکار۔ ادھار۔ بچانیوالا۔ دوکھ ۔ عیب ۔ برائیاں ۔ گنے ۔ گنے ۔ حساب۔ کتیہہ۔ کہاں۔ گیہہ اوٹ چتوی ناتھ ۔ اوٹ ۔ آصرا۔ چتوی ۔ دلمیں خیال کیا۔ سوچا۔ رکھ ہاتھ ۔ اپنے ہاتھ سے بچا (4) گن ندھے ۔ اوصاف کا خزانہ سرب گھٹ ۔ سارے دلوں میں ۔ پرتپال۔ پرورش کرنیوالا۔ درسن پیاس۔ دیدآر کی چاہ۔ پورن ۔ آس۔ امید پوری کر۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کے وقفے کے لئے ۔ رہن نہ جائی۔ رہا نہیں جاتا۔ وڈبھاگ ۔ بلند قسمت سے ۔

پ٘ربھ تُجھ بِنا نہیِ ہور ॥
منِ پ٘ریِتِ چنّد چکور ॥
جِءُ میِن جل سِءُ ہیتُ ॥
الِ کمل بھِنّنُ ن بھیتُ ॥
جِءُ چکۄیِ سوُرج آس ॥
نانک چرن پِیاس ॥੬॥
جِءُ ترُنِ بھرت پران ॥
جِءُ لوبھیِئےَ دھنُ دانُ ॥
جِءُ دوُدھ جلہِ سنّجوگُ ॥
جِءُ مہا کھُدھِیارتھ بھوگُ ॥
جِءُ مات پوُتہِ ہیتُ ॥
ہرِ سِمرِ نانک نیت ॥੭॥
جِءُ دیِپ پتن پتنّگ ॥
جِءُ چورُ ہِرت نِسنّگ ॥
میَگلہِ کامےَ بنّدھُ ॥
جِءُ گ٘رست بِکھئیِ دھنّدھُ ॥
جِءُ جوُیار بِسنُ ن جاءِ ॥
ہرِ نانک اِہُ منُ لاءِ ॥੮॥
کُرنّک نادےَ نیہُ ॥
چات٘رِکُ چاہت میہُ ॥
جن جیِۄنا ستسنّگِ ॥
گوبِدُ بھجنا رنّگِ ॥
رسنا بکھانےَ نامُ ॥
نانک درسن دانُ ॥੯॥
گُن گاءِ سُنِ لِکھِ دےءِ ॥
سو سرب پھل ہرِ لےءِ ॥
کُل سموُہ کرت اُدھارُ ॥
سنّسارُ اُترسِ پارِ ॥
ہرِ چرن بوہِتھ تاہِ ॥
مِلِ سادھسنّگِ جسُ گاہِ ॥
ہرِ پیَج رکھےَ مُرارِ ॥
ہرِ نانک سرنِ دُیارِ ॥੧੦॥੨॥
لفظی معنی:
مین ۔ مچھلی ۔ ہیت۔ پیار۔ ال بھورا۔ بھن۔ علیحدہ ۔ پیاس ۔ اُمنگ۔ خوآہش ۔ آس۔ امید (2) ترن۔ دوشیزہ ۔ جوان ۔ عورت ۔ بھرت۔ خاوند۔ پران۔ زندگی ۔ نہایت پیار۔ لوبھیئے ۔لالچ۔ دھن دان۔ دولت کی خیرات۔ سنجوگ۔ ملاپ ۔ کھدیارتھ ۔ بھوکا۔ بھوگ ۔ کھانا۔ مات۔ ماں۔ پوتیہہ۔ بیٹے ۔ ہیت۔ پیار۔ ہر سمر۔ خدایاد کر۔ نیت۔ ہر روز (7) جیؤ ۔ جیسے ۔ دیپ۔ چراغ۔ پتن ۔ گرنا۔ پتنگ ۔ بھنوٹ ۔ پتنگا۔ ہرت ۔ چوری کرتا ہے ۔ نسنگ ۔ بیفکر ہوکر۔ میگیہہ۔ ہاتھی ۔ کامے ۔ شہوت ۔ جوآر۔ جو ا کھیلنے والا۔ پسن ۔ بری عادت۔ ہر نانک ابیہہ من لائے ۔ نانک خدا سے اپنا دل لگاتا ہے (8) کرتک ۔ ہرن ۔ ناد۔ آواز۔ نیہو ۔ پیار ۔ چاترک پیہا۔ میہو۔ بارش۔ ست سنگ ۔ پاک صحبت۔ بھنجارنگ ۔ الہٰی ریاض سے محبت ۔ رسنا۔ زبان ۔ بکھانے بیان۔ نام۔ الہیی نام ۔ سچ و حقیقت ۔ درسن دان ۔ خیرات دیدار (9) سرب پھل۔ سارے نتیجے ۔ کامیابیاں ۔ کل سموہ ۔ سارے خاندان ۔ اوھار۔ کامیاب۔ اترس پار۔ کامیابی حاسل کرتا ہے ۔ بوہتھ ۔ جہاز۔ تاہے ۔ اسکے ۔ پیج ۔ عزت ۔ مرار۔ خدا۔
ترجمہ:
اے خدا نہیں کوئی ثانی تیرا۔ میرے دلمیں ہے پیار تیرا جیسا چاند سے چکور کا ۔ جیسے کنول کے پھول سے نہیں دوری بھنور کی ۔ جیسے مچھلی کا پیار پانی سے ہے جیسے چکوی جیتنی سورج کی آمد کی امید پر ایسے ہی خواہش ہے نانک کو الہیی پائے کی (6) جیسے نوجوان دوشیزہ عورت کو خاوند سے پیار ہے جیسے اللچی آدمی کو خوشی حاصل ہوتی ہے دولت کی خیرات سے ۔ جیسے دودھ کا پانی سے ملاپ ہے ۔ جیسے بھوکے کو کھانے سے ۔ جیسے ماں کی محبت سے بیٹے سے ایسے نانک کو محبت ہے ہر روز الہٰی یاد سے (7) جیسے پتنگا گرتا چراغ پر جیسے چور چوری کرتا ہے ۔ بیفکر ہوکر جیسے ہاتھی کی محبت ہے شہورت سے ۔ جیسے شہوت کا دلدادہ شہوت میں رہتا ہے گرفتار ۔ جیسے جوآ کھلینے والے کی بری عادت جاتی نہیں۔ ایسے ہی نانک اس دل کو خدا سے لگاتا ہے (8) جیسے ہرن کا گھنڈے ہیڑے کی آواز سے پیار ہے ۔ جیسے پیہے کو چاہ بارش کی ہے ( جیسے مچھلی کی) مھبت پانی سے ہے ۔ انسانی زندگی سچے پاکدامن انسانوں کی صحبت میں ہے ۔ جیسے زبان الہٰی نام سچ وحقیقت بیان کرتی ہے ۔ ایسے ہی نانک ویدار کی خیرات مانگتا ہے (9) جو شخس الہٰی صفت صلاح کرتا ہے تحریر کرتا ہے اور سنتا ہے اسے الہٰی ملاپ حاصل ہو جاتا ہے جو ہر طرح کی کامیابیاں بخشنے والا ہے ۔ وہ سارے خاندان کو کامیابی دلادیتا ہے اور اس زندگی کے سمندر کو کامیابی سے پار کر لیتا ہے ۔ اے نانکپائے الہٰی ہیں ایک جہاز ہیں۔ پاکدامن سے بیفکر حمدوثناہ کے لئے ۔ اے خدا عزت بچاییئے ۔ نانک الہٰی در پر پناہ گزیں ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੧ تھِتیِ گھرُ ੧੦ جتِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ایکم ایکنّکارُ نِرالا ॥
امرُ اجونیِ جاتِ ن جالا ॥
اگم اگوچرُ روُپُ ن ریکھِیا ॥
کھوجت کھوجت گھٹِ گھٹِ دیکھِیا ॥
جو دیکھِ دِکھاۄےَ تِس کءُ بلِ جائیِ ॥
گُر پرسادِ پرم پدُ پائیِ ॥੧॥
لفظی معنی :
تتھی ۔ تتھ ۔ چان دکے مطابق تاریخ۔ ایکم ۔ پہلی تاریخ۔ ایکنکار۔ واحد ہے خدا۔ نرالا۔ انوکھا۔ امر۔ صدیوی ۔ موت سے بری ۔ اجونی ۔ پیدانہ ہونیوالا۔ جات۔ نہ جالا۔ بندھن نہیں۔ پابندی ۔ اگم ۔ انسانی رسائی سے بعید۔ اگوچر۔ جو بیان نہ ہو سکے ۔ روپ۔ شکل و صورت۔ ریکھیا۔ نشان۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ جو دیکھ دکھاوے ۔ جو خود دیکھے دوسروں کو دیکھائے ۔ بل۔ قربان۔ گر پر ساد۔ رحمت مرشد سے ۔ پرم پد۔ بلند رتبہ ۔
ترجمہ:
واحد ہے خدا ( نہیں کوئی ثانی اسکا) انوکھی ہے شان اسکی صدیوی ہے وہ پیدا ہوتا نہیں مخمسہ یا الجھاؤ نہیں اسے کوئی ۔ انسانی رسائی سے بعید ہے وہ بیان ہو سکتا نہیں نہ کوئی شکل و صورت ہے نہیں کوئی نشان اسکا ۔ ڈہونڈتے ڈہونڈتے ہر دلمیں پائیا دیدار اسکا ۔ جو خود یکھے اور کرائے دیدار اسکا۔ اس پر قربان ہوں میں رحمت رمشد سے بلند رتبہ پاتا ہے وہ ۔

کِیا جپُ جاپءُ بِنُ جگدیِسےَ ॥
گُر کےَ سبدِ مہلُ گھرُ دیِسےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دوُجےَ بھاءِ لگے پچھُتانھے ॥
جم درِ بادھے آۄنھ جانھے ॥
کِیا لےَ آۄہِ کِیا لے جاہِ ॥
سِرِ جمکالُ سِ چوٹا کھاہِ ॥
بِنُ گُر سبد ن چھوُٹسِ کوءِ ॥
پاکھنّڈِ کیِن٘ہ٘ہےَ مُکتِ ن ہوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
کیا جپ۔ کونسی یادوریاض ۔ جگدیسے ۔ بغیر مالک عالم ۔ گر کے سبد۔ کلام مرشد سے ۔ محل گھر ویسے ۔ الہٰی ٹھکانے کا دیدار ہوتا ہے ۔ رہاؤ۔ دوجے بھائے۔ دوسروں سے محبت۔ جسم در ۔ الہٰی کوتوالی ۔ بادھے ۔ بندھا جاتا ہے ۔ آون جانے ۔ تناسخ میں رہتا ہے ۔ سد جمکال سے جھوٹا کھا ہے ۔ الہٰی کوتول سر پر چوٹیں یا ٹھوکریں لگاتا ہے ۔ چھوٹس۔ نجات۔ پاکھنڈ ۔ دکھاوا۔ مکت۔ نجات۔ آزادی ۔ (2)
ترجمہ:
جو انسان خدا کو چھوڑ کر دوسروں سے محبت کرتے ہیں آکر کو پچھتاتے ہیں۔ الہٰی کوتوال باندھ لیتا ہے تناسخ میں پڑجاتے ہیں ۔ خالی ہاتھ آتے ہیں۔ جہا ن میں خالی ہے چلے جاتے ہیں ۔ روحانی موت سر پر سوار رہتی ہے اور سزائیں پاتے ہیں۔ کلام مرشد کے بغیر نجات حاصل نہیں ہوتی کسی کو دکھاوے سے نجات حاصل نہیں ہوتی (2) در دولت الہٰی کا دیدار ہوتا ہے ۔ رہاؤ۔

آپے سچُ کیِیا کر جوڑِ ॥
انّڈج پھوڑِ جوڑِ ۄِچھوڑِ ॥
دھرتِ اکاسُ کیِۓ بیَسنھ کءُ تھاءُ ॥
راتِ دِننّتُ کیِۓ بھءُ بھاءُ ॥
جِنِ کیِۓ کرِ ۄیکھنھہارا ॥
اۄرُ ن دوُجا سِرجنھہارا ॥੩॥
لفظی معنی:
آپے ۔ خود بخود۔ از خود۔ سچ ۔ صدیوی سچے خدا نے کیا۔ عالم یا جہان پیدا کیا۔ گر جوڑ۔ اپنے ہاتھوں سے ۔ انڈج پھوڑ۔ چونکہ یہ عالم ایک گول مادہ تھا انڈے کی طرح۔ پھوڑ جوڑ و چھوڑ۔ اسے توڑ کر دو حصوں میں منقسم کر دیا درمیان سے ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اس طرح آسمان اور زمین رہنے کے لئے وجود میں آئی ۔ بھؤ بھاؤ۔ خوف اور پیار جن کئے ۔ جس نے عالم بنائیا۔ دیکھنہار۔ خبر گیری کی توفیق رکھتا ہے ۔ اور ۔ دوسرا۔ سرجنہار۔ پیدا کرنیوالا۔
ترجمہ:
خدا صدیوی سچ ہے اس نے اپنے ہاتھوں سے اس عالم کو پیدا کیا ہے اپنے فرمان سے ( ایکو گواؤ ۔ کیا پساوتس سے ہوئے لکھ دریاؤ) یعنی کن کہنے پر یہ ساری قائنات وجود میں آئی ) زمین جو ایک انڈے کی شکل میں گول آکار کی ہے اسے توڑ کر اسکے دو حصے کئے پھر دونوں کے سرے میلا کر زمین و آسمان بنائے زمین بسنے اور رہنے کے لئے بنائی۔ رات و دن بنائے خوف اور پیار پیدا کیا۔ جس نے یہ قائنات پیدا کیا ہے وہی خبر گیری بھی کرتا ہے ۔ اسکے علاوہ دوسرا کوئی پیدا کریوالا نہیں (3)

ت٘رِتیِیا ب٘رہما بِسنُ مہیسا ॥
دیۄیِ دیۄ اُپاۓ ۄیسا ॥
جوتیِ جاتیِ گنھت ن آۄےَ ॥
جِنِ ساجیِ سو کیِمتِ پاۄےَ ॥
کیِمتِ پاءِ رہِیا بھرپوُرِ ॥
کِسُ نیڑےَ کِسُ آکھا دوُرِ ॥੪॥
لفظی معنی:
تتیا۔ تیسرے ۔ خدا نے برہما۔ وشنو اور شوجی پیدا کئے اور بیشمار دیوی دیوتے وغیرہ اور دوسری مخلوقات پیدا کی ۔ دنیا کو علم کے نور سے روشن کرنیوالی بیشمار ہستیاں پیدا کیں۔ جس نے یہ عالم پیدا کیا ہے وہی اسکا قدردان اور قدروقیمت کو سمجھتا ہے ۔ قدردان بھی ہے اور بستا بھ ہر جا ہے ۔ یہ کیسے کہوں کہ کس کے نزدیک ہے اور کس سے دور ہے ۔ مراد سب میں برابر بستا ہے کسی کے پاس ہے نہ دور ہے (4)

چئُتھِ اُپاۓ چارے بیدا ॥
کھانھیِ چارے بانھیِ بھیدا ॥
اسٹ دسا کھٹُ تیِنِ اُپاۓ ॥
سو بوُجھےَ جِسُ آپِ بُجھاۓ ॥
تیِنِ سماۄےَ چئُتھےَ ۄاسا ॥
پ٘رنھۄتِ نانک ہم تا کے داسا ॥੫॥
لفظی معنی:
چوتھے ۔ چاند کے طلوع ہونے کے چوتھے راز۔ اُپائے ۔ پیدا کئے ۔ چارے وید۔ رگ۔ ججر ۔ سام ۔ اتھرون ۔ کھانی چارے ۔ عالم کی پیدائش کی چار کانیں۔ انڈج ۔ جیرج ۔ سیتج ۔ اُتبھج۔ اسٹ ۔ وسا ۔ آٹھ اطراف ۔ اٹھارہ پران ۔ گھٹ ۔ چھ شاشتر ۔ تین ۔ اوصاف تین پیدا کئے ۔ رجو ستو تمو۔ ترقی سچائی اور (لالچ) غصہ ۔ تین سماوے چوتھے داسا۔ جو تینوں حالتوں سے اوپر اُٹھ کر چوتھے پد جسے روحانی سکون ۔ پر نوت نانک۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ تاکا۔ اسکا۔ داسا۔ خدمتگار ۔
ترجمہ:
چاروید پیدا کئے ۔ چار قائنات و مخلوقات پیدا کرنیکی کا نین پیدا کیں اور علیحدہ علیحدہ بولیاں ۔ اٹھاراں پران اور چھ شاشتر اور تین اوصاف روز مرہ کی زندگی کے اسے وہی سمجھتا ہے جیسے خدا خود سمجھاتا ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے تو تینوں اوصاف سے اوپر اُٹھ کر چوتھے اوصاف تریا پد جیسے سہج پد یا تر یا پدسے پکارتے ہیں زندگی گذارتا ہے نانک اسکا خدمت گار ہے (5)

پنّچمیِ پنّچ بھوُت بیتالا ॥
آپِ اگوچرُ پُرکھُ نِرالا ॥
اِکِ بھ٘رمِ بھوُکھے موہ پِیاسے ॥
اِکِ رسُ چاکھِ سبدِ ت٘رِپتاسے ॥
اِکِ رنّگِ راتے اِکِ مرِ دھوُرِ ॥
اِکِ درِ گھرِ ساچےَ دیکھِ ہدوُرِ ॥੬॥
لفظی معنی:
پنچ بھوت پانچ تت۔ پانچ بنیادی مادیات ۔ بیتالا ۔ بے وز۔ بد روح۔ پرکھ نرالا۔ انوکھا انسان۔ انوکھی ہستی ۔ بھرم۔ گمراہ۔ بھوکھے موہ پیاسے ۔ خواہشات اور نیاوی دولت کے بھوکے ومحبت میں ملبوس۔ رس۔ لطف۔ سبد۔ کلام ۔ ترپتا سے ۔ تسکین وتسلی والے ۔ رنگ راتے ۔ پریم پیار میں محو۔ دہور۔ مٹی ۔ گھر ساچے ۔ خدا کے در پر
ترجمہ:
پانچ بنیادی مادیات پر مشتمل انسان حقیقی روحانی زندگی سے گمراہ ہے جبکہ خدا انسانی عقل و ہوش و سمجھ سے بعد ہے اور انوکھا اور بیلاگ ہے اور ایک گمراہی کی وجہ سے خواہشات اور دنیاوی دولت کی محبت میں محسور ہیں۔ ایک کلام الہٰی کا لطف یا کر پر تسکین اور تسلی والے ہیں۔ ایک الہیی پریم پیار میں محو ہیں اور ایک روحانی واخلاقی زندگی گنوار مٹی کے مانند ہو رہے ہیں۔ ایک سچے خدا کو خاظر دیکھتے ہیں (6)

جھوُٹھے کءُ ناہیِ پتِ ناءُ ॥
کبہُ ن سوُچا کالا کاءُ ॥
پِنّجرِ پنّکھیِ بنّدھِیا کوءِ ॥
چھیریِں بھرمےَ مُکتِ ن ہوءِ ॥
تءُ چھوُٹےَ جا کھسمُ چھڈاۓ ॥
گُرمتِ میلے بھگتِ د٘رِڑاۓ ॥੭॥
لفظی معنی:
جھوٹے ۔ کافر۔ کفر کرنیوالا۔ جھوٹے کام کرنیوالا۔ پت۔ عزت۔ ناؤں ۔ ناموس۔ نیک شہرت۔ کبہو۔ کبھی بھی ۔ سوچا۔ پاک ۔ پنجر پنکھی۔ حس میں بند پرندہ۔ چھیری ۔ سوراخ۔ بھرمے ۔ بھٹکنے سے ۔ مکت۔ آزادی۔ تؤ چھوٹے ۔ آزاد تبت ہوگا۔ خصم ۔ چھڈائے ۔ جب مالک آزادی کرائیگا۔ گرمت ۔ سبق مرشد ۔ بھگت درڑائے ۔ الہیی پیار پکا ہوا۔
ترجمہ:
جھوٹے انسان کو نہ عزت نہ شہرت حاصل ہوتی ہے کوئے کی طرح سیاہ دل کبھی پاک نہیں ہو سکتا۔ جو پرندہ قض میں بندہ سوراخوں میں پھڑ پھڑانے سے آزادی یا نجات حاصل نہیں ہو سکتی اسکو نجات تبھی حاصل ہوتی ہے جب مالک چھوڑتا ہے ۔ جب خدا سبق یا پندوآموز مرشد سے ملاتا ہے تو الہٰی پریم پیار اسکے دلمیں مستقل طور پر پختہ ہو جاتا ہے (7)

کھسٹیِ کھٹُ درسن پ٘ربھ ساجے ॥
انہد سبدُ نِرالا ۄاجے ॥
جے پ٘ربھ بھاۄےَ تا مہلِ بُلاۄےَ ॥
سبدے بھیدے تءُ پتِ پاۄےَ ॥
کرِ کرِ ۄیس کھپہِ جلِ جاۄہِ ॥
ساچےَ ساچے ساچِ سماۄہِ ॥੮॥
لفظی معنی:
کھسٹی ۔ چاند کے چھٹے روز ۔ درسن ۔ بھیکھ ۔ کھٹ۔ چھ ۔ پربھ سابے ۔ خڈا نے بنائے ۔ جوگی ۔ سنیاسی ۔ جنگم ۔ لودھی ۔ سر یوڑے ۔ بیراگی ۔ انحد۔ متواتر ۔ لگاتار۔ سبد۔ کلام۔ نرالا۔ انوکھا۔ علیحدہ ۔ بے پرھ بھاوے ۔ اگر رضآئے الہٰی ہو۔ محل۔ اپنے ٹھکانے پر حضوری میں۔ سبدے بھیدے ۔ کلام سے متاثر ہو۔ پت پاوے ۔ عزت پاتا ہے ۔ ویس۔ پہراوا یا مذہبی لباس۔ کھپیہہ۔ ذلیل خوآر ہوتا ہے ۔ جل جاویہہ۔ خواہشات کی آگ میں جلتا ہے ۔ ساپے ۔ صدیوی سچا خدا۔ ساچے ۔ سچے انسان ۔ سچ ساچ۔ سچے خد امیں ۔ سماویہہ۔ محو ومجذوب۔
ترجمہ:
الہٰی ملاپ کی خاطر جوگیوں کے چھ جوگی سنیاسی ۔ جنگم ۔ لودھی ۔ سریورے اور بیراگی ہوئے ہیں مگر الہٰی کلام جو لگاتا ر جاری ہے ان سے علیحدہ ہے اگر ضائے الہٰی ہو تو خدا اپنے پاس بلاتا ہے ۔ اگر کلام سے متاثر ہو اسکا اثرقبول کرے تو عزت پاتا ہے ۔ مذہبی پہرواادکھاوے کے طور پر بناتے ہیں اور خواہشات کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ پاکدامن حقیقت پسند سچے صدیوی سچے الہٰی نام سچ وحقیقت میں محو ومجذوب اور یکسو ہو جاتے ہیں۔

سپتمیِ ستُ سنّتوکھُ سریِرِ ॥
سات سمُنّد بھرے نِرمل نیِرِ ॥
مجنُ سیِلُ سچُ رِدےَ ۄیِچارِ ॥
گُر کےَ سبدِ پاۄےَ سبھِ پارِ ॥
منِ ساچا مُکھِ ساچءُ بھاءِ ॥
سچُ نیِسانھےَ ٹھاک ن پاءِ ॥੯॥
لفظی معنی:
سپتمی ۔ چاند کے ساتویں روز۔ ست ۔ سچائی ۔ سنتوکھ ۔ صبر۔ سات سمند۔ پانچ اعضائے علم۔ نرمل نیر۔ پاک پانی ۔ مجن۔ اشنان ۔ گصل۔ سیل۔ نیک چال چلن۔ سچ ۔ حقیقت ۔ روے ۔ دلمیں۔ وچار ۔ خیال۔ گر کے سبد۔ کلام مرشد سے ۔ پار ۔ کامیابی ۔ من ساچا۔ دل سچا ہو۔ مکھ ۔ ساچؤ بھائے ۔منہ میں سچے خدا سے ہو محبت سچ نیسانے ۔ سچی راہداری ۔ ٹھاک۔ رکاوٹ۔
ترجمہ:
جس جسم میں سچ ہو اور صبر ہو مراد صابر ہو پانچ اعضائے علوم اور دل و عقل و ہوش ہو اور الہٰی سچ و حقیقت سے ہوں بھرے ہوئے خیالات اور چال چلن پاک ہو تو کلام مرشد سے کامیابی حاصل ہوتیہے ۔ جیسے دلمیں بستا ہو خدا اور زبان پر بھی خدا کا کلام و نام ہو ۔ اسکے پاس الہٰی ملاپ کے لئے سچی اور صدیوی راہداری ہے اسکی زندگی کی راہوں میں رکاوٹ نہیں آتی (9)

اسٹمیِ اسٹ سِدھِ بُدھِ سادھےَ ॥
سچُ نِہکیۄلُ کرمِ ارادھےَ ॥
پئُنھ پانھیِ اگنیِ بِسراءُ ॥
تہیِ نِرنّجنُ ساچو ناءُ ॥
تِسُ مہِ منوُیا رہِیا لِۄ لاءِ ॥
پ٘رنھۄتِ نانکُ کالُ ن کھاءِ ॥੧੦॥
لفظی معنی:
اسٹمی ۔ چاند کی آٹھویں رات۔ اسٹ سدھ بدھ۔ آٹھ معجزوں کے بارے عقل۔ و ہوش۔ سادھے ۔ درست کرے ۔ راہ راست پر لائے ۔ سچ نیہکیول ۔ سچے صدیوی خدا جو پاک ہے اپنے اعمال کے ذریعے یاد وریاض کرے ۔ پؤن ۔ ترقی یا حکمرانی کا خیال مراد رچوگن ۔ پانی ۔ ستوگن مراد صحیح اعمال۔ اگنی مراد تموگن ۔ غصہ ۔ غضبناکی ۔ بستراؤ ۔ ختم کرؤ۔ تہی ۔ اسی جگہ۔ نرنجن۔ بیداغ۔ پاک۔ ساچو ناؤ۔ سچا۔ صدیوی خدا کا نام سچ حق و حقیقت ۔ منوآ۔ من۔ ذہن ۔ پرنوت ۔ عرض گذارتا ہے ۔ کال۔ روحانی یاخلاقی موت۔
ترجمہ:
جو انسان جوگیوں کے آٹھ معجزوں ولای سوچ سمجھ اور خیال سے اپنی عقل و ہوش کو درست راہ راست پر رکھتا ہے اور جو ترقی حکمرانی نیک اعمال اور غضبناک ی کے جذبے کو قابو رکھتا ہے نہیں اپناتا صرف پاک خدا جو صدیوی سچا پاک و پائس ہے کو یاد رکھتا ہے اسی میں ہی الہٰی سچا نام سچ حق و حقیقت بستا ہے ۔ اس شخس کا دل و ذہن اس الہٰی ذات میں محو و مجذوب رہتا ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ روحانی موت اسے نہیں آتی ۔

ناءُ نئُمیِ نۄے ناتھ نۄ کھنّڈا ॥
گھٹِ گھٹِ ناتھُ مہا بلۄنّڈا ॥
آئیِ پوُتا اِہُ جگُ سارا ॥
پ٘ربھ آدیسُ آدِ رکھۄارا ॥
آدِ جُگادیِ ہےَ بھیِ ہوگُ ॥
اوہُ اپرنّپرُ کرنھےَ جوگُ ॥੧੧॥
لفظی معنی:
الہیی نام سچ و حقیقت تو جوگیوں کے مذہبی رہبروں زمین نو بر اعظموں کا ملاک عظیم ہے ۔ وہ عطیم ہستی ہر دلمیں ہے بستی ۔ وہ سارے عالم کی ہے ماتا۔ سارا عالم فرزند ہے اسکا۔ سلام ہے اس خدا کو جو آغار ہے عالم کا اور محافظ ہے جو آغاز علام سے ہے اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہیگا۔ شمار سے باہر اسکی قوت سب کچھ کرنیکی توفیق رکھتا ہے ۔

دسمیِ نامُ دانُ اِسنانُ ॥
اندِنُ مجنُ سچا گُنھ گِیانُ ॥
سچِ میَلُ ن لاگےَ بھ٘رمُ بھءُ بھاگےَ ॥
بِلمُ ن توُٹسِ کاچےَ تاگےَ ॥
جِءُ تاگا جگُ ایۄےَ جانھہُ ॥
استھِرُ چیِتُ ساچِ رنّگُ مانھہُ ॥੧੨॥
لفظی معنی:
چاند کی دسویں رات الہٰی نام سچ و حقیقت کی یادوریاض ہی خیرات کرنا اور غسل کرنا یا نہانا ہے ۔ سچے صدیوی خدا ک اوصاف کو سمجھتا ہی ہر روز زیارت گاہ پر غسل کرنا ہے ۔سچ اور حقیقت کبھی ناپاک نہیں ہوتی اس سے وہم و گمان اور خوف مٹ جاتا ہے جیسے کچے دھاگے کے ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی جس طرح سے کچا دھاگا ہے اس عالم کو اسی طرح سمجہو ۔ دل و ذہن کو مستقل مزاج بناؤ۔ سچ وحقیقت میں دھیان لگا کر روحانی سکون پاؤ۔

ایکادسیِ اِکُ رِدےَ ۄساۄےَ ॥
ہِنّسا ممتا موہُ چُکاۄےَ ॥
پھلُ پاۄےَ ب٘رتُ آتم چیِنےَ ॥
پاکھنّڈِ راچِ تتُ نہیِ بیِنےَ ॥
نِرملُ نِراہارُ نِہکیۄلُ ॥
سوُچےَ ساچے نا لاگےَ ملُ ॥੧੩॥
لفظی معنی:
چاند گی گیارویں رات ۔ اک ۔ واحد ۔ مراد خدا۔ ردے ۔ دلمیں ۔ پنسا۔ ظلم ۔ تشدد۔ ممتا۔ ملکیت کی خوآہش ۔ موہ۔ محبت ۔ چکا وے ۔ چھوڑے ۔ برت۔ اصول کی پابندی ۔ آتم چینے ۔ اپن آپ کی نیکی و بدی کا معائنہ ۔ پاکھنڈراچ۔ دکاوے کے مذہبی رسم و رواج ۔ تت۔ اصلیت۔ حقیقت ۔ پینے ۔ سمجھنا۔ دیکھنا۔ نرمل۔ بغیر میل۔ پاک۔ نراہار۔ بگیر کھائے ۔ نیہکیول۔ پاک۔ سوچے ۔ پاک خدا۔ ساچے ۔ صدیوی ۔
ترجمہ:
چاند کی گارویں رات خدا واحڈ کو دل بسائے ۔ ظلم و تشدد و خواہش ملکیت کی اور محبت چھوڑے اصول کی پختگی اپنائے اور پانے اندرونی خواہشات و عامال کا کرے معائنہ ۔ مذہبی دکھاوے اپنا کر حقیقت واصلیت سمجھ سکتے ہیں۔ پاک نہ کھانے والے بیلاگ پاک خدا کے ذریعے پاک انسان ہو جاتا ہے ناپاک وہ ہوتا نہیں (13)

جہ دیکھءُ تہ ایکو ایکا ॥
ہورِ جیِء اُپاۓ ۄیکو ۄیکا ॥
پھلوہار کیِۓ پھلُ جاءِ ॥
رس کس کھاۓ سادُ گاۄءِ ॥
کوُڑےَ لالچِ لپٹےَ لپٹاءِ ॥
چھوُٹےَ گُرمُکھِ ساچُ کماءِ ॥੧੪॥
لفظی معنی:
ایکو ایکا۔ واحد خدا۔ جیئہ اپائے ۔ جاندار پیدا کئے ۔ یوکو ویکا ۔ طرح طرح اور بیشمار قسموں کے ۔ پھلو ہارکئے ۔ ایک صرف۔پھل کھاتے ہیں۔ پھل جائے ۔ پھل نہیں پاتے ۔ رس کس ۔ لطف اور لذتیں ۔ سادگوائے۔ لذت گنواتے ہیں۔ کوڑے لالچ ۔ جھوٹے لالچ ۔ پسٹے پسٹائے ۔ ملوثرہتے ہیں۔ چھوٹے گورمکھ ۔ مرید مرشد کے ذریعے نجات و آزادی پاتے ہیں۔ ساچ کمائے ۔ سچ صدیوی کی یادوریاض یا سچ و حقیقت پر عمل کرکے ۔
ترجمہ:
جدھر دیکتھا ہوں واحد خدا دیکھتا ہوں بھانت اور قسم قسم کے جاندار کئے ہیں پیدا ۔ صرف پھل کھانے سے پھل نہیں ہوتا حاصل ۔ لذیز اور پر لطف کھانے کھانے سے لذت چلی جاتی ہے ۔ جھوٹے لالچ میں ملوث ہوکر اس میں ملوث رہتا ہے ۔ مرشد کے ذریعے سچ اور حقیقت پر عمل کرنیسے یاد وریاض الہٰی سے آزادی پاتا ہے ۔

دُیادسِ مُد٘را منُ ائُدھوُتا ॥
اہِنِسِ جاگہِ کبہِ ن سوُتا ॥
جاگتُ جاگِ رہےَ لِۄ لاءِ ॥
گُر پرچےَ تِسُ کالُ ن کھاءِ ॥
اتیِت بھۓ مارے بیَرائیِ ॥
پ٘رنھۄتِ نانک تہ لِۄ لائیِ ॥੧੫॥
لفظی معنی:
چاند کی بارہویں رات ۔ دآدس۔ مر۔ من مذہبی یا فرقے کے نشان۔ اؤ دہوتا۔ طارق۔ اہنس ۔ روز و شب۔ دن رات۔ جاگیہہ۔ بیدار۔ خبردار۔ سوتا۔ ٹفلت۔ لو۔ لگن ۔ محویت۔ گرپرچے ۔ واعظ یا سبق مرشد پر عمل ۔ کال۔ روحانی یا اخلاقی موت۔ انیت۔ تیاگی ۔ طارق۔ بیرائی۔ اخلاقی یا روحانی دشمن ۔
ترجمہ:
چاند کی بارہویں رات طارق انسان مذہبی فرقوں کے بار نشانوں کا پہننے والا ہے ۔ ایسا سمجھو ۔ وہ ہمیشہ انسانی فرائض کے متعلق بیدار و خبردار رہتا ہے کبھی غٖفلت نہیں کرتا۔ سبق وواعظ مرشد پر عمل کرنیوال اہمیشہ بیدار رہتا روحانی واخلاقی موت اسکی نہیں ہوتی اور الہیی محبت میں محو رہتا ہے ۔ جس نے روحانی واخلاقی دشمنوں کو ختم کر لیا وہ طارق ہو جاتا ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ (15)

دُیادسیِ دئِیا دانُ کرِ جانھےَ ॥
باہرِ جاتو بھیِترِ آنھےَ ॥
برتیِ برت رہےَ نِہکام ॥
اجپا جاپُ جپےَ مُکھِ نام ॥
تیِنِ بھۄنھ مہِ ایکو جانھےَ ॥
سبھِ سُچِ سنّجم ساچُ پچھانھےَ ॥੧੬॥
لفظی معنی:
دان ۔ خیرات۔ دیا۔ رحم۔ مہربانی ۔ جائے ۔ جانتا ہے سمجھتا ہے ۔ باہر جاتو۔ بھٹکتے کو۔ بھیتد۔ اندر۔ سیہکام۔ بلاخوآہش ۔ اجپا جپ۔ بلابوے الہٰی ریاض۔ برت۔ پابندی اصول۔ تین بھوں ۔ تینوں عالموں میں۔ ایکو جانے ۔ واحد خدا سمجھے ۔ سچ ۔ پاکیزگی ۔ سنجم۔ ضبط۔ ڈسپلن ۔ ساچ پچھانے ۔ حقیقت پہچاننا ۔
ترجمہ:
جو انسان دوسروں (شے) رحم کرنا جانتا ہے اور بھٹکتے من پر قابو پاتا ہے ۔ بلا خواہش زندگی بسر کرتا ہے اصولوں سے ۔ اسکے لئے بلا بوے زبان سے عبادت وریاض ہے اسکے لئے ۔ تینوں عالموں میں سمجھتا ہے واحد خدا کو ہر طرح سے پاک ہے وہ اپنے آپ پر ضبط ہے اسکی حقیقت سمجھتا ہے وہ۔ (16)

تیرسِ ترۄر سمُد کنارےَ ॥
انّم٘رِتُ موُلُ سِکھرِ لِۄ تارےَ ॥
ڈر ڈرِ مرےَ ن بوُڈےَ کوءِ ॥
نِڈرُ بوُڈِ مرےَ پتِ کھوءِ ॥
ڈر مہِ گھرُ گھر مہِ ڈرُ جانھےَ ॥
تکھتِ نِۄاسُ سچُ منِ بھانھےَ ॥੧੭॥
لفظی معنی:
تیرس۔ چاند کی تیریویں رات۔ ترور۔ سچر ۔ درکت۔ انمرت۔ آب حیات۔جو زندگی کو اخلاقی بنانے والا پانی ۔ مول۔ بنیاد۔ جڑ ۔ سکھر۔ چوٹی ۔ بلندی ۔ بوڑے ۔ ڈوبتا۔ پت۔ عزت۔ تخت۔ نواس۔ سچ ۔ صدیوی ۔ بھانے پیار۔
ترجمہ:
چاند کی تیریوں رات) سمندر کے کنارے جو شجر اسی کی مانند ہے انسان ۔ مگر آب حیات جس سے زندگی روحانی ہو جاتی ہے اگر ہو بنیاد تب ایسی صور تمیں اگر بلند ہو ہوش و سمجھ سے بلندی پا لیتا ہے ۔ اور الہٰی خوف سے خوف زدہ ہوکر روحانی واخلاقی موت نہیں مرتا بدیوں اور برائیوں کے سمند رمیں غرق نہیں ہوتا مگر بیخوف بے اداب انسان ہر دو عالموں میں بے عزت ہوتا ہے اور روحانی موت مرتا ہے ۔ جس کے دلمیں ہو ۔ خوف واداب خدا کا خوف و ادب سمجھتا ہو اور دلمیں پیار خدا کا بلند روحانی واخلاقی و شاہی رتبے پاتا ہے ۔

چئُدسِ چئُتھے تھاۄہِ لہِ پاۄےَ ॥
راجس تامس ست کال سماۄےَ ॥
سسیِئر کےَ گھرِ سوُرُ سماۄےَ ॥
جوگ جُگتِ کیِ کیِمتِ پاۄےَ ॥
چئُدسِ بھۄن پاتال سماۓ ॥
کھنّڈ ب٘رہمنّڈ رہِیا لِۄ لاۓ ॥੧੮॥
لفظی معنی:
چودس) زندگی کی اور چاند کی چودویں رات۔ گروجی نے زندگی چاند کی راتوں کی مانند پندرہ حصوں پر منقسم کرکے روحانی واخلاقی واعظ ۔ سبق یا بند و نصائح اور حالات زندگی بیان کئے ہیں۔ چوتھے تھاویہہ۔ زندگی کا وہ ٹھکانہ یا رتبہ جہاں انسان زندگی تینوں اوصاف سے بلند روحانی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ جہاں پہلے تینوں اوصاف بے اثر ہوکر ۔ انسان روحانی واخلاقی پاکیزگی پالیتا ہے ۔ ثریا پد کہلات اہے حاصل کر لیتا ہے ۔ راجس ۔ ترقی وحکمرانی کی چاہ کا وصف ۔ تامس۔ غضباکی ۔ ظلم و تشدد ستوگن اس تریا پد میں مجذوب ہو جاتے ہیں۔ سیئر ۔ چاند جسے سکون کا درجہ شمار ہوتا۔ سور۔ سورج۔ سکون یا شانتی کے اندر غصہ یا غضباکی جذب ہو جاتی ہے ۔ جوگ جگت ۔ الہٰی ملاپ کا طریقہ قیمت ۔ قدر ۔ چؤدس بھون۔ چودہ طبق ۔ سات زمینں ۔ سات آسمان۔ پاتال۔ زیر زمین ۔
ترجمہ:
جب انسان زندگی کا چوتھا بلند رتبہ جسے تریا پد کہتے ہیں پالیتا ہے تو دنیاوی زندگی رجو۔ ستو ۔ تمو اوصاف تریا پد میں مجذوب ہو جاتے ہیں۔ سکون میں ظلم و تشدد مل جاتا ہے اور زیر ہوکر ختم ہو جات اہے ۔ تب اسے الہٰی ملا پ کی قدروقیمت کی سمجھ آتی ہے ۔ تب چودہ طبق سات زمینوں سات آسمانوں میں اور پاتال میں اور زمین کے خطے میں بسنے والے کی محبت میں محو ومجذوب ہوتا ہے انسان (18)

اماۄسِیا چنّدُ گُپتُ گیَنھارِ ॥
بوُجھہُ گِیانیِ سبدُ بیِچارِ ॥
سسیِئرُ گگنِ جوتِ تِہُ لوئیِ ॥
کرِ کرِ ۄیکھےَ کرتا سوئیِ ॥
گُر تے دیِسےَ سو تِس ہیِ ماہِ ॥
منمُکھِ بھوُلے آۄہِ جاہِ ॥੧੯॥
لفظی معنی:
اماوسیا۔ اماوس۔ مسیا کی اندھیری رات۔ گپت۔ چھپاہوا ۔ گینار۔ آسمان میں۔ بوجہو۔ سمجھو گیانی ۔ روحانیت کے کے بردار۔ سبد ویچار ۔ کلام کو سمجھ کر۔ سیئر ۔ چاند ۔ گگن ۔ آسمان ۔ جوت ۔ نور ۔ روشنی ۔ تیہہ۔ تینوں ۔ لوئی ۔ لوگوں میں ۔ کر کر ۔ پیدا کرکے دیکھتے ۔ خبر گیری کرتا ہے ۔ کرتا۔ کارساز ۔ کرنیوالا۔ سوئی۔ وہی ۔ گرنے ویسے ۔ مرشد کے وسیلے سے نظر آتا ہے ۔ سوتس ہی ماہے ۔ سو۔ وہ ۔ تس۔ اسمیں ہی ۔ ماہے ۔ اسکے دللمیں ۔ ہے ۔ منمکھ ۔ خوئش پرست۔ خودی پسند۔ اپنے من کے پیچھے چلنے والا۔ بھولے ۔ گمراہ ۔ گمراہی میں۔ آویہہ جاہے ۔ آواگون یا تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔

ترجمہ:
جیسے مسیا کی رات چاند آسمان مین چھپا رہتا ہے ۔ ایسے ہی خدا ہر دلمیں پوشیدہ طور پر بس رہا ہے ۔ اے روحانیت کے علم بردار سمجھنے والو متلاشیؤ کلام مرشد کو دلمیں بسا کر سمجھ سکو گے کہہ جس طرح سے چاند ہر طرح اپنی روشنی پھیلا رہ اہے ۔ اس طرح سے سارے علام کو زندگی کی لہریں عنایت کر رہا ہے خدا خود ہی جانداروں کو پیدا کرکے خود ہی خبر گیری کر رہا ہے ۔ جیسے مرشد کے ذریعے یہ سمجھ آجاتی ہے ۔ وہ ہر وقت الہٰی محبت میں محو و مجذوب رہتا ہے ۔ بجکہ مرید من خوئش پرست۔ انسان گمراہی میں آواگون اور تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔

گھرُ درُ تھاپِ تھِرُ تھانِ سُہاۄےَ ॥
آپُ پچھانھےَ جا ستِگُرُ پاۄےَ ॥
جہ آسا تہ بِنسِ بِناسا ॥
پھوُٹےَ کھپرُ دُبِدھا منسا ॥
ممتا جال تے رہےَ اُداسا ॥
پ٘رنھۄتِ نانک ہم تا کے داسا ॥੨੦॥੧॥
لفظی معنی:
گھر درتھاپ۔ اپنا گھر اور ٹھکانہ بنا کے ۔ تھر ۔ مستقل ۔ تھان ۔ مقام ۔ سہاوے ۔ خوبصورت ہو جاتا ہے ۔ آپ پچھانے ۔ اپنے اعمال و کردار کی تحقیق و آزمائش ۔ پرکھ ۔ جیہہ۔ جہاں ہے اُمید۔ ونس وناسا۔ مٹنا اور فناہ ۔ کھپر۔ بھیل مانگے والا ٹھوٹھا یا برتن ۔ دبدھا۔ دوہری سوچ ۔ دوئش ۔ تفرقہ ۔ ممتا۔ ملکیتی چاہ۔ خوہاش۔ جال۔ پھندہ۔ اداسا۔ بیلاگ ۔ پرنوت ۔ عرض گذارتا ہوں۔ داسا۔ غلام۔
ترجمہ:
انسان کو اپنے نیک و بد اعمال و کردار کی تب تحقیق اور پہچان ہوتی ہے اور کرتا ہے جب اسکا ملاپ سچے مرشد سے ہوتا ہے انسان کا خدا میں کامل یقین اور وشواش ہو جاتا ہے اور خدا کو اپنا آسرا ٹھکانہ اور ایمان سمجھنے لگتا ہے تب اسکی زندگی سنور کر آراستہ ہو جاتا ہے ۔ امید یں ختم ہو جاتی ہیں جو وہ پہلے بناتا اور کرتا تھا اور دلمیں اُٹھتی دنیاوی دولت کی لہروں کا برتن ٹوٹ جاتا ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ میں ایسے انسان کا خدمتگار ہوں ۔

بِلاۄلُ مہلا ੩ ۄار ست گھرُ ੧੦
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آدِت ۄارِ آدِ پُرکھُ ہےَ سوئیِ ॥
آپے ۄرتےَ اۄرُ ن کوئیِ ॥
اوتِ پوتِ جگُ رہِیا پروئیِ ॥
آپے کرتا کرےَ سُ ہوئیِ ॥
نامِ رتے سدا سُکھُ ہوئیِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلا بوُجھےَ کوئیِ ॥੧॥
ہِردےَ جپنیِ جپءُ گُنھتاسا ॥
ہرِ اگم اگوچرُ اپرنّپر سُیامیِ جن پگِ لگِ دھِیاۄءُ ہوءِ داسنِ داسا ॥੧॥ رہاءُ ॥
لفظی معنی:
آوت وار ۔ ایتوار ۔ آو پرکھ ۔ آو ۔ آغاز عالم سے پہلے ۔ پرکھ ۔ ہستی ۔ سوئی۔ وہی ۔ آپے درتے ۔ آپ ہی بس رہا ہے ۔ او رنہ کوئی نہیں کوئی دوسرا۔ اوت پوت۔ تانے پیٹے کی طرح ۔ نام رتے ۔ الہٰی نام سچ حقیقت میں محو ومجذوب ہونیپر۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ بوجھے سمجھتا ہے (1) ہروے چپنی ۔ دل کی تسبیح ۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ ۔ اگم ۔ انسانی عقل و ہوش سے اوپر۔ اگوچر۔ بیان سے باہر ۔ اپر نپر۔ اتنا وسیع کہ حد اور کنارا نہیں۔ سوآمی ۔ مالک۔ آقا۔ جن۔ خدمتگار ۔ پگ لگ۔ پاؤں پڑ کر ۔ دھیاوہو۔ دھیان لگاؤ ۔ ہوئے اسن داسا۔ غلاموں کے غلام ہوکر۔ رہاؤ
ترجمہ:
بروز ایتوار عالم کی آغاز کی ہستی وہی ہے جو سب میں بستا ہے ۔ انہیں اسکے علاوہ دگر کوئی جو ایک دوسرے کو تانے اور پیٹے کی امنند آپس میں ہے ملایا ہوا۔ کارساز کرتار کرتا ہے جو ہوتا ہے وہی الہٰی نام سچ و حقیقت اپنانے سے آرام و سکون پائیا جات اہے ۔ مرشد کے وسیلے سے کسی کو ہی اسکی سمجھ آتی ہے (1) دل کی گہرائیوں سے دل کی تسبیح بنا کر یاد کرؤ اوصاف کے خزانے کی خدا انسانی عقل و ہوش سے باہر بیان ہو سکتا نہیں وسیع ہے اتنا کہ کنارہ نہیں اس عالم کے مالک کا ۔ غلاموں کا غلام ہوکر پاؤں پڑ کر اسمیں دھیان لگاؤ۔ رہاؤ۔

سومۄارِ سچِ رہِیا سماءِ ॥
تِس کیِ کیِمتِ کہیِ ن جاءِ ॥
آکھِ آکھِ رہے سبھِ لِۄ لاءِ ॥
جِسُ دیۄےَ تِسُ پلےَ پاءِ ॥
اگم اگوچرُ لکھِیا ن جاءِ ॥
گُر کےَ سبدِ ہرِ رہِیا سماءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سچ۔ صدیوی سچ مراد خدا۔ تس کی ۔ جسکی ۔ قیمت ۔ ادب ۔ آداب۔ قدر۔ کہی نہ جائے ۔ بیان نہیں ہو سکتی ۔ آکھ آکھ ۔ کہہ کہہ۔ رہے ۔ ماند پڑ گئے ۔ سبھ ۔ سارے ۔ لو۔ دھیان۔ توجہ ۔ پلے ۔ دامن۔ لکھیا۔ سمجھیا ۔ گر کے سبد۔ کلام مرشد ۔ ہر رہیا سمائے ۔ مضمر ہے ۔
ترجمہ:
بروز سوموار جو صدیوی سچچ سچے خدا میں محو ومجذوب رہتا ہے قیمت اسکی بیان ہو سکتی نہیں۔ کہنے والے کہہ کہہ کر اس سے پیار پریم لگاتے ہیں۔ جیسے کرتا ہے عنایت یہ نعمت اسکے دامن یا جھولی پاتا ہے ۔ عقل ہو ش انسانی سے بالا بیان کیا جا سکتا نہیں سمجھ میں بھی آتا نہیں۔ کلام مرشد سے اسمیں محو ہو سکتا ہے انسان (1)

منّگلِ مائِیا موہُ اُپائِیا ॥
آپے سِرِ سِرِ دھنّدھےَ لائِیا ॥
آپِ بُجھاۓ سوئیِ بوُجھےَ ॥
گُر کےَ سبدِ درُ گھرُ سوُجھےَ ॥
پ٘ریم بھگتِ کرے لِۄ لاءِ ॥
ہئُمےَ ممتا سبدِ جلاءِ ॥੩॥
لفظی معنی:
مائیا موہ۔ دنیاوی دولت سے محبت۔ اپائیا۔ پیدا کی ۔ سر سر۔ ہر ایک کو۔ دھندے ۔ کام۔ آپ بجھائے ۔ جسے خود سمجھائے ۔ سوئی ۔ وہی ۔ بوجھے ۔سمجھتا ہے ۔ گر کے سبد۔ کلام مرشد سے ۔ در گھر سوجھے ۔ خدا کی سمجھ آتی ہے ۔ لو ۔ لاتے ۔پیار سے دھیان لگا کر۔ ہونمے ۔ خودی۔ ممتا۔ ملکیت کی خواہش یا چاہ۔ سبد جالئے ۔ کلام ۔ واعظ و سبق سے مٹائے ۔
ترجمہ:
بروز منگل ۔ دنیاوی دولت سے محبت خدا نے خود پیدا کی ہے ۔ اور ہر ایک کو کام مہیا کیا ہے اور کام میں لگائیا ہے ۔ جسے خود سمجھاتا ہے وہی سمجھتا ہے ۔ کلام مرشد سے الہٰی در کو سمجھتا ہے وہ نہایت پریم پیار سے خدا کی عبادت وریاضت کرتا ہے اس طرح کلام کی قوت و برکت سے خودی اور ملکیتی ہوس مٹا لیتا ہے ۔ (3)

بُدھۄارِ آپے بُدھِ سارُ ॥
گُرمُکھِ کرنھیِ سبدُ ۄیِچارُ ॥
نامِ رتے منُ نِرملُ ہوءِ ॥
ہرِ گُنھ گاۄےَ ہئُمےَ ملُ کھوءِ ॥
درِ سچےَ سد سوبھا پاۓ ॥
نامِ رتے گُر سبدِ سُہاۓ ॥੪॥
لفظی معنی:
بدھ سار۔ عقل و ہوش کی خبر گیری کرتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے زریعے ۔ کرنی۔ اعمال۔ سبد وچار۔ کلام کے متعلق سوچتا اور سمجھتا ہے ۔نام سچ و حقیقت ۔ رتے ۔ محو ومجذوب ہونیسے ۔ من نرمل ہوئے ۔ دل پاک و مقدس ہو جاتا ہے ۔ ہر گن گاوے ۔ الہٰی حمدوچناہ سے ۔ ہؤمے مل کھوئے ۔ خودی کی ناپاکیزگی دور ہوتی ہے ۔ درساچے ۔ سچے خدا کے در پر۔ سوبھاپائے ۔ شہرت پاتا ہے ۔ سچ وحقیقت اپنانے سے انسان کی روحانی واخلاقی طور پر بہتر ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ:

لاہا نامُ پاۓ گُر دُیارِ ॥
آپے دیۄےَ دیۄنھہارُ ॥
جو دیۄےَ تِس کءُ بلِ جائیِئےَ ॥
گُر پرسادیِ آپُ گۄائیِئےَ ॥
نانک نامُ رکھہُ اُر دھارِ ॥
دیۄنھہارے کءُ جیَکارُ ॥੫॥
لفظی معنی:
لاہا۔ منافع۔ گروآر۔ مرشد کے در پر ۔ ویونہار۔ جس میں دینے کی توفیق ہے ۔ جودیوے ۔ جودیتا ہے ۔ بل جایئے ۔ قربان جاؤں ۔ گرپرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ آپ ۔ خودی ۔ خوئش پن۔ گویئے ۔ ختم کریں۔ نام رکھواردھار۔ سچ و حقیقت دلمیں بساؤ۔ جیکار۔ بہ آداب سجدہ ۔
ترجمہ:
الہٰی نام سچ و حقیقت کا منافع در مرشد پر حاصل ہوتا ہے ۔ مگر یہ نعمت وہی بخشش کرتا ہے جس مین دینے کی توفیق ہو جو دیتا ہے اس پر قربان ہونا چاہیے ۔ رحمت سے خودی مٹایئے ۔ ۔ اے نانک۔ دلمین نام بساؤ اور دینے والے آگے جھکو سجدہ کرؤ سلامت کہو۔

ۄیِرۄارِ ۄیِر بھرمِ بھُلاۓ ॥
پ٘ریت بھوُت سبھِ دوُجےَ لاۓ ॥
آپِ اُپاۓ کرِ ۄیکھےَ ۄیکا ॥
سبھنا کرتے تیریِ ٹیکا ॥
جیِء جنّت تیریِ سرنھائیِ ॥
سو مِلےَ جِسُ لیَہِ مِلائیِ ॥੬॥
لفظی معنی:
دیر ۔بہادر ۔ جنگجو۔ جو ہندو پرانوں کے مطابق 53 گنے جاتے ہیں ۔ بھرم۔ وہم و گمان۔ بھلائے ۔ گمراہ کیئے ۔ پریت بھوت۔ بد روحیں ۔ دوجے ۔ دنیاوی دولتمیں۔ آپ اپائے ۔ خود ہی پیدا کئے ۔ دیکھے ۔نگرانی کرتا ہے ۔و یکا۔ بیشمار قسموں کے ۔ ٹیکا۔ آصرا۔ جیئہ جنت۔ ساری مخلوقات۔ سرنائی۔ زیر پناہ۔ سوملے ۔ اسکا ملاپ ہوتا ہے ۔ جس لیہہ ملائی۔ جسے خود ملاتا ہے ۔ خدا۔
ترجمہ:
(بروزوہروار) بہاروں جنکی پرانوں میں 52 ویروں کا ذکر ہے کو بھی خدا نے بھٹکن اور گمراہی میں رکھا ۔ بد روحوں کو بھی دنیایوی دولت کی محبت میں لگے ہوئے ہیں۔ خود ہی پیدا کرکے خود ہی ہے نگران ان کا قسموں قسموں کے کرکے پیدا۔ اے کارساز کرتار سبھ ہیں تیری زیر پناہ وسایہ۔ مگر ملاپ اسے ہوتا ہے حاصل جسے تو ملاتا ہے ۔ (6)

سُک٘رۄارِ پ٘ربھُ رہِیا سمائیِ ॥
آپِ اُپاءِ سبھ کیِمتِ پائیِ ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سُ کرےَ بیِچارُ ॥
سچُ سنّجمُ کرنھیِ ہےَ کار ॥
ۄرتُ نیمُ نِتاپ٘رتِ پوُجا ॥
بِنُ بوُجھے سبھُ بھاءُ ہےَ دوُجا ॥੭॥
لفظی معنی:
شکروار ۔ بروز جمعرات۔ یا جمعہ ۔ پربھ ۔ خدا۔ رہیاسمائی ۔ سبھ میں بستا ہے ۔ آپ اپائے ۔ خود ہی پیدا کرکے ۔ سبھ قیمت پائے ۔ سب کی قدر کرتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ سو ۔ وہ ۔ کرے وچار۔ اسے سمجھتا ہے ۔ سچ ۔ حقیقت ۔ اصلیت۔ خدا۔ سنجم۔ اپنے آپ و کردار پر ضبط۔ ڈسپلن ۔ کرنی ۔ کردار۔ اعمال۔ کار ۔ کام ۔ ورت۔ پرہیز گاری ۔ نیم۔ روزمرہ کا ضروری کام ۔ نتاپرت ۔ ہر روز۔ پوجا۔ پرستش۔ ۔ بن بوجھے ۔ بغیر سمجھے ۔ بھاؤ ہے دوجا۔ دنیاوی دولت سے محبت ہے ۔
ترجمہ:
(بروز شکروار) سارے عالم میں بس رہا ہے ۔ خود ہی پیدا کرکے عالم خود ہی قدر اسکی کرتا ہے ۔ مرید مرشد ہوکر انان خیال اسکا وہ کرتا ہے ۔ سچ حقیقت اور اصلیت اور کردار اپنے پر ضبط اعمال حقیقی ہے ۔ پرہیز گاری اور روزانہ پرستش ۔ بغیر سمجھے دنیاوی دولت کی محبت ہے دکھاوا ہے مذہبی یا فرقہ کی رسم و رواج (7)

چھنِچھرۄارِ سئُنھ ساست بیِچارُ ॥
ہئُمےَ میرا بھرمےَ سنّسارُ ॥
منمُکھُ انّدھا دوُجےَ بھاءِ ॥
جم در بادھا چوٹا کھاءِ ॥
گُر پرسادیِ سدا سُکھُ پاۓ ॥
سچُ کرنھیِ ساچِ لِۄ لاۓ ॥੮॥
لفظی معنی:
ساؤن ۔ نیک و بد شگون یا نشانیوں کا خیال۔ ساست ۔ ہندو مذہبی کتابوں کا خیال۔ ہونمے ۔ خودی ۔ میرا۔ ملکیتی خواہش یا چاہ ۔ اندھا ۔ اندھ و شواش ( بے ) بغیر سمجھے ایمان لانا ۔ دوجے بھائے ۔ دنیاوی دولت سے محبت ہے ۔ جم در۔ الہیی کو توال کے در پر چوٹا کھائے ۔ سزا پاتا ہے ۔ گر پر ساری ۔ رحمت مرشد سے ۔ سچ کرنی ۔ سچے حقیقی کارواعمال۔ ساچ لولائے ۔ سچ ۔ حقیقت سے محبت اور پیار کرنا ہے ۔
( سینچروار کے روز) شونک کا جوتش اور نیک و بد شگن کو سمجھنے اور شاشتروں کو سوچنا اور سمجھنا کیوجہ سے عالم ملکیتی ہوش اور خودی میں بھٹکتا رہتا ہے روحانی واخلاقی زندگی سے بیخر مرید من دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتار رہتا ہے ۔ الہٰی کوتوال کے در پر مصائب برداشت کرتا ہے ۔ رحمت مرشد سے ہمیشہ روحانی سکون و آسائش پاتا ہے جو اعمال حقیقت وصلیت کے مطابق کرتا د بناتا ہے اور سچے خدا سچ و حقیقت سے اپنا لگاؤ بناتا ہے اور محبت کرتا ہے ۔

ستِگُرُ سیۄہِ سے ۄڈبھاگیِ ॥
ہئُمےَ مارِ سچِ لِۄ لاگیِ ॥
تیرےَ رنّگِ راتے سہجِ سُبھاءِ ॥
توُ سُکھداتا لیَہِ مِلاءِ ॥
ایکس تے دوُجا ناہیِ کوءِ ॥
گُرمُکھِ بوُجھےَ سوجھیِ ہوءِ ॥੯॥
لفظی معنی:
سیویہہ۔ خدمت کرتے ہیں ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت۔ ہونمے ۔ خودی ۔ سچ ۔ حقیقت۔ اصلیت ۔ مراد خدا۔تو ۔ محبت پیار ۔ہونمے مار خود مٹا کر ۔ رنگ راتے ۔ پریم میں محو۔ سہج سبھائے ۔ قدرتی طور پر ۔ سکھداتا ۔ آرام و آسائش پہنچانے والا۔ ایکس۔ وآحد۔ دوجا۔ دوسرا۔ گورمکھ بوجھے ۔ مرید مرشد سمجھتا ہے ۔ سوجھی ۔ سمجھی
ہیں بلند قسمت وہ سچے مرشد کی خدمت جو کرتے ہیں خود مٹاکے اپنی خدا سے پیار لگاتے ہیں اے خدا تیری محبت تیرے پریم پیار میں محو ہو جاتے ہیں اے آرام و آسائش پہنچانے والے تو انکو سات ملا لیتا ہے انہیں کوئی دوسری ہستی واحد خدا کے بغیر مرید مرشد ہوکر آجاتی ہے (9)

پنّد٘رہ تھِتیِ تےَ ست ۄار ॥
ماہا رُتیِ آۄہِ ۄار ۄار ॥
دِنسُ ریَنھِ تِۄےَ سنّسارُ ॥
آۄا گئُنھُ کیِیا کرتارِ ॥
نِہچلُ ساچُ رہِیا کل دھارِ ॥
نانک گُرمُکھِ بوُجھےَ کو سبدُ ۄیِچارِ ॥੧੦॥੧॥
لفظی معنی:
پندرہ تھتی ۔ چاند کی پندرہ راتیں۔ سات وار۔ سات دن ۔ ماہا۔ مہینے ۔ رتی ۔ موسم۔ آویہہ وار دار۔ دوبارہ دوبارہ آتے ہیں۔ دنس رین ۔ دان اور رات۔ آواگون ۔ تناسخ۔ پیدائش و موت کا چکر۔ کرتار۔ کرنیوالے نے ۔ مراد عالم وجود میں لانیوالے نے ۔ نہچل۔ مستقل ۔ ساچ۔ صدیوی سچ مراد خدا۔ رہیا کل دھار۔ کل ۔ قوت ۔ طاقت۔ دھارت۔ بنارہا ہے ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ سبد وچار۔ کلام سمجھ کر ۔
ترجمہ:
جیسے پندرہ تتھاں ۔ سات دن ۔ مہینے ۔ رات دن بار بار آئے ہیں ایسے ہی ہے یہ عالم کارساز کرتار نے بنائیا ہے ۔ آواگون یا تناسخ یعنی موت و پیدائش ۔ صرف سچ اور سچا خدا ہی صدیوی اور مستقل ہے ۔ اے نانک۔ مرید مرشد کلام کو سمجھ کر اسکی سمجھ آتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੩॥
آدِ پُرکھُ آپے س٘رِسٹِ ساجے ॥
جیِء جنّت مائِیا موہِ پاجے ॥
دوُجےَ بھاءِ پرپنّچِ لاگے ॥
آۄہِ جاۄہِ مرہِ ابھاگے ॥
ستِگُرِ بھیٹِئےَ سوجھیِ پاءِ ॥
پرپنّچُ چوُکےَ سچِ سماءِ ॥੧॥
جا کےَ مستکِ لِکھِیا لیکھُ ॥
تا کےَ منِ ۄسِیا پ٘ربھُ ایکُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
س٘رِسٹِ اُپاءِ آپے سبھُ ۄیکھےَ ॥
کوءِ ن میٹےَ تیرےَ لیکھےَ ॥
سِدھ سادھِک جے کو کہےَ کہاۓ ॥
بھرمے بھوُلا آۄےَ جاۓ ॥
ستِگُرُ سیۄےَ سو جنُ بوُجھےَ ॥
ہئُمےَ مارے تا درُ سوُجھےَ ॥੨॥
لفظی معنی:
آوپرکھ ۔ ہستی روز اول کی ۔ سرشٹ ۔ علام ۔ دنیا۔ ساجے ۔ بنائے ۔ پیداکرے ۔ جیئہ جنت۔ مخلوقات۔ مائیا موہ پاجے ۔ دنیایوی دولت سے محبت پیدا کی ۔ دوجے بھائے ۔ دنیاوی دولت سے محبت کرے ۔ پر پنج۔ دہوکا دنیاوی ۔ آویہہ۔ جاویہہ۔ تناسخ ۔ آواگون ۔ ابھاگے ۔ بد قسمت۔ ستگر ۔ سچا مرشد۔ بھیٹئے ۔ ملاپ ۔ سوجھی ۔ سمجھ ۔ پر پنچ چوکے ۔ دنیاوی مخمسہ ۔ مٹستا ہے ۔ سچ عمائے اپنائے (1) مستک ۔ پیشانی ۔ لکھیا لیکھ ۔ اعمال کا حساب ۔ رہاؤ۔ سر سٹ ۔ دنیا ۔ جہاں۔ دیکھے ۔ نظر کرتا ہے ۔ لیکھے ۔ تحریر ۔ سدھ سادھک ۔ خدا رسیدہ یا کامل۔ سادھک ۔ سدھی کے لئے کوشش کرنےوالے ۔ بھرمے بھولا۔ وہم و گمان میں گمراہ۔ آوے جائے ۔ تناسخ میں رہتا ہے ۔ ستگر سیوے ۔ جو سچے مرشد کی خدمت کرتا ہے ۔ سوجن بوجھے ۔ وہ خدمتگار سمھتا ہے ۔ ہونمے مارے ۔ خودی مٹائے ۔ تا ۔ تب۔ در سوجھے ۔ تب الہٰی در اور روحانی زندگی کی سمجھ آتی ہے ۔
ترجمہ:
جسکی پیشانی پر اسکی قیمت اسکے اعمال جو اس نے گذشتہ دور میں کئے ہیں تحریر آتے ہیں اسی کےد لمیں خدا بستا ہے ۔ رہاؤ۔ ساری قائنات قدرت اور عالم کی بنیاد ہے خدا جو روز اول سے ہے اس نے ہی کی ہے یہ پیدا اس نے ہی دنیاوی دولت سے اور مخلوقات سے محبت بنائی ہے اور بد قسمت انسان اس مٹ جانے والے عالم کی محبت میں گرفتار رہتے ہیں اور آواگون کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ سچے مرشد کے ملاپ سے سمجھ آتی ہے ۔ جب دنیا کی محبت ختم ہوتی ہے تب صدیوی سچ سچے خدا سچ و حقیقت میں محو ومجذوب ہوتا ہے انسان (1) خدا پیدا کرکے خبر گیری بھی خود ہی کرتا ہے ۔ اے خدا تیرا تحریر کیا ہوا اعمالنامہ کوئی مٹا نہیں سکتا۔ جو انسان اپنے آپ کو خدا رسیدہ یا نزد خدا رسیدی کہلات اہے وہ خود میں گمراہ رہتا ہے اور تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔

ایکسُ تے سبھُ دوُجا ہوُیا ॥
ایکو ۄرتےَ اۄرُ ن بیِیا ॥
دوُجے تے جے ایکو جانھےَ ॥
گُر کےَ سبدِ ہرِ درِ نیِسانھےَ ॥
ستِگُرُ بھیٹے تا ایکو پاۓ ॥
ۄِچہُ دوُجا ٹھاکِ رہاۓ ॥੩॥
لفظی معنی:
ایکس ۔ واحد و حدت سے ۔ دوجا۔ مراد عالم ۔ بیا۔ دوسرا۔ گر کے سبد۔ کلام مررشد سے ۔ ہردر۔ الہٰی ٹھکانہ ۔ نیسانے ۔ زندگی کے راستے کا پروناہ ۔ ستگر بھیٹے ۔ اگر سچے مرشد سے ملے ۔ وچہو۔ دل میں سے ۔ دوجا۔ دنیاوی دولت کی محبت ۔ ٹھاک ۔ رکاوٹ ۔ رہائے ۔ پائے ۔
ترجمہ:
یہ سارا عالم واحد خدا سے پیدا ہوا ہے ۔ ہر جگہ خدا بستا ہے اسکے علاوہ نہیں کوئی دوسرا ۔ اگر اس عالم کی بجائے اگر خدا واحد کو سمجھے تو کلام مرشد کے ذریعے الہٰی در زندگی کے لئے پروانہ راہداری موصول ہوتا ہے اگر سچے مرشد سے ملاپ ہو جائے تو الہٰی ملاپ ہو جاتا ہے اور انسان کے دل سے عالم کی محبت مٹ جاتی ہے ۔

جِس دا ساہِبُ ڈاڈھا ہوءِ ॥
تِس نو مارِ ن ساکےَ کوءِ ॥
ساہِب کیِ سیۄکُ رہےَ سرنھائیِ ॥
آپے بکھسے دے ۄڈِیائیِ ॥
تِس تے اوُپرِ ناہیِ کوءِ ॥
کئُنھُ ڈرےَ ڈرُ کِس کا ہوءِ ॥੪॥
گُرمتیِ ساںتِ ۄسےَ سریِر ॥
سبدُ چیِن٘ہ٘ہِ پھِرِ لگےَ ن پیِر ॥
آۄےَ ن جاءِ نا دُکھُ پاۓ ॥
نامے راتے سہجِ سماۓ ॥
نانک گُرمُکھِ ۄیکھےَ ہدوُرِ ॥
میرا پ٘ربھُ سد رہِیا بھرپوُرِ ॥੫॥
لفظی معنی:
صاحب۔ مالک ۔ ڈایڈا۔ بلند قوت۔ تس نو۔ اسے ۔ سیوک۔ خدمتگار ۔ سرنائی۔ زیر پناہ۔ وڈیائی ۔ عطمت و حشمت۔ اوپر۔ بلند ہستی ۔ کؤن ڈرے ۔ خوفزدہ کون ہو (4) گرمتی ۔ سبق مرشد سے ۔ سانت ۔ سکون ۔ چین ۔ سمجھکر۔ پیر۔ عذاب ۔ آوے نہ جائے ۔ تناسخ ۔ آواگون ۔ نامے راتے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت میں محو۔ سہج سمائے ۔ روحانی سکون پاتے ہیں۔ گورمکھ مرید مرشد۔ حدور ۔ حاضر ناظر ۔ ساتھ ۔
ترجمہ:
جسکا محافظ ہو خود خدا اسے مار نہیں سکتا کوئی۔ خدمتگار اپنے ماکل کے زیر سیاہ رہتا ہے وہ خود ہی اس پر بخشش کرتا ہے اور خود ہی عزت دیتا ہے اس سے نہیں بلند ہستی کوئی تب خوف ہو کس کا اور کس سے ڈرے کوئی (4) سبق مرشد دل کو سکون ملتا ہے ۔ سمجھ ہو جائے جب کلام کی عذاب اسے آتا نہیں نہ تناسخ میں پرنا پڑتا ہے ۔ نہ عذاب وہ پاتا ہے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت میں انسان محوہو جاتا ہے ۔ اے نانک۔ مرید مرشد خدا کو حاضر ناطر سمجھتا ہے ۔ خدا بستا ہے ہر جگہ ۔

اِکِ سیۄک اِکِ بھرمِ بھُلاۓ ॥
آپے کرے ہرِ آپِ کراۓ ॥
ایکو ۄرتےَ اۄرُ ن کوءِ ॥
منِ روسُ کیِجےَ جے دوُجا ہوءِ ॥
ستِگُرُ سیۄے کرنھیِ ساریِ ॥
درِ ساچےَ ساچے ۄیِچاریِ ॥੬॥
لفظی معنی:
سیوک ۔ خدمتگار ۔ بھرم۔ وہم و گمان۔ بھٹکن۔ بھلائے ۔ گمراہ کئے ۔ درتے ۔ موجود۔ روس ۔ گللہ ۔ شکوہ ۔ ستگر سیوے ۔ خدمت سچے مرشد کی ۔ کرنی ساری ۔ نیک اعمال ہے ۔ در ۔ ساچے ۔ سچے کے در پر۔ ساچے ویچاری ۔ سچے خدا کا خیال ے ۔
ترجمہ:
ایک خدمتگار ہیں بنائے ہوئے ایک ہیں گمراہ کئے ہوئے ۔ خود ہی کرتا اور کراتا ہے خدا ہر جگہ موجود ہے نہیں اسکے علاوہ کوئی دوسرا۔ گللہ شکوہ ہو تبھی جب ہو کوئی دوسرا۔ خدمت مرشد ہی نیک اعمال ہے ۔ سچے خدا کے در پر سچے خدا کا خیال ہے ۔

تھِتیِ ۄار سبھِ سبدِ سُہاۓ ॥
ستِگُرُ سیۄے تا پھلُ پاۓ ॥
تھِتیِ ۄار سبھِ آۄہِ جاہِ ॥
گُر سبدُ نِہچلُ سدا سچِ سماہِ ॥
تھِتیِ ۄار تا جا سچِ راتے ॥
بِنُ ناۄےَ سبھِ بھرمہِ کاچے ॥੭॥
منمُکھ مرہِ مرِ بِگتیِ جاہِ ॥
ایکُ ن چیتہِ دوُجےَ لوبھاہِ ॥
اچیت پِنّڈیِ اگِیان انّدھارُ ॥
بِنُ سبدےَ کِءُ پاۓ پارُ ॥
آپِ اُپاۓ اُپاۄنھہارُ ॥
آپے کیِتونُ گُر ۄیِچارُ ॥੮॥
لفظی معنی:
تھتی ۔ تتھ ۔ وار۔ دن ۔ سبد سہائے ۔ کلام سے ہی سہاوے بنتے ہیں۔ آویہہ جاہے ۔ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ گر سبد۔ کلام مرشد سے ۔ نہچل۔ مستقل ۔ سدا۔ ہمیشہ۔ سچ سماہے ۔ حقیقت میں محو ومجذوب۔ تا ۔ تب ہی ۔ بن ۔ ناوے ۔ نام یعنی سچ و حقیقت کے بغیر ۔ بھرمے کاچے ۔ بھٹکتے ہیں بغیر روحانی و اخلاقی زندگی کے (7) بگتی ۔ بد اخلاقی میں ۔ چیتیہہ ۔ یاد کرے ۔ بوھا ہے ۔ لالچ کرتا ہے ۔ اچیت ۔ غفلت ۔ اچیت پنڈی ۔ بے سمجھ انسان۔ اگیان اندھار۔ لا علم جاہل۔ یار کامیابی ۔ اپائے ۔ پیدا کرتا ہے ۔ اپاونہار۔ جس میں پیدا کرنے کی توفیق ہے ۔ آپے کیتونے ۔ آپ ہی کیا ہے ۔ گر ویچار ۔ خیالات مرشد۔
ترجمہ:
سارے تتھ اور وار اچھے ہیں لیکن کامیابی سچے مرشد کی خدمت سے ملتی ہے تتھ اور وار آتے ہیں چلے جاتے ہیں کلام مرشد ہی مستقل طور پر رہنے والا ہے ۔ اسی کے سہارے صدیوی خدا میں محو ومجذوب رہا جاسکتا ہے تھت وار تب ہی اچھے ہیں جب انسان الہٰی پریم پیار سے متاثر ہو چکا ہو ۔ الہٰی سچ وحقیقت کے سارے روحانیت اور اخلاق کے بگیر زندگی بھٹکن میں گذرتی ہے (7) مرید من انسان بری حالت میں روحانیت کھو دیتا ہے ۔ خدا کو یاد نیہں رکھتا اور دولت کی محبت میں عقل کھو بیٹھتا ہے زندگی میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ غفلت و جہالت کے اندھیرے میں رہتا ہے ۔ بغیر کلام کیسے کامیابی حاصل ہوگی ۔ مخلوقات کی پیدائش کی توفیق رکھنے والے نے خود ہی پیدا کیا ہے ۔ اور خود ہی خیالات مرشد بنائے ہیں ۔

بہُتے بھیکھ کرہِ بھیکھدھاریِ ॥
بھۄِ بھۄِ بھرمہِ کاچیِ ساریِ ॥
ایَتھےَ سُکھُ ن آگےَ ہوءِ ॥
منمُکھ مُۓ اپنھا جنمُ کھوءِ ॥
ستِگُرُ سیۄے بھرمُ چُکاۓ ॥
گھر ہیِ انّدرِ سچُ مہلُ پاۓ ॥੯॥
لفظی معنی:
بھیکھ ۔ مذہبی پہراوا۔ بھیکھد بھاری ۔ بھیس یا پہرواوا کرنیوالا ۔ بھو بھو بھرمیہہ۔ زیارت گاہوں کی زیارت میں اور دوسرے مذہبی دکھاوے کے کاموں میں بھٹکتے ہیں مگر چوپڑ کی نردوں کی طرح ۔ ایتھے ۔ اس عالم میں ۔ آگے ۔ عاقبت میں ۔ منمکھ ۔ مرید من ۔ جنم کھوئے ۔ زندگی فضول گنواتا ہے ۔ ستگر سیوے بھرم چکائے ۔ سچے مرشد کی خدمت سے وہم و گمان ختم ہوتے ہیں۔ گھر ہی اندر اپنے ذہن و من میں۔ محل پائے ۔ الہٰی ٹھکانہ پا لیتا ہے ۔
ترجمہ:
بھیس بنانے والے بیشمار مذہبی بھیس یا پہرواوا بناتے ہیں۔ بھٹکتے رہتے ہیں روحانیت پا نہیں سکتے اخلاق بنا نہیں سکتے ہر دو عالموں میں روحانی سکون پا نہیں سکتے ۔ من کے مرید بیکار اور فضول زندگی ضائع کر لیتے ہیں ۔ سچے مرشد کی خدمت سے وہم و گمان شک و شبہات دور ہوتے ہیں۔ تب اس ذہن اور من کے اندر ہی الہٰی ٹھکانہ پا لیتے ہیں۔

آپے پوُرا کرے سُ ہوءِ ॥
ایہِ تھِتیِ ۄار دوُجا دوءِ ॥
ستِگُر باجھہُ انّدھُ گُبارُ ॥
تھِتیِ ۄار سیۄہِ مُگدھ گۄار ॥
نانک گُرمُکھِ بوُجھےَ سوجھیِ پاءِ ॥
اِکتُ نامِ سدا رہِیا سماءِ ॥੧੦॥੨॥
لفظی معنی:
پورا۔ کامل۔ کرے سوہوئے ۔ جو کرتا ہے وہ کرتا ہے ۔ ایہہ تھتی وار۔ یہ دن اور رات۔ دوجا۔ دوئش ۔ جداگانا ۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ دوئے ۔ ملیتی ہوس۔ اندھ غبار ۔ بھاری لا علمی ۔ ناہیت جہالت۔ تھتی وار سیویہہ مگدھ غبار ۔ نہایت لا علم اور بھاری جاہل تھت وا رمیں یقین کرتے اور ایمان لاتے ہیں۔ بوجھے ۔ سمجھتا ہے ۔ سوجھی پائے ۔ سمجھت اہے ۔ اکت نام ۔ واحد الہٰی نام ۔ سچ و حقیقت ۔ سدا۔ ہمیشہ ۔ رہبا سمائے ۔ محو رہتا ہے ۔
ترجمہ:
کامل خدا جو کرتا ہے وہ ہوتا ہے ۔ یہ تتھ اور وار تو دنیاوی دولت کی محبت کا سبب بنتے ہیں ان پر یقین و ایمان لانے پر۔ اے نانک۔ مرید مرشد سمجھتا ہے اور روحانیت و حقیقت کی سمجھ پاتا ہے ۔ اور واحد الہٰی نام سچ و حقیقت پر ایمان لاتا اور محو ومجذوب رہتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੧ چھنّت دکھنھیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
مُنّدھ نۄیلڑیِیا گوئِلِ آئیِ رام ॥
مٹُکیِ ڈارِ دھریِ ہرِ لِۄ لائیِ رام ॥
لِۄ لاءِ ہرِ سِءُ رہیِ گوئِلِ سہجِ سبدِ سیِگاریِیا ॥
کر جوڑِ گُر پہِ کرِ بِننّتیِ مِلہُ ساچِ پِیاریِیا ॥
دھن بھاءِ بھگتیِ دیکھِ پ٘ریِتم کام ک٘رودھُ نِۄارِیا ॥
نانک مُنّدھ نۄیل سُنّدرِ دیکھِ پِرُ سادھارِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
مند نویلڑیا۔ دوشیزہ عورت۔ گوئل۔ بطورمہمان ۔ یا کچھ عرصے کے لئے چراگاہ میں ۔ مٹکی ۔ چاٹی ۔ ڈاردھری ۔ نیچے رکھدی ۔ مراد دیاوی الجھنیں ترک رکدیں۔ ہر لو۔ الہٰی محبت۔ سہج سبد۔ روحانی کلام ۔ لو۔ محبت۔ ہر سیؤ۔ خدا سے ۔ سگاریا۔ آراستہ کیا۔ کر جوڑ۔ ہاتھ ۔ جور کر۔ گریہہ۔ مرشد کے پاس ۔ بنتی ۔ گذارش ۔ عرض ۔ ملہو۔ ملاں۔ ساچ۔ صدیوی سچ ۔ دھن۔ عورت۔ بھائے ۔ پیار سے ۔ بھگتی ۔ الہٰی عشق ۔ کام ۔ کرودھ ۔ شہوت اور غصہ ۔ نواریا۔ مٹائیا۔ مندھ نوبل سندر۔ نی نوجوان ۔ دوشیزہ ۔ خوبصورت ۔ دیکھ پر۔ خاوند کے دیدار سے ۔ سادھاریا ۔ دلمیں آسرا بنایا۔
ترجمہ:
اے انسان تو چند روز کے لئے اس دنیا میں ایک چرواہے کی طرح آیا ہے جو چند روز کے لئے کسی چراگاہ میں رہائش رکھتا ہے ۔ اس طرح سے جو بدیوں برائیوں کو چھوڑ کر خدا سے اپنی محبت بناتا ہے اور خدا سے پریم پیدا کرکے اپنے آپ کو کلام سے سجاتا ہے ۔ وہ ہاتھ باندھ کر مرشد سے عرض گذارتا ہے ہ ملو تاکہ صدیوی سے خدا سے اور اسکے نام سچ و حقیقت سے پیار کر سکوں ۔ ایسا انسان الہٰی یاد وریاض کے ذریعے اس میں محو ومجذوب ہوکر الہٰی یدار پاکر شہوت و غصہ مٹا لیتا ہے ۔ اے نانک۔ پاک اخلاق و روحانی زندگی بسر کرنیوالا انسان الہٰی دیار و یادوریاض سے خدا کو اپنا سہارا بنا لیتا ہے اسی چھنت میں نوجوان دوشیزہ سے تشبیح دیکر انسان کو روحانی واخلاقی زندگی بنانے کی نصیحت و واعظ کی ہے (1)

سچِ نۄیلڑیِۓ جوبنِ بالیِ رام ॥
آءُ ن جاءُ کہیِ اپنے سہ نالیِ رام ॥
ناہ اپنے سنّگِ داسیِ مےَ بھگتِ ہرِ کیِ بھاۄۓ ॥
اگادھِ بودھِ اکتھُ کتھیِئےَ سہجِ پ٘ربھ گُنھ گاۄۓ ॥
رام نام رسال رسیِیا رۄےَ ساچِ پِیاریِیا ॥
گُرِ سبدُ دیِیا دانُ کیِیا نانکا ۄیِچاریِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
سچ۔ حقیقت واصلیت ۔ نو یلڑیئے ۔ نئے دامن تھامنے والی ۔ جوبن بالی ۔ بھرجوانی میں بچگانہ عادات والی ۔ کہی ۔ کسی ۔ جگہ ۔ سیہہ۔ خاوند۔ ناہ سنگ ۔ خاوند کے ساتھ ۔ بھاوئے ۔ بھاتا ہے ۔ پیارا۔ اگاودھ بودھ۔ بیشمار عقل و شعور والے ۔ اکتھ کتھیئے ۔ اسکو بیان کریں جو بیان ہو نہیں سکتا ۔ سہج ۔ روحانی یا ذہنی سکون میں ۔ پرھ گن گاوئے ۔ صفت صلاح کریں۔ رام نام رسال۔ الہٰی نام سچ و حقیقت لطفت کا ہے گھر ۔ رسیا۔ لطفوں کا مالک۔ لطف ۔ لینے والا۔ روے ساچ پیار یا سچ و حقیقت میں بستا ہے ۔ گرسبد دیا ۔ مرشد نے کلام عنایت کیا ۔ دان۔ خیرات۔ نانکا۔ اے نانک۔ ویچاریا۔ اے سمجھدار۔
ترجمہ:
اے سچ اور صدیوی سچ کا دامن پکڑنے والے نوجوان بچگانہ عادات والے کہیں تگ و دؤ نہ کیجیئے خدا تمہارے ساتھ ہے ۔ اس ہی صحبت خدا نصیب ہوتی ہے ۔ جیسے الہٰی عشق س محبت ہو جاتی ہے ۔ جو بیشمار عقل و شعور کا مالک ہے ۔ جو بیان نہیں کیا جسکتا بیان کریں اور پر سکون حمدوثناہ کریں الہٰی نام سچ و حقیقت ہے لطفوں کا گھر اور چشمہ جسکا مالک ہے خود خدا جو اسکا پیار ہو جاتا ہے ۔ اے نانک۔ جسنے مرشد نے الہٰی حمدوثناہ کی دی خیرات وہ بلند خیالات کا مالک ہوا ۔

س٘ریِدھر موہِئڑیِ پِر سنّگِ سوُتیِ رام ॥
گُر کےَ بھاءِ چلو ساچِ سنّگوُتیِ رام ॥
دھن ساچِ سنّگوُتیِ ہرِ سنّگِ سوُتیِ سنّگِ سکھیِ سہیلیِیا ॥
اِک بھاءِ اِک منِ نامُ ۄسِیا ستِگُروُ ہم میلیِیا ॥
دِنُ ریَنھِ گھڑیِ ن چسا ۄِسرےَ ساسِ ساسِ نِرنّجنو ॥
سبدِ جوتِ جگاءِ دیِپکُ نانکا بھءُ بھنّجنو ॥੩॥
لفظی معنی:
سر ید ھر ۔ وشنو مراد خدا۔ موہڑی ۔ محبت کی گرفت میں ۔ پر ۔ خاوند ۔ مراد خدا۔ سوتی ۔ مراد ملاپ ۔ گر کے بھائے ۔ مرشد کے پیار میں ۔ چلو ۔ زندگی گذارو ۔ ساچ سنگوتی ۔ الہٰی صحبت میں ۔ دھن ۔ عورت۔ ساچ سنگوتی ہر سنگ سوتی ۔ سچے صدیوی خدا کی صحبت میں الہٰی محبت میں محو و مجذوب ۔ سنگ سکھی سہیلیا ۔ بمعہ ساتھیوں اور دوستوں کے ۔ اک بھائے اک من ۔ الہٰی پیار میں یکسو ہوکر۔ نام بسیا۔ سچ و حقیقت کا خیال دلمیں بسا ۔ ستگر وہم میلیا۔ سچے مرشد نے ملاپ کرائیا۔ دن رین ۔ روز وشب ۔ دن رات۔ گھڑی نہ چسا۔ تھوڑے سے وقفے کے لئے ۔ وسرے ۔ بھوے ۔ نرنجنو۔ بیداغ پاک۔ سبد جوت۔ نور کلام ۔ جگائے ویپک۔ چراغ روشن کرے ۔ بھؤ بھنجنو۔ خوف دور کرنیوالا۔
ترجمہ:
جو انسان اپنی زندگی مرشد کی ہدایت وا واعظ کیمطابق گذارتا ہے اور صدیوی سچے خدا کی صحبت اختیار کرتا ہے مراد اسکی یاد وریاض میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ جو الہٰی صحبت اور الہٰی محبت میں محو اور ساتھیوں کے ساتھ محو رہتا ہے ارو یکسو ہرکر الہٰی یادوریاض کرتا ہے اسکے دلمیں سچے مرشد کے ملاپ کر انیسے نام سچ و حقیقت اسکے دل سے دن رات غرض یہ کہ تھوڑے سے وقفے کے لئے بھی نہیں بھولتا ۔ وہ ہر سانس ہر وقت خدا کو یاد کرتا ے ۔ اے نانک۔ کلام مرشد کے ذریعے الہٰی نور کا چراغ روشن کرکے دنیاوی خوف دور کر لیتا ہے (3)

جوتِ سبائِڑیِۓ ت٘رِبھۄنھ سارے رام ॥
گھٹِ گھٹِ رۄِ رہِیا الکھ اپارے رام ॥
الکھ اپار اپارُ ساچا آپُ مارِ مِلائیِئےَ ॥
ہئُمےَ ممتا لوبھُ جالہُ سبدِ میَلُ چُکائیِئےَ ॥
درِ جاءِ درسنُ کریِ بھانھےَ تارِ تارنھہارِیا ॥
ہرِ نامُ انّم٘رِتُ چاکھِ ت٘رِپتیِ نانکا اُر دھارِیا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
جوت۔ نور سبائیٹریئے ۔ نہایت زیادہ ۔ تربھون۔ تینوں عالموں میں۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں ۔ رورہیا۔ بس رہا ہے ۔ الکھ ۔ جو سمجھ سے باہر ہے ۔ اپار۔ اتنا وسیع کہ کنارا نہیں ۔ ساچا۔صدیوی سچ۔ آپ مار۔ خودی مٹا کر ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ ممتا۔ ملکیتی ہوس۔ موہ ۔ دنیاوی پیار۔ جالہو۔ ختم کرؤ۔ میل۔ اخلاقی یا روحانی نا پاکیزگی ۔ چکاییئ ۔ دور کریں۔ درجائے درسن ۔ در پر جا کر دیدار کر نے سے ۔ تارنہایرا۔ جس میں کامیابی بخشنے کی توفیق ہے ہر نام انمرت الہٰی نام آب حیات ہے (سچ و حقیقت ) جس سے زندگی روحانی واخلاقی طور پر پاک ہو جاتی ہے ۔ اردھاریا دلمیں بسانے سے ۔
لفظی معنی:
اے انسانوں الہٰی نور تینو عالموں مکمل طور پر روشن ہے ۔ ہر دلمیں بس رہا ہے سمجھ سے باہر خڈا ہے اتنا وسیع کہ کوئی کنارہ ہیں ۔ خودی ملکیت کی ہوس و لالچ کو جلا دو اور کلام سے ناپاکیزگی مٹادو۔ الہٰی رضا میں رہنے سے اسکے در کار دیدار ہوتا ہے کامیابی کی توفیق رکھنے والا کامیابی عنایت کرتا ہے ۔ اے نانک۔ الہٰی نام سچ و حقیقت آب حیات ہے جو لطف دیتا ہے ۔ لطف لینے سے خواہش و خواہشات تشنگی مٹ جاتی ہے بھوک رہتی نہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੧॥
مےَ منِ چاءُ گھنھا ساچِ ۄِگاسیِ رام ॥
موہیِ پ٘ریم پِرے پ٘ربھِ ابِناسیِ رام ॥
اۄِگتو ہرِ ناتھُ ناتھہ تِسےَ بھاۄےَ سو تھیِئےَ ॥
کِرپالُ سدا دئِیالُ داتا جیِیا انّدرِ توُنّ جیِئےَ ॥
مےَ اۄرُ گِیانُ ن دھِیانُ پوُجا ہرِ نامُ انّترِ ۄسِ رہے ॥
بھیکھُ بھۄنیِ ہٹھُ ن جانا نانکا سچُ گہِ رہے ॥੧॥
بھِنّنڑیِ ریَنھِ بھلیِ دِنس سُہاۓ رام ॥
نِج گھرِ سوُتڑیِۓ پِرمُ جگاۓ رام ॥
نۄ ہانھِ نۄ دھن سبدِ جاگیِ آپنھے پِر بھانھیِیا ॥
تجِ کوُڑُ کپٹُ سُبھاءُ دوُجا چاکریِ لوکانھیِیا ॥
مےَ نامُ ہرِ کا ہارُ کنّٹھے ساچ سبدُ نیِسانھِیا ॥
کر جوڑِ نانکُ ساچُ ماگےَ ندرِ کرِ تُدھُ بھانھِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
چاؤ۔ خوشی کی لہر۔ گھنا۔ بہت زیادہ ۔ ساچ وگاسی ۔ سچ و حقیقت دل کھل رہا ہے ۔ موہی پریم پرے ۔ پیارے کے پریم پیار ی محبت میں گرفتار ۔ پربھ ابناسی ۔ لافناہ ۔خڈا۔ اوگتو ۔ لافناہ ۔ ناتھ ۔ ناتھہو۔ مالکوں کا مالک ۔ تسے بھاوے سوتھیا۔ جو چہاتا ہے ہوتا ہے ۔ کرپال۔ مہربان۔ دیال۔ رحمدل ۔ داتا۔ دینے والا۔ جیسا۔ جانداروں میں ۔ توجیا ۔ زندگی دینے والا۔ گیان ۔ علم ۔ سمجھ دھیان۔ توجہ ۔ پوجا ۔ پرستش۔ ہرنام انتر بس رہے ۔ دلمیں الہٰی نام سچ و حقیقت بستا رہے ۔ بھیکھ ۔ پہراوا۔ بناوٹ ۔ بھونی ۔ یاترا۔ سفر۔ ہٹھ ۔ ضد۔ سچ گیہہ رہے ۔ سچ اختیار کر رکھا ہے ۔
بھنڈی ۔ پر لطف۔ رین بھلی ۔ رات اچھی ہے ۔ دنس سہائے دن خوبسورت ہے ۔ نج گھر ۔ اپنے دلمیں ۔ سویڑیے ۔ غفلت میں مخمور۔ پرم جگائے ۔ الہٰی پیار پیدا کرتا ہے ۔ نوہان ۔ نوجوان ۔ تودھن۔ نوجوان عورت مراد دوشیزہ ۔ سبد جاگی ۔ کلام سے بیدار ۔ پربھانیا۔ خاوند یا خدا کی پیاری ۔ تج کوڑ کپٹ ۔ جھوٹ ۔ ختم ہوجانیوالی اشیا۔ سبھاودوجا۔ الہٰی محبت کے دوسری دنیاوی محبت کی عادت۔ چاکری لوکانیا۔ لوگوں کی نوکری ۔ خدتم الیتادن ۔ نام ہرکا۔ الہٰی نام۔ سچ و حقیقت ۔ ہار ۔ کنٹھے ۔ گلے کا ہار۔ ساچ سبد۔ سچ و صدیوی حقیقت کا کلام ۔ نیسانیا۔ زندگی کی رہبری کا دستاویز ( پروناہ ) کر جوڑ ۔ ہاتھ بادھ کر ۔ ساچ ماگے ۔صدیوی سچ و حقیقت مانگتا ہوں ۔ ندر ۔ نظر عدالت و شفقت ۔ تدھ بھانیا۔ تجھے پیارا لگوں یا تو پیارا سمجھے ۔
ترجمہ:
میر دل بہت زیادہ شاد ہے اس لافناہ خدا کے پریم پیار میں خوشیوں سے کھل رہا ہے ۔ گوآنکھوں سے ہے اوجھل جو مالکوں کا ہے مالک جو وہ چاہتا ہے سو ہو جاتا ہے اے مہربان رحمدل سخی تو جانداروں کی روح اور زندگی ے ۔ میں کوئی دوسرا علم و توجہی پرستش نہیں جانتا میرے دلمیں حقیقی الہٰی نام سچ و حقیقت بستا رے ۔ کوئی مذہبی پہراوا یا زیارت گاہوں کی یا ترا یا ضد نہین سمجھتا اے نانک۔ سچ صدیوی سچ و حقیقت اختیار کر ۔
الہٰی عشق سے مخمور روز و شب اور دن اچھے ہیں خودی میں ؐخمور انسان کو الہٰی محبت بیداری سے الہٰی پیار ملتا ہے خدا کا پیارا ہو جاتا ہے ۔ چھوڑ جھوٹ اور دہوکا ۔ فریب اور دنیاوی نعمتوں کی محبت کی عادت اور لوگوں کی خوشامدی چھوڑنے سے انسان خڈا کا پیارا ہو جاتا ہے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت صدیوی سچ سچے خدا کو گلے کا ہار مراد ہر وقت یاد وریاض سچا کلام زندگی کی رہبری کے لئے پروانہ یا مراحلہ راحداری ہے ۔ نانک دست بستہ صدیوی سچ الہٰی نام کی خیرات مانگتا ہے ۔ نظر عنایت و شفقت فرماتا کہ تیرا محبوب ہو جاؤں۔

جاگُ سلونڑیِۓ بولےَ گُربانھیِ رام ॥
جِنِ سُنھِ منّنِئڑیِ اکتھ کہانھیِ رام ॥
اکتھ کہانھیِ پدُ نِربانھیِ کو ۄِرلا گُرمُکھِ بوُجھۓ ॥
اوہُ سبدِ سماۓ آپُ گۄاۓ ت٘رِبھۄنھ سوجھیِ سوُجھۓ ॥
رہےَ اتیِتُ اپرنّپرِ راتا ساچُ منِ گُنھ سارِیا ॥
اوہُ پوُرِ رہِیا سرب ٹھائیِ نانکا اُرِ دھارِیا ॥੩॥
لفظی معنی:
جاگ۔ بیدار ہو۔ سلونٹریئے ۔ خوبصورت آنکھوں والی مرگ ۔ نین والی عورتے ۔ گربانی ۔ کلام مرشد۔ منیئٹری ۔ ایمان ۔ یقین لائیا۔ اکتھ کہانی ۔ وہ کہانی جو بیان نہ کی جا سکے ۔ پدنر بانی ۔ طارق الندیا کا رتبہ ۔ ورلا۔ شاذونادر۔ کوئی ہی ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ بوجھیئے ۔ سمجھتا ہے ۔ سبد سمائے ۔ کالم اپنائے ۔ آپ گو آئے ۔ خودی مٹائے ۔ تربھون۔ تینوں عالموں ۔ سوجہی ۔ سمجھ ۔ اتیت ۔ طارق ۔ اپرنپر۔ اتنا وسی کہ کنارہ نہیں۔ راتا۔ محؤ۔ ساچ من ۔ دلمیں یا د خدا۔ گن ساریا۔ وصف بسائیا۔ وہ ۔ وہ ۔ پور رہیا سرب ٹھائی۔ سب جگہ بستا ہے ۔ نانکا اردھاریا ۔ اے نانک۔ دلمیں بسائیا۔
ترجمہ:
اے انسان کلام مرشد پکار رہا ہے بیدار ہو ۔ جسنے سنکر اس پر ایمان لائیا ہے اس نا قابل بیان الہٰی کہان پر ۔ اس نا قابل بیان کہانی کو کوئی ہی مرید مرشد سمجھتا ہے ۔ وہ کلام اپنا کر خودی مٹا تا ہے ۔ اسے تیونں عالموں کی سمجھ آجاتی ہے وہ طارق الدنیا ہوکر اس وسیع تر خدا میں محو اس سچے صدیوی سچ دلمیں بساتا ہے اور اسکے اوصاف دلمیں بساتا ہے ۔ اے نانک جو ہر جائی ہر دلمیں بستا ہے دلمیں بسائیا۔

مہلِ بُلائِڑیِۓ بھگتِ سنیہیِ رام ॥
گُرمتِ منِ رہسیِ سیِجھسِ دیہیِ رام ॥
منُ مارِ ریِجھےَ سبدِ سیِجھےَ ت٘رےَ لوک ناتھُ پچھانھۓ ॥
منُ ڈیِگِ ڈولِ ن جاءِ کت ہیِ آپنھا پِرُ جانھۓ ॥
مےَ آدھارُ تیرا توُ کھسمُ میرا مےَ تانھُ تکیِیا تیرئو ॥
ساچِ سوُچا سدا نانک گُر سبدِ جھگرُ نِبیرئو ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
محل۔ ٹھکانے ۔ الہٰی در پر ۔ بلائیٹریئے ۔ بلا واملے ہوئے ۔ بھگت سنیہی ۔ الہٰی پریمی سے پیار کرنیوالا۔ رام ۔ خدا۔ گرمت ۔ سبق مرشد۔ رہسی ۔ بستا ہے ۔ سیبھس دیہی ۔ یہ جسم کامیاب ہو جاتا ہے ۔ من مارچھے ۔ دل کو قابو کرنے سے خوش ہوتا ہے ۔ سبد سبھے ۔ کلام سے سمجھ آتی ہے ۔ ترے لوک ۔ نتھ پچھانیئے ۔ تینوں عالموں کی پہچان ہوتی ہے ۔ ڈیگ ڈول۔ ڈگمگائے ۔ کت ہی ۔ کبھی بھی ۔ اپنا ہر جانیئے ۔ اپنے مالک کو جانتا ہے ۔ آدھار ۔ آسرا ۔ خصم ۔ مالک ۔ تان ۔ طاقت۔ تکیا۔ آسرا۔ ساچ سوچا۔ سچ صدیوی سچ پاک ہے ۔ گر سبد ۔ کلام مرشد ۔ جھگر نبریؤ ۔ فیصلہ کرتا ہے ۔
ترجمہ:
الہٰی عشق سے پیار کرنیوالے کو ( پیار کرنیوالے کو ) اپنے در پر بلاتا ہے خدا۔ سبق مرشد پر عمل کرنے سے دلمیں بسانے سے یہ کامیابی ہوتا ہے ۔ جسم اے خدا رسیدہ انسان خدا کو عابد اور عبادت سے محبت ہے سبق مرشد دلمیں بسانے سے اور عمل پیرا ہونے سے دل کو روحانی سکون ملتا ہے اور انسانی جسم کامیابی پاتا ہے ۔ جو دل پر قابو پا کر روحانی سکون پاتا ہے کلام مرشد کے ذریعے زندگی کامیاب ناتا ہے اور تینو عالموں کے مالک کی پہچان پاتا ہے ۔ اسکا دل ڈگمگاتا نہیں کہیں اپنے دل کو تگ و دو میں لگاتا نہیں اپنے مالک کی پہچان پاتا ہے ۔ اے خدا مجھے تیرا ہی ہے آسرا تو ہے مالک میرا مجھے تیرا ہی آسرا و سہارا ہے ۔ اے نانک خدا ہمیشہ پاک ہے کلام مرشد فیصلہ چکاتا ہے ۔

چھنّت بِلاۄلُ مہلا ੪ منّگل
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
میرا ہرِ پ٘ربھُ سیجےَ آئِیا منُ سُکھِ سمانھا رام ॥
گُرِ تُٹھےَ ہرِ پ٘ربھُ پائِیا رنّگِ رلیِیا مانھا رام ॥
ۄڈبھاگیِیا سوہاگنھیِ ہرِ مستکِ مانھا رام ॥
ہرِ پ٘ربھُ ہرِ سوہاگُ ہےَ نانک منِ بھانھا رام ॥੧॥
لفظی معنی:
سیجے ۔ دلمیں۔ سکھ سمانا۔ راحت محصوس کی ۔ تٹھے ۔ مہربان (آدھار ۔آسرا) رنگ رلیا مانا۔ لطف لیا۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ سوہاگنی ۔ خدا پرست۔ مستک ۔ پیشانی ۔ مانا ۔ منی ۔ روشنی ۔ سوہاگ۔مالک ۔ خاوند ۔ من بھانا۔ دلی پیار۔
ترجمہ:
جب خدا دلمیں بس جائے راحت دل بس جاتی ہے ۔ مرشد کے مہربان ہونے پر ملاپ الہٰی ہوتا ہے اور لطف انسان پاتا ہے ۔ بلند قسمت ہیں وہ جنکی پیشانی پر روشن افروز ہوتا ہے خدا۔ وہ خدا پرست ہو جاتے ہیں نانک کو دل سے پیارا ہے ۔

نِنّمانھِیا ہرِ مانھُ ہےَ ہرِ پ٘ربھُ ہرِ آپےَ رام ॥
گُرمُکھِ آپُ گۄائِیا نِت ہرِ ہرِ جاپےَ رام ॥
میرے ہرِ پ٘ربھ بھاۄےَ سو کرےَ ہرِ رنّگِ ہرِ راپےَ رام ॥
جنُ نانکُ سہجِ مِلائِیا ہرِ رسِ ہرِ دھ٘راپےَ رام ॥੨॥
لفظی معنی:
نمانیا ۔ بے عزتوں کی ۔ ہر مان ۔ ہے عزت خدا گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ آپ گوائیا۔ خودی مٹائی۔ ہر ہر جاپے ۔ الہٰی یادوریاض کرتا ہے ۔ بھاوے ۔ چاہتا ہے ۔ پیارا ہے ۔ سوکر ے ۔ وہی کرے ۔ ہرنگ ۔ الہٰی پریم ۔ پیار۔ راپے ۔ متاثر ہوتا ہے ۔ سہج ۔ روحانی سکون ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف۔ دھراپے ۔ سیر ہوت اہے ۔ تسکین پات اہے ۔
ترجمہ:
بے قدروں بے عزتوں کی قدرو قیمت ہے خود خدا۔ مرید مرشد نے خود مٹا کر خدا کی یادوریاض و عبات کی ۔ خدا جو چاہتا ہے سو کرتا ہے ۔ اس لئے انسان ہمیشہ الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ خادم نانک۔ روحانی سکون پاتا ہے اور الہٰی لطف و مزے سے تسکین پاتاہے ۔

مانھس جنمِ ہرِ پائیِئےَ ہرِ راۄنھ ۄیرا رام ॥
گُرمُکھِ مِلُ سوہاگنھیِ رنّگُ ہوءِ گھنھیرا رام ॥
جِن مانھس جنمِ ن پائِیا تِن٘ہ٘ہ بھاگُ منّدیرا رام ॥
ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ راکھُ پ٘ربھ نانکُ جنُ تیرا رام ॥੩॥
لفظی معنی:
ماتس جنم۔ انسانی زندگی ۔ ہر پایئے ۔ الہٰی ملاپ ہوتا ہے ۔ ہر راون دیرا۔ رام ۔ الہٰی ملاپ کا موقعہ ہے ۔ سوہاگنی ۔ خدا پرست ۔ رنگ ۔ پریم ۔ گھنیرا۔ زیادہ ۔ پائیا۔ ملا۔ بھاگ ۔ مندیرا۔ بد قسمت۔ راکھ ۔ بچاؤ۔ حفاظت کیجیئے ۔ جن خادم۔ خدمتگار ۔
ترجمہ:
انسانی زندگی میں ہی الہٰی ملاپ کا موقعہ حاصل ہوتا ہے اے خدا پرست مرید مرشد ہو کر الہٰی محبت اور پریم پیار بڑھتا ہے ۔ بد قسمت ہیں وہ جنہیں انسنای زندگی میسر نہیں ہوتی ۔ اے خدا بچاؤ حفاظت کیجیئے خدمتگار ہے نانک تیرا ۔

گُرِ ہرِ پ٘ربھُ اگمُ د٘رِڑائِیا منُ تنُ رنّگِ بھیِنا رام ॥
بھگتِ ۄچھلُ ہرِ نامُ ہےَ گُرمُکھِ ہرِ لیِنا رام ॥
بِنُ ہرِ نام ن جیِۄدے جِءُ جل بِنُ میِنا رام ॥
سپھل جنمُ ہرِ پائِیا نانک پ٘ربھِ کیِنا رام ॥੪॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
اگم۔ انسانی عقل و دانش سے باہر۔ درڑائیا ۔ دلمیں پختہ طور پر بسادیا۔ بھگت وچھل۔ عابد وعبادت کا قدر دان ۔ من تن ۔ دل و جان۔ رنگ ۔ پریم پیار۔ بھینا۔ متاثر۔ ہر نام۔ الہٰی نام ۔ گورمکھ ہر لینا۔ مرشد سے ملتا ہے ۔ بن ہر نام ۔ الہٰی نام کے بگیر۔ جیووے زندگی نہیں رہتی ۔ جیؤ جل بن مینا۔ جیسے پانی کے بغیر مچھلی ۔ سپھل ۔ جنم ۔ کامیاب زندگی ۔ پربھ کینا۔ خدا نے بنائی۔
ترجمہ:
مرشد نے انسانی عقل و ہوش و دانش سے بلند خدا کو دلمیں مستقل طور پر بسنا دیا جس سے دل و جان متاثر ہوئی ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت عابد و عبادت کر پیار کرنیوال اہے جو مرید مرشد کو ملتا ہے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کے زندگی نہیں ہرتی جیسے پانی کے بگیر مچھلی زندہ نہیں ہرتی ۔ اے نانک۔ الہٰی ملاپ حاصل ہوا۔ خدا نے کامیابی عنایت کی ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪ سلوکُ ॥
ہرِ پ٘ربھُ سجنھُ لوڑِ لہُ منِ ۄسےَ ۄڈبھاگُ ॥
گُرِ پوُرےَ ۄیکھالِیا نانک ہرِ لِۄ لاگُ ॥੧॥
چھنّت ॥
میرا ہرِ پ٘ربھُ راۄنھِ آئیِیا ہئُمےَ بِکھُ جھاگے رام ॥
گُرمتِ آپُ مِٹائِیا ہرِ ہرِ لِۄ لاگے رام ॥
انّترِ کملُ پرگاسِیا گُر گِیانیِ جاگے رام ॥
جن نانک ہرِ پ٘ربھُ پائِیا پوُرےَ ۄڈبھاگے رام ॥੧॥
لفظی معنی:
سجن ۔ دوست۔ لوڑلیہو۔ ڈہونڈلیا۔ من دسے وڈبھاگ ۔ بلند قسمت سے دلمیں بستا ہے ۔ گر پورے ۔ کامل مرشد۔ دیکھالیا ۔دیدار کرائیا۔ ہر تو لاگ۔ خدا سے محبت کر (چھنت) راون آئیا۔ ملاپ کا لطف لینے ۔ ہونمے دکھ ۔ خودی کی زہر ۔ جھاگے ۔ دور کرکے ۔ گرمت ۔ سبق مرشد سے ۔ آپ ۔ خودی ۔ہر تولاگے ۔ الہٰی محبت میں مصروف ہوئے ۔ انتر کمل ۔ پرگاسیا۔ دل کا کنول کھلا روش ہوا۔ گر گیان ۔ علم مرشد۔ جاگے ۔ بیدار ہوئے ۔ پورے وڈبھاگے ۔ پوری یا کامل بلند قسمت والے ۔
ترجمہ:
اے انسانوں خدا کی تلاش کرؤ جو انسان دوست ہے وہ بلند قسمت ہسے دلمیں بستا ہے اے نانک کامل مرشد اسکا دیار کرات ہے اسے پیار کر (1)
(چھنت) انسان لملاپ کا لطف لینے کے لئے خودی کا زہر دور کر کے آئیا ہے سبق مرشد سے خودی مٹا کر الہٰی محبت میں مصروف ہو جات اہے اس سے انسان کے دل کنول کھلتا ہے اور علم مرشد سے انسانی بیدار ہو جاتا ہے ۔ اے خادم نانک۔ بلند قسمت سے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔

ہرِ پ٘ربھُ ہرِ منِ بھائِیا ہرِ نامِ ۄدھائیِ رام ॥
گُرِ پوُرےَ پ٘ربھُ پائِیا ہرِ ہرِ لِۄ لائیِ رام ॥
اگِیانُ انّدھیرا کٹِیا جوتِ پرگٹِیائیِ رام ॥
جن نانک نامُ ادھارُ ہےَ ہرِ نامِ سمائیِ رام ॥੨॥
لفظی معنی:
ہر من بھائیا۔ ہر دل کو پیارا لگا۔ ہر دلپسند ہوا۔ ہر نام ۔ الہٰی نام ۔ سچ و حقیقت ۔ ودھائی ۔ برتیر ۔ بلندی ۔ گر پورے ۔ کامل مرشد۔ پربھ پائیا۔ الہٰی ملاپ ۔ تولائی ۔ محبت ۔ پیار کیا۔ اگیان ۔ اندھیرا ۔ لا علمی کا اندھیرا۔ گٹیا۔ دور کیا۔ جوت پرگٹ آئی ۔ نور لاہٰی و علم روشن ہوا۔ نام ادھار۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کا ہے آسرا ۔ نام سمائی۔ سچ و حقیقت میں محو ومجذوب ۔
ترجمہ:
الہٰی نام سچ حق کی ہے یہ برتری وبلندی خدا ہر دل کو پیار لگتا ہے ۔ کامل مرشد کے ذریعے جسکا ملاپ ہوا خدا سے اسکی محبت و پیار خدا سے ہو جاتا ہے ۔ اسکا لا علمی کا اندھیرا دور ہو جات اہے نور الہٰی اور علم کی روشنی روشن ہو جاتی ہے ۔ اے خادم نانک۔ اس انسان کے لئے الہٰی نام سچ و حقیقت زندگی کا آسرا ہو جات اہے اور وہ الہٰی نام سچ و حقیقت میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے (2)

دھن ہرِ پ٘ربھِ پِیارےَ راۄیِیا جاں ہرِ پ٘ربھ بھائیِ رام ॥
اکھیِ پ٘ریم کسائیِیا جِءُ بِلک مسائیِ رام ॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ میلِیا ہرِ رسِ آگھائیِ رام ॥
جن نانک نامِ ۄِگسِیا ہرِ ہرِ لِۄ لائیِ رام ॥੩॥
لفظی معنی:
دھن۔ عورت ۔ راویا۔ مانیا۔ بھائی ۔ پسند آئی۔ پیاری ہوئی۔ اکھی ۔ پریم کسائیا۔ آنکھوں میں پریم پیار کی ایسی کشش پیدا ہوئی ۔ جیؤ جیسے ۔ بلک ۔ بلی ۔ مسائی ۔ چوہے ۔ گر پورے ۔ کامل مرشد ۔ ہر میلیا۔ الہٰی ملاپ کرائیا۔ ہر رس اگھائی ۔ الہٰی لطف سے تسکین ملی تسلی ہوئی۔ سیر ہوا۔ نام وگسیا۔ سچ و حقیقت سے کھل گیا۔ سکون ملا۔
ترجمہ:
جب کوئی محبوب خدا ہوا وصل خدا پائیا۔ آنکھوں میں محبت کی ایسی کشش ہوئی جیسی بلی کی چوہے کی طرف ہوتی ہے ۔ کامل مرشد نے خدا سے ملائیا الہٰی لطف سے تکسین لی تسلی ہوئی اور من سیر ہوا۔ اے خادم نانک۔ الہٰی نام سچ و حقیقت سے دل باغ باغ ہوا اور الہیی محبت محو ومجذوب ہوا۔

ہم موُرکھ مُگدھ مِلائِیا ہرِ کِرپا دھاریِ رام ॥
دھنُ دھنّنُ گُروُ ساباسِ ہےَ جِنِ ہئُمےَ ماریِ رام ॥
جِن٘ہ٘ہ ۄڈبھاگیِیا ۄڈبھاگُ ہےَ ہرِ ہرِ اُر دھاریِ رام ॥
جن نانک نامُ سلاہِ توُ نامے بلِہاریِ رام ॥੪॥੨॥੪॥
لفظی معنی:
مورکھ ۔ بیوقوف ۔ مگدھ ۔ جاہل۔ دھن۔ دھن۔ قابل تعریف ۔ گرو۔ مرشد۔ ہونمے ماری ۔ خودی مٹائی۔ جن وڈبھاگیا ۔ بلند قسمتوں کی ۔ وڈبھاگ ہے ۔ قسمت بلند ہے ۔ ہر اردھاری ۔ وہ دلمیں بساتے ہیں خدا۔ نام صلاح تو ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کی صفت صلاح کر ۔ نامے بلہاری ۔ الہٰی نام پر قربان ہو۔
ترجمہ:
خدا نے مجھ پر کرم و عنایت فرمائی مجھ بیوقوف کو اپنا وصل بخشش کیا قابل ستائش ہے مرشد جس نے میری خودی مٹا دی جن بلند قسموں کی قسمت بلند ہے جنہوں نے خدا دلمیں بسالیا اے خادم نانک۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کی صفت صلاح کر اور الہٰی نام پر قربان ہو۔

بِلاۄلُ مہلا ੫ چھنّت
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
منّگل ساجُ بھئِیا پ٘ربھُ اپنا گائِیا رام ॥
ابِناسیِ ۄرُ سُنھِیا منِ اُپجِیا چائِیا رام ॥
منِ پ٘ریِتِ لاگےَ ۄڈےَ بھاگےَ کب مِلیِئےَ پوُرن پتے ॥
سہجے سمائیِئےَ گوۄِنّدُ پائیِئےَ دیہُ سکھیِۓ موہِ متے ॥
دِنُ ریَنھِ ٹھاڈھیِ کرءُ سیۄا پ٘ربھُ کۄن جُگتیِ پائِیا ॥
بِنۄنّتِ نانک کرہُ کِرپا لیَہُ موہِ لڑِ لائِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
منگل ساج ۔ خوشی کے سامان۔ بھیا پربھ اپنا۔ خدا سے رشتہ قائم ہوا۔ گائیا رام ۔ الہٰی صفت صلاح کی ۔ ابناسی ۔ لافناہ ۔ در ۔ خاوند۔ مالک ۔ اپجیا چاؤ۔ خوشی کی لہر پیدا ہوئی ۔ من پریت ۔ دلمیں پیار۔ کب ملیے پورن پتے ۔ کہ کب ۔ کامل خاوند سے ملاپ ہو۔ سہجے ۔ قدرتاً موہے متے ۔ مجھے سمجھا ۔ ٹھاڈی ۔ کھڑے ہوکر۔ کون جگتی ۔ کونسے طریقے سے ۔ بنونت ۔ عرض گذارتا ہے ۔ کر ہو کرپا۔ مہربانی کیجیئے ۔ لیہو لڑلائیا۔ دامن لگایئے ۔
ترجمہ:
الہٰی حمدوثناہ سے خوشیاں حاصل ہوتی ہیں۔ س لافناہ خدا کی صفت صلاح سننے سے دلمیں خوشی کی لہر پیدا ہوتی ہے ۔ بلند قسمت سے دلمیں الہٰی پریم پیار پیدا ہوتا ہے اور خواہش امڈتی ہے کہ کب ملاپ ہو ۔ روھانی سکون میں محو ہونے سے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ اے ساتھیو مجھے مشورہ دیجیئے کہ کس طور خدا سے ملاپ ہو سکتا ہے ۔ میں روز و شب خدمت سر انجام دونگا۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اے خدا مجھے اپنا دامن عنایت کر۔

بھئِیا سماہڑا ہرِ رتنُ ۄِساہا رام ॥
کھوجیِ کھوجِ لدھا ہرِ سنّتن پاہا رام ॥
مِلے سنّت پِیارے دئِیا دھارے کتھہِ اکتھ بیِچارو ॥
اِک چِتِ اِک منِ دھِیاءِ سُیامیِ لاءِ پ٘ریِتِ پِیارو ॥
کر جوڑِ پ٘ربھ پہِ کرِ بِننّتیِ مِلےَ ہرِ جسُ لاہا ॥
بِنۄنّتِ نانک داسُ تیرا میرا پ٘ربھُ اگم اتھاہا ॥੨॥
لفظی معنی:
بھئیا سماہڑا ۔ دلمیں حوصلہ وہا۔ ہر رتن ۔ قیمتی ہیرا خدا۔ وساہا۔ خرید کیا۔ کھوجی کھوج لاھا ۔ ڈہونڈتے ڈہونڈتے ۔ سنن پاہا ۔ الہیی روحانی رہبروں سے حاصل ہوا۔ ملے سنت پیارے ۔ پیارے روحانی رہبروں کا وصل نصیب ہوا۔ دیادھارے ۔ مہربان ہوکر۔ کتھیہہ۔ اکتھ وچارو۔ نا قابل بیان خیالات بیان کیے ۔ اک چت اک من ۔ یکسو۔ دھیائے سوآمی ۔ مالک میں دھیان لگائیا توجہ دی ۔ کر جوڑ ۔ ہاتھ باندھ کر۔ دست بستہ ۔ پرھ پیہہ۔ خدا سے ۔ بنتی ۔ عرض گذاری ۔ ملے ہر جس لاہا۔ الہٰی صفت صلاح کا منافع ۔ بنونت ۔ عرض گذارتا ہے ۔ داس ۔ خدمتگار ۔ خادم پربھ اگتم ۔ اتھا ہا۔ خدا انسانی عقل و ہوش سے بلند و بالا جسکا تخمینہ نہیں ہو سکتا۔
ترجمہ:
خدا ایک قیمتی ہیرا ہے جو اسے خریدتا ہے اسکے دلمیں ایمان و یقین پیدا ہوتا ہے ۔ ڈہونڈنے سے روحانی رہبروں سے ملتا ہے ۔ جنہیں پیار روحانی رہبروں کا لاپ حاصل ہو جاتا ہے ۔ وہ مرہبان ہوکر اس یان باہر خدا کی حمدوثناہ کی بابت بتلاتے ہیں ۔ جو یکسو ہوکر دل و جان سے اس مالک میں دھیان لگاتا ہے ۔ پریم اور پیار سے ۔ ہاتھ باندھ کر دست بستہ خدا سے عرض گذارتا ہے کہ میں الہٰی حمدوثناہ کا منافع کماوں ۔ نانک خادم خدا۔ عرض گذارتا ہے تیرا خدمتگار اے خدا کہ میرا خدا انسانی رسائی عقل و ہوش و تخمینے اور اندازے سے باہر اور بلند ہے ۔

ساہا اٹلُ گنھِیا پوُرن سنّجوگو رام ॥
سُکھہ سموُہ بھئِیا گئِیا ۄِجوگو رام ॥
مِلِ سنّت آۓ پ٘ربھ دھِیاۓ بنھے اچرج جاجنْیِیا ॥
مِلِ اِکت٘ر ہوۓ سہجِ ڈھوۓ منِ پ٘ریِتِ اُپجیِ ماجنْیِیا ॥
مِلِ جوتِ جوتیِ اوتِ پوتیِ ہرِ نامُ سبھِ رس بھوگو ॥
بِنۄنّتِ نانک سبھ سنّتِ میلیِ پ٘ربھُ کرنھ کارنھ جوگو ॥੩॥
لفظی معنی:
ساہا۔ شادی کی تاریخ کی مقرری ۔ اٹل۔ نہ ٹلنے والا۔ مستقل ۔ پورن ۔ سنجوگو ۔ مکمل ملاپ ۔ سکھیہہ سیوہ ۔ ہر قسم کے آرام و آسائش ۔ جوگو ۔ جدائی۔ جاجھی ۔ لاڑے کے ساتھی ۔ سنت ۔ روحانی واخلاقی رہبر۔ اکتر ۔ اکٹھے ۔ سہج ڈہوئے ۔ روحانی سکون میں پہنچے ۔ من پریت اپجی ۔ پیار پیدا ہوا۔ ماجھیا۔ لڑکی والوں کے دلمیں۔ مل جوت جوتی ۔ الہٰی نور میں انسانی نور مدغم ہوا۔ اوت پوتی ۔ تانے پیٹے کی طرح آپس میں یکسو یا مل گیا ۔ ہر نام ( سب) سبھ رس بھوگ۔ ہر نام الہیی نام سچ و حقیقت ۔ سبھ رس بھوگو ۔ تمام لطفوں کے مزے لئے جاتے ہیں۔ بنونت نان۔ نانک عرض گذارتا ہے روحانی رہبر نے سنت ملی کرن کارن جوگو ملاپ کرادیا ۔ اس ہستی سے جو ہر طرح کے سببوں کے کرنے اور کرانے کی توفیق رکھتا ہے ۔
ترجمہ:
اسمیں شادی کی تشبیح یا مثال پیش کرکے الہیی ملاپ کا نقشہ تحریر کیا ہے پہلے چھنت میں لافناہ خاوند کی شہرت سنکر اپنے ساتھیوں سہیلو سے عرض کرتی ہے ۔ مجھے ایسے خاوند سے ملاؤ تب روحانی رہبر ایسا ملاپ کرادیات اہے (2) تب شادی کا دن مقرر ہوکر روحانی رہبر جنج کی کشل میں حانبھی ہوکر آتے ہیں (3) تب خدا شادی کرنیواالا ہوکر صحن مراد انسانی دلمیں بس جاتا ہے اور پرم آتما ۔ مراد خدا کا انسانی نور سے الحاق یا آپسی ملاپ ہوجاتا ہے ۔
ترجمہ:
شادی کے آغاز کا مستقل موقعہ اور کامل ملاپ کا وقت مقرر کیا جات اہے ۔ تب روحانی رہبر حانجیو کی شکل صورت مین محبوب یا لاڑی کے گھر آتے ہیں تب متعلقین کے دلمیں خؤشی پیدا ہوتی ہے اور لاڑی کے گھر اکٹھے ہوتے ہیں تو گھر والوں کے دلمیں پیار پیدا ہوتا ہے اور ہر دور روحوں کا آپسی ملاپ ہوتا ہے ۔ الہٰی نور اور انسانی آپسمیں میں تانے پیٹے کی طرح ایک ہو جاتا ہے جیؤ قل میں جل آئے کٹانا اس طرح سے گھل مل جاتے ہیں کہ انکو جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ اور الہٰی نام س و حقیقت کا لطف اُٹھاتے ہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ روحانی رہبر نے سارے علام کے لوگوں کو روحانی رہبر نے اس ہستی سے ملاپ کرائیا جو سارے سبب بنانے کرنے اور کرانے کی توفیق رکھتا ہے ۔

بھۄنُ سُہاۄڑا دھرتِ سبھاگیِ رام ॥
پ٘ربھُ گھرِ آئِئڑا گُر چرنھیِ لاگیِ رام ॥
گُر چرنھیِ لاگیِ سہجِ جاگیِ سگل اِچھا پُنّنیِیا ॥
میریِ آس پوُریِ سنّت دھوُریِ ہرِ مِلے کنّت ۄِچھُنّنِیا ॥
آننّد اندِنُ ۄجہِ ۄاجے اہنّ متِ من کیِ تِیاگیِ ॥
بِنۄنّتِ نانک سرنھِ سُیامیِ سنّتسنّگِ لِۄ لاگیِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
بھون ۔ گھر ۔ سہاوڑ۔ سوہنا ۔ خوبصورت ۔ دھرت۔ زمین ۔ سبھاگی ۔ خوش قسمت۔ پربھ ۔ خدا۔ گھر ۔ آئیٹر۔ دلمیں بسئیا ۔ گر چرن لاگی ۔ پائے مرشد پڑی ۔ سہج جانی ۔ روحانی سکون میں بیداری پائی۔ سگل اچا ۔ ساری خواہشات پوری ہوئیں۔ آس۔ امید ۔ سنت۔ خاک پائے روحانی رہبر۔ کنت۔ خاوند ۔ وچھونیا۔ جدا ہوا۔ آنند اندن ۔ ہر روز سکون ۔ وجیہہ واجے ۔ خوشیاں ہوتی ہیں۔ اہامت ۔ مغروری ۔ تیاگی ۔ چھوڑی ۔ سرن سوآمی ۔ پناہ مالک ۔ سنت سنگ ۔ روحانی رہبر کے ساتھ ۔ لولاگی ۔ محبت ہوئی ۔
ترجمہ:
خوبصورت ہے وہ گھر خوش قسمت ہے وہ زمین جس گھر میں جس دلمیں بستا ہے خدا پائے مرشد پڑنے سے روحانی سکون ملتا ہے ۔ ساری خواہشات پوری ہوتی ہے ۔ میری خان پائے روحانی رہبر کی امید پوری ہوتی ہے اور خدا کی جدائی سے ملاپ حاسل ہوتا ہے ۔ ہر روز خوشیوں کے شادیانے ہوتے ہیں اور غرور مغروری چھوٹتی ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ کہ صحبت و قربت پاکدامناں اور پناہ الہٰی میں پیار بنا رہتا ہے ۔ (4)

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بھاگ سُلکھنھا ہرِ کنّتُ ہمارا رام ॥
انہد باجِت٘را تِسُ دھُنِ دربارا رام ॥
آننّد اندِنُ ۄجہِ ۄاجے دِنسُ ریَنھِ اُماہا ॥
تہ روگ سوگ ن دوُکھُ بِیاپےَ جنم مرنھُ ن تاہا ॥
رِدھِ سِدھِ سُدھا رسُ انّم٘رِتُ بھگتِ بھرے بھنّڈارا ॥
بِنۄنّتِ نانک بلِہارِ ۄنّجنْا پارب٘رہم پ٘ران ادھارا ॥੧॥
لفظی معنی:
بھاگ ۔ تقدیر ۔ قسمت۔ سلکھنا۔ اچھی ہے ۔ کنت ۔ خاوند ۔ انحد ۔ لگاتار۔ با چتر ۔ بجتا ہے ۔ دھن۔ سر ۔ دربار۔ دربار میں ۔ آنند اندن وجیہہ والے ۔ سکون ہے ہر روز اور واجے بج رہے ہیں ۔ دنس رین اماہا۔ روشب انشاہ اور خوشیوں کی لہریں۔ روگ۔ سوگ۔ بیماری و افسوس۔ دوکھ ۔ عذآب۔ ویاپے ۔ اپنا تاثر دکھتا ہے ۔ جنم مرن۔ موتو پیدائش ۔ تاہا ۔ وہاں ۔ ردھ سدھ ۔ معجزے ۔ سدھا رس۔ انمرت۔ آبحیات۔ زندگی کا پانی جس سے زندگی ابدی طور پر روحانی واخلاقی ہو جاتی ہے ۔ بھگت۔ الہٰی عشق و پیار۔ بھنڈار ۔ خزانے ۔ بلہارونجا۔ قربان جاؤں۔ پران ادھار۔ زندگی کا آسرا۔
ترجمہ:
ہمارا مالک خدا خؤش قسمت نیک بخت اچھے اخلاق اور نیک چال چلن والا ہے ۔ اسکے دربار میں لگار سا بج رہے ہیں اور لگاتار دھنیں ہو رہی ہیں روز و شب اتشاہ ، خوشیاں اور خوشی کی لہریں اُٹھ رہی ہیں نہ وہاں کو مئی بیماری ہے کسی قسم کا افسوس اور پچھتاوا نہ وہاں موت و پیدائش کا چکر ہے ۔ وہاں معجزے ہیں آب حیات ہے الہٰی عشق اور پریم پیار کے خزناے بھرے ہوئے ہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اس زندگی کے سہارے خدا پر قربان جاؤں (1)

سُنھِ سکھیِء سہیلڑیِہو مِلِ منّگلُ گاۄہ رام ॥
منِ تنِ پ٘ریمُ کرے تِسُ پ٘ربھ کءُ راۄہ رام ॥
کرِ پ٘ریمُ راۄہ تِسےَ بھاۄہ اِک نِمکھ پلک ن تِیاگیِئےَ ॥
گہِ کنّٹھِ لائیِئےَ نہ لجائیِئےَ چرن رج منُ پاگیِئےَ ॥
بھگتِ ٹھگئُریِ پاءِ موہہ انت کتہوُ ن دھاۄہ ॥
بِنۄنّتِ نانک مِلِ سنّگِ ساجن امر پدۄیِ پاۄہ ॥੨॥
لفظی معنی:
سکھیا سہیلڑ یہو۔ ساتھیؤ۔ دوستو۔ منگل گاوہو ۔ خوشی کے گیت گاؤ۔ من تن ۔ دل و جان سے ۔ راوہو۔ مانو ۔ یاد کرؤ۔ بھاوہو۔ اسکے پیارے ہو جائیں۔ تیاگیئے ۔ چھوڑیں۔ گیہہ کنٹھ لاییئے ۔ گلے لگائیں۔ نیہہ لجاییئے ۔ شرم محسوس نہ کریں۔ چرن رج ۔ پاؤں کی خاک ۔ من پاگیئے ۔ من پہ ملنا چایئے ۔ بھگت ٹگھوری ۔ الہٰی عاشقوں کو دہوکا دینے والی دوائی۔ موہے ۔ اپنی محبت کی گرفت میں لینا ہے ۔ انت نہ کتہو دھاوہو۔ کیہیں اور دوڑ دہوپ نہ کرؤ۔ سنگ ساجن ۔ ساتھیوں دوستوں کے ملاپ سے ۔ امر پدوی ۔ جیات جاوید ۔
ترجمہ:
اے دوستوں ساتھیؤ سنو الہٰی خوشی کے گیت گائیں۔ دل و جان سے اسے پیار کریں اور یاد کریں خدا کو ۔ جب پریم پیار سے یاد کرؤ گے تو اسکے پیارے ہو جاؤ گے اور معمولی سے وقفے کے لئے بھی اس سے جدائی نہ پاؤ شرم نہ کرؤ ۔ اسے گلے لگاؤ اسکے پاؤں کی خاک سے پانے من کو پاک بناؤ اسے پیار محبت اور عشق کی بوٹی سے اسے اپنا گرویدہ بنا لو اور دوسری طرف بھٹکتے نہیں رہنا چاہیے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ دوست خدا کے ملاپ سے حیات جاویداں حاصل کرؤ ۔ (2)

بِسمن بِسم بھئیِ پیکھِ گُنھ ابِناسیِ رام ॥
کرُ گہِ بھُجا گہیِ کٹِ جم کیِ پھاسیِ رام ॥
گہِ بھُجا لیِن٘ہ٘ہیِ داسِ کیِن٘ہ٘ہیِ انّکُرِ اُدوتُ جنھائِیا ॥
ملن موہ بِکار ناٹھے دِۄس نِرمل آئِیا ॥
د٘رِسٹِ دھاریِ منِ پِیاریِ مہا دُرمتِ ناسیِ ॥
بِنۄنّتِ نانک بھئیِ نِرمل پ٘ربھ مِلے ابِناسیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
بسمن ۔ حیرانگی ۔ بسم بھئی ۔ چران ہوئی ۔ پیکھ گن ابناسی ۔ لافناہ کے اوصاف دیکھکر۔ کر گیہہ بھجاگہی ۔ ہاتھوں سے بازو پکڑ ۔ داس ۔ غلام ۔ خدمتگار ۔ انکر۔ انگور۔ بیج پھوٹا۔ ادوت۔ روشی ۔ دی ۔ علم بخشا۔ جنائیا ۔ سمجھائیا۔ ملن ۔ ملین ۔ ناپاکیزگی ۔ موہ ۔ محبت۔ بکارنا ٹھے ۔ برائیاں دور ہوئیں۔ دوس نرمل ۔ پاک دن ۔ اچھے بھلے دن ۔ درسٹ دھاری ۔ نظر عنایت و شفقت ۔ درمت ۔ بد عقلی ۔ ابناسی لافناہ ۔
ترجمہ:
صدیوی لافناہ خد اکے اوصاف دیکھ حیرنای ہوئی ۔ ہاتھ پکڑ کر بازو پکڑا اور موت کا پھندہ کاٹ دیا مراد روحانی موت مٹا دی ۔ میرا بازور پکڑا اپنا خدمتگار بنائیا اور روحانی زندگی سے روشناش کرائیا جس سے ذہن روشن ہوا ۔ دیاوی محبت اور بری عادتیں اور برائیاں دور ہوگئیں اور زندگی نیک اور اچھے دن شروع ہئے ۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ خدا نے اپنی نگاہ شفقت و عنایت فرمائی جس سے بے سمجھی دور ہو گئی ۔ لافناہ ۔ خدا کا وصل حاصل ہوا اور زندگی پاکیزہ ہوگئ۔ (3)

سوُرج کِرنھِ مِلے جل کا جلُ ہوُیا رام ॥
جوتیِ جوتِ رلیِ سنّپوُرنُ تھیِیا رام ॥
ب٘رہمُ دیِسےَ ب٘رہمُ سُنھیِئےَ ایکُ ایکُ ۄکھانھیِئےَ ॥
آتم پسارا کرنھہارا پ٘ربھ بِنا نہیِ جانھیِئےَ ॥
آپِ کرتا آپِ بھُگتا آپِ کارنھُ کیِیا ॥
بِنۄنّتِ نانک سیئیِ جانھہِ جِن٘ہ٘ہیِ ہرِ رسُ پیِیا ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
انسان خدا سے اسطرح سے یکسو ہو جاتا ہے جیسے سورج کی کرن سورج میں ملنے سے پانی کے پانی میں ملنے سے اسکی ذاتی پہچنا خت ہو جاتی ہے اور انسان اور خدا کا بھید مٹ جاتا ہے ۔ تب ہر جگہ خدا بستا دکھائی دیتا ہے ۔ سننے میں آتا ہے اور اسی کا ہر جگہ ذکر ہو رہا ہے یہ روحوں کا پھیلاؤ ہے خدا کے بغیر کسی دوسرے کو اسکی سمجھ نہیں۔ خدا خود ہی پیدا کرنے والا ہے خود ہی اسے تصرف میں لانیوالا ہے اور خود سبب بنانیوالا ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ وہی سمجھتے اور جانتے جنہوں نے الہٰی لطف اُٹھائیا ہے (4)

بِلاۄلُ مہلا ੫ چھنّت
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سکھیِ آءُ سکھیِ ۄسِ آءُ سکھیِ اسیِ پِر کا منّگلُ گاۄہ ॥
تجِ مانُ سکھیِ تجِ مانُ سکھیِ متُ آپنھے پ٘ریِتم بھاۄہ ॥
تجِ مانُ موہُ بِکارُ دوُجا سیۄِ ایکُ نِرنّجنو ॥
لگُ چرنھ سرنھ دئِیال پ٘ریِتم سگل دُرت بِکھنّڈنو ॥
ہوءِ داس داسیِ تجِ اُداسیِ بہُڑِ بِدھیِ ن دھاۄا ॥
نانکُ پئِئنّپےَ کرہُ کِرپا تامِ منّگلُ گاۄا ॥੧॥
لفظی معنی:
سکھی۔ ساتھی ۔ وس۔ رضائے الہٰی۔ پر ۔ خاوند۔ مالک ۔ خدا ۔ منگل گاہو۔ خوشی کے گیت گائیں۔ تج مان ۔ وقار یا غرور چھوڑ کر ۔ مت ۔ شاید ۔ پریتم بھاوہو۔ پیار چاہے ۔ وقار ۔ دنیاوی محبت ۔وکار۔ برائی۔ دوجا۔ دوئی۔ دوئش ۔ تفریق ۔ سیو ۔ خدمت۔ ایک نرنجنو۔ واحڈ پاک کدا۔ چرن ۔ پاؤں ۔ سرن ۔ پناہ۔ دیال۔ مہربان۔ پریتم ۔ پیارا۔ سگل۔ ساری ۔ درت ۔ گناہ۔ بلکھنڈنو۔ مٹانے والے ۔ داس۔ غلام۔ خدمتگار ۔ اداسی ۔ غمگینی ۔ تشویش ۔ فکر مندی ۔ بہوڑ۔ دوبارہ ۔ بد ۔ طریقے ۔ دھاوا۔ بھٹکاں۔ پینپے ۔ عرض کرتا ہے ۔ کرپا۔ مہربانی ۔ نام۔ سچ و حیقت ۔ منگل ۔ خوشی کے گیت۔
ترجمہ:
ساتھیوں آؤ ساتھیؤ آؤ الہٰی حمدوثناہ اور خوشیوں کے گیت گائیں ۔ تکبر و غرور دور کرکے شاید خدا کے پیارے ہو جائیں وقار چھوڑ ۔ دنیاوی محبت چھوڑ دوئی دوئش چھوڑ واحد خدا پجو پاک اور بیداغ ہے خدمت کریں۔ اسکی پناہ میں پاؤں پڑ کر صرف پیارے مہربان جو تمام گنا ہ مٹانے کی توفیق رکھتا ہے پاؤں پڑا رہ ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اے ساتھیؤ غلاموں کا غلام ہوکر غمگینی و تشویش دور کرکے دوبارہ کسی طورنہ بھٹکتا رہوں کرم و عنایت کیجیئے اے تاکہ خوشی کے گیت گاؤں۔

انّم٘رِتُ پ٘رِء کا نامُ مےَ انّدھُلے ٹوہنیِ ॥
اوہ جوہےَ بہُ پرکار سُنّدرِ موہنیِ ॥
موہنیِ مہا بچِت٘رِ چنّچلِ انِک بھاۄ دِکھاۄۓ ॥
ہوءِ ڈھیِٹھ میِٹھیِ منہِ لاگےَ نامُ لیَنھ ن آۄۓ ॥
گ٘رِہ بنہِ تیِرےَ برت پوُجا باٹ گھاٹےَ جوہنیِ ॥
نانکُ پئِئنّپےَ دئِیا دھارہُ مےَ نامُ انّدھُلے ٹوہنیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
انمرت۔ آب حیات ۔ ایسا پانی جس سے زندگی اخلاقی و روحانی طور پر سنور کر پاک ہو جاتی ہے ۔ پر یہ پیارے (خدا) نام سچ و حقیقت اندھلے ۔ لاعلم ۔ ٹوہنی ۔ ٹوہ۔ راسہ کی سمجھ دینے والی لکڑی ۔ جوہے ۔ تاک میں رہتی ہے ۔ بہو پرکار۔ بہت سے طریقوں سے ۔ سندر موہنی ۔ خوبصورت دلربا۔ مہابچتر۔ بھاری ہوشیار۔ چنچل۔ ہوشیار۔ چالاک۔ انک۔ بیشمار ۔ بھاو ۔ ناز ۔ نخرے ۔ ڈیٹھ ۔ بے شرم ۔ میٹھی ۔ محبت میں۔ نام ۔ سچ و حقیقت۔ گریہہ۔ گھر ۔ بنیہہ۔ جنگل ۔ تیرے ۔ دریاؤں کے کنارے ۔ برت۔ پرہیز گاری ۔ پوجا۔ پرستش ۔ واٹ۔ راستہ۔ گھاٹے ۔ دریا کی پتن ۔ جوہنی ۔ تاک میں رہتی ہے ۔ دیادھار ہو۔ کرم فرمائی کیجیئے ۔
ترجمہ:
پیارے خدا کا نام سچ و حقیقت حقیقتاً آب حیات ہے اور خامکر مریے لئے زندگی کی راہ کا پتا لگانے والی لکڑی ۔ دنیاوی خوب صورت دولت بیشمار طریقوں سے تاک میں رہتی ہے ۔ درلربا ہے بھاری چالاک و ہوشیار ہے بیشمار ناز و نخرے دکھتای ہے ۔ بے حیا اور میٹھی ہوکر دلمیں بستی ہے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کے کیطرف توجہ نہیں دیجا سکتی ۔ خوآہ گھر ہو یا گھریلو زندگی جنگل ہو یا دریا کا کنارہ پرہیز گاری ہو یا پرستش ۔ راستہ ہو یا دریا کا گھاٹ وہ ہر جگہ تکا میں رہتی ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ کرم و عنایت کیجیئے کہ الہٰی نام سچ اور حقیقت میرے لئے صراط مستقیم کا پتہ لگانے والی زندگی کے لئے ٹوہ لگانے والی لکڑی ہے ۔

موہِ اناتھ پ٘رِء ناتھ جِءُ جانہُ تِءُ رکھہُ ॥
چتُرائیِ موہِ ناہِ ریِجھاۄءُ کہِ مُکھہُ ॥
نہ چتُرِ سُگھرِ سُجان بیتیِ موہِ نِرگُنِ گُنُ نہیِ ॥
نہ روُپ دھوُپ ن نیَنھ بنّکے جہ بھاۄےَ تہ رکھُ تُہیِ ॥
جےَ جےَ جئِئنّپہِ سگل جا کءُ کرُنھاپتِ گتِ کِنِ لکھہُ ॥
نانکُ پئِئنّپےَ سیۄ سیۄکُ جِءُ جانہُ تِءُ موہِ رکھہُ ॥੩॥
لفظی معنی:
موہ اناتھ ۔ میرا کوئی مالک نہیں۔ پریہ ناتھ۔ پیارے مالک۔ جیؤ اجانہو۔ جیسے سمجھ ۔ تیؤ راکھو ۔ اس طرح بچاؤ۔ چترائی ۔ چالاکی ۔ دانشمندی ۔ ریبھاویہو۔ خوش کر سکوں۔ کیہہ مکھہو ۔ زبان سے بول کر۔ چتر۔ دانشمند۔ سگھر ۔ خوش اخلاق۔ سبحان۔ با ہوش۔ با سمجھ ۔ بیتی ۔ نیک خیال۔ نرگن ۔ بے اوصاف ۔ نینہ روپ ۔ شکل وصورت ۔ دہوپ ۔ خوشبو۔ نین بنکے ۔ ترچھی آنکھیں ۔ جیہہ بھاوے ۔ جیسے چاہے ۔ تیہہ۔ اس طرح ۔ رکھ تو ہی ۔ اس طرح بچاؤ۔ جے جے جنپیہہ۔ جے جے بولتا ہے ۔ سگل جا کؤ۔ جیسے ۔ کرناپت ۔ کرم و عنایت کا مالک ۔ گت ۔ حالت۔ کن لکھو۔ کون سمجھتا ہے ۔ سیو۔ خدمت۔ سیوک ۔ خدمتگار۔ جیؤ جانہو۔ جیسے سمجھو ۔ تیو رکھہو ۔ ویسے حفاظت کیجیئے ۔
ترجمہ:
اے پیارے آقا جیسے سمجہو مجھ کو اسی طرح بچاؤ ۔ نہ میں انتا دانشمند اور چالا ہوں کہ تجھے زبان سے کچھ کہہ تجھے خوش کر سکوں ۔ نہ میں چالاک دانشمند نہ اتنا سمجھدار نہ مجھ میں کوئی وصف ہے ۔ نہ خوب صورت ہوں نہ خوشبو نہ بیکھی نظریں اے خدا جیسے تیری رضا و رحمت ہے اس طرح بچاؤ۔ اے رحم و کرم کے آقا ساری مخلوقات تیرے فتح کے ڈنکے بجاتے ہیں مگر یہ راز کسی پر افشاں نہیں ہوا کہ تو کیسا ہے کسی کو سمجھ نہیں آئی نانک عرض گذارتا ہے ۔ کہ خدمتگار کو خدمت میں جیسے ہو سکتا ہے اس طرح رکھوا۔(3)

موہِ مچھُلیِ تُم نیِر تُجھ بِنُ کِءُ سرےَ ॥
موہِ چات٘رِک تُم٘ہ٘ہ بوُنّد ت٘رِپتءُ مُکھِ پرےَ ॥
مُکھِ پرےَ ہرےَ پِیاس میریِ جیِء ہیِیا پ٘رانپتے ॥
لاڈلے لاڈ لڈاءِ سبھ مہِ مِلُ ہماریِ ہوءِ گتے ॥
چیِتِ چِتۄءُ مِٹُ انّدھارے جِءُ آس چکۄیِ دِنُ چرےَ ॥
نانکُ پئِئنّپےَ پ٘رِء سنّگِ میلیِ مچھُلیِ نیِرُ ن ۄیِسرےَ ॥੪॥
لفظی معنی:
نیر ۔ پانی ۔ چاترک۔ پیہا۔ بوند۔ پانی کا قطرہ۔ تر پتیؤ ۔ تسکین ملتی ہے ۔ ۔ مکھ پرے ۔ منہ میں پڑنے سے ۔ ہر ے پیاس ۔ پیاس بجھتی ہے ۔ ہییا ۔ ہر دا۔ دل ۔ پران پتے ۔ زندگی کا مالک ۔ گتے ۔ نجات۔ ذہنی آزادی۔ چیت ۔ چتوؤ۔ دلمیں بساؤ۔ میٹ اندھارے ۔ اندھیرا۔ مٹ جائے ۔ آس۔ امید۔ چکوی ۔ دن چرے ۔ جیسے دن کی روشنی کی امید ہے ۔
ترجمہ:
اے خدا تو پانی ہے او رمیں مچھلی ہوں تیرے بغیر کیسے گذارہ ہوئے میں سارنگ یا پییہا ہوں اور تو آسمانی پانی کا قطرہ جس کے منہ میں پڑنے سے سکون اور تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ منہ میں پڑنے سے پیاس بجھتی ہے ۔ اے میرے دل وجان کے مالک اے خدا تو پیار بھرے رنگ تماشے کرتے ہوئے سارے عالم میں بس رہا ہے ۔ اے پیارے خدا مل تاکہ بلند رروحانی حالت پیدا ہو سکے ۔ جیسے چکوی دن چڑھنے کی امید ہوتی ہے ۔ ایسے ہی ایسے ہی میں دلمیں خیال کرتا ہوں کہ جہالت لا علمی روحانیت کی نا واقفی کا اندھیرا کا فور ہو ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اے خدا مجھے اپنا ملاپ عنایت کر کیونکہ جیسے مچھلی پانی میں بھلاتی ایسے میں بھی تجھے بھلا نہیں سکتا۔ (4)

دھنِ دھنّنِ ہمارے بھاگ گھرِ آئِیا پِرُ میرا ॥
سوہے بنّک دُیار سگلا بنُ ہرا ॥
ہر ہرا سُیامیِ سُکھہ گامیِ اند منّگل رسُ گھنھا ॥
نۄل نۄتن ناہُ بالا کۄن رسنا گُن بھنھا ॥
میریِ سیج سوہیِ دیکھِ موہیِ سگل سہسا دُکھُ ہرا ॥
نانکُ پئِئنّپےَ میریِ آس پوُریِ مِلے سُیامیِ اپرنّپرا ॥੫॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
دھن دھن ہمارے بھاگ۔ قابل تعریف ہے قسمت تقدیر ۔ گھرآئیا پر میر ۔ میرا خد ا دلمیں بس گیا۔ سوہے بنک دوآر ۔ دوآر۔ دروازے ۔ خوبصورت ہوئے ۔ بن ۔ جنگل۔ سکھیہہ گامی ۔ آرام و آسائش پہنچانے والا۔ انند۔ منگل۔ خوشیاں و سکون ۔ رسن گھنا۔ ناہیت۔ پر لطف۔ نول ۔ نوجوان۔ نوتن ۔ تندرست ۔ ناہو۔ خاوند۔ مراد خدا۔ بالا۔ نوجوان ۔ کون رسنا گن بھنا ۔ زبان سے ۔ کون کونسے اوصاف بیان کرؤں۔ سیج ۔ ہردا۔ ذہن ۔ دل ۔ دیکھ موہی ۔ دیدار سے اس سے پیار ہوگیا ۔ سہسا ۔ فکر مندری ۔ دکھ ہر۔ عذآب مٹا۔ آس پوری ۔ اُمید بر آئی ۔ اپرنپر ۔ نہایت وسیع حیثیت کے مالک۔
ترجمہ:
خوش قسمت ہوں میں کہ میرے دلمیں خدا بس گیا ہے ۔ میرے دل کے دروازے اور ذہن خوشی سے بھر گیا ہے ۔ اور ذہن و قلب روحانی واخلاقی زندگی والا ہو گیا ہے ۔ خوشباس خدا جو آرام و آسائش پہنچانے والا ہے ۔ روحانیت کا علمبردار نے سکون خوشیاں اور بھاری لطف عنایت کیا ہے ۔ میرا مالک ہر وقت نیا نوجوان بچپن نہیں زبان سے اسکی کون کونسی صفت بیان کرؤ۔ نانک عرض گزارتا ہے کہ میرا ذہن و قلب خوبصورت ہو گیا ہے ساری فکر مندری اور عذاب مٹ گیئے ہیں۔ میرا اس وسیع ہستی سے ملاپ ہو گیا ہے اور ہر قسم کی امیدیں پوری ہوگئیں ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫ چھنّت منّگل
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سلوکُ ॥
سُنّدر ساںتِ دئِیال پ٘ربھ سرب سُکھا نِدھِ پیِءُ ॥
سُکھ ساگر پ٘ربھ بھیٹِئےَ نانک سُکھیِ ہوت اِہُ جیِءُ ॥੧॥
چھنّت ॥
سُکھ ساگر پ٘ربھُ پائیِئےَ جب ہوۄےَ بھاگو رام ॥
ماننِ مانُ ۄجنْائیِئےَ ہرِ چرنھیِ لاگو رام ॥
چھوڈِ سِیانپ چاتُریِ دُرمتِ بُدھِ تِیاگو رام ॥
نانک پءُ سرنھائیِ رام راءِ تھِرُ ہوءِ سُہاگو رام ॥੧॥
لفظی معنی:
سانت۔پر سکون ۔ سرب سکھا ۔ سکھو ۔ آرام و آسائش ۔ ندھ ۔ خزناہ ۔ پیؤ۔ مالک۔ سکھ ساگر۔ آرام و آسائش کا سمندر ۔ بھاگو ۔ قسمت مانن مان ۔ وقار و بے حرمتی ۔ پربھ پھیٹیئے ۔ ملاپ پائیں ۔ جیؤ۔ جان ۔ زندگی (1) چھنت۔ سکھ ساگر۔ آرام و آسائش کا سمندر۔ بھاگو۔ تقدیر۔ قسمت۔ ۔ مانن مان ونجھایئے ۔ با قار انسان وقار چھوڑ۔ سیانپ۔ دانشمندی ۔ چاتری ۔ چالاکی ۔ درمت بدھ ۔ بد عقلی ۔ برے کاموں ولای عقل ۔ تیاگو۔ چھوڑو۔ سرنائی۔ پناہ ۔ رام ائے ۔ شہنشاہ خدا۔ تھر ہوئے سہاگو۔ تکاہ تیرا خاوند مراد خدا مستقل ہو جائے ۔
ترجمہ:
خداوند کریم اے نانک: خوبصورت ہے پرسکون ہے رحمان الرحیم ہے اور آرام و آسائش کا خزانہ ہے اس آرام و آسائش کے سمندر کے ملاپ سے انسان کو خوشی نصیب ہوتی ہے (1)
(چھنت) اس آرام و آسائش کے سمندر سے ملاپ تبھی نصیبت ہوتاجب تقدیر میں و۔ غرور اور وقار مٹا کر اسکے پاؤں پڑؤ ۔ دانشمند ی اور چالاکیاں چھوڑو اور بد عقلی اور برئے خیالات مٹاؤ ۔ اے نانک۔ خدا کی پناہ لو تاکہ تجھ پر شہنشاہ کا سایہ سر پر قائم رہے ۔
سو پ٘ربھُ تجِ کت لاگیِئےَ جِسُ بِنُ مرِ جائیِئےَ رام ॥
لاج ن آۄےَ اگِیان متیِ دُرجن بِرمائیِئےَ رام ॥
پتِت پاۄن پ٘ربھُ تِیاگِ کرے کہُ کت ٹھہرائیِئےَ رام ॥
نانک بھگتِ بھاءُ کرِ دئِیال کیِ جیِۄن پدُ پائیِئےَ رام ॥੨॥
لفظی معنی:
تج ۔ چھوڑ کر ۔ کت لاگیئے ۔ کس سے تعلق پیدا کریں۔ جس بن ۔ جسکے بغیر۔ مر جایئے ۔ روحانی موت ہے ۔ لاج ۔ حیا ۔ شرم ۔ اگیان متی ۔ بے سمجھ جیسے روحانیت کا علم نہیں۔ درجن ۔ بد اخلاق ۔ بری سمجھ والا۔ برمایئے ۔ وہم و گمان میں ڈالے جاتےہیں۔ پتت پاون ۔ بد اخلاق ۔ بد چلن ۔ ناپاک کو پاک و مقدس ننانے والا خدا۔ کہہ کت ٹھہرایئے ۔ بتاؤ کہاں یقین اور ایمانلاؤ گے ۔ بھگت بھاؤ۔ پریم پیار کر کے اس رحمان سے ۔ جیون پد پاییئے ۔ روحانیت کا رتبہ ملتا ہے ۔
ترجمہ:
اس خدا کو چھوڑ کر اور کہاں جاؤ گے کس سے تعلق یا رشتہ بناؤ گے ۔ جس کے بغیر روانی موت ہو جاتی ہے ۔ اس بے علم کو حیا نہیں جو بد اخلاق برے آدمیوں سے تعلقات پیدا کرتا ہے ۔ گناہگاروں بد قماش لوگوں کو پاک و مقدس بنانے والے خدا کو بھلا کر چھوڑ کر کس سے تعلق اور رشتہ پیدا کرؤ گے ۔ اے نانک۔ اس رحمان الرحیم سے پریم پیار اور عشق سے زندگی کا صراط مسقتیم ملتا ہے ۔ (6)

س٘ریِ گوپالُ ن اُچرہِ بلِ گئیِۓ دُہچارنھِ رسنا رام ॥
پ٘ربھُ بھگتِ ۄچھلُ نہ سیۄہیِ کائِیا کاک گ٘رسنا رام ॥
بھ٘رمِ موہیِ دوُکھ ن جانھہیِ کوٹِ جونیِ بسنا رام ॥
نانک بِنُ ہرِ اۄرُ جِ چاہنا بِسٹا ک٘رِم بھسما رام ॥੩॥
لفظی معنی:
سری گوپال۔ خدا۔ اچریہہ۔ گہے ۔ بل گییئے ۔ جل انیئے ۔ دہچارن ۔ بداخلاق۔ رسنا۔ زبان۔ پربھ بھگت وچھل۔ بھگتی سے پیار کرنیوالا خدا۔ نہ سیوہی ۔ خدمت نہیں کرتا۔ کائیا۔ جسم۔ کاک ۔ کاگ ۔ کوئے ۔ گرسنا۔ کھائیں گے ۔ بھرم موہی ۔ وہم وگماں کی محبت میں ۔ دوکھ نہ جانہی ۔ عذآب کی سمجھ نہیں آتی ۔ کوٹ جونی ۔ کروڑوں جنموں ۔ بسنا ۔ بن ہر اورجے چاہنا۔ خد اکے بغیر دوسرے کسی سے محبت چاہتا۔ محبت۔ بسٹا کرم ۔ گندگی کے کیڑے کی طرح۔ بھسما ۔ راکھ ۔
ترجمہ:
اے بد چلن بد اخلاق بد گوئی کرنیوالے حسد کی آگ میں جل انسان خدا کو یاد نہیں کرتا جو پروردرگار علام ہے ۔ جو بھگتی سے پیار کرنیوالا ہےتیرے جسم کو کوے نوچ نوچ کر کھائیں گے اور برائیاں نوچ رہیں ہیں ۔ وہم و گمان کی محبت گرفت میں کروڑوں زندگیوں میں بسنے والوں کے عذاب کو نہیں سمجھتا ہے ۔ اے نانک۔ خدا کے علاوہ جو دوسروں سے پیار کرتا ہے گندگی کے کپڑے کی مانند اپنی زندگی کو برائیوں میں ڈال کر راکھ بنا لیتا ہے ۔

لاءِ بِرہُ بھگۄنّت سنّگے ہوءِ مِلُ بیَراگنِ رام ॥
چنّدن چیِر سُگنّدھ رسا ہئُمےَ بِکھُ تِیاگنِ رام ॥
ایِت اوُت نہ ڈولیِئےَ ہرِ سیۄا جاگنِ رام ॥
نانک جِنِ پ٘ربھُ پائِیا آپنھا سا اٹل سُہاگنِ رام ॥੪॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
برہو۔ پیار۔ بھگونت ۔ بھگوان ۔ سنگے ۔ ساتھ ۔ بیراگن ۔ طارق۔ تیاگی ۔ چندن ۔ خوبودار لکڑی۔ چیر ۔ کپڑے ۔ سوگند ۔ خوشبو ئیں ۔ رسا۔ پر لطف کھانے ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ وکھ ۔ زیر تیاگن ۔ چھوڑ دینا۔ ایت اوت ۔ یہاں وہاں ۔ ہر دو عالموں میں ۔ نیہہ ڈولیئے ۔ ڈگمگائے ہیں ۔ ہر سیوا۔ الہٰی خدمت ۔ جاگن ۔ بیداری ۔ اٹل سوہاگن ۔ صدیوی مستقل طور پر خدا پرست ہوا۔
ترجمہ:
خدا سے اے انسان محبت پیار کر اور طارق ہو ملاپ کر ۔ چندن خوبصورت کپڑے خوش ضائقہ نعمتیں اور خوشبوئیں خودی جو روحانیت کے لئے زہر قاتل ہیں۔ چھوڑو ۔ الہٰی خدمت سے بیداری پیدا ہوتی اور ہر دو عالموں میں ڈگمگانا نہیں چاہتے ۔ اے نانک جسکا ملاپ خدا سے ہوگیا وہ ہمیشہ کے لئے خدا پرست ہو گیا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ہرِ کھوجہُ ۄڈبھاگیِہو مِلِ سادھوُ سنّگے رام ॥
گُن گوۄِد سدا گائیِئہِ پارب٘رہم کےَ رنّگے رام ॥
سو پ٘ربھُ سد ہیِ سیۄیِئےَ پائیِئہِ پھل منّگے رام ॥
نانک پ٘ربھ سرناگتیِ جپِ انت ترنّگے رام ॥੧॥
لفظی معین:
وڈبھاگیہو ۔ بلند قسمت والو ۔ سادہو سنگے ۔ صحبت پاکدامن ۔ گن گوبند ۔ الہٰی صفت صلاح۔ پار برہم۔ کامیابی عنایت کرنیوالے کے رنگے کے پیار میں۔ سیویئے ۔ کدمت کریں۔ پھل ۔نتیجے منگے ۔ خوآہش کیمطابق۔ پرھ سرناگتی ۔ الہٰی پناہ ۔ جپ ۔ یاد رکر۔ انت ترنگے ۔ بیشمار لہروں میں۔
ترجمہ:
صحبت و قربت پاکدامنوں پاکر جستجو کرؤ خدا کی ۔ الہٰی حمدوثناہ کرو پروردگار کے پریم سے ۔ اس خدا کی ہمیشہ کرؤ خدمت جو خواہش کے مطابق پھل دیتا ہے ۔ اے نانک الہٰی پناہ اختیار کر اسے اور بیشمار لہروں کے مالک خدا کو یاد کر ۔

اِکُ تِلُ پ٘ربھوُ ن ۄیِسرےَ جِنِ سبھُ کِچھُ دیِنا رام ॥
ۄڈبھاگیِ میلاۄڑا گُرمُکھِ پِرُ چیِن٘ہ٘ہا رام ॥
باہ پکڑِ تم تے کاڈھِیا کرِ اپُنا لیِنا رام ॥
نامُ جپت نانک جیِۄےَ سیِتلُ منُ سیِنا رام ॥੨॥
لفظی معنی:
اک تل ۔ ذراسی دیر کے لئے ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ میلاوڑ۔ ملاپ ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ پرچینا۔ خدا کی پہچان کرتا ہے ۔ تم ۔ طمع۔ لالچ۔ اپنالینا۔ اپنالیا۔ نام جپت۔ الہٰی نام کی ریاض سے جیوے ۔ زندگی پاتا ہے ۔ سیتل من سینا۔ دل وجان کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ۔
ترجمہ:
ایک لمحہ بھر کے لئے بھی نہ بھلاؤ اس خدا کو جس نے عنایت کی ہیں بیشمار نعمتیں اور سب کچھ دیتا ہے ۔ مگر بلند قسمت ملتا ہے ملاپ اسکا مرید مرشد ہوکر پہچان آتی ہے ۔ پکڑ بازو لالچ سے نکالا باہر اور اپنا بنالیا ۔ اے نانک۔ اسکے نام سچ و حقیقت کی یاد وریاض سے روحانی زندگی ملتی ہے اور دل و جان ٹھنڈک محسوس کرتا ہے ۔

کِیا گُنھ تیرے کہِ سکءُ پ٘ربھ انّترجامیِ رام ॥
سِمرِ سِمرِ نارائِنھےَ بھۓ پارگرامیِ رام ॥
گُن گاۄت گوۄِنّد کے سبھ اِچھ پُجامیِ رام ॥
نانک اُدھرے جپِ ہرے سبھہوُ کا سُیامیِ رام ॥੩॥
لفظی معنی:
گن ۔ وصف۔ کیہہ سکؤ ۔ بتا سکتا ہوں۔ انتر جامی ۔ اندرونی راز جاننے والا۔ نارائینے ۔ خدا۔ پار گرامی ۔کامیابی عنایت کرنیوالا۔ گن گاوت گوبند ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ اچھ ۔ خواہش۔ چاہ۔ پجامی ۔ پوری ہوتی ہے ۔ ادھرے ۔ بچتا ہے ۔ جپ ہرے ۔ الہٰی یاد سے ۔ سبھہو۔ سبھ کا۔ سوآمی ۔ مالک ۔
ترجمہ:
اے خدا تو سب کے ولی راز جاننے والا ہے میں تیرے کون کونسے اوصاف بیان کرنے کی توفیق رکھتا ہوں ۔ خدا کو یاد کرنیسے انسان نجات حاصل کرنے سے قابل ہو جاتا ہے ۔ اور زندگی پر عبور حاصل کر لیتا ہے ۔ الہٰی حمدوثناہ کرنے سے ساری خواہشات پوری ہو تی ہیں۔ اے نانک۔ ساری قائنات کے مالک کی یادوریاض سےا نسان برائیوں سے بچتا ہے ۔

رس بھِنّنِئڑے اپُنے رام سنّگے سے لوئِنھ نیِکے رام ॥
پ٘ربھ پیکھت اِچھا پُنّنیِیا مِلِ ساجن جیِ کے رام ॥
انّم٘رِت رسُ ہرِ پائِیا بِکھِیا رس پھیِکے رام ॥
نانک جلُ جلہِ سمائِیا جوتیِ جوتِ میِکے رام ॥੪॥੨॥੫॥੯॥
لفظی معنی:
رس بھنڑیئے ۔ الہٰی لطف میں بھیگے ہوئے ۔ سنگے ۔ ساتھ ۔ لوئن نیکے ۔ خوبصورت آنکھوں والے ۔ پیکھت ۔ دیکھتے ہی۔ اچھا خواہش ۔ پنیا۔ پوری ہویں۔ ساجن۔ دوست ۔ انمرت رس۔ آبحیات کا لطف ۔ بکھیارس پھیکے ۔ دنیاوی دولت کے لطف ہیں بد مزہ ۔ جل لیہہ سمائیا۔ پانی میں پانی ملا۔ جوتی جوت میکے ۔ نور میں نور یکسو ہوا۔
ترجمہ:
وہی آنکھں ہیں اچھی جو الہٰی نام کے لطف سے ہیں بھیگی پرنم ہوئی۔ دوست خدا کے دیدار سے ہوتی ہیں خواہشیں پوری ۔ جس نے لطف اُٹھالیا آب حیات کا اسکے لئے دوسرے لطف بد مزہ ہوجاتے ہیں۔ اےنانک۔ نور انسانی اس طرح یکسو و مدغم ہو جات اہے نور الہٰی میں جب پانی سے پانی ملجائے تو پہلی پہچان مٹ جاتی ہے ۔

بِلاۄلُ کیِ ۄار مہلا ੪
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سلوک مਃ੪॥
ہرِ اُتمُ ہرِ پ٘ربھُ گاۄِیا کرِ نادُ بِلاۄلُ راگُ ॥
اُپدیسُ گُروُ سُنھِ منّنِیا دھُرِ مستکِ پوُرا بھاگُ ॥
سبھ دِنسُ ریَنھِ گُنھ اُچرےَ ہرِ ہرِ ہرِ اُرِ لِۄ لاگُ ॥
سبھُ تنُ منُ ہرِیا ہوئِیا منُ کھِڑِیا ہرِیا باگُ ॥
اگِیانُ انّدھیرا مِٹِ گئِیا گُر چاننھُ گِیانُ چراگُ ॥
جنُ نانکُ جیِۄےَ دیکھِ ہرِ اِک نِمکھ گھڑیِ مُکھِ لاگُ ॥੧॥
لفظی معنی:
اُتم ۔ بلند حیثیت ۔ گاویا۔ صفت صلاح کی ۔ ناو ۔ آواز ۔ کرنا و بلاول راگ ۔ کلام مرشد سمجھ کر۔ اپدیش واعظ ۔ نصیحت۔ سن منیا۔ سنکر اس پر ایمان لائیا۔ تسلیم کیا۔ دھر مستک ۔ خدا کی طرف سے اعمالنامے کی مطابق پیشانی پر تحریر ۔ بھاگ ۔ قسمت ۔ تقدیر ۔ گن اچرے ۔ صفت صلاح ۔ ہر ار بو۔ دلی محبت سے خدا کی ۔ تن من۔ دل وجان ۔ من کھڑیا ہر یا باغ دل سبز باغ کی مانند کھل گیا۔ اگیان اندھیرا ۔ لا علمی کا اندھیرا۔ چانچ ۔ روشنی ۔ گیان چراغ۔ علم کا چراغ ۔ ایک نمکھ۔ ذراسی دیر کے لئے ۔ مکھ لاگ۔ دیدار ہوئے ۔
ترجمہ:
جو انسان کلام مرشد واعظ مرشد سنکر اس پر ایمان لاتا ہے وہی لاتا ہے جس کے پہلے کئے ہوئے اعمال اسکی پیشانی تقدیر یا قسمت میں ظہور ہو جاتے ہیں وہی مکمل خوشی والا بلاو راگ میں گا کر الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ روز و ش الہٰی عشق و محب تمیں صفت صلاح کرتا ہے اسکا دل و جان خوشباش اور کھلا رہتا ہے۔ جہالت اور لا لعمی ختم ہو جاتی ہے مرشد کی دی ہوئی علم کی روشنی جو ایک روشن چراغ ہے ۔ خادم نانک کو دیار سے زندگی میسر ہوتی ہے ۔ ایک گھڑی کے ملاپ سے ۔

مਃ੩॥
بِلاۄلُ تب ہیِ کیِجیِئےَ جب مُکھِ ہوۄےَ نامُ ॥
راگ ناد سبدِ سوہنھے جا لاگےَ سہجِ دھِیانُ ॥
راگ ناد چھوڈِ ہرِ سیۄیِئےَ تا درگہ پائیِئےَ مانُ ॥
نانک گُرمُکھِ ب٘رہمُ بیِچاریِئےَ چوُکےَ منِ ابھِمانُ ॥੨॥
پئُڑیِ ॥
توُ ہرِ پ٘ربھُ آپِ اگنّمُ ہےَ سبھِ تُدھُ اُپائِیا ॥
توُ آپے آپِ ۄرتدا سبھُ جگتُ سبائِیا ॥
تُدھُ آپے تاڑیِ لائیِئےَ آپے گُنھ گائِیا ॥
ہرِ دھِیاۄہُ بھگتہُ دِنسُ راتِ انّتِ لۓ چھڈائِیا ॥
جِنِ سیۄِیا تِنِ سُکھُ پائِیا ہرِ نامِ سمائِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
اگم۔ انسانی رسائی سے باہر۔ اپائیا پیدا کیتا ہے ۔ ورتد ۔ موجود ہے ۔ سبھ جگت سبائیا۔ سارے عالم میں ۔ تاڑی ۔ توجہ ۔ دھیان ۔ دھیان مرکوز کرنا۔ چھڈائیا۔ نجات دلاناے والا۔ ہر نام سمائیا۔ الہٰی نام سچ وحکومت میں محوو مجذوب۔
ترجمہ:
اے خدا انسانی رسائی بلند و بالا ترین ہے ساری قائنات و مخلوقات تیری ہی پیدا کی وہئی ہے سارے عالم میں تیرا ہی ظہور ہے تو خود ہی دھیان مرکوز کرتا ہے اور خود ہی صفت صلاح ۔ اے عابدان خدا روز و شب خدا میں دھیان لگاؤ آخرت نجات دلائے گا۔ جس نے کی ہے خدمت خدا کی اس نے سکھ پائیا ہے اور الہٰی نام سچ و حقیقت میں محو ومجذوب ہو رہتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
دوُجےَ بھاءِ بِلاۄلُ ن ہوۄئیِ منمُکھِ تھاءِ ن پاءِ ॥
پاکھنّڈِ بھگتِ ن ہوۄئیِ پارب٘رہمُ ن پائِیا جاءِ ॥
منہٹھِ کرم کماۄنھے تھاءِ ن کوئیِ پاءِ ॥
نانک گُرمُکھِ آپُ بیِچاریِئےَ ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥
آپے آپِ پارب٘رہمُ ہےَ پارب٘رہمُ ۄسِیا منِ آءِ ॥
جنّمنھُ مرنھا کٹِیا جوتیِ جوتِ مِلاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
دوجے بھائے ۔ خدا کے علاوہ ۔ دوسرے سے محبت ۔ بلاول ۔ روھانی سکون ۔ تھائے ۔ ٹھکانہ ۔ پاکھنڈ۔ وکھاوا۔ بھگت ۔ الہیی محبت و خدمت پاربرہم۔ کامیابی دلانے والا۔ مراد خدا ۔ من ہٹھ۔ دلی ضد سے ۔ کرم گماونے ۔اعمال۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ آپ وچاریئے ۔ اپنی تحقیق مراد کو میں کیسا ہوں نیک و بد کی سمجھ ۔ آپ گوائے ۔ خودی مٹا کر ۔ آپے آپ پار برہم ہے ۔ خود ہی ہے خدا۔ پار برہم و سیامن آئے ۔خدا جب دلمیں بس گی۔ جمن مرناکٹ ۔ موت و پیدائش۔ جوتی جوت۔ ملائے ۔ نور سے نور جب مل گیا ۔
ترجمہ:
دنیاوی دولت کی محب تمیں محصور ہونے سے روحانی وزہنی سکون نہیں ملتا اور خودی پسند ٹھکانہ پا نہیں سکتا دکھاوے سے الہٰی خدمت و عبادت ہو سکتی نہیں الہٰی ملاپ ہو سکتا نہیں۔ دل کی ضد کئے ہونے اعمال سے ٹھکانہ پائیا نہیں جاتا اے نانک ۔ مرید مرشد ہوکر تحقیق کرؤ اپنے کردار کی اپنے دل سے خودی مٹا کر خدا خود ہی پار لگانے والا کامیابی عطا کرنیوالا کود ہی دلمیں بس جات اہے ۔ موت و پیدائش و تناسخ مٹ جات اہے جب نور میں نور ملجاتا ہے (1)

مਃ੩॥
بِلاۄلُ کرِہُ تُم٘ہ٘ہ پِیارِہو ایکسُ سِءُ لِۄ لاءِ ॥
جنم مرنھ دُکھُ کٹیِئےَ سچے رہےَ سماءِ ॥
سدا بِلاۄلُ اننّدُ ہےَ جے چلہِ ستِگُر بھاءِ ॥
ستسنّگتیِ بہِ بھاءُ کرِ سدا ہرِ کے گُنھ گاءِ ॥
نانک سے جن سوہنھے جِ گُرمُکھِ میلِ مِلاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
بلاول۔ روحانی سکون ۔ ایکس ۔ وحدت۔ لو۔ مھبت۔ جنم مرن ۔ دکھ ۔ موت و پیدائش مراد تناسخ کا عذاب ۔ سچے صدیوی سچ مراد ۔ خدا سمائے ۔ محو۔ ستگر بھائے ۔ سچے مرشد کی رضا کے مطابق۔ ست ۔ سنگتی ۔ سچے ساتھیوں کی صحبت میں ۔ بھاؤ۔ پریم کرکے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔
ترجمہ:
واحد خدا سے محبت پیدا کرکےس کون پاؤ خوشیاں مناؤ ۔ سچے صدیوی خدا میں محو ومجذوب ہونے سے تناسخ کا عذآب مٹ جاتا ہے اگر رضآئے مرشد میں رہے تو ہمیشہ روحانی سکون اور خوشیاں ملتی ہیں۔ سچے ساتھیوں کی صحبت و قربت میں پیار پیدا ( کرنے سے ) کرکے الہٰی صفت صلاح کرؤ۔ اے نانک۔ جو شخس مرید مرشد ہوکر الہٰی ملاپ پا لتیے ہیں ۔ انکی زندگی روحانی و خوش اخلاق ہو جاتی ہے (2)

پئُڑیِ ॥
سبھنا جیِیا ۄِچِ ہرِ آپِ سو بھگتا کا مِتُ ہرِ ॥
سبھُ کوئیِ ہرِ کےَ ۄسِ بھگتا کےَ اننّدُ گھرِ ॥
ہرِ بھگتا کا میلیِ سربت سءُ نِسُل جن ٹنّگ دھرِ ॥
ہرِ سبھنا کا ہےَ کھسمُ سو بھگت جن چِتِ کرِ ॥
تُدھُ اپڑِ کوءِ ن سکےَ سبھ جھکھِ جھکھِ پۄےَ جھڑِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سبھنا جیاوچ۔ ساری مخلوقات میں۔ سوبھگتا مت۔ وہ بھگتوں کا دوست ہے ۔ وس۔ تابع۔ گھر ۔ دلمیں۔ سر بت۔ ہر جگہ ۔ نسل۔ بیفکر۔ خصم۔ مالک ۔ چت کر۔ دلمیں بسا۔ اپڑ ۔ برابر ۔ جھکھ جھکھ ۔ کھپ کھپ۔ جھڑ۔ ماند پڑجاتے ہیں۔
ترجمہ:
وہی ہے دوست بھگتوں کا جو سب میں بستا ہے ۔ بھگتوں کے دلمیں ہمیشہ سکون ہے کیونکہ سارے خدا کے زیر ہیں خدا ہر جگہ دوست ہے عاشقان خدا کا اس لئے سوتےہیں بیفکر ہوکر۔ سب کا مالک ہے خدا سے عاشقان الہٰی دلمیں بساتے ہیں۔ نہیں ثانی کوئی تیرا سبھ ماند پڑ جاتے ہیں کھپ۔

سلوک مਃ੩॥
ب٘رہمُ بِنّدہِ تے ب٘راہمنھا جے چلہِ ستِگُر بھاءِ ॥
جِن کےَ ہِردےَ ہرِ ۄسےَ ہئُمےَ روگُ گۄاءِ ॥
گُنھ رۄہِ گُنھ سنّگ٘رہہِ جوتیِ جوتِ مِلاءِ ॥
اِسُ جُگ مہِ ۄِرلے ب٘راہمنھ ب٘رہمُ بِنّدہِ چِتُ لاءِ ॥
نانک جِن٘ہ٘ہ کءُ ندرِ کرے ہرِ سچا سے نامِ رہے لِۄ لاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
برہم۔ خدا۔ بندیہہ۔ پہچان۔ اے براہمنا۔ وہی ہے ۔ براہمن ۔ ستگر بھائے ۔ رضائے مرشد میں رہتا ہے ۔ ہر وے ۔ دلمیں ۔ ہونمے روگ۔ خودی کی بیماری ۔ گن رویہہ۔ وصف یاد رکھے ۔ گن سنگر یہہ۔ اوصاف جمع کرے ۔ جوتی جوت ملائے ۔ الہٰی نور سے انسانی نور محو ومجذو ب اور یکسوئی پیدا کرے ۔ ورے ۔ شاذو نادر ۔ برہم بندیہہ حت لائے ۔ خدا کی پہچان دل لگا کر کرے ۔ ندر۔ نگاہ شفقت ۔ ہرنام رہے تو لائے ۔ وہ الہٰی نام سچ و حقیقت سے محبت کرتے ہیں۔
ترجمہ:
جنہیں ہے پہچان خدا کی وہی براہمن ہوتے ہیں زندگی بسر کرتے ہیں سچے مرشد کی رضآ میں۔ جنکے دلمیں بستا ہے خڈا اور خؤد مٹاتے ہیں ۔ الہٰی نور سے نور ملا کر یکسو ہوکر اوصاف خدا کو یاد کرتے اور اوصاف اکھٹے کرتے ہیں۔ اس زمانے کے اندر ایسے ہی کوئی برہم ہے جو دل و جان خدا کی پہچان کرتے ہیں۔ اے نانک۔ چن پر ہے نگاہ شفقت ہے خدا کی وہ الہٰی سچ و حقیقت سے محبت کرتے ہیں (1)

مਃ੩॥
ستِگُر کیِ سیۄ ن کیِتیِیا سبدِ ن لگو بھاءُ ॥
ہئُمےَ روگُ کماۄنھا اتِ دیِرگھُ بہُ سُیاءُ ॥
منہٹھِ کرم کماۄنھے پھِرِ پھِرِ جونیِ پاءِ ॥
گُرمُکھِ جنمُ سپھلُ ہےَ جِس نو آپے لۓ مِلاءِ ॥
نانک ندریِ ندرِ کرے تا نام دھنُ پلےَ پاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سیو۔ خدمت۔ بھاو ۔ پیار۔ سبد۔ کلام۔ ہونمے روگ کماونا۔ خود پسندی کے اعمال یا کار کرنی ۔ ات دیرگھ ۔ نہایت لمبا۔ بہو سوآؤ ۔ زیادہ مزے ۔ من ہٹھ ۔ دلی ضد کرم کماوے ۔ کام کرنے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ جنم سپھل۔ کامیاب ندری ندر کرے ۔ نگاہ شفقت رکھنے والا خدا نظر عنایت کرتا ہے ۔ نام دھن پلے پائے ۔ تو اسے الہٰی نام سچ و حقیقت کی دولت بخشش کرتا ہے ۔
ترجمہ:
جس نے نہ مرشد کی خدمت کی نہ کلام سے محبت۔ بھاری لذتوں کی طرف رجوع کرانیوالے خودی کی بیماری میں مضمر رہے ۔ دلی ضد سے اعمال کرنے سے انسان تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔ مرید مرشد کی زندگی کامیاب ہو جاتی ہے ۔ جسے خدا اپنا وصل آپ دیتا ہے ۔ اے نانک۔ نظر عنایت کا مالک اپنی نظر عنایت کرتا ہے ۔ تو اسے الہٰی نام سچ وحقیقت کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
سبھ ۄڈِیائیِیا ہرِ نام ۄِچِ ہرِ گُرمُکھِ دھِیائیِئےَ ॥
جِ ۄستُ منّگیِئےَ سائیِ پائیِئےَ جے نامِ چِتُ لائیِئےَ ॥
گُہج گل جیِء کیِ کیِچےَ ستِگُروُ پاسِ تا سرب سُکھُ پائیِئےَ ॥
گُرُ پوُرا ہرِ اُپدیسُ دےءِ سبھ بھُکھ لہِ جائیِئےَ ॥
جِسُ پوُربِ ہوۄےَ لِکھِیا سو ہرِ گُنھ گائیِئےَ ॥੩॥
لفظی معنی:
وڈیایائیاں ۔ عطمتیں ۔ ہر نام وچ ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت میں ہیں۔ گورمکھ دھیایئے ۔ مرید مرشد ہوکر دھیان لگانے میں۔ دست۔ شے ۔ ایشا۔ نام چت لاییئے ۔ اگر نام میں محبت کریں۔ گیج ۔ پوشیدہ ۔ کیپے ۔ کریں۔ ستگر پاس۔ سچے مرشد کے پاس۔ گر پورا ہر اپدیش وئے ۔ اگر کامل مرشد واعظ و نصیحت کرے ۔ بھکھ لیہہ جائے ۔ تو ساری تمانئیں مٹ جاتی ہیں۔ پورب پہلے سے ۔
ترجمہ:
ہیں ساری عظمتیں الہٰی نام سچ و حقیقت میں دھیان لگاؤ اسمیں مرید مرشد ہوکر ۔ اگر دلمیں الہٰی نام سچ وحقیقت ہو بسا ہوا دلی مرایدں ملتی ہیں۔ جب راز پوشیدہ دل کا رکھدے مرشد کے آگے تو سارے سکھ ملتے ہیں ۔ کامل مرشد جب نصیحت کرتا ہے ساری تمنائیں مٹ جاتی ہیں۔ جس کے اعمالنامے میں پہلے سے ہی تحریر ہوتا ہے ۔ وہ تعریف خدا کی کرتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
ستِگُر تے کھالیِ کو نہیِ میرےَ پ٘ربھِ میلِ مِلاۓ ॥
ستِگُر کا درسنُ سپھلُ ہےَ جیہا کو اِچھے تیہا پھلُ پاۓ ॥
گُر کا سبدُ انّم٘رِتُ ہےَ سبھ ت٘رِسنا بھُکھ گۄاۓ ॥
ہرِ رسُ پیِ سنّتوکھُ ہویا سچُ ۄسِیا منِ آۓ ॥
سچُ دھِیاءِ امرا پدُ پائِیا انہد سبد ۄجاۓ ॥
سچو دہ دِسِ پسرِیا گُر کےَ سہجِ سُبھاۓ ॥
نانک جِن انّدرِ سچُ ہےَ سے جن چھپہِ ن کِسےَ دے چھپاۓ ॥੧॥
لفظی معنی و ترجمہ:
جسکا ملاپ کراتا ہے خود سچے مرشد سے مایوسی نا امیدی اسے ہوتی نہیں۔ برآور ہے دیدار مرشد جیسی ہے کسی کی خواہش مرادیں پات اہے ۔ آب حیات ہے کلام مرشد یہ ساری بھوک پیاس مٹاتا ہے ۔ الہٰی رس پینے سے صابر ہو جاتا ہے ۔ دلمیں حقیقت بس جاتی ہے ۔ سچ و حقیقت میں دھیان لگانے حیات جاویداں پائی جاتی ہے اور سنگیت روحانی ہوتے ہیں سچ ہی ہے ہر طرح پھیلاؤ ہوا مرشد کے پرسکون روحانی عاوت سے دیدار ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ جنکے دلمیں ہے سچ وحقیقت چھپائیا ہے چھپ نہیں سکتا۔

مਃ੩॥
گُر سیۄا تے ہرِ پائیِئےَ جا کءُ ندرِ کرےءِ ॥
مانس تے دیۄتے بھۓ سچیِ بھگتِ جِسُ دےءِ ॥
ہئُمےَ مارِ مِلائِئنُ گُر کےَ سبدِ سُچےءِ ॥
نانک سہجے مِلِ رہے نامُ ۄڈِیائیِ دےءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
گرسیوا۔ خڈمت رمشد۔ جاکو۔ جس پر۔ ندر ۔ نگاہ شفقت۔ مانس ۔ انسان۔ دیوتے ۔ فرشتے ۔ بھیئے ۔ ہوئے ۔ ساچی بھگت ۔ سچا ۔پیار۔ سچاعشق۔ ہونمے ۔ خودی۔ سبد سچے ۔ سچے کلام سے ۔ سہجے ۔ قدرتی طور پر ۔ نام۔ سچ و حقیقت سے ۔ وڈیائی دے ۔ عظمت بزرگی ملتی ہے ۔
ترجمہ:
کدمت مرشد سے وصل الہٰی ہوتا ہے جس پر ہو نظر عنایت جیسے بخشتا ہے عشق سچا انسان فرشتہ و جاتا ہے وہ ۔ خودی مٹا کر میں ملائے مرشد کے سچے کلام سے ۔ اے نانک۔ الہٰی نام سچ و حقیقت سے عطمت اور بزرگی پات اہے جسے قدرتی ملاپ ہو جات اہے (2)

پئُڑیِ ॥
گُر ستِگُر ۄِچِ ناۄےَ کیِ ۄڈیِ ۄڈِیائیِ ہرِ کرتےَ آپِ ۄدھائیِ ॥
سیۄک سِکھ سبھِ ۄیکھِ ۄیکھِ جیِۄن٘ہ٘ہِ اون٘ہ٘ہا انّدرِ ہِردےَ بھائیِ ॥
نِنّدک دُسٹ ۄڈِیائیِ ۄیکھِ ن سکنِ اون٘ہ٘ہا پرائِیا بھلا ن سُکھائیِ ॥
کِیا ہوۄےَ کِس ہیِ کیِ جھکھ ماریِ جا سچے سِءُ بنھِ آئیِ ॥
جِ گل کرتے بھاۄےَ سا نِت نِت چڑےَ سۄائیِ سبھ جھکھِ جھکھِ مرےَ لوکائیِ ॥੪॥
لفظی معنی:
بھائی ۔ اچھی لگی ۔ بھلانہ سکھائی ۔ اچھا نہیں لگتا نیک کام ۔ جھکھ ۔ برائی کرنی ۔ جا سچے سیئوبن آئی۔ جب سچے خدا سے ہو محبت۔ کر تے بھاوے ۔ خدا کو ہے پیاری ۔ چڑھے سوائی۔ زیادہ ہوتی جاتی ہے ۔ جھکھ جھکھ ۔ بکواس۔ فضول باتیں۔
ترجمہ:
مرشد غرض یہ کہ سچے مرشد کی عظمت وحشمت نام سچ و حقیقت سےجو خدا نے خو داسے عنایت کی ہے اور اضافہ کرتا ہے ۔ خدمتگار اور مرید اس اوصاف کو دیکھد یکھ کر روحانی زندگی پاتے ہیں اور ان دل سے پیار لگتا ہے ۔ بد قماش اور بدگوئی کریوالے عطمت و حشمت برداشت نہیں کرتے انہیں کسی دوسرے کی نیکنامی اچھی نہیں لگتی جب سچے صدیوی سچے سے ہو محبت تو کیسی کے بکواس اور فضول باتیں بنانے سے کیا نقصان اور بگڑتا ہے کیا ۔ جو رضا میں ہے کارساز کرتار کی ہر روز وہ بڑھتی جاتی ہے ۔ فضول باتیں ب نانے والے روحانی موت مر جاتے ہیں۔ (4)

سلوک مਃ੩॥
دھ٘رِگُ ایہ آسا دوُجے بھاۄ کیِ جو موہِ مائِیا چِتُ لاۓ ॥
ہرِ سُکھُ پل٘ہ٘ہرِ تِیاگِیا نامُ ۄِسارِ دُکھُ پاۓ ॥
منمُکھ اگِیانیِ انّدھُلے جنمِ مرہِ پھِرِ آۄےَ جاۓ ॥
کارج سِدھِ ن ہوۄنیِ انّتِ گئِیا پچھُتاۓ ॥
جِسُ کرمُ ہوۄےَ تِسُ ستِگُرُ مِلےَ سو ہرِ ہرِ نامُ دھِیاۓ ॥
نامِ رتے جن سدا سُکھُ پائِن٘ہ٘ہِ جن نانک تِن بلِ جاۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
دھرگ ۔ لعنت ۔ آسا۔ امید ۔ دوجے بھاو۔ خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت۔ موہ مائیا جت لائے ۔ جو دنیاوی دولت سے محبت کرتے ہیں۔ پلر۔ پرائی۔ بیکار گھاس پھوس۔ گیاگیا۔ چھوڑا۔ نام وسار سچ و حقیقت بھال کر ۔ دکھ پائے ۔ عذاب پاتے ہیں۔ منمکھ اگیانی اندھلے ۔ مرید من۔ بے علم ۔ دیوانے ۔ کارج ۔ مقصد۔ کام ۔ سدھ ۔ درست۔ انت۔ اخر۔ کرم ۔ بخشش۔ ستگرو ۔ سچا مرشد ۔ ہر نام دھایئے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت مین محو ۔ جن ۔ خادم ۔ خدمتگار بل جائے ۔ قربان ہے ۔
ترجمہ:
لعنت ہے ایسی امید پر جس سےا نسان دنیاوی دولت کی محبت میں دل لگاتی ہے ۔ جو الہٰی سکون چھور کر اور نام سچ و حقیقت چھوڑ کر دیتا ہے پرالی کے عوض اور پاتا ہے عذاب ۔ مرید من بے علم عقل ودنائی سے نابیان تناسخ میں پڑے رہتے ہیں۔ مقصد حل نہیں ہوتا آخر پچھتاتا ہے ۔ جس پر ہو کرم و عنایت اسکا ملاپ سچے مرشد سے ہو جاتا ہے وہ الہٰی نام سچ و حقیقت مین دھیان لگاتا ہے ۔ نام سچ و حقیقت میں محو مجذوب انسان ہمیشہ سکون روحانی پاتے ہیں۔ خادم نانک۔ قربان ہے ان پر۔

مਃ੩॥
آسا منسا جگِ موہنھیِ جِنِ موہِیا سنّسارُ ॥
سبھُ کو جم کے چیِرے ۄِچِ ہےَ جیتا سبھُ آکارُ ॥
ہُکمیِ ہیِ جمُ لگدا سو اُبرےَ جِسُ بکھسےَ کرتارُ ॥
نانک گُر پرسادیِ ایہُ منُ تاں ترےَ جا چھوڈےَ اہنّکارُ ॥
آسا منسا مارے نِراسُ ہوءِ گُر سبدیِ ۄیِچارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
آسا۔ امید۔ منسا۔ ارادہ ۔ جگ موہنی ۔ عالم کو اپنی محبت میں گرفتار کرتی ہے ۔ موہیا سنسار ۔ سارے عالم کو اپنی محبت کے قالاوے میں لے رکھا ہے ۔ سبھ ۔ سارے ۔ جم۔ موت۔ چیرے ۔ گھرے ۔ قلاوے ۔ سبھ آکار۔ ساری قائنات ۔ حکمی ہی جم لگدا۔ الہٰی فرمان سے ہی موت آتی ہے ۔ سوآبھرے بچتاوہ ہے ۔ جس بخشے کرتار۔ جس پر کتار کی رحمت ہو۔ گر پرسادی ۔ رحمت مرشد۔ چھوڈے اہنکار۔ اگر غرور و تکبر چھوڑے ۔ آسا منسا مارے ۔ امیدیں اور ارادے چھوڑے ۔ نراس ہوئے ۔ بے امید ہے ۔
ترجمہ:
امیدوں اور ارادوں نے سارے علام کو اپنی محبت کے قلاوے میں ہے گھیر رکھا جس نے سارےع الم کو ہے گھیر لیا ۔ سارے عالم کے مخلوقات موت کی گرفت میں ہیں غرض یہ کہ ساری قائنات قدرت بھی الہٰی فرمان میں ہے روحانی موت بھی بچتا وہی ہے جس رمر و عنایت کرتار کی ۔ اے نانک۔ اس دل کی نجات تب ملتی ہے جب غرو ر و تکبر کا کرتار ہے تدارک اور کلام مرشد کو سمجھ کر امیدوار اراد مٹآ لیتا ہے ۔ بے آسا ماید کے رہتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
جِتھےَ جائیِئےَ جگت مہِ تِتھےَ ہرِ سائیِ ॥
اگےَ سبھُ آپے ۄرتدا ہرِ سچا نِیائیِ ॥
کوُڑِیارا کے مُہ پھِٹکیِئہِ سچُ بھگتِ ۄڈِیائیِ ॥
سچُ ساہِبُ سچا نِیاءُ ہےَ سِرِ نِنّدک چھائیِ ॥
جن نانک سچُ ارادھِیا گُرمُکھِ سُکھُ پائیِ ॥੫॥
لفظی معنی:
تتھے ۔ وہیں۔ سائی۔ مالک۔ آپے ورتدا۔ بستا ہے ۔ سچا نیائی ۔ سچا منصف۔ کوریا ر۔ جھوٹے ۔ کافروں ۔ پھٹکیئے ۔ پھٹکیہہ ۔ لذتیں پڑتی ہیں۔ سچ ۔ صدیوی سچا الہٰی نام۔ وڈیائی ۔ آداب عظمت۔ بزرگی ۔ سچ صاحب۔ سڈیوی سچ ہے ۔ سچا مالک خدا۔ سچانیاؤ ۔ سدیوی سا ہے اسکا انصاف ۔ سر نندک چھائی۔ اسکی بدگوئی کرنیوالے کے سر میں کاک پڑتی ہے ۔ ارادھیا۔ یادوریاض کی ۔ گورمکھ مرشد کے وسیلے سے ۔
ترجمہ:
ہر جگہ دنیا میں حاضر ناظر ہے خدا۔ عاقبت میں اور دوسری دنیا میں بی کار اسی کی چلتی ہے وہ سچا منصف ۔ جھوٹوں اور کافروں کے منہ پر لعنتیں پڑتی ہیں سچے اور عاشقان الہٰی قدروقیمت پاتے ہیں۔ سچا ہے آپ مالک خدا سچا ہے انصاف اسکا بد گوئی کرنے والے کے سر میں راکھ ہمیشہ پڑتی ہے ۔ اے خادم نانک جنہوں نے یادوریاض کی ہے سچ و حقیقت کی مرید مررشد ہوکر سکھ پاتے ہیں۔

سلوک مਃ੩॥
پوُرےَ بھاگِ ستِگُرُ پائیِئےَ جے ہرِ پ٘ربھُ بکھس کرےءِ ॥
اوپاۄا سِرِ اوپاءُ ہےَ ناءُ پراپتِ ہوءِ ॥
انّدرُ سیِتلُ ساںتِ ہےَ ہِردےَ سدا سُکھُ ہوءِ ॥
انّم٘رِتُ کھانھا پیَن٘ہ٘ہنھا نانک ناءِ ۄڈِیائیِ ہوءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
پورے بھاگ۔ بلند قسمت سے ۔ ستگر ۔ سچا مرشد۔ بخس ۔ کرم و عنایت ۔ اُہاو۔ کوشش۔ ناؤ۔ پراپت۔ نام حاصل ہو۔ سیتل ۔ ٹھنڈ ۔ سکون۔ ہروے ۔ دلمیں ۔ انمرت کھانا ۔ پہننا ۔ روحانی زندگی بنانے والا۔ نائے وڈیائی ہوئے ۔ نام سے عظمت وحشمت حاصل ہوتی ہے ۔
ترجمہ:
اگر ہو کرم و عنایت سچے مرشد کی تب بلند قسمت سے مرشد ملتا ہے ۔سب سے بلند کوشش اگر الہٰی نام سچ و حقیقت ھاصل ہو ۔ اس سے من کو تسکین اور ٹھنڈک ہوتی ہے محسوس ذہن سکون پاتا ہے ۔ اے نانک۔ اُسکی خوراک پوشش رُروحانی زندگی بنانےو الا نام کا لطُف جوآب حَیات ہے ہوجاتا ہے نام سے ہی وہ قدروقیمت و عطمت پاتا ہے ۔

مਃ੩॥
اے من گُر کیِ سِکھ سُنھِ پائِہِ گُنھیِ نِدھانُ ॥
سُکھداتا تیرےَ منِ ۄسےَ ہئُمےَ جاءِ ابھِمانُ ॥
نانک ندریِ پائیِئےَ انّم٘رِتُ گُنھیِ نِدھانُ ॥੨॥
لفظی معنی:
سکھ ۔ سکھیا۔ سبق ۔ پندوآموز۔ نصیحت ۔ گنی ندھان۔ اوصاف کا خزناہ ۔ سکھداتا ۔ سکھ یا آرام و آسائش دینے والا۔ ہونمے ۔ خودی ۔ ابھیمان ۔ غرور و تکبر ۔ ندری ۔ نظر عنایت و شفقت ۔
ترجمہ:
اے دل سبق مرشد دلمیں بسا ۔ اس سے اوصاف کا خزانہ ہوگا حاصل۔آرام آسائش دینے والا خدا دلمیں بسے گا ۔ اس سے خودی اور غرور دور ہوگا۔ اے نانک۔ الہٰی ناظر عنایت و شفقت سے آب حیات جو ہے اوصاف کا خزانہ جس سے زندگی روحانی ہوجاتی ہے پاتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
جِتنے پاتِساہ ساہ راجے کھان اُمراۄ سِکدار ہہِ تِتنے سبھِ ہرِ کے کیِۓ ॥
جو کِچھُ ہرِ کراۄےَ سُ اوءِ کرہِ سبھِ ہرِ کے ارتھیِۓ ॥
سو ایَسا ہرِ سبھنا کا پ٘ربھُ ستِگُر کےَ ۄلِ ہےَ تِنِ سبھِ ۄرن چارے کھانھیِ سبھ س٘رِسٹِ گولے کرِ ستِگُر اگےَ کار کماۄنھ کءُ دیِۓ ॥
ہرِ سیۄے کیِ ایَسیِ ۄڈِیائیِ دیکھہُ ہرِ سنّتہُ جِنِ ۄِچہُ کائِیا نگریِ دُسمن دوُت سبھِ مارِ کڈھیِۓ ॥
ہرِ ہرِ کِرپالُ ہویا بھگت جنا اُپرِ ہرِ آپنھیِ کِرپا کرِ ہرِ آپِ رکھِ لیِۓ ॥੬॥
لفظی معنی:
امراو۔ امیر ۔ حاکم۔ سکدار ۔ سردار۔ تتنے ۔ اُتنے ہی ۔ ارتھیئے ۔ غرضمند۔ بھکاری ۔ ستگر کے دل ۔ سچے مرد کا طرفدار۔ درن ۔ انسان کے چار فرقے ۔ کھتری ۔ جنگجو ۔ براہمن۔ پجاری ۔ ویس ۔ بیوپاری و کاشتکار ۔ شودر۔ تیونں کے خدمتگار ۔ چارے کھانی ۔ مخلوقات کی پیدائش چار کانیں یا منبع ۔ انڈروں سے پیدا ہونے والے ۔ انڈج جیر سے پیدا ہونے والے جرج ۔ پسینے سے پیدا ہونے والے ۔ سیتہج ۔ خودرو۔ اُتھج ۔ سب سرشٹ۔ سارا عالم ۔ گولے ۔ غلام۔ خدمتگار ۔ کارکماون ۔ کام کرنے کے لئے ۔ کائیا نگری ۔ جسمانی شہر ۔ دسمن دو ۔ ضمیر دشمن۔
ترجمہ:
جتنے بادشاہ ، شہنشاہ ، راجے ، خان ،ا میر اور سردار ہیں وہ سب خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں جو کچھ خدا کراتا ہے ۔ وہ کرت ہں مگر سارے خدا کے بھکاری ہیں۔ لہذا ایسا خدا مرشد کا طرفدار ہے ۔ اسخدا نے انسان کے چاروں فرقے چاروں مخلوقات کی پیدائش کی کانیں اور دنیا کی ساری مخلوقات در مرشد پر اسکی کار کدمت کے لئے کھڑے کئے ہیں دیئے ہیں الہٰی خدمت کی یہ عظمت ہے ۔ اے روحانی رہبرؤ جنکے اس جسمانی شہر سے سارے ضمیر دشمن ۔ احساسات ختم کر دیئے ۔ خدا ہمیشہ اپنے پیارے خدمتگاروں پر ہمیشہ مہربان رہتا ہے اور اپنی کرم و عنایت سےا نہیں بچاتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
انّدرِ کپٹُ سدا دُکھُ ہےَ منمُکھ دھِیانُ ن لاگےَ ॥
دُکھ ۄِچِ کار کماۄنھیِ دُکھُ ۄرتےَ دُکھُ آگےَ ॥
کرمیِ ستِگُرُ بھیٹیِئےَ تا سچِ نامِ لِۄ لاگےَ ॥
نانک سہجے سُکھُ ہوءِ انّدرہُ بھ٘رمُ بھءُ بھاگےَ ॥੧॥
لفظی معنی:
اندر کپٹ ۔ دلمیں فریب اور دہوکا ہے ۔ منمکھ ۔ خودی پسند۔ دھیان ۔ توجو۔ دکھ درتے ۔ عذاب جاری رہتا ہے ۔ دکھ آگے ۔ اور عاقبت میں عذاب رہتا ہے ۔ کرمی ۔ بخشش سے سچے مرشد سے ملاپ ہوتا ہے ۔ تا سچ نام تو لاگے ۔ تبھی سچے نام مراد سچ و حقیقت سے محبت بنتی ہے ۔ سہے ۔ قدرتی طور پر ۔ اندر ہو ۔ دل یا ذہن سے ۔ بھرم بھؤ بھاگے ۔ بھٹکن اور خوف دور ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
جسکے دلمیں فریب ہوتا ہے ہمیشہ عذاب پاتا ہے ۔ خودی پسند کا دھیان نہیں لگتا ۔ توجہ نہیں لگاتا خدا کی طرف ۔ عذاب میں کام کرتا ہے عذاب میں مستقبل میں بھی عذاب پاتا ہے ۔ اگر الہٰی بخشش سے سچے مرشد سے ملاپ ہو جائے تو سچے سدیوی نام سچ و حقیقت سے محبت ہو جائے تو اے نانک ۔ قدرتی طور پر دل کی بھٹکن اور خوف دور ہو جاتا ہے ۔

مਃ੩॥
گُرمُکھِ سدا ہرِ رنّگُ ہےَ ہرِ کا ناءُ منِ بھائِیا ॥
گُرمُکھِ ۄیکھنھُ بولنھا نامُ جپت سُکھُ پائِیا ॥
نانک گُرمُکھِ گِیانُ پ٘رگاسِیا تِمر اگِیانُ انّدھیرُ چُکائِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
ہر رنگ ۔ الہٰی پیار۔ الہٰی نام۔ سچ و حقیقت ۔ من کو بھائیا۔ دل کے لئے پیار ہے ۔ مرید مرد ہر جگہ دیدار الہٰی کرنا ۔ سچ و حقیقت ہی بیان کرتا ہے ۔ او نام کی یادوریاض سے سکھ پاتا ہے ۔ گیان ۔ علم ۔ سوجھ ۔ پرگاسیا۔ روشن کیا۔ اگیان ۔ بے سمجھی ۔ لاعلمی ۔
ترجمہ:
مرید مرشد ہمیشہ خدا سے پیار کرتا ہے اور اسے الہٰی نام سچ وحقیقت سے اسے دلی پیار ہے ۔ اسکی سچ و حقیقت میں نظر ہے اور سچ و حقیقت ہی کہتا ہے اسی کی یادوریاض سے روحانی سکون پاتا ہے ۔ اے نانک۔ مرید مرشد کے دلمیں روحانیت و زندگی کی سمجھ سے اسکا ذہن پر نور ہو جاتا ہے اور زندگی کے متعلق جہالت ، بے سمجھی اندھیرا اور لاعلمی ختم ہو جاتی ہے ۔

مਃ੩॥
منمُکھ میَلے مرہِ گۄار ॥
گُرمُکھِ نِرمل ہرِ راکھِیا اُر دھارِ ॥
بھنتِ نانکُ سُنھہُ جن بھائیِ ॥
ستِگُرُ سیۄِہُ ہئُمےَ ملُ جائیِ ॥
انّدرِ سنّسا دوُکھُ ۄِیاپے سِرِ دھنّدھا نِت مار ॥
دوُجےَ بھاءِ سوُتے کبہُ ن جاگہِ مائِیا موہ پِیار ॥
نامُ ن چیتہِ سبدُ ن ۄیِچارہِ اِہُ منمُکھ کا بیِچار ॥
ہرِ نامُ ن بھائِیا بِرتھا جنمُ گۄائِیا نانک جمُ مارِ کرے کھُیار ॥੩॥
لفظی معنی:
منمکھ میلے ۔ خودی پسند ہیں ناپاک ۔ گورمکھ نرمل۔ مرید مرشد ہیں پاک ۔ ہر راکھیا اردھار ۔ خدا دلمیں بساتے ہیں۔ بھنت نانکا۔ نانک کہتا ہے ۔ ستگر سیو ہو۔ سچے مرشد کی کرؤ۔ خدمت۔ ہونمے مل جائی ۔ خودی کی ناپاکیزگی جاتی رہتی ہے ۔ سہسا۔ فکر ۔ تشویش ۔ دکھ ویاپے ۔ عذآب آتا ہے ۔ دھندا۔ مخمسہ ۔ الجھن۔ نت ۔ ہر روز ۔ دوجے بھائے ۔ دنیاوی محبت ۔ سوتے ۔ غفلت میں ۔ جاگے ۔ بیدار ۔ ہوشیار ۔ مائیا موہ پیار۔ دنیاوی دؤلت کی محبت میں۔ نام نہ چیتیہہ۔ سچ و حقیقت یاد نہیں۔ سبد نہ وچاریہہ۔ کلام کا خیال نہیں۔ وچار۔ خیال۔ بھایا۔ پیار ا کیا۔ برتھا۔ بیفائدہ ۔ بیکار ۔ فضول۔ جنم گوائیا۔ زندگی برباد کی ۔ جم مار۔ موت۔ خوآر ۔ ذلیل۔
ترجمہ:
مرید من بد اخلاقی بد چلنی ناپاکیزگی میں روحانی واخلاقی موت مرتے ہیں جاہل۔ جبکہ مرید مرشد خدا دلمیں بستاے ہیں پاک رہتے ہیں۔ خدمت مرشد سے خؤدی مٹ جاتیہے اور اسکی ناپاکیزگی دور ہا جاتی ہے ۔ نانک یہ کہتا ہے ۔ اگر دلمیں ہو فکر و تشویش ت عذاب آئے گا۔ اور سر پردل طلب جھگڑے کھڑے رہیں۔ دنیاوی دولت کی محبت کی غفلت میں محصور انسان کبھی بیدار روحانی واخلاقی طور پر بیدار و ہوشیار نہیں رہتا۔ نہ اسے الہٰی نام سچ و حقیقت کا خیال رہت اہے نہ کلام یا سبق کا خیال مرید من کی یہ سوچ اور خیال بنجاتا ہے ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت اسے اچھی نہیں لگتی بیفائدہ بیکار زندگی برباد کرلیتا ہے ۔ اے نانک۔ روحانی واخلاقی موت اسکی زندگی اک صراط مستقیم بند ہو جاتاہے اور وہ ذلیل و خوار ہو تا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
جِس نو ہرِ بھگتِ سچُ بکھسیِئنُ سو سچا ساہُ ॥
تِس کیِ مُہتاجیِ لوکُ کڈھدا ہورتُ ہٹُ ن ۄتھُ ن ۄیساہُ ॥
بھگت جنا کءُ سنمُکھُ ہوۄےَ سُ ہرِ راسِ لۓ ۄیمُکھ بھسُ پاہُ ॥
ہرِ کے نام کے ۄاپاریِ ہرِ بھگت ہہِ جمُ جاگاتیِ تِنا نیڑِ ن جاہُ ॥
جن نانکِ ہرِ نام دھنُ لدِیا سدا ۄیپرۄاہُ ॥੭॥
لفظی معنی:
بھگت ۔ الہٰی پیار۔ سچ ۔ حقیقت۔ اصل۔ سچا ساہو۔ سچا شاہوکار ۔ صدیوی دولتمند۔ محتاجی ۔ خوشامد۔ چاپلوسی ۔ ہورت۔ دوسری ۔ ہٹ ۔ دکان۔ وتھ ۔ دودا۔ویسا ہو ۔ سوداگری ۔ بیوپار۔ سنمکھ ۔ روبرو۔ راس۔ سرمایہ۔ بیمکھ ۔ جس میں روبرو ہونے کی جرات نہ ہو۔ بھس پاہو۔ سر میں راکھ پڑتی ہے ۔ جاگاتی ۔ محصولیا۔ تنا ۔ انکے ۔ نیڑ ۔ نذدیک ۔ ہر نام دھن ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کا اثاثہ یا دولت ۔ بے پرواہو۔ بے محتاج ۔
ترجمہ:
جسے بخش دی عشق الہٰی و بھگتی سچے صدیوی خدا نے وہ سچا صدیوی شاہوکار ہوگیا۔ لوگ اسکے محتاج رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ نہ دوسری کوئی دکان ہے نہ سودا نہ بیوپار۔ جو روبرو ہوتا ہے بھگتوں کے عابدوں کے وہ یہ دولت پاتا ہ ۔ مگر بیرخی کرتا ہے ۔ بھگتوں سے سر میں رکاھ پوآتا ہے ۔ الہٰی عاشق الہیی نام سچ و حقیقت کی سوداگر کرتے ہیں محصولیا فرشتہ موت نزدیک نہیں پھٹکتا خدمتگار خدا نانک۔ نے الہیی نام سچ حقیقت کی کھیپ خرید لی ہے ۔ اس لئے دنیاوی دولت سے بےمحتاج و بے نیاز ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
اِسُ جُگ مہِ بھگتیِ ہرِ دھنُ کھٹِیا ہورُ سبھُ جگتُ بھرمِ بھُلائِیا ॥
گُر پرسادیِ نامُ منِ ۄسِیا اندِنُ نامُ دھِیائِیا ॥
بِکھِیا ماہِ اُداس ہےَ ہئُمےَ سبدِ جلائِیا ॥
آپِ ترِیا کُل اُدھرے دھنّنُ جنھیدیِ مائِیا ॥
سدا سہجُ سُکھُ منِ ۄسِیا سچے سِءُ لِۄ لائِیا ॥
ب٘رہما بِسنُ مہادیءُ ت٘رےَ گُنھ بھُلے ہئُمےَ موہُ ۄدھائِیا ॥
پنّڈِت پڑِ پڑِ مونیِ بھُلے دوُجےَ بھاءِ چِتُ لائِیا ॥
جوگیِ جنّگم سنّنِیاسیِ بھُلے ۄِنھُ گُر تتُ ن پائِیا ॥
منمُکھ دُکھیِۓ سدا بھ٘رمِ بھُلے تِن٘ہ٘ہیِ بِرتھا جنمُ گۄائِیا ॥
نانک نامِ رتے سیئیِ جن سمدھے جِ آپے بکھسِ مِلائِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
بھگتی ۔ بھگتوں نے ۔ ہر دھن۔ الہٰی دؤلت ۔ کھتیا۔ کمائیا ۔ سبھ جگت۔ ساری دنیا۔ بھرم ۔ بھٹک ۔ بھلائیا۔ گمراہ کیا۔ گر پر سادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ اندن ۔ ہر روز۔ بکھیا ما ہے ۔ زہریلی دنیاوی دؤلت ۔ اُداس۔ غمگینی ۔ ہونمے سبد جالئیا۔ خودی سبق وواعظ سے مٹائی ۔ کل ۔ خاندان ۔ دھن جنیدی مائیا۔ وہ ماں جس نے جنم دیا شاباش ہے اسے ۔ سہج سکھ ۔ روحانی یا ذہنی سکون ۔ سچے سیؤ ۔ سچے خدا سے ۔ تریگن ۔ تین اوصاف۔ بھلے ۔ گمراہ ہوئے ۔ مونی ۔ خاموش رہنے والے ۔ سنیاسی ۔ طارق۔ تت۔ اصلیت۔ حقیقت ۔ برتھا۔ بیکار۔ بیفائدہ۔ سمر ھے ۔ دھیان لگانے والے ۔ نام رتے ۔ الہیی نام سچ و حقیقت کے پرستش کار۔ عمل پیرا ۔ بے جنہیں۔ آپے ۔ خود ہی۔ بخس۔ کرم فرمائی کرکے ۔
ترجمہ:
اس زمانے میں صرف صرف عاشقان الہٰی عابدوں بھگتوں نے ہی الہٰی نام کی دولت کمائی ہے باقی سارا عالم وہم و گمان میں گمراہ ہے رحمت مرشد سے نام سچ و حقیقت دلمیں بسی ہر روز اسمیں دھیان لگائیا ۔ وہ دنیایو دولت کے باوجود بیلاگ اور طارق ہے جو کلام کے عمل سے خودی مٹا لیتا ہے ۔ خود کامیاب ہوتا ہے سارے خاندان کو بچاتا ہے شاباش ہے اس ماں کو جس نے اُسے جنم دیا ہے ۔ اسکے دلمیں ہمیشہ روحانی و ذہنی سکون رہتا ہے ۔ غرض یہ کہ برہما۔ بشن ۔ شوجی بھی ان تینوں اوصاف میں اصلیت و حقیقت سے گمراہ ہے اور زندگی کا صراط مستقیم نہیں پا سکے ۔ خودی میں ہی ملوث رہے ۔ پنڈت پڑھ پڑھ کر مذہبی کتابیں گمراہ رہے ۔ مونی ۔ مون یا خاموشی اپنا کر دنیاوی دولت سے محبت میں ملوث رہے ۔ جوگی جنگم اور طارق گمراہ رہے اور بغیر مرشد حقیقت نہ پا سکے ۔ خودی پسندوں نے ہمیشہ عذآب پائیا۔ اور تگ و دو و بھٹکن میں صراط مستقیم زندگی سے گمراہ رہے اور زندگی بیکار بیفائدہ برباد کی ۔ اے نانک۔ الہٰی نام سچ و حقیقت جو ہیں متلاشی وہی زندگی کا میاب بناتے ہیں جن میں اپنی رکم و عنایت سے خودی ہی خدا ملاتا ہے ۔

مਃ੩॥
نانک سو سالاہیِئےَ جِسُ ۄسِ سبھُ کِچھُ ہوءِ ॥
تِسہِ سریۄہُ پ٘رانھیِہو تِسُ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
گُرمُکھِ انّترِ منِ ۄسےَ سدا سدا سُکھُ ہوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سرجیو ۔ خدمت کرو۔ تس۔ جس ۔ بن ۔ بغیر ۔ اور ۔ دوسرا ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ انتر۔ دلمیں۔ سدا سدا۔ ہمیشہ۔
ترجمہ:
اے نانک۔ اسکی تعریف کرنی چاہیے جو ہر شے کا مالک ہے اور اسکے اختیار میں ہر چیز ۔ تعریف اسکی کرنے چاہیئے جسکا ثانی نہیں دنیا میں کوئی دوسرا جو مرشد کے وسیلے سے دلمیں بستا ہے جسکی بدولت ہمیشہ روحانی یا ذہنی سکون بنا رہتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
جِنیِ گُرمُکھِ ہرِ نام دھنُ ن کھٹِئو سے دیۄالیِۓ جُگ ماہِ ॥
اوءِ منّگدے پھِرہِ سبھ جگت مہِ کوئیِ مُہِ تھُک ن تِن کءُ پاہِ ॥
پرائیِ بکھیِلیِ کرہِ آپنھیِ پرتیِتِ کھوۄنِ سگۄا بھیِ آپُ لکھاہِ ॥
جِسُ دھن کارنھِ چُگلیِ کرہِ سو دھن چُگلیِ ہتھِ ن آۄےَ اوءِ بھاۄےَ تِتھےَ جاہِ ॥
گُرمُکھِ سیۄک بھاءِ ہرِ دھنُ مِلےَ تِتھہُ کرمہیِنھ لےَ ن سکہِ ہور تھےَ دیس دِسنّترِ ہرِ دھنُ ناہِ ॥੮॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ ہر نام دھن۔ الہٰی نام ۔ سچ و حقیقت کا سرمایہ ۔ ۔ دیوالیئے ۔ اتنے قضردار جنکے پاس قرضہ چکانے کا کوئی وسیلہ نہ رہے ۔ جگ ۔ زمانہ ۔ اوئے منگدے پھر یہہ۔ بھیک ۔ مانگے پھرتے ہیں۔ مہہ ٹھک نہ تن کو پائے ۔ کوئی انکے منہ پر تھوکتا بھی نہیں۔ پرائی ۔ دوسروں کی ۔ بخیلی ۔ بد گوئی ۔ پرتت ۔ وشواش۔ یقین ۔ سگو ۔ البتہ ۔ آپ لکھا ہے ۔ اپنے آپ کو بد نام کرنا ہے ۔ کارن سبب ۔ سیوک بھائے ۔ خدمت دارانہ طور پر ۔ ہر دھن۔ الہٰی سرمایہ ۔ کرم ہین۔ بد قسمت۔ ہورتھے ۔ کسی دوسری جگہ ۔ دیس دسنتر ۔ دیس ۔ بدیس ۔
ترجمہ:
جنہوں نے مرشد کے وسیلے سے الہٰی نام سچ و حقیقت کی دؤلت نیہںکمائی انہیوں نے زندگی کے کھیل میں شکست کھالی دیوالئے ہوئے ۔ ایسے انسان دنیا میں بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ کوئی انکے منہ پر تھوکتا تک نہیں وہ دوسروں کی بدگوئی کرتے ہیں اور اپنا وشواس اور یقین گنواتے ہیں ۔ بلکہ اپنی حقیقت اور اسلیت کی نمائش کرتے ہیں جس دولت کے لئے بدگوئی کرتے ہیں وہ دؤلت نصیب نہیں ہوتی خدمتدارانہ خیال سے مرید مرشد ہوکر الہیی نام کی دولت ملتی ہے ۔ مگر بد قسمت وہاں سے پا نہیں سکتے ۔ جبکہ کسی دوسرے ملک کسی اور جگہ یہ نام کا اثاثہ ملتا نہیں۔

سلوک مਃ੩॥
گُرمُکھِ سنّسا موُلِ ن ہوۄئیِ چِنّتا ۄِچہُ جاءِ ॥
جو کِچھُ ہوءِ سُ سہجے ہوءِ کہنھا کِچھوُ ن جاءِ ॥
نانک تِن کا آکھِیا آپِ سُنھے جِ لئِئنُ پنّنےَ پاءِ ॥੧॥
لفظی معنی:
گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ سنسا۔ فکر ۔ تشویش ۔ مول۔ بالکل۔ چنتا ۔ فکر۔ وچہوجائے ۔ دل سے چلی جاتی ہے ۔ سہجے ۔ قدرتی طور پر ۔ بلا جہدو ترود۔ کچھو ۔ کچھ بھی ۔ بے لئین پنے پائے ۔ جہیں اپنا لیا۔
ترجمہ:
مرید ان مرشد کو پریشانی و تشویش بالکل نہیں ہوتی فکر مٹ جاتا ہے ۔ جو کچھ ہوتا ہے رضائے الہٰی میں ہوتا ہے اسکے متعلق اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اے نانک:۔ ان عرض و معروض خود سنتا ہے ۔ خدا جنہیں دے دیا ہے دامن اپنا۔

مਃ੩॥
کالُ مارِ منسا منہِ سمانھیِ انّترِ نِرملُ ناءُ ॥
اندِنُ جاگےَ کدے ن سوۄےَ سہجے انّم٘رِتُ پِیاءُ ॥
میِٹھا بولے انّم٘رِت بانھیِ اندِنُ ہرِ گُنھ گاءُ ॥
نِج گھرِ ۄاسا سدا سوہدے نانک تِن مِلِیا سُکھُ پاءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
کال۔ موت۔ منسا۔ ارادہ ۔ منیہہ۔ دلمیں۔ سمانی ۔ مھو۔ انتر۔ دلمیں۔ نرمل۔ ناؤ۔ پاک نام سچ و حقیقت ۔ا ند ن ۔ ہر روز ۔ جاگے ۔ بیدار۔ سووے غفلت کی نندا ۔ سہجے ۔ سکون میں ۔ بلا لرزش ۔ انمرت۔ آب حیات۔ ایسا پانی جس سے زندگی اتنی بلندی پر پہنچ جاتی ہے کہ جاویدان ہو جاتی ہے ۔ انمرت بانی ۔ روحانیت پر مبنی کلام ۔ اندن ۔ ہر روز ۔ ہرگن گاؤ۔ الہٰی صفت صلاح کرؤ۔ تج گھر ۔ ذاتی دلمیں۔ سوحدے ۔ اچھے لگتے ہیں۔ تن ۔ انکے ۔
ترجمہ:
جسکے دلمیں بستا ہے پاک نام خدا موت روحانی ختم کرکے ارادے اپنے دلمیں مجذوب کر لیتا ہے ۔ ہر روز ہوشیار و بیدار رہتا کبھی غفلت کی نیند سوتا نہیں پر سکون آبحیات پیتا ہے جس سے زندگی روحانی پاتا ہے میٹھے ہیں بول اسکے میٹھا ہے کلام اسکا ۔ ہر وقت حمدوچناہ وہ کرتا ہے ۔ یاد الہٰی میں مجذوب رہتے ہیں اور شہرت پاتے ہیں۔ اے نانک۔ ان کے ملاپ سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ دھنُ رتن جۄیہریِ سو گُرِ ہرِ دھنُ ہرِ پاسہُ دیۄائِیا ॥
جے کِسےَ کِہُ دِسِ آۄےَ تا کوئیِ کِہُ منّگِ لۓ اکےَ کوئیِ کِہُ دیۄاۓ ایہُ ہرِ دھنُ جورِ کیِتےَ کِسےَ نالِ ن جاءِ ۄنّڈائِیا ॥
جِس نو ستِگُر نالِ ہرِ سردھا لاۓ تِسُ ہرِ دھن کیِ ۄنّڈ ہتھِ آۄےَ جِس نو کرتےَ دھُرِ لِکھِ پائِیا ॥
اِسُ ہرِ دھن کا کوئیِ سریِکُ ناہیِ کِسےَ کا کھتُ ناہیِ کِسےَ کےَ سیِۄ بنّنےَ رولُ ناہیِ جے کو ہرِ دھن کیِ بکھیِلیِ کرے تِس کا مُہُ ہرِ چہُ کُنّڈا ۄِچِ کالا کرائِیا ॥
ہرِ کے دِتے نالِ کِسےَ جورُ بکھیِلیِ ن چلئیِ دِہُ دِہُ نِت نِت چڑےَ سۄائِیا ॥੯॥
لفظی معنی:
رتن جویہری ۔ ہیرے جواہرات ۔ سوگر۔ لہذا مرشد۔ کسے کہو۔ کہیں کچھ ۔ دس آوے ۔ نظر آئے ۔ کہو ۔ کہاں سے ۔ ہر دھن۔ الہٰی دولت۔ جورکیتے ۔ طاقت کے ذریعے ۔ ونڈائیا ۔ نقسم کرائیا نہیں جا سکتا ۔ سروھا ۔ یقین ۔ وشواش۔ ونڈ ۔ تقسیم ۔ دھرلکھ ۔ بارگاہ الہٰی سے تحریر ہ ۔ سریک ۔ حصے دار۔ خط۔ تحریر۔ پٹہ ۔ سیوبنے ۔ حدویاوٹ ۔ رول ۔ جھگرا۔ بخیلی ۔ درد۔ بدگوئی۔
ترجمہ:
الہٰی نام کی دولت ہیرے جواہرات کی طرح قیمتی ہے اس دولت کو مرشد خدا سے دلواتا ہے ۔ اگر کسی شخس کو کہیں کسی کے پاس دکھائی دے دیوے تو اس سے مانگ لے یا کوئی دیوا دے ۔ مگر یہ نام کا سرمایہ سینہ زوری سے کسی سے پائیا نہیں جا سکتا ۔ جسے سچے مرشد پر وشواس یا ایمان ہو یقین ہو جائے ۔ اسے یہ الہٰی سرمایا ہاتھ آسکتا ہے ۔ جسکی تقدیر میں گارگاہ الہٰی تحریر ہو تا ہے ( اس) یہ الہٰی دولت کسی کی مشتر کہ نہیں نہ یہ کسی حق وارثت ہے نہ اسکا کسی کو ملکیتی تحریر پٹہ ہو سکتا ہے نہ اسکا حدود وغیرہ کا کوئی جھگڑا ہو سکتا ہے ۔ اگر اس دولت کی خاطر دزد۔ بخیلی یا حسد کرتا ہے تو اسکو ہر طرف سےنعمتیں پڑتی ہیں۔ اگر خدا اس الہیی نام سچ وحقیقت بخشش کرتا ہے کوئی حصد یا بخیلی سے کسی کا کچھ وغار نہیں سکتا بلکہ روزافروں بڑھتا ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
جگتُ جلنّدا رکھِ لےَ آپنھیِ کِرپا دھارِ ॥
جِتُ دُیارےَ اُبرےَ تِتےَ لیَہُ اُبارِ ॥
ستِگُرِ سُکھُ ۄیکھالِیا سچا سبدُ بیِچارِ ॥
نانک اۄرُ ن سُجھئیِ ہرِ بِنُ بکھسنھہارُ ॥੧॥
لفظی معنی:
جگت ۔ علام ۔ دنیا۔ جہاں ۔ جلند۔ جلتے ہوئے کو ۔ مراد ۔خواہشات حسد ۔ کینہ ۔ بغض وگیرہ کی آگ میں جل رہا ہے ۔ رکھ لے ۔ بچا لو ۔ کر پاوھار۔ کرم وعنایت سے ۔ جت ۔ جس ۔ دوآرے ۔ در پر ۔ ابھرے ۔ بچ سکے ۔ تتے ۔ اسی طرح۔ اُبھار۔ بچاؤ۔۔ ستگر ۔سچے مرشد نے سکھ ۔ ذہنی سکون ۔ ویکھالیا۔ ظہور پذیر کیا۔ سچا سبد سچے کلام وچار۔ سمجھ کر۔ اور نہ سمجھئی ۔ دوسرا سمجھ نہیں آتا۔ ہرین ۔ خدا کے علاوہ ۔ بخشنہار ۔ بخشنے والا۔
ترجمہ:
اے خا اس دنیاکو خواہشات ، حسد ، کینہ ، بغض اور بدگوئی کی آگ میں ل رہے عالم کو جس طریقے سےبچ سکتا ہے اسی طرح سے بچا لو اور جس در پر بچتا ہے اسی در پر بچاؤ ۔ اے نانک۔ سچے مرشد نے روحانی وذہنی سکون کا طراط مستقیم دکھادیا ہے۔ سچا سبد۔ سچا کلام۔ وچار۔ سمجھ ۔ خیال کر۔ خدا کے بغیر دوسرا۔ ربن اور ۔ سبھی۔ سمجھ نہیں آتا۔ بخشنہار۔ بخشنے والا۔

مਃ੩॥
ہئُمےَ مائِیا موہنھیِ دوُجےَ لگےَ جاءِ ॥
نا اِہ ماریِ ن مرےَ نا اِہ ہٹُ ۄِکاءِ ॥
گُر کےَ سبدِ پرجالیِئےَ تا اِہ ۄِچہُ جاءِ ॥
تنُ منُ ہوۄےَ اُجلا نامُ ۄسےَ منِ آءِ ॥
نانک مائِیا کا مارنھُ سبدُ ہےَ گُرمُکھِ پائِیا جاءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
ہونمے ۔ خودی ۔ مائیا۔ دنیایوی دولت ۔ موہنی ۔ دلربا ۔ دل کو پانی محبت میں گرفتار کرنیوالی ۔ دوجے لگے جائے ۔ خدا کو چھوڑ دنیا کی دوسری چیزوں سے محبت ہو جاتی ہے ۔ نا ایہہ ہٹ وکائے ۔ نہ کسی دوکان پر فروخت ہو سکتی ہے ۔ گر کے سبد کلام مرشد سے ۔ پر جالیئے ۔ جلائیا جائے ۔ تا ایہہ ۔ تب یہ ۔ چہوجائے ۔ دل سے نکلتی ہے ۔ اجلا ۔ پاک ۔ نام ۔ سچ وحقیقت سے من آئے ۔ دلمیں بستا ہے ۔ مارن ۔ معجون بھسم۔ کشتہ ۔ سبد۔ کلام۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ہوکر۔
ترجمہ:
خودی اور دنیاوی دولت ہر دو رلربا دل کو اپنی محبت کی گرفت میں جکڑنے والی ہیں اس سے خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت ہو جاتی ہے ۔ نہ تو مارنے سے مرتی ہے نہ کسی دکان پر فروخت ہو سکتی ہے ۔ مگر مرشد کے کلام سے جلائی جا سکتی ہے تبھی دل سے دور ہوتی ہے ۔ اس سے دل و جان پاک ہو جاتا ہے اور سچ وحقیقت دلمیں بس جاتی ہے ۔ اے نانک۔ دنیاوی دولت ک لئے کلام ایک کشتہ ہے جو مرید مرشد ہوکر ملتاہے ۔

پئُڑیِ ॥
ستِگُر کیِ ۄڈِیائیِ ستِگُرِ دِتیِ دھُرہُ ہُکمُ بُجھِ نیِسانھُ ॥
پُتیِ بھاتیِئیِ جاۄائیِ سکیِ اگہُ پِچھہُ ٹولِ ڈِٹھا لاہِئونُ سبھنا کا ابھِمانُ ॥
جِتھےَ کو ۄیکھےَ تِتھےَ میرا ستِگُروُ ہرِ بکھسِئوسُ سبھُ جہانُ ॥
جِ ستِگُر نو مِلِ منّنے سُ ہلتِ پلتِ سِجھےَ جِ ۄیمُکھُ ہوۄےَ سُ پھِرےَ بھرِسٹ تھانُ ॥
جن نانک کےَ ۄلِ ہویا میرا سُیامیِ ہرِ سجنھ پُرکھُ سُجانُ ॥
پئُدیِ بھِتِ دیکھِ کےَ سبھِ آءِ پۓ ستِگُر کیِ پیَریِ لاہِئونُ سبھنا کِئہُ منہُ گُمانُ ॥੧੦॥
لفظی معنی:
سچے گرونگد دیونے سچے گرو امرداس کو عزت عظمت عنایت کی وہ الہیی فرمان و مراسلہ سمجھ کر دی گئی ۔ بیٹے ۔ بھتجے ۔ جوائی ۔ اور رشتہ دار متعلقین کا غرور دور کیا۔ کیونکہ سب کی اچھی طرح سے آزمائش کر لی تھی ۔
جہاں کوئی دیکھتا ہے وہیں سچا مرشد سارے عالم کو الہٰی نام سچ وحقیقت بخشتا ہے ۔ جو سچے مرشد کو مل کر اس پر یقین کرتا ہے ایمان لات اہے اسے دونوں عالموں کی مسجھ ہو جاتی ہے ۔ جو بیرخی کرتا ہے وہ بھٹکتا پھرتا ہے برائیوں اور بدیوں میں ۔ خدمتگار نانک کا طرفدار ہے میرا آقا جو دوست بھی ہے اور دانشمند بھی ہے لنگر کی بے پناہ دیکھکر سچے مرشد کے پاؤں پڑے اور سب کا غرور دور ہوا۔

سلوک مਃ੧॥
کوئیِ ۄاہے کو لُنھےَ کو پاۓ کھلِہانِ ॥
نانک ایۄ ن جاپئیِ کوئیِ کھاءِ نِدانِ ॥੧॥
لفظی معنی:
کوئی واہے ۔ کوئی ہل جوتتا ہے کاشت کرتا ہے ۔ کولنے ۔کوئی کاٹتا ہے ۔ کھلہان ۔ کھلواڑہ ۔ پڑ۔ ایو۔ اسطرح نہ جاپیئی ۔ پتہ نہیں چلتا۔ ندان ۔ اخر۔
ترجمہ:
کوہل جوتتا ہے کوئی کاٹتا ہے ۔ کوئی کھلواڑہ بنات اہے ۔ مگر آخر پتہ نہیں چلتا کہ کھانا کس نے ہے ۔

مਃ੧॥
جِسُ منِ ۄسِیا ترِیا سوءِ ॥
نانک جو بھاۄےَ سو ہوءِ ॥੨॥
لفظی معنی:
تریا سوئے ۔ وہی کامیاب ہوآ۔ جو بھاوے ۔ جیسی اسکی رضا و فرمان ہے ۔ سوہوئے ۔ وہی ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
جسکے دلمیں خدا بس جائے وہ کامیاب ہو جاتا ہے ۔ اے نانک۔ جیسی ہے رضا خدا کی ویسا ہی ہوتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
پارب٘رہمِ دئِیالِ ساگرُ تارِیا ॥
گُرِ پوُرےَ مِہرۄانِ بھرمُ بھءُ مارِیا ॥
کام ک٘رودھُ بِکرالُ دوُت سبھِ ہارِیا ॥
انّم٘رِت نامُ نِدھانُ کنّٹھِ اُرِ دھارِیا ॥
نانک سادھوُ سنّگِ جنمُ مرنھُ سۄارِیا ॥੧੧॥
لفظی معنی:
پار برہم۔ کامیابی عنایت کرنیوالا خدا۔ دیال۔ مہربان۔ ساگر۔ سمندر۔ تاریا۔ کامیاب بنائیا۔ بھرم ۔ بھؤ۔ وہم و گمان یا بھٹکن اور خوف ۔ کام کرؤدھ ۔ بکرال ۔ دوت ۔ شہوت ۔ غصہ ۔ ڈراؤنے ۔ خوفناک ۔ دشمن۔ سبھ ہاریا۔ شکست خوردہ ہوئے ۔ مات پڑ گئے ۔ انمرت۔ آب حیات۔ ایسا پانی جس سے زندگی روحانی وجاویداں ہو جاتی ہے ۔ کنتھ اردھاریا ۔ زبان دلمیں بسائیا۔ سادہو سنگ ۔ صحبت پاکدامن ۔ جنم مرن سواریا۔ زندگی درست کی ۔
ترجمہ:
کامیابیاں عنایت کرنیوالے مہربان خدانے دنیاوی زندگی جو ایک وسیع سمندر کی مانند ہے کامیاب بنائی۔ اور کامل مرشد نے میرے خوف ہراس اور شک شبہات وہم وگمان دور کئے ۔ شہوت ۔ غصہ اور خوفناک دشمن سب کو شکست خوردہ کیا۔ آبحیات نام سچ وحقیقت جو زندگی کو روحانی واخلاقی طور پر صدیوی و جاویداں بناتا ہے کا خزانہ دلمیں بسائیا ۔ اے نانکا پاکدامن سادہو کی صحبت سے پیدائش سے لیکر موت کی راہیں درست کیں۔

سلوک مਃ੩॥
جِن٘ہ٘ہیِ نامُ ۄِسارِیا کوُڑے کہنھ کہنّن٘ہ٘ہِ ॥
پنّچ چور تِنا گھرُ مُہن٘ہ٘ہِ ہئُمےَ انّدرِ سنّن٘ہ٘ہِ ॥
ساکت مُٹھے دُرمتیِ ہرِ رسُ ن جانھنّن٘ہ٘ہِ ॥
جِن٘ہ٘ہیِ انّم٘رِتُ بھرمِ لُٹائِیا بِکھُ سِءُ رچہِ رچنّن٘ہ٘ہِ ॥
دُسٹا سیتیِ پِرہڑیِ جن سِءُ ۄادُ کرنّن٘ہ٘ہِ ॥
نانک ساکت نرک مہِ جمِ بدھے دُکھ سہنّن٘ہ٘ہِ ॥
پئِئےَ کِرتِ کماۄدے جِۄ راکھہِ تِۄےَ رہنّن٘ہ٘ہِ ॥੧॥
لفظی معنی:
وساریا ۔ بھلائیا۔ کوڑے ۔ جھوٹے ۔ کہن کہن ۔ جھوتی باتیں کہتے اور کہلاتے ہیں۔ پنچ چور۔ احساسات بد جو انسان کی روحانیت واخلاقی پاکیزگی کی چوری کرتے ہیں۔ گھر ۔ دل ۔ موہن ۔ محبت میں گرفتار کرتے ہیں۔ ہونمے ۔ خودی ۔ سیہہ ۔ دیوار کو پھاند کر چور ی کرنا۔ ساکت ۔ مادہ پرست۔ مٹھے ۔ لٹ گئے ۔ درمتی ۔ بد قماش ۔ بری سمجھ والے ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف ۔ بھرم۔ وہم و گمان ۔ بھٹکن ۔ وکھ سیؤ۔ رچیہہ رچن ۔ دنیاوی برائیاں جو روحانی زندگی کے لئے ایک زہر ہے ۔ محو ومجذوب رہتے ہیں۔ دسٹا۔ بدقسماش ۔ بدکردار۔ پرہٹری ۔ پیار۔ جن ۔خدمتگار۔ واد ۔ جھگڑا۔ کرن ۔ کرتے ہیں۔ نرک ۔ دوزخ۔ جم بدھے ۔ موت کی گرفت میں ۔ دکھ سہن ۔ عذاب برداشت کرتے ہیں۔ پیئے کرت ۔ پہلے کئے ہوئے اعمال ۔ کماودے جوکئے ہیں۔ جوراکھیہہ ۔ جیسے رکھتا ہے ۔
ترجمہ:
جنہوں نے نام سچ وحقیقت بھلا دی وہ ہمیشہ جھوٹی دنیاوی نعمتوں کی باتیں کہتے اور کرتے ہین پانچ نفسیاتی چور ان کی اخلاقی و روحانی زندگی لوٹنے میں سر گرم رہتے ہیں اور خودی انکے اخالق کو برباد کرتی رہتی ہے ۔ مادہ پرست منکر خدا اپنی بد عقلی کی وجہ سے الہٰی لطف سے بے بہرہ ہیں اور اسکی انہیں سمجھ نہیں۔ جنہوں نے روحانی زندگی بناے الہٰی نام سچ وحقیقت کا لطف وہم و گماں میں لٹا دیا وہ روحانی زندگی کرنیوالی زہریلی دنیاوی دولت کی محب تمیں محو مجذوب رہے اور بدکار دمعاش لوگوں سے رابطہ اور محبت قائم کی اور خادمان خدا سے جھگڑا کیا۔ اے نانک۔ ان مادہ پرست منکروں کو دوزخ میں موت کی گرف تمیں عذاب برداشت کرتے ہیں ۔ اے خدا جیسے تو پہلے سے کئے اعمال کی مطابق اعمال کرتے ہیں۔

مਃ੩॥
جِن٘ہ٘ہیِ ستِگُرُ سیۄِیا تانھُ نِتانھے تِسُ ॥
ساسِ گِراسِ سدا منِ ۄسےَ جمُ جوہِ ن سکےَ تِسُ ॥
ہِردےَ ہرِ ہرِ نام رسُ کۄلا سیۄکِ تِسُ ॥
ہرِ داسا کا داسُ ہوءِ پرم پدارتھُ تِسُ ॥
نانک منِ تنِ جِسُ پ٘ربھُ ۄسےَ ہءُ سد کُربانھےَ تِسُ ॥
جِن٘ہ٘ہ کءُ پوُربِ لِکھِیا رسُ سنّت جنا سِءُ تِسُ ॥੨॥
لفظی معنی:
جنی ۔ جسنے ۔ ستگر ۔ سچے مرشد۔ سیویا۔ خدمت کی ۔ تان ۔ طاقت۔ قوت۔ نتانے ۔ کمزور ۔ نحیف۔ ساس۔ سانس۔ گراس۔ ۔ لقمہ ۔ جسم ۔ موت یا فرشتہ موت۔ جوہ ۔ تاک۔ ہردے ۔ دلمیں۔ کولا۔ دولت ۔ سرمایہ۔ سیوک ۔ خدمتگار ۔ واساکاداس۔ غلاموں کا غلام۔ پرم پدارتھ ۔ اونچی نعمتیں ۔ رس سنت جنا سیؤ۔ جنکا ہو پریم پیار روحانی رہبروں سے ۔
ترجمہ:
جو کرتے ہیں خدمت مرشد ناتواں ہونے کے باوجود ان میں روحانی ہوتی ہے قوت۔ جو ہر سانس ہر لقمہ یادوشکر خدا کا کرتے ہیں روحانی موت ان کی تاک میں نہیں رہتی ۔ انکے دلمیں ہوتا ہے لطف خدا کا اور دنیاوی دولت سیوک بنتی ہے ۔ جو خدائی خدمتگاروں کا خدمتگار ہو جاتا ہے وہ خاص نعمتیں پاتے ہیں۔ اے نانک۔ جسکے دل و جان میں بستا ہے خدا میں صد بار ہوں قربان اس پر جنکے اعمالنامے میں پہلے سے تحریر ہوت اہے ان کا روحانی رہبر سے محبت و پیار ہمیشہ ہوتی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
جو بولے پوُرا ستِگُروُ سو پرمیسرِ سُنھِیا ॥
سوئیِ ۄرتِیا جگت مہِ گھٹِ گھٹِ مُکھِ بھنھِیا ॥
بہُتُ ۄڈِیائیِیا ساہِبےَ نہ جاہیِ گنھیِیا ॥
سچُ سہجُ اندُ ستِگُروُ پاسِ سچیِ گُر منھیِیا ॥
نانک سنّت سۄارے پارب٘رہمِ سچے جِءُ بنھِیا ॥੧੨॥
لفظی معنی:
پرمیئسور۔ بھار آقا۔ خدا۔ سوئی ۔ وہی ۔ ورتیا۔ جاری ہوا۔ پھیلا۔ جگ میہہ ۔ دنیا میں ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دل نے ۔ مکھ ۔ بھیا۔ زبان سے بیان کیا ۔ صاحبے ۔ مالک ۔ سچ ۔ صدیوی ۔ سہج ۔ روھانی سکنو ۔ اند ۔ انند۔ روحانی خوشی ۔ سچی گر منیا۔ مرشد کی سچی منی ۔ سنت سوارے پار برہم۔ روحانی رہبروں کوخدا خود صراط مسقتیم پر چلاتا ہے اور بناؤ سنوار کرتا ے ۔ سچے جیؤ بنیا۔ صدیوی سچے خدا جیسے ہو جاتے ہیں۔
ترجمہ:
کامل اور سچا مرشد جو کہتا ہے خدا اسے سنتا ہے ۔ وہی ہوتا ہے دنیا میں ہر دل زبان سے ہے بولتا۔ اتنی بلند عطمت و حشمت ہے خدا کی کہ بیان ہو سکتی شمار کی جا نہیں سکتی ۔ صدیوی حقیقت روحانی سکون روھانی خوشی سچے مرشد کے پاس ہے اور سچی صدیوی دولت ۔ اے نانک۔ پر ماتما اپنے کدمتگاروں کی زندگیاں خود ہی درست اور پاک بناتا ہے اور سنت روحانی رہبرولی اللہ خدا کی مانند ہو جاتی ہے ۔

سلوک مਃ੩॥
اپنھا آپُ ن پچھانھئیِ ہرِ پ٘ربھُ جاتا دوُرِ ॥
گُر کیِ سیۄا ۄِسریِ کِءُ منُ رہےَ ہجوُرِ ॥
منمُکھِ جنمُ گۄائِیا جھوُٹھےَ لالچِ کوُرِ ॥
نانک بکھسِ مِلائِئنُ سچےَ سبدِ ہدوُرِ ॥੧॥
لفظی معنی:
اپنا آپ ۔ خویش کردار یا امعال۔ پچھانئی ۔ تحقیق یا پڑتال نہیں کی ۔ وسری ۔ بھلائی۔ حضور۔ حاضر۔ الہٰی حضوری میں ۔ منمکھ ۔ خودی پسند۔ جنم گوائیا۔ زندگی برباد کی ۔ جھوٹھے لالچ ۔ ایسے لالچ جو ختم ہو جاتا ہے ۔ کور ۔ کوڑ ۔ جھوٹ۔ سچے سبد۔ سچے کلام ۔ حددر۔ حضوری میں۔
ترجمہ:
جو انسان اپنے کردار و اعمال کی تحقیق پڑتال ، پہچان ، نہیں کرتا اور خدا کو کہیں دور بستا سمجھتا ہے ۔ خدمت مرشد بھال دیتا ہے تب اسکا دل الہٰی حضوری میں کیسے رہیگا۔ خودی پسند جھوٹ اور جھوٹے لالچ میں زندگی برباد کر لیتا ہے ۔ اے نانک۔ جو سچے کلام سے الہٰی حضوری پاتے ہیں خدا انہیں اپنی کرم عنایت ملاپ بخشتا ہے ۔

مਃ੩॥
ہرِ پ٘ربھُ سچا سوہِلا گُرمُکھِ نامُ گوۄِنّدُ ॥
اندِنُ نامُ سلاہنھا ہرِ جپِیا منِ آننّدُ ॥
ۄڈبھاگیِ ہرِ پائِیا پوُرنُ پرماننّدُ ॥
جن نانک نامُ سلاہِیا بہُڑِ ن منِ تنِ بھنّگُ ॥੨॥
لفظی معنی:
سچا ۔ صدیوی سچ۔ سوہلا۔ تعریفی نغمہ ۔ گورمکھ ۔ مرید رمشد۔ نام گوبند۔ الہٰی نام ۔ چپنا۔ یادوریاض ۔ من آنند۔ دل کو روحانی سکون و خوشی ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ پورن کامل۔ پر مانند۔ بھاری بلند روحانی سکون والا۔ بہوڑ ۔ دوبارہ ۔ من تن ۔ دل وجان ۔ بھنگ ۔ جدائی۔
ترجمہ:
خدا کا سچا صدیوی کلام صدیوی سچ اور سچے خدا کی حمدوچناہ سے ملتا ہے ۔ ہر روز الہٰی نام سچ وحقیقت کی حمدو تعریف سے روحانی سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ بلند قسمت سے مکمل سکون اور خوشیوں والے کا وصل و ملاپ حاصل ہوا ۔ خادم نانک نے سچ وحقیقت کی حمدوثناہ کی لہذا دوبار دل و جان سے جدا نہیں ہوا۔

پئُڑیِ ॥
کوئیِ نِنّدکُ ہوۄےَ ستِگُروُ کا پھِرِ سرنھِ گُر آۄےَ ॥
پِچھلے گُنہ ستِگُرُ بکھسِ لۓ ستسنّگتِ نالِ رلاۄےَ ॥
جِءُ میِہِ ۄُٹھےَ گلیِیا نالِیا ٹوبھِیا کا جلُ جاءِ پۄےَ ۄِچِ سُرسریِ سُرسریِ مِلت پۄِت٘رُ پاۄنُ ہوءِ جاۄےَ ॥
ایہ ۄڈِیائیِ ستِگُر نِرۄیَر ۄِچِ جِتُ مِلِئےَ تِسنا بھُکھ اُترےَ ہرِ ساںتِ تڑ آۄےَ ॥
نانک اِہُ اچرجُ دیکھہُ میرے ہرِ سچے ساہ کا جِ ستِگُروُ نو منّنےَ سُ سبھناں بھاۄےَ ॥੧੩॥੧॥ سُدھُ ॥
لفظی معنی:
نندک۔ بدگوئی یا برائیاں کرنیوالا ۔ سرن ۔ پناہ۔ گنیہہ۔ بد اوصاف ۔ گناہ ۔ دوش۔ برائیاں۔ میہہ۔ بارش۔ سرسری ۔ گنگا ۔ پاون ۔ پوتر۔ پاک و مقدس۔ ست سنگت۔ صحبت و قرببت پاکدامناں ۔ وڈیائی۔ عطمت و حشمت ۔ نرویر ۔ جسکی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ۔ ترسنا ۔ پیاس۔ تڑ ۔ فوراً ۔ اچرج ۔ حیران کرنیوالے کا ۔ سبھنا ن بھاوے ۔ سب کا پیارا ہو جائے ۔
ترجمہ:
مرشد کی بدگوئی کرنیوالا بد خوآہ اگر مرشد کی پناہ میں آجائے تو سچا مرشد اسکے پہلے کئے ہوئے گناہ بخش دیتا ہے اور صحبت و قربت پاکدامنوں میں اسے ملا دیتا ہے ۔
جیسے بارش برستی ہے گو تلیوں نالیوں اور جوہڑوں کا پانی ملکر گنگا میں ملجاتا ہے اور گنگا میں ملنے پر پاک و مقدس ہو جاتا ہے ۔ یہ ہے عظمت سچے مرشد کی جسکی کسی سے دشمنی نہیں جس کے ملنے سے بھوک پیاس مٹ جاتی ہے ۔ اور فورا ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ ویکسو کتنی خیران کرنیوال بات ہے کہ صدیوی سچے شاہوکار کی کہ جو اس پر یامان ۔ صدق و یقین لات اہے وہ سب کا پیارا ہو جاتا ہے ۔

بِلاۄلُ بانھیِ بھگتا کیِ ॥ کبیِر جیِءُ کیِ
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ گُرپ٘رسادِ ॥
ایَسو اِہُ سنّسارُ پیکھنا رہنُ ن کوئوُ پئیِہےَ رے ॥
سوُدھے سوُدھے ریگِ چلہُ تُم نتر کُدھکا دِۄئیِہےَ رے ॥੧॥ رہاءُ ॥
بارے بوُڈھے ترُنے بھئیِیا سبھہوُ جمُ لےَ جئیِہےَ رے ॥
مانسُ بپُرا موُسا کیِنو میِچُ بِلئیِیا کھئیِہےَ رے ॥੧॥
دھنۄنّتا ارُ نِردھن منئیِ تا کیِ کچھوُ ن کانیِ رے ॥
راجا پرجا سم کرِ مارےَ ایَسو کالُ بڈانیِ رے ॥੨॥
ہرِ کے سیۄک جو ہرِ بھاۓ تِن٘ہ٘ہ کیِ کتھا نِراریِ رے ॥
آۄہِ ن جاہِ ن کبہوُ مرتے پارب٘رہم سنّگاریِ رے ॥੩॥
پُت٘ر کلت٘ر لچھِمیِ مائِیا اِہےَ تجہُ جیِء جانیِ رے ॥
کہت کبیِرُ سُنہُ رے سنّتہُ مِلِہےَ سارِگپانیِ رے ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
پیکھنا۔ کھیل ۔ تماشہ ۔ دکاھئی دیتا ہے ۔ سودھے سودھے ۔ سیدھے سیدھے ۔ ریگ ۔ راستے ۔ سودھے سودھے ریگ ۔ چلہو۔ مراد اے انسان دنیا میں زندگی کا صراط مستقیم اختیا کرؤ۔ نتر ۔ ورنہ ۔ کدھکا ۔ دھکے ملیں گے ۔ رہاؤ۔ دھنونتا۔ دولتمند ۔ نروھن ۔ کنگال ۔ بارے ۔ بچبن ۔ ترنے ۔ جوان۔ جم ۔ موت۔ مانس۔ انسان ۔ بپرا۔ بیچارہ ۔ موسا۔ چوہا۔ میچ۔ موت ۔ بلیئیا۔ بلی (1) ۔ منئی ۔ جومانے جاتے ہیں ۔ انسان ۔ کچھو ناکافی ۔ کوئی محتاجی نہیں۔ راجا۔ حکمران ۔ پرجا۔ رعیت ۔ رعائیا۔ سم ۔ برابر ۔ کال ۔ موت۔ وڈانی ۔ بھاری طاقتور۔ (2) آویہہ نہ جاہے ۔ آواگون ۔ تناسخ۔ ہر کے سیوک ۔ خدائی خدمتگار ۔ ہربھائے جو محبوب الہٰی ہوگئے ۔ نراری ۔ نرالی ۔ انوکھی ۔ پار برہم سنگاری رے ۔ خدا ان کا ساتھی ہے (3) کلتر ۔ عورت ۔ لچی ۔ دولت ۔ تجہو۔ چھوڑو ۔ جیئہ جانی ۔ دل سے پیارے ۔ سارنگ پانی ۔ خدا۔
ترجمہ:
ایسا کدھائی دیتا ہے کہ اس دنیا میں صدیوی طور پر کوئی رہ نہیں سکتا ۔ اس لئے طراط مستقیم اختیار کرؤ ورنہ وھکے کھاؤ گے ۔ رہاو۔ خوآہ کوئی بچہ ہے یا بوڑھا یا نوجوان سب کو موت لازم ہے ۔ انسان اس چوہے کی مانند ہے جسے موت ایک بلی جیسی ہے جو چوہے کو کھا جاتی ہے (1) خوآہ کوئی دولتمند ہو یا کنگال انسنا موت کسی کا لھاظ نہیں رکھتی ۔ خوآہ حکرمان ہے یا عبت سب کو برابر موت آتی ہے ایسی طاقتور ہے (2) خدا ئی خدمتگار جو خدا کے پیارے ہیں انکی کہانی انوکھی ہے ۔ نہ وہ تناسخ میں پڑتے ہیں اور خدا ان کا ساتھی و مدد گار رہتا ہے (3) بیوی ، بیٹے اور دولت دل سے پیار یؤ انکی محبت چھوڑو ۔ کبیر صاحب کا فرمان ہے فرماتے ہیں کہ اے خدا رسیدہ روحانی رہبرو کہ مندر بالا پرہیز گاری سے الہٰی ملاپ یا وصل نصیب ہوتا ہے ۔
کلام کا مدعا و مقصد:
موت لازم ہے کوئی بھی جاویداں نہیں۔ زندگی کا صراط مستقیم اختیار کرؤ تو موت کا خوف مٹ جاتا ہے

بِلاۄلُ ॥
بِدِیا ن پرءُ بادُ نہیِ جانءُ ॥
ہرِ گُن کتھت سُنت بئُرانو ॥੧॥
میرے بابا مےَ بئُرا سبھ کھلک سیَیانیِ مےَ بئُرا ॥
مےَ بِگرِئو بِگرےَ متِ ائُرا ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپِ ن بئُرا رام کیِئو بئُرا ॥
ستِگُرُ جارِ گئِئو بھ٘رمُ مورا ॥੨॥
مےَ بِگرے اپنیِ متِ کھوئیِ ॥
میرے بھرمِ بھوُلءُ متِ کوئیِ ॥੩॥
سو بئُرا جو آپُ ن پچھانےَ ॥
آپُ پچھانےَ ت ایکےَ جانےَ ॥੪॥
ابہِ ن ماتا سُ کبہُ ن ماتا ॥
کہِ کبیِر رامےَ رنّگِ راتا ॥੫॥੨॥
لفظی معنی:
ودیا ۔ علم ۔ باد۔ بحث ۔ مباحثہ ۔ ہرگن ۔ الہٰی ۔ حمد۔ کتھت ۔ کہنے ۔ سنت ۔ سنتے ۔ بؤرانو۔ پاگل۔دیوناہ ۔ جھلا۔ (1) خلق۔ خلقت ۔ لوگ۔ سییانی ۔ سیانی ۔ دانمشند۔ بگریؤ۔ گمراہ ۔ اور ۔ اور ۔ دوسرے ۔ رہاؤ۔ جار۔ جلا دیا۔ بھرم۔ مورا۔ میری (2) بھٹکن ۔ دوڑ دہوپ ۔ گمراہی ۔ بھولؤ۔ گمراہ نہ ہو(3) سولور۔ دیوناہ وہ ہے ۔ جو آپ نہ پچھانے جیسےاپنے اعمال کے نیک و بد کی تمیز یا پہچان نہیں۔ ایکو جانے ۔ الہٰی وحدت کو سمجھے (4) ابیہہ۔ اب ہی ۔ ماتا ۔محو۔ سو۔ وہ ۔ کبہو۔ کبھی ۔ رامے ۔ رنگ راتا۔ الہٰی پیار میں محو ۔ متاثر ۔
ترجمہ:
نہ علم حاصل کیا ہے نہ بحث مباحثے کرنے جانتا ہوں الہٰی حمدوثناہ کرنے اور سننے میں ہی محو ومجذوب ہوں۔ میں دیوناہ ہوں سارے خلقت دانشمند ہے ۔ اے بابا میں دیوانہ ہوں ۔ میں گو گمراہ ہوگیا ہوں۔ دوسرا کوئی گمراہ نہ ہوئے ۔ رہاؤ۔ میں دیوناہ خود نہیں ہوآ خدا نے کیا ہے ۔ سچے مرشد نے میرے تمام وہم و گمان مٹادیئے ہیں (2) دیوانہ وہی جسے اپنی اوقات و حقیقت پہچان نہیں اپنے اعمال و کردار کی تمیز نہیں۔ اگر پانی پہچان کر بھی لے تو واحد خدا کو سمجھے (4) گومیں گمراہ ہو گیا ہوں اور اپنی ہوش و عقل گنوا لئی ہے کوئی دوسرا میری طرح گمراہ نہ ہوئے (3) کبیر صاحب فرماتے ہیں۔ کہ جو انسان اس زندگی کے دوران محو ومجذوب نہیں ہوتا الہٰی پیار میں وہ کبھی نہ ہوگا۔

بِلاۄلُ ॥
گ٘رِہُ تجِ بن کھنّڈ جائیِئےَ چُنِ کھائیِئےَ کنّدا ॥
اجہُ بِکار ن چھوڈئیِ پاپیِ منُ منّدا ॥੧॥
کِءُ چھُٹءُ کیَسے ترءُ بھۄجل نِدھِ بھاریِ ॥
راکھُ راکھُ میرے بیِٹھُلا جنُ سرنِ تُم٘ہ٘ہاریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِکھےَ بِکھےَ کیِ باسنا تجیِء نہ جائیِ ॥
انِک جتن کرِ راکھیِئےَ پھِرِ پھِرِ لپٹائیِ ॥੨॥
جرا جیِۄن جوبنُ گئِیا کِچھُ کیِیا ن نیِکا ॥
اِہُ جیِئرا نِرمولکو کئُڈیِ لگِ میِکا ॥੩॥
کہُ کبیِر میرے مادھۄا توُ سرب بِیاپیِ ॥
تُم سمسرِ ناہیِ دئِیالُ موہِ سمسرِ پاپیِ ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
گریہہ۔ گھر ۔ تج ۔ چھوڑ کر ۔ بن کھنڈ۔ جنگل۔ کندا۔ زمین اگنے والی سبزیاں وغیرہ ۔ بکار۔ بدیاں ۔ برائیاں ۔ پاپی من ۔ گناہگار من ۔ مندا ۔ برا (1) چھوٹہو۔ نجات۔ آزادی۔ ترؤ۔ کامیابی ۔ بھوجل۔ ندبھاری ۔ خوفناک زندگی کا سمندر۔ راکھ راکھ ۔ بچاؤ ۔ بچاؤ۔بیٹھلا۔ خدا۔ جن۔ خدمتگار ۔ سرن ۔ پناہ۔ رہاؤ۔ بکھے بکھے ۔ طرح طرح کے لطف مزے ۔ باسنا۔ کشش ۔ انک ۔ جتن ۔ بیشمار کوششوں ۔ رکھیا۔ بچائیا۔ پسٹائی ۔ ملوث (2) جیئرا ۔ نرمولک ۔ قیمتی زندگی ۔ کؤڈیلگ میکا۔ جسکی ایک کوڈی کے برابر قیمت نہیں (3) مادہو ۔ خدا۔ سرب دیا چی ۔ سب کے دلمیں بسنے والے ہر جگہ بسنے والے ۔ تم سمسر۔ تمہارے برابر۔ دیال۔ مہربان۔ موہے ۔سسر پاپی۔ میرے برابر گناہگار (4)
ترجمہ:
اگر خانہ داری گھریلو زندگی چھوڑ کر جنگل میں رہائش اختیار کر لی جائے اور جنگلی پھلوں پر گذارہ کریں تب بھی یہ من برائیوں کو نہیں چھوڑتا (1) کیسے نجات حاصل ہو کیسے زندگی کے اس خوفناک سمندر کو عبور کیا جائے کامیاب ہو زندگی اے خدا بچاؤ مجھے بچاؤ تیرا خدمتگار تیری پناہ میں آئیا ہے ۔ ہراو۔ طرح طرح کی لطف اور لزتیں چھوڑے نہیں جا سکتے بہت بڑھاپا آگیا جوانی گذر گئی کوئی نیک کام نہیں کیا جاسکا۔ میری یہ زندگی بیش قیمت تھی جو بلاوجہ برباد ہوگئی (3) ۔ اے کبیر بتادے ۔ کہ اے میرے پیارے خدا تو سارے قائنات و مخلوقات میں بستا ہے ۔ تیرے جیسا مہربان نہیں کوئی تو رحمان الرحیم ہے اور میرے جیسا نہیں گناہگار کوئی۔

بِلاۄلُ ॥
نِت اُٹھِ کوریِ گاگرِ آنےَ لیِپت جیِءُ گئِئو ॥
تانا بانا کچھوُ ن سوُجھےَ ہرِ ہرِ رسِ لپٹِئو ॥੧॥
ہمارے کُل کئُنے رامُ کہِئو ॥
جب کیِ مالا لئیِ نِپوُتے تب تے سُکھُ ن بھئِئو ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُنہُ جِٹھانیِ سُنہُ دِرانیِ اچرجُ ایکُ بھئِئو ॥
سات سوُت اِنِ مُڈیِݩۓ کھوۓ اِہُ مُڈیِیا کِءُ ن مُئِئو ॥੨॥
لفظی معنی:
آنے ۔ لاتا ہے ۔ لپت ۔ لیپ پوچ ۔ جیؤ گیؤ ۔ زندگی گذر گئی ۔ تانا بانا۔ کپڑا بننا۔ کچھونہ سوجھے ۔ کچھ سمجھتا نہیں۔ ہر ہر رس لپٹ رہیؤ ۔ الہٰی بندگی میں محو رہتا ہے (1) کل ۔ خاندان۔ نیپو نے ۔ بے اولاد۔ رہاؤ۔ اچرج ۔ حیرانگی ۔ سات سوت۔ تانا بنتا ۔ مڈییا ۔ لڑکا (2) سرب ۔ سکھا کا ایک ہر سوامی ۔ سارے اور ہر طرح کے آرام و آسائش کا مالک واحد خدا ۔ سو۔ اس نے ۔ نام دییؤ ۔ نام سچ و حقیقت ۔ بخشش کیا ہے ۔ پیج ۔ عزت۔ ہرناکھس ۔پرہلاد ۔ کاباپ ۔ لکھیہہ۔ ناخنوں سے ۔ بداریوں ۔ پھاڑدیا (3) گھر کے دیو۔ گھر یلو فرشتے ۔ پتر کی چھوڑی ۔ باپ داوے کی کار چھوری ۔ گر کا سبد یسیؤ ۔ کلام مرشد حاصل کیا۔ سگل پاپ کھنڈن ۔ سارے گناہوں کو مٹانیوالا۔ سنتیہہ لے ادھریؤ۔ روحانی رہبروں کے ملاپ سے بچ سکتے ہیں۔
ترجمہ:
ہر روز صبح سویرے نئے پانی کا بھر ہوا نیا گھڑا لاتا ہے اور مٹی کا پوچا دیتا ہے اور کپڑا بننے کا خیال اور سوچتا نہیں ۔ ہمیشہ الہٰی یاد میں محو رہتا ہے (1) ہمارے خاندان میں کبھی کسی نے خدا کی عبادت نہیں کی تھی ۔ جب سے اس نے تسبیح پکڑی ہے بے اولاد نے تب سے کبھی آرام حاصل نہیں ہوا (1) رہاؤ۔ اے دیورانیؤ اور جھٹانیؤسنہو یہ کیسا حیرانگی والا موقع ہے کہ اس لڑکے کپڑے بننے کا کام کھو دیا ہے یہ لڑکا مرکیوں نہ گیا (2) سارے آرام و آسائش کا ہے مالک واحد خدا اسکا نام سچ حقیقت مرشد نے ہے بخشدی روحانی رہبر عاشق الہٰی برہلاو کی جس نے عزت بچائی اور ہر ناکھس کوناخنوں سے پھاڑ ڈالا (3) گھر میں پرستش کرنیوالے دیوتاؤں کی پرستش اور آبائی کام چھوڑ دیا ہے اور سبق و کلام مرشد اپنالیا ہے اے کبیر بتادے ۔ سارے گناہ عافو کر نیوالے روحانی رہبر سنتو کی محبت کی وجہ سے بچ گیا ہوں۔

سرب سُکھا کا ایکُ ہرِ سُیامیِ سو گُرِ نامُ دئِئو ॥
سنّت پ٘رہلاد کیِ پیَج جِنِ راکھیِ ہرناکھسُ نکھ بِدرِئو ॥੩॥
گھر کے دیۄ پِتر کیِ چھوڈیِ گُر کو سبدُ لئِئو ॥
کہت کبیِرُ سگل پاپ کھنّڈنُ سنّتہ لےَ اُدھرِئو ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
راجہ ۔ حکمران ۔ سمان ۔ برابر ۔ بھوپت۔ مالکان زمین ۔ دوس ۔ دنوں ۔ دواجا۔ دکھاوا (1) رہاؤ۔ جن ۔ خدمتگار ۔ کت ۔ کب ۔ ڈوے ۔ ڈگمگائے ۔ تین بھتون ۔ تینو عالموں ۔ چھاجا ۔ تاثرات ۔ چھائیا۔ ہاتھ پسار۔ ہاتھ اُٹھا۔ انداجا۔ اندازہ ۔ چیت ۔ یاد کر۔ اچیت۔ غافل ۔ مورھ ۔ مورکھ ۔ بیوقوف۔ بابے انحد باجا۔ روحانی سکون میں روحانی سنگت جولگاتار قدرتاً ہو رہا ہے ۔ سنسا۔ تشیوش ۔ فکر ۔ بھرم۔ وہم و گمان بھغکن۔ چوکو۔ مٹا۔ ختم ہوا ۔ نواجا ۔
ترجمہ:
دنیا میں خدا کے برابر کوئی بادشاہ بھی نہیں ہے ۔ یہ حکمران مالکان زمین چند روزہ جھوٹا دکھاوا کرتے ہیں (1) اے خدا جو تیرا خدمتگار ہو جاتا ہے وہ کب ڈگمگاتا ہے اسکے سارے عالم پر تاثرات رہتے ہیں ۔ ہاتھ اُٹھانا تو در کنار اونچا بول بھی نہیں سکتے (1) اے غافل من یاد کر اس سے روحانی سکون ملتا ہے اور روحانی سنگیت و ساز روحانی بجتے رہتے ہیں۔ اے کبیر تادے فرک تشویش اور بھٹکن ختم ہوئی اور وہ دھر وپرہلاد کی طرح عظمت و حشمت اور قدرت و قیمت بخشتا ہے ۔

بِلاۄلُ ॥
کوئوُ ہرِ سمانِ نہیِ راجا ॥
اے بھوُپتِ سبھ دِۄس چارِ کے جھوُٹھے کرت دِۄاجا ॥੧॥ رہاءُ ॥
تیرو جنُ ہوءِ سوءِ کت ڈولےَ تیِنِ بھۄن پر چھاجا ॥
ہاتھُ پسارِ سکےَ کو جن کءُ بولِ سکےَ ن انّداجا ॥੧॥
چیتِ اچیت موُڑ من میرے باجے انہد باجا ॥
کہِ کبیِر سنّسا بھ٘رمُ چوُکو دھ٘روُ پ٘رہِلاد نِۄاجا ॥੨॥੫॥
لفظی معنی:
راکھ لیہو ۔ بچاؤ۔ بگری ۔ وگاڑ۔ خرابی ۔ سیل۔ شرافت۔ نیکی ۔ دھرم۔ زندگی کے فرض۔ جپ ۔ بندگی ۔ عبادت ۔ بھگت ۔ الہیی پیار۔ پریم۔ ابھیمان ۔ غرور۔ تکبر۔ ٹیڈھ پگری کج روی ۔ ٹیڑھا راستہ۔ (1) ا مر ۔ صدیوی ۔ جاویداں ۔ سنچی ۔ پرورش کی ۔ کائیا۔ جم۔ متھیا ۔ جھوٹا۔ کاچی ۔ خام ۔ جلدی ختم ہونیوالی ۔ گگری ۔ گھڑا گاگر ۔ نواجا۔ نواز ۔ قدروقیمت پائی۔ ساج۔ ساز پیدا کئے ۔ تسیہہ بسار ۔ بھلا کر۔ اور لگری ۔ دوسروں سے لگاؤ ۔ رشتہ یا شراکت کرلی (1) سندھک ۔ چور۔ تو ہے ۔ تیرا سادھ ۔ پاکدامن ۔ سرن پناہ۔ پگری ۔ پاؤں پڑے ۔ مت گھالہو ۔ نہ بھیجو ۔ خبری۔ خبر۔
ترجمہ:
اے خدا میں نے بگاڑ لیا ۔ اس لئے مجھے بچاؤ ۔ شرافت ۔ نیک عادت فرض زندگی عبادت الہٰی پیار و عشق نہیں کیا خودی تکبر وغرور کرتا رہا اور ہمیشہ زندگی بانکپن میں گذاری (1) رہاؤ۔ اس جسم کو جاویداں اور صدیوی سمجھ اسکی پرورش کی مگر یہ کچے گھڑے کی طرح پھوٹ جانیوالا ہے ۔ جس نے پیدا کیا اور قدروقیمت بنائی اسے بھلا کر دوسروں سے اشتراک رشتے اور لگاؤ بنائیا ہے (1) اے کبیر۔ یہ گذارش سن کر اے خدا میں تیرا چور ہوں پاکدامن نہیں کہلا سکتا میں تیری پناہ میں تیرے قدموں پر پڑتا ہوں ۔ مجھے موت کی خبر نہ بنانا۔

بِلاۄلُ ॥
راکھِ لیہُ ہم تے بِگریِ ॥
سیِلُ دھرمُ جپُ بھگتِ ن کیِنیِ ہءُ ابھِمان ٹیڈھ پگریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
امر جانِ سنّچیِ اِہ کائِیا اِہ مِتھِیا کاچیِ گگریِ ॥
جِنہِ نِۄاجِ ساجِ ہم کیِۓ تِسہِ بِسارِ اۄر لگریِ ॥੧॥
سنّدھِک توہِ سادھ نہیِ کہیِئءُ سرنِ پرے تُمریِ پگریِ ॥
کہِ کبیِر اِہ بِنتیِ سُنیِئہُ مت گھالہُ جم کیِ کھبریِ ॥੨॥੬॥
لفظی معنی:
درماوے ۔ درماندے۔ مجبور ہوکر۔ ٹھاڈے دربار۔ دربار میں گھڑا ہو ں ۔ سرت۔ خبر گیری ۔ درسن ۔ دیدار ۔ کھول کوار۔ دروازہ کھول کر (1) رہاؤ۔ دھن دھنی ۔ دؤلت کے مالک ۔ ادارتیاگی ۔ کھلے دل والا پرہیز گار ۔ سرونن ۔ کانوں سے ۔ سنیئت ۔ سنتا ہوں۔ سجس ۔ نیک شہرت ۔ تمام ۔ تمہارا۔ تیرا ۔ ماگؤ کا ہے ۔ کیوں مانگوں ۔ رنک ۔ نادار ۔ کنگال ۔ انستار۔ کامیابی بخشنے والے (1) بپ ۔ براہمن۔ کرپا۔ مہربانی ۔ اپار۔ اعداد و شمار سے باہر۔ سمرتھ داتے ۔ دینے کی توفیق رکھنے والے سخی ۔ چار پدارتھ ۔ چار اخلاقی یا روحانی نعمتیں۔ ست ۔ سنتوکھ ۔دیاے دھرم۔ دیت نہ بار۔ دیتے وقت دیر نہیں ہوتی ۔
ترجمہ:
اے خدا شکست خوردہ ہوکر عاجزی و انکساری سے در پر آئیا ہوں ۔ تیرے بغیر میری خبر گیری کون کرے اس لئے اے داتار دروازہ کھول کر دیدار بخشش کر (1) رہاؤ۔ اے خدا تو دولت کا مالک ہے اور کھلے دل والا سخی اور پر ہیز گار ہے سارے الم میں تیری سخاوت کی داستان عطمت و حشمت سنتے ہیں۔ میں کس سے مانگوں کیوں مانگوں سارے نادار اور کنگال دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے کامیابی اور کنارہ بخشنے والا تو ہی ہے (1) جید یو ناما سدا مابر اہمن ان پر تو نے بیشمار کرم و عنایت کی تھی۔ اے کبیر بتادے ۔ کہ اے خدا توہی ایک با توفیق سکھی ہے روحانی چار نعمتیں بخشش کرتے وقت دیر نہیں لگاتا وہ نعمتیں سب سنتوکھ ۔ دیا دھرم۔

بِلاۄلُ ॥
درمادے ٹھاڈھے دربارِ ॥
تُجھ بِنُ سُرتِ کرےَ کو میریِ درسنُ دیِجےَ کھول٘ہ٘ہِ کِۄار ॥੧॥ رہاءُ ॥
تُم دھن دھنیِ اُدار تِیاگیِ س٘رۄنن٘ہ٘ہ سُنیِئتُ سُجسُ تُم٘ہ٘ہار ॥
ماگءُ کاہِ رنّک سبھ دیکھءُ تُم٘ہ٘ہ ہیِ تے میرو نِستارُ ॥੧॥
جیَدیءُ ناما بِپ سُداما تِن کءُ ک٘رِپا بھئیِ ہےَ اپار ॥
کہِ کبیِر تُم سنّم٘رتھ داتے چارِ پدارتھ دیت ن بار ॥੨॥੭॥
بِلاۄلُ ॥
ڈنّڈا مُنّد٘را کھِنّتھا آدھاریِ ॥
بھ٘رم کےَ بھاءِ بھۄےَ بھیکھدھاریِ ॥੧॥
آسنُ پۄن دوُرِ کرِ بۄرے ॥
چھوڈِ کپٹُ نِت ہرِ بھجُ بۄرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِہ توُ جاچہِ سو ت٘رِبھۄن بھوگیِ ॥
کہِ کبیِر کیسوَ جگِ جوگیِ ॥੨॥੮॥
لفظی معنی:
کھنتھا۔ گوڈری ۔ گننی ۔ آدھاری ۔ جھولی جس میں بھیک ڈالتے ہیں۔ جوگی ۔ بھرم کے بھائے ۔ وہم و گمان ۔ شک و شبہات کی محبت میں۔ بھوے ۔ بھٹکتا ہے ۔ (1)
آسن ۔ یوگ کے طریقے ۔ پون ۔ پرانا یام ۔ بورے ۔اے نادان ۔ خبطی ۔ کپٹ ۔ دکھاوا۔ ہر بھج ۔ خدا کی عبادت اور بندگی کر ۔ رہاؤ۔ جیہہ توجا چیہہ ۔ جس نے تو مانگتا ہے ۔ تربھون ۔ تینو ں عالموں ۔ بھوگی ۔ استمعال۔ کیسو ۔ الہٰی نام۔
ترجمہ:
اے جوگی ڈنڈا مندران جھولی کو اپنا آسرا بنا کر وہم و گمان سے محبت اور جوگیوں کا بھیس اور پہراوا بنا کر بھٹکتا پھرتا ہے (1) اے وجد۔ اور جوگ ابھیاس میں کوشاں اور پرانا یام کو چھوڑ کر اور اس دکھاوے کو ختم کرکے ہمیشہ الہٰی عبادت و بندگی کر (1) رہاؤ۔ جسکی بھیک تو مانگ رہا ہے اُسے سارا عالم استمعال کر رہا ہے ۔ اے انسانو کبیر جی فرماتے ہیں کہ مانگنے کے لائق صرف الہٰی نام ہے ۔
کلام کا مدعا و مقصد:
انسانی زندگی کا مقصد ۔ الہٰی نام سچ حق وحقیقت اپنانا ہی ہے ورنہ جگیوں کے آسن پرانا یام وغیرہ کی کو ضرورت نہیں۔

بِلاۄلُ ॥
اِن٘ہ٘ہِ مائِیا جگدیِس گُسائیِ تُم٘ہ٘ہرے چرن بِسارے ॥
کِنّچت پ٘ریِتِ ن اُپجےَ جن کءُ جن کہا کرہِ بیچارے ॥੧॥ رہاءُ ॥
دھ٘رِگُ تنُ دھ٘رِگُ دھنُ دھ٘رِگُ اِہ مائِیا دھ٘رِگُ دھ٘رِگُ متِ بُدھِ پھنّنیِ ॥
اِس مائِیا کءُ د٘رِڑُ کرِ راکھہُ باںدھے آپ بچنّنیِ ॥੧॥
کِیا کھیتیِ کِیا لیۄا دیئیِ پرپنّچ جھوُٹھُ گُمانا ॥
کہِ کبیِر تے انّتِ بِگوُتے آئِیا کالُ نِدانا ॥੨॥੯॥
لفظی معنی:
جگدیس ۔ گوسائی۔ مالک عالم۔ بسارے ۔ بھلائے ۔ کنچت۔ ذراسی ۔ پریت ۔ پیار ۔ اپجے ۔ پیدا ہونا ۔ بیچارے ۔ لا علاج ۔ مجبور ۔رہاؤ۔ کھتی ۔ کاشتکاری ۔ لیوا دیئی ۔ لیت دیت ۔ پر ینچ ۔ فریب۔ دھرگ تن ۔ لعنت ہے وہ جسم۔ دھرگ دھن۔ لعنت ہے اس سرمائے پر ۔ دھرگ ایہہ۔ لعنت ہے اس دنیاوی دولت پر۔ دھرگ دھرگ مت بدھ فنی ۔ لعنت ہے اس دہوکے فریب والی عقل و ہوش پر۔ درڑ کر راکھو ۔ اچھی طرح سنبھال کر رکھو۔ باندھے آپ بچنی ۔ اپنے زیر فرمان (1) وگوئے ۔ ذلیل و خوار ہوئے ۔ آئیا کال ندانا ۔ آخرموت واقع ہوئی۔
ترجمہ:
اے خداوند کریم مالک عالم اس دنیاوی دولت نے تیری یاد بھلا دی ۔ ذراسی محبت پیار پیدا نہیں ہوتا تیرے خدمتگاروں کو غری خدمتگار کیا کر سکتے ہیں ۔ رہاؤ۔
لعنت ہے اس جسم پر اور لعنت ہے اس سرمایہ پر اور لعنت ہے ایسی عقل و ہوش پر جو اس دولت کے لئے دوسروں کو دہوکا دیتی ہے ۔ اے خدا اپنے فرمان میں اسے مضبوطی سے باندھ کر رکھو (1) اے کبیر بتادے ۔ خوآہ کھتی ہے یا بیوپار آپسی لینا دینا ۔ جھوٹ ہے فریب ہے اور جھوٹا وقار ۔ آخر جب موت آتی ہے تو انسان پچھتاتا ہے ۔

بِلاۄلُ ॥
سریِر سروۄر بھیِترے آچھےَ کمل انوُپ ॥
پرم جوتِ پُرکھوتمو جا کےَ ریکھ ن روُپ ॥੧॥
رے من ہرِ بھجُ بھ٘رمُ تجہُ جگجیِۄن رام ॥੧॥ رہاءُ ॥
آۄت کچھوُ ن دیِسئیِ نہ دیِسےَ جات ॥
جہ اُپجےَ بِنسےَ تہیِ جیَسے پُرِۄن پات ॥੨॥
مِتھِیا کرِ مائِیا تجیِ سُکھ سہج بیِچارِ ॥
کہِ کبیِر سیۄا کرہُ من منّجھِ مُرارِ ॥੩॥੧੦॥
لفظی معنی:
سرؤور۔ تالاب۔ بھیترے ۔ اس تالاب کے اندر۔ اچھے ۔ اچھے کمل۔ انوپ۔ انوکھے کنول کے پھول۔ پرم جوت۔ بھاری نور ۔ پر کھوتمو ۔ اُتم پرکھ ۔مراد خدا۔ الہٰی ہستی ۔ جاکے ۔ جسکے ۔ ریکھ ۔لکیر ۔ نشانی ۔ روپ ۔ شکل ۔ صورت (1) ہر بھج۔ خدا کی عبادت کر ۔ بھرم تجہو۔ بھٹکن یاد ہم چھوڑو ۔ جگجیون ۔ جگت یا عالم کی زندگی ۔ رہاؤ۔ آوت ۔ آتے وقت۔ کچھ نہ دیسی ۔ کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ جیہہ اپجے ۔ جہاں یا جیسے پیدا ہوتا ہے ۔ ونسے نہی ۔ اس طرح ختم ہو جاتا ہے ۔ جیسے پرون پات۔ جیسے جوپتی کے پتے (2) متھیا۔ جھوٹی ۔ تجی ۔ چھوڑی ۔ سکھ سہج وچار۔ روحانی وذہنی سکون سمجھ کر من منجھ ۔ دلمیں۔ مرار ۔ خدا۔
ترجمہ:
اے دل یاد خدا تو کیا کر اس خدا کو جو ہے عالم کی زندگی اور بھٹکن چھوڑدے (1) رہاؤ۔ اے دل یہ جسم ہے ایک تالاب جس میں اچھے اچھے پھول کنول کے ہیں کھلے ہوئے مراد اس جسم کے ذہن میں ہیں نیکیان بھری ہوئیں اسی میں ہے نور الہیی جو نورانی ہے اور بلند ہستی ہے ۔ نہ ہے اسکی شکل وصورت نہ ہے کوئی نشان اسکا (1) آتا دکھائی دیتا نہیں نہ جاتے وقت دکھائی دیتا ہے نہ وہ ہوتا ہے پیدا نہ ہی وہ مرتا ہے ۔ مگر یہ دنیاوی دولت جہاں سے پیدا ہوتی ہے ۔ اسی میں مدغم ہو جاتی ہے جیسے چوپتی کے پتے (2) جھوٹی سمجھ کر چھوڑی مائیا روحانی وذہنی سکون کا خیال کیا۔ اے کبیر بتادے ۔ کہ خڈمت کیجیئے اور دلمیں خدا بساؤ۔
مدعاو مقصد کلام:
دنیاوی دولت کے لئے تگ و دو چھوڑ کا الہٰی عبادت کیجیئے یہی ذہنی سکون کے حصول کا طریقہ ہے ۔

بِلاۄلُ ॥
جنم مرن کا بھ٘رمُ گئِیا گوبِد لِۄ لاگیِ ॥
جیِۄت سُنّنِ سمانِیا گُر ساکھیِ جاگیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کاسیِ تے دھُنِ اوُپجےَ دھُنِ کاسیِ جائیِ ॥
کاسیِ پھوُٹیِ پنّڈِتا دھُنِ کہاں سمائیِ ॥੧॥
ت٘رِکُٹیِ سنّدھِ مےَ پیکھِیا گھٹ ہوُ گھٹ جاگیِ ॥
ایَسیِ بُدھِ سماچریِ گھٹ ماہِ تِیاگیِ ॥੨॥
آپُ آپ تے جانِیا تیج تیجُ سمانا ॥
کہُ کبیِر اب جانِیا گوبِد منُ مانا ॥੩॥੧੧॥
لفظی معنی:
جنم مرن کا بھرم گیا ۔ موت و پیدائش کا وہم و گمان ختم ہوا ۔ گوبند ۔ خدا ۔ لولاگی ۔ محبت ہوگئی ۔ سن ۔ پرسکون حالت۔ ایسی ذہنی حالت جس میں ذہن میں خیال آرائی نہیں ہوتی ذہن ساکن ہوت اہے ۔ سمانیا ۔ محو ومجذوب گر ساکھی ۔ واعط مرشد۔ جاگی ۔ بیداری ہوئی ۔ رہاؤ۔ کاسی تے دھن اپجے ۔ کانسی کی دھات سے آواز پیدا ہوتی ہے ۔ دھن کاسی جائی۔ تو آزاد کانسی میں ہی چلی جاتی ہے ۔ کانسی پھوٹی پنڈتا دھن کہا سمائی ۔ اگر کانسی پھوٹ جائے تو یہ آواز کس میں ملجاتی ہے ۔ ترکٹی ۔ تین ٹیڑھی لکیریں جو پیشانی پر ہوتی ہیں۔ سندھ ۔ مٹا کے ۔ پیکھیا۔ دیکھا۔ گھٹ ہوگھٹ۔ ہر دلمیں ۔ جاگی ۔ بیداری ہوئی ۔ ایسی بدھ ۔ ایسی عقل سماچری۔ پیدا ہوئی ۔ گھٹ ماہے تیاگی ۔ دلمیں ہی اسے چھوڑ دیا ۔ (2) آپ آپ تے جانیا۔ از خود اپنی روحانی حالت الہٰی نور ۔ پرم آتما۔ آپس میں یکسو۔ مدغم ہوگئے ۔ اب جانیا ۔اب سمجھ آئی ۔ گوبند ۔ خدا۔ من (مان ) مانیا۔ من نے تسلیم کیا ۔ ایمان لائیا۔ صدق و یقین ہوا۔
ترجمہ:
سبق مرشد سے ایسی بیداری پیدا ہوئی ہے کہ موت و پیدائش کی ذہنی کشمکش اور بھٹکن ختم ہوگئی ہے ۔ اور خدا سے پیار پریم ہو گیا ۔ زندگی میں ایسے حالات پیدا ہوگئے ہں جس میں دنیاوی دولت کے متعلق سوچ خیالات ساکن ہوگئے ہیں اور اس دنیاوی دولت کے خیالات کے مدو جذر اور لہریں اُٹھنی بند ہوگئی ہیں (1) رہاؤ۔ جیسے کانسی کے برتن سے آواز پیدا ہوتی ہے اور کنایس میں ہی ملجاتی ہے ۔ اے علام علم اگر کانسی ٹوٹ جائے تو یہ آواز کہاں چلی جاتی ؟ مراد یہی حال جسمانی محبت کا ہے مگر جب سے ذہن میں بیدایر پیدا ہوتی ہے میری جسمانی محبت ختم ہوگئی ہے او رمیرا دنیاوی نعمتوں کی محبت کی لہریںاور مدوجز اُٹھنے والا وہ لرہیں ہی ٹوٹ گیا ہے اب پرتہ ہیں وہ خواہشات کی آواز مدوجز اور لہریں کہاں گم ہوگئیں ہیں (1) پیشانی کی تیوڑی مٹآ کر اب مجھے ہر دلمیں الہٰی تور نظر آتا ہے اور ایسی سمجھ آئی ہے کہ میرے دلمیں پرہیز گاری پیدا ہوگئی اور طارق ہوگیا ہوں (2) مجھے اپنی اندرونی اور روحانی واخلاقی حقیقت کا پتہ چل گیا ہے اب میرا نور یا روح الہٰی روح یا آتما پرم آتما خدا سے یکسو یا مجذوب ہوگیا ہے ۔ اے کبیر بتادے ۔ اب میں نے الہٰی ہستی اور خدا کی پہچان کرلی ہے اور خدا میں ایمان صدق و یقین لے آئیا ہوں ۔
مدعا و مقصد کلام:
جتنی دیر تک انسان کی جسم سے محبت اور پیار ہے اتنی دیر دلمین کشش پیدا ہوتی ہے اور اسکے سبب بنتے رہتے ہیں۔ یشنای پر شکن پڑتے رہتے ہیں مگر مرید مرشد اور الہٰی نام سچ وحقیقت سچ وحقیقت یاد کرنے اور رکھنے سے شکن مٹ جاتے ہیں

بِلاۄلُ ॥
چرن کمل جا کےَ رِدےَ بسہِ سو جنُ کِءُ ڈولےَ دیۄ ॥
مانوَ سبھ سُکھ نءُ نِدھِ تا کےَ سہجِ سہجِ جسُ بولےَ دیۄ ॥ رہاءُ ॥
تب اِہ متِ جئوُ سبھ مہِ پیکھےَ کُٹِل گاںٹھِ جب کھولےَ دیۄ ॥
بارنّ بار مائِیا تے اٹکےَ لےَ نرجا منُ تولےَ دیۄ ॥੧॥
جہ اُہُ جاءِ تہیِ سُکھُ پاۄےَ مائِیا تاسُ ن جھولےَ دیۄ ॥
کہِ کبیِر میرا منُ مانِیا رام پ٘ریِتِ کیِئو لےَ دیۄ ॥੨॥੧੨॥
لفظی معنی:
چرن کمل جاکے روتے (بسے) بسیہہ۔ جسکے دلمیں خدا بس جائے ۔ سوجن ۔ وہ انسان ۔ ڈوئے ۔ ڈگمگاتے ۔ متزلزل۔ نوندھ ۔ نو خزانے ۔ سہج سہج ۔ پر سکون ماحول میں۔ جس ۔ تعریف۔ حمدوثناہ ۔ رہاؤ۔ مت۔ سمجھ ۔ جؤ۔ جب۔ کٹل گانٹھ ۔ مخمسہ جس میںپوشیدہ ہو فریب۔ کھول۔ افشاہ کرے ۔ اٹکے ۔ رکے ۔ نرجا۔ ترازو۔ تکڑی ۔ من توے ۔ دل ٹٹوے ۔ تحقیق کرے (1) جیہہ۔ جہاں۔ تاس۔ اُسے ۔ جھوے ۔ ڈگمگائے ۔ مانیا۔ تسلیم کیا۔ قبول کیا۔ ایمان لائیا۔ پریت ۔ پیار۔
ترجمہ:
(اے) جسکے دلمیں بستا خدا وہ ڈگمگائے کیوں لرزش آئے کیوں سمجھو کہ آرام و آسائش کے ہیں نو خزانے ہیں اسکے پاس۔ وہ روحانی سکون میں کرتا ہے حمدوثناہ ۔ رہاؤ۔ جب انسان اپنے دل سے کج روی اور فریب مٹا دیتا ہے تب اسکے دلمیں یہ خیال پیدا ہوتا ہے تو اسے ہر دلمیں نور الہٰی بستا نظر آتا ہے ۔ تب وہ بار بار دنیاوی دولت سے روکتا ہے ۔ ارو لے پیمانہ پیمائش کرتا ہے دل کی مراد کرتا اپنے آپ کے نیک و بد کی تحقیق و تمیز کرتا ہے (1)
جاہں جاتا ہے آرام ہی پاتا ہے دنایوی دولت متاثر کرتی نہیں اُسے ۔ اے کبیر بتادے ۔ کہ میرا من ایمان لے آئیا ہے اور خدا سے پیار ہوگیا ہے ۔
مدعا و مقصد کلام:
خدا سے محبت کرنے سے من دنیاوی دولت کا گرویدہ و دلدادہ و مرید نہیں بنتا اور محتاج و دست نگر نہیں ہوتا۔

بِلاۄلُ بانھیِ بھگت نامدیۄ جیِ کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سپھل جنمُ مو کءُ گُر کیِنا ॥
دُکھ بِسارِ سُکھ انّترِ لیِنا ॥੧॥
گِیان انّجنُ مو کءُ گُرِ دیِنا ॥
رام نام بِنُ جیِۄنُ من ہیِنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
نامدےءِ سِمرنُ کرِ جاناں ॥
جگجیِۄن سِءُ جیِءُ سماناں ॥੨॥੧॥
لفظی معنی:
سپھل۔ برآور ۔ کامیاب ۔ جنم ۔ پیدائش ۔ زندگی ۔ کینا۔ کیا۔ گر ۔ مرشد نے ۔ رما نام بن ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کے بغیر ۔ جیون ہنسا۔زندگی بیکار ۔ خالی۔ بسار۔ بھلا کر۔ سکھا نتر ۔ سکھ میں ۔ گیان انجن۔ علم و عقل و سمجھ کا سرمہ ۔ گرونیا۔ مرشد نے دیا۔ رام نام ۔ الہٰی نام کے بغیر ۔ جیون ۔ زندگی ۔ رہاؤ۔ سمرن کرجانا۔ یادوریاض سے پہچان اور سمجھ آئی ہے ۔ جگیجون ۔ عالم کو ظہور میں لانے والا۔ زندگی عنایت کرنیوالا۔ عالما کی زندگی ۔ سیو ۔ ساتھ ۔ جیؤ۔ روح ۔ سمانا۔ مجذوب ۔
ترجمہ:
مرشدنے میری زندگی بنائی کامیاب ۔ دکھ بھلا کر سکھ حاصل ہوا (1) مرشد نے زندہ رہنا بیکار ہوا ۔ اے دل ۔ رہاؤ۔ نامدیو کو یاد وریاضس ے آئی ہے سمجھ اور پہچان ئوئی اور زندگی بخشنے والے عالم سسنیں روح میری مل گئی ۔
مدعا و مقصد:
الہٰی یادوریاض سے کامیاب ہو جاتی ہے زنگی یہ نعمت ملتی ہے مرشد سے۔

بِلاۄلُ بانھیِ رۄِداس بھگت کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
دارِدُ دیکھِ سبھ کو ہسےَ ایَسیِ دسا ہماریِ ॥
اسٹ دسا سِدھِ کر تلےَ سبھ ک٘رِپا تُماریِ ॥੧॥
توُ جانت مےَ کِچھُ نہیِ بھۄ کھنّڈن رام ॥
سگل جیِء سرناگتیِ پ٘ربھ پوُرن کام ॥੧॥ رہاءُ ॥
جو تیریِ سرناگتا تِن ناہیِ بھارُ ॥
اوُچ نیِچ تُم تے ترے آلجُ سنّسارُ ॥੨॥
کہِ رۄِداس اکتھ کتھا بہُ کاءِ کریِجےَ ॥
جیَسا توُ تیَسا تُہیِ کِیا اُپما دیِجےَ ॥੩॥੧॥
لفظی معنی:
دارد۔ دردر ۔ غریبی ۔ ہسے ۔ مخول یا مذاق کرتے ہیں۔ وسا۔ حالت۔ اسٹ دساسدھ ۔ اٹھارہ معجزے یا کراماتی طاقتیں ۔ کر تلے ۔ ہاتھ کے نیچے (1) بھوکھنڈن ۔ تناسخ مٹانے والے ۔ سگل جیئہ ۔ ساری مخلوقات ۔ پورن کام ۔ کامنائیں خواہشات پورن کرنیوالے (1) رہاؤ۔ جو تیری سرناگتی جو تیرے زیر سیایہ یا پناہ میں رہتا ہے ۔ تن نا ہی بھار۔ اسمیں بدیوں اور برائیوںکا بوجھ نہیں رہتا۔ آلج ۔ بے غیرت (2) آکتھ کتھا ۔ ایسی کہانی بیان نہ ہو سکے ۔ بہو ۔ زیادہ ۔ کائے ۔ کس لئے ۔ کریجے کرتا ہے ۔ تیسا۔ ویسا۔ اپما۔ تشبیح ۔ مثال۔
ترجمہ:
اے تناسخ متٹآنے والے اور کا منائیں اور خؤاہشات پوری کرنیوالے خدا سارا عالم تیرے زیر سیاہ ہے ۔ تو جانتا ہے کہ میرے اپنی کوئی ہستی نہیں۔ مجھ میں کوئی طاقت نہیں ۔ رہاؤ۔
میری ناداری اور غریبی دیکھ کر سبھ ہنستے ہیں اور مذاق کرتے ہیں مگرا ب اٹھارہ معجزے میرے ہاتھ میں ہیں یہ ساری تیری ہی کرم و عنایت ہے اے خدا (1)
اے خدا جو بھی تیرے زیر سایہ و پناہ آتا ہے اسکی روح پاک ہو جاتی ہے انکی ضمیر پر گناہوں کا بوجھ نہیں رہتا۔ جو بھی خوآہ وہ کمینی ذات سے بلند خاندان سے ہو اس بے غیرت دنیا سے اپنی زندگی کامیاب بنا لیتا ہے (2) اے رویداس:کہہ دے بتادے کہ اے خدا تیری کہانی نا قابل بیان ہے بیان نہیں کیجاسکتی خوآہ کتنی کوشش کیجائے ۔ کیونکہ تیرا دنیا میں کوئی ثانی نہیں تیرے جیسا نہیں جسکی تشبیح تجھ سے ویجاسکے تو اپنے جیسا آپ ہی ہے ۔
خلاصہ کلام:
الہٰی حمدوثناہ ناداروں کو شہنشاہی بخش دیتی ہے ۔

بِلاۄلُ ॥
جِہ کُل سادھُ بیَسنوَ ہوءِ ॥
برن ابرن رنّکُ نہیِ ایِسُرُ بِمل باسُ جانیِئےَ جگِ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ب٘رہمن بیَس سوُد ارُ کھ٘ز٘زت٘ریِ ڈوم چنّڈار ملیچھ من سوءِ ॥
ہوءِ پُنیِت بھگۄنّت بھجن تے آپُ تارِ تارے کُل دوءِ ॥੧॥
دھنّنِ سُ گاءُ دھنّنِ سو ٹھاءُ دھنّنِ پُنیِت کُٹنّب سبھ لوءِ ॥
جِنِ پیِیا سار رسُ تجے آن رس ہوءِ رس مگن ڈارے بِکھُ کھوءِ ॥੨॥
پنّڈِت سوُر چھت٘رپتِ راجا بھگت برابرِ ائُرُ ن کوءِ ॥
جیَسے پُریَن پات رہےَ جل سمیِپ بھنِ رۄِداس جنمے جگِ اوءِ ॥੩॥੨॥
لفظی معنی:
سیسنو ۔ خدا پرست۔ سادھ ۔ پاکدامن۔ بَرن ۔ اونچی ذات یا خاندان ۔ اَبرن ۔ نیچی ذات ۔ رنک ۔ نادار۔ غریب ۔ کنگال ۔ ایسر۔ دولتمند۔ امیر۔ بمل باس۔ پاک شہرت۔ جانیئے ۔ سمجھیں ۔ جَگ سوئے ۔ اُسی کی شہرت دنیا میں ۔ رہاؤ۔ ویس۔ کاشتکار ۔ بیوپاری ۔ سود۔ شودر۔ ڈوم ۔ مراسی ۔ چنڈار ۔ چنڈال ۔ غلیظ ۔ ملیچھ ۔ ناپاک من و سمجھ والے ۔ پنیت ۔ نہایت پاک ۔ بھگونت بھجن نے ۔ الہٰی حمدوثناہ سے ۔ آپ۔ خود۔ خوئش ۔ تار ۔ کامیاب ۔ کل دوئے ۔ دونوں خاندان (1) گاؤ۔ موضع۔ دیہہ ۔ گاؤں ۔ ٹھاؤ۔ ٹھکانہ ۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔ سبھ لوئے ۔ سارے لوگ۔ سار رس ۔ حقیقی لطف۔ تجے ۔ چھوڑ۔ آن رس۔ دوسرے لطف۔ مگن ۔ محو۔ مست ۔ ڈارے ۔ پھینک دے ۔ وکھ ۔ زہر (2)
پنڈت۔ علام فاضل۔ سور۔ بہادر۔ چھترپت راجا۔ ایسا بادشاہ جس کے سر پر چھتر ہو جھولتا ۔ بھگت ۔ الہٰی عاشق و عابد (1) گاؤں ۔ پرین پات۔ چوپتی کے پتے ۔ سمیپ۔ نزدیک ۔ بھن۔ کہتا ہے ۔ جمنے جگ اوئے ۔ ان کا ہی پیدا ہونا کامیاب ہے ۔
ترجمہ:
جس کتنے خاندان میں عابد خدا پرست پاکدامن خدا رسیدہ پیدا ہوجائے ۔ چاہے ہو اونچی ذات یا ہو نیچی ذات سے خواہ دولتمند یا ہو نادار وہ عظمت پاتا ہے پاکدامنی کے لئے مشہور ہو جاتا ہے ۔ رہاؤ۔ برہمن ہو یا کتھری کا شتکار ہو بیوپاری میراسی ہو یا چنڈال خوآہ ناپاک ہو دل اُسکا الہٰی حمدوثناہ یاد و ریاض سے اپنی زندگی پاک بناتا ہے اور دونوں خاندانوں کو کامیاب بناتا ہے (1) مبار ک باد کا مستحق ہے وہ گاؤں اور مبارک اس ٹھکانے کو اور مبار ہے سارے قبیلے اور سارے لوگوں کو جو پاک ہوئے ۔ جس نے سب اعلے لطف حاصل کیا اور دوسرے لطف چھوڑے اور پرہیز کیا اور اسمیں محو ومجذوب ہوئے اور برائیوں کے لطف کو مٹائیا (2) پنڈت سور چھتر پت راجا ۔ خواہ عالم فاضل یا ہو بہادر جنگجو یا ہو راجا چیسر چھتر جھولتا ہو کوئی نہیں ہو سکتا الہٰی پریمی یا عابد و عاشق خدا کے برابر۔ رویداس کہتا ہے کہ مبارک ہے پیدا ہونا بھگت کا جگت میں جیسے جو پیتی نزدیک رہتی ہے پانی کے ۔
خلاصہ:
الہٰی عبادت نیچے کو اونچا بنا دیتی ہے ۔

بانھیِ سدھنے کیِ راگُ بِلاۄلُ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ن٘رِپ کنّنِیا کے کارنےَ اِکُ بھئِیا بھیکھدھاریِ ॥
کامارتھیِ سُیارتھیِ ۄا کیِ پیَج سۄاریِ ॥੧॥
تۄ گُن کہا جگت گُرا جءُ کرمُ ن ناسےَ ॥
سِنّگھ سرن کت جائیِئےَ جءُ جنّبُکُ گ٘راسےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایک بوُنّد جل کارنے چات٘رِکُ دُکھُ پاۄےَ ॥
پ٘ران گۓ ساگرُ مِلےَ پھُنِ کامِ ن آۄےَ ॥੨॥
پ٘ران جُ تھاکے تھِرُ نہیِ کیَسے بِرماۄءُ ॥
بوُڈِ موُۓ نئُکا مِلےَ کہُ کاہِ چڈھاۄءُ ॥੩॥
مےَ ناہیِ کچھُ ہءُ نہیِ کِچھُ آہِ ن مورا ॥
ائُسر لجا راکھِ لیہُ سدھنا جنُ تورا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
نرپ کنیا۔ رابے کی لڑکی ۔ کارنے ۔ کیوجہ سے ۔ بھییا۔ ہوآ۔ بھیکھدھاری ۔ دھارمک یا مذہبی پہراوا کیا یا بنائیا۔ کا مارتھی ۔ شہوت پرست ۔ سوآرتھی ۔ مطلب پرست۔ پیج ۔ عزت (1) گو گن ۔ تیرے اوصاف ۔ جگت گرا۔ مرشد علام ۔ بھیکھدھاری ۔ مذہبی پہراوا۔ یادکھاواکرنیوالا ۔پاکھنڈی ۔کرم نانا سے ۔ اعمال جو ہو چکے ہیں کا نتیجہ نا مٹا سکو۔ سنگھ سرن ۔ شیر کی پناہ ۔ کت جاییئے کیوں جائیں۔ جنبک ۔ گدڑ ۔ گراسے ۔ کھاجائے ۔ رہاؤ۔ بوند ۔ قطرہ۔ جل۔ پانی ۔کارنے کی وجہ سے ۔ چاترک ۔پپیہا۔ ساگر۔ سمندر (2) تھر ۔ مستقل ۔ برمادؤ۔ دلاسادوں ۔ دھیرج بندھاوں ۔ بوڈ موئے ۔ جب ڈوب گئے ۔ تؤکا ۔ کشتی ۔ چڑھاوؤ۔ چڑھائیں (3) آہے نہ مورا۔ میرا ہے ۔ اؤسر۔ موقعہ ۔ لجا۔ شرم و حیا۔ جن ۔ خدمتگار (4)
ترجمہ:
اے مرشد علام اگر پچھلے کئے ہوئے اعمال کا نتیجہ نہ مٹا تو تیری پناہ لینے کا کیا فائدہ ہوگا۔ جیسے شیر کی پناہ لینے کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے اگر گیدڑ ہی کھا جائے ۔ رہاؤ۔ اے خدا تو نے ایک مطلب پرست خؤد غرض اور شہوت پرست کی عزت وآبرو بچائی جسنے ایک راجے کی لڑکی کے لئے اپنا پہراوا و دکھاوا دھارمک بنائیا (1) ایک پانی کے قطرے کے لئے پپیہا عذاب برداشت کرتا ہے ۔ مگر موت ہوجانے کے بعد سمندر بھی مل جائے تو اسکے کسی کام نہیں آتا ہے (2) میری زندگی ماند پڑ گئی لرزش میں ہے کپکی ہو رہی ہے ۔ کیسے سکون یا دھیرج حاصل ہو۔ ڈوب جانے کے بعد کشتی ملجائے تو اسمیں کسے چڑھائیا جائیگا (3) نہ میں کچھ ہوں نہ میرا ہے کوئی آسرا ۔ اے خدا سھنا تیرا خدمتگار ہے ۔ اسکے عزت بچانے کا موقعہ ہے ۔

ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
راگُ گوݩڈ چئُپدے مہلا ੪ گھرُ ੧॥
جے منِ چِتِ آس رکھہِ ہرِ اوُپرِ تا من چِنّدے انیک انیک پھل پائیِ ॥
ہرِ جانھےَ سبھُ کِچھُ جو جیِءِ ۄرتےَ پ٘ربھُ گھالِیا کِسےَ کا اِکُ تِلُ ن گۄائیِ ॥
ہرِ تِس کیِ آس کیِجےَ من میرے جو سبھ مہِ سُیامیِ رہِیا سمائیِ ॥੧॥
میرے من آسا کرِ جگدیِس گُسائیِ ॥
جو بِنُ ہرِ آس اۄر کاہوُ کیِ کیِجےَ سا نِہپھل آس سبھ بِرتھیِ جائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جو دیِسےَ مائِیا موہ کُٹنّبُ سبھُ مت تِس کیِ آس لگِ جنمُ گۄائیِ ॥
اِن٘ہ٘ہ کےَ کِچھُ ہاتھِ نہیِ کہا کرہِ اِہِ بپُڑے اِن٘ہ٘ہ کا ۄاہِیا کچھُ ن ۄسائیِ ॥
میرے من آس کرِ ہرِ پ٘ریِتم اپُنے کیِ جو تُجھُ تارےَ تیرا کُٹنّبُ سبھُ چھڈائیِ ॥੨॥
جے کِچھُ آس اۄر کرہِ پرمِت٘ریِ مت توُنّ جانھہِ تیرےَ کِتےَ کنّمِ آئیِ ॥
اِہ آس پرمِت٘ریِ بھاءُ دوُجا ہےَ کھِن مہِ جھوُٹھُ بِنسِ سبھ جائیِ ॥
میرے من آسا کرِ ہرِ پ٘ریِتم ساچے کیِ جو تیرا گھالِیا سبھُ تھاءِ پائیِ ॥੩॥
آسا منسا سبھ تیریِ میرے سُیامیِ جیَسیِ توُ آس کراۄہِ تیَسیِ کو آس کرائیِ ॥
کِچھُ کِسیِ کےَ ہتھِ ناہیِ میرے سُیامیِ ایَسیِ میرےَ ستِگُرِ بوُجھ بُجھائیِ ॥
جن نانک کیِ آس توُ جانھہِ ہرِ درسنُ دیکھِ ہرِ درسنِ ت٘رِپتائیِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
آس۔ اُمید ۔ ہر اوپر۔ خدا پر۔ من چندے ۔ دلی خواہش کے مطابق ۔ انیک انیک۔ بیشمار۔ جیئہ ورتے ۔ جو دلمیں ہے ۔ گھالیا۔ محنت و مشقت ۔ تل ۔ ذرا بھر ۔تھوڑا سا بھی ۔ گوائی ۔ ضائع نہیں کرتا۔ سوآمی ۔ آقا ۔ مالک ۔ رہیا سمائی۔ سبھ میں بستا ہے (1) جگدیس گوسائیں ۔ مالک عالم ۔ کاہو۔ کسے کی ۔ نحفل۔ بیکار۔ بیفائدہ ۔ برتھی ۔ بیفائدہ (1) رہاؤ۔ کٹنب۔ قبیلہ ۔پریوار۔ سپڑے ۔ بیچارے ۔ واہیا۔ طاقت کا ستعمال۔ وسائی ۔ بس نہیں چلتا ۔ چھڈائی ۔ نجات ۔ آزادی (2) اور۔ دوسرے ۔ پرمتری ۔ ظاہر ۔ دوستوں کی ۔ پرمتری بھاؤ ہے دوجا۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ جھوٹھ ۔ ونس ۔ جائے ۔ بہت جلد جھوٹ مٹ جاتا ہے ۔ پریتم ساچے ۔ سچے صدیوی دوست ۔ گھالیا سبھ تھائے پائے ۔ تیرے مخنت و مشقت برآور ہوا (3) ہتھ ۔ اختیار۔ بوجھ بجھائی ۔ سمجھ دی ہے سمجھائیا ہے ۔ ہر درسن ۔ دیدار الہٰی۔ ترپتائی ۔ تسکین ملتی ہے ۔
ترجمہ:
اے دل مالک عالم پر اُمید رکھ ۔ جو خدا کے علاوہ دوسروں سے اُمید رکھتا ہے وہ اُمید بیکار چلی جاتی ہے ۔ رہاؤ۔ اگر دلمیں صرف خدا پر ہو بھروسا تو بیشمار بلا مانگے پھل ملتے ہیں۔ کیونکہ خدا سب کچھ جانتا ہے جو ہمارے دلیں اور خدا کسی کی وہئی محنت و مشقت ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اس لئے اے دل اُس خدا سے امید رکھ جو سب میں بستا ہے (1) اے انسان جو یہ قیبلہ اور پریوار دکھائی دے رہا ہے یہ دنیاوی دولت کی محبت ک ی جڑ ہے اس پویروا پر اُمید باندھ کر کہیں اپنی زندگی ضائع نہ کر لینا ان کے ہاتھ میں کوئی ایسی طاقت نہیں ان کی لگائی ہوئی طاقت کامیاب نہیں ہوتی ۔ اس لئے اے دل خدا پر بھروسا رکھ وہی کامیاب بناسکتا ہے بلکہ تیری پریوار کو بھی نجات دلا سکتا ہے (2) اے انسان اگر تو ظاہر دوستوںس ے کوئی اُمید رکھیگا یہ نہ سمجھ کہ یہ تیرے کہیں کام آئیں گے ۔ دوستوں سے اُمید رکھنا بھی دنیایو دولت سے محبت ہے ۔ یہ جھوٹا پیار ہے جو چند لمحوں میں مٹ جات اہے ۔ اے دل صدیوی پیارے خدا پر ہی بھروسا رکھ اور اُمید کر جو تیری کی وہئی محنت کامیاب بنائیگا (3) اے میرے آقا مالک عالم یہ اُمیدیں اور ارادے سبھ تجھ سے ہی نہیں جیسی تو اُمید کراتا ہے ویسا ہی کوئی کرتا ہے میری سچے مرشد نے یہ سمجھائیا ہے کہ کسی کچھ اختیار نہیں کسی مین کوئی توفیق نہیں۔ اے خدا۔ خدمتگار نانکا کی امید تو خود ہی سمجھتا ہے الہٰی دیدار کر کے الہٰی دیدار سے تسکین ملتی کوئی باقی نہیں رہتی ۔

گوݩڈ مہلا ੪॥
ایَسا ہرِ سیۄیِئےَ نِت دھِیائیِئےَ جو کھِن مہِ کِلۄِکھ سبھِ کرے بِناسا ॥
جے ہرِ تِیاگِ اۄر کیِ آس کیِجےَ تا ہرِ نِہپھل سبھ گھال گۄاسا ॥
میرے من ہرِ سیۄِہُ سُکھداتا سُیامیِ جِسُ سیۄِئےَ سبھ بھُکھ لہاسا ॥੧॥
میرے من ہرِ اوُپرِ کیِجےَ بھرۄاسا ॥
جہ جائیِئےَ تہ نالِ میرا سُیامیِ ہرِ اپنیِ پیَج رکھےَ جن داسا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جے اپنیِ بِرتھا کہہُ اۄرا پہِ تا آگےَ اپنیِ بِرتھا بہُ بہُتُ کڈھاسا ॥
اپنیِ بِرتھا کہہُ ہرِ اپُنے سُیامیِ پہِ جو تُم٘ہ٘ہرے دوُکھ تتکال کٹاسا ॥
سو ایَسا پ٘ربھُ چھوڈِ اپنیِ بِرتھا اۄرا پہِ کہیِئےَ اۄرا پہِ کہِ من لاج مراسا ॥੨॥
جو سنّسارےَ کے کُٹنّب مِت٘ر بھائیِ دیِسہِ من میرے تے سبھِ اپنےَ سُیاءِ مِلاسا ॥
جِتُ دِنِ اُن٘ہ٘ہ کا سُیاءُ ہوءِ ن آۄےَ تِتُ دِنِ نیڑےَ کو ن ڈھُکاسا ॥
من میرے اپنا ہرِ سیۄِ دِنُ راتیِ جو تُدھُ اُپکرےَ دوُکھِ سُکھاسا ॥੩॥
تِس کا بھرۄاسا کِءُ کیِجےَ من میرے جو انّتیِ ائُسرِ رکھِ ن سکاسا ॥
ہرِ جپُ منّتُ گُر اُپدیسُ لےَ جاپہُ تِن٘ہ٘ہ انّتِ چھڈاۓ جِن٘ہ٘ہ ہرِ پ٘ریِتِ چِتاسا ॥
جن نانک اندِنُ نامُ جپہُ ہرِ سنّتہُ اِہُ چھوُٹنھ کا ساچا بھرۄاسا ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
سیویئے ۔ خدمت کیجائے ۔ دھیایئے ۔ دھیان دیں توجہ کریں۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ بناسا۔ مٹادے ۔ تیاگ ۔ چھوڑ کر آس۔ اُمید ۔ نہفل ۔ بیفائدہ ۔ گھال۔ محنت مشقت ۔ گواسا۔ چلی جائیگی ۔ سکھداتا ۔ سکھ دینے والا۔ بھکھ لہاسا۔ بھوک مٹ جاتی ہے (1) بھرواسا۔ بھروسا۔ اعتبار ۔ پیج ۔ عزت ۔ جن داسا۔ خدمتگاروں کی (1) برتھا۔ حالت ۔ اوراپیہہ ۔ دوسروں کے پاس۔ تتکال ۔ فورا ۔ کٹاسا۔ مٹا دیتا ہے ۔ لاج ۔ جیا ۔ عزت (2) اپنے سوآئے ۔ اپنے مطلب کے لئے ۔ ڈھکاسا۔ نزدیک نہیں آتے ۔ اپکرے ۔ مدد کرتا ہے (3) اوسر ۔ بوقت اخرت۔ آخرت موقعے ۔ ہرجپ ۔ خدا کو یاد کر۔ منت۔ نصیحت ۔ سبق ۔ گراپدس۔ واعظ مرشد ۔ انت چھڈائے ۔ آخرت نجات دلائے ۔ ہرپریت ۔ الہٰی پیار۔ چتسا۔ دلمین۔
ترجمہ:
اے دل خدا پر بھروسا کر ایمان لا ۔ جہان جاؤ وہیں ہے تمہارے ساتھ خدا پانے خدمت گاروں کی عزت بچاتا ہے خدا ۔ رہاؤ۔ ایسے خدا کی پرستش کرنی چاہیے ہر روز دھیان لگانا چاہیئے جو ذرا سی دیر میں سارے گناہ مٹا دیتا ہے اگر خدا کوچھوڑ کر دوسرون پر امیدیں رکھوں گے تو تمہارے ساری محنت و مشقت ضائع ہو جائیگی ۔ اے دل سک دینے والے سخی اور مالک ہےجسکی خدمت سے ساری بھوک مٹ جاتی ہے (1) جو اپنی درد بھری کہانی دوسروں کو سناتا ہے تب وہ اپنے اس سے سزیادہ درد سنائیں گے ۔ اس لئے اپنی دکھ تکلیف کی کہانی اپنے مالک سے کہو تماہرے دکھ درد فوراً مٹا دیگا۔ اگر اپنی حالت دوسروں سے کہو گے تو شرمندہ ہونا پڑیگا (2) جو دنیاوی رشتے دار دوست اور قبیلہ دکھائی دے رہا ہے یہ سبھ اپنی غرض سے ملتے ہیں۔ جسدن ان کی غرض پوری نہ ہو تو نزدیک نہیں آتے ۔ اے دل روز و شب خدا کی کدمت کر جو تیرے دکھ سکھ میں مددگار ہوگا (3) اے دل اسکا بھروسا کویں کرتا ہے جو بوقت آخرت بچا نہیں سسکتا ۔ مرشد سے بق لیرک اسکو یاد کر جو بوقت اخرت نجات دلات اہے ۔ جنکے دلمیں پیار خدا کا ہوتا ہے ۔ اے خادم نانک۔ ہر روز الہٰی نام سچ و حقیقت یاد رکھو اے الہٰی خدمتگار رہبر روحانی (سنتہو) یہی ہے نجات کا صدیوی سچا صراط مستقیم ۔

گوݩڈ مہلا ੪॥
ہرِ سِمرت سدا ہوءِ اننّدُ سُکھُ انّترِ ساںتِ سیِتل منُ اپنا ॥
جیَسے سکتِ سوُرُ بہُ جلتا گُر سسِ دیکھے لہِ جاءِ سبھ تپنا ॥੧॥
میرے من اندِنُ دھِیاءِ نامُ ہرِ جپنا ॥
جہا کہا تُجھُ راکھےَ سبھ ٹھائیِ سو ایَسا پ٘ربھُ سیۄِ سدا توُ اپنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جا مہِ سبھِ نِدھان سو ہرِ جپِ من میرے گُرمُکھِ کھوجِ لہہُ ہرِ رتنا ॥
جِن ہرِ دھِیائِیا تِن ہرِ پائِیا میرا سُیامیِ تِن کے چرنھ ملہُ ہرِ دسنا ॥੨॥
سبدُ پچھانھِ رام رسُ پاۄہُ اوہُ اوُتمُ سنّتُ بھئِئو بڈ بڈنا ॥
تِسُ جن کیِ ۄڈِیائیِ ہرِ آپِ ۄدھائیِ اوہُ گھٹےَ ن کِسےَ کیِ گھٹائیِ اِکُ تِلُ تِلُ تِلنا ॥੩॥
جِس تے سُکھ پاۄہِ من میرے سو سدا دھِیاءِ نِت کر جُرنا ॥
جن نانک کءُ ہرِ دانُ اِکُ دیِجےَ نِت بسہِ رِدےَ ہریِ موہِ چرنا ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
انند۔ سکون ۔ تسکین ۔ سیتل۔ ٹھنڈا۔ سکت ۔ دولت ۔ مائیا۔ سور۔ سورج ۔ جلتا۔ تپش۔ دیتا ہے ۔ گرسس۔ مرشد چاند۔ تپنا۔ تپش ۔ گرمی ۔ حرارت۔ لیہہ جائے ۔ ختم ہو جاتی ہے (1) دھیائے ۔ دھیان لگا۔ نام۔ سچ و حقیقت۔ جپنا۔ یاد کر۔ سبھ ٹھائی۔ سبھ جگہ ۔ پربھ سیو۔ خدا کی خدمت کر ۔ رہاؤ۔ ندھان۔ خزانے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد ہورک۔ ہر رتنا ۔ قیمتی ہیرے خدا۔ چرن ملہو۔ یاؤں ۔ چھوؤ۔ دسنا۔ خادمون کے (2) کالم مرشد کو سمجھ کر ۔ رام رس پادہو۔ الہٰی لطف لو۔ وہ اُتم سنت بھیؤ۔ وہ بلند روحانی رتبے والا۔ روحانی رہبر ہو گیا ۔ وڈوڈنا۔ بڑتھے سے بھی بڑھا ۔ وڈیائی ۔عظمت و حشمت ۔ نت کہ جرنا۔ ہر روز ہاتھ باندھ ۔دان ۔ خیرات ۔ بھیک۔ روے ۔ دلمیں۔
ترجمہ:
اے دل ہر روز الہیی نام سچ وحقیقت میں اپنا دھیان لگا اور خدا کو یاد کر ۔ ہر جگہ وہ محافظ ہے تیرا اس لئے ایسے خدا کو ہمیشہ یاد کر تارہ ۔ رہاؤ۔ الہٰی یادوریاض سے ہمیشہ سکون بھری خوشی نصیب ہوتی ہے ۔ روحانی سکون دل ٹھنڈک محسوس کرتا ہے ۔ جیسے دنیاوی دولت کا سورج بھاری گرمی پیدا کرتا ہے ۔ مرشد جو چاند جیسا ہے اُسکے دیدار سے ساری تپش یا گرمی دور ہو جاتی ہے (1) جو سارے خزانوں کا مالک ہے اے دل اُسے یاد کر اَیسے قیمتی ہریے خدا کو مرید مرشد ہوکر تلاش کر ۔ جسنے خد امیں دھیان لگائیا اُس نے وصل الہٰی پائیا ان خادمان خدا کے پاؤن چھوؤ (2) کالم کو سمجھ کر الہٰی لطف حاصل کرؤ وہ بلند رتبے والا روھانی رہبر بڑے سے بھی بڑا سنت ہو جاتا ہے اسکی عزت افزائی خدا خود کرتا ہے جسے کسی کے گھٹانے تل بھر کم نہیں ہوتی (3) اے دل جو تجھے آرام و آسائش بخشش کرتا ہے اسے ہمیشہ ہاتھ باندھ کر یاد کیا کر۔ اے خدا۔ خادم نانک کو ایک خیرات بخش کر تیری یاد ہر وقت میرے دل بسے ۔

گوݩڈ مہلا ੪॥
جِتنے ساہ پاتِساہ اُمراۄ سِکدار چئُدھریِ سبھِ مِتھِیا جھوُٹھُ بھاءُ دوُجا جانھُ ॥
ہرِ ابِناسیِ سدا تھِرُ نِہچلُ تِسُ میرے من بھجُ پرۄانھُ ॥੧॥
میرے من نامُ ہریِ بھجُ سدا دیِبانھُ ॥
جو ہرِ مہلُ پاۄےَ گُر بچنیِ تِسُ جیۄڈُ اۄرُ ناہیِ کِسےَ دا تانھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِتنے دھنۄنّت کُلۄنّت مِلکھۄنّت دیِسہِ من میرے سبھِ بِنسِ جاہِ جِءُ رنّگُ کسُنّبھ کچانھُ ॥
ہرِ ستِ نِرنّجنُ سدا سیۄِ من میرے جِتُ ہرِ درگہ پاۄہِ توُ مانھُ ॥੨॥
ب٘راہمنھُ کھت٘ریِ سوُد ۄیَس چارِ ۄرن چارِ آس٘رم ہہِ جو ہرِ دھِیاۄےَ سو پردھانُ ॥
جِءُ چنّدن نِکٹِ ۄسےَ ہِرڈُ بپُڑا تِءُ ستسنّگتِ مِلِ پتِت پرۄانھُ ॥੩॥
اوہُ سبھ تے اوُچا سبھ تے سوُچا جا کےَ ہِردےَ ۄسِیا بھگۄانُ ॥
جن نانکُ تِس کے چرن پکھالےَ جو ہرِ جنُ نیِچُ جاتِ سیۄکانھُ ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
ساہ ۔ شاہوکار۔ اُمراؤ۔ امیر۔ سکدار ۔ سردار۔ حاکم ۔ مھتیا۔ جھوٹ۔ بھاؤ دوجا جان۔ خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت سمجھ ۔ ابناسی ۔ لافناہ ۔ سداتھر ۔ ہمیشہ مستقل ۔ نہچل۔ جس میں لرزش یا ڈگمگاہٹ نہ ہو ۔ بھج۔ یاد کر۔ پروان ۔ منظور ۔ قبول (1) نام ہری بھج۔ خدا کا نام جو سچ و حقیقت ہے یاد کر۔ دیبان ۔ منصف اعلے ۔ تان ۔ طاقت ۔ قوت ۔ رہاؤ۔ دھنونت ۔ دؤلتمند ۔ کلونت۔ خاندانی ۔ ملکھونت ۔ صاحب۔ جائیداد ۔ ونس جاہے ۔ مٹ جاتے ہیں۔ رنگ کسنبھ کچان ۔ کچا کنبھے کا رنگ ۔ ست نرنجن۔ سچا پاک بیداغ خدا۔ درگیہہ۔ بارگاہ الہٰی ۔ مان ۔ عزت ۔ وقار ۔ قدروقیمت (2) ورن ۔ ذاتیں ۔ چار آسرم ۔ زندگی گذارنے کے چار طریقے ۔ ہر دھیاوے ۔ جو خڈا میں دھیان لگائے ۔ پروھان۔ مقبول عام ۔ ہر ڑبپڑ۔ ارنڈ وچار۔ تیؤ ویسے ہی ۔ ست سنگت۔ نیک پاکدامنوں کی صحبت و قربت۔ پتت۔ بداخلاق ۔ بد چلن ۔ اخلاق سے گرے ہوئے ناپاک۔ پرونا ۔ قبول۔ منظور (3) پکھاے ۔ جھاڑتا ہے صاف کرتا ہے ۔ ہر جن ۔ خادم خدا ۔ نیچ ذات۔ کمینی ذات والا۔ سیوکان ۔ خدمتگار ۔
ترجمہ:
اے دل یاد کر الہٰی نام سچ و حقیقت جو ایک اعلے منصف و حاکم ہے جیسے الہٰی ٹھکانہ کلام مرشد سے حاصل ہوجائے اس سے بڑھ کر کسی میں نہیں روحانی طاقت ۔ رہاؤ۔
جتنے شاہکار ، بادشاہ ، امیر ، سردار اور چودھری سب مٹ جانیوالے ہیں اسے دنیاوی دولت سے محبت سمجھ جو جھوٹی ہے ۔ خدا ہی صدیوی اور لافناہ ہے اے دل اسے یاد کر تبھی قبول ہوگا (1) جتنے مالدار ، دؤلتمند ، خاندانی صاحب جائیداد دکھائی دیتے ہیں اے دل سب مٹ جائیں گے جیسے گل لالہ کا کچا خام رنگ مٹ جات اہے ۔ اے دل سچے صدیوی پاک بیداغ کی خدمت کر جس سے بارگاہ الہٰی مین قدروقیمت وقار اور عزت پائیگا (2)
خوآہ برہمن کھتری ، ویس ہو یا شودر چاروں ذاتوں میں سے ہو کوئی یا چاروں آشرموں ، برہم چارج ، پرہیز گار جسکا شہوت پر ضبط حاصل ہو یا گھریلو زندگی بسر کرنیوالا ، یا جنگل میں ہو رہنے والا ، یا طارق الندیا ہو ا ن میں سے جو بھی انما لاہٰی میں دھیان لگاتا ہے وہی ہے سب سے اعلے انسان ۔ جیسے چندن کے نزدیک ارنڈ کا پودا ہو اسمیں بھی خوشبو پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس طرح سے ناپاک بدچلن بداخلاق نیک پاکدامن انسانوں کی صحبت و قربت میں وہ بھی پاک اور قبول ہوجاتے ہیں (3) جسکے دلمیں خدا بس جاتا ہے وہ سب سے ہے بلند ہستی اور سب سے ہے پاک خادم نانک۔ اُنکے پاؤں جھاڑتا ہے جو خادم خدا کمینیذات سے ہو خادم خدا ۔

گوݩڈ مہلا ੪॥
ہرِ انّترجامیِ سبھتےَ ۄرتےَ جیہا ہرِ کراۓ تیہا کو کرئیِئےَ ॥
سو ایَسا ہرِ سیۄِ سدا من میرے جو تُدھنو سبھ دوُ رکھِ لئیِئےَ ॥੧॥
میرے من ہرِ جپِ ہرِ نِت پڑئیِئےَ ॥
ہرِ بِنُ کو مارِ جیِۄالِ ن ساکےَ تا میرے من کائِتُ کڑئیِئےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ پرپنّچُ کیِیا سبھُ کرتےَ ۄِچِ آپے آپنھیِ جوتِ دھرئیِئےَ ॥
ہرِ ایکو بولےَ ہرِ ایکُ بُلاۓ گُرِ پوُرےَ ہرِ ایکُ دِکھئیِئےَ ॥੨॥
ہرِ انّترِ نالے باہرِ نالے کہُ تِسُ پاسہُ من کِیا چورئیِئےَ ॥
نِہکپٹ سیۄا کیِجےَ ہرِ کیریِ تاں میرے من سرب سُکھ پئیِئےَ ॥੩॥
جِس دےَ ۄسِ سبھُ کِچھُ سو سبھ دوُ ۄڈا سو میرے من سدا دھِئئیِئےَ ॥
جن نانک سو ہرِ نالِ ہےَ تیرےَ ہرِ سدا دھِیاءِ توُ تُدھُ لۓ چھڈئیِئےَ ॥੪॥੫॥
لفظی معنی:
انتر جامی ۔ راز دل جاننے والا۔ سبھ تے ورتے ۔ ہر جگہ بستا ہے ۔ سیو ۔ کدتم کر۔ رکھ ۔ بچا (1) پڑھیئے ۔ یاد کریں۔ کایت ۔ کیوں لڑییئے ۔ تشیوش یا فکر کریں ۔ رہاؤ۔ پر ینچ ۔ پھیلاؤ۔ کرتے ۔ کرتار۔ جوت۔ نور۔ گرپورے کامل مرشد۔ ہر ایک دکھیئے ۔ واحد خدا دکھائیا ہے (2) ہر انتر پاے باہر ناے کہہ تس پاسہو من کیا ۔ چورییئے ۔ نیہپکٹ سیو کیجے ہر کیری تا ں میرے من سدا ۔ دھیایئے ۔ جن نانک۔ سوہاناں ہے تیرے ۔ چڈییئے ۔ نجات ۔
ترجمہ:
اے دل ہر روز یاد خدا کو کر اور پڑھاکا ۔ خدا کے بغیر نہ کوئی زندہ رکھ سکتا ہے نہ مار سکتا ہے تو پھر تشیوش اور فکر کیوں کیجائے (1) رہاؤ۔ راز دل جاننے والا خدا ہر جگہ بستا ہے ۔ جیسا کام خدا کراتا ویسا انسنا کرتا ہے اسلئے اےدل ایسے خدا کی ہمیشہ خدمت کرؤ ۔ جو تجھ سب سے بچا لیتا ہے (1) یہ سارا عالم خدا نے خود پیدا کیا ہے اور سب میں اپنا نور بسائیا ہے ۔ کامل مرشد نے یہ دکھا دیا ہے کہ سبھ میں واحد خدا بولتا ہے اور خؤد ہی بلاتا ہے ۔ اسے توفیق عنایت کرکے (2) خدا اندرونی طور بھی اور بیرونی طور پر بھی سدا ساتھ بستا ہے ۔ تو بتاؤ اے دل اس سے کیا چھپا سکتے ہیں۔ بغیر کسی دہوکا اور فریب سے خدمت کرؤ خدا کی تو اے دل سارے سکھ پائے گا (3) اے دل جو سب طاقتوں کا ہے مالک اور سب سے اعلے عطمت والا ہے ۔ اے دل اسے ہمیشہ یاد کرھ ۔ خادم نانک۔ ایس اخدا ہر وقت ساتھ ہے تیرے ہر وقت دھیان لگا اسمیں جو تجھے نجات دلا دیگا ۔

گوݩڈ مہلا ੪॥
ہرِ درسن کءُ میرا منُ بہُ تپتےَ جِءُ ت٘رِکھاۄنّتُ بِنُ نیِر ॥੧॥
میرےَ منِ پ٘ریمُ لگو ہرِ تیِر ॥
ہمریِ بیدن ہرِ پ٘ربھُ جانےَ میرے من انّتر کیِ پیِر ॥੧॥ رہاءُ ॥
میرے ہرِ پ٘ریِتم کیِ کوئیِ بات سُناۄےَ سو بھائیِ سو میرا بیِر ॥੨॥
مِلُ مِلُ سکھیِ گُنھ کہُ میرے پ٘ربھ کے لے ستِگُر کیِ متِ دھیِر ॥੩॥
جن نانک کیِ ہرِ آس پُجاۄہُ ہرِ درسنِ ساںتِ سریِر ॥੪॥੬॥ چھکا ੧॥
لفظی منی۔
تپتے ۔ بھاری خواہشہے ۔ ترکھاونٹ ۔ پیاسے ۔ بن نیہہ۔ بغیر پانی ۔ پریم لگے پتیر۔ مریے دل کو پیار کے تیر نے زخمی کر دیا۔ بیدن ۔ درد ۔ بیڑ ۔ بیماری ۔ ہر پرھ جائے ۔خڈا سے ہی سمجھتا ہے ۔ رہاؤ۔ بیر ۔ بھائی۔ برادر (2) سکھی ۔ ساتھی ۔سگتر کی ۔ مت دھیر ۔ سچے مرشد کا سبق ۔ دھیرج یاتسلی دلاتا ہے (3) آس پجادہو۔ اُمید پوری کیجیئے ۔ ہر درسن ۔ الہٰی دیرار سے ۔ سانت سر یر۔ جسمانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
میرے دل کو الہٰی پیار کے تیرے مجروح کر دیا۔ میرے دل کے اندرونی درد کو خدا ہی سمجھتا ہے ۔ رہاؤ۔ میرے دلمیں الہٰی دار کی اتنی پیاس ہے ہے جتنی پیاسے کے لئے پانی کی ہوتی ہے ۔ میرے پیارے خدا کی جو بھی کہانی یا بات سنا ئیگا وہی میرا بھای ہے (2) اے ساتھیؤ مرشد کی زہن کو ٹھنڈک دلاسا دینے نصیحت لیکر میرے خدا کی حمدوثناہ کیا کر (3) اے خدا خادم نانک کی یہ امید پوری کر تیرے دیدار سے میرے دل کو سکنو و تسکین حاصل ہوتی ہے ۔

راگُ گوݩڈ مہلا ੫ چئُپدے گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سبھُ کرتا سبھُ بھُگتا ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُنتو کرتا پیکھت کرتا ॥
اد٘رِسٹو کرتا د٘رِسٹو کرتا ॥
اوپتِ کرتا پرلءُ کرتا ॥
بِیاپت کرتا الِپتو کرتا ॥੧॥
بکتو کرتا بوُجھت کرتا ॥
آۄتُ کرتا جاتُ بھیِ کرتا ॥
نِرگُن کرتا سرگُن کرتا ॥
گُر پ٘رسادِ نانک سمد٘رِسٹا ॥੨॥੧॥
لفظی معنی:
سبھ کرتا۔ سب کچھ کرنیوالا کرتار ہے ۔ خدا اور اسے استعمال کرنے والا بھی ہے خدا (1) سنتو کرتا سننے والا کرتار دیکھنے والا کرتار۔ اور شٹو کرتا۔ جو نظر نہیں اُسے بنانے والا کرتا۔ درسٹو ۔ جو نظر آتا ہے ۔ اوپت ۔ پیدا کریوالا۔ پرلؤ۔ مٹایوالا۔ بیاپت۔ بستا ۔ ایستو ۔ بیلاگ () بکتو ۔ بلار۔ بولنے والا۔ بوجھت ۔ سمجھنے والا۔ آوت ۔ آنے والا۔ پیدا ہونیوالا۔ جات ۔ مرنے والا۔ نرگن ۔ بلااوصاف ۔ سرگن ۔ بااوصاف۔ سمدرسٹا۔ سب کو برابر دیکھنے والی نظر۔
ترجمہ:
ہر جیز پیدا کرنیوالا ہے خدا اور استعمال کرنیوالا بھی خود خدا ۔ رہاؤ۔ کدا ہی ہے سننے والا دیکھنے والا بھی خود خدا جو نظر آرہا ہے وہ بھی ہے خدا کا ہی پیدا کیا ہوا۔ جو نہیں نظر آتا وہ بھی ہے اسکا بنائیا ہوا۔ سب میں ہے بسنے والا خدا اور بیلاگ بھی ہے خدا (1) خدا ہی ہے بولتا اور سمجھنے والا بھی ہے وہی ۔ پیدا ہونے والا بھی وہی اور مرنے والا بھی وہی ۔ بیلاگ بھی وہی ہے بااوصاف بھی وہی ۔ رحمت مرشد سے نانک سبھ کو دیکھتا ہے ایک نظر۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
پھاکِئو میِن کپِک کیِ نِیائیِ توُ اُرجھِ رہِئو کسُنّبھائِلے ॥
پگ دھارہِ ساسُ لیکھےَ لےَ تءُ اُدھرہِ ہرِ گُنھ گائِلے ॥੧॥
من سمجھُ چھوڈِ آۄائِلے ॥
اپنے رہن کءُ ٹھئُرُ ن پاۄہِ کاۓ پر کےَ جائِلے ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِءُ میَگلُ اِنّد٘ریِ رسِ پ٘ریرِئو توُ لاگِ پرِئو کُٹنّبائِلے ॥
جِءُ پنّکھیِ اِکت٘ر ہوءِ پھِرِ بِچھُرےَ تھِرُ سنّگتِ ہرِ ہرِ دھِیائِلے ॥੨॥
جیَسے میِنُ رسن سادِ بِنسِئو اوہُ موُٹھوَ موُڑ لوبھائِلے ॥
توُ ہویا پنّچ ۄاسِ ۄیَریِ کےَ چھوُٹہِ پرُ سرنائِلے ॥੩॥
ہوہُ ک٘رِپال دیِن دُکھ بھنّجن سبھِ تُم٘ہ٘ہرے جیِء جنّتائِلے ॥
پاۄءُ دانُ سدا درسُ پیکھا مِلُ نانک داس دسائِلے ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
پھانکیؤ۔ پھنسا ہوا۔ مین ۔ مچھلی ۔ کپک ۔ بندر۔ کنبھابلے ۔ پوست کے پھول یا گل لالہ ۔ پگ پاؤں۔ دھاریہہ۔ دھرتی ہے ۔ اور ساس ۔ سانس ۔ لیکھے ۔ حساب میں ہے ۔ تؤ ادھرلیہہ۔ بچاؤ ۔ تب ہوگا ۔ ہرگن گائیلے ۔ جب الہٰی حمدوثناہ کریگا (1) آوائیلے آوارہ گردی ۔ ٹھوڑ۔ ٹھکانہ ۔ کائے ۔ کیوں۔ پر کے جائیلے ۔ کیوں پرائے گھر جاتا ہے ۔ رہاؤ۔ میگل ۔ ہاتھی ۔ اندری رس۔ پریریؤ ۔ شہوت کے مزے میں ۔ تولاگ پریؤ کٹنبائلے ۔ اے انسان تو اپنے قبیلے کی محبت میں گرفتار ہے ۔ جیؤ پکھی ۔ جیسے پرندے اکثر ہوئے ۔ اکھٹے ہوتے ہیں۔ پھر بچھرے ۔ پھر جدا ہوتے ہیں ۔ اکھٹے ہوئے ہیں۔ پھر بچر کے پھر جدا ہوتے ہیں۔ تھر ۔ ٹہرا ۔ سکون ۔ سنگت۔ ساتھیوں میں۔ ہر یر دھایئلے ۔ یاد خدا سے (2) مین رس۔ سادونسیؤ۔ جیسے مچھلی زبان کے لط فمیں ختم ہو جاتی ہے ۔ وہ موٹھو ۔ موڑھ لبھایلے ۔ وہ جاہل لالچ میں لٹ جاتا ہے ۔ اے انسان تو بھی پانچ دسمنوں کی گرفت میں ہے ۔ خدا کی پناہ حاصل کر تبھی نجات حاصل ہوگی (3)
اے غریب پرور غریبوں کے دکھ درد مٹانیوالے کرم و عنایت فرما ساری مخولقات تیری ہے ۔ نانک جو تیرے خدمتگاروں کا خدمتگار ہے دیدار دیہہ اور اپنے دیدار کی خیرات کرتا کہ ہمیشہ دیدار کرتا رہوں۔

راگُ گوݩڈ مہلا ੫ چئُپدے گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
جیِء پ٘ران کیِۓ جِنِ ساجِ ॥
ماٹیِ مہِ جوتِ رکھیِ نِۄاجِ ॥
برتن کءُ سبھُ کِچھُ بھوجن بھوگاءِ ॥
سو پ٘ربھُ تجِ موُڑے کت جاءِ ॥੧॥
پارب٘رہم کیِ لاگءُ سیۄ ॥
گُر تے سُجھےَ نِرنّجن دیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنِ کیِۓ رنّگ انِک پرکار ॥
اوپتِ پرلءُ نِمکھ مجھار ॥
جا کیِ گتِ مِتِ کہیِ ن جاءِ ॥
سو پ٘ربھُ من میرے سدا دھِیاءِ ॥੨॥
آءِ ن جاۄےَ نِہچلُ دھنیِ ॥
بیئنّت گُنا تا کے کیتک گنیِ ॥
لال نام جا کےَ بھرے بھنّڈار ॥
سگل گھٹا دیۄےَ آدھار ॥੩॥
ستِ پُرکھُ جا کو ہےَ ناءُ ॥
مِٹہِ کوٹِ اگھ نِمکھ جسُ گاءُ ॥
بال سکھائیِ بھگتن کو میِت ॥
پ٘ران ادھار نانک ہِت چیِت ॥੪॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
جیئہ پران ۔ روح اور سانس ۔ ساح ۔ ساز ۔ پیدا کئے ۔ ماٹی ۔ مادہ ۔ جوت ۔ نور ۔ روشنی ۔ روح ۔ نواج ۔ نواز۔ قدروقیمت کے ساتھ ۔ برتن ۔ استعمال کے لئے ۔ بھوجن۔ کھانا۔ بھوگائے ۔ کھلائے ۔ تج ۔ چھوڑ کر ۔ مورھے ۔ مورکھ ۔ کت جائے کہاں جائیگا (1) پار برہم۔ کامیابی بخشنے والے مراد خدا۔ سیو ۔ خدمت (صو) سبھے ۔ سمجھ آتی ہے ۔ نرنجن۔ بیداغ ۔ پاک۔ دیو۔ دیوتا۔ فرشتہ ۔ رہاؤ۔ رنگ ۔ پریم ۔ انک ۔ بیشمار۔ پرکار۔ قسموں ۔ طریقوں ۔ اوپت۔ پیدا کرکے ۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کی دیر میں۔ مجھار میں۔ گت مت ۔ حالت کا اندازہ (2) آے نہ جائے ۔ نہ پیدا ہوتا ہے نہ ہے موت اسے ۔ نہچل دھنی ۔ صدیوی مالک ۔ بے انت گناہ ۔ بیشمار اوصاف ۔ کیتک گنی ۔ کتنے شمار کریں۔ لعل ۔قیمتی پتھر ۔ نام ۔ خڈا کا نام سچ وحقیقت ۔ بھنڈار ۔ ذکیرے ۔ خزانے ۔ سگل گھٹا ۔ سارے دلوں ۔ آدھار ۔ آسرا (3) ست پرکھ ۔ سچی ہستی ۔ ناؤ۔ نام۔ کوٹ اگھ ۔ کروڑوں گناہ ۔ دوش۔ پاپ۔ نمکھ س گاؤ۔ تھوڑی سی حمدوچناہ کرنے سے ۔ بال سکھائی۔ بچپن کا ساتھی ۔ بھگتن کامیت۔ عابدوں الہیی پریمیوں کا دوست ۔ پران ادھار ۔ زندگی کا سہارا۔ ہت چیت۔ دلمیں اسکا پیار پیدا کر۔
ترجمہ:
خدا کی خدمت ہو مشغول اے انسان ۔ اس پاک بدیاغ خدا کی سمجھ دیتا ہے مرشد (1) رہاؤ۔ جس نے زندگی بخشی تجھے اور قدروقیمت سے روشنی عنایت کی تجھے ۔ استعمال کے لئے دیا سارا سامان اور کھانے کھلائے تجھے ۔ ایسے خدا کو چھوڑ کر کہاں جائیگا (1) جس نے گوناگونی خلقت کی ہے پیدا اور کرکے پیدا انکھ جھپکنے میں اسے مٹانے کی توفیق ہے جس میں ۔ جسکی حالت کا اندازہ ہے بیان سے باہر ۔ اے دل ایسے خدا میں ہمیشہ دھیان لگا (2) جو نہ پیدا ہوتا ہے ہے نہ موت اسے اور صدیوی مستقل مالک ہے ۔ جو لا تعداد اوصاف ہیں اسمیں کیا نہیں جاسکتا شمار جنکا ۔ نام الہٰی لعل سے بھی ہے زیادہ قیمت جسکی اسکے بھرے خذانے ہیں۔ سارے دلوںکو سہارا ہے جسکا (3) سچی ہستی نام ہے جسکا ۔ جسکی حمدوثناہ سے کروڑوں گناہ مٹ جاتے ہیں بچپن سے ہے جو ساتھی پریمیوں اور عابدوں کا جو دوست ہے اس زندگی کے سہارے کو نانک دلمیں اسکا پیار بنا ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
نام سنّگِ کیِنو بِئُہارُ ॥
نامد਼ ہیِ اِسُ من کا ادھارُ ॥
نامو ہیِ چِتِ کیِنیِ اوٹ ॥
نامُ جپت مِٹہِ پاپ کوٹِ ॥੧॥
راسِ دیِئیِ ہرِ ایکو نامُ ॥
من کا اِسٹُ گُر سنّگِ دھِیانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نامُ ہمارے جیِء کیِ راسِ ॥
نامو سنّگیِ جت کت جات ॥
نامو ہیِ منِ لاگا میِٹھا ॥
جلِ تھلِ سبھ مہِ نامو ڈیِٹھا ॥੨॥
نامے درگہ مُکھ اُجلے ॥
نامے سگلے کُل اُدھرے ॥
نامِ ہمارے کارج سیِدھ ॥
نام سنّگِ اِہُ منوُیا گیِدھ ॥੩॥
نامے ہیِ ہم نِربھءُ بھۓ ॥
نامے آۄن جاۄن رہے ॥
گُرِ پوُرےَ میلے گُنھتاس ॥
کہُ نانک سُکھِ سہجِ نِۄاسُ ॥੪॥੨॥੪॥
لفظی معنی:
نام سنگ ۔ سچ و حقیقت کے ساتھ ۔ بیؤہار۔ کاروبار۔ آدھار۔ آسرا۔ چت۔ دلمیں۔ اوت۔ آصرا۔ نام جپت۔ سچ و حقیقت کی یادویراض ۔ پاپ۔ کروڑوں گناہ (1) راس۔ پونجی ۔ سرمایہ ۔ اسٹ۔ دھرم۔ گرسنگ دھیان۔ مرشد کی طرف توجہ ۔ رہاؤ۔ سنگی ۔۔ ساتھی ۔ جگت کت۔ جہاں کہیں۔ جات ۔ جاؤ گے ۔ میٹھا ۔ پیارا۔ ڈیٹھا۔ دیکھا (2) ۔ درگیہہ۔ بارگاہ الہٰی۔ اُجلے ۔ پاک۔ سگلے کل۔ سارا خاندان ۔ کارج ۔ کام ۔ سیدھ ۔ کامیاب۔ گیدھ ۔ عادی (3) نربھؤ۔ بیخوف۔ آون جان۔ تناسخ۔ گنتاس ۔ اوصاف کے خزناے ۔ سکھ سہج نواس۔ آرام ہے روحانی سکون پاتے میں ۔
ترجمہ:
خدا نے مجھے صرف واحد نام کا سرمایہ عطا کیا ہے ۔ اور من کا دھرم مرشد کے ساتھ خدا میں دھیان لگانا ہے ۔ رہاؤ۔ الہٰی نام سچ وحقیت سے ہی زندگی کے کاربار چلتے ہیں۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کا ہی من کو ہے آسرا ۔ نام ہی دل کا ہے سہارا ۔ نام سچ وحقیقت اپنانے سے کروڑوں گناہ مٹ جاتے ہیں (1) نا ہی ہمارے زندگی کا سرمایہ ہے ۔ نام ہے ایک ساتھی جہاں جاو ساتھ ہوت اہے ۔ نام ہی دل کو پیارا ہے ہر جگہ پانی ہو یا زمین سب میں نام دکھائی دیتا ہے (2) الہٰی نام سچ حقیقت سے بارگاہ الہیی میں سرخرو ہوتا ہے انسان الہٰی نام سچ وحقیقت سے سارے خدان کو کامیابی ملتی ہے ۔ الہیی نام اپنانے سے سارے کاموں میں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ اب دل الہٰی نام سچ و حقیقت کا ہے عادی وہگیا (3) الہٰی نام سچ وحقیقت کی وجہ سے ہی بیخوف ہو گئے ہیں۔ نام سے ہی ہے تناسخ مٹ گیا۔ کامل مرشد نے اوساف کا خزانے ملا دیا۔ اے نانک بتادے ۔ کہ سچ وحقیقت سے آرام و آسائش روحانی وذہنی سکون میں ٹھکانہ حاصل ہوتا ہے ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
نِمانے کءُ جو دیتو مانُ ॥
سگل بھوُکھے کءُ کرتا دانُ ॥
گربھ گھور مہِ راکھنہارُ ॥
تِسُ ٹھاکُر کءُ سدا نمسکارُ ॥੧॥
ایَسو پ٘ربھُ من ماہِ دھِیاءِ ॥
گھٹِ اۄگھٹِ جت کتہِ سہاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رنّکُ راءُ جا کےَ ایک سمانِ ॥
کیِٹ ہستِ سگل پوُران ॥
بیِئو پوُچھِ ن مسلتِ دھرےَ ॥
جو کِچھُ کرےَ سُ آپہِ کرےَ ॥੨॥
جا کا انّتُ ن جانسِ کوءِ ॥
آپے آپِ نِرنّجنُ سوءِ ॥
آپِ اکارُ آپِ نِرنّکارُ ॥
گھٹ گھٹ گھٹِ سبھ گھٹ آدھارُ ॥੩॥
نام رنّگِ بھگت بھۓ لال ॥
جسُ کرتے سنّت سدا نِہال ॥
نام رنّگِ جن رہے اگھاءِ ॥
نانک تِن جن لاگےَ پاءِ ॥੪॥੩॥੫॥
لفظی معنی:
نمانے ۔ بے قدروں۔ مان ۔ عزت ۔ قدر۔ دان ۔ رزق۔ روٹی ۔ گربھ گھور۔ جو پیٹ کی خوناکی میں ۔ راکھنہار ۔ بچانے کی توفیق رکھتا ہے ۔ نمسکار۔ سجدہ کر و۔ سرجھکاؤ ۔ دھیائے ۔ توجہ دو۔ گھٹ اوگھٹ۔ دلمیں یا بیرونی طور پر ۔ جت کتیہہ۔جہاں کہیں ۔ سہائے ۔ مددگار (1) رہاؤ۔ رنگ ۔ نادار۔ کنگال۔ راؤ۔ راجہ ۔ سمان ۔ برابر۔ کیٹ۔ کیڑی ۔ چیونٹی ۔ ہست۔ ہاتھی ۔ سگل پوران ۔ سب میں بستا ہے ۔ بیؤ۔ دوسرے سے ۔ ملت۔ مصلحت۔ مشورہ ۔ آپہو۔ از خود (1) انت آخر۔ جانس ۔ سمجھتا ۔ نرنجن۔ بیداغ پاک ۔ آکار۔ پھیلاؤ۔ نرنکار۔ بغیر حجم۔ جم یا آکار۔ اوجھل نظر ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ سبھ گھٹ آدھار ۔ سارے دلوں کا سہارا (3) عابدان الہٰی نام کے پیار میں سرخرو ہو جاتے ہیں۔ روحانی رہبر الہٰی صفت صلاح کرکے خوشیاں حاصل کرتے ہیں۔ نام یا سچ و حقیقت کے پیار سے اپنی خواہشات مٹادیتے ہیں ۔ نانک ان خادمان خدا کے قدموں پر پڑتا ہے ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
جا کےَ سنّگِ اِہُ منُ نِرملُ ॥
جا کےَ سنّگِ ہرِ ہرِ سِمرنُ ॥
جا کےَ سنّگِ کِلبِکھ ہوہِ ناس ॥
جا کےَ سنّگِ رِدےَ پرگاس ॥੧॥
سے سنّتن ہرِ کے میرے میِت ॥
کیۄل نامُ گائیِئےَ جا کےَ نیِت ॥੧॥ رہاءُ ॥
جا کےَ منّت٘رِ ہرِ ہرِ منِ ۄسےَ ॥
جا کےَ اُپدیسِ بھرمُ بھءُ نسےَ ॥
جا کےَ کیِرتِ نِرمل سار ॥
جا کیِ رینُ باںچھےَ سنّسار ॥੨॥
کوٹِ پتِت جا کےَ سنّگِ اُدھار ॥
ایکُ نِرنّکارُ جا کےَ نام ادھار ॥
سرب جیِیا کا جانےَ بھیءُ ॥
ک٘رِپا نِدھان نِرنّجن دیءُ ॥੩॥
پارب٘رہم جب بھۓ ک٘رِپال ॥
تب بھیٹے گُر سادھ دئِیال ॥
دِنُ ریَنھِ نانکُ نامُ دھِیاۓ ॥
سوُکھ سہج آننّد ہرِ ناۓ ॥੪॥੪॥੬॥
لفظی معنی:
سنگ ۔ ساتھ ۔ نرمل۔ پاک ۔ سمرن۔ یاد خدا۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ ناس ۔ مٹ جاتے ہیں۔ ردے پرگاس۔ دل روشن ہو جاتا ہے (1) سے سمن ۔ ایسے روحانی رہبر۔ میت ۔ دوست ۔ رہاؤ۔ منتر۔ واعظ ۔ نصحیت ۔ بھرم۔ وہم و گمان۔ بھؤ۔ خوف۔ کیرت ۔ صفت صلاح ۔ نرمل سار ۔ سمجھ پاک ہو جاتی ہے ۔ رین ۔ دہول ۔ بانچھے ۔ چاہت اہے ۔ سنسار ۔ دیا جگت۔ عالم (2) پتت۔ بداخلاق۔ بد چلن ۔ ناپاک۔ ادھار۔ بچتے ہیں برائیوں سے ایک نرنکار ۔ بلا آکار واحد خدا۔ سرب جیا کا جانے بھیؤ ۔ سبجانداروں کے جوراز جانتا ہے ۔ کرپا ندھان۔ مہربانیوں کا خزانہ ۔ رحمان الرحیم۔ نرنجن۔ بیداغ ۔ پاک ۔ گرسادھ دیال۔ تو پاکدامن ۔ مہربان مرشد۔ بھیٹے ۔ ملاپ کیا۔ دن رین ۔ روز و شب ۔ دن رات۔ آنند۔ پر سکون ۔ خوشی ۔
ترجمہ:
میرے دوست وہ سنت روحانی رہبر ہیں جنکی صحبت و قربت میں ہمیشہ الہیی نام ہی کی ہوتی ہے حمدوثناہ (1) رہاؤ۔ جنکی صحبت میں دل پاک ہو جاتا ہے اور الہٰی یادوریاض ہوتی ہے جن کے ساتھ سے گناہ مٹ جاتے ہیں جنکے ساتھ و صحبت سے ذہن روشن ہو جاتا ہے (1) جنکی پندونصائح سے خدا دلمیں بستا ہے جنکے نصیحت سے وہم و گمان بھٹکن اور خوف جاتا رہتا ہے ۔ جنکے دلمیں پاکیزگی پیدا کرنیوالی صفت صلاھ سے عقل و ہوش پاک ہو جاتی ہے ۔ جس کی خاک پار سارا عالم چاہتا ہے (2) کروڑوں بد چلن بداخلاق جس کے ساتھ و صحبت سے برائیوں سے نجات پا لیتے ہیں ۔ جنکو واحد الہٰی نام اور پاک خدا کا آسرا ہے ۔ جو ساری مخلوقات کا راز جانتا ہے جو رحمان الرحیم ہے مہربانیوں کا خزان ہے جو بیداغ فرشت ہے (3) جب مہربان ہوتا ہے خدا تو ایسے سنت روھانی رہبرو تو مہربان پاکدامن مرشد کا ملاپ ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ روز و شب نام میں دھیان لگانے سے اور الہٰی نام سچ و حقیقت کی برکت اور تاثر سے روحانی سکون ملتا ہے ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
گُر کیِ موُرتِ من مہِ دھِیانُ ॥
گُر کےَ سبدِ منّت٘رُ منُ مان ॥
گُر کے چرن رِدےَ لےَ دھارءُ ॥
گُرُ پارب٘رہمُ سدا نمسکارءُ ॥੧॥
مت کو بھرمِ بھُلےَ سنّسارِ ॥
گُر بِنُ کوءِ ن اُترسِ پارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھوُلے کءُ گُرِ مارگِ پائِیا ॥
اۄر تِیاگِ ہرِ بھگتیِ لائِیا ॥
جنم مرن کیِ ت٘راس مِٹائیِ ॥
گُر پوُرے کیِ بیئنّت ۄڈائیِ ॥੨॥
گُر پ٘رسادِ اوُردھ کمل بِگاس ॥
انّدھکار مہِ بھئِیا پ٘رگاس ॥
جِنِ کیِیا سو گُر تے جانِیا ॥
گُر کِرپا تے مُگدھ منُ مانِیا ॥੩॥
گُرُ کرتا گُرُ کرنھےَ جوگُ ॥
گُرُ پرمیسرُ ہےَ بھیِ ہوگُ ॥
کہُ نانک پ٘ربھِ اِہےَ جنائیِ ॥
بِنُ گُر مُکتِ ن پائیِئےَ بھائیِ ॥੪॥੫॥੭॥
لفظی معنی:
مور۔ مجسمہ ۔ شکل وصورت ۔ مراد کلام ۔ سبق و واعظ مرشد۔ منتر۔ نصیھت ۔ من مان۔ دل سے اس پر ایمان لاؤ۔ روے ۔ دلمیں دھارؤ۔ بیٹھا ؤ۔ گرپار برہم۔ مرشد اور خدا ۔ نمسکارڈ ۔سجدہ کرؤ جھکو (1) مت کو بھرم بھولے ۔ایسا نہ ہو کہ کوئی وہم و گمان میں گمراہ ہو جائے ۔ گربن ۔ مرشد کے بغیر ۔ اترس ۔ پار ۔ کامیب نہیں ہوآ (1) رہاؤ۔ بھولے ۔ گمراہ۔ مارگ۔ راستے ۔ اور تیاگ ۔ دوسروں کو چھوڑ کر ۔ ہر بھگتی ۔ الہیی پریم پیار۔ تراس۔ خوف۔ گر پورے ۔ کامل مرشد ۔ بے انت وڈائی۔ بیشمار بلند عظمت (2) اور دکمل دگاس۔ الڈا ذہن یا سوچ سیدھا ہو آراہ راست پر اائیا اور کھل گیا۔ مراد خوشیؤ سے بھر گیا۔ اندھکار۔ بے سمجھی کے کام ۔ اندھیرا ۔ بھیا پرگاس۔ روشنی وہئی۔ سمجھ آئی۔ جن کیا۔ جس نے علام کو پیدا کیا۔ سوگرتے جانیا۔ مرشد نے سمجھائیا۔ مگدھ ۔ موکھ ۔ جاہل۔ مانیا۔ ایمان لائیا۔ وشواش یا یقین کیا (3) گر کرتا۔ مرشد کرنیوالا ہے ۔ کرنے جوگ ۔ کرنیکی توفیق بھی رکھتا ہے ۔ ہوگ۔ آئندہ ہوگا۔ پربھ ایہہے جنائی۔ خدا نے سمجھائیا ہے ۔ بن گرمکت نہ پاییئے ۔ بغیر مرشد نجات حاصل نہیں ہوتی ۔
ترجمہ:
اس دنیا میں وہم و گمان یا بھٹکن میں گمراہ نہ رہے کوئی مرشد کے بغیر کامیابی نہ ہوگی حاصل (1) رہاؤ۔
مرشد کے بلند اخلاق میں لگاؤ دھیان اور کلام مرشد اور نصیحت میں لاؤ ایمان ۔ پائے مرشد دلمیں بساؤ۔ مرشد اور خدا کو ہمیشہ کرو سجدہ سر جھکاؤ (1) گمراہ کو مرشد راستہ دکھاتا ہے اور دوسروں کو چھڑوا کر عابد الہٰی بناتا ہے ۔ تناسخ یا موت و پیدائش کا خوف مٹاتا ہے ۔ کامل مرشد بلند عظمت وحشمت کا مالک ہے (2) رحمت مرشد سے کند ذہن اور الٹ خیالت والا روشن دماغ ہو جاتا ہے ۔ اندھیرے میں روشنی اُبھر آتی ہے ۔ جس نے یہ عالم پیدا کیا اسکی بابت مرشد سمجھااتا ہے ۔ مرشد کی مہربانی سے جاہل من بھی ایمان لے آتا ہے (3) مرشد کرتا ہے اور کرنی کی توفیق رکھتا ہے ۔ کیونکہ مرشد خداوند کریم سے یکسو ہوجات اہے اس لئے خدا میں مرشد کا آپسی بھید مٹ جات اہے ۔ اس لئے آج بھی ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔ اے نانک۔ خدا نے یہی سمجھائیا ہے کہ مرشد کے بغیر نجات ہیں حاصل۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
گُروُ گُروُ گُرُ کرِ من مور ॥
گُروُ بِنا مےَ ناہیِ ہور ॥
گُر کیِ ٹیک رہہُ دِنُ راتِ ॥
جا کیِ کوءِ ن میٹےَ داتِ ॥੧॥
گُرُ پرمیسرُ ایکو جانھُ ॥
جو تِسُ بھاۄےَ سو پرۄانھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر چرنھیِ جا کا منُ لاگےَ ॥
دوُکھُ دردُ بھ٘رمُ تا کا بھاگےَ ॥
گُر کیِ سیۄا پاۓ مانُ ॥
گُر اوُپرِ سدا کُربانُ ॥੨॥
گُر کا درسنُ دیکھِ نِہال ॥
گُر کے سیۄک کیِ پوُرن گھال ॥
گُر کے سیۄک کءُ دُکھُ ن بِیاپےَ ॥
گُر کا سیۄکُ دہ دِسِ جاپےَ ॥੩॥
گُر کیِ مہِما کتھنُ ن جاءِ ॥
پارب٘رہمُ گُرُ رہِیا سماءِ ॥
کہُ نانک جا کے پوُرے بھاگ ॥
گُر چرنھیِ تا کا منُ لاگ ॥੪॥੬॥੮॥
لفظی معنی:
ٹیک۔ آسرا۔ وات۔ دی ہوئی نعمت (1) پرمیسور ۔ بلند۔ مالک ۔ پرم ایسور۔ ایکو جان ۔ ایک جیسےس مجھ ۔ پروان ۔ قبول (1) رہاؤ۔ گر چرنی جاکامن لاگے ۔ جسکا دل پائے مرشد کا گرویدہ ہوگیا۔ مان ۔ عزت (2) نہال ۔ خوش۔ گھال۔ محنت ومشقت ۔ دکھ نہ دیاپے ۔ عذآب برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ دیس ۔ دس اطراف (3) مہما۔ عظمت۔ پار برہم۔ خدا۔ گرہیا سمائی۔ خدا مرشد میں سمائیا رہتا ہے ۔
ترجمہ:
مرشد کو بھی خدا کی مانند خیال کرو۔ مرشد کے بغیر میرے من میں کچھ بھی نہیں۔ مرشد کو دن رات اپنا آسرا بناؤ ۔ اسکی دی ہوئی نعمت کوئی مٹا نہیں سکتا (1)
جسکو پائے مرشد سے پیار ہوگیا اسکے عذاب اور بھٹکن مٹ جاتی ہے ۔ خدمت مرشد ملتی ہے عزت اور وقار بھی ۔ اے دل قربان ہو مرشد پر (2) مرشد و خدا کی یکسوئی کو سمجھ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے قبول خدا کو ۔ رہاؤ۔
دیدار مرشد سے خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ خادم مرشد کی ہوئی محنت و مشقت کامیاب ہوتی ۔ خادم مرشد عام شہرت پاتا ہے (3) عظمت و حشمت مرشد بیان ہو نہیں سکتی مرشد میں بستا ہے خدا۔ اے نانک بتادے کہ جو بلند قسمت ہے ۔ اسی کے دلمیں پیار بستا ہے مرشد کا ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
گُرُ میریِ پوُجا گُرُ گوبِنّدُ ॥
گُرُ میرا پارب٘رہمُ گُرُ بھگۄنّتُ ॥
گُرُ میرا دیءُ الکھ ابھیءُ ॥
سرب پوُج چرن گُر سیءُ ॥੧॥
گُر بِنُ اۄرُ ناہیِ مےَ تھاءُ ॥
اندِنُ جپءُ گُروُ گُر ناءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرُ میرا گِیانُ گُرُ رِدےَ دھِیانُ ॥
گُرُ گوپالُ پُرکھُ بھگۄانُ ॥
گُر کیِ سرنھِ رہءُ کر جورِ ॥
گُروُ بِنا مےَ ناہیِ ہورُ ॥੨॥
گُرُ بوہِتھُ تارے بھۄ پارِ ॥
گُر سیۄا جم تے چھُٹکارِ ॥
انّدھکار مہِ گُر منّت٘رُ اُجارا ॥
گُر کےَ سنّگِ سگل نِستارا ॥੩॥
گُرُ پوُرا پائیِئےَ ۄڈبھاگیِ ॥
گُر کیِ سیۄا دوُکھُ ن لاگیِ ॥
گُر کا سبدُ ن میٹےَ کوءِ ॥
گُرُ نانکُ نانکُ ہرِ سوءِ ॥੪॥੭॥੯॥
لفظی معنی:
پوجا۔ پرستش ۔ پار برہم ۔ پارلگانیوالا۔ بھگونت ۔ قادر قسمت ۔ دیؤ۔ دیوتا۔ فرشتہ ۔ الکھ ۔ بیان سے باہر ۔ ابھیؤ ۔ جسکا راز معلوم نہ ہوسکے ۔ سرب ۔ سارے ۔ پو ۔ پرستش۔ سیؤ۔ خدمت کرؤ (1) تھاؤ۔ ٹھکانہ ۔ پؤ ۔ یاد کرتا ہوں (1) رہاؤ۔ گیان ۔ع لم ۔ روے دھیان۔ دلمیں ے توجہ ۔ گوپال۔ مالک عالم ۔ بھگوان تقدیر ساز۔ کر جور ۔ ہاتھ اندھ کر ۔ ہور ۔ علاوہ (2) بوہتھ ۔ جہاز۔ بھوپار۔ زندگی کے وسیع سمندر کو پار کرنے کے لئے ۔ چھٹکار ۔ نجات ۔ آزادی ۔ اندھکار۔ جہالت کے اندھیرے میں ۔ گرمنتر اُجار۔ واعظ مرشد ہے روشنی ۔ نستار ۔ کامیاب (3) گرپور۔ کامل مرشد۔ وڈبھاگی بلند قسمت سے گر۔ نانک۔ مشد نانک۔ نانک ہر سوئے ۔ نانک ہے مانند خدا ۔
ترجمہ:
میرے لئے بغیر مرشد ٹھکانہ نہیں کوئی ۔ میں ہر روز مرشد کا نام لیتا ہون (1) رہاؤ۔ مرشد ہی میرے لئے قابل پرستش کو مرشد ہی میرے لئے مانند خدا ۔ مرشد ہی ہے کامیاب بنانے والا مرشد ہی تقدیر ساز ہے مرشد ہی ہے دیوتا اور مرشد سمجھ سے باہر بیان ہوسکتا نہیں نہ راز اکسا معلوم ہوسکتا ہے ۔ پائے مرشد کی کرو خدمت جسکی پرستش سارے کرتے ہیں (1) مرشد ہے مطیع علم کا ۔ مرشد میں لگاؤ دھیان اپنا دلمیں اپنے ۔ مرشد ہے مالک عالم اور تقدیر ساز ہے ۔ ہاتھ جوڑ کر رہو اسکی پناہ میں ۔ مرشد کے بغیر نہیں کوئی آسرا (2) مرشد زندگی کے سمندر کو عبور کرنے کے لئے ہے ایک جہاز۔ مرشد کی خدمت سے موت کا خوف مٹ جاتا ہے ۔ عقل و ہوش کی گم شدگی میں واعظ مرشد ہے روشن منار۔ مرشد کی محبت و قربت سب کو کامیاب بناتی ہے (3) بلند قسمت سے ہی ملتا ہے کامل مرشد ۔ مرشد کی خدمت سے عذآب آتا نہیں۔ کلام مرشد کوئی مآ سکتا نہیں۔ مشد ہے نانک اور نانک ہے مانند خدا۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
رام رام سنّگِ کرِ بِئُہار ॥
رام رام رام پ٘ران ادھار ॥
رام رام رام کیِرتنُ گاءِ ॥
رمت رامُ سبھ رہِئو سماءِ ॥੧॥
سنّت جنا مِلِ بولہُ رام ॥
سبھ تے نِرمل پوُرن کام ॥੧॥ رہاءُ ॥
رام رام دھنُ سنّچِ بھنّڈار ॥
رام رام رام کرِ آہار ॥
رام رام ۄیِسرِ نہیِ جاءِ ॥
کرِ کِرپا گُرِ دیِیا بتاءِ ॥੨॥
رام رام رام سدا سہاءِ ॥
رام رام رام لِۄ لاءِ ॥
رام رام جپِ نِرمل بھۓ ॥
جنم جنم کے کِلبِکھ گۓ ॥੩॥
رمت رام جنم مرنھُ نِۄارےَ ॥
اُچرت رام بھےَ پارِ اُتارےَ ॥
سبھ تے اوُچ رام پرگاس ॥
نِسِ باسُر جپِ نانک داس ॥੪॥੮॥੧੦॥
لفظی معنی:
سنگ ۔ ساتھ ۔ بیوہار۔ برتاؤ۔ پران ادھار۔ زندگی کا آسرا ۔ کیرتن ۔ صفت صلاح۔ رمت رام ۔ خدا کا نام ( لینے سے ) سبھ میہہ رہیؤ سمائے ۔ سب میں بستا ہے (1) روحانی رہبر ( سنتہو) سے مل کر خدا خدا کہو ۔ نرمل۔ پاک ۔ پورن ۔ مکمل۔ پورن۔ رہاؤ۔ سہائے ۔ مددگار ۔ رام دھن۔ الہٰی دؤلت۔ سنچ بھنڈار ۔ خزانے اکھٹے کر۔ آہار۔ کھانا۔ وسر ۔ بھول۔ (2) لو ۔ پیار۔ کل وکھ ۔ گناہ (3) رمت رام ۔ خدا خدا کہنے سے ۔ جنم مرن ۔ موت و پیدائش ۔ تناسخ ۔ نوارے ۔ مٹادیتا ہے ۔ بھے ۔ خوف۔ پرگاس۔ روشنی ۔ نس باسر۔ دن رات۔
ترجمہ:
روحانی رہبروں سے بلکر خدا خدا کہو سب سے پاک اور پورا کام ہے (1) رہاؤ۔ خاد کو ساتھ سمجھ کر کرؤ کوئی کام ۔ خدا ہی ہے زندگی کے لئے ایک آصرا۔ ہمیشہ اسکی کرؤ صفت صلاح جو ہر جائی ہے اور سبھ میں بستا ہے (1) الہٰی دؤلت اکٹھی کرؤ اور بھر و خزانے خدا کو بنا لو روح کی خوراک ۔ کرم و عنایت سے مرشد نے یہ بتایا کہیں بھول نہیںجائیں نام خدا کا (2) ہمیشہ مددگار ہوتا ہے خدا اس سے اپنا پیار بناؤ ۔ رام رام کہنے سے پاک ہوجاتے ہیں۔ دیرئنہ کئے گناہ دور ہو جاتے ہیں (3) رام رام کہنے سے تناسخ مٹ جاتا ۔ نام خدا کا لینے سے عبور حاصل ہوجاتا ہے زندگی پر ۔ سب سے بلند نور خدا کا اے خادم نانک روز و شب تو یاد کیا کر۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
اُن کءُ کھسمِ کیِنیِ ٹھاکہارے ॥
داس سنّگ تے مارِ بِدارے ॥
گوبِنّد بھگت کا مہلُ ن پائِیا ॥
رام جنا مِلِ منّگلُ گائِیا ॥੧॥
سگل س٘رِسٹِ کے پنّچ سِکدار ॥
رام بھگت کے پانیِہار ॥੧॥ رہاءُ ॥
جگت پاس تے لیتے دانُ ॥
گوبِنّد بھگت کءُ کرہِ سلامُ ॥
لوُٹِ لیہِ ساکت پتِ کھوۄہِ ॥
سادھ جنا پگ ملِ ملِ دھوۄہِ ॥੨॥
پنّچ پوُت جنھے اِک ماءِ ॥
اُتبھُج کھیلُ کرِ جگت ۄِیاءِ ॥
تیِنِ گُنھا کےَ سنّگِ رچِ رسے ॥
اِن کءُ چھوڈِ اوُپرِ جن بسے ॥੩॥
کرِ کِرپا جن لیِۓ چھڈاءِ ॥
جِس کے سے تِنِ رکھے ہٹاءِ ॥
کہُ نانک بھگتِ پ٘ربھ سارُ ॥
بِنُ بھگتیِ سبھ ہوءِ کھُیارُ ॥੪॥੯॥੧੧॥
لفظی معنی:
ان کؤ۔ انہیں۔ خصم ۔ مالک ۔ ٹھاک ہارے ۔ رکاوٹ ۔ داس۔ غلام ۔ خدمتگار ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ مار ہمارے ۔ ختم کردیئے ۔ گوبند بھگت ۔ الہیی عابد۔ الہٰی عاشق پریمی پیارے ۔ محل ۔ ٹھکانہ ۔ رام جنا۔ خادمان خدا۔ منگل ۔ خوشی کے گیت (1) سگل سر سٹ ۔ ساری دنیا ۔ پنچ سکدار۔ پانچ سردار۔ حکمران ۔ پانیہار۔ پانی لانے والے (1) رہاؤ۔ دان۔ خیرات۔ ڈان ۔ جرمانہ ۔ خراج ۔ سلام ۔سجدہ ۔ جھکنا ۔ آداب ادا کرنا ۔ ساکت مادہ پرست ۔ دنیاوی دولت کا دلدادہ ۔ پت۔ عزت۔ کھودیہہ۔ گنواتے ہیں۔ سادھ جنا۔ پاکدامن خادمان خدا۔ پگ ۔ پاوں (2) پانچ پوت جنے اک مائے ۔
مائیا۔ دنیاوی دولت نے پانچ بیٹے پیدا کئے ۔ شہوت ۔ غصہ ۔ لالچ ۔ محبت ۔ غرور و تکبر۔ سہج کھیل۔ خودرو۔ تین گنا کے سنگ ۔ تین زندگی کے چلن کے اوصاف۔ رجو۔ ستو ۔ طمو ۔ رچ رسے ۔ کے لطف میں ملوچ۔ اوپر۔ اس سے بلند۔ جن بسے ۔ خادم خدا ثریاپد۔ ایسا بلند رتبہ جہاں دنیاوی ادائیں بے اثر ہو جاتی ہے روحانی منڈل یادنیا میں (3) جن لئے چھڈائے ۔ نجات دلائی۔ ہٹائے ۔ روکے ۔ سار ۔ سنبھال۔
ترجمہ:
پانچ اسانیت واخلاق دشمن احساسات بد شہوت ، غصہ ، لالچ ، محبت ، غرور و تکبر پانچوں روحانیت کے دشمن کی سارے عالم پر حکمرانی اور ہے سرواری مگر الہٰی عابدان عاشقان اور پریمیؤ کے پانی بھرنےو الے ادنے نوکر ہیں ۔ رہاؤ۔ جب مالک عالم نے ان کو منع کیا تو انہوں نے تسلیم کیا ۔ تو اپنے خدمتگاروں سے بھگادیا اور وہ انکے ٹھکانے تلاش نہیں کر سکے ۔ خدمتگاران خدا الہٰی حمدوچناہ کرتےرہتے ہیں (1) سارے عالم سے یہ پانچوں خیرات جذیہ یا محصول وصول کرتے ہیں مگر الہٰی عابدوں کو سجدے کرتے ہیں اور سلام بلاتے ہیں۔ مادہ پرست منکران ہستی خدا کو لوٹتے ہیں اور ذلیل وخوآر کرتے ہیں جبکہ خادمان خدا کی قدمبوسی کرتے ہین (2) ایک ماں نے ان پانچوں کو جنم دیا ہے خود روی پیدائش کا ایک تماشہ سے یہ عالم پیدا کیا ہے ۔ اور تین اوصاف رجو ستو طمو ، میں یکسو ہوکر اسکا لطف اُٹھا رہے ہیں۔ مگر عابدان و عاشقان الہٰی اس سے بلند تریاپد کے روھانی دنیا میں بستے ہیں (3) جس خدا نے انہیں پیدا کیا ہے اسی نے ہی اسی نے ہی انہیں منع کیا ہے ۔ اے نانک بتادے ۔ کہ عبادت کرؤ۔ بگیر عبادت سارا عالم ذلیل ہوتا ہے ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
کلِ کلیس مِٹے ہرِ ناءِ ॥
دُکھ بِنسے سُکھ کیِنو ٹھاءُ ॥
جپِ جپِ انّم٘رِت نامُ اگھاۓ ॥
سنّت پ٘رسادِ سگل پھل پاۓ ॥੧॥
رام جپت جن پارِ پرے ॥
جنم جنم کے پاپ ہرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر کے چرن رِدےَ اُرِ دھارے ॥
اگنِ ساگر تے اُترے پارے ॥
جنم مرنھ سبھ مِٹیِ اُپادھِ ॥
پ٘ربھ سِءُ لاگیِ سہجِ سمادھِ ॥੨॥
تھان تھننّترِ ایکو سُیامیِ ॥
سگل گھٹا کا انّترجامیِ ॥
کرِ کِرپا جا کءُ متِ دےءِ ॥
آٹھ پہر پ٘ربھ کا ناءُ لےءِ ॥੩॥
جا کےَ انّترِ ۄسےَ پ٘ربھُ آپِ ॥
تا کےَ ہِردےَ ہوءِ پ٘رگاسُ ॥
بھگتِ بھاءِ ہرِ کیِرتنُ کریِئےَ ॥
جپِ پارب٘رہمُ نانک نِستریِئےَ ॥੪॥੧੦॥੧੨॥
لفظی معنی:
کل کلیس۔ جھگڑے و آپسی نا اتفاقی ۔ ہرنائے ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت سےمٹتے ہیں۔ دکھ ونسے ۔ عذآب مٹتا ہے ۔ سکھ کینوٹھاؤ ۔ آرام و آسائش اپنا مقام بناتا ہے ۔ انمرت نام۔ سچ و حقیقت الہٰی نام آب حیات ہے ۔ اگھائے ۔ انسانی روح سیر ہو جاتی ہے ۔ بھوک مٹ جاتی ہے ۔ سنت پر ساد۔ رحمت روحانی رہبر سے سلگ پھل۔ ہر طرح کی مرادیں پوری ہوتی ہیں (1) اپادھ ۔ روحانی بیماری ۔ سہج سمادھ ۔ روحانی سکون کی یکسوئی (2) تھان ۔ تھننر ۔ ہر جگہ۔ سگل گھٹا۔ سارے دلوں ۔ انتر جامی ۔ اندرونی ۔ راز جاننے والا۔ مت۔ عقل ۔ شعور ۔ پربھ کا نام ۔ سچ وحقیقت ۔ لئے ۔ یادرکھے (3) انتر۔ دلمیں۔ ہروے ہوئے پرگاس۔ اسکا دل عقل و شعور سے روشن ہو جاتا ہے ۔ بھگت بھائے ۔ الہیی پیار کی چاہ یا خواہش سے ۔ کیرتن ۔ صفت صلاح۔ جپ ۔ پار برہم۔ پار لگانےوالے ۔ کامیابی بخشنے والے خدا کی یادوریاض سے ۔ نستریئے ۔کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔
ترجمہ:
الہٰی عبادت وریاضت سے خادمان خدا کے دیرینہ کئے ہوئے گناہ عافو ہو جاتے ہیں اور وہ کامیاب ہو جاتے ہیں (1) رہاؤ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کی برکت سے جھگڑے اور الہیی جدائی ختم ہوجاتی ہے ۔ عذآب مٹ جاتے اور آرام و آسائش ان کی جگہ لے لیتے ہیں آب حیات نام سچ و حقیقت کی یادوریاض سےب ھوک مٹ جاتی ہے من سیر ہو جاتا ہے ۔ روحانی رہبر سنت کی رحمت سے ہر طرح کی کامیابی حاصل ہوتی ہے (1) واعظ مرشد دلمیں بسانے سے اس انسان زندگی جو آگ کے سمندر جیسی ہے سے کامیابی کے ساتھ عبور حاصل ہو جاتا ہے تناسخ کی بھاری مٹ جاتی ہے اور انسان کی روحانی سکون میں خدا سے یکسوئی ہو جاتی ہے (2) ہر جگہ بستا ہے واحد خدا جو ہر دل کے راز جاننے والا ہے ۔ پانی کرم و عنایت سے جیسے عقل شعور کرتا ہے عنایت وہ ہر وقت الہٰی نام سچ و حقیقت کی کرتا ہے یادوریاض (3) جس کے دلمیں بستا ہے خود خدا اسکا دل روشن ہو جاتا ہے عقل و شعور و روحآنیت سے ۔ جو پریم پیار سے الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ وہ اے نانک۔ یادوریاض خدا سے کامیاب ہو جاتا ہے زندگی میں۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
گُر کے چرن کمل نمسکارِ ॥
کامُ ک٘رودھُ اِسُ تن تے مارِ ॥
ہوءِ رہیِئےَ سگل کیِ ریِنا ॥
گھٹِ گھٹِ رمئیِیا سبھ مہِ چیِنا ॥੧॥
اِن بِدھِ رمہُ گوپال گد਼بِنّدُ ॥
تنُ دھنُ پ٘ربھ کا پ٘ربھ کیِ جِنّدُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آٹھ پہر ہرِ کے گُنھ گاءُ ॥
جیِء پ٘ران کو اِہےَ سُیاءُ ॥
تجِ ابھِمانُ جانُ پ٘ربھُ سنّگِ ॥
سادھ پ٘رسادِ ہرِ سِءُ منُ رنّگِ ॥੨॥
جِنِ توُنّ کیِیا تِس کءُ جانُ ॥
آگےَ درگہ پاۄےَ مانُ ॥
منُ تنُ نِرمل ہوءِ نِہالُ ॥
رسنا نامُ جپت گوپال ॥੩॥
کرِ کِرپا میرے دیِن دئِیالا ॥
سادھوُ کیِ منُ منّگےَ رۄالا ॥
ہوہُ دئِیال دیہُ پ٘ربھ دانُ ॥
نانکُ جپِ جیِۄےَ پ٘ربھ نامُ ॥੪॥੧੧॥੧੩॥
لفظی معنی:
نمسکار ۔ سجدہ کرو۔ سرجھکاؤ اداب میں ۔ کام کرؤدھ ۔ شہوت اور غسہ ۔ شگل ۔ سب کی ۔ رہنا ۔ دہول۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں ۔ رمیئیا۔ رام خدا۔ جینا۔ پہچان (1) سوآؤ۔ مقصد۔ مدعا۔ ابھیمان ۔ غرور ۔ تکبر۔ سنگ۔ ساتھ ۔ سادھ پرساد۔ رحمت پاکدامن کدائی خدمتگار کے (2) جن توکیا۔ جس نے تجھے پیدا کیا ہے ۔ آگ درگیہہ۔ بارگاہ الہٰی میں۔ مان ۔ عزت۔ قدروقیمت ۔ وقار۔ نرمل۔ پاک ۔ نہال۔ خوش ۔ رسنا۔ زبان (3) دین دیالا۔ غریب پرور ۔ رحمان الرحیم ۔ روالا۔ دہول۔ جیوے ۔ روحانی زندگی جیئے ۔ نام ۔ سچ وحقیقت کی بدولت ۔
ترجمہ:
اس طرح یاد کرؤ خدا کو کہ یہ دولت سرمایہ اور زندگی خدا کی بخشی ہوئی ہے ۔ رہاؤ مرشد کے آگے جھکو سجدہ کرؤ اور شہورت ار کرؤدھ ۔ جسم سے نکالوں اور سب سے عاجزی اور انکساری سے پیش آؤ۔ ہر دلمیں خدا کے بسنے کی پہچان کرؤ۔ ہر وقت کرؤ حمدوثناہ خدا کی یہی مقصد ہے زندگی کا۔ غرور و تکبر چھوڑ کر خدا کو اپنے ساتھ سمجہو۔ رھمت (مرشد) پاکدامن خدا کے پیار دلمیں بسا لو (2) اے انسان جس نے تجھے پیدا کیا ہے اسکا احسان سمجھ ۔ تاکہ بوقت عاقبت بارگاہ الہٰی میں تیری عزت افزائی ہو قدروقیمت پائے ۔ تیرا دل وجان پاک و مقدس ہو جائے اور خوشی پائے ۔ زبان سے خدا نام سچ و حقیقت ( کو) کی یادوریاض کر (3) اے غریب پرور روحامن الرحیم کرم و عنایت فرما۔ میرا دل پاکدامن خدا رسیدہ سادہو کی دہول چاہتا ہے ۔ اے خدا مرہبنای کرکے خریات عنایت کر نانک تیرے نام کی یادوریاض سے روحانی واخلاقی زندگی بسر کرتے ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
دھوُپ دیِپ سیۄا گوپال ॥
انِک بار بنّدن کرتار ॥
پ٘ربھ کیِ سرنھِ گہیِ سبھ تِیاگِ ॥
گُر سُپ٘رسنّن بھۓ ۄڈ بھاگِ ॥੧॥
آٹھ پہر گائیِئےَ گوبِنّدُ ॥
تنُ دھنُ پ٘ربھ کا پ٘ربھ کیِ جِنّدُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ گُنھ رمت بھۓ آننّد ॥
پارب٘رہم پوُرن بکھسنّد ॥
کرِ کِرپا جن سیۄا لاۓ ॥
جنم مرنھ دُکھ میٹِ مِلاۓ ॥੨॥
کرم دھرم اِہُ تتُ گِیانُ ॥
سادھسنّگِ جپیِئےَ ہرِ نامُ ॥
ساگر ترِ بوہِتھ پ٘ربھ چرنھ ॥
انّترجامیِ پ٘ربھ کارنھ کرنھ ॥੩॥
راکھِ لیِۓ اپنیِ کِرپا دھارِ ॥
پنّچ دوُت بھاگے بِکرال ॥
جوُئےَ جنمُ ن کبہوُ ہارِ ॥
نانک کا انّگُ کیِیا کرتارِ ॥੪॥੧੨॥੧੪॥
لفظی معنی:
دہوپ۔ خوشبو والا ہوآں۔ دیپ۔ دیا۔ چراغ۔ سیوا گوپال ۔ خدمت ۔ خدا۔ انک بار۔ بہت دفعہ ۔ بندھن کرتار۔ سجدہ خدا کو جو ہے کارساز۔ گہی ۔ پکڑی ۔ سبھ تیاگ۔ سبھ کچھ چھوڑ کر ۔ سوپرسن بھیئے ۔ اچھی طرح خوش ہوئے (1) تن دھن۔ جسم و سرمایہ ۔ جند ۔ جان ۔ زندگی ۔ رہاؤ۔ رمت۔ یاد کرتےہوئے ۔ بخسند۔ بشنے والا (2) کرم ۔ اعمال ۔ دھرم ۔ فرض۔تت گیان ۔ اصلی علم ۔ سادھ سنگ ۔ پاکدامن روحانی رہبر کے ساتھ ۔ ساگر۔ سمندر۔ بوہتھ ۔ جہاز ۔ا نتر جامی ۔ راز دل جاننے والا۔ کارن ۔ سبب۔ کرن ۔ بنانیوالا (3) ۔ راکھ لئے ۔ بچائے ۔ کرپادھار۔ کرم و عنیات سے ۔ پنچ دوت ۔ پانچوں دشمن۔ بکرال ۔ خوفناک ۔ انگ ۔ طرفداری ۔ ساتھ ۔
ترجمہ:
ہر وقت بطور شکرانہ خدا کی کرؤ حمدوچناہ جس نے بخشی ہے تمہیں زندگی اور زرومال (1) رہاؤ۔ جس پر بلند قسمت سے مرشد خوش ہو جائے تو خوشبو پھیلانا چراغ جلانا اور دعائیں کرنا چھوڑ کر خدا کا آسرا ہے (1) الہٰی حمدوثناہ سے سکون اور خوشی حاسل ہوتی ہے وہ کامیاب بنانے والا ۔ اپنی کرم و عنایت سے اپنے خدمتگاروں کو خدمت میں لگاتا ہے اور پیدائش سے لیکر موت تک کے تمام عذاب مٹا دیتا ہے (2) نیک اعمال اور ادائیگی فرائض انسان د منصبی یہی ہے اور حقیق ی علم یہی ہے کہ محبت و قربت پاکدامن روحانی رہبروں میں الہٰی نام سچ و حقیقت کی یادوریاض کیجائے ۔ الہٰی عبادت وریاضت ہی اس انسانی زندگی پر عبور حاصل کرنے لئے ایک جہاز ہے جو سب کے دلی راز جاننے والا ہے ۔ اور ہر طرح کے سبب پیدا کرنیوالا ہے (3) اپنی کرم و عنایت سے جسکا محافظ خدا ہو جائے ۔ پانچوں خوفناک اخلاق دشمن بھاگ جاتے ہیں۔ اے نانک۔ جس کا طرفدارخدا خود ہو جائے وہ زندگی اپنی بیکاری برباد کرتا نہیں۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
کرِ کِرپا سُکھ اند کرےءِ ॥
بالک راکھِ لیِۓ گُردیۄِ ॥
پ٘ربھ کِرپال دئِیال گد਼بِنّد ॥
جیِء جنّت سگلے بکھسِنّد ॥੧॥
تیریِ سرنھِ پ٘ربھ دیِن دئِیال ॥
پارب٘رہم جپِ سدا نِہال ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘ربھ دئِیال دوُسر کوئیِ ناہیِ ॥
گھٹ گھٹ انّترِ سرب سماہیِ ॥
اپنے داس کا ہلتُ پلتُ سۄارےَ ॥
پتِت پاۄن پ٘ربھ بِردُ تم٘ہ٘ہارےَ ॥੨॥
ائُکھدھ کوٹِ سِمرِ گوبِنّد ॥
تنّتُ منّتُ بھجیِئےَ بھگۄنّت ॥
روگ سوگ مِٹے پ٘ربھ دھِیاۓ ॥
من باںچھت پوُرن پھل پاۓ ॥੩॥
کرن کارن سمرتھ دئِیار ॥
سرب نِدھان مہا بیِچار ॥
نانک بکھسِ لیِۓ پ٘ربھِ آپِ ॥
سدا سدا ایکو ہرِ جاپِ ॥੪॥੧੩॥੧੫॥
لفظی معنی:
کرکپا۔ اپنی کرم و عنایت سے ۔ کرپال۔ دیال۔ رحمان الرحیم ۔ بخسند۔ بخسنے والا (1) دین دیال۔ غریب پرور۔ نہال۔ خوش۔ (1) رہاؤ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ سرب سماہی ۔ سب میں بستا ہے ۔ حلت پلت۔ یہاں اور وہاں اس عالم میں اور عاقبت ۔ پتت پاون ۔ بداخلاقوں کوپاک بنانیوالا ۔ بردھ ۔ عادت (2) آوکھد ۔ دوائی ۔کوٹ ۔ کروڑوں ۔ تنت منٹ ۔ جاود۔ ٹونے ۔ بھیجیئے بگونت ۔ عبادت الہٰی ۔ روگ سوگ۔ بیماریاں اور افسوس ۔ تشویش ۔ من بانچھت ۔ دلی خواہش (3) کارن کرن ۔ سبب بنانے ۔ سمرتھ ۔ قابل توفیق رکھنے والا ۔ دیارے ۔ دیال مہربان ۔ سرب ندھان ۔ ہر طرح کے خزانے ۔ مہاوچار۔ بلند خیالات۔ بھاری سوچ و سمجھ ۔ ایکوہر۔ واحد خدا۔
ترجمہ:
اے غریب پروری تیری پناہ اے کامیابی بخشنے والے تیری یاد وریاض سے خوشی ملتی ہے محصوس ہوتی ہے ہمیشہ (1) رہاؤ۔ خداوند کریم اپنی وعنایت سے آرام و خوشیاں عنایت کرتا ہے پہنچاتا ہے اور اپنے بچوں کی حفاظت کرتا ہے خدا رحمان الرحیم ہے اور سب پر بخشش کرنیوالا ہے (1) اے خدا دنیا میں نہیں مہربان تجھ جیسا ہر دلمیں بستا ہے تو اور اپنے خدمتگاروں چاہنے والون کا موجودہ اور عاقبت زندگی راہ راست پر لاتا اور درست کرتا ہے ۔ ناپاکوں ۔ بد چلن بداخلاقوں کو پاک اور نیک بنانا تیری قدیمی عادت ہے ۔ اے خدا (2) تیری یادوریاض ہی کروڑوں دوائی ہے ۔ تیری حمد وثناہ جادو اور ٹونے یا تعویذ کی تاثیر رکھتی ہے ۔ تیری ریاض سے بیماریاں اور افسوس مٹ جاتے ہیں اور دلی خواہش کی مطابق نتیجے آخذ ہوتے ہیں (3) خدا سبب بنانے اور کرنے کی توفیق رکھتا ہے مہربان ہے سب قوتوں کا مالک ہے ۔ اسکی بلند خیال سارے خزانے ہیں۔ اے نانک۔ خدا خود ہی بخشش کرتا ہے ہمیشہ یاد کرؤ اس واحد خدا کو۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
ہرِ ہرِ نامُ جپہُ میرے میِت ॥
نِرمل ہوءِ تُم٘ہ٘ہارا چیِت ॥
من تن کیِ سبھ مِٹےَ بلاءِ ॥
دوُکھُ انّدھیرا سگلا جاءِ ॥੧॥
ہرِ گُنھ گاۄت تریِئےَ سنّسارُ ॥
ۄڈ بھاگیِ پائیِئےَ پُرکھُ اپارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جو جنُ کرےَ کیِرتنُ گوپال ॥
تِس کءُ پوہِ ن سکےَ جمکالُ ॥
جگ مہِ آئِیا سو پرۄانھُ ॥
گُرمُکھِ اپنا کھسمُ پچھانھُ ॥੨॥
ہرِ گُنھ گاۄےَ سنّت پ٘رسادِ ॥
کام ک٘رودھ مِٹہِ اُنماد ॥
سدا ہجوُرِ جانھُ بھگۄنّت ॥
پوُرے گُر کا پوُرن منّت ॥੩॥
ہرِ دھنُ کھاٹِ کیِۓ بھنّڈار ॥
مِلِ ستِگُر سبھِ کاج سۄار ॥
ہرِ کے نام رنّگ سنّگِ جاگا ॥
ہرِ چرنھیِ نانک منُ لاگا ॥੪॥੧੪॥੧੬॥
لفظی معنی:
نرمل۔ پاک ۔ چیت ۔ دل ۔ بلائے ۔ محبتیں۔ دوکھ ۔ عذاب ۔ اندھیرا ۔ لا علمی (1) ترییئے ۔ کامیابی پائیں۔ وڈبھاگی بلند قسمت ۔ پرکھ اپار۔ وسیع دائرے و اخیارات کا مالک (1) رہاؤ۔ کرتن ۔ صفت ۔ صلاح ۔ پو۔ متاچر جمکال۔ موت۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ خصم۔ بچھا ۔ خدا کی پہچان کر سمجھ ۔ پرونا ۔ قبول (2) سنت پرساد۔ روحانی رہبر (سنت) کی رحمت سے ۔ کام کرودھ ۔ شہوت اور غصہ ۔ انماد۔ دیوانگی ۔ سدا حضور ۔ حاضر ناظر ۔ بھگونت۔ تقدیر ساز ۔ مراد خدا۔ منت ۔ نصیحت ۔ واعظ (3) کھاٹ۔کما کر۔ بھنڈار۔ خزانے ۔ کاج سوار۔ کام درست کئے ۔ نام رنگ ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کے پریم پیار۔ جاگا۔ بیداری آئی۔ سنگ ۔ ساتھ ۔
ترجمہ:
الہٰی حمدوثناہ سے اس دنیا میں کامیابی حاصلو ہوتی ہے اور بلند قسمت سے اس وسیع اختیارات و ہستی کا وصل و ملاپ نصیب ہوتا ہے (1) رہاؤ۔ اے دوست الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادریاض کیجیئے تاکہ تمہارا دل و ذہن پاک ہو جائے اور دل و جان کی ساری مصیبتیں مٹ جائیں۔ عذاب اور لا علمی دور ہو جائے (1) جو انسان تعریف خدا کی کرتا ہے ۔ موت بھی اس پر اپنا اچر نہیں ڈال سکتی ۔ جنم لینا اس علام میں وہی قبول ہوت اہے جو مرید مرشد ہوکر اپنے آقا خدا کی پہچان کر تا ہے (2) جو رحمت روحانی رہبر کے تعریف خدا کی کرتا ہے ۔ اسکا شہوت غصہا ور دیوانگی ختم ہو جاتی ہے ۔ ہمیشہ خدا کو حآضر سمجھ ۔ کامل مرشد کی واعظ و پندونصائج ہوتی ہے کامل (3) اے نانک۔ جس نے مرشد کے ملاپ سے الہٰی نام سچ و حقیقت کی دولت کمائی او اس دولت کے خزانے بھر لئے اس نے اپنے سارے کام دست کر لئے الہٰی نام سچ وحقیقت سے پریم پیار سے اور اسکے ساتھ سے بیداری آتی ہے ۔ خدا سے محبت و پیار ہو جاتا ہے دل کا۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
بھۄ ساگر بوہِتھ ہرِ چرنھ ॥
سِمرت نامُ ناہیِ پھِرِ مرنھ ॥
ہرِ گُنھ رمت ناہیِ جم پنّتھ ॥
مہا بیِچار پنّچ دوُتہ منّتھ ॥੧॥
تءُ سرنھائیِ پوُرن ناتھ ॥
جنّت اپنے کءُ دیِجہِ ہاتھ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِم٘رِتِ ساست٘ر بید پُرانھ ॥
پارب٘رہم کا کرہِ ۄکھِیانھ ॥
جوگیِ جتیِ بیَسنو رامداس ॥
مِتِ ناہیِ ب٘رہم ابِناس ॥੨॥
کرنھ پلاہ کرہِ سِۄ دیۄ ॥
تِلُ نہیِ بوُجھہِ الکھ ابھیۄ ॥
پ٘ریم بھگتِ جِسُ آپے دےءِ ॥
جگ مہِ ۄِرلے کیئیِ کےءِ ॥੩॥
موہِ نِرگُنھ گُنھُ کِچھہوُ ناہِ ॥
سرب نِدھان تیریِ د٘رِسٹیِ ماہِ ॥
نانکُ دیِنُ جاچےَ تیریِ سیۄ ॥
کرِ کِرپا دیِجےَ گُردیۄ ॥੪॥੧੫॥੧੭॥
لفظی معنی:
بھوساگر۔ خوفناک سمندر۔ بوہتھ جہاز۔ سمرت نام ۔ الہٰی نام ۔سچ و حقیقت کی یاد وریاض ۔ مرن ۔ موت۔ ہر گن رمت۔ الہٰی صفت صلاح۔ جم پنتھ ۔ موت کا راستہ ۔ مہاوچار ۔بھاری سمجھ ۔ پنچ دوتیہہ منتھ ۔ پانچوں برائیوں کا مٹانا (1) پورن ناتھ ۔ پورے مالک ۔ دیجے ہاتھ ۔ امداد کے لئے ہاتھ دیجیئے (1) رہاؤ۔ وکھیان ۔ تشریح۔ مت۔ اندازہ (2) کرن پلاہ ۔ باویلا۔ آہ وزاری ۔ شیودیو ۔ شوجی دیوتا ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ ابھیو ۔ جسکا بھید یا راز سمجھ سے باہر۔ ورے ۔ بہت کم کئی کیئے ۔ کوئی ہی (3) موہ نرگن ۔ میں بے اوصاف ۔گن کچھہو۔ وصف کوئی بھی نہیں۔ سرب ندھان ۔ سارے خزانے ۔ درسٹی ۔ نظریہ ۔ نگاہ۔ دین ۔ غریب۔ جاپے ۔ مانگتا ہے ۔ سید ۔ خدمت۔ گرویو۔ مرشد دیوتا۔
ترجمہ:
اے کامل مالک (خدا) تیرے زیرسایہ اور پناہ کے لئے آئیا ہوں اپنے عزیز اورپیدا کردہ کو اپنا ہاتھ پکڑا (بطور امداد) ۔ رہاؤ۔ انسانی زندگی کے خوفناک سمندر کو عبور کرنے کے لئے خدا کا سایہ یا بندگی و اطاعت ایک جہاز ہے ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض سے انسان کو روحانی واخلاقی موت نہیں مرنا پڑتا۔ الہٰی صفت صلاح کرنے سے اخلاقی وروحانی موت کے راستے جانا نہیں پڑتا۔ بلند خیالی ہے دوسرے تمام خیالات سے الہٰی نام سچ و حقیقت جو پانچوں روحانی واخلاقی دشمنوں کو ختم کر دیتی ہے (1) سمرتیاں شاشتراخدا کی تشرح ) اور وید پران مراد الہٰی اوصاف بیان کرتے ہیں۔ جوگی جتی ۔ وسنو ۔ رامداس بھی الہٰی اوساف کے متعلق سوچتے اور خیال آرائی کرتے ہیں مگر اس لافناہ کا اندازہ و آخر نہیں سمجھ سکے (2) شیوجی دیوتا نے بھی اسکے کوشش کی مگر رتی بھر بھی اس کی شکل وصورت کو سمجھ سکا اور اسے ہستی کو جو ایک راز ہے اسکا راز معلوم کر سکا۔ لہذا نہ اسکی شکل وصورت بیان کی جا سکتی نہ بھید معلوم ہو سکتا ہے ۔ خدا جسے خود اپنا پیار اور پریم بخشش کرتا ہے ایسے دنیا میں کوئی ہی ہے (3) میں بلا اوصاف ہوں نہیں کوئی وصف مجھ میں ۔ جبکہ سارے خزانے مہیں تیرے زیر نظر ۔ غریب نانک اے خدا تیرے خدمت ہے مانگتا ۔ ازراہ کرم و عنایت یہ خیرات دیجیئے ۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
سنّت کا لیِیا دھرتِ بِدارءُ ॥
سنّت کا نِنّدکُ اکاس تے ٹارءُ ॥
سنّت کءُ راکھءُ اپنے جیِء نالِ ॥
سنّت اُدھارءُ تتکھِنھ تالِ ॥੧॥
سوئیِ سنّتُ جِ بھاۄےَ رام ॥
سنّت گوبِنّد کےَ ایکےَ کام ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّت کےَ اوُپرِ دےءِ پ٘ربھُ ہاتھ ॥
سنّت کےَ سنّگِ بسےَ دِنُ راتِ ॥
ساسِ ساسِ سنّتہ پ٘رتِپالِ ॥
سنّت کا دوکھیِ راج تے ٹالِ ॥੨॥
سنّت کیِ نِنّدا کرہُ ن کوءِ ॥
جو نِنّدےَ تِس کا پتنُ ہوءِ ॥
جِس کءُ راکھےَ سِرجنہارُ ॥
جھکھ مارءُ سگل سنّسارُ ॥੩॥
پ٘ربھ اپنے کا بھئِیا بِساسُ ॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تِس کیِ راسِ ॥
نانک کءُ اُپجیِ پرتیِتِ ॥
منمُکھ ہار گُرمُکھ سد جیِتِ ॥੪॥੧੬॥੧੮॥
لفظی معنی:
لیا۔ ملعون ۔ ملامت زدہ ۔ لعنت ۔ دھرت۔ زمین ۔ بداریؤ ۔ اُٹھاویؤ۔ نندک ۔ بد گوئی کرنیوالا ۔ آگاس۔ آسمان۔ ٹاریؤ ۔ گرادو۔ جیئہ نال۔ پیار کے ساتھ ۔ ادھاریؤ۔ بچاؤ۔ تتکھن ۔ ۔ فوراً ۔ تال تالی بجنے کے جتنے عرصے میں۔ بھاوے رما ۔ جسے چاہے خدا۔ جسے خدا پیار کرتا ہے ۔ سنت گوبند کے ایکو کام ۔ سنت اور خدا کی ذمہ داری ایک سی ہے ۔ رہاؤ۔ پرتپال ۔ پرورش کرتا ہے ۔ دکوھی ۔ دشمن۔ ٹال۔ گراتا ہے (2) نندا۔ بدگوئی۔ پتن ۔ گرواٹ۔ سر جنہار۔ دنیا کو پیدا کر نیوالا۔ جھکھ مارؤ۔ بکواس کرے (3) بسا س۔ بشواس۔ بھرؤسا۔ جیؤ پنڈ۔ روح اور جسم ۔ راس ۔ پونجی ۔ اپجی ۔ پیدا ہوئی ۔ پرتیت۔ یقین۔ منمکھ ہار۔ خود پسند نے شکست کھائی۔ گورمکھ جیت۔ مرید مرشد نے فتح حاصل کی ۔
ترجمہ:
ہے سنت وہی جسے پیار کتا ہے خدا۔ سنت اور گوبند کا ہے کام وہی ۔ رہاؤ۔ روحانی رہبر سنت کا ملامت زدہ کی زمین سے اکھڑ جاتی ہیں اور آسمان سے گر پڑتا ہے ۔ سنت کو زندگی سے پیار سمجہو اور فوراً بچاتا ہے خدا۔ (1) خدا کا ہاتھ ہوتا ہے سنت کے اوپر اور سنت کے ساتھ بستا ہے خدا۔ ہر لمحہ ہر سان پرورش کرتا ہے خدا۔ سنت کے دشمن کو حکومت سے گراتا ہے خدا (2) سنت کی نہ کرؤ کوئی بدگوئی ۔ جو بدگوئی کرتا ہے ۔ اسکا زوال ہو جاتا ہے ۔ جسکا محافظ ہو خود خدا۔ سارا عالم ہو مخالف مخالفت کرتا ہے (3) جب پر ایمان آجائے یقین و صدق ہو جائے تو یہ روح اور جسم اسی کا دیا ہوا سرامایہ ہے ۔ نانک کو یقین ہو گیا کہ مرید من شکست کھاتا ہے اور مرید مرشد فتح پاتا ہے زندگی کے اس کھیل میں۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
نامُ نِرنّجنُ نیِرِ نرائِنھ ॥
رسنا سِمرت پاپ بِلائِنھ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نارائِنھ سبھ ماہِ نِۄاس ॥
نارائِنھ گھٹِ گھٹِ پرگاس ॥
نارائِنھ کہتے نرکِ ن جاہِ ॥
نارائِنھ سیۄِ سگل پھل پاہِ ॥੧॥
نارائِنھ من ماہِ ادھار ॥
نارائِنھ بوہِتھ سنّسار ॥
نارائِنھ کہت جمُ بھاگِ پلائِنھ ॥
نارائِنھ دنّت بھانے ڈائِنھ ॥੨॥
نارائِنھ سد سد بکھسِنّد ॥
نارائِنھ کیِنے سوُکھ اننّد ॥
نارائِنھ پ٘رگٹ کیِنو پرتاپ ॥
نارائِنھ سنّت کو مائیِ باپ ॥੩॥
نارائِنھ سادھسنّگِ نرائِنھ ॥
بارنّ بار نرائِنھ گائِنھ ॥
بستُ اگوچر گُر مِلِ لہیِ ॥
نارائِنھ اوٹ نانک داس گہیِ ॥੪॥੧੭॥੧੯॥
لفظی معنی:
نام نرنجن ۔ بیداغ پاک خدا کا نام۔ نیر نارائن۔ الہیی پانی ہے ۔ رسنا۔ زبان۔ سمرت۔ یاد کرنے سے ۔ پاپ ۔ گناہ ۔ بلائن ۔ پلاین ۔ چلے جاتے ہیں (1) رہاؤ۔ نواس۔ بستا ہے ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ پرگاس۔ روشن ۔ نرک۔ دوزخ۔ سیو ۔ خدمت ۔ سگل ۔ سارے ۔ پھل ۔ نتیجے (1) آدھار۔ بوہتھ ۔ جہاز۔ پلائن ۔ بھاگ جاتے ہیں۔ دنت ۔ دانت ۔ ڈاین ۔ سے مراد نیاوی دولت ظالم (2) بخشد ۔ بخشنے والا۔ سوکھ آنند ۔ آرام اور خوشی ۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ پرتاپ۔ قوت۔ (3) خدا پاکدامن ساتھیوں کی صحبت و قربت میں بستا ہے اور بار بار خدا خدا کہتا ہے ۔ ایک انوکھی نا قابل ذکر اشیا مرشد سے حاصل ہوتی ہے ۔ نانک خادم نے خدا کا آسر لیا ہے۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
جا کءُ راکھےَ راکھنھہارُ ॥
تِس کا انّگُ کرے نِرنّکارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
مات گربھ مہِ اگنِ ن جوہےَ ॥
کامُ ک٘رودھُ لوبھُ موہُ ن پوہےَ ॥
سادھسنّگِ جپےَ نِرنّکارُ ॥
نِنّدک کےَ مُہِ لاگےَ چھارُ ॥੧॥
رام کۄچُ داس کا سنّناہُ ॥
دوُت دُسٹ تِسُ پوہت ناہِ ॥
جو جو گربُ کرے سو جاءِ ॥
گریِب داس کیِ پ٘ربھُ سرنھاءِ ॥੨॥
جو جو سرنھِ پئِیا ہرِ راءِ ॥
سو داسُ رکھِیا اپنھےَ کنّٹھِ لاءِ ॥
جے کو بہُتُ کرے اہنّکارُ ॥
اوہُ کھِنُ مہِ رُلتا کھاکوُ نالِ ॥੩॥
ہےَ بھیِ ساچا ہوۄنھہارُ ॥
سدا سدا جائیِ بلِہار ॥
اپنھے داس رکھے کِرپا دھارِ ॥
نانک کے پ٘ربھ پ٘رانھ ادھار ॥੪॥੧੮॥੨੦॥
لفظی معنی:
راکھے ۔ حفاظت کرتا ہے ۔ راکھنہار۔ جس میں حفاظت کی توفیق ہے ۔ انگ ۔ ساتھ ۔ نرنکار۔ خدا۔ تس کا ۔ اسکا ۔ رہاؤ۔ ۔ مات گربھ ۔ ماں کے پیٹ میں۔ اگن ۔ آگ۔ جو ہے ۔ تاک میں۔ پوہے ۔ اپنا تاثر۔ سادھ سنگ ۔پاکدامن کی صحبت میں ۔ جپے نرنکار۔ خدا کو یاد کرے ۔ چھار۔ سوآہ ۔ راکھ (1) کوچ۔ لوہے کا کوٹ یا چونما زدہ بکتر ۔ سناہ ۔ سنحوہ ۔ دوت ۔ دشمن۔ دشٹ ۔ برے ۔بیکار۔ پوہت۔ اثر پذیر۔ گربھ ۔ غرور۔ گھمنڈ ۔ تکبر۔ جائے ۔ مٹ جاتا ہے ۔ غریب داس۔ خدمتگار اور ناتواں۔ داس۔ خدمتگار ۔ گنٹھ ۔ گلے ۔ اہنکار۔ غرور۔ کھن مینہ ۔ تھوڑی سی دیر میں ہی ۔ خاکو۔ مٹی (3) ساچا۔ صدیوی ہے بھی آج بھی ہے ۔ ہونہار ۔ آئندہ بھی ۔ ہونیوالا۔ بلہار۔ قربان ۔ پران ادھار۔ زندگی کا آسرا۔
ترجمہ:
جسکا محافظ ہو جس میں ہے توفیق حفاظت کی اُسکا ساتھ دیتا ہے خود خدا (1) رہاؤ۔ جس طرح مان کے پیٹ میں آگ اپنا اثر نہیں ڈالتی شہوت ۔ غصہ ،لالچ اور محبت بھی اپنا اثر نہیں کرتا اگر پاکدامن کے ساتھ صفت صلاح خدا کی کرے ۔ تو بدگوئی کرنیوالے کو بدنامی سہارنی پڑتی ہے (1) خدا اپنے خدمتگاروں کے لئے زرہ بکتر ہے ۔ برائیاں اور دشمن اس پر اپنا اثر ڈال نہیں سکتے ۔ جو ٹرور کرتا ہے مٹ جاتا ہے ۔ ناتوانوں اور خدمتگاروں کو پناہ دینے والا ہے خود خدا (2) جو شہنشاہ عالم کے زیر سیاہ و پناہ آتا ہے اسے خدا اپنے گلے لگاتا ہے جو غرور زیادہ کرتا ہے جا رہی خاک میں ملجاتا ہے (3) آج بھی ہے موجود خدا آئندہ بھی ہوگا اور صدیوی رہیگا وہ صدقے جاتا ہوں اس پر اپنے خدمتگاروں کو اپنی کرم و عنایت سے خود ہی حفاظت کرتا ہے انکی ۔ نانک کاخدا ہے زندگی کا آسرا۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
اچرج کتھا مہا انوُپ ॥
پ٘راتما پارب٘رہم کا روُپُ ॥ رہاءُ ॥
نا اِہُ بوُڈھا نا اِہُ بالا ॥
نا اِسُ دوُکھُ نہیِ جم جالا ॥
نا اِہُ بِنسےَ نا اِہُ جاءِ ॥
آدِ جُگادیِ رہِیا سماءِ ॥੧॥
نا اِسُ اُسنُ نہیِ اِسُ سیِتُ ॥
نا اِسُ دُسمنُ نا اِسُ میِتُ ॥
نا اِسُ ہرکھُ نہیِ اِسُ سوگُ ॥
سبھُ کِچھُ اِس کا اِہُ کرنےَ جوگُ ॥੨॥
نا اِسُ باپُ نہیِ اِسُ مائِیا ॥
اِہُ اپرنّپرُ ہوتا آئِیا ॥
پاپ پُنّن کا اِسُ لیپُ ن لاگےَ ॥
گھٹ گھٹ انّترِ سد ہیِ جاگےَ ॥੩॥
تیِنِ گُنھا اِک سکتِ اُپائِیا ॥
مہا مائِیا تا کیِ ہےَ چھائِیا ॥
اچھل اچھید ابھید دئِیال ॥
دیِن دئِیال سدا کِرپال ॥
تا کیِ گتِ مِتِ کچھوُ ن پاءِ ॥
نانک تا کےَ بلِ بلِ جاءِ ॥੪॥੧੯॥੨੧॥
لفظی معنی:
اچرج ۔ حیران کرنیوالی ۔ انوپ انوکھی ۔ پراتما۔ انسانی روح ۔ رہاؤ۔ بالا۔ بچہ ۔ جم جالا۔ موت کا پھندہ۔ ونسے ۔ مٹے ۔ جائے ۔ مرتے ہے ۔ آد۔ آغاز عالم سے ۔جگاو۔ بعد کے زمانے میں (1) اس ۔ گرمی ۔ سیت ۔ سردی ۔ میت۔ دوست ۔ ہرکھ ۔ خوشی ۔ سوگ ۔ غمی ۔ جوگ۔ لائق ۔ توفیق (2) ۔ باپ۔ پتا ۔ مائیا ۔ ماتا۔ اپرنپر۔ پرے توپرے ۔مراد اتنا وسی کہ کنارہ نہ ہو۔ پاپ۔ گناہ ۔ پن ۔ ثواب۔ لیپ۔ لاگ۔ اثر۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ جاگے ۔ بیدار (3) سکت ۔ مائیا۔ دنیاوی دولت۔ اپالیا۔ پیدا کیا۔ چھائیا۔ سایہ۔ اچھل ۔ جسے دہوکا ن دیا جا سکے ۔ اچھید۔ اچھید۔ لافناہ۔ دیال۔ مہربان ۔ دین دیال۔ غریب پرور۔ گت مت۔ حالت کا اندازہ ۔ کچھو ۔ کچھ بھی ۔ بل بل ۔ قربان۔
ترجمہ:
روح خدا کا ہی ایک جذ ہے ۔ جسکی کہانی نہایت حیران کن اور انوکھی ہے ۔ ہراو۔ نہ ییہ بوڑھی ہے نہ بچی نہ اسے عذاب نہ موت کا پھندہ ۔ نہ یہ مٹتی ہے مراد مرتی ہے نہ ہیںجاتی ہے اور آغاز عالم سے چلی آرہی ہے (1) نہ اسے گرمی کا احساس ہے نہ سردی کا نہ اسکا کوئی دشمن ہے نہ دؤست نہ کوئی خوشی ہے نہ غمی ۔ ہر شے کی یہ مالک ہے اور ہرطرح کی توفیق رکھتی ہے (2) نہ اسکی کوئی ماں ہے نہ اسکا کوئی باپ یہ شروع سے ہی اسطرح سے چل رہی ہے ۔ صدیویو ہے اور گناہ وثواب کے اثرات سے بری ہے اور دلمیں بستی ہے اور بیدار رہتی ہے (3) خدا نے تین اوصاف والی دنیاوی دولت پیدا کی ہے اور یہ دنیاوی دولت اسی کا سایہ ہے ۔ خدا کو نہ کوئی دہوکادے سکتا ہے ۔ نہ اسکا کوئی راز سمجھ سکتا ہے وہ مہربان ہے ۔ غریب پرور اور ہمیشہ مہربان ہے ۔ اسکی بزرگی و بلندی یہ راز معلوم نہیں ہو سکتا ۔ نانک۔ اس پر ہمیشہ قربان ہے ایسے خدا پر۔

گوݩڈ مہلا ੫॥
سنّتن کےَ بلِہارےَ جاءُ ॥
سنّتن کےَ سنّگِ رام گُن گاءُ ॥
سنّت پ٘رسادِ کِلۄِکھ سبھِ گۓ ॥
سنّت سرنھِ ۄڈبھاگیِ پۓ ॥੧॥
رامُ جپت کچھُ بِگھنُ ن ۄِیاپےَ ॥
گُر پ٘رسادِ اپُنا پ٘ربھُ جاپےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پارب٘رہمُ جب ہوءِ دئِیال ॥
سادھوُ جن کیِ کرےَ رۄال ॥
کامُ ک٘رودھُ اِسُ تن تے جاءِ ॥
رام رتنُ ۄسےَ منِ آءِ ॥੨॥
سپھلُ جنمُ تاں کا پرۄانھُ ॥
پارب٘رہمُ نِکٹِ کرِ جانھُ ॥
بھاءِ بھگتِ پ٘ربھ کیِرتنِ لاگےَ ॥
جنم جنم کا سوئِیا جاگےَ ॥੩॥
چرن کمل جن کا آدھارُ ॥
گُنھ گوۄِنّد رئُں سچُ ۄاپارُ ॥
داس جنا کیِ منسا پوُرِ ॥
نانک سُکھُ پاۄےَ جن دھوُرِ ॥੪॥੨੦॥੨੨॥੬॥੨੮॥
لفظی معنی:
سنت پرساد۔ روحانی رہبر سنت کی رحمت سے ۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ سبھ گئے ۔ سارے ختم ہوئے ۔ سرن ۔ پناہ ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے (1) وگھن۔ رکاوٹ ۔ دیاپے ۔ پیداہوتی ۔ گرپرسادرحمت مرشد سے ۔ جاپے ۔ سمجھ آتی ہے (1) رہاؤ۔ دیال۔ مہربان۔ سادہو۔ جنہوں نے صراط مستقیم اپنالیا ہے ۔ پاکدامن ۔ روال۔ دہول ۔ کام ۔ کرودھ ۔ غصہ اور شہوت ۔ رام رتن ۔ قیمتی خدا (2) سپھل جنم۔ کامیاب زندگی ۔ پرونا ۔ منظور ۔ قبول۔ ناں کا۔ اکسا۔ نکٹ کر ۔ نزدیک ۔ جان ۔ سمجھے ۔ بھائے ۔ چاہت سے ۔ بھگت ۔ الہٰی پریم کے ساتھ ۔ کیرتن ۔ الہٰی صفت صلاح ۔ سوئیا۔ غفلت میں مجذوب ۔ جاگے ۔ بیدار ۔ ہوشیار (3) آدھار۔ آصرا۔ گن گوبند رؤ۔ الہٰی حمدوثناہ میں محظوظ ۔ وپار۔ سوداگری ۔ منسا ۔ خواہش ۔ ارادہ ۔ دہور۔ دہول۔ پاؤں کی خاک ۔
ترجمہ:
خدا کی یادوریاض کرنسے زندگی میں رکاوٹیں نہیں آتیں اور رحمت مرشد سے خدا سے پہچان ہوتی ہے (1) رہاؤ۔ قربان جاؤ روحانی رہبر سنتوں پر اور سنتوں کے ساتھ خدا کے گن گاؤ۔ روحانی رہبروں کی رحمت سے سارے گناہ مٹ جاتے ہیں ۔ بلند قسمت سے انسان مرشد کی پناہ میں جاتا ہے (1) خدا جب مہربان ہوتا ہے تو اسے پاکدامن زندگی کے صراط مستقیم پر چلنے والے سادہوں کا گرویدہ بنا دیتا ہے اسکے جسم سے غصہ اور شہوت خارج ہو جاتی ہے اور دلمیں خدابس جاتا ہے (2) زندگی اسی کی قبول ہوتی ہے ۔ جو خدا کو ساتھ جانتا ہے ۔ جو پریم پیار سے الہٰی حمدوچناہ کرتا ہے ۔ دیرینہ غفلت میں مجذوب بیدار ہوشیار ہو جاتا ہے (3) الہٰی خدمتگاروں کی زندگی آسرا ہی ہوتا ہے ۔ الہٰی حمدوچناہ ہی اسکے لئے سوداگری ہے سچی ۔ اے نانک خدا اپنے خدمتگاروں کی خوہشات پوری کرتا ہے ۔ خدمتگاروں کی دہول سے آڑام و آسائش ملتی ہے ۔

راگُ گوݩڈ اسٹپدیِیا مہلا ੫ گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کرِ نمسکار پوُرے گُردیۄ ॥
سپھل موُرتِ سپھل جا کیِ سیۄ ॥
انّترجامیِ پُرکھُ بِدھاتا ॥
آٹھ پہر نام رنّگِ راتا ॥੧॥
گُرُ گوبِنّد گُروُ گوپال ॥
اپنے داس کءُ راکھنہار ॥੧॥ رہاءُ ॥
پاتِساہ ساہ اُمراءُ پتیِیاۓ ॥
دُسٹ اہنّکاریِ مارِ پچاۓ ॥
نِنّدک کےَ مُکھِ کیِنو روگُ ॥
جےَ جےَ کارُ کرےَ سبھُ لوگُ ॥੨॥
سنّتن کےَ منِ مہا اننّدُ ॥
سنّت جپہِ گُردیءُ بھگۄنّتُ ॥
سنّگتِ کے مُکھ اوُجل بھۓ ॥
سگل تھان نِنّدک کے گۓ ॥੩॥
ساسِ ساسِ جنُ سدا سلاہے ॥
پارب٘رہم گُر بیپرۄاہے ॥
سگل بھےَ مِٹے جا کیِ سرنِ ॥
نِنّدک مارِ پاۓ سبھِ دھرنِ ॥੪॥
جن کیِ نِنّدا کرےَ ن کوءِ ॥
جو کرےَ سو دُکھیِیا ہوءِ ॥
آٹھ پہر جنُ ایکُ دھِیاۓ ॥
جموُیا تا کےَ نِکٹِ ن جاۓ ॥੫॥
جن نِرۄیَر نِنّدک اہنّکاریِ ॥
جن بھل مانہِ نِنّدک ۄیکاریِ ॥
گُر کےَ سِکھِ ستِگُروُ دھِیائِیا ॥
جن اُبرے نِنّدک نرکِ پائِیا ॥੬॥
سُنھِ ساجن میرے میِت پِیارے ॥
ستِ بچن ۄرتہِ ہرِ دُیارے ॥
جیَسا کرے سُ تیَسا پاۓ ॥
ابھِمانیِ کیِ جڑ سرپر جاۓ ॥੭॥
نیِدھرِیا ستِگُر دھر تیریِ ॥
کرِ کِرپا راکھہُ جن کیریِ ॥
کہُ نانک تِسُ گُر بلِہاریِ ॥
جا کےَ سِمرنِ پیَج سۄاریِ ॥੮॥੧॥੨੯॥
لفظی معنی:
سپھل ۔ کامیاب۔ مورت ۔ دیدار۔ سیو۔ خدمت۔ نمسکار ۔ سجدہ ۔ سر جھکانا ۔ پیشانی پاؤں پر رکھنا۔ انتر جامی ۔ راز دل جاننے والا۔ پرکھ بدھاتا ۔ منصوبہ ساز ۔ نام رنگ راتا۔ سچ و حقیقت الہٰی نام میں محو ومجذوب (1) راکھنہار۔ بچانے کی توفیق رکھنے والا۔ داس ۔خدمتگار ۔ (1) رہاؤ۔ پاتساہ ۔ بادشاہ ۔ اُمراؤ۔ امیر ۔ پتیائے ۔ یقین دلاتا ہے ۔ تسلی کراتا ہے ۔ وشٹ۔ بدکاری ۔ اہنکاری ۔ مغرور ۔ بچائے ۔ ذلیل وخوآر کرتا ہے ۔ ختم کرتا ہے ۔ نندک ۔ بدگوئی کرنیوالے ۔ بے جیکار۔ شہرت۔ مشہوری (2) انند ۔ روحانی خوشی ۔ بھگونت ۔ تقدیروں کے مالک ۔ تقدیر ساز۔ سنگت ۔ ساتھیوں۔ مکھ اُجل۔ سرخرو۔ بھیئے ۔ ہوئے ۔ سگل تھان۔ سارے مقام ۔ گئے ۔ مٹے (3) ساس ساس ۔ ہرلمحہ ۔ بے پرواہے ۔ ۔ بے محتاج ۔ سگل بھے سارے ۔ خوف۔ دھرن ۔ زمین (4) ایک دھیائے ۔ واحدا خدا کو یاد کرے ۔ جموآ ۔ موت ۔ نکٹ ۔ نزدیک (5) نرویر۔ بلا دشمنی ۔ اہنکاری ۔ مغرور ۔ جن۔ خادم ۔ بھل مانیہہ ۔ بھلا چاہتے ہیں۔ بیکاری ۔برائی چاہتے ہیں۔ گر کے سیکھ ۔ مریدان مرشد۔ ستگرو ۔ سچا مرشد ۔ جن ۔ اُبھرے ۔خدمتگار ۔ نرک ۔ دوزخ۔ ساجن۔ دوست۔ ست بچن۔ صدیوی سچا کلام ۔ ہر دوآرے ۔ بارگاہ الہٰی میں۔ تیسا ویسا۔ ابھیمانی ۔مغرور ۔ سر پر۔ ضرور (7) ندھریا۔ بے سہارا ۔ دھر ۔ آسرا۔ راکھہو۔ بچاو۔ سمرن ۔ یاد سے ۔ پیج ۔ عزت۔
ترجمہ:
مرشد مانند عالم و پروردگار ہے ۔ اپنے خدمتگار کا ہے خود مھافظ ۔ رہاؤ۔ کامل مرشد کو رکرؤ سجدہ سر جھکاؤ سکے دیدار سے زندگی کے مقصد حل ہوتے ہیں۔ جسکی خدمت نتیجہ خیز ہے ۔ منصوبہ ساز راز دل جاننے ولاے کے نام سچ وحقیقت میں ہر وقت پریم پیار میں محو ومجذوب رہتا ہے (1) جو خدا میں ایمان لاتے ہیں وہ بادشاہ امراو شاہوکار ہو جاتے ہیں ۔ بد کار و مغرور ذلیل وخوآر ہوتے ہیں۔ بد گوئی کرنیوالے کو منہ زوری اور زبان دارازی کی بیماری ہوجاتی ہے ۔ بجکہ سارا عالم شہرت و حشمت دیتا ہے (2) روحانی رہبروں (سنتہوں ) روحانی کے روحانی سکون رہتا ہے اور روحانی رہبر (سنت) خڈا و مرشد دلمیں بسائے رکھتےہیں انکے ساتھوں کے چہرے سر خرو ہوتے ہیں بد گوئی کرنے والے کو کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا (3) خدائی خدمتگار کا میابی عنایت کرنیوالے مرشد وخدا کی ہمیشہ تعریف کرتا ہے ۔ جنکے زیر سایہ زیر (پایہ ) سارے خوف مٹ جاتے ہیں بے محتاج مرشد کی رہنے سے ۔ جبکہ بدگوئی کرنیوالوں کو زمین پر پٹکائای جاتا ہے (4) خدمتگاروں کی نہ کرے بدگوئی کوئی جو کرتا ہے عذاب پاتا ہے ۔ خدمتگار ہر وقواحد کدا کی عبادت کرتا ہے ۔ فرشتہ موت نزدیک نہیں پھٹکتا اسکے (5) خدمتگار کی نہیں دوشمنی کسی سے جبکہ بد گوئی کرنیوال برائی چاہتا ہے ۔ مرید مرشد سچے مرشد میں دھیان لگاتا ہے ۔ اس لئے بچ جاتا ہے ۔ بدگوئی کرنے والا دوزخ میں ڈالا جاتا ہے ۔ یا پتا ہے (6) اے دوست سن سچے صدیوی اصول خدا کے در پر زیر کار لائے جاتے ہیں انسان کے جیسے اعمال ہوتے ہیں ویسا ہی نتیجہ پاتا ہے مغرور کی جڑ ختم ہو جاتی ہے ۔ ضرور (7) بے سہاروں کا سہارا ہے سچا مرشد۔ اپنی کرم و عنایت سے خود ہی محافظ ہوتا ہے خدمتگاروں کا ۔ اے نانک بتادے ۔ قربان ہوں اس مرشد پر جسکی یاد سے عزت استوار اور سنور جاتی ہے ۔

راگُ گوݩڈ بانھیِ بھگتا کیِ ॥
کبیِر جیِ گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سنّتُ مِلےَ کِچھُ سُنیِئےَ کہیِئےَ ॥
مِلےَ اسنّتُ مسٹِ کرِ رہیِئےَ ॥੧॥
بابا بولنا کِیا کہیِئےَ ॥
جیَسے رام نام رۄِ رہیِئےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّتن سِءُ بولے اُپکاریِ ॥
موُرکھ سِءُ بولے جھکھ ماریِ ॥੨॥
بولت بولت بڈھہِ بِکارا ॥
بِنُ بولے کِیا کرہِ بیِچارا ॥੩॥
کہُ کبیِر چھوُچھا گھٹُ بولےَ ॥
بھرِیا ہوءِ سُ کبہُ ن ڈولےَ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
سنت ۔ روحانی رہبر۔ پاکدامن ۔ خدا رسیدہ ۔ ااسنت ۔ بد کردار۔ جس میں سنت والی صفات نہین۔ مسٹ ۔۔ خاموش (1) بولنا کیا کہئے ۔ کسی بات چیت ہونی چاہیے ۔ جیسے ۔ جسکی بدولت ۔ رام نام۔ الہٰی نام سچ و حقیقت ۔ روریئے ۔ مھو ومجذوب رہیں (1) رہاؤ۔ اپکاری ۔ نیکی یابھلائی ۔ جھگھ ۔ بکواس (2) بڑھے ۔ بڑھتا ہے ۔ بکار ا۔ بداوصاف۔ برائیاں۔ بچارا۔ آپسی مشورہ (3) چھوچھا۔ بے اوصاف۔ گھٹ ۔ گھڑا۔ دل ۔ بھریا ۔ بااوصاف۔ ڈوے ۔ ڈگمگاتا نہیں۔
ترجمہ:
اے بابا ۔ کیسی گفتگو ہونی چاہیے جس سے الہیی نام سچ و حقیت سے رشتہ بنا رہے ۔ اگر بااوصاف پاکدامن خدا رسیدہ روھانی رہبر سنت سے ملاپ ہو تو کچھ کہو اور کچھ سنو ۔ اگر بے اوصاف بد کردار کاملاپ ہو تو خاموش رہنا چاہیے (1) سنتوں سے بات چیت کرنے سے نیکی اور بھلائی کا پتہ چلتا ہے ۔ جبکہ نادان سے بات جیت محض بکواس ہوتا ہے (2) نادان سے بات چیت یا گفتگو میں برائیاں برھتی ہیں مگر بغیر بات چیت نیک خیالات اورنیکی کیسے برھیں گے (3) اے کبیر بتادے جیسے خالی گھڑآ زیادہ آواز دیتا ہے اور بھرا ڈگمگاتا نہیں۔
خلاصہ :
نیک آدمیوں کی صحبت و قربت سے نیکی اور بھلائی کا سبق ملتا ہے ۔ نیکی اور بھلائی رجوع ہوتا ہے اور رغبت بنتی ہے ۔ مگر برے آدمیوں کی صحبت و قربت سے برائیوں کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے اور نتیجے برے نکلتے ہیں۔

گوݩڈ ॥
نروُ مرےَ نرُ کامِ ن آۄےَ ॥
پسوُ مرےَ دس کاج سۄارےَ ॥੧॥
اپنے کرم کیِ گتِ مےَ کِیا جانءُ ॥
مےَ کِیا جانءُ بابا رے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہاڈ جلے جیَسے لکریِ کا توُلا ॥
کیس جلے جیَسے گھاس کا پوُلا ॥੨॥
کہُ کبیِر تب ہیِ نرُ جاگےَ ॥
جم کا ڈنّڈُ موُنّڈ مہِ لاگےَ ॥੩॥੨॥
لفظی معنی:
نرؤ۔ انسنا ۔ مرد۔ پسو۔ حیوان۔ کاج ۔ کام ۔ سوارے ۔ درست ۔ ہوتے ہیں (1) کرم ۔ اعمال۔ گت۔ ھالت۔ جانؤ۔ سمجھو ۔ رہاؤ لکری کاتولا ۔ لکڑی کا گھٹا۔ پولا۔ پولی ۔ بھری (2) جاگے ۔ بیدار۔ ہوشیار۔ ڈنڈ ۔ڈنڈا۔ لاٹھی۔ منڈ۔ سر ۔ چوٹی ۔
ترجمہ:
اے بابا۔ میں نے کبھی سوچا اورسجھتا ہی نہیں کہ میرے اعمال جو میں کر رہا ہوں کیسے ہیں (1) رہاؤ۔ انسان کے مرنے پر یہ کسی کام نہیں آتاجبکہ حیونا مرنے پر بھی بہت سے کام آتا ہے اور بہت سے کام سنورتے ہیں۔ ہڈیان لکڑی کی مانند جلتی ہیں۔ اور بال گھاس کی طرح جلتے ہیں (2) اےکبیر بتادے ۔ انسان کو تب ہی ہوش آتی ہے جب موت کی لاتھی سر پر پڑتی ہے ۔
کلام کا مدعا و مقصد:
انسان کبھی نہیں سوچتا کہ اُسکا کردار جووہ کر رہا ہے کیسا ہے نیک یا بد۔ الہٰی نام سچ و حقیقت کے بغیر اسکی ھالت حیوان سے بھی بد تر ہے جبکہ حیوان موت کے بعد بھی کام آتا ہے جبکہ انسان خاک یا راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے موت آجانے پر پچھتانا بیکار ہے ۔

گوݩڈ ॥
آکاسِ گگنُ پاتالِ گگنُ ہےَ چہُ دِسِ گگنُ رہائِلے ॥
آند موُلُ سدا پُرکھوتمُ گھٹُ بِنسےَ گگنُ ن جائِلے ॥੧॥
موہِ بیَراگُ بھئِئو ॥
اِہُ جیِءُ آءِ کہا گئِئو ॥੧॥ رہاءُ ॥
پنّچ تتُ مِلِ کائِیا کیِن٘ہ٘ہیِ تتُ کہا تے کیِنُ رے ॥
کرم بدھ تُم جیِءُ کہت ہوَ کرمہِ کِنِ جیِءُ دیِنُ رے ॥੨॥
ہرِ مہِ تنُ ہےَ تن مہِ ہرِ ہےَ سرب نِرنّترِ سوءِ رے ॥
کہِ کبیِر رام نامُ ن چھوڈءُ سہجے ہوءِ سُ ہوءِ رے ॥੩॥੩॥
لفظی معنی:
آکاس۔ آسمان۔ گگن ۔ وہ روحانی قوت۔ پاتال۔ زیر زمین ۔ چوہ دس۔ چاروں طرف۔ رہایئلے ۔ موجود ہے ۔ مول۔ بنیاد۔ اصل۔ حقیقت ۔ اگھٹ ۔ جسم۔ دل۔ ونسے ۔ ختم ہو جاتا ہے ۔ پرکھو تم ۔ بلند ہستی ۔ گگن ۔ روھ ۔ نا جائیلے ۔ نہیں جاتی نہیں مٹتی (1) موہ ۔ مجھے ۔ ویراگ بھیؤ۔ پریشانی ہوئی۔ ۔ ایہہ جیؤ ۔ یہ روح۔ کہا کیؤ۔ کدھر چلتی گئی (1) رہاؤ۔ پنچ تت۔ پانچ مادے ۔ زمین ۔ آسمان۔ آگ ۔ ہوا اور پانی ۔ کائیا۔ جسم ۔ تت کہانے کین رے ۔ تو یہ مادے کہاں سے آئے ۔ کرم بدھ ۔ اعمال کی بندش میں ۔ کرمیہہ۔ اعمال۔ کن جیؤ دین رے ۔ کسنے اسے اعمال کے زیر کیا (2) ہر مین تن ہے ۔ خدا میں ہے جسم۔ تن میں ۔ ہر ۔ جسم میں بستا ہے خدا۔ سرب نر نتر۔ لگاتار سبھ میں۔ سوئے رے ۔ وہی ہے ۔ رام نام۔ الہٰی نام ۔ سچ وحقیقت ۔ سہجے ۔ قدرتاً ۔ رآضئے الہٰی کے مطابق۔
ترجمہ:
مجھے اب اس بات کی پریشانی ہے کہ یہ روح کہاں سے آئی تھی او رکہاں چلی گئی (1) رہاؤ۔ خدا آسمان سے لیکر (پاتال) زیر زمین تک بستا ہے خدا ہر طرف ہے خدا یہی معتبرک ہستی سکون اور خوشیون کی بنیاد بھی ہے ۔ جسم مٹ جاتا ہے مگر روح نہین مٹتی (1) پانچ مادیات نے آپس میں (ملنے سے ) ملکر یہ جسم ٹائم کیا مگر یہ بنیادی مادے کس نے پیدا کئے ۔ کہتے ہیں کہ روھ اعمال کی قید میں ہے تاہم اعمال کس نے وجود و ظہور میں کس نے لائیا۔ مراد اعمال کرانے والی بھی وہی ہستی ہے (2) خدا کے اندر وجود ہے اس جسم کا اور جسم میں بستا ہے خدا اور سب میں لگاتار بس رہا ہے وہی ۔ اے کبتیر بتادے ۔ ایسی ہستی الہٰی نام کو کبھی بھی نہیں چھوڑونگا بھلاونگا۔ دنیا میں جوکچھ ہو رہ اہے رضائے الہٰی میں ہو رہا ہے ۔
کلام مدعاو مقصد:
واھد کدا ہی جسکا نور ہر شے میں ہے سارے عالم کو پیدا کرنے والا ہے ۔ انسانی روح اسی الہٰی نور کا ایک جز ہے ۔ انسانی جسم کو بنانے والا بھی خدا ہی ہے اور اعمال اعمال بھی انسان اسکے زیر فرمان ہی کرتا ہے دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے الہٰی رضا وزیر فرمان ہو رہا ہے ۔

راگُ گوݩڈ بانھیِ کبیِر جیِءُ کیِ گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
بھُجا باںدھِ بھِلا کرِ ڈارِئو ॥
ہستیِ ک٘روپِ موُنّڈ مہِ مارِئو ॥
ہستِ بھاگِ کےَ چیِسا مارےَ ॥
اِیا موُرتِ کےَ ہءُ بلِہارےَ ॥੧॥
آہِ میرے ٹھاکُر تُمرا جورُ ॥
کاجیِ بکِبو ہستیِ تورُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رے مہاۄت تُجھُ ڈارءُ کاٹِ ॥
اِسہِ تُراۄہُ گھالہُ ساٹِ ॥
ہستِ ن تورےَ دھرےَ دھِیانُ ॥
ۄا کےَ رِدےَ بسےَ بھگۄانُ ॥੨॥
کِیا اپرادھُ سنّت ہےَ کیِن٘ہ٘ہا ॥
باںدھِ پوٹ کُنّچر کءُ دیِن٘ہ٘ہا ॥
کُنّچرُ پوٹ لےَ لےَ نمسکارےَ ॥
بوُجھیِ نہیِ کاجیِ انّدھِیارےَ ॥੩॥
تیِنِ بار پتیِیا بھرِ لیِنا ॥
من کٹھورُ اجہوُ ن پتیِنا ॥
کہِ کبیِر ہمرا گوبِنّدُ ॥
چئُتھے پد مہِ جن کیِ جِنّدُ ॥੪॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
بھجا۔ بازو۔ بھلا ۔ گٹھڑی ۔ ڈاریؤ۔ پھینکا۔ ہستی ۔ ہاتھی ۔ کروپ ۔ غصے میں۔ مونڈ ۔ سر ۔ بھاگ۔ دؤڑ۔ پسا ۔ چیخ۔ مورت۔ انسان ۔ بلہارے ۔ قربان (1) میرے ٹھاکر۔ میرے خدا۔ تمرا زور ۔ تمہارے آسرا۔ بکو ۔ بولتا ہے ۔ ہستی نور۔ ہاتھی چلاؤ ۔ رہاؤ۔ ڈاروکاٹ۔ کاٹ ڈالوں ۔ گھالہو سات ۔ ٹھوکر لگا کر ۔ دھرے دھیان ۔ توجہ دے رہا ہے ۔ روے ۔ دلمیں۔ بھگونا ۔ خدا (2) اپرادھ ۔ گناہ۔ پوٹ۔ گٹھڑی ۔ کنچر۔ ہاتھی ۔ نمسکارے ۔ سجدہ کرے ۔ سر جھکائے ۔ بوجھی ۔ سمجھی ۔ اندھیارے ۔ عقل سے بہرے ۔ (3) پتینا ۔ تسلی نہ ہوئی ۔ یقن نہ ہوا۔ چوتھے پد۔ زندگی کا وہ درجہ یا رتبہ جہاں دنیاوی دولت کے رجو۔ ستو ، تمو سے اوپر اُٹھ کر انسان زندگی گذارتا ہے ۔
ترجمہ:
اے میرے خدا مجھے تیری ہی دی ہوئی برکت و عنایت ورنہ قاضی تو ہاتھی ، میرے اوپر چڑھانے کا حکم دے رہا ہے ۔ رہاؤ۔ میرے بازو باندھ کر گٹھڑی بنا کر ہاتھی کے آگے پھینک دیا مہاوت غصے میں ہاتھی کے سر پر چوٹ لگاتا ہے مگر ہاتھی چیختے ہوئے دوڑ جاتا ہے ۔ قربان ہو اس الہیی ہستی پر (1) اے مہاوت ہاتھی کو چلاؤ ورنہ تجھے کاٹ دونگا ۔ اسے ۔ ہاتھی نہیں چلاتا خدا میں دھیان لگا کھا ہے اسکے دلمیں خدا بس رہا ہے (2) اس سنت نے کونسا گناہ کیا ہے جو اسے باندھ کر ہاتھی کے آگے ڈال رکھا ہے ۔ ہاتھی بار بار اس گھٹھڑی سجدہ کر رہا ہے سر جھکا رہا ہے ۔ مگر عقل کے اندھے قاضی کو ابھی بھی سمجھ نہیں آئی (3) تین دفعہ جائزہ لیا مگر ظالم سخت دل قآضی کو یقین نہ آئیااے کبیر بتادے کہ مجھے خدا پر بھروسا ہے ۔ خدائی خدمتگار دنیاوی زندگی سے اوپر زندگی کے چوتھے درجے میں خدا کی عبادت و ریاضت میں گذرتی ہے ۔

گوݩڈ ॥
نا اِہُ مانسُ نا اِہُ دیءُ ॥
نا اِہُ جتیِ کہاۄےَ سیءُ ॥
نا اِہُ جوگیِ نا اۄدھوُتا ॥
نا اِسُ ماءِ ن کاہوُ پوُتا ॥੧॥
اِیا منّدر مہِ کوَن بسائیِ ॥
تا کا انّتُ ن کوئوُ پائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نا اِہُ گِرہیِ نا اوداسیِ ॥
نا اِہُ راج ن بھیِکھ منّگاسیِ ॥
نا اِسُ پِنّڈُ ن رکتوُ راتیِ ॥
نا اِہُ ب٘رہمنُ نا اِہُ کھاتیِ ॥੨॥
نا اِہُ تپا کہاۄےَ سیکھُ ॥
نا اِہُ جیِۄےَ ن مرتا دیکھُ ॥
اِسُ مرتے کءُ جے کوئوُ روۄےَ ॥
جو روۄےَ سوئیِ پتِ کھوۄےَ ॥੩॥
گُر پ٘رسادِ مےَ ڈگرو پائِیا ॥
جیِۄن مرنُ دوئوُ مِٹۄائِیا ॥
کہُ کبیِر اِہُ رام کیِ انّسُ ॥
جس کاگد پر مِٹےَ ن منّسُ ॥੪॥੨॥੫॥
لفظی معنی:
مانس ۔ انسان ۔ دیؤ۔ دیوتا۔ فرشتہ ۔جتی ۔ اپنے جت پر قائم۔ سیؤ۔ شوجی کا آپاشک ۔ اودہوتا۔ طارق۔ کاہو پوتا۔ کسی کا بیٹا (1) مندر۔ انسانی جسم ۔ بستا ہے ۔ انت ۔ آخر (1) رہاؤ۔ گرہی ۔ کانہ داری گھریلو زندگی والا ۔ اداسی ۔ دنیاوی زندگی سے پریشان طارق الدنیا ۔ راج ۔ حکومت ۔ بھیکھ ۔ خیرا ۔ بھیک ۔پنڈ ۔ جم ۔ رکنو ۔ خون ۔ راتی ۔ رتی بھر ۔ کھاتی ۔ نرکھان(2) تپا۔ تپسوی ۔ عابد۔ سیکھ ۔ شیخ۔ بزرگ ۔ جیوے ۔ زندہ ۔ پت ۔کھودے ۔ عزت گنواتا ہے (3) گرپرساد ۔ رحمت مرشد سے ۔ ڈگرو ۔ صراط مستقیم زندگی ۔ انس۔ جذ۔ منس ۔ سیاہی ۔
ترجمہ:
اس جسم میں ایک گھر سے مشابہ کیا ہے کون بستا ہے اسکی طے تک کوئی نہیں پہنچ سکا (1) رہاؤ۔ نہ یہ انسان ہے نہ فرشتہ نہ یہ پرہیز گار کیا نہ نفس پر ضبط رکھنے والا ہے کہ شوجی کا پجاری ہے نہ جوگی ہے نہ طارق الدنیا نہ خاندہدار نہ طارق نہ اسکی کوئی ماں ہے نہ باپ نہ کسی کا بیٹا نہ حکمران ہے نہ بھکاری نہ اسکا کوئی جسم ہے نہ رتی بھر خون۔ نہ یہ برہمن نہ ترکھان (2) نہ ہے عابد نہ یہ شیخ نہ پیدا ہوتا ہے نہ ہے موت اسے جو اسہستی کو روتا ہے وہ ذلیل و خوآر ہوتا ہے (3) رحمت مرشد سے صراط مستقیم زندگی ہے پالیا اور زندگی اور موت کا جھگرا نپٹا لیا ۔ اے کبیر بتادے کہ یہ ہے جز خدا یہ دونوں کا رشتہ ہے اسطرح جیسے کاغذ پر سیاہی ۔

گوݩڈ ॥
توُٹے تاگے نِکھُٹیِ پانِ ॥
دُیار اوُپرِ جھِلکاۄہِ کان ॥
کوُچ بِچارے پھوُۓ پھال ॥
اِیا مُنّڈیِیا سِرِ چڈھِبو کال ॥੧॥
اِہُ مُنّڈیِیا سگلو د٘ربُ کھوئیِ ॥
آۄت جات ناک سر ہوئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تُریِ نارِ کیِ چھوڈیِ باتا ॥
رام نام ۄا کا منُ راتا ॥
لرِکیِ لرِکن کھیَبو ناہِ ॥
مُنّڈیِیا اندِنُ دھاپے جاہِ ॥੨॥
اِک دُءِ منّدرِ اِک دُءِ باٹ ॥
ہم کءُ ساتھرُ اُن کءُ کھاٹ ॥
موُڈ پلوسِ کمر بدھِ پوتھیِ ॥
ہم کءُ چابنُ اُن کءُ روٹیِ ॥੩॥
مُنّڈیِیا مُنّڈیِیا ہوُۓ ایک ॥
اے مُنّڈیِیا بوُڈت کیِ ٹیک ॥
سُنِ انّدھلیِ لوئیِ بیپیِرِ ॥
اِن٘ہ٘ہ مُنّڈیِئن بھجِ سرنِ کبیِر ॥੪॥੩॥੬॥
لفظی معنی:
کھٹی ۔ ختم ہوگئی ۔ پان ۔ مادا۔ دآر اوپر۔ دروازے پر ۔۔جھاکا ویہہ کان ۔ کانے چمکتے ہیں۔ کوچ ۔ کچ ۔ بھیئے فال ۔بکھرے پڑے ہیں۔ ایا ٹنڈیا۔ اس لڑکے ۔ چڑوہوکال۔ موت کے نزدیک ہے (1) سگلودرب۔ دولت گنوالی ۔ آوت جات۔ آنے جانے والون نے ۔ ناک سر ہوئی ۔ ناک میں دم کر رکھا ہے (1) رہاؤ ۔ تری۔ کپڑآ پیٹنے والی لکڑی ۔ نار ۔ نلکیان ۔ رام نام۔ الہٰی نام۔ سچ وحقیقت ۔ دا۔ اسکا ۔ من راتا۔ دل محو ومجذوب ہے ۔ لرکی رکن رکھیونا ہے ۔ لڑکے لڑکی کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا۔ دھاپے ۔ سیر ہوئے (2) ایک دوئے مندر۔ ایک دو گھر ۔ باٹ ۔ راستے ۔ ساتھر ۔ زمین۔ کھات۔ چوپائی۔ موڈ پلوس۔ سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ کمر بدھ پوتھی ۔ کمر میں کتاب باندھ رکھی ہے ۔ چابن ۔ بھنے دانے (3) اے منڈیا بوڈت کی شک ۔ ڈوبتے کے لئے سہارا ہیں۔ اندھلی ۔ بے عقل۔ بے پیر ۔ بغیر مرشد ۔ ان منڈین ۔ ان لڑکون کی ۔ بھج سرن کبیر ۔ اے کبیر ان پناہ لو ۔
ترجمہ:
اس سادہونے ساری ڈولت گنوادی اور آنے جانے والون نے نانک میں دم کر رکھا ہے ۔ رہاؤ۔ تانی کے دھاگے ٹوٹ گئے ہیں اور تانے کو لگانے والا ماوا یا پان ختم ہو چکی ہے ۔ دروازے پر پڑے کانے جھلکتے ہیں اور کچھ یا کچ بکھرا پڑا ہے اس کے سر پر موت سوار ہوئی معولم ہوتی ہے (1) تری اور نارکاخیال ہی نہیں الہیی نام میں مھو ومجذوب ہے گھر کے بچوں کے گھانے کے لئے کوئی چیز نہیں مگر اسکے ساتھی سیر ہوکر جاتے ہیں (2) ایک دو سادہو گھر ہیں اور ایک دوراستے میں ہیں انہیں چارپائی ملتی ہے اور ہمیں زمین پر سونا پڑتا ہے ۔ وہ سروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کمر پراتا ہیں ۔ کمکائے آتے ہین ۔ ہمیں کھانے کے لئے بھونے ہوائے دانے مگر انکو روٹی ملتی ہے (3) اے کبیر بتادے ۔ کہ یہ سارے آپس مین ایک ہوئے ہیں اور ڈوبتے کے لئے سہارا ہین۔ اے عقل سے خالی بے مرشد لوئی تو بھی ان کی پناہ لے ۔

گوݩڈ ॥
کھسمُ مرےَ تءُ نارِ ن روۄےَ ॥
اُسُ رکھۄارا ائُرو ہوۄےَ ॥
رکھۄارے کا ہوءِ بِناس ॥
آگےَ نرکُ ایِہا بھوگ بِلاس ॥੧॥
ایک سُہاگنِ جگت پِیاریِ ॥
سگلے جیِء جنّت کیِ ناریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سوہاگنِ گلِ سوہےَ ہارُ ॥
سنّت کءُ بِکھُ بِگسےَ سنّسارُ ॥
کرِ سیِگارُ بہےَ پکھِیاریِ ॥
سنّت کیِ ٹھِٹھکیِ پھِرےَ بِچاریِ ॥੨॥
سنّت بھاگِ اوہ پاچھےَ پرےَ ॥
گُر پرسادیِ مارہُ ڈرےَ ॥
ساکت کیِ اوہ پِنّڈ پرائِنھِ ॥
ہم کءُ د٘رِسٹِ پرےَ ت٘رکھِ ڈائِنھِ ॥੩॥
ہم تِس کا بہُ جانِیا بھیءُ ॥
جب ہوُۓ ک٘رِپال مِلے گُردیءُ ॥
کہُ کبیِر اب باہرِ پریِ ॥
سنّسارےَ کےَ انّچلِ لریِ ॥੪॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
خصم۔ مالک مال یا دولت ۔ نار ۔ عورت مراد۔ دیاوی دلوت ۔ رکھوار ۔ محافظ اور و ۔ دوسرا۔ رکھوارے ۔ محافظ ۔ بناس۔ ختم ہوجاتا ہے ۔ نرک ۔ دوزخ۔ ایہا۔ یہاں۔ بھوگ ۔ بلاس۔ عیش و عشرت (1) سہاگن ۔ خصم یا خاوند والی ۔ جگت ۔ پیاری ۔ سارے عالم کی محبوبہ ۔ ناری ۔ عورت (1) رہاؤ۔ شادی شدہ عورت کے گلے ہار اسکی زیبائش بڑھاتا ہے ۔ جو ایک سنت یا عارف کے لئے زیر ہے جبکہ سارا عالم اسے دیکھکر خوش ہوتا ہے ۔ سیگار ۔ زیبائش ۔ پکھیاری ۔ رنڈی ۔ بیسوا۔ ٹھٹھکی ۔ لعنت زدہ (2) پاچھے برے ۔ سہاا ڈنڈھتی ہے ۔ دامن لگتی ہے ۔ گر پرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ ساکت ۔مادہ پرست۔ پنڈ ۔ پرائن ۔جسم کے لئے سہارا۔ درسٹ ۔ نظر آتی ہے ۔ ترکھ ڈائن ۔ خون کی پیاسی مروم خوار (3) بھیؤ۔ بھید۔ راز۔ گرویؤ ۔ فرشتہ سیرت مرشد۔ یا تر پری ۔ دور ہوگئی۔ سنسارے کے انچل لری ۔ علام کا دامن پکڑا۔
ترجمہ:
دنیاوی دولت ایک سہاگن عورت کی مانند ہے جسے سارا عالم محبت کرتا ہے ۔ (1) رہاؤ۔ جب اس دنیاوی دولت کا خاوند یا مالک فوت ہو جاتا ہے تو یہ عورت بیوی روتی نہیں کیونکہ دوسرا اسکا خاوند ہو جات اہے جب اسکا محافط خاوند مرتا ہے تو اس عالم میں تو عیش و عشرت کرتا ہے مگر بوقت اخرت دوزخ نصیب ہوتا ہے ۔ (1) یہ عورت ہمیشہ اپنے آپ کی زیبائش کرتی ہے جسے دیکھ کر عالم خوش ہوت اہے اور سنت اسے زیر سمجھتے ہیں ایک بازاری عورت کی طرح اپنا باؤ سیگار کرتی ہے خدا پرستوں کی لعنت زدہ دور دور پھرتی ہے (2) خدا پرست (سنتہوں) کے دامن کے لئے کوشاں رہتی ہے ۔ مگر خوف زدہ رہتی ہے ۔ مادہ پرستوں کی زندگی کی عیز تربنتی رہتی ہے ۔مگر ہمیں خون پیاسی مردم خور معلوم ہوتی ہے اور دکھائی دیتی ہے (3) جب سے مہربان کا ملاپ حاصل ہوا ہے ۔ اس دنیاوی دولت کا راز معلوم ہوا ہے ۔ اے کبیر بتادے کہ اب مجھ سے دور ہوگئی ہے ۔ دنیاوی لوگوں کے دامن پکڑ لیا ہے ۔

گوݩڈ ॥
گ٘رِہِ سوبھا جا کےَ رے ناہِ ॥
آۄت پہیِیا کھوُدھے جاہِ ॥
ۄا کےَ انّترِ نہیِ سنّتوکھُ ॥
بِنُ سوہاگنِ لاگےَ دوکھُ ॥੧॥
دھنُ سوہاگنِ مہا پۄیِت ॥
تپے تپیِسر ڈولےَ چیِت ॥੧॥ رہاءُ ॥
سوہاگنِ کِرپن کیِ پوُتیِ ॥
سیۄک تجِ جگت سِءُ سوُتیِ ॥
سادھوُ کےَ ٹھاڈھیِ دربارِ ॥
سرنِ تیریِ مو کءُ نِستارِ ॥੨॥
سوہاگنِ ہےَ اتِ سُنّدریِ ॥
پگ نیۄر چھنک چھنہریِ ॥
جءُ لگُ پ٘ران تئوُ لگُ سنّگے ॥
ناہِ ت چلیِ بیگِ اُٹھِ ننّگے ॥੩॥
سوہاگنِ بھۄن ت٘رےَ لیِیا ॥
دس اٹھ پُرانھ تیِرتھ رس کیِیا ॥
ب٘رہما بِسنُ مہیسر بیدھے ॥
بڈے بھوُپتِ راجے ہےَ چھیدھے ॥੪॥
سوہاگنِ اُرۄارِ ن پارِ ॥
پاںچ نارد کےَ سنّگِ بِدھۄارِ ॥
پاںچ نارد کے مِٹۄے پھوُٹے ॥
کہُ کبیِر گُر کِرپا چھوُٹے ॥੫॥੫॥੮॥
لفظی معنی:
گریہہ۔ گھر ۔ سوبھا۔ دنیاوی دولت کی شہوت ۔ آوت پہیا۔ راہی ۔ کھودے ۔ بھوکے ۔ جاہے ۔ چلے جاتے ہیں۔ وا۔ انکے ۔ انتر ۔ دلمین۔ سنتوکھ ۔ صبر۔ بن سوہاگن ۔ بغیر سرمایہ۔ دوکھ ۔ عذاب (1) پویت ۔ پاک ۔ تپتے تپسیر۔ تپوسی ۔ عابد۔ ڈولے ۔ ڈگمگاتے ہیں۔ (1) رہاؤ۔ کرپن ۔ کنجوس۔ سہاگن کرپن کی (پتری ) سرمایہ یا دولت کنجوس کی بیٹی ہے ۔ سیوک تج ۔ خدائی خدمتگار کو چھوڑ کر ۔ جگت سیؤ۔ سوتی ۔ سارے عالم کا لطف اُٹھاتی ہے ۔ سادہو کے ٹھاڈی دربار ۔ زندگی کے صراط مستقیم پر چلنے والے کے در پر کھڑی رہتی ہے اور پکارتی ہے کہ مجھے بچاؤ (2) سندری ۔ خوبصورت ۔پگ ۔ پاؤں۔ نیور ۔ جھانجران ۔ پران ۔ زندہ ہے ۔ تو۔ اسوقت تک ۔ سنگے ۔ ساتھ ۔ بیگ ۔ جلدی ہی (3) بھون تیرے ۔ تینو ں عالمون ۔د س اٹھ ۔ اتھاراں پران ۔ تیرتھ ۔ زیارت گاہیں۔ رس کیا۔ پیار کرتے ہیں۔ بیدھے ۔ گرفت میں لے رکھے ہیں۔ چھیدے ۔ مٹائے (4) اردار اس طرح کا کنار ہ ۔پار دوسری طرف کا کنارہ ۔ پانچ نادر۔ پانچ اعضائے احساس۔ بدھوار۔ ملی ہوئی۔ مٹوے پھوٹے ۔ مٹی کے برتن ٹوٹ گئے ۔ چھوٹے نجات حاصل ہوئی۔
ترجمہ:
دنیاوی دولت مبارکباد کی مستحق ہے نہایت پاک ہے اسکے بغیر عابد طارق بھی ڈگمگا جاتے ہین ۔ رہاؤ۔
جسکے گھر یہ باشہرت دولت نہیں آنے والے راہگیر بھوکے چلے جاتے ہیں۔ انکے دلمیں صبر نہیں رہتا۔ بغیر دولت عذاب آتا ہے (1) مگر یہ مائیا کنجوس کی بیتی بن کر رہتی ہے ۔ مراد کنجوس اکھٹی اسے استعمال نہیں کرتا۔ خدائی خدمتگاروں کے بغیر دوسرے سبھ کو اپنے زیر کو لیتی ہے ۔ جبکہ خدمتگاران خدا کے در پر عرض گذارتی ہے کہ بچاؤ میںت مہارے پناہ کے لئے آئی ہون (2) یہ دولت نہایت خوبسورت ہے اور اسکے پاؤں میں جھانجھراں ہیں وہ چھن چھن کرتی ہیں مراد دولت انسانی دل کو لبھاتی ہے دنیاوی عیش عشرش اسکے اندر پوشیدہ ہے ۔ اور جب تک انسان زندہ ہے ساتھ دیتی ہے ۔ ورنہ جلد ہی دوڑ جاتی ہے (3) اس دولت نے ساری مخلوقات کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے ۔ اٹھاراں پران مراد مذہبی کتابیں اور تمام زیارت گاہیں بھی اس نے پانے گروید اور فریفتہ بنا رکھے ہیں ۔ برہما وشنو اور شوجی جسے دیوتے بھی اپنی گرفت میں رکھے ہیں۔ راجے مہاراجے کے نام میں مکمل پار رکھی ہے (4) دنیایو دولت کے پھیلاؤ کا کوئی کنار انہیں اور پانچوں اعضائے یا حساس سے اسکی اشتراکیت ہے ۔ مگر اے کبیر بتادے میرے پانچوں اعضا احساس کے برتن ٹوٹ چکے ہیں اور رحمت مرشد سے اسکی گرفت سے نجات حاصل ہے ۔

گوݩڈ ॥
جیَسے منّدر مہِ بلہر نا ٹھاہرےَ ॥
نام بِنا کیَسے پارِ اُترےَ ॥
کُنّبھ بِنا جلُ نا ٹیِکاۄےَ ॥
سادھوُ بِنُ ایَسے ابگتُ جاۄےَ ॥੧॥
جارءُ تِسےَ جُ رامُ ن چیتےَ ॥
تن من رمت رہےَ مہِ کھیتےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیَسے ہلہر بِنا جِمیِ نہیِ بوئیِئےَ ॥
سوُت بِنا کیَسے منھیِ پروئیِئےَ ॥
گھُنّڈیِ بِنُ کِیا گنّٹھِ چڑ٘ہائیِئےَ ॥
سادھوُ بِنُ تیَسے ابگتُ جائیِئےَ ॥੨॥
جیَسے مات پِتا بِنُ بالُ ن ہوئیِ ॥
بِنّب بِنا کیَسے کپرے دھوئیِ ॥
گھور بِنا کیَسے اسۄار ॥
سادھوُ بِنُ ناہیِ درۄار ॥੩॥
جیَسے باجے بِنُ نہیِ لیِجےَ پھیریِ ॥
کھسمِ دُہاگنِ تجِ ائُہیریِ ॥
کہےَ کبیِرُ ایکےَ کرِ کرنا ॥
گُرمُکھِ ہوءِ بہُرِ نہیِ مرنا ॥੪॥੬॥੯॥
لفظی معنی:
مندر۔ گھر ۔ بلہر۔ بالا۔ شتیر۔ ٹھاہرے ۔ لکتا ۔ ٹکاؤ۔ نام۔ سچ وحقیقت ۔ پار اُترے ۔کامیابی ۔ کنھ ۔ گھڑا۔ جل۔ پانی ۔ ابگت۔ بری ۔ حالت۔ سادہو۔ جس نے کردار درست کر لیا (1) جارؤ۔ جلادو۔ تسے ۔ رام نہ چیتے ۔جس نہیں یادخدا۔ تن من دل و جان ۔ رمت رہے ۔ محو رہتا ہے ۔ میہہ کھیتے ۔ کھیت میں ۔ مراد صرف جسمانی رکھ رکھاؤ مین۔ ہلہر ۔ کالی ۔کسان ۔ سوت ۔ دھاگے ۔ منی ۔ منکے ۔ گھنڈی ۔ دل ۔ گھنٹھ ۔ گانٹھ (2) بال۔ بچہ ۔ بنب پانی ۔ گھور ۔ گھوڑے ۔ دربرا ۔ الہیی حضوری (3) پھیری ناچ۔ دوہاگن ۔ دو خاندوں والی ۔ آوہیری ۔ بے عزت ۔ لعنت زدہ ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ ایکو کرکرنا۔ ایک ہی کام کرنے کے لائق ہے ۔ بہور ۔ دوبارہ ۔
ترجمہ:
جلادو اُسے جو یاد نہیں کرتا کدا ہمیشہ جسمانی پرورش میں رہتا ہے محو (1) رہاو۔ جیسے گھر بغیر شہتیر یا سہارے قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس طرح سے الہیی نام سچ وحقیقت کے بغیر کامیابی نہیں ملتی ۔ جیسے گھڑے کے بگیر پانی نہیں ٹکتا ایسے ہی خدا رسیدہ سادہو کے بغیر زندگی کے حالات ابتر ہوجاتے ہیں (1) جیسے کسان کے بگیر مزین بوئی نہیں جا سکتی اور دھاگے بغیر منکوں کو پر ہار نہیں بنتا ۔ جیسے گھنڈی کے بغیر گانٹھ نہیں دی جا سکتی اس طرح سے انسان کے حالات بد تر ہو جاتے ہیں (2) جیسے مان باپ کے بغیر بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ کپڑے پانی کے بغیر دہوئے نہیں جا سکتے ۔ گھوڑے کے بگیر انسنا سوار نہیں کہلا سکتا ۔ اس طرح سے مرشد کے بغیر الہٰی دربار حاصل نہیں ہوسکتا (3) جیسے ساز کے بغیر ناچ نہیں ہوسکتا ۔ اس طرھ سے خاوند کے بغیر سہاگ والی عورت نیہں ہو سکتی ۔ جیسے خاوند دو خاندوں والی عورت کو چھوڑ دیتا ہے اور لعنت ملامت کی جاتی ہے ۔ کبیر فرماتا ہے کہ ایک ہی کام کرنیکے لائق ہے وہ یہ کہ مرید مرشد ہو جاتاکہ تجھے تناسخ نہ ہو ۔ آواگون مٹ جائے ۔

گوݩڈ ॥
کوُٹنُ سوءِ جُ من کءُ کوُٹےَ ॥
من کوُٹےَ تءُ جم تے چھوُٹےَ ॥
کُٹِ کُٹِ منُ کسۄٹیِ لاۄےَ ॥
سو کوُٹنُ مُکتِ بہُ پاۄےَ ॥੧॥
کوُٹنُ کِسےَ کہہُ سنّسار ॥
سگل بولن کے ماہِ بیِچار ॥੧॥ رہاءُ ॥
ناچنُ سوءِ جُ من سِءُ ناچےَ ॥
جھوُٹھِ ن پتیِئےَ پرچےَ ساچےَ ॥
اِسُ من آگے پوُرےَ تال ॥
اِسُ ناچن کے من رکھۄال ॥੨॥
بجاریِ سو جُ بجارہِ سودھےَ ॥
پاںچ پلیِتہ کءُ پربودھےَ ॥
نءُ نائِک کیِ بھگتِ پچھانےَ ॥
سو باجاریِ ہم گُر مانے ॥੩॥
تسکرُ سوءِ جِ تاتِ ن کرےَ ॥
اِنّد٘ریِ کےَ جتنِ نامُ اُچرےَ ॥
کہُ کبیِر ہم ایَسے لکھن ॥
دھنّنُ گُردیۄ اتِ روُپ بِچکھن ॥੪॥੭॥੧੦॥
لفظی معنی:
کوٹن ۔ فریبی ۔ دہوکا باز۔ دلال ۔ کوٹے ۔ سمجھائے ۔ چھوٹے ۔ نجات۔ پائے ۔ کسوٹی ۔ آزمائش ۔ پڑتال ۔ تحقیق ۔ جانچ۔ مکت۔ نجات۔ آزادی۔ (1) بچار۔ سمجھ ۔ ناچن ۔ نچار۔ ناچنے والا۔ پتیئے ۔ یقین ۔ ساچے پرجے ۔حقیقی میں وشواش یا یقین کرتا ہے ۔ تال ۔ ۔ بحر۔ رکھوال۔ محافظ (2) باجا ری ۔ کنجر۔ مسخر۔ مہان کوش۔ بد چلن ۔ بازار میں گھومنے والا۔ بجاریہہ۔ مراد انسانی جسم جو مانند بازار ہے ۔ پانچ پلیتا۔ پانچ اعضائے ۔ احساس جو ناپاک ہوگئے ہیں۔ پر لودتھے ۔ پندونصائح سے راہ راست پر لائے ۔ تونانک۔ زمین کے نو براعظموں کا ملاک۔ بھگت۔ عبادت ۔ پریم پیار۔ پچھانے ۔ تمیز کرے ۔ پہچانے (3) تسکر۔ چور۔ تات۔ حصد۔ اندری کے جتن ۔ اعضائے جسمانی کو محنت و مشقت سے ( کو زیر ضبط کرکے ) نام۔ اچرے ۔ سچ و حقیقت بیان کرے ۔ لکھن۔ لچھ ۔ ایسے اوصاف والے کو۔ دھن گرویو ۔ مبارک مرشد۔ ت۔ ناہیت۔ روپ بچکھن۔ دانشمنداور خوبصورت ۔
ترجمہ:
اے دنیا والوں آپ کو ٹن کسے کہتے ہو سارے لفظوں کے مطلب جدا جدا ہو سکتے ہیں (1) رہاؤ۔ آپ کوٹن ۔ فریبی ۔ دہوکے باز اور ٹھگ کو کہتے ہو مگر کوٹن وہ بھی ہے جو اپنے نفس اور من کواپنے زیر کرتا ہے ۔ وہ نجات پاتا ہے ۔ جو بار بار اسے تابع لاتا ہے اور تحقیق و پڑتال کرتا رہتا ہے وہ نفسیاتی غلامی سے نجات پا لیتا ہے (1) اے دنیا کے لوگوں آپ ناچنے والے کو نچاریا کنجر کہتے ہو۔ مگر ناچن وہ ہے جو اپنے من کے ساتھ ناچتا ہے جسے جھوٹ مین یقین نہیں سچ اور سچائی میں یقین کرتا ہے ۔ اور اس من کو روھانیت کے جوش و خروش میں لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ایسے ناچن یا نچار کا محافظ خدا کود ہوتا ہے (2) لوگ بازاری کنجر یا مسخرے کو کہتے ہیں مگر بازاری وہ ہے جو اپنے جسم جو بہت سے اعضے پر مشتمل ایک بازار کی طرح ہے ۔ اسے درست کرتا ہے اور راہ راست پر لاتا ہے ۔ اور پانچوں ناپاک اعضائے احساسات کی تحقیق و جانچ کرتا ہے اور بیدار کرتا ہے ۔ زمین کے نو براعظموں کے مالک کی اطاعت و بندگی کا سبق دیتا ہے ہم اس بازاری کو مرشد مانتے ہیں (3) دنیا کے لوگ تسکر کو چور مانتے ہیں مگر حقیقتا تسکر یا چور وہ ہے حصد کو اپنے دل سے چرا لیتا ہے ۔ جو اعضائے جسمانی پر ضبط پاکر الہٰی نام سچ و حقیقت کی یادوریاض کرتا ہے ۔ اے کبیربتادے ۔ کہ اب ایسے عالمات ہیں اور ایسے علامات و نشانات والے انسان کو مبارک دانشمند قابل قدر مرشد مانتے ہیں۔

گوݩڈ ॥
دھنّنُ گُپال دھنّنُ گُردیۄ ॥
دھنّنُ انادِ بھوُکھے کۄلُ ٹہکیۄ ॥
دھنُ اوءِ سنّت جِن ایَسیِ جانیِ ॥
تِن کءُ مِلِبو سارِنّگپانیِ ॥੧॥
آدِ پُرکھ تے ہوءِ انادِ ॥
جپیِئےَ نامُ انّن کےَ سادِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جپیِئےَ نامُ جپیِئےَ انّنُ ॥
انّبھےَ کےَ سنّگِ نیِکا ۄنّنُ ॥
انّنےَ باہرِ جو نر ہوۄہِ ॥
تیِنِ بھۄن مہِ اپنیِ کھوۄہِ ॥੨॥
چھوڈہِ انّنُ کرہِ پاکھنّڈ ॥
نا سوہاگنِ نا اوہِ رنّڈ ॥
جگ مہِ بکتے دوُدھادھاریِ ॥
گُپتیِ کھاۄہِ ۄٹِکا ساریِ ॥੩॥
انّنےَ بِنا ن ہوءِ سُکالُ ॥
تجِئےَ انّنِ ن مِلےَ گُپالُ ॥
کہُ کبیِر ہم ایَسے جانِیا ॥
دھنّنُ انادِ ٹھاکُر منُ مانِیا ॥੪॥੮॥੧੧॥
لفظی معنی:
دھن گوپال ۔ قابل ستائش ہے ۔ مالک و عالم ۔ دھن گوردیو ۔ قابل ستائش و مستحق مبارکباد رمشد۔ دھن اناد۔ شاباش ہے ۔ اناج کو ۔ بھوکے کول ٹہکاوے ۔ جو بھوکے دل کو ٹہکادیتا ہے ۔ جانی ۔ اس بات کو سمجھا ۔ سارنگ پانی ۔ خدا (1) آوپرکھ ۔ جو روز اول سے ہے ۔ اناد ۔ اناج۔ ان کے ساد۔ اناج بالطف ۔ رہاؤ۔ انبھ ۔ پانی ۔ نام ۔ سچ و حقیقت ۔ نیکا۔ اچھا۔ ون ۔ لطف ۔ انے باہر۔ اناج کے بغیر ۔ تین بھون ۔ تینو عالموں ۔ اپنی کھودیہہ ۔ عزت گنواتا ہے (2) پاکھنڈ۔ دکھاوا۔ سہاگن ۔ خاوند پرست۔ خاوند والی ۔ رنڈ ۔ جسکا خاوند فوت ہو چکا ہو۔ بکتے ۔ کہلاتے ہیں۔ دہودھا دھاری ۔ دودھ پر گذر اوقات کرنیوالے ۔ گپتی ۔ چھپ کر ۔ دٹکا۔ روٹی یا بھائی ۔ (3) سکال۔ سکھال ۔ آڑام ۔ صبر۔ بجیئے ان ۔ اناج چھوڑ کر ۔ گوپال۔ خدا۔ جانیا ۔ سمجھیا۔ من مانیا۔دل نے تسلیم کیا۔
ترجمہ:
خدا کی رحمت و عنایت سے اناج پیدا ہوتا ہے ۔ اناج کھا کر ہی یاد و ریاض و عبادت وریاضت ہوسکتی ہے (1) رہاؤ۔ شاباش و مبارک ہے خدا و مرشد کو مبار ہے اناج جس سے بھوکے انسان کا دل کھا کر پھول ی مانند کھل جاتا ہے ۔ وہ روحانی رہبر بھی قابل ستائش جن کر یہ سمجھ آگئی ہے سمجھ لیا ہے ۔ انہیں الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے (1) یاد کرنا چاہیئے خدا اور پیا کر ؤ اناج سے اسکے ساتھ پانی اور بھی مزہ بڑھا تا ہے ۔ اور پانی اناج کو نکھارتا ہے ۔ جو انسان اناج چھوڑتا ہے عزت گنواتا ہے (2) جو لوگ اناج چھوڑنے کا دکھاوا کرتے ہیں وہ نہ خدا پرست ہیں نہ منکر۔ لوگوں کو سناتے ہیں کہ ہم دودھ پر ہی صبر کرکے گذر اوقات کرتے ہیں مگر چھپ کر جی بھر کھاتے ہیں (3) اناج کے بغیر خوشحالی نہیں اور اناج چھوڑنے سے الہٰی قربت حاصل نہیں ہوتی ۔ اے کبیر بتادے ۔ کہ الہٰی سمجھ آئی ہے کہ اناج ایک نعمت ہے جسکے کھانے سے دل الہٰی عبادت و بندگی کرنا چاہتا ہے ۔

راگُ گوݩڈ بانھیِ نامدیءُ جیِ کیِ گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
اسُمیدھ جگنے ॥
تُلا پُرکھ دانے ॥
پ٘راگ اِسنانے ॥੧॥
تءُ ن پُجہِ ہرِ کیِرتِ ناما ॥
اپُنے رامہِ بھجُ رے من آلسیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
گئِیا پِنّڈُ بھرتا ॥
بنارسِ اسِ بستا ॥
مُکھِ بید چتُر پڑتا ॥੨॥
سگل دھرم اچھِتا ॥
گُر گِیان اِنّد٘ریِ د٘رِڑتا ॥
کھٹُ کرم سہِت رہتا ॥੩॥
سِۄا سکتِ سنّبادنّ ॥
من چھوڈِ چھوڈِ سگل بھیدنّ ॥
سِمرِ سِمرِ گوبِنّدنّ ॥
بھجُ ناما ترسِ بھۄ سِنّدھنّ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
امید ھ جگنے ۔ ایسا جگ جسمیں گھوڑے کی قربانی دی جاتی ہے ۔ تلا پرکھ دانے ۔ انسان کے تول کے برابر خیرات ویجائے ۔ پر اگ۔ سنانے ۔ پراگ کی زیارت یا اشنان کرے ۔ تو۔ تب بھی ۔ پجیہہ۔ برابری ۔ ہرکت ناما۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ سچ و حقیقت کے برابر۔ رامیہہ بھج۔ خدا کو یاد کر۔ ایسا ۔ سست۔ (1) رہاؤ۔ گیا ۔ بندوں کی ایک زیارت گاہ جہاں نرینہ اولاد گذر جانے والوں کی روح کی گتی کے لئے چاول ماجو کے پین بھرائے جاتے ہیں۔ بنارس اس بستا بنارس یا اسکے آس پاس رہائش پذیر ہو ۔ مکھ وید چتر پڑھتا ۔ زبان سے منہ زبانی چاروں وید پڑھتا ہو (2) اچھتا ۔ مزہبی فرائض ادا کرتا ہو۔ اندری درڑتا ۔ اعضا پر مستقل طور پر ضبط حاصل ہو ۔ کھٹ کرم چھ انسانی و مذہبی فرائض کا عامل ہو (3) سواسکت ۔ سنادھ ۔ شوجی اور پاربتی کی آپسی گفتگو ۔ بھید۔ فرق ۔ گوبند ۔ خدا۔ بھج ناما۔ اے نامدیو یاد کر۔ ترس بھو سند ۔ زندگی کے خوفناک سمندر سے پار ہو جائیگا مراد زندگی کامیاب بنالیگا۔
ترجمہ:
اگر کوئی انسان اسمبدھ یگ کرے اور اپنے تول کے برابر سونے اور چاندی خیرات کرے اور پراگ وغیرہ زیارت گاہوں کی زیارت بھی کرے (1) تب بھی الہٰی نام سچ و حقیت کی حمدوثناہ کے برابر ثواب نہ ہوگا۔ اے سست من خدا کو یاد کر ۔ رہاؤ۔ خوآہ گیا جی جاکر اپنے اباؤ و جداد کے نام پر پن بھرائے ۔ یا بنارس یا کانسی کے پاس اس ندی کے کنارے رہائش پذیر ہو اور چاروں وید منہ زبانی پڑھتا ہو (2) خوآہ سارے مذہبی فرائض ادا کرتا ہو ۔ سبق مردد کے مطابق اپنے اعضائے احساسات جسمانی پر ضبط حاصل ہو اور براہمنوں والے چھ فرائض ادا کرتا ہوں (3) شو جی اور پاربتی کی آپسی گفتگو اور رامائن وغیرہ کے پاٹھ یہ تمام اعمال چھوڑ یہ سارے انسان اور خدا میں تفریق پیدا کرتے ہیں۔ اے نامدیو حمدخدا کی کیا کر۔ الہٰی نام سچ و حقیقت سے ہی اس دنیاوی زندگی کے خوفناک سمندر کو کامیابی سے عبور کرسکے گا۔
مراد:
یگ ۔ خیرات ۔ زیارت گاہوں کی زیارت وغیرہ اعمال نہیں برابر یاد خدا کے ۔

گوݩڈ ॥
ناد بھ٘رمے جیَسے مِرگاۓ ॥
پ٘ران تجے ۄا کو دھِیانُ ن جاۓ ॥੧॥
ایَسے راما ایَسے ہیرءُ ॥
رامُ چھوڈِ چِتُ انت ن پھیرءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِءُ میِنا ہیرےَ پسوُیارا ॥
سونا گڈھتے ہِرےَ سُنارا ॥੨॥
جِءُ بِکھئیِ ہیرےَ پر ناریِ ॥
کئُڈا ڈارت ہِرےَ جُیاریِ ॥੩॥
جہ جہ دیکھءُ تہ تہ راما ॥
ہرِ کے چرن نِت دھِیاۄےَ ناما ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
نادبھرمے ۔ آواز کے وہم و گمان مین ۔ گھنڈا ہیڑ۔ گھڑے کے اوپر کھال مڑھ دی جاتی ہے ۔ اس ساز کی آواز برن کو کشش کرتی ہے ۔ پران ۔ تجے ۔ زندگی گنوا لیتا ہے ۔ دھیان نہ جائے ۔ دھیان نہیں چھوڑتا ۔ ہیریؤ ۔ دھیان دون ۔ رام چھوڑ ۔ خدا سے جدا ہوکر۔ چت۔ دل ۔ رہاؤ۔
بکھی ۔ شہوت کا دلدادہ ۔ ہیرے ۔ نظر رکتھا ہے ۔ پسوآر ا۔ (ماہگیر) ماہی گیر ۔مچھلیاں پکڑنے والا ۔ مینا ۔ مچھلی ۔جوآری ۔ جوئے باز۔ کوڈڈارت ۔ گوڈیاں ڈالنے وقت () ہرکے چرن پائے الہٰی ۔ا نت ہر روز ۔ دھیاوے ناما۔ نامدیو دھیان لگاتا ہے ۔
ترجمہ:
خدا میں اس طرح سے نظر رکھتا ہوں کہ کسی دوسری طرف نہیں جاتی مراد یکسو ہوکر دیکھتا ہوں ۔ رہاؤ۔ جیسے ہرن اپنے آپ کو بھلا کر گھنڈے ہیڑے کی آواز کی طرف ڈؤڑتا ہے زندگی گنوا لیتا ہے مگر دھیان آواز میں رکھتا ہے (1) جیسے مچھیرا یا ماہی گیر کا دھیان مچھلی میں ہوتا ہے ۔ سونا گھڑنے وقت سنار کا دھیان سونے میں ہوتا ہے (2) جیسے شہوت کے ولدادہ انسان بیگانی عورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے جوئے باز کوڈے پھینک کا ان میں دھیان لگاتا ہے (3) نامدیو بھی انکی طرح اپنا دھیان خدا میں مرکوز کرتا ہے ۔ جدھر دیکھتا ہوں خدا ہی نظر آتا ہے ۔
مراد:
خدا سے پیار ایسا کہ بیخود ہو جائے ۔

گوݩڈ ॥
مو کءُ تارِ لے راما تارِ لے ॥
مےَ اجانُ جنُ ترِبے ن جانءُ باپ بیِٹھُلا باہ دے ॥੧॥ رہاءُ ॥
نر تے سُر ہوءِ جات نِمکھ مےَ ستِگُر بُدھِ سِکھلائیِ ॥
نر تے اُپجِ سُرگ کءُ جیِتِئو سو اۄکھدھ مےَ پائیِ ॥੧॥
جہا جہا دھوُء ناردُ ٹیکے نیَکُ ٹِکاۄہُ موہِ ॥
تیرے نام اۄِلنّبِ بہُتُ جن اُدھرے نامے کیِ نِج متِ ایہ ॥੨॥੩॥
لفظی معنی:
موگر۔ مجھے ۔ تارے ۔ کامیاب بنا۔ اجان۔ انجان ۔ نا واقف ۔ تربے ۔ تیر نے ۔ باپ بیٹھلا ۔ اے خدا۔ باہ ۔ بازو (1) رہاؤ۔ نر ۔ انسان ۔ سر ۔ دیوتے ۔ ہوئے جات۔ ہو جاتے ہیں ۔ نمکھ میں ۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے میں۔ ستگر بدھ سکھ لائی ۔ سچے مرشد نے سمجھائیا ہے ۔ ترنے ایج ۔ انسان پیدا ہوکر ۔ سرگ کو جیتیؤ ۔ بہشت پر فتح پالوں ۔ اوکھد ۔ دوائی (1) دھروناردٹیکے ۔ جو رتبہ یا ٹھکانہ دھرو اور نارود کو یدا۔نیک۔ ذراسا۔ موہے ۔ مجھے ۔ نام۔ و لنب ۔ سچ وحقیقت کے آسرے ۔ ادھرنے ۔ بچے ۔ نامے کی نج۔ مت ایہہ۔ ذاتی سمجھ ہے یہی ۔
ترجمہ:
اے میرے خدا مجھے اس دنیاوی زندگی میں کامیابی عنایت کر ۔ میں اس طرز زندگی سے نا واقف ہون مجھے کامیابی طریقہ نہیں آتا ۔ اے میرے باپ خدا میری امداد کیجیئے (1) رہاؤ۔ مجھے سچے مرشد نے ایسا سبق دیتا ہے ۔ جس سے انسان تھوڑے سے وقفے میں انسان سے فرشتہ ہو جاتا ہے انسان پیدا ہوکر بہشت پر فتح حاصل ہو جاتی ہے ۔ وہ دوائی مجھے مل گئی ہے (1) اے خدا جو روحانی رتبہ دھرؤ بھگت نارد کو بخشا ہے مجھے بھی اسی منزل تک پہنچا ۔ اے خدا تیرے نام سچ حقیقت کے سہارے تیرے بہت سے خدمتگاروں کو تو نے بچائیا ہے ۔ یہ نام دیو کا ذاتی عقیدہ ہے ۔

گوݩڈ ॥
موہِ لاگتیِ تالابیلیِ ॥
بچھرے بِنُ گاءِ اکیلیِ ॥੧॥
پانیِیا بِنُ میِنُ تلپھےَ ॥
ایَسے رام ناما بِنُ باپُرو ناما ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیَسے گاءِ کا باچھا چھوُٹلا ॥
تھن چوکھتا ماکھنُ گھوُٹلا ॥੨॥
نامدیءُ نارائِنُ پائِیا ॥
گُرُ بھیٹت الکھُ لکھائِیا ॥੩॥
جیَسے بِکھےَ ہیت پر ناریِ ॥
ایَسے نامے پ٘ریِتِ مُراریِ ॥੪॥
جیَسے تاپتے نِرمل گھاما ॥
تیَسے رام ناما بِنُ باپُرو ناما ॥੫॥੪॥
لفظی معنی:
تالابیلی ۔ تڑپ ۔ مین ۔ مچھلی ۔ تلفے ۔ لڑپتی ہے ۔ باپروناما ۔ بپرا۔ بیچارہ ۔ رہاؤ۔ چھوٹلا ۔ چھوٹتا ہے ۔ چوکھتا ۔ چونگھتا ۔ گھوٹلا ۔ گھونٹ بھرتا ہے (2) گر بھیٹت ۔ مرشد کے ملاپ سے ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ لکھائیا۔ سمجھائیا۔ (3) نرمل گھا ما۔ صاف دہوپ ۔ بکھے ۔ شہوت کا پیار۔ ہیت ۔ پیار۔ پرناری بیگانی عورت پریت مراری ۔ ایسے ہی پیار خدا سے ۔ رام ناما۔ الہیی نام ۔ سچ وحقیقت باپرو۔ وچار۔
ترجمہ:
میں تڑپ اُٹھتا ہوں جیسے بھچڑے کے بغیر اکیلی گائے (1) جیسے بغیر پانی کے مچھلی ٹرپتی ہے ۔ رہاؤ۔ جیسے گائے کا بچھڑا چھوٹ جاتا ہے تو گائے کے تھنو کو چونگھتا ہے تو مکھن کے گھونٹ بھرتا ہے (2) ایسے ہی جب مرشد سے ملاپ ہوا تو سمجھ و ہوش سے بعید خدا کی سمجھ آئی اور نامدیو نے الہٰی ملاپ پائیا (3) جیسے شہوت پریمی کی پرائی عورت سے محبت ہوتی ہے ۔ ایسے ہی نامدیو کا پیار خدا سے ہے (4) جیسے صاف دہوپ جانداروں کو تپاتی ہے اسطرح سے الہٰی نام سچ و حقیقت کے بغیر بچارا نامدیو تڑپتا ہے ۔

راگُ گوَݩڈ بانھیِ نامدیءُ جیِءُ کیِ گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ہرِ ہرِ کرت مِٹے سبھِ بھرما ॥
ہرِ کو نامُ لےَ اوُتم دھرما ॥
ہرِ ہرِ کرت جاتِ کُل ہریِ ॥
سو ہرِ انّدھُلے کیِ لاکریِ ॥੧॥
ہرۓ نمستے ہرۓ نمہ ॥
ہرِ ہرِ کرت نہیِ دُکھُ جمہ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ ہرناکھس ہرے پران ॥
اجیَمل کیِئو بیَکُنّٹھہِ تھان ॥
سوُیا پڑاۄت گنِکا تریِ ॥
سو ہرِ نیَنہُ کیِ پوُتریِ ॥੨॥
ہرِ ہرِ کرت پوُتنا تریِ ॥
بال گھاتنیِ کپٹہِ بھریِ ॥
سِمرن د٘روپد سُت اُدھریِ ॥
گئوُتم ستیِ سِلا نِستریِ ॥੩॥
کیسیِ کنّس متھُن جِنِ کیِیا ॥
جیِء دانُ کالیِ کءُ دیِیا ॥
پ٘رنھۄےَ ناما ایَسو ہریِ ॥
جاسُ جپت بھےَ اپدا ٹریِ ॥੪॥੧॥੫॥
لفظی معنی:
بھرما ۔ وہم و گمان ۔ ذہنی بھڑکاہٹ۔ اُتم ۔ بلند رتبہ ۔ دھرما۔ مذہبی فرض۔ جات کل ۔ ذات و خاندان ۔ اندھلے کی لاکری ۔ اندھے کا سہارا (1) ہرئے ٹستلے ہریے نمیہہ۔ سجدہ خدا کو جھکو خدا کے آگے ۔ دکھ کمیہہ۔ موت کا عذاب (1) رہاؤ۔ ہر ہر ناکھس ہرنے ۔ ان خدا نے ۔ ہرنا کھس کا مارا۔ بیکنٹھہہ۔ بہشت۔ تھان۔ مقام۔ جگہ ۔ سوآ۔ طوطا۔ پوتری ۔ پتلی (2) پوتنا ۔ داتی ۔ جسس کنس نے کرشن کو مارنے کے لئے بھیجا تھا ۔ بال گھاتنی ۔ بچے مارنے والی ۔ کپٹ بھری ۔ فریب کار۔ دہوکے باز۔ دروپدست۔ دروپد کی بیٹی ۔ ادھری ۔ بچی ۔ ستی ۔ نیک۔ سلا۔ پتھر ۔ نستیر ۔ نجات پائی (3) کیسی ۔ دینت۔ متھن ۔ مٹائیا۔ جیہہ دان کالی کودیا۔ کالی کی جان بخشی ۔ اپد۔ مصیبت۔
ترجمہ:
سر جھکاتا ہون اس خدا کے آگے جس کی یادوریاض موت کا عذاب نہیں رہتا۔ رہاؤ۔ خدا کی یادوریاض سے سارے وہم و گمان مٹ جاتے ہیں۔ الہیی نام سچ و حقیقت ہی فرض اولین اور بلند رتبہ ہے ۔ خدا کو یاد کرنے سے ذات اور خاندان کے تفرقات مٹ جاتے ہیں۔ لہذا الہٰی نام اندھے کے لئے ایک سہارا و آسرا ہے (1) خدا نے ظالم ہرناکھس ختم کیا ۔ اور جامل گناہگار کو بہشت بخشش کی ۔ طوطے کو پڑھاتے پڑھاتے گنکا کنجری نے بد چلنی چھوڑی اور خدا کی آنکھو کی پتلی بنی (2) بچوں کو مارنے والی دہوکے بازیو تناوائی خدا کی عبادت وریاضت سے نجات حاصل کی ۔ یادوریاض سے ہی دروپدی نے عزت بچائی ۔ گوتم کی نیک۔ بیوی کامیابی پائی (3) اسی خدا نے کسی سے راج کنس موت کے گھاٹ اتروائیا اور کالی کی جان بخشی کی ۔ نامدیو عرض گذارتا ہے کہ خدا ایسا مہربان ہے اسکی یادوریاض سے سارے خوف ۔ عذاب اور مصیبتیں مٹ جاتی ہے ۔
مقصد:
الہٰی یادوریاض ہی سب سے اولین دھرم ہے ۔ اسکی برکت و عنایت سے خوف مٹ جاتے ہیں مصیبتیں چلی جاتی ہے ۔ بدچلن برائیوں سے ہٹ جاتے ہیں۔

گوݩڈ ॥
بھیَرءُ بھوُت سیِتلا دھاۄےَ ॥
کھر باہنُ اُہُ چھارُ اُڈاۄےَ ॥੧॥
ہءُ تءُ ایکُ رمئیِیا لیَہءُ ॥
آن دیۄ بدلاۄنِ دیَہءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِۄ سِۄ کرتے جو نرُ دھِیاۄےَ ॥
برد چڈھے ڈئُروُ ڈھمکاۄےَ ॥੨॥
مہا مائیِ کیِ پوُجا کرےَ ॥
نر سےَ نارِ ہوءِ ائُترےَ ॥੩॥
توُ کہیِئت ہیِ آدِ بھۄانیِ ॥
مُکتِ کیِ بریِیا کہا چھپانیِ ॥੪॥
گُرمتِ رام نام گہُ میِتا ॥
پ٘رنھۄےَ ناما اِءُ کہےَ گیِتا ॥੫॥੨॥੬॥
لفظی معنی:
بھیرؤ ۔ ایک جتی ہوآ ہے ۔ ستیلا۔ چیچک کی دیوی ۔ دھاوے ۔ دوڑتا ہے ۔ کر۔ گدھا ۔ باہن ۔ سواری۔ چھار۔ سوآہ (1) رمیا۔ رام ۔ آن ۔ دیگر ۔ دوسرے ۔ دیو ۔ دیوتے ۔ بد لاون ۔ بدلے مین (1) رہاؤ۔ دھیاوے ۔ دھیان لگائے ۔ بروچڑھے ۔ بیل کی سواری کرے ۔ ڈورڈھمکاوے ۔ دوڑ بجائے (2) پوجا۔ پرستش کرے ۔ نر سے ناری ہوئے جاوے ۔ وہ مرد سے عورت بن جائیگا۔ آوبھونی ۔ درگاویوی ۔ مکت ۔ نجات۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ گہہ میتا ۔ اے دوست۔ حاصل کر ۔ پرنوے ناما۔ نامدیو عرض گذارتاہے ۔ ایؤ کہے گیتا ۔ گیتا بھی یہی بتاتی ہے ۔
ترجمہ:
جو انسان بھیروں ، بھوت اور سیتال میں وشواش رکھتا ہے اسے اسکے وشواس اور بھروسے کے مطابق نتیجے برآمد ہوتے ہیں کیونکہ جیسا سیوے تیسا ہوئے (گوڑی محلہ صٖحہ ) اس لئے وہ گدھے کی سواری کریگا اور گدھے کی مانند خاک اُڑائے گا (1) میں تو واحد خدا کا نام سچ وحقیقت میں ہی وشواش رکھتا ہوں اور اسی میں دھیان لگاتا ہوں ۔ اور اسکے عورض دوسرے دیوتے دیتا ہوں مراد مجھے دوسرے کسی دیوتے کی ضرورت نہیں (1) رہاؤ۔ جو انسان شوجی کی پرستش کرتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اسے جو حاصل ہوتا ہے ۔ تو وہ شیوجی جیسا ہی ہوجاتا ہے ۔ بیل کی سواری کرتا ہے اور ڈوربجاتا ہے (2) جو پاربتی کی پرستش کرتا ہے ۔ تو وہ انسان سے عورت ہو جاتا ہے ۔ جیسا سیوے تسیا ہوئے (3) اے بھوانی درگادیوی تو اپنے آپ کو آغاز عالم سے کہلاتی ہے ۔ مگر بوقت نجات کہاں چلتی جاتی ہے کیونکہ نجات اسکے پاس نہیں ہے (4) لہذا نامدیو عرض گذارتا ہے ۔ کہ اے دوستوں الہٰی نام سچ وحقیقت کو اپنا سہارا اور آسرا بناؤ ۔ سچے مرشد کی یہی سکھیا اور اصول ہے اور ہندؤں کی مذہبی کتاب گیتا بھی یہی بتاتی ہے ۔

بِلاۄلُ گوݩڈ ॥
آجُ نامے بیِٹھلُ دیکھِیا موُرکھ کو سمجھائوُ رے ॥ رہاءُ ॥
پاںڈے تُمریِ گائِت٘ریِ لودھے کا کھیتُ کھاتیِ تھیِ ॥
لےَ کرِ ٹھیگا ٹگریِ توریِ لاںگت لاںگت جاتیِ تھیِ ॥੧॥
پاںڈے تُمرا مہادیءُ دھئُلے بلد چڑِیا آۄتُ دیکھِیا تھا ॥
مودیِ کے گھر کھانھا پاکا ۄا کا لڑکا مارِیا تھا ॥੨॥
پاںڈے تُمرا رامچنّدُ سو بھیِ آۄتُ دیکھِیا تھا ॥
راۄن سیتیِ سربر ہوئیِ گھر کیِ جوءِ گۄائیِ تھیِ ॥੩॥
ہِنّدوُ انّن٘ہ٘ہا تُرکوُ کانھا ॥
دُہاں تے گِیانیِ سِیانھا ॥
ہِنّدوُ پوُجےَ دیہُرا مُسلمانھُ مسیِتِ ॥
نامے سوئیِ سیۄِیا جہ دیہُرا ن مسیِتِ ॥੪॥੩॥੭॥
لفظی معنی:
آج ۔ آج سے مراد اسی دؤر حیات میں۔ بیٹھل۔ خدا۔ مورک ۔ بیوقوف۔ رہاؤ۔ پانڈے ۔ اے پنڈت ۔ گانیزی ۔ گائیتری برہماجی کی بیوی تھی جو سراپ کیوجی سے گائے بن گئی ۔ لودھے قوم کی جاٹ نے اسکی ٹانگ توڑی دی لہذا گائیتری منتر بھی تین لائنو کا ہے ۔ ٹھیگا ۔ سوٹآ ۔ ڈانگ ۔ لکڑی ۔ ٹگری ۔ ٹانک۔ لاتگت لاتگت ۔ لنگڑی ۔لنگڑی (1) مہادیؤ۔ شوجی ۔ دھولے بلد۔ سفید بیل۔ مودی لانگری ۔ بھنڈاری ۔ واکا۔ اسکا (2) سر بر۔ جنگ۔ جوئے ۔ جورو۔ بیوی (3) ہندواناح۔ اندھا۔ ترکو۔ مسلمان ۔ کانا ۔ اندھا۔ جسے دنوں آنکھوں سے دکاھئی نہیں دینا۔ کانا ۔ جسے ایک آنکھ سے دکھائی دیتا ہے ۔ گیانی ۔ با علم ۔ دانشمند ۔ سیانا ۔ سمجھدار ۔ عاقل ۔ عقلمند۔
ترجمہ:
اے پنڈت ، آج ہی اسی دوران حیات دیدار خدا پالیا میں بیوقوف کو سمجھتا ہوں کہ تو کیوں دیدار نہیں کر سکا (1) رہاؤ۔ ہندو مذہبی کتابوں میں تحریر ہے کہ ایک دفعہ سراپ کیو جہ سے گائتری گائے ہوگئی اور وہ لودے جاٹ کے کھیت میں چلی گئی اور لودھے جاٹ لاٹھی سے اسکی ٹآنگ توڑ دیتو لنغری لنغری چلتی تھی (1) اے پنڈت تمہارے شوجی بیل پر سوار آتا دیکھتا تھا مودی کے گھر کھانے کی دعوت تھی مگر سراپ سے اسکا لڑکا ماردیا تھا (2) اے پنڈت رامچندرجی بھی آتے دیکھتے تھے مراد جس رام چندر کی تو پرستش اور عبادرت کرتا ہے انکی بابت تو نے بتائیا اور سنائیا ہے کہ راون کے جنگ ہوئی کیونکہ وہ اپنی بیوی گنوا بیٹھا تھا ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ رام چرتر وغیرہ کتابوں میں گئی الزام لگائے گئے ہیں۔ جن پر بھگتی کا پردہ ڈالا گیا ہے ۔ الی کو چھپ کر مارنا ایک راکھشنی کو مارنا ۔سیتاجی کو گھر سے نکال دینا وغیرہ وغیرہ ایسے الزام لگا کر ان پر مکمل عقیدت نا ممکن ہے ۔
اس طرح سے ہندو دونوں آنکھیں نظر یاتی طور پر گنوا بیٹھا ہے مگر مسلمان کی صرف ایک آنکھ ہی خراب ہوئی ہے لہذا ان دونوں سے سمجھدار وہی شخص ہے ۔ جسے الہٰی ہستی کی سمجھ آگئی ہے ۔ ایک آنکھو تو اسطرح گنوائی جب اپنے ہی عقیدے کے متعلق بے بھروسا کہانیاں تحریر اور بناناے لگا اور دوسری اسطرح جب وہ صرف مندر میں ہی خدا کو سمجھنے لگا اور مندر کی پرستش کرنے لگا مسلمان کو حضرت محمدﷺ صاحب میں پورا بھروسا اور مکمل اعتماد اسکی ایک آنکھ کا مکمل ثبوت ہے جبکہ مسجد کو خدا کا گھر سمجھانا اور کعبہ کو خدا کی جائے رہائش سمجھنا حقیقت سے انحراف ہے ۔ نامدیواُس خدا کو یاد کرتا ہے جس کا نہ کوئی مندر ہے نا مسجد۔

راگُ گوݩڈ بانھیِ رۄِداس جیِءُ کیِ گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
مُکنّد مُکنّد جپہُ سنّسار ॥
بِنُ مُکنّد تنُ ہوءِ ائُہار ॥
سوئیِ مُکنّدُ مُکتِ کا داتا ॥
سوئیِ مُکنّدُ ہمرا پِت ماتا ॥੧॥
جیِۄت مُکنّدے مرت مُکنّدے ॥
تا کے سیۄک کءُ سدا اننّدے ॥੧॥ رہاءُ ॥
مُکنّد مُکنّد ہمارے پ٘راننّ ॥
جپِ مُکنّد مستکِ نیِساننّ ॥
سیۄ مُکنّد کرےَ بیَراگیِ ॥
سوئیِ مُکنّدُ دُربل دھنُ لادھیِ ॥੨॥
ایکُ مُکنّدُ کرےَ اُپکارُ ॥
ہمرا کہا کرےَ سنّسارُ ॥
میٹیِ جاتِ ہوُۓ دربارِ ॥
تُہیِ مُکنّد جوگ جُگ تارِ ॥੩॥
اُپجِئو گِیانُ ہوُیا پرگاس ॥
کرِ کِرپا لیِنے کیِٹ داس ॥
کہُ رۄِداس اب ت٘رِسنا چوُکیِ ॥
جپِ مُکنّد سیۄا تاہوُ کیِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
مکند۔ خدا ۔ سنسار۔ علام ۔ اوہار۔ فناہ ۔ ختم ۔ مکت کا داتا ۔ نجات دلانے والا۔ سوئی۔ وہی (1) جیوت مکندے مرت مکندے ۔ دوران حیا تیاد خدا بوقت موت بھی یاد خدا کی اسکے خدمتگار کو ہمیشہ صدیوی پر روحانی و ذہنی خوشیاں (1) رہاو۔ اے دنیاوی لوگوں یاد کرو خدا کو۔ پران ۔ زندگانی ۔ جپ۔ ریاض۔ (مستک ) پیشنای ۔ نیسنا ۔ الہٰی نور ۔ الہٰی پروانگی (طارق) ۔ سیومکند ۔ خدا۔ گرے بیراگی ۔ طارق کرتا ہے ۔ ہوئی مکند ۔ وہی خدا۔ دربل ۔ ناتواں ۔ دھن لادھی ۔ دولت میسئر ہوئی (2) اپکار۔ مہربانی ۔ کہا کرے سنسار۔ میرا دنیا کیا وگاڑ سکتی ہے ۔ مٹی جات ۔ ذات میٹائی ۔ ہوئے دربار۔ کدا کے درباری ہوئے ۔ جوگ جگ تار۔ ہر دور زماں میں کامیابی عنایت کرنیوالا (3) اپجیؤ گیان سمجھ آئی ۔ ہوا پرگاس۔ ذہن روشن ہوا۔ کیت ۔ کیڑے ۔ دس۔ کدمتگار۔ ترسنا چوکی ۔ پیاس مٹی ۔
ترجمہ:
جو ہروقت یاد خدا کو کرتا ہے پیدا ہوتے وقت بھی اور بوقت موت بھی وہ ہمیشہ سکون اور خوشیاں پاتا ہے ۔ رہاؤ۔ اے دنیا کے لوگوں کرو یاد خدا بغیر یادخدا یہ جسم بیکار چلا جات اہے وہی خدا ہمیں اس دنیاوی دلوت سے نجات دلانے والا ہے ۔ وہی ہمارا پتا اور متا ہے (1) خدا ہمارے جند اور جان ۔ عبادت سے پڑتا ہے پیشانی پر نشان قبولیت الہٰی ۔ طارق خدمت خدا کرتا ہے ۔ وہی ناتوانوں اور کمزوروں کے لئے الہٰی نام ہی سرمایہ اور دولت ہے (2) جب ہوکرم و عنایت خدا کی کیا بگاڑیں گے لوگ ہمارے ذات کا دھبہ مٹ جاتا ہے ۔ الہٰی حضوری حاصل ہوجاتی ہے ۔ اے خدا تو ہی دنیاوی بندھنو ں اور محتاجیوں سے نجات دلانے والا ہے (3) ہوا علم حاصل ذہن روشن ہوا۔ اور ناچیز کو اپنا خدمتگار کیا۔ اے رویداس بتادے ۔ کہ خواہشات کی پیاس مٹی اب تیری ہی یاد و خدمت ہے شعور میرا۔

گوݩڈ ॥
جے اوہُ اٹھسِٹھ تیِرتھ ن٘ہ٘ہاۄےَ ॥
جے اوہُ دُیادس سِلا پوُجاۄےَ ॥
جے اوہُ کوُپ تٹا دیۄاۄےَ ॥
کرےَ نِنّد سبھ بِرتھا جاۄےَ ॥੧॥
سادھ کا نِنّدکُ کیَسے ترےَ ॥
سرپر جانہُ نرک ہیِ پرےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جے اوہُ گ٘رہن کرےَ کُلکھیتِ ॥
ارپےَ نارِ سیِگار سمیتِ ॥
سگلیِ سِنّم٘رِتِ س٘رۄنیِ سُنےَ ॥
کرےَ نِنّد کۄنےَ نہیِ گُنےَ ॥੨॥
جے اوہُ انِک پ٘رساد کراۄےَ ॥
بھوُمِ دان سوبھا منّڈپِ پاۄےَ ॥
اپنا بِگارِ بِراںنا ساںڈھےَ ॥
کرےَ نِنّد بہُ جونیِ ہاںڈھےَ ॥੩॥
نِنّدا کہا کرہُ سنّسارا ॥
نِنّدک کا پرگٹِ پاہارا ॥
نِنّدکُ سودھِ سادھِ بیِچارِیا ॥
کہُ رۄِداس پاپیِ نرکِ سِدھارِیا ॥੪॥੨॥੧੧॥੭॥੨॥੪੯॥ جوڑُ ॥
لفظی معنی:
اڑسٹھ تیرتھ ۔ ہندؤں کے عقیدے کے طابق اڑصتھ زیارت گاہیں ہیں۔ نہاوے ۔ ہائے ۔ دآدس سلا۔ شوجی کے شولنگ جو بارہ ہیں۔ جہاں ہیں۔ (سومناتھ ۔ کش کندھا ۔ اُجین پوری ۔ نرید۔ دیوگڑھ ۔ پونا۔ رامیشور۔ دوآر کا کاشی ۔ گوداوری ۔ ہمالی ۔ اورنگ آباد۔ اگر وہ کوپ۔ کوئیں۔ تٹا۔ تالاب۔ کرے بند۔ بدگوئی کرے ۔ برتھا ۔ بیکار۔ بیفائدہ (1) سادھ کانندک ۔ اس شخص جس زندگی کا صراط مستقیم پالیا اور اپنا لیا ہے کی بدگوئی کرنےوالا۔ کیسے ترے ۔کیسے کامیاب ہو سکتا ہے ۔ سر پر ۔ ضروری ہی ۔ جانہو ۔ سمجھو ۔ نرک ہی برے ۔ دوزخ میں پڑیگا۔ (1) راؤ۔ گریہن ۔ بوقت گریہن ۔ کلکھیت ۔ کر کشتر ۔ ارپ ۔ بھینٹ کرے ۔ خیرات کرے ۔ نارسیگار۔ سمیت ۔ بناو شنگار یا معہ سجاوٹ ۔ سگلی سرت ۔ سرونی سنے ۔ سارے سمرتیاں کانوں سے سنے ۔ گرے نند۔ اگر بدگوئی کرتا ہے ۔ کرنے ناہی گنے ۔ تو یہ سارے ثواب بیکار ہیں (2) ان پرساد کراوے ۔ طرھ طرح کھانے کھالئے ۔ بھون دان ۔ زمین خیرات میں دیوے ۔ سوبھا منڈپ ۔ یاوے ۔ دنیا میں شہرت حاصل ہو۔ اپنا بگار پرانا۔ سانڈھے ۔ اپنا بگاڑ دوسرا کا سوارے ۔ کرے نند۔ اگر بد گوئی کرتا ہے ۔ بہو جونی ۔ پاوے ۔ تناسخ میں پڑتا ہے (3 کہا ۔ کیوں۔ پرگٹ ۔ ظاہر ۔ پاہار ۔ فریب کی دکان ۔ سودھ سادھ دچاریا۔ اچھی طرح سوچ سمجھ کر خیال کیا ہے ۔ پاپی نرک۔ سدھاریا۔ گناہگار کو دوزخ نصیب ہوگا۔
ترجمہ:
جو اس شخص کی بدگوئی کرتا ہے جس نے زندگی صراط مستقیم اختیار کر رکھا ہے اُسے روحانی واخلاقی کامیابی کیسے حاصل ہوگی ۔ سمجھ لو اسے ضرور ہی دوزخ نصیب ہوگا (1) رہاو۔
اگر وہ اڑسٹھ زیارت گاہون کی زیارت کرے اور شوجی کی بارہ شیو لنگوں کی پرستش بھی کرے اور کوئیں کھدوائے اور تالاب بنوائے اگر بد گوئی کرتا ہے تو سارا بیفائدہ اور بیکار ہے (1) اگر وہ بوقت گریہن کر کیشتر اپنی بیوییا عورت معہ زیوت خیرات میں دیتا ہے اور ساری ستائس سمرتیاں غور سے سنتا ہے ۔ اگ بد گوئی کرتا ہے تو بیفائدہ ہے بیکار ہے (2) اگر طرح طرھ کے کھانے کھلاتا ہے تو بیفائدہ ہے اور دنیا میں شہرت پاتا ہے اپنا نقصان برداشت کرکے بھی دوسروں کے کام سنوارتا ہے تب ھی اگر خدا رسیدہ راہ راست پر چلنے والوں کی بدگوئی کرتا ہے تو تناسخ میں پڑا رہتا ہے (3) اے دنیا والوں بدگوئی کیوں کرتے ہو ۔ بدگوئی کرنیوالے کا پردہ فاش ہو جاتا ہے اور سارے کام فریب ہیں ۔ اے رویداس بتادے ۔ کہ اچھی طرح سے سوچ سمجھ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صراط مسقیم کے راہگیر سادھ سنت کی بدگوئی کرنیوالے کو دوزخ نصیب ہوتا ہے ۔

رامکلیِ مہلا ੧ گھرُ ੧ چئُپدے
ੴ ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
کوئیِ پڑتا سہساکِرتا کوئیِ پڑےَ پُرانا ॥
کوئیِ نامُ جپےَ جپمالیِ لاگےَ تِسےَ دھِیانا ॥
اب ہیِ کب ہیِ کِچھوُ ن جانا تیرا ایکو نامُ پچھانا ॥੧॥
ن جانھا ہرے میریِ کۄن گتے ॥
ہم موُرکھ اگِیان سرنِ پ٘ربھ تیریِ کرِ کِرپا راکھہُ میریِ لاج پتے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کبہوُ جیِئڑا اوُبھِ چڑتُ ہےَ کبہوُ جاءِ پئِیالے ॥
لوبھیِ جیِئڑا تھِرُ ن رہتُ ہےَ چارے کُنّڈا بھالے ॥੨॥
مرنھُ لِکھاءِ منّڈل مہِ آۓ جیِۄنھُ ساجہِ مائیِ ॥
ایکِ چلے ہم دیکھہ سُیامیِ بھاہِ بلنّتیِ آئیِ ॥੩॥
ن کِسیِ کا میِتُ ن کِسیِ کا بھائیِ نا کِسےَ باپُ ن مائیِ ॥
پ٘رنھۄتِ نانک جے توُ دیۄہِ انّتے ہوءِ سکھائیِ ॥੪॥੧॥
لفظی معنی
پاتال۔ نیچے ۔پست ۔ خیال۔ تھر ۔ قائم۔ مستقبل ۔ تحمل۔ چارے کنڈا۔ چاروں طرف ۔ بھاے ۔ ڈہونڈتا ہے (2) منڈل ۔ عالم ۔ دنیا۔ جیون ۔ زندگی ۔ جیہہ۔ بناتی ہے ۔ ایک چلے ۔ ایک اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ ہم دیکھ ۔ ہمارے نظروں کے ساہمنے ۔ بھاہے ۔ آگ۔ بلتی آئی۔ جلتی ہوئی آرہی ہے (3) پر فوت ۔ عرض گذارتا ہے ۔ بے تو دیویہہ۔ اگر تو دے ۔ انتے ہوئے سکھائی ۔ تو بوقت آخرت مددگار ہوگا۔
ترجمہ:
اے خدا۔ میں نہیں جانتا مجھے سمجھ نہیں میری کیا حالت ہوگی ۔ ہم بیوقوف کم عقل تیری زیر پانہ ہوں میریع زت بچاؤ (1) رہاؤ۔ کوئی سنسکرت پڑھتا ہے اور کوئی پران پڑھتا ہے ۔ کوئی تسیبح کے ذریعے نام کی ریاض کرتا ہے اور اسمیں اپنا دھیان لگاتا ہے ۔ مگر میں نہ آپ نہ آئندہ کبھی نہیں سمجھتا صرف تیرے نام کو پہچانتا ہوں (1 کبھی دل کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی اور کبھی نہایت پست ہو جاتا ہے ۔ کبھی تحمل اور مستقل مزاج نہیں رہتا چارو طرف دوڑتا ہے ۔ اور ڈہونڈتا ہے (2) انسان کی موت کا وقت مقرر ہوکر ہی اس دیا میں جنم لیتا ہے ۔ مگر پھر زندہ رہنے کی ترکیبیں اور منصوبے بنتا ہے ۔جبکہ ایک جا رہے ہیں اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ اے میرے مالک ہم دیکھ ہے ہیں ہمارے نظروں کے سامنے جار ہے ہیں لہذا موت کی آگ جل رہی ہے اور آرہی ہے (3) اسدنیا میں نہ کسی کا کوئی دوست نہ بھائی زماں نہ باپ ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اے خدا اگر تو دے تو آخر مددگار ہو سکتا ہے (الہٰی نام)

رامکلیِ مہلا ੧॥
سرب جوتِ تیریِ پسرِ رہیِ ॥
جہ جہ دیکھا تہ نرہریِ ॥੧॥
جیِۄن تلب نِۄارِ سُیامیِ ॥
انّدھ کوُپِ مائِیا منُ گاڈِیا کِءُ کرِ اُترءُ پارِ سُیامیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جہ بھیِترِ گھٹ بھیِترِ بسِیا باہرِ کاہے ناہیِ ॥
تِن کیِ سار کرے نِت ساہِبُ سدا چِنّت من ماہیِ ॥੨॥
آپے نیڑےَ آپے دوُرِ ॥
آپے سرب رہِیا بھرپوُرِ ॥
ستگُرُ مِلےَ انّدھیرا جاءِ ॥
جہ دیکھا تہ رہِیا سماءِ ॥੩॥
انّترِ سہسا باہرِ مائِیا نیَنھیِ لاگسِ بانھیِ ॥
پ٘رنھۄتِ نانکُ داسنِ داسا پرتاپہِگا پ٘رانھیِ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
سرب۔ سارے ۔ جوت۔ نور ۔ پسر۔ پھیل۔ نریری ۔ خدا۔ جیون ۔ طلب۔ زندگی کی ضڑوریتا ۔ نوار۔ دور کر۔ مٹآ۔ سوآمی ۔ مالک ۔ اندھ کوپ۔ اندھے کوئیں۔ مائیا۔ دنیاوی دولت ۔ من گاڈیا۔ دلمیں محبت بنا رکھی ہے ۔کیونکر اترو پار ۔ اس لئے روحانی اور اخلاقی طور پر زندگی کیسے کامیاب ہوگی (1) رہاؤ۔ گھٹ ۔د ل ۔ قلب۔ بھیتر ۔ اندر۔ باہر کا ہے ۔ ناہی ۔ سار۔ خبر گیری ۔ سنبھال۔ چنت ۔ فکر۔ من ماہی ۔دلمیں (2) آپے نیڑے آپے دور۔ نزدیک بھی ہے اور دور بھی ۔ سرب رہیا بھر پور ۔ سب میں بستا ہے ۔ ستگر ہے اندھیرا جائے ۔ سچ مرشد کے ملاپ سے ناوقافیت ۔ بے سمجھی مٹتی ہے ۔ گھٹ دل۔ لاگس۔ لگتی ہے ۔ بانی ۔ تیرکی طرح۔ داسن داسا ۔ غلاموں کا غلام ۔ پرتایہہگا۔ عذاب پائیگا۔ پرانی ۔انسانی ۔
ترجمہ:
اے میرے آقا میری زندگی کی خواہشات دور کر میرا دل دنیاوی دولت کی اندھیرے کوئیں میں گر گیا ہے اسلئے کسے کامیابی حآصل زندگی کو (1) رہاؤ۔ ہر جگہ تیرا ہی نور روشن ہے جاں دیکھتا ہون نظر جاتی ہے تجھے دکھتا ہوں ۔ خدا ۔ جنکے دلمیں بس جاتا ہے خدا باہر بھی اسے نظر آتا ہے کدا انکی ہر روز کرتا ہے خبر گیری اور ہمیشہ فکر کرتا ہے (2) سب کے ندیک بھی ہے اور دور بھی ہے اور سب کےد لمیں بستا ہے اگر ملجائے سچا مرشد تو دنیاوی دولت کی ناسمجھی نا واقفیت بے علمی کا اندھیرا مٹ جاتا ہے جدھر نظر جاتی ہے بستا دکھائی دیتا ہے خدا (3) گذارتا عرض غلاموں کا غلام نانک۔ کہ اے انسان جب تک تیری آنکھون میں ہے کشش دنیاوی دولت کے لئے تیر کی مانند تو عذاب پائیگا ہی ۔

رامکلیِ مہلا ੧॥
جِتُ درِ ۄسہِ کۄنُ درُ کہیِئےَ درا بھیِترِ درُ کۄنُ لہےَ ॥
جِسُ در کارنھِ پھِرا اُداسیِ سو درُ کوئیِ آءِ کہےَ ॥੧॥
کِن بِدھِ ساگرُ تریِئےَ ॥
جیِۄتِیا نہ مریِئےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُکھُ درۄاجا روہُ رکھۄالا آسا انّدیسا دُءِ پٹ جڑے ॥
مائِیا جلُ کھائیِ پانھیِ گھرُ بادھِیا ست کےَ آسنھِ پُرکھُ رہےَ ॥੨॥
کِنّتے ناما انّتُ ن جانھِیا تُم سرِ ناہیِ اۄر ہرے ॥
اوُچا نہیِ کہنھا من مہِ رہنھا آپے جانھےَ آپِ کرے ॥੩॥
جب آسا انّدیسا تب ہیِ کِءُ کرِ ایکُ کہےَ ॥
آسا بھیِترِ رہےَ نِراسا تءُ نانک ایکُ مِلےَ ॥੪॥
اِن بِدھِ ساگرُ تریِئےَ ॥
جیِۄتِیا اِءُ مریِئےَ ॥੧॥ رہائوُ دوُجا ॥੩॥
لفظی معنی:
جت ۔ جس ۔ در۔ دروازہ ۔ بسیہہ۔ بستا ہے ۔ کون ۔ در کونسی جگہ ۔ درابھیددر ۔جگہو میں جگہ ۔ کون لہے ۔ کون ڈہونڈ سکتا ہے ۔ اداسی ۔ غمگین ۔ کوئی آئے کہے ۔ آکر بتائے (1) کن بدھ ۔ کس طریقے سے ۔ ساگر تیرے ۔ زندگی جو مانند سمندر ہے ۔ کیسے عبور حاصل ہو۔ جیوتیا نیہہ۔ مرییئے ۔ دوران حیات موت نہ ہو مراد اخلاقی روحانی طور پر موت واقع نہ ہو (1) رہاؤ۔ دوئے پٹ۔ دو تختے ۔ کواڑ۔ مائیا جء۔ دؤلت کی چمک۔ کھائی ۔گڑھا ۔ باندھیا ۔ بنائیا ۔ پانی سے مراد۔ بدیوں ۔ برائیوں۔ ست کے آسن ۔ سچے تکت۔ پرکھ رہے ۔ خدا بستا ہے ۔ کتنے ناما۔ کتنے نام ہیں۔ انت نہ جانیا۔ ناموں کے شمار کی سمجھ نہیں۔ تم سر ۔ تمہارے برابر۔ اور ۔ دوسرا۔ اوچا۔ بلند ۔ من میہہ رہنا۔ اپنے آپ پر ضبط رکھنا (3) آسا۔ امید۔ اندیسہ ۔ خوف۔ فکر ۔ کیوکر ایک کہے ۔ توواحدخدا کی عبادت وریاضت ہو سکتی ہے ۔ آسا بھیتر ۔ رہے تراسا۔ اُمیدوں کے باوجود بے اُمید رہے ۔نو تب ۔ ایک ملے ۔ واحد خدا کا وسل حاصل ہوتا ہے (4) ان بدھ ساگر تریئے ۔ اس طریقے سے زندگی کے سمندر کو عبور کیا جاسکتا ہے مراد زندگی اخلاقی و روحانی طور پر کامیاب ہو سکتی ہے ۔ اور یہی دوران حیات موت ہے ۔ رہاؤ۔

رامکلیِ مہلا ੧॥
سُرتِ سبدُ ساکھیِ میریِ سِنّگنْیِ باجےَ لوکُ سُنھے ॥
پتُ جھولیِ منّگنھ کےَ تائیِ بھیِکھِیا نامُ پڑے ॥੧॥
بابا گورکھُ جاگےَ ॥
گورکھُ سو جِنِ گوءِ اُٹھالیِ کرتے بار ن لاگےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پانھیِ پ٘رانھ پۄنھِ بنّدھِ راکھے چنّدُ سوُرجُ مُکھِ دیِۓ ॥
مرنھ جیِۄنھ کءُ دھرتیِ دیِنیِ ایتے گُنھ ۄِسرے ॥੨॥
سِدھ سادھِک ارُ جوگیِ جنّگم پیِر پُرس بہُتیرے ॥
جے تِن مِلا ت کیِرتِ آکھا تا منُ سیۄ کرے ॥੩॥
کاگدُ لوُنھُ رہےَ گھ٘رِت سنّگے پانھیِ کملُ رہےَ ॥
ایَسے بھگت مِلہِ جن نانک تِن جمُ کِیا کرےَ ॥੪॥੪॥
لفظی معنی:
سرت ۔ ہوش۔ سبد۔ کلام ۔ لطٖ۔ بینگی ۔ سپنگ کا باجا۔ لوک س نے ۔ سارا عالم سنتا ہے ۔ پت ۔ عزت۔ پاتر۔ توفیق ۔ لائق ۔ بھیکھیا ۔ بھیک۔ ساکھی ۔ شاہد۔ گواہ ۔ ساہمنے ۔ نام الہیی نام۔ سچ وحقیقت (1) جاگے ۔ بیدار ہے ۔ گوئے اُٹھالی ۔ جس نے زمین بنائی ۔ بار نہ لاگے ۔ جس نے زمین پیدا کرنے میں دیر نہیں کی ۔ رہاؤ۔ پران ۔ سانس زندگی ۔ پون ۔ ہوا۔ بندھ راکھے ۔ زیر ضبط۔ فرمان رکھے ہیں۔ مکھ دیئے ۔ چراگ مرن جیون کو دھرتی دپنی ۔ زندگی بسر کرنے کے زمین دی ۔ اپنے گن وسرے ۔ اتنے اوصاف بھلائے (2) سیدھ ۔ جنہوں نے زندگی کا صراط مستقیم اپنا لیا ہے ۔ سادھک ۔ جو اپنانے کی جدوجہد میں ہیں۔ جوگی ۔ شیوجی کے پیروکار۔ جنگم۔ جگیوں کا ایک فرقہ ۔ پیر ۔ بزرک ۔ پرس۔ شخس۔ کیرت۔ صفت صلاح ۔ تامن سیو کرے ۔ تاہم بھی الہٰی خدمت ہی کرونگا (3) کاگد ۔ کاغذ ۔ لون ۔ نمک۔ رہے گھیرت ۔ تنگے ۔ گھی کے ساتھ قائم رہتا ہے ۔ پانی کمل رہنے ۔ کنول پانی میں رہتا ہے ۔ ایسے بھگت ۔ اس طرح سے ۔ عابدان ۔ میلہہ ۔ ملے رہتے ہیں(تن جم ۔ کیا کرے ۔ ان کی موت کیا بگاڑے گی ۔
ترجمہ:
اے بابا۔ گورکھ بیدار ہے باہوش وسمجھ ہے ۔گورکھ وہ ہے جس نے زمین بنائی ہے اور بنانے میند یر نہیں کی (1) رہاؤ۔ ہوش و حواس اور کلام میرے شاید ہیں گواہ ہیں اور سنگی کی آواز لوگ سنتے ہیں ۔ بھیک مانگنے کے لئے عزت ایک تھیلا ہے جس مین الہیی نام سچ و حقیقت کی حیرات ڈالی جاتی ہے (1) پانی ہوا سانس عرض یہ کہ زندگی کو زیر ضبط رکھا ہوا ہے اور چاند اور سورج دو چراغ دے رکھے ہیں۔ زندگی و مورت اور بسر اوقات کے لئے زمین بخشی ہے اتنے احسان بھلا دیئے (2) جنہوں نے زندگی اور خدا کا ظراط مستیقم پالیا ہے اور جو اسکے لئے کوشاں ہیں اور جوگی جنگم اور بہت سی بزرک ہستیان اگر ان کو ملوں تب بھی الہٰی حمدوچناہ ہی کرونگا تب بی دل سے خدمت خدا کرونگا ۔ 3) کاغذ اور نمک گھی میں پڑنے سے ضائع نہیں ہوتے اور کونل کا پھول پانی میں ملاتا نہیںا یسے ہی عابدان الہٰی کو الہٰی وصل و پناہ رہتی ہے جسکی وجہ سے انہیں روحانی موت نہیں آتی ۔

رامکلیِ مہلا ੧॥
سُنھِ ماچھِنّد٘را نانکُ بولےَ ॥
ۄسگتِ پنّچ کرے نہ ڈولےَ ॥
ایَسیِ جُگتِ جوگ کءُ پالے ॥
آپِ ترےَ سگلے کُل تارے ॥੧॥
سو ائُدھوُتُ ایَسیِ متِ پاۄےَ ॥
اہِنِسِ سُنّنِ سمادھِ سماۄےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھِکھِیا بھاءِ بھگتِ بھےَ چلےَ ॥
ہوۄےَ سُ ت٘رِپتِ سنّتوکھِ امُلےَ ॥
دھِیان روُپِ ہوءِ آسنھُ پاۄےَ ॥
سچِ نامِ تاڑیِ چِتُ لاۄےَ ॥੨॥
نانکُ بولےَ انّم٘رِت بانھیِ ॥
سُنھِ ماچھِنّد٘را ائُدھوُ نیِسانھیِ ॥
آسا ماہِ نِراسُ ۄلاۓ ॥
نِہچءُ نانک کرتے پاۓ ॥੩॥
پ٘رنھۄتِ نانکُ اگمُ سُنھاۓ ॥
گُر چیلے کیِ سنّدھِ مِلاۓ ॥
دیِکھِیا داروُ بھوجنُ کھاءِ ॥
چھِء درسن کیِ سوجھیِ پاءِ ॥੪॥੫॥
لفظی معنی:
ماچھندر۔ ماچھندر ایکب ھاری جوگی ہوا ہے ۔ نانا بوئے ۔ نانک کہتا ہے ۔ وسگت ۔ تابع فرمان ۔ دس وچ ۔ پنچ ۔ پانچ اخلاقی احساسات ۔ لگامی شہوت ۔ غصہ ، لالچ ، محبت اور تکبر ۔ ڈوے ۔ ڈگمگائے ۔ غیر مستقل ۔ جوگی جگت۔ الہٰی وصل کا طریقہ ۔ سگللے کل ۔ سارے قبیلے یا خاندان (1) اووہوت۔ طارق فقیر تیاگی ۔ مت۔ سمجھ ۔ اہنس۔ روز و شب۔ دن رات ۔ سن سمادھ ۔ یکسوئی۔ ذہنی کشمکش سے بری ۔ ایسی حالات جس میں کسی قسم کے خیالات یا سوچ ذہن میں پیدا نہ ہو ۔ رہاو۔ بھیکھیا۔ بھیک۔ بھائے بھگت بھے چلے ۔ الہیی پریم پیار اور خوف میں رہے ۔ ترپت ۔ تسلی ۔ سنتوکھ املے ۔ بیش قیمت صبر۔ دھیان روپ ۔ الہٰی دھیان یا توجہ میں محو ومجذوب ہوجائے ۔ آسن۔ ٹھکانہ ۔ تخت۔ سچ نام۔ سڈیوی سچ و حقیقت ۔ تاڑی چت لاوے ۔ کدا میں دھیان ہی ۔ تاڑی ہے (2) انمرت پانی ۔ آبحیات کلام ۔ میٹھے بول۔ شائستگی سے بولنا ۔ اودہو نیسانی ۔ طارق الدنیا کی نشانی ہے ۔ آسا ماہے نراس چلائے ۔ مراد اُمیدوں کے باوجود بے اُمیدی میں زندگی گذارے ۔ نہچل ۔ یقین ۔ کرتے ۔ کرتار۔ خدا (3) اگم ۔ انسانی عقل و ہوش سے بلند۔ سندھ ۔ ملا ۔ دیکیا۔ سبق واعظ ۔ چھ درسن کی سوجھی پاوے ۔ جوگیوں کے چھر فرقوں کی حقیقت کی سمجھ آجاتی ہے ۔
ترجمہ:
طارق الدنیا وہ انسان ہے جس کے دلمیں مکمل طور پر روحانی و ذہنی سکون ہو اور روز و شب اسی مین محو ومجذوب رہے ۔ رہاؤ۔ نانک کہتا ہے اے ماچھند جوگی سن جس کے زیر ضبط پانچوں اعضائے احساسات و خیالات ہیں وہ کبھی ڈگمگاتا نہیں ۔ یہ طریقے ہے طارقت و تیاگ کا اس سے انسان خود ہ نہیں بلکہ سارے قبیلے وخاندان کو کامیاببناتا ہے (1) الہٰی عشق محبت پیار ارو خوف و ادب و آداب میں زندگی گذرے ( یہ ہے ) یہی اسکے لئے خیرات ارو بھیک ہے اس بیش قیمت صبر سے اس نے تسکین ملتی ہے ۔ اور خدا سے یکسوئی پاتا ہے ۔ سچے صدیوی سچ وحقیقت الہٰی نام میں محو ومجذوب (2) اے مچھندر جوگی سن نانک زندگی کو آب حیات کلام سناتا ہے ۔ جس سے زندگی روحانی وہ جاتی ہے طارق الدنیا ہونے کی نشانی اور نشنا ہے ۔ دنیاوی امیدوں بھری زندگی کے ہوتے ہوئے نا اُمیدی میں بسر اوقات کرے تو یقین ہی الہٰی وصل و ملاپ حاصل ہوگا (3) نانک عرض گذارتا ہے اور انسانی رسائی عقل و ہوش سے بلند سناتا ہے کہ اگر مرید اور مرشد ہم خیال ہو جائیں اور مرشد کا دیا ہوا سبق دوآئی اور کھانا سمجھ لے تو اسے جگیوں کے چھ فرقوں کی حقیقت سمجھ آجاتی ہے ۔

رامکلیِ مہلا ੧॥
ہم ڈولت بیڑیِ پاپ بھریِ ہےَ پۄنھُ لگےَ متُ جائیِ ॥
سنمُکھ سِدھ بھیٹنھ کءُ آۓ نِہچءُ دیہِ ۄڈِیائیِ ॥੧॥
گُر تارِ تارنھہارِیا ॥
دیہِ بھگتِ پوُرن اۄِناسیِ ہءُ تُجھ کءُ بلِہارِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِدھ سادھِک جوگیِ ارُ جنّگم ایکُ سِدھُ جِنیِ دھِیائِیا ॥
پرست پیَر سِجھت تے سُیامیِ اکھرُ جِن کءُ آئِیا ॥੨॥
جپ تپ سنّجم کرم ن جانا نامُ جپیِ پ٘ربھ تیرا ॥
گُرُ پرمیسرُ نانک بھیٹِئو ساچےَ سبدِ نِبیرا ॥੩॥੬॥
لفظی معنی:
ڈولت۔ ڈگمگاتی ۔ بیڑی ۔ کشی ۔ پاپ۔ گناہ۔ پون ہوا۔ جائی۔ڈوب نہ جائے ۔ سنمکہہ۔ ساہمنے ۔ بھٹن ۔ ملاپ۔ نہچؤ۔ یقین ۔ وڈئای ۔ وقار (1) تارنہاریا۔ تارنے کی توفیق رکھنے والے ۔ بھگت ۔ پریم پیار۔ ابناسی ۔لافناہ ۔ بلہاریا۔ قربان (1) رہاؤ۔ سدھ ۔ خدا رسیدہ ۔ جس نے صراط مستقیم زندگی پالیا ہے ۔ سادھک جو اسکے لئے کوشاں ہیں۔ ایک سدھ ۔ واحد خدا۔ دھیائیا۔ دھیان دیا ۔ پرست پیر۔ پاؤں چھوکر۔ سبھت ۔ سوجھتا ہے ۔ اکھر ۔ سبق ۔ نصیحت (2) جپ تپ۔ عبادت ور یاضت ۔ سنجم۔ پرہیز گاری ۔ کرم ۔ اعمال۔ نام۔ سچ وحقیقت۔ الہٰی نام۔ جپی پربھ تیرا یاد کرتا ہوں۔ گرپرساد۔ رحمت مرشد سے ۔ بھیٹو۔ ملاپ حاصل ہوا۔ ساچے سبد نبیرا ۔ سچے کلام سے نجات ملتی ہے ۔

رامکلیِ مہلا ੧॥
سُرتیِ سُرتِ رلائیِئےَ ایتُ ॥
تنُ کرِ تُلہا لنّگھہِ جیتُ ॥
انّترِ بھاہِ تِسےَ توُ رکھُ ॥
اہِنِسِ دیِۄا بلےَ اتھکُ ॥੧॥
ایَسا دیِۄا نیِرِ تراءِ ॥
جِتُ دیِۄےَ سبھ سوجھیِ پاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہچھیِ مِٹیِ سوجھیِ ہوءِ ॥
تا کا کیِیا مانےَ سوءِ ॥
کرنھیِ تے کرِ چکہُ ڈھالِ ॥
ایَتھےَ اوتھےَ نِبہیِ نالِ ॥੨॥
آپے ندرِ کرے جا سوءِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلا بوُجھےَ کوءِ ॥
تِتُ گھٹِ دیِۄا نِہچلُ ہوءِ ॥
پانھیِ مرےَ ن بُجھائِیا جاءِ ॥
ایَسا دیِۄا نیِرِ تراءِ ॥੩॥
ڈولےَ ۄاءُ ‘ن’ ۄڈا ہوءِ ॥
جاپےَ جِءُ سِنّگھاسنھِ لوءِ ॥
کھت٘ریِ ب٘راہمنھُ سوُدُ کِ ۄیَسُ ॥
نِرتِ ن پائیِیا گنھیِ سہنّس ॥
ایَسا دیِۄا بالے کوءِ ॥
نانک سو پارنّگتِ ہوءِ ॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
سرتی ۔ عقل و علم کا مالک خدا ۔ سرت۔ عقل و ہوش۔ تلہا۔ گھریلو ۔ عارضی کشتی ۔ جیت ۔ جس سے ۔ لنگے ۔ پار ہوئے ۔ بھاہ۔ آگ۔ الہٰی نور۔ رکھ ۔ سنبھال۔ اہنس۔ روز و شب۔ دن رات۔ اتھک۔ لگاتار۔ (1) نیر ۔انی ۔ جت دیوے سبھ سوجہی پائے ۔ چراغ سے سمجھ ملتی ہے (1) رہاؤ۔ سبھی منی ۔ اچھے خیالات۔ سوجہی ۔ سمجھ آتی ہے ۔ تاکا کیا۔ اسکے اعمال ۔ مانے سوئے ۔ قبول ومنصور ہوتے ہیں۔ کرنی ۔ اعمال۔ کرچکہو۔ چک بنائے ۔ ڈھال۔ حقیقت اور سچائی کے مطابق بنا۔ ایتھے اوتھے ۔ ہردو عالموں میں اس عالم میں اور اگلے جہاں میں ۔ نہے نال۔ ساتھ دے (2) ندر۔ نظرعناتی و شفقت ۔ گرمکھ ۔ مرید مرشد۔ ورلا ۔ کوئی ہی ۔ بوجھے کوئے سمجھتا ہے ۔ تت گھٹ ۔ اس دلمیں ۔ نہچل ۔ مستقل ۔پانی مرے نہ بجھائیا جائے ۔ اسے پانی ڈوب سکتا ہے ۔ نہ بجھانے سے بجھتا ہے ۔ نیر ترائے ۔ ایسا چراغ پانی میں تار (3) ڈوے ۔ ڈگمگائے ۔ واؤ۔ ہوا سے ۔ وڈا ہوئے ۔ بجھے ۔ سنگھاسن ۔ تخت ۔ لوئے ۔ روشنی جاپے ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ نرت ۔ قیمت۔ تشریح ۔ اگنتی ۔ شمار۔ سہنں۔ یزاروں ۔ دیوا۔ چراغ۔ پارنگت ۔ عبور کرنے کے لائق ۔ کامیاب زندگی گذارنے والا۔
ترجمہ:
اے انسان تو پانی پر ایسا چراغ بہا جس چراغ سے سمجھ آئے اور زندگی کے سارے راز تجھ پر افشاں ہو جائیں (1) رہاؤ۔ اس طرح سے اپنی عقل وہوش الہٰی عقل و ہوش مین جذب کر کہ اس جسم کو سمندر پار کر نے کے لئے ایک عارضی کشتی کی شکل اختیار کرے۔ اے انسان تیرے اندر الہیی نور ہے اسے سنبھال کر رکھ ۔ اس طرح سے تیرے اندر لگاتار الہٰی نور روشن رہیگا (1) عقلمندر اور سمجھ کی ہوخا اس خاک سے تیار کیا ہواچراغ منظور خدا ہوتا ہے۔ بلند اخلاق اور چال چلن کو اس چراغ کو گھڑنے والا چک بنا لہذا ایسا چراغ ہر دو عالموں میں تیرا ساتھ دیگا۔ زندگی کے سفر میں رہبر ہوگا (2) جب خدا خود نظر عنایت و شفقت کرتا ہے تب کوئی مرید مرشد ہی سمجھتا ہے اسکے دلمیں یہ الہٰینور چراغ مستقل طرو پر بستا ہے ۔ جو نہ پانی میں ڈوبتا ہے نہ بہ بجھائے بجھتا ہے ۔ ایسا چراغ انسانیزندگی کے سمندر و دریا کو عبور کراتا ہے (3) یہ نہ ڈگمگاتا ہے نہ بجھتا ہے اس چراگ کی روشنی سے خدا تخت پر جلوہ افروز مراد انسانی دلمیں بستا دیدار دیتا ہے ۔ خوآہ کوئی کھتری براہمن شودرا با ہوویش اسکی تشریح نہیں ہوسکتی نہ شمار ہو سکتا جو ہزاروں میں ہے مگر ایسا چراغ کوئی ہی بھلاتاہے ۔ اے نانک جو جلائیگا اسکی روحانی حالت ہو جائیگی کہ وہ اس زندگی کے سمندر کو زندگی کی طوفانی پہروں سے صحیح سلامات عبور کیرگا۔

رامکلیِ مہلا ੧॥
تُدھنو نِۄنھُ منّننھُ تیرا ناءُ ॥
ساچُ بھیٹ بیَسنھ کءُ تھاءُ ॥
ستُ سنّتوکھُ ہوۄےَ ارداسِ ॥
تا سُنھِ سدِ بہالے پاسِ ॥੧॥
نانک بِرتھا کوءِ ن ہوءِ ॥
ایَسیِ درگہ ساچا سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘راپتِ پوتا کرمُ پساءُ ॥
توُ دیۄہِ منّگت جن چاءُ ॥
بھاڈےَ بھاءُ پۄےَ تِتُ آءِ ॥
دھُرِ تےَ چھوڈیِ کیِمتِ پاءِ ॥੨॥
جِنِ کِچھُ کیِیا سو کِچھُ کرےَ ॥
اپنیِ کیِمتِ آپے دھرےَ ॥
گُرمُکھِ پرگٹُ ہویا ہرِ راۓ ॥
نا کو آۄےَ نا کو جاءِ ॥੩॥
لوکُ دھِکارُ کہےَ منّگت جن ماگت مانُ ن پائِیا ॥
سہ کیِیا گلا در کیِیا باتا تےَ تا کہنھُ کہائِیا ॥੪॥੮॥
لفظی معنی:
نون۔ جھکنا ۔ سجدہ کرنا۔ منن تیرا ناؤن ۔ تیرے نام میں ایمان لانا۔ ساچ بھیٹ ۔ بھیٹ سچ وحقیقت ۔ ہیسن ۔ بیٹھنے کے لئے جگہ ۔ ست ۔ سچ ۔ سنتوکھ ۔ سبر۔ ارداس۔ عرض گذارش(1) برتھا ۔ بیکار۔ درگیہہ۔ دربار ۔ عدالت ۔ رہاؤ۔ پوتا۔ خزناہ ۔ کرم ۔ بخشش۔ پساؤ۔ مہربنانی ۔ منگت ۔ مانگنے والے ۔ چاؤ۔ خوشی۔ بھاؤے ۔ برتن ۔دلمیں۔ بھاؤ۔ پیار۔ تت۔ اسمیں۔ وھر ۔ الہٰی حضوری ۔ قیمت ۔ قدرومنزلت (2) جن ۔ جس نے ۔ سو۔وہی ۔ دھرے ۔ بساتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ ہررائے ۔ شہنشاہ (3) لوک ۔ دیا کے لوگ۔ دھکار۔ لعنت ۔ منگت ۔ مانگنے والے کو۔ مان ۔ قدروقیمت۔ سیہہ۔ خاوند۔ مراد خدا در ۔ الہیی درگاہ۔ تاکہین کہائیا۔ تو نے ہی جو تو کہنا تھا ۔ کہائیا ہے ۔
ترجمہ:
اے نانک۔ بیکار نہیں کوئی ایسا دربار ہے الہٰی (1) رہاؤ۔ اے خدا تیرے اداب تعظیم وایمان تیرا نام سچ وحقیقت ہے ۔ تیری بھنٹ سچ وحقیقت ہے اسی سے تیرے دربار میں نشت حاصل ہوتی ہے ۔ سچ اور صبر اختیار کرنا تیرے لئے عرض گذارنا ہے ۔ تب وہ سنکر اُسے پاس بیٹھاتا ہے (1) اے خدا تیری بخشش اور نعمت ہی خزانے کی پراپتی ہے ۔ اس سے مانگنے والے بھکاری کو خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ تب دلمیں پیار بستا ہے جس میں تو خود ہی اس پیار کی قدروقیمت پادی ہے (2) جس نے کیا ہے پیدا عالم وہی انکے دلمیں کھیل کھیلتا ہے پیار کی اور وہی اپنی قدروقیمت بساتا ہے لوگوں کے دلمیں اپنی خدا مرشد کے وسیلے سے ظہور میں آتا ہے ۔ اسے یہ سمجھ آجاتی ہے کہ اس دنیا میں نہ کوئی آتا ہے نہ کوئی جاتا ہے ۔ صرف خدا ہی آتا ہے اور خدا ہی جاتا ہے (3) لوگ بھکاری پر نعمتیں اور پھٹکاریں پاتے ہیں اور مانگنے سے وقار اور عزت نہیں ملتی ۔ الہٰی گفتاراور الہیی در کے حالات تو نے خود ہی مجھ سے کہلائے ہیں۔

SGGS page 879
رامکلیِ مہلا ੧॥
ساگر مہِ بوُنّد بوُنّد مہِ ساگرُ کۄنھُ بُجھےَ بِدھِ جانھےَ ॥
اُتبھجُ چلت آپِ کرِ چیِنےَ آپے تتُ پچھانھےَ ॥੧॥
ایَسا گِیانُ بیِچارےَ کوئیِ ॥
تِس تے مُکتِ پرم گتِ ہوئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دِن مہِ ریَنھِ ریَنھِ مہِ دِنیِئرُ اُسن سیِت بِدھِ سوئیِ ॥
تا کیِ گتِ مِتِ اۄرُ ن جانھےَ گُر بِنُ سمجھ ن ہوئیِ ॥੨॥
پُرکھ مہِ نارِ نارِ مہِ پُرکھا بوُجھہُ ب٘رہم گِیانیِ ॥
دھُنِ مہِ دھِیانُ دھِیان مہِ جانِیا گُرمُکھِ اکتھ کہانیِ ॥੩॥
من مہِ جوتِ جوتِ مہِ منوُیا پنّچ مِلے گُر بھائیِ ॥
نانک تِن کےَ سد بلِہاریِ جِن ایک سبدِ لِۄ لائیِ ॥੪॥੯॥
لفظی معنی:
ساگر ۔ سمندر۔ کون بجھے ۔ کون سمجھتا ہے ۔ بدھ ۔ طریقہ ۔ انبھج ۔ پیدائش ۔ چپیئے ۔ نگرانی ۔ پہچان ۔ تت۔ اصلیت ۔ (1) ۔ گیان ۔ علم ۔ بیچارے ۔ سمجھے ۔ مکت ۔ نجات۔ پرم گت۔ بلند روحانی واخلاقی حالت (1) رہاؤ۔ اسن ۔ گرمی ۔ سیت ۔ سردی ۔ گت مت۔ حالت و اندازہ۔ سمجھ علم (2) برہم گیانی ۔ الہٰی علم سے واقف ۔ دھن۔ دھاین میں محو ہونا دھن ہے ۔ دھیان میہہ جانیا۔ دھیان لگانے سے علم ہوتا ہے ۔ اکتھ ۔ جوکہی نہ جا سکے ۔ بیان نہ ہو سکے (3) من میہہ جوت۔ دلمیں الہٰی نور اور جوت میں منوآ۔ الہیی یاد میں دل محو رہتا ہے ۔ پنچ ملے گربھائی۔ پانچوں اعضائے احساس۔ گربھائی۔ ایک ہی مرشد کے مرید۔ ایک سبد۔ واحد کلام ۔ بو۔ پیار۔
ترجمہ:
بوند بوند سے سمندر بنتا ہے ۔ اسلئے سمندر میں قطرے ہیں ۔ قطرہ قطرہ بہ شود دریا اور بوندیں چونکہ سمندر سے اُٹھ کر بوند پیدا ہوتی ہے ۔ اس لئے بوند میں سمندر ہے مراد بون کے بغیر سمندر نہیں اور قطرے سمندر کے بغیر نہیں ہوسکتے ۔ ایساپیدائش کا طریقہ رائج کرکے خود ہی اسلیت کی پہچان کرتا ہے اور نگران بھی ہے (1) اپسی سوچ اور سمجھ کسی کو ہی ہے ۔ کہ برائیوں یادنیاوی الجھنوں سے نجات اور بلند روحانی حالت اس کار ساز کرتار ہر جائی خدا سے ہی حاصل ہوتی ہے (1) رہاؤ۔ دن کی روشنی سے اندھیرا کا فور ہو جاتا اور رات کا اندھیر روشن کو اپنے اندرجذب کرلیتا ہے ۔ یہی حالت گرمی اور سردی کی ہے اسکی حالت اور اندازہ دوسرا کوئی نہیں سمجھتا مرشد کے بغیر اسکی سمجھ نہیں آتی (3) اس طرح سے یہ عجیب اور حیران کن کھیل ہے کہ مرد کے تخم سے عورت پیدا ہوتی ہے ۔ اور عورت مرد کو جنم دیتی ہے ۔ لہذا یہ قدرت قائنات بیان سے باہر ہے اسےع الم علم الہٰی سمجھتا ہے ۔ اس طرح سے دھن اور دھیان کا آپسی رشتہ ہے جب آواز پیدا ہوتی ہے تو اسطرح دھیان جاتا ہے دھیان سے علم و دانش پیدا ہوتی ہے ۔ مگر مرد مرشد کے وسیلے سے اس ناقابل بیان کہنای کی سمجھ آتی ہے (3) انسانی دلمیں ہے الہٰی نور اور الہیی نور میں من ہمیشہ محو رہتا ہے ۔ انکے پانچوں اعضائے احساس ایک ہی عقیدے میں یکسو ہو جائے ہیں ۔ جس سے بھٹکن مٹ جاتی ہے ۔ نانک قربان ہے ان مریدان مرشد پر جنہوں نے واحد خدا کے کلام سے محبت بنارکھی ہے ۔