Urdu-Master-25

SGGG p.789-834

سلوک مਃ੧॥
نانک بدرا مال کا بھیِترِ دھرِیا آنھِ ॥
کھوٹے کھرے پرکھیِئنِ ساہِب کےَ دیِبانھِ ॥੧॥
لفظی معنی :
بدر۔ تھیلا ۔ بھیتر ۔ اندر۔ کھوٹے کھرے ۔ نیک و بد۔ پرکھین۔ تمیز۔ نتار۔ دیوان ۔ عدالت ۔
ترجمہ :
اے نانک۔ مال و دولت سے بھرا ہو تھیلا درمیان رکھا ۔ مراد انسان کے نیک و بد اعمال پیش خدا ہوتے ہیں یہاں الہٰی عدالت میں نیک و بد کی تمیز کیجاتی ہے ۔ جو انسان دوران حیات کرتا۔

مਃ੧॥
ناۄنھ چلے تیِرتھیِ منِ کھوٹےَ تنِ چور ॥
اِکُ بھاءُ لتھیِ ناتِیا دُءِ بھا چڑیِئسُ ہور ॥
باہرِ دھوتیِ توُمڑیِ انّدرِ ۄِسُ نِکور ॥
سادھ بھلے انھناتِیا چور سِ چورا چور ॥੨॥
لفظی معنی :
تیرتھی ۔ زیارت گاہوں پر ۔ کھوٹے ۔ جھوٹے ۔ کمینے ۔ تن ۔ جسم ۔ چور۔ شہوت دلمیں ۔ اک بھاو۔ ایک حسہ۔ لتھی ۔ دور ہوئی ۔ دوئے بھا۔ اس سے دوگنی ۔ دہوتی تو مڑی ۔ جسم۔ تما۔ اندر ۔ دس نکور۔ دل زہر آلودہ ہے ۔ سادھ ۔ خدا رسیدہ پاکدامن ۔ ان نائیا۔ بغیر زیارت ۔ چور سے چور۔ چور۔ چور اول وآخر چور ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو انسان پاک ارادے اور دل سے زیارت گاہوں کی زیار ت کے لئے جاتا ہے وہ ناپاکیزگی کا ایک حصہ مراد جسمانی نا پاکیزگی تو دور کر لیتا ہے ۔ مگر دلمیں ناپاک ارادے ہیں اس لئے اس دور گنا ریزادہ پلید و ناپاک ہوجاتا ہے جسمانی ناپاکیزگی تو دور کر لی ۔ مگر دل میں شہوت غصہ لالچ اور غرور محبت کی زہر بھری ہوئی ہے ۔ لہذا پاکدامن خدا رسیدہ جنہوں نے اپنی طرز زندگی پاک بنا لی ہے بغیر زیارت بھی نیک و پاک ہیں اور چور اول و آخر چور ہی ہے ۔

پئُڑیِ ॥
آپے ہُکمُ چلائِدا جگُ دھنّدھےَ لائِیا ॥
اِکِ آپے ہیِ آپِ لائِئنُ گُر تے سُکھُ پائِیا ॥
دہ دِس اِہُ منُ دھاۄدا گُرِ ٹھاکِ رہائِیا ॥
ناۄےَ نو سبھ لوچدیِ گُرمتیِ پائِیا ॥
دھُرِ لِکھِیا میٹِ ن سکیِئےَ جو ہرِ لِکھِ پائِیا ॥੧੨॥
لفظی معنی :
دھاودا۔ دوڑتا ۔ بھٹکتا ۔ ٹھاک رہائیا ۔ روک رکھا ہے ۔ لوچدی ۔ چاہتی ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے ۔ دھر ۔ حضوری عدالت عالیہ الہٰی۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا نے اپنے زیر فرامن سارے علام کو کام میں لگا رکھا ہے جنہیں خدا نے اپنی اشتراکیت عنایت کی ہے انہوں نے مرید مرشد ہو آرام و آسائش حاصل کی ہے ۔ یہ انسانی دل ہر طرف دوڑ دہوپ کرتا ہے بھٹکتا ہے مرشد اس بھٹکتے من کو تسکین دلاتا ہے ۔ روکتا ہے ۔ ناوے مراد الہٰی نام سچ و حقیقت تو پیارے چاہتے ہیں خواہش کرتے ہیں مگر سبق وواعظ سے ملتا ہے جیسا کہ کسی کے اعمالنامے یا مقدر میں خدا نے تحریر کر دیا اسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔

سلوک مਃ੧॥
دُءِ دیِۄے چئُدہ ہٹنالے ॥
جیتے جیِء تیتے ۄنھجارے ॥
کھُل٘ہ٘ہے ہٹ ہویا ۄاپارُ ॥
جو پہُچےَ سو چلنھہارُ ॥
دھرمُ دلالُ پاۓ نیِسانھُ ॥
نانک نامُ لاہا پرۄانھُ ॥
گھرِ آۓ ۄجیِ ۄادھائیِ ॥
سچ نام کیِ مِلیِ ۄڈِیائیِ ॥੧॥
لفظی معنی:
دوئے دیوے ۔ دو چراغ۔ روشنی کے دومینار۔ چاند اور سورج ۔ چودہ ہٹنالے ۔ چودہ بطق ۔ جیتے جیئہ ۔ جتنے ہیں جاندار۔ ۔ تیتے ۔ اتنے ہی ۔ ونجارے ۔ سوداگر ۔ ۔ کھلے ہٹ ہوا واپار۔ علام وجود میں آئیا دنیاوی کا روبار کا آغاز ہوا ۔ جو پہچے ۔ سوچلنہار۔ جو آتا ہے ۔ چلا جاتا ہے ۔ جو آئیا سوچلسی ۔ سب سبھ کو چلنہار۔ دھرم۔ قانون ۔ انصاف۔ دلال۔ وکیل۔ وچولا۔ ۔پائے نیسنا۔ نیک و بد اعمل کی تمیز کرتا ہے ۔ نام لاہا پروان۔ انصاف کے قانون کی نظر میں ۔ لاہٰی نام سچ وحقیقت ہی منظور و قبول ہوتا ہے ۔ گھر آئے وجی وادھائی۔ جب الہٰی حضوری میںپہنچتا ہے جو انسان کا اصلی گھر ہے تو شاباش اور مبارک حاسل ہوتی ہے ۔ وڈیائی ۔ بلند عظمت کی شہرت۔
ترجمہ معہ تشریح:
اس عالم میں دو چراغ مراد چاند اور سورج چودہ طبق یعنی بازاروں پر مشتمل ہے ۔ اسمیں جتنے جاندار ہیں وہ سارے سوداگر ہیں یہاں اس علا میں جو آتا ہے آ خر اس نے چلے جانا ہے چلنے والا ہے جب علام وجود میں ائیا تو کاروبار اور کام کا آغاز ہوا ۔ قانون قدرت یا الہٰی قانون یا قانون انصاف اس پر اپنی مہر ثبت کرتا ہے ۔ مراد اس کے نیک و بد ہونے کی ۔ اے نانک۔ الہٰی نام سچ وحقیقت منافع بخش ہو جو منظور و قبول ہوتا ہے ۔ جب الہٰی حضوری مین انسان کی روح پہنچتی ہے تو آفرین و شاباش ملتی ہے اور سچ نام کی عطمت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔

مਃ੧॥
راتیِ ہوۄنِ کالیِیا سُپیدا سے ۄنّن ॥
دِہُ بگا تپےَ گھنھا کالِیا کالے ۄنّن ॥
انّدھے اکلیِ باہرے موُرکھ انّدھ گِیانُ ॥
نانک ندریِ باہرے کبہِ ن پاۄہِ مانُ ॥੨॥
لفظی معنی :
سپیدا۔ سفید۔ ون۔ رنگ۔ دیہہ۔ دن۔ بگا ۔ سفید ۔ تبے گھنا ۔ زیادہ تپے ۔ الیا کالے دن۔ کالے رنگ کا لے ہی رہتے ہیںۯ اندھلے عقلی باہرے ۔ بے سمجھ ۔ بیوقوف۔ بے عقل۔ اندھ گیان ۔ بیوقوف
ترجمہ معہ تشریح:
راتیں کالی ہونے کے باوجود سفید رنگ اور سفید رنگ کی اشیا سفید ہی رہتی ہیں۔ دن سفید ہوتا ہے اور روشن ہوتا ہے اور گرم رہتا ہے تب کالے کالے رنگ کے ہی رہتے ہیں۔ بیوقوف بے عقل بے سمجھ ہی رہتے ہیں۔ اے نانک الہٰی کرم و عنیات کے بغیر کبھی وقار عزت نہیں پاتے بغیر نگاہ شفقت الہٰی کے ۔

پئُڑیِ ॥
کائِیا کوٹُ رچائِیا ہرِ سچےَ آپے ॥
اِکِ دوُجےَ بھاءِ کھُیائِئنُ ہئُمےَ ۄِچِ ۄِیاپے ॥
اِہُ مانس جنمُ دُلنّبھُ سا منمُکھ سنّتاپے ॥
جِسُ آپِ بُجھاۓ سو بُجھسیِ جِسُ ستِگُرُ تھاپے ॥
سبھُ جگُ کھیلُ رچائِئونُ سبھ ۄرتےَ آپے ॥੧੩॥
لفظی معنی :
کائیا۔ جسم۔ کوٹ۔ قلعہ ۔ رچائیا۔ پیدا کیا۔ بنائیا۔ ہر سچے آپے ۔ صدیوی سچے خدا نے خود۔ دوجے بھائے ۔ دوسروں سے محبت۔ کھوآئن۔ گمراہ۔ ہونمے ۔ خودی۔ ویاپے ۔ گرفت میں۔ مانس جنم ۔ انسانی زندگی ۔ دلنبھ۔ نایاب۔ سا ۔ وہ ۔ منمکھ سنتاپے ۔ خودی پسند۔ عذاب پاتا ہے ۔ آپ بجھائے ۔ خود سمجھائے ۔ سوبجھسی ۔ وہی سمجھتات ہے ۔ ستگر تھاپے ۔ جس پر سچے مرشد کی نوازش ہو ۔ سم۔ یکساں۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدانے یہ انساین جسم بطور قلعہ خؤد بنائیا ہے ۔ ایک دنیاوی محبت میں اور خودی میں گمراہ ہیں اور کر رکھے ہیں۔ یہ انسانی زندگی نایاب ہے مگر مرید من عزآب پار ہے ہیں۔ جسے خدا خود سمجھائے وہی اس بات کو سمجھتا ہے ۔ سچا مرشد جسے نوازش کرے ۔ یہ سارا عالم خدا نے ایک کھیل بنائیا ہے جسے خؤد ہی کھلا رہا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
چورا جارا رنّڈیِیا کُٹنھیِیا دیِبانھُ ॥
ۄیدیِنا کیِ دوستیِ ۄیدیِنا کا کھانھُ ॥
سِپھتیِ سار ن جانھنیِ سدا ۄسےَ سیَتانُ ॥
گدہُ چنّدنِ کھئُلیِئےَ بھیِ ساہوُ سِءُ پانھُ ॥
نانک کوُڑےَ کتِئےَ کوُڑا تنھیِئےَ تانھُ ॥
کوُڑا کپڑُ کچھیِئےَ کوُڑا پیَننھُ مانھُ ॥੧॥
لفظی معنی :جار۔ بد چلن ۔ بداخلاق۔ رنڈیاں۔ بد چلن عورتیں۔ کٹنیا۔ دلیاں۔ جو بدچلن عورتوں سے بد چلن مردوں کا آپسی ملاپ کراتی ہیں۔ دیبان۔ ان کا آپسی اشتراک ۔ مجلس۔ بے دین۔ بے مذہب ۔ لا مذہب ۔ کھان۔ اشتراکیت ۔ ان ۔ لا مذہب پدیا کرنے کی کان ۔ صفتی سار نہ جاننی۔ لاہٰی اوصاف کی خبر نہیں۔ سدا و سے شیطان۔د لمیں ہمیشہ شراتیں بستی ہیں۔ گرہو۔ گدھے کو۔ چندن کھولیئے ۔ چندن لگائیں۔ بھی ساہو سیؤپان۔ شب بھی خاک میں لتنا ہے ۔ کوڑے کنئے ۔ جھوٹ کاتنے سے ۔ کوڑ تنیئے تان ۔ جھوٹی تانی تننا ہے ۔ کوڑا کپڑا چھیئے ۔ اگر جھوٹے کپڑے کی منتی کیرں۔ کوڑا پہن مان۔ جھوٹ کی پوشش اور وقار بھی جھوٹا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
چوروں بد اخلاق بد چلن مردوں عورتوں اور دلوں دلیؤں آپسی اشتراک اور میل جول اور ملاپ ہوتا ہے اس طرح لا مذہب کا لا مذہبوں سے محبت دوستی پوشش کھانا پینا مشترکہ اور میل جول ہوتا ہے ۔ نیکی اور اوصاف سے بے بہرہ ہوتے ہیں دل میں ہمیشہ شراتیں سجھتی ہیں۔ گدھے پر اگر چندن کا لیپ کیا جائے تب بھی اسے خاک میں لٹنا ہی پسند آتا ہے مراد اسے نیک اور صراط مستقیم زندگی پسند نہیں آتی ۔ اے نانک کوڑ کاتنے سے کوڑ کا ہی تانا تنا جائیگا جھوٹ کا کپڑا مننے سے پہننے سے جھوتی ہی عظمت وحشمت حاصل ہوگی ۔

مਃ੧॥
باںگا بُرگوُ سِنّگنْیِیا نالے مِلیِ کلانھ ॥
اِکِ داتے اِکِ منّگتے نامُ تیرا پرۄانھُ ॥
نانک جِن٘ہ٘ہیِ سُنھِ کےَ منّنِیا ہءُ تِنا ۄِٹہُ کُربانھُ ॥੨॥
لفظی معنی :
بانگا ۔ بلند آواز صدا۔ برگو ۔ تونتی ۔ سنگھیا۔ سنگھی ۔ کلان ۔ کشلتا۔ خوشحالی۔ داتے ۔ دینے ولاے ۔ منگتے ۔ بھکاری ۔ نام تیرا ۔ اے خدا تیرا نام۔ سچ و حقیقت۔ پران ۔ منظور و قبول وٹہو ۔ ان پر۔
ترجمہ معہ تشریح:
ملاں ۔ بانگ دیکر فقیر طوطی بجا کر جوگی سنگی بجا کر اور سنا کر اور میرا سی جنہیں کلانا کرنیاں ہی ملی ہوئی ہیں اس طرح سے ایک یدنے والے ہیں اور ایک بھکاری مگر الہٰی در پر الہٰی نام صرف سچ وحققیت ہی پروان اور منظور ہوتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
مائِیا موہُ سبھُ کوُڑُ ہےَ کوُڑو ہوءِ گئِیا ॥
ہئُمےَ جھگڑا پائِئونُ جھگڑےَ جگُ مُئِیا ॥
گُرمُکھِ جھگڑُ چُکائِئونُ اِکو رۄِ رہِیا ॥
سبھُ آتم رامُ پچھانھِیا بھئُجلُ ترِ گئِیا ॥
جوتِ سمانھیِ جوتِ ۄِچِ ہرِ نامِ سمئِیا ॥੧੪॥
لفظی معنی :
گوڑ۔ جھوٹ۔ فریب ۔ کوڑو ہوئے گیا۔ کوڑے سے انسان کوڑا جھوٹا اور فریبی ہوجاتا ہے ۔ ہونمے جھگڑا پایون۔ خودی جھگڑا ڈالتی ہے ۔ چکایون ۔ کتم کراتے ہیں۔ کوروہسا۔ واح خدا بستا ہے سب میں۔ بھوجل۔ دنیاوی خوفناک سمندر۔ جوت۔ نور۔ نام۔ سچ وحقیقت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
دنیاوی دولت کی محبت صاف فریب ہے اور وہکا ہے ۔ فریب فریب ہی جاتا ہے خودی سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور سالم جھگڑوں کی گرفت میں ذلیل و خوار ہوتا ہے مرید مرشد ان جھگڑوں کو ختم کر دیتا ہے کہ سب میں بستا ہے واحد خدا ۔ جسنے اپنے آپ کی اپنی روح کی پہچان کر لی مراد اپنا آپا پہچان لیا وہ اس نے دنایوی زندگی کے خوفناک سمندر کو عبور کر لیا وہ خدا سے یکسو ہوگیا اور الہٰی نام سچ حقیقت اپنالی ۔

سلوک مਃ੧॥
ستِگُر بھیِکھِیا دیہِ مےَ توُنّ سنّم٘رتھُ داتارُ ॥
ہئُمےَ گربُ نِۄاریِئےَ کامُ ک٘رودھُ اہنّکارُ ॥
لبُ لوبھُ پرجالیِئےَ نامُ مِلےَ آدھارُ ॥
اہِنِسِ نۄتن نِرملا میَلا کبہوُنّ ن ہوءِ ॥
نانک اِہ بِدھِ چھُٹیِئےَ ندرِ تیریِ سُکھُ ہوءِ ॥੧॥
لفظی معنی :
بھیکھیا۔ خیرات۔ سمرتھ ۔ داتار۔ با توفیق سخی۔ ہونمے ۔ خودی ۔ گربھ ۔ غور۔ نوارے ۔ مٹائیں۔ کام۔ شہوت۔ کرودھ ۔ غسہ ۔ اہنکار۔ تکبر ۔ غرور۔ لب لوبھ ۔لالچ ۔ حرص طمع۔ پر جالیئے ۔ اچھی طرح جلائیں۔ ختم کریں۔ نام ملے آدھار ۔ نام سچ وحقیقت اک آسرا دستیاب ہوتا ہے ۔ اہنس ۔ ہر روز ۔ نوتن۔ نوجوان ۔ نرملا۔ پاک۔ بیلاگ۔ سیلا۔ ناپاک ۔ کہو۔ کبھی ۔ الہہ بدھ ۔ اس طریقے سے ۔ چھٹیئے ۔ نجات حاصل ہوتی ہے ۔ آزادی ملتی ہے ۔ ندر تیری نظر سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے سچے مرشد تو خریات عنایت کر تو دینے کی توفیق رکھتا ہے ۔ تاکہ خودی غرور و تکبر شہوت غصہ وغیرہ در ہوجائے ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کو سہارا بنا کر دنیاوی لذتوں ۔ لطفوں کو لالچ کو ختم کرؤں۔ جو کہ روز و شب پاک اور نیا رہتا ہے کبھی ناپاک نہیں ہوتا۔ اے نانک۔ اس طرحس ے نجات ملتی ہے اور تیری نظر عنایت سے آرام و اسائش حاصل ہوتا ہے ۔

مਃ੧॥
اِکو کنّتُ سبائیِیا جِتیِ درِ کھڑیِیاہ ॥
نانک کنّتےَ رتیِیا پُچھہِ باتڑیِیاہ ॥੨॥
لفظی معنی :
کنت۔ خاوند۔ مراد خدا۔ سبائیا۔ سب کا ۔ جتنی ۔ جتنے ۔ در گھڑا ہ ۔ جو اسکے در پر ہیں۔ گنتے رتیا ۔ پچھیہہ۔ باتڑیاہ۔ الہٰی محبت میں محو ومجذوب اسکے بارے باتیں پوچھتے ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو بھی خدا کے در پر سب کا آقا ہے واحد خدا۔ اے ناک۔ سارے الہٰی محبت میں محو ومجذوب اسکے متعلق جانکاری و معلومات پوچھتے ہیں۔

مਃ੧॥
سبھے کنّتےَ رتیِیا مےَ دوہاگنھِ کِتُ ॥
مےَ تنِ اۄگنھ ایتڑے کھسمُ ن پھیرے چِتُ ॥੩॥
لفظی معنی :
کنتے رتیا ۔ سب خدا پرست۔ الہٰی محبت سے متاچر۔ دوہاگن ۔ دو آقاوں ۔ خاوندوں کی ۔ کت ۔ کیسی ۔ تن ۔ جسم۔ اوگن۔ بد اوصاف۔ تڑے ۔ اتنے زیادہ۔ خصم نہ پھیرے چت ۔ کہ خدا میرے طرف دھیان نہیں دیتا۔
ترجمہ معہ تشریح:
سارے انسان و مخلوقات الہٰی عشق و محبت میں محو ومجذوب ہے ۔ مگر میں دو آقاوں کی محبوبہ کسی کے شمار میں نہیں۔ مجھ میں اتنی گناہگاریاں اور بد اوصاف ہیں خدا میری طرف دھیان نہیں دیتا۔

مਃ੧॥
ہءُ بلِہاریِ تِن کءُ سِپھتِ جِنا دےَ ۄاتِ ॥
سبھِ راتیِ سوہاگنھیِ اِک مےَ دوہاگنھِ راتِ ॥੪॥
لفظی معنی :
بلہاری ۔ قربان۔ تن کو۔ ان پر۔ صفت۔ جناوے دات ۔ جن کی زبان پر اور منہ میں ہے الہٰی حمدوثناہ ۔ سوہاگنی ۔ خدا پرست۔ محبوب الہٰی۔ دوہاگن ۔ بد بخت۔
ترجمہ معہ تشریح:
قربان ہوں انسانوں پر جن کے زبان پر اور منہ میں الہٰی نام ہے ۔ اے خدا تو نے زندگی ان کے لئے وقف کر رکھی ہے ہمیں منکروں اور جدائی یافتوں کو بھی تھوڑی سی بخشش کر۔

پئُڑیِ ॥
درِ منّگتُ جاچےَ دانُ ہرِ دیِجےَ ک٘رِپا کرِ ॥
گُرمُکھِ لیہُ مِلاءِ جنُ پاۄےَ نامُ ہرِ ॥
انہد سبدُ ۄجاءِ جوتیِ جوتِ دھرِ ॥
ہِردےَ ہرِ گُنھ گاءِ جےَ جےَ سبدُ ہرِ ॥
جگ مہِ ۄرتےَ آپِ ہرِ سیتیِ پ٘ریِتِ کرِ ॥੧੫॥
لفظی معنی :
منگت ۔ بھکاری ۔ جاپے ۔ مانگتا ہے ۔ دان ۔ خیرا ت ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ جن پاوے نام ہر۔ خدمتگار الہٰی نام سچ و حقیقت پائے ۔ انحد سبد۔ وہ روحانی کلام جو یکسوئی میں لگاتار از خود ہوتا ہے ۔ جوتی جوت دھر ۔ نور سے نور ملا۔ مراد روح جو خدا کا ایک جز اسکا خدا سے ملاپ کر مراد یکسوئی ہوجائے ۔ ہر وے ہرگن ۔ دلمیں ہو الہٰی وصف۔ ہر سیتی ۔ خدا سے ۔ پریت ہر ۔ الہٰی محبت۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیرے در پر خیرات مانگتا ہوں ۔ کرپر کرکے مجھ خیرات دیجیئے ۔ مرید مرشد بنا کر اپنے خدمتگار کو اپنا نام سچ وحقیقت عنیات کر ۔ یکسو ہوکر لگاتار تیرا کلام گاوں اور حمدوچناہ کرؤں۔ تیری فتح و نصرت کا کلام اپنے دل میں گاؤں اور تجھ سے پیار کروں سارے عالم میں تیرا ہی نظارہ ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
جِنیِ ن پائِئو پ٘ریم رسُ کنّت ن پائِئو ساءُ ॥
سُنّجنْے گھر کا پاہُنھا جِءُ آئِیا تِءُ جاءُ ॥੧॥
لفظی معنی :
پریم رس۔ محبت کا لطف۔ کنت۔ خاوند۔ مراد خدا۔ سنجے گھر ۔ ویران یا نسان گھر۔ پاہنا۔ مہمان۔ جیوآئیا۔ جیسے آئیا۔ تیو جاؤ۔ ویسے ہی چلا گیا۔
ترجمہ معہ تشریح:
جنہوں نے الہٰی لطف کا مزہ نہیں لیا انہیں الہٰی ملاپ نصیب نہیں ہوا ان کی زندگی ایسی ہے جیسے سنسان گھر جیسے مہمان آتا ہے ویسے ہی چلا جاتا ہے مراد نہ سوآگت نہ مہمان نوازی ۔

مਃ੧॥
سءُ اولام٘ہ٘ہے دِنےَ کے راتیِ مِلن٘ہ٘ہِ سہنّس ॥
سِپھتِ سلاہنھُ چھڈِ کےَ کرنّگیِ لگا ہنّسُ ॥
پھِٹُ اِۄیہا جیِۄِیا جِتُ کھاءِ ۄدھائِیا پیٹُ ॥
نانک سچے نام ۄِنھُ سبھو دُسمنُ ہیتُ ॥੨॥
لفظی معنی :
الاہمے ۔ شکایتیں ۔ سہنس۔ ہزاروں ۔ کر نگی ۔ مردہ خوری ۔ ہنس۔ پاکدامن ۔ فٹ۔ ملامت زدہ۔ پھٹکار کے لائق ۔ سچے نام بن۔ سچے و حقیقت کے بغیر۔ سبھو دشمن ہیت۔ سارے پیار بھی دشمن ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
انسان نیکی حقیقت اور سچ چھوڑ کر دنیاوی گناہگاری لذتوں و برائیوں میں مصروف ہے ۔ اسے دل میں سینکڑوں رات ہزاروں براہوں کی شکایتیںآتی ہے ۔ نعت ہے ایسی زندیگ پر جس میں صرف پیٹ بھرنا ہی زندگی کا نشانہ ہے ۔ اے نانک۔ سچے صدیوی الہٰی نام سچ و حقیقت کے بغیر سارے پیار محبتیں دشمن ہیں۔

پئُڑیِ ॥
ڈھاڈھیِ گُنھ گاۄےَ نِت جنمُ سۄارِیا ॥
گُرمُکھِ سیۄِ سلاہِ سچا اُر دھارِیا ॥
گھرُ درُ پاۄےَ مہلُ نامُ پِیارِیا ॥
گُرمُکھِ پائِیا نامُ ہءُ گُر کءُ ۄارِیا ॥
توُ آپِ سۄارہِ آپِ سِرجنہارِیا ॥੧੬॥
لفظی معنی :
جنم سواریا۔ زندگی راہ راست پر لائی۔ سیو۔ خدمت۔ سچا ۔ صدیوی سا خدا۔ اردھاریا ۔ دلمیں بسائیا۔ محل۔ٹھکانہ ۔ نام پیاریا ۔ سچ و حقیقت کی محبت سے ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ واریا۔ قربان۔ سرجنہاریا ۔ علام کو پیدا کرنے والے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی صفت صلاح کرنے والا ہر روز الہٰی صفت صلاح کرکے اپنی زندگی درست بنالیتا ہے ۔ اور راہ راست پر لے آتا ہے مرشد کے ذریعے خدمت اور حمدوثناہ سے دل میں بساتا ہے الہٰی نام سچ وحقیقت سے پریم پیار بنا کر الہٰی در اور ٹھکانہ پالیتا ہے ۔ قربان ہوں مرشد پر کیونکہ الہٰی نام سچ حقیقت مرشد کے ذریعے ملتا ہے ۔ اے علام کو پیدا کرنے ولاے تو ہی زندگی کو راہ راست پر لانے والا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
دیِۄا بلےَ انّدھیرا جاءِ ॥
بید پاٹھ متِ پاپا کھاءِ ॥
اُگۄےَ سوُرُ ن جاپےَ چنّدُ ॥
جہ گِیان پ٘رگاسُ اگِیانُ مِٹنّتُ ॥
بید پاٹھ سنّسار کیِ کار ॥
پڑ٘ہ٘ہِ پڑ٘ہ٘ہِ پنّڈِت کرہِ بیِچار ॥
بِنُ بوُجھے سبھ ہوءِ کھُیار ॥
نانک گُرمُکھِ اُترسِ پارِ ॥੧॥
لفظی معنی :
دیوا۔ چراغ ابلے ۔ روشن ہو۔ اندھیرا جائے ۔ تو اندھیرا مٹ جاتا ہے ۔ مراد علم سے جہالت ختم ہوجاتی ہے نادانی مٹ جاتی ہے ۔ اگوے سور۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے ۔ تو اند کی روشنی مدھم ہوجاتی ہے ۔ ویدوغیرہ مذہبی کتابوں کے مطالعہ سے حاصل کیا ہوا سبق و علم گناہوں کو مٹادیتا ہے ۔۔ جہاں علم روشن ہو وہاں نادانی اور جہالت مٹ جاتی ہے ۔ بن بوجھے ۔ بغیر سمجھے ۔۔ خوار۔ ذلیل ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ اترے پار۔ کامیابی پاتے ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب چراغ جلتا ہے تو اندھیرا کا فور ہوجاتا ہے مذہبی کتابوں کا مطالعہ اور سوچ سمجھ گناہوں میں مضمر سمجھ و عقل کو ختم کر دیتا ہے جب آفتاب یا سورج طلوع ہوتا ہے تو چاندن کی روشنی اور قدرقیمت مدھم پڑھ جاتی ہے ۔ اسطرح جہاں علم و عقلم روشن ہوجاتی ہے جہالت الع لمی و نادانی ختم ہوجاتی ہے ۔ مذہبی کتابوں کو صرف پڑھنا صرف دنیاوی رسم و رواج ہے ۔ عالم فاضل انہیں پڑھ کر اس کی حقیقت اور اصلیت کو سمجھتے ہیں اسکے سمجھنے کے بغیر سب ذلیل وکوار ہوتے ہیں۔ اے نانک مرید مرشد کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

مਃ੧॥
سبدےَ سادُ ن آئِئو نامِ ن لگو پِیارُ ॥
رسنا پھِکا بولنھا نِت نِت ہوءِ کھُیارُ ॥
نانک پئِئےَ کِرتِ کماۄنھا کوءِ ن میٹنھہارُ ॥੨॥
لفظی معنی :
ساد۔ سوا۔ لطف ۔ر س مزہ۔ نام ۔ الہٰی نام سے محبت نہیں۔ رسنا۔ زبان۔ پھیکا ۔ بد مزہ ۔ تلخ۔ خوار۔ ذلیل ۔ پیئے کرت کماونا۔ اپنے ئے ہوئے اعمال کا مجموعا۔ کوئے نہ میٹنہار۔ کوئی مٹآ نہیں سکتا ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس نے کلام مرشد کا لطف نہیں لیا الہٰی نام سچ وحقیقت سے محبت نہیں زبان سے تلخ کلام اور بد کلامی کرتا ہے ہر روز ذلیل وخوار ہوتا ہے اے نانک اپنے کئے ہوئے اعمال کا مجموعہ کسی میں کوئی مجال ہیں کہ اسے مٹا سکے ۔

پئُڑیِ ॥
جِ پ٘ربھُ سلاہے آپنھا سو سوبھا پاۓ ॥
ہئُمےَ ۄِچہُ دوُرِ کرِ سچُ منّنِ ۄساۓ ॥
سچُ بانھیِ گُنھ اُچرےَ سچا سُکھُ پاۓ ॥
میلُ بھئِیا چِریِ ۄِچھُنّنِیا گُر پُرکھِ مِلاۓ ॥
منُ میَلا اِۄ سُدھُ ہےَ ہرِ نامُ دھِیاۓ ॥੧੭॥
لفظی معنی :
سوبھا ۔ شہرت۔ سچ من وسائے ۔ صدیوی سچے خدا کو دلمیں بسائے ۔ سچ بانی ۔ سچے کلام ۔ اچرے ۔ کہے ۔ سچ سوبھا۔ سچی شہرت ۔ میں بھئیا۔ ملاپ ہوا۔ چری وچھونای۔ دیرینہ جدائی۔ گر پرکھ ۔ ملائے ۔ مرشد نے ملاپ کرائیا۔ من میلا۔ ناپاک من۔ او۔ اس طرح سے ۔ سدھ۔ پاک۔ ہر نام دھیائے ۔ الہٰی نا م میں دھیان لگانے سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو کرتا ہے حمدوثناہ الہٰی شہرت پاتا ہے ۔ کودی د ل سے دور کر حقیقت و سچ دلمیں بسائے ۔ الہٰی کلام کہہ کر اور صفت صلاح کر کے سچا سکھ پاتا ہے دیرینہ جدا ہوا ہوا بھی ملاپ پاتا ہے ۔ مرید مرشد ملاتا ہے ۔ا سطرحس سے ناپاک من پاک و پائس ہو جاتا ہے ۔ الہٰی نام کی یادوریاض سے ۔

سلوک مਃ੧॥
کائِیا کوُمل پھُل گُنھ نانک گُپسِ مال ॥
اینیِ پھُلیِ رءُ کرے اۄر کِ چُنھیِئہِ ڈال ॥੧॥
لفظی معنی :
کائیا۔ کومل۔ نرم تازہ شاخیں اور تپیاں بنا جسم کو ۔ گن ۔ اوصاف ۔ گیس ۔ گند۔ مال۔ مالا۔ اپنی پھلیں ۔ ان پھولوں پر ۔ رو کرے ۔ دھیان دیتا ہے ۔ پسند کرتا ہے ۔ اور ۔ دوسری۔ ڈال۔ شاخیں۔ ٹہنیاں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نانک ۔ یہ انسانی جسم کو نرم نرم شاخوں اور تازہ پتیؤں کی طرح بنا جس طرحس ے ان میں پھول لگتے ہیں اس طرحسے اپنے انداز اوصاف پیدا کر ۔ جس طرح سے مالی ان نرم نازک پھول اور پتوں سے ایک مالا بناتا ہے اسطرحسے تو بھی الہٰی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایک مالا تیار کر دوسری شاخوں اور پھولوں کی تلاش نہ کر۔

مہلا ੨॥
نانک تِنا بسنّتُ ہےَ جِن٘ہ٘ہ گھرِ ۄسِیا کنّتُ ॥
جِن کے کنّت دِساپُریِ سے اہِنِسِ پھِرہِ جلنّت ॥੨॥
لفظی معنی :
تنا۔ ۔ ان کے لئے ۔ بسنت۔ خوشگوار موسم۔ گھر ۔ دلمیں۔ کنت۔ خاوند۔ دساپری ۔ بدیش۔ اہنس۔ روز و شب ۔ دن رات۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نانک۔ جن کے دل میں بستا ہے خدا ان کے لئے ہے ہر وقت موسم خوشگوار جیسے جس عورت کا خاوند گھر سے اسکے لئے تو بسنت ہے ۔ مگر جن کا خاوند بدیش گیا ہوا ہے وہ اس کی جدائی میں تلخی محسوس کرتی ہیں۔ ایسے خدا سے منکر انسان بد اوصاف انسان گناہگاریوں میں مضمر روز و شب جلتا رہتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
آپے بکھسے دئِیا کرِ گُر ستِگُر بچنیِ ॥
اندِنُ سیۄیِ گُنھ رۄا منُ سچےَ رچنیِ ॥
پ٘ربھُ میرا بیئنّتُ ہےَ انّتُ کِنےَ ن لکھنیِ ॥
ستِگُر چرنھیِ لگِیا ہرِ نامُ نِت جپنیِ ॥
جو اِچھےَ سو پھلُ پائِسیِ سبھِ گھرےَ ۄِچِ جچنیِ ॥੧੮॥
لفظی معنی :
ستگر بچنی ۔ سچے مرشد کے کلام سے ۔ اندن ہر روز۔ سیوی ۔ خدمت۔ گن روا۔ اوصا ف کہو۔ حمدوثناہ کرؤں۔ من سے رچنی ۔ دل کو سچے خدا سے لگا کر ۔ بے انت۔ بیشمار۔ اعداد و شمار سے باہر ۔ جیسی ۔ یادوریاض ۔ جو اچھے ۔ جیسی خواہش یا چاہ ۔ پھل۔ نتیجہ ۔ سبھ گھرے ۔ وچ جچنی ۔ دل جو مانگتا ہے ۔ جو امنگ ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا خود ہی بخشش کرتا ہے اپنی مہربانی اور سچے مرشد کی کلام کے وسیلے سے میں ہر روز کدمت کرؤں صفت صلاح کروں اور دل میں سچے صدیوی خدا میںد ھیان رہے ۔ میرا خدا عداد وشمار سے بعید ہے اسکے آخرت کوئی سمجھ نہیںس کا۔ مرید مرشد ہوکر ہی اپنی نام سچ و حقیقت کی یادوریاض ہو سکتی ہے ۔ جو یا جیسی اس کی خواہشات ہیں ویسے تناسخ اپنے گھر میں ہی حاصل کر لیتا ہے ۔

سلوک مਃ੧॥
پہِل بسنّتےَ آگمنِ پہِلا مئُلِئو سوءِ ॥
جِتُ مئُلِئےَ سبھ مئُلیِئےَ تِسہِ ن مئُلِہُ کوءِ ॥੧॥
لفظی معنی :
آگمن ۔ آنا۔ پہلا مؤلیؤ۔ پہلے کھلاو۔ سوئے ۔ اسے ۔ جت مولیؤ۔ جس کے کھانے سے
ترجمہ معہ تشریح:
جو موسم بہار کے آنے سے پہلے کا ہے ۔ اسی کا کھلتا سب سے پہلے کا ہے اسکے کھلنے سے تمام عالم کھلتا ہے ۔ مگر اسےکھلانے والا کوئی نہیں۔

مਃ੨॥
پہِل بسنّتےَ آگمنِ تِس کا کرہُ بیِچارُ ॥
نانک سو سالاہیِئےَ جِ سبھسےَ دے آدھارُ ॥੨॥
لفظی معنی ، ترجمہ معہ تشریح:
اے انسانوں اسکی بابت سوچو سمجوھ اور خیال آرائی کرو جو بسنت یا بہار کے موسم سے پہلے کا ہے اے نانک۔ اس کی حمدوثناہ کرؤ جو سبھ کو آسرا دیتا ہے ۔

مਃ੨॥
مِلِئےَ مِلِیا نا مِلےَ مِلےَ مِلِیا جے ہوءِ ॥
انّتر آتمےَ جو مِلےَ مِلِیا کہیِئےَ سوءِ ॥੩॥
لفظی معنی :
ملئے ۔ملاپ سے ۔ انتر آتمے ۔ روحانی طور پر
ترجمہ معہ تشریح:
بیرونی ملاپ سے ۔ انتر آتمے ۔ روحای یا جگری ملاپ ۔ مراد صرف زبانی کہنے سے ملاپ نہیں ہوتا ملاپ تو تبھی ہوتا ہے جب روحآنی ملاپ ہو۔

پئُڑیِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ سلاہیِئےَ سچُ کار کماۄےَ ॥
دوُجیِ کارےَ لگِیا پھِرِ جونیِ پاۄےَ ॥
نامِ رتِیا نامُ پائیِئےَ نامے گُنھ گاۄےَ ॥
گُر کےَ سبدِ سلاہیِئےَ ہرِ نامِ سماۄےَ ॥
ستِگُر سیۄا سپھل ہےَ سیۄِئےَ پھل پاۄےَ ॥੧੯॥
لفظی معنی :
سچ کار۔ سچے حقیقی اعمال ۔ جونی ۔ تناسخ۔ آواگون۔ نام رتیا۔ نام میں محو ومجذوب۔ نام پائیے ۔ سچ حق وحقیقت حاصل ہوتا ہے ۔ ہر نام۔ الہٰی نام ۔ ستگر سیوا۔ سچے مرشد کی خدمت۔ سپھل ۔ برآور۔ کامیاب۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام سچ و حقیقت کی یادوریاض کرنی چاہیے یہی سچا صدیوی فعل ہے ۔ دوسرے کاموں میں وقت ضائع کرنے سےا نسان تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔ نام یعنی سچ و حقیقت میں محو ومجذوب سچ حق و حقیقت حاصل ہوتا ہے ۔ اور الہٰی حمدوثناہ ہوتی ہے ۔ کلام مرشد ے وسیلے سے صفت صلاح سے الہٰی نام سچ وحقیقت میں محو ومجذوبیت حاصل ہوتی ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت برآور ہے اس کی خدمت سے کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔

سلوک مਃ੨॥
کِس ہیِ کوئیِ کوءِ منّجنُْ نِمانھیِ اِکُ توُ ॥
کِءُ ن مریِجےَ روءِ جا لگُ چِتِ ن آۄہیِ ॥੧॥
لفظی معنی :
کس ہی کوئی کوئے ۔ کسی کا کوئی ہوگا۔ منجھ نمانی ۔ مجھ ناتواں کا ۔ کیؤ نہ مریجے ۔ روئے ۔ کیوں نہ رو رو مروں۔ ت نہ آوہی ۔ جب تک تیری یادنہیں آتی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
کسی کا تعلق کسی سے ہوگا کسی کا کسی سے مگر مجھ بیکس ناتواں کا صرف تو ہی ہے جب تیری یاد نہ ہو دل میں اور تو نہ بسے تو کیوں نہ رو رو مروں ۔

مਃ੨॥
جاں سُکھُ تا سہُ راۄِئو دُکھِ بھیِ سنّم٘ہ٘ہالِئوءِ ॥
نانکُ کہےَ سِیانھیِۓ اِءُ کنّت مِلاۄا ہوءِ ॥੨॥
لفظی معنی : ترجمہ
جب آرام و آسائش ہے تو مالک یاد کیا مگر عذاب میں یاد کرؤ۔ نانک فرماتا ہے اے داشمند واسطر حسے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔

پئُڑیِ ॥
ہءُ کِیا سالاہیِ کِرم جنّتُ ۄڈیِ تیریِ ۄڈِیائیِ ॥
توُ اگم دئِیالُ اگنّمُ ہےَ آپِ لیَہِ مِلائیِ ॥
مےَ تُجھ بِنُ بیلیِ کو نہیِ توُ انّتِ سکھائیِ ॥
جو تیریِ سرنھاگتیِ تِن لیَہِ چھڈائیِ ॥
لفظی معنی :
کرم جنت۔ ۔ جاندار یڑے ۔ انچیز۔ وڈیائی ۔ عظمت۔ اگنم۔ انسانی عقل ۔ہوش و سوچ سے اوپر۔ کونہیں۔ ناچیز۔ بلا توفیق و حیثیت ۔ انت۔ آخر۔ سکھائی ۔ مددگار۔ سرناگتی ۔ پناہ گریں۔ تل نہ تمائی۔ اسے ذرا سی بھی طمع نہیں لالچ نہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا۔ میں ایک نا چیز کیڑے جیسا ہوں تو بلند عظمت ہے میں تیری کونسی ستائش اور اوصاف بیانی کر سکتا ہوں۔ تو انسانی عقل و ہوش اور سچ سمجھ سے اوپر ہے خود ہی اپنے ساتھ ملاتا ہے تیرے بغیر مریا کوئی دوسرا یار و مددگار نہیں۔ جو تیرے زیر سایہ ( یار و مددگار) تیرا پناہ گریں ہوجاتا ہے اسے نجات دلاتا ہے اے نانک وہ بے محتاج ہے اسے رتی بھر طمع و لالچ نہیں۔

نانک ۄیپرۄاہُ ہےَ تِسُ تِلُ ن تمائیِ ॥੨੦॥੧॥
راگُ سوُہیِ بانھیِ س٘ریِ کبیِر جیِءُ تتھا سبھنا بھگتا کیِ ॥ کبیِر کے
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
اۄترِ آءِ کہا تُم کیِنا ॥
رام کو نامُ ن کبہوُ لیِنا ॥੧॥
رام ن جپہُ کۄن متِ لاگے ॥
مرِ جئِبے کءُ کِیا کرہُ ابھاگے ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُکھ سُکھ کرِ کےَ کُٹنّبُ جیِۄائِیا ॥
مرتیِ بار اِکسر دُکھُ پائِیا ॥੨॥
کنّٹھ گہن تب کرن پُکارا ॥
کہِ کبیِر آگے تے ن سنّم٘ہ٘ہارا ॥੩॥੧॥
لفظی معنی :
اور تر۔ پیدا ہوکر۔ انسانی زندگی حاصل کرکے ۔ کہاتم کینا۔ کیا کیا ہے ۔ مر جایئے ۔ بوقت موت۔ بھاگے ۔بد قسمت (1 ) ڑہاو۔ کٹب جیوائیا۔ خاندان کو کھلائیا پرورش کی ۔ کسر۔ اکیلے نے (2) کنٹھ گہن ۔ جب گلہ ددبئیا۔ تب کرن پکارا۔ تو آہ وزاری کرتا ہے ۔ آگے تے نہ سمار ۔ پہلے کیوں یاد نہ کیا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان تو نے انسانی زندگی حاصل کر کے کونسا کام کیا ہے الہٰی بندگی اور نام کبھی نہیں لیا (1) اے بد قسمت موت کے وقت کیا کرؤگے (1) رہاؤ۔ محنت و مشقت کرکے اپنے کٹنب قبیلے کی پرورش کی مگ بوقت موت اکیلے ہی تجھے عذاب برداشت کرنا پڑا ۔اور اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگنا پڑا۔ اے کبیر بتادے پہلے ہی کیوں خدا کو یاد نہیں رکھا۔ جب موت نے گلہ دبائیا تو روتا ہے ۔اور آہ وزاری کرتا ہے۔

سوُہیِ کبیِر جیِ ॥
تھرہر کنّپےَ بالا جیِءُ ॥
نا جانءُ کِیا کرسیِ پیِءُ ॥੧॥
ریَنِ گئیِ مت دِنُ بھیِ جاءِ ॥
بھۄر گۓ بگ بیَٹھے آءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کاچےَ کرۄےَ رہےَ ن پانیِ ॥
ہنّسُ چلِیا کائِیا کُملانیِ ॥੨॥
کُیار کنّنِیا جیَسے کرت سیِگارا ॥
کِءُ رلیِیا مانےَ باجھُ بھتارا ॥੩॥
کاگ اُڈاۄت بھُجا پِرانیِ ॥
کہِ کبیِر اِہ کتھا سِرانیِ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی :
تھر ہر ۔ کانپتا ہے ۔ بالا ۔ چھوٹا یا ننھا سا دل ۔ پیؤ۔ خاوند۔ خدا۔ رین ۔ رات۔ زندگی یا جوانی ۔ دن بھی جائے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کر برھا پابھی چلا جائے ۔ بھور۔ کالے ۔ بگ بیٹھے آئے ۔ سفید آگئے ۔ کاچے کروے ۔ کچے گھڑے ۔ ہنس۔ روح۔ کائیا کملانی ۔ تو جسم مر جھا جاتا ہے (2) کو آر کنیا ۔ بغیر شادی۔ دوشیزہ ۔ سیگار۔ سجاوٹ۔ آراستہ ۔ رلیا۔ خوشیاں ۔ باجھ بھتار۔ بغیر خاون (3 ) کاگ اڈاوت ۔ کوے اڑاتی ہے ۔ بھجا پرانی ۔ بازو ماند پڑ گیا۔ الہہ کتھا سرانی ۔ یہ کہانی ختم ہوئی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جوانی گذر گئی کہیں یونہی بڑھاپا بھی نہ گذر جائے ۔ کالے بال ختم ہوگئے سفید ہوگئے ۔رہاؤ۔ دل کانپ رہا ہے خوف زدہ ہے کہ خدا میرے ساتھ کسا سلوک اور برتاؤ کریگا (1) جیس کچے گھڑے میں پانی نہیں ٹھہرٹا۔ اس طرح سے جب روح پرواز کر جاتی ہے ۔ تو جسم مر جھا جاتا ہے (2) جیسے غیر شادی شدہ دوشیزہ اپنے آپ کو آراستہ اور سیگار کرتی ہے مگر خاوند کے بغیر لطف نہیں لے سکتی سکون نہیں پاتی (3) کوے اڑاتے اڑاتے بازو ماند پڑ گیا ۔ اے کبیر بتادے ۔ کہ زندگی کی کہانی ختم ہوئی ۔
خلاصہ ۔ کلام
کبیرجی انسان کو ترغیبت دیتے ہیں ہدایت کرتے ہیں کہ بغیر عبادت وریاضت و بندگی آخر پچھتانا پڑتا ہے کہ بغیر نیک اعمال کے آخر زندگی کا کیا انجام ہوگا دل کا نپتا ہے اور ڈرتا ہے ۔

سوُہیِ کبیِر جیِءُ ॥
املُ سِرانو لیکھا دینا ॥
آۓ کٹھِن دوُت جم لینا ॥
کِیا تےَ کھٹِیا کہا گۄائِیا ॥
چلہُ سِتاب دیِبانِ بُلائِیا ॥੧॥
چلُ درہالُ دیِۄانِ بُلائِیا ॥
ہرِ پھُرمانُ درگہ کا آئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرءُ ارداسِ گاۄ کِچھُ باکیِ ॥
لیءُ نِبیرِ آجُ کیِ راتیِ ॥
کِچھُ بھیِ کھرچُ تُم٘ہ٘ہارا سارءُ ॥
سُبہ نِۄاج سراءِ گُجارءُ ॥੨॥
سادھسنّگِ جا کءُ ہرِ رنّگُ لاگا ॥
دھنُ دھنُ سو جنُ پُرکھُ سُبھاگا ॥
ایِت اوُت جن سدا سُہیلے ॥
جنمُ پدارتھُ جیِتِ امولے ॥੩॥
جاگتُ سوئِیا جنمُ گۄائِیا ॥
مالُ دھنُ جورِیا بھئِیا پرائِیا ॥
کہُ کبیِر تیئیِ نر بھوُلے ॥
کھسمُ بِسارِ ماٹیِ سنّگِ روُلے ॥੪॥੩॥
لفظی معنی :
عمل سرانو۔ اعمال کا وقت گذر چکا ہے ۔ لیکھا دینا۔ اب حسا ب دینا ہے ۔ یوم حساب ہے ۔ گٹھن دوت۔ الہٰی سخت کر مچاری ۔ کیا تے گھٹیا کیا گوائیا۔ نفع ۔نقصان کا حساب زندگی۔ ستاب ۔ جلدی (1) چل درحال۔ جس حالت میں ہو۔ فرمان ۔ حکم درگاہ ۔ عدالت (1) رہاؤ۔ ارداس۔ عرض ۔ گذارش ۔ گاو۔ گاؤں۔ نیبر۔ قیسلہ ۔ ختم۔ خرچ تمہاراسارو۔ تجھے بھی کچھ خرچ مراد۔ رشوت مجھے بھی دینی ہوگی ۔ صبح نواز سرائے گذارو۔ صبح کی نما زراستے میں گذاروں گا (2) سادھ سنگ ۔ صحبت و قربت پاکدامن ۔ ہر نگ ۔ الہٰی پریم پیار عشق ۔ سبھاگا۔ خوش قسمت۔ ایت ۔ اوت ۔ یاہں اور وہاں ۔ ہر دو علاموں میں۔ سہیلے ۔ آرام و آسائش میں۔ جنم پدارتھ۔ زندگی کی نعمت۔ جیت امولے ۔ اس بیش قیمت کو جیت فتح حاصل کر (3) جاگت۔ بیداری ۔ سوئیا۔غفلت کی نیند سوتا ہے ۔ جنم گوائیا۔ زندگی بیکار ختم کرلی ۔ جوریا۔ اکھٹا کیا ۔ بھیا پرائیا۔ بیگانہ ہوگیا۔ سیئی نہ ۔ وہی انسان۔ بھولے ۔ گمراہ ہوئے ۔ خصم و سار ۔ مالک۔ آقا۔ خدا۔ ماٹی سنگ روے ۔ ذلیل و خوار ہوئے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان اعمال کرنے اور کمانے کا وقت گذر چکا ہے اب حساب کا وقت آگیا ہے ۔ سخت دل محاسب حساب لینے آگئے ہیں۔ یہ حساب دینا پڑیگا کہ دوران حیات اس عالم کونسے منافع بخش نیک کام کئے ہیں اور کوسنے بد اعملا اور برائیاں کی ہیں۔ جلدی چلو منصف عدالت نے بلائیا ہے (1) جیسی حالت میں ہو اسی حالت میں چلو یہ الہٰی درگاہ سے فرمان آئیا ہے (1) رہاؤ۔ تب عرض گزارتا ہے کہ کچھ گاوں کا حساب باقی رہ گیا ہے ۔ ابرات یہ حساب ختم کر لونگا۔ اور کچھ تمہارے خرچ کا انتظام کر لونگا۔ اور صبح کی نما زراستے میں ادا کرلونگا (2) جیسے پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں رہ کر عشق الہٰی ہوگیا شاباش ہے اسے خوش قسمت ہے وہ ہر دو عالموں میں آرا و آسائش پاتے ہیں وہ ۔ وہ فتحیاب ہوجاتے ہیں اس بیش زندگی گذارنے میں (3) جو بیداری ک حالت میں غفلت کینیند سوتے ہیں اپنی زندگی برباد کرتے ہیں۔ جو مال و دولت اکھٹی کرتے ہیں بیگانی ہوجاتی ہے ۔ اے کبیر بتادے کہ جو انسان گمراہ ہوئے وہ خاک میں رلتے رہے مراد ذلیل خوار ہوئے جنہوں نے بھلا ئیا خدا۔
خلا صہ یا مدعا و مقصد کلام :
انسان اپنے دنیاوی کاروبار میں اتنا محو ومجذوب ہوجاتا ہے وہ خدا اصل وحقیقت اور مقصد زندگی بھلا دیتا ہے یہ سلسلہ تاحیات چلتا رہتا ہے اور اکھٹی کیا ہوا سرمایہ یہی چھوڑنا پڑتا ہے اور بیگانہ ہوجاتا ہے ۔ اس طرح سے زندگی بیکار چلی جاتی ہے ۔

سوُہیِ کبیِر جیِءُ للِت ॥
تھاکے نیَن س٘رۄن سُنِ تھاکے تھاکیِ سُنّدرِ کائِیا ॥
جرا ہاک دیِ سبھ متِ تھاکیِ ایک ن تھاکسِ مائِیا ॥੧॥
باۄرے تےَ گِیان بیِچارُ ن پائِیا ॥
بِرتھا جنمُ گۄائِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
تب لگُ پ٘رانیِ تِسےَ سریۄہُ جب لگُ گھٹ مہِ ساسا ॥
جے گھٹُ جاءِ ت بھاءُ ن جاسیِ ہرِ کے چرن نِۄاسا ॥੨॥
جِس کءُ سبدُ بساۄےَ انّترِ چوُکےَ تِسہِ پِیاسا ॥
ہُکمےَ بوُجھےَ چئُپڑِ کھیلےَ منُ جِنھِ ڈھالے پاسا ॥੩॥
جو جن جانِ بھجہِ ابِگت کءُ تِن کا کچھوُ ن ناسا ॥
کہُ کبیِر تے جن کبہُ ن ہارہِ ڈھالِ جُ جانہِ پاسا ॥੪॥੪॥
لفظیمعنی :
تھاکے نین ۔ آنکھیں دیکھنے سے رہ گئیں۔ سرون سن تھا کے ۔ کان بہرے ہوگئے ۔ نہ تھاکس مائیا۔ مگر دنیاوی دولت کی کشش بند نہیں ہوئی۔ تھا کی سندر کائیا۔ جسمانی خوبصورتی جاتی رہی ۔ بڑھا با آواز دیتا ہے ۔ عقل کمزور پڑگئی ۔ سوچ ختم ہوئی () باورے ۔ نادان ۔ بیوقوف ۔ گیان ۔ علم ۔ دانش۔ برتھا جنم۔ بیفائدہ زندگی () رہاؤ۔ جب تک ۔ جبتک ۔ پرانی ۔ زندگی ۔ زندہ ہو۔ تسے سریو ہو ۔ اس کی خدمت کرو۔ یاد کرو۔ گھٹ میہہ ساسا۔ جسم میںساسن ہیں ۔ بھاؤ۔ پیار (2) جس کے سبد بساوے انتر ۔ جس کے دل میں کلام بسا دیتا ہے خدا۔ چوکیہہ ۔مٹادیتا ہ ۔ حکمے بوجھے ۔ الہٰی رضا و فرمان سمجھے ۔ من جن ۔ دل کو جیت کر۔ قابو کرکے ۔ چوپڑ۔ پاسے کا کھیل (3) بھیجیہہ۔ یاد ریاض۔ ابھگت۔ نظروں سے اوجھل۔ ناسا۔ مٹنا ۔ فناہ۔ ہاریہہ۔ شکست نہیں کھاتا۔ ڈھال۔ جو جانیہہ پاسا۔ جو اپنی زندگی کو راہ راست پر لانا جانتے ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نادان نالائق انسان تو نے ساری زندگی بیفائدہ بیکار گذار دی نہ علم و ہنر حاسل کیا نہ سوچ سمجھ حاسل کی (1) رہاو۔ آنکھیں دیکھنے سے رہ گئیں کانوں سے بہرہ ہوا خوبصورت جسم مرجھا گیا۔ بڑھا پا صدا ئیں دیتا ہے عقل جواب دے گئی مگر دنیاوی دولت کی محبت اور کشش ختم نہیں ہوئی (1) اے انسان جبتک زندگی باقتی ہے اتنی دیر یاد خدا میں مصروف رہ جب تک سانس جاری ہیں۔ اگر جسم میں طاقت نہ رہے تب بھ پیار ختم نہ ہو اور دل میں خدا بستا رہے (2) خدا جس کے دل میں الہٰی کلما بساتا ہے اس کی دنیاوی دولت کی خواہش مٹ جاتی ہے ۔ اسے الہٰی رضا و فرمان کی سمجھ آجاتی ہے ۔ اور وہ رضا میں راضی رہنے کا کھیل کھلتا ہے اور دل کو قابو کرکے زندگی کا طرز عمل بد لیتا ہے (3) جو انسان سوچ سمجھ کر پہچان کرکے اس آنکھوں سے اوجھل خدا کی یادوریاض کرتے ہیں ان کی زندگی بیکار نہیں جاتی ۔ اے کبیر بتادے ان کو کبھی شکشت کا منہ کبھی نہیں دیکھنا پڑتا جو زندگی کے طرز عمل کو بدلنا جانتے ہیں۔

سوُہیِ للِت کبیِر جیِءُ ॥
ایکُ کوٹُ پنّچ سِکدارا پنّچے ماگہِ ہالا ॥
جِمیِ ناہیِ مےَ کِسیِ کیِ بوئیِ ایَسا دینُ دُکھالا ॥੧॥
ہرِ کے لوگا مو کءُ نیِتِ ڈسےَ پٹۄاریِ ॥
اوُپرِ بھُجا کرِ مےَ گُر پہِ پُکارِیا تِنِ ہءُ لیِیا اُباریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نءُ ڈاڈیِ دس مُنّسپھ دھاۄہِ رئیِئتِ بسن ن دیہیِ ॥
ڈوریِ پوُریِ ماپہِ ناہیِ بہُ بِسٹالا لیہیِ ॥੨॥
بہترِ گھر اِکُ پُرکھُ سمائِیا اُنِ دیِیا نامُ لِکھائیِ ॥
دھرم راءِ کا دپھترُ سودھِیا باکیِ رِجم ن کائیِ ॥੩॥
سنّتا کءُ متِ کوئیِ نِنّدہُ سنّت رامُ ہےَ ایکد਼॥
کہُ کبیِر مےَ سو گُرُ پائِیا جا کا ناءُ بِبیکد਼॥੪॥੫॥
لفظیمعنی :
ایک کوٹ ۔ قلعہ ایک مراد جسم ایک ہے ۔ پنچ سکدار ۔ پانچ فرمان شاہی پر عمل کرانے والے ۔ حالا ۔ ٹیکس۔ معاملہ ۔ لوئی ۔ کاشت کی ۔ دکھالا۔ عذاب ۔ تکلیف ۔ (1) پٹواری۔ محاسب۔ اعمالنامے کا حساب رکھنے والا۔ مضف۔ دسے ۔ ڈراتا ہے ۔ پکاریا۔ امداد کے لئے آہ وزاری کی ۔ اباری ۔ بچائیا (1) رہاؤ۔ نو ڈاڈی۔ نو ڈوری کھنچنے والے جریب کش ۔ مراد نو اسنانی جسم کے سوراخ۔ دس منصف۔ پان عضائے احساس اور پانچ اعضائے اعمال ۔ بسٹا لا لیہی ۔ رشوت لیتے یہں (2) بہتر گھر ۔ انسانی جسم بہتر رخنے ۔ اک پرکھ سمائیا۔ واحد خدا بستا ہے ۔ نام لکھائی۔ انسانی زندگی ے سفر کے لئے پروانہ راہداری ۔ نام سچ وحقیقت ۔ دھرم رائے ۔ منصف عدالت الہٰی ۔ سودھیا۔ تحقیقاق کی ۔ پڑتال کی ۔ پانی ۔ قابل دادی ۔ رحم ۔ رتی بھر (3) سنت۔ پاکدامن ۔ خدا رسیدہ ۔ نندہو۔ بدگوئی کرو۔ سوگر۔ ایسا مرشد ۔ بیکو ۔ کامل عاقل ۔
ترجمہ معہ تشریح:
انسانی جسم ایک قلعے کی مانند ہے اس میں پانچ چوہدای سکھدار یا سردار ہیں پانچوں زمین کامعاملہ یا ٹکس مانگتے ہیں۔ جبکہ کبیر جی فرماتے ہیں کہ نہ تو میں کسی مزارعہ ہوں نہ ہی زمین کا شت کی ہے اسلئے یہ دنیا مریے لئے دکھائی اور عذاب کا باعث (1) مجھے ہرروز محاسب کا خوف طاری رہتا ہے ۔ بازو اورپ اٹھا کر مرشد سے فریاد کی للکار ا تو اس نے مجھے بجائیا (1)
نو جریب کشش مراد ذریعے اور دس جسمانی اعضائے انصاف زندگی پر حملہ کرتے ہیں اور اوصاف دل میں بسے نہیں دیتے ۔ جریب پوری ماپتے نہیں بھاری رشوت مانگتے ہیں (2) اس انسنای جس میں بہتر رخنے یا کرمے ہیں جس میں واحد خدا بستا ہے ۔ اس نے الہٰی نام سچ وحقیقت کا زندگی کے سفر کے لئے پروانہ راہداری تحریر کرکے دیا ہے ۔محکمہ انصاف کے منصف نے جب اپنے دفتر میں اعمالات کی تحقیق و پڑتال کی تو رتی بھر بھیمیرے زمے باقی نہ نکلی دادی (3)
جوانسان خدا سے شراکت خدارسید پاکدامن (سنتوں ) کی بھی بدگوئی برائی نہ کرؤ کیونکہ سنت اور خدا ایک جیسے ہیں ۔ اے کبیر بتادے کہ مجھے ایسا مرشد ملا ہے جو کامل عاقل ہے ۔
کلاصہ کلام مدعا ومقصد:
پناہ و سایہ مرشد میں رہنے سے اور الہٰی یادوریاض کرنے سے برائیاں گناہگاریاں و بدکاریاں اپنے تاثرات نہیں ڈل سکتیں۔

راگُ سوُہیِ بانھیِ س٘ریِ رۄِداس جیِءُ کیِ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سہ کیِ سار سُہاگنِ جانےَ ॥
تجِ ابھِمانُ سُکھ رلیِیا مانےَ ॥
تنُ منُ دےءِ ن انّترُ راکھےَ ॥
اۄرا دیکھِ ن سُنےَ ابھاکھےَ ॥੧॥
سو کت جانےَ پیِر پرائیِ ॥
جا کےَ انّترِ دردُ ن پائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُکھیِ دُہاگنِ دُءِ پکھ ہیِنیِ ॥
جِنِ ناہ نِرنّترِ بھگتِ ن کیِنیِ ॥
پُر سلات کا پنّتھُ دُہیلا ॥
سنّگِ ن ساتھیِ گۄنُ اِکیلا ॥੨॥
دُکھیِیا دردۄنّدُ درِ آئِیا ॥
بہُتُ پِیاس جبابُ ن پائِیا ॥
کہِ رۄِداس سرنِ پ٘ربھ تیریِ ॥
جِءُ جانہُ تِءُ کرُ گتِ میریِ ॥੩॥੧॥
لفظیمعنی :
سیہہ۔ خاوند۔ سار۔ خبر۔ قدروقیمت ۔ ساہگت ۔ خاوند پرست۔ ابھیمان ۔ غرور چھوڑ کر۔ انتر۔ فرق۔ دوجاپن۔ تعریف۔ اور دیکھ ۔ دوسروں کی طرف نظر۔ ابھاکھے ۔ غلط ذلیل یا رائے (1) پیر پرائی ۔ دوسروں کا درد۔ درد ۔ رحمدل (1) رہاؤ۔ دوہاگن۔ دو خانودوں والی ۔ دوے پکھ ۔ دونوں طرفوں ۔ ہینی ۔ خالی۔ نرنتر۔ لگاتار۔ بھگت۔ الہٰی عبادت و بندگی ۔ عشق و محبت۔ پریم۔ پرسلات۔ خیالی پل جو نہایت تاریک ہے ۔ پنتھ ۔ راستہ ۔ ہیلا۔ مشکل۔ گون۔ جانا (2) درد وند ۔ جسے درد ے ۔ بہت پیاس۔ بھاری خواہش۔سرن۔ پناہ۔ گت۔ حالت۔
ترجمہ معہ تشریح:
اسے کیا معلوم دوسروں کا درد جس کے اپنے دل میں درد نہیں (1) رہاؤ۔ خاوند کی قدروقیمت خانود پرست عورت ہی سمجھ سکتی ہے ۔ غرور اور گھمنڈ چھوڑ کر آرام و اسائش پاتی ہے ۔ وہ دل و جان اس پر فدا کرتی ہے ۔ اور کسی قسم کی تعریف نہیں رکھتی ۔ نہ دوسروں کی طرف نظر یا نگاہ کرتی ہے نہ بدگوئی سنتی ہے (1) جب کہ دو خانودوں ولای دونوں طرفوں سے خالی رہتی ہے اور عذاب پاتی ہے ۔ جس نے لگاتار پیار نہیں کیا پر سلات کا پنتھ دہیلا ۔ زندگی راستہ بھاری دشوار گذار ہے ۔ میں کوئی ساتھی نہیں اکیلے نے طے کرنا ہوتا ہے (2) میں ۔ دکھی ہوکر دروند تیرے در پر دستک دیتا ہوں مگر کوئیجواب نہیں ملتا۔ اے رویداس بتادے میں تیرا پناہ گریں ہوں جیسے تو سمجھتا ہے اس طرح میری حالت درست کر ۔
.
سوُہیِ ॥
جو دِن آۄہِ سو دِن جاہیِ ॥
کرنا کوُچُ رہنُ تھِرُ ناہیِ ॥
سنّگُ چلت ہےَ ہم بھیِ چلنا ॥
دوُرِ گۄنُ سِر اوُپرِ مرنا ॥੧॥
کِیا توُ سوئِیا جاگُ اِیانا ॥
تےَ جیِۄنُ جگِ سچُ کرِ جانا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنِ جیِءُ دیِیا سُ رِجکُ انّبراۄےَ ॥
سبھ گھٹ بھیِترِ ہاٹُ چلاۄےَ ॥
کرِ بنّدِگیِ چھاڈِ مےَ میرا ॥
ہِردےَ نامُ سم٘ہ٘ہارِ سۄیرا ॥੨॥
جنمُ سِرانو پنّتھُ ن سۄارا ॥
ساںجھ پریِ دہ دِس انّدھِیارا ॥
کہِ رۄِداس نِدانِ دِۄانے ॥
چیتسِ ناہیِ دُنیِیا پھن کھانے ॥੩॥੨॥
لفظیمعنی :
تھر۔ صدیوی ۔ مستقل۔ سنگ ۔ ساتھ۔ گون۔ راستہ۔ سراوپر مرنا۔ موت لازمی ہے ۔ سر اور گھڑی ہے ۔ سوئیا۔ غفلت کررہا ہے ۔ جاگ ۔ ایانا۔ اے نادان بیدار ہو۔ جیون ۔ زندگی ۔ سچ ۔ صڈیوی ۔جانا ۔ سمجھ رکھتی ہے (1) رہاؤ۔ جن جیؤ دیا ۔ جس نے زندگی بخشی ۔ سو رزق انبراوے ۔ وہ روزی پہنچاتا ہے ۔ سبھ گھٹ بھیتر ۔س ارے دلوں میں۔ ہاٹ چلاوے ۔ روزی کا انتظام کرتا ہے ۔ بندگی ۔ اطاعت ۔ میں میرا۔ خوئشتا اپنا پن۔ ہروے نام۔دلمیں الہٰی نام سچ وحقیقت ۔ سمار ۔ یاد کر۔ سوپر ۔ ہر وقت (2) جنم سرانو۔ زندگی کا وقت گذر رہا ہے ۔ پنتھ ۔ راستہ۔ سوار۔ درست نہیں کیا ۔ سانجھ ۔ شام۔ بڑھاپا۔ دیہہ دس ۔ ہر طرف ۔ اندھیارا۔ مایوسی ۔ ندان دیونے ۔ نادان وپاگل۔ چیتس ناہی ۔ یاد نہیں کرتا۔ دنیا فن خانے یہ عالم فناہ کا مقام ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس دن انسان جنملیتا اسی دوقت موت کا دن مقرر ہو جاتا ہے زندگی گذرتی رہتی ہے مگر یہ صدیوی اور مستقل نہیں آخر یہا ں سے چلے جانا ہے ساتھی جار ہے ہیں آخر ہم نے بھی جانا ہے ۔زندگی کی راہیں دور ہیں جبکہ موت سر پر گھڑی ہے (1) اے نادان بے سمجھ تو غفلت کی نیند سو رہا ہے ۔ بیدار ہو تو اس زندگی کو دائمی صدیوی اس عالم میں سمجھ رہا ہے (1) رہاؤ۔ جس نے اے انسان انسانی زندگی بخشتی ہے عنیات کی ہے وہ رزق بھی پہنچاتا ہے ۔ سب کے دل میں روزی کا انتظام کرتا ہے ۔ خوئش پن چھوڑ بندگی و اطاعت کر اور ہر وقت الہٰی نام سچ وحقیقت بسا۔ زندگی گذر رہی ہے ۔ اپنا راستہ طے کر رہی ہے مگر تو نے اپنی راہیں درست اور ہموار نہیں کیں۔ شام ہونے پر (چاروں ) ہر طرف اندھیرا اچھا جائے گا۔ اے رویداس بتادے کہ اے نادان بیوقوف انسان خدا کی یادوریاض نہیں کرتا یہ عالم فناہ کا مقام ہے (3) ۔

سوُہیِ ॥
اوُچے منّدر سال رسوئیِ ॥
ایک گھریِ پھُنِ رہنُ ن ہوئیِ ॥੧॥
اِہُ تنُ ایَسا جیَسے گھاس کیِ ٹاٹیِ ॥
جلِ گئِئو گھاسُ رلِ گئِئو ماٹیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھائیِ بنّدھ کُٹنّب سہیرا ॥
اوءِ بھیِ لاگے کاڈھُ سۄیرا ॥੨॥
گھر کیِ نارِ اُرہِ تن لاگیِ ॥
اُہ تءُ بھوُتُ بھوُتُ کرِ بھاگیِ ॥੩॥
کہِ رۄِداس سبھےَ جگُ لوُٹِیا ॥
ہم تءُ ایک رامُ کہِ چھوُٹِیا ॥੪॥੩॥
لفظیمعنی :
اونچے مندر۔ اونچے محلات اور شاندار عمارتیں۔ سال رسوئی۔ پاک صاف باورچی خانے ۔ فن ۔ دوبارہ (1) تن ۔ جسم۔ گھاس کی تائی ۔ گھاس پچھونا۔ جھونپڑی (1) رہاؤ۔ بھائی ۔ بندھ۔ کنٹب ۔ بھای رشتے دار اور قبیلہ ۔ سہیر۔ ساتھی ۔ کاؤدھ سویرا۔ جلدی کرو۔ گھر کی تار ۔ بیوی ۔ اریہہ تن ۔ لاگی ۔ جو دل و چھاتی سے لگتی رہتی تھی (3) لوٹیا۔ سارا عالم لٹا جا رہا ہے دہوکا کھا رہا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اونچے محلات شاندار عمارتوں پاک صاف باورچی خانون میں ایک گھڑی کے لئے بھی بعد از وفات ٹھہر نا نہیں ملتا (1) ہ انسانی جسم بھی گھاس کے فرض اور جھونپڑی کی مانند ہے جل جانیپر راکھ اور خاک میںملجاتا ہے (1) رہاؤ۔ موت ہوجانے کے بعد بھائی رشتے دار ۔ قبیلہ اور ساتھی کہنے لگتے ہیں کہ اسے جلدی لے چلو (2) بیوی جو ہمیشہ ساتھ رہتی تھی اب مردہ مردہ کہہ کر دور رہتی ہے (3) اے رویداس بتادے کہ سارا عالم فریب میں ۔مگر میں الہٰینام کی یادوریاض سے نجات پاتی ہے ۔

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
راگُ سوُہیِ بانھیِ سیکھ پھریِد جیِ کیِ ॥
تپِ تپِ لُہِ لُہِ ہاتھ مرورءُ ॥
باۄلِ ہوئیِ سو سہُ لورءُ ॥
تےَ سہِ من مہِ کیِیا روسُ ॥
مُجھُ اۄگن سہ ناہیِ دوسُ ॥੧॥
تےَ ساہِب کیِ مےَ سار ن جانیِ ॥
جوبنُ کھوءِ پاچھےَ پچھُتانیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کالیِ کوئِل توُ کِت گُن کالیِ ॥
اپنے پ٘ریِتم کے ہءُ بِرہےَ جالیِ ॥
پِرہِ بِہوُن کتہِ سُکھُ پاۓ ॥
جا ہوءِ ک٘رِپالُ تا پ٘ربھوُ مِلاۓ ॥੨॥
ۄِدھنھ کھوُہیِ مُنّدھ اِکیلیِ ॥
نا کو ساتھیِ نا کو بیلیِ ॥
کرِ کِرپا پ٘ربھِ سادھسنّگِ میلیِ ॥
جا پھِرِ دیکھا تا میرا الہُ بیلیِ ॥੩॥
ۄاٹ ہماریِ کھریِ اُڈیِنھیِ ॥
کھنّنِئہُ تِکھیِ بہُتُ پِئیِنھیِ ॥
اُسُ اوُپرِ ہےَ مارگُ میرا ॥
سیکھ پھریِدا پنّتھُ سم٘ہ٘ہارِ سۄیرا ॥੪॥੧॥
لفظیمعنی :
تپ تپ۔ ستم زدہ ہوکر ۔ نہایت عضب و غائت میں۔ دکھی ہوکر۔ لیہو لیہو۔ تڑپ تڑپ کر ۔ ہاتھ مرورو ۔ تاسف میں ہاتھ ملتی ہوں۔ مراد پچھتاتی ہوں۔ باول۔ ہوئی ۔ دیوانگی میں۔ ۔ سو سوہ لورؤ۔ اس خانود کو چاہتی ہوں۔ تے سیہہ۔ اے خاوند ۔ منمیہہ ۔دلمیں۔ روس۔ غسہ ۔ مجھ اوگن۔ بد اوصاف۔ دوس ۔ قصور (1) سار۔ قدورمنزلت ۔جوبن۔ جوانی ۔ (1) رہاؤ۔ کت گن ۔ کن اوصاف کی وجہ سے ۔ پریتم کے پرہو۔ پانے پیارے کی جدائی کے درد کی وجہ سے ۔ پریہہ بہون ۔ خاوند سے جداہوکر ۔ کیتہہ سکھ ۔ کیتے آرام پا سکتے ہو (2) ودھن کھوہی ۔ بغیر عورت کنواں ۔مراد سنسان میں کنواں ۔ منداکیلی ۔ اکیلی عورت۔ ناکو ساتھی ناکو ملی ۔ بے یار و مدداگار (3) سادھ سنگ محبت و قربت یارسایاں (3) ۔ واٹ۔ راستہ۔ مراد زندگی گذارنے کا راستہ ۔ کھری اڈی ۔ نہات دشوار گذار ۔ کھنہو تکھی ۔کھنٹ یا تلوار سے تیر دھار ۔ بہت پیئی ۔ نہایت پتلی ۔ باریک ۔مارگ ۔ راستہ ۔ پنتھ سجا سوہیر۔صبح سویرے راستہ پکڑا
ترجمہ معہ تشریح:
اے میرے آقا میں تیری قدرومنزلت سمجھ سکا۔ سنہری وقت گنوا کر اب پچھتا رہا ہوں (1) رہاؤ۔ بھاری عذاب برداشت کرکے تڑپ تڑپ کرتا سف میںہاتھ ملتا ہوں دیوانیگ میں خدا کی تالش کر رہا وہں اے خدا اس میں تیرا کوئی قصورنہیں۔مجھ میں بد اوصاف تھے بھی تو نے اسکا غصہ کا (1) اے گالی کوہل تو کس وصف کی وجہس ے کالی ہے ؟ اپنے پیارے کے جدائی کے صدمے نے جلا دیا ہے ۔ پیارے خانود سے خدا ہوکر سکون کہاں ۔ جب مہربان ہوتا ہے خدا تو خود ملاپ عنایت کرتا ہے (2) سنسانکنواں ہے عورت اکیلی نہکوئی یارو مددگار ۔ مہربان خدا جب ہوتا ہے تو صحبت و قربت پارسایاں و پاکدامناں عنایت کرتا ہے اور جدھر نظرجاتی ہے تو خدا یارو مددگار دیکھتا ہوں (3) زندگیکی راہیں نہایت دشوار ہیں تولارکی دھار سے تیز اور نہایت باریک ہیں اس کے اوپر ہمار راستہ ہے ۔ اے شیخ فرید صبح سویرے راستہ سبنھال

سوُہیِ للِت ॥
بیڑا بنّدھِ ن سکِئو بنّدھن کیِ ۄیلا ॥
بھرِ سرۄرُ جب اوُچھلےَ تب ترنھُ دُہیلا ॥੧॥
ہتھُ ن لاءِ کسُنّبھڑےَ جلِ جاسیِ ڈھولا ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِک آپیِن٘ہ٘ہےَ پتلیِ سہ کیرے بولا ॥
دُدھا تھنھیِ ن آۄئیِ پھِرِ ہوءِ ن میلا ॥੨॥
کہےَ پھریِدُ سہیلیِہو سہُ الائیسیِ ॥
ہنّسُ چلسیِ ڈُنّمنھا اہِ تنُ ڈھیریِ تھیِسیِ ॥੩॥੨॥
لفظی معنی:
بیڑا ۔ دریا عبور کرنے کے لئے عارضی کشتی جسے بیڑا کہتے ہیں۔ دیلا۔ بروقت ۔ سرور۔ تالاب یا دریا۔ جب اچھے ۔ جب ظفیانی میں ہے کنارے توڑ رہا ہے ۔ نرن دہیلا۔ تو عبور کرنا تیرنا مشکل ہے (1 کسنجڑے ۔ گل لالہ ۔ ڈہولا۔ عزیز ۔ پیارے (1) رہاؤ۔ آپینے پتلی ۔ خود کمزور ہے ۔ سیہہ کیمرے ۔ بولا۔ دوسرے خاوند سخت کلام۔ دھاتھنی نہ آولی ۔ ایک دفعہ دوہا ہوا دودھ دوبارہ ۔ تھنوںمیںنہیںمراد گیا وقت پھر ہاتھ آتا ہے نہیں (2) سہیلو ۔ ساتھیو ۔ سواہ الالئی ۔ خاوند مراد خدا بلا لیگا۔ اہنس۔ روح۔ ڈمنا۔ اداس۔ ڈھیری ہوسی ۔ ڈھیر ہوجائیگا۔
ترجمہ معہ تشریح:
ہر وقت کشتی تیار نہ کر سکے ۔ جب سمدنر میں طوفان آگیا لہریں اُٹھنے لگیں تو بور کرنا اور تیر نا دشوار ہوگیا (1) اے انسان گل لالہ کو ہاتھ نہ لگانا کیونکہ ہاتھ لگانے سے جلنے کا اندیشہ ہے (1) رہاؤ۔ ایک تو خود کمزور ہو دوسرے دوسرے خاوند کا کلام سخت ہے ۔ دودھ صرف ایک دفعہ ہی دوہا جاتا ہے دوہا ہوا دودھ دوبارہ تھون میں نہیں اتا (2) فرید بتاتا ہے ۔ کہ اے ساتھیوں خدا بلا رہا ہے جب روح پروزا کر جائیگی تو جسم ڈھیر ہوجائیگا۔

خلاصہ و کلام کامدعا و مقصد:
دنیاوی دولت خواہ رنگین شوخ اور دلربا معلوم ہوتے ہے مگر اس میں ملوث ہونے سے روحانی واخلاقی زندگی تباہ وجاتی ہے ۔ زندگی کو کامیاب بنانے کا الہٰیملاپ حاصل کر نے کا اور زنگی کو راہ راست پر لانیکا روحانی و اخلاقی جیت حاصل کرنے کا وقت ار موقعہ ہوتا ہے جب شیطانیت ، شہوت ، غسہ لالچ دنیاوی عشق اور غرور وغیرہ کی بدعتیں اپنا زور پکڑ لیتی ہیں تو زندگی کی نیک راہیں مسدودرہوجاتی ہیں اخلاقی اور روحانی برائیاں اپنی پکڑ مضبوط کر لیتی ہیں زندگی کو روحانی اخلاقی طور پر راہ راست پر لانا دشوار ہوجاتا ہے انسانی زندگی ایک دفعہ نصیب ہوتی ہے دوبارہ نہیں ملتی ہے انسان ایک نحیف ہستی ہے جب کہ الہٰی سخت ہے خدا بلا رہا ہے موت لازمی ہے جب روح پرواز کر جاتی ہے جسم ایک ڈھیر بن جاتا ہے لہذا نام سچ وحقیقت کو اپنا کر الہٰی قربت حاصل کرؤ۔
( جز پنجم ختم شد )
( آغآز جز ششم )


ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
راگُ بِلاۄلُ مہلا ੧ چئُپدے گھرُ ੧॥
توُ سُلتانُ کہا ہءُ میِیا تیریِ کۄن ۄڈائیِ ॥
جو توُ دیہِ سُ کہا سُیامیِ مےَ موُرکھ کہنھُ ن جائیِ ॥੧॥
تیرے گُنھ گاۄا دیہِ بُجھائیِ ॥
جیَسے سچ مہِ رہءُ رجائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جو کِچھُ ہویا سبھُ کِچھُ تُجھ تے تیریِ سبھ اسنائیِ ॥
تیرا انّتُ ن جانھا میرے ساہِب مےَ انّدھُلے کِیا چتُرائیِ ॥੨॥
کِیا ہءُ کتھیِ کتھے کتھِ دیکھا مےَ اکتھُ ن کتھنا جائیِ ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سوئیِ آکھا تِلُ تیریِ ۄڈِیائیِ ॥੩॥
ایتے کوُکر ہءُ بیگانا بھئُکا اِسُ تن تائیِ ॥
بھگتِ ہیِنھُ نانکُ جے ہوئِگا تا کھسمےَ ناءُ ن جائیِ ॥੪॥੧॥
لفظیمعنی :
سلطان ۔ بادشاہ ۔ وڈای ۔ عطمت (1) دیہہ بجھائی۔ سمجھ بخش۔ سچ میہہ رہیو رجائی۔ حقیقت پر ستی یا سچ اپنا کر تیری رضا میں رآضی رہون (1) ریو ہوا۔ وجود میں آئیا ہے ۔ اسنائی ۔ آشنائی۔ تو اسے سمجھتا ہے ۔ واقفکار ہے ۔ اندھلے ۔ بے سمجھ ۔چترائی ۔ چالاکی ۔ دانشمندی (2) کھتی ۔ بیان کروں ۔ کتھے کتھ دیکھا ۔ بینا کرکے اس پر نظر ڈوڑاوں ۔ اکتھ ۔ جو بیان نہ ہو سکے ۔ بھاوے ۔ چاہتا ہے ۔ تیری رضا ہے ۔ تل ۔ ٹھوری سی ۔ ذرا سی (3) کوکر ۔ کتے ۔ بیگانہ ان سے علیحدہ ۔ بھوکا ۔ بھوکنے والا۔ بھگت ہیں۔ الہٰی پریم پیار سے کالی ۔ خصمے ناو نہ جائی ۔ مگر خدا کا نام بیکار بیفائدہ نہیں جاتا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا ایسی سمجھ اور عقل عنایت کر کہ مں تیری صفت صلاح کروں۔ اور اسطرح سے حقیقت و اصلیت میں رآضی رہوں (1) رہاؤ۔ اے خدا یہ تیری کونسی عطمت و حشمت ہے کہ تو بادشاہ ہے اورمیں تجھے میاں کہوں۔ اے میرا آقا جیسی عقل و علم تو نے بخشش کیا ہے ۔۔ انتی تیری حمدوچناہ کرتا وں۔ دورنہ مجھ نادان میں مزید کہنے کی توفیق نہیں (1) یہ سارا عالم تیرا پیدا کیا ہوا اور تیرا بنائیا ہوا ہے ۔ اور تو اس سے واقفکار ہے ۔ اے میرے مالک میں تیری آخرت سے وافق نہیں ہوں مجھ نادان میں اسقدر دانمشندی نہیں ہے (2) اے خدا میں تیرے اوصاف بیان کرنے کی توفیق نہیں رکھتا اور جب بیان کرکے اس پر نظر کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ تو او ر تیرے اوصاف بیان سے باہر ہیں مجھ میں بیان کرنے کی توفیق نہیں۔ جو میں بیان کرتا ۔ اس میں تیری رتی بھر بھی تیری عظمت نہیں تو اتنی بلند ہستی ہے ۔ میں وہی بیان کرتا ہوں جو تو چاہتا ہے (2) یہاں اتنے کتے ہیں مگرمیں ان سے علیحدہ کتاہوں جو ان کتوں مراد شطانیت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے بھونکتا ہوں ان کتوں کو ۔ اگر نانک الہٰی عشق عبادت وریاضت سے بہرہ ہوگا تب بھی خدامیرے آقا کی عطمت و حشمت و شہرت دور نہ ہوگی ۔

بِلاۄلُ مہلا ੧॥
منُ منّدرُ تنُ ۄیس کلنّدرُ گھٹ ہیِ تیِرتھِ ناۄا ॥
ایکُ سبدُ میرےَ پ٘رانِ بستُ ہےَ باہُڑِ جنمِ ن آۄا ॥੧॥
منُ بیدھِیا دئِیال سیتیِ میریِ مائیِ ॥
کئُنھُ جانھےَ پیِر پرائیِ ॥
ہم ناہیِ چِنّت پرائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اگم اگوچر الکھ اپارا چِنّتا کرہُ ہماریِ ॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ بھرِپُرِ لیِنھا گھٹِ گھٹِ جوتِ تُم٘ہ٘ہاریِ ॥੨॥
سِکھ متِ سبھ بُدھِ تُم٘ہ٘ہاریِ منّدِر چھاۄا تیرے ॥
تُجھ بِنُ اۄرُ ن جانھا میرے ساہِبا گُنھ گاۄا نِت تیرے ॥੩॥
جیِء جنّت سبھِ سرنھِ تُم٘ہ٘ہاریِ سرب چِنّت تُدھُ پاسے ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سوئیِ چنّگا اِک نانک کیِ ارداسے ॥੪॥੨॥
لفظیمعنی :
من مندر ۔ انسانی دل ایک پرستش گاہ ہے ۔ تن ۔ جسم۔۔ دیس ۔ پہراوا۔ قلندر۔ فقیر۔ گھٹ۔ دل ۔ قلب۔ تیرتھ۔ زیارت گاہ ۔ نادا۔ زیارت۔ ایک سبد ۔ ایک کلام ۔ پران دست ہے ۔ دلمیں بسا ہوا ہے ۔ باہڑ۔ دوبار (1) من بیدھیا۔ بندھا ہوا ۔ دیال سیتی ۔ مہربان کے ساتھ ۔ کون جانے پرائی ۔ دوسروں کے درد کی کسے سمجھ ہے ۔ چنت ۔ فکر۔ تشویش (1) رہاؤ۔ اگم ۔ انسانی عقل و ہوش سے اوپر۔ اگوچر۔ بیان سے باہر۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ اپار۔ اتنا وسیع کہ کنار نہ ہو۔ جل تھل مہیل۔ سمندر۔ زمین اور خلاص۔ بھر پر ۔ بھر پور ۔ مکمل۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں۔ جوت۔ نور (2) سکھ مت۔ تعلیم یافتہ عقل۔ مندر چھاوا۔ پرستش گاہں اور سرائیں ۔ تجھ بن اے خدا تیرے بغیر۔ اور ۔ اور ۔دوسرے ۔ میرے صاحبا میرے آقا۔ مالک (3) جیئہ جنت۔ مخلوقات ۔ سرن ۔پناہ ۔ سرب چنت۔ سب کا فکر۔ تدھ پاسے ۔ تجھے ۔ تدھ بھاوے ۔ تو چاہتا ہے ۔ ارداسے ۔ عرض ۔ گذارش۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے ماں میرا دل مہربان خدا کی محبت میں بندھ گیا ہے ۔ اب مجھے دوسروں تشویش اور فکر ختم ہوگیا ہے کیونکہ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی تکلیف اور درد کو نہیں سمجھتا (1) رہاؤ۔ دل ایک پرستش گاہ ہے اور جسم ایک فقرانہ بھیس اور دل ہی زیارت گاہ زیارت کے لئے ایک کلام میرے دل میں گھر کر گیا ہے دوبارہ دوبارہ پیدا نہ ہوں (1) خدا انسانی عقل ہوش سے اوپر نہ قابل بیان حساب سے باہر اور اتنا وسیع کر کہنار نہیں تجھے ہی سب کا فکر ہے ۔ تو سمند رزمین اور خلاص میں غرض یہ کہ ہر دل میں تیرا نور پر نور ہے (2) سب کو تعلیم و عقل و ہوش تو ہی دینے والا ہے ۔ یہ مندر اور سرائے تو ہی دینے والا ہے تیرا ثانی نہیں کوئ دوسرا۔ میں ہر روز تیری ہی صفت صلاح کرتا ہوں (3) سارے مخلوقات تیرے ہی زیر سایہ ہے تجھے ہی سب کا فکر ہے نانک عرض گذارتا ہے کہ جو تیری رضا ہو وہی مجے اچھی لگے اچھا سمجھو مراد میں تیری رضا کو ہی اچھا جانوں۔

بِلاۄلُ مہلا ੧॥
آپے سبدُ آپے نیِسانُ ॥
آپے سُرتا آپے جانُ ॥
آپے کرِ کرِ ۄیکھےَ تانھُ ॥
توُ داتا نامُ پرۄانھُ ॥੧॥
ایَسا نامُ نِرنّجن دیءُ ॥
ہءُ جاچِکُ توُ الکھ ابھیءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
مائِیا موہُ دھرکٹیِ نارِ ॥
بھوُنّڈیِ کامنھِ کامنھِیارِ ॥
راجُ روُپُ جھوُٹھا دِن چارِ ॥
نامُ مِلےَ چاننھُ انّدھِیارِ ॥੨॥
چکھِ چھوڈیِ سہسا نہیِ کوءِ ॥
باپُ دِسےَ ۄیجاتِ ن ہوءِ ॥
ایکے کءُ ناہیِ بھءُ کوءِ ॥
کرتا کرے کراۄےَ سوءِ ॥੩॥
سبدِ مُۓ منُ من تے مارِیا ॥
ٹھاکِ رہے منُ ساچےَ دھارِیا ॥
اۄرُ ن سوُجھےَ گُر کءُ ۄارِیا ॥
نانک نامِ رتے نِستارِیا ॥੪॥੩॥
لفظیمعنی :
آپے سبد ۔ خود ہی کلام ۔ آپے نیسنا ۔ پروانہ ۔ آپے سرتا۔ سننے والا۔ آپے جان۔ با علم ۔ تان ۔ طاقت۔ توفیق ۔ توداتا۔ سخی ۔ دینے والا۔ پروان۔ منظور ۔ قبول۔ نام ۔ سچ وحقیقت (1) نرنجن ۔ بیداغ ۔ پاک۔ دیؤ۔ فرشتہ دیوتا۔ جاچک ۔ بھکاری (1) الکھ سمجھ سے باہر۔ ابھیؤ۔ جسکا راز یا بھید سمجھا نہ جا سکے (1) رہاؤ۔ مائیا موہ ۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ دھڑکتی نار۔ ملامت زدہ بدچلن عورت۔ بھونڈی ۔ بد صورت۔ بد شکل۔ کامن۔ عورت۔ کامنہار۔ گنڈے ۔ تعویذ وغیرہ کرناے ولای ۔ راج ۔ حکومت۔ روپ ۔ شکل وصورت ۔ دن چار چند روزہ ۔ اندھیار۔ اندھیرا ۔ نام ملے چانن۔ سچ وحقیقت روشن ۔ (2) چکھ چھودی ۔ ملاحظہ کیا۔ سہسا ۔ شک ۔ فکر۔ عہجات۔ حرامی ۔ ابکے ۔ واحد (3) سبد موئے ۔ سبق سے خوئش پن۔ اپنت۔ مار موئے ۔ ختم کی ۔ من سے ۔ مان ماریا۔ من سے من پر چیت حاسل کی ۔ ٹھاک رہے ۔ روکھ رھا۔ من ساچے دھاریا۔ دلمیں خدا بسائیا۔ واریا۔ قربان۔ نام رتے ۔ سچ وحقیقت میں محو ومجذوب۔ نستاریا۔ نجات حاصل کی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے پاک خدا تیرا نام بھی تیری طرح پاک ہے مین بھکاری ہوں اور تو سمجھ و عقل سے باہر تیرا راز بھی سمجھ سے باہر ہے (1) رہاؤ۔ تو اے خدا ہی سبق و کلام ہے خود ہی زندگی کے راستے کے لئے پروانہ۔ راہداری ۔ خود سننے والا خود ہی سمجھنے وال اخود ہی پیدا کرکے اپنی توفیق و قوت کی جانچ کرتا ہے (1) دنیاوی دولت کی مح﷽ت ملامت زدہ بد چلن عورت جیسی ہے ۔ بد شکل گنڈے تعویز جادور وغیرہ کرنے والی عورت جیسی ہے ۔ حکومت اور خوبصورتی چند روز کے لئے ہوتی ہے ۔ نام سچ وحقیقت کی روشنی سے ذہنی و جہالت کا اندھیرا کا فور ہوجاتا ہے (2) یہ آزمودہ ہے ذرا بھی شک نہیں کر جس کا باپ ساہمنے نظر آتا ہو حرامی نہیں ہوتا۔ اور بد نسل نہیں کہلاتا ۔ وحدت کو نہیں ہوتا خود وہی سب کچھ کرتا اور کراتا ہے (3) جس نے سبق و کلام مرشد خوئشاتا یا اپنا پن کتم کر لیا اور اپنے آپ کو دنیاوی دولت کے خیالات کی لہروں کو روکنے میں اپنے من ہر اپنے من سے یت حاصل کر لی کیونکہ سچا کارساز کرتار اسے اپنا آسرا دیتا ہے قربان وہں مرشد پر کہ اس کے بغیر نیں کوئی دوسرا ایسا۔ اے نانک خدا ایسے الہٰی نام سچ و حقیقت میں محو ومجذوب انسانوں کو کامیاب بناتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੧॥
گُر بچنیِ منُ سہج دھِیانے ॥
ہرِ کےَ رنّگِ رتا منُ مانے ॥
منمُکھ بھرمِ بھُلے بئُرانے ॥
ہرِ بِنُ کِءُ رہیِئےَ گُر سبدِ پچھانے ॥੧॥
بِنُ درسن کیَسے جیِۄءُ میریِ مائیِ ॥
ہرِ بِنُ جیِئرا رہِ ن سکےَ کھِنُ ستِگُرِ بوُجھ بُجھائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
میرا پ٘ربھُ بِسرےَ ہءُ مرءُ دُکھالیِ ॥
ساسِ گِراسِ جپءُ اپُنے ہرِ بھالیِ ॥
سد بیَراگنِ ہرِ نامُ نِہالیِ ॥
اب جانے گُرمُکھِ ہرِ نالیِ ॥੨॥
اکتھ کتھا کہیِئےَ گُر بھاءِ ॥
پ٘ربھُ اگم اگوچرُ دےءِ دِکھاءِ ॥
بِنُ گُر کرنھیِ کِیا کار کماءِ ॥
ہئُمےَ میٹِ چلےَ گُر سبدِ سماءِ ॥੩॥
منمُکھُ ۄِچھُڑےَ کھوٹیِ راسِ ॥
گُرمُکھِ نامِ مِلےَ ساباسِ ॥
ہرِ کِرپا دھاریِ داسنِ داس ॥
جن نانک ہرِ نام دھنُ راسِ ॥੪॥੪॥
لفظیمعنی :
گربچنی ۔ سبق و کلام مرشد سے ۔ سہج دھیائے ۔ مستقل مزاجی ۔ ہر کے رنگ ۔ خدا سے متاچر ہوکر۔ من مانے ۔ دلمیں یقین پیدا ہوتا ہے ایمان آتا ہے ۔ منمکھ بھرم بھلے لورانے ۔ خودی پسند وہم وگمان میں پاگل ہوا رہتا ہے ۔ جنہیں کلما سبق مرشد سے الٰی پہچان ہوجاتی ہے ۔ وہ الہٰی یاد کے بغیر نہیں رہ سکتے (19) درسن دیدار۔ سگر بوجھ بجھائی ۔ سچے مرشد نے سمجھائیا ہے (1) رہاؤ۔ پربھ وسرے ۔ خدا کو بھول جا نے سے ۔ مرود کھالی ۔ عذاب میں رہتا ہوں۔ بیراگی ۔ طارق۔ نہالی ۔ خوشی ۔ نہار ۔ نگاہ۔ لہذ جہاں خوشی درست معلوم ہوتا ہے ۔ سانس گراس۔ ہر سانس ہر لقمہ ۔ مراد سوتے جاگتے کھاتے پیتے ۔ گورمکھ ہر نالی ۔مرشد کے ویسلے سے معلوم ہوا ہے کہ خدا ساتھ ہے (2) اکتھ کھتا کہنے گر بھائے ۔ خدا انسانی رسائی سے اوپر دل اور ایمان سے بعید۔ گر بھائے ۔ مرشد کی رضا و رحمت سے ۔ دئے دکھائے ۔ دیدار کرا دیتا ہے ۔ بن گر کرنی ۔ بغیر اعمال مرشد۔ ہونمے مٹ ۔ خودی مٹا کر۔ گر سبد۔ کلام رمشد ۔ چل ے گر سبد سمائے ۔ سبق وکالم مرشد کی مطابق (3) من مکھ وچھڑے ۔ خدا سے منکر ۔ کھوٹی راست۔ بیکار سرمایہ۔ گورمکھ نام ملے ساباس مرشد سے الہٰی نام سچ وحقیقت کی ملنے سے شہرت حاصل ہوتی ہے ۔ ہر کر پادھاری داسن داس۔ خدا نے رحمت فرمائی اپنے خادموں کا خادم کیا۔ نام دھن راس۔ الہٰی نام سچ حق وحقیقت ہی سرمایہ ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب سے سچے مرشد نے سمجھائیا ہے خدا کی یاد کے بغیر زندگی محال ہوگئی ہے ۔ اے ماں دیدار بغیر جیو گیسے ۔ رہاؤ ۔ کلام مرشد سے مستقل مزاج اور پر سکون ہوگیا ہوں ۔ الہٰی پریم پیار سے متاثر الہٰی یاد میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ مرید من دیوانے ہوکر وہم وگمان میں گمراہ رہتے ہیں۔ کلام مرشد کے ذریعے جنہیں پہچان ہوجاتی ہے ۔ الہٰی یاد کے بغیر رہ نہیں سکتے (1) اب مرشد نے سمجھائیا ہے کہ خدا تماہرے ساتھ ہے خدا و بھلا کر اس کی تکلیف سے قریب المرگ ہوجاتا ہوں میں ہر وقت ہر سانس ہر لقمہ خدا کو یاد کرتا ہوں اور اس کی تلاش میں رہتا ہوں ۔ ہمیشہ طارق ہو کر غمگینی الہٰٰ نام سچ وحقیقت میں نگاہ ہے (2) الہٰی حمدوثناہ مرید مرشد ہوکر ہی کی جا سکتی ہے ۔ مرشد اس خدا کا دیدار کر دیتا ہے جو انسنای عقل ہوش سے بعید ہے بغیر مرشد کے بتائے ہوئے راستے اور طریقے دوسرا طریقہ اور راستہ اپنانا بیکار ہے ۔ خودی مٹا کر سبق وکلام مرشد کی مطابق اپنی طرز زندگی اختیار کرتا ہے (3) مرید من منکر ہو کر کام کرتا ہے ۔ اسکے دامن کھوٹی پونچی پڑتی ہے جو روحآنیت کے کام نہیں آتی ۔ مرید مرشد سے جسے الہٰی نام سچ وحقیقت جاتاہے ۔ وہ عظمت و حشمت اور شہرت پاتا ہے ۔ خدا جسے اپنی کرم وعنیات اور رحمت سے اپنے خادموں کا خادم بناتا ہے اے نانک۔ وہ الہٰی نام سچ وحقیقت کا سرمایہ پاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੩ گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
دھ٘رِگُ دھ٘رِگُ کھائِیا دھ٘رِگُ دھ٘رِگُ سوئِیا دھ٘رِگُ دھ٘رِگُ کاپڑُ انّگِ چڑائِیا ॥
دھ٘رِگُ سریِرُ کُٹنّب سہِت سِءُ جِتُ ہُنھِ کھسمُ ن پائِیا ॥
پئُڑیِ چھُڑکیِ پھِرِ ہاتھِ ن آۄےَ اہِلا جنمُ گۄائِیا ॥੧॥
دوُجا بھاءُ ن دیئیِ لِۄ لاگنھِ جِنِ ہرِ کے چرنھ ۄِسارے ॥
جگجیِۄن داتا جن سیۄک تیرے تِن کے تےَ دوُکھ نِۄارے ॥੧॥ رہاءُ ॥
توُ دئِیالُ دئِیاپتِ داتا کِیا ایہِ جنّت ۄِچارے ॥
مُکت بنّدھ سبھِ تُجھ تے ہوۓ ایَسا آکھِ ۄکھانھے ॥
گُرمُکھِ ہوۄےَ سو مُکتُ کہیِئےَ منمُکھ بنّدھ ۄِچارے ॥੨॥
سو جنُ مُکتُ جِسُ ایک لِۄ لاگیِ سدا رہےَ ہرِ نالے ॥
تِن کیِ گہنھ گتِ کہیِ ن جائیِ سچےَ آپِ سۄارے ॥
بھرمِ بھُلانھے سِ منمُکھ کہیِئہِ نا اُرۄارِ ن پارے ॥੩॥
جِس نو ندرِ کرے سوئیِ جنُ پاۓ گُر کا سبدُ سم٘ہ٘ہالے ॥
ہرِ جن مائِیا ماہِ نِستارے ॥
نانک بھاگُ ہوۄےَ جِسُ مستکِ کالہِ مارِ بِدارے ॥੪॥੧॥
لفظیمعنی :
دھگر ۔ لعنت ۔ کاپڑاانگ چڑھائیا۔ کپڑے پہننا۔ سریر۔ جسم۔ کٹنب ۔ قبیلہ ۔ پروار۔جت ۔ جسے ۔ خصم۔ خدا۔ پوڑی چھڑکی ۔ موقعہ گنوا کر۔ اہلاجسم۔ قیمتی زندگی (1) دوجا بھاؤ۔ دنیاوی دولت سے محبت ۔ لولاگن۔ پیار ۔ دسارے ۔ بھلائے ۔ جگجیون داتا۔ علام کو پیدا کرنے والا سخی ۔ دوکھ نوارے ۔ عذاب مٹائے (1) رہاؤ۔ دیاپت۔ مہربانیوں کا مالک ۔ رحمان الرحیم۔ جنت ۔ مخلوق۔ مکت۔ نجات یافتہ۔ ازاد۔ بندھ ۔ غلام۔ آکھ دکھانے ۔ کہلاتے ہیں (2) ایک لولاگی ۔ جسے واحد وحدت سے محبت ہے ۔ سدا رہے ہر نالے ۔ ہمیشہ کدا ساتھ رہتا ہے ۔ گہن گت ۔ روحانی حالت کی گہرای ۔ سچے ۔ صدیوی خدا۔ سوارے ۔ راہ راست پر لات اہے ۔ بھرم بھلانے ۔ وہم وگمان میں گمراہ۔ منمکھ ۔ مرید من ۔ نہ اروار نہ پار ۔ منجدھار (3) ندر کرے ۔ جس پر ہو نظر عنیات و شفقت ۔ گر کا سبد سمہاے ۔کلام مرشد دل میں بسائے ۔ ہرجن۔ خادم خدا ۔ مائیا موہ نستارے ۔ دنیاوی دولت کی مح﷽ت میں کامیاب بناتا ہے ۔ وہم وگمان۔ بھرم بھلانے شک و شبہات میں گمراہ۔ منمکھ ۔ مریدمن۔ بھاگ۔ نصیبہ۔ قسمت۔ مقدر۔ مستک۔ پیشنای۔ کالیہہ ماربددارے ۔ موت کو ختم کر دیتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
دنیاوی دولت کی محبت خدا سے محبت نہیں ہونے دیتی خدا کو بھلا دیتی ہے ۔ اے دنیا بنانے والے جو ہیں خدمتگار تیرے ان کا عذاب مٹاتا ہے (1) رہاؤ۔ لعنت اس کھانے سونے پر اور لعنت کپڑے پہننے پر اور لعنت اس قبیلے اور پروار پر اور لعنت اس جسم پر جس نے ملاپ خدا نہیں پائیا۔ یہ سیڑھی جب نکل گئی ہاتھ تو یہ بیش قیمت زندگی گنوا لیگا (1) اے خدا تو رحما الرحیم مہربانی کا مالک اور سخی ہے کونسی توفیق ہے ۔ انسان میں ۔ آزادی نجات اور غلامی تیرے ہاتھ ہے ایسا بیان کرتے اور بتاتے ہیں ۔ مرید مرشد آزاد بندھنوں سے آزاد کہلاتا ہے دنیاوی دولت کی محبت سے جب تک مرید من غلام ہے دنایوی دولت کی محبت کا (2) آزاد وہی ہے خادم جس کی واحد دخدا سے محبت ہے سدا ساتھ خدا کا پات اہے ایسے انسانوں کی روحانی گہرائی و سنجیدگی بیان سے باہر ہوتی ہے خدا خود ان کی نزدیگ کو آراستہ کرتا ہے ۔ جو دنیاوی دولت کی محبت میں رہ کر بھٹکتے رہتے ہیں گمراہ وہ ہوئے ہیں خودی پسند کہلاتے ہیں۔ مخدھار میں پھنستے رہتے ہیں ــ(3) جس پر نظر عنایت شفقت اور رحمت خد اکی ہوتی ہے وہی سبق کلام مرشد حاصل گرتا ہے اور اپنے دل میں بساتا ہے مگر خدمتگار خدا کا کے خدا دنیاوی دولت میں بھی کامیاب بناتا ہے ۔۔ اے نانک جس کی پیشانی پر قسمت اس کی پیدار ہوجاتی ہے وہ روحانی موت کو بھی مار بھگاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੩॥
اتُلُ کِءُ تولِیا جاءِ ॥
دوُجا ہوءِ ت سوجھیِ پاءِ ॥
تِس تے دوُجا ناہیِ کوءِ ॥
تِس دیِ کیِمتِ کِکوُ ہوءِ ॥੨॥
گُر پرسادِ ۄسےَ منِ آءِ ॥
تا کو جانھےَ دُبِدھا جاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپِ سراپھُ کسۄٹیِ لاۓ ॥
آپے پرکھے آپِ چلاۓ ॥
آپے تولے پوُرا ہوءِ ॥
آپے جانھےَ ایکو سوءِ ॥੨॥
مائِیا کا روُپُ سبھُ تِس تے ہوءِ ॥
جِس نو میلے سُ نِرملُ ہوءِ ॥
جِس نو لاۓ لگےَ تِسُ آءِ ॥
سبھُ سچُ دِکھالے تا سچِ سماءِ ॥੩॥
آپے لِۄ دھاتُ ہےَ آپے ॥
آپِ بُجھاۓ آپے جاپے ॥
آپے ستِگُرُ سبدُ ہےَ آپے ॥
نانک آکھِ سُنھاۓ آپے ॥੪॥੨॥
لفظیمعنی :
اتل۔ جو تولیا نہ جا سکے ۔ سمجھ و اندازے سے باہر۔ سوجہی سمجھ ۔ ککو ۔ کس طرح (1) گر پرساد۔ رحمت مرشد سے ۔ دبھا۔۔ دوچتی ۔ دوہری سمجھ ۔ صراف۔ پڑتا۔ تحقیقتا کرنے والا۔ جانچکار۔ کسوتی ۔ پیمانہ ۔ پر کھے ۔ نرخ۔ چلائے ۔ زیر کار۔ استعمال کرنا (2) روپ شکل و صورت ۔ نرمل ۔ پاک ۔ تس تے وہئے ۔ تیرے کئے ہوئے ہیں۔ سبھ ۔ طرح طرح کی قسموں کی ۔ جسنونے ۔ جسے اس کی محبت پیدا کرتا ہے ۔ تس آئے ۔ اس کے پا س آتی ہے ۔ سچ ۔ صدیوی ۔ سچ سمائے تو سچ مراد خدا بستا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
رحمت مرشد سے خدا دلمیں جب بس جاتا ہے تو سمجھو اس کی دوچتی مراد بھٹکن مٹ گئی (1) رہاؤ ۔ الہٰی ہستی اتنی بلند و وسیع ہے ہنہ اس کا اندازہ ہو سکتا ہے نہ شمار نہ تو ازن ہو سکتا ہے نہ مثال دی جا سکتی ہے ۔ نہ اس سے علیحدہ کوئی ایسی ہستی ہے نہ بتائی جا سکتی ہے (1) خدا خود ہی ممتحن ہے اور خود ہی پیمانہ لا کر اسے دیکھتا ہے ۔ خود ہی نکال نتیجہ صرف کرتا ہے اسے ہی سارے کھیل کی سمجھ ہے ۔ اس کی ہی کرم و عنیات اس محتان میں کامیابی ملتی ہے (2)
یہ دنیاوی دولت خدا کی ہی پیدا کر دہ ہے جسے یکسوئی یا ملاپ عنیات کرتا ہے وہ پاک وپائس ہوجاتا ہے ۔ جسے اس دنیاوی دولت کی محبت لگاتا ہے اسے لگتی ہے ۔ خود ہی صدیوی رہنے والی صورت وہ رکھاتا ہے ۔ تبھی انسان اس میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے (3) خود ہی محو ہے خود میں اور کود ہی دنیاوی دولت ہے ۔ خود ہی دیتا ہے سمجھ زندگی کی اور خود ہی ریاضت کرتا ہے ۔ خود ہی سچا مرشد ہے اور خود ہی ہے کلام اسکا اے نانک خود ہی کہہ سناتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੩॥
ساہِب تے سیۄکُ سیۄ ساہِب تے کِیا کو کہےَ بہانا ॥
ایَسا اِکُ تیرا کھیلُ بنِیا ہےَ سبھ مہِ ایکُ سمانا ॥੧॥
ستِگُرِ پرچےَ ہرِ نامِ سمانا ॥
جِسُ کرمُ ہوۄےَ سو ستِگُرُ پاۓ اندِنُ لاگےَ سہج دھِیانا ॥੧॥ رہاءُ ॥
کِیا کوئیِ تیریِ سیۄا کرے کِیا کو کرے ابھِمانا ॥
جب اپُنیِ جوتِ کھِنّچہِ توُ سُیامیِ تب کوئیِ کرءُ دِکھا ۄکھِیانا ॥੨॥
آپے گُرُ چیلا ہےَ آپے آپے گُنھیِ نِدھانا ॥
جِءُ آپِ چلاۓ تِۄےَ کوئیِ چالےَ جِءُ ہرِ بھاۄےَ بھگۄانا ॥੩॥
کہت نانکُ توُ ساچا ساہِبُ کئُنھُ جانھےَ تیرے کاماں ॥
اِکنا گھر مہِ دے ۄڈِیائیِ اِکِ بھرمِ بھۄہِ ابھِمانا ॥੪॥੩॥
لفظیمعنی :
صاحب۔ مالک ۔ سیوک ۔ خدمتگار۔ نوکر۔ سیو۔ خدمت۔ بہانہ ۔ غلط ذلیل۔ ایک سمانا۔ برابر (1) کرم۔ بخشش۔ اندن ۔ ہر روز۔ سہج دھیانا۔ پر سکون روحانی توجہی ۔ ستگرہرچے ۔ سچے مرشد کے ذریعے جب یقین واظق ہو جائے ۔ ہر نام سمانا ۔ تو الہٰی نام سچ وحقیقت میں محو ومجذوب (1) رہاؤ۔ ابھیمانا ۔ غرور۔ تکبر۔ تھمنڈا ۔ جوت کھنیہہ۔ جب اپنا نور یادی ہوتی طاقت کھنچ لیتا ہے ۔ دکھایانا۔ بیان (2) گنی ندھانہ ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ بھگونا۔ بابرگت خدا (3) ساچا صاحب ۔ صدیوی سچا مالک۔ اکناگھر مینہہ دے وڈیائی ۔ ایک کو بلا محنت و ترود عظمت و حشمت عنیات کرتا ہے ۔ اک بھرم بھویہہ ابھیمانا۔ ایک وہم وگمان اور غرورمیں بھٹکتے ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو سچے مرشد کی رحمت وعنایت سے الہٰی نام سچ وحقیقت میں محؤ ومجذوب ہوجاتا ہے مگر مرشد کا ملاپ اسے حاصل ہوتا ہے ۔ جس پر الہٰی کرم وعایت ہواوہ ہروروز ہر وقت روحآنی مستقل مزاجی میں اپن ادھیان الہٰی نام میں لگات اہے (1) رہاؤ۔ الہٰی کرم وعنیات سے اہی انسان خدمتگار خدا ہوتا ہے اور خدا کی مہربانی سے الہٰی خدمت حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے بارے کوئی کیا غلط دلیل دے سکتا ہے ۔ اے خدا یہ ایک تیرا ایسا کھیل بنائیا ہو اہے کہ تو سب میں برابر بستا ہے (1) کسمیں ہے توفیق تیری خدمت کی خدائیا کسے اسکا غرور ہو سکتا ہے جب اپنا نور تو کھنچ لیتا ہے کوئی بینا کرکے تو دکھاائے (2) خود ہی ہے تو مرشد اور خود ہی طالب علم اور کو دہی اوصاف کا خزانہ اے خدا جیسے تو چاہتا ہے اسی راہ پر تو چلاتا ہے اسی طرح انسان چلت اہے ۔ اے نانک۔ سچا ملاک ہے خدا کسے خبر ہے اس کے کاموں کی ایک کو بخشتا ہے بلامحت و مشقت گھر بیھٹے عظمت و حشمت اور بہت سے گمراہ رہتے ہیں ۔ غرور و تکبر میں اور بھٹکتے رہتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੩॥
پوُرا تھاٹُ بنھائِیا پوُرےَ ۄیکھہُ ایک سمانا ॥
اِسُ پرپنّچ مہِ ساچے نام کیِ ۄڈِیائیِ متُ کو دھرہُ گُمانا ॥੧॥
ستِگُر کیِ جِس نو متِ آۄےَ سو ستِگُر ماہِ سمانا ॥
اِہ بانھیِ جو جیِئہُ جانھےَ تِسُ انّترِ رۄےَ ہرِ ناما ॥੧॥ رہاءُ ॥
چہُ جُگا کا ہُنھِ نِبیڑا نر منُکھا نو ایکُ نِدھانا ॥
جتُ سنّجم تیِرتھ اونا جُگا کا دھرمُ ہےَ کلِ مہِ کیِرتِ ہرِ ناما ॥੨॥
جُگِ جُگِ آپو آپنھا دھرمُ ہےَ سودھِ دیکھہُ بید پُرانا ॥
گُرمُکھِ جِنیِ دھِیائِیا ہرِ ہرِ جگِ تے پوُرے پرۄانا ॥੩॥
کہت نانکُ سچے سِءُ پ٘ریِتِ لاۓ چوُکےَ منِ ابھِمانا ॥
کہت سُنھت سبھے سُکھ پاۄہِ مانت پاہِ نِدھانا ॥੪॥੪॥
لفظیمعنی :
پورا تھاٹ۔ پوری شان ۔ پورے ۔ کامل خدا نے ایک سمانا۔ ایک سی ۔ پر پنچ۔ عالم ۔ ساچے نام۔ صدیوی ۔ سچ و حیقت۔ وڈیائی ۔ عظمت۔ مت ۔ ایسا نہ ہو۔ وہر ہو گمانا۔ غور یا گھمنڈ کرؤ (1) مت۔ سمجھ ۔ سبق ۔ سمانا۔ متاثر۔ جیہو۔ وہ شخس ۔ بانی ۔ کلام۔ سبق۔ انتر دلمیں۔ ہرنام ۔ الہٰی نام (1) رہاؤ۔ نیڑا۔ فیسلہ ۔ اسلتی۔ بدھانا۔ خزانہ ۔ جت۔ شہوت پر ضبط۔ سنجم۔ برائیوں اور بدکاریوں پر ضبط اور پرہیز پرہیز گاری ۔ کل ۔ کل بگ۔ مشیرنی کے دورمیں کرت ۔ صفت صلاح۔ ہرناما۔ الہٰی نام سچ وحقیقت (2) جگ جگ ۔ ہر زمانے کا ۔ دھرم۔ انسانی فرائض۔ سودھ ۔ بغور۔ پروانا۔ قبول۔ منظور۔ ابھیمانا۔ غور۔ تگبر۔ کہت۔ کہنے والے ۔ سنت۔ سننے سے ۔ مانت ۔مان کر دل میں بسانے سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جسے سچے مرشد کے دیئے ہوئے سبق میں یقین و ایمان آجات اہے وہ مرشد کے سبق پر عمل کرتا ہے اور جو اس سبق و کالم سمجھ جات اہے ذہن نیشن ہوجاتی ہے تو الہٰینام سچ وحقیقت اس کے ذہن میں بس جاتا ہے (1) رہاؤ۔ کامل م خدا نے پوری کامل شان بنائی جو سب کے لئے ایک جیسی ہے ۔ اس علام میں سچے صدیوی سچے نام سچ وحقیقت کو عطمت و حشمت حاصل ہے ۔ ایسا نہ ہو نہ کوئی غرور کرے ۔ (1) چاروں جگوں یا زمانوں کا اب یہی فیصلہنتیجہ یا نچوڑ یا خلاصہ سمجھ آتا ہے جو ایک خزانہ ہے شہوت پر ضبط رکھنا ۔ز ارت ۔ا س وقت انسانی فرض خیال کیا جات اتھا ۔ ہندو مذہب کی مذہبی کتابوں کا بغور مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے ۔ مگر اب اس کل پرزے یعنی مشیرنی کے دور میں الہٰی نام سچ وحقیقت کی صفت صلاح ہی انسانی دھرم یا فرض ہے (2) ہر زمانے میں علیحدہ علیحدہ انسانی مذہب یا فرائض اپنے اپنے ویدوں اور پرانوں کا بغور مطالعہ کرکے دیکھ لو ہر دور میں شہوت پر ضبط اور براہوں اور بد اعمالوں سے پرہیز دھرم سمجھا جات اہے جنہوں ے مرید مرشد ہوکر الہٰی نام سچ حقیقت اپنایا ہے ۔ وہی انسان مکمل طور پرمقبول ہوتے ہیں (3) نانک صاحب فرماتے ہیں کہ اے خدا تیری کا ر عمل کو کون سمجھ سکتا ہے کہ سچے صدیوی خدا سے پیار کر نے سے وہموگمان مٹ جاتا ہے کہنے سننے سے ہر قسم کے آرام و آسائش ملتے اور امننے سے اور ایمان لانے سے الہٰی تام کا خزانہ نہ پاتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੩॥
گُرمُکھِ پ٘ریِتِ جِس نو آپے لاۓ ॥
تِتُ گھرِ بِلاۄلُ گُر سبدِ سُہاۓ ॥
منّگلُ ناریِ گاۄہِ آۓ ॥
مِلِ پ٘ریِتم سدا سُکھُ پاۓ ॥੧॥
ہءُ تِن بلِہارےَ جِن٘ہ٘ہ ہرِ منّنِ ۄساۓ ॥
ہرِ جن کءُ مِلِیا سُکھُ پائیِئےَ ہرِ گُنھ گاۄےَ سہجِ سُبھاۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سدا رنّگِ راتے تیرےَ چاۓ ॥
ہرِ جیِءُ آپِ ۄسےَ منِ آۓ ॥
آپے سوبھا سد ہیِ پاۓ ॥
گُرمُکھِ میلےَ میلِ مِلاۓ ॥੨॥
گُرمُکھِ راتے سبدِ رنّگاۓ ॥
نِج گھرِ ۄاسا ہرِ گُنھ گاۓ ॥
رنّگِ چلوُلےَ ہرِ رسِ بھاۓ ॥
اِہُ رنّگُ کدے ن اُترےَ ساچِ سماۓ ॥੩॥
انّترِ سبدُ مِٹِیا اگِیانُ انّدھیرا ॥
ستِگُر گِیانُ مِلِیا پ٘ریِتمُ میرا ॥
جو سچِ راتے تِن بہُڑِ ن پھیرا ॥
نانک نامُ د٘رِڑاۓ پوُرا گُرُ میرا ॥੪॥੫॥
لفظیمعنی :
گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ تت گھر۔ اس کے دلمیں۔ بلاول ۔ کوشی ۔ سبد سہائے ۔ اچھا لگتا ہے ۔ منگل۔ خوشی۔ پریم پیارے ۔ ہر منن وسائے ۔ خدا دل بسائے (1 ) ہر جن ۔ خادم خدا۔ سہج سبھائے ۔س ہج ۔ قدرتی ستون سے اچھا لگتا ہے (1) رہاؤ۔ سدارنگ راتے ۔ ہمیشہ پریم سے متاچر۔ جائے ۔ کوشی (2) تج گھر۔ اپنے دل میں۔ رنگ چلوے ۔ شوخ سرخ رنگ ۔ چوں لالہ ۔ ساج سمائے ۔ صدیوی ۔ خدا میں محو (3) انتر سبد۔ دلمیں کلام اثر انداز ۔ اگیان اندھیرا۔ جہالت کی لاعلمی ۔ سچ راتے ۔ صدیوی خدا سے متاچر ومحو۔ بہوڑ۔ دوبارہ ۔ نام درڑائے ۔ سچ وحقیقت پختہ کرائے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
قربان ہوں ان انسانوں پر جو دل میں خدا بساتے ہیں ۔ خادمان خدا کی صحبت و قربت سے آرام و آسائش ملتا ہے الہٰی حمدوچناہ قدرتی ہونے لگتی ہے (1) رہاؤ۔ مرشد کے ذریعے جسے (اپنا ) اپنے پیارمیںلگاتا ہے اس کے دل میں اور خوشیوں سے اسکا دل کھلا رہتا ہے ۔ کلام مرشد سے خوبرو ہوجاتا ہے ۔ جان و دل سے الہٰی حمدوثنا ہ میں مصروف رہتا ہے اور روحآنیس کون پاتا ہے (1) ہمیشہ محو رہتے ہیں تیری خوشیوں میں خدا خود ان کے دلمیں بستا ہےا ور ہمیشہ شہرت پاتے ہیں۔ مرید مرشد بنا کے قربت وصحبت اپنی دیتا ہے (2) مرشد کے وسیلے سے شبد سے متاچر ہوکر محو ہوجاتے ہیں۔ اور اپنے آ پ میںمحو ہو جاتے ہیں۔ راد وہ بھٹکتے نہیں۔ الہٰی لطف و لذت کی لالہ کی مانند شوخ رنگ میںمحو رہتے ہیں۔ یہ پیار کبھی کم نہیں ہوتا اور صدیوی حقیقت میں مجذوب رہتے ہیں (3) جن کے دل میں جہالت کا اندھیرا ہے جب دل متاچر ہوکلام سے لا علمی مٹجاتی ہے ۔ جنہیں سچے مرشد سے تعلیم اور سبق وواعظ مل جات اہے انہیں الہٰی وسل حاسل ہوجاتا ہے ۔ جو خدا کے پیار میں محو ومجزوب ہوجاتے ہیں تناسخ ان کا مٹ جاتا ہے اے نانک کامل مرشد ہی الہٰی نام سچ وحقیت پختہ کر ا سکتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੩॥
پوُرے گُر تے ۄڈِیائیِ پائیِ ॥
اچِنّت نامُ ۄسِیا منِ آئیِ ॥
ہئُمےَ مائِیا سبدِ جلائیِ ॥
درِ ساچےَ گُر تے سوبھا پائیِ ॥੧॥
جگدیِس سیۄءُ مےَ اۄرُ ن کاجا ॥
اندِنُ اندُ ہوۄےَ منِ میرےَ گُرمُکھِ ماگءُ تیرا نامُ نِۄاجا ॥੧॥ رہاءُ ॥
من کیِ پرتیِتِ من تے پائیِ ॥
پوُرے گُر تے سبدِ بُجھائیِ ॥
جیِۄنھ مرنھُ کو سمسرِ ۄیکھےَ ॥
بہُڑِ ن مرےَ نا جمُ پیکھےَ ॥੨॥
گھر ہیِ مہِ سبھِ کوٹ نِدھان ॥
ستِگُرِ دِکھاۓ گئِیا ابھِمانُ ॥
سد ہیِ لاگا سہجِ دھِیان ॥
اندِنُ گاۄےَ ایکو نام ॥੩॥
اِسُ جُگ مہِ ۄڈِیائیِ پائیِ ॥
پوُرے گُر تے نامُ دھِیائیِ ॥
جہ دیکھا تہ رہِیا سمائیِ ॥
سدا سُکھداتا کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥੪॥
پوُرےَ بھاگِ گُرُ پوُرا پائِیا ॥
انّترِ نامُ نِدھانُ دِکھائِیا ॥
گُر کا سبدُ اتِ میِٹھا لائِیا ॥
نانک ت٘رِسن بُجھیِ منِ تنِ سُکھُ پائِیا ॥੫॥੬॥੪॥੬॥੧੦॥
لفظیمعنی :
وڈیائی ۔ عظمت و حشمت۔ انت۔ بلا فکر و ترود۔ قدرتا ۔ گر سبد۔ کلام مرشد ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ سوبھا شہرت (1) جگدیسس۔ مالک ۔مالک عالم۔ کاجا۔ کام ۔ اندن۔ ہر روز۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔نام نواز ۔ عظمت و حشمت بخشنے والا نام سچ حق وحقیقت (1) رہاؤ۔ پرتیت۔ وشواش۔ یقین ایمان۔ پورے گر۔ کامل مرشد ۔ سبد بجھائی ۔ کلام سمجھ آتا ہے ۔ سمسر۔ ایک جیسا۔ بہوڑ۔ دوبارہ ۔ جسم پیکھے ۔ فرشتہ موت زیر نظر کرتا ہے (2) کوٹ ندھان ۔ خزانے کے قلعے ۔ ابھیمان ۔ غرور ۔ تکبر۔ سدہی ۔ ہمیشہ ۔سہج دھیان ۔ پر سکون توجہ ۔ اندن ۔ ہر روز (3) سکھداتا۔ آرام و آسائش بخشنے والا (3) ۔ پورے بھاگ۔ بلند قسمت سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے مالک عالم خدا تجھ سے کرم وعنیات فرما کر میںتیرے نام سچ و حقیقت یادرکھوں اور دوسرے کسی کام میں میری دلچسپی نہہو۔ ہر روز میرے دل میں سکون رہے اور میرد مرد ہوکر اور تیرے نام کی نوازش ہو مجھے (1) رہاؤ۔ کامل مرشد سے عطمت و حمشت حاصل ہوتی ہے ۔ دلمیں الہٰی نام سچ وحقیقت بسی ہے جو بیفکری و تشویش مل جاتی ہے ۔ خودی اور دنیاوی دولت کی محبت سبق وواعظ سے کتم ہوجاتی ہے سچے خدا کے در پر شہرت ملتی ہے نیکنامی ہوتی ہے (1) جس نے کامل مرشد کی وساطت سے کلام کو سمجھ لیا اسے اپنے ہی من سے اپنے پر ییقن و ایمان پالیا۔ زندگی موت کو برابر سمجھ لیا اسے کبھی تناسخ اور روھانی موت نہیں آتی نہ فرشتہ موت اسے زیر نظر رکتھا ہے (2) ہر انسان کا دل قلعہ بھی ہے اور خزانہ بھی جب سچا مرشد دیدار کرا دیتا ہے تو غرور مٹ جاتا ہے اور اس کے ذہن میں ہمیشہ سکون رہتا ہے اور واحد کدا کی یاد میں مصروف رہتا ہے (3) کامل مرش دسے سبق وواعظ پاکر یا دخدا کو کتا ہے جو ۔ عظمت و حشمت پاتا ہے وہ جدھر نظرجاتی نظر آتا ہے ۔ خدا۔ ہمشہ آرام و آسائش دیتا ہے مگر قیمتا حاصل نہیں ہوتا (4) کامل مرشد پوری قسمت سے ملتا ہے دلمیں الہٰی نام کا خزانہ دکھا دیا کلام مرشد سے پیار بنا دیا ۔ اے نانک اس کے دل سے خواہشات کی بھوک مٹی دل و جان نے راحت محسو س کی ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੪ گھرُ ੩
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
اُدم متِ پ٘ربھ انّترجامیِ جِءُ پ٘ریرے تِءُ کرنا ॥
جِءُ نٹوُیا تنّتُ ۄجاۓ تنّتیِ تِءُ ۄاجہِ جنّت جنا ॥੧॥
جپِ من رام نامُ رسنا ॥
مستکِ لِکھت لِکھے گُرُ پائِیا ہرِ ہِردےَ ہرِ بسنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
مائِیا گِرستِ بھ٘رمتُ ہےَ پ٘رانیِ رکھِ لیۄہُ جنُ اپنا ॥
جِءُ پ٘رہِلادُ ہرنھاکھسِ گ٘رسِئو ہرِ راکھِئو ہرِ سرنا ॥੨॥
کۄن کۄن کیِ گتِ مِتِ کہیِئےَ ہرِ کیِۓ پتِت پۄنّنا ॥
اوہُ ڈھوۄےَ ڈھور ہاتھِ چمُ چمرے ہرِ اُدھرِئو پرِئو سرنا ॥੩॥
پ٘ربھ دیِن دئِیال بھگت بھۄ تارن ہم پاپیِ راکھُ پپنا ॥
ہرِ داسن داس داس ہم کریِئہُ جن نانک داس داسنّنا ॥੪॥੧॥
لفظیمعنی :
ادم۔ کوشش۔ مت۔ سمجھ ۔ انترجامی ۔ راز دل جاننے والا۔ پرہرے ۔ پیچھے لگاتا ہے ۔ نصیحت کرتا ہے ۔ نٹو ا۔ نٹ ۔ کھیل کرنے والا ۔ تنت۔ تار۔ تنتی ۔ سارنگی ۔ تنتی ۔ دینا۔ جنت ۔ جنتر۔ (1) رسنا۔ زبان۔ مستک۔ پیشانی ۔ بکھت۔ تھریر۔ بسنا۔ بستا ہے ۔(1) رہاؤ۔ مائیا گرست۔ دنیاوی دولت کی گرفت میں ۔ بھرمت۔ بھٹکتا ہے ۔ جیؤ ۔ جیسے ہرناکھس۔ ایک ظالم حکمران ۔ گر سیو۔ پکڑا (2) کون کون ۔ کس کس۔ گت مت۔ حالت۔ پتت۔ بد اخلاق۔ ناپاک چلن وبدکار ۔ پون۔پاک۔ خوش اخلاق ۔ نیک چلن ۔ ڈہور۔ مردہ مویسی ۔ ڈمووے ۔ اُٹھاتے تھے ۔ ہاھ جسم۔ چمڑا ہاتھ ۔ چمرے ۔ چمڑے کا کام کرتا تھا ۔ ادھریو ۔ کامیاب ہوا ۔ (3) دین دیال ۔ غریب پرور۔ بھگت بھوتارن ۔ اپنے پیاروں پریمیوں کو دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور کرانے والا ۔ پینا ۔ گناہوں۔ ہر داسن ۔ کدمتگار ان خدا ۔ داس۔ خادم ۔ خدمتگار۔ داس وسنا۔ خادموں کا خادم۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل زبا ن سے الہٰی نام کی ریاض کر جس کی پیشانی پر تحریر ظہور میں آئے اسکا ملاپ مرشد سے ہوتا ہے اور دل میں بستا ہے خدا (1) رہاؤ۔ راز دل جاننے وال اخدا جہد کی ترغیب انسان کو خود دیتا ہ ۔ جیسی وہ ترغیب دیتا ہے ویسا انسان کرتا ہے ۔ جیسے ناٹک کا ر کھیل کرنے والا۔ سارنگی یا ستار کی تاہلاتا ہے ویسا سازآواز نکلاتا ہے ۔ مراد جس طرح انسان کو خدا لگاتا ہے اسی طرف لگتا ہے انسان (1) دنیاوی دولت کی گرفت میں انسان بھتکن میں زندگی گذارتا ہے ۔ اے خدا پانے خادم کو بچاو ۔جیسے پر ہلاو کو اپنی پناہ میں آئے ہوئے کو ہر نام کشپ س چپائیا اور ہر ناکھس کو عذاب پہنچائیا (2) اے خدا کس کس کی حالت بیان کیجائے تو بھاری گناہگاروں بداخلاقوں بدکاروں کو پاک مقدس بنانے والا ہے ۔ وہ مراد بھگت رویداس الہیی عاشق جو ہر روز مروہ مویشی اٹھانے کا کام کرتا تھا جس کے ہاتھ میں چمڑ ارہتا تھا چمار کا کام کرتا تھا مگر جب خدا کی پناہ میںآئیا تو دیاوی زندگی کے خوفناک سمندر کو عبور کر نے میںمیں کامیابی حاصل کی عبور کیا (3) اے غریب پرور خدا اپنے عاشقوں خادموں کو اس دنیاوی زنگی کے سمندر س پار لگا نے والے کامیابی عطا کر نے والے ہم گناہگاروں کو گناہوں سے بچالوں۔ اے خدا ہیمں اپنے خادموں کا خادم بنا لو خادم نانک خادموں کا خادم ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
ہم موُرکھ مُگدھ اگِیان متیِ سرنھاگتِ پُرکھ اجنما ॥
کرِ کِرپا رکھِ لیۄہُ میرے ٹھاکُر ہم پاتھر ہیِن اکرما ॥੧॥
میرے من بھجُ رام نامےَ راما ॥
گُرمتِ ہرِ رسُ پائیِئےَ ہورِ تِیاگہُ نِہپھل کاما ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ جن سیۄک سے ہرِ تارے ہم نِرگُن راکھُ اُپما ॥
تُجھ بِنُ اۄرُ ن کوئیِ میرے ٹھاکُر ہرِ جپیِئےَ ۄڈے کرنّما ॥੨॥
نامہیِن دھ٘رِگُ جیِۄتے تِن ۄڈ دوُکھ سہنّما ॥
اوءِ پھِرِ پھِرِ جونِ بھۄائیِئہِ منّدبھاگیِ موُڑ اکرما ॥੩॥
ہرِ جن نامُ ادھارُ ہےَ دھُرِ پوُربِ لِکھے ۄڈ کرما ॥
گُرِ ستِگُرِ نامُ د٘رِڑائِیا جن نانک سپھلُ جننّما ॥੪॥੨॥
لفظیمعنی :
اگیان منی۔ بے عل۔ بے سمجھ ۔ سرناگت۔ پناہ کریں۔ اجنما۔ بلا جنم۔ بین ۔ خالی۔ اکرما۔ بد قسمت (1) بھج۔ یاد کر۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ ہر رس۔ الہٰی لط۔ف نفل کام۔ بیکار ۔ بیفائدہ کام (1) رہاؤ۔ ہم نرگن۔ بے وصف ۔ بلا اوصاف۔ اپما۔ نیک شہرت ۔ کرما ۔ بلند ۔ قسمت۔ درڑائیا۔ پختہ کیا ۔ جنما۔ زندگی ۔(4) دھرگ۔ لعنت۔ تن انہیں۔ جون بھوانیہہ۔ تناسخ میںپڑتے ہیں۔ مندبھاگی ۔ بد قسمت ۔ موڑتھ ۔ جاہل (3)
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل یا د خدا کو کیا کر ۔ سبق مرشد سے لطف الہٰی ملتا ہے چھوڑ دیجیئے بیکار کاموں کو (1) رہاو۔ ہم جاہل بے علم اے پیدائش سے بال اخدا پناہ گریں ہیں تیرے اے میرے آقا ہم پتھر کی ماندن ہیں بد قسمت اپنی کرم و عنیات سے ہمیں بچاؤ (1) اپنے خادموں کو اے خدا کا میابیاں عنیات کرتا ہے ہم بے اوصافوں کو بچانے میںتیری نیک شہرت ہوگی ۔ اے خدا تیرے بغیر نیہں مددگار کوئی خدا کی عبادت و بندگی بلند قسمت سے ہوتی ہے (2) الہٰی نام سچ و حقیقت کے بغیر زندگی ہے ایک لعنت عذاب یا آواگون نصیب ہوتا ہے (3) خادمان خدا کو ہے نام کا سہارا پہلے سے تحیر ہواتا ہے بلند قسمت ان کے اعمالنامے میں۔ اے خادم نانک ۔ سچا مرشد جن کے ذہن میں الہٰٰ نام سچ حق وحقیقت مستقل طور پر بسادیتا ہے اس کی زندگی برآور اور کامیاب ہوجاتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
ہمرا چِتُ لُبھت موہِ بِکھِیا بہُ دُرمتِ میَلُ بھرا ॥
تُم٘ہ٘ہریِ سیۄا کرِ ن سکہ پ٘ربھ ہم کِءُ کرِ مُگدھ ترا ॥੧॥
میرے من جپِ نرہر نامُ نرہرا ॥
جن اوُپرِ کِرپا پ٘ربھِ دھاریِ مِلِ ستِگُر پارِ پرا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہمرے پِتا ٹھاکُر پ٘ربھ سُیامیِ ہرِ دیہُ متیِ جسُ کرا ॥
تُم٘ہ٘ہرےَ سنّگِ لگے سے اُدھرے جِءُ سنّگِ کاسٹ لوہ ترا ॥੨॥
ساکت نر ہوچھیِ متِ مدھِم جِن٘ہ٘ہ ہرِ ہرِ سیۄ ن کرا ॥
تے نر بھاگہیِن دُہچاریِ اوءِ جنمِ مُۓ پھِرِ مرا ॥੩॥
جِن کءُ تُم٘ہ٘ہ ہرِ میلہُ سُیامیِ تے ن٘ہ٘ہاۓ سنّتوکھ گُر سرا ॥
دُرمتِ میَلُ گئیِ ہرِ بھجِیا جن نانک پارِ پرا ॥੪॥੩॥
لفظیمعنی :
ہر ہر کتھا کر ہو۔ الہٰی یا خدا کے متعلق آپسی خیال آرائی ۔ بوہتھ ۔ جہاز۔ کھوت۔ ملاح۔ گر سبد تر ہو۔ کامیابی حاصل کرؤ (1 ) ہرا اچر ہو۔ خدا خدا کہو ۔ مستک ۔ پیشانی ۔ لکھت بکھے ۔ تحری رکئے ہوئے ۔ سنگت پار پرہو۔ لوگوںکے ملاپ کامیابی حاصل کر ہو (1) رہاؤ۔ کایا نگر ۔جسم ۔ رام رس اتم۔ الہٰی پیار بیش قیمت ہے ۔ اپدیس ۔ واعظ نصیحت ۔ ستگر سیو۔ خدمت سچے مرشد کی ۔ سپھل ہر درس۔ کامیاب دیدار خدا ۔ انمرت ۔ آبحیات۔ گرمت ۔ سبق مرشد ۔ تن وسرے ۔ اسے بھول کر ۔ وکھ ۔ زہر (3) رسائن ۔ ایک کیمایدوائی ۔ یا لطف کا خزانہ ۔ چار پدارتھ۔ چارنعتمیں۔ دھرم۔ اصلولوں یا فرائض انسانی کی پانبدی (2) ارتھ ۔ دنیاوی زندگی کی ضرورتوں کا پورا ہونا ۔ (3) کام ۔ کامیابی (4) موکھ ۔ نجات۔ آزادی ۔ ہربھجہو۔ خدا کو یاد کرؤ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل اوساف الہٰی یاد کر۔ جس کی پیشانی پر اس کی صفت صلاح تحریر ہے پاکدامنوں کی صحبت و قربت سے کامیابی پاتا ہے (19) رہاؤ۔ جھگروں بھری دنیا میں الہٰی نام سچ وحقیقت ایک جہاز ہے اور سبق واعظ و کلام مرشد ایک ملاح اس پر عمل پیرا ہوکر دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور کرؤ (1) اس انسنای جسم میں الہٰی نام ایک پر لطف نعمت ہے لہذا سمجھاو کہ اسے کیسے حاصل کیا جائے ۔ خدمت مرش دسے برآور دیار خدا کرؤ اور مل کر آبحیات کا لطف لو (2) سبق مرشد سےا لہٰی نام سچ وحقیقت جس سے زندگی روحانی واخلاقی طور پر راہ راست پر آجاتی ہے پیار الگتا ہے روحانی زندگی کوختم کرنے والے دیگر لطف اسے بھول جاتے ہیں۔ الہٰی نام آب حیات اور پر لطف ہے اس کا لطف اُٹھا کر دیکھ لو (3) الہٰی نام ایک پر لطف نعمت ہے لطفوں کا خزانہ اور کان ہے ہمیشہ اسک استعمال کرو۔ اس دنیا کی چاروں نعمتیں حاسل ہوجاتی ہیں اے نانک سبق مرشد پر عمل کرکے ہمیش الہٰی نام سچ وحقیقت پیش رکھو اور اس پر عمل کرؤ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
آۄہُ سنّت مِلہُ میرے بھائیِ مِلِ ہرِ ہرِ کتھا کرہُ ॥
ہرِ ہرِ نامُ بوہِتھُ ہےَ کلجُگِ کھیۄٹُ گُر سبدِ ترہُ ॥੧॥
میرے من ہرِ گُنھ ہرِ اُچرہُ ॥
مستکِ لِکھت لِکھے گُن گاۓ مِلِ سنّگتِ پارِ پرہُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کائِیا نگر مہِ رام رسُ اوُتمُ کِءُ پائیِئےَ اُپدیسُ جن کرہُ ॥
ستِگُرُ سیۄِ سپھل ہرِ درسنُ مِلِ انّم٘رِتُ ہرِ رسُ پیِئہُ ॥੨॥
ہرِ ہرِ نامُ انّم٘رِتُ ہرِ میِٹھا ہرِ سنّتہُ چاکھِ دِکھہُ ॥
گُرمتِ ہرِ رسُ میِٹھا لاگا تِن بِسرے سبھِ بِکھ رسہُ ॥੩॥
رام نامُ رسُ رام رسائِنھُ ہرِ سیۄہُ سنّت جنہُ ॥
چارِ پدارتھ چارے پاۓ گُرمتِ نانک ہرِ بھجہُ ॥੪॥੪॥
لفظیمعنی :
اور الذکر ۔ چت ۔ دل۔ منن۔ لبھت۔ لالچ۔ موہ۔ دنیاوی دولت کی محبت ۔ وکھیا۔ دنیاوی دولت کی زہر میں بدکاریون میں۔ درمت۔ بد عقلی ۔میل ۔ ناپاکیزگی ۔ بھر ۔ بھر ہوا۔ مگدھ ۔ جاہل۔ ترا۔ کامیاب (1) نرہر۔ خدا۔ نام نر ۔ ہرا ۔ خدا کا نام۔ پار پر۔ کامیابی حاصلہوئی (1) رہاؤ۔ ٹھاکر۔ آقا۔مالک ۔ متی ۔ عقل ۔ جس ۔ صفت صلاح۔ ادھ ے ۔کامیابی ہوئے ۔ سنگ کاسٹ لوہ ترا۔ جیسے لکڑی کے ساتھ لوہا تیرتا ہے (2) ساکت نر۔ مادہ پرست۔ منکر۔ ہو چھی مت ۔ کم عقلی ۔ مدھم۔ کمزور۔ بھاگ ہین ۔ بد قسمت۔ دہچاری ۔ بداخلاق (3) سنتوکھ ۔ صبر۔ گر سر ۔ مرشد کے سمندرمیں پار پرا۔ کامیابی ہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل یادخدا کو کیا کر جس پر ہوئی کرم و عنیات خدا کی سچے مرشد کے ملاپ سے کامیاب ہوا (1) رہاؤ۔ ہمارے دل میں زہر آلودہ دنیاوی دولت کی محبتمیں گرفتار ہے بد عقلی اور فریب سے بھرا ہوا ہے اس لئے اے خدا تیری خدمت و عبادت نہیں کر سکتے اس لئے ہم جاہل اس دنیاوی زندگی کے سمندر سے کیسے کامیابی سے عبور کرینگے ۔ (1) اے ہمارے آقا وباپ ہمیںہوش و عقل عنیات کر کہ تیری حمدوچناہ کریں۔ اے کدا۔ جنہوننے تیری صحبت و قربت اختیار کی انہیں اس طرح سے کامیبی حاصلوہی جیسے لکڑی کے ساتھ لوہا تیرے لگتا ہے (2) مادہ پرستوں منکران الہٰی جنہوں نے خدمت خدا و عبادت نہیں کی ہوتی وہ کم عقل اور کم فہم ہوتے ہی۔ وہ بد قسمت بد چلن بد اخلاق تناسخ اور آواگون میںپڑے رہتے ہیں (3) اے میرے مالک خداجنہیں تو اپنا وسل وملاپ عنایت کرتا ہے وہ جو یادو عبادت الہٰی کرتے ہیں کم عقلی اور فریبی عقل کی ٖغلاظت ختم ہوجاتی ہے اور نزدگی کامیاب بناتے ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
کھت٘ریِ ب٘رہمنھُ سوُدُ ۄیَسُ کو جاپےَ ہرِ منّت٘رُ جپیَنیِ ॥
گُرُ ستِگُرُ پارب٘رہمُ کرِ پوُجہُ نِت سیۄہُ دِنسُ سبھ ریَنیِ ॥੧॥
ہرِ جن دیکھہُ ستِگُرُ نیَنیِ ॥
جو اِچھہُ سوئیِ پھلُ پاۄہُ ہرِ بولہُ گُرمتِ بیَنیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
انِک اُپاۄ چِتۄیِئہِ بہُتیرے سا ہوۄےَ جِ بات ہوۄیَنیِ ॥
اپنا بھلا سبھُ کوئیِ باچھےَ سو کرے جِ میرےَ چِتِ ن چِتیَنیِ ॥੨॥
من کیِ متِ تِیاگہُ ہرِ جن ایہا بات کٹھیَنیِ ॥
اندِنُ ہرِ ہرِ نامُ دھِیاۄہُ گُر ستِگُر کیِ متِ لیَنیِ ॥੩॥
متِ سُمتِ تیرےَ ۄسِ سُیامیِ ہم جنّت توُ پُرکھُ جنّتیَنیِ ॥
جن نانک کے پ٘ربھ کرتے سُیامیِ جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ بُلیَنیِ ॥੪॥੫॥
لفظیمعنی :
ویس ۔ بیوپاری و کاشتکار ۔ سود۔ سماج کی خدمت کرنے والے ۔ کوجاپے ۔ کوئی یادوریاض کرے ۔ ہر منتر۔ الہٰی حمد ۔ جینی ۔ جو قابل یاد وریاض ہے ۔ گر ستگر ۔ مرشد سچے مرد۔ پار برہم۔ پار لگانے والا۔ کامیابی بخشنے والا۔ بوجہو ۔ خدمت کرؤ۔ نت۔ ہر روز۔ دنس سب رہی روز و شب دن رات (1) ہر جن ۔ خادم خدا۔ نیتی ۔ انکھو ں سے ۔ اچھیہہ۔ خواہش یا چاہ۔ گرمت۔ نینی ۔ سبق مرشد کی مطابقکہو (1) رہاؤ۔ انک اپار۔ بیشمار کوشش۔ جستویہہ۔ دلمیںسوچتاہے ۔ سا ہودے ۔ ہوتا وہ ہے ۔ ہودینی ۔ جوہونا ہے ۔ باچھے ۔ چاہتا ہے ۔ چت نہ چتینی ۔ جسکا دلمیں خیال تک نہیں ہوتا (2) من کی مت۔ خود پسندی ۔ تیاگہو۔ چھوڑو۔ ایہابات گھٹنی ۔ یہ بات مشکل ہے ۔ ستگر کی مت یعنی سچے مرشد کا سبق (3) مت سمت ۔ عقل اور اچھی عقل ۔ جنت۔ ساز۔ جتنی ۔ ساز بجانے والا۔ جیؤ بھاوے تو نے بلینی جیسے چاہتاہے اس طرح بلاتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خادماں خدا سچے مرشد کا دیدار آنکھوں س کڑو ۔ سبق مرشد پر عمل رکے حمدوچناہ کرؤ اپنی دل کی خواہشات کی مطابق نتیجے پاؤ گے (1) راہؤ۔ خواہ کھتر یابراہمن شودر ہو یا ویس ہر انسان عبادت خدا کی کرسکتا ہے الہٰی کلام کی جو قابل ریاض ہے ۔ سے مرشد زندگی میںکامیابی بخشنے والا سمجھ کر روز و شب اس کے زیر سایہ رہو (1) انسان بیشمار طریقے سوچتا ہے مگر ہوتا ہے وہی جو ہونا ہوتا ہے ۔ اپنی بھلائی تو سب کوئی چاہت اہے مگر دہی ہوتا ہے جس کا دلمیں خیال تک نہیں ہوتا (2) اپنی مرضی چھوڑو اے خادم خداگو یہ مشکل ہے ۔ ہر روز الہٰی نام میں توجہ دو سبقمرشد سے لیکر (3) اے میرے مالک اچھی بری نیک و بد عقل تیرے اختیار میں ہے ۔ ہم انسان تو ایک ساز کی مانند ہے مگر تو سازبجانے وال اہے جیسے تو چاہت اہے ویسے ہم سے کہلاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
اند موُلُ دھِیائِئو پُرکھوتمُ اندِنُ اند اننّدے ॥
دھرم راءِ کیِ کانھِ چُکائیِ سبھِ چوُکے جم کے چھنّدے ॥੧॥
جپِ من ہرِ ہرِ نامُ گد਼بِنّدے ॥
ۄڈبھاگیِ گُرُ ستِگُرُ پائِیا گُنھ گاۓ پرماننّدے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ساکت موُڑ مائِیا کے بدھِک ۄِچِ مائِیا پھِرہِ پھِرنّدے ॥
ت٘رِسنا جلت کِرت کے بادھے جِءُ تیلیِ بلد بھۄنّدے ॥੨॥
گُرمُکھِ سیۄ لگے سے اُدھرے ۄڈبھاگیِ سیۄ کرنّدے ॥
جِن ہرِ جپِیا تِن پھلُ پائِیا سبھِ توُٹے مائِیا پھنّدے ॥੩॥
آپے ٹھاکُرُ آپے سیۄکُ سبھُ آپے آپِ گوۄِنّدے ॥
جن نانک آپے آپِ سبھُ ۄرتےَ جِءُ راکھےَ تِۄےَ رہنّدے ॥੪॥੬॥
لفظیمعنی :
انند مول۔ سکون کی بنیاد۔ پر کھوتم۔ عظیم ہستی ۔ اندن ۔ ہرروز۔ دھرم رائے ۔ الہٰی منصف۔ کان ۔ محتاجی ۔ چکائی ۔ ختم کی ۔ چوکے ۔ مٹے ۔جم کے چھندے ۔موتکا جال ومحتاجی (1) گو بندے ۔مالک عالم ۔ پر مانندے ۔مکمل طور پر سکون خدا (1) رہاؤ۔ ساکت ۔ مادہ پرست۔ منکر۔ مائیا کے بدھک ۔مائیا کا غالم ۔ بھر میہہ پھرندے ۔ بھٹکتے رہتے ہیں۔ ترسنا۔ خواہشات ۔کرت کے بادھے ۔ کام کے غلام (2) سیو۔ خدمت ۔ ادھرے ۔ بچے ۔مائیا پھندے ۔مائیا کی غلامی (3) ٹھاکر۔ آقا۔ درتے ۔درتا ۔ کام ۔ رہندے ۔ رہتے ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل یاد کر خدا کا نام سچ و حقیقت ۔سچے مرشد سے مل کر مالک علام کی حمدوچناہ وصف صلاح کر ۔جس نے سکون کی بنیاد ششمہ سکون میں اپنی توجہ لگائی اس بلند ہستی کی طرف دھیان دیا پر سکون ہوا ۔ اس کی منصف الہٰی کی محتاجی مٹی اورموت کی غلامی مٹی موت سے مراد اخلاقی یا روحانی موت سے ہے (1) مادہ پرست مادیات کے غلام منکر خدا دنیاوی دولت میں ہمیشہ بھٹکتے رہتے ہیں۔ اپنے اعمال کی گرفت میں خواہشات کی تکمیل کے لئے جلتے رہتے ہیں۔ جیسے تیلی کا بیل آنکھوں پر پردہ کو بلوکے ۔ گرد گھومتا ہے (2) جنہون نے مرید مرشدہوکر خدمت خداکیمگرخدمت بلند قسمت سے ہوتی ہے ۔جنہوں نے یادوریاض کی خدا کی صلہ پائیا اور دنیاوی دولتکی غلامی مٹی (3) خدا خودہی ہے خادم اورخود ہی ہے آقاسمجھکچھ وہی ہے ۔ اے خادم نانکسب درتا رہے خود خدا کا عالم میںجیسے ہے ۔ رضا اس کی اسی طرح سب رہتے ہیں۔

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
راگُ بِلاۄلُ مہلا ੪ پڑتال گھرُ ੧੩॥
بولہُ بھئیِیا رام نامُ پتِت پاۄنو ॥
ہرِ سنّت بھگت تارنو ॥
ہرِ بھرِپُرے رہِیا ॥
جلِ تھلے رام نامُ ॥
نِت گائیِئےَ ہرِ دوُکھ بِسارنو ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ کیِیا ہےَ سپھل جنمُ ہمارا ॥
ہرِ جپِیا ہرِ دوُکھ بِسارنہارا ॥
گُرُ بھیٹِیا ہےَ مُکتِ داتا ॥
ہرِ کیِئیِ ہماریِ سپھل جاتا ॥
مِلِ سنّگتیِ گُن گاۄنو ॥੧॥
من رام نام کرِ آسا ॥
بھاءُ دوُجا بِنسِ بِناسا ॥
ۄِچِ آسا ہوءِ نِراسیِ ॥
سو جنُ مِلِیا ہرِ پاسیِ ॥
کوئیِ رام نام گُن گاۄنو ॥
جنُ نانکُ تِسُ پگِ لاۄنو ॥੨॥੧॥੭॥੪॥੬॥੭॥੧੭॥
راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ چئُپدے گھرُ ੧
لفظیمعنی :
پتت پاو ۔ اخالق سے گرے ہوئے بدچلن کو پاک و پائس مقدس بنانے وال تارنو ۔ کامیاب بنانے والا۔ بھر پورے ۔ مکمل طور پر بھر ہوا۔ دل تھلے ۔ سمندر و زمین ۔ دوکھ دسارنو۔ عذاب بھلانے والا (1) جل تھلے ۔ سمندر و زمین ۔ دوکھ دسارنو ۔ عذاب بھلانے والا (1) رہاؤ۔ سپھل۔ کامیاب ۔ گر بھٹیا۔ مرش دے ملاپ ہوا۔ مکت نجات۔ آزادی۔ سھپل جاتا ۔ زندگی کا سفر کامیاب (1) بھاؤ۔ پیار ۔ وچ سا ہوئے نراسی۔ امیدوں میں انامید۔ سوجن۔ وہ انسان پگ لاونو ۔ اس کے پاوں لگنا ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے بھائی خدا کا نام لو گناہگاروں اور بد چلونں کو پاک و مقدس بن ادیتا ہے الہٰی عاشقوں عابدوں پاکدامن خدا رسیدگان کو کامیابیاں کرتاہے جو ہر جگہ مکمل طور پر بستا ہے اس کے حمدوثناہ کرنی چاہیے ۔ زمین اور پانی میں ہے اور وکھ درد مٹاتاہے (1 ) رہاؤ۔ خدا ہماری زندگی کو کامیابی عنیات کررتا ہے ۔ اس عاب اور دکھ درد مٹانے والے کی ریاض کی اورنجات وہندہ مرشد کاملاپ ہوا اور خدازندگی کے سفر کو کامیابی بنائیا اب پارساؤں کی صحبت و قربت لاہٰی حمدوچناہ کرتا ہوں (1) اے دل الہٰی نام پر اپنی ٹیک یا امیدیں باندھا ۔ اس سے دنایوی دولت کی محبت ختم ہوجاتی ہے ۔ امیدوں میں بے امدیوں ہو مراد دنیاوی کام کرتے ہوئے اس سے بیلاگ رہو اسکا ملاپ خدا سے ہوجاتا ہے جو حم خدا کی کرتا ہے خادم نانک اسکے پاؤں پڑتا ہے ۔

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ندریِ آۄےَ تِسُ سِءُ موہُ ॥
کِءُ مِلیِئےَ پ٘ربھ ابِناسیِ توہِ ॥
کرِ کِرپا موہِ مارگِ پاۄہُ ॥
سادھسنّگتِ کےَ انّچلِ لاۄہُ ॥੧॥
کِءُ تریِئےَ بِکھِیا سنّسارُ ॥
ستِگُرُ بوہِتھُ پاۄےَ پارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پۄن جھُلارے مائِیا دےءِ ॥
ہرِ کے بھگت سدا تھِرُ سےءِ ॥
ہرکھ سوگ تے رہہِ نِرارا ॥
سِر اوُپرِ آپِ گُروُ رکھۄارا ॥੨॥
پائِیا ۄیڑُ مائِیا سرب بھُئِئنّگا ॥
ہئُمےَ پچے دیِپک دیکھِ پتنّگا ॥
سگل سیِگار کرے نہیِ پاۄےَ ॥
جا ہوءِ ک٘رِپالُ تا گُروُ مِلاۄےَ ॥੩॥
ہءُ پھِرءُ اُداسیِ مےَ اِکُ رتنُ دسائِیا ॥
نِرمولکُ ہیِرا مِلےَ ن اُپائِیا ॥
ہرِ کا منّدرُ تِسُ مہِ لالُ ॥
گُرِ کھولِیا پڑدا دیکھِ بھئیِ نِہالُ ॥੪॥
جِنِ چاکھِیا تِسُ آئِیا سادُ ॥
جِءُ گوُنّگا من مہِ بِسمادُ ॥
آند روُپُ سبھُ ندریِ آئِیا ॥
جن نانک ہرِ گُنھ آکھِ سمائِیا ॥੫॥੧॥
لفظیمعنی :
ندری آوے ۔ ج دکھائی دیتا ہے ۔ موہ۔ محبت۔ پیار۔ پربھ ابناسی ۔ لافناہ خدا۔ توہ ۔ تجھے ۔ مارگ۔ راستے ۔ انچل ۔ پلے کڑ۔ دامن (1) وکھیا سنسار۔ زہریلی دنیا۔ ستگر لوہتھ ۔ سچا مرشد ایک جہاز۔ (1) رہاذ ۔ پون جھلارے ۔ ہوائی جھونکے ۔ ہر کے بھگت ۔ الہٰی عاشق تھر سیئے ۔ مستقل ۔ ہرکھ ۔ سوگ۔ غمی ۔ خوشی ۔ نیار ا۔ الگ۔ ہیلاگ۔ رکھوار۔ گکھوالا۔ بچانے والا (2 ) ۔ ویٹر الجھاؤ ۔ بھوہنگا۔ سانپ۔ ہونمے بچے ۔ خودی میں جلتا ہے ۔ دیپک ۔ چراگ۔ پتنگا۔ اڑ تاکیڑا۔ سگل سیگار۔ ساری سجاوٹیں۔ (3) داسی ۔ غمگینی ۔ رتن۔ قیمتی ہیرا ۔ دسائیا۔ دس پیئی ۔ نرمک۔ اتنا بیش قیمت کہ قیمت تعین نہ ہو سکے ۔ ہرکا مندر۔ الہٰی مکان ۔ مراد انسانی جسم ۔ گر کھو لیا ہر وہ ۔ راز افشاں کیا۔ نہال ۔ خوش (3) چاکھیا۔ لطف ۔ بامزہ لیا۔ ساد ۔لطف۔ بسماد۔ روحانیس کون۔ ہرگن۔ الہٰی صفت صلاح۔
ترجمہ معہ تشریح:
اس دنیاوی زندگی کے زہریلے زہر آلودہ عالم کو کیسے پا رکریں؟ سچا مرشد ایک جہاز ہے اس کے وسیلے سے اسے عبور کیا جاسکتا ہے (1) رہاؤ۔ جو دکھائی دے رہا ہے اس سے محبت ہے اس لافناہ خدا سے اےخدا پانی کرم وعنیات سے زندگی کے سفر (کا) کے راستے پر چلا ؤ۔ اور پاکدامن پارساوں کے دامن لاؤ (1) دنیاوی دولت ہوائی جھونکوں کی طرح زندگی کو جھونکوں سے محظوظ کرتی ہے ۔ اس س وہی صدیوی مستقل مزاج رہتے ہیں جو عبادت خدا کرتے ہیں جن کی پشت پناہی مرشد کرتا ہے اور محافظ بنتا ہے وہ خوشی اور غمگینی سے آزاد اور بیلاگ رہتے ہیں (2) سانپ کی ماندن دنیاوی دولت نے سب کے ۔ رد گرد اپنا گھیرا بنا رکھا ہے اور انسان خودی میں جلتا رہتا ہے ۔ جیسے چراگ کو دیکھ کر اس کی آگ میں پتنگے جلتے ہیں ۔ خوا ہ اپنے آپ کس طرح کی سجاوتوں سے سجاؤ تاہم بھی خا نہ پا سکو گے ۔ جب خدا مہربان ہوتا ہے تو ملاپ مرشد سے کراتا ہے (3) انسان غمگینی کی حالت میں خدا کو ڈہونڈ تا پھرتا ہے مجھے ایک یقمیتی ہیرے کی بابت سنا جو باوجود کوششوں کے نہیں ملتا۔ الہٰی مکان انسنای جسم میں وہ لعل مراد خدا بستا ے ۔ جب مرشد نے راز افشانکیا توخوشی کی انتہا ہوئی (4) جسنے اسکا لطف اٹھائیا مزہ لیا ۔ جس طرح سے گونگا دل میں روحانی سکون محسوس کرتا ہے ۔ اے خادم ناک جو انسان الہٰی حمدوثناہ سے وجد میں رہتا ہے اسے وہ چشمہ سکون ہر جا بستا دکھائی دیتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سرب کلِیانھ کیِۓ گُردیۄ ॥
سیۄکُ اپنیِ لائِئو سیۄ ॥
بِگھنُ ن لاگےَ جپِ الکھ ابھیۄ ॥੧॥
دھرتِ پُنیِت بھئیِ گُن گاۓ ॥
دُرتُ گئِیا ہرِ نامُ دھِیاۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سبھنیِ تھاںئیِ رۄِیا آپِ ॥
آدِ جُگادِ جا کا ۄڈ پرتاپُ ॥
گُر پرسادِ ن ہوءِ سنّتاپُ ॥੨॥
گُر کے چرن لگے منِ میِٹھے ॥
نِربِگھن ہوءِ سبھ تھاںئیِ ۄوُٹھے ॥
سبھِ سُکھ پاۓ ستِگُر توُٹھے ॥੩॥
پارب٘رہم پ٘ربھ بھۓ رکھۄالے ॥
جِتھےَ کِتھےَ دیِسہِ نالے ॥
نانک داس کھسمِ پ٘رتِپالے ॥੪॥੨॥
لفظیمعنی :
سرب ۔ ساری ۔ کلیان ۔ کشلتا ۔ خوشحالی ۔ سیوک۔ خدمتگار ۔ وگھن۔ رکاوٹ۔ الکھ ۔ سمجھ سے بعید۔ ابھیو۔ جس کا راز افشاں نہ ہو سکے (1) دھرت پنت۔ دھرت سے مراد دل ۔ قلب ۔ پنت۔ نہایت پاک ۔ درت ۔گناہ ۔ دوش۔ ہرنام دھیائے ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت میں توجہ لگانے سے (1) رہاؤ۔ رویا۔ بسا ہوا۔ آد۔ آگاز۔ شروع ۔ روز اول جگاد۔ دور زمان۔ وڈپرتاپ ۔ بلند عطمت۔ سنتاپ۔ عذاب ۔ جگھڑے وگیرہ (2) نر وگھن۔ بلا رکاوٹ۔ دوٹھے ۔ بسے ۔ توٹھے ۔ خوش ہوئے (3) پار بہرم ۔ کامیابی عنایت کرنے واے ۔ وکھوانے ۔ محافط ۔ نالے ۔ ساتھ ۔ پرتپالے ۔ پرورش کرتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی حمدوثناہ سے دل یا قلب پاک و مقدس ہوجاتا ہے الہٰی نام سچ وحقیقت میںدھیان لگناے سے گناہ ختم ہوجاتے ہیں (1) رہاو مرشد اسے ہر طرح سے خوشحال بناتا ہے ۔ جس خدمتگار کو اپنی خدمت میں لگاتا ہے ۔ خدا جو انسنای سمجھ عقل و ہوش سے اورپر جس کار راز افشاں نہیں ہو سکتا کی عبادت وریاض سے زندگی کی راہوں میں رکاوٹیں کھڑی نہیںہوتیں (1) ہر جگہ بستا ہے خدا آگاز یا روز ادل اور مابعد کے دورزماں میں وہ ہمیشہ بلند عظمت ہے رحمت مرشد اسے کوئی وقت پیش نہیں آتی (2) جسے مرشد سےمحبت ہوجاتی ہے وہ جہاں بستا ہے رکاوٹیں یا دقتیں پیش نہیں آتیں۔ جس پر محربان مرشد ہوجاتاہے وہ ہر طرح کی آرام و اسائش پاتا ہے (3) اے نانک ۔خدا پرورش کرتا ہے ۔کامیابی عنیا کرنے والاے خدا حفاظت کرتا ہے اور خدمتگاروں کو ہمیشہ ساتھ بستا دکھائی دیتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سُکھ نِدھان پ٘ریِتم پ٘ربھ میرے ॥
اگنت گُنھ ٹھاکُر پ٘ربھ تیرے ॥
موہِ اناتھ تُمریِ سرنھائیِ ॥
کرِ کِرپا ہرِ چرن دھِیائیِ ॥੧॥
دئِیا کرہُ بسہُ منِ آءِ ॥
موہِ نِرگُن لیِجےَ لڑِ لاءِ ॥ رہاءُ ॥
پ٘ربھُ چِتِ آۄےَ تا کیَسیِ بھیِڑ ॥
ہرِ سیۄک ناہیِ جم پیِڑ ॥
سرب دوُکھ ہرِ سِمرت نسے ॥
جا کے سنّگِ سدا پ٘ربھُ بسےَ ॥੨॥
پ٘ربھ کا نامُ منِ تنِ آدھارُ ॥
بِسرت نامُ ہوۄت تنُ چھارُ ॥
پ٘ربھ چِتِ آۓ پوُرن سبھ کاج ॥
ہرِ بِسرت سبھ کا مُہتاج ॥੩॥
چرن کمل سنّگِ لاگیِ پ٘ریِتِ ॥
بِسرِ گئیِ سبھ دُرمتِ ریِتِ ॥
من تن انّترِ ہرِ ہرِ منّت ॥
نانک بھگتن کےَ گھرِ سدا اننّد ॥੪॥੩॥
راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ گھرُ ੨ زانڑیِۓ کےَ گھرِ گاۄنھا ੴ
لفظیمعنی :
سکھ ندھان۔ آرام و آسائش کے خزانے ۔ اگنت گن۔ بیشمار اوصاف ۔ موہ انتھ۔ بے مالک ۔ دھیائی۔ توجہ دی (1) نرگن۔ بے اوصاف۔ رہاؤ۔ چت آوے ۔ دل بسے ۔ بھیڑ ۔ مشکل۔ پیڑ۔ دکھ ۔ درد ۔ (2) پربھ کانام ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت ۔ آدھار۔ آسرا۔ وسرت ۔ نام ۔ الہٰی نام کو بھلا کر۔ تن چھار۔ جسم رکھ ہوجات اہے ۔ پورن ۔ مکمل ۔ محتاج ۔ دست نگر ہاتھ پھیلانے والا۔ چرن کمل۔ پاک پاوں دسر۔ بھول۔ درمت۔ بدعقلی ۔ جہالت ۔ ہرمنت۔ الہٰی منتر ۔ انند۔ سکون ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا کرم و عنایت فرماییئے مہربانی کیجیئے میرے دل میں بسے مجھ بے وصف کو اپنا دمان دیجیئے (1) رہاؤ۔ اے میرے آرام و آسائش کے خزانے تو بیشمار اوصاف کا مالک ہے ۔ مجھ بے مالک کو تیری پناہ ہے ۔ مجھ پر کرم و عنیات فرما کر میں تیرا دھیان رکھوں تجھ میں اپنا دھیان لگاوں (1) جب دل میں ہو یاد خدا تو دشواری کسی ۔ خدمتگار خدا کو موت کا کوف نہیں الہٰی یادورعبادت سے تمام عذاب و دشواریاں دور ہجاتی ہیں۔ جس کا ساتھی ہو خدا 02) الہٰی کے نام سچ وحقیقت کا دل وجان کو سہار و آسرا ہے الہٰینام سچ وحقیت بھال کرراکھ کا ڈھیر ہے یہ جسم جس کے دلمیں الہٰی نام سچ وحقیقت بس جاتے ہیں سب کام پورے ہوجاتے ہیں۔خدا کو بھلا کر ۔ انسان سب کا دسب نگر یا محتاجی ہوجاتا ہے (3) جس کی محبت ہو خدا سے برے کاموں اور رسم و رواجات سے چھٹکار ہوجاتا ہے دل وجان اور قلب میں اور رسم و روجاات سے چھٹکار ہوجات اہے دل وجان اور قلب مین نام الہٰی کا منتر بستا ہے ۔ اے نانک۔ ان کے دل پر سکون رہتے ہیں۔

ستِگُر پ٘رسادِ ॥
مےَ منِ تیریِ ٹیک میرے پِیارے مےَ منِ تیریِ ٹیک ॥
اۄر سِیانھپا بِرتھیِیا پِیارے راکھن کءُ تُم ایک ॥੧॥ رہاءُ ॥
ستِگُرُ پوُرا جے مِلےَ پِیارے سو جنُ ہوت نِہالا ॥
گُر کیِ سیۄا سو کرے پِیارے جِس نو ہوءِ دئِیالا ॥
سپھل موُرتِ گُردیءُ سُیامیِ سرب کلا بھرپوُرے ॥
نانک گُرُ پارب٘رہمُ پرمیسرُ سدا سدا ہجوُرے ॥੧॥
سُنھِ سُنھِ جیِۄا سوءِ تِنا کیِ جِن٘ہ٘ہ اپُنا پ٘ربھُ جاتا ॥
ہرِ نامُ ارادھہِ نامُ ۄکھانھہِ ہرِ نامے ہیِ منُ راتا ॥
سیۄکُ جن کیِ سیۄا ماگےَ پوُرےَ کرمِ کماۄا ॥
نانک کیِ بیننّتیِ سُیامیِ تیرے جن دیکھنھُ پاۄا ॥੨॥
ۄڈبھاگیِ سے کاڈھیِئہِ پِیارے سنّتسنّگتِ جِنا ۄاسو ॥
انّم٘رِت نامُ ارادھیِئےَ نِرملُ منےَ ہوۄےَ پرگاسو ॥
جنم مرنھ دُکھُ کاٹیِئےَ پِیارے چوُکےَ جم کیِ کانھے ॥
تِنا پراپتِ درسنُ نانک جو پ٘ربھ اپنھے بھانھے ॥੩॥
اوُچ اپار بیئنّت سُیامیِ کئُنھُ جانھےَ گُنھ تیرے ॥
گاۄتے اُدھرہِ سُنھتے اُدھرہِ بِنسہِ پاپ گھنیرے ॥
پسوُ پریت مُگدھ کءُ تارے پاہن پارِ اُتارےَ ॥
نانک داس تیریِ سرنھائیِ سدا سدا بلِہارےَ ॥੪॥੧॥੪॥
لفظیمعنی :
ٹیک۔ آسرا۔اور ۔ دوسری۔ دیگر۔ سیانپا۔ دانشمندیان۔ برتھیا۔ بیفائدہ ۔ بیکار۔ رکاھن کو ۔ بچانے کے لئے ۔ حفاظت کی واسطے (1) رہاؤ نہالا۔ مکمل خوش۔ دیا لا ۔ مہربان۔ سپھل مورت۔ وہ انسان جسنے اپنی زندگی کامیاب بنالی ۔ سرب کلام ۔ تمام قوتوں بھر پورے ۔ مکمل۔ حضوری ۔ حاضر ناطر (1 سوئے ۔نیک شہرت۔ مشہوری ۔جاتا۔ جانیا۔ پہچنا کرلی ۔ ارادھیہہ۔ یادوریاض کرتے ہیں۔ دکھانہہ۔ بینا کرتے ہیں۔ راتا ۔متاثر محظوظ ۔ سیوک ۔ کدمتگار ۔ جن ۔ خادم۔ سیوا۔ کدمت۔ ماگے ۔ مانگتا ہے ۔ پورے کرم کماوا ۔ تاکہ فرائض منصبی انسانی کے اعمال کر سکون۔ تیرے جن دیکھن پاوا۔ تیرے خادموں کا دیدار پاؤں (2) کاڈھیہہ۔ کہلاتے ہیں۔ سنت ۔ سنگت جناواسو۔ جنکو پاکدامن خدا رسیداگان کی صحبت و قربت نصیب ہے ۔ انمرت ۔ آبحیات۔ الہٰی نام سچ وحقیقت۔ ارادجیئے ۔ یادوریاض کیجیئے ۔نرمل۔ پاک۔منہووتے پرگاسو۔ ذہن روشنہو۔ کانے ۔محتاجی ۔ دست نگر۔ بھانے ۔ پیارے (3) اوچ پار ۔ بے انت۔ بلند رتبہ۔ اتنا وسیع کہ کنارہ نہیں۔ اتنا زیادہ کہ شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ ونسیہہ پاپ۔ گناہ مٹتے ہیں۔ گھنیرے ۔نہایت زیادہ۔ پسو۔ مویشی ۔ پریت۔جس مین انسانیت کامادہ نہ ہو۔ مگدھ ۔ جاہل۔ پاہن۔ پتھر ۔مراد سنگدیل ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا ۔ میرے دل کو تیرا ہی آسرا ہے دوسری تمام دانشمندیاں اور دنائیایں بیکار ہیں تو ہی واحدا محافظ ہے (1) رہاؤ۔ جسے کامل مرشد کاملاپ ووصلملجائے اسے صدیوی خوشنودی و خوشی نصیب ہوجاتی ہے ۔خدمت مرشد وہی کرتا ہے جس پر خدا محبوبان ہوتا ہے مرشد جو تمام قوتوں سے مرقع اور مالک ہے انسانی زندگی کو کامیاب بنانے کی توفیق رکھتا ہے اے نانک ۔مرشدمانند خدا ہے جو ہمیشہ اپنے خدمتگاروں کا ساتھی ہے (1) میں ان کی نیک شہرت و مشہوری سننے سے مجھے زندگی کا احساس ہوتاہے جنہوں اپنے خدا کو سمجھ لیا ہے پہچان کرلی ہے جو الہٰی نام کی یادوریاضکرتے ہیں اور الہٰی نام سچے متاثر ومحظوظیں اور الہٰی نام سچ و حیققت ہی بیان کرتے ہیں خادم ان خدمتگاروںکی خدمت کے لئے دعا کرتا ہے تاکہ انسایت کے فرائض منصبی ادا کر سکے ۔ نانک کی خدا سے گذارش ہے کہ تیرے خادموںکا دیدار پاؤں (2) وہ پیارے بلند قسمت کہلاتے ہیں جن کو پاکدمان پارساوں کی صحبت و قربت مسیر ہے ۔ اب حیات نام سچ وحقیقت کو یاد وریاض سے دل و قلب پاک ہوتا ہے ذہن روشن ہوجاتا ہے ۔ تناسخ ختم ہوجات اہے ۔ روحانی موت کی محتاجی جاتی رہتی ہے ۔ اے نانک دیدار مسیر ہوتا ہے انہیں جومحبتی خدا کے ہیں (3) سب سے ۔ بلند ہستی اتنا وسیع کہ کنار نہیں۔ اتنا زیادہ کہ شمار ہو سکتا نہیں۔۔ اے خدا تو اتنے اوصافکا مالک ہے کہ وکن ہے جو تیرے اوصاف سمجھ سکے ۔ الہٰی حمدوثناہ کرنے و سننے سے برائیوں سے بچتا ہے انسان اور بیشمار گناہ مٹ جاتے ہیں حیوان کی مانند انسانوںکو بدروحوں کی مانند سخت دل انسانوں کو زندگی کے اس سمندر کو عبور کر ادیتا ہے ۔ اے نانک خادمان خدا ہر وقت خدا کے زیر سایہ رہتے ہیں اور ہمیشہ صدقے جاتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بِکھےَ بنُ پھیِکا تِیاگِ ریِ سکھیِۓ نامُ مہا رسُ پیِئو ॥
بِنُ رس چاکھے بُڈِ گئیِ سگلیِ سُکھیِ ن ہوۄت جیِئو ॥
مانُ مہتُ ن سکتِ ہیِ کائیِ سادھا داسیِ تھیِئو ॥
نانک سے درِ سوبھاۄنّتے جو پ٘ربھِ اپُنےَ کیِئو ॥੧॥
ہرِچنّدئُریِ چِت بھ٘رمُ سکھیِۓ م٘رِگ ت٘رِسنا د٘رُم چھائِیا ॥
چنّچلِ سنّگِ ن چالتیِ سکھیِۓ انّتِ تجِ جاۄت مائِیا ॥
رسِ بھوگنھ اتِ روُپ رس ماتے اِن سنّگِ سوُکھُ ن پائِیا ॥
دھنّنِ دھنّنِ ہرِ سادھ جن سکھیِۓ نانک جِنیِ نامُ دھِیائِیا ॥੨॥
جاءِ بسہُ ۄڈبھاگنھیِ سکھیِۓ سنّتا سنّگِ سمائیِئےَ ॥
تہ دوُکھ ن بھوُکھ ن روگُ بِیاپےَ چرن کمل لِۄ لائیِئےَ ॥
تہ جنم ن مرنھُ ن آۄنھ جانھا نِہچلُ سرنھیِ پائیِئےَ ॥
پ٘ریم بِچھوہُ ن موہُ بِیاپےَ نانک ہرِ ایکُ دھِیائیِئےَ ॥੩॥
د٘رِسٹِ دھارِ منُ بیدھِیا پِیارے رتڑے سہجِ سُبھاۓ ॥
سیج سُہاۄیِ سنّگِ مِلِ پ٘ریِتم اند منّگل گُنھ گاۓ ॥
سکھیِ سہیلیِ رام رنّگِ راتیِ من تن اِچھ پُجاۓ ॥
نانک اچرجُ اچرج سِءُ مِلِیا کہنھا کچھوُ ن جاۓ ॥੪॥੨॥੫॥
لفطی معنی :
وکھے بن۔ بدکاریوں ۔ گناہگاریوں۔ بد معاشیوں کا زہر آلودہ پانی ۔ پھیکا۔ بد مزہ ۔ تیاگ۔ چھوڑ۔ نام ۔ سچ وحقیقت اصلیت ۔مہارس ۔پر لطف۔ مزریدار۔ بڈگئی سگلی ۔ سارا علام ڈوب گیا۔ مان۔ وقار ۔ عطمت ۔مہت۔ اہمیت۔ عطمت ۔ خاصیت۔ سکت ۔ طاقت۔ قوت۔ سادھا داسی تھیو۔ پاکدامنوں کا خدمتگار غلام ہوجا ۔ سوبھ اونتے ۔ شہرت یافتہ۔ مشہور۔ نیک (1) ہر چندو ری ۔ خیالی ہوئای قلعہ ۔ بھرم وہم ومان ۔ مرگ ترسنا۔ دہو کے کاپانی ۔ صھر باب۔ درم (سایہ ) درخت کا سایہ۔ چنچل۔ نہ ٹھہرنے والی ۔ سنگ ن چالتی ۔ ساتھ نہیں دیتی ۔ انت۔ آخر۔ تج ۔ چھوڑ۔ رس۔ مزہ۔ بھوگن۔ لینا۔ روپ رس ماتے ۔ شکل وصورت کا لطف میں مست۔ سادھ جن۔ پاکدامن خدمتگار ۔ جنی نام دھیائیا۔ جنہوننے سچ وحقیقت میںدھیان دیا (2) وڈبھاگنی ۔ بلند قسمت۔ سنتاسنگ سمایئے ۔ پادکدامن روحانی رہبر کے ساتھ صحبت کرؤ۔ نہچل۔مستقل ۔ وچھو۔ جدائی۔ (3) درشٹ دھار۔ نظر عنایت و شفقت سے ۔ من بیدھیا۔ اپنی محبت میں گرفتار کر لیا۔ رمڑے سہج سبھائے ۔ قدرتی طور پر اس کے پیارمیں محسور ہوگئے ۔ سہج سہاوی ۔ دل اچھا ہوا۔ سنگ ۔ ساتھ۔ منگل۔ خوشی ۔ من تن ۔ چھ پجائے ۔ دلی خواہشات پوری ہوئیں۔ اچرج ۔ ششدر۔ حیران کرنے والا ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے ساتھیوں انسانوں بدیوں بدکاریوں کا بدمزہ پانی چھوڑ کر الہٰی نام سچ وحقیقت کا پر لطف مزیدار آبحیات نوش کیجیئے پیئے ۔ اسکا لطف اُٹھائے بغیر سارا عاالم ڈوب (گیا) رہا ہے ۔ مگر روح سکھی نہیں رہتی ۔ وقار ۔ عظمت اور قوت کے بگیر پاکدامنوںکے خدمتگار ہوجاو۔ اے نانک۔ الہٰی بارگاہ میںوہی قدروقیمت پاتے ہیں جنہیںخدا پانتاہہے (1) اے ساتھیوں یہ دنیاوی دولت اسس خیالی ہوائی قلعے کی مانند ہے ۔ دل کو بھٹکانے والی شراب ہے شجر کا سای ہے جو ایک جگدیہ ٹھہرتا اخر چھوڑ جاتی ہے ساتھ نہیں جاتی ہے ۔ دنیاوی نعمتوں کا لطف لینا دنیاوی خوبصورتی کے مزے اور ان میں مستی ان لطفوں اور مزیداریوں میں روحانی سکون نہیں۔ اے نانک۔ شاباش ہے ان پاکدامن الہٰی خدمتگاروں کوجنہوں نے الہٰی نام سچ وحقیقت میں اپنا دھیان لگائیا (2) اے بلند قسمت پاکدامن روحانی رہبروںکی صحبت قربت اختیار کیجیئے وہاں نہ عذاب نہ کسی قسم کی بھوک نہ کوئی بیماری خدا سے اپنا پیار پیدا رکؤ ۔ وہان نہ موت و پیدائش نہ آواگون یا تناسخ من پر سکون مستقل مزاج رہتا ہے ہذا الہٰی زیر سایہ ہی رہنا اہیے اے نانک ۔ نہ الہٰی محبت میں کمی نہ دنیاوی دولت کی محبت واحد خدا کی یادوریاض سے (3) خدا جن کو اپنی نظر عنایت و شفقت سے اپنی محبت میں محسور کر لینا ہے وہ روحانی سکون پریم و پیار میں محو ومجذوب رہتےہیں ان کے ذہن پر سکون رہتے ہیں اور اہٰی حمدوچناہ سے سکون پاتے ہیں۔
اے نانک۔ جو شخس الہٰی پریم پیار مین محو ومجذوب رہتے ہیں خدان کی ہر خواہش پوری کرتا ہے ان کی حیران کن روحانی عطمت اس عظیم ہستی سے یکسو ہوجاتی ہے جو بیان سے باہر ہے ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ گھرُ ੪
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ایک روُپ سگلو پاسارا ॥
آپے بنجُ آپِ بِئُہارا ॥੧॥
ایَسو گِیانُ بِرلوایِ پاۓ ॥
جت جت جائیِئےَ تت د٘رِسٹاۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
انِک رنّگ نِرگُن اِک رنّگا ॥
آپے جلُ آپ ہیِ ترنّگا ॥੨॥
آپ ہیِ منّدرُ آپہِ سیۄا ॥
آپ ہیِ پوُجاریِ آپ ہیِ دیۄا ॥੩॥
آپہِ جوگ آپ ہیِ جُگتا ॥
نانک کے پ٘ربھ سد ہیِ مُکتا ॥੪॥੧॥੬॥
لفظی معنی :
یہ عالم پھیلاؤ (الہٰی ) واحد خدا کا ہے ۔ ونج۔ بیوپار (1) گیان ۔ علم ۔ درلو۔ کسی کو ہی ۔ جت کت۔ جہاں کہیں۔ تت۔ سچ ۔ اصلیت۔ درسٹائے ۔ نظر آتا ہے (1) رہاؤ۔ نرگن ۔ بلا تاثر ۔ انک رنگ۔ بیشمار قسموں ۔ اک رنگا۔ واحد۔ ترنگا ۔ لہریں (2) مندر ۔ جائے پرستش۔ سیوا خدمتگار ۔ پجاری ۔ دیوا۔ دیوتا۔ جوگ۔ جوگی ۔ جگتا ۔ تدبیر۔ مکتا ۔ آزاد۔
ترجمہ معہ تشریح:
یہ عالم کا پھیلاؤ واحد ہستی خدا کا ہے یہ سارا دنیاوی بیوپار اسی کا ہے (1) اس عالم میں جہاں جاؤ ہر طرف نظر آتا ہے خا مگر اسیی سمجھ اور علم کسی کو ہی ہے (1) رہاؤ۔ بے حد شکلیں ہونے کے باوجود بیلاگ بلاتا ثر اور واحد ہے ۔ خو د ہی وہ پانی ہے خود ہی ہے لہریں (2) خود ہی ہے مندر خود ہی پرستش کار ہے ۔ خود ہی ہے دیوتا خود ہی پجاری (3) آپ ہی یوگ سادھن ۔ خود ہی ہے جوگی ۔ نانک کا خدا ہمیشہ بیلاگ ہے بلاتاثر ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
آپِ اُپاۄن آپِ سدھرنا ॥
آپِ کراۄن دوسُ ن لیَنا ॥੧॥
آپن بچنُ آپ ہیِ کرنا ॥
آپن بِبھءُ آپ ہیِ جرنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپ ہیِ مسٹِ آپ ہیِ بُلنا ॥
آپ ہیِ اچھلُ ن جائیِ چھلنا ॥੨॥
آپ ہیِ گُپت آپِ پرگٹنا ॥
آپ ہیِ گھٹِ گھٹِ آپِ الِپنا ॥੩॥
آپے اۄِگتُ آپ سنّگِ رچنا ॥
کہُ نانک پ٘ربھ کے سبھِ جچنا ॥੪॥੨॥੭॥
لفظی معنی:
اپاون ۔ پیدا کرنے والا۔ سدھرنا۔ آسرا دینے والا۔ کراون ۔ کرنے والا۔ دوس۔ ذمہ (1) بچن ۔ حکم ۔ فرمان۔ آپن بیبھو۔ خود ہی عش ۔ پرستی ۔ جرنا۔ اسے برداشت ۔ مسٹ ۔ خاموش ۔ بلنا۔ بولنا (2) اچھل ۔ جسے دہوکا نہ دیا جا سکے (2) گپت ۔ پوشیدہ پرگٹنا ۔ ظاہر۔ الپنا ۔ بیلاگ۔ اوگت ۔ بغیر جسم۔ بل احجم نرآکار۔ سنگ رچنا۔ سب کے ساتھ۔ جچنا۔ چوج ۔ کھیل ۔تماشے
ترجمہمعہ تشریح:
خود ہی ہے فرمان کرنے والا خو دہی کرتا ہے خودی ( عش ) اپنے کئے ہوئے کا انجام وہ پاتا ہے ۔ رہاو خو دہی پیدا کرکے خود ہی سہارا دیتا ہے ۔ خود ہی کرا کے زمہ داری نہ اپنے اوپر لیتا ہے 1) خودہی ہے خاموشی میں اور خو دہی ہے وہ بول رہا۔ دہوکے میں نہیں آنے وال انہ دہوکا وہ کھاتا ہے (2) خود ہی ہے پوشیدہ خود ہی وہ ظاہ رہے ہر دلمیں بستا ہے پھر بھی بیلاگ بلاتاثر وہ ہے (4) خود ہی ہے نظروں سے اوجھل خود ہی سب کا ساتھی ہے اے نانک۔ بتادے کہ یہ کھیل خدا کے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بھوُلے مارگُ جِنہِ بتائِیا ॥
ایَسا گُرُ ۄڈبھاگیِ پائِیا ॥੧॥
سِمرِ منا رام نامُ چِتارے ॥
بسِ رہے ہِردےَ گُر چرن پِیارے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کامِ ک٘رودھِ لوبھِ موہِ منُ لیِنا ॥
بنّدھن کاٹِ مُکتِ گُرِ کیِنا ॥੨॥
دُکھ سُکھ کرت جنمِ پھُنِ موُیا ॥
چرن کمل گُرِ آس٘رمُ دیِیا ॥੩॥
اگنِ ساگر بوُڈت سنّسارا ॥
نانک باہ پکرِ ستِگُرِ نِستارا ॥੪॥੩॥੮॥
لفظی معنی:
بھولے مارگ ۔ گمراہ (1) رام نام چتارے ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت دلمیںب سا کر۔ ذہن نیشن کرکے ۔ ہروے ۔ دل میں (1) رہاؤ۔ کام ۔ شہوت۔ کرؤدھ ۔ غسہ۔ لوبھ ۔الالچ۔ موہ۔ دنیاوی دولت کی محبت۔ من لینا۔ دل ملوث ۔ گرفتار۔ بندھن۔ غلامی ۔ کات ۔ دور کرکے ۔ مکت ۔ آزاد (2) دن۔ دوبارہ۔ آسرام۔ آسرا ۔ ٹھکانہ (3) نوڈت۔ ڈوبتا ہے ۔ باہ۔ بازو ۔ نستار ۔ پار لگائیا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل دھیان لگا کر الہٰی نام خدا کا سچ وحقیقت یاد تو کیا کر۔ وہی کرتا ہے یاد خا کو جس کے دل میں بستا ہو پیار مرشد کا (1) رہاؤ۔ جسگمراہ کو راستہ بتائیا ۔ ایس امرشد بلند قسمت سے ملتا ہے (1) جس کا دل شہوت غسہ ۔ لالچ اور دنیاوی دولت کی محبت نے اپنی گرفتمیںلے رکھا ہو اس کی غلامی دور رککے اسے آزادی کرات اہے (2) عذا ب و آسائش میں انسان تناسخ یا آواگون میں رہتا ہے مرشد اسے الہٰی سہارا یا ٹھکناہ دیتا ہے (3) آگ کے سمند رمیں عالم ڈوب رہا ہے مراد انسانی زندگی آفات و مصائب کا ایک سمند رہے ان سے باہر نکلانا نہایت دشوار ہے ۔ اے نانک۔ سچا مرشد پکڑ بازاور باہر نکالتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
تنُ منُ دھنُ ارپءُ سبھُ اپنا ॥
کۄن سُ متِ جِتُ ہرِ ہرِ جپنا ॥੧॥
کرِ آسا آئِئو پ٘ربھ ماگنِ ॥
تُم٘ہ٘ہ پیکھت سوبھا میرےَ آگنِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
انِک جُگتِ کرِ بہُتُ بیِچارءُ ॥
سادھسنّگِ اِسُ منہِ اُدھارءُ ॥੨॥
متِ بُدھِ سُرتِ ناہیِ چتُرائیِ ॥
تا مِلیِئےَ جا لۓ مِلائیِ ॥੩॥
نیَن سنّتوکھے پ٘ربھ درسنُ پائِیا ॥
کہُ نانک سپھلُ سو آئِیا ॥੪॥੪॥੯॥
لفظی معنی:
ارپو۔ بھینٹ کرؤ۔ سمت۔ اچھی عقل ۔ دانشمندی (1) ماگن۔ مانگنے کے لئے ۔ تم پیکھت ۔تمہارے دیدار سے ۔ سوبھا۔ شہرت۔ آنگن ۔ صحب۔ دلمیں۔ (1) رہاؤ۔ انک جگت۔ بیشمار طرقوں سے ۔ وچاریو۔ خیال کیا۔ سوچا سمجھے کی کوشش کی ۔ سادھ سنگ ۔ صحبت پاکدامناں۔ منیہہ ادھاریو۔ من کا بچاؤ ہے (2) مت ۔ سجھ ۔ بدھ ۔ عقل۔ سرت۔ ہوش۔ چترائی ۔ دانشمندی ۔ تاملئے ۔ تبھی ملاپ ہوگا۔ تاملئے جالئے ملائی ۔ تب ہی ملاپ ہو سکتا ہے جب خدا ملاتا ہے (3) نین سنتوکھے ۔ آنکھوں نے صبر محسوس کیا۔ سپھل۔ کامیاب ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا میں اُمید لیکر تجھ سے مانگنے آئیا ہوں تیرے دیار سے میرا دل میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے ۔ رہاؤ ۔ میں اپنا جسم من اور دولت اسے بھینٹ کردوں وہ کونسی سمجھ عقل و ہوش ہے جس سے الہٰی یادوریاض کرؤں (1) بیشمار طریقوں کے بابت خیالت دوڑائے سوچ و چار کی اخر یہی سمجھ آئی کہ صحبت و قربت پاکدامناں ہی اس دل کو بچا سکتا ہے (2) کسی دانائی عقل و ہوش کسی دھیان کے ساتھ الہٰی ملاپ حاسل نہیں ہو سکتا جب خدا چاہتا ہے تبھی ملاپ ہوتا ہے (3) اے نانک بتادے اس انان کا اس دیا میںلینا مبار ہے ۔ جس نے دیدار الہٰی پالیا جس کی آنکھوں نے دیار سے تسکین پائی صبر محسوس کیا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
مات پِتا سُت ساتھِ ن مائِیا ॥
سادھسنّگِ سبھُ دوُکھُ مِٹائِیا ॥੧॥
رۄِ رہِیا پ٘ربھُ سبھ مہِ آپے ॥
ہرِ جپُ رسنا دُکھُ ن ۄِیاپے ॥੧॥ رہاءُ ॥
تِکھا بھوُکھ بہُ تپتِ ۄِیاپِیا ॥
سیِتل بھۓ ہرِ ہرِ جسُ جاپِیا ॥੨॥
کوٹِ جتن سنّتوکھُ ن پائِیا ॥
منُ ت٘رِپتانا ہرِ گُنھ گائِیا ॥੩॥
دیہُ بھگتِ پ٘ربھ انّترجامیِ ॥
نانک کیِ بیننّتیِ سُیامیِ ॥੪॥੫॥੧੦॥
لفظی معنی:
ست۔ مٹا۔ فرزند۔ مائیا۔ دنیاوی سرمایہ۔ سادھ سنگ۔ صحبت پا رسایاں ۔ پاکدامنوں کی صحبت (1 رورہیا۔ بستا ہے ۔ ہرج پ۔ الہٰیریاض کر۔ رسنا۔ زبان سے (19 رہاؤ۔ تکھا ۔ پیاس۔ تپت۔ ذہنی عذاب ۔ جلن ۔ ستیل۔ ٹھنڈک بھیئے ۔ ہوئے مراد ذہنی سکون یا تکسین ۔ ہر جس ۔ الہٰی صفت صلاح۔ کوٹ جتن۔ کروڑوں کوششوں ۔ سنتوکھ ۔ صبر ۔ ہر پتانا ۔ تسلی (3) بھگت ۔ رپیم۔ انترجامی ۔ راز دل جاننے والے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا سب میں بس راہ ہے اس کی صفت صلاح کرنے سے کوئی مصیبت یا دکھ تکلیف نہیںآتی (1) رہاؤ۔ماں باپ بیٹا اور دنیاوی دولت کوئی ساتھی نہیں ۔ زبان سے خدا کا نام لینے سے عبادت وریاضت سے محبت و قربت پارسایاں ی اپاکدامناں سارے عذاب مٹا دیتی ہے (1) دا سب میں بس رہا ہے اس کی زباں سے صفت صلاح کرنے سے کوئی مصیبت نہیں آتی۔ جب انسان بھوک پیاس اور ذہنی جلن محسوس کرتا ہوں الہٰی حمدوثناہ سے تسکین ملتی ہے (2) کروڑوں کوششوںکے باوجودصبر شکر نہیں ہوتا الہٰی حمدوثناہ سے دل سر ہو جات اہے (3) اے راز دلیجاننے والے نانک عرض گذارتا ہے اسے اپنا عشق و محبت عنایت کر۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
گُرُ پوُرا ۄڈبھاگیِ پائیِئےَ ॥
مِلِ سادھوُ ہرِ نامُ دھِیائیِئےَ ॥੧॥
پارب٘رہم پ٘ربھ تیریِ سرنا ॥
کِلبِکھ کاٹےَ بھجُ گُر کے چرنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
اۄرِ کرم سبھِ لوکاچار ॥
مِلِ سادھوُ سنّگِ ہوءِ اُدھار ॥੨॥
سِنّم٘رِتِ ساست بید بیِچارے ॥
جپیِئےَ نامُ جِتُ پارِ اُتارے ॥੩॥
جن نانک کءُ پ٘ربھ کِرپا کریِئےَ ॥
سادھوُ دھوُرِ مِلےَ نِستریِئےَ ॥੪॥੬॥੧੧॥
لفظی معنی:
گرپور ۔ کامل مرشد۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ سادہو ۔ جسنے اپنی زندگی کو راہ راست پر لگالیا ہو۔ پاکدامن ۔ ہر نام۔ الہٰی نام سچ وحقیقت ۔ دھیایئے ۔ توجہ دیجیئے (1) پار برہم ۔ پار لگانے والے خدا کامیاب بخشنے والے بنانے والے ۔ سرنا۔ سایہ۔ پناہ۔ کل وکھ ۔ گناہ اور کرم دوسرے اعمال ۔ لوکار چار۔ دنیاوی رسم ر واج ۔ دکھاوا۔ ادھار۔ بچاؤ۔ سمرت۔ ہندو رہبروں کے بکھے ہوئے ۔ ستائیں مذہبی کتابیں۔ ساست۔ ہندو فلسفے کے چھ مزہبی کتابیں ۔ وید۔ ہندوں کے چار مذہبی گرنتھ ۔ ییچارے ۔ سمجھے ۔ جپیے ۔ یاد کر ۔ نام ۔ سچ وحقیقت۔ جت ۔ جس سے ۔ پارا اداھرے ۔ زندگی کو کامیابی حاصل ہوتی ہے (3) سادہو دہور ۔ خاک پائے پاکدامن ۔ نستر ییئے ۔ کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے کامیابیاں عنایت کرنے والے خدا تیرے زیر سایہ وپناہ گزیں ہوں ۔ مرید مرشد ہونے سے سارے گناہ عافو ہوجاتے ہیں۔ رہاؤ۔ بلند قسمت سے ملتا ہے کامل مرشد پار سایا پاکدامن کے ملاپ سے ہی الہٰی نام سچ وحقیقت میں ہی توجہ اور دھیان لگائیا جا سکتا ہے (1) دوسرے سارے عاملا دنیاوی رسم و رواج اور لوگوں کے لئے دکھاوا ہیں۔ پاکدامن روحانی رہبر کی صحبت و قربت ہی نزدگی کامیاب ہوتی ہے (2) ہندوں کے مذہبی کتایبں سمرتیاں شاشتر اور ویدوں کو سمجھا اور سوچا ہے الہیی نام سچ و حقیقت کی یادوریاض سے ہی زندگی کامیاب بنائی جا سکتی ہے (3) اے خدا پانے خادم پر پانی کرم وعنیات فمرا ۔ پاکدامن روحانی رہبر کی خاک پا لے جس سے کامیابی حاصل ہو۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
گُر کا سبدُ رِدے مہِ چیِنا ॥
سگل منورتھ پوُرن آسیِنا ॥੧॥
سنّت جنا کا مُکھُ اوُجلُ کیِنا ॥
کرِ کِرپا اپُنا نامُ دیِنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
انّدھ کوُپ تے کرُ گہِ لیِنا ॥
جےَ جےَ کارُ جگتِ پ٘رگٹیِنا ॥੨॥
نیِچا تے اوُچ اوُن پوُریِنا ॥
انّم٘رِت نامُ مہا رسُ لیِنا ॥੩॥
من تن نِرمل پاپ جلِ کھیِنا ॥
کہُ نانک پ٘ربھ بھۓ پ٘رسیِنا ॥੪॥੭॥੧੨॥
لفظی معنی:
روے میہہ چینا۔ دلمیں سوچا سمجھا۔ سگل منورتھ۔ سار ا مقصد۔ ملطب۔ پورن آسینا۔ امیدیں پوری ہوئیں (1) اجل ۔ سرخرو۔ رہاؤ۔ ج جے کار۔ فتح یا کامیابی ۔ جگتپر گٹیینا۔ علام میں شہرت ہوئی (2) انمرت نام ۔ آبحیات نام۔ سچ حقیقت ۔ جس سے زندگی روحانی واخلاقی طور پر کامیاب ہوجاتی ہے (3) نرمل ۔ پاک ۔ پاپ۔ جل کھینا۔ گناہ جل جاتے ہیں۔ ہر سینا پرسن۔ خوش۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدانے اپنی کرم وعیات سے اپنے نام کی بخشش روحانی رہبروںکو کی جس سے ان روحانی رہبروں کے رخ عالم میں روشن ہوئے (1) رہاؤ۔ کلام مرشد جنہوںنے اپنے دلمیں سوچا سمجھا اس کے سارے مقصد حل ہوئے اور امدیں برآور ہوئیں (1) اس دنیاوی زندگی کے اندھیرے کوئیں سے ہاتھ پکڑ باہر نکلا ااور ان کی سارے عالممیں شہرت ہوئی (2) کیمنوں سے بلند مرتبہ ہوئے جو کمی تھی وہ پوری ہوئی ۔ آب حیات نام کا پانیجو زندگی روحانی واخلاقی بنا دیتا ہے ۔ جو بھاری پر لطف اور مزیدار ہے اسکا لطف لیا (3) جس سے دل وجان پاک ہوئی اور گناہ جل گئے ۔ اے نانک بتادے کیجن پر خدا خوش ہوا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سگل منورتھ پائیِئہِ میِتا ॥
چرن کمل سِءُ لائیِئےَ چیِتا ॥੧॥
ہءُ بلِہاریِ جو پ٘ربھوُ دھِیاۄت ॥
جلنِ بُجھےَ ہرِ ہرِ گُن گاۄت ॥੧॥ رہاءُ ॥
سپھل جنمُ ہوۄت ۄڈبھاگیِ ॥
سادھسنّگِ رامہِ لِۄ لاگیِ ॥੨॥
متِ پتِ دھنُ سُکھ سہج اننّدا ॥
اِک نِمکھ ن ۄِسرہُ پرماننّدا ॥੩॥
ہرِ درسن کیِ منِ پِیاس گھنیریِ ॥
بھنتِ نانک سرنھِ پ٘ربھ تیریِ ॥੪॥੮॥੧੩॥
لفظی معنی:
سگل منورتھ ۔ سارے مدعے و مقصد۔ میتا۔ دوست (1) دھیاوت۔ دھیان لگاتے ہیں۔ جلن بجھے ۔ ذہنی کوفت (1) رہاؤ۔ سپھل جنم۔ کامیاب زندگی ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ سادھ سنگ۔ صحبت و قربت پاکدامن ۔ رامیہہ ۔ لولاگی ۔ خدامیں محو (2) مت ۔ عقل و ہوش ۔ پت ۔ عزت۔ سہج انند۔ ذہنی و قلبی سکون ۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے کے لئے ۔ نہ وسرہو ۔ نہ بھولو ۔ پر مانددا۔ بھاری سکون والا (3) گھنبیری ۔ زیادہ ۔ بھنت ۔ بیان ۔
ترجمہ معہ تشریح:
قربان ہوں ان انسانوں پر جو دھیان خدا میں دیتے ہیں الہٰی حمدوچناہ سے ان کی زہنی کوفت مٹتی ہے (1) رہاو۔ جو پیار پاک خدا سے پات اہے سارے مقصد و مدعے اے دوست وہ حل پاتا ہے (1) اس بلند قسمتکی زندگی کامیاب ہوجاتی ہے جس کی پارساوں کی صحبت قربت میں خدا سے محبت ہوجاتی ہے (2) عقل و ہوش اور عزت اور سرمایہ اور سکون ذہنی جو دیتا ہے آنکھ جھپکنے کے عرصے میں بھی نہ اسے بھلاؤ جو بھاری روحانی سکون دینے وال اہے (3) نانک عرض گذارتا ہے ۔ اے خدا تیرے زیر سایہ و پناہ ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
موہِ نِرگُن سبھ گُنھہ بِہوُنا ॥
دئِیا دھارِ اپُنا کرِ لیِنا ॥੧॥
میرا منُ تنُ ہرِ گوپالِ سُہائِیا ॥
کرِ کِرپا پ٘ربھُ گھر مہِ آئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھگتِ ۄچھل بھےَ کاٹنہارے ॥
سنّسار ساگر اب اُترے پارے ॥੨॥
پتِت پاۄن پ٘ربھ بِردُ بیدِ لیکھِیا ॥
پارب٘رہمُ سو نیَنہُ پیکھِیا ॥੩॥
سادھسنّگِ پ٘رگٹے نارائِنھ ॥
نانک داس سبھِ دوُکھ پلائِنھ ॥੪॥੯॥੧੪॥
لفظی معنی:
ترگن ۔ بے وصف ۔ بہونا۔ بغیر ۔دھیا دھار ۔ مہربانی کرکے (1) سہائیا۔ خوبصورت بنائیا ۔ گھر میہہ آئیا۔ دلمیں بسا (1) رہاؤ۔ بھگت وچھل ۔ عابدوں کو پایر کرنے والا۔ بھے کا ٹنہارا۔ خوف ۔ مٹانے والا۔ اترے پار۔ عبور کیا۔ کامیاب ہوئے (1 پتت پاون ۔ بداخلاق کو پاک بنانے والا۔ بردھ ۔ آغاز عالم سے قدیمی عادات۔ وید۔ ہندوں کا مذہبی گرنتھ ۔ ننہو۔ آنکھوں سے ۔ پیکھیا۔ دیکھا (3) سادھ سنگ۔ صحبت و قربت پاکدامن پارسیاں ۔ پلائن۔ دور ہوئے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا وند کریم اپنی کرم وعنایت سے میرے دل میں بس گیا جس سے میرا دل وجان خوشباش و خوبرو ہوگیا (1) رہاؤ۔ گو مجھ میں نہیں کوئی صفت و وصف تاہم خدا نے اپنی کرم و عنیات سے اپنالیا (1) خدا اپنے پریمیوں کا پیار خوف مٹانے والا نے اب مجھے اس دنیاوی زندگی کے سمندر سے کامیابی سے عبور کرادیا مراد زندگی جینے کا مقصد حل کر لیا (1) ویدوں میں تحریر ہے کہ خدا کا آغاز عالم سے قدیمی عادت ہے کہ وہ بد اخلاق بدچلنوں گناہگاروں کو بھی پاک بنانے وال اہے اس کامیابیاں بخشنے والے کو اپنی آنکھوں سے دکھ لیا (3) خدا پارساوں پاکدامنوںکی صحبت و قربت میں انسان کے دلمیں ظہور پذیر ہوجاتا ہے اے نانک اس کے تمام عذاب مٹ جااتاہے ۔

.بِلاۄلُ مہلا ੫॥
کۄنُ جانےَ پ٘ربھ تُم٘ہ٘ہریِ سیۄا ॥
پ٘ربھ اۄِناسیِ الکھ ابھیۄا ॥੧॥
گُنھ بیئنّت پ٘ربھ گہِر گنّبھیِرے ॥
اوُچ مہل سُیامیِ پ٘ربھ میرے ॥
توُ اپرنّپر ٹھاکُر میرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایکس بِنُ ناہیِ کو دوُجا ॥
تُم٘ہ٘ہ ہیِ جانہُ اپنیِ پوُجا ॥੨॥
آپہُ کچھوُ ن ہوۄت بھائیِ ॥
جِسُ پ٘ربھُ دیۄےَ سو نامُ پائیِ ॥੩॥
کہُ نانک جو جنُ پ٘ربھ بھائِیا ॥
گُنھ نِدھان پ٘ربھُ تِن ہیِ پائِیا ॥੪॥੧੦॥੧੫॥
لفظی معنی:
کون۔ کون۔ سیوا۔ کدمت۔ اوناسی ۔ لافناہ ۔ نہ مٹنے والا صدیوی ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ بھیوا۔ جسکا راز معلوم نہ ہو سکے (1) گہر گھنبیر۔ نہایت سنجیدہ گہرائی تک سوچنے والا۔ اپر نپر۔ اتنا وسیعکہ کنار نہیں (1) رہاؤ۔ ایکس بن۔ ایک کے علاوہ ۔ پوجا۔ پرستش۔ 2) آپہو۔ اپنے آپ سے (3) پربھ بھائیا۔ خدا کو اچھا لگا۔ گن ندھان۔ اوصاف کا خزانہ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے بیشمار اوصاف کے مالک نہایت سنجدیہ اور گہری سوچ و چار والے اونچے روحانی خطوں کے مالک میرے آقا تو اتنا وسیع ہے کہ کنارا اور حدوو نہیں (1 رہاؤ۔ کون ہے وہ انسان جو تیری خدمت کرنی جانتا ہے ۔ اے لافناہ خا اے آنکھوں سے اوجھل خدا اے پوشیدہ راز بینا اور سمجھ سے بعید خدا (1) اے خدا تیرے بغیر تیرا کوئی چانی نہیں۔ اپنی پرستش کا تجھے ہی معلوم ہے (2) اپنے آپ کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ جسے خدا دیتا ہے وہی نام سچ وحقیقت پاتا ہے (3) اے نانک بتادے ۔ جو خدا کا پیار ہوگی اوصاف کا خزانہ خدا اسے ہی ملا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
مات گربھ مہِ ہاتھ دے راکھِیا ॥
ہرِ رسُ چھوڈِ بِکھِیا پھلُ چاکھِیا ॥੧॥
بھجُ گوبِد سبھ چھوڈِ جنّجال ॥
جب جمُ آءِ سنّگھارےَ موُڑے تب تنُ بِنسِ جاءِ بیہال ॥੧॥ رہاءُ ॥
تنُ منُ دھنُ اپنا کرِ تھاپِیا ॥
کرنہارُ اِک نِمکھ ن جاپِیا ॥੨॥
مہا موہ انّدھ کوُپ پرِیا ॥
پارب٘رہمُ مائِیا پٹلِ بِسرِیا ॥੩॥
ۄڈےَ بھاگِ پ٘ربھ کیِرتنُ گائِیا ॥
سنّتسنّگِ نانک پ٘ربھُ پائِیا ॥੪॥੧੧॥੧੬॥
لفظی معنی:
مات گربھ ۔ ماں کے پیٹ میں۔ ہر رس۔ الہٰی لطف ۔ وکھیا پھل۔ زہریلی مائیا کے نیچے (1) جنجال ۔ پھندے ۔ سنگھارے ۔ سزا دیگا۔ پیٹے گا۔ موڑھے ۔ بیوقوف۔ تن ونسجاے ۔ جسم ختم ہوجائیگا۔ بیحال۔ برا حال ہوگا ۔ رہاؤ۔ مہاموہ اند کوپ۔ دنیاوی محبت کے اندھے کوئیں۔ تھاپیا ۔ سمجھیا ۔ کرنہار ۔ کرنے والا۔ نمکھ ۔ تھوڑی ۔ سی دیر کے لئے جاپیا۔ یادکیا (2) اندھ کوپ۔ اندھے کوئیں۔ مائیا ۔ پٹل۔ دنایوی دولت کا پرادہ۔ وسریا۔ بھولیا (3) کیر تن ۔ صفت صلاح۔ سنت سنگ۔ روحانی رہبر کی صحبت و قربت میں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان ۔ خدا کی عبادت وریاضت اس محبت کے پندے چھوڑ ۔۔ جب الہٰیکوتوال اے بیوقوف تجھے پیٹے گا ت جسم اس کے عذاب سے ختم ہوجائیگا اور بد حال ہوگا (1) رہاؤ۔ اے انسان ماںکے پیٹ کی آگ سے تجھے اپنے ہاتھ سے تجھے بچائیا تھا اس کرم وعنایت کے لطف کو چھوڑ کر براہوں بدیوں گناہگاریوں دنیاوی لذتوں میں مصروف ہے (1) جسم دل و دولت جسے تو اپنا سمجھ رہا ہے ۔ مگر جس نے اسے پیدا کیا ہے اسے ذرا سی دیر کے لئے بھی یاد نہیں کرتا (2) بھاری محبت کے اندھے کوئیں میں پڑا ہوا ہے ۔ دنیاوی دولت کے ہر وے میں خدا کو بھلا رکھا ہے (3) بلند قسمت الہٰی حمدوثناہ کی اے نانک صحبت و قربت سے روحانی پار ساو رہبر الہٰی وصل وملاپ حاصل ہوا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
مات پِتا سُت بنّدھپ بھائیِ ॥
نانک ہویا پارب٘رہمُ سہائیِ ॥੧॥
سوُکھ سہج آننّد گھنھے ॥
گُرُ پوُرا پوُریِ جا کیِ بانھیِ انِک گُنھا جا کے جاہِ ن گنھے ॥੧॥ رہاءُ ॥
سگل سرنّجام کرے پ٘ربھُ آپے ॥
بھۓ منورتھ سو پ٘ربھُ جاپے ॥੨॥
ارتھ دھرم کام موکھ کا داتا ॥
پوُریِ بھئیِ سِمرِ سِمرِ بِدھاتا ॥੩॥
سادھسنّگِ نانکِ رنّگُ مانھِیا ॥
گھرِ آئِیا پوُرےَ گُرِ آنھِیا ॥੪॥੧੨॥੧੭॥
لفظی معنی:
ست۔ بیٹا۔ بندھپ۔ رشتہدار۔ سہائی۔ مددگار (1) گھنے ۔ زیادہ۔ بانی۔ کلام۔ انک گنا۔ بیشمار۔ وصف۔ جاہے نہ گنے ۔ شمار نہیں ہو سکتے (1 ) رہاؤ۔ سرنجام ۔ سرانجام ۔ انتظام ۔ منورتھ ۔ مقصد۔ جاپے ۔ یادوریاض سے (2) ارتھ۔ اسیا سرمایہ جس سے دنیایو ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ دھرم۔ انسانیت کے فرائض منصبی مکمل کرنے کا پابند ہونا۔ کام ۔کامیابی حاصل کرنی ۔موکھ ۔نجات۔ آزادی ۔ ذہنی آزادی ۔ بدھانتا۔ کارساز۔ تدبیریں بنانے والا۔ (3) رنگ مائیا ۔ خوشی منائی۔ گھر آئیا۔ حقیقی گھر ۔ الہٰی حضور ۔یکسوئی۔ مدعگم۔ مجذوب ۔ پورے گر آئیا۔ کام مرشد ٹیکے آئیا۔
ترجمہ معہ تشریح:
جسکا کامل ہے اور کامل کا کلام ہے جو بیشمار کا مالک ہ جو شما رنہیں کئے جا سکتے اسے بیشمار آرام و آسائش اور سنو ملتا ہے (2) ماں باپ ۔بیٹا۔ رشتہدار بھائی اے ناک۔ اورخدا مددگار ہوتا ہے (1) جو یادوریاض خداکی کرتا ہے سارے کام خدا خدا سر انجام کرتا ہے اور سارے مقصد اس کے حل ہوجاتے ہیں (2) اس کی یادوریاض سے جو دنیاوی نعمتون دنیاوی ضرورتوں انسانی فرائض کی انجام دہی دنیاوی ہر طرح کی کامیابیاں اور آزادی بخشنے والا کارساز کرتارہے جو ہر طرح کی تدبیریں بناتاہے ۔اور بخشتا ہے (3) نانک نے پارساؤں پاکدامنوںکی صحبت و قربت میں روحانی سکون پائیا خدا دلمیں بسائیا کامل مرشد نے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
س٘رب نِدھان پوُرن گُردیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپت نر جیِۄے ॥
مرِ کھُیارُ ساکت نر تھیِۄے ॥੧॥
رام نامُ ہویا رکھۄارا ॥
جھکھ مارءُ ساکتُ ۄیچارا ॥੨॥
نِنّدا کرِ کرِ پچہِ گھنیرے ॥
مِرتک پھاس گلےَ سِرِ پیَرے ॥੩॥
کہُ نانک جپہِ جن نام ॥
تا کے نِکٹِ ن آۄےَ جام ॥੪॥੧੩॥੧੮॥
لفظی معنی:
سربن ندھان۔ سارے خذانے (1) رہاؤ۔ نام جپت۔ سچ وحقیقت کی یادوریاض ۔ نر جیو ے ۔ انسان کو اخلاقی وروحانی زندگی حاصلہوتی ہے ل۔ خوار۔ زلیل ۔ ساکت ۔ مادہ پرست دنیاوی دولت کا پجاری ۔ بھولے ہوتا ہے (1) رکھوار ۔ رکھوالا۔ محافظ ۔ نند۔ بدگوئی ۔ پجییہ گھنیرے ۔ بہت سے ذلیل خوار ہوئے ۔ مرتک ۔ مردے ۔ مرار ۔ روحانی واخلاقی مردے (3) جپیہہ جن نام ۔ جو نام ۔ سچ حق و حقیقت کی یاداوریاض کرتے ہیں۔ جام ۔ روحانی واخلاقی موت کا خوف۔
ترجمہ معہ تشریح:
سارے خزانوں کے مالک کو ملاتا ہے کامل مرشد۔ رہاؤ (1) الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض سے انسان کی نزدگی روحانی واخلاقی ہوجاتی ہے ۔ ماد پرست دنیاوی دولت کا پرستار اخلاقی وروحانیموت مرتا اور ذلیل خوار ہوتا ہے ۔ (1) الہٰی نام سچ حق و حقیقت انسانی نزدگی کا محافظ ہے مادہ پرست دنیاوی دولت کا پرستار فضول بکواس کرتا ہے (2) بدگوئی اور برائی کرتے کرتے بیشمار ذلیل وخوار ہوئے اور موت کا پھندہ گلے سر اور پاؤں پڑتا ہے (3) اے نانک نانک بتادے جنہوں الہٰی نام سچ حق و حقیقت دل میں کو دلمیں بسائیا یاد وریاض کی روحانی واخلاقی موت ان کے نزدیک نہیں پھٹکتی ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ گھرُ ੪ دُپدے
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کۄن سنّجوگ مِلءُ پ٘ربھ اپنے ॥
پلُ پلُ نِمکھ سدا ہرِ جپنے ॥੧॥
چرن کمل پ٘ربھ کے نِت دھِیاۄءُ ॥
کۄن سُ متِ جِتُ پ٘ریِتمُ پاۄءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایَسیِ ک٘رِپا کرہُ پ٘ربھ میرے ॥
ہرِ نانک بِسرُ ن کاہوُ بیرے ॥੨॥੧॥੧੯॥
لفظی معنی:
سنجوگ۔ (موقعے ) موقہ ملاپ۔ پل پل۔ ہر وقت ۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے مین (1) دھیاوؤ۔ دھیان لگاو۔ توجہ دو۔ سمت ۔ اچھی عقل۔ جت ۔ جس سے ۔ پریتم ۔ پیار۔ (1) رہاؤ۔ کرپا۔ محربای ۔ دست ۔ بھولے ۔ کا ہو ۔ کبھی ۔ ہیرے ۔ بارہ
ترجمہ معہ تشریح:
وہ کونسی اچھی نیک صلاح اور سمجھ ہے جس پیارے خدا کا وصل نصیب ہو (1) رہاؤ۔ وہ کونسا وقت اور موقہ ہوگا جب الہٰی ملاپ ہوگا۔ ہر وقت ہر گھڑی الہٰی یادوریاض وصل نصیب ہوگا۔ ا ے نانک اے خدا ایسی کرم و عنایت فرما میرے خدا کہ کبھی بھی خدا کونہ بھلاؤں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
چرن کمل پ٘ربھ ہِردےَ دھِیاۓ ॥
روگ گۓ سگلے سُکھ پاۓ ॥੧॥
گُرِ دُکھُ کاٹِیا دیِنو دانُ ॥
سپھل جنمُ جیِۄن پرۄانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اکتھ کتھا انّم٘رِت پ٘ربھ بانیِ ॥
کہُ نانک جپِ جیِۄے گِیانیِ ॥੨॥੨॥੨੦॥
لفظی معنی:
چرن کمل۔ کنول کے پھول کی مانند پاک و خوبصورت۔ ہر وے ۔ دلمیں دھیاؤ۔ توجہ دو۔ روگ۔ بیماری ۔ سگلے ۔ سارے ۔ سکھ ۔ آرام و آسائش ۔ گیانی ۔ دانشمند۔عاقل (1) گر۔ مرشد۔ دکھ کائیا۔ عذاب مٹائیا۔ دینو دان ۔ خیرات دی ۔ جیون پروان۔ زندگی منظور و قبول ہوئی۔ (1) ہاؤ۔ اکتھ کھتا۔ ایسی کہانی جو بین نہ ہو سکے ۔ انمرت پربھ بھانی ۔ آبحیات۔ ایسا پانی جو زندگی روحانی واخلاقی تقویت پہنچاتا ہے ۔ جپ جیوے گیانی ۔ عقلمند کو اس کی یادوریاض سے زندگی روحانی واخلاقی بنتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
مرشد خریات بخشش کی اور سارا عذاب مٹائیا زندیگ کامیاب ہوئی اور قبول الہٰیہوئی (1) رہاؤ۔ خڈا میں دھیان لگانا شروع ہوا بیماریاں ختم ہوئیں آرام و آسائش پائیا (1) الہٰی کلام اب حیات ہے جو بیان سے باہر کہانی ہے ۔ اے نانک بتادے کہ اسکی یادوریاض سے زندگی اخلاقی و روحانی ہوجاتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ساںتِ پائیِ گُرِ ستِگُرِ پوُرے ॥
سُکھ اُپجے باجے انہد توُرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
تاپ پاپ سنّتاپ بِناسے ॥
ہرِ سِمرت کِلۄِکھ سبھِ ناسے ॥੧॥
اندُ کرہُ مِلِ سُنّدر ناریِ ॥
گُرِ نانکِ میریِ پیَج سۄاریِ ॥੨॥੩॥੨੧॥
لفظی معنی:
سانت۔ سکون ۔ ستگر پورے ۔ کامل مرشد اپجے ۔ پیدا ہوئے ۔ انحد تورے ۔ روحانی یکسوئی میں روحانی سنگیت کا برابر جاری رہنا (1) رہاؤ۔ تاپ ۔ ذہنی کوفت۔ پاپ ۔ گناہ۔ سنتاپ ۔ اندرونی یا قلبتی عذاب۔ وناسے ۔ مٹے ۔ کل وکھ ۔ گناہ۔ ناسے ۔ دور ہوئے ۔ انند کر ہو۔ روحانی یا زہنی خوشیاں مناؤ ۔ سندر ناری ۔ خوبصورت اعضائے ۔ پیج ۔ عزت۔
ترجمہ معہ تشریح:
کامل مرشد نے دل کو سکون پہنچائیا آرام و آسائش پیدا ہوئے اور روحانی یکسوئی سنگیت جاری ہوئے (1) رہاؤ۔ الہٰی یادوریاض سے سارے گناہ خٹم ہوئے ۔ عذاب گناہ اور ذہنی کوفت مٹی (1 ) خوبصورت اعضائے جسمانی نے آپسیملاپ سے خوشیاں منائیں۔ اے نانک مرشد نے میری عزت بنائی۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ممتا موہ دھ٘روہ مدِ ماتا بنّدھنِ بادھِیا اتِ بِکرال ॥
دِنُ دِنُ چھِجت بِکار کرت ائُدھ پھاہیِ پھاتھا جم کےَ جال ॥੧॥
تیریِ سرنھِ پ٘ربھ دیِن دئِیالا ॥
مہا بِکھم ساگرُ اتِ بھاریِ اُدھرہُ سادھوُ سنّگِ رۄالا ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘ربھ سُکھداتے سمرتھ سُیامیِ جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تُمرا مال ॥
بھ٘رم کے بنّدھن کاٹہُ پرمیسر نانک کے پ٘ربھ سدا ک٘رِپال ॥੨॥੪॥੨੨॥
لفظی معنی:
ممتا۔ میں اور میری ۔ موہ ۔ دنیاوی محبت ۔ دھروہو۔ وہوکار بازی ۔ مد ماتا۔ نشے کی مستی ۔ بندھن۔ غلامی ۔ بندش۔ بادھیا ۔ محسور۔ ات بکرال ۔ نہایت خوفناک۔ ھجت ۔ گھٹی ہے ۔ بکار کر ت۔ بدکاریاں کرنے سے ۔۔ اودھ ۔ عمر۔ پھاہی پاتھا۔ پھندے میں پھنسا ہوا۔ جسم کے جال ۔ موت کے پھندے میں (1) دین دیال ۔ غریب پرور۔ رحمان الرحیم۔ مہاوکھم ساگر۔ بھاری دشوار سمندر۔ ات بھاری ناہیت وسیع۔ ادھرہو۔ بچاؤ (1) رہاؤ۔ پربھ سکھداتے ۔ آرام و آسائش بخشنے والے خدا۔ سمرتھ ۔ با توفیق ۔ طاقت رکھنے والے ۔ جیؤ پنڈ۔ روح و جسم۔ بھرم کے بندھن۔ شک و شبہات کی غلامی ۔ کرپال ۔ مہربان
ترجمہ معہ تشریح:
اے رحمان الرحیم غریب پرور میں تیرے زیر سایہ و پناہ میں ہوں مجھے صحبت و قربت پارساو پاکدامن کی صحبت و قربت عنایت کرک ے بچاییئے اس بھاری دشوار گذار علامی زندگی کے خوفناک سمندر سے (1) رہاؤ۔ کوئشتا کے نشے میں چور دہوکا دہی ۔ چالاکی فریب میں محو ومجزوب اور دنیاوی دولت کی غلامی میں گرفتار زندگی خوفناک ہوجاتی ہے اور عمر بدیوں برائیوں بدکاریوں اور گناہگاریوں میں ہر روز کم ہو رہی ہے گھٹتی جاتی ہے ۔ اسطرح ہر وقت روحانی موت کے پھندے میں پھنسا رہتا ہے (1) اے آرام و آسائش پہنچانے والے کی توفیق رکھنے والے یہ روح اور جسم تیرا ہی دیا ہوا ہے تیرا سامایہ ہے ۔ اے نانک کے خدا۔ وہمو گمان کی غلامی مٹایئے رحمان الرحیم۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سگل اننّدُ کیِیا پرمیسرِ اپنھا بِردُ سم٘ہ٘ہارِیا ॥
سادھ جنا ہوۓ کِرپالا بِگسے سبھِ پرۄارِیا ॥੧॥
کارجُ ستِگُرِ آپِ سۄارِیا ॥
ۄڈیِ آرجا ہرِ گوبِنّد کیِ سوُکھ منّگل کلِیانھ بیِچارِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ۄنھ ت٘رِنھ ت٘رِبھۄنھ ہرِیا ہوۓ سگلے جیِء سادھارِیا ॥
من اِچھے نانک پھل پاۓ پوُرن اِچھ پُجارِیا ॥੨॥੫॥੨੩॥
لفظی معنی:
سگل انند۔ ہر طرح کی خوشی۔ بروھ سماریا ۔ اپنی عادت پوری کی ۔ سادھ جنا۔ پاکدامن خادم خدا۔ کر پالا ۔ مہربان۔ وگسے ۔ سب پرواریا۔ سار خاندان خوشی ہوا (1) کارج ۔ کام مقصد۔ ستگر ۔ سچے مرشد۔ ۔ وڈی آرجا ۔ لمبی عمر۔ منگل ۔ خوشی ۔ کلیان ۔ خوشہالی (1) رہاؤ۔ ون۔ جنگل ۔ ترن ۔ تنکے ۔مراد گھاس پھوس ۔ تربھون ۔ تینوں عالم ۔ سگلے جیئہ ۔ سارے جاندار۔ سادھاریا۔ آسراویا۔ پجاریا ۔ پوری ہوئی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا نے خود کام سر انجام دیا اور درست فرمائیا اور ہر گو بند کو لمبی عمر خوشیاں خوشحالی دینے کی بابت سوچیا (1) رہاؤ۔ خدا اپنے قدیمی عادات کے مطابق پارساوں پاکدامنوں پر ہمیشہ اپنی رکم وعنایت کرتا ہے اور سارے خاندان کو خوشیاں عنایت کرتا ہے (1) جنگل سبزہ زار اور تیونں علام ہرے بھرے ہوئے نانک نے اپنی دلی کواہش کی مطابق مرادیں پوری کیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جِسُ اوُپرِ ہوۄت دئِیالُ ॥
ہرِ سِمرت کاٹےَ سو کالُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سادھسنّگِ بھجیِئےَ گوپالُ ॥
گُن گاۄت توُٹےَ جم جالُ ॥੧॥
آپے ستِگُرُ آپے پ٘رتِپال ॥
نانکُ جاچےَ سادھ رۄال ॥੨॥੬॥੨੪॥
لفظی معنی:
دیال۔ مہربان۔ برسمرت۔ الہٰی یادوریاض سے ۔ کال ۔ موت۔(1) رہاؤ۔ سادھ سنگ۔ پارساو پکدامن کی صحبت و قربت میں۔ بھجیئے ۔ یاد کریں۔ تو ٹے جم جال۔ موت کا پھندہ ٹوٹ جاتا ہے (1) پرتپال ۔ پرورش ۔ جاپے ۔ مانگتا ہے ۔ سادھ رول ۔ خاک پائے پاکدامن ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس پر خدا مہربان ہوجائے اس کی یاد سے روحانی موت مٹ جاتی ہے (1) رہاؤ۔ سادھ کی صحبت میں یاد خدا کی کرنے سے اور حمدوثناہ سے موت کا پھندہ ٹوٹ جاتا ہے (1) خود ہی سچا مرشد ہے اور خود پرروش کرنے والے ہے ۔ نانک خاک پائے پاکدامن کی خیرات و بھیک مانگتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
من مہِ سِنّچہُ ہرِ ہرِ نام ॥
اندِنُ کیِرتنُ ہرِ گُنھ گام ॥੧॥
ایَسیِ پ٘ریِتِ کرہُ من میرے ॥
آٹھ پہر پ٘ربھ جانہُ نیرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کہُ نانک جا کے نِرمل بھاگ ॥
ہرِ چرنیِ تا کا منُ لاگ ॥੨॥੭॥੨੫॥
لفظی معنی:
سنچہو۔ پاشی کرو۔ چھڑ کو۔ بساؤ۔ ہر ہر نام ۔الہٰی نام ۔ سچ وحقیقت ۔ اندن ۔ ہر روز۔ کیرتن۔ صفت صلاح (1 ) پریت ۔ پیار۔ نیرے ۔ نزدیک ۔ ساتھ (1) رہاؤ۔ نرمل۔ پاک۔ بھاگ۔ قسمت۔ ہر چا چرنی ۔ پائے الہٰی۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دل خڈا سے ایسا پیار کر کہ ہر وقت خدا کو ساتھ سمجھو (!) رہاؤ۔ دل میں ہر نام سچ وحقیقت سنچہو۔ پاشی کرؤ چھڑ کو اور ہر روز الہٰی حمدوثناہ و صفت صلاح کیا کرؤ (1) اے نانک ۔ بتادے جس کی تقدیر و مقدر اچھا ہے اسی کے دل میں یاد خدا کی آتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
روگُ گئِیا پ٘ربھِ آپِ گۄائِیا ॥
نیِد پئیِ سُکھ سہج گھرُ آئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
رجِ رجِ بھوجنُ کھاۄہُ میرے بھائیِ ॥
انّم٘رِت نامُ رِد ماہِ دھِیائیِ ॥੧॥
نانک گُر پوُرے سرنائیِ ॥
جِنِ اپنے نام کیِ پیَج رکھائیِ ॥੨॥੮॥੨੬॥
لفظی معنی:
روگ ۔ بیماری ۔ نیدن پیئی ۔ آرام پائای۔ سکھ سہج گھر آئیا۔ روحانی یا زہنی سکون مل ا (1) رہاو۔ انمرت۔ آب حیات۔ الہٰی نام دلمیں بساؤ۔ گر پورے ۔ کام مرشد۔ سرنائی ۔ پناہ گزیں۔ سچ ۔ عزت۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو دل میں آبحیات الہ ٰی نام سچ وحقیقت میں دھیان اپنا لگاتا ہے ۔ وہ ہر طرح کا آرام و آسائش پاتا ہے (1) بیماری اس کی جاتی ہے جیسے خڈا خود گنواتا ہے ۔ روحانی وذہنی سکون وہ پاتا ہے (1) رہاؤ۔ نانک پناہ گزیں سے مرشد پورے کے جو اپنے نام کی عزت بچاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ستِگُر کرِ دیِنے استھِر گھر بار ॥ رہاءُ ॥
جو جو نِنّد کرےَ اِن گ٘رِہن کیِ تِسُ آگےَ ہیِ مارےَ کرتار ॥੧॥
نانک داس تا کیِ سرنائیِ جا کو سبدُ اکھنّڈ اپار ॥੨॥੯॥੨੭॥
لفظی معنی:
استھر۔ مستقل۔ گرہن ۔ گھروں۔ آگے ہی پہلے ہی ۔ (1) سرنائی۔ پناہ۔ سبد۔ کلام۔ بچن ۔ اکھنڈ ۔ نامٹنے والا۔ اپار۔ اتنا وسیع جس کی کوئی خد وکنار نہ ہو ۔
ترجمہ معہ تشریح:
سچے مرشد نے گھر مستقل بنا دیئے یعنی جائے عبادت و ریاضت مستقل بنا دیئے (1) رہاؤ۔ جو ان گھروں کی بدگوئی کرتا ہے کار ساز کرتار نے پہلے اخلاقی و روحانی اسے موت دے رکھی ہے (2) اے نانک جس خدا کا فرمان مستقل اور صدیوی ہے جو اتنا وسی ہے کہ حدود و کنار انہیں ۔ خادم نانک اس کے زیر پناہ ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
تاپ سنّتاپ سگلے گۓ بِنسے تے روگ ॥
پارب٘رہمِ توُ بکھسِیا سنّتن رس بھوگ ॥ رہاءُ ॥
سرب سُکھا تیریِ منّڈلیِ تیرا منُ تنُ آروگ ॥
گُن گاۄہُ نِت رام کے اِہ اۄکھد جوگ ॥੧॥
آءِ بسہُ گھر دیس مہِ اِہ بھلے سنّجوگ ॥
نانک پ٘ربھ سُپ٘رسنّن بھۓ لہِ گۓ بِئوگ ॥੨॥੧੦॥੨੮॥
لفظی معنی:
تاپ۔ عذاب۔ سنتاپ۔ ذہنی کوفت۔ سگلے ۔ سارے ۔ ونسے ۔ مٹے روگ ۔ بیماریاں۔ بخشیا۔ بخشش کی ۔ سنتن ۔ روحانی رہبروں۔ رس۔ لطف۔ بھوگ۔ لے ۔ اٹھا ۔ رہاؤ۔ سرب سکھا ۔ سارے آرام ۔آر وگ۔ تندرست ۔ نت ۔ ہر روز۔ اوکھسد۔ دوائی (1) آئے بسہو۔ آباد ہو ۔ بھلے سنجوگ۔ اچھے موقعے ۔ سو پرشن۔ خوش۔ بیوگ ۔ جدائی
ترجمہ معہ تشریح:
خدا نے تجھ پر بخشش کی ہے اس لئے روحانی رہبروں کے سے لطف اُٹھا ۔ ہر قسم کے عذاب جھگڑے ذہنی کوفتیں اور بیماریں مٹ گئیں۔ رہاؤ۔ تیرے ساتھیوں کو ہر طرح کا آرام و آسائش دل و جان تندرست ہے ہر روز خدا کی صفت صلاح کرؤ یہی صحیح دوائی ہے (1) یہی ملاپ کا سنہری موقع ہے اپنے ودیس اور گھر بسنے کا ۔ اے نانک۔ خدا خوش ہوا جدائی مٹی ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
کاہوُ سنّگِ ن چالہیِ مائِیا جنّجال ॥
اوُٹھِ سِدھارے چھت٘رپتِ سنّتن کےَ کھِیال ॥ رہاءُ ॥
اہنّبُدھِ کءُ بِنسنا اِہ دھُر کیِ ڈھال ॥
بہُ جونیِ جنمہِ مرہِ بِکھِیا بِکرال ॥੧॥
ستِ بچن سادھوُ کہہِ نِت جپہِ گُپال ॥
سِمرِ سِمرِ نانک ترے ہرِ کے رنّگ لال ॥੨॥੧੧॥੨੯॥
لفظی معنی:
کاہو سنگ نہ چالہیہ ۔ کبھی ساتھ نہیں جاتی ۔ مائیا جنجال۔ دنیاوی دولت ایک پھندہ ہے ۔ اوٹھ سدھارے ۔ چلے گئے ۔ چتھر پت ۔ چھرت کے مالک مراد جن پر چھتر جھولتے تھے ۔ سنتں گے خیال روحانی رہبروں کا خیال ہے ۔ رہاؤ۔ اہنبدھ ۔ تکبر ۔ غرور۔ ونسنا۔ مٹ جانا۔ دھر کی ڈھال۔ پہلے سےر سم۔ وکھیا۔ بکرال ۔ خوفناک برائیوں میں (1) ست بچن ۔ سچا کلام ۔ سادہو جس نے اپنی زندگی اخلاق و روحانیت سے آراستہ کر لی ۔ ہر کے رنگ لال۔ الہٰی پیار میں سر خروئی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
دنیاوی دولت ایک پھندہ ہے جو کبھی کسی کے ساتھ نہیں جاتی ۔ راجے مہاراجے جن کے سروں پر چھتر جھولتے تھے روحانی رہبروں کو اس بات کا یقین ہے آخر چلے گئے ۔ رہاؤ۔ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے یہ اصول الہٰی ہے پہلے سے دنیاوی دولت کی موت کے نتیجے خوفناک ہوتے ہیں اور انسان تناسخ میں پڑا رہتا ہے (1) اےنانک۔ جنہوں نے اپنی زندگی روحانی طور پر راہ راست پر لگالی سچا کلام و ہ کہتے ہیں اور یادوریاض الہٰی کرتے ہیں اور زندگی کامیاب بناتے ہیں اور الہٰی پریم پیار سے سرخرو ہوجتےہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سہج سمادھِ اننّد سوُکھ پوُرے گُرِ دیِن ॥
سدا سہائیِ سنّگِ پ٘ربھ انّم٘رِت گُنھ چیِن ॥ رہاءُ ॥
جےَ جےَ کارُ جگت٘ر مہِ لوچہِ سبھِ جیِیا ॥
سُپ٘رسنّن بھۓ ستِگُر پ٘ربھوُ کچھُ بِگھنُ ن تھیِیا ॥੧॥
جا کا انّگُ دئِیال پ٘ربھ تا کے سبھ داس ॥
سدا سدا ۄڈِیائیِیا نانک گُر پاسِ ॥੨॥੧੨॥੩੦॥
لفظی معنی:
سہج سمادھ ۔ روحانی سکون میں یکسوئی ۔ پورے گر ۔ کامل مرشد ۔ سدا سہائی۔ ہمشہ مددگار ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ انمرت گن ۔ ایسے اوصاف جس سے زندگی روحانی واخلاقی ہوجاتی ہے آب حیات جیسے اوصاف۔ چین ۔ سمجھ ۔ خیال کر۔ رہاؤ۔ جے جے کار۔ نیکی ہی نیکی ۔ کامیابی ۔ فتح ۔ جگتر میہہ۔ علام میں۔ لوچیہہ۔ چاہتے ہیں۔ کچھ وگھن۔ رکاوٹ ۔ تھیا۔ ہوئی (!) انگ ۔ حمائیتی ۔ داس۔ خدامتگار ۔ غلام۔ وڈیائیاں بلند عظمتیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
کامل مرشد نے روحانی سکون و یکسوئی آرام و آسائش و خویشاں عنایت کیں ۔ خدا ہمیشہ اس کا ساتھی مددگار اور روحانی و زندگی بنانے والے آبحیات کی بابت سوچتا اور سمجھتا رہتا ہے ۔ رہاؤ۔ جس نے مرشد وخدا کی خوشنودی حاصل کر لی ۔ اس کی زندگی کی رہاوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی ۔ سارے عالم میں شہرت پاتا ہے ۔ سارے ہی اسے چاہتے ہیں (1) رحما ن الرحیم ہو امدادی ساتھی جس کا سارے خدمتگار ہوجاتے ہیں اس کے اے نانک۔ جو صحبت میں مرشد کی رہتے ہیں ہمیشہ عظمت پاتے ہیں۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ گھرُ ੫ چئُپدے
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
م٘رِت منّڈل جگُ ساجِیا جِءُ بالوُ گھر بار ॥
بِنست بار ن لاگئیِ جِءُ کاگد بوُنّدار ॥੧॥
سُنِ میریِ منسا منےَ ماہِ ستِ دیکھُ بیِچارِ ॥
سِدھ سادھِک گِرہیِ جوگیِ تجِ گۓ گھر بار ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیَسا سُپنا ریَنِ کا تیَسا سنّسار ॥
د٘رِسٹِمان سبھُ بِنسیِئےَ کِیا لگہِ گۄار ॥੨॥
کہا سُ بھائیِ میِت ہےَ دیکھُ نیَن پسارِ ॥
اِکِ چالے اِکِ چالسہِ سبھِ اپنیِ ۄار ॥੩॥
جِن پوُرا ستِگُرُ سیۄِیا سے استھِرُ ہرِ دُیارِ ॥
جنُ نانکُ ہرِ کا داسُ ہےَ رکھُ پیَج مُرارِ ॥੪॥੧॥੩੧॥
لفظی معنی:
سرت منڈل۔ خطہ موت۔ جگ ۔ عالم ۔ دنیا۔ بالو۔ ریت ۔ ونست۔ مٹتے ۔ کاگد بوندار ۔ جیسے کاغذ پر پانی کی بوندیں پڑنے پر (1) منسا۔ ارادہ۔ مرضی۔ ست۔ سچ ۔ حقیقت۔ اصل ۔ سدھ ۔ جنہوں نے اپنی زندگی کی راہ درست کرلی ہے ۔ حقیقت لی ہے ۔ سادھک ۔ جو سچ وحقیقت سمھنے کی کوشش میں ہیں۔ گرہی ۔ دنیادار ۔ گھریلو زندگی بسر کرنے والے ۔ جوگی جنہوں نے حقیقت پاکر اس پر عمل کر رہے ہیں۔ تج گئے ۔ چھوڑ گئے ۔گھر بار ۔ اپنی جائے رہائش اور سازوسامان (1) رہاؤ۔ نین پسار۔ آنکھیں کھول کر۔ سپنارین کا۔ رات کا خواب ۔ در سٹیمان ۔ جو دکھائی دے رہا ہے ۔ ونسئے ۔ مٹ جائیگا۔ گوار۔ بیوقوف ۔ جاہل (2) اک چالے اک چلیسر ۔ ایک چلے گئے ای جار رہے ہیں (3) سیویا ۔ خدمت کی ۔ استھر ۔ مستقل ۔ ہر دوار ۔ الہٰی در پر ۔ داس۔ غلام۔ راکھ سچ مرار۔ اے خدا میری عزت بچا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے میری مرضی دلی ارادے سن اور اسے سمجھ سوچ حقیقت اور سچ کا خیال کر خدا رسیدہ جنہوں نے حقیقت و اصلیت سمجھ لی ہے اور جو اسےس مجھنے کے لئے کوشاں ہیں گھریلو زندگی گذارنے اوالے اور جوگی اپنا سبھ کچھ چھوڑ کر اس علام سے رخصت ہو رہے ہیں (!) رہاؤ۔ خا نے یہ عالم ایک موت کا خطہ پیدا کیا ہے جیسے ریت کا گھر اسے مٹنے میں دیرنہیں لگتی جیسے پانی کی بوندیں پڑنے پر کاغذ ختم ہوجاتا ہے (1) یہ عالم رات کے خواب کی مانند ہے ہو کچھ دکھائی دے رہا ہے سارا کتم ہوجانے والا ہے اے جاہل اس سے کیوں اپنی رغبت اور محبت بنا رہا ہے (2) اے انسان آنکھوں کھول کر دیکھ کہ تیرے دوست اور بھائی کہاں ہیں۔ سارے اپنی باری کی مطابق ایک جا چکےہے اور ایک چلے جائیں گے اور سب نے اپنی باری مابق چلے جانا ہے (3) جس نے کامل مرشد کی خدمت کی انہیں الہٰی در پر مستقل ٹھکانہ ملا۔ خادم نانک الہٰی غلام ہے اے خدا میری عزت بچا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
لوکن کیِیا ۄڈِیائیِیا بیَسنّترِ پاگءُ ॥
جِءُ مِلےَ پِیارا آپنا تے بول کراگءُ ॥੧॥
جءُ پ٘ربھ جیِءُ دئِیال ہوءِ تءُ بھگتیِ لاگءُ ॥
لپٹِ رہِئو منُ باسنا گُر مِلِ اِہ تِیاگءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرءُ بینتیِ اتِ گھنیِ اِہُ جیِءُ ہوماگءُ ॥
ارتھ آن سبھِ ۄارِیا پ٘رِء نِمکھ سوہاگءُ ॥੨॥
پنّچ سنّگُ گُر تے چھُٹے دوکھ ارُ راگءُ ॥
رِدےَ پ٘رگاسُ پ٘رگٹ بھئِیا نِسِ باسُر جاگءُ ॥੩॥
سرنھِ سوہاگنِ آئِیا جِسُ مستکِ بھاگءُ ॥
کہُ نانک تِنِ پائِیا تنُ منُ سیِتلاگءُ ॥੪॥੨॥੩੨॥
لفظی معنی:
ویسنتر پاگیؤ۔ آگ میں ڈالو۔ بول گر اگیؤ۔ تو اسے نا لاؤں گا (1) دیال۔ مہربان۔ بھگتی ۔ عبادت وریاضت الہٰی۔ لپٹ ۔ ملوث ۔ باسنا۔ خواہشات ۔ تیاگیؤ۔ چھوڑو ۔ ردے ۔ د وزہن ۔پر گاس۔ روشنی ۔ پرغت ۔ ظاہر۔ بھیا۔ ہوا۔ نس باسر۔ روز و شب۔ جاگیؤ۔ بیدار ہو (3) ات گھنی ۔ نہایت زیادہ ۔ ارتھ ۔ سرمایہ۔ نمکھ ۔ آنکھں جھپکنے کے عرصے کے لئے ۔ سہاگیؤ۔ ملاپ سے (2) پنچ سنگ ۔ پانچ برائیوںکا ساتھ ۔ دوکھ رادگیؤ۔ دوئی اور محبت (3) سرن سوہاگن۔ الہٰیپناہ وملاپ ۔ جس مستک بھاگ ۔ جس کی پیشانی پر تقدیر تحریر ہے ۔ تن من ۔ دل وجان۔ سیتلا گیؤ۔ شانت اور ٹھنڈا ہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب مہربان ہوتا ہے خڈا تبھی تب ہی اس کی عبادت وریاضت ہوتی ہے ۔ انسانی دل خواہشات میں محسور ہے ۔ مرشد کے ملاپ سے اسے چھوڑو (1) رہاؤ۔ لوگوں کی طرف سے ملے وقار عزت آگ میں پھینکو۔ جس سے میرے پیارے کا ملاپ نصیب ہو ۔ ویسا بول بولونگا (!) نہایت زیادہ با ادب عرض گذار ونگا ۔ اور اپنی جان قربنا کرونگاس ارے ساز و سامان اور نعمتیں ایک آنکھ جھپکنے کی دیر کے لئے ملاپ کی واسطے (2) پانچوں بدیوں شہوت غصہ لالچ دنیاوی محبت۔ غرور و تکبر مرشد نے چھڑا دیا حسد اور دوئی چھڑا دی ۔ دل زندگی کی حقیقت سے روشن اور طاہر ہوگیا ب روز و شب بیداری میں ہوں (3) اے نانک۔ اب اس خدا پرست کی پناہ لی ہے جو با تقدیر و مقدر ہےجس کی پیشانی پر قسمت تحریر یا گندہ ہے ۔ اے نانک ۔ جس نے اسے پائیا اس کے دل و جان کو تسکین و ٹھنڈک پائی ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
لال رنّگُ تِس کءُ لگا جِس کے ۄڈبھاگا ॥
میَلا کدے ن ہوۄئیِ نہ لاگےَ داگا ॥੧॥
پ٘ربھُ پائِیا سُکھدائیِیا مِلِیا سُکھ بھاءِ ॥
سہجِ سمانا بھیِترے چھوڈِیا نہ جاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جرا مرا نہ ۄِیاپئیِ پھِرِ دوُکھُ ن پائِیا ॥
پیِ انّم٘رِتُ آگھانِیا گُرِ امرُ کرائِیا ॥੨॥
سو جانےَ جِنِ چاکھِیا ہرِ نامُ امولا ॥
کیِمتِ کہیِ ن جائیِئےَ کِیا کہِ مُکھِ بولا ॥੩॥
سپھل درسُ تیرا پارب٘رہم گُنھ نِدھِ تیریِ بانھیِ ॥
پاۄءُ دھوُرِ تیرے داس کیِ نانک کُربانھیِ ॥੪॥੩॥੩੩॥
لفظی معنی:
لال رنگ۔ روحانی واخلاقی الہٰی پیار کی سرخروئی ۔ وڈبھاگا۔ بلند قسمت۔ میلا۔ ناپاک۔ داغا۔ بدیوں اور برائیوں کی ناپاکیزگی کا دھبہ (1) سکھدائیا۔ ارام آسائش دینے والا۔ سکھ بھائے ۔ آرام آسائش کی خواہش یا چاہت سے ۔ سہج سمانا بھترے ۔ دل یا قلب یا ذہن میں ہی روحانی سکون میں محو ومجذوب یا مدغم (1) رہاؤ۔ تب بڑھاپا اور موت مراد روحانی کمزوری اور موت اور س پر حائل نہیں ہوتی نہ عذاب اتا ہے وہ انسان جیسے مرشد نے صدیوی مستقل روحانی زندگی عنایت کر دی جس نے آب حیات پیا اور سیر ہوا ۔ چاکھیا۔ مزہ لیا۔ ہر نام۔ الہٰی نام ۔ سچ و حقیقت ۔ امولا۔ اتنا بیش قیتم کہ قیمت مقرر نہ کی جاس کے ۔ کیا کہہ مکھ بولا۔ زبان سے کیوں کہوں (3) سپھل درس۔ کامیاب دیدار۔ گن ندھ ۔ اوصاف کا زانہ ۔ بانی بول۔ کلام۔ دہور۔ دہول۔خاک پا۔
ترجمہ معہ تشریح:
آرام و آسائش بخشنے والا خڈا کا وصل وملاپ نصیب ہوا اور ملاپ سے آرام وآسائش نصیب ہوا۔ اپنے ذہن و قلب کے اندر وحانی سکون کی یکسوئی میں محو ومجذوب و مدغم ہوا لہذا اسے چھوڑ نہیںس کتے (1) رہاؤ۔ ایسی سر خرروئی اسے حاصل ہوتی ہے جو بلند قسمت ہے ایسی حالت میں نہ پا کیزگی پیدا ہوتی نہ زندگی پر دھبہ لگتا ہے (1) نہ بڑھاپا نہ روحانی موت نہ عذاب آتا ہے جسے مرشد روحانی مستقل زندگی بخش دیتا ہے وہ آب حیات نوش کرکے اس کی دنیاوی دولت کی بھوک نہیں رہتی سیر ہوجاتا ہے اور اس پر بھوک اثر انداز نہیں رہتی (2) جسنے الہٰی نام سچ وحقیقت کا لطف اٹھائیا ہے وہی اس بے مول نعمت کی قدروقیمت جانتا ہے اسکی قدرومنزلت بیان نہیں ہو سکتی زبان سے کیسے بیان کیجائے (3) اے کامیابی عنایت کرنے والے خدا تیرا دیدار مقصد حل کرنے والا ہے اور تیرا کلام اوصاف کا خزانہ اے نانک بتادے تیرے خادموں غلامو کے پاوں کی دہول مسیر ہو اور صدقے جاؤں تیرے خادموں پر ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
راکھہُ اپنیِ سرنھِ پ٘ربھ موہِ کِرپا دھارے ॥
سیۄا کچھوُ ن جانئوُ نیِچُ موُرکھارے ॥੧॥
مانُ کرءُ تُدھُ اوُپرے میرے پ٘ریِتم پِیارے ॥
ہم اپرادھیِ سد بھوُلتے تُم٘ہ٘ہ بکھسنہارے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہم اۄگن کرہ اسنّکھ نیِتِ تُم٘ہ٘ہ نِرگُن داتارے ॥
داسیِ سنّگتِ پ٘ربھوُ تِیاگِاے کرم ہمارے ॥੨॥
تُم٘ہ٘ہ دیۄہُ سبھُ کِچھُ دئِیا دھارِ ہم اکِرتگھنارے ॥
لاگِ پرے تیرے دان سِءُ نہ چِتِ کھسمارے ॥੩॥
تُجھ تے باہرِ کِچھُ نہیِ بھۄ کاٹنہارے ॥
کہُ نانک سرنھِ دئِیال گُر لیہُ مُگدھ اُدھارے ॥੪॥੪॥੩੪॥
لفظی معنی:
کر پاردھارے ۔ مہربانی کرکے ۔ سیوا۔ کدمت ۔ گچھو ۔ کچھ بھی ۔ نہ جانئی ۔ نہیں سمجھتا۔ نیچ ۔ کمینہ ۔ مورکھارے ۔ بیوقوف (1) مان ۔ فخر۔ اپرادھی ۔ گناہگار (1) رہاؤ۔ اوگن ۔ بد اوصاف ۔ اسنکھ ۔ بیشمار ۔ نرگن داتارے ۔ بے اوصاف کو اوصاف دینے والے ۔ داسی سنگت۔ دنیاوی دولت کی غلامی وساتھ ۔ پربھو تیاگ ۔ خدا کو چھوڑ کر (2) آکرت گھنارے ۔ ناشکرے ۔ دان ۔ خیرات۔ لاگ پرے ۔ محبت۔ نہ چت خصمارے ۔ اس نعمت کے مالک کی یاد نہیں خیال نہیں (3) بھو۔ آواگون ۔ تناسخ۔ کاٹنہارے ۔ مٹانے کی توفیق رکھنے والے ۔ لیہو مگدھ ادھارے ۔ بیوقوفوں کو بچا لو ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا مجھے تجھ پر فخر حاسل ہے میرے پیارے خدا ہم گناہگار ہیں ہمیشہ بھولتے ہیں اور آب خشنے کی توفیق رکھنے والے ہو ۔ (1) رہاؤ۔ اے خدا مجھے اپنی کرم و عنیات سے اپنی پناہ و سایہ میں رکھو ۔ میں بوقوف خدمت کرنا نہیں جانتا کمینہ ہوں (1) ہم روز و بیشامر برائیاںآور بدیاں کرتے ہیںا ور تو ہم بے اوصاف بیشمار نعمتیں بخشش کرنے والے ہو ۔ اے خدا تجھے چھوڑ کر دنیاوی دولت کے غلام ہیں۔ ہر ہمارے اعملا (2) اے خا تو پانی کرم و عنایت سے ہمیں سب کچھد یتا ہے مگر ہم ناشکرے ہیں ہمیں تیری دی ہوئی نعمتوںسے تو محبت ہو مگر دلمیںمعتوں کے مالک کا دلمیں خیالنہیں (3) اے آواگون اور تناسخ مٹانے والے کوئی بھی چیز توفیق اور قوت سے باہر نہیں۔ اے نانک بتادے ۔ کہ مرشد کی پناہ ۔ جاہلوں اور بیوقوفوں کی بچا دیتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
دوسُ ن کاہوُ دیِجیِئےَ پ٘ربھُ اپنا دھِیائیِئےَ ॥
جِتُ سیۄِئےَ سُکھُ ہوءِ گھنا من سوئیِ گائیِئےَ ॥੧॥
کہیِئےَ کاءِ پِیارے تُجھُ بِنا ॥
تُم٘ہ٘ہ دئِیال سُیامیِ سبھ اۄگن ہما ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِءُ تُم٘ہ٘ہ راکھہُ تِءُ رہا اۄرُ نہیِ چارا ॥
نیِدھرِیا دھر تیریِیا اِک نام ادھارا ॥੨॥
جو تُم٘ہ٘ہ کرہُ سوئیِ بھلا منِ لیتا مُکتا ॥
سگل سمگ٘ریِ تیریِیا سبھ تیریِ جُگتا ॥੩॥
چرن پکھارءُ کرِ سیۄا جے ٹھاکُر بھاۄےَ ॥
ہوہُ ک٘رِپال دئِیال پ٘ربھ نانکُ گُنھ گاۄےَ ॥੪॥੫॥੩੫॥
لفظی معنی:
دوس ۔ الزام۔ کاہو ک۔ کسے ۔ دھیائے ۔ دھیان لگائیں۔ جت ۔ جس کی ۔ سیویئے ۔ خدمت سے ۔ گھنا ۔ نہایت زیادہ (1) کائے ۔ کسے ۔ تجھ بنا ۔ تیرے بغیرد یال۔ مہربان۔ سوآمی ۔ آقا۔ مالک۔ سبھ اوگن ہما۔ سارے گناہ ہمارے (1) رہاؤ۔ چار ۔ علاج ۔ ندھریا۔ بے آصرا۔ بے سہارا۔ دھر ۔ آسرا۔ نام آدھار۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کا آسرا (2) بھلا ۔ اچھا۔ من ۔ تسلیم کرے ۔ مان لے ۔ مکتا ۔ آزاد۔ سگل سمگری ۔ ساری قائنات قدرت۔ تیری جگتا ۔ تیری تدبیر میں ہے (3) چرن پکھارؤ۔ پاوں جھاڑوں ۔ بھاوے ۔ چاہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیرے بغیر کس سے فریاد اور عرض گذار ہیں اے آپ مہربان ہو سارے گناہ ہم میں ہیں (1) رہاؤ۔ کسی پر الزام نہ لگاؤ اپنے خدا میں دھیان لگاؤ۔ جس کی خدمت سے بھاری آرام و آرام و آسائش حاصل ہو اے دل اس کی حمدوچناہ کرؤ (!) اے خدا جیسی تیری رضا مجھے اسی طرح رہنا پڑیگا میرا اس میں کو بس نہیں چلتا۔ بے سہاروں بے آسروں کے لئے تو ہی آصرا تیرای ہی سہارا ہے اور ایک تیرے نام سچ وحقیقت کا آسرا (2) اے خڈا جو تیری رضا میں راضی رہتا ہے دنیاوی غمگینوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ یہ عالم کی ساری قائنات قدرت اے خدا تیری زیر تدبیر ہے (3) اے میرے آقا اگر تیرا پیار ہوجاوں تو تیری خدمت عبادت ور یاضت کروں اور تیرا اور تیرے پاؤں جھاڑوں ۔ مراد خودی اور غرور چھوڑ رک خدمتگار ہوجاوں۔ اے خدا رحمت فرماتا کہ نانک تیری صفت صلاح کرے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
مِرتُ ہسےَ سِر اوُپرے پسوُیا نہیِ بوُجھےَ ॥
باد ساد اہنّکار مہِ مرنھا نہیِ سوُجھےَ ॥੧॥
ستِگُرُ سیۄہُ آپنا کاہے پھِرہُ ابھاگے ॥
دیکھِ کسُنّبھا رنّگُلا کاہے بھوُلِ لاگے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرِ کرِ پاپ دربُ کیِیا ۄرتنھ کےَ تائیِ ॥
ماٹیِ سِءُ ماٹیِ رلیِ ناگا اُٹھِ جائیِ ॥੨॥
جا کےَ کیِئےَ س٘رمُ کرےَ تے بیَر بِرودھیِ ॥
انّت کالِ بھجِ جاہِگے کاہے جلہُ کرودھیِ ॥੩॥
داس رینھُ سوئیِ ہویا جِسُ مستکِ کرما ॥
کہُ نانک بنّدھن چھُٹے ستِگُر کیِ سرنا ॥੪॥੬॥੩੬॥
لفظی معنی:
مرت ہسے ۔ موت خوش ہوتی ہے ۔ پسوا۔ حیوان۔ مویشئ۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ باد۔ جھگڑے ۔ ساد۔ لطف۔ مزے ۔ اہنکار۔ غرور تکبر۔ مرنا۔ موت۔ سوجھے ۔ یاد نہیں (1) ابھاگے ۔ بد قسمت۔ گنبھا ۔ گل لالا ۔ رنگلا۔ شوخ رنگ والا (1) رہاؤ۔ پاپ۔ گناہ۔ دربھ ۔ سرمایہ ۔ ناگال ۔ ننگا۔ کالی ہاتھ (2) سرم۔ محبت و مشقت۔ بیر برودھی ۔ دشمن اور دشمنی کرنے والے ۔کاہے جلہو کرودھی ۔ غصے میں جلتے ہو ۔ (3) داس رین سوئی ہوا۔ دہول خادم خڈا کا وہی ہوتا ہے ۔ جس مستک کرما۔ جس کی پیشانی یہ اس کی قسمت میں ہے ۔ اعملا تحریر ہے ۔ بندھن ۔ غلامی ۔ ستگر کی سرنا۔ الہٰی پناہ میں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان سچے مرشد کی خدمت کرؤ ۔ اے بد قسمت کیوں بھٹک رہے ہو ۔ اس دنیاوی دولت کی شوخی اور دلربائی جو گل لالہ کی مانند شوخ ہے کیوں گمراہ ہو رہے ہو (1) راہؤ۔ موت سر پر گھڑی خوش ہو رہی ہے ۔ اے حیوان سیرت سمجھتا نہیں۔ جگھڑے ۔ لطف و لذتوں اور غرور و تکبر میں موت کی سمجھ نہیں (1) گذارے کے لئے ۔ گناہوں سے سرمایہ اکھٹا کیا ۔ جبکہ انسانی جسم مٹی ہوکر مٹی میں مل گیا اور آخر اس دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوا (2) جس کے لئے انسان محنت و مشقت کرتا ہے وہ دشمن بن جاتے ہیںا ور دشمنی کرتے ہیں۔ بوقت آخرت تیرا ساتھ چھوڑ دینگے ان کے لئے کیوں حسد اور غسے میں جل رہا ہے (3) اے نانک بتادے ۔ وہی انسان عابدان والہٰی پریمیوں کے پاؤں کی دہول بنتا ہے مراد خادمان خدا کا خدمتگار ہوتا ہے جس کی پیشانی پر اس کے مقدر میں ہوتا ہے ۔س ے مرشد کی پناہ سے دنیاوی غلامی سے آزادی ملتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
پِنّگُل پربت پارِ پرے کھل چتُر بکیِتا ॥
انّدھُلے ت٘رِبھۄنھ سوُجھِیا گُر بھیٹِ پُنیِتا ॥੧॥
مہِما سادھوُ سنّگ کیِ سُنہُ میرے میِتا ॥
میَلُ کھوئیِ کوٹِ اگھ ہرے نِرمل بھۓ چیِتا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایَسیِ بھگتِ گوۄِنّد کیِ کیِٹِ ہستیِ جیِتا ॥
جو جو کیِنو آپنو تِسُ ابھےَ دانُ دیِتا ॥੨॥
سِنّگھُ بِلائیِ ہوءِ گئِئو ت٘رِنھُ میرُ دِکھیِتا ॥
س٘رمُ کرتے دم آڈھ کءُ تے گنیِ دھنیِتا ॥੩॥
کۄن ۄڈائیِ کہِ سکءُ بیئنّت گُنیِتا ॥
کرِ کِرپا مُہِ نامُ دیہُ نانک در سریِتا ॥੪॥੭॥੩੭॥
لفظی معنی:
پنگل ۔ لولا لنغرا۔ پریت ۔ پہاڑ۔ پرے ۔ عبور کرے ۔ کھل۔ بیوقوف۔ چتر ۔ چالاک۔ دانمشند۔ بکتا ۔ بکتا ۔ وکھاکار۔ مقرر۔ بلا را۔ اندھلے ۔ اندھے ۔ تربھون۔ تینوں عالموں۔ سوجھیا۔ سمجھ گر بھینٹ ۔ ملاپ مرشد ۔ پنتا۔ پاک (1) مہا۔ عظمت۔ سادہوسنگ۔ صحبت ۔ دا رسیدہ پاک دامن ۔ میتا۔ دوست۔ میل کھوئی کوٹ اگھ۔ ناپاکزیگی دور کی کروڑوں گناہوں کی ۔ نرمل۔ بھیئے چیتا۔ دل پاک ہوئے 1) رہاؤ۔ بھگت۔ پیار رپیم۔ کیٹ۔ چیونٹی ۔ کیڑی ۔ ہستی ۔ ہاتھی ۔ چیتا ۔ فتح کیا۔ جو جو ۔ جنہیں جنہیں۔ ابھےد ان۔ بیخوفی۔ نڈرتا (2 ) ۔ سنگھ ۔ شیر ۔ بلائی۔ بلی۔ ترن ۔ تنکار۔ میر۔ پہاڑ۔ دکھتا۔ دکھائی دینے لگا۔ سرم۔ محبت و مشقت۔ دم آڈھ گو۔ آدھی و مڑی کے لئے ۔ غنی دھنیتا۔ وہ بلند حیثیت اور دولتمند (3) موہ۔ مجھ ۔ نام ۔ الہٰی نام سچ ۔ درسریتا۔ محروم ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دوست جس نے اپنی زندگی اور دامن پاک بنا لیا ہے سادہو یا مرشد اس کی صحبت و قربت کی عظمت سنیئے اس کروڑوں گناہوں کی ناپاکزیگی ختم ہوجاتی اور من و ذہن پاک ہوجاتا ہے (1) رہاؤ۔ اس کی عظمت و برکت سے لولا لنغرا پہاڑ عبور کر لیتا ہے بیوقوفف جاہل تشریح کار مقرر اور بکتا ہو جاتا ہے اندھا تینوں علاموں کی سمجھ آجاتی ہے اور ملاپ مرشد سے پاک ہوجاتا ہے (1) الہٰی عشق و محبت ایسی برکت والا ہے کہ چیونٹی ہاتھی پر فتح پا لیتی ہے مراد عاجزی و حلیمی غرور اور تکبر کو جیت لیتی ہے ۔ جسے خدا پنا لیتا ہے اسے بیخوفی کی نعمت بخشتا ہے (2) شیر بلی ہوجاتا ہے مراد اس صحبت سے مغرور حلیمی اور عاجزی اختیار کر لیتا ہے ۔ عاجز اور حلیم ایک بلند ہستی ہوجاتا ہے اور جو آدھی کوڈی کے لئے محنت و مشقت کرتے تھے وہ بلند حیثیت اور دولتمند ہوجاتے ہین (3) اس کی کونسی عطمت بیان کروں اس میں بیشمار وصف ہیں۔ اے خدا مہربانی کر کے نام دیجیئے نانک تیرے در کار غلام ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اہنّبُدھِ پرباد نیِت لوبھ رسنا سادِ ॥
لپٹِ کپٹِ گ٘رِہِ بیدھِیا مِتھِیا بِکھِیادِ ॥੧॥
ایَسیِ پیکھیِ نیت٘ر مہِ پوُرے گُر پرسادِ ॥
راج مِلکھ دھن جوبنا نامےَ بِنُ بادِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
روُپ دھوُپ سوگنّدھتا کاپر بھوگادِ ॥
مِلت سنّگِ پاپِسٹ تن ہوۓ دُرگادِ ॥੨॥
پھِرت پھِرت مانُکھُ بھئِیا کھِن بھنّگن دیہادِ ॥
اِہ ائُسر تے چوُکِیا بہُ جونِ بھ٘رمادِ ॥੩॥
پ٘ربھ کِرپا تے گُر مِلے ہرِ ہرِ بِسماد ॥
سوُکھ سہج نانک اننّد تا کےَ پوُرن ناد ॥੪॥੮॥੩੮॥
لفظی معنی:
اہنبدھ ۔ ۔ غرور۔ تکبر۔ پریاد۔ جھگرے ۔ نیت ۔ ہر روز۔ لوبھ ۔ لالچ ۔ رسنا ساد۔ زبان کا لطف۔ لپٹ۔ ملوث۔ کپٹ جھگڑے ۔ گریہہ بیدھیا ۔ گھریلو زندگی میں محو یا مدغم۔ متھیا۔ جھوٹے ۔ دکھاد۔ بدکاریوں میں۔ گر پر ساد۔ رحمت مرشد۔ نیترمیہہ۔ ایسا آنکھوں دیکھا ۔ راج ۔ حکمرانی ۔ حکومت۔ ملکھ ۔ جائیداد ۔ دھن ۔ سرمایہ۔ جو بنا جونای ۔ نامے ۔ سچ وحقیقت ۔ الہٰی نام۔ باد۔ فضول۔ بیکار (1) رہاؤ۔ روپ ۔ شکل وصورت ۔ دہوپ ۔ خوشبدار ۔ دہواں۔ سو گندھتا ۔ خوشبوئیں۔ کا پر۔ کپڑے ۔ بھوگاد۔ کھانےو الی نعمیتں۔ مات سنگ پاپسپٹ ۔ گناہگاروں کے ملاپ سے ۔ تن ۔ جسم۔ درگاد۔ بدبو دار (2) پھرت پھرت ۔ بھٹکتے بھٹکتے ۔ مالک ھ ۔ انسان۔ کھن بھنگن ۔ پل بھر میں مٹ جانے والا ۔ دیہاو۔ جسم۔ اوسر۔ موقہ ۔ وقت ۔ وکیا۔ گنوا کر۔ بہو جون ۔ بھرماد۔ تناسخ یا آواگون میں پڑا رہتا ہے (3) پتھ کرپائے ۔ الہٰی کرم وعنایت سے گر ملے ۔ مرشد کاملاپ ہوا۔ بسماد۔ پر سکون۔ سوکھ سہج ۔ روحانی سکون کا آرام ۔ پورن ناد۔ کامل سکون حاسل ہوا۔ ذہنی مکمل سکون۔
ترجمہ معہ تشریح:
کامل مرشد کی رحمت سے اپنی آنکھوں سے ایسے حالات دیکھے ہیں کہ حکومت یا حکمرانی ۔ جائیدا د دولت جونای بغیر نام مراد سچ حق و حقیقت بیکار اور فضول ہے (1) رہاؤ۔ غرور اور تکبرمیں جھگڑے اور تلک کلامی لالچ زان کے رس اور لذتیں اس میں محسور رہتا ہے ۔ گھریلو محبت فریب وہوکا دہی کی گرفت میں مٹ جانے والی دنیاوی دولت محو ومجذوب رہتا ہے (2) بھٹکتے بھٹکتے انسانی زندگی حاصل ہوئی جو بھی بہت جلد ختم ہونے والی ہے اگر اب بھی اس موقعے کو گنوا لیا تو تناسخ اور آواگون میں رہوگے ۔(3)ا لہٰی کرم وعنایت سے الہٰی ملاپ حاصل ہوا انہوں نے اس حیران کرنے والی ہستی کی یادوریاض کی اے نانک ۔ انکے دلمیں روحانی سکون اور خوشی کے شادیانے و روحانی سنگیت ہونے لگا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
چرن بھۓ سنّت بوہِتھا ترے ساگرُ جیت ॥
مارگ پاۓ اُدِیان مہِ گُرِ دسے بھیت ॥੧॥
ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ ہرے ہرِ ہرِ ہرِ ہیت ॥
اوُٹھت بیَٹھت سوۄتے ہرِ ہرِ ہرِ چیت ॥੧॥ رہاءُ ॥
پنّچ چور آگےَ بھگے جب سادھسنّگیت ॥
پوُنّجیِ سابتُ گھنھو لابھُ گ٘رِہِ سوبھا سیت ॥੨॥
نِہچل آسنھُ مِٹیِ چِنّت ناہیِ ڈولیت ॥
بھرمُ بھُلاۄا مِٹِ گئِیا پ٘ربھ پیکھت نیت ॥੩॥
گُنھ گبھیِر گُن نائِکا گُنھ کہیِئہِ کیت ॥
نانک پائِیا سادھسنّگِ ہرِ ہرِ انّم٘ریت ॥੪॥੯॥੩੯॥
لفظی معنی:
چرن۔ پاؤں۔ بوہتھا۔ جہاز۔ جیت ۔ جس سے ۔ مارگ۔ راستے ۔ ادھیان ۔ سنان ۔ مکمل گمرایہ ۔ بھیت ۔ راز (1) ہیت ۔ پیار۔ ہر ہر چیت۔ خدا کو یاد کر (1) رہاؤ۔ پنچ چور۔ پانچوں اخلاقی و روحانی برائیاں جو انسانی اخلاق چرائی ہیں۔ سادھ سنگیت ۔ جب ساتھ ہو ۔ سادہو کا ۔ پنجی ۔ روحانی سرمایہ۔ لابھ گھنو ۔ منافع زیادہ ۔ گریہہ سوبھا سیت۔ گھر شہرت کے ساتھ (2) نہچل آسن۔ مستقل ٹھکانہ ۔ ڈولیت ۔ ڈگمگاہٹ ۔ چنت ۔ فکر۔ بھرم بھلاوا۔ وہم وگمان ۔ پربھ پیکھت ۔ نیت ۔ آنکھوں سے الہٰی دیدار کرکے (3) گن گھنبیر ۔ سنجیدہ اوصاف ۔ گن نائکا۔ اوصاف کا ملاک۔ کیت ۔ کتنے ۔ ہر انمرت۔ آب حیات ۔ خدا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اٹھتے بیٹھے سوتے اے انسان یاد خدا کو کیا کر ۔ اور ہمیہش پیار الہٰی نام سے کیا کر () رہاؤ۔ جس پر مرشد نے راز الہٰی افشاں کر دیا ۔ ا س نے سنسان میں راستہ پالیا زندگی گذارنے کا اسکے لئے پائے مرشد جہاز ہوگئے اور انسانی زندگی جو ایک سمندر کی مانند ہے عبور کر لیا مراد زندگی کامیاب بنا لی (!) جب صحبت قربت پارسایاں نیسب ہوئی پانچوں بد کاریاں اور گناہ مٹ جاتے جو اخلاق و روحانی زندگی ہمیشہ چراتے ہیں ۔ لہذا انسانی زندگی کا سرمایہ اور منافع محفوظ ہوجاتا ہے بچ جاتا ہے اور دو عالموں میں شہرت پاتا ہے (2) آنکھوں سے دیدار خدا سے وہم وگمان اور بھٹکن مٹ جاتی ہے ۔ مستقل مزاج انسان ہوجاتا ہے سارے فکر مٹ جاتی ہے مستقل مزاج انسان ہوجاتا ہے سارے فکر مٹ جاتے ہیں بدیؤ ں کے حملوں سے ڈگمگاتا نہیں انسان (3) اے نانک۔ خدا اوصاف لا انتہا سمندر ہے اوصاف کا ملاک ہے اس کے اوصاف بیان نہیں ہو سکتے ۔ مگر جو صحبت قربت پار سایاں آب حیات جو انسانی روحانی زندگی کے لئے چشمہ حیات الہٰی نام سچ حقیقت نوش کرتا ہے دلمیں بساتا ہے اسے الہٰی وسل ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بِنُ سادھوُ جو جیِۄنا تیتو بِرتھاریِ ॥
مِلت سنّگِ سبھِ بھ٘رم مِٹے گتِ بھئیِ ہماریِ ॥੧॥
جا دِنُ بھیٹے سادھ موہِ اُیا دِن بلِہاریِ ॥
تنُ منُ اپنو جیِئرا پھِرِ پھِرِ ہءُ ۄاریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایت چھڈائیِ موہِ تے اِتنیِ د٘رِڑتاریِ ॥
سگل رین اِہُ منُ بھئِیا بِنسیِ اپدھاریِ ॥੨॥
نِنّد چِنّد پر دوُکھنااے کھِن مہِ جاریِ ॥
دئِیا مئِیا ارُ نِکٹِ پیکھُ ناہیِ دوُراریِ ॥੩॥
تن من سیِتل بھۓ اب مُکتے سنّساریِ ॥
ہیِت چیِت سبھ پ٘ران دھن نانک درساریِ ॥੪॥੧੦॥੪੦॥
لفظی معنی:
بن سادہو ۔ اس انسان کےبغیر جس نے زندگی کا صراط مستقیم اختیار کر لیا ۔ پاکدامن مراد مرشد ۔ جیونا۔ زندگی گذارنا ۔ پرتھاری ۔ فضول ہے ۔ ملت سنگ۔ ساتھ وملاپ سے ۔ بھرم۔شک و شبہات ۔ بھٹکن ۔ گت۔ حالت (1) جادن ۔ جس دن ۔ بھیٹے ۔ ملاپ ہوا ۔ ایا دن ۔ اس دن پر ۔ بلہاری ۔ قربان ۔ صدقے ۔ت ن من۔ دل وجان ۔ جیرا ۔ روح (1) رہاؤ۔ سگل رین ۔ سب کی دہول۔ من بھیا۔ دل ہوا۔ اپدھاری ۔ خوئشتا ۔ اپنا پن ۔ ایت ۔ اس طڑح۔ درڑتاری ۔ پختہ طور پر (2) نند چند۔ بدگوئی ۔ پردوکھنا ۔ دوسروں کا برا سوچنا ۔ کھن میہہ جاری ۔پل بھرمیں جلا ڈالا۔ دیا ۔ مہربانی ۔ مئیا۔ خدا ترسی ۔ نکٹ پیکھ ۔ خدا کو نزدیک سمجھنا ۔ دوآری ۔ دور (3) تن من سیتل بھیئے ۔ دل وجان ٹھنڈے ہوئے مکے ۔ آزادی ۔ سنساری ۔ دنیاوی غلامیوں سے ۔ ہیت۔ محبت۔ پیار ۔ چیت۔ دل یا من۔ پران۔ زندگی دھن۔ سرمایہ۔ درساری ۔ دیدار ۔ خدا۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس دن مریا ملاپ پاکدامن صراط مستقیم کے مطابق زندگی گذارنے والے خدا رسیدہ مرشد سے وہا ہے اس دن پر قربان ہوں میں۔ میں اپناتن من اور زندیگ بار بار قربان جاتا ہوں۔ رہاؤ۔ بغیر مرشد زندگی بیکار ہے اس کے ملاپ سے سارے وہم وگمان شک و شبہات مٹ جاتے ہیں۔ زندگی بلند اخلاق و روحانی بن جاتی ہے (1) مرشد نے مجھ سے خوئشتا یار اپنا پن چھڑوا دیا ۔ یا خودی چھڑوادی اور پختہ کروادی اب میرا من سب کے پاؤں کی دہول ہوگیا عاجزی و انکساری اختیار کرلی اور خود غرضی مٹ گئی (2) بد گوئی اور برائی داور دوسروں کی برائی چاہنا جال دیا مہربان ہونا خدا تر سی رحمدلی خدا کو ہر وقت ساتھ سمجھنا اور نزدیک اور دلمیں بستا خیال کرنا دور خیا نہ کرنا (3) ا نانک۔ اب دل وجان ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور دنیاوی غلامی سے ازاد ہیں۔ اب میرے ہوش و ہوس و زندگی و سرمایہ سب کچھ دیدار خدا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ٹہل کرءُ تیرے داس کیِ پگ جھارءُ بال ॥
مستکُ اپنا بھیٹ دیءُ گُن سُنءُ رسال ॥੧॥
تُم٘ہ٘ہ مِلتے میرا منُ جیِئو تُم٘ہ٘ہ مِلہُ دئِیال ॥
نِسِ باسُر منِ اندُ ہوت چِتۄت کِرپال ॥੧॥ رہاءُ ॥
جگت اُدھارن سادھ پ٘ربھ تِن٘ہ٘ہ لاگہُ پال ॥
مو کءُ دیِجےَ دانُ پ٘ربھ سنّتن پگ رال ॥੨॥
اُکتِ سِیانپ کچھُ نہیِ ناہیِ کچھُ گھال ॥
بھ٘رم بھےَ راکھہُ موہ تے کاٹہُ جم جال ॥੩॥
بِنءُ کرءُ کرُنھاپتے پِتا پ٘رتِپال ॥
گُنھ گاۄءُ تیرے سادھسنّگِ نانک سُکھ سال ॥੪॥੧੧॥੪੧॥
لفظی معنی:
ٹھل۔ خدمت۔ داس۔ غلام۔ خدمتگار۔ پگ ۔ پاؤ ۔ جھاروبال۔ بالوں سے جھاڑوں ۔ مستک ۔ پیشانی ۔ بھنٹ ۔ چڑھاو۔ قربان۔ گن سنہو ۔ رسائل۔ پر لطف اوصاف سنوں (1) من جیؤ۔ دل کو زندگی ملتی ہے ۔ دیال۔ مہربان۔ نس باسر۔ دن رات۔ روز و شب۔ جتوت کرپال۔ مہربان کی یاد سے (1) رہاؤ ۔ جگت ادھارن ۔ عالم کو بچانے کے لئے ساتھ پربھ الہٰی خدارسیداگان ۔ پال۔ دامن ۔ سنن پگ رال۔ روحانی رہنماوں کے پاوں کی دہول (2) اکت سیانپ۔ دانشمندی اور دلیل بازی۔ کچھ گھال ۔ کچھ محنت و مشقت۔ بھرم بھے ۔ خوف و بھٹکن ۔ کاٹہو جم جال۔ وت کا پندہ (3) بنؤ۔ عرض۔ گذارش۔ کرن پتے ۔مالک ۔ اعمال ۔ رحما الرحیم۔ سکھ سال۔ آرام و آسائش کے گھر۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے رحمان الرحیم چشمہ رحمت مجھے ملو تیرے ملاپ سے مجھے روحانی زندگی میسر ہوتی ہے ۔ اے مہربان تیری یادوریاض سے روحانی وزہنی سکون روز وشب میرے دل میں بنا رہتا ہے ۔ رہا ؤ (1) ہیہ میری دلی خواہش ہے اے خڈا کہ تیرے خدمتگار کی خدمت کر وں اور سر کے بالوں سے اس کے یاؤں جھاڑوں اپنی پیشانی مراد سر اسے بھینٹ کردوں اور اس رس بھرے اوصاف سنوں (1) خدا رسیدہ سادھ جو دنیا کو براہوں سے بچانے کی توفیق رکھتے ہیں ان کا دامن پکڑؤ اے خڈا روحانی رہبروں کے پاؤں کی دوہل کی خیرات دیجیئے (2) اے خدا نہ میں دلائل سے واقف اور توفیق رکھتا ہوں نہ دانشمندی نہ خدمتگاری کی محبت و مشقت مجھے وہم و گمان شک و شبہات اور بھٹکن اور خوف و دنیاوی محبت سے بچاؤ اور موت کا روحانی پھندہ کاٹو (3) اے رحمت کے حشمے ۔ رحمان الرحیم بچاؤ کی توفیق رکھنےو الے پرورش کرنے والے باپ میری تیرے حضور عرض و گذارش ہے ۔ اے نانک صحبت و قربت پارسایاں و خدا رسیدہ گان جو آرام و آسائش کا گھر و مکان ہے تیری حمدوثناہ کرؤں اور کرتا رہوں ایسی رحمت فرمان خدا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
کیِتا لوڑہِ سو کرہِ تُجھ بِنُ کچھُ ناہِ ॥
پرتاپُ تُم٘ہ٘ہارا دیکھِ کےَ جمدوُت چھڈِ جاہِ ॥੧॥
تُم٘ہ٘ہریِ ک٘رِپا تے چھوُٹیِئےَ بِنسےَ اہنّمیۄ ॥
سرب کلا سمرتھ پ٘ربھ پوُرے گُردیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کھوجت کھوجت کھوجِیا نامےَ بِنُ کوُرُ ॥
جیِۄن سُکھُ سبھُ سادھسنّگِ پ٘ربھ منسا پوُرُ ॥੨॥
جِتُ جِتُ لاۄہُ تِتُ تِتُ لگہِ سِیانپ سبھ جالیِ ॥
جت کت تُم٘ہ٘ہ بھرپوُر ہہُ میرے دیِن دئِیالیِ ॥੩॥
سبھُ کِچھُ تُم تے ماگنا ۄڈبھاگیِ پاۓ ॥
نانک کیِ ارداسِ پ٘ربھ جیِۄا گُن گاۓ ॥੪॥੧੨॥੪੨॥
لفظی معنی:
کیتا لوڑیہہ۔ جسکے کرنے کی تو ضڑور سمجھتا ہے چاہتا ہے ۔ سوکریہہ ۔ وہی کرتا ہے ۔ تجھ بن ۔ تیرے بغیر۔ پرتاپ۔ جلال (1) دنسے اہنیہو۔ خؤدی مٹتی ہے ۔ سرب کلال۔ تمام قوتوں ۔ سمرتھ ۔ توفیق (1) رہاؤ۔ نامے ۔ الہٰی نام۔ سچ و حقیقت ۔ کور ۔ کوڑ۔ جھوٹ ۔ سادھ سنگ۔ صحبت و قربت پاکدامن۔ پربھ منسا پور ۔ میری خواہش پوری کر اے خدا (2 ) جت کت ۔ جہاں کہاں ۔ جت جت ۔ جس جس میں۔ سیانپ ۔ دانشمندی ۔ دین دیالی ۔ غریب پرور (3) وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ ارداس ۔ عرض ۔ گذارش۔ یو ۔ روحانی زندگی ملتی ہے ۔ گن گائے ۔ حمدوثناہ سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیری کرم وعنایت سے نجات حاصل ہوتی خودی مٹا کر اے ہر طرح کی طاقت رکھنے والے مالک عالم تو کامل فرشتہ و دیوتا ہے ۔ اے خدا جیسا کرنا ضروری خیال کرتا ہے ویسا ہی کرتا ہے تیرے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا تیری شان و جاہ وجلال دیکھ کر فرشتہ موت بھی چھوڑ جاتا ہے ۔ انسان کو (1) ڈہونڈتے ڈہونڈتے تلاش کرتے کرتے یہ معلوم ہوا کہ الہٰی نام سچ وحقیقت کے سب جھوٹ ہے ۔ سادھ ۔پاکدامن یا مشر کی سحبت و قربت میں زندگی کے تمام آرام و اسائش ارادے خوواہشات پوری ہوتی ہیں (2) خدا جس طرف خدا لگاتا ہے اسی کام میں لگنا پڑتا ہے میں ساری دانشمندی ختم کردی ۔ اے غریب پر مہربان رحمد ل ۔ تو ہر جگہ مکمل طور پر بستا ہے (3) اے خدا ہر شے تجھ سے ہی مانگتے ہیں اور بلند قسمت سے پاتے ہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اے خدا تیری حمدوثناہ روحانی واخلاقی زندگی میسر ہوتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سادھسنّگتِ کےَ باسبےَ کلمل سبھِ نسنا ॥
پ٘ربھ سیتیِ رنّگِ راتِیا تا تے گربھِ ن گ٘رسنا ॥੧॥
نامُ کہت گوۄِنّد کا سوُچیِ بھئیِ رسنا ॥
من تن نِرمل ہوئیِ ہےَ گُر کا جپُ جپنا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ رسُ چاکھت دھ٘راپِیا منِ رسُ لےَ ہسنا ॥
بُدھِ پ٘رگاس پ٘رگٹ بھئیِ اُلٹِ کملُ بِگسنا ॥੨॥
سیِتل ساںتِ سنّتوکھُ ہوءِ سبھ بوُجھیِ ت٘رِسنا ॥
دہ دِس دھاۄت مِٹِ گۓ نِرمل تھانِ بسنا ॥੩॥
راکھنہارےَ راکھِیا بھۓ بھ٘رم بھسنا ॥
نامُ نِدھان نانک سُکھیِ پیکھِ سادھ درسنا ॥੪॥੧੩॥੪੩॥
لفظی معنی:
الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض صفت صلاح سے زبان پاک ہوئی۔ سادھ سنگت کے باسبے ۔ صحبت و قربت پاکدامن ۔ پار سایاں۔ کلمل۔ گناہ۔ دوش۔ پربھ سیتی ۔ خدا سے ۔ رنگ راتیا۔ پریم پیار میں محو متاثر ۔ گربھ نہ گرسنا۔ تناسخ یا آواگون میں نہیں پڑنا پڑتا (1) من تن ۔ دل وجان ۔ نرمل پاک (!) رہاؤ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف ۔ دھرلپا۔ سیر ہوا۔ مراد بھوک پیاس باقی نہیں رہی ۔ سنا ۔ خوش ۔ الٹی سوچ۔ غلط ذہن یا دماغ۔ وگسنا۔ کھل گیا (2) سیتل ۔ ٹھنڈی ۔ سانت ۔ پر سکون۔ سنتوکھ ۔ بوجھی ترسنا۔ خواہش ۔ دیہہ دس۔ دس اطراف۔ دھاوت۔ دوڑ دہوپ۔ نرمل۔ پاک ۔ تھان۔ مقام جگہ (3) راکھنہارے ۔ حفاظت کی توفیق رکھنے والے نے ۔ راکھیا۔ حفاظت کی ۔ محفوظ کیا۔ بھیئے بھرم ۔ وہم شک و شبہات ۔ بھسنا۔ راکھ ہوئے ۔ جل گئے ۔ نام ندھان ۔ سچ وحقیقت کا خزانہ ۔ پیکھ ۔ دیکھ ۔ سادھ درسنا۔ پاکدامن کے ددیدار سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان الہٰی نام کی یادوریاض زبان پاک ہوجاتی ہے ۔ سبق مرشد پر عمل کرنے سے دل و ذہن پاک ہوجاتا ہے ۔ صحبت و قربت پارسایاں نیک دامنوں سے گناہگاریاں برائیاں مٹ جاتی ہیں۔ الہٰی پریم پیار کرنے سے تناسخ یا آواگون میں نہیں پڑتا (1) الہٰی نام سچ وحقیقت کا لطفف اُٹھانے پر انسانکی لالچ سے رغبت مٹ جاتی ہے ۔ دل کی تلسی ہوجاتی ہے ۔ صبر پیدا ہوجاتا ہے دنیاوی دولت کی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف کی دوڑ دہوپ مٹ جاتی ہے پاک مقام رہائش ملتی ہے (3) بچانے کی توفیق رکھنے والے نے بچاؤ کیا۔ اے نانک۔ لہذا اس کی ساری بھٹکیں مٹ گئیں۔ اور پاک مقام رہائش ملتی ہے (3) اے نانک۔ حفاظت کی توفیق رکھنے والے خدا نے جس کی حفاظت کی اس کی تمام دوڑ دہوپ اور بھٹکن مٹ گئی ۔ الہٰی نام وصل و دیدار مرشد سے حاصل ہوا جس سےسکون و آرام حاصل ہوا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
پانھیِ پکھا پیِسُ داس کےَ تب ہوہِ نِہالُ ॥
راج مِلکھ سِکداریِیا اگنیِ مہِ جالُ ॥੧॥
سنّت جنا کا چھوہرا تِسُ چرنھیِ لاگِ ॥
مائِیادھاریِ چھت٘رپتِ تِن٘ہ٘ہ چھوڈءُ تِیاگِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّتن کا دانا روُکھا سو سرب نِدھان ॥
گ٘رِہِ ساکت چھتیِہ پ٘رکار تے بِکھوُ سمان ॥੨॥
بھگت جنا کا لوُگرا اوڈھِ نگن ن ہوئیِ ॥
ساکت سِرپاءُ ریسمیِ پہِرت پتِ کھوئیِ ॥੩॥
ساکت سِءُ مُکھِ جورِئےَ ادھ ۄیِچہُ ٹوُٹےَ ॥
ہرِ جن کیِ سیۄا جو کرے اِت اوُتہِ چھوُٹےَ ॥੪॥
سبھ کِچھُ تُم٘ہ٘ہ ہیِ تے ہویا آپِ بنھت بنھائیِ ॥
درسنُ بھیٹت سادھ کا نانک گُنھ گائیِ ॥੫॥੧੪॥੪੪॥
لفظی معنی:
نہال۔ خوش۔ راج ۔ حکمرانی ۔ ملکھ ۔ جائیداد۔ سکھداریا۔ سرداری ۔ حاکمی ۔ اگنی ( میں ) جینہہ جال۔ اسے ختم کر (1) چوہرا۔ بیٹا۔ مائیا دھاری ۔ دولتمند ۔ چھترپت۔ بادشا ہ۔ تیاگ (1) رہاؤ۔ دانہ ۔ اناج۔ روکھا۔ بے سود۔ سرب ندھان ۔ سارے خزانے ۔ گریہہ۔ ساکت۔ مادہ پرست کے گھر ۔ چھتیہہ پرکار۔ چھتیس قسم کے ۔ وکھوسمان ۔ زہر کی مانند (2) لو گرا۔ بوسیدہ ۔ ھل۔ اوڈھ۔ پہن کر۔ نگن نہ ہوئی۔ تنگا نہیں ہوتا۔ ساکت ۔ مادہ پرست۔ منکر ۔ سرپاؤ۔ خلعت ۔ پرت پت کوھئی۔ عزت گنوانا ہے (3) ساگت سے مکھ جورئے ۔ مادہ پرست اور خدا سے منکر کا ملاپ۔ ادھ بیچہو۔ ٹوٹے ۔ درمیا میں ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ ہرجن۔ خادم خدا ۔ ات اوتیہہ چھوٹے ۔ ہر دو علاموں میں نجات پاتا ہے (4) بنت۔ بیونت ۔ منصوبہ ۔ درسن۔ دیدار۔
ترجمہ معہ تشریح:
خادم خدا کے پاؤں پڑو اور دولتمندوں حکمرانوں کا ساتھ چھوڑوں پانی لانے پنکھا کھنچنے یا ہلانے آتا پیسنے سے روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ دنیاوی حکمرانی زمین ملکیت سرداریاں ان کا لالچ چھوڑ دے ۔ آگ میں جلا دے (1) خدمتگاران پارسایان کے خدمت میں رہ دولتمندوں حکمرانوں کا ساتھ چھوڑو ۔ رہاؤ۔ روحانی رہبر پارساؤں کی روکھی سوکھی روٹی کو دنیا کی دولت سمجھ مادہ پرست اور خدا سے منکر کے گھر کے لذیز کھانے مانند زہر ہیں۔ اس کے بارے شیخ سعدی صاحب کا فرمان ہے ۔ نان جو خوردن بر زمین نشتن بہ از کمر زرین بستن در خدمت ایستا دن ۔ مراد جو کی روٹی کھانازمین پر بیٹھنا کہیں بہتر ہے سنہری پیٹی کمر پر باندھ کر کدمت میں کھڑے ہونے سے (2) عاشقان و عابدان الہٰی سے اگر پھٹا ہوا کمبل بھی ملجائے تو نگے ہونے کا خوف نہیں رہتا ۔ خدا سے منکر انسان کا ریشمی دو شالہ پہننے سے عزت نہیں رہتی ہے (3) خدا سے منکر وسے دوستی اور میل ملاپ درمیان میں ہی ٹوٹ جاتا ہے مگر جو خآدمان خدا کی خدمت کرتا ہے اسے ہر دو عالموں میں نجات حاصل ہوتی ہے (4) اے خڈا جو کچھ ہوتا ہے تیرے ہی ذریعے ہی ہوتا ہےا ور تیرے ہی بنائے منصوبے سے ہوتا ہے نانک دیدار و ملاپ خدا رسیدہ پاکدامن حمدوثناہ الہٰی کرتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
س٘رۄنیِ سُنءُ ہرِ ہرِ ہرے ٹھاکُر جسُ گاۄءُ ॥
سنّت چرنھ کر سیِسُ دھرِ ہرِ نامُ دھِیاۄءُ ॥੧॥
کرِ کِرپا دئِیال پ٘ربھ اِہ نِدھِ سِدھِ پاۄءُ ॥
سنّت جنا کیِ رینھُکا لےَ ماتھےَ لاۄءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نیِچ تے نیِچُ اتِ نیِچُ ہوءِ کرِ بِنءُ بُلاۄءُ ॥
پاۄ ملوۄا آپُ تِیاگِ سنّتسنّگِ سماۄءُ ॥੨॥
ساسِ ساسِ نہ ۄیِسرےَ ان کتہِ ن دھاۄءُ ॥
سپھل درسن گُرُ بھیٹیِئےَ مانُ موہُ مِٹاۄءُ ॥੩॥
ستُ سنّتوکھُ دئِیا دھرمُ سیِگارُ بناۄءُ ॥
سپھل سُہاگنھِ نانکا اپُنے پ٘ربھ بھاۄءُ ॥੪॥੧੫॥੪੫॥
لفظی معنی:
سرونی کانوں سے ۔ ٹھاکر۔ آقا۔ خدا۔ جس ۔ صفت ۔ صلاح ۔ حمدوثناہ۔ سنت چرن۔ روحانی رہبر کے پاؤں پر ۔ سیس دھر۔ سر جھکا کر ۔ ہر نام دھیاؤ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت میں توجہ دو (1) کر کرپا۔ کرم و عنیات فرما ۔ مرہبانی کرؤ ۔ دیال ۔ پربھ ۔ مہربان خدا۔ ندھ ۔ طرح طرح کے آرام و اسائش کے سامان۔ سدھ ۔ کراماتی طاقتیں ۔ معجزے ۔ ریتکا ۔ پاؤں کی دہول (1) رہاؤ۔ نیچ تے نیچ ۔ نہائت عاجز و انکسایر ۔ حلیم ۔ بنؤ۔ عرض ۔ گذارش ۔ پاؤ ملووا۔ پاؤں ملوں۔ آپ تیاگ ۔ خودی چھوڑ کر ۔ سنت سنگ سماؤ ۔ روحانی رہبر کی صحبت و قربت میںر ہوں (2) ان کتیہہ۔ اور کہیں۔ دھاؤو ۔ بھٹکنا ۔ دوڑ دہوپ۔ سپھل۔ کامیاب ۔ برآور ۔ مان ۔ واقار (3) ست۔ سچ حقیقت ۔ اصل۔ سنتوکھ ۔ صبر ۔ دیا ۔ رحم ۔ دھرم ۔ فرائض انسانی ۔ سیگار ۔ سجانا۔ سپھل سہاگن ۔ کامیاب ۔ الہٰی عاشق۔ پریمی پیار۔ اپنے پربھ بھاوئے ۔جو خدا کا چاہیتا یا پایرا ہوجائے ۔ جسے خدا پیار کرے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا کرم وعنایت فرما یہ ارام و اسائش نو خزانے اور معجزے پاوں مہربان خدا جو میرے لئے خزانے معجزے ہیں روھانی رہبر کے پاوں دہول پیشانیپہ لگا وں (1) رہاؤ۔ کانوں سے خدا کے نام کی صفت صلاح سنوں اور گاوں اور اپنا سر و ہاتھ روحانی رہبر کے پاؤں پر رکھ کر الہٰی نام سچ وحقیقت میں دھیان لگاوں (1) ناہیت عاجزنہ انکساری نہ اور حکیمی سے عرض گذاروں اور بلاوں۔ خودی تکبر چھوڑ کر روحانی رہبر کی صحبت میںرہوں (2) اے خدا تو مجھے ہر سانس نہ بھوے نہیں کہیں بھٹکوں بھولوں مجھے ایسا مرشد ملے جس کے دیدار سے زندگی کامیاب ہوجاتی ہے اورمیں غرور تکبر اور دنیاوی محبت مٹا دوں (3) اے انسانوں سچ صبر ۔ رحمد لی اور فڑض انسانی کی ادائگی اپنے آپ کو سجاؤ وہی الہٰی عاشق اپنی زندگی کامیاب بناتا ہے ۔ اے نانک جسے پیدا کرتا ہے خدا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اٹل بچن سادھوُ جنا سبھ مہِ پ٘رگٹائِیا ॥
جِسُ جن ہویا سادھسنّگُ تِسُ بھیٹےَ ہرِ رائِیا ॥੧॥
اِہ پرتیِتِ گوۄِنّد کیِ جپِ ہرِ سُکھُ پائِیا ॥
انِک باتا سبھِ کرِ رہے گُرُ گھرِ لےَ آئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
سرنھِ پرے کیِ راکھتا ناہیِ سہسائِیا ॥
کرم بھوُمِ ہرِ نامُ بوءِ ائُسرُ دُلبھائِیا ॥੨॥
انّترجامیِ آپِ پ٘ربھُ سبھ کرے کرائِیا ॥
پتِت پُنیِت گھنھے کرے ٹھاکُر بِردائِیا ॥੩॥
مت بھوُلہُ مانُکھ جن مائِیا بھرمائِیا ॥
نانک تِسُ پتِ راکھسیِ جو پ٘ربھِ پہِرائِیا ॥੪॥੧੬॥੪੬॥
لفظی معنی:
اٹل۔ نہ ٹلنے والا۔ صدیوی ۔ مستقل۔ بچن۔ بول کلام۔ سادہو جنا۔ ان خدمتگاران خدا جنہوں نے طرز زندگی راہ راست کی مطابق اختیار کر لی۔ سدھ سنگ ۔ صحبت یا سادھ کا ساتھ۔ بھیٹے ۔ ملاپ کیا ۔ ہر رائیا۔ خدا (1) پر تیت ۔ اعتبار ۔ یوین ۔ انک بیشمار ۔ گر گھر لے آئیا۔ مرشد نے دل میں بسا دیا (1) رہاؤ۔ سرن ۔ پناہ ۔ سہسائیا ۔ فکر تشویش ۔ کرم بھوم۔ زمین اعمال مراد انسانی زندگی ۔ ہر نام بوئے ۔ اس میں الہٰی نام سچ حقیقت کا بیج بیجو بھوؤ۔ اوسر۔ موقہ ۔ دلبھائیا۔ درلبھ ۔ نایاب (2) انتر جامی ۔ دلی راز جاننے والا۔ سبھ کرے کرائیا۔ سارا خود کرتا اور کراتا ہے ۔ پتت۔ ناپاک۔ گنگاہگار ۔ گھسنے ۔ نہایت زیادہ ۔ پنیت۔ پاک ۔ بر دائیا۔ عادات (3) مالکھ جن۔ انسانوں ۔ مائیا بھر مائیا۔ دنیاوی دولت کی بھٹکن ۔ تس۔ اس کی ۔ پت۔ عزت۔ جو پربھ ۔ پہرائیا۔ جسے خلعت خدا بخشی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بیشمار باتیں تو سب بناتے ہیں مرشد دلمیں خدا بساتا ہے مگر یہ یقین دا میں ہے ۔ یاد اسے جوکرتا ہے آرام و آسائش پاتا ہے (1) رہاؤ۔ کلام مرشد مستقل ہونے ہیں ٹکتے نہیں سب میں یہ ظاہر ہے جسے سادہو ا ساتھ نصیب ہوا۔ ملاپ خدا کا پائیا۔ (1) اس میں ہیں شبہ کوئی اپنی پناہ میں آئے کی عزت بچاتا ہے اس زمیں اعملا اسنانی زندگی میں الہٰی نام سچ و حقیقت کا بیج بوؤ نایاب موقعہ ہے یہ (1) دلی راز جاننے والا ہے خدا سارا اسکا کیا اور کرائیا ہوتا ہے بہت اخلاق سے گرے ہوئے بد چلن گناہگاروں کو اس نے پاک بنائیا ہے ۔ یہ قدیمی اس کی عادت ہے (2) اے نانک۔ اے انسانوں یہ نہ بھولو کہ دنیاوی دولت بھٹکاتی ہے ۔ جسے عطمت و خلعت بشتا ہے خدا اس کی عزت بچاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ماٹیِ تے جِنِ ساجِیا کرِ دُرلبھ دیہ ॥
انِک چھِد٘ر من مہِ ڈھکے نِرمل د٘رِسٹیہ ॥੧॥
کِءُ بِسرےَ پ٘ربھُ منےَ تے جِس کے گُنھ ایہ ॥
پ٘ربھ تجِ رچے جِ آن سِءُ سو رلیِئےَ کھیہ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِمرہُ سِمرہُ ساسِ ساسِ مت بِلم کریہ ॥
چھوڈِ پ٘رپنّچُ پ٘ربھ سِءُ رچہُ تجِ کوُڑے نیہ ॥੨॥
جِنِ انِک ایک بہُ رنّگ کیِۓ ہےَ ہوسیِ ایہ ॥
کرِ سیۄا تِسُ پارب٘رہم گُر تے متِ لیہ ॥੩॥
اوُچے تے اوُچا ۄڈا سبھ سنّگِ برنیہ ॥
داس داس کو داسرا نانک کرِ لیہ ॥੪॥੧੭॥੪੭॥
لفظی معنی:
ساجیا ۔ بنائیا۔ پیدا کیا۔ درلبھ ۔ ناایب۔ دیہہ۔ جسم۔ انک ۔ بہت سے ۔ چھدر۔ عیب ۔ برائیاں۔ ڈھکے ۔ پردے میں۔ نرمل۔ پاک۔ درسٹیہہ۔ دیکھنے کے لئے (1) پربھ تج ۔ خدا کو چھوڑ کر ۔ آن ۔ دوسروں سے ۔ کھیہہ۔ خاک ۔ مٹی۔ تج کوڑے منیہہ۔ جھوٹی محبت (1) رہاو۔ انک ۔ بیشمار۔ بہورنگ ۔ بہت سے تماشے ۔ ہوسی ۔ ہوگا ۔ ہے ۔ اب ہے ۔ مت ۔ سمجھ ۔ عقل (3) سب سنگ ۔ سب کے ساتھ ۔ برنیہہ۔ بیان کیا جاتا ہے ۔ داسر۔ ۔ غلام ۔ خدمتگار ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جسنے خاک سے انسان کو پیدا کرکے نایاب جسم بخشش کیا خدانے اور بیشمار عیب اس کے دل میں پوشیدہ کئے چھپائے ۔ مگر تاہم بھی صاف ستھرا دکھائ دیتا ہے (1) جس میں اتنے اوصاف اسے کبھی دلس ے بھلانا نہیں چہاییے جو خدا کو چھوڑ کر غیرروں سے محبت کرتا ہے متٰ میں ملجاتا ہے (1) رہاؤ۔ اسے ہر سانس یاد رکھو دیرن ہ کرؤ اس دنیا کو چھوڑ رک خدا سے محبت کرو۔ (2) جس واحد شخصیت نے بیشمار تماشے بنا رکھے ہیں۔ جواب بھی ہے اور مستقبل میں بھی ہواگا اس کامیابیاں عنایت کرنے والے خدا کی ایسا سبق و ہدایت مرشد سے لیتے (3) وہ بلند سے بلند شخصیوں سے بلند ہے جو سب کے ساتھ بستا بیان کیا جاتا ہے ۔ غلام کو غلاموں کا بنانے نانک کو ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ایک ٹیک گوۄِنّد کیِ تِیاگیِ ان آس ॥
سبھ اوُپرِ سمرتھ پ٘ربھ پوُرن گُنھتاس ॥੧॥
جن کا نامُ ادھارُ ہےَ پ٘ربھ سرنھیِ پاہِ ॥
پرمیسر کا آسرا سنّتن من ماہِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپِ رکھےَ آپِ دیۄسیِ آپے پ٘رتِپارےَ ॥
دیِن دئِیال ک٘رِپا نِدھے ساسِ ساسِ سم٘ہ٘ہارےَ ॥੨॥
کرنھہارُ جو کرِ رہِیا سائیِ ۄڈِیائیِ ॥
گُرِ پوُرےَ اُپدیسِیا سُکھُ کھسم رجائیِ ॥੩॥
چِنّت انّدیسا گنھت تجِ جنِ ہُکمُ پچھاتا ॥
نہ بِنسےَ نہ چھوڈِ جاءِ نانک رنّگِ راتا ॥੪॥੧੮॥੪੮॥
لفظی معنی:
ٹیک۔ آسرا ۔ گوبند۔ خدا۔ تیاگی ۔ چھوڑی ۔ ان آس ۔ دوسری امیدیں۔ سمرتھ ۔ باتوفیق ۔ لائق۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ (1) نام ادھار۔ الہٰی نام سچ وحقیقت ۔ آسرا۔ سنتن من ماہے ۔ روحانی رہبروں کے دل میں (1) رہاؤ۔ آپے رکھے ۔ خود ہی حفاظت کرتا ہے ۔ دیوسی ۔ دیتا ہے ۔ پرتپارے ۔ پرروش کرتا ہے ۔ دین دیال۔ غریب پرور۔ غریبوں پر مہربان ۔ کرپاندھے ۔ مرہبانیوں کا خزناہ ۔ ساس ساس سمارے ۔ ہر وقت سنبھال کرتا ہے (2) گرپورے اپدیسیا۔ کامل مرشد نے سمجھائیا ہے ۔ سکھ خصؐ رجائی ۔ الہٰی رضآ میں راضی رہنے میں سکھ ہے ۔ کرنہار ۔ جسے کرنے کی توفیق ہے (3) چنت ۔ فکر۔ اندیسا۔ اندیشہ ۔ خوف۔ ڈر۔ گنت تج ۔ حساب چھوڑ کر۔ حکم پچھاتا ۔ فرمان الہٰی کی پہچان ۔ الہٰی رضا۔ رنگ راتا۔ پیار میں محو۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی خدمتگار کو الہٰی نام سچ وحقیقت زندگی گذارنے کے لئے ایک آسرا ہے وہ ہمیشہ خدا کے ہم زیر سایہ وفناہ میں رہتے ہیں ۔ ان کے دلمیںنام کا ہی سہارا رہتا ہے (!) رہاؤ۔ خدمتگاران خڈا ساری امیدیں چھوڑ کر واحد خدا پر امید رکھتے ہیں خدا میں ہر طرح توفیق ہے وہ سب سے بلند شخصیت ہے اور اوصاف کا خزانہ (1) خدا خود ہی محآفظ خود ہی سخی سخاوت کرنے والا اور پرورش بھی خود ہی کرتا ہے ۔ ناتوانوں پر مہربان مہربانیوں کا خزانہ اور ہرو قت سنبھال کرتا ہے (2) کرنے کی توفیق رکھنے والا خڈا جو بھی کر رہا ہے وہی اس کی عطمت ہے ۔ کامل مرشد نے سمجھائیا ہے کہ الہٰی رضآ میں راضی رہنے سے ہی سکون خؤشی و آرام میسئر ہوتا ہے (3) اے ناک خادمان خدا فکر و تشویش ۔ خوف و حصاب چھوڑ کر فرمان الہٰی یار ضائے خدا کی پہچان کرتے ہیں۔ جو نہ مٹتا ہے نہ ساتھ چھوڑ کر جاتا ہے خادم کدا اس کے پریم پیار میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
مہا تپتِ تے بھئیِ ساںتِ پرست پاپ ناٹھے ॥
انّدھ کوُپ مہِ گلت تھے کاڈھے دے ہاتھے ॥੧॥
اوءِ ہمارے ساجنا ہم اُن کیِ رین ॥
جِن بھیٹت ہوۄت سُکھیِ جیِء دانُ دین ॥੧॥ رہاءُ ॥
پرا پوُربلا لیِکھِیا مِلِیا اب آءِ ॥
بست سنّگِ ہرِ سادھ کےَ پوُرن آساءِ ॥੨॥
بھےَ بِنسے تِہُ لوک کے پاۓ سُکھ تھان ॥
دئِیا کریِ سمرتھ گُرِ بسِیا منِ نام ॥੩॥
نانک کیِ توُ ٹیک پ٘ربھ تیرا آدھار ॥
کرنھ کارنھ سمرتھ پ٘ربھ ہرِ اگم اپار ॥੪॥੧੯॥੪੯॥
لفظی معنی:
مہا تپت ۔ ذہنی کوفت۔ سانت۔ سکون ۔ پرست۔ چھو نے سے ۔ پاپ ۔ گناہ ۔ اندکوپ۔ نادھیرا کیوں مراد ایسی حالت جس میں کچھ سوجھتا سمجھ نہیں آتا۔ گللت تھے ۔ غرقاب تھے (1) ساجنا۔ دوست۔ رین ۔ پاؤں کی دہول۔ بھیتٹ ۔ ملاپ ۔ جیئہ دان ۔ روحانی زندگی کی خیرات یا بھیک (!) رہاؤ۔ پراپور بلا۔ بہت پہلے کا ۔ لکھیا۔ تحریر ۔ پورن آسائ ۔ امیدیں پوری ہوئیں (2) بھے ونسے خوف مٹے ۔ سھ تھان۔ آرام و اسائش کا مقام ۔ دی۔ مہربانی ۔ سمرتھ ۔ با توفیق ۔ لائق (3) ٹیک آسرا ۔ آدھار۔اصرا۔ اگم اپار۔ انسانی عقل و ہوش سے بلند اور اتنا وسیع کہ کوئی حدو کنار نہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے میرے دوت ہم ان کے پاؤں کی دہول ہیں جن کے ملاپ سے روحآنی زندگی کی نعمت عنایت ہوتی ہے (1) رہاؤ۔ جن کی چھوہ سے گناہ مٹ جاتے ہیں بدکاریوں گناہگاریوں کی دل کی تپش ممٹتی ہے ۔ سکون حاصل ہوتا ہے ۔ جو بیوں برائیوں اور گناہگاریوں میں اطرح گللتان و محسور تھے کہ کچھ سمجھ نہ آتا تھا ۔ انہیں ہاتھ کی امداد سے باہر نکالا (1) جب کسی اعمالنامے میں پہلے تحریر کیا ہو ظاہر ہوجاتا ہے خدا رسیدہ پاکدامن کی صحبت میں رہنے سے اس کی امیدیں پوری ہوتی ہے (2) اس کے تینوںع الموں کے خوف مٹ جاتے ہیں۔ با توفیق مرشد نے رحمت فرمائی دل میں الہٰی نام سچ وحقیقت بس گیا (3) اے خدا۔ نانک کے لئے تو ہی آسرا اور تیرا ہی سہارا ہے ۔ تو خود کرنے اور کرانے کی توفیق رکھتا ہے اور تیرا ہی سہارا ہے تو انسانی عقل و ہوش سے بیعد و بلند ہے اور اتنے وسیع دائرے کا ملاک ہے جسکان نہ کنارا ہے نہ خدا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سوئیِ ملیِنُ دیِنُ ہیِنُ جِسُ پ٘ربھُ بِسرانا ॥
کرنیَہارُ ن بوُجھئیِ آپُ گنےَ بِگانا ॥੧॥
دوُکھُ تدے جدِ ۄیِسرےَ سُکھُ پ٘ربھ چِتِ آۓ ॥
سنّتن کےَ آننّدُ ایہُ نِت ہرِ گُنھ گاۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اوُچے تے نیِچا کرےَ نیِچ کھِن مہِ تھاپےَ ॥
کیِمتِ کہیِ ن جائیِئےَ ٹھاکُر پرتاپےَ ॥੨॥
پیکھت لیِلا رنّگ روُپ چلنےَ دِنُ آئِیا ॥
سُپنے کا سُپنا بھئِیا سنّگِ چلِیا کمائِیا ॥੩॥
کرنھ کارنھ سمرتھ پ٘ربھ تیریِ سرنھائیِ ॥
ہرِ دِنسُ ریَنھِ نانکُ جپےَ سد سد بلِ جائیِ ॥੪॥੨੦॥੫੦॥
لفظی معنی:
ملین ۔ ناپاک۔ دین ۔ غریب ۔ نادار۔ ہین ۔ خالی ۔ کمینہ ۔ کرنہار ( کار کرنے والا ) کرنیکی توفیق رکھنے وا۔ بوجھئی ۔سمجھتا نہیں۔آپ گنے ۔ اپنے آپ کو سمجھتا ہے ۔ بگانا ۔ بے گیان ۔ بلا علم ۔ مراد بیوقوف (1) ویسرے ۔ بھلائے ۔ چت آئے ۔ دل بسے ۔ سنتن کے سنتوں کے لئے آنند الہہہ۔ یہ سکون اور خوشی ہے ۔ ہرگن گاوے الہٰی حمدوثناہ کرے (1) رہاؤ۔ اوپے نے نیچا۔ بلندی سے تنزلی ۔ نیچے کو تھاپے ۔ اور نیچے کو بلند رجہ دے دیتا ہے ۔ پرتاپے ۔ عظمت (2) پیکھت لیلا رنگ روپ ۔ کھیل تماشے دیکھنے ۔ چلنے دن آئیا۔ اس عالم سے رخصت مراد موت کا دن آجاتا ہے ۔ سپنے کا سپنابھئیا ۔ جو پہلے خواب تھا بوقت آخرت خواب ہی ہوگا ۔ سنگ چلیا کمائیا۔ ساتھ دہی جاتا ہے جو اعمال کئے ہیں (3) اے کرنے اور کرانیکی توفیق رکھنے والے خدا تیری پناہ اے خدا روز وشب تیری ہی عبادت وریاضت کرتا ہے اور ہمشہ تجھ پر قربان ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جلُ ڈھوۄءُ اِہُ سیِس کرِ کر پگ پکھلاۄءُ ॥
بارِ جاءُ لکھ بیریِیا درسُ پیکھِ جیِۄاۄءُ ॥੧॥
کرءُ منورتھ منےَ ماہِ اپنے پ٘ربھ تے پاۄءُ ॥
دیءُ سوُہنیِ سادھ کےَ بیِجنُ ڈھولاۄءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
انّم٘رِت گُنھ سنّت بولتے سُنھِ منہِ پیِلاۄءُ ॥
اُیا رس مہِ ساںتِ ت٘رِپتِ ہوءِ بِکھےَ جلنِ بُجھاۄءُ ॥੨॥
جب بھگتِ کرہِ سنّت منّڈلیِ تِن٘ہ٘ہ مِلِ ہرِ گاۄءُ ॥
کرءُ نمسکار بھگت جن دھوُرِ مُکھِ لاۄءُ ॥੩॥
اوُٹھت بیَٹھت جپءُ نامُ اِہُ کرمُ کماۄءُ ॥
نانک کیِ پ٘ربھ بینتیِ ہرِ سرنِ سماۄءُ ॥੪॥੨੧॥੫੧॥
لفظی معنی:
جل ڈہووں میں کر۔ سر پرپانی لاؤں ۔ کر پگت۔ پکھلاوں ۔ ہاتھوں سے پاؤں صاف کروں دہوں ۔ پیکھ ۔ دیکھ کر ۔ دیدار (! ) جیواووں۔ زنگی پاؤں۔ سہونی ۔ جھاڑو ۔ بیجن۔ پنکھا (1) رہاؤ۔ انمرت گن ۔ اب حیات جیسے اوصاف ۔ جسے زندگی روحانی اخلاق طور یہ پاک و مقدس ہوجاتی ہے ۔ سن منیہہ پیلاؤو ۔ سنکر دلمیں بساؤ۔ آڑاس ۔ اس لطف ۔ سانت ۔س کون ۔ رپت۔ روح ۔ سری وہتی ہے ۔ وکتھے جلن بجھاوؤ۔ بدیوں کی آگ تپش بجھاؤ (2) سنت منڈلی ۔ سچے ساتھی ۔ نمسکار ۔ سجدہ ۔ دہور۔ دہول (3) اوٹھ بیٹھت ۔ اٹھتے بھی اور بیٹھتے بھی مراد ہر وقت ۔ کرم ۔ عمل ۔ کام ۔ ہر سمرن سماؤ۔ الہٰی عبادت وریاضت میں مشغول رہو ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو مدعا و مقصد یا خواہش ہو دل میں میرے اپنے خدا سے پاؤں خدا کے خادم کے جھاڑو لگاؤ پنکھا ہلاؤں (1) رہاؤ۔ سنت یا روحانی رہبر جو آب حایت جیسے روحای زندگی بنانے والے اوصاف بیان کرتے ہیں انہیں اپنے دلمیں بساؤ اور جذب کرؤں اس کے لطف میں سکون اور خواہشات مٹتی ہیں اور بدکاریوں کی چلن بجھتی ہے (2) جب سنت یا عارف مل بیٹھ کر عبادت وریاضت کرتے ہیں مل کر صفت صلاح کرؤں میں ان کے آگے سجدہ کرؤں سر جھکاؤں اور ان کے پاؤں کی دہول پیشانی پر لگاوں (3) اے خدا۔ نانک یہ عرض گذارتا ہے کہ اٹھتے بیٹھے مراد ہر وقت ہر وقت الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض کروں اور یا خدا میں محو ومجذوب رہوں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اِہُ ساگرُ سوئیِ ترےَ جو ہرِ گُنھ گاۓ ॥
سادھسنّگتِ کےَ سنّگِ ۄسےَ ۄڈبھاگیِ پاۓ ॥੧॥
سُنھِ سُنھِ جیِۄےَ داسُ تُم٘ہ٘ہ بانھیِ جن آکھیِ ॥
پ٘رگٹ بھئیِ سبھ لوء مہِ سیۄک کیِ راکھیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اگنِ ساگر تے کاڈھِیا پ٘ربھِ جلنِ بُجھائیِ ॥
انّم٘رِت نامُ جلُ سنّچِیا گُر بھۓ سہائیِ ॥੨॥
جنم مرنھ دُکھ کاٹِیا سُکھ کا تھانُ پائِیا ॥
کاٹیِ سِلک بھ٘رم موہ کیِ اپنے پ٘ربھ بھائِیا ॥੩॥
مت کوئیِ جانھہُ اۄرُ کچھُ سبھ پ٘ربھ کےَ ہاتھِ ॥
سرب سوُکھ نانک پاۓ سنّگِ سنّتن ساتھِ ॥੪॥੨੨॥੫੨॥
لفظی معنی:
ساگر۔ سمندر۔ سوئی وہی ۔ داس ۔ خدمتگار ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت ۔ (1) بانی ۔ کلام ۔ جیوے ۔ روحانی زندگی پاتا ہے ۔ جن آکھی ۔ جو خادم ۔ خدا کہتے ہیں۔ پر گٹ ۔ ظاہر ۔ لو۔ لوگوں میں۔ سیوک کی راکھی ۔ خدمتگار کی عزت۔ بچائی ۔ رہاؤ۔ اگن ساگر۔ آگ کے سمندر ۔ مراد لا انتہا ۔ پربھ جلن بجھائی ۔ ذہی کوفت ختم کی انمرت نام سنجیا۔ آب حایت نام کا پانی چھٹکا (ذہن ) روحانیت ) روحانی اوصاف ذہن نیشن کئے ۔ گر بھیئے سہائی ۔ مرشد مددگار ہو (2) جنم مرن وکھ تناسخ کا عذاب ۔ تھان ۔ مقام ۔ سلک ۔ پھندہ ۔ پربھ بھائیا۔ الہٰی محبت حاصل ہوئی ۔ خدا کا مجتی ہوا (3) کاٹی سلک بھرم موہ کی ۔ بھٹکن ۔ وہم وگمان اور دنیاوی محبت کی غلامی مٹائی ۔ سلک ۔ پھدنہ ۔ غلامی ( پربھ بھائیا ) سبھ پربھ کے ہاتھ ۔ ساری طاقت خدا کے بس ہے ۔ سک۔ ساتھ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیرے خدمتگار جو تیرا کلام تیری صفت صلاح جو کہتے ہیں اسے سن سن ( میری ) زندیگ روحانی واخلاقی ہوتی جاتی ہے ۔ تیری اپنے خدمتگار کی عزت کی کی ہوئی حفاظت سارےعالم میں ظاہر ہوجاتی ہے (1) رہاؤ۔ اس دیا میںا س زندیگ کے سمندر کو وہی عبور کرتا ہے زندگی کامیاب بناتا ہے جو الہٰی حمدوچناہ کو وہی عبور کرتا ہے زندگی کامیاب ناتا ہے جو الہٰی حمدوچناہ کرتا ہے ۔ جو پارساؤں عارفوں کی صحبت و قربت کرتا ہے جو بلند قسمت سے نصیب ہتی ہے (1) جسے مرشد مردد کرے اس کے ذہن میں آب حیات جس سے زندگی روحانی و بلندی اخلاقی ہوجاتی ہے آبپاشی کرتا ہے اور زندگی جو ایک آگ کے سمندر کی مانند ہے ۔ اس سے باہر نکالتا ہے ۔ اور خدا خواہشات اور تمناؤں کی آگ جو ذہن جل رہی ہوتی ہے بجھاتا ہے (2) تناسخ کا عذاب مٹا ئیا سکھ کا مقام پائیا۔ دوڑ دہوپ اور وہم وگمان و دنیاوی محبت کا پھندہ کاٹا اور خدا کا پیار ہو گیا (3) سینہ سمجھ لینا کہ کوئی اور تدبیر ہو سکتی ہے ساری طاقت خدا کے ہاتھ ہے ۔ اے نانک وہی ہر طرح کے آرام و آسائش پاتا ہے جو عارفوں پارساؤں پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں رہتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بنّدھن کاٹے آپِ پ٘ربھِ ہویا کِرپال ॥
دیِن دئِیال پ٘ربھ پارب٘رہم تا کیِ ندرِ نِہال ॥੧॥
گُرِ پوُرےَ کِرپا کریِ کاٹِیا دُکھُ روگُ ॥
منُ تنُ سیِتلُ سُکھیِ بھئِیا پ٘ربھ دھِیاۄن جوگُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ائُکھدھُ ہرِ کا نامُ ہےَ جِتُ روگُ ن ۄِیاپےَ ॥
سادھسنّگِ منِ تنِ ہِتےَ پھِرِ دوُکھُ ن جاپےَ ॥੨॥
ہرِ ہرِ ہرِ ہرِ جاپیِئےَ انّترِ لِۄ لائیِ ॥
کِلۄِکھ اُترہِ سُدھُ ہوءِ سادھوُ سرنھائیِ ॥੩॥
سُنت جپت ہرِ نام جسُ تا کیِ دوُرِ بلائیِ ॥
مہا منّت٘رُ نانکُ کتھےَ ہرِ کے گُنھ گائیِ ॥੪॥੨੩॥੫੩॥
لفظی معنی:
بندھن۔ غلامی ۔ کرپال۔ مرہبان۔ دین دیال۔ ناتوانوں ۔ غریبوں پر مہربان۔ ندرنہال۔ نگاہ شفقت (1) دکھ روگ ۔عذاب اور بیماری ۔ سیتل ۔ ٹھنڈ۔ دھیاون ۔ دھیان لگانا ۔ توجہ کری (1) رہاؤ۔ اوکھد ۔ دوآئی ۔ روگ نہ دیاپے ۔ بیماری پیدا ہی نہیں ہوتی ۔ بیتے ۔ پیار۔ جاپے ۔ محسوس نہیں ہوتا (2) انتر لو لائی ۔ اندرونی محبت اور لگن لگا کر ۔ کھل وکھ اتریئے ۔ گناہ مٹتے ہیں۔ سدھ ہوئے ۔ پاک ہوجاتا ہے ۔ سادہو ۔ سرنائی ۔ پاکدامنوں کی پناہ میں (3) سنت جپت ہر نام ۔ جس الہٰی نام سچ سنکر اور یادوریاض سے ۔ دور بلائی ۔ مصیبتیں ۔ بھاگ جاتی ہیں۔ مہامنتر ۔ بھاری منتر (الہٰی نام سچ وحقیقت ) گھتے ۔ کہتا ہے ۔ بیان کرتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس پر کامل مرشد کرم وعنیات فرمائی اس کی بیماری اور عذاب مٹا دیا ۔ توجہ یا دھیان لگانے کے لائق خدا میںد ھیان لگانے سےد ل وجان کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے اور آرام و آسائش ملتی ہے (1) رہاؤ۔ جب مہربان ہوت اہے ۔ غلامی کی بندشیں خؤد مٹا دیتا ہے خڈا ناداروں ناتوانوں پر رحمت فرمات اہے اس پر نگاہ شفقت ہے ڈالتا ہے اپنی (1) الہٰی نام سچ وحقیقت ایک کیمیا اور دوائی ہے جس سے بیماری اپانا تاثر نہیں ڈال سکتی ۔ صحبت عارفاں و پارسایاں ول دجان میں الہٰی نام سچ وحقیقت سے سے محبت ہو جاتی ہے ۔ پھر عذاب کا احصاس نہیں رہتا اور محسوس نہیں ہوتا (2) سادہویا عارف کے زیر سیاہ اندرونی طور پر یکسو ہو کر الہٰی نام کی یادوریاض سے گناہ مٹ جاتے ہیں پاک ہوجاتا ہے انسان (3) اے نانک الہٰی نام سچ وحقیقت کی صفت صلاح سننے اور کرنے سے مصیبتیں مٹ جاتی ہیں۔ سب سے بڑا منتر الہٰی صفت صلاح ہے نانک کہتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بھےَ تے اُپجےَ بھگتِ پ٘ربھ انّترِ ہوءِ ساںتِ ॥
نامُ جپت گوۄِنّد کا بِنسےَ بھ٘رم بھ٘راںتِ ॥੧॥
گُرُ پوُرا جِسُ بھیٹِیا تا کےَ سُکھِ پرۄیسُ ॥
من کیِ متِ تِیاگیِئےَ سُنھیِئےَ اُپدیسُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِمرت سِمرت سِمریِئےَ سو پُرکھُ داتارُ ॥
من تے کبہُ ن ۄیِسرےَ سو پُرکھُ اپارُ ॥੨॥
چرن کمل سِءُ رنّگُ لگا اچرج گُردیۄ ॥
جا کءُ کِرپا کرہُ پ٘ربھ تا کءُ لاۄہُ سیۄ ॥੩॥
نِدھِ نِدھان انّم٘رِتُ پیِیا منِ تنِ آننّد ॥
نانک کبہُ ن ۄیِسرےَ پ٘ربھ پرماننّد ॥੪॥੨੪॥੫੪॥
لفظی معنی:
بھے ۔ خوف ۔ اپجے ۔ پیدا ہونا۔ بھگت۔ الہٰی محبت۔ پریم ۔ پیار ۔ انتر۔ دلمیں۔س انت ۔ سکون ۔ نام جپت۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کی ریاض ۔ ونسے ۔ مٹتا ہے ۔ بھرم۔ وہم وگمان ۔ بھرانت۔ بھول۔ گمراہی (1) گر پور ۔ کامل مرشد۔ سکھ پرویس۔ سکھ بس گیا ۔ اپدیس ۔ نصٰحت ۔ واعظ ۔ سبق ۔ ہدایت (1) رہاؤ۔ داتار۔ نعمتیں عنایت کرنے والا۔ وسرے ۔ بھولے ۔ اپار۔ وسیع (2) رنگ ۔ پریم ۔ پیار ۔ اچرج ۔ حیران کرنے والا۔ گور دیو ۔ مرشد دیوتا ۔ سیو۔ خدمت (3) ندھ ندھان۔ نعمتوں کا خزناہ ۔ آنند ۔ خودی ۔ پرم انند۔ بھاری خوشی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جسنے کامل مرشد کا ملاپ حاصل کر لیا اسکے دلمیں سکھ بس گیا اپنے دل کی عقل و سمجھ چھوڑ کر رمشد کی نصیحت اور واعظ سنو (1) رہاؤ۔ خوف سے الہٰی پیار پیدا ہوتا ہے اور دل میں سکون پیدا ہوتا ہے اور خدا کا نام سچ حقیقت کی ریاج سے دوڑ دہوپ ۔ بھٹکن اور وہم وگمان و شک و شبہات مٹ جاتے ہیں ۔ رہاؤ۔ اس نعمتیں عنیات کرنے والے خدا کو ہر وقت یاد کرتے رہو اسے کبھی بھی نہ بھلاؤ ( بیشمار ) لا محدود ہستی کو (2) اس فرشتے مرشد کے پائے پاک سے پیار ہوگیا حیران ہوں۔ جس پر کرم عنایت ہوتی ہے خدا کی اسے خدمت میںلگاتا ہے ۔ جس نے دنیاوی نعمتوں کا خزانہ آب حیات نوش کیا دل و جان کو سکون و خؤشی میسر ہوئی ۔ اے نانک ۔ سب سے بلند خوشیوں کا مالک خدا کبھی بھی نہ بھولے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ت٘رِسن بُجھیِ ممتا گئیِ ناٹھے بھےَ بھرما ॥
تھِتِ پائیِ آندُ بھئِیا گُرِ کیِنے دھرما ॥੧॥
گُرُ پوُرا آرادھِیا بِنسیِ میریِ پیِر ॥
تنُ منُ سبھُ سیِتلُ بھئِیا پائِیا سُکھُ بیِر ॥੧॥ رہاءُ ॥
سوۄت ہرِ جپِ جاگِیا پیکھِیا بِسمادُ ॥
پیِ انّم٘رِتُ ت٘رِپتاسِیا تا کا اچرج سُیادُ ॥੨॥
آپِ مُکتُ سنّگیِ ترے کُل کُٹنّب اُدھارے ॥
سپھل سیۄا گُردیۄ کیِ نِرمل دربارے ॥੩॥
نیِچُ اناتھُ اجانُ مےَ نِرگُنُ گُنھہیِنُ ॥
نانک کءُ کِرپا بھئیِ داسُ اپنا کیِنُ ॥੪॥੨੫॥੫੫॥
لفظی معنی:
بھٹکن ۔ دوڑ دہوپ ۔ انتشار۔ خیالت۔ تھت ۔ پائی۔ سکون پائیا۔ ٹھکانہ ملا۔ دھرم ۔ ادائیگی گرائض انسانیت (1) ارادھیا ۔ یاد کیا۔ ونی ۔ مٹی ۔ پیر ۔ درد۔ سیتل۔ پر سکون ۔ بیر ۔ بھائی۔ برادر۔ سووت ۔ غفلت ۔ جاگیکا ۔ ۔ بیدار ہوا۔ پیکھیا۔ دیکھیا۔ بسماد۔ اسچرج ۔ حیران ۔ ششدر۔ انمرت ۔ ابحیات۔ ترپستاسیا۔ خواہشات مٹی ۔ اچرج ۔ حیران رکنے والا۔ سواد ۔ لطف ۔ لزت ۔ مزہ (2) مکت۔ آزاد۔ سنگی ۔ ساتھی ۔ کل ۔ خاندان۔ کٹنب۔ قیبلہ ۔ نرمل۔ پاک۔ دربارے ۔ الہٰی عدالت انصاف ۔ نیچ ۔ کمینہ ۔ انتھا ۔ جسکا کوئی مالک نیہں۔ اجان۔ انجان ۔ نادان ۔ نرگن ۔ بے وصف۔ گن ہین ۔ اوصاف سے خالی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
کامل مرشد کا آسرا لیا دامن پکڑ جس سے مرشد نے اپنا فرض ادا کیا ۔ خواہشات کی پیاس مٹی خود غرضی گئی سارے خوف اور وہم وگمان دور ہوئے روحانیس کون حاصل ہوا ۔ رہا ۔ کامل مرشد کا آسرا لیا عذاب مٹا ۔د ل وجان نےسکون محسوس کیا اے بھائی بھائی آرام و آسائش پائیا (1) رہاؤ۔ خواہشات پیاس بجھی خود غرضی گئی ۔ خوف اور وہم گمان ختم ہوئے ۔ ٹھکانہ ملا خوشی نصیب ہوئی مرشد نے اپنا فرض ادا کیا () الہٰی ریاض سے غفلت مٹی بیداری آئی جب دیکھا ھیرانی ہوئی ۔ اب حیات جس سے زندگی روحانی بن جاتی ہے ۔ پینے سے پیاس مٹھی جس کی حیران کرنے والی لذت ہے (2) اس سے خود کو آزادی ساتھی کامیاب ہوتے ہیں۔ خادنان اور قبیلہ کامیاب پاتا ہے ۔ ایسی کامیابی دینے ولای خدمت فرشتے مرشد کی ۔ پاک الہٰی حضوری میں نشت حاسل ہویت ہے (3) نیچ کمینہ ۔ بے مالک بے وصف اور اوصاف سے خالی تھا نانک خدا نے کرم وعنایت فرمائی خادم کو اپنا بنالیا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ہرِ بھگتا کا آسرا ان ناہیِ ٹھاءُ ॥
تانھُ دیِبانھُ پرۄار دھنُ پ٘ربھ تیرا ناءُ ॥੧॥
کرِ کِرپا پ٘ربھِ آپنھیِ اپنے داس رکھِ لیِۓ ॥
نِنّدک نِنّدا کرِ پچے جمکالِ گ٘رسیِۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّتا ایکُ دھِیاۄنا دوُسر کو ناہِ ॥
ایکسُ آگےَ بینتیِ رۄِیا س٘رب تھاءِ ॥੨॥
کتھا پراتن اِءُ سُنھیِ بھگتن کیِ بانیِ ॥
سگل دُسٹ کھنّڈ کھنّڈ کیِۓ جن لیِۓ مانیِ ॥੩॥
ستِ بچن نانکُ کہےَ پرگٹ سبھ ماہِ ॥
پ٘ربھ کے سیۄک سرنھِ پ٘ربھ تِن کءُ بھءُ ناہِ ॥੪॥੨੬॥੫੬॥
لفظی معنی:
ٹھاؤ۔ ٹھکانہ ۔ آن ۔ دیگر۔ دوسرا۔ تان ۔ طاقت۔ دیبان ۔ حاکم ۔عدالت۔ ناؤں۔ سچ و حقیقت خدا کا نام (1) رکھ لئے ۔ بچائے ۔ پچے ۔ غرقاب ہونے ۔ جمکال۔ فرشتہ موت۔ گرسیئے ۔ کھا گئے (1) رہاؤ۔ رویا سرب تھائے ۔ جو سب جگہ بستا ہے (2) کتھا ۔ پراتن ۔ پرانی کہانی ۔ دشٹ ۔ بد اعمال ۔ کھنڈ کھنڈ ۔ ذرہ ذرہ ۔ ٹوٹے ٹوتے ۔ لئے مانی ۔ اداب عنای ت کی (3) ست بچن۔ سچا کلام۔ بھو۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا اپنی کرم وعنیات سے اپنے خدمتگار وں کو بچاتا ہے جبکہ بدگوئی کرنے والے بدگوئی کرتے کرتے ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور موت کا لقمہ بن جاتے ہیں (1) رہاؤ۔ الہٰی عاشقوں پریمیوں خدا کے بغیر دوسرا کوئی ٹھاکنہ نہیں۔ طاقت عدالت ۔ قبیلہ اور دولت ان کے لئے خدا کا نام سچ و حقیقت ہے (1) روحانی رہبر ہمیشہ واحد خڈا میں دھاین لگاتے ہیں کسید وسرے میں ان کا دھیان نہیں واحد سے عرض گذارتے ہیں جو ہر جائی ہے (2) الہٰی پریمیوں کی اپنے ہی کلام سے پرانی کہانی سناتے ہیں۔ کہ خڈا نے بد اعمالوں کو ہمیشہ پامال کیا ہے اور خدمتگاروں کا ادداب بخشتا ہے وقار دیا ہے (3) نانک بتاتا ہے ۔ جو سارےعالم میں ظاہر ہے سبھ میں کہ خدمتگاروں خدا کے کو جو سایہ خڈا میں رہتے ہیں۔ ان کو کوئی خوف نہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بنّدھن کاٹےَ سو پ٘ربھوُ جا کےَ کل ہاتھ ॥
اۄر کرم نہیِ چھوُٹیِئےَ راکھہُ ہرِ ناتھ ॥੧॥
تءُ سرنھاگتِ مادھۄے پوُرن دئِیال ॥
چھوُٹِ جاءِ سنّسار تے راکھےَ گوپال ॥੧॥ رہاءُ ॥
آسا بھرم بِکار موہ اِن مہِ لوبھانا ॥
جھوُٹھُ سمگ٘ریِ منِ ۄسیِ پارب٘رہمُ ن جانا ॥੨॥
پرم جوتِ پوُرن پُرکھ سبھِ جیِء تُم٘ہ٘ہارے ॥
جِءُ توُ راکھہِ تِءُ رہا پ٘ربھ اگم اپارے ॥੩॥
کرنھ کارنھ سمرتھ پ٘ربھ دیہِ اپنا ناءُ ॥
نانک تریِئےَ سادھسنّگِ ہرِ ہرِ گُنھ گاءُ ॥੪॥੨੭॥੫੭॥
لفظی معنی:
بندھن۔ غلامی ۔ کل ۔ طاقت۔ توفیق ۔ کرم ۔ اعمال ۔ راکھو ۔ بچاؤ ۔ ہر نام اے مالک خدا۔ نو سر ناگت مادہوے ۔ اے خدا تیری پناہ میںہوں ۔ راکھے گوپال۔ خدا بچاتا ہے (1) رہاؤ۔ ت آسا۔ امید ۔ بھرم۔ شک و شبہ ۔ وکار۔ برائیاں۔ موہ ۔ دنیاوی محبت۔ لو بھانا۔ لالچ کرنا۔ جھوٹھ سمگری ۔ ختم ہوجانے والا۔ سروسامان ۔ پار بہرم۔ پار لگانے والا۔ خدا (2) پرم جوت۔ بھارینور۔ پورن پرکھ ۔ کامل انساسن ۔ سبھ جیئہ ۔ سارے جادنار ۔ اگم اپارے ۔ انسانی رسائی سے بلند اور اتنا وسیع کہ حڈ وکنار نہیں ۔ لا محدود (3) کرن ۔ کرنے ۔کارن ۔ سبب۔ وجہ ۔ سمرتھ ۔ توفیق ۔ تریئے ۔ کامیابی حاصل کریں۔ سادھس نگ ۔ صحبت پاکدامن ۔ہرگن گاو۔ الہٰی حمدوثناہ سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے رحمان الرحیم خدا میں تیری پناہ میں ہوں جب محآفظ ہو خدا تو ناجت پاتا ہے انسان (1) رہاؤ۔ قوتوں کا مالک خدا غلامی مٹآ دیتا ہے ۔ دوسرے کاموں سے نہیں ملتی ناجت اے خدا بچایئے (1) امیدوں وہم و گامن برائیوں اور دنیاوی دولت کی محبت کا لالچ کرتا ہے مٹ جانے والی قائنات دل میں بستی ہے خدا کی پہچان نہیں (2) اے روشنی کے مینارے کامل انسان سارے جاندار تیرے ہی ہیں پیدا کئے ۔ اے انسان رسائی سے بعید لا محدود خدا جیسے سے رضا تیری اس طرحر ہنا ہوتا ہے (3) اے نانک بتادے کہ کرئے اور کرانے کی توفیق ہے تجھ میں اپنا نام عنا یت کر ۔ صحبت میں پاکدامن کی الہٰی حمدوثناہ سے کامیابی ملتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
کۄنُ کۄنُ نہیِ پترِیا تُم٘ہ٘ہریِ پرتیِتِ ॥
مہا موہنیِ موہِیا نرک کیِ ریِتِ ॥੧॥
من کھُٹہر تیرا نہیِ بِساسُ توُ مہا اُدمادا ॥
کھر کا پیَکھرُ تءُ چھُٹےَ جءُ اوُپرِ لادا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جپ تپ سنّجم تُم٘ہ٘ہ کھنّڈے جم کے دُکھ ڈاںڈ ॥
سِمرہِ ناہیِ جونِ دُکھ نِرلجے بھاںڈ ॥੨॥
ہرِ سنّگِ سہائیِ مہا میِتُ تِس سِءُ تیرا بھیدُ ॥
بیِدھا پنّچ بٹۄارئیِ اُپجِئو مہا کھیدُ ॥੩॥
نانک تِن سنّتن سرنھاگتیِ جِن منُ ۄسِ کیِنا ॥
تنُ دھنُ سربسُ آپنھا پ٘ربھِ جن کءُ دیِن٘ہ٘ہا ॥੪॥੨੮॥੫੮॥
لفظی معنی:
پتریا ۔ گرا۔ پرتیت ۔ اعتبار ۔ یقین ۔ مہا موہنی ۔ دلربا۔ نرک ۔ دوزخ۔ ریت ۔ رواج (1) من کھٹہر ۔ کھوٹ ولاے ۔ کھوٹے ۔ بساس ۔ بسواس۔ یقین ۔ اعتار۔ مہا اومادا۔ بھاری ۔ متوالا ۔ ست ۔ خر۔ گدھا۔ پیکھر۔ پاؤں میں ڈالا ہوا رسا۔ تو ۔ تب ۔ (1) رہاؤ۔ ج پ۔ ۔ تپ ۔ سنجم۔ ریاضت ۔ تپسیاد ۔ ضبط۔ کھندے ۔ مٹائے ۔ جسم کےد کھ ڈانڈ۔ فرشتہ موت کی سزا کے قابل بنا لیا۔ نرلج ۔ بے شرم وحیا۔ بھانڈ۔ برائیوں کے قابل۔ برے انسان (2) بیدھا ۔ گرفتار ۔ باندھا ہوا۔ پنچ بٹوارئی ۔ پانچ لیٹرے ۔ راہزن ۔ جوا سنانی روحانی زندگی پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ اپجیو ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ کھید ۔ عذاب ۔ تکلیف (3) من وس کینا۔ جنہوں من کو قابو کر لیا۔ سربس ۔ سب کچھ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے کھوٹے من تو قابل اعتبار نہیں تو نہایت مست ہے ۔ جس طرح سے گدھے کا پیکھر تب کھولا جاتا ہے جب اس کے اوپر بوجھ لاد دیا جاتا ہے ۔ مراد اے دل تو اگر لاد دیا جائے تھی راہ راست بھر رہتا ہے (!) رہاؤ۔ اےد ل جس نے تجھ پر اعتبار کیا وہ کون ہے جو راہ راست سے نہ بھٹکاہو اور اخلاق سے نہ گراہو یہ درلربا دنیاوی دولت کی محبت کا راستہ دوزخ کی طرف جاتا ہے (1) اے دل ۔ ریاضت و عبادت و پرہیز گاری کو مٹآ دیتا ہے ۔ا ور فرشتہ موت کے سزا کے لائق بنا دیتا ہے ۔ اےب ے حای من قابل بدگوئی تو تناسخ کا خوف یاد نہیں کرتا 2) اے دل خدا جو مددگار ساتھی اور بھاری دوست ہے س سے دوری بنا رکھی ہے ۔ اختلاف ہے ۔ تجھے پانچ روحانی زندگی کے لٹیرؤں نے اپنی گرفت میںلے رکھا ہے اس لئے تیرے لئے بھاری جگھڑےا ور عذاب میں تجھے (3) اے نانک۔ میں ان روحانی رہبروں کے زیر سایہ وہں جنہوں نےا پنے من کو قابو کر لیا۔ جسنےاپنے آپ کو دھن دولت اورجسم سپرد کر دیا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اُدمُ کرت آندُ بھئِیا سِمرت سُکھ سارُ ॥
جپِ جپِ نامُ گوبِنّد کا پوُرن بیِچارُ ॥੧॥
چرن کمل گُر کے جپت ہرِ جپِ ہءُ جیِۄا ॥
پارب٘رہمُ آرادھتے مُکھِ انّم٘رِتُ پیِۄا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیِء جنّت سبھِ سُکھِ بسے سبھ کےَ منِ لوچ ॥
پرئُپکارُ نِت چِتۄتے ناہیِ کچھُ پوچ ॥੨॥
دھنّنُ سُ تھانُ بسنّت دھنّنُ جہ جپیِئےَ نامُ ॥
کتھا کیِرتنُ ہرِ اتِ گھنا سُکھ سہج بِس٘رامُ ॥੩॥
من تے کدے ن ۄیِسرےَ اناتھ کو ناتھ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ جا کےَ سبھُ کِچھُ ہاتھ ॥੪॥੨੯॥੫੯॥
لفظی معنی:
اوم۔ محنت و مشقت ۔ کوشش۔ جہد ۔ انند۔ سکنو ۔ سمرت ۔ یادوریاض ۔ سکھ سار۔ ارام و اسائش کی بنیاد ۔ نام گوبند۔ خدا کا نام۔ سچ وحقیقت ۔ ویچار۔ خیالات (1) ہر جپ بہؤ جیو۔ الہٰی رضآ سے مجھے روحانی زندگی ملتی ہے ۔ چرن کمل ۔پائے پاک ۔ ارادھنے ۔ یادوریاض کرنے سے ۔ انمرت ۔ آب حیات ۔ رہاؤ۔ لو چ۔ خواہش۔ پر اپکار۔ دوسروں کی بھلائی کا کام کرنا ۔ پوچ۔ گناہ (2) تھان۔ جگہ ۔ مقام۔ بسنت ۔ بستے یں۔ کتھا کہانی ۔ کریتن ۔ حمدوچناہ ۔ ات گھنا۔ نہایت زیادہ۔ سہج بسرام۔ روحانی سنجیدگی (3) اناتھ ۔ بے مالک ناتھ ۔ مالک سرناگتی ۔ پناہ گزیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
پائے مرشد کا دھیان کرنے سےا ور یاض الہٰی سے زندگی روحانی ہوجاتی ہے اس پار لگانے والے خدا کو یاد کرنے سے منہ سے آبحیات مراد وہ پانی پینا ہے جس سے زندگی روحانی واخلاقی ہوجاتی ہے (1) راہو۔ اس کے لئے کوشش کرنے سےد ل کو سرور میسئر ہوتا ہے جو آرام و اسائش کی بنیاد ہے ۔ نام الہٰی لیتے لیتے سمجھ بھی پوری ہوجاتی ہے (1) سب کو سکون میسئر ہوتا ہے اور سبھ کےد لمیں خواہش و تمنا ہے وہ سبھ کی بھالئی والے کام وہ کرتے ہیں اور سوچتے ہیں گناہ ان پر اپنا تاثر پا سکتے ہیں (2) شاباش ہے اس مقام کو اور شاباش وہاں رہنے والوں کو جہاں نام الہٰی سچ وحقیقت کی ہوتی ہے ۔ یادوریاض ۔ جہاں تشریح ہوتی ہے ۔ الہٰی نام کی اور کہانیاں ہو رہی ہوں بیان اور حمد الہٰی ہوتی ہے وہ مقام وہ جگہ روحانی سکون و سنجیدگی سر چشمہ حیات ہوجاتا ہے (3) اے ناک وہ ناتوانوں بے مالکوں کا مالک نیا سروں کا آسرا دل سے نہ بھلانا چاہیے ۔ ا خدا کے ہمیشہ تابع اور زیر سایہ رہو جو ہر شے کامالک ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جِنِ توُ بنّدھِ کرِ چھوڈِیا پھُنِ سُکھ مہِ پائِیا ॥
سدا سِمرِ چرنھاربِنّد سیِتل ہوتائِیا ॥੧॥
جیِۄتِیا اتھۄا مُئِیا کِچھُ کامِ ن آۄےَ ॥
جِنِ ایہُ رچنُ رچائِیا کوئوُ تِس سِءُ رنّگُ لاۄےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رے پ٘رانھیِ اُسن سیِت کرتا کرےَ گھام تے کاڈھےَ ॥
کیِریِ تے ہستیِ کرےَ ٹوُٹا لے گاڈھےَ ॥੨॥
انّڈج جیرج سیتج اُتبھُجا پ٘ربھ کیِ اِہ کِرتِ ॥
کِرت کماۄن سرب پھل رۄیِئےَ ہرِ نِرتِ ॥੩॥
ہم تے کچھوُ ن ہوۄنا سرنھِ پ٘ربھ سادھ ॥
موہ مگن کوُپ انّدھ تے نانک گُر کاڈھ ॥੪॥੩੦॥੬੦॥
لفظی معنی:
بندھن۔ ماں کے پیٹ سے باندھ کر باہر نکالا۔ سدا سمر چرناربند۔ اس کے پاؤں کا گرویدہ ہوجا یاد رکھ ۔ سیتل ہوتا ئیا۔ اس سے ذہنی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے (1) جیوتیا ۔ تھواموئای۔ زندہ یا مردہ۔ رچن رچائیا ۔ جس نے یہ عالم پیدا کیا ۔ رنگ ۔ رپیم پیار (1) رہاؤ۔ اسن ۔ سیت ۔ گرمی و سردی ۔ گھام۔ ہمیں۔ تیپش۔ کیری ۔ چیونٹی ۔ ہستی ۔ ہاتھی (2) انڈج ۔ جیرج ۔ ستیج ۔ اتبھج ۔ دنیاوی جانداروں کی پیدائش کی چار کانیں ۔ انڈوں سے ۔ جیر سے ۔ پسینے سے ۔ خودرد ۔ کرت ۔ کی ہوئی ۔ نرت۔ نرکھ ۔ مراد اصلیت سمجھ کر (3) سرن پربھ سادھ۔ خڈا وپاکدامن ۔ موہ مگن ۔ دنیاوی دولت کی محبت اور محوئیت۔ کوپ اندھ ۔ اندھا کیواں ۔ مراد جہالت نا سمجھی ۔ گر کاڈھ ۔ اے مرشد اس کوئیں سے نکال مراد دانش عنایت فرما ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو دور ان حیات و بعد از وفات ساتھی نہیںد یتی اور جس نے یہ سارا علام پیدا کیا ہے کوئی پی پیار کرتا ہے اسے (1) رہاؤ۔ جس خدا نے اے انسان تیری حفاظت کی اور پھر اس سے نجات دلائی اور آرام پہنچائیا ۔ اسکو یاد کر اس سےد ل کو راحت اور سکون ملتا ہے (1) خدا نے گمری اور سردی خود بنائی ہے اور تپش سے بچاتا ہے ۔ چیونٹی کو ہستی بناتا ہے مراد نا چیز نادار کو بادشاہت عنایت کرد تیا ہے ۔ اور ٹوٹے رشتے یا تعلقات کو ملا دیتا ہے (2) خدا نے علام کی پیدائش کے لئے چار کانیں انڈھے جیر ۔ پیشہ اور خود روبنائی ہیں مگر اس خدا کا نام اس ساری قائنات سے بیرخ ہوکر عبادت وریاضت کر نی چاہیے ۔ ایسا اعمال کرنے سے سارے مقصد حلحل ہو جاتے ہیں (3) اے خدا ہم کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں ہمیں اپنے زیر سایہ رکھئے ۔ ہم دنیاوی دولت کی محبت کے اندھے کوئیں میں گرے ہوئے اے مرشد نانک کو اس سے نکال۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
کھوجت کھوجت مےَ پھِرا کھوجءُ بن تھان ॥
اچھل اچھید ابھید پ٘ربھ ایَسے بھگۄان ॥੧॥
کب دیکھءُ پ٘ربھُ آپنا آتم کےَ رنّگِ ॥
جاگن تے سُپنا بھلا بسیِئےَ پ٘ربھ سنّگِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
برن آس٘رم ساست٘ر سُنءُ درسن کیِ پِیاس ॥
روُپُ ن ریکھ ن پنّچ تت ٹھاکُر ابِناس ॥੨॥
اوہُ سروُپُ سنّتن کہہِ ۄِرلے جوگیِسُر ॥
کرِ کِرپا جا کءُ مِلے دھنِ دھنِ تے ایِسُر ॥੩॥
سو انّترِ سو باہرے بِنسے تہ بھرما ॥
نانک تِسُ پ٘ربھُ بھیٹِیا جا کے پوُرن کرما ॥੪॥੩੧॥੬੧॥
لفظی معنی:
بن ۔ جنگل۔ اچھل۔ جسے دہوکا یا فریب نہ ہو سکے ۔ ابھید ۔ جسکا راز معمول نہ ہو سکے (1) آتم کے رنگ۔ روحانی پیار سے ۔ جاگن ۔ بیداری ۔ سینا ۔ خواب۔ غفلت (1) رہاؤ۔ برن ۔ مذہبی فرقے ۔ برہمن ۔ گھرتیر ۔ ویش ۔ شودر۔ آسرام۔ برہچا رج ۔ گرستھ ۔ بان پر ست۔ سنیاس۔ درسن ۔ دیدار۔ روپ ۔ شکل وصورت۔ ریکھ ۔ لکریں ۔ پنچ تت۔ پان بنایدی مادے جن سے وجود اور شکلیں بنتی ہیں۔ ابناس۔ لافناہ (2) جوگیر۔ جنہیں انسانی زندگی کے سراط مستقیم کی پہچان ہے ۔ وڈے (جوگئی ایسر۔ بلند رتبے والے (3) سوانتر ہو باہرے ۔ جو اندر ہے وہی باہر۔ بھیٹیا۔ ملاپ ہوا۔ پورن کر ما ۔ بلند قسمت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
دل میں ہے تمنا کب دیدار ہو ر روحامنی خدا کا بیداری سے خواب اچھا جس میں ساتھ بنسا ملے خدا کے ساتھ (1) رہاؤ۔ جنگلوں اور بہت جگہ تالش کرتے رہے خدا ایسی ہستی ہے جسے دہوکا یا فریب نہیں ہو سکتا جس کا راز سمجھا نہیں جا سکتا مٹائیا بھی نہیں جا سکتا (1) پندو سماج کے فرقوںا ور عمر کے وقفوں اور انکی ہدایتی کتابوں کے لیکچر سناہوں اورمیرے دل میں الہٰی دیدار کی نشانی ہےنہ ہی پانچوں بنیادی مادیات سے بنا ہوا ہے (2) ویسے بہت کم روحانی رہنما ہیں جو اس کی شکل و صورت بیان کرتے ہیں جس کو اپنی کرم و عنایت اور رحمت سے مل جاتا ہے وہ بلند قسمت ہیں خدا رسیدہ او روآحنی عالم میں (3) خدا سب کے دلمیں بسنے کے باوجود جدا ہستی ہے اس کے ملاپ سے وہم وگامن مٹ جاتے ہیں اے نانک۔ جو بلند قسمت ہوتا ہے اس سے خدا خود ملاپ دیتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جیِء جنّت سُپ٘رسنّن بھۓ دیکھِ پ٘ربھ پرتاپ ॥
کرجُ اُتارِیا ستِگُروُ کرِ آہرُ آپ ॥੧॥
کھات کھرچت نِبہت رہےَ گُر سبدُ اکھوُٹ ॥
پوُرن بھئیِ سمگریِ کبہوُ نہیِ توُٹ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سادھسنّگِ آرادھنا ہرِ نِدھِ آپار ॥
دھرم ارتھ ارُ کام موکھ دیتے نہیِ بار ॥੨॥
بھگت ارادھہِ ایک رنّگِ گوبِنّد گُپال ॥
رام نام دھنُ سنّچِیا جا کا نہیِ سُمارُ ॥੩॥
سرنِ پرے پ٘ربھ تیریِیا پ٘ربھ کیِ ۄڈِیائیِ ॥
نانک انّتُ ن پائیِئےَ بیئنّت گُسائیِ ॥੪॥੩੨॥੬੨॥
لفظی معنی:
سوبرسن ۔ خوش ۔ بھیئے ہوئے ۔ پرتاپ۔ ۔ عظمت ۔ قرض ۔ برائیوں ادھار۔ آپر ۔ کوشش (1) بنبھیت ۔ گذرتی رہی ۔ اکھوٹ ۔ نا ختم ہونے والا۔ پورن ۔ مکمل ۔ توٹ ۔ کمی (1) رہاؤ۔ سادھ ۔ سنگ ۔ صحبت پاکدامن ۔ ہر ندھ ۔ اپار۔ لا محدود الہٰی خزانہ ۔ دھرم۔ روازنہ زندگی فرائض بموجب انسانیت ۔ ارتھ ۔ روزانہ ضرورتیں ۔ کام ۔ کامیابیاں ۔ موکھ ۔ نجات آزادی (2) ایک رگنگ۔ لگاتار۔ ایک جیسے پیار کے ساتھ۔س نچیا ۔ اکھٹا کیا (1) وڈیائی ۔ عظمت وحشمت ۔ گوسائی۔ مالک۔ خدا ۔
ترجمہ معہ تشریح:
کلام مرشد ہمیشہ ساتھ دیتا ہے اسے زہر کار لانے عمل کرنے سے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی سار ساز و سامان مکمل رہتا ہے کبھی کمی نہیں آتی (1) رہاؤ۔ سچے مرشد نے اسنان کے ذمے برائیوں ۔ بدکاریوں و گناہگاریوں کا بوجھ اپنی کوششوں سے نہ صرف ہلکا کیا ملکہ اتار دی جس کو دیکھ سب نے خوشی منائی اور الہٰی عطمت دیکھ کر خوش ہوئے (1) سحبت و قربت روحانی پاکدامن سادھ میں الہٰی حمدوثناہ کرنا جو ایک ایسا خزانہ ہے جس میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی ۔ جو لا محدود ہے دنایوی نمتیں انسانی روز مرہ کے فرائض منصبی دنایوی ضروریتں کامیابیاںا ور آزادی کی نعمتیں عیات کر نے میں در نہیں کرتا (2) الہٰی پریمی پیارے لگار ایک جیے پریم پیار اس کی حمدوثناہ کرتے ہیں اور وہ الہٰی نام سچ وحقیقت کی انتی دولت یا سرمایہ اکھٹا کر لیتے ہیں جو اعداد و شمار سے با ہر ہے (3) وہ اے خدا تیرے زیر سایہ رہ کر تیری ہی حمدوثناہ کرتے ہیں ۔ اے نانک۔ اوصاف الہٰی کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سِمرِ سِمرِ پوُرن پ٘ربھوُ کارج بھۓ راسِ ॥
کرتار پُرِ کرتا ۄسےَ سنّتن کےَ پاسِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِگھنُ ن کوئوُ لاگتا گُر پہِ ارداسِ ॥
رکھۄالا گوبِنّد راءِ بھگتن کیِ راسِ ॥੧॥
توٹِ ن آۄےَ کدے موُلِ پوُرن بھنّڈار ॥
چرن کمل منِ تنِ بسے پ٘ربھ اگم اپار ॥੨॥
بست کماۄت سبھِ سُکھیِ کِچھُ اوُن ن دیِسےَ ॥
سنّت پ٘رسادِ بھیٹے پ٘ربھوُ پوُرن جگدیِسےَ ॥੩॥
جےَ جےَ کارُ سبھےَ کرہِ سچُ تھانُ سُہائِیا ॥
جپِ نانک نامُ نِدھان سُکھ پوُرا گُرُ پائِیا ॥੪॥੩੩॥੬੩॥
لفظی معنی:
کارج ۔ کام ۔ راس۔ ٹھیک۔ کامیاب۔ کرتار پر ۔ جائے ۔ رہائش ۔ خدا۔ کرتا ۔ کرنے والا۔ سنتں کے پاس۔ روحانی رہبروں کے پا س (1 ) رہاؤ۔ وگھن۔ رکاوٹ۔ ارداس۔ عرض ۔ گذارش۔ رکھوالا ۔ محافظ ۔ گوبند رائے ۔ شہنشاہ خدا۔ راس۔ سرامیہ (1 ) توٹ۔ کسی ۔ مول ۔ بالکل ۔ پورن بھنڈار۔ خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ اگم اپار۔ لا محڈود۔ انسانی رسائی سے بعد (2) بست۔ اشیا ۔ بستے وہئے ۔ اون ۔ کمی ۔ سنت پرساد۔ سنت کی رحمت سے ۔ جگدیش ۔ مالک علام (3) سچ تھا۔ صدیوی مقام۔ سوہائیا ۔ سوہنا۔ جے جے کار۔ شہرت۔
ترجمہ معہ تشریح:
یاد خدا کو کرنے سے سارے کام کامیاب ہوجاتے ہیں۔ خدا کے گھر خدا بستا ہے روحانی رہبروں کے ساتھ ۔ رہاؤ۔ جو مرشد کے پاس عرض گذارتے ہیں جو رکاوٹ انہیں آتی نہیں۔ خدا محافظ ہوجاتا ہے الہٰی پریمیوں کے لئے سرمایہ ہے (1) کبھی بھی کمی واقع ہوتتی نہیں خزانے ہیں بھرے ہوئے جب لا محدود انسانی عقل و ہش و سوچ سے بعید خڈا دل و جان و زہن میں بس جاتا ہے (2) جو روحانی رہبر سنتوں کی رحمت سے کامل خدا ملاپ ہوجاتا ہے جو سایہ خدا میں رہتے ہیں سارے سکھ پاتے ہیں کوئی کمی رہتی نہیں۔ ۔ یہ ایا مقام ہے کہ سب سے شہرت پاتے ہیں ۔ جو سچا ہے صدیوی ہے ۔ اے نانک سارے سکھوں کے خزانے الہٰی نام سچ حقیقت سے کامل مرشد کا ملاپ میسئر ہوتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ہرِ ہرِ ہرِ آرادھیِئےَ ہوئیِئےَ آروگ ॥
رامچنّد کیِ لسٹِکا جِنِ مارِیا روگُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرُ پوُرا ہرِ جاپیِئےَ نِت کیِچےَ بھوگُ ॥
سادھسنّگتِ کےَ ۄارنھےَ مِلِیا سنّجوگُ ॥੧॥
جِسُ سِمرت سُکھُ پائیِئےَ بِنسےَ بِئوگُ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ کرنھ کارنھ جوگُ ॥੨॥੩੪॥੬੪॥
لفظی معنی:
ارادھیئے ۔ دلمیں بسائیں۔ یادوریاض ۔ اروگ۔ تندرست ۔ لستگا۔ لاٹھی ۔ مار یاروگ۔ بیماری ختم کی (1) رہاؤ۔ کیچے ۔کریں۔ بھوگ۔ صرف ۔ روحانی خوشی ۔ دارنے صدقے ۔ سنجوگ ۔ ملاپ (1) بیوگ ۔ جدائی۔ کرن کارن جوگ۔ کرنے اور کرانے کی توفیق ۔
ترجمہ معہ تشریح:
ہمیشہ یادخدا کو کرنا چہایے تندرستی اس سے ملتی ہے ۔ یہ رام چندر کی لاٹھی ہے جو بیماری ختم کر دیتی ہے ۔ رہاؤ۔ کامل مرشد کے ذریعے یارض خدا کی کرنی چاہیے ۔ ہ روز خوشی منایئے ۔ صدقے ہے صحبت و قربت روحانی پاکدامن سادھ کے جس سےملاپ الہٰی کا موقع ملتا ہے (1) جس کی یادوریاض سے ارام و اسائش مسئر ہوتا ہے ۔ جدائی مٹ جاتی ہے ۔ نانک اس کے زیر پناہ ہے جو کرنے اور کرانے کی توفیق کا مالک ہے ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ دُپدے گھرُ ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
اۄرِ اُپاۄ سبھِ تِیاگِیا داروُ نامُ لئِیا ॥
تاپ پاپ سبھِ مِٹے روگ سیِتل منُ بھئِیا ॥੧॥
گُرُ پوُرا آرادھِیا سگلا دُکھُ گئِیا ॥
راکھنہارےَ راکھِیا اپنیِ کرِ مئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
باہ پکڑِ پ٘ربھِ کاڈھِیا کیِنا اپنئِیا ॥
سِمرِ سِمرِ من تن سُکھیِ نانک نِربھئِیا ॥੨॥੧॥੬੫॥
لفظی معنی:
اور ۔ دیگر دوسرے ۔ اپاو۔ کوشش۔ تیاگ۔ چھوڑ کر ۔ دارو ۔ دوائی ۔ نام۔ الہی نام۔ سچ وحقیقت۔ تاپ ۔ ذہنی کوفت۔ پاپ ۔ گناہ ۔ روگ ۔ بیماریاں ۔ ستیل ۔ شانت۔ پر سکون ۔ بھئیا ۔ ہوا (1) منا۔ مہربانی ۔ بانہہ۔ بازو۔ گینا اپنائیا ۔ اپنا بنائیا۔ نربھائیا۔ بیخوف۔ دہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس نے کامل مرشد دل میں بسائیا مٹے اس کے سب روگ ۔ با توفیق خدا نے اس کی کی حفاظت اپنی رکم وعنیات سے (1) رہاؤ ۔ ساری کوشش چھوڑ کر الہٰی نام سچ و حقیقت کی دوائی لی ۔ ذہنی کوفت مٹی گناہ رفع ہوئے ۔ ساری بیماریاں دور ہوئیں۔ ملا سکون و شانت دل کو (1) خڈانے بازو سے پکڑ اپنا بنا لیا ۔ اے نانک۔ یاد الہٰی کر کرکے دل وجان س نے سکون محسوس کیااور بیخوف ہوا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
کرُ دھرِ مستکِ تھاپِیا نامُ دیِنو دانِ ॥
سپھل سیۄا پارب٘رہم کیِ تا کیِ نہیِ ہانِ ॥੧॥
آپے ہیِ پ٘ربھُ راکھتا بھگتن کیِ آنِ ॥
جو جو چِتۄہِ سادھ جن سو لیتا مانِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سرنھِ پرے چرنھاربِنّد جن پ٘ربھ کے پ٘ران ॥
سہجِ سُبھاءِ نانک مِلے جوتیِ جوتِ سمان ॥੨॥੨॥੬੬॥
لفظی معنی:
کر ۔ ہاتھ۔ تھاپیا۔ مقرر کیا۔ مستک ۔ پیشانی ۔ نام ۔ الہٰی نام۔ سچ وحقیقت ۔ دینو۔ دیا۔ دان۔ خیرات۔ سپھل۔ برآور۔ پھل دینے والی سیوا۔ خدمت۔ پار برہم۔ کامیاب بنانے والا خدا۔ ہان ۔ ہانی ۔ نقصان ۔ گھاٹا (1) راکھتا۔ محافظ ۔ آن ۔ عزت۔ چتویہہ۔ دل میں خیال کرتے ہیں۔ سادھ جن ۔ خادم پاکدامن ۔ مان ۔ وقار۔ عزت۔ رہاؤ۔ چرنا ر بند۔ پاے پاک۔ پربھ کے پران۔ خدا کے پیارے ہو جاتے ہیں۔ سہج سبھائے ۔ روحانیس کون کے پریم میں۔ جوتی جوت سمان۔ نور میں نور کا ملنا۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا خود ہی اپنے پیاروں کی عزت بچاتا ہے ان کے دل کی خواہش اور تمنا کو مان لیتا ہے (1)ر ہاؤ۔ پیشانی یہ ہاتھ ٹکا کر شاباش انہیں وہ دیتا ہے اور انم الہٰی سچ وحقیقت بخشش میں انکو خیرات ممیں دیتا ہے ۔ برآور ہے خدمت خدا کی بیکار نہیں جاتی خدمت (1) جو سایہ الہٰی میں رہتے ہیں ۔ خدا کو جان سے پیاروے ہوجاتے ہیں۔ روحانی سکون میں محوو مجذوب ہوکر پاک خڈا میںمدغم وہ ہو جاتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
چرنھ کمل کا آسرا دیِنو پ٘ربھِ آپِ ॥
پ٘ربھ سرنھاگتِ جن پرے تا کا سد پرتاپُ ॥੧॥
راکھنہار اپار پ٘ربھ تا کیِ نِرمل سیۄ ॥
رام راج رامداس پُرِ کیِن٘ہ٘ہے گُردیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سدا سدا ہرِ دھِیائیِئےَ کِچھُ بِگھنُ ن لاگےَ ॥
نانک نامُ سلاہیِئےَ بھءِ دُسمن بھاگےَ ॥੨॥੩॥੬੭॥
لفظی معنی:
چرن کمل۔ پائے پاک۔ سرناگت۔ تابع۔ زیر سایہ ۔ پرتاپ ۔ عظمت۔ نرمل۔ پاک۔ رکھنہار۔ حافظت کی توفیق رکھنے والا۔ رامداس پر ۔ خدائی خدمتگاروں کے شہر۔ رام راج ۔ الہٰی حکومت۔ گرویو ۔ مرد فرشتے ۔ رہاؤ۔ وگھن۔ راکوٹ۔ نام صلاحیئے ۔ سچ وحقیقت کی صفت صلاح کرنے سے ۔ بھے ۔ خوف۔
ترجمہ معہ تشریح:
حفاظت اور بچاؤ کی توفیق رکنے والا خدا کی خدمت پاک و پائس و مقدس ہے وہ انسان کو پاک بنا دیتی ہے ۔ فرشتہ سیرت مرشد نے الہٰی روحانی پاک ومقدس شہر و حکومت قائم کر رکھی ہے (1) رہاؤ۔ خدا نے جسے اپنا سایہ کیا عنایت وہ ہمیشہ سائے میں خدا کےر ہتے ہیں اور صدیوی عظمت پاتے ہیں (1) ہمیشہ اے نانک۔ یاد خدا کو کرنا چاہیے راستے میں زندگی کے سفر میں رکاوٹ کوئی آتی نہیں۔ الہٰی حمدوثناہ کرنے سے خوف خڈا کی وجہس ے اخلاقی و روحانی دشمن بھاگ جاتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
منِ تنِ پ٘ربھُ آرادھیِئےَ مِلِ سادھ سماگےَ ॥
اُچرت گُن گوپال جسُ دوُر تے جمُ بھاگےَ ॥੧॥
رام نامُ جو جنُ جپےَ اندِنُ سد جاگےَ ॥
تنّتُ منّتُ نہ جوہئیِ تِتُ چاکھُ ن لاگےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کام ک٘رودھ مد مان موہ بِنسے انراگےَ ॥
آننّد مگن رسِ رام رنّگِ نانک سرناگےَ ॥੨॥੪॥੬੮॥
لفظی معنی:
من تن ۔ دل وجان۔ ارادھیئے ۔ یادوریاض کریں۔ سادھ سماگے ۔ پاکدامن پارساؤں روحانی رہبروں کے جلسہ عام میں یا محبت و قربت میں ۔ اچرت گھن گوپال ۔ الہٰٰ اوساف کہتے ہوئے ۔ جم۔ فرشتہ موت۔ (1) اندن ۔ ہر رو ۔ سد جاگے ۔ ہمشیہ ہوشیار رہتا ہے ۔ بیدار رہتا ہے ۔ تت منت ۔ جادو۔ ٹونا۔ تعویذ ووغیرہ ۔ جوہی ۔ تکا یا ز یر نظ ۔ تت۔ اسے ۔ چاکھ ۔ جھاک۔ زیر نظر (1) رہاؤ۔ کام کرودھ غسہ و شہوت۔ مدمان۔ وقار وغرور کی مدہوزی ۔ موہ ۔ دنیاوی محبت۔ ونسے ۔ مٹتی ہے ۔ انرالے ۔ غیروں سے محبت ۔ مگن ۔ محو۔ رس رام رنگ۔ الہٰی محبت کا لطف ۔ سرناگے ۔ پناہ گزیں ہوکر ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو انسان الہٰی نام سچ وحقیقت دل میں بساتا ہے وہ ہر رو ز بیدار و ہوشیار رہت اہے ۔ جادو تعوذ گنڈے اس پر اثر انداز نہیں ہوتے نہ بری نظر اس پر اثر انداز ہوتی ہے (1) رہاؤ۔ پاکدامن پارساوں روحانی رہبروں کے اکٹھ مجمدات اور صحبت و قرتب میں دل وجان سے یاد وریاض کرنی چاہیے ۔ ملاک عالم اور حمدوثناہ کرنے سے فرشتہ موت بھاگ جاتا ہے (1) شہوت غصہ وقار و غرور کی مستی اور دنیاوی محبت مٹ جاتی ہے ۔ اور دنیایو لذتیں سب مٹ جاتی ہیں۔ اے نانک ۔ الہٰی پریم پیار روحانی سکون اور محویت پناہ الہٰی میں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جیِء جُگتِ ۄسِ پ٘ربھوُ کےَ جو کہےَ سُ کرنا ॥
بھۓ پ٘رسنّن گوپال راءِ بھءُ کِچھُ نہیِ کرنا ॥੧॥
دوُکھُ ن لاگےَ کدے تُدھُ پارب٘رہمُ چِتارے ॥
جمکنّکرُ نیڑِ ن آۄئیِ گُرسِکھ پِیارے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرنھ کارنھ سمرتھُ ہےَ تِسُ بِنُ نہیِ ہورُ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ ساچا منِ جورُ ॥੨॥੫॥੬੯॥
لفظی معنی :
جیئہ ۔ جاندار۔ جگت ۔ طرقہ ۔ وس پربھ کے ۔ خدا کی طاقت ہاتھ میں ہے ۔ جوکہے ۔ جیسا اسکا حکم و فرامن ہے ۔ سوکرنا۔ ویسا انسان کو کرنا ہوتا ہے ۔ گوپال رائے ۔ مالک عالم یا زمین ۔ بھو ۔ خوف (1) چتارے ۔ دلمیں بسائے یا یاد کرے ۔ ظالم فرشتہ موت نزدیک نہیں پھٹکتا پیارے مرید مرشد کے (1) رہاؤ۔ کرن کارن سمرتھ ۔ کرنے اور کرانے توفیق رکھنے والا۔ ساچا۔ صدیوی ۔ من جور ۔ دل کو سہارا۔
ترجمہ معہ تشریح:
عذاب اسے کبھی آتا نہیں جو دلمیں خدا بساتا ہے ۔ پیارے مرید مرشد کے قریب کبھی کوتوال الہٰی آتانہیں (1) ساری مخلوقات حکم خدا کے اندر ہے جو کہتا ہے سو کرتی ہے ۔ جب مالک عالم خوش ہو نہ خوف کسی کا رہتا ہے (1) اے نانک۔ کرنے اور کرانے کی توفیق نہیں سو ۔ اس کے کسی دیگر میں ۔ سچے صدیوی خدا کا اور اس کی پناہ کی دل میں طاقت ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سِمرِ سِمرِ پ٘ربھُ آپنا ناٹھا دُکھ ٹھاءُ ॥
بِس٘رام پاۓ مِلِ سادھسنّگِ تا تے بہُڑِ ن دھاءُ ॥੧॥
بلِہاریِ گُر آپنے چرنن٘ہ٘ہ بلِ جاءُ ॥
اند سوُکھ منّگل بنے پیکھت گُن گاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کتھا کیِرتنُ راگ ناد دھُنِ اِہُ بنِئو سُیاءُ ॥
نانک پ٘ربھ سُپ٘رسنّن بھۓ باںچھت پھل پاءُ ॥੨॥੬॥੭੦॥
لفظی معنی:
دکھ ٹھاؤ۔ عذاب کا مقام ۔ بسرام بھیئے ۔ آرام و آسائش ہوئی ۔ سادھ سنگ۔ صحبت و قربت سادھ ۔ بہوڑ۔ دوبارہ ۔ دھاؤ۔ دوڑ دہوپ ۔ بھٹکن (1) بل ۔ صدقے ۔ قربان ۔ آنند۔ سکون ۔ منگل ۔ خوشی ۔ پیکھ ت۔ دیدار سے (1) رہاؤ۔ کتھا ۔ کہانی ۔ کرتن ۔ حمدوثناہ ۔ صفت صلاح۔ دھن۔ سر۔ سوآؤ۔ منورتھ ۔ مقصد۔ سو پرسن بھیئے ۔ نہایت خوش ہوئے ۔ بانچھت ۔ خواہش
ترجمہ معہ تشریح:
قربان ہوں اپنے مرشد اور صدقے ہوں اس کے پاؤں پر اس کے دیدار سے خوشیاں حاصل ہوتی ہیں اور سکون ملتا ہے (1) رہاؤ۔ خدا کی یادوریاض سے دکھ یا عذاب کا ٹھکانہ مٹا اور سادہو کی صحبت و قربت و ملاپ سے آرما و آسائئ پائیا دہوڑ دہوپ بھٹکن گئی ۔ اے نانک۔ اب الہٰی کہانیاں حمدوچناہ صفت صلاح میری زندگی ک ی منزل و مقصد ہو گئی خدا کی خوشنودی حاصل ہوئی اور دلی مرادیں حاصل ہوئیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
داس تیرے کیِ بینتیِ رِد کرِ پرگاسُ ॥
تُم٘ہ٘ہریِ ک٘رِپا تے پارب٘رہم دوکھن کو ناسُ ॥੧॥
چرن کمل کا آسرا پ٘ربھ پُرکھ گُنھتاسُ ॥
کیِرتن نامُ سِمرت رہءُ جب لگُ گھٹِ ساسُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
مات پِتا بنّدھپ توُہےَ توُ سرب نِۄاسُ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ جا کو نِرمل جاسُ ॥੨॥੭॥੭੧॥
لفظی معنی:
ردھ ۔ذہن ۔ قلب۔ دل۔ کر پرگاس۔ روشن۔ دوکھ ن۔ عیبوں ۔ ناس۔ مٹاؤ (1) گن تاس ۔ اوصاف کا خزنانہ ۔ کیرتن ۔ حمدو ثنا۔ گھٹ ۔ جسم (1) رہاؤ۔ بندھپ ۔ رشتہ دار۔ سرب۔ نواس۔ سب میں بستا ۔ نرمل جاس۔ پاک شہرت۔
ترجمہ بمعہ تشریح:
اے خدا تو سارے اوصاف کا ہے خزانہ میں تیرے پاوں کے آسرا ہوں جب تک زندہ سانس باقتی نہیں الہٰی نام سچ وحقیقت کی صفت صلاح کرتے رہو۔ رہاو۔ اے خدا تیرا خادم عرض گذارتا ہے کہ میرے دل روحانیت سے روشن کر ۔ اے خدا تیری کرم وعنایت سے عیب اور برائیاںمٹتی ہیں۔ (1) اے خدا تو ہی ماں باپ تو ہی ہے تو ہی ست میں بستا ہے ۔ اے نانک خدا کی پناہ میں ہے جس کی شہرت ہے پاک اور پاک بناتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سرب سِدھِ ہرِ گائیِئےَ سبھِ بھلا مناۄہِ ॥
سادھُ سادھُ مُکھ تے کہہِ سُنھِ داس مِلاۄہِ ॥੧॥
سوُکھ سہج کلِیانھ رس پوُرےَ گُرِ کیِن٘ہ٘ہ ॥
جیِء سگل دئِیال بھۓ ہرِ ہرِ نامُ چیِن٘ہ٘ہ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پوُرِ رہِئو سربت٘ر مہِ پ٘ربھ گُنھیِ گہیِر ॥
نانک بھگت آننّد مےَ پیکھِ پ٘ربھ کیِ دھیِر ॥੨॥੮॥੭੨॥
لفظی معنی:
سرب سدھ۔ تمام معجزوں کا مالک خدا۔ بھلا مناویہہ۔ بھلا یا نیکی مانگتے ہیں۔ سادھ ۔ پارسا۔ نیک انسان ۔ مرید مرشد۔ داس۔ خدمتگار (1) سہج ۔ روحانی یا ذہنی سکون ۔ گلیان رس۔ خوشحالی کا لطف۔ ہر نام چین ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت پہنچان اور شناخت کرکے (1) رہاؤ۔ گنی گہیر ۔ گہرے اوصاف کا مالک۔ سر بندرمیہہ۔ سب میں ۔ پیکھ ۔ دیکھکر ۔ دھیر۔ دھیرج ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جسے کامل مرشد نے روحانی سکون خوشحالی کا لطف بخشا وہ الہٰی نام سچ وحقیقت کی پہچان اور شناخت کر کے سارے جانداروں پر مرہبان رہتاہے (1) رہاؤ۔ سارے معجزوں کے مالک ( کے ) کی صفت صلاح کیجئے ۔ سارے اسے اچھا منتے ہیں۔ سارے زبان سے نیک پارسا پاکدامن کہتے ہیں اور خدمتگار یا خادم ہو کر ملتے ہیں (1) خدا نہایت گہرے سنجیدہ اوصاف کا مالک ہے اور سب میں بستا ہے ۔ اے نانک۔ الہٰی پریمی الہٰی دھیرج یا آسرا دیکھ کر پر سکون رہتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ارداسِ سُنھیِ داتارِ پ٘ربھِ ہوۓ کِرپال ॥
راکھِ لیِیا اپنا سیۄکو مُکھِ نِنّدک چھارُ ॥੧॥
تُجھہِ ن جوہےَ کو میِت جن توُنّ گُر کا داس ॥
پارب٘رہمِ توُ راکھِیا دے اپنے ہاتھ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیِئن کا داتا ایکُ ہےَ بیِیا نہیِ ہورُ ॥
نانک کیِ بیننّتیِیا مےَ تیرا جورُ ॥੨॥੯॥੭੩॥
لفظی معنی:
ارداس۔ گذارش۔ داتار۔ سخی ۔ دینے والا۔ راکھ ۔ بچائیا۔ سیوکو ۔ خدمتگار۔ خادم۔ نندک ۔ برائی کرنے والا۔ بدگوئی کرنے والا۔ چھار ۔ رکاھ ۔ سوآہ (1) جوہے ۔ تاکہ بد نظر۔ گر کاداس ۔ خادم مرشد۔ اپنے ہاتھ اپنی مدد سے (1) رہاؤ۔ جیئن کا داتا۔ زندگی بخشنے والا۔ بیا۔ دوسرا۔ جور۔ طاقت۔ آسرا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دوست تیری طرف بری نگاہوں سے دیکھ نہیں سکتا تو خدمتگار مرشد ہے ۔ خدا نے اپنے ہاتھ سے تیرا امداد کرکے بچائیگا۔ (1) رہاؤ۔ سخی سخاوت کرنے والے خدا نے گذارش سنی اور مہربان ہوئے اور اپنے خدمتگار کو بچائیا اور بدگوئی کرنے والے کو لعنت نسب ہوئی منہ میں سواہ پڑی (1) ساری مخلوقات ک نعمتیں عطا کرنے والا ہے ۔ واحد خدا اس کے علاوہ نہیں کوئی دوسرا نانک گذارش ہے گذارتا ہے کہ اے خدا مجھے تیری ہی دی ہوئی ہے طاقت ۔
بِلاۄلُ مہلا
میِت ہمارے ساجنا راکھے گوۄِنّد ॥
نِنّدک مِرتک ہوءِ گۓ تُم٘ہ٘ہ ہوہُ نِچِنّد ॥੧॥ رہاءُ ॥
سگل منورتھ پ٘ربھِ کیِۓ بھیٹے گُردیۄ ॥
جےَ جےَ کارُ جگت مہِ سپھل جا کیِ سیۄ ॥੧॥
اوُچ اپار اگنت ہرِ سبھِ جیِء جِسُ ہاتھِ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ جت کت میرےَ ساتھِ ॥੨॥੧੦॥੭੪॥
لفظی معنی:
میت۔ دوست۔ ساحبا۔ دوستا۔ راکھے ۔ بچاتا ہے ۔ گوبند۔ مالک عالم۔ نند ک ۔ بدگوئی کرنے والا۔ مرتک ۔ مرودے ۔ نجند۔ بیلکر ۔ (1) رہاؤ۔ سگل منورتھ ۔ سارے مقصد۔ مرادیں ۔ خواہشات ۔ تمنائیں۔ گوردیو ۔ فرشتہ مرشد ۔ جے جے کار جگت میہہ۔ سارے عالم میں نیکی و شہرت ۔ سپھل۔ کامیاب ۔ برآور ۔ پھل دینے والی ۔ سیو۔ خدمت (1) اوچ ۔ بلند۔ پار۔ناہیت وسیع کو حدو ز ہو نہ کنارا۔ اگنت ۔ اتنا زیادہ کہ گنتی نہ ہو سکے ۔ بیشمار۔ سبھ جیئہ جس ہاتھ ۔ سارے جادنار جس کے زیر اقتدار ۔ جت کت ۔ جہاں کہاں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے دوستوں خدا مددگار ہے اور بچاتا ہے حفاظت کرتا ہے ۔ بدگوئی کرنے والے اخلاقی موت مرجاے ہیں۔ بیفکر رہیئے (1) رہاؤ۔ سارے مقصد اور مرادیں پوری ہوئیں مرشد مرشد سے ملاپ ہوا۔ مراد ملاپ مرشد سے اور سارےع ال میں نیکی اور شہرت ہوئی (1) اے نانک۔ بلند ہستی لا محدوو اعداد و شمار سے باہر خدا سارا علام اور مخلوقات جس کے زیر فرامن اقتدار ہے ۔ اس کے زیر سایہ رہو وہ ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
گُرُ پوُرا آرادھِیا ہوۓ کِرپال ॥
مارگُ سنّتِ بتائِیا توُٹے جم جال ॥੧॥
دوُکھ بھوُکھ سنّسا مِٹِیا گاۄت پ٘ربھ نام ॥
سہج سوُکھ آننّد رس پوُرن سبھِ کام ॥੧॥ رہاءُ ॥
جلنِ بُجھیِ سیِتل بھۓ راکھے پ٘ربھِ آپ ॥
نانک پ٘ربھ سرنھاگتیِ جا کا ۄڈ پرتاپ ॥੨॥੧੧॥੭੫॥
لفظی معنی:
گرپور ۔ کامل مرشد۔ ارادھیا۔ یادوریاض ۔ مارگ۔ روحانی واخلاقی طریقہ و راستہ ۔ سنت۔ روحانی رہبر۔ جسم جالا۔ اخلاقی موت کا پھندہ (1) سنسا۔ فکر۔ نام ۔ سچ وحقیقت جو صدیوی ہے ۔ سہج سوکھ ۔ روحانی سکون کا آرما ۔ انند رس ۔سکون کا لطف۔ مزہ۔ پورن۔ مکمل (1) رہاؤ۔ جلن بجھی ۔ ذہنی کوفت ختم ہوئی ۔ سیتل بھیئے ۔ دماغ نے ٹھنڈک محسوس کی ۔ و ڈپر تاپ۔ بھاری دبدبہ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض دل میں بسانے سے عذاب مٹ جات اہے بھوک ختم ہوجاتی ہے ۔ غم اورتشویش مٹ جاتی ہے روحانی سکون آرام و آسائش اور اس کی خوشیؤں کا لطف ملتا ہے اور سارے کام اور مرادیں پوری ہوتی ہیں (1) رہاؤ۔ جو کام مرشد کا سہارا لیتا ہے وہ اس پر مہربان ہوجاتا ہے ۔ جسے روحانی رہبر نے روحانی واخلاقی راستوں سے روشناش کر ادیا اس کے روحانی واخلاقی موت کے پھندے ٹوٹ جاتے ہیں (1) اس کی ذہنی کوفت وجلن مٹ جاتی ہے ۔۔ ذہن ٹھنڈک محسوس کرتا ہے خدا خود محافط ہوجاتا ہے نانک الہٰی پناہ گر جو اتنی بھاری قوت و توفیق کا مالک ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
دھرتِ سُہاۄیِ سپھل تھانُ پوُرن بھۓ کام ॥
بھءُ ناٹھا بھ٘رمُ مِٹِ گئِیا رۄِیا نِت رام ॥੧॥
سادھ جنا کےَ سنّگِ بست سُکھ سہج بِس٘رام ॥
سائیِ گھڑیِ سُلکھنھیِ سِمرت ہرِ نام ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘رگٹ بھۓ سنّسار مہِ پھِرتے پہنام ॥
نانک تِسُ سرنھاگتیِ گھٹ گھٹ سبھ جان ॥੨॥੧੨॥੭੬॥
لفظی معنی:
دھرت ۔ زمین ۔ سہاوی ۔ خوبصورت ۔ سپھل۔ کامایب ۔ تھان۔ مقام۔ بھو۔ خوف۔ بھرم۔ شک و شہبات۔ خیالی بھٹکن ۔ رویا ۔ یادوریاض ۔ نیت ۔ ہر روز۔ نام ۔ الہٰی نام (1) سادھ ۔ پارسا۔ روحانی پاکدامن ۔ باخلاق۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ سیج بسرام۔ روحانی سکون ۔ شانت ۔ چت۔ سائی وہی ۔ سلکھنی ۔ آرام دیہہ۔ اچھے امکانات (1) رہاؤ۔ پرگٹ بھیئے ۔ مشہور ۔ پیہنام ۔ بینام ۔ گمنام۔ گھٹ گھٹ سبھ جان ۔ ج و سبھ کے دلی راز جاننے والا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
پارساوں نیک پاکدامنوں کی صحبت و قربت سے روحانی و ذہنی سکون و آرام و آسائش نصیب ہوتی ہے ۔ وہی وقف خوش نصیب ہے جس میں الہٰی نام سچ وحقیقت یا دکیا جاتا ہے ۔ (1) رہاؤ۔ وہ زمین خوبصور ت اور سوہنی ہے کامیاب ہے وہ مقام اور سارے کام پورے ہوجاتے ہیں خوف مٹ جاتے ہیں وہم وگمان چلا جاتاہے جہاں ہر روز یاد خدا کو کرتے ہیں (1) گمنام جو ہوتے ہیں دنیا میں بھاری شہرت پاتے ہیں۔ نانک پناہگیر اس خدا کا ہے جو ہر ایک کے را ز دل سے واقف ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
روگُ مِٹائِیا آپِ پ٘ربھِ اُپجِیا سُکھُ ساںتِ ॥
ۄڈ پرتاپُ اچرج روُپُ ہرِ کیِن٘ہ٘ہیِ داتِ ॥੧॥
گُرِ گوۄِنّدِ ک٘رِپا کریِ راکھِیا میرا بھائیِ ॥
ہم تِس کیِ سرنھاگتیِ جو سدا سہائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِرتھیِ کدے ن ہوۄئیِ جن کیِ ارداسِ ॥
نانک جورُ گوۄِنّد کا پوُرن گُنھتاسِ ॥੨॥੧੩॥੭੭॥
لفظی معنی:
روگ مٹائیا۔ بیماری ختم کی ۔ اپجیا۔ پیدا ہو۔ سانت۔ سکون ۔ وڈپرتاپ۔ بلند عظمت ۔ اچرج۔ حیرانی ۔ پیدار کرنے والا (1) راکھیا۔ بچائیا۔ سرناگتی ۔ زیر سایہ و پناہ ۔ سہائی ۔ مددگار۔ (1) رہاؤ۔ برتھی ۔ بیکار ۔ بیفائدہ ۔ ارداس۔ عرض گذارش ۔ جور ۔ وقت ۔ طاقت۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ
ترجمہ معہ تشریح:
خداوند کریم نے کرم وعنایت فرمائی بچائیا ہم اس کے زیر سیاہ زیر پناہ پناہ گریں جو ہمیشہ امدادی ہے (1) خدا نے بیماری ختم کی سکون و آرام آسائش پیدار ہوا جو بلند عظمت حیران کرنے والی شکل وصورت وال ہے بخشش یہ نعمت عطا کی (1) خادم خدا کی کی ہوئی گذارش اور عرض بیکار نہیں جاتی ۔ اے نانک خدا بھاری قوتوں کا مالک اور اوصاف کا خزانہ ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
مرِ مرِ جنمے جِن بِسرِیا جیِۄن کا داتا ॥
پارب٘رہمُ جنِ سیۄِیا اندِنُ رنّگِ راتا ॥੧॥
ساںتِ سہجُ آندُ گھنا پوُرن بھئیِ آس ॥
سُکھُ پائِیا ہرِ سادھسنّگِ سِمرت گُنھتاس ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُنھِ سُیامیِ ارداسِ جن تُم٘ہ٘ہ انّترجامیِ ॥
تھان تھننّترِ رۄِ رہے نانک کے سُیامیِ ॥੨॥੧੪॥੭੮॥
لفظی معنی:
مرمر حنمے ۔ تناسخ میں پڑتا ہے ۔ جیون کا داتا۔ زندگی بکشنے والا ۔ خدا ۔ سیویا ۔ خدمت کی ۔ یادوریاض کی ۔ اندن ۔ ہر روز۔ رنگ راتا۔ پریم پیار میں محو ومجذوب رہتا ہے (1) سانت ۔ سکون ۔ سہج ۔ ذہنی سکون ۔ انند گھنا۔ بھاری خوشی ۔ آس۔ امید۔ سکھ ۔ آرام ۔ سادھ سنگ ۔ پارسا کے ساتھ۔ گن تاس۔ اوصاف کے خزانے ۔ رہاؤ۔ ارداس جن۔ خدمتگار کی عرض ۔ انتر جامی ۔ راز دل جانتے ہو۔ تھان تھننتر۔ ہر جائی ۔ ہر جگہ ۔ رورہے ۔ سوآمی ۔ آقا۔ مالک۔
ترجمہ معہ تشریح:
سادہو کی صحبت و ساتھ اوصاف کے خزانے خدا کی یادوریاض سے آرام و آسائش میسئر ہوئی ۔ سکون مال بھاری خوشیاں روحانی و ذہنی سکون اور امید یں پوری ہوئیں۔ (1) رہاؤ۔ جنہوں زندگی بخشنے والے داتار کو بھلائیا وہ تناسخ میں پڑ کر روحانی موت مرتے ہیں ۔ جنہوں نے خدمت خدا کی وہ الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب رہتے ہیں (1) اے آقا اپنے خدمتگار کی عرض سن ۔ نانک کا مالک ہر جگہ بستا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
تاتیِ ۄاءُ ن لگئیِ پارب٘رہم سرنھائیِ ॥
چئُگِرد ہمارےَ رام کار دُکھُ لگےَ ن بھائیِ ॥੧॥
ستِگُرُ پوُرا بھیٹِیا جِنِ بنھت بنھائیِ ॥
رام نامُ ائُکھدھُ دیِیا ایکا لِۄ لائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
راکھِ لیِۓ تِنِ رکھنہارِ سبھ بِیادھِ مِٹائیِ ॥
کہُ نانک کِرپا بھئیِ پ٘ربھ بھۓ سہائیِ ॥੨॥੧੫॥੭੯॥
لفظی معنی:
تائی داؤ۔ پریشانی ۔ چوگرد۔ چاروں طرف۔ رام کار۔ الہٰی حفاظتی لائن۔ (1) ستگر پور ۔ کامل مرشد۔ بنت۔ منصوبہ ۔ طریقہ کار۔ اوکھد ۔ دوائی ۔ ایکا لو ۔ وحدت سے محبت (1) رہاؤ۔ راکھنہار۔ بچانے کی توفیق رکھنے والے نے ۔ بیادھ ۔ بیماری
ترجمہ معہ تشریح:
کامل مرشد سے ملاپ ہوا اس نے ایک منصوبہ تیار کیا کہ الہٰی نام سچ وحقیقت ایک ایسی دوائی ہے جس سے واحد خدا اور الہٰی دحدت سے محبت ہوجاتی ہے (1) جسے مسئر ہوسایہ وپناہ الہٰی پریشانی اسے آتی نہیں۔ ہمارے چاروں طرف الہٰی حفاظتی لائن بن جاتی ہے ۔ عذاب آتا نہیں (1) اے نانک۔ بتادے مہربانی ہوئی بنا مددگار خدا ۔ بچائے اس نے کی حفاظت جس میں توفیق تھی بچا نے کی اور ساری دور کیں بیماریاں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اپنھے بالک آپِ رکھِئنُ پارب٘رہم گُردیۄ ॥
سُکھ ساںتِ سہج آند بھۓ پوُرن بھئیِ سیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھگت جنا کیِ بینتیِ سُنھیِ پ٘ربھِ آپِ ॥
روگ مِٹاءِ جیِۄالِئنُ جا کا ۄڈ پرتاپُ ॥੧॥
دوکھ ہمارے بکھسِئنُ اپنھیِ کل دھاریِ ॥
من باںچھت پھل دِتِئنُ نانک بلِہاریِ ॥੨॥੧੬॥੮੦॥
لفظی معنی:
بالک۔ بچہ۔ خدمتگار۔ رکھیں۔ بچائیا۔ گر دیو۔ مرشد فرشتہ ہائے ۔ سہج آنند۔ روحانی وہنی سکون کی آرام و آسائش ۔ پورن بھئی سیو۔ خدمت خدا بر آور ہوئی (1) رہاؤ۔ بنتی ۔ عرض ۔ گذارش ۔ روگ ۔ بیمایر ۔ حیوالئین ۔ زندگی عنایت کی ۔ نحشی (1) دوکھ ۔ عیب ۔ برائیاں۔ کل ۔ طاقت۔ قوت۔ دھاری ۔ اپنا کے ۔ من بانچھت ۔ دلی خواہشات کی مباطق ۔ پھل۔ نتائج۔ دتیئن ۔ بکشنے ۔ عنایت کئے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اپنے پریمیوں پیاروں کی عرض خدا نے خود سنی ۔ بیماریاں دور کیں مٹائیں روحانی واکلاقی زندگی عنایت فرمائی جو بلند قوتوں کا مالک اور با وقار ہے (1) اس فرشتوں کے مرشد نے بچے کو خود بچائیا حفاثت کی آرام پائیا سکون ملا خوشی ہوئی اور خدمت کی ہوئی برآور ہوئی (1) رہاؤ۔ عیب برائیاں اپنی طاقت سے معاف کیں اور دلی خواہشات کی مطابق بخشش کی نانک قربان ہے ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ چئُپدے دُپدے گھرُ ੬
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
میرے موہن س٘رۄنیِ اِہ ن سُناۓ ॥
ساکت گیِت ناد دھُنِ گاۄت بولت بول اجاۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سیۄت سیۄِ سیۄِ سادھ سیۄءُ سدا کرءُ کِرتاۓ ॥
ابھےَ دانُ پاۄءُ پُرکھ داتے مِلِ سنّگتِ ہرِ گُنھ گاۓ ॥੧॥
رسنا اگہ اگہ گُن راتیِ نیَن درس رنّگُ لاۓ ॥
ہوہُ ک٘رِپال دیِن دُکھ بھنّجن موہِ چرنھ رِدےَ ۄساۓ ॥੨॥
سبھہوُ تلےَ تلےَ سبھ اوُپرِ ایہ د٘رِسٹِ د٘رِسٹاۓ ॥
ابھِمانُ کھوءِ کھوءِ کھوءِ کھوئیِ ہءُ مو کءُ ستِگُر منّت٘رُ د٘رِڑاۓ ॥੩॥
اتُلُ اتُلُ اتُلُ نہ تُلیِئےَ بھگتِ ۄچھلُ کِرپاۓ ॥
جو جو سرنھِ پرِئو گُر نانک ابھےَ دانُ سُکھ پاۓ ॥੪॥੧॥੮੧॥
لفظی معنی:
میرے موہن ۔ میرے پیارے ۔ سرونی ۔ کانوں ۔ ایہہ نہ سنائے ۔ یہ نہ ستوں۔ ساکت گیت ۔ مادہ پر ستانہ گانے ۔ ناد۔ آواز۔ دھن۔ سر۔ اجائے ۔ بیکار۔ فضول۔ (1) رہاؤ۔ ۔ سیوت ۔ سیو سیو۔ ہمیشہ خدمت کرکے ۔ سادھ ۔ ایسا انسان جسنے کرتائے ۔ کیرت یا کام کرؤ۔ ابھے دان۔ بیخوفی کی بھیک یا خیرات۔ داتے سخی ۔ دینے والے ۔ مل سنگت ہرگن گائے ۔ لوگوں سے مل کر الہٰی حمدوثناہ کرؤں۔ رسنا۔ زبان۔ اگیہہ۔ جس تک رسائی نہ ہو سکے ۔ گن راتی ۔ اوصاف میں محو۔ نین ۔ آنکھیں۔ درسن رنگ ۔ دیدار کے پریم پیار۔ دین دکھ بھنجن۔ غریبوں ۔ ناتوانوں کے درد مٹانے والے ۔ موہے روے ۔ میرے دلمیں (2) سبھ ہوتلے ۔ سب کے نیچے ۔ سب اوپر۔ ایہہ درسٹ۔ یہ نگاہ ۔ نظریہ ۔ا بھیمان۔ غرور۔ تکبر ۔ ہؤ۔ خودی۔ خوئش پن۔ اپناپن ۔ منتر۔ واعط ۔ نصیحت۔ کلام۔ دررائے ۔ پختہ طور پر دلمیں ذہن نشین کرائے (3) اتل۔ جو وزن نہ کیا جاس کے ۔ وگھت وچھل۔ پریم کا پیار۔ جو جو سرن پر یؤ۔ جس جس نے مرشد کی پناہ یا آسرا لیا ۔ ابے دنا۔ بیخوفی کی بھیک یا خیرات ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے میرے پیارے مجھے کانوں سے نہ سننے پڑیں مادہ پرستوں کے گانے آواز اور سریں ( سننے نہ پائے ) جو بیکار چلے جاتے ہیں (1) رہاؤ۔ سادھ کی ہمیشہ خدمت کرتے رہو (الہٰی ) داتار سے لوگوں کی صحبت و قربت میں الہٰی حمدوثناہ سے بیخوفی کی خیرات پاو ۔ یہی کار ہو میری () اے انا تھو غریبوں ناتونواں کے دکھ مٹانے والے مجھے اپنے پاؤں کا گرویدہ بنا میری زبان تیری انسانی رسائی سے بعید تیرے اوصاف میں محو ومجذوب رہے ۔ ایسا نطار دیکھنے میں آئے ۔ آنکھیں۔ تیرے دیدار سے سکون پائیں (2 ) میرا نظریہ ایسا ہو جائے کہ میں اپنے آپ کو سب سے نیچا سمجھو ں اور سب کو پانے آپ سے اونچا خیال کرون میرا غرور اور تکبر مٹ جائے اور سچے مرشد کی واعط و نصیحت میرے دلمیں پختہ ہوجائے (3) اے خدا تیری عظمت کا کوئی ناپ بول یا پیمانہ اتنی بلند ہے تو اپنے پریمیوں سے پیار کرنے والے ہے تو رحما الرحیم ہے جو پناہ مرشد کی لیتا ہے بیخوفی کا رتبہ پاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
پ٘ربھ جیِ توُ میرے پ٘ران ادھارےَ ॥
نمسکار ڈنّڈئُتِ بنّدنا انِک بار جاءُ بارےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اوُٹھت بیَٹھت سوۄت جاگت اِہُ منُ تُجھہِ چِتارےَ ॥
سوُکھ دوُکھ اِسُ من کیِ بِرتھا تُجھ ہیِ آگےَ سارےَ ॥੧॥
توُ میریِ اوٹ بل بُدھِ دھنُ تُم ہیِ تُمہِ میرےَ پرۄارےَ ॥
جو تُم کرہُ سوئیِ بھل ہمرےَ پیکھِ نانک سُکھ چرنارےَ ॥੨॥੨॥੮੨॥
لفظی معنی:
پران اوھارے ۔ زندگی کا سہارا۔ نمسکار۔ سجدہ ۔ جھک کرسلام ۔ ڈونڈت بندھنا۔ سیدھے لیٹ کر سجدہ کرنا۔ بارے صدقے (1) رہاؤ۔ چتارے ۔ یاد کرتا ۔ برتھا۔ درد ۔ سارے ۔ تیرے پیش ہے (1) اوت۔ آسرا۔ بل طاقت ۔ بدھ ۔ عقل و ہوش۔ پروارے ۔ قبیلہ ۔ خاندان ۔ بھل۔ اچھا۔ پیکھ ۔ دیکھ کر ۔ چرنارے ۔ پاؤں میں ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تو میری زندگی کا سہارا ہے میں سجدہ کرتا ہوں اور ڈھڑے کی طرح لیٹ کر سلام بھلاتا ہوں اور بار بار تجھ پر صدقےجاتا ہوں (1) رہاؤ۔ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے تجھے یاد کرتا ہوں ۔ اور عذاب و آسائش اور تیرے پیش کرتا ہوں (1) اے خدا میرا اسرا طاقت و شعور و سرمایہ اور تو میرا پروار ہے ۔ اے نانک جو کچھ تو کرتا ہے میرے لئے اچھا اور نیک ہے تیرے دیدار سے مجھے روحانی سکون ملتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سُنیِئت پ٘ربھ تءُ سگل اُدھارن ॥
موہ مگن پتِت سنّگِ پ٘رانیِ ایَسے منہِ بِسارن ॥੧॥ رہاءُ ॥
سنّچِ بِکھِیا لے گ٘راہجُ کیِنیِ انّم٘رِتُ من تے ڈارن ॥
کام ک٘رودھ لوبھ رتُ نِنّدا ستُ سنّتوکھُ بِدارن ॥੧॥
اِن تے کاڈھِ لیہُ میرے سُیامیِ ہارِ پرے تُم٘ہ٘ہ سارن ॥
نانک کیِ بیننّتیِ پ٘ربھ پہِ سادھسنّگِ رنّک تارن ॥੨॥੩॥੮੩॥
لفظی معنی:
سنیت۔ سنتے ہین۔ پبھ ۔ خدا۔ سگل۔ سب کا ۔ ادھارن ۔ بچانے والا۔ موہ مگن ۔ محبت کی مستی ۔پتت سنگ۔ بد اخلاق بدچلنوں کی صحب ت۔ پرانی ۔ انسان ۔ ایسے اسطرح سے ۔ مینہ بسارن ۔ دل سے بھلا سکھا ہے ۔ سچ اکھٹی کرنی لکھیا۔ دنیاوی دولت کی زیر۔ گرا ہج ۔ لقمہ ۔ بسانے کے لائق۔ انرمت۔ آبحیات۔ جس سے زندگی اکلاقی اور روحانی ہوجاتی ہے پانی ۔من تے ڈارن ۔ دل سے ڈالا یا ہے ۔ کام ۔ شہوت۔ کرودھ ۔ غسہ۔ بوبھ ۔ اللچ۔ رت۔ محو وہرک ۔ ست ۔ سچ۔ سنتوکھ ۔ صبر۔ بدارن۔ دل سے دور کر دیا (1) سارن ۔ سرن ۔پناہ۔ سادھ سنگ۔ صحبت سادھ یا پکدامن ۔ رن ۔ نادار۔ کنگال۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا سنتے ہیں کہ تو سب کو بدیوں اور برائیوں سے بچانے والا ہے دنایوی محبت کی مستحق میں بد چلن بد اخلاق لوگوں کی صحبت و قربت کیو جہ سے تجھے دل سے بھلا رکھا ہے (1) راہؤ۔ دنیاوی زہریلا سرمایہ اکھتا کرکے لقمہ بنالیا ہے اور آبحیات جس سے زندگی اخلاقی روحانی و پرہیز گار بن جاتی ہے دل سے دور پھینک ڈالا ہے ۔ شہوت ، غصہ ، لالچ ، بدگوئی میں محو ومجذوب ہوکر سچ اور بھر کو سابو تاج کر دیا ہے (1) اے خدا ان برائیوں سے نکا لو تیری پناہ اختیار کی ہے ۔ ہر طرح سے شکست خوردہ ہوکر ۔ نانک عرض کرتا ہے تجھ پہ اے خدا کر تو ناداروں بداخلاقوں کو پاکدامن سادہوں کی صحبت عطا کر کے زندگیاں کامیاب بنا دیتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سنّتن کےَ سُنیِئت پ٘ربھ کیِ بات ॥
کتھا کیِرتنُ آننّد منّگل دھُنِ پوُرِ رہیِ دِنسُ ارُ راتِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرِ کِرپا اپنے پ٘ربھِ کیِنے نام اپُنے کیِ کیِنیِ داتِ ॥
آٹھ پہر گُن گاۄت پ٘ربھ کے کام ک٘رودھ اِسُ تن تے جات ॥੧॥
ت٘رِپتِ اگھاۓ پیکھِ پ٘ربھ درسنُ انّم٘رِت ہرِ رسُ بھوجنُ کھات ॥
چرن سرن نانک پ٘ربھ تیریِ کرِ کِرپا سنّتسنّگِ مِلات ॥੨॥੪॥੮੪॥
لفظی معنی:
سنتن ۔ روحانی رہبوں۔ سنیت۔ سنتے یں۔ گے ۔ سے ۔ بات۔ روحانی بیانات اور کہانیاں۔ منگل ۔ کوشیاں۔ دھن۔ سریں۔ لہجے ۔ دنس اررات۔ روز و شب (1) رہاؤ۔ کر کرپا پربھ اپنے کینے ۔ خدا نے اپنی کرم وعنیات سے اپنا بنالیا۔ نام اپنے کی کینی دات۔ اور اپنے نام کی نعمت عنایت کی ۔ کام کرودھ اس تن تے جات ۔ شہوت اور غسہ ۔ اس جسم سے جاتا رہتا ہے (1) ترپت اگھائے ۔ تسلی ہوجاتی ہے خواہش باقی نہیں رہتی ۔ پیکھ پربھ درسن۔ الہٰی دیدار سے ۔ انمرت ہر رس بھوجن کھات۔ روحانی زندگی بنانے والا الہٰی کھانا جو پر لطف ہے کھا کر چرن سرن۔ پناہ پاوں ۔ کر کر یا سنت ۔ سنگت ملات ۔ اپنی کرم وعنایت سے روحانی رہبر سے ملایئے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
روحانی رہبروں سنتوں کی صحبت و قربت میں ہمیشہ الہٰی کلام الہٰی حمدوچناہ صفت صلاح اور کہانیاں یا تاریخی باتیں سنی جاتی ہیں اور دن الہٰیکلام کی روحانی سکون پیدا کرنے والی لہریں جاری رہتی ہیں (1) رہاؤ۔ خدا نے اپنی کرم وعنایت سے اپنا لیا ہوتا ہے اور انہیں اپنے نام سچ و حقیقت کی نعمت عنایت کی ہوتی ہے (1) روز و شب ہر وقت الہٰی حمدوثناہ کرنے سے شہوت اور غسہ ۔ اس جسم سے مٹ جاتا ہے (1) الہٰی ددیدار سے روحانی تسلی ہوجاتی ہے اور الہٰی آبحیات بطور پناہگیر ہیں اپنی کرم وعنایت سے ان روحانی رہبروں کا ساتھ یا صحبت عنایت فرما ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
راکھِ لیِۓ اپنے جن آپ ॥
کرِ کِرپا ہرِ ہرِ نامُ دیِنو بِنسِ گۓ سبھ سوگ سنّتاپ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُنھ گوۄِنّد گاۄہُ سبھِ ہرِ جن راگ رتن رسنا آلاپ ॥
کوٹِ جنم کیِ ت٘رِسنا نِۄریِ رام رسائِنھِ آتم دھ٘راپ ॥੧॥
چرنھ گہے سرنھِ سُکھداتے گُر کےَ بچنِ جپے ہرِ جاپ ॥
ساگر ترے بھرم بھےَ بِنسے کہُ نانک ٹھاکُر پرتاپ ॥੨॥੫॥੮੫॥
لفظی معنی :
راکھ لئے ۔ بچائے ۔ حفاظت کی ۔ جن ۔ خدمتگار۔ ہر نام۔ الہٰی نام ۔ سچ وحقیقت ۔ وینو۔ عنایت کیا ۔ ونس گئے ۔ مٹ گئے سوگ۔ افسوس۔ غمی ۔ سنتاپ ۔ اندرونی یا زہنی کوفت (1) ارہاؤ ۔ گن گوبند۔ الہٰی حمدوچناہ۔ راگ رتن ۔ قیمتی دھینں۔ سریں۔ رسنا الاپ ۔ زبان سے کہو۔ کوٹ ۔ کروڑوں ۔ ترسنا۔ پیاس ۔ چاہ ۔ نوری۔ مٹی ۔ رام رسائن۔ الہٰی لطف کا گھر ۔ آتم دھراپ ۔ روحآنی سیری (1) چرن گہے ۔ پاوں پکڑے ۔ سرن ۔ سکھداتے ۔ آرام آسائش پہنچانے والے کی پناہ۔ گر کے بچن ۔ کلام مرشد ۔ ساگر ۔ سمندر۔ بھرم۔ بھٹکن۔ وہم وگمان۔ بھے ۔ خوف ۔ ونسے ۔ مٹے ۔ ٹھاکر پر تاپ ۔ الہٰی عظمت و برکت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا اپنے خادموں کا خود محافط ہے ۔ اپنی کرم و عنایت سے اپنا نام سچ وحقیقت بخشتا ہے جس ساری غمی اور زہنی کوفت مٹ گئی (1) رہاؤ۔ ۔اے الہٰی خدمتگار سارے الہٰی صفت صلاح کرؤ۔ اور زبان سے اچھی آزوان سروں میں حمدوثناہ کرؤ۔ اس سے دیرینہ دنیاوی دولت کی پیاس مٹ جاتی ہے اور اس سے دیرینہ دنیاوی دولت کی پیاس مٹ جاتی ے اور سب سے افضل الہٰی نام سچ وحقیت کا مزہ اور اس کی برکت سے دل کو تکسین و تسلی تشفی حاصل ہوتی ہے (1) جو انسان آرام و آسائش پہنچانے والے خدا کے زیر پناہ رہتے ہیں وہ اپنی زندگی کامیاب بنالیتے ہیں مرشد کے کلام و الہٰی یادوریاض سے وہم وگمان بھٹکن اور خوف اے نانک

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
تاپُ لاہِیا گُر سِرجنہارِ ॥
ستِگُر اپنے کءُ بلِ جائیِ جِنِ پیَج رکھیِ سارےَ سنّسارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرُ مستکِ دھارِ بالِکُ رکھِ لیِنو ॥
پ٘ربھِ انّم٘رِت نامُ مہا رسُ دیِنو ॥੧॥
داس کیِ لاج رکھےَ مِہرۄانُ ॥
گُرُ نانکُ بولےَ درگہ پرۄانُ ॥੨॥੬॥੮੬॥
لفظی معنی:
تاپ ۔ ذہنی یا دماغی جلن یا کوفت ۔ الہیا۔ مٹائیا ۔ سرجنہار۔ پیدا کرنے والےنے ۔ ستگر۔ سچے مرشد۔ بل۔ صدقے ۔ قربان۔ سہج ۔ عزت۔ سارے ۔ سنسار۔ سارے عالم (1) رہاؤ۔ کر ۔ ہاتھ ۔ مستک ۔ پیشانی ۔ دھار۔ رکھ کر۔ بالک ۔ بچہ ۔ رکھ لیو۔ بچائیا۔ انمرت ۔ آب حیات ۔ زندگی روحانی واخلاقی بنا دینے وال پانی جو زندگی کو جاوید بنا دیتا ہے ۔ نام ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت ۔ مہارس ۔ جو بھاری لطف اور مزیدار ہے (1 ) داس ۔ خدمتگار ۔ لاج ۔ عزت۔ درگیہہ پروان۔ بارگاہے الہٰی منظو رو قبول ہوتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
مرشد و خدا نے کوفت مٹائی اپنے سچے مرشد پر قربان ہوں جس نے عالم میں عزت بچائی (1) رہاؤ ( اپنی ) اپنا امدادی ہاتھ پیشانی پر تکائیا اور بچے کو بچائیا اور خدا نے آبحیات نام سچ وحقیقت جو بھاری پر لطف اور مزیدار روحانی اخلاقی زندگی بنانے کے لئے بخشش کیا (1) نانک کا فرمان ہے کہتا ہے کہ وہ مرشد نانک جو کہتا بارگاہ الہٰی میں منظور و قبو ہوتاہے ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ چئُپدے دُپدے گھرُ ੭
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ستِگُر سبدِ اُجارو دیِپا ॥
بِنسِئو انّدھکار تِہ منّدرِ رتن کوٹھڑیِ کھُل٘ہ٘ہیِ انوُپا ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِسمن بِسم بھۓ جءُ پیکھِئو کہنُ ن جاءِ ۄڈِیائیِ ॥
مگن بھۓ اوُہا سنّگِ ماتے اوتِ پوتِ لپٹائیِ ॥੧॥
آل جال نہیِ کچھوُ جنّجارا اہنّبُدھِ نہیِ بھورا ॥
اوُچن اوُچا بیِچُ ن کھیِچا ہءُ تیرا توُنّ مورا ॥੨॥
ایکنّکارُ ایکُ پاسارا ایکےَ اپر اپارا ॥
ایکُ بِستھیِرنُ ایکُ سنّپوُرنُ ایکےَ پ٘ران ادھارا ॥੩॥
نِرمل نِرمل سوُچا سوُچو سوُچا سوُچو سوُچا ॥
انّت ن انّتا سدا بیئنّتا کہُ نانک اوُچو اوُچا ॥੪॥੧॥੮੭॥
لفظی معنی:
ستگر سبد۔ سچے مرشد کا کلام ۔ اجار ودیپا۔ روشن چراغ ہے ۔ اندھکار ۔ جہالت و لا علمی کا اندھیرا ۔ نیسو۔ ۔ مٹیا۔ تیہہ ۔ تب ۔ مندر رتن کو ٹھری ۔ اس انسانی ذہن ۔ کوٹھری کھلی انوپا۔ تو ذہن پر نور ہو جو ناہیت عقل و دانش سے بھر گیا (1 ) رہاؤ۔ بسمن ۔ حیرانگی ۔ بسم بھیے ۔ حیران ہوئی۔ جو پیکھو ۔ جب دیدار ہوا۔ وڈیائی ۔ عظمت۔ مگن بھیئے ۔ محو ومجذوب ہوئے ۔ اوہاسنگ ۔ اس کے ساتھھ ۔ اوت پوت ۔تانے پیٹے کی طرح ۔ لپٹائی ۔ لپٹے ہوئے ۔ ملے ہوئے (1) آل جال ۔ گھریلو کاروبار ۔ دھندے ۔ جنجار۔ مخمسا۔ اہنبدھ ۔ تکبر ۔ غور۔ رتی بھر ۔ اوچن اوچا۔ اونچے سے بھی اونچا ۔ بیچ ۔ درمیان ۔ کھیچا۔ علیحدگی ۔ ہؤ۔ میں ۔ مورا ۔ میرا (2) ایکنکار۔ واحد ۔ پسار۔ پھیلاو ۔ اپر اپار۔ پرے سے بھی پرے مراد اتنا ویسد جس کا کنارہ نہ ہو۔ بستھیرن ۔ پھیلاؤ۔ سنیورن ۔ مکمل ۔ ادھار۔ آسرا (3) نرمل نرمل۔ مکمل طور پر پاک ۔ ناہیت پاکیزہ ۔ سوچو سوچا۔ سچے سے بھی سچا ۔ مراد بغیر آمیز ش ۔ اصل۔ انت۔ آخر۔ بے انت ۔ جس کی آخرت نہ ہو۔
ترجمہ معہ تشریح:
کلام مرشد ایک روشن چراگ ہے اس سے جہالت لا علمی بد عقلی کا اندھیرا مٹ جات اہے اور زہن جو قیمتی ہیروں کے اوصاف کا کمرہ ذہن ہے جس کی خوبصورتی ناہیت دروازہ کھل جاتا ہے (1) رہاؤ۔ غرض یہ کہ حیرانگی حیران ہوجاتی ہے ۔ جب دیدار خدا ہوجات اہے تو وہ عظمت بیان نہیں ہو سکتی ۔ اس کے ساتھ انسان محو ومجذوب ہوجات اہے اور تانے پیٹے کی طرح کا اشتراک بن جاتا ہے اور یکسوئی ہوجاتی ہے (1) اس وقت وہاں گھریلو محبت کے مخمسے نظر انداز ہوجاتے ہیں اور رتی بھر میں اور میرے کا خیال نہیں رہتا اس اونچے اونے درمیان کوئی خلیج یا جدائی نہیں رہتی اور تو میرا میں تیرے کے یکسانیت بن جاتی ہے (2) انسانکو ہر جگہ خدا اور قائنات و مخلوقات الہٰی نظر آتی ہے ۔ وحدت کا پھیلاو اور مکمل واحد جو زندگی کا آسرا ہے (3) اے نانک بتادے کہ خدا پاک و پائس و مقدس ہے وہ صدیوی اور لانفاہ ہے اعداد و شمار سے باہر اور بلند سے بلند ترین ہستی ہے اسکا کوئی ثانی نہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بِنُ ہرِ کامِ ن آۄت ہے ॥
جا سِءُ راچِ ماچِ تُم٘ہ٘ہ لاگے اوہ موہنیِ موہاۄت ہے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کنِک کامِنیِ سیج سوہنیِ چھوڈِ کھِنےَ مہِ جاۄت ہے ॥
اُرجھِ رہِئو اِنّد٘ریِ رس پ٘ریرِئو بِکھےَ ٹھگئُریِ کھاۄت ہے ॥੧॥
ت٘رِنھ کو منّدرُ ساجِ سۄارِئو پاۄکُ تلےَ جراۄت ہے ॥
ایَسے گڑ مہِ ایَٹھِ ہٹھیِلو پھوُلِ پھوُلِ کِیا پاۄت ہے ॥੨॥
پنّچ دوُت موُڈ پرِ ٹھاڈھے کیس گہے پھیراۄت ہے ॥
د٘رِسٹِ ن آۄہِ انّدھ اگِیانیِ سوءِ رہِئو مد ماۄت ہے ॥੩॥
جالُ پسارِ چوگ بِستھاریِ پنّکھیِ جِءُ پھاہاۄت ہے ॥
کہُ نانک بنّدھن کاٹن کءُ مےَ ستِگُرُ پُرکھُ دھِیاۄت ہے ॥੪॥੨॥੮੮॥
لفظی معنی:
جاسیؤ۔ جس سے ۔ رچ ماچ۔ ایک ہوگئے ہو۔ موہنی ۔ اپنی محبت مین گرفتار کر نے والی ۔ موہاوت ہے ۔ وہوکا دینے والی فریب کار ہے (1) رہاؤ۔ کنک ۔ سونا۔ کمنی ۔ عورت۔ سیج سوہنی ۔ خوبصورت ۔ خواہبگا ہ ۔ کھنے میہہ۔ تھوڑے سے عرصے میںہی ۔ ارجھ ۔ مضمر۔ اندری رس۔ جسمانی اعضا کے لطف اور مزوں میں۔ وکھے ۔ خواہشات بد۔ ٹگھوری کھاوت۔ دہوکا کھا رہے ہو (1) ترن کو مندر ۔ گھاس کے گھر۔ ساج ۔ بنا کے ۔ پاوک ۔ آگ۔ تلے ۔ نیچے ۔ جرادت ہو۔ جلا رہے ہو۔ گڑمیہہ۔ قلعے میں۔ ایٹھ ۔ شیخی ۔ اکڑ فوں۔ ہٹھیلے ۔ ضد سے ۔ پھول ۔ پھول۔ خوش ہوکر (2) پنچ دوت۔ روحانیت یا اخالق کے پانچ دشمن ۔ مود۔ سر پر ۔ ٹھاڈے ۔ کھرے ہیں۔ کیس گہے بال پکڑ رکھے ہیں پھیر اوت ہے ۔ پھیر رہے ہیں ۔مراد ذلیل وخوار کرتے ہیں۔ درسٹ نہ آویہہ۔ نظر نہیں آتے ۔ اندھ اگیانی بے علم جاہل ۔ سوئے رہیو مدماوت ۔ غفلت اور لا پرواہی کے نشے میں محو ومجذوب ہے (3) ستھاری ۔ کھلا رکھی ہے ۔ پنکھی جیؤ فہاوت ہے ۔ جیسے پرندے پکڑے جاتے ہیں۔ بندھن ۔ غلامی ۔ دھیاوت۔ دلمیں بساتا ہوں۔
ترجمہ معہ تشریح:
بغیر خدا کے دنیا کی کوئی شے کام نہیں اتی مراد الہٰی نام سچ و حقیقت ہی کام آتا ہے اے اسنانوں جس دنایوی دولت میں محو ومجذوب ہوگئے ہو وہ تمہیں تمہاری روحانی اور اخلاقی مراد ضمیر کو لوٹ رہی ہے دہوکا اور فریب کر رہی ہے (1 ) رہاؤ۔ سونا مراد سرمایہ ۔ عورت اور خوبصورت خوابگاہیں پل بھ ۔ چھوڑ کر یہاں سے رخصت ہوجاتا ہے ۔ شہوت و براہوں میں محسور برائیوں کی گفت میں رہ کر اخلاقی زندگی سے بیخبر رہتا ہے او ر روحانی اخلاقی انسانیت والی طرز زندگی گذازنے میں ہوکے اور فریب میں آجاتا ہے (1) تنکو ں اور گھاس کا مکان بنا کر اس کے نیچے آگ جلا رہا ہے مراد اس جسم میں شہوت وغیرہ کی آگ سے روحانی زندگی جلا رہا ہے ۔ خوش ہوتا ہے مگر حاصل کیا کرتا ہےمراد زندگی کا کونسا فائدہ یا منافع کیا کمارہا ہے (2) اے انسان پانچ ضمیر دشمن تیرے سیر پر گھڑے ہیں اور چھوٹی پکڑ گھما رہے ہیں۔ اے بے عقل بے علم تجھے وہ دکھائی نہیں دیتے غفلت لاپروائی اور برائیوں کے نشے میںاخلاق روحانیت سے بیخبر بیفکر ہو رہا ہے (3) جیسے پرندوں کو پکڑنے کے لئے جال بچھا کر اس پر دانا دنکا کھلا راجاتا ہے ۔ اسطڑحس ے اے انسان تو بھی ان دنیاوی نعمتوں میں گرفتار ہو رہا ہے ۔ اے نانک ۔ بتادے کہ اب اس غالمی سے نجات پاتے کے لئے سچے مرشد میں اپنا دھیان اور توجہ لگا رہا ہوں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ہرِ ہرِ نامُ اپار امولیِ ॥
پ٘ران پِیارو منہِ ادھارو چیِتِ چِتۄءُ جیَسے پان تنّبولیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سہجِ سمائِئو گُرہِ بتائِئو رنّگِ رنّگیِ میرے تن کیِ چولیِ ॥
پ٘رِء مُکھِ لاگو جءُ ۄڈبھاگو سُہاگُ ہمارو کتہُ ن ڈولیِ ॥੧॥
روُپ ن دھوُپ ن گنّدھ ن دیِپا اوتِ پوتِ انّگ انّگ سنّگِ مئُلیِ ॥
کہُ نانک پ٘رِء رۄیِ سُہاگنِ اتِ نیِکیِ میریِ بنیِ کھٹولیِ ॥੨॥੩॥੮੯॥
لفظی معنی:
امولی ۔ اتنا قیمتی کہ قیمت طے نہ ہو سکے ۔ پران۔ زندگی ۔ منیہہ۔ ادھارو۔ دل کا آسرا۔ چیت چتوؤ۔ دل میں بساؤ۔ پان تبولی ۔ جیسے پان بیچنے والے کا پان میں دھیان ۔ (1) راؤ۔ سہج سمائیوں ۔ روحانیس کون جس میں روحانیت کا مکمل طور علم ہوتاہے اور اس من محو ومجذوب ہونا۔ گریہہ بتائیو ۔ مرشد نے سبق دیا ہے ۔ رنگ رنگی ۔ پریم پیار میں ملبوس ۔تن کی چولی ۔ جسم کا چولا۔ پر یہ ۔ پیارے ۔ مکھ لاگ ے ۔ روبرو۔ وڈبھاگو ۔ بلند قسمت۔ سہاگ ۔ خاوند۔ خدا ۔ گتہو ۔ کبھی ۔ ڈولی ۔ڈگمگانا۔ لیت و لعل (1) روپ ۔ شکل ۔ دہوپ ۔ خوبودار و ہواں۔ دیپا۔ چراگ۔ اوت پوت ۔ تائے پیٹے کی مانند۔ سنگ ۔ ساتھ۔ مولی ۔ خوش ہونا ۔ بھولنا۔ کھلنا ۔ پریہہ ۔ پیارے ۔ روی ۔ ملاپ پائیا ۔ نیکی ۔ خوبصورت ۔ کھٹولی ۔کھات ۔دل ۔ ذہن۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام اتنا بیش قیمت ہے کہ یقمت مقرر نہیں ہو سکتی زندگی سے پیار دل کے لئے سہار جیسے پان بیچنے والی کا خیال پان میں رہتا ہے (1) رہاؤ۔ جب مرشد نے راز افاں کیا تو روحانی سکون ملا تو میرا جسم پریم سے متاچر ہوا ۔ جب سے میری تقدیر میں بیداری آئی ہے الہٰی دیدار حاصل ہوا۔ اب خدا کبھی مجھ سے جد انہ ہوگا (1) نہ شکل وسورت نہ خوشبو دار دہواں نہ خوشبو نہ چراگ۔ اب میں تانے پیٹے کی مانند خدا سے یکسو ہوگیا ہوں اور دل کھل گیا ہے ۔ اے نانک بتادے کہ خدا نے مجھے اپناپیارا مجتی اور خدا پرست بنا لیا ہے ابمیرا ذہن ومن درست ہوگیا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
گوبِنّد گوبِنّد گوبِنّد مئیِ ॥
جب تے بھیٹے سادھ دئِیارا تب تے دُرمتِ دوُرِ بھئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پوُرن پوُرِ رہِئو سنّپوُرن سیِتل ساںتِ دئِیال دئیِ ॥
کام ک٘رودھ ت٘رِسنا اہنّکارا تن تے ہوۓ سگل کھئیِ ॥੧॥
ستُ سنّتوکھُ دئِیا دھرمُ سُچِ سنّتن تے اِہُ منّتُ لئیِ ॥
کہُ نانک جِنِ منہُ پچھانِیا تِن کءُ سگلیِ سوجھ پئیِ ॥੨॥੪॥੯੦॥
لفظی معنی:
گوبندمئی ۔ گوبند ہوا۔ بھیٹے ۔ملاپ ۔ سادھ ۔ پاک انسان۔ دیار۔ مہربان۔ درمت ۔ بدعقلی ۔ کھوتی سمجھ (1) رہاؤ۔ پورن ۔ مکمل۔ پور رہیو۔ بس رہا ہے ۔ سپورن ۔ کامل ۔سیتل۔ ٹھنڈک۔ سانت۔ سکون ۔ دیال ۔مہربان۔ دیال دلی ۔ مہربانیوںکامالک ۔مہربنای کرنے والا ۔ ترشنا۔ خواہشات کی پیاس ۔ سگل کھی ۔ مٹ گئے (1) ست ۔ سچ ۔ ستنوکھ ۔ صبر۔ دیا ۔ ترس۔ رحم۔ دھرم۔ فرض جو بطور انسان پر عائد ہیں۔ سچ ۔ روھانی واکلاقی پاکیزگی ۔ ستن ۔ روحانی رہبر۔ منت ۔ سبق۔ واعظ ۔نصیحت۔ منہو پچھانیا ۔ دل سے پہچنا کی ۔ سلگی ۔ ساری ۔ سوجھ ۔ سمجھ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب ملاپ ہوجائے پاکدامن جس نے زندگی کا نصب العین اور صراط مستقیم جو رحمد ل اور مرہبان ہوتا ہے تب اس کے اندروں مراد ذہن بد علقی اور بری سوچ دور ہوجاتی ہے اور انسان خدا خدا کہتے اور یاد کرتے خدا کا سا ہوجات اہے (1 ) رہاؤ ۔ رحمد الرحیم اور تمام اوصاف کا مالک ہر جا بستاہے ۔ اس کے ذہن سے شہوت غسہ لالچ غرور وغیرہ اور برائیان مٹ جاتی ہیں (19 سچ صبر رحمدلی ۔ فڑض روحانی واخلاقی پاکیزگی کا سبق روحانی رہبر سے لیا ہے اے نانک بتادے جسنے اپنے دل سسے مندرجہ بالا کی شناکت حاصل کر لی اسے روحانیت کو مسجھ لیا۔ مراد زندگی مقصد پالیا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
کِیا ہم جیِء جنّت بیچارے برنِ ن ساکہ ایک رومائیِ ॥
ب٘رہم مہیس سِدھ مُنِ اِنّد٘را بیئنّت ٹھاکُر تیریِ گتِ نہیِ پائیِ ॥੧॥
کِیا کتھیِئےَ کِچھُ کتھنُ ن جائیِ ॥
جہ جہ دیکھا تہ رہِیا سمائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جہ مہا بھئِیان دوُکھ جم سُنیِئےَ تہ میرے پ٘ربھ توُہےَ سہائیِ ॥
سرنِ پرِئو ہرِ چرن گہے پ٘ربھ گُرِ نانک کءُ بوُجھ بُجھائیِ ॥੨॥੫॥੯੧॥
لفظی معنی:
جیئہ جنت۔ مخلوقات ۔ بیچارے ۔ لا علاج ۔ برن نہ سکایہہ ۔ بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک رومائی ۔ ایک بال کے برابر۔ برہم مہیش ۔ شوجی ۔ ندھ ۔ جنہوں نے زندگی کا سراط مستقیم پالیا ۔ منی ۔ عابد۔ بے انت۔ بیشمار۔ ٹھاکر۔ مالک عالم۔ گت۔ حالت ۔ علم ۔ پائی ۔ سمجھی (1) کھتیئے ۔ کیئے ۔ بیان کریں۔ کچھ کہن نہ جائی ۔ کچھ بیان نہیں کر سکتے ۔ رہیا سمائی۔ بستا ہے (1) رہاؤ۔ مہا بھیان ۔ بھاری خوفناک ۔ دکھ جسم۔ موت کا عذاب ۔ سہائی مددگار۔ سرن پریؤ۔ پنالی ۔ ہر چن گہے ۔ الہٰی پناہگیر ہوا۔ گر۔ مرشد۔ بوجھ بجھائی ۔ سمجھائیا۔
ترجمہ معہ تشریح:
کیا بینا کریں کچھ کہہ نہیں کستے جدھر نظر جاتی ہے وہاں موجود ہے خدا (1) ہم غریب عاجز لاچار۔ مخلوقات ایک بال کے برابربھی کچھ بینا نہیں کر سکے ۔ اے خدا شوجی برہما ۔ رشی ۔ منی بھی نہیں بتا سکے کہ تو کیسا ہے (1) جہاں سنتے ہیںکہ موت کا بھاری خوفناک عذا بہے اے خدا وہاں تو مددگار ہے مرد نے نانک کو یہ سمجھائیا ہے تبھی الہٰی پناہگیر ہوا ہوں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اگم روُپ ابِناسیِ کرتا پتِت پۄِت اِک نِمکھ جپائیِئےَ ॥
اچرجُ سُنِئو پراپتِ بھیٹُلے سنّت چرن چرن منُ لائیِئےَ ॥੧॥
کِتُ بِدھیِئےَ کِتُ سنّجمِ پائیِئےَ ॥
کہُ سُرجن کِتُ جُگتیِ دھِیائیِئےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جو مانُکھُ مانُکھ کیِ سیۄا اوہُ تِس کیِ لئیِ لئیِ پھُنِ جائیِئےَ ॥
نانک سرنِ سرنھِ سُکھ ساگر موہِ ٹیک تیرو اِک نائیِئےَ ॥੨॥੬॥੯੨॥
لفظی معنی:
اگم روپ۔ انسانی عقل و ہوش اور سمجھ سے باہر شکل وصورت۔ ابناسی ۔ لافناہ۔ کرتا۔ کرنے والا۔ کار ساز۔ پتت پوت ۔ ناپاک کو پاک بنانے والا۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کے عرصے کے لئے ۔ اچرج سنیو۔ جس نے ستگر حیرانی ہوتی ہے ۔ پراپت ۔ حاصل ہوتا ہے ۔ بھیٹلے ۔ ملاپ ۔ سنت ۔ روحانی رہبر (1) کت بدھیئے ۔ کس طریقے سے ۔ کت سنجم۔ کونسی ۔ پرہیز گاری سے ۔ سرجن۔ نیک انسان۔ پارسا۔ جگتی ۔ طریقہ ۔ منصوبہ۔ دھیایئے ۔ دھیان لگائیں۔ متوجو ہوں (1 ) رہاؤ۔ مانکھ ۔ انسان ۔ سیوا۔ خدمت ۔ سرن سکھ ساگر۔ سکھوں کے سمندر خدا کی پناہ ۔ ٹیک ۔ اسرا۔ تاییئے ۔ نام۔ سچ وحقیقت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نیک انسان کس طریقے سے یادوریاض اور دھیان لگائیں خدا میں۔ کس طریقے سے کونیس پرہیز گاری سے الہٰی ملاپ ہو سکت اہے (1) رہاؤ۔ انسانی عقل و ہوش و سمجھس ے بعید لافناہ کار ساز ناپاک کو پاک بنانے وال ہر انکھ کی جھپکن کے لئے یادکرنا چاہیے (1) رہاؤ۔ اے نانک۔ جو انسان دوسرے انسان کی خدمت کرتا ہے وہ اس کی کی ہوئی خدمت کو بار بار یاد کرتا ہے مگر آرام و آسائش کے سمندر کی پناہ اور آسرا ہے اور الہٰی نام سچ وحقیقت کا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سنّت سرنھِ سنّت ٹہل کریِ ॥
دھنّدھُ بنّدھُ ارُ سگل جنّجارو اۄر کاج تے چھوُٹِ پریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سوُکھ سہج ارُ گھنو اننّدا گُر تے پائِئو نامُ ہریِ ॥
ایَسو ہرِ رسُ برنِ ن ساکءُ گُرِ پوُرےَ میریِ اُلٹِ دھریِ ॥੧॥
پیکھِئو موہنُ سبھ کےَ سنّگے اوُن ن کاہوُ سگل بھریِ ॥
پوُرن پوُرِ رہِئو کِرپا نِدھِ کہُ نانک میریِ پوُریِ پریِ ॥੨॥੭॥੯੩॥
لفظی معنی:
سنت سرن ۔ روحانی رہبر کا سایہ ۔ پناہ ۔ ٹہل۔ خدمت ۔ دھند بندھ۔ دنیاوی کاروبار کی غلامی ۔ سگل جنجارو۔ تمام دنیاوی پھندے ۔ اور کاج ۔ دیگر کام۔ چھوٹ پری ۔ نجات حاسل ہوئی (1) رہاؤ۔ سوکھ سہج ۔ آرام وآسائش و روحانی و زہنی سکون ۔ گھنو انند۔ا ناہیت ۔ زیادہ خؤشیاں۔ نام ہر ی ۔ الہٰی نام ۔ سچ حق وحقیقت ۔ہر رس ۔ الہٰی لطف ۔ برن۔ بیان۔ گر پورے ۔ کام مرشد۔ الٹ دھری ۔ خیالات میں الٹی تبیدلی (1) پیکھو ۔ دیکھا ۔ موہن ۔ دل کو اپنی محبت میں گرفتار کرنے والا۔ سبھ کے تنگے ۔ سبھ کے ساتھ ۔ اون ۔ کمی ۔ کاہو ۔ کبھی ۔ سگل۔ ساری ۔ پورن ۔ مکمل ۔ کرپاندھ ۔ مرہبانیوں کا خزانہ ۔ رحمان الرھیم۔ پوری پری ۔ کامیابی ملی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
پناہ روحانی رہبر و خدمت کرنے سےد نایوی کاروبار کی غلامی اور اسکے پھندوں اور دیگر کاموں سے نجات حاصل ہوئی (1) رہاؤ۔ روحانی وزہنی سکون و بھاری خوشیاں مرشد سے حاصل وہئیں اور الہٰی نام سچ وحقیقت حاصل ہوا ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کا ایسا لطف ملا جو بینا نہیں ہو سکتا۔ کامل مرشد نے میرے خیالات ہی بدل دیئے ۔ خدا کو سب میں بستا دیکھا اس سے کوئی خالی نہیں وہ رحامن الرحیم مہربنایوں کا خزانہ ہرجائی ہے اور سب میں بستا ہے ۔ اے نانک۔ بتادے کہمریی محنت برآور ہوئی ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
من کِیا کہتا ہءُ کِیا کہتا ॥
جان پ٘ربیِن ٹھاکُر پ٘ربھ میرے تِسُ آگےَ کِیا کہتا ॥੧॥ رہاءُ ॥
انبولے کءُ تُہیِ پچھانہِ جو جیِئن مہِ ہوتا ॥
رے من کاءِ کہا لءُ ڈہکہِ جءُ پیکھت ہیِ سنّگِ سُنتا ॥੧॥
ایَسو جانِ بھۓ منِ آند آن ن بیِئو کرتا ॥
کہُ نانک گُر بھۓ دئِیارا ہرِ رنّگُ ن کبہوُ لہتا ॥੨॥੮॥੯੪॥
لفظی معنی:
جان۔ جاننے سمجھنے کی توفیق رکھنے والا۔ پربین۔ دانشمند ۔ (1) رہاؤ۔ ان بولے ۔ بغیر بتائے ۔ جو جیئن میہہ۔ ہوتا ۔ جو دل میں ہوتا ہے ۔ کائے ۔ کس لئے ۔ ڈہیکہہ۔ ڈگمگاتا ہے ۔ فریب کرتا ہے ۔ پیکھت ۔ دیکھتا ہے ۔ سنگ سنتا۔ ساتھ سنتا ہے (1) جان۔ سمجھ ۔ بھیئے من انند۔ سکون و خوشی ۔ آن ۔ اور ۔ بیو ۔ دیگر۔ دوسرا۔ کرتا۔ رکنے والا۔ دیار ۔ مہربان ۔
ترجمہ معہ تشریح:
دل میں کچھ اور ہے کہتا کچھ اور ہے اے خدا تو سب کے دلوں کو سمجھنے کی توفیق رکھتا ہے اس کے سہامنے کیا کہیگا ۔ رہاؤ۔ بغیر بولے اے خدا تو جانتا اور پہنچاتا ہے جو دل میں ہے ہوتا اے دل کب تک دہوکا اور فریب کریگا ۔ جب خدا تیرے ساتھ بستا ہو دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے (1) ایسا سمجھ کر دل کو سکون ملت اہے کہ اسکے سوا نہیں کوئی دوسرا کرنے والا اے نانک ۔ بتادے کہ ۔ جس پر مرشد مہربان ہوجائے اسکا دیا ہوا لاہٰی محبت پریم پیار کبھی دور نہیں ہوتا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
نِنّدکُ ایَسے ہیِ جھرِ پریِئےَ ॥
اِہ نیِسانیِ سُنہُ تُم بھائیِ جِءُ کالر بھیِتِ گِریِئےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جءُ دیکھےَ چھِد٘رُ تءُ نِنّدکُ اُماہےَ بھلو دیکھِ دُکھ بھریِئےَ ॥
آٹھ پہر چِتۄےَ نہیِ پہُچےَ بُرا چِتۄت چِتۄت مریِئےَ ॥੧॥
نِنّدکُ پ٘ربھوُ بھُلائِیا کالُ نیرےَ آئِیا ہرِ جن سِءُ بادُ اُٹھریِئےَ ॥
نانک کا راکھا آپِ پ٘ربھُ سُیامیِ کِیا مانس بپُرے کریِئےَ ॥੨॥੯॥੯੫॥
لفظی معنی:
نندک ۔ بدگوئی کرنے والا۔ ۔ جھر ۔ جھڑ ۔ گرپڑتا ہے ۔ کالر۔ کلر۔ بھیت ۔ دیوار۔ (1) رہاؤ۔ چھدر ۔ نقس۔ اماہے ۔ خوشی ہوتا ہے ۔ ۔ بھلو ۔ نیکی ۔ دکھ بھریئے ۔ عذاب محسوس کرتا ہے ۔ آھ پہر ۔ ہر وقت ۔ چتولے ۔ دلمیں سوچتا ہے (1) نندک ۔ بدگوئی کرنے والا۔ پر بھو بھلائیا۔ خدا کو بھلا کر۔ باد۔ جھگرا۔ اُٹھریئے ۔ اٹھانا ہے ۔ کرتا ہے ۔ مانس۔ انسان ۔ بپرے ۔ بیچارے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بدگوئی کرنے والا ایسے اخلاق او رواحنیت سے گر جاتا ہے ۔ جیسے کلر میں لکالی ہوئی دیوار گر جاتی ہے ۔ یہ اس بدگوئی کرنے والے کی نشانی ہے (1) رہاؤ۔ جب کوئی نقص دیکھتا ہے ۔ تو خوش ہوتا ہے ۔ اور نیکی یا اچھائی دیکھ کر دکھ سے بھر جات اہے ۔ برائی کرنے والا ہر وقت برائی سوچتا ہے بس نہیں چلتا سوچتا سوچتا روحانی موت مر جاتا ہے (1) بد گوئی کرنے والے کو خدا گمراہ کرتا ہے اور بدگوئی کرنے والے کی روحانی موت نزدیک آجاتی ہے وہ خادمان خدا سے جھگرے کرتا ہے مگر اے نانک۔ خادمان خدا کا محافط ہے خودخدا بیچارے انسانکیا کر سکتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ایَسے کاہے بھوُلِ پرے ॥
کرہِ کراۄہِ موُکرِ پاۄہِ پیکھت سُنت سدا سنّگِ ہرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
کاچ بِہاجھن کنّچن چھاڈن بیَریِ سنّگِ ہیتُ ساجن تِیاگِ کھرے ॥
ہوۄنُ کئُرا انہوۄنُ میِٹھا بِکھِیا مہِ لپٹاءِ جرے ॥੧॥
انّدھ کوُپ مہِ پرِئو پرانیِ بھرم گُبار موہ بنّدھِ پرے ॥
کہُ نانک پ٘ربھ ہوت دئِیارا گُرُ بھیٹےَ کاڈھےَ باہ پھرے ॥੨॥੧੦॥੯੬॥
لفظی معنی:
بھول۔ گمراہی ۔ موکر ۔ منکر۔ پیکھت ۔ دیکھ کر ۔ دیکھتا ہے ۔ سنت ۔ ستا ہے ۔ سدا سنگ ۔ ہمیشہ ۔ ساتھ۔ رہاؤ۔ کاچ۔ کانچ۔ مہاجھن۔ خریدنا۔ کنچن۔ سونا۔ بیری ۔ ویری ۔ دشمن۔ ہیت ۔ پیار۔ ساجن ۔ دوست۔ تیاگ۔ چھوڑنا۔ ہوون ۔ ہے ۔ کورا۔ کوڑا۔ برا۔ انہوں ۔ جو نہیں ہے ۔ میٹھا۔ پیار۔ وکھیا۔ دنیایو دولت ۔ لپٹائے ۔ ملوث۔ جرے ۔ جلتا ہے ۔ اندھ کوپ ۔ اندھیرا کنواں ۔ مراد جہالت ۔ گمراہی ۔ پرانی ۔ اے انسان۔ بھرم ۔ وہم وگمان ۔ شک و شبہات ۔ گمراہی ۔ غبار۔ ایسے حالات جہاں عقل ہوش کام نہ کرے بھاری گمراہی ۔ موہ بندن ۔ محبت کی غلامی ۔ دیار۔ دیال۔ مہربان۔ بھیٹے ۔ ملے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اس طرح سے کیون گمراہ ہو رہے ہو کرتے ہو کر اتے ہو اور منکر ہوتے ہو جبکہ خدا دیکھتا ہے سنتا ہے اور ہمیشہ ساتھی اور ساتھ بستا ہے ۔ رہاؤ۔ کانچ کا بیوپار کرنا سونے کو چھورنا ۔ سچے دوست چھوڑ کر دشموں سے محبت الہٰی نام سچ وحقیقت کو برا اور زہریلی دنیایو دولت سے محبت کی گرفتمیں جلنا (1) دنیاوی محبت کے اندھے کوئیں مراد ایسے حالت جہاں عقل ہوش سوچنے سمجنے سے قاسر ہوجاتی ہے اور انسان گمراہی اور دنیاوی دولت کا غلما ہوجاتا ہے ۔ اے نانک۔ بتادے کہ جس پر خدا مہربان ہوجاتاہے اسکا ملاپ مرشد سے کراتا ہے اور مرشد اسے گمراہی اور جہالت کے کوئیں پندو واعط کے بازو س کی مدد سے باہر نکال لیتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
من تن رسنا ہرِ چیِن٘ہ٘ہا ॥
بھۓ اننّدا مِٹے انّدیسے سرب سوُکھ مو کءُ گُرِ دیِن٘ہ٘ہا ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِیانپ تے سبھ بھئیِ سِیانپ پ٘ربھُ میرا دانا بیِنا ॥
ہاتھ دےءِ راکھےَ اپنے کءُ کاہوُ ن کرتے کچھُ کھیِنا ॥੧॥
بلِ جاۄءُ درسن سادھوُ کےَ جِہ پ٘رسادِ ہرِ نامُ لیِنا ॥
کہُ نانک ٹھاکُر بھاروسےَ کہوُ ن مانِئو منِ چھیِنا ॥੨॥੧੧॥੯੭॥
لفظی معنی:
من تن ۔ دل وجان۔ رسنا۔ زبا۔ چینا۔ سوچیا سمجھیا ۔ خیال آرائی کی ۔ اندیسے ۔ خوف۔ سرب سوکھ ۔ تمام آرام و آسائش ۔ گردینا۔ مرشد نے دیا (1) رہاؤ۔ ایانپ۔ انجان پن۔ بے سمجھی ۔ بھی سیانپ۔ دانشمندی ہوئی ۔ دانا ۔ بینا۔ علقمند۔ اور دور اندیش ۔ کچھ کھنا۔ نقصان (1) بل۔ صدقے ۔ قربان۔ درسن سادہو۔ دہو۔ دیدار پاکدامن ۔ جیہہ پرساد۔ جس کی رحمت سے ۔ ہر نام لینا۔ الہٰی نام سچ وحقیقت لیا ۔ چھینا۔ رتی بھر کے عرصے کے لئے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
ول دجان سے اور زبان سے خدا کے متعلق خیال آرائی اور اشتراکیت پیدا کر لی ہے ۔ خوشی اور سکون ملا خوف دور ہوا اور مرشد نے سارے آرام و آسائش مہیا کئے (1) رہاؤ۔ انجانے بے سمجھی سے ہر طرح کی داشنمندی ہوئی میرا خدا دانشمند اور دور اندیش ہے ۔ پانی خاص امداد سے اپنے خدمتگار کی حفاظت کرتا ہے بچاتا ہے ۔ کوئی اسکا کچھ نقصان نہیں کر سکتا نہ وگاڑ سکتا ہے ۔ (1) صدقے ہون قربان ہو اس پاکدامن سادہو پر جس کی رحمت سے الہٰی نام سچ وحقیقت دستیاب ہوئی ہے ۔ اے نانک بتادے اے خدا پر ایمان و یقین ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے پر ذرہ بھر ایمان نہیں لائیا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
گُرِ پوُرےَ میریِ راکھِ لئیِ ॥
انّم٘رِت نامُ رِدے مہِ دیِنو جنم جنم کیِ میَلُ گئیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نِۄرے دوُت دُسٹ بیَرائیِ گُر پوُرے کا جپِیا جاپُ ॥
کہا کرےَ کوئیِ بیچارا پ٘ربھ میرے کا بڈ پرتاپُ ॥੧॥
سِمرِ سِمرِ سِمرِ سُکھُ پائِیا چرن کمل رکھُ من ماہیِ ॥
تا کیِ سرنِ پرِئو نانک داسُ جا تے اوُپرِ کو ناہیِ ॥੨॥੧੨॥੯੮॥
لفظی معنی :
گر پورے ۔ کامل مرشد۔ راکھ لئی ۔ عزت بجائی ۔ انمرت ۔ آب حیات۔ نام ۔ سچ وحقیقت ۔ ردے ۔ ذہن ۔ دل ۔ جنم جنم۔ دیرینہ ۔ پرانی ۔ میل گئی ۔ ناپاکیزگی دور ہوئی (1) رہاؤ۔ دوت ۔ دشمن۔ دسٹ ۔ بدکردار۔ بدچلن ۔ بد اخلاق۔ پیرائی ۔ دشمن۔ جپیا جاپ۔ سبق مرشد یاد کیا۔ بیچار لا مجبور ۔ وڈپرتاپ ۔ بھاری قوت و طاقت والا۔ چرن کمل رکھ من ماہی ۔ خدا کو دلمیں بسا کر۔ سرن ۔ پناہ ۔ جاتے ۔ جس برسے ۔ اوپر ۔ بلند ۔ اقبال۔
ترجمہ معہ تشریح:
کامل مرشد نے میری عزت بچائی اور اب حیات نام سچ وحقیت جس سے انسانی زندگی روحانی واخلاقی طور پر پاک و مقدس بنتی ہے میرے دلمیں بسا دیا جس دیرینہ پرانی ذہنی ناپاکیزگی دور ہوگئی (1) رہاؤ۔ دشمن ۔ بدکردار۔ بد چلن ختم ہوئے اور کامل مرشد کے بتائے ہوئے سبق و واعط کی مطابق الہٰی نام و ریاض مریے دل میں بس گیا میرا مالک خدا بری بھاری بلند ترین طاقتوں کاملاک ہے اب کوئی کچھ وگاڑ نہیں سکتا (1) خدا کو دلمیں بسا کر اس کی یادوریاض سے سکون و آرام حاصل ہوا۔ خادم نانک نے اس کی پناہ گیر ہے جس ے بلند ہستی کوئی نہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سدا سدا جپیِئےَ پ٘ربھ نام ॥
جرا مرا کچھُ دوُکھُ ن بِیاپےَ آگےَ درگہ پوُرن کام ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپُ تِیاگِ پریِئےَ نِت سرنیِ گُر تے پائیِئےَ ایہُ نِدھانُ ॥
جنم مرنھ کیِ کٹیِئےَ پھاسیِ ساچیِ درگہ کا نیِسانُ ॥੧॥
جو تُم٘ہ٘ہ کرہُ سوئیِ بھل مانءُ من تے چھوُٹےَ سگل گُمانُ ॥
کہُ نانک تا کیِ سرنھائیِ جا کا کیِیا سگل جہانُ ॥੨॥੧੩॥੯੯॥
لفظی معنی:
جرا۔ بڑھاپا۔ مرا۔ موت۔ دکھ ۔ عذاب۔ ویاپے ۔ پیدا ہو۔ درگیہہ۔ الہٰی عدالت۔ پورن ۔ مکمل۔ رہاؤ۔ آپ تیاگ۔ خوئشتا ۔خادی ۔ چھوڑ ۔ نت ہر روز۔ سرتی ۔ پناہ ۔ ندھان۔ خزانہ ۔ جنم مرن ۔ تناسخ ۔ پھاسی ۔ پھندہ ۔ نیسان۔ پروانہ ۔ راہدایر (1) بھل مانو۔ اچھا سمجھو ۔گمان۔ غرور۔ جاکا کیا۔ سگل جہان ۔ جس نے سارا عالم پیدا کیا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
من تن انّترِ پ٘ربھُ آہیِ ॥
ہرِ گُن گاۄت پرئُپکار نِت تِسُ رسنا کا مولُ کِچھُ ناہیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کُل سموُہ اُدھرے کھِن بھیِترِ جنم جنم کیِ ملُ لاہیِ ॥
سِمرِ سِمرِ سُیامیِ پ٘ربھُ اپنا اند سیتیِ بِکھِیا بنُ گاہیِ ॥੧॥
چرن پ٘ربھوُ کے بوہِتھُ پاۓ بھۄ ساگرُ پارِ پراہیِ ॥
سنّت سیۄک بھگت ہرِ تا کے نانک منُ لاگا ہےَ تاہیِ ॥੨॥੧੪॥੧੦੦॥
لفظی معنی:
نآہی ۔ بسا ہے ۔ پرا اپکا۔ دوسروں کی بھالئی کا کام ۔ رسنا ۔ زبان۔ (1) رہاؤ۔ ک ل سموہ ۔ سارے خاندان ۔ ادھرے ۔ بچے ۔ کھن بھیتر۔ تھوڑے سے وقفے کے اندر۔ مل ۔ ناپاکیزگی ۔ وکھیابن۔ بدکاریوں اور( دنیاوی ) دنیاوی دولت کا جنگل ۔ بوہتھ ۔ جہاز۔ بھو ساگر۔ خوفناک سمندر۔ تاہی ۔ انمیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس کے دلمیں خدا بستا ہے الہٰی حمدوثناہ کرنے لوگوںکی بھالئی کے کام کرنے سے اس کی زبان بیش قیمت ہوجاتی ہے (1) رہاؤ۔ الہٰی یادوریاض و عبات کرکے انسان پر سکون اس دنیاوی دولت کے جنگل کو خوشی خوشی عبور کر لیتا ہے مراد خدا میں دھیان لگانے سے زندگی سفر آسانی سے گذار جا سکتا ہے اور دیرینہ کئے ہوئے اعمال کی ناپاکیزگی دور ہوجاتی ہے ۔ اور پل بھر میں سارے خادنان کا بچاو ہوجات اہے (1) جو انسان الہٰی پناہگیر ہوجاتے ہین۔ ان کے لئے خدا ایک جہاز ہے وہ اس جہاز میں سوار ہوکر اس زندگی کے خوفناک سمدنر کو عبور کر لیتے ہہیں۔ اے نانک۔ وہی انسان روحانی رہبر الہٰیپریمی اور خدمتگا رہیں ۔ جن کے دلمیں ہر وقت الہٰی یاد رہتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
دھیِرءُ دیکھِ تُم٘ہ٘ہارےَ رنّگا ॥
تُہیِ سُیامیِ انّترجامیِ توُہیِ ۄسہِ سادھ کےَ سنّگا ॥੧॥ رہاءُ ॥
کھِن مہِ تھاپِ نِۄاجے ٹھاکُر نیِچ کیِٹ تے کرہِ راجنّگا ॥੧॥
کبہوُ ن بِسرےَ ہیِۓ مورے تے نانک داس اِہیِ دانُ منّگا ॥੨॥੧੫॥੧੦੧॥
لفظی معنی:
دھریو۔ دھیرج ۔ حوسلہ ۔ رنگا۔ حیران کرنے والے اعمال یا کام ۔ انتر جامی ۔ دلی راز سمجھنے والا۔ سادھ ۔ پاکدامن انسان ۔ سنگا ۔ ساتھ (1) راہو۔ کھن میہہ۔ پل بھرمیں ۔ تھاپ ۔ شاباش۔ نوازے ۔ وقار دیا۔ نیچ کیٹ ۔کیڑ ے کی طرح کمینہ ۔ راجنگا۔ راجے (1 ) وسرے ۔ بھوے ۔ ہیئے ۔ دل سے ۔ داس۔ خدمتگار ۔دان ۔ خیرات۔ بھیک ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیرے کھیل تماشے یدکھ رک مجھ تسلی اور حوسلہ ملتا ہے کہ تو راز دل جاننے وال اہے اور تو پاکدامنوں کا ساتھ دیتا ہے اور ساتھ بستا ہے ۔ رہاؤں (1) اے نانک تو پل بھر میں ناداروں کو با وقار اور قابل ستائش بنا دیتا ہے او ر کنگال کو بادشاہی بخشش دیتا ہے ۔ اے خدا خادم نانک تجھ سے یہی خیرات مانگتا ہے کہ کبھی بھی تو دل سے بھولے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اچُت پوُجا جوگ گوپال ॥
منُ تنُ ارپِ رکھءُ ہرِ آگےَ سرب جیِیا کا ہےَ پ٘رتِپال ॥੧॥ رہاءُ ॥
سرنِ سم٘رتھ اکتھ سُکھداتا کِرپا سِنّدھُ بڈو دئِیال ॥
کنّٹھِ لاءِ راکھےَ اپنے کءُ تِس نو لگےَ ن تاتیِ بال ॥੧॥
دامودر دئِیال سُیامیِ سربسُ سنّت جنا دھن مال ॥
نانک جاچِک درسُ پ٘ربھ ماگےَ سنّت جنا کیِ مِلےَ رۄال ॥੨॥੧੬॥੧੦੨॥
لفظی معنی:
اچت۔ صدیوی ۔ لافناہ۔ پوجا جوگ۔ قابل پر ستش۔ ارپ ۔ بھینٹ ۔ پرتپال۔ پرورش کرنے والا۔ رہاؤ۔ سرن سمرتھ ۔ پناہ یا اسرا دینے کی توفیق رکھنے کے لائق۔ اکتھ ۔ نا قابل بیان۔ سکھداتا۔ آرام و آسائش کی خیرات کرنے وال ا۔ کر پا سندھ ۔ رحمان الرحیم۔ مہربانیوں کا سمندر ۔ ( سدیس ) کنٹھ ۔ گلے ۔ تاتی بال ۔ گرم ہوا۔ سر بس۔ سب کچھ ۔ جاچک ۔ بھکاری ۔ درس پربھ ۔ دیدار ۔ خدا۔ روال۔ خاک پا۔
ترجمہ معہ تشریح:
مال زمین و عالم ہی پرستش کے لائق ہے ۔ اپنا دل و جان خدا کو بھینٹ کر و خدا کو جو سب کی پرورش کرتا ہے پرودگار ہے (1) رہاؤ۔ جو پناہ دینے کی توفیق رکھتا ہے ۔ اس کی شکل و صورت بیان سے باہر ہے ہر قسم کا آرام و آسائش پہنچاتا ہے ۔ رحمان الرھیم مہربانیوں کا سمدنر ہے اپنے پریمیوں خدمتگاروں کو گلے لگاتا ہے اور ذرا سا س بھی ذقنہیںپہنچنے دیتا (1) خدامہرباینوں کا سر چشمہ اور روحانی رہبروں کے لئے ہما قسم کا زرومال ہے بھکاری نانک۔ اے خدا تیرا دیدار اور روحانی رہبروں کی پائے خاک مانگتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سِمرت نامُ کوٹِ جتن بھۓ ॥
سادھسنّگِ مِلِ ہرِ گُن گاۓ جمدوُتن کءُ ت٘راس اہے ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیتے پُنہچرن سے کیِن٘ہ٘ہے منِ تنِ پ٘ربھ کے چرنھ گہے ॥
آۄنھ جانھُ بھرمُ بھءُ ناٹھا جنم جنم کے کِلۄِکھ دہے ॥੧॥
نِربھءُ ہوءِ بھجہُ جگدیِسےَ ایہُ پدارتھُ ۄڈبھاگِ لہے ॥
کرِ کِرپا پوُرن پ٘ربھ داتے نِرمل جسُ نانک داس کہے ॥੨॥੧੭॥੧੦੩॥
لفظی معنی:
سمرت ۔ یادوریاض ۔ نام الہٰی نام جو سچ ۔ حق حقیقت اور صدیوی ہے ۔ کوت۔ کروڑون۔ جتن ۔ کوشش۔ سادھ سنگ۔ پاکدامن کا ساتھ۔ ہرگن گائے ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ جسم۔ فرشتہ موت ۔ یا الہٰی کوتوال۔ تاس۔ خوف۔ اہے ۔ یہی (1) رہاؤ۔ جیتے ۔ جتنے ۔ نیہہ چرن ۔ پچھتاوے کے اعمال۔ چرن گہے ۔ پاؤں پکڑے ۔ آون جان ۔ تناسک۔ بھرم بھؤ۔ بھٹکن ۔ دوڑ دہوپ اور خوف ۔ کل وکھ ۔ گناہ۔ پاپ۔ دہے ۔ جل گئے ۔ نربھو۔ بیخوف ہوکر بھجن سمجھو۔ تاد کرؤ۔ جگدیسے ۔ مانک ۔ عالم ۔ پدارتھ۔ نعمت۔ وڈبھاگ لہے ۔ بلند قسمت سے ملتی ہے ۔ نرمل۔ پاک ۔ جس ۔ صفت صلاح۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض کروڑوں کوشش ہیں۔ سادہو کی صحبت و قربت میں الہٰی حمدؤچناہ اس سے فرشتہ موت کے ملازم ڈرنے لگتے ہیں (1) رہاؤ۔ خدا کا دلمیں بسنانا ہی گناہوں جو پہلے کر چکے ہو ۔ سمجھو اسکا پچھتاوا کرنے کا عمل ہے ۔ اس سے تناسخ مٹ جاتا ہے ۔ وہم وگمان اور خوف دور ہوجات اہے اور دیرنہ کئے ہو گناہ عافو ہوجاتے ہیں (1) بیکوفی سے خدا کو یاد کرنا اسیی نعمت بلند قسمت سے دستیاب ہوتی ہے ۔ اے خدا مکمل طور پر کرم و عنایت کر تکاہ خادم نانک پاک بنانے والی حمدوثناہ کرے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
سُلہیِ تے نارائِنھ راکھُ ॥
سُلہیِ کا ہاتھُ کہیِ ن پہُچےَ سُلہیِ ہوءِ موُیا ناپاکُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کاڈھِ کُٹھارُ کھسمِ سِرُ کاٹِیا کھِن مہِ ہوءِ گئِیا ہےَ کھاکُ ॥
منّدا چِتۄت چِتۄت پچِیا جِنِ رچِیا تِنِ دیِنا دھاکُ ॥੧॥
پُت٘ر میِت دھنُ کِچھوُ ن رہِئو سُ چھوڈِ گئِیا سبھ بھائیِ ساکُ ॥
کہُ نانک تِسُ پ٘ربھ بلِہاریِ جِنِ جن کا کیِنو پوُرن ۄاکُ ॥੨॥੧੮॥੧੦੪॥
لفظی معنی:
نارائن۔ کدا۔ رکاھ ۔ بچائیا۔ ناپاک۔ ملعون ۔ (1) رہاؤ۔ کٹھار۔ کلہاڑآ۔ خصم۔ خاوند۔ خدا ۔ خاک ۔ مٹی ۔ مندا چتوت ۔ برا سوچتے ۔ سونے ۔ پچیا۔ جل گیا مرگیا۔ جن رچیا۔ جس نے پیدا کیا ۔ تن دینا دھاک ۔ دھکا درکاریا (1) میٹ ۔ دوست۔ دھن۔ سرمیاہ۔ کچھو نہ رہیاوس۔ اسکا کچھ بھی نہ بچا۔ سکا ۔ رشتہ دار۔ داک ۔ ارداس۔ عرض ۔ گزارش۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا صلحی سے بچا۔ صلحی کوکہیں رسائی نہ ہو صلحی ناپاک ہوکر فوت ہوا (1) رہاؤ۔ خدانے موت کے کلہاڑے سے اسکا سر کات دیا اورپل بھر می ں رکاھ کا ڈھیر ہوگیا ۔ دوسروں کی برائی سوچتے سوچتے جل گیا ۔ جس خدا نے اسے پیدا کیا تھ اسی نے ہی اسے دھکارا (1) فرزند دوس تسرمایہ (اسکا) سبکچھ چھوڈ کر بھائی اور رشتہ دار چھوڑ کر چلا گیا ۔ اے نانک بتادے کہ اس خدا پر قربان ہوں جس نے اپنے خدمتگار کی فریاد سنی ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
پوُرے گُر کیِ پوُریِ سیۄ ॥
آپے آپِ ۄرتےَ سُیامیِ کارجُ راسِ کیِیا گُردیۄ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آدِ مدھِ پ٘ربھُ انّتِ سُیامیِ اپنا تھاٹُ بنائِئو آپِ ॥
اپنے سیۄک کیِ آپے راکھےَ پ٘ربھ میرے کو ۄڈ پرتاپُ ॥੧॥
پارب٘رہم پرمیسُر ستِگُر ۄسِ کیِن٘ہ٘ہے جِنِ سگلے جنّت ॥
چرن کمل نانک سرنھائیِ رام نام جپِ نِرمل منّت ॥੨॥੧੯॥੧੦੫॥
لفظی معنی:
پورے گر ۔ کامل مرشد۔ پوری سیو۔ کامل خدمت۔ کارج ۔ کام ۔ راس۔ درست۔ رہاؤ۔ آد۔ آغاز ۔ مدھ ۔ درمیان ۔ انت ۔ آخیر۔ سوامی ۔مالک۔ تھاٹ۔ ٹھکٹھکا۔ پیدائش ۔ علام ۔ ودپررتاپ۔ بھاری قوت۔ پار بہرم ۔ پارلگانے والا ۔ جنت۔ مخلوق۔ نرمل منت ۔ پاک منتر۔
ترجمہ معہ تشریح:
کام ل مرشدکی خدمت سے کامیابی حاصل ہوتی ہے ہر کام میں۔ اور خدا خود اس میں بستا ہے (1) رہاؤ۔ آغاز ۔ درمیانی عرصے اور بوقت آخرت خدانے خود رچنا بنائی ہے ۔ اپنے خدمتگارکی خود حفاظت کرتا ہے بھاری قوت والا ہے اے نانک جسنے ساری مخلوقات کی ہے قابو کامیابی عنای کرنے والے خدانے اسکے تابع رہنا چاہیئے ۔ الہٰی نام اور پاک کلام کی یاد وریاض سے زندگی پاک ہوجاتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
تاپ پاپ تے راکھے آپ ॥
سیِتل بھۓ گُر چرنیِ لاگے رام نام ہِردے مہِ جاپ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرِ کِرپا ہست پ٘ربھِ دیِنے جگت اُدھار نۄ کھنّڈ پ٘رتاپ ॥
دُکھ بِنسے سُکھ اند پ٘رۄیسا ت٘رِسن بُجھیِ من تن سچُ دھ٘راپ ॥੧॥
اناتھ کو ناتھُ سرنھِ سمرتھا سگل س٘رِسٹِ کو مائیِ باپُ ॥
بھگتِ ۄچھل بھےَ بھنّجن سُیامیِ گُنھ گاۄت نانک آلاپ ॥੨॥੨੦॥੧੦੬॥
لفطی معنی:
تاپ۔ کوفت۔ پاپ ۔گناہ۔ سیتل۔ ٹھنڈے (1 رہاؤ۔ ہست۔ ہاتھ ۔ جگت ادھار۔ علام کا سہارا۔ نو کھنڈ۔ نو براعطم پر تاپ۔ بلند عطمت ۔ ونسے ۔ مٹے ۔ پروسا ۔ بسے ۔ ترسن۔ پیاس۔ من تن ۔ دل وجان۔ سچ دھراپ ۔ الہٰی نام سے سیر ہوا۔ اناتھ ۔ بے مالک۔ ناتھ ۔ مالک۔ سرن سمرتھا۔ پناہ کی توفیق رکنے والا۔ سگل سر سٹ ۔ سارے الم ۔ بھگت وچھل۔ عبادت سے پیار کرنے والا ۔ بھے بھنجن ۔ خوف دور کرنے والا۔ آلاپ ۔ گاو۔
ترجمہ معہ تشریح:
ان کے دل و ذہن ٹھنڈے ہوجاتے ہیں جو زیر سایہ مرشد رہتے ہیں اور الہٰی نام اپنے دل میں بساتے اور جپتے ہیں۔۔ خوو خدا انہیں کوفت اور گناہوں سے بچاتا ہے (1) رہاؤ۔ خدا اپنی رحمت کا ہاتھ سر پر رکھتا ہے جس کی عطمت و حشمت دنیاکے نو براعظموں میں روشن ہے جو سارے عالم کو بچانے وال ہے اس سے عذابمٹتا ہے دلمیں ارام و آسائش بسیت ہے اور الہٰینام کی یادوریاض سے خواہشات مٹ جاتی ہیں ۔ دل سیر ہوجتا ہے (1) اے نانک۔ خدا بے مالکوں کا مالک ہے ۔ پناہ لینے والون کو پناہ دینے کی توفیق رکھتا ہے ۔ اور سارے عالم کا ماتا پتا ہے الہٰی عبادت و عابد سے پیار کرنے والا۔ ہے خوف مٹانے والا ( اسکے ) اس کی حمدوثناہ اور صفت صلاح کیا کرؤ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جِس تے اُپجِیا تِسہِ پچھانُ ॥
پارب٘رہمُ پرمیسرُ دھِیائِیا کُسل کھیم ہوۓ کلِیان ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرُ پوُرا بھیٹِئو بڈ بھاگیِ انّترجامیِ سُگھڑُ سُجانُ ॥
ہاتھ دےءِ راکھے کرِ اپنے بڈ سمرتھُ نِمانھِیا کو مانُ ॥੧॥
بھ٘رم بھےَ بِنسِ گۓ کھِن بھیِترِ انّدھکار پ٘رگٹے چانانھُ ॥
ساسِ ساسِ آرادھےَ نانکُ سدا سدا جائیِئےَ کُربانھُ ॥੨॥੨੧॥੧੦੭॥
لفظی معنی:
اپجیا ۔ پیدا ہوا۔ پار بہرم۔ پار لگانے والا۔ پرم ایسور۔ ھاری مالک۔ دھیائیا۔ دھیان دیا۔ توجہ کی ۔ کسل کھیم ۔ خیرو عافیت ۔ کلیان ۔ خوشحالی (1) رہاؤ۔ بھٹیؤ۔ ملاپ کیا۔ وڈبھاگی ۔ بلند قسمت سے ۔ انتر جامی ۔ راز دل جاننے والا۔ سگھر سجان ۔ خوب صورت دانشمند۔ ہاتھ دئے ۔ با امداد ۔ راکھے ۔ بچانا۔ وڈ سمرتھ ۔ بھاری توفیق رکھنے والا۔ نمانیا کو مان۔ بے وقاروں کا وقار۔ بھرم۔ بھٹکن ۔ دوڑ دہوپ۔ دنس گئے ۔ مٹ گئے ۔ کھن بھیتر ۔ تھوڑے سے وقفے میں۔ اندھکار ۔ اندھیرا غبار۔ پرگٹے چانان۔ روشنی ظہور پذیر ہوا۔ آرادے ۔ یاد کرے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان جس سے تو پیدا ہوا ہے اس کی پہچان کر اور شراکت بنا ۔ پار لگانےو الے ( بلند قسمت ) بھاری مالک میں دھیان دیا خیروعافتی اور خوشحالی ہوئی (1) رہاؤ۔ بلند قسمت سے کامل مرشد سے لاپ ہوا ۔ جو دلی راز جاننے والا دانشمند ۔ اور سمجھدار ہے بھاری قوت کا مالک ہے اس میں بھاری توفیق ہے اور ناتوانوں بے وقاروں کو وقار اور عزت وحشمت دیتا ہے (1) جو یاد خدا کو کرتا ہے اس کے پل بھر میں خوف و بھٹکن مٹ جاتی ہے ۔ اےنانک جو ہر لمحہ ہر سانس یاد خدا کو کرتا ہے اس پر ہمیشہ قربان ہوجانا چاہیے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
دوۄےَ تھاۄ رکھے گُر سوُرے ॥
ہلت پلت پارب٘رہمِ سۄارے کارج ہوۓ سگلے پوُرے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپت سُکھ سہجے مجنُ ہوۄت سادھوُ دھوُرے ॥
آۄنھ جانھ رہے تھِتِ پائیِ جنم مرنھ کے مِٹے بِسوُرے ॥੧॥
بھ٘رم بھےَ ترے چھُٹے بھےَ جم کے گھٹِ گھٹِ ایکُ رہِیا بھرپوُرے ॥
نانک سرنھِ پرِئو دُکھ بھنّجن انّترِ باہرِ پیکھِ ہجوُرے ॥੨॥੨੨॥੧੦੮॥
لفظی معنی :
دووے تھاؤ۔ مراد ہر دو عالموں میں۔ رکھے ۔ بچاتا ہے ۔ گر سورے ۔ مرشد سورما۔ بہادر ۔ حلت پلت۔ اس جہان میں۔ اکلے جہا ن میں۔ کارج ۔ کام ۔ سگلے ۔سارے ۔ پورے ۔ مکمل (1) رہاؤ۔ ہر ہر نام ۔ الہٰی نام ۔ سچ وحقیقت ۔ جپت۔ یادوریاض ۔ سکھ ۔ سہجے ۔ روحانی یا ذہنی سکون ۔ مجن۔ غسل۔ سادہو۔ جس نے طرز زندگی سنوارلی ۔ دہورے ۔ خاک پا ۔ آون جان ۔ تناسک۔ تھت ۔ ٹکاؤ۔ وسورے ۔ فکر مندی (1) بھرم بھے ۔ وہموگمان و خوت۔ جم۔ موت۔ گھٹ گھٹ۔ ہر دلمیں۔ ایک ۔ واحد۔ رہیا بھر پورے ۔ مکمل ہے ۔ دکھ بھنجن۔ عذاب مٹانے والا ۔ پیکھ حضورے ۔حاضر ناظر دیکھ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
سور مابہادر مرشد دونوں جہانوں میں بچاتا ہے ( مراد زندگی کی غفلت اور برائیوں سے ) اس علام اور عاقبت کو خدا سنوارتا درست کرتا ہے سارے کام پورے ہوتے ہیں (1) رہاؤ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کی یاد وریاض سےد ل خوش ہوتا ہے روحانیس کون رہتا ہے اور پاکدامن سادہوں کے پاوں کی دہول کا غسل حاصلہوتا ہے ۔ مراسد صحبت و قربت کا فیض حاصل ہوتا ہے تناسخ مٹ جاتا ہے موت و پیدائش کی فکر مندری ختم ہوجاتی ہے (1) اے انک۔ وہم وگمان اور خوف سے نجات ملتی ہے خدا اسے ہر دلمیں بستا دکھائی دینے لگتا ہے وہ سب کے عذاب مٹانے والے کے زیر سیاہ رہتا ہےا ورخدا کو ہر جگہ حاضر ناطر جانتا اور سمجھتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
درسنُ دیکھت دوکھ نسے ॥
کبہُ ن ہوۄہُ د٘رِسٹِ اگوچر جیِء کےَ سنّگِ بسے ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘ریِتم پ٘ران ادھار سُیامیِ ॥
پوُرِ رہے پ٘ربھ انّترجامیِ ॥੧॥
کِیا گُنھ تیرے سارِ سم٘ہ٘ہاریِ ॥
ساسِ ساسِ پ٘ربھ تُجھہِ چِتاریِ ॥੨॥
کِرپا نِدھِ پ٘ربھ دیِن دئِیالا ॥
جیِء جنّت کیِ کرہُ پ٘رتِپالا ॥੩॥
آٹھ پہر تیرا نامُ جنُ جاپے ॥
نانک پ٘ریِتِ لائیِ پ٘ربھِ آپے ॥੪॥੨੩॥੧੦੯॥
لفظی معنی:
درسن۔ دیدار ۔ دوکھ ۔ عیب ۔ برائیاں۔ نسے ۔ دور ہوجاتے ہیں۔ کہو ۔ کبھی ۔ درسٹ ۔ نگاہ۔ نظریہ۔ گوچر۔ رسائی سے باہر ۔ جیئہ کے سنگ۔ زندگی کے ساتھ (1)ر ہاو۔ پریتم ۔ پیار۔ پران ادھار۔ زندگی کا آسرا۔ انتر جامی ۔ دل کے را ز جاننے والا (1) سار۔ یاد کرکے ۔ سہاری ۔ سنبھالوں ۔ مراد دلمیں بساؤں۔ چتاری ۔ دلمیں لاتا ہوں (2) کر پاندھ ۔ مرہبانیوں کا خزانہ ۔ دین دیالا۔ غریبؤں پر مہربان ۔ غریب پرور۔ رحما ن الرحیم (3) پریت ۔ محبت۔ آپے ۔ از خود۔ خود بخود۔
ترجمہ معہ تشریح:
دیدار سے تمام برائیاںمٹ جاتی ہیں۔ تو کبھی نظروں سے نہ ہوئے اوجھل ہمیشہ زندگی میں ساتھ رہے اے خدا (1) رہاو۔ اے پیارے زندگی کے سہارے میرے مالک ۔ راز دل جاننے والے سب میں بس رہے ہو (1) میں کون کونسے اوصاف یاد کروں اور دل بساؤں میں ہر لمحہ ہر سانس یاد رکرتا ہوں تجھے (2) اے مہربانیوں کے خزانے غریب پرور رحام الرحیم ساری مخلوقات کی پرورش کرتے ہو (3) اے خدا ہر تیرے نام سچ وحقیقت دلمیں بساتا ہوں اور یاد وریاض کرتا ہوں۔ اے نانک۔ خدا نے خود ہی یہ پیار ا بنائیا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
تنُ دھنُ جوبنُ چلت گئِیا ॥
رام نام کا بھجنُ ن کیِنو کرت بِکار نِسِ بھورُ بھئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
انِک پ٘رکار بھوجن نِت کھاتے مُکھ دنّتا گھسِ کھیِن کھئِیا ॥
میریِ میریِ کرِ کرِ موُٹھءُ پاپ کرت نہ پریِ دئِیا ॥੧॥
مہا بِکار گھور دُکھ ساگر تِسُ مہِ پ٘رانھیِ گلتُ پئِیا ॥
سرنِ پرے نانک سُیامیِ کیِ باہ پکرِ پ٘ربھِ کاڈھِ لئِیا ॥੨॥੨੪॥੧੧੦॥
لفظی معنی:
تن۔ جسم۔ دھن۔ سرمایہ ۔ جوبن۔ جوانی ۔ چلت گیا ۔ ختم ہوئے ۔ رام نام کا بھجن۔ الہٰی عبادت۔ کرت بکار۔ برائیاں کرتے کرتے ۔ نس بھور ۔ بھئیا ۔ رات گر گئی سویر ہوگیا۔ مراد بدیوں میں عمر گذر گئی (1) رہاؤ۔ انک پرکار بھوجن ۔ بیشمار قسم کے کھانے ۔ مکھ و نتاگھس کھین گھئیا۔ میری میری کر کر مو ٹھؤ پاپ کرت نہیں پری وئیا۔ منہ اور دانت گھس گھس کر ختم ہوگئے ۔ میری میری کرکے لوٹے گئے (1) مہا بکار۔ بھاری برائیاں۔ گور ۔ دکھ ۔ بھاری عذاب۔ ساگر۔ سمندر۔ پرانی گللت پییا۔ غرقاب ہوا۔ سرن پرے سوامی کی ۔ خدا کے پناہگیر بنے ۔ بانیہ پکر پربھ کا ڈھلئیا ۔ مراد بچایا۔
ترجمہ معہ تشریح:
جسم ۔ سرامیہ ۔ جوانی ختم ہوجاتے یہں۔ الہٰی نام کی یادوریاض سچ وحقیقت پر عمل اور دلمیں نہیں بساتا برائیاںا ور گناہ گاریاں کرتے کرتے رات سے صبح ہوگئی کالے بالوں سے سفید ہوگئے (1) فہاؤ۔ بیشمار قسم کے کھاے کھاتے کھاتے منہ اور دانت گھس گھس کر ختم ہوگئے ۔ میری اور ممتا کی گرفت میں پھنس کر روحانی اور اخلاقی زندگی کا سرمایہ لٹالیا۔ برے کام کرتے وقت انسان کے دلمیں رحمدلی ختم ہو جاتی ہے (1) انسان بھاری برائیوں اور بھاری عذابوں کے اس علام کے سمندر میں غرقات ہو رہا ہے ۔ اے نانک جو خدا کی پناہ لے لیتے ہیں خدا انہیں بازو سے پکڑ کر اس سمند رمیں غرقبان ہونے سے بچا لیتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
آپنا پ٘ربھُ آئِیا چیِتِ ॥
دُسمن دُسٹ رہے جھکھ مارت کُسلُ بھئِیا میرے بھائیِ میِت ॥੧॥ رہاءُ ॥
گئیِ بِیادھِ اُپادھِ سبھ ناسیِ انّگیِکارُ کیِئو کرتارِ ॥
ساںتِ سوُکھ ارُ اند گھنیرے پ٘ریِتم نامُ رِدےَ اُر ہارِ ॥੧॥
جیِءُ پِنّڈُ دھنُ راسِ پ٘ربھ تیریِ توُنّ سمرتھُ سُیامیِ میرا ॥
داس اپُنے کءُ راکھنہارا نانک داس سدا ہےَ چیرا ॥੨॥੨੫॥੧੧੧॥
لفظی معنی:
چیت۔ دلمیں بسا۔ دسٹ۔ برے آدیم ۔ جھکھ ۔ بکواس۔ فضول باتیں کسل بھئیا۔ خوشحالی ہوئی (1) بیادھ ۔ جسمانی تکلف۔ اپادھ ۔ فریب۔ دہوکا۔ انگیکار ۔ طرفداری ۔ امداد۔ سانت ۔س کون۔ اندگھنیرے ۔ بھاری خوشی پریتم ۔ پیار۔ نام۔ الہٰی نام۔ سچ وحقیقت۔ روے ۔ ذہن۔ ار۔ میں۔ ہار۔ بسا (1) جیؤ ۔ روح۔ زندگی ۔ پنڈ ۔ جسم۔ دسن۔ سرمایہ۔ راس۔ پونجی ۔ سمرتھ ۔ باتوفیق ۔ لائق ۔ راکھنہار۔ بچانے والا۔ محافط۔ داس۔ غلام۔ خدمتگار۔ ۔ چیر ۔ مرید۔
ترجمہ معہ تشریح:

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
گوبِدُ سِمرِ ہویا کلِیانھُ ॥
مِٹیِ اُپادھِ بھئِیا سُکھُ ساچا انّترجامیِ سِمرِیا جانھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِس کے جیِء تِنِ کیِۓ سُکھالے بھگت جنا کءُ ساچا تانھُ ॥
داس اپُنے کیِ آپے راکھیِ بھےَ بھنّجن اوُپرِ کرتے مانھُ ॥੧॥
بھئیِ مِت٘رائیِ مِٹیِ بُرائیِ د٘رُسٹ دوُت ہرِ کاڈھے چھانھِ ॥
سوُکھ سہج آننّد گھنیرے نانک جیِۄےَ ہرِ گُنھہ ۄکھانھِ ॥੨॥੨੬॥੧੧੨॥
لفظی معنی:
گوبند۔ خدا ۔ کلیان ۔ خوشی حاصل ہوئی ۔ اپادھ ۔ فریب کاری ۔ دہوکا بازی ۔ انتر جامی ۔ دلی راز جاننے والے ۔ جان ۔ جو جانتا ہے (1) رہاؤ۔ جیئہ ۔ روح ۔ زندگی ۔ تان۔ طاقت۔ زور۔ راکھی ۔ حفاظت ۔ بھے ۔ خوف۔ بھنجن۔ دور کرنے والا۔ مان ۔ فخر۔ بھروسا۔ (1) بھئی مترائی ۔ دوستی وہئی۔ دسٹ ۔ بدکار ۔ برا چاہنے ولاے ۔ دوقت۔ دوشمن۔ چھان۔ چن کے ۔ سہج ۔ روحانی سکون۔ آنند گھنیرے ۔ بھاری خوشیاں۔ جیوئے ۔ زندہ ہے ۔ گنیہہ وکھان۔ اوصاف بیان کرکے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
یاد خدا سے ملی خوشحالی ۔ مٹی فریب کاری اور وہوکا بازی سچا سکھ ہوا جب راز دل جاننے والے کا نام سچ وحقیقت یاد کیا (1) رہاؤ۔ جس کی یہ مخلوقات ہے وہی انہیں سکھ بھی پہنچانے والا ہے ۔ عابدوںا ور الہٰی پریمیوں کے لئے سچا سہارا ہے ۔ خدا اپنے خادموں کا ہے خود ہی محافظ اور خوف مٹاتا ہے عابد اور پریمی اس پر ناز و فخر بھی کرتے ہیں اور بھروسا اس پر کرتے ہیں (1) دشمنوں اور بدکاروں کی پہچان ہے کرتا برائی مٹا کے ۔ ان کی دوست بناتا ہے ۔ اے نانک۔ روحانی سکون اور بھاری خوشیاں الہٰی حمدوچناہ کرنے سے ملتی ہے اور زندگی روحانی واخلاقی نیک ہوجاتی ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
پارب٘رہم پ٘ربھ بھۓ ک٘رِپال ॥
کارج سگل سۄارے ستِگُر جپِ جپِ سادھوُ بھۓ نِہال ॥੧॥ رہاءُ ॥
انّگیِکارُ کیِیا پ٘ربھِ اپنےَ دوکھیِ سگلے بھۓ رۄال ॥
کنّٹھِ لاءِ راکھے جن اپنے اُدھرِ لیِۓ لاءِ اپنےَ پال ॥੧॥
سہیِ سلامتِ مِلِ گھرِ آۓ نِنّدک کے مُکھ ہوۓ کال ॥
کہُ نانک میرا ستِگُرُ پوُرا گُر پ٘رسادِ پ٘ربھ بھۓ نِہال ॥੨॥੨੭॥੧੧੩॥
لفظی معنی:
پار برہم پربھ ۔ کامیابی عنایت کرنے والا خدا۔ کرپال۔ مہربان۔ کارج سگلے ۔ سارے کام۔ سوارے ۔ درست کئے ۔ نہال۔ خوش (1) رہاؤ۔ انگہکار۔ طرف داری ۔ دوکھی ۔ دشمن۔ روال۔ دہول۔ کنٹھ ۔ گلے ۔ پال پلے ۔ دامن (1) صحیح سلامت۔ درست حالت میں۔ نندک ۔ بدگوئی کرنے والا۔ کال۔ کالے ۔ گر پرساد۔ رحمت مرشد ۔ نہال۔ خوش۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب مہربان ہوتا ہے خدا تو کام سارے سنور جاتے ہیں سچے مرشد کی یاد وریاض پاکدامن ( سادہوں ) خوشیاں پاتے ہیں (1) رہاؤ۔ امدادی ہو جب آپ خدا دشمن مٹی میں ملجااتے ہیں۔ گلے لگا کر رکھتا ہے خادم اپنے کو آپنا دامن دیکر اس کو بچاتا ہے ۔ درستی اور سلامتیسے اپنےد لمیں بسستے ہیں۔ جبکہ بدگوئی اور برائی کرنے والے رخ سیاہ ہوجاتے ہیں۔ اے نانک بتادے ۔ کہ کامل ہے مرشد میرا رحمت سے مرشد کے اپنے خوشی مناتا ہوں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
موُ لالن سِءُ پ٘ریِتِ بنیِ ॥ رہاءُ ॥
توریِ ن توُٹےَ چھوریِ ن چھوُٹےَ ایَسیِ مادھو کھِنّچ تنیِ ॥੧॥
دِنسُ ریَنِ من ماہِ بستُ ہےَ توُ کرِ کِرپا پ٘ربھ اپنیِ ॥੨॥
بلِ بلِ جاءُ سِیام سُنّدر کءُ اکتھ کتھا جا کیِ بات سُنیِ ॥੩॥
جن نانک داسنِ داسُ کہیِئت ہےَ موہِ کرہُ ک٘رِپا ٹھاکُر اپُنیِ ॥੪॥੨੮॥੧੧੪॥
لفظی معنی:
مو۔ میری ۔ لالن ۔ خدا ۔ پریت۔ پیار (1)ر ہاؤ۔ توری ۔ توڑنے سے ۔ چھوری ۔ چھوڑنے سے ۔ مادہو ۔ خدا نے کھنچ تنی ۔ کھنچ کر باندھی ہے (1) دنس رین ۔ روز و شب ۔ دن رات۔ من ماہے ۔ دلمیں۔ کرپا ۔ مہربانی (2) سیام سندر۔ کالے کرش مراد خدا۔ اکتھ گھتا ۔ ناقابل باین کہانی (3) داسن داس ۔ غلاموں کا غلام ۔ ٹھاکر۔ آقا۔ مالک ۔ خدا۔
ترجمہ معہ تشریح:
میری محبت خدا سے ہوگئی ہے ۔ رہاؤ۔ جس کے رسی ایسی کھنچ کہ بنادھ دی ہے جو توڑ نے سے چھوٹتی بھی نہیں (1) اے خدا کرم وعنایت فرمان جو پیارے میرے دلمیں بس گیا اس طرح بسارے ہے (2) صدقے جاؤں قربان جاوں پیارے خدا پر جس کی بابت سنا ہے کہ اس کی کہانی بیان نہیں ہو سکتی (3) خادم نانک جو غلاموں کا غلام ہے گذارش کرتا ہے ۔ اے میرے مالک اپنی کرم وعنایت فرما مجھ پر ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ہرِ کے چرن جپِ جاںءُ کُربانُ ॥
گُرُ میرا پارب٘رہم پرمیسُرُ تا کا ہِردےَ دھرِ من دھِیانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِمرِ سِمرِ سِمرِ سُکھداتا جا کا کیِیا سگل جہانُ ॥
رسنا رۄہُ ایکُ نارائِنھُ ساچیِ درگہ پاۄہُ مانُ ॥੧॥
سادھوُ سنّگُ پراپتِ جا کءُ تِن ہیِ پائِیا ایہُ نِدھانُ ॥
گاۄءُ گُنھ کیِرتنُ نِت سُیامیِ کرِ کِرپا نانک دیِجےَ دانُ ॥੨॥੨੯॥੧੧੫॥
لفظی معنی:
رسنا۔ زبان۔ رد ہو ایک نارائن۔ واحد خدا کی ریاض کرؤ۔ ساچی درگیہہ۔ سچی عدالت الہٰی ۔ مان۔ وقار۔ عزت (1) سادہو سنگ ۔ صحبت پاکدامن۔ ندھان۔ خزانہ ۔ کیرتن ۔ صفت صلاح ۔ دان ۔ خیرات۔ بھیک۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا دلمیں بسا کر قربان ہوں اس پر اے دل اسکا پانے ذہن میں دھیان کر (1) رہاؤ۔ جس نے سارے عالم کو پیدا کیا ہے اسے یاد کر ۔ ۔ واحد خدا کی زبان سے حمدوچناہ کرنے سے بارگا الہٰی میں وقار اور عزت افزائی ہوتی ہے (1) جس نے سحبت قربت حاصل ہو پاکدامن سادہو کی وہی اس خزانے کو پاتا ہے ۔ اے خدا نانک کو یہ خیرات کر اپنی کرم وعنایت سے کر ہر روز تیری صفت صلاح کرتا رہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
راکھِ لیِۓ ستِگُر کیِ سرنھ ॥
جےَ جےَ کارُ ہویا جگ انّترِ پارب٘رہمُ میرو تارنھ ترنھ ॥੧॥ رہاءُ ॥
بِس٘ۄنّبھر پوُرن سُکھداتا سگل سمگ٘ریِ پوکھنھ بھرنھ ॥
تھان تھننّترِ سرب نِرنّترِ بلِ بلِ جاںئیِ ہرِ کے چرنھ ॥੧॥
جیِء جُگتِ ۄسِ میرے سُیامیِ سرب سِدھِ تُم کارنھ کرنھ ॥
آدِ جُگادِ پ٘ربھُ رکھدا آئِیا ہرِ سِمرت نانک نہیِ ڈرنھ ॥੨॥੩੦॥੧੧੬॥
لفظی معنی:
راکھ ۔ حفاظت ۔ بچاؤ۔ سرن ۔ پناہ۔ بے جیکار۔ شہرت ۔ تارن ترن۔ تیرنے کے لئے ایک آلہ ۔ جہاز یا کشتی (1) رہاؤ۔ بشنبھر ۔ ۔ سارےع لام۔ وشو۔ پورن سکھداتا۔ سکھ دینے والا۔ سگل سمگری ۔ پوری قائنات ۔ پوکھن بھرن۔ پرورش ۔ تھان ۔ تھنتر۔ ہر جگہ ۔ سرب نتنتر۔ سب کے اندر (1) آد۔ آغاز۔ شروع۔ جگاد۔ اس کے بعد کے زمانے میں ۔ ہر سمرت ۔ الہٰی یاد ۔ ڈرن ۔ خوف۔
ترجمہ معہ تشریح:
مجھے سچے مرشد کی زیر پناہ بچاییئے ۔ سارے عالم میں شہرت پاتے ہیں خدا زندیگ کے لئے جہاز یا کشتی ہے جو زندگی کے سمندر کو عبور کراتا ہے (1) رہاؤ۔ خدا سارےع الم کی پرورش کرتا ہے ہرجائی سب کے اندر بستا ہے ۔ ساری قائنات کا مالک ہے ساری قائنات قدرت انسانوں کے پرورش کے لئے ہے قربان ہوں اس خدا پر (1) اے خڈا تو تمام قوتوں کا مالک ہے اور تمام جادناروں کا نظام اور طرز زندگی تیرے زیر اختیارات ہے تو ہی سارےع الم کو پیدا کرنے والا ہے آغاز علام سےا ور مابعد تو ہی حفاظت کرتا آرہا ہے ۔ اے نانک یاد کرنے سے کوئی نہیں رہتا۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ دُپدے گھرُ ੮
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
مےَ ناہیِ پ٘ربھ سبھُ کِچھُ تیرا ॥
ایِگھےَ نِرگُن اوُگھےَ سرگُن کیل کرت بِچِ سُیامیِ میرا ॥੧॥ رہاءُ ॥
نگر مہِ آپِ باہرِ پھُنِ آپن پ٘ربھ میرے کو سگل بسیرا ॥
آپے ہیِ راجنُ آپے ہیِ رائِیا کہ کہ ٹھاکُرُ کہ کہ چیرا ॥੧॥
کا کءُ دُراءُ کا سِءُ بلبنّچا جہ جہ پیکھءُ تہ تہ نیرا ॥
سادھ موُرتِ گُرُ بھیٹِئو نانک مِلِ ساگر بوُنّد نہیِ ان ہیرا ॥੨॥੧॥੧੧੭॥
لفظی معنی:
ایگھے ۔ ایک جگہ ۔ نرگن۔ دنیاوی دولت کے تینوں اوصاف سے بیلاگ بے واسطہ۔ اوگھے ۔ دوسری جگہ ۔ سرگن۔ دنیاوی دولت میں محو۔ کیل۔ کھیل۔ (1) رہاؤ۔ نگر۔ جسم ۔ جسے شہر سے تشبیح دی گئی ہے ۔ فن۔ بھی ۔ سگل بیسر۔ سب میں بستا ہے ۔ راجن۔ ۔حکمران ۔ رائیا۔ رعایا۔ رعیت ۔ کہہ۔ کہیں۔ ٹھاکر ۔ مالک ۔ گہہ گہہ چیر۔ خادم (1) کا کؤ۔ دراؤ۔ دوری ۔ چھپاؤ۔ بلنچا۔ فریب۔ دہوکا۔ پیکھو۔ دیکھتے ہو۔ نیر۔ نزدیکی ۔ سادھ مورت۔ پاکدامن ہسیت ۔ گر۔ مرشد۔ بھٹیو۔ ملیا۔ مل ساگر۔بوند۔ ساگر میں بوند ملنےسے ۔ ان ہیر۔ خدا دکھائی نہی دیتی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا میرا اس عالم میں کچھ بھی نہیں ہے جو کبھ بھی ہے تیرا ہی عنایت کیا ہوا ہے ایک طرف دنایوی دولت تینوں اوصاف سے بلند و بالا ہے دوسری طرف تیونں اوصاف میں مضمر ہے ۔ ان دونوں حالتوں میں میرا مالک یہ دنیاوی کھیل بنائیا ہوا ہے (1) رہاؤ۔ جسم میں بھی ہے خود ہی اور باہر بھی آپ سب میں ہے اسی کا ( نواس) سب میں بستا ہے خدا آپ ۔ خود ہی حکمران ہے خود ہی ہے رعبت کہیں ہے ۔ آقا کہیں غلام ہے (1) لوکس سے چھپائیں کس سے فریب کریں جدھر جاتی ہے نظر تو نزدیک اور ساتھ ہوتا ہے ۔ اے نانک۔ جسے پاکدامن پاک ہستی مرشد سے ملاپ ہوجائے ۔ سمند ر میں بوند ملجانے اسے اسے علیحدہ دیکھا نہیں جا سکتا۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
تُم٘ہ٘ہ سمرتھا کارن کرن ॥
ڈھاکن ڈھاکِ گوبِد گُر میرے موہِ اپرادھیِ سرن چرن ॥੧॥ رہاءُ ॥
جو جو کیِنو سو تُم٘ہ٘ہ جانِئو پیکھِئو ٹھئُر ناہیِ کچھُ ڈھیِٹھ مُکرن ॥
بڈ پرتاپُ سُنِئو پ٘ربھ تُم٘ہ٘ہرو کوٹِ اگھا تیرو نام ہرن ॥੧॥
ہمرو سہاءُ سدا سد بھوُلن تُم٘ہ٘ہرو بِردُ پتِت اُدھرن ॥
کرُنھا مےَ کِرپال ک٘رِپا نِدھِ جیِۄن پد نانک ہرِ درسن ॥੨॥੨॥੧੧੮॥
لفظی معنی:
سمرتھا۔ توفیق رکھتے ہو۔ کارن کرن۔ سبب بنانے کی ۔ ڈھاکن ۔ پردہ ۔ راز۔ ڈھاک۔ پردہ ڈال۔ اپرادھی ۔ گناہگار ۔ (1) رہاؤ۔ ۔ جانیو۔ جانتے ہو۔ پیکھ ۔ دیکھتے ہو ۔ ٹھور۔ ٹھکانہ ۔ ڈھیٹھ ۔ بے حیا۔ مرن۔ انکاری ۔ وڈ پر تاپ ۔ بلند عظمت ۔ کوٹ اگھا ۔ کروڑو گناہ۔ تیرا نام۔ الہٰی نام سچ وحقیقت ۔ ہرن ۔ مٹانے والا۔ سہاؤ۔ عادت ۔ بھولن ۔ گمراہی ۔ غرور ۔ بردھ ۔ تیری عادت۔ بتیت ۔ دھرن۔ بد اخلاقوں ناپاکوں بد چلنو کا بچانا راہ راست پر لانا ۔ گرنامے ۔ رحمدل ۔ کرپال۔ مہربان ۔ کرباندھ ۔ مہربانیوں کے خزانے ۔ رحمان الرحیم ۔ جیون پد۔ زندگی کا رتبہ۔ پردرسن ۔ دیدار الہٰی۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خاا تو ہر طرح کے سبب بنانے کی توفیق رکھتا ہے میں گناہگار نے تیری پناہ لی ہے میرے عیبوں کو چھپا (1) رہاؤ۔ اے خدا جو کچھ میں کرتا ہوں تو جانتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے (1) مجھ ) میں بے جیا اس سے منکر بھی نہیں ہو سکتا میں نے سنا ہے کہ اے خدا تو بھاری طاقتوں کا مالک ہے اور تیرا نام سچ وحقیقت کروڑوں گناہوں کو دور کرسکتا ہے ۔ مٹا سکتا ہے (1) اے خدا انسان ہمیشہ بھول کرتا ہے گمراہ ہوتا ہے یہ اس کی عادت ہے جبکہ تیری قدیمی عادت ہے تو بدکاریوں کو بدیوں سے بچاتا ہے۔ تو رحمان الرحیم ہے رحمدل ہے اےمہربانیوں کے خزانے اننک کو اپنا ددیار عنایت کر جو زندگی کا روحانی واخلاقی بلند رتبہ بخشتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ایَسیِ کِرپا موہِ کرہُ ॥
سنّتہ چرنھ ہمارو ماتھا نیَن درسُ تنِ دھوُرِ پرہُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر کو سبدُ میرےَ ہیِئرےَ باسےَ ہرِ ناما من سنّگِ دھرہُ ॥
تسکر پنّچ نِۄارہُ ٹھاکُر سگلو بھرما ہومِ جرہُ ॥੧॥
جو تُم٘ہ٘ہ کرہُ سوئیِ بھل مانےَ بھاۄنُ دُبِدھا دوُرِ ٹرہُ ॥
نانک کے پ٘ربھ تُم ہیِ داتے سنّتسنّگِ لے موہِ اُدھرہُ ॥੨॥੩॥੧੧੯॥
لفظی معنی:
سنتیہہ چرن۔ روحانی رہبر سنت کے پاوں ۔ ہمارا ماتھا ۔ ہماری پیشانی ۔ نین آنکھیں۔ درس ۔ دیدار۔ تن ۔جسم۔ دہور پر ہو۔ پاوں کی دہول لپڑے ۔ رہاؤ۔ گر کا سبد۔ کلام مرشد۔ ہیرے باسے ۔ دلمیں بسے ۔ ہر ناما ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت ۔ من سنگ دھرہو ۔ دلمیں بسآو۔ تسکر۔ چور۔ پنچ نوار ہو۔ دور کر ہو۔ سگلو بھرما۔ سارے بھرم۔ ہوم جر ہو۔ ہوم میں جلا دو(1) بھل ۔ اچھا۔ بھاون دبد دور ۔ نرہو۔ دوچتی ۔ دورہیر سوچ مٹاؤ۔ سنت سنگ۔ روحانی رہبر کی صحبت ۔ ادھرہو۔ بچاو۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا مجھ پر ایسی کرم وعنایت کیجئےکہ میری پیشانی روحانی رہبر کے پاؤں پر ہو اور آنکھوں میں الہٰی دیدار کا نظارہ اور جسم پر پاؤں کی دہول ہو (1)ر ہاو۔ کلام مرشد دلیمں بسے اور الہٰی نام سچ و حقیقت دلمیں بس جائے ۔ پانچوں خیالات بددور کرکے میری بھٹکن جلاؤ (1) اے خدا جو بھی تو کرتا ہے اسے اچھا سمجھو اور آپس ملکیتی میر تر کی دلمیں چاہ دور کر دو۔ ۔ اے خدا تو ہی نانک کو سب نعمیتں بخشنے وال اہے ۔ لہذا مجھے صحبت روحانی پاکدامن رہبروں کی بخشش کر بچالو۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
ایَسیِ دیِکھِیا جن سِءُ منّگا ॥
تُم٘ہ٘ہرو دھِیانُ تُم٘ہ٘ہارو رنّگا ॥
تُم٘ہ٘ہریِ سیۄا تُم٘ہ٘ہارے انّگا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جن کیِ ٹہل سنّبھاکھنُ جن سِءُ اوُٹھنُ بیَٹھنُ جن کےَ سنّگا ॥
جن چر رج مُکھِ ماتھےَ لاگیِ آسا پوُرن اننّتُ ترنّگا ॥੧॥
جن پارب٘رہم جا کیِ نِرمل مہِما جن کے چرن تیِرتھ کوٹِ گنّگا ॥
جن کیِ دھوُرِ کیِئو مجنُ نانک جنم جنم کے ہرے کلنّگا ॥੨॥੪॥੧੨੦॥
لفظی معنی:
دیکھیا۔ سبق ۔ واعط۔ نصٰحت۔ جن۔ خدمتگار۔ خادم۔ سنگا۔ مانگتا ہوں۔ دھیان ۔ توجہ ۔ رنگا۔ پریم ۔ پیار۔ سیوا۔ خدمت۔ انگا۔ ساتھ (1)ر اہو۔ ٹہل۔ خدمت۔ سنبھاکھن۔ گھنبت وشنید ۔ آپسی بول چال ۔ صلاح مشورہ ۔ اوٹھن بیٹھن۔ ۔ میل چول ۔ سنگا ۔ ساتھ ۔ چرج ۔ پاوں کی دہول۔ مکھ ۔منہ ۔ ماتھے پیشانی ۔ آسا پورن ۔ امیدیں مکمل ۔ انت ترنگا۔ بیشمار لہریں۔ (1) نرمل مہما۔ پاک شہرت و عظمت (1) تیرتھ ۔ زیارت گاہ ۔ کوٹ ۔ کروڑوں ۔ مجن۔ اشنان۔ غسل۔ گنگا ۔ داغ (دھبے )
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا تیرے خدمتاروں سے اسیا سبق ایسا علم مانگتا ہوں کہ تیرے پریم پیار میں میرا دھاین رہے تیرا ساتھ ہو اور تیری خدمت (1) رہاؤ۔ تیرے خدمتگاروں کی خدمت گفت و شنید آپسی بول چال۔ میل جول اور ساتھ ہو ۔ تیرے خدمتگاروں کی پاؤں کی دہول یرے منہ اور پیشانی پر پڑے ۔ جو بیشماری خیالاتی لہروں اور امیدوں کو پورا کرتی ہے (1 اے نانک۔ خادمان خدا کی عظمت و حشمت پاک ہوتی ہے ۔ خدمتگاروں کے پاوں کروڑوں زیارت اور گنگا کے برابر ہیں جس نے الہٰی خدمتگاروں کے پاؤں کےد ہول کا غسل کر لیا اس کے اعمالات دیرینہ داغ اور روحانی واخلاقی دھبے مٹ گئے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ موہِ پ٘رتِپال ॥
پارب٘رہم پرمیسر ستِگُر ہم بارِک تُم٘ہ٘ہ پِتا کِرپال ॥੧॥ رہاءُ ॥
موہِ نِرگُنھ گُنھُ ناہیِ کوئیِ پہُچِ ن ساکءُ تُم٘ہ٘ہریِ گھال ॥
تُمریِ گتِ مِتِ تُم ہیِ جانہُ جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تُمرو مال ॥੧॥
انّترجامیِ پُرکھ سُیامیِ انبولت ہیِ جانہُ ہال ॥
تنُ منُ سیِتلُ ہوءِ ہمارو نانک پ٘ربھ جیِءُ ندرِ نِہال ॥੨॥੫॥੧੨੧॥
لفظی معنی:
چیؤ بھاوے ۔ یسے چاہتا ہے ۔ پرتپال۔ پرورش کر ۔ پار بہرم۔ پار لگانے والا۔ کامیاب کرنےوالا۔ پرم یسور۔ بھاری مالک ۔ ستگر ۔ سچا مرشد۔ بارک ۔ بالک ۔ بچے ۔ پتا کر پال۔ رہبان۔ باپ (1)ر ہاو۔ نرگن۔ بلا وصف ۔ گھال ۔ محنت و مشقت۔ گت مت۔ حالت و اندازہ۔ جانہو ۔ سمجھتے ہو۔ جیؤ۔ روح۔ پنڈ ۔ جسم۔ مال۔ مالکی (1) انتر جامی ۔ دل کے بھید جاننے والا۔ سوآمی ۔ مالک ۔ آقا۔ انبولت ۔ بغیر بولے ۔ بغیر بتائے ۔ سیتل ۔ ٹھنڈا ندر نہال۔ نگاہ شفقت ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا جیسے تو چاہتا ہے اس طڑح پرورش کر ۔ اے آقا۔ کامیاب بنانے والے سچےمرشد خدا ہم تمہارے بچے ہاں اور تو مہربان باپ ہے (1) رہاؤ۔ میں بے وصف ہوں کوئی وصف نہیں میری تیری محنت و مشقت تک رسائی نہیں اے خدا اپنی عظمت و حشمت تو ہی سمجھتا ہے یہ روح اور جسم تیری ہی ملکیت و بخشش ہے (1) اے راز دل جاننے والے آقا بگیر کہےا و بولے ہی تو حالات سے واقف ہے اور جانتا ہے اے نانک۔ اے خدا تیری نظر عیات و شفقت سےد ل وجان سکون شانت اور ٹھنڈک محسوس کرتاہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
راکھُ سدا پ٘ربھ اپنےَ ساتھ ॥
توُ ہمرو پ٘ریِتمُ منموہنُ تُجھ بِنُ جیِۄنُ سگل اکاتھ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رنّک تے راءُ کرت کھِن بھیِترِ پ٘ربھُ میرو اناتھ کو ناتھ ॥
جلت اگنِ مہِ جن آپِ اُدھارے کرِ اپُنے دے راکھے ہاتھ ॥੧॥
سیِتل سُکھُ پائِئو من ت٘رِپتے ہرِ سِمرت س٘رم سگلے لاتھ ॥
نِدھِ نِدھان نانک ہرِ سیۄا اۄر سِیانپ سگل اکاتھ ॥੨॥੬॥੧੨੨॥
لفظی معنی:
راک ۔ بچاو۔ پریتم۔ پیار۔ منموہن۔ دل کو پانی محبت میں لگانے والا۔ حیونا ۔ زندگی ۔ اکاتھ ۔ بیکار (1) رنک ۔ نادار۔ غریب۔ کنگال ۔ راو۔ راجہ ۔ حکمران۔ کھن بھیتر۔ پل بھرمین۔ اناتھ ۔ بے مالک۔ ناتھ ۔ مالک ۔ جلت۔ اگن میہہ۔ جلتی آگ میں۔ جن ۔ خادم۔ ادھارے ۔ بچاتا ہے ۔ دے رکھے ہاتھ۔ پانی امدااد سے بچاتا ہے (1) سیتل ۔ تھنڈک۔ من ترپتے سیر ہوتا ہے ۔ سرم۔ دوڑ دہوپ ۔ لاتھ ۔ مٹ جاتی ہے ۔ ندھ ندھان۔ آرام و اسائش کے سامان کے خزانے ۔ ہر سیوا۔ الہٰی خدمت ۔ سیانپ۔ دانشمندی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا ہمیشہ اپنا ساتھ عنایت کر تو ہمارا پیارا دلربا دل کو کشش کر نے والا تیرے بغیر زندگی ہی بیکار ہے (1)رہاؤ تو ایک پل میں کنگال کو راجا یا بادشاہت بخشنے وال اہے اور بے مالکوں کاملاک ے آگ میں جلتے ہوئے کو خادم بنا کے بچا لیتا ہےا ور اپنے ہاتھ کی امداد سے بچاتا ہے (1) الہٰی یاد سےس کون ملتا ہے دل کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے دل کو تسکین حاصل ہوتی ہے اور الہٰی یاد سے دل کی بھٹکن اور دوڑ دہوپ ختم ہوجاتی ہے ۔ اے نانک۔ الہٰی عبادت و خدمت ہی تمام خزانوں کا خزانہ ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری تمام دانشمندیاں بیکار ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
اپنے سیۄک کءُ کبہُ ن بِسارہُ ॥
اُرِ لاگہُ سُیامیِ پ٘ربھ میرے پوُرب پ٘ریِتِ گوبِنّد بیِچارہُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پتِت پاۄن پ٘ربھ بِردُ تُم٘ہ٘ہارو ہمرے دوکھ رِدےَ مت دھارہُ ॥
جیِۄن پ٘ران ہرِ دھنُ سُکھُ تُم ہیِ ہئُمےَ پٹلُ ک٘رِپا کرِ جارہُ ॥੧॥
جل بِہوُن میِن کت جیِۄن دوُدھ بِنا رہنُ کت بارو ॥
جن نانک پِیاس چرن کملن٘ہ٘ہ کیِ پیکھِ درسُ سُیامیِ سُکھ سارو ॥੨॥੭॥੧੨੩॥
لفظی معنی:
سیوک۔ خدمتگار۔ کہو ۔ کبھی ۔ بسارہو ۔ بھلاؤ۔ ار۔ دل ۔ پورب۔ پہلی۔ پریت۔ پیار (1) رہاؤ۔ پتت پاون ۔ گناہگاروں ۔ ناپا کو کو پاک ۔ بردھ۔ عادت۔ دوکھ ۔ عیب۔ برائیاں۔ روے ۔ دلمیں۔ دھارہو۔ بساؤ ۔ جیون پران ۔ زندگی کی جان۔ہونمے ۔ خودی ۔ پٹل۔ پردہ ۔ جا رہو۔ جلاؤ (1) جل بہو ۔ پانی کے بغیر ۔ مین کت جیون ۔ مچھلی کیسے زندہ رہ سکتی ہے ۔ بارو۔ بچہ ۔ پیکھ درس۔ دیدار کرکے ۔ سکھ سارو۔ سارے آرام و آسائش (2)
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا اپنے خدمتگار کو کبھی نہ بھلانا ۔ میرےد لمیں بسے رہو میری پہلے کی ہوئی پریت پیار کا خیال کرنا (1) رہاؤ۔ اے خدا تیری عادت گناہگاروں ناپاکوں کو پاک نانے کی ہے ہمارے عیبوںا ور برائیوں کا دل میں یال نہ کرنا ۔ میری زندگی کا ہے تو ہی سہارا اور دل وجان تو ہی میری ددلت اور آرام و آسائش ہے ۔ از راہ کرم و عنیات میرا خودی کا پردہ جلادو (1) جیسے پانی کے بگیر مچھلی زندہ نہیں رہ سکتی اور دودھ کے بگیر بچہ ایسے ہی ۔ اے نانک۔ میرے دلمیں الہٰی پاک پاؤں کی پیاس ہے خدا کے ددیار میں سارے سکھ حاصل ہوجاتے ہیں۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
آگےَ پاچھےَ کُسلُ بھئِیا ॥
گُرِ پوُرےَ پوُریِ سبھ راکھیِ پارب٘رہمِ پ٘ربھِ کیِنیِ مئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
منِ تنِ رۄِ رہِیا ہرِ پ٘ریِتمُ دوُکھ درد سگلا مِٹِ گئِیا ॥
ساںتِ سہج آند گُنھ گاۓ دوُت دُسٹ سبھِ ہوۓ کھئِیا ॥੧॥
گُنُ اۄگُنُ پ٘ربھِ کچھُ ن بیِچارِئو کرِ کِرپا اپُنا کرِ لئِیا ॥
اتُل بڈائیِ اچُت ابِناسیِ نانکُ اُچرےَ ہرِ کیِ جئِیا ॥੨॥੮॥੧੨੪॥
لفظی معنی:
کس۔ خیرو عافیت ۔ آگے ۔ عاقبت ۔ پاچھے ۔ اس عالم میں ۔ راکھی ۔ بچائیا۔ حفاظت کی ۔ میئیا۔ مہربانی (1) رہاؤ۔ رور ہیا۔ ہر پریتم ۔ پیار خدا۔ سگلا۔ سارا۔ سانت سہج ۔ شانت اور روحانیس کون ۔ دوت دسٹ۔ دشمن بدکار۔ ہوئے گگھٹیا۔ مٹ گہے (1) اتل ۔ وڈائی ۔ لا انتہا ۔ عظمت و حشمت۔ ابناسی ۔ لافناہ ۔ اچرے ۔ بیان رکتا ہے ۔ بولتا ہے ۔ کہتا ہے ۔ جیئیا ۔ جے ۔ فتح۔ اچت۔ چت نہ ہونے والا۔ جسے فتح نہ کیا جا سکے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
ہر دو علام خوشحال ہوئے اس کا میابی عنایت کرنے والے خدا نے پوری حفاظت کی مہربانی فرمائی (1) رہاؤ۔ میرےد ل وجان دل ودماغ میں خدا بس گیا سارے دکھ درد دور ہوگئے ۔ روحانی وذہنی سکون حاصل ہو احمدوچناہ کی دشمن اور بدکار عیب جوئیکرنےو الے خم ہوگئے (1) میرے وصف اور عبیو کا خیال نہ کرتے ہوئے مجھے اپنا لیا ال انتہا بلند عظمت و حشمت نہ فتح ہو کنے والا لافناہ ہے خدا نانک اس کی جیکار فتح جیت کہتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
بِنُ بھےَ بھگتیِ ترنُ کیَسے ॥
کرہُ انُگ٘رہُ پتِت اُدھارن راکھُ سُیامیِ آپ بھروسے ॥੧॥ رہاءُ ॥
سِمرنُ نہیِ آۄت پھِرت مد ماۄت بِکھِیا راتا سُیان جیَسے ॥
ائُدھ بِہاۄت ادھِک موہاۄت پاپ کماۄت بُڈے ایَسے ॥੧॥
سرنِ دُکھ بھنّجن پُرکھ نِرنّجن سادھوُ سنّگتِ رۄنھُ جیَسے ॥
کیسۄ کلیس ناس اگھ کھنّڈن نانک جیِۄت درس دِسے ॥੨॥੯॥੧੨੫॥
لفظی معنی:
بھے ۔ خوف ۔ ۔ بھگتی ۔ الہٰی پریم پیار ۔ عبادت ۔ ترن ۔ کامیابی ۔ انگریہہ۔ مہربانی ۔ پنت ادھارن ۔ بداخلاق۔ گناہگاروں کو بچانے والے ۔ راکھ سوامی ۔ میرے آقا بچایئے ۔ آپ بھروسے ۔ آپ کا سہارا یا آسرا (1) رہاؤ سمرج نہیں آوت۔ یاد کرنا یا عبادت کرنی آتی نہیں۔ مدھ مادت ۔ مستی ونشے میں۔ وکھیا راتا۔ دنیایو دولت میں مجذوب۔ سوان جیسے ۔ کتے کی مانند۔ اودھ ۔ عمر۔ بہاوت ۔ گذر رہہی ہے ۔ ادھک ۔ زیادہ ۔ مہاوت ۔ فریب ۔ یادوہکا کھا رہے ہو۔ پاپ ۔ گناہ۔ بدھے ایسے ۔ اسطرح سے دوب رہے ہو (1) دکھ بھنجن۔ دکھ مٹانے ولاے ۔ پرکھ نرنجن۔ بیداغ پاک انسان یا سہتی ۔ سادہو سنگت ۔ صحبت پاکدامن ( سادہو) رون جیسے ۔ یادوریاض جس طرح ۔ کیسو ۔ بال مراد خدا۔ کلیس ناس۔ جھگرے مٹانے والا۔ اگھ کھنڈن ۔ پاپ ۔ مٹانے والا۔ چیوت درس دسے ۔ دیدار سے زندگی حاصل ہوتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
بغیر الہٰی خوف عبادت نہیں ہو سکتی ۔ اور بغیر الہٰی محبت پیار دلمیں بسانے کے دنیاوی زندگی کے سمندر کو عبور نہیں کیا جسکتا ۔ اے بداکریوں گناہگاریوں کو بدیوں اور برائیوں بچانے والے میرے خدا کرم و عنیات فرما اور مجھے بدیوں سے بچا مجھے تیرا ہی آسرا ہے (1) رہاؤ۔ اے خدا مجھے تیری یاوریاض کرنا نہیں آتا اور دنیاوی دولت کے نشے میں مدہوش و مجذوب ہوں اور دولت کی محبت میں اس طرح بھٹکتا پھرتا ہوں جیسے کتا۔ عمر گذر رہی ہے ۔ زیادہ لٹے مار ہے ہو ۔ اخلاقی و روحانی طور پر اور اس طرحس ےا س زندگی کے علامی سمند رمیں ڈوب جاتے ہیں (1) اے پاک ہستی پاکدامنوں کی صحبت میںتیری یادوریاض کرتے رہیں۔ اے جھگڑے مٹانے والے گناہوں کو مٹانے والے نانک کو تیرے دیدار سےر وحانی واخلاقی زندیگ میسئر ہوتی ہے ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ دُپدے گھرُ ੯
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آپہِ میلِ لۓ ॥
جب تے سرنِ تُماریِ آۓ تب تے دوکھ گۓ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تجِ ابھِمانُ ارُ چِنّت بِرانیِ سادھہ سرن پۓ ॥
جپِ جپِ نامُ تُم٘ہ٘ہارو پ٘ریِتم تن تے روگ کھۓ ॥੧॥
مہا مُگدھ اجان اگِیانیِ راکھے دھارِ دۓ ॥
کہُ نانک گُرُ پوُرا بھیٹِئو آۄن جان رہے ॥੨॥੧॥੧੨੬॥
لفظی معنی:
سرن۔ پناہ۔ دوکھ ۔ عیب۔ برائیاں (1) راہو۔ تج ابھیمان۔ غرور چھوڑ کر۔ چنت ۔ فکر ۔ غم۔ برائی۔ دوسروں کی ۔ نام الہٰی نام سچ وحقیقت۔ روگ کھیئے ۔ بیماریاں دور ہوئیں (1) مہا مگدھ ۔ بھاری بیوقوف ۔ اجان۔ نادان۔ اگیانی ۔ بے علم ۔ راکھے ۔ بچائے ۔ دھارئے ۔ رحم ومہربانی کرکے ۔ آون جان رہے ۔ تناسخ مٹا۔
ترجمہ معہ تشریح:
خود ہی ملاتا ہے خدا۔ اے خدا جب سے تیری پناہ ملی ہے اسی وقت سےع یب اور برائیاں دور ہوگئیں۔ (1) رہاؤ۔ غرور چھوڑ کر اور دوسروںسےا میدیں لگانا چھوڑ پاکدامنوں کی پناہ لی اے خدا تیریے نام سچ وحقیقت کی یاد و ریاض کرنے سے بیماریاں مٹ گئیں (1) بھاری بیوقوف نادان اور بے علم کو رحمدلی اپنا کر بچاؤ۔ اے ناکن۔ جس کا کامل مرشد سے ملاپ ہوجاتا ہے ان کا تناسخ مٹ جاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
جیِۄءُ نامُ سُنیِ ॥
جءُ سُپ٘رسنّن بھۓ گُر پوُرے تب میریِ آس پُنیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پیِر گئیِ بادھیِ منِ دھیِرا موہِئو اند دھُنیِ ॥
اُپجِئو چاءُ مِلن پ٘ربھ پ٘ریِتم رہنُ ن جاءِ کھِنیِ ॥੧॥
انِک بھگت انِک جن تارے سِمرہِ انِک مُنیِ ॥
انّدھُلے ٹِک نِردھن دھنُ پائِئو پ٘ربھ نانک انِک گُنیِ ॥੨॥੨॥੧੨੭॥
لفظی معنی:
جیود۔ زندہ ہوں۔ روحانی اخلاقی زندگی ملتی ہے ۔ نام سنی ۔ مراد ۔ الہٰی نام ۔ سچ وحقیقت سنکر ۔ ہنی ۔ بوری کی ۔ آس۔ امید ۔ (1) رہاؤ۔ پیر ۔ پیڑ۔ درد۔ بادھی من ۔ دل کو تسلی ہوئی۔ موبیو۔ مجھےاپنے پیار کی گرفت میں لے لیا۔ انددھنی ۔ اننددھنی ۔ پر سکون ذہنی لہروں نے ۔ اپجیؤ۔ چاؤ۔ خوشیاں پیدا ہوئیں۔ رین نہ جائی کھنی ۔ پل بھر کے لئے ۔ نہیں سکتا (1) اندھلے ٹک ۔ اندھے کو لکڑی یا تیک یا آسرا۔ ندھن۔ کنگال۔ نادار۔ دھن۔ سرمایہ۔ انک ۔ بیشمار۔ انک بھگت ۔ بیشمار الہٰی پریمی الہٰی عاشق۔ جن ۔ خدمتگار ۔
ترجمہ معہ تشریح:
مجھے الہٰی نام سچ وحقیقت سنکر روحانی واکلاقی زندگی میسر ہوتی ہے ۔ مگر جب کامل مرشد خوش ہوتا ہے تو میری خواہش اور امید پوری ہوتی ہے (1) ہرہاؤ۔ میرا درد گیا دل کو تسلی ہوئی اور سکون اور روحانیس کون کی لہروں میں محو ہوا۔ ملاپ کی خوشی پیدا ہوئی ۔ اب پیارے خدا کے بغیر تھوڑے سے وقفے کے لئے جدا نہیں ہو سکتا (1) بیشمار الہٰی عاشق و پریمی وخدمتگار و بیمار عابدوں کو کامیبی عنایت کی مراد زندگی کامیاب بنائی ۔ اندھے کو آسرا دنار اور کنگال کو سرمایہ اے نانک بیشمار اوصاف دیے ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੫ گھرُ ੧੩ پڑتال
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
موہن نیِد ن آۄےَ ہاۄےَ ہار کجر بست٘ر ابھرن کیِنے ॥
اُڈیِنیِ اُڈیِنیِ اُڈیِنیِ ॥
کب گھرِ آۄےَ ریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سرنِ سُہاگنِ چرن سیِسُ دھرِ ॥
لالنُ موہِ مِلاۄہُ ॥
کب گھرِ آۄےَ ریِ ॥੧॥
سُنہُ سہیریِ مِلن بات کہءُ ॥
سگرو اہنّ مِٹاۄہُ تءُ گھر ہیِ لالنُ پاۄہُ ॥
تب رس منّگل گُن گاۄہُ ॥
آند روُپ دھِیاۄہُ ॥
نانکُ دُیارےَ آئِئو ॥
تءُ مےَ لالنُ پائِئو ریِ ॥੨॥
موہن روُپُ دِکھاۄےَ ॥
اب موہِ نیِد سُہاۄےَ ॥
سبھ میریِ تِکھا بُجھانیِ ॥
اب مےَ سہجِ سمانیِ ॥
میِٹھیِ پِرہِ کہانیِ ॥
موہنُ لالنُ پائِئو ریِ ॥ رہاءُ دوُجا ॥੧॥੧੨੮॥
لفظی معنی:
موہن۔ دل کو اپنی محبت کی گرفت میں لینے والے ۔ ہاوے ۔ جدائی کا درد ۔ ہاؤنکے ۔ کجر ۔ کاجل۔ سرمہ ۔ بستہ ۔ کپڑے ۔ابھرن۔ زیور۔ اڈہنی ۔ انتظار۔ کب گھر آوے ۔ ری کب دلمیں بسے گا۔ (1) رہاؤ۔ سرن پناہ۔ زیر سیاہ۔ سہاگن ۔ مراد خدا پرست۔ خدا کا پیارا ۔ لالن ۔ قیمیت ۔ لعل ۔ مراد خدا (1) سہیری ۔ سہیلی ۔ ہمجولی ۔ ساتھن۔ ساتھی ۔ سگرو۔ سارا۔ ۔ غرور ۔ تکبر۔ گھر ہی ۔ مراد ذہن یا دل ۔ رس۔ لطف۔ مزے ۔ منگل ۔ خوشی۔ گن گاوہو ۔ حمدوچناہ کرؤ۔ انند روپ ۔ روحای سورت۔ روپ دکھاوے ۔ دیدار دیتا ہے ۔ ساہوے ۔ اچھی لگیت ہے ۔ تکھا ۔ پیاس ۔ سہج سمانی ۔ روحای سکون میں محو ومجزوب۔ میٹھی ۔ پریہہ کہانی ۔ خدا کی کہانی (!) رہاؤ۔ دوجا
ترجمہ معہ تشریح:
اے میرے پیارے مجھے نیند نہیں آتی سکیاں آتی ہیں۔ ہار کاجل کپڑے زیور پہننے کے باجود انتظار میں غمگینی ہو غمگینی کہ کب گھر آئیاگا۔ مراد جس طرحس ے ایک عورت کو اپنے خاوند کے انتظار جو کہیں باہر گیا ہوتا کی مچال یا تشیبح دیکر سمجھائیا ہے (1) رہاو۔ اے پیارے خدا خدا رپست مرید مرشد کے زیر سایہ اس کے پاؤں پر سیر رکھ کر کہتا ہوں کہ کب خدا سے میرا ملاپ ہوگا کب د میں بسے گا(1) اے ساتھی دوست سن ملاپ کی بابت بتاوں ۔ ہر قسم کا غرور اور تکبر درور کرؤ مٹاؤ۔ تب دلمیں ہی بس جائیگا ۔ تب پر سکو خوشیوں کے پر لطف صفت صلاح کرؤ اور اس خوشیوں اور سکون کے خزانے اور گھر کی حمدوچناہ کیجئے (2) اے نانک ۔ اب دیدار خدا ہوتا ہے ۔ خدا پالیا ہے ۔ نانک نے دلمیں ہی پالیا ہے (2) ا ب دیدار دیتا ہے خدا اور دنیاوی سے فلت و کاہل پیاری لگتی ہے اور میری ہر قسم کی خواہشات کی تشنگی مٹ گئی ہے اور روحای سکون حاصل ہوگیا ہے اور خدا کی کہانی پیاری لگتی ہے ۔ الہٰی ملاپ پالیا ہے ۔ر ہاؤ۔ دوجا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੫॥
موریِ اہنّ جاءِ درسن پاۄت ہے ॥
راچہُ ناتھ ہیِ سہائیِ سنّتنا ॥
اب چرن گہے ॥੧॥ رہاءُ ॥
آہے من اۄرُ ن بھاۄےَ چرناۄےَ چرناۄےَ اُلجھِئو الِ مکرنّد کمل جِءُ ॥
ان رس نہیِ چاہےَ ایکےَ ہرِ لاہےَ ॥੧॥
ان تے ٹوُٹیِئےَ رِکھ تے چھوُٹیِئےَ ॥
من ہرِ رس گھوُٹیِئےَ سنّگِ سادھوُ اُلٹیِئےَ ॥
ان ناہیِ ناہیِ رے ॥
نانک پ٘ریِتِ چرن چرن ہے ॥੨॥੨॥੧੨੯॥
لفظی معنی:
اہا ۔ خودی ۔ تکبر۔ راچہور ناتھ ہی سہائی سنتنا۔ اسمیں محو ومجذوب ہو جاؤ جو روھانی رہبروں کا مددگار ہے ۔ چرن گہے ۔ پاؤں پکڑے () رہاؤ۔ اور۔ دوسروں کو۔ بھاوے ۔ چاہتا ۔ ال ۔ بھور۔ مکرند ۔ پھول کی دہول۔ ان رس۔ دوسرے لطف۔ لاہے ۔ چاہتا ہے (1) ان تے ٹوٹیئے ۔ دوسروں کو چھوڑ ۔ رکھ تے چھوٹیئے ۔ رکھ ۔ الہٰی حکام۔ منصف۔ چھوئیئے ۔ نجات۔ ہر رس گھوئیئے ۔ الہٰی لطف گھونٹوں سے پیش ۔ سنگ سادہو ۔ الٹیئے ۔صحبت و قربت پاکدامن سے خیالات و ذہن میں تبدیلی لائیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
دیدار خدا سے میری خودی دور ہوگئی ۔ مددگار ہے ۔ جو روحانی رہبر ستنوں کا اسے ہمیشہ ملے رہو۔ اب میں اسکے پاؤں پکڑ لئے (1) رہاو۔ اب میرے دل کو کچھ اچھا نہیں لگتا اس کے پاؤں کا گرودہ ہوگیا ہوں جیسے بھنور کونل پھول کی دہول میں لپٹ کر رہ جاتا ہے مجھے دوسری نعمتوں کے لطف کی ضرورت نہیں رہی واحد خدا کی ہے دلمیں چاہ (1) دوسروں سے رشتہ توڑ کر ہی منصف الہٰی سے نجات ملتی ہے ۔ اےد ل الہٰی لطف حاصل کر اور پاکدامن کی صحبت و قربت میں خیالات میں تبیدلی آتیہ ے ۔ اے نانک۔ دوسروں سے محبت بالکل اچھی نہیں لگیت ہر وقت خداس ے ہی محبت رہتی ہے ۔

راگُ بِلاۄلُ مہلا ੯ دُپدے
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
دُکھ ہرتا ہرِ نامُ پچھانو ॥
اجاملُ گنِکا جِہ سِمرت مُکت بھۓ جیِء جانو ॥੧॥ رہاءُ ॥
گج کیِ ت٘راس مِٹیِ چھِنہوُ مہِ جب ہیِ رامُ بکھانو ॥
نارد کہت سُنت دھ٘روُء بارِک بھجن ماہِ لپٹانو ॥੧॥
اچل امر نِربھےَ پدُ پائِئو جگت جاہِ ہیَرانو ॥
نانک کہت بھگت رچھک ہرِ نِکٹِ تاہِ تُم مانو ॥੨॥੧॥
لفظی معنی:
دکھ ہرتا۔ عذاب متانے والا۔ ہرنام۔ الہٰی نام۔ سچ وحقیقت ۔ پہچانو ۔س مجھو۔ جامل قنوج ایک برہمن ۔ جس کی بابت بھاگوت ۔ ہندوں کے دھارک گرنتھ میں زکر ہے ۔ گنگا ۔ ایک بد چلن بدقماش عورت کا ذکر ہے ۔ جیہہ سمرت۔ الہٰی یاد سے ۔ دل و جان سے کرنے سے نجات حاصل کی (1) رہاؤ۔ گج ۔ ہاتھ ی ۔ تراس۔ تندوں سے چھٹکارہ ۔ ڈر۔ خوف۔ چھنہو یہہ۔ تھوڑی سی دیر میں۔ رام بکھانو۔ خدا خدا پکارا۔ نادر کہت ۔ نار دکی نصیحت یا واعظ ۔لپٹانو ۔ ممحو ومجذوب ہوا۔ اچل۔ مستقل۔ امر۔ صدیوی ۔ نربھے پد۔ بیخوفی کا رتبہ ۔ بھگت رچھک۔ پریمیوں کا محافظ ۔ نکٹ ۔ نزیدک۔ تا ہے تم جانو۔ اسے تم سمجھو۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام سچ وحقیقت سارے عذاب مٹانے والا اسے سمجھو۔ جسے اجامل اور گنگا جو ایک نہایت بد چلن بدقماش تھے الہٰییاد سے نجات حاصل کی (1) رہا و۔ ہاتھی کا خوف اور عذاب دور ذراس دیر میں جب یاد خدا کو کیا ۔جب نادر کی واعط و نصیحت دھروبچے نے سنا تو الہٰی یاد میں وجد میں آئیا (1) مستقل صدیوی بیخوفی کا رتبہ حاسل کیا جسے دیکھ کر سارا عالم حیران ہورہا ہے ۔ نانک۔ کہتا ہے کہ خدا پریمیو کا محافط ہے اسے نزدیک سمجھو ۔

بِلاۄلُ مہلا ੯॥
ہرِ کے نام بِنا دُکھُ پاۄےَ ॥
بھگتِ بِنا سہسا نہ چوُکےَ گُرُ اِہُ بھیدُ بتاۄےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کہا بھئِئو تیِرتھ ب٘رت کیِۓ رام سرنِ نہیِ آۄےَ ॥
جوگ جگ نِہپھل تِہ مانءُ جو پ٘ربھ جسُ بِسراۄےَ ॥੧॥
مان موہ دونو کءُ پرہرِ گوبِنّد کے گُن گاۄےَ ॥
کہُ نانک اِہ بِدھِ کو پ٘رانیِ جیِۄن مُکتِ کہاۄےَ ॥੨॥੨॥
لفظی معنی :
ہر کے نام بنا۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کے بگیر ۔ سہسا۔ فکر۔ گمواہی ۔ چوکے ۔ نہیں جاتی ۔ بھید۔ راز (1) رہاؤ۔ تیرتھ ۔ زیارت۔ برت ۔ پرہیز گاری ۔ جوگ ۔ طریقہ عبادت وریاضت ۔ نہفل۔ بیفائدہ۔ بیکار۔ بسرادے ۔ بھلاے (1) مان ۔ فخر۔ وقار۔ پر پر ۔ چھوڑ کر ۔ گوبند کے گن گاوے ۔ الہٰی حمدوثناہ کرکے ۔ بدھ ۔ طریقہ ۔ پرانی ۔ انسان۔ جیون مکت۔ دوران حیات نجات۔
ترجمہ مع تشریح:
مرشد یہ رزا افشان کرتا ہے کہ الہٰی نام سچ وحقیقت کے بغیر انسان عذاب پاتا ہے ۔ پریم پیار کے بگیر غم اور فکر دور نہیں ہوتا۔ رہاؤ ۔ جب تک انسان الہٰی سایہ اور پناہ میں نہیں اتا زیارت اور پرہیز گاری کیا معنی رکھتی ہے بے مطلب ہے ۔ طریقہ زہ وریاضت اور یگ یا سخاوت اسے فضول اور بیکار سمجھو جو بھلا دیتا ہے خدا اور اس کی صفت صلاح ۔ اے نانک بتادے کہ وہ دوران حیات زندگی سے نجات پانے والا کہلاتا ہے ۔ مرااد زندہ ہوتے ہوئے بدفعلیوں بدکاریوں بد اکخلاق اور برائیوں سے نجات پانے والا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੯॥
جا مےَ بھجنُ رام کو ناہیِ ॥
تِہ نر جنمُ اکارتھُ کھوئِیا زہ راکھہُ من ماہیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تیِرتھ کرےَ ب٘رت پھُنِ راکھےَ نہ منوُیا بسِ جا کو ॥
نِہپھل دھرمُ تاہِ تُم مانہُ ساچُ کہت مےَ زا کءُ ॥੧॥
جیَسے پاہنُ جل مہِ راکھِئو بھیدےَ ناہِ تِہ پانیِ ॥
تیَسے ہیِ تُم تاہِ پچھانہُ بھگتِ ہیِن جو پ٘رانیِ ॥੨॥
کل مےَ مُکتِ نام تے پاۄت گُرُ زہ بھیدُ بتاۄےَ ॥
کہُ نانک سوئیِ نرُ گروُیا جو پ٘ربھ کے گُن گاۄےَ ॥੩॥੩॥
لفظی معنی :
بھجن رام۔ عنیات الہٰی ۔ تیہہ نر۔ اس آدمی نے ۔ جنم اکارتھ ۔ کھوئیا۔ اس نے اپنی زندگی بیکار ب گنوادی گذارو ۔ سیہہ راکھو من ماہی ۔ یہ بات دلمیں بسا لو (1) رہاؤ۔ تیرتھ ۔ زیارت ۔ برت۔ پرہیز گاری ۔ فن۔ بھی ۔ منوا۔ دل ۔ دس۔ زیر فرامن۔ نہفل۔ بیفائدہ ۔ دھرم۔ مذہبی فرائض ۔ مانہو ۔ سمجھو ۔ پاکو۔ اسے (1) پاہن۔ پتھر ۔ بھیدے ناہی۔ بھیکھتا نہیں۔ تیسے ہی ۔ اسی طرح۔ پچھانہو۔ سمجھو۔ بھگت ہین ۔ الہٰی پریم پیار کے بغیر۔ ہین ۔ خالی (2) گرو ۔ قابل قدروفرخ۔ قابل تعظیم ۔ جو پربھ کے گن گاوے ۔ جو الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح :
جس کے دلمیں الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض نہیں یہ بات پختہ طور پر دلمیں بسا لو کہ اس نے اپنی زندگی برباد کر لی ہے (1) راہؤ۔ جس انسان کا من اپنے قابو میں نہیں وہ خواہ زیارت گاہوں کی زیارت کرتا ہے پرہیز گاری بھی رکتا ہے تاہم اس کی مذہبی انسانی فرائض کی انجام دہی بیکار اور بیفائدہ سمجھو ۔ میںاسے سچ کہتا ہوں (1) جیسے اگر پتھر کو پانی میں رکھ دیا جائے اس پر پانی اپنا تاثر نہیں پا سکتا ۔ ایسے ہی اس شخص کو سمجھو جو الہٰی پریم پیار سے خالی ہے 02) اس زندگی کے دور میں الہٰی نام سچ حقیقت سے براہوں بدکاریوں بداخلاق اور بد چلنی سے اور ذہنی غلامی سے نجات حاصل ہوتی ہے ۔ اے نانک بتادے کہ وہی شخس قابل قدر فرخ و ستائش و تعظیم کے قابل ہے جو الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔

بِلاۄلُ اسٹپدیِیا مہلا ੧ گھرُ ੧੦
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
نِکٹِ ۄسےَ دیکھےَ سبھُ سوئیِ ॥
گُرمُکھِ ۄِرلا بوُجھےَ کوئیِ ॥
ۄِنھُ بھےَ پئِئےَ بھگتِ ن ہوئیِ ॥
سبدِ رتے سدا سُکھُ ہوئیِ ॥੧॥
ایَسا گِیانُ پدارتھُ نامُ ॥
گُرمُکھِ پاۄسِ رسِ رسِ مانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گِیانُ گِیانُ کتھےَ سبھُ کوئیِ ॥
کتھِ کتھِ بادُ کرے دُکھُ ہوئیِ ॥
کتھِ کہنھےَ تے رہےَ ن کوئیِ ॥
بِنُ رس راتے مُکتِ ن ہوئیِ ॥੨॥
گِیانُ دھِیانُ سبھُ گُر تے ہوئیِ ॥
ساچیِ رہت ساچا منِ سوئیِ ॥
منمُکھ کتھنیِ ہےَ پرُ رہت ن ہوئیِ ॥
ناۄہُ بھوُلے تھاءُ ن کوئیِ ॥੩॥
منُ مائِیا بنّدھِئو سر جالِ ॥
گھٹِ گھٹِ بِیاپِ رہِئو بِکھُ نالِ ॥
جو آجےَ سو دیِسےَ کالِ ॥
کارجُ سیِدھو رِدےَ سم٘ہ٘ہالِ ॥੪॥
سو گِیانیِ جِنِ سبدِ لِۄ لائیِ ॥
منمُکھِ ہئُمےَ پتِ گۄائیِ ॥
آپے کرتےَ بھگتِ کرائیِ ॥
گُرمُکھِ آپے دے ۄڈِیائیِ ॥੫॥
ریَنھِ انّدھاریِ نِرمل جوتِ ॥
نام بِنا جھوُٹھے کُچل کچھوتِ ॥
بیدُ پُکارےَ بھگتِ سروتِ ॥
سُنھِ سُنھِ مانےَ ۄیکھےَ جوتِ ॥੬॥
ساست٘ر سِم٘رِتِ نامُ د٘رِڑامنّ ॥
گُرمُکھِ ساںتِ اوُتم کرامنّ ॥
منمُکھِ جونیِ دوُکھ سہامنّ ॥
بنّدھن توُٹے اِکُ نامُ ۄسامنّ ॥੭॥
منّنے نامُ سچیِ پتِ پوُجا ॥
کِسُ ۄیکھا ناہیِ کو دوُجا ॥
دیکھِ کہءُ بھاۄےَ منِ سوءِ ॥
نانکُ کہےَ اۄرُ نہیِ کوءِ ॥੮॥੧॥
لفظی معنی”
نکٹ۔ نزدیک۔ دسے ۔ بستا ہے ۔ سوئی ۔ ؤہی ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ درلا۔ کوئی ہی ۔ شاذو نادر۔ بوجھے ۔ سمجھے ۔ بن بھے ۔ بغیر خوف ۔ بھگت ۔ زہدوریاضت ۔ سبدرتے ۔ کلام میں محو ومجذوب (1) گیان۔ علم۔ پدارتھ۔ نعمت۔ نام۔ سچ وحقیت۔ مان ۔ قدروقیمت۔ وقار۔ (1) رہاؤ۔ گھتے ۔ کہتا ہے ۔ سب کوئی ۔ ہر ایک۔ بن رس راتے ۔ اس سے لطف اندوز ہوئے بغیر۔ مکت۔ نجات (2) گیان ۔ علم ۔دھیان۔ توجہی ۔ رہت۔ چلن ۔ ساچا من سوئی۔ وہی دل سچا ہے ۔ منمکھ ۔ خودی پسند۔ کھی ۔ کہتا نو ہے ۔ تھاؤ۔ ٹھکانہ (3) سرجال۔ تالاب پر جال۔ بکھ ۔ دنیاوی دولت۔ نال۔ ساتھ۔ انجے ۔ آتا ہے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ کال ۔ موت۔ سیدھو ۔ سیدھا ۔ ٹھیک۔ ردے سمال۔ دلمیں بسا کر۔ (3) سبد لو۔ سبق سے محبت ۔ منمکھ ہونمے ۔ خودی میں خود پسندی میں۔ پت۔ عزت (1) رین ۔ اندھاری ۔ عمر والی رات۔ اندھیری رات ۔ نرمل جوت ۔ پاک نور۔ کچل۔ ناپاک۔ کچھوت۔ اچھوت۔ بھگت سروت۔ ریاضت کا چشمہ یا منبع ۔ جوت۔ نور۔ روشنی ۔ (4) شاشتر سرمت۔ ہندو دھرم کی مذہبی کتابتیں۔ نام درڑام ۔ نام سچ و حقیقت کو پختہ کراتی ہیں۔ گورمکھ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ اتم کرام۔ نیک اور اچھے اعمال کرنے سے ۔ سانت ۔ سکون ۔ جوتی ۔ تناسخ۔دکوھ سہام ۔ عزاب برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ بندھن توٹ ۔ غلامی سے نجات ۔ اک نام وسام۔ دلمیں واحد الہٰی نام سچ وحقیقت بسانے سے (7) منے نام۔ سچ وحقیقت پر سمادیا یامان لانا۔ سچی پت پوجا۔ سچی عزت و پرشتش ۔ سچی عبادت وریاضت۔ دیکھ کہو بھاوے من سوئے ۔ جو دیکھ کر کہا جائے وہی دل کو پسند ہوتا ہے ۔ اور نہیں کوئے ۔ نہیں کوئی دوسرا۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام سچ و حقیقت کی نعمت ایک ایسا لعم ہے ۔ مرشد کے وسیلے سے اسسے حاسل کرکے اس سے لطف اندوز ہوا اے انسان (1) رہاؤ۔ خدا تمہارے ساتھ اور نزدیک بستا ہے اور سب پر نظر ہے اس کی مگر سہارے مرشد کے وسیلے سے کسی کو ہی سمجھ آتی ہے سات کی ۔ جب تک انسان کے دلمیں یہ یہ خوف پیدا نہیں ہوتا کہ اسے خدا دیکھ رہا ہے اس کے اعمال خدا کے زیر نظر ہیں۔ الہٰی عبادت وریاضت ہو نہیں سکتی ۔ جن کو سبق وکالم مرشد پر یقین اعتماد ہوکر اس میں محو ومجذوب ہوجاتے ہیں وہ روحانی وذہنی سکنو پاتے ہیں (1) ہر شخس کہتا ہے کر مجھے الہٰی علم حاسل ہوگیا اور اس علم کے بارے بحث مباحثے رکھتا کوئی نہیں۔ مگر الہٰی نام سچ حقیقت مین محو ومجذوب ہوئے بغیر برائیوں بدکاریوں اور گناہوں سے نجات حاصلنہیں ہوتی (2) الہٰی علم اور اس میں دھیان لگانا اور توجہ کرنا مرشد سے حاصل ہوتا ہے جسکا چال چلن اخلاق رہنے کے طور طریقے اور اعمال نیک ہیں اسی کا دل سچا اور پاک ہے ۔ خودی پسند کہتا تو ہے باتیں تو کرتا ہے مگر اعمال اور چال چلن درست نہیں ہوتا۔ سچ وحقیقت الہٰی نام سچے بے نیاز انسان کو روحانی وزہنی سکون حاصل نہیں ہوتا (3) دنیاوی دولت کی محبت میں نے انسان کو اپنے محبت کے جال میں باندھ رکھا ہے ۔ خدا ہر دلمیں بستا ہے جب کہ دنیاوی دولت کی محبت بھی ساتھ ہے جو اس جہاں میں پیدا ہوا ہے روحانی وزہنی واخلاقی موت بھی ساتھ ہی ہے ۔ مگر مقصد زندگی تبھی پورے اور مکمل ہوتے جب خدا اسکا نام سچ وحقیقت دل میں بستا ہے (4) عالم وفاضل وہی ہے جس نے سبق و کلام مرشد میں اعتماد و یقین اور محبت ہے ۔ خودی پسند خودی میں عزت گنواتا ہے ۔ خدا خود ہی انسان سے اپنی عبادت وریاضت اور پیار کرواتا ہے اور مرشد کے وسیلے سے خودی ہی عظمت عنایت کرتا ہے (5) انسانی زندگی کا عرصہ حیات مراد انسانی عرصہ حیات اندھیری رات کی طرح ہے الہٰی نور سے ہی اسے روشنی ملتی ہے ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کے بغیر انسان جھوٹا ناپاک اور بدذات یہں۔ مذہبی کتابیں بھی الہٰی بھگتی پریم پیار کی ہی تاکید و تلقین کرتی ہیں جو سنکر اس پرا ایمان لاتا ہے وہ الہٰی نور کا دیدار پاتا ہے (6) شاشتر سمرتیاں وگیرہ دھامک مذہبی کتابیں بھی الہٰی نام سچ وحقیقت کی یادوریاض کی تلقین و تاکید کرتی ہیں۔ مرشد کے وسیلے سے نیک اور بلند اخلاق اعمال کرنے سے سکون ملتا ہے جبکہ خودی پسند تناسک کا عذاب پاتے ہیں۔ دنیاوی غلامی سے تبھی نجات ملتی ہے جب واحد کا نام سچ وحقیقت دلمیں بستا ہے (7) سچ و حقیقت پر ایمان لانا ہی ثانی نہیں خدا کا کوئی ۔ نانک کہتا ہے ۔ کہ اسے دیکھ کر دیدار کرکے دل کو بھاتا ہے اس کے علاوہ نہیں کوئی و گر اس جیسا ۔

بِلاۄلُ مہلا ੧॥
من کا کہِیا منسا کرےَ ॥
اِہُ منُ پُنّنُ پاپُ اُچرےَ ॥
مائِیا مدِ ماتے ت٘رِپتِ ن آۄےَ ॥
ت٘رِپتِ مُکتِ منِ ساچا بھاۄےَ ॥੧॥
تنُ دھنُ کلتُ سبھُ دیکھُ ابھِمانا ॥
بِنُ ناۄےَ کِچھُ سنّگِ ن جانا ॥੧॥ رہاءُ ॥
کیِچہِ رس بھوگ کھُسیِیا من کیریِ ॥
دھنُ لوکاں تنُ بھسمےَ ڈھیریِ ॥
کھاکوُ کھاکُ رلےَ سبھُ پھیَلُ ॥
بِنُ سبدےَ نہیِ اُترےَ میَلُ ॥੨॥
گیِت راگ گھن تال سِ کوُرے ॥
ت٘رِہُ گُنھ اُپجےَ بِنسےَ دوُرے ॥
دوُجیِ دُرمتِ دردُ ن جاءِ ॥
چھوُٹےَ گُرمُکھِ داروُ گُنھ گاءِ ॥੩॥
دھوتیِ اوُجل تِلکُ گلِ مالا ॥
انّترِ ک٘رودھُ پڑہِ ناٹ سالا ॥
نامُ ۄِسارِ مائِیا مدُ پیِیا ॥
بِنُ گُر بھگتِ ناہیِ سُکھُ تھیِیا ॥੪॥
سوُکر سُیان گردھبھ منّجارا ॥
پسوُ ملیچھ نیِچ چنّڈالا ॥
گُر تے مُہُ پھیرے تِن٘ہ٘ہ جونِ بھۄائیِئےَ ॥
بنّدھنِ بادھِیا آئیِئےَ جائیِئےَ ॥੫॥
گُر سیۄا تے لہےَ پدارتھُ ॥
ہِردےَ نامُ سدا کِرتارتھُ ॥
ساچیِ درگہ پوُچھ ن ہوءِ ॥
مانے ہُکمُ سیِجھےَ درِ سوءِ ॥੬॥
ستِگُرُ مِلےَ ت تِس کءُ جانھےَ ॥
رہےَ رجائیِ ہُکمُ پچھانھےَ ॥
ہُکمُ پچھانھِ سچےَ درِ ۄاسُ ॥
کال بِکال سبدِ بھۓ ناسُ ॥੭॥
رہےَ اتیِتُ جانھےَ سبھُ تِس کا ॥
تنُ منُ ارپےَ ہےَ اِہُ جِس کا ॥
نا اوہُ آۄےَ نا اوہُ جاءِ ॥
نانک ساچے ساچِ سماءِ ॥੮॥੨॥
لفظی معنی:
منسا۔ منشا۔ دلی ارادہ ۔ مرضی ۔ پن۔ چواب۔ پاپ۔ گناہ ۔ اچرے بتاتا ہے ۔ مائیا مد مائے ۔ دنیاوی دولت کی شراب کی مستی ۔ ترپت ۔ تسکین ۔ تسلی ۔ مکت۔ آزادی۔ ساچا۔ صدیوی سچا۔ بھاوے چلتا ہے (1) تن ۔ جسم۔ دھن۔ سرمایہ ۔ دولت۔ کلت۔ عورت۔ ابھیمانا۔ غرور۔ تکبر۔ ناوے ۔ نام سچ وحقیقت ۔ سنگ ۔ ساتھ (1) رہاؤ۔ کچیہہ۔ کرتے ہیں۔ رس بھوگ ۔ لطف اندوزی ۔ من کیری ۔ من کے مطابق۔ تن بھسے ۔ ڈھیری راکھ کا ڈھیر۔ خاکو خاک رے ۔ خاک سے خاک مل جاتی ہے ۔ پھیل ۔ پھیلاؤ۔ بن سبدے ۔ بغیر سبق وکلام۔ میل۔ ناپاکیزگی (2) گھن۔ بہت ۔ زیادہ ۔ تال ۔ بحر۔ کورے ۔ کوڑے ۔جھوٹے ۔ تریہہ گن۔ تین اوصاف۔ حکمرانی ۔ ترنی کی خواہش۔ تمو ۔ رنجش ۔ حسد وغیرہ ۔ ستو۔ طارق۔ اپجے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ ونسے ۔مٹ جاتا ہے ۔ درمت۔ بد عقلی ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ دوجی ۔ دوئش ۔و تکبر۔ تفرقات۔ درد۔ مصیبت۔ تکلیف۔ دارو۔ دوائی۔ گن گائے ۔ حمدوثناہ (3) اوجل ۔ صاف ۔ کرودھ ۔ غصہ ۔ ناٹ سالا۔ ڈرامے کی سکھائی کا سکول ۔ نام دسار۔ سچ وحقیقت بھلا کر ۔ مائیا مد۔ دولت کا خمار۔ بنگ ر۔ بغیر مرشد۔ بھگت۔ الہٰی عشق ۔ محبت پیار (4) سنوکر۔ سور۔ سوآن ۔کتا۔ گردبھ ۔ گدھا۔ منجارا۔ بلا۔ پسو۔ حیوان۔ ملچھ ۔ناپاک۔ ۔ ظالم۔ چنڈال۔ظالم۔ سچ ۔ کمینہ ۔ میسئر پھریے بد ترن۔ جون بھوایئے ۔ تناسخ میں پڑتا ہے ۔ بندھن باندھیا۔ غلامی کی گرفت میں (5) گرسیوا۔ خدمت مرشد ۔ لہے پدارتھ۔ نعمتیں دستیا بہوتی ہیں۔ ہر دے نام دلمیں ہو سچ و حقیقت ۔ سدا کرتارتھ ۔ ہمیشی کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔ ساچی درگیہہ۔ عدالت۔ پوچھ ۔ تحقیق۔ مانے حکم۔ فرمانبرداری ۔ سبھے ۔ کامیاب۔ در سوئے ۔ اسکے دروازے پر (6) تس کو جائے ۔ اس کی سمجھ آتی ہے ۔ رجائی۔ رضا میں۔ زیر فرمان۔ حکم پچھان ۔ الہٰی رضا وفرمان کی شناخت۔ درواس۔ در پر ٹھکانہ ۔ بسنا۔ کال لکال۔ موت و پیدائش ۔ سب بھیئے ناس۔ کلام و سبق سے ختم ہوگئے (7) اتیت۔ بیلاگ ۔ طارق۔ تیاگی ۔ جانے ۔ سمجھے ۔ سبھ ۔ سار۔ تس کا۔ اسکا ۔ ارپے ۔ بھینٹ کرے ۔ ساچے ۔ سچ ۔ صدیوی سچ سمائے ۔ محو ومجذوب
ترجمہ معہ تشریح:
جسم دولت عورت کو دیکھ کر غرورکرتاہے جبکہ الہٰی نام سچ وحقیقت کے بغیر کوئی چیز ساتھ نہیں جاتی ۔ رہاؤ۔ من کے مطابق ہی ارادے بنتے ہیں اور من ہی ثواب و گناہ بتاتا ہے ۔ دولت کی مستی و کمار سے تسکین حاصلنہیں ہوتی ۔پاک اور سچا من برائیوناور بدیوں سے نجات اور تسکین چاہتا ہے ۔ اپنے دل کے مطابق انسان خوشیاں مناتا ہے اور دنیاوی دولت کا لطف لیتا ہے جبکہ دولت لوگوں کے پاس چلی جاتی ہے اور جسم رکاھ کی ڈھیری بن جاتا ہے ۔ خاک خاک میں مل جاتی ہے اور یہ سارا پھیلاؤ ہے ۔ بگیر سبق و کلما مرشد انسانی ذہن کی ناپاکیزگی دور نہیں ہوت ی (2) نظم۔ گیت ۔ سنیگت ۔ بحرا اور دھون وگیرہ سے اپنے دل کو محظوط کرتا ہے ۔ مگر ی ہ سارے الہٰی نام سچ وحقیقت بغیر جھوٹے ہیں ۔ تینوں اوصاف مراد ترقی و حکمرانی کا خیال ۔ مراد جوگن کہلاتا ہے ۔ غصہ ۔ حصہ ۔ بغض ۔ کینہ تموگئی کہلاتا ہے ۔ طارق۔ پاکیزگی ۔ نیک چلن ستوگن کہلاتا ہے ۔ ان کے زیر اچر انسان تناسک میں پڑا رہتا ہے ۔ جس سے خدا سے دوری اور جدائی ہوجاتی ہے ۔ وتکرا تفریق و تفقرات بد عقلی سے عذاب نہیں مٹتے ۔ جبکہ نجات مرشد کے وسیلے سے حمدوثناہ کی دوائی سے حاصل ہوتی ہے (3) جن کے صاف سفید دہوتی پہنی ہو پیشانییہ تلک اور گلے میں تسبیح پہنی ہو مگر دلمیں غسہ ہو ان کی یہ کار کسی ڈرامہ سکھائی کے مرکز کی مانند ہے ۔ جنہوں نے الہٰی نام سچ وحقیقت کو بھلا کر مرکز کی مانند ہے ۔ جنہوں نے الہٰی نام سچ وحقیقت کو بھلا کر دنیاوی دولت کی محبت کی یادوریاض نہیں ہو سکتی ۔ اور الہٰی عشق وریاض کے بغیر روحانی وزہنی سکون حاسل نہیں ہو سکتا (4) جو شخص مرشد سے بے رخی کرتا ہے ۔ انہیں سوڑ۔ کتے ۔ گدھے ۔ بلے ۔ حیوان بدکردار کمینے اور ظالم وغیرہ کی طرف زندگی گذارنی پڑتی ہے ۔ دنیاوی ددولت کی غلامی میں گرفتا ر انسان تناسک میں پڑرہتا ہے (5) خدمت مرشد سے یقین میسر ہوتی ہیں۔ دلمیں سچ وحقیقت الہٰی نام بستا ہے اور ہمیشہ کامیاب حاسل ہوتی ہے ۔ سچی عدالت عالیہ الہٰی میں تحقیق اور پوچھ تاچھ نہیں ہوتی ۔ جو راضائے الہٰی کی فرمانبرداری کرتا ہے الہٰی در پرکامیابی حاسل کرتا ہے (6) سچے مرشد کے ملاپ سے انسان کو خدا سے جان پہچان اور خدا شناسی حاصل ہوتی ہے ۔ اسے الہٰی رضا وفرمان کا پتہ چلتا ہے اور رضا میں راضی رہتا ہے اور رضا سمجھ کر راضی رہنے سے الہٰی در پر ٹکانہ ملتا ہے اور تناسخمٹ جاتا ہے انسان خود خدا میں مجذوب ہوجاتا ہے (7) دنیاوی دولت سے تیاگ بیلاگ اور طارق ہوکر ہر شے کو الہٰی ملکیت خیال کرتا ہے ۔ اسے خدا کی دی ہوئی نعمت خیال کرتا ہے جسنے یہ جسم اور من عنایت فرمائیا ہے ۔ اسے بھینٹ کرتا ہے ۔ اے نانک۔ وہ تناسخمیں نہیں پڑتا ۔ اور صدیوی خدا میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੩ اسٹپدیِ گھرُ ੧੦
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
جگُ کئوُیا مُکھِ چُنّچ گِیانُ ॥
انّترِ لوبھُ جھوُٹھُ ابھِمانُ ॥
بِنُ ناۄےَ پاجُ لہگُ نِدانِ ॥੧॥
ستِگُر سیۄِ نامُ ۄسےَ منِ چیِتِ ॥
گُرُ بھیٹے ہرِ نامُ چیتاۄےَ بِنُ ناۄےَ ہور جھوُٹھُ پریِتِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرِ کہِیا سا کار کماۄہُ ॥
سبدُ چیِن٘ہ٘ہِ سہج گھرِ آۄہُ ॥
ساچےَ ناءِ ۄڈائیِ پاۄہُ ॥੨॥
آپِ ن بوُجھےَ لوک بُجھاۄےَ ॥
من کا انّدھا انّدھُ کماۄےَ ॥
درُ گھرُ مہلُ ٹھئُرُ کیَسے پاۄےَ ॥੩॥
ہرِ جیِءُ سیۄیِئےَ انّترجامیِ ॥
گھٹ گھٹ انّترِ جِس کیِ جوتِ سمانیِ ॥
تِسُ نالِ کِیا چلےَ پہنامیِ ॥੪॥
ساچا نامُ ساچےَ سبدِ جانےَ ॥
آپےَ آپُ مِلےَ چوُکےَ ابھِمانےَ ॥
گُرمُکھِ نامُ سدا سدا ۄکھانےَ ॥੫॥
ستِگُرِ سیۄِئےَ دوُجیِ دُرمتِ جائیِ ॥
ائُگنھ کاٹِ پاپا متِ کھائیِ ॥
کنّچن کائِیا جوتیِ جوتِ سمائیِ ॥੬॥
ستِگُرِ مِلِئےَ ۄڈیِ ۄڈِیائیِ ॥
دُکھُ کاٹےَ ہِردےَ نامُ ۄسائیِ ॥
نامِ رتے سدا سُکھُ پائیِ ॥੭॥
گُرمتِ مانِیا کرنھیِ سارُ ॥
گُرمتِ مانِیا موکھ دُیارُ ॥
نانک گُرمتِ مانِیا پرۄارےَ سادھارُ ॥੮॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
جگ کوا۔ یہ عالم ایک کوے کی طرح ہے ۔ سکھ چنچ گیان۔ زبان۔ یا مفید زبانی علم کی باتیں تو لوگ کرتے ہیں۔ مگر دل پر ۔ اسکا اثر نہیں انت لوبھ ۔ دلمیں لالچ ہے ۔ جھوٹ ہے ۔ ابھیمان ۔ غرور اور تکبر۔ ندان۔ آخر۔ پاج ۔ پروہ (1) جیتارےے ۔ یاد کرائے ۔ پریت۔ پیار (1) راہؤ۔ سبد چین ۔ کلام سمجھ کر ۔ سچ گھر آوہو۔ دلمیں ذہنی و روحانی سکون بسا ۔ ساچے نائے ۔ سچے نام سچ وحقیقت سے ۔وڈائی ۔ عظت (2) گھٹ گھٹ انتر۔ ہر دلمیں۔ اندھ کماوے ۔ مگراہ رہتا ہے ۔ در گھر محل۔منزل۔ مقصود (3) ہر جیؤ۔ کدا۔ انتر جامی ۔ دلی راز جاننے والا۔ جوت ۔ نور ۔ پہنامی ۔ پردہ ۔ راز ۔ ۔ بھید (4) سپے سبد۔ سچے صدیوی کلام سے ۔ ساچا نام۔ صدیوی سچا نام سچ وحقیت ۔ جانے سمجھ آتی ہے ۔ بھیمانے ۔ گرور۔ تکبر۔ وکھانے ۔ بیان کرتا ہے (5) دوجی ۔ وکرا۔ دوئش ۔ تفرقات۔ اوگن۔ بداوصاف۔ پاپا مت۔ گناہوں والی سمجھ ۔ کھائی ۔ کتم کی ۔ کنچن۔ سونا۔ کائیا۔ جسم۔ جوتی جوت سمائی۔ الہٰینور میں انسانی نور مجذوب ہوا (6) ستگر ملئے ۔ سچے مرشد کا ملاپ ۔ وڈی وڈیائی ۔ بلند عظمت۔ دکھ کاتے ۔ عذاب مٹاتا ہے ۔ ہر وے نام وسائی ۔ دلمیں نام بستا ہے ۔ سادسکھ ۔ ہمیشہ سکھ (7) گرمت ۔ سبق مرشد۔ مانیا۔ ایمان لانا۔ کرنی ۔ اعمال۔ سار۔ مول۔ موکھ دآر۔ راہنجات۔ سادھار۔ درست راہ پر ۔
ترجمہ معہ تشریح:
سچے مرشد کی خدمت سے الہٰی نام سچ وحقیقت دلمیں بستا ہے ۔ بغیر سچ وحقیقت کے آخر پردہ فاش ہوجاتا ہے ۔مرشد اپنے ملاپ سے الہٰی نام سچ و حقیقت یاد کراتا ہے ۔نام کے بگیر دوسری محبت جھوٹی ہے (1) ۔ یہ عالم ایککوے جیس اہے جس کی جونچ میں علم ہے مراد کوے کی مانند زبانی روحانیت یاد یکر علیات کا ذکر کرتا ہے جبکہ دلمیں لالچ جھوٹ اور تکبر ہے ۔ سچ وحقیقت الہٰی نام کے تمام پر دے فاش ہوجاتے ہیں (1) جو کاممرشد نے بتائیا وہی کام کر ؤ کلام سمجھ کر روحانیس کون پاؤ۔ سچے نام سچ وحقیقت سے عظمت وحشمت حاصل ہوتی ہے (2) اپنے آپ کو سمجھ نہیں لوگوں کو سمجھاتا ہے ۔دل بے سمجھ اندھوں جیسا نابیان بے سمجھو اور نابینوں کے سے اعمال کرتا ہے تب منزل مقسود کیسے حاصل ہوگی (3) اس ہستی کی کدمت کرو جو دلی راز جانتا ہے جسکا نور ہر دلمیں موجود ہے ۔ تب اس سے پروہ کیسے ر ہ سکتا ہے (4 ) صدیوی سچے نام سچ و حقیقت کی پہچان سچے کلام یا سبق مرشد سے ہوتی ہے ۔ جب انسان یکسو مراد خدا میں محو مجذوب ہوجات اہے تو غرور مٹ جاتا ہے اور ہمیشہ یاد ریاض کرتا ہے (5) سچے مرشد کی کدمت سے تفکرات مٹتے ہیں ب عقلی ختم ہوجاتی ہے بد اوصاف اور گناہوں والی سمجھ ختم ہوجاتی ہے ۔جسم سونے جیسا صاف ہوجاتاہے اور انسانی نور الہٰی نور میںجذب ہو رہتاہے (6) سچے مرشد کے ملاپ سے بلند عطمت حاصل ہوتی ہے ۔ عذاب مٹ جاتے ہیں اور دلمیں الہٰی نام سچ و حقیقت بستی ہے ۔ سچ وحقیقت الہٰینام میں محوئت سے ہمیشہ آرام و آسائش ملتاہے (7) سبقمرشد پرایمانلانا نیک اعمال کی بنیاد ہے ۔ سبق مرشد پر ایمان لانا راہ نجات ہے ۔ اے نانک۔ سبق مرشد پر ایمان لانے سے ۔ سارے خاندان کا سدھار یعنی صراط مسقتیم پر چلنے لگتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪ اسٹپدیِیا گھرُ ੧੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آپےَ آپُ کھاءِ ہءُ میٹےَ اندِنُ ہرِ رس گیِت گۄئیِیا ॥
گُرمُکھِ پرچےَ کنّچن کائِیا نِربھءُ جوتیِ جوتِ مِلئیِیا ॥੧॥
مےَ ہرِ ہرِ نامُ ادھارُ رمئیِیا ॥
کھِنُ پلُ رہِ ن سکءُ بِنُ ناۄےَ گُرمُکھِ ہرِ ہرِ پاٹھ پڑئیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایکُ گِرہُ دس دُیار ہےَ جا کے اہِنِسِ تسکر پنّچ چور لگئیِیا ॥
دھرمُ ارتھُ سبھُ ہِرِ لے جاۄہِ منمُکھ انّدھُلے کھبرِ ن پئیِیا ॥੨॥
کنّچن کوٹُ بہُ مانھکِ بھرِیا جاگے گِیان تتِ لِۄ لئیِیا ॥
تسکر ہیروُ آءِ لُکانے گُر کےَ سبدِ پکڑِ بنّدھِ پئیِیا ॥੩॥
ہرِ ہرِ نامُ پوتُ بوہِتھا کھیۄٹُ سبدُ گُرُ پارِ لنّگھئیِیا ॥
جمُ جاگاتیِ نیڑِ ن آۄےَ نا کو تسکرُ چورُ لگئیِیا ॥੪॥
ہرِ گُنھ گاۄےَ سدا دِنُ راتیِ مےَ ہرِ جسُ کہتے انّتُ ن لہیِیا ॥
گُرمُکھِ منوُیا اِکتُ گھرِ آۄےَ مِلءُ گد਼پال نیِسانُ بجئیِیا ॥੫॥
نیَنیِ دیکھِ درسُ منُ ت٘رِپتےَ س٘رۄن بانھیِ گُر سبدُ سُنھئیِیا ॥
سُنِ سُنِ آتم دیۄ ہےَ بھیِنے رسِ رسِ رام گوپال رۄئیِیا ॥੬॥
ت٘رےَ گُنھ مائِیا موہِ ۄِیاپے تُریِیا گُنھُ ہےَ گُرمُکھِ لہیِیا ॥
ایک د٘رِسٹِ سبھ سم کرِ جانھےَ ندریِ آۄےَ سبھُ ب٘رہمُ پسرئیِیا ॥੭॥
رام نامُ ہےَ جوتِ سبائیِ گُرمُکھِ آپے الکھُ لکھئیِیا ॥
نانک دیِن دئِیال بھۓ ہےَ بھگتِ بھاءِ ہرِ نامِ سمئیِیا ॥੮॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
آپے آپ کھائے ۔ ہونمے ۔ خودی مٹائے ۔ اندن ۔ ہر روز۔ ہر رس ۔ الہٰی لطف۔ گورمکھ پرچے ۔مرشد کے وسیلے سے ایمان لاتا ہے ۔ کنچن کائیا۔ سوئے جیسا جسم۔ دھیو۔ بیخوف۔جوتی جوت ملئیا ۔ نور سےنورملجاتا ہے (1) ہر نام ادھار۔ رمئیا۔ الہٰی نام سچ وحقیقت کا آسرا ۔خدا ۔کھن پل۔ تھوڑے سے وقفے کے لئے ۔ گورمکھ ۔مرشد کے ذریعے ۔ ہر ہر پاٹھ پڑیا۔ الہٰی سبق پڑھ لیا ہے (1) رہاؤ۔ ایک گریہہ ۔گھر ایک ۔ دس دوآر۔ دس دروازے ۔ اہنس۔ ہر روز۔ تسکری ۔ چور ۔ لگئیا۔ لگے ہوئے ہیں۔دھرم۔ انسانی اخلاقی فرائض ۔ ارتھ ۔ ضروری سمانا۔ہر۔ لوٹ۔ منمکھ ۔ خودی پسند۔ اندھلے ۔اندھے ۔ بیخبر (2) کنچن کوت۔ سونے کا قلعہ ۔مراد انسانی جسم۔ بہو مالک۔ بہت سے موتیوں سے ۔ جاگے ۔ بیدار۔ تت۔ اصلیت ۔ بوئسیا ۔ باہوش۔ تسکر۔ چور۔ ہیرو۔ ڈاکو۔ گر کے سبد ۔ کلام مرش دے ۔بندھن۔گکاؤت ۔ باندھ (3) پوت ۔ بوہتھا۔ جہاز۔کھوٹ۔ملاح۔ جسم جاگاتی۔ محصولیا۔ (4) تریگن۔ تینوں اوصاف میں ۔ تریاگن۔ تینوں لو صفؤں سے اوپر ۔ روحانیحالت جہاں مائیا کے تینوں وسف اثر انداز نہیںہوتے ۔ ایک درسٹ۔ ایک نظر ۔ سم ۔ برابر۔ برہم پسریا ۔ الہٰی پسار (7) ہرگن ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ ہرجس۔ الہٰی صف صلاح۔ انت نہ لہٹا۔ نہیں سمجھا ۔ گورمکھ ۔ منوآ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ کت گھر۔ ایک دل ۔ یکسو ۔نیسان۔ ڈھول (5) ترے گن۔تینوں اوصافمیں۔ مائیا موہ پاپے ۔ دنیاوی دولتکی محبت اپنا احساس یا تاثر ڈالتیہے ۔ نینی دیکھ ۔ آنکھوں سے دیدار کرکے ۔ من ترپیتے ۔دل کو تکسین ہوتی ہے ۔ سرون بانی ۔کلام سنکر ۔ آتم دیو۔ روح۔ بھینے ۔ متاثر ہوتا ہے ۔ رس رس۔ لطف سے ۔ روئیا۔ یاد کرتاہے ۔ (6) رامنام ۔ الہٰی نام سچ و حقیقت۔ جوت سبائی۔ سارا نور ۔ الکھ ۔ سمجھ سے باہر۔ لکھتیا۔ سمجھتا ہے ۔ بھگت بھائے۔ پریم کے پیار سے ۔ ہر نام سمیا ۔ الہٰی نام میں مجذوب ہوتے ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا میر لئے تیرے نام سچ وحقیقت کا آسرا ہے میں نام کے بغیر تھوڑے سے وقفے کے لئے بھی رہ نہیں سکتا مرشد نے مجھے الہٰی نام سچ وحقیقت کا سبق پڑھادیا (1) رہاو۔ جو شخس ہر وقت الہٰی نام سچ وحقیقت کا سبق پڑھادیا (1) رہاؤ۔ جو شخس ہر وقت الہٰینام سچ وحقیقت کا راگ لا پتا ہے ۔ا ور مرشد کے ذریعے اسمینمحو ومجذوب رہتاہے اوریکسو ہرک خودی مٹالیتاہے وہ اپنے آپ سونے کی طرف قدروقیمت وال اروح و جسم بنا لیتا ہے بیخوف ہوجاتا ہےخدا سے الحاق بنا لیتا ہے اور نور میں نور جذب ہوجاتا ہے (1) انسانی جسم ایک ایسا گھر ہے جس کے دس دروازے ہیں۔ جس کو پانچ احساسی راہ زن چوری مصروف رہتے ہیں روز و شب۔ انسانی فرائض اور روحانیت واکلاق کا تمام سازوسمان چرالےجاتے ہیں۔ خودی پسند ۔ روحانیت سے اندھے بیخبرکو خبر تک نہیں ہوتی (2) یہ سمجھو کہ انسانی جسم ایک سونے کا قلعہ ہے جو روحانی اوصاف کو احساسات بد اسی جسم کے اندر چھپنے رہتے ہیں کلام یا سبقمرشد سے انکو قابو کیا جا سکتا ہے (3) الہٰی نام سچ و حقیقت ایکجہاز ہے کلما و سبقمرشد ایک ملاح لہذا اس کی وساطت سے اس برائیون بھری زندگی کے سمندر سے عبور کیا جاس تکا ہے ۔ الہٰی محصولیا بھی اس کے نزدیکنہیں آتا نہچور چوری کر سکتا ہے (4) دن رات حمدوچناہ اور صفت صلاھ کرنے کے باوجود اس کے اوصافکرتے ہوئے اوصافکا آخر نہیں پاسکا۔ مرشد کے ذریعے دل کو تسکین حاصل ہوتی ہے اور دنیاوی شرم و حیا دور کرکے الہٰیملاپ حاسل ہوتا ہے (5) آنکھون سے دیدارکرکے دل کو تسلی و تسکین ملتا ہے ۔ کلام الہٰی و مرشد سننے سے روح وزہن پر اثر اور پر سکون ہوتی ہے اور اسکے لطف میںمحو ومجذوب ہوجاتی ہے (6) تینوں اوصاف میں دنیاوی دولت کی محبت اپنی گرفت میں رکھتی ہے ۔ مرید مرشد چوتھا رتبہ جو تینوں اوصاف سے بلند رتبہ ہے جہاں دنیاوی دولت اپنا تاچر نہیں ڈال سکتی اس کی نظر میں سب انسان برابر ہیں اور خدا کو دنیا کی ہر شے میں خدا کا نور رکھت اہے (7) مرید مرشد خدا جو انسانی سوچ و سمجھ سے بیعد ہے الہٰی نام جو سارا نور ہی ہے مرشد اس کے سمجھ سے بعید کو سمجھاتا ہے اے نانک۔ غریب نواز جس پر مہربان ہوتے ہیں وہ الہٰی پریم پیار کی وجہ س الہٰی نام میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔

بِلاۄلُ مہلا ੪॥
ہرِ ہرِ نامُ سیِتل جلُ دھِیاۄہُ ہرِ چنّدن ۄاسُ سُگنّدھ گنّدھئیِیا ॥
مِلِ ستسنّگتِ پرم پدُ پائِیا مےَ ہِرڈ پلاس سنّگِ ہرِ بُہیِیا ॥੧॥
جپِ جگنّناتھ جگدیِس گُسئیِیا ॥
سرنھِ پرے سیئیِ جن اُبرے جِءُ پ٘رہِلاد اُدھارِ سمئیِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
بھار اٹھارہ مہِ چنّدنُ اوُتم چنّدن نِکٹِ سبھ چنّدنُ ہُئیِیا ॥
ساکت کوُڑے اوُبھ سُک ہوُۓ منِ ابھِمانُ ۄِچھُڑِ دوُرِ گئیِیا ॥੨॥
ہرِ گتِ مِتِ کرتا آپے جانھےَ سبھ بِدھِ ہرِ ہرِ آپِ بنئیِیا ॥
جِسُ ستِگُرُ بھیٹے سُ کنّچنُ ہوۄےَ جو دھُرِ لِکھِیا سُ مِٹےَ ن مِٹئیِیا ॥੩॥
لفظی معنی:
پر ہر نام سیتل جل ۔ الہٰی نام ٹھنڈے پانی جیسا ہے ۔ دھیاہو ۔ یادوریاض کرؤ۔ چندن داس۔ چندن کی خوشبو سنگندھ گندھیا۔ خوشبودار ہوجاتاہے ۔ ست سنگت ۔ سچی صحبت سے ۔ پریم پد۔ بلند رتے ۔ پر ڈ۔ ارنڈ۔ پلاس۔ ڈھاک کا پودا۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ بہو بیا۔ خوشبودار ہوجاتاہے ۔ جگناھ ۔ مالک عالم ۔ جگدیس ۔ دنیا کا مالک ۔ گوسائیا۔ اقائے جہاں۔ سرن ۔ پناہ۔ اُبھرے ۔ بچے ۔ ادھار۔ آسرا یا سہارا دیکر۔ سمیا۔ یکسوئی میں محو ومجذوب کیا (1) سارے سبز زار میں سے چندن میں خاصیت ہے ۔ کہ چندن نکٹ ۔ چندن کے نزدیک ۔ چندن ہوئیا۔ چندن ہی جاتاہے ۔ ساکت ۔مادہ پرست ۔ خدا سے منکر۔ اوبھ سک ۔ گھڑ بے کھلوتے کھڑ سک ہوگئے ۔ ابھیمان۔ غرور۔ وچھڑ ۔ جدا ہوکر۔ گت ہیت۔ حالت و اندازہ منتی ۔ سبھ ۔ بدھ ۔ سارے طریقے ۔ منئیا۔ بناتاہے ۔ اختیار کرتا ہے ۔ بھیٹے ۔ ملے ۔ کنچن ہووے ۔ سونا ہوجاتاہے ۔ دھر لکھیا۔ بارگاہ الہٰی سے تحریر۔ مٹے نہ مٹیا۔ مٹائیاں نہیں مٹتا (3) رتن پدارتھ ۔ یقمتی نعمتیں ۔ گرمت۔ سبق و پندو آموز و مرشد۔ ساگر۔ سمندر۔ بھگت بھنڈار۔ الہٰی پریم کے ذکیرے کھلے ۔ سردھا۔ پیار پیدا ہوا۔ ترپت۔ اصلی ۔ تسکین (4)
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسانوں مالک عالم مالک جہاں و زمین کی یادوریاض کرؤ۔ جو اس کی پناہ لے لیتا ہے وہ بچ جاتا ہے جیسے ہر بلا کو کامیاب کرکے اپنے میںمجذوب کیا (1) رہاؤ۔ الہٰی نام سچ وحقیقت ٹھنڈا پانی ہے جو ٹھنڈک پہنچاتا ہے ۔ کدا چندن کی خوشبو ہے جو خوبدار بنا دیتی ہے ۔ سچی صحبت سے بلند رتبے ملتے ہیں۔ جیسے ارنڈ او ر ڈھاک کے پودے چندن کے ساتھ اور صحبت سے خوشوبدار ہو جاتے ہیں۔ اس طرحس ے الہٰی ساتھ و صحبت سے انسان نیک چلن بلند عظمت و حشمت والے ہوجاتے ہیں (1) سارے سبزہ زارمیں چندن ایک خاص درخت ہے چندن کے زندیک پ ہر پودا چندن ہوجاتاہے ۔ مادہ پرست خدا سے منکر خٓشک اور سکھ جاتے ہیں گرور اور گمان میں دوری پا لیتے ہیں (2) خدا خودہی اپنی حالت کہ وہ کیسا اورکتنی بلند عظمت و اہمیت والا ہے جانتا ہے سارے طور طریقے خدانے خود ہی بنائے ہیں۔ جسکا ملاپ سچے مرشد سے ہوجائے وہ سونے کی مانند بلند اخلاق و روحانی زندگی والا ہوجاتا ہے ۔ بارگاہ الہٰی جو اس کے اعمالنامے میں تحریر ہوتا ہے ۔ مٹانے سے مٹائیا نہیں جا سکتا (3) سبق و کلام مرشد ملی الہٰی محبت پریم پیار کے سمند راور خزانے ہیں۔ پائے مرشد سے صدق وایمان ویقین پیدا ہوتا ہے الہٰی صف صلاح وحمد ثناہ کرتے دل کی خواہش مزید حمدوثناہ کرنے کی مٹتی نہیں۔

رتن پدارتھ گُرمتِ پاۄےَ ساگر بھگتِ بھنّڈار کھُل٘ہ٘ہئیِیا ॥
گُر چرنھیِ اِک سردھا اُپجیِ مےَ ہرِ گُنھ کہتے ت٘رِپتِ ن بھئیِیا ॥੪॥
پرم بیَراگُ نِت نِت ہرِ دھِیاۓ مےَ ہرِ گُنھ کہتے بھاۄنیِ کہیِیا ॥
بار بار کھِنُ کھِنُ پلُ کہیِئےَ ہرِ پارُ ن پاۄےَ پرےَ پرئیِیا ॥੫॥
ساست بید پُرانھ پُکارہِ دھرمُ کرہُ کھٹُ کرم د٘رِڑئیِیا ॥
منمُکھ پاکھنّڈِ بھرمِ ۄِگوُتے لوبھ لہرِ ناۄ بھارِ بُڈئیِیا ॥੬॥
نامُ جپہُ نامے گتِ پاۄہُ سِم٘رِتِ ساست٘ر نامُ د٘رِڑئیِیا ॥
ہئُمےَ جاءِ ت نِرملُ ہوۄےَ گُرمُکھِ پرچےَ پرم پدُ پئیِیا ॥੭॥
اِہُ جگُ ۄرنُ روُپُ سبھُ تیرا جِتُ لاۄہِ سے کرم کمئیِیا ॥
نانک جنّت ۄجاۓ ۄاجہِ جِتُ بھاۄےَ تِتُ راہِ چلئیِیا ॥੮॥੨॥੫॥
SGGS P. 834
لفظی معنی:
پرم ویراگ۔ بھاری محبت۔ پریم ۔لگاو۔ بھاونی ۔ پریت۔ پیار۔ بار بار۔ دوبارہ۔ دوبارہ ۔پرے پریئیا۔ بیشمار (5) بکار یہہ۔ پکار تے ہیں کہتے ہیں۔ دھرم کر ہو ۔ فرض ادا کرؤ۔ کھٹ کرم ۔ چھ اعمال ۔ تعلیم حاصل کرنا اور دینا۔ لگیہہ کرنے اور کرانے ۔ دان دیان اور لینا۔ درڑئیا۔ پختہ کرنے ۔منمکہہ۔ خودی پسند۔ پاکھنڈ۔ دکھاوا۔ وگوے ۔ ذلیل وخوار ۔ لوبھ لہر۔ لالچ میں۔ ناوبھر ڈوبیا۔ کشی بھر کے ڈوبتی ہے (6) نام جیہو ۔ سچ وحقیقت یاد رکھو۔نامے ہی گت ۔ پاوہو۔ سچ وحقیقت سے ہی زندگی کے حالات بہتر ہوتے ہین۔ ہونمے جائے ۔ خودی ختم ہو۔ نرمل ہووے ۔ تبھی زندی پاک ۔ اور پوتر ہوتی ہے ۔ گورمکھ پر پے ۔ مرشد کے ذریعے ایمان لائے۔ پرم پددنیاوی زندگی کا بلند ربتہ (7) درن ۔ رنگ۔ جت لاویہہ۔ جس طرف لگات اہے ۔ سے کرم کمیا۔ وہیکام کرتا ہیں۔ جنت۔ مخلوق ۔ وجائے ۔ بجاتا ہے مراد جس طرح چلاتا ہے ۔ واجیہہ۔ اس طرح کرتے ہیں۔ جت بھاویہ۔ جسے چاہتا ہے ۔ تت راہ چلیئیا۔ اسے اسی راہ پر چلاتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو شخص بھاری پریم سے ہر روز خدا میں دھیان لگاتا ہے اس کے دہمیں الہٰی حمدوثناہ میں ایمان کو یقین کی بابت بتائیا ہے ۔ اس لئے بار بار پر پل ہر گھڑی الہٰی یاد وریاض کرنی چہایے ۔ خدا اعداد و شمار سے باہر ہے کوئی بھی اسکا کانار پا نہیں سکتا (5) وید شاشتر او ر پران اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ فرائض انسان ادا کرؤ اور چھ فرض انسان پر عائد ہیں ان کو اپنا ؤ ۔ خودی پسند دکھاوے اور بھٹکن میں زلیل وخوار ہوتے ہیں اور لالچ کی لہرون میں زندگی کی کشتی بھر کے ڈوبتی ہے (6) سچ وحقیقت الہٰی نام یاد رکھو الہٰی نام سچ وحقیقت سے ہی زندگی کا بلند رتبہ حاسل ہوتا ہے ۔ مذہبی کتابیں سچ حقیقت پختہ کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔ خودی مٹانے سے زندگی پاک ہوتی ہے مرشد کے ذریعے ایان اور صدق لا نیسے بلند روحانی واخلاقی رتبے حاصل ہوتے ہیں (7) یہ عالم یہ دنیا اے نانک۔ خدا کی ہی شکل وصورت ہے اے خدا جس طرف تو اپنی مخلوق کو لگاتے ہے وہ کام وہ کرتے ہیں ۔ یہ مخلوقات تیرے لئے ایک یا بے کی طرح ہیں جس طرح تو بو بچاتا ہے اس طرح بجتے ہیں۔ جس راہ پر چلانا چاہتا ہے ۔