Urdu-Master-2

SGGS p. 23- 44
سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੩॥
اِہُ تنُ دھرتیِ بیِجُ کرما کرو سلِل آپاءُ سارِنّگپانھیِ ॥
منُ کِرسانھُ ہرِ رِدےَ جنّماءِ لےَ اِءُ پاۄسِ پدُ نِربانھیِ ॥੧॥
کاہے گربسِ موُڑے مائِیا ॥
پِت سُتو سگل کالت٘ر ماتا تیرے ہوہِ ن انّتِ سکھائِیا ॥ رہاءُ ॥
بِکھےَ بِکار دُسٹ کِرکھا کرے اِن تجِ آتمےَ ہوءِ دھِیائیِ ॥
جپُ تپُ سنّجمُ ہوہِ جب راکھے کملُ بِگسےَ مدھُ آس٘رمائیِ ॥੨॥
بیِس سپتاہرو باسرو سنّگ٘رہےَ تیِنِ کھوڑا نِت کالُ سارےَ ॥
دس اٹھار مےَ اپرنّپرو چیِنےَ کہےَ نانکُ اِۄ ایکُ تارےَ ॥੩॥੨੬॥
سگل ۔ تمام۔ کالیتر۔ عورت۔ انت ۔ آخر۔ سکہائیا۔ دوست۔ ساتھی (1) رہاؤ۔ دشٹ۔ بدکردار۔ کر کھا کرئے ۔ گوڈی کرے ۔ تلف کرے ۔ آتمے ہوئے ۔ انتر دھیان ۔ اپنے آپ میں دھیان لگانا ۔ گہری سوچ۔ یکسوئی سے ۔ سنجم۔ غلط اور بدکاریوں پر ضبط۔ مدھ شہد ۔ کمل دگسے ۔ تو دل کھلتا ہے ۔ خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ بیس سپتاہرو ۔ ستائش دن۔ آلرمائی ۔ سرمد ۔ چوند ۔ رہتا ہے (2) سنگر یہہ ۔ اکھٹ کرو۔ تین کہوڑ۔ زندگی کی تین حالتیں ۔ سارے ۔ چیتے رکہے ۔ دس ۔ چاروید اور چھ شاشتر ۔ اٹھارے ۔ اٹھاراں۔ پران ۔ پرنپرو۔ پرے سے ۔ پرے ۔ بیشمار۔ چینے ۔ پہچان کرے ۔ دیکھے ۔ کہوبے ۔ او۔ ایسے ۔ پربھو ۔ خدا۔
ترجمہ:
اس جسم کو زمین تصور کرؤ۔ اعمال کا اسمیں یچ بوؤ اور اسے الہٰی نام سچ ۔ حق وحقیقت کے پانی سے آبپاشی کرؤ اور اپنے دل کو کسان بناؤ۔ اور الہٰی نام اپنے دلمیں گاؤ ۔ پیدا کرؤ۔ اسطرح سے اس میں روحانیت اخلاق آئیگی اور تمام دنیاوی جنجٹوں سے نجات حاصل ہوگی (1) خواہشات اثر انداز نہ ہو سکیں گی (1) اے نادان دولت سے کیوں مغرور ہے ۔ پتا ۔ فرزند ۔ زوجہ بوقت اخرت کوئی مددگار نہ ہوگا (1) رہاؤ۔ بدکاریوں ۔ گناہگاریوں کو اس طرح سے جڑ سے اکھاڑ دے جس طرح سے ندین کسان اپنے کھیت سے اکھاڑ دیتا ہے جو انسان یہ یکسو ہوکر ان عادات و گناہگاریؤں کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کو یاد کرتا ہے تب عبادت وریاضت اور ضبط اس کے حفاظتی بنتے ہیں تب وہ خوشدل ہوجاتا ہے اور روحانی سکون کا لطف و مزہ آہستہ اہستہ اس کے اندر اترتا ہے (2) اے نانک۔ اگر انسان ستائی نھتروں میں ہر روز الہٰی نام اکھٹا کرے ۔ اور ہر دور زندگی بچپن جوانی اور بڑھاپا تینوں حالتوں میں موت کو یاد کہے اس طرح خدا اسے کامیابی عنایت فرماتا ہے (3)

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੩॥
املُ کرِ دھرتیِ بیِجُ سبدو کرِ سچ کیِ آب نِت دیہِ پانھیِ ॥
ہوءِ کِرسانھُ ایِمانُ جنّماءِ لےَ بھِستُ دوجکُ موُڑے ایۄ جانھیِ ॥੧॥
متُ جانھ سہِ گلیِ پائِیا ॥
مال کےَ مانھےَ روُپ کیِ سوبھا اِتُ بِدھیِ جنمُ گۄائِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ایَب تنِ چِکڑو اِہُ منُ میِڈکو کمل کیِ سار نہیِ موُلِ پائیِ ॥
بھئُرُ اُستادُ نِت بھاکھِیا بولے کِءُ بوُجھےَ جا نہ بُجھائیِ ॥੨॥
آکھنھُ سُننھا پئُنھ کیِ بانھیِ اِہُ منُ رتا مائِیا ॥
کھسم کیِ ندرِ دِلہِ پسِنّدے جِنیِ کرِ ایکُ دھِیائِیا ॥੩॥
تیِہ کرِ رکھے پنّج کرِ ساتھیِ ناءُ سیَتانُ متُ کٹِ جائیِ ॥
نانکُ آکھےَ راہِ پےَ چلنھا مالُ دھنُ کِت کوُ سنّجِیاہیِ ॥੪॥੨੭॥
لفظی معنی:
عَمل۔ اَعمال ۔ اِخلاق ۔دھرتی۔ زمین۔ شبدوکلام مرشد۔ آب۔ پرتاپ۔ وقار ۔ہوئے کر سان ۔ کسان بن۔ ایمان۔ یقین جَمائے کے ۔ اُگائے ۔ ایو۔ اس طرح۔ مت جان سیہہ ۔ یہ نہ سمجھ ۔ گلی ۔ باتوں سے ۔مانے۔ سمجھے ۔ ات بدھتی ۔ اس طور طریقے سے ۔تَن۔جسم ۔میڈک ۔ میڈک ۔ سار ۔ قدر ۔ سمجھے۔ اصلیت ۔ حقیقت ۔قدر۔ قیمت ۔مول ۔ بالکل ۔اُستاد ۔ مرشد ۔ گرُو ۔ بھاکھیا۔ تشریح ۔ دیا کھیا ۔ واعظ۔ بجھاتی۔سمجھ ۔ (2)پون کی بانی ۔ہوا کی مانند۔ بے دھیانی یا توجہ ۔دلیہہ پسندے ۔ دلی پسند ۔کر ایک۔ بایقین واثق ۔ مکمل یقین(3) تیہہ ۔ تیس دن ۔پنج۔ پنج نماز ۔مت کٹ جائی ۔ کہیں میں اسلام سے کہیں دور نہ چلا جاؤں ۔راہ ۔ راستہ۔ کت کوُ ۔ کیس لئے ۔سنجیاہی
ترجمہ:
عمل یا اعمال ۔ مراد نیک اَعمال کو زمین یا کھیت سمجھ اسمیں کلام ۔ پندو آموزیا ۔ واعظ مر شد کا بیج بوؤ ۔اور سچ حق و حقیقت سچ کے وقار کا ہر روز پانی دو۔ آبپاشی کرؤ ۔اور کسان بن کر جمائے لے اسمیں ایمان یعنی یقین واثق بنا ۔اسطرح بہشت اور دوزخ کی سمجھ آئیگی ۔کر بہشت اور دوزخ کیا ہے۔ اے نادان ۔مت سمجھ کر خدا سے صرف باتوں سے ہی الہٰی ملاپ حاصل ہو جائیگا ۔مال و دولت کے تکبر و غرور میں اور خوبصورتی کی شہرت میں زندگی برباد کر دی ۔
جب تک انسان کے دلمیں عیبوں اور گناگاریوں کا کیچڑ موجو د ہے یہ دل جو ایک مینڈک کی مانند ہے۔ اسے کنول کے پھول کی حقیقت و اصلیت کی بالکل سمجھ نہیں ۔بھنور جسے اُستاد سے تشبیح دیکر سمجھاتے ہیں۔ اسکے گرد گونجھتا ہے ۔اور نزدیک مینڈک کیچڑ میں مست ہے ۔مگر یہ من جسکی عادات مینڈک کی مانند ہے ۔دنیاوی عیبوں کا گر ویدہ ہے۔ اور بھورا جو اسے نصیحت کرتا ہے ۔اُس نصیحت کو نہیں سمجھتا یہ ۔پند و نصائج اور واعظ اس ہو ا کی مانند ہے کہ ہوا کا جھونکا آتا ہے اور چلا جاتا ہے ۔یہ دول دولت کی محبت میں گرفتار ہے ۔خدا کی نظر میں وہی انسان اُسکی عنایت کے مستحق ہیں اور پیارے ہیں جنہوں نے کامل توجہی ویکسوئی سے اُسے یاد کیا ہے اوہ خدا کی نظر رحمت و عنایت میں شفقت ہیں۔
اےقاضی تیس روزے رکھتا ہے اور پانچ نمازیں ادا کرتا ہے مگر یہ خیال کر کہیں وہ جسکا نام شیطان ہے کہیں قضا نہ کر دے ۔نانک صاحب فرماتے ہیں کہ آخر تو نے اس جہاں سے رخصت ہونا ہے تو یہ دولت کس لئے اکھٹی کرتا ہے اور کیوں۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੪॥
سوئیِ مئُلا جِنِ جگُ مئُلِیا ہرِیا کیِیا سنّسارو ॥
آب کھاکُ جِنِ بنّدھِ رہائیِ دھنّنُ سِرجنھہارو ॥੧॥
مرنھا مُلا مرنھا ॥
بھیِ کرتارہُ ڈرنھا ॥੧॥ رہاءُ ॥
تا توُ مُلا تا توُ کاجیِ جانھہِ نامُ کھُدائیِ ॥
جے بہُتیرا پڑِیا ہوۄہِ کو رہےَ ن بھریِئےَ پائیِ ॥੨॥
سوئیِ کاجیِ جِنِ آپُ تجِیا اِکُ نامُ کیِیا آدھارو ॥
ہےَ بھیِ ہوسیِ جاءِ ن جاسیِ سچا سِرجنھہارو ॥੩॥
پنّج ۄکھت نِۄاج گُجارہِ پڑہِ کتیب کُرانھا ॥
نانکُ آکھےَ گور سدیئیِ رہِئو پیِنھا کھانھا ॥੪॥੨੮॥
لفظی معنی :
مؤلا ۔ مالک۔ خدا ۔مؤلیا ۔ خوش کیا۔ رزق سے سر فراز کیا۔ آب ۔پانی ۔خاک۔ مٹی ۔بندھ رہائی ۔ منظم کی۔ زیر انتظام کی ملا اے ملاں ۔مرنا۔ مؤت ۔کرتا رہو ۔ خدا سے
نام خدائی ۔ نام الہٰی ۔بھریئے پائی ۔ جب پنگھڑی ۔ پانی سے بھر جاتی ہے(2) آپ ۔ خودی ۔آدھارو۔ آسرا ۔ہوسی ۔ ہوگا ۔جائے نہ ۔ جو جاتا نہیں ۔دائمی ۔لافناہ ۔نہ جاسی ۔ بزمریگا ۔نہ فوت ہوگا سچا۔ سرجنھارو ۔سچا اور ساز ندہ ہے (3)نماز گذار پہہ ۔ نماز ادا کرتا ہے ۔کتب۔ کتاب ۔گور سدیئی۔ بلاتی ہے ۔ رہیؤ ۔ ختم ہو جاتا ہے (4)
ترجمہ:
خدا وہی ہے جسنے عالم کو پیا کرکے سرسبز کیا ہے ۔جسنے زمین اور پانی کو زیر نظام اور منظم کیا ہے شاباش ہے اس سازندہ کو ۔اے مولوی خوآہ موت لازم ہے ۔ تاہم بھی خدا سے ڈرؤ
تو تبھی ۔ملاں اور قاضی ہے اگر تو الہٰی نام سچ ۔ حق وحقیقت سمجھتا ہے خواہ بہت پڑھا ہوآ ہے اور ہو کوئی بھی یہاں رہ نہیں سکتا ۔ (2)قاضی وہی ہے جس نے خودی مٹا دی اور صرف نام الہٰی کو سہارا بنائیا۔سچاخدا آج بھی ہے آئندہ بھی ہوگا اور سچا سازندہ ہے۔ (3) پانچوں وقت نماز ادا کرتا ہے ۔ قرآن مجید پڑھتا ہے ۔نانک فرماید کہ قبر آواز دے رہی ہے یعنی موٹ عنقریب ہے ۔کھانا پینا ختم ہو گیا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੪॥
ایکُ سُیانُ دُءِ سُیانیِ نالِ ॥
بھلکے بھئُکہِ سدا بئِیالِ ॥
کوُڑُ چھُرا مُٹھا مُردارُ ॥
دھانھک روُپِ رہا کرتار ॥੧॥
مےَ پتِ کیِ پنّدِ ن کرنھیِ کیِ کار ॥
ہءُ بِگڑےَ روُپِ رہا بِکرال ॥
تیرا ایکُ نامُ تارے سنّسارُ ॥
مےَ ایہا آس ایہو آدھارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
مُکھِ نِنّدا آکھا دِنُ راتِ ॥
پر گھرُ جوہیِ نیِچ سناتِ ॥
کامُ ک٘رودھُ تنِ ۄسہِ چنّڈال ॥
دھانھک روُپِ رہا کرتار ॥੨॥
پھاہیِ سُرتِ ملوُکیِ ۄیسُ ॥
ہءُ ٹھگۄاڑا ٹھگیِ دیسُ ॥
کھرا سِیانھا بہُتا بھارُ ॥
دھانھک روُپِ رہا کرتار ॥੩॥
مےَ کیِتا ن جاتا ہرامکھورُ ॥
ہءُ کِیا مُہُ دیسا دُسٹُ چورُ ॥
نانکُ نیِچُ کہےَ بیِچارُ ॥
دھانھک روُپِ رہا کرتار ॥੪॥੨੯॥
لفظی معنی:
سوآن ۔ کُتا۔ سوآنی ۔ کتیا ۔بھلکے ۔ ہر روز ۔بیال ۔ بلا ۔ مٹھا۔ دھوکا۔دھانک۔ سانسی ۔ روپ۔ شکل ۔ ۔بیال ۔ سویرے ۔بموجب مہان کوش پند۔ نصیحت۔ کرنی کی کار۔ ایسی کار جو کرنے کے لائق ہے ۔وکرال۔ ڈراؤنی ۔ آدھار۔ آسرا ۔
مکہہ۔ مونہہ۔ پر گھر ۔ بیگانے گھر ۔جوہی ۔جو اُسپر نظر رکھتا ہے۔ سنسات۔ بد خاندان۔ تن ۔ جسم۔ سرت۔ دھیان۔ ہوش ۔پھاہی سرت ۔ پھائنے میں دھیان ۔ملوکی ۔ ویس ۔ فرشتہ صورت فقرانہ لباس ۔ پیرانہ لباس۔ ٹھک واڑا ۔ ٹھگنے کا اُڈا ۔کھرا۔ بہت ۔بھار۔ بوجھ ۔ (3)
حرام خور۔ بغیر کمائے کھانیوالا۔ ہوں۔ میں۔ کیا منہہ ویسا ۔ کیسے منہہ دکھاوُں۔ نیچ ۔بد اعمال ۔کرتار۔ کرنیوالا ۔ کار ساز ۔ قادر ۔
ترجمہ:
اے قادر۔ کرتار میری شکل و صورت ساہنیاں والی ہے ۔میرے ساتھ ایک کُتا ۔لالچ میرے ساتھ ہے۔ جبکہ دو کتیاں خوآہشات اور اُمیدیں میرے ساتھ ہیں اور ہاتھ میں چھرا جھوٹ ہے ۔میں مائیا وچ ٹھگیا جا رہا ہوں۔ اور میں حق دیگراں مردار کھا رہا ہوں ۔ اےخدا نہ میں تو قیر و آبروکا سبق لیا ہے ۔ نہ نیک اعمال کا میں ایک ڈراؤنی شکل والا بنا ہوا ہوں ۔ اب مجھے صرف ایک ہی اُمید باقی رہ گئی ہے اورایک ہی سہارا رہ گیا ہے کہ تیر ا نام سچ۔ حق و حقیقت سارے عالم کو تارنے والا ہے جو سب کو کامیابی عنایت کرتا ہے ۔
زبان سے روز و شب بد گوئی کرتا ہوں ۔میں بدر کردار اور اچھے خاندان سے بھی نہیں ہو ں۔ دوسروں کے گھر پر میری نظر ہے اور جسم میں شہوت اور غصہ جیسے احساسات بدبسے ہوئے ہیں۔ اے قادر کرتار میری سانسیوں جیسی شکل و صورت والا ۔ (2) ہوں ہر وقت میر ا دھیان اس طرف رہتا ہے کہ لوگوں کو کیسے ٹھگی کے پھندے میں پھنساؤں اور میں فقروں اور فرشتوں کا سابھیس بنایا ہوا ہے۔ اور میں دھوکا اور ٹھگی کا اڈا بناہو اہوں اور عالم کو ٹھگ رہا ہوں ۔ جتنا عاقل ہو رہا ہوں اُتنا ہی گناہوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ اے خدا میں ساہسیاں والی شکل و صورت بنا رکھی ہے ۔ (3)
اےخدا میں حرام خور تجھے اور تیری قدر وقیمت نہ سمجھ سکا ۔میں کس منہ سے تیرے سامنے حاضر ہوں میں تو اے کرتار سہسیاں والی زندگی بسر کر رہا ہوں ۔بد اعمال نانک یہی کہتا ہے کہ اے خدا کہ میں سہسی شکل میں زندگی گذار رہا ہوں ۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੪॥
ایکا سُرتِ جیتے ہےَ جیِء ॥
سُرتِ ۄِہوُنھا کوءِ ن کیِء ॥
جیہیِ سُرتِ تیہا تِن راہُ ॥
لیکھا اِکو آۄہُ جاہُ ॥੧॥
کاہے جیِء کرہِ چتُرائیِ ॥
لیۄےَ دیۄےَ ڈھِل ن پائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تیرے جیِء جیِیا کا توہِ ॥
کِت کءُ ساہِب آۄہِ روہِ ॥
جے توُ ساہِب آۄہِ روہِ ॥
توُ اونا کا تیرے اوہِ ॥੨॥
اسیِ بولۄِگاڑ ۄِگاڑہ بول ॥
توُ ندریِ انّدرِ تولہِ تول ॥
جہ کرنھیِ تہ پوُریِ متِ ॥
کرنھیِ باجھہُ گھٹے گھٹِ ॥੩॥
پ٘رنھۄتِ نانک گِیانیِ کیَسا ہوءِ ॥
آپُ پچھانھےَ بوُجھےَ سوءِ ॥
گُر پرسادِ کرے بیِچارُ ॥
سو گِیانیِ درگہ پرۄانھُ ॥੪॥੩੦॥
لفظی معنی:
سرت ۔ سوجھ۔ ہوش ۔ سمجھ ۔عقل ۔جینے۔ جسنے ۔دھونا ۔ سکھنا ۔تن راہ۔ زندگی کا راستہ ۔روہ۔ غصہ ۔بول وگاڑ ۔ بدکلام ۔ لیکھا اکو محاسب واحد ہے
توہ ۔ تو ۔چترائی ۔ چالاکی لینے اور دینے میں دیر نہیں۔ (2) بول وگاڑ۔ زبان دراز ۔وگاڑیہہ۔ خرابی پیدا کرتا ہے ۔ندری اند ر ۔ نظر عنایت میں۔ کرنی۔ نیک اعمال ۔گھٹے گھٹ ۔ کم ہے ۔ (3)پرغوت۔ عرض گذارتا ہے ۔پرساد۔ رحمت سے
ترجمہ:
جتنے جاندار ہیں ان سب میں خدا کی دی ہوئی سمجھ کام کر رہی ہے ۔کوئی بھی ہوش و سمجھ کے بغیر نہیں۔ جیسی سمجھ ہے ویسا طریقہ اور راستہ وہ اختیار کر لیتے ہیں۔ سب کے لئے ایک ہی حساب کا پیمانہ اور طریقہ ہے اور جاندار آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ اے جاندار کیوں چالاکیاں کرتا ہے وہ پرتماہی دیتا ہے اور لے بھی لیتا ہے دیر نہیں کرتا ۔
اے خدا سارےجاندار تیرے ہی پیدا کیے ہوئے ہیں اور تو ہی سب کا مالک ہے ۔پھرتجھے غصہ نہیں آتا ۔ اے آقا ۔ (2)
اے خدا ہم جاندار زبان دراز ہیں۔ کڑوے اور پھیکے بول بولتے ہیں مگر تو نظر عنایت سے جانچ کرتا ہے ۔جو انسان بلند اخلاق ہوجاتا ہے اُسکی عقل شعور سے سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ اخلاقکے بغیر انسان عقل وشعور بھی نچھلے درے کا رہتا ہے ۔نانک کی گذارش ہے حقیقی با علم و شعور وہ انسان ہے جو اپنی اوقات و حقیقت کو سمجھتا ہے ۔جو رحمت مرشد سے سوچتا ہے۔ ایسا باعلم انسان درگاہ الہٰی قبول ہو جاتا ہے۔ ۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੪॥
توُ دریِیاءُ دانا بیِنا مےَ مچھُلیِ کیَسے انّتُ لہا ॥
جہ جہ دیکھا تہ تہ توُ ہےَ تُجھ تے نِکسیِ پھوُٹِ مرا ॥੧॥
ن جانھا میءُ ن جانھا جالیِ ॥
جا دُکھُ لاگےَ تا تُجھےَ سمالیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
توُ بھرپوُرِ جانِیا مےَ دوُرِ ॥
جو کچھُ کریِ سُ تیرےَ ہدوُرِ ॥
توُ دیکھہِ ہءُ مُکرِ پاءُ ॥
تیرےَ کنّمِ ن تیرےَ ناءِ ॥੨॥
جیتا دیہِ تیتا ہءُ کھاءُ ॥
بِیا درُ ناہیِ کےَ درِ جاءُ ॥
نانکُ ایک کہےَ ارداسِ ॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تیرےَ پاسِ ॥੩॥
آپے نیڑےَ دوُرِ آپے ہیِ آپے منّجھِ مِیاند਼॥
آپے ۄیکھےَ سُنھے آپے ہیِ کُدرتِ کرے جہاند਼॥
جو تِسُ بھاۄےَ نانکا ہُکمُ سوئیِ پرۄاند਼॥੪॥੩੧॥
لفظی معنی:
دانا۔ با عقل و شعور ۔جاننے والا ۔بنیا۔ دور اندیش۔مستقبل کو سمجھنے والا ۔ مچھلی۔ ایک معمولی جانور ۔ میں کیے پاؤں ۔ جیہہ جیہہ ۔ جدھر ۔کدھر ، نکسی ۔ نکلی ہوئی جدا۔ ہوئی۔ پھوٹ مرا ۔پھوٹ کر مر جاؤں۔ میؤ۔ صلاح۔ جالی ماچھی ۔سمالی۔ یاد کرنا
تو بھر پور ، ہر جگہ بستا ہے ۔میں جانیا دور میں سمجھا ۔ تو کہیں دور ہے ۔تیرے نائے ۔ تیرے نام میں ۔ میھ ۔ درمیان ۔ میان ۔ درمیاں ۔جہاں عالم ۔پروانو
ترجمہ:
تو اے خدا نہایت عظیم دریا کیطرح ہے ۔جبکہ دور اندیش و دوانشمند ہے ۔میں اُس دریا میں ایک مچھلی کی مانند ہوں لہذا میں تیرے اول وآخر ۔ کنارے کیسے پا سکتا ہوں ۔جہاں نظر جاتی ہے وہاں تو نظر آتا ہے میں تجھ سے جدا ہوا ہو ۔جب تجھ سے جدا ہوا ہو مچھلی کی مانند تڑپ کر مر رہا ہوں ۔ ۔نہ میں صلاح کو جانتا ہوں نہ ماہی گیر کو نہ اُس کے جال یعنی دنیاوی تذبذب زندگی جب کوئی عذاب آتا ہے تو مجھے تجھے یاد کرنیکے سوا کوئی چارہ نہیں ۔
اےخدا تو ہر جائی ہے اور میں کہیں دور سمجھ درہا تھا ۔دراصل میں جو کچھ کر رہا ہوں تیر حضوری میں ہی کر رہا ہوں سب کچھ تیری نگاہ میں ہے تاہم بھی میں اپنے کردار سے منکر ہوا ہوں ۔نہ میں وہ کام کرتا ہوں جنہیں تیری پروانگی حاصل ہوا ۔نہ تیری بندگی و عبادت کرتا ہوں۔ (2) اے خدا جو تو دیتا ہے وہی کھتا ہوں مجھے ایسا کوئی در دکھائی نہیں دیتا جہاں میں جاؤں ۔نانک صرف یہی عرض کرتا ہے ۔کہ زندگی تیری ہی عنایت و بخشش ہے ۔لہذا تیرے ہی سہارے رہ سکتا ہے ۔ (3)
خداسب کے نزدیک بھی ہے اور دور بھی اور خود ہی سارے عالم میں موجود ہے اور خود ہی سب کی سنبھال کرتا ہے ۔اور خود ہی عرضداشت سُنتا ہے ۔خدا خود ہی پیدا کرنیوالا ہے اَے نانک جو حکم اُسے اچھا لگتا ہے وہی ہر ایک جاندار کو قبول کرنا پڑتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੪॥
کیِتا کہا کرے منِ مانُ ॥
دیۄنھہارے کےَ ہتھِ دانُ ॥
بھاۄےَ دےءِ ن دیئیِ سوءِ ॥
کیِتے کےَ کہِئےَ کِیا ہوءِ ॥੧॥
آپے سچُ بھاۄےَ تِسُ سچُ ॥
انّدھا کچا کچُ نِکچُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جا کے رُکھ بِرکھ آراءُ ॥
جیہیِ دھاتُ تیہا تِن ناءُ ॥
پھُلُ بھاءُ پھلُ لِکھِیا پاءِ ॥
آپِ بیِجِ آپے ہیِ کھاءِ ॥੨॥
کچیِ کنّدھ کچا ۄِچِ راجُ ॥
متِ الوُنھیِ پھِکا سادُ ॥
نانک آنھے آۄےَ راسِ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ ناہیِ ساباسِ ॥੩॥੩੨॥
لفظی معنی:
کیتا۔ جسے پیدا کیا ہے۔ من۔ من میں ۔کہامان کرئے ۔ کیسا غرور یا ناز کر سکتا ہے۔ کے ہتھ ۔ کیا طاقت ہے ۔دیونہارے دینے والے ۔بھاوے۔ چاہے۔ آپےسچ بھاوے تس سچ ۔وہ خود سچا ہے سچ ہی چاہتا ہے ۔اندھا۔ بے علم ۔ نادا۔ کچا ۔ حقیقت سے بیہرہ ۔ بے علم ۔ نکچ ۔ جاہل
آراؤ۔آراستہ ۔ سجاوٹ ۔دھات ۔ اسلحہ ۔اصلا۔ حقیقت ۔بھاؤ۔ بھاونا ۔ رچی ۔بیج۔بونا ۔کندھ۔ دیوار ۔زندگی کی دیوار ۔راج۔ مستری جو دیوار بناتا ہے ۔اَلونی۔ بعیر نمک۔ ساد۔ لطف ۔ مزہ۔ آنے راس ۔ اگر درست ہو جائے۔ ساباس۔ آفرین و تحسین
ترجمہ:
خدا وند کریم کا پیدا کر وہ انسان کیسے تکبر و غرور کر سکتا ہے جبکہ سب طاقت دینے والے کے ہاتھ میں مرکوز ہے ۔خوآہ رے یا نہ دئے جو خود پیدا کیا ہو ا ہے اُصکے کہنے سے کیا ہو سکتا ہے ۔وہ خود سچا ہے ہمیشہ قائم دائم اَور سچا ہی پشند کرتا ہے۔ عقل وہوش سے بے بہرہ انسان خام ہے بے بہرہ ہے ۔
جس خدا تعالیٰ نے یہ درخت اور پودے اُگائے ہیں پیدا کیے ہیں وہی انہیں سجاوٹ بھی دیتا ہے ۔جیسا ان کی بناوٹ و سجاوٹ ہوتی ہے ۔ویسا ہی ان کو نام ملجاتا ہے۔ جیسی خواہش اور پریم پیار کا پھول آتا ہے اُسکے مطابق ہی پھل لگتا ہے۔ ہر انسان زندگی خام دیوار کی مانند ہے ۔اور من جو اسے بنانے والا کا ریگر ہے ہنر مند ہیں ۔اُسکی عقل بد بد مزہ اور بے لطف ہے ۔اُسکی زندگی بد مزہ بے لطف رہتی ہے۔ اے نانک اگر خدا خود انسانی زندگی میں سدھار لائے درستی پر آتی ہے ۔نام کے بغیر پسندیدگی نہیں۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੫॥
اچھل چھلائیِ نہ چھلےَ نہ گھاءُ کٹارا کرِ سکےَ ॥
جِءُ ساہِبُ راکھےَ تِءُ رہےَ اِسُ لوبھیِ کا جیِءُ ٹل پلےَ ॥੧॥
بِنُ تیل دیِۄا کِءُ جلےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پوتھیِ پُرانھ کمائیِئےَ ॥
بھءُ ۄٹیِ اِتُ تنِ پائیِئےَ ॥
سچُ بوُجھنھُ آنھِ جلائیِئےَ ॥੨॥
اِہُ تیلُ دیِۄا اِءُ جلےَ ॥
کرِ چاننھُ ساہِب تءُ مِلےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِتُ تنِ لاگےَ بانھیِیا ॥
سُکھُ ہوۄےَ سیۄ کمانھیِیا ॥
سبھ دُنیِیا آۄنھ جانھیِیا ॥੩॥
ۄِچِ دُنیِیا سیۄ کمائیِئےَ ॥
تا درگہ بیَسنھُ پائیِئےَ ॥
کہُ نانک باہ لُڈائیِئےَ ॥੪॥੩੩॥
لفظی معنی:
اَچھل ۔ جسے دھوکا نہ دیا جا سکے ۔نیہہ چھکے دھوکا نہیں کھاتی۔ چھلائی نیہہ چھلے ۔ دھوکا دینے کے باوجو د دھوکا کھاتا۔ گھاؤ ۔ زخم ۔صاحب ۔ مالک۔ ٹل پلے۔ ڈگمگاتا ہے۔ کیوں جلے ۔ کیے جلے کمایئے ۔ کمائی کریں۔ زندگی بنائیں۔ اِتّ۔ اسمیں۔ تن۔ جسم۔ سچ بجھن ۔ حقیقت سمجھنا ۔ (2) بانیا ۔ کلام ۔لاگے۔ اثر پذیر ۔ (3)بین ۔ بھیٹنے کی جگہ ۔جائے نشین ۔بانھ لڈھایئے ۔ بیفکر ہونا
ترجمہ:
یہ دنیاوی دولت ایسی ہے جسے کوئی دھاکا نہیں دے سکتا خود دھوکا باز ہے نہ اس شمشیر زخمی کر سکتی ہے جیسے خدا رکھتا ہے ویسے رہتی ہے۔ لالچی۔ انسان ڈگمگاتا ہے ۔بغیر تیل چراغ کیے جل سکتا ہے ۔مراد علم کے بغیر یعنی روحانی علم کے بغیر انسانی دل کیسے منور ہو سکتا ہے ۔مراد روحانی علم اور الہٰی حمد و ثناہ کے بغیر بیداری نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ دنیاوی دولت کی محبت اس میں بھاری رکاؤٹ ہے۔ مذہبی کتابیں پڑھو اور ان پر عمل گرؤ ۔ الہٰی خوف کو چراغ کے لئے ولی بناؤ اپنی زندگی مذہبی کتابوں کے مطابق بناؤ ۔اور حقیقت پسندی اور حقیقت سے اسے جگاؤ۔ اسطرح انسانی زندگی کا چراغ ایسے جگاؤ۔ اسطرح انسانی زندگی کا چراغ ایسے جلتا ہے۔ اسطرح جب انسان کا ذہن ایسے علم سے منور ہا جاتا تو الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے۔ اس انسانی ذہن پر واعظ و پندو نصائج و کلام اثر انداز ہوتا ہے۔ تو اسکے ریاض و خدمت الہٰی سے اُسے روحانی سکون ملتا ہے۔ اور عالم اُسے قابل فناہ دکھائی دیتا ہے۔ اور آنی جانی سمجھتا ہے ۔ (3) اس عالم میں خدمت کرنیے ۔ الہٰی دارگاہ میں بیھٹنے کیلئے جگہ ملتی ہے قدر و منزلت حاصل ہوتی ہے ۔اے نانک بتا دے کر بیفکر ہو جاتے ہیں ۔

سِریِراگُ مہلا ੩ گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ہءُ ستِگُرُ سیۄیِ آپنھا اِک منِ اِک چِتِ بھاءِ ॥
ستِگُرُ من کامنا تیِرتھُ ہےَ جِس نو دےءِ بُجھاءِ ॥
من چِنّدِیا ۄرُ پاۄنھا جو اِچھےَ سو پھلُ پاءِ ॥
ناءُ دھِیائیِئےَ ناءُ منّگیِئےَ نامے سہجِ سماءِ ॥੧॥
من میرے ہرِ رسُ چاکھُ تِکھ جاءِ ॥
جِنیِ گُرمُکھِ چاکھِیا سہجے رہے سماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنیِ ستِگُرُ سیۄِیا تِنیِ پائِیا نامُ نِدھانُ ॥
انّترِ ہرِ رسُ رۄِ رہِیا چوُکا منِ ابھِمانُ ॥
ہِردےَ کملُ پ٘رگاسِیا لاگا سہجِ دھِیانُ ॥
منُ نِرملُ ہرِ رۄِ رہِیا پائِیا درگہِ مانُ ॥੨॥
ستِگُرُ سیۄنِ آپنھا تے ۄِرلے سنّسارِ ॥
ہئُمےَ ممتا مارِ کےَ ہرِ راکھِیا اُر دھارِ ॥
ہءُ تِن کےَ بلِہارنھےَ جِنا نامے لگا پِیارُ ॥
سیئیِ سُکھیِۓ چہُ جُگیِ جِنا نامُ اکھُٹُ اپارُ ॥੩॥
گُر مِلِئےَ نامُ پائیِئےَ چوُکےَ موہ پِیاس ॥
ہرِ سیتیِ منُ رۄِ رہِیا گھر ہیِ ماہِ اُداسُ ॥
جِنا ہرِ کا سادُ آئِیا ہءُ تِن بلِہارےَ جاسُ ॥
نانک ندریِ پائیِئےَ سچُ نامُ گُنھتاسُ ॥੪॥੧॥੩੪॥
لفظی معنی:
ہوں ۔میں ۔سیوی ۔ خدمت کرتا ہوں ۔اک من ایک چت ۔ دل و جان سے یکسو ہو کر ۔بھائے پریم سے ۔ من کامنا۔ دلی خواہشات کیمطابق ۔دئے بجھائے ۔سمجھائے ۔من اچھت ۔ دلی خواہش ۔دَر ۔منگ ۔بخشش۔ سیج ۔ سکون ۔تکھ ۔ پیاس ۔گورمکھہ ۔ مرید مرشد ۔مرشد انصاری ۔سیون۔ خدمت کرنا ۔بھیمان۔ تکبر ۔غرور ۔کمل۔ کنول کا پھول ۔لزمل۔ پاک ۔درگھ ۔ دربار۔ الہٰی۔ (2) ستگر سیون ۔ جو سچے مرشد کی خدمت ۔ ممتا۔ میر ملکیتی ہوس ۔ ملکیت ۔بلھارے۔ قربان۔ اکھٹ ۔ ناختم ہو نیوالا ۔ (3)نام لافناہ سچ ۔ حق و حقیقت ۔ (3) گریلئے ۔ مرشد ملے ۔چوکے۔ دور ہو جاتا ہے۔ سیتی۔ ساتھ۔ رورہیا۔ روربیا ۔ یکسوئی ۔ محود مجذوب ۔گھرہی مانہے ۔ اپنے اندر ہی۔ اداس ۔ ثابے واسطہ ۔تارک۔ طارک ۔ساد۔ لطف۔ گن تاس۔ اوصاف کا خزانہ ۔
ترجمہ:
میں دل و جان سے بہ یک سو اپنے سچے مرشد کی پریم پیار سے خدمت کرتا ہوں۔ سچا مرشد دلی خواہشات پوریا ں کرنیوالا ایک زیارت گاہ ہے ۔جسے سمجھائے ۔د لی خواہشات کیمطابق مانگیں پوری کرتا ہے اور پھل دیتا ہے ۔الہٰی نام میں دھیان لگاؤ نام ہی مانگنا چاہیے نام میں دھیان لگانسے انسان روحانی اور ذہنی سکون پاتا ہے۔ ۔ اے دل الہٰی لطف اُٹھانے سے خواہشات کی بھوک مٹ جاتی ہے۔ جنہوں نے مرشد کے وسیلے سے لطف اُٹھائیا۔ وہ قدرت بلا جہد سکوں میں رہتے ہیں ۔
جنہوں نے سچے مرشد کی خدمت کی اُنہوں نے نام کا خزانہ پائیا ۔دلمیں الہٰی لطف ہے دل کا تکبر مٹ گیا۔ دل خوشباش ہو ا اور پر سکون دھیان لگائیا ۔پاک من خدا کو ہر وقت یاد کرتا ہے اُنہیں الہٰی درگاہ میں
ترجمہ مذکور
عزت و وقار ملتا ہے۔ (2) جو اپنے سچے مرشد کی خدمت کرتے ہیں ایسا کوئی کوئی ہے۔ جو خودی مٹا کر اور ملیتی خیال چوڑ کر خدا دلمیں بساتے ہیں ۔ میں اُن پر قربان ہوں۔ جنہیں نام سچ ۔ حق و حقیقت سے محبت ہے۔ چاروں جگوں میں جنہیں نہ ختم ہونیوالے نام کا خزانہ حاصل ہے۔ (3) مرشد کے ملاپ سے نام ملتا ہے محبت کی بھوک پیاس مٹ جاتی ہے اور انسان کا من خدا سے یکسو ہو جاتا ہے۔ اور کاروبار کرتا ہو ا گیاگی تارک ہو جاتا ہے ۔میں ان پر قربان ہوں جنہوں نے الہٰی نام کا لطف لیا ہے۔اے نانک الہٰی کرم و عنایت سے ہی سچا نام جو اوصاف کا خذانہ ہے ملتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
بہُ بھیکھ کرِ بھرمائیِئےَ منِ ہِردےَ کپٹُ کماءِ ॥
ہرِ کا مہلُ ن پاۄئیِ مرِ ۄِسٹا ماہِ سماءِ ॥੧॥
من رے گ٘رِہ ہیِ ماہِ اُداسُ ॥
سچُ سنّجمُ کرنھیِ سو کرے گُرمُکھِ ہوءِ پرگاسُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُر کےَ سبدِ منُ جیِتِیا گتِ مُکتِ گھرےَ مہِ پاءِ ॥
ہرِ کا نامُ دھِیائیِئےَ ستسنّگتِ میلِ مِلاءِ ॥੨॥
جے لکھ اِستریِیا بھوگ کرہِ نۄ کھنّڈ راجُ کماہِ ॥
بِنُ ستگُر سُکھُ ن پاۄئیِ پھِرِ پھِرِ جونیِ پاہِ ॥੩॥
ہرِ ہارُ کنّٹھِ جِنیِ پہِرِیا گُر چرنھیِ چِتُ لاءِ ॥
تِنا پِچھےَ رِدھِ سِدھِ پھِرےَ اونا تِلُ ن تماءِ ॥੪॥
جو پ٘ربھ بھاۄےَ سو تھیِئےَ اۄرُ ن کرنھا جاءِ ॥
جنُ نانکُ جیِۄےَ نامُ لےَ ہرِ دیۄہُ سہجِ سُبھاءِ ॥੫॥੨॥੩੫॥
لفظی معنی:
بھکھ کر ۔ بناوٹ ۔ فقیرانہ بھیس کرکے۔ بھرمایئے ۔ بھٹکتا میں پڑیں۔ کپٹ ۔ دھوکا۔ محل ۔ٹھکانہ ۔وشٹا ۔ گندگی۔ سنجم۔ ضبط ۔پرہیز ۔کرکی۔اعمال۔ گورمکھہ۔ مرید مرشد ۔پرگاس ۔ روحانی روشنی
شبد۔ کلام۔ گت ۔ روحانی بلند رتبہ۔ مکت ۔ نجات۔ گھرے مانہہ ۔ اپنے ذہن میں ۔ (2) نوکھنڈ ۔زمین کے نو حصے ۔ براعظم ۔ (3) کنٹھ ۔ گلے ۔لائے۔ لاکے۔ ردھ سدھ۔ کراماتی۔ شکتی ۔معجزے۔ تل۔ ذرا بھر ۔تمائے ۔ لالچ ۔ (4) پرھ بھاوے۔ اگر خدا چاہ۔ سہج ۔ روحانی سکون ۔ سبھائے ۔ پریم پیار میں
ترجمہ:
بہت سے مذہبی لباس پہن کر دل میں دھوکہ بازی( کرنا ) کرنسے انسان بھٹکتا رہتا ہے ۔ وہ انسان الہٰی حضوری حاصل نہیں کر سکتا ۔روحانی موت ہا جاتی ہے۔ اوربداعمالوں میں پھنسا رہتا ہے۔ ۔ جس انسان نے کلام مرشد پر عمل کرکے اپنے نفس پر فوقیت حاصل کر لی وہ گھریلو کاروبار کرتے ہوئے بھی روحانیت کا بلند رُتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ اور بد اعمالیوں اور گناہگار یوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ لہذا صحبت پاکدمانں میں الہٰی رضاض کر نی چاہیے۔ (3) اگر کوئی لاکھوں عورتیں بھی شہوت پرستی کے لئے ہوں اور ساری کائنات و زمین کا مالک ہو تب بھی سچے مرشد کی پناہ کے بغیر روحانی سکون حاصل نہیں کر سکے گا ۔ پناہ کے بغیر روحانی سکون حاصل کر سیکےگا ۔ تناسخ میں پڑا رہیگا۔ (3) اے خدا جو تو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا نہ کیا جاسکتا ہے اے خدا تو اپنا نام عنایت فرما تاکہ روحانی سکون میں رہ کر تیرے عشق میں خادم نانک نام کی ریاض سے روحانی زندگی بتاسکے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩ گھرُ ੧॥
جِس ہیِ کیِ سِرکار ہےَ تِس ہیِ کا سبھُ کوءِ ॥
گُرمُکھِ کار کماۄنھیِ سچُ گھٹِ پرگٹُ ہوءِ ॥
انّترِ جِس کےَ سچُ ۄسےَ سچے سچیِ سوءِ ॥
سچِ مِلے سے ن ۄِچھُڑہِ تِن نِج گھرِ ۄاسا ہوءِ ॥੧॥
میرے رام مےَ ہرِ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
ستگُرُ سچُ پ٘ربھُ نِرملا سبدِ مِلاۄا ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سبدِ مِلےَ سو مِلِ رہےَ جِس نءُ آپے لۓ مِلاءِ ॥
دوُجےَ بھاءِ کو نا مِلےَ پھِرِ پھِرِ آۄےَ جاءِ ॥
سبھ مہِ اِکُ ۄرتدا ایکو رہِیا سماءِ ॥
جِس نءُ آپِ دئِیالُ ہوءِ سو گُرمُکھِ نامِ سماءِ ॥੨॥
پڑِ پڑِ پنّڈِت جوتکیِ ۄاد کرہِ بیِچارُ ॥
متِ بُدھِ بھۄیِ ن بُجھئیِ انّترِ لوبھ ۄِکارُ ॥
لکھ چئُراسیِہ بھرمدے بھ٘رمِ بھ٘رمِ ہوءِ کھُیارُ ॥
پوُربِ لِکھِیا کماۄنھا کوءِ ن میٹنھہارُ ॥੩॥
ستگُر کیِ سیۄا گاکھڑیِ سِرُ دیِجےَ آپُ گۄاءِ ॥
سبدِ مِلہِ تا ہرِ مِلےَ سیۄا پۄےَ سبھ تھاءِ ॥
پارسِ پرسِئےَ پارسُ ہوءِ جوتیِ جوتِ سماءِ ॥
جِن کءُ پوُربِ لِکھِیا تِن ستگُرُ مِلِیا آءِ ॥੪॥
من بھُکھا بھُکھا مت کرہِ مت توُ کرہِ پوُکار ॥
لکھ چئُراسیِہ جِنِ سِریِ سبھسےَ دےءِ ادھارُ ॥
نِربھءُ سدا دئِیالُ ہےَ سبھنا کردا سار ॥
نانک گُرمُکھِ بُجھیِئےَ پائیِئےَ موکھ دُیارُ ॥੫॥੩॥੩੬॥
لفظی معنی :
سرکار ۔ حکومت۔ سب کوئے ۔ ہر ایک۔ سچ ۔حقیقت ۔گھٹ ۔ذہن ۔سوئے۔ شہرت۔ نج گھر ۔ اپنے آپ میں ۔اُپنے ذہن میں۔ ۔ میں میرا ۔ شبد ۔ کلام ۔بھائے ۔ پیار ۔ دوبے بھائے ۔ خدا کے علاوہ ۔ دنیاوی محبت ۔آولے جائے ۔ آواگون ۔ تناسخ ۔ (2) جوتکی ۔ جو تشی واد ۔ جھگڑا۔ واد ویچار ۔ بحث مباحثوں کی ویچار۔ بھوی ۔ بھٹکی نہ۔ بجھی ۔ نہیں سمجھتی ۔ خوار۔ ذلیل ۔پورب ۔ پہلا ۔گاکھڑی ۔ مشکل ۔ کمادنا ۔ک رنا۔ میٹنھار۔ مٹانے کی توفیق رکھنیوالا۔ آپ ۔ خودی ۔تھائے پوکے ۔ قبول ہونا۔ پارس پرسیئے وہ پتھر کی ڈی جسکی چھوہ یا پرسنے سے لوہا سونا بن جاتا ہے ۔پارس کو چھونا ۔جوتی ۔ نور۔ روشنی۔ سمائے۔ محویت ۔ (4) پکار ۔ شکایت۔ گلہ شکوہ۔ سری ۔ پیدا کی۔ سبھے دیہہ ادھار ۔ سب کو سہارا دیتا ہے ۔ سار۔ سنبھال ۔ موکہہ دوآر ۔ درِ نجات
ترجمہ:
جسکی حکومت ہوتی ہے اُسی کے سارے ہوئے ہیں ۔وہ ہر ایک اسکے زیر فرمان ہوتا ہے۔ جو زیر فرمان و مرشد کا فرمانبردار ہوکر کام کیا جائے تو خدا دلمیں بس جاتا ہے۔ جسکے دلمیں خدا بس جائے اور اسکے نور کا ظہور ہو جائے وہ اُسکی مانند ہو جاتا ہے۔ جسکا اُس سے الحاق ہو جائے وہ دوبارہ جدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ اپنے ذہن و روح میں محو رہتے ہیں۔ اے میرےخدا میں تیرے بغیر نا چیز ہوں میری وقعت کچھ بھی نہیں۔ سچا مرشد سچ ہے۔ اور خدا پاک ہے ۔کلام اُس سے ملاتا ہے
کتابوں کا مطالعہ کرکے عالم فاضل (پنڈت) اور شمشی ماہر ۔ جیوتشی ۔ بحث مباحثے اور خیال آرائی کرتے ہیں۔ جسکی عقل و ہوش بدل گئی وہ سمجھ نہیں سکتا کیونکہ اُسکے دلمیں لالچ ۔ بد کاریاں اور گناہگاریاں ہیں وہ لاکھوں چور اسی میں بھٹکتے بھٹکتے ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ پہلے سے تحریر اعمالنامے کو کوئی مٹا نہیں سکتا (3)سچے مرشد کی خدمت مشکل ہے خودی مٹا کر سر دینا پڑتا ہے ۔ جب سبق ملجاتا ہے تو خدا سے ملاپ ہو جاتا ہے تب خدمت قبول ہو جاتی ہے جیسے پارس کے چھونے سے پارس ہو جاتا ہے ایسے نور سے ملکر نورانی ہو جاتا ہے ۔ جنکے پہلے سے اعمالنامے میں درج ہوتا ہے اُنہیں سچا مرشد خود ملتا ہے(4) اے دل تو آہ و زاری ۔ چیخ پکار اور شکایتیں نہ کر کہ جس خدا نے چور اسی لاکھ قسم کے جاندار پیدا کیے ہیں سب کو رزق اور سہارا دیتا ہے ۔وہ بیخوف خدا جو رحمان الرحیم ہے۔ جو مہربانیوں کا چشمہ ہے سب کی خبر گیری کرتا ہے۔ اے نانک مرشد کی وساطت سے اُسکی سمجھ آتی ہے اور دنیاوی مادی بندشوں یا پابندیوں سے نجات ملتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
جِنیِ سُنھِ کےَ منّنِیا تِنا نِج گھرِ ۄاسُ ॥
گُرمتیِ سالاہِ سچُ ہرِ پائِیا گُنھتاسُ ॥
سبدِ رتے سے نِرملے ہءُ سد بلِہارےَ جاسُ ॥
ہِردےَ جِن کےَ ہرِ ۄسےَ تِتُ گھٹِ ہےَ پرگاسُ ॥੧॥
من میرے ہرِ ہرِ نِرملُ دھِیاءِ ॥
دھُرِ مستکِ جِن کءُ لِکھِیا سے گُرمُکھِ رہے لِۄ لاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ سنّتہُ دیکھہُ ندرِ کرِ نِکٹِ ۄسےَ بھرپوُرِ ॥
گُرمتِ جِنیِ پچھانھِیا سے دیکھہِ سدا ہدوُرِ ॥
جِن گُنھ تِن سد منِ ۄسےَ ائُگُنھۄنّتِیا دوُرِ ॥
منمُکھ گُنھ تےَ باہرے بِنُ ناۄےَ مردے جھوُرِ ॥੨॥
جِن سبدِ گُروُ سُنھِ منّنِیا تِن منِ دھِیائِیا ہرِ سوءِ ॥
اندِنُ بھگتیِ رتِیا منُ تنُ نِرملُ ہوءِ ॥
کوُڑا رنّگُ کسُنّبھ کا بِنسِ جاءِ دُکھُ روءِ ॥
جِسُ انّدرِ نام پ٘رگاسُ ہےَ اوہُ سدا سدا تھِرُ ہوءِ ॥੩॥
اِہُ جنمُ پدارتھُ پاءِ کےَ ہرِ نامُ ن چیتےَ لِۄ لاءِ ॥
پگِ کھِسِئےَ رہنھا نہیِ آگےَ ٹھئُرُ ن پاءِ ॥
اوہ ۄیلا ہتھِ ن آۄئیِ انّتِ گئِیا پچھُتاءِ ॥
جِسُ ندرِ کرے سو اُبرےَ ہرِ سیتیِ لِۄ لاءِ ॥੪॥
دیکھا دیکھیِ سبھ کرے منمُکھِ بوُجھ ن پاءِ ॥
جِن گُرمُکھِ ہِردا سُدھُ ہےَ سیۄ پئیِ تِن تھاءِ ॥
ہرِ گُنھ گاۄہِ ہرِ نِت پڑہِ ہرِ گُنھ گاءِ سماءِ ॥
نانک تِن کیِ بانھیِ سدا سچُ ہےَ جِ نامِ رہے لِۄ لاءِ ॥੫॥੪॥੩੭॥
لفظی معنی:
بخ گھر ۔ اپنے ذہن میں ، ذہن نشین۔ روحانیت میں۔ گن تاس ۔ صفات کاخزانہ۔ تت گھر ۔ تت ۔ گھنٹ ۔ اُس دلمیں ۔ پرگاس ۔ روشنی ۔ ۔ دھر سرے سے۔ ستک۔ پیشانی ۔ شبد ۔ کلام ۔ سبق ۔ندرکر۔ غور کرکے ۔نکٹ ۔ نزدیک ۔پدور۔ حاضر ۔ ناظر ۔ ساتھ۔ چھوڑ۔ پچھتاوا۔ (2) الذن ۔ روز و شب ۔ (3) پدارتھ ۔نعمت ۔ قیمتی شے ۔لولائے۔ محویت دھیان لگانا۔ ہوش یکجا کرنا۔ پگ کھیئے پاؤں تھڑ کنا لڑکھڑانا ۔ٹھکور۔ٹھکانہ ۔اُبھرے ۔بچاؤ ۔انت۔ آخر
ترجمہ:
جنہوں نے سنا اور سنکر تسلیم کیا اور دلمیں بسائیا وہ اُنکے ذہن اور روح میں بست جاتا ہے اُنکے ذہن نشین ہو جاتا ہے۔ سبق مرشد سے اور سچ کی ستائش سے خدا کا جو اوصاف کا خزانہ ہے ملا ۔اور اپنے اندرونی ذہن و روح کے اندر سکون حاصل ہوا ۔جنہیں سبق مرشد سے محبت ہو جاتی ہے ۔وہ خوش اخلاق ۔ بلند کریکٹر چال چلن ، اور پاکباز ہوجاتے ۔میں ان پر قربان ہوں ۔جنکے دلمیں خدا بستا ہے وہ دل روشن ہے۔ ۔ اے دل پاک خدا کو یاد کر جنکو الہٰی حضور سے اُنکی پیشانی یعنی مقدر میں تحریر وہی مرید مرشد کے وسیلے سےخدا سے پریم لگاتے ہیں ۔
اےپاکدامن خدا رسیدہ باالتمام توجہی نظر کیجئے خدا تمہارے ساتھ رہتا ہے ساتھ بستا ہے ۔جنہوں نے سبق مرشد سے پہنچان کر لی وہ اُسے ہمیشہ اُسکادیدار حاضرہ پاتے ہیں۔ جو با وصف نہیں ہمیشہ اُنکے دلمیں بستا ہے ۔اور جنہوں نے بد کاریاں اور گناہگاریوں سے اپنے آپ کو آراستہ کیا ہے اُنہیں کہیں دور بستا دکھائی دیتا ہے ۔خودی پسند ۔ خودداری انسان اوصاف سے بے بہرہ رہتے ہیں وہ الہٰی نام کے بغیر پچھتا پچھتا کے روحانی موت مر جاتے ہیں۔ (2) جنہوں نے کلام مرشد سنا اور تسلیم کیا اور دلمیں اسکی ریاض کی ۔روز و شب عشق الہٰی سے دل و جان پاک ہو گیا ۔کنبھ ۔ گل لال کا رنگ جھوٹا ہوتا ہے ختم ہو جاتا ہے ختم ہونپر روتا ہے۔ اسی طور دنیاوی نعمتوں کا ساتھ بھی چار دنوں کے لئے ہوتا ہے اُسکے عشق میں گرفتار انسان عذاب پاتا ہے ۔اور روتا اور پچھتاتا ہے ۔جسکے اندر نام کی روشنی ہے وہ ہمیشہ مستقل مزاج ہو جاتا ہے ۔ (3)یہ بیش بہا قیمتی زندگی حاصل کرکے پیا ر اور پریم سے نام کی جو ریاض نہیں کرتا ۔مگر جب قدم ڈگمگائے تو اس عالم میں سکون نہ پائے گا ۔اور آئندہ مستقبل میں الہٰی درگاہ میں بھی ٹھکانہ نہیں ملیگا ۔وقت ہاتھ نہ آئیگا ۔اور آخر پچھتا ئیگا ۔جسپر نگاہ شفقت ہوگی الہٰی عشق کے ذریعے سے بچ جائیگا ۔سارے دکھاوے کیلئے کرتے ہیں مگر صراط مستقیم زندگی کی خبر نہیں خود ارادی ۔ خود پسند کو سمجھ نہیں ۔جنہوں نے مرشد کی وساطت سے دل پاک بنا لیا اُنکی خدمت دربار الہٰی قبول ہو ئی۔ ان انسانوں نے ہر روز صفت صلاح کی اور حمدو ثناہ روز و شب کرتے ہیں۔ اے نانک جو انسان الہٰی نام میں اُن کی زبان پر ہمیشہ الہٰی صفت صلاح رہتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
جِنیِ اِک منِ نامُ دھِیائِیا گُرمتیِ ۄیِچارِ ॥
تِن کے مُکھ سد اُجلے تِتُ سچےَ دربارِ ॥
اوءِ انّم٘رِتُ پیِۄہِ سدا سدا سچےَ نامِ پِیارِ ॥੧॥
بھائیِ رے گُرمُکھِ سدا پتِ ہوءِ ॥
ہرِ ہرِ سدا دھِیائیِئےَ ملُ ہئُمےَ کڈھےَ دھوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منمُکھ نامُ ن جانھنیِ ۄِنھُ ناۄےَ پتِ جاءِ ॥
سبدےَ سادُ ن آئِئو لاگے دوُجےَ بھاءِ ॥
ۄِسٹا کے کیِڑے پۄہِ ۄِچِ ۄِسٹا سے ۄِسٹا ماہِ سماءِ ॥੨॥
تِن کا جنمُ سپھلُ ہےَ جو چلہِ ستگُر بھاءِ ॥
کُلُ اُدھارہِ آپنھا دھنّنُ جنھیدیِ ماءِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ دھِیائیِئےَ جِس نءُ کِرپا کرے رجاءِ ॥੩॥
جِنیِ گُرمُکھِ نامُ دھِیائِیا ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥
اوءِ انّدرہُ باہرہُ نِرملے سچے سچِ سماءِ ॥
نانک آۓ سے پرۄانھُ ہہِ جِن گُرمتیِ ہرِ دھِیاءِ ॥੪॥੫॥੩੮॥
لفظی معنی:
اک من۔ یکسو ہوکر ۔ویچار۔ ہوش و سمجھ سے خیال کرکے ۔اُجلے۔ صا ف۔ تت سچے دربار ۔ سچی درگاہ ، بارگاہ الہٰی میں۔ سچے نام پیار ۔سچے نام سچ حق و حقیقت کی ۔محبت سے ۔گورمکھہ۔ مرشد کی وساطت سے ۔ منھکھہ۔ خود ارادی ۔ خود پسند۔ شبدے ساد۔ لطف کلام ۔وسٹا ۔ گندگی ۔ (2) سچھل ۔ کامیاب۔ کل۔ خاندان ۔نسب ۔دھیایئے۔ تو جو دینا ۔ توجہی ۔رجائے ۔ رضا ۔مرضی۔ (3) آپ گواے ۔ خود رادی چھوڑے ۔پروان ۔ قبول ۔منظور ۔
ترجمہ:
جس انسان نے سبق ۔ مرشد کے ذریعے نام کو بہ یکسوئی ذہن نشین گیا ریاضت و عبادت کی ۔وہ ہمیشہ الہٰی داربار میں سر خرو ہوئے ۔اُنہوں نے الہٰی نام کے پیار و پریم کے ذریعے روحانی زندگیاں عنایت کر نیوالا آب حیات پیا۔اےبھائی مرشد کے وسیلے سے عزت و حدمت ملتی ہے ۔ہمیشہ الہٰی ریاض کرنی چاہیے جو خودی کی ناپاکیزگی کو صاف کر دیتا ہے۔ خودارادی خودی پسند۔ جو نام کو نہیں سمجھتے نام سچ ۔ حق و حقیقت کے بغیر اپنی عزت کہو لیتے ہیں ۔اُنہیں سبق مرشد کا لطف نہیں آتا ۔وہ کسی دوسری محبت میں گرفتار رہتے ہیں وہ انسان بد کاریوں اور گناہگاریوں میں ملوث ہوکر گندگی کے کیڑوں کی مانند گندگی میں ہی پڑے رہتے ہیں۔ (2) ان کی زندگی کامیاب رہتی ہے جو مرشد کے پریم میں زندگی گذارتے ہیں وہ اپنے سارے خاندان کو برائیوں سے بچا لیتے ہیں اور اُنہیں پیدائش دینے والی مبارک ہے۔جس پر خدا اپنی رضا و رحمت عنایت کرتا ہے الہٰی نام میں توجو دیتے ہیں ۔ (3)جنہوں نے مرشد کے وسیلے سے الہٰی ریاضت کی وہ خودی مٹائی وہ خدا سے یکسو ہوکر ظاہر اور باطن پاک ہوگئے اور ان کی روحانی زندگی پاک ہوگئی لہذا اے نانک جگت میں اُن کی آمد ہی قبول ہوتی ہے جنہوں نے سبق مرشد سے الہٰی نام کو یاد کیا ہے ۔
سِریِراگُ مہلا ੩॥
ہرِ بھگتا ہرِ دھنُ راسِ ہےَ گُر پوُچھِ کرہِ ۄاپارُ ॥
ہرِ نامُ سلاہنِ سدا سدا ۄکھرُ ہرِ نامُ ادھارُ ॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ نامُ د٘رِڑائِیا ہرِ بھگتا اتُٹُ بھنّڈارُ ॥੧॥
بھائیِ رے اِسُ من کءُ سمجھاءِ ॥
اے من آلسُ کِیا کرہِ گُرمُکھِ نامُ دھِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ بھگتِ ہرِ کا پِیارُ ہےَ جے گُرمُکھِ کرے بیِچارُ ॥
پاکھنّڈِ بھگتِ ن ہوۄئیِ دُبِدھا بولُ کھُیارُ ॥
سو جنُ رلائِیا نا رلےَ جِسُ انّترِ بِبیک بیِچارُ ॥੨॥
سو سیۄکُ ہرِ آکھیِئےَ جو ہرِ راکھےَ اُرِ دھارِ ॥
منُ تنُ سئُپے آگےَ دھرے ہئُمےَ ۄِچہُ مارِ ॥
دھنُ گُرمُکھِ سو پرۄانھُ ہےَ جِ کدے ن آۄےَ ہارِ ॥੩॥
کرمِ مِلےَ تا پائیِئےَ ۄِنھُ کرمےَ پائِیا ن جاءِ ॥
لکھ چئُراسیِہ ترسدے جِسُ میلے سو مِلےَ ہرِ آءِ ॥
نانک گُرمُکھِ ہرِ پائِیا سدا ہرِ نامِ سماءِ ॥੪॥੬॥੩੯॥
لفظی معنی:
ہر دھن ۔ الہٰی دؤلت ۔راس ۔ سرمایہ ۔گر پوچھ ۔ سبق مرشد ۔صلاحن۔ ستائش ۔کرنا ۔وکھر سیودا ۔ادھار۔اسرا ۔اتٹ ۔بیشمار ۔ جو کم نہ ہو ۔بھنڈار ۔ خزانہ ۔ ۔پاکھنڈ ۔ دکھاوا ۔دبدھا۔ دوچتی ۔غیر یقینی ۔وویک ۔ حقیقت سمجھنے والی۔ وویک ویچار حقیقت کی پہنچان کرنیوالی سمجھ ۔ (2)اُر ۔ دل۔ سؤپے ۔ پیش کرئے۔ بھینٹ۔ کرم ۔ بخشش
ترجمہ:
خدا کی عبادت کرنیوالوں کے لئے خدا کا نام سچ ۔حق و حقیقت ہی سرمایہ ہے ۔وہ اپنے مرشد کے سبق کے مطابق بیوپار کرتے ہیں۔ الہٰی پریمی ہمیشہ الہٰی حمد و ثناہ کرتے ہیں ۔الہٰی نام کا سودا اُنکی زندگی کا سہارا ہے کامل سچے مرشد نے اُنکے دلمیں بیٹھا دیا ہے الہٰی نام ہی ان کا نا ختم ہونیوالا خزانہ ہے۔ اے بھائی اس من کو سمجھاؤ کہ اے دل کیوں غفلت کرتا ہے ۔مرشد کے ذریعے خدا کو یاد کر ۔اگر انسان سبق مرشد سے سمجھ کر الہٰی پریم ریاضت الہٰی پیار ہے ۔دکھاوے سے بھگتی نہیں ہو سکتی۔ وہ انسان دوچتی روئی بولتا ہے خوار ہوتا ہے۔ جو خودی مٹا کے و ل وجان پیش کرتا ہے ۔وہ مرید مرشد قبول ہوتا ہے کبھی شکست نہیں کھاتا ۔ (3)عنایت و شفقت سے ملتا ہے بغیر رحمت نہیں ملتا ۔چوراسی لاکھ جاندار اُسکے ملاپ کے لئے ترستے ہیں مگر وہی ملتا ہے جسے خود ملاتا ہے۔ اے نانک جو انسان مرید مرشد ہوجاتا ہے خدا پا لیتا ہے نام میں محومجذوب ہتا ہے

سِریِراگُ مہلا ੩॥
سُکھ ساگرُ ہرِ نامُ ہےَ گُرمُکھِ پائِیا جاءِ ॥
اندِنُ نامُ دھِیائیِئےَ سہجے نامِ سماءِ ॥
انّدرُ رچےَ ہرِ سچ سِءُ رسنا ہرِ گُنھ گاءِ ॥੧॥
بھائیِ رے جگُ دُکھیِیا دوُجےَ بھاءِ ॥
گُر سرنھائیِ سُکھُ لہہِ اندِنُ نامُ دھِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ساچے میَلُ ن لاگئیِ منُ نِرملُ ہرِ دھِیاءِ ॥
گُرمُکھِ سبدُ پچھانھیِئےَ ہرِ انّم٘رِت نامِ سماءِ ॥
گُر گِیانُ پ٘رچنّڈُ بلائِیا اگِیانُ انّدھیرا جاءِ ॥੨॥
منمُکھ میَلے ملُ بھرے ہئُمےَ ت٘رِسنا ۄِکارُ ॥
بِنُ سبدےَ میَلُ ن اُترےَ مرِ جنّمہِ ہوءِ کھُیارُ ॥
دھاتُر باجیِ پلچِ رہے نا اُرۄارُ ن پارُ ॥੩॥
گُرمُکھِ جپ تپ سنّجمیِ ہرِ کےَ نامِ پِیارُ ॥
گُرمُکھِ سدا دھِیائیِئےَ ایکُ نامُ کرتارُ ॥
نانک نامُ دھِیائیِئےَ سبھنا جیِیا کا آدھارُ ॥੪॥੭॥੪੦॥
لفظی معنی:
ساگر ۔ سمندر۔ گورمکھہ۔ مرید مرشد ۔اندن۔ روز و شب ۔ ہر وز ۔دھیایئے ۔ یاد کریئے ۔سہجے۔ روحانی سکون ۔ قدرتی شانتی ۔رسنا زبان ۔ گائے۔ ستائش کرنا ۔ صفت صلاح ڈوبے بھائے ۔ دوسروں سے پیار ۔لاگئی۔ لاگے۔ شبد پجھانیئے ۔ کلمہ کی سمجھ کی سمجھ ۔پرچنڈ بلائیا ۔ بیداری پیدا کی ۔ (2)مرجمہہ تناسخ ۔روحانی بیداری دموت ۔دھاتر باجی ۔ فناہ کرنیوالا کھیل ۔پلچ۔ خواری ۔ذلالت ۔نہ اُروار نہ پیار ۔ کسے کنارے نہ لگتا۔ (3) جپ ۔ تپ سنبھی ۔ ریاضت و تپسیا ۔ و بدکاریؤں پر ضبط اور قابو رکھنے والا ۔آدھار ۔ آسرا
ترجمہ:
خدا کا نام آرام و آسائش کا سمندر ہے ۔مگر یہ مرشد کے وسیلے سے ملتا ہے ۔الہٰی نام کی ریاض سے روحانی سکون پا کر اُسکی محویت سے نام کو یاد کرؤ ۔زبان سے الہٰی حمد و ثناہ سے دل ودماغ خدا سے یکسو ہو جاتا ہے۔ ۔ اے بھائی انسان دوئی دویت اور دوسری محبت سے عالم عذاب میں مبتلا ہے تو مرشد کی پناہ قبول کرکے الہٰی نام کی ریاض کر آرام و آسائش پائیگا ۔ ساچا کبھی ناپاک نہ ہوگا الہٰی ریاض سے دل پاک ہو جاتاہے ۔ اور خدا کو یاد کرتا ہے مرشد کے ذریعہ کلام کی پہچان کرکے الہٰی آب حیات نام کو یاد کرؤ ۔مرشد کی علم روشنی سے منور ہونیے جہالت کا اندھیر کا فور ہو جاتا ہے ۔ (2)جو خودی پسند خو دارادی ۔ خودی ۔ خواہشات لالچ اور بد کاریوں سے غلیظ رہتے ہیں ۔مرشد کے شبق و نصحیت آموز سبق کے بغیر وہ پلیدی ۔ ناپاکی دور نہیں ہوتی اور تناسخ میں پڑکر ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ وہ اس قابل فناہ عالم میں دنیاوی کھیل میں گرفتار رہتے ہیں ۔اور اس منجدھار میں پھنس کر کوئی کنار انہیں ملتا۔ (3) جو انسان مرشد کے ذریعے ریاضت ۔ تپسیا اور الہٰی نام سے محبت کرتا ہے ۔اور واحد خدا کی یاد میں مرید مرشد کے ذریعہ محو رہتا ہے۔ اے نانک نام کی ریاض سے سب کا بھلا ہوتا ہے ۔

س٘ریِراگُ مہلا ੩॥
منمُکھُ موہِ ۄِیاپِیا بیَراگُ اُداسیِ ن ہوءِ ॥
سبدُ ن چیِنےَ سدا دُکھُ ہرِ درگہِ پتِ کھوءِ ॥
ہئُمےَ گُرمُکھِ کھوئیِئےَ نامِ رتے سُکھُ ہوءِ ॥੧॥
میرے من اہِنِسِ پوُرِ رہیِ نِت آسا ॥
ستگُرُ سیۄِ موہُ پرجلےَ گھر ہیِ ماہِ اُداسا ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرمُکھِ کرم کماۄےَ بِگسےَ ہرِ بیَراگُ اننّدُ ॥
اہِنِسِ بھگتِ کرے دِنُ راتیِ ہئُمےَ مارِ نِچنّدُ ॥
ۄڈےَ بھاگِ ستسنّگتِ پائیِ ہرِ پائِیا سہجِ اننّدُ ॥੨॥
سو سادھوُ بیَراگیِ سوئیِ ہِردےَ نامُ ۄساۓ ॥
انّترِ لاگِ ن تامسُ موُلے ۄِچہُ آپُ گۄاۓ ॥
نامُ نِدھانُ ستگُروُ دِکھالِیا ہرِ رسُ پیِیا اگھاۓ ॥੩॥
جِنِ کِنےَ پائِیا سادھسنّگتیِ پوُرےَ بھاگِ بیَراگِ ॥
منمُکھ پھِرہِ ن جانھہِ ستگُرُ ہئُمےَ انّدرِ لاگِ ॥
نانک سبدِ رتے ہرِ نامِ رنّگاۓ بِنُ بھےَ کیہیِ لاگِ ॥੪॥੮॥੪੧॥
لفظی معنی:
سکھ۔ خودی پسند ۔ خود ارادی ۔ویاپیا ۔محبت میں گرفتار ۔اداسی۔ تارک الدنیا ۔جینے۔ پہنچاننا ۔ پت۔عزت۔ کہوٹے ۔ کہوتا ہے ۔وگئے۔ خوش ہونا ۔ہر ویراگ ۔ الہٰی پیار۔ پخند ۔ بیفکر۔ سہج۔ روحانی سکون۔ (2) دیراگی ۔ پریمی۔ تامس۔ لالچ۔ آپ خودی ندھان ۔ خزانہ ۔موتے ۔ بالکل ۔ اگھائے ۔ سیر تسکیں پائی۔ (3) جن کنے ۔ جس کسی نے۔ ویراگ ۔ پریم ۔لاگ ۔ اثر
ترجمہ:
خود پسند ۔ خو د ارادی انسان دنیاوی دؤلت کی محبت میں گرفتار رہتا ہے ۔نہ اسکے دلمیں عشق الہٰی نہ دونیاوی دؤلت سے ترک و پرہیز گاری نہ کلام مرشد کو سمجھتا ہے سوچتا ہے ۔اسلئے ہمیشہ عذاب و مصائب میں گرفتار رہتا ہے ۔بارگاہ الہٰی میں اپنی عزت و ابرؤ کھو دیتا ہے ۔اگر مرشد کے وسیلے سے خودی مٹا دے اور الہٰی نام سچ۔ حق وحقیقت اپنائے تو آرام و آسائش اور سکون پاتا ہے۔
میرے دلمیں ہمیشہ اُمیدیں اپنا گھر بنائے رکھتی ہیں۔ سچے مرشد کی خدمت و سبق پندو واعظ دنیاوی دؤلت کی محبت اچھی طرح جل جاتی ہے ۔تو خانہ داری میں رہتے ہوئے بھی طارق اور پرہیز رہ سکتا ہے ۔ ۔
مریدمرشد مرشد کی ہدایت پر عمل کرتا ہے۔ جس سے ذہنی خوشی میسئر ہوتی ہے اور الہٰی عشق سے روحانی سکون پاتا ہے ۔روز و شب الہٰی عبادت وریاضت کرتا ہے اور خودی مٹا کف بیفکر رہتا ہے ۔بلند قسمت سے اُسے پاک سچی صحبت قربت نصب ہوتی ہے جس سے الہٰی ملاپ اور روحانی سکون ملتا ہے ۔ (2)
حقیقتاً وہی حقیقی خدا رسیدہ سادھو الہٰی عاشق و پرہیز گار ہے جسکے دلمیں الہٰی نام سچ ۔ حق و حقیقت دلمیں بستی ہے ۔اُسکے اوپر بدیوں برائیوں کی سیاہی اثر انداز نہیں ہوتی وہ اپنے دل سے خودی اور خوئشتا ختم کر دیتا ہے۔ سچے مرشد نے الہٰی نام سچ ۔ حق و حقیقت کے خزانے کا دیدار کر دیا جس سے الہٰی لطف کا جی بھر لطف لیتا ہے۔ (3) خدا سے ملاپ جیسے بھی حاصل ہوا ہے۔ خدا رسیدہ خادمان خدا کی صحبت و قربت سے حاصل ہوا ہے ۔مگر خودی پسند بھٹکتے رہتے ہیں خود پسندی کیوجہ سے ۔اے نانک جنکو الہٰی کلام متاثر کر لیتا ہے سچ حق و حقیقت سے پیار ہوجاتا ہے الہٰی خوف و قدر ومنزلت کے علاقہ کیسے الہٰی محبت ہو سکتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
گھر ہیِ سئُدا پائیِئےَ انّترِ سبھ ۄتھُ ہوءِ ॥
کھِنُ کھِنُ نامُ سمالیِئےَ گُرمُکھِ پاۄےَ کوءِ ॥
نامُ نِدھانُ اکھُٹُ ہےَ ۄڈبھاگِ پراپتِ ہوءِ ॥੧॥
میرے من تجِ نِنّدا ہئُمےَ اہنّکارُ ॥
ہرِ جیِءُ سدا دھِیاءِ توُ گُرمُکھِ ایکنّکارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرمُکھا کے مُکھ اُجلے گُر سبدیِ بیِچارِ ॥
ہلتِ پلتِ سُکھُ پائِدے جپِ جپِ رِدےَ مُرارِ ॥
گھر ہیِ ۄِچِ مہلُ پائِیا گُر سبدیِ ۄیِچارِ ॥੨॥
ستگُر تے جو مُہ پھیرہِ متھے تِن کالے ॥
اندِنُ دُکھ کماۄدے نِت جوہے جم جالے ॥
سُپنےَ سُکھُ ن دیکھنیِ بہُ چِنّتا پرجالے ॥੩॥
سبھنا کا داتا ایکُ ہےَ آپے بکھس کرےءِ ॥
کہنھا کِچھوُ ن جاۄئیِ جِسُ بھاۄےَ تِسُ دےءِ ॥
نانک گُرمُکھِ پائیِئےَ آپے جانھےَ سوءِ ॥੪॥੯॥੪੨॥
لفظی معنی:
دتھ ۔ سودا ۔چیز ۔کھن ۔ پل ۔پل ۔نام ۔ انسانی اخلاق۔ الہٰی نام ۔تج ۔ چھوڑنا ۔ایک نکار ۔ واحد خدا۔ گر شبدی۔ کلمہ مرشد ۔گورمکھ ۔ منظور نظر مرشد۔ مرید مرشد۔ رکھٹ ۔ جسمیں کمی واقع نہیں ہوتی ۔جو ختم نہیں ہوتا۔ ہلت۔ پلت ۔ ہر دو عالم ۔مرار۔ خدا ۔ محل۔ ٹھکانہ ۔مونہہ پھیرے ۔ بد ظن ۔ جوے۔ نگاہ بد ۔ تاک میں ۔ جسم جاے ۔ موت کا پھندہ ۔ فرشتہ موت کی گرفت میں۔ (3) بخشش ۔ عنایت ۔سوئے وہی
ترجمہ:
الہٰی نام یا سوا اسی گھر یعنی ذہن میں ہی ہے ۔یہ اس ذہن میں ہی ملجاتا ہے ۔جو سانس سانس اُسے یاد کر تا ہے اُسنے اس دلمیں ہی ملجاتا ہے ۔کوئی مرشد کی وساطت سے پاتا ہے یہ نام کا خزانہ کم ہونیوالا نہیں لیکن بلند قسمت سے ملتا ہے۔ اے دل بدگوئی ۔ خودی ۔ اور تکبر چھوڑدے ۔اور مرشد کے ذریعے واحد خدا کو یاد کر جیسا کہ صورت الفاتحہ قرآن میں بھی بندگی کی تلقین کی ہے ۔ان مرشد کلمہ مرشد کے خیال سے سرخرو ہو جاتے ہیں ۔ہر دو عالم میں آرام و آسائش پاتے ہیں دلمیں خدا کی بندگی کرکے اور اسی ذہن میں الہٰی ٹھکانہ ملجاتا ہے (2)سچے مرشد سے جو منحرف اور بیرخی کرتا ہے اُنکی پیشانی داغدار ہو جاتی ہے ہر روز عذاب پاتے ہیں اور موت اور فرشتہ موت انکی طاق میں رہتا ہے ۔ جو آب میں سکھ دیکھنے کو نہیں ملتا اور ہر وقت غم اور فکر میں جلتے رہتے ہیں۔ ہو الذی خلق کلکم ما فی الداض جمیعاً ۔ یعنی خدا نے تمام کائنات انسان کے لئے پیدا کی ہے اور وہ ہی بخشنے والا ہے ۔کرمو عنایت کرتا ہے اسے کوئی کچھ کہ نہیں سکتا جسے اُسکی مرضی ہے ۔دیتا ہے۔ اے نانک مرشد کی وساطت سے ملاپ ہوتا ہے وہ ہی سب کچھ جاننے والا ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
سچا ساہِبُ سیۄیِئےَ سچُ ۄڈِیائیِ دےءِ ॥
گُر پرسادیِ منِ ۄسےَ ہئُمےَ دوُرِ کرےءِ ॥
اِہُ منُ دھاۄتُ تا رہےَ جا آپے ندرِ کرےءِ ॥੧॥
بھائیِ رے گُرمُکھِ ہرِ نامُ دھِیاءِ ॥
نامُ نِدھانُ سد منِ ۄسےَ مہلیِ پاۄےَ تھاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منمُکھ منُ تنُ انّدھُ ہےَ تِس نءُ ٹھئُر ن ٹھاءُ ॥
بہُ جونیِ بھئُدا پھِرےَ جِءُ سُنّجنْیَں گھرِ کاءُ ॥
گُرمتیِ گھٹِ چاننھا سبدِ مِلےَ ہرِ ناءُ ॥੨॥
ت٘رےَ گُنھ بِکھِیا انّدھُ ہےَ مائِیا موہ گُبار ॥
لوبھیِ ان کءُ سیۄدے پڑِ ۄیدا کرےَ پوُکار ॥
بِکھِیا انّدرِ پچِ مُۓ نا اُرۄارُ ن پارُ ॥੩॥
مائِیا موہِ ۄِسارِیا جگت پِتا پ٘رتِپالِ ॥
باجھہُ گُروُ اچیتُ ہےَ سبھ بدھیِ جمکالِ ॥
نانک گُرمتِ اُبرے سچا نامُ سمالِ ॥੪॥੧੦॥੪੩॥
لفظی معنی:
پرسادی ۔ رحمت سے ۔دھاوت۔ بھڑکتا ۔محلی ۔ الہٰی درگاہ ۔گرمتی ۔ سبق مرشد سے ۔ترے گن۔ تین اوصاف احساس ۔رجو ۔ حکومتی ۔ سوچ ۔طموں۔ لالچ۔ ستو ۔ سچائی پسندی ۔دکھیا۔ بداعمال ۔پرتپال۔ پروردگار ۔پرورش کرنیوالا۔ چیت ۔ غافل ۔ مد ہوش ۔اُبھرے ۔ بچ گئے ۔
ترجمہ:
سچے مالک کی یاد سے سچی عظمت ملتی ہے ۔رحمت مرشد سے دلمیں بستا ہے ۔خودی دور کرنے پر یہ دل کی بھٹکن تب ختم ہوتی ہے جب اسکی رحمت و عنایت ہو۔ ۔ اے بھائی مرشد کے وسیلے سے الہٰی نام یاد کرؤ۔ جب نام کا خزانہ دلمیں بسے گا تو الہٰی درگھ میں ٹھکانہ نصیب ہوگا ۔خوداری خودی پسند۔ دل و جان سے اندھیرے میں ہے ۔اُسے کوئی ٹھکانہ نہیں ملتا ۔دؤلت کی محبت میں بہت سے منصوبے بنا تا رہتا ہے جیسے سنسان گھر میں کوا جاتا ہے ۔سبق مرشد سے دل نوروانی ہو جاتا ہے اور کلمہ مرشد پر عمل سے نام ملتا ہے ۔ (2)تین اوصاف کی مائیا کی محبت میں انسان اندھیرے میں ہے اور لالچی کو غیروں سے محبت ہے اور دیدوں کو پڑھکر پکارتا ہے ۔دنیاوی دؤلت کی محبت میں ذلیل و خوار ہوتا ہے اور روحانی موت مرتا ہے اور زندگی کا کنارا نہیں ملتا۔ (3) دنیاوی دؤلت میں گرفتار ہوکر عالم نے خدا پروردگار خداوند کریم کو بھلا رکھا ہے ۔اور مرشد کے بغیر غفلت میں سو رہا ہے ۔اور تمام لوگ روحانی موت نے گرفتار کئے ہوئے ہیں۔ اے نانک مرشد کے سبق کی برکت سے دائمی خدا کا نام دلمیں بسا کے ہی روحانی موت سے بچ سکتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
ت٘رےَ گُنھ مائِیا موہُ ہےَ گُرمُکھِ چئُتھا پدُ پاءِ ॥
کرِ کِرپا میلائِئنُ ہرِ نامُ ۄسِیا منِ آءِ ॥
پوتےَ جِن کےَ پُنّنُ ہےَ تِن ستسنّگتِ میلاءِ ॥੧॥
بھائیِ رے گُرمتِ ساچِ رہاءُ ॥
ساچو ساچُ کماۄنھا ساچےَ سبدِ مِلاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنیِ نامُ پچھانھِیا تِن ۄِٹہُ بلِ جاءُ ॥
آپُ چھوڈِ چرنھیِ لگا چلا تِن کےَ بھاءِ ॥
لاہا ہرِ ہرِ نامُ مِلےَ سہجے نامِ سماءِ ॥੨॥
بِنُ گُر مہلُ ن پائیِئےَ نامُ ن پراپتِ ہوءِ ॥
ایَسا ستگُرُ لوڑِ لہُ جِدوُ پائیِئےَ سچُ سوءِ ॥
اسُر سنّگھارےَ سُکھِ ۄسےَ جو تِسُ بھاۄےَ سُ ہوءِ ॥੩॥
جیہا ستگُرُ کرِ جانھِیا تیہو جیہا سُکھُ ہوءِ ॥
ایہُ سہسا موُلے ناہیِ بھاءُ لاۓ جنُ کوءِ ॥
نانک ایک جوتِ دُءِ موُرتیِ سبدِ مِلاۄا ہوءِ ॥੪॥੧੧॥੪੪॥
لفظی معنی:
پوتے۔ خزانے ۔ دامن میں ۔ولیوں۔ اُن پر ۔ بھائے ۔ اُنکی مرضی کیمطابق ۔لاہا۔لابھ ۔منافع۔ سھجے۔ پر سکون۔ محل ۔ ٹھکانہ ۔ (2)جدو۔ جس سے ۔اسر ۔ جن مراد ۔کام شہوت ۔ غصہ ۔ لالچ ۔ محبت و تکبر۔ چوتھا پکہ روحانیت کیمطابق۔ سب سے روحانی زندگی کا بلند رتبہ ترین جس پر دنیاوی احساسات مادیات اثر انداز نہیں ہو سکتے ۔پن۔ ثواب ۔ نیکیاں
ترجمہ:
عالم میں تین اوصاف کی مادیاتی کی محبت اثر انداز ہو رہی ہے ۔جو انسان مرشد کی حضوری و صحبت میں رہتا ہے ۔وہ اُس روحانی رتبے کو حاصل کر لیتا ہے جس پر مادیات کے تینوں وصف اثر انداز نہیں ہو سکتے اور اپنی کرم و عنایت سے ملاپ کراتا ہے دلمیں نام سے جاتا ہے۔ جنکی تقدیر میں نیکی ہے خدا انہیں پاکدامن خد ارسدوں کی صحبت قربت عنایت کرتا ہے۔ ۔ اےبھائی سبق مر شد سے سچ اپناؤ ۔ حقیقی سچی کا ر کرؤ اور سچے کا کلمہ پر عمل کرؤ۔ جنہوں نے شبد کو سمجھ لیا اسکی حقیقی پہچان کرلی میں اس پر قربان ہوں ۔خودی مٹاکے اُن کے پاؤں پڑوں انکی رضا کے مطابق کا م کرو ں ۔نام کی یاد سے آسانی سے الہٰی نام سچ۔ حق وحقیقت کا منافع مل جاتا ہے ۔ (2)
مرشد کے بغیر ٹھکانہ نہیں ملتا نام حاصل نہیں ہوتا ۔ایسے سچے مرشد کی ضرورت ہے ۔جس سے سچی نیک شہرت ہے ۔احساسات کے جن یا ختم کردیتا ہے اور آراام و آسائش پاتا ہے اسمیں رتی بھر نہیں ہے اے نانک کلمہ ملاپ کا ذریعہ ہے ۔ نو ر سے نور یکسو ہاجاتا ہے گو شکتیں ہیں جدا جدا

سِریِراگُ مہلا ੩॥
انّم٘رِتُ چھوڈِ بِکھِیا لوبھانھے سیۄا کرہِ ۄِڈانھیِ ॥
آپنھا دھرمُ گۄاۄہِ بوُجھہِ ناہیِ اندِنُ دُکھِ ۄِہانھیِ ॥
منمُکھ انّدھ ن چیتہیِ ڈوُبِ مُۓ بِنُ پانھیِ ॥੧॥
من رے سدا بھجہُ ہرِ سرنھائیِ ॥
گُر کا سبدُ انّترِ ۄسےَ تا ہرِ ۄِسرِ ن جائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِہُ سریِرُ مائِیا کا پُتلا ۄِچِ ہئُمےَ دُسٹیِ پائیِ ॥
آۄنھُ جانھا جنّمنھُ مرنھا منمُکھِ پتِ گۄائیِ ॥
ستگُرُ سیۄِ سدا سُکھُ پائِیا جوتیِ جوتِ مِلائیِ ॥੨॥
ستگُر کیِ سیۄا اتِ سُکھالیِ جو اِچھے سو پھلُ پاۓ ॥
جتُ ستُ تپُ پۄِتُ سریِرا ہرِ ہرِ منّنِ ۄساۓ ॥
سدا اننّدِ رہےَ دِنُ راتیِ مِلِ پ٘ریِتم سُکھُ پاۓ ॥੩॥
جو ستگُر کیِ سرنھاگتیِ ہءُ تِن کےَ بلِ جاءُ ॥
درِ سچےَ سچیِ ۄڈِیائیِ سہجے سچِ سماءُ ॥
نانک ندریِ پائیِئےَ گُرمُکھِ میلِ مِلاءُ ॥੪॥੧੨॥੪੫॥
لفظی معنی:
انمرت ۔ آب حیات۔ وکھیا ۔ زہر ۔وڈائی ۔ دوسروں کی ۔ بیگانی ۔دہانی ۔ گذر ۔ رہاوقت۔ عمر ۔زندگی ۔دشٹی ۔ کمینی ۔نیچ۔ (2) جت

سِریِراگُ مہلا ੩॥
منمُکھ کرم کماۄنھے جِءُ دوہاگنھِ تنِ سیِگارُ ॥
سیجےَ کنّتُ ن آۄئیِ نِت نِت ہوءِ کھُیارُ ॥
پِر کا مہلُ ن پاۄئیِ نا دیِسےَ گھرُ بارُ ॥੧॥
بھائیِ رے اِک منِ نامُ دھِیاءِ ॥
سنّتا سنّگتِ مِلِ رہےَ جپِ رام نامُ سُکھُ پاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرمُکھِ سدا سوہاگنھیِ پِرُ راکھِیا اُر دھارِ ॥
مِٹھا بولہِ نِۄِ چلہِ سیجےَ رۄےَ بھتارُ ॥
سوبھاۄنّتیِ سوہاگنھیِ جِن گُر کا ہیتُ اپارُ ॥੨॥
پوُرےَ بھاگِ ستگُرُ مِلےَ جا بھاگےَ کا اُدءُ ہوءِ ॥
انّترہُ دُکھُ بھ٘رمُ کٹیِئےَ سُکھُ پراپتِ ہوءِ ॥
گُر کےَ بھانھےَ جو چلےَ دُکھُ ن پاۄےَ کوءِ ॥੩॥
گُر کے بھانھے ۄِچِ انّم٘رِتُ ہےَ سہجے پاۄےَ کوءِ ॥
جِنا پراپتِ تِن پیِیا ہئُمےَ ۄِچہُ کھوءِ ॥
نانک گُرمُکھِ نامُ دھِیائیِئےَ سچِ مِلاۄا ہوءِ ॥੪॥੧੩॥੪੬॥
لفظمی معنی:
دوہاگن ۔ دوخاوندوں والی ۔ طلاق شدہ آرامن۔ یکسو ہوکر ۔ دل و جان سے ۔ رکھتا اردھار ۔ دلی ارادے دلمیں بستا کر سے ۔ سچے روے بھتار ۔ خدا دلمیں بستا ہے ۔ ہیت اپار ۔ انتہائی محبت ۔ (2) جاکے بھاگے ادے ہوئے۔ قسمت بیدار ہو ۔ بھرم ۔ شک وشبہات ۔ (3) سہجے ۔ روحانی سکون میں ۔ پراپت ۔ حصول
ترجمہ:
خود پسندیوں ۔ خو د ارادی انسانوں کے اعمال طلاق شدہ عورتوں کی مانند ہیں ۔ خدا سے ملاپ نہیں ہوتا ذلیل وخوارہوتے ہیں اور انکی زندگی کا بناؤشنگار اس طلاقی عورت جیسا ہوتا ہے خداکا در نہیں پاتے ۔ ۔ اے بھائی بیدارمغرویکسو ہوکرخدا کی عبادت کرو پاکدامن خدا رسیدہ عابداں کی صحبت میں الہٰی نام کی ریاض سے سکھ ملتا ہے ۔ مرشد کی حضوری میں رہنے والے انسان کی رسائی خدا تک ہو جاتی ہے اُنکے دلمیں ہمیشہ خدا بستا ہے ۔ شیریں زبان ۔ عاجزی انکساری سے پیش آنےسے خدا ساتھی ہو جاتا ہے ۔ جنکا مرشدسے انتہائی پیار ہے وہ نیک شہرت اور خدا رسیدہ ہو جاتا ہے ۔ (2) بلند قیمت سے جب سچامرشد ملجاتا ہے ۔ تواسکے اندرونی عذاب اور شک وشبہات مٹ جاتے ہیں اور آرام و آسائش پاتا ہے اور رضائے مرشد میں رہتا ہے کوئی دکھ نہیں اُٹھاتا ۔ (3) مرشدکی رضا آب حیات ہے ۔ مگر کسی کو ہی قدرتی ملتا ہے ۔ اور خودی مٹاکر پیتے ہیں جنہیں ملتا ہے ۔ اے نانک مرشد کے وسیلے سے الہٰی نام کی ریاض سے الہٰی ملاپ ہو جاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
جا پِرُ جانھےَ آپنھا تنُ منُ اگےَ دھرےءِ ॥
سوہاگنھیِ کرم کماۄدیِیا سیئیِ کرم کرےءِ ॥
سہجے ساچِ مِلاۄڑا ساچُ ۄڈائیِ دےءِ ॥੧॥
بھائیِ رے گُر بِنُ بھگتِ ن ہوءِ ॥
بِنُ گُر بھگتِ ن پائیِئےَ جے لوچےَ سبھُ کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
لکھ چئُراسیِہ پھیرُ پئِیا کامنھِ دوُجےَ بھاءِ ॥
بِنُ گُر نیِد ن آۄئیِ دُکھیِ ریَنھِ ۄِہاءِ ॥
بِنُ سبدےَ پِرُ ن پائیِئےَ بِرتھا جنمُ گۄاءِ ॥੨॥
ہءُ ہءُ کرتیِ جگُ پھِریِ نا دھنُ سنّپےَ نالِ ॥
انّدھیِ نامُ ن چیتئیِ سبھ بادھیِ جمکالِ ॥
ستگُرِ مِلِئےَ دھنُ پائِیا ہرِ ناما رِدےَ سمالِ ॥੩॥
نامِ رتے سے نِرملے گُر کےَ سہجِ سُبھاءِ ॥
منُ تنُ راتا رنّگ سِءُ رسنا رسن رساءِ ॥
نانک رنّگُ ن اُترےَ جو ہرِ دھُرِ چھوڈِیا لاءِ ॥੪॥੧੪॥੪੭॥
لفظی معنی:
سوہاگنی۔خدا رسدہ ۔ لوپے ۔ چاہے ۔ تکھہ ۔ چوراسی ۔ چوراسی لاکھ جاندار کی اقسام ۔ دکھی ۔ عذاب ۔ مشکل ۔ ہوں ہوں ۔ میری۔میری۔سمال۔ دلی یاد ۔ ریاض ۔ گرکے سہج سبھائے۔ مرشد کی مانند پر سکون عادت۔رنگ ۔پریم ۔ رسنا ۔ زبان ۔ دھر ۔ الہٰی حضور۔
ترجمہ:
جب انسان خداوند کریم کواپنا خدا سمجھنے لگتا ہے تو دل و جان اسکے حوالے کرتا ہے ۔ تب انسان خورسنددوں ۔ خدا رسیدوں نیک خواہوںکے سے اعمال کرنے لگتا ہے ۔ جس سے آسانی سے خدا سے ملاپ ہوجاتا ہے ۔ اور سچی عظمت و شہرت پاتا ہے ۔ ۔ اے بھائی مرشد کے وسیلے کے بغیر عشق الہٰی عبادت نہیں ہو سکتی ۔ خواہ کسی کی کتنی خواہش کیوں نہ ہو مرشد کے بغیر عبادت نہیں ہو سکتی ۔ اے انسان روئی دویش اور دوسروں کے عشق سے چوراسی لاکھو ں یعنی تناسخ میں پڑا رہتا ہے ۔ مرشد کے بغیر سکون نہیں ملتا عمر عذاب میں گذرتی ہے ۔ کلمہ کے بغیر پیارے سے ملاپ نہیں ہوتا زندگی بیکار بیفائدہ گذر جاتی ہے ۔ (2) انسان میری میری کرتا پھرتا ہے عالم میں مگر دؤلت ساتھ نہیں جاتی ۔ بے عقل نام کو یاد نہیں کرتے موت کی گرفت میں رہتے ہیں سچے مرشد کے ملاپ سے نام کی دؤلت ملتی ہے اسے دلمیں بساؤ۔(3) نام کے پیار سے زندگی پاکیزہ اورروحانی سکون والی ہو جاتی ہے ۔دل و جان پریم پیار 3) سے بھر جاتا ہے ۔ زبان لطت اندوز ہو جاتی ہے ۔ اے نانک وہ پریم مٹتا نہیں جو الہٰی حضور سے پیدا ہوا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
گُرمُکھِ ک٘رِپا کرے بھگتِ کیِجےَ بِنُ گُر بھگتِ ن ہوئیِ ॥
آپےَ آپُ مِلاۓ بوُجھےَ تا نِرملُ ہوۄےَ سوئیِ ॥
ہرِ جیِءُ ساچا ساچیِ بانھیِ سبدِ مِلاۄا ہوئیِ ॥੧॥
بھائیِ رے بھگتِہیِنھُ کاہے جگِ آئِیا ॥
پوُرے گُر کیِ سیۄ ن کیِنیِ بِرتھا جنمُ گۄائِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپے جگجیِۄنُ سُکھداتا آپے بکھسِ مِلاۓ ॥
جیِء جنّتاے کِیا ۄیچارے کِیا کو آکھِ سُنھاۓ ॥
گُرمُکھِ آپے دےءِ ۄڈائیِ آپے سیۄ کراۓ ॥੨॥
دیکھِ کُٹنّبُ موہِ لوبھانھا چلدِیا نالِ ن جائیِ ॥
ستگُرُ سیۄِ گُنھ نِدھانُ پائِیا تِس دیِ کیِم ن پائیِ ॥
ہرِ پ٘ربھُ سکھا میِتُ پ٘ربھُ میرا انّتے ہوءِ سکھائیِ ॥੩॥
آپنھےَ منِ چِتِ کہےَ کہاۓ بِنُ گُر آپُ ن جائیِ ॥
ہرِ جیِءُ داتا بھگتِ ۄچھلُ ہےَ کرِ کِرپا منّنِ ۄسائیِ ॥
نانک سوبھا سُرتِ دےءِ پ٘ربھُ آپے گُرمُکھِ دے ۄڈِیائیِ ॥੪॥੧੫॥੪੮॥
لفظی معنی:
آپے آپ۔ مراد مرشد کی خویش کاملاپ مرید کی مرضی و خوشی سے ۔۔ یکسوئی ۔ آپسمیں ۔ ہم خیال ہوتا ہے ۔ بھگت ہین ۔ بلا محبت و عشق ۔ بغیر بھگتی ۔ پریم ۔ کیم ۔ قیمت ۔ سکھا ۔ ساتھی ۔ سکھائی ۔ مددگار ۔ اپنے ۔ اپنے دلمیں ۔ آپ خودی ۔بھگ وچھل ۔بھگتی کا دلدادہ ۔ پیارا ۔سوبھا۔ شہرت
ترجمہ:
اگرخدامرشد کے ذریعے کرم و عنایت فرمائے تبھی بھگتی ہو سکتی ہے ۔ مرشد کے بغیر الہٰی پریم نہیں ہوسکتا ۔ جب خدا سے یکسوئی ہو اور (اسے) مرشد اورمرید میں آپس کا بھید مٹ جائے ۔ خدا سچا ہے اُسکا کلام سچا ہے ۔ اور کلمہ اس سے ملتا ہے ۔ ۔ اے بھائی بغیر الہٰی پریم کے انسان کا پیدا ہونا یا جنم لینا ہی بیکار ہے ۔ جسے کامل مرشد کی خدمت نہ کی اسنے زندگی بیکار گنوادی۔
خدا خود ہی عالم کو زندگیاں عنایت کرنیوالا ہے ۔ اور خود ہی وہی آرام و آسائش عطا کرنیوالا ہے ۔ اور خود وہی اپنی کرم و عنایت سے ملاتا ہے ۔ یہ جانداروں کی کونسی وقعت ہے وہ گیا کہہ سنا سکتے ہیں ۔ وہ خود ہی مرید مرشد کے ذریعے خدمت کرواتا ہے اور خود ہی عظمت عنایت کرتا ہے ۔(2) اپنے قبیلے ۔ خاندان کو دیکھ کر اسکی محبت میں گرفتار رہے لالچ کرتا ہے مگر بوقت موت یا آخرت کسی نے ساتھ نہیں دینا ۔ سچے مرشد کی خدمت سے جس نے اوصاف کے خزانے خداکو پالیا ۔ اسکی قیمت بیان سے بار ہے ۔ خدا اسکا ساتھی ۔ مددگار اور دوست ہو جاتا ہے ۔ (3) انسان اپنے دل و دماغ میں سچھے اور کہلائے مگر خودی مرشد کے بغیرنہیں مٹتی ۔ خداعابدوں اور پریمیوں کاپیارا اور پیار کرنیوالا ہے اور اپنی کرم وعنایت سے خودہی دلمیں بستا ہے ۔ اے نانک خدا خود ہی عقل وہوش اور شہرت بخشتا ہے ۔اور خود مرشد کے وسیلے سے عزت و آبرو دیتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
دھنُ جننیِ جِنِ جائِیا دھنّنُ پِتا پردھانُ ॥
ستگُرُ سیۄِ سُکھُ پائِیا ۄِچہُ گئِیا گُمانُ ॥
درِ سیۄنِ سنّت جن کھڑے پائِنِ گُنھیِ نِدھانُ ॥੧॥
میرے من گُر مُکھِ دھِیاءِ ہرِ سوءِ ॥
گُر کا سبدُ منِ ۄسےَ منُ تنُ نِرملُ ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کرِ کِرپا گھرِ آئِیا آپے مِلِیا آءِ ॥
گُر سبدیِ سالاہیِئےَ رنّگے سہجِ سُبھاءِ ॥
سچےَ سچِ سمائِیا مِلِ رہےَ ن ۄِچھُڑِ جاءِ ॥੨॥
جو کِچھُ کرنھا سُ کرِ رہِیا اۄرُ ن کرنھا جاءِ ॥
چِریِ ۄِچھُنّنے میلِئنُ ستگُر پنّنےَ پاءِ ॥
آپے کار کرائِسیِ اۄرُ ن کرنھا جاءِ ॥੩॥
منُ تنُ رتا رنّگ سِءُ ہئُمےَ تجِ ۄِکار ॥
اہِنِسِ ہِردےَ رۄِ رہےَ نِربھءُ نامُ نِرنّکار ॥
نانک آپِ مِلائِئنُ پوُرےَ سبدِ اپار ॥੪॥੧੬॥੪੯॥
لفظی معنی:
جننی ۔ماتا ۔ جسنے جنم دیا ۔ گنی ندھان ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ گھر ۔ ذہن۔ دل ۔من ۔ گر شبدی ۔ کلام مرشد سے ۔ سچے سچ سمائیا ۔ سچا ہو نیکی وجہ سے سچ سے محظوظ ہوا ۔ (2) چری۔ دیرینہ ۔ اہنس ۔ روز و شب ۔ پورے شبد اپار ۔ لا محدود خداکے کامل کلام ۔
ترجمہ:
وہ ماتا خوش قسمت ہے جس نے جنم دیا ہے ۔ شاباش ہے اُسکواور شاباش ہے اس باپ کو جسکے فرزندنے سے مرشد کی خدمت سے آرام پائیا ہے اور اپنے دل سے تکبر دور کیا ہے ۔اور سنت ک درپر کھڑے خدمت کر رہے ہیں اور اسطرح وہ اوصاف کے خزانے خدا کو پا لیتے ہیں ۔ ۔ اے دل مرشدکے وسیلے سے خدا کو یاد کر اور کلمہ مرشد ذہن میں بیٹھا ۔تاکہ دل و جان پاک ہوجائے ۔ رحمت مرشد سے خدا دلمیں بستا ہے اور خدا از خود ملاپ کر تاہے ۔ کلام مرشد سے ہی الہٰی حمد و ثناہ ہو سکتی ہے اور قدرتاً ہی روحانی سکون میں اور الہٰی پریمی ہو جاتا ہے اور انسان ہر وقت الہٰی یاد میں مسرور رہتا ہے ۔ سچا ہوکر سچے میں محو ہو جاتا ہے اور پھر جدا نہیں ہوتا ۔ جو اللہ تعالٰی چاہتا ہے جیسا اُسکی رضا میں ہے ۔ اسکے علاوہ دیگر کوئی کچھ سمجھ کر نہیں سکتا۔ اور دیرینہ جدا ہوے ہوئے ملا لیتا ہے ۔ (3) انسان خودی اور بد اعمال چھوڑ کر دل و جان سے پریمی ہوجاتا ہے ۔ روز و شب بیخوف نام الہٰی سچ ۔حق و حقیقت دلمیں بستا ہے ۔ اے نانک آپ ملائن اس کامل کلام سے ۔ملالیا

سِریِراگُ مہلا ੩॥
گوۄِدُ گُنھیِ نِدھانُ ہےَ انّتُ ن پائِیا جاءِ ॥
کتھنیِ بدنیِ ن پائیِئےَ ہئُمےَ ۄِچہُ جاءِ ॥
ستگُرِ مِلِئےَ سد بھےَ رچےَ آپِ ۄسےَ منِ آءِ ॥੧॥
بھائیِ رے گُرمُکھِ بوُجھےَ کوءِ ॥
بِنُ بوُجھے کرم کماۄنھے جنمُ پدارتھُ کھوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنیِ چاکھِیا تِنیِ سادُ پائِیا بِنُ چاکھے بھرمِ بھُلاءِ ॥
انّم٘رِتُ ساچا نامُ ہےَ کہنھا کچھوُ ن جاءِ ॥
پیِۄت ہوُ پرۄانھُ بھئِیا پوُرےَ سبدِ سماءِ ॥੨॥
آپے دےءِ ت پائیِئےَ ہورُ کرنھا کِچھوُ ن جاءِ ॥
دیۄنھ ۄالے کےَ ہتھِ داتِ ہےَ گُروُ دُیارےَ پاءِ ॥
جیہا کیِتونُ تیہا ہویا جیہے کرم کماءِ ॥੩॥
جتُ ستُ سنّجمُ نامُ ہےَ ۄِنھُ ناۄےَ نِرملُ ن ہوءِ ॥
پوُرےَ بھاگِ نامُ منِ ۄسےَ سبدِ مِلاۄا ہوءِ ॥
نانک سہجے ہیِ رنّگِ ۄرتدا ہرِ گُنھ پاۄےَ سوءِ ॥੪॥੧੭॥੫੦॥
لفظی معنی:
کھتنی بدنی۔ زبانی باتیں ۔صدبھے رچے ۔ ہمیشہ الہٰی خوف میں رہے ۔ ۔ جنم پدارتھ ۔ قیمتی زندگی ۔۔ پیوت (ہی) ہوپروان بھیا ۔ پیتے ہی قبول ہوا ۔ (2) جیہا کیتون ۔ جیسا کرتاہے ۔ (3) جت۔ ست۔ سنجم ۔ شہوت پر قابو ۔ سچائی اور ضبط خواہشات پر ۔ ہی نام ہے۔ سہجے ۔ روحانی سکون
ترجمہ:
خدا اوصاف کا خزانہ ہے وہ شمار ہے اور حساب سے بھید ہے ۔ زبانی باتوں سے اسکا ملاپ محال اورنا ممکن ہے ۔ جب تک خودی دل سے نکالی جائے ۔ سچے مرشد کے ملاپ اور الہٰی خوف سے دلمیں بستا ہے ۔ ۔ اے بھائی کوئی ہی مرشد کے فیصے سے سمجھتا ہے بغیر سمجھے اعمال زندگی برباد کرنا ہے ۔
سچا الہٰی نام آب و حیات ہے جسکی بابت کچھبیان نہیں ہو سکتا ہے جس نے اس نوش کیا اسی نے اسکا لطف اُٹھائیا بغیر نوش کئے انسان شک و شبہات میں بھول بھٹکا رہا ہے ۔ نوش رنیپر تمام شک و شبہات دور ہو جاتے ہیں ۔ اورمقبول الہٰی ہوک کلام کا حامل ہوجاتا ہے (2) نام خدا خود دیتا ہے کسی غیر کا اسمیں کوئی دخل نہیں نام کی سخاوت خداوند کے اختیار ہے ۔ جو مرشد کے وسیلے سے ملتی ہے ۔ انسان کے جیسے اعمال ہیں ویسا ہی رد عمل ہوتا ہے ۔ (3) شہوت پر قابو ۔ سچائی اور نفس پر ضبط ہی نام ہے اور نام کے بغیر پاگیزگی نہیں آتی ۔ پورے مقدر سے نام دلمیں بستا ہے اور اسے بسانے والا کلام ہے ۔ اے نانک جو انسان پر سکون الہٰی پریم میں زندگی بسر کرتا ہے اُسکے دلمیں الہٰی اوصاف بس جاتے ہیں ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
کاںئِیا سادھےَ اُردھ تپُ کرےَ ۄِچہُ ہئُمےَ ن جاءِ ॥
ادھِیاتم کرم جے کرے نامُ ن کب ہیِ پاءِ ॥
گُر کےَ سبدِ جیِۄتُ مرےَ ہرِ نامُ ۄسےَ منِ آءِ ॥੧॥
سُنھِ من میرے بھجُ ستگُر سرنھا ॥
گُر پرسادیِ چھُٹیِئےَ بِکھُ بھۄجلُ سبدِ گُر ترنھا ॥੧॥ رہاءُ ॥
ت٘رےَ گُنھ سبھا دھاتُ ہےَ دوُجا بھاءُ ۄِکارُ ॥
پنّڈِتُ پڑےَ بنّدھن موہ بادھا نہ بوُجھےَ بِکھِیا پِیارِ ॥
ستگُرِ مِلِئےَ ت٘رِکُٹیِ چھوُٹےَ چئُتھےَ پدِ مُکتِ دُیارُ ॥੨॥
گُر تے مارگُ پائیِئےَ چوُکےَ موہُ گُبارُ ॥
سبدِ مرےَ تا اُدھرےَ پاۓ موکھ دُیارُ ॥
گُر پرسادیِ مِلِ رہےَ سچُ نامُ کرتارُ ॥੩॥
اِہُ منوُیا اتِ سبل ہےَ چھڈے ن کِتےَ اُپاءِ ॥
دوُجےَ بھاءِ دُکھُ لائِدا بہُتیِ دےءِ سجاءِ ॥
نانک نامِ لگے سے اُبرے ہئُمےَ سبدِ گۄاءِ ॥੪॥੧੮॥੫੧॥
لفظی معنی:
کائیا سادھے۔ جسمانی درستی کرنا ۔ اُردھ تپ پٹھا لٹک کر تپسیا کرنا ۔ دھایاتم ۔ روحانیت ۔ دکھ بھوجل ۔ زہر آلودہ دنیاوی سمندر ۔ ترے گن ۔ تینوں اوصاف ۔ رجو ۔ستو ۔ تمو۔پر مختصر اعمال ۔ دھات۔ بھٹکنا ۔ نیہہ بوجھے وکھیا پیار ۔ زہر یلی دنیاوی ۔ دؤلت کی محبت نہیں سمجھتا ۔ ترکٹی ۔تینوں بندہنوں سے آزادی ۔چوتھے پد۔ چوتھا رتہ ۔ درجہ ۔ جسے تر یا پد کہتے ہیں ۔ شبد مرے ۔ کلام یا سبق وواعظ سےخیالات میں تبدیلی ۔ (2) مارگ۔راستہ ۔ اُدھرے ۔کامیابی بچاؤ ۔ (3) سبل۔ طاقتور ۔ اُبھرے۔ بچے
ترجمہ:
جسمانی پاگیزگی بنائے خواہ التا ہوکر عبادتوتپسیا کرنسے خودی ختم نہیں ہوتی ۔نہ ہی روحانی علمی تربیت و اعمال سے نام حاصل نہیں ہوتا ۔ کلام یا سبق مرشد سے روز مرہ کے اعمال زندگی کو حقیقت اور سچائی اورنیکیوں میں تبدیل کرئے اس سے نام الہٰی سچ حق و حقیقت دلمیں بستا ہے ۔ اے دل سچے مرشد کی کلام سے عبور کیا جاسکتا ہے ۔ تینوں اوصاف میں بھٹکنا پڑتا ہے مادیات میں رغبت ہے سچے مرشد کے ملاپ سے ان بندھنوں سے آزادی ملتی ہے پنڈت پڑھتا ہے مگر دؤلتکی محبت میں گرفتار ہے ۔ اور دؤلت کی محبت کی زہر نہیں سمجھتا۔ اور اس سے نجات پاکر ہی روحانیت اور زندگی کا بلند ترین رتبہ چوتھا درجہ جسے تریا پدکہتے ہیں ملتا ہے ۔ (2)
مرشد صراط مستقیم دکھاتا ہے جس سے محبت کا اندھیرا کا فور ہو جاتا ہے اور کلام سے زندگی کا راستہ بدل جاتا ہے ۔ جس کی نجات سے رحمت مرشد کار ساز الہٰی کا سچا نام ملتا ہے ۔ (3) یہ دل نہایت طاقتور ہے کسے طور طریقے سے زندگی کا راستہ تبدیل نہیں کرتا ۔ اور دوئی دویش میں پڑکر بھاری عذاب پاتا ہے ۔ اے نانک نام اپنانے سے بچتا ہے کلام سے خودی ختم کرکے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
کِرپا کرے گُرُ پائیِئےَ ہرِ نامو دےءِ د٘رِڑاءِ ॥
بِنُ گُر کِنےَ ن پائِئو بِرتھا جنمُ گۄاءِ ॥
منمُکھ کرم کماۄنھے درگہ مِلےَ سجاءِ ॥੧॥
من رے دوُجا بھاءُ چُکاءِ ॥
انّترِ تیرےَ ہرِ ۄسےَ گُر سیۄا سُکھُ پاءِ ॥ رہاءُ ॥
سچُ بانھیِ سچُ سبدُ ہےَ جا سچِ دھرے پِیارُ ॥
ہرِ کا نامُ منِ ۄسےَ ہئُمےَ ک٘رودھُ نِۄارِ ॥
منِ نِرمل نامُ دھِیائیِئےَ تا پاۓ موکھ دُیارُ ॥੨॥
ہئُمےَ ۄِچِ جگُ بِنسدا مرِ جنّمےَ آۄےَ جاءِ ॥
منمُکھ سبدُ ن جانھنیِ جاسنِ پتِ گۄاءِ ॥
گُر سیۄا ناءُ پائیِئےَ سچے رہےَ سماءِ ॥੩॥
سبدِ منّنِئےَ گُرُ پائیِئےَ ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥
اندِنُ بھگتِ کرے سدا ساچے کیِ لِۄ لاءِ ॥
نامُ پدارتھُ منِ ۄسِیا نانک سہجِ سماءِ ॥੪॥੧੯॥੫੨॥
لفظی معنی:
ہرنامورئے دڑائے ۔ الہٰی نام سمجھا کر پکاکرواتا ہے ۔ دوجا بھاؤ ۔ دوسری محبت ۔ جکائے ۔ دور کرکے ۔ سچ بانی۔ سچا بولنا ۔ سچ شبد ۔ سچا کلام ۔ جا سچ دھرے پیار ۔ اگر سچے کلام سے پیار کرے ۔ نوار ۔دور کرنا ۔ (2) ونسدا ۔ ختم ہو تا ہے ۔ نہ جانستی ۔ نہیں جاننسے ۔ آپ ۔ خودی ۔ سچ ۔ روحانی سکون ۔
ترجمہ:
رحمت مرشد سے نام ملتا ہے ۔دلمین بایقین پختہ طور پربستا ہے۔ مرشد کے بغیر کسے حاصل نہیں ہوا اور زندگی لاحاصل گذر گئی ۔ خود ارادی خو د پسندی سے اعمال سے کئے اعمال کی الہٰی دربار میں سزا ملتی ہے ۔ ۔ اے دل روئی دویش ختم کر تیرے اندر خدا بستا ہے خدمت مرشد سے آرام و آسائش حاصل کر ۔ ۔
سچے بول سچے کلام ہے اورنیک چلن اورکاروبار زندگی تبھی سچی ہے اگر سچائی سے محبت ہے خودی اور غصہ ختم کرنسے ہی الہٰی نام دلمیں بستا ہے ۔ اے دل پاک نام الہٰی کی ریاض کر تبھی درنجات پائیگا ۔خودی میں عالم تباہ و برباد ہو رہا ہے ۔ اور تناسخ میں پڑتا ہے ۔ خودی پسند ۔ خودارادی کلام نہیں سمجھتا عزت و آبروگنواتاہے ۔ خدمت مرشد سے نام حاصل ہوتا ہے ۔ اور سچے خدا میں محو ہوجاتا ہے ۔ (3)
اگر کلام مرشد پر ایمان و یقین ہو جائے ۔ تو مرشد سے ملاپ ہو جاتا ہے اور خودی ختم ہو جاتی ہے ۔ روز و شب عبادت سے سے کے پریم پیار سے اے نانک انسان پر سکون ہوجاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
جِنیِ پُرکھیِ ستگُرُ ن سیۄِئو سے دُکھیِۓ جُگ چارِ ॥
گھرِ ہودا پُرکھُ ن پچھانھِیا ابھِمانِ مُٹھے اہنّکارِ ॥
ستگُروُ کِیا پھِٹکِیا منّگِ تھکے سنّسارِ ॥
سچا سبدُ ن سیۄِئو سبھِ کاج سۄارنھہارُ ॥੧॥
من میرے سدا ہرِ ۄیکھُ ہدوُرِ ॥
جنم مرن دُکھُ پرہرےَ سبدِ رہِیا بھرپوُرِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سچُ سلاہنِ سے سچے سچا نامُ ادھارُ ॥
سچیِ کار کماۄنھیِ سچے نالِ پِیارُ ॥
سچا ساہُ ۄرتدا کوءِ ن میٹنھہارُ ॥
منمُکھ مہلُ ن پائِنیِ کوُڑِ مُٹھے کوُڑِیار ॥੨॥
ہئُمےَ کرتا جگُ مُیا گُر بِنُ گھور انّدھارُ ॥
مائِیا موہِ ۄِسارِیا سُکھداتا داتارُ ॥
ستگُرُ سیۄہِ تا اُبرہِ سچُ رکھہِ اُر دھارِ ॥
کِرپا تے ہرِ پائیِئےَ سچِ سبدِ ۄیِچارِ ॥੩॥
ستگُرُ سیۄِ منُ نِرملا ہئُمےَ تجِ ۄِکار ॥
آپُ چھوڈِ جیِۄت مرےَ گُر کےَ سبدِ ۄیِچار ॥
دھنّدھا دھاۄت رہِ گۓ لاگا ساچِ پِیارُ ॥
سچِ رتے مُکھ اُجلے تِتُ ساچےَ دربارِ ॥੪॥
ستگُرُ پُرکھُ ن منّنِئو سبدِ ن لگو پِیارُ ॥
اِسنانُ دانُ جیتا کرہِ دوُجےَ بھاءِ کھُیارُ ॥
ہرِ جیِءُ آپنھیِ ک٘رِپا کرے تا لاگےَ نام پِیارُ ॥
نانک نامُ سمالِ توُ گُر کےَ ہیتِ اپارِ ॥੫॥੨੦॥੫੩॥
لفظی معنی:
پرکھ ۔ مہان انسان ۔ بھیمان ۔تکبر۔ستگرو۔سچا مرشد ۔ پر ہرے ۔ دور کرئے ۔۔ بدور۔ حاضر ناظر ۔ آدھار ۔ آسرا ۔ سہارا ۔ سچا سوھو ۔سچا مالک ۔ منہکھ ۔ خود ی پسند ۔ مرید من ۔ گہور ۔اندھار ۔بھاریاندھیرا ۔ اُبھریہہ ۔ بچ جائے ۔ سچ دکھیہہ اردھار ۔ دلمیں سچ بسائ ۔ ہو غے تج ۔ ہوغے چھور کر ۔ آپ۔خودی ۔ دھندا۔ دنیاوی جھیلے ۔ ستگر پرکھ ۔ سچ مرشد ۔ ووجے بھائے ۔ دوئی ۔دویش ۔ دنیاوی محبت ۔ نام سمال۔ نام یاد کر ۔ گرکے ہیت۔مرشد کی محبت
ترجمہ:
جنہوں نےنہیں کی خدمت سچے مرشد کی ہر وقت عذاب اُٹھائیں گے ۔ غرور و تکبر سے بھرے ہوئے اپنے ذہن مین بستےخدا کونہ سمجھ سکے ۔ سچے مرشد کے لعنت زدہ دؤلت کے لئے بھٹکتے پرھتے ہیں ۔ سچے شبد پر عملپیرا نہیں جوہ کام مکمل کرنے کے لائق ہے ۔۔
دکھ پرتیرے اے دل خدا کو ہمشہ حاظر و ناظر سمجھ تاکہ تیر تناسخ کا عذاب مٹ جائے ۔ اور کلمہ دل ۔
سچے ہیں وہ جنہں ہے سچ کا سہارا اور سچ ہی کی کرتے ہیں صفت صلاح۔ اعمال سچے اور سچ سے پیار سچا (حکم) فرمان ہے جسے کوئی مٹا نہیں سکتا ۔ مرید من کو کہیں ٹھکانہ نہیں ملتا ۔ اوروہ جھوٹ کی محبت میں اپنا آپا گنوا لیتے ہیں (2) تمام عالم خودی میں مرشدکے بغیر جہالت کے اندھیرے میں ختم ہو رہاہے ۔ سکھ دینے والے داتار کو دولت کی محبت میں بھلا دیا ۔ سچے مرشد کی بتائی خدمت سے بچا سکتا ہے ۔ دلمیں سچ بسا کر الہٰی ملاپ حاصل ہوتاہے ۔ سے مرشد کی خدمت سے اور خودی چھوڑ کر دل پاک ہو جاتا ہے ۔ خودی چھوڑ کر مرشد کے کلام کو سمجھنے سے زندگی کی رفتار رُخ میں تبدیلی سے جو دوران حیات موت ہے ۔ یعنی زندگی کے بہاؤ کے رُخ کی تبدیلی ہے ۔ زندگی کی بھٹکن اور دوڑ دھوپ ختم ہوئی ۔ اور حقیقت سے محبت اور سچائی کے پریم سے سچے خدا کے در با سرخرو ہوے ۔(4) سے مرشد پرایمان نہ لاکر نہ اُسکے کلام سے پیار جتنا دان اور زیارت ذلالت اور خواری ہے ۔ اگر جب خدا کی عنایت و شفقت ہو تو انسان کی نام سچ حق و حقیقت سے اُنس ہو جاتی ہے اُنس رکھ مرشد سے بیحد پیار ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
کِسُ ہءُ سیۄیِ کِیا جپُ کریِ ستگُر پوُچھءُ جاءِ ॥
ستگُر کا بھانھا منّنِ لئیِ ۄِچہُ آپُ گۄاءِ ॥
ایہا سیۄا چاکریِ نامُ ۄسےَ منِ آءِ ॥
نامےَ ہیِ تے سُکھُ پائیِئےَ سچےَ سبدِ سُہاءِ ॥੧॥
من میرے اندِنُ جاگُ ہرِ چیتِ ॥
آپنھیِ کھیتیِ رکھِ لےَ کوُنّج پڑیَگیِ کھیتِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
من کیِیا اِچھا پوُریِیا سبدِ رہِیا بھرپوُرِ ॥
بھےَ بھاءِ بھگتِ کرہِ دِنُ راتیِ ہرِ جیِءُ ۄیکھےَ سدا ہدوُرِ ॥
سچےَ سبدِ سدا منُ راتا بھ٘رمُ گئِیا سریِرہُ دوُرِ ॥
نِرملُ ساہِبُ پائِیا ساچا گُنھیِ گہیِرُ ॥੨॥
جو جاگے سے اُبرے سوُتے گۓ مُہاءِ ॥
سچا سبدُ ن پچھانھِئو سُپنا گئِیا ۄِہاءِ ॥
سُنّجنْے گھر کا پاہُنھا جِءُ آئِیا تِءُ جاءِ ॥
منمُکھ جنمُ بِرتھا گئِیا کِیا مُہُ دیسیِ جاءِ ॥੩॥
سبھ کِچھُ آپے آپِ ہےَ ہئُمےَ ۄِچِ کہنُ ن جاءِ ॥
گُر کےَ سبدِ پچھانھیِئےَ دُکھُ ہئُمےَ ۄِچہُ گۄاءِ ॥
ستگُرُ سیۄنِ آپنھا ہءُ تِن کےَ لاگءُ پاءِ ॥
نانک درِ سچےَ سچِیار ہہِ ہءُ تِن بلِہارےَ جاءُ ॥੪॥੨੧॥੫੪॥
لفظی معنی:
آپ۔خودی۔ ایہا۔ یہی ۔ اندن ۔ روز و شب ۔ آپنی کھتی ۔اپن اعمال ۔ اچھا ۔ خواہش ۔ بھے ۔ خوف ۔ بھرم۔ شک ۔ گہیر ۔ بھاری ۔ اوصاف والی ۔ اُبھرے ۔بچے ۔ گئے مہائے ۔ دھوکا ہوا ۔ سپنا ۔گیا وہائے ۔ خواب ختم ہو گیا ۔ سنجھے ۔سنسان ۔ ہوغے ۔ خودی
ترجمہ:
سچے مرشد سے پوچھتا ہو ں کہ میںکس کی خدمت کرؤں اورکس کی ریاض کروں خودی ختم کرکے سچے مرشد کی رضامیں رہو یہی خدمت اور خدمتگاری ہے ۔ اس سے نام دلمیں بستاہے نام ہی سے سکھ ملتاہے اور سچا کلام زندگی کی روحانی خوبصورتی میں مددگار ہوتا ہے ۔ ۔اے دل بیدارہو روز و شب خدا کو یاد کرؤ۔ اور اپنے اعمال جسے کھتی سے تشبیح دی ہے کی حفاظت کر ۔۔ کیونکہ گناہگاریاں اور بد اعمالیاں تیری زندگی کی کھیتی کو برباد کر دیں گی ۔ لہذا بد اعمال کو کونج سے تشبیح دی ہے ۔
دلی خواہشات پوری ہونہیں اور کلام الہٰی دلمیں بس الہٰی خوف اور دلی پریم سے روز و شب عبادت کی اور خدا کو حاضر و ناظر سمجھا اور سچے کلام سےمحبت ہوگئی اور پاک خدا جو سچے اوصاف کا خزانہ ہے سے ملاپ ہوا ۔ (2)
جو بیدار رہیں بچے ۔ غفلت میں ہیں جو وہ دھوکا کھا گئے ۔ سچے کلام اور زندگی خواب و غفلت میں گذر گئی ۔ اور سنسان گھرکے مہمان کی مانند اس جہاں سے بے لوث چلےجاتے ہیں ۔ من کے مرید کی زندگی کسی حصول گذارجاتیہے اور آخری الہٰی درگاہ میں شرمندگی اُٹھاتا ہے ۔ (3) اس عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے سب قدرتاً اپنے آپ ہو رہا ہے مگر خودی میں یہ کہنے سے قاصر ہے ۔ کلام مرشد سے اسکی پہنچان ہوتی ہے ۔ خودی کا عذاب مٹانے سے ۔ جو اپنے سچے مرشد کی خدمت کرتے نہیں ہیں ان پر قربان ہوں اور پاؤں پڑتاہوں اے نانک سچے خدا کے در پر سچے اخلاق والے نہیں ہیں ان پر قربان ہوں ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
جے ۄیلا ۄکھتُ ۄیِچاریِئےَ تا کِتُ ۄیلا بھگتِ ہوءِ ॥
اندِنُ نامے رتِیا سچے سچیِ سوءِ ॥
اِکُ تِلُ پِیارا ۄِسرےَ بھگتِ کِنیہیِ ہوءِ ॥
منُ تنُ سیِتلُ ساچ سِءُ ساسُ ن بِرتھا کوءِ ॥੧॥
میرے من ہرِ کا نامُ دھِیاءِ ॥
ساچیِ بھگتِ تا تھیِئےَ جا ہرِ ۄسےَ منِ آءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سہجے کھیتیِ راہیِئےَ سچُ نامُ بیِجُ پاءِ ॥
کھیتیِ جنّمیِ اگلیِ منوُیا رجا سہجِ سُبھاءِ ॥
گُر کا سبدُ انّم٘رِتُ ہےَ جِتُ پیِتےَ تِکھ جاءِ ॥
اِہُ منُ ساچا سچِ رتا سچے رہِیا سماءِ ॥੨॥
آکھنھُ ۄیکھنھُ بولنھا سبدے رہِیا سماءِ ॥
بانھیِ ۄجیِ چہُ جُگیِ سچو سچُ سُنھاءِ ॥
ہئُمےَ میرا رہِ گئِیا سچےَ لئِیا مِلاءِ ॥
تِن کءُ مہلُ ہدوُرِ ہےَ جو سچِ رہے لِۄ لاءِ ॥੩॥
ندریِ نامُ دھِیائیِئےَ ۄِنھُ کرما پائِیا ن جاءِ ॥
پوُرےَ بھاگِ ستسنّگتِ لہےَ ستگُرُ بھیٹےَ جِسُ آءِ ॥
اندِنُ نامے رتِیا دُکھُ بِکھِیا ۄِچہُ جاءِ ॥
نانک سبدِ مِلاۄڑا نامے نامِ سماءِ ॥੪॥੨੨॥੫੫॥
لفظی معنی:
اندن۔ ہر ووز ۔۔ کینہی۔ کیسی۔سیتل ۔ ٹھنڈے ۔ تھیئے ۔ہوئی ہے ۔ ساس ۔سانس ۔ ۔ سہجھے ۔ پرسکون ۔ قدرتاً ۔ اگلی ۔ بہت زیادہ ۔ منوا ۔ من ۔ تکھہ ۔پیاس ۔ (2) آکھن ۔ کہنا ۔ تن کوؤ ۔ ان کے لئے ۔ (3) اندرین نگاہ شفقت سے ۔ ون ۔ بغیر۔ پورےبھاگ ۔ خوش قسمتی سے ۔ دکھ دکھیا۔ ندکاریوں کا عذاب
ترجمہ:
اگر عبادت وریاضت کے لئے کوئی وقت موقعہ او فرصت چاہیے تو کسی وقت بھی نہیں ہو سکتی ۔ روز و شب سچے نام کے پیار سے سچے سچی شہرت ہو جاتی ہے ۔ ذرا بھر بھی خدا کو بھلا کر کونسی ریاضت ہے ۔ سچائی سے دل و جان ٹھنڈک محسوس کرتاہے ۔ اس سے کوئی سانس بھی بیکار نہیں جانا چاہیے ۔ ۔
اے دل خدا کو یادکر ۔ سچی عبادت وریاضت تبھی ہے کہ خدا دلمین بس جائے ۔ ۔ اگر روحانی طور پر پر سکون ہوکر روحانیت کے کھیت میں یعنی اس ذہن یا دلمیں الہٰی نام سچ ۔حق وحقیقت کا بیج بوئیں تب روحانی کھیتی کی فصل اچھی فصل ہوتی ہے حسن اخلاق وا طوار۔ اور زندگی کی روش راستی پر مبنی ہوکر زندگی اخلاق قدر وں قیمتوں سے پر سیر ہوکر زندگی پر سکون اور حقیقی اور روحانی سکون پذیر ہوجاتی ہے ۔ سچے مرشد کا کلام آب حیات ہے جسکے پینے سے تمام خواہشات مٹ جاتی ہیں ۔اور انسانی پیار سے لبریز ہوکر خدا سے یکسو ہاجاتا ہے ۔ (2) جنکا کلام ۔نظریہمرشد کے بتائے ہوئے کلام اور سبق کے مطابق ہے اورہر طرف خدا بستادیکھتے ہیں سچے لام پر سچا عمل ہے خدا اُنہیں ہمیشہ اپنا ساتھ دیتا ہے ۔ اس لئے انکی خودی مٹ جاتی ہے ملکیتی نظریہ ختم ہوجاتا ہے ۔ جو انسان خداسے جو سچ ہے پریم ہے انہیں الہٰی حضوری حاصل ہوجاتی ہے ۔ (3) الہٰی نظر عنایت سے ہی الہٰی نام کی ریاض ہو سکتی ہے ۔۔ جسے خوش قسمتی سے پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت و قربت حاصل ہو جائے اور سچے مرشد سے ملاپ کا شرف حاصل ہوجائے اور روز و شب نام کی محویت سے بد کاریوں اور گناہوں کا عذاب مٹ جاتا ہے ۔ اے نانک کلام نام سے ملاتا ہے انسان الہٰی نام میں محو ہا جاتا ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
آپنھا بھءُ تِن پائِئونُ جِن گُر کا سبدُ بیِچارِ ॥
ستسنّگتیِ سدا مِلِ رہے سچے کے گُنھ سارِ ॥
دُبِدھا میَلُ چُکائیِئنُ ہرِ راکھِیا اُر دھارِ ॥
سچیِ بانھیِ سچُ منِ سچے نالِ پِیارُ ॥੧॥
من میرے ہئُمےَ میَلُ بھر نالِ ॥
ہرِ نِرملُ سدا سوہنھا سبدِ سۄارنھہارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سچےَ سبدِ منُ موہِیا پ٘ربھِ آپے لۓ مِلاءِ ॥
اندِنُ نامے رتِیا جوتیِ جوتِ سماءِ ॥
جوتیِ ہوُ پ٘ربھُ جاپدا بِنُ ستگُر بوُجھ ن پاءِ ॥
جِن کءُ پوُربِ لِکھِیا ستگُرُ بھیٹِیا تِن آءِ ॥੨॥
ۄِنھُ ناۄےَ سبھ ڈُمنھیِ دوُجےَ بھاءِ کھُیاءِ ॥
تِسُ بِنُ گھڑیِ ن جیِۄدیِ دُکھیِ ریَنھِ ۄِہاءِ ॥
بھرمِ بھُلانھا انّدھُلا پھِرِ پھِرِ آۄےَ جاءِ ॥
ندرِ کرے پ٘ربھُ آپنھیِ آپے لۓ مِلاءِ ॥੩॥
سبھُ کِچھُ سُنھدا ۄیکھدا کِءُ مُکرِ پئِیا جاءِ ॥
پاپو پاپُ کماۄدے پاپے پچہِ پچاءِ ॥
سو پ٘ربھُ ندرِ ن آۄئیِ منمُکھِ بوُجھ ن پاءِ ॥
جِسُ ۄیکھالے سوئیِ ۄیکھےَ نانک گُرمُکھِ پاءِ ॥੪॥੨੩॥੫੬॥

لفظی معنی:
پائیون ۔ پئیا ۔ تن ان سچے کی صدیوں کے ۔ سار۔ سنبھال ۔ دبدھا ۔ ڈگمگاہٹ ۔ دوہرے خیالات ۔ چُکاین ۔ ختم کئے ۔ سچ ۔صدیوں ۔ ۔ ہونے بھر نال۔ خودی کی غلاظت و ناپاکیزگی سے بھرا ہوا ہے ۔ ہر یزمل۔ پاک خدا ۔ سبد سوارنہار۔ خدا درست کرنیوالا ہے ۔ سچ شبد۔ سچا صدیوں کلام ۔ جوتی جوت۔ نور سے نور ۔ سمائے ۔ محود مخذوب ملاپ۔ جوتی ہو۔ ذہنی روشنی سے ۔ جاپدا ۔پتہ چلتا ہے ۔ بوجھ ۔سمجھ ۔ (2) ڈمنی ۔ ڈگمگاہٹ میں ۔ دوبے بھائے ۔ غیروں سے محبت ۔ کھوآئے ۔ ذلیل و خوار ۔ دکھی رین دہائے ۔ زندگی عذاب میں گذرتی ہے ۔ بھرم ۔ شک و شہبات ۔ بھلانا۔ مراہ ۔ اندھلا۔ غیر اندیش ۔ (3) مُکر ۔ انکار ۔ پاپو ۔پاپ ۔گناہگاریاں۔ پچے پچائے ۔ ذلیل و خوار ۔ ندرنہ آوئی۔نظر نہیں آتا ۔ بوجھ ۔سمجھ ۔اپنا بھؤ ۔اپنا خوف ۔ گن سار۔ اوصاف ۔سمجھ کے ۔ دبدھا۔ دوچتی ۔ جوتی۔ روشنی ۔ علمیت۔ سمجھ ۔ ڈمنی۔ دوچتی ۔ رین ۔رات ۔ اندھلا۔ نادان۔جاہل۔
ترجمہ:
خدا نے اپنا خوف اُنکے دلمیں بسائیا ہے ۔ جنہوں نے کلام مرشد کو ذہن میں بسالیا۔ سچے اوصاف کی بنیاد سچی صحبت وقربت اور ساتھی نہیں ۔ دوچتی دوہری سوچ۔ غیریقینی دور ہوکر خدا دلمیں بس جاتا ہے ۔ سچے کلام سے دل سچا اور سچے سے پیار یعنی حقیقت پسندی اور حسن اخلاق ہی انسانیت کی آخری منزل ہے ۔۔ اے دل تو خودی سے بھرا پڑا ہے ۔ خدا پاک ہے کلام مرشد دل کو درست اور راہ راست پرلانیوالا ہے ۔سچے کلام سے دل محبت کرتا ہے ۔ جس سے خدا خو ہی انسان کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔ رو ز و شب نام کے پریم میں سرشاد ہونےسے انسان نور الہٰی سے یکسو ہو جاتا ہے ۔ اُس ذہنی نورانی سے ہی خدا کی سمجھ آتی ہے ۔ مگر مرشد کے بغیر سمجھ نہیں آتی ۔ جنکے اعمالنامے میں پہلے سے تحریر ہے ان کا سچے مرشد سے ملاپ ہوتاہے ۔ (2) بغیر نام سچ حق وحقیقت سارا عالم دوئی دویش میں گرفتار ہے ۔ مراد انسان بغیرنیک اور حسن اخلاق ۔وحعت ویکسوئی ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔ اسکے بغیر زندگی محال ہے اور انسان عذاب پاتا ہے ۔ وہم وگمان اور جاہلتیں زندگی گذر جاتی ہے اور انسان تناسخ میں پڑا رہتاہے ۔ مگ جب خدااپنی نظر عنایت کرتا ہے تو خود ساتھ ملا لیتا ہے ۔ (3) خدا ہمارے تمام اعمال کو سنتا اور دیکھتا ہے تو ہم اپنے اعمال سے کیسے انحراف کر ستے ہیں ۔ جو انسان بد کاریاں اور گناہگاریاں کرتے ہیں وہ اپنے گناہوں میں ہی جلتے اور دیکھتے رہتے ہیں ۔ انہیں خدا دکھائی ہیں دیتا ۔خودی پسند کو سمجھ نہیں آتا ۔ جسے اے نانک خدا خود سمجھاتا ہے وہی سمجھتا ہے۔وہ مرشد کے ذریعے اسکے وسیلے سے سمجھتا ہے

س٘ریِراگُ مہلا ੩॥
بِنُ گُر روگُ ن تُٹئیِ ہئُمےَ پیِڑ ن جاءِ ॥
گُر پرسادیِ منِ ۄسےَ نامے رہےَ سماءِ ॥
گُر سبدیِ ہرِ پائیِئےَ بِنُ سبدےَ بھرمِ بھُلاءِ ॥੧॥
من رے نِج گھرِ ۄاسا ہوءِ ॥
رام نامُ سالاہِ توُ پھِرِ آۄنھ جانھُ ن ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ اِکو داتا ۄرتدا دوُجا اۄرُ ن کوءِ ॥
سبدِ سالاہیِ منِ ۄسےَ سہجے ہیِ سُکھُ ہوءِ ॥
سبھ ندریِ انّدرِ ۄیکھدا جےَ بھاۄےَ تےَ دےءِ ॥੨॥
ہئُمےَ سبھا گنھت ہےَ گنھتےَ نءُ سُکھُ ناہِ ॥
بِکھُ کیِ کار کماۄنھیِ بِکھُ ہیِ ماہِ سماہِ ॥
بِنُ ناۄےَ ٹھئُرُ ن پائِنیِ جمپُرِ دوُکھ سہاہِ ॥੩॥
جیِءُ پِنّڈُ سبھُ تِس دا تِسےَ دا آدھارُ ॥
گُر پرسادیِ بُجھیِئےَ تا پاۓ موکھ دُیارُ ॥
نانک نامُ سلاہِ توُنّ انّتُ ن پاراۄارُ ॥੪॥੨੪॥੫੭॥
لفظی معنی:
روگ۔ بیماری ۔ تج گھر ۔ اپنے ذہن میں ۔ گنت ۔ گنتی میں ۔ فکرمیں ۔ وکھ ۔ زہریلی ۔ بدخیالی ۔ ٹہور۔ٹھکانہ۔ پنڈ ۔تن بدن۔ جسم ۔ آدھار ۔ آسرا
ترجمہ:
مرشد کے بغیر ۔تناسخ اور خودی کی بیماری ختم نہ ہوگی اور خودی کا عذاب نہ جائیگا ۔رحمت مرشد سے نام دلمیں بستا ہے۔ کلام مرشد سے خدا سے ملاپ ہوتا ہے ۔ بغیر کلام کے شک و شبہات رفع نہیں ہوتے ۔ ۔ اے من الہٰی نام کی صفت صلاح کرتا کہ تو ذہن نشین ہو جائے اور تناسخ ختم ہو جائے ۔ ۔ واحدا خدا ہی نمعت رسائی کرنیوالا ہے ۔ اسک علاوہ دیگر کوئی ایسا نہیں ۔کلام کی صفت صلاح سے دل میں بستا ہے اور روحانی سکون ملتا ہے اسکی سب پر نگاہ شفقت ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ۔ (2) خودی میں انسان حساب کتاب اور اندازون اور شماروں میں مشغول رہتا ہے ۔ حساب میں فکر مضمر ہے ۔ فکر میں سکھ نہیں ۔ بدکاریون اور (لالچی) لالچی کاموں میں انسان مشغول رہتا ہے ۔ الہٰی نام کے بغیر سکون نہیں ملتا عذاب پاتا ہے سزا یاب ہوتا ہے ۔(3) یہ دل و جان اور زندگی ہی خدا کی عنایت کردہ اور بخششہے ۔ اور اُسی کے سہارے ہے رحمت مرشد سے اسکا پتہ چلتا ہے تبھی نجات ملتی ہے اے نانک نام کی صفت صلاح کر جو لا محدود لا تعداد ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
تِنا اننّدُ سدا سُکھُ ہےَ جِنا سچُ نامُ آدھارُ ॥
گُر سبدیِ سچُ پائِیا دوُکھ نِۄارنھہارُ ॥
سدا سدا ساچے گُنھ گاۄہِ ساچےَ ناءِ پِیارُ ॥
کِرپا کرِ کےَ آپنھیِ دِتونُ بھگتِ بھنّڈارُ ॥੧॥
من رے سدا اننّدُ گُنھ گاءِ ॥
سچیِ بانھیِ ہرِ پائیِئےَ ہرِ سِءُ رہےَ سماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سچیِ بھگتیِ منُ لالُ تھیِیا رتا سہجِ سُبھاءِ ॥
گُر سبدیِ منُ موہِیا کہنھا کچھوُ ن جاءِ ॥
جِہۄا رتیِ سبدِ سچےَ انّم٘رِتُ پیِۄےَ رسِ گُنھ گاءِ ॥
گُرمُکھِ ایہُ رنّگُ پائیِئےَ جِس نو کِرپا کرے رجاءِ ॥੨॥
سنّسا اِہُ سنّسارُ ہےَ سُتِیا ریَنھِ ۄِہاءِ ॥
اِکِ آپنھےَ بھانھےَ کڈھِ لئِئنُ آپے لئِئونُ مِلاءِ ॥
آپے ہیِ آپِ منِ ۄسِیا مائِیا موہُ چُکاءِ ॥
آپِ ۄڈائیِ دِتیِئنُ گُرمُکھِ دےءِ بُجھاءِ ॥੩॥
سبھنا کا داتا ایکُ ہےَ بھُلِیا لۓ سمجھاءِ ॥
اِکِ آپے آپِ کھُیائِئنُ دوُجےَ چھڈِئنُ لاءِ ॥
گُرمتیِ ہرِ پائیِئےَ جوتیِ جوتِ مِلاءِ ॥
اندِنُ نامے رتِیا نانک نامِ سماءِ ॥੪॥੨੫॥੫੮॥
لفظی معنی:
آدھار ۔ بنیاد ۔ آسرا ۔ سچ ۔ حقیقت ۔ لافناہ ۔ نوار نہار۔ مٹانے والا ۔دور کرنیوالا ۔ بھنڈار ۔ خزانہ ۔تھیسیا ۔ہوا ۔ سہج ۔ قدرتی ۔ گرشبدی ۔ کلام مرشد سے ۔ رضائے ۔ ضائے سے ۔ ۔ سنسا ۔فکر۔چکائے ۔دور کرئے ۔ گورمکھ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ مرید مرشد ۔ کہوآین ۔ بھلائے ۔ ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے
ترجمہ:
اُنہیں سکون اور ہمیشہ آرام و آسائش رہتا ہے ۔ جنکو سچے نام کا سہارا اور سچا نام سچ۔ حق و حقیقت اُنکی زندگیکی بنیاد ہے کلام مرشد سے سچ اور خداملتا ہے جوعذاب مٹانے والا ہے ۔ ہمیشہ سچے اوصاف سے پریم کرؤ اور ساپے نام سے محبت اور حمد و ثناہ کر ؤ خدا اپنی رحمت سے الہٰی پیار اور ریاض کے خزانے عنایت کرت ہے ۔۔ اے دل ہمیشہ صفت صلاح کر اس سے خوشی ملتی ہے ۔ سچے کلام سے الہٰی ملاپ ہوا ہے اس میں محورہ ۔۔ قائم دائم الہٰی ریاج جسکا دل گرویدہ ہو گیا ۔ وہ روحانی سکون الہٰی پیار میں مسرور ہوا جو بیان سے باہر ۔ زبان پر سچے کلام سے متاثر ہوکر الہی صفت صلاح کاآب حیات پی کر لطفاندوز ہوتا ہے ۔ مرشدکے ذریعے ایسا پریم پیارملتا ہ ۔ جب الہٰی رضا و شفقت ہوتی ہے ۔(2)تشویش ۔غمگینی وفکر عالم کی بنیاد ہ اور عالم لوگوں میں ہے اور غفلت میں زندگی گذر جاتی ہے ۔ کدا ایک کو اپنی رضامیں ملاکراس سے نکال لیتا ہے اور اسے اپنے ساتھ یکسو کر لیتا ہے اور دلمیں بس کر اور دنیاوی دؤلت کی محبت ختم کرکےمرشد کے وسیلے کے ذریعے زندگی کا صراط مستقیم سمجھا دیتاہے ۔ (3) سب کو نعمتیں عنایت کرنے والا واحدخدا ہی ہے ۔ زندگی کے راستے سے گمراہ ہونیوالون کو بھی سمجھاا ہے ۔ بہتوں کو خود ہی گمراہ کرکے دنیاوی دولت کی محبت میں گرفتارکر رکھا ہے ۔ سبق مرشد سے خدا سے ملاپ ہوا ہے ۔ نورانسانی نور الہٰی میں سملت ہو جاتا ہے اور ایک جوت دوئے مورتی یکسوئی ہو جاتے ہیں اس طرح نانک نام میں محو ہوکر کدا میں محو ہو جاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
گُنھۄنّتیِ سچُ پائِیا ت٘رِسنا تجِ ۄِکار ॥
گُر سبدیِ منُ رنّگِیا رسنا پ٘ریم پِیارِ ॥
بِنُ ستِگُر کِنےَ ن پائِئو کرِ ۄیکھہُ منِ ۄیِچارِ ॥
منمُکھ میَلُ ن اُترےَ جِچرُ گُر سبدِ ن کرے پِیارُ ॥੧॥
من میرے ستِگُر کےَ بھانھےَ چلُ ॥
نِج گھرِ ۄسہِ انّم٘رِتُ پیِۄہِ تا سُکھ لہہِ مہلُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ائُگُنھۄنّتیِ گُنھُ کو نہیِ بہنھِ ن مِلےَ ہدوُرِ ॥
منمُکھِ سبدُ ن جانھئیِ اۄگنھِ سو پ٘ربھُ دوُرِ ॥
جِنیِ سچُ پچھانھِیا سچِ رتے بھرپوُرِ ॥
گُر سبدیِ منُ بیدھِیا پ٘ربھُ مِلِیا آپِ ہدوُرِ ॥੨॥
آپے رنّگنھِ رنّگِئونُ سبدے لئِئونُ مِلاءِ ॥
سچا رنّگُ ن اُترےَ جو سچِ رتے لِۄ لاءِ ॥
چارے کُنّڈا بھۄِ تھکے منمُکھ بوُجھ ن پاءِ ॥
جِسُ ستِگُرُ میلے سو مِلےَ سچےَ سبدِ سماءِ ॥੩॥
مِت٘ر گھنھیرے کرِ تھکیِ میرا دُکھُ کاٹےَ کوءِ ॥
مِلِ پ٘ریِتم دُکھُ کٹِیا سبدِ مِلاۄا ہوءِ ॥
سچُ کھٹنھا سچُ راسِ ہےَ سچے سچیِ سوءِ ॥
سچِ مِلے سے ن ۄِچھُڑہِ نانک گُرمُکھِ ہوءِ ॥੪॥੨੬॥੫੯॥
لفظی معنی:
ترشنا ۔ لالچ ۔ نج گھر۔ اپنے ذہن میں ،ذہن نشین ۔ بدور ۔حضوری میں ۔ ساہمنے ۔ پیش ۔ اوگن ۔ بداوصاف ۔ بیدھیا ۔قبض ۔گرفتار ۔ رنگن ۔متاثر ۔اثرپذیر ۔ چارے کنڈاں ۔چاروں طرف ۔ گھنیرے ۔ بہت سے ۔ سوئے ۔شہرت ۔ سچ
ترجمہ:
بااوصاف انسان لاچ اور بدکاریوں اور گناہگاریاں چھوڑ کرحقیقت ۔سچ ۔خدا کو پائیا ۔ کلام مرشد سے دل و زبان پریم سے سر شاد ہوگئی ۔ سمجھ لوکہ مرشد کے بغیر کسی کا خدا سے ملاپ نہیں ہوا ۔ خودی پسند کو ارادی انسان جب تک کلام مرشد سے پیار نہیں کرتا ہے اسکے دل کی ناپاکیزگی دور نہیں ہوتی ۔ اے دل سچے مرشد کی رضامیں رہ کر جو ذہن نشین ہوگا۔ آب حیات نوش کریگا ۔ اوراُسکی برکات سے ٹھکانہ ملیگا ۔ بے وصف انسان جسکے اندر گناہ ہی گناہ نہیں اُسے الہٰی حضور ی حاصل نہیں ہوتی ۔ مرید من کلام یا سبق مرشد کی قدر و قیمت نہیں سمجھتا ۔ اور بد اوصاف ہونے کی وجہ سے خدا کوکہیں دور سمجھتا ہے ۔ جنہوں نے حقیقت کی پہچان کر لی ۔ اور حقیقت سے متاثر ہو گیا ۔ ان کا دل کلام سے اثرپذیر ہو گیا ۔ اسے پرماتمامل گیا۔اور ساتھی ہو گیا ۔ (2) آپ ہی خدانے اپنے پریم سے متاثر کرکے اپنا گرویدہ کر لیتا ہے ۔ اورکلام سے ساتھ ملا لیتا ہے ۔ سچائی کا تاثر زائل نہیں ہوگا۔ جنکو سچ و حقیقت سے پیا ر ہوگیا ۔ خودی پسند ہر طرف بھٹکتا رہا مگر حقیقت نہیں سمجھ سکا۔ جسے سچا کلام کو اپناتا ہے ۔ (3) میں نے بہت سے دوست بنائے کہ میرا کوئی عذاب مٹائے ۔ کلام اور پیارے کے ملاپ سے عذاب مٹا ۔ سچ اپنانا ہی سچا سرمایہ اور سچی کمائی ہے ۔ جس سے سچائی سے سچی شہرت ہوتی ہے ۔ جسکا حقیقت ۔ سچ یعنی خدا سے ملاپ ہو گیا وہ کبھی جدائی نہیں پاتا ۔ اے نانک وہ جو مرید مرشد ہو جاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
آپے کارنھُ کرتا کرے س٘رِسٹِ دیکھےَ آپِ اُپاءِ ॥
سبھ ایکو اِکُ ۄرتدا الکھُ ن لکھِیا جاءِ ॥
آپے پ٘ربھوُ دئِیالُ ہےَ آپے دےءِ بُجھاءِ ॥
گُرمتیِ سد منِ ۄسِیا سچِ رہے لِۄ لاءِ ॥੧॥
من میرے گُر کیِ منّنِ لےَ رجاءِ ॥
منُ تنُ سیِتلُ سبھُ تھیِئےَ نامُ ۄسےَ منِ آءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنِ کرِ کارنھُ دھارِیا سوئیِ سار کرےءِ ॥
گُر کےَ سبدِ پچھانھیِئےَ جا آپے ندرِ کرےءِ ॥
سے جن سبدے سوہنھے تِتُ سچےَ دربارِ ॥
گُرمُکھِ سچےَ سبدِ رتے آپِ میلے کرتارِ ॥੨॥
گُرمتیِ سچُ سلاہنھا جِس دا انّتُ ن پاراۄارُ ॥
گھٹِ گھٹِ آپے ہُکمِ ۄسےَ ہُکمے کرے بیِچارُ ॥
گُر سبدیِ سالاہیِئےَ ہئُمےَ ۄِچہُ کھوءِ ॥
سا دھن ناۄےَ باہریِ اۄگنھۄنّتیِ روءِ ॥੩॥
سچُ سلاہیِ سچِ لگا سچےَ ناءِ ت٘رِپتِ ہوءِ ॥
گُنھ ۄیِچاریِ گُنھ سنّگ٘رہا اۄگُنھ کڈھا دھوءِ ॥
آپے میلِ مِلائِدا پھِرِ ۄیچھوڑا ن ہوءِ ॥
نانک گُرُ سالاہیِ آپنھا جِدوُ پائیِ پ٘ربھُ سوءِ ॥੪॥੨੭॥੬੦॥
لفظی معنی:
دیکھے ۔ نگہبان ۔ اپائے ۔ پیدا کرئے ۔ الکہہ ۔حساب سے بعید ۔ گرمتی ۔ سبق مُرشد ۔ سیتل ۔ ٹھنڈا ۔ جن کر کارن دھاریا ۔ جسنے عالم پیدا کرکے اُسے ضبط میں رکھا ہے ۔ ندر۔نظر ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں ۔ سادھن ۔وہ عورٹ مراد انسان ۔ سچ۔ مراد ۔خدا ۔ جدو۔جس سے پاؤں
ترجمہ:
خدا خود ہی کار ساز کرتار ہے اور خود مواقعے پیدا کرنے والا اور عالم کو پیدا کرکے خود ہی اسکا نگران ہے ۔ اور ہر جگہ سب میں بستا ہے خود ہی مہربان اور خود ہی ہوش سمجھ اور عقل فہم میں نہیں آتا ۔ خدا خود ہی مہربان ہے خود ہی سمجھاتا ہے ۔ بستا ہے وہ ہمیشہ اسمیں اپنے آپ کو اسمیں محو رکھتے ہیں ۔ ۔ اے دل مرشد کی رضا میں راضی رہ ۔ جو مرشد کا فرمانبردار ہوجاتا ہے اس کا دل سکون محسوس کرتا ہے ۔ اور نام سچ –حق وحقیقت دلمیں بس جاتا ہے ۔
جسنے اس عالم کو پیدا کیا ہے وہ ہی اسکی پرورش۔ سنبھال اور نگرانی کرتا ہے کلام مرشد سے پہچان دیتاہے ۔ جب اُسکی نظریہ عنایت ہوتی ہے وہ انسان کلام سے سچے الہٰی دربارمیں باوقار ہوجاتے ہیں ۔ مرشد کے ذریعے الہٰی صفت صلاح سے پریمی بنے رہتے ہیں ۔ (2)سبق مرشد سے خدا کی صفت صلاح کرؤ ۔ جو اعداد و شمار سے بالاتر ہے ۔ وہ خود ہی اپنے فرمان سے ہر ایک دلمیں بستا ہے ۔ اور کود ہی وچار کرتا ہے ۔ کلام مرشد پر عمل پیرا ہوکر اور دل سے خودی نکال کر الہٰی حمد و ثناہ کرنی چاہیے ۔ جو انسان الہٰی نام سے خالی ہے وہ بدکاریوں ور گناہگاریوں سے بھرکر عذاب پاتا ہے ۔ (3) سچے خدا کی صفت صلاھ سے سچا خدا دلمیں بستا ہے اور سچے نا سے دل کو تکسیں ہوتی ہے ۔ اوصاف کو ویچار کرنیے اوصاف اکھٹے ہوئے ہیں اور برائیوں کی صفائی ہوتی ہے ۔ تب خداخود ہی ملاپ کراتا ہے جو کبھی جدائی نہیں ہوتی ۔ اے نانک اپنے مرشد کی صفت کر کیونکہ اسکے وسیلے سے ہی الہٰی ملاپ ہوتا ہے ۔ (4)

سِریِراگُ مہلا ੩॥
سُنھِ سُنھِ کام گہیلیِۓ کِیا چلہِ باہ لُڈاءِ ॥
آپنھا پِرُ ن پچھانھہیِ کِیا مُہُ دیسہِ جاءِ ॥
جِنیِ سکھیِ کنّتُ پچھانھِیا ہءُ تِن کےَ لاگءُ پاءِ ॥
تِن ہیِ جیَسیِ تھیِ رہا ستسنّگتِ میلِ مِلاءِ ॥੧॥
مُنّدھے کوُڑِ مُٹھیِ کوُڑِیارِ ॥
پِرُ پ٘ربھُ ساچا سوہنھا پائیِئےَ گُر بیِچارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منمُکھِ کنّتُ ن پچھانھئیِ تِن کِءُ ریَنھِ ۄِہاءِ ॥
گربِ اٹیِیا ت٘رِسنا جلہِ دُکھُ پاۄہِ دوُجےَ بھاءِ ॥
سبدِ رتیِیا سوہاگنھیِ تِن ۄِچہُ ہئُمےَ جاءِ ॥
سدا پِرُ راۄہِ آپنھا تِنا سُکھے سُکھِ ۄِہاءِ ॥੨॥
گِیان ۄِہوُنھیِ پِر مُتیِیا پِرمُ ن پائِیا جاءِ ॥
اگِیان متیِ انّدھیرُ ہےَ بِنُ پِر دیکھے بھُکھ ن جاءِ ॥
آۄہُ مِلہُ سہیلیِہو مےَ پِرُ دیہُ مِلاءِ ॥
پوُرےَ بھاگِ ستِگُرُ مِلےَ پِرُ پائِیا سچِ سماءِ ॥੩॥
سے سہیِیا سوہاگنھیِ جِن کءُ ندرِ کرےءِ ॥
کھسمُ پچھانھہِ آپنھا تنُ منُ آگےَ دےءِ ॥
گھرِ ۄرُ پائِیا آپنھا ہئُمےَ دوُرِ کرےءِ ॥
نانک سوبھاۄنّتیِیا سوہاگنھیِ اندِنُ بھگتِ کرےءِ ॥੪॥੨੮॥੬੧॥
لفظی معنی:
کام گہیلی۔ شہوت زدہ ۔ شہوت پرست۔ سکھی ۔ ساتھی ۔ تھی ۔ ہورہا ں ۔ مندھے ۔اگے محو عورت ۔ انسان ۔ مھٹی ۔لٹی ہوئی ۔ کوڑ۔جھوٹ ۔ تین کیوں رین وہائے ۔ان کی رات کیسے بسر ہو گذرے ۔ گربھ اٹیا ۔غرور سے بھری ہوئی ۔ ترشنا جلے ۔خواہشات کی آگ میں جلتی ہے ۔ دوبے بھائے ۔ غیروں سے پیار ۔ شبد رتیا ۔کلام میں ایمان والے ۔ پر وا ویہہ ۔ اپنے آقاکی خدمت سے سکھ حاصل کرنا ۔ گیان دھونی ۔ لا علم ۔ پرمتیاں ۔ خاوند کی طلاقی ۔ چھٹڑا ۔ پرم۔ پیار۔ پریم ۔ تن من ۔دل وجان ۔ گھرور۔ اندرونی ذہن
ترجمہ:
اے شہوت پرست (مطلبی ) (خودغرض) کیوں لاپرواہ ہو کر زندگی بسر کر رہا ہے ۔ اپنے آقا ۔خداوند سے بیخبر اور بے پہچان ہے ۔ بوقت آخرت تیری کیا فوقیت ہوگی ۔ جن ساتھیوں نے پہنچان کر لی میں اُنکے پاؤں لگتا ہوں ۔ میں بھی ان پاکدامن خدا رسیدہ کی صحبت و قربت سے اُن جیسا ہو جاؤں ۔ ۔ اے مست نوجوان جھوٹ نے تجھے لوٹ کر جھوٹا بنا دیا ۔ تیرا آقا ۔خاوند خدا خوبصورت ہے ۔ جس سے سبق مرشد سے ملاپ ہو سکتا ہے ۔
خودی پسند خودارادی کواپنے آقا کی پہنچان نہیں اور آقا ان سے بے نیاز ہے ۔ ان کی زندگی کے لئے گذرے ۔ وہ تکبر اور غرور سے لبالب بھرے ہوئے ہیں اور خواہشات کی آگ میں جلتے ہیں اور دوئی دوئش اور نیاوی دؤلت کی محبت مین عذاب پاتی ہیں ۔ جنہیں میں کلام سے پیار ہے اپنائیا ہے انکے دل سے خودی ختم ہو جاتی ہے اور وہ خدا تک رسائی حاصلر کر لیتے ہیں ۔ اور آرام و آسائش پاتے ہیں ۔ (2) لا علم ۔ منافق و منکر پیار اور پریم حاصل نہیں کر سکتے ۔ لا علمی جہالت ہے مگر دیدار الہٰی کے بغیر خواہشات اور اُمیدوں کی بھوک ختم نہیں ہوتی ۔ ساتھیوں دوستوں آؤ ملو میں تمہیں آقا خداوند کریم سے ملاپ کراؤ ۔ جیسے بلند قسمت سے مرشد مل جاتا ہے ۔ اُسکا خداوند کریم سے ملاپ ہو جاتا ہے ۔ وہ اس سے پریم کرتا ہے ۔ (3) ان دوستوں کی خدا تک رسائی ہو جاتی ہے جن پر اسکی نظر عنایت ہے ۔ وہ اپنے آقا کو سمجھ کر دل و جان اُسے پیش کر دیتا ہے ۔ وہ اپنے ذہن سے خودی نکال دیتا ہے اور اُسے اپنے ذہن میں الہٰی ملاپ کا شرف حاصل ہو جاتا ہے اے نانک پاکدامن خدا رسیدہ ہر وقت الہٰی حمد و ثناہ میں مصروف رہتے ہیں۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
اِکِ پِرُ راۄہِ آپنھا ہءُ کےَ درِ پوُچھءُ جاءِ ॥
ستِگُرُ سیۄیِ بھاءُ کرِ مےَ پِرُ دیہُ مِلاءِ ॥
سبھُ اُپاۓ آپے ۄیکھےَ کِسُ نیڑےَ کِسُ دوُرِ ॥
جِنِ پِرُ سنّگے جانھِیا پِرُ راۄے سدا ہدوُرِ ॥੧॥
مُنّدھے توُ چلُ گُر کےَ بھاءِ ॥
اندِنُ راۄہِ پِرُ آپنھا سہجے سچِ سماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سبدِ رتیِیا سوہاگنھیِ سچےَ سبدِ سیِگارِ ॥
ہرِ ۄرُ پائِنِ گھرِ آپنھےَ گُر کےَ ہیتِ پِیارِ ॥
سیج سُہاۄیِ ہرِ رنّگِ رۄےَ بھگتِ بھرے بھنّڈار ॥
سو پ٘ربھُ پ٘ریِتمُ منِ ۄسےَ جِ سبھسےَ دےءِ ادھارُ ॥੨॥
پِرُ سالاہنِ آپنھا تِن کےَ ہءُ سد بلِہارےَ جاءُ ॥
منُ تنُ ارپیِ سِرُ دیئیِ تِن کےَ لاگا پاءِ ॥
جِنیِ اِکُ پچھانھِیا دوُجا بھاءُ چُکاءِ ॥
گُرمُکھِ نامُ پچھانھیِئےَ نانک سچِ سماءِ ॥੩॥੨੯॥੬੨॥
لفظی معنی:
بھاؤ کر۔ پریم پیار سے ۔ پر ۔خاوند ۔خدا ۔ اُپائے۔۔پیدا کئے ۔ پرراوے ۔خدا سے محفوظ ہونا ۔ سہجے ۔قدرتی۔ شبد رتیا کلام سے پرم سے ۔ ہر ور ۔ خداوند ۔ سیج سہادی خوبصورت قلب۔ بے سھیسے ۔جو سب کو ۔ من تن ۔۔دل وجان ۔ دو جا بھاؤ۔غیروں سے پیار
ترجمہ:
ایک ایسے ہیں جنکا خدا سے رشتہ ہے ۔ ملاپ ہے مین کس در پر جاکر دریافت کرؤں ؟ سے مرشد کی خدمت پریم سے پیار کرنسے وہ تھے میرے آقا خدا سے ملا دے گا ۔ خدا سب کوپیدا کرکے ان کی خود ہی نگرانی اورسنبھال کرتا ہے۔ کسی کے لئے نزد اور کوئی دور خیال کرتا ہے ۔ جسنے خدا کو حاصرو ناظر سمجھا وہ اُسے حاضر وناظرسمجھکر دلمیں بساتا ہے ۔ ۔ اے انسان مرشد کی رضامین راضی رہ اور روز شب اسے یاد کر تاکہ قدرتاً ہی حقیقت اور سچائی پاے ۔
جن انسانوں کا کلام مرشد سے پیار ہے ۔ وہ خوش قسمت ہیں وہ ہمیشہ الہٰی صفت صلاح کے کلام سے اپنی زندگی کوراہ راست پر لے آتے ہیں وہ مرشد کے پریم پیار سے خدا کو اپنے ذہن میں ہی تلاش کر لیتے ہیں اور ان کے ذہن میں ہی پریم سے نمودار ہو جاتا ہے عیال ہو جاتا ہے ۔ اور الہٰی پیار کے خزانے بھر جاتے ہیں اور سب کا مدد گار خدا دلمیں آبستا ہے ۔ (2) جو انسان خدا کی حمد و ثناہ کرتے ہیں میں ان پر قربان ہوں ۔ اور وہ خوش قسمت ہو جاتے ہیں اور دل وجان پیش کرکے اور سرحوالے کو کے پاؤں پڑتا ہوں ۔ جنہونں نے دوئی دوئش ختم کرکے واحد حقیقت کی پہچان کی ہے ۔ اے نانک الہٰی حضور مین حاضر ہوکر اُسکی محبت میں سر شاد ہوکر ہی نام کی پہچان ہو سکتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੩॥
ہرِ جیِ سچا سچُ توُ سبھُ کِچھُ تیرےَ چیِرےَ ॥
لکھ چئُراسیِہ ترسدے پھِرے بِنُ گُر بھیٹے پیِرےَ ॥
ہرِ جیِءُ بکھسے بکھسِ لۓ سوُکھ سدا سریِرےَ ॥
گُر پرسادیِ سیۄ کریِ سچُ گہِر گنّبھیِرےَ ॥੧॥
من میرے نامِ رتے سُکھُ ہوءِ ॥
گُرمتیِ نامُ سلاہیِئےَ دوُجا اۄرُ ن کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دھرم راءِ نو ہُکمُ ہےَ بہِ سچا دھرمُ بیِچارِ ॥
دوُجےَ بھاءِ دُسٹُ آتما اوہُ تیریِ سرکار ॥
ادھِیاتمیِ ہرِ گُنھ تاسُ منِ جپہِ ایکُ مُرارِ ॥
تِن کیِ سیۄا دھرم راءِ کرےَ دھنّنُ سۄارنھہارُ ॥੨॥
من کے بِکار منہِ تجےَ منِ چوُکےَ موہُ ابھِمانُ ॥
آتم رامُ پچھانھِیا سہجے نامِ سمانُ ॥
بِنُ ستِگُر مُکتِ ن پائیِئےَ منمُکھِ پھِرےَ دِۄانُ ॥
سبدُ ن چیِنےَ کتھنیِ بدنیِ کرے بِکھِیا ماہِ سمانُ ॥੩॥
سبھُ کِچھُ آپے آپِ ہےَ دوُجا اۄرُ ن کوءِ ॥
جِءُ بولاۓ تِءُ بولیِئےَ جا آپِ بُلاۓ سوءِ ॥
گُرمُکھِ بانھیِ ب٘رہمُ ہےَ سبدِ مِلاۄا ہوءِ ॥
نانک نامُ سمالِ توُ جِتُ سیۄِئےَ سُکھُ ہوءِ ॥੪॥੩੦॥੬੩॥
لفظی معنی:
چیرئے ۔ دائرہ اختیار ۔ بھیٹے ۔ بغیر ملے ۔ پیڑئے۔ پیر ۔ مرشد ۔ گہر گنبھرے ۔ نہایت سنجیدہ ۔ دھرم رائے ۔ الہٰی منصف ۔ دشٹ آغا ۔ بد کردار روح ۔ اوھیاغی ۔ روحانی زندگی کا مالک ۔ من کے وکار منہ تجے دل سے دلی بدکار یان چھوڑے ۔ (2) چوکے موہ ابھیمان ۔غرور و تکبر دورکرئے ۔ دیوان ۔دیوانہ ۔پاگل ۔ شبد نہ چینے ۔کلام نہ سمجھے ۔ (3) گورمکھ بانی برم ہے ۔مرشدی کلام الہٰی کلام ہے ۔ نام سمال۔نام یاد کر ۔

ترجمہ:
اے خدا تو سچا ہے صدیوں اور سچ ہے اور سب کچھ تیرے اختیار میں ہے ۔ اور بغیرمرشد ۔پیر کے ملاپ کے جوراسی لاکھ اقسام کے جاندار خدا کو سجھنے سے قاصر بھٹکتے ہیں ۔ جس پر اے خدا تیری رحمت و عنایت ہے اُسکے دلمیں ہمیشہ خوشی و سکون رہتا ہے ۔ رحمت مرشد سے سچے سچ اور نہایت سنجیدہ خدا کی خدمت کیجئے ۔ ۔ اے دل نام سچ ۔حق وحقیقت اپنانے سے سکھ حاصل ہوگا ۔ سبق مرشد سے صفت صلاح کرؤ اسکے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ۔
الہٰی منصف کو الہٰی حکم ہے کہ سچا انصاف کرئے ۔ گناہگاروں ۔ بد کاریوں ۔ منکروں و منافقوں پر اسکی حکومت ہے ۔ پاک روحیں الہٰی وصفوں میں ملبوس ہیں اور اوصاف کا خزانہ خدا ان میں بستا ہے اے دل واحد خدا کو یاد کر قربان ہوں اس قابل ستائش خدا پر ایسے وحدت کے پرستاروں کی دھرم رائے بھی خدمت کرتا ہے ۔ (2) جو انسان دل سے تکبر اور دولتی محبت دور ہو جاتی ہے ۔ ان کی سب میں بسنے والے خدا کی پہچان ہو جاتی ہے ۔ وہ روحانی سکون میں الہٰی نام سے الفت پا لیتے ہیں ۔ خودی پسند بھٹکتا رہتا ہے بغیر مرشد نجات نہیں ملتی ۔ کلام نہیں سمجھتا باتیں بناتا ہے ۔ بدیوں میں ملوث ہے ۔ (3) خدا سب کچھ کرنے اور کرانے والا ہے اسکے علاوہ دیگر کوئی نہیں ۔ جیسے الہٰی فرمان ہے ویسے ہی انسان بولتا ہے ۔ مرشد کاکلام الہٰی کلام ہے کلام سے الہٰی ملاپ ہو تا ہے ۔ اے نانک نام دلمیں بسا جس کی خدمت سے سکھ ملتا ہے ۔
سِریِراگُ مہلا ੩॥
جگِ ہئُمےَ میَلُ دُکھُ پائِیا ملُ لاگیِ دوُجےَ بھاءِ ॥
ملُ ہئُمےَ دھوتیِ کِۄےَ ن اُترےَ جے سءُ تیِرتھ ناءِ ॥
بہُ بِدھِ کرم کماۄدے دوُنھیِ ملُ لاگیِ آءِ ॥
پڑِئےَ میَلُ ن اُترےَ پوُچھہُ گِیانیِیا جاءِ ॥੧॥
من میرے گُر سرنھِ آۄےَ تا نِرملُ ہوءِ ॥
منمُکھ ہرِ ہرِ کرِ تھکے میَلُ ن سکیِ دھوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منِ میَلےَ بھگتِ ن ہوۄئیِ نامُ ن پائِیا جاءِ ॥
منمُکھ میَلے میَلے مُۓ جاسنِ پتِ گۄاءِ ॥
گُر پرسادیِ منِ ۄسےَ ملُ ہئُمےَ جاءِ سماءِ ॥
جِءُ انّدھیرےَ دیِپکُ بالیِئےَ تِءُ گُر گِیانِ اگِیانُ تجاءِ ॥੨॥
ہم کیِیا ہم کرہگے ہم موُرکھ گاۄار ॥
کرنھےَ ۄالا ۄِسرِیا دوُجےَ بھاءِ پِیارُ ॥
مائِیا جیۄڈُ دُکھُ نہیِ سبھِ بھۄِ تھکے سنّسارُ ॥
گُرمتیِ سُکھُ پائیِئےَ سچُ نامُ اُر دھارِ ॥੩॥
جِس نو میلے سو مِلےَ ہءُ تِسُ بلِہارےَ جاءُ ॥
اے من بھگتیِ رتِیا سچُ بانھیِ نِج تھاءُ ॥
منِ رتے جِہۄا رتیِ ہرِ گُنھ سچے گاءُ ॥
نانک نامُ ن ۄیِسرےَ سچے ماہِ سماءُ ॥੪॥੩੧॥੬੪॥
لفظی معنی:
جگ۔عالم۔ دنیا۔ بہو بدھ ۔بہت سے طریقوں سے ۔ من میلے ۔ناپاک من سے ۔ منھکہ ۔خود ارادی ۔ خود ی پسند ۔ گرپرسادی ۔رحمت مرشد سے ۔ جیؤ اندھیرے جیسے ۔اندھیرے میں ۔ ہم کیا ۔میں نے کیا ہے ۔ ڈوبے بھائے ۔دنیاوی دؤلت سے پیار ۔ گرمتی۔ سبق مرشد ۔ بلہارے ۔قربانے ۔ چہوا۔ زبان
ترجمہ:
یہ عالم خودی کی ناپاکیزگی کی وجہ سے عذاب پاتا ہے ۔ یہ نا پاکیزگی دوئی ۔ دوئش اوردنیاوی دؤلت سے محبت کیوجہ سے ہے ۔ خودی کی گلاطت سو زیارت گاہوں کی۔ زیارت سے دور نہیں ہوتی ۔ لوگ کئی طرح کی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں مگر تاہم زیادہ غلیظ ہو جاتے ہیں ۔ پڑھنےسے ذہنی غلاظت دورنہیں ہوتی خواہ عالموں سے پتہ کر لو ۔ ۔ اے دل مرشد کی پناہ و صحبت سے پاک ہوتا ہے ۔ خودی پسند ہر ۔ہر۔رام رام کہتے کہتے تھک جاتے ہیں نا پاکیزگی دور نہیں ہوتی ۔ ۔
ناپاک دل سے بھگتی الہٰی پریم نہیں ہوسکتا ار نام نہیں سچ۔ حق وحقیقت حاصل نہیں ہوسکتی ۔ خودی پسند ناپاکیزگی میں ہی ختم ہو جاتے ہیں اور عزت گنوا لیتے ہیں ۔ رحمت مرشد سے خدا دلمیں بستا ہے۔ جس سے خودی کی نا پاکیزگی دورہوتی ہے ۔ جیسے اندھیرے نہیں چراغ جلانے سے اندھیرا کا فور ہوجاتا ہے ایسے ہی علم مرشد لاعلمی ۔ نادانی جہالت ختم کر دیتا ہے ۔(2) انسان ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ یہ کام ہم نے کیا ہے ہم کرینگے یہ جہالت ہے ۔ کرنے والے کو بھلا دیا وہ ہمیشہ دنیاوی دؤلت سے پیار رکھتے ہیں۔ دنیا میں دؤلت جتنا اور کوئی عذاب نہیں ۔ دؤلت کی محبت میں گرفتار انسان بھٹکتا ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔ سبق مرشد پر عمل پیرا ہوکر دلمیں الہٰی نام بسا کرروحانی سکون پاتا ہے ۔ (3) جیسے خدا ملاتا ہے وہی ملتا ہے میں اُس پر قربان ہوں ۔ اے دل جو انسان الہٰی عشق کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں الہٰی نام جسکا کلام ہوجاتا ہے وہ ذہن روحانی سکون سے سرشار ہوکر اسی میں محو ہو جاتے ہیں ۔ ان کی زبان پر سچائی اور الہٰی نام رہتا ہے ۔ ان کادل غرضیکہ زبان سچے اور سچی صفت صلاح میں راغب ہوجاتے ہیں ۔ اے نانک انہیں نام نہیں بھولتا وہ ہمیشہ نام میں محورہتے ہیں ۔

سِریِراگُ مہلا ੪ گھرُ ੧॥
مےَ منِ تنِ بِرہُ اتِ اگلا کِءُ پ٘ریِتمُ مِلےَ گھرِ آءِ ॥
جا دیکھا پ٘ربھُ آپنھا پ٘ربھِ دیکھِئےَ دُکھُ جاءِ ॥
جاءِ پُچھا تِن سجنھا پ٘ربھُ کِتُ بِدھِ مِلےَ مِلاءِ ॥੧॥
میرے ستِگُرا مےَ تُجھ بِنُ اۄرُ ن کوءِ ॥
ہم موُرکھ مُگدھ سرنھاگتیِ کرِ کِرپا میلے ہرِ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ستِگُرُ داتا ہرِ نام کا پ٘ربھُ آپِ مِلاۄےَ سوءِ ॥
ستِگُرِ ہرِ پ٘ربھُ بُجھِیا گُر جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
ہءُ گُر سرنھائیِ ڈھہِ پۄا کرِ دئِیا میلے پ٘ربھُ سوءِ ॥੨॥
منہٹھِ کِنےَ ن پائِیا کرِ اُپاۄ تھکے سبھُ کوءِ ॥
سہس سِیانھپ کرِ رہے منِ کورےَ رنّگُ ن ہوءِ ॥
کوُڑِ کپٹِ کِنےَ ن پائِئو جو بیِجےَ کھاۄےَ سوءِ ॥੩॥
سبھنا تیریِ آس پ٘ربھُ سبھ جیِء تیرے توُنّ راسِ ॥
پ٘ربھ تُدھہُ کھالیِ کو نہیِ درِ گُرمُکھا نو ساباسِ ॥
بِکھُ بھئُجل ڈُبدے کڈھِ لےَ جن نانک کیِ ارداسِ ॥੪॥੧॥੬੫॥
لفظی معنی:
پر ہو ۔ جدائی ۔ ۔اگلا ۔ زیادہ ۔ کت بدھ ۔کسطرح ۔کس طریقے سے ۔ مگدھ ۔جاہل ۔ سرناگتی ۔شرن۔پناہ ۔ ستگر ۔سچا مرشد ۔ جیوڈ ۔اتنا بڑا ۔ من ہٹھ ۔ دلی ضد ۔ سہس ۔ہزاروں ۔ کوڑ ۔جہوٹ ۔ پربھ تدہو۔ اے خدا تیرے سے ۔ وکھ بہو جل ۔زیریلا دنیاوی سمندر
ترجمہ:
میرے دلمیں الہٰی جدائی کا بھاری درد ہے ۔ میری پیارا خدا کیسے آکر میرے دلمیں بسے ۔ اگر میں الہٰی دیدار پاؤں تو دیدارسے میرا عذاب مٹے ۔ میں اُن دوستوں سے جاکر دریافت کرؤں کہ میرا خدا سے کیسے ملاپ ہو ۔ ۔ اے میرے سچے مرشد میں تیرے بغیر کچھ نہیں کوئی وقت نہیں ۔ میں نادان جاہل کو تیری پناہ ہے ۔ کرم و عنائت سے مجھے خدا سے ملا دے ۔ سچا مرشد الہٰی نام بخشش کونیوالا ہے ۔ اور خدا خود اس سے ملاپ کر واتا ہے ۔ سچے مرشد نے خدا کو سمجھ لیا ہے مرشد کی سی عطمت کسی اور کی نہیں ۔میں سچے مرشد کی پناہ آگیا ہوں ۔ وہ اپنی رحمت سے میرا الہٰی ملاپ کرائیگا ۔ (2) دلی ضد سے کسے کچھ بھی لاحاصل ہے ۔ سارے کوشش کرکے دیکھ چکے ہیں ۔ ہزاروں عقلمندیاں کرنیکے باوجود کوئی کارگر ثابت نہیں ہوئی ۔ الہٰی پیار سے خالی رہے ۔ تو الہٰی نام کا اثر نہیں رہتا اور نا ہی کام کا رنگ چڑیتا ہے ۔ دنیاوی دؤلت کی محبت جھوٹ دھوکا بازی اور فریب سے کسے نہیں ملتا ہر کہ جو یدیا بد ۔ جو بوئے سوکاٹے ۔ (3) اے خدا سب کو ہی تجھ سے اُمیدیں باندھے ہوئے نہیں سارے جانداروں کا تو ہی سرمایہ ہے ۔ سب میں تیرے ہی نور کا ظہور ہے ۔ تیرے در سے کوئی سوالی خالی نہیں جاتا ۔ تیرے پناہگیر تیرے در پر سے عزت پاتے ہیں ۔ اے خدا تیرے خادم نانک کی عرض ہے کہ اس دنیاوی سمندر کی زہر سے جو گناہوں پر مشتمل ہے اس سے بچالے ۔

سِریِراگُ مہلا ੪॥
نامُ مِلےَ منُ ت٘رِپتیِئےَ بِنُ نامےَ دھ٘رِگُ جیِۄاسُ ॥
کوئیِ گُرمُکھِ سجنھُ جے مِلےَ مےَ دسے پ٘ربھُ گُنھتاسُ ॥
ہءُ تِسُ ۄِٹہُ چءُ کھنّنیِئےَ مےَ نام کرے پرگاسُ ॥੧॥
میرے پ٘ریِتما ہءُ جیِۄا نامُ دھِیاءِ ॥
بِنُ ناۄےَ جیِۄنھُ نا تھیِئےَ میرے ستِگُر نامُ د٘رِڑاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نامُ امولکُ رتنُ ہےَ پوُرے ستِگُر پاسِ ॥
ستِگُر سیۄےَ لگِیا کڈھِ رتنُ دیۄےَ پرگاسِ ॥
دھنّنُ ۄڈبھاگیِ ۄڈ بھاگیِیا جو آءِ مِلے گُر پاسِ ॥੨॥
جِنا ستِگُرُ پُرکھُ ن بھیٹِئو سے بھاگہیِنھ ۄسِ کال ॥
اوءِ پھِرِ پھِرِ جونِ بھۄائیِئہِ ۄِچِ ۄِسٹا کرِ ۄِکرال ॥
اونا پاسِ دُیاسِ ن بھِٹیِئےَ جِن انّترِ ک٘رودھُ چنّڈال ॥੩॥
ستِگُرُ پُرکھُ انّم٘رِت سرُ ۄڈبھاگیِ ناۄہِ آءِ ॥
اُن جنم جنم کیِ میَلُ اُترےَ نِرمل نامُ د٘رِڑاءِ ॥
جن نانک اُتم پدُ پائِیا ستِگُر کیِ لِۄ لاءِ ॥੪॥੨॥੬੬॥
لفظی معنی:
نام ۔خدائی یا الہٰی نام سچ ۔حق و حقیقت ترپتیئے۔ ذہنی ۔یا قلبی پیاس بجھتی ہے ۔ گن تاس ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ ہؤن تس دھوچوؤ کھنیئے ۔ میں اُسپر چار ٹکڑے ہوکر قربان ہو جاؤں ۔بن ناوئے جیون نہ تھیئے۔ بغیر نام زندگی کچھ نہیں ۔ درڑائے۔ پکا کرئے ۔ اتم پد۔ بلند رتبہ
ترجمہ:
الہٰی نام سچ۔حق وحقیقت سے دل کی تسلی ہوتی ہے بغیر نام زندگی ایک نعمت ہے ۔ اگر کوئی مرید مرشد دؤست سے ملاپ ہو مجھے اوصاف کے خزانہ کی بابت سمجھائے تو میں اپنے جسم کے چار ٹکڑے کرکے قربان کر دوں جو اس الہٰی نام کی روشنی مجھے عنایت فرمائے ۔ اے میرے پیارے اللہ تعالٰی ۔خدا واہگورو الہٰی نام کی ریاض سے مجھے زندگی کی راحت محسوس ہوتی ہے ۔ زندگی میں تازگی اور نئی روح تازگی آتی ہے ۔ بغیر نام کے زندگی بدمزہ ہے ۔ میرے سچے مرشد مجھے نام پختہ کر ۔ نام ایک قیمتی تحفہ اور شے ہے جو کامل مرشد کے پاس ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت سے اُسکے بتائے ہوئے راستے پر گامزن اور خدمت میں مصروف ہو جائیں تو وہ ذہن میں اُسکی قیمتی روشنی سےذہن روشن کر دیتا ہے ۔ شاباش ہے ان بلند قسمتوں کو جو آکر مرشد سے ملتے ہیں ۔(2) جنکا سچے مرشد سے ملاپ نہیں ہو پائیا وہ بد قسمت نہیں ۔ وہ روحانی موت کی گرفت میں رہتے ہیں ۔ وہ تناسخ میں پڑکر گندگی کے کیڑوں کی سی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ اُنکی صحبت سے دور رہنا ہی اچھا ہے جنکے دلمیں غصہ کی بدی ہے ۔ (3) سچا مرشد آب حیات کا تالاب ہے ۔ اُسمیں خوش قسمت غسل کرتے ہیں ۔ ان کی دیرینہ جسموں کی نا پاکیزگی کی میل دور ہو جاتی ہے ۔ پاک نام کی یاد سے پاک الہٰی نام اے خادم نانک سچے مرشد کے سبق سے اُسے ذہن میں بسا کر انسان بلند عظمت روحانی زندگی کا رُتبہ حاصل کر لیتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੪॥
گُنھ گاۄا گُنھ ۄِتھرا گُنھ بولیِ میریِ ماءِ ॥
گُرمُکھِ سجنھُ گُنھکاریِیا مِلِ سجنھ ہرِ گُنھ گاءِ ॥
ہیِرےَ ہیِرُ مِلِ بیدھِیا رنّگِ چلوُلےَ ناءِ ॥੧॥
میرے گوۄِنّدا گُنھ گاۄا ت٘رِپتِ منِ ہوءِ ॥
انّترِ پِیاس ہرِ نام کیِ گُرُ تُسِ مِلاۄےَ سوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منُ رنّگہُ ۄڈبھاگیِہو گُرُ تُٹھا کرے پساءُ ॥
گُرُ نامُ د٘رِڑاۓ رنّگ سِءُ ہءُ ستِگُر کےَ بلِ جاءُ ॥
بِنُ ستِگُر ہرِ نامُ ن لبھئیِ لکھ کوٹیِ کرم کماءُ ॥੨॥
بِنُ بھاگا ستِگُرُ نا مِلےَ گھرِ بیَٹھِیا نِکٹِ نِت پاسِ ॥
انّترِ اگِیان دُکھُ بھرمُ ہےَ ۄِچِ پڑدا دوُرِ پئیِیاسِ ॥
بِنُ ستِگُر بھیٹے کنّچنُ نا تھیِئےَ منمُکھُ لوہُ بوُڈا بیڑیِ پاسِ ॥੩॥
ستِگُرُ بوہِتھُ ہرِ ناۄ ہےَ کِتُ بِدھِ چڑِیا جاءِ ॥
ستِگُر کےَ بھانھےَ جو چلےَ ۄِچِ بوہِتھ بیَٹھا آءِ ॥
دھنّنُ دھنّنُ ۄڈبھاگیِ نانکا جِنا ستِگُرُ لۓ مِلاءِ ॥੪॥੩॥੬੭॥
لفظی معنی:
تھرا ۔تشریح کرو ں ۔ گنکاریا ۔ اوصاف پیدا کرنیوالا۔ مل سجن ۔ دوست کو مل کر ۔ ہیرے ۔ ہیرے مانند ۔ مرشد ۔ ہیر۔ من ۔ بیدھیا ۔ منسلک ہوا ۔ رنگ چلوئے ۔ چوں تنگ لالہ ۔ شوخ رنگ ۔ نائے نام سچ حق وحقیقت کے ذریعے ۔ ترپت۔ تسلی ۔ صبر ۔ تس۔ خوش ہوکر تٹھا ۔خوش ہوا ۔ رنگ سیؤ ۔پیار و پریم سے ۔ کوٹی کروڑوں ۔ (2) نکٹ۔ نزدیک ۔ نت ۔ ہر وز ۔ بھرم۔ شک شبہ ۔ بھٹکن ۔ پڑدہ۔ پردہ ۔ کنچن ۔سونا ۔ تھیئے ۔ ہوتا ہے ۔ منکھہ ۔ مرید من ۔ بوڈا۔ ڈوبا ۔ (3) بوہتھ ۔ جہاز ۔ ناو۔ نام ۔ کت بدھ ۔ کس طریقے سے ۔ بھانے ۔ رضا ۔
ترجمہ:
اے میری ماتا میں الہٰی اوصاف کی صفت ۔صلاح کرؤں اور اوصاف ہی پھیلاؤں اور اوصاف ہی بولوں ۔ مرید مرشد خدا رسیدہ دلی اللہ ہی صفت پیدا کر سکتا ہے ۔ اور مرید مرشد سے مل کر ہی الہٰی صفت صلاح کر سکتا ہے ۔من ایک بیش قیمت ہیرے سے مل کر بندھ جاتا ہے ۔ اور گل لالا کے شوخ رنگ نام سچ۔ حق وحقیقت سے اس پر اپنا تاثر ڈال دیتا ہے رنگیا جاتا ہے ۔ اے خدا تیری صفت صلاح سے من کو تسکین ملتی ہے میرے دلمیں الہٰی نام کی پیاس ہے ۔ مرشد خوش ہوکر نام سے ملا کراتا ہے ۔۔
اے خوش قسمت انسانوں دل کو الہٰی نام کا رنگ چڑھاؤ متاثر کرؤ نام سے تاکہ مرشد خوش ہوکر نام کا سبق پکا کرائے ۔ اور مرشد پر قربان ہوا ۔ خواہ میں کروڑوں کام کیوں نہ کروں ۔ سچے مرشد کے بغیر نام نہیں ملتا ۔ (2) بغیر قسمت سچا مر شد نہیں ملتا ( اور مرشد بغیر الہٰی ملاپ نہیں ہوتا ) جبکہ خدا ہمارے دلمیں ہمارے نزدیک بیٹھا ہے ۔ کیونکہ لا علمی ہے ۔ اور شبہ ہے لہذا یہ ذہن یا روح اور خدا کے درمیان لا علمی کا پردہ ہے ۔ جس سے کہیں دور کا شک ہے ۔ بغیر سچے مرشد جو پارس کی مانند ہے ۔ سونا نہیں بن سکتا ۔ خودی پسند لوہے جیسا ہے جو کشتی ڈبو دیتا ہے ۔ سچا مرشد الہٰی نام کا جہاز ہے ۔ اسپر کیسے سوار ہو سکیں جو انسان سچے مرشد کی رضا س کام کرتا ہے ۔ وہ اس پر سوار ہو سکتا ہے ۔ اے نانک وہ انسان بلند قسمت ہیں قابل ستائش ہیں جنہیں سچا مرشد خدا اسے ملا دیتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੪॥
ہءُ پنّتھُ دسائیِ نِت کھڑیِ کوئیِ پ٘ربھُ دسے تِنِ جاءُ ॥
جِنیِ میرا پِیارا راۄِیا تِن پیِچھےَ لاگِ پھِراءُ ॥
کرِ مِنّنتِ کرِ جودڑیِ مےَ پ٘ربھُ مِلنھےَ کا چاءُ ॥੧॥
میرے بھائیِ جنا کوئیِ مو کءُ ہرِ پ٘ربھُ میلِ مِلاءِ ॥
ہءُ ستِگُر ۄِٹہُ ۄارِیا جِنِ ہرِ پ٘ربھُ دیِیا دِکھاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہوءِ نِمانھیِ ڈھہِ پۄا پوُرے ستِگُر پاسِ ॥
نِمانھِیا گُرُ مانھُ ہےَ گُرُ ستِگُرُ کرے ساباسِ ॥
ہءُ گُرُ سالاہِ ن رجئوُ مےَ میلے ہرِ پ٘ربھُ پاسِ ॥੨॥
ستِگُر نو سبھ کو لوچدا جیتا جگتُ سبھُ کوءِ ॥
بِنُ بھاگا درسنُ نا تھیِئےَ بھاگہیِنھ بہِ روءِ ॥
جو ہرِ پ٘ربھ بھانھا سو تھیِیا دھُرِ لِکھِیا ن میٹےَ کوءِ ॥੩॥
آپے ستِگُرُ آپِ ہرِ آپے میلِ مِلاءِ ॥
آپِ دئِیا کرِ میلسیِ گُر ستِگُر پیِچھےَ پاءِ ॥
سبھُ جگجیِۄنُ جگِ آپِ ہےَ نانک جلُ جلہِ سماءِ ॥੪॥੪॥੬੮॥
لفظی معنی
ہوء ۔ میں ۔ پتھ راستہ ۔ راویا ۔ زہر ۔تصرف کیا بالائیا ۔ جورڈی ۔ جہد ۔خوشا مد ۔ عرض ۔ ۔ ویہؤ ۔ قربان ۔ رجیو ۔ سیر ہونا ۔ (2) منت ۔ خوشامد ۔ چاہتا ۔ جیتا۔ جتنا ۔ تھیئے ۔ ہونا ۔ (3) گر۔ جگیجون ۔ زندگی عالم ۔
ترجمہ:
میں ہر رو ز راستے پر کھڑے ہوکر راہگیروں سے پوچھتا ہوں کہ کوئی خدا کا راستہ بتائے ۔ کہ جنکا اس سے رابطہ ہے انکے سچھے پیروی کرکے انکی منت و سماجت سے پوچھوں مجھے الہٰی ملاپ کی خواہش اور خوشی ہے ۔ ۔ جو مجھے خدا کا دیدار کرائے میں اس مرشد پر قربان جاؤں ۔ ۔ اب میری خواہش ہے کہ عاجزانہ و انکسارانہ طور پر اُسکے آے سجدہ کرؤں جُھکوں کامل مرشد کو کیونکہ عاجزوں لاچاروں مجبوروں کو عزت و حرمت عنایت کرتا ہے لہذا وہ قابل ستائش ہے ۔ ایسے سچے مرشد کی صفت صلاح کرکے میرا دل نہیں بھرتا جو مجھے میرے ساتھ بسے خدا کا دیدار کراتا ہے ۔ 2) سچے مرشد سے ملاپ کرنا سارا عالم چاہتا ہے مگر بغیرخوش قسمت دیدار نہیں ہو سکتا بد قسمت بیٹھے روئے نہیں ۔ جو الہٰی فران ہے وہی ہوتا ہے ۔ الہٰی حضور سے کیا فرمان کوئی مٹا نہیں سکتا ۔ (3) خدا خود ہی مرشد ہے اور خود ہی میل ملاپ کرانے والا ہے اور اپنی رحمت سے ملاتا ہے اور سچے مرشد کی پیروی کراتا ہے اور اے نانک وہ اس سے ایسے ملجاتا ہے جیسے پانی سے پانی ۔

سِریِراگُ مہلا ੪॥
رسُ انّم٘رِتُ نامُ رسُ اتِ بھلا کِتُ بِدھِ مِلےَ رسُ کھاءِ ॥
جاءِ پُچھہُ سوہاگنھیِ تُسا کِءُ کرِ مِلِیا پ٘ربھُ آءِ ॥
اوءِ ۄیپرۄاہ ن بولنیِ ہءُ ملِ ملِ دھوۄا تِن پاءِ ॥੧॥
بھائیِ رے مِلِ سجنھ ہرِ گُنھ سارِ ॥
سجنھُ ستِگُرُ پُرکھُ ہےَ دُکھُ کڈھےَ ہئُمےَ مارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرمُکھیِیا سوہاگنھیِ تِن دئِیا پئیِ منِ آءِ ॥
ستِگُر ۄچنُ رتنّنُ ہےَ جو منّنے سُ ہرِ رسُ کھاءِ ॥
سے ۄڈبھاگیِ ۄڈ جانھیِئہِ جِن ہرِ رسُ کھادھا گُر بھاءِ ॥੨॥
اِہُ ہرِ رسُ ۄنھِ تِنھِ سبھتُ ہےَ بھاگہیِنھ نہیِ کھاءِ ॥
بِنُ ستِگُر پلےَ نا پۄےَ منمُکھ رہے بِللاءِ ॥
اوءِ ستِگُر آگےَ نا نِۄہِ اونا انّترِ ک٘رودھُ بلاءِ ॥੩॥
ہرِ ہرِ ہرِ رسُ آپِ ہےَ آپے ہرِ رسُ ہوءِ ॥
آپِ دئِیا کرِ دیۄسیِ گُرمُکھِ انّم٘رِتُ چوءِ ॥
سبھُ تنُ منُ ہرِیا ہوئِیا نانک ہرِ ۄسِیا منِ سوءِ ॥੪॥੫॥੬੯॥
لفظی معنی:
رس انمرت۔ آب حیات کا لطف جو صدیوں اور جاویداں ہے ۔ نام رس۔ الہٰی نام ۔ سچ حق و حقیقت کا لطف ہے ۔ ات بھلا۔ نہایت اچھا ۔ کت بدھ۔ کس طریقے سے ۔ سوہاگنی ۔ خدا پرست ۔ جنہوں نے اپنے خاوند کو خوش کر لیا ہے ۔۔ مل سجن۔ دؤست کی ملاقات ۔ ہرگن سار۔ اعلٰی اوصاف یادرکھ ۔ ۔ گر مکھیا۔ مریدان مرشد ۔ سوہاگنی ۔ خاوندوخدا ۔پرست ۔ دیا ۔شفقت ۔ مہربانی ۔ بچن۔ بول ۔کلام۔ رتن ۔قیمتی ہیرے جیسے ۔ جے منے ۔ اگر یقین و تسلیم کرئے ۔ جانیئہ ۔ سمجھ آتا ہے ۔(2) دن تیں ۔جنگل و سبزہ زار ۔ کرودھ بلاائے۔ غصے کی آفت ۔ (3) ویو سی ۔ دیتا ہے ۔ ہریا۔ تر و تازہ ۔ خوش خلق ۔
ترجمہ:
الہٰی نام کا آب حیات رس کسطرح اور کیسے مل سکتا ہے اور کس طرح کوئی انسان اس پر لطف رس کامزہ چکھ سکتا ہے ۔ کسی خدا رسیدہ پاکدامن سے پوچھو پتہ کرؤ کہ کیسے الہٰی دیدار و ملاپ حاصل ہوا ۔ وہ بے محتاج ہو جاتے ہیں نہیں بولتے میں ان کے مل مل کر پاؤں دہوؤں ۔۔ اے بھائی دوست سے مل کر خدا کو یاد کر ۔ سچا مرشد دؤست ہے جوخودی مٹا کر عذاب مٹاتا ہے ۔ مریدان مرشد پاکدامن خدا رسیدہ ہو جاتے ہیں انکے دلمیں رحم ہوتا ہے کلام مرشد بیش قیمت ہے جو اُسے تسلیم کرتاہے الہٰی لطف اُٹھاتا ہے۔ وہ بلند قیمت نہیں سمجھ نہوں نے مرشد کے مرید ہوکر اسی الہٰی لطف کا مزہ لیا ہے ۔(3)
الہٰی لطف جو تمام جنل اور بناسپتی کو جیے پانی ہر باول یا زندگی بخشتا ہے اسی طور سارے عالم کو زندگیاں عنایت کرتا ہے ۔ مگر بد قسمت اسکا لطف نہیں اُٹھا سکتے ۔ بغیر مرشد یہ الہٰی لطف ھاصل نہیں ہوتا ۔ وہ سچے مرشد کو سجدہ نہیں کرتے انکے دلمیں غصے کی بلا موجود ہے ۔(3) خدا خود ہی الہٰی لطف ہے اور خود ہی الہٰی لطف ہوجاتا ہے۔ خود ہی اپنی رحمت سےمرشد کے وسیلے سے عنایت کرتا ہے ۔ تما دل و جان ترو تازہ ہو جاتا ہے ۔ نانک جسکے دلمیں بس جاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੪॥
دِنسُ چڑےَ پھِرِ آتھۄےَ ریَنھِ سبائیِ جاءِ ॥
آۄ گھٹےَ نرُ نا بُجھےَ نِتِ موُسا لاجُ ٹُکاءِ ॥
گُڑُ مِٹھا مائِیا پسرِیا منمُکھُ لگِ ماکھیِ پچےَ پچاءِ ॥੧॥
بھائیِ رے مےَ میِتُ سکھا پ٘ربھُ سوءِ ॥
پُتُ کلتُ موہُ بِکھُ ہےَ انّتِ بیلیِ کوءِ ن ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
گُرمتِ ہرِ لِۄ اُبرے الِپتُ رہے سرنھاءِ ॥
اونیِ چلنھُ سدا نِہالِیا ہرِ کھرچُ لیِیا پتِ پاءِ ॥
گُرمُکھِ درگہ منّنیِئہِ ہرِ آپِ لۓ گلِ لاءِ ॥੨॥
گُرمُکھا نو پنّتھُ پرگٹا درِ ٹھاک ن کوئیِ پاءِ ॥
ہرِ نامُ سلاہنِ نامُ منِ نامِ رہنِ لِۄ لاءِ ॥
انہد دھُنیِ درِ ۄجدے درِ سچےَ سوبھا پاءِ ॥੩॥
جِنیِ گُرمُکھِ نامُ سلاہِیا تِنا سبھ کو کہےَ ساباسِ ॥
تِن کیِ سنّگتِ دیہِ پ٘ربھ مےَ جاچِک کیِ ارداسِ ॥
نانک بھاگ ۄڈے تِنا گُرمُکھا جِن انّترِ نامُ پرگاسِ ॥੪॥੩੩॥੩੧॥੬॥੭੦॥
لفظی معنی:
دنس چڑو۔ روز روشن ہوتا ہے ۔ آتھوے ۔ شام ہوتی ہے غروب ہوتا ہے سورج ۔ رہن سبئی جائے ۔ رات گذر جاتی ہے ۔ اؤ۔ عمر ۔ نر ۔ انسان ۔ موسا چوء ۔ لاج ۔ رسا گڑمیٹھا مائیا پسریا۔ دنیاوی دولت کی مٹھاس ۔ پچے پچائے ذلیل خوار ہوتا ہے ۔۔ میت۔ دوست۔ سکھا۔ ساتھی ۔ وکھ زہر ۔ بیلی مدد گا ساتھی ۔ ۔
اُبھرے۔ بچتے ہیں ۔ الپت ۔ بیلاگ ۔ بے واسطہ ۔ چلن ۔ برٹاؤ۔ اخلاق ۔ گرمت ۔ سبق مرشد ۔ اُبھرے بچے۔ اوہنی چلن سدا نہا لیا۔ انہوں نے روحانی و جسمانی موت کو مد نظر رکھا ۔ پت ۔ عزت ۔ درگھ سنیئے ۔ بارگاہ خدا میں منطور نظر ہوتے ہیں ۔ گل لالئے ۔(2) پنتھ پر گٹا۔ راستہ روزن ہوتا جاتا ہے ۔ ٹھاک رکاوٹ ۔ نحددھنی ۔ لگاتار رسیلی حمد ۔(3) ساباس۔ تعریف ۔ ستائش ۔ بھاوے ۔چاہتا ہے ۔
ترجمہ:
دن طلوع ہوتا ہے شام ہو جاتی ہے غرضیکہ رات گذر جاتی ہے اسطرح عمر گھٹ رہی ہے ۔ انسان سمجھتا نہیں ۔ وقت کو چاہا جیسے رسے کو کاٹتا ہے ایسے ہی وقت عمر کو کاٹ رہا ہے جیسے گڑ کو میتھا سمجھتے ہیں ایسے ہی دنیاوی دؤلت کی محبت میٹھی ہے ۔ خود ی پسند انسان دؤلت کی محبت میں گرفتار مکھی کی مانند ذلیل و خوار ہوکر ختم ہوتے ہیں ۔ ۔
اے بھائی دؤست اور ساتھی خدا ہی ہے ۔ عورت اور بیٹے کی محبت ایک زہر ہے ۔ بوقت آخرت کوئی ساتھی نہ ہوگا ۔
جو انسان سبق مرشد اور عشق الہٰی اور الہٰی پناہ میں رہتے ہیں روحانی موت سے نہیں بچتے ہیں ۔ انہوں نے اخلاق اور روحانی موت پیش نطر رکھی جو تو شئہ تو قیر و حشمت ہے ۔ مرشد کے وسیلے سے دربار الہٰی میں عزت ووقار ملتاہے اور خدا گلے لگاتا ہ ۔ (3) مرید ان مرشدوں کے لئے راستہ صاف ہے ۔ اُنکے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی ۔ وہ نام کی صفت صلاح کرتے ہیں نام سے پریم کرتے ہیں ۔ سچے خدا کے در پر سہارے تگتے ہیں ۔(3) جنہوں ن مرشد کے مرید ہوکر نام کی صفت صلاح کی انہیں اور ان کی ستائش ہوتی ہے ۔ اے خدا مجھ بھکاری کی تجھ سے استدعا ہے ۔ کہ مجھے انکی صحبت و قربت عنایت فرما ۔ اے نانک وہ مرید ان مرشد بلند قسمت ہیں جنکے دل کے نور سے منور ہیں ۔

سِریِراگُ مہلا ੫ گھرُ ੧॥
کِیا توُ رتا دیکھِ کےَ پُت٘ر کلت٘ر سیِگار ॥
رس بھوگہِ کھُسیِیا کرہِ مانھہِ رنّگ اپار ॥
بہُتُ کرہِ پھُرمائِسیِ ۄرتہِ ہوءِ اپھار ॥
کرتا چِتِ ن آۄئیِ منمُکھ انّدھ گۄار ॥੧॥
میرے من سُکھداتا ہرِ سوءِ ॥
گُر پرسادیِ پائیِئےَ کرمِ پراپتِ ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کپڑِ بھوگِ لپٹائِیا سُئِنا رُپا کھاکُ ॥
ہیَۄر گیَۄر بہُ رنّگے کیِۓ رتھ اتھاک ॥
کِس ہیِ چِتِ ن پاۄہیِ بِسرِیا سبھ ساک ॥
سِرجنھہارِ بھُلائِیا ۄِنھُ ناۄےَ ناپاک ॥੨॥
لیَدا بد دُیاءِ توُنّ مائِیا کرہِ اِکت ॥
جِس نو توُنّ پتیِیائِدا سو سنھُ تُجھےَ انِت ॥
اہنّکارُ کرہِ اہنّکاریِیا ۄِیاپِیا من کیِ متِ ॥
تِنِ پ٘ربھِ آپِ بھُلائِیا نا تِسُ جاتِ ن پتِ ॥੩॥
ستِگُرِ پُرکھِ مِلائِیا اِکو سجنھُ سوءِ ॥
ہرِ جن کا راکھا ایکُ ہےَ کِیا مانھس ہئُمےَ روءِ ॥
جو ہرِ جن بھاۄےَ سو کرے درِ پھیرُ ن پاۄےَ کوءِ ॥
نانک رتا رنّگِ ہرِ سبھ جگ مہِ چاننھُ ہوءِ ॥੪॥੧॥੭੧॥
لفظی معنی:
رتا۔ محو۔ مست ۔ سگار۔ سجاوٹ ۔ بھوکھ لطف اندوز ہوئے ۔ اپار ۔ بیشمار ۔ فرائی ۔احکام۔ افار ۔ تکب ۔ غرور ۔ کرتا ۔ کرتار ۔ قادر ۔کار ساز ۔ منھکھ ۔ مرید من۔ ۔ اندھ ۔ اندھا ۔ گوار ۔ جاہل ۔ ۔ سوئے ۔ وہی ۔ گر پرساوی ۔رحمت مرید س ۔ کرم ۔ بشش ۔۔ کپڑ ۔کپڑے ۔ بھوگ پسٹائیا ۔ کھانے میں گرفتا ر ۔ رُپا۔ چاندی ۔ خاک۔ مٹی ۔ ہیور ۔ گہوڑے ۔ گیور ۔ہاتھی ۔ بہو رتگے ۔ بہت رنگوں میں ۔ ساک۔ رشتہ وار ۔ سرجنہار ۔ پیدا کرنیوالا ۔ کار ساز۔ نا پاک ۔ گندہ ۔ (2) اکت اکھٹی ۔ بد عا۔ برا مانگنا ۔ اتھاک ۔ جو ماند نہ ہو
ترجمہ:
اے انسان کو تو کونس اپنے اہل وعیال زوجہ و فرزند کی سجاوٹ بناؤ شنگار ویکھ کر۔ مسرور و محو ہو رہا ہے ۔ قادر و کرتار کو بھول گیا ہے ۔ لطف لے رہا ہے مزے کرتا ہے خوش اور خوشی میں محو ہو رہا ہے احکام جاری کرتا ہے ۔ مغرور ہو رہا ہے ۔ خود پسند نا اہل جاہل ۔۔ اے دل یہ آرام و آسائش عنایت کرنے والا خدا ہی ہے جو رحمت مرشد سے ملتا ہے ۔ ۔ کپڑے پہنے عیش و عشرت کرنے ۔ سونا چاندی ۔گھوڑے ۔ ہانی زمین اکھٹے کرلئے ہیں ۔ اپنے رشتے داروں کو بھی بھلا دیا ہے ۔ کسی سے دل نہیں ملاتا ۔ مگر خدا کے نام کے سوا اخلاق و انسانیت کے بغیر ناپاک ہے اپنے پیدا کرنیوالے کو بھلا بیٹھا ہے ۔ (2) تو نا جائز طور طریقوں سے دؤلت اکھٹی کرتا ہے اور لوگوں سے بد دعائیں لیتا ہے ۔ جسے تو خوش کرتاہے ۔ اورتو نے بھی ختم ہو جاتا ہے ۔ اے خود دار تکبری تو اپنی دل پسندی کر رہا ہے اور دولت کا غرور کرتا ہے ۔ تجھے خدانے خودہی کنج وری کر دیا ہے ۔ ایسے انسان کو الہٰی حضوری میں نہ اونچا خاندان نہ عزت ۔ (3) الہٰی خادم کو جو اچھا لگتا ہے ہی خدا کرتا ہے ۔ الہٰی در پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی ۔ سچے مرشد نے خدا دوست ملا دیا ۔ خدا اُسکا ہر جا حفاظتی ہوتی ہے ۔ دنیا کے لوگ اس کا کچھ وگاڑ نہیں سکتے ۔ خودی میں گرفتار عذاب پاتا ہے ۔ اے نانک جو انسان الہٰی عشق میں محو رہتا ہے وہ عالم کے لئے روشن چراگ ہو جاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
منِ بِلاسُ بہُ رنّگُ گھنھا د٘رِسٹِ بھوُلِ کھُسیِیا ॥
چھت٘ردھار بادِساہیِیا ۄِچِ سہسے پریِیا ॥੧॥
بھائیِ رے سُکھُ سادھسنّگِ پائِیا ॥
لِکھِیا لیکھُ تِنِ پُرکھِ بِدھاتےَ دُکھُ سہسا مِٹِ گئِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیتے تھان تھننّترا تیتے بھۄِ آئِیا ॥
دھن پاتیِ ۄڈ بھوُمیِیا میریِ میریِ کرِ پرِیا ॥੨॥
ہُکمُ چلاۓ نِسنّگ ہوءِ ۄرتےَ اپھرِیا ॥
سبھُ کو ۄسگتِ کرِ لئِئونُ بِنُ ناۄےَ کھاکُ رلِیا ॥੩॥
کوٹِ تیتیِس سیۄکا سِدھ سادھِک درِ کھرِیا ॥
گِرنّباریِ ۄڈ ساہبیِ سبھُ نانک سُپنُ تھیِیا ॥੪॥੨॥੭੨॥
لفظی معنی:
بلاس۔ کھیل تماشہ ۔ بہہ رنگ ۔ بہت سی قسموں میں ۔ درشٹ ۔ نظر ۔ چھتر دھار ۔جنکے سر پر چھتر ہے ۔ سہسا ۔فکر ۔ غم ۔سادھ سنگ ۔ صحبت پاکدامن۔ دوھاتے ۔ سر جنہا ۔ پیدا کرنیولا ۔ تھان تھننزا۔ ہرجگہ ۔ دھن پائی ۔ سرمایہ دار ۔ بھؤ میا ۔ زمیندار ۔ بہو آئیا ۔ پھر کر دیکھ آئیا ۔ نسنگ ۔ بلاشک ۔ افریا ۔ مغرور ۔ وسگت ۔ وسگت ۔ زیر تابع ۔ لیؤن ۔ لیا ہے ۔ خاک۔ مٹی ۔ کیوت تیتیس تیس کروڑ دبوتے ۔ گرنباری ۔ ذمہ داری ،بھاری ذمہ داری ۔ وڈ صاجتی ۔بھاری حکومت والے حاکم ۔ تھیا ہوئے
ترجمہ:
دل میں خوشی کی لریں اُٹھتی ہوں ہوں ۔ عیش و عشرت بھلا دینے والے نظارے اور خوشیاں ہوا ۔ سیرپر چھتر جھولنے والی بادشاہت ہو ۔ تب بھی یہ فکر و تشویش میں ڈالنے والی نہیں ۔ ۔ اے بھائی آرام و سکون صحبت پاکدامنوں میں ہے ۔ جنکے اعمالنامے میں کار ساز الہٰی نے تحریر کیا ہے۔ عذاب و تشویش مٹ جاتی ہے ۔ ۔ جتنے ہی قابل دید جہیں ہیں ۔سب دیکھ لیں ہیں ۔ خواہ کوئی سرمایہ دار ہے یا زمیندار سب میری میری کرتے اس جہاں سے کوچ کر گئے ۔ (2) بیخوف فرمان جاری کرتا ہے تکبر و غرور سے لبریز سلوک ہے اور سب کو زیر کر لیا ہے تب بھی نام سچ ۔حق و حقیقت کے بغیر خاک میں ملجاتا ہے ۔(3) اگر تیتیس کروڑ بوتے بطور کادم اور پاکدامن اُسکے در پر کھڑے ہوں ۔ بھاری ذمہ داریاں اور حکومتیں ہوں اے نانک یہ سارا ایک خواب ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
بھلکے اُٹھِ پپولیِئےَ ۄِنھُ بُجھے مُگدھ اجانھِ ॥
سو پ٘ربھُ چِتِ ن آئِئو چھُٹیَگیِ بیبانھِ ॥
ستِگُر سیتیِ چِتُ لاءِ سدا سدا رنّگُ مانھِ ॥੧॥
پ٘رانھیِ توُنّ آئِیا لاہا لیَنھِ ॥
لگا کِتُ کُپھکڑے سبھ مُکدیِ چلیِ ریَنھِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کُدم کرے پسُ پنّکھیِیا دِسےَ ناہیِ کالُ ॥
اوتےَ ساتھِ منُکھُ ہےَ پھاتھا مائِیا جالِ ॥
مُکتے سیئیِ بھالیِئہِ جِ سچا نامُ سمالِ ॥੨॥
جو گھرُ چھڈِ گۄاۄنھا سو لگا من ماہِ ॥
جِتھےَ جاءِ تُدھُ ۄرتنھا تِس کیِ چِنّتا ناہِ ॥
پھاتھے سیئیِ نِکلے جِ گُر کیِ پیَریِ پاہِ ॥੩॥
کوئیِ رکھِ ن سکئیِ دوُجا کو ن دِکھاءِ ॥
چارے کُنّڈا بھالِ کےَ آءِ پئِیا سرنھاءِ ॥
نانک سچےَ پاتِساہِ ڈُبدا لئِیا کڈھاءِ ॥੪॥੩॥੭੩॥
لفظی معنی:
بھلکے۔ صبح سویرے ۔ پیو لیئے ۔پالن پوسن ۔ مکدھ ۔جاہل۔ اجان ۔ بے سمجھ ۔ چت ۔دل ۔ م ۔ بیبان ۔ سنسان ۔جنگل ۔ رنگ ۔خوشی ۔ لاہا ۔ نفع ۔کمائے ۔ کفکڑے ۔ فضول ۔ ذلالت رین۔ عمر ۔ کدم ۔ غلط کام ۔ کال ۔ موت ۔ اونے ساتھ ۔وہی ساتھ۔ مکتے ۔مکت ۔آزادی ۔ بھایئے ۔ملتے ہیں ۔ (2) چارکنڈاں۔ چاروں اطراف ۔ سچے پانساہ ۔سچے بادشاہ ۔پھاتے ۔ پھنسے ہوئے (3) سرنائے ۔ پناہ
ترجمہ:
ہر روز صبح سویرے اُٹھ انسان جسم کو پالتا پوستا ہے ۔ مگر جاہل زندگی کا مقصد نہیں سمجھتا ۔ اسے خدا یاد نہیں یہ وہ جسم ہے جسے شمشان میں اکیلا چھوڑ دیا جائیگا ۔ سچے مرشد سے دل لگاتا کہ دائمی روحانی خوشیاں حاصل ہو ۔ اے میری جان ۔ اے انسان تو اس زندگی کا فائدہ اٹھانے کے لئے اس جہانمیں آئیا ہے کن فضول اور بیہودہ کاموں مین مشغول ہو گیا ہے ۔ عمر گذر رہی ہے ۔ ۔
اے انسان پرندوں اور مویشیوں کی طرح کھیل کود میں مصروف ہے ۔ موت دکھائی نہیں دیت ۔ اے انسان تیرے بھی ان ہی جیسے تیرے کام نہیں مادیاتی جال مین پنس رہا ہے اس سے اُسے ہی نجات ملتی ہے جسکے دلمیں سچا نام سچ۔حق و حقیقت ہے ۔(2) جس گھر کو چھوڑ کر چلے جانا ہے اس سے محبت ہے جہاں جا ر تو نے رہنا ہے اکا ذرہ بھر فکر نہیں عاقبت کی فکر نہیں ۔ اس دنیاوی جال سے وہی آزاد ہونگے جو مرشد کے پاؤں پڑینگے ۔ (3) کوئی بچا نہیں سکتا نہ کوئی ایسا دکھائی دیتا ہے ۔ چاروں طرف تلاش کرکے آخرپناہ آئیاہوں ۔ اے نانک آخر سچے پانشاہ مرشد نے ڈوبنے کو اس دنیاوی سمندر سے باہر نکال لیا ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
گھڑیِ مُہت کا پاہُنھا کاج سۄارنھہارُ ॥
مائِیا کامِ ۄِیاپِیا سمجھےَ ناہیِ گاۄارُ ॥
اُٹھِ چلِیا پچھُتائِیا پرِیا ۄسِ جنّدار ॥੧॥
انّدھے توُنّ بیَٹھا کنّدھیِ پاہِ ॥
جے ہوۄیِ پوُربِ لِکھِیا تا گُر کا بچنُ کماہِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہریِ ناہیِ نہ ڈڈُریِ پکیِ ۄڈھنھہار ॥
لےَ لےَ دات پہُتِیا لاۄے کرِ تئیِیارُ ॥
جا ہویا ہُکمُ کِرسانھ دا تا لُنھِ مِنھِیا کھیتارُ ॥੨॥
پہِلا پہرُ دھنّدھےَ گئِیا دوُجےَ بھرِ سوئِیا ॥
تیِجےَ جھاکھ جھکھائِیا چئُتھےَ بھورُ بھئِیا ॥
کد ہیِ چِتِ ن آئِئو جِنِ جیِءُ پِنّڈُ دیِیا ॥੩॥
سادھسنّگتِ کءُ ۄارِیا جیِءُ کیِیا کُربانھُ ॥
جِس تے سوجھیِ منِ پئیِ مِلِیا پُرکھُ سُجانھُ ॥
نانک ڈِٹھا سدا نالِ ہرِ انّترجامیِ جانھُ ॥੪॥੪॥੭੪॥
لفظی معنی:
مہت ۔ دو گھڑی ۔ پاہنا ۔ مہمان ۔ کام شہوت دیاپیا ۔ گرفتار ۔ گاوار ۔ مورکھ ۔ نادان ۔ جندار ۔ظالم ۔سخت ۔ ۔ کندھی ۔ کنارہ ۔ کنڈھا ۔ پورب ۔ پہلے ۔ ڈڈری ۔ادھ پکی ۔نیم پختہ ۔ دات ۔داتیاں ۔پہتیا ۔ پہنچ گئے ۔ لاوے ۔ فصل کاٹنے والے ۔ کرسان ۔ کسان مالک ۔ فصل ۔ لن ۔ کا کر ۔ کھتار ۔ سارا کھیت ۔ (2) جھاکھ جھکیائیا ۔ بد کاریاں ۔ بہور ۔ دن ۔ جیؤ ۔جان ۔ پنڈ۔ جسم ۔ (3) واریا۔ قربان ۔ سبحان دانشمند
ترجمہ:
انسان اس عالم میں ایک معین عرصہ کے لئے گھڑی دوگھڑی بطور مہمان آکر اس گھر کے کام درست کرنیوالابن گیا ۔ شہوت اور دؤلت کی محبت محسور ہے ۔ جاہل نہیں سمجھتا ۔ جب موت آئی پچھتائیا اور ظالم جمدوت کے قبضے میں آئیا ۔ ۔ اے نادان تو کنارے پر بیٹھا ہے ۔ نامعلوم کنارہ کب مسمار ہوجائے ۔ اگر پہلے سے کیئے ہوئے اعمال جو تیرے حساب میں تحریر ہیں تب سبق مرشد پر عمل کر ۔ یہ ضروری نہیں ۔ ہری یا نیم پختہ نہ کاٹی جائے اور صرف پختہ ہی کاٹی جائے ۔ جب کھیت کے مالک کا حکم ہو جاتا ہے وہ فصل کاٹنے والے تیار کرتا ہے ۔ جو داترے لیکر آجاتے ہیں اور سار ا کھیت کات کر پیمائش کر لیتے ہیں ۔ اسی طرح عالم کا مالک جب حکم کرتا ہے تو الہٰی دوت خواہ بوڑھا یا بچہ ہو یا جوان آگر جاتے ہیں ۔ (2) زندگی کی پہلی عمر دنیاوی کاموں میں گذر جاتی ہے ۔ دوسرا دور عمر اور زندگی کاغفلت اور محبت مین گذر جاتا ہے تیسرے دور میں دنیاوی لزتوں کی مصروفیت میں چوتھے دور کی صبح آجاتی یعنی زندگی کی رات عنقریب ختم ہونیوالیہے بڑھاپا آجاتا ہے ۔ جس خدا نے اسے زندگی عنایت فرمائی ہے یہ تن بدن دیا ہے کبھی یاد نہیں کیا ۔ صحبت پاکدامن خدا رسیدگان پر قربان جاؤں ۔ جسکی وجہ سے اور جس سے سمجھ آئی اس دل کو اور وہ دانشمند سے ملاپ ہوا ۔ اے نانک ہمیشہ اسے ساتھ دیدار کیا اس راز دلی جاننے والے کا ۔

سِریِراگُ مہلا ੫॥
سبھے گلا ۄِسرنُ اِکو ۄِسرِ ن جاءُ ॥
دھنّدھا سبھُ جلاءِ کےَ گُرِ نامُ دیِیا سچُ سُیاءُ ॥
آسا سبھے لاہِ کےَ اِکا آس کماءُ ॥
جِنیِ ستِگُرُ سیۄِیا تِن اگےَ مِلِیا تھاءُ ॥੧॥
من میرے کرتے نو سالاہِ ॥
سبھے چھڈِ سِیانھپا گُر کیِ پیَریِ پاہِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دُکھ بھُکھ نہ ۄِیاپئیِ جے سُکھداتا منِ ہوءِ ॥
کِت ہیِ کنّمِ ن چھِجیِئےَ جا ہِردےَ سچا سوءِ ॥
جِسُ توُنّ رکھہِ ہتھ دے تِسُ مارِ ن سکےَ کوءِ ॥
سُکھداتا گُرُ سیۄیِئےَ سبھِ اۄگنھ کڈھےَ دھوءِ ॥੨॥
سیۄا منّگےَ سیۄکو لائیِیا اپُنیِ سیۄ ॥
سادھوُ سنّگُ مسکتے توُٹھےَ پاۄا دیۄ ॥
سبھُ کِچھُ ۄسگتِ ساہِبےَ آپے کرنھ کریۄ ॥
ستِگُر کےَ بلِہارنھےَ منسا سبھ پوُریۄ ॥੩॥
اِکو دِسےَ سجنھو اِکو بھائیِ میِتُ ॥
اِکسےَ دیِ سامگریِ اِکسےَ دیِ ہےَ ریِتِ ॥
اِکس سِءُ منُ مانِیا تا ہویا نِہچلُ چیِتُ ॥
سچُ کھانھا سچُ پیَننھا ٹیک نانک سچُ کیِتُ ॥੪॥੫॥੭੫॥
لفظی معنی::
وسرن۔ خواہ بہول جاؤں ۔ آسا ۔ اُمید ۔ لاہ کے ۔ختم کرکے ۔ کماؤ ۔ رکھو ۔ تھاؤں ۔ٹھکانہ ۔ ۔ پا ہے ۔ پوؤ ویاپئی ۔ پیدا ہو گئی ۔ سکھ راتا ۔ سکھ دینے والا ۔ چھجیئے ۔ کمزوری آئے ۔ ۔ رشقت ۔ تٹھے ۔ خوش ۔ دیو ۔ دیوتا ۔ ۔ متا خواہشات ۔ پور یو۔ پوری کرتا ہے ۔ (3) سامگری ۔ ساری نعمتیں ۔ ریت ۔ رواج ۔
ترجمہ:
خواہ عالم کی تمام باتیں بھول جاؤں مگر ایک بات (یاد خدا) نہ بھولو ۔ تمام دنیاوی کام ختم کرکے الہٰی نام بخشش کیا ہے ۔ تمام اُمیدیں ختم کرکے ایک اُمید رکھوں ۔ جنہوں نے سچے مرشد کی خدمت کی انہیں عاقبت میں عزت پائی۔ ہر کر خدمت مرشد کرد درعاقبت مسند یافت ۔ ۔ اے دل کرتار کی صفت صلاح کر ۔ ساریاں عقلمندیاں چلاکیاں چھوڑ کر مرشد کے پاؤں پڑ ۔ اگر سکھداتا (پرردگار) دلمیں بس جائے تو بھوک اور عذاب نہ آئے گا (دولت کی پیاس نہ ہرے گی ۔ اگر دلمیں خدا بستا ہو تو کسی کام کو کرؤ روحانی زندگی میں کمزوری نہ آئیگی ۔ پر وردگار کی خدمت کرنسے وہ تمام بد اوصاف نکال کر پاک بنا دیتا ہے ۔ (2) خادم اُنکی خدمت کرنا چاہتا ہے اے خدا جو تیری خدمت کر رہے ہیں ۔ اے خدا اگر تو کرم و عنایت فرمائے تومجھے خدمت پا دامن خدا رسیدوں کی صحبت و عنایت کر یہ تیری رضا وخوشی سے مل سکتی ہے میرے آقا ۔ ساراکچھ مالک کے اپنے اختیار ہے وہ خود ہی سب کرنےکی فوقیت رکھتا ہے ۔ میں سچے مرشد پر قربان ہوں ۔ خدا میری تمام ضرورتیں پوری کرنیوالا ہے ۔(3) اے دوست جب انسان واحد خدا کو ہی اپنا دوست خیال کرتا ہے ۔ اُسے ہی پر اپنا سہارا کرتا ہے اور دنیا کی ہر شے اُسکی ملکیت ہے اوراس واحد کا قانون قدرت ہے ار اسی کا دلمیں بھروسا ہے اُسی سے دلمیں سکون ہے ۔ اور بودوباش۔ کھانا و پوشش سچ اور سچائی ہے ۔ اے نانک سچ کو سہارا اور آسرا اور ٹھکانہ کیا ہے

سِریِراگُ مہلا ੫॥
سبھے تھوک پراپتے جے آۄےَ اِکُ ہتھِ ॥
جنمُ پدارتھُ سپھلُ ہےَ جے سچا سبدُ کتھِ ॥
گُر تے مہلُ پراپتے جِسُ لِکھِیا ہوۄےَ متھِ ॥੧॥
میرے من ایکس سِءُ چِتُ لاءِ ॥
ایکس بِنُ سبھ دھنّدھُ ہےَ سبھ مِتھِیا موہُ ماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
لکھ کھُسیِیا پاتِساہیِیا جے ستِگُرُ ندرِ کرےءِ ॥
نِمکھ ایک ہرِ نامُ دےءِ میرا منُ تنُ سیِتلُ ہوءِ ॥
جِس کءُ پوُربِ لِکھِیا تِنِ ستِگُر چرن گہے ॥੨॥
سپھل موُرتُ سپھلا گھڑیِ جِتُ سچے نالِ پِیارُ ॥
دوُکھُ سنّتاپُ ن لگئیِ جِسُ ہرِ کا نامُ ادھارُ ॥
باہ پکڑِ گُرِ کاڈھِیا سوئیِ اُترِیا پارِ ॥੩॥
تھانُ سُہاۄا پۄِتُ ہےَ جِتھےَ سنّت سبھا ॥
ڈھوئیِ تِس ہیِ نو مِلےَ جِنِ پوُرا گُروُ لبھا ॥
نانک بدھا گھرُ تہاں جِتھےَ مِرتُ ن جنمُ جرا ॥੪॥੬॥੭੬॥
لفظی معنی:
تھوک ۔ ہر شے ۔ ہتھ آوے ۔ مل جائے ۔ جنم پدارتھ۔ قیمتی انسانی زندگی ۔ سچھل کامیاب۔ کتھ ۔کہنا ۔ سچا ۔سچا ۔ قائم دم جس متھ ۔جسکی پیشانی پر تحریر ہے ۔۔ ایکس سیؤ ۔ واحد سے ۔ وطند ۔ جنجال ۔ موہ مائیا ۔۔ دؤلت کی محبت ندر۔ نظر شفقت یا عنیات ۔ نمکھ ۔ آنکھ ۔جھپلنے کی دیر ۔ پورب پہلے ۔ گہے ۔پکڑئے ۔(2) صورت ۔ وقت ۔ مورت۔ شکل ۔ جت ۔ جسمیں ۔ ادھار۔ آسرا ۔ گر۔ گرو ۔مرشد ۔(3) سنت سچھا سدھ سنگت ۔ پاکدامنوں کا اھٹ ۔ دھوئی آسرا ۔ نو ۔ نو کو ۔ مرت ۔ روحانی موت ۔ بد اخلاقی ۔ جرا ۔ برھاپا
ترجمہ:
عالم کی ہر شے ملی اگر ملا خدا۔گرؤ صل خدا یافت ہر شے عالم یافتی ۔زندگی کی نعمت کامیاب ہے اگر الہٰی حمد و ثناہ کرتے ہو ۔اگرپیشانی پر تحریر ہے تو۔ خوش قسمتی سے مرشد اور ٹھکانہ ملجاتا ہے۔اے دل واحد خدا دلمیں بسا ۔اس واحد خدا کے بغیر سب تک بیہودہ اور فضول ہے ۔جھوٹا ہے یہ دنیاوی دولت کی محبت۔
نگاہ شفقت و رحمت مرشد ہی سے لاکھوں خوشیاں اور بادشاہیاں نہیں ۔اگر ٹھورے سے وقفے کے لئے نام سچ ۔ حق و حقیقت دیدے تو میرے دل و جان کو سکون قلب حاصل ہوتا ہے جسکے اعمالنامے میں پہلے سے تحریر ہوتا ہے وہ سچے مرشد کے پاؤں پڑتا ہے ۔وہ وقت وہ موقعہ مبارک ہے جس وقت سچے خدا سے پیار ہے۔جسکا کھانا پینا الہٰی نام ہے اُسے عذاب نہیں اُٹھانا پڑتا ۔اور الہٰی نام کا سہار ہے ۔جس انسان کو بازو پکڑ کر اس زہر آلودہ دنیاوی سمندر سے پار کیا وہی زندگی میں کامیاب ہو ۔ (3) جہاں پاکدامن خدا رسیدہ نیک انسان مل بیٹھتے ہیں وہ جگہ مقام پاک ہے ۔جسنے کامل مرشد پا لیا اُسے ٹھکانہ اور سہارا مل گیا جہاں روحانی موت نہیں تناسخ نہیں نانک نے ایسا ٹھکانہ بنائیا ہے جہاں نہ روحانی موت ہے نہ تناسخ نہ پڑھاپا۔

SGGS p. 44
س٘ریِراگُ مہلا ੫॥
سوئیِ دھِیائیِئےَ جیِئڑے سِرِ ساہاں پاتِساہُ ॥
تِس ہیِ کیِ کرِ آس من جِس کا سبھسُ ۄیساہُ ॥
سبھِ سِیانھپا چھڈِ کےَ گُر کیِ چرنھیِ پاہُ ॥੧॥
من میرے سُکھ سہج سیتیِ جپِ ناءُ ॥
آٹھ پہر پ٘ربھُ دھِیاءِ توُنّ گُنھ گوئِنّد نِت گاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تِس کیِ سرنیِ پرُ منا جِسُ جیۄڈُ اۄرُ ن کوءِ ॥
جِسُ سِمرت سُکھُ ہوءِ گھنھا دُکھُ دردُ ن موُلے ہوءِ ॥
سدا سدا کرِ چاکریِ پ٘ربھُ ساہِبُ سچا سوءِ ॥੨॥
سادھسنّگتِ ہوءِ نِرملا کٹیِئےَ جم کیِ پھاس ॥
سُکھداتا بھےَ بھنّجنو تِسُ آگےَ کرِ ارداسِ ॥
مِہر کرے جِسُ مِہرۄانُ تاں کارجُ آۄےَ راسِ ॥੩॥
بہُتو بہُتُ ۄکھانھیِئےَ اوُچو اوُچا تھاءُ ॥
ۄرنا چِہنا باہرا کیِمتِ کہِ ن سکاءُ ॥
نانک کءُ پ٘ربھ مئِیا کرِ سچُ دیۄہُ اپُنھا ناءُ ॥੪॥੭॥੭੭॥
لفظی معنی:
دھیایئے ۔ یاد کر ۔ جیئڑے ۔ اے دل ۔ سر ساہاں پانساہ شنہشاہ ۔سبھن ویسا ہو ہو جسکا سبھ کو بھرؤسا ہے۔سیانپاں۔ دانمشند یاں۔ پاہو۔پڑؤ ۔سکھ سہج سیتی ۔ ذہنی سکون اور آرام کے ساتھ۔ جب ناؤ ۔ الہٰی نام ۔ سچ ۔حق و حقیقت میں دھیان تو جوا اور یاض کر ۔ جیوڈ اور نہ کوئے ۔ جسکی عظمت و شان کے برابر کوئی نہیں جسکا ثانی کوئی نہیں ۔گھنا ۔ زیادہ ۔چاکری ۔خدمت۔ صاحب۔ آقا ۔ مالک۔ سچا۔ صدیوں سے ۔ وہی۔ سادھ ستنگت ۔ صحبت و قربت پاکدامن خدا رسیگان ۔نرملا ۔ پاک ۔پھاس۔ پھندہ ۔بھےبنخو۔ خوفم میٹھانیوالا ۔کارج۔ کام مقصد۔راس۔ٹھیک۔ درست ۔ (3)بہتو بہت دکھانیئے۔ جتنا زیادہ بیان کریں ۔اُوچو اوچا ۔تھاؤ ۔ بلند سے بلند مقام۔ اور چہنا باہرا۔ ذات ۔رنگ و نسل سے بعد۔ شکل وصورت کے بغیر ۔قیمت کہہ نہ سکاؤ ۔ قدر و منزلت بیان نہیں ہو سکتی ۔نیا ۔ مہربانی ۔ سچ دیو ہوا پناناؤ ۔ اے خدا اپنا نام سچ۔ حق و حقیت عنایت کر۔
ترجمہ:
اے میری جان اُسکو یاد کر جو شاہوں کا شاہ ہے ۔اُسی سے دلمیں اُمید رکھ جس پر سب کا بھرؤسہ اور یقین ہے ۔اور تمام اُمیدیں اور چالاکیا چھوڑ مرشد کے پاؤں پڑا۔ ۔ اے دل آرام و سکون سے خد ا کی ریاض کر اور روز و شب اُسے یاد کر اور حمد و ثناہ کر۔ اے دل اُسکی پناہ لے جس کا کوئی ثانی نہیں ۔جسکی ریاض سے بہت آرام ملے اور دکھ درد ذرہ بھر نہ ہو ۔خدا سچا مالک ہے ہمیشہ اُسکی خدمت داری کر ۔(2)پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت سے انسان پاک ہو جاتا ہے اور جسم کا پھندہ نہیں پڑتا ۔اُس خوف مٹانے والے سکھ دینے والے سے عرض کر۔ جس پر مہربانی مہربانی کرے۔ تو کام ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ (3) زیادہ سے زیادہ کہتے ہیں اونچا ہے مقام اُسکا ۔نہیں شکل و شنان کوئی قسمت ہے بیان سے باہر اُسکا ۔ اے خدا نانک پر (ٖفرما ) کرم و عنایت فرما نواز اپنے سچے نام سے یہی فرمان عنایت ۔