Urdu-Master-14

SGGGS p. 435-462
راگُ آسا مہلا ੧ چھنّت گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
مُنّدھ جوبنِ بالڑیِۓ میرا پِرُ رلیِیالا رام ॥
دھن پِر نیہُ گھنھا رسِ پ٘ریِتِ دئِیالا رام ॥
دھن پِرہِ میلا ہوءِ سُیامیِ آپِ پ٘ربھُ کِرپا کرے ॥
سیجا سُہاۄیِ سنّگِ پِر کےَ سات سر انّم٘رِت بھرے ॥
کرِ دئِیا مئِیا دئِیال ساچے سبدِ مِلِ گُنھ گاۄئو ॥
نانکا ہرِ ۄرُ دیکھِ بِگسیِ مُنّدھ منِ اوماہئو ॥੧॥
مُنّدھ سہجِ سلونڑیِۓ اِک پ٘ریم بِننّتیِ رام ॥
مےَ منِ تنِ ہرِ بھاۄےَ پ٘ربھ سنّگمِ راتیِ رام ॥
پ٘ربھ پ٘ریمِ راتیِ ہرِ بِننّتیِ نامِ ہرِ کےَ سُکھِ ۄسےَ ॥
تءُ گُنھ پچھانھہِ تا پ٘ربھُ جانھہِ گُنھہ ۄسِ اۄگنھ نسےَ ॥
تُدھُ باجھُ اِکُ تِلُ رہِ ن ساکا کہنھِ سُننھِ ن دھیِجۓ ॥
نانکا پ٘رِءُ پ٘رِءُ کرِ پُکارے رسن رسِ منُ بھیِجۓ ॥੨॥
لفظی معنی:
سند جون بن ۔ جوانی کے عالم میں دوشیزہ جسے ابھی جوانی کی خبر نہیں بالڑیئے ۔ بچپن میں۔ جونائی سے بیخبر ۔ پر ۔ خاوند ۔ رلیالا۔ سکون کا منبع ۔ دھن۔ عورت۔ انسان۔ پر ید ۔خاوند۔ خدا۔ نیہہ۔ محبت۔ گھنا۔ نہایت۔ زیادہ۔ر س۔ لطف۔ پریت۔پیار۔ کرپا۔ مہربانی۔ دکھن پر سیلا۔ عورت و مرد کا آپسی ملاپ ۔ سوآمی ۔ آقا۔ مالک ۔ کرپا۔ مہربانی ۔ سچ ۔ خوابگاہ۔ دل ۔ سات سر ۔ سات تالاب ۔ پانچ اعضائے احساسات ۔ منیا ذہن اور عقل ۔ دیا۔ میا۔ مہربانی ۔ دیال ۔ مہران۔ ساچے سبد۔ سچے کلام۔ گن۔ اوصاف۔ ہر در ۔ خاوند خدا۔ اوماہیؤ ۔ خوشی بھرا جوش (1) من تن۔ دل وجا۔ سہج ۔ روحانی سکون۔ سلونٹریئے ۔ خوبصورت آنکھوں والی ۔ بننتی ۔ عرض ۔ گذارش ۔ سنگم۔ ملاپ ۔ رپیمپ یار۔ راتی ۔ محو ۔ مجذوب۔ سکھ ۔ سکھ میں۔ تل ۔ ذڑا سے وقفے کے لئے ۔ کہن سنن ۔ کہنا ۔ سننا۔ دھیجئے ۔ دھیرج ۔ استقلال ۔ رسن ۔ زبان۔ بھیجئے ۔ متاثر ۔ زہر اثر (2)
ترجمہ :
یہاں انسان کو عورت سے مشابہ کرکے اور خدا کو خاوند سے تشبیح دیکر سمجھائیا ہے گرونانک صاحب نے کہ اے جوانی میں مدہوش زندگی کے سلیقے و طریقےسے بیخبر اپنے خاوند ( خدا) کو لطفوں کا خزانہ ہے منبع ہے دلمیں بسا ۔ جس انسان کوخداسے پیار ہوجاتا ہے وہ جوش و خروش سے محبت کرتا ہے خدا خود کرم وعنایت فرماتا ہے تب ہی اسے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔ صحبت و قربت خدا میں اسکا قلب پاک ہوجاتا ہے پانچوں عاضائے علم احساسات ۔ من اور عقل سارے نام یعنی سچ وحقیقت سے مخمور ہوجاتے ہیں۔ اے سچے رحما ن الرحیم خدا رحمت فرما تاکہ کلام مرشد اپنا کر تیری حمدوثناہ کروں۔ اے نانک۔ جس انسان کے دل میں الہٰی ملاپ کی خواہش ہوتی ہہے وہ دیدار سے خوش ہوتا ہے (1)
اے روحانی سکون یافتہ انسان اے خوبصورت آنکھوں والے میری ایک پیار بھری عرض سنیئے مجھے ایسا طریقہ بتاؤ جس سے الہٰی عبادت وریاضت اور خوف خدا میں خدا سے محبت ہوجائے اور محبت خدا میں محو ومجزوب ہو جاؤں ۔ جو انسان الہٰی پریم پیا رمیں مھو ومجذوب رہتا ہے وہ الہٰی نام میں مخمور ہوکر روحانی سکون میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ اے خدا جو انسان تیرے اوصاف کی پہچان کر لیتے ہیں وہ خدا سے شراکت پاتے ہیں جس سے ان کے دل میں نیکیاں اور اوصاف بس جاتے ہیں اور بد اوصاف دور ہوجاتے ہیں اے خدا مجھے تیرے بغیر تھوڑے سے وقفے کے لئے بھی جینا محال ہے کہنے سننے سے دل کو سکون نہیں ملتا۔ اے نانک۔ جو انسان خدا کو پیار پیارا کہہ کر پکارتے ہیں ان کا دل الہٰی پیار سے محظوظ ہوا رہتا ہے (2)

سکھیِہو سہیلڑیِہو میرا پِرُ ۄنھجارا رام ॥
ہرِ نامد਼ ۄنھنّجڑِیا رسِ مولِ اپارا رام ॥
مولِ امولو سچ گھرِ ڈھولو پ٘ربھ بھاۄےَ تا مُنّدھ بھلیِ ॥
اِکِ سنّگِ ہرِ کےَ کرہِ رلیِیا ہءُ پُکاریِ درِ کھلیِ ॥
کرنھ کارنھ سمرتھ س٘ریِدھر آپِ کارجُ سارۓ ॥
نانک ندریِ دھن سوہاگنھِ سبدُ ابھ سادھارۓ ॥੩॥
ہم گھرِ ساچا سوہِلڑا پ٘ربھ آئِئڑے میِتا رام ॥
راۄے رنّگِ راتڑِیا منُ لیِئڑا دیِتا رام ॥
آپنھا منُ دیِیا ہرِ ۄرُ لیِیا جِءُ بھاۄےَ تِءُ راۄۓ ॥
تنُ منُ پِر آگےَ سبدِ سبھاگےَ گھرِ انّم٘رِت پھلُ پاۄۓ ॥
بُدھِ پاٹھِ ن پائیِئےَ بہُ چتُرائیِئےَ بھاءِ مِلےَ منِ بھانھے ॥
نانک ٹھاکُر میِت ہمارے ہم ناہیِ لوکانھے ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
سیکھہو ۔ سہیلو ۔ دوستو ۔ میرا پر ۔ میرا خاوند۔ مراد خدا۔ دنجار۔ بیو پاری ۔ خدا ۔ ہرن موونجڑیا۔ اے الہٰینام ۔ مراد سچ اور حقیقت کے سوداگر۔ رس۔ لطف۔ مول ۔ قیمت۔ اپارا۔ سحاب۔ بلا ندازے ۔ مول امولو۔ جس کی قیمت کا اندازہ نہ ہو سکے ۔ بھلی ۔ اچھی ۔ نیک ۔ رلیا۔ موجاں ۔ پکاری ۔ کہتا ہوں۔ کرن کارن ۔ نگاہ شفقت و عنایت سے ۔ سوہاگن ۔ خاوند پیاری ۔ خدا پرست ۔ انھ ۔ ہرد۔ من ۔ ساد بھایئے ۔ پاک بنائے ۔ سنوارے ۔ درست گرے (3) گھر ۔ دل ۔ من ۔ سوہلڑا۔ خوشی بھرا لفو ۔ پربھ اہئٹرے ۔ خدا آئیا ۔ سئیا ۔ لیڑ۔ لیا۔ راوئے ۔ پیار کرے ۔ سبد سبھاگے ۔ خوشی قسمت ۔ گھر انمرت پھل۔ دلمیں آب حیات جیسا پھل۔ نتیجہ ۔ پاٹھ۔ مذہبی کتاب پڑھنا ۔ بدھ ۔ عقل۔ چتراییئے ۔ چالاکی ۔ ہوشیایر ۔ بھائے ۔ پریم پیار کے ذریعے ۔ من بھانے ۔ دلی پریم سے ۔ لوکانے ۔ لوکانے ۔ لوگوں کے ۔
ترجمہ:
اے ساتھیوں ، دوستوں خدا پریم کا بیوپاری ہے ۔ جس نے اسکا نام یعنی سچ اورحقیقت خرید کیا ہے ۔ وہ سچ حقیقت کے لطف سے اتنے بلند آدرش کی زندگی گذارنے والے ہوجاتے ہیں جس کی قیمت کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ الہٰی صحبت و قربت میں رہتا ہے جو خڈا کا پیارا ہے اسے نیک سمجھو بیمار ہیں جو الہٰی ملاپ میں روحانی سکون پاتے ہیں میں ان کے در پر گھڑے ہوکر عرض گذارتا ہوں اے نانک۔ جس انسان پر نگاہ عنایت و شفقت ہو خدا کی اس کے دل کو کلام مرشد کا سہارا رہتا ہے خدا جو تمام علام کی بنیاد ہے جو سب کچھ کرنے اور کرانے کی حثیثت رکھتا ہے ۔ جو دنیاوی دولت کا مالک و قادر قائنات قدرت ہے ۔ وہ انسانی زندگی کے حصول مقصد کو کامیاب بناتا ہے (3) اے دوستوں میرے دل میں سچے روحانی الہٰی گیت ہو رہے ہیں کیونکہ خڈا میرے دلمیں بستا ہے جو اس کے پایر میں محو رہتے ہیں اور اپنا دل اسے پیش کردیتے ہیں وہ سچ اور حقیقت یعنی الہٰی نام حاصل کرتے ہیں اسے الہٰی ملاپ حاصل ہوجاتا ہے جو کلام مرشد اپنا کر روحانی زندگی عنایت کر نے والا نام حاصل کر لیتے ہیں۔ خدا کسی دانشمندی مذہبی کتابیں پڑھنے یا ہوشیاری یا چالاکی سے نہیں ملتا وہ تو پریم پیار سے ملتا ہے جس کے دلمیں اس کے لئےپریم پیار ہے ۔ اے نانک ۔ کہہ۔ کہ اے میرے دوست میراے آقا مجھے کسی دوسرے کا نہ بنا۔

آسا مہلا ੧॥
انہدو انہدُ ۄاجےَ رُنھ جھُنھکارے رام ॥
میرا منو میرا منُ راتا لال پِیارے رام ॥
اندِنُ راتا منُ بیَراگیِ سُنّن منّڈلِ گھرُ پائِیا ॥
آدِ پُرکھُ اپرنّپرُ پِیارا ستِگُرِ الکھُ لکھائِیا ॥
آسنھِ بیَسنھِ تھِرُ نارائِنھُ تِتُ منُ راتا ۄیِچارے ॥
نانک نامِ رتے بیَراگیِ انہد رُنھ جھُنھکارے ॥੧॥
تِتُ اگم تِتُ اگم پُرے کہُ کِتُ بِدھِ جائیِئےَ رام ॥
سچُ سنّجمو سارِ گُنھا گُر سبدُ کمائیِئےَ رام ॥
سچُ سبدُ کمائیِئےَ نِج گھرِ جائیِئےَ پائیِئےَ گُنھیِ نِدھانا ॥
تِتُ ساکھا موُلُ پتُ نہیِ ڈالیِ سِرِ سبھنا پردھانا ॥
جپُ تپُ کرِ کرِ سنّجم تھاکیِ ہٹھِ نِگ٘رہِ نہیِ پائیِئےَ ॥
نانک سہجِ مِلے جگجیِۄن ستِگُر بوُجھ بُجھائیِئےَ ॥੨॥
لفظی معنی:
انحد۔ روحانی سکون کی سنگیت جو متواتر محسوس ہوتا ہے ۔ رن جھنکارے ۔ جھانجروں اور کنگھررؤں کی آواز۔ من راتا۔ دل محو۔ بیراگی ۔ پرمیمی ۔ متوالا۔ سن منڈل۔ ذہنی حالت جہاں دماگ پر سکون حالت میں بیرونی خیالات سے مبرا ہوکر الہٰی وجد میں طاری ہوکر سکون روحانی پاتا ہے ۔ آدپرکھ ۔ شروعاتی انسان۔ اپنپر۔ جسکا کوئی کنارہ یا حد نہ ہو۔ الکھ ۔ بیحساب۔ لکھئیا۔ زیر ضبط لائیا۔ جو حساب سے باہر تھا حساب میں دکھائیا (1) تت۔ اس ۔ اگم۔ انسانی پہنچ سے باہر۔ اگم پرے ۔ اس نانسانی رسائی سے بالا تک رسائی ۔ کس بدھ ۔ کس طریقے سے ۔ آسن ۔ استھان ۔ جگہ ۔ بیسن ۔ بیٹھنے کی جگہ ۔ تھر نرائن ۔ صدیوی خدا۔ تت من ۔ اسمیں دل ۔ راتا ۔ محو ومجذوب ۔ نام رتے بیراگی ۔ سچ اور حقیق سے محو ومجذوب ۔ بیراگی ۔ پریمی پیار (1) سچ ۔حقیقت پرستی ۔ سنجم۔ ضبط ۔ یعنی انسانی خواہشات پر ضبط۔ سچ سبد۔ سچے کلام ۔ سارگنا۔ اوصاف کی بنیاد ۔ جڑ۔ گر سبد۔ کلام مرشد۔ کمایے ۔ عمل پیرا ہونا۔ عمل کرنا۔ تج گھر ۔ اصلی حالت۔ تت۔ اس کے ۔ مول۔ جڑ۔ بنیاد۔ ڈالی ۔ شاخ۔ یہ سبھنا پڑھانا۔ مگر سب کے اوپر پر دھان۔ جپ تپ ۔ ریاضت و عبادت ۔ ہٹھ نگریہہ۔ ضد اپنے اعضائے اندرونی پر ضبط ۔ سہج ملے ۔ روحانی سکون سے ملتا ہے ۔ جگجیون۔ علام کو زندگی بخشنے والا۔ ستگر ۔سچا مرشد۔ بوجھ بجھایئے ۔ سمجھ دیتا ہے ۔ سمجھاتا ہے (3)
ترجمہ:
میرا دل الہٰی پریم و پیار میں محو ومجذوب ہو گیا ہے ۔ اب میرے دل میں روحانی سنگیت ساز متواتر ہو رہے ہیں ۯ۔ مراد انتہائی شاماتی ہے میرا دل ہر روز ہر وقت الہٰی یاد میں متوالا اور مست رہتا ہے اب مجھے ایسی منزل اور ٹھکانہ مل گیا ہے جہاں دنیاوی مالی خیالات نہں ستاتے نہ آتے ہیں اورمرشد نے نہ دکھائی دینے والا خدا دکھا دیا ہے جو سب سے پہلا اور بنیاد ہے سب میں بستا ہے سب کا پیار اہے جسکا اس علا میں کوئی ثانی نہیں۔ میرا دل الہٰی کلام مرشد کی برکت و قوت سے خدا میںا ور اس کی یاد میں محو رہتا ہے اور اپنی جگہ پر سکون رہتا ہے ۔ اے نانک۔ جن کے دل الہٰی نام میں محو ومجذوب رہتے ہیں۔ ان کے دل خوشی سے جھومتے رہتے اور روحانی لہریں اٹھتی رہتی ہے (1)
اے ساتھیو بتاؤ اس انسانی رسائی سے بلند خدا تک کیسے رسائی ہو سکتی اس کے مقام اور شہر تک کیسے جا سکتے ہیں وہ کونسا طریقہ اور راستہ ہے (جواب) سچ اپنا کر ۔اپنے احساسات پر ضبط حاصل کرکے جو اوصاف کی بنیاد ہیں اور کلام مرشد پر عمل کرکے اس الہٰی شہر تک جائیا جا سکتا ہے ۔ جو اوصاف کا خزانہ ہے ۔ نہ اس کی کوئی شاخ ہے نہ ٹہنی نہ جڑ نہ پتے مگر سب سے افضل ہے ۔ جب اسکا سہارا ہو تو شاخوں کی محتاجی نہیں رہتی ۔ لوگ جپ یعنی ریاضت کرکے ماند پڑ گئے ۔ اور احساسات اعضے پر ضبط حاصل کرکے بھی ماند ہوگئے ۔ ضدا اور ضبط حاصل ہونے پر بھی نہیں ملتا ۔ اے نانک روحانی و اخلاقی سکون اور سبق مرشد سے مل جاتا ہے

॥SGGG p. 436
گُر ساگرو رتناگرُ تِتُ رتن گھنھیرے رام
کرِ مجنو سپت سرے من نِرمل میرے رام ॥
نِرمل جلِ ن٘ہ٘ہاۓ جا پ٘ربھ بھاۓ پنّچ مِلے ۄیِچارے ॥
کامُ کرودھُ کپٹُ بِکھِیا تجِ سچُ نامُ اُرِ دھارے ॥
ہئُمےَ لوبھ لہرِ لب تھاکے پاۓ دیِن دئِیالا ॥
نانک گُر سمانِ تیِرتھُ نہیِ کوئیِ ساچے گُر گوپالا ॥੩॥
ہءُ بنُ بنو دیکھِ رہیِ ت٘رِنھُ دیکھِ سبائِیا رام ॥
ت٘رِبھۄنھو تُجھہِ کیِیا سبھُ جگتُ سبائِیا رام ॥
تیرا سبھُ کیِیا توُنّ تھِرُ تھیِیا تُدھُ سمانِ کو ناہیِ ॥
توُنّ داتا سبھ جاچِک تیرے تُدھُ بِنُ کِسُ سالاہیِ ॥
انھمنّگِیا دانُ دیِجےَ داتے تیریِ بھگتِ بھرے بھنّڈارا ॥
رام نام بِنُ مُکتِ ن ہوئیِ نانکُ کہےَ ۄیِچارا ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
گر ساگرو۔ مرشد سمندر ہے ۔ رتنا گرو۔ ہیروں کی کان ہے ۔ تت۔ اس میں۔ رتن ۔ ہیرے ۔ مجنو۔ اشنان ۔ غسل۔ سپت سرے ۔ سات سمندر۔ پانچ اعضے علم ۔ من وعقل۔ نرمل۔ پاک ۔ نرمل جل۔ پاک پوتر۔ پرھ بھائے ۔ خدا چاہے ۔ پنچ ملے ۔ پانچ روحانی واخلاقی صفات ست ۔سنتوکھ ۔ دیا۔ دھرم۔ دھیرج ۔ مراد۔ سچ صبر مہربانی فرض شنای مستقل مزاجی شہوت غصہ ، جھگڑا۔ اور دولت کا لاج ۔ تج ۔ چھوڑ کر ۔ سچ نام اردھارے ۔س چ اور حقیقت دلمیں بسائے ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ لوبھ ۔لالچ۔ دین دیالا۔ غریبؤں ۔ ناتوانوں پر رحمدلی ۔ گوپالا۔ خدا (3) بن ینو۔ ہر جنگل ۔ ترن۔ تنکار ۔ گھاس ۔ سبائیا۔ سارا۔ برھونوں ۔ تینوں عالموں میں ۔ تیرا سب کیا ۔ سب کچھ تیرے کئے ہوئے ہیں۔ توں سخی ہیں۔ جاچک ۔ بھکاری ۔ تھر ۔ مستقل۔ تھیا ۔ ہے ۔ سمان ۔ ثانی ۔ برابر۔ صلاحی ۔ تعریف۔ بھگت بھرے بھنڈارے ۔ اے خدا تیرے تیری بھگتی کے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ مکت۔ نجات۔ چھٹکار ا
ترجمہ:
مرشد ایک سمندر ہے جو بیشمار رتنوں یعنی قیمتی اوصاف سے بھرا پڑا ہے اوصاف کا خزانہ ہے اس اوصاف کی کان میں بیشمار اوصاف ہیں اس سات سمندروں کے اوصاف والے مراد پانچ اعضے علوم و احساسات میں اور عقل میں اے انسان غسل سے تیرا ذہن قلب من پاک و پائس ہوجائیگا۔ اس پاک جل سےانسان تب ہی غصل کر سکتا ہے ۔ جب الہٰی رضا و رغبت ہو اور سبق وکلام مرشد کی برکت سے اور اس پر عمل کر نے سے اسے سچ صبر مہرنای فرض اور مستقل مزاج حاصل ہوجاتے ہیں اور برائیاں شہوت غصہ وغیرہ بدیاں چھوڑ کر الہٰی نام سچ و حقیقت دل میں بسا لیتا ہے ۔ جسے ناتوانوں غریبوں پر مہربان خدا کا وصل حاصل ہوجاتا ہے ۔ اس کے دل و ذہن سے لالچ اور خودی کی لہریں ختم ہوجاتی ہیں اے مرشد کے برابر کوئی زیارت گاہ نہیں اور مرشد خدا جیسا ہے (3) میں سارا جنگل اور قائنات قدرت چکا ہوں یہ ساری قائنات اورتینوں عالم تیرے پیدا کئے ہوئے ہیں اے خدا تو دائمی صدیوی ہے تیرا کوئی دوسرا ثانی ہیں سارے جاندار بھکاری ہیں تو سب کا رازق ہے تیرے بغیر کس کی صفت صلاح کیجائے اے داتار تو تمام جانداروں کو بغیر مانگے دے رہا ہے میرے خزانے الہٰی خوف اور محبت مراد الہٰی بھگتی اور پیار سےبھرے پرے ہیں۔ نانک یہ سمجھاتا ہے الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت اپنائے بغیر لالچ بدکاریوں اور برائیوں سے نجات حاصل نہ ہوگی ۔

آسا مہلا ੧॥
میرا منو میرا منُ راتا رام پِیارے رام ॥
سچُ ساہِبو آدِ پُرکھُ اپرنّپرو دھارے رام ॥
اگم اگوچرُ اپر اپارا پارب٘رہمُ پردھانو ॥
آدِ جُگادیِ ہےَ بھیِ ہوسیِ اۄرُ جھوُٹھا سبھُ مانو ॥
کرم دھرم کیِ سار ن جانھےَ سُرتِ مُکتِ کِءُ پائیِئےَ ॥
نانک گُرمُکھِ سبدِ پچھانھےَ اہِنِسِ نامُ دھِیائیِئےَ ॥੧॥
میرا منو میرا منُ مانِیا نامُ سکھائیِ رام ॥
ہئُمےَ ممتا مائِیا سنّگِ ن جائیِ رام ॥
ماتا پِت بھائیِ سُت چتُرائیِ سنّگِ ن سنّپےَ نارے ॥
سائِر کیِ پُت٘ریِ پرہرِ تِیاگیِ چرنھ تلےَ ۄیِچارے ॥
آدِ پُرکھِ اِکُ چلتُ دِکھائِیا جہ دیکھا تہ سوئیِ ॥
نانک ہرِ کیِ بھگتِ ن چھوڈءُ سہجے ہوءِ سُ ہوئیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
من راتا۔ دل محوومجذوب ۔ سچ ۔ صدیوی ۔ ددائمی ۔ صاحبو ۔ آقا۔ مالک ۔ آو پرکھ ۔ روز اول س ے ۔ آغاز عالم سے ۔ اپرنپرو ۔ لا محدود۔ دھارے ۔ آسرا۔ ٹکانا ۔ اگم ۔ انسانی رسائی سے بلند ۔ اگر چر۔ بیان سے بالا۔ اپراپار۔ جس کا کوئی کنارانہ ہو ۔ پار برہم۔ کامیابی عنایت کرنے والا ۔ پردھانو ۔ با عظمت با عزت ۔ مقبول عامہ ۔ آو۔ روز ازل سے پہلے ۔ خگاو ۔ ہر دور زماں میں۔ ہے بھی ۔ آج بھی ہے ۔ ہو سی ۔ آہندہ بھی ہوگا۔ کرم۔ اعمال۔ دھرم۔ فرض انسانی ۔ سار سمجھ ۔ سرت۔ ہوش۔ سمجھ ۔ مکت ۔ آزادی ۔ نجات ۔ گورمکھ مرشد کے وسیلے ۔ مرید مرشد۔ اہنس۔ روز وشب ۔ دن ۔ رات ۔ نام ۔ سچ و حقیقت۔ دھیایئے ۔ دھیان دینا چاہیے (1) نام سکھائی۔ سچ اور حقیقت ساتھ دیتا ہے ۔ ساتھی ہے ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ ممتا۔ خوئشتا ۔ ملکیت ۔ مائیا۔ دنیاوی سرمایہ ۔ چترائی دہوکہ بزی ۔چالاک ی ۔ سنپے ۔ جائیداد ۔ نارے ۔ عورت۔ سایر۔ سمندر۔ تیاگی ۔ چھوڑی ۔ چلت ۔ تماشہ ۔ بھلت ۔ الہٰی خو و پیار ۔ سہجے ۔ قدرتی ۔
ترجمہ:
میرا دل الہٰی نام میں محو ومجذوب ہو گیا ہے ۔ جو صدیوی و دائمی ہے جو سب کا مالک ہے جو سب کی بنیاد ہے جو سب میں بستا ہے ۔ جس سے جدا کوئی نہیں جو سب کے لئے سہارا ہے جس تک انسان رسائی نہیں پا سکتا ہے ۔ جس کے متعلق یان نا ممکن ہے ۔ جو لا محدود ہے کوئی کنار نہین جو اعداد و شمار سے بیعد ہے جو کامیابی عطا کرنےو الا ہے جو علام کے آغاز اور ہر دور زماں میں تھا اور ہے آئندہ بھی ہوگا دوسری ہر شے جھوٹیا ور مٹنے والی ہے جس انسان کو اعمال اور فرض انسانی کی سمجھ نہیں نہ ہوش ہے تو آزادی یا نجت کسے نصیب ہوگی ۔ اے نانک۔ مرشد کے وسیلے سے کلام سمجھو اور روز و شب نام میں دھیان لگاؤ اور توجہ دو ()
میرےد ل کو تسلی ہوگئی ہے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ الہٰی نام انسان کا ستاھی ہے ۔ خودی جائیداد سرمایہ انسان کے ساتھ جانے والا نہیں۔ ماں۔ باپ بھائی بیٹے دہوکہ بازی اور چالاکیاں جائیداد ساتھ جانے والی نہیں ہیں کلام مرشد کو سمجھ کر اور اس کی برت سے دنیاوی دوتل کی محبت چھوڑ دی اور اسے اپنے پاؤں تلے دبا کر رکھا ہے مراد اس کے اثرات زندگی کے سفر میں حائل نہیں ہونےد یتا روز اور نے یہ ایک جلوہ ایک تماشہ دکھائیا ہے کہ جدھر دیکھو خدا کا کرشمہ نظر آتا ہے ۔ اے نانک۔ لاہٰی خوف اور الہٰی پیار نہ بھلاؤ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے الہٰی رضآ و رغبت سے ہو رہا ہے (2)

میرا منو میرا منُ نِرملُ ساچُ سمالے رام ॥
اۄگنھ میٹِ چلے گُنھ سنّگم نالے رام ॥
اۄگنھ پرہرِ کرنھیِ ساریِ درِ سچےَ سچِیارو ॥
آۄنھُ جاۄنھُ ٹھاکِ رہاۓ گُرمُکھِ تتُ ۄیِچارو ॥
ساجنُ میِتُ سُجانھُ سکھا توُنّ سچِ مِلےَ ۄڈِیائیِ ॥
نانک نامُ رتنُ پرگاسِیا ایَسیِ گُرمتِ پائیِ ॥੩॥
سچُ انّجنو انّجنُ سارِ نِرنّجنِ راتا رام ॥
منِ تنِ رۄِ رہِیا جگجیِۄنو داتا رام ॥
جگجیِۄنُ داتا ہرِ منِ راتا سہجِ مِلےَ میلائِیا ॥
سادھ سبھا سنّتا کیِ سنّگتِ ندرِ پ٘ربھوُ سُکھُ پائِیا ॥
ہرِ کیِ بھگتِ رتے بیَراگیِ چوُکے موہ پِیاسا ॥
نانک ہئُمےَ مارِ پتیِنھے ۄِرلے داس اُداسا ॥੪॥੩॥
لفظی معنی:
نرمل۔ پاک ۔ ساچ۔ سچ ۔ صدیوی ۔ دائمی ۔ مراد خدا۔ اوگن۔ گناہ ۔ برائیاں۔ گن ۔ وصف ۔ سنگم ۔ ساتھ ۔ پر ہر ۔ ختم کرکے ۔ کرنی ۔ اعمال۔ ساری ۔ بنیاد۔ مول ۔ اصل ۔ ساچے ساچے خدا کے در پر ۔ بارگاہ خدا ۔ سچیارو ۔ خوش اخلا ق۔ آون جانا۔ تناسخ ۔ ٹھاک ۔ روک ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ تت۔ اصلیت۔ حقیقت ۔ وچیار ۔ سمجھو۔ ساجن۔ دوست۔ سجان ۔ دانشمند۔ سکھا۔ ساتھی ۔ سچ ۔ حقیق سے ۔ وڈیائی ۔ عظمت و شہرت۔ نام رتن ۔ سچ و حقیقت ایک یقمتی ہے ۔ ہیرے کی مانند ۔ رتن ۔ پر گاسیا۔ روشن ہوا۔ گرمت ۔ سبق مرشد (3) سچ انجنو۔ حقیقت سر مہ ہے ۔ سار نرنجن۔ اصلیت بیداگ ۔ راتا۔ محو ۔ مست ۔ من تن ۔ دل وجان۔ رورپتا۔ بس رہا ہے ۔ جگجیونو ۔ علام کو زندگی بخشنے والا۔ من راتا۔ دل محو ہو گیا۔ سادھ سبھا۔ انجمن پاکدامناں ۔ سنتا کی سنگت ۔ خدا رسیدہ ۔ وکیوں کی صحبت و قربت ۔ ندر پربھ ۔ الہٰینظر عنیات ۔ بھت ۔ الہٰی خوف و محبت ۔ بیراگی ۔ پریمی ۔ پیار ے ۔ چو کے ۔ مٹے ۔ موہ پیاسا۔ مائیا کی محبت اور خواہش ۔ ہونمے مار۔ خودی ختم کرکے ۔ بالقین ۔ بھرسہ مند۔ اداسا ۔ تیاگی ۔
ترجمہ:
پاک خدا دل میں بسانے سے میرا دل پاک ہوگیا اب زندگی کے سفر میں گناہوں اور برائیوں کو ختم کرکے اب نیکیاں اور اوصاف ساتھی ہوگئے ہیں۔ جو انسان گناہ اور رائیاں چھوڑ کر اپنے اعمال اور کار کر دگی درست بنالیتا ہے وہ ہمیشہ الہٰی در پر سچا سمجھا جاتا ہے ۔ اسکا تناسخ مٹ جاتا ہے ۔ خڈا اس کے ذہن میں بس جاتا ہے ۔ اے خدا تو ہی میرا دوست ہے توہی میرے دلی راز جاننے والا ہے اور ساتھی ہے اے خدا تیرے صدیوی نام سچ سے اس کے اپنانے سے عزت و حرمت حاصل ہوتی ہے ۔
اے نانک۔ مجھے مرشد ایسا سبق میسر ہوا ہے کہرمیرے دلمیں الہٰی انوکھا نام سچ اور حقیققت ظہور پذیر ہوگیا ہے (3) سچ حقیقت ایک ایسا سرمہ ہے جو سرمے کے مول پاک خڈا میں محو ومجذوب کر دیتا ہے ۔ دل وجان میں علام کو زندگی عنایت کرنے والے خڈا سخی بسا دیتا ہے سچ وحقیقت الہٰی نام کے تاثرات سےد ل کو تسکین و سکون ملتا ہے ۔ انجمن پاکدامناں و صحبت و قربت مریدان مرشد اور نظر عنایت وشفقت خد ا سے روحانی سکون و خوشھالی ملتی ہے ۔ الہٰی خوف و محبت سے انسان طارق ہوجاتا ہے اس کی مائیا ہے محبت خواہشات کی محبت اور بھوک پیاس مٹ جاتی ہے ۔ اے نانک ۔ ایسے بہت کم انسان ہیں اس عالم میں جو خودی ختم کرکے خدا میں ا الہٰی نام سچ و حیقیقت میں بھروسہ رکھتے ہیں اور خادم خدمتگار اور طارق ہیں۔

SGGS p. 438
راگُ آسا مہلا ੧ چھنّت گھرُ ੨
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
توُنّ سبھنیِ تھائیِ جِتھےَ ہءُ جائیِ ساچا سِرجنھہارُ جیِءُ ॥
سبھنا کا داتا کرم بِدھاتا دوُکھ بِسارنھہارُ جیِءُ ॥
دوُکھ بِسارنھہارُ سُیامیِ کیِتا جا کا ہوۄےَ ॥
کوٹ کوٹنّتر پاپا کیرے ایک گھڑیِ مہِ کھوۄےَ ॥
ہنّس سِ ہنّسا بگ سِ بگا گھٹ گھٹ کرے بیِچارُ جیِءُ ॥
توُنّ سبھنیِ تھائیِ جِتھےَ ہءُ جائیِ ساچا سِرجنھہارُ جیِءُ ॥੧॥
جِن٘ہ٘ہ اِک منِ دھِیائِیا تِن٘ہ٘ہ سُکھُ پائِیا تے ۄِرلے سنّسارِ جیِءُ ॥
تِن جمُ نیڑِ ن آۄےَ گُر سبدُ کماۄےَ کبہُ ن آۄہِ ہارِ جیِءُ ॥
تے کبہُ ن ہارہِ ہرِ ہرِ گُنھ سارہِ تِن٘ہ٘ہ جمُ نیڑِ ن آۄےَ ॥
جنّمنھُ مرنھُ تِن٘ہ٘ہا کا چوُکا جو ہرِ لاگے پاۄےَ ॥
گُرمتِ ہرِ رسُ ہرِ پھلُ پائِیا ہرِ ہرِ نامُ اُر دھارِ جیِءُ ॥
جِن٘ہ٘ہ اِک منِ دھِیائِیا تِن٘ہ٘ہ سُکھُ پائِیا تے ۄِرلے سنّسارِ جیِءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
ہوں جائی ۔ جہاں میں جاتا ہوں ۔ سر جنہار ۔ پیدا کرنے والا۔ کارساز ۔ داتا۔ سخی دینے والا۔ کرم بدھاتا ۔ طریقہ اعمال بنانے والا۔ دوکھ و سارنہار۔ عذاب بھلانے والا۔ کوٹ کٹنت۔ کروڑوں ۔ کھوے ۔ مٹاتا ہے ۔ہنس سے ہنسا ۔ اچھے سے اچھے ۔ بگ سے بگے ۔ برے سے برے ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہرایک (!) دھیائیا۔ دھیاندیا۔ ہار ۔ شکست ۔ ہرگن ۔ ماریہہ۔ الہٰی وصف بساتا ہے ۔ پاوے ۔ پاؤں۔ گرمت۔ سبق۔ مرشد۔ اردھار ۔ دلمیں بسا ۔
ترجمہ:
اے خدا ۔ جہاں جاتا ہوں ہر جگہ بستا پاتا ہوں تجھے تو سچا ہے اے پیدا کرنےو الے عالم کو ہے تو سب کو دینے والا ہے اور اعملا بنانے والا ہے اور سب کے عذاب مٹاتا ہے اور کئے پاپ کروڑوں ایک گھڑی میں ختم کر دیتا ہے ۔ نیکوں سے نیک تروں اور بروں سے بروں کے ہر ایک کو سمجھتا ہے ۔ جہاں جاتا ہوں تجھے دیکھتا ہوں (1)
جس نے دل سے یاد کیا ہے سکھ پائیا ہے مگر ایسے ہیں بہت کم اس عالم میں جو سبق کی کار کماتا شکست نہ کبھی وہ کھاتا ہے جمدوت نہ اسے ستاتا ہے وہ انسانی زندگی کے سفر میں شکست کا ہند نہیں دیکھتے جو الہٰی اوساف دلمیں بساتے ہیں روحانی موت برداشت نہیں کرنی پڑتی جو الہٰی سایہ یمں رہتے ہین تناسخ ختم کو پاتے ہیں۔دلمیں بساکر نام الہٰی سبق مرشد سے لطف الہٰی پاتےہیں جو دل سے کرتا ہے یاد خدا کو وہ سکھ پاتا ہے مگر ہیں کم اس عالم میں۔

جِنِ جگتُ اُپائِیا دھنّدھےَ لائِیا تِسےَ ۄِٹہُ کُربانھُ جیِءُ ॥
تا کیِ سیۄ کریِجےَ لاہا لیِجےَ ہرِ درگہ پائیِئےَ مانھُ جیِءُ ॥
ہرِ درگہ مانُ سوئیِ جنُ پاۄےَ جو نرُ ایکُ پچھانھےَ ॥
اوہُ نۄ نِدھِ پاۄےَ گُرمتِ ہرِ دھِیاۄےَ نِت ہرِ گُنھ آکھِ ۄکھانھےَ ॥
اہِنِسِ نامُ تِسےَ کا لیِجےَ ہرِ اوُتمُ پُرکھُ پردھانُ جیِءُ ॥
جِنِ جگتُ اُپائِیا دھنّدھےَ لائِیا ہءُ تِسےَ ۄِٹہُ کُربانُ جیِءُ ॥੩॥
نامُ لیَنِ سِ سوہہِ تِن سُکھ پھل ہوۄہِ مانہِ سے جِنھِ جاہِ جیِءُ ॥
تِن پھل توٹِ ن آۄےَ جا تِسُ بھاۄےَ جے جُگ کیتے جاہِ جیِءُ ॥
جے جُگ کیتے جاہِ سُیامیِ تِن پھل توٹِ ن آۄےَ ॥
تِن٘ہ٘ہ جرا ن مرنھا نرکِ ن پرنھا جو ہرِ نامُ دھِیاۄےَ ॥
ہرِ ہرِ کرہِ سِ سوُکہِ ناہیِ نانک پیِڑ ن کھاہِ جیِءُ ॥
نامُ لیَن٘ہ٘ہِ سِ سوہہِ تِن٘ہ٘ہ سُکھ پھل ہوۄہِ مانہِ سے جِنھِ جاہِ جیِءُ ॥੪॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
جگت ۔ عالم ۔ اپائیا۔ پیدا کیا ۔ دھندے ۔ روز گار عنایت کیا۔ نسے ۔ اس پر سے ۔ سیو ۔ خدمت۔ لاہا۔ منافع۔ ہر درگیہہ ۔ الہٰی بارگاہ ۔ مان۔ وقار۔ تو قیر ۔ جونر ۔ جوانسان ایک بچھانے ۔ وحدت سمجھے ۔ نو ندھ پوے ۔ نو خزانے پائے ۔ وکھانے بینا کرے ۔ اہنس۔ روز و شب ۔ دن رات۔ تسے ۔ اسی کا ۔ اتم ۔ بلند عظمت ۔ پر دھان۔ مقبول ۔ قبول۔ عاصہ (3) سوہے ۔ اچھے لگتے ہیں ۔کہتے ۔ کتنے ہیں۔ جرا ۔پڑھا یا ۔ مرنا۔موت۔ شرک ۔ دوزخ۔ ہرنام۔ الہٰی نام۔ سوکیہہ۔ غمین ۔ اداس ۔ پیٹر ۔ درو۔ عذاب۔
ترجمہ:
جسنے عالم پیدا کرکے روز گار عنیات کیا ہے قربان ہوں اس پر مین جو کرتا ہے اس کی خدمت بارگاہ الہٰی میں وقار پاتا ہے ۔بارگاہ الہٰی میں اسے ہی عزت ملتی ہے واحد خدا کی ہے پہچان جیسے ۔ سبق مرشد سے جو یاد خڈا کو کرتا ہے ہروز صفت الہٰیکرتا ہے ۔ دنیا کے نو خزانے پاتا ہے ۔ جو روز و شب یاد خدا کو کرتا ہے وہ مقبول عام ہوجاتا ے اور عظمت حشمت پاتا ہے ۔ جسنے عالم پیدا کرکے روز گار عنایت فرمائیا ہے ۔ قربان ہوں اس پر میں (3) جو نام خدا کا لییتے ہیں آرام و اسائش پاتے ہیں ہر دو عالم میں جانے جاتے ہیں شہرت اور عزت پاتے ہیں سکون روحانی پاتے ہیں کھیل زندگی کا جیت جاتے ہیں ہ اتنا سکون روحانی پاتےہیں کمی واقع نہیں ہوتی جس میں کبھی خواہ کوئی زمانہ آجائے ۔ نہ دوزخ میں جانا ہوتا ہے ۔ نہ موت روحانی آتی ہے جو نام الہٰی لیتا ہے ۔ جو نام الہٰی بستا ہے ۔ غمگین کبھی نہ ہوتا ہے اے نانک ۔ جو یاد خدا کو کرتے ہیں۔ غمگیتی ۔ اور اداس کبھی نہ آنکو ہوتی ہے ۔ ہر دعا عالم میں ؑعژمت و شہرت پاتے ہیں کھیل زندگی کا جیت کر جاتے ہیں۔

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آسا مہلا ੧ چھنّت گھرُ ੩॥
توُنّ سُنھِ ہرنھا کالِیا کیِ ۄاڑیِئےَ راتا رام ॥
بِکھُ پھلُ میِٹھا چارِ دِن پھِرِ ہوۄےَ تاتا رام ॥
پھِرِ ہوءِ تاتا کھرا ماتا نام بِنُ پرتاپۓ ॥
اوہُ جیۄ سائِر دےءِ لہریِ بِجُل جِۄےَ چمکۓ ॥
ہرِ باجھُ راکھا کوءِ ناہیِ سوءِ تُجھہِ بِسارِیا ॥
سچُ کہےَ نانکُ چیتِ رے من مرہِ ہرنھا کالِیا ॥੧॥
بھۄرا پھوُلِ بھۄنّتِیا دُکھُ اتِ بھاریِ رام ॥
مےَ گُرُ پوُچھِیا آپنھا ساچا بیِچاریِ رام ॥
بیِچارِ ستِگُرُ مُجھےَ پوُچھِیا بھۄرُ بیلیِ راتئو ॥
سوُرجُ چڑِیا پِنّڈُ پڑِیا تیلُ تاۄنھِ تاتئو ॥
جم مگِ بادھا کھاہِ چوٹا سبد بِنُ بیتالِیا ॥
سچُ کہےَ نانکُ چیتِ رے من مرہِ بھۄرا کالِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
ہر ناکالیا۔ یہاں انسانی من کو جو دنیاوی دولت کی تگ و دود میں پرن کی مانندچولا نگین لاگاتا ہے ہرن سے مشابہت دی ہے ۔ کیا اس خوبصورت دیا جو ایک پھلواڑی کی مانند ہے ۔ اسمیں کیوں محدومجذوب ہو رہا ہے ۔ اس دنیاوی پھلواڑی کا نتیجہ زیر آلودہ ہے اسمیں روحانی موت مضمر ہے ۔ اسکا پھل چند دنوں کے لئے پر لطف اور با مزہ ہے پھر عذاب بن جاتا ہے ۔ جس میں تو اتنا محو ومجذوب ہے الہٰی نام سچ اور حقیقت کے بغر عذاب بن جاتا ہے جیسے سمندر میں لہریں اٹھتی ہیںا ور جلیاں چمکتی ہیں۔ الہٰی نام کے بغیر کوئی محافظ نہیں رہنا ۔ اسے تو نے بھلا رکھا ہے ۔ سچ کہتا ہے نانک ۔ کہ اے کالے ہرن ( انسان ) خدا کو یاد کردرنہ روحانی موت ہو جائیگی (1) اے پھولونں پر منڈ راتے والے بھنورے کی طرح منڈ رانے والے دل اس میں بھاری عذاب پوشیدہ ہے ۔ مضمر ہے ۔ میں نے اپنے مرشد سے پوچھا ہے ۔ اے دل تیری اس حالت کو دیکھ کر کہ مرشد جس کے ذہن میں ہر وقت خدا بستا ہے ۔ کہ بھنور امن دنیاوی خوبصورتی اور نعمتوں کے لطف اور مزوں میں مست ہے سچے مرشد نے مجھے سمجھائیا کہ جب زندگی کی رات ختم ہوجاتی ہے اور نیا سورج چمکنے لگتا ہے تویہ جسم خاک میں مل جاتا ہے تو بدیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اتنا عذاب پاتا ہے ۔ جتنا دیکچے پائیا ہواتیل گرم کیا جاتا ہے ۔ اے دنیاوی نعمتوں کے لطف میں مجوس من سبق مرشد کو گنوا کر گناہوں میں ملبوس و محبوس سزا پائے گا ۔ نان بیان کرتا ہے ۔ خدا کاد یاد کر درنہ روحانیموت مرجائیگا۔

میرے جیِئڑِیا پردیسیِیا کِتُ پۄہِ جنّجالے رام ॥
ساچا ساہِبُ منِ ۄسےَ کیِ پھاسہِ جم جالے رام ॥
مچھُلیِ ۄِچھُنّنیِ نیَنھ رُنّنیِ جالُ بدھِکِ پائِیا ॥
سنّسارُ مائِیا موہُ میِٹھا انّتِ بھرمُ چُکائِیا ॥
بھگتِ کرِ چِتُ لاءِ ہرِ سِءُ چھوڈِ منہُ انّدیسِیا ॥
سچُ کہےَ نانکُ چیتِ رے من جیِئڑِیا پردیسیِیا ॥੩॥
ندیِیا ۄاہ ۄِچھُنّنِیا میلا سنّجوگیِ رام ॥
جُگُ جُگُ میِٹھا ۄِسُ بھرے کو جانھےَ جوگیِ رام ॥
کوئیِ سہجِ جانھےَ ہرِ پچھانھےَ ستِگُروُ جِنِ چیتِیا ॥
بِنُ نام ہرِ کے بھرمِ بھوُلے پچہِ مُگدھ اچیتِیا ॥
ہرِ نامُ بھگتِ ن رِدےَ ساچا سے انّتِ دھاہیِ رُنّنِیا ॥
سچُ کہےَ نانکُ سبدِ ساچےَ میلِ چِریِ ۄِچھُنّنِیا ॥੪॥੧॥੫॥
لفظی معنی:
کت۔ کس لئے ۔ جنجانے ۔ پھندے ۔ ساچا صاحب۔ سچا۔ صدیوی مالک ۔ پھاسیہہ۔ پھنستا ہے ۔ جسم جالے ۔موت کے پھندے میں۔ وچھونی ۔ جدائی پائی ۔ نین رتی ۔ آنکھوں بھر کےر وئی ۔ بدھک ۔ شکار ۔ سنسار ۔ دنیا ۔ جہاں۔ مائیا موہ میٹھا ۔ دولت کی محبت میٹھی ۔ انت۔ آکر۔ بھرم۔ وہم ۔ بھٹکن ۔ چکائیا۔ ختم کیا۔ بھگت ۔ الہٰی خوف و محبت ۔ جت لائ ۔د ل لگا کر ۔ ہر سیو۔ خدا سے ۔ چھوڈ منہو ۔ اندیر یا ۔ دل سے خوف دور کر (3) راہ ۔ راستہ ۔ سنجوگی ۔ قدرتی وچھونیا۔ جدا ہوئے ۔ جگ جگ ۔ ہر زمانے میں ۔ میٹھاوس۔ میٹھازہر۔ جوگی ۔ طارق الدنیا۔ سہج ۔ روحانی سکون ۔ ستگر وجن ۔ چیتہا ۔ جس نے سچے مرشد کو یاد کیا ۔بھرم۔ وہم وگمان۔ بھٹکن ۔ پچیہہ۔ ذلیل وخوار ہوتا ہے ۔ مگدھ ۔ جاہ۔ اچیتا۔ غافل۔ دھاہی رنیا۔ آہ وزاری کریگا۔ چری ۔ دیرینہ جدا ہوتے ہوئے ۔
ترجمہ:
اے خدا یہ میرے دوسرے ملک (کا) کے رہنے والے دل کیوں اس دنیاوی دولت کے پھندے میں پھنس رہا ہے ۔ اگر سچا مالک جو صدیوی اور دئمی ہے تیرے دل میں بستا ہو تو تو اس روحانی موت کے پھندے میں کیوں پھنسے ۔ اے میری جان جیسے ۔ جب شکاری پانی میں جال ڈالتا ہے تو گوشت یا آٹے کے لالچ میں جال میں پھنس جاتی ہے اور آنکھیں بھر کر رونی ہے ۔ عین اسی طرح انسان کو دنیاوی قائنات اور دولت کی محبت میٹھی معلوم ہوتی ہے مگر مچھلی طرح اسکا وہم وگمان دور ہوجاتا ہے لہذا اے میری جان الہٰی خوف اور محبت میں رہ کر خد کو یاد کر اور دلمیں بسا اس طرح سے تمام فکر اور اندیشے ختم ہوجائیں گے ۔ نانک بگوئد ۔ سچ کہ اے دل پر دیسی صدیوی و دائمی خدا کو یاد کر (3) دریا واں تو جدا ہوئے راستے قدرتی نے قسمت نال ہی ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح دنیاوی دولت کی محبت میں قیمت سے دوبارہ ملاپ حاسل ہو سکتا ہے ۔ قائنات کی محبت گو میٹھی ہے مگر زہر آلودہہے اس سے اسنان کی روحانی اور اخلاقی موت واقع ہوجاتی ہے ایسا کوئی شاذ و نادر ہی انسان ہے جو سبق مرشد و مرشد کو یاد رکھ کر روحانی سکون پاکر حقیقت اور سچ سمجھ کر الہٰی شراکت حاصل کر تا ہو۔ الہٰی نام کے بغیر قائنات کی محبت میں بھٹک کر گمراہی میں بیشمار غافل اور بیوقوف ذلیل و خؤار ہوتے ہں۔ جو الہٰی نام سچ اور حقیقت دل میں نہیں بساتے وہم وگمان میں بھٹک کر بوقت آخرت آہ وزاری و چیخ پکار کرتے ہیں ۔ نانک بگوید ۔ کہ صدیوی و دائمی خدا ۔ دینہ جدائی پائے ہوے جانداروں کو اپنی صفت صلاح کر ا کے ساتھ ملالیتے ہیں۔

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آسا مہلا ੩ چھنّت گھرُ ੧॥
ہم گھرے ساچا سوہِلا ساچےَ سبدِ سُہائِیا رام ॥
دھن پِر میلُ بھئِیا پ٘ربھِ آپِ مِلائِیا رام ॥
پ٘ربھِ آپِ مِلائِیا سچُ منّنِ ۄسائِیا کامنھِ سہجے ماتیِ ॥
گُر سبدِ سیِگاریِ سچِ سۄاریِ سدا راۄے رنّگِ راتیِ ॥
آپُ گۄاۓ ہرِ ۄرُ پاۓ تا ہرِ رسُ منّنِ ۄسائِیا ॥
کہُ نانک گُر سبدِ سۄاریِ سپھلِءُ جنمُ سبائِیا ॥੧॥
دوُجڑےَ کامنھِ بھرمِ بھُلیِ ہرِ ۄرُ ن پاۓ رام ॥
کامنھِ گُنھُ ناہیِ بِرتھا جنمُ گۄاۓ رام ॥
بِرتھا جنمُ گۄاۓ منمُکھِ اِیانھیِ ائُگنھۄنّتیِ جھوُرے ॥
آپنھا ستِگُرُ سیۄِ سدا سُکھُ پائِیا تا پِرُ مِلِیا ہدوُرے ॥
دیکھِ پِرُ ۄِگسیِ انّدرہُ سرسیِ سچےَ سبدِ سُبھاۓ ॥
نانک ۄِنھُ ناۄےَ کامنھِ بھرمِ بھُلانھیِ مِلِ پ٘ریِتم سُکھُ پاۓ ॥੨॥
پِرُ سنّگِ کامنھِ جانھِیا گُرِ میلِ مِلائیِ رام ॥
انّترِ سبدِ مِلیِ سہجے تپتِ بُجھائیِ رام ॥
سبدِ تپتِ بُجھائیِ انّترِ ساںتِ آئیِ سہجے ہرِ رسُ چاکھِیا ॥
مِلِ پ٘ریِتم اپنھے سدا رنّگُ مانھے سچےَ سبدِ سُبھاکھِیا ॥
پڑِ پڑِ پنّڈِت مونیِ تھاکے بھیکھیِ مُکتِ ن پائیِ ॥
نانک بِنُ بھگتیِ جگُ بئُرانا سچےَ سبدِ مِلائیِ ॥੩॥
سا دھن منِ اندُ بھئِیا ہرِ جیِءُ میلِ پِیارے رام ॥
سا دھن ہرِ کےَ رسِ رسیِ گُر کےَ سبدِ اپارے رام ॥
سبدِ اپارے مِلے پِیارے سدا گُنھ سارے منِ ۄسے ॥
سیج سُہاۄیِ جا پِرِ راۄیِ مِلِ پ٘ریِتم اۄگنھ نسے ॥
جِتُ گھرِ نامُ ہرِ سدا دھِیائیِئےَ سوہِلڑا جُگ چارے ॥
نانک نامِ رتے سدا اندُ ہےَ ہرِ مِلِیا کارج سارے ॥੪॥੧॥੬॥
لفظی معنی:
ہم گھرے ۔ ہمارے دلمیں۔ ساچاا سوہلا۔ سچی ۔ تعریف ۔ حمدوثناہ ۔ ساچے سبد ۔ سچے کلام ۔ سہائیا۔ سوہنا ہوا۔ دھن پر ۔ زوجہ و خاوند۔ انسان اور خدا۔ سچ من وسائیا۔ سچاور حقیقت دل میں بسی ۔ مراد خدا دلمیں بسا۔ کامن۔ عورت۔ مراد انسان ۔ سہجے ماتی ۔ پر سکون ہوئی ۔ سبد ریگاری ۔ کلام سے سجائی ۔ مراد سبق مرشد دلمیں بسائیا۔ سچ سواری ۔ سچ سے درست کی ۔ راوے ۔ زہر کار لائے ۔ رنگ ۔ رپیم ۔ راتی ۔محو۔ آپ ۔ خودی۔ خوئشتا ۔ ہر ور۔ خاوند خدا۔ سھپلیؤ۔ کامیاب ۔ سبائیا۔ ساری زندگی (1) برتھا۔ بیفائدہ ۔ ایانی۔ انجان ۔ منمکھ (مرید من ) دوجڑے ۔ خدا کے علاوہ ۔ دوسرا ۔ بھرم ۔ وہم وگمان ۔ بھولی ۔ گمراہ۔ جھورے ۔ پھتاوا۔ فکر کرنا۔ سیو ۔ خدمت۔ حدورے ۔ حاضر۔ ساتھ ۔ وگسی ۔ خوش۔ سر سی ۔ پر لطف۔ سبد۔ کلام ۔ سبھائے ۔ پریم پیار میں (2) سنگ ۔ ساتھ ۔ گر۔ مرشد۔ میل۔الہٰی ملاپ ۔ انتر۔ دلمیں ۔ذہن میں۔ سہجے ۔ روحانیس کون ۔ تپت۔ حسد۔ کینہ ۔ سبھکھیا۔ نیک یا اچھا بیان۔ مونی ۔ خاموش رہنےو الے ۔ بھیکھی ۔ بھیس والے ۔ مکت ۔ نجات۔ بورانا ۔ دیوناہ (3) سادھن ۔ وہ عورت ۔ مراد انسان ۔ ہر کے رس رسی ۔ الہٰی لطف کے مزے میں مجذوب ہوگئی ۔ سارے بسائے ۔ سیج ۔ انسانی دل ۔ سہاوی ۔ سوہنی ۔ پر ۔ خاوند۔ خدا۔ جت گھر ۔ جس دلمیں۔ سوہلڑا۔ خوشی کا نغمہ ۔ جگ چارے ۔ ہمشہ صدیوی ۔ کارج سارے ۔ کاموں میں کامیابی ۔
ترجمہ:
میرے دلمیں الہٰی حمدوثناہ کے نغمے کو کلام مرشد نے رہنمائی کرکے میرے دل کو نیک افعال خوبروئی عنایت کردی اور خدا نے خؤد ملاپ عنایت کر دیا ۔ جیسے زوجہ اور خاوند ملاپ ہوتا ہے ۔ خدا نے خود ملاپ بخشا حقیقت اور سچ جس دل میں انسانی زینت عنایت کی جس سے صدیوی اور دائمی الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب ہوگیا۔ خودی خوئشتا مٹا کر الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے تبھی الہٰی لطف کا مزہ دل محسوس کرتا ہے ۔ اے نانک۔ بتادے کہ کلام مرشد کی برکت سے انسان کی روحانی زندگی اخلاقی طورپر نیک سیرت پاک اور ہمیشہ کامیاب رہتی ہے (1)
دوسری دنیاوی عشق و محبتمیں اور وہم و گمان کی گمراہی میں الہٰی ملاپ حاصل نہیں کر سکتا ۔ اس کے دلمیں کوئی وصف پیدا نہیں ہوتا زندگی بیکار گذر جاتی ہے ۔ من کا مرید انسان نادان بد اوصاف سے مخمور ہونے کی وجہ سےد ل ہی دل میں غم وفکر میں محبوس ہوجاتا ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت سے ہمیشہ آرام و آسائش پاتا ہے ۔ روحانی سکون خوشباشی خدا کا ساتھ ملتا ہے ۔ الہٰی دیدار سے دل کھلتا ہے روحانی سکون الہٰی حمدوثناہ اور الہٰی رپیم پیار میں انسان محو ومجذوب رہتا ہے ۔ اے نانک الہٰی نام کے بغیر انسان وہم وگمان اور گمراہی میں رہتا ہے ۔ پیارے خدا سے مل کر روحانی سکون پاتا ہے (2)
جس انسان کا مرشد نے الہٰی ملاپ کراد یا اس نے خدا کو اپنا ساتھ بستا پہنچان لیا وہ روحانی طور پر سبق مرشد کو اپنے ساتھ بستا پہچان لیا وہ روحانی طور پر سبق مرشد کی بر کت سے خدا میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے اور قدرتی طو پر دل کی تپش بجھ جاتی ہے ۔ جسنے بدیوں اور بدکاریوں بھرے دل کی تپش بجھالی سکون پالیا اس نے الہٰی نام سچ اور حقیقت کا لطف اُٹھالیا ۔ اپنے پیارے کے ملاپ سے پریم پاکر پریمی ہوگیا ۔ الہٰی حمدوثناہ والے کالم کی برکت سے اسکا کلام بھی پیار بھرا میٹھا ہوجاتا ہے ۔ اے ناک۔ یہ دنیاو الہٰی خوف اور عیش کے بغیر یہ دیوانگی کے علام میں ہیں۔ سچے کلام سے ہی ۔ ملاپ ہو سکتا ہے ۔ ورنہ عالم فاضل مذہبی کتابیں اور گئی طرح کے بھیس بنابنا کر ماند پڑ گئے کسی کو ان طرز عمل سے دنیاوی مالیاتی بندھنوں سے ناجت حاصل نہں ہوئی (3) اس انسان کو دلی سکون میسئر ہوا ( جس کے ) جس کو الہٰی ملاپ ہوا ۔ دل کھلا رہتا ہے ۔ وہ انسان اس لا محدود خدا کی حمدوچناہ سے کلام مرشد و سبق مرشد سسے الہٰی لطف و مزے میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔اور اس طرح سے الہٰی ملاپ میسر ہوجاتا ہے ۔ اور ہمیہش اسکے اوصاف دلمیں بساتا ہے ۔ اسکا دل الہٰی اوصاف بسا لیتا ہے اور ( جسکا ) جس کے دلمیں الہٰی نام سچ حقیقت بس جاتا ہے ۔ اسکا دل ہمیشہ خوشی سے مسرور ہوکر خوشی کے گیت گاتے ہیں اے نانک ۔ جو انسان الہٰی نام کے پریمی ہوجات ے ہیں انکے دلمیں ہمیشہ سکون بنا رہتا ہے اور الہٰی ملاپ سے تمام کام سنور جاتے ہیں۔

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آسا مہلا ੩ چھنّت گھرُ ੩॥
ساجن میرے پ٘ریِتمہُ تُم سہ کیِ بھگتِ کریہو ॥
گُرُ سیۄہُ سدا آپنھا نامُ پدارتھُ لیہو ॥
بھگتِ کرہُ تُم سہےَ کیریِ جو سہ پِیارے بھاۄۓ ॥
آپنھا بھانھا تُم کرہُ تا پھِرِ سہ کھُسیِ ن آۄۓ ॥
بھگتِ بھاۄ اِہُ مارگُ بِکھڑا گُر دُیارےَ کو پاۄۓ ॥
کہےَ نانکُ جِسُ کرے کِرپا سو ہرِ بھگتیِ چِتُ لاۄۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
ساجن۔ دوست۔ پریتمہو ۔ پیار یؤ۔ سیہہ کی ۔ خاوند ۔ خدا کی ۔ کریہو۔ کرؤ۔ پدارتھ ۔ نعمت۔ گر سیوہو ۔ خدمت مرشد کیجیئے ۔ بھاوئے ۔ چاہتا ہے ۔ ھانا۔ ( رضا) مرضی ) سیہہ خوشی خاوند کی خوشنودی ۔ بھگت بھاو۔ الہٰی خوف و پیار کا مدعا یا راستہ ۔ مارگ و کھر ۔ دشوار گذار راستہ ۔ گور دوارے کو پاوے ۔ مرشد کے وسیلے سے کسی کو ملتا ہے ۔ سو۔ اسے ۔ چت لاوئے ۔ دل لگاتا ہے ۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے دوستوں خدا کی عبادت کرؤ ۔ ہمیشہ خدمت مرشد سے نام کی نعمت حاصل کرؤ۔ خدا کی عبادت وریاضت کرتے رہو۔ جوپیارے خڈا کو پسند ہے ۔ اگر اپنی مرضی کرتے رہو گے تو الہٰی خوشنودی حاصل نہ ہوگی ۔ الہٰی خوف ورضا کا راستہ نہایت دشوار گذار ہے کوئی ہی اس راستے کا رہگزر ہوتا ہے جو مرشد کے سیلے سے حاصل ہوتا ہے ۔ نانک کا فرمان ہے ۔ جس انسان پر الہٰی کرم و عنایت ہے وہی اس الہٰی خوف و محبت (بھگتی ) کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔

میرے من بیَراگیِیا توُنّ بیَراگُ کرِ کِسُ دِکھاۄہِ ॥
ہرِ سوہِلا تِن٘ہ٘ہ سد سدا جو ہرِ گُنھ گاۄہِ ॥
کرِ بیَراگُ توُنّ چھوڈِ پاکھنّڈُ سو سہُ سبھُ کِچھُ جانھۓ ॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ ایکو سوئیِ گُرمُکھِ ہُکمُ پچھانھۓ ॥
جِنِ ہُکمُ پچھاتا ہریِ کیرا سوئیِ سرب سُکھ پاۄۓ ॥
اِۄ کہےَ نانکُ سو بیَراگیِ اندِنُ ہرِ لِۄ لاۄۓ ॥੨॥
لفظی معنی:
دیراگیا ۔ طارق الدنیا۔ سیہہ ۔ سوآمی ۔ خدا۔ سوہلا۔ خوشی کا نغمہ ۔ جل ۔ تھل ۔مہئل۔ سمندر۔ زمین وآسمان۔ گورمکھ ۔ مرشد کےوسیلے سے ۔ سرب۔ سارے ۔ او۔ ایسے (2)
ترجمہ:
اے طاق ہو رہے دل تو طارق ہوکر کسے دکھاوا کر رہا ہے جو الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ان کے دلمیں ہمیشہ خوشنودی بنی رہتی ہے ۔ اے انسان دکھاوا چھوڑ کر طارق ہو جا کیونکہ خدا سب کچھ جانتا ہے خدا ہر جگہ سمائیا ہوا ہے ۔ مرید مرشد ہوکر الہٰی رضا کی سمجھ آتی ہے ۔جس انسان کو الہٰی رضا کی سمجھ آگئی اسے ہر قسم کے آرام و آسائش حاصل ہوگئے ۔ نانک کا فرمان اسطرح ہے ۔ کر اس طرح کا طارق ہر روز خدا میں محو و مجذوب رہتا ہے (2)

جہ جہ من توُنّ دھاۄدا تہ تہ ہرِ تیرےَ نالے ॥
من سِیانھپ چھوڈیِئےَ گُر کا سبدُ سمالے ॥
ساتھِ تیرےَ سو سہُ سدا ہےَ اِکُ کھِنُ ہرِ نامُ سمالہے ॥
جنم جنم کے تیرے پاپ کٹے انّتِ پرم پدُ پاۄہے ॥
ساچے نالِ تیرا گنّڈھُ لاگےَ گُرمُکھِ سدا سمالے ॥
اِءُ کہےَ نانکُ جہ من توُنّ دھاۄدا تہ ہرِ تیرےَ سدا نالے ॥੩॥
لفظی معنی:
دھاودا۔ دوڑتا۔ بھٹکتا ۔ سیانپ ۔ دانشمندی ۔ سبد۔ کلام۔ سمالے ۔ دلمیں بسا۔ سہو ۔ خدا۔ خاوند۔ آقا۔ کھن۔ ذرا سے وقفے کے لئے ۔ پاپ ۔ گناہ ۔ گٹے ۔ عافو۔ جنم جنم ۔ دیرینہ ۔ انت۔ آخر۔ پرم پدوی ۔ بلند رتبہ ۔ گھنڈھ ۔ رشتہ ۔ واسطہ ۔ تعلق۔
ترجمہ:
اے دل تو جہاں کہیں دوڑتا پھرتا ہے خدا تیرے ساتھ ہوتا ہے وہیں۔ اے دل دانشمندی ارو چالا کی چھوڑ کر کلام مرشد کو اپنا دل میں بسا اور اس پر عمل کر خدا ہمیشہ تیرے ساتھ ہے اگر بھتو تھوڑے سے وقفے کےلئے بھی الہٰی نام سچ و حقیقت دل یں بسائے تو تیرے دیرینہ کئے ہوئے گناہ عافو ہو جائینگے ۔ اور روحانی بلند رتبہ حاسل کر لیگا ۔ اس لئے مرید مرشد ہوکر خدا کو دلمیں بسا۔ اس طرح خدا کے ساتھ مستقبل طور پر پریم پیار ہوجائیگا۔ اے انسان نانک اس طرح بیان کرتا ہے جہاں جاتا ہے خدا ساتھ ہوتا ہے (3)

ستِگُر مِلِئےَ دھاۄتُ تھنّم٘ہ٘ہِیا نِج گھرِ ۄسِیا آۓ ॥
نامُ ۄِہاجھے نامُ لۓ نامِ رہے سماۓ ॥
دھاۄتُ تھنّم٘ہ٘ہِیا ستِگُرِ مِلِئےَ دسۄا دُیارُ پائِیا ॥
تِتھےَ انّم٘رِت بھوجنُ سہج دھُنِ اُپجےَ جِتُ سبدِ جگتُ تھنّم٘ہ٘ہِ رہائِیا ॥
تہ انیک ۄاجے سدا اندُ ہےَ سچے رہِیا سماۓ ॥
اِءُ کہےَ نانکُ ستِگُرِ مِلِئےَ دھاۄتُ تھنّم٘ہ٘ہِیا نِج گھرِ ۄسِیا آۓ ॥੪॥
لفظی معنی:
دھاوت ۔ بھٹکتا ۔ تھمیا۔ رکا۔ نج گھر۔ اصل ٹھکانے ۔ نام وہاجے ۔ نام یعنی سچ اور حقیقت خریدنے ۔ نام لئے ۔ نام یعنی سچ اور حقیقت پیش یا ساہمنے رکھے ۔ نام رہے سمائے ۔ نام کو دلمیں بسائے ۔ حکم۔ فرمان ۔ رضا۔ دسواں دوآر ۔ دسواں دروازہ مراد ذہن۔ انمرت۔ آبحیات۔ بھوجن۔ کھنا۔ بھج دھن۔ قدرتی نغمے ۔ اپجے ۔ پیدا ہوتے ہیں۔ جت سبد ۔ جس کلام سے ۔ جگت ۔ عالم دنیا۔ جہاں ۔ تھم ۔ سہارا۔
ترجمہ:
سچے مرشد کے ملاپ سے دوڑاتا بھٹکتا دل رک جاتا ہے اور اپنے اصل ٹھکانے آجاتا ہے ۔ نام یعنی سچ اور حقیقت خریدے نام دل میں بسائے اور سچ اور حقیقت میں محو ومجذوب رہے ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے بھٹکتا من رک جاتا ہے ضمیر بیداری ہوجاتی ہے ۔ انسان ذہن نشین ہوجاتا ہے ۔ جہاں آب حیات مراد سچ اور حق سچ اورحقیقت اس کے لئے خوراک اور کھانا بن جاتا ہےا ور اس روحانی حالت میں قدرتی نغمے اور سازوں کی سی جھنکار مراد روحانی خوشی ۔ بلولے اور جوش و خروش پیدا ہونے لگتا ہے اور دل ہر وقت الہٰی وجد میں رہتا ہے ۔ نانک صاحب اس طرح فرماتے ہیں۔ سچے مرشد کے ملاپ سے بھٹکتا من رک جاتا ہے اور اصلی اور حقیقی ٹھکانے آجاتا ہے ۔

من توُنّ جوتِ سروُپُ ہےَ آپنھا موُلُ پچھانھُ ॥
من ہرِ جیِ تیرےَ نالِ ہےَ گُرمتیِ رنّگُ مانھُ ॥
موُلُ پچھانھہِ تاں سہُ جانھہِ مرنھ جیِۄنھ کیِ سوجھیِ ہوئیِ ॥
گُر پرسادیِ ایکو جانھہِ تاں دوُجا بھاءُ ن ہوئیِ ॥
منِ ساںتِ آئیِ ۄجیِ ۄدھائیِ تا ہویا پرۄانھُ ॥
اِءُ کہےَ نانکُ من توُنّ جوتِ سروُپُ ہےَ اپنھا موُلُ پچھانھُ ॥੫॥
لفظی معنی:
من توجوت سروپ ہے ۔ اے دل تو نورانی ہے تیری شکل صورت روشنی ہے ۔ اپنا مول۔ اپنی اصلیت حقیقت ۔ پچھان ۔ سمجھ ۔ من ہرجی تیرے نال ہے ۔ خدا تیرا ساتھی اور ساتھ ہے ۔ گرمتی ۔ سبق مرشد سے ۔ رنگ مان ۔ روحانی سکون حاصل کر ۔ سوہ جانے ۔ آقا۔ مالک مراد خدا کی سمجھ ۔ جمن مرن کی سوجہی ہوئی ۔ موت و پیدائش کی سمجھ ۔ گر پرسادی ۔ رحمتد مرشد سے ایکو جانے ۔ واحد اور وحدت کی سمجھ پائے ۔ تاں دوجا بھاو نہ ہوئی ۔ تو دوئی دوئش اور خدا کے علاوہ دوسروں سے محبت نہیں بنتی ۔ من سانت آی ۔ دل نے سکون پائیا۔ وجی بدھائی۔ فوت افزوں ہوئی ۔ پروان ۔ منظور۔ مول ۔ بنیاد ۔
ترجمہ:
اے دل تو الہٰی نور کا ایک جز ہے اس لئے اپنی بنیاد کی پہچان کر اے دل خدا تیرا ساتھی اور ساتھ ہے اس لئے اس سےا پنی اشتراکیت پدیا کر اور سبق مرشد سے اس کے ملاپ کا لطف لے ۔ اپنی بنیاد اور اصلیت پہچان کر خدا کا پتہ چلتا ہے اور پیدائش و موت کی سمجھ آتی ہے ۔ کہ روحانی موت کیا ہے اور زندگی کیا ہے اے دل اگر تو اپنی بنیاد کو سمجھ لے تیرا دوئی دوئش سے اور خا کے علاوہ کسی دیگر سے محبت نہ ہوگی اور رحمت مرشد سے وحدت اور واحد خدا کی پہچان ہویگ تو دل کو ٹھنڈ پہنچے گی ۔ تب دل کو اتشاہ اور جوش و خروش ملتا ہے اور الہٰی حضور قبول اور منظور ہو جاتا ہے ۔ نانک صاحب کا فرمان اس طرح ہے کہ سچے مرشد کے ملاپ سے بھٹکتے دل کو روک پڑتی ہے ) ۔ اے میرے دل تو اس خدا کے نور کا ایک جز ہے جو بھاری نور اور نورانی ہے لہذا اس اپنی شراکت پیدا کر۔

من توُنّ گاربِ اٹِیا گاربِ لدِیا جاہِ ॥
مائِیا موہنھیِ موہِیا پھِرِ پھِرِ جوُنیِ بھۄاہِ ॥
گاربِ لاگا جاہِ مُگدھ من انّتِ گئِیا پچھُتاۄہے ॥
اہنّکارُ تِسنا روگُ لگا بِرتھا جنمُ گۄاۄہے ॥
منمُکھ مُگدھ چیتہِ ناہیِ اگےَ گئِیا پچھُتاۄہے ॥
اِءُ کہےَ نانکُ من توُنّ گاربِ اٹِیا گاربِ لدِیا جاۄہے ॥੬॥
لفظی معنی:
گاربھ ۔ غرور۔ تکبر۔ موہنی موہیا۔ محبت میں کرفتار کرنے والی کی گرفت میں ۔ اٹیا۔ غیرو ز میں پیوست۔ پھر پھر جونی ۔ بھوا ہے ۔ تناسخ میں پڑیگا۔ گاربھ لاگا جاہے ۔غرور و تکبر میں مستفر ق ۔ مگدھ ۔ جاہل۔ انت۔ آخر ۔ اہنکار ۔ ترشنا۔ غرور اور خواہشات ۔ روگ بیماری ۔ برتھا۔ بیفائدہ ۔جنم زندگی ۔ چیتہہ ناہی ۔ یاد نہیں کرتا ۔
ترجمہ:
اے دل تو غرور اور تکبر میں پیوست ہوکر اور غرور اور تکبر کے بوجھ اُٹھائے ہوئے اس جہاں سے رخصت ہو جائے گا۔ دل کش مائیا نے تجھے اپنی محبت میں جکڑ رکھا ہے ۔ اس لئے تناسخ میں پڑا رہیگا اور اخر کار پچھتا ئیگا ۔ تجھے تکبر غرور اور لالچ میں اپنی زندگی بے فائدہ بیکار گنوا رہا ہے ۔ جو بھاری بیماری ہے ۔ مرید من جاہل جہالت میں خدا کو یاد نہیں کرتا بوقت آخرت و رخصت علام پچھتائیگا ۔ نانک کا فرمان اس طرح ہے ۔ کہ اے دل غرور اور تکبر میں اور اسکا بوجھ اُتھائے ہوئے اس جہان سے رخصت ہو رہا ہے ۔

من توُنّ مت مانھُ کرہِ جِ ہءُ کِچھُ جانھدا گُرمُکھِ نِمانھا ہوہُ ॥
انّترِ اگِیانُ ہءُ بُدھِ ہےَ سچِ سبدِ ملُ کھوہُ ॥
ہوہُ نِمانھا ستِگُروُ اگےَ مت کِچھُ آپُ لکھاۄہے ॥
آپنھےَ اہنّکارِ جگتُ جلِیا مت توُنّ آپنھا آپُ گۄاۄہے ॥
ستِگُر کےَ بھانھےَ کرہِ کار ستِگُر کےَ بھانھےَ لاگِ رہُ ॥
اِءُ کہےَ نانکُ آپُ چھڈِ سُکھ پاۄہِ من نِمانھا ہوءِ رہُ ॥੭॥
لفظی معنی:
مان ۔ وقار۔ ہوؤ۔ میں۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ نمانا۔ عاجز۔ لاچار۔ انتر۔ اندر۔ اگیان۔ نادانی ۔ جہالت ۔ ہؤ بدھ ۔ میں والی عقل ۔ سچ سبد۔ سچے کلام سے ۔ مل ۔ غلط خیالات کی غلاظت ۔ آپ لکھا ہے ۔ اپنے آپ کی نماز کرے ۔ آہنکار۔ غرور و تکبر۔ بھانے ۔ رضا۔ آپ چھڈ۔ خوئشتا چھوڑ کر ۔
ترجمہ:
اے دل ایسا وقار نہ بنا کر میں سب کچھ جانتا ہوں اور دانشمند ہوں مرید مرشد ہوکر وقار و توقیر چھوڑ دے ۔ دل میں نادانی اور اپنے آپ کو جتانے اور طاہر کر نے والی عقل و شعور ہے سچے کلام سے ناپاکیزگی دور ہوتی ہے ۔ سچے مرشد کے رو برو اپنے آپ کو ظاہر نہ کر ۔ اپنے تکبر تمام عالم اپنے حسد و تکبر میں جل رہا ہے کہیں اپنا آپ تو بھی نہ کھو بیٹھے ۔ فرمان مرشد میں رہ کر کام کر اور اس کی رضا میں رہ ۔ نانک اس طرح سمجھاتا ہے کہ غرور چھوڑنے سے سکھ حاصل ہوتا ہے ۔

دھنّنُ سُ ۄیلا جِتُ مےَ ستِگُرُ مِلِیا سو سہُ چِتِ آئِیا ॥
مہا اننّدُ سہجُ بھئِیا منِ تنِ سُکھُ پائِیا ॥
سو سہُ چِتِ آئِیا منّنِ ۄسائِیا اۄگنھ سبھِ ۄِسارے ॥
جا تِسُ بھانھا گُنھ پرگٹ ہوۓ ستِگُر آپِ سۄارے ॥
سے جن پرۄانھُ ہوۓ جِن٘ہ٘ہیِ اِکُ نامُ دِڑِیا دُتیِیا بھاءُ چُکائِیا ॥
اِءُ کہےَ نانکُ دھنّنُ سُ ۄیلا جِتُ مےَ ستِگُرُ مِلِیا سو سہُ چِتِ آئِیا ॥੮॥
لفظی معنی:
دھن۔ مبارک ۔ویلا۔ وقت۔ جت۔ جب۔ سو سوہ ۔ وہ مالک ۔ خدا۔ چت آئیا۔ دلمیں بسا ۔ یاد آئیا ۔ مہا انند ۔ بھاری سکون۔ من تن ۔ دل وجان۔ سکھ ۔ آرام وآسائش ۔ اوگن۔ بد اوصاف۔ گناہ گاریاں۔ بھانا۔ مرضی ۔ رضا۔ پرگٹ۔ ظاہر۔ سوارے ۔ درست فرمائے ۔ پروان ۔ منظور ۔ درڑیا ۔ پختہ کیا۔ دتیا بھاؤ۔ دوسروں سے محبت ۔ چکائیا ۔ ختم کیا۔
ترجمہ:
وہ وقت مبار کباد کا مستحق ہے جس وقت میرا سچےمرشد ملاپ ہوا اور سچا خدا دلمیں بسا اس کی یاد آئی ۔ بھاری سکون اور خوشی محسوس ہوئی اور دل وجان نے سکھ محسوس کیا اور تمام گناہ گاریاں اور بداوصاف بھلا کر خدا دلمیں وسائیا۔ جب الہٰی رضا ہوئی تو اوصاف ا س کے دلمیں ظہور میں آجاتے ہیں پیدا ہوتے ہیں۔ سچا مرشد درست کرتا ہے ۔ اور انسنای زندگی اچھی ہوجاتی ہے ۔ جو انسان الہٰی نام سچ اور حقیقت دلمیں بسا لیتے ہیں بارگاہ الہٰی میں مقبول ہوجاتے ہیں۔ نانک صاحب کا فرمان ہے کہ بارک تھا وہ وقت جب ملاپ مرشد ہو ا جس کی رحمت و عنیات سے خدا دل میں بسا۔

اِکِ جنّت بھرمِ بھُلے تِنِ سہِ آپِ بھُلاۓ ॥
دوُجےَ بھاءِ پھِرہِ ہئُمےَ کرم کماۓ ॥
تِنِ سہِ آپِ بھُلاۓ کُمارگِ پاۓ تِن کا کِچھُ ن ۄسائیِ ॥
تِن کیِ گتِ اۄگتِ توُنّہےَ جانھہِ جِنِ اِہ رچن رچائیِ ॥
ہُکمُ تیرا کھرا بھارا گُرمُکھِ کِسےَ بُجھاۓ ॥
اِءُ کہےَ نانکُ کِیا جنّت ۄِچارے جا تُدھُ بھرمِ بھُلاۓ ॥੯॥
لفظی معنی:
جنت۔ جاندار مراد انسان ۔ بھرم۔ وہم وگمان ۔ بھولے ۔ گمراہ ۔ سیہہ ۔ خڈا۔ بھلائے ۔ گمراہ کیا۔ دوجے بھائے ۔ دنیاوی دولت کی محبت میں۔ پھریہہ۔ بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ ہونمے کرم۔ اعمال خود پسندی ۔ کمارگ۔ غلط راستے ۔ وسائی ۔ زور۔ گت ۔ اوگت ۔ نیک و بد حالت ۔ا چھا یا بھرا اخلاق ۔ رچن رچائی ۔ جس نے قائنات قدرت پیدا کی ۔ کھر ابھار۔ نہایت وزند ار۔ واجب ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ بجھائے ۔ سمجھاتا ہے ۔ جاتدھ بھرم بھالئے ۔ جب تو نے ہی وہم وگامن میں گمراہ کیا ہے ۔
ترجمہ:
بیشمار انسان وہم وگامن کی گمراہی میں ہیں جنہیں خدا نے خود گمراہ کیا ہوا ہے ۔ ایسے انسان دوئی دوئش اور اعمال خود پسندی میں ملو ث بھٹکت پھرتے ہیں۔ انہیں خدا نے خود گمراہی میں ڈال کر غلط راستے پر ڈال رکھا ہے ان کا اس میں کوئی زور نہیں چلتا ۔ اے خدا جو تو نے یہ عالم پیدا کیا ہے اس کے نیک و بد حالات کے متعلق تو ہی جانتا ہے ۔ اے خدا تیرا فرمان بھاری و زندار اور معنی خیز ہے ۔ مرید مرشد ہی کسی کو سمجھاتا ہے ۔ نانک کافران ہے کہ اے خدا تو نے ہی انسان کو گمراہ کر کے بھٹکن میں ڈال رکھا ہے اسمیں مغور انسان کا کیا زور چلتا ہے ۔

سچے میرے ساہِبا سچیِ تیریِ ۄڈِیائیِ ॥
توُنّ پارب٘رہمُ بیئنّتُ سُیامیِ تیریِ کُدرتِ کہنھُ ن جائیِ ॥
سچیِ تیریِ ۄڈِیائیِ جا کءُ تُدھُ منّنِ ۄسائیِ سدا تیرے گُنھ گاۄہے ॥
تیرے گُنھ گاۄہِ جا تُدھُ بھاۄہِ سچے سِءُ چِتُ لاۄہے ॥
جِس نو توُنّ آپے میلہِ سُ گُرمُکھِ رہےَ سمائیِ ॥
اِءُ کہےَ نانکُ سچے میرے ساہِبا سچیِ تیریِ ۄڈِیائیِ ॥੧੦॥੨॥੭॥੫॥੨॥੭॥
لفظی معنی:
سچے میرے صاحبا۔ اے میرے سچے آقا۔ سچی تیری وڈیائی ۔ تیری عطمت ۔ تیری بزرگی سچی ہے ۔ پار برہم ۔ پار لگانے والا۔ کامیایب عنیات کرنے والا۔ بے انت ۔ اعداد و شمار سے باہر۔ قدرت ۔ طاقت ۔ قوت۔ کہن نہ جائی ۔ بیان سے باہر ہے ۔ جا کوؤ تدھ من وسائی ۔ جو کوئی تجھے دل میں بساتا ہے ۔ سدا تیرے گن گاوہے ہمیشہ تیری صٖت صلاح کرتا ہے ۔ جو تدھ باوہے ۔ جو تجھے چاہتا ہے ۔ سچے سیؤ۔ سچے کے ساتھ ۔ چت لاوہے ۔ دل لگاتا ہے ۔ پیار کرتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرشد کی وساطت سے ۔
ترجمہ:
اے میرے سچے مالک سچے خدا تیری عظمت بزرگی اور اعلے پن صدیوی اور سچا ہے ۔ تو پار لگانے والا کامیابیاں عنایت کرنے والا اعداد و شمار سے بعد مالک تیری قوت و طاقت بیان سے باہر ہے تیری عظمت سچی ہے جن کے دلمیں تو بسا دیتا ہے ۔ وہ ہمیشہ تیری عظمت سچی ہے ۔ جن کے دلمیں تو بسا دیتا ہے وہ ہمیشہ تیری مدح سرائی وصفت صلاح کرتے ہیں مگر وہ تیری صفت صلاح کرتے ہیں جب تو انہیں چالتا ہے تجھے ان کی انس ہے وہ سچے خدا میں اپنا دل لگاتے ہیں۔ اے خدا جسے تو اپنے ساتھ ملاتا ہے وہ مرشد کے وسیلےس ے تیری یاد میں محو ومجذوب رہتے ہیں۔ نانک اس طرح بیان کرتا ہے اے خدا تیری عظمت سچی ہے ۔

راگُ آسا چھنّت مہلا ੪ گھرُ ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
جیِۄنو مےَ جیِۄنُ پائِیا گُرمُکھِ بھاۓ رام ॥
ہرِ نامو ہرِ نامُ دیۄےَ میرےَ پ٘رانِ ۄساۓ رام ॥
ہرِ ہرِ نامُ میرےَ پ٘رانِ ۄساۓ سبھُ سنّسا دوُکھُ گۄائِیا ॥
ادِسٹُ اگوچرُ گُر بچنِ دھِیائِیا پۄِت٘ر پرم پدُ پائِیا ॥
انہد دھُنِ ۄاجہِ نِت ۄاجے گائیِ ستِگُر بانھیِ ॥
نانک داتِ کریِ پ٘ربھِ داتےَ جوتیِ جوتِ سمانھیِ ॥੧॥
منمُکھا منمُکھِ مُۓ میریِ کرِ مائِیا رام ॥
کھِنُ آۄےَ کھِنُ جاۄےَ دُرگنّدھ مڑےَ چِتُ لائِیا رام ॥
لائِیا دُرگنّدھ مڑےَ چِتُ لاگا جِءُ رنّگُ کسُنّبھ دِکھائِیا ॥
کھِنُ پوُربِ کھِنُ پچھمِ چھاۓ جِءُ چکُ کُم٘ہ٘ہِیارِ بھۄائِیا ॥
دُکھُ کھاۄہِ دُکھُ سنّچہِ بھوگہِ دُکھ کیِ بِردھِ ۄدھائیِ ॥
نانک بِکھمُ سُہیلا تریِئےَ جا آۄےَ گُر سرنھائیِ ॥੨॥
میرا ٹھاکُرو ٹھاکُرُ نیِکا اگم اتھاہا رام ॥
ہرِ پوُجیِ ہرِ پوُجیِ چاہیِ میرے ستِگُر ساہا رام ॥
ہرِ پوُجیِ چاہیِ نامُ بِساہیِ گُنھ گاۄےَ گُنھ بھاۄےَ ॥
نیِد بھوُکھ سبھ پرہرِ تِیاگیِ سُنّنے سُنّنِ سماۄےَ ॥
ۄنھجارے اِک بھاتیِ آۄہِ لاہا ہرِ نامُ لےَ جاہے ॥
نانک منُ تنُ ارپِ گُر آگےَ جِسُ پ٘راپتِ سو پاۓ ॥੩॥
رتنا رتن پدارتھ بہُ ساگرُ بھرِیا رام ॥
بانھیِ گُربانھیِ لاگے تِن٘ہ٘ہ ہتھِ چڑِیا رام ॥
گُربانھیِ لاگے تِن٘ہ٘ہ ہتھِ چڑِیا نِرمولکُ رتنُ اپارا ॥
ہرِ ہرِ نامُ اتولکُ پائِیا تیریِ بھگتِ بھرے بھنّڈارا ॥
سمُنّدُ ۄِرولِ سریِرُ ہم دیکھِیا اِک ۄستُ انوُپ دِکھائیِ ॥
گُر گوۄِنّدُ گد਼ۄِنّدُ گُروُ ہےَ نانک بھیدُ ن بھائیِ ॥੪॥੧॥੮॥
لفظی معنی:
جیونو ۔ جیون ۔ حقیقی زندگی ، روحانی یا اخلاقی زندگی ۔ گورمکھ ۔ مرشد کےو سیلے سے ۔ بھائے رام۔ جیسی خدا چاہتا ہے ۔ ۔ ہر نام۔ الہٰی حقیقت اور سچ ۔ میرے پران ۔ میری زندگی ۔ جان روح ۔ قلب۔ وسائے ۔ کندہ ہوئے ۔ ادسٹ ۔ اوجھل۔ دکھائی نہ دینے والا۔ اگوچر۔ جو بیان نہ ہو سکے ۔ گربجن۔ کلام مرشد ۔ پوتر۔ پاک ۔ پرم پد۔ بلند روحانی رتبہ ۔ انحد ۔ لگاتار۔ دھن۔ سر۔ واجے ۔ بجتے ہیں۔ گالی ستگر ۔ بانی ۔ سچے مرشد کا کلام گائیا (2) دات ۔ شفقت ۔ سخاوت ۔ پربھ داتے ۔ سخی خدا نے ۔جوئی جوت سمانی ۔ الہٰی نور سے نور کا ملاپ ہوا۔
ترجمہ:
اے انسانو۔ مجھے حقیقی روحانی ، اخلاقی زندگی میسر ہو گئی ۔ اور مرشد کے وسیلے سے میرا خدا سے پیار ہوگیا ۔ اب مرشد نے الہٰی نام سچ و حقیقت میری زندگی اور دل وجان میں بسا دیا ۔ جس سے میری ہر قسم کے عذاب و فکرات ختم ہوگئے کوئی تشویش باقی نہیں رہی ۔ میں اس آنکھوں سے اوجھل جو انسانی بیان سے با ہر ہے کلام مرشد سے اس میں توجہ دی دھیان لگائیا جس پاک روحانی بلند رتبہ نصیب ہوا اور جب سے کلام مرشدی کا نغمہ گانا شروع کیا ہے مجھے روحانی سکون اور وجد طاری ہو گیا ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے ساز بج رہے ہیں اور کلام ہور ہا ہے ۔ اے ناکن۔ اب خدا نے ایسی عنایت وزشفقت کی ہے کہ اب میری روح الہٰی نور میں محو و مجذوب رہتی ہے ۔
لفظی معنی(2):
منمکھا ۔ مرید من ۔ منمکھ موئے من کے مرید روحانی طور پر مردہ ہیں۔ میری کر۔ اپنی پانی کہتے ہوئے ۔ کھن آوے ۔ کھن جوے ۔ کبھی پستی کبھی بلندی ۔ پس و پیش۔ در گند۔ بدیو ۔ مڑ ہے ۔ جسم۔ چت لائیا۔ من لگائیا۔ پریم کیا ۔ رنگ کسنبھ ۔ جیسے پوست کے پھول کا رنگ ہے ۔ کھن پورب۔ کبھن بھچم۔ کبھی مشرق کی طرف اور کبھی مغرب کی طرف۔ چھائے ۔ سایہ ۔ جیؤ چک گھمیار بھوائیا۔ جیسے گھمیار برتن ۔ والا چک گھماتا ہے ۔ کھاویہہ ۔ بردشات کرتا ہے ۔ سنچیہہ ۔ برداشت کرتا ہے ۔ بردھ ۔ اضافہ ۔ وکھم ۔ مشکل۔ دشوار۔ سہیلا۔ آسان ۔
ترجمہ:
خوئشتا پرور مرید من خودی پسند کی روحانی واخلاقی موت ہوجاتی ہے میری میری کرنے سے ۔ بوقت منافع بلند حوصلہ ہوجاتے ہیں اور بوقت پست ہوجاتے ہیں لہذا کبھی بلندی کبھی پستی اور اس جسم سے جس کے انر گندگی اور بدیو بھری ہوئی ہے سے محبت کرتے ہیں ۔ جیسے پوست کے پھول کا رنگ پہلے شوخ اور خوبصور ت ہو تا ہے ۔ مگر بہت جلد پھیکا ہوجاتا ہے جیسے سایہ بد لتا رہتا ہے ۔ کبھی پورب اور کبھی پچھم کی طرف ہوتا ہے جیسے گھمار چک گھماتا ہے ایسے ہی ایسے انسانوں کا رخ بدلتا رہتا ہے ۔ ایسے مرید من انسان عذاب برداشت کرتا ہے اور عذاب ہی اکھٹے کرتا ہے مگر اے نانک۔ الہٰی پناہ پاکر انسان اس دشواری پر آسانی سے کامیابی حاصل کر سکتا ہے ۔
لفظی معنی(3):
ٹھاکر وٹھاکر۔ مالکوں کا مالک ۔ نیکا۔ اچھا۔ اگم۔ انسانی رسائی سے بلند ۔ اتھاہا۔ اتنا گہرا جسکا اندازہ و شمار نہ ہو سکے ۔ رام ۔ خدا۔ اللہ تعالیٰ ۔ پرم آتما ۔ ہر پوجی ۔ الہٰی پونجی ۔ الہٰی سرمایہ ۔ چاہی ۔ چاہتا ہوں ۔ میرے ستگر ساہا۔ اے میرے سچے مرشد شاہوکار ۔ وساہی ۔ خرید کی ۔ گن گاوے گھن بھاوے ۔ اوصاف کی حمدوسرائی کرتا ہوں اور اوصاف ہی چاہتا ہوں ۔ نیند بھکھ سب پر ہر تیاگی ۔ غفلت اور خواہشات کی بھوک چھوڑدی ۔ سنو سن ۔ جہاں مکمل سکوت طاری ہے ۔ جہاں خیالات ساکن ہیں ونجارے خریدار ۔ بیوپاری ۔ لاہا ہر نام لیجاہے ۔ الہٰی سچ اور حقیقت کا منافع اُٹھاتے ہیں۔ ارپ۔ بھینٹ چڑھا۔ پیش کر ۔
ترجمہ:
میرا آقا ایک نیک اور اچھا ہے مگر انسانی رسائی سے بلند و بالا انسانی بیان سے باہر ہے ۔ اس لئے میرے شاہو کار میرےس چے مرشد مں آپ سے الہٰی نام کے سرمائے کی بھیک مانگتا ہوں جو شخص الہٰی نام کے سرمائے کی جستجو کرتا ہے اور الہٰی نام کا سوداگر ہے اور ہمیشہ الہٰی حمدوثناہ کرتا ہے ۔ ان اوصاف کی وجہ سے خدا کا عزیز بنا جاتا ہے وہ انسان غفلت اور دنیاوی نعمتوں کی خواہش اور بھوک چھوڑ کر طارق ہوکر وہ ایسے ماحول میں اپنے آپ کو بنا لیتا ہے جہاں مکمل سکوت طاری ہو جہا ں ہر قسم کے دنیاوی خیالات سکان ہو جاتے ہیں ۔ الہٰی نام کے سوداگر ساتھی ملر بیٹھتے ہیں۔ اور الہٰی نام کا منافع کما کر لیجاتے ہیں ۔ اے نانک اپنال دل وجان مرشد کو پیش کردے مگر یہ سودا وہی حاصل کرتا ہے جس کی تقدیر میں پہلے سے تحریر ہوتا ہے ۔
لفظی معنی(3):
رتنا رتن پدارتھ ۔ مراد بلند روحانی زندگی کے اوصاف ۔ بہوساگر بھاری ۔ بہت سمندر۔ انسانی ذہن وجسم ۔ یہاں جسم سمندر سے تشبیح دی ہے ۔ بانی گربانی ۔ کلام مرشد ۔ ہتھ چڑھیا۔ موصول ہوا۔ گر بانی ۔کلا م مرشدی ۔ نرمولک رتن ۔ جس کی قیمت مقرر نہ ہو سکے ۔ اتولک ۔ جسکا وزر نہ ہو سکے ۔ درؤل ۔ نرنا۔ دریافت ۔ حقیقت ۔ انوپ ۔ انوکھی ۔ بھید۔ راز۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا ہر انسانی جسم سمندر کی مانند ہے جو بیشمار قیمتی اوصاف سے ھرا ہوا ہے ۔ جو کلام مرشد کی طرف سے دیئے ہوئے کلام میں اپنا دل لگاتے ہیں انہین یہ قیمتی اوصاف حاصل ہو جاتے ہیں۔
جو انسان ہر وقت کلام مرشد میں محو ومشغول رہتے ہیں انہیں لا محدود خدا کا نام جو انتہائی قیمتی ہے جس کے برابر دنیا کی کوئی قیمتی شے نہیں اے خدا ان دلمیں خو ف اور پیار جوت یری عبادت وریاضت ہے ۔ خزانے بھر جاتے ہیں جس کے برابری دوسری کوئی شے نہیں ۔ کرم وعنایت مرشد جب اپنے آپ کی نیک و بد کی پڑتال کرتا ہوں تو مرشد نے مجھے اس قیمتی نعمت کا دیدار کرادیا ۔ مرشد اور خدا آپس میں ایک جیسے ہیں۔ مراد مرشد خدا سے ملاپ کرانے والاہے ۔

آسا مہلا ੪॥
جھِمِ جھِمے جھِمِ جھِمِ ۄرسےَ انّم٘رِت دھارا رام ॥
گُرمُکھے گُرمُکھِ ندریِ رامُ پِیارا رام ॥
رام نامُ پِیارا جگت نِستارا رام نامِ ۄڈِیائیِ ॥
کلِجُگِ رام نامُ بوہِتھا گُرمُکھِ پارِ لگھائیِ ॥
ہلتِ پلتِ رام نامِ سُہیلے گُرمُکھِ کرنھیِ ساریِ ॥
نانک داتِ دئِیا کرِ دیۄےَ رام نامِ نِستاریِ ॥੧॥
لفظی معنی:
جھم جھم ۔ آہستہ آہستہ ۔ انمرت دھار۔ آب حیات کی ۔ دھار ۔ قطرے ۔ گورمکھے گورمکھ ۔ مرید مرشد ۔مرشد کے وسیلے سے ۔ ندر۔ نظر۔ نستار۔ کامیابی عنایت کرنے والا۔ رام نام وڈیائی ۔ الہٰی نام سے عظمت و شہرت حاصل ہوتی ہے ۔ کلجگ ۔ یہاں کلجگ سے رماد انسانی زندگی کی وہ حالت جو بد اخلاقیوں اور اعمالات بد میں بذرتی ہے ۔ بوہتھا ۔ جہاز۔ گور مکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ پار ۔ کامیابی ۔ ہلت پلت۔ دونوں عالموں میں۔ سہیلے ۔ آسان۔ کرنی ۔ کار ۔ اعمال۔ ساری ۔ بنیاد ۔ مول ۔ دات۔ نعمت۔ دیا ۔ مہربانی
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان خدا کی طرف سے آب حیات کی دھیمی دھیمی بارش ہو رہی ہے ۔ مریداان مرشد کو خداوند کریم کو دیدار خدا ہونے لگتا ہے ۔ الہٰی نام جس سے جہان میں کامیابی حاصل ہوتی ہےا ورعظمت و شہرت حاصل ہوتی ہے ۔ اس گناہوں اور بدکاریوں بھرتے دور زماں میں الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت ہی ایک جہاز ہے اور مرشد ایک ملاح وکر اس دنیاوی بدیوں کے سمند رسے کامیاب بناتا ہے اور اس کو عبور کراتا ہے ۔ اس سے ہر دو عالموں میں الہٰی نام سے زندگی گذارنا آسان ہوجاتا ہے اور مرشد کے وسیلے سے اعمال اعلے اور انسان نیک سیرت ہوجاتا ہے ۔ اے نانک ۔ اس انسان کو اپنی کرم و عنایت سے خدا الہٰی نام سے اس کی زندگی کامیاب بنا دیتا ہے ۔

رامو رام نامُ جپِیا دُکھ کِلۄِکھ ناس گۄائِیا رام ॥
گُر پرچےَ گُر پرچےَ دھِیائِیا مےَ ہِردےَ رامُ رۄائِیا رام ॥
رۄِیا رامُ ہِردےَ پرم گتِ پائیِ جا گُر سرنھائیِ آۓ ॥
لوبھ ۄِکار ناۄ ڈُبدیِ نِکلیِ جا ستِگُرِ نامُ دِڑاۓ ॥
جیِء دانُ گُرِ پوُرےَ دیِیا رام نامِ چِتُ لاۓ ॥
آپِ ک٘رِپالُ ک٘رِپا کرِ دیۄےَ نانک گُر سرنھاۓ ॥੨॥
لفظی معنی:
رام نام جپیا ۔ الہٰی نام کی ریاض سے ۔ دکھ ۔ عذاب ۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ دوش۔ ناس ۔فناہ ۔ مٹ جاتے ہیں۔ گر پرچے ۔ مرشد کی وساطت سے ۔ دھیائیا ۔ دھیان دیا ۔ ہر وے ۔ دلمیں۔ رام ۔ خدا۔ روائیا بسائیا۔ پرم گت۔ زندگی کی بلند روحانی حالت ۔ گر سنائی ۔ پناہ مرشد سے ۔ لوبھ ۔ لالچ ۔ وکار ۔ بدکار۔ برائی ۔ ناؤ ۔ کشتی ۔ زندگی کی کشتی ۔ دڑائے ۔ پختہ ۔ جیئہ دان۔ زندگی کی خیرات اخلاق و روحانی زندگی
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت کی ریاض سے تمام عذاب اور گناہ عافو ہو جاتے ہیں۔ مرشد کے وسیلے سے خدا کو دلمیں بسائیا ۔ خدا کےد لمیں بس جانے سےا خلاقی و روحانی زندگی کی بلندی حاصل ہوئی سایہ مرشد میں آنے کی بدولت لالچ اور براہوں میں ملوث روحانی زندگی کی ڈبتی کشیت جب سچے مرشد کے وسیلے سے نام پختہ طور پر بسالیا زندیگ کے بھنور سے باہر نکل آئی کامل مرشد نے اخلاقی زندگی کی دات عنایت فرمائی ۔ اس نے الہٰی نام اپنے دل ودماغ میں ذہن نیشن کرلیا۔ اے نانک سایہ مرشد اپنانے سے خدا خود کرم و عنایت فرماتا ہے ۔

بانھیِ رام نام سُنھیِ سِدھِ کارج سبھِ سُہاۓ رام ॥
رومے رومِ رومِ رومے مےَ گُرمُکھِ رامُ دھِیاۓ رام ॥
رام نامُ دھِیاۓ پۄِتُ ہوءِ آۓ تِسُ روُپُ ن ریکھِیا کائیِ ॥
رامو رامُ رۄِیا گھٹ انّترِ سبھ ت٘رِسنا بھوُکھ گۄائیِ ॥
منُ تنُ سیِتلُ سیِگارُ سبھُ ہویا گُرمتِ رامُ پ٘رگاسا ॥
نانک آپِ انُگ٘رہُ کیِیا ہم داسنِ داسنِ داسا ॥੩॥
لفظی معنی:
بانی رام نام۔ الہٰی کلام۔ گر سبد۔ سدھ ۔ درست۔ سہائے ۔ سہاونے ۔ کارج ۔ کام ۔ رومے روم روم رومے ۔ با بال ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ پوت۔ پاک ۔ تس روپ نہ ریکھیا۔ جس کی کوئی شکل و صورت نہیں۔ گھٹ انتر۔ دلمیں۔ ردیا ۔ بس گیا ۔ تشنا۔ خواہشات ۔ لالچ ۔ بھوکھ ۔ ستیل ۔ ٹھنڈا۔ خنک ۔ گرمت ۔ سبق مرشد۔ رام پرگاسا۔ خدا نے اپنا نور دکھائیا ۔ انگریہہ۔ کرم وعنایت فرمائی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس نے بھی الہٰی کلام سنے کامیابی پائی ۔ اس کے تمام کام درست ہوئے ۔ میں مرشد کے وسیلے سے میرے بال با ل نے خدا کو یاد کیا۔ ریاض کی الہٰی نام کی ریاض سے زندگی پاکیزہ ہوئی اور الہٰی در نصیب ہوا جو شکل وصورت سے مبرا ہے ۔ جس نے ہر وقت الہٰی یاد دلمیں سمائی ۔ اس کے دل سے دنیاوی دولت کا لالچ اور بھوک مٹ گئی ۔ دل وجان ٹھنڈا پر سکون محسوس کیا۔ غرض یہ کہ اس کی روحانی زندگی پر کشش ہوگئی ۔ سبق مرشد سے اس کے دل میں ا لہٰی نام روشن ہوا۔ اے نانک۔ جب سے خدا مہربان ہوا ہے میں خادم خادمان ہوگیا ہوں۔

جِنیِ رامو رام نامُ ۄِسارِیا سے منمُکھ موُڑ ابھاگیِ رام ॥
تِن انّترے موہُ ۄِیاپےَ کھِنُ کھِنُ مائِیا لاگیِ رام ॥
مائِیا ملُ لاگیِ موُڑ بھۓ ابھاگیِ جِن رام نامُ نہ بھائِیا ॥
انیک کرم کرہِ ابھِمانیِ ہرِ رامو نامُ چورائِیا ॥
مہا بِکھمُ جم پنّتھُ دُہیلا کالوُکھت موہ انّدھِیارا ॥
نانک گُرمُکھِ نامُ دھِیائِیا تا پاۓ موکھ دُیارا ॥੪॥
لفظی معنی:
منمکھ ۔ مرید من۔ خودی پسند۔ مور۔ مورکھ ۔ نادان ۔ ابھاگی ۔ بد قسمت۔ انترے ۔ دلمیں۔ موہ ۔ محبت۔ دیاپے ۔ بستی ہے ۔ مل ۔ میل۔ غلاظت۔ آلودگی ۔ لاگی ۔ ملوث ۔ ابھاگی ۔ بد قسمت۔ نیہ بھائیا۔ پیار ا نہ لگا۔ انیک ۔ بیشمار ۔ کرم ۔ اعملا۔ ابھیمانی ۔ مغرور۔وکھم۔ دشوار۔ جسم پنتھ ۔ مجرمانہ راستہ ۔ دہیلا۔ مصیبتوں والا۔ کا لو کھت ۔ داغدار ۔ موہ اندھیار۔ محبت کا اندھیرا ۔ موکھ ۔ نجات۔
ترجمہ معہ تشریح:
جن بد قسمت مریدان من نے الہٰی نام یعنی سچ اور حقیق کو بھلا دیا ان کے دل میں دنیاوی دولت کی محبت اپنا زور بر قرار رکھتی ہے ۔ ان کو دنیاوی مائیا کی غلاظت اور ناپاکی اپنی لپٹی میں رکھتی ہے ۔ جنہیں الہٰی نام سچ اور حقیقت نہیں بھاتی ۔ الہٰی نام بھلا کر بیشمار اعمال اور رسومات کرتے ہیں جس سے مغرور ہوجاتے ہیں جو انسان کے دل سے الہٰی نام چرا لیتی ہیں۔ مجرمانہ اعمال کا راستہ نہایت دشوار گذار ہے ۔ جس میں بھاری دشواریاں ہیں جو محبت کے داغوں کی وجہ سے زندگی اندھیاری ہوجاتی ہے ۔ اے نانک۔ جو مرید مرشد ہوکر الہٰی نام میں توجہ اور دھیان لگاتا ہے وہ راہ نجات پا لیتا ہے ۔

رامو رام نامُ گُروُ رامُ گُرمُکھے جانھےَ رام ॥
اِہُ منوُیا کھِنُ اوُبھ پئِیالیِ بھرمدا اِکتُ گھرِ آنھےَ رام ॥
منُ اِکتُ گھرِ آنھےَ سبھ گتِ مِتِ جانھےَ ہرِ رامو نامُ رساۓ ॥
جن کیِ پیَج رکھےَ رام ناما پ٘رہِلاد اُدھارِ تراۓ ॥
رامو رامُ رمو رمُ اوُچا گُنھ کہتِیا انّتُ ن پائِیا ॥
نانک رام نامُ سُنھِ بھیِنے رامےَ نامِ سمائِیا ॥੫॥
لفظی معنی:
گر مکھے ۔ مریدان مرشد۔ کھن ۔ کبھی ۔ اوبھ ۔ اونچا۔ بلندی پر ۔ پیال۔ پاتال۔ زمین کے نیچے ۔ بھرمدا۔ بھٹکتا ہے ۔ یعنی کبھی بلند خیالی اور مغرور اور کبھی پسماندیگ میں۔ الت گھر ۔ وحدت کا شیدائی ۔ گت مت۔ روحانیت اور شرع زندگی ۔ ہر رامونامور سائے ۔ الہٰی نام کا مزہ یا لطف لیتا ہے ۔ بیچ ۔ عزت۔ رام ناما۔ الہٰی نام۔ ادھار۔ بچانا۔ ترائے ۔ کامیاب بنائے ۔ اوچاگن ۔ بلند وصف۔ انت ۔ آخر۔ پھینے۔ لطف سے پرشار ہوئے ۔ رامے نام سمائیا۔ الہٰی نام میں محو ومجذوب ہوئے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو انسان مرشد کے ذریعے الہٰی نام کی پہچان کر لیتا ہے اسےس مجھ لیتا ہے اس کی قدر و قیمت سمجھ لیتا ہے کیونکہ یہ دل کبھی آسمان کی بلندیوں پر اور کبھی پستی کے گڑیوں میں بھٹکتا ہے یعنی کبھی خیالات بلند اور کبھی پسماندگی والے ہوتے ہیں الہٰی نام سے اس پر بھروسہ کرنے سے مستقل مزاجی پاتا ہے تب اسے اخلاقی و روحانی زندگی کے طرز عمل سمجھ آجاتےہیں وہ الہٰی نام کا لطف لیتا ہے ۔ الہٰی نام ایسے انسان کے توقیر و عزت بچاتا ہے ۔ جیسے پر ہلاد جیسے عاشقان الہٰی دشواریوں اور مشکلات سے بچا کر کامیابی عنایت فرمائی ہے ۔ جو بیان نہیں ہو سکتے ۔ اے ناکک جن کے دل الہٰی نام سے پر لطف ہوجاتے ہیں وہ الہٰی نام میں محو ومجذوب رہتے ہیں

جِن انّترے رام نامُ ۄسےَ تِن چِنّتا سبھ گۄائِیا رام ॥
سبھِ ارتھا سبھِ دھرم مِلے منِ چِنّدِیا سو پھلُ پائِیا رام ॥
من چِنّدِیا پھلُ پائِیا رام نامُ دھِیائِیا رام نام گُنھ گاۓ ॥
دُرمتِ کبُدھِ گئیِ سُدھِ ہوئیِ رام نامِ منُ لاۓ ॥
سپھلُ جنمُ سریِرُ سبھُ ہویا جِتُ رام نامُ پرگاسِیا ॥
نانک ہرِ بھجُ سدا دِنُ راتیِ گُرمُکھِ نِج گھرِ ۄاسِیا ॥੬॥
لفظی معنی:
چنتا ۔ فکر ۔ تشویش ۔ ارتھا ۔ سرمایہ ۔ دولت ۔ دھرم۔ ہما قسم ۔کے فرض منصبی۔ من چندیا ۔ دلی خواہش کی مطابق ۔ دھیائیا ۔ توجہ دی ۔ درمت ۔ بدعقلی ۔ کبدھ ۔ بے علقی ۔ سکھائی۔ ساتھی ۔ مددگار۔ بھرم ۔ وہم وگامن۔ چوکا ۔ ختم ہوا۔ مٹالے ۔ سدھ ہوئی۔ سمجھ آئی ۔ رام نام من لائے ۔ الہٰی نام میں دل جوڑنے سے ۔ سپھل ۔ کامیاب ۔ رام نام پر گاسیا ۔ الہٰی نام نام نے اپنا نور منور کیا ۔ ہر بھج۔ خدا کو یاد کر ۔ نج گھر ۔ اپنے ذہنی شعور میں۔
ترجمہ معہ تشریح:
جن کے دل میں الہٰی نام بس جاتا ہے ۔ ان کی تشویش اور فکر مٹ جاتے ہیں۔ انہیں ہر قسم کی دولت اور نعمتیں میسئر ہوجاتی ہے اور دلی خواہش کے مطابق پھل پاتےہی۔ وہ الہٰی حمدثناہ کرتے رہتے ہیں۔ بدمعاشی اور بد عقلی ختم ہوکر روحانی زندگی بسر کرنے کی سمجھ آجتی ہے ۔ وہ الہٰی نام میں دل کگاتے ہیں۔ غرض یہ کہ زندگی کامیاب ہوجاتی ہے ان کا جسم لینا اور جسم الہٰی نور سے پر نور ہوجاتا ہے غرض یہ کہ ان کے جسم میں نورانی آجاتی ہے ۔ اے نانک۔ تو بھی روز و شب خدا کو یاد کرتا رہ مرشد کی وساطت سے باگاہ الہٰی میں ٹھکانہ ملتا ہے ۔

جِن سردھا رام نامِ لگیِ تِن٘ہ٘ہ دوُجےَ چِتُ ن لائِیا رام ॥
جے دھرتیِ سبھ کنّچنُ کرِ دیِجےَ بِنُ ناۄےَ اۄرُ ن بھائِیا رام ॥
رام نامُ منِ بھائِیا پرم سُکھُ پائِیا انّتِ چلدِیا نالِ سکھائیِ ॥
رام نام دھنُ پوُنّجیِ سنّچیِ نا ڈوُبےَ نا جائیِ ॥
رام نامُ اِسُ جگُ مہِ تُلہا جمکالُ نیڑِ ن آۄےَ ॥
نانک گُرمُکھِ رامُ پچھاتا کرِ کِرپا آپِ مِلاۄےَ ॥੭॥
لفظی معنی:
سردھا ۔ وشواش۔ یقین ۔ عقیدت مندی ۔ رام نام ۔ الہٰی سچ اور حقیقت میں ۔ تن ۔ انہوں نے ۔ دوبے چت نہ لائیا۔ وہ دنیا کی دوسری نعمتوں سے لگاؤ نہیں رکھتے ۔کنچن ۔سونا۔ بن ناوے ۔ نام کے بغیر ۔ اور نہ بھائیا۔ تو کسی دوسرے کو پیار نہیں۔ پرم ۔ بلند تر۔ انت ۔ بوقت۔ آخرت ۔ سکھائی ۔ ساتھی ۔ رام نام ۔ الہٰی نام ۔ دھن۔ دولت ۔ پونجی ۔ سرمایہ ۔ سچی ۔ اکھٹی کی ۔ تلہا ۔ عارضی کشیت ۔ جمکال۔ روحانی یا اخلاقی موت ۔ گور مکھ ۔ مرشد کے وساطت سے ۔ پچھاتا ۔ سمجھا ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جنہیں الہٰی نام میں پختہ یقین اور عقیدت ہوگئی وہ الہٰی نام کے علاوہ کسی دوسری نعمت سے لگاتےہیں دل اپنا۔ گر سادی زمین سونا بنا کر پیش کر دیں تب بھی کسی نعمت کا ہوتا نہیں پیار انہیں۔ ان کے دل میں الہٰی نام کا پیار ہے اس سے انہیں روحانی سکون اور سکھ ملتا ہے جو بوقت آخرت ساتھی بنتا ہے ۔ الہٰی نام کا سرمایہ کبھی ختم نہیں ہوتا جو اسے اکھٹا کرتے ہیں نہ پانی میں ڈوبتا ہے نہ ضائع ہوتا ہے ۔ الہٰینام اس سمندر کی مانند علام میں ایک کشتی ہے جو اس عالم م سے عبور حاصل کراتا ہے ۔ روحانی موت نزدیکنہیں پھٹکتی ۔ اے نانک جس نے مرید مرشد ہوکر خدا کی شراکت حاصل کر لی خدا اسے اپنی کرم وعنایت سے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔

رامو رام نامُ ستے ستِ گُرمُکھِ جانھِیا رام ॥
سیۄکو گُر سیۄا لاگا جِنِ منُ تنُ ارپِ چڑائِیا رام ॥
منُ تنُ ارپِیا بہُتُ منِ سردھِیا گُر سیۄک بھاءِ مِلاۓ ॥
دیِنا ناتھُ جیِیا کا داتا پوُرے گُر تے پاۓ ॥
گُروُ سِکھُ سِکھُ گُروُ ہےَ ایکو گُر اُپدیسُ چلاۓ ॥
رام نام منّتُ ہِردےَ دیۄےَ نانک مِلنھُ سُبھاۓ ॥੮॥੨॥੯॥
لفظی معنی:
سسے ست۔ سچو سچ ۔ ارپ ۔ بھینٹ ۔ سردھایا۔ بھاری ۔ عقیدت ۔ سیوک بھائے ۔ خدمت کی عرض اور محبت سے ۔ دینا ناتھ ۔ غریبوں کا مالک ۔ جیئہ کار داتا۔ زندگی عنایت کرنے والا۔ پورے گر۔ کامل مرشد۔ گرو سکھ سکھ گرو ہے ۔ پہلے سکھ ہوتا ہے بعد میں گرو بنتا ہے مراد دونوں ایک ہیں کیونکہد ونوں کا سبق ایک ہے ۔ ملن سبھائے ملاپ قدرتاً ہوجاتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
الہٰی نام سچ حقیقت اور صدیوی اور دائمی ہے اسے مرید مرشد ہوکر سمجھ آتی ہے اسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اپنا دل وجان مرشد کو بھینٹ کر دیتا ہے اور مرشد کے بتائےہوئے راستہ پر چلتا ہے جس کے دل میں مرشد کی عقیدہ ت مندی ہے ۔ لہذا اس عقیدت مندی کے اظہار کے عوض مرشد انسان کا خدا ہے ملاپ کراتا ہے ۔ غریبوں کا مالک زندگیاں بخشنے والا کا ملمرشد ہی اسکا ملاپ کراتا ہے ۔مرید اور مرشد دونوں کا مقصد اور سبق ایک ہے لہذا وہ ایک ہی ہیں۔ اے نانک۔ جس انسانکو مرشد اپنا سبق دل میں بسانے کے لئے دیتا ہے ۔ لہذا اس کے پیار اور پریم کے صدقے اسے الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔
نوٹ: چھنت محلہ 2-4
محلہ 2-3
محلہ 1 5
میزان 9

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آسا چھنّت مہلا ੪ گھرُ ੨॥
ہرِ ہرِ کرتا دوُکھ بِناسنُ پتِت پاۄنُ ہرِ نامُ جیِءُ ॥
ہرِ سیۄا بھائیِ پرم گتِ پائیِ ہرِ اوُتمُ ہرِ ہرِ کامُ جیِءُ ॥
ہرِ اوُتمُ کامُ جپیِئےَ ہرِ نامُ ہرِ جپیِئےَ استھِرُ ہوۄےَ ॥
جنم مرنھ دوۄےَ دُکھ میٹے سہجے ہیِ سُکھِ سوۄےَ ॥
ہرِ ہرِ کِرپا دھارہُ ٹھاکُر ہرِ جپیِئےَ آتم رامُ جیِءُ ॥
ہرِ ہرِ کرتا دوُکھ بِناسنُ پتِت پاۄنُ ہرِ نامُ جیِءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
کرتا ۔ کرتار ۔کرنے والا ۔ ونانس۔ مٹانے والا۔ پتت۔ ناپاک ۔ پاون۔ پوتر۔ پاک۔ اتم ۔ بلند۔ استھر۔ مستقل ۔ سہجے ۔ قدرتی ۔ٹھاکر۔ آقا۔ مالک ۔ آتم رام جیؤ۔ خدا۔ وہ روح جو ہر جا اور ہر ایک میں بسی ہوئی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
عالم کو پیدا کرنے والا کرتار سب عذاب مٹانے کی قوت رکھتا ہے اور الہٰی نام بدکاروں گناہگاروں کو پاک بنانے والا ہے ۔ خدمت خدا سے بلند روحانیت واخلاق ہوجاتا ہے یہی انسانی بلند فریضہ ہے ۔ بلند فریضہ ہے ۔ یاد الہٰی نام کی یادوریصت سےا نسان مستقل مزاج ہوجاتا ہے مٹ جاتا ہے تناسخ اسکا سکون روحانی پاتا ہے ۔ کرم فرما کر و میرے آقا ید کروں اللہ رام تجھے ۔

ہرِ نامُ پدارتھُ کلِجُگِ اوُتمُ ہرِ جپیِئےَ ستِگُر بھاءِ جیِءُ ॥
گُرمُکھِ ہرِ پڑیِئےَ گُرمُکھِ ہرِ سُنھیِئےَ ہرِ جپت سُنھت دُکھُ جاءِ جیِءُ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپِیا دُکھُ بِنسِیا ہرِ نامُ پرم سُکھُ پائِیا ॥
ستِگُر گِیانُ بلِیا گھٹِ چاننھُ اگِیانُ انّدھیرُ گۄائِیا ॥
ہرِ ہرِ نامُ تِنیِ آرادھِیا جِن مستکِ دھُرِ لِکھِ پاءِ جیِءُ ॥
ہرِ نامُ پدارتھُ کلِجُگِ اوُتمُ ہرِ جپیِئےَ ستِگُر بھاءِ جیِءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
پدارتھ ۔ نعمت۔ کلجگ ۔ کال۔ موت۔ اخلاق یار وحانی موت ۔ جگ ۔ زمانہ ۔ اس اخلاقی موت کے زمانے میں۔ ستگر بھائے ۔ جیسے سچا مرشد چاہتا ہے ۔ گورمکھ ہر پڑھیئے ۔ مرشد کی وساطت سے خدا کو سمجھو ۔ اور سنو۔ ونسیا۔ مٹیا ۔ پرم سکھ ۔ بھاری بلند راحت۔ گیان۔ سمجھ ۔ دانشمندی ۔ گھٹ چانن۔ دل سمجھ اور دانشمندی سے روشن ۔ روشناس ہوا۔ اگیان ۔ نا سمجھی ۔ نادانی ۔ اندھیرا۔ جہالت۔ تنی ۔ انہوں نے ۔ ارادھیا۔ دل میں بسائیا۔ مستک ۔ پیشانی ۔ دھر ۔ الہٰی بارگاہ سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اس مالیات کی گرفت میں مکوت زمانے میں الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت پرستی بھاری نعمت ہے مگر اس نام پر عمل اور یاد سچے مرشد کے پیار سے ہی ہوسکتا ہے ۔ مرشد کی مصرفت اسے سمجھو سنو اس کی یادوریاض سے عذاب مٹ جاتے ہیں اور بھاری سکون روحانی اور راحت محسوس ہوتی ہے ۔ سچے مرشد کے سبق سے دل علم و دانمشندی سے پر نور ہوجاتا ہے ۔ جہات کا اندھیرا مٹ جاتا ہے دانشمندی کا سورج طلوع ہوجاتا ہے ۔ مگر خدا کو یاد وریاض وہی کرتے ہیں جن کی پیشانی پر الہٰی بارگاہ کی طرف سے تحریردکندہ ہوتے ہیں۔ یہ دنیاوی سمایہ کی گفت آئے جہاں میں الہٰی نام ایک نعمت ہے مگر یہ الہٰی نام مرشد کی محبت میں یاد ہو سکتا ہے ۔

ہرِ ہرِ منِ بھائِیا پرم سُکھ پائِیا ہرِ لاہا پدُ نِربانھُ جیِءُ ॥
ہرِ پ٘ریِتِ لگائیِ ہرِ نامُ سکھائیِ بھ٘رمُ چوُکا آۄنھُ جانھُ جیِءُ ॥
آۄنھ جانھا بھ٘رمُ بھءُ بھاگا ہرِ ہرِ ہرِ گُنھ گائِیا ॥
جنم جنم کے کِلۄِکھ دُکھ اُترے ہرِ ہرِ نامِ سمائِیا ॥
جِن ہرِ دھِیائِیا دھُرِ بھاگ لِکھِ پائِیا تِن سپھلُ جنمُ پرۄانھُ جیِءُ ॥
ہرِ ہرِ منِ بھائِیا پرم سُکھ پائِیا ہرِ لاہا پدُ نِربانھُ جیِءُ ॥੩॥
لفظی معنی:
من بھا ئیا۔ دل کو اچھا لگا۔ لاہا ۔ منافع۔ پد نر بان۔ ذہن کی وہ حالت جہاں خواہشات بے اثر ہوجاتے ہیں۔ ہر پریت ا لہٰی محبت ۔ سکھائی۔ ساتھی ۔ بھرم ۔ وہم وگمان ۔ بھو ۔ خوف۔ کل وکھ ۔ گناہ ۔ دکھ اترے ۔ عذاب مٹے ۔ سپھل۔ کامیاب پروان۔ منظور ۔ قبول ۔پرم سکھ ۔ بلند روحانی سکون ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس شخص کے دل میں ہے محبت خدا سے بلند روحانی سکون وہ پا لیتا ہے اس کی ذہنی حالت ایسی ہو جاتی ہے جہاں خواہشات بے اثر ہوجاتی ہیں اور ایسا منافع کماتا ہے ۔ جسے پیار ا الہٰی ہوجاتا ہے الہٰی نام اسکا صدیوی ساتھی وہجاتا ہے تناسخ کا وہم وگامن مٹ جاتا ہے الہٰی حمدوثناہ کی جنہوں نے تناسخ ہوا ختم اور خود مٹے دیرینہ گناہ و عذاب مٹے اور صدیوی طور پر الہٰی نام میں محو ومجذوب ہوئے ۔ جنہوں نے بارگاہ الہٰی سے تحریر تقدیر کی مطابق الہٰی حمدوثناہ کی انہوں نے اپنی زندگی کامیاب بنالی اور بارگاہ الہٰی مقبول ہوئے ۔ جن انسانوںکو الہٰی نام سے ہوئی محبت انہوں نے بلند روحانی سکون اور وہ روحانی حالت حاصل کی جہاں خواہشات نفسانی اثر انداز نہیں ہو سکیں۔

جِن٘ہ٘ہ ہرِ میِٹھ لگانا تے جن پردھانا تے اوُتم ہرِ ہرِ لوگ جیِءُ ॥
ہرِ نامُ ۄڈائیِ ہرِ نامُ سکھائیِ گُر سبدیِ ہرِ رس بھوگ جیِءُ ॥
ہرِ رس بھوگ مہا نِرجوگ ۄڈبھاگیِ ہرِ رسُ پائِیا ॥
سے دھنّنُ ۄڈے ست پُرکھا پوُرے جِن گُرمتِ نامُ دھِیائِیا ॥
جنُ نانکُ رینھُ منّگےَ پگ سادھوُ منِ چوُکا سوگُ ۄِجوگُ جیِءُ ॥
جِن٘ہ٘ہ ہرِ میِٹھ لگانا تے جن پردھانا تے اوُتم ہرِ ہرِ لوگ جیِءُ ॥੪॥੩॥੧੦॥
لفظی معنی:
میٹھ ۔ میٹھے ۔ پیارے ۔ پردھان۔ مقبول۔ با عزت وحشمت ۔ اتم ۔ بلند عظمت ۔ وڈائی ۔ عظمت و حشمت۔ سکھائی ۔ ساتھی ۔ رس بھوگ۔ لطف اٹھانا۔ گر سبدی۔ کلام مرشد کے ذریعے نرجوگ۔ بے واسطہ جسکا کسی سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قیمت سے ۔ ست پرکھا۔ حقیقت پر ست۔ رین ۔ دہول۔ پگ۔ پاوں۔ سادہو ۔ جنہوں نے اپنا اخلاق و شعور روحانی طور پر درست بنالیا۔ سوگ۔ افسوس ۔ وجوگ۔ جدائی۔
ترجمہ معہ تشریح:
جنہیں ہوجاتا ہے عشق خا سے مقبول ہو جاتا ہے عزت و حشمت پاتے ہیں اور بلند عظمت ہا جاتا ہے ۔ الہٰی نام سے ہے وقار انکا نام الہٰی ساتھی سنگی ہے ۔ سبق وکلام مرشد پاکر الہٰی نام کا لطف اٹھاتے ہیں الہٰی نام کا لطف اُٹھاتے ہیں جس کی برکت سے طارق ہوجاتے ہیں۔ یہ خوشی قسمتی ہے ان کی جو نام الہٰی میں محو ہوجاتے ہیں حق پرستی اور حقیقت میں جو اپنا دھیان لگاتے ہیں۔س بق مرشد سےجو نام میں دھیان جماتے ہیں کامل حق پرستی بن جاتے ہیں۔ مبارکباد یں پاتے ہیں۔
خادم نانک۔ مانگتا ہے دہول ایسے پاکدامنوں کی جن سے دل سے جدائی اور غم مٹ جاتے ہیں جنہیں ہوجاتا ہے عشق خدا سے مقول وہ ہوجاتے ہیں عظمت و حشمت پاتے ہیں بلند عظمت ہوجاتے ہیں۔

آسا مہلا ੪॥
ستجُگِ سبھُ سنّتوکھ سریِرا پگ چارے دھرمُ دھِیانُ جیِءُ ॥
منِ تنِ ہرِ گاۄہِ پرم سُکھُ پاۄہِ ہرِ ہِردےَ ہرِ گُنھ گِیانُ جیِءُ ॥
گُنھ گِیانُ پدارتھُ ہرِ ہرِ کِرتارتھُ سوبھا گُرمُکھِ ہوئیِ ॥
انّترِ باہرِ ہرِ پ٘ربھُ ایکو دوُجا اۄرُ ن کوئیِ ॥
ہرِ ہرِ لِۄ لائیِ ہرِ نامُ سکھائیِ ہرِ درگہ پاۄےَ مانُ جیِءُ ॥
ستجُگِ سبھُ سنّتوکھ سریِرا پگ چارے دھرمُ دھِیانُ جیِءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
ست جگ ۔ ست۔ سچ ۔ جگ ۔ زمانہ ۔ وہ زمانے جس میں سچ با اثر اور اہمیت رکھتا تھا ۔ ست ۔ روحانی قوت سے مراد ۔ سنتوکھ ۔ صبر۔ ست جگ سب نتوکھ سریر۔ سارے صابر تھے ۔ پگ چارے دھرم دھیان جیؤ۔ اسوقت ہر انسان مکمل طور پر فرض شناش تھا ۔ فرض میں توجہ لگاتے تھے ۔ من تن ہر گاویہہ۔ دل وجان سے الہٰی حمدوثناہ کرتے تھے ۔ پرم سکھ ۔ بلند روھانی سکون و آسائش ۔ ہرگن گیان ۔ الہٰی اوصاف کی سمجھ ۔ گیان پدارتھ ۔ علم سمجھ کی نعمت۔ ہر ہر کرتارتھ ۔ الہٰی حمدوثناہ کرنا ۔ مدعا و مقصد تھا ۔ سوبھا ۔ شہرت ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ سکھائی ۔ ساتھی ۔ درگیہہ ۔ الہٰی عدالت۔ مان۔ عزت ۔ وقار۔
ترجمہ معہ تشریح:
سچ اور حقیقت کے دور میں جسے ست جگ کا نام دیا گیا ہے ہر شخس صابر تھا اور فرض شناشی میںلوگوں کا مکمل رجوع اور دھیان تھا ۔اور فرض شنشی میں لوگوں کا مکمل رجوع اور دھیان تھا ۔ او ر فرض شناسی میں یقین رکھتے تھے اور الہٰی حمدوثناہ کرکے بھایر روحانی سکون پاتے تھے ان کے دل میں الہٰی اوصاف کی سمجھ تھی ۔ سمجھ و علم کی نعمت اور الہٰی حمدوثناہ ان کے لئے مدعا و مقصد مطلوب تھا اور مرید مرشد ہونا ایک شہرت ۔ خدا ہر جگہ واحد ہے اور ہرجائی ہے اس کے علاوہ دوسرا اسکا کوئی ثانی نہیں جو انسان خدا سے پیار کرتا ہے الہٰی نام اسکا ساتھی بن جاتا ہے اور الہٰی عدالت میں عظمت و حشمت پاتا ہے ۔ ایسے حقیقت پرست سچی ( روحیں ) روح والے انسان صبر رکھتے ہیں اور فرض شناشی میں مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہی ان کی زندگی کا مدعا و مقصد ہوتاتھا ۔

تیتا جُگُ آئِیا انّترِ جورُ پائِیا جتُ سنّجم کرم کماءِ جیِءُ ॥
پگُ چئُتھا کھِسِیا ت٘رےَ پگ ٹِکِیا منِ ہِردےَ ک٘رودھُ جلاءِ جیِءُ ॥
منِ ہِردےَ ک٘رودھُ مہا بِسلودھُ نِرپ دھاۄہِ لڑِ دُکھُ پائِیا ॥
انّترِ ممتا روگُ لگانا ہئُمےَ اہنّکارُ ۄدھائِیا ॥
ہرِ ہرِ ک٘رِپا دھاریِ میرےَ ٹھاکُرِ بِکھُ گُرمتِ ہرِ نامِ لہِ جاءِ جیِءُ ॥
تیتا جُگُ آئِیا انّترِ جورُ پائِیا جتُ سنّجم کرم کماءِ جیِءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
تیتا جگ ۔ زمانے کا تیسرا دور۔ انتر ۔ دلمیں۔ زور پائیا۔ طاقت ۔ قوت بازور میں اضافہ ہوا۔۔ سنجم۔ پرہیز گاری ۔ جت ۔ حفاظت تخم ریزی ۔ گرم ۔ اعملا۔ پگ چوھتا ۔ چوتھا پاوں۔ کھیا ۔ لنگڑا ہوا۔ ٹوٹا۔ کرودھ ۔ غصہ ۔ جلائے ۔ جلیا ۔ پیدا ہوا ۔ کرودھ مہاوسلودھ ۔ جو ایک بھاری زہر ہے اخلاق و روحانیت کے لئے ۔ نرپ ۔ راجے ۔ حکرمان ۔ دھاویہہ۔ حملہ آور۔ ممتا۔ میری ۔ ملکیت ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ اہنکار۔ گرور۔ تکبر۔ وکھ ۔ زہر۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ ہر نام۔ الہٰی نام۔ لیہہ جائے ۔ دور ہوجاتے ہیں ۔مٹ جاتے ہیں۔
ترجمہ معہ تشریح:
وہ زمانہ جس میں قوت بازور کا زور تھا جسمیں تکم ریزی (تتا جگ آئیا )پر ضبط پرہیز گاری ۔ والے اعمال کرتے تھے ۔ اسی کو ہی فرض انسانی سمجھ بیٹھتے تھے یعنی انسانی اخلاق و فرض انسانی کا ایک جز کم ہوگیا صرف تین جذیاتی رہ گئے ۔ اب دل میں غسہ نمودار ہوگیا جو ایک زہریلے درخت کی مانند ہے ۔ اس زور و جبر کے خیالات و تاثرات کی وجہ سے ہی یہ راجے مہارجے ایکدوسرے پر حملہ کرتے ہیں اور لڑائی جھگڑوں سے عذاب پاتے ہیں ۔ ان کے دل میں خودی اور تکبر پیدا ہوتا ہے مریی ملکیت کی بیماری پیدا ہوتی ہے ۔ جب خدا مہربان ہوتا ہے سبق مرشد سے یہ زہر سبق مرشد سے ختم ہوجاتی ہے اور الہٰی نام اس کے لئے اپنا تاثر دیتا ہے ۔ جس انسان کے دل میں زور و جبر کی عادات پیدا ہوجاتی ہے اس کے لئے تریتا جگ ہے ۔

جُگُ دُیاپُرُ آئِیا بھرمِ بھرمائِیا ہرِ گوپیِ کان٘ہ٘ہُ اُپاءِ جیِءُ ॥
تپُ تاپن تاپہِ جگ پُنّن آرنّبھہِ اتِ کِرِیا کرم کماءِ جیِءُ ॥
کِرِیا کرم کمائِیا پگ دُءِ کھِسکائِیا دُءِ پگ ٹِکےَ ٹِکاءِ جیِءُ ॥
مہا جُدھ جودھ بہُ کیِن٘ہ٘ہے ۄِچِ ہئُمےَ پچےَ پچاءِ جیِءُ ॥
دیِن دئِیالِ گُرُ سادھُ مِلائِیا مِلِ ستِگُر ملُ لہِ جاءِ جیِءُ ॥
جُگُ دُیاپُرُ آئِیا بھرمِ بھرمائِیا ہرِ گوپیِ کان٘ہ٘ہُ اُپاءِ جیِءُ ॥੩॥
لفظی معنی:
بھرم بھرمائیا۔ وہم وگمان میں بھٹکن ۔ اپائے ۔ پیدا کئے ۔ تپ تاہن۔ تپسیا۔ پن ۔ ثواب ۔ آر نبھیہہ۔ شرور کرنا ۔ کریا کرم ۔ کرم کانڈ۔ شاشتروں یا ہندو دھارمک کتابوں میں تحریر رسمی اعمال انسانی فرائض کے دو جز ختم ہوگئے صرف دو باقی رہ گئے ۔مہاجدھ ۔ بھاری جنگ ۔ جودھ ۔ جنگجو ۔ ہونمے ۔ خودی ۔ بچے بچائے ۔ بکر اور حسد میں جلتے اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ دین دیال ۔ غریبوں ناتوانوں پر مہربان ۔ گر سادھ ۔ پادکامن مرشد۔ مل لیہہ جائے جیؤ۔ گناہوں اور بدکاریوں کی غلاظت اورناپاکیزگی ۔ مٹ جاتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جو بھی انسان زاد اس عالم میں پیدا ہوئی ہے ان میں سے جو جو وہم وگمان اور دولت کی خواہشات میں بھٹکتے ہیں ان کے لئے یہ دوآپر جگ ہے ۔ اس جگ یا زمانے میں گوپیاں اور کاہن پیدا ہوئے ہیں۔ لوگ تپسیا کرتے ہیں اور یگریہہ وغیرہ کو ثواب سمجھ کر ایسے نیک اعمال کرتے ہیں اور دھارمک اس میں ادا کرتے ہیں۔ یعنی اس طرح انسانی حقیقی فرائض اور ہورے رہ گئے ۔ اس زمانے میں بھاری جنگ وجدل جدل ہوئے اور خودی اور تکبر میں ذلیل و خوار ہوتے رہے مہربان و مشفق مرشد نے غریبوں اور ناتوانوں پر مہربانی فرمانے والے خدا سے ملائیا مرشد کے ملاپ سے اخلاقی و روحانی غلاظت اور ناپاکیزگی دور ہوجاتی ہے انسان زاد جو دنیاوی دولت کی بھٹکن میں ہین ان کے لئے ہر وقت دوآپر یگ ہے ۔

کلِجُگُ ہرِ کیِیا پگ ت٘رےَ کھِسکیِیا پگُ چئُتھا ٹِکےَ ٹِکاءِ جیِءُ ॥
گُر سبدُ کمائِیا ائُکھدھُ ہرِ پائِیا ہرِ کیِرتِ ہرِ ساںتِ پاءِ جیِءُ ॥
ہرِ کیِرتِ رُتِ آئیِ ہرِ نامُ ۄڈائیِ ہرِ ہرِ نامُ کھیتُ جمائِیا ॥
کلِجُگِ بیِجُ بیِجے بِنُ ناۄےَ سبھُ لاہا موُلُ گۄائِیا ॥
جن نانکِ گُرُ پوُرا پائِیا منِ ہِردےَ نامُ لکھاءِ جیِءُ ॥
کلجُگُ ہرِ کیِیا پگ ت٘رےَ کھِسکیِیا پگُ چئُتھا ٹِکےَ ٹِکاءِ جیِءُ ॥੪॥੪॥੧੧॥
لفظی معنی:
اوکھد ۔ دوآئی ۔ ہرِ کیِرتِ ۔ الہٰی صفت صلاح ۔ سانت ۔ سکون ۔ ٹھنڈک ۔ رت۔ موسم۔ وڈائی ۔ عظمت ۔ بزرگی کھیت ۔ فصل۔ ہر نام کھیت جمائیا۔ الہٰی نام کی فصل بوئی ۔ بن ناوے ۔ سچ و حقیقت کے بغیر ۔ لاہا۔ منافع ۔ مول ۔ اصل۔ جن نانک۔ خادم نانک نے ۔ پورا گر ۔ کامل مرشد ۔ ہر وے نام لکھائے ۔ دل میں ہی دیدار خدا کرادیا ۔
Missing

آسا مہلا ੪॥
ہرِ کیِرتِ منِ بھائیِ پرم گتِ پائیِ ہرِ منِ تنِ میِٹھ لگان جیِءُ ॥
ہرِ ہرِ رسُ پائِیا گُرمتِ ہرِ دھِیائِیا دھُرِ مستکِ بھاگ پُران جیِءُ ॥
دھُرِ مستکِ بھاگُ ہرِ نامِ سُہاگُ ہرِ نامےَ ہرِ گُنھ گائِیا ॥
مستکِ منھیِ پ٘ریِتِ بہُ پ٘رگٹیِ ہرِ نامےَ ہرِ سوہائِیا ॥
جوتیِ جوتِ مِلیِ پ٘ربھُ پائِیا مِلِ ستِگُر منوُیا مان جیِءُ ॥
ہرِ کیِرتِ منِ بھائیِ پرم گتِ پائیِ ہرِ منِ تنِ میِٹھ لگان جیِءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
ہر کیرت ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ منا بھائی۔ دل کو پیاری لگی ۔ پرم گت۔ بلند ترین روحانی زندگی کی حالت ۔ من تن ۔ دل وجان ۔ میٹھ لگان جیؤ۔ پیاری لگی ۔ ہر رس ۔ الہٰی لطف ۔ گرمت۔ سبق مرشد سے ۔ دھر مستک بھاگ پرا جیؤ۔ الہٰی درگاہ سے پہلے سے پیشانی یا اعمالنامے میں تحریر کی ہوئی تقدیر کے مطاب ۔ سہاگ۔ ہر نام سہاگ ۔ مراد سچ اور حقیقت اپنانے سے خدا پرست ہوا۔ مستک ۔ پیشانی ۔ منی ۔ روشنی ۔ پریت۔ پیار ۔ عشق ۔ پر گٹی ۔ ظاہر ہوئی ۔ سوہائیا ۔ شہرت پائی۔ جوتی جوت ملی ۔ الہٰی نور سے انسانی نور ملا ۔ مل ستگر ۔ سچے مرشد کے ملاپ سے ۔ منوا مان جیؤ۔ دل نے تسلیم کیا ۔ دل کی تسلی ہوئی ۔
ترجمہ:
جس کے دل کو الہٰی صف صلاح اچھی لگی اسے بلند اخلاق و روحانی زندگی کی بلند ترین حالت میسر ہوئی اور خدا کی محبت حاصل ہوئی ۔ الہٰی لطف میسر ہوا سبق مرشد سے خدا میں دھیان لگائیا جیسا کہ پہلے سے پیشانی پر اور اعمالنامے میں تحریر تھا ۔ میری تقدیر یا مقدر میں اس کے پیشانی پر تحریر اعمانامہ ظہور پذیر ہوا اور الہٰی نام اپنا کر خدا کی پہچان ہوئی اس لئے ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لئے الہٰی حمدوچناہ کرتا رہا ہے اس لئے پیشانی پر الہٰی عشق کی روشنی چمکنے لگتی ہے اور وہ اور اس کی ہوش اور روحانی نور الہٰی نور سے یکسو ہوجاتا ہے نور سے نور ملا الہٰیملاپ حاسل ہوا سچے مرشد کے ملاپ سے انسان الہٰی یاد میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ کہ جسے الہٰی صفت صلاح پیاری لگنے لگ جاتی ہے اسے بلند ترین اخلاق و روحانی زندگی حاصل ہو جاتی ہے ۔

ہرِ ہرِ جسُ گائِیا پرم پدُ پائِیا تے اوُتم جن پردھان جیِءُ ॥
تِن٘ہ٘ہ ہم چرنھ سریۄہ کھِنُ کھِنُ پگ دھوۄہ جِن ہرِ میِٹھ لگان جیِءُ ॥
ہرِ میِٹھا لائِیا پرم سُکھ پائِیا مُکھِ بھاگا رتیِ چارے ॥
گُرمتِ ہرِ گائِیا ہرِ ہارُ اُرِ پائِیا ہرِ ناما کنّٹھِ دھارے ॥
سبھ ایک د٘رِسٹِ سمتُ کرِ دیکھےَ سبھُ آتم رامُ پچھان جیِءُ ॥
ہرِ ہرِ جسُ گائِیا پرم پدُ پائِیا تے اوُتم جن پردھان جیِءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
ہر جس ۔ الہٰی صفت صلاح۔ پریم پد ۔بلند ترین رتبہ۔ پردھان ۔ مقبول عام۔ سر یویہہ۔ خدمت کرنا۔ کھ کھن ۔ بار بار ۔پگ ۔ پاوں۔ مٹھا ۔ پیار۔ پرم سکھ ۔بھاری سکون وآسائش ۔ مکھ۔ منہہ ۔ بھاگا۔ تقدیر رتی۔ محو ومجذوب ۔ گرمت ۔ سبق مرشد۔ ار ۔ ہردے ۔دل۔ کنٹھ ۔ گلہ ۔ سب ایک درشٹ ۔ ایکنظر ۔ یکساں ۔ سمت ۔ برابر۔ آٹم رام ۔ خدا۔
ترجمہ:
جو الہٰی حمدوثناہ کرتے ہیں بلند رتبے پاتے ہیں ۔ وہ بلند ترین روحانی درجے حاسل کرتے ہیں ۔ اور مقبول عام ہوجاتے ہیں ان کے ہم پاؤں کے خدمت کرتے ہیں اور بار بار پاؤں صاف کرتے ہیں۔ جنہیں خدا پیارا ہے ۔ جنہوں نے خدا کو پیارا کیا انہیں بلند ترین سکون و آرام و آسائش پائیا ان کے رخ سرخرو ہوئے ۔ سبق مرشد سے الہٰی حمدوثناہ کی انکی زبان اور گلے میں خدا بس گیا وہ سب کو برابر ایک نظر سے دیکھتا ہے اور خدا کو سب میں بستا سمجھتا ہے اور ہر جا بستا جا نتا ہے ۔ جو الہٰی صفت صلاح کرتا ہے وہ بلند ترین حاسل کرتا ہے اور مصول عالم ہوجاتا ہے ۔

ستسنّگتِ منِ بھائیِ ہرِ رسن رسائیِ ۄِچِ سنّگتِ ہرِ رسُ ہوءِ جیِءُ ॥
ہرِ ہرِ آرادھِیا گُر سبدِ ۄِگاسِیا بیِجا اۄرُ ن کوءِ جیِءُ ॥
اۄرُ ن کوءِ ہرِ انّم٘رِتُ سوءِ جِنِ پیِیا سو بِدھِ جانھےَ ॥
دھنُ دھنّنُ گُروُ پوُرا پ٘ربھُ پائِیا لگِ سنّگتِ نامُ پچھانھےَ ॥
نامو سیۄِ نامو آرادھےَ بِنُ نامےَ اۄرُ ن کوءِ جیِءُ ॥
ستسنّگتِ منِ بھائیِ ہرِ رسن رسائیِ ۄِچِ سنّگتِ ہرِ رسُ ہوءِ جیِءُ ॥੩॥
لفظی معنی:
ست سنگت۔ سچے آدمیوں کا اکٹھ ۔ من بھائی۔ دل کو پیارا لگا۔ ہر رسن رسائی۔ الہٰی نام سے پر لطف ہوئی ۔ گر سبد۔ کلا م مرشد۔ دگاسیا۔ روشن ہوا۔ سمجھ آئیا۔ بیجا ۔ دوسرا۔ انمرت۔ آب حیات ۔ اخلاقی اور روحانی زندگی عنایت کرنے والا پانی ۔ جن ۔ جسنے ۔ بدھ ۔ طریقہ ۔ لگ سنگت۔ صحبت ۔ ساتھیاں ۔ نامو سیو ۔ سچ اور حقیقت اپنا کر ۔ نامو ارادھے ۔ اور نام دلمیں بسا کر پختہ یاد کرکے ۔ ست سنگت۔ سچے ساتھیوں۔ من بھائی۔ دل کو پیاری لگی ۔ ہر رس۔ الہٰی لطف ۔
ترجمہ:
اے بھائی۔ الہٰی نام کا لطف محسوس کرنے والی پاکدامنوں کی صحبت و قربت جس کے دل کو پیاری لگتی ہے اسے صحبت و قربت میں سچ اور حقیقت خدا کا لطف محسوس ہوتا ہے ۔ وہ جیسے جیسے الہٰی نام کی ریاض کرتا ہے کلام مرشد برکات سے وہ خوشی محسوس کرتا ہے اور دل کھلتا ہے ۔ اسے خدا کے علاوہ کسی دوسرے سے واسطہ نہیں رہتا وہ ہمیشہ روھانی زندگی نعیات کرنے والا آب حیات نوش کرتا ہے ۔ جو یہ آبحیات نوش کرتا ہے اسے اپنی روحانی و اخلاقی حالت سمجھتا ہے اور ہر وقت مرشد کا شکر گذار رہتا ہے ۔ کیونکہ اسے مرشد کی وساطت سے الہٰی ملاپ حاصل ہوا ہے اور صحبت سے ہی سچ حقیقت اور اصلیت کی پہچان آتی ہے سچ اور حقیقت مراد نام اپنا کر نام یاد کرتا ہے ۔ سچے سچ اور حقیقت کے بغیر اس کسی دوسری چیز سے محبت نہیں ہوتی ۔ الہٰی نام میں محو اور مجذوب پاکدامنوں کی صحبت و قربت سے اس کے دل کو پیار ہوجاتا ہے اسے الہٰی نام لطف حاصل ہوتا ہے ۔

ہرِ دئِیا پ٘ربھ دھارہُ پاکھنھ ہم تارہُ کڈھِ لیۄہُ سبدِ سُبھاءِ جیِءُ ॥
موہ چیِکڑِ پھاتھے نِگھرت ہم جاتے ہرِ باںہ پ٘ربھوُ پکراءِ جیِءُ ॥
پ٘ربھِ باںہ پکرائیِ اوُتم متِ پائیِ گُر چرنھیِ جنُ لاگا ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپِیا آرادھِیا مُکھِ مستکِ بھاگُ سبھاگا ॥
جن نانک ہرِ کِرپا دھاریِ منِ ہرِ ہرِ میِٹھا لاءِ جیِءُ ॥
ہرِ دئِیا پ٘ربھ دھارہُ پاکھنھ ہم تارہُ کڈھِ لیۄہُ سبدِ سُبھاءِ جیِءُ ॥੪॥੫॥੧੨॥
لفظی معنی:
دئیا پربھ دھارہو۔ اے خدا مہربانی فرمایئے ۔ پاکھن ہم تارہ و۔ ہم پتھر جیسے ہیں ہمیں کامیابی عنایت کیجیئے ۔ سبد۔ سبھائے ۔ کلام یاسبق کے پریم پیار کی عنایت سے ۔ موہ چیکڑپھاتے ۔ محبت کی دلدل میں پھنسے ہوئے کو۔ نگھرت ۔ غرقاب ہو رہے کو ۔ یا نہہ پربھ پکرائے ۔ بطور امداد بازور پکڑیئے ۔ اتم مت ۔ بلند عقل ۔ مکھ ۔ منہ ۔ مستک ۔پیشانی ۔ بھاگ۔ تقدیر۔ قسمت ۔ سبھا گا۔ خوش قسمتی ۔ ہر کرپا دھاری ۔ مہربانی فرمائی۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خداوند کریم مہربانی فرما مجھ سخت دل کو اس دنیاوی زندگی جو ایک سمندر کی مانند ہے کلما مرشد اپنا کر اور اس کے پریم پیار سے محبت کی دلدل میں پھنسے ہوئے جا رہے کو اور اس میں غرقاب ہو رہے کو اپنا بازور پکڑا کر اس زندگی دلدل سے باہر نکلائے مراد کامیاب اخلاقی و روحانی زندگی عنایت کیجیئے اور بد کاریوں اور گناہوں بھری زندگی گذارنے سے بچاییئے ۔
جسکا امدادی خدا ہو جاتا ہے وہ عقلمند ہوجاتا ہے اور مرید مرشد بن جاتا ہے ۔ وہ سچ اور حقیقت پرست ہو جاتا ہے اور الہٰی نام اور خدا کے نام کی ریاض کرتا ہے اس کی زبان اور پیشانی پر خوش قسمتی بیدار ہوجاتی ہے ۔ اے خادم نانک ۔ جس پر خدا مہربان ہوتا اس کے دل کو خدا کے نام سے محبت ہوجاتی ہے ۔
اے خدا کرم فمرا۔ ہم پتھر جیسے دل والوں کو کلام مرشد سے ملا کر اور اپنی محبت سے ہمیں محبت کی دلدل سے باہر نکال لے ۔

آسا مہلا ੪॥
منِ نامُ جپانا ہرِ ہرِ منِ بھانا ہرِ بھگت جنا منِ چاءُ جیِءُ ॥
جو جن مرِ جیِۄے تِن٘ہ٘ہ انّم٘رِتُ پیِۄے منِ لاگا گُرمتِ بھاءُ جیِءُ ॥
منِ ہرِ ہرِ بھاءُ گُرُ کرے پساءُ جیِۄن مُکتُ سُکھُ ہوئیِ ॥
جیِۄنھِ مرنھِ ہرِ نامِ سُہیلے منِ ہرِ ہرِ ہِردےَ سوئیِ ॥
منِ ہرِ ہرِ ۄسِیا گُرمتِ ہرِ رسِیا ہرِ ہرِ رس گٹاک پیِیاءُ جیِءُ ॥
منِ نامُ جپانا ہرِ ہرِ منِ بھانا ہرِ بھگت جنا منِ چاءُ جیِءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
بھانا۔ پیارا۔ چاؤ۔ جوش۔ مر جیوے ۔ خویشتا ختم کر کے ۔ اپنا آپ مٹا کے ۔ گرمت۔ سبق مرشد۔ ہر بھاو۔ الہٰی محبت ۔ گر کرے پساو مرشد مہربانی کرے ۔ جیون مکت ۔ دوران حیات نجات ۔ دوران زندگی روحانی منزلت حاصل کر لینا تناسخ سے نجات ملتی ہے ۔ بساؤ ۔ کرم و عنایت ۔ سہیلے ۔ انسان۔ ہر ہر دے سوئی ۔ دلمیں وہی ہے خدا ۔ گرمت ۔ سبق مرشد سے ۔ ہر رسیا۔ الہٰی لطف میں محو ومجذوب ۔ گٹاک ۔ وڈی گھونتوں سے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
عابد ۔ ہر وقت اپنے دلمیں خدا کو ہر وقت یاد رکھتے ہیں انہیں الہٰی نام سے پیار ہمیشہ رہتا ہے الہٰی نام یاد کرنے کا ان کے دلمیں خوشی بھرا جوش رہتا ہے۔ جو شخص اپنا پن (خوئشتا ) ختم کرکے اخلاقی اور روحانی زندگی گذارتے ہیں جو آپ حیات ہے جو ایسا آب حیات نوش کرتے ہیں اور دلمیں سبق مرشد سے محبت ہے ۔ سبق مرشد کے تاثرات سے محبت بنی رہتی ہے ۔ جس شخص پر مرشد کرم فمرا ہوتا ہے اس ک دلمیں الہٰی محبت بسی رہتی ہے ۔ وہ دنیاوی زندگی گذارتے ہوئے دنیاوی بندشوں سے آزا رہتا ہے ۔ اور روحانی واخلاقی زندگی گذارتا ہے ۔
روحانی زندگی گذارنے کی وجہ سے اور خودی اور خوئشا پن ختم کرنے کی وجہ سے الہٰی نام کی شراکت کی وجہ سے ہمیشہ آسان زندگی گذارتے ہیں۔ ان کے دل میں الہٰی نام گھر کر جاتا ہے الہٰی نام باخوشی تمام جوش و خروش سے بساتے ہیں۔ عابدان الہٰی ہر وقت دلمیں خدا کو یاد کرتے ہیں۔ نام سے محبت ہوجاتی ہے

جگِ مرنھُ ن بھائِیا نِت آپُ لُکائِیا مت جمُ پکرےَ لےَ جاءِ جیِءُ ॥
ہرِ انّترِ باہرِ ہرِ پ٘ربھُ ایکو اِہُ جیِئڑا رکھِیا ن جاءِ جیِءُ ॥
کِءُ جیِءُ رکھیِجےَ ہرِ ۄستُ لوڑیِجےَ جِس کیِ ۄستُ سو لےَ جاءِ جیِءُ ॥
منمُکھ کرنھ پلاۄ کرِ بھرمے سبھِ ائُکھدھ داروُ لاءِ جیِءُ ॥
جِس کیِ ۄستُ پ٘ربھُ لۓ سُیامیِ جن اُبرے سبدُ کماءِ جیِءُ ॥
جگِ مرنھُ ن بھائِیا نِت آپُ لُکائِیا مت جمُ پکرےَ لےَ جاءِ جیِءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
جگ۔ دنیا۔ علام۔ مرن۔ موت۔ نت۔ ہر روز۔ بھائیا۔ پسند نہیں گرتے ۔ مت۔ کہیں۔ جم۔ فرشتہ موت ۔ عزائیل۔ چیئڑ۔ زندگی ۔ رکھیا۔ بچائیا۔ لوڑیجے ۔ ضرورت ۔ پلاو۔ ھیل و حجت۔ بہانہ سازی ۔ بھرمے ۔ بھٹکتا ۔ اوکھد ۔ دوائی بوٹی ۔ ابھرے ۔ بچے ۔ سبد کماے ۔ جو کلام پر عمل کرتے ہیں۔
ترجمہ:
دنیا میں موت کسے بھی پسند نہیں ہر روز اس سے چھپاتے ہیں کہ کہیں فرشتہ موت عزرائیل کہیں پکڑ کر نہ لیجائے ۔ مگر خدا ہر جگہ بستا ہے ۔ اس سے چھپا کر یہ بچائی ہیں جا سکتی ۔ یہ کیوں بچا کر رکھی جا سکتی جبکہ خدا کو اس کی ضرورت ہے ۔ جس کی یہ چیز ہے وہ لیجاتا ہے ۔ خودی پسند بہت سے حیلے بہانے اور حیل وحجت کرتا ہے اور بھٹکن میں ہر دوا دار و کرتا ہے مگر جب خدا نے یہ زندگی عنایت فرمائی ہے وہ اسے لے لیتا ہے خادمان خدا کلام مرشد کے عمل سے موت کے خوف سے بچ جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ لوگوں کو موت پسند نہیں اور اپنے آپ کو اس سے چھپاتے ہیں کہ کہیں فرشتہ موت پکڑ کر ہی نہ لیجائے ۔

دھُرِ مرنھُ لِکھائِیا گُرمُکھِ سوہائِیا جن اُبرے ہرِ ہرِ دھِیانِ جیِءُ ॥
ہرِ سوبھا پائیِ ہرِ نامِ ۄڈِیائیِ ہرِ درگہ پیَدھے جانِ جیِءُ ॥
ہرِ درگہ پیَدھے ہرِ نامےَ سیِدھے ہرِ نامےَ تے سُکھُ پائِیا ॥
جنم مرنھ دوۄےَ دُکھ میٹے ہرِ رامےَ نامِ سمائِیا ॥
ہرِ جن پ٘ربھُ رلِ ایکو ہوۓ ہرِ جن پ٘ربھُ ایک سمانِ جیِءُ ॥
دھُرِ مرنھُ لِکھائِیا گُرمُکھِ سوہائِیا جن اُبرے ہرِ ہرِ دھِیانِ جیِءُ ॥੩॥
لفظی معنی:
دھر مرن لکھائیا ۔ الہٰی درگاہ سے موت کا دن مقرر اور تحریر ہوتا ہے ۔ گورمکھ ۔ مرید مرشد۔ سوہائیا۔ اچھا لگا ۔ جن ۔خادم خدا۔ ابھرے ۔ بچے ۔ دھیان۔ توجہ ۔ ۔ سوبھا۔ شہرت ۔ وڈیائی ۔ عظمت و شہرت ۔ بیدھے ۔ پہنائے ہر نامے سیدھے الہٰی نام سے کامیابی ہوئے ۔ جنم مرن۔ تناسخ۔ سمائیا ۔ محو ومجذوب ہوئے ۔ ہرجن ۔ خادم خدا۔ سمان ۔ برابر۔
ترجمہ
مرید مرشد کو الہٰی درگاہ سے تحریر موت بھی اچھی لگتی ہے ایسے خادمان خدا و مرید مرشد الہٰیریاض سے موت کی خوف سے بچ جاتے ہیں ۔ الہٰی نام کی ریاض سے مریدان مرشد ہر دو عالموں میں عظمت و شہرت پاتے ہیں اور الہٰی دربار میں پہنائے جاتے ہیں خلعتیں پاتے ہیں اور الہٰی نام سے کامیابیاں پاتے ہیں اور اپنی زندگی کامیاب بنا لیتے ہیں آرام و آسائش پاتے ہیں۔ تناسخ مٹا کر الہٰی نام میں محو ومجذوب ہوجاتے ہیں ۔ الہٰی خادم اور خدا مل کر ایک شکل و صورت ہوجاتے ہیں۔ اور دونوں ایک جیسے ہوجاتے ہیں۔ مریدان مرشد کو الہٰی حضور سے ملی موت بھی پیاری اور اچھی لگتی ہے مریدان مرشد الہٰی نام میں محو ومجذوب ہوکر موت کے خوف سے بچے رہتےہیں۔

جگُ اُپجےَ بِنسےَ بِنسِ بِناسےَ لگِ گُرمُکھِ استھِرُ ہوءِ جیِءُ ॥
گُرُ منّت٘رُ د٘رِڑاۓ ہرِ رسکِ رساۓ ہرِ انّم٘رِتُ ہرِ مُکھِ چوءِ جیِءُ ॥
ہرِ انّم٘رِت رسُ پائِیا مُیا جیِۄائِیا پھِرِ باہُڑِ مرنھُ ن ہوئیِ ॥
ہرِ ہرِ نامُ امر پدُ پائِیا ہرِ نامِ سماۄےَ سوئیِ ॥
جن نانک نامُ ادھارُ ٹیک ہےَ بِنُ ناۄےَ اۄرُ ن کوءِ جیِءُ ॥
جگُ اُپجےَ بِنسےَ بِنسِ بِناسےَ لگِ گُرمُکھِ استھِرُ ہوءِ جیِءُ ॥੪॥੬॥੧੩॥
لفظی معنی:
جگ۔ عالم ۔ جہان ۔ دنیا۔ اپجے ۔ پیدا ہوتا ہے ۔ ونسے ۔ مٹ جاتا ہے ۔ لگ گورمکھ ۔ مرید مرشد کے ساتھ سے ۔ استھر۔ صدیوی پائیدار ۔ مستقل ۔ گرمنتر۔ درڑائے ۔ زندگی گذارنے کا مقصد و منزل اور طریقہ کار پختی کراتاہے ۔ ہر رسک رسائے ۔ الہٰی آب حیات ۔ جس سے زندگی پر نور اور اخلاقی وروحانی طور پر بلند ترین رتبہ حاصل کر لیتی ہے ۔ مرا د اسیا طریقہ و تدبیر انسان کے ذہن میں ڈالتا ہے ۔ انمرت مکھ چوئے ۔ ہواجیوئیا ۔ روحانی طور پر مردہ زندگی کو روحانی اور اخلاقی زندگی ملتی ہے ۔ بہوڑ۔ دوبارہ ۔ امر پد۔ وہ روحانی حالت دوبارہ روحانی زندگی ختم نہیں ہوتی ۔ امر ۔ صدیوی ۔ مستقل ۔ پد۔ رتبہ ۔ ہر نام سماوے سوئی ۔ وہ الہٰی نام میں محو ومجذوب رہتا ہے ۔ ادھار ۔ آسرا ۔ ٹیک۔ سہارا۔ بن ۔ بغیر ۔ نارے ۔خدا۔ سچ اور حقیقت ۔ اور ۔ دوسرا۔ دیگر۔
ترجمہ
دنیاوی دولت کی گرفت میں انسان ہی نہیں کل عالم پیدا ہوتا ہے مٹ جاتا ہے یہ انسان کی روحانی واخلاقی موت ہے مرید مرشد ہوکر مستقل مزاج ہوتا ہے ۔ مرشد جس کے دلمیں روحانی واخلاقی زندگی گذارنے کا طریقہ و تدبیر مکمل اور پختہ طور پر ذہن نشین کر ادیتا ہے جس کے ذہن و زبان میں یہ آب حیات ڈال دیتا ہے وہ الہٰی نام کے لطف و مزہ پاتا ہے اسے روحانی واخلاقی موت سے روحانی واخلاقی زندگی مل جای ہے پھر اسے دوبار ہ روحانی موت نہیں ہوتی ۔ الہٰی نام سے صدیوی زندگی ملتی ہے اور وہ رتبہ حاسل کر لیتا ہے ۔ جہاں روحانی موت کے تاثرات بے اکثر ہوجاتے ہیں اور وہ الہٰی نام میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے ۔ خادم نانک کو الہٰی نام کا آسرا اور سہارا ہے ۔ نام یعنی سچ اور حقیقت کے بغیر دوسرا کچھ نہیں۔ عالم پیدا ہوتا ہے ۔ فوت ہو جاتا ہے مرید مرشد ہوکر مستقل مزاج ہوجاتا ہے ۔

آسا مہلا ੪ چھنّت ॥
ۄڈا میرا گوۄِنّدُ اگم اگوچرُ آدِ نِرنّجنُ نِرنّکارُ جیِءُ ॥
تا کیِ گتِ کہیِ ن جائیِ امِتِ ۄڈِیائیِ میرا گوۄِنّدُ الکھ اپار جیِءُ ॥
گوۄِنّدُ الکھ اپارُ اپرنّپرُ آپُ آپنھا جانھےَ ॥
کِیا اِہ جنّت ۄِچارے کہیِئہِ جو تُدھُ آکھِ ۄکھانھےَ ॥
جِس نو ندرِ کرہِ توُنّ اپنھیِ سو گُرمُکھِ کرے ۄیِچارُ جیِءُ ॥
ۄڈا میرا گوۄِنّدُ اگم اگوچرُ آدِ نِرنّجنُ نِرنّکارُ جیِءُ ॥੧॥
لفظی معنی:
گوبند ۔ خدا۔اگم ۔ انسانی رسائی سے اوپر ۔ اگوچر۔ جو بیان نہ ہو سکے ۔ آد ۔ عالم کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے کا ۔ نرنجن۔ بیداگ پاک۔ نرنکار۔ جسکا کوئی آکار یا حجم یا جسم نہ ہو ۔ گت ۔ حالت۔ امت ۔ جسکا تول یا پیمائش نہ ہو سکے ۔ وڈیائی ۔ عظمت ۔ الکھ ۔ جو تحر نہ ہو سکے ۔ اپار ۔ لا محدود۔ جسکا کوئی کنارا نہ ہو ۔ اپرنپر ۔ پرے سےپرے ۔ لا محدود۔ جتن۔ جیو۔ جاندار ۔ انساان ۔ وچارے ۔ بچارے ۔ عاجز ۔ لاچار۔ مجبور ۔
ترجمہ:
خدا ب سے برا انسانی رسائی سے اوپر جس کی قدروقیمت بیان سے باہر اور سب سے پہلے یعنی اس عالم کے ظہور میں آنے سے پہلے کا واحد جس کی کوئی شکل وصورت اور بے حجم و جسم اور بیداغ پاک ہے ۔ جو سارے عالم کی بنیاد ہے ۔ اس کی عظمت بھی شمار تول سے باہرہے بیان نہیں کی جا سکتی ۔ حساب سے باہر بیشمار ہے ۔ یعنی اپنے آپ کو وہ خود ہی جانتا ہے ۔ ان بچارے جانداروں میں کونسی طاقت ہے کہ (تجھے ) خدا کی شکل و صورت بیان کر سکے ۔ جس پر تیری نظر عنایت ہو وہ مرید مرشد ہوکر اسکو سمجھ سکت اہے ۔ میرا خدا بلند سہتی ہے جو انسانی رسائی سے بلند بیان سے باہر علام کی بنیاد و سب سے پہلے پاک اور بلا شکل وصورت ہے ۔

توُنّ آدِ پُرکھُ اپرنّپرُ کرتا تیرا پارُ ن پائِیا جاءِ جیِءُ ॥
توُنّ گھٹ گھٹ انّترِ سرب نِرنّترِ سبھ مہِ رہِیا سماءِ جیِءُ ॥
گھٹ انّترِ پارب٘رہمُ پرمیسرُ تا کا انّتُ ن پائِیا ॥
تِسُ روُپُ ن ریکھ ادِسٹُ اگوچرُ گُرمُکھِ الکھُ لکھائِیا ॥
سدا اننّدِ رہےَ دِنُ راتیِ سہجے نامِ سماءِ جیِءُ ॥
توُنّ آدِ پُرکھُ اپرنّپرُ کرتا تیرا پارُ ن پائِیا جاءِ جیِءُ ॥੨॥
لفظی معنی:
آو پرکھ ۔ روز اول سے پہلے کا۔ اپرنپر۔ پر ے سے پرے ۔ لا محدود۔ کرتا ۔کارساز۔ کرنے والا۔ پار۔ کنارہ ۔ گھٹ انتر۔ دلمیں۔ پار برہم۔ پار لگا نے والا۔ سرب نرنتر۔ سب کے اندر۔ سمائے ۔ بستا ہے ۔ پرمیشور ۔ خدا ۔ انت ۔ آخر۔ روپ نہ ریکھ ۔ شکل وصورت ۔ ادست ۔ نظروں سے اوجھل۔ انند ۔ مکمل سکون ۔ گورمکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ الکھ ۔ خیال اور حساب سے باہر ۔ جسکا اندازہ نہ ہو سکے ۔ لکھائیا ۔ سمجھائیا۔ انند۔ پر سکون ۔ جب کسی قسم کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
ترجمہ:
روز اول سے پہلے کا تو بیشمار قدرت تیری اتنی وسعت ہے تیری جس کا کوئی کنار ہ نہیں ۔ ہر دل اندر دسا تیرا سب میں سمائیا رہتاہے ۔ ہر دل کے اندر نور ہے تیرا سب میں تیری ہستی ہے اتنی بھاری وسعت تیری جسکا اندازہ نا ممکن ہے ۔ شکل ہے نہ کوئی صورت تیری آنکھوں سے تو اوجھل ہے ۔ بیان سے تو باہر ہے مرشد ہی (ست کو ) سمجھاتا ہے ۔ روز شب سکون وہ پاتا ہے نام الہٰی میں محو ومجذوب ہو جاتا ہے ۔ اے خدا۔ سارے عالم کی اصلیت و حقیقت سب کی بنیاد ہے تو سب میںہے تیرا داسا ہے قادر قائنات ہے تو پیدا کرنے والا ہے تیری ہستی سب سے اوپر جسکا کوئی نہیں کنارہ ۔

توُنّ ستِ پرمیسرُ سدا ابِناسیِ ہرِ ہرِ گُنھیِ نِدھانُ جیِءُ ॥
ہرِ ہرِ پ٘ربھُ ایکو اۄرُ ن کوئیِ توُنّ آپے پُرکھُ سُجانُ جیِءُ ॥
پُرکھُ سُجانُ توُنّ پردھانُ تُدھُ جیۄڈُ اۄرُ ن کوئیِ ॥
تیرا سبدُ سبھُ توُنّہےَ ۄرتہِ توُنّ آپے کرہِ سُ ہوئیِ ॥
ہرِ سبھ مہِ رۄِیا ایکو سوئیِ گُرمُکھِ لکھِیا ہرِ نامُ جیِءُ ॥
توُنّ ستِ پرمیسرُ سدا ابِناسیِ ہرِ ہرِ گُنھیِ نِدھانُ جیِءُ ॥੩॥
لفظی معنی:
ست ۔ سچا۔ صدیوی ۔ اوناسی ۔لافناہ ۔ گنی ندھان ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ پردھان۔ مقبول عام۔ سبد۔ کلام۔ سجان ۔ دانشمند ۔ بیداری ۔ لکھیا۔ رویا۔ مجذوب ۔
ترجمہ:
اے خدا تو سچا ہے صدیوی ہے لافناہ ہے اوصاف کا خزانہ ہے ۔ اے خدا تو واحد ہے نہیںکوئی ثانی تیرا تیری ہستی ہے بیدار سدا سب میں تو بستاہے ۔ دانشمند ہے بیدار ہے نہیں کرئی دوسرا تیرے جیسا ۔ چلاتا ہے فرمان تیرا جو تو کرتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ سارے عالم میں واحد ہستی تیری تو سب میں بستا ہے مرشد سمجھاتا ہے اے خدا صدیوی تیری ہستی ہے سب سے اعلی حاکم تو اوصاف کا خزانہ تو کبھی نہ مٹنے والا ہے ۔

سبھُ توُنّہےَ کرتا سبھ تیریِ ۄڈِیائیِ جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ چلاءِ جیِءُ ॥
تُدھُ آپے بھاۄےَ تِۄےَ چلاۄہِ سبھ تیرےَ سبدِ سماءِ جیِءُ ॥
سبھ سبدِ سماۄےَ جاں تُدھُ بھاۄےَ تیرےَ سبدِ ۄڈِیائیِ ॥
گُرمُکھِ بُدھِ پائیِئےَ آپُ گۄائیِئےَ سبدے رہِیا سمائیِ ॥
تیرا سبدُ اگوچرُ گُرمُکھِ پائیِئےَ نانک نامِ سماءِ جیِءُ ॥
سبھُ توُنّہےَ کرتا سبھ تیریِ ۄڈِیائیِ جِءُ بھاۄےَ تِۄےَ چلاءِ جیِءُ ॥੪॥੭॥੧੪॥
لفظی معنی:
کرتا ۔ کرنے والا۔ وڈیائی ۔ عظمت ۔ بھاوے ۔ رضا۔ فرمان ۔ خواہش۔ سبد۔ فرمان۔ گومکھ ۔ مرشد کے ذریعے ۔ آپ ۔ خودی ۔ خوئش پن۔ اگوچر۔ ناقابل بیان ۔
ترجمہ:
اے خدا سب کو کرنے والی تیری ہستی ہے یہ ساری تیری عظمت سے ہے ۔ جیسے چاہتا ہے ویسے چلاتا ہے ۔ جیسے تو چاہتا ہے ویسے چلاتا ہے ویسے چلاتا ہے ۔ جیسے تو چاہتا ہے ویسے چلاتا ہے سارے تیرے زیر فرمان ہیں۔ جب تو چاہتا ہے تیرے زیر فرمان ہیں تیرے فرمان کی عظمت ہے ۔ مرشد عقل و ہوش و بیدای عنایت کرتا ہے اگر اپنے ذہن سے اپنا پن اور خودی نکال دی جائے اور تکبر دور دور کر دیا جائے ۔ تو خدا ہرجگہ بستا دکھائی دینے لگتا ہے ۔ اے نانک بتادے کہ اے خدا تیری رضا و فرمان بیان سے باہر ہے اور انسانی ذہن سے بلند تر ہے ۔ اس کو مرشد سمجھاتا ہے جو اسے سمجھ لیتا ہے وہ اس مین محو ومجذوب ہوجاتاہے ۔ اے کار ساز کرتار تو ہر جائی ہے یہ عالم سب تیرا ہی نور ہے جس طرح تیرا رضا و رغبت اور فرامن ہے اپنے اس علام کو اپنی رضا و فرمان میں چلاییئے ۔

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
آسا مہلا ੪ چھنّت گھرُ ੪॥
ہرِ انّم٘رِت بھِنّنے لوئِنھا منُ پ٘ریمِ رتنّنا رام راجے ॥
منُ رامِ کسۄٹیِ لائِیا کنّچنُ سوۄِنّنا ॥
گُرمُکھِ رنّگِ چلوُلِیا میرا منُ تنو بھِنّنا ॥
جنُ نانکُ مُسکِ جھکولِیا سبھُ جنمُ دھنُ دھنّنا ॥੧॥
ہرِ پ٘ریم بانھیِ منُ مارِیا انھیِیالے انھیِیا رام راجے ॥
جِسُ لاگیِ پیِر پِرنّم کیِ سو جانھےَ جریِیا ॥
جیِۄن مُکتِ سو آکھیِئےَ مرِ جیِۄےَ مریِیا ॥
جن نانک ستِگُرُ میلِ ہرِ جگُ دُترُ تریِیا ॥੨॥
ہم موُرکھ مُگدھ سرنھاگتیِ مِلُ گوۄِنّد رنّگا رام راجے ॥
گُرِ پوُرےَ ہرِ پائِیا ہرِ بھگتِ اِک منّگا ॥
میرا منُ تنُ سبدِ ۄِگاسِیا جپِ انت ترنّگا ॥
مِلِ سنّت جنا ہرِ پائِیا نانک ستسنّگا ॥੩॥
دیِن دئِیال سُنھِ بینتیِ ہرِ پ٘ربھ ہرِ رائِیا رام راجے ॥
ہءُ ماگءُ سرنھِ ہرِ نام کیِ ہرِ ہرِ مُکھِ پائِیا ॥
بھگتِ ۄچھلُ ہرِ بِردُ ہےَ ہرِ لاج رکھائِیا ॥
جنُ نانکُ سرنھاگتیِ ہرِ نامِ ترائِیا ॥੪॥੮॥੧੫॥
لفظی معنی:
ہر انمرت بھنے لوئنا۔ ہر ۔ خدا۔ انمرت۔ آب حیات ۔ وہ پانی جس سے اخلاقی و روحانی زندگی حاصل ہوتی ہے ۔ بھنے ۔ تم ۔ تر۔ لوئنا ۔ آنکھیں۔ من ۔ دل ۔ قلب۔ ذہن۔ پریم ۔پیار۔ محبت۔ رتننا۔ محو ومجذوب۔ من ۔ دل ۔ کسوتی ۔ آزمائش ۔ امتحان۔ پرکھنے والی وٹی ۔ کنچن ۔ سونا۔ سووننا۔ کتنی دنی کا ہے ۔ رن چلو لیا۔ چوں لالہ ۔ لالہ کےپھول جیسا رنگ ۔ من تنو۔ دل وجان ۔ بھنا۔ تم ۔ متاثر۔ سسک۔ خوشبو۔ جھکولیا۔ ترستر۔ سب جنم ساری زندگی ۔ پریم ۔ پانی ۔ پیارے کلام۔ ڈنیالے ۔ انوکھے ۔ نوکیلے ۔ یر ۔ پیر ۔ درد۔ پریتم ۔ پیار ۔ عشق۔ جربا۔ برداشت ۔ جیون مکت ۔ دوران حیات نجات۔ زندہ رہتے ہوئے آزادی بدیوں اور برائیوں ۔ سد جیوئے مریا۔ اپنے آپ کو اپنے پن کو ختم کرکے ۔ زندگی ۔ دتر۔ ۔ جو عبور نہ ہو سکے (2) مگدھ ۔ نہایت بیوقوف ۔ مورکھ ۔ بیوقوف۔ سرناگتی ۔ پناہ گزین۔ گوبند رنگا ۔پریمی خدا۔ رنگیلے خدا۔ گر پورے کامل مرشد۔ بھگت ۔ عاشق الہٰی ۔ خدمتگار خدا۔ منگا۔ مانگتا ہوں ۔ سبد ۔ کلام۔ وگسیا۔ خوش ہوا۔ جپ۔ یاد کرکے ۔ انتت۔ بیشمار۔ ترنگا۔ لہری ۔ ست سنگا۔ سچے ساتھیوں کی صحبت و قربت (3) دین دیال۔ غریبوں ناتانوں پر رحم کرنے والے ۔ بینتی ۔ عرض۔ گذارش۔ ہر رائیا۔ شہنشاہ خدا۔ ہر نام۔ الہٰی نام۔ بھگت وچھل۔ عبادت اور عابدوں سے پیار کرنے والا۔ بردھ۔ عادت ۔لاج ۔ حیا۔ شرم۔ عزت۔
ترجمہ:
الہٰی نام کے آب حیات سے میری آنکھوں میں سرور ہے اور میرا دل الہٰی پیار و پریم میں رنگین ہوگیا ہے ۔ خدا نے میرے دل کا امحتان لیا ہے جس سے یہ صبح سونے کی مانند ہوگیا ہے ۔ اور میرا دل گل لالہ کی مانند سرخ ہوگیا ہے اور تر بتر ہو گیا ہے ۔ خادم نانک الہٰی نام کے مشک عنبر اچھی طرح خوشبو سے بھر گیا ہے ۔ ساری زندگی خوش باش اور خوش قسمت ہوگئی ہے (1) الہٰی کلام نے میری دل کو اتنا اور اسطرح سے متاثر کیا جتنا کہ نوکیلے تیرے کسی چیز کو مجروح کر دیتے ہیں۔ جس انسان کے دلمیں الہٰی پیار کا درد پیدا ہوتا ہے وہی اس درد کو سمجھتا ہے ۔ کہ اسے کیسے برداشت کیا جاتا ہے ۔ ج و انسان دنیاوی دولت سے بے نیاز ہوکر خوش اخلاق روحانی زندگی اور پاکی ہ زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ گھر یلو خانہ داری محنت و مشقت کرکے روزی کماتا ہوا دنیاوی بندشوں سے آزاد رہتا ہے اسے دوران حیات نجات کہتے ہیں۔ اےخادم نانک بتادے کہ اے خدا مجھے سچے مرشد سے ملا دے تاکہ اس دنیا سے جو ایک خوفناک سمندر کی مانند ہے جو ناقابل عبور ہے کامیابی سے پار ہو جاؤ ں مراد کامیابی حاصل ہو (2) اے خوشیوں اور جاہ جلال کے مالک خدا ہم نادان تیری پناہ میں آئے ہیں ہمیں ملئے ۔ کامل مرشد سے تیری عبادت و خدمت کینعمت مانگتے ہیں ۔ میری دل وجان بشمار ولولوں اور لہروں کے مالک کی یاد سے دل کھل گیا ہے ۔ ولی اللہ کے ملاپ سے اور سچے ساتھیون کے ساتھ سے مجھے الہٰی وصل ہو گیا ہے (3)
اے غریبوں ناتوانوں لاچاروں اور مجبوروں پر مہربان رحمان الرحیم خداوند کریم میں الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت کی دعا و پناہ مانگتا ہوں کہ میری زباں یہ تیری انم ہو ۔ عابدوں سے محبت اے خدا تیری پرانی عادت ہے ۔ اے خدا تو اس کی عزت بچاتا ہے ۔ خادم نانک بھی الہٰی پناہ گزریں ہے خدا اپنے نام سے اس زندگی کے سمندر سے کامیابی سے عبور کرائیا ۔

آسا مہلا ੪॥
گُرمُکھِ ڈھوُنّڈھِ ڈھوُڈھیدِیا ہرِ سجنھُ لدھا رام راجے ॥
کنّچن کائِیا کوٹ گڑ ۄِچِ ہرِ ہرِ سِدھا ॥
ہرِ ہرِ ہیِرا رتنُ ہےَ میرا منُ تنُ ۄِدھا ॥
دھُرِ بھاگ ۄڈے ہرِ پائِیا نانک رسِ گُدھا ॥੧॥
پنّتھُ دساۄا نِت کھڑیِ مُنّدھ جوبنِ بالیِ رام راجے ॥
ہرِ ہرِ نامُ چیتاءِ گُر ہرِ مارگِ چالیِ ॥
میرےَ منِ تنِ نامُ آدھارُ ہےَ ہئُمےَ بِکھُ جالیِ ॥
جن نانک ستِگُرُ میلِ ہرِ ہرِ مِلِیا بنۄالیِ ॥੨॥
گُرمُکھِ پِیارے آءِ مِلُ مےَ چِریِ ۄِچھُنّنے رام راجے ॥
میرا منُ تنُ بہُتُ بیَراگِیا ہرِ نیَنھ رسِ بھِنّنے ॥
مےَ ہرِ پ٘ربھُ پِیارا دسِ گُرُ مِلِ ہرِ منُ منّنے ॥
ہءُ موُرکھُ کارےَ لائیِیا نانک ہرِ کنّمے ॥੩॥
گُر انّم٘رِت بھِنّنیِ دیہُریِ انّم٘رِتُ بُرکے رام راجے ॥
جِنا گُربانھیِ منِ بھائیِیا انّم٘رِتِ چھکِ چھکے ॥
گُر تُٹھےَ ہرِ پائِیا چوُکے دھک دھکے ॥
ہرِ جنُ ہرِ ہرِ ہوئِیا نانکُ ہرِ اِکے ॥੪॥੯॥੧੬॥
لفظی معنی:
گور مکھ ۔ مرشد کے معرفت ۔ ڈہونڈ۔ تلاش۔ ہر سجن۔ دوست خدا۔ لدھا۔ ملا۔ کنچن کائیا کوٹ گڑھ ۔ ہر جسم ایک سونے کا قلعہ ہے ۔ وچ ہر ہر سدھا ۔ اسمیں خدا ظہور پذیر ہے ۔ ہر ہر ہیرارتن۔ خدا ایک قیمتی سدا ہے ۔ جس نے میرا دل وجان بندھا ہوا ہے ۔ رس دھا۔ اس سے پر لطف ہوا (1) پنتھ دساوا نت گھڑی ۔ ہر روز اس کا راستہ کھڑے ہوکر انتظار کرتی ہوں۔ مندھ ۔ مست ۔ جوبن ۔ بالی ۔ نوجوان دوشیزہ ۔ چیتائے ۔ یاد کراتا ہے ۔ ہر مارگ ۔ الہٰی راستے ۔ آدھار۔ آسرا۔ ہونمے وکھ جالی ۔ خودی کی زہر جلا دی ۔ بنوالی ۔ جنگلوں کا مالک خدا (2) چری ۔ ویرینہ ۔ وچھونے ۔ جدائی پائے ہوئے ۔ بیراگیا۔ اداس ۔ غمگین ۔ نین ۔ آنکھیں۔ رس بھنے ۔لطف سےپرتیم ۔منے ۔ بھروسہ مندہو۔ پر یقین (4) گرا نمرت بھنی دہلیری ۔ مدشد کا آب حیات سے معطرجسم۔ انمرت ہر کے ۔ آب حیات کی بارش کرتا ے ۔ دوسروں پرپر ۔ گر بانی ۔ کلام مرشدی ۔ من بھائیا۔ من کو پیاری لگی ۔ انمرت چھک چھکے ۔ آب حیات نوش کرکے سیر ہوگئے ۔ تٹھے ۔ مہربان۔ چو کے ختم ہوئے ۔ دھک دھکے ۔ جبر و ستم ۔ زور جبری ۔
ترجمہ:
مرید مرشد ہوکر تلاش کرتے مجھے دوست خدا ملا ہر انسانی جسم ایک سونے کا قلعہ ہے جس میں خدا مقسیم ہے خدا ایک نہایت قیمتی اشیا ہے میرا دل وجان اس نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ اے نانک۔ الہٰی درگاہ سے بلند قسمت سے الہٰی ملاپ حاصل ہوگیا ہے اور میرا آپا اس کی محبت میں پر لطف ہوگیا ہے (1) نوجوان دوشیزہ جو ہر روز راستے پر کھڑی ہوکر راستہ پوچھتی ہے کی مانند اے سچے مرشد مجھے خداوند کریم کا نام یاد کرایئے ۔ تاکہ اس کے راستے پر گامزن ہو سکوں ۔ میرے دل وجان کونام کا ہی سہارا ہے ۔ اس سے خودی کو مٹادوں ۔ اے خادم نانک سچے مرشد سے ملا اس خدا کو جنگلوں کا مالک ہے ۔ مرشد کے ذریعے ہی ملا ہے (2) اے میرے پیارے خدا مجھ دیرینہ جدائی پائے ہوئے کو مرشد کے وسیلے سے مل میرا دل ناہیت غمگین ہو رہا ہے اور آنکھیں پریم پیار سے پرنم ہیں۔ اے میرے پیارے خدا مجھے مرشد کی خبر بتا مرشد کے ملاپ سے یرا دل کو مجھ میں یقین اور بھروسہ ہوجائیگا ۔ اے خدا میں نادان ہو اے نانک یہ بتادے کہ مجھے کام عنایت کر دیا ہے (3) مرشد کا جسم آب حیات میں بھیگا ہوا ہے جو دوسروں پر آب حیات کا چھڑکا ؤ کرتا ہے ۔ جن کو کلام مرشد پیار ہے وہ آب حیات کے لطف کا مزہ لیکر روحانی زندگی عنیات کرنے والے نام کی آب سے تربتر ہوجاتے ہیں۔ اے نانک ۔ مرشد کی کرم وعنایت سے ہر رو ز ک زور و جرختم ہوجاتا ہے ۔ خادم خدا خدا جیسا ہوجاتا ہے خادم اور خدا میں جدائی نہیں رہتی خادم خدا میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے

آسا مہلا ੪॥
ہرِ انّم٘رِت بھگتِ بھنّڈار ہےَ گُر ستِگُر پاسے رام راجے ॥
گُرُ ستِگُرُ سچا ساہُ ہےَ سِکھ دےءِ ہرِ راسے ॥
دھنُ دھنّنُ ۄنھجارا ۄنھجُ ہےَ گُرُ ساہُ ساباسے ॥
جنُ نانکُ گُرُ تِن٘ہ٘ہیِ پائِیا جِن دھُرِ لِکھتُ لِلاٹِ لِکھاسے ॥੧॥
سچُ ساہُ ہمارا توُنّ دھنھیِ سبھُ جگتُ ۄنھجارا رام راجے ॥
سبھ بھاںڈے تُدھےَ ساجِیا ۄِچِ ۄستُ ہرِ تھارا ॥
جو پاۄہِ بھاںڈے ۄِچِ ۄستُ سا نِکلےَ کِیا کوئیِ کرے ۄیچارا ॥
جن نانک کءُ ہرِ بکھسِیا ہرِ بھگتِ بھنّڈارا ॥੨॥
ہم کِیا گُنھ تیرے ۄِتھرہ سُیامیِ توُنّ اپر اپارو رام راجے ॥
ہرِ نامُ سالاہہ دِنُ راتِ ایہا آس آدھارو ॥
ہم موُرکھ کِچھوُء ن جانھہا کِۄ پاۄہ پارو ॥
جنُ نانکُ ہرِ کا داسُ ہےَ ہرِ داس پنِہارو ॥੩॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ راکھِ لےَ ہم سرنھِ پ٘ربھ آۓ رام راجے ॥
ہم بھوُلِ ۄِگاڑہ دِنسُ راتِ ہرِ لاج رکھاۓ ॥
ہم بارِک توُنّ گُرُ پِتا ہےَ دے متِ سمجھاۓ ॥
جنُ نانکُ داسُ ہرِ کاںڈھِیا ہرِ پیَج رکھاۓ ॥੪॥੧੦॥੧੭॥
لفظی معنی:
انمرت بھگت بھنڈار۔ آب حیات عبادت کا خزانہ یا ذخیرہ ۔ ستگر پاسے ۔ سچے مرشدکےپاس ۔ سچا ساوہ۔ سچا شاہو کار ۔ راسے ۔ سرمایہ ۔ پونجی ۔ ونچار ۔ بیوپاری ۔ ونج ۔ بیوپار ۔ تنہی ۔ انہو ننے ۔ جن ۔ لالٹ ۔جن کی پیشانی پر تحریر ہے (1) سہچ۔ حقیقت ۔ اصلیت ۔ ساہو۔ شاہوکار۔ دنی مالک ۔ جگت۔ جہان عالم ۔ دنیا ۔ ونجار ۔ بیوپاری ۔ بھانڈے ۔ برتن۔ سباجیا۔ بنائے ۔ تھارا۔ تیری ہی ۔ بخیسیا۔ عنایت فرمائی۔ ہر بھگت ۔ الہٰی عبادت و خدمت (2) دتھر یہہ۔ تشریح کریں۔ سوآمی ۔ آقا۔ اپراپادو۔ لا محدود۔ صلاحو ۔ حمدوثناہ صفت صلاح۔ آدھارو۔ آسرا ۔جانہا۔ سمجھتے ۔ کہ پاویہہ پار و۔ کیسے کامیابی حاصل ہو ۔ جن نانک ۔ خادم نانک ۔ پر کا داس۔ خادم خدا۔ پنہرو۔ پانی ڈھونے والا (3) بھاوے ۔ رضا۔ مرضی ۔ جیسے چاہتا ہے ۔ سرن ۔ پناہ۔ بھول۔ گمراہ ۔ وگاڑیہہ ۔ خراب۔ لاج ۔ عزت۔ بارک ۔ بچے ۔ تو گرد۔ پتا ۔ مرشد اور باپ ہے ۔ کانڈھیا ۔ کہا جات اہے ۔ کہلاتا ہے ۔ پیج ۔ عزت۔
ترجمہ:
خدا روحانیت اور روحانی زندگی عنایت کرنے کا خزانہ سچا اور سچے مرشد کے پاس ہے ۔ مرشد اور سچا مرشد سچاشاہوکار ہے ۔ وہ اپنے مریدوں سکھو ں کو یہ سرمایہ عنایت کرتا ہے ۔ مبارک ہے اس تجارت اور بیوپاری کو مرشد شاہوکار کو شاباش ہے ۔ اے خادم نانک مرشد اسی کو ملتا ہے جس کی پیشانی پر الہٰی درگاہ سے تحریر ہوتا ہے (1) اے مالک تو ہماری سچا شاہو کار ہے ۔ جبکہ سار اعلام بیوپاری ہے ۔ اے خدا سارے جاندار اور انسان تیرے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اور سارا عالم تیرے عنایت کردہ نام کا بیوپاری ہے اور ان کے اندر تیری ہی عنایت کی ہوئی سانس اور زندگی ہے جبکہ انسان بے بس ہےجو کچھ تو یک و بد اوصاف نا کو عنایت کرتا ہے وہی ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ خادم نانک کو بھی اے خدا ریاضت و عبادت کا ارو الہٰی محبت کا خزانہ عنائت فرمائیا ہے (2) اے خدا ہم تیرے کون کونسے اوصاف بیان کیں اور کس کس کی تشریح کی جائے تو بے شمار اور لا محدود ہے الہٰی نام کی روز و شب صفت صلاح کرتے ہیں ہماری زندگی کا یہی سہارا اور آسرا ہے اے خدا ہم نادان اور جاہل ہیں ہمیں کوئی سمجھ نہیں تو تیرا آکر اور انت کیسے پا سکتے ہیں۔ خادم نانک خدائی خدمتگا رہے الہٰی خادموں کے خادموں کاپانی ڈہونے وال اپانتیا ہے (3) اے خدا ہم تیری پناہ گیری میں آئے ہیں۔ اب جیسے تیری رجا و رغبت ومرضی ہمیں بچاو۔ ہم گمراہ ہیں خرابیاں کرتے ہیں۔ اے خدا ہماری عزت بچاؤ ہم تیرے بچے ہیں آپ ہمارے مرشد ہو ۔ ہمارے پتا ہو ہمیں نیک خیال اور اچھی سمجھ عنایت کیجیئے ۔ اے خدا نانک ۔ تیرا خادم کہلاتا ہے اے خدا میری عزت بچایئے ۔

آسا مہلا ੪॥
جِن مستکِ دھُرِ ہرِ لِکھِیا تِنا ستِگُرُ مِلِیا رام راجے ॥
اگِیانُ انّدھیرا کٹِیا گُر گِیانُ گھٹِ بلِیا ॥
ہرِ لدھا رتنُ پدارتھو پھِرِ بہُڑِ ن چلِیا ॥
جن نانک نامُ آرادھِیا آرادھِ ہرِ مِلِیا ॥੧॥
جِنیِ ایَسا ہرِ نامُ ن چیتِئو سے کاہے جگِ آۓ رام راجے ॥
اِہُ مانھس جنمُ دُلنّبھُ ہےَ نام بِنا بِرتھا سبھُ جاۓ ॥
ہُنھِ ۄتےَ ہرِ نامُ ن بیِجِئو اگےَ بھُکھا کِیا کھاۓ ॥
منمُکھا نو پھِرِ جنمُ ہےَ نانک ہرِ بھاۓ ॥੨॥
توُنّ ہرِ تیرا سبھُ کو سبھِ تُدھُ اُپاۓ رام راجے ॥
کِچھُ ہاتھِ کِسےَ دےَ کِچھُ ناہیِ سبھِ چلہِ چلاۓ ॥
جِن٘ہ٘ہ توُنّ میلہِ پِیارے سے تُدھُ مِلہِ جو ہرِ منِ بھاۓ ॥
جن نانک ستِگُرُ بھیٹِیا ہرِ نامِ تراۓ ॥੩॥
کوئیِ گاۄےَ راگیِ نادیِ بیدیِ بہُ بھاتِ کرِ نہیِ ہرِ ہرِ بھیِجےَ رام راجے ॥
جِنا انّترِ کپٹُ ۄِکارُ ہےَ تِنا روءِ کِیا کیِجےَ ॥
ہرِ کرتا سبھُ کِچھُ جانھدا سِرِ روگ ہتھُ دیِجےَ ॥
جِنا نانک گُرمُکھِ ہِردا سُدھُ ہےَ ہرِ بھگتِ ہرِ لیِجےَ ॥੪॥੧੧॥੧੮॥
لفظی معنی:
مستک ۔ پیشانی ۔ دھرہر ۔ الہٰی درگاہ سے ۔لکھیا ۔ تحریر ۔ اگیان اندھیر۔ لا علمی اور جہالت کی نا سمجھی ۔ گر گیان ۔ علم مرشد سے ۔ گھت بلیا۔ دل منور ہوا۔ ہر لدھا رتن پدارتھ ۔ خدا جو ایک قیمتی نعمت ہے ۔ بہور۔ دوبار ۔ نام ارادھیا ۔ نام ۔ یعنی سچا ور حقیقت کی ریاض کی (1) چیتہو۔ یاد کیا ۔ کاہے ۔ کیوں ۔ جگ آئیا۔ عالم میں پیدا ہوا۔ مانس ۔ انسانی جنم۔ زندگی ۔ دلنبھ ۔ نایاب ۔ برتھا ۔ بیکار۔ بیفائدہ ۔ ہن وے ۔ جائز صبح وقت پر ۔ ہر نام ۔ الہٰی نام ۔ سچ اور حقیقت ۔ پیجو ۔ نالوئی مراد دلمیں نہ بسائیا اسے عمل میں نہ لائیا ۔ اگے بھکھا کیا کھائے ۔ مراد بوقت یوم حساب اعمالات۔ اسکا کیا حشر ہوگا ۔ منلھا ۔ خودی پسند۔ مرید من ۔ پھر جنم ۔ تناسخ ۔ ہر بھائے ۔ الہٰی رضا و پسند (2) سب کو ۔ سارے ۔ تدھ ۔ اپائے ۔ تیرے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ ہاتھ ۔ اختیار ۔ سب چلے چلائے ۔ سب زیر فرامن الہٰی کار کرتے ہیں۔ ہر من بھائے ۔ الہٰی رضا سے ۔ بھیٹیا۔ ملاپ کیا (3) کوئی گاوے راگی نادی ویدی ۔ کوئی بحر کی مطابق کوئی آواز کی مطابق کوئی مذہبی کتابوں کی مطابق۔ بھانت۔ قسم۔ طریقوں سے ۔ نہیں ہر ہر بھیجے ۔ الہٰی خوشنودی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ گپٹ ۔ دہوکا بازی۔ دکار۔ برائیاں۔ روئے ۔ آہ واری ۔ ہر کرتا ۔ کارساز خدا۔ کرتار۔ سر روگ ۔ ہتھ ویجے ۔ خواہ برائیوں پر کتنا پردہ پائیں۔ ہر دا سدھ ہے ۔ جسکا قلب۔ ذہن۔ دل پاک ۔
ترجمہ:
جن کی پیشانی پر ان کی قیمت میں الہٰی درگاہ کی طرف سے اسکا سچے مرشد سے ملاپ ہوتا ہے ۔ ان کے دل و ذہن سے لا علمی اور جہالت کا پردہ اور اندھیرا دور ہوجاتا ہے ان کے ذہن میں مرشد کی عنایت کر دہ ہوش و سمجھ اور علم اور روحانیت کی سمجھ آجتی ہے انہیں الہٰینام کا قیمتی ہیرا حاصل ہوجاتا ہے ۔ اور سبق و کلام اور الہٰی نام سے من و ذن روشن ہوجاتا ہے ۔ جو دوبارہ ضائع نہیں۔ ہوتا ۔ خادم نانک نے ۔ الہٰی نام کی ریاضت کی ریاضت خدا ملا (1) جنہوں نے اسیا قیمتی نام کی ریاض نیہں کی وہ دنیا میں کس مقصد ) کے لئے پیدا ہوئے ۔ یہ انسانی زندگی بڑی مشکل سے دستیاب ہوتی ہے اہٰی نام کی یادوریاض کے بغیر زندگی بیکار و بیفائدہ چلی جاتی ہے ۔ یعنی جو کسان جائز اور مناسب موقعے پر اپنی فصل نہیں بوتا تو اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح جو انسان مناسب وقت پر خدا کا قیمتی نام ذہن نشین نہیں کرتا اس کی ریاض نہیں کرتا تو بوقت آخرت اور یوم حساب کیا حاصل کریگا ۔ اے نانک۔ مرید ان من تناسخمیں پڑے رہیں گے ۔ یہی الہٰی رضا و فرمان ہے (2 ) اےخڈا تو تمام قائنات کا مالک ہے ۔ اور سارا علام تیرا پیدا کیا ہوا ہے ۔ کسی کے کچھ اختیار نہیں سب تیرے زیر فرمان ہیں جسے تو ملاتا ہے وہی ملتا ہے ۔ جیسی اے خدا تیری رضا میں ہے ۔ اے نانک خادم خدا جن شخصوں کو مرشد مل جاتا ہے ۔ مرشد انہیں الہٰی نام سچ اور حقیقت کی بدولت ان کی زندگی روحانی اور اخلاقی طور پر کامیاب بنا دیتا ہے اور زندگی کے سمندر کو عبور کرا دیتاہے (3) کوئی انسان بحر سے کوئی سازوں کے سر سے کوئی مذہبی کتابوں کی مطابق علیحدہ علیحدہ طرزوں اور طریقوں سے الہٰی صفت صلاح کرتے ہیں۔ مگر اس طرح الہٰی خوشنودی حاصلنہیں ہوتی ۔ جن کے دلمیں دہوکا بازی اور برائیاں ہیں ان کی آہ وزاری بے فائدہ ہے کیونکہ خدا کو ہر قسم کا علم ہے اس سے کچھ چھپائیا نہیں جا سکتا خواہ کتنا ہی اس پر پردہ ڈالو۔ اے نانک۔ مرید مرشد ہوکر انسان کا دل و دماغ اک ہوجاتا ہے ۔جن کا وہی الہٰی عبادت وریاضت کرتے ہیں ان ہی خدا س ے محبت ہوتی ہے ۔

آسا مہلا ੪॥
جِن انّترِ ہرِ ہرِ پ٘ریِتِ ہےَ تے جن سُگھڑ سِیانھے رام راجے ॥
جے باہرہُ بھُلِ چُکِ بولدے بھیِ کھرے ہرِ بھانھے ॥
ہرِ سنّتا نو ہورُ تھاءُ ناہیِ ہرِ مانھُ نِمانھے ॥
جن نانک نامُ دیِبانھُ ہےَ ہرِ تانھُ ستانھے ॥੧॥
جِتھےَ جاءِ بہےَ میرا ستِگُروُ سو تھانُ سُہاۄا رام راجے ॥
گُرسِکھیِ سو تھانُ بھالِیا لےَ دھوُرِ مُکھِ لاۄا ॥
گُرسِکھا کیِ گھال تھاءِ پئیِ جِن ہرِ نامُ دھِیاۄا ॥
جِن٘ہ٘ہ نانکُ ستِگُرُ پوُجِیا تِن ہرِ پوُج کراۄا ॥੨॥
گُرسِکھا منِ ہرِ پ٘ریِتِ ہےَ ہرِ نام ہرِ تیریِ رام راجے ॥
کرِ سیۄہِ پوُرا ستِگُروُ بھُکھ جاءِ لہِ میریِ ॥
گُرسِکھا کیِ بھُکھ سبھ گئیِ تِن پِچھےَ ہور کھاءِ گھنیریِ ॥
جن نانک ہرِ پُنّنُ بیِجِیا پھِرِ توٹِ ن آۄےَ ہرِ پُنّن کیریِ ॥੩॥
گُرسِکھا منِ ۄادھائیِیا جِن میرا ستِگُروُ ڈِٹھا رام راجے ॥
کوئیِ کرِ گل سُنھاۄےَ ہرِ نام کیِ سو لگےَ گُرسِکھا منِ مِٹھا ॥
ہرِ درگہ گُرسِکھ پیَنائیِئہِ جِن٘ہ٘ہا میرا ستِگُرُ تُٹھا ॥
جن نانکُ ہرِ ہرِ ہوئِیا ہرِ ہرِ منِ ۄُٹھا ॥੪॥੧੨॥੧੯॥
لفظی معنی:
انتر ۔ دلمیں۔ پریت ۔ پیار۔ سگھڑ۔ با شعور۔ سیانے ۔ دانشمند ۔ باہر ہو بھول چک ۔ گمراہی میں بھی ۔ تب بھی ۔ گھرے ۔ نہایت ۔ہر بھانے ۔ خدا کے پیارے ۔ ہر ۔ ہرمان نمانے ۔ بے وقاروں کے لئے وقار۔ دیبان ۔ جائے فریا۔ ستانے ۔ ناتوانوں ۔ عاجزوں لاچاروں محبوروں ۔ تان ۔ طاقت۔ قوت (1) سہارا ۔ سوہنا ۔ خوبصورت ۔ اچھا۔ گر سکھیں۔ مرید ان مرشد ۔دہور ۔ دہول ۔ خاک ۔ گھال۔ محنت و مشقت۔ تھائے پٹی ۔ برآور ہوئی ۔ جن ہر نام دھیاوا۔ جنہوں نے الہٰی نام کی ریاض کی ۔ جن ۔ جس نے ۔ ستگر ۔سچا مرشد۔ ہر پوج کر ا دا۔ انہیں خدا قابل پرستش بنادتا ہے (2 ) گر سکھا۔ مرید مرشد۔ من ہر پریت ۔ ہے ۔ دلمیں عشق خدا ہے ۔ کر سیو۔ خدمت کرکے ۔ پوج ۔ پر ستش۔ (2) دھیائیا۔ منائیا۔ توجہ کی ۔ دھیان لگائیا۔ بھکھ ۔ دنیاوی نعمتوں کے حصول کی خواہش۔ گھتری ۔ بہتوں کی ۔ ہر پن ۔ اہٰی ثواب ۔ توٹ۔ کمی ۔ پن کری ۔ ثواب والے کام (3) ودھائیاں ۔ مبارک ۔ روحانی جوش و خروش ۔ ڈٹھا ۔ دیدار کیا ۔ میٹھا ۔ پیار۔ تتھا ۔ مہربان۔ پہنایئے ۔ خلقتیں ملی ہیں۔ وٹھا۔ بسیا۔
ترجمہ:
جن کے دلمیں الہٰی پیار ہے وہ باشعور ہیں سنجیدہ ہیں دانشمند ہیں وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتے ۔ خواہ وہ کبھی بھول میں غلطی سے لوگوں میں بول بیٹھتے ہیں تب بھی خدا کینظر مں پیارے ہین۔ ولیان الہٰی کو خدا کے سوا کوئی سہار نہیں۔ پر ماتماہی ناتانوں اور بے وقاروں کے لئے وقار ہے ۔ اے نانک۔ خادمان خدا کو خدا ہی سہارا ہے ۔ الہٰی نام ہی ان کے لئے عدالت اور نام ہی ناتانوں کے لئے مان (1) جہاں میرا پیارا سچا مرشد رہائش اختیار کر لیتا ہے ۔ وہی جگہ خوب صورت ہوجاتی ہے ۔ شہرت پاتی ہے ۔ مریدان مرشد اس جگہ کو تلاش کر لیتے ہیں۔ اور اس کی دہول پیشانی پر لاتے ہیں۔ جو مریدان مرشد خدا کو یاد کرتے ہیں ان کی کی ہوئی محنت الہٰی در پر قبول ہوتی ہے ۔ نانک بگوئد ۔ کہ جنہوں نے سچے مرشد ( کی ) کو قدرومزنتل دیتے ہیں خدا ان کی قدر کرتا ہے اور کراتا ہے (2)
مریدان مرشد کے دل میں الہٰی پیار ہے الہٰی نام اور خدا کا پیار ہے ۔ سچے مرشد کی خدمت سے میرے دل سے دنیاوی نعمتوں کی بھوک اور خواہشات مٹ جاتی ہیں۔ مریدان مرشد کی تمام بھوک مٹ جاتی ہے اور ان کی بدولت مراد صحبت و قربت سے روانیت سمجھ کر بہت سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ خادم نانک ۔ جو الہٰی ثواب کا بیج بوتے ہیں۔ ان کے دلمیں نیک اعمال کی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی (3)
جنہوں نے میرے سچے مرشد کا دیدار پالیا وہ میردان مرشد مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جو کوئی بھی الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت کی کہانی یا فلسفہ سناتاہے وہ مریدان مرشد کا پیار ہوجات اہے جن مرید ان مرشد پر سچا مرشد مہربان ہو جاتا ہے ان کو الہٰی درگاہ میں عزت و حشمت حاصل ہوتی ہے ۔ نانک کہتا ہے مرید مرشد مانند خدا ہوجاتا ہے اور خدا ہمیشہ ان کے دلمیں بسا رہتا ہے ۔

آسا مہلا ੪॥
جِن٘ہ٘ہا بھیٹِیا میرا پوُرا ستِگُروُ تِن ہرِ نامُ د٘رِڑاۄےَ رام راجے ॥
تِس کیِ ت٘رِسنا بھُکھ سبھ اُترےَ جو ہرِ نامُ دھِیاۄےَ ॥
جو ہرِ ہرِ نامُ دھِیائِدے تِن٘ہ٘ہ جمُ نیڑِ ن آۄےَ ॥
جن نانک کءُ ہرِ ک٘رِپا کرِ نِت جپےَ ہرِ نامُ ہرِ نامِ تراۄےَ ॥੧॥
جِنیِ گُرمُکھِ نامُ دھِیائِیا تِنا پھِرِ بِگھنُ ن ہوئیِ رام راجے ॥
جِنیِ ستِگُرُ پُرکھُ منائِیا تِن پوُجے سبھُ کوئیِ ॥
جِن٘ہ٘ہیِ ستِگُرُ پِیارا سیۄِیا تِن٘ہ٘ہا سُکھُ سد ہوئیِ ॥
جِن٘ہ٘ہا نانکُ ستِگُرُ بھیٹِیا تِن٘ہ٘ہا مِلِیا ہرِ سوئیِ ॥੨॥
جِن٘ہ٘ہا انّترِ گُرمُکھِ پ٘ریِتِ ہےَ تِن٘ہ٘ہ ہرِ رکھنھہارا رام راجے ॥
تِن٘ہ٘ہ کیِ نِنّدا کوئیِ کِیا کرے جِن٘ہ٘ہ ہرِ نامُ پِیارا ॥
جِن ہرِ سیتیِ منُ مانِیا سبھ دُسٹ جھکھ مارا ॥
جن نانک نامُ دھِیائِیا ہرِ رکھنھہارا ॥੩॥
ہرِ جُگُ جُگُ بھگت اُپائِیا پیَج رکھدا آئِیا رام راجے ॥
ہرنھاکھسُ دُسٹُ ہرِ مارِیا پ٘رہلادُ ترائِیا ॥
اہنّکاریِیا نِنّدکا پِٹھِ دےءِ نامدیءُ مُکھِ لائِیا ॥
جن نانک ایَسا ہرِ سیۄِیا انّتِ لۓ چھڈائِیا ॥੪॥੧੩॥੨੦॥
لفظی معنی:
بھٹیا۔ ملاپ کیا۔ ہر نام درڑ اوے نام پکا یا پختہ طور پر دل میں بسا دیتا ہے ۔ ترسنا۔ پیاس۔ اترے ۔ مٹ جاتی ہے ۔ ہر نام تراوے ۔ الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت سے دوسروں کو کامیابی دلاتے ہیں (1) گورمکھ ۔ مرشد کی معرفت۔ وگھن۔ رکاوٹ۔ ستگر پرکھ منائیا ۔ سچے مرشد پر ایمانلائیا ۔ پوجے ۔ رسائی ۔ سیویا ۔ خدمت کی ۔ بھیٹیا۔ ملاپ کیا (2) جنا ۔ جن کے ۔ انتردلمیں۔ گورمکھ پریت۔ مرید مرشد کا پیار ۔ہر رکھنہدار ۔ خدا محفاظ ۔ نندا۔ بدگوئی ۔ برائی ۔ ہر سیتی من مانیا ۔ جن کے دلمیں خدا کا بھروسا ہوا۔ دسٹ۔ بد قماش۔ برے ۔ جھکھ (3) ہر ناکھس ۔ ہرناکیشب ۔ ملتان کا حکمران جو یرہلاد کاباپ تھا ( دسٹ ) اہنکاریا۔ مغرور انسانوں کو ۔ نند کا ۔ برائی کرنے والوں کو ۔ پیج ۔ عزت۔ ہرجگ جگہ ۔ ہر زمانے میں۔ مکھ لائیا ۔ عزت افزائی ۔ انت بوقت آخرت ۔
ترجمہ:
جو کامل سچے مرشد پر ایمان لائے قدمبوسی کی ان کے دلمیں ا لہٰی نام پختہ کرائیا۔ اس کی دنیاوی نعمتوں کی بھوک پیاس مٹ گئی جنہوں نے الہٰی نام میں دھیان لگائیا یعنی سچ اور حقیقت میں متوجو ہوئے ۔ جو الہٰی نام میں دھیان لگاتے ہیں روحانی موت ان کے نزدیک ننہیں پھٹکتی ۔ خادم نانک ۔ پر خدا مہربان ہوکر روز الہٰی نام کی ریاض کروں اور الہٰی نام دوسروں کو کامیابی بناؤ (1) جنہوں نے مرید مرشد کی معرفت الہٰی نام میں توجہ کی ان کو ان کے کاموں میں رستے میں کوئی رکاوٹ نہں پڑتی ۔ جو سچے مرشد پر ایمان لائے ۔ ان تک ہر انسان رسائی کرتا ہے ۔ جو سچے مرشد کی خدمت کرتا ہے انہیں ہمیشہ آرام و آسائش ملتی ہے ۔ اےنانک۔ جنہوںنے سچے مرشد سے ملاپ کیا ان کو الہٰی ملآ پ حاصل ہوا (2) جنہیں جن کے دل میں مرید مرشد سے پریم پیار ہے ۔ ان کا محافظ ہے خدا خدا ۔ جن کو عشق ہے سچا اور حقیقت سے ان کی کوئی برائی کیا کر سکتا ہے ۔ جن کو ہے ایمان خدا کا جن کے دلمیں ہے پیار خدا کا بدکار برے انسان بیکار بلاوجہ سچ اور حقیقت میں خدا خود محافظ ہے ان کا (3)
ہر زمانے میں جتنے عابد اور بھگت کئے پیدا خدا نے سب کی عزت شان بچائی ہے ۔ بدقماش حکمران راجہ ہرناکش کو مار یا عابد اور بھگت الہٰی پرہلاد کو کامیاببنائیا۔ برائی کرنے والوں اور مغرورروں کو بھلائیا اور نامدیوں کو گلے لگائیا ۔ خادم نانک نے ایسے خدا کی ہے خدمت جو آخر نجات دلاتا ہے ۔

SGGS p. 451 – Asa Di Vaar end
آسا مہلا ੪ چھنّت گھرُ ੫
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
میرے من پردیسیِ ۄے پِیارے آءُ گھرے ॥
ہرِ گُروُ مِلاۄہُ میرے پِیارے گھرِ ۄسےَ ہرے ॥
رنّگِ رلیِیا مانھہُ میرے پِیارے ہرِ کِرپا کرے ॥
گُرُ نانکُ تُٹھا میرے پِیارے میلے ہرے ॥੧॥
مےَ پ٘ریمُ ن چاکھِیا میرے پِیارے بھاءُ کرے ॥
منِ ت٘رِسنا ن بُجھیِ میرے پِیارے نِت آس کرے ॥
نِت جوبنُ جاۄےَ میرے پِیارے جمُ ساس ہِرے ॥
بھاگ منھیِ سوہاگنھِ میرے پِیارے نانک ہرِ اُرِ دھارے ॥੨॥
پِر رتِئڑے میَڈے لوئِنھ میرے پِیارے چات٘رِک بوُنّد جِۄےَ ॥
منُ سیِتلُ ہویا میرے پِیارے ہرِ بوُنّد پیِۄےَ ॥
تنِ بِرہُ جگاۄےَ میرے پِیارے نیِد ن پۄےَ کِۄےَ ॥
ہرِ سجنھُ لدھا میرے پِیارے نانک گُروُ لِۄےَ ॥੩॥
چڑِ چیتُ بسنّتُ میرے پِیارے بھلیِء رُتے ॥
پِر باجھڑِئہُ میرے پِیارے آگنھِ دھوُڑِ لُتے ॥
منِ آس اُڈیِنھیِ میرے پِیارے دُءِ نیَن جُتے ॥
گُر نانکُ دیکھِ ۄِگسیِ میرے پِیارے جِءُ مات سُتے ॥੪॥
ہرِ کیِیا کتھا کہانھیِیا میرے پِیارے ستِگُروُ سُنھائیِیا ॥
گُر ۄِٹڑِئہُ ہءُ گھولیِ میرے پِیارے جِنِ ہرِ میلائیِیا ॥
سبھِ آسا ہرِ پوُریِیا میرے پِیارے منِ چِنّدِئڑا پھلُ پائِیا ॥
ہرِ تُٹھڑا میرے پِیارے جنُ نانکُ نامِ سمائِیا ॥੫॥
پِیارے ہرِ بِنُ پ٘ریمُ ن کھیلسا ॥
کِءُ پائیِ گُرُ جِتُ لگِ پِیارا دیکھسا ॥
ہرِ داتڑے میلِ گُروُ مُکھِ گُرمُکھِ میلسا ॥
گُرُ نانکُ پائِیا میرے پِیارے دھُرِ مستکِ لیکھُ سا ॥੬॥੧੪॥੨੧॥
لفظی معنی:
پر دیسی ۔ بدیشی ۔ دوسرے ملک کا رہنے والا ۔ گھرے ۔ اپنے گھر ۔ اپنے آپ میں ۔ گھر ۔ ہروے یا ذہن ۔ گھر وسے ہرے ۔ تاکہ خدا دل میں بسے ۔ رنگ رلیا مانہو ۔ پریم پیار سے خوشیاں مناؤ۔ ہر کرپا کرے ۔ خدا وند کریم مہربانی فرمائے ۔ تٹھا ۔ خوشباش ۔ مہربانی ۔
ترجمہ:
اے میرے بھٹکتے بدیشی دل ذہن نشین ہو اے خدا مرشد ملا تاکہ خدا دلیں بسے ۔ اگر ( الہٰی ) خدا کرم و عنایت فرمائے تو الہٰی پریم میں روحانیس کون اور خوشیاں منائے ۔ اے نانک جس پر مرشد مہربان ہوتا ہے اسے ملاپ خدا کراتاہے (1)
لفظی معنی:((2)
پریم نہ چاکھیا ۔ پریم کا لطف نہ لیا۔ بھاؤ گرے ۔ پیا گرے ۔ ترسنا۔ پیاس ۔ آس امید۔ نت۔ ہر روز۔ جوبن۔ جوانی ۔ جسم ۔ موت ۔ ساس۔ سانس۔ بھاگ منی ۔ قسمت منی ۔ہر ار دھاوے ۔خدا کو دلمیں بسائے ۔
ترجمہ:
میرے پیارے میں پریم کے لطف کا مزہ نہیں لیا ۔میرے پیارے دل کی پیاس نہ بجھی ہر روز امیدوں میں گذرتی ہے ۔ میری جوانی گذر رہی ہے فرشتہ موت میرے سانس کی تاک میں ہے ۔ اے نانک ۔ وہ انسان خوش قسمت ہے ۔ جس کی پیشانی پر سرخی لہرا رہی ہے جو اپنے دلمیں خدا بساتا ہے ۔
لفظی معنی(3)
رتیئڑے ۔ خمار میں۔ لوئن ۔ آنکھیں۔ چاترک ۔ پیہا ۔ بوند جو کے ۔ جیسے پپیہا بوند کے لئے ۔ ستل ۔ ٹھنڈا۔ ہر بوند پیوے ۔ الہٰی نام کی بوند پینے سے ۔ برہو۔ جدائی ۔ کوے ۔ کی سطرح ۔ سجن۔ دوست۔ لو ۔ سرت۔ ( میری آنکھوں میں ) پرا تیڑے میڑے لوئن ۔ میری آنکھوں میں پیار کے خمار سے بھری ہوئی ہیں۔ چاترک۔ پیہے ۔ جونے ۔ جیسے ۔ تن ۔ جسم۔ بدن۔ ہر ہو۔ جدائی ۔ کولے ۔کسی طرح ۔ہر سجن۔ خدا دوست۔ لدھا۔ ملا۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے آنکھوں الہٰی دیدار کا آنکھوں میں شمار ہے ۔ جیسے پپیہے کو سوا تہی بوند کے لئے ہوتا ہے جب الہٰی نام کا قطرہ نوش کرتا ہوں ۔ تو دل ٹھنڈک محسوس کرتاہے ۔ یرے دل کو جدائی کا درد بیدار کرتاہے اور کسی طرح نیند نہیں آتی ۔ اے نانک۔ مرشد کی محبت کی وجہ سے مجھے میرا دوست خداکا وصل حاصل ہوا (3) صفحہ 452
لفظی معنی:
چڑھ چیت۔ چیت کا منہ آئیا۔ للنت ۔ بہار آئی ۔ ہر طرح سبزہ زار دکھائی دینے لگا۔ ھلیارے ۔ اچھا موسم ہوا۔ پریا جھڑ یؤ۔ خاوند کے بغیر ۔ آنگن ۔ صحن۔ دہوڑ۔ دہول۔ لتے ۔ اٹا ہوا ے ۔ دہول پڑی ہوئی ہے ۔ آس۔ امید ۔ اڈہنی ۔ غمگین ۔ دوئے نین جتے ۔ دونوں آنکھوں۔ انتطا میں لگی ہوئی ہیں۔ وگسی ۔ خوش ہوئی ۔ جیؤ۔ جیسے ۔ مات ستے ۔جیسے مات۔ بیٹے کو دیکھ کر ۔
ترجمہ:
اے میرے پیارے بسنت کامہینہ آتا ہے جو ایک اچھا موسم ہے ۔ مگر عورت کے لئے خاوند کے بگیر صحن دہول سے بھرا ہوا ہے میرے پیارے دلمیں لاپ کی خواہش امید اور غمگینی ہے اور دونوں آنکھیں انتظار میں لگی ہوئی ہیں۔ مرشد نانک کو دیکھ کر کر اسطرح خوشی اسطرح محسوس ہوئی جیسے ماں بیٹے کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے یعنی آپ عورت اور خاوند کے احساس سے تشبیح دیکر سمجھائیا ہے کہ کیسے الہٰی عاشق کو اپنے محبو ب خدا کے دیدار کے بغیر غمگینی اور دیدار سے خوشی اور ماتا کو اپنے بیٹے کے ملاپ سے خوشی ملتی ہے مطلب اس کہیں زیادہ طالب الہٰیکے لئے دیدار مرشد و خدا سے ہوتی ہے ۔
لفظی معنی:
وٹٹریو۔ قربان ہوں۔ ہوں گھولی ۔ صدقے ہاں۔ جن ۔جس نے ۔ہر میلائیا۔ الہٰی ملاپ کرائیا۔ من جندریا ۔ دلی خواہشات کی مطابق۔ پھل۔ نتیجہ ۔ اتھٹھڑا۔ مہربان۔
ترجمہ:
سچے مرشد نے الہٰی کہانیاں اورکتھا ئیں سنائیں میں اس مرشد پر قربان ہوں جس نے میرا ملاپ اور رشتہ خدا سے بنائیا ۔ میری سب امید یں پوری ہوئیں اور دلی خواہشاتکی مطابق نتیجے برامد ہوئے ۔ اے نانک ۔ جس پر خدا اپنی کرم و عنایت فرماتا ہے ۔ مہربانہوتاہے ۔ وہی الہٰینام یعنی سچ اور حقیقت میں محو ومجذوب ہوجاتا ہے ۔
لفظی معنی:
ہربن۔ خداکے بغیر ۔ کھیلسا۔ نہیں کرونگا۔ پائی گر۔ مرشد ملیگا۔ جت لگ ۔جس سے ۔ ہر داتڑے ۔ اے داتار۔ میل گرو۔ مرشد ملا۔ مکھ ۔ زبان۔ منہ ۔ گورمکھ ۔ مرشد کی معرفت۔ مساسا۔ ملوں۔دھ مستک لیکھسا۔ دھر۔ درگاہ الہٰی سے ۔مستک ۔ پیشانی ۔ لیکھ سا۔ تحریر ہوئے کی مطابق۔
ترجمہ:
پیارے خدا کے بغیر کسی سے محبتنہ کرو نگا ۔کیسے مرشد کی تلاش کروںجس کے ذریعے اے خدا تیرا دیدار پاوں اے داتار خاد مرشدملا جس کا مرید ہوکر تیرا دیدار پاوں۔ اے نانک۔ جس کی پیشانی پر بارگاہ الہٰیپر سے تحریر ہوتاہے پاتا ہے وہ ۔

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
راگُ آسا مہلا ੫ چھنّت گھرُ ੧॥
اندو اندُ گھنھا مےَ سو پ٘ربھُ ڈیِٹھا رام ॥
چاکھِئڑا چاکھِئڑا مےَ ہرِ رسُ میِٹھا رام ॥
ہرِ رسُ میِٹھا من مہِ ۄوُٹھا ستِگُرُ توُٹھا سہجُ بھئِیا ॥
گ٘رِہُ ۄسِ آئِیا منّگلُ گائِیا پنّچ دُسٹ اوءِ بھاگِ گئِیا ॥
سیِتل آگھانھے انّم٘رِت بانھے ساجن سنّت بسیِٹھا ॥
کہُ نانک ہرِ سِءُ منُ مانِیا سو پ٘ربھُ نیَنھیِ ڈیِٹھا ॥੧॥
لفظی معنی:
گھنا۔ بہت زیادہ ۔ ڈیٹھا۔ دیدار کیا۔ چا کھٹریا۔ لطف لیا۔ ہر رس ۔ الہٰی مزہ ۔ دوٹھا۔ بسا۔ ذہن نشین ہوا۔ توٹھا۔ مہر بان ۔ ہوا۔ سہج بھیا ۔ روحانی سکون ملا۔ گریہہ دس آئیا۔ دل قابو ہو ا۔ منگل گائیا۔ خوشی کے ترانے گائے ۔ پنچ دشٹ ۔پانچ برائیاں۔ بھاگ گیا۔ دورہوئیں۔ ستل آگھانے انمرت بانے ۔ دل کو ٹھنڈک محسوس ہوئی ابحیاتجیسے کلام سے ۔ ساجن۔ دوست۔ سنت ۔ ولی اللہ ۔ بسیٹھا۔ وکیل رہبر ۔ سو۔ وہی ۔پربھ ۔خدا۔ ڈیٹھا۔ دیدار کای ۔
ترجمہ:
مجھے الہٰی دیدار حاصل ہوگیا ہے جس سے مجھے ذہنی روحانی سکون حاسلہوگیا اور الہٰینامکا میٹھا لطف لے لیا۔ سچے مرشدکیکرم و عنایت سے الہٰینام کا لطفدلمیں بس گیا ابمیرا ذہن اور سوچ خوشباس ہیں اور خوشی میں سرمست ہوکر خوشی کے گیت گا رہے ہیں اور پانچ بد احساسات جو انسان انسانیت کے دشمن ہیں ذہن سے نکل گئے ہیں جب سے ولی اللہ عارف پاکدامن عاشق خدا دوست وکیل ہوا ہے اس کی روحانی زندگی بخشنے والیکرم وعنایت سے میرے احساسات نے ٹھنڈک محسوس کی ہے اور سیر ہو گئے ہیں ۔ اے نانک بتادے اب مجھے خدا پر ایمان آگیا ہے اور دل نے میں یقین اور بھروسا کر لیا ہے اور دیدار خدا پالیا ہے اپنی آنکھوں سے

سوہِئڑے سوہِئڑے میرے بنّک دُیارے رام ॥
پاہُنڑے پاہُنڑے میرے سنّت پِیارے رام ॥
سنّت پِیارے کارج سارے نمسکار کرِ لگے سیۄا ॥
آپے جاجنْیِ آپے ماجنْیِ آپِ سُیامیِ آپِ دیۄا ॥
اپنھا کارجُ آپِ سۄارے آپے دھارن دھارے ॥
کہُ نانک سہُ گھر مہِ بیَٹھا سوہے بنّک دُیارے ॥੨॥
لفظی معنی:
سوہٹرے ۔ سوہنے ۔ خوبصورت دکھائی دینے لگے ۔بنک دوارے ۔ خوبصورت مکان۔پاہنڑے ۔مہمان۔ کارج ۔کام۔نمسکار ۔ جب آداب سے جھکا ۔ دھارن ۔ قائنات کی سنبھال۔ سیہہ ۔ خاوند ۔خدا۔ گھر میہہ ۔ ذہن یں
ترجمہ:
ا ب میرے احساسات در ست اور با شہر ہوگئے ۔ میرے ولای للہ سنت مہمان بن گئے اور جب سے میں ان کی خدمت کرنے لگا ہوں پیارے سنتوںنے میرے تمام درست کردیئےخدا خود ہی میل ہے اور خود ہی مالک ہے اورخود قابل پرستش دیوا ۔ خو د ہی انسانکے لئے سہارا ہے ۔اور خؤد ہی اپنا کام پا یہ تکمیل تک پہنچاتا ہے ۔ اے نانک بتادے کہ اب خدا دل میں بس گیا ہے اسلئے میرے احساسات اچھے لو گئے ہیں۔

نۄ نِدھے نءُ نِدھے میرے گھر مہِ آئیِ رام ॥
سبھُ کِچھُ مےَ سبھُ کِچھُ پائِیا نامُ دھِیائیِ رام ॥
نامُ دھِیائیِ سدا سکھائیِ سہج سُبھائیِ گوۄِنّدا ॥
گنھت مِٹائیِ چوُکیِ دھائیِ کدے ن ۄِیاپےَ من چِنّدا ॥
گوۄِنّد گاجے انہد ۄاجے اچرج سوبھ بنھائیِ ॥
کہُ نانک پِرُ میرےَ سنّگے تا مےَ نۄ نِدھِ پائیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
نوندھے ۔دنیاوی نو خزانے ۔ نام دھیائی ۔ نام میں دھیان دینے سے ۔ سکھائی۔ ساھی مددگار۔ سہج سبھای ۔ قدرتا گفت ۔ شمار ۔گنتی ۔ حساب۔ چوکی بھول۔ دھای۔ دوڑ دہوپ۔ چندا۔ فکر۔ غمی ۔ گوبند گاجے ۔ خدا گونجتا ہے ۔ انحد ۔ لگاتار۔ اچرج ۔ حیران کرنے والی ۔ سوبھ ۔شہرت پر میرےسنگے ۔ خاوند میرا ساتھی ہے ۔ مراد خدا میر ے ساتھ ہے ۔
ترجمہ:
الہٰی نام یعنی سچ اور حقیق میں دھیان لگانے سےا ور متوجہ کر نے سے سب کچھ مجھے ملتا ہے اور دنیا کے نو خزانے یرے دلیں اکے بس گئے اور الہٰی نام میرا صدیوی ساتھی بن گیا ۔ اور میرے دلمیں قدرتی طور پر الہٰی پیار پیدا ہوگیا ۔ اب مجھے کسی قسم کاکوئی فکرنہیں رہا اور اعمال کا حساب ختم ہوگیا ۔ میری دوڑ دہوپ اور بھٹکن ختم ہوگئی ۔ الہٰی نام کی مرے دلمیں لگاتار گونج پیدا ہو رہی ہے اور حیران کرنے والی روحانی شہرت پیدا ہو رہی ہے ۔ اے نانک بتادے کہ اب خدووند کریم میرا ساتھی ہوگیا ہے ۔ اس وجہ سے میں نے دنیاوی نو خزانے پا لیئے ہیں۔

سرسِئڑے سرسِئڑے میرے بھائیِ سبھ میِتا رام ॥
بِکھمو بِکھمُ اکھاڑا مےَ گُر مِلِ جیِتا رام ॥
گُر مِلِ جیِتا ہرِ ہرِ کیِتا توُٹیِ بھیِتا بھرم گڑا ॥
پائِیا کھجانا بہُتُ نِدھانا سانھتھ میریِ آپِ کھڑا ॥
سوئیِ سُگِیانا سو پردھانا جو پ٘ربھِ اپنا کیِتا ॥
کہُ نانک جاں ۄلِ سُیامیِ تا سرسے بھائیِ میِتا ॥੪॥੧॥
لفظی معنی:
سر سٹڑے ۔ خوش ہوئے ۔ بھائی میتا۔ بھائی اور دوست ۔ وکھمو وکھم اکھاڑ۔ نہایت دشوار میدان ۔مراد دنیاوی یدان جنگ۔ گرمل۔ مرشد کے ملاپ سے ۔ جیتا فتح پائی ۔ کامیابی حاصل کی ۔ ہر ہر کیتا۔ خدا خدا کیا ۔ توٹی بھتیا۔ دیوار ٹوٹی ۔بھرم گڑا۔ وہم وگمان کے قلعے کی ۔ سانتھ میری آپ گھڑ ۔ میرا مددگار ۔خود ہوا۔سوئی سوگیا نا ۔ وہی دانشمند ہے ۔ با علم با شعور ہے ۔ پردھانا۔ عوام میں مقبول ہے ۔ جو پربھ اپنا کیتا ۔ جسے ۔ خدا نے اپنا لیا۔ جاں ول سوامی ۔ جب خدا ساتھی ہو ۔ تاسرسے بھائی میتا۔ تو دوست اور بھائی خوش ہیں۔
ترجمہ:
ملاپ مرشد سے یہ دنیاوی زندگی کا میدان جنگ پر فتح حاصل کر لی ہے اب سارے بھائی اور دوست خوش ہوگئے ہیں یعنی اور مراد اب میں نے تمام بد احساسات پر قابو پالیا ہے ۔ ملاپ مرشد سے میدان جنگ پر فتحیاب ہوکر خدا کو یاد کر تا ہوں اب دل سے ہر قسم کے وہم وگمان کا کے قلعے کی دیواریں ٹوت گئی ہیں اور الہٰینام کا خزانہ سچ اور حقیقت حاصل ہوگیا ۔ خدا خو د میرا مددا گار ہوگیا ہے ۔ وہی دنشوار اور مقبول عام ہے جسے خدا نے اپنائیا اپنا بنائیا ۔ اے ناک بتادے جب ساتھ خدا کا ہو تو بھائی اور دوست سب خوش ہوتے ہیں۔

آسا مہلا ੫॥
اکتھا ہرِ اکتھ کتھا کِچھُ جاءِ ن جانھیِ رام ॥
سُرِ نر سُرِ نر مُنِ جن سہجِ ۄکھانھیِ رام ॥
سہجے ۄکھانھیِ امِءُ بانھیِ چرنھ کمل رنّگُ لائِیا ॥
جپِ ایکُ الکھُ پ٘ربھُ نِرنّجنُ من چِنّدِیا پھلُ پائِیا ॥
تجِ مانُ موہُ ۄِکارُ دوُجا جوتیِ جوتِ سمانھیِ ॥
بِنۄنّتِ نانک گُر پ٘رسادیِ سدا ہرِ رنّگُ مانھیِ ॥੧॥
لفظی معنی:
آکتھا ۔ جو بیان نہ ہو سکے ۔ ہر اکتھ ۔ خدا بیان نہیں ہو سکتا ۔ کچھ جائے نہ جانی ۔ اس کی بابت سمجھا نہیں جا سکتا ۔ سر نر ۔ ولی اللہ ۔ روحانی بزرگ ۔ من جن۔ عابد۔ جنہوں نے اپنا ذہن یکسو کر لیا ۔ پاکدامن ۔ سہج دکھانی ۔ کامل ۔ روحانی سکون ۔ امیو بانی ۔ آب حیات جیسا کلام ۔ وہ کلام جس کے ذریعے روحانی زندگی حاصل ہو ۔ چرن کمل رنگ لائیا۔ جنہوں نے پائے مقدس سے پیار کیا۔ الکھ ۔ ناقابل سمجھ ۔ سمجھ سے باہر ۔نرنجن۔ بیداغ۔ پاک۔ من چندیا۔ دلی خواہشات کی مطابق پھل نتیجہ ۔ تج مان ۔ موہ ۔ دکار ۔ غرور ۔ محبت اور برائیاں چھوڑ کر ۔ دوجا۔ دوئت ۔ دنیاوی دولت کی محبت ۔ گرپرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ جولی ۔ جوت سمانی ۔ نور الہٰی میں ۔ نور انسانی مل جاتا ہے ۔ بنونت نانک۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ ہر رنگ مانی ۔ الہٰی خوشی اور پیار پاتا ہے ۔
ترجمہ:
نا قابل بیان خدا کا بیان جو ناقابل بیان ہے کی سمجھ نہیں آسکتی ۔ مراد انسان تکبر خودی چالا کی اور دانشمندی سے سمجھ نہیں سکتا ۔ فرشتا نہ سیرت ۔ روحانیت پرست ۔ اور ٹھنڈے ذہن والے خوش بیان ۔ روحانی سکون میں رہ کر ہی الہٰی حمدوثناہ ہو سکتی ہے ۔جنہوں نےپر سکون ہوکر ٹھنڈے دل و دماغ سے الہٰی حمدوثناہ کی انہوں نے روحانی زندگی بنانے والے کلام کی برت و عنیات سے الہٰی شرکت اور محبت بنائی اس نے لاپناہ اوجھل ہستی بیلاگ اور پاک خدا سے دلی تمناؤں کے مطابق نتیجے اخذ کئے ۔ نانک عرض گزارتا ہے ۔ کہ رحمد مرشد سے الہٰی محبت کا انہوں نے ہمیشہ لطف اُٹھائیا

ہرِ سنّتا ہرِ سنّت سجن میرے میِت سہائیِ رام ॥
ۄڈبھاگیِ ۄڈبھاگیِ ستسنّگتِ پائیِ رام ॥
ۄڈبھاگیِ پاۓ نامُ دھِیاۓ لاتھے دوُکھ سنّتاپےَ ॥
گُر چرنھیِ لاگے بھ٘رم بھءُ بھاگے آپُ مِٹائِیا آپےَ ॥
کرِ کِرپا میلے پ٘ربھِ اپُنےَ ۄِچھُڑِ کتہِ ن جائیِ ॥
بِنۄنّتِ نانک داسُ تیرا سدا ہرِ سرنھائیِ ॥੨॥
لفظی معنی:
سنت سجن۔ خدا رسیدہ ۔ پاکدامن دوست۔ سہائی ۔ مددگار ۔ وڈبھاگی ۔ بلند قیمت ۔ ست ۔ سنگت ۔ سچے ساتھیوںکا ساتھ ۔نام دھیائے ۔ سچ اورحقیقت میں دھیان لگائیا۔ لاتھے ۔ لیہہ گئے ۔ مٹ گئے ۔ سنتاپے ۔ذہنی تکلیف ۔ بھرم ۔ وہم وگمان ۔ بھٹکن ۔ بھؤ۔ خوف ۔ آپ ۔ خودی۔ خود غرضی ۔ کینہہ۔ کہیں۔
ترجمہ:
ولی اللہ خدا رسیدہ پاکدامن میرے مددگار اور دوست ہیں۔ اور خوش قسمتی سے سچے ساتھیوں کا ساتھ نصیب ہوگیا خوش قسمتیسے مل گیا الہٰی نام سچ اورحقیقت میں دھیان لگائیا اور زہنی وکھ درد مٹ گیا ۔ اپنی کرم وعنایت سے خدا نے اپنے ساتھ ملا لیا اب اس سے جداہوکر کہیں نہیں جاتا نانک عرض گذارتا ہے ۔کہ رحمت مرشد سے ہمیشہ الہٰی پیار کا لطف لو ۔

ہرِ درے ہرِ درِ سوہنِ تیرے بھگت پِیارے رام ॥
ۄاریِ تِن ۄاریِ جاۄا سد بلِہارے رام ॥
سد بلِہارے کرِ نمسکارے جِن بھیٹت پ٘ربھُ جاتا ॥
گھٹِ گھٹِ رۄِ رہِیا سبھ تھائیِ پوُرن پُرکھُ بِدھاتا ॥
گُرُ پوُرا پائِیا نامُ دھِیائِیا جوُئےَ جنمُ ن ہارے ॥
بِنۄنّتِ نانک سرنھِ تیریِ راکھُ کِرپا دھارے ॥੩॥
لفظی معنی:
ہر درے ہردر۔ الہٰی در پر ۔ بارگاہ الہٰی پر ۔ سوہن ۔ اچھے لگتے ہیں۔ بھگت ۔ الہٰی عاشق ۔ الہٰی پریمی ۔ عابد۔ داری ۔ صدقے ۔ سدبلہارے ۔ سوبار قربان۔ نمسکارے ۔ سجدہ کرؤں۔ سرجھکاؤں ۔ جن بھٹت۔جنکے ملاپ سے ۔ پربھ جاتا ۔ خد اکی سمجھ آئی پہچاتا ۔ گھٹ گھٹ ۔ہر لدمیں۔ رورہیا سب تھائی۔ ہرجگہ بس رہا ہے ۔ پورن پرکھ ۔ کامل ہستی ۔ بدھاتا۔ کارساز ۔ کرتا۔طریقہ کار کاسازندہ ۔جوئے جنم نہ ہارے ۔ زندگی بیکار بیفائدہ ضائع نہ کرے ۔ راکھ کرپا دھارے ۔ اپنی کرم وعنایت و مہربانی سے حفاظت کجیئے ۔
ترجمہ:
الہٰی در پر عاشقان الہٰی ولی اللہ تیرے عابداناچھے لگتے ہں۔ قربان ہوں ان پر صدقہ ہے ۔ میرا نا پر ان پر صد بار قربان ہوں جنہوںکے ملاپ سے مجھے خدا کی سمجھ آئی خدا کی پہچان ہوئی ان کو سجدہ کرتا ہوں سر جھکاتا ہوں خدا ہر دلمیں بستا ہے اور ہر جگہ بستا ہے کامل ستی ہے کار ساز کرتا ہے ۔ کاملمرشدجسے ملجاتا ہے وہ یاد خدا کو کرتا ہے اپنی زندگی بیکار بیفائدہ نہیں جانے دیتا۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اےخدا میں تیرے زیر سایہ آئیا ہوں اپنی کرم و عنایت سے بچا مجھے

بیئنّتا بیئنّت گُنھ تیرے کیتک گاۄا رام ॥
تیرے چرنھا تیرے چرنھ دھوُڑِ ۄڈبھاگیِ پاۄا رام ॥
ہرِ دھوُڑیِ ن٘ہ٘ہائیِئےَ میَلُ گۄائیِئےَ جنم مرنھ دُکھ لاتھے ॥
انّترِ باہرِ سدا ہدوُرے پرمیسرُ پ٘ربھُ ساتھے ॥
مِٹے دوُکھ کلِیانھ کیِرتن بہُڑِ جونِ ن پاۄا ॥
بِنۄنّتِ نانک گُر سرنھِ تریِئےَ آپنھے پ٘ربھ بھاۄا ॥੪॥੨॥
لفظی معنی:
کیتک ۔ کتنے ۔ چرن دہوڑ۔ پاوں کی خاک ۔ ودبھاگی ۔بلند قسمت سے ۔ ناہییئے ۔ غسل کرں۔ اشنان کریں۔ نہائیں ۔ جنم مرن۔ آواگون ۔ تناسک۔ انتر باہر۔ مراد ہرجائی ۔حضورے ۔ حاضر ۔ ساتھے ۔ساتھ ۔ مٹے دوکھ ۔ عذاب مٹا ہے ۔ کلیان کرتن ۔ صفت صلاح سے خوشہالی ملتی ہےبہوڑ دوبار ہ جنم ۔ زندگی ۔ پرھ بھاوا۔ خدا کا پیارا ہوجاوں۔
ترجمہ:
اے خدا تو بیشمار اوصاف کامالک ہے ۔ تیرے پاوں کی دہول بلند قسمت سےملتی ہے ۔ الہٰی دہول سےذہنی پلیدی دور ہوتی ہے زندگی اورموت کا عذاب دور ہوتا ہے ۔ خدا ہمیشہ ہمارے اندر اور باہر ہمیشہ حاضر اور ساتھ رہتاہے جو الہٰی حمد وثناہ کرتا ہے اس کے عذاب ختم ہوجاتے ہیں۔ زندگی خوشحال ہوجاتی ہے اور تناسخ مٹ جاتاہے نانک عرض گذارتاہے کہ سایہ مرشد سےا نسان الہٰی محبوب اور کامیابی سے زندگی بسرکرتاہے۔

آسا چھنّت مہلا ੫ گھرُ ੪
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
ہرِ چرن کمل منُ بیدھِیا کِچھُ آن ن میِٹھا رام راجے ॥
مِلِ سنّتسنّگتِ آرادھِیا ہرِ گھٹِ گھٹے ڈیِٹھا رام راجے ॥
ہرِ گھٹِ گھٹے ڈیِٹھا انّم٘رِتد਼ ۄوُٹھا جنم مرن دُکھ ناٹھے ॥
گُنھ نِدھِ گائِیا سبھ دوُکھ مِٹائِیا ہئُمےَ بِنسیِ گاٹھے ॥
پ٘رِءُ سہج سُبھائیِ چھوڈِ ن جائیِ منِ لاگا رنّگُ مجیِٹھا ॥
ہرِ نانک بیدھے چرن کمل کِچھُ آن ن میِٹھا ॥੧॥
لفظی معنی:
من بیدھیا۔ دل گرفت میں آگیا ۔ محبت میں گرفتار ہوا۔ آن ۔ دیگر۔ دوسرا۔ ہر گھٹ گھٹے ۔ ہر ذہن دل و دماگ میں۔ ڈیٹھا۔ دیدار پائیا۔ انمر تو دوٹھا۔ آب حیات برسی ۔ گن ندھ ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ ہونمے دنسی گانٹھے ۔ خودی کی تانٹھ مٹی ۔ پریو۔ پیار۔ پریمی ۔ سہیج سبھائی۔ قدرتا عادات کے مطابق من لاگا رنگ ۔ مجیٹھا۔ دل کو پکا مجیٹھ جیسا رنگ کی طرف پختہ پریم ہوگیا آن۔
ترجمہ:
جسے عشق خدا ہو جائے نہیں ہوتا پیار کسی دوسرے سے جو سچی مقدس سنگت اور ساتھیوں کے ساتھ یاد خدا کو کرتاہے ہر دلمیں دیدار وہ پاتا ہے ۔ اس کے دل کو روھانی سکون ہوجات اہے تناسخ بھی مٹ جاتا ہے ۔ اوصاف اہٰی گانے سے تمام عذاب مٹ جاتے ہیں ۔ گانٹھ خودی کھل جاتی ہے اخلاقی و روحانی زندگی سے محبت کرنے والے خدا سے کامل اور پختہ پیار کا رنگ ذہن و روح پر ہو جاتا ہے اے ناک جسے عشق خدا سے ہوجائے غیر سے محبت نہیں ہو سکتی ۔

جِءُ راتیِ جلِ ماچھُلیِ تِءُ رام رسِ ماتے رام راجے ॥
گُر پوُرےَ اُپدیسِیا جیِۄن گتِ بھاتے رام راجے ॥
جیِۄن گتِ سُیامیِ انّترجامیِ آپِ لیِۓ لڑِ لاۓ ॥
ہرِ رتن پدارتھو پرگٹو پوُرنو چھوڈِ ن کتہوُ جاۓ ॥
پ٘ربھُ سُگھرُ سروُپُ سُجانُ سُیامیِ تا کیِ مِٹےَ ن داتے ॥
جل سنّگِ راتیِ ماچھُلیِ نانک ہرِ ماتے ॥੨॥
لفظی معنی:
جیؤ۔ جیسے ۔ (راتی ) پر لطف۔ محو۔ تؤ۔ ویسے ہی ۔ رامرس۔ الہٰی لطف ومزہ ۔ رام ۔ خدا۔ اللہ ۔ بھگوان ۔ گرپور ۔ کامل مرشد۔ اپد سیا ۔ سبق ۔ ہدایت ۔نصیحت یافتہ ۔ چیون گت۔ زندگی کی حالت بنانے والے کو ۔بھاتے پیارے ہوئے ۔ انترجامی ۔ اندرونی پویشدہ راز جاننے والا۔ آپ لئے ۔ لڑلائے ۔ اپنے ساتھ واوسطہ کئے ۔ پدارتھو ۔ نعمت ۔ پرگٹو ۔ ظاہر ہوئی ۔ نمودار ہوئی۔ پورنو ۔مکمل ۔ کتہو ۔کہیں۔ سگھر ۔ با شعور۔ سروپ ۔ شکل۔ سجان ۔بیدار مغنر ۔ دانشمند۔ داتے ۔ داتاں ۔ نعمتان عنایت کرنے والے ۔ داتار۔ سخی ۔
ترجمہ:
جنہیں کامل مرشد نے زندگی آراستہ و خوشھال بنانے کا درس دیا ہے وہ اسطرح سے الہٰی یاد میں محو ومجذوب ہوجاتے ہین ۔جیسے پانی میں مچھلی خوشیپاتی ہے وہ اسطرحس ے خدا کے محبوب ہو جاتے ہیں۔ روحانی واکلاقی زندگی عنایت کرنے والا خدا میرا آقاجو پوشیدہ رازدلی جاننے والا ہے خود ہی اپنے ساتھ واوسطہ کر لیتا ہے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے وہ ان کے ذہن میں روحانی واخلاقی احساس پیدا کر دیتا ہے جس سے ان کے دل ودماغ میں بس جاتا ہے ۔ اور پھر نہیں چھوڑتا جو سب میں بستا ہے ۔

چات٘رِکُ جاچےَ بوُنّد جِءُ ہرِ پ٘ران ادھارا رام راجے ॥
مالُ کھجیِنا سُت بھ٘رات میِت سبھہوُنّ تے پِیارا رام راجے ॥
سبھہوُنّ تے پِیارا پُرکھُ نِرارا تا کیِ گتِ نہیِ جانھیِئےَ ॥
ہرِ ساسِ گِراسِ ن بِسرےَ کبہوُنّ گُر سبدیِ رنّگُ مانھیِئےَ ॥
پ٘ربھُ پُرکھُ جگجیِۄنو سنّت رسُ پیِۄنو جپِ بھرم موہ دُکھ ڈارا ॥
چات٘رِکُ جاچےَ بوُنّد جِءُ نانک ہرِ پِیارا ॥੩॥
لفظی معنی:
چاترک ۔ پپیہا۔ جاپے ۔ مانگتا ہے ۔ بوند ۔آسمانی پانی کا قطرہ ۔پران۔ زندگی ۔ آدھار۔ آسرا۔ خزینہ ۔ خزانہ ۔ ست۔ بیٹا۔ بھرات۔ بھائی۔ میت ۔ دوست۔ بسمجھوں تے ۔ سب سے ۔ پرکھ نرار۔ انوکھی ہستی ۔ تاکی گت نہی ں جانئے ۔ اس کی حالت سمجھ نہیں آتی ۔ ساس گراس ۔۔ ہر سانس و لقمہ ۔ وسرے ۔ بھولے ۔ کھبہوں۔ کبھی گرسبدی ۔کلام مرشد سے ۔ رنگ مانیئے ۔ پریم پیار کا لطف اٹھائیں۔ پرکھ جگجیونو۔ عالم کو زندگی عنایت کرنے والی ہستی ۔ سنت رس پیونو ۔ ولی اللہ ۔ الہٰی عابد اسکا لطف لیتے ہیں۔ جپ بھرم۔ موہ دکھ دار۔ کی ریاض سے ۔ وہموگمان اورصحبت کا عذاب دور ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
جیسے پپیہا آسمانی بوند کا قطرہ مانگتا ہے ایسے ہی خدا انسانی زندگی کےلئے سہارا ہے ۔ وہ دولت اور سرائے کے خزانے فرزند ۔ بھائی دوست سب سے زیادہ پیارا ہے وہ سب سےپیارے نرالی اور ناوکھی ہستی ہے اس کی روحانیت سمجھ سے باہر ہے وہ ہر سانس اور ہر لقمہ تک نہ بھوے کبھی اور کلام مرشد سے اسکا لطف لو ۔ خدا علام کو زندگی عنایت کرنے والا ہے عابدان الہٰی اس کے نام یعنی سچ اورحیققت کا لطف اٹھاتے ہں اور یاد سے عذاب سے دنیاوی دولت کی محبت مٹاتےہیں (3)

مِلے نرائِنھ آپنھے مانورتھو پوُرا رام راجے ॥
ڈھاٹھیِ بھیِتِ بھرنّم کیِ بھیٹت گُرُ سوُرا رام راجے ॥
پوُرن گُر پاۓ پُربِ لِکھاۓ سبھ نِدھِ دیِن دئِیالا ॥
آدِ مدھِ انّتِ پ٘ربھُ سوئیِ سُنّدر گُر گوپالا ॥
سوُکھ سہج آننّد گھنیرے پتِت پاۄن سادھوُ دھوُرا ॥
ہرِ مِلے نرائِنھ نانکا مانورتھد਼ پوُرا ॥੪॥੧॥੩॥
لفظی معنی:
الہٰی ملاپ سے تمام مقصد حل ہوجاتے ہیں اور پورے ہوجاتے ہیں۔ مانورتھو ۔ ( مقصد ۔ مدعے ) ڈھاٹھی ۔ مٹی ۔ بھیت۔ دیوار۔ بھرم۔ وہموگمان۔ بھیٹت ۔ ملاپ ۔ گر سور۔ بہادر مرشد۔ پورن گر۔ کامل مرشد۔ پر ب ۔ پہلے ۔ لکھائے ۔ تحریر ۔ سبھ ندھ ۔ سارے خزانے ۔دین دیالا۔ غریبوں پر مہربان۔ آد۔ آغآز۔ مدھ ۔ درمیانی ۔ انت ۔آخیر۔ سوئی ۔و ہی ۔ گوپالا۔ سہج آنند ۔ روحانی خوشیاں ۔ پتت پاون ۔ گناہگاروں کو پاکیزگی عنایت کرنے والا۔ سادہو دہور ۔ خاک پاکدامن۔
ترجمہ:
الہٰی ملاپ سے زندگی کا مقصد مکل ہوجاتا ہے اور وہم وگمان وشک و شبہات کی دیوار ملپا مرشد سے منہدم ہوجاتی ہے ۔ پہلے سے تحریر کی مطابق کامل مرشدملت اہے جنہوں نے پہلے تمام اوصافکے مالک اور تمام اوصاف سے بھر پورخدا جو تمام خزانوں کا مالک ہے غریبوں ناتوانوں پر رحم کرتا ہے اور اس کے اعمالنامے میں تحریر ہے جو آغاز عالم سے لیکر درمیان اور آخر تک بد ستور ہے اور رہیگا۔ خاک پائے پاکدامن گناہگاروں اور ناپاکوں پاک اور مبارک روحانی زندگیاں عنایت کرنے والی ہے ۔ جسے میسئر ہو جاتی ہے وہ روحانی سوکن اور خوشہالی اور برتی پاتے ہیں۔اےنانک۔ جسے الہٰیملاپ حاصل ہوجاتا ہے اسے اس کی منزل مقصود حاصل ہوجاتی ہے ۔

آسا مہلا ੫ چھنّت گھرُ ੬
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سلوکُ ॥
جا کءُ بھۓ ک٘رِپال پ٘ربھ ہرِ ہرِ سیئیِ جپات ॥
نانک پ٘ریِتِ لگیِ تِن٘ہ٘ہ رام سِءُ بھیٹت سادھ سنّگات ॥੧॥
چھنّتُ ॥
جل دُدھ نِیائیِ ریِتِ اب دُدھ آچ نہیِ من ایَسیِ پ٘ریِتِ ہرے ॥
اب اُرجھِئو الِ کملیہ باسن ماہِ مگن اِکُ کھِنُ بھیِ ناہِ ٹرےَ ॥
کھِنُ ناہِ ٹریِئےَ پ٘ریِتِ ہریِئےَ سیِگار ہبھِ رس ارپیِئےَ ॥
جہ دوُکھُ سُنھیِئےَ جم پنّتھُ بھنھیِئےَ تہ سادھسنّگِ ن ڈرپیِئےَ ॥
کرِ کیِرتِ گوۄِنّد گُنھیِئےَ سگل پ٘راچھت دُکھ ہرے ॥
کہُ نانک چھنّت گوۄِنّد ہرِ کے من ہرِ سِءُ نیہُ کریہُ ایَسیِ من پ٘ریِتِ ہرے ॥੧॥
لفظی معنی:
جاکؤ۔ جن پر ۔ کرپال ۔ مہربان ۔ پربھ ۔ خدا۔ جپات ۔یاد کرتے ہیں۔ سیئی ۔ وہی ۔ بھٹت۔ ملاپ ۔ سادھ ۔ سنگات ۔ صحبت و قربت پاکدامناں (1) چھنت ۔ نییائیں۔ مانند۔ ریت ۔ رسم۔ رواج ۔ آنج گرمی ۔ عذاب۔ پریت ۔ پیار۔ ارجھیؤ۔ گرفتار۔ الجھاؤ میں۔ ال بھنور۔ باسن۔ خوشبو۔ مگن ۔ مست ۔ مدہوش۔ کھن بھی ۔ تھوڑے سے وقفےکے لئے بھی ۔ لڑے ۔دور نہیں ہوتا۔ ار پیئے ۔ بھینٹ کریں۔ حوالے کریں۔ کھن ناہے لڑییئے ۔ چند منٹوں اور سیکنڈروں کے لئے بھی دور نہ ہوہیے ۔ سیگار ہبھ رس ارپیے ۔ تمام سجاوٹیں اور مزے قربان کر دیجیئے ۔ دکھ سنیئے ۔ جہاں عزاب سنو۔ جسم پنتھ ۔ موت کا راستہ ۔ تیہہ سادھ سنگ نہ ڈرپیئے ۔ خوف نہ مانو ۔ جب ساتھ ہو پاکدامن کا ۔ کیرت ۔ حمدوثناہ ۔پراچھت ۔ پچھتاوے ۔ نیہو ۔ پیار۔
ترجمہ:
یاد کرتے ہیں وہی خدا کو جن پر مہربان ہے خود خدا خدا سے پیار کتے ہیں وہی جن کا ملاپ اور صحبت ق قربت حاصل ہے جن کو پاکامنوں کی اے نانک (1) انسان کی روح یعنی آتما اور پرماتما کا اپسی رشتہ دودھ اورپانی کے رشتے کی مانند ہے جب پانی اور دودھ آپس میں گھل مل جاتے ہیں تو دودھ کو پانی آنچ نہیں آنے دیتا اے انسان الہٰی محبت بھی انسان سے ایسی ہی ہے ۔ اس طرح سے کنول ک اپھول جب اپنی خوشبو ( کھلا رے ) بگھیرنے لگتا ہے تو بھنور اس پر مست ہو کر اپنی ہوش گنوا بیٹھتا ہے ۔ اور تھوڑے سے وقفے کے لئے بھی وقفے کے لئے محبت ختم نہ کریں۔ تمام سجاوتیں اور لطف قربان کر دیں جہاںموت کا خدشہ ہو اور عذاب سنائی دیتا ہو ہواں پاکدامن کی صحبت سے خوف ختم ہوجاتاہے وہاں الہٰی حمدوثناہ کی برکت سے خدا تمام عذاب مٹا دیتا ہے ۔ اےنانک بتادے کہ الہٰی حمدوثناہ کرتے رہو اور خدا اپنا پیار جاری رکھو ایسے الہٰی پیار اے دل پیار ہے (1)

جیَسیِ مچھُلیِ نیِر اِکُ کھِنُ بھیِ نا دھیِرے من ایَسا نیہُ کریہُ ॥
جیَسیِ چات٘رِک پِیاس کھِنُ کھِنُ بوُنّد چۄےَ برسُ سُہاۄے میہُ ॥
ہرِ پ٘ریِتِ کریِجےَ اِہُ منُ دیِجےَ اتِ لائیِئےَ چِتُ مُراریِ ॥
مانُ ن کیِجےَ سرنھِ پریِجےَ درسن کءُ بلِہاریِ ॥
گُر سُپ٘رسنّنے مِلُ ناہ ۄِچھُنّنے دھن دیدیِ ساچُ سنیہا ॥
کہُ نانک چھنّت اننّت ٹھاکُر کے ہرِ سِءُ کیِجےَ نیہا من ایَسا نیہُ کریہُ ॥੨॥
لفظی معنی:
نیر ۔ پانی ۔ دھیرج ۔ دھیرے ۔ نیہو ۔ پیار ۔ عشق۔ محبت ۔ چاترک ۔بنیہا۔ پپیہا۔ سارنگ ۔ ( جو ) جس کی بابت عام کہاوت اور روایات ہے کہ اس کی بارش کی بند سے پیار بجھتی ہے ۔ مراری ۔ خدا۔ چت۔ دل ۔ من ۔ ذہن۔ روح۔ مان ۔ غرور ۔ پریجے ۔پڑو۔ سوپرسنے ۔ اس پر خوش ہوتا ہے ۔ وچھونے ۔ جدائی۔ ساچ سنیہا۔ سچا۔ پیغام۔ چھنت ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ اننت ۔ ٹھاکر ۔ ایسا آقا جو اعداد و شمار سے با ہر ہے ۔ نیہو ۔ پیار۔
ترجمہ:
اے دل ۔ خدا سے ایسا پیار کر جیسا مچھلی کا پانی سے ہے اور چند لمحوں کے لئے بھی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی ایسا پیار کر جیسا پپیہے کا سواتیہہ بوند سے پریم پیار ہے بار بار بارش کے قطرے کے لئے دعا کرتا ہے ۔ اے انسان ایسا ہی خدا سے پیار کر اور اپنا دل اسے دیدے اور خدا سے ایسا پیار کر غرور اور تکبر نہ کر اس کے زیر سایہ رہ تیرے دیدار پر قربان ہوں۔
جس پر مرشد مہربان ہوتا ہے ۔ وہ انسان کو سچا پیغام دیتا ہے کہ اے جدائی یافتہ جدائی نہ دیجیئے ۔ اے نانک بتادے کہ تو اس لا محدود خدا کی حمدوثناہ کر اے دل ایسا پیا رکر (2)

چکۄیِ سوُر سنیہُ چِتۄےَ آس گھنھیِ کدِ دِنیِئرُ دیکھیِئےَ ॥
کوکِل انّب پریِتِ چۄےَ سُہاۄیِیا من ہرِ رنّگُ کیِجیِئےَ ॥
ہرِ پ٘ریِتِ کریِجےَ مانُ ن کیِجےَ اِک راتیِ کے ہبھِ پاہُنھِیا ॥
اب کِیا رنّگُ لائِئو موہُ رچائِئو ناگے آۄنھ جاۄنھِیا ॥
تھِرُ سادھوُ سرنھیِ پڑیِئےَ چرنھیِ اب ٹوُٹسِ موہُ جُ کِتیِئےَ ॥
کہُ نانک چھنّت دئِیال پُرکھ کے من ہرِ لاءِ پریِتِ کب دِنیِئرُ دیکھیِئےَ ॥੩॥
لفظی معنی:
سنیہو ۔ سمبندھ ۔ رشتہ ۔ پیار ۔ چتوے ۔ دلمیں خیال ہے ۔ آسگ گھنی ۔ بہت زیادہ امید ہے ۔ کوکل۔ کوئل ۔ چوتے سوہا ویا۔ کتنا میٹھا خوبصورت بولتی ہے ۔ ہر رنگ۔ الہٰی پریم۔ پیار ۔ مان ۔ غرور۔ گھمنڈ۔ ہبھ ۔ صرف۔ پانیا۔ مہمان ۔ موہ رچا ئیو۔ محبت میں گرفتار ہے ۔ گھر۔ مستقل ۔ دوآمی ۔ کتیئے ۔ و کر رہا ہے ۔
ترجمہ:
چکوی کا سور ج سے رشتہ اور پیار ہے وہ تمام رات اس کے انتطار میں گذارتی ہے کہ کب دن دیکھے ۔ کوئل کا آم سے محبت ہے سوکتنا سوہا ناگاتی اور یولتی ہے ۔ اے دل تو بھی خدا سے پیار کر اس لئے پیار بھی کر اور اس پیارکا غرور بھی نہکر کیونکہ ہم سب ایک رات کے مہمان ہیں تو پھر اس دنیا سے محبت کر رہا ہے تو ننگا آئیا تھا ننگاہی اس دنیا سے چلے جانا ہے ۔
اے انسان پاکدامن کا سہارا لو اس کے سایہ میں رہو اس سے مستقل مزاج ہوجاو گے تب ہی یہ دنیاوی رشتے اورمحبت ختم ہوگی ۔ اے نانک رحمان الرحیم مہربان خدا کی حمدوثناہ کرؤ دل سے تاکہ دیدار خدا حاصل ہو

نِسِ کُرنّک جیَسے ناد سُنھِ س٘رۄنھیِ ہیِءُ ڈِۄےَ من ایَسیِ پ٘ریِتِ کیِجےَ ॥
جیَسیِ ترُنھِ بھتار اُرجھیِ پِرہِ سِۄےَ اِہُ منُ لال دیِجےَ ॥
منُ لالہِ دیِجےَ بھوگ کریِجےَ ہبھِ کھُسیِیا رنّگ مانھے ॥
پِرُ اپنا پائِیا رنّگُ لالُ بنھائِیا اتِ مِلِئو مِت٘ر چِرانھے ॥
گُرُ تھیِیا ساکھیِ تا ڈِٹھمُ آکھیِ پِر جیہا اۄرُ ن دیِسےَ ॥
کہُ نانک چھنّت دئِیال موہن کے من ہرِ چرنھ گہیِجےَ ایَسیِ من پ٘ریِتِ کیِجےَ ॥੪॥੧॥੪॥
لفظی معنی:
نس۔ رات کو ۔ کرنک ۔ ہرن ۔ ناد۔ آواز۔ سرونی ۔ سن کر ۔ ہیؤ۔ دل ۔ ڈوے ۔ دل لگاتا ہے ۔ ترن ۔ نوجوان دوشیزہ ۔ بھار۔ خاوند۔ ارجہی ۔ گرفتار ۔ پریہہ سوے ۔ خاوند کی خدمت کرتی ہے ۔ ایہہ من لال دیجے ۔ اس دل کو خدا کو دیجیئے ۔ اس دل کو خدا سے واسبطہ کرکے اس کی خوشیاں حاصل کرو۔ جو انسان خدا سے دل لگاتا ہے وہ الہٰی ملاپ کی تمام لطف و لذتیں پاتا ہے وہ الہٰی ملاپ پا لیتا ہے اور دیرینہ دست سے رشتہ بنا لیتا ہے ۔جب ہو مورشد ساتھی تو دیکھو اپنی آنکھوں خدا جیسا دوسرا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ اے ناک۔ تعریف کر اس خدا کی جو رحمان الرحیم ہے جو دل کو بھاتا ہے اس کےپاؤں پڑ ا ایسا پریم پیار کر ۔

آسا مہلا ੫॥
سلوکُ ॥
بنُ بنُ پھِرتیِ کھوجتیِ ہاریِ بہُ اۄگاہِ ॥
نانک بھیٹے سادھ جب ہرِ پائِیا من ماہِ ॥੧॥
چھنّت ॥
جا کءُ کھوجہِ اسنّکھ مُنیِ انیک تپے ॥
ب٘رہمے کوٹِ ارادھہِ گِیانیِ جاپ جپے ॥
جپ تاپ سنّجم کِرِیا پوُجا انِک سودھن بنّدنا ॥
کرِ گۄنُ بسُدھا تیِرتھہ مجنُ مِلن کءُ نِرنّجنا ॥
مانُکھ بنُ تِنُ پسوُ پنّکھیِ سگل تُجھہِ ارادھتے ॥
دئِیال لال گوبِنّد نانک مِلُ سادھسنّگتِ ہوءِ گتے ॥੧॥
لفظی معنی:
بن بن ۔ جنگل جنگل۔ بہو ۔ بہت سے ۔ اوگاہے ۔ ڈہونڈے ۔ پھرتے رہے ۔ سادھ ۔ پاکدامن خدا رسیدہ ۔ جنہو نہونے روحانی واخلاقی منزل حاصل کر لی (1) (چھنت )
جاکوؤ۔جسے ۔کھوجیہہ۔ ؤہنڈتے ہی۔ اسنکھ ۔ بیشمار ۔ متی ۔ رشتی ۔ تپسوی ۔ ریاضت کرنے والے ۔ عابد۔ برہمے کوٹ ۔ کروڑوں برہما۔ ارادھے ۔یاد رکتے ہیں۔ گیانی عالم ۔ سنجم کریا۔ ضبط احساسات و عمال ۔ سودھن۔ پاکیزہ بنانا ۔ بندھنا۔ دعا۔ کر گون بسدھا۔ زمین پر سیر وسیاحت ۔ مجن ۔ اشنان ۔ غسل۔ نرنجنا۔ بیداغ۔ تن ۔ تنکا ۔ گھاس۔ سگل ۔ سارے ۔
ترجمہ:
جنگلوں میں ڈہونڈتے ڈہونڈتے سارا علام تھک گیا ماند پڑ گیا مگر اے نانک جب خدا رسیدہ پاکدامن سے ملاپ ہوا اپنے دل و ذہن میں ہی مل گیا (1) چھنت ) جسے بیشمار دلی اور نئی تپسوی تلاش کرتے ہیں ۔ کروڑوں برہما عالم فاضل عابدت وریاضت کرتے ہیں اور احساسات ضط رکھنے کی سی کرتے ہیں اور بیشمار مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں اور اپنی جسمانی پاکیزگی کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور زمین کے چگر لگاتے ہیں اور زیارگاہوں کی زیارت کرتے ہیں اس پاک خدا سے ملاپ کے لئے اے رحمان الرحیم خدا ۔ جنگل سبز ہ زار چرند ۔ پرند سارے تجھے یاد کرتے ہیں۔ مربان خدا نانک کو خدا رسیدہ پاکدامن کی صحبت و قربت میں ملا تکاہ مجھے بلند روحانی واخلاقی رتبہ حاصل ہو۔

کوٹِ بِسن اۄتار سنّکر جٹادھار ॥
چاہہِ تُجھہِ دئِیار منِ تنِ رُچ اپار ॥
اپار اگم گوبِنّد ٹھاکُر سگل پوُرک پ٘ربھ دھنیِ ॥
سُر سِدھ گنھ گنّدھرب دھِیاۄہِ جکھ کِنّنر گُنھ بھنیِ ॥
کوٹِ اِنّد٘ر انیک دیۄا جپت سُیامیِ جےَ جےَ کار ॥
اناتھ ناتھ دئِیال نانک سادھسنّگتِ مِلِ اُدھارُ ॥੨॥
لفظی معنی:
کروڑوں وشنوں اور جٹاں والے شوجی !
جٹادھار ۔ جٹاں والے ۔ بسن اوتار ۔ وشنو ۔ پیغمبر۔ دیار ۔ مہربان۔ دیالو۔ چاہے تجھے ۔ تجھے پیار کتے ہیں۔ رچ ۔خواہشات۔ اگم ۔ انسانی رسائی سے باہر۔ ٹھاکر۔ آقا۔ سگل پورک ۔ تمام ۔ خواہشات پوری کرنے والے ۔ دھنی ۔مالک ۔ سر۔ فرستے ۔ سدھ ۔ خدا رسیدہ ۔ جنہوں نے زندگی کامدعا و مقصد حاصل کر لیا ۔ گن ۔ خادمان شوجی خدمتگاران فرشتہ موت ۔ عزرائیل گندرھو ۔ فرشتوں کے سنگیت کار۔ جکھ ۔ فرشتے ۔ کفر ۔ فرشتوں کی ایک خاص قسم گھن بھنی ۔ صفت صلاح ۔ کوٹ اندر۔ کروڑوں اندر۔ اتیک دیو۔ بیشمار فرشتے ۔ جپت سوامی ۔ اس مالک کو یاد کرتے ہیں۔ اناتھ ناتھ ۔ بے مالکوںکا مالک ۔دیال۔ مہربان۔ سادھ سنگت ۔ پاکدامنوں کی صحبت
ترجمہ:
اے خداوند کریم کروڑوں وشنو کے پیغمبر اور کروڑوں جٹاں والے شوجی تیرے ملاپ کے خواہشمند ہیں ان کے دل میں از حڈ خواہش ہے ۔ اے ل امحدود انسای رسائی سے بلند و بالا اور سب کی خواہشات پوریاں کرنے والے آقا خدوند کریم خدا ۔ فرشتے خدا رسیدہ پاکدامنفرشتوں کے سنگیتن کار اور جھکھ کفر وغیرہ فرشتوں کی قسمیں تیری ہی حمدوثناہ کرتے ہیں۔ کروڑوں اندر دیوتے اور بہت سے فرشتے اے خدا تیری ہی فتح کے گیت گاتے ہیں۔ اےنانک ۔ بے مالکوں کا ملاک خدا کرم و عنیات اور رحمدلی کا منبع پاکدامنوں و خدار رسیدوں کی صحبت و قربت سے زندگی کے مقصد و مدعا میں کامیابی عنایت کرتا ہے (2)

کوٹِ دیۄیِ جا کءُ سیۄہِ لکھِمیِ انِک بھاتِ ॥
گُپت پ٘رگٹ جا کءُ ارادھہِ پئُنھ پانھیِ دِنسُ راتِ ॥
نکھِئت٘ر سسیِئر سوُر دھِیاۄہِ بسُدھ گگنا گاۄۓ ॥
سگل کھانھیِ سگل بانھیِ سدا سدا دھِیاۄۓ ॥
سِم٘رِتِ پُرانھ چتُر بیدہ کھٹُ ساست٘ر جا کءُ جپاتِ ॥
پتِت پاۄن بھگتِ ۄچھل نانک مِلیِئےَ سنّگِ ساتِ ॥੩॥
لفظی معنی:
کوٹ دیوی ۔ کروڑوں دیویاں۔ لکھمی ۔ لچھی ۔ دولت یا سرمایہ کی دیوی ۔ انک ۔ بیشمار طریقوں سے ۔ گپت ۔ پوشیدہ ۔ پرگٹ ۔ ظاہر۔ نکھتر۔ سورج ۔ تارے وچاند۔ بسد۔ مزین ۔گگنا ۔ آسمان۔ سگل ۔ سارے ۔ کھانی ۔ کا نین ۔ بانی ۔ زبانیں۔ سمرت۔ ستائش ۔ سمرتیاں جو ہندوں کے دھارمک رہبروں نے ہندو مذہب کی رہنمائی کے لئے لکھی ہیں۔ چتر وید یہہ ۔ چاروں وید۔ گھٹ شاشتر ۔ چھ ساشتر ہندو فلسفے کی کتابیں ۔ پتت ۔ ناپاک بد اخلاق۔ بد روح ۔ پاون ۔ پاک بنانے والا۔ خوش اخلاق بنانے والے ۔ بھگت وچھل۔ الہٰی عابدوں ۔ خدائی خدمتگاروں کا پیار ۔ مراد عبادت وریاضت سے محبت کرنے وال ا۔ ستگ۔ سات۔ سچ اور حقیقت کے ساتھ ۔
ترجمہ:
اے خدا وند کریم کروڑوں پیغمبران وشنو اور کروڑوں ظلموں اور جٹوں والے شوجی اے مہربان و مشفق ہیں تیرے دیدار کے عاشق جن کے دل میں بیشمار خواہشا ہے تیری ۔ بیشمار بلند و بالا خدا مالک سب کی خواہشات پوری کرنے والے ۔ فرشتے اور خدا رسیدہ پاکدامن خادمان شوجی اور سنگیت کا ران فرشتہ ہائے جو تیری حمدوثناہ وہ کرتے ہیں اور گروڑوں اندر جیسے فرشتے تیرے ہی گن ج گاتےہیں اور فتح بلاتے ہیں۔ بے مالکوں کا تو ہے مالک رحمان الرحیم ہے تو تیری ہی صحبت و قربت سے کامیابی ملتی ہے انسانوں کو

جیتیِ پ٘ربھوُ جنائیِ رسنا تیت بھنیِ ॥
انجانت جو سیۄےَ تیتیِ نہ جاءِ گنیِ ॥
اۄِگت اگنت اتھاہ ٹھاکُر سگل منّجھے باہرا ॥
سرب جاچِک ایکُ داتا نہ دوُرِ سنّگیِ جاہرا ॥
ۄسِ بھگت تھیِیا مِلے جیِیا تا کیِ اُپما کِت گنیِ ॥
اِہُ دانُ مانُ نانکُ پاۓ سیِسُ سادھہ دھرِ چرنیِ ॥੪॥੨॥੫॥
لفظی معنی:
جتنی دی ہے سمجھ خدا نے اتنا زبان سے بیان کا ہے ۔ جیتی ۔ جتنی ۔ جنائی۔ سمجھ عطا کی ہے ۔ رسنا۔ زبان سے ۔ گانت ۔ نادانی ۔ گنی ۔ شمار۔ اوگت۔ لافناہ ۔ اگنت ۔ شمار نہ ہو سکنے والا۔ اتھاہ ۔ جسکا اندازہ نہ ہو سکے ۔ منبھے ۔ میں سے ۔ جاچک ۔ بھکاری ۔ داتا۔ سخی ۔ دینے والا۔ سنگی ۔ ساتھی ۔ اپما۔ شہرت۔ عظمت ۔ کت گنی ۔ کس کے شمار میں ہے ۔ مان ۔ وقار۔ سیس ۔ سر ۔ سادیہہ۔ پاک بنائے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جتنی عقل و ہوش اور دانشمندی دی ہے خڈا نے اتنی زبان سے کہہ ڈالی ۔ ندانی میں جو کرتے ہیں خدمت نہیں ہو سکتا شمار ان کا ۔ آنکھوں سے اوجھل ہے اعداد و شمار سے بعید اندازے سے باہر ہے سب کے اندر اور سب سے باہر ہے ۔ سارے اور سب اس کے در کے ہیں بھکاری اور واحد سخی و داتار ہے ۔ وہ سب کا ستاھی حاضر ناطر اور ہے ظاہر۔ سب بھگتوں کے ؟ ہے سب میں جنکو مل جاتا ہے تعریف انکی ہو سکتی نہیں یہ دان اور وقارت نانک کو ملے کہ اپنا سر خدا رسیدہ پاکدامن کے پاؤں پر رکھے ۔

آسا مہلا ੫॥
سلوک ॥
اُدمُ کرہُ ۄڈبھاگیِہو سِمرہُ ہرِ ہرِ راءِ ॥
نانک جِسُ سِمرت سبھ سُکھ ہوۄہِ دوُکھُ دردُ بھ٘رمُ جاءِ ॥੧॥
چھنّتُ ॥
نامُ جپت گوبِنّد نہ السائیِئےَ ॥
بھیٹت سادھوُ سنّگ جم پُرِ نہ جائیِئےَ ॥
دوُکھ درد ن بھءُ بِیاپےَ نامُ سِمرت سد سُکھیِ ॥
ساسِ ساسِ ارادھِ ہرِ ہرِ دھِیاءِ سو پ٘ربھُ منِ مُکھیِ ॥
ک٘رِپال دئِیال رسال گُنھ نِدھِ کرِ دئِیا سیۄا لائیِئےَ ॥
نانکُ پئِئنّپےَ چرنھ جنّپےَ نامُ جپت گوبِنّد نہ السائیِئےَ ॥੧॥
لفظی معنی:
ادم ۔ جہد۔ کوشش۔ وڈبھاگیو ۔ بلند قسموں ۔ سمر ہو ۔ یاد کرؤ۔ ہر ہر رائے ۔ شہنشاہ خدا۔ دکھ ۔ عذاب ۔ درد ۔ تکلیف ۔ بھرم ۔ وہم وگمان ۔ شک و شبہات (1) ( جھنت) ایساییئے ۔ سستی نہ کرنی چاہیے ۔ بھیٹت۔ ملاپ ۔ سادہو سنگ ۔ خدا رسیدہ پاکدامن ساتھ۔ جم پر ۔ روحانی یا اخلاقی موت ۔ بھو۔ خوف۔ کرپال دیال۔ مہربان۔ رسال ۔ پر لطف ۔ گن ندھ ۔ اوصاف کا خزانہ ۔ سیوا۔ خدمت۔ پائینے ۔ پاؤں ۔ پر پریش کرتا ہے ۔ چرن جنپے ۔ پاوں یاد کرتاہوں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نانک۔ بتادے کہ اے بلند قسمت والوں جس خدا کی یاد سے سارے آرام و آسائش حاسل ہوں تمام عذاب اور تکلیف دور ہوجائیں اور ذہنی دوڑ دہوپ ختم ہوجائے ا س شہنشاہ عالم کو یاد کرنے کی سعی جاری رکھو (1) اے انسانوں خدا کو یاد کرتے وقت ستی نہ گر ۔ پاکدامن خدا رسیدہ کی صحبت و قربت اختیار کرنے سے روحانی واخلاقی موت کا خوف نہیں رہتا۔ نہ عذاب آتا ہے نہ خوف رہتا ہے اور الہٰینام یعنی سچ اور حقیقت یا درکھنے سے ہمیشہ آرام و آسائش ملتا ہے ہر سانس خدا کو یاد رکھو اپنے دلمیں بساؤ او زبان سے بولو۔
اے مشفق و مہربان اوصاف ک خزانے کرم فرما خدمت و ریاضت عنیات کر ۔ نانک دعا گو ہے ۔ اور تیرے پاوں میں اپنی توجو لگاتا ہے ۔ سو اخدا کو یاد کر نے میں سستی نہیں کرتی چاہیئے ۔

پاۄن پتِت پُنیِت نام نِرنّجنا ॥
بھرم انّدھیر بِناس گِیان گُر انّجنا ॥
گُر گِیان انّجن پ٘ربھ نِرنّجن جلِ تھلِ مہیِئلِ پوُرِیا ॥
اِک نِمکھ جا کےَ رِدےَ ۄسِیا مِٹے تِسہِ ۄِسوُرِیا ॥
اگادھِ بودھ سمرتھ سُیامیِ سرب کا بھءُ بھنّجنا ॥
نانکُ پئِئنّپےَ چرنھ جنّپےَ پاۄن پتِت پُنیِت نام نِرنّجنا ॥੨॥
لفظی معنی:
پاون۔ پاک ۔ پائس ۔ پتت۔ بداخلاق ۔ بد روح ۔ پنیت ۔ پاک ۔ نام نرنجنا۔ بیداگ پاک ۔ خدا کا نام ۔ بھرم۔ وہم وگامن ۔ اندھیر ۔ لا علمی ۔ جہات۔ وناس۔ مٹانے والا۔ گیان گر۔ علم مرشد ۔ انجن سرمیہ ۔ پربھ۔ خدا۔ جل تل مئیل۔ زمین اور سمندر۔ نمکھ ۔ آنکھ جھپکنے کی دیر کے لئے ۔ ردے ۔ دلمیں۔ وسوریا۔ بھلائے ۔ فکہ و تشویش۔ اگادھ بودھ۔ لا محدود عقل وہوش ۔ سمرتھ ۔ لائق ۔ بھؤ بھنجنا۔ خوف مٹانے والا۔
ترجمہ معہ تشریح::
وہم و گمان اور جہالت کا اندھیرا مٹانے والا اور مرشد کی عنایت کرنے والی ہو ش و عقل اور روحانی زندگی گذارنے کی سمجھے ۔ دینے والا علم کا سرمہ ہے ۔ مرشد کا علم روحانیت کا سرمہ اور پاک خدا رزمین و آسامن خلااور سمندر ہر جگہ بستا ہے ۔ جس کے دلمیں لمحہ بھر کے لئے بس جاتا ہے اس کے تمام فکرات و تشویشات مٹا دیتا ہے ۔ خدا لا تعداد علم و ہنر کا مالک ہے اور سب کا خوف مٹانے کی توفیق رکھتا ہے ۔ نانک ۔ عرض گذارتا ہے اور اس کے پاوں میں اپنا دھیان لگاتا ہے ۔ پاک خدا کا نام گناہگاروں بدکاروں بداخلاقوں بدروحوں کو پاکیزہ اور پاک بنانے والا ہے ۔

اوٹ گہیِ گوپال دئِیال ک٘رِپا نِدھے ॥
موہِ آسر تُء چرن تُماریِ سرنِ سِدھے ॥
ہرِ چرن کارن کرن سُیامیِ پتِت اُدھرن ہرِ ہرے ॥
ساگر سنّسار بھۄ اُتار نامُ سِمرت بہُ ترے ॥
آدِ انّتِ بیئنّت کھوجہِ سُنیِ اُدھرن سنّتسنّگ بِدھے ॥
نانکُ پئِئنّپےَ چرن جنّپےَ اوٹ گہیِ گوپال دئِیال ک٘رِپا نِدھے ॥੩॥
لفظی معنی:
اوٹ۔ آسرا ۔ نگیئہ ۔ گہی ۔ پکڑی ۔ گوپال دیال ۔ مہربان خدا۔ کر پاندھے ۔ مہربانیوں کا خزانہ ۔ رحمان الرحیم ۔ موہے ۔ میں۔ آسر ۔ نکئہ ۔ تؤ۔ تیرے ۔ تمارے سر ن سدھے ۔ تیرے زیر سیاہ کا میابی ۔ پتت ادھرن ۔ گناہگارو کو کامیایب یا صبح راستے پر لانے والا ۔ ساگر سنسار ۔ دنیاوی زندگی کا سمندر۔ بھو ۔ خوفناک ۔ آد۔ آغاز ۔ اول ۔ انت ۔ آخر۔ بے انت ۔ بیشمار ۔ کھوجیہہ۔ تلاش کرتے ہیں۔ ۔ سنی ادھرن سنت سنگ بدھے ۔ سنا ہے کہ صحبت و قربت پاکدامناں سے کامیابی ملتی ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح::
اے پروردگار رحمان الرحیم مہربانیوں کے خزانے تیرا سہارا لیا ہے ۔ مجھے تیرا سہارا ہے تیرے زیر سایہ رہنے سے میری زندگی کی کامیابی ہے ۔ اے آقا تیرے زیر سایہ رہنے سے بدا خلاق بھی کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ خدا کا نام کسی کو بھی اس دنیاوی زندگ کے سمندر سے جو ناہیت خوفناک ہے سے کامیاب بنانے کی توفیق رکھتا ہے اور بیشماروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ اے خدا اول و اخر ۔ آغاز و آخڑت میں توہی ہے او تھا اور بیشمار تیری تلاش کرتے ہیں۔ اے خدا تیرے خدا رسیدوں پاکدامنوں کی صحبت و قربت ہی ایک ایسا واحد ذریعہ ہے جس سے بدیوں اور برائیوں سے نجات ہو سکتی ہے نانک۔ اے خدا تیرے پاوں میں دھیان لگاتا ہے اور اے مہربان مہربانیوں کے خزانے تیرا آسرا لیا ہے ۔

بھگتِ ۄچھلُ ہرِ بِردُ آپِ بنائِیا ॥
جہ جہ سنّت ارادھہِ تہ تہ پ٘رگٹائِیا ॥
پ٘ربھِ آپِ لیِۓ سماءِ سہجِ سُبھاءِ بھگت کارج سارِیا ॥
آننّد ہرِ جس مہا منّگل سرب دوُکھ ۄِسارِیا ॥
چمتکار پ٘رگاسُ دہ دِس ایکُ تہ د٘رِسٹائِیا ॥
نانکُ پئِئنّپےَ چرنھ جنّپےَ بھگتِ ۄچھلُ ہرِ بِردُ آپِ بنائِیا ॥੪॥੩॥੬॥
لفظی معنی:
بھگت وھل۔ عبادت الہٰی کا پریمی ۔ برد ۔ دیرینہ عادت ۔ جیہہ جیہہ۔ جہاں جہاں۔ ارادھیہہ۔ عبادت وریاضت کرتے ہیں۔ تیہہ تیہہ ۔ وہاں وہاں ۔ پر گٹائیا ۔ ظاہر ہوا۔ پربھ آپ ملئے سمائے ۔ خدا نے محو ومجذوب کئے ۔ سہج ۔ روحانی سکون ۔ بھگت کارج ۔ کار الہٰی عاشقان ۔ ہر جس ۔ الہٰی صف صلاح ۔ مہا منگل ۔ بھاری خوشیاں ۔ چمتکار پرگاس۔ نورانی جھلک ۔ دیہہ دس۔ ہر طرف۔ در سٹائیا۔ دکھائی دیا ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا اپنی حمدوثناہ اور عبادت کرنے والوں عبادت و ریاضت کی وجہ سے اپنی قدیمی عادلت کی مطابق محبت کراتا ہے ۔ جہاں جہاں جن جن خدا رسیدہ پاکد امنوں نے یاد کیا وہاں وہاں ظہور پذیر ہوا ۔ خڈا نے خود ہی اپنے پریمیوں کو اپنے پیار اور پریم میں محو ومجذوب کیا ہوا ہے ۔ اور روحانی سکون میں ہیں اور اپنے پریمیو اور عبادوں کے خود ہی کام درست کرتا ہے الہٰی پریمی خدا کی صفت صلاح کرتے ہیں اور الہٰی ملاپ کی خوش کے گیت گاتے ہیںاور روحانی سکون پاکر تمام دکھ بھلایتے ہیں۔ جس خدا کے نور کی نورانی او ر جھلک تمامع الم میں پھلی ہوئی ہے ۔ وہی نور الہٰی پریمیوں کے دلوں میں ظاہر ہوجاتا ہے نانک عرض گذارتا ہے ۔ پائے الہٰی میں دھیان لگاتا ہے ۔ کہ خدا اپنے پر یمیوں سے پیار کرنے کی عادت آغاز عالم سے بنائیا ہوا ہے ۔

آسا مہلا ੫॥
تھِرُ سنّتن سوہاگُ مرےَ ن جاۄۓ ॥
جا کےَ گ٘رِہِ ہرِ ناہُ سُ سد ہیِ راۄۓ ॥
اۄِناسیِ اۄِگتُ سو پ٘ربھُ سدا نۄتنُ نِرملا ॥
نہ دوُرِ سدا ہدوُرِ ٹھاکُرُ دہ دِس پوُرنُ سد سدا ॥
پ٘رانپتِ گتِ متِ جا تے پ٘رِء پ٘ریِتِ پ٘ریِتمُ بھاۄۓ ॥
نانکُ ۄکھانھےَ گُر بچنِ جانھےَ تھِرُ سنّتن سوہاگُ مرےَ ن جاۄۓ ॥੧॥
لفظی معنی:
سہاگ ۔ خاوند ۔ تھر ۔ مستقل ۔ دائمی ۔ گریہہ۔ گھر ۔ دل ۔ سد ۔ ہمشہ ۔ روائے ۔ لطف لیتا ہے ۔ اوناسی ۔ لافناہ ۔ اوگت۔ جس کی حالت بیان سے باہر ہو ۔ نوتن ۔ نوجوان۔ نرملا۔ پاکدامن ۔ حدور ۔ حاضر ناظر ۔ پورن ۔ مکمل طور پر ۔ پران پت ۔ زندگی کا مالک ۔ گت ۔ حالت ۔ مت۔ عقل ۔ پر یر پریت ۔ پیارے کا پیار۔ پریتم ۔ پیارے کو ۔ بھاوئے ۔ پیارا لگتا ہے ۔ دکھانے ۔ بیان کرتا ہے ۔ گربچن ۔ کلام مرشد۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا رسیدہ پاکدامن ( سنتو) عابدوں ولی اللہ کا خاوند خدا صدیوی دائم قائم رہتا ہے نہ اسے موت آئی ہے نہ کہیں جاتا ہے ۔ جس کے دل میں بستا ہے خدا وہ ہمیشہ اس کے ملاپ سے سکون پاتا ہے ۔ خدا کہیں دور نہیں ہمیشہ حاضر ناظر ہر طرف ہر جگہ بستا ہے زندگی کا مالک جس سےا نسان بلند روحانیت اور اخلاق پا ہتا ۔ اسے پیارے کا پیار اچھا لگتا ہے پیار ا ہے ۔ نانک بیان کرتا ہے کلام مرشد یا سبق مرش سے خدا سے گہرا رشتہ یا تعلق پیدا ہوتا ہے جو سمجھتا ہے خدارسیدہ پاکدامنوں کا خدا صدیوی قائم دائم ہے جو لافناہ ہے جو نہ ساتھ چھوڑ کر کہیں جاتا ہے ۔

جا کءُ رام بھتارُ تا کےَ اندُ گھنھا ॥
سُکھۄنّتیِ سا نارِ سوبھا پوُرِ بنھا ॥
مانھُ مہتُ کلِیانھُ ہرِ جسُ سنّگِ سُرجنُ سو پ٘ربھوُ ॥
سرب سِدھِ نۄ نِدھِ تِتُ گ٘رِہِ نہیِ اوُنا سبھُ کچھوُ ॥
مدھُر بانیِ پِرہِ مانیِ تھِرُ سوہاگُ تا کا بنھا ॥
نانکُ ۄکھانھےَ گُر بچنِ جانھےَ جا کو رامُ بھتارُ تا کےَ اندُ گھنھا ॥੨॥
لفظی معنی:
بھتار ۔ خاوند ۔ خدا ۔ گھنا۔ نہایت زیادہ ۔ سکھونتی ۔ سکھی ۔ نار ۔ عورت۔ مراد انسان ۔ سوبھاپور ۔ مکمل شہرت یافہت ۔ مان۔ وقار ۔ مہت ۔ مہتتا۔ عظمت۔ کلیان ۔ خوشحالی ۔ ہرجس۔ الہٰی صفت صلاح۔ سرجن ۔ فرشتہ سیر ت۔ سرب سدھ ۔ ساری کرامات ۔ اونا ۔ کمی ۔ مدھر بنای مٹھا کلام ۔ پر ہے ماتی ۔ خاوند کی وقار۔ یافتہ ۔ تھو سوہاگ۔ مستقل خاوند۔ صدیوی خدا رسیدہ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جسکا مالک ہو خؤد خدا خوشحال زندگی ہوجاتی ہے ارام و آسائش پاتا ہے انسان اور کامل شہرت پاتا ہے ہر جا پا تا ہے وقار اور عظمت پاتا ہے خوشحال ہوجاتا ہے فرشتہ سیرت انسان کا ساتھی وہ ہوجاتا ہے صحبت الہٰی پاتا ہے ۔ ساری کراماتی طاقتیں اور سارے خزانے اس عالم کے اسکو مل جاتے ہیں کمی نہیں رہتی اسے کوئی سب کچھ حاسل ہوتا ہے ۔ میٹھے بول ہوجاتے ہیں اس کے خاوند خدا سے عزت حشمت پاتا ہے صدیوی ساتھ ( ساتھ ) خدا کا پاتا ہے ۔ نانک کرتا ہے بینا۔ جو کلام مرشد سمجھتا ہے جس کا خاوند و آقا ہو آپ خدا خوشحالی وہ پاتا ہے ۔

آءُ سکھیِ سنّت پاسِ سیۄا لاگیِئےَ ॥
پیِسءُ چرنھ پکھارِ آپُ تِیاگیِئےَ ॥
تجِ آپُ مِٹےَ سنّتاپُ آپُ نہ جانھائیِئےَ ॥
سرنھِ گہیِجےَ مانِ لیِجےَ کرے سو سُکھُ پائیِئےَ ॥
کرِ داس داسیِ تجِ اُداسیِ کر جوڑِ دِنُ ریَنھِ جاگیِئےَ ॥
نانکُ ۄکھانھےَ گُر بچنِ جانھےَ آءُ سکھیِ سنّت پاسِ سیۄا لاگیِئےَ ॥੩॥
لفظی معنی:
پیسؤ۔ چکی پیسو ۔ چرن کپکھار ۔ پاؤں جھاڑو۔ دہوؤ۔ آپ ۔ خودی ۔ خوئشتا ۔ خود غرضی ۔ تیاگیئے ۔ چھوڑیں۔ مٹسنتاپ ۔ عزات مٹتا ہے ۔ آپ نیہہ جاناییئے ۔ اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھو۔ سرن گیجئے ۔ سایہ میں رہو مرشد کے ۔ مان لیجے ۔ عزت ووقار لو ۔ کر داسی داسی ۔ خدمتگاروں کے خادم بنو۔ تج اداسی ۔ غمیگنی چھوڑو ۔ کر ۔ ہاتھ ۔ دن رین جاگیئے ۔ ہر وقت ۔ بیدار رہو ۔
ترجمہ معہ تشریح:
آو ساتھیوں مرشد کے پاس چلیں اور خدمت کریں پاوں جھاڑ یں اور چکی پیسیں اور خود ی چھوڑ یں (حسد) خودی ھوڑ نے سے کینہ اور حسد مٹتا ہے اور اپنے آپ کو جتنانا نہیں چاہیے دامن مرشد پکرو اور فرمانبردار ہو جو کرے اسے اچھا سمجھو۔ خادموں کے خادم بنو اور غمگینی چھوڑ کر بیدار ہوجاؤ ۔نانک بیان کرتا ہے کہ کلام مرشد سمجھو اور ساتھیوں پاکدامن خدا رسیدہ کی خدمت کریں ۔

جا کےَ مستکِ بھاگ سِ سیۄا لائِیا ॥
تا کیِ پوُرن آس جِن٘ہ٘ہ سادھسنّگُ پائِیا ॥
سادھسنّگِ ہرِ کےَ رنّگِ گوبِنّد سِمرنھ لاگِیا ॥
بھرمُ موہُ ۄِکارُ دوُجا سگل تِنہِ تِیاگِیا ॥
منِ ساںتِ سہجُ سُبھاءُ ۄوُٹھا اند منّگل گُنھ گائِیا ॥
نانکُ ۄکھانھےَ گُر بچنِ جانھےَ جا کےَ مستکِ بھاگ سِ سیۄا لائِیا ॥੪॥੪॥੭॥
لفظی معنی:
مستک ۔ پیشانی پر ۔ بھاگ۔ قیمت ۔ پورن آس۔ امید پوری ہوئی ۔ سادھ سنگ ۔ صحبت و قربت پاکد امن ۔ ہر کے رنگ ۔ الہٰی پریم۔ گو بند سمرن۔ الہٰی یاد۔ بھرم موہ دکار۔ بھٹکن ۔ شک و شبہات ۔ برائیاں ۔ دوئی ۔ دوئش ۔ سلگ ۔ سار۔ گیاگیا ۔ چھوڑ۔ من سانت ۔ دلی تسکین ۔ دوٹھا۔ بسیا ۔ انند۔ منگل۔ خوشی کے گیت ۔ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدمت کرتا ہے وہی جس کی قسمت میں پیشانی پر تحریر ہوتا ہے ۔ جنہیں پاکدامن کی صحبت و قربت ہو حاصل ان کی امیدیں برآور ہوجاتی ہے ۔ صحبت پاکدامن الہٰی پریم اور یاد خدا سے زہنیتگ و دو بھٹکن دوئی دوئش کا عشق سب کو چھوڑ دیتے ہین ان کے دل شانت اور پر سکون ہوجاتے ہیں۔ خوشیوں کے گیت گاتے ہیں۔ نانک بوئد کہ کلام مرشد سےخدا سے اشتراکیت پیدا ہوجاتی ہے اور جس کی قسمت میں ہوتا ہے وہی خدمت کرتا ہے ۔

آسا مہلا ੫॥
سلوکُ ॥
ہرِ ہرِ نامُ جپنّتِیا کچھُ ن کہےَ جمکالُ ॥
نانک منُ تنُ سُکھیِ ہوءِ انّتے مِلےَ گوپالُ ॥੧॥
چھنّت ॥
مِلءُ سنّتن کےَ سنّگِ موہِ اُدھارِ لیہُ ॥
بِنءُ کرءُ کر جوڑِ ہرِ ہرِ نامُ دیہُ ॥
ہرِ نامُ ماگءُ چرنھ لاگءُ مانُ تِیاگءُ تُم٘ہ٘ہ دئِیا ॥
کتہوُنّ ن دھاۄءُ سرنھِ پاۄءُ کرُنھا مےَ پ٘ربھ کرِ مئِیا ॥
سمرتھ اگتھ اپار نِرمل سُنھہُ سُیامیِ بِنءُ ایہُ ॥
کر جوڑِ نانک دانُ ماگےَ جنم مرنھ نِۄارِ لیہُ ॥੧॥
لفظی معنی:
جمکال ۔ موت (1) ملؤ۔ ملیں یا میں لوں۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ سنن کے سنگ ۔ خڈا رسیدہ پاک دامن کی صحبت و قربت میں ادھار ۔ بچاؤ۔ چرن لوگو۔ پاؤں پڑؤ۔ مان تیاگؤ۔ وقار چھوڑو ۔ تم دیا ۔ آپ مہربانی کیجیئے ۔ گتہو ں۔ کہیں۔ دھاوؤ۔ بھٹکو ۔ کرنا مے ۔ رحمان الرحیم ۔ میا۔ مرہبانی ۔ سمرتھ ۔ لائق ۔ اگتھ ۔ اکتھ ۔ ناقابل بیان ۔ جسے بیان نہ کیا جا سکے ۔ اپار۔ جسکا کوئی کنارہ نہ ہو ۔ لا محدود۔ نرمل۔ پاک ۔ بغیر میل۔ بؤ۔ عرض ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا کو یاد کرنے سے موت کا خوف بے اثر ہوجاتا ہے ۔ اے نانک۔ دل وجان سکھ پاتا ہے اور الہٰی ملاپ حاصل ہوتا ہے (1) چھنت۔ میں دست بستہ عرض گذارتا ہوں کہ مجھے نام دیجیئے ۔ پا ؤں پڑتا ہوں او ر وقار چھوڑتا ہوں ایسی مجھ پر مہربانی کیجئے کہیں نہ بھٹکوں سایہ میں رہوں اے رحما الرحیم خدا مجھ پر مہربانی فرماؤ۔ اے سب طاقتوں کے مالک ۔ بیان سے بعید شمار سے باہر پاک آقا میری عرض سنہو یہ ( میں ) خادم نانک دست بستہ یہ دان ( بھیک ) مانگتا ہے کہ میرا تناسخ مٹآ دیجیئے ۔

اپرادھیِ متِہیِنُ نِرگُنُ اناتھُ نیِچُ ॥
سٹھ کٹھورُ کُلہیِنُ بِیاپت موہ کیِچُ ॥
مل بھرم کرم اہنّ ممتا مرنھُ چیِتِ ن آۄۓ ॥
بنِتا بِنود اننّد مائِیا اگِیانتا لپٹاۄۓ ॥
کھِسےَ جوبنُ بدھےَ جروُیا دِن نِہارے سنّگِ میِچُ ॥
بِنۄنّتِ نانک آس تیریِ سرنھِ سادھوُ راکھُ نیِچُ ॥੨॥
لفظی معنی:
اپرادھی ۔ گنہگار ۔ مجرم مت ہین۔ بے عقل۔ نرگن ۔ بلا وصف۔ اناتھ ۔ بے مالک ۔ نیچ ۔ کمینے ۔ سٹھ ۔ جاہل۔ گٹھور۔ سخت دل ۔ بیر حم۔ کل ہین ۔ بغیر سچے خاندان ۔ بیاپت موہ کچ ۔ محبت کی دلدل میں گرفتا۔ ۔ مل ۔ میل ناپاکیزیگ ۔ بھرم۔ بھٹکن۔ وہم وگمان۔ کرم ۔ اعمال۔ اہنا۔ غرور۔ تکبر۔ گھمنڈ۔ ممتا۔ ملکیت ۔ میرتیر ۔ مرن جیت نہ آوئے ۔ موت یاد نہیں۔ بنتا ونود انند مائیا۔ عورت کا لطف اور خوشیاں رنگ رلیاں اور سرمائے کا مزہ اگیانتا ۔ لا علمی ۔ نادانی ۔ پسٹاوئے ۔ گرفتار ہوتا ہے ۔ کھستے جوبن ۔ جونای کا جوش کم ہورہا ہے ۔ بدھے ۔ جر وا ۔ بڑھاپا ۔ زرد ر پا رہا ہے ۔د ن نہارے ۔ دن ( طاق) میں ہے ۔ سنگ میچ ۔ موت۔ ساتھ ۔ بنونت ۔ عرض گذارتا ہے ۔ سرن سادہو ۔ پناہ پاکدامن ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا۔ میں گناہگار مجرم بے عقل بے اوصاف بے مالک اور کمینہ ہوں۔ اے خڈا۔ سخت دل بیرحم اور کمینے خاندان کا ہوں اور محبت کی دلدل میں گرفتار ہوں۔ دل وہم و گمان اعمال خودی تکبر اور اپنی میرنیر و ملکیت میں محسور ہے ۔ موت یا د ہیں۔ عورت کے لطف و مزے اور رنگ رلیؤ ں اور دولت اور سرمایہ کے سرور میں نادانی اور لا علمی میں محسور ہے ۔ جونای ڈھل رہی ہے ۔ برھاپ ازور پار ہا ہے اور دن تاک میں ہے موت ساتھ ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ مجھے تجھ سے ہی امید ہے کہ مجھ کمینے کو اپنے زیر سیاہ رکھئے ۔

بھرمے جنم انیک سنّکٹ مہا جون ॥
لپٹِ رہِئو تِہ سنّگِ میِٹھے بھوگ سون ॥
بھ٘رمت بھار اگنت آئِئو بہُ پ٘ردیسہ دھائِئو ॥
اب اوٹ دھاریِ پ٘ربھ مُراریِ سرب سُکھ ہرِ نائِئو ॥
راکھنہارے پ٘ربھ پِیارے مُجھ تے کچھوُ ن ہویا ہون ॥
سوُکھ سہج آننّد نانک ک٘رِپا تیریِ ترےَ بھئُن ॥੩॥
لفظی معنی:
بھرم ۔ بھٹکے ۔ وہم وگمان میں رہے ۔ بیٹھے بھوگ سون ۔ پر لطف زرو دولت کے مزوں میں۔ لپٹ رہیؤ تیہہ سنگ ۔ ان کے ساتھ محبوس رہے ۔ بھرمت بھار اگنت۔ بیشمار گناہگاریوں میں گرفتار رہے ۔ بہو پردیس دھائیوں اور بہت سے دیشوں میں دوڑ دہوپ کی ۔ اوٹ ۔ آصرا۔ دھاری ۔ پکڑی۔ مراری ۔ خدا کی ۔ سرب سکھ ہر نامئیو۔ تمام قسم کے آرام و آسائش الہٰی نام میں ہیں۔ کچھو نہ ہوا ہون۔ نہ کچھ ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے ۔ سوکھ سہج ۔ روحانی سکون کا آرام ۔ بھون۔ دنیاوی زندگی کا سمندر (3)
ترجمہ معہ تشریح:
بیشمار زندگیاں اس زندگی کے عذاب میں گرفتار ہیں ۔ اور زور و دولت اور سرمایئے کے مزے اور لطف میں گرفتا رہیں اور بیشمار گناہگاریوں کا بوجھ اپنے اوپر لیکر دیس بدیش دوڑ دہوپ کر رہے ہیں۔ مگر اب خدا کا سہارا لیکر سارے آرام و آسائش مجھے الہٰی نام میں یعنی سچ حق اور حقیقت میسئر ہوگئے ہیں۔ اے محافظ تو حفاظت کے لائق ہے ۔ اے پیارے میں کچھ بھی نہ کیا ہے نہ کچھ کرنے کے لائق ہوں ۔ اے نانک جس پر تیری ہوکرم و عنایت وہ روحانی سکون پر لطف زندگی پاتا ہے اور دنیاوی ہستی کے سمندر کو کامیابی سے عبور کر لیتا ہے ۔

نام دھاریِک اُدھارے بھگتہ سنّسا کئُن ॥
جین کین پرکارے ہرِ ہرِ جسُ سُنہُ س٘رۄن ॥
سُنِ س٘رۄن بانیِ پُرکھ گِیانیِ منِ نِدھانا پاۄہے ॥
ہرِ رنّگِ راتے پ٘ربھ بِدھاتے رام کے گُنھ گاۄہے ॥
بسُدھ کاگد بنراج کلما لِکھنھ کءُ جے ہوءِ پۄن ॥
بیئنّت انّتُ ن جاءِ پائِیا گہیِ نانک چرنھ سرن ॥੪॥੫॥੮॥
لفظی معنی:
نام دھریک ۔ معمولی طور پر ۔ صرف نام کے طور پر ۔ ادھارے ۔ بچائے ۔ بھگیہہ۔ عابد الہٰی ۔ الہٰی پریمی ۔ سنسا۔ فکر ۔ غم ۔ تشویش۔ جین کین ۔ جیسے ہو سکے ۔ جویں کویں۔ پر کارے ۔ جس طریقے سے ۔ سن سرون کانوں سے سنہو ۔ پرکھ گیانی ۔ اے عالم انسان ۔ من ۔د ل ۔ ندھانا۔ خزانہ ۔ ہر رنگ راتے ۔ الہٰی پیار میں۔ محو۔ پربھ بدھانے ۔ طریقے اور قسمت بنانے والے ۔ بسد ۔ زمی ۔ بزاج ۔ جنگل۔ پون ۔ ہوا۔
ترجمہ معہ تشریح:
خدا نے انسانوں کو بدیوں سے بچائیا جن کا صرف نام ہی بھگت رکھائیا ہو اتھا ۔ مگر بھگتوں کو تو فکر ہی کیا ہے ۔ جسے کیسے بھی ہو سکے الہٰی صفت صلاح کانوں سے سنتے رہو ۔ اے عال اہل علم انسانوں کانوں سے الہٰی حمدوثناہ سنو ذہن و دلمیں ہی الہٰی نام کا خزانہ ہو جائیگا ۔ خوش قسمت ہیں وہ انسان جو الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب ہوکر اس کے حمدوثناہ کرتے ہیں۔
اگر ساری زمین کاغذ ہو جائے اور سارا جنگل قلمیں ہوجائے تحریر کے لئے ہوا ہو لکاری تب بھی لا محدود خدا کے بیشمار کدا کے اوصاف کا شمار ہو سکتا نہیں۔ نانک نے الہٰی پناہ اورپاوں کا آسرا لیا ہے ۔

آسا مہلا ੫॥
پُرکھ پتے بھگۄان تا کیِ سرنھِ گہیِ ॥
نِربھءُ بھۓ پران چِنّتا سگل لہیِ ॥
مات پِتا سُت میِت سُرِجن اِسٹ بنّدھپ جانھِیا ॥
گہِ کنّٹھِ لائِیا گُرِ مِلائِیا جسُ بِمل سنّت ۄکھانھِیا ॥
بیئنّت گُنھ انیک مہِما کیِمتِ کچھوُ ن جاءِ کہیِ ॥
پ٘ربھ ایک انِک الکھ ٹھاکُر اوٹ نانک تِسُ گہیِ ॥੧॥
لفظی معنی:
پرکھ پتے ۔ انسانوں کا آقا۔ بھگوان ۔ خدا۔ تاکی ۔ اسکی ۔ اوٹ گہی ۔ اسرا لیا۔ نر بھؤ۔ بیکوف۔ پران۔ زندگی ۔ چنتا۔ فکر۔ سگل ۔ ساری الہٰی ۔ مٹی ۔ سرجن۔ فرشتہ سرت ۔ اسٹ۔ پیار ا رشتہ دار ۔ بندھپ۔ سمبندھی ۔ گیہہ ۔ پکڑ کر کنٹھ لائیا۔ گلے لگائیا۔ جس ۔ صف صلاح۔ ایمل۔ پاک ۔ رکھائیا ۔ بیان کیا۔ بے انت گن ۔ بیشمار اوصاف ۔ انیک مہما۔ مہا ۔ بلند شہرت و عظمت۔ انک ۔ بیشمار۔ الکھ ۔ جس کی سمجھ یا اندازہ نہ ہو سکے ۔ اوٹ۔ آسرا۔ ٹس۔ اس نے ۔ گہی ۔ پکڑی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
سب جانداروں کے مالک خدا کی پناہ لی ہے جس کی برکت سے جس صدقہ بیخوف ہوگئے ہر قسم کا فکر اور تشویش مٹ گئی اور مان باپ بیٹا دوست اور پیار سمبندھی اور رشتہ دار سمجھ رکھیا اور پکڑ کر گلے لگائیا مرشد ملائیا ۔ اور سنت نے پاک حمدوثناہ بیان کی ۔ خدا بیشمار اوصاف والا ہے اور بیشمار عظمت ہے ۔ جس کی قیمت بیان سے باہر ہے ۔ خدا واحد ہونے کے باوئود بیشامر شکلوں والا ہے اسکا انداہ نا ممکن ہے اے نانک اس آقا کا آسرا لیا ہے ۔

انّم٘رِت بنُ سنّسارُ سہائیِ آپِ بھۓ ॥
رام نامُ اُر ہارُ بِکھُ کے دِۄس گۓ ॥
گتُ بھرم موہ بِکار بِنسے جونِ آۄنھ سبھ رہے ॥
اگنِ ساگر بھۓ سیِتل سادھ انّچل گہِ رہے ॥
گوۄِنّد گُپال دئِیال سنّم٘رِتھ بولِ سادھوُ ہرِ جےَ جۓ ॥
نانک نامُ دھِیاءِ پوُرن سادھسنّگِ پائیِ پرم گتے ॥੨॥
لفظی معنی:
انمرت ۔ آب حیات۔ سنسار۔ عالم ۔ جہان ۔ دنیا ۔ سہائی ۔ مددگار۔ ارہا ر۔ دل میں بسے ۔ دکھ ۔ زہر ۔ دوس۔ دن ۔ گت۔ حالت۔ بھرم۔ بھٹکن۔ ونسے ۔ مٹے ۔ اگن ساگر۔ آگ کا سمندر۔ بھیئے ۔ ہوئے ۔ ستیل ۔ ٹھنڈے ۔ انچل ۔ گود ۔ گیہہ رہے ۔ پکڑ رکھیا ۔ سمرتھ ۔ لائق ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب ہوتا ہے مددگار خود خدا اس کے لئے ہوجاتا ہے آب حیات جہاں جب دلمیں ہونام الہٰی اور ہار گلے کا ہوجائے بدیوں اور برائیوں کے دن ختم ہوجاتے ہیں۔ ختم ہوجاتی ہے بھٹکن محبت بدیوںا ور برائیوں کی مٹ جاتی ہے تناسخ ختم ہوجاتا ہے ۔ خدا رسیدہ پاکدامن کا جو دامن تھام لیتا ہے آگ کا سمندر یہ دنیا خنک بن جاتی ہے ۔ اے نانک۔ جو دھیان خدا میں لگاتا ہے کامل پاکدامن کی محبت وقربت میں بلند روحانی عطمت پاتا ہے ۔

جہ دیکھءُ تہ سنّگِ ایکو رۄِ رہِیا ॥
گھٹ گھٹ ۄاسیِ آپِ ۄِرلےَ کِنےَ لہِیا ॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ پوُرِ پوُرن کیِٹ ہستِ سمانِیا ॥
آدِ انّتے مدھِ سوئیِ گُر پ٘رسادیِ جانِیا ॥
ب٘رہمُ پسرِیا ب٘رہم لیِلا گوۄِنّد گُنھ نِدھِ جنِ کہِیا ॥
سِمرِ سُیامیِ انّترجامیِ ہرِ ایکُ نانک رۄِ رہِیا ॥੩॥
لفظی معنی:
سانگ ۔ ساتھ ۔ ایکو ۔ واحد۔ ردرہیا۔ بستا ہے ۔ گھٹ گھٹ ۔ ہر دلمیں۔ ورے کنے لہیا ۔ کوئی ہی سمجھیا ۔ جل تھ مہیل ۔ زمین ۔ سمندر اور خلا۔ پور ۔مکمل ۔ کٹ ہست ۔ چونٹی اور ہاتھی ۔ سمانیا۔ ایک جیا۔ آغاز ۔ آخر اور درمیانی۔ سوئی ۔ وہی ۔ گر پرسادی ۔ رحمت مرشد سے ۔ حانیا ۔ سمجھ آئی ۔ برہم پسریا ۔ الہٰی پھیلاؤ ۔ برہم لیلا۔ الہٰی کھیل ۔ گوبند۔ فد۔ گن ندھ ۔ اوصاف کا خزانے ۔ جن۔ خادم ۔ غلام ۔ انتر جامی ۔ اندرونی راز جاننے والا۔ روہیا ۔ بستا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جدھر دیکھتا ہوں خدا بستا دیتا ہے دکھائی ۔ ساتھ بستا دیکھتا ہوں۔ ہر دلمیں بستا ہے مگر سمجھتا ہے کوئی ۔ زمین سمندر اور خلا میں ہر جاوہ بستا ہے ۔ چینوٹی میں اور ہاتھی میں یکساں بستا ہے ۔ اول آخر اور درمیان میں تھا زمانے میں نور اسی کا رحمت مرشد سے سمجھ آتی ہے ۔ یاد کر خدا کو جو را ز دلی جاننے والا ہے ۔ اے نانک جو ہر ایک میں بستا ہے ۔

دِنُ ریَنھِ سُہاۄڑیِ آئیِ سِمرت نامُ ہرے ॥
چرنھ کمل سنّگِ پ٘ریِتِ کلمل پاپ ٹرے ॥
دوُکھ بھوُکھ دارِد٘ر ناٹھے پ٘رگٹُ مگُ دِکھائِیا ॥
مِلِ سادھسنّگے نام رنّگے منِ لوڑیِدا پائِیا ॥
ہرِ دیکھِ درسنُ اِچھ پُنّنیِ کُل سنّبوُہا سبھِ ترے ॥
دِنسُ ریَنھِ اننّد اندِنُ سِمرنّت نانک ہرِ ہرے ॥੪॥੬॥੯॥
لفظی معنی:
دن رین ۔ شب و روز۔ سہاوڑی ۔ اچھے ۔ بھلے ۔ سمرت۔ یاد ۔ نام ۔ سچ اور حقیقت ۔ خدا کا نام ۔ چرن کمل۔ پائے پاک ۔ کللمل ۔ گاہ ۔ دوس ۔ پاپ۔ ٹرے ۔ ختم ہوجاتے ہیں۔ داردر ۔ غریبی ۔ ناٹھے ۔ ختم ہوجاتی ہے ۔ پرگٹ ۔ ظاہر ۔ مگ۔ راستہ ۔ سادھ سنگے ۔ صحبت پاکدامن ۔ اچھ ۔ خواہش۔ پنی ۔ پوری ہوئی ۔ کل ۔ سنبھوہا ۔ سارا خاندان ۔
ترجمہ معہ تشریح:
انسان کے لئے وہ روز و شب اچھے ہوجاتے ہیں جب نام خدا یاد کرتا ہے اور پیار خدا سے کرنے سے گناہ مٹ جاتے ہیں عذاب مٹے بھوک ختم غریبی ختم ہوجاتی ہے صراط مستقیم دکھائی دیتا ہے ۔ صحبت و قربت سے پاکدامن کی اور الہٰی پیار سے دل کی خواہش کا پھل ملتا ہے دیدار الہٰی پاکر دل کی خواہش پوری ہوتی ہے اور سارا خاندان کامیابی پاتا ہے اے نانک جو انسان ہر وقت یاد خڈا کو کرتے ہیں ہر روز وشب پر سکون گذارتے ہیں۔

آسا مہلا ੫ چھنّت گھرُ ੭
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سلوکُ ॥
سُبھ چِنّتن گوبِنّد رمنھ نِرمل سادھوُ سنّگ ॥
نانک نامُ ن ۄِسرءُ اِک گھڑیِ کرِ کِرپا بھگۄنّت ॥੧॥
چھنّت ॥
بھِنّنیِ ریَنڑیِئےَ چامکنِ تارے ॥
جاگہِ سنّت جنا میرے رام پِیارے ॥
رام پِیارے سدا جاگہِ نامُ سِمرہِ اندِنو ॥
چرنھ کمل دھِیانُ ہِردےَ پ٘ربھ بِسرُ ناہیِ اِکُ کھِنو ॥
تجِ مانُ موہُ بِکارُ من کا کلملا دُکھ جارے ॥
بِنۄنّتِ نانک سدا جاگہِ ہرِ داس سنّت پِیارے ॥੧॥
لفظی معنی:
شبھ چنتن ۔ نیک خیال۔ گوبند ۔ من ۔ یاد الہٰی ۔ نرمل۔ پاک ۔ سادہو سنگ ۔ پاکدامن خدا ریسدہ کی صحبت و قربت ۔ وسرو ۔ بھلاؤ۔ بھگونت ۔ تقدیر ساز (1) (چھنت )
بھنی ۔ بھیگھی ہوئی ۔ رینٹر ییئے ۔ جاگیہہ۔ بیدار۔ اندنو ۔ ہر روز۔ کھتو ۔ آنکھ جھپکنے کے وقفے کے لئے ۔ تج مان۔ وقار چھوڑ ۔ موہ وکار۔ بدیوں کی محبت۔ کلملا۔ گناہ ۔ دوش ۔ پاپ ۔ بنونت ۔ عرض گذارتا ہے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے خدا رحمت فرما کر نانک ایک معمولی وقفے کے لئے بھی نام نہ بھلائے نیک خیال یاد خدا پاک صحبت و قربت خدا رسیدہ پاکدامنوں کی (1) بھیگی بھیگی رات ہے اور تارے چمک رہے ہیں الہٰی عاشق پاکدامن خدا رسیدہ سنت بیدار ہیں مراد الہٰی پریم میں محو انسان نیک روحانی اوصا ف سے پر نور ہیں۔ الہٰی عاشق ہمیشہ بیدار رہتے ہیں اور ہر روز یاد خدا کو کرتے ہیں۔ پانے الہٰی میں دھیان لگاتے ہیں نہ کبھی خدا بھلاتے ہیں اے دل غرور تکبر اور وقار بدیوں اور بد عنوانیوں کو چھوڑ اور اس کی محبت ھوڑ تاکہ اس سے تمام عذاب مٹ جائیں نانک عرض گذارتا ہے ۔ کہ خدا ریسدہ پاک دامن والی اللہ (سنت) ہمیشہ بیدار رہتے ہیں ۔

میریِ سیجڑیِئےَ آڈنّبرُ بنھِیا ॥
منِ اندُ بھئِیا پ٘ربھُ آۄت سُنھِیا ॥
پ٘ربھ مِلے سُیامیِ سُکھہ گامیِ چاۄ منّگل رس بھرے ॥
انّگ سنّگِ لاگے دوُکھ بھاگے پ٘رانھ من تن سبھِ ہرے ॥
من اِچھ پائیِ پ٘ربھ دھِیائیِ سنّجوگُ ساہا سُبھ گنھِیا ॥
بِنۄنّتِ نانک مِلے س٘ریِدھر سگل آننّد رسُ بنھِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
میری سیجڑییئے ۔ میرا دل جو ایک خوابگاہ ہے آڈنبر۔ سامان سجاوٹ برائے خفتن۔مراد سونے کا سامان ۔ انند۔ سکون ۔ آوت سیا۔ اس کی آمدسنی ۔ سکھہد گامی ۔ جس کے پاس آسانی سے پہنچ ہو سکے ۔ چاو منگل رس بھرے ۔ خوشی بھرے انداز سے مخمور ۔ انگ سنگ ۔ آپسی ساتھ ۔ سب ہرے ۔ خوشباش ہوئے ۔ من اچھ پائی ۔ دلی خواہش پوری ہوئی ۔ پربھ دھیائی ۔ خدا میں دھیان جمائی ۔ سنجوگ ۔ ملاپ ۔ آپسی ۔ ساہا ۔ موقعہ۔ سبھ ۔ اچھا ۔ نیک۔ گنیا۔س مجھیا۔ سر لادھر ۔د ھرتی یا زمین کے مالک ۔ سگل آنند ۔ ہر قسم کے خوشی کے مزے ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے ساتھیوں جب میں نے الہٰی آمد سنی تو میرے دلمیں سکون پیدا ہوا اور میرا دل ایک اچھی خفتگاہ کی مانند ہوگیا ۔ جن خوش قسموں کو سکھد ینے والے آقا ملجاتے ہیں ان کے دل خوشیو ں ملہاروں اور سکون سے پر لطف ہوجاتے ہیں ۔ جب خدا ساتھی ہو تو تمام عذاب مٹ جاتے ہیں ان کے دل وجان سب خوشیوں سے مخمور ہو جاتے ہیں جو دھیان خدا میں لگاتے ہیں ان کی خواہش سب پوری ہوتی ہیں۔ اور سنہری موقعے ملتے ہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے جنہیں ملاپ الہٰی ملا جاتا ہے۔ انہیں ہر طرح کے سکون اور خوشیاں ملتی ہیں۔

مِلِ سکھیِیا پُچھہِ کہُ کنّت نیِسانھیِ ॥
رسِ پ٘ریم بھریِ کچھُ بولِ ن جانھیِ ॥
گُنھ گوُڑ گُپت اپار کرتے نِگم انّتُ ن پاۄہے ॥
بھگتِ بھاءِ دھِیاءِ سُیامیِ سدا ہرِ گُنھ گاۄہے ॥
سگل گُنھ سُگِیان پوُرن آپنھے پ٘ربھ بھانھیِ ॥
بِنۄنّتِ نانک رنّگِ راتیِ پ٘ریم سہجِ سمانھیِ ॥੩॥
لفظی معنی:
سکھیا ۔ ساتھی ۔ ساتھناں۔ کنت ۔ خاوند ۔ خدا۔ رس پریم ۔ الہٰی پیار کا مزہ ۔ گن ۔ وصف۔ گوڑ۔ گہرا ۔ گپت ۔ پوشیدہ ۔ اپار کرتے ۔ کار ساز لا محدود۔ نگم۔ ۔ وید۔ بھگت بھائے ۔ مکمل پریم سے ۔ دھیائے ۔ دھیان لگائے ۔ سدا ہر گن گاوہے ۔ ہمیشہ الہٰی حمدوثناہ کرے ۔ سگیان پورن۔ مکمل علم۔ پربھ بھانی ۔ الہٰی رضا ۔ رنگ ۔ پریم ۔ راتی ۔ محو ومجذوب ۔ سہج ۔ روحانی سکون (2)
ترجمہ معہ تشریح:
ساتھی مل کر پوچھتے ہیں کہ خاوند میراد خدا نشانی کیا ہے مین اس کے ملاپ کی خوشی میں مکمور ہوں اس کے پیار کے لطف سے میرا دل بھرگیا ہے مگر میں اس کی کو ئی نشانی نہیں بتا سکتا ۔ خدا گہرے پوشیدہ لا محدود اوصاف کا مالک ہے وید بھی اس کے اوصاف کا آخرہ نہیں سمجھ سکے ۔ مکمل پریم پیار اور عشق سے اس میں دھیان لگا کر حمدوثناہ کرو۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ وہ انسان الہٰی پریم پیار سے بھر جاتا ہے ۔ مخمور محو و مضزوب ہوجاتا اور روحانی سون پاتا ہےو ہ خدا کا پیارا ہوجاتا ہے ۔ جو تمام اوصاف کا مالک ہے سب میں بستا ہے اور بلند پایہ کا عالم ہے ۔

سُکھ سوہِلڑے ہرِ گاۄنھ لاگے ॥
ساجن سرسِئڑے دُکھ دُسمن بھاگے ॥
سُکھ سہج سرسے ہرِ نامِ رہسے پ٘ربھِ آپِ کِرپا دھاریِیا ॥
ہرِ چرنھ لاگے سدا جاگے مِلے پ٘ربھ بنۄاریِیا ॥
سُبھ دِۄس آۓ سہجِ پاۓ سگل نِدھِ پ٘ربھ پاگے ॥
بِنۄنّتِ نانک سرنھِ سُیامیِ سدا ہرِ جن تاگے ॥੪॥੧॥੧੦॥
لفظی معنی:
سکھ سوہلڑے ۔ الہٰی آرام و آسائش کی نظمیں۔ ساجن۔ دوست۔ سر سیئڑے ۔ بھر وسا مند ہوئے ۔ پر یقین ۔ سکھ سہج ۔ روحانی سکون کا سکھ ۔ سر سے ۔ خوش ہوے ۔ رہے ۔ خوشباش ۔ ہیر ۔ رحمت ۔ مہربانی ۔جاگے ۔ بیدار ۔ با ہوش ۔ بنواریا۔ خدا۔ سبھ دوس۔ اچھے دن ۔ سگل ندھ ۔ سارے خزانے ۔ پاگے ۔ پاؤں پڑے ۔ تاگے ۔ پابندی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جب الہٰی آرام و اسائش کی نظمیں اور الہٰی صفت صلاح کرنے لگتے ہین تو ذہن میں اچھے اوصاف پیدا ہوتے ہیں اور بد اوصاف ختم ہونے لگتے ہیں ۔ روحانی مستقل مزاجی کا آرام ان کےذہن میں پھلتا پھولتا ہے ۔ الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت اپنانے کی وجہ سےد ل خوش رہتے ہیں مگر یہ سب کچھ الہٰی رحمت اور کرم و عنایت سے ہوتا ہے ۔ وہ خادمان خدا لہٰی سایہ میں رہ کر ہمیشہ باہوش اور بیدار رہتے ہیں اورا لہٰی ملاپ پاتے ہیں۔ جب اچھے دن آتے ہیں وہ مستقل روحانی حالت میں سارے اوصاف کے خزانے خدا کے پاوں چھوتے ہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے ۔ کہ خادمان خدا سائیہ خدا میں رہ کر ہمیشہ اس اپنا پیار بناہتے ہیں۔

آسا مہلا ੫॥
اُٹھِ ۄنّجنُْ ۄٹائوُڑِیا تےَ کِیا چِرُ لائِیا ॥
مُہلتِ پُنّنڑیِیا کِتُ کوُڑِ لوبھائِیا ॥
کوُڑے لُبھائِیا دھوہُ مائِیا کرہِ پاپ امِتِیا ॥
تنُ بھسم ڈھیریِ جمہِ ہیریِ کالِ بپُڑےَ جِتِیا ॥
مالُ جوبنُ چھوڈِ ۄیَسیِ رہِئو پیَننھُ کھائِیا ॥
نانک کمانھا سنّگِ جُلِیا نہ جاءِ کِرتُ مِٹائِیا ॥੧॥
لفظی معنی:
اُٹھ و منجھ ۔ اُٹھ چل ۔ وتاوڑیا۔ رہ گذر ۔ چر ۔ دیر ۔ محلت۔ دیا گیا ۔ وقت۔ پنڑیا ۔ ختم ہوگئی ۔ کت ۔ کوڑ۔ جھوٹ ۔ لوبھائیا۔ لالچ کرتا ہے ۔ دھوہ ۔ دہوکا ۔ فریب ۔ پاپ امتیا ۔ بیشمار گناہ ۔ بھسم۔ رکاھ ۔ جمیہہ۔ موت نے ۔ ہیری ۔ نگاہ کر رکھی ہے ۔ تاک میں ہے ۔ کال بپڑے جتیا ۔ بچارے کو موت نے قاب کر رکھا ےہے ۔ مال جوبن چھوڈ دیسی ۔ دولت اور جوانی چلی جائیگی ۔ تنگ ۔ ساتھ ۔ کمانا۔ اعمال۔ جلیا۔ ساتھ جائیگا۔ کرت ۔ کئے اعمال ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے رہاگیر انسان اُٹھ دیر مت کر تیار ہو تجھے تیرے زندگی کا وقت پورا ہوگیا ہے تو کس دہوکے میں ہے ۔ اس دنایوی دولت کے جھوٹے لالچ می پھنس کر بیشمار گناہوں کا مرتکب ہو رہا ہے یہ جسم آخر راکھ کا ڈھیر ہو جائگیا موت ہمیشہ اس کی تاک میں ہے اپنی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دولت جوانی نے چھور جاتنا ہے ۔ اور پہننا اور کھانا ختم ہوجائیگا۔ اے نانک کئے ہوئے نیک و بد اعمال ساتھ جائینگے جو مٹ نہیں سکتے ۔

پھاتھوہُ مِرگ جِۄےَ پیکھِ ریَنھِ چنّد٘رائِنھُ ॥
سوُکھہُ دوُکھ بھۓ نِت پاپ کمائِنھُ ॥
پاپا کمانھے چھڈہِ ناہیِ لےَ چلے گھتِ گلاۄِیا ॥
ہرِچنّدئُریِ دیکھِ موُٹھا کوُڑُ سیجا راۄِیا ॥
لبِ لوبھِ اہنّکارِ ماتا گربِ بھئِیا سمائِنھُ ॥
نانک م٘رِگ اگِیانِ بِنسے نہ مِٹےَ آۄنھُ جائِنھُ ॥੨॥
لفظی معنی:
ناتھہو ۔ پھنستا ہے ۔ مرگ ۔ ہرن۔ جولے ۔ جیسے ۔ پیکھ ۔ دیکھ کر ۔ رین چندرائن۔ چاند جیسی چاندنی ۔ سوکھہو۔ سکھوں سے ۔ دکوھ بھیئے ۔ دکھ ہوئے ۔ نت پاپ کمائن۔ ہر روز بد اعمال اور گناہ کرتا ہے ۔ گلادیا ۔ طوق گلے ڈآل کر ۔ ہر چندوری ۔ فرشتوں کی دنیا ۔ گندھرب نگری ۔ خیالی آسمانی شہر ۔ موتھا ۔ دہوکا کھائیا۔ کوڑ ۔ جھوٹ۔ سیجا۔ سونے کا بستر۔ راویا ۔ برتیا۔ رب۔ زبان کے لطف۔ لوبھ ۔ لالچ ۔ اہنکار ۔ غرور ۔ تکبر ۔ گھمنڈ ۔ ناز۔ ماتا۔ مد ہوش۔ مست ۔ گربھ ۔ فخر ۔ تکبر۔ بھیا ۔ ہوا۔ سمائیا۔ مجذوب۔ اگیان ۔ لا علمی ۔ ونسے ۔ مٹ جانا۔ آون جانا۔ تناسخ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
جیسے ہرن کو شکاری رات کے وقت چاند جیسی روشنی کرکے اپنےجال میں پھنسا لیتا ہے اور ہرن روشنی کے دہوکے میں پھنس جاتا ہے ۔ اس طرح انسان دنیاوی نعمتوں کی چمک دمک دیکھ کر اس دنیاوی جال میں پھنس رہا ہے جن کے آرام کے لئے پھنستا ہے وہ دکھوں میں بدل جاتے ہیں۔ اے انسان تو گناہ اور برائیاں کرتا ہے چھوڑتا نہین اخر گلے میں طوق ڈال دیتے ہیںا ور لیجاتے ہیں۔ تو آکاش کے خیالی شہر کو دیکھ کر دہوکا کھا رہا ہے اور جھوٹے لطف اٹھا رہا ہے ۔ زبان کے لطف لالچ غور اور تکبر میں محوومجذوب رہتا ہے ۔ اے نانک بتادے کہ ہرن کی مانند انسان لا لعمی اور بے سمجھی کی وجہ سے روحانی موت مرتے ہیں۔ اس لئے ان کا تناسخ ختم نہیں ہوتا۔

مِٹھےَ مکھُ مُیا کِءُ لۓ اوڈاریِ ॥
ہستیِ گرتِ پئِیا کِءُ تریِئےَ تاریِ ॥
ترنھُ دُہیلا بھئِیا کھِن مہِ کھسمُ چِتِ ن آئِئو ॥
دوُکھا سجائیِ گنھت ناہیِ کیِیا اپنھا پائِئو ॥
گُجھا کمانھا پ٘رگٹُ ہویا ایِت اُتہِ کھُیاریِ ॥
نانک ستِگُر باجھُ موُٹھا منمُکھو اہنّکاریِ ॥੩॥
لفظی معنی:
مٹھے مکھ موآ۔ مکھی مٹھے کے لالچ مرجاتی ہے ۔ اڈاری ۔ اڑے گی ۔ ہستی ۔ ہاتھی ۔ گرت پیئیا ۔ گڑھے میں گر کر ۔ دہیلا۔ دشوار۔ مشکل۔ کھن میہہ ۔تھوڑے سے وقفے کے لئے خصم۔ آقا ۔ مالک ۔ چت۔ دلمیں۔ دوکھا ۔ عذاب ۔ سجائی ۔ سزاؤں۔ گنت ۔ شمار ۔ گجا ۔ پوشیدہ ۔ کمانا۔ اعمال ۔ پرگٹ۔ ظاہر ۔ ایت اوتیہہ ۔ یہاں وہاں۔ ہر دو عالموں میں۔ خواری ۔ ذلالت ۔ باجھ ۔ بغیر ۔ موٹھا۔ دہوکا کھا گیا ۔ منمکھ ۔ خودی پسند ۔ اہنکاری ۔ مغرور
ترجمہ معہ تشریح:
جیسے مکھی گڑ کے میٹھے پن میں پھنس جاتی ہے اڑنے سے رہ جاتی ہے ہاتھی گڑھے میں گر کر اسے گڑھے میں کرنے پر اسے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے ۔ اس طرح مرید من انسان دنیاوی نعمتوں کی محبت میں پھنس کر انسان اپنی اخلاقی ذہنی اور روحانی موت مرجاتا ہے ۔ جیسے مکھی میٹھے کی لالچ میں ہاتھی شہوت کی وجہ سے ہاتھی کو پکڑنے کے لئے کاغذ کی ہتھی بنا کر ایک گہرا گڑھا کھود کر اس میں کاغذ کی ہتھنی گھڑی کر دی جاتی ہے ۔ہتھنی کے لالچ میں پھنس کر ہاتھی صدیوی غلام ہو کر سزا پاتا ہے ۔ عین اس طرح سے خودی پسند انسان برائیوں اور بدیوں میں گرفتار انسان اس زندگی کے خوفناک سمندر سے اور اس کے بھنور سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہےا ور تھوڑے سے وقفے کے لئے بھی خدا کو یاد نہیں کرتا لہذا اتنے عذاب برداشت کرتا ہے جن کا شما رنہیں کیا جا سکتا اور پانے کئے اعمالوں کی سزا پاتا ہے ۔ پوشیدہ اعمال ظاہر ہوجاتے ہیں اور ہر دو علاموں میں ذلیل ہوتا ہے ۔ اے نانک سچے مرشد کے سبق بغیر مرید من انسان دہوکے اور فریب میں پھنس کر اپنی اخلاقی ذہنی روحانی زندگی برباد کر لیتا ہے ۔

ہرِ کے داس جیِۄے لگِ پ٘ربھ کیِ چرنھیِ ॥
کنّٹھِ لگاءِ لیِۓ تِسُ ٹھاکُر سرنھیِ ॥
بل بُدھِ گِیانُ دھِیانُ اپنھا آپِ نامُ جپائِیا ॥
سادھسنّگتِ آپِ ہویا آپِ جگتُ ترائِیا ॥
راکھِ لیِۓ رکھنھہارےَ سدا نِرمل کرنھیِ ॥
نانک نرکِ ن جاہِ کبہوُنّ ہرِ سنّت ہرِ کیِ سرنھیِ ॥੪॥੨॥੧੧॥
لفظی معنی:
چرنی ۔ پاؤں پڑکر ۔ داس۔ خدمتگار ۔ کنٹھ ۔ گلے ۔ بل ۔ طاقت۔ بدھ ۔ عقل ۔ گیان۔ علم ۔د اشن۔ دھیان۔ توجہ ۔ نام جیائیا۔ سچ اور حقیقت سے روشناش کیا سمجھائیا۔ سادھ سنگت ۔ صحبت و قربت پاکدامن ۔ جگت۔ عالم ۔جہان ۔ دنیا۔ ترائیا۔ کامیاب کیا۔ رکاھ لئے ۔ حفاظت کی پچائیا ۔ رکاھنہارے ۔ حفاظت کی لاق۔ نرمل۔ پاک ۔ کرنی ۔ اعمال ۔ نرک ۔ دوزخ۔ کبہو۔ کبھی ۔ ہر سنت۔ الہٰی خادم۔ ہر کی سرنی ۔ الہٰی پناہ ۔
ترجمہ معہ تشریح:
خادمان خدا کو پناہ خدا سےا ور پائے خدا سے بلند روحانی واخلاقی زندگی والے ہو جاتے ہیں اور ٹھاکر خدا انہیں اپنے گلے لگا لیتا ہے اور انہیں اپنا روحانیت کی طاقت عنایت کرتا ہے ( ذہن ) ذہانت و اونچی عقل و ہوش توجہات اور اپنا خوئش نام سچ اور حقیقت سے نوازتا ہے ۔ صحبت و قربت پاکدامنوں میں خود بس کر اس کے دلمیں ظاہر ہوتا ہے اور خود اسی زندگی کے سمندر سے کامیابی سے عبور کراتا ہے ۔ اے نانک قوت حفاظت رکھنے والا خدا اپنے عاشقان والی اللہ کی خود حفاظت کرتا ہے جس سے ان کا اخلاق ہمیشہ پاک رہتا ہے الہٰی پناہ اختیار کرنے سے کبھی دوزخ میں ہیں جانا پڑتا۔

آسا مہلا ੫॥
ۄنّجنُْ میرے آلسا ہرِ پاسِ بیننّتیِ ॥
راۄءُ سہُ آپنڑا پ٘ربھ سنّگِ سوہنّتیِ ॥
سنّگے سوہنّتیِ کنّت سُیامیِ دِنسُ ریَنھیِ راۄیِئےَ ॥
ساسِ ساسِ چِتارِ جیِۄا پ٘ربھُ پیکھِ ہرِ گُنھ گاۄیِئےَ ॥
بِرہا لجائِیا درسُ پائِیا امِءُ د٘رِسٹِ سِنّچنّتیِ ॥
بِنۄنّتِ نانکُ میریِ اِچھ پُنّنیِ مِلے جِسُ کھوجنّتیِ ॥੧॥
لفظی معنی:
ونبھ میرے آلسا۔ اے میری سستی ختم ہوجا۔ ہر پاس بنتی ۔ خدا کے پاس استدعا ہے ۔ راوؤ سوہ آپنڑا ۔ اپنے خاوند خدا کو مانو سکون حاصل کڑ ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ سوہنی ۔ شہرت پاتی ہے ۔ کنت ۔ خاوند۔ سوامی ۔ آقا۔ دنس آہنی ۔ شب و روز۔ راوییئے ۔ یاد رکھیئے ۔ ساس ساس۔ ہر لمحہ ہر سانس ۔ چتار۔ یاد کرکے ۔ برہا لجائیا۔ جدائی شرمندہ ہوئ ۔ مراد ختم ہوئی ۔ ۔درسپائیا۔ دیدار ہوا۔ امیو درسٹ۔ آبحیات بھری نظر۔ سچنتی ۔ پڑتی ہے ۔ اچھ ۔ خواہش ۔ پنی ۔ پوری ہوئی ۔ کھوجنتی ۔ ڈہونڈتا ہوں۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے میری غفلت دور ہوجا خدا کے پاس میری استدعا ہے اپنے خدا کو یاد رکھو اس سےش ہرت ملتی ہے خدا کو روز و شب یاد کرؤ۔ اس سے اور اس کی صحبت سے شہرت ملتی ہے ( جو عورت) خدا کو ہر وقت دل میں بسانا چاہیے اس سے زندگی پر لطف ہوجاتی ہے خدا کو سانس سانس یاد کرؤ اور دیار اور یاد سے انسانی ذہن با اخلاق اور پاک روح والا ہوجاتا ہے اس لئے الہٰی صفت صلاح کرؤ۔ اس سے الہٰی جدائی ختم ہوجاتی ہے دیدار ملتا ہے اور نظریں آب حیات سے مخمور ہوجاتی ہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ میری خواہش پورہی ہوئی جس کی تلاش تھی پائیا۔

نسِ ۄنّجنْہُ کِلۄِکھہُ کرتا گھرِ آئِیا ॥
دوُتہ دہنُ بھئِیا گوۄِنّدُ پ٘رگٹائِیا ॥
پ٘رگٹے گُپال گوبِنّد لالن سادھسنّگِ ۄکھانھِیا ॥
آچرجُ ڈیِٹھا امِءُ ۄوُٹھا گُر پ٘رسادیِ جانھِیا ॥
منِ ساںتِ آئیِ ۄجیِ ۄدھائیِ نہ انّتُ جائیِ پائِیا ॥
بِنۄنّتِ نانک سُکھ سہجِ میلا پ٘ربھوُ آپِ بنھائِیا ॥੨॥
لفظی معنی:
کلوکھوہ ۔ گناہوں ۔ برائیوں ۔ نس ونجہو ۔ ۔ چلے جاؤ۔ دوتہو ۔ دشن۔ دہن بھئیا۔ ۔ جل گئے ۔ سادھ سنگ ۔ صحبت پاکدامن ۔ دکھانیا۔ بتائیا ۔ بیان کیا۔ آچرج ۔ حیران کن ۔ امیو دوٹھا۔ اب حیات کی بارش ہوئی ۔ سانت ۔س کون ۔ وجی دوھائی ۔ خوشباں ہوئین ۔ سکھ سہج سیال۔ حقیقی وروحانی آرام اور سکون ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے برائیوں اب میرے دل سے دور ہو جاؤ ۔ اب میرے دلمیں خدا بس گیا ہے جس کے دل میں خدا بس جائے اس کے دل سے برائیاں ختم ہوجاتی ہیں خدا اس کےد لمیں بستا ہے جو پاکدامن خدا رسیدہ کی صحبت و قربت مں خدا کی حمدوثناہ کرتا ہے رحمت مرشد سے حیران کن نظارے دیکھتا ہے اور آبحیات کی اس کے دلمیں بارش ہوتی ہے اور اس کی زندگی خوش اخلاق ۔ نیک اور روحانی ہوجاتی ہے ۔د ل پر سکون اور خوشیوںس ے بھر جاتا ہے ۔ جسکا شمار نہیں ہو سکتا ۔ نانک عرض کرتا ہے کہ میری خواہش پوری ہوئی جس کی تلاش تھی پالیا ۔

نرک ن ڈیِٹھڑِیا سِمرت نارائِنھ ॥
جےَ جےَ دھرمُ کرے دوُت بھۓ پلائِنھ ॥
دھرم دھیِرج سہج سُکھیِۓ سادھسنّگتِ ہرِ بھجے ॥
کرِ انُگ٘رہُ راکھِ لیِنے موہ ممتا سبھ تجے ॥
گہِ کنّٹھِ لاۓ گُرِ مِلاۓ گوۄِنّد جپت اگھائِنھ ॥
بِنۄنّتِ نانک سِمرِ سُیامیِ سگل آس پُجائِنھ ॥੩॥
لفظی معنی:
نرک ۔ دوزخ۔ سمرت۔ یاد کرنے سے ۔ نارئن ۔ خدا۔ جے جے دھرم کرے ۔ منصف الہٰی اداب بجا لاتا ہے ۔ دوت ۔ سیاہ منصف۔ پلائن ۔ دور ہوجاتے ہیں۔ سادھ سنگت ۔ صحبت و قربت پاکدامناں ۔ ہر بھجے ۔ الہٰی حمدوثناہ ۔ دھرم۔ اخلاق۔ فڑض۔ دھیرج ۔ مستقل مزاجی ۔ سہج سکھیئے ۔ روحانی سکون قلب۔ انگریہہ۔ کرم وعنایت ۔ موہ ۔ ممتا۔ دنیاوی محبت اور ملکیتی دعوے ۔ تجے ۔ چھور ے ۔ گیہہ کنٹھ لائے ۔ پکڑ کر گلے لگائے ۔ گر۔ مرشد۔ اگھائن۔ سیر ہوئے ۔ کوئی خواہش باقی نہ رہی ۔ تسکین ۔ تسلی ۔ آس۔ امید ۔پجائن۔ پوری ہوئی ۔
ترجمہ معہ تشریح:
دوزخ نہیں ریکھنے پڑتے جو یاد خدا کو کرتے ہیں۔ فرشتہ موت بھی سر جھاکتا ہے ان کے آگے اور خادمان فرشتہ موت نزدیک نہیں اتے پاس ان کے پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں الہٰی حمدوثناہ کرنے سے وہ آرام و سکون پاتے ہیں فرض شناسی اور مسقل مزاجی اور روحانی واخلایق مستقل مزاجی حاصل کرتے ہیں ۔ خدا انہیں اپنی کرم و عنایت سے ان کی حفاظت کرتا ہے بچاتا ہے دنایوی دولت کی محبت اور ملکیتی دعوے داری کرنے سےا ور انہیں چھوڑ دیتا ہے ۔ جنہیں خدا مرشد کے وسیلے سے انے ساتھ ملا دیتا ہے ۔ جنہیں خدا مرشد کے وسیلے سے اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور اپنے گلے لگاتا ہے ۔ الہٰی نام کی یاد سےدنیاوی دولت کی بھوک مٹا دیتے ہیں ۔ نانک عرض گذارتا ہے ہو الہٰی یاد سے اپنی تمام مرایدں وری کر لیتے ہیں۔

نِدھِ سِدھِ چرنھ گہے تا کیہا کاڑا ॥
سبھُ کِچھُ ۄسِ جِسےَ سو پ٘ربھوُ اساڑا ॥
گہِ بھُجا لیِنے نام دیِنے کرُ دھارِ مستکِ راکھِیا ॥
سنّسار ساگرُ نہ ۄِیاپےَ امِءُ ہرِ رسُ چاکھِیا ॥
سادھسنّگے نام رنّگے رنھُ جیِتِ ۄڈا اکھاڑا ॥
بِنۄنّتِ نانک سرنھِ سُیامیِ بہُڑِ جمِ ن اُپاڑا ॥੪॥੩॥੧੨॥
لفظی معنی:
ندھ۔ خزانہ ۔ سدھ ۔ یوگنا۔ قوت۔ کاڑ۔ فکر۔ غم۔ اساڑ۔ ہمارا۔ گیہہ بھجالینے ۔ بازور پکڑ کر ۔ کر ۔ ہاتھ ۔ مستک ۔ پیشانی ۔ راکھیا ۔ بچائیا۔ اگھائن ۔ تسکین و تسلی ۔ سنسار ساگر۔ دنیاوی سمندر۔ نیہہ ویاپے ۔ نہیں بنتے ۔ مراد دنیاوی حالا ت جیسے کہ عام طور پر چلتے ہیں نہیں چلتے ۔ امہو ۔ انمرت۔ آب حیات ۔ ہررس ۔ اپنی لطف۔ سادھ سنگے ۔ اس انسنا کا ساتھ جس نے اپنے آپ کو ہر طرح سےر وحانی و اخلاقی طو ر پر پاکیزہ بنا لیا ہے ۔ نام رنگے ۔ سچ اور حقیقت الہٰی نام کے پیار سے رن ۔ جنگ ۔ میدان جنگ ۔ جیت ۔ فتح ۔ وڈا اکھاڑ۔ پہلوانی پڑیا میدان۔ بہوڑ ۔ دوبار ۔ اپاڑ۔ پاوں سے اکھڑنا۔
ترجمہ معہ تشریح:
جس انسان پر ہو سایہ خدا کا اسے خزانے اور کراماتی طاقتوں فکر ہی ہے کیا ۔ جس کے تمام خزانے اور طاقتوں کا مالک ہے اور زیر ہیں جسے بازوں سے پکڑ کر الہٰی نام دیتا ہے اور اس کی حفاظت کے لئے اس کی پیشای پر اپنا ہاتھ رکھتا ہے اسے دنیاوی زندگی کے حالات سے دو چار نہیں ہونا پڑتا کیونکہ اس نے الہٰی نام جو روحانی زنگی کے لئے اب حیات ہے اسکا لطف اٹھائیا ہے ۔ پاکیزہ انسانوں کے ساتھ و صحبت و قربت اور سچ اور حقیقت الہٰی نام سےد نیاوی زندگی کا میدان جنگ پر فتح حاصل کر لی ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ الہٰی سایہ میں رہنے سے موت کبھی قدم اکھاڑ ہیں سکتی ۔

آسا مہلا ੫॥
دِنُ راتِ کمائِئڑو سو آئِئو ماتھےَ ॥
جِسُ پاسِ لُکائِدڑو سو ۄیکھیِ ساتھےَ ॥
سنّگِ دیکھےَ کرنھہارا کاءِ پاپُ کمائیِئےَ ॥
سُک٘رِتُ کیِجےَ نامُ لیِجےَ نرکِ موُلِ ن جائیِئےَ ॥
آٹھ پہر ہرِ نامُ سِمرہُ چلےَ تیرےَ ساتھے ॥
بھجُ سادھسنّگتِ سدا نانک مِٹہِ دوکھ کماتے ॥੧॥
لفظی معنی:
کمائیٹرے ۔ کئے ہوئے اعمال ۔ آیو ماتھے ۔ تیرا پیشکار ۔ ہوگیا ۔ مراد تیرے اعمالنامے میں تحریر ہوگیا ۔ لکا ئید ڑو ۔ چھپاتا ہے ۔ سو دیکھی ساتھے ۔ وہ تیرے ساتھ دیکھ رہا ہے ۔ سکرت ۔ نیک اعمال۔ نام لیجے ۔ خدا کو یاد کرؤ۔ نرک ۔ دوزخ۔ مول ۔ بالکل۔ بھج۔ یاد کر۔ سادھ سنگت ۔ صحبت و قربت پاکدامناں۔ دوکھ کماتے ۔ کئے ہوئے ۔ بد اعمال ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسان روز و شب کئے ہوئے اعمال انسان دل پر نقش ہوجاتے ہیں من میں تحریر ہو جاتے ہیں ۔ اے انسان جس سے تو پوشیدہ رکھتا ہے وہ تیرے ساتھ بیٹھا دیکھ رہا ہے ۔ جب تیرے اعمال ہر وقت دیکھ رہا ہے تو برے کام نہیں کرنے چاہیں۔ نیک اعمال کرؤ خدا کا نام لو تاکہ تجھے دوزخ کا منہ نہ دیکھنا پڑے ۔ ہر وقت خدا کو یاد کرؤ جو انسان کا ساتھ نبھانے والا ہے ۔ اے انسان ہمیشہ پاکدامن پاکیزہ لوگوں کی صحبت و قربت میں خدا کو یاد کرؤ ۔ اے نانک۔ اس کئے بد اعمال مٹ جاتے ہیں۔

ۄلۄنّچ کرِ اُدرُ بھرہِ موُرکھ گاۄارا ॥
سبھُ کِچھُ دے رہِیا ہرِ دیۄنھہارا ॥
داتارُ سدا دئِیالُ سُیامیِ کاءِ منہُ ۄِساریِئےَ ॥
مِلُ سادھسنّگے بھجُ نِسنّگے کُل سموُہا تاریِئےَ ॥
سِدھ سادھِک دیۄ مُنِ جن بھگت نامُ ادھارا ॥
بِنۄنّتِ نانک سدا بھجیِئےَ پ٘ربھُ ایکُ کرنھیَہارا ॥੨॥
لفظی معنی:
بلونچ ۔ دہوکا ۔ فری ب۔ ادر ۔ پیٹ ۔ گادار۔ جاہل۔ کائے ۔ کیوں۔ منہو ۔ دل سے ۔ دسارئے ۔ بھلائیں۔ بھج تشگے ۔ بیخوف یاد کر ۔ کل سموہا۔ سارے خاندان کو ۔ تاریئے ۔ کامیاب بنائیں۔ سدھ ۔ وہ جنہوں نے روحانیت حاصل کر لی ہے ۔ سادھک ۔ جو کر رہے ہیں۔ دیو ۔ دیوتے ۔ فرشتے ۔ منی ۔ دلی اللہ ۔ بھگت ۔ الہٰی عاشق ۔ الہٰی پریمی ۔ نام ۔ سچ حقیقت ۔ ادھار ۔ آسرا۔ بنونت ۔ عرض ۔ سسدا ھجیئے ۔ یاد کریں۔ پربھ ایک۔ واحد خدا کرنیہار۔ کرنے کے لائق ۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے نادان جاہل انسان دہوکے اور فریب سے پیٹ بھر رہا ہے جبکہ دینے (والے ) والا سب کچھ دے رہا ہے ۔ داتار ہمیشہ مہربان رہتا ہے جو ہر طرح سے کل مالک ہے اس لئے اسے کیوں دل سے بجھائیں۔ بیخوف ہوکر پاکدامنوں کی صحبت و قربت میں رہ کر خدا کو یاد کرؤ اس سے تمام خاندان کامیاب ہوجاتا ہے خڈا رسیدہ پاکدامنی یافتہ ریاض کار ۔ نتی ۔ ولی اللہ ۔ عاشقان الہٰی ۔ خدا پریمی سب کو الہٰی نام سچ اور حقیقت کا سب کو سہارا ور آسرا ہے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ ہمیشہ واحد خدا کو یاد کرؤ جو تمام عالم کو پیدا کرنے والا ہے ۔

کھوٹُ ن کیِچئیِ پ٘ربھُ پرکھنھہارا ॥
کوُڑُ کپٹُ کماۄدڑے جنمہِ سنّسارا ॥
سنّسارُ ساگرُ تِن٘ہ٘ہیِ ترِیا جِن٘ہ٘ہیِ ایکُ دھِیائِیا ॥
تجِ کامُ ک٘رودھُ انِنّد نِنّدا پ٘ربھ سرنھائیِ آئِیا ॥
جلِ تھلِ مہیِئلِ رۄِیا سُیامیِ اوُچ اگم اپارا ॥
بِنۄنّتِ نانک ٹیک جن کیِ چرنھ کمل ادھارا ॥੩॥
لفظی معنی:
کھوٹ ۔ بدی ۔ فریب ۔ کیچئی ۔ کریں۔ پر کھنہار۔ پہچاننے والا۔ کوڑ ۔جھوٹ ۔گپٹ ۔ دہوکا ۔ فریب ۔کماودڑے ۔ کمانے والے ۔ جنیہہ ۔ سنسار ۔ دنیا میں ۔ تناسخ میں پڑے رہتے ہیں۔ تنی ۔ انہوں نے ۔ کام ۔ شہوت۔ کرودھ ۔ غصہ ۔ انند نندا۔ نیکوں کی برائی۔ پربھ سرنائی ۔ سایہ الہٰی ۔ مہیل ۔ خلا۔ آسمان ۔ اگم۔ انسانی رسائیس ے بلند۔ اپار۔ جس کی کوئی حد یا کنار ا نہ ہو ۔ لا محدود۔ ٹیک۔ اسرا۔
ترجمہ معہ تشریح:
اے انسانوں دہوکا فریب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ خدا سے پہچانتا ہے جھوٹ اور دہوکا فریب کرنے والے تناسخ میں پرے رہتے ہیں۔ دنیا میں کامیابی ان ہی کو ملتی ہے جو خدا کو یاد کرتے ہیں جو شہوت غصہ نیکیوں کی بدگوئی چھوڑ کر سایہ الہٰی میں رہتے ہیں جو انسانی رسائی سے بلند وبالا ہر جگہ زمین سمندر لا محدود ہے اور ہرجگہ بستا ہے کے سایہ میں رہتے ہیں کامیابی پاتے ہیں۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ جو خدا زین سمندر خلا یعنی ہر جائی ہے جو سب سے بلند و بالا ہے جو انسانی رسائی سےبعید ہے بیشامر ہے وہ خادمان خدا کے لئے ایک سہارا اور آسرا ہے ۔

پیکھُ ہرِچنّدئُرڑیِ استھِرُ کِچھُ ناہیِ ॥
مائِیا رنّگ جیتے سے سنّگِ ن جاہیِ ॥
ہرِ سنّگِ ساتھیِ سدا تیرےَ دِنسُ ریَنھِ سمالیِئےَ ॥
ہرِ ایک بِنُ کچھُ اۄرُ ناہیِ بھاءُ دُتیِیا جالیِئےَ ॥
میِتُ جوبنُ مالُ سربسُ پ٘ربھُ ایکُ کرِ من ماہیِ ॥
بِنۄنّتِ نانکُ ۄڈبھاگِ پائیِئےَ سوُکھِ سہجِ سماہیِ ॥੪॥੪॥੧੩॥
لفظی معنی:
پیکھ ۔ دیکھ کر ۔ ہر چندؤ ر ڑی ۔ خیالی شہر۔ مانند سراب ۔ استھر ۔ مستقل ۔ دوآمی ۔ مائیا رنگ ۔ دنیاوی دولت کا پریم۔ جیتے ۔ جتنے ۔ سنگ ۔ ساتھ ۔ دنس رین ۔ روز و شب ۔ سمالئے ۔ دلمیں بساؤ۔ بھاؤ ۔ دتیا ۔ پیار اور دوئش ۔دوجاپن ۔ میت ۔ دوست۔ جوبن ۔ جوانی ۔ مال ۔ دولت ۔ سر بس۔ سب کچھ ۔ پرھ ایک۔ واحد خدا۔ گرمن ماہی ۔ دل میںرکھ بسا۔ سوکھ سہج ۔ آرام و رحانی سکون یا ذہنی سکون ۔ سماہی ۔ مجذوب۔
ترجمہ معہ تشریح:
یہ عالم جو دکھائی دے رہا ہے اس خیالی شہر اور دہوئیں کے پہاڑ کی یا سراب کی مانند ہے کوئی بھی چیز دوآمی اور صدیوی نہیں ہے اس دنیاوی دولت کی عیش و عشرت ساتھ جانے والے نہیں ۔ خدا دوآمی اور صدیوی مستق ہمراہی اور ساتھی ہے روز و شب اسے دلمیں بساؤ واحد خدا کے بغیر دوسرا کچھ بھی نہیں ۔ دوسروں سے محبت ختم کر دینی چاہیے ۔ دوت ۔ جوانی ۔ سرمایہ واحد خدا ۔ کوہی دلمیں سمجھ لے ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ بلند قسمت سے خدا ملتا ہے جنہیں ملتا ہے وہ ہمیشہ روحانی سکون میں محو ومجذوب و مخمور رہتے ہیں۔

آسا مہلا ੫ چھنّت گھرُ ੮
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
کملا بھ٘رم بھیِتِ کملا بھ٘رم بھیِتِ ہے تیِکھنھ مد بِپریِتِ ہے اۄدھ اکارتھ جات ॥
گہبر بن گھور گہبر بن گھور ہے گ٘رِہ موُست من چور ہے دِنکرو اندِنُ کھات ॥
دِن کھات جات بِہات پ٘ربھ بِنُ مِلہُ پ٘ربھ کرُنھا پتے ॥
جنم مرنھ انیک بیِتے پ٘رِء سنّگ بِنُ کچھُ نہ گتے ॥
کُل روُپ دھوُپ گِیانہیِنیِ تُجھ بِنا موہِ کۄن مات ॥
کر جوڑِ نانکُ سرنھِ آئِئو پ٘رِء ناتھ نرہر کرہُ گات ॥੧॥
لفظی معنی:
کملا۔ سرمایہ ۔د نیاوی دلوت ۔ بھرم ۔ شک و شبہات۔ بھیت ۔ دیوار۔ تیکھن۔ تیکھی ۔ تیز ۔ مد ۔ نشہ ۔ سرور۔ بپریت ۔ جسکا بھروسنہ نہیں۔ ۔ اودھ ۔ عمر۔ زندگی ۔ اکارتھ ۔ بیفائدہ ۔ جات ۔ جاتی ہے ۔ گہیر ۔ گھنا۔ بن ۔ جنگل ۔ گھور ۔ خوفناک ۔ گریہہ ۔ گھر۔ موست۔ چرارہا ہے ۔ لٹ رہا ہے ۔ من ۔ دل ۔ دنکرؤ۔ دن بنانے والا سورج ۔ اندنو۔ ہرروز ۔ کھات ۔ کھا رہا ہے ۔ بہات ۔ بیت رہی ہے ۔ گذرہی ہے ۔ کرنا پتے ۔ رحمان الرحیم ۔ گتے ۔ روحانی یا اخلاقی حالت ۔ کل ۔ خاندان ۔ روپ ۔ شکل وصورت ۔ دہوپ ۔ خوشبو ۔ گیان ۔ علم ۔ تجھ بنا ۔ تیرے بغیر ۔ ۔ کون مات۔ کون ماں۔ گر ۔ ہاتھ ۔ سرن ۔ پناہ ۔ پر یہ ناتھ ۔ پیارے مالک ۔ نرہر ۔ خدا ۔کر ہو گات۔ بلند روحانی زندگی عنایت کرؤ۔
ترجمہ معہ تشریح:
یہ سرمایہ دنیاوی دولت وہم وگمان اور شک وشبہات میں ڈالنے والی ایک دیوار ہے ۔ اسکا نشہ بہت زیادہ ہے اور گمراہ کرنے والا ہے اور اس کے خمار سے زندگی بیفائدہ چلی جاتی ہے یہ عالم یہ دنیاو ایک بھاری گھنے خوفناک جنگل کی مانند ہے ۔ اور اس کے گھر کو چور من چرارہا ہے اور نئے سورج عمر گھٹ رہی ہے الہٰی حمدوثناہ کے بغیر اور اسے یاد کئے بغیر روحانی زندگی بہتر نہیں ہو سکتی ۔ اے رحمان الرحیم تیرے ملاپ کے بغیر کتنا عرصہ گذر چکا ہے کر میری کہ روحانی طور پر زندگی بہتر نہیں ہوئی ۔ نہ میں خاندان شکل و صورت نہ اوصاف کی خوشبو اور نہ کوئی علم وہنر نہ تیرے بغیر دوسرا حفاظت کرنے والا ہے ۔ خادم نانک دست بسہ تیرے زیر سایہ آئیا ہے اے خاوند کریم میری روحانی زندگی بہتر بنا ۔

میِنا جلہیِن میِنا جلہیِن ہے اوہُ بِچھُرت من تن کھیِن ہے کت جیِۄنُ پ٘رِء بِنُ ہوت ॥
سنمُکھ سہِ بان سنمُکھ سہِ بان ہے م٘رِگ ارپے من تن پ٘ران ہے اوہُ بیدھِئو سہج سروت ॥
پ٘رِء پ٘ریِتِ لاگیِ مِلُ بیَراگیِ کھِنُ رہنُ دھ٘رِگ تنُ تِسُ بِنا ॥
پلکا ن لاگےَ پ٘رِء پ٘ریم پاگےَ چِتۄنّتِ اندِنُ پ٘ربھ منا ॥
س٘ریِرنّگ راتے نام ماتے بھےَ بھرم دُتیِیا سگل کھوت ॥
کرِ مئِیا دئِیا دئِیال پوُرن ہرِ پ٘ریم نانک مگن ہوت ॥੨॥
لفظی معنی:
مینا ۔ مچھلی ۔ جل ہین مینا۔ پانی کے بغیر مچھلی ۔ وچھرت۔ جدا ہو کر ۔ کھین ہے ۔ مرجاتی ہے ۔ سنمکھ ۔ ساہمنے ۔ سیہہ بان ۔ تیر ۔ سہارن ہے ۔ مرگر ۔ ہرن ۔ ارپے ۔ بھیٹ کر تا ہے ۔ پراین زندگی بیدھیو ۔ بندھ جاتا ہے ۔ گرفت میں آجاتا ہے ۔ سہج سروت۔ سکون دینے والی آواز کی گرفت میں۔ پریہ ۔ پیارے ۔ پریت ۔ پریم ۔ بیراگی ۔ طارق الدنیا ۔ کھن ۔ تھوڑے سے وقفے کے لئے ۔ رہن ۔ زندگی ۔ دھرگ ۔ قابل ملامت ۔ تن ۔ جسم۔ تس بنا۔ اس کے بغیر ۔ پکانہ لاگے ۔ آنکھ جھپکنے جتنی دیر ھی نہ لاگے پر یہ پریم پاگے ۔ پیارے کے پیارے پاوں ۔ جتونت ۔ دل میں کرنسے ۔ سر ی رنگ رائے ۔ الہٰی پیار میں محو ۔ نام ماے ۔ سچ اور حقیقت میں محویت ۔ دتیا ۔ دوئش ۔ سگل ۔س ارے ۔ میا ۔ مہربانی ۔ دیال۔ مہربان ۔ پورن ۔ کامل ۔ ہر ۔ پریم۔ الہٰی عشق و محبت ۔
ترجمہ :
جیسے پانی کے بغیر مچھلی مر جاتی ہے ۔ ایسے ہی دلدار پیارے کے بغیر عاشق کیسے جی سکتا ہے ۔ جیسے ہرن کو روھانی سکون دینے والی آواز کو سننے کے لئے اپنی دل وجان قربان کر دیتا ہے اور ساہمنے تیر کھاتا ہے ۔ اے میرے پیارے خا مجھے تیرا پیار ہوگیا ہے اور میں طارق الدنیا ہوگیا ہوں ۔ اس لئے میرا جسم بھی تھوڑے سے وقفے کےلئے پر سکون نہیں رہ سکتا ۔ اگر سکون پائے تو زندگی کے لئے لعنت ہے ۔ آنکھ جھپکنے کی دیر کے لئے بھی سون نہیں ملتا ہر وقت تیرے پاؤں سے پیار ہورہا ہے اور ہر وقت تیرا ہی دل میں خیال ہے ۔ جو انسان الہٰی پریم پیار میں محو ومجذوب ہوجاتے ہیں وہ عالم کے تمام خوف اور دنیاوی بھٹکیں وہم وگمان اور دوئی دوئش سارے مٹا لیتے ہیں۔ اے رحمان الرحیم خداوند کریم کرم وعنایت فرما کر میں ہر وقت ہمیشہ نانک تیرے پریم پیار میں محو و مجذوب رہے ۔

الیِئل گُنّجات الیِئل گُنّجات ہے مکرنّد رس باسن مات ہے پ٘ریِتِ کمل بنّدھاۄت آپ ॥
چات٘رِک چِت پِیاس چات٘رِک چِت پِیاس ہے گھن بوُنّد بچِت٘رِ منِ آس ہے ال پیِۄت بِنست تاپ ॥
تاپا بِناسن دوُکھ ناسن مِلُ پ٘ریمُ منِ تنِ اتِ گھنا ॥
سُنّدرُ چتُرُ سُجان سُیامیِ کۄن رسنا گُنھ بھنا ॥
گہِ بھُجا لیۄہُ نامُ دیۄہُ د٘رِسٹِ دھارت مِٹت پاپ ॥
نانکُ جنّپےَ پتِت پاۄن ہرِ درسُ پیکھت نہ سنّتاپ ॥੩॥
لفظی معنی:
علیل ۔ بھنورے ۔ گنجات ۔ گونجتے ہیں۔ اڑتے ہوئے پروں کی اواز پیدا ہوتی ہے ۔ مکرند۔ پھو۔ پتیوں کی دہول۔ رس۔ رس۔ باسن۔ خوشبو۔ مات۔ محو۔ مست۔ پریت ۔ پیار ۔ کمل۔ کل کے پھول۔ بندھاوت۔ بندھ جاتے ہیں۔ چاترک ۔پپیہے ۔ چت۔ دل ۔ گھن بوند آسمانی بوند۔ واتیہہ بوند۔ بچتہ ۔ خو ب صورت ۔ آس۔ امید ۔ ال ۔ سواتیہہ یا آسمانی قطرہ پانی ۔ تاپ ۔ ذہنی عذا ۔ ونست ۔مٹ جاتا ہے ۔ ات گھنا۔ نہایت زیادہ ۔ چر سجان ۔ باہوش دانشمند۔ کون رسنا۔ کونیس زبان ۔ گن ۔ وصف۔ بھنا۔ بیان۔ گیہہ بھجا۔ بازور پکڑ ۔ نام۔ الہٰی نام۔ سچ اور حقیقت ۔ درسٹ دھارت ۔ نگاہ شفقت۔ مٹت پاپ۔ گناہ مت جاتے ہیں۔ جنچے ۔ عرض گذارتا ہے ۔ پتت پاون ۔ گناہگاروں کو پاک بنانے والا۔ درس۔ دیدار۔ سنتاپ ۔ عذاب۔
ترجمہ معہ تشریح:
بھنورے پھولوں کے اردگرد گونجتے ہیں اور پھولوں کی خوشبو میں محو ومجذوب ہوکر ان کے پیار میں اپنے آپ کو بندھا لیتے ہیں کنول کے پھولوں میں ۔
پپیہے کے دل میں آسمانی بوند کے لئے پیاس ہے اور اس آسمانی بوند کے لئے نہایت امید اور پیاس ہے اور اس آسمانی بوند پینے سے اس کی ذہنی کو فت مٹی ہے ۔ اے جانداروں کے عزاب اور کوفت مٹانے والے مجھے مل میرے دل میں تیرے دیدار کے لئے نہایت بھاری پریم اور پیاس ہے ۔ اے کدا تو میرا نہایت محترم دانشمند مالک ہے میں زبان سے کون کونسے اوصاف بیان کروں۔ اے ناپاک کو پاک بنانےو الے بدیوں اور گناہوں میں ملوث گناہگاروں کو راہ راست پر لا کر پاک بنانے والے مجھے بازووں سے پکر کر اپنا گرویدہ بنا اور پاوں لا اور مجھے اپنا نام عنایت کیجئے ۔ تیری نظر عنایت و شفقت سے تمام گناہ عافو ہوجاتے ہیں ۔ نانک عرض گذارتا ہے کہ اسے خدا تیرے دیدار سے کوئی عذاب اور جھگڑے بے اثر ہوجاتےہیں متاثر نہیں کرتے ۔

چِتۄءُ چِت ناتھ چِتۄءُ چِت ناتھ ہے رکھِ لیۄہُ سرنھِ اناتھ ہے مِلُ چاءُ چائیِلے پ٘ران ॥
سُنّدر تن دھِیان سُنّدر تن دھِیان ہے منُ لُبدھ گوپال گِیان ہے جاچِک جن راکھت مان ॥
پ٘ربھ مان پوُرن دُکھ بِدیِرن سگل اِچھ پُجنّتیِیا ॥
ہرِ کنّٹھِ لاگے دِن سبھاگے مِلِ ناہ سیج سوہنّتیِیا ॥
پ٘ربھ د٘رِسٹِ دھاریِ مِلے مُراریِ سگل کلمل بھۓ ہان ॥
بِنۄنّتِ نانک میریِ آس پوُرن مِلے س٘ریِدھر گُنھ نِدھان ॥੪॥੧॥੧੪॥
SGGS p. 462
لفظی معنی:
چتوؤ ۔ یاد کرؤ۔ چت۔ دل ۔ ناتھ ۔ آقا۔ مالک ۔ رکھ ۔ لیہو ۔ بچاؤ۔ سرن ۔ زیر سایہ ۔ پناہ ۔ اناتھ ۔ بے مالک ۔ چاؤ۔ خوشی ۔ چائیے ۔ خوشیوں سےبھر جاتا ہے ۔ پران زندگی ۔ لبد ۔ لالچ ۔ گوپال گیان ۔ علم الہٰی ۔ جاچک ۔ بھکاری ۔ جن ۔ خادم۔ راکھت ۔ بچانا ۔ عزت ۔وقار۔ پورن ۔ مکمل۔ دکھ بدیرن ۔ مٹانے والا۔ چھ ۔ خواہش۔ پجتیا ۔ پوری کرنے والا۔ کنٹھ ۔ گلے ۔ سبھاگے ۔ خوش قسمت ۔ نیک ۔ بخت۔ سیج ۔ خواب گاہ ۔ سوہنتیاں۔ اچھی لگنا ۔ درسٹ ۔ نگاہ شفقت ۔ کلمل۔ دوش ۔ نگاہ ۔ ہان۔ نقصان۔ سریدھر۔ خدا۔ گن ندھان۔ اوصاف کے خزانے ۔
ترجمہ :
اے میرے خدا وند کریم میرے آقا مجھ بے مالک کے اپنے زیر سیاہ رکھیئے میں اپنے دل میں تجھے ہی یاد کرتا ہوں اور دل میں بساتا ہوں میرے دل میں تیرے دیدار کے لئے امنگ اور خواہش ہے ۔
اے خدا تیرے نورانی شکل و صورت میں میری ہوش مدغم و محو ہے مجھے تیری پہچان و شناخت و علم کا لالچ ہے اور تجھ سے شراکت چاہتا ہوں مجھ بھکاری کی عزت بچا تو پانے در کے بھکاریوں کی عزت اور قدر کرتا ہے ۔ انکے عذاب مٹاتا ہے اور دلی خواہشات پوری کرتا ہے ( اے گناہگاروں کے گناہ بخشنے والے نایاکوں کو پاک بنانے والے جو خدا کے گلے ملتے ہیں خوش قسمت ہوجاتے ہیں الہٰی ملاپ سےا ن کے قلب و ذہن پاک و پائش ہو جاتے ہیں جن پر الہٰینظر عنایت و شفقت ہو جاتی ہے ان کے سارےگناہ کئےہوئے عافو ہو جاتے ہیں نانک عرض گذارتا ہے کہ ہر طرح کی دولت کا خاوند خدا کا ملاپ حاصل ہو گیا جو تمام اوصاف کا خزانہ ے میری امید بر آئی ۔
محلہ 5-14 محلہ 4-14، محلہ 3-2 محلہ 5-5 میزان
انکار ستگر پر ساد ( اسادی دار )
آسادی دار کا اسل درس کا بیان کرتے وقت یہ کہنا غلط ہے کہ گرو نانک صاحب نے آسا کی دار ذریعے راساں کے بارے میں مسلمانوں کے مردے دفنانے کے بارے ۔ جنجو پہننے کے بارے ۔ گائے کے گوہر پھیرنے بارے خودیا ر عورت ذات بابت یادیگر سلوکوں کے کسے مضمون کے بار ہزیات اور واعظ کی ہے سلوکوں کے علیحدہ علیحدہ مضمون ہی بتا رہے ہں کہ علیحدہ علیحدہ ضرورت کی مطابق بیان کئے ہیں ۔ جنجو کی کہانی مشہور عام ہے تاریخمیں خاص سلوک بھی دئے گئے ہیں جو بوقت جنجو گرو صاحب نے پادھے کو سنائےتھے مگر کوئی دانشمند یہ نہیں کہہ سکتا ک یہ ساری دار تمام سلوکوں کے ساتھ ا جنجو پہنانے کے موقعے پاندھے کو نصیحت کرنے کی گرض واسطےبیان کی ہو ۔ جنجو کے سلوکوں کی کہانی کا آسا کی دار کی پندر ہوں پوڑی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہر ایک سلوک جس پوڑی کے ساتھ درج ہے اسکا اصل مطلب پوڑی کے ساتھ ملتا ہے ۔
بعض تاریخ دان لکھتے ہیں کہ آسا کی دار کی پہلی 9 پوڑیاں پاک پٹن میں شیخ برہم پاس تحریر کیں ہیں باقی 15 کسی اور جگہ تحیر کی ہیں ڈاکٹر ساحب سنگھ ڈی لٹ کےخیال کے مطابق بالکل غلط ہے کیونکہ ساری داری کا مضمون ایک ہے ۔ اس لئے جہاں کہیں بھی اچاری گئی ہے ساری اکھٹی اچاری گئی ہے ۔
پوڑی ۔ دارمراد:
1) خدا یعنی قادر قائنات قدرت بنا کے پیدا کرکے اس میں اپنے آپ کو بس اکے اس عالم کی قدرت اور قائنات کی حرکت پر خود اپنی نظر رکھ رہ اہے ۔
2) خدا نے انسان کو جاندار کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ سچ اور حقیقت دلمیں بسائے اور زندگی کا حقیقی مقصد حقیقت اور سچ پر عمل پیرا ہونا ہے ۔ ہر ایک کو اپنے کئے اعمال کے لئے جواب دیہہ ہونا پڑیگا اور سزا و جزا خدا دیگا۔
3) جو انسان نفساتی خواہشات کی تکمیل کے لئے زندگی گذاردیتے ہیں ان کی زندگی فضول اور بیکار چلی جاتی ہے ۔
4) جس انسان پر خدا کی نظر عنایت و شفقت ہوتی ہے اسے خود ملاتا ہے مرشد سے اور تناسخ سے نکال لیتا ہے وہ خودی چھوڑ دیتا ہے اور الہٰی نام یعنی سچ اور حقیقت اپناتا ہے ۔
5) الہٰی نام یعنی سچ و حقیقت ہی دوزخ سے بچاتا ہے ۔ جو انسان اپنی بھلائی چاہتا ہے اسے نیک اعمال کرنے چہایں ۔ کیونکہ زندگی صدیوی اور دوآمی نہیں۔
6) مگر اس بات کو صداقت سمجھو کہ نام کی نعمت مرشد کے بغیر کسی دوسرے سے لا حاصل ہے مرشد می ہیں اپنا نور ظاہر کیا ہے
7) نام وہی انسان یاد کرتا ہے جو صابر ہو برائیوں کی طرف رجوع نہ ہو جو دنیاوی شروع و رسومات کا پابند نہ ہو اور دنیاوی لذتوں سے بچتا ہو ۔
8) جس انسان پر خدا مہربان ہوتا ہے اس کے دل میں خدا کا نام بستا ہے جب کہ خودی پسند مرید من انسان اپنی زندگی بیکار گنوا لیتے ہیں۔
9) جو انسان عاجزی و انکساری میں خدمت خدا اور یاد خدا میں زندگی گذارتے ہیںوہ ہیں الہٰی پریمی درویش اور پریمی خدا کے پیارے ہوجاتے ہیں۔
10) اگر دہول پائے مرید ان مرشد کی ملے تو پیشانی پر لائے مراد کی قدرمنزلت کرنی چاہیے ۔ اسطرح سے دنایوی دولت کی محبت کا تدار ک ہو سکتا ہے ۔
11) صرف اپنے جہدوترد پر بھروسا رکھان فضول ہےا ور بھول ہے الہٰی حضور سے جو خدا کا نام یاد کرتےہیں ۔ ہروقت الہٰی عنایت و شفقت کی امید رکھو ۔
12) خدا کی در گاہ میں عالم اور بے علم میں کوئی تفریق نہیں ہر ایک کئے اعمال کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے ۔ زبان دراز آخر ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔
13) اس عالم کو ایک خوفناک اور خطر ناک سمندر کی طرح سمجھو جس میں برائیوں بدیوں کی لرہیںا ور مدوجر ر اٹھ رہے ہیں اس سے پار ہونے کے لئے مرشد ایک ملاح اور جہاز ہے مگر اس کی سمجھ اسے آتی ہے جس پر خدا خود مہربان ہوا ۔
14) دکھاوے اور بناوٹ ساتھ نہیں دیتے نیک و بد اعمال ہی ساتھ دیتے ہیں بد اعمال ان کے لئے فرشتہ موت بن جاتے ہیں۔
15) جس پر الہٰی کرم وعنایت ہوتی ہے وہ الہٰی رضا میں راضی رہتا ہے جس سے منظور نظر ہوجاتا ہے ۔
16) ہر ایک انسان خودی میں محبوس ہے مگر اس عالم میں غرور کرنا ایک بھاری بھول ہے ۔ کیونکہ اس نے ساتھ نہیں دینا۔
17) ہر ایک کا محافظ خود خدا ہے اسی نے آبرو اور دوار بخشش کرنا ہے ۔ مگر یہ وقار جھوٹا ہے وہ کبھی بادشاہ اور کبھی بادشاہ کو دردر کی ٹھوکریں اور بھکاری بناتا ہے ۔
18) بھاری محلات کوٹھیاں حکمرانی میں محوہو کر موت کو بھلا دینا بھول ہے عمر بیفائدہ گذار جاتی ہے ۔
19) حقیقی عظمت بلند روحانی واخلاقی اوصاف میں جو مرشد سے ملتے ہیں ۔ جس پر خدا پانی کرم وعنایت کرتا ہے اسے مرشد سے ملاتا ہے مرشد کے لاپ سے بد اوصاف اور برائیاں مٹ جاتی ہے دور ہوجاتی ہیں نیکیاں اور اوصاف ذہن میں بس جاتے ہیں۔
20) جانداروں کو ایک خاص وقت زندگی گذارنے کے لئے ملتا ہے اسے چاہئے کہ خدا کو یاد کرے اور کردار درست بنائے ۔
21) جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے برائی سے بچو ایسے کام کرؤ جس الہٰی خوشنودی حاصل ہو ۔
22) جو انسان خادم ہوکر خدمت کرتا ہے الہٰی رضا میں راضی رہتا ہے ۔ اسے وقار ملتا ہے
23) خدا ہی پیدا کرنے والا اور مارنے والا بھی وہی ہے کسی کو عذاب و صائش دینے والا بھی وہی ہے ہر ایک کی سنبھال بھی وہی کرتا ہے ۔
24) جہان کا رازق و پروردگار بھی خدا ہے اس کے علاوہ جانداروں کو دوسرا کوئی مددگار نہیں ۔
اصل مدعا و مراد
کار ساز کرتار نے انسان سچ یا حقیقت اپنانے کے لئے یعنی نام یاد رکھنے کے لئے پیدا کیا ہے مگر انسان دنیاوی دلوت میں محو ومجذب ہوکر زندگی بیفائدہ بیکار ضائع کر لتا ہے مگر جس پر خدا مہربان ہوتا ہے اسے مرشد سے ملاتا ہے الہٰی نام سچ یا حقیتق کی سمجھ مرشد سے ملتی ہے جس کی برکت سےانسان بلند اخلاق اور روحانی طور پر بلند عظمت ہوجاتا ہے اسے سمجھ آجاتی ہے دنیاوی عظمتیں اور وقار تمام جھوٹے ہیں خدا کو ہی اپنا آسرا اور سہارا سمجھتا ہے
وار میں 24 پوریاں اور 59 سلوک ہیں جس میں گرونانک صاحب کے 44 گرواندگدیو 15 کل 59
پوڑی نمبر 18-15-12-11-2-1 دو ۔ دو سلوک ہیں کل 34 پوڑی 11-2-1اور 18 کے ساتھ تین تین سلوک ہیں ۔ میران12 پوڑی نمبر 12 اور 15 کے ساتھ چار چار سلوک ہیں۔ میزان 8 پوڑی نمبر 22( نال ) ساتھ 5 سلوک ہیں میزان کل (59) پوڑی نمبر 21-22-23کے ساتھ گرونانک صاحب کا کوئی سلوک نہیں پوڑی نمبر 8 و 24 کے ساتھ ایک ایک سلوک ہے پوڑی نمبر 11 اور 18 کے ساتھ گرونانک دیو جی کے تین تین سلوک ہیں اور پوڑی نمبر 15 کے ساتھ گرونانک صاحب کے چار سلوک ہے ۔
نظم کے نقطہ نگاہ سے اگر پوڑیوں کی تشکیل پر نظر ڈالی جائے تو پوڑی نمبر 23,22,18 کو چھوڑ کر باقی سب کے بناوٹ یکساں ہے اور فقروں کی گنتی بھی برابر ہے اگر گرونانک صاحب نے وار تحریر کرتے وقت سلوک بھی ساتھ تحریر کئے ہوتے تو سلوک بھی خود ہی پوڑیوں کے ساتھ درج کر دیتے ۔ ورنہ ایسانہ ہوتا کہ کچھ پوڑیاں سلوکوں کے بغیر رہ جاتیں اسکے علاوہ سلوکوں کے مضمون پر نظر ڈالو صاف معلوم ہوتا ہےکہ علیحدہ علیحدہ و مواقعہ جات پر گہے گئے ہیں۔ جنجو سوتک مروے دفن کرنے کی بابت رسوئی کی پاکیزگی رساں بغیرہ۔ اس لئے اس سے صاف ظاہر ہے کہ وار