Urdu-Master-1


ایک اونگکار
ترجمہ:
ایک عمودی حقیقتجوتمام تخلقاجت مںا ظاہر ہے
ستِنامُ کرتا پُرکھُ نِربھءُ نِرۄیَرُ اکال موُرتِ اجوُنیِ سیَبھنّ گُرپ٘رسادِ ॥
ترجمہ:
اسکا نام ابدی سچائیہے ۔ وہ کارساز ۔ عالم کو وجود میں لانیوالا۔ بیخوف۔ بلادشمنی اوربلا دشمن۔ وقت سے مبرا۔ پیدائشیا انسانی خصوصیات میں نہیں۔خود ساختہ ۔ کسی سے بنا نہیں
رحمت مرشد سے اسکی سمجھ آتی ہے-

॥ جپُ ॥
نظم کا نام ہے
لیکن معنی۔ اسےشناخت کر اور یاد کر۔
آدِ سچُ جُگادِ سچُ ॥
ہےَ بھیِ سچُ نانک ہوسیِ بھیِ سچُ ॥੧॥
لفظمی مطلب
آد۔ عالم کے وجود سے پہلے ، جگاد۔ دوران زماں۔ ہے بھی سچ۔ آج ۔ زمانہ ۔ حال ۔ ہوسی۔ آئندہ بھی ۔ آنے والے زمانے میں بھی
ترجمہ:
خدا روز اول سے ہے دوران زمانہ غرض یہ کہ ماضی ، حال ، مستقبل زمانے کے ہر دور میں سچا اور باوجود ہے ۔

سوچےَ سوچِ ن ہوۄئیِ جے سوچیِ لکھ ۄار ॥
چُپےَ چُپ ن ہوۄئیِ جے لاءِ رہا لِۄ تار ॥
بھُکھِیا بھُکھ ن اُتریِ جے بنّنا پُریِیا بھار ॥
سہس سِیانھپا لکھ ہوہِ ت اِک ن چلےَ نالِ ॥
کِۄ سچِیارا ہوئیِئےَ کِۄ کوُڑےَ تُٹےَ پالِ ॥
ہُکمِ رجائیِ چلنھا نانک لِکھِیا نالِ ॥੧॥
لفظمی مطلب
سوچَےسوچ ، صِرف پاکیزگی رکھنے سے خو آہ اِسکا کتِنا مَن پاک نہیں ہو سکتا بیروُنی پاکزگی سے لِو تار ، دِھیان کی یا من کی سوئی سہَس سیانپاں ۔ ہزاروں دانِشمندیوں کے باوجُودکِو سَچیاراں ، سَچّے اِخلاّق والا ۔ پال۔ دیوار
پردَہ ، حُکم ۔فَرمان ، رَضاّ ، مرَضّی کے مُطابق
ترجمہ:
صِرف یرونی صفائی رکھنے سے ہی اِنساّن پاکیزہ نہیں ہو سَکتا ۔ ، اُسکے ذِہن میں اَور خیالات یںنہیں پاکیزگی نہیں ہو سکتی نہ زِندگی کے مَقصدّ اَور حَقیقَت کو سَمجھَا جا سَکتا ہے۔ چُپ رہنے سے خاموشی اِختیار کرَنے سے سکون ، قَلبّ ، رُوحانی سکون نہیں مل سکتا ۔ خواہ اپنا دھیان کیوں نہ جاذب مجذوب کر نہیں۔ بھوُکو ں کی بھوُک ختم نہیں ہوتی ۔ خواہ اُسے تَمام عالَم کی دَؤلَت ، نِعمَتوں اَور لوازماتّ ۔ زندگی حاصِلّ نہ ہو جائیں اسکی رُوحانی بہوک خَتم نہ ہو گی ۔ اِنسان خواہ کتِنا ہی دانشِمنّد اَور عاقل کیوں نہ ہو بوَقت آخِرت بارگاہِ الہٰی کوئی کام نہ آئیگی ستھ نہ دیگی۔ تَب وُہ کوئی ذریعہ ہے جِس سے انسان با اخلاق ہو سکے انسان کو ئی وسیلہ ہے۔ جس سے دیوار کفر ٹوٹے ۔ اَے نانک اِلہّٰی فَرمانبردَاری منَدرجہ بالا ذرائع ہے دیوار کفر ٹوٹ سَکَتی ہے۔ رَضا کاری رَضائے الہّٰی

ہُکمیِ ہوۄنِ آکار ہُکمُ ن کہِیا جائیِ ॥
ہُکمیِ ہوۄنِ جیِء ہُکمِ مِلےَ ۄڈِیائیِ ॥
ہُکمیِ اُتمُ نیِچُ ہُکمِ لِکھِ دُکھ سُکھ پائیِئہِ ॥
اِکنا ہُکمیِ بکھسیِس اِکِ ہُکمیِ سدا بھۄائیِئہِ ॥
ہُکمےَ انّدرِ سبھُ کو باہرِ ہُکم ن کوءِ ॥
نانک ہُکمےَ جے بُجھےَ ت ہئُمےَ کہےَ ن کوءِ ॥੨॥
لفظمی مطلب
آکار۔ شکل ۔ وَجُود پھیلاو و دیائی عَظمَتّ
اُتمّ باوقاّر ۔باعِزّت ۔ بھَوّ پیئے بھٹکتے نہیں
ترجمہ:
الہّٰی حکم و فَرمان سے یہ عالم وَجوُد میں آئیا ہے جو بیان نہیں وہ سکتا ۔الہّٰی حُکم سے ہی جاندار پیدا ہوتے ہیں اور فّرمان اِلہٰی سے ہی عَظمتّ بزرگی و برتری ملتی ہے۔ الہٰی حکم سے کوئی بَلند رُتبہ اَور گھَٹیاّ اَور کمینہ ہوتا ہے ا اَور عَذآب و آرام و آسائشِپاتے ہیں۔ ایک بخششوں اور نعمتوں سے نواز جاتا ہے جب کہ دوسرا بھٹکتا پھرتا ہے۔ سارے اور سالم زیر الہٰی فرمان ہے اُسکے فرمان سے کوئی باہر نہیں جنے! اُسکے فرمان کو سمجھ لیا تو وہ خودی اور خؤیش پروری چھوڑ دیتا ہے نانک ۔ (2)
خلاصہ
حکم الہٰی سے انسان پیدا ہوکر عرصہ حیات بچپن سے موت تک پیدا ہوکر فرمان ِالہٰی میں رہتا ہے۔ (2)

گاۄےَ کو تانھُ ہوۄےَ کِسےَ تانھُ ॥
گاۄےَ کو داتِ جانھےَ نیِسانھُ ॥
گاۄےَ کو گُنھ ۄڈِیائیِیا چار ॥
گاۄےَ کو ۄِدِیا ۄِکھمُ ۄیِچارُ ॥
گاۄےَ کو ساجِ کرے تنُ کھیہ ॥
گاۄےَ کو جیِء لےَ پھِرِ دیہ ॥
گاۄےَ کو جاپےَ دِسےَ دوُرِ ॥
گاۄےَ کو ۄیکھےَ ہادرا ہدوُرِ ॥
کتھنا کتھیِ ن آۄےَ توٹِ ॥
کتھِ کتھِ کتھیِ کوٹیِ کوٹِ کوٹِ ॥
دیدا دے لیَدے تھکِ پاہِ ॥
جُگا جُگنّترِ کھاہیِ کھاہِ ॥
ہُکمیِ ہُکمُ چلاۓ راہُ ॥
نانک ۄِگسےَ ۄیپرۄاہُ ॥੩॥
مشکل الفاظ کا ترجمہ
تان ، طاقت ۔ دات ۔ بخشش ۔، انسان ۔ منزل ، ۔ وکھتم ، سخت ۔ ہاور، ہدور ، حاضر، ناظر ۔ توٹ ، کمی ،۔ کتھ، کہنا کوٹ ، کوڑوں ۔ جُگا جکنتر ، ساج ، پیدا کرنا ۔ ، کھہہ خاک پرودت، مٹی ، ۔ وگئے ، خوش ہوتا ہے ۔ ، بے پرواہ ، بیفکر
ترجمہ
کچھ لوگ اس کی طاقت کو گاتے ہیں۔
کچھ لوگ اس کے تحفے اور اس کے تحائف کے تجربے کو اس کی علامتیں اور اشارہ سمجھ یتے ہیں۔
کچھ لوگ اس کی خوبیوں ، عظمت اور خوبصورتی کوگاتے ہیں۔
کچھلوگ مشکل فلسفیانہ مطالعات کے ذریعے ، اس سے حاصل کردہ علم کو گاتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ خُدا پیدا کرکے مٹاتا ہے ۔
کوئی کہتا ہے کہ خُدا پیدا کرکے مٹاتا ہے ۔ ۔
کوئی کہتا ہے کوئی کہتا ہے مٹا کے و دوبارہ پیداکر دیتا ہے ۔
کوئی اُسے دُور بتاتا ہے کوئی حاضر ناظِرّ بتاتا ہے۔ ۔
کوئی اُسکی کروڑوں کہانیاں اَور اُسکے مُتعلق کروڑوں بیان ہیں۔۔
کمیتں یہ طاقت ہے کہ اُسے بیان کر سکےاور کون کون سے اَؤصاّف ہیں۔ اُسکی قوت بیان کر سکے اور اُسکی عالم کو دینےوالی نعمتیں بتا سکے۔۔
خدا سب نعمتوںسے اِنسان کو سرفراز کر رہا ہے حتیٰ کہ لینے والے تھک جاتے ہیں مگر وُوہ برابر دے رہا ہے۔۔ حآکم کا حُکم جاری ہے اَور تمام عالم کو رزق دے رہا ہے اِسکے باوجُود وُہ خُوش ہے۔ ۔
خلاصہ
اِنساّن اَپنی عقل و دانش کے جاّب سے اُسکی قوت کا اندازہ کر رہے ہیں تاہم وُہ اعداد و شمار سے بعید ہے۔

ساچا ساہِبُ ساچُ ناءِ بھاکھِیا بھاءُ اپارُ ॥
آکھہِ منّگہِ دیہِ دیہِ داتِ کرے داتارُ ॥
لفظی مطلب
ساچا صاحب۔ ہمیشہ رہنے والا
آقا ۔ مالک
ساچ نائے ۔ جو سچا مصنف ہے
ترجمہ:
سَچا خداسچامالک سچا مصنف جو نہایت خُوش کلام ہے ۔ جو اُلفت بھر ا ہے۔ عالم اُس سے مانگتا ہے اور وہ دیتا ہے ۔۔

پھیرِ کِ اگےَ رکھیِئےَ جِتُ دِسےَ دربارُ ॥
مُہوَ کِ بولنھُ بولیِئےَ جِتُ سُنھِ دھرے پِیارُ ॥
ترجمہ:
تب اُسے اُن نعمتوں کے صلےمیں ہمیش اُسے کونسی اور کیا پیش بطور بھنیٹ کرنا چاہیے ۔ جس سے بارگاہ الہٰی کا دیدار حاصل ہو۔ اُور زبان سے کونسے اُلفاظ نکالیں۔ جسے سنکر وُہ ہمیں اُپنے محبت و پیار سے نوازے۔ اپنا محبو ب بنائے ۔ ۔

انّم٘رِت ۄیلا سچُ ناءُ ۄڈِیائیِ ۄیِچارُ ॥
کرمیِ آۄےَ کپڑا ندریِ موکھُ دُیارُ ॥
نانک ایۄےَ جانھیِئےَ سبھُ آپے سچِیارُ ॥੪॥
لفظی مطلب
انمرت ویلا ، علے الصبح ، تور کاتڑ کا ۔ جب کر انسانی ذہن ہر قسم کے مفکرات سے آزاد ہوتا ہے ۔۔ سچ ۔ناؤں ۔ خُدا کے سچا نام ۔ وڈیائی ۔ عظمت ۔ کرم ۔ عنائیت و شفقت۔ ، کپڑا ، خلعت ، لرؤپا ۔ ندریں ، نظیر عنائیت، موکہہ ، نجات ۔
ترجمہ:
علے الصبح ، تورئے ٹڑکے اُسکے سچے انصاف والے اُور اُسکی عظمت وقار پر غور وخوض کریں جس سے اُسکی بخشش سے خلعتیں میسئر ہوں اور نجات کاور یا ر اللہ کا پتہ چلے لائے نانک اِسطرح سے سمجھ آجاتی ہے کہ وہ سچائی پسند سچا آقا ہر جگہ بستا ہے۔ اُور خود ہی خو ش اِخلا ہے۔۔ (4)

تھاپِیا ن جاءِ کیِتا ن ہوءِ ॥
آپے آپِ نِرنّجنُ سوءِ ॥
نرنجن ، بیداغ ۔پاک ۔سوئےوہ
ترجمہ:
خدا نہ تو مقدریا نامزد کیا جا سکتا ہے۔
نہ اُسے بنایا یا پیدا یا جا سکتا ہے۔
وہ بیداغ ؒ پاک اَز خود ہے۔

جِنِ سیۄِیا تِنِ پائِیا مانُ ॥
نانک گاۄیِئےَ گُنھیِ نِدھانُ ॥
لفظی مطلب
جن سیویا ، جنے خدمت کی ۔برکر خدمت کرو۔
تن ، اُسنے ! مان عزت ، وقار، حتمت ۔
گنی ندھان ۔ اوصاف کا خزانہ ۔۔
ترجمہ:
جس نے خدمت کی عزت پائی ۔ اے نانک ایسے با اوصاف کی حمد و ثنا ہ کرؤ ۔

گاۄیِئےَ سُنھیِئےَ منِ رکھیِئےَ بھاءُ ॥
دُکھُ پرہرِ سُکھُ گھرِ لےَ جاءِ ॥
لفظی مطلب :
من۔ دل ۔ذہن ۔ بھاؤ ۔ پیار۔محبت ۔
وکہہ پر ہر ۔عنآپ دور کرکے ۔۔ کہہ گھر ۔ سکہہ دیتا ہے ۔
ترجمہ:
خدا کی حمد کیجئے اور سنیئے ولمین پیار کرؤ۔
تاکہ عذاب مٹا کر تجھے سکہہ پہنچائے

گُرمُکھِ نادنّ گُرمُکھِ ۄیدنّ گُرمُکھِ رہِیا سمائیِ ॥
گُرُ ایِسرُ گُرُ گورکھُ برما گُرُ پاربتیِ مائیِ ॥
لفظی مطلب
کرمکھ ۔ فرمانبردار ، مرشد ۔ پیروکار مرشد ۔ مرید ۔
نادن گر ۔ آواز ۔ شبد ، کلام ، وبدن گُر ۔ علم ۔
ترجمہ:
مرید مرشد ہی کلام ہے ۔ مرید مرشد ہی علم ہے ۔ مرید مرشد میں ہے نور خدا ۔
مرشد ہی ہمارے لئے ۔ شوجی ، گورکہہ ۔ برہما اور پاربتی ہے۔۔

جے ہءُ جانھا آکھا ناہیِ کہنھا کتھنُ ن جائیِ ॥
گُرا اِک دیہِ بُجھائیِ ॥
سبھنا جیِیا کا اِکُ داتا سو مےَ ۄِسرِ ن جائیِ ॥੫॥
لفظی مطلب:
جے ہوں جانا ۔ آگر میں سمجھ بھی لو ں ۔
آکھا نا ہی ۔ بیان نہیں کر سکتا ۔۔ کہنا ۔ بیان ۔
کتھن نہ جائی ۔ بیان نہیں کر سکتا ۔۔ بجھائی ۔ سمجھائی ۔۔ بجہارت ۔ سبھناں جیاں ۔ سارے جانداروں ۔ ۔داتا ۔رازق ۔ (5)
ترجمہ:
خواہ میں سمجھ بھی لوں تاہم بھی بیان سے قاصر ہوں ۔۔ مرشد نے ایک بجہارت سمجائی ہے کہ سب کا رازق واحد خُدا ہے ۔۔ میں اُسے نہ بھلاؤں۔(5)

تیِرتھِ ناۄا جے تِسُ بھاۄا ۄِنھُ بھانھے کِ ناءِ کریِ ॥
جیتیِ سِرٹھِ اُپائیِ ۄیکھا ۄِنھُ کرما کِ مِلےَ لئیِ ॥
لفظمی مطلب
تیرتھ ناواں ۔ غُسل زیارت گاہ ۔ ۔ جے تس بھاواں ، اگر خُدا کا پیارا ہو جاؤں ۔ ۔ بن بھانے بغیر پیارے کے ۔، نائے کری ، اشنان کا کیا مطلب ۔ غُسل کا پیکار ہے ۔
جیتی ۔ جتنی ۔۔ سرٹھ ۔ عالم ۔ اُپائی ویکھاں ۔ ساہمنے پیدا کی ہوئی دیکھتے ہیں۔ بن کر ماں بغیر کرم و عنایت ۔ کے ملے لئی ۔ کیا ملا۔۔
ترجمہ:
زیارت گاہوں کی زیارت کا مقصد یہی ہے کہ خدا کا پیار حاصل ہو ۔۔ بغیر اُسکے پیار کے حصول کے زیارت بے معنی ہے ۔۔ جتنی مخلوقات نظر آرہی ہے اُسکی رحمت ۔کر م و عنایت کے بغیر لا حاصل ہے ۔ ۔

متِ ۄِچِ رتن جۄاہر مانھِک جے اِک گُر کیِ سِکھ سُنھیِ ॥
ترجمہ:
انسانی ذہن ۔ عقل و دانش میں نہایت بیش بہا قیمتی ہیرے ۔ جواہرات جیسی سمجھ ہے ۔ اغر مرشد کی ایک نصیحت ۔ پندو آموز سن لے ۔ اُن پر عمل پیرا ہو جائے ۔۔

گُرا اِک دیہِ بُجھائیِ ॥
سبھنا جیِیا کا اِکُ داتا سو مےَ ۄِسرِ ن جائیِ ॥੬॥
لفظی مطلب
مرشدنے ایک سمجھ عنایت کی ہے ۔ کہ تمام جانداروں رزق دینے والا رازق واحد خدا ہے۔

جے جُگ چارے آرجا ہور دسوُنھیِ ہوءِ ॥
نۄا کھنّڈا ۄِچِ جانھیِئےَ نالِ چلےَ سبھُ کوءِ ॥
لفظمی مطلب(ترجمہ)
جگوں اگر چاروں جتنی عمر ہو اَور اگر اس سے بھی زیادہ ہو جائے اور نتو براعظموں میں شہرت حاصل ہو اور پیروکا ر بھی ہوں۔

چنّگا ناءُ رکھاءِ کےَ جسُ کیِرتِ جگِ لےءِ ॥
جے تِسُ ندرِ ن آۄئیِ ت ۄات ن پُچھےَ کے ॥
کیِٹا انّدرِ کیِٹُ کرِ دوسیِ دوسُ دھرے ॥
لفظمی مطلب
چنگا ناؤں ۔ نیک نام۔ ناموری ، جَسّ ۔ شہرَتّ۔
جَگ ۔ عالم دُنیا ۔ نَدرّ۔ نگاّہِ شَفقَتّ ۔
بات۔ خَبر ۔ دِھیان ۔ کیٹ ۔ کیڑا ۔
کیٹاںاندر کیٹ ۔ کیڑوں کے اَندر کیڑا ۔ دوس ۔ اَلزٗام۔
(ترجمہ)
اگر کسی کی نیک نامی و ناموری بھی ہو اَور دُنیا میں شُہرت حاصل ہو ۔۔ اگر وُہ الہٰی نَظّرِ عنائیت و رَحَمّت میں نہیں تو وہ اُس اِنسان جیسا ہے۔ جِسکا کوئی خَبر گیر نہیں کسی کے دھیان میں نہیں مراد وہ اتنی عظمت ۔ عزت و حرمت اور ناموری کے باوجود اِلہٰی نظر میں وہ ایک معمولی کیڑے کی مانند ہے اور جو خود گناہگار ہیں وہ بھی اُس پر الزام لگاتے ہیں۔

نانک نِرگُنھِ گُنھُ کرے گُنھۄنّتِیا گُنھُ دے ॥
تیہا کوءِ ن سُجھئیِ جِ تِسُ گُنھُ کوءِ کرے ॥੭॥
لفظمی مطلب
نرگن۔ بلا اوصاف ۔ گن ونتیاں ۔ با اوصاف ۔
سجھئی۔ سمجھ آنا ۔۔
(ترجمہ)
اے نانک خُدا بے وصف کو وصف عنایت کرتا ہے ایسا دیگر کوئی سمجھ نہیں آتا جو اُسے وصف دے سکتا ہو ۔(7)

سُنھِئےَ سِدھ پیِر سُرِ ناتھ ॥
سُنھِئےَ دھرتِ دھۄل آکاس ॥
سُنھِئےَ دیِپ لوء پاتال ॥
سُنھِئےَ پوہِ ن سکےَ کالُ ॥
نانک بھگتا سدا ۄِگاسُ ॥
سُنھِئےَ دوُکھ پاپ کا ناسُ ॥੮॥
لفظی مطلب
سنیئے۔ سننے سے ۔ سدھ ۔ یوگی ۔ جنہوں نے خدا رسیدی حاصل کر لی ہے ۔ ویپ ۔براعظم۔
وگاس ۔ خوشی ۔
(ترجمہ)
الہٰی نام کی سماعت سے ۔انسان خدا رسیدہ ۔
پیر ۔ دیوتا ۔ یوگی پاکدامن ہو جاتا ہے۔۔
سننے سے زمین ۔ فرض منصبی اور پاتال
اور آسمان کا پتہ چلتا ہے سمجھ آتی ہے۔
سننےس ے خلقت اور براعظموں کی سمجھ آتی ہے ۔۔
سننے سے موتم کا اثر زائیل ہو جاتا ہے ۔ اے نانک عاشقان الہٰی وکے دلمیں ہمیشہ خوش و شاد مانی رہتی ہے۔اور الہٰ نام سننے سے عذاب مٹ جاتے ہیں۔

سُنھِئےَ ایِسرُ برما اِنّدُ ॥
سُنھِئےَ مُکھِ سالاہنھ منّدُ ॥
سُنھِئےَ جوگ جُگتِ تنِ بھید ॥
سُنھِئےَ ساست سِم٘رِتِ ۄید ॥
نانک بھگتا سدا ۄِگاسُ ॥
سُنھِئےَ دوُکھ پاپ کا ناسُ ॥੯॥
لفظمی مطلب
ایسر ۔ شیو۔ اند۔ مکہہ ۔ منیہ ۔
مند ۔ بُرے ۔ جوگ جگت ۔ یوگ کے طریقے۔
(ترجمہ)
نام الہٰی سننے سے انسان شیو جی ، برہما ۔ اندر دیوتا ۔ جسا رتبہ پاتا ہے۔
نام الہٰی سننے سے بُرا انسان بھی حمد و ثنا کرنے لگ جاتا ہے سننے سے الہٰی ملاپ۔ کے راز کا پتہ چلتا ہے ۔ اور جسمانی رازوں کی سمجھ آتی ہے ۔ سسنے سے شاشتروں سمرئیوئی اور دیدوں کے راز کا پتہ چلتا ہے ۔۔ اے نانک عاشقانِ الہٰی کے دل میں ہمیشہ خوشیاں اور شادمانیاں ہیں۔ ۔ سننے سے عذاب مٹ جاتے ہیں۔
خلاصہ :
جیسے جیسے انسانی ذہن پر الہٰی نام اثر انداز ہو جاتا ہے انسانی اعمال بدچہوڑ کر الہٰی صفت صلاح میں مشغول ہو جاتا ہے اور اِحساسات بد مٹتے جاتے ہیں اور انسان اِنسانیت اور علم و ذہانت کا دلداوہ ہو جاتا ہے ۔۔

سُنھِئےَ ستُ سنّتوکھُ گِیانُ ॥
سُنھِئےَ اٹھسٹھِ کا اِسنانُ ॥
سُنھِئےَ پڑِ پڑِ پاۄہِ مانُ ॥
سُنھِئےَ لاگےَ سہجِ دھِیانُ ॥
نانک بھگتا سدا ۄِگاسُ ॥
سُنھِئےَ دوُکھ پاپ کا ناسُ ॥੧੦॥
لفظی مطلب
مدت ۔ سچ ۔حقیقت ۔ اصلیت ۔
سنتو کہہ ۔ مبر۔ اٹھ سٹھ ۔ اڑھزیارت گاہیں۔
مان ۔ وقار ۔ عزت ۔ سہج ۔ پرسکو ن۔
دھیان ۔ بلا جہد توجہ ۔
(ترجمہ)
نام الہٰی سننے سے علم و صبر کا درس ملتا ہے۔۔
نام الہٰی سُننا اڑسٹھ یترھتوں کا اَشنان ہے۔
نام الہٰی سُننے اَور پڑھنے سے عِزت ملے وقار ملے
نام الہٰی سُننے سے رُوحانی سکُون آسان ملے۔
نانک بھگتی والے ہروم خوشی منانے ہیں۔
نام الہٰی سُننے سے عزاب سبھی مِٹ جاتے ہیں۔

سُنھِئےَ سرا گُنھا کے گاہ ॥
سُنھِئےَ سیکھ پیِر پاتِساہ ॥
سُنھِئےَ انّدھے پاۄہِ راہُ ॥
سُنھِئےَ ہاتھ ہوۄےَ اسگاہُ ॥
نانک بھگتا سدا ۄِگاسُ ॥
سُنھِئےَ دوُکھ پاپ کا ناسُ ॥੧੧॥
لفظی مطلب
گنا کے گاہ ۔ نیکی کے دریاؤں کا راستہ کا پتہ ۔
اُسکاہ ۔ انہائی گہرائیوں کا پتہ چلتا ہے۔۔
(ترجمہ)
نام الہٰی سُننے سے نیکی کے دریاؤ ں کا پتہ چلے۔
نام الہٰی سُننے سے ۔ شیخ پیر اور شاہ ہو جاتا ہے۔
نام الہٰی سُننے سے اندھے کو راستہ ملجاتا ہے۔۔
نام الہٰی سُننے سے لا محدود عالم کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔
اے نانک عاشقان الہٰی ہردم خوشیاں خوب منانے ہیں نام الہٰی سُننے سے سارے عزاب مٹ جاتے ہیں۔۔

منّنے کیِ گتِ کہیِ ن جاءِ ॥
جے کو کہےَ پِچھےَ پچھُتاءِ ॥
کاگدِ کلم ن لِکھنھہارُ ॥
منّنے کا بہِ کرنِ ۄیِچارُ ॥
ایَسا نامُ نِرنّجنُ ہوءِ ॥
جے کو منّنِ جانھےَ منِ کوءِ ॥੧੨॥
لَفظی مَطلّب
مَنے۔ الہّٰی ہَستی کو ماننا ۔ لکھنہار ، لکھنے سے قاصِرّ ، نِرنجن ۔ پاک ۔ بیداغ۔
(ترجمہ)
جو یقین و ایمان خدا میں لاتا ہے اُصکی حالت بیان سے باہر ہے ۔ اگر جُرات بیان کی کرتا ہے تو آخر بچھتاتا رہتا ہے ۔ (دل سے ) کاغذ اَور قلم بھی اُسکی حالت لکھنے سےہے قاصِرّ ۔ ایمان لانے والے پر غور و خوض ہی سکتا ہے اَیسا ہے پاک بیداغ نام اَگر دِدل و جان سے ایمان لائے کوئی ۔

منّنےَ سُرتِ ہوۄےَ منِ بُدھِ ॥
منّنےَ سگل بھۄنھ کیِ سُدھِ ॥
منّنےَ مُہِ چوٹا نا کھاءِ ॥
منّنےَ جم کےَ ساتھِ ن جاءِ ॥
ایَسا نامُ نِرنّجنُ ہوءِ ॥
جے کو منّنِ جانھےَ منِ کوءِ ॥੧੩॥
لَفظی مَطلّب
سگل ۔ سارے ۔ سرت۔ ہوش ۔ بُدھ ۔ سمجھّ ۔ بہون ، عالم ۔ سُدھ ۔ ہوش سَمجھّ۔
(ترجمہ)
ایمان خُدا پر لانیے ۔ ہوش ۔ سَمجھّ بیدار ہو جاتی ہے ۔ ایمان خدا پر لانے سارے عالم کی سَمجھّ ہو جاتی ہے ۔ ایمان خُدا پر لانے بچ جاتا ہے گُناہوں کی سزاؤں سے ۔ ایمان خُدا پر لانے کو توال الہّٰی نہ ساتھ لیجائیگا۔ ایسا پاک نام ہے

خُدا کا اگر کوئی دل و جان سے اُسکو مانیگا ۔

منّنےَ مارگِ ٹھاک ن پاءِ ॥
منّنےَ پتِ سِءُ پرگٹُ جاءِ ॥
منّنےَ مگُ ن چلےَ پنّتھُ ॥
منّنےَ دھرم سیتیِ سنبنّدھُ ॥
ایَسا نامُ نِرنّجنُ ہوءِ ॥
جے کو منّنِ جانھےَ منِ کوءِ ॥੧੪॥
لَفظی مَطلّب
مارک ۔ راستہ ۔ ٹھاک ۔ روک ۔ پت سیئو۔ باعزت ۔ پرگٹ ، شُہرَتّ ۔ سنبزھ ، رشتہ ۔
(ترجمہ)
یقین لائے جو دل و جان سے خُدا پر زندگی کے سفر میں روک نہ آئیگی ۔ دل وجان سے ایمان لائے جو خُدا پر عِزت و حَشمت اَور شہرت پائیگا۔ ایمان لانے خُدا پر ۔ یَقین خُدا پر لانے فَرض منصبی جو انسانی اس سے رشتہ ہو جائیگا۔ اَیسا پاک نام خُدا کا ہے ۔ دل و جان سے جو اُسکو اَپناّئے گا۔

منّنےَ پاۄہِ موکھُ دُیارُ ॥
منّنےَ پرۄارےَ سادھارُ ॥
منّنےَ ترےَ تارے گُرُ سِکھ ॥
منّنےَ نانک بھۄہِ ن بھِکھ ॥
ایَسا نامُ نِرنّجنُ ہوءِ ॥
جے کو منّنِ جانھےَ منِ کوءِ ॥੧੫॥
لَفظی مَطلّب
موکہہ دوآر ۔ دَرِنجات ۔ بَھوّہ۔ بھَٹکنا ۔ بھِکہہ ۔ بھیک ۔
(ترجمہ)
جو ایمان خُدا پر لا تا ہے نجات کا دروازہ پاتا ہے ۔ جو ایمان خُدا پر لاتا ہے خود کامیابی پاتا ہے اور مریدوں کو کامیاب بناتا ہے ۔ نانک خُدا کو ماننے سے بھیک کے چکر سے بچ جاتا ہے ۔ ایسا ہے پاک نام خُدا کا اگر دل وجان سے اسکو دل میں بھٹاتا ہے ۔۔

پنّچ پرۄانھ پنّچ پردھانُ ॥
پنّچے پاۄہِ درگہِ مانُ ॥
پنّچے سوہہِ درِ راجانُ ॥
پنّچا کا گُرُ ایکُ دھِیانُ ॥
جے کو کہےَ کرےَ ۄیِچارُ ॥
کرتے کےَ کرنھےَ ناہیِ سُمارُ ॥
دھوَلُ دھرمُ دئِیا کا پوُتُ ॥
سنّتوکھُ تھاپِ رکھِیا جِنِ سوُتِ ॥
جے کو بُجھےَ ہوۄےَ سچِیارُ ॥
دھۄلےَ اُپرِ کیتا بھارُ ॥
دھرتیِ ہورُ پرےَ ہورُ ہورُ ॥
تِس تے بھارُ تلےَ کۄنھُ جورُ ॥
جیِء جاتِ رنّگا کے ناۄ ॥
سبھنا لِکھِیا ۄُڑیِ کلام ॥
ایہُ لیکھا لِکھِ جانھےَ کوءِ ॥
لیکھا لِکھِیا کیتا ہوءِ ॥
کیتا تانھُ سُیالِہُ روُپُ ॥
کیتیِ داتِ جانھےَ کوَنھُ کوُتُ ॥
کیِتا پساءُ ایکو کۄاءُ ॥
تِس تے ہوۓ لکھ دریِیاءُ ॥
کُدرتِ کۄنھ کہا ۄیِچارُ ॥
ۄارِیا ن جاۄا ایک ۄار ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سائیِ بھلیِ کار ॥
توُ سدا سلامتِ نِرنّکار ॥੧੬॥
لَفظی مَطلّب
پنچ۔ وُہ انسان جس نے نام کی سماعَت کی قبول کیا۔ دل میں بسائیا اور اُس میں یقین واثق کیا۔
پروان ۔ جو قبول ہو گیا۔ پردھان ۔ رہبر ۔ ، پنچ۔سنت ۔ درگارہ ، دربار الہّٰی ، بارگاہ الہّٰی ۔ عدالت الہّٰی ۔ سوہے۔ اچھے لگتے ہیں ۔۔ دھیان تو جو ۔ ہوش کا ٹھکانے لگانا ۔ فرض ۔ دھرم ۔ جس کے دل میں مہربانی رَحمَتّ ۔ رحم سے دَھرم یا فرض بیدار ہوتا ہے ۔ سنتوکہہ ، صَبرّ۔ قائم ۔ تھاپ ٹِکانہ ۔ ، سوت ، زیر نظام ۔ دَھّرم ۔ قانو ، قدرت ، الہّٰی قانون ، سچیار ، سچا نور ، جیئہ ۔ جاندار ، سوآپہو، خوبصورت۔ کوت اندازہ ۔(ترجمہ
جن کے دل میں نام بستا ہے اُنکے دل میں اِلہّٰی عشق پیدا ہو جتا ہے وہی جنکو خدا میں ایمان اور یقین واثق ہوتا ہے۔وہ دُنیا میں رُوحانی رہبر ہو جاتے ہیں۔ اَور بارگاہِ الہّٰی میں بھی عزت و حشمت پاتے ہیں ۔ اور شاہی دربارمیں بھی انہیں دھیان لگانا ہوتا ہے ۔ مگر تاہم اگر کوئی سمجھے یا خیال کرے الہّٰی قدرتکا شمار یا حساب نہیں لگاسکتا ۔ قانون قدرت ہی خیالی بیل ہے۔ یا دھرم ہے جو رَحّم یا مہربانی سے پیدا ہو تا ہے ۔ اور دھرم سے صبر پیدا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی اس سمجھ کو سمجھ لے اورخیال کرے تو وہ اس قابل ہو جائیگا کہ اُس میں نور الہّٰی سما جائے ۔ ورنہ بیل پر کوئی بوجھ ہے ۔ زمیں اسکے علاوہ اور بہت سی زمیں ہیں تو وہ کس کےسہارے قائم ہیں۔ اور یہ خیالی بیل کس کے سہارے ہے ۔کئی قسموں کئی رنگو ں کتنی ہی ذاتوں کے جاندار اس عالم میں موجود ہیں۔ حساب کرنیوالے محاسب نے قلم رواں سے سب کے نام لکھ دیئے ۔ کوئی شاذ و نادرہی یہ حساب جانتا ہوگا۔ کیونکہ نا محلوم یہ کتنا بڑا حساب ہو گا۔ خدا لا انتہاقوتوں کا مالک ہے نہایت خوبصورت شکل و صورت ہے ایک ہی الہّٰی حرف سے یہ عالم وَجُود میں آگیا۔اوراُس ایک ہی کلام سے لاکہو ں دَریائے زِندگی وَجُود میں آئے۔ سمجھ میں کہاں ہے طاقَت ہے کہ میں تیری اِس بیشمار پھیلاؤ کے بارے کوئی خیال کرو ۔مجھ میں کوئی قوت ہے کہ تجھ پر جان قربان کر سکوں ۔کام وہی اُچھا ہے جس سےتو اَچھاّ سمجھے۔ تو ہی دائم صحح سلامت پاک بے وَجُود ہے خُدا۔

اسنّکھ جپ اسنّکھ بھاءُ ॥
اسنّکھ پوُجا اسنّکھ تپ تاءُ ॥
اسنّکھ گرنّتھ مُکھِ ۄید پاٹھ ॥
اسنّکھ جوگ منِ رہہِ اُداس ॥
اسنّکھ بھگت گُنھ گِیان ۄیِچار ॥
اسنّکھ ستیِ اسنّکھ داتار ॥
اسنّکھ سوُر مُہ بھکھ سار ॥
اسنّکھ مونِ لِۄ لاءِ تار ॥
کُدرتِ کۄنھ کہا ۄیِچارُ ॥
ۄارِیا ن جاۄا ایک ۄار ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سائیِ بھلیِ کار ॥
توُ سدا سلامتِ نِرنّکار ॥੧੭॥
لَفظی مَطلّب
اسنکہہ ۔ بیشمار ۔جپ کلام ۔ بھاؤ ۔ پریمی ۔ پوجا ۔ پرستش ۔ تَپ ، رِیاضت ۔ تپسیا۔
مکہہ ، زبانی ۔ جوگ ، یوگ آسن۔ من اُداس ، تیاگی ۔ تارک ۔ گن وبچار۔ الہّٰی اوصاف کی سوچ۔ ستی ۔حقیقت پسند ۔ سور ۔ بہادر ۔ بھکہہ سار ہتھیار وں کے وار بَر داشت کرنے والے۔ توتار ، لگاتاردھیان لگانا ۔ قدرت۔ طاقت۔ واریا ، قربان ہونا ۔
(ترجمہ)
اِس عالم میں بیمشار ریاضت کرتے ہیں ۔اَور بیشمار مشغول عِشق محبت ہیں ۔بیشمار پرستش کرتے ہیں اَور بیمشار تپسیّا کرتے ہیں ۔بیشمار کرتے ہیں پاٹھ ویدوں کا بیشمار تارک الدنیا ہیں۔ بیشمار ہیں جنگجو بہادر بیشمار خاموشی سے دھیان۔ خدا میںلاتے ہیں۔ بیشمار الہّٰی عاشِق اوَصّاف الہّٰی کی وِچار میں کرتے ہیں۔ بیشمار ہیں سچ والے اُور سخاوَت کرتے ہیں ۔مجھ کبَ ہے طاقت جان فِدا کردوں ۔کام وَہی اَچھّا ہے جس سے سمجھے نیک تو ہی ۔اے خُدا تو ہمیشہ دائم قائم تُو ہی ۔

اسنّکھ موُرکھ انّدھ گھور ॥
اسنّکھ چور ہرامکھور ॥
اسنّکھ امر کرِ جاہِ جور ॥
لَفظی مَطلّب
مورکھ ۔ اندگہور ، نہایت جاہل ۔حرام خور بلاکمائے کھانے والا ۔اَمر ۔حُکم ۔ زور۔ زبردستی
(ترجمہ)
بیشمار ہیں جاہل اِس دُنیا میں بیشمار چوری کرنیواے بلا کمائے کھاتے ہیں ۔بیشمار اِس عالم میں جابر زور اور طاقت سے اَپنا حُکم چلاتے ہیں۔ ۔بیشمار قاتل ہیں ۔ اس عالم میں جو قتل کا ظُلم کرتے ہیں ۔ بیشمار اِس دُنیا میں ہیں گُناہگار جو گُناہ کرکے اِس عالم سے گناہوں میں مر جاتے ہیں ۔

اسنّکھ گلۄڈھ ہتِیا کماہِ ॥
اسنّکھ پاپیِ پاپُ کرِ جاہِ ॥
اسنّکھ کوُڑِیار کوُڑے پھِراہِ ॥
اسنّکھ ملیچھ ملُ بھکھِ کھاہِ ॥
اسنّکھ نِنّدک سِرِ کرہِ بھارُ ॥
نانکُ نیِچُ کہےَ ۄیِچارُ ॥
ۄارِیا ن جاۄا ایک ۄار ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سائیِ بھلیِ کار ॥
توُ سدا سلامتِ نِرنّکار ॥੧੮॥
لَفظی مَطلّب
سر ۔ ذمے ۔
(ترجمہ)
بیشمار ہی غیبت کرتے ہیں اَور غیب کا گُناہ ذمے لے لیتے ہیں کمینہ غریب نانک یہ سوچ بناتا ہے ۔ مجھ میں کہاں ہے طاقت صدقہ ہوں ایکبار بھی تجھ پر ۔ کام وہی اَچھا ہے جس سے اَچھّا سمجھے تو ہی ۔ تو سدا سلامت پاک بے وجود تو ہی ۔ بےآکار تو ہی ۔

اسنّکھ ناۄ اسنّکھ تھاۄ ॥
اگنّم اگنّم اسنّکھ لوء ॥
اسنّکھ کہہِ سِرِ بھارُ ہوءِ ॥
اکھریِ نامُ اکھریِ سالاہ ॥
لَفظی مَطلّب
ناو۔ نام ۔ تھاو۔ مقام ۔ جگہ ۔ ذمہ ۔ بھار ، دوش ، الزام ۔ اکھری ، حرفوں سے ۔ صلاح ۔ تعریف ، صفت ۔(ترجمہ
اس طرح کوئی ہی نام ہیں اس طرح نہیں مقام بھی جن تک انسانی رسائی نا ممکن ہے بیشمار دنیائیگی اور بھی ہیں ۔بیشمار کہنا بھی گُناہ ہے اپنے لئے ۔لفظوں اَور حرفوں سے نام بَنتا ہے حرفوں سے حمدّ بھی ہوئی ہے۔

اکھریِ گِیانُ گیِت گُنھ گاہ ॥
اکھریِ لِکھنھُ بولنھُ بانھِ ॥
اکھرا سِرِ سنّجوگُ ۄکھانھِ ॥
جِنِ ایہِ لِکھے تِسُ سِرِ ناہِ ॥
جِۄ پھُرماۓ تِۄ تِۄ پاہِ ॥
لَفظی مَطلّب
گیان ۔ علم ۔گن ۔وصف ۔ بان ۔ کلام ۔ بولن ، گفتار۔ سر سنجوگ۔ تقدیر جو پیشانی پربکی ہے۔۔
(ترجمہ)
حرفوں ہی میں عِلم لکھتا ہے حرفوں ہی سے گیت وَصفّ کے گاتے ہیں ۔حرفوں ہی سے بولی بکی جاتی ہے ۔حرفوں ہی سے مضمون بھی لکھے جاتے ہیں ۔حرفوں سے ہی سے تقدیر بھی درج ہے پیشانی پر مگر بکہنے والے کے نہیں لکھا ہے جیسا ہے حُکم الہّٰی ۔ ویسا ویسا پاتا ہے ۔

جیتا کیِتا تیتا ناءُ ॥
ۄِنھُ ناۄےَ ناہیِ کو تھاءُ ॥
کُدرتِ کۄنھ کہا ۄیِچارُ ॥
ۄارِیا ن جاۄا ایک ۄار ॥
جو تُدھُ بھاۄےَ سائیِ بھلیِ کار ॥
توُ سدا سلامتِ نِرنّکار ॥੧੯॥
لَفظی مَطلّب
قدرت ۔ طاقت ۔ ویچار ۔ سمجھ کر
(ترجمہ)
نہیں ہے طاقت مجھ میں کوئی سمجھ سکوں تجھ کو میں ۔ جان کروں قربان تجہی پر ایکبار ۔کار اچھی ہے کار وہی جس کو تو سمجھے اچھی کار تو ہی تیری ذات سدا سلامت اور ہے پاک تو ہی ۔

بھریِئےَ ہتھُ پیَرُ تنُ دیہ ॥
پانھیِ دھوتےَ اُترسُ کھیہ ॥
لَفظی مَطلّب
بھریئے ۔ اگر گرو آلودہ ہو جائیں ، ۔کھیہ ۔ خاک ۔مٹی ۔
(ترجمہ)
اگر ہاتھ پاؤں یا تن بدن گرد آلودہ ہو جائے تو پانی سے وھونے سے میل دور ہو جاتی ہے ۔

موُت پلیِتیِ کپڑُ ہوءِ ॥
دے سابوُنھُ لئیِئےَ اوہُ دھوءِ ॥
لَفظی مَطلّب
موت۔ پیشاب ۔پلیتی ۔ ناپاک گند ہ ۔
(ترجمہ)
پیشاب سے ہو جائے نا پاک اگر۔ صابن سے دھونے سے پلیدی دور ہو جاتی ہے ۔

بھریِئےَ متِ پاپا کےَ سنّگِ ॥
اوہُ دھوپےَ ناۄےَ کےَ رنّگِ ॥
لَفظی مَطلّب
مت۔ سمجھ ۔پاپ ۔ گناہ ۔ناوے الہّٰی نام ۔
(ترجمہ)
جَب مَن میلا ہو جائے گُناہوں سے ۔ وُ۔ یاد نام الہّٰی سے دُھلّ جاتا ہے۔۔

پُنّنیِ پاپیِ آکھنھُ ناہِ ॥
کرِ کرِ کرنھا لِکھِ لےَ جاہُ ॥
آپے بیِجِ آپے ہیِ کھاہُ ॥
نانک ہُکمیِ آۄہُ جاہُ ॥੨੦॥
لَفظی مَطلّب
پُنی ۔ ثَواب ۔ پاپی ۔ گناہگاری ۔
(ترجمہ)
ثَواب و گناہ صرف نام یا کہاوت ہی نہیں۔ نیک و بد کار جو کوئی کرتا ہے سب اعمالنامے میں درج ہوکر ساتھ ہی اُسکے جاتے ہیں ۔جو بوتا ہے سو کھاتا ہے ۔جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے ۔اے نانک حُکم سے آتا ہے ۔انسان حُکم سے ہی چلا جاتا ہے ۔۔

تیِرتھُ تپُ دئِیا دتُ دانُ ॥
جے کو پاۄےَ تِل کا مانُ ॥
لَفظی مَطلّب
تیرتھ ۔ زیارت گاہ ۔ دیا ۔ رحم۔ تپ زہر ۔ پرہیز گاری ۔مان مان ۔ غرُور ۔ تکبر ۔
(ترجمہ)
کرے زیارت زہد کمائے رحم کرے ثواب کرے ۔ آگر اُس پر غرور گمان کرے تل جتنا پھل پائے گا۔

سُنھِیا منّنِیا منِ کیِتا بھاءُ ॥
انّترگتِ تیِرتھِ ملِ ناءُ ॥
لَفظی مَطلّب
سنھیا۔ کی سماعت نام الہّٰی ۔منیا ۔ یقین کیا واثق اُس پر ۔ ایمان لائے ۔من کیتا بھاؤ ۔ دل سے اُسے پریم کیا ۔انتر گت اندرونی حالت ۔
(ترجمہ)
کی سماعت ۔ ایمان لائے دل سے اُسے پیار کیا ۔دل میں ہے زیارت گاہ تمہارے دل کو دھو لو پاک بنا لو سچا تیرتھ ہے یہی ۔

سبھِ گُنھ تیرے مےَ ناہیِ کوءِ ॥
ۄِنھُ گُنھ کیِتے بھگتِ ن ہوءِ ॥
سُئستِ آتھِ بانھیِ برماءُ ॥
ستِ سُہانھُ سدا منِ چاءُ ॥
لَفظی مَطلّب
بن گن کیتے ۔ بلا اَوصّاف ۔بھگت پریمی ، محبو ب الہّٰی ۔سو آست تو کامیا ہوئے ۔برماؤ ۔برہما ۔ست ۔ سچا ۔سہان اچھا لگتا ہے ۔من چاؤ ۔ دل میں خوشی ۔
(ترجمہ)
اے خدا تو سب وصفوں کا مالک مجھ میں وصف کا نام ہیں۔ جب تجھ میں وصف نہیں ہیں تو بھگتی کا تجھ میں نام نہیں ۔دولت اور کلام کا مالک اندیش خدا ہے ۔جس سے روحانی سکون وخوشی و خرم سدا ہے ۔

کۄنھُ سُ ۄیلا ۄکھتُ کۄنھُ کۄنھ تھِتِ کۄنھُ ۄارُ ॥
کۄنھِ سِ رُتیِ ماہُ کۄنھُ جِتُ ہویا آکارُ ॥
لَفظی مَطلّب
ویلا ۔ وقت ۔ تھت۔ چندرماں ۔ یا چاند کا دن ۔ماہ مہینہ ۔رتی ۔ موسم ۔جت جب ۔آکار ۔ عالم ظہور ۔ پذیر ہوا ۔(ترجمہ
وہ کوئی وقت تھت ۔ کونسا دن کونسا موسم جب یہ عالم ظہور میں آئیا ۔

ۄیل ن پائیِیا پنّڈتیِ جِ ہوۄےَ لیکھُ پُرانھُ ॥
ۄکھتُ ن پائِئو کادیِیا جِ لِکھنِ لیکھُ کُرانھُ ॥
لَفظی مَطلّب
ویل۔ وقت ۔ وکھت ۔ ودت ۔قادیا ۔ قاضی۔
(ترجمہ)
وقت کا گر ہوتا پتہ پنڈتوں کو تو پران میں وہ لکھ دیتے ۔قاضی کو ہوتا معلوم اگر لکھ دیتے صاف قران میں وہ ۔

تھِتِ ۄارُ نا جوگیِ جانھےَ رُتِ ماہُ نا کوئیِ ॥
جا کرتا سِرٹھیِ کءُ ساجے آپے جانھےَ سوئیِ ॥
لَفظی مَطلّب
تھت ۔ چاند کا دن ۔وار ۔ دن کا نام ۔رُت موسم ۔ماہ ۔ مہینہ ۔کرتا ۔ پیدا کرنے والا ۔سرٹھی۔ عالم ۔ ساجے ۔ بنانے والا ۔سوئی ۔ وہی ۔
(ترجمہ)
جوگی بھی نہیں جانتا (جب کب) یہ دنیا ظہور میں آئی ہے کونسا دن ، مہینہ اور موسم تھا۔ ماسوائے کار ساز کرتا ر کے جسنے یہ عالم پیدا کیا ہے ۔وہ خود وہی جانتا ہے ۔

کِۄ کرِ آکھا کِۄ سالاہیِ کِءُ ۄرنیِ کِۄ جانھا ॥
نانک آکھنھِ سبھُ کو آکھےَ اِک دوُ اِکُ سِیانھا ॥
لَفظی مَطلّب
کوکر۔ کس طرح ۔ صالاحی ۔ تعریف ۔ورتی ۔ بیان کرتا۔ ایک وداک ۔ ایک سے بڑھ کر ایک ۔
(ترجمہ)
کے لئے بولوں تعریف کروں۔ بیان کروں اور سمجوں ۔نانک کہتے ہیں تو سب کہتے ہیں کہ سب سے بڑھ کر دانا نہیں۔ اعلٰے ہے وُہ مالک شہرت اور نامور ہے وہ ۔قادر ہے وہ کرنیکا جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے ۔نانک جو خودی سے بھرا ہے کب آگے عزت پاتا ہے۔

ۄڈا ساہِبُ ۄڈیِ نائیِ کیِتا جا کا ہوۄےَ ॥
نانک جے کو آپوَ جانھےَ اگےَ گئِیا ن سوہےَ ॥੨੧॥
پاتالا پاتال لکھ آگاسا آگاس ॥
اوڑک اوڑک بھالِ تھکے ۄید کہنِ اِک ۄات ॥
لَفظی مَطلّب
پاتال ۔ زیر زمین ۔آگاس ۔ آسمان اوڑک۔ آخر ۔ایک بات۔
(ترجمہ)
لاکھوں ہیں زیر (زمین) ، زمینیں اور لاکھوں ہی آسمان بھی ہیں۔ ڈھونڈے ڈھونڈے ہوگئے ماند ویدوں نے بھی ایک ہی بات باتی ہے۔

سہس اٹھارہ کہنِ کتیبا اسُلوُ اِکُ دھاتُ ॥
لیکھا ہوءِ ت لِکھیِئےَ لیکھےَ ہوءِ ۄِنھاسُ ॥
لَفظی مَطلّب
سہس اٹھارہ ۔ اُٹھاراں ہزار ۔اصلو حقیقتن ۔دھات ۔ ذات ۔لیکھا ۔حساب ۔لکھتے ہوئے وناس۔ بکھتے بکھتے مٹ جاتا ہے۔
(ترجمہ)
اٹھارہ ہزار کتابیں بیان کرتی ہیں۔ حقیقتن واحدہے ذات خدا کی۔ اگر حساب ہو سبھی لکھا جائے ۔حساب کرتے کرتے حساب ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ انسان ۔

نانک ۄڈا آکھیِئےَ آپے جانھےَ آپُ ॥੨੨॥
سالاہیِ سالاہِ ایتیِ سُرتِ ن پائیِیا ॥
ندیِیا اتےَ ۄاہ پۄہِ سمُنّدِ ن جانھیِئہِ ॥
لَفظی مَطلّب
صلاحی ۔ توصیف ۔اپنی ۔ اتنی ۔سرت ہوش ۔، ندیاں ۔ دریا ۔واہ ۔نالے ۔سمند۔ سمند۔
(ترجمہ)
کرتے ہیں توصف خدا کی مگر اتنی ہے سمجھ کہاں ۔ندیاں اور نالے پڑیں سمندر ۔ لیکن اُسکی (پایں) جانیں گہرائی کہا

سمُنّد ساہ سُلتان گِرہا سیتیِ مالُ دھنُ ॥
کیِڑیِ تُلِ ن ہوۄنیِ جے تِسُ منہُ ن ۄیِسرہِ ॥੨੩॥
لَفظی مَطلّب+ ترجمہ
سمندکاہو بادشاہ اور پہاڑوں جتنی دولت کا ہو م مانک ۔اُس چیونٹی کے ہیں برابر ۔کرتا ہو جو یاد خدا ۔

انّتُ ن سِپھتیِ کہنھِ ن انّتُ ॥
انّتُ ن کرنھےَ دینھِ ن انّتُ ॥
لَفظی مَطلّب
صفت، وصف ، گُن ۔کرنےقدرت ۔کائنات ۔دین ۔ سخاوت۔
(ترجمہ)
بیشمار اوصاف کا مالک ہے خدا۔گنتی میں کب آئے ہیں۔ بیشمار سخاوت اُسکی کائنات قدرت کا شمار ہیں ۔

انّتُ ن ۄیکھنھِ سُنھنھِ ن انّتُ ॥
انّتُ ن جاپےَ کِیا منِ منّتُ ॥
لَفظی مَطلّب
انت ۔ شمار ۔آخر ۔من منت ۔ دلی ارادہ ۔
(ترجمہ)
بیشمار نظارے تیرے ۔ بیشمار سماعت تیری ۔دلی راز نہیں بیشمار تیر ے آخر سمجھے جاتے ہیں۔

انّتُ ن جاپےَ کیِتا آکارُ ॥
انّتُ ن جاپےَ پاراۄارُ ॥
لَفظی مَطلّب
آکار ۔ پھیلاؤ۔ بناوٹ ۔پاراوار حد قد۔
(ترجمہ)
تیرے عالم کا شمار نہیں ہے خلقت کا۔شمار ہیں ۔ وسعت کا انداز نہیں ہے ۔۔

انّت کارنھِ کیتے بِللاہِ ॥
تا کے انّت ن پاۓ جاہِ ॥
لَفظی مَطلّب
انت۔ آخر ۔ شمار ۔ بلاہے۔ چیختے ہیں ۔جہد کماتے ہیں۔
(ترجمہ)
خدا کا حساب شمار سمجھنے کی خاطر کتنے ہی جہد کماتے ہیں اور بلاتے ہیں۔ مگر کسی نے خدا کا انداز و شمار نہ پائیا ہے ۔

ایہُ انّتُ ن جانھےَ کوءِ ॥
بہُتا کہیِئےَ بہُتا ہوءِ ॥
(ترجمہ)
شُمار و انداز ہیں خدا کا سمجھا کوئی کسی نے نہ اسکو جانا ہے۔ جتنا زیادہ کہیں گے اسکو زاتنی زیادہ عظمت ہے ۔

ۄڈا ساہِبُ اوُچا تھاءُ ॥
اوُچے اوُپرِ اوُچا ناءُ ॥
(ترجمہ)
باعظمت یہ مالک اُونچا بلند ترین مقام اسکا اس اونچے سے اونچا نامورہے نام اس کا۔

ایۄڈُ اوُچا ہوۄےَ کوءِ ॥
تِسُ اوُچے کءُ جانھےَ سوءِ ॥
(ترجمہ)
اتنی اُونچی عظمت والا ہو اگر کوئی۔ اس اونچے کو جانے سوئی۔

جیۄڈُ آپِ جانھےَ آپِ آپِ ॥
نانک ندریِ کرمیِ داتِ ॥੨੪॥
لَفظی مَطلّب
جیوڈ ۔ جتنا بڑا۔ جانے ۔ جانتا ہے ۔ آپ ۔ خودہی ۔ندریں ۔نظر عنایت ۔ کرمی۔ بخشش۔
(ترجمہ)
خود ہی جانتا ہے اپنی عظمت اپنی شان او ر بزرگی ۔ نانک اُسکی نظر عنایت سے ہی بخشش ہے ۔اور رحمت ہے۔

بہُتا کرمُ لِکھِیا نا جاءِ ॥
ۄڈا داتا تِلُ ن تماءِ ॥
لَفظی مَطلّب
کرم۔ بخشش ۔تل ۔ ذرہ بھر ۔طمائے۔ لالچ۔
(ترجمہ)
اتنی زیادہ بخشش ہے اُسکی تحریر میں کب آتی ہے ۔اعلّٰے ہے دتا وہ جو حرص و طمع سے خالی ہے ۔

کیتے منّگہِ جودھ اپار ॥
کیتِیا گنھت نہیِ ۄیِچارُ ॥
کیتے کھپِ تُٹہِ ۄیکار ॥
لَفظی مَطلّب
کیتے ۔ کئی۔ منگیہہ ۔ مانگتے ہیں۔جودھ۔ بہادر ، جنگجو ء۔اَپّار۔ بیشمار۔ کھپ ۔ کوشش و کاوش ۔تیٹہہ ۔ ختم ہو جاتے ہیں ۔وکار۔ بیفائدہ ۔ بدکار ۔
(ترجمہ)
بیمشارجنگجو اور بہادر جو اُس سے مانگے رہتے ہیں ۔اِتنے نہیں یہ مانگنے والے گنتی اُن کی ممکن ہے۔ کتنے ہیں بدکار عالم میں جو بدکاری میں ہی ہیں ختم ہو جاتے ہیں۔

کیتے لےَ لےَ مُکرُ پاہِ ॥
کیتے موُرکھ کھاہیِ کھاہِ ॥
لَفظی مَطلّب
مکر ۔ مُنکر ۔مورکہہ ۔ کھاہی کھا ہے ۔ کھاتے ہیں۔
(ترجمہ)
کہتے ہی جو اُس سے لے کر مُنکر ہو جاتے ہیں اَور پاتے رہتے ہیں کتنےہی ناشکرے ہیں۔ جو شکر ادا نہ کرتے ہیں ۔اَور ہر دم کھاتے رہتے ہیں۔

کیتِیا دوُکھ بھوُکھ سد مار ॥
ایہِ بھِ داتِ تیریِ داتار ॥
لَفظی مَطلّب
کیتے ۔ کئی۔ منگیہہ ۔ مانگتے ہیں۔جودھ۔ بہادر ، جنگجو ء۔اَپّار۔ بیشمار۔ کھپ ۔ کوشش و کاوش ۔تیٹہہ ۔ ختم ہو جاتے ہیں ۔وکار۔ بیفائدہ ۔ بدکار ۔
(ترجمہ)
بیشمار عذاب اَور بہوک سے ہمیشہ مَرتے رہتے ہیں۔ اَے خدا یہ بھی تیری دین ہی ہے تو ہی سب کچھ دینے والا ہے ۔

بنّدِ کھلاسیِ بھانھےَ ہوءِ ॥
ہورُ آکھِ ن سکےَ کوءِ ॥
لَفظی مَطلّب
بَند ۔ غلامی ، قید ۔بھانے ۔ رضا ۔ حکم۔
(ترجمہ)
غلامی اور بندش اَے خدا تیررضا سے ہے اَور آزادی بھی تیری رَضا سے ہے ۔کمیں ہے یہ جرات جو کہے یہ میری مَرضی ہے۔

جے کو کھائِکُ آکھنھِ پاءِ ॥
اوہُ جانھےَ جیتیِیا مُہِ کھاءِ ॥
لَفظی مَطلّب
کھائیک ۔ نادان ۔جاہل۔مورکہہ ۔آکھن کہنے کی کوشش کرے۔ جیتیا ۔ جتنیاں ۔مہہ مونیہ ۔کھائے ۔ کھائے گا۔
(ترجمہ)
اگر کوئی جاہل اِسکے علاوہ کہنا چاہتا ہے یا کہنے کی کوشش کرتا ہے۔ تب سمجھ اُسے آجاتی ہے ۔جب منہہ پر چوٹیں کھاتا ہے اور عذاب میں پڑ جاتا ہے ۔

آپے جانھےَ آپے دےءِ ॥
آکھہِ سِ بھِ کیئیِ کےءِ ॥
لَفظی مَطلّب
وئے ۔ دیتا ہے۔ آکھیہ کہتے ہیں ۔سے بھے یہ بات بھی ۔کیئی ۔کئی ۔
(ترجمہ)
کوئی کوئی یہ بات بھی کہتا ہے ۔ کہ خدا ہی جانتا ہے ۔اور آپ ہی دیتا رہتا ہے۔

جِس نو بکھسے سِپھتِ سالاہ ॥
نانک پاتِساہیِ پاتِساہُ ॥੨੫॥
(ترجمہ)
جسے بخشے خدا حمد و ثناہ اے نانک وہ شاہانِ شاہ ہے۔

امُل گُنھ امُل ۄاپار ॥
امُل ۄاپاریِۓ امُل بھنّڈار ॥
امُل آۄہِ امُل لےَ جاہِ ॥
امُل بھاءِ امُلا سماہِ ॥
لَفظی مَطلّب
امل ۔ بیش قیمت۔ گن ۔ وصف ۔واپار۔ بیوپار۔ سوداگری داپار ہیئے ۔ بیؤپاری ، بھنڈار ۔ خزانہ ۔مُل آویہ۔ اغول آتے ہیں۔
اَمُل لے جاچکے ۔ انمول ہیں اِس کو خرید کر بیجانیوالے۔ اَمول بھائے ۔ بیش قیمت ۔انمول جنکو ہے پیار اس سے ۔امل سماہے ، اَنمول ہیں وہ جو اس میں مل جاتے ہیں ۔
(ترجمہ)
مول نہیں تیرے وصفوں کا ۔ مول نہیں۔ اُن کاجو اِسکے سوداگر ہیں ۔بغیر مول بیوپاری ہیں اَور بے مول خزانہ ہے اُنمول ہیں وہ ۔لینے والے انمول ہی لیجاتے ہیں ۔انمول ہیں وہ جنکا پیار ہے اِس سے انمول ہیں وہ جو اس میں ملجاتے ہیں ۔

امُلُ دھرمُ امُلُ دیِبانھُ ॥
امُلُ تُلُ امُلُ پرۄانھُ ॥
امُلُ بکھسیِس امُلُ نیِسانھُ ॥
امُلُ کرمُ امُلُ پھُرمانھُ ॥
لَفظی مَطلّب
دھرم۔ قانون ۔ قانون الہّٰی ۔ یا قدرت ۔دیبان عدالت ۔ دربار ۔ بارگا ہ ۔پروان قبول پیمانہ ۔ سکیل ۔ مٹہ ۔تل۔تکڑی ۔نیان۔منزل ۔ نشانہ ۔ ٹارگیٹ ۔کرم۔بخشش ۔ بخیس ۔ عنایت ۔فرمان ۔ حکم۔ امل جسکی قیمت کا اندازہ نہ ہوسکے۔
(ترجمہ)
بے مول قانون خدا یا تیرا بے مول دربار تیرا ہے۔ بے مول تول تیرا ہے ۔بے مول پیمانہ تیرا۔ بے مول تیری ہے رحمت بے مول ہے منزل تیری بے مول عنایت تیری ہے بے مول فرمان تیرا ۔

امُلو امُلُ آکھِیا ن جاءِ ॥
آکھِ آکھِ رہے لِۄ لاءِ ॥
لَفظی مَطلّب
اُمُلو رَمُلّ ۔ زیادہ سے زیادہ جو بیان اور تحریر سے باہر ہے ۔آکہہ آکہہ رہے ۔ کہتے کہتے ماند ہو گئے ۔لو لائے ۔دھیان لگا کر ۔
(ترجمہ)
کتنا ہے انمول تو یا رب کہتے میں کب آتا ہے تجھ کو کہتے کہتے تجھ میں دھیان رگ جاتا ہے ۔

آکھہِ ۄید پاٹھ پُرانھ ॥
آکھہِ پڑے کرہِ ۄکھِیانھ ॥
آکھہِ برمے آکھہِ اِنّد ॥
آکھہِ گوپیِ تےَ گوۄِنّد ॥
لَفظی مَطلّب
آکھیہ ۔ کہہ رہے ہیں۔ پاٹھ ۔ سبق ۔ پڑھے۔ پڑھتے ہیں ۔۔کریہہ دکھیان ۔ تشریحات کرتے ہیں۔ آکھیہ برہحے ۔ برہما کہتا ہے ۔گوبند ۔کاہن ۔ کرشن ۔
(ترجمہ)
توصیف ہے تیری دیدوں اَور پرانوں میں کہتے ہیں پڑھتے ہیں اور کہول سُناتے ہیں ۔برہما اَور رندر بھی تیری ستائیش کرتے ہیں ۔ گوپی اور کاہن ۔کرشن تیرے ہی گن گاتے ہیں۔

آکھہِ ایِسر آکھہِ سِدھ ॥
آکھہِ کیتے کیِتے بُدھ ॥
آکھہِ دانۄ آکھہِ دیۄ ॥
آکھہِ سُرِ نر مُنِ جن سیۄ ॥
لَفظی مَطلّب
تعرئف کرتا ہے شیوجی تیری ۔ آکہہ سدھ ۔ سھد بھی گن گاتے ہیں ۔بدھ ۔ بودھی۔ دانشور ۔دانو ۔ دیؤ ۔دیو ۔فرشتے ۔ نر ۔انسان ۔سر ۔فرشتے ۔من ۔ مانے ہوئے عاشقان الہّٰی ۔درویش ۔ عارف ۔ سیو ۔ خادم ۔
(ترجمہ)
حمد کرتا ہے شو جی تیری سدھ بھی تجہے ہی بتاتے ہیں اور گن گاتے ہیں جتنے ۔ بودھی ۔دانشور ہوتے ہیں تیرے ہی گن گاتے ہیں ۔دیوتے اور فرشتے سارے وانو بھی تیری شان بتاتے ہیں ۔اور خادم بھی تجھ میں دھیان لگاتے ہیں۔

کیتے آکھہِ آکھنھِ پاہِ ॥
کیتے کہِ کہِ اُٹھِ اُٹھِ جاہِ ॥
ایتے کیِتے ہورِ کریہِ ॥
تا آکھِ ن سکہِ کیئیِ کےءِ ॥
لَفظی مَطلّب
کیتے۔ کتنے ہی ۔آکھن پا ہے۔ کہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اُٹھ اُٹھ جا ہے ۔ چلے جاتے ہیں ۔اِس عالم سے ۔ایتے کیتے ۔جتنی مخلوقات ہوئی ہے پیدا۔ ہورکر پہہ ۔ اگر اتنے ہی اور ہوں پیدا ۔تا تب ۔سکہ ۔ نہیں کہہ سکتا ۔اتنے اوصاف ۔
(ترجمہ)
تیری صِفت صلاح کرنیکی کتنے ہی کوشش کرتے ہیں۔ کتنے ہی حمد و ثناہ کرتے کرتے اِس جہاں سے چلے جاتے ہیں ۔تیری جتنی مخلوقات ہوئی ہے اتنی ہی گر اور جہان ہیں ۔اتنے اوصاف خدا ہیں تیرے گن

سکتی ہےمخلو ق کہاں۔
جیۄڈُ بھاۄےَ تیۄڈُ ہوءِ ॥
نانک جانھےَ ساچا سوءِ ॥
جے کو آکھےَ بولُۄِگاڑُ ॥
تا لِکھیِئےَ سِرِ گاۄارا گاۄارُ ॥੨੬॥
لَفظی مَطلّب
جیوڈ ۔ جتنا بڑا ۔بھاوے ۔ چاہتا ہے ۔تیوڈ ۔اُتنا بڑا ۔ساچا سوئے ۔ وہ سچا خدا ہے ۔بول وگاڑ۔ بولوں سے وگاڑنے والا ۔ ۔سرگاوار گوار ۔ مورکھوں کا مورکہہ۔ جاہل ۔
(ترجمہ)
جتنی عظمت اور شان ہے چاہتا اُتنی ہی شان و حشمت ہے ۔نانک سچا خود ہی سمجھتا ہے اپنی شان اَور بڑائی ۔بدکار اور گنوار اُسکو کہنا چاہتا ہے گو گنوار تو ہے ہی اعلٰے گنوار بھی ہے ۔

سو درُ کیہا سو گھرُ کیہا جِتُ بہِ سرب سمالے ॥
ۄاجے ناد انیک اسنّکھا کیتے ۄاۄنھہارے ॥
کیتے راگ پریِ سِءُ کہیِئنِ کیتے گاۄنھہارے ॥
لَفظی مَطلّب
کیہا ۔ کیا ہے ۔جت ۔جس میں ۔بیہہ ۔بیٹھ کر ۔سرب ۔ سب کو ۔سمالے ۔ خبر گیری کرتا ہے ۔ناد آواز ۔ واو نہارے ۔ بجاؤن والے ۔پری سیؤ موراگنیاں ۔ کہن ۔کہتے ہیں۔
(ترجمہ)
کیا ہے در اور گھیر ۔ جس میں بیٹھا سب کی کرتا ہے جزگیری ۔ جہاں بجتے ہیں ناد اَور سنکہہ اور کتنے ہی ساز بجاتے ہیں۔ اور کتنے ہی ساز بجاتے ہیں ۔اورکتنے گانے والے ہیں کتنے ہی راگ اور زاگنیاں ہیں۔

گاۄہِ تُہنو پئُنھُ پانھیِ بیَسنّترُ گاۄےَ راجا دھرمُ دُیارے ॥
گاۄہِ چِتُ گُپتُ لِکھِ جانھہِ لِکھِ لِکھِ دھرمُ ۄیِچارے ॥
لَفظی مَطلّب
تہنو ۔ تجہے ۔وینتر ۔ آگ۔ راجا دھرم ۔ فرشتہ انصاف۔ چتر گپت ۔ اعمالنا مہ ۔ تحریر کرنیوالے الہٰی جاسوس ۔
(ترجمہ)
اے خدا تجھے ۔ ہوا ۔ پانی آگ تیری حمد ثناء کر رہی ہے ۔فرشتہ انصاف الہٰی بھی تیری حمد وثناء میں مصروف ہے ۔جاسوسان تحریر گند گان اعمال بھی تیرے در پر تیری تعریف کر رہے ہیں ۔جنکو فرشتہ انصاف ۔ غور وخوض کرتا ہے ۔تیرے ہی گن گا رہے ہیں۔

گاۄہِ ایِسرُ برما دیۄیِ سوہنِ سدا سۄارے ॥
گاۄہِ اِنّد اِداسنھِ بیَٹھے دیۄتِیا درِ نالے ॥
لَفظی مَطلّب
ایسر ۔ شوجی ۔برہما ۔برہما ۔سوہن ۔ اچھے لگے ہیں۔
(ترجمہ)
شوجی ۔ برہما اَور دیوی کرتے ہیں تیری ہی حمد و ثناہ جنہیں تو نے سنوار ا ہے۔ تحت پر بیٹھا اندر دیوتا مؤدیوتے تیرے ہی گن گاتا ہے ۔

گاۄہِ سِدھ سمادھیِ انّدرِ گاۄنِ سادھ ۄِچارے ॥
گاۄنِ جتیِ ستیِ سنّتوکھیِ گاۄہِ ۄیِر کرارے ॥
لَفظی مَطلّب
سدھ ۔ پاکیزہ ۔ پاکدامن۔ سمادھی ۔ دھیان الہٰی ۔سادھ ۔ وہ انسان جنہوں نے اپنا اخلاق پاک بنا لیا۔ سچیار۔ جتی ۔ برہمچاری ۔ جو دیرج کا غلط استعمال نہیں کرتا۔ ستی ۔ سچ پر چلنے والا۔ سنتوکھی ۔ صابر ۔ویر کرارے ۔ بہت بہادر ۔
(ترجمہ)
گاتے ہیں خدا تجھے سدھ سما دھی میں ۔ساد ہو بھی کر سوچ رچا تیرے گن گاتے ہیں۔ گاتے ہیں جب ست والے صابر اور بہت بہادر گاتے ہیں۔

گاۄنِ پنّڈِت پڑنِ رکھیِسر جُگُ جُگُ ۄیدا نالے ॥
گاۄہِ موہنھیِیا منُ موہنِ سُرگا مچھ پئِیالے ॥
لَفظی مَطلّب
رکھیسر ۔ جنہوں نے جڑواحساسات پر ضبط حاصل کر لی ہے ۔ سرگاں ۔ جنت۔ مچھ ۔ یہ عالم ۔پیالے ۔ پاتال ۔ زیر زمین ۔
(ترجمہ)
گاتے ہیں پنڈت اَور رستی بھی دیدوں کو جو پڑہتے ہیں۔ گاتی ہیں حوریں جو دل کو موہ لیتی ہیں۔ جنت اور زمین آسمانوں میں ۔

گاۄنِ رتن اُپاۓ تیرے اٹھسٹھِ تیِرتھ نالے ॥
گاۄہِ جودھ مہابل سوُرا گاۄہِ کھانھیِ چارے ॥
گاۄہِ کھنّڈ منّڈل ۄربھنّڈا کرِ کرِ رکھے دھارے ॥
لَفظی مَطلّب
رتن ۔قیمتی پتھر ۔زمرود۔ ہیرے وغیرہ ۔جودھ مہابل سورا ۔ بھاری طاقت والے بہادر جنگجو ۔کھانی ۔ کانیں انڈج ۔ جیرج ۔ سہتج ۔ کھنڈ ۔ زمین کا ٹکرا ۔منڈل ۔ براعظم ۔وربھنڈا سارا عالم ۔دھارے جنہیں باندھ رکھا ہے ۔
(ترجمہ)
جتنے رتن کے لئے نہیں پیدا ۔ اَور اَٹھ سٹھ تیرتھ بھی تیرے ہی گن گاتے ہیں ۔ جنگجو ۔ طاقتور بہادر ۔اَور چاروں کانیں تیری ستائش کرتی ہیں ۔تیرے خطے اَور براعظم اَور دنیا میں بھی گافی ہیں۔ ۔

سیئیِ تُدھُنو گاۄہِ جو تُدھُ بھاۄنِ رتے تیرے بھگت رسالے ॥
ہورِ کیتے گاۄنِ سے مےَ چِتِ ن آۄنِ نانکُ کِیا ۄیِچارے ॥
لَفظی مَطلّب
سیئ۔ وہی ۔ بھاون ۔ جنہیں تو چاہتا ہے۔ رسالےجو تیر لطف لیتے ہیں ۔جو تجھ سے محظوظ ہیں۔ چت نہ آون۔ جو میرے یاداشت میں نہیں۔
(ترجمہ)
گائے نہیں تہجے وہی جو تیرے دل کو بھاتے ہیں ۔جو تیرے عاشق ہیں ۔گائے تو نانک اَور بھی ہیں ذہن میں کب آتے ہیں ۔

سوئیِ سوئیِ سدا سچُ ساہِبُ ساچا ساچیِ نائیِ ॥
ہےَ بھیِ ہوسیِ جاءِ ن جاسیِ رچنا جِنِ رچائیِ ॥
لَفظی مَطلّب
سوئی سوئی ۔ وہی وہی۔ سچ صاحب ۔ سچا آقا ۔ساچی نائی ۔ جسکی سچی نامور اور شہر ہے۔ ہے بھی ۔ آج بھی ہے۔ ہوسی ۔ آئندہ بھی ہوگا۔ جائے نہ جاسی ۔ جو مٹنے والا نہیں صدیو ی ہے ۔رچناجن رچائی ۔ جس نے یہ عالم پیدا کیا ہے ۔
(ترجمہ)
جس الّٰلہ تعالیٰ نے یہ عالم پیدا کیا ہے وہ ا ب بھی ۔آئندہ بھی ہوگا ہمیشہ رہے گا۔ وہ سچا مالک ہے اُسکی عظمت ۔ نیک نامی ناموری اور شہر ت اچھی ہے۔

رنّگیِ رنّگیِ بھاتیِ کرِ کرِ جِنسیِ مائِیا جِنِ اُپائیِ ॥
کرِ کرِ ۄیکھےَ کیِتا آپنھا جِۄ تِس دیِ ۄڈِیائیِ ॥
لَفظی مَطلّب
رنگی رنگی ۔ کتنے ہی رنگوں والی ۔بھاتی ۔ طرح طرح کی ۔جنسی۔ کتنے ذاتوں والی ۔جن اُپائی جسنے پیدا کی ہے ۔کرکر دیکھے ۔ پیدا کرکے خبرگیری کرتا ہے ۔وڈیائی ۔ عظمت ۔بذرگی ۔
(ترجمہ)
طرح طرح کے رنگوں والی طرح طرح کی قسموں والی ۔ مائیا جسنے کی ہے پیدا۔ کرلے خبرگیری وہ کرتا ہے آپ بنا اور آپ ہی دیکھے یہی اُسکی عظمت ہے۔

جو تِسُ بھاۄےَ سوئیِ کرسیِ ہُکمُ ن کرنھا جائیِ ॥
سو پاتِساہُ ساہا پاتِساہِبُ نانک رہنھُ رجائیِ ॥੨੭॥
لَفظی مَطلّب
حکم نہ کرنا جائی ۔ اُسے حکم نہیں دیا جا سکتا۔ رجائی ۔ رضا میں
(ترجمہ)
جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اُسپر حکم نہ کسی کا چلتا ہے شاہوں کا وہ شاہ ہے نانک اپنی رضا میں رہتا ہے ۔

مُنّدا سنّتوکھُ سرمُ پتُ جھولیِ دھِیان کیِ کرہِ بِبھوُتِ ॥
کھِنّتھا کالُ کُیاریِ کائِیا جُگتِ ڈنّڈا پرتیِتِ ॥
لَفظی مَطلّب
مُندا ۔ مندراں ۔ کانوں کی کابڑی بالیا ں ۔سنتوکھ صبر۔ سرم۔جہد ۔ کوشش ۔پت عزت ۔دھیان کی کرپہہ ببھوت الہّٰی دھیان تیری جسم پر لگانے والی راکہہ ۔کھنتھا ۔ گودڑی ۔ کوآری کائیا ۔ پاک بدن ۔ کنواری لڑکی جیسا۔ جگت ۔طریقہ ۔پرتیت یقین ۔
(ترجمہ)
آپ جوگی سے مخاطب نہیں کہ حقیقی لوگ اور یوگی ایسا ہونا چاہیے ۔ جسے جہد و شاعت کو مندریں سمجھے ۔ عزت کی اُسکی بھیک مانگنے والی ہو جہوی ہو اُسکی ۔ خدا میں دھیان لگانا اُسکے لئے راکھ کی ببھوت ہوا کنواری لڑکی جیسا ہو پاک بدن موت کا خوب تیری کتنی ہو یا گودڑی ۔صدق اور یقین ہو جوگیوں والا ڈنڈا۔ سب مذہبوں کو تو اپنا مذہب سمجھے ۔یہیجوگی کا فرض سمجھ ہو۔

آئیِ پنّتھیِ سگل جماتیِ منِ جیِتےَ جگُ جیِتُ ॥
آدیسُ تِسےَ آدیسُ ॥
آدِ انیِلُ انادِ اناہتِ جُگُ جُگُ ایکو ۄیسُ ॥੨੮॥
لَفظی مَطلّب
آئی پنتھی ۔ اونچے در بے والا جوگیوں کا فرقہ ، سگل جماتی ۔ سب کو ایک جیسا سمجھ۔ من جیتے جگ جیت ۔ من پر قابوپانا ۔ سارے عالم کو فتح کرنا ہے۔ آدیس ۔ سلام ۔پیغام ۔آد شروع ۔آغاز ۔انیل ۔پاک ۔اناد۔ ازل ۔اناہت ۔لافناہ جگ جگ ایکو ویس۔ابدی ۔
(ترجمہ)
جو سب کو ایک سمجھے آئی پنتھی ہے وہی جس نے اپنے من کو جیت لیا جیت لیا سنسار اُس نے ۔آداب اُسے سلام اُسے جو آدی ہے ۔انا دی اور ابدی ہے ۔اور ہے پاک وہی ہر وور میں ایک جیسا ہے ۔

بھُگتِ گِیانُ دئِیا بھنّڈارنھِ گھٹِ گھٹِ ۄاجہِ ناد ॥
آپِ ناتھُ ناتھیِ سبھ جا کیِ رِدھِ سِدھِ اۄرا ساد ॥
سنّجوگُ ۄِجوگُ دُءِ کار چلاۄہِ لیکھے آۄہِ بھاگ ॥
لَفظی مَطلّب
بھگت گیان ۔ علم ہو کھانا ۔رحم ۔کھانا ۔بانٹنے والا ۔گھٹ گھٹ ۔ ہر دل میں ۔ناد شبد ۔ کلام۔ آپ ناتھ ۔ مالک ۔ناتھی سب جاکی ۔ جسکی سب ملکیت ہے ۔ردھ ۔عظمتیں۔ سدھ۔ جنہوں نے اپنے آپ کو پاک بنالیا ۔سنجوگ ۔ ملاپ وجوگ۔ جدائی ۔کار چلاو بہہ۔ دنیاوی کام چلتا ہے۔ اورا ۔علاوہ ۔بھاگ ۔ حصہ ۔ساد ۔ لذت ۔ لطف ۔ مزہ ۔لیکھے ۔ تحریر اعمالنامہ ۔
(ترجمہ)
اے جوگی علم و سمجھ اپنا کھانا بنالے ۔رحم کھانا بانٹنے والا ہو ۔ہر دل میں بسے کلام الہّٰی وہ تیری کار گذاری ہو ۔مالک تیرا آپ خدا ہے ۔ جس کی ملکیت خلقت ساری ہے ۔دولت ۔ زور اَور کرامت۔ یہ دُوسروں سے محبت اَور ساتھ ہے ۔وصل اور ہجر ۔ میل اور جدائی دونوں سے دنیا کے کام چلتے ہیں ۔ملتا ہے حصہ وہی جو تحریر ہے اعمالنامے میں ۔

آدیسُ تِسےَ آدیسُ ॥
آدِ انیِلُ انادِ اناہتِ جُگُ جُگُ ایکو ۄیسُ ॥੨੯॥
(ترجمہ)
سلام ہے اُسے سلام ۔ اول ہے جو پا ک اَور اَنادی اِبدی ہر دور میں ہے ایک جیسا ۔
ایکا مائیِ جُگتِ ۄِیائیِ تِنِ چیلے پرۄانھُ ॥
اِکُ سنّساریِ اِکُ بھنّڈاریِ اِکُ لاۓ دیِبانھُ ॥
لَفظی مَطلّب
ایکا مائی ۔ ایک ماں۔ جگت ۔طریقے سے ۔ ویائی ۔حاملہ ۔تو اُس نے تین فرشتے پیدا ہوئے۔ ایک عالم پیدا کرانیوالا ۔ایک رازق روزی دینے والا ۔ اور ایک منصف ۔
(ترجمہ)
ایک پُرانے عقیدے کے مُطابق ایک مائی مائیا حاملہ ہوئی جس سے تین فرشتے پیدا ہوئے جس میں سے ایک دنیاوی عالم کو وجود میں لانے والا دوسرا رازق عالم کو روزی دینے والا تیسرا منصف ۔ اعمال کی سزا و جزا دینے کامالک جنہیں ۔برہما ۔ وشنو اور شوجی کے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے۔

جِۄ تِسُ بھاۄےَ تِۄےَ چلاۄےَ جِۄ ہوۄےَ پھُرمانھُ ॥
اوہُ ۄیکھےَ اونا ندرِ ن آۄےَ بہُتا ایہُ ۄِڈانھُ ॥
آدیسُ تِسےَ آدیسُ ॥
آدِ انیِلُ انادِ اناہتِ جُگُ جُگُ ایکو ۄیسُ ॥੩੦॥
لَفظی مَطلّب
جوتس بھاوے ۔ جو اُسے اچھا لگتا ہے ۔توے چلاوے ۔ اُسطرح چلاتا ہے ۔جو ہووئے فرمان۔ جیسا اُسکا حکم ہے ۔اوہ ویکھے۔ وہ دیکھتا ہے ۔نگہبانی کرتا ہے ۔اونا ندرن نہ آوے ۔ انہیں نظرنہیں آتا۔ بہتاایہہ وڈان ۔ یہی زیادہ حیرانگی ہے۔
(ترجمہ)
مگر حقیقت یہ ہے کہ جیسے خدا چاہتا ہے ۔ویسے کام چلاتا ہے جیسے فرمان الہٰی کام دنیا کے چلتے ہیں۔ دیکھتا ہے ۔خود سب کو مگر خود آنکھوں سے اوجھل ہے۔ عظمت یہ اُسکی جو عافل کو حیران کرتی ہے۔ آداب اُسے سلام اُسے ۔ سب سے اول پاک خدا ہے اَنا وّی ہے اور اِبدی ہے ہر دور میں ایک جیسا ہے ۔

آسنھُ لوءِ لوءِ بھنّڈار ॥
جو کِچھُ پائِیا سُ ایکا ۄار ॥
کرِ کرِ ۄیکھےَ سِرجنھہارُ ॥
نانک سچے کیِ ساچیِ کار ॥
آدیسُ تِسےَ آدیسُ ॥
آدِ انیِلُ انادِ اناہتِ جُگُ جُگُ ایکو ۄیسُ ॥੩੧॥
لَفظی مَطلّب
آسن ۔ ٹھکانہ ۔ تحت ۔ بیٹھنے کی جگہ ۔ لوئے لوئے ۔ ہر عالم میں ۔بھنڈارا ۔ زخیرہ ۔ گودام۔ سیرجنہار ۔ پیدا کرنیوالا سازندہ ۔
(ترجمہ)
ہر عالم میں تخت الہّٰی ہر دور زماں میں بھرے ذخیرے ہیں ۔ایکبار ہی بھر دیئے ذخیرے جو بھرنا تھا بھر دیا۔ آپ بنا کر خود ہی دیکہے بھالے سب کا وہ سازندہ ہے ۔نانک سچے کے سب کام نہیں سچے ،سچی سرکارہے وہ ۔آداب اُسے سلام اُسے جو آدی ہے ابدی ہے اول ہے پاک بھی ہے ہر دو ر میں ایک بھیں بھیں ہے ۔

اِک دوُ جیِبھوَ لکھ ہوہِ لکھ ہوۄہِ لکھ ۄیِس ॥
لکھُ لکھُ گیڑا آکھیِئہِ ایکُ نامُ جگدیِس ॥
لَفظی مَطلّب
ایک دو جیبھو ۔ ایک زباں ملے ۔ لکھ ہوئے ۔ایک لاکھ ہو جائیں ۔لکھ ویس ۔ اور اس سے بیس گناہ ہو جائیں ۔ لکھ لکھ گیڑا آکھیئے ۔اور پھر لکھ لکھ بار ۔ ایک نام جگدیس ۔عالم کے مانک کا نام زبان پر لاؤں ۔
(ترجمہ)
ایک زباں سے لاکھوں ہی ہو جائیں اگر ۔ اَور پھر ایک ایک سے بیس گناہوجائیں اگر۔ اور پھر ایک زباں پر نام خدا کا لاکھوں بار لاو ں اَگر۔

ایتُ راہِ پتِ پۄڑیِیا چڑیِئےَ ہوءِ اِکیِس ॥
سُنھِ گلا آکاس کیِ کیِٹا آئیِ ریِس ॥
نانک ندریِ پائیِئےَ کوُڑیِ کوُڑےَ ٹھیِس ॥੩੨॥
لَفظی مَطلّب
ایت راہ ۔ اس راستے پر چل کر۔ اس طریقےسے۔ پت پوڑیا ۔ اس عزت وحشت کےزینہ بہ زینہ ۔ منزل بہ منزل ۔ چڑھیئے طے کرکے ۔ ہوئے اکیس ۔ وصل الہّٰی ۔ کیسوئی ۔ آکاس ۔ آسمانی ۔عرش ۔کیٹا ۔کیڑوں ۔ریس ۔خواہش پیدا ہوئی ویسا کرنیکی۔ رشک ہوا ،ندریں ۔ نظر عنایت و شفقت ۔کوڑی جہوئی بات۔ کوڑے ۔ جہوئے انسان ۔ٹھیس ختم ہو جاتی ہے ۔
(ترجمہ)
اِس طور طریقے سے اِس راستے پر چل کر منزل بہ منزل الہّٰی وصل ہوتا ہے نصیب اور الہّٰی یکسوئی ہو جاتی ہے ۔ایسی باتیں سُنکر ناچیز۔ جو کیڑوں کی مانند ہیں رشک پیداہوآکر ہم بھی اُس عرش تک رسائی حاصل کریں۔ اے نانک الہّٰی نگاہ شفقت وعنایت سے ہی منزل حاصل ہوتی ہے ۔ورنہ جہوٹے کی بات جہوٹ آخر ٹھس ہوجاتی ہے۔ ختم ہو جاتی ہے ۔

آکھنھِ جورُ چُپےَ نہ جورُ ॥
جورُ ن منّگنھِ دینھِ ن جورُ ॥
جورُ ن جیِۄنھِ مرنھِ نہ جورُ ॥
جورُ ن راجِ مالِ منِ سورُ ॥
لَفظی مَطلّب
آکھن ۔ سہننے میں ۔ چپیئے ۔ چُپ رہنے سے ۔جور ۔ بزور ۔ طاقت ۔زور نہ جیون جینا بھی طاقت سے نہیں۔
(ترجمہ)
زرد سے کہہ نہیں سکتے نہ زور سے چُپ رہ سکتے ہیں ۔ زور سے نہیں ہے زندگی نہ طاقت سے موت ہے ۔نہ زر و منشور و طاقت سے ملتے ہیں۔

جورُ ن سُرتیِ گِیانِ ۄیِچارِ ॥
جورُ ن جُگتیِ چھُٹےَ سنّسارُ ॥
جِسُ ہتھِ جورُ کرِ ۄیکھےَ سوءِ ॥
نانک اُتمُ نیِچُ ن کوءِ ॥੩੩॥
لَفظی مَطلّب
جور نہ سرتی ۔ روحانی ہوش نہیں طاقت سے ۔گیان ۔علم ۔ویچار ۔خیال ۔جور نہ جگتی ۔ طاقت سے لاحاصل ہے طریقہ ۔چھٹے سنسار ۔ طاقت سے نجات نہیں ۔ جس ہتھ زور۔ جسکے بازار میں ہے طاقت ۔ کر ویکھے سوئے۔ وہ دیکھتا ہے زور لگا ۔
(ترجمہ)
نہ طاقت سے بیداری ہے ۔ نہ خاموشی ہے ۔ نہ علم و توجہ زور سے ہے ۔نہ عرفانی ملتی ہے ۔نہ نجات زور سے جسکے بازور میں ہے طاقت ویکہہ لے اپنا زور لگا ۔رینے سے نہ کوئی بڑا ہے نانک نہ کوئی کمینہ ہے ۔

راتیِ رُتیِ تھِتیِ ۄار ॥
پۄنھ پانھیِ اگنیِ پاتال ॥
تِسُ ۄِچِ دھرتیِ تھاپِ رکھیِ دھرم سال ॥
تِسُ ۄِچِ جیِء جُگتِ کے رنّگ ॥
تِن کے نام انیک اننّت ॥
لَفظی مَطلّب
راتی ۔ رات ۔رُتی ۔ موسم ۔تھتی۔ چاند کے دن ۔وار ۔ دن ۔پون۔ ہوا ۔اُگنی ۔آگ ۔پاتال ۔ زیر زمین ۔تھاپ رکہی ۔ ٹکائی ۔جیئہ ۔ جاندار ۔جیئہ جگت ۔ زندہ رہنے کا سلیقہ ۔دھرمسسال ۔ مندر ۔دھرم ۔ پاک اعمال بنانے کی جگہ ۔
(ترجمہ)
رات بنائی ۔ موسم بنایا چاند کے دن بنائے پیدا دن اَور وار کیے ۔ ہوا ۔ پانی آگ ۔ پاتاک بنایا ۔ جو دنیا کے نیچے ہے ۔ فرض کمانے کے لئے (بنایا) بنائی زمین ہے ۔کئی قسموں اَور رنگوں کے جاندار کے لئے ہیں پیدا جنکے طریقوں کا شمار نہیں اَورناموں کا شمار نہیں ۔وہاں اعمالوں(اعمالو) کا حساب لگایا جاتا ہے ۔ جیسےہیں اعمال کسی کے ویس ہی پھل پاتا ہے ۔

کرمیِ کرمیِ ہوءِ ۄیِچارُ ॥
سچا آپِ سچا دربارُ ॥
تِتھےَ سوہنِ پنّچ پرۄانھُ ॥
ندریِ کرمِ پۄےَ نیِسانھُ ॥
لَفظی مَطلّب
کرمی ۔ کرمی ۔ اعمال کا حساب۔ ہوئے ویچار ۔ سوچا سجھا جاتا ہے۔ سچا آپ خدا خود سچا ہے ۔سچا دربار۔ سچی ہے اُسکی عدالت ۔تتھے ۔ وہاں ۔سوہن ۔ سجتے ہیں ۔ پنچ ۔ مقبول الہّٰی پروان ۔ منظور ۔ ندری کرم ۔ نظر عنایت پوئے نیسان ۔ عظمت کی نشانی ۔
(ترجمہ)
اعمالوں کا حساب کیا جاتا ہے وہاں ۔سچا آپ خدا ہے سچی ہے عدالت اُسکی وہاں سجتے ہیں مقبول الہّٰی جو منظور خدا کو ہیں۔ جس پر ہے نظر عنیات ملتا ہے قبولیت کا نشان انہیں ۔

کچ پکائیِ اوتھےَ پاءِ ॥
نانک گئِیا جاپےَ جاءِ ॥੩੪॥
لَفظی مَطلّب
کچ ۔کچے ۔ خام ۔ پکائی۔مکمل انسان ۔اوتھے ۔ بارگاہ الہّٰی ۔جاپے جائے ۔ وسمجھا جاتے ہیں۔ نیک و بد۔کی تمیز کیجاتی ہے۔
(ترجمہ)
الہّٰی درگاہ میں نیک و بد۔ اچھے اور بُرے کی تمیز کی جاتی ہے نانک دربار الہّٰی ہے۔2

دھرم کھنّڈ کا ایہو دھرمُ ॥
گِیان کھنّڈ کا آکھہُ کرمُ ॥
لَفظی مَطلّب
دَھرم ۔ فرض ۔کرم ۔ عمل۔ آکہہ ۔کہا ہے ۔بتائیا ہے ۔ گیان ۔ علم ۔
(ترجمہ)
دھرم کی منزل یہی منزل تھی جسکا مندرجہ بالا منزل میں بیان کیا ہے ۔ گیان یا علم کی منزل کا اب بیان سُناتا ہو ۔

کیتے پۄنھ پانھیِ ۄیَسنّتر کیتے کان مہیس ॥
کیتے برمے گھاڑتِ گھڑیِئہِ روُپ رنّگ کے ۄیس ॥
لَفظی مَطلّب
کیتے ۔کئی ۔ بہت سے ۔ویسنتر ۔ آگ۔ کان۔ کرشن ۔مہیس ۔ شیوجی ۔ برَہما ۔گھارٹ گھڑیئے ۔شکایتیں بنائی جاتی ہیں۔ (روپ) تجویزیں بنائی جاتی ہیں ۔رُوپ ۔ شکل۔ ویس ۔پہراد
(ترجمہ)
کتنی ہی ہیں آگ پانی اور ہوا ہیں کتنے ہی کرِ شن ۔ شوجی اور کتنے ہی برہحے جو شکایتیں رنگت اور بھیس بناتے ہیں۔

کیتیِیا کرم بھوُمیِ میر کیتے کیتے دھوُ اُپدیس ॥
کیتے اِنّد چنّد سوُر کیتے کیتے منّڈل دیس ॥
لَفظی مَطلّب
کرَ م بھومی ۔ میدانِ عمل ۔میر ۔پہاڑ جتنے اونچے ۔کیتے ۔دھواُپدیش ۔ بلوے ۔بھرے سبق ۔جوش بھرے سبق۔ بلولہ اندوز
(ترجمہ)
کتنے ہی میدان عمل ہے کتنے ہی جوش بھری ولولہ انگیز تقریں ہیں مقدر کتنے ہی ہیں اندر ویوتے کتنے چاند اور سورج کتنے ہی دیس اور براعظم ہیں۔

کیتے سِدھ بُدھ ناتھ کیتے کیتے دیۄیِ ۄیس ॥
کیتے دیۄ دانۄ مُنِ کیتے کیتے رتن سمُنّد ॥
لَفظی مَطلّب
سدھ بدھ اور ناتھ ۔ پاکدامن باعلم۔ باعقل ۔ با شعور ۔ کیتے دیوی ویس ۔ جنکا دیوؤں جیسا پہروا ہے۔ من ۔ رِشی ۔
(ترجمہ)
کتنے ہی ہیں سدھ ۔ بُدھ ۔ ناتھ اوصاف والے ۔اور کتنے دیوی دیوتاؤں کے بھیس بھی ۔ہوئے ہیں ہیں کتنے ہی جَنّات ۔ اَور درویش ہوئے ہیں۔ کتنے ہی سُمندری رتن ہوئے ہیں۔

کیتیِیا کھانھیِ کیتیِیا بانھیِ کیتے پات نرِنّد ॥
کیتیِیا سُرتیِ سیۄک کیتے نانک انّتُ ن انّتُ ॥੩੫॥
لَفظی مَطلّب
کھانی ۔ کانیں ۔بانی ۔ زبانیں ۔پات ۔ نرند ۔ شاہ زمین ۔سُرتی سیوک ۔ رُوحانی عالم ۔
(ترجمہ)
کتنی ہی پیدائشی کانیں ہیں کتنی ہی زبانیں ہیں ۔کتنے ہی شاہ زماں ہوئے کتنے ہی رُوحانی عالم ہیں ۔نانک جن کا شمار نہیں ۔

گِیان کھنّڈ مہِ گِیانُ پرچنّڈُ ॥
تِتھےَ ناد بِنود کوڈ اننّدُ ॥
لَفظی مَطلّب
گِیان ۔ علم ۔ تعلیم۔ کھنڈ ۔ منزل خطے ۔پرچنڈ ۔ نور۔روشنی ۔ناد ۔ شبد ۔ کلام ۔ دنود ۔ تماشے۔ کوڈ ۔ کروڑوں۔ کوڈ انند۔ رُوحانی خُوشی ۔ تماشے ۔
(ترجمہ)
یہ منزل تھی علم و تحمل کی منز ل جو نور۔ بھری نورانی ہے ۔اور عارفوں کی عُرفانی ہے ۔علم کی اس منزل میں نہیں نغمے الہّٰی اَور رُوحانی خُوشیاں ہیں۔ اَور روحانی سکون بھی ہے۔۔

سرم کھنّڈ کیِ بانھیِ روُپُ ॥
تِتھےَ گھاڑتِ گھڑیِئےَ بہُتُ انوُپُ ॥
لَفظی مَطلّب
سرم ۔ جہدوریاضت ۔ بانی رُوپ۔ خوش بیانی ۔ بانی ۔ شبد کلام ۔رُوپ ۔ خوبصورت ۔ گھاڑت ۔ بیونت ۔منصوبہ ۔گھڑیئے ۔ بتاتے جاتے ہیں ۔گھارٹ گھڑیئے ۔ منصوبہ بندی۔ انوپ ۔ نہایت خوبصورت ۔
(ترجمہ)سرم کی منزل ہے جُہد وریاضت کی منزل جس میں ہے سُنّدر کلام ۔اسمیں نہایت خُوبصُورت منصوبے بناّئے جاتے ہیں۔

تا کیِیا گلا کتھیِیا نا جاہِ ॥
جے کو کہےَ پِچھےَ پچھُتاءِ ॥
لَفظی مَطلّب
تاکیا۔ اُس منزل کی ۔ گلا ۔ ذکرّ۔ کھتیا نہ جاہے ۔ بیان نہیں ہوسکتیں ۔ جے کوکہے ۔ اگر کوئی کہتا ۔ پچھے پچھتائے ۔ آخر پچھتاتا ہے ۔
(ترجمہ)
اِس منزل کی باتیں کہنے میں کب آتی ہیں اگر ذکر کوئی کرَتا ہے تو آخر کو پچھتاتا ہے۔

تِتھےَ گھڑیِئےَ سُرتِ متِ منِ بُدھِ ॥
تِتھےَ گھڑیِئےَ سُرا سِدھا کیِ سُدھِ ॥੩੬॥
لَفظی مَطلّب
تتھے ۔ اس منزلیں ۔ گھڑیئے ۔ سنواری ۔ سدھار کیا جاتا ہے ۔ سُرت ۔ ہوش ۔مت ۔ عقل ۔ من ۔قلب ۔ بدھ ۔نیک وبدکی تمیر کرنکی قوت ۔ سُرا ۔ فرشتے دیوتے ۔ سدھا ۔ خدارسیدہ ۔ سُدھ ۔ عقل و ہوش
(ترجمہ)
اس منزلیں ۔ ہوش و عقل ۔ من و بدُھی کی شکل وصورت سنواری وبنائی جاتی ہے ۔یہاں تو فرشتوں۔ دیوتاؤں اور خدا رسیدوں ۔ و لیوکی بھی عقل سنواری جاتی ہے ۔

کرم کھنّڈ کیِ بانھیِ جورُ ॥
تِتھےَ ہورُ ن کوئیِ ہورُ ॥
لَفظی مَطلّب
کرم ۔ بخشش ۔ بانی ۔بناوَٹ۔ جور ۔ زور ۔ طاقت ۔ قوت ۔ ہور ۔خدا کے علاوہ ۔دوسرا جو دھ ۔ جو دھے ۔ بہادر۔ مہاں بل ۔ بھاری طاقت والے ۔ سُور ۔جنگجو ۔ تن مینہ ۔ اُنہیں ۔ رام ۔ خدا ۔ بھر پور ۔ مکمل طو ر پر ۔
(ترجمہ)
الہّٰی بخشش کی منزل وُہ مَنزل ہے جہاں ہر بات قوت سے چلتی ہے۔ وہاں خدا کے سوا کسی دُوسری طاقت کا کوئی دَخل نہیں رَہتا کیونکہ اِس منزلیں دنیاوی دولت اَور کرامت اَثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

تِتھےَ جودھ مہابل سوُر ॥
تِن مہِ رامُ رہِیا بھرپوُر ॥
(ترجمہ)
اِس مَنزل میں شہ زور ۔ دتی ۔ اَور منصُور ہی پہنچ سکتے ہیں جنہیں خدا نے طاقت عنایت فرمائی ہے۔ دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔

تِتھےَ سیِتو سیِتا مہِما ماہِ ॥
تا کے روُپ ن کتھنے جاہِ ॥
نا اوہِ مرہِ ن ٹھاگے جاہِ ॥
جِن کےَ رامُ ۄسےَ من ماہِ ॥
لَفظی مَطلّب
سیتو سیتا۔ جنکے دلمیں نام الہّٰی مکمل طور پر بسا ہوا ہے ۔مہما ماہے۔ الہّٰی صفت صلاح و عظمت ۔ الہّٰی سچےطور پر بسی ہوئی ہے۔ تاکے روپ ۔ اُنکی خوبصورتی۔ نہ کتھنے جاہے۔ بیان سے باہر ہے ۔وہ اَور وہ مکمل طور پر آراستہ و زیبائش کی ہوئی ہے ۔ نہ مرپہہ ۔ مُراد اُنکی رُوحانی موت نہیں ہو سکتی ۔ نہ ٹھاگے جاہے ۔ نہ اُنہی کو دھوکا دے سکتا ہے ۔
(ترجمہ)
جس پر الہّٰی کرم عنایت ہے جنکو یہ منزل نصب ہو گئی ہے جو اِس منزل تک جا پہنچے اُسکے دل میں الہّٰی عظمت اَور صفت صلاح اُنکے ذَرہ ذرّہ میں بَس جاتی ہے وُہ ہر زینت و زیبائش سے آراستہ ہوجاتے ہیں اَور روحانی موت نہیں ہوتی اَور اُنہیں کوئی دھوکا نہیں دے سکتا ۔

تِتھےَ بھگت ۄسہِ کے لوء ॥
کرہِ اننّدُ سچا منِ سوءِ ॥
لَفظی مَطلّب
وسہہ ۔ بستے نہیں ۔ لوئے ۔ لوگ ۔ کے لؤ سارے عالم کی ۔ کریہہ انند ۔ شاد ۔ پُرسکون خوش و خُرم ۔

سچ کھنّڈِ ۄسےَ نِرنّکارُ ॥
کرِ کرِ ۄیکھےَ ندرِ نِہال ॥
لَفظی مَطلّب
سچ کھنڈ ۔ سچی منزل ۔نرنکار پاک خدا جسکی کوئی بناوٹ و شکل و صورت ہیں ۔ کر کر ویکھے ندرنہال ۔ خود پیدا کرکے خود ہی نگہبانی کرتا ہے۔ نظر عنایت ورحمت سے خوشحال بَناتا ہے۔۔
(ترجمہ)
یہ منزل وُہ مَنزل ہے جس میں اِنساّن کسی خُدا سے یکسوئی ہو جاتی ہے ۔نور انسانی اَور نور الہّٰی یکجا ہو جاتا ہے ۔بھید مٹ جاتا ہے۔ اِسی مَنزل میں خُدا خود بَستا ہے۔ خود ہی بَناتا ۔نگہبانی کرَتا ہے اَور ر۔حمَتوں سے خُوشحال کرَتا ہے۔

تِتھےَ کھنّڈ منّڈل ۄربھنّڈ ॥
جے کو کتھےَ ت انّت ن انّت ॥
تِتھےَ لوء لوء آکار ॥
جِۄ جِۄ ہُکمُ تِۄےَ تِۄ کار ॥
ۄیکھےَ ۄِگسےَ کرِ ۄیِچارُ ॥
نانک کتھنا کرڑا سارُ ॥੩੭॥
لَفظی مَطلّب
وربھنڈ ۔ عالم ۔ دُنیا میں ۔ انت نہ ۔ اُنت ۔ بیشمار ۔لؤلؤ آکار ۔کتنے ہی لوگ کتنی ہی دُنیا ہیں۔ کرڑاسار سخت لوہا ۔وگسے ۔ خوش ہوتا ہے۔
(ترجمہ)
اِس سَچ کی منَزل میں بشمار خِطے منڈل ۔ ا۔ور جَہاں اَور بھی ہیں ۔اگر کوئی بیان کرے تو شمار نہیں ہو سکتا ۔جَیسا ہے فَرمان الہّٰی ویسی وُہ کرتے ہیں ۔کام ۔نگہبانی کرتا ہے اَور خوش ہوتا ہے۔ سمجھتا ہے۔ اے نانک اُسے بَیان کرنا لوہا چَبانا ہے۔

جتُ پاہارا دھیِرجُ سُنِیارُ ॥
اہرنھِ متِ ۄیدُ ہتھیِیارُ ॥
لَفظی مَطلّب
جَت ۔ احساسات بَد پرضبط ۔ایسے جُزو جِسمانی جو اِنسان کو غلط راستوں اَور گناہوں کیطرف راغب کرتے ہیں پر روک لگانا ضَبطّ رکھتا ۔جَت تقوے ۔ پاہار بھٹی ۔ دھیرج ۔ استقلال ۔ مَت ۔ عَقلّ ۔ وید ۔ علم ۔
(ترجمہ)
تُقوے کی تیری بھھٹی ہو۔ اِستقلال کو سُنارّ سمجھ لے ۔ عَقل ہواَہرن کی مانند علم ہوہتھار یرا۔ ہتھوڑا ہو ۔

بھءُ کھلا اگنِ تپ تاءُ ॥
بھاںڈا بھاءُ انّم٘رِتُ تِتُ ڈھالِ ॥
گھڑیِئےَ سبدُ سچیِ ٹکسال ॥
لَفظی مَطلّب
بہؤ ۔ خَوف ۔ کھلا ۔ ہوا دینے والی ۔ دہوکنی ۔تَپ تاؤ ۔ جُہد ورِیا صُفت ۔بھانڈا کُھٹالی ۔جس میں سونا پگلا کر شکل وی جاتی ہے ۔بھاؤ ۔ پریم ۔انمرت۔ آب حیات۔ خدا کا نام تت ۔ اُسمیں ۔گھڑیئے ۔ اُسکو شکل دیتا۔ ٹکسال ۔وہ کارخانہ جہاں سکے تیار کئے ۔ ٹک ۔ٹکا ۔روپیہ ۔سال ورکشال
(ترجمہ)
کھال ہو خؤب الہّٰی تیری۔ ریاضت کی آگ سے اِسے تپا ۔ دلی پریم پیار کھٹالی کرے من کی آگ جلاتا جا ۔پیار کے اِس برَتن میں لا فانی ہے حقیقت۔ سَچ اَپنا کر اسمیں پا۔ سچے نام کے سکے گھڑیئے سَچی ہے ٹکسال یہی ۔

جِن کءُ ندرِ کرمُ تِن کار ॥
نانک ندریِ ندرِ نِہال ॥੩੮॥
(ترجمہ)
جس پر ہو نظرِعنایت قائم یہ ٹکسال کرے ۔ یہ کار ہے اُن اِنسانوں کی جن پر ہے الہّٰی نظرِ عنایت۔ اے نانک جن اِنسانوں پر خاص نظرِعنایت وہ خوشحال کرتا ہے اپنی رحمت سے ۔

سلوکُ ॥
پۄنھُ گُروُ پانھیِ پِتا ماتا دھرتِ مہتُ ॥
دِۄسُ راتِ دُءِ دائیِ دائِیا کھیلےَ سگل جگتُ ॥
لَفظی مَطلّب
پون۔ ہوا ۔سانس۔ دھرت ۔ زمین ۔مہت ۔ ماں ۔ دوس۔دن ۔ رات۔ رات۔ جگت ۔ عالم ۔ دُنیا ۔دھرم ہدُور
(ترجمہ)
پانی باپ ہوا ہے مُرشد ۔ زمین ہے ماں پَرورش کرنیوالی ۔ دن ہے دائی رات دائیا یعنی اِنسان کو کھیل لگانے والا سارا عالم کھیل رہا ہے ۔یعنی انسان دن کوکام میں گذار دیتا ہے رات سوکر گُذار دیتا ہے ۔لہذا یہ دُنیا ایک کھیل ہے ۔

چنّگِیائیِیا بُرِیائیِیا ۄاچےَ دھرمُ ہدوُرِ ॥
کرمیِ آپو آپنھیِ کے نیڑےَ کے دوُرِ ॥
لَفظی مَطلّب
واچے ۔ تحقیق کرتا ہے ۔ دھرمی راج ۔ عدالت عالیہ الہّٰی کا منصف۔ کرمی ۔اعمال ۔ کے نیڑے ۔ خواہ نزدیک ہے کے دور۔ خواہ دور ہے ۔
(ترجمہ)
اِلہّٰی مُنصِفّ اِلہّٰی خطور میں اِنسان کے اَعمال کی نیکیؤ ں اَور بدریوں کی کرتا ہے تحقیق خدا جس سے کسی کو ملتی ہے صحبت قربت کو کسی کو دوری مل جاتی ہے ۔

جِنیِ نامُ دھِیائِیا گۓ مسکتِ گھالِ ॥
نانک تے مُکھ اُجلے کیتیِ چھُٹیِ نالِ ॥੧॥
(ترجمہ)
جہنوں نےکی ریاض الہّٰی نام کی محنت بر آور ہوئی ۔ نانک پُر نور ہوئے وہ ۔سر خرو ہوئے مصاحب بھی اُنکے آزاد ہوئے ۔

سو درُ راگُ آسا مہلا ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سو درُ تیرا کیہا سو گھرُ کیہا جِتُ بہِ سرب سمالے ॥
ۄاجے تیرے ناد انیک اسنّکھا کیتے تیرے ۄاۄنھہارے ॥
کیتے تیرے راگ پریِ سِءُ کہیِئہِ کیتے تیرے گاۄنھہارے ॥
لَفظی مَطلّب
سو۔ وہ ۔در ۔ دربار ۔ گھر ۔کہیا ۔ کیسا ۔جت۔ جسمیں ۔بیہہ ۔ جلوہ افروز ۔ سرب ۔ سب ۔سمائے ۔ سنبھالتا ہے نگران ہے ۔ناد۔ آواز واؤن ہارے ۔ بجانے والے ۔ پری سیؤ موراگنیاں ۔
(ترجمہ)
اَے خدا تیرا وُہ گھر اَور دَر کیسا ہے ۔جہاں جَلوہ اَفروز ہوکر تو سب جانداروں کی سنبھال اَور نگہبانی کرتا ہے ۔جہاں بیشمار سازبجتے ہیں اور بیشمار بجانوالے ہیں ۔جہاں راگ اور راگنیاں گائی جاتی ہیں ۔ اور گانے والے ہیں ۔

گاۄنِ تُدھنو پۄنھُ پانھیِ بیَسنّترُ گاۄےَ راجا دھرمُ دُیارے ॥
گاۄنِ تُدھنو چِتُ گُپتُ لِکھِ جانھنِ لِکھِ لِکھِ دھرمُ بیِچارے ॥
(ترجمہ)
ہوا۔ آگ اَور پانی تیری ستائش کرتے ہیں۔ مُنصف الہّٰی تیرے دَڑ پر تیری حَمدّ و ثَناہّ کرتے ہیں۔ جاسوسی الہّٰی چتر کپت جو اعمال اِنسانی تحریر کرتے ہیں۔ جنکی تحریر پر تحقیق منصف الہّٰی کرتا ہےوہ بھی صفت صلاح تیرے کرتے ہیں۔

گاۄنِ تُدھنو ایِسرُ ب٘رہما دیۄیِ سوہنِ تیرے سدا سۄارے ॥
گاۄنِ تُدھنو اِنّد٘ر اِنّد٘راسنھِ بیَٹھے دیۄتِیا درِ نالے ॥
گاۄنِ تُدھنو سِدھ سمادھیِ انّدرِ گاۄنِ تُدھنو سادھ بیِچارے ॥
گاۄنِ تُدھنو جتیِ ستیِ سنّتوکھیِ گاۄنِ تُدھنو ۄیِر کرارے ॥
لَفظی مَطلّب
سدھ سمادتھی اندر۔ الہّٰی دھیان و توجہ میں ۔ خدارسیدہ پاکدامن ۔سادھ پاک اِنسان ۔ جتی ۔جنکی شہوت پر ضبط ہے۔ ستی ۔جنہوں نے سچ اَپنا رکھا ہے ۔سنتوکہی۔ صابر ۔ویرکرارے ۔ زبر دست ۔جنگجو بہادر۔
(ترجمہ)
پاکدامن عاشقان الہّٰی متوجہ ہوئے خدا میں تیری ہی حمد و ثناہ وہ کرتے ہیں۔جنکا ضبط ہے شہوت پر اور سچ پرست ۔ اور صابر بھی تیرے ہی گن گاتے ہیں۔ جنگجو اَور بہادر بھی صفت تیری ہی کرتے ہیں۔

گاۄنِ تُدھنو پنّڈِت پڑنِ رکھیِسُر جُگُ جُگُ ۄیدا نالے ॥
گاۄنِ تُدھنو موہنھیِیا منُ موہنِ سُرگُ مچھُ پئِیالے ॥
لَفظی مَطلّب
پھنڈت۔ عالم۔ رکھیسر۔رکھ ۔ ایسر ۔ عاشقان الہّٰی ۔موہنھیا ۔ دلربر دوشیزایں ۔ سرگ ۔جنت ۔ مچھ۔ یہ عالم ۔ پیالے ۔ پاتال
(ترجمہ)
گاتے ہیں پنڈت اَور رِشی بھی دیدوں کا پاٹھ جو کرتے ہیں گاتی ہیں حوریں جو دل کو خوب لبھاتی ہیں۔ چرخ۔ زمین پاتوں میں سَب گاتے ہیں۔ گاتے ہیں اڑسٹھ تیرٹھ بھی اَور ہیرے مول ۔ رتن بھی گاتے ہیں ۔گاتے نہیں جنگی بیر بہادر گاتے ہیں۔

گاۄنِ تُدھنو رتن اُپاۓ تیرے اٹھسٹھِ تیِرتھ نالے ॥
گاۄنِ تُدھنو جودھ مہابل سوُرا گاۄنِ تُدھنو کھانھیِ چارے ॥
گاۄنِ تُدھنو کھنّڈ منّڈل ب٘رہمنّڈا کرِ کرِ رکھے تیرے دھارے ॥
لَفظی مَطلّب
اُپائے ۔ پیدا کیے ۔ جودھ ۔ مہابل ۔ بھاری طاقتو ر بہادر ۔ سورا۔ جنگجو ۔ لڑائے ۔ کھنڈ ۔جز ۔منڈل ۔ سارئے طبق ۔ زمین آسمان سورج چاند وغیرہ ۔ برہمنڈ ۔ سارا عالم ۔
(ترجمہ)
اے خدا تمام رتن اُٹھ سٹھ تیرھتوں کے تیری صفت ضلاح کر رہے ہیں ۔بڑے بلوان ۔ طاقتور۔ جنگجو بہادر لڑاکےبھی اَور چاروں کانیں تیری صفت کر رہی ہیں۔تمام عالم زمین و آسمان ۔ چاند ۔ستارے سورج جو تو نے بنا ئے کار کہے نہیں تیری ستائش کرتے ہیں ۔

سیئیِ تُدھنو گاۄنِ جو تُدھُ بھاۄنِ رتے تیرے بھگت رسالے ॥
ہورِ کیتے تُدھنو گاۄنِ سے مےَ چِتِ ن آۄنِ نانکُ کِیا بیِچارے ॥
لَفظی مَطلّب
سوئی ۔ وہی ۔ تدہنو گاون ۔ گاتے ہیں تجھے ۔ دہی جنہیں تو چاہتا ہے۔ رتے تیرے بھگت رسالے ۔ جو تیرے پریم پیار میں لطف ۔ محسوس کر رہے ہیں۔لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ مے چت نہ آون ۔ جو میری یاداشت میں نہیں۔ کیاوچارے ۔ کیا خیال کر سکتا ہوں۔
(ترجمہ)
وہی انسان تیری صٖت صلاح کرتے ہیں ۔جو تیرے پیار کے دلدادہ اور تیرے پریم سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہی تجہے پیارے لگتے ہیں۔ اِسکے علاوہ بیشمار اے خدا تیری حمد و ثناہ کرتے ہیں۔ نانک اُن کی کیا وچارکر سکتا ہے ۔

سوئیِ سوئیِ سدا سچُ ساہِبُ ساچا ساچیِ نائیِ ॥
ہےَ بھیِ ہوسیِ جاءِ ن جاسیِ رچنا جِنِ رچائیِ ॥
لَفظی مَطلّب
سداسچ ۔ ایسا سچ جو ہمیشہ سچ ہے صدیو یو سچ ۔صاحب ساچا ۔ سچا مالک ۔ آقا ۔ساچی نائی ۔جسکی نامور شہرت ۔ عظمت سچی ہے ۔ہوسی ۔ہوگا ۔ مستقل نہیں ۔ہے بھی ۔ آج بھی ۔زمانہ حال میں ۔جائے نہ جاسی ۔ لافناہ ۔رچنا۔سازی گاری ۔رچائی ۔ پیدا کی ۔
(ترجمہ)
سچا ہے وہ مالک سچا اور صدیوں سچا ہے ۔نامور ی اَور عظمت اُسکی سچی ہے۔ آج بھی ہے ۔کل بھی ہوگی ۔ لافناہ ہے وہ جس نے یہ عالم کیا ہے پیدا ۔

رنّگیِ رنّگیِ بھاتیِ کرِ کرِ جِنسیِ مائِیا جِنِ اُپائیِ ॥
کرِ کرِ دیکھےَ کیِتا آپنھا جِءُ تِس دیِ ۄڈِیائیِ ॥
لَفظی مَطلّب
رنگی رنگی ۔ کئی رنگوں میں ۔ بھاتی ۔ کئی قسموں میں ۔ جنسی ۔ کئی تحفوں سے پیدا ہوئی ۔ مائیا ۔ دنیاوی دولت۔ جن اُپائی ۔ ۔جس نے پیدا کی ۔کر کر۔دیکیے ۔کیتا آپنا ۔ خود ہی پیدا کرکے خو د ہی نگہبانی کرتا ہے جیسے یہ اُسکی عظمت ہے ۔
(ترجمہ)
جس خدا نے اللہ تعالیٰ نے کئی رنگوں قسموں اور جنسوں میں یہ مائیا پیدا کی ہے وہ جیسے اُسکی رضا ہے ویسے ہی اُصکی سنبھال رہا ہے ۔

جو تِسُ بھاۄےَ سوئیِ کرسیِ پھِرِ ہُکمُ ن کرنھا جائیِ ॥
سو پاتِساہُ ساہا پتِساہِبُ نانک رہنھُ رجائیِ ॥੧॥
لَفظی مَطلّب
تس بھاوئے۔ جیسی اُسکی مرضی و رَضا ہے ۔جیسا اُسے اچھا لگتا ہے ۔کرسی ۔ کرتا ہے۔ حکم نہ کرنا جائی ۔ کوئی حکم نہیں کر سکتا۔ رہن رجائی ۔رضا میں رہتا ہے ۔
(ترجمہ)
جیسی اُسکی مرضی ہے جیسا وہ چاہتا ہے وہی کرتا ہے اُسے کوئی حکم کرنے والا نہیں وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے نانک اُسکی رضا کار ہے۔

آسا مہلا ੧॥
سُنھِ ۄڈا آکھےَ سبھُ کوءِ ॥
کیۄڈُ ۄڈا ڈیِٹھا ہوءِ ॥
کیِمتِ پاءِ ن کہِیا جاءِ ॥
کہنھےَ ۄالے تیرے رہے سماءِ ॥੧॥
ۄڈے میرے ساہِبا گہِر گنّبھیِرا گُنھیِ گہیِرا ॥
کوءِ ن جانھےَ تیرا کیتا کیۄڈُ چیِرا ॥੧॥ رہاءُ ॥
سبھِ سُرتیِ مِلِ سُرتِ کمائیِ ॥
سبھ کیِمتِ مِلِ کیِمتِ پائیِ ॥
گِیانیِ دھِیانیِ گُر گُرہائیِ ॥
کہنھُ ن جائیِ تیریِ تِلُ ۄڈِیائیِ ॥੨॥
سبھِ ست سبھِ تپ سبھِ چنّگِیائیِیا ॥
سِدھا پُرکھا کیِیا ۄڈِیائیِیا ॥
تُدھُ ۄِنھُ سِدھیِ کِنےَ ن پائیِیا ॥
کرمِ مِلےَ ناہیِ ٹھاکِ رہائیِیا ॥੩॥
آکھنھ ۄالا کِیا ۄیچارا ॥
سِپھتیِ بھرے تیرے بھنّڈارا ॥
جِسُ توُ دیہِ تِسےَ کِیا چارا ॥
نانک سچُ سۄارنھہارا ॥੪॥੨॥
لَفظی مَطلّب
سُن ۔ سنکے ۔اکھے ۔ کہتے ہیں۔ سب کوئے ۔ سارے ۔کہوڈ ۔وڈء بیٹھا ہوئے ۔ مگر تبھی کہہ سکتے ہیں۔کر کتنا بڑا ہے اگر دیکھا ہ ۔قیمت پائے ۔ مول ۔ نہیں پایا جا سکتا ۔رہے سمائے مدغم ہو گئے ۔ یکو ہو گیئے ۔گہر ۔ گہرے ۔گنبھیر ۔ سنجیدہ ۔ مستقل مزاج ۔ گنی گہیرا ۔ بہت وصفوں والا ۔چیرا۔ پاٹ ۔پھیلاؤ ۔ سب مل سب نے ویلے ۔ مرت کمائی ۔ ہوش و دھیان لگائیا ۔گیانی۔ عالم ۔دھیانی۔ دھیان لگانیوالا ۔ تل ذرہ بر ۔تہوڑی۔معمولی ۔ کرم۔ بخشش ۔رحمت عنایت ۔ٹھاک ۔ روک ۔ صفتی ۔ وصف ۔گن چائے ۔ زور ۔دل ۔ علاج۔
(ترجمہ)
ہر ایک سنکے کہہ دیتا ہے کہ تو بڑا ہے ۔ مگریہ تبھی بتائی جا سکتی ہے اگر تیرا دیدار کیا ہو۔ کہ تو کتنا بڑا ہے ۔نہ قیمت بتائی جا سکتی ہے ۔ نہ بتایا جا سکتا ہے ۔ سہنے والے تجھ میں ہیمل جاتے ہیں ۔اےبڑے آقا ۔ تو ایک گہرے سمندر کی مانند ہے ۔تو ایک سنجیدہ مستقل مزاج بھاری اوصاف کا مالک ہے ۔کوئی نہیں جانتا ۔ کہ تیرا کتنا پھیلاؤ ہے ۔رہاؤ ۔ سب ہوشمندوں نے مل کر خیال دوڑائے ۔ اور بہت سی کوششیں کیں۔ کہ کوئی ہستی تیرے برابر کی۔ ڈہونڈیں مگر کوئی بتائیا نہیں جا سکتا ۔مگر تیری عظمت کا ذرہ بھر بھی نہیں بتا سکے ۔ خواہ۔ دانشور ہو یا جوگی تیری عظمت کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکا۔ سب نیکیاں اور ساری بھلائیاں ۔خدارسدوں کی عظمتیں تیرے بغیر کس کو نہیں ملیں ۔ جب میسر ہوئی ہیں تو تیری رحمت و کرم و عنایت سے ہوئی ہیں ۔اوردیگر کوئی اس راستے میں حائل نہیں ہو سکا ۔اےخدا کوئی کیا بیان کر سکتا ہے تیرے خزانے اوصاف سے بھرے ہوئے ہیں جسے تو صفت صلاح بخشش کرتا ہے اُسکے راستے میں کوئی حائل نہیں ہو سکتا اور اے نانک سچ جو صدیوں اور دوامی ہے اُسے راہ راست پر آپ ہی ہے ۔

آسا مہلا ੧॥
آکھا جیِۄا ۄِسرےَ مرِ جاءُ ॥
آکھنھِ ائُکھا ساچا ناءُ ॥
ساچے نام کیِ لاگےَ بھوُکھ ॥
اُتُ بھوُکھےَ کھاءِ چلیِئہِ دوُکھ ॥੧॥
سو کِءُ ۄِسرےَ میریِ ماءِ ॥
ساچا ساہِبُ ساچےَ ناءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ساچے نام کیِ تِلُ ۄڈِیائیِ ॥
آکھِ تھکے کیِمتِ نہیِ پائیِ ॥
جے سبھِ مِلِ کےَ آکھنھ پاہِ ॥
ۄڈا ن ہوۄےَ گھاٹِ ن جاءِ ॥੨॥
نا اوہُ مرےَ ن ہوۄےَ سوگُ ॥
دیدا رہےَ ن چوُکےَ بھوگُ ॥
گُنھُ ایہو ہورُ ناہیِ کوءِ ॥
نا کو ہویا نا کو ہوءِ ॥੩॥
جیۄڈُ آپِ تیۄڈ تیریِ داتِ ॥
جِنِ دِنُ کرِ کےَ کیِتیِ راتِ ॥
کھسمُ ۄِسارہِ تے کمجاتِ ॥
نانک ناۄےَ باجھُ سناتِ ॥੪॥੩॥
لَفظی مَطلّب
آکھا ۔ صفت صلاح کرو ۔جیوا ۔ زندگی ملتی ہے۔ میرے ذہن میں روحانیت پیدا ہوئی ہے ۔ڈر خدا کو بھلانے سے روحانیت مٹنی ہے ۔آکھن اوکھا ۔ الہّٰی ریاض مشکل ہے ۔ساچا ناؤں سچے خدا کا نام ۔اُت بہو تحقیق و تحقیقت اُس بہوک سے ۔کھائے ۔کھانیے ۔چلیئے۔ وکہہ ۔عذاب مٹتے ہیں ۔ساچا صاحب۔ سچا مالک۔ ساچے نائے۔ سچا نام ۔رہاؤ ۔ تل ۔ذر اسی ۔آکھن پاہے ۔ کہنے کی کوشش کرتا ہے ۔ سوگ افسو س ۔چوکے ۔ بھو لتا نہیں۔ رکتا نہیں ۔ گن ایہو۔ یہی خوبی ہے۔ جیوڈ آپ ۔ جتنا خود بڑا ہے ۔ ۔یتوڈ ڈیتری دات ۔ اُتنی ہی ۔ تیری بخشش بڑی ہے۔ حضمو سازیہہ ۔ جو مالک کو بھولتا ہے ۔کمجات ۔ کمینہ۔ سنات ینچ ۔
(ترجمہ)
اِلہّٰی حمد و ثَناّہ سے ملتی ہے روحانی زندگی خدا کو بھلانا رُوحانی موت ہے۔ سچا نام کی ریاض مشکل ہے۔ سچے نام کی دل میں ۔ بہوک لگی ہوئی ہے ۔اُس بھوک جو الہّٰی نام کی ہے کھانیے سارے عذآب مٹ جاتے ہیں۔ اے ماں اُسے کہوں بہولوں ۔جو سچا مالک ہے اور اُسکا نام سچا ہے ۔رہاؤ اُس سچے نام کی ذرا بھر صفت صلاح ۔ کرکے تھک گئے۔ مگر کوئی اُسکی قیمت نہیں پسکتا ۔اگر سارے اِکھٹے ہوکر بیان کرنیکی سئی کریں ۔تا اُسکی عظمت کو بڑا نہیں کر سکتے ۔اور نہ عظمت گھٹتی ہے ۔نہ وہ ختم ہوتا ہے نہ اُسے افسوس ہے ۔رزق دیتا رہتا ہے رُکتا نہیں ۔یہی وصف ہے اُسکا کہ اُسکا کوئی ثانی نہیں نہ اَب تک ہوا ہے نہ ہوگا جتنا خود بڑا ہے اُتنی ہی بری بخشش ہے ۔جتنےدن اور رات بنائے ہیں جو مالک کو بھلاتا ہے کمینہ ہے نانک نام کے بغیر کمینہ نہیں

راگُ گوُجریِ مہلا ੪॥
ہرِ کے جن ستِگُر ستپُرکھا بِنءُ کرءُ گُر پاسِ ॥
ہم کیِرے کِرم ستِگُر سرنھائیِ کرِ دئِیا نامُ پرگاسِ ॥੧॥
میرے میِت گُردیۄ مو کءُ رام نامُ پرگاسِ ॥
گُرمتِ نامُ میرا پ٘ران سکھائیِ ہرِ کیِرتِ ہمریِ رہراسِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ہرِ جن کے ۄڈ بھاگ ۄڈیرے جِن ہرِ ہرِ سردھا ہرِ پِیاس ॥
ہرِ ہرِ نامُ مِلےَ ت٘رِپتاسہِ مِلِ سنّگتِ گُنھ پرگاسِ ॥੨॥
جِن ہرِ ہرِ ہرِ رسُ نامُ ن پائِیا تے بھاگہیِنھ جم پاسِ ॥
جو ستِگُر سرنھِ سنّگتِ نہیِ آۓ دھ٘رِگُ جیِۄے دھ٘رِگُ جیِۄاسِ ॥੩॥
جِن ہرِ جن ستِگُر سنّگتِ پائیِ تِن دھُرِ مستکِ لِکھِیا لِکھاسِ ॥
دھنُ دھنّنُ ستسنّگتِ جِتُ ہرِ رسُ پائِیا مِلِ جن نانک نامُ پرگاسِ ॥੪॥੪॥
لَفظی مَطلّب
ہرکے جن۔ الہّٰی خادم۔ ستگرو ۔ سچا مرشد ۔ست پرکھا ۔ سچا انسان ۔بنوؤ ۔ عرض گذار نا ۔ کیرے کرم ،کیڑے ۔ نا چیز ۔ ناتواں ۔رہر اس۔ زندگی کے سفر کا سرمایہ۔ رام نام پرگاس ۔ الہّٰی نام کا نور روشن کر۔ پران سکہائی ۔ زندگی کا ساتھی ۔ہرکیرتہمری رہراس ۔ الہّٰی صفت صلاح میری زندگی کے سفر کا سرمایہ ہے ۔رپتا رہاؤ سے ۔ تسکین ۔ تسلی ۔ دھرگ جہوے ۔ زندگی نعمت ہے مستک ۔ پیشانی۔ دکھاس ۔ مضمون ۔مل جن ۔ خادمان الہٰٗی سے ملاپ ۔
(ترجمہ)
اے الہّٰی خادم ۔ سچے مرشد سچے انسان میں مرشد سے عرض گذارتا ہوں۔ ہم ناتواں ۔ ناچیز سچے مرشد کی پناہ میں ہیں از راہ کرم و عنایت الہّٰی نام کی حق و حقیقت کی روشنی پیدا کیجئے ۔ناچیز تیری پناہ آئیا ہوں ۔اے میرے دوست مرشد مجھے الہّٰی نام کی روشنی ۔نور عنایت کر۔ سبق مرشد کے وسیلے سے ملا ہو نام زندگی کا ساتھی ہے۔ اورالہّٰی صٖت ضلاح میری زندگی کا سرمایہ ۔رہاؤ ۔ہرجن کے وڈ بھاگ وڈیرے۔ جن ہر ہر سردھا ہر پیاس۔ جب الہّٰی ۔ نام انہیں حاصل ہو جاتا ہے اُنکی خواہشات مٹ جاتی ہیں۔ پاکدامن ساتھیوں کی صحبت و قربت سے ملکر اوصاف پیدا ہوتے ہیں مگر جنہوں نے الہّٰی نام کا لطف نہیں لیا ۔وہ بدقسمت ہیں انہیں الہّٰی سپاہ کی سپردگی میں جانا پڑیگا ۔جنہوں نے سچے مرشد کی صحبت و قربت نہیں کی اُنکی زندگی لعنت ہے ۔اور اُن کا جینا بھی لعنت ہے جنہوں نے سچے مرشد کی صحبت وقربت حاصل ہوئی اُن کی پیشانی پر الہّٰی ۔ حضور سے درج ہے ۔آفرین ہے سچا ساتھ ۔ جسمیں الہّٰی نام کا لطف ملتا ہے ۔جہاں خادمان کے ملاپ سے دل میں الہّٰی نام بس جاتا ہے۔

راگُ گوُجریِ مہلا ੫॥
کاہے رے من چِتۄہِ اُدمُ جا آہرِ ہرِ جیِءُ پرِیا ॥
سیَل پتھر مہِ جنّت اُپاۓ تا کا رِجکُ آگےَ کرِ دھرِیا ॥੧॥
میرے مادھءُ جیِ ستسنّگتِ مِلے سُ ترِیا ॥
گُر پرسادِ پرم پدُ پائِیا سوُکے کاسٹ ہرِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
جننِ پِتا لوک سُت بنِتا کوءِ ن کِس کیِ دھرِیا ॥
سِرِ سِرِ رِجکُ سنّباہے ٹھاکُرُ کاہے من بھءُ کرِیا ॥੨॥
اوُڈے اوُڈِ آۄےَ سےَ کوسا تِسُ پاچھےَ بچرے چھرِیا ॥
تِن کۄنھُ کھلاۄےَ کۄنھُ چُگاۄےَ من مہِ سِمرنُ کرِیا ॥੩॥
سبھِ نِدھان دس اسٹ سِدھان ٹھاکُر کر تل دھرِیا ॥
جن نانک بلِ بلِ سد بلِ جائیِئےَ تیرا انّتُ ن پاراۄرِیا ॥੪॥੫॥
لَفظی مَطلّب
کاہے۔ کیوں ۔ چتو ہے ۔ کیوں سوچتا ہے ۔ کیوں شکل یا فکر محسوس کرتا ہے اسکے لئے اُوم ۔جہد ۔آہر ۔ تردد کرتا ہے اسمیں پڑا ہے ۔پتھر میں جاندار پیدا کئے ہیں۔ ان کا رزق بھی اُنکو پہنچاتا ہے ۔مادہوجی ۔ اے خدا۔ ست سنگت ۔ سچی صحبت۔ قربت۔ سوتریا۔ وہ کامیاب ہوا ۔گر پرساد۔ رحمت مرشد سے ۔پرم پد ۔ بلند رتبہ ۔سوکے کاسٹ ۔ سوکہی لکڑی ۔ہریا ۔ برَ ی ہو گئی ۔رہاؤ جنس۔ جننے والی ۔جنم دینے والی ۔ ماتا ۔سُت۔ بیٹا ۔بنتا ۔ زؤجہ ۔ بیوی ۔دھریا۔ آسرا ۔سنبا ہے۔ پہنچاتا ہے ۔سرسر ۔ہر ایک کو ۔اُوڑے ۔ اُرتی ہیں۔ سلئے ۔ سیتنکڑے ۔ تس پاچھے ۔ اُسکے پیچھے ۔ بچرتے ۔بچے ۔ چھریا۔ چہوڈ آئے ۔کون مچگاوے ۔ کون کھلاتا ہے ۔سمرن ۔دھیان ۔ یاد کرنا ۔ سب ندھان ۔ سارے خزانے ۔ دس اسٹ ۔ سدھان ۔ اَٹھاراں ۔ سدھیان ۔ کرمائی طاقتیں ۔ ٹھاکر کرتل دھریا۔ آقا کے ہاتھوں کی ہتھیلی پرہیں ۔ خادم نانک سو بار قربان ہے ۔ تیرا انت نہ پائے اوریا ۔ اے خدا تیرا شمار نہیں ہو سکتا تو لا محدود ہے ۔
(ترجمہ)
اے دل تو کیوں فکر مند ہے ۔ خدا خود اس کام میں لگا ہوا ہے جو جاندار پتھرؤں میں پیدا کیئے ہوئے ہیں اُنکے لئے رزق پہلے ہی مہیا کیا ہوا ہے۔ اے خدا جو انسان پاکدامن خدا رسیدوں کی صحبت و قربت کرتے ہیں ۔ وہ رحمت مرشد سے اس فکر و تردد سے بچ جاتے ہیں ۔رحمت مرشد سے اونچا رتبہ ملتا ہے اور سو کہا ہری ہو جاتا ہے ۔رہاؤ ۔ ماں باپ ۔ بیٹا کسی کو کسی کا سہار انہیں۔ اےدل تجہے کونسا خوف ہے پروردگار خدا نے خود ایک جاندار کو خود روزی دیتا ہے ۔سارس سینکڑوں میلو سے اڑ کر آتی ہے اور اپنے بچے پیچے چہوڑ آتی ہے ۔اُن کو کون کھلاتا ہے۔ کون چوگادیتا ہے ۔وہ اپنے بچوں کو دل میں یاد کرتی ہے ۔ سارے خزانے اور اٹھاراں کر ماتی طاقتیں اُس مالک کی ہاتھ کی ہتھیلی پر ہیں مراد اُسکے زیر احکام ہیں خادم نانک سو بار قربان ہے اُن پر اَے خا تیرے اعداد و شمار لا محدود ہیں۔۔

راگُ آسا مہلا ੪ سو پُرکھُ
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
سو پُرکھُ نِرنّجنُ ہرِ پُرکھُ نِرنّجنُ ہرِ اگما اگم اپارا ॥
سبھِ دھِیاۄہِ سبھِ دھِیاۄہِ تُدھُ جیِ ہرِ سچے سِرجنھہارا ॥
سبھِ جیِء تُمارے جیِ توُنّ جیِیا کا داتارا ॥
ہرِ دھِیاۄہُ سنّتہُ جیِ سبھِ دوُکھ ۄِسارنھہارا ॥
ہرِ آپے ٹھاکُرُ ہرِ آپے سیۄکُ جیِ کِیا نانک جنّت ۄِچارا ॥੧॥
لَفظی مَطلّب
سوپر کہہ ۔ نرنجن ۔ وہ پاک خدا جو تمام آلائشوں سے پاک ہے اور انسانی رسائی سے بالادست ہے ۔سب سبھ دھیادیہہ ۔جسکی سارے ریا ض کرتے ہیں۔ ہر سچے سرجنہار ۔ اَے سچے ساز گار ،کارساز ۔ہر آپے ٹھا کر آقا ہے ۔ آپے سیوک ۔ خود ہی خادم داتار، رازق وسارنہاد ۔ بھلا نیوالا ۔ جنت ۔ جاندار
(ترجمہ)
خدا۔ آلائش سے پاک بیداغ انسانی ۔ رسائی سے بالادست اَور لا محدود ہے۔ اے خدا سارے تجھ میں دھیان لگاتے ہیں ۔ اَے سچے سازندہ خدا سارے جاندار تیرے ہیں تو جانداروں کارازق ہے ۔سارے خدا رسیدہ پاکدامن تجھ میں دھیان لگاتے ہیں ۔تو سب کے عذآب مٹا نیوالا ہے ۔اَے خدا تو خود ہی آقا ہے خود ہی خادم ۔ عاجز نانک کیا ہے ۔۔
توُنّ گھٹ گھٹ انّترِ سرب نِرنّترِ جیِ ہرِ ایکو پُرکھُ سمانھا ॥
اِکِ داتے اِکِ بھیکھاریِ جیِ سبھِ تیرے چوج ۄِڈانھا ॥
توُنّ آپے داتا آپے بھُگتا جیِ ہءُ تُدھُ بِنُ اۄرُ ن جانھا ॥
توُنّ پارب٘رہمُ بیئنّتُ بیئنّتُ جیِ تیرے کِیا گُنھ آکھِ ۄکھانھا ॥
جو سیۄہِ جو سیۄہِ تُدھُ جیِ جنُ نانکُ تِن کُربانھا ॥੨॥
لَفظی مَطلّب
گھٹ گھٹ انتر ۔ ہر دل میں ۔سرب ۔سارے ۔نرنتر ۔ لگاتار باقفہ کے۔ داتے ۔ سخی ۔بھیکھاری ۔ بھیک مانگنے والے۔ وڈانھا۔ حیران ۔بھگتا ۔ استعمال کرنیوالا ۔دکھانا ۔ بیان کرنا ۔سویہہ ۔ یاد کرتے ہیں ۔ریاض کرتے ہیں ۔ تن ۔ پر ۔قربانا ۔ قربان جاتا ہو ں
(ترجمہ)
اَے خدا ۔ ہر دلمیں ہے تو۔ سب میں لگاتار۔ بس رہا تیرا ہی نور ہے۔ ایک سخی اور ۔ ایک بھکاری یہ تیرا ہی کھیل ہے ۔تو ہی سخاوت کرنیوالا ہے تو ہی استعمال میں لاتا ہے۔ میں تیرے بغیر کسی کا محتاج نہیں ۔تو کامیابی ۔ بخشنے والا اعداد و شمار سے بلند ۔تیرے کون کونسے اوَصاف بیان کروں۔ جو تیری خدمت کرتے ہیں خدمتگار ہیں ۔خادم ہیں نانک اُن پر قربان ہے

ہرِ دھِیاۄہِ ہرِ دھِیاۄہِ تُدھُ جیِ سے جن جُگ مہِ سُکھۄاسیِ ॥
سے مُکتُ سے مُکتُ بھۓ جِن ہرِ دھِیائِیا جیِ تِن توُٹیِ جم کیِ پھاسیِ ॥
جِن نِربھءُ جِن ہرِ نِربھءُ دھِیائِیا جیِ تِن کا بھءُ سبھُ گۄاسیِ ॥
جِن سیۄِیا جِن سیۄِیا میرا ہرِ جیِ تے ہرِ ہرِ روُپِ سماسیِ ॥
سے دھنّنُ سے دھنّنُ جِن ہرِ دھِیائِیا جیِ جنُ نانکُ تِن بلِ جاسیِ ॥੩॥
لَفظی مَطلّب
جگ منہہ۔ زندگی میں ۔ سکہہ داسی ۔ سکہہ بستے ہیں۔ مکت ۔ نجات ۔تن توٹی جسم کی پھاسی ۔ جسم کا پھندہ ٹوٹ گیا ۔لزبھؤ بیخوف ۔گواسی۔ چلا گیا ۔ دور ہوا جن سیویاجنے خدمت کی ۔یادکیا ہرجی ۔ خدا ۔ہر روپ۔ سماسی ۔ اُس میں مل گئے۔ یکسوئی پائی ، بل جاسی ۔ قربانی ہوں۔
(ترجمہ)
اَے خدا جو تیری ریاض کرتے ہیں وہ ۔ زندگی میں سکہہ آرام پاتے ہیں وہ جو تجھ میں دھیان جماتے ہیں دنیاوی بندشوں ۔ سے نجات پاے ہیں وہ یاد کیا جنہوں نے خدا ۔ موت کا پھندہ ٹوٹ گیا ۔جنہوں نے بیخوف ۔ خدا میں دھیان لگایا تن کا خوف مٹا۔ جسنےکی خدا کی خدمت الہّٰی روپ ہوئے ۔ یکسو ہوئے خوش قسمت ہیں وہ کی ریاض خدا کی نانک قربا ن ہے اُن پر۔

تیریِ بھگتِ تیریِ بھگتِ بھنّڈار جیِ بھرے بِئنّت بیئنّتا ॥
تیرے بھگت تیرے بھگت سلاہنِ تُدھُ جیِ ہرِ انِک انیک اننّتا ॥
تیریِ انِک تیریِ انِک کرہِ ہرِ پوُجا جیِ تپُ تاپہِ جپہِ بیئنّتا ॥
تیرے انیک تیرے انیک پڑہِ بہُ سِم٘رِتِ ساست جیِ کرِ کِرِیا کھٹُ کرم کرنّتا ॥
سے بھگت سے بھگت بھلے جن نانک جیِ جو بھاۄہِ میرے ہرِ بھگۄنّتا ॥੪॥
لَفظی مَطلّب
بھکت بھنڈار ۔ بھگتی کے خزانے ۔بے انت ۔بیشمار ۔ تپ ۔ تپسیا ۔ سمت ہندو مذہب کی کیتا ہیں ۔کریا ۔ مذہبی رسم ۔کھٹ کم کرم چھ مذہبی فرض۔ بھاویہہ ۔ جو چاہتا ہے
(ترجمہ)
اَے خدا تیری بھگتی کے بیشمار خزانے بھرے ۔ ہوئے ہیں اور بیشمار تیری صفت صلاح کر ۔ رہے ہیں بیشمار تیری پرستش کر رہے ہیں ۔بیشمار سحرتیاں پڑھ رہےہیں۔ اور چھ مذہبی فرائض سر انجام دے رہے ہیں مگر وہی اچھے نہیں (جنکو) جو خدا کو پیارے ہیں ۔نانک

توُنّ آدِ پُرکھُ اپرنّپرُ کرتا جیِ تُدھُ جیۄڈُ اۄرُ ن کوئیِ ॥
توُنّ جُگُ جُگُ ایکو سدا سدا توُنّ ایکو جیِ توُنّ نِہچلُ کرتا سوئیِ ॥
تُدھُ آپے بھاۄےَ سوئیِ ۄرتےَ جیِ توُنّ آپے کرہِ سُ ہوئیِ ॥
تُدھُ آپے س٘رِسٹِ سبھ اُپائیِ جیِ تُدھُ آپے سِرجِ سبھ گوئیِ ॥
جنُ نانکُ گُنھ گاۄےَ کرتے کے جیِ جو سبھسےَ کا جانھوئیِ ॥੫॥੧॥
لَفظی مَطلّب
آد ۔ پہلا ۔ اپرنپر ۔ لا محدود ۔تدھ جیوڈ تیرے جتنا بڑا۔ تیرے برابر ۔جُگ جُگ ایکو ۔ ہر وقت واحد۔ نہچل ۔قائم دائم ۔کرتا ۔کرتار ۔بھاوے ۔چاہتا ہے۔ سوئی ورتے ۔وہی ہوتا ہے ۔اُپائی۔ پیدا کی ۔گوئی ۔ مٹائی ۔جانوئی ۔ جاننے والا
(ترجمہ)
اَلے خدا تو سارے عالم کی بنیاد اور سب سے ۔ پہلا ہے اور سب میں بستا ہے۔ سب کو پیدا کرنیوالا ہے۔ جو توچاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔ ۔جو تو کرتا ہے وہی ہوتا ہے۔ تو ہمیشہ قائم و دائم ہے تو نے سارے عالم کو پیدا کیا ہے۔ اور پیدا کرکے مٹاتا ہے۔ خادم نانک اُسکی صفت صلاح کرتا ہے ۔ جو سب کو جاننے والا ہے۔

آسا مہلا ੪॥
توُنّ کرتا سچِیارُ میَڈا ساںئیِ ॥
جو تءُ بھاۄےَ سوئیِ تھیِسیِ جو توُنّ دیہِ سوئیِ ہءُ پائیِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سبھ تیریِ توُنّ سبھنیِ دھِیائِیا ॥
جِس نو ک٘رِپا کرہِ تِنِ نام رتنُ پائِیا ॥
گُرمُکھِ لادھا منمُکھِ گۄائِیا ॥
تُدھُ آپِ ۄِچھوڑِیا آپِ مِلائِیا ॥੧॥
توُنّ دریِیاءُ سبھ تُجھ ہیِ ماہِ ॥
تُجھ بِنُ دوُجا کوئیِ ناہِ ॥
جیِء جنّت سبھِ تیرا کھیلُ ॥
ۄِجوگِ مِلِ ۄِچھُڑِیا سنّجوگیِ میلُ ॥੨॥
جِس نو توُ جانھائِہِ سوئیِ جنُ جانھےَ ॥
ہرِ گُنھ سد ہیِ آکھِ ۄکھانھےَ ॥
جِنِ ہرِ سیۄِیا تِنِ سُکھُ پائِیا ॥
سہجے ہیِ ہرِ نامِ سمائِیا ॥੩॥
توُ آپے کرتا تیرا کیِیا سبھُ ہوءِ ॥
تُدھُ بِنُ دوُجا اۄرُ ن کوءِ ॥
توُ کرِ کرِ ۄیکھہِ جانھہِ سوءِ ॥
جن نانک گُرمُکھِ پرگٹُ ہوءِ ॥੪॥੨॥
لَفظی مَطلّب
سچیار ۔ سچے اخلاق والا ۔مینڈا ۔ میرا سانس۔ آقا ۔مالک ۔توؤ۔ تجہے ۔ بھاوے جسے تو پسند کرتا ہے۔ سوئی ۔ وہی۔ بھستی وہی ہوگا ۔ہوں پائی ۔ میں حاصل کی ۔ رہاؤ ۔گورمکہہ لادھا ۔ مرید مرشد نے نفع کمایا۔ منکہہ ۔ خود پسند۔ گوائیا ۔ نقصان اُٹھائیا ۔ آپ نے جدا کیا۔ و چہوڑ یا۔ جدا کیا تو دریاؤ ۔ تو سمندر ہے۔ وہ جو گ جدائی ۔ سنجوگی میل۔قسمت سے ملاپ جانا ۔ سمجائے سہجے۔ قدرتی روحانی سکون ۔گورمکہہ ۔ مرید مرشد ۔
(ترجمہ)
اَے خدا تو کرتا ہے ۔خوش اِخلاق ہے ۔میرا آقا ہے جو تو چاہتا ہےو ہی ہوتا ہے ۔جو تو دیتا ہے وہی میں پاتا ہوں ۔رہاؤ ۔سارا عالم تیرا ہے۔ سب تجھ میں دھیان لگاتے ہیں۔ جس پر ہو کرم عنایت تیری ہیرے جیسا نام وہ پاتا ہے ۔مرید مرشد ۔ نے فائدہ اُٹھایا اور خودی پسند نے گنوائیا اَے خدا تو خو د ہی جدا کرتا ہے اور خود ہی ملاتا ہے ۔اَے خدا تو سمندر کی مانند ہے اور سارے عالم کے جاندار تیرے اُندر بس رہے ہیں ۔تیرے بغیر دوسرا تیرا کوئی ثانی نہیں ۔یہ جاندار تیرا ایک کھیل ہے۔ اے خدا تو ہی جدائی دیتا ہے اور تو ہی ملاتا ہے یہ اعمال و بخشش تیری ہے۔ اے خدا جسے تو سمجھ و علم عنایت کرتا ہے وہی سمجھتا ہے وہ ہمیشہ تیری صفت صلاح کرتا ہے۔ جنے خدا کی خدمت کی ریاض کی آسائش و آرام پائیا ۔اُور روحانی سکون میں رہ کر نام میں دھیان لگائیا ۔تو آپ ہی بنانے والا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے تیرا کیا ہو رہا ہے ۔تیرے بغیر کوئی دوسرا نہیں ہے ۔تو خود ہی کرکے نگاہ پانی کرتا ہے ۔ خادم نانک مرید مرشد کے وسیلے سے ظہور پذیر ہوتا ہے (صفہ نمبر ۔۔-۔2)

آسا مہلا ੧॥
تِتُ سرۄرڑےَ بھئیِلے نِۄاسا پانھیِ پاۄکُ تِنہِ کیِیا ॥
پنّکجُ موہ پگُ نہیِ چالےَ ہم دیکھا تہ ڈوُبیِئلے ॥੧॥
من ایکُ ن چیتسِ موُڑ منا ॥
ہرِ بِسرت تیرے گُنھ گلِیا ॥੧॥ رہاءُ ॥
نا ہءُ جتیِ ستیِ نہیِ پڑِیا موُرکھ مُگدھا جنمُ بھئِیا ॥
پ٘رنھۄتِ نانک تِن کیِ سرنھا جِن توُ ناہیِ ۄیِسرِیا ॥੨॥੩॥
لَفظی مَطلّب
تتُ ۔ تس ۔سرور ۔ تالاب ۔سرورڑ ۔ خوفناک تالا ب ۔بھیلے نواسا ۔ ٹھکانہ ہے۔ پاوک ۔ آگ ۔پنکج۔ کیچڑ ۔ موہ ۔ محبت۔ پگ ۔ پاؤں ۔ ہم ویکھا تہ ڈؤیئلے ۔ ہمارے دیکھتے اُسمیں ڈوب گئے۔ چیتس ۔ یاد کرنا۔ موڑھ منا ۔ جاہل من ۔ہر بسرت خدا کو بھلا کر ۔تیرےگنُ گالیا ۔تیرے اوصاف ختم ہو رہے ہیں۔ ہوں ۔ میں۔ جتی ۔ جسکا شہوت پر ضبط ہے۔ ستی ۔ سچیار ۔ بلند اخلاق ۔ سچے اخلاق والا۔ مگدیا۔مورکہہ جنم ۔ زندگی ۔پرنوت عرض گذارتا ہوں۔
(ترجمہ)
اَے بھائی ہم اُس خوفناک سمندر میں رہتے ہیں جس میں پانی کی بجائے آگ ہے (خواہشات کی آگ ہے )( اور محبت کا کیچڑ ہے) اِس کیچڑ میں پاؤں چلنے سے قاصر ہیں ۔ہمارے دیکھتے دیکھتے اِس کیچڑ میں ڈوبتے دیکھا ہے ۔اَے جاہل من تو واحد خدا کو یاد نہیں کر رہا ۔خدا کو بھول کر تیرے اوصاف مٹ جائیں گے۔
اَے خدا نہ میرا شہوت پر قابو ہے ۔نہ میں حسن اخلاق نیک انسان نہ عالم۔ بھاری جہالت میں زندگی بر اوقات ہو رہی ہے ۔زندگی ضائع جا رہی ہے ۔نانک عرض گذارتا ہے ۔ کہ مجھے اُنکی پناہ ویجیئے جوتجھے بھلاتے نہیں ہیں۔

آسا مہلا ੫॥
بھئیِ پراپتِ مانُکھ دیہُریِیا ॥
گوبِنّد مِلنھ کیِ اِہ تیریِ بریِیا ॥
اۄرِ کاج تیرےَ کِتےَ ن کام ॥
مِلُ سادھسنّگتِ بھجُ کیۄل نام ॥੧॥
سرنّجامِ لاگُ بھۄجل ترن کےَ ॥
جنمُ ب٘رِتھا جات رنّگِ مائِیا کےَ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جپُ تپُ سنّجمُ دھرمُ ن کمائِیا ॥
سیۄا سادھ ن جانِیا ہرِ رائِیا ॥
کہُ نانک ہم نیِچ کرنّما ॥
سرنھِ پرے کیِ راکھہُ سرما ॥੨॥੪॥
لَفظی مَطلّب
بھئی پراپت ۔ حاصل ہوئی ۔مانکہہ دیہہ یا ۔ یہ انسانی خوبصورت جسم ۔بریا ۔ موقعہ ۔ اَوّر ۔ دوسرے۔ بھج ۔ یاد کر ۔سادتھ سنگت ۔ خدا رسیدہ ۔ پاکدامن کی صحبت و قربت ۔سرانجام ۔ مہان کوشش کے صفحہ نمبر ۔70 کے مطابق (ترجمہ) کرنے کا سامان برتھا ۔ بیفائدہ ۔رنگ مائیا ۔ دولت کی محبت ہیں۔ سنجم ۔ ضبط ۔ قابو ۔دھرم ۔فرض۔ سیوا سادھ ۔ خدمت پاکدامن ۔ہررائیا اَے خدا ۔ بنچ کرنما ۔ بد اعمال ۔ سر انجام ۔ انتظام
ترجمہ:
اَے انسان تجہے یہ انسانی جسم ملا ہے ۔اَورخدا سے ملاپ کا یہی موقعہ ہے ۔دوسرے کام تیرے کسی کام نہیں لہذا پاکدامن خدا رسیدہ انسانوں کی صحبت و قربت ہیں نام الہّٰی یاد کر اس خوفناک دنیاوی سمندر سے پار ہونیکے لئے کام کر۔ اور پار ہونیکا۔ سامان بنا ۔دنیاوی دولت کی محبت میں زندگی بیکار چلتی جاتی ہے ۔نہ ریاض کی نہ تپسیا ۔ نہ ضبط ۔ نہ فرض ، انسانی پورا کیا نہ خڈمت پاکدامن نہ خدا کی اہمیت کو سمجھا۔ اے نانک بتا۔ دے کہ ہم بداعمال ہیں مگر پناہ آئے ہوئے کی عزت رکھ ۔۔

سوہِلا راگُ گئُڑیِ دیِپکیِ مہلا ੧
ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
جےَ گھرِ کیِرتِ آکھیِئےَ کرتے کا ہوءِ بیِچارو ॥
تِتُ گھرِ گاۄہُ سوہِلا سِۄرِہُ سِرجنھہارو ॥੧॥
تُم گاۄہُ میرے نِربھءُ کا سوہِلا ॥
ہءُ ۄاریِ جِتُ سوہِلےَ سدا سُکھُ ہوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
نِت نِت جیِئڑے سمالیِئنِ دیکھیَگا دیۄنھہارُ ॥
تیرے دانےَ کیِمتِ نا پۄےَ تِسُ داتے کۄنھُ سُمارُ ॥੨॥
سنّبتِ ساہا لِکھِیا مِلِ کرِ پاۄہُ تیلُ ॥
دیہُ سجنھ اسیِسڑیِیا جِءُ ہوۄےَ ساہِب سِءُ میلُ ॥੩॥
گھرِ گھرِ ایہو پاہُچا سدڑے نِت پۄنّنِ ॥
سدنھہارا سِمریِئےَ نانک سے دِہ آۄنّنِ ॥੪॥੧॥
لَفظی مَطلّب
جے گھَرّ ۔ جِس گھر میں ۔کیرت ۔ صفت ، صلاح ۔کھیئے ۔ کہی جاتی ہے ۔ تت گھر ۔ اُس گھر میں۔ سوہلا ۔ خوش نما گانا ۔ خوش بیانی ۔ ہوں واری ۔ میں قربانی ہوں ۔جت سویلے ۔ جس گانیے ۔ تقویت۔ برکت ملے ۔ تت تت ۔ ہر روز۔ سمائین ۔نگرنی کرتا ۔ سنبھالتا ہے ۔دیکھیگا۔ نگرانی کریگا۔ نگہبان ہوگا ۔دانے قیمت ۔ دادنی ۔ دات کی قیمت ۔سمار ۔ اندازہ ۔سنبھت ۔ سال ۔سجن ۔ دؤست ۔اسیٹریاں۔ برکتیں ۔ عنایت کیجئے ۔پاہچا ۔ پیغام ۔سدڑے۔ آواز یں ۔پون ۔ پڑتی ہیں۔ آؤن۔ آتے ہیں ۔
ترجمہ:
جس گھر میں الہّٰی صفت صلاح ہوتی ہے ۔اَور خدا وندکریم قادَر کی اَور اِسکے اَوصّاف کی وِچاّر اَور خیال آرائی ہوتی ہے اُس گھر میں الہّٰی صٖت صلاح کے گیت اُس ۔ کار ساز ۔ سازندہ کی صفت کے گیت گاؤ ۔تو میرے بیخوف خدا کی ستائش کے ۔ گیت گا ۔قربان جاؤں اُس صفت صلاح ۔ پر جس سے سُکہہ مِلتا ہے ۔روز و شَب ۔ ہر روز خُدا جاندارو سَنّبھاّل کرَتا ہے اَور داتار نگرانی کرتا ہے ۔اَے میری جان تو اُس داتار کی ۔ دات کی قیمت اَدانہیں کر سکتا نہ اُسکی قیمت تجہے معلوم ہے ۔اُس داتار کا شمار نہیں ہو سکتا ۔وہ سال مہینہ معین ہے ۔تحریر ہےیعنی الہّٰی دربار میں پیشی مقدر ہے ۔لہذا اُسکے لئے تیاری کرؤ ۔اکھٹے ہوکر اَ ے دوستوں مجھے مُبارک باد کہو کہ میرا آقا سے ملاپ ہو جائے ۔ہر گھر پر روز آوازیں ۔ قاصد اَور پیغام بھیجتا ہے یاد رکھنا چاہیے۔ اے نانک وہ دن نزدیک آرہا ہے ۔۔

راگُ آسا مہلا ੧॥
چھِء گھر چھِء گُر چھِء اُپدیس ॥
گُرُ گُرُ ایکو ۄیس انیک ॥੧॥
بابا جےَ گھرِ کرتے کیِرتِ ہوءِ ॥
سو گھرُ راکھُ ۄڈائیِ توءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
ۄِسُۓ چسِیا گھڑیِیا پہرا تھِتیِ ۄاریِ ماہُ ہویا ॥
سوُرجُ ایکو رُتِ انیک ॥
نانک کرتے کے کیتے ۄیس ॥੨॥੨॥
لَفظی مَطلّب
چھ گھر ۔ چھ شاشتر۔ چھ گر ۔ چھ مرشد ۔مکھاری ۔ چھ اُپدیش سدھانت فلسفہ ۔ مگر مرشد واحد خد ا۔ چھ شاشتر ۔ سانکہہ نیائے ۔وشیشک ۔ یوگ ۔ میحاس میحنا و ویدانت ۔ لیکھک۔ کپل ۔ گوم ۔ گناد ۔ پاتخجلی ۔ جیمتی ۔ ویاص ۔بابا۔ اَے بھائ ۔ بے گھر جس گھر میں۔ کرتے ۔ کرتار۔ سازندہ ۔کارساز کیرت ۔ صٖت صلاح۔ راکہہ ۔ سنبھال۔ وڈائی ۔ عظمت
ترجمہ:
اَے بھائی ۔ چھ شاشتر یں ۔ چھ ہی لکھاری ۔ مُرشد اَور چھ ہی سدھانت اَور فلسفے ہیں۔ مگر سب کا خدا ایک ہے جبکہ شکایتیں۔جداجدا ۔اَے بھائی جس گھر میں جس دلمییں تیری صفت صلاح وستائش ہوتی ہے اور قلب جو تیری صفت صلاح کرتا ہے اُسکی حفاظت و پنا ہ تیری عظمت ہے ۔جیسے ویسا۔ گھڑیاں ۔ پہر ۔ بھتی ۔وار مہینے ہیں اَور سوج ایک ہے اور موسم بہت سے ہیں۔ اَے نانک ۔ قادر ۔ کرتار تو ایک ہی ہے ۔مگر عقائد ۔ اَور طرز اطاعت و بندگی اَور پرستش وحَمد و ثناہ کے طریقے مخلف ہیں۔
چھ گھر ۔ چھ شتر۔ چھ گر ۔ چھ مرشد ۔مکھاری

راگُ دھناسریِ مہلا ੧॥
گگن مےَ تھالُ رۄِ چنّدُ دیِپک بنے تارِکا منّڈل جنک موتیِ ॥
دھوُپُ ملیانلو پۄنھُ چۄرو کرے سگل بنراءِ پھوُلنّت جوتیِ ॥੧॥
کیَسیِ آرتیِ ہوءِ ॥
بھۄ کھنّڈنا تیریِ آرتیِ ॥
انہتا سبد ۄاجنّت بھیریِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سہس تۄ نیَن نن نیَن ہہِ توہِ کءُ سہس موُرتِ ننا ایک تد਼ہیِ ॥
سہس پد بِمل نن ایک پد گنّدھ بِنُ سہس تۄ گنّدھ اِۄ چلت موہیِ ॥੨॥
سبھ مہِ جوتِ جوتِ ہےَ سوءِ ॥
تِس دےَ چاننھِ سبھ مہِ چاننھُ ہوءِ ॥
گُر ساکھیِ جوتِ پرگٹُ ہوءِ ॥
جو تِسُ بھاۄےَ سُ آرتیِ ہوءِ ॥੩॥
ہرِ چرنھ کۄل مکرنّد لوبھِت منو اندِند਼ موہِ آہیِ پِیاسا ॥
ک٘رِپا جلُ دیہِ نانک سارِنّگ کءُ ہوءِ جا تے تیرےَ ناءِ ۄاسا ॥੪॥੩॥
لفظی ترجمہ :
گگن ۔ آسمان ۔رو ۔ سورج ۔دیپک ۔ چراغ ۔ملیان لو ۔ مکہہ پہاڑوں سے آتی ہوا ئیں ۔پون چورو کرئے ۔ ہوا خدا کو پنکہا جہو لتی ہے ۔سگاں۔ ساری ۔بنرائے ۔ ساری بناسپتی ۔پھولنت جوتی ۔ پھولوں کی جوت ہے ۔سہس ۔ ہزاروں ۔ تو تیرے نین ۔ آنکہیں ۔ نن۔ نہیں ۔تو ہے کوؤ۔ تیرے لئے ۔مورت ۔ شکل ۔پد ۔ پاؤں ۔بمل ۔ پاک ۔تس دے چانن ۔ اُسکے غور سے ۔ساکہی ۔ سبق ۔گواہ ۔ کمرند ۔ پھولوں کارس ۔ سارنگ ۔ پّپیا ۔ تیرے نائے ۔ تیرے نام میں ۔واسا ۔ بستا ہے
ترجمہ:
آسمان کو ایک تھال سمجہو ۔ اِس تھال میں سور ج اور چاند ۔ دو چراغ ۔ ستاروں کا جھرمٹ ۔ اِسمیں موتیو ں کی مانند ۔ چندن ۔ پُھولوں سے لائے مکہہ پہاڑوں سے گذر کر آتی ہوئی ہوا ہیں۔ جو خوشبوں سے بھری ہوتی ہیں خدا کے لئے دھوپ اور جنگل پھول اَور الہّٰی جوت ہیں ۔اَے نجاد دہندہ ۔ خَوف دُور کرَنیوالےخدائیا ۔اِس قدرت قائنات میں تیری کیسی آرتی ۔ حمدو ثنا ہ ہو رہی ہے اَور نہ روکنے والے ساز روحانی شہنائیاں بج رہی ہیں۔ بج رہے ہیں ۔ اَے خدا تیرے ہزاروں آنکھیں ہیں تاہم ایک بھی نہ ہوتے ہوئے ۔ کیونکہ سب آنکہوں میں تیر غور ہہے۔ اسلئے تو ہزاروں لاکھوں آنکہوں والا ہے ۔مگر بلا آکار ہونیکی وجہ سے ایک بھی آنکہہ نہیں ۔لاکہوں شکلوں کے ہوتے ہوئے ایک بھی نہیں ۔لاکہوں پاؤں ہونے کے باوجود تیرا ایک ناکت ہوتے ہوئے ایک بھی ناک نہیں۔ سب تجھ میں ہے نور الہّٰی اَور اُسی کے نور سے منور ہیں سَب جاندار ۔مگر اِس نور کا علم اور سمجھ مرشد کے وسیلے اور سبق سے پتہ چلتا ہے ۔کہ ہر ایک میں الہّٰی نور ہے ۔جو رضائے الہّٰی میں ہو رہا ہے۔ وہی اُسکی آرتی ہے اے خدا تیرے پھولوں کی مانند پاک ۔ پاؤں کے لطف اَور دھول کا میرے دلمیں لالچ ہے ۔اور اسکی میرے دل میں بھول ہے ۔از راہ کرم و عنایت نانک پپیہے کو وہ آسمانی الہّٰی بوند ویجیئے تاکہ تیرے نام میں بس جاؤں ۔

راگُ گئُڑیِ پوُربیِ مہلا ੪॥
کامِ کرودھِ نگرُ بہُ بھرِیا مِلِ سادھوُ کھنّڈل کھنّڈا ہے ॥
پوُربِ لِکھت لِکھے گُرُ پائِیا منِ ہرِ لِۄ منّڈل منّڈا ہے ॥੧॥
کرِ سادھوُ انّجُلیِ پُنُ ۄڈا ہے ॥
کرِ ڈنّڈئُت پُنُ ۄڈا ہے ॥੧॥ رہاءُ ॥
ساکت ہرِ رس سادُ ن جانھِیا تِن انّترِ ہئُمےَ کنّڈا ہے ॥
جِءُ جِءُ چلہِ چُبھےَ دُکھُ پاۄہِ جمکالُ سہہِ سِرِ ڈنّڈا ہے ॥੨॥
ہرِ جن ہرِ ہرِ نامِ سمانھے دُکھُ جنم مرنھ بھۄ کھنّڈا ہے ॥
ابِناسیِ پُرکھُ پائِیا پرمیسرُ بہُ سوبھ کھنّڈ ب٘رہمنّڈا ہے ॥੩॥
ہم گریِب مسکیِن پ٘ربھ تیرے ہرِ راکھُ راکھُ ۄڈ ۄڈا ہے ॥
جن نانک نامُ ادھارُ ٹیک ہےَ ہرِ نامے ہیِ سُکھُ منّڈا ہے ॥੪॥੪॥
لفظی معنی
کام ۔شہوت ۔گرؤدھ۔ غُصّہ ۔نگر ۔ جسم ۔ بدن ۔ مل ۔ مل کر ۔سادہو ۔ وُہ جو دُنیاوی آلائش سے پاک ۔کھنڈل ہے ۔ اسے ہوکے ۔ ملاپ سے پاک کیا جاسکتا ہے ۔پورب لکھت ۔ پہلے سے تحریر ۔گرپائیا ۔ مرشد۔ ملا۔ من ہر عو۔ دل الہّٰی پیار۔ منڈل منڈا ۔ مشغول ہوا ۔انجلی ۔ ہاتھ جوڑ کر سجدہ کرتا ۔پن۔ ثواب ۔ڈنڈوت ۔ لیٹ کر سجدہ کرنا ۔ساکت ۔ مادہ پرست ۔ منکر ۔منافق ساد ۔ لطف ۔مزہ تن انتر ۔ اُنکے دل میں ۔ چلیہہ ۔ چلتے ہیں ۔چُبھے ۔دَرد کرَتا ہے ۔جمکال ۔ رُوحانی موت ۔سر سر پر ۔ کھنڈ برہمنڈ ۔ سارے عالم کا حصہ۔ مسکین ۔ عاجز ۔مجبور ۔راکہہ۔ بچاؤ ۔ آدھار ۔ اسرا ۔منڈئے ۔ ملیا
ترجمہ:
اِنسانی جسم شہو ت اور غصہ سے بھرا ہوا ہے ۔اِسے سادہو کے ملاپ سے زائل کیا جاسکتا ہے ۔اًعمالنامے کی تحریر کیمطابق مرشد ملتا ہے ۔تو دل الہّٰی پیار میں محو ہوجاتا ہے۔ سادہو کے آگے ہاتھ جوڑنا یا باندھنا بھاری ثواب ہے ۔اَور اُسکے آگے لیٹ کر سجدہ یا پرنام کرنا بھاری ثواب ہے ۔مادہ پرست و مُنکر و منافق الہّٰی لطف اور مزہ نہیں سمجھتا اُسکے دلمیں خودی کا کانٹا ہے ۔وہ کانٹا جیسے جیسے چلاتا ہے ویسے ویسے چبھتا ہے ۔انسان عذآب پاتا ہے ۔اَور روحانی موت کا ڈنڈا سیر پر سہار تا ہے ۔الہّٰی خادم اِلہّٰی نام سچ ۔بحق وحقیقت میں محو ہیں عذآب تناسخ اِسطرح مٹ جاتا ہے ۔لافناہ خدا سے ملاپ حاصل ہوتا ہے ۔اُنہوں کی شہرت سارے عالم میں پھیل جاتی ہے۔ اَے خدا ہم عاجز ۔لاچار ۔ مجبور تیرے ہیں تو سب سے بڑا مدد گار ہے ہماری حفاظت کیجیئے ۔ آپ بلند عظمت ہو۔ خادم نانک کونا م کا سچ ۔ حق وحقیقت کا سہار ہے آسر ہے اور تیرے نام میں محویت سے سکہہ ملتا ہے ۔

راگُ گئُڑیِ پوُربیِ مہلا ੫॥
کرءُ بیننّتیِ سُنھہُ میرے میِتا سنّت ٹہل کیِ بیلا ॥
ایِہا کھاٹِ چلہُ ہرِ لاہا آگےَ بسنُ سُہیلا ॥੧॥
ائُدھ گھٹےَ دِنسُ ریَنھارے ॥
من گُر مِلِ کاج سۄارے ॥੧॥ رہاءُ ॥
اِہُ سنّسارُ بِکارُ سنّسے مہِ ترِئو ب٘رہم گِیانیِ ॥
جِسہِ جگاءِ پیِیاۄےَ اِہُ رسُ اکتھ کتھا تِنِ جانیِ ॥੨॥
جا کءُ آۓ سوئیِ بِہاجھہُ ہرِ گُر تے منہِ بسیرا ॥
نِج گھرِ مہلُ پاۄہُ سُکھ سہجے بہُرِ ن ہوئِگو پھیرا ॥੩॥
انّترجامیِ پُرکھ بِدھاتے سردھا من کیِ پوُرے ॥
نانک داسُ اِہےَ سُکھُ ماگےَ مو کءُ کرِ سنّتن کیِ دھوُرے ॥੪॥੫॥
لفظمی معنی /ترجمہ
اَے دوست ہیں عرض گذارتا ہوں سہنو ۔ سنت کی خدمت کا موقعہ ہے یہاں سے الہّٰی نام کا منافع اُٹھاؤ تب الہّٰی دربار میں آسان ہو جائیگا۔ روز و شب عمر گھٹ رہی ہے ۔مرشد سے مل کر کام (الہّٰی حصول ملاپ ) درست کر لو ۔اِس عالم سے برکار اَور غم و فکر سے کوئی خدا رسیدہ ہی یار ہو ا چلے جسے بیداری عنایت فرما کر یہ لطف پلاتا ہے ۔وہی اِس کہانی کو سمجھتا ہے۔ جس لئے اِس عالم میں آئے ہو اُصے خریدو اَور مرشد کے ذریعے دلمیں بساؤ ۔اپنے دلمیں ٹھکانہ بناؤ اَور روحانی سکون میں رہو ۔تو تناسخ مٹ جائیگا ۔از دلی جاننے والا دلی مرادیں پوری کرتا ہے ۔خادم جو ذرئع مہا کرتا ہے نانک یہی سکہہ مانگتا ہے۔ کہ مجہے ستنوں کی دہول بنادے۔۔

ੴ ستِگُر پ٘رسادِ ॥
راگُ سِریِراگُ مہلا پہِلا ੧ گھرُ ੧॥
موتیِ ت منّدر اوُسرہِ رتنیِ ت ہوہِ جڑاءُ ॥
کستوُرِ کُنّگوُ اگرِ چنّدنِ لیِپِ آۄےَ چاءُ ॥
متُ دیکھِ بھوُلا ۄیِسرےَ تیرا چِتِ ن آۄےَ ناءُ ॥੧॥
ہرِ بِنُ جیِءُ جلِ بلِ جاءُ ॥
مےَ آپنھا گُرُ پوُچھِ دیکھِیا اۄرُ ناہیِ تھاءُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
دھرتیِ ت ہیِرے لال جڑتیِ پلگھِ لال جڑاءُ ॥
موہنھیِ مُکھِ منھیِ سوہےَ کرے رنّگِ پساءُ ॥
متُ دیکھِ بھوُلا ۄیِسرےَ تیرا چِتِ ن آۄےَ ناءُ ॥੨॥
سِدھُ ہوۄا سِدھِ لائیِ رِدھِ آکھا آءُ ॥
گُپتُ پرگٹُ ہوءِ بیَسا لوکُ راکھےَ بھاءُ ॥
متُ دیکھِ بھوُلا ۄیِسرےَ تیرا چِتِ ن آۄےَ ناءُ ॥੩॥
سُلتانُ ہوۄا میلِ لسکر تکھتِ راکھا پاءُ ॥
ہُکمُ ہاسلُ کریِ بیَٹھا نانکا سبھ ۄاءُ ॥
متُ دیکھِ بھوُلا ۄیِسرےَ تیرا چِتِ ن آۄےَ ناءُ ॥੪॥੧॥
لفظمی معنی :
موتی تے مندرہ ۔ اوسرے ۔ اگر موتی جڑے محلات ہوں ۔رتنی تے ہوئے جڑاؤ۔ اَور ہیرے جڑے مخلات ہوں ۔کتوری ۔ ایک خوشبودار شے ۔ جو ہرن کی نابھی یاد ھنی میں ہوتی ہے جو ادویات میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔کنگو ۔کیسر ۔خوشی اورطاقت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔چندن ۔ ایک درخت جسکی لکڑی خوشبو دار ہوتی ہے ایسے اگر کا درخت جس کے رس سے دھوپ اور عطر بنتا ہے ۔موہنی۔ دل کو پیاری لگنے والی عورت ۔کچاؤ ۔پھیلاؤ۔ سدھ ۔ جنے لوگ ساھنا مکمل کرلی ۔ردھ ۔ برکتیں ۔بھاؤ پیارا۔ سلطان بادشاہ ۔داؤ ۔ ہوا
ترجمہ:
اگر موتیوں سے جڑے ہوئے مخلات ہوں ۔اَور اُنمیں ہیرے جَڑے ہوں ۔اُنہیں خوشبودار ۔کستوری ۔ کیر ۔چندن اود کے ساتھ اُنہیں یسپا پوتا گیا اور اسکی خوشی ہو ۔اَے خدا ایسا نہ ہو کہ تجہے بُھلا بیٹھو ں اَور تو مہجے بھُلا دے اَور تیرا نام سچ۔ حق وحقیقت دلمیں نہ بسے ۔میں نے مرشد سے پوچھ لیا ہے۔ خدا کے بغیر یہ زندگی اُور نہ ہی کوئی ٹھکانہ ہے ۔پیرو ں اور لعلوں سے جڑی ہو ختم ہوجاتی ہے۔ اگر زمین اور خوابگاہ میں۔ لعل سے جڑا ہوا پلنگ ہو ۔اَور خوبصورت عورت کھیل تماشے کے لئے ہو۔ جسکے پیشانی پر منی چمکتی ہو۔ تب بھی یہ سب کچھ بیفائدہ اور بد مزہ ہے۔ مجھے اندیشہ ہے ایسی خوبصورت عورت دیکہہ کہ کہیں تجھے نہ بُھلا بیٹھوں کہیں اور تو مجھے نہ بُھلا دے ۔ کہیں تیرا نام میرے دلمیں نہ بسے ۔اگر میں کامل جوگی ہو جاؤں اَور یوگ کی برکتیں حاصل کر لوں کہیں چھپ کر کہیں ظاہر ہو کر رہوں اَور عالم پیار کرئے ۔ یہ سب بیکار ہے۔ اور مجھے انیدشہ ہے کہ کہیں میں تجھے بُھلانہ بیٹھوں اور کہیں تو مجھے نہ بھلا دے اور کہیں تیرا نام میرے دلمیں نہ بسے ۔آگر میں سُلطان ہو جاؤں اور لشکر اِکھٹا کر لوں اَور تخت پر بَیٹھو ں اَور حکمرانی کرو ں اور بیٹھکر اَے نانک سارا فضُول ہے کہیں آپ کو بھُلا بیٹھوں میرے ۔ خدا مجھے اَندیشہ ہے اور کہیں تو مجھے بُھلا نہ دے اَور تیر ا نام میرے دلمیں نہ بسے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
کوٹِ کوٹیِ میریِ آرجا پۄنھُ پیِئنھُ اپِیاءُ ॥
چنّدُ سوُرجُ دُءِ گُپھےَ ن دیکھا سُپنےَ سئُنھ ن تھاءُ ॥
بھیِ تیریِ کیِمتِ نا پۄےَ ہءُ کیۄڈُ آکھا ناءُ ॥੧॥
ساچا نِرنّکارُ نِج تھاءِ ॥
سُنھِ سُنھِ آکھنھُ آکھنھا جے بھاۄےَ کرے تماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کُسا کٹیِیا ۄار ۄار پیِسنھِ پیِسا پاءِ ॥
اگیِ سیتیِ جالیِیا بھسم سیتیِ رلِ جاءُ ॥
بھیِ تیریِ کیِمتِ نا پۄےَ ہءُ کیۄڈُ آکھا ناءُ ॥੨॥
پنّکھیِ ہوءِ کےَ جے بھۄا سےَ اسمانیِ جاءُ ॥
ندریِ کِسےَ ن آۄئوُ نا کِچھُ پیِیا ن کھاءُ ॥
بھیِ تیریِ کیِمتِ نا پۄےَ ہءُ کیۄڈُ آکھا ناءُ ॥੩॥
نانک کاگد لکھ منھا پڑِ پڑِ کیِچےَ بھاءُ ॥
مسوُ توٹِ ن آۄئیِ لیکھنھِ پئُنھُ چلاءُ ॥
بھیِ تیریِ کیِمتِ نا پۄےَ ہءُ کیۄڈُ آکھا ناءُ ॥੪॥੨॥
لفظی معنی :
کوٹ کوٹی ۔ کروڑوں سال۔ آرجا ۔ عمر ۔تج تھائے ۔ اپنے شکل شباہت میں ۔پیئن ۔ پینا ۔پیاؤ ۔ کھانا ۔گھپا ۔ غار۔ آکھن ۔ بیان تشریح ۔ کھن ۔ اُپدیش ۔ واعظ ۔تمائے ۔ خواہش ۔ کھا ۔ ٹوٹے ٹوٹے ہونا ۔ کہیا جاتا ۔کھٹیا ۔ کٹیا جاواں ۔ وار ۔وار ۔ دوبارہ ۔دوبارہ ۔ پیسن پائے ۔ چکی پیا جاؤں سیتی نال ۔ جالیا ۔ جلا دیں ۔ جال جاواں ۔مسو ۔ سیاسی ۔ لیکھن۔ قلم ۔پؤن ہوا ۔ چلاؤ۔ چلاواں
ترجمہ:
اگر میری عمر کوڑوں سال کی ہو جائے۔ ہوا میرا کھانا پینا ہوا ہو جائے ۔اَور فضا میں بیٹھکر چاند۔ سورج بھی نہ دیکہوں ۔اَور خواب میں بھی سونے کے لئے جگہ نہ ہو تب بھی تیری قدر و قیمت کا اندازہ نہیں کر سکتا ۔میں اے خدا تیری کتنی عظمت بتاؤں ۔قائم دائم خدا بے وجود اپنے آپ میں محو ہے ۔ ہم اُسے ایک دو سرے سے سُنکر اُسے بیان کرتے ہیں اگر خدا چاہے تبھی لالچ ہوگا اگر کوہ کوہ کاٹا جائے اور پیسا جائے۔اور آگ سے جل کر راکہہ سے ملجاؤں۔ تب بھی تیری قیمت یا مول پائیا نہیں جا سکتا میں تیرا نام کتنا بڑا کہوں۔ اگر پرندہ ہو جاؤں اَور آسمان میں اُڑتا پھیروں اور کسی کو نظر نہ آؤں نہ کچھ کھاؤں نہ پیوں۔ تب بھی تیری قیمت انداز ی نہیں ہو سکتی میں تجہے کتنا بڑا کہوں ۔اے نانک اگر خدا کی عظمت لاکہوں من کاغذ بھرے ہوئے ہوں اور لکھنے میں سیاہی کی ذرا بھر کمی واقع نہ ہو میں تیری قدر و قیمت کا اندازہ نہیں کر سکتا ۔ میں تیری عظمت بتانے کے لائق نہیں ہوا
مراد:
اَگر کروڑوں سال لگاتا ر دھیان لگایا جائے اور تپسیا سے دور اندیشی حاصل کرلی جائے۔ آسمانوں میں اُڑنے کی مہارت حاصل ہو خدا کی قدرت اور مخلوق کا راز بھی ڈندھ لیں آسمانوں میں اُڑتے پھریں۔ لاکہوں من کاغذوں پر اُسکی صفات اور عظمت لکھنے جائیں۔ تب بھی اُسکی عظمت و شہرت پانے کے قابل نہیں ۔خدا اپنے آپ اپنے سہارے قائم ہے اُسےسہارا دینے والا کوئی نہیں وہ لا شریک ہے جو اُس پر کرم و عنایت کر سکے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
لیکھےَ بولنھُ بولنھا لیکھےَ کھانھا کھاءُ ॥
لیکھےَ ۄاٹ چلائیِیا لیکھےَ سُنھِ ۄیکھاءُ ॥
لیکھےَ ساہ لۄائیِئہِ پڑے کِ پُچھنھ جاءُ ॥੧॥
بابا مائِیا رچنا دھوہُ ॥
انّدھےَ نامُ ۄِسارِیا نا تِسُ ایہ ن اوہُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جیِۄنھ مرنھا جاءِ کےَ ایتھےَ کھاجےَ کالِ ॥
جِتھےَ بہِ سمجھائیِئےَ تِتھےَ کوءِ ن چلِئو نالِ ॥
روۄنھ ۄالے جیتڑے سبھِ بنّنہِ پنّڈ پرالِ ॥੨॥
سبھُ کو آکھےَ بہُتُ بہُتُ گھٹِ ن آکھےَ کوءِ ॥
کیِمتِ کِنےَ ن پائیِیا کہنھِ ن ۄڈا ہوءِ ॥
ساچا ساہبُ ایکُ توُ ہورِ جیِیا کیتے لوء ॥੩॥
نیِچا انّدرِ نیِچ جاتِ نیِچیِ ہوُ اتِ نیِچُ ॥
نانکُ تِن کےَ سنّگِ ساتھِ ۄڈِیا سِءُ کِیا ریِس ॥
جِتھےَ نیِچ سمالیِئنِ تِتھےَ ندرِ تیریِ بکھسیِس ॥੪॥੩॥
لفظی معنی :
واٹ چلائیا ۔ سفر زندگی بھی جاب میں ہے ۔لہکے سن ویکھاؤ ۔ سننا اَور دیکھنا بھی حساب میں ہے۔ لیکہے ساہ لوایئے ۔ سانس لنا بھی حساب میں ہے ۔پڑھے کے پچھن جاؤ ۔ پڑھے سے کیا ۔ پوچھنے جائیں ۔مائیا چنادہوہ ۔ مائیا ۔ دونیاوی دولت ایک دہوکا دینے والا کھیل ہے ۔نام وساریا ۔ نہ تحس ایہہ نہ اوہ۔ نام بُھلا نے سے انسان ہر دو عالم گنوا لیتا ہے ۔ جیون ۔ مرنا ۔ پیداش سے موت تک اِنسان موت کی خوراک ہے ۔ کابے کال جتھے بیہہ سمجہایئے ۔ جہاں حساب اَعمال ہوتا ہے ۔کوئی نہ چلے نال ۔ وہاں کوئی ساتھ نہیں جاتا ۔پنڈیرال۔ پرالی کی گھٹڑیاں ۔ جیسہ کیتے لوئے ۔ کتنے ہی دنیاوی لوگ۔ سمالین ۔ سنبھالے جاتے ہیں۔
ترجمہ:
یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ زندگی کے سانس ایک مقدرہ وقت کے لئے رہے ہیں ۔ہماری بول چال ۔ کھانا پینا تہوڑے وقفے کے لئے ہے۔ جس زندگی کے سفر میں سے ہم گذر رہے ہیں ۔ یہ بھی تہوڑے عرصے کے لئے ہے ۔یہ سُننا ۔ دیدار ۔ کرنا ۔ نظارہ لینا قلیل عرصے کے لئے ہے ۔دنیاوی دولت کا کھیل چند دنوں کے لئے ہے ۔اندھے اِنسان نے اِلہّٰی نام سچ ۔ حق وحقیقت بُھلا رکھا ہے ۔ نہ مائیا ساتھی دیتی ہے نہ الہّٰی نام ملتا ہے ۔ یہ دنیا ایک دھوکا ہے ۔دنیا میں انسان پیدائش سے لیکر۔ موت تک کھانے پینے کے لئےکوشش و کاوش میں مَصروُف رہتا ہے ۔مگر حساب کے وقت پر کوئی ساتھ نہیں دیتا ۔اِسکی موت کے رونا آہ وزاری کرنی پرا ی کی گا نیں باندھنے کے مترادف ہے۔
خدا سے انسان زیادہ سے زیادہ مانگتا ہے ۔کوئی بھی کم نہیں مانگتا اَور نہ کوئی اِسکی کوئی قدرو قیمت سمجھتا ہے ۔صرف کہنے سے عظمت نہیں ملتی نہ کوئی مانگنے پر سیر ہوتا ہے ۔دُنیامیں کتنے انسان بستے ہیں مگر سچا صرف خدائیا تو ہی ہے یعنی ذات اَور کمینی سے بھی کمینی ذات کاہوں ۔نانک اُن کا ساتھ مانگتا ہے ساتھی ہے مجہے سرمایہ داروں سے کیا واسطہ اَور رشک ۔جہاں ناتوانوں ۔ کمزوروں کی سنبھال ہوتی ہے اَے خدا اُن پر تیری نگا ہ شفقت و عنایت ہے ۔
مراد:
زندگی کے چاردنوں کی کھیل کے لئے نام بھُلا کر زندگی بیگار ضآئع کر دیتے ہیں زندگی کا عرصہ مقدر ہے ۔وہ بھی صرف کھانے پہننے میں گنوا دیا۔ دولت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی ۔اَور ہمیشہ دولت ہی مانگتے رہے مگر الہّٰی کرم و عنایت اُنہی پر ہے جو سرمایہ داروں کا راہ نہیں اَپناتے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
لبُ کُتا کوُڑُ چوُہڑا ٹھگِ کھادھا مُردارُ ॥
پر نِنّدا پر ملُ مُکھ سُدھیِ اگنِ ک٘رودھُ چنّڈالُ ॥
رس کس آپُ سلاہنھااے کرم میرے کرتار ॥੧॥
بابا بولیِئےَ پتِ ہوءِ ॥
اوُتم سے درِ اوُتم کہیِئہِ نیِچ کرم بہِ روءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رسُ سُئِنا رسُ رُپا کامنھِ رسُ پرمل کیِ ۄاسُ ॥
رسُ گھوڑے رسُ سیجا منّدر رسُ میِٹھا رسُ ماسُ ॥
ایتے رس سریِر کے کےَ گھٹِ نام نِۄاسُ ॥੨॥
جِتُ بولِئےَ پتِ پائیِئےَ سو بولِیا پرۄانھُ ॥
پھِکا بولِ ۄِگُچنھا سُنھِ موُرکھ من اجانھ ॥
جو تِسُ بھاۄہِ سے بھلے ہورِ کِ کہنھ ۄکھانھ ॥੩॥
تِن متِ تِن پتِ تِن دھنُ پلےَ جِن ہِردےَ رہِیا سماءِ ॥
تِن کا کِیا سالاہنھا اۄر سُیالِءُ کاءِ ॥
نانک ندریِ باہرے راچہِ دانِ ن ناءِ ॥੪॥੪॥
لفظی معنی :
رب ۔ لالچ ۔کوُڑ۔ جھوٹ کفر ۔پرمل دوسرے کی غلاظت۔ پر نند۔ دوسے کی بد گوئی۔ مکہہ سدھی ۔ ساری منہ میں ۔کرؤدھ ۔ غصہ ۔چنڈال ۔ غلیظ آدمی ۔ ظالم رَس کس ۔ لُطَف و مَزےّ ۔آپ صلاحنا خوئش ستائش ۔بولیئے پَت ہوئے۔ایسا بولئے ۔ جس سے عزت و وقار ملے ۔پُت ۔ عزت۔ ینچ کرم ۔ بد اعمال رَسّ ۔ لطف یا مزہ ۔رُپا۔ چاندی ۔ کامن ۔ عورت ۔پرمل ۔ خوشبو ۔جِت بولئے ۔ جو کہیں۔ تن پلے ۔ اُنکے دامن میں۔ جن ہر دے ۔ جنکے دلمیں۔ ذہن میں ۔ندری باہرے ۔ بلا نظر و عنایت
ترجمہ:
اِنسان کے دلمیں کُتے کے مانند ۔ لالچ کھانے کے لئے ۔ جہوٹ بولَنا جو ایک پنچ کہنے کا کام ہے دہو کا وہی سے کھا نا ایک مُراد ر کھانے کے مُترادف ہے ۔دوسروں کی بد گوئی کرَنا کسی کا میلا۔ اَؤر جوُٹھا کھانا کھانا ہے۔ غُصہّ بھی ایک کمینہ کام ہے ۔اِسکے علاوہ میں اَپنے آپ کی شہرتّ کرتا ہوُں ۔اَپنے آپ کو نیک اَور بَر تر بَتاتا ہوں۔ اَپنی صِفتّ کرَتا ہو ۔یہ میرے اَعماّل ہیں ۔ اے دوست زبان سے ایسے الفاظ نکالو جس سے عزت و قار ملے ۔بلند عَظمَتّ وُہ ہے جسکی الہّٰی دَر پرَ عَظمَتّ ہے ۔ بَد اَعمال بیٹھا روتا ہے سونا چاندی اِکھٹے کرَنے کا لطَف شہوت کا لُطف ۔ خو شبوُؤں کا لُطَف گہوڑوں کا شوق ۔ بَڑھیا خوابگاہوں اور مکانوں کے مَحل و خوبصورت و آرام دیہہ بنانے کا شوق مِٹھاس کا لُطَف اَور گوشت کھانے کا شوق جَب اِنسانی جِسم کو اتنے شوق و لطف ہیں ۔ تب خدا اَور الہّٰی نام کا بستا کس ولمیں ہوسکتا ہے۔ جس بولنے سے عزت و وقار حاصل ہو وہی اچھا جسکے بولنے سے خو اری و ذلت ملے اَیسا پھیکا نہ بولنا چاہیے ۔ الہّٰی صِفتّ صَلاّح سے ہی الہّٰی دَر پرَعزت و وقار ملتا ہے۔ جن انسانوں کے پاس بھاری دانشواری بلند عزت اَور بلند عَظمت نام کی دولت ہے اسکے جنکے دلمیں خدا بستا ہے ۔اُنکی کیا تعریف کیاجائے اُن جیسا سوہنا اَور کون ہو سَکتا ہے ۔اَے نانک الہّٰی نظر عنایت سے محروم اِنساّن اُسکے نام میں لوّ نہیں لگاتے اُسکی دی ہوئی دولت میں محو ہیں۔۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
املُ گلولا کوُڑ کا دِتا دیۄنھہارِ ॥
متیِ مرنھُ ۄِسارِیا کھُسیِ کیِتیِ دِن چارِ ॥
سچُ مِلِیا تِن سوپھیِیا راکھنھ کءُ درۄارُ ॥੧॥
نانک ساچے کءُ سچُ جانھُ ॥
جِتُ سیۄِئےَ سُکھُ پائیِئےَ تیریِ درگہ چلےَ مانھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سچُ سرا گُڑ باہرا جِسُ ۄِچِ سچا ناءُ ॥
سُنھہِ ۄکھانھہِ جیتڑے ہءُ تِن بلِہارےَ جاءُ ॥
تا منُ کھیِۄا جانھیِئےَ جا مہلیِ پاۓ تھاءُ ॥੨॥
ناءُ نیِرُ چنّگِیائیِیا ستُ پرملُ تنِ ۄاسُ ॥
تا مُکھُ ہوۄےَ اُجلا لکھ داتیِ اِک داتِ ॥
دوُکھ تِسےَ پہِ آکھیِئہِ سوُکھ جِسےَ ہیِ پاسِ ॥੩॥
سو کِءُ منہُ ۄِساریِئےَ جا کے جیِء پرانھ ॥
تِسُ ۄِنھُ سبھُ اپۄِت٘رُ ہےَ جیتا پیَننھُ کھانھُ ॥
ہورِ گلاں سبھِ کوُڑیِیا تُدھُ بھاۄےَ پرۄانھُ ॥੪॥੫॥
لفظی معنی :
رَمل ۔ نشا ۔ گا لوا ( باتیں ) ۔ کوڑ ۔ جہوٹ ۔ کفر ۔دیونہار ۔ دینے کی توفیق رکھنے ۔ دینے والے نے۔ متی ۔ وجہد میں۔ سچ ۔ جو ہمیشہ قائم دائم رہنے والا ہے۔ صوفی۔ جسے نشے سے پرہیر ہے ۔ پرہنگار ۔ رءکھن کوؤ ۔ الہّٰی دَربار میں ٹھِکانے کے لئے۔ سیویئے ۔ جسکی خدمت سے سکہہ ملتا ہے ۔دَر کہہ چلے مان ۔ دَر بار میں وَقار مُیسر ہو ۔ سَرّا ۔ شراب ۔ گڑیا ہرا گڑکے بغیر ۔ وکھانیہہ جو بیان کرتے ہیں۔ جیتڑے ۔ جو جو انسان کھیوا ۔ مستّ ۔ خُماری ۔ مَحلیّ۔ اِلہّٰی دربار ۔فاؤ۔ نام ۔نیر۔ پانی۔ چنگیائیا۔ نیکیاں۔ ست۔ سچیار ۔ حسن اِخلاق۔ پَرمل ۔ خوشبو ۔ اُجلا ۔ صاف ستھرا ۔اَپوتر۔ ناپاک
ترجمہ:
داتار خدا نے خود ہی انسان کو جہوٹ کی نشہ آوار گولی کُتے کے طور پر دے رکھی ہے دور نشے کی مستی میں موت بُھلا کر چار روز ۔ زندگی خرمستی اور خو شیوں میں گذار ۔ جنہوں اُس نشے کی محبت چہوڑ کر الہّٰی دربار کی یاد کو سامنے رکھا اُنہوں نے سچ مراد خدا کا دیدار پائیا ۔ اَے نانک ہمیشہ قائم دائم رَہنے والے پَرماتما کیساتھ سَچیّ شَراکت پیدا کرَؤ ۔جسکی رِیاّض سے سُکہہ مِلّتا ہَے ۔ تاکہ الہّٰی دَربار میں تو قیر مِ حاصل ہو سَکےّ ۔سَچّ بَغیر گڑکے شَراب ہے۔ جمیں سَچاّ نام سَچ ۔ حق وحقیقت ہے۔ جو اِسے سُنتے اَور بَیان کَرتےّ ہیں ۔ تب ہی اِس دِل کو خُمار ہوا سَمجہوّ جَب یہ الہّٰی یاد میں ہو۔ میں اُسپر قرُ بان ہُوں۔ اِ لہّٰی نام اُور صفت ہی سَب عِنایتوں سے بَڑھیاّ عِنایت ہَے ۔اَور نیکیوں کا پان ہَے۔ اَور سَچّ جسم کے لئے خوشبو لگانے کے لئے ۔تاکہ اِنسان سُر خرورہے ۔کہوں عِنایتو ں سے اَچھیّ عِنایت ہے۔ جسکے پاس عذآب مِٹانے کیلئے دَرخواست کرَتے ہیں سُکہہ دینے والا بھی وُہی ہے۔(3) جِس خدا نے یہ زنّدگی بَخشش کی ہے اُسے کیوں بھُلائیں ۔ اُسکے بَغیر سَب ناپاک ہے جِتنا ہم کھاتے پیتے اَور پَہنتے ہیں ۔اَور ساری باتیں جہُوٹی ہیں وُہی قابل قبول ہے جو توُ چاہتا ہے ۔نیکو کار
خُلاصہ وبُنیادی خِیال :
خُدا کو بھُلانے پر دُنیاوی محُبت مُتاثر کرَتی ہےَ اَور اِسکے تَحت کئے کام سے دِل نا پاک ہو جاتا ہے۔ الہّٰی نام سَبّ سے بَڑی اَور بلند بَخشِش ہَے۔ جِس سے اِنسان سَچےّ اِخلاّق والا ہوکر اِلہّٰی حَضُور میں عِزّت پاتّا ہے ۔

سِریِراگُ مہلُ ੧॥
جالِ موہُ گھسِ مسُ کرِ متِ کاگدُ کرِ سارُ ॥
بھاءُ کلم کرِ چِتُ لیکھاریِ گُر پُچھِ لِکھُ بیِچارُ ॥
لِکھُ نامُ سالاہ لِکھُ لِکھُ انّتُ ن پاراۄارُ ॥੧॥
بابا ایہُ لیکھا لِکھِ جانھُ ॥
جِتھےَ لیکھا منّگیِئےَ تِتھےَ ہوءِ سچا نیِسانھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِتھےَ مِلہِ ۄڈِیائیِیا سد کھُسیِیا سد چاءُ ॥
تِن مُکھِ ٹِکے نِکلہِ جِن منِ سچا ناءُ ॥
کرمِ مِلےَ تا پائیِئےَ ناہیِ گلیِ ۄاءُ دُیاءُ ॥੨॥
اِکِ آۄہِ اِکِ جاہِ اُٹھِ رکھیِئہِ ناۄ سلار ॥
اِکِ اُپاۓ منّگتے اِکنا ۄڈے درۄار ॥
اگےَ گئِیا جانھیِئےَ ۄِنھُ ناۄےَ ۄیکار ॥੩॥
بھےَ تیرےَ ڈرُ اگلا کھپِ کھپِ چھِجےَ دیہ ॥
ناۄ جِنا سُلتان کھان ہودے ڈِٹھے کھیہ ॥
نانک اُٹھیِ چلِیا سبھِ کوُڑے تُٹے نیہ ॥੪॥੬॥
لَفظی معنے :
جام موہ۔ مُحّت کو جَلاّ دو۔ مَس۔ سیاحی۔ گھَس۔ گھساّ کر۔ سار ۔ بَڑھیا ۔بھاؤ ۔ پریم ۔پاراوار ۔ لا محدُود ۔ یکہہ جان ۔ لکھنا سکہہ ۔ نیسان ۔ پروانہ راہداری ۔ ملیہہ ۔ ملیں۔ سَد ۔ ہمیشہ ۔تِن مکہہ ۔ اُنکے رُخ۔ نکلیہہ لگتے ہیں۔ کرَم۔ بَخشِش ۔ گاہلی داؤ و آؤ ۔ فَضول باتیںّ ۔ سلاد۔ سروار ۔جانیئے۔ پَتہ چَلتا ہَے ۔اُ پائے ۔ پَیدا کیئے ۔ دَرباّر ۔ عَدالَتّ۔ بِن ناوَلے بیکار ۔ نام کے بَغیر ۔ بے مَطلَبّ ۔ فَضُول ۔ اگلاّ ۔ بُہت زِیادہ۔ سب کوڑے نیہہ ۔ جہوٹھے رِشتے ۔ پیار
ترجمہ:
اَے بھائی دُنیاوی دَؤلَت جَلا کر سیاہی بنا لو ۔ اَور عَقل کو کاغذ۔ پریم کو قَلم اَور من کو لیکھک اَور مُرشد سے سَبقّ لیکر اُسے سَمجھّ ۔ نام لکہہ۔صَلاّح لِکہہ اَور الہّٰی اوَ صاّف اِعداد وشُماّر سے باہر نہیں ۔ اَے اِنسان یہ حِساّب لکھنا سیکہو ۔ جِس جَگہ اِس حِساّب کی طَلبیّ ہوتی ہَے وَہاں یہ حِساّب سچیّ راہداری بَنتا ہَے جنکے دِلمیں سَچاّ نام ہے سَچ ۔ حَق و حقیقت ۔اُنہیں عَظمَتّ اُنکے رُخ پرنِشان لگاتے جاتے ہیں۔ مَگر اَیسا الہّٰی کرَم و عِنایت سے ہوتا ہَے وَرنہ سَبّ فَضُول باتیں ہیں۔ ایک آتے ہیں ایک چَلے جاتے ہیں اَور نام سَردار رَکہے جاتےّ ہیں۔ ایک کو بِھکارّی پَیدا کیا ہَے ایک بھاری عدالتیں لَگاتےّ ہیں۔ آگے اِلہّٰی حَضُور میں سَمجھّ آتی ہَے کہ نام کے بَغیر سب فَضُول ہَے ۔(3)
اِلہّٰی دُوری سے خَوف پَدا ہوتا ہَے اِس سے جِسمانی کَمزوری پَدا ہوتی ہَے ۔جِنکے نام سُلطان سے موسوم ہیں اُنہیں خاک میں مِلتے دیکھا ہَے ۔نانک بَوقت مَؤت سارے جُہوٹے رِشتے خَتم ہو جاتے ہیں ۔
مرُاد۔ خُلاصہّ
حَقیقی ساتھی اِلہّٰی نام ہَے ۔الہّٰی کَرم و عِنائت سے مُرشَد مِلاّپ ہوتا ہَے ۔بادشاہیاں ، سَرداریاں ۔زِمینداریاں سب اِسی عالم میں ہیں ۔اِلہّٰی یاد کے بَغیر اِن کی قِمَت کچھ بھی نہیں۔ ساری زِندگی بیکار چَلیّ جاتی ہَے ۔اِسلئے دُنیاوی محُبت چہوڑ کر پیار سے الہّٰی صِفت صَلاّح دِل میں بَساؤ ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
سبھِ رس مِٹھے منّنِئےَ سُنھِئےَ سالونھے ॥
کھٹ تُرسیِ مُکھِ بولنھا مارنھ ناد کیِۓ ॥
چھتیِہ انّم٘رِت بھاءُ ایکُ جا کءُ ندرِ کرےءِ ॥੧॥
بابا ہورُ کھانھا کھُسیِ کھُیارُ ॥
جِتُ کھادھےَ تنُ پیِڑیِئےَ من مہِ چلہِ ۄِکار ॥੧॥ رہاءُ ॥
رتا پیَننھُ منُ رتا سُپیدیِ ستُ دانُ ॥
نیِلیِ سِیاہیِ کدا کرنھیِ پہِرنھُ پیَر دھِیانُ ॥
کمربنّدُ سنّتوکھ کا دھنُ جوبنُ تیرا نامُ ॥੨॥
بابا ہورُ پیَننھُ کھُسیِ کھُیارُ ॥
جِتُ پیَدھےَ تنُ پیِڑیِئےَ من مہِ چلہِ ۄِکار ॥੧॥ رہاءُ ॥
گھوڑے پاکھر سُئِنے ساکھتِ بوُجھنھُ تیریِ ۄاٹ ॥
ترکس تیِر کمانھ ساںگ تیگبنّد گُنھ دھاتُ ॥
ۄاجا نیجا پتِ سِءُ پرگٹُ کرمُ تیرا میریِ جاتِ ॥੩॥
بابا ہورُ چڑنھا کھُسیِ کھُیارُ ॥
جِتُ چڑِئےَ تنُ پیِڑیِئےَ من مہِ چلہِ ۄِکار ॥੧॥ رہاءُ ॥
گھر منّدر کھُسیِ نام کیِ ندرِ تیریِ پرۄارُ ॥
ہُکمُ سوئیِ تُدھُ بھاۄسیِ ہورُ آکھنھُ بہُتُ اپارُ ॥
نانک سچا پاتِساہُ پوُچھِ ن کرے بیِچارُ ॥੪॥
بابا ہورُ سئُنھا کھُسیِ کھُیارُ ॥
جِتُ سُتےَ تنُ پیِڑیِئےَ من مہِ چلہِ ۄِکار ॥੧॥ رہاءُ ॥੪॥੭॥
سب رَس۔ سارے لُطفّ۔ مانَنے سے۔ سنیئے ۔ سنینے سے ۔زبان سے بولنے سے ۔ترش ۔کھٹتے ۔مارن۔ مَصالحے ۔ناد ۔ کیرتَن ۔رائگ ۔ بھاؤ ۔ پریم ۔ خوآر۔ ذَلیلّ ۔جِت کھادے جِسکے کھانیے ۔پیٹریئے ۔ تکلیف ہو ۔رَتا۔ مُتاثر ۔ سُراخ۔ سَقید۔ سَت۔ سَچّ ۔ کَداکَرنی ۔ دل کی صَفائی ۔کَمر بند ۔کَمر پر باندھے والا پٹکا ، پہرن ۔ قَمیض پاکَھّر۔ کاٹھی۔ ساخَت ۔دُمچی ۔ تیری واٹ ۔ راستہ ۔تَرکش ۔ تیر رکھنے کا تھیلہ۔ کبھتھا بھتھاّ ۔ سانگ۔ بَرچھیّ۔ تیغ بَند ۔ تلوار پہننے والا ۔ گاثر ا۔ دھات۔ جَد و جَہد پَتّ۔ عِزّت ۔کرم۔ بَخشِش ۔تدبھادسیّ۔ جو تو چاہّتا ہَے ۔ ساؤنا۔ غَفلَتّ ۔ کوتاہی۔ جِت ستے ۔ جس غَفلت سے

ترجمہ:
خدا پر اِیمان لانیے تمام میٹھی لذتیں میسر ہوتی ہیں اَور سُننے سے تَسکین اَور زُبان سے حَمدّ و ثَناّ ہ کرنیے تُرش ۔ پریم پِیار ّ ۔ چھَتی قِسموں کے کھانے ہیں ۔جس پَر اُسکی ایک نگاہِ شَفقَتّ ہے اَے بھائی اِسکے علاوہ دوسرے کھانے کھانیے ذَلیلّ و خوآری ہوتی ہَے جسکے کھانیے جِسمانی کوفَت مِلےّ اَور دِلمیں بَدکاریاں پَیدا ہوں اَے بھاّئی الہّٰی نام میں مَحوّ ہونا ۔ سُرخپوشی ہَے سَخاوَت ّ ۔ سَفید پوشی ۔اَوردِل سے ناپاکِزگی دَور کرَنا نیے کَپڑے پَہننا ہَے ۔اَور خدا میں دِھیاّن لَگانا پَیر اہن چوگا ۔کفتی پہننا ہَے۔ صَبر کَرنا صابِر ہونا کمر بَندّ لگانا ہَے ۔اَے خدا تیرا نام سچ۔ حق وحقیقت دَؤلَت اَور جوانی ہے ۔اَے بھائی اِسکے عِلاوہ دُوسری پوشِش ذَلالَتّ ہَے جِسکے پَہننے سے جِسمانی کوفَت ہوتی ہَے ۔دِل گناہوں کیطرف راغِبّ ہوتا ہَے ۔اَے خدا زندگی کا حَقیقی (راہ) راستہ ۔ طور ۔ظَریقہ سَمجھنا ۔ سونے کی ۔دُمچی اَور بڑھیا کاٹھی والے گہوڑے کی سَواری کرَنا ہَے ۔اِلہّٰی صِفتّ صَلاّ ح کیلئے جہد و ترود ۔ تیر کمان ۔ بَرّچھی ۔ اَور شَمشیر کیلئے گاترا اَور بَھتھاّ ہَے ۔عِزّت و آبرُو اَور سَرخروئی ۔ واجہ نیز ا ہَے۔ ا لہّٰی نَظّرِ عِنائیت اُونچی خاندانی ہَے ۔جِس گہوڑے کی سواری سے جِسمانی کوفت مِلے دِلمیں بَدخیال وبد اعمال پیدا ہو ( تکبرّ) اُص گہوڑے کی سَواری کی خوشی ذَلالَتّ کا سَببّ بَنتی ہَے ۔اِلہّٰی ریاضّ میرے لئے ۔ گھرّ محَلات اَور نام کا خمارّ اَور الہّٰی نَظر عِنایت میرے لیے میرا قَبِیلہ ہَے ۔تیری رَضاّ میں رَہنا میرے لئے فَرمان ہَے۔ دُوسرے بِیانّات اَور تَشریحات بَہت ہیں۔ وُہی بَیان اَچھاّ ہَے جو تیری پَسند ہَے ۔اَے نانک خدا سَچاّ حکمران ہَے جو کسی دُوسرے سے صَلاّح مشوَرہ نَہیں کرَتا۔ جِس سونے سے دِلمیں خِیالات بَد پَیدا ہوں اَور جسمانی کوفَت ملے وُہ سونا ذلالَتّ پَیدا کرَتّا ہَے۔

خُلاصہ ۔ و مدُعا خیال
نام میں مَصرُوف رَہ کر دُنیاوی لَذتوں کا حَصّوُل پاکّ ہَے ۔نام کے بَغیر عام وُنیاوی لَذتیں ذَلیل و خوآری کا سَببّ بنتی ہیں ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
کُنّگوُ کیِ کاںئِیا رتنا کیِ للِتا اگرِ ۄاسُ تنِ ساسُ ॥
اٹھسٹھِ تیِرتھ کا مُکھِ ٹِکا تِتُ گھٹِ متِ ۄِگاسُ ॥
اوتُ متیِ سالاہنھا سچُ نامُ گُنھتاسُ ॥੧॥
بابا ہور متِ ہور ہور ॥
جے سءُ ۄیر کمائیِئےَ کوُڑےَ کوُڑا جورُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پوُج لگےَ پیِرُ آکھیِئےَ سبھُ مِلےَ سنّسارُ ॥
ناءُ سداۓ آپنھا ہوۄےَ سِدھُ سُمارُ ॥
جا پتِ لیکھےَ نا پۄےَ سبھا پوُج کھُیارُ ॥੨॥
جِن کءُ ستِگُرِ تھاپِیا تِن میٹِ ن سکےَ کوءِ ॥
اونا انّدرِ نامُ نِدھانُ ہےَ نامو پرگٹُ ہوءِ ॥
ناءُ پوُجیِئےَ ناءُ منّنیِئےَ اکھنّڈُ سدا سچُ سوءِ ॥੩॥
کھیہوُ کھیہ رلائیِئےَ تا جیِءُ کیہا ہوءِ ॥
جلیِیا سبھِ سِیانھپا اُٹھیِ چلِیا روءِ ॥
نانک نامِ ۄِسارِئےَ درِ گئِیا کِیا ہوءِ ॥੪॥੮॥
لَفظی معنے :
کُنِگو ۔ کیسر ۔۔ کائیا۔ جِسم ۔للتا۔ زبان ۔اَگر ۔ اُود کا شَجر ۔ واس۔ خوشبوُ۔ تَن۔جِسم ۔ساس (جسم ) سانس ۔ اَٹھ سَٹھ اَڑ سٹھ ۔ مُکہہ۔ مونہہ ، تِتّ گھّٹ ۔ اُس دِلمیں ۔وِگاس۔ خوشی۔ اوت مَتی ۔ اُس دانشمندی۔ گن تاس ۔ اَوصاّف کا خَزانہ ۔بابا ہور مَت ہور ۔ ہور ۔ اِسکے علاوہ دِیگر عَقلمنَد یاں اَور ہیں ۔گمایئے کَمانیں ۔ کوشش کرَیں ۔پوج۔ پَرستِش ۔ سِدھّ۔ یوگ سادھنوں میں کامِلّ ۔لیکہے۔ روزِ حِساّب اَعمالّ ۔سَتگر۔سَچاّ مُرشد۔ تھاّپِیا ۔ مُقررہّ ۔نامو۔ نام ہی ۔اُکھنڈ۔ لگاتار ۔کھبہہ ۔ خاک۔ جیؤ۔ سانس ۔ زِندگی نام وِساریئے۔ نام بُھلاکرَ
ترجمہ:
جِس اؐنسانّ کا جِسم کیسر جَیا پاک زبان اَوصاّف سے مخمُور ہو۔ جِسکے بَدلیں ہر سانس خوُشبوؤں سے بھَراّ ہو ۔جِس اِنسان کی پیشانی پر اَڑسٹھ زِیارت گاہوں کا نِشان ہوں اُس اِنسان میں شعُور اَور عَقل میں اِضافہ بَتدریج ہوتا جاتا ہَے ۔اَور اُس شعُور اَور سَلیقہ سے ہی سَچےّ نام کی صِفتّ صَلاّح ہو سکتی ہَے اَور اوصّاف کے خَزانہ خدا کی صفِت صَلاح ہو سَکتی ہَے ۔اَے بھاّئی نام سے بھوُلی ہوُئی عَقل و سَمجھّ دَؤسری طرف رُحجان کر َ جاتی ہے۔ صفِت صَلاح چہوڑ کر دُوسری طرف راغَب ہو نیے اگر اُسے صَدبار دُہرائیا جائے ۔جہُوٹے اَعمالوں سے جہوٹ ہی بَڑھیگا ۔اگر کوئی اِنسانّ پیر کہانے تن جائے ۔ سارا عالم آکر اُسکا دیدار کرَنے لگ جائے اَور اُسکی پوجا بھی ہونے لگے اَگر الہّٰی حضوری میں بوَقت حساب اَعمال عِزت وَقار نہیں تَب اُسکی پر ستِش خوآری ہَے ۔عِنا یت فَرمائی ہَے ۔اُن کو کوئی مِٹا نَہیں سَکتا ۔اُن کے اَندر الہّٰی نام کا خَزانہ بَستا ہَے ۔الہّٰی نام کی ہی پَر ستِش ہوتی ہَے ۔نام ہی کی عِزت و ناموُس ہَے ۔خدا ہی ہمیشہ قائم دائم رَہنے والا ہَے ۔جَب خاک خاک میں مل گئی۔ تو زندگی کیا ہوئی ۔ تمام دانشمندیاں اور چالاکیاں راکہہ ہو گئیں ۔اَور اِس عالم سے انسان روتا جاتا ہے۔ اے نانک نام الہّٰی بھلاکے الہّٰی پر پہنچ کر کیا حال ہوگا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
گُنھۄنّتیِ گُنھ ۄیِتھرےَ ائُگُنھۄنّتیِ جھوُرِ ॥
جے لوڑہِ ۄرُ کامنھیِ نہ مِلیِئےَ پِر کوُرِ ॥
نا بیڑیِ نا تُلہڑا نا پائیِئےَ پِرُ دوُرِ ॥੧॥
میرے ٹھاکُر پوُرےَ تکھتِ اڈولُ ॥
گُرمُکھِ پوُرا جے کرے پائیِئےَ ساچُ اتولُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
پ٘ربھُ ہرِمنّدرُ سوہنھا تِسُ مہِ مانھک لال ॥
موتیِ ہیِرا نِرملا کنّچن کوٹ ریِسال ॥
بِنُ پئُڑیِ گڑِ کِءُ چڑءُ گُر ہرِ دھِیان نِہال ॥੨॥
گُرُ پئُڑیِ بیڑیِ گُروُ گُرُ تُلہا ہرِ ناءُ ॥
گُرُ سرُ ساگرُ بوہِتھو گُرُ تیِرتھُ دریِیاءُ ॥
جے تِسُ بھاۄےَ اوُجلیِ ست سرِ ناۄنھ جاءُ ॥੩॥
پوُرو پوُرو آکھیِئےَ پوُرےَ تکھتِ نِۄاس ॥
پوُرےَ تھانِ سُہاۄنھےَ پوُرےَ آس نِراس ॥
نانک پوُرا جے مِلےَ کِءُ گھاٹےَ گُنھ تاس ॥੪॥੯॥
لفظی معنے :
گنونتی ۔ والیے اَوصاف۔ ویتھرے۔ بیان کرتی ہے ۔جہور ۔ پچھتانا۔ در۔ خاوِند۔ خدا کامنی ۔ عورت۔ کور۔ جہوٹ ۔ تلہڑ۔ دریا یا ندی پا ر کرنیکے لئے ایک ذریعہ عارضی کشتی ۔میرے ٹھاکر ۔ میرے آقا۔ ڈول۔ مستقل ۔ جو نہ ڈگمگائے۔ تخت۔ حکمرانوں کے لئے بیٹھنے والی جَگہ۔ گورمکہہ۔ مرید مرشد ۔مانک ۔ موتی۔ کنچن کوٹ ۔ سونے کا قلعہ۔ گڑھ ۔ قلو ۔تہال ۔ خوشی ۔گردھیان مرشد میں دھیان ۔ریسال ۔ لطف کا گھر ۔ سر ۔ تالاب۔ ساگر ۔ سمندر ۔بوہتھو۔ جہاز ۔اُوجلی ۔ پاک ۔سَت سر ۔ سَچ کا تالا ب مراد ۔ ست ستنگ۔ سَچا ساتھ ۔ ناون اُشنان ۔تھان۔ مقام۔ آس لزاس ۔ بے اُمیدوں ۔مایوسوں کے لئے اُمید ۔
ترجمہ:
با اوصاف انسان ہمیشہ اوصاف بیانی کرتا ہے ۔گناہگار بد کار ہمیشہ پچھتا تا رہتا ہے ۔اگر عورت چاہتی ہے خاوند یا خدا جہوٹ سے ملاپ سے مل سکتا نہیں ۔کیونکہ نہ کشتی ہے نہ تلہا اور خاوند دور ہے۔ میر آقا کا مل مستقل تخت پر جَلوہ اَفروز ہَے ۔اُسکی کا ملیت بیشمار ہَے ۔ اگر کامل مرشد رَحمَت و عِنایت فَر مائے تَبّ ہی مل سَکتا ہَے ۔ خدا ایک خوبصورت مندر ہَے۔ جسمیں قیمتی ہیرے موتی اَور لعل نہیں موتی ۔ ہیرے اَور پاک سونے کے قلعے نہیں۔ مگر اُس قلعے پر بغیر زینہ چَڑھا نہیں جا سَکتا ۔مرُشد اور خدا کے دھیان سے خوشی میسر ہوتی ہے ۔
مرشد زینہ ہے مرشد کشتی ہے مرشد ہی تلا ہے ۔الہّٰی نام دینے والا ۔ مرشد تالاب دسمندر ہے۔ اور مرشد ہی جہاز ہے ۔مر شد ہی زیارت گاہ اَور دریا ہَے ۔اَگر الہّٰی رضا ہو ۔ تو انسانی سمجھ پاک ہو جاتی ہَے ۔انسان سچے سمندر مراد انسانی سچے پاکدامنوں کی محبت قربت کرتا ہے۔ سب کہتے ہیں خدا کامل ہے اور مکمل تخت پر جلوہ افروز ہے ۔اور پوری جگہ بیٹھا ۔ نا اُمیدوں کے لئے اُمید ہے۔ اے نانک اگر کامل خدا سے ملاپ ہو جائے تو اُسکے اَوصاف میں کیوں کمی آئے۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
آۄہُ بھیَنھے گلِ مِلہ انّکِ سہیلڑیِیاہ ॥
مِلِ کےَ کرہ کہانھیِیا سنّم٘رتھ کنّت کیِیاہ ॥
ساچے ساہِب سبھِ گُنھ ائُگنھ سبھِ اساہ ॥੧॥
کرتا سبھُ کو تیرےَ جورِ ॥
ایکُ سبدُ بیِچاریِئےَ جا توُ تا کِیا ہورِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
॥=جاءِ پُچھہُ سوہاگنھیِ تُسیِ راۄِیا کِنیِ گُنھیِ
سہجِ سنّتوکھِ سیِگاریِیا مِٹھا بولنھیِ ॥
پِرُ ریِسالوُ تا مِلےَ جا گُر کا سبدُ سُنھیِ ॥੨॥
کیتیِیا تیریِیا کُدرتیِ کیۄڈ تیریِ داتِ ॥
کیتے تیرے جیِء جنّت سِپھتِ کرہِ دِنُ راتِ ॥
کیتے تیرے روُپ رنّگ کیتے جاتِ اجاتِ ॥੩॥
سچُ مِلےَ سچُ اوُپجےَ سچ مہِ ساچِ سماءِ ॥
سُرتِ ہوۄےَ پتِ اوُگۄےَ گُربچنیِ بھءُ کھاءِ ॥
نانک سچا پاتِساہُ آپے لۓ مِلاءِ ॥੪॥੧੦॥
لفظی معنے :
گل میلہہ ۔ گالے ملین ۔اَتک۔ گود ۔سہیلڑ آیہ ساتھنو ۔سمر تھ۔ قابلیت رکھنا یاتوفیق۔ اساہ ۔ ہمارے کرتا ۔ ہے کرتار۔ شبد ۔ کالام رادیا اُس سے رشتہ بنا ئیا ۔سہج ۔ قدرتی سکون ریسالو ۔ لطفوں کا گھر ۔قدرتی ۔ اتفاقا ۔وات ۔ تحفہ ۔جات اجات ۔ اونچے درجے کا خاندان اُور کمینہ خاندان۔ ساچ۔ سچ ۔
ترجمہ:
آؤ ساتھیوں گائے ملیں محبت پیار سے اِکھٹے ہوئیں ۔اور پاکدامن صحبت و قربت میں خدا کے متعلق سوچیں ۔جو سب طاقتوں والا ہے۔ جسمیں بیشمار اوصاف سے مرقعہ ہے۔ اے کرتار ۔ کارساز سب تیرے حکم میں ہیں۔ جب واحد کلام کو زیر غور لاتے ہیں جب تو ہے تو اور کیا ۔اُن خدا رسیدہ اِنسانوں سے پوچہو کہ تمہارے ملاپ کیسے ہو ا۔ اپنے آپ کو روحانی سکون اور صَبر سے آراستہ کیا اور زبان سے شرین الفاظ نکالے ۔خداوند کریم سے ملاپ متب ہو سکتا ہے ۔اگر کلام مرشد کو غور سے سنیں ۔اے خدا تو بیشمار برکتوں اور طاقتوں کا مالک ہے ۔اور بیشمار تریاں بخششاں ہیں اور بیشمار جاندار تیری صفت صلاح کر رہے ہیں ۔اور کتنے ہی تیرے شکلی و صورت ہیں ۔اور کتنے ہی بلند اور کمینے خاندان ہیں ۔جو تیرے پیدا کیے ہوئے ہیں ۔خدا وند کریم ۔ اللہ تعالیٰ خود سچا ہے ۔اس سے ملاپ سچ اپنانے سے ہی ہو سکتا ہے۔ سچ اور سچا ہی سچ میں یکسو ہو ہو سکتا ہے ۔سمجھے ۔ ہو ش وا دانش سے عزت ملتی ہے ۔کلام مر شد سے خوف مٹتا ہے اےنانک سَچا خدا جو حکمران عالم ہے خود اُنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
بھلیِ سریِ جِ اُبریِ ہئُمےَ مُئیِ گھراہُ ॥
دوُت لگے پھِرِ چاکریِ ستِگُر کا ۄیساہُ ॥
کلپ تِیاگیِ بادِ ہےَ سچا ۄیپرۄاہُ ॥੧॥
من رے سچُ مِلےَ بھءُ جاءِ ॥
بھےَ بِنُ نِربھءُ کِءُ تھیِئےَ گُرمُکھِ سبدِ سماءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
کیتا آکھنھُ آکھیِئےَ آکھنھِ توٹِ ن ہوءِ ॥
منّگنھ ۄالے کیتڑے داتا ایکو سوءِ ॥
جِس کے جیِء پرانھ ہےَ منِ ۄسِئےَ سُکھُ ہوءِ ॥੨॥
جگُ سُپنا باجیِ بنیِ کھِن مہِ کھیلُ کھیلاءِ ॥
سنّجوگیِ مِلِ ایکسے ۄِجوگیِ اُٹھِ جاءِ ॥
جو تِسُ بھانھا سو تھیِئےَ اۄرُ ن کرنھا جاءِ ॥੩॥
گُرمُکھِ ۄستُ ۄیساہیِئےَ سچُ ۄکھرُ سچُ راسِ ॥
جِنیِ سچُ ۄنھنّجِیا گُر پوُرے ساباسِ ॥
نانک ۄستُ پچھانھسیِ سچُ سئُدا جِسُ پاسِ ॥੪॥੧੧॥

بھلی ۔ نکی ۔سری ۔ ہوئی ۔اُبھری۔ بچی۔ گھر ا ہو ۔ دل میں سے ۔دوت۔ وکار ۔ دشمن ۔ویسا ہو ۔ بھرؤسا ۔کلپ ۔ کالیش باد ۔ جھگڑا ۔ گورمکہہ ۔ مرید مرشد ۔ شبد۔ کلام ۔ کیتا آکھن آکھیئے ۔ آکھن توٹ نہ ہوئے ۔ ضرب المثل ۔ کہاوتیں تو اتنی ہیں کہنے میں۔ کہنے میں کوئی کمی نہیں ۔باجی ۔ کھیل ۔پرسنتا۔ خوشی ۔ پچھانسی۔ پچھانتا ہے ۔ پہچانتا
ترجمہ:
اچھا ہوا جو میری میں اور خودی مٹی دل سے ۔سچے مر شد پر ایمان لانیے دُشمن خادم ہو گئے اور لی تشویش چہوڑی جھگڑا مٹا ۔الہٰی ملاپ حاصل ہوا اے من سچ کے ملاپ سے خوف مٹتا ہے ۔الہٰی خوف کے بغیر دنیاوی خؤف نہیں مٹتا ۔اور بیخوفی نہیں ہوتی ۔ایسا کلام مرشد اپنانے سے ہوتا ہے ۔کتنی کہانیاں کیوں نہ بیان گریں کہنے سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔مانگیں مانگنے والے تو بیشمار ہیں اور دینے والا خداواحد ہے ۔جس خدا نے ہمیں زندگی عنایت فرمائی ہے اگر وہ انسان کے دلمیں بسے تبھی سکہہ ملتا ہے ۔یہ عالم ایک خواب ہے اور ایک کھیل ہے۔ اور انسان کھیل کھیل چلا جاتا ہے ۔قدرتی ۔ طور پر انسان اکھٹے ہوتے ہیں اور جدا ہوکر چلے جاتے ہیں ۔ جو خدا اچھا سمجتا ہے وہی ہوتا ہے اور کسی اور کی کچھ کرنیکی کوئی طاقت نہیں۔ (3) اسلئے مرشد کے وسیلے سے نام ہی خریدنا چاہیے۔ سچا سوداہی سچی دولت ہے ۔جنہوں نے سچ خریدا ہے اُس اوپر الہٰی و مرشد کی شفقت و عنایت ہے ۔اَے نانک جسکے پاس یہ سَچا سودا ہے اُسکی قدر ق قیمت وہی جانتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلُ ੧॥
دھاتُ مِلےَ پھُنِ دھاتُ کءُ سِپھتیِ سِپھتِ سماءِ ॥
لالُ گُلالُ گہبرا سچا رنّگُ چڑاءُ ॥
سچُ مِلےَ سنّتوکھیِیا ہرِ جپِ ایکےَ بھاءِ ॥੧॥
بھائیِ رے سنّت جنا کیِ رینھُ ॥
سنّت سبھا گُرُ پائیِئےَ مُکتِ پدارتھُ دھینھُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
اوُچءُ تھانُ سُہاۄنھا اوُپرِ مہلُ مُرارِ ॥
سچُ کرنھیِ دے پائیِئےَ درُ گھرُ مہلُ پِیارِ ॥
گُرمُکھِ منُ سمجھائیِئےَ آتم رامُ بیِچارِ ॥੨॥
ت٘رِبِدھِ کرم کمائیِئہِ آس انّدیسا ہوءِ ॥
کِءُ گُر بِنُ ت٘رِکُٹیِ چھُٹسیِ سہجِ مِلِئےَ سُکھُ ہوءِ ॥
نِج گھرِ مہلُ پچھانھیِئےَ ندرِ کرے ملُ دھوءِ ॥੩॥
بِنُ گُر میَلُ ن اُترےَ بِنُ ہرِ کِءُ گھر ۄاسُ ॥
ایکو سبدُ ۄیِچاریِئےَ اۄر تِیاگےَ آس ॥
نانک دیکھِ دِکھائیِئےَ ہءُ سد بلِہارےَ جاسُ ॥੪॥੧੨॥
لفظی معنے:
فن ۔ دوبارہ۔ صنعتی ۔ صٖت سے ۔صفت ۔سمائے ۔ صفت میں ملا جا سکتا ہے ۔گلال شوخ گلال رنگ کا پھول ۔کہبرا۔ شوخ۔ سنتو کھیا ۔ صابر ۔دھین ۔ گائے ۔تربدھ ۔ تین طریقوں سے ۔مراد رجو ۔ حکمرانی ۔ تمو ۔ لالچ ۔ ستو ۔ ستیہ ۔ طاقت ۔ترکٹی ۔ تین اوصاف والی ۔ ینوڑی۔ نج گھر اپنے خیالات میں ۔ جو نہ لرزائے ۔ مستقل مزاج
ترجمہ:
جیسے دھات میں دھات مل کر اُسمیں کوئی تفاوت اور فرق مٹ جاتا ہے۔ جیسے ہی الہٰی صٖت صلاح سے انسان خدا میں یکسو ہو جاتا ہے جیسے دھات میں دھات۔ اسطرح الہٰی صٖت صلاح سے انسان گل لالہ کے رنگ کی مانند سرخرود ہو جاتا ہے مگر وہ سچ مراد سچا خدا اُن صابروں کو ملتا ہے جو ہمیشہ صبر والی زندگی بتانے والوں کو ملتا ہے جو الہٰی عبادت ور یاض میں محو اُس واحد خدا میں محو رہتے ہیں۔ اے بھائی سنتوں کی دھول ہو جا۔ سنتوں کی سحبت و قربت میں مرشد ملتا ہے ۔نجات کا تحفہ ملتا ہے۔ خدا اُس اونچے خوبصورت محل پر خدا کا ٹھکانہ ہے سچے اخلاق و عمل سے اور محبت ۔ پریم پیار سے اسکے محل وٹھکانے کا پتہ چلتا ہے ۔مرشد کے وسیلے سے ذہن اور من کو سمجہانیے اور سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے اور روحانی سمجھ اور خیالات سے ۔دنیا کے کام تین طریقوں اور اوصاف کے تحت کام کیئے جاتے ہیں ( رجو۔ تمو۔ ستو) جس ے امیدیں اور نا اُمیدی اور تشویش بنتی رہتی ہے ۔یہ تشویش اور ترکٹی یا بتوڑی مرشد کی پناہ کے بغیر کسے نجات حاصل ہوگی ( پر سکون اور مستقل مزاجی سے استقلال پاکر تب آسائش مل سکتی ہے ۔جب آپ کو اپنی خویش پہچان ہو جائیگی کہ میں کیسا ہوں اور نگاہے شفقت سے اپنی ناپاکزگی دور کرکے ۔مرشد کے بغیر یہ ناپاکیزگی دور نہیں ہوتی نہ ہی خود شناسی ہو سکتی ہے صرف مرشد کے سبق و کلام و خدا پر اعتماد اور عبادت ہی واحد ذریعہ ہے اور تمام اُمیں اور بھروسے چہوڑ کر اے نانک جو مرشد خود دیدار پاکر مجہے دیدار کرتا ہے میں اُسپر قربان ہوں

سِریِراگُ مہلا ੧॥
دھ٘رِگُ جیِۄنھُ دوہاگنھیِ مُٹھیِ دوُجےَ بھاءِ ॥
کلر کیریِ کنّدھ جِءُ اہِنِسِ کِرِ ڈھہِ پاءِ ॥
بِنُ سبدےَ سُکھُ نا تھیِئےَ پِر بِنُ دوُکھُ ن جاءِ ॥੧॥
مُنّدھے پِر بِنُ کِیا سیِگارُ ॥
درِ گھرِ ڈھوئیِ ن لہےَ درگہ جھوُٹھُ کھُیارُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپِ سُجانھُ ن بھُلئیِ سچا ۄڈ کِرسانھُ ॥
پہِلا دھرتیِ سادھِ کےَ سچُ نامُ دے دانھُ ॥
نءُ نِدھِ اُپجےَ نامُ ایکُ کرمِ پۄےَ نیِسانھُ ॥੨॥
گُر کءُ جانھِ ن جانھئیِ کِیا تِسُ چجُ اچارُ ॥
انّدھُلےَ نامُ ۄِسارِیا منمُکھِ انّدھ گُبارُ ॥
آۄنھُ جانھُ ن چُکئیِ مرِ جنمےَ ہوءِ کھُیارُ ॥੩॥
چنّدنُ مولِ انھائِیا کُنّگوُ ماںگ سنّدھوُرُ ॥
چویا چنّدنُ بہُ گھنھا پانا نالِ کپوُرُ ॥
جے دھن کنّتِ ن بھاۄئیِ ت سبھِ اڈنّبر کوُڑُ ॥੪॥
سبھِ رس بھوگنھ بادِ ہہِ سبھِ سیِگار ۄِکار ॥
جب لگُ سبدِ ن بھیدیِئےَ کِءُ سوہےَ گُردُیارِ ॥
نانک دھنّنُ سُہاگنھیِ جِن سہ نالِ پِیارُ ॥੫॥੧੩॥
دھرگ ۔ لعنت ۔دوہاگنی ۔ دو خاوندوں والی ۔بد قسمت۔ مُٹھی۔ دہوکا کھائی۔ ڈوبے بھائے دویش دولت ایہہ ۔ دن ۔ نس ۔ رات اہنس شب و روز مندھے ۔ جاہل ۔ ڈہوئی ۔ سہارا ۔ سُبحان ۔ دانشمند۔ سادھ کے۔ پاک بناکے ۔کرم ۔ بخشش ۔نیسان ۔ راہداری۔ چج ۔ سلیقہ ۔ آچار ۔ اخلاق۔ اندھے۔ اندھے ۔منھکہہ ۔ خودی پسند ۔اندھ غُبار۔ بھاری اندھیر ۔چُکئی ۔ ختم نہ ہونا ۔مول۔ قیمتاً ۔ انائیا ۔ منگوائیا ۔چوآ۔ عطر۔ اڈنبر ۔ دکھاوا ۔۔
ترجمہ:
جو انسان دو راستوں پر چلتا ہے وہ دو سرے دویش اور دوئی میں دھوکا میں لٹ گیا ۔وہ ایسے ہے جیسے کلر اٹھی دیوار روز و شب آہستہ آہستہ ۔ بتدریج ختم ہوتی رہتی ہے ۔کلام کے بغیر سکہہ نہیں مل سکتا اور خدا کے بغیر عذاب نہیں مٹتا ۔ اے جاہل (پتی) یعنی خدا کے بغیر سجاوٹ کرنا بیفائدہ ہے ۔خاوند یعنی خدا کے بغیر ٹھکانہ نہیں ملتا ۔الہٰی درگاہ میں جہوٹے ثابت ہوگے اور ذلیل ہو گے۔ آپ سُبحان نہ بھلئی سَچا وڈکرسان ۔ خدا ایک بھاری دانشمند کسان ہے جو سچا ہے وہ بھولتا نہیں پہلے زمین کی صفائی کرتا ہے۔ اُسمیں سَچا الہٰی نام سچ ۔ حق و حقیقت بیج بوتا ہے۔ انسانی من کی صفائی کے بعد ۔ زمین اور کسان کی تشبیح دی ہے وہاں نام اُگتا ہے ۔یعنی نو خزانے الہٰی نام کرم و عنایت سے قبول ہوتا ہے ۔جو انسان سمجہتے ہوئے نہیں سمجھتا اُسے اُسکی تمام زندگی کج روی میں گذر جاتی ہے ۔اُس جاہل نے الہٰی نام بھلائیا ہے ۔خودی پسند ہمیشہ جہالت میں گذر اوقات کرتا ہے ۔وہ فہم و اخلاق سے بے بہرہ ہے ۔اُسکا تناسخ ختم نہیں ہوتا ۔اور ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔ (3)عورت نے اپنے خاوند کو خوش کرنیکے لئے چندن قیمتاً منگوائیا کیسر منگوایا اور سر میں چیر خوبصورت بنانے کے لئے سند ھور منگوائیا ۔مگر اگر عورت خاوند کو نہ بھائی اچھی نہ لگی تو اُسے عطر ۔ چندن پان اور کپور جو اُسنے منگوایا تب اُسکے یہ دکھاوے کی تمام کوششیں بیکار ہیں ۔خدا کو محض دکھاوے سے اَور مذہبی کوششوں سے اُسکی خوشنودی حاصل نہیں ہو سکتی ۔تمام لذتوں کو لطف جھگڑا ہے ۔اور تمام سجاوٹیں و آرائش بیکار ہے۔ جب تک انسان کے دل پر سبق مرشد اثر پذیر نہیں ہوجاتا ۔در دولت مرشد پر شہرت یافتہ نہیں ہوتا ۔اے نانک وہ خدا رسیدہ انسان مبارکباد کے مستحق نہیں جنکا اپنے خدا سے پیار ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
سُنّجنْیِ دیہ ڈراۄنھیِ جا جیِءُ ۄِچہُ جاءِ ॥
بھاہِ بلنّدیِ ۄِجھۄیِ دھوُءُ ن نِکسِئو کاءِ ॥
پنّچے رُنّنے دُکھِ بھرے بِنسے دوُجےَ بھاءِ ॥੧॥
موُڑے رامُ جپہُ گُنھ سارِ ॥
ہئُمےَ ممتا موہنھیِ سبھ مُٹھیِ اہنّکارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنیِ نامُ ۄِسارِیا دوُجیِ کارےَ لگِ ॥
دُبِدھا لاگے پچِ مُۓ انّترِ ت٘رِسنا اگِ ॥
گُرِ راکھے سے اُبرے ہورِ مُٹھیِ دھنّدھےَ ٹھگِ ॥੨॥
مُئیِ پریِتِ پِیارُ گئِیا مُیا ۄیَرُ ۄِرودھُ ॥
دھنّدھا تھکا ہءُ مُئیِ ممتا مائِیا ک٘رودھُ ॥
کرمِ مِلےَ سچُ پائیِئےَ گُرمُکھِ سدا نِرودھُ ॥੩॥
سچیِ کارےَ سچُ مِلےَ گُرمتِ پلےَ پاءِ ॥
سو نرُ جنّمےَ نا مرےَ نا آۄےَ نا جاءِ ॥
نانک درِ پردھانُ سو درگہِ پیَدھا جاءِ ॥੪॥੧੪॥
لفظی معنے:
سُنجی ۔ غیر آباد ۔دیہہ۔ جسم ۔بھاہے۔ آگ ۔وجہوی۔ بجھ گئی۔ دہوؤ۔ دہوآں ۔نکسیؤنہ نہ نکلا ۔پنچے۔ پانچوں گیان اندرے ، ڈوبے بھائے ۔دوئی ۔ دویش ۔ انسے دنیاوی دولت کی محبت یں مٹ گئے ۔سار۔ سنبھالنا ۔ ہوتمے۔ خودی ۔ ممتا ۔ میری ۔موہنی ۔ دلربا۔ دل کو لبھانے والی ۔مٹھی۔ٹھگی ۔ دہوکا ۔اہنگا ۔ تکبر ۔ غرور ۔ گھمنڈ ۔دُبدھا۔ دوچتی۔ پچ۔ خوآر ۔ ذلالت ۔کرم۔ بخشش ۔گورمکہہ۔ مر ید مرشد۔ وسیلہ مرشد ۔ یزؤدھ ۔ ضبط ۔ روک ۔اُبھرے بچے ۔موئی ۔ ختم ہوئی ۔ (3)پیدھا۔ خلوت ۔ سرؤپا
ترجمہ:
جب روح پرواز کر جاتی ہے تو یہ جسم مرجہا جاتا ہے ۔اور شکل ڈراؤنی ہو جاتی ہے ۔جو زندگی کی آگ جلتی تھی بُجھ جاتی ہے ۔سانس بند ہو جاتا ہے پانچوں گیان اندرے ۔ جو دنیاوی دکہہ سے بھر کر روئے کیونکہ دوئی دویش میں مشغول رہے۔ اے نادان خدا کو یاد کرؤ اور اوصاف کو سنبھالوں۔ خودی دوئی ۔ دؤیش اور تکبر نے سب کو لوٹ لیا ہے ۔جنہوں نے دوسرے کاموں میں مشغول ہوکر خدا کو بھلائیا دوئی اور دبدھا میں خواہشات کی آگ میں بھٹکتے رہے اور آخر روحانی موت ہوگئی۔ جنکی مرشد نے حفاظت کی وہ سچ گئے ۔انہیں دنیاوی کاروبار نے لوٹ لیا ۔جو انسان ان گیان اندریوں پر ضبط رکھتا ہے ۔اُسے الہٰی کرم و عنایت سے اُسکا خدا سے ملاپ ہو جاتا ہے ۔اُس کا دنیاوی دولت سے محبت ختم ہو جاتی ہے ۔اُسکا کسی سے دشمنی نہیں رہتی اور دولت کے لئے جدو جہد ختم ہو جاتی ہے ۔خودی ختم ہو جاتی ہے غصہ ختم ہو جاتا ہے اور دولت کی ملکیت کا جھگڑا ختم ہو جاتا ہے۔ سچے کام سے سچ ملتا ہے۔ اور سبق مرشد ۔ ملجاتا ہے ۔اُسکا تناسخ ختم ہو جاتا ہے۔ اے نانک وہ الہٰی در پر سرخرو ہوتا ہے اور خلعتیں پاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہل ੧॥
تنُ جلِ بلِ ماٹیِ بھئِیا منُ مائِیا موہِ منوُرُ ॥
ائُگنھ پھِرِ لاگوُ بھۓ کوُرِ ۄجاۄےَ توُرُ ॥
بِنُ سبدےَ بھرمائیِئےَ دُبِدھا ڈوبے پوُرُ ॥੧॥
من رے سبدِ ترہُ چِتُ لاءِ ॥
جِنِ گُرمُکھِ نامُ ن بوُجھِیا مرِ جنمےَ آۄےَ جاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
تنُ سوُچا سو آکھیِئےَ جِسُ مہِ ساچا ناءُ ॥
بھےَ سچِ راتیِ دیہُریِ جِہۄا سچُ سُیاءُ ॥
سچیِ ندرِ نِہالیِئےَ بہُڑِ ن پاۄےَ تاءُ ॥੨॥
ساچے تے پۄنا بھئِیا پۄنےَ تے جلُ ہوءِ ॥
جل تے ت٘رِبھۄنھُ ساجِیا گھٹِ گھٹِ جوتِ سموءِ ॥
نِرملُ میَلا نا تھیِئےَ سبدِ رتے پتِ ہوءِ ॥੩॥
اِہُ منُ ساچِ سنّتوکھِیا ندرِ کرے تِسُ ماہِ ॥
پنّچ بھوُت سچِ بھےَ رتے جوتِ سچیِ من ماہِ ॥
نانک ائُگنھ ۄیِسرے گُرِ راکھے پتِ تاہِ ॥੪॥੧੫॥
لفظی معنے:
منور۔ گندا لوہا ۔یا لوہے کی میل ۔کھور ۔ باجہ ۔کور ۔ جہوٹھ ۔دبدھا۔ دوچتی ۔ بھر مایئے ۔ بھٹکتے رہنا ۔شبد۔ کلام ۔گورمکہہ ۔ مرید مرشد ۔مرشد کے ذریعے ۔ سوچا ۔ پا ک۔ بھے ۔ خوف۔ سچ۔ حقیقت ۔راتی۔ متاثر ۔دیہری ۔ جسمانی ۔ سواؤ ۔ لطف ۔مزہ ۔نہالیے ۔ شفقت ۔ عنایت ۔ساچے۔ خدا ۔پونے ۔ ہوا۔ تربھون۔ تینوں عالم ۔ساجیا ۔ بنائیا ۔سموئے۔ پرویش ۔ سمائی ۔ شبد رقے ۔ کلام بسا کے ۔متاثر ہوکر ۔پنچ بھوت ۔ پانچ تت ۔ پانچ مادیات

ترجمہ:
جسم جل کر خاک ہو گیا اور من میل خورد لوہے کی مانند ہو گیا ۔دولت کے عشق میں بد اعمال ساتھ نہیں چہوڑتے وہ ابھی بھی جہوٹ میں محو شادمانی کرتا ہے۔ اور سبق مرشد سے محروم بھٹکتا ہے۔ اور اس دوچتی میں گروہ کے گروہ ڈوب گئے۔ اے دل دلمیں سبق مرشد بساؤ ۔جسنے مرشد کے ذریعے نام نہ سمہجا ۔وہ سچ حق و حقیقت کی سمجھ نہ آئی وہ تناسخ میں پڑ رہتا ہے۔ سچا پاک جسم اُسے کہا جائے جسمیں سچا نام بستا ہے ۔جسکے اندر الہٰی خوف اور جسم سچ سے لبریز ہو زبان سچ سے مخمور ہو کر بالذت ہو ۔ایسے انسان کو بارگاہ الہٰی میں پاک نظر سے دیکہا جاتا ہے ۔اُس پر نظر عنایت ہوتی ہے اور عذاب نہیں ملتا ۔ساچے یعنی خدا سے ہوا پیدا ہوئی اور ہوا سے پانی پید ا ہوا اور پانی سے تینوں عالم وجود میں آئے اور دل میں الہٰی غور بسا ۔وہ ہمیشہ پاک رہتا ہے کبھی ناپاک نہیں ہوتا ۔کلام کی محویت سے عزت پاتا ہے۔ جب یہ دل سچا اور صابر ہو جاتا ہے اس پر نظر عنانت ہو جاتی ہے ۔اُسکا تمام پائچ تتوں سے بنا جسم الہٰی یاد اَور سچے خوف سے سچے نور سے اے نانک تمام بد اوصاف ختم ہوجاتے ہیں۔ اَور مرشد اُسکی عزت کا محافظ ہو جاتا ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
نانک بیڑیِ سچ کیِ تریِئےَ گُر ۄیِچارِ ॥
اِکِ آۄہِ اِکِ جاۄہیِ پوُرِ بھرے اہنّکارِ ॥
منہٹھِ متیِ بوُڈیِئےَ گُرمُکھِ سچُ سُ تارِ ॥੧॥
گُر بِنُ کِءُ تریِئےَ سُکھُ ہوءِ ॥
جِءُ بھاۄےَ تِءُ راکھُ توُ مےَ اۄرُ ن دوُجا کوءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آگےَ دیکھءُ ڈءُ جلےَ پاچھےَ ہرِئو انّگوُرُ ॥
جِس تے اُپجےَ تِس تے بِنسےَ گھٹِ گھٹِ سچُ بھرپوُرِ ॥
آپے میلِ مِلاۄہیِ ساچےَ مہلِ ہدوُرِ ॥੨॥
ساہِ ساہِ تُجھُ سنّملا کدے ن ۄِساریءُ ॥
جِءُ جِءُ ساہبُ منِ ۄسےَ گُرمُکھِ انّم٘رِتُ پیءُ ॥
منُ تنُ تیرا توُ دھنھیِ گربُ نِۄارِ سمیءُ ॥੩॥
جِنِ ایہُ جگتُ اُپائِیا ت٘رِبھۄنھُ کرِ آکارُ ॥
گُرمُکھِ چاننھُ جانھیِئےَ منمُکھِ مُگدھُ گُبارُ ॥
گھٹِ گھٹِ جوتِ نِرنّتریِ بوُجھےَ گُرمتِ سارُ ॥੪॥
گُرمُکھِ جِنیِ جانھِیا تِن کیِچےَ ساباسِ ॥
سچے سیتیِ رلِ مِلے سچے گُنھ پرگاسِ ॥
نانک نامِ سنّتوکھیِیا جیِءُ پِنّڈُ پ٘ربھ پاسِ ॥੫॥੧੬॥
لفظی معنے:
کیوں تریئے ۔ نہیں کامیاب ہو سکتا ۔ ڈؤ ۔ جنگل کی آگ ۔ بیڑی سچ کی حقیقت ۔ سَچ کو کشتی سمجہئے ۔اور گرویچا ۔ اور سبق مرشد زیر کارلائیں ۔ من ہٹھ۔ دلی ضد ۔متی ۔ سمجھ۔ بوڈیئے۔ ناکامیابی ہو جائے۔ گورمکہہ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔ڈؤجلے۔ شمشان جنگل کی آگ جل گھاٹ میں شمشان جل رہی ہے ۔ ہر یؤ اَنگور ۔ نئے پودے اُگ رہے ہیں۔ جس تے اُچجے ۔ جس سے پیدا ہوا ہے۔ سنملا۔ یاد کرنا ۔ سمیؤ ۔ سماجاواں ۔دھیان لگاواں ۔سار ۔ حقیقت اِسنتو کھیا۔ صابر ۔
ترجمہ:
اے نانک سچ یا حقیقت کو کشتی سمجھکر اور سبق مرشد سے اس دنیاوی سمندر سے کامیاب زندگی ہو سگتی ہے۔ اس عالم میں ایک پیدا ہو رہے ہیں جنم لے رہے ہیں اور ایک اس جہاں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ گروہ کے گروہ اور قافلے غرور اور تکبر سے بھرے ہوئے ہیں ۔دلی ضد سے اور خویش سمجھ سے ناکامیابی ملتی ہے مرشد کے وسیلے اور سچ سے کامیابی ۔مرشد کے بقر کیے کامیابی اور آرام و آسائش ہوتی ہے ۔ اے خدا جیسے تیری رضا ہے مرضی ہے اُسی طور میری حفاظت کر ۔ تیرے بغیر کوئی دوسرا میرا نہیں۔ مستقبل میں شمشان جل رہے ہیں ۔مراد انسان روحانی موت سے مر رہے ہیں ۔اور دوسری طرف نئے پیدا ہو رہے ہیں ۔ جو یا جس سے پیدا ہوتا ہے اُس سے ہی ختم ہو جاتا ہے دلمیں بَستا ہے خدا خو د ہی خدا ملاپ کراتا ہے سچے الہٰی ٹھکانے پر رکھتا ہے خدا۔ (3) اے خدا تجہے سانس سانس یاد کرتا ہوں کبھی نہیں بھلاتا ۔مرشد کے وسیلے سے جیسے جیسے خدا دل میں بستے میں روحانی زندگی عنایت کرنیوالا آب حیات پیتا رہوں۔ اے خدا میرے دل و جان کا تو ہی مال ہے۔ میرا غرور اور تکبر دور کرکے تجھ میں میرا دھیان رہے ۔ (3)جس نے یہ عالم پیدا کیا ہے اور تینوں عالم بنائے ہیں ۔ مرشد کی وساطت سے سمجھ آتی ہے روشنی ملتی ہے اور خودی پسند بیخجر لا علمی کے اندھیرے میں ہے ۔یہ دلمیں ہے نور الہٰی ۔ سبق مرشد سے ہی اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے ۔
جنہوں نے مرشد کے وسیلے سے اسے سمجھ لیا اُنہیں مبار کیں ملتی ہیں وہ خدا سے یکسو ہو جاتے ہیں اور الہٰی اوصاف اُنمیں ظہور پذیر ہو جاتے ہیں ۔نانک نام میں محویت و مصروفیت سے اپنا دل و جان خدا کے حوالے ہے ان کا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
سُنھِ من مِت٘ر پِیارِیا مِلُ ۄیلا ہےَ ایہ ॥
جب لگُ جوبنِ ساسُ ہےَ تب لگُ اِہُ تنُ دیہ ॥
بِنُ گُنھ کامِ ن آۄئیِ ڈھہِ ڈھیریِ تنُ کھیہ ॥੧॥
میرے من لےَ لاہا گھرِ جاہِ ॥
گُرمُکھِ نامُ سلاہیِئےَ ہئُمےَ نِۄریِ بھاہِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سُنھِ سُنھِ گنّڈھنھُ گنّڈھیِئےَ لِکھِ پڑِ بُجھہِ بھارُ ॥
ت٘رِسنا اہِنِسِ اگلیِ ہئُمےَ روگُ ۄِکارُ ॥
اوہُ ۄیپرۄاہُ اتولۄا گُرمتِ کیِمتِ سارُ ॥੨॥
لکھ سِیانھپ جے کریِ لکھ سِءُ پ٘ریِتِ مِلاپُ ॥
بِنُ سنّگتِ سادھ ن دھ٘راپیِیا بِنُ ناۄےَ دوُکھ سنّتاپُ ॥
ہرِ جپِ جیِئرے چھُٹیِئےَ گُرمُکھِ چیِنےَ آپُ ॥੩॥
تنُ منُ گُر پہِ ۄیچِیا منُ دیِیا سِرُ نالِ ॥
ت٘رِبھۄنھُ کھوجِ ڈھنّڈھولِیا گُرمُکھِ کھوجِ نِہالِ ॥
ستگُرِ میلِ مِلائِیا نانک سو پ٘ربھُ نالِ ॥੪॥੧੭॥
لفظی معنے:
مل ویلا ہے ایہہ ۔یہی موقعہ ہے الہٰی ملاپ کا ۔جو بن ۔ جوانی ۔ساس ۔ زندگی ۔ گن ۔وصف ۔ڈھہہ ۔ ڈھیری تن کپھہہ ۔یہ خاک کا تو وہ ہو جائیگا ۔ لاہا۔ مُنافع ۔ ہونمے نوری بھایہہ ۔ خودی کی ۔ آگ دو ر ہوئی ۔ مٹی ۔گنڈھن۔گنڈھیئے ۔منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔ ترستنا ۔ پیاس ۔ آہنس ۔ روز و شب ۔اُگلی۔ بہت زیادہ۔ لکہہ ۔ تحریر ۔پڑھ بجہے بھار ۔ کتابوں کے ڈھیر کو سمجہتے رہنا۔ اتو سواں ۔ جسے تو لیا نہ جا سکے۔ سار۔ سنبھال ۔قیمت۔ قدر۔ نہ دھراپیا ۔ سیرنہیں ہوتا ۔ سنتاپ۔ جھگڑا ۔گور مکہہ پینے آپ ۔ مرشد کے وسیلے سے اپنے آپ کی پڑتال ۔ (3) نہال ۔ خوش
ترجمہ:
اَے میرے دوست من سن ۔ خدا سے ملاپ کا یہی موقع ہے۔ جب تک جوانی ہے اور سانس ہیں تب تک ہی یہ جسم کام کرنیکے لائق ہے بغیر اوصاف اس نے کام نہیں آنا اور خاک کا آخر ڈھیر بن جائیگا۔ اے دل منافع کما اور اپنی منزل پر پہنچ ۔مرشد کی معرفت صفت صلاح کر اور خودی کی آگ بجھا ۔بیشمار کتابیں لکھ لکھ کر اور پڑھ پڑھ کر اُنہیں سمجہتے ہیں۔ اور تجویز یں اور منصوبے بناتے ہیں ۔دلمیں خواہشات کی از حڈ پیا س کی آگ جل رہی ہے اور از حد خودی کی بد خیالی ہے ۔ وہ لاپرواہ ۔ لا محدود ۔ لا میزان ہے سبق۔ مرشد سے اُسکی قدر و قیمت سمجھ ۔خوآہ میں لاکھوں دانمشندیاں زیر کار لاؤں ۔اور لاکھوں اشخاص سے پیار کروں اور رشتے بناؤں ۔مگرصحبت و قربت کے بغیر پاکدامن خدا رسیدہ کے خواہشات کی پیاس نہیں بجھتی ۔الہٰی نام کی یاد کے بغیر ذہنی کوفت اور دنیاوی جھگڑے ختم نہیں ہوتے۔ اے میری جان۔ روح خدا کی یاد وریا ض و عبادت کے بغیر نجات ہے ۔اور مرشد کے وسیلے سے خوئش کی پہنچا ن درکار ہے۔ جسنے دل و جان مرشد کےحوالے کردیا اور نام کے عوض فروخت کردیا دل اور سر اسکے حوالے کر دیئے ۔ تینوں عالموں کی تلاش اور جستجو کی مگرہ مرشد کے وسیلے سے تلاش کی تو سچے مرشد نے اُس سے ملاپ کر ادیا۔ اے نانک وہ خدا نزدیک اور ساتھ ہے ۔ (۔7-20)

سِریِراگُ مہلا ੧॥
مرنھےَ کیِ چِنّتا نہیِ جیِۄنھ کیِ نہیِ آس ॥
توُ سرب جیِیا پ٘رتِپالہیِ لیکھےَ ساس گِراس ॥
انّترِ گُرمُکھِ توُ ۄسہِ جِءُ بھاۄےَ تِءُ نِرجاسِ ॥੧॥
جیِئرے رام جپت منُ مانُ ॥
انّترِ لاگیِ جلِ بُجھیِ پائِیا گُرمُکھِ گِیانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
انّتر کیِ گتِ جانھیِئےَ گُر مِلیِئےَ سنّک اُتارِ ॥
مُئِیا جِتُ گھرِ جائیِئےَ تِتُ جیِۄدِیا مرُ مارِ ॥
انہد سبدِ سُہاۄنھے پائیِئےَ گُر ۄیِچارِ ॥੨॥
انہد بانھیِ پائیِئےَ تہ ہئُمےَ ہوءِ بِناسُ ॥
ستگُرُ سیۄے آپنھا ہءُ سد کُربانھےَ تاسُ ॥
کھڑِ درگہ پیَنائیِئےَ مُکھِ ہرِ نام نِۄاسُ ॥੩॥
جہ دیکھا تہ رۄِ رہے سِۄ سکتیِ کا میلُ ॥
ت٘رِہُ گُنھ بنّدھیِ دیہُریِ جو آئِیا جگِ سو کھیلُ ॥
ۄِجوگیِ دُکھِ ۄِچھُڑے منمُکھِ لہہِ ن میلُ ॥੪॥
منُ بیَراگیِ گھرِ ۄسےَ سچ بھےَ راتا ہوءِ ॥
گِیان مہارسُ بھوگۄےَ باہُڑِ بھوُکھ ن ہوءِ ॥
نانک اِہُ منُ مارِ مِلُ بھیِ پھِرِ دُکھُ ن ہوءِ ॥੫॥੧੮॥
لفظی معنے:
چنتا ۔ فکر۔ آس ۔ اُمید۔ جیون۔ زندگی۔ جیاں۔جاندار ۔سرب۔ سارے ۔پرتپایہی۔ پرورش کرتا ہے ۔ساس۔ سانس ۔گراس ۔ کھمہ ۔انتر گور مکہہ ۔ مرید مرشد کے اندر نرجاس ۔ تشویح تحقیق کرتا ہے ۔ تزنا ۔چیڑے۔ اے جاندار۔ اے میری زندگی جان۔ ستنگ۔ شبہ ۔شک ۔موئیاں جت گھر جایئے ۔ بور وفات ۔ جہاں جانا ہے ۔تت ۔اُسے ۔جیود یا مر مار ۔ دوران حیات۔ ختم کر دے ۔انحد ۔ بلا بجائے بجنے والا۔ لگاتار۔ شبد۔ کلام ۔انحد بانی ۔ بغر رُکے کلام ۔گھڑ درگہہ ۔ پہنتایئے ۔ لیجا کے خلعت عنائیت کیجئے ۔ ۔مکہہ ہر نام نواس ۔ منہہ میں الہٰی نام۔ سو۔ روح۔ شکتی ۔ مادہ ۔تریہہ۔ گن تین اوصاف پر مشتمل ۔وجوگی۔ جدائی پائے ۔ہوئے ۔ منمکہہ۔ خودی پسند۔ خوئش کار۔ کہے نہ میل ۔ ملاپ نہیں پاتے ۔ویراگی ۔ تارک الدنیا ۔سچ بھے ۔ سچے کے پاک خوف ۔راتا۔ محو۔ بھوگوئے ۔ زیر استعمال لاتا ہے۔ بھوکہہ۔ لالچ
ترجمہ:
نہ تو موت کا فکر ہے نہ زندہ رہنے کی اُمید ہے۔ اے خدا تو سب جانداروں کی پرورش کرنیوالا ہے ۔اور ہر سانس اور ہر لقمہ زیر حساب ہے ۔مرید مرشد کی روح میں تو بستا ہے۔ جیسے تیری رضا و رغبت ہے اُسکے مطابق اُسکی تشریح اور فیصلہ کرتا ہے ۔ نیک و بد کا خیال۔ اے میری زندگی و روح الہٰ ی ریاض کرتے کرتے یہ دل میں بس گیا ہے ۔اور اندرونی جلن بجھ گئی ہے اور مرشد کے وسیلے سے علم حاصل ہو گیا ۔دلی راز و حالات سمجھ اور مرشد سے مل کر تمام شک و شبہات دور کر ۔جہاں بعد وفات پہنچنا ہے دوران حیات ہی اُس موت کا خوف مٹا دے ۔مگر یہ حالت تب ہوتی ہے جب سبق مرشد پر علمدر آمد ہو جائے۔(2) جب ہر وقت صفت صلاح کرنکی حالت ہو جائے تو اس حالت میں خودی ختم ہو جاتی ہے ۔میں قربان ہوں اس پر جو خدمت مرشد کرتا ہے۔ جسکی زبان پر الہٰی سچ ۔ حق و حقیقت نام ہے اسے بارگاہ الہٰی میں خلعتیں ملتی ہیں ۔ (3) میں جدھر نگاہ دوڑاتا ہوں اُدر ہی انسان مایا میں مست و محو ہے دنیاوی دولت اور جانداروں کا آپس میں ہیں ملاپ ہے مادہ پرست پرست و خودی پرستوں کا مادیات کے تین اوصاف ۔ رجو۔ ستو۔ تمو میں گرفتار ہیں۔ جو بھی خودی پسند اس دنیا میں آئیا وہ یہی کھیل کھیلتا ہے ۔جدائی کا عذاب پاتا خودی پسند ۔ کا خدا سے ملاپ ہو ہی نہیں سکتا ۔ (4)تارک ذہن نشین رہتا ہے اے تارک الدنیا خدا ذہن نہیں بستا ہے ۔یعنی تارک طارق خدا کا خوف رکھتا ہے دلمیں وہ علم مرشد کے بھاری لطف کا مزہ لیتا ہے ۔اور خدا سے شراکت کا بھاری لطف لیتا ہےاور اُسے دنیاوی دولت کی بہوک نہیں رہتی۔ اے نانک تو بھی اس دل سے دولت کو بھلا کر خدا سے اشتراک حاصل کرتا کہ پھر کبھی جدائی کا عذاب نہ ہو ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
ایہُ منو موُرکھُ لوبھیِیا لوبھے لگا لد਼بھانُ ॥
سبدِ ن بھیِجےَ ساکتا دُرمتِ آۄنُ جانُ ॥
سادھوُ ستگُرُ جے مِلےَ تا پائیِئےَ گُنھیِ نِدھانُ ॥੧॥
من رے ہئُمےَ چھوڈِ گُمانُ ॥
ہرِ گُرُ سرۄرُ سیۄِ توُ پاۄہِ درگہ مانُ ॥੧॥ رہاءُ ॥
رام نامُ جپِ دِنسُ راتِ گُرمُکھِ ہرِ دھنُ جانُ ॥
سبھِ سُکھ ہرِ رس بھوگنھے سنّت سبھا مِلِ گِیانُ ॥
نِتِ اہِنِسِ ہرِ پ٘ربھُ سیۄِیا ستگُرِ دیِیا نامُ ॥੨॥
کوُکر کوُڑُ کمائیِئےَ گُر نِنّدا پچےَ پچانُ ॥
بھرمے بھوُلا دُکھُ گھنھو جمُ مارِ کرےَ کھُلہانُ ॥
منمُکھِ سُکھُ ن پائیِئےَ گُرمُکھِ سُکھُ سُبھانُ ॥੩॥
ایَتھےَ دھنّدھُ پِٹائیِئےَ سچُ لِکھتُ پرۄانُ ॥
ہرِ سجنھُ گُرُ سیۄدا گُر کرنھیِ پردھانُ ॥
نانک نامُ ن ۄیِسرےَ کرمِ سچےَ نیِسانھُ ॥੪॥੧੯॥
لفظی معنے:
لوبھے ۔ لالچ میں ۔ شبد ۔کلام ۔ سبق ۔ نہ بھیجے ۔ یقین نہیں کرتا۔ ایمان نہیں لاتا ۔ساکت۔ مادہ ۔پرست ۔دُرمت ۔ بد عقل۔ آون جان ۔ تناسخ۔ سادھو ۔ پاکدامن۔ گنی ندھان خزانہ اوصاف ۔سرودر ۔ تالاب ۔ گورمکہہ ۔ مرشد کے وسیلے سے ۔گیان۔ علم۔ ایہہ ۔ دن ۔نس رات۔ ستگر سچا مرشد ۔ (2)کوکر ۔ کُتا ۔پچے پحان ۔ ذلالت ۔ خوآری ۔کھلہان۔ برا حال۔ سبھان ۔ خوشحالی ۔سوبھاد ۔(3)دھند۔ جنجال ۔گر کرنی ۔ کار مرشد۔ پردھان۔ بلند شخضیت۔ کرم ۔ بخشش ۔ نیسان ۔ منزل ۔ رہداری ۔
ترجمہ:
اے نادان لالچی من لالچ کرتا ہے مادہ پرست کلام یا سبق پر ایمان نہیں لاتے خدا کو بھلا نا روحانی موت ہے۔ سچا نام کی ریاض مشکل ہے۔ سچے نام کی دلمیں بہوک لگی ہوئی ہے ۔اُس بھوک جو الہٰی نام کی ہے کھانیے سارے عذآب مٹ جاتے ہیں ۔اَے ماں اُصے کیوں بہولوں ۔جو سچا مالک ہے۔ اور اُسکا نام سچا ہے ۔اُس سچے نام کی ذرا بھر صفت صلاح کرکے تھک گئے ۔ مگر کوئی اُسکی قیمت نہیں پاسکا ۔اگر سارے اکھٹے ہوکر بیان کرنیکی سئی کریں۔ تا اُسی عظمت کو بڑا نہیں کرسکتے ۔اور نہ عظمت گھٹتی ہے ۔نہ وہ ختم ہوتا ہے نہ اُصے افسوس ہے ۔رزق دیتا رہتا ہے رکتانہیں۔ یہی وصف ہے اُسکا۔ کہ اُسکا کوئی ثانی نہیں نہ اب تک ہوا ہے ۔نہ ہوگا ۔ (3)جتنا خود بڑا ہے ۔اُتنی ہی بڑی بخشش ہے ۔ جسے دن اور رات بنائے ہیں جو مالک کو بھلاتا ہے کمینہ ہے نانک نام سچ۔ حق وحقیقت کے بغیر کمینے ہیں۔ سکوں پاتا ہے (3) اس عالم میں دنیاوی مخمے ۔ جنجال میں مصروف رہتا ہے ۔مگر الہٰی دربار میں سچی تحریر اعمال ہی قابل قبول و منظور ہوتی ہے الہٰی دوست مرشت کی خدمت کرتا ہے ۔ کار مرشد ہی الہٰی درگاہ میں مقبول ہے۔ اے نانک نام نہ بھولوں جو ہمیشہ قائم دائم ہے ہے۔ جسکی پیشانی پر اور جاب اعمال نامہ میں سچا نشان موجود ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
اِکُ تِلُ پِیارا ۄیِسرےَ روگُ ۄڈا من ماہِ ॥
کِءُ درگہ پتِ پائیِئےَ جا ہرِ ن ۄسےَ من ماہِ ॥
گُرِ مِلِئےَ سُکھُ پائیِئےَ اگنِ مرےَ گُنھ ماہِ ॥੧॥
من رے اہِنِسِ ہرِ گُنھ سارِ ॥
جِن کھِنُ پلُ نامُ ن ۄیِسرےَ تے جن ۄِرلے سنّسارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جوتیِ جوتِ مِلائیِئےَ سُرتیِ سُرتِ سنّجوگُ ॥
ہِنّسا ہئُمےَ گتُ گۓ ناہیِ سہسا سوگُ ॥
گُرمُکھِ جِسُ ہرِ منِ ۄسےَ تِسُ میلے گُرُ سنّجوگُ ॥੨॥
کائِیا کامنھِ جے کریِ بھوگے بھوگنھہارُ ॥
تِسُ سِءُ نیہُ ن کیِجئیِ جو دیِسےَ چلنھہارُ ॥
گُرمُکھِ رۄہِ سوہاگنھیِ سو پ٘ربھُ سیج بھتارُ ॥੩॥
چارے اگنِ نِۄارِ مرُ گُرمُکھِ ہرِ جلُ پاءِ ॥
انّترِ کملُ پ٘رگاسِیا انّم٘رِتُ بھرِیا اگھاءِ ॥
نانک ستگُرُ میِتُ کرِ سچُ پاۄہِ درگہ جاءِ ॥੪॥੨੦॥
لفظی معنے:
اک تل ۔ذرا بھر۔ پت۔ عزت۔ اگن ۔ خواہشات کی آگ ۔اہنس۔ دن رات ۔ روز و شب سار ۔ سنبھال۔ جوتی ۔ نور ۔سرتی۔ ہوش۔ سنجوگ۔ ملاپ۔ سہسا۔ فکر۔ سوگ۔ افسوس ۔کائیا۔ جسم ۔کامن۔ عورت ۔رویہہ۔ ماننا ۔سوہاگنی۔ سہاگ والی ۔چاء آگیں ۔ ہنس ۔ ہیت ۔ بوبھ کوپ ۔
ترجمہ:
اگر ذرا بھر بھی پیارے کو بھول جاؤں دل کیلئے بھاری بیماری ہے۔ الہٰی درگاہ میں کیسے عزت ملیگی جب ہی نہ بستا ہو ۔دل میں خدا ۔مرشد ملے تب سکہہ ملتا ہے تو روحانی سکون ملتا ہے۔ اور حمد و ثناہ سے خواہشات کی آگ بجھتی ہے ۔اے دل روز و شب الہٰی اوصاف کو دلمیں بسا ۔ جنہیں پل بھر کیلئے بھی خدا نہیں بھولتا وہ اور ایسے شخص بہت کم ہیں دنیا میں ۔ایسے بہت کم لوگ ہیں جو اپنا نور الہٰی نور سے اور ہوش و عقل الہٰی عقل میں ملاتے ہیں ۔ایسے آدمیوں میں ظلم ۔ جبر و تتدو ۔اور خودی مٹ جاتی ہے۔ قلب و دل میں خوف دور ہو جاتا ہے خدا بستا ہے۔ اُسے خدا سے ملان والا مرشد اُسے خدا سے الہٰی ملاپ کا مکمل موقعہ عنایت کرتا ہے۔ جیسے عورت اپنے آپ کو اپنے خاوند کے حوالے کرتی ہے ایسے ہی اخلاقی احساسات (جذو احساس) کو الہٰی حمد وثناہ الہٰی ملاپ کیطرف رجوع کر اؤ تب خدا سے ملاپ ہو سکتا ہے ۔اس جسم سے پیار نہیں چاہیے کیونکہ اسنے آخر ختم ہونا ہے ۔مرشد کے بتائے راہ پر چلنے والے خدا کو یاد کرتے ہیں خدا اُنکے دلمیں بستا ہے ۔ (3)چاروں آگوں (ہنس ۔ بہت ۔ لوبھ ۔ کوپ) ظلم و جبر ۔ و تششد ۔ محبت ۔ لالچ اور غصہ چہوڑ دے اور اعمال بد چہوڑ تا ۔ برائیوں کے لئے موت ہے ۔لہذا ان کے لئے مر۔ اور روحانی زندگی بخشے والا نام سچ ۔ حق و حقیقت جل لینی آب حیات دلمیں بس جائیگا۔ اے نانک سچے مرشد کو دوست بتا یعنی طور پر الہٰی حضوری حاصل ہو جائیگی ۔
خلاصہ:
دُنیاوی نعمتوں کا لالچ بُرا ہے مگر لالچیوں کے لئے پیار اہے۔ کیونکہ لالچ سے ہی انسان جہوٹ اور جہوٹے کاروبار میں مصروف رہتا ہے اور اس سے غرور ۔ تکبر ۔ لوٹ دھوکہ بازی ۔ فریب اور مکاری میں لگا رہتا ہے ۔ جسکا نتیجہ آخر خوآری ۔ ذلالت اور عذآب ہوتا ہے ۔لہذا۔ اس سے نجات حاصل کرنیکے لئے ۔ سبق مرشد پر عمل اور نیک اعمال سے اپنی آخرت سنواری جاتی ہے ۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
ہرِ ہرِ جپہُ پِیارِیا گُرمتِ لے ہرِ بولِ ॥
منُ سچ کسۄٹیِ لائیِئےَ تُلیِئےَ پوُرےَ تولِ ॥
کیِمتِ کِنےَ ن پائیِئےَ رِد مانھک مولِ امولِ ॥੧॥
بھائیِ رے ہرِ ہیِرا گُر ماہِ ॥
ستسنّگتِ ستگُرُ پائیِئےَ اہِنِسِ سبدِ سلاہِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
سچُ ۄکھرُ دھنُ راسِ لےَ پائیِئےَ گُر پرگاسِ ॥
جِءُ اگنِ مرےَ جلِ پائِئےَ تِءُ ت٘رِسنا داسنِ داسِ ॥
جم جنّدارُ ن لگئیِ اِءُ بھئُجلُ ترےَ تراسِ ॥੨॥
گُرمُکھِ کوُڑُ ن بھاۄئیِ سچِ رتے سچ بھاءِ ॥
ساکت سچُ ن بھاۄئیِ کوُڑےَ کوُڑیِ پاںءِ ॥
سچِ رتے گُرِ میلِئےَ سچے سچِ سماءِ ॥੩॥
من مہِ مانھکُ لالُ نامُ رتنُ پدارتھُ ہیِرُ ॥
سچُ ۄکھرُ دھنُ نامُ ہےَ گھٹِ گھٹِ گہِر گنّبھیِرُ ॥
نانک گُرمُکھِ پائیِئےَ دئِیا کرے ہرِ ہیِرُ ॥੪॥੨੧॥
لفظی معنے:
سچ کسوٹی۔ حقیقت یا اصلیت ۔ پرکھنے کا سچا آلہ یا بٹی ۔جن سے عام طور پر سونا پرکھا جاتا ہے کہ سونا کتنا شدھ ہے ۔رد دل ۔ہرذا ۔ قلب۔ جندار ۔ سخت عادت والا۔ اویڑا سخت دل۔ گرما ہے ۔مرشد میں۔ شبد ۔ کلام ۔ سچ وکھر ۔ سچا سودا ۔دھن ۔ دؤلت ۔ راس ۔پونچی۔ گر پرگاس ۔ مرشد سے روشنی ۔علم ترشنا ۔ خواہشات ۔داس۔ داس ۔ خادموں کا خادم ۔ترے تراس ۔ کامل کامیابی ۔ (2)گورمکہہ ۔ مرید مرشد۔ حضوریہ ۔بھاوئی ۔اچھا لگتا ہے ۔ بھاتا ہے ۔پانئے۔ عزت ۔ (3) ہیر۔ہیر ۔گھٹ۔ گھٹ ۔ہر دلمیں ۔ گہر۔ نہایت گنبھیر ۔ سنجیدہ ۔ (4) (22)
ترجمہ:
اے پیارے خدا خدا کہو اور اور سبق مر شد کے مطابق الہٰی ریاض کرؤ اوردل کو سچ کی کسوئی پر لگاؤ۔ اور پورے پیمانے سے تول سے تولو۔ مراد جسکے دلمیں سچ ہے۔ سچ ہی حقیقتاً صحیح پیمانہ ہے ۔کوئی اسکی قیمت نہیں پا سکتا یہ موتی ہے بیش قیمت ہے ۔اَے بھائی یہ قیمتی نام سچ ۔ حق و حقیقت مرشد کے پاس ہے۔ اے بھائی پاکدامن خدا رسیدہ کی صحبت و قربت میں اور کلام مرشد خدا کی روز و شب صفت صلاح سے ملتا ہے۔ سچا سودا سچا سرمایہ اکھٹا کر جو علم مرشد اور سبق مرشد سے ملتا ہے ۔جیسے آگ پر پانی ڈالنے سے آگ بجھ جاتی ہے ایسے ہی الہٰی خادموں کا خادم ہونیے خواہشات کی آگ بجھ جاتی ہے ۔اُسے سخت جمددت کچھ وگاڑ نہیں سکتا۔ اسطرح انسان اس دنیاوی خوفناک سمندر سے پار ہو جاتا ہے ۔ (2)مرید مر شد جہوٹ آچھا نہیں لگتا۔ سچائی پسند کو سچائی اچھی لگتی ہے ۔مادہ پرست کو سچ اچھا نہیں لگتا جہوٹے کو جہوٹ ہی ملتا ہے۔ سچ اپنانے سے اسکی محویت سے وہ سچ میں محو ہاجاتے ہیں اور ہمیشہ خدا کی یاد میں مست رہتے ہیں ۔ (3)دل میں مویتوں جیسا نام لعل ہے ہیرا ہے ۔ہر ایک کے دلمیں بستا ہے اُسکا نام ہی قائم دائم ہے۔اے نانک جس پر الہٰ رحمت ہے اُسے اُسکا نام مرشد کے ذریعے ملتا ہے۔

سِریِراگُ مہلا ੧॥
بھرمے بھاہِ ن ۄِجھۄےَ جے بھۄےَ دِسنّتر دیسُ ॥
انّترِ میَلُ ن اُترےَ دھ٘رِگُ جیِۄنھُ دھ٘رِگُ ۄیسُ ॥
ہورُ کِتےَ بھگتِ ن ہوۄئیِ بِنُ ستِگُر کے اُپدیس ॥੧॥
من رے گُرمُکھِ اگنِ نِۄارِ ॥
گُر کا کہِیا منِ ۄسےَ ہئُمےَ ت٘رِسنا مارِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
منُ مانھکُ نِرمولُ ہےَ رام نامِ پتِ پاءِ ॥
مِلِ ستسنّگتِ ہرِ پائیِئےَ گُرمُکھِ ہرِ لِۄ لاءِ ॥
آپُ گئِیا سُکھُ پائِیا مِلِ سللےَ سلل سماءِ ॥੨॥
جِنِ ہرِ ہرِ نامُ ن چیتِئو سُ ائُگُنھِ آۄےَ جاءِ ॥
جِسُ ستگُرُ پُرکھُ ن بھیٹِئو سُ بھئُجلِ پچےَ پچاءِ ॥
اِہُ مانھکُ جیِءُ نِرمولُ ہےَ اِءُ کئُڈیِ بدلےَ جاءِ ॥੩॥
جِنّنا ستگُرُ رسِ مِلےَ سے پوُرے پُرکھ سُجانھ ॥
گُر مِلِ بھئُجلُ لنّگھیِئےَ درگہ پتِ پرۄانھُ ॥
نانک تے مُکھ اُجلے دھُنِ اُپجےَ سبدُ نیِسانھُ ॥੪॥੨੨॥
لفظی معنے:
بھرمے ۔ بھٹکنے سے ۔یاے بھوکے ۔ زیارت و سیاحت ۔بھاہ ۔ آگ۔ بجہولے ۔ نہیں بجھتی ۔بے بھوکے ۔ اگر چلتا پھرتا رہے ۔دسنتر۔ دیس ۔ دیس ۔جگہ ۔ بجگہ ۔اتنتر۔ اندرونی ۔دھرگ۔ لعنت۔ جیون۔ زندگی۔ ویس ۔ بھیکہہ۔ گورمکہہ ۔ مرید مرشد ۔پیروکار مرشد ۔نوار دور کر ۔من۔ دل ۔قلب۔ ہوغے۔ خودی ۔مانک ۔ موتی ۔نام۔ خدا کا نام۔ آپ گیا خودی مٹی ۔سللے۔ پانی ۔ سلل ۔ پانی میں۔(2) اؤگن ۔ اوصاف بدر۔ آوے جائے ۔ آواگون ۔ تناسخ ۔بھیٹؤ۔ ملیا ۔بھؤجل۔ خوفناک پانی ۔سمندر ۔ڈراؤنا سمندر۔ پچےپچائے۔ ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ رس۔ لطف ۔ مزہ ۔سُبحان ۔ دانشور ۔دھن۔ گونج ۔نیسان۔ دھونی یا پھر یرا۔
ترجمہ:
اگر کوئی آدمی دیس ۔بدیس سیر و سیاحت و زیارت کرتا پھرے تو اس سے خواہشات کی آگ نہیں بجھتی اور ضمیر ۔ کی ناپاکی دور نہیں ہوتی اسکی زندگی لعنت زد ہ ہے۔ سچے مرشد کے سبق سے اُسے دلمیں بسائے ۔ بغیر کسی جگہ بھی الہٰی ریاض نہیں ہو سکتی اور اسکے بغیر بھیس بنانا بھی لعنت ہے۔ اے دل مرشد کے ذریعے خواہشات کی آگ دو ر کر۔ اگر کلام مرشد ۔ سبق مرشد دلمیں بس جائے تو خودی اور خواہشات ختم ہو جاتی ہیں ۔یہ دل موتی اور بیش قیمت ہے۔ خدا کی یاد سے عزت پاتا ہے۔ سچی صحبت و قربت میں مرشد کے وسیلے سے الہٰی عشق سے خدا سے ملاپ ہوتا ہے ۔خودی مٹی سکہہ ہوا جیسے پانی سے پانی ملنے پر پانی کی پہنچان مٹ جاتی ہے ایسے انسانی نور الہٰی نور سے ملنے پر انسان کی خدا سے یکسوئی ہو جاتی ہے ۔ (2)جنہوں نے خدا یاد نہیں کیا وہ گناہوں بھری زندگی گذار کر تناسخ میں چلے جاتے ہیں ۔ جنہیں ستگر کاملاپ حاصل نہیں ہو ااس دنیاوی سمندر میں ذلالت بھری زندگی گذارتے ہیں ۔یہ زندگی ایک بیش قیمت موتی ہے جو بلا قیمت ضایعہ ہو جاتی ہے ۔ (3)
جنہیں مرشد پریم سے ملتا ہے وہ پورے دانشمند ہیں۔ مرشد کے ملاپ سے ہی زندگی کامیاب ہوتی ہے الہٰی درگاہ میں عزت اور قبولیت حاصل ہوتی ہے ۔اے نانک وہ سر خرو ہیں اُنکے دلمیں وجد پید ا ہوتا ہے اور الہٰی عشق کی لہریں اُٹھتی ہیں ۔ (4، 66، 22)

سِریِراگُ مہلا ੧॥
ۄنھجُ کرہُ ۄنھجارِہو ۄکھرُ لیہُ سمالِ ॥
تیَسیِ ۄستُ ۄِساہیِئےَ جیَسیِ نِبہےَ نالِ ॥
اگےَ ساہُ سُجانھُ ہےَ لیَسیِ ۄستُ سمالِ ॥੧॥
بھائیِ رے رامُ کہہُ چِتُ لاءِ ॥
ہرِ جسُ ۄکھرُ لےَ چلہُ سہُ دیکھےَ پتیِیاءِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
جِنا راسِ ن سچُ ہےَ کِءُ تِنا سُکھُ ہوءِ ॥
کھوٹےَ ۄنھجِ ۄنھنّجِئےَ منُ تنُ کھوٹا ہوءِ ॥
پھاہیِ پھاتھے مِرگ جِءُ دوُکھُ گھنھو نِت روءِ ॥੨॥
کھوٹے پوتےَ نا پۄہِ تِن ہرِ گُر درسُ ن ہوءِ ॥
کھوٹے جاتِ ن پتِ ہےَ کھوٹِ ن سیِجھسِ کوءِ ॥
کھوٹے کھوٹُ کماۄنھا آءِ گئِیا پتِ کھوءِ ॥੩॥
نانک منُ سمجھائیِئےَ گُر کےَ سبدِ سالاہ ॥
رام نام رنّگِ رتِیا بھارُ ن بھرمُ تِناہ ॥
ہرِ جپِ لاہا اگلا نِربھءُ ہرِ من ماہ ॥੪॥੨੩॥
لفظی معنے:
ونجارا ۔ ونج کرنیوالا ۔ سودا گر۔ وکھر سودا ۔ وساکیئے ۔ خرید یئے ۔ساہو ۔ شاہوکار ۔سُبحان ۔ دانشمند ۔ایسی دست سمال سنبھال لیگا ۔ہر جس وکہہ ۔ الہٰی صفت صلاح کا سودا۔ سوہ دیکہے پتیائے ۔ شاہوکار اُسکی تسلی کرکے دیکھیگا۔ راس پونجی ۔ کہوٹے ۔کہوٹے سکے ۔ پوتے۔ خزانے ۔ (2) درس ۔ دیدار۔ سیبھس۔ سوجھ ۔ سمجھ ۔ (3)بھار ۔ بوجھ۔ بھر۔ شک ۔ (4) (22-23)
ترجمہ:
اے زندگی کے سودا گرو ۔ سواکرو اور سودے کو سنبھالو۔ ایسا سودا خریدو جو ہمیشہ تمہارا ساتھ دے۔ آگے شاہوکار نہایت دانشمند ہے وہ اسے پوری پڑتال تحقیق کے بعد سنبھالے گا۔ اَے بھائی الہٰی نا م کی ریاض نہایت پریم سے دلمیں بساؤ ۔ اور الہٰی صفت صلاح کا سودا ساتھ لو۔ شاہوکار اسکی پڑتال کریگا ۔ ۔
جنکےپاس سچ کی پونجی سچی دؤلت نہیں اُنہیں کےلئے سکہہ ہوگا۔ کہوٹے بیوپار سے دل و جان کہوٹی ہو جاتی ہے ۔جیسےپھندے پھنسا ہرن بھاری دکہہ سے روتا ہے ۔ (2)کہوٹا سکہ خزانے میں نہیں ڈالا جاتا ۔اُنہیں خدا اور مرشد کا دیدار نہیں ہوتا۔ کہوٹے کی نہ کوئی ذات ہے نہ عزت ہے نہ کہوٹا کامیاب ہوتا ہے ۔کہوٹے انسان نے ہمیشہ کہوٹے کام ہی کرنے ہیں۔ وہ عزت گنواتا ہے اور تناسخ میں پڑرہتا ہے(3) اَےنانک الہٰ صفت صلاح والے کلام مرشد سے من کو سمجہانا چاہیے ۔جو انسان الہٰی عشق نام میں محو رہتے ہیں ۔اُنہیں شک و شبہات کا بوجھ نہیں رہتا الہٰی ریاض بہت منافع بخش ہے اور ہر وقت دل بیخوف رہتا ہے اور بیخوف خدا دلمیں بستا ہے ۔(4، 22،23)

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ ੨॥
دھنُ جوبنُ ارُ پھُلڑا ناٹھیِئڑے دِن چارِ ॥
پبنھِ کیرے پت جِءُ ڈھلِ ڈھُلِ جُنّمنھہار ॥੧॥
رنّگُ مانھِ لےَ پِیارِیا جا جوبنُ نءُ ہُلا ॥
دِن تھوڑڑے تھکے بھئِیا پُرانھا چولا ॥੧॥ رہاءُ ॥
سجنھ میرے رنّگُلے جاءِ سُتے جیِرانھِ ॥
ہنّ بھیِ ۄنّجنْا ڈُمنھیِ روۄا جھیِنھیِ بانھِ ॥੨॥
کیِ ن سُنھیہیِ گوریِۓ آپنھ کنّنیِ سوءِ ॥
لگیِ آۄہِ ساہُرےَ نِت ن پیئیِیا ہوءِ ॥੩॥
نانک سُتیِ پیئیِئےَ جانھُ ۄِرتیِ سنّنِ ॥
گُنھا گۄائیِ گنّٹھڑیِ اۄگنھ چلیِ بنّنِ ॥੪॥੨੪॥
لفظی معنے:
پھلڑا ۔ پھول ۔ناٹھیڑے۔ مَہمانّ ۔پَبّن۔ پانی کے کِنارے اگھا ہُوا سبّزہ زار ۔ ڈھَلّ ڈھُل ۔ مُر جھا ئیا ہوا ۔جمنھار۔ قابل فَناہ ۔رَنگ۔ خوشی ۔نَورہُلا۔نئے بُلارے ۔ جوانی کی نئی لہریں ۔ تھکے ۔ تھکے ماندد ہوئے۔ چولا ۔جسم ۔ہنبھی۔ میں بھی۔ ونجہا ۔ جاؤں گی۔ ڈمنی ۔ دوچتی۔ دو ارادے والی۔ جھینی۔ مَدھم ۔بان۔ آواز۔ (2) رتگنے ۔ خوشَدِل۔ جیران۔ قَبرستان۔ گوریئے ۔ اَے خوبصُورت عَورَتّ اپنے کنی ۔ اُنے کانوں سے ۔ سوئے ۔ خَبر ۔پیئیا ۔ پیکے ۔ اس عالم میں۔ (3) ستی۔ غافِل بے۔ پرواہ ۔وِرتی ۔ روز روشن ۔ (4) (23-24)
ترجمہ:
اَے اِنسان ۔دَھّن ۔ جوانی اَور پھُول ۔ چنّدروز کے مہمان ہیں۔ جَیسے چوپتی کے پتے مرُجھا کے ختم ہو جاتے ہیں اِسی طرح یہ بھی خَتم ہو جاتی ہے ۔ ۔اَے پیارے جَب تک جَوانی کی لَہریں اُٹھتی ہیں خوشیاں کرَے ۔جب زِندگی کے دِن کم رَہ گئے اَور یہ جسم ڈھل گیا اور بوسیدہ ہو گیا ۔ ۔ میرےپیارے دوست جو خوشباس تھے قبرستان جا کے سو گئ ۔میں بھی دھیمی آواز میں اُنکی جُدائی میں رو ہی ہوں (2) ۔ اے دوشیزہ کیا تو نے خبر نہیں سنی۔ کہ ہمیشہ اس گھر نہیں رہ سکتا۔ ساہرے گھر ضرور جانا پڑیگا۔ یعنی ہر ایک نے مَرنا ہے ۔ اَے نانک جسنے یہ زندگی غفلت کی نید سوکر گذار دی ۔ یہ سمجھو کہ اُسنے روزِ روشن اُسنے زندگی کا سرمایہ لٹا دیا۔ اور اوصاف کا پلندہ گنوا کر اوصاف بد ساتھ لیکر چلاگیا ۔

سِریِراگُ مہلا ੧ گھرُ دوُجا ੨॥
آپے رسیِیا آپِ رسُ آپے راۄنھہارُ ॥
آپے ہوۄےَ چولڑا آپے سیج بھتارُ ॥੧॥
رنّگِ رتا میرا ساہِبُ رۄِ رہِیا بھرپوُرِ ॥੧॥ رہاءُ ॥
آپے ماچھیِ مچھُلیِ آپے پانھیِ جالُ ॥
آپے جال منھکڑا آپے انّدرِ لالُ ॥੨॥
آپے بہُ بِدھِ رنّگُلا سکھیِۓ میرا لالُ ॥
نِت رۄےَ سوہاگنھیِ دیکھُ ہمارا ہالُ ॥੩॥
پ٘رنھۄےَ نانکُ بینتیِ توُ سرۄرُ توُ ہنّسُ ॥
کئُلُ توُ ہےَ کۄیِیا توُ ہےَ آپے ۄیکھِ ۄِگسُ ॥੪॥੨੫॥
لفظی معنے:
رَسیا۔ رَس سے بھَراّ ہُوا۔ پرُ لُطَفّ۔ راونہار ۔ صارَفّ ۔اِستعمال کرنیوالا۔ چولڑا ۔ جِسم۔ بھتار۔ خاوِند ۔ آگا ۔ مالک۔ رَنگ ۔ پریم۔ رَتاّ ۔متاثر۔ رَوّ رہیا۔ بَس رہا ہے۔ بھر پور ۔ بھرا ہوا ۔مکمل ۔ ۔ ماچھی۔ مچھلی ۔ پکڑنے والا ۔ مچھیرا۔ جال منکڑا ۔ جال کا منکا ۔لال۔ ماس کا ٹکڑا ۔ (2) بہو بدھ ۔ بہت بدھیوں سے ۔ طریقوں سے۔ رنگلا ۔ چوج کرنیوالا۔ رَوَتے۔ ملتا ہے۔ سوہاگنی۔ با اوصاف۔ (3) پرنوے ۔ عاجزی سے عرض کرتا ہو۔ کوؤل۔ پھول جو سورج کی روشنی میں کھلتا ہے ۔ کویا ۔ پھول جو چاند کی روشنی میں کھلتا ہے۔ وگس۔ خوش ہوتا ہے ۔
ترجمہ:
نوٹ: ترجمہ اگلے رجسٹر پر درج ہے ۔
خدا خود ہی لطفوں سے بھری ایک نعمت اور خود ہی لطف ہے ۔ اور خود ہی اس رس کا لطف لینے والا ۔ خدا خود ہی عورت بنتا ہے خود ہی خوابگاہ اور خود ہی کاوند ۔